John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah An-Nisaa

Tafsir Ibn Kathir · The Women · 176 ayat · ayat 61–90 · Quran text →

حسن سلوک اور دوغلے لوگ ٭٭

اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے دعوے کو جھٹلایا ہے جو زبانی تو اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تمام اگلی کتابوں پر اور اس قرآن پر بھی ہمارا ایمان ہے۔ لیکن جب کبھی کسی مسئلہ کی تحقیق کرنی ہو، جب کبھی کسی اختلاف کو سمیٹنا ہو، جب کبھی کسی جھگڑےکا فیصلہ کرنا ہو تو قرآن و حدیث کی طرف رجوع نہیں کرتے بلکہ کسی اور طرف لے جاتے ہیں۔

چنانچہ یہ آیت ان دو شخصوں کے بارے میں نازل ہوئی جن میں کچھ اختلاف تھا ایک تو یہودی تھا دوسرا انصاری تھا، یہودی تو کہتا تھا کہ چل محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے فیصلہ کرا لیں اور انصاری کہتا تھا کعب بن اشرف کے پاس چلو۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت ان منافقوں کے بارے میں اتری ہے بظاہر مسلمان کہلاتے ہیں ان منافقوں کے بارے میں اتری ہے جو اسلام کو ظاہر کرتے تھے لیکن درپردہ احکام جاہلیت کی طرف جھکنا چاہتے تھے۔ اس کے سوا اور اقوال بھی ہیں، آیت اپنے حکم اور الفاظ کے اعتبار سے عام ہے ان تمام واقعات پر مشتمل ہے ہر اس شخص کی مذمت اور برائی کا اظہار کرتی ہے جو کتاب و سنت سے ہٹ کر کسی اور باطل کی طرف اپنا فیصلہ لے جائے اور یہی مراد یہاں طاغوت سے ہے (‏یعنی قرآن و حدیث کے سوا کی چیز یا شخص) صدور سے مراد تکبر سے منہ موڑ لینا۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّـهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا» [31-لقمان:21] ‏ یعنی ” جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کی اتاری ہوئی وحی کی فرمانبرداری کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اپنے باپ دادا کی پیروی پر ہی اڑے رہیں گے۔ “ ایمان والوں کو جواب یہ نہیں ہوتا بلکہ ان کا جواب دوسری آیت میں اس طرح مذکور ہے «اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ اَنْ يَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ» ‏ [24-النور:51] ‏ یعنی ” ایمان والوں کو جب اللہ رسول کے فیصلے اور حکم کی طرف بلایا جائے تو ان کا جواب یہی ہوتا ہے کہ ہم نے سنا اور ہم نے تہہ دل سے قبول کیا “۔

صفحہ نمبر1786

باب

پھر منافقوں کی مذمت میں بیان ہو رہا ہے کہ ان کے گناہوں کے باعث جب تکلیفیں پہنچتی ہیں اور تیری ضرورت محسوس ہوتی ہے تو دوڑے بھاگے آتے ہیں اور تمہیں خوش کرنے کے لیے عذر معذرت کرنے بیٹھ جاتے ہیں اور قسمیں کھا کر اپنی نیکی اور صلاحیت کا یقین دلانا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ کے سوا دوسروں کی طرف ان مقدمات کے لے جانے سے ہمارا مقصود صرف یہی تھا کہ ذرا دوسروں کا دل رکھا جائے آپس کا میل جول نبھ جائے ورنہ دل سے کچھ ہم ان کی اچھائی کے معتقد نہیں۔

جیسے اور آیت میں «‏فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْهِمْ يَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ ۭفَعَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَيُصْبِحُوْا عَلٰي مَآ اَ سَرُّوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِيْنَ» [5-المائدة:52] ‏ تک بیان ہوا ہے۔ یعنی تو دیکھے گا کہ بیمار دل یعنی منافق یہود و نصاریٰ کی باہم دوستی کی تمام تر کوششیں کرتے پھرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں ان سے اختلاف کی وجہ سے آفت میں پھنس جانے کا خطرہ ہے پس بہت ممکن ہے اللہ تعالیٰ فتح لائے یا اپنا کوئی حکم نازل فرمائیں اور یہ لوگ ان ارادوں پر پشیمان ہونے لگیں جو ان کے دلوں میں پوشیدہ ہیں ۔

صفحہ نمبر1788

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ابوبرزہ اسلمی ایک کاہن شخص تھا، یہود اپنے بعض فیصلے اس سے کراتے تھے ایک واقعہ میں مشرکین بھی اس کی طرف دوڑے اس میں یہ آیتیں «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ» [4-النساء:60] ‏ سے «إِلَّا إِحْسَانًا وَتَوْفِيقًا» [4-النساء:62] ‏ تک نازل ہوئیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس قسم کے لوگ یعنی منافقین کے دلوں میں جو کچھ ہے؟

اس کا علم اللہ تعالیٰ کو کامل ہے اس پر کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی مخفی نہیں وہ ان کے ظاہر وباطن کا اسے علم ہے تو ان سے چشم پوشی کر ان کے باطنی ارادوں پر ڈانٹ ڈپٹ نہ کر ہاں انہیں نفاق اور دوسروں سے شر و فساد وابستہ رہنے سے باز رہنے کی نصیحت کر اور دل میں اترنے والی باتیں ان سے کہ بلکہ ان کے لیے دعا بھی کر۔

صفحہ نمبر1789

باب

پھر منافقوں کی مذمت میں بیان ہو رہا ہے کہ ان کے گناہوں کے باعث جب تکلیفیں پہنچتی ہیں اور تیری ضرورت محسوس ہوتی ہے تو دوڑے بھاگے آتے ہیں اور تمہیں خوش کرنے کے لیے عذر معذرت کرنے بیٹھ جاتے ہیں اور قسمیں کھا کر اپنی نیکی اور صلاحیت کا یقین دلانا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ کے سوا دوسروں کی طرف ان مقدمات کے لے جانے سے ہمارا مقصود صرف یہی تھا کہ ذرا دوسروں کا دل رکھا جائے آپس کا میل جول نبھ جائے ورنہ دل سے کچھ ہم ان کی اچھائی کے معتقد نہیں۔

جیسے اور آیت میں «‏فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْهِمْ يَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ ۭفَعَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَيُصْبِحُوْا عَلٰي مَآ اَ سَرُّوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِيْنَ» [5-المائدة:52] ‏ تک بیان ہوا ہے۔ یعنی تو دیکھے گا کہ بیمار دل یعنی منافق یہود و نصاریٰ کی باہم دوستی کی تمام تر کوششیں کرتے پھرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں ان سے اختلاف کی وجہ سے آفت میں پھنس جانے کا خطرہ ہے پس بہت ممکن ہے اللہ تعالیٰ فتح لائے یا اپنا کوئی حکم نازل فرمائیں اور یہ لوگ ان ارادوں پر پشیمان ہونے لگیں جو ان کے دلوں میں پوشیدہ ہیں ۔

صفحہ نمبر1788

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ابوبرزہ اسلمی ایک کاہن شخص تھا، یہود اپنے بعض فیصلے اس سے کراتے تھے ایک واقعہ میں مشرکین بھی اس کی طرف دوڑے اس میں یہ آیتیں «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ» [4-النساء:60] ‏ سے «إِلَّا إِحْسَانًا وَتَوْفِيقًا» [4-النساء:62] ‏ تک نازل ہوئیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس قسم کے لوگ یعنی منافقین کے دلوں میں جو کچھ ہے؟

اس کا علم اللہ تعالیٰ کو کامل ہے اس پر کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی مخفی نہیں وہ ان کے ظاہر وباطن کا اسے علم ہے تو ان سے چشم پوشی کر ان کے باطنی ارادوں پر ڈانٹ ڈپٹ نہ کر ہاں انہیں نفاق اور دوسروں سے شر و فساد وابستہ رہنے سے باز رہنے کی نصیحت کر اور دل میں اترنے والی باتیں ان سے کہ بلکہ ان کے لیے دعا بھی کر۔

صفحہ نمبر1789

اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی ضامن نجات ہے ٭٭

مطلب یہ ہے کہ ہر زمانہ کے رسول کی تابعداری اس کی امت پر اللہ کی طرف سے فرض ہوتی ہے منصب رسالت یہی ہے کہ اس کے سبھی احکامات کو اللہ کے احکام سمجھا جائے، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «باذن اللہ» سے یہ مراد ہے کہ اس کی توفیق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہے اس کی قدرت و مشیت پر موقوف ہے، جیسے اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗٓ اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِاِذْنِھٖ» [3-آل عمران:152] ‏ یہاں بھی «اذن» سے مراد امر قدرت اور مشیت ہے یعنی اس نے تمہیں ان پر غلبہ دیا۔

صفحہ نمبر1791

پھر اللہ تعالیٰ عاصی اور خطا کاروں کو ارشاد فرماتا ہے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنا چاہیئے اور خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی عرض کرنا چاہیئے کہ آپ ہمارے لیے دعائیں کیجئے جب وہ ایسا کریں گے تو یقیناً اللہ ان کی طرف رجوع کرے گا انہیں بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔

ابو منصور صباغ نے اپنی کتاب میں جس میں مشہور قصے لکھے ہیں لکھا ہے کہ عتبی کا بیان ہے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربت کے پاس بیٹھا ہوا تھا جبکہ ایک اعرابی آیا اور اس نے کہا السلام علیکم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے قرآن کریم کی اس آیت کو سنا اور آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ کے سامنے اپنے گناہوں کا استغفار کروں اور آپ کی شفاعت طلب کروں پھر اس نے یہ اشعار پڑھے «‏باخیر من دفنت بالقاع اعظمہ» «‏فطاب من طیبھن القاع والا کم» «‏نفسی الفداء لقبر انت ساکنہ» «‏فیہ لعاف وفیہ الجودو الکرم»

صفحہ نمبر1792

جن جن کی ہڈیاں میدانوں میں دفن کی گئی ہیں اور ان کی خوشبو سے وہ میدان ٹیلے مہک اٹھے ہیں، اے ان تمام میں سے بہترین ہستی، میری جان اس قبر پر سے صدقے ہو جس کا ساکن تو ہے جس میں پارسائی سخاوت اور کرم ہے۔

پھر اعرابی تو لوٹ گیا اور مجھے نیند آ گئی خواب میں کیا دیکھتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرما رہے ہیں جا اس اعرابی کو خوشخبری سنا اللہ نے اس کے گناہ معاف فرما دئیے (‏یہ خیال رہے کہ نہ تو یہ کسی حدیث کی کتاب کا واقعہ ہے نہ اس کی کوئی صحیح سند ہے) بلکہ آیت کا یہ حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی تھا وصال کے بعد نہیں جیسے کہ «جَاءُوكَ» کا لفظ بتلا رہا ہے اور مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ ” ہر انسان کا ہر عمل اس کی موت کے ساتھ منقطع ہو جاتا ہے “ [صحیح مسلم:1631] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (‏مترجم)

صفحہ نمبر1793

پھر اللہ تعالیٰ اپنی بزرگ اور مقدس ذات کی قسم کھا کر فرماتے ہے کہ کوئی شخص ایمان کی حدود میں نہیں آ سکتا جب تک کہ تمام امور میں اللہ کے اس آخر الزمان افضل تر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا سچا حاکم نہ مان لے اور آپ کے ہر حکم ہر فیصلے ہر سنت اور ہر حدیث کو قابل قبول اور حق صریح تسلیم نہ کرنے لگے، دل کو اور جسم کو یکسر تابع رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہ بنا دے۔ غرض جو بھی ظاہر باطن چھوٹے بڑے کل امور میں حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اصل اصول سمجھے وہی مومن ہے۔

پس فرمان ہے کہ تیرے احکام کو یہ کشادہ دلی سے تسلیم کر لیا کریں اپنے دل میں پسندیدگی نہ لائیں تسلیم کلی تمام احادیث کے ساتھ رہے، نہ تو احادیث کے ماننے سے رکیں نہ انہیں ہٹانے کے اسباب ڈھونڈیں نہ ان کے مرتبہ کی کسی اور چیز کو سمجھیں نہ ان کی تردید کریں نہ ان کا مقابلہ کریں نہ ان کے تسلیم کرنے میں جھگڑیں جیسے فرمان رسول ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے تم میں سے کوئی صاحب ایمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنی خواہش کو اس چیز کا تابع نہ بنا دے جسے میں لایا ہوں ۔ [فتح الباری:289/13،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر1794

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا کسی شخص سے نالیوں سے باغ میں پانی لینے کے بارے میں جھگڑا ہو پڑا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زبیر (‏رضی اللہ عنہ) تم پانی پلا لو اس کے بعد پانی کو انصاری کے باغ میں جانے دو اس پر انصاری نے کہا ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو آپ کے پھوپھی کے لڑکے ہیں یہ سن کر آپ کا چہرہ متغیر ہوگیا ہے فرمایا زبیر (‏رضی اللہ عنہ) تم پانی پلا لو پھر پانی کو روکے رکھو یہاں تک کہ باغ کی دیواروں تک پہنچ جائے پھر اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑ دو۔

پہلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی صورت نکالی تھی کہ جس میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو تکلیف نہ ہو اور انصاری کشادگی ہو جائے لیکن جب انصاری نے اسے اپنے حق میں بہتر نہ سمجھا تو آپ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق دلوایا سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جہاں تک میرا خیال ہے یہ «‏فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ» ‏ [4-النساء:65] ‏ اسی بارے میں نازل ہوئی ہے،

مسند احمد کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ یہ انصاری رضی اللہ عنہ بدری تھے [صحیح بخاری:2708] ‏ اور روایت میں ہے دونوں میں جھگڑا یہ تھا کہ پانی کی نہر سے پہلے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا کھجوروں کا باغ پڑتا تھا پھر اس انصاری کا انصاری کہتے تھے کہ پانی روکو مت یونہی پانی دونوں باغوں میں ایک ساتھ آئے۔ [صحیح بخاری:2359] ‏

صفحہ نمبر1795

ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ دونوں دعویدار سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ تھے آپ کا فیصلہ ان میں یہ ہوا کہ پہلے اونچے والا پانی پلا لے پھر نیچے والا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:5559/3:مرسل و ضعیف] ‏ دوسری ایک زیادہ غریب روایت میں شان نزول یہ مروی ہے کہ دو شخص اپنا جھگڑا لے کر دربار محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں آئے آپ نے فیصلہ کر دیا لیکن جس کے خلاف فیصلہ تھا اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہمیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیجئیے آپ نے فرمایا بہت اچھا ان کے پاس چلے جاؤ جب یہاں آئے تو جس کے موافق فیصلہ ہوا تھا اس نے سارا ہی واقعہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کہہ سنایا۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس دوسرے سے پوچھا کیا یہ سچ ہے؟ اس نے اقرار کیا آپ نے فرمایا اچھا تم دونوں یہاں ٹھہرو میں آتا ہوں اور فیصلہ کر دیتا ہوں تھوڑی دیر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تلوار تانے آ گئے اور اس شخص کی جس نے کہا تھا کہ ہمیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیجئیے گردن اڑا دی دوسرا شخص یہ دیکھتے ہی دوڑا بھاگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرا ساتھی تو مار ڈالا گیا اور اگر میں بھی جان بچا کر بھاگ کر نہ آتا تو میری بھی خیر نہ تھی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں عمر کو ایسا نہیں جانتا تھا کہ وہ اس جرات کے ساتھ ایک مومن کا خون بہا دے گا اس پر یہ آیت اتری اور اس کا خون برباد گیا اور اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بری کر دیا، لیکن یہ طریقہ لوگوں میں اس کے بعد بھی جاری نہ ہو جائے اس لیے اس کے بعد ہی یہ آیت اتری «وَلَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِيَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِيْلٌ مِّنْھُمْ» [4-النساء:66] ‏ جو آگے آتی ہے۔ (‏ابن ابی حاتم) ابن مردویہ میں بھی یہ روایت ہے جو غریب اور مرسل ہے اور ابن لہیعہ راوی ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر1796

دوسری سند سے مروی ہے دو شخص رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا جھگڑا لائے آپ نے حق والے کے حق میں ڈگری دے دی لیکن جس کے خلاف ہوا تھا اس نے کہا میں راضی نہیں ہوں آپ نے پوچھا تو کیا چاہتا ہے؟ کہا یہ کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس چلیں دونوں وہاں پہنچے جب یہ واقعہ جناب سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے سنا تو فرمایا تمہارا فیصلہ وہی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا وہ اب بھی خوش نہ ہوا اور کہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلو وہاں گئے پھر وہ ہوا جو آپ نے اوپر پڑھا۔ [مسند الفاروق:575/2:مرسل و ضعیف] ‏ (‏تفسیر حافظ ابواسحاق)

صفحہ نمبر1797

اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی ضامن نجات ہے ٭٭

مطلب یہ ہے کہ ہر زمانہ کے رسول کی تابعداری اس کی امت پر اللہ کی طرف سے فرض ہوتی ہے منصب رسالت یہی ہے کہ اس کے سبھی احکامات کو اللہ کے احکام سمجھا جائے، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «باذن اللہ» سے یہ مراد ہے کہ اس کی توفیق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہے اس کی قدرت و مشیت پر موقوف ہے، جیسے اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗٓ اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِاِذْنِھٖ» [3-آل عمران:152] ‏ یہاں بھی «اذن» سے مراد امر قدرت اور مشیت ہے یعنی اس نے تمہیں ان پر غلبہ دیا۔

صفحہ نمبر1791

پھر اللہ تعالیٰ عاصی اور خطا کاروں کو ارشاد فرماتا ہے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنا چاہیئے اور خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی عرض کرنا چاہیئے کہ آپ ہمارے لیے دعائیں کیجئے جب وہ ایسا کریں گے تو یقیناً اللہ ان کی طرف رجوع کرے گا انہیں بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔

ابو منصور صباغ نے اپنی کتاب میں جس میں مشہور قصے لکھے ہیں لکھا ہے کہ عتبی کا بیان ہے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربت کے پاس بیٹھا ہوا تھا جبکہ ایک اعرابی آیا اور اس نے کہا السلام علیکم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے قرآن کریم کی اس آیت کو سنا اور آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ کے سامنے اپنے گناہوں کا استغفار کروں اور آپ کی شفاعت طلب کروں پھر اس نے یہ اشعار پڑھے «‏باخیر من دفنت بالقاع اعظمہ» «‏فطاب من طیبھن القاع والا کم» «‏نفسی الفداء لقبر انت ساکنہ» «‏فیہ لعاف وفیہ الجودو الکرم»

صفحہ نمبر1792

جن جن کی ہڈیاں میدانوں میں دفن کی گئی ہیں اور ان کی خوشبو سے وہ میدان ٹیلے مہک اٹھے ہیں، اے ان تمام میں سے بہترین ہستی، میری جان اس قبر پر سے صدقے ہو جس کا ساکن تو ہے جس میں پارسائی سخاوت اور کرم ہے۔

پھر اعرابی تو لوٹ گیا اور مجھے نیند آ گئی خواب میں کیا دیکھتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرما رہے ہیں جا اس اعرابی کو خوشخبری سنا اللہ نے اس کے گناہ معاف فرما دئیے (‏یہ خیال رہے کہ نہ تو یہ کسی حدیث کی کتاب کا واقعہ ہے نہ اس کی کوئی صحیح سند ہے) بلکہ آیت کا یہ حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی تھا وصال کے بعد نہیں جیسے کہ «جَاءُوكَ» کا لفظ بتلا رہا ہے اور مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ ” ہر انسان کا ہر عمل اس کی موت کے ساتھ منقطع ہو جاتا ہے “ [صحیح مسلم:1631] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (‏مترجم)

صفحہ نمبر1793

پھر اللہ تعالیٰ اپنی بزرگ اور مقدس ذات کی قسم کھا کر فرماتے ہے کہ کوئی شخص ایمان کی حدود میں نہیں آ سکتا جب تک کہ تمام امور میں اللہ کے اس آخر الزمان افضل تر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا سچا حاکم نہ مان لے اور آپ کے ہر حکم ہر فیصلے ہر سنت اور ہر حدیث کو قابل قبول اور حق صریح تسلیم نہ کرنے لگے، دل کو اور جسم کو یکسر تابع رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہ بنا دے۔ غرض جو بھی ظاہر باطن چھوٹے بڑے کل امور میں حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اصل اصول سمجھے وہی مومن ہے۔

پس فرمان ہے کہ تیرے احکام کو یہ کشادہ دلی سے تسلیم کر لیا کریں اپنے دل میں پسندیدگی نہ لائیں تسلیم کلی تمام احادیث کے ساتھ رہے، نہ تو احادیث کے ماننے سے رکیں نہ انہیں ہٹانے کے اسباب ڈھونڈیں نہ ان کے مرتبہ کی کسی اور چیز کو سمجھیں نہ ان کی تردید کریں نہ ان کا مقابلہ کریں نہ ان کے تسلیم کرنے میں جھگڑیں جیسے فرمان رسول ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے تم میں سے کوئی صاحب ایمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنی خواہش کو اس چیز کا تابع نہ بنا دے جسے میں لایا ہوں ۔ [فتح الباری:289/13،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر1794

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا کسی شخص سے نالیوں سے باغ میں پانی لینے کے بارے میں جھگڑا ہو پڑا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زبیر (‏رضی اللہ عنہ) تم پانی پلا لو اس کے بعد پانی کو انصاری کے باغ میں جانے دو اس پر انصاری نے کہا ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو آپ کے پھوپھی کے لڑکے ہیں یہ سن کر آپ کا چہرہ متغیر ہوگیا ہے فرمایا زبیر (‏رضی اللہ عنہ) تم پانی پلا لو پھر پانی کو روکے رکھو یہاں تک کہ باغ کی دیواروں تک پہنچ جائے پھر اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑ دو۔

پہلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی صورت نکالی تھی کہ جس میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو تکلیف نہ ہو اور انصاری کشادگی ہو جائے لیکن جب انصاری نے اسے اپنے حق میں بہتر نہ سمجھا تو آپ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق دلوایا سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جہاں تک میرا خیال ہے یہ «‏فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ» ‏ [4-النساء:65] ‏ اسی بارے میں نازل ہوئی ہے،

مسند احمد کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ یہ انصاری رضی اللہ عنہ بدری تھے [صحیح بخاری:2708] ‏ اور روایت میں ہے دونوں میں جھگڑا یہ تھا کہ پانی کی نہر سے پہلے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا کھجوروں کا باغ پڑتا تھا پھر اس انصاری کا انصاری کہتے تھے کہ پانی روکو مت یونہی پانی دونوں باغوں میں ایک ساتھ آئے۔ [صحیح بخاری:2359] ‏

صفحہ نمبر1795

ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ دونوں دعویدار سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ تھے آپ کا فیصلہ ان میں یہ ہوا کہ پہلے اونچے والا پانی پلا لے پھر نیچے والا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:5559/3:مرسل و ضعیف] ‏ دوسری ایک زیادہ غریب روایت میں شان نزول یہ مروی ہے کہ دو شخص اپنا جھگڑا لے کر دربار محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں آئے آپ نے فیصلہ کر دیا لیکن جس کے خلاف فیصلہ تھا اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہمیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیجئیے آپ نے فرمایا بہت اچھا ان کے پاس چلے جاؤ جب یہاں آئے تو جس کے موافق فیصلہ ہوا تھا اس نے سارا ہی واقعہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کہہ سنایا۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس دوسرے سے پوچھا کیا یہ سچ ہے؟ اس نے اقرار کیا آپ نے فرمایا اچھا تم دونوں یہاں ٹھہرو میں آتا ہوں اور فیصلہ کر دیتا ہوں تھوڑی دیر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تلوار تانے آ گئے اور اس شخص کی جس نے کہا تھا کہ ہمیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیجئیے گردن اڑا دی دوسرا شخص یہ دیکھتے ہی دوڑا بھاگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرا ساتھی تو مار ڈالا گیا اور اگر میں بھی جان بچا کر بھاگ کر نہ آتا تو میری بھی خیر نہ تھی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں عمر کو ایسا نہیں جانتا تھا کہ وہ اس جرات کے ساتھ ایک مومن کا خون بہا دے گا اس پر یہ آیت اتری اور اس کا خون برباد گیا اور اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بری کر دیا، لیکن یہ طریقہ لوگوں میں اس کے بعد بھی جاری نہ ہو جائے اس لیے اس کے بعد ہی یہ آیت اتری «وَلَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِيَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِيْلٌ مِّنْھُمْ» [4-النساء:66] ‏ جو آگے آتی ہے۔ (‏ابن ابی حاتم) ابن مردویہ میں بھی یہ روایت ہے جو غریب اور مرسل ہے اور ابن لہیعہ راوی ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر1796

دوسری سند سے مروی ہے دو شخص رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا جھگڑا لائے آپ نے حق والے کے حق میں ڈگری دے دی لیکن جس کے خلاف ہوا تھا اس نے کہا میں راضی نہیں ہوں آپ نے پوچھا تو کیا چاہتا ہے؟ کہا یہ کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس چلیں دونوں وہاں پہنچے جب یہ واقعہ جناب سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے سنا تو فرمایا تمہارا فیصلہ وہی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا وہ اب بھی خوش نہ ہوا اور کہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلو وہاں گئے پھر وہ ہوا جو آپ نے اوپر پڑھا۔ [مسند الفاروق:575/2:مرسل و ضعیف] ‏ (‏تفسیر حافظ ابواسحاق)

صفحہ نمبر1797

عادت جب فطرت ثانیہ بن جائے اور صاحب ایمان کو بشارت رفاقت ٭٭

اللہ خبر دیتا ہے کہ اکثر لوگ ایسے ہیں کہ اگر انہیں ان منع کردہ کاموں کا بھی حکم دیا جاتا جنہیں وہ اس وقت کر رہے ہیں تو وہ ان کاموں کو بھی نہ کرتے اس لیے کہ ان کی ذلیل طبیعتیں حکم الہٰی کی مخالفت پر ہی استوار ہوئی ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کی خبر دی ہے جو ظاہر نہیں ہوئی لیکن ہوتی تو کس طرح ہوتی؟ اس آیت کو سن کر ایک بزرگ نے فرمایا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں یہ حکم دیتا تو یقیناً ہم کر گزرتے لیکن اس کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس سے بچا لیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک میری امت میں ایسے ایسے لوگ بھی ہیں جن کے دلوں میں ایمان پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط اور ثابت ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:9926:مرسل و ضعیف] ‏ (‏ابن ابی حاتم)

صفحہ نمبر1799

اس روایت کی دوسری سند میں ہے کہ کسی ایک صحابہ رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تھا سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ایک یہودی نے سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ سے فخریہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر خود ہمارا قتل بھی فرض کیا تو بھی ہم کر گزریں گے اس پر سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا واللہ اگر ہم پر یہ فرض ہوتا تو ہم بھی کر گزرتے اس پر یہ آیت اتری اور روایت میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ حکم ہوتا تو اس کے بجا لانے والوں میں ایک سیدنا ابن ام عبد رضی اللہ عنہ بھی ہوتے ہیں [الدر المنثور للسیوطی:324/2:مرسل و ضعیف] ‏ (‏ابن ابی حاتم)

دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کو پڑھ کر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ بھی اس پر عمل کرنے والوں میں سے ایک ہیں ۔ [الدر المنثور للسیوطی:324/2:مرسل و ضعیف] ‏

صفحہ نمبر1800

ارشاد الٰہی ہے کہ اگر یہ لوگ ہمارے احکام بجا لاتے اور ہماری منع کردہ چیزوں اور کاموں سے رک جاتے تو یہ ان کے حق میں اس سے بہتر ہوتا کہ وہ حکم کی مخالفت کریں اور ممانعت میں مشغول ہوں۔ یہی عمل زیادہ سچائی والا ہوتا اسکے نتیجے میں ہم انہیں جنت عطا فرماتے اور دنیا اور آخرت کی بہتر راہ کی رہنمائی کرتے پھر فرماتا ہے جو شخص اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر عمل کرے اور منع کردہ کاموں سے باز رہے اسے اللہ تعالیٰ عزت کے گھر میں لے جائے گا نبیوں کا رفیق بنائے گا اور صدیقوں کا جو مرتبے میں نبیوں کے بعد ہیں پھر شہیدوں کا پھر تمام مومنوں کا جنہیں صالح کہا جاتا ہے جن کا ظاہر باطن آراستہ ہے ان کا ہم جنس بنائے گا خیال تو کرو یہ کیسے پاکیزہ اور بہترین رفیق ہے

صحیح بخاری شریف میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ ہر نبی کو اس کے مرض الموت کے زمانے میں دنیا میں رہنے اور آخرت میں جانے کا اختیار دیا جاتا ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو شدت نقاہت سے اٹھ نہیں سکتے تھے آواز بیٹھ گئی تھی لیکن میں نے سنا کہ آپ فرما رہے ہیں ان کا ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا جو نبی ہیں، صدیق ہیں، شہید ہیں، اور نیکوکار ہیں۔ یہ سن کر مجھے معلوم ہو گیا کہ اب آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔ [صحیح بخاری:4463] ‏ یہی مطلب ہے جو دوسری حدیث میں آپ کے یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں کہ اے اللہ میں بلند و بالا رفیق کی رفاقت کا طالب ہوں یہ کلمہ آپ نے تین مرتبہ اپنی زبان مبارک سے نکالا پھر فوت ہو گئے۔ [صحیح بخاری:4463] ‏ علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم۔

صفحہ نمبر1801

اس آیت کے شان نزول کا بیان ٭٭

ابن جریر میں ہے کہ ایک انصاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے دیکھا کہ سخت مغموم ہیں سبب دریافت کیا تو جواب ملا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تو صبح شام ہم لوگ آپ کی خدمت میں آبیٹھے ہیں دیدار بھی ہو جاتا ہے اور دو گھڑی صحبت بھی میسر ہو جاتی ہے لیکن کل قیامت کے دن تو آپ نبیوں کی اعلیٰ مجلس میں ہوں گے ہم تو آپ تک پہنچ بھی نہ سکیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہ دیا اس پر حضرت جبرائیل علیہ السلام یہ آیت لائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیج کر انہیں یہ خوشخبری سنا دی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:9929:مرسل و ضعیف] ‏ یہی اثر مرسل سند سے بھی مروی ہے جو سند بہت ہی اچھی ہے۔

صفحہ نمبر1802

سیدنا ربیع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ یہ ظاہر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ آپ پر ایمان لانے والوں سے یقیناً بہت ہی بڑا ہے پس جب کہ جنت میں یہ سب جمع ہوں گے تو آپس میں ایک دوسرے کو کیسے دیکھیں گے اور کیسے ملیں گے؟ پس یہ آیت اتری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اوپر کے درجہ والے نیچے والوں کے پاس اتر آئیں گے اور پربہار باغوں میں سب جمع ہوں گے اور اللہ کے احسانات کا ذکر اور اس کی تعریفیں کریں گے اور جو چاہیں گے پائیں گے ناز و نعم سے ہر وقت رہیں گے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:9933:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر1803

ابن مردویہ میں ہے ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ میں آپ کو اپنی جان سے اپنے اہل عیال سے اور اپنے بچوں سے بھی زیادہ محبوب رکھتا ہوں۔ میں گھر میں ہوتا ہوں لیکن شوق زیارت مجھے بیقرار کر دیتا ہے صبر نہیں ہو سکتا دوڑتا بھاگتا آتا ہوں اور دیدار کر کے چلا جاتا ہوں لیکن جب مجھے آپ کی اور اپنی موت یاد آتی ہے اور اس کا یقین ہے کہ آپ جنت میں نبیوں کے سب سے بڑے اونچے درجے میں ہوں گے تو ڈر لگتا ہے کہ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار سے محروم ہو جاؤں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کوئی جواب نہیں دیا لیکن یہ آیت نازل ہوئی۔ [طبرانی کبیر:12559/12:حسن بالشواھد] ‏ اس روایت کے اور بھی طریقے ہیں۔ [طبرانی کبیر:12559:صحیح بالشواھد] ‏

صفحہ نمبر1804

صحیح مسلم شریف میں ہے سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہتا اور پانی وغیرہ لا دیا کرتا تھا ایک بار آپ نے مجھ سے فرمایا کچھ مانگ لے میں نے کہا جنت میں میں آپ کی رفاقت کا طالب ہوں فرمایا اس کے سوا اور کچھ؟ میں نے کہا وہی کافی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری رفاقت کے لیے میری مدد کر بکثرت سجدے کرکے ۔ [صحیح مسلم:489] ‏

مسند احمد میں ہے ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا میں اللہ کے لا شریک ہونے کی اور آپ کے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہوں اور رمضان کے روزے رکھتا ہوں تو آپ نے فرمایا جو مرتے دم تک اسی پر رہے گا وہ قیامت کے دن نبیوں صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ اس طرح ہو گا پھر آپ نے اپنی دو انگلیاں اٹھا کر اشارہ کر کے بتایا۔ لیکن یہ شرط ہے کہ ماں باپ کا نافرمان نہ ہو ۔ [مجمع الزوائد:146/8:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر1805

مسند احمد میں ہے ” جس نے اللہ کی راہ میں ایک ہزار آیتیں پڑھیں وہ ان شاءاللہ قیامت کے دن نبیوں کے صدیقوں شہیدوں اور صالحوں کے ساتھ لکھا جائے گا۔ “ [مسند احمد:437/8،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ ترمذی میں ہے ” سچا امانت دار، تاجر نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہو گا۔ “ [سنن ترمذي:1209،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ان سب سے زیادہ زبردست بشارت اس حدیث میں ہے جو صحاح اور مسانید وغیرہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کی ایک زبردست جماعت سے بہ تواتر مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو ایک قوم سے محبت رکھتا ہے لیکن اس سے ملا نہیں تو آپ نے فرمایا (‏حدیث) «‏اَلمْـَرْءُ مَـعَ مَـنْ اَحَبَّ» ‏ ہر انسان اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا تھا سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مسلمان جس قدر اس حدیث سے خوش ہوئے اتنا کسی اور چیز سے خوش نہیں ہوئے۔ [صحیح بخاری:3688] ‏

صفحہ نمبر1806

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں واللہ میری محبت تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہے تو مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے بھی انہی کے ساتھ اٹھائے گا گو میرے اعمال ان جیسے نہیں۔ [صحیح بخاری:3688] ‏ (‏یا اللہ تو ہمارے دل بھی اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے چاہنے والوں کی محبت سے بھر دے اور ہمارا حشر بھی انہی کے ساتھ کر دے آمین)

صفحہ نمبر1807

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنتی لوگ اپنے سے بلند درجہ والے جنتیوں کو ان کے بالا خانوں میں اس طرح دیکھیں گے جیسے تم چمکتے ستارے کو مشرق یا مغرب میں دیکھتے ہو ان میں بہت کچھ فاصلہ ہو گا صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یہ منزلیں تو انبیاء کرام کے لیے ہی مخصوص ہوں گی؟ کوئی اور وہاں تک کیسے پہنچ سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ان منزلوں تک وہ بھی پہنچیں گے جو اللہ پر ایمان لائے رسولوں کو سچا جانا اور مانا۔ [صحیح بخاری:3256] ‏

صفحہ نمبر1808

ایک حبشی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے آپ فرماتے ہیں جو پوچھنا ہو پوچھو اور سمجھو وہ کہتا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو صورت میں رنگ میں نبوت میں اللہ عزوجل نے ہم پر فضیلت دے رکھی ہے اگر میں بھی اس چیز پر ایمان لاؤں جس پر آپ ایمان لائے ہیں اور ان احکام کو بجا لاؤں جنہیں آپ بجا لا رہے ہیں تو کیا جنت میں آپ کا ساتھ ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس اللہ تعالیٰ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جنتی حبشی تو ایسا گورا چٹا ہوکر جنت میں جائے گا کہ اسکا پنڈا ایک ہزار برس کے فاصلے ہی نورانیت کے ساتھ جگمگاتا ہوا نظر آئے گا۔ پھر فرمایا «لا الہ الا اللہ» کہنے والے سے اللہ کا وعدہ ہے اور «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ» کہنے والے کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں

اس پر ایک اور صاحب نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب یہ حقائق ہیں تو پھر ہم کیسے ہلاک ہو سکتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا ایک انسان قیامت کے دن اس قدر اعمال لے کر آئے گا اگر کسی پہاڑ پر رکھے جائیں تو وہ بھی بوجھل ہوئے لیکن ایک نعمت جو کھڑی ہوگئی محض اسکے شکریہ میں یہ اعمال کم نظر آئیں گے ہاں یہ اور بات ہے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ سے اسے ڈھانک لے اور جنت دے دے

اور یہ آیتیں اتریں «هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـــًٔا مَّذْكُوْرًا» سے «وَاِذَا رَاَيْتَ ثَمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا وَّمُلْكًا كَبِيْرًا» تک۔ [76-الإنسان:1-20] ‏ تو حبشی صحابی رضی اللہ عنہ کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جنت میں جن جن چیزوں کو آپ کی آنکھیں دیکھیں گی میری آنکھیں بھی دیکھ سکیں گی؟ آپ نے فرمایا ہاں اس پر وہ حبشی فرط شوق میں روئے اور اس قدر روئے کہ اسی حالت میں فوت ہو گئے رضی اللہ عنہ وارضاہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ ان کی نعش مبارک کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں اتار رہے تھے [طبرانی کبیر:13595:ضعیف] ‏ یہ روایت غریب ہے اور اس میں اصولی خامیاں بھی ہیں اس کی سند بھی صغیف ہے۔ ارشاد الٰہی ہے یہ خاص اللہ کی عنایت اور اس کا فضل ہے اس کی رحمت سے ہی یہ اس کے قابل ہوئے نہ کہ اپنے اعمال سے، اللہ خوب جاننے والا ہے اسے بخوبی معلوم ہے کہ مستحق ہدایت و توفیق کون ہے؟

صفحہ نمبر1809

عادت جب فطرت ثانیہ بن جائے اور صاحب ایمان کو بشارت رفاقت ٭٭

اللہ خبر دیتا ہے کہ اکثر لوگ ایسے ہیں کہ اگر انہیں ان منع کردہ کاموں کا بھی حکم دیا جاتا جنہیں وہ اس وقت کر رہے ہیں تو وہ ان کاموں کو بھی نہ کرتے اس لیے کہ ان کی ذلیل طبیعتیں حکم الہٰی کی مخالفت پر ہی استوار ہوئی ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کی خبر دی ہے جو ظاہر نہیں ہوئی لیکن ہوتی تو کس طرح ہوتی؟ اس آیت کو سن کر ایک بزرگ نے فرمایا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں یہ حکم دیتا تو یقیناً ہم کر گزرتے لیکن اس کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس سے بچا لیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک میری امت میں ایسے ایسے لوگ بھی ہیں جن کے دلوں میں ایمان پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط اور ثابت ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:9926:مرسل و ضعیف] ‏ (‏ابن ابی حاتم)

صفحہ نمبر1799

اس روایت کی دوسری سند میں ہے کہ کسی ایک صحابہ رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تھا سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ایک یہودی نے سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ سے فخریہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر خود ہمارا قتل بھی فرض کیا تو بھی ہم کر گزریں گے اس پر سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا واللہ اگر ہم پر یہ فرض ہوتا تو ہم بھی کر گزرتے اس پر یہ آیت اتری اور روایت میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ حکم ہوتا تو اس کے بجا لانے والوں میں ایک سیدنا ابن ام عبد رضی اللہ عنہ بھی ہوتے ہیں [الدر المنثور للسیوطی:324/2:مرسل و ضعیف] ‏ (‏ابن ابی حاتم)

دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کو پڑھ کر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ بھی اس پر عمل کرنے والوں میں سے ایک ہیں ۔ [الدر المنثور للسیوطی:324/2:مرسل و ضعیف] ‏

صفحہ نمبر1800

ارشاد الٰہی ہے کہ اگر یہ لوگ ہمارے احکام بجا لاتے اور ہماری منع کردہ چیزوں اور کاموں سے رک جاتے تو یہ ان کے حق میں اس سے بہتر ہوتا کہ وہ حکم کی مخالفت کریں اور ممانعت میں مشغول ہوں۔ یہی عمل زیادہ سچائی والا ہوتا اسکے نتیجے میں ہم انہیں جنت عطا فرماتے اور دنیا اور آخرت کی بہتر راہ کی رہنمائی کرتے پھر فرماتا ہے جو شخص اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر عمل کرے اور منع کردہ کاموں سے باز رہے اسے اللہ تعالیٰ عزت کے گھر میں لے جائے گا نبیوں کا رفیق بنائے گا اور صدیقوں کا جو مرتبے میں نبیوں کے بعد ہیں پھر شہیدوں کا پھر تمام مومنوں کا جنہیں صالح کہا جاتا ہے جن کا ظاہر باطن آراستہ ہے ان کا ہم جنس بنائے گا خیال تو کرو یہ کیسے پاکیزہ اور بہترین رفیق ہے

صحیح بخاری شریف میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ ہر نبی کو اس کے مرض الموت کے زمانے میں دنیا میں رہنے اور آخرت میں جانے کا اختیار دیا جاتا ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو شدت نقاہت سے اٹھ نہیں سکتے تھے آواز بیٹھ گئی تھی لیکن میں نے سنا کہ آپ فرما رہے ہیں ان کا ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا جو نبی ہیں، صدیق ہیں، شہید ہیں، اور نیکوکار ہیں۔ یہ سن کر مجھے معلوم ہو گیا کہ اب آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔ [صحیح بخاری:4463] ‏ یہی مطلب ہے جو دوسری حدیث میں آپ کے یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں کہ اے اللہ میں بلند و بالا رفیق کی رفاقت کا طالب ہوں یہ کلمہ آپ نے تین مرتبہ اپنی زبان مبارک سے نکالا پھر فوت ہو گئے۔ [صحیح بخاری:4463] ‏ علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم۔

صفحہ نمبر1801

اس آیت کے شان نزول کا بیان ٭٭

ابن جریر میں ہے کہ ایک انصاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے دیکھا کہ سخت مغموم ہیں سبب دریافت کیا تو جواب ملا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تو صبح شام ہم لوگ آپ کی خدمت میں آبیٹھے ہیں دیدار بھی ہو جاتا ہے اور دو گھڑی صحبت بھی میسر ہو جاتی ہے لیکن کل قیامت کے دن تو آپ نبیوں کی اعلیٰ مجلس میں ہوں گے ہم تو آپ تک پہنچ بھی نہ سکیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہ دیا اس پر حضرت جبرائیل علیہ السلام یہ آیت لائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیج کر انہیں یہ خوشخبری سنا دی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:9929:مرسل و ضعیف] ‏ یہی اثر مرسل سند سے بھی مروی ہے جو سند بہت ہی اچھی ہے۔

صفحہ نمبر1802

سیدنا ربیع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ یہ ظاہر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ آپ پر ایمان لانے والوں سے یقیناً بہت ہی بڑا ہے پس جب کہ جنت میں یہ سب جمع ہوں گے تو آپس میں ایک دوسرے کو کیسے دیکھیں گے اور کیسے ملیں گے؟ پس یہ آیت اتری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اوپر کے درجہ والے نیچے والوں کے پاس اتر آئیں گے اور پربہار باغوں میں سب جمع ہوں گے اور اللہ کے احسانات کا ذکر اور اس کی تعریفیں کریں گے اور جو چاہیں گے پائیں گے ناز و نعم سے ہر وقت رہیں گے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:9933:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر1803

ابن مردویہ میں ہے ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ میں آپ کو اپنی جان سے اپنے اہل عیال سے اور اپنے بچوں سے بھی زیادہ محبوب رکھتا ہوں۔ میں گھر میں ہوتا ہوں لیکن شوق زیارت مجھے بیقرار کر دیتا ہے صبر نہیں ہو سکتا دوڑتا بھاگتا آتا ہوں اور دیدار کر کے چلا جاتا ہوں لیکن جب مجھے آپ کی اور اپنی موت یاد آتی ہے اور اس کا یقین ہے کہ آپ جنت میں نبیوں کے سب سے بڑے اونچے درجے میں ہوں گے تو ڈر لگتا ہے کہ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار سے محروم ہو جاؤں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کوئی جواب نہیں دیا لیکن یہ آیت نازل ہوئی۔ [طبرانی کبیر:12559/12:حسن بالشواھد] ‏ اس روایت کے اور بھی طریقے ہیں۔ [طبرانی کبیر:12559:صحیح بالشواھد] ‏

صفحہ نمبر1804

صحیح مسلم شریف میں ہے سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہتا اور پانی وغیرہ لا دیا کرتا تھا ایک بار آپ نے مجھ سے فرمایا کچھ مانگ لے میں نے کہا جنت میں میں آپ کی رفاقت کا طالب ہوں فرمایا اس کے سوا اور کچھ؟ میں نے کہا وہی کافی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری رفاقت کے لیے میری مدد کر بکثرت سجدے کرکے ۔ [صحیح مسلم:489] ‏

مسند احمد میں ہے ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا میں اللہ کے لا شریک ہونے کی اور آپ کے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہوں اور رمضان کے روزے رکھتا ہوں تو آپ نے فرمایا جو مرتے دم تک اسی پر رہے گا وہ قیامت کے دن نبیوں صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ اس طرح ہو گا پھر آپ نے اپنی دو انگلیاں اٹھا کر اشارہ کر کے بتایا۔ لیکن یہ شرط ہے کہ ماں باپ کا نافرمان نہ ہو ۔ [مجمع الزوائد:146/8:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر1805

مسند احمد میں ہے ” جس نے اللہ کی راہ میں ایک ہزار آیتیں پڑھیں وہ ان شاءاللہ قیامت کے دن نبیوں کے صدیقوں شہیدوں اور صالحوں کے ساتھ لکھا جائے گا۔ “ [مسند احمد:437/8،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ ترمذی میں ہے ” سچا امانت دار، تاجر نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہو گا۔ “ [سنن ترمذي:1209،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ان سب سے زیادہ زبردست بشارت اس حدیث میں ہے جو صحاح اور مسانید وغیرہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کی ایک زبردست جماعت سے بہ تواتر مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو ایک قوم سے محبت رکھتا ہے لیکن اس سے ملا نہیں تو آپ نے فرمایا (‏حدیث) «‏اَلمْـَرْءُ مَـعَ مَـنْ اَحَبَّ» ‏ ہر انسان اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا تھا سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مسلمان جس قدر اس حدیث سے خوش ہوئے اتنا کسی اور چیز سے خوش نہیں ہوئے۔ [صحیح بخاری:3688] ‏

صفحہ نمبر1806

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں واللہ میری محبت تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہے تو مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے بھی انہی کے ساتھ اٹھائے گا گو میرے اعمال ان جیسے نہیں۔ [صحیح بخاری:3688] ‏ (‏یا اللہ تو ہمارے دل بھی اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے چاہنے والوں کی محبت سے بھر دے اور ہمارا حشر بھی انہی کے ساتھ کر دے آمین)

صفحہ نمبر1807

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنتی لوگ اپنے سے بلند درجہ والے جنتیوں کو ان کے بالا خانوں میں اس طرح دیکھیں گے جیسے تم چمکتے ستارے کو مشرق یا مغرب میں دیکھتے ہو ان میں بہت کچھ فاصلہ ہو گا صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یہ منزلیں تو انبیاء کرام کے لیے ہی مخصوص ہوں گی؟ کوئی اور وہاں تک کیسے پہنچ سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ان منزلوں تک وہ بھی پہنچیں گے جو اللہ پر ایمان لائے رسولوں کو سچا جانا اور مانا۔ [صحیح بخاری:3256] ‏

صفحہ نمبر1808

ایک حبشی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے آپ فرماتے ہیں جو پوچھنا ہو پوچھو اور سمجھو وہ کہتا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو صورت میں رنگ میں نبوت میں اللہ عزوجل نے ہم پر فضیلت دے رکھی ہے اگر میں بھی اس چیز پر ایمان لاؤں جس پر آپ ایمان لائے ہیں اور ان احکام کو بجا لاؤں جنہیں آپ بجا لا رہے ہیں تو کیا جنت میں آپ کا ساتھ ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس اللہ تعالیٰ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جنتی حبشی تو ایسا گورا چٹا ہوکر جنت میں جائے گا کہ اسکا پنڈا ایک ہزار برس کے فاصلے ہی نورانیت کے ساتھ جگمگاتا ہوا نظر آئے گا۔ پھر فرمایا «لا الہ الا اللہ» کہنے والے سے اللہ کا وعدہ ہے اور «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ» کہنے والے کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں

اس پر ایک اور صاحب نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب یہ حقائق ہیں تو پھر ہم کیسے ہلاک ہو سکتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا ایک انسان قیامت کے دن اس قدر اعمال لے کر آئے گا اگر کسی پہاڑ پر رکھے جائیں تو وہ بھی بوجھل ہوئے لیکن ایک نعمت جو کھڑی ہوگئی محض اسکے شکریہ میں یہ اعمال کم نظر آئیں گے ہاں یہ اور بات ہے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ سے اسے ڈھانک لے اور جنت دے دے

اور یہ آیتیں اتریں «هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـــًٔا مَّذْكُوْرًا» سے «وَاِذَا رَاَيْتَ ثَمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا وَّمُلْكًا كَبِيْرًا» تک۔ [76-الإنسان:1-20] ‏ تو حبشی صحابی رضی اللہ عنہ کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جنت میں جن جن چیزوں کو آپ کی آنکھیں دیکھیں گی میری آنکھیں بھی دیکھ سکیں گی؟ آپ نے فرمایا ہاں اس پر وہ حبشی فرط شوق میں روئے اور اس قدر روئے کہ اسی حالت میں فوت ہو گئے رضی اللہ عنہ وارضاہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ ان کی نعش مبارک کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں اتار رہے تھے [طبرانی کبیر:13595:ضعیف] ‏ یہ روایت غریب ہے اور اس میں اصولی خامیاں بھی ہیں اس کی سند بھی صغیف ہے۔ ارشاد الٰہی ہے یہ خاص اللہ کی عنایت اور اس کا فضل ہے اس کی رحمت سے ہی یہ اس کے قابل ہوئے نہ کہ اپنے اعمال سے، اللہ خوب جاننے والا ہے اسے بخوبی معلوم ہے کہ مستحق ہدایت و توفیق کون ہے؟

صفحہ نمبر1809

عادت جب فطرت ثانیہ بن جائے اور صاحب ایمان کو بشارت رفاقت ٭٭

اللہ خبر دیتا ہے کہ اکثر لوگ ایسے ہیں کہ اگر انہیں ان منع کردہ کاموں کا بھی حکم دیا جاتا جنہیں وہ اس وقت کر رہے ہیں تو وہ ان کاموں کو بھی نہ کرتے اس لیے کہ ان کی ذلیل طبیعتیں حکم الہٰی کی مخالفت پر ہی استوار ہوئی ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کی خبر دی ہے جو ظاہر نہیں ہوئی لیکن ہوتی تو کس طرح ہوتی؟ اس آیت کو سن کر ایک بزرگ نے فرمایا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں یہ حکم دیتا تو یقیناً ہم کر گزرتے لیکن اس کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس سے بچا لیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک میری امت میں ایسے ایسے لوگ بھی ہیں جن کے دلوں میں ایمان پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط اور ثابت ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:9926:مرسل و ضعیف] ‏ (‏ابن ابی حاتم)

صفحہ نمبر1799

اس روایت کی دوسری سند میں ہے کہ کسی ایک صحابہ رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تھا سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ایک یہودی نے سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ سے فخریہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر خود ہمارا قتل بھی فرض کیا تو بھی ہم کر گزریں گے اس پر سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا واللہ اگر ہم پر یہ فرض ہوتا تو ہم بھی کر گزرتے اس پر یہ آیت اتری اور روایت میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ حکم ہوتا تو اس کے بجا لانے والوں میں ایک سیدنا ابن ام عبد رضی اللہ عنہ بھی ہوتے ہیں [الدر المنثور للسیوطی:324/2:مرسل و ضعیف] ‏ (‏ابن ابی حاتم)

دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کو پڑھ کر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ بھی اس پر عمل کرنے والوں میں سے ایک ہیں ۔ [الدر المنثور للسیوطی:324/2:مرسل و ضعیف] ‏

صفحہ نمبر1800

ارشاد الٰہی ہے کہ اگر یہ لوگ ہمارے احکام بجا لاتے اور ہماری منع کردہ چیزوں اور کاموں سے رک جاتے تو یہ ان کے حق میں اس سے بہتر ہوتا کہ وہ حکم کی مخالفت کریں اور ممانعت میں مشغول ہوں۔ یہی عمل زیادہ سچائی والا ہوتا اسکے نتیجے میں ہم انہیں جنت عطا فرماتے اور دنیا اور آخرت کی بہتر راہ کی رہنمائی کرتے پھر فرماتا ہے جو شخص اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر عمل کرے اور منع کردہ کاموں سے باز رہے اسے اللہ تعالیٰ عزت کے گھر میں لے جائے گا نبیوں کا رفیق بنائے گا اور صدیقوں کا جو مرتبے میں نبیوں کے بعد ہیں پھر شہیدوں کا پھر تمام مومنوں کا جنہیں صالح کہا جاتا ہے جن کا ظاہر باطن آراستہ ہے ان کا ہم جنس بنائے گا خیال تو کرو یہ کیسے پاکیزہ اور بہترین رفیق ہے

صحیح بخاری شریف میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ ہر نبی کو اس کے مرض الموت کے زمانے میں دنیا میں رہنے اور آخرت میں جانے کا اختیار دیا جاتا ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو شدت نقاہت سے اٹھ نہیں سکتے تھے آواز بیٹھ گئی تھی لیکن میں نے سنا کہ آپ فرما رہے ہیں ان کا ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا جو نبی ہیں، صدیق ہیں، شہید ہیں، اور نیکوکار ہیں۔ یہ سن کر مجھے معلوم ہو گیا کہ اب آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔ [صحیح بخاری:4463] ‏ یہی مطلب ہے جو دوسری حدیث میں آپ کے یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں کہ اے اللہ میں بلند و بالا رفیق کی رفاقت کا طالب ہوں یہ کلمہ آپ نے تین مرتبہ اپنی زبان مبارک سے نکالا پھر فوت ہو گئے۔ [صحیح بخاری:4463] ‏ علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم۔

صفحہ نمبر1801

اس آیت کے شان نزول کا بیان ٭٭

ابن جریر میں ہے کہ ایک انصاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے دیکھا کہ سخت مغموم ہیں سبب دریافت کیا تو جواب ملا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تو صبح شام ہم لوگ آپ کی خدمت میں آبیٹھے ہیں دیدار بھی ہو جاتا ہے اور دو گھڑی صحبت بھی میسر ہو جاتی ہے لیکن کل قیامت کے دن تو آپ نبیوں کی اعلیٰ مجلس میں ہوں گے ہم تو آپ تک پہنچ بھی نہ سکیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہ دیا اس پر حضرت جبرائیل علیہ السلام یہ آیت لائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیج کر انہیں یہ خوشخبری سنا دی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:9929:مرسل و ضعیف] ‏ یہی اثر مرسل سند سے بھی مروی ہے جو سند بہت ہی اچھی ہے۔

صفحہ نمبر1802

سیدنا ربیع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ یہ ظاہر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ آپ پر ایمان لانے والوں سے یقیناً بہت ہی بڑا ہے پس جب کہ جنت میں یہ سب جمع ہوں گے تو آپس میں ایک دوسرے کو کیسے دیکھیں گے اور کیسے ملیں گے؟ پس یہ آیت اتری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اوپر کے درجہ والے نیچے والوں کے پاس اتر آئیں گے اور پربہار باغوں میں سب جمع ہوں گے اور اللہ کے احسانات کا ذکر اور اس کی تعریفیں کریں گے اور جو چاہیں گے پائیں گے ناز و نعم سے ہر وقت رہیں گے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:9933:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر1803

ابن مردویہ میں ہے ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ میں آپ کو اپنی جان سے اپنے اہل عیال سے اور اپنے بچوں سے بھی زیادہ محبوب رکھتا ہوں۔ میں گھر میں ہوتا ہوں لیکن شوق زیارت مجھے بیقرار کر دیتا ہے صبر نہیں ہو سکتا دوڑتا بھاگتا آتا ہوں اور دیدار کر کے چلا جاتا ہوں لیکن جب مجھے آپ کی اور اپنی موت یاد آتی ہے اور اس کا یقین ہے کہ آپ جنت میں نبیوں کے سب سے بڑے اونچے درجے میں ہوں گے تو ڈر لگتا ہے کہ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار سے محروم ہو جاؤں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کوئی جواب نہیں دیا لیکن یہ آیت نازل ہوئی۔ [طبرانی کبیر:12559/12:حسن بالشواھد] ‏ اس روایت کے اور بھی طریقے ہیں۔ [طبرانی کبیر:12559:صحیح بالشواھد] ‏

صفحہ نمبر1804

صحیح مسلم شریف میں ہے سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہتا اور پانی وغیرہ لا دیا کرتا تھا ایک بار آپ نے مجھ سے فرمایا کچھ مانگ لے میں نے کہا جنت میں میں آپ کی رفاقت کا طالب ہوں فرمایا اس کے سوا اور کچھ؟ میں نے کہا وہی کافی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری رفاقت کے لیے میری مدد کر بکثرت سجدے کرکے ۔ [صحیح مسلم:489] ‏

مسند احمد میں ہے ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا میں اللہ کے لا شریک ہونے کی اور آپ کے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہوں اور رمضان کے روزے رکھتا ہوں تو آپ نے فرمایا جو مرتے دم تک اسی پر رہے گا وہ قیامت کے دن نبیوں صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ اس طرح ہو گا پھر آپ نے اپنی دو انگلیاں اٹھا کر اشارہ کر کے بتایا۔ لیکن یہ شرط ہے کہ ماں باپ کا نافرمان نہ ہو ۔ [مجمع الزوائد:146/8:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر1805

مسند احمد میں ہے ” جس نے اللہ کی راہ میں ایک ہزار آیتیں پڑھیں وہ ان شاءاللہ قیامت کے دن نبیوں کے صدیقوں شہیدوں اور صالحوں کے ساتھ لکھا جائے گا۔ “ [مسند احمد:437/8،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ ترمذی میں ہے ” سچا امانت دار، تاجر نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہو گا۔ “ [سنن ترمذي:1209،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ان سب سے زیادہ زبردست بشارت اس حدیث میں ہے جو صحاح اور مسانید وغیرہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کی ایک زبردست جماعت سے بہ تواتر مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو ایک قوم سے محبت رکھتا ہے لیکن اس سے ملا نہیں تو آپ نے فرمایا (‏حدیث) «‏اَلمْـَرْءُ مَـعَ مَـنْ اَحَبَّ» ‏ ہر انسان اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا تھا سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مسلمان جس قدر اس حدیث سے خوش ہوئے اتنا کسی اور چیز سے خوش نہیں ہوئے۔ [صحیح بخاری:3688] ‏

صفحہ نمبر1806

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں واللہ میری محبت تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہے تو مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے بھی انہی کے ساتھ اٹھائے گا گو میرے اعمال ان جیسے نہیں۔ [صحیح بخاری:3688] ‏ (‏یا اللہ تو ہمارے دل بھی اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے چاہنے والوں کی محبت سے بھر دے اور ہمارا حشر بھی انہی کے ساتھ کر دے آمین)

صفحہ نمبر1807

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنتی لوگ اپنے سے بلند درجہ والے جنتیوں کو ان کے بالا خانوں میں اس طرح دیکھیں گے جیسے تم چمکتے ستارے کو مشرق یا مغرب میں دیکھتے ہو ان میں بہت کچھ فاصلہ ہو گا صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یہ منزلیں تو انبیاء کرام کے لیے ہی مخصوص ہوں گی؟ کوئی اور وہاں تک کیسے پہنچ سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ان منزلوں تک وہ بھی پہنچیں گے جو اللہ پر ایمان لائے رسولوں کو سچا جانا اور مانا۔ [صحیح بخاری:3256] ‏

صفحہ نمبر1808

ایک حبشی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے آپ فرماتے ہیں جو پوچھنا ہو پوچھو اور سمجھو وہ کہتا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو صورت میں رنگ میں نبوت میں اللہ عزوجل نے ہم پر فضیلت دے رکھی ہے اگر میں بھی اس چیز پر ایمان لاؤں جس پر آپ ایمان لائے ہیں اور ان احکام کو بجا لاؤں جنہیں آپ بجا لا رہے ہیں تو کیا جنت میں آپ کا ساتھ ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس اللہ تعالیٰ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جنتی حبشی تو ایسا گورا چٹا ہوکر جنت میں جائے گا کہ اسکا پنڈا ایک ہزار برس کے فاصلے ہی نورانیت کے ساتھ جگمگاتا ہوا نظر آئے گا۔ پھر فرمایا «لا الہ الا اللہ» کہنے والے سے اللہ کا وعدہ ہے اور «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ» کہنے والے کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں

اس پر ایک اور صاحب نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب یہ حقائق ہیں تو پھر ہم کیسے ہلاک ہو سکتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا ایک انسان قیامت کے دن اس قدر اعمال لے کر آئے گا اگر کسی پہاڑ پر رکھے جائیں تو وہ بھی بوجھل ہوئے لیکن ایک نعمت جو کھڑی ہوگئی محض اسکے شکریہ میں یہ اعمال کم نظر آئیں گے ہاں یہ اور بات ہے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ سے اسے ڈھانک لے اور جنت دے دے

اور یہ آیتیں اتریں «هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـــًٔا مَّذْكُوْرًا» سے «وَاِذَا رَاَيْتَ ثَمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا وَّمُلْكًا كَبِيْرًا» تک۔ [76-الإنسان:1-20] ‏ تو حبشی صحابی رضی اللہ عنہ کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جنت میں جن جن چیزوں کو آپ کی آنکھیں دیکھیں گی میری آنکھیں بھی دیکھ سکیں گی؟ آپ نے فرمایا ہاں اس پر وہ حبشی فرط شوق میں روئے اور اس قدر روئے کہ اسی حالت میں فوت ہو گئے رضی اللہ عنہ وارضاہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ ان کی نعش مبارک کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں اتار رہے تھے [طبرانی کبیر:13595:ضعیف] ‏ یہ روایت غریب ہے اور اس میں اصولی خامیاں بھی ہیں اس کی سند بھی صغیف ہے۔ ارشاد الٰہی ہے یہ خاص اللہ کی عنایت اور اس کا فضل ہے اس کی رحمت سے ہی یہ اس کے قابل ہوئے نہ کہ اپنے اعمال سے، اللہ خوب جاننے والا ہے اسے بخوبی معلوم ہے کہ مستحق ہدایت و توفیق کون ہے؟

صفحہ نمبر1809

عادت جب فطرت ثانیہ بن جائے اور صاحب ایمان کو بشارت رفاقت ٭٭

اللہ خبر دیتا ہے کہ اکثر لوگ ایسے ہیں کہ اگر انہیں ان منع کردہ کاموں کا بھی حکم دیا جاتا جنہیں وہ اس وقت کر رہے ہیں تو وہ ان کاموں کو بھی نہ کرتے اس لیے کہ ان کی ذلیل طبیعتیں حکم الہٰی کی مخالفت پر ہی استوار ہوئی ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کی خبر دی ہے جو ظاہر نہیں ہوئی لیکن ہوتی تو کس طرح ہوتی؟ اس آیت کو سن کر ایک بزرگ نے فرمایا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں یہ حکم دیتا تو یقیناً ہم کر گزرتے لیکن اس کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس سے بچا لیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک میری امت میں ایسے ایسے لوگ بھی ہیں جن کے دلوں میں ایمان پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط اور ثابت ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:9926:مرسل و ضعیف] ‏ (‏ابن ابی حاتم)

صفحہ نمبر1799

اس روایت کی دوسری سند میں ہے کہ کسی ایک صحابہ رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تھا سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ایک یہودی نے سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ سے فخریہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر خود ہمارا قتل بھی فرض کیا تو بھی ہم کر گزریں گے اس پر سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا واللہ اگر ہم پر یہ فرض ہوتا تو ہم بھی کر گزرتے اس پر یہ آیت اتری اور روایت میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ حکم ہوتا تو اس کے بجا لانے والوں میں ایک سیدنا ابن ام عبد رضی اللہ عنہ بھی ہوتے ہیں [الدر المنثور للسیوطی:324/2:مرسل و ضعیف] ‏ (‏ابن ابی حاتم)

دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کو پڑھ کر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ بھی اس پر عمل کرنے والوں میں سے ایک ہیں ۔ [الدر المنثور للسیوطی:324/2:مرسل و ضعیف] ‏

صفحہ نمبر1800

ارشاد الٰہی ہے کہ اگر یہ لوگ ہمارے احکام بجا لاتے اور ہماری منع کردہ چیزوں اور کاموں سے رک جاتے تو یہ ان کے حق میں اس سے بہتر ہوتا کہ وہ حکم کی مخالفت کریں اور ممانعت میں مشغول ہوں۔ یہی عمل زیادہ سچائی والا ہوتا اسکے نتیجے میں ہم انہیں جنت عطا فرماتے اور دنیا اور آخرت کی بہتر راہ کی رہنمائی کرتے پھر فرماتا ہے جو شخص اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر عمل کرے اور منع کردہ کاموں سے باز رہے اسے اللہ تعالیٰ عزت کے گھر میں لے جائے گا نبیوں کا رفیق بنائے گا اور صدیقوں کا جو مرتبے میں نبیوں کے بعد ہیں پھر شہیدوں کا پھر تمام مومنوں کا جنہیں صالح کہا جاتا ہے جن کا ظاہر باطن آراستہ ہے ان کا ہم جنس بنائے گا خیال تو کرو یہ کیسے پاکیزہ اور بہترین رفیق ہے

صحیح بخاری شریف میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ ہر نبی کو اس کے مرض الموت کے زمانے میں دنیا میں رہنے اور آخرت میں جانے کا اختیار دیا جاتا ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو شدت نقاہت سے اٹھ نہیں سکتے تھے آواز بیٹھ گئی تھی لیکن میں نے سنا کہ آپ فرما رہے ہیں ان کا ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا جو نبی ہیں، صدیق ہیں، شہید ہیں، اور نیکوکار ہیں۔ یہ سن کر مجھے معلوم ہو گیا کہ اب آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔ [صحیح بخاری:4463] ‏ یہی مطلب ہے جو دوسری حدیث میں آپ کے یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں کہ اے اللہ میں بلند و بالا رفیق کی رفاقت کا طالب ہوں یہ کلمہ آپ نے تین مرتبہ اپنی زبان مبارک سے نکالا پھر فوت ہو گئے۔ [صحیح بخاری:4463] ‏ علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم۔

صفحہ نمبر1801

اس آیت کے شان نزول کا بیان ٭٭

ابن جریر میں ہے کہ ایک انصاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے دیکھا کہ سخت مغموم ہیں سبب دریافت کیا تو جواب ملا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تو صبح شام ہم لوگ آپ کی خدمت میں آبیٹھے ہیں دیدار بھی ہو جاتا ہے اور دو گھڑی صحبت بھی میسر ہو جاتی ہے لیکن کل قیامت کے دن تو آپ نبیوں کی اعلیٰ مجلس میں ہوں گے ہم تو آپ تک پہنچ بھی نہ سکیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہ دیا اس پر حضرت جبرائیل علیہ السلام یہ آیت لائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیج کر انہیں یہ خوشخبری سنا دی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:9929:مرسل و ضعیف] ‏ یہی اثر مرسل سند سے بھی مروی ہے جو سند بہت ہی اچھی ہے۔

صفحہ نمبر1802

سیدنا ربیع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ یہ ظاہر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ آپ پر ایمان لانے والوں سے یقیناً بہت ہی بڑا ہے پس جب کہ جنت میں یہ سب جمع ہوں گے تو آپس میں ایک دوسرے کو کیسے دیکھیں گے اور کیسے ملیں گے؟ پس یہ آیت اتری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اوپر کے درجہ والے نیچے والوں کے پاس اتر آئیں گے اور پربہار باغوں میں سب جمع ہوں گے اور اللہ کے احسانات کا ذکر اور اس کی تعریفیں کریں گے اور جو چاہیں گے پائیں گے ناز و نعم سے ہر وقت رہیں گے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:9933:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر1803

ابن مردویہ میں ہے ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ میں آپ کو اپنی جان سے اپنے اہل عیال سے اور اپنے بچوں سے بھی زیادہ محبوب رکھتا ہوں۔ میں گھر میں ہوتا ہوں لیکن شوق زیارت مجھے بیقرار کر دیتا ہے صبر نہیں ہو سکتا دوڑتا بھاگتا آتا ہوں اور دیدار کر کے چلا جاتا ہوں لیکن جب مجھے آپ کی اور اپنی موت یاد آتی ہے اور اس کا یقین ہے کہ آپ جنت میں نبیوں کے سب سے بڑے اونچے درجے میں ہوں گے تو ڈر لگتا ہے کہ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار سے محروم ہو جاؤں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کوئی جواب نہیں دیا لیکن یہ آیت نازل ہوئی۔ [طبرانی کبیر:12559/12:حسن بالشواھد] ‏ اس روایت کے اور بھی طریقے ہیں۔ [طبرانی کبیر:12559:صحیح بالشواھد] ‏

صفحہ نمبر1804

صحیح مسلم شریف میں ہے سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہتا اور پانی وغیرہ لا دیا کرتا تھا ایک بار آپ نے مجھ سے فرمایا کچھ مانگ لے میں نے کہا جنت میں میں آپ کی رفاقت کا طالب ہوں فرمایا اس کے سوا اور کچھ؟ میں نے کہا وہی کافی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری رفاقت کے لیے میری مدد کر بکثرت سجدے کرکے ۔ [صحیح مسلم:489] ‏

مسند احمد میں ہے ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا میں اللہ کے لا شریک ہونے کی اور آپ کے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہوں اور رمضان کے روزے رکھتا ہوں تو آپ نے فرمایا جو مرتے دم تک اسی پر رہے گا وہ قیامت کے دن نبیوں صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ اس طرح ہو گا پھر آپ نے اپنی دو انگلیاں اٹھا کر اشارہ کر کے بتایا۔ لیکن یہ شرط ہے کہ ماں باپ کا نافرمان نہ ہو ۔ [مجمع الزوائد:146/8:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر1805

مسند احمد میں ہے ” جس نے اللہ کی راہ میں ایک ہزار آیتیں پڑھیں وہ ان شاءاللہ قیامت کے دن نبیوں کے صدیقوں شہیدوں اور صالحوں کے ساتھ لکھا جائے گا۔ “ [مسند احمد:437/8،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ ترمذی میں ہے ” سچا امانت دار، تاجر نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہو گا۔ “ [سنن ترمذي:1209،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ان سب سے زیادہ زبردست بشارت اس حدیث میں ہے جو صحاح اور مسانید وغیرہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کی ایک زبردست جماعت سے بہ تواتر مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو ایک قوم سے محبت رکھتا ہے لیکن اس سے ملا نہیں تو آپ نے فرمایا (‏حدیث) «‏اَلمْـَرْءُ مَـعَ مَـنْ اَحَبَّ» ‏ ہر انسان اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا تھا سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مسلمان جس قدر اس حدیث سے خوش ہوئے اتنا کسی اور چیز سے خوش نہیں ہوئے۔ [صحیح بخاری:3688] ‏

صفحہ نمبر1806

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں واللہ میری محبت تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہے تو مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے بھی انہی کے ساتھ اٹھائے گا گو میرے اعمال ان جیسے نہیں۔ [صحیح بخاری:3688] ‏ (‏یا اللہ تو ہمارے دل بھی اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے چاہنے والوں کی محبت سے بھر دے اور ہمارا حشر بھی انہی کے ساتھ کر دے آمین)

صفحہ نمبر1807

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنتی لوگ اپنے سے بلند درجہ والے جنتیوں کو ان کے بالا خانوں میں اس طرح دیکھیں گے جیسے تم چمکتے ستارے کو مشرق یا مغرب میں دیکھتے ہو ان میں بہت کچھ فاصلہ ہو گا صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یہ منزلیں تو انبیاء کرام کے لیے ہی مخصوص ہوں گی؟ کوئی اور وہاں تک کیسے پہنچ سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ان منزلوں تک وہ بھی پہنچیں گے جو اللہ پر ایمان لائے رسولوں کو سچا جانا اور مانا۔ [صحیح بخاری:3256] ‏

صفحہ نمبر1808

ایک حبشی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے آپ فرماتے ہیں جو پوچھنا ہو پوچھو اور سمجھو وہ کہتا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو صورت میں رنگ میں نبوت میں اللہ عزوجل نے ہم پر فضیلت دے رکھی ہے اگر میں بھی اس چیز پر ایمان لاؤں جس پر آپ ایمان لائے ہیں اور ان احکام کو بجا لاؤں جنہیں آپ بجا لا رہے ہیں تو کیا جنت میں آپ کا ساتھ ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس اللہ تعالیٰ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جنتی حبشی تو ایسا گورا چٹا ہوکر جنت میں جائے گا کہ اسکا پنڈا ایک ہزار برس کے فاصلے ہی نورانیت کے ساتھ جگمگاتا ہوا نظر آئے گا۔ پھر فرمایا «لا الہ الا اللہ» کہنے والے سے اللہ کا وعدہ ہے اور «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ» کہنے والے کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں

اس پر ایک اور صاحب نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب یہ حقائق ہیں تو پھر ہم کیسے ہلاک ہو سکتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا ایک انسان قیامت کے دن اس قدر اعمال لے کر آئے گا اگر کسی پہاڑ پر رکھے جائیں تو وہ بھی بوجھل ہوئے لیکن ایک نعمت جو کھڑی ہوگئی محض اسکے شکریہ میں یہ اعمال کم نظر آئیں گے ہاں یہ اور بات ہے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ سے اسے ڈھانک لے اور جنت دے دے

اور یہ آیتیں اتریں «هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـــًٔا مَّذْكُوْرًا» سے «وَاِذَا رَاَيْتَ ثَمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا وَّمُلْكًا كَبِيْرًا» تک۔ [76-الإنسان:1-20] ‏ تو حبشی صحابی رضی اللہ عنہ کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جنت میں جن جن چیزوں کو آپ کی آنکھیں دیکھیں گی میری آنکھیں بھی دیکھ سکیں گی؟ آپ نے فرمایا ہاں اس پر وہ حبشی فرط شوق میں روئے اور اس قدر روئے کہ اسی حالت میں فوت ہو گئے رضی اللہ عنہ وارضاہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ ان کی نعش مبارک کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں اتار رہے تھے [طبرانی کبیر:13595:ضعیف] ‏ یہ روایت غریب ہے اور اس میں اصولی خامیاں بھی ہیں اس کی سند بھی صغیف ہے۔ ارشاد الٰہی ہے یہ خاص اللہ کی عنایت اور اس کا فضل ہے اس کی رحمت سے ہی یہ اس کے قابل ہوئے نہ کہ اپنے اعمال سے، اللہ خوب جاننے والا ہے اسے بخوبی معلوم ہے کہ مستحق ہدایت و توفیق کون ہے؟

صفحہ نمبر1809

عادت جب فطرت ثانیہ بن جائے اور صاحب ایمان کو بشارت رفاقت ٭٭

اللہ خبر دیتا ہے کہ اکثر لوگ ایسے ہیں کہ اگر انہیں ان منع کردہ کاموں کا بھی حکم دیا جاتا جنہیں وہ اس وقت کر رہے ہیں تو وہ ان کاموں کو بھی نہ کرتے اس لیے کہ ان کی ذلیل طبیعتیں حکم الہٰی کی مخالفت پر ہی استوار ہوئی ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کی خبر دی ہے جو ظاہر نہیں ہوئی لیکن ہوتی تو کس طرح ہوتی؟ اس آیت کو سن کر ایک بزرگ نے فرمایا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں یہ حکم دیتا تو یقیناً ہم کر گزرتے لیکن اس کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس سے بچا لیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک میری امت میں ایسے ایسے لوگ بھی ہیں جن کے دلوں میں ایمان پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط اور ثابت ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:9926:مرسل و ضعیف] ‏ (‏ابن ابی حاتم)

صفحہ نمبر1799

اس روایت کی دوسری سند میں ہے کہ کسی ایک صحابہ رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تھا سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ایک یہودی نے سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ سے فخریہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر خود ہمارا قتل بھی فرض کیا تو بھی ہم کر گزریں گے اس پر سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا واللہ اگر ہم پر یہ فرض ہوتا تو ہم بھی کر گزرتے اس پر یہ آیت اتری اور روایت میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ حکم ہوتا تو اس کے بجا لانے والوں میں ایک سیدنا ابن ام عبد رضی اللہ عنہ بھی ہوتے ہیں [الدر المنثور للسیوطی:324/2:مرسل و ضعیف] ‏ (‏ابن ابی حاتم)

دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کو پڑھ کر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ بھی اس پر عمل کرنے والوں میں سے ایک ہیں ۔ [الدر المنثور للسیوطی:324/2:مرسل و ضعیف] ‏

صفحہ نمبر1800

ارشاد الٰہی ہے کہ اگر یہ لوگ ہمارے احکام بجا لاتے اور ہماری منع کردہ چیزوں اور کاموں سے رک جاتے تو یہ ان کے حق میں اس سے بہتر ہوتا کہ وہ حکم کی مخالفت کریں اور ممانعت میں مشغول ہوں۔ یہی عمل زیادہ سچائی والا ہوتا اسکے نتیجے میں ہم انہیں جنت عطا فرماتے اور دنیا اور آخرت کی بہتر راہ کی رہنمائی کرتے پھر فرماتا ہے جو شخص اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر عمل کرے اور منع کردہ کاموں سے باز رہے اسے اللہ تعالیٰ عزت کے گھر میں لے جائے گا نبیوں کا رفیق بنائے گا اور صدیقوں کا جو مرتبے میں نبیوں کے بعد ہیں پھر شہیدوں کا پھر تمام مومنوں کا جنہیں صالح کہا جاتا ہے جن کا ظاہر باطن آراستہ ہے ان کا ہم جنس بنائے گا خیال تو کرو یہ کیسے پاکیزہ اور بہترین رفیق ہے

صحیح بخاری شریف میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ ہر نبی کو اس کے مرض الموت کے زمانے میں دنیا میں رہنے اور آخرت میں جانے کا اختیار دیا جاتا ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو شدت نقاہت سے اٹھ نہیں سکتے تھے آواز بیٹھ گئی تھی لیکن میں نے سنا کہ آپ فرما رہے ہیں ان کا ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا جو نبی ہیں، صدیق ہیں، شہید ہیں، اور نیکوکار ہیں۔ یہ سن کر مجھے معلوم ہو گیا کہ اب آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔ [صحیح بخاری:4463] ‏ یہی مطلب ہے جو دوسری حدیث میں آپ کے یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں کہ اے اللہ میں بلند و بالا رفیق کی رفاقت کا طالب ہوں یہ کلمہ آپ نے تین مرتبہ اپنی زبان مبارک سے نکالا پھر فوت ہو گئے۔ [صحیح بخاری:4463] ‏ علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم۔

صفحہ نمبر1801

اس آیت کے شان نزول کا بیان ٭٭

ابن جریر میں ہے کہ ایک انصاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے دیکھا کہ سخت مغموم ہیں سبب دریافت کیا تو جواب ملا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تو صبح شام ہم لوگ آپ کی خدمت میں آبیٹھے ہیں دیدار بھی ہو جاتا ہے اور دو گھڑی صحبت بھی میسر ہو جاتی ہے لیکن کل قیامت کے دن تو آپ نبیوں کی اعلیٰ مجلس میں ہوں گے ہم تو آپ تک پہنچ بھی نہ سکیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہ دیا اس پر حضرت جبرائیل علیہ السلام یہ آیت لائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیج کر انہیں یہ خوشخبری سنا دی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:9929:مرسل و ضعیف] ‏ یہی اثر مرسل سند سے بھی مروی ہے جو سند بہت ہی اچھی ہے۔

صفحہ نمبر1802

سیدنا ربیع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ یہ ظاہر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ آپ پر ایمان لانے والوں سے یقیناً بہت ہی بڑا ہے پس جب کہ جنت میں یہ سب جمع ہوں گے تو آپس میں ایک دوسرے کو کیسے دیکھیں گے اور کیسے ملیں گے؟ پس یہ آیت اتری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اوپر کے درجہ والے نیچے والوں کے پاس اتر آئیں گے اور پربہار باغوں میں سب جمع ہوں گے اور اللہ کے احسانات کا ذکر اور اس کی تعریفیں کریں گے اور جو چاہیں گے پائیں گے ناز و نعم سے ہر وقت رہیں گے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:9933:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر1803

ابن مردویہ میں ہے ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ میں آپ کو اپنی جان سے اپنے اہل عیال سے اور اپنے بچوں سے بھی زیادہ محبوب رکھتا ہوں۔ میں گھر میں ہوتا ہوں لیکن شوق زیارت مجھے بیقرار کر دیتا ہے صبر نہیں ہو سکتا دوڑتا بھاگتا آتا ہوں اور دیدار کر کے چلا جاتا ہوں لیکن جب مجھے آپ کی اور اپنی موت یاد آتی ہے اور اس کا یقین ہے کہ آپ جنت میں نبیوں کے سب سے بڑے اونچے درجے میں ہوں گے تو ڈر لگتا ہے کہ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار سے محروم ہو جاؤں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کوئی جواب نہیں دیا لیکن یہ آیت نازل ہوئی۔ [طبرانی کبیر:12559/12:حسن بالشواھد] ‏ اس روایت کے اور بھی طریقے ہیں۔ [طبرانی کبیر:12559:صحیح بالشواھد] ‏

صفحہ نمبر1804

صحیح مسلم شریف میں ہے سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہتا اور پانی وغیرہ لا دیا کرتا تھا ایک بار آپ نے مجھ سے فرمایا کچھ مانگ لے میں نے کہا جنت میں میں آپ کی رفاقت کا طالب ہوں فرمایا اس کے سوا اور کچھ؟ میں نے کہا وہی کافی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری رفاقت کے لیے میری مدد کر بکثرت سجدے کرکے ۔ [صحیح مسلم:489] ‏

مسند احمد میں ہے ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا میں اللہ کے لا شریک ہونے کی اور آپ کے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہوں اور رمضان کے روزے رکھتا ہوں تو آپ نے فرمایا جو مرتے دم تک اسی پر رہے گا وہ قیامت کے دن نبیوں صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ اس طرح ہو گا پھر آپ نے اپنی دو انگلیاں اٹھا کر اشارہ کر کے بتایا۔ لیکن یہ شرط ہے کہ ماں باپ کا نافرمان نہ ہو ۔ [مجمع الزوائد:146/8:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر1805

مسند احمد میں ہے ” جس نے اللہ کی راہ میں ایک ہزار آیتیں پڑھیں وہ ان شاءاللہ قیامت کے دن نبیوں کے صدیقوں شہیدوں اور صالحوں کے ساتھ لکھا جائے گا۔ “ [مسند احمد:437/8،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ ترمذی میں ہے ” سچا امانت دار، تاجر نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہو گا۔ “ [سنن ترمذي:1209،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ان سب سے زیادہ زبردست بشارت اس حدیث میں ہے جو صحاح اور مسانید وغیرہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کی ایک زبردست جماعت سے بہ تواتر مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو ایک قوم سے محبت رکھتا ہے لیکن اس سے ملا نہیں تو آپ نے فرمایا (‏حدیث) «‏اَلمْـَرْءُ مَـعَ مَـنْ اَحَبَّ» ‏ ہر انسان اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا تھا سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مسلمان جس قدر اس حدیث سے خوش ہوئے اتنا کسی اور چیز سے خوش نہیں ہوئے۔ [صحیح بخاری:3688] ‏

صفحہ نمبر1806

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں واللہ میری محبت تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہے تو مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے بھی انہی کے ساتھ اٹھائے گا گو میرے اعمال ان جیسے نہیں۔ [صحیح بخاری:3688] ‏ (‏یا اللہ تو ہمارے دل بھی اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے چاہنے والوں کی محبت سے بھر دے اور ہمارا حشر بھی انہی کے ساتھ کر دے آمین)

صفحہ نمبر1807

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنتی لوگ اپنے سے بلند درجہ والے جنتیوں کو ان کے بالا خانوں میں اس طرح دیکھیں گے جیسے تم چمکتے ستارے کو مشرق یا مغرب میں دیکھتے ہو ان میں بہت کچھ فاصلہ ہو گا صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یہ منزلیں تو انبیاء کرام کے لیے ہی مخصوص ہوں گی؟ کوئی اور وہاں تک کیسے پہنچ سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ان منزلوں تک وہ بھی پہنچیں گے جو اللہ پر ایمان لائے رسولوں کو سچا جانا اور مانا۔ [صحیح بخاری:3256] ‏

صفحہ نمبر1808

ایک حبشی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے آپ فرماتے ہیں جو پوچھنا ہو پوچھو اور سمجھو وہ کہتا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو صورت میں رنگ میں نبوت میں اللہ عزوجل نے ہم پر فضیلت دے رکھی ہے اگر میں بھی اس چیز پر ایمان لاؤں جس پر آپ ایمان لائے ہیں اور ان احکام کو بجا لاؤں جنہیں آپ بجا لا رہے ہیں تو کیا جنت میں آپ کا ساتھ ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس اللہ تعالیٰ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جنتی حبشی تو ایسا گورا چٹا ہوکر جنت میں جائے گا کہ اسکا پنڈا ایک ہزار برس کے فاصلے ہی نورانیت کے ساتھ جگمگاتا ہوا نظر آئے گا۔ پھر فرمایا «لا الہ الا اللہ» کہنے والے سے اللہ کا وعدہ ہے اور «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ» کہنے والے کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں

اس پر ایک اور صاحب نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب یہ حقائق ہیں تو پھر ہم کیسے ہلاک ہو سکتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا ایک انسان قیامت کے دن اس قدر اعمال لے کر آئے گا اگر کسی پہاڑ پر رکھے جائیں تو وہ بھی بوجھل ہوئے لیکن ایک نعمت جو کھڑی ہوگئی محض اسکے شکریہ میں یہ اعمال کم نظر آئیں گے ہاں یہ اور بات ہے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ سے اسے ڈھانک لے اور جنت دے دے

اور یہ آیتیں اتریں «هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـــًٔا مَّذْكُوْرًا» سے «وَاِذَا رَاَيْتَ ثَمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا وَّمُلْكًا كَبِيْرًا» تک۔ [76-الإنسان:1-20] ‏ تو حبشی صحابی رضی اللہ عنہ کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جنت میں جن جن چیزوں کو آپ کی آنکھیں دیکھیں گی میری آنکھیں بھی دیکھ سکیں گی؟ آپ نے فرمایا ہاں اس پر وہ حبشی فرط شوق میں روئے اور اس قدر روئے کہ اسی حالت میں فوت ہو گئے رضی اللہ عنہ وارضاہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ ان کی نعش مبارک کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں اتار رہے تھے [طبرانی کبیر:13595:ضعیف] ‏ یہ روایت غریب ہے اور اس میں اصولی خامیاں بھی ہیں اس کی سند بھی صغیف ہے۔ ارشاد الٰہی ہے یہ خاص اللہ کی عنایت اور اس کا فضل ہے اس کی رحمت سے ہی یہ اس کے قابل ہوئے نہ کہ اپنے اعمال سے، اللہ خوب جاننے والا ہے اسے بخوبی معلوم ہے کہ مستحق ہدایت و توفیق کون ہے؟

صفحہ نمبر1809

طاقتور اور متحد ہو کر زندہ رہو ٭٭

اللہ رب العزت مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے بچاؤ کے اسباب تیار رکھیں ہر وقت ہتھیار بند رہیں تاکہ دشمن ان پر با آسانی کامیاب نہ ہو جائے۔ ضرورت کے ہتھیار تیار رکھیں اپنی تعداد بڑھاتے رہیں قوت مضبوط کرتے رہیں منظم مردانہ وار جہاد کے لیے بیک آواز اٹھ کھڑے ہوں چھوٹے چھوٹے لشکروں میں بٹ کر یا متحدہ فوج کی صورت میں جیسا موقعہ ہو آواز سنتے ہی ہوشیار رہیں کہ منافقین کی خصلت ہے کہ خود بھی اللہ تعالیٰ کی راہ سے جی چرائیں اور دوسروں کو بھی بزدل بنائیں۔

جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول سردار منافقین کا فعل تھا اللہ تعالیٰ اسے رسوا کرے اس کا کردار یہ تھا کہ اگر حکمت الہیہ سے مسلمانوں کو دشمنوں کے مقابلہ میں کامیابی نہ ہوتی دشمن ان پر چھا جاتا انہیں نقصان پہنچاتا، ان کے آدمی شہید ہوتے تو یہ گھر بیٹھا خوشیاں مناتا اور اپنی دانائی پر اکڑتا اور اپنا اس جہاد میں شریک نہ ہونا اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کا انعام قرار دیتا لیکن بے خبر یہ نہیں سمجھتا کہ جو اجر و ثواب ان مجاہدین کو ملا اس سب سے یہ بد نصیب یک لخت محروم رہا اگر یہ بھی ان میں شامل ہو تا تو غازی کا درجہ پاتا اپنے صبر کے ثواب سمیٹتا یا شہادت کے بلند مرتبے تک پہنچ جاتا۔ اور اگر مسلمان مجاہدین کو اللہ کا فضل معاون ہوتا یعنی یہ دشمنوں پر غالب آ جاتے ان کی فتح ہوتی دشمنوں کو انہوں نے پامال کیا اور مال غنیمت لونڈی غلام لے کر خیر عافیت ظفر اور نصرت کے ساتھ لوٹتے تو یہ انگاروں پر لوٹتا اور ایسے لمبے لمبے سانس لے کر ہائے وائے کرتا ہے اور اس طرح پچھتاتا ہے اور ایسے کلمات زبان سے نکالتا ہے گویا یہ تمہارا کبھی تھا یہ نہیں یہ دین تمہارا نہیں بلکہ اس کا دین ہے اور کہتا افسوس میں ان کے ساتھ نہ ہوا ورنہ مجھے بھی حصہ ملتا اور میں بھی لونڈی، غلام، مال، متاع والابن جاتا الغرض دنیا پر ریجھا ہوا اور اسی پر مٹا ہوا ہے۔ پس اللہ کی راہ میں نکل کھڑے ہونے والے مومنوں کو چاہیئے کہ ان سے جہاد کریں جو اپنے دین کو دنیا کے بدلے فروخت کر رہے ہیں اپنے کفر اور عدم ایمان کے باعث اپنی آخرت کو برباد کر کے دنیا بناتے ہیں۔ سنو! اللہ کی راہ کا مجاہد کبھی نقصان نہیں اٹھاتا اس کے دونوں ہاتھوں میں لڈو ہیں قتل کیا گیا تو اجر موجود غالب رہا تو ثواب حاضر۔

صفحہ نمبر1814

بخاری مسلم میں ہے کہ اللہ کی راہ کے مجاہد کا ضامن خود اللہ عزوجل ہے یا تو اس فوت کر کے جنت میں پہنچائے گا جس جگہ سے وہ چلا ہے وہیں اجر و غنیمت کے ساتھ صیح سالم واپس لائے گا۔ [صحیح بخاری:3123] ‏ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

صفحہ نمبر1815

طاقتور اور متحد ہو کر زندہ رہو ٭٭

اللہ رب العزت مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے بچاؤ کے اسباب تیار رکھیں ہر وقت ہتھیار بند رہیں تاکہ دشمن ان پر با آسانی کامیاب نہ ہو جائے۔ ضرورت کے ہتھیار تیار رکھیں اپنی تعداد بڑھاتے رہیں قوت مضبوط کرتے رہیں منظم مردانہ وار جہاد کے لیے بیک آواز اٹھ کھڑے ہوں چھوٹے چھوٹے لشکروں میں بٹ کر یا متحدہ فوج کی صورت میں جیسا موقعہ ہو آواز سنتے ہی ہوشیار رہیں کہ منافقین کی خصلت ہے کہ خود بھی اللہ تعالیٰ کی راہ سے جی چرائیں اور دوسروں کو بھی بزدل بنائیں۔

جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول سردار منافقین کا فعل تھا اللہ تعالیٰ اسے رسوا کرے اس کا کردار یہ تھا کہ اگر حکمت الہیہ سے مسلمانوں کو دشمنوں کے مقابلہ میں کامیابی نہ ہوتی دشمن ان پر چھا جاتا انہیں نقصان پہنچاتا، ان کے آدمی شہید ہوتے تو یہ گھر بیٹھا خوشیاں مناتا اور اپنی دانائی پر اکڑتا اور اپنا اس جہاد میں شریک نہ ہونا اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کا انعام قرار دیتا لیکن بے خبر یہ نہیں سمجھتا کہ جو اجر و ثواب ان مجاہدین کو ملا اس سب سے یہ بد نصیب یک لخت محروم رہا اگر یہ بھی ان میں شامل ہو تا تو غازی کا درجہ پاتا اپنے صبر کے ثواب سمیٹتا یا شہادت کے بلند مرتبے تک پہنچ جاتا۔ اور اگر مسلمان مجاہدین کو اللہ کا فضل معاون ہوتا یعنی یہ دشمنوں پر غالب آ جاتے ان کی فتح ہوتی دشمنوں کو انہوں نے پامال کیا اور مال غنیمت لونڈی غلام لے کر خیر عافیت ظفر اور نصرت کے ساتھ لوٹتے تو یہ انگاروں پر لوٹتا اور ایسے لمبے لمبے سانس لے کر ہائے وائے کرتا ہے اور اس طرح پچھتاتا ہے اور ایسے کلمات زبان سے نکالتا ہے گویا یہ تمہارا کبھی تھا یہ نہیں یہ دین تمہارا نہیں بلکہ اس کا دین ہے اور کہتا افسوس میں ان کے ساتھ نہ ہوا ورنہ مجھے بھی حصہ ملتا اور میں بھی لونڈی، غلام، مال، متاع والابن جاتا الغرض دنیا پر ریجھا ہوا اور اسی پر مٹا ہوا ہے۔ پس اللہ کی راہ میں نکل کھڑے ہونے والے مومنوں کو چاہیئے کہ ان سے جہاد کریں جو اپنے دین کو دنیا کے بدلے فروخت کر رہے ہیں اپنے کفر اور عدم ایمان کے باعث اپنی آخرت کو برباد کر کے دنیا بناتے ہیں۔ سنو! اللہ کی راہ کا مجاہد کبھی نقصان نہیں اٹھاتا اس کے دونوں ہاتھوں میں لڈو ہیں قتل کیا گیا تو اجر موجود غالب رہا تو ثواب حاضر۔

صفحہ نمبر1814

بخاری مسلم میں ہے کہ اللہ کی راہ کے مجاہد کا ضامن خود اللہ عزوجل ہے یا تو اس فوت کر کے جنت میں پہنچائے گا جس جگہ سے وہ چلا ہے وہیں اجر و غنیمت کے ساتھ صیح سالم واپس لائے گا۔ [صحیح بخاری:3123] ‏ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

صفحہ نمبر1815

طاقتور اور متحد ہو کر زندہ رہو ٭٭

اللہ رب العزت مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے بچاؤ کے اسباب تیار رکھیں ہر وقت ہتھیار بند رہیں تاکہ دشمن ان پر با آسانی کامیاب نہ ہو جائے۔ ضرورت کے ہتھیار تیار رکھیں اپنی تعداد بڑھاتے رہیں قوت مضبوط کرتے رہیں منظم مردانہ وار جہاد کے لیے بیک آواز اٹھ کھڑے ہوں چھوٹے چھوٹے لشکروں میں بٹ کر یا متحدہ فوج کی صورت میں جیسا موقعہ ہو آواز سنتے ہی ہوشیار رہیں کہ منافقین کی خصلت ہے کہ خود بھی اللہ تعالیٰ کی راہ سے جی چرائیں اور دوسروں کو بھی بزدل بنائیں۔

جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول سردار منافقین کا فعل تھا اللہ تعالیٰ اسے رسوا کرے اس کا کردار یہ تھا کہ اگر حکمت الہیہ سے مسلمانوں کو دشمنوں کے مقابلہ میں کامیابی نہ ہوتی دشمن ان پر چھا جاتا انہیں نقصان پہنچاتا، ان کے آدمی شہید ہوتے تو یہ گھر بیٹھا خوشیاں مناتا اور اپنی دانائی پر اکڑتا اور اپنا اس جہاد میں شریک نہ ہونا اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کا انعام قرار دیتا لیکن بے خبر یہ نہیں سمجھتا کہ جو اجر و ثواب ان مجاہدین کو ملا اس سب سے یہ بد نصیب یک لخت محروم رہا اگر یہ بھی ان میں شامل ہو تا تو غازی کا درجہ پاتا اپنے صبر کے ثواب سمیٹتا یا شہادت کے بلند مرتبے تک پہنچ جاتا۔ اور اگر مسلمان مجاہدین کو اللہ کا فضل معاون ہوتا یعنی یہ دشمنوں پر غالب آ جاتے ان کی فتح ہوتی دشمنوں کو انہوں نے پامال کیا اور مال غنیمت لونڈی غلام لے کر خیر عافیت ظفر اور نصرت کے ساتھ لوٹتے تو یہ انگاروں پر لوٹتا اور ایسے لمبے لمبے سانس لے کر ہائے وائے کرتا ہے اور اس طرح پچھتاتا ہے اور ایسے کلمات زبان سے نکالتا ہے گویا یہ تمہارا کبھی تھا یہ نہیں یہ دین تمہارا نہیں بلکہ اس کا دین ہے اور کہتا افسوس میں ان کے ساتھ نہ ہوا ورنہ مجھے بھی حصہ ملتا اور میں بھی لونڈی، غلام، مال، متاع والابن جاتا الغرض دنیا پر ریجھا ہوا اور اسی پر مٹا ہوا ہے۔ پس اللہ کی راہ میں نکل کھڑے ہونے والے مومنوں کو چاہیئے کہ ان سے جہاد کریں جو اپنے دین کو دنیا کے بدلے فروخت کر رہے ہیں اپنے کفر اور عدم ایمان کے باعث اپنی آخرت کو برباد کر کے دنیا بناتے ہیں۔ سنو! اللہ کی راہ کا مجاہد کبھی نقصان نہیں اٹھاتا اس کے دونوں ہاتھوں میں لڈو ہیں قتل کیا گیا تو اجر موجود غالب رہا تو ثواب حاضر۔

صفحہ نمبر1814

بخاری مسلم میں ہے کہ اللہ کی راہ کے مجاہد کا ضامن خود اللہ عزوجل ہے یا تو اس فوت کر کے جنت میں پہنچائے گا جس جگہ سے وہ چلا ہے وہیں اجر و غنیمت کے ساتھ صیح سالم واپس لائے گا۔ [صحیح بخاری:3123] ‏ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

صفحہ نمبر1815

طاقتور اور متحد ہو کر زندہ رہو ٭٭

اللہ رب العزت مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے بچاؤ کے اسباب تیار رکھیں ہر وقت ہتھیار بند رہیں تاکہ دشمن ان پر با آسانی کامیاب نہ ہو جائے۔ ضرورت کے ہتھیار تیار رکھیں اپنی تعداد بڑھاتے رہیں قوت مضبوط کرتے رہیں منظم مردانہ وار جہاد کے لیے بیک آواز اٹھ کھڑے ہوں چھوٹے چھوٹے لشکروں میں بٹ کر یا متحدہ فوج کی صورت میں جیسا موقعہ ہو آواز سنتے ہی ہوشیار رہیں کہ منافقین کی خصلت ہے کہ خود بھی اللہ تعالیٰ کی راہ سے جی چرائیں اور دوسروں کو بھی بزدل بنائیں۔

جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول سردار منافقین کا فعل تھا اللہ تعالیٰ اسے رسوا کرے اس کا کردار یہ تھا کہ اگر حکمت الہیہ سے مسلمانوں کو دشمنوں کے مقابلہ میں کامیابی نہ ہوتی دشمن ان پر چھا جاتا انہیں نقصان پہنچاتا، ان کے آدمی شہید ہوتے تو یہ گھر بیٹھا خوشیاں مناتا اور اپنی دانائی پر اکڑتا اور اپنا اس جہاد میں شریک نہ ہونا اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کا انعام قرار دیتا لیکن بے خبر یہ نہیں سمجھتا کہ جو اجر و ثواب ان مجاہدین کو ملا اس سب سے یہ بد نصیب یک لخت محروم رہا اگر یہ بھی ان میں شامل ہو تا تو غازی کا درجہ پاتا اپنے صبر کے ثواب سمیٹتا یا شہادت کے بلند مرتبے تک پہنچ جاتا۔ اور اگر مسلمان مجاہدین کو اللہ کا فضل معاون ہوتا یعنی یہ دشمنوں پر غالب آ جاتے ان کی فتح ہوتی دشمنوں کو انہوں نے پامال کیا اور مال غنیمت لونڈی غلام لے کر خیر عافیت ظفر اور نصرت کے ساتھ لوٹتے تو یہ انگاروں پر لوٹتا اور ایسے لمبے لمبے سانس لے کر ہائے وائے کرتا ہے اور اس طرح پچھتاتا ہے اور ایسے کلمات زبان سے نکالتا ہے گویا یہ تمہارا کبھی تھا یہ نہیں یہ دین تمہارا نہیں بلکہ اس کا دین ہے اور کہتا افسوس میں ان کے ساتھ نہ ہوا ورنہ مجھے بھی حصہ ملتا اور میں بھی لونڈی، غلام، مال، متاع والابن جاتا الغرض دنیا پر ریجھا ہوا اور اسی پر مٹا ہوا ہے۔ پس اللہ کی راہ میں نکل کھڑے ہونے والے مومنوں کو چاہیئے کہ ان سے جہاد کریں جو اپنے دین کو دنیا کے بدلے فروخت کر رہے ہیں اپنے کفر اور عدم ایمان کے باعث اپنی آخرت کو برباد کر کے دنیا بناتے ہیں۔ سنو! اللہ کی راہ کا مجاہد کبھی نقصان نہیں اٹھاتا اس کے دونوں ہاتھوں میں لڈو ہیں قتل کیا گیا تو اجر موجود غالب رہا تو ثواب حاضر۔

صفحہ نمبر1814

بخاری مسلم میں ہے کہ اللہ کی راہ کے مجاہد کا ضامن خود اللہ عزوجل ہے یا تو اس فوت کر کے جنت میں پہنچائے گا جس جگہ سے وہ چلا ہے وہیں اجر و غنیمت کے ساتھ صیح سالم واپس لائے گا۔ [صحیح بخاری:3123] ‏ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

صفحہ نمبر1815

شیطان کے دوستوں سے جنگ لازم ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ مومنوں کو اپنی راہ کے جہاد کی رغبت دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ وہ کمزور بے بس لوگ جو مکہ میں ہیں جن میں عورتیں اور بچے بھی ہیں جو وہاں کے قیام سے اکتا گئے ہیں جن پر کفار نت نئی مصیبتیں توڑ رہے ہیں۔ جو محض بے بال و پر ہیں انہیں آزاد کراؤ، جو بیکس دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اسی بستی یعنی مکہ سے ہمارا نکلنا ممکن ہو۔

مکہ شریف کو اس آیت میں بھی قریہ کہا گیا ہے «وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ هِىَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْيَتِكَ الَّتِيْٓ اَخْرَجَتْكَ ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ» [47-محمد:13] ‏ ” بہت سی بستیاں اس بستی سے زیادہ طاقتور تھیں جس بستی سے (‏یعنی وہاں کے رہنے والوں نے) تمہیں نکالا “۔ اسی مکہ کے رہنے والے مسلمان کافروں کے ظلم کے شکایت بھی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی اپنی دعاؤں میں کہہ رہے ہیں کہ اے رب کسی کو اپنی طرف سے ہمارا ولی اور مددگار بنا کر ہماری امداد کو بھیج۔

صحیح بخاری شریف میں ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما انہی کمزوروں میں تھے [صحیح بخاری:4587] ‏ اور روایت میں ہے کہ آپ نے «اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاۗءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ حِيْلَةً وَّلَا يَهْتَدُوْنَ سَبِيْلًا» [4-النساء:98] ‏ پڑھ کر فرمایا میں اور میری والدہ صاحبہ بھی انہی لوگوں میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے معذور رکھا۔ [صحیح بخاری:4588] ‏

ارشاد ہے: ایماندار اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اس کی رضا جوئی کے لیے جہاد کرتے ہیں اور کفار اطاعت شیطان میں لڑتے ہیں تو مسلمانوں کو چاہیئے کہ شیطان کے دوستوں سے جو اللہ کے دشمن ہیں دل کھول کر جنگ کریں اور یقین مانیں کہ شیطان کے ہتھکنڈے اور اس کے مکر و فریب سب نقش برآب ہیں۔

صفحہ نمبر1819

شیطان کے دوستوں سے جنگ لازم ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ مومنوں کو اپنی راہ کے جہاد کی رغبت دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ وہ کمزور بے بس لوگ جو مکہ میں ہیں جن میں عورتیں اور بچے بھی ہیں جو وہاں کے قیام سے اکتا گئے ہیں جن پر کفار نت نئی مصیبتیں توڑ رہے ہیں۔ جو محض بے بال و پر ہیں انہیں آزاد کراؤ، جو بیکس دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اسی بستی یعنی مکہ سے ہمارا نکلنا ممکن ہو۔

مکہ شریف کو اس آیت میں بھی قریہ کہا گیا ہے «وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ هِىَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْيَتِكَ الَّتِيْٓ اَخْرَجَتْكَ ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ» [47-محمد:13] ‏ ” بہت سی بستیاں اس بستی سے زیادہ طاقتور تھیں جس بستی سے (‏یعنی وہاں کے رہنے والوں نے) تمہیں نکالا “۔ اسی مکہ کے رہنے والے مسلمان کافروں کے ظلم کے شکایت بھی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی اپنی دعاؤں میں کہہ رہے ہیں کہ اے رب کسی کو اپنی طرف سے ہمارا ولی اور مددگار بنا کر ہماری امداد کو بھیج۔

صحیح بخاری شریف میں ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما انہی کمزوروں میں تھے [صحیح بخاری:4587] ‏ اور روایت میں ہے کہ آپ نے «اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاۗءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ حِيْلَةً وَّلَا يَهْتَدُوْنَ سَبِيْلًا» [4-النساء:98] ‏ پڑھ کر فرمایا میں اور میری والدہ صاحبہ بھی انہی لوگوں میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے معذور رکھا۔ [صحیح بخاری:4588] ‏

ارشاد ہے: ایماندار اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اس کی رضا جوئی کے لیے جہاد کرتے ہیں اور کفار اطاعت شیطان میں لڑتے ہیں تو مسلمانوں کو چاہیئے کہ شیطان کے دوستوں سے جو اللہ کے دشمن ہیں دل کھول کر جنگ کریں اور یقین مانیں کہ شیطان کے ہتھکنڈے اور اس کے مکر و فریب سب نقش برآب ہیں۔

صفحہ نمبر1819

اولین درس صبر و ضبط ٭٭

واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ ابتدائے اسلام میں جب مسلمان مکہ شریف میں تھے کمزور تھے حرمت والے شہر میں تھے کفار کا غلبہ تھا یہ انہی کے شہر میں تھے وہ بکثرت تھے جنگی اسباب میں ہر طرح فوقیت رکھتے ہیں، اس لیے اس وقت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جہاد و قتال کا حکم نہیں دیا تھا، بلکہ ان سے فرمایا تھا کہ کافروں کی ایذائیں سہتے چلے جائیں ان کی مخالفت برداشت کریں، ان کے ظلم و ستم برداشت کریں، جو احکام اللہ نازل ہو چکے ہیں ان پر عامل رہیں نماز ادا کرتے رہیں زکوٰۃ دیتے رہا کریں، گو ان میں عموماً مال کی زیادتی بھی نہ تھی لیکن تاہم مسکینوں اور محتاجوں کے کام آنے کا اور ان کی ہمدردی کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا۔

مصلحت الٰہی کا تقاضہ یہ تھا کہ سردست یہ کفار سے نہ لڑیں بلکہ صبر و ضبط سے کام لیں ادھر کافر بڑی دلیری سے ان پر ستم کے پہاڑ توڑ رہے تھے ہر چھوٹے بڑے کو سخت سے سخت سزائیں دے رہے تھے، مسلمانوں کا ناک میں دم کر رکھا تھا اس لیے ان کے دل میں رہ رہ کر جوش اٹھتا تھا اور زبان سے الفاظ نکل جاتے تھے کہ اس روز مرہ کی مصیبتوں سے تو یہی بہتر ہے کہ ایک مرتبہ دل کی بھڑاس نکل جائے، دو دو ہاتھ میدان میں ہو لیں کاش کہ اللہ تعالیٰ ہمیں جہاں کا حکم دیدے، لیکن اب تک حکم نہیں ملا تھا۔ جب انہیں ہجرت کی اجازت ملی اور مسلمان اپنی زمین، زر، رشتہ، کنبے، اللہ عزوجل کے نام پر قربان کر کے اپنا دین لے کر مکہ سے ہجرت کر کے مدینے پہنچے یہاں انہیں اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی سہولت دی امن کی جگہ دی امداد کے لیے انصار مدینہ دئیے، تعداد میں کثرت ہو گئی قوت و طاقت قدرے بڑھ گئی تو اب اللہ حاکم مطلق کی طرف سے اجازت ملی کہ اپنے لڑنے والوں سے لڑو، جہاد کا حکم اترتے ہی بعض لوگ سٹ پٹائے، خوف زدہ ہوئے جہاد کا تصور کر کے میدان میں قتل کئے جانے کا تصور عورتوں کے رنڈاپے کا خیال، بچوں کی یتیمی کا منظر آنکھوں کے سامنے آ گیا گھبراہٹ میں کہہ اٹھے کہ اے اللہ ابھی سے جہاد کیوں فرض کر دیا کچھ تو مہلت دی ہوتی۔

صفحہ نمبر1821

اسی مضمون کو دوسری آیتوں میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ «وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٌ ۖ فَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ ۙ رَأَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۖ فَأَوْلَىٰ لَهُمْ طَاعَةٌ وَقَوْلٌ مَّعْرُوفٌ ۚ فَإِذَا عَزَمَ الْأَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا اللَّـهَ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ» ‏ [47-محمد:20-21] ‏، مختصر مطلب یہ ہے کہ ” ایماندار کہتے ہیں کوئی سورت کیوں نازل نہیں کی جاتی جب کوئی سورت اتاری جاتی ہے اور اس میں جہاد کا ذکر ہوتا ہے تو بیمار دل لوگ چیخ اٹھتے ہیں ٹیڑھے تیوروں سے تجھے گھورتے ہیں اور موت کی غشی والوں کی طرح اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں ان پر افسوس ہے۔ “

سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھی مکہ شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں اے نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کفر کی حالت ذی عزت تھے آج اسلام کی حالت میں ذلیل سمجھے جانے لگے مطلب یہ تھا کہ آپ کی فرمانبرداری ضروری ہے اور آپ مقابلے سے میں منع کرتے ہیں جن سے کفار کی جرأت بڑھ گئی ہے۔ اور وہ ہمیں ذلیل کرنے لگے ہیں تو آپ ہمیں مقابلہ کی اجازت کیوں نہیں دیتے؟ لیکن آپ نے جواب دیا مجھے اللہ کا حکم یہی ہے کہ ہم درگزر کریں کافروں سے جنگ نہ کریں۔ پھر جب مدینہ کی طرف ہجرت ہوئی اور جہاد کے احکام نازل ہوئے تو لوگ ہچکچانے لگے اس پر یہ آیت اتری۔ [سنن نسائی:3088،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر1822

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صرف صلوۃ و زکوٰۃ کا حکم ہی تھا تو تمنائیں کرتے تھے کہ جہاد فرض ہو جب فریضہ جہاد نازل ہوا تو کمزور دل لوگ انسانوں سے ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرنا چاہیئے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور کہنے لگے اے رب تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا کیوں ہمیں اپنی موت کے صحیح وقت تک فائدہ نہ اٹھانے دیا۔ انہیں جواب ملتا ہے کہ دنیوی نفع بالکل ناپائیدار اور بہت ہی کم ہے ہاں متقیوں کے لیے آخرت دنیا سے بہتر اور پاکیزہ تر ہے۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت یہودیوں کے بارے میں اتری ہے، جواباً کہا گیا کہ پرہیزگاروں کا انجام آغاز سے بہت ہی اچھا ہے۔ تمہیں تمہارے اعمال پورے پورے دیئے جائیں گے کامل اجر ملے گا ایک بھی نیک عمل غارت نہ کیا جائے گا ناممکن ہے کہ ایک بال برابر ظلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی پر کیا جائے۔ اس جملے میں انہیں دنیا سے بے رغبتی دلائی جا رہی ہے آخرت کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے جہاد کی رغبت دی جا رہی ہے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ اس بندے پر رحم کرے جو دنیا کے ساتھ ایسا ہی رہے ساری دنیا اول سے آخرت تک اس طرح ہے جیسے کوئی سویا ہوا شخص اپنے خواب میں اپنی پسندیدہ چیز کو دیکھے لیکن آنکھ کھلتے ہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ کچھ نہ تھا۔

صفحہ نمبر1823

ابو مصہر رحمہ اللہ کا یہ کلام کتنا پیارا ہے «‏ولا خیر فی الدنیا لمن لم یکن لہ» «‏من اللہ فی دار المقام نصیب» «‏فان تعجب الدنیا رجالا فانھا» «‏متاع قلیل والزوال قریب» یعنی اس شخص کے لیے دنیا بھلائی سے یکسر خالی ہے جسے کل آخرت کا کوئی حصہ ملنے والا نہیں۔ گودنیا کو دیکھ دیکھ کر بعض لوگ ریجھ رہے ہیں لیکن دراصل یہ یونہی سا فائدہ ہے اور وہ بھی جلد فنا ہو جانے والا۔

صفحہ نمبر1824

پھر ارشاد باری ہے کہ آخرش موت کا مزا ہر ایک چکھنا ہی ہے کوئی ذریعہ کسی کو اس سے بچا نہیں سکتا، جسے فرمان ہے «كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ» [55-الرحمن:26] ‏ ” جتنے یہاں ہیں سب فانی ہیں “۔ اور جگہ ارشاد ہے «كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ» [3-آل عمران:185] ‏ ” ہر ہر جاندار مرنے والا ہے “ فرماتا ہے «وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ» [21-الأنبياء:34] ‏ ” تجھ سے اگلے لوگوں میں سے بھی کسی کے لیے ہم نے ہمیشہ کی زندگی مقرر نہیں کی “۔ مقصد یہ ہے کہ خواہ جہاد کر ے یا نہ کرے ذات اللہ کے سوا موت کا مزا تو ایک نہ ایک روز ہر کسی کو چکھنا ہی پڑے گا۔ ہر ایک کا ایک وقت مقرر ہے اور ہر ایک کی موت کی جگہ معین ہے۔

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس وقت جبکہ آپ بستر مرگ پر ہیں فرماتے ہیں اللہ کی قسم فلاں جگہ فلاں جگہ غرض بیسیوں لڑائیوں میں سینکڑوں معرکوں میں گیا ثابت قدمی پامردی کے ساتھ دلیرانہ جہاد کئے آؤ دیکھ لو میرے جسم کا کوئی عضو ایسا نہ پاؤ گے جہاں کوئی نہ کوئی نشان نیزے یا برچھے یا تیر یا بھالے کا تلوار اور ہتھیار کا نہ ہو لیکن چونکہ میدان جنگ میں موت نہ لکھی تھی اب دیکھو اپنے بسترے پر اپنی موت مررہا ہوں، کہاں ہیں لڑائی سے جی چرانے والے نامرد میری ذات سے سبق سیکھیں۔ [ رضی اللہ عنہ و ارضاہ ] ‏

صفحہ نمبر1825

باب

پھر فرماتا ہے موت کے پنجے سے بلند و بالا مضبوط اور مضبوظ قلعے اور محل بھی بچا نہیں سکتے۔ بعض نے کہا مراد اس سے آسمان کے برج ہیں، لیکن یہ قول ضعیف ہے صحیح یہی ہے کہ مراد محفوظ مقامات ہیں یعنی کتنی ہی حفاظت موت سے کی جائے۔ لیکن وہ اپنے وقت سے آگے پیچھے نہیں ہو سکتی زہیر کا شعر ہے کہ موت سے بھاگنے والا گو زینہ لگا کر اسباب آسمانی بھی جمع کر لے تو بھی اسے کوئی نفع نہیں پہنچ سکتا۔

صفحہ نمبر1826

ایک قول ہے «مُّشَيَّدَةٍ» بہ تشدید «مَشِـْید» بغیر تشدید ایک ہی معنی میں ہیں اور بعض ان دونوں میں فرق کے قائل ہیں کہتے ہیں کہ اول کا معنی مطول دوسرے کا معنی مزین یعنی چونے سے ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں اس موقعہ پر ایک مطول قصہ بزبان مجاہد رحمہ اللہ مروی ہے کہ اگلے زمانے میں ایک عورت حاملہ تھی جب اسے درد ہونے لگے اور بچی تولد ہوئی تو اس نے اپنے ملازم سے کہا کہ جاؤ کہیں سے آگ لے آؤ وہ باہر نکلا تو دیکھا کہ دروازے پر ایک شخص کھڑا ہے پوچھتا ہے کہ کیا ہوا لڑکی یا لڑکا؟ اس نے کہا لڑکی ہوئی ہے کہا سن یہ لڑکی ایک سو آدمیوں سے زنا کرائے گی پھر اس کے ہاں اب جو شخص ملازم ہے اسی سے اس کا نکاح ہو گا اور ایک مکڑی اس کی موت کا باعث بنے گی۔ یہ شخص یہیں سے پلٹ آیا اور آتے ہی ایک تیز چھری لے کر اس لڑکی کے پیٹ کو چیر ڈالا اور اسے مردہ سمجھ کر وہاں سے بھاگ نکلا۔

اس کی ماں نے یہ حال دیکھ کر اپنی بچی کے پیٹ کو ٹانکے لگا دئیے اور علاج معالجہ شروع کیا جس سے اس کا زخم بھر گیا اب ایک زمانہ گزر گیا ادھر یہ لڑکی بلوغت کو پہنچ گئی اور تھی بھی اچھی شکل و صورت کی بدچلنی میں پڑگئی ادھر ملازم سمندر کے راستے کہیں چلا گیا کام کاج شروع کیا اور بہت رقم پیدا کی کل مال سمیٹ کر بہت مدت بعد یہ پھر اسی اپنے گاؤں میں آ گیا ایک بڑھیا عورت کو بلا کر کہا کہ میں نکاح کرنا چاہتا ہوں گاؤں میں جو بہت خوبصورت عورت ہو اس سے میرا نکاح کرا دو، یہ عورت گئی اور چونکہ شہر بھر میں اس لڑکی سے زیادہ خوش شکل کوئی عورت نہ تھی یہیں پیغام بھیجا، منظور ہو گیا، نکاح بھی ہو گیا اور وداع ہو کر یہ اس کے ہاں آ بھی گئی دونوں میاں بیوی میں بہت محبت ہو گئی۔

صفحہ نمبر1827

ایک دن ذکر اذکار میں اس عورت نے اس سے پوچھا آخر آپ کون ہیں کہاں سے آئے ہیں یہاں کیسے آ گئے؟ وغیرہ اس نے اپنا تمام ماجرا بیان کر دیا کہ میں یہاں ایک عورت کے ہاں ملازم تھا اور وہاں سے اس کی لڑکی کے ساتھ یہ حرکت کر کے بھاگ گیا تھا اب اتنے برسوں کے بعد یہاں آیا ہوں تو اس لڑکی نے کہا جس کا پیٹ چیر کر تم بھاگے تھے میں وہی ہوں یہ کہہ کر اپنے اس زخم کا نشان بھی اسے دکھایا تب تو اسے یقین ہو گیا اور کہنے لگا جب تو وہی ہے تو ایک بات تیری نسبت مجھے اور بھی معلوم ہے وہ یہ کہ تو ایک سو آدمیوں سے مجھ سے پہلے مل چکی ہے اس نے کہا ٹھیک ہے یہ کام تو مجھ سے ہوا ہے لیکن گنتی یاد نہیں۔

اس نے کہا کہ مجھے تیری نسبت ایک اور بات بھی معلوم ہے وہ یہ کہ تیری موت کا سبب ایک مکڑی بنے گی، خیر چونکہ مجھے تجھ سے بہت زیادہ محبت ہے میں تیرے لیے ایک بلند و بالا پختہ اور اعلیٰ محل تعمیر کرا دیتا ہوں اسی میں تو رہ تاکہ وہاں تک ایسے کیڑے مکوڑے پہنچ ہی نہ سکیں چنانچہ ایسا ہی محل تیار ہوا اور یہ وہاں رہنے سہنے لگی۔

صفحہ نمبر1828

ایک مدت کے بعد ایک روز دونوں میاں بیوی بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک چھت پر ایک مکڑی دکھائی دی اسے دیکھتے ہیں اس شخص نے کہا دیکھو آج یہاں مکڑی دکھائی دی عورت بولی اچھا یہ میری جان لیوا ہے؟ تو میں اس کی جان لوں گی غلاموں کو حکم دیا کہ اسے زندہ پکڑ کر میرے سامنے لاؤ نوکر پکڑ کر لے آئے اس نے زمین پر رکھ کر اپنے پیر کے انگوٹھے سے اسے مل ڈالا اس کی جان نکل گئی لیکن اس میں سے پیپ کا ایک آدھ قطرہ اس کے انگوٹھے کے ناخن اور گوشت کے درمیان اڑ کر چپک گیا اس کا زہر چڑھا پیر سیاہ پڑ گیا اور اسی میں آخر مر گئی۔

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر جب باغی چڑھ دوڑے تو آپ نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خیر خواہی اور ان کے اتفاق کی دعا کے بعد دو شعر پڑھے جن کا مطلب بھی یہی ہے کہ موت کو ٹالنے والی کوئی چیز اور کوئی حیلہ کوئی قوت اور کوئی چالاکی نہیں، حضر کے بادشاہ ساطرون کو کسریٰ سابور ذوالا کتاف نے جس طرح قتل کیا وہ واقعہ بھی ہم یہاں لکھتے ہیں، ابن ہشام میں ہے جب سابور عراق میں تھا تو اس کے علاقہ یر ساطرون نے چڑھائی کی تھی اس کے بدلے میں جب اس نے چڑھائی کی تو یہ قلعہ بند ہو گیا دو سال تک محاصرہ رہا لیکن قلعہ فتح نہ ہو سکا۔

صفحہ نمبر1829

ایک روز ساطرون کی بیٹی نضیرہ اپنے باپ کے قلعہ کا گشت لگا رہی تھی اچانک اس کی نظرسابور پر پڑھ گئی یہ اس وقت شاہانہ پرتکلف ریشمی لباس میں تاج شاہی سر پر رکھے ہوئے تھا نضیرہ کے دل میں آیا کہ اس سے میری شادی ہو جائے تو کیا ہی اچھا ہو؟ چنانچہ اس نے خفیہ پیغام بھیجنے شروع کیے اور وعدہ ہو گیا کہ اگر یہ لڑکی اس قلعہ پر سابور کا قبضہ کرا دے تو سابور اس سے نکاح کر لیگا۔

اس کا باپ ساطرون بڑا شرابی تھا اس کی ساری رات نشہ میں کٹتی تھی اس کی لڑکی نے موقعہ پا کر رات کو اپنے باپ کو نشہ میں مد ہوش دیکھ کر اس کے سرہانے سے قلعہ کے دروازے کی کنجیاں چپکے سے نکال لیں اور اپنے ایک با اعتماد غلام کے ہاتھ سابور تک پہنچا دیں جس سے اس نے دروازہ کھول لیا اور شہر میں قتل عام کرایا اور قابض ہو گیا یہ بھی کہا گیا کہ اس قلعہ میں ایک جادو تھا جب تک اس طلسم کو توڑا نہ جائے قلعہ کا فتح ہونا ناممکن تھا اس لڑکی نے اس کے توڑنے کا گر اسے بتا دیا کہ ایک چت کبرا کبوتر لے کر اس کے پاؤں کسی باکرہ کے پہلے حیض کے خون سے رنگ لو پھر اس کبوتر کو چھوڑو وہ جا کر قلعہ کی دیوار پر بیٹھے تو فوراً وہ طلسم ٹوٹ جائے گا اور قلعہ کا پھاٹک کھل جائے گا۔

صفحہ نمبر1830

چنانچہ سابور نے یہی کیا اور قلعہ فتح کر کے ساطرون کو قتل کر ڈالا تمام لوگوں کو تیغ کیا اور تمام شہر کو اجاڑ دیا اور اس لڑکی کو اپنے ہمراہ لے گیا اور اس سے نکاح کر لیا۔ ایک رات جبکہ لڑکی نضیرہ اپنے بسترے پر لیٹی ہوئی تھی اسنے نیند نہ آ رہی تھی تلملا رہی تھی اور بے چینی سے کروٹیں بدل رہی تھی تو سابور نے پوچھا کیا بات ہے اس نے کہا شاید میرے بستر میں کچھ ہے جس سے مجھے نیند نہیں آ رہی، شمع جلائی گئی بستر ٹٹولا گیا تو گل آس کی ایک بتی نکلی۔

سابور اس نزاکت پر حیران رہ گیا کہ ایک اتنی چھوٹی سی پتی بستر میں ہونے پر اسے نیند نہیں آئی؟ پوچھا تیرے والد کے ہاں تیرے لیے کیا ہوتا تھا؟ اس نے کہا نرم ریشم کا بسترا تھا صرف باریک نرم ریشمی لباس تھا صرف نلیوں کا گودا کھایا کرتی تھی اور صرف انگوری خالص شراب پیتی تھی۔ یہ انتظام میرے باپ نے میرے لیے کر رکھا تھا۔ یہ تھی بھی ایسی کہ اس کی پنڈلی کا گودا تک باہر سے نظر آتا تھا۔ ان باتوں سے سابور پر ایک اور رنگ چڑھا دیا اور اس نے کہا جس باپ نے تجھے اس طرح پالا پوسا اس کے ساتھ تو نے یہ سلوک کیا کہ میرے ہاتھوں اسے قتل کرایا اس کے مالک کو تاخت و تاراج کرایا پھر مجھے تجھ سے کیا امید رکھنی چاہیئے؟ اللہ جانے میرے ساتھ تو کیا کرے؟ اسی وقت حکم دیا کہ اس کے سر کے بال گھوڑے سے باندھ دیئے جائیں اور گھوڑے کو بیلگام چھوڑ دیا جائے، چنانچہ یہی ہوا گھوڑا بد کا بھاگا اچھلنے کودنے لگا اور اس کی ٹاپوں سے زمین پر پچھاڑیں کھاتے ہوئے اس کے جسم کا چورا چورا ہو گیا۔ چنانچہ اس واقعہ کو عرب شعراء نے نظم بھی کیا ہے۔

صفحہ نمبر1831

باب

اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر انہیں خوش حالی پھلواری اولاد و کھیتی ہاتھ لگے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر قحط سالی پڑے تنگ روزی ہو موت اور اولاد و مال کی کمی اور کھیت اور باغ کی کمی ہو تو جھٹ سے کہہ اٹھتے ہیں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کا نتیجہ ہے، یہ فائدہ ہے مسلمان ہونے کا یہ پھل ہے صاحب ایمان بننے کا، فرعونی بھی اسی طرح برائیوں کو موسیٰ علیہ السلام اور مسلمانوں سے منسوب بدشگونی لیا کرتے تھے۔

جیسے کہ قرآن نے اس کا ذکر کیا ہے ایک آیت میں ہے «وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰي حَرْفٍ ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَيْرُۨ اطْـمَاَنَّ بِهٖ ۚ وَاِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُۨ انْقَلَبَ عَلٰي وَجْهِهٖ ڗ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةَ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ» [22-الحج:11] ‏، یعنی ” بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ایک کنارے کھڑے رہ کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں یعنی اگر بھلائی ملی تو باچھیں کھل جاتی ہیں اور اگر برائی پہنچے تو الٹے پیروں پلٹ جاتے ہیں۔ یہ ہیں جو دونوں جہان میں برباد ہوں گے “ پس یہاں بھی ان منافقوں کی جو بظاہر مسلمان ہیں اور دل کے کھوٹے ہیں برائی بیان ہو رہی ہے۔ کہ جہاں کچھ نقصان ہوا اور بہک گئے کہ اسلام لانے کی وجہ سے ہمیں نقصان ہوا۔

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «حَسَنَةٍ» سے مراد یہاں بارشوں کا ہونا، جانوروں میں زیادتی ہونا، بال بچے بہ کثرت ہونا، خوشحالی میسر آنا وغیرہ ہے اگر یہ ہوا تو کہتے کہ یہ سب من جانب اللہ ہے اور اگر اس کے خلاف ہوتا تو اس بے برکتی کا باعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاتے اور کہتے یہ سب تیری وجہ سے ہے یعنی ہم نے اپنے بڑوں کی راہ چھوڑ دی اور اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری اختیار کی اس لیے اس مصیبت میں پھنس گئے اور اس بلا میں گرفتار ہوئے پس پروردگار ان کے ناپاک قول اور اس پلید عقیدے کی تردید کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے، اس کی قضاء و قدر ہر بھلے برے فاسق فاجر نیک بد مومن کافر پر جاری ہے، بھلائی برائی سب اس کی طرف سے ہے

پھر ان کے اس قول کی جو محض شک و شبہ کم علمی بیوقوفی جہالت اور ظلم کی بنا پر ہے تردید کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ انہیں کیا ہو گیا ہے؟ بات سمجھنے کی قابلیت بھی ان سے جاتی رہی۔ ”ایک غریب حدیث جو «قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللَّهِ» ‏ [4-النساء:78] ‏ کے متعلق ہے اسے بھی سنیے۔“

بزار میں ہے۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے کہ کچھ لوگوں کے ہمراہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے ان دونوں کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ کر دونوں صاحب بیٹھ گئے۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ بلند آواز میں گفتگو کیا ہو رہی تھی ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تو کہہ رہے تھے نیکیاں اور بھلائیاں اللہ کی طرف سے ہیں اور برائیاں اور بدیاں ہماری طرف سے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تم کیا کہہ رہے تھے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں کہہ رہا تھا کہ دونوں باتیں اللہ جل شانہ کی طرف سے ہیں . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی بحث اول اول جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام میں ہوئی تھی میکائیل علیہ السلام وہی کہتے تھے جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں اور جبرائیل علیہ السلام وہ کہہ رہے تھے جو یے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تم کہ رہے ہو۔ پس آسمان والوں میں جب اختلاف ہوا تو زمین والوں میں تو ہونا لازمی تھا۔ آخر اسرافیل علیہ السلام کی طرف فیصلہ گیا اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ حسنات اور سیات دونوں اللہ مختار کل کی طرف سے ہیں۔ پھر آپ نے دونوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا میرا فیصلہ سنو اور یاد رکھو اگر اللہ تعالیٰ اپنی نافرمانی کے عمل کو نہ چاہتا تو ابلیس کو پیدا ہی نہ کرتا۔ [بزار:2153:موضوع] ‏

صفحہ نمبر1832

لیکن شیخ الاسلام امام تقی الدین ابو العباس ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث موضوع ہے اور تمام ان محدثین کا جو حدیث کی پرکھ رکھتے ہیں اتفاق ہے کہ یہ روایت گھڑی ہوئی ہے۔

صفحہ نمبر1833

پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب فرماتے ہیں جس سے مراد عموم ہے یعنی سب سے ہی خطاب ہے کہ تمہیں جو بھلائی پہنچتی ہے وہ اللہ کا فضل لطف رحمت اور جو برائی پہنچتی ہے وہ خود تمہاری طرف سے تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے، جیسے اور آیت میں ہے «وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ» [42-الشورى:30] ‏ یعنی ” جو مصیبت تمہیں پہنچتی ہے۔ وہ تمہارے بعض اعمال کی وجہ سے اور بھی تو اللہ تعالیٰ بہت سی بد اعمالیوں سے در گزر فرماتا رہتا ہے “ «مَّا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ۖ وَمَا أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٍ فَمِن نَّفْسِكَ» [4-النساء:79] ‏ سے مراد بسبب گناہ ہے، یعنی شامت اعمال۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کا ذرا سا جسم کسی لکڑی سے جل جائے یا اس کا قدم پھسل جائے یا اسے ذرا سی محنت کرنی پڑے جس سے پسینہ آ جائے تو وہ بھی کسی نہ کسی گناہ پر ہوتا ہے اور ابھی تو اللہ تعالیٰ جن گناہوں سے چشم پوشی فرماتا ہے جنہیں معاف کر دیتا ہے وہ بہت سارے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:9975:مرسل و ضعیف] ‏ اس مرسل حدیث کا مضمون ایک متصل حدیث میں بھی ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ایماندار کو رنج یا جو بھی تکلیف و مشقت پہنچتی ہے یہاں تک کہ جو کانٹا بھی لگتا ہے اسے اللہ تعالیٰ اس کی خطاؤں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔ [صحیح بخاری:5641] ‏

صفحہ نمبر1834

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ جو برائی تجھے پہنچتی ہے اس کا باعث تیرا گناہ ہے ہاں اسے مقدر کرنے والا اللہ تعالیٰ آپ ہے، مطرف بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تم تقدیر کے بارے میں کیا جانتے ہو؟ کیا تمہیں سورۃ نساء کی یہ آیت کافی نہیں، پھر اس آیت کو پڑھ کر فرماتے ہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ کی قسم لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سونپ نہیں دئیے گئے انہیں حکم دیئے گئے ہیں اور اسی کی طرف وہ لوٹتے ہیں یہ قول بہت قوی اور مضبوط ہے قدریہ اور جبریہ کی پوری تردید کرتا ہے، تفسیر اس بحث کا موضوع نہیں،

پھر فرماتا ہے کہ تیرا کام اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شریعت کی تبلیغ کرنا ہے اس کی رضا مندی اور ناراضگی کے کام کو اس کے احکام اور اس کی ممانعت کو لوگوں تک پہنچا دینا ہے، اللہ کی گواہی کافی ہے کہ اس نے تجھے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بنا کر بھیجا ہے، اسی طرح کی گواہی اس امر پر بھی کافی ہے کہ تو نے تبلیغ کردی تیرے ان کے درمیان جو ہو رہا ہے کہ اسے بھی وہ مشاہدہ کر رہا ہے یہ جس طرح کفار عناد اور تکبر تیرے ساتھ برتتے ہیں اسے بھی وہ دیکھ رہا ہے۔

صفحہ نمبر1835

ظاہر و باطن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطیع بنا لو ٭٭

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میرے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تابعدار صحیح معنی میں میرا ہی اطاعت گزار ہے آپ کا نافرمان میرا نافرمان ہے، اس لیے کہ آپ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے جو فرماتے ہیں وہ وہی ہوتا ہے جو میری طرف سے وحی کیا جاتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ” کہ میری ماننے والا اللہ تعالیٰ کی ماننے والا ہے اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی بات نہ مانی جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی “ یہ حدیث بخاری و مسلم میں ثابت ہے۔ [صحیح بخاری:7137] ‏

پھر فرماتا ہے جو بھی منہ موڑ کر بیٹھ جائے تو اس کا گناہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر نہیں آپ کا ذمہ تو طرف پہنچا دینا ہے، جو نیک نصیب ہوں گے مان لیں گے نجات اور اجر حاصل کر لیں گے ہاں ان کی نیکیوں کا ثواب آپ کو بھی ہو گا کیونکہ دراصل اس راہ کا راہبر اس نیکی کے معلم آپ ہی ہیں۔ اور جو نہ مانے نہ عمل کرے تو نقصان اٹھائے گا بدنصیب ہو گا اپنے بوجھ سے آپ مرے گا اس کا گناہ آپ پر نہیں اس لیے کہ آپ نے سمجھانے بجھانے اور راہ حق دکھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ حدیث میں ہے اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے ولا رشد وہدایت والا ہے اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نافرمان اپنے ہی نفس کو ضرر و نقصان پہنچانے والا ہے۔ [سنن ابوداود:1097،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر1836

پھر منافقوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ظاہری طور پر اطاعت کا اقرار کرتے ہیں موافقت کا اظہار کرتے ہیں لیکن جہاں نظروں سے دور ہوئے اپنی جگہ پر پہنچے تو ایسے ہو گئے گویا ان تلوں میں تیل ہی نہ تھا جو کچھ یہاں کہا تھا اس کے بالکل برعکس راتوں کو چھپ چھپ کر سازشیں کرنے بیٹھ گے۔

حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کی ان پوشیدہ چالاکیوں اور چالوں کو بخوبی جانتا ہے اس کے مقرر کردہ زمین کے فرشتے ان کی سب کرتوتوں اور ان کی تمام باتوں کو اس کے حکم سے ان کے نامہ اعمال میں لکھ رہے ہیں، پس انہیں ڈانٹا جا رہا ہے کہ یہ کیا بیہودہ حرکت ہے؟ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اس سے تمہاری کوئی بات چھپ سکتی ہے؟ تم کیوں ظاہر و باطن یکساں نہیں رکھتے، ظاہر باطن کا جاننے والا تمہیں تمہاری اس بیہودہ حرکت پر سخت سزا دے گا۔ ایک اور آیت میں بھی منافقوں کی اس خصلت کا بیان ان الفاظ میں فرمایا ہے «‏وَيَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالرَّسُوْلِ وَاَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلّٰى فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ ۭ وَمَآ اُولٰۗىِٕكَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ» [24-النور:47] ‏ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان سے درگزر کیجئے، بردباری برتئیے، ان کی خطا معاف کیجئے، ان کا حال ان کے نام سے دوسروں سے نہ کہئے، ان سے بالکل بے خوف رہیے اللہ پر بھروسہ کیجئے جو اس پر بھروسہ کرے جو اس کی طرف رجوع کرے اسے وہی کافی ہے۔

صفحہ نمبر1837

ظاہر و باطن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطیع بنا لو ٭٭

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میرے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تابعدار صحیح معنی میں میرا ہی اطاعت گزار ہے آپ کا نافرمان میرا نافرمان ہے، اس لیے کہ آپ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے جو فرماتے ہیں وہ وہی ہوتا ہے جو میری طرف سے وحی کیا جاتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ” کہ میری ماننے والا اللہ تعالیٰ کی ماننے والا ہے اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی بات نہ مانی جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی “ یہ حدیث بخاری و مسلم میں ثابت ہے۔ [صحیح بخاری:7137] ‏

پھر فرماتا ہے جو بھی منہ موڑ کر بیٹھ جائے تو اس کا گناہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر نہیں آپ کا ذمہ تو طرف پہنچا دینا ہے، جو نیک نصیب ہوں گے مان لیں گے نجات اور اجر حاصل کر لیں گے ہاں ان کی نیکیوں کا ثواب آپ کو بھی ہو گا کیونکہ دراصل اس راہ کا راہبر اس نیکی کے معلم آپ ہی ہیں۔ اور جو نہ مانے نہ عمل کرے تو نقصان اٹھائے گا بدنصیب ہو گا اپنے بوجھ سے آپ مرے گا اس کا گناہ آپ پر نہیں اس لیے کہ آپ نے سمجھانے بجھانے اور راہ حق دکھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ حدیث میں ہے اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے ولا رشد وہدایت والا ہے اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نافرمان اپنے ہی نفس کو ضرر و نقصان پہنچانے والا ہے۔ [سنن ابوداود:1097،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر1836

پھر منافقوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ظاہری طور پر اطاعت کا اقرار کرتے ہیں موافقت کا اظہار کرتے ہیں لیکن جہاں نظروں سے دور ہوئے اپنی جگہ پر پہنچے تو ایسے ہو گئے گویا ان تلوں میں تیل ہی نہ تھا جو کچھ یہاں کہا تھا اس کے بالکل برعکس راتوں کو چھپ چھپ کر سازشیں کرنے بیٹھ گے۔

حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کی ان پوشیدہ چالاکیوں اور چالوں کو بخوبی جانتا ہے اس کے مقرر کردہ زمین کے فرشتے ان کی سب کرتوتوں اور ان کی تمام باتوں کو اس کے حکم سے ان کے نامہ اعمال میں لکھ رہے ہیں، پس انہیں ڈانٹا جا رہا ہے کہ یہ کیا بیہودہ حرکت ہے؟ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اس سے تمہاری کوئی بات چھپ سکتی ہے؟ تم کیوں ظاہر و باطن یکساں نہیں رکھتے، ظاہر باطن کا جاننے والا تمہیں تمہاری اس بیہودہ حرکت پر سخت سزا دے گا۔ ایک اور آیت میں بھی منافقوں کی اس خصلت کا بیان ان الفاظ میں فرمایا ہے «‏وَيَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالرَّسُوْلِ وَاَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلّٰى فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ ۭ وَمَآ اُولٰۗىِٕكَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ» [24-النور:47] ‏ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان سے درگزر کیجئے، بردباری برتئیے، ان کی خطا معاف کیجئے، ان کا حال ان کے نام سے دوسروں سے نہ کہئے، ان سے بالکل بے خوف رہیے اللہ پر بھروسہ کیجئے جو اس پر بھروسہ کرے جو اس کی طرف رجوع کرے اسے وہی کافی ہے۔

صفحہ نمبر1837

کتاب اللہ میں اختلاف نہیں ہمارے دماغ میں فتور ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ قرآن کو غور و فکر تامل و تدبر سے پڑھیں، اس سے اعراض نہ کریں، اس سے تغافل نہ برتیں، بےپرواہی نہ کریں اس کے مستحکم مضامین اس کے حکمت بھرے احکام اس کے فصیح و بلیغ الفاظ پر غور کریں، ساتھ یہ خبر دیتا ہے کہ یہ پاک کتاب اختلاف، اضطراب، تعارض اور تضاد سے پاک ہے اس لیے کہ حکیم و حمید اللہ کا کلام ہے وہ خود حق ہے اور اسی طرح اس کا کلام بھی سراسر حق ہے، چنانچہ اور جگہ فرمایا «اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا» [47-محمد:24] ‏ ” یہ لوگ کیوں قرآن میں غور و خوض نہیں کرتے؟ کیا ان کے دلوں پر سنگین قفل لگ گئے ہیں۔ “

صفحہ نمبر1839

پھر فرماتا ہے اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہ ہوتا جیسے کہ مشرکین اور منافقین کا زعم ہے یہ اگر یہ فی الحقیقت کسی کا اپنی طرف سے وضع کیا ہوا ہوتا یا کوئی اور اس کا کہنے والا ہوتا تو ضروری بات تھی کہ اس میں انسانی طبائع کے مطابق اختلاف ملتا، یعنی ناممکن ہے کہ انسانی کلام اضطراب و تضاد سے مبرا ہو لازماً یہ ہوتا کہ کہیں کچھ کہا جاتا اور کہیں کچھ اور یہاں ایک بات کہی تو آگے جا کر اس کے خلاف بھی کہہ گئے۔

چنانچہ اس پاک کتاب کا ایسی متضاد باتوں سے بچا ہونا اس سچائی کی صاف دلیل ہے کہ یہ اللہ قادر و مطلق کا کلام ہے۔ اور جگہ ہے پختہ عالموں کا قول بیان کیا گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، «‏آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا» [3-آل عمران:7] ‏ یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے یعنی محکم اور متشابہ کو محکم کی طرف لوٹا دیتے ہیں اور ہدایت پالیتے ہیں اور جن کے دلوں میں کجی ہے بد نیتی ہے وہ محکم متشابہ کی طرف موڑ توڑ کرکے گمراہ ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پہلے صحیح مزاج والوں کی تعریف کی اور دوسری قسم کے لوگوں کی برائی بیان فرمائی۔

عمرو بن شعیب سے مروی ہے «‏عَـنْ اَبِـیْـہِ عَـنْ جَـدِّہِ» ‏والی حدیث میں ہے کہ میں ہے کہ میں اور میرے بھائی ایک ایسی مجلس میں شامل ہوئے کہ اس کے مقابلہ میں سرخ اونٹوں کا مل جانا بھی اس کے پاسنگ برابر بھی قیمت نہیں رکھتا ہم دونوں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر چند بزرگ صحابہ رضی اللہ عنہم کھڑے ہوئے ہیں ہم ادب کے ساتھ ایک طرف بیٹھ گئے ان میں قرآن کریم کی کسی آیت کی بابت مذاکرہ ہو رہا تھا جس میں اختلافی مسائل بھی تھے آخر بات بڑھ گئی اور زور زور سے آپس میں بات چیت ہونے لگی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے سن کر سخت غضبناک ہو کرباہر تشریف لائے چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا ان پر مٹی ڈالتے ہوئے فرمانے لگے خاموش رہو تم سے اگلی امتیں اسی باعث تباہ و برباد ہو گئیں، کہ انہوں نے اپنے انبیاء سے اختلاف کیا اور کتاب اللہ کی ایک آیت کو دوسری آیت کے خلاف سمجھایاد رکھو قرآن کی کوئی آیت دوسری آیت کے خلاف اسے جھٹلانے والی نہیں بلکہ قرآن کی ایک ایک آیت ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے تم جسے جان لو عمل کرو جسے نہ معلوم کر سکو اس کے جاننے والے کے لیے چھوڑ دو۔ [مسند احمد:181/2،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏

صفحہ نمبر1840

دوسری آیت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم تقدیر کے بارے میں مباحثہ کر رہے تھے، راہی کہتے ہیں کہ کاش کہ میں اس مجلس میں نہ بیٹھتا۔ [مسند احمد:178/2،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں دوپہر کے وقت حاضر حضور ہوا تو بیٹھا ہی تھا کہ ایک آیت کے بارے میں دو شخصوں کے درمیان اختلاف ہوا ان کی آوازیں اونچی ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلی امتوں کی ہلاکت کا باعث صرف ان کا کتاب اللہ کا اختلاف کرنا ہی تھا [صحیح مسلم:2666] ‏ (‏مسند احمد)۔

پھر ان جلد باز لوگوں کو روکا جا رہا ہے جو کسی امن یا خوف کی خبر پاتے ہی بے تحقیق بات ادھر سے ادھر تک پہنچا دیتے ہیں حالانکہ ممکن ہے وہ بالکل ہی غلط ہو۔

صفحہ نمبر1841

صحیح مسلم شریف کے مقدمے میں حدیث ہے کہ ” انسان کو یہی جھوٹ کافی ہے کہ جو سنے اس کو بیان کرنے لگ جائے “ ابو داذد میں بھی روایت ہے۔ [صحیح مسلم:5] ‏ بخاری و مسلم میں ہے کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گپ بازی سے منع فرمایا۔ “ [صحیح بخاری:6473] ‏ یعنی سنی سنائی باتیں بیان کرنے سے جن کی تحقیق اچھی طرح سے نہ کی ہو، ابو داذد میں ہے انسان کا یہ کہنا کہ ” فلاں نے یہ کہا اور فلاں نے یہ کہا، برا فعل ہے۔ “ [سنن ابوداود:4972،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اور صحیح حدیث میں ہے ” جو شخص کوئی بات بیان کرے اور وہ گمان کرتا ہو کہ یہ غلط ہے وہ بھی جھوٹوں میں کا ایک جھوٹا ہے۔ “ [صحیح مسلم:1] ‏ یہاں پر ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی روایت کا ذکر کرنا بھی مناسب سمجھتے ہیں کہ جب انہیں یہ خبری پہنچی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی تو آپ اپنے گھر سے چلے مسجد میں آئے یہاں بھی لوگوں کو یہی کہتے سنا تو بذات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور خود آپ سے دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے؟ کہ آپ نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق دے دی؟ آپ نے فرمایا غلط ہے چنانچہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اللہ کی بڑائی بیان کی۔ [صحیح بخاری:89] ‏

صحیح مسلم میں ہے کہ پھر آپ نے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر بہ آواز بلند فرمایا لوگو رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دی۔ اسی پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [صحیح مسلم:1479] ‏ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہ ہیں جنہوں نے اس معاملہ کی تحقیق کی۔

علمی اصطلاح میں «استنباط» کہتے ہیں کسی چیز کو اس کے منبع اور مخزن سے نکالنا مثلاً جب کوئی شخص کسی کان کو کھود کر اس کے نیجے سے کوئی چیز نکالے تو عرب کہتے ہیں «اِستَـْنـَبطَ الرَّجُـلُ» ‏۔ پھر فرماتا ہے اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو تم سب کے سب سوائے چند کامل ایمان والوں کے شیطان کے تابعدار بن جاتے۔ ایسے موقعوں پر محاورۃً معنی ہوتے ہیں کہ تم کل کے کل شامل ہو چنانچہ عرب کے ایسے شعر بھی ہیں۔

صفحہ نمبر1842

کتاب اللہ میں اختلاف نہیں ہمارے دماغ میں فتور ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ قرآن کو غور و فکر تامل و تدبر سے پڑھیں، اس سے اعراض نہ کریں، اس سے تغافل نہ برتیں، بےپرواہی نہ کریں اس کے مستحکم مضامین اس کے حکمت بھرے احکام اس کے فصیح و بلیغ الفاظ پر غور کریں، ساتھ یہ خبر دیتا ہے کہ یہ پاک کتاب اختلاف، اضطراب، تعارض اور تضاد سے پاک ہے اس لیے کہ حکیم و حمید اللہ کا کلام ہے وہ خود حق ہے اور اسی طرح اس کا کلام بھی سراسر حق ہے، چنانچہ اور جگہ فرمایا «اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا» [47-محمد:24] ‏ ” یہ لوگ کیوں قرآن میں غور و خوض نہیں کرتے؟ کیا ان کے دلوں پر سنگین قفل لگ گئے ہیں۔ “

صفحہ نمبر1839

پھر فرماتا ہے اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہ ہوتا جیسے کہ مشرکین اور منافقین کا زعم ہے یہ اگر یہ فی الحقیقت کسی کا اپنی طرف سے وضع کیا ہوا ہوتا یا کوئی اور اس کا کہنے والا ہوتا تو ضروری بات تھی کہ اس میں انسانی طبائع کے مطابق اختلاف ملتا، یعنی ناممکن ہے کہ انسانی کلام اضطراب و تضاد سے مبرا ہو لازماً یہ ہوتا کہ کہیں کچھ کہا جاتا اور کہیں کچھ اور یہاں ایک بات کہی تو آگے جا کر اس کے خلاف بھی کہہ گئے۔

چنانچہ اس پاک کتاب کا ایسی متضاد باتوں سے بچا ہونا اس سچائی کی صاف دلیل ہے کہ یہ اللہ قادر و مطلق کا کلام ہے۔ اور جگہ ہے پختہ عالموں کا قول بیان کیا گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، «‏آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا» [3-آل عمران:7] ‏ یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے یعنی محکم اور متشابہ کو محکم کی طرف لوٹا دیتے ہیں اور ہدایت پالیتے ہیں اور جن کے دلوں میں کجی ہے بد نیتی ہے وہ محکم متشابہ کی طرف موڑ توڑ کرکے گمراہ ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پہلے صحیح مزاج والوں کی تعریف کی اور دوسری قسم کے لوگوں کی برائی بیان فرمائی۔

عمرو بن شعیب سے مروی ہے «‏عَـنْ اَبِـیْـہِ عَـنْ جَـدِّہِ» ‏والی حدیث میں ہے کہ میں ہے کہ میں اور میرے بھائی ایک ایسی مجلس میں شامل ہوئے کہ اس کے مقابلہ میں سرخ اونٹوں کا مل جانا بھی اس کے پاسنگ برابر بھی قیمت نہیں رکھتا ہم دونوں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر چند بزرگ صحابہ رضی اللہ عنہم کھڑے ہوئے ہیں ہم ادب کے ساتھ ایک طرف بیٹھ گئے ان میں قرآن کریم کی کسی آیت کی بابت مذاکرہ ہو رہا تھا جس میں اختلافی مسائل بھی تھے آخر بات بڑھ گئی اور زور زور سے آپس میں بات چیت ہونے لگی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے سن کر سخت غضبناک ہو کرباہر تشریف لائے چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا ان پر مٹی ڈالتے ہوئے فرمانے لگے خاموش رہو تم سے اگلی امتیں اسی باعث تباہ و برباد ہو گئیں، کہ انہوں نے اپنے انبیاء سے اختلاف کیا اور کتاب اللہ کی ایک آیت کو دوسری آیت کے خلاف سمجھایاد رکھو قرآن کی کوئی آیت دوسری آیت کے خلاف اسے جھٹلانے والی نہیں بلکہ قرآن کی ایک ایک آیت ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے تم جسے جان لو عمل کرو جسے نہ معلوم کر سکو اس کے جاننے والے کے لیے چھوڑ دو۔ [مسند احمد:181/2،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏

صفحہ نمبر1840

دوسری آیت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم تقدیر کے بارے میں مباحثہ کر رہے تھے، راہی کہتے ہیں کہ کاش کہ میں اس مجلس میں نہ بیٹھتا۔ [مسند احمد:178/2،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں دوپہر کے وقت حاضر حضور ہوا تو بیٹھا ہی تھا کہ ایک آیت کے بارے میں دو شخصوں کے درمیان اختلاف ہوا ان کی آوازیں اونچی ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلی امتوں کی ہلاکت کا باعث صرف ان کا کتاب اللہ کا اختلاف کرنا ہی تھا [صحیح مسلم:2666] ‏ (‏مسند احمد)۔

پھر ان جلد باز لوگوں کو روکا جا رہا ہے جو کسی امن یا خوف کی خبر پاتے ہی بے تحقیق بات ادھر سے ادھر تک پہنچا دیتے ہیں حالانکہ ممکن ہے وہ بالکل ہی غلط ہو۔

صفحہ نمبر1841

صحیح مسلم شریف کے مقدمے میں حدیث ہے کہ ” انسان کو یہی جھوٹ کافی ہے کہ جو سنے اس کو بیان کرنے لگ جائے “ ابو داذد میں بھی روایت ہے۔ [صحیح مسلم:5] ‏ بخاری و مسلم میں ہے کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گپ بازی سے منع فرمایا۔ “ [صحیح بخاری:6473] ‏ یعنی سنی سنائی باتیں بیان کرنے سے جن کی تحقیق اچھی طرح سے نہ کی ہو، ابو داذد میں ہے انسان کا یہ کہنا کہ ” فلاں نے یہ کہا اور فلاں نے یہ کہا، برا فعل ہے۔ “ [سنن ابوداود:4972،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اور صحیح حدیث میں ہے ” جو شخص کوئی بات بیان کرے اور وہ گمان کرتا ہو کہ یہ غلط ہے وہ بھی جھوٹوں میں کا ایک جھوٹا ہے۔ “ [صحیح مسلم:1] ‏ یہاں پر ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی روایت کا ذکر کرنا بھی مناسب سمجھتے ہیں کہ جب انہیں یہ خبری پہنچی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی تو آپ اپنے گھر سے چلے مسجد میں آئے یہاں بھی لوگوں کو یہی کہتے سنا تو بذات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور خود آپ سے دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے؟ کہ آپ نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق دے دی؟ آپ نے فرمایا غلط ہے چنانچہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اللہ کی بڑائی بیان کی۔ [صحیح بخاری:89] ‏

صحیح مسلم میں ہے کہ پھر آپ نے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر بہ آواز بلند فرمایا لوگو رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دی۔ اسی پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [صحیح مسلم:1479] ‏ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہ ہیں جنہوں نے اس معاملہ کی تحقیق کی۔

علمی اصطلاح میں «استنباط» کہتے ہیں کسی چیز کو اس کے منبع اور مخزن سے نکالنا مثلاً جب کوئی شخص کسی کان کو کھود کر اس کے نیجے سے کوئی چیز نکالے تو عرب کہتے ہیں «اِستَـْنـَبطَ الرَّجُـلُ» ‏۔ پھر فرماتا ہے اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو تم سب کے سب سوائے چند کامل ایمان والوں کے شیطان کے تابعدار بن جاتے۔ ایسے موقعوں پر محاورۃً معنی ہوتے ہیں کہ تم کل کے کل شامل ہو چنانچہ عرب کے ایسے شعر بھی ہیں۔

صفحہ نمبر1842

حکم جہاد امتحان ایمان ہے ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ تنہا اپنی ذات سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کریں چاہے کوئی بھی آپ کا ساتھ نہ دے، ابواسحاق رحمہ اللہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے دریافت فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان اکیلا تنہا ہو اور دشمن ایک سو ہوں تو کیا وہ ان سے جہاد کرے؟ آپ نے فرمایا ہاں تو کہا پھر قرآن کی اس آیت سے تو ممانعت تاکید ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ۛ» [2-البقرة:195] ‏ ” اپنے ہاتھوں آپ ہلاکت میں نہ پڑو۔ “ تو سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اسی آیت میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے اللہ کی راہ میں لڑ تجھے فقط تیرے نفس کی تکلیف دی جاتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ مومنوں کو بھی ترغیب دیتا رہ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:5704/3:حسن] ‏

مسند احمد میں اتنا اور بھی ہے کہ مشرکین پر تنہا حملہ کرنے والا ہلاکت کی طرف بڑھنے والا نہیں بلہ اس سے مراد اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے رکنے والا ہے۔ [مسند احمد:281/4:حسن] ‏ اور روایت میں ہے کہ جب یہ آیت ہلاکت اتری تو آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا مجھے میرے رب نے جہاد کا حکم دیا ہے پس تم بھی جہاد کرو یہ حدیث غریب ہے۔ [الدر المنثور للسیوطی:335/2:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر1844

پھر فرماتا ہے مومنوں کو دلیری دلا اور انہیں جہاد کی رغبت دلا، چنانچہ بدر والے دن میدان جہاد میں مسلمانوں کی صفیں درست کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اٹھو اور بڑھو اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمان و زمین ہے۔ [صحیح مسلم:1901] ‏جہاد کی ترغیب کی بہت سی حدیثیں ہیں۔

صفحہ نمبر1845

بخاری میں ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے، صلوۃ قائم کرے، زکوٰۃ دیتا رہے، رمضان کے روزے رکھے اللہ پر اس کا حق ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے اللہ کی راہ میں ہجرت کی ہو یا جہاں پیدا ہوا ہے وہیں ٹھہرا رہا ہو۔ لوگوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا لوگوں کو اس کی خوشخبری ہم نہ دے دیں؟ آپ نے فرمایا سنو جنت میں سو درجے ہیں جن میں سے ایک درجے میں اس قدر بلندی ہے جتنی زمین و آسمان میں اور یہ درجے اللہ نے ان کے لیے تیار کیے ہیں جو اس کی راہ میں جہاد کریں۔ پس جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس طلب کرو وہ بہترین جنت ہے اور سب سے اعلیٰ ہے اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی سب نہریں جاری ہوتی ہیں۔ [صحیح بخاری:2790] ‏

مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول و نبی ہونے پر راضی ہو جائے اس کے لیے جنت واجب ہے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ اسے سن کر خوش ہو کر کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ ارشاد ہو آپ نے دوبارہ اسی کو بیان فرما کر کہا ایک اور عمل ہے جس کے باعث اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے سو درجے بلند کرتا ہے ایک درجے سے دوسرے درجے تک اتنی بلندی ہے جتنی آسمان و زمین کے درمیان ہے پوچھا وہ عمل کیا ہے؟ فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد۔ [صحیح مسلم:1884] ‏

صفحہ نمبر1846

پھر ارشاد ہے جب آپ جہاد کے لیے تیار ہو جائیں گے مسلمان آپ کی تعلیم سے جہاد پر آمادہ ہو جائیں گے تو پھر اللہ کی مدد شامل حال ہو گی اللہ تعالیٰ کفر کی کمر توڑ دے گا کفار کی ہمت پست کر دے گا ان کے حوصلے ٹوٹ جائیں گے پھر کیا مجال کہ وہ تمہارے مقابلے میں آئیں، اللہ تعالیٰ سے زیادہ جنگی قوت رکھنے والا اور اس سے زیادہ سخت سزا دینے والا کوئی نہیں، وہ قادر ہے کہ دنیا میں بھی انہیں مغلوب کرے اور یہیں انہیں عذاب بھی دے اسی طرح آخرت میں بھی اسی کو قدرت حاصل ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے۔ «وَلَوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَانْتَـصَرَ مِنْهُمْ وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُمْ بِبَعْـضٍ» [47-محمد:4] ‏ ” اگر اللہ چاہے ان سے از خود بدلہ لے لے، لیکن وہ ان کو اور تمہیں آزما رہا ہے۔ “ جو شخص کسی امر خیر میں کوشش کرے تو اسے بھی اس خیر بھلائی کا ثواب ملے گا، اور جو اس کے خلاف کوشش کرے اور بد نتیجہ برآمد کرے اس کی کوشش اور نیت کا اس پر بھی ویسا ہی بوجھ ہو گا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سفارش کرو اجر پاؤ گے اور اللہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر وہ جاری کرے گا جو چاہے۔ [صحیح بخاری:1432] ‏

یہ آیت ایک دوسرے کی سفارش کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس مہربانی کو دیکھئیے فرمایا محض شفاعت پر ہی اجر مل جائے گا خواہ اس سے کام بنے یا نہ بنے، اللہ ہرچیز کا حافظ ہے، ہرچیز پر حاضر ہے، ہرچیز کا حساب لینے والا ہے، ہرچیز پر قادر ہے، ہرچیز کو دوام بخشنے والا ہے، ہر ایک کو روزی دینے والا ہے، ہر انسان کے اعمال کا اندازہ کرنے والا ہے۔

صفحہ نمبر1847

حکم جہاد امتحان ایمان ہے ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ تنہا اپنی ذات سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کریں چاہے کوئی بھی آپ کا ساتھ نہ دے، ابواسحاق رحمہ اللہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے دریافت فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان اکیلا تنہا ہو اور دشمن ایک سو ہوں تو کیا وہ ان سے جہاد کرے؟ آپ نے فرمایا ہاں تو کہا پھر قرآن کی اس آیت سے تو ممانعت تاکید ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ۛ» [2-البقرة:195] ‏ ” اپنے ہاتھوں آپ ہلاکت میں نہ پڑو۔ “ تو سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اسی آیت میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے اللہ کی راہ میں لڑ تجھے فقط تیرے نفس کی تکلیف دی جاتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ مومنوں کو بھی ترغیب دیتا رہ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:5704/3:حسن] ‏

مسند احمد میں اتنا اور بھی ہے کہ مشرکین پر تنہا حملہ کرنے والا ہلاکت کی طرف بڑھنے والا نہیں بلہ اس سے مراد اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے رکنے والا ہے۔ [مسند احمد:281/4:حسن] ‏ اور روایت میں ہے کہ جب یہ آیت ہلاکت اتری تو آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا مجھے میرے رب نے جہاد کا حکم دیا ہے پس تم بھی جہاد کرو یہ حدیث غریب ہے۔ [الدر المنثور للسیوطی:335/2:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر1844

پھر فرماتا ہے مومنوں کو دلیری دلا اور انہیں جہاد کی رغبت دلا، چنانچہ بدر والے دن میدان جہاد میں مسلمانوں کی صفیں درست کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اٹھو اور بڑھو اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمان و زمین ہے۔ [صحیح مسلم:1901] ‏جہاد کی ترغیب کی بہت سی حدیثیں ہیں۔

صفحہ نمبر1845

بخاری میں ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے، صلوۃ قائم کرے، زکوٰۃ دیتا رہے، رمضان کے روزے رکھے اللہ پر اس کا حق ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے اللہ کی راہ میں ہجرت کی ہو یا جہاں پیدا ہوا ہے وہیں ٹھہرا رہا ہو۔ لوگوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا لوگوں کو اس کی خوشخبری ہم نہ دے دیں؟ آپ نے فرمایا سنو جنت میں سو درجے ہیں جن میں سے ایک درجے میں اس قدر بلندی ہے جتنی زمین و آسمان میں اور یہ درجے اللہ نے ان کے لیے تیار کیے ہیں جو اس کی راہ میں جہاد کریں۔ پس جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس طلب کرو وہ بہترین جنت ہے اور سب سے اعلیٰ ہے اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی سب نہریں جاری ہوتی ہیں۔ [صحیح بخاری:2790] ‏

مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول و نبی ہونے پر راضی ہو جائے اس کے لیے جنت واجب ہے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ اسے سن کر خوش ہو کر کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ ارشاد ہو آپ نے دوبارہ اسی کو بیان فرما کر کہا ایک اور عمل ہے جس کے باعث اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے سو درجے بلند کرتا ہے ایک درجے سے دوسرے درجے تک اتنی بلندی ہے جتنی آسمان و زمین کے درمیان ہے پوچھا وہ عمل کیا ہے؟ فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد۔ [صحیح مسلم:1884] ‏

صفحہ نمبر1846

پھر ارشاد ہے جب آپ جہاد کے لیے تیار ہو جائیں گے مسلمان آپ کی تعلیم سے جہاد پر آمادہ ہو جائیں گے تو پھر اللہ کی مدد شامل حال ہو گی اللہ تعالیٰ کفر کی کمر توڑ دے گا کفار کی ہمت پست کر دے گا ان کے حوصلے ٹوٹ جائیں گے پھر کیا مجال کہ وہ تمہارے مقابلے میں آئیں، اللہ تعالیٰ سے زیادہ جنگی قوت رکھنے والا اور اس سے زیادہ سخت سزا دینے والا کوئی نہیں، وہ قادر ہے کہ دنیا میں بھی انہیں مغلوب کرے اور یہیں انہیں عذاب بھی دے اسی طرح آخرت میں بھی اسی کو قدرت حاصل ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے۔ «وَلَوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَانْتَـصَرَ مِنْهُمْ وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُمْ بِبَعْـضٍ» [47-محمد:4] ‏ ” اگر اللہ چاہے ان سے از خود بدلہ لے لے، لیکن وہ ان کو اور تمہیں آزما رہا ہے۔ “ جو شخص کسی امر خیر میں کوشش کرے تو اسے بھی اس خیر بھلائی کا ثواب ملے گا، اور جو اس کے خلاف کوشش کرے اور بد نتیجہ برآمد کرے اس کی کوشش اور نیت کا اس پر بھی ویسا ہی بوجھ ہو گا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سفارش کرو اجر پاؤ گے اور اللہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر وہ جاری کرے گا جو چاہے۔ [صحیح بخاری:1432] ‏

یہ آیت ایک دوسرے کی سفارش کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس مہربانی کو دیکھئیے فرمایا محض شفاعت پر ہی اجر مل جائے گا خواہ اس سے کام بنے یا نہ بنے، اللہ ہرچیز کا حافظ ہے، ہرچیز پر حاضر ہے، ہرچیز کا حساب لینے والا ہے، ہرچیز پر قادر ہے، ہرچیز کو دوام بخشنے والا ہے، ہر ایک کو روزی دینے والا ہے، ہر انسان کے اعمال کا اندازہ کرنے والا ہے۔

صفحہ نمبر1847

سلام کہنے والے کو اس سے بہتر جواب دو ٭٭

مسلمانو! جب تمہیں کوئی مسلمان سلام کرے تو اس کے سلام کے الفاظ سے بہتر الفاظ سے اس کا جواب دو، یا کم سے کم انہی الفاظ کو دوہرا دو پس زیادتی مستحب ہے اور برابری فرض ہے، ابن جریر میں ہے ” ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا «السلام علیکم یا رسول اللہ» آپ نے فرمایا «وعلیک السلام ورحمتہ اللہ» پھر دوسرا آیا اس نے کہا «السلام علیک یا رسول اللہ و رحمتہ اللہ» آپ نے جواب دیا «وعلیک السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ» پھر ایک صاھب آئے انہوں نے کہا «السلام علیک و رحمتہ اللہ وبرکاتہ» آپ نے جواب میں فرمایا «وعلیک» تو اس نے کہا اے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فلاں اور فلاں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے جواب دیا اور کچھ زیادہ دعائیہ الفاظ کے ساتھ دیا۔ جو مجھے نہیں دیا آپ نے فرمایا تم نے ہمارے لیے کچھ باقی ہی نہ چھوڑا اللہ کا فرمان ہے جب تم پر سلام کیا جائے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا اسی کو لوٹا دو اس لیے ہم نے وہی الفاظ لوٹا دئیے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:10050:ضعیف] ‏

یہ روایت ابن ابی حاتم میں بھی اسی طرح مروی ہے، اسے ابوبکر مردویہ نے بھی روایت کیا مگر میں نے اسے مسند میں نہیں دیکھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سلام کے کلمات میں اس سے زیادتی نہیں، اگر ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری صحابی کے جواب میں وہ لفظ کہہ دیتے۔ مسند احمد میں ہے کہ ” ایک شخص حضور کے پاس آئے اور «السلام علیکم یا رسول اللہ» کہہ کر بیٹھ گئے آپ نے جواب دیا اور فرمایا دس نیکیاں ملیں، دوسرے آئے اور «السلام علیکم ورحمتہ اللہ یا رسول اللہ» کہہ کر بیٹھ گئے آپ نے فرمایا بیس نیکیاں ملیں، پھر تیسرے صاحب آئے انہوں نے کہا «السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ» آپ نے فرمایا تیس نیکیاں ملیں۔ “ [سنن ترمذي:2689،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔

صفحہ نمبر1849

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کو عام لیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ خلق اللہ میں سے جو کوئی سلام کرے گا اسے جواب دو گو وہ مجوسی ہو، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں سلام کا اس سے بہتر جواب دینا تو مسمانوں کے لیے ہے اور اسی کو لوٹا دینا اہل ذمہ کے لیے ہے، لیکن اس تفسیر میں ذرا اختلاف ہے جیسے کہ اوپر کی حدیث میں گزر چکا ہے مراد یہ ہے کہ اس کے سلام سے اچھا جواب دیں اور اگر مسلمان سلام کے سبھی الفاظ کہہ دے تو پھر جواب دینے والا انہی کو لوٹادے۔

ذمی لوگوں کو خود سلام کی ابتداء کرنا تو ٹھیک نہیں اور وہ خود کریں تو جواب میں اتنے ہی الفاظ کہدے، بخاری و مسلم میں ہے ” جب کوئی یہودی تمہیں سلام کرے تو خیال رکھو یہ کہہ دیتے ہیں «السام علیک» تو تم کہہ دو و «علیک» “ [صحیح بخاری:6257] ‏

صحیح مسلم میں ہے ” یہود و نصاری کو تم پہلے سلام نہ کرو اور جب راستے میں مڈبھیڑ ہو جائے تو انہیں تنگی کی طرف مضطر کر “۔ [صحیح مسلم:2167] ‏ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سلام نفل ہے اور جواب سلام فرض ہے اور علماء کرام کا فرمان بھی یہی ہے، پس اگر جواب نہ دے گا تو گنہگار ہو گا اس لیے کہ جواب سلام کا اللہ کا حکم ہے۔

صفحہ نمبر1850

اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی توحید بیان فرماتا ہے اور الوہیت اور اپنا یکتا ہونا ظاہر کرتا ہے اور اس میں ضمنی مضامین بھی ہیں، اسی لیے دوسرے جملے کو لام سے شروع کیا جو قسم کے جواب میں آتا ہے، تو اگلا جملہ خبر ہے اور قسم بھی ہے کہ وہ عنقریب تمام مقدم و مؤخر کو میدان محشر میں جمع کرے گا اور وہاں ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا، اس اللہ السمیع البصیر سے زیادہ سچی بات والا اور کوئی نہیں، اس کی خبر اس کا وعدہ اس کی وعید سب سچ ہے، وہی معبود برحق ہے، اس کے سوا کوئی مربی نہیں۔

صفحہ نمبر1851

سلام کہنے والے کو اس سے بہتر جواب دو ٭٭

مسلمانو! جب تمہیں کوئی مسلمان سلام کرے تو اس کے سلام کے الفاظ سے بہتر الفاظ سے اس کا جواب دو، یا کم سے کم انہی الفاظ کو دوہرا دو پس زیادتی مستحب ہے اور برابری فرض ہے، ابن جریر میں ہے ” ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا «السلام علیکم یا رسول اللہ» آپ نے فرمایا «وعلیک السلام ورحمتہ اللہ» پھر دوسرا آیا اس نے کہا «السلام علیک یا رسول اللہ و رحمتہ اللہ» آپ نے جواب دیا «وعلیک السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ» پھر ایک صاھب آئے انہوں نے کہا «السلام علیک و رحمتہ اللہ وبرکاتہ» آپ نے جواب میں فرمایا «وعلیک» تو اس نے کہا اے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فلاں اور فلاں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے جواب دیا اور کچھ زیادہ دعائیہ الفاظ کے ساتھ دیا۔ جو مجھے نہیں دیا آپ نے فرمایا تم نے ہمارے لیے کچھ باقی ہی نہ چھوڑا اللہ کا فرمان ہے جب تم پر سلام کیا جائے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا اسی کو لوٹا دو اس لیے ہم نے وہی الفاظ لوٹا دئیے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:10050:ضعیف] ‏

یہ روایت ابن ابی حاتم میں بھی اسی طرح مروی ہے، اسے ابوبکر مردویہ نے بھی روایت کیا مگر میں نے اسے مسند میں نہیں دیکھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سلام کے کلمات میں اس سے زیادتی نہیں، اگر ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری صحابی کے جواب میں وہ لفظ کہہ دیتے۔ مسند احمد میں ہے کہ ” ایک شخص حضور کے پاس آئے اور «السلام علیکم یا رسول اللہ» کہہ کر بیٹھ گئے آپ نے جواب دیا اور فرمایا دس نیکیاں ملیں، دوسرے آئے اور «السلام علیکم ورحمتہ اللہ یا رسول اللہ» کہہ کر بیٹھ گئے آپ نے فرمایا بیس نیکیاں ملیں، پھر تیسرے صاحب آئے انہوں نے کہا «السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ» آپ نے فرمایا تیس نیکیاں ملیں۔ “ [سنن ترمذي:2689،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔

صفحہ نمبر1849

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کو عام لیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ خلق اللہ میں سے جو کوئی سلام کرے گا اسے جواب دو گو وہ مجوسی ہو، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں سلام کا اس سے بہتر جواب دینا تو مسمانوں کے لیے ہے اور اسی کو لوٹا دینا اہل ذمہ کے لیے ہے، لیکن اس تفسیر میں ذرا اختلاف ہے جیسے کہ اوپر کی حدیث میں گزر چکا ہے مراد یہ ہے کہ اس کے سلام سے اچھا جواب دیں اور اگر مسلمان سلام کے سبھی الفاظ کہہ دے تو پھر جواب دینے والا انہی کو لوٹادے۔

ذمی لوگوں کو خود سلام کی ابتداء کرنا تو ٹھیک نہیں اور وہ خود کریں تو جواب میں اتنے ہی الفاظ کہدے، بخاری و مسلم میں ہے ” جب کوئی یہودی تمہیں سلام کرے تو خیال رکھو یہ کہہ دیتے ہیں «السام علیک» تو تم کہہ دو و «علیک» “ [صحیح بخاری:6257] ‏

صحیح مسلم میں ہے ” یہود و نصاری کو تم پہلے سلام نہ کرو اور جب راستے میں مڈبھیڑ ہو جائے تو انہیں تنگی کی طرف مضطر کر “۔ [صحیح مسلم:2167] ‏ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سلام نفل ہے اور جواب سلام فرض ہے اور علماء کرام کا فرمان بھی یہی ہے، پس اگر جواب نہ دے گا تو گنہگار ہو گا اس لیے کہ جواب سلام کا اللہ کا حکم ہے۔

صفحہ نمبر1850

اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی توحید بیان فرماتا ہے اور الوہیت اور اپنا یکتا ہونا ظاہر کرتا ہے اور اس میں ضمنی مضامین بھی ہیں، اسی لیے دوسرے جملے کو لام سے شروع کیا جو قسم کے جواب میں آتا ہے، تو اگلا جملہ خبر ہے اور قسم بھی ہے کہ وہ عنقریب تمام مقدم و مؤخر کو میدان محشر میں جمع کرے گا اور وہاں ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا، اس اللہ السمیع البصیر سے زیادہ سچی بات والا اور کوئی نہیں، اس کی خبر اس کا وعدہ اس کی وعید سب سچ ہے، وہی معبود برحق ہے، اس کے سوا کوئی مربی نہیں۔

صفحہ نمبر1851

منافقوں سے ہوشیار رہو ٭٭

اس میں اختلاف ہے کہ منافقوں کے کس معاملہ میں مسلمانوں کے درمیان دو قسم کے خیالات داخل ہوئے تھے، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میدان احد میں تشریف لے گئے تب آپ کے ساتھ منافق بھی تھے جو جنگ سے پہلے ہی واپس لوٹ آئے تھے ان کے بارے میں بعض مسلمان تو کہتے تھے کہ انہیں قتل کر دینا چاہیئے اور بعض کہتے تھے نہیں یہ بھی ایماندار ہیں۔

اس پر یہ آیت اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شہر طیبہ ہے جو خودبخود میل کچیل کو اس طرح دور کر دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو چھانٹ دیتی ہے۔ [صحیح بخاری:1884] ‏ ابن اسحاق میں ہے کہ کل لشکر جنگ احد میں ایک ہزار کا تھا، عبداللہ بن ابی سلول تین سو آدمیوں کو اپنے ہمراہ لے کر واپس لوٹ آیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پھر سات سو ہی رہ گئے تھے۔

صفحہ نمبر1853

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکہ میں کچھ لوگ تھے جو کلمہ گو تھے لیکن مسمانوں کے خلاف مشرکوں کی مدد کرتے تھے یہ اپنی کسی ضروری حاجت کے لیے مکہ سے نکلے، انہیں یقین تھا کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی کیونکہ بظاہر کلمہ کے قائل تھے ادھر جب مدنی مسلمانوں کو اس کا علم ہوا تو ان میں بعض کہنے لگے ان نامرادوں سے پہلے جہاد کرو یہ ہمارے دشمنوں کے طرفدار ہیں اور بعض نے کہا سبحان اللہ جو لوگ تم جیسا کلمہ پڑھتے ہیں تم ان سے لڑوگے؟

صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے ہجرت نہیں کی اور اپنے گھر نہیں چھوڑے، ہم کسطرح ان کے خون اور ان کے مال اپنے اوپر حلال کرسکتے ہیں؟ ان کا یہ اختلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا آپ خاموش تھے جو یہ آیت نازل ہوئی۔ (‏ابن ابی حاتم) [تفسیر ابن جریر الطبری:10/9:] ‏

سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما کے لڑکے فرماتے ہیں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر جب تہمت لگائی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کوئی ہے جو مجھے عبداللہ بن ابی کی ایذاء سے بچائے اس پر اوس و خزرج کے درمیان جو اختلاف ہوا اس کی بابت یہ آیت نازل ہوئی ہے، لیکن یہ قول غریب ہے، ان کے سوا اور اقوال بھی ہیں۔

اللہ نے انہیں ان کی نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کردیا۔ ان کی ہدایت کی کوئی راہ نہیں۔ یہ تو چاہتے ہیں کہ سچے مسلمان بھی ان جیسے گمراہ ہو جائیں ان کے دلوں میں اس قدر عداوت ہے، تو تمہیں ممانعت کی جاتی ہے کہ جب تک یہ ہجرت نہ کریں انہیں اپنا نہ سمجھو، یہ خیال نہ کرو کہ یہ تمہارے دوست اور مددگار ہیں، بلکہ یہ خود اس لائق ہیں کہ ان سے باقاعدہ جہاد کیا جائے۔

صفحہ نمبر1854

صفحہ نمبر1855

منافقوں سے ہوشیار رہو ٭٭

اس میں اختلاف ہے کہ منافقوں کے کس معاملہ میں مسلمانوں کے درمیان دو قسم کے خیالات داخل ہوئے تھے، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میدان احد میں تشریف لے گئے تب آپ کے ساتھ منافق بھی تھے جو جنگ سے پہلے ہی واپس لوٹ آئے تھے ان کے بارے میں بعض مسلمان تو کہتے تھے کہ انہیں قتل کر دینا چاہیئے اور بعض کہتے تھے نہیں یہ بھی ایماندار ہیں۔

اس پر یہ آیت اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شہر طیبہ ہے جو خودبخود میل کچیل کو اس طرح دور کر دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو چھانٹ دیتی ہے۔ [صحیح بخاری:1884] ‏ ابن اسحاق میں ہے کہ کل لشکر جنگ احد میں ایک ہزار کا تھا، عبداللہ بن ابی سلول تین سو آدمیوں کو اپنے ہمراہ لے کر واپس لوٹ آیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پھر سات سو ہی رہ گئے تھے۔

صفحہ نمبر1853

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکہ میں کچھ لوگ تھے جو کلمہ گو تھے لیکن مسمانوں کے خلاف مشرکوں کی مدد کرتے تھے یہ اپنی کسی ضروری حاجت کے لیے مکہ سے نکلے، انہیں یقین تھا کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی کیونکہ بظاہر کلمہ کے قائل تھے ادھر جب مدنی مسلمانوں کو اس کا علم ہوا تو ان میں بعض کہنے لگے ان نامرادوں سے پہلے جہاد کرو یہ ہمارے دشمنوں کے طرفدار ہیں اور بعض نے کہا سبحان اللہ جو لوگ تم جیسا کلمہ پڑھتے ہیں تم ان سے لڑوگے؟

صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے ہجرت نہیں کی اور اپنے گھر نہیں چھوڑے، ہم کسطرح ان کے خون اور ان کے مال اپنے اوپر حلال کرسکتے ہیں؟ ان کا یہ اختلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا آپ خاموش تھے جو یہ آیت نازل ہوئی۔ (‏ابن ابی حاتم) [تفسیر ابن جریر الطبری:10/9:] ‏

سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما کے لڑکے فرماتے ہیں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر جب تہمت لگائی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کوئی ہے جو مجھے عبداللہ بن ابی کی ایذاء سے بچائے اس پر اوس و خزرج کے درمیان جو اختلاف ہوا اس کی بابت یہ آیت نازل ہوئی ہے، لیکن یہ قول غریب ہے، ان کے سوا اور اقوال بھی ہیں۔

اللہ نے انہیں ان کی نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کردیا۔ ان کی ہدایت کی کوئی راہ نہیں۔ یہ تو چاہتے ہیں کہ سچے مسلمان بھی ان جیسے گمراہ ہو جائیں ان کے دلوں میں اس قدر عداوت ہے، تو تمہیں ممانعت کی جاتی ہے کہ جب تک یہ ہجرت نہ کریں انہیں اپنا نہ سمجھو، یہ خیال نہ کرو کہ یہ تمہارے دوست اور مددگار ہیں، بلکہ یہ خود اس لائق ہیں کہ ان سے باقاعدہ جہاد کیا جائے۔

صفحہ نمبر1854

صفحہ نمبر1855

باب

پھر ان میں سے ان حضرات کا استثنا کیا جاتا ہے جو کسی ایسی قوم کی پناہ میں چلے جائیں جس سے مسلمانوں کا عہد و پیمان صلح و سلوک ہو تو ان کا حکم بھی وہی ہو گا جو معاہدہ والی قوم کا ہے، سیدنا سراقہ بن مالک مدلجی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب جنگ بدر اور جنگ احد میں مسلمان غالب آئے اور آس پاس کے لوگوں میں اسلام کی بخوبی اشاعت ہو گئی تو مجھے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہے کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر دے کر میری قوم بنو مدلج کی گوشمالی کے لیے روانہ فرمائیں تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا میں آپ کو احسان یاد دلاتا ہوں لوگوں نے مجھ سے کہا خاموش رہ۔

لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کہنے دو، کہو کیا کہنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ میری قوم کی طرف لشکر بھیجنے والے ہیں میں چاہتا ہوں کہ آپ ان سے صلح کر لیں اس بات پر کہ اگر قریش اسلام لائیں تو یہ بھی مسلمان ہو جائیں گے اور اگر وہ اسلام نہ لائیں تو ان پر بھی آپ چڑھائی نہ کریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا ان کے ساتھ جاؤ اور ان کے کہنے کے مطابق ان کی قوم سے صلح کر آؤ پس اس بات پر صلح ہو گئی کہ وہ دشمنان دین کی کسی قسم کی مدد نہ کریں اور اگر قریش اسلام لائیں تو یہ بھی مسلمان ہو جائیں

پس اللہ نے یہ آیت اتاری کہ ” یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی کفر کرو جیسے وہ کفر کرتے ہیں پھر تم اور وہ برابر ہو جائیں پس ان میں سے کسی کو دوست نہ جانو۔ “ [تفسیر ابن ابی حاتم:5750/3:ضعیف] ‏ یہی روایت ابن مردویہ میں ہے اور ان میں ہی آیت «إِلَّا الَّذِينَ يَصِلُونَ إِلَىٰ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ» [4-النساء:90] ‏ نازل ہوئی پس جو بھی ان سے مل جاتا وہ انہی کی طرح پر امن رہتا کلام کے الفاظ سے زیادہ مناسبت اسی کو ہے۔

صفحہ نمبر1857

صحیح بخاری شریف میں صلح حدیبیہ کے قصے میں ہے کہ پھر جو چاہتا کفار کی جماعت میں داخل ہو جاتا اور امن پالیتا اور جو چاہتا مدنی مسلمانوں سے ملتا اور عہد نامہ کی وجہ سے مامون ہو جاتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ اس حکم کو پھر اس آیت نے منسوخ کر دیا کہ «فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ» ‏ [9-التوبة:5] ‏، یعنی ” جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکین سے جہاد کرو جہاں کہیں انہیں پاؤ “۔

صفحہ نمبر1858

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com