Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah An-Nisaa
Tafsir Ibn Kathir · The Women · 176 ayat · ayat 91–120 · Quran text →
باب
پھر ایک دوسری جماعت کا ذکر ہو رہا ہے جسے مستثنیٰ کیا ہے جو میدان میں لائے جاتے ہیں لیکن یہ بیچارے بے بس ہوتے ہیں وہ نہ تو تم سے لڑنا چاہتے ہیں نہ تمہارے ساتھ مل کر اپنی قوم سے لڑنا پسند کرتے ہیں بلکہ وہ ایسے بیچ کے لوگ ہیں جو نہ تمہارے دشمن کہے جا سکتے ہیں نہ دوست۔ یہ بھی اللہ کا فضل ہے کہ اس نے ان لوگوں کو تم پر مسلط نہیں کیا اگر وہ چاہتا تو انہیں زور و طاقت دیتا اور ان کے دل میں ڈال دیتا کہ وہ تم سے لڑیں۔
پس اگر یہ تمہاری لڑائی سے باز رہیں اور صلح و صفائی سے یکسو ہو جائیں تو تمہیں بھی ان سے لڑنے کی اجازت نہیں، اسی قسم کے لوگ تھے جو بدر والے دن بنو ہاشم کے قبیلے میں سے مشرکین کے ساتھ آئے تھے جو دل سے اسے ناپسند رکھتے تھے۔ جیسے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ یہی وجہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے قتل کو منع فرما دیا تھا اور حکم دیا تھا کہ انہیں زندہ گرفتار کر لیا جائے۔
صفحہ نمبر1859
پھر ایک اور گروہ کا ذکر کیا جاتا ہے جو بظاہر تو اوپر والوں جیسا ہے لیکن دراصل نیت میں بہت کھوٹ ہے یہ لوگ منافق ہیں حضور کے پاس آ کر اسلام ظاہر کر کے اپنے جان و مال مسلمانوں سے محفوظ کرا لیتے ہیں ادھر کفار میں مل کر ان کے معبودان باطل کی پرستش کر کے ان میں سے ہونا ظاہر کر کے ان سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں تاکہ ان کے ہاتھوں سے بھی امن میں رہیں۔
دراصل یہ لوگ کافر ہیں، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ» [2-البقرة:14] ” اپنے شیاطین کے پاس تنہائی میں جا کر کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں “ یہاں بھی فرماتا ہے کہ جب کبھی فتنہ انگیزی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تو جی کھول کر پوری سرگرمی سے اس میں حصہ لیتے ہیں جیسے کوئی اوندھے منہ گرا ہوا ہو۔ «فِتْنَةِ» سے مراد یہاں شرک ہے
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ بھی مکہ والے تھے یہاں آ کر بطور ریا کاری کے اسلام قبول کرتے تھے وہاں جا کر ان کے بت پوجتے تھے تو مسلمانوں کو فرمایا جاتا ہے کہ اگر یہ اپنی دوغلی روش سے باز نہ آئیں ایذاء رسانی سے ہاتھ نہ روکیں صلح نہ کریں تو انہیں امن امان نہ دو ان سے بھی جہاد کرو، انہیں بھی قیدی بناؤ اور جہاں پاؤ قتل کر دو، بیشک ان پر ہم نے تمہیں ظاہر غلبہ اور کھلی حجت عطا فرمائی ہے۔
صفحہ نمبر1860
قتل مسلم ، قصاص و دیت کے مسائل اور قتل خطا ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ کسی مسلمان کو لائق نہیں کہ کسی حال میں اپنے مسلمان بھائی کا خون ناحق کرے صحیح بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کسی مسلمان کا جو اللہ کی ایک ہونے کی اور میرے رسول ہونے کی شہادت دیتا ہو خون بہانا حلال نہیں مگر تین حالتوں میں ایک تو یہ کہ اس نے کسی کو قتل کر دیا ہو، دوسرے شادی شدہ ہو کر زنا کیا ہو، تیسرے دین اسلام کو چھوڑ دینے والا جماعت سے علیحدہ ہونے والا۔ [صحیح بخاری:6878]
پھر یہ بھی یاد رہے کہ جب ان تینوں کاموں میں سے کوئی کام کسی سے واقع ہو جائے تو رعایا میں سے کسی کو اس کے قتل کا اختیار نہیں البتہ امام یا نائب امام کو بہ عہدہ قضاء کا حق ہے، اس کے بعد استثناء منقطع ہے، عرب شاعروں کے کلام میں بھی اس قسم کے استثناء بہت سے ملتے ہیں۔ اس آیت کے شان نزول میں ایک قول تو یہ مروی ہے کہ عیاش بن ابی ربیعہ جو ابوجہل کا ماں کی طرف سے بھائی تھا جس ماں کا نام اسماء بنت مخرمہ تھا اس کے بارے میں اتری ہے اس نے ایک شخص کو قتل کر ڈالا تھا جسے وہ اسلام لانے کی وجہ سے سزائیں دے رہا تھا یہاں تک کہ اس کی جان لے لی، ان کا نام حارث بن زید عامری تھا۔ سیدنا عیاش رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ کانٹا رہ گیا اور انہوں نے ٹھان لی کہ موقعہ پا کر اسے قتل کر دوں گا اللہ تعالیٰ نے کچھ دنوں بعد قاتل کو بھی اسلام کی ہدایت دی وہ مسلمان ہو گئے اور ہجرت بھی کر لی لیکن سیدنا عیاش رضی اللہ عنہ کو یہ معلوم نہ تھا، فتح مکہ والے دن یہ ان کی نظر پڑے یہ جان کر کہ یہ اب تک کفر پر ہیں ان پر اچانک حملہ کر دیا اور قتل کر دیا اس پر یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32/9]
دوسرا قول یہ ہے کہ یہ آیت سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جبکہ انہوں نے ایک شخص کافر پر حملہ کیا تلوار سونتی ہی تھی تو اس نے کلمہ پڑھ لیا لیکن ان کی تلوار چل گئی اور اسے قتل کر ڈالا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان ہوا تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اپنا یہ عذر بیان کیا کہ اس نے صرف جان بچانے کی غرض سے یہ کلمہ پڑھا تھا، آپ ناراض ہو کر فرمانے لگے کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟ [تفسیر ابن جریر الطبری:10099:ضعیف] یہ واقعہ صحیح حدیث میں بھی ہے لیکن وہاں نام دوسرے صحابی کا ہے۔
صفحہ نمبر1861
پھر قتل خطا کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس میں دو چیزیں واجب ہیں ایک تو غلام آزاد کرنا دوسرے دیت دینا، اس غلام کے لیے بھی شرط ہے کہ وہ ایماندار ہو، کافر کو آزاد کرنا کافی نہ ہو گا چھوٹا نابالغ بچہ بھی کافی نہ ہو گا جب تک کہ وہ اپنے ارادے سے ایمان کا قصد کرنے والا اور اتنی عمر کا نہ ہو، امام ابن جریر رحمہ اللہ کا مختار قول یہ ہے کہ اگر اس کے ماں باپ دونوں مسلمان ہوں تو جائز ہے ورنہ نہیں، جمہور کا مذہب یہ ہے کہ مسلمان ہونا شرط ہے چھوٹے بڑے کی کوئی قید نہیں۔
ایک انصاری رضی اللہ عنہ سیاہ فام لونڈی کو لے کر حاضر حضور ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میرے ذمے ایک مسلمان گردن کا آزاد کرنا ہے اگر یہ مسلمان ہو تو میں اسے آزاد کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی سے پوچھا کیا تو گواہی دیتی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟ اس نے کہا ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات کی بھی گواہی دیتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا ہاں فرمایا کیا مرنے کے بعد جی اٹھنے کی بھی تو قائل ہے؟ اس نے کہا ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آزاد کر دو [مسند احمد:452/3:صحیح] اس کی اسناد صحیح ہے اور صحابی کون تھے؟ اس کا مخفی رہنا سند میں مضر نہیں۔
یہ روایت حدیث کی اور بہت سی کتابوں میں اس طرح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا آسمانوں میں دریافت کیا میں کون ہوں؟ جواب دیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں آپ نے فرمایا اسے آزاد کر دو۔ یہ ایماندار ہے [صحیح مسلم:537]
پس ایک تو گردن آزاد کرنا واجب ہے دوسرے خوں بہا دینا جو مقتول کے گھر والوں کو سونپ دیا جائے گا یہ ان کے مقتول کا عوض ہے یہ دیت سو اونٹ ہے پانچ قسموں کے، بیس تو دوسری سال کی عمر کی اونٹنیاں اور بیس اسی عمر کے اونٹ اور بیس تیسرے سال میں لگی ہوئی اونٹنیاں اور بیس پانچویں سال میں لگی ہوئی اور بیس چوتھے سال میں لگی ہوئی یہی فیصلہ قتل خطا کے خون بہا کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے ملاحظہ ہو سنن و مسند احمد۔ [سنن ابوداود:4545،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
یہ حدیث بروایت عبداللہ رحمہ اللہ موقوف بھی مروی ہے۔ [بیہقی:47/8:موقوف] سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ایک جماعت سے بھی یہی منقول ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دیت چار چوتھائیوں میں بٹی ہوئی ہے یہ خون بہا قاتل کے عاقلہ اور اس کے عصبہ یعنی وارثوں کے بعد کے قریبی رشتہ داروں پر ہے اس کے اپنے مال پر نہیں۔
صفحہ نمبر1862
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے خیال میں اس امر میں کوئی بھی مخالف نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کا فیصلہ انہی لوگوں پر کیا ہے اور یہ حدیث خاصہ میں کثرت سے مذکور ہے امام صاحب جن احادیث کی طرف اشارہ کرتے ہیں وہ بہت سی ہیں۔
صفحہ نمبر1863
بخاری و مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہذیل قبیلہ کی دو عورتیں آپس میں لڑیں ایک نے دوسرے کو پتھر مارا وہ حاملہ تھی بچہ بھی ضائع ہو گیا اور وہ بھی مر گئی قصہ نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اس بچہ کے عوض تو ایک لونڈی یا غلام دے اور عورت مقتولہ کے بدلے دیت قاتلہ عورت کے حقیقی وارثوں کے بعد کے رشتے داروں کے ذمے ہے۔ [صحیح بخاری:6910]
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو قتل عمد خطا سے ہو وہ بھی حکم میں خطاء محض کے ہے۔ یعنی دیت کے اعتبار سے ہاں اس میں تقسیم ثلث پر ہو گی تین حصے ہونگے کیونکہ اس میں شباہت عمد یعنی بالقصد بھی ہے، صحیح بخاری شریف میں ہے بنو جذیمہ کی جنگ کے لیے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو حضور نے ایک لشکر پر سردار بنا کر بھیجا انہوں نے جا کر انہیں دعوت اسلام دی انہوں نے دعوت تو قبول کر لی لیکن بوجہ لاعلمی بجائے «اسلمنا» یعنی ہم مسلمان ہوئے کے «صبانا» کہا یعنی ہم بےدین ہوئے۔
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کرنا شروع کر دیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھا کر جناب باری میں عرض کی یا اللہ خالد (رضی اللہ عنہ) کے اس فعل میں اپنی بیزاری اور برات تیرے سامنے ظاہر کرتا ہوں، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر انہیں بھیجا کہ جاؤ ان کے مقتولوں کی دیت چکاؤ اور جو ان کا مالی نقصان ہوا ہو اسے بھی کوڑی کوڑی چکاؤ۔ “ [صحیح بخاری:7189،4339]
اس سے ثابت ہوا کہ امام یا نائب امام کی خطا کا بوجھ بیت المال پر ہو گا۔ پھر فرمایا ہے کہ خوں بہا جو واجب ہے اگر اولیاء مقتول از خود اس سے دست بردار ہو جائیں تو انہیں اختیار ہے وہ بطور صدقہ کے اسے معاف کر سکتے ہیں۔
صفحہ نمبر1864
پھر فرمان ہے کہ اگر مقتول مسلمان ہو لیکن اس کے اولیاء حربی کافر ہوں تو قاتل پر دیت نہیں، قاتل پر اس صورت میں صرف آزادگی گردن ہے اور اگر اس کے ولی وارث اس قوم میں سے ہوں جن سے تمہاری صلح اور عہد و پیمان ہے تو دیت دینی پڑے گی اگر مقتول مومن تھا تو کامل خون بہا اور اگر مقتول کافر تھا تو بعض کے نزدیک تو پوری دیت ہے بعض کے نزدیک آدھی بعض کے نزدیک تہائی۔
تفصیل کتب احکام میں ملاحظہ ہو اور قاتل پر مومن بردے کو آزاد کرنا بھی لازم ہے اگر کسی کو اس کی طاقت بوجہ مفلسی کے نہ ہو تو اس کے ذمے دو مہینے کے روزے ہیں جو لگاتار پے در پے رکھنے ہوں گے اگر کسی شرعی عذر مثلاً بیماری یا حیض یا نفاس کے بغیر کوئی روزہ بیچ میں سے چھوڑ دیا تو پھر نئے سرے سے روزے شروع کرنے پڑیں گے، سفر کے بارے میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ یہ بھی شرعی عذر ہے دوسرے یہ کہ یہ عذر نہیں۔
صفحہ نمبر1865
پھر فرماتا ہے قتل خطا کی توبہ کی یہ صورت ہے کہ غلام آزاد نہیں کر سکتا تو روزے رکھ لے اور جسے روزوں کی بھی طاقت نہ ہو وہ مسکینوں کو کھلا سکتا ہے یا نہیں؟ تو ایک قول تو یہ ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دے جیسے کہ ظہار کے کفارے میں ہے، وہاں صاف بیان فرما دیا یہاں اس لیے بیان نہیں کیا گیا کہ یہ ڈرانے اور خوف دلانے کا مقام ہے آسانی کی صورت اگر بیان کر دی جاتی تو ہیبت و عظمت اتنی باقی نہ رہتی۔
دوسرا قول یہ ہے کہ روزے کے نیچے کچھ نہیں اگر ہوتا تو بیان کے ساتھ ہی بیان کر دیا جاتا، حاجب کے وقت سے بیان کو مؤخر کرنا ٹھیک نہیں (یہ بظاہر قول ثانی ہی صحیح معلوم ہوتا ہے واللہ اعلم۔ مترجم) اللہ علیم وحکیم ہے، اس کی تفسیر کئی مرتبہ گذر چکی ہے۔
صفحہ نمبر1866
قتل عمداً اور قتل مسلم ٭٭
قتل خطا کے بعد اب قتل عمداً کا بیان ہو رہا ہے، اس کی سختی برائی اور انتہائی تاکید والی ڈراؤنی وعید فرمائی جا رہی ہے یہ وہ گناہ جسے اللہ تعالیٰ نے شرک کے ساتھ ملا دیا ہے فرماتا ہے «وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ» [25-الفرقان:68] یعنی ” مسلمان بندے وہ ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود ٹھہرا کر نہیں پکارتے اور نہ وہ کسی شخص کو ناحق قتل کرتے ہیں۔ “
دوسری جگہ فرمان ہے «قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْــــًٔـا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا ۚوَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ» [6-الأنعام:151] یہاں بھی اللہ کے حرام کئے ہوئے کاموں کا ذکر کرتے ہیں شرک کا اور قتل کا ذکر فرمایا ہے اور بھی اس مضمون کی آیتیں بہت سی ہیں اور حدیث بھی اس باب میں بہت سی منقول ہوئی ہیں۔
بخاری مسلم میں ہے کہ ” سب سے پہلے خون کا فیصلہ قیامت کے دن ہو گا۔ “ [صحیح بخاری:6533] ابوداؤد میں ہے ” ایماندار نیکیوں اور بھلائیوں میں بڑھتا رہتا ہے جب تک کہ خون ناحق نہ کرے اگر ایسا کر لیا تو تباہ ہو جاتا ہے۔ “ [سنن ابوداود:4270،قال الشيخ الألباني:صحیح]
دوسری حدیث میں ہے ” ساری دنیا کا زوال اللہ کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل سے کم درجے کا ہے۔ “ [سنن ترمذي:1395،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے ” اگر تمام روئے زمین کے اور آسمان کے لوگ کسی ایک مسلمان کے قتل میں شریک ہوں تو اللہ سب کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے۔ “ [سنن ترمذي:1398،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے ” جس شخص نے کسی مسلمان کے قتل میں آدھے کلمے سے بھی اعانت کی وہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے اس حالت میں آئے گا اس کی پیشانی میں لکھاہا ہو گا کہ یہ شخص اللہ کی رحمت سے محروم ہے۔ “ [سنن ابن ماجہ:2620،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر1867
باب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا تو قول ہے کہ جس نے مومن کو قصداً قتل کیا اس کی توبہ قبول ہی نہیں، اہل کوفہ جب اس مسئلہ میں اختلاف کرتے ہیں تو ابن جیبر رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر دریافت کرتے ہیں آپ فرماتے ہیں یہ آخری آیت ہے جسے کسی آیت نے منسوخ نہیں کیا۔ [صحیح بخاری:4590]
اور آپ فرماتے ہیں کہ دوسری آیت «وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» [25-الفرقان:68] جس میں تو یہ ذکر ہے کہ وہ اہل شرک کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پس جبکہ کسی شخص نے اسلام کی حالت میں کسی مسلمان کو غیر شرعی وجہ سے قتل کیا اس کی سزا جہنم ہے اور اس کی توبہ قبول نہیں ہو گی، مجاہد رحمہ اللہ سے جب یہ قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان ہوا تو فرمانے لگے مگر جو نادم ہو۔
سالم بن ابوالجعد فرماتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جب نابینا ہو گئے تھے ایک مرتبہ ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جو ایک شخص آیا اور آپ کو آواز دے کر پوچھا کہ اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر مار ڈالا آپ نے فرمایا اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اللہ کا اس پر غضب ہے اس پر اللہ کی لعنت ہے اور اس کے لیے عذاب عظیم تیار ہے۔ اس نے پھر پوچھا اگر وہ توبہ کرے نیک عمل کرے اور ہدایت پر جم جائے تو؟ فرمانے لگے اس کی ماں اسے روئے اسے توبہ اور ہدایت کہاں؟ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میرا نفس ہے میں نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اس کی ماں اسے روئے جس نے مومن کو جان بوجھ مار ڈالا ہے وہ قیامت کے دن اسے دائیں یا بائیں ہاتھ سے تھامے ہوئے رحمن کے عرش کے سامنے آئے گا اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا اور اللہ سے کہے گا کہ اے اللہ اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا؟ اس اللہ عظیم کی قسم جس کے ہاتھ میں عبداللہ کی جان ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک اسے منسوخ کرنے والی کوئی آیت نہیں اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10193:صحیح بالشواھد]
اور روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی وحی اترے گی۔ [سنن نسائی:4010،قال الشيخ الألباني:صحیح] سیدنا زید بن ثابت، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا عبداللہ بن عمر، رضی اللہ عنہم ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن، عبید بن عمیر، حسن، قتادہ، ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کے خیال کے ساتھ ہیں۔
صفحہ نمبر1868
ابن مردویہ میں ہے کہ مقتول اپنے قاتل کو پکڑ کر قیامت کے دن اللہ کے سامنے لائے گا دوسرے ہاتھ سے اپنا سر اٹھائے ہوئے ہو گا اور کہے گا میرے رب اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا؟ قاتل کہے گا پروردگار اس لیے کہ تیری عزت ہو اللہ فرمائے گا پس یہ میری راہ میں ہے۔ دوسرا مقتول بھی اپنے قاتل کو پکڑے ہوئے لائے گا اور یہی کہے گا، قاتل جواباً کہے گا اس لیے کہ فلاں کی عزت ہو اللہ فرمائے گا قاتل کا گناہ اس نے اپنے سر لے لیا پھر اسے آگ میں جھونک دیا جائے گا جس گڑھے میں ستر سال تک تو نیچے چلا جائے گا۔ [سنن نسائی:3989،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1869
مسند احمد میں ہے ” ممکن ہے اللہ تعالیٰ تمام گناہ بخش دے، لیکن ایک تو وہ شخص جو کفر کی حالت میں مرا دوسرا وہ جو کسی مومن کا قصداً قاتل بنا۔ “ [مسند احمد:99/4:صحیح] ابن مردویہ میں بھی ایسی ہی حدیث ہے اور وہ بالکل غریب ہے۔ [سنن ابوداود:4270:صحیح]
محفوظ وہ حدیث ہے جو بحوالہ مسند بیان ہوئی۔ ابن مردویہ میں اور حدیث ہے کہ ” جان بوجھ کر ایماندار کو مار ڈالنے والا کافر ہے۔ “ [ابن عدی فی الکامل:1059/3:ضعیف] یہ حدیث منکر ہے اور اس کی اسناد میں بہت کلام ہے۔
حمید کہتے ہیں میرے پاس ابوالعالیہ آئے میرے دوست بھی اس وقت میرے پاس تھے ہم سے کہنے لگے تم دونوں مجھ سے کم عمر اور زیادہ یادداشت والے ہو آؤ میرے ساتھ بشر بن عاصم رحمہ اللہ کے پاس چلو جب وہاں پہنچے تو بشر رحمہ اللہ سے فرمایا انہیں بھی وہ حدیث سنا دو انہوں نے سنانی شروع کی کہ سیدنا عتبہ بن مالک لیثی رضی اللہ عنہ نے کہا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا تھا اس نے ایک قوم پر چھاپہ مارا وہ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے ان کے ساتھ ایک شخص بھاگا جا رہا تھا اس کے پیچھے ایک لشکری بھاگا جب اس کے قریب ننگی تلوار لیے ہوئے پہنچ گیا تو اس نے کہا میں تو مسلمان ہوں۔ اس نے کچھ خیال نہ کیا تلوار چلا دی۔ اس واقعہ کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تو آپ بہت ناراض ہوئے اور سخت سست کہا یہ خبر اس شخص کو بھی پہنچی۔ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھے کہ اس قاتل نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم اس نے تو یہ بات محض قتل سے بچنے کے لیے کہی تھی آپ نے اس کی طرف سے نگاہ پھیرلی اور خطبہ سناتے رہے۔ اس نے دوبارہ کہا آپ نے پھر منہ موڑ لیا، اس سے صبر نہ ہو سکا، تیسری باری کہا تو آپ نے اس کی طرف توجہ کی اور ناراضگی آپ کے چہرے سے ٹپک رہی تھی، فرمانے لگے ” مومن کے قاتل کی کوئی بھی معذرت قبول کرنے سے اللہ تعالیٰ انکار کرتے ہیں تین بار یہی فرمایا . یہ روایت نسائی میں بھی ہے۔ [مسند احمد:289/5:صحیح]
صفحہ نمبر1870
پس ایک مذہب تو یہ ہوا کہ قاتل مومن کی توبہ نہیں دوسرا مذہب یہ کے کہ توبہ اس کے اور اللہ کے درمیان ہے جمہور سلف وخلف کا یہی مذہب ہے کہ اگر اس نے توبہ کی اللہ کی طرف رجوع کیا خشوع خضوع میں لگا رہا نیک اعمال کرنے لگ گیا تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لے گا اور مقتول کو اپنے پاس سے عوض دے کر اسے راضی کر لے گا۔
اللہ فرماتا ہے «اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا» [19-مريم:60] اور «إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا» [25-الفرقان:70] یہ خبر ہے اور خبر میں نسخ کا احتمال نہیں اور اس آیت کو مشرکوں کے بارے میں اور اس آیت کو مومنوں کے بارے میں خاص کرنا بظاہر خلاف قیاس ہے اور کسی صاف دلیل کا محتاج ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر1871
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [39-الزمر:53] ” اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم میری رحمت سے مایوس نہ ہو۔ “ یہ آیت اپنے عموم کے اعتبار سے ہر گناہ پر محیط ہے خواہ کفر و شرک ہو خواہ شک و نفاق ہو خواہ قتل وفسق ہو خواہ کچھ ہی ہو، جو اللہ کی طرف رجوع کرے اللہ اس کی طرف مائل ہو گا جو توبہ کرے اللہ اسے معاف فرمائے گا۔
فرماتا ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ» [4-النساء:48] ” اللہ تعالیٰ شرک کو بخشتا نہیں اس کے سوا کے تمام گناہ جسے چاہے بخش دے۔ “ اللہ اس کی کریمی کے صدقے جائیے کہ اس نے اسی سورت میں اس آیت سے پہلے بھی جس کی تفسیر اب ہم کر رہے ہیں اپنی عام بخشش کی آیت بیان فرمائی اور پھر اس آیت کے بعد ہی اسے دوہرا دیا اسی طرح اپنی عام بخشش کا اعلان پھر کیا تاکہ بندوں کو اس کی کامل فطرت سے کامل امید بند جائے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر1872
بخاری مسلم کی وہ حدیث بھی اس موقعہ پر یاد رکھنے کے قابل ہے جس میں ہے کہ ” ایک بنی اسرائیلی نے ایک سو قتل کئے تھے۔ پھر ایک عالم سے پوچھتا ہے کہ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے وہ جواب دیتا ہے کہ تجھ میں اور تیری توبہ میں کون ہے جو حائل ہے؟ جاؤ اس بدبستی کو چھوڑ کر نیکوں کے شہر میں بسو چنانچہ اس نے ہجرت کی مگر راستے میں ہی فوت ہو گیا اور رحمت کے فرشتے اسے لے گئے۔ “ [صحیح بخاری:3470]
یہ حدیث پوری پوری کئی مرتبہ بیان ہو چکی ہے جبکہ بنی اسرائیل میں یہ ہے تو اس امت مرحومہ کے لیے قاتل کی توبہ کے لیے دروازے بند کیوں ہوں؟ ہم پر تو پہلے بہت زیادہ پابندیاں تھیں جن سب سے اللہ نے ہمیں آزاد کر دیا اور رحمتہ اللعالمین جیسے سردار انبیاء کو بھیج کر وہ دین ہمیں دیا جو آسانیوں اور راحتوں والا سیدھا صاف اور واضح ہے، لیکن یہاں جو سزا قاتل کی بیان فرمائی ہے اس سے مرادیہ ہے کہ اس کی سزا یہ ہے کہ اسے سزا ضرور دی جائے۔ چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سلف کی ایک جماعت بھی یہی فرماتی ہے، بلکہ اس معنی کی ایک حدیث بھی ابن مردویہ میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:5819/3:ضعیف] لیکن سنداً وہ صحیح نہیں اور اسی طرح ہر وعید کا مطلب یہی ہے کہ اگر کوئی عمل صالح وغیرہ اس کے مقابل میں نہیں تو اس بدی کا بدلہ وہ ہے جو وعید میں واضح بیان ہوا ہے اور یہی طریقہ وعید کے بارے میں ہمارے نزدیک نہایت درست اور احتیاط والا ہے۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصّوَابٗ»
صفحہ نمبر1873
اور قاتل کا مقدر جہنم بن گیا۔ چاہے اس کی وجہ توبہ کی عدم قبولیت کہا جائے یا اس کے متبادل کسی نیک عمل کا مفقود ہونا خواہ بقول جمہور دوسرا نیک عمل نجات دہندہ نہ ہونے کی وجہ سے ہو۔ وہ ہمیشہ جہنم میں نہ رہے گا بلکہ یہاں خلود سے مراد بہت دیر تک رہنا ہے جیسا کہ متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ ” جہنم میں سے وہ بھی نکل آئیں گے جن کے دل میں رائی کے چھوٹے سے چھوٹے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا۔ “
اوپر جو ایک حدیث بیان ہوئی ہے کہ ممکن ہے اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بجز کفر اور قتل مومن کے معاف فرما دے۔ اس میں «عسی» ترجی کا مسئلہ ہے ان دونوں صورتوں میں ترجی یعنی اُمید گو اٹھ جائے پھر بھی وقوع پذیر ہونا یعنی ایسا ہونا ان دونوں میں سے ایک بھی ممکن نہیں اور وہ قتل ہے، کیونکہ شرک و کفر کا معاف نہ ہونا تو الفاظ قرآن سے ثابت ہو چکا اور جو حدیثیں گذریں جن میں قاتل کو مقتول لے کر آئے گا وہ بالکل ٹھیک ہیں
چونکہ اس میں انسانی حق ہے وہ توبہ سے ٹل نہیں جاتا۔ بلکہ انسانی حق تو توبہ ہونے کی صورت میں بھی حقدار کو پہنچانا ضروری ہے اس میں جس طرح قتل ہے اسی طرح چوری ہے غضب ہے تہمت ہے اور دوسرے حقوق انسانی ہیں جن کا توبہ سے معاف نہ ہونا اجماعاً ثابت ہے بلکہ توبہ کے لیے صحت کی شرط ہے کہ ان حقوق کو ادا کرے۔ اور جب ادائیگی محال ہے تو قیامت کے روز اس کا مطالبہ ضروری ہے۔ لیکن مطالبہ سے سزا کا واقع ہونا ضروری نہیں۔ ممکن ہے کہ قاتل کے اور سب اعمال صالحہ مقتول کو دے دئیے جائیں یا بعض دے دئیے جائیں اور اس کے پاس پھر بھی کچھ رہ جائیں اور یہ بخش دیا جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ قاتل کا مطالبہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اپنے پاس سے اور اپنی طرف سے حور و قصور اور بلند درجات جنت دے کر پورا کر دے اور اس کے عوض وہ اپنے قاتل سے درگذر کرنے پر خوش ہو جائے۔ اور قاتل کو اللہ تعالیٰ بخش دے وغیرہ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ جان بوجھ کر مارا ڈالنے والے کے لیے کچھ تو دنیوی احکام ہیں اور کچھ اخروی۔ دنیا میں تو اللہ نے مقتول کے ولیوں کو اس پر غلبہ دیا ہے۔
صفحہ نمبر1874
فرماتا ہے «وَمَن قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِف فِّي الْقَتْلِ» [17-الإسراء:33] ” جو ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے پیچھے والوں کو غلبہ دیا ہے کہ انہیں اختیار ہے کہ یا تو وہ بدلہ لیں یعنی قاتل کو بھی قتل کرائیں یا معاف کر دیں یا دیت یعنی خون بہا یعنی جرمانہ وصول کر لیں “ اور اس کے جرمانہ میں سختی ہے جو تین قسموں پر مشتمل ہے۔ تیس تو چوتھے سال کی عمر میں لگے ہوئے اونٹ، تیس پانچویں سال میں لگے ہوئے، چالیس حاملہ اونٹنیاں جیسے کہ کتب احکام میں ثابت ہیں۔
اس میں ائمہ نے اختلاف کیا ہے کہ اس پر غلام کا آزاد کرنا یا دو ماہ کے پے در پے روزے رکھے یا کھانا کھلانا ہے یا نہیں؟ پس امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب اور علماء کی ایک جماعت تو اس کی قائل ہے کہ جب خطا میں یہ حکم ہے تو عمداً میں بطور ادنیٰ یہی حکم ہونا چاہیئے اور ان پر جواباً جھوٹی غیر شرعی قسم کے کفارے کو پیش کیا گیا ہے اور انہوں نے اس کا عذر عمداً چھوڑ دی ہوئی دی نماز کو قضاء قرار دیا ہے جیسے کہ اس پر اجماع ہے خطا میں۔ امام احمد رحمہ اللہ کے اصحاب اور دوسرے کہتے ہیں قتل عمداً ناقابل کفارہ ہے۔ اس لیے اس یعنی کفارہ نہیں اور اسی طرح جھوٹی قسم اور ان کے لیے ان دونوں صورتوں میں اور عمداً چھوٹی ہوئی نماز میں فرق کرنے کی کوئی راہ نہیں، اسلئے کہ یہ عمداً چھوٹی ہوئی نماز کی قضا کے وجوب کے قائل ہیں۔ سابقہ مکتبہ خیال کی ایک دلیل یہ حدیث بھی ہے جو مسند احمد میں مروی ہے کہ لوگ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کوئی ایسی حدیث سناؤ جس میں کمی زیادتی نہ ہو تو وہ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے کیا تم قرآن لے کر پڑھتے ہو تو اس میں کمی زیادتی بھی کرتے ہو؟ انہوں نے کہا ہمارا مطلب یہ ہے کہ خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے جو سنی ہو کہا ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنوں میں سے ایک آدمی کی بابت حاضر ہوئے جس نے بوجہ قتل کے اپنے تئیں جہنمی بنا لیا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی طرف سے ایک غلام آزاد کرو اس کے ایک ایک عضو کے بدلہ اس کا ایک ایک عضو اللہ تعالیٰ جہنم سے آزاد کر دے گا۔ [مسند احمد:107/4:ضعیف]
صفحہ نمبر1875
مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا قتل ناقابل معافی جرم ہے ٭٭
ترمذوی وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ بنو سلیم کا ایک شخص بکریاں چراتا ہوا صحابہ کی ایک جمات کے پاس سے گذرا اور سلام کیا تو صحابہ آپس میں کہنے لگے یہ مسلمان تو ہے نہیں صرف اپنی جان بچانے کے لیے سلام کرتا ہے چنانچہ اسے قتل کر دیا اور بکریاں لے کر چلے آئے، اس پر یہ آیت اتری۔ [مسند احمد:229/1:قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
یہ حدیث تو صحیح ہے لیکن بعض نے اس میں علتیں نکالی ہیں کہ سماک راوی کے سوائے اس طریقے کا اور کوئی مخرج ہی اس کا نہیں، اور یہ کہ عکرمہ سے اس کے روایت کرنے کے بھی قائل ہے، اور یہ کہ اس آیت کے شان نزول میں اور واقعات بھی مروی ہیں، بعض کہتے ہیں محکم بن جثامہ کے بارے میں اتری ہے۔
صفحہ نمبر1876
بعض کہتے ہیں اسامہ بن زید کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں، لیکن میرے خیال میں یہ سب ناقابل تسلیم ہے سماک سے اسے بہت سے ائمہ کبار نے روایت کیا ہے، عکرمہ سے صحیح دلیل لی گئی ہے، یہی روایت دوسرے طریق سے ابن عباس سے صحیح بخاری میں مروی ہے۔ [صحیح بخاری:4591] سعید بن منصور میں یہی مروی ہے۔
ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص کو اس کے والد اور اس کی قوم نے اپنے اسلام کی خبر پہنچانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، راستے میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ایک لشکر سے رات کے وقت ملاقات ہوئی اس نے ان سے کہا کہ میں مسلمان ہوں لیکن انہیں یقین نہ آیا اور اسے دشمن سمجھ کر قتل کر ڈالا۔
ان کے والد کو جب یہ علم ہوا تو یہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ بیان کیا چنانچہ آپ نے انہیں ایک ہزار دینار دئیے اور دیت دی اور انہیں عزت کے ساتھ رخصت کیا، اس پر یہ آیت اتری۔
صفحہ نمبر1877
محلم بن جثامہ کا واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک چھوٹا سا لشکر اخسم کی طرف بھیجا جب یہ لشکر بطل اخسم میں پہنچا تو عامر بن اضبط اشجعی اپنی سواری پر سوار مع اسباب کے آ رہے تھے پاس پہنچ کر سلام کیا سب تو رک گئے لیکن محکم بن جثامہ نے آپس کی پرانی عداوت کی بنا پر اس پر جھپٹ کر حملہ کر دیا، انہیں قتل کر ڈالا اور ان کا اسباب قبضہ میں کر لیا پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور آپ یہ واقعہ بیان کیا اس پر یہ آیت اتری۔ [مسند احمد:11/6]
ایک اور روایت میں ہے کہ عامر نے اسلامی طریقہ کے مطابق سلام کیا تھا لیکن جاہلیت کی پہلی عداوت کے باعث محلم نے اسے تیر مار کر مار ڈالا یہ خبر پا کر عامر کے لوگوں سے محلم بن جثامہ نے مصالحانہ گفتگو کی لیکن عیینہ نے کہا نہیں نہیں اللہ کی قسم جب تک اس کی عورتوں پر بھی وہی مصیبت نہ آئے جو میری عورتوں پر آئی۔ چنانچہ محلم اپنی دونوں چادریں اوڑھے ہوئے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے اس اُمید پر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے استغفار کریں لیکن آپ نے فرمایا اللہ تجھے معاف نہ کرے یہ یہاں سے سخت نادم شرمسار روتے ہوئے اُٹھے اپنی چادروں سے اپنے آنسو پونچھتے جاتے تھے سات روز بھی نہ گذرنے پائے تھے انتقال کر گئے۔ لوگوں نے انہیں دفن کیا لیکن زمین نے ان کی نعش اگل دی،
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب یہ ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا تمہارے اس ساتھی سے نہایت بدتر لوگوں کو زمین سنبھال لیتی ہے لیکن اللہ کا ارادہ ہے کہ وہ تمہیں مسلمان کی حرمت دکھائے چنانچہ ان کے لاشے کو پہاڑ پر ڈال دیا گیا اور اُوپر سے پتھر رکھ دئے گئے اور یہ آیت نازل ہوئی [تفسیر ابن جریر الطبری:10216:ضعیف]
صفحہ نمبر1878
صحیح بخاری شریف میں تعلیقاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقداد سے فرمایا جبکہ انہوں نے قوم کفار کے ساتھ جو مسلمان مخفی ایمان والا تھا اسے قتل کر دیا تھا باوجودیکہ اس نے اپنے سلام کا اظہار کر دیا تھا کہ تم بھی مکہ میں اسی طرح ایمان چھپائے ہوئے تھے۔ [صحیح بخاری:6866]
بزار میں یہ واقعہ پورا اس طرح مرودی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا تھا جس میں سیدہ مقداد رضی اللہ عنہ بھی تھے جب دشمنوں کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ سب تو اِدھر اُدھر ہو گئے ہیں ایک شخص مالدار وہاں رہ گیا ہے اس نے انہیں دیکھتے ہی «اشھد ان لا اللہ الا اللّٰہ» کہا۔ تاہم انہوں نے حملہ کر دیا اور اسے قتل کر ڈالا۔ ایک شخص جس نے یہ واقعہ دیکھا تھا وہ سخت برہم ہوا اور کہنے لگا سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر ڈالا جس نے کلمہ پڑھا تھا؟
میں اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کروں گا، جب یہ لشکر واپس پہنچا تو اس شخص نے یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا آپ نے مقداد کو بلوایا اور فرمایا تم نے یہ کیا کیا؟ کل قیات کے دن تم «لا الٰہ الا اللّٰہ» کے سامنے کیا جواب دو گے؟ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور آپ نے فرمایا کہ اے مقداد وہ شخص مسلمان تھا جس طرح تو مکہ میں اپنے ایمان کو مخفی رکھتا تھا پھر تو نے اس کے اسلام ظاہر کرنے کے باوجود اسے مارا؟ [مسند بزار:2202،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر1879
اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس غنیمت کے لالچ میں تم غفلت برتتے ہو اور سلام کرنے والوں کے ایمان میں شک و شبہ کر کے انہیں قتل کر ڈالتے ہو یاد رکھو وہ غنیمت اللہ کی طرف سے ہے اس کے پاس بہت سے غنیمتیں ہیں جو وہ تمہیں حلال ذرائع سے دے گا اور وہ تمہارے لیے اس مال سے بہت بہتر ہوں گے۔
تم بھی اپنا وہ وقت یاد کرو کہ تم بھی ایسے ہی لاچار تھے اپنے ضعف اور اپنی کمزوری کی وجہ سے ایمان ظاہر کرنے کی جرأت نہیں کر سکتے تھے قوم میں چھپے لگے پھرتے تھے آج اللہ خالق کل نے تم پر احسان کیا تمہیں قوت دی اور تم کھلے بندوں اپنے اسلام کا اظہار کر رہے ہو، تو جو بے اسباب اب تک دشمنوں کے پنجے میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایمان کا اعلان کھلے طور پر نہیں کر سکے جب وہ اپنا ایمان ظاہر کریں تمہیں تسلیم کر لینا چاہیئے . اور آیت میں ہے «وَاذْكُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [8-الأنفال:26] ” اس وقت کو یاد کرو جب تم مکّہ میں قلیل تعداد میں اور کمزور تھے -تم ہر آن ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک لے جائیں گے کہ خد انے تمہیں پناہ دی اور اپنی مدد سے تمہاری تائید کی -تمہیں پاکیزہ روزی عطا کی تاکہ تم اس کا شکریہ ادا کرو۔ “
الغرض ارشاد ہوتا ہے کہ جس طرح یہ بکری کا چرواہا اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا اسی طرح اس سے پہلے جبکہ بےسرو سامانی اور قلت کی حالت میں تم مشرکوں کے درمیان تھے ایمان چھپائے پھرتے تھے، یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ تم بھی پہلے اسلام والے نہ تھے اللہ نے تم پر احسان کیا اور تمہیں اسلام نصیب فرمایا . سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی تھی کہ اس کے بعد بھی کسی «لا الہ الا اللّٰہ» کہنے والے کو قتل نہ کروں گا کیونکہ انہیں بھی اس بارے میں پوری سرزنش ہوئی تھی۔ پھر تاکیداً دوبارہ فرمایا کہ بخوبی تحقیق کر لیا کرو، پھر دھمکی دی جاتی ہے کہ اللہ جل شانہ کو اپنے اعمال سے غافل نہ سمجھو، جو تم کر رہے، وہ سب کی پوری طرح خبر رکھتا ہے۔
صفحہ نمبر1880
مجاہد اور عوام میں فرق ٭٭
صحیح بخاری میں ہے کہ جب اس آیت کے ابتدائی الفاظ اترے کہ گھروں میں بیٹھ رہنے والے جہاد کرنے والے مومن برابر نہیں، تو آپ اسے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو بلوا کر لکھوا رہے تھے اس وقت سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا آئے اور کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو نابینا ہوں معذور ہوں اس پر الفاظ «غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ» نازل ہوئے [صحیح بخاری:4593] یعنی ” وہ بیٹھ رہنے والے جو بےعذر ہوں “ ان کا ذکر ہے۔
اور روایت میں ہے کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ قلم دوات اور شانہ لے کر آئے تھے [صحیح بخاری:4594] اور حدیث میں ہے کہ سیدنا ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مجھ میں طاقت ہوتی تو میں ضرور جہاد میں شامل ہوتا اس پر وہ آیت اتری اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی ران پر تھی ان پر اس قدر بوجھ پڑا قریب تھا کہ ران ٹوٹ جائے۔ [صحیح بخاری:2832]
وہ حدیث میں ہے کہ جس وقت ان آیات کی وحی اتری اور اس کے بعد طمانیت آپ پر نازل ہوئی میں آپ کے پہلو میں تھا اللہ کی قسم مجھ پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کا ایسا بوجھ پڑا کہ میں نے اس سے زیادہ بوجھل چیز زندگی بھر کوئی اٹھائی پھر وحی ہٹ جانے کے بعد آپ نے «عَظِيمًا» تک آیت لکھوائی اور میں نے اسے شانے کی ہڈی پر لکھ لیا
اور حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ابھی تو سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے الفاظ ختم بھی نہ ہوئے تھے جو آپ پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی، سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بعد میں اترے ہوئے الفاظ کو میں نے ان کی جگہ پر اپنی تحریر میں بعد میں بڑھایا ہے۔ [سنن ابوداود:2507،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1881
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد بدر کی لڑائی میں جانے والے اور اس میں حاضر نہ ہونے والے ہیں . [صحیح بخاری:4595] غزوہ بدر کے موقعہ پر سیدنا عبداللہ بن حجش اور سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہما آکر حضور سے کہنے لگے ہم دونوں نابینا ہیں کیا ہمیں رخصت ہے؟ تو انہیں آیت قرآنی میں رخصت دی گئی
پس مجاہدین کو جس قسم کے بیٹھ رہنے والوں پر فضیلت دی گئی ہے وہ وہ ہیں جو صحت و تندرستی والے ہوں۔ [سنن ترمذي:3032:صحیح] پس پہلے تو مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر مطلقاً فضیلت تھی لیکن اسی وحی میں جو الفاظ اترے اس نے ان لوگوں کو جنہیں مباح عذر ہوں عام بیٹھ رہنے والوں سے مستثنیٰ کر دیا جیسے اندھے لنگڑے لولے اور بیمار، یہ مجاہدین کے درجے میں ہیں۔
صفحہ نمبر1882
پھر مجاہدین کی جو فضیلت بیان ہوئی ہے وہ ان لوگوں پر بھی ہے جو بیوجہ جہاد میں شامل نہ ہوئے ہوں، جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر گذری اور یہ ہونا بھی چاہیئے بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ تم جس جہاد کے لیے سفر کرو اور جس جنگل میں کوچ کرو وہ تمہارے ساتھ اجر میں یکساں ہیں صحابہ نے کہا باوجود یہ کہ وہ مدینے میں مقیم ہیں، آپ نے فرمایا اس لیے کہ انہیں عذر نے روک رکھا ہے [صحیح بخاری:2839]
اور روایت میں ہے کہ تم جو خرچ کرتے ہو اس کا ثواب بھی جو تمہیں ملتا ہے انہیں بھی ملتا ہے [سنن ابوداود:2508:صحیح] اسی مطلب کو ایک شاعر نے ان الفاظ میں «یارا حلین الی البیت العتیق لقد» «سر تم جسو ماو سرنا نحن ارواحا» «انا اقمنا علی عذروعن قدر» «ومن اقام علی عذر فقدراحا» یعنی اے اللہ کے گھر کے حج کو جانے والو! اگر تم اپنے جسموں سمیت اس طرف چل رہے ہو لیکن ہم بھی اپنی روحانی روش سے اسی طرف لپکے جا رہے ہیں، سنو ہماری جسمانی کمزوری اور عذر نے ہمیں روک رکھا ہے اور ظاہر ہے کہ عذر سے رک جانے والا کچھ جانے والے سے کم نہیں۔
صفحہ نمبر1883
پھر فرمایا ہے ہر ایک سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ جنت کا اور بہت بڑے اجر کا ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جہاد فرض عین نہیں بلکہ فرض کفایہ ہے، پھر ارشاد ہے، مجاہدین کو غیر مجاہدین پر بڑی فضیلت ہے۔ پھر ان کے بلند درجات ان کے گناہوں کی معافی اور ان پر جو برکت و رحمت ہے اس کا بیان فرمایا اور اپنی عام بخشش اور عام رحم کی خبر دی۔
بخاری و مسلم میں ہے جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے راہ کے مجاہدین کے لیے تیار کیا ہے ہر دو درجوں میں اس قدر فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین میں [صحیح بخاری:2790]
اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے اسے جنت کا درجہ ملتا ہے ایک شخص نے پوچھا درجہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا وہ تمہارے یہاں کے گھروں کے بالا خانوں جتنا نہیں بلکہ دو درجوں میں سو سال کا فاصلہ ہے۔ [الدر المنثور:365/2:ضعیف و منقطع]
صفحہ نمبر1884
مجاہد اور عوام میں فرق ٭٭
صحیح بخاری میں ہے کہ جب اس آیت کے ابتدائی الفاظ اترے کہ گھروں میں بیٹھ رہنے والے جہاد کرنے والے مومن برابر نہیں، تو آپ اسے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو بلوا کر لکھوا رہے تھے اس وقت سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا آئے اور کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو نابینا ہوں معذور ہوں اس پر الفاظ «غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ» نازل ہوئے [صحیح بخاری:4593] یعنی ” وہ بیٹھ رہنے والے جو بےعذر ہوں “ ان کا ذکر ہے۔
اور روایت میں ہے کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ قلم دوات اور شانہ لے کر آئے تھے [صحیح بخاری:4594] اور حدیث میں ہے کہ سیدنا ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مجھ میں طاقت ہوتی تو میں ضرور جہاد میں شامل ہوتا اس پر وہ آیت اتری اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی ران پر تھی ان پر اس قدر بوجھ پڑا قریب تھا کہ ران ٹوٹ جائے۔ [صحیح بخاری:2832]
وہ حدیث میں ہے کہ جس وقت ان آیات کی وحی اتری اور اس کے بعد طمانیت آپ پر نازل ہوئی میں آپ کے پہلو میں تھا اللہ کی قسم مجھ پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کا ایسا بوجھ پڑا کہ میں نے اس سے زیادہ بوجھل چیز زندگی بھر کوئی اٹھائی پھر وحی ہٹ جانے کے بعد آپ نے «عَظِيمًا» تک آیت لکھوائی اور میں نے اسے شانے کی ہڈی پر لکھ لیا
اور حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ابھی تو سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے الفاظ ختم بھی نہ ہوئے تھے جو آپ پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی، سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بعد میں اترے ہوئے الفاظ کو میں نے ان کی جگہ پر اپنی تحریر میں بعد میں بڑھایا ہے۔ [سنن ابوداود:2507،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1881
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد بدر کی لڑائی میں جانے والے اور اس میں حاضر نہ ہونے والے ہیں . [صحیح بخاری:4595] غزوہ بدر کے موقعہ پر سیدنا عبداللہ بن حجش اور سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہما آکر حضور سے کہنے لگے ہم دونوں نابینا ہیں کیا ہمیں رخصت ہے؟ تو انہیں آیت قرآنی میں رخصت دی گئی
پس مجاہدین کو جس قسم کے بیٹھ رہنے والوں پر فضیلت دی گئی ہے وہ وہ ہیں جو صحت و تندرستی والے ہوں۔ [سنن ترمذي:3032:صحیح] پس پہلے تو مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر مطلقاً فضیلت تھی لیکن اسی وحی میں جو الفاظ اترے اس نے ان لوگوں کو جنہیں مباح عذر ہوں عام بیٹھ رہنے والوں سے مستثنیٰ کر دیا جیسے اندھے لنگڑے لولے اور بیمار، یہ مجاہدین کے درجے میں ہیں۔
صفحہ نمبر1882
پھر مجاہدین کی جو فضیلت بیان ہوئی ہے وہ ان لوگوں پر بھی ہے جو بیوجہ جہاد میں شامل نہ ہوئے ہوں، جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر گذری اور یہ ہونا بھی چاہیئے بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ تم جس جہاد کے لیے سفر کرو اور جس جنگل میں کوچ کرو وہ تمہارے ساتھ اجر میں یکساں ہیں صحابہ نے کہا باوجود یہ کہ وہ مدینے میں مقیم ہیں، آپ نے فرمایا اس لیے کہ انہیں عذر نے روک رکھا ہے [صحیح بخاری:2839]
اور روایت میں ہے کہ تم جو خرچ کرتے ہو اس کا ثواب بھی جو تمہیں ملتا ہے انہیں بھی ملتا ہے [سنن ابوداود:2508:صحیح] اسی مطلب کو ایک شاعر نے ان الفاظ میں «یارا حلین الی البیت العتیق لقد» «سر تم جسو ماو سرنا نحن ارواحا» «انا اقمنا علی عذروعن قدر» «ومن اقام علی عذر فقدراحا» یعنی اے اللہ کے گھر کے حج کو جانے والو! اگر تم اپنے جسموں سمیت اس طرف چل رہے ہو لیکن ہم بھی اپنی روحانی روش سے اسی طرف لپکے جا رہے ہیں، سنو ہماری جسمانی کمزوری اور عذر نے ہمیں روک رکھا ہے اور ظاہر ہے کہ عذر سے رک جانے والا کچھ جانے والے سے کم نہیں۔
صفحہ نمبر1883
پھر فرمایا ہے ہر ایک سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ جنت کا اور بہت بڑے اجر کا ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جہاد فرض عین نہیں بلکہ فرض کفایہ ہے، پھر ارشاد ہے، مجاہدین کو غیر مجاہدین پر بڑی فضیلت ہے۔ پھر ان کے بلند درجات ان کے گناہوں کی معافی اور ان پر جو برکت و رحمت ہے اس کا بیان فرمایا اور اپنی عام بخشش اور عام رحم کی خبر دی۔
بخاری و مسلم میں ہے جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے راہ کے مجاہدین کے لیے تیار کیا ہے ہر دو درجوں میں اس قدر فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین میں [صحیح بخاری:2790]
اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے اسے جنت کا درجہ ملتا ہے ایک شخص نے پوچھا درجہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا وہ تمہارے یہاں کے گھروں کے بالا خانوں جتنا نہیں بلکہ دو درجوں میں سو سال کا فاصلہ ہے۔ [الدر المنثور:365/2:ضعیف و منقطع]
صفحہ نمبر1884
بے معنی عذر مسترد ہوں گے ، ہجرت اور نیت ٭٭
محمد بن عبدالرحمٰن ابوالا سود فرماتے ہیں اہل مدینہ سے جنگ کرنے کے لیے جو لشکر تیار کیا گیا اس میں میرا نام بھی تھا۔ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کے مولیٰ عکرمہ رحمہ اللہ سے ملا اور اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھے اس میں شمولیت کرنے سے بہت سختی سے روکا۔
اور کہا سنو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا سے میں نے سنا ہے کہ بعض مسلمان لوگ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مشرکوں کے ساتھ تھے اور ان کی تعداد بڑھاتے تھے بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ ان میں سے کوئی تیر سے ہلاک کر دیا جاتا یا مسلمانوں کی تلواروں سے قتل کر دیا جاتا، انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے یعنی موت کے وقت ان کا اپنی بےطاقتی کا حیلہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔ [صحیح بخاری:4596]
صفحہ نمبر1886
اور روایت میں ہے کہ ایسے لوگ جو اپنے ایمان کو مخفی رکھتے تھے جب وہ بدر کی لڑائی میں کافروں کے ساتھ آ گئے تو مسلمانوں کے ہاتھوں ان میں سے بھی بعض مارے گئے جس پر مسلمان غمگین ہوئے کہ افسوس یہ تو ہمارے ہی بھائی تھے، اور ہمارے ہی ہاتھوں مارے گئے ان کے لیے استغفار کرنے لگے اس پر یہ آیت اتری۔
پس باقی ماندہ مسلمانوں کی طرف یہ آیت لکھی کہ ان کا کوئی عذر نہ تھا کہا یہ نکلے اور ان سے مشرکین ملے اور انہوں نے تقیہ کیا پس یہ آیت اتری «وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِيْنَ» [2-البقرة:8] [تفسیر ابن جریر الطبری:10265] عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جو اسلام کا کلمہ پڑھتے تھے اور تھے مکے میں ہی ان میں علی ابن امیہ بن خلف اور ابوقیس بن ولید بن مغیرہ اور ابو منصور بن حجاج اور حارث بن زمعہ تھے
ضحاک رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ ان منافقوں کے بارے میں اتری ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد مکے میں رہ گئے پھر بدر کی لڑائی میں مشرکوں کے ساتھ آئے ان میں سے بعض میدان جنگ میں کام بھی آ گئے۔ مقصد یہ ہے کہ آیت کا حکم عام ہے ہر اس شخص کا جو ہجرت پر قادر ہو پھر بھی مشرکوں میں پڑا رہے اور دین پر مضبوط نہ رہے۔
وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ظالم ہے اور اس آیت کی رو سے اور مسلمانوں کے اجماع سے وہ حرام کام کا مرتکب ہے اس آیت میں ہجرت سے گریز کرنے کو ظلم کہا گیا ہے، ایسے لوگوں سے ان کے نزع کے عالم میں فرشتے کہتے ہیں کہ تم یہاں کیوں ٹھہرے رہے؟ کیوں ہجرت نہ کی؟ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم اپنے شہر سے دوسرے شہر کہیں نہیں جا سکتے تھے، جس کے جواب میں فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ کی زمین میں کشادگی نہ تھی؟ ابوداؤد میں ہے جو شخص مشرکین میں ملا جلا رہے انہی کے ساتھ رہے سہے وہ بھی انہی جیسا ہے۔ [سنن ابوداود:2787،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1887
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جبکہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ عقیل اور نوفل گرفتار کئے گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تم اپنا فدیہ بھی دو اور اپنے بھتیجے کا بھی، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم آپ کے قبلے کی طرف نمازیں نہیں پڑھتے تھے؟ کیا ہم کلمہ شہادت ادا نہیں کرتے تھے؟ آپ نے فرمایا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تم نے بحث تو چھیڑی لیکن اس میں تم ہار جاؤ گے سنو اللہ جل شانہ فرماتا ہے پھر آپ نے یہی تلاوت فرمائی یعنی تم نے ہجرت کیوں نہ کی؟ [تفسیر ابن جریر الطبری:10270:ضعیف و مرسل]
پھر جن لوگوں کو ہجرت کے چھوڑ دینے پر ملامت نہ ہو گی ان کا ذکر فرماتا ہے کہ جو لوگ مشرکین کے ہاتھوں سے نہ چھوٹ سکیں اور اگر کبھی چھوٹ بھی جائیں تو راستے کا علم انہیں نہیں ان سے اللہ تعالیٰ درگذر فرمائے گا،“عسی“ کلمہ اللہ کے کلام میں وجوب اور یقین کے لیے ہوتا ہے۔ اللہ درگذر کرنے والا اور بہت ہی معافی دینے والا ہے۔
صفحہ نمبر1888
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد سجدے میں جانے سے پہلے یہ دعا مانگی اے اللہ عیاش ابو ربیعہ کو , سلمہ بن ہشام کو , ولید بن ولید (رضی اللہ عنہم) کو اور تمام بے بس ناطاقت مسلمانوں کو کفار کے پنجے سے رہائی دے اے اللہ اپنا سخت عذاب قبیلہ مضر پر ڈال اے اللہ ان پر ایسی قحط سالی نازل فرما جیسی یوسف علیہ السلام کے زمانے میں آئی تھی۔ [صحیح بخاری:4598]
ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد قبلے کی طرف منہ کئے ہوئے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی اے اللہ ولید بن ولید کو ,عیاش بن ابو ربیعہ ,کو سلمہ بن ہشام (رضی اللہ عنہم) کو اور تمام ناتواں بےطاقت مسلمانوں کو اور جو بے حیلے کی طاقت رکھتے ہیں نہ راہ پانے کی کافروں کے ہاتھوں سے نجات دے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:5872/3:ضعیف]
ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کے بعد یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10280:ضعیف] اس حدیث کے شواہد صحیح میں بھی اس سند کے سوا اور سندوں میں بھی ہیں کہ جیسے کہ پہلے گذرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں اور میری والدہ ان ضعیف عورتوں اور بچوں میں تھے جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ ہمیں اللہ نے معذور رکھا۔ [صحیح بخاری:4597]
صفحہ نمبر1889
بے معنی عذر مسترد ہوں گے ، ہجرت اور نیت ٭٭
محمد بن عبدالرحمٰن ابوالا سود فرماتے ہیں اہل مدینہ سے جنگ کرنے کے لیے جو لشکر تیار کیا گیا اس میں میرا نام بھی تھا۔ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کے مولیٰ عکرمہ رحمہ اللہ سے ملا اور اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھے اس میں شمولیت کرنے سے بہت سختی سے روکا۔
اور کہا سنو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا سے میں نے سنا ہے کہ بعض مسلمان لوگ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مشرکوں کے ساتھ تھے اور ان کی تعداد بڑھاتے تھے بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ ان میں سے کوئی تیر سے ہلاک کر دیا جاتا یا مسلمانوں کی تلواروں سے قتل کر دیا جاتا، انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے یعنی موت کے وقت ان کا اپنی بےطاقتی کا حیلہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔ [صحیح بخاری:4596]
صفحہ نمبر1886
اور روایت میں ہے کہ ایسے لوگ جو اپنے ایمان کو مخفی رکھتے تھے جب وہ بدر کی لڑائی میں کافروں کے ساتھ آ گئے تو مسلمانوں کے ہاتھوں ان میں سے بھی بعض مارے گئے جس پر مسلمان غمگین ہوئے کہ افسوس یہ تو ہمارے ہی بھائی تھے، اور ہمارے ہی ہاتھوں مارے گئے ان کے لیے استغفار کرنے لگے اس پر یہ آیت اتری۔
پس باقی ماندہ مسلمانوں کی طرف یہ آیت لکھی کہ ان کا کوئی عذر نہ تھا کہا یہ نکلے اور ان سے مشرکین ملے اور انہوں نے تقیہ کیا پس یہ آیت اتری «وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِيْنَ» [2-البقرة:8] [تفسیر ابن جریر الطبری:10265] عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جو اسلام کا کلمہ پڑھتے تھے اور تھے مکے میں ہی ان میں علی ابن امیہ بن خلف اور ابوقیس بن ولید بن مغیرہ اور ابو منصور بن حجاج اور حارث بن زمعہ تھے
ضحاک رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ ان منافقوں کے بارے میں اتری ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد مکے میں رہ گئے پھر بدر کی لڑائی میں مشرکوں کے ساتھ آئے ان میں سے بعض میدان جنگ میں کام بھی آ گئے۔ مقصد یہ ہے کہ آیت کا حکم عام ہے ہر اس شخص کا جو ہجرت پر قادر ہو پھر بھی مشرکوں میں پڑا رہے اور دین پر مضبوط نہ رہے۔
وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ظالم ہے اور اس آیت کی رو سے اور مسلمانوں کے اجماع سے وہ حرام کام کا مرتکب ہے اس آیت میں ہجرت سے گریز کرنے کو ظلم کہا گیا ہے، ایسے لوگوں سے ان کے نزع کے عالم میں فرشتے کہتے ہیں کہ تم یہاں کیوں ٹھہرے رہے؟ کیوں ہجرت نہ کی؟ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم اپنے شہر سے دوسرے شہر کہیں نہیں جا سکتے تھے، جس کے جواب میں فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ کی زمین میں کشادگی نہ تھی؟ ابوداؤد میں ہے جو شخص مشرکین میں ملا جلا رہے انہی کے ساتھ رہے سہے وہ بھی انہی جیسا ہے۔ [سنن ابوداود:2787،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1887
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جبکہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ عقیل اور نوفل گرفتار کئے گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تم اپنا فدیہ بھی دو اور اپنے بھتیجے کا بھی، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم آپ کے قبلے کی طرف نمازیں نہیں پڑھتے تھے؟ کیا ہم کلمہ شہادت ادا نہیں کرتے تھے؟ آپ نے فرمایا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تم نے بحث تو چھیڑی لیکن اس میں تم ہار جاؤ گے سنو اللہ جل شانہ فرماتا ہے پھر آپ نے یہی تلاوت فرمائی یعنی تم نے ہجرت کیوں نہ کی؟ [تفسیر ابن جریر الطبری:10270:ضعیف و مرسل]
پھر جن لوگوں کو ہجرت کے چھوڑ دینے پر ملامت نہ ہو گی ان کا ذکر فرماتا ہے کہ جو لوگ مشرکین کے ہاتھوں سے نہ چھوٹ سکیں اور اگر کبھی چھوٹ بھی جائیں تو راستے کا علم انہیں نہیں ان سے اللہ تعالیٰ درگذر فرمائے گا،“عسی“ کلمہ اللہ کے کلام میں وجوب اور یقین کے لیے ہوتا ہے۔ اللہ درگذر کرنے والا اور بہت ہی معافی دینے والا ہے۔
صفحہ نمبر1888
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد سجدے میں جانے سے پہلے یہ دعا مانگی اے اللہ عیاش ابو ربیعہ کو , سلمہ بن ہشام کو , ولید بن ولید (رضی اللہ عنہم) کو اور تمام بے بس ناطاقت مسلمانوں کو کفار کے پنجے سے رہائی دے اے اللہ اپنا سخت عذاب قبیلہ مضر پر ڈال اے اللہ ان پر ایسی قحط سالی نازل فرما جیسی یوسف علیہ السلام کے زمانے میں آئی تھی۔ [صحیح بخاری:4598]
ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد قبلے کی طرف منہ کئے ہوئے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی اے اللہ ولید بن ولید کو ,عیاش بن ابو ربیعہ ,کو سلمہ بن ہشام (رضی اللہ عنہم) کو اور تمام ناتواں بےطاقت مسلمانوں کو اور جو بے حیلے کی طاقت رکھتے ہیں نہ راہ پانے کی کافروں کے ہاتھوں سے نجات دے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:5872/3:ضعیف]
ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کے بعد یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10280:ضعیف] اس حدیث کے شواہد صحیح میں بھی اس سند کے سوا اور سندوں میں بھی ہیں کہ جیسے کہ پہلے گذرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں اور میری والدہ ان ضعیف عورتوں اور بچوں میں تھے جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ ہمیں اللہ نے معذور رکھا۔ [صحیح بخاری:4597]
صفحہ نمبر1889
باب
ہجرت کی ترغیب دیتے ہوئے اور مشرکوں سے الگ ہونے کی ہدایات کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والا ہراساں نہ ہو وہ جہاں جائے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے اسباب پناہ تیار کر دے گا اور وہ بہ آرام وہاں اقامت کر سکے گا «مراغم» کے ایک معنی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے بھی ہیں۔
مجاہد فرماتے ہیں وہ اپنے دکھ سے بچاؤ کی بہت سی صورتیں پالے گا، امن کے بہت سے اسباب اسے مل جائیں گے، دشمنوں کے شر سے بچ جائے گا اور وہ روزی بھی پائے گا گمراہی کی جگہ ہدایت اسے ملے گی اس کی فقیری تونگری سے بدل جائے۔ ارشاد ہوتا ہے جو شخص بہ نیت ہجرت اپنے گھر سے نکلا پھر ہجرت گاہ پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں اسے موت آ گئی اسے بھی ہجرت کا کامل ثواب مل گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور ہرشخص کے لیے وہ ہے جو اس نے نیت کی پس جس کی ہجرت اللہ کی طرف اور اس کے رسول کی طرف ہو اس کی ہجرت اللہ کی رضا مندی اور رسول کی خوشنودی کا باعث ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو تو اسے اصل ہجرت کا ثواب نہ ملے گا بلکہ اس کی ہجرت اسی طرف سمجھی جائے گی۔ [صحیح بخاری:54] یہ حدیث عام ہے ہجرت وغیرہ تمام اعمال پر مشتمل ہے۔
صفحہ نمبر1891
بخاری و مسلم کی حدیث میں اس شخص کے بارے میں ہے جس نے ننانوے قتل کئے تھے پھر ایک عابد کو قتل کر کے سو پورے کئے پھر ایک عالم سے پوچھا کہ کیا اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ اس نے کہا تیری توبہ کے اور تیرے درمیان کوئی چیز حائل نہیں تو اپنی بستی سے ہجرت کر کے فلاں شہر چلا جا جہاں اللہ کے عابد بندے رہتے ہیں۔ چنانچہ یہ ہجرت کر کے اس طرف چلا راستہ میں ہی تھا جو موت آ گئی۔ رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں اس کے بارے میں اختلاف ہوا بحث یہ تھی کہ یہ شخص توبہ کر کے ہجرت کر کے مگر چلا تو سہی یہ وہاں پہنچا تو نہیں پھر انہیں حکم کیا گیا کہ وہ اس طرف کی اور اس طرف کی زمین ناپیں جس بستی سے یہ شخص قریب ہو اس کے رہنے والوں میں اسے ملا دیا جائے پھر زمین کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ بری بستی کی جانب سے دور ہو جا اور نیک بستی والوں کی طرف قریب ہو جا، جب زمین ناپی گئی تو توحید والوں کی بستی سے ایک بالشت برابر قریب نکلی اور اسے رحمت کے فرشتے لے گئے۔ [صحیح بخاری:3470]
ایک روایت میں ہے کہ موت کے وقت یہ اپنے سینے کے بل نیک لوگوں کی بستی کی طرف گھسیٹتا ہوا گیا۔ [صحیح مسلم:2766]
صفحہ نمبر1892
مسند احمد کی حدیث میں ہے ” جو شخص اپنے گھر سے اللہ کی راہ میں ہجرت کی نیت سے نکلا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تینوں انگلیوں یعنی کلمہ کی انگلی بیچ کی انگلی اور انگھوٹھے کو ملا کر کہا۔ پھر فرمایا کہاں ہیں مجاہد؟ پھر وہ اپنی سواری پر سے گر پڑا یا اسے کسی جانور نے کاٹ لیا یا اپنی موت مر گیا تو اس کا ہجرت کا ثواب اللہ کے ذمے ثابت ہو گیا۔ “ راوی کہتے ہیں اپنی موت مرنے کے لیے جو کلمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال کیا واللہ میں نے اس کلمہ کو آپ سے پہلے کسی عربی کی زبانی نہیں سنا اور جو شخص غضب کی حالت میں قتل کیا گیا وہ جگہ کا مستحق ہو گیا۔ [مسند احمد:36/4:ضعیف]
سیدنا خالد بن خرام رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے حبشہ کی طرف چلے لیکن راہ میں ہی انہیں ایک سانپ نے ڈس لیا اور اسی میں ان کی روح قبض ہو گئی ان کے بارے میں یہ آیت اتری۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں چونکہ ہجرت کر کے حبشہ پہنچ گیا اور مجھے ان کی خبر مل گئی تھی کہ یہ بھی ہجرت کر کے آ رہے ہیں اور میں جانتا تھا کہ قبیلہ بنو اسد سے ان کے سوا اور کوئی ہجرت کر کے آنے کا نہیں اور کم و بیش جتنے مہاجر تھے ان کے ساتھ رشتے کنبے کے لوگ تھے لیکن میرے ساتھ کوئی نہ تھا میں ان کا یعنی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا جو مجھے ان کی اس طرح کی اچانک شہادت کی خبر ملی تو مجھے بہت ہی رنج ہوا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:5888/3:حسن]
یہ اثر بہت ہی غریب ہے، یہ بھی وجہ ہے کہ یہ قصہ مکے کا ہے اور آیت مدینے میں اتری ہے۔ لیکن بہت ممکن ہے کہ راوی کا مقصود یہ ہو کہ آیت کا حکم عام ہے گو شان نزول یہ نہ ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر1893
اور روایت میں ہے کہ سیدنا ضمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے لیکن آپ کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں انتقال کر گئے ان کے بارے میں یہ آیت شریفہ نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:5889/3:]
اور روایت میں ہے کہ سیدنا سعد بن ابی ضمرہ رضی اللہ عنہ جن کو آنکھوں سے دکھائی نہ دیتا تھا جب وہ آیت «إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ» [4-النساء:98] سنتے ہیں تو کہتے ہیں میں مالدار ہوں اور چارہ کار بھی رکھتا ہوں مجھے ہجرت کرنی چاہیئے چنانچہ سامان سفر تیار کر لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل کھڑے ہوئے لیکن ابھی تنعیم میں ہی تھے جو موت آ گئی ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:5890/3:ضعیف]
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخض میری راہ میں غزوہ کرنے کے لیے نکلا صرف میرے وعدوں کو سچا جان کر اور میرے رسولوں پر ایمان رکھ کر بس وہ اللہ کی ضمانت میں ہے یا تو وہ لشکر کے ساتھ فوت ہو کر جنت میں پہنچے گا یا اللہ کی ضمانت میں واپس لوٹے گا اجر و غنیمت اور فضل رب لے کر۔ اگر وہ اپنی موت مر جائے یا مار ڈالا جائے یا گھوڑے سے گر جائے یا اونٹ پر سے گر پڑے یا کوئی زہریلا جانور کاٹ لے یا اپنے بستر پر کسی طرح فوت ہو جائے وہ شہید ہے۔ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:3418:ضعیف]
ابوداؤد میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ وہ جنتی ہے۔ [سنن ابوداود:2499،قال الشيخ الألباني:ضعیف] بعض الفاظ ابوداؤد میں نہیں ہیں۔
صفحہ نمبر1894
ابویعلیٰ میں ہے جو شخص حج کے لیے نکلا پھر مر گیا قیامت تک اس کے لیے حج کا ثواب لکھا جاتا ہے، جو عمرے کے لیے نکلا اور راستے میں فوت ہو گیا اس کے لیے قیامت تک عمرے کا اجر لکھا جاتا ہے۔ جو جہاد کے لیے نکلا اور فوت ہو گیا اس کے لیے قیامت تک کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ [مسند ابویعلیٰ:6357،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ] یہ حدیث بھی غریب ہے۔
صفحہ نمبر1895
باب
ہجرت کی ترغیب دیتے ہوئے اور مشرکوں سے الگ ہونے کی ہدایات کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والا ہراساں نہ ہو وہ جہاں جائے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے اسباب پناہ تیار کر دے گا اور وہ بہ آرام وہاں اقامت کر سکے گا «مراغم» کے ایک معنی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے بھی ہیں۔
مجاہد فرماتے ہیں وہ اپنے دکھ سے بچاؤ کی بہت سی صورتیں پالے گا، امن کے بہت سے اسباب اسے مل جائیں گے، دشمنوں کے شر سے بچ جائے گا اور وہ روزی بھی پائے گا گمراہی کی جگہ ہدایت اسے ملے گی اس کی فقیری تونگری سے بدل جائے۔ ارشاد ہوتا ہے جو شخص بہ نیت ہجرت اپنے گھر سے نکلا پھر ہجرت گاہ پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں اسے موت آ گئی اسے بھی ہجرت کا کامل ثواب مل گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور ہرشخص کے لیے وہ ہے جو اس نے نیت کی پس جس کی ہجرت اللہ کی طرف اور اس کے رسول کی طرف ہو اس کی ہجرت اللہ کی رضا مندی اور رسول کی خوشنودی کا باعث ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو تو اسے اصل ہجرت کا ثواب نہ ملے گا بلکہ اس کی ہجرت اسی طرف سمجھی جائے گی۔ [صحیح بخاری:54] یہ حدیث عام ہے ہجرت وغیرہ تمام اعمال پر مشتمل ہے۔
صفحہ نمبر1891
بخاری و مسلم کی حدیث میں اس شخص کے بارے میں ہے جس نے ننانوے قتل کئے تھے پھر ایک عابد کو قتل کر کے سو پورے کئے پھر ایک عالم سے پوچھا کہ کیا اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ اس نے کہا تیری توبہ کے اور تیرے درمیان کوئی چیز حائل نہیں تو اپنی بستی سے ہجرت کر کے فلاں شہر چلا جا جہاں اللہ کے عابد بندے رہتے ہیں۔ چنانچہ یہ ہجرت کر کے اس طرف چلا راستہ میں ہی تھا جو موت آ گئی۔ رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں اس کے بارے میں اختلاف ہوا بحث یہ تھی کہ یہ شخص توبہ کر کے ہجرت کر کے مگر چلا تو سہی یہ وہاں پہنچا تو نہیں پھر انہیں حکم کیا گیا کہ وہ اس طرف کی اور اس طرف کی زمین ناپیں جس بستی سے یہ شخص قریب ہو اس کے رہنے والوں میں اسے ملا دیا جائے پھر زمین کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ بری بستی کی جانب سے دور ہو جا اور نیک بستی والوں کی طرف قریب ہو جا، جب زمین ناپی گئی تو توحید والوں کی بستی سے ایک بالشت برابر قریب نکلی اور اسے رحمت کے فرشتے لے گئے۔ [صحیح بخاری:3470]
ایک روایت میں ہے کہ موت کے وقت یہ اپنے سینے کے بل نیک لوگوں کی بستی کی طرف گھسیٹتا ہوا گیا۔ [صحیح مسلم:2766]
صفحہ نمبر1892
مسند احمد کی حدیث میں ہے ” جو شخص اپنے گھر سے اللہ کی راہ میں ہجرت کی نیت سے نکلا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تینوں انگلیوں یعنی کلمہ کی انگلی بیچ کی انگلی اور انگھوٹھے کو ملا کر کہا۔ پھر فرمایا کہاں ہیں مجاہد؟ پھر وہ اپنی سواری پر سے گر پڑا یا اسے کسی جانور نے کاٹ لیا یا اپنی موت مر گیا تو اس کا ہجرت کا ثواب اللہ کے ذمے ثابت ہو گیا۔ “ راوی کہتے ہیں اپنی موت مرنے کے لیے جو کلمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال کیا واللہ میں نے اس کلمہ کو آپ سے پہلے کسی عربی کی زبانی نہیں سنا اور جو شخص غضب کی حالت میں قتل کیا گیا وہ جگہ کا مستحق ہو گیا۔ [مسند احمد:36/4:ضعیف]
سیدنا خالد بن خرام رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے حبشہ کی طرف چلے لیکن راہ میں ہی انہیں ایک سانپ نے ڈس لیا اور اسی میں ان کی روح قبض ہو گئی ان کے بارے میں یہ آیت اتری۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں چونکہ ہجرت کر کے حبشہ پہنچ گیا اور مجھے ان کی خبر مل گئی تھی کہ یہ بھی ہجرت کر کے آ رہے ہیں اور میں جانتا تھا کہ قبیلہ بنو اسد سے ان کے سوا اور کوئی ہجرت کر کے آنے کا نہیں اور کم و بیش جتنے مہاجر تھے ان کے ساتھ رشتے کنبے کے لوگ تھے لیکن میرے ساتھ کوئی نہ تھا میں ان کا یعنی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا جو مجھے ان کی اس طرح کی اچانک شہادت کی خبر ملی تو مجھے بہت ہی رنج ہوا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:5888/3:حسن]
یہ اثر بہت ہی غریب ہے، یہ بھی وجہ ہے کہ یہ قصہ مکے کا ہے اور آیت مدینے میں اتری ہے۔ لیکن بہت ممکن ہے کہ راوی کا مقصود یہ ہو کہ آیت کا حکم عام ہے گو شان نزول یہ نہ ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر1893
اور روایت میں ہے کہ سیدنا ضمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے لیکن آپ کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں انتقال کر گئے ان کے بارے میں یہ آیت شریفہ نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:5889/3:]
اور روایت میں ہے کہ سیدنا سعد بن ابی ضمرہ رضی اللہ عنہ جن کو آنکھوں سے دکھائی نہ دیتا تھا جب وہ آیت «إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ» [4-النساء:98] سنتے ہیں تو کہتے ہیں میں مالدار ہوں اور چارہ کار بھی رکھتا ہوں مجھے ہجرت کرنی چاہیئے چنانچہ سامان سفر تیار کر لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل کھڑے ہوئے لیکن ابھی تنعیم میں ہی تھے جو موت آ گئی ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:5890/3:ضعیف]
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخض میری راہ میں غزوہ کرنے کے لیے نکلا صرف میرے وعدوں کو سچا جان کر اور میرے رسولوں پر ایمان رکھ کر بس وہ اللہ کی ضمانت میں ہے یا تو وہ لشکر کے ساتھ فوت ہو کر جنت میں پہنچے گا یا اللہ کی ضمانت میں واپس لوٹے گا اجر و غنیمت اور فضل رب لے کر۔ اگر وہ اپنی موت مر جائے یا مار ڈالا جائے یا گھوڑے سے گر جائے یا اونٹ پر سے گر پڑے یا کوئی زہریلا جانور کاٹ لے یا اپنے بستر پر کسی طرح فوت ہو جائے وہ شہید ہے۔ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:3418:ضعیف]
ابوداؤد میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ وہ جنتی ہے۔ [سنن ابوداود:2499،قال الشيخ الألباني:ضعیف] بعض الفاظ ابوداؤد میں نہیں ہیں۔
صفحہ نمبر1894
ابویعلیٰ میں ہے جو شخص حج کے لیے نکلا پھر مر گیا قیامت تک اس کے لیے حج کا ثواب لکھا جاتا ہے، جو عمرے کے لیے نکلا اور راستے میں فوت ہو گیا اس کے لیے قیامت تک عمرے کا اجر لکھا جاتا ہے۔ جو جہاد کے لیے نکلا اور فوت ہو گیا اس کے لیے قیامت تک کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ [مسند ابویعلیٰ:6357،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ] یہ حدیث بھی غریب ہے۔
صفحہ نمبر1895
صلوۃ قصر ؟ ٭٭
فرمان الٰہی ہے کہ تم کہیں سفر میں جا رہے ہو۔ یہی الفاظ سفر کے لیے سورۃ مزمل میں بھی آئے ہیں «عَلِمَ أَن سَيَكُونُ مِنكُم مَّرْضَىٰ ۙ وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ اللَّـهِ» [73-المزمل:20] ۔ تو تم پر نماز کی تخفیف کرنے میں کوئی گناہ نہیں، یہ کمی یا تو کمیت میں یعنی بجائے چار رکعت کے دو رکعت ہے جیسے کہ جمہور نے اس آیت سے سمجھا ہے گو پھر ان میں بعض مسائل میں اختلاف ہوا ہے بعض تو کہتے ہیں یہ شرط ہے کہ سفر اطاعت کا ہو مثلاً جہاد کے لیے یا حج و عمرے کے لیے یا طلب و زیارت کے لیے وغیرہ۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما عطاء، یحییٰ رحمہ اللہ علیہما اور ایک روایت کی رو سے امام مالک رحمہ اللہ کا یہی قول ہے، کیونکہ اس سے آگے فرمان ہے اگر تمہیں کفار کی ایذاء رسانی کا خوف ہو، بعض کہتے ہیں اس قید کی کوئی ضرورت نہیں کہ سفر قربت الٰہیہ کا ہو بلکہ نماز کی کمی ہر مباح سفر کے لیے ہے جیسے اضطرار اور بے بسی کی صورت میں مردار کھانے کی اجازت ہے۔ ہاں یہ شرط ہے کہ سفر معصیت کا نہ ہو، امام شافعی، امام احمد رحمہ اللہ علیہما وغیرہ ائمہ کا یہی قول ہے، ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میں تجارت کے سلسلے میں دریائی سفر کرتا ہوں تو آپ نے اسے دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا، یہ حدیث مرسل ہے۔
صفحہ نمبر1897
بعض لوگوں کا مذہب ہے کہ ہر سفر میں نماز کو قصر کرنا جائز ہے سفر خواہ مباح ہو خواہ ممنوع ہو یہاں تک کہ اگر کوئی ڈاکہ ڈالنے کے لیے اور مسافروں کو ستانے کے لیے نکلا ہوا ہے اسے بھی نماز قصر کرنے کی اجازت ہے، ابوحنیفہ ثوری اور داؤد رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے کہ آیت عام ہے، لیکن یہ قول جمہور کے قول کے خلاف ہے۔ کفار سے ڈر کی جو شرط لگائی ہے یہ باعتبار اکثریت کے ہے آیت کے نازل ہونے کے وقت چونکہ عموماً یہی حال تھا اس لیے آیت میں بھی اسے بیان کر دیا گیا،
ہجرت کے بعد سفر مسلمانوں کے سب کے سب خوف والے ہی ہوتے تھے قدم قدم پر دشمن کا خطرہ رہتا تھا بلکہ مسلمان سفر کے لیے نکل ہی نہ سکتے تھے بجز اس کے کہ یا تو جہاد کو جائیں یا کسی خاص لشکر کے ساتھ جائیں اور یہ قاعدہ ہے کہ جب منطوق بہ اعتبار غالب کے آئے تو اس کا مفہوم معتبر نہیں ہوتا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا» [24-النور:33] ” اپنی لونڈیوں کو بدکاری کے لیے مجبور نہ کرو اگر وہ پاکدامنی کرنا چاہیں۔ “
اور جیسے فرمایا «وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَائِكُمُ» [4-النساء:23] ” ان کی بیٹیاں جو تمہاری پرورش میں ہیں جن عورتوں سے تم نے صحبت کی ہے۔ “ پس جیسے کہ ان دونوں آیتوں میں قید کا بیان ہے لیکن اس کے ہونے پر ہی حکم کا دارومدار نہیں بلکہ بغیر اس کے بھی حکم وہی ہے یعنی لونڈیوں کو بدکاری کے لیے مجبور کرنا حرام ہے چاہے وہ پاکدامنی چاہتی ہوں یا نہ چاہتی ہو۔
اسی طرح اس عورت کی لڑکی حرام ہے جس سے نکاح ہوکر صحبت ہو گئی ہو خواہ وہ اسکی پرورش میں ہو یا نہ ہو، حالانکہ دونوں جگہ قرآن میں یہ قید موجود ہے، پس جس طرح ان دونوں موقعوں میں بغیر ان قیود کے بھی حکم یہی ہے اسی طرح یہاں بھی گو خوف نہ ہو تو بھی محض سفر کی وجہ سے نماز کو قصر کرنا جائز ہے۔
صفحہ نمبر1898
مسند احمد میں ہے کہ یعلیٰ بن امیہ رحمہ اللہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نماز کی تخفیف کا حکم تو خوف کی حالت میں ہے اور اب تو امن ہے؟ عمر نے جواب دیا کہ یہی خیال مجھے ہوا تھا اور یہی سوال میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا تو آپ نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کا صدقہ ہے جو اس نے تمہیں دیا ہے تم اس کے صدقے کو قبول کرو۔ مسلم اور سنن وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے بالکل صحیح روایت ہے۔ [صحیح مسلم:686]
صفحہ نمبر1899
ابوحنظلہ حذاء رحمہ اللہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سفر کی نماز کا پوچھا تو آپ نے فرمایا دو رکعت ہیں انہوں نے کہا قرآن میں تو خوف کے وقت دو رکعت ہیں اور اس وقت تو پوری طرح امن و امان ہے تو آپ نے فرمایا یہی سنت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ [ابن ابی شیبہ:337/2:صحیح] ایک اور شخص کے سوال پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا آسمان سے تو یہ رخصت اتر چکی ہے اب اگر تم چاہو تو اسے لوٹا دو۔
صفحہ نمبر1900
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکہ اور مدینہ کے درمیان ہم نے باوجود امن کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعت پڑھیں [سنن ترمذي:547،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکے کی طرف چلے تو اللہ کے سوا کسی سے خوف نہ تھا اور آپ برابر دو رکعت ہی ادا فرماتے رہے۔ بخاری کی حدیث میں ہے کہ واپسی میں بھی یہی دو رکعت آپ پڑھتے رہے اور مکے میں اس سفر میں آپ نے دس روز قیام کیا تھا۔ [صحیح بخاری:1081]
مسند احمد میں سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منی میں ظہر کی اور عصر کی نماز دو دو رکعت پڑھی ہیں حالانکہ اس وقت ہم بکثرت تھے اور نہایت ہی پر امن تھے۔ [صحیح بخاری:1083]
صفحہ نمبر1901
صحیح بخاری میں ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اورسیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ (سفر میں) دو رکعت پڑھی ہیں لیکن اپنی خلافت کے آخری زمانے میں پوری پڑھنے لگے ہیں۔
بخاری کی روایت میں ہے کہ جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی چار رکعات کا ذکر آیا تو آپ نے «اناللہ» الخ، پڑھ کر فرمایا میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی منی میں دو رکعت پڑھی ہیں اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی کاش کہ بجائے ان چار رکعات کے میرے حصے میں دو ہی مقبول رکعات آئیں۔ [صحیح بخاری:1084]
پس یہ حدیثیں کھلم کھلا دلیل ہیں اس بات کی کہ سفر کی دو رکعات کے لیے خوف کا ہونا شرط نہیں بلکہ نہایت امن و اطمینان کے سفر میں بھی دو گانہ ادا کر سکتا ہے۔
صفحہ نمبر1902
اسی لیے بعض علماء کرام نے فرمایا ہے کہ یہاں کیفیت میں یعنی قرآت، قومہ، رکوع، سجود وغیرہ میں قصر اور کمی مراد ہے نہ کہ کمیت میں یعنی تعداد رکعات میں تخفیف کرنا، ضحاک، مجاہد اور سدی رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے جیسے کہ آ رہا ہے، اس کی ایک دلیل امام مالک رحمہ اللہ کی روایت کردہ یہ حدیث بھی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نماز دو دو رکعتیں ہی سفر حضر میں فرض کی گئی تھی پھر سفر میں تو وہی دو رکعتیں رہیں اور اقامت کی حالت میں دو اور بڑھا دی گئیں۔ [صحیح بخاری:350]
پس علماء کی یہ جماعت کہتی ہے کہ اصل نماز دو رکعتیں تھی تو پھر اس آیت میں قصر سے مراد کمیت یعنی رکعتوں کی تعداد میں کمی کیسے ہو سکتی ہے؟ اس قول کی بہت بڑی تائید صراحتاً اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو مسند احمد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہے کہ بزبان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کی دو رکعتیں ہیں اور ضحیٰ کی نماز بھی دو رکعت ہے اور عید الفطر کی نماز بھی دو رکعت ہے اور جمعہ کی نماز بھی دو رکعت ہے یہ یہی پوری نماز ہے قصر والی نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:1063،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ حدیث نسانی، ابن ماجہ اور صحیح ابن حبان میں بھی ہے اس کی سند بشرط مسلم ہے۔ اس کے راوی ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت ہے جیسے کہ امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح کے مقدمہ میں لکھا ہے اور خود اس روایت میں اور اس کے علاوہ بھی صراحتاً موجود ہے اور یہی ٹھیک بھی ہے ان شاءاللہ۔ گو بعض محدثین سننے پر فیصلہ دینے کے قائل نہیں، لیکن اسے مانتے ہوئے بھی اس سند میں کمی واقع نہیں ہوتی کیونکہ بعض طرق میں ابن ابی لیلیٰ کا ایک ثقہ سے اور ان کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سننا مروی ہے، اور ابن ماجہ میں ان کا کعب بن عجرہ سے روایت کرنا بھی مروی ہے۔ «فَاللہُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر1903
مسلم وغیرہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی نماز کو اقامت کی حالت میں چار رکعت فرض کی ہے اور سفر میں دو رکعت اور خوف میں ایک رکعت۔ [صحیح مسلم:687]
پس جیسے کہ قیام میں اس سے پہلے اور اس کے پیچھے نماز پڑھتے تھے یا پڑھی جاتی تھی اسی طرح سفر میں بھی اور اس روایت میں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا والی روایت میں جو اوپر گذری کہ حضر میں اللہ تعالیٰ نے دو رکعتیں ہی فرض کی تھیں گویا منافات نہیں اس لیے کہ اصل دو ہی تھیں بعد میں دو اور بڑھا دی گئیں پھر حضر کی چار رکعت ہو گئیں تو اب کہہ سکتے ہیں کہ اقامت کی حالت میں فرض چار رکعتیں ہیں۔ جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس روایت میں ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» 1۔
صفحہ نمبر1904
الغرض یہ دونوں روایتیں اسے ثابت کرتی ہیں کہ سفر میں دو رکعت نماز ہی پوری نماز ہے کم نہیں اور یہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی روایت سے بھی ثابت ہو چکا ہے۔ مراد اس میں قصر کمیت ہے جیسے کہ صلوٰۃ خوف میں ہے اسی لیے فرمایا ہے اگر تم ڈرو اس بات سے کہ کافر تمہیں فتنے میں ڈال دیں گے اور اس کے بعد فرمایا جب تو ان میں ہو اور نماز پڑھو تو بھی۔
پھر قصر کا مقصود صفت اور کیفیت بھی بیان فرما دی امام المحدثین بخاری رحمہ اللہ نے کتاب صلوٰۃ خوف کو اسی آیت «وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ إِنَّ الْكَافِرِينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِينًا» [4-النساء:101] تک لکھ کر شروع کیا ہے،
ضحاک رحمہ اللہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ لڑائی کے وقت ہے انسان اپنی سواری پر نماز دو تکبیریں پڑھ لے اس کا منہ جس طرف بھی ہو اسی طرف صحیح ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفر میں جب تو نے دو رکعت پڑھیں تو وہ قصر کی پوری مقدار ہے ہاں جب کافروں کی فتنہ انگیزی کا خوف ہو تو ایک ہی رکعت قصر ہے اور یہ بجز ایسے خوف کے وقت کے حلال نہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس آیت سے مراد وہ دن ہے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عسفان میں تھے اور مشرک ضجنان میں تھے ایک دوسرے سے برسر پیکار بالکل تیار ادھر ظہر کی نماز کا وقت آگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ حسب معمول چار رکعتیں پوری ادا کیں پھر مشرکین نے سامان و اسباب کو لوٹ لینے کر ارادہ کیا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:5895/3]
ابن جریر اسے مجاہد اور سدی رحمہ اللہ علیہما اور سیدنا جابر اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں اور اسی کو اختیار کرتے ہیں اور اسی کو کہتے ہیں کہ یہی ٹھیک ہے۔
صفحہ نمبر1905
سیدنا خالد بن اسید سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے کہتے ہیں صلوٰۃ خوف کے قصر کا حکم تو ہم کتاب اللہ میں پاتے ہیں لیکن صلوٰۃ مسافر کے قصر کا حکم کتاب اللہ میں نہیں ملتا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جواب دیتے ہیں ہم نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں نماز کو قصر کرتے ہوئے پایا اور ہم نے بھی اس پر عمل کیا۔ [سنن ابن ماجہ:1066،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1906
خیال فرمائیے کہ اس میں قصر کا اطلاق صلوٰۃ خوف پر کیا اور آیت سے مراد بھی صلوٰۃ خوف لی اور صلوٰۃ مسافر کو اس میں شامل نہیں کیا اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اس کا اقرار کیا۔ اس آیت سے مسافرت کی نماز کا قصر بیان نہیں فرمایا بلکہ اس کے لیے فعل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سند بتایا۔
اس سے زیادہ صراحت والی روایت ابن جریر کی ہے کہ سماک رحمہ اللہ آپ سے صلوٰۃ پوچھتے ہیں آپ فرماتے ہیں سفر کی نماز دو رکعت ہے اور یہی دو رکعت سفر کی پوری نماز ہے قصر نہیں، قصر تو صلوۃ خوف میں ہے کہ امام ایک جماعت کو ایک رکعت پڑھاتا ہے دوسری جماعت دشمن کے سامنے ہے پھر یہ چلے گئے وہ آ گئے ایک رکعت امام نے انہیں پڑھائی تو امام کی دو رکعت ہوئیں اور ان دونوں جماعتوں کی ایک ایک رکعت ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10332]
صفحہ نمبر1907
صلوۃ خوف کے مسائل ٭٭
نماز خوف کی کئی قسمیں مختلف صورتیں اور حالتیں ہیں، کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ دشمن قبلہ کی طرف کبھی دشمن دوسری جانب ہوتا ہے، نماز بھی کبھی چار رکعت ہوتی ہے کبھی تین رکعت جیسے مغرب اور فجر کی دو صلوٰۃ سفر، کبھی جماعت سے ادا کرنی ممکن ہوتی ہے کبھی لشکر اس طرح باہم گتھے ہوئے ہوتے ہیں کہ نماز با جماعت ممکن ہی نہیں ہوتی۔
بلکہ الگ الگ قبلہ کی طرف اور غیر قبلہ کی طرف پیدل اور سوار جس طرح ممکن ہو پڑھی جاتی ہے بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے جو جائز بھی ہے کہ دشمنوں کے حملوں سے بچتے بھی جائیں ان پر برابر حملے بھی کرتے جائیں اور نماز بھی ادا کرتے جائیں، ایسی حالت میں صرف ایک رکعت ہی نماز پڑھی جاتی ہے جس کے جواز میں علماء کا فتویٰ ہے اور دلیل سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے جو اس سے اگلی آیت کی تفسیر میں بیان ہو چکی ہے عطا، جابر، حسن، مجاہد، حکم، قتادہ، حماد، طاؤس، ضحاک، محمد بن نصر، مروزی، ابن حزم رحمہ اللہ علیہم اجمعین کا یہی فتویٰ ہے، صبح کی نماز میں ایک ہی رکعت اس حالت میں رہ جاتی ہے، اسحٰق راہویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسی دوڑ دھوپ کے وقت ایک ہی رکعت کافی ہے۔ ارشاد ہے ادا کر لے اگر اس قدر پر بھی قادریہ نہ ہو تو سجدہ کر لے یہ بھی ذکر اللہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں صرف ایک تکبیر ہی کافی ہے لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ ایک سجدہ اور ایک تکبیر سے مراد بھی ایک رکعت ہو۔ جیسے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کا فتویٰ ہے اور یہی قول ہے جابر بن عبداللہ، عبداللہ بن عمر کعب وغیرہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کا۔ سدی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں۔
صفحہ نمبر1908
لیکن جن لوگوں کا قول صرف ایک تکبیر کا ہی بیان ہوا ہے اس کا بیان کرنے والے اسے پوری رکعت پر محمول نہیں کرتے بلکہ صرف تکبیر ہی جو ظاہر ہے مراد لیتے ہیں جیسے کہ اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔
امیر عبدالوہاب بن بخت مکی رحمہ اللہ بھی اسی طرف گئے ہیں وہ یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر اس پر بھی قدرت نہ ہو تو اسے اپنے نفس میں بھی نہ چھوڑے یعنی نیت ہی کر لے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ (لیکن صرف نیت کے کر لینے یا صرف اللہ اکبر کہہ لینے پر اکتفا کرنے یا صرف ایک ہی سجدہ کر لینے کی کوئی دلیل قرآن حدیث سے نظر سے نہیں گذری۔ واللہ اعلم مترجم)
صفحہ نمبر1909
بعض علماء نے ایسے خاص اوقات میں نماز کو تاخیر کر کے پڑھنے کی رخصت بھی دی ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خندق میں سورج ڈوب جانے کے بعد ظہر عصر کی نماز پڑھی تھی پھر مغرب عشاء، [سنن ترمذي:179،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر اس کے بعد بنو قریظہ کی جنگ کے دن ان کی طرف جنہیں بھیجا تھا انہیں تاکید کر دی تھی کہ تم میں سے کوئی بھی بنو قریظہ تک پہنچنے سے پہلے عصر کی نماز نہ پڑھے یہ جماعت ابھی راستے میں ہی تھی تو عصر کا وقت آ گیا۔ بعض نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد اس فرمان سے صرف یہی تھا کہ ہم جلدی بنو قریظہ پہنچیں نہ یہ کہ نماز کا وقت ہو جائے تو بھی نماز نہ پڑھیں چنانچہ ان لوگوں نے تو راستے میں ہی بروقت نماز ادا کرلی اوروں نے بنوقریظہ پہنچ کر نماز پڑھی جبکہ سورج غروب ہو چکا تھا۔ جب اس بات کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تو آپ نے دونوں جماعتوں میں سے کسی ایک کو بھی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی۔ [صحیح بخاری:4119]
ہم نے اس پر تفصیلی بحث اپنی کتاب السیرۃ میں کی ہے اور اسے ثابت کیا ہے کہ صحیح بات کے قریب وہ جماعت تھی جنہوں نے وقت پر نماز ادا کر لی گو دوسری جماعت بھی معذور تھی، مقصود یہ ہے کہ اس جماعت نے جہاد کے موقعہ پر دشمنوں پر تاخت کرتے ہوئے ان کے قلعے کی طرف یورش جاری رکھتے ہوئے نماز کو مؤخر کر دیا، دشمنوں کا یہ گروہ ملعون یہودیوں کا تھا جنہوں نے عہذ توڑ دیا تھا اور صلح کے خلاف کیا تھا۔ لیکن جمہور کہتے ہیں صلوٰۃ خوف کے نازل ہونے سے یہ سب منسوخ ہو گیا یہ واقعات اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کے ہیں صلوۃ خوف کے حکم کے بعد اب جہاد کے وقت نماز کو وقت سے ٹالنا جائز نہیں رہا۔
صفحہ نمبر1910
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کی روایت سے بھی یہی ظاہر ہے جسے شافعی رحمہ اللہ نے مروی کیا ہے، لیکن صحیح بخاری کے باب «الصلوۃ عند منا ھضتہ الحصون» میں ہے کہ اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر فتح کی تیاری ہو اور نماز با جماعت کا امکان نہ ہو تو ہر شخص الگ الگ اپنی اپنی نماز اشارے سے ادا کر لے۔
اگر یہ بھی نہ ہو سکتا ہو تو نماز میں تاخیر کر لیں یہاں تک کہ جنگ ختم ہو یا امن ہو جائے اس وقت دو رکعتیں پڑھ لیں اور اگر امن نہ ملے تو ایک رکعت ادا کر لیں صرف تکبیر کا کہہ لینا کافی نہیں۔ ایسا ہو تو نماز کو دیر کر کے پڑھیں جبکہ اطمینان نصیب ہو جائے مکحول رحمہ اللہ کا فرمان بھی یہی ہے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تستر کے قلعہ کے محاصرے میں میں موجود تھا صبح صادق کے وقت دست بدست جنگ شروع ہوئی اور سخت گھمسان کا رن پڑا ہم لوگ نماز نہ پڑھ سکے اور برابر جہاد میں مشغول رہے جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں قلعہ پر قابض کر دیا اس وقت ہم نے دن چڑھے نماز پڑھی۔ اس جنگ میں ہمارے امام سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ تھے سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس نماز کے متبادل ساری دنیا کی تمام چیزیں بھی مجھے خوش نہیں کر سکتیں۔
صفحہ نمبر1911
امام بخاری رحمہ اللہ اس کے بعد جنگ خندق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نمازوں کو تاخیر کرنے کا ذکر کرتے ہیں پھر بنو قریظہ والا واقعہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ تم بنو قریظہ پہنچنے سے پہلے عصر کی نماز نہ پڑھنا وارد کرتے ہیں گویا امام ہمام امام بخاری رحمہ اللہ اسی سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایسی اشد لڑائی اور پورے خطرے اور قرب فتح کے موقع پر اگر نماز مؤخر ہو جائے تو کوئی حرج نہیں۔
صفحہ نمبر1912
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ والا فتح تستر کا واقعہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے کا ہے اور یہ منقول نہیں کہ خلیفۃ المسلمین نے یا کسی اور صحابی رضی اللہ عنہ نے اس پر اعتراض کیا ہو اور یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ خندق کے موقع پر بھی صلوٰۃ خوف کی آیتیں موجود تھیں اس لیے کہ یہ آیتیں غزوہ ذات الرقاع میں نازل ہوئی ہیں اور یہ غزوہ غزوہ خندق سے پہلے کا ہے اور اس پر جمہور علماء سیر و مغازی کا اتفاق ہے، محمد بن اسحٰق، موسیٰ بن عقبہ واقدی، محمد بن سعد، کاتب واقدی اور خطیفہ بن خیاط رحمہ اللہ علیہم وغیرہ بھی اسی کے قائل ہیں،۔
صفحہ نمبر1913
ہاں امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ کا قول ہے کہ غزوہ ذات الرقاع خندق کے بعد ہوا تھا بہ سبب بحوالہ حدیث سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے اور یہ خود خیبر میں ہی آئے تھے «وَاللهُ اَعْلَمُ»، لیکن سب سے زیادہ تعجب تو اس امر پر ہے کہ قاضی ابو یوسف مزنی ابراہیم بن اسمٰعیل بن علیہ رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ صلوۃ خوف منسوخ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوہ خندق میں میں دیر کر کے نماز پڑھنے سے۔
یہ قول بالکل ہی غریب ہے اس لیے کہ غزوہ خندق کے بعد کی صلوۃ خوف کی حدیثیں ثابت ہیں، اس دن کی نماز کی تاخیر کو مکحول اور اوزاعی رحمہ اللہ علیہما کے قول پر ہی محمول کرنا زیادہ قوی اور زیادہ درست ہے یعنی ان کا وہ قول جو بحوالہ بخاری بیان ہوا کہ قرب فتح اور عدم امکان صلوۃ خوف کے باوجود تاخیر جائز ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر1914
آیت میں حکم ہوتا ہے کہ جب تو انہیں باجماعت نماز پڑھائے۔ یہ حالت پہلی کے سوا ہے اس وقت یعنی انتہائی خوف کے وقت تو ایک ہی رکعت جائز ہے اور وہ بھی الگ، الگ، پیدل سوار قبلہ کی طرف منہ کر کے یا نہ کر کے، جس طرح ممکن ہو، جیسے کہ حدیث گذر چکی ہے۔ یہ امامت اور جماعت کا حال بیان ہو رہا ہے جماعت کے واجب ہونے پر یہ آیت بہترین اور مضبوط دلیل ہے کہ جماعت کی وجہ سے بہت کمی کر دی گئی۔
اگر جماعت واجب نہ ہوتی تو صرف ایک رکعت جائز نہ کی جاتی۔ بعض نے اس سے ایک اور استدلال بھی کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اس میں چونکہ یہ لفظ ہیں کہ جب تو ان میں ہو اور یہ خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے تو معلوم ہوا کہ صلوۃ خوف کا حکم آپ کے بعد منسوخ ہے، یہ استدلال بالکل ضعیف ہے۔
صفحہ نمبر1915
یہ استدلال تو ایسا ہی ہے جیسا استدلال ان لوگوں کا تھا جو زکوٰۃ کو خلفائے راشدین سے روک بیٹھے تھے اور کہتے تھے کہ قرآن میں ہے «خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ ۗ وَاللَّـهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» [9-التوبة:103] یعنی ” تو ان کے مالوں سے زکوٰۃ لے جس سے تو انہیں پاک صاف کرے اور تو ان کے لیے رحمت کی دعا کر تیری دعا ان کے لیے باعث تسکین ہے “۔
تو ہم آپ کے بعد کسی کو زکوٰۃ نہ دیں گے بلکہ ہم آپ اپنے ہاتھ سے خود جسے چاہیں دیں گے اور صرف اسی کو دیں گے جس کو دعا ہمارے لیے سبب سکون بنے۔ لیکن یہ استدلال ان کا بے معنی تھا اسی لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے رد کر دیا اور انہیں مجبور کیا کہ یہ زکوٰۃ ادا کریں بلکہ ان میں سے جن لوگوں نے اسے روک لیا تھا ان سے جنگ کی۔ آئیے ہم آیت کی صفت بیان کرنے سے پہلے اس کا شان نزول بیان کر دیں۔
صفحہ نمبر1916
ابن جریر میں ہے کہ بنو نجار کی ایک قوم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہم برابر اِدھر اُدھر آمد و رفت کیا کرتے ہیں، ہم نماز کس طرح پڑھیں تو اللہ عزوجل نے اپنا یہ قول نازل فرمایا «وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ» [4-النساء:101]
اس کے بعد سال بھر تک کوئی حکم نہ آیا پھر جبکہ آپ ایک غزوے میں ظہر کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو مشرکین کہنے لگے افسوس کیا ہی اچھا موقعہ ہاتھ سے جاتا رہا کاش کہ نماز کی حالت میں ہم یکبارگی ان پر حملہ کر دیتے۔ اس پر بعض مشرکین نے کہا یہ موقعہ تو تمہیں پھر بھی ملے گا اس کے تھوڑی دیر بعد ہی یہ دوسری نماز [ یعنی نماز عصر ] کے لیے کھڑے ہوں گے،
لیکن اللہ تعالیٰ نے عصر کی نماز سے پہلے اور ظہر کی نماز کے بعد «إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ إِنَّ الْكَافِرِينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِينًا» [4-النساء:101] والی پوری دو آیتوں تک نازل فرما دیں اور کافر ناکام رہے خود اللہ تعالیٰ و قدوس نے صلوۃ خوف کی تعلیم دی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10319:ضعیف] گویہ سیاق نہایت ہی غریب ہے لیکن اسے مضبوط کرنے والی اور روایتیں بھی ہیں۔
صفحہ نمبر1917
سیدنا ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عسفان میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس وقت اسلام نہیں لائے تھے اور مشرکین کے لشکر کے سردار تھے یہ لوگ ہمارے سامنے پڑاؤ ڈالے تھے تب ہم نے قبلہ رخ، ظہر کی نماز جب ہم نے ادا کی تو مشرکوں کے منہ میں پانی بھر آیا اور وہ کہنے لگے افسوس ہم نے موقعہ ہاتھ سے کھو دیا وقت تھا کہ یہ نماز میں مشغول تھے اِدھر ہم ان پر دفعتاً دھاوا بول دیتے
پھر ان میں کے بعض جاننے والوں نے کہا خیر کوئی بات نہیں اس کے بعد ان کی ایک اور نماز کا وقت آ رہا ہے اور وہ نماز تو انہیں اپنے بال بچوں سے بلکہ اپنی جانوں سے بھی زیاہ عزیز ہے اس وقت سہی۔ پس ظہر عصر کے درمیان اللہ عزوجل نے جبرائیل علیہ السلام کو نازل فرمایا اور «وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ» [4-النساء:102] اتاری۔
چنانچہ عصر کی نماز کے وقت ہمیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہم نے ہتھیار سجا لیے اور اپنی دو صفوں میں سے پہلی صف آپ کے ساتھ سجدے میں گئی اور دوسری صف کھڑی کی کھڑی ان کی نگہبانی کرتی رہی جب سجدوں سے فارغ ہو کر یہ لوگ کھڑے ہو گئے تو اب دوسری صف والے سجدے میں گئے جب یہ دونوں سجدے کر چلے تو اب پہلی صف والے دوسری صف کی جگہ چلے گئے اور دوسری صف والے پہلی صف والوں کی جگہ آ گئے، پھر قیام رکوع اور قومہ سب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی ساتھ ادا کیا اور جب آپ سجدے میں گئے تو صف اول آپ کے ساتھ سجدے میں گئی اور دوسری صف والے کھڑے ہوئے پہرہ دیتے رہے جب یہ سجدوں سے فارغ ہو گئے اور التحیات میں بیٹھے تب دوسری صف کے لوگوں نے سجدے کئے اور التحیات میں سب کے سب ساتھ مل گئے اور سلام بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب نے ایک ساتھ پھیرا۔ صلوٰۃ خوف ایک بار تو آپ نے یہاں عسفان میں پڑھی اور دوسری مرتبہ بنو سلیم کی زمین میں۔
صفحہ نمبر1918
یہ حدیث مسند احمد ابوداؤد اور نسائی میں بھی ہے۔ [] [مسند احمد:59/4،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس کی اسناد صحیح ہے اور شاہد بھی بکثرت ہیں بخاری میں بھی یہ روایت اختصار کے ساتھ ہے اور اس میں ہے باوجود یکہ سب لوگ نماز میں تھے لیکن ایک دوسرے کی چوکیداری کر رہے تھے۔ [صحیح بخاری:944]
ابن جریر میں ہے کہ سیدنا سلیمان بن قیس یشکری رضی اللہ عنہ نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا نماز کے قصر کرنے کا حکم کب نازل ہوا؟ تو آپ نے فرمایا قریشیوں کا ایک قافلہ شام سے آ رہا تھا ہم اس کی طرف چلے۔ وادی نخل میں پہنچے تو ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہچ گیا اور کہنے لگا کیا آپ مجھ سے ڈرتے نہیں؟ آپ نے فرمایا نہیں اس نے کہا آپ کو مجھ سے اس وقت کون بچا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ مجھے تجھ سے بچا لے گا پھر تلوار کھینچ لی اور ڈرایا دھمکایا، پھر کوچ کی منادی ہوئی اور آپ ہتھیار سجا کر چلے۔ پھر اذان ہوئی اور صحابہ دو حصوں میں تقسیم ہو گئے ایک حصہ آپ کے ساتھ نماز ادا کر رہا تھا اور دوسرا حصہ پہرہ دے رہا تھا جو آپ کے متصل تھے وہ دو رکعت آپ کے ساتھ پڑھ کر پیچھے والوں کی جگہ چلے گئے اور پیچھے والے اب آگے بڑھ آئے اور ان اگلوں کی جگہ کھڑے ہو گئے انہیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعت ہوئیں اور سب کی دو دو ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے نماز کی کمی کا اور ہتھیار لیے رہنے کا حکم نازل فرمایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10330]
صفحہ نمبر1919
مسند احمد میں ہے کہ جو شخص تلوار تانے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ آور ہوا تھا یہ دشمن کے قبیلے میں سے تھا اس کا نام غورث بن حارث تھا جب آپ نے اللہ کا نام لیا تو اس کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ گئی آپ نے تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اس سے کہا اب تو بتا کہ تجھے کون بچائے گا تو وہ معافی مانگنے لگا کہ مجھ پر آپ رحم کیجئے۔ آپ نے فرمایا کیا تو اللہ کے ایک ہونے کی اور میرے رسول ہونے کی شہادت دیتا ہے؟ اس نے کہا یہ تو نہیں ہاں میں اقرار کرتا ہوں کہ آپ سے لڑوں گا نہیں اور ان لوگوں کا ساتھ نہ دوں گا جو آپ سے برسر پیکار ہوں آپ نے اسے معافی دی۔ جب یہ اپنے قبیلے والوں میں آیا تو کہنے لگا روئے زمین پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر کوئی شخص نہیں۔ [مسند احمد:390/3:صحیح]
صفحہ نمبر1920
اور روایت میں ہے کہ یزید فقیر نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ سفر میں جو دو رکعت ہیں کیا یہ قصر کہلاتی ہیں؟ آپ نے فرمایا یہ پوری نماز ہے قصر تو بوقت جہاد ایک رکعت ہے پھر صلوۃ خوف کا اسی طرح ذکر کیا اس میں یہ بھی ہے کہ آپ کے سلام کے ساتھ آپ کے پیچھے والوں نے اور ان لوگوں نے سلام پھیرا اور اس میں دونوں حصہ فوج کے ساتھ ایک ایک رکعت پڑھنے کا بیان ہے
پس سب کی ایک ایک رکعت ہے پھر صلوۃ خوف کا اسی طرح ذکر کیا اس میں یہ بھی ہے کہ آپ کے سلام کے ساتھ آپ کے پیچھے والوں نے ان لوگوں نے سلام پھیرا اور اس میں دونوں حصہ فوج کے ساتھ ایک ایک رکعت پڑھنے کا بیان ہے پس سب کی ایک ایک رکعت ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:5898/4:حسن]
اور روایت میں ہے کہ ایک جماعت آپ کے پیچھے صف بستہ نماز میں تھی اور ایک جماعت دشمن کے مقابل تھی پھر ایک رکعت کے بعد آپ کے پیچھے والے اگلوں کی جگہ آ گئے اور پہ پیچھے آ گئے۔ یہ حدیث بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں کے ساتھ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [مسند احمد:298/3:صحیح]
ایک اور حدیث جو بروایت سالم عن ابیہ مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ پھر کھڑے ہو کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک ایک رکعت اپنی اپنی ادا کر لی۔ [صحیح بخاری:4133]
اس حدیث کی بھی بہت سی سندیں اور بہت سے الفاظ ہیں حافظ ابوبکر بن مردویہ رحمہ اللہ نے ان سب کو جمع کر دیا، اور اسی طرح ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی، ہم اسے کتاب احکام کبیر میں لکھنا چاہتے ہیں ان شاءاللہ۔ خوف کی نماز میں ہتھیار لیے رہنے کا حکم بعض کے نزدیک توبطور وجوب کے ہے کیونکہ آیت کے ظاہری الفاظ ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے اور اسی کی تائید اس آیت کے پچھلے فقرے سے بھی ہوتی ہے کہ بارش یا بیماری کی وجہ سے ہتھیار اتار رکھنے میں تم پر گناہ نہیں اپنا بچاؤ ساتھ لیے رہو، یعنی ایسے تیار رہو کہ وقت آتے ہی بے تکلف وبے تکلیف ہتھیار سے آراستہ ہو جاؤ۔ اللہ نے کافروں کے لیے اہانت والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
صفحہ نمبر1921
صلوٰۃ خوف کے بعد کثرت ذکر ٭٭
اللہ تعالیٰ اس آیت میں حکم دیتا ہے کہ نماز خوف کے بعد اللہ کا ذکر بکثرت کیا کرو، گو ذکر اللہ کا حکم اور اس کی ترغیب وتاکید اور نمازوں کے بعد بلکہ ہر وقت ہی ہے، لیکن یہاں خصوصیت سے اس لیے بیان فرمایا کہ یہاں بہت بڑی رخصت عنایت فرمائی ہے نماز میں تخفیف کر دی، پھر حالت نماز میں اِدھر اُدھر ہٹنا جانا اور آنا مصلحت کے مطابق جائز رکھا، جیسے حرمت والے مہینوں کے متعلق فرمایا «فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ» [9-التوبة:36] ” ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو “ جب کہ اور اوقات میں بھی ظلم ممنوع ہے لیکن ان کے مہینوں میں اس سے بچاؤ کی مزید تاکید کی ہے۔
تو فرمان ہوتا ہے کہ اپنی ہر حالت میں اللہ عزوجل کا ذکر کرتے رہو، اور جب اطمینان حاصل ہو جائے ڈر خوف نہ رہے تو باقاعدہ خشوع خضوع سے ارکان نماز کو پابندی کے مطابق شرع بجا لاؤ، نماز پڑھنا وقت مقررہ پر منجانب اللہ فرض عین ہے، جس طرح حج کا وقت معین ہے اسی طرح نماز کا وقت بھی مقرر ہے، ایک وقت کے بعد دوسرا پھر دوسرے کے بعد تیسرا۔ پھر فرماتا ہے دشمنوں کی تلاش میں کم ہمتی نہ کرو چستی اور چالاکی سے گھات کی جگہ بیٹھ کر ان کی خبر لو، اگر قتل و زخم ونقصان تمہیں پہنچتا ہے تو کیا انہیں نہیں پہنچتا؟ اسی مضمون کو ان الفاظ میں بھی ادا کیا گیا ہے «إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ» [3-آل عمران:140]
پس مصیبت اور تکلیف کے پہنچنے میں تم اور وہ برابر ہیں، لیکن بہت بڑا فرق یہ ہے کہ تمہیں ذات عزاسمہ سے وہ اُمیدیں اور وہ آسرے ہیں جو انہیں نہیں، تمہیں اجر و ثواب بھی ملے گا تمہاری نصرت و تائید بھی ہو گی، جیسے کہ خود باری تعالیٰ نے خبر دی ہے اور وعدہ کیا، نہ اس کی خبر جھوٹی نہ اس کے وعدے ٹلنے والے۔ پس تمہیں بہ نسبت ان کے بہت تگ و دو چاہیئے تمہارے دلوں میں جہاد کا ولولہ ہونا چاہیئے، تمہیں اس کی رغبت کامل ہونی چاہیئے، تمہارے دلوں میں اللہ کے کلمے کو مستحکم کرنے توانا کرنے پھیلانے اور بلند کرنے کی تڑپ ہر وقت موجود رہنی چاہیئے اللہ تعالیٰ جو کچھ مقرر کرتا ہے جو فیصلہ کرتا ہے جو جاری کرتا ہے جو شرع مقرر کرتا ہے جو کام کرتا ہے سب میں پوری خبر کا مالک صحیح اور سچے علم والا ساتھ ہی حکمت والا بھی ہے، ہر حال میں ہر وقت سزاوار تعریف و حمد وہی ہے۔
صفحہ نمبر1922
صلوٰۃ خوف کے بعد کثرت ذکر ٭٭
اللہ تعالیٰ اس آیت میں حکم دیتا ہے کہ نماز خوف کے بعد اللہ کا ذکر بکثرت کیا کرو، گو ذکر اللہ کا حکم اور اس کی ترغیب وتاکید اور نمازوں کے بعد بلکہ ہر وقت ہی ہے، لیکن یہاں خصوصیت سے اس لیے بیان فرمایا کہ یہاں بہت بڑی رخصت عنایت فرمائی ہے نماز میں تخفیف کر دی، پھر حالت نماز میں اِدھر اُدھر ہٹنا جانا اور آنا مصلحت کے مطابق جائز رکھا، جیسے حرمت والے مہینوں کے متعلق فرمایا «فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ» [9-التوبة:36] ” ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو “ جب کہ اور اوقات میں بھی ظلم ممنوع ہے لیکن ان کے مہینوں میں اس سے بچاؤ کی مزید تاکید کی ہے۔
تو فرمان ہوتا ہے کہ اپنی ہر حالت میں اللہ عزوجل کا ذکر کرتے رہو، اور جب اطمینان حاصل ہو جائے ڈر خوف نہ رہے تو باقاعدہ خشوع خضوع سے ارکان نماز کو پابندی کے مطابق شرع بجا لاؤ، نماز پڑھنا وقت مقررہ پر منجانب اللہ فرض عین ہے، جس طرح حج کا وقت معین ہے اسی طرح نماز کا وقت بھی مقرر ہے، ایک وقت کے بعد دوسرا پھر دوسرے کے بعد تیسرا۔ پھر فرماتا ہے دشمنوں کی تلاش میں کم ہمتی نہ کرو چستی اور چالاکی سے گھات کی جگہ بیٹھ کر ان کی خبر لو، اگر قتل و زخم ونقصان تمہیں پہنچتا ہے تو کیا انہیں نہیں پہنچتا؟ اسی مضمون کو ان الفاظ میں بھی ادا کیا گیا ہے «إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ» [3-آل عمران:140]
پس مصیبت اور تکلیف کے پہنچنے میں تم اور وہ برابر ہیں، لیکن بہت بڑا فرق یہ ہے کہ تمہیں ذات عزاسمہ سے وہ اُمیدیں اور وہ آسرے ہیں جو انہیں نہیں، تمہیں اجر و ثواب بھی ملے گا تمہاری نصرت و تائید بھی ہو گی، جیسے کہ خود باری تعالیٰ نے خبر دی ہے اور وعدہ کیا، نہ اس کی خبر جھوٹی نہ اس کے وعدے ٹلنے والے۔ پس تمہیں بہ نسبت ان کے بہت تگ و دو چاہیئے تمہارے دلوں میں جہاد کا ولولہ ہونا چاہیئے، تمہیں اس کی رغبت کامل ہونی چاہیئے، تمہارے دلوں میں اللہ کے کلمے کو مستحکم کرنے توانا کرنے پھیلانے اور بلند کرنے کی تڑپ ہر وقت موجود رہنی چاہیئے اللہ تعالیٰ جو کچھ مقرر کرتا ہے جو فیصلہ کرتا ہے جو جاری کرتا ہے جو شرع مقرر کرتا ہے جو کام کرتا ہے سب میں پوری خبر کا مالک صحیح اور سچے علم والا ساتھ ہی حکمت والا بھی ہے، ہر حال میں ہر وقت سزاوار تعریف و حمد وہی ہے۔
صفحہ نمبر1922
حقیقت چھپ نہیں سکتی ٭٭
اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ یہ قرآن کریم جو آپ پر اللہ نے اتارا ہے وہ مکمل طور پر اور ابتداء تا انتہا حق ہے، اس کی خبریں بھی حق اس کے فرمان بھی برحق۔ پھر فرماتا ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان وہ انصاف کرو جو اللہ تعالیٰ تمہیں سمجھائے۔
بعض علمائے اصول نے اس سے استدلال کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اجتہاد سے حکم کرنے کا اختیار دیا گیا تھا، اس کی دلیل بخاری مسلم کی حدیث بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دروازے پر دو جھگڑنے والوں کی آواز سنی تو آپ باہر آئے اور فرمانے لگے میں ایک انسان ہوں جو سنتا ہوں اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں بہت ممکن ہے کہ یہ ایک شخص زیادہ حجت باز اور چرب زبان ہو اور میں اس کی باتوں کو صحیح جان کر اس کے حق میں فیصلہ دے دوں اور جس کے حق میں فیصلہ کر دوں فی الواقع وہ حقدار نہ ہو تو وہ سمجھ لے کہ وہ اس کے لیے جہنم کا ٹکڑا ہے اب اسے اختیار ہے کہ لے لے یا چھوڑ دے۔ [صحیح بخاری:2680]
مسند احمد میں ہے کہ دو انصاری ایک ورثے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا قضیہ لائے واقعہ کو زمانہ گذر چکا تھا دونوں کے پاس گواہ کوئی نہ تھا تو اس وقت آپ نے وہی حدیث بیان فرمائی اور فرمایا کہ میرے فیصلے کی بنا پر اپنے بھائی کا حق نہ لے لے اگر ایسا کرے گا تو قیامت کے دن اپنی گردن میں جہنم کی آگ لٹکا کر آئے گا اب تو وہ دونوں بزرگ رونے لگے اور ہر ایک کہنے لگا میں اپنا حق بھی اپنے بھائی کو دے رہا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب تم جاؤ اپنے طور پر جہاں تک تم سے ہو سکے ٹھیک ٹھیک حصے تقسیم کرو پھر قرعہ ڈال کر حصہ لے لو اور ہر ایک دوسرے کو اپنا رہا سہا غلطی کا حق معاف کر دو۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں کہ میں تمہارے درمیان اپنی سمجھ سے ان امور میں فیصلہ کرتا ہوں جن میں کوئی وحی مجھ پر نازل شدہ نہیں ہوتی۔ [مسند احمد:308/6،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1924
ابن مردویہ میں ہے کہ انصار کا ایک گروہ ایک جہاد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا وہاں ایک شخض کی ایک چادر کسی نے چرالی اور اس چوری کا گمان طعمہ بن ابیرق کی طرف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ قصہ پیش ہوا۔ چور نے اس چادر کو ایک شخص کے گھر میں اس کی بے خبری میں ڈال دیا اور اپنے کنبہ قبیلے والوں سے کہا میں نے چادر فلاں کے گھر میں ڈال دی ہے تم رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ سے ذکر کرو کہ ہمارا ساتھی تو چور نہیں چور فلاں ہے اور ہم نے پتہ لگا لیا ہے کہ چادر بھی اس کے گھر میں موجود ہے اس طرح آپ ہمارے ساتھی کی تمام لوگوں کی روبرو بریت کر دیجئے اور اس کی حمایت کیجئے ورنہ ڈر ہے کہ کہیں وہ ہلاک نہ ہو جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔
اس پر یہ آیتیں اتری اور جو لوگ اپنے جھوٹ کو پوشیدہ کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ان کے بارے میں «يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لَا يَرْضَىٰ مِنَ الْقَوْلِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا» [4-النساء:108] سے دو آیتیں نازل ہوئیں۔
صفحہ نمبر1925
پھر اللہ عزوجل نے فرمایا جو برائی اور بدی کا کام کرے اس سے مراد بھی یہی لوگ ہیں اور چور کے اور اس کے حمایتوں کے بارے میں اترا کہ جو گناہ اور خطا کرے اور ناکردہ گناہ کے ذمہ الزام لگائے وہ بہتان باز اور کھلا گنہگار ہے، لیکن یہ سیاق غریب ہے بعض بزرگوں سے مروی ہے کہ یہ آیت بنوابیرق کے چور کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10413/9:ضعیف]
صفحہ نمبر1926
حقیقت چھپ نہیں سکتی ٭٭
اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ یہ قرآن کریم جو آپ پر اللہ نے اتارا ہے وہ مکمل طور پر اور ابتداء تا انتہا حق ہے، اس کی خبریں بھی حق اس کے فرمان بھی برحق۔ پھر فرماتا ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان وہ انصاف کرو جو اللہ تعالیٰ تمہیں سمجھائے۔
بعض علمائے اصول نے اس سے استدلال کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اجتہاد سے حکم کرنے کا اختیار دیا گیا تھا، اس کی دلیل بخاری مسلم کی حدیث بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دروازے پر دو جھگڑنے والوں کی آواز سنی تو آپ باہر آئے اور فرمانے لگے میں ایک انسان ہوں جو سنتا ہوں اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں بہت ممکن ہے کہ یہ ایک شخص زیادہ حجت باز اور چرب زبان ہو اور میں اس کی باتوں کو صحیح جان کر اس کے حق میں فیصلہ دے دوں اور جس کے حق میں فیصلہ کر دوں فی الواقع وہ حقدار نہ ہو تو وہ سمجھ لے کہ وہ اس کے لیے جہنم کا ٹکڑا ہے اب اسے اختیار ہے کہ لے لے یا چھوڑ دے۔ [صحیح بخاری:2680]
مسند احمد میں ہے کہ دو انصاری ایک ورثے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا قضیہ لائے واقعہ کو زمانہ گذر چکا تھا دونوں کے پاس گواہ کوئی نہ تھا تو اس وقت آپ نے وہی حدیث بیان فرمائی اور فرمایا کہ میرے فیصلے کی بنا پر اپنے بھائی کا حق نہ لے لے اگر ایسا کرے گا تو قیامت کے دن اپنی گردن میں جہنم کی آگ لٹکا کر آئے گا اب تو وہ دونوں بزرگ رونے لگے اور ہر ایک کہنے لگا میں اپنا حق بھی اپنے بھائی کو دے رہا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب تم جاؤ اپنے طور پر جہاں تک تم سے ہو سکے ٹھیک ٹھیک حصے تقسیم کرو پھر قرعہ ڈال کر حصہ لے لو اور ہر ایک دوسرے کو اپنا رہا سہا غلطی کا حق معاف کر دو۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں کہ میں تمہارے درمیان اپنی سمجھ سے ان امور میں فیصلہ کرتا ہوں جن میں کوئی وحی مجھ پر نازل شدہ نہیں ہوتی۔ [مسند احمد:308/6،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1924
ابن مردویہ میں ہے کہ انصار کا ایک گروہ ایک جہاد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا وہاں ایک شخض کی ایک چادر کسی نے چرالی اور اس چوری کا گمان طعمہ بن ابیرق کی طرف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ قصہ پیش ہوا۔ چور نے اس چادر کو ایک شخص کے گھر میں اس کی بے خبری میں ڈال دیا اور اپنے کنبہ قبیلے والوں سے کہا میں نے چادر فلاں کے گھر میں ڈال دی ہے تم رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ سے ذکر کرو کہ ہمارا ساتھی تو چور نہیں چور فلاں ہے اور ہم نے پتہ لگا لیا ہے کہ چادر بھی اس کے گھر میں موجود ہے اس طرح آپ ہمارے ساتھی کی تمام لوگوں کی روبرو بریت کر دیجئے اور اس کی حمایت کیجئے ورنہ ڈر ہے کہ کہیں وہ ہلاک نہ ہو جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔
اس پر یہ آیتیں اتری اور جو لوگ اپنے جھوٹ کو پوشیدہ کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ان کے بارے میں «يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لَا يَرْضَىٰ مِنَ الْقَوْلِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا» [4-النساء:108] سے دو آیتیں نازل ہوئیں۔
صفحہ نمبر1925
پھر اللہ عزوجل نے فرمایا جو برائی اور بدی کا کام کرے اس سے مراد بھی یہی لوگ ہیں اور چور کے اور اس کے حمایتوں کے بارے میں اترا کہ جو گناہ اور خطا کرے اور ناکردہ گناہ کے ذمہ الزام لگائے وہ بہتان باز اور کھلا گنہگار ہے، لیکن یہ سیاق غریب ہے بعض بزرگوں سے مروی ہے کہ یہ آیت بنوابیرق کے چور کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10413/9:ضعیف]
صفحہ نمبر1926
حقیقت چھپ نہیں سکتی ٭٭
اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ یہ قرآن کریم جو آپ پر اللہ نے اتارا ہے وہ مکمل طور پر اور ابتداء تا انتہا حق ہے، اس کی خبریں بھی حق اس کے فرمان بھی برحق۔ پھر فرماتا ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان وہ انصاف کرو جو اللہ تعالیٰ تمہیں سمجھائے۔
بعض علمائے اصول نے اس سے استدلال کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اجتہاد سے حکم کرنے کا اختیار دیا گیا تھا، اس کی دلیل بخاری مسلم کی حدیث بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دروازے پر دو جھگڑنے والوں کی آواز سنی تو آپ باہر آئے اور فرمانے لگے میں ایک انسان ہوں جو سنتا ہوں اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں بہت ممکن ہے کہ یہ ایک شخص زیادہ حجت باز اور چرب زبان ہو اور میں اس کی باتوں کو صحیح جان کر اس کے حق میں فیصلہ دے دوں اور جس کے حق میں فیصلہ کر دوں فی الواقع وہ حقدار نہ ہو تو وہ سمجھ لے کہ وہ اس کے لیے جہنم کا ٹکڑا ہے اب اسے اختیار ہے کہ لے لے یا چھوڑ دے۔ [صحیح بخاری:2680]
مسند احمد میں ہے کہ دو انصاری ایک ورثے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا قضیہ لائے واقعہ کو زمانہ گذر چکا تھا دونوں کے پاس گواہ کوئی نہ تھا تو اس وقت آپ نے وہی حدیث بیان فرمائی اور فرمایا کہ میرے فیصلے کی بنا پر اپنے بھائی کا حق نہ لے لے اگر ایسا کرے گا تو قیامت کے دن اپنی گردن میں جہنم کی آگ لٹکا کر آئے گا اب تو وہ دونوں بزرگ رونے لگے اور ہر ایک کہنے لگا میں اپنا حق بھی اپنے بھائی کو دے رہا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب تم جاؤ اپنے طور پر جہاں تک تم سے ہو سکے ٹھیک ٹھیک حصے تقسیم کرو پھر قرعہ ڈال کر حصہ لے لو اور ہر ایک دوسرے کو اپنا رہا سہا غلطی کا حق معاف کر دو۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں کہ میں تمہارے درمیان اپنی سمجھ سے ان امور میں فیصلہ کرتا ہوں جن میں کوئی وحی مجھ پر نازل شدہ نہیں ہوتی۔ [مسند احمد:308/6،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1924
ابن مردویہ میں ہے کہ انصار کا ایک گروہ ایک جہاد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا وہاں ایک شخض کی ایک چادر کسی نے چرالی اور اس چوری کا گمان طعمہ بن ابیرق کی طرف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ قصہ پیش ہوا۔ چور نے اس چادر کو ایک شخص کے گھر میں اس کی بے خبری میں ڈال دیا اور اپنے کنبہ قبیلے والوں سے کہا میں نے چادر فلاں کے گھر میں ڈال دی ہے تم رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ سے ذکر کرو کہ ہمارا ساتھی تو چور نہیں چور فلاں ہے اور ہم نے پتہ لگا لیا ہے کہ چادر بھی اس کے گھر میں موجود ہے اس طرح آپ ہمارے ساتھی کی تمام لوگوں کی روبرو بریت کر دیجئے اور اس کی حمایت کیجئے ورنہ ڈر ہے کہ کہیں وہ ہلاک نہ ہو جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔
اس پر یہ آیتیں اتری اور جو لوگ اپنے جھوٹ کو پوشیدہ کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ان کے بارے میں «يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لَا يَرْضَىٰ مِنَ الْقَوْلِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا» [4-النساء:108] سے دو آیتیں نازل ہوئیں۔
صفحہ نمبر1925
پھر اللہ عزوجل نے فرمایا جو برائی اور بدی کا کام کرے اس سے مراد بھی یہی لوگ ہیں اور چور کے اور اس کے حمایتوں کے بارے میں اترا کہ جو گناہ اور خطا کرے اور ناکردہ گناہ کے ذمہ الزام لگائے وہ بہتان باز اور کھلا گنہگار ہے، لیکن یہ سیاق غریب ہے بعض بزرگوں سے مروی ہے کہ یہ آیت بنوابیرق کے چور کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10413/9:ضعیف]
صفحہ نمبر1926
باب
یہ قصہ مطلول ترمذی کتاب التفسیر میں بزبانی قتادہ رحمہ اللہ اس طرح مروی ہے کہ ہمارے گھرانے کے بنوابیرق قبیلے کا ایک گھر تھا جس میں بشر، بشیر اور مبشر تھے، بشیر ایک منافق شخص تھا اشعار کو کسی اور کی طرف منسوب کر کے خوب مزے لے لے کر پڑھا کرتا تھا۔
اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم جاتنے تھے کہ یہی خبیث ان اشعار کا کہنے والا ہے، یہ لوگ جاہلیت کے زمانے سے ہی فاقہ مست چلے آتھے مدینے کے لوگوں کا اکثر کھانا جو اور کھجوریں تھیں، ہاں تونگر لوگ شام کے آئے ہوئے قافلے والوں سے میدہ خرید لیتے جسے وہ خود اپنے لیے مخصوص کر لیتے، باقی گھر والے عموماً جو اور کھجوریں ہی کھاتے۔
میرے چچا رفاعہ یزید نے بھی شام کے آئے ہوئے قافلے سے ایک بورا میدہ کا خریدا اور اپنے بالاخانے میں اسے محفوظ کر دیا جہاں ہتھیار زرہیں تلواریں وغیرہ بھی رکھی ہوئی تھیں رات کو چوروں نے نیچے سے نقب لگا کر اناج بھی نکال لیا اور ہتھیار بھی چرالے گئے۔ صبح میرے چچا میرے پاس آئے اور سارا واقعہ بیان کیا، اب ہم تجسس کرنے لگے تو پتہ چلا کہ آج رات کو بنو ابیرق کے گھر میں آگ جل رہی تھی اور کچھ کھا پکار رہے تھے غالباً وہ تمہارے ہاں سے چوری کر گئے ہیں، اس سے پہلے جب اپنے گھرانے والوں سے پوچھ گچھ کر رہے تھے تو اس قبیلے کے لوگوں نے ہم سے کہا تھا کہ تمہارا چور سیدنا لبید بن سہل رضی اللہ عنہ ہے، ہم جانتے تھے کہ سیدنا لبید رضی اللہ عنہ کا یہ کام نہیں وہ ایک دیانتدار سچا مسلمان شخص تھا۔ سیدنا لبید رضی اللہ عنہ کو جب یہ خبر ملی تو وہ آپے سے باہر ہو گئے تلوار تانے بنوابیرق کے پاس آئے اور کہنے لگے یا تو تم میری چوری ثابت کر ورنہ میں تمہیں قتل کر دونگا ان لوگوں نے ان کی برات کی اور معافی چاہ لی وہ چلے گئے۔ ہم سب کے سب پوری تحقیقات کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ چوری بنوابیرق نے کی ہے، میرے چچا نے مجھے کہا کہ تم جا کر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر تو دو، میں نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا واقعہ بیان کیا اور یہ بھی کہا کہ آپ ہمیں ہمارے ہتھیار دلوا دیجئیے غلہ کی واپسی کی ضرورت نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اطمینان دلایا کہ اچھا میں اس کی تحقیق کروں گا۔
صفحہ نمبر1929
یہ خبر جب بنوابیرق کو ہوئی تو انہوں نے اپنا ایک آدمی آپ کے پاس بھیجا جن کا نام اسیر بن عمرو تھا انہوں نے آ کر کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو ظلم ہو رہا ہے، بنوابیرق تو صلاحیت اور اسلام والے لوگ ہیں انہیں قتادہ بن نعمان اور ان کے چچا چور کہتے ہیں اور بغیر کسی ثوب اور دلیل کے چور کا بدنما الزام ان پر رکھتے ہیں وغیرہ۔
پھر جب میں خدمت نبوی میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا یہ تو تم بہت برا کرتے ہو کہ دیندار اور بھلے لوگوں کے ذمے چوری چپکاتے ہو جب کہ تمہارے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں، میں چپ چاپ واپس چلا آیا اور دل میں سخت پشیمان اور پریشان تھا خیال آتا تھا کہ کاش کہ میں اس مال سے چپ چاپ دست بردار ہو جاتا اور آپ سے اس کا ذکر ہی نہ کرتا تو اچھا تھا۔
اتنے میں میرے چچا آئے اور مجھ سے پوچھا تم نے کیا کیا؟ میں نے سارا واقعہ ان سے بیان کیا جسے سن کر انہوں نے کہا «واَللهُ اْلمـُسـَتعَانُ» اللہ ہی سے ہم مدد چاہتے ہیں، ان کا جانا تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی میں یہ آیتیں اتریں پس «خائنین» سے مراد بنو ابیرق ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو استغفار کا حکم ہوا یہ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا، پھر ساتھ ہی فرما دیا گیا کہ اگر یہ لوگ استفغار کریں تو اللہ انہیں بخش دے گا۔ [سنن ترمذي:3036،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر1930
پھر فرمایا ناکردہ گناہ کے ذمہ گناہ تھوپنا بدترین جرم ہے، «أَجْرًا عَظِيمًا» تک یعنی انہوں نے جو سیدنا لبید رضی اللہ عنہ کی نسبت کہا کہ چور یہ ہیں جب یہ آیتیں اتریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوابیرق سے ہمارے ہتھیار دلوائے میں انہیں لے کر اپنے چچا کے پاس آیا یہ بیچارے بوڑھے تھے آنکھوں سے بھی کم نظر آتا تھا مجھ سے فرمانے لگے بیٹا جاؤ یہ سب ہتھیار اللہ کے نام خیرات کر دو، میں آج تک اپنے چچا کی نسبت قدرے بدگمان تھا کہ یہ دل سے اسلام میں پورے طور پر داخل نہیں ہوئے لیکن اس واقعہ نے بدگمانی میرے دل سے دور کر دی اور میں ان کے سچے اسلام کا قائل ہو گیا۔
بشیر یہ آیتیں سن کر مشرکین میں جا ملا اور سلافہ بنت سعد بن سمیہ کے ہاں جا کر اپنا قیام کیا، اس کے بارے میں اس کے بعد کی آیتیں «وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ» [4-النساء:115] سے «ضَلَالًا بَعِيدًا» [4-النساء:116] تک نازل ہوئیں اور سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے اس کے اس فعل کی مذمت اور اس کی ہجو اپنے شعروں میں کی، ان اشعار کو سن کر ایک کی عورت کو بڑی غیرت آئی اور بشیر کا سب اسباب اپنے سر پر رکھ کر ابطح میدان میں پھینک آئی اور کہا تو کوئی بھلائی لے کر میرے پاس نہیں آیا بلکہ حسان کی ہجو کے اشعار لے کر آیا ہے میں تجھے اپنے ہاں نہیں ٹھہراؤں گی۔ یہ روایت بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں سے مطول اور مختصر مروی ہے۔
ان منافقوں کی کم عقلی کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ جو اپنی سیاہ کاریوں کو لوگوں سے چھپاتے ہیں بھلا ان سے کیا نتیجہ؟ اللہ تعالیٰ سے تو پوشیدہ نہیں رکھ سکتے، پھر انہیں خبردار کیا جا رہا ہے کہ تمہارے پوشیدہ راز بھی اللہ سے چھپ نہیں سکتے،۔
صفحہ نمبر1931
پھر فرماتا ہے مانا کہ دنیوی حاکموں کے ہاں جو ظاہر داری پر فیصلے کرتے ہیں تم نے غلبہ حاصل کر لیا، لیکن قیامت کے دن اللہ کے سامنے جو ظاہر وباطن کا عالم ہے تم کیا کر سکو گے؟ وہاں کسے وکیل بنا کر پیش کرو گے جو تمہارے جھوٹے دعوے کی تائید کرے، مطلب یہ ہے کہ اس دن تمہاری کچھ نہیں چلے گی۔
صفحہ نمبر1932
باب
یہ قصہ مطلول ترمذی کتاب التفسیر میں بزبانی قتادہ رحمہ اللہ اس طرح مروی ہے کہ ہمارے گھرانے کے بنوابیرق قبیلے کا ایک گھر تھا جس میں بشر، بشیر اور مبشر تھے، بشیر ایک منافق شخص تھا اشعار کو کسی اور کی طرف منسوب کر کے خوب مزے لے لے کر پڑھا کرتا تھا۔
اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم جاتنے تھے کہ یہی خبیث ان اشعار کا کہنے والا ہے، یہ لوگ جاہلیت کے زمانے سے ہی فاقہ مست چلے آتھے مدینے کے لوگوں کا اکثر کھانا جو اور کھجوریں تھیں، ہاں تونگر لوگ شام کے آئے ہوئے قافلے والوں سے میدہ خرید لیتے جسے وہ خود اپنے لیے مخصوص کر لیتے، باقی گھر والے عموماً جو اور کھجوریں ہی کھاتے۔
میرے چچا رفاعہ یزید نے بھی شام کے آئے ہوئے قافلے سے ایک بورا میدہ کا خریدا اور اپنے بالاخانے میں اسے محفوظ کر دیا جہاں ہتھیار زرہیں تلواریں وغیرہ بھی رکھی ہوئی تھیں رات کو چوروں نے نیچے سے نقب لگا کر اناج بھی نکال لیا اور ہتھیار بھی چرالے گئے۔ صبح میرے چچا میرے پاس آئے اور سارا واقعہ بیان کیا، اب ہم تجسس کرنے لگے تو پتہ چلا کہ آج رات کو بنو ابیرق کے گھر میں آگ جل رہی تھی اور کچھ کھا پکار رہے تھے غالباً وہ تمہارے ہاں سے چوری کر گئے ہیں، اس سے پہلے جب اپنے گھرانے والوں سے پوچھ گچھ کر رہے تھے تو اس قبیلے کے لوگوں نے ہم سے کہا تھا کہ تمہارا چور سیدنا لبید بن سہل رضی اللہ عنہ ہے، ہم جانتے تھے کہ سیدنا لبید رضی اللہ عنہ کا یہ کام نہیں وہ ایک دیانتدار سچا مسلمان شخص تھا۔ سیدنا لبید رضی اللہ عنہ کو جب یہ خبر ملی تو وہ آپے سے باہر ہو گئے تلوار تانے بنوابیرق کے پاس آئے اور کہنے لگے یا تو تم میری چوری ثابت کر ورنہ میں تمہیں قتل کر دونگا ان لوگوں نے ان کی برات کی اور معافی چاہ لی وہ چلے گئے۔ ہم سب کے سب پوری تحقیقات کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ چوری بنوابیرق نے کی ہے، میرے چچا نے مجھے کہا کہ تم جا کر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر تو دو، میں نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا واقعہ بیان کیا اور یہ بھی کہا کہ آپ ہمیں ہمارے ہتھیار دلوا دیجئیے غلہ کی واپسی کی ضرورت نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اطمینان دلایا کہ اچھا میں اس کی تحقیق کروں گا۔
صفحہ نمبر1929
یہ خبر جب بنوابیرق کو ہوئی تو انہوں نے اپنا ایک آدمی آپ کے پاس بھیجا جن کا نام اسیر بن عمرو تھا انہوں نے آ کر کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو ظلم ہو رہا ہے، بنوابیرق تو صلاحیت اور اسلام والے لوگ ہیں انہیں قتادہ بن نعمان اور ان کے چچا چور کہتے ہیں اور بغیر کسی ثوب اور دلیل کے چور کا بدنما الزام ان پر رکھتے ہیں وغیرہ۔
پھر جب میں خدمت نبوی میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا یہ تو تم بہت برا کرتے ہو کہ دیندار اور بھلے لوگوں کے ذمے چوری چپکاتے ہو جب کہ تمہارے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں، میں چپ چاپ واپس چلا آیا اور دل میں سخت پشیمان اور پریشان تھا خیال آتا تھا کہ کاش کہ میں اس مال سے چپ چاپ دست بردار ہو جاتا اور آپ سے اس کا ذکر ہی نہ کرتا تو اچھا تھا۔
اتنے میں میرے چچا آئے اور مجھ سے پوچھا تم نے کیا کیا؟ میں نے سارا واقعہ ان سے بیان کیا جسے سن کر انہوں نے کہا «واَللهُ اْلمـُسـَتعَانُ» اللہ ہی سے ہم مدد چاہتے ہیں، ان کا جانا تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی میں یہ آیتیں اتریں پس «خائنین» سے مراد بنو ابیرق ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو استغفار کا حکم ہوا یہ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا، پھر ساتھ ہی فرما دیا گیا کہ اگر یہ لوگ استفغار کریں تو اللہ انہیں بخش دے گا۔ [سنن ترمذي:3036،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر1930
پھر فرمایا ناکردہ گناہ کے ذمہ گناہ تھوپنا بدترین جرم ہے، «أَجْرًا عَظِيمًا» تک یعنی انہوں نے جو سیدنا لبید رضی اللہ عنہ کی نسبت کہا کہ چور یہ ہیں جب یہ آیتیں اتریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوابیرق سے ہمارے ہتھیار دلوائے میں انہیں لے کر اپنے چچا کے پاس آیا یہ بیچارے بوڑھے تھے آنکھوں سے بھی کم نظر آتا تھا مجھ سے فرمانے لگے بیٹا جاؤ یہ سب ہتھیار اللہ کے نام خیرات کر دو، میں آج تک اپنے چچا کی نسبت قدرے بدگمان تھا کہ یہ دل سے اسلام میں پورے طور پر داخل نہیں ہوئے لیکن اس واقعہ نے بدگمانی میرے دل سے دور کر دی اور میں ان کے سچے اسلام کا قائل ہو گیا۔
بشیر یہ آیتیں سن کر مشرکین میں جا ملا اور سلافہ بنت سعد بن سمیہ کے ہاں جا کر اپنا قیام کیا، اس کے بارے میں اس کے بعد کی آیتیں «وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ» [4-النساء:115] سے «ضَلَالًا بَعِيدًا» [4-النساء:116] تک نازل ہوئیں اور سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے اس کے اس فعل کی مذمت اور اس کی ہجو اپنے شعروں میں کی، ان اشعار کو سن کر ایک کی عورت کو بڑی غیرت آئی اور بشیر کا سب اسباب اپنے سر پر رکھ کر ابطح میدان میں پھینک آئی اور کہا تو کوئی بھلائی لے کر میرے پاس نہیں آیا بلکہ حسان کی ہجو کے اشعار لے کر آیا ہے میں تجھے اپنے ہاں نہیں ٹھہراؤں گی۔ یہ روایت بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں سے مطول اور مختصر مروی ہے۔
ان منافقوں کی کم عقلی کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ جو اپنی سیاہ کاریوں کو لوگوں سے چھپاتے ہیں بھلا ان سے کیا نتیجہ؟ اللہ تعالیٰ سے تو پوشیدہ نہیں رکھ سکتے، پھر انہیں خبردار کیا جا رہا ہے کہ تمہارے پوشیدہ راز بھی اللہ سے چھپ نہیں سکتے،۔
صفحہ نمبر1931
پھر فرماتا ہے مانا کہ دنیوی حاکموں کے ہاں جو ظاہر داری پر فیصلے کرتے ہیں تم نے غلبہ حاصل کر لیا، لیکن قیامت کے دن اللہ کے سامنے جو ظاہر وباطن کا عالم ہے تم کیا کر سکو گے؟ وہاں کسے وکیل بنا کر پیش کرو گے جو تمہارے جھوٹے دعوے کی تائید کرے، مطلب یہ ہے کہ اس دن تمہاری کچھ نہیں چلے گی۔
صفحہ نمبر1932
سچی توبہ کبھی مسترد نہیں ہوتی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنا کرم اور اپنی مہربانی کو بیان فرماتا ہے کہ جس گناہ سے جو کوئی توبہ کرے اللہ اس کی طرف مہربانی سے رجوع کرتا ہے، ہر وہ شخص جو رب کی طرف جھکے رب اپنی مہربانی سے اور اپنی وسعت رحمت سے اسے ڈھانپ لیتا ہے اور اس کے صغیرہ کبیرہ گناہ کو بخشش دیتا ہے، چاہے وہ گناہ آسمان و زمین اور پہاڑوں سے بھی بڑے ہوں،
بنو اسرائیل میں جب کوئی گناہ کرتا تو اس کے دروازے پر قدرتی حروف میں کفارہ لکھا ہوا نظر آ جاتا تھا جو اسے ادا کرنا پڑتا اور انہیں یہ بھی حکم تھا کہ ان کے کپڑے پر اگر پیشاب لگ جائے تو اتنا کپڑا کتروا ڈالیں اللہ نے اس امت پر آسانی کر دی پانی سے دھو لینا ہی کپڑے کی پاکی رکھی اور توبہ کر لیناہی گناہ کی معافی۔
صفحہ نمبر1934
ایک عورت نے سیدنا عبداللہ بن مفضل رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ عورت نے بدکاری کی پھر جب بچہ ہوا تو اسے مار ڈالا آپ نے فرمایا اس کی سزا جہنم ہے وہ روتی ہوئی واپس چلی تو آپ نے اسے بلایا اور «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [4-النساء:110] پڑھ کر سنائی تو اس نے اپنے آنسو پونچھ ڈالے اور واپس لوٹ گئی .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس مسلمان سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے پھر وہ وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کر کے اللہ سے استغفار کرے تو اللہ اس کے اس گناہ کو بخش دیتا ہے پھر آپ نے یہ آیت اور «وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ڞ وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ» [3-آل عمران:135] کی تلاوت کی۔ “ اس حدیث کا پورا بیان ہم نے مسند سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میں کر دیا ہے اور کچھ بیان سورۃ آل عمران کی تفسیر میں بھی گذرا ہے۔
صفحہ نمبر1935
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ مجلس میں سے اُٹھ کر اپنے کسی کام کے لیے کبھی جاتے اور واپس تشریف لانے کا ارادہ بھی ہوتا جوتی یا کپڑا کچھ نہ کچھ چھوڑ جاتے، ایک مرتبہ آپ اپنی جوتی چھوڑے ہوئے اُٹھے ڈولچی پانی کی ساتھ لے چلے میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا آپ کچھ دور جا کر بغیر حاجت پوری کئے واپس آئے اور فرمانے لگے۔ میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور مجھے یہ پیغام دے گیا، پھر آپ نے «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [4-النساء:110] پڑھی اور فرمایا میں اپنے صحابہ کو یہ خوشخبری سنانے کے لیے راستے میں ہی لوٹ آیا ہوں۔
صفحہ نمبر1936
اس سے پہلے چونکہ «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [4-النساء:110] یعنی ہر برائی کرنے والے کو اس کی برائی کا بدلہ ملے گا اتر چکی تھی اس لیے صحابہ رضی اللہ عنہم بہت پریشان تھے . میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی نے زنا کیا ہو؟ چوری کی ہو؟ پھر وہ استفغار کرے تو اسے بھی اللہ بخش دے گا؟ آپ نے فرمایا ہاں، میں نے دوبارہ پوچھا آپ نے کہا ہاں میں نے سہ بارہ دریافت کیا تو آپ نے فرمایا ہاں گو ابودراداء کی ناک خاک آلود ہو . پس ابودرداء جب یہ حدیث بیان کرتے اپنی ناک پر مار کر بتاتے۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اور یہ حدیث غریب ہے۔
پھر فرمایا گناہ کرنے والا اپنا ہی برا کرتا ہے جیسے اور جگہ ہے کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، ایک دوسرے کو نفع نہ پہنچا سکے گا، ہر شخص انپے کرتوت کا ذمہ دار ہے، کوئی نہ ہوگا جو بوجھ اٹھائے، اللہ کا علم، اللہ کی حکمت اور الٰہی عدل و رحمت کے خلاف ہے کہ ایک گناہ کرے اور دوسرا پکڑا جائے۔ پھر فرماتا ہے جو خود برا کام کر کے کسی بےگناہ کے سر تھوپ دے جیسے بنوابیرق نے سیدنا لبید رضی اللہ عنہ کا نام لے دیا جو واقعہ تفصیل وار اس سے اگلی آیت کی تفسیر میں بیان ہو چکا ہے، یا مراد زید بن سمین یہودی ہے جیسے بعض اور مفسرین کا خیال ہے کہ اس چوری کی تہمت اس قبیلے نے اس بےگناہ شخص کے ذمہ لگائی تھی اور خود ہی خائن اور ظالم تھے، آیت گو شان نزول کے اعتبار سے خاص ہے لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہے جو بھی ایسا کرے وہ اللہ کی سزا کا مستحق ہے۔
صفحہ نمبر1937
سچی توبہ کبھی مسترد نہیں ہوتی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنا کرم اور اپنی مہربانی کو بیان فرماتا ہے کہ جس گناہ سے جو کوئی توبہ کرے اللہ اس کی طرف مہربانی سے رجوع کرتا ہے، ہر وہ شخص جو رب کی طرف جھکے رب اپنی مہربانی سے اور اپنی وسعت رحمت سے اسے ڈھانپ لیتا ہے اور اس کے صغیرہ کبیرہ گناہ کو بخشش دیتا ہے، چاہے وہ گناہ آسمان و زمین اور پہاڑوں سے بھی بڑے ہوں،
بنو اسرائیل میں جب کوئی گناہ کرتا تو اس کے دروازے پر قدرتی حروف میں کفارہ لکھا ہوا نظر آ جاتا تھا جو اسے ادا کرنا پڑتا اور انہیں یہ بھی حکم تھا کہ ان کے کپڑے پر اگر پیشاب لگ جائے تو اتنا کپڑا کتروا ڈالیں اللہ نے اس امت پر آسانی کر دی پانی سے دھو لینا ہی کپڑے کی پاکی رکھی اور توبہ کر لیناہی گناہ کی معافی۔
صفحہ نمبر1934
ایک عورت نے سیدنا عبداللہ بن مفضل رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ عورت نے بدکاری کی پھر جب بچہ ہوا تو اسے مار ڈالا آپ نے فرمایا اس کی سزا جہنم ہے وہ روتی ہوئی واپس چلی تو آپ نے اسے بلایا اور «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [4-النساء:110] پڑھ کر سنائی تو اس نے اپنے آنسو پونچھ ڈالے اور واپس لوٹ گئی .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس مسلمان سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے پھر وہ وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کر کے اللہ سے استغفار کرے تو اللہ اس کے اس گناہ کو بخش دیتا ہے پھر آپ نے یہ آیت اور «وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ڞ وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ» [3-آل عمران:135] کی تلاوت کی۔ “ اس حدیث کا پورا بیان ہم نے مسند سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میں کر دیا ہے اور کچھ بیان سورۃ آل عمران کی تفسیر میں بھی گذرا ہے۔
صفحہ نمبر1935
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ مجلس میں سے اُٹھ کر اپنے کسی کام کے لیے کبھی جاتے اور واپس تشریف لانے کا ارادہ بھی ہوتا جوتی یا کپڑا کچھ نہ کچھ چھوڑ جاتے، ایک مرتبہ آپ اپنی جوتی چھوڑے ہوئے اُٹھے ڈولچی پانی کی ساتھ لے چلے میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا آپ کچھ دور جا کر بغیر حاجت پوری کئے واپس آئے اور فرمانے لگے۔ میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور مجھے یہ پیغام دے گیا، پھر آپ نے «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [4-النساء:110] پڑھی اور فرمایا میں اپنے صحابہ کو یہ خوشخبری سنانے کے لیے راستے میں ہی لوٹ آیا ہوں۔
صفحہ نمبر1936
اس سے پہلے چونکہ «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [4-النساء:110] یعنی ہر برائی کرنے والے کو اس کی برائی کا بدلہ ملے گا اتر چکی تھی اس لیے صحابہ رضی اللہ عنہم بہت پریشان تھے . میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی نے زنا کیا ہو؟ چوری کی ہو؟ پھر وہ استفغار کرے تو اسے بھی اللہ بخش دے گا؟ آپ نے فرمایا ہاں، میں نے دوبارہ پوچھا آپ نے کہا ہاں میں نے سہ بارہ دریافت کیا تو آپ نے فرمایا ہاں گو ابودراداء کی ناک خاک آلود ہو . پس ابودرداء جب یہ حدیث بیان کرتے اپنی ناک پر مار کر بتاتے۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اور یہ حدیث غریب ہے۔
پھر فرمایا گناہ کرنے والا اپنا ہی برا کرتا ہے جیسے اور جگہ ہے کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، ایک دوسرے کو نفع نہ پہنچا سکے گا، ہر شخص انپے کرتوت کا ذمہ دار ہے، کوئی نہ ہوگا جو بوجھ اٹھائے، اللہ کا علم، اللہ کی حکمت اور الٰہی عدل و رحمت کے خلاف ہے کہ ایک گناہ کرے اور دوسرا پکڑا جائے۔ پھر فرماتا ہے جو خود برا کام کر کے کسی بےگناہ کے سر تھوپ دے جیسے بنوابیرق نے سیدنا لبید رضی اللہ عنہ کا نام لے دیا جو واقعہ تفصیل وار اس سے اگلی آیت کی تفسیر میں بیان ہو چکا ہے، یا مراد زید بن سمین یہودی ہے جیسے بعض اور مفسرین کا خیال ہے کہ اس چوری کی تہمت اس قبیلے نے اس بےگناہ شخص کے ذمہ لگائی تھی اور خود ہی خائن اور ظالم تھے، آیت گو شان نزول کے اعتبار سے خاص ہے لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہے جو بھی ایسا کرے وہ اللہ کی سزا کا مستحق ہے۔
صفحہ نمبر1937
سچی توبہ کبھی مسترد نہیں ہوتی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنا کرم اور اپنی مہربانی کو بیان فرماتا ہے کہ جس گناہ سے جو کوئی توبہ کرے اللہ اس کی طرف مہربانی سے رجوع کرتا ہے، ہر وہ شخص جو رب کی طرف جھکے رب اپنی مہربانی سے اور اپنی وسعت رحمت سے اسے ڈھانپ لیتا ہے اور اس کے صغیرہ کبیرہ گناہ کو بخشش دیتا ہے، چاہے وہ گناہ آسمان و زمین اور پہاڑوں سے بھی بڑے ہوں،
بنو اسرائیل میں جب کوئی گناہ کرتا تو اس کے دروازے پر قدرتی حروف میں کفارہ لکھا ہوا نظر آ جاتا تھا جو اسے ادا کرنا پڑتا اور انہیں یہ بھی حکم تھا کہ ان کے کپڑے پر اگر پیشاب لگ جائے تو اتنا کپڑا کتروا ڈالیں اللہ نے اس امت پر آسانی کر دی پانی سے دھو لینا ہی کپڑے کی پاکی رکھی اور توبہ کر لیناہی گناہ کی معافی۔
صفحہ نمبر1934
ایک عورت نے سیدنا عبداللہ بن مفضل رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ عورت نے بدکاری کی پھر جب بچہ ہوا تو اسے مار ڈالا آپ نے فرمایا اس کی سزا جہنم ہے وہ روتی ہوئی واپس چلی تو آپ نے اسے بلایا اور «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [4-النساء:110] پڑھ کر سنائی تو اس نے اپنے آنسو پونچھ ڈالے اور واپس لوٹ گئی .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس مسلمان سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے پھر وہ وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کر کے اللہ سے استغفار کرے تو اللہ اس کے اس گناہ کو بخش دیتا ہے پھر آپ نے یہ آیت اور «وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ڞ وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ» [3-آل عمران:135] کی تلاوت کی۔ “ اس حدیث کا پورا بیان ہم نے مسند سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میں کر دیا ہے اور کچھ بیان سورۃ آل عمران کی تفسیر میں بھی گذرا ہے۔
صفحہ نمبر1935
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ مجلس میں سے اُٹھ کر اپنے کسی کام کے لیے کبھی جاتے اور واپس تشریف لانے کا ارادہ بھی ہوتا جوتی یا کپڑا کچھ نہ کچھ چھوڑ جاتے، ایک مرتبہ آپ اپنی جوتی چھوڑے ہوئے اُٹھے ڈولچی پانی کی ساتھ لے چلے میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا آپ کچھ دور جا کر بغیر حاجت پوری کئے واپس آئے اور فرمانے لگے۔ میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور مجھے یہ پیغام دے گیا، پھر آپ نے «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [4-النساء:110] پڑھی اور فرمایا میں اپنے صحابہ کو یہ خوشخبری سنانے کے لیے راستے میں ہی لوٹ آیا ہوں۔
صفحہ نمبر1936
اس سے پہلے چونکہ «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [4-النساء:110] یعنی ہر برائی کرنے والے کو اس کی برائی کا بدلہ ملے گا اتر چکی تھی اس لیے صحابہ رضی اللہ عنہم بہت پریشان تھے . میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی نے زنا کیا ہو؟ چوری کی ہو؟ پھر وہ استفغار کرے تو اسے بھی اللہ بخش دے گا؟ آپ نے فرمایا ہاں، میں نے دوبارہ پوچھا آپ نے کہا ہاں میں نے سہ بارہ دریافت کیا تو آپ نے فرمایا ہاں گو ابودراداء کی ناک خاک آلود ہو . پس ابودرداء جب یہ حدیث بیان کرتے اپنی ناک پر مار کر بتاتے۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اور یہ حدیث غریب ہے۔
پھر فرمایا گناہ کرنے والا اپنا ہی برا کرتا ہے جیسے اور جگہ ہے کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، ایک دوسرے کو نفع نہ پہنچا سکے گا، ہر شخص انپے کرتوت کا ذمہ دار ہے، کوئی نہ ہوگا جو بوجھ اٹھائے، اللہ کا علم، اللہ کی حکمت اور الٰہی عدل و رحمت کے خلاف ہے کہ ایک گناہ کرے اور دوسرا پکڑا جائے۔ پھر فرماتا ہے جو خود برا کام کر کے کسی بےگناہ کے سر تھوپ دے جیسے بنوابیرق نے سیدنا لبید رضی اللہ عنہ کا نام لے دیا جو واقعہ تفصیل وار اس سے اگلی آیت کی تفسیر میں بیان ہو چکا ہے، یا مراد زید بن سمین یہودی ہے جیسے بعض اور مفسرین کا خیال ہے کہ اس چوری کی تہمت اس قبیلے نے اس بےگناہ شخص کے ذمہ لگائی تھی اور خود ہی خائن اور ظالم تھے، آیت گو شان نزول کے اعتبار سے خاص ہے لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہے جو بھی ایسا کرے وہ اللہ کی سزا کا مستحق ہے۔
صفحہ نمبر1937
باب
اس کے بعد کی «وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّت طَّائِفَةٌ مِّنْهُمْ أَن يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ» [4-النساء:113] کا تعلق بھی اسی واقعہ سے ہے یعنی سیدنا لبید بن عروہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے بنوابیرق کے چوروں کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے برات اور ان کی پاکدامنی کا اظہار کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اصلیت سے دور رکھنے کا سارا کام پورا کر لیا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی عصمت کا حقیقی نگہبان ہے آپ کو اس خطرناک موقعہ پر خائنوں کی طرف داری سے بچا لیا اور اصلی واقعہ صاف کر دیا۔
کتاب سے مراد قرآن اور حکم سے مراد سنت ہے۔ نزول وحی سے پہلے آپ جو نہ جانتے تھے ان کا علم پروردگار نے آپ کو بذریعہ وحی کر دیا جیسے اور آیت میں ہے «وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا ۚ مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَـٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا ۚ وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» [42-الشورى:52] اور آیت میں ہے «وَمَا كُنْتَ تَرْجُوْٓا اَنْ يُّلْقٰٓى اِلَيْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِيْرًا لِّـلْكٰفِرِيْنَ» [28-القصص:86] اسی لیے یہاں بھی فرمایا۔ یہ سب باتیں اللہ کا فضل ہیں جو آپ کے شامل حال ہے۔
صفحہ نمبر1940
اچھے کاموں کی دعوت اور برے کاموں سے روکنے کے علاوہ تمام باتیں قابل مواخذہ ہیں ٭٭
لوگوں کے اکثر کلام بے معنی ہوتے ہیں سوائے ان کے جن کی باتوں کا مقصد دوسروں کی بھلائی اور لوگوں میں میل ملاپ کرانا ہو، سیدنا سفیان ثوری رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے لوگ جاتے ہیں ان میں سعید بن حسان رحمہ اللہ بھی ہیں تو آپ فرماتے ہیں سعید رحمہ اللہ تم نے ام صالح کی روایت سے جو حدیث بیان کی تھی آج اسے پھر سناؤ، آپ سند بیان کر کے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کی تمام باتیں قابل مواخذہ ہیں بجز اللہ کے ذکر اور اچھے کاموں کے بتانے اور برے کاموں سے روکنے کے۔ [سنن ترمذي:2412،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
سفیان رحمہ اللہ نے کہا یہی مضمون اس آیت میں ہے، یہی مضمون آیت «يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ صَفًّا ٷ لَّا يَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» [78-النبأ:38] میں ہے یہی مضمون سورۃ والