Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Az-Zumar
Tafsir Ibn Kathir · The Groups · 75 ayat · ayat 61–75 · Quran text →
مشرکین کے چہرے سیاہ ہو جائیں گے ٭٭
قیامت کے دن دو طرح کے لوگ ہوں گے۔ کالے منہ والے اور نورانی چہرے والے۔ تفرقہ اور اختلاف والوں کے چہرے تو سیاہ پڑ جائیں گے اور اہل سنت والجماعت کی خوبصورت شکلیں نورانی ہو جائیں گی۔ اللہ کے شریک ٹھہرانے والوں اس کی اولاد مقرر کرنے والوں کو دیکھے گا کہ ان کے جھوٹ اور بہتان کی وجہ سے منہ کالے ہوں گے۔ اور حق کو قبول نہ کرنے اور تکبر و خودنمائی کرنے کے وبال میں یہ جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔ جہاں بڑی ذلت کے ساتھ سخت تر اور بدترین سزائیں بھگتیں گے۔
ابن ابی حاتم کی مرفوع حدیث میں ہے کہ تکبر کرنے والوں کا حشر قیامت کے دن چیونٹیوں کی صورت میں ہو گا ہر چھوٹی سے چھوٹی مخلوق بھی انہیں روندتی جائے گی یہاں تک کہ جہنم کے جیل خانے میں بند کر دیئے جائیں گے جس کا نام بولس ہے۔ جس کی آگ بہت تیز اور نہایت ہی مصیبت والی ہے۔ دوزخیوں کو لہو اور پیپ اور گندگی پلائی جائے گی ۔ [سنن ترمذي:2492،قال الشيخ الألباني:حسن]
ہاں اللہ کا ڈر رکھنے والے اپنی کامیابی اور سعادت مندی کی وجہ سے اس عذاب سے اور اس ذلت اور مار پیٹ سے بالکل بچے ہوئے ہوں گے اور کوئی برائی ان کے پاس بھی نہ پھٹکے گی۔ گھبراہٹ اور غم جو قیامت کے دن عام ہو گا وہ ان سے الگ ہو گا۔ ہر غم سے بے غم اور ہر ڈر سے بے ڈر اور ہر سزا اور ہر دکھ سے بے پرواہ ہوں گے۔ کسی قسم کی ڈانٹ جھڑکی انہیں نہ دی جائے گی امن و امان کے ساتھ راحت و چین کے ساتھ اللہ کی تمام نعمتیں حاصل کئے ہوئے ہوں گے۔
صفحہ نمبر7864
اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور نگران ہے ٭٭
تمام جاندار اور بے جان چیزوں کا خالق مالک رب اور متصرف اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے۔ ہرچیز اس کی ماتحتی میں اس کے قبضے اور اس کی تدبیر میں ہے۔ سب کا کار ساز اور وکیل وہی ہے۔ تمام کاموں کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے زمین و آسمان کی کنجیوں اور ان کے خزانوں کا وہی تنہا مالک ہے حمد و ستائش کے قابل اور ہرچیز پر قادر وہی ہے۔ کفر و انکار کرنے والے بڑے ہی گھاٹے اور نقصان میں ہیں۔
امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے یہاں ایک حدیث وارد کی ہے گو سند کے لحاظ سے وہ بہت ہی غریب ہے بلکہ صحت میں بھی کلام ہے لیکن تاہم ہم بھی اسے یہاں ذکر کر دیتے ہیں۔ اس میں ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عثمان! (رضی اللہ عنہ) تم سے پہلے کسی نے مجھ سے اس آیت کا مطلب دریافت نہیں کیا ۔
صفحہ نمبر7866
اس کی تفسیر یہ کلمات ہیں «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر وَسُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِر اللَّه وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْأَوَّل وَالْآخِر وَالظَّاهِر وَالْبَاطِن بِيَدِهِ الْخَيْر يُحْيِي وَيُمِيت وَهُوَ عَلَى كُلّ شَيْء قَدِيْر» ۔ اے عثمان! جو شخص اسے صبح کو دس بار پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اسے چھ فضائل عطا فرماتا ہے اول تو وہ شیطان اور اس کے لشکر سے بچ جاتا ہے، دوم اسے ایک قنطار اجر ملتا ہے، تیسرے اس کا ایک درجہ جنت میں بلند ہوتا ہے، چوتھی اس کا حورعین سے نکاح کرا دیا جاتا ہے، پانچویں اس کے پاس بارہ فرشتے آتے ہیں، چھٹے اسے اتنا ثواب دیا جاتا ہے جیسے کسی نے قرآن اور توراۃ اور انجیل و زبور پڑھی۔ پھر اس ساتھ ہی اسے ایک قبول شدہ حج اور ایک مقبول عمرے کا ثواب ملتا ہے اور اگر اسی دن اس کا انتقال ہو جائے تو شہادت کا درجہ ملتا ہے ۔ [مجمع الزوائد:115/10:باطل و موضوع] یہ حدیث بہت غریب ہے اور اس میں بڑی نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر7867
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آؤ تم ہمارے معبودوں کی پوجا کرو اور ہم تمہارے رب کی پرستش کریں گے اس پر آیت «قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ» [39-الزمر:64-65] تک نازل ہوئی۔“
یہی مضمون اس آیت میں بھی ہے «وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [6-الأنعام:88] ۔ اوپر انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہے پھر فرمایا ہے ” اگر بالفرض یہ انبیاء بھی شرک کریں تو ان کے تمام اعمال اکارت اور ضائع ہو جائیں “، یہاں بھی فرمایا کہ ” تیری طرف اور تجھ سے پہلے کے تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرف ہم نے یہ وحی بھیج دی ہے کہ جو بھی شرک کرے اس کا عمل غارت۔ اور وہ نقصان یافتہ اور زیاں کار، پس تجھے چاہیئے کہ تو خلوص کے ساتھ اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت میں لگا رہ اور اس کا شکر گزار رہ۔ تو بھی اور تیرے ماننے والے مسلمان بھی “۔
صفحہ نمبر7868
اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور نگران ہے ٭٭
تمام جاندار اور بے جان چیزوں کا خالق مالک رب اور متصرف اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے۔ ہرچیز اس کی ماتحتی میں اس کے قبضے اور اس کی تدبیر میں ہے۔ سب کا کار ساز اور وکیل وہی ہے۔ تمام کاموں کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے زمین و آسمان کی کنجیوں اور ان کے خزانوں کا وہی تنہا مالک ہے حمد و ستائش کے قابل اور ہرچیز پر قادر وہی ہے۔ کفر و انکار کرنے والے بڑے ہی گھاٹے اور نقصان میں ہیں۔
امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے یہاں ایک حدیث وارد کی ہے گو سند کے لحاظ سے وہ بہت ہی غریب ہے بلکہ صحت میں بھی کلام ہے لیکن تاہم ہم بھی اسے یہاں ذکر کر دیتے ہیں۔ اس میں ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عثمان! (رضی اللہ عنہ) تم سے پہلے کسی نے مجھ سے اس آیت کا مطلب دریافت نہیں کیا ۔
صفحہ نمبر7866
اس کی تفسیر یہ کلمات ہیں «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر وَسُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِر اللَّه وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْأَوَّل وَالْآخِر وَالظَّاهِر وَالْبَاطِن بِيَدِهِ الْخَيْر يُحْيِي وَيُمِيت وَهُوَ عَلَى كُلّ شَيْء قَدِيْر» ۔ اے عثمان! جو شخص اسے صبح کو دس بار پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اسے چھ فضائل عطا فرماتا ہے اول تو وہ شیطان اور اس کے لشکر سے بچ جاتا ہے، دوم اسے ایک قنطار اجر ملتا ہے، تیسرے اس کا ایک درجہ جنت میں بلند ہوتا ہے، چوتھی اس کا حورعین سے نکاح کرا دیا جاتا ہے، پانچویں اس کے پاس بارہ فرشتے آتے ہیں، چھٹے اسے اتنا ثواب دیا جاتا ہے جیسے کسی نے قرآن اور توراۃ اور انجیل و زبور پڑھی۔ پھر اس ساتھ ہی اسے ایک قبول شدہ حج اور ایک مقبول عمرے کا ثواب ملتا ہے اور اگر اسی دن اس کا انتقال ہو جائے تو شہادت کا درجہ ملتا ہے ۔ [مجمع الزوائد:115/10:باطل و موضوع] یہ حدیث بہت غریب ہے اور اس میں بڑی نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر7867
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آؤ تم ہمارے معبودوں کی پوجا کرو اور ہم تمہارے رب کی پرستش کریں گے اس پر آیت «قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ» [39-الزمر:64-65] تک نازل ہوئی۔“
یہی مضمون اس آیت میں بھی ہے «وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [6-الأنعام:88] ۔ اوپر انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہے پھر فرمایا ہے ” اگر بالفرض یہ انبیاء بھی شرک کریں تو ان کے تمام اعمال اکارت اور ضائع ہو جائیں “، یہاں بھی فرمایا کہ ” تیری طرف اور تجھ سے پہلے کے تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرف ہم نے یہ وحی بھیج دی ہے کہ جو بھی شرک کرے اس کا عمل غارت۔ اور وہ نقصان یافتہ اور زیاں کار، پس تجھے چاہیئے کہ تو خلوص کے ساتھ اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت میں لگا رہ اور اس کا شکر گزار رہ۔ تو بھی اور تیرے ماننے والے مسلمان بھی “۔
صفحہ نمبر7868
اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور نگران ہے ٭٭
تمام جاندار اور بے جان چیزوں کا خالق مالک رب اور متصرف اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے۔ ہرچیز اس کی ماتحتی میں اس کے قبضے اور اس کی تدبیر میں ہے۔ سب کا کار ساز اور وکیل وہی ہے۔ تمام کاموں کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے زمین و آسمان کی کنجیوں اور ان کے خزانوں کا وہی تنہا مالک ہے حمد و ستائش کے قابل اور ہرچیز پر قادر وہی ہے۔ کفر و انکار کرنے والے بڑے ہی گھاٹے اور نقصان میں ہیں۔
امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے یہاں ایک حدیث وارد کی ہے گو سند کے لحاظ سے وہ بہت ہی غریب ہے بلکہ صحت میں بھی کلام ہے لیکن تاہم ہم بھی اسے یہاں ذکر کر دیتے ہیں۔ اس میں ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عثمان! (رضی اللہ عنہ) تم سے پہلے کسی نے مجھ سے اس آیت کا مطلب دریافت نہیں کیا ۔
صفحہ نمبر7866
اس کی تفسیر یہ کلمات ہیں «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر وَسُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِر اللَّه وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْأَوَّل وَالْآخِر وَالظَّاهِر وَالْبَاطِن بِيَدِهِ الْخَيْر يُحْيِي وَيُمِيت وَهُوَ عَلَى كُلّ شَيْء قَدِيْر» ۔ اے عثمان! جو شخص اسے صبح کو دس بار پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اسے چھ فضائل عطا فرماتا ہے اول تو وہ شیطان اور اس کے لشکر سے بچ جاتا ہے، دوم اسے ایک قنطار اجر ملتا ہے، تیسرے اس کا ایک درجہ جنت میں بلند ہوتا ہے، چوتھی اس کا حورعین سے نکاح کرا دیا جاتا ہے، پانچویں اس کے پاس بارہ فرشتے آتے ہیں، چھٹے اسے اتنا ثواب دیا جاتا ہے جیسے کسی نے قرآن اور توراۃ اور انجیل و زبور پڑھی۔ پھر اس ساتھ ہی اسے ایک قبول شدہ حج اور ایک مقبول عمرے کا ثواب ملتا ہے اور اگر اسی دن اس کا انتقال ہو جائے تو شہادت کا درجہ ملتا ہے ۔ [مجمع الزوائد:115/10:باطل و موضوع] یہ حدیث بہت غریب ہے اور اس میں بڑی نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر7867
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آؤ تم ہمارے معبودوں کی پوجا کرو اور ہم تمہارے رب کی پرستش کریں گے اس پر آیت «قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ» [39-الزمر:64-65] تک نازل ہوئی۔“
یہی مضمون اس آیت میں بھی ہے «وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [6-الأنعام:88] ۔ اوپر انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہے پھر فرمایا ہے ” اگر بالفرض یہ انبیاء بھی شرک کریں تو ان کے تمام اعمال اکارت اور ضائع ہو جائیں “، یہاں بھی فرمایا کہ ” تیری طرف اور تجھ سے پہلے کے تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرف ہم نے یہ وحی بھیج دی ہے کہ جو بھی شرک کرے اس کا عمل غارت۔ اور وہ نقصان یافتہ اور زیاں کار، پس تجھے چاہیئے کہ تو خلوص کے ساتھ اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت میں لگا رہ اور اس کا شکر گزار رہ۔ تو بھی اور تیرے ماننے والے مسلمان بھی “۔
صفحہ نمبر7868
اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور نگران ہے ٭٭
تمام جاندار اور بے جان چیزوں کا خالق مالک رب اور متصرف اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے۔ ہرچیز اس کی ماتحتی میں اس کے قبضے اور اس کی تدبیر میں ہے۔ سب کا کار ساز اور وکیل وہی ہے۔ تمام کاموں کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے زمین و آسمان کی کنجیوں اور ان کے خزانوں کا وہی تنہا مالک ہے حمد و ستائش کے قابل اور ہرچیز پر قادر وہی ہے۔ کفر و انکار کرنے والے بڑے ہی گھاٹے اور نقصان میں ہیں۔
امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے یہاں ایک حدیث وارد کی ہے گو سند کے لحاظ سے وہ بہت ہی غریب ہے بلکہ صحت میں بھی کلام ہے لیکن تاہم ہم بھی اسے یہاں ذکر کر دیتے ہیں۔ اس میں ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عثمان! (رضی اللہ عنہ) تم سے پہلے کسی نے مجھ سے اس آیت کا مطلب دریافت نہیں کیا ۔
صفحہ نمبر7866
اس کی تفسیر یہ کلمات ہیں «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر وَسُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِر اللَّه وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْأَوَّل وَالْآخِر وَالظَّاهِر وَالْبَاطِن بِيَدِهِ الْخَيْر يُحْيِي وَيُمِيت وَهُوَ عَلَى كُلّ شَيْء قَدِيْر» ۔ اے عثمان! جو شخص اسے صبح کو دس بار پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اسے چھ فضائل عطا فرماتا ہے اول تو وہ شیطان اور اس کے لشکر سے بچ جاتا ہے، دوم اسے ایک قنطار اجر ملتا ہے، تیسرے اس کا ایک درجہ جنت میں بلند ہوتا ہے، چوتھی اس کا حورعین سے نکاح کرا دیا جاتا ہے، پانچویں اس کے پاس بارہ فرشتے آتے ہیں، چھٹے اسے اتنا ثواب دیا جاتا ہے جیسے کسی نے قرآن اور توراۃ اور انجیل و زبور پڑھی۔ پھر اس ساتھ ہی اسے ایک قبول شدہ حج اور ایک مقبول عمرے کا ثواب ملتا ہے اور اگر اسی دن اس کا انتقال ہو جائے تو شہادت کا درجہ ملتا ہے ۔ [مجمع الزوائد:115/10:باطل و موضوع] یہ حدیث بہت غریب ہے اور اس میں بڑی نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر7867
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آؤ تم ہمارے معبودوں کی پوجا کرو اور ہم تمہارے رب کی پرستش کریں گے اس پر آیت «قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ» [39-الزمر:64-65] تک نازل ہوئی۔“
یہی مضمون اس آیت میں بھی ہے «وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [6-الأنعام:88] ۔ اوپر انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہے پھر فرمایا ہے ” اگر بالفرض یہ انبیاء بھی شرک کریں تو ان کے تمام اعمال اکارت اور ضائع ہو جائیں “، یہاں بھی فرمایا کہ ” تیری طرف اور تجھ سے پہلے کے تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرف ہم نے یہ وحی بھیج دی ہے کہ جو بھی شرک کرے اس کا عمل غارت۔ اور وہ نقصان یافتہ اور زیاں کار، پس تجھے چاہیئے کہ تو خلوص کے ساتھ اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت میں لگا رہ اور اس کا شکر گزار رہ۔ تو بھی اور تیرے ماننے والے مسلمان بھی “۔
صفحہ نمبر7868
اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور نگران ہے ٭٭
تمام جاندار اور بے جان چیزوں کا خالق مالک رب اور متصرف اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے۔ ہرچیز اس کی ماتحتی میں اس کے قبضے اور اس کی تدبیر میں ہے۔ سب کا کار ساز اور وکیل وہی ہے۔ تمام کاموں کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے زمین و آسمان کی کنجیوں اور ان کے خزانوں کا وہی تنہا مالک ہے حمد و ستائش کے قابل اور ہرچیز پر قادر وہی ہے۔ کفر و انکار کرنے والے بڑے ہی گھاٹے اور نقصان میں ہیں۔
امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے یہاں ایک حدیث وارد کی ہے گو سند کے لحاظ سے وہ بہت ہی غریب ہے بلکہ صحت میں بھی کلام ہے لیکن تاہم ہم بھی اسے یہاں ذکر کر دیتے ہیں۔ اس میں ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عثمان! (رضی اللہ عنہ) تم سے پہلے کسی نے مجھ سے اس آیت کا مطلب دریافت نہیں کیا ۔
صفحہ نمبر7866
اس کی تفسیر یہ کلمات ہیں «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر وَسُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِر اللَّه وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْأَوَّل وَالْآخِر وَالظَّاهِر وَالْبَاطِن بِيَدِهِ الْخَيْر يُحْيِي وَيُمِيت وَهُوَ عَلَى كُلّ شَيْء قَدِيْر» ۔ اے عثمان! جو شخص اسے صبح کو دس بار پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اسے چھ فضائل عطا فرماتا ہے اول تو وہ شیطان اور اس کے لشکر سے بچ جاتا ہے، دوم اسے ایک قنطار اجر ملتا ہے، تیسرے اس کا ایک درجہ جنت میں بلند ہوتا ہے، چوتھی اس کا حورعین سے نکاح کرا دیا جاتا ہے، پانچویں اس کے پاس بارہ فرشتے آتے ہیں، چھٹے اسے اتنا ثواب دیا جاتا ہے جیسے کسی نے قرآن اور توراۃ اور انجیل و زبور پڑھی۔ پھر اس ساتھ ہی اسے ایک قبول شدہ حج اور ایک مقبول عمرے کا ثواب ملتا ہے اور اگر اسی دن اس کا انتقال ہو جائے تو شہادت کا درجہ ملتا ہے ۔ [مجمع الزوائد:115/10:باطل و موضوع] یہ حدیث بہت غریب ہے اور اس میں بڑی نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر7867
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آؤ تم ہمارے معبودوں کی پوجا کرو اور ہم تمہارے رب کی پرستش کریں گے اس پر آیت «قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ» [39-الزمر:64-65] تک نازل ہوئی۔“
یہی مضمون اس آیت میں بھی ہے «وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [6-الأنعام:88] ۔ اوپر انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہے پھر فرمایا ہے ” اگر بالفرض یہ انبیاء بھی شرک کریں تو ان کے تمام اعمال اکارت اور ضائع ہو جائیں “، یہاں بھی فرمایا کہ ” تیری طرف اور تجھ سے پہلے کے تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرف ہم نے یہ وحی بھیج دی ہے کہ جو بھی شرک کرے اس کا عمل غارت۔ اور وہ نقصان یافتہ اور زیاں کار، پس تجھے چاہیئے کہ تو خلوص کے ساتھ اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت میں لگا رہ اور اس کا شکر گزار رہ۔ تو بھی اور تیرے ماننے والے مسلمان بھی “۔
صفحہ نمبر7868
زمین و آسمان اللہ کی انگلیوں میں ٭٭
مشرکین نے دراصل اللہ تعالیٰ کی قدر و عظمت جانی ہی نہیں اسی وجہ سے وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگے، اس سے بڑھ کر عزت والا اس سے زیادہ بادشاہت والا اس سے بڑھ کر غلبے اور قدرت والا کوئی نہیں، نہ کوئی اس کا ہمسر اور نہ برابری کرنے والا ہے۔ یہ آیت کفار قریش کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ انہیں اگر قدر ہوتی تو اس کی باتوں کو غلط نہ جانتے۔ جو شخص اللہ کو ہرچیز پر قادر مانے، وہ ہے جس نے اللہ کی عظمت کی اور جس کا یہ عقیدہ نہ ہو وہ اللہ کی قدر کرنے والا نہیں۔ اس آیت کے متعلق بہت سی حدیثیں آئی ہیں۔ اس جیسی آیتوں کے بارے میں سلف صالحین کا مسلک یہی رہا ہے کہ جس طرح اور جن لفظوں میں یہ آئی ہے اسی طرح انہی لفظوں کے ساتھ انہیں مان لینا اور ان پر ایمان رکھنا۔ نہ ان کی کیفیت ٹٹولنا نہ ان میں تحریف و تبدیلی کرنا۔
صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ یہودیوں کا ایک بڑا عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ہم یہ لکھا پاتے ہیں کہ اللہ عزوجل ساتوں آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور سب زمینوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور درختوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور پانی اور مٹی کو ایک انگلی پر اور باقی تمام مخلوق کو ایک انگلی پر رکھ لے گا پھر فرمائے گا ” میں ہی سب کا مالک اور سچا بادشاہ ہوں “۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات کی سچائی پر ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسوڑھے ظاہر ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی ۔ [صحیح بخاری:4811]
مسند کی حدیث بھی اسی کے قریب ہے اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ۔ [صحیح بخاری:7415]
اور روایت میں ہے کہ وہ اپنی انگلیوں پر بتاتا جاتا تھا پہلے اس نے کلمے کی انگلی دکھائی تھی ۔ اس روایت میں چار انگلیوں کا ذکر ہے۔ [سنن ترمذي:3240،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر7873
صحیح بخاری شریف میں ہے اللہ تعالیٰ زمین کو قبض کر لے گا اور آسمان کو اپنی داہنی مٹھی میں لے لے گا۔ پھر فرمائے گا میں ہوں بادشاہ کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟ [صحیح بخاری:4812]
مسلم کی اس حدیث میں ہے کہ زمینیں اس کی ایک انگلی پر ہوں گی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں ہوں گے پھر فرمائے گا میں ہی بادشاہ ہوں ۔ [صحیح مسلم:2787]
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ ہلاتے جاتے آگے پیچھے لا رہے تھے اور فرماتے تھے اللہ تعالیٰ اپنی بزرگی آپ بیان فرمائے گا کہ ” میں جبار ہوں میں متکبر ہوں میں مالک ہوں میں باعزت ہوں میں کریم ہوں “ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بیان کے وقت اتنا ہل رہے تھے کہ ہمیں ڈر لگنے لگا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سمیت گر نہ پڑیں ۔ [مسند احمد:72/2:صحیح]
ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی پوری کیفیت دکھا دی کہ کس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکایت کیا تھا؟ کہ اللہ تبارک و آسمانوں اور زمینوں کو اپنے ہاتھ میں لے گا اور فرمائے گا ” میں بادشاہ ہوں “۔ اپنی انگلیوں کو کبھی کھولے گا کبھی بند کرے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہل رہے تھے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہلنے سے سارا منبر ہلنے لگا اور مجھے ڈر لگا کہ کہیں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گرا نہ دے ۔ [صحیح مسلم:2788]
بزار کی رویت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی اور منبر ہلنے لگا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ آئے گئے ۔ [طبرانی کبیر:13321:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
معجم کبیر طبرانی کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے فرمایا: میں آج تمہیں سورۃ الزمر کی آخری آیتیں سناؤں گا جسے ان سے رونا آ گیا وہ جنتی ہو گیا ، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت سے لے کر ختم سورۃ تک کی آیتیں تلاوت فرمائیں بعض روئے اور بعض کو رونا نہ آیا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے ہر چند رونا چاہا لیکن رونا نہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا میں پھر پڑھوں گا جسے رونا نہ آئے وہ رونی شکل بنا کر بہ تکلف روئے ۔ [طبرانی کبیر:2459:ضعیف]
صفحہ نمبر7874
ایک اس سے بڑھ کر غریب حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے تین چیزیں اپنے بندوں میں چھپالی ہیں اگر وہ انہیں دیکھ لیتے تو کوئی شخص کبھی کوئی بدعملی نہ کرتا۔ [ ١ ] اگر میں پردہ ہٹا دیتا اور وہ مجھے دیکھ کر خوب یقین کر لیتے اور معلوم کر لیتے کہ میں اپنی مخلوق کے ساتھ کیا کچھ کرتا ہوں جبکہ ان کے پاس آؤں اور آسمانوں کو اپنی مٹھی میں لے لوں پھر اپنی زمین کو اپنی مٹھی میں لے لوں پھر کہوں میں بادشاہ ہوں میرے سوا ملک کا مالک کون ہے؟ [ ٢ ] پھر میں انہیں جنت دکھاؤں اور اس میں جو بھلائیاں ہیں سب ان کے سامنے کر دوں اور وہ یقین کے ساتھ خوب اچھی طرح دیکھ لیں۔ [ ٣ ] اور میں انہیں جہنم دکھا دوں اور اس کے عذاب دکھا دوں یہاں تک کہ انہیں یقین آ جائے۔ لیکن میں نے یہ چیزیں قصداً ان سے پوشیدہ کر رکھی ہیں۔ تاکہ میں جان لوں کہ وہ مجھے کس طرح جانتے ہیں کیونکہ میں نے یہ سب باتیں بیان کر دی ہیں ۔ [طبرانی کبیر:2447:ضعیف و منقطع]
اس کی سند متقارب ہے اور اس نسخے سے بہت سی حدیثیں روایت کی جاتی ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر7875
قیامت کی ہولناکی کا بیان ٭٭
قیامت کی ہولناکی اور دہشت و وحشت کا ذکر ہو رہا ہے کہ صور پھونکا جائے گا۔ یہ دوسرا صور ہو گا جس سے ہر زندہ مردہ ہو جائے گا خواہ آسمان میں ہو خواہ زمین میں۔ مگر جسے اللہ چاہے۔
صور کی مشہور حدیث میں ہے کہ پھر باقی والوں کی روحیں قبض کی جائیں گی یہاں تک کہ سب سے آخر خود ملک الموت کی روح بھی قبض کی جائے گی اور صرف اللہ تعالیٰ ہی باقی رہ جائے گا جو حی و قیوم ہے جو اول سے تھا اور آخر میں دوام کے ساتھ رہ جائے گا۔ پھر فرمائے گا کہ آج کس کا راج پاٹ ہے؟ تین مرتبہ یہی فرمائے گا پھر خود آپ ہی اپنے آپ کو جواب دے گا کہ اللہ واحد و قہار کا، میں ہی اکیلا ہوں جس نے ہرچیز کو اپنی ماتحتی میں کر رکھا ہے آج میں نے سب کو فنا کا حکم دیدیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ سب سے پہلے اسرافیل علیہ السلام کو زندہ کرے گا اور انہیں حکم دے گا کہ دوبارہ نفخہ پھونکیں یہ تیسرا صور ہو گا جس سے ساری مخلوق جو مردہ تھی زندہ ہو جائے گی جس کا بیان اس آیت میں ہے کہ اور نفخہ پھونکا جائے گا اور سب لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور نظریں دوڑانے لگیں گیے۔ یعنی قیامت کی دل دوز حالت دیکھنے لگیں گے ۔
جیسے فرمان ہے «فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [79-النازعات:14،13] یعنی ” وہ تو صرف ایک ہی سخت آواز ہو گی جس سے سب لوگ فوراً ہی ایک میدان میں آموجود ہوں گے “۔
اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] ، یعنی ” جس دن اللہ تعالیٰ انہیں بلائے گا تو سب اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کو مان لو گے اور دنیا کی زندگی کو کم سمجھنے لگو گے “۔
اللہ جل و علا کا اور جگہ ارشاد ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ تَــقُوْمَ السَّمَاءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ الْاَرْضِ اِذَآ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ» [30-الروم:25] ” اس کی نشانیوں میں سے زمین آسمان کا اس کے حکم سے قائم رہنا ہے پھر جب وہ تمہیں زمین میں سے پکار کر بلائے گا تو تم سب یکبارگی نکل پکڑو گے “۔
صفحہ نمبر7876
مسند احمد ہے کہ ایک شخص نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اتنے اتنے وقت تک قیامت آ جائے گی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ناراض ہو کر فرمایا ”جی تو چاہتا ہے کہ تم سے کوئی بات بیان ہی نہ کروں۔ میں نے تو کہا تھا کہ بہت تھوڑی مدت میں تم اہم امر دیکھو گے“، پھر فرمایا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے میری امت میں دجال آئے گا اور وہ چالیس سال تک رہے گا میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال یا چالیس راتیں پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہا السلام کو بھیجے گا۔ وہ بالکل صورت شکل میں عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ جیسے ہوں گے اللہ آپ علیہ السلام کو غالب کرے گا اور دجال آپ علیہ السلام کے ہاتھوں ہلاک ہو گا پھر سات سال تک لوگ اس طرح ملے جلے رہیں گے کہ ساری دنیا میں دو شخصوں کے درمیان بھی آپس میں رنجش و عداوت نہ ہو گی۔ پھر پروردگار عالم شام کی طرف ایک ہلکی ٹھنڈی ہوا چلائے گا۔ جس سے تمام ایمان والوں کی روح قبض کر لی جائے گی یہاں تک کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو گا وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ یہ خواہ کہیں بھی ہو۔ یہاں تک کہ اگر کسی پہاڑی کی کھوہ میں بھی کوئی مسلمان ہو گا تو یہ ہوا وہاں بھی پہنچے گی۔ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ پھر تو بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو اپنے کمینہ پن میں مثل پرندوں کے ہلکے اور اپنی بیوقوفی میں مثل درندوں کے بیوقوف ہوں گے نہ اچھائی اچھائی کو سمجھیں گے نہ برائی کو برائی جانیں گے۔ ان پر شیطان ظاہر ہو گا اور کہے گا شرماتے نہیں کہ تم نے بت پرستی چھوڑ رکھی ہے چنانچہ وہ اس کے بہکاوے میں آ کر بت پرستی شروع کر دیں گے اس حالت میں بھی اللہ تعالیٰ ان کی روزی اور معاش میں کشادگی عطا فرمائے ہوئے ہو گا۔ پھر صور پھونک دیا جائے گا جس کے کان میں اس کی آواز جائے گی وہ ادھر گرے گا ادھر کھڑا ہو گا پھر گرے گا۔ سب سے پہلے اس کی آواز جس کے کان میں پڑے گی۔ یہ وہ شخص ہو گا جو اپنا حوض ٹھیک کر رہا ہو گا فوراً بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے گا۔ پھر تو ہر شخص بے ہوش اور خود فراموش ہو جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا جو شبنم کی طرح ہو گی اس سے لوگوں کے جسم اگ نکلیں گے، پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا تو سب زندہ کھڑے ہو جائیں گے اور دیکھنے لگیں گے۔ پھر کہا جائے گا اے لوگو! اپنے رب کی طرف چلو۔ انہیں ٹھہرالو ان سے سوالات کئے جائیں گے پھر فرمایا جائے گا کہ جہنم کا حصہ نکال لو پوچھا جائے گا کس قدر۔ جواب ملے گا ہر ہزار سے نو سو نناوے۔ یہ دن ہو گا کہ بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور یہی دن ہو گا جس میں پنڈلی کھولی جائے گی“ ۔ [صحیح مسلم:2940]
صفحہ نمبر7877
صحیح بخاری میں ہے دونوں نفحوں کے درمیان چالیس ہوں گے راوی حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہا سے سوال ہوا کہ کیا چالیس دن؟ فرمایا میں اس کا جواب نہیں دوں گا کہ کہا گیا چالیس ماہ؟ فرمایا میں اس کا بھی انکار کرتا ہوں۔ انسان کی سب چیز گل سڑ جائے گی مگر ریڑھ کی ہڈی اسی سے مخلوق ترتیب دی جائے گی ۔ [صحیح بخاری:4935]
مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ اس آیت میں جو استثناء ہے یعنی جسے اللہ چاہے اس سے کون لوگ مراد ہیں ؟ فرمایا شہداء۔ یہ اپنی تلواریں لٹکائے اللہ کے عرش کے اردگرد ہوں گے فرشتے اپنے جھرمٹ میں انہیں محشر کی طرف لے جائیں گے۔ یاقوت کی اونٹنیوں پر وہ سوار ہوں گے جن کی گدیاں ریشم سے بھی زیادہ نرم ہوں گی۔ انسان کی نگاہ جہاں تک کام کرتی ہے اس کا ایک قدم ہو گا یہ جنت میں خوش وقت ہوں گے وہاں عیش و عشرت میں ہوں گے پھر ان کے دل میں آئے گا کہ چلو دیکھیں اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے کر رہا ہو گا چنانچہ ان کی طرف دیکھ کر الہ العالمین ہنس دے گا۔ اور اس جگہ جسے دیکھ کر رب ہنس دے اس پر حساب کتاب نہیں ہے ۔ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف] اس کے کل راوی ثقہ ہیں مگر اسماعیل بن عیاش کے استاد غیر معروف ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے کیلئے آئے گا اس وقت اس کے نور سے ساری زمین روشن ہو جائے گی۔ نامہ اعمال لائے جائیں گے۔ نبیوں کو پیش کیا جائے گا جو گواہی دیں گے کہ انہوں نے اپنی امتوں کو تبلیغ کر دی تھی۔ اور بندوں کے نیک و بد اعمال کے محافظ فرشتے لائے جائیں گے۔ اور عدل و انصاف کے ساتھ مخلوق کے فیصلے کئے جائیں گے۔ اور کسی پر کسی قسم کا ظلم وستم نہ کیا جائے گا۔ جیسے فرمایا «وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا» [21-الأنبياء:47] ، یعنی ” قیامت کے دن ہم میزان عدل قائم کریں گے اور کسی پر بالکل ظلم نہ ہو گا گو رائی کے دانے کے برابر عمل ہو ہم اسے بھی موجود کر دیں گے۔ اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں “۔
اور آیت میں ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» [4-النساء:40] ” اللہ تعالیٰ بہ قدر ذرے کے بھی ظلم نہیں کرتا وہ نیکیوں کو بڑھاتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے “۔ اسی لیے یہاں بھی ارشاد ہو رہا ہے کہ ” ہر شخص کو اس کے بھلے برے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ وہ ہر شخص کے اعمال سے باخبر ہے “۔
صفحہ نمبر7878
قیامت کی ہولناکی کا بیان ٭٭
قیامت کی ہولناکی اور دہشت و وحشت کا ذکر ہو رہا ہے کہ صور پھونکا جائے گا۔ یہ دوسرا صور ہو گا جس سے ہر زندہ مردہ ہو جائے گا خواہ آسمان میں ہو خواہ زمین میں۔ مگر جسے اللہ چاہے۔
صور کی مشہور حدیث میں ہے کہ پھر باقی والوں کی روحیں قبض کی جائیں گی یہاں تک کہ سب سے آخر خود ملک الموت کی روح بھی قبض کی جائے گی اور صرف اللہ تعالیٰ ہی باقی رہ جائے گا جو حی و قیوم ہے جو اول سے تھا اور آخر میں دوام کے ساتھ رہ جائے گا۔ پھر فرمائے گا کہ آج کس کا راج پاٹ ہے؟ تین مرتبہ یہی فرمائے گا پھر خود آپ ہی اپنے آپ کو جواب دے گا کہ اللہ واحد و قہار کا، میں ہی اکیلا ہوں جس نے ہرچیز کو اپنی ماتحتی میں کر رکھا ہے آج میں نے سب کو فنا کا حکم دیدیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ سب سے پہلے اسرافیل علیہ السلام کو زندہ کرے گا اور انہیں حکم دے گا کہ دوبارہ نفخہ پھونکیں یہ تیسرا صور ہو گا جس سے ساری مخلوق جو مردہ تھی زندہ ہو جائے گی جس کا بیان اس آیت میں ہے کہ اور نفخہ پھونکا جائے گا اور سب لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور نظریں دوڑانے لگیں گیے۔ یعنی قیامت کی دل دوز حالت دیکھنے لگیں گے ۔
جیسے فرمان ہے «فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [79-النازعات:14،13] یعنی ” وہ تو صرف ایک ہی سخت آواز ہو گی جس سے سب لوگ فوراً ہی ایک میدان میں آموجود ہوں گے “۔
اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] ، یعنی ” جس دن اللہ تعالیٰ انہیں بلائے گا تو سب اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کو مان لو گے اور دنیا کی زندگی کو کم سمجھنے لگو گے “۔
اللہ جل و علا کا اور جگہ ارشاد ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ تَــقُوْمَ السَّمَاءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ الْاَرْضِ اِذَآ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ» [30-الروم:25] ” اس کی نشانیوں میں سے زمین آسمان کا اس کے حکم سے قائم رہنا ہے پھر جب وہ تمہیں زمین میں سے پکار کر بلائے گا تو تم سب یکبارگی نکل پکڑو گے “۔
صفحہ نمبر7876
مسند احمد ہے کہ ایک شخص نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اتنے اتنے وقت تک قیامت آ جائے گی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ناراض ہو کر فرمایا ”جی تو چاہتا ہے کہ تم سے کوئی بات بیان ہی نہ کروں۔ میں نے تو کہا تھا کہ بہت تھوڑی مدت میں تم اہم امر دیکھو گے“، پھر فرمایا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے میری امت میں دجال آئے گا اور وہ چالیس سال تک رہے گا میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال یا چالیس راتیں پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہا السلام کو بھیجے گا۔ وہ بالکل صورت شکل میں عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ جیسے ہوں گے اللہ آپ علیہ السلام کو غالب کرے گا اور دجال آپ علیہ السلام کے ہاتھوں ہلاک ہو گا پھر سات سال تک لوگ اس طرح ملے جلے رہیں گے کہ ساری دنیا میں دو شخصوں کے درمیان بھی آپس میں رنجش و عداوت نہ ہو گی۔ پھر پروردگار عالم شام کی طرف ایک ہلکی ٹھنڈی ہوا چلائے گا۔ جس سے تمام ایمان والوں کی روح قبض کر لی جائے گی یہاں تک کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو گا وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ یہ خواہ کہیں بھی ہو۔ یہاں تک کہ اگر کسی پہاڑی کی کھوہ میں بھی کوئی مسلمان ہو گا تو یہ ہوا وہاں بھی پہنچے گی۔ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ پھر تو بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو اپنے کمینہ پن میں مثل پرندوں کے ہلکے اور اپنی بیوقوفی میں مثل درندوں کے بیوقوف ہوں گے نہ اچھائی اچھائی کو سمجھیں گے نہ برائی کو برائی جانیں گے۔ ان پر شیطان ظاہر ہو گا اور کہے گا شرماتے نہیں کہ تم نے بت پرستی چھوڑ رکھی ہے چنانچہ وہ اس کے بہکاوے میں آ کر بت پرستی شروع کر دیں گے اس حالت میں بھی اللہ تعالیٰ ان کی روزی اور معاش میں کشادگی عطا فرمائے ہوئے ہو گا۔ پھر صور پھونک دیا جائے گا جس کے کان میں اس کی آواز جائے گی وہ ادھر گرے گا ادھر کھڑا ہو گا پھر گرے گا۔ سب سے پہلے اس کی آواز جس کے کان میں پڑے گی۔ یہ وہ شخص ہو گا جو اپنا حوض ٹھیک کر رہا ہو گا فوراً بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے گا۔ پھر تو ہر شخص بے ہوش اور خود فراموش ہو جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا جو شبنم کی طرح ہو گی اس سے لوگوں کے جسم اگ نکلیں گے، پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا تو سب زندہ کھڑے ہو جائیں گے اور دیکھنے لگیں گے۔ پھر کہا جائے گا اے لوگو! اپنے رب کی طرف چلو۔ انہیں ٹھہرالو ان سے سوالات کئے جائیں گے پھر فرمایا جائے گا کہ جہنم کا حصہ نکال لو پوچھا جائے گا کس قدر۔ جواب ملے گا ہر ہزار سے نو سو نناوے۔ یہ دن ہو گا کہ بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور یہی دن ہو گا جس میں پنڈلی کھولی جائے گی“ ۔ [صحیح مسلم:2940]
صفحہ نمبر7877
صحیح بخاری میں ہے دونوں نفحوں کے درمیان چالیس ہوں گے راوی حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہا سے سوال ہوا کہ کیا چالیس دن؟ فرمایا میں اس کا جواب نہیں دوں گا کہ کہا گیا چالیس ماہ؟ فرمایا میں اس کا بھی انکار کرتا ہوں۔ انسان کی سب چیز گل سڑ جائے گی مگر ریڑھ کی ہڈی اسی سے مخلوق ترتیب دی جائے گی ۔ [صحیح بخاری:4935]
مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ اس آیت میں جو استثناء ہے یعنی جسے اللہ چاہے اس سے کون لوگ مراد ہیں ؟ فرمایا شہداء۔ یہ اپنی تلواریں لٹکائے اللہ کے عرش کے اردگرد ہوں گے فرشتے اپنے جھرمٹ میں انہیں محشر کی طرف لے جائیں گے۔ یاقوت کی اونٹنیوں پر وہ سوار ہوں گے جن کی گدیاں ریشم سے بھی زیادہ نرم ہوں گی۔ انسان کی نگاہ جہاں تک کام کرتی ہے اس کا ایک قدم ہو گا یہ جنت میں خوش وقت ہوں گے وہاں عیش و عشرت میں ہوں گے پھر ان کے دل میں آئے گا کہ چلو دیکھیں اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے کر رہا ہو گا چنانچہ ان کی طرف دیکھ کر الہ العالمین ہنس دے گا۔ اور اس جگہ جسے دیکھ کر رب ہنس دے اس پر حساب کتاب نہیں ہے ۔ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف] اس کے کل راوی ثقہ ہیں مگر اسماعیل بن عیاش کے استاد غیر معروف ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے کیلئے آئے گا اس وقت اس کے نور سے ساری زمین روشن ہو جائے گی۔ نامہ اعمال لائے جائیں گے۔ نبیوں کو پیش کیا جائے گا جو گواہی دیں گے کہ انہوں نے اپنی امتوں کو تبلیغ کر دی تھی۔ اور بندوں کے نیک و بد اعمال کے محافظ فرشتے لائے جائیں گے۔ اور عدل و انصاف کے ساتھ مخلوق کے فیصلے کئے جائیں گے۔ اور کسی پر کسی قسم کا ظلم وستم نہ کیا جائے گا۔ جیسے فرمایا «وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا» [21-الأنبياء:47] ، یعنی ” قیامت کے دن ہم میزان عدل قائم کریں گے اور کسی پر بالکل ظلم نہ ہو گا گو رائی کے دانے کے برابر عمل ہو ہم اسے بھی موجود کر دیں گے۔ اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں “۔
اور آیت میں ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» [4-النساء:40] ” اللہ تعالیٰ بہ قدر ذرے کے بھی ظلم نہیں کرتا وہ نیکیوں کو بڑھاتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے “۔ اسی لیے یہاں بھی ارشاد ہو رہا ہے کہ ” ہر شخص کو اس کے بھلے برے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ وہ ہر شخص کے اعمال سے باخبر ہے “۔
صفحہ نمبر7878
قیامت کی ہولناکی کا بیان ٭٭
قیامت کی ہولناکی اور دہشت و وحشت کا ذکر ہو رہا ہے کہ صور پھونکا جائے گا۔ یہ دوسرا صور ہو گا جس سے ہر زندہ مردہ ہو جائے گا خواہ آسمان میں ہو خواہ زمین میں۔ مگر جسے اللہ چاہے۔
صور کی مشہور حدیث میں ہے کہ پھر باقی والوں کی روحیں قبض کی جائیں گی یہاں تک کہ سب سے آخر خود ملک الموت کی روح بھی قبض کی جائے گی اور صرف اللہ تعالیٰ ہی باقی رہ جائے گا جو حی و قیوم ہے جو اول سے تھا اور آخر میں دوام کے ساتھ رہ جائے گا۔ پھر فرمائے گا کہ آج کس کا راج پاٹ ہے؟ تین مرتبہ یہی فرمائے گا پھر خود آپ ہی اپنے آپ کو جواب دے گا کہ اللہ واحد و قہار کا، میں ہی اکیلا ہوں جس نے ہرچیز کو اپنی ماتحتی میں کر رکھا ہے آج میں نے سب کو فنا کا حکم دیدیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ سب سے پہلے اسرافیل علیہ السلام کو زندہ کرے گا اور انہیں حکم دے گا کہ دوبارہ نفخہ پھونکیں یہ تیسرا صور ہو گا جس سے ساری مخلوق جو مردہ تھی زندہ ہو جائے گی جس کا بیان اس آیت میں ہے کہ اور نفخہ پھونکا جائے گا اور سب لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور نظریں دوڑانے لگیں گیے۔ یعنی قیامت کی دل دوز حالت دیکھنے لگیں گے ۔
جیسے فرمان ہے «فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [79-النازعات:14،13] یعنی ” وہ تو صرف ایک ہی سخت آواز ہو گی جس سے سب لوگ فوراً ہی ایک میدان میں آموجود ہوں گے “۔
اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] ، یعنی ” جس دن اللہ تعالیٰ انہیں بلائے گا تو سب اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کو مان لو گے اور دنیا کی زندگی کو کم سمجھنے لگو گے “۔
اللہ جل و علا کا اور جگہ ارشاد ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ تَــقُوْمَ السَّمَاءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ الْاَرْضِ اِذَآ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ» [30-الروم:25] ” اس کی نشانیوں میں سے زمین آسمان کا اس کے حکم سے قائم رہنا ہے پھر جب وہ تمہیں زمین میں سے پکار کر بلائے گا تو تم سب یکبارگی نکل پکڑو گے “۔
صفحہ نمبر7876
مسند احمد ہے کہ ایک شخص نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اتنے اتنے وقت تک قیامت آ جائے گی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ناراض ہو کر فرمایا ”جی تو چاہتا ہے کہ تم سے کوئی بات بیان ہی نہ کروں۔ میں نے تو کہا تھا کہ بہت تھوڑی مدت میں تم اہم امر دیکھو گے“، پھر فرمایا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے میری امت میں دجال آئے گا اور وہ چالیس سال تک رہے گا میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال یا چالیس راتیں پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہا السلام کو بھیجے گا۔ وہ بالکل صورت شکل میں عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ جیسے ہوں گے اللہ آپ علیہ السلام کو غالب کرے گا اور دجال آپ علیہ السلام کے ہاتھوں ہلاک ہو گا پھر سات سال تک لوگ اس طرح ملے جلے رہیں گے کہ ساری دنیا میں دو شخصوں کے درمیان بھی آپس میں رنجش و عداوت نہ ہو گی۔ پھر پروردگار عالم شام کی طرف ایک ہلکی ٹھنڈی ہوا چلائے گا۔ جس سے تمام ایمان والوں کی روح قبض کر لی جائے گی یہاں تک کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو گا وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ یہ خواہ کہیں بھی ہو۔ یہاں تک کہ اگر کسی پہاڑی کی کھوہ میں بھی کوئی مسلمان ہو گا تو یہ ہوا وہاں بھی پہنچے گی۔ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ پھر تو بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو اپنے کمینہ پن میں مثل پرندوں کے ہلکے اور اپنی بیوقوفی میں مثل درندوں کے بیوقوف ہوں گے نہ اچھائی اچھائی کو سمجھیں گے نہ برائی کو برائی جانیں گے۔ ان پر شیطان ظاہر ہو گا اور کہے گا شرماتے نہیں کہ تم نے بت پرستی چھوڑ رکھی ہے چنانچہ وہ اس کے بہکاوے میں آ کر بت پرستی شروع کر دیں گے اس حالت میں بھی اللہ تعالیٰ ان کی روزی اور معاش میں کشادگی عطا فرمائے ہوئے ہو گا۔ پھر صور پھونک دیا جائے گا جس کے کان میں اس کی آواز جائے گی وہ ادھر گرے گا ادھر کھڑا ہو گا پھر گرے گا۔ سب سے پہلے اس کی آواز جس کے کان میں پڑے گی۔ یہ وہ شخص ہو گا جو اپنا حوض ٹھیک کر رہا ہو گا فوراً بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے گا۔ پھر تو ہر شخص بے ہوش اور خود فراموش ہو جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا جو شبنم کی طرح ہو گی اس سے لوگوں کے جسم اگ نکلیں گے، پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا تو سب زندہ کھڑے ہو جائیں گے اور دیکھنے لگیں گے۔ پھر کہا جائے گا اے لوگو! اپنے رب کی طرف چلو۔ انہیں ٹھہرالو ان سے سوالات کئے جائیں گے پھر فرمایا جائے گا کہ جہنم کا حصہ نکال لو پوچھا جائے گا کس قدر۔ جواب ملے گا ہر ہزار سے نو سو نناوے۔ یہ دن ہو گا کہ بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور یہی دن ہو گا جس میں پنڈلی کھولی جائے گی“ ۔ [صحیح مسلم:2940]
صفحہ نمبر7877
صحیح بخاری میں ہے دونوں نفحوں کے درمیان چالیس ہوں گے راوی حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہا سے سوال ہوا کہ کیا چالیس دن؟ فرمایا میں اس کا جواب نہیں دوں گا کہ کہا گیا چالیس ماہ؟ فرمایا میں اس کا بھی انکار کرتا ہوں۔ انسان کی سب چیز گل سڑ جائے گی مگر ریڑھ کی ہڈی اسی سے مخلوق ترتیب دی جائے گی ۔ [صحیح بخاری:4935]
مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ اس آیت میں جو استثناء ہے یعنی جسے اللہ چاہے اس سے کون لوگ مراد ہیں ؟ فرمایا شہداء۔ یہ اپنی تلواریں لٹکائے اللہ کے عرش کے اردگرد ہوں گے فرشتے اپنے جھرمٹ میں انہیں محشر کی طرف لے جائیں گے۔ یاقوت کی اونٹنیوں پر وہ سوار ہوں گے جن کی گدیاں ریشم سے بھی زیادہ نرم ہوں گی۔ انسان کی نگاہ جہاں تک کام کرتی ہے اس کا ایک قدم ہو گا یہ جنت میں خوش وقت ہوں گے وہاں عیش و عشرت میں ہوں گے پھر ان کے دل میں آئے گا کہ چلو دیکھیں اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے کر رہا ہو گا چنانچہ ان کی طرف دیکھ کر الہ العالمین ہنس دے گا۔ اور اس جگہ جسے دیکھ کر رب ہنس دے اس پر حساب کتاب نہیں ہے ۔ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف] اس کے کل راوی ثقہ ہیں مگر اسماعیل بن عیاش کے استاد غیر معروف ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے کیلئے آئے گا اس وقت اس کے نور سے ساری زمین روشن ہو جائے گی۔ نامہ اعمال لائے جائیں گے۔ نبیوں کو پیش کیا جائے گا جو گواہی دیں گے کہ انہوں نے اپنی امتوں کو تبلیغ کر دی تھی۔ اور بندوں کے نیک و بد اعمال کے محافظ فرشتے لائے جائیں گے۔ اور عدل و انصاف کے ساتھ مخلوق کے فیصلے کئے جائیں گے۔ اور کسی پر کسی قسم کا ظلم وستم نہ کیا جائے گا۔ جیسے فرمایا «وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا» [21-الأنبياء:47] ، یعنی ” قیامت کے دن ہم میزان عدل قائم کریں گے اور کسی پر بالکل ظلم نہ ہو گا گو رائی کے دانے کے برابر عمل ہو ہم اسے بھی موجود کر دیں گے۔ اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں “۔
اور آیت میں ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» [4-النساء:40] ” اللہ تعالیٰ بہ قدر ذرے کے بھی ظلم نہیں کرتا وہ نیکیوں کو بڑھاتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے “۔ اسی لیے یہاں بھی ارشاد ہو رہا ہے کہ ” ہر شخص کو اس کے بھلے برے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ وہ ہر شخص کے اعمال سے باخبر ہے “۔
صفحہ نمبر7878
کفار کی آخری منزل ٭٭
بدنصیب منکرین حق، کفار کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ” وہ جانوروں کی طرح رسوائی، ذلت ڈانٹ ڈپٹ اور جھڑکی سے جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے “۔ جیسے اور آیت «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا» [52-الطور:13] میں «يُدَعُّونَ» کا لفظ ہے یعنی ” دھکے دیئے جائیں گے“ اور سخت پیاسے ہوں گے۔
جیسے اللہ جل و علا نے فرمایا «يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَـٰنِ وَفْدًا وَنَسُوقُ الْمُجْرِمِينَ إِلَىٰ جَهَنَّمَ وِرْدًا» [19-مريم:86-85] ، ” جس روز ہم پرہیزگاروں کو رحمان کے مہمان بنا کر جمع کریں گے اور گنہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسا ہانکیں گے “۔ «وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا مَّأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا» [17-الإسراء:97] ” اس کے علاوہ وہ بہرے گونگے اور اندھے ہوں گے اور منہ کے بل گھسیٹ کر لائیں گے “۔
یہ اندھے گونگے اور بہرے ہوں گے ان کا ٹھکانا دوزخ ہو گا جب اس کی آتش دھیمی ہونے لگے ہم اسے اور تیز کر دیں گے۔ یہ قریب پہنچیں گے دروازے کھل جائیں گے تاکہ فوراً ہی عذاب نار شروع ہو جائے۔ پھر انہیں وہاں کے محافظ فرشتے شرمندہ کرنے کیلئے اور ندامت بڑھانے کیلئے ڈانٹ کر اور گھرک کر کہیں گے کیونکہ ان میں رحم کا تو مادہ ہی نہیں سراسر سختی کرنے والے سخت غصے والے اور بڑی بری طرح مار مارنے والے ہیں کہ کیا تمہارے پاس تمہاری ہی جنس کے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں آئے تھے؟ جن سے تم سوال جواب کر سکتے تھے اپنا اطمینان اور تسلی کر سکتے تھے ان کی باتوں کو سمجھ سکتے تھے ان کی صحبت میں بیٹھ سکتے تھے، انہوں نے اللہ کی آیتیں تمہیں پڑھ کر سنائیں اپنے لائے ہوئے سچے دین پر دلیلیں قائم کر دیں۔ تمہیں اس دن کی برائیوں سے آگاہ کر دیا۔ آج کے عذابوں سے ڈرایا۔ کافر اقرار کریں گے کہ ہاں یہ سچ ہے بیشک اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں آئے۔ انہوں نے دلیلیں بھی قائم کیں ہمیں بہت کچھ کہا سنا بھی۔ ڈرایا دھمکایا بھی۔ لیکن ہم نے ان کی ایک نہ مانی بلکہ ان کے خلاف کیا مقابلہ کیا کیونکہ ہماری قسمت میں ہی شقاوت تھی۔ ازلی بدنصیب ہم تھے۔ حق سے ہٹ گئے اور باطل کے طرفدار بن گئے۔
صفحہ نمبر7881
جیسے سورۃ تبارک کی آیت میں ہے «تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ قَالُوا بَلَىٰ قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ» [67-الملك:8-10] ” جب جہنم میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا۔ اس سے وہاں کے محافظ پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟ وہ جواب دیں گے کہ ہاں آیا تو تھا لیکن ہم نے اس کی تکذیب کی اور کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ بھی نازل نہیں فرمایا تم بڑی بھاری غلطی میں ہو۔ اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو آج دوزخیوں میں نہ ہوتے “۔ «فَاعْتَرَفُوا بِذَنبِهِمْ فَسُحْقًا لِّأَصْحَابِ السَّعِيرِ» [67-الملك:11] یعنی ” اپنے آپ کو آپ ملامت کرنے لگیں گے اپنے گناہ کا خود اقرار کریں گے “۔ اللہ فرمائے گا ” دوری اور خسارہ ہو، لعنت و پھٹکار ہو اہل دوزخ پر “، کہا جائے گا یعنی ہر وہ شخص جو انہیں دیکھے گا اور ان کی حالت کو معلوم کرے گا وہ صاف کہہ اٹھے گا کہ بے شک یہ اسی لائق ہیں۔
اسی لیے کہنے والے کا نام نہیں لیا گیا بلکہ اسے مطلق چھوڑا گیا تاکہ اس کا عموم باقی رہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے عدل کی گواہی کامل ہو جائے ان سے کہہ دیا جائے گا کہ اب جاؤ جہنم میں یہیں ہمیشہ جلتے بھلستے رہنا نہ یہاں سے کسی طرح کسی وقت چھٹکارا ملے نہ تمہیں موت آئے۔ آہ! یہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے جس میں دن رات جلنا ہی جلنا ہے۔ یہ ہے تمہارے تکبر کا اور حق کو نہ ماننے کا بدلہ۔ جس نے تمہیں ایسی بری جگہ پہنچایا اور یہیں کر دیا۔ کیا ہی برا حال ہے؟ اور کیا ہی عبرتناک مال ہے؟ اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔
صفحہ نمبر7882
کفار کی آخری منزل ٭٭
بدنصیب منکرین حق، کفار کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ” وہ جانوروں کی طرح رسوائی، ذلت ڈانٹ ڈپٹ اور جھڑکی سے جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے “۔ جیسے اور آیت «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا» [52-الطور:13] میں «يُدَعُّونَ» کا لفظ ہے یعنی ” دھکے دیئے جائیں گے“ اور سخت پیاسے ہوں گے۔
جیسے اللہ جل و علا نے فرمایا «يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَـٰنِ وَفْدًا وَنَسُوقُ الْمُجْرِمِينَ إِلَىٰ جَهَنَّمَ وِرْدًا» [19-مريم:86-85] ، ” جس روز ہم پرہیزگاروں کو رحمان کے مہمان بنا کر جمع کریں گے اور گنہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسا ہانکیں گے “۔ «وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا مَّأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا» [17-الإسراء:97] ” اس کے علاوہ وہ بہرے گونگے اور اندھے ہوں گے اور منہ کے بل گھسیٹ کر لائیں گے “۔
یہ اندھے گونگے اور بہرے ہوں گے ان کا ٹھکانا دوزخ ہو گا جب اس کی آتش دھیمی ہونے لگے ہم اسے اور تیز کر دیں گے۔ یہ قریب پہنچیں گے دروازے کھل جائیں گے تاکہ فوراً ہی عذاب نار شروع ہو جائے۔ پھر انہیں وہاں کے محافظ فرشتے شرمندہ کرنے کیلئے اور ندامت بڑھانے کیلئے ڈانٹ کر اور گھرک کر کہیں گے کیونکہ ان میں رحم کا تو مادہ ہی نہیں سراسر سختی کرنے والے سخت غصے والے اور بڑی بری طرح مار مارنے والے ہیں کہ کیا تمہارے پاس تمہاری ہی جنس کے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں آئے تھے؟ جن سے تم سوال جواب کر سکتے تھے اپنا اطمینان اور تسلی کر سکتے تھے ان کی باتوں کو سمجھ سکتے تھے ان کی صحبت میں بیٹھ سکتے تھے، انہوں نے اللہ کی آیتیں تمہیں پڑھ کر سنائیں اپنے لائے ہوئے سچے دین پر دلیلیں قائم کر دیں۔ تمہیں اس دن کی برائیوں سے آگاہ کر دیا۔ آج کے عذابوں سے ڈرایا۔ کافر اقرار کریں گے کہ ہاں یہ سچ ہے بیشک اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں آئے۔ انہوں نے دلیلیں بھی قائم کیں ہمیں بہت کچھ کہا سنا بھی۔ ڈرایا دھمکایا بھی۔ لیکن ہم نے ان کی ایک نہ مانی بلکہ ان کے خلاف کیا مقابلہ کیا کیونکہ ہماری قسمت میں ہی شقاوت تھی۔ ازلی بدنصیب ہم تھے۔ حق سے ہٹ گئے اور باطل کے طرفدار بن گئے۔
صفحہ نمبر7881
جیسے سورۃ تبارک کی آیت میں ہے «تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ قَالُوا بَلَىٰ قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ» [67-الملك:8-10] ” جب جہنم میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا۔ اس سے وہاں کے محافظ پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟ وہ جواب دیں گے کہ ہاں آیا تو تھا لیکن ہم نے اس کی تکذیب کی اور کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ بھی نازل نہیں فرمایا تم بڑی بھاری غلطی میں ہو۔ اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو آج دوزخیوں میں نہ ہوتے “۔ «فَاعْتَرَفُوا بِذَنبِهِمْ فَسُحْقًا لِّأَصْحَابِ السَّعِيرِ» [67-الملك:11] یعنی ” اپنے آپ کو آپ ملامت کرنے لگیں گے اپنے گناہ کا خود اقرار کریں گے “۔ اللہ فرمائے گا ” دوری اور خسارہ ہو، لعنت و پھٹکار ہو اہل دوزخ پر “، کہا جائے گا یعنی ہر وہ شخص جو انہیں دیکھے گا اور ان کی حالت کو معلوم کرے گا وہ صاف کہہ اٹھے گا کہ بے شک یہ اسی لائق ہیں۔
اسی لیے کہنے والے کا نام نہیں لیا گیا بلکہ اسے مطلق چھوڑا گیا تاکہ اس کا عموم باقی رہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے عدل کی گواہی کامل ہو جائے ان سے کہہ دیا جائے گا کہ اب جاؤ جہنم میں یہیں ہمیشہ جلتے بھلستے رہنا نہ یہاں سے کسی طرح کسی وقت چھٹکارا ملے نہ تمہیں موت آئے۔ آہ! یہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے جس میں دن رات جلنا ہی جلنا ہے۔ یہ ہے تمہارے تکبر کا اور حق کو نہ ماننے کا بدلہ۔ جس نے تمہیں ایسی بری جگہ پہنچایا اور یہیں کر دیا۔ کیا ہی برا حال ہے؟ اور کیا ہی عبرتناک مال ہے؟ اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔
صفحہ نمبر7882
متقیوں کی آخری منزل ٭٭
اوپر بدبختوں کا انجام اور ان کا حال بیان ہوا یہاں سعادت مندوں کا نتیجہ بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ بہترین خوبصورت اونٹنیوں پر سوار ہو کر جنت کی طرف پہنچائے جائیں گے “۔ ان کی بھی جماعتیں ہوں گی مقربین خاص کی جماعت، پھر برابر کی، پھر ان سے کم درجے والوں کی، پھر ان سے کم درجے والوں کی، ہر جماعت اپنے مناسب لوگوں کے ساتھ ہو گی، انبیاء انبیاء علیہم السلام کے ہمراہ، صدیق اپنے جیسوں کے ساتھ، شہید لوگ اپنے والوں کے ہمراہ، علماء اپنے جیسوں کے ساتھ، غرض ہر ہم جنس اپنے میل کے لوگوں کے ساتھ ہوں گے جب وہ جنت کے پاس پہنچیں گے پل صراط سے پار ہو چکے ہوں گے، وہاں ایک پل پر ٹھہرائے جائیں گے اور ان میں آپس میں جو مظالم ہوں گے ان کا قصاص اور بدلہ ہو جائے گا۔ جب پاک صاف ہو جائیں گے تو جنت میں جانے کی اجازت پائیں گے۔
صور کی مطول حدیث میں ہے کہ جنت کے دروازوں پر پہنچ کر یہ آپس میں مشورہ کریں گے کہ دیکھو سب سے پہلے کسے اجازت دی جاتی ہے، پھر وہ آدم علیہ السلام کا قصد کریں گے۔ پھر نوح علیہ السلام کا پھر ابراہیم علیہ السلام کا پھر موسیٰ علیہ السلام کا پھر عیسیٰ علیہ السلام کا پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم و علیہم کا۔ جیسے میدان محشر میں شفاعت کے موقعہ پر بھی کیا تھا۔ اس سے بڑا مقصد جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا موقعہ بموقعہ اظہار کرنا ہے ۔
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے میں جنت میں پہلا سفارشی ہوں ۔ ایک اور روایت میں ہے میں پہلا وہ شخص ہوں جو جنت کا دروازہ کھٹکھٹائے گا ۔ [صحیح مسلم:196]
مسند احمد میں ہے میں قیامت کے دن جنت کا دروازہ کھلوانا چاہوں گا تو وہاں کا دروازہ مجھ سے پوچھے گا کہ آپ کون ہیں؟ میں کہوں گا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) وہ کہے گا مجھے یہی حکم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے جنت کا دروازہ کسی کیلئے نہ کھولوں ۔ [صحیح مسلم:197]
صفحہ نمبر7884
مسند احمد میں ہے کہ پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند جیسے ہوں گے، تھوک، رینٹ پیشاب، پاخانہ وہاں کچھ نہ ہو گا۔ ان کے برتن اور سامان آرائش سونے چاندی کا ہو گا۔ ان کی انگیٹھیوں میں بہترین اگر خوشبو دے رہا ہو گا ان کا پسینہ مشک ہو گا۔ ان میں سے ہر ایک کی دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلی کا گودا بوجہ حسن و نزاکت صفائی اور نفاست کے گوشت کے پیچھے سے نظر آ رہا ہو گا۔ کسی دو میں کوئی اختلاف اور حسد و بغض نہ ہو گا۔ سب گھل مل کر ایسے ہوں گے جیسے ایک شخص کا دل ۔ [صحیح بخاری:3245]
جو جنت میں جائے گا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔ ان کے بعد والی جماعت کے چہرے ایسے ہوں گے جیسے بہترین چمکتا ستارہ پھر قریب قریب اوپر والی حدیث کے بیان ہے اور یہ بھی ہے کہ ان کے قد ساٹھ ہاتھ کے ہوں گے۔ جیسے آدم علیہ السلام کا قد تھا ۔ [صحیح بخاری:3327]
اور حدیث میں ہے کہ میری امت کی ایک جماعت جو ستر ہزار کی تعداد میں ہو گی پہلے پہل جنت میں داخل ہو گی ان کے چہرے چودھریں رات کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ یہ سن کر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اللہ مجھے بھی انہی میں سے کر دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اللہ انہیں بھی انہی میں سے کر دے ، پھر ایک انصاری نے بھی یہی عرض کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تجھ پر سبقت لے گیا ۔ [صحیح بخاری:5811] ان ستر ہزار کا بے حساب جنت میں داخل ہونا بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں سے بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
بخاری مسلم میں ہے کہ سب ایک ساتھ ہی جنت میں قدم رکھیں گے ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند جیسے ہوں گے ۔ [صحیح بخاری:6543]
ابن ابی شیبہ میں ہے مجھ سے میرے رب کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار شخص جنت میں جائیں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے ان سے نہ حساب ہو گا نہ انہیں عذاب ہو گا۔ ان کے علاوہ اور تین لپیں بھر کر، جو اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھوں سے لپ بھر کر جنت میں پہنچائے گا ۔ [سنن ترمذي:2437،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۔ اس روایت میں ہے پھر ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے۔ [طبرانی کبیر:126/17:اسنادہ ضعیف وله شواهد صحیحه] اس حدیث کے بہت سے شواہد ہیں۔
جب یہ سعید بخت بزرگ جنت کے پاس پہنچ جائیں گے۔ ان کیلئے دروازے کھل جائیں گے ان کی وہاں عزت و تعظیم ہو گی وہاں کے محافظ فرشتے انہیں بشارت سنائیں گے ان کی تعریفیں کریں گے انہیں سلام کریں گے۔ اس کے بعد کا جواب قرآن میں محذوف رکھا گیا ہے تاکہ عمومیت باقی رہے۔
صفحہ نمبر7885
مطلب یہ ہے کہ اس وقت یہ پورے خوش وقت ہو جائیں گے بے انداز سرور راحت آرام و چین انہیں ملے گا۔ ہر طرح کی آس اور بھلائی کی امید بندھ جائے گی۔
ہاں یہاں یہ بیان کر دینا بھی ضروری ہے کہ بعض لوگوں نے جو کہا ہے کہ «وَفُتِحَتْ» میں واؤ آٹھویں ہے اور اس سے استدلال کیا ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں، انہوں نے بڑا تکلف کیا ہے اور بیکار مشقت اٹھائی ہے۔ جنت کے آٹھ دروازوں کا ثبوت تو صحیح احادیث میں صاف موجود ہے۔
مسند احمد میں ہے جو شخص اپنے مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کر لے وہ جنت کے سب دروازوں سے بلایا جائے گا۔ جنت کے کئی ایک دروازے ہیں نمازی باب الصلوۃ سے سخی باب الصدقہ سے مجاہد باب جہاد سے روزے دار باب الریان سے بلائے جائیں گے یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گو اس کی ضرورت تو نہیں کہ ہر دروازے سے پکارا جائے جس سے بھی پکارا جائے مقصد تو جنت میں جانے سے ہے، لیکن کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے کل دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم انہی میں سے ہو گے ۔ [صحیح بخاری:1897] یہ حدیث بخاری مسلم وغیرہ میں بھی ہے۔
صفحہ نمبر7886
بخاری مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے جنت میں آٹھ دروازے ہیں۔ جن میں سے ایک کا نام ”باب الریان“ ہے اس میں سے صرف روزے دار ہی داخل ہوں گے ۔ [صحیح بخاری:1896]
صحیح مسلم میں ہے تم میں سے جو شخص کامل مکمل بہت اچھی طرح مل مل کر وضو کرے پھر «اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ واَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ» پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے چلا جائے ۔ [صحیح مسلم:234] اور حدیث میں ہے جنت کی کنجی «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» ہے ۔ [مسند احمد:242/5:ضعیف]
”جنت کے دروازوں کی کشادگی کا بیان“ اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے۔ شفاعت کی مطول حدیث میں ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی امت میں سے جن پر حساب نہیں انہیں داہنی طرف کے دروازے سے جنت میں لے جاؤ “ لیکن اور دروازوں میں بھی یہ دوسروں کے ساتھ شریک ہیں۔ اس قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے کہ جنت کی چوکھٹ اتنی بڑی وسعت والی ہے جتنا فاصلہ مکہ اور ہجر میں ہے۔ یا فرمایا ہجر اور مکہ میں ہے ایک روایت میں ہے مکہ اور بصریٰ میں ہے۔۔ [صحیح بخاری:4812]
صفحہ نمبر7887
حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں بیان فرمایا کہ ہم سے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ جنت کے دروازے کی وسعت چالیس سال کی راہ ہے۔ ایک ایسا دن بھی آنے والا ہے جب کہ جنت میں جانے والوں کی بھیڑ بھاڑ سے یہ وسیع دروازے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہوں گے ۔ [صحیح مسلم:2967]
مسند میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنت کی چوکھٹ چالیس سال کی راہ کی ہے [مسند احمد:29/3:صحیح وهذا اسناد ضعیف] ، یہ جب جنت کے پاس پہنچیں گے انہیں فرشتے سلام کریں گے اور مبارکباد دیں گے کہ تمہارے اعمال تمہارے اقوال تمہاری کوشش اور تمہارا بدلہ ہرچیز خوشی والی اور عمدگی والی ہے۔
صفحہ نمبر7888
جیسے کہ حضور علیہ السلام نے کسی غزوے کے موقعہ پر اپنے منادی سے فرمایا تھا جاؤ ندا کر دو کہ جنت میں صرف مسلمان لوگ ہی جائیں گے یا فرمایا تھا صرف مومن ہی [صحیح بخاری:4204] ۔
فرشتے ان سے کہیں گے کہ تم اب یہاں سے نکالے نہ جاؤ گے بلکہ یہاں تمہارے لیے دوام ہے، اپنا یہ حال دیکھ کر خوش ہو کر جنتی اللہ کا شکر ادا کریں گی اور کہیں گے کہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جو وعدہ ہم سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبانی کیا تھا اسے پورا کیا۔ یہی دعا ان کی دنیا میں تھی «رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰي رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ» [3-آل عمران:194] یعنی ” اے ہمارے پروردگار ہمیں وہ دے جس کا وعدہ تو نے اپنے رسولوں کی زبانی ہم سے کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر یقیناً تیری ذات وعدہ خلافی سے پاک ہے “۔
اور آیت میں ہے کہ ” اس موقعہ پر اہل جنت یہ بھی کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت کی اگر وہ ہدایت نہ کرتا تو ہم ہدایت نہ پاسکتے۔ یقیناً اللہ کے رسول ہمارے پاس حق لائے تھے۔ وہ یہ بھی کہیں گے کہ اللہ ہی کیلئے سب تعریف ہے جس نے ہم سے غم دور کر دیا یقیناً ہمارا رب بخشنے والا اور قدر کرنے والا ہے۔ جس نے اپنے فضل و کرم سے یہ پاک جگہ ہمیں نصیب فرمائی جہاں ہمیں نہ کوئی دکھ درد ہے نہ رنج و تکلیف، یہاں ہے کہ یہ کہیں گے اس سے ہمیں جنت کی زمین کا وارث کیا “۔ جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ» [21-سورةالأنبياء:105] ، ” ہم نے زبور میں ذکر کے بعد لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے “۔ اسی طرح آج جنتی کہیں گے کہ اس جنت میں ہم جہاں جگہ بنا لیں کوئی روک ٹوک نہیں۔ یہ ہے بہترین بدلہ ہمارے اعمال کا۔
صفحہ نمبر7889
معراج والے واقعہ میں بخاری و مسلم میں ہے کہ جنت کے ڈیرے خیمے لولو کے ہیں اور اس کی مٹی مشک خالص ہے ۔ [صحیح بخاری:349]
ابن صائد سے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی مٹی کا سوال کیا تو اس نے کہا سفید میدے جیسی مشک خالص۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سچا ہے ۔ [صحیح مسلم:2928]
صفحہ نمبر7890
مسلم ہی کی اور روایت میں ہے کہ ابن صائد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا ۔ [صحیح مسلم:2928]
ابن ابی حاتم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول مروی ہے کہ ”جنت کے دروازے پر پہنچ کر یہ ایک درخت کو دیکھیں گے جس کی جڑ میں سے دو نہریں نکلتی ہوں گی۔ ایک میں وہ غسل کریں گے جس سے اس قدر پاک صاف ہو جائیں گے کہ ان کے جسم اور چہرے چمکنے لگیں گے۔ ان کے بال کنگھی کئے ہوئے تیل والے ہو جائیں گے کہ پھر کبھی سلجھانے کی ضرورت ہی نہ پڑے نہ چہرے اور جسم کا رنگ روپ ہلکا پڑے۔ پھر یہ دوسری نہر پر جائیں گے گویا کہ ان سے کہہ دیا گیا ہو اس میں سے پانی پئیں گے جن سے تمام گھن کی چیزوں سے پاک ہو جائیں گے جنت کے فرشتے انہیں سلام کریں گے مبارکباد پیش کریں گے اور انہیں جنت میں لے جانے کیلئے کہیں گے۔
ہر ایک کے پاس اس کے غلمان آئیں گے اور خوشی خوشی ان پر قربان ہوں گے اور کہیں گے آپ خوش ہو جایئے اللہ تعالیٰ نے آپ کیلئے طرح طرح کی نعمتیں مہیا کر رکھی ہیں ان میں سے کچھ بھاگے دوڑے جائیں گے اور جو حوریں اس جنتی کیلئے مخصوص ہیں ان سے کہیں گے لو مبارک ہو فلاں صاحب آ گئے۔ نام سنتے ہی خوش ہو کر وہ پوچھیں گی کہ کیا تم نے خود انہیں دیکھا ہے؟ وہ کہیں گے ہاں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آ رہے ہیں۔ یہ مارے خوشی کے دروازے پر آکھڑی ہوں گی۔ جنتی جب اپنے محل میں آئے گا تو دیکھے گا کہ گدے برابر برابر لگے ہوئے ہیں۔ اور آب خورے رکھے ہوئے ہیں اور قالین بچھے ہوئے ہیں۔ اس فرش کو ملاحظہ فرما کر اب جو دیواروں کی طرف نظر کرے گا تو وہ سرخ و سبز اور زرد و سفید اور قسم قسم کے موتیوں کی بنی ہوئی ہوں گی۔ پھر چھت کی طرف نگاہ اٹھائے گا تو وہ اس قدر شفاف اور مصفا ہو گی کہ نور کی طرح چمک دمک رہی ہو گی۔ اگر اللہ اسے برقرار نہ رکھے تو اس کی روشنی آنکھوں کی روشنی کو بجھا دے۔ پھر اپنی بیویوں پر یعنی جنتی حوروں پر محبت بھری نگاہ ڈالے گا۔ پھر اپنے تختوں میں سے جس پر اس کا جی چاہے بیٹھے گا۔ اور کہے گا اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت کی۔ اگر اللہ ہمیں یہ راہ نہ دکھاتا تو ہم تو ہرگز اسے تلاش نہیں کر سکتے تھے۔“
صفحہ نمبر7891
اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب یہ اپنی قبروں سے نکلیں گے، ان کا استقبال کیا جائے گا ان کیلئے پروں والی اونٹنیاں لائی جائیں گی جن پر سونے کے کجاوے ہوں گے ان کی جوتیوں کے تسمے تک نور سے چمک رہے ہوں گے۔ یہ اونٹنیاں ایک ایک قدم اس قدر دور رکھتی ہیں جہاں تک انسان کی نگاہ جا سکتی ہے۔ یہ ایک درخت کے پاس پہنچیں گی جس کے نیچے سے نہریں نکلتی ہیں۔ ایک کا پانی یہ پئں گے جس سے ان کے پیٹ کی تمام فضولیات اور میل کچیل دھل جائے گا دوسری نہر سے یہ غسل کریں گے پھر ہمیشہ تک ان کے بدن میلے نہ ہوں گے ان کے بال پراگندہ نہ ہوں گے اور ان کے جسم اور چہرے بارونق رہیں گے۔ اب یہ جنت کے دروازوں پر آئیں گے دیکھیں گے کہ ایک کنڈا سرخ یاقوت کا ہے جو سونے کی تختی پر آویزاں ہے۔ یہ اسے ہلائیں گے تو ایک عجیب سریلی اور موسیقی صدا پیدا ہو گی اسے سنتے ہی حور جان لے گی کہ اس کے خاوند آ گئے یہ داروغے کو حکم دیں گی کہ جاؤ دروازہ کھولو وہ دروازہ کھول دے گا یہ اندر قدم رکھتے ہی اس داروغے کی نورانی شکل دیکھ کر سجدے میں گر پڑے گا لیکن وہ اسے روک لے گا اور کہے گا اپنا سر اٹھا میں تو تیرا ماتحت ہوں۔ اور اسے اپنے ساتھ لے چلے گا ۔
صفحہ نمبر7892
جب یہ اس در و یاقوت کے خیمے کے پاس پہنچے گا جہاں اس کی حور ہے وہ بیتابانہ دوڑ کر خیمے سے باہر آ جائے گی اور بغل گیر ہو کر کہے گی تم میرے محبوب ہو اور میں تمہاری چاہنے والی ہوں میں یہاں ہمیشہ رہنے والی ہوں مروں گی نہیں۔ میں نعمتوں والی ہوں فقر و محتاجی سے دور ہوں۔ میں آپ سے ہمیشہ راضی خوشی رہوں گی کبھی ناراض نہیں ہوں گی۔ میں ہمیشہ آپ کی خدمت میں حاضر رہنے والی ہوں کبھی ادھر ادھر نہیں ہٹوں گی۔ پھر یہ گھر میں جائے گا جس کی چھت فرش سے ایک لاکھ ہاتھ بلند ہو گی۔ اس کی کل دیواریں قسم قسم کے اور رنگ برنگے موتیوں کی ہوں گی اس گھر میں ستر تخت ہوں گے اور ہر تخت پر ستر ستر چھولداریاں ہوں گی اور ان میں سے ہر بستر پر ستر حوریں ہوں گی ہر حور پر ستر جوڑے ہوں گے اور ان سب حلوں کے نیچے سے ان کی پنڈلی کا گودا نظر آتا ہوگا۔ ان کے ایک جماع کا اندازہ ایک پوری رات کا ہوگا۔ ان کے باغوں اور مکانوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ جن کا پانی کبھی بدبودار نہیں ہوتا صاف شفاف موتی جیسا پانی ہے اور دودھ کی نہریں ہوں گی جن کا مزہ کبھی نہیں بدلتا۔ جو دودھ کسی جانور کے تھن سے نہیں نکلا۔ اور شراب کی نہریں ہوں گی جو نہایت لذیذ ہو گا جو کسی انسانی ہاتھوں کا بنایا ہوا نہیں۔ اور خالص شہد کی نہریں ہوں گی جو مکھیوں کے پیٹ سے حاصل شدہ نہیں۔ قسم قسم کے میووں سے لدے ہوئے درخت اس کے چاروں طرف ہوں گے جن کا پھل ان کی طرف جھکا ہوا ہو گا۔ یہ کھڑے کھڑے پھل لینا چاہیں تو لے سکتے ہیں اگر یہ بیٹھے بیٹھے پھل توڑنا چاہیں تو شاخیں اتنی جھک جائیں گی کہ یہ توڑ لیں اگر یہ لیٹے لیٹے پھل لینا چاہیں تو شاخیں اتنی جھک جائیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلٰلُهَا وَذُلِّـلَتْ قُـطُوْفُهَا تَذْلِيْلًا» [76-الإنسان:14] ، پڑھی یعنی ” ان جنتی درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور ان کے میوے بہت قریب کر دیئے جائیں گے “۔ یہ کھانا کھانے کی خواہش کریں گے تو سفید رنگ یا سبز رنگ پرندے ان کے پاس آ کر اپنا پر اونچا کر دیں گے یہ جس قسم کا اس کے پہلو کا گوشت چاہیں کھائیں گے پھر وہ زندہ کا زندہ جیسا تھا ویسا ہی ہو کر اڑ جائے گا۔ فرشتے ان کے پاس آئیں گے سلام کریں گے اور کہیں گے کہ یہ جنتیں ہیں جن کے تم اپنے اعمال کے باعث وارث بنائے گئے ہو۔ اگر کسی حور کا ایک بال زمین پر آ جائے تو وہ اپنی چمک سے اور اپنی سیاہی سے نور کو روشن کرے اور سیاہی نمایاں کرے ۔ [ضعیف] یہ حدیث غریب ہے گو کہ یہ مرسل ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر7893
متقیوں کی آخری منزل ٭٭
اوپر بدبختوں کا انجام اور ان کا حال بیان ہوا یہاں سعادت مندوں کا نتیجہ بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ بہترین خوبصورت اونٹنیوں پر سوار ہو کر جنت کی طرف پہنچائے جائیں گے “۔ ان کی بھی جماعتیں ہوں گی مقربین خاص کی جماعت، پھر برابر کی، پھر ان سے کم درجے والوں کی، پھر ان سے کم درجے والوں کی، ہر جماعت اپنے مناسب لوگوں کے ساتھ ہو گی، انبیاء انبیاء علیہم السلام کے ہمراہ، صدیق اپنے جیسوں کے ساتھ، شہید لوگ اپنے والوں کے ہمراہ، علماء اپنے جیسوں کے ساتھ، غرض ہر ہم جنس اپنے میل کے لوگوں کے ساتھ ہوں گے جب وہ جنت کے پاس پہنچیں گے پل صراط سے پار ہو چکے ہوں گے، وہاں ایک پل پر ٹھہرائے جائیں گے اور ان میں آپس میں جو مظالم ہوں گے ان کا قصاص اور بدلہ ہو جائے گا۔ جب پاک صاف ہو جائیں گے تو جنت میں جانے کی اجازت پائیں گے۔
صور کی مطول حدیث میں ہے کہ جنت کے دروازوں پر پہنچ کر یہ آپس میں مشورہ کریں گے کہ دیکھو سب سے پہلے کسے اجازت دی جاتی ہے، پھر وہ آدم علیہ السلام کا قصد کریں گے۔ پھر نوح علیہ السلام کا پھر ابراہیم علیہ السلام کا پھر موسیٰ علیہ السلام کا پھر عیسیٰ علیہ السلام کا پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم و علیہم کا۔ جیسے میدان محشر میں شفاعت کے موقعہ پر بھی کیا تھا۔ اس سے بڑا مقصد جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا موقعہ بموقعہ اظہار کرنا ہے ۔
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے میں جنت میں پہلا سفارشی ہوں ۔ ایک اور روایت میں ہے میں پہلا وہ شخص ہوں جو جنت کا دروازہ کھٹکھٹائے گا ۔ [صحیح مسلم:196]
مسند احمد میں ہے میں قیامت کے دن جنت کا دروازہ کھلوانا چاہوں گا تو وہاں کا دروازہ مجھ سے پوچھے گا کہ آپ کون ہیں؟ میں کہوں گا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) وہ کہے گا مجھے یہی حکم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے جنت کا دروازہ کسی کیلئے نہ کھولوں ۔ [صحیح مسلم:197]
صفحہ نمبر7884
مسند احمد میں ہے کہ پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند جیسے ہوں گے، تھوک، رینٹ پیشاب، پاخانہ وہاں کچھ نہ ہو گا۔ ان کے برتن اور سامان آرائش سونے چاندی کا ہو گا۔ ان کی انگیٹھیوں میں بہترین اگر خوشبو دے رہا ہو گا ان کا پسینہ مشک ہو گا۔ ان میں سے ہر ایک کی دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلی کا گودا بوجہ حسن و نزاکت صفائی اور نفاست کے گوشت کے پیچھے سے نظر آ رہا ہو گا۔ کسی دو میں کوئی اختلاف اور حسد و بغض نہ ہو گا۔ سب گھل مل کر ایسے ہوں گے جیسے ایک شخص کا دل ۔ [صحیح بخاری:3245]
جو جنت میں جائے گا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔ ان کے بعد والی جماعت کے چہرے ایسے ہوں گے جیسے بہترین چمکتا ستارہ پھر قریب قریب اوپر والی حدیث کے بیان ہے اور یہ بھی ہے کہ ان کے قد ساٹھ ہاتھ کے ہوں گے۔ جیسے آدم علیہ السلام کا قد تھا ۔ [صحیح بخاری:3327]
اور حدیث میں ہے کہ میری امت کی ایک جماعت جو ستر ہزار کی تعداد میں ہو گی پہلے پہل جنت میں داخل ہو گی ان کے چہرے چودھریں رات کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ یہ سن کر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اللہ مجھے بھی انہی میں سے کر دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اللہ انہیں بھی انہی میں سے کر دے ، پھر ایک انصاری نے بھی یہی عرض کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تجھ پر سبقت لے گیا ۔ [صحیح بخاری:5811] ان ستر ہزار کا بے حساب جنت میں داخل ہونا بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں سے بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
بخاری مسلم میں ہے کہ سب ایک ساتھ ہی جنت میں قدم رکھیں گے ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند جیسے ہوں گے ۔ [صحیح بخاری:6543]
ابن ابی شیبہ میں ہے مجھ سے میرے رب کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار شخص جنت میں جائیں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے ان سے نہ حساب ہو گا نہ انہیں عذاب ہو گا۔ ان کے علاوہ اور تین لپیں بھر کر، جو اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھوں سے لپ بھر کر جنت میں پہنچائے گا ۔ [سنن ترمذي:2437،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۔ اس روایت میں ہے پھر ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے۔ [طبرانی کبیر:126/17:اسنادہ ضعیف وله شواهد صحیحه] اس حدیث کے بہت سے شواہد ہیں۔
جب یہ سعید بخت بزرگ جنت کے پاس پہنچ جائیں گے۔ ان کیلئے دروازے کھل جائیں گے ان کی وہاں عزت و تعظیم ہو گی وہاں کے محافظ فرشتے انہیں بشارت سنائیں گے ان کی تعریفیں کریں گے انہیں سلام کریں گے۔ اس کے بعد کا جواب قرآن میں محذوف رکھا گیا ہے تاکہ عمومیت باقی رہے۔
صفحہ نمبر7885
مطلب یہ ہے کہ اس وقت یہ پورے خوش وقت ہو جائیں گے بے انداز سرور راحت آرام و چین انہیں ملے گا۔ ہر طرح کی آس اور بھلائی کی امید بندھ جائے گی۔
ہاں یہاں یہ بیان کر دینا بھی ضروری ہے کہ بعض لوگوں نے جو کہا ہے کہ «وَفُتِحَتْ» میں واؤ آٹھویں ہے اور اس سے استدلال کیا ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں، انہوں نے بڑا تکلف کیا ہے اور بیکار مشقت اٹھائی ہے۔ جنت کے آٹھ دروازوں کا ثبوت تو صحیح احادیث میں صاف موجود ہے۔
مسند احمد میں ہے جو شخص اپنے مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کر لے وہ جنت کے سب دروازوں سے بلایا جائے گا۔ جنت کے کئی ایک دروازے ہیں نمازی باب الصلوۃ سے سخی باب الصدقہ سے مجاہد باب جہاد سے روزے دار باب الریان سے بلائے جائیں گے یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گو اس کی ضرورت تو نہیں کہ ہر دروازے سے پکارا جائے جس سے بھی پکارا جائے مقصد تو جنت میں جانے سے ہے، لیکن کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے کل دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم انہی میں سے ہو گے ۔ [صحیح بخاری:1897] یہ حدیث بخاری مسلم وغیرہ میں بھی ہے۔
صفحہ نمبر7886
بخاری مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے جنت میں آٹھ دروازے ہیں۔ جن میں سے ایک کا نام ”باب الریان“ ہے اس میں سے صرف روزے دار ہی داخل ہوں گے ۔ [صحیح بخاری:1896]
صحیح مسلم میں ہے تم میں سے جو شخص کامل مکمل بہت اچھی طرح مل مل کر وضو کرے پھر «اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ واَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ» پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے چلا جائے ۔ [صحیح مسلم:234] اور حدیث میں ہے جنت کی کنجی «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» ہے ۔ [مسند احمد:242/5:ضعیف]
”جنت کے دروازوں کی کشادگی کا بیان“ اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے۔ شفاعت کی مطول حدیث میں ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی امت میں سے جن پر حساب نہیں انہیں داہنی طرف کے دروازے سے جنت میں لے جاؤ “ لیکن اور دروازوں میں بھی یہ دوسروں کے ساتھ شریک ہیں۔ اس قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے کہ جنت کی چوکھٹ اتنی بڑی وسعت والی ہے جتنا فاصلہ مکہ اور ہجر میں ہے۔ یا فرمایا ہجر اور مکہ میں ہے ایک روایت میں ہے مکہ اور بصریٰ میں ہے۔۔ [صحیح بخاری:4812]
صفحہ نمبر7887
حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں بیان فرمایا کہ ہم سے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ جنت کے دروازے کی وسعت چالیس سال کی راہ ہے۔ ایک ایسا دن بھی آنے والا ہے جب کہ جنت میں جانے والوں کی بھیڑ بھاڑ سے یہ وسیع دروازے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہوں گے ۔ [صحیح مسلم:2967]
مسند میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنت کی چوکھٹ چالیس سال کی راہ کی ہے [مسند احمد:29/3:صحیح وهذا اسناد ضعیف] ، یہ جب جنت کے پاس پہنچیں گے انہیں فرشتے سلام کریں گے اور مبارکباد دیں گے کہ تمہارے اعمال تمہارے اقوال تمہاری کوشش اور تمہارا بدلہ ہرچیز خوشی والی اور عمدگی والی ہے۔
صفحہ نمبر7888
جیسے کہ حضور علیہ السلام نے کسی غزوے کے موقعہ پر اپنے منادی سے فرمایا تھا جاؤ ندا کر دو کہ جنت میں صرف مسلمان لوگ ہی جائیں گے یا فرمایا تھا صرف مومن ہی [صحیح بخاری:4204] ۔
فرشتے ان سے کہیں گے کہ تم اب یہاں سے نکالے نہ جاؤ گے بلکہ یہاں تمہارے لیے دوام ہے، اپنا یہ حال دیکھ کر خوش ہو کر جنتی اللہ کا شکر ادا کریں گی اور کہیں گے کہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جو وعدہ ہم سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبانی کیا تھا اسے پورا کیا۔ یہی دعا ان کی دنیا میں تھی «رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰي رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ» [3-آل عمران:194] یعنی ” اے ہمارے پروردگار ہمیں وہ دے جس کا وعدہ تو نے اپنے رسولوں کی زبانی ہم سے کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر یقیناً تیری ذات وعدہ خلافی سے پاک ہے “۔
اور آیت میں ہے کہ ” اس موقعہ پر اہل جنت یہ بھی کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت کی اگر وہ ہدایت نہ کرتا تو ہم ہدایت نہ پاسکتے۔ یقیناً اللہ کے رسول ہمارے پاس حق لائے تھے۔ وہ یہ بھی کہیں گے کہ اللہ ہی کیلئے سب تعریف ہے جس نے ہم سے غم دور کر دیا یقیناً ہمارا رب بخشنے والا اور قدر کرنے والا ہے۔ جس نے اپنے فضل و کرم سے یہ پاک جگہ ہمیں نصیب فرمائی جہاں ہمیں نہ کوئی دکھ درد ہے نہ رنج و تکلیف، یہاں ہے کہ یہ کہیں گے اس سے ہمیں جنت کی زمین کا وارث کیا “۔ جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ» [21-سورةالأنبياء:105] ، ” ہم نے زبور میں ذکر کے بعد لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے “۔ اسی طرح آج جنتی کہیں گے کہ اس جنت میں ہم جہاں جگہ بنا لیں کوئی روک ٹوک نہیں۔ یہ ہے بہترین بدلہ ہمارے اعمال کا۔
صفحہ نمبر7889
معراج والے واقعہ میں بخاری و مسلم میں ہے کہ جنت کے ڈیرے خیمے لولو کے ہیں اور اس کی مٹی مشک خالص ہے ۔ [صحیح بخاری:349]
ابن صائد سے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی مٹی کا سوال کیا تو اس نے کہا سفید میدے جیسی مشک خالص۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سچا ہے ۔ [صحیح مسلم:2928]
صفحہ نمبر7890
مسلم ہی کی اور روایت میں ہے کہ ابن صائد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا ۔ [صحیح مسلم:2928]
ابن ابی حاتم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول مروی ہے کہ ”جنت کے دروازے پر پہنچ کر یہ ایک درخت کو دیکھیں گے جس کی جڑ میں سے دو نہریں نکلتی ہوں گی۔ ایک میں وہ غسل کریں گے جس سے اس قدر پاک صاف ہو جائیں گے کہ ان کے جسم اور چہرے چمکنے لگیں گے۔ ان کے بال کنگھی کئے ہوئے تیل والے ہو جائیں گے کہ پھر کبھی سلجھانے کی ضرورت ہی نہ پڑے نہ چہرے اور جسم کا رنگ روپ ہلکا پڑے۔ پھر یہ دوسری نہر پر جائیں گے گویا کہ ان سے کہہ دیا گیا ہو اس میں سے پانی پئیں گے جن سے تمام گھن کی چیزوں سے پاک ہو جائیں گے جنت کے فرشتے انہیں سلام کریں گے مبارکباد پیش کریں گے اور انہیں جنت میں لے جانے کیلئے کہیں گے۔
ہر ایک کے پاس اس کے غلمان آئیں گے اور خوشی خوشی ان پر قربان ہوں گے اور کہیں گے آپ خوش ہو جایئے اللہ تعالیٰ نے آپ کیلئے طرح طرح کی نعمتیں مہیا کر رکھی ہیں ان میں سے کچھ بھاگے دوڑے جائیں گے اور جو حوریں اس جنتی کیلئے مخصوص ہیں ان سے کہیں گے لو مبارک ہو فلاں صاحب آ گئے۔ نام سنتے ہی خوش ہو کر وہ پوچھیں گی کہ کیا تم نے خود انہیں دیکھا ہے؟ وہ کہیں گے ہاں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آ رہے ہیں۔ یہ مارے خوشی کے دروازے پر آکھڑی ہوں گی۔ جنتی جب اپنے محل میں آئے گا تو دیکھے گا کہ گدے برابر برابر لگے ہوئے ہیں۔ اور آب خورے رکھے ہوئے ہیں اور قالین بچھے ہوئے ہیں۔ اس فرش کو ملاحظہ فرما کر اب جو دیواروں کی طرف نظر کرے گا تو وہ سرخ و سبز اور زرد و سفید اور قسم قسم کے موتیوں کی بنی ہوئی ہوں گی۔ پھر چھت کی طرف نگاہ اٹھائے گا تو وہ اس قدر شفاف اور مصفا ہو گی کہ نور کی طرح چمک دمک رہی ہو گی۔ اگر اللہ اسے برقرار نہ رکھے تو اس کی روشنی آنکھوں کی روشنی کو بجھا دے۔ پھر اپنی بیویوں پر یعنی جنتی حوروں پر محبت بھری نگاہ ڈالے گا۔ پھر اپنے تختوں میں سے جس پر اس کا جی چاہے بیٹھے گا۔ اور کہے گا اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت کی۔ اگر اللہ ہمیں یہ راہ نہ دکھاتا تو ہم تو ہرگز اسے تلاش نہیں کر سکتے تھے۔“
صفحہ نمبر7891
اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب یہ اپنی قبروں سے نکلیں گے، ان کا استقبال کیا جائے گا ان کیلئے پروں والی اونٹنیاں لائی جائیں گی جن پر سونے کے کجاوے ہوں گے ان کی جوتیوں کے تسمے تک نور سے چمک رہے ہوں گے۔ یہ اونٹنیاں ایک ایک قدم اس قدر دور رکھتی ہیں جہاں تک انسان کی نگاہ جا سکتی ہے۔ یہ ایک درخت کے پاس پہنچیں گی جس کے نیچے سے نہریں نکلتی ہیں۔ ایک کا پانی یہ پئں گے جس سے ان کے پیٹ کی تمام فضولیات اور میل کچیل دھل جائے گا دوسری نہر سے یہ غسل کریں گے پھر ہمیشہ تک ان کے بدن میلے نہ ہوں گے ان کے بال پراگندہ نہ ہوں گے اور ان کے جسم اور چہرے بارونق رہیں گے۔ اب یہ جنت کے دروازوں پر آئیں گے دیکھیں گے کہ ایک کنڈا سرخ یاقوت کا ہے جو سونے کی تختی پر آویزاں ہے۔ یہ اسے ہلائیں گے تو ایک عجیب سریلی اور موسیقی صدا پیدا ہو گی اسے سنتے ہی حور جان لے گی کہ اس کے خاوند آ گئے یہ داروغے کو حکم دیں گی کہ جاؤ دروازہ کھولو وہ دروازہ کھول دے گا یہ اندر قدم رکھتے ہی اس داروغے کی نورانی شکل دیکھ کر سجدے میں گر پڑے گا لیکن وہ اسے روک لے گا اور کہے گا اپنا سر اٹھا میں تو تیرا ماتحت ہوں۔ اور اسے اپنے ساتھ لے چلے گا ۔
صفحہ نمبر7892
جب یہ اس در و یاقوت کے خیمے کے پاس پہنچے گا جہاں اس کی حور ہے وہ بیتابانہ دوڑ کر خیمے سے باہر آ جائے گی اور بغل گیر ہو کر کہے گی تم میرے محبوب ہو اور میں تمہاری چاہنے والی ہوں میں یہاں ہمیشہ رہنے والی ہوں مروں گی نہیں۔ میں نعمتوں والی ہوں فقر و محتاجی سے دور ہوں۔ میں آپ سے ہمیشہ راضی خوشی رہوں گی کبھی ناراض نہیں ہوں گی۔ میں ہمیشہ آپ کی خدمت میں حاضر رہنے والی ہوں کبھی ادھر ادھر نہیں ہٹوں گی۔ پھر یہ گھر میں جائے گا جس کی چھت فرش سے ایک لاکھ ہاتھ بلند ہو گی۔ اس کی کل دیواریں قسم قسم کے اور رنگ برنگے موتیوں کی ہوں گی اس گھر میں ستر تخت ہوں گے اور ہر تخت پر ستر ستر چھولداریاں ہوں گی اور ان میں سے ہر بستر پر ستر حوریں ہوں گی ہر حور پر ستر جوڑے ہوں گے اور ان سب حلوں کے نیچے سے ان کی پنڈلی کا گودا نظر آتا ہوگا۔ ان کے ایک جماع کا اندازہ ایک پوری رات کا ہوگا۔ ان کے باغوں اور مکانوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ جن کا پانی کبھی بدبودار نہیں ہوتا صاف شفاف موتی جیسا پانی ہے اور دودھ کی نہریں ہوں گی جن کا مزہ کبھی نہیں بدلتا۔ جو دودھ کسی جانور کے تھن سے نہیں نکلا۔ اور شراب کی نہریں ہوں گی جو نہایت لذیذ ہو گا جو کسی انسانی ہاتھوں کا بنایا ہوا نہیں۔ اور خالص شہد کی نہریں ہوں گی جو مکھیوں کے پیٹ سے حاصل شدہ نہیں۔ قسم قسم کے میووں سے لدے ہوئے درخت اس کے چاروں طرف ہوں گے جن کا پھل ان کی طرف جھکا ہوا ہو گا۔ یہ کھڑے کھڑے پھل لینا چاہیں تو لے سکتے ہیں اگر یہ بیٹھے بیٹھے پھل توڑنا چاہیں تو شاخیں اتنی جھک جائیں گی کہ یہ توڑ لیں اگر یہ لیٹے لیٹے پھل لینا چاہیں تو شاخیں اتنی جھک جائیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلٰلُهَا وَذُلِّـلَتْ قُـطُوْفُهَا تَذْلِيْلًا» [76-الإنسان:14] ، پڑھی یعنی ” ان جنتی درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور ان کے میوے بہت قریب کر دیئے جائیں گے “۔ یہ کھانا کھانے کی خواہش کریں گے تو سفید رنگ یا سبز رنگ پرندے ان کے پاس آ کر اپنا پر اونچا کر دیں گے یہ جس قسم کا اس کے پہلو کا گوشت چاہیں کھائیں گے پھر وہ زندہ کا زندہ جیسا تھا ویسا ہی ہو کر اڑ جائے گا۔ فرشتے ان کے پاس آئیں گے سلام کریں گے اور کہیں گے کہ یہ جنتیں ہیں جن کے تم اپنے اعمال کے باعث وارث بنائے گئے ہو۔ اگر کسی حور کا ایک بال زمین پر آ جائے تو وہ اپنی چمک سے اور اپنی سیاہی سے نور کو روشن کرے اور سیاہی نمایاں کرے ۔ [ضعیف] یہ حدیث غریب ہے گو کہ یہ مرسل ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر7893
روز قیامت انصاف کے ساتھ فیصلہ ہو گا ٭٭
جبکہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت اور اہل جہنم کا فیصلہ سنا دیا اور انہیں ان کے ٹھکانے پہنچائے جانے کا حال بھی بیان کر دیا۔ اور اس میں اپنے عدل و انصاف کا ثبوت بھی دے دیا، تو اس آیت میں فرمایا کہ ” قیامت کے روز اس وقت تو دیکھے گا کہ فرشتے اللہ کے عرش کے چاروں طرف کھڑے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح بزرگی اور بڑائی بیان کر رہے ہوں گے “۔
ساری مخلوق میں عدل و حق کے ساتھ فیصلے ہو چکے ہوں گے۔ اس سراسر عدل اور بالکل رحم والے فیصلوں پر کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی ثنا خوانی کرنے لگے گا اور جاندار چیز سے آواز آئے گی کہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» چونکہ اس وقت ہر اک تر و خشک چیز اللہ کی حمد بیان کرے گی اس لیے یہاں مجہول کا صیغہ لا کر فاعل کو عام کر دیا گیا۔
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں خلق کی پیدائش کی ابتداء بھی حمد سے ہے، فرماتا ہے «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ» [6-الأنعام:1] اور مخلوق کی انتہا بھی حمد سے ہے، فرماتا ہے «وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَقِّ وَقِيْلَ الْحَـمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» [39-الزمر:75] ۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الزمر کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر7895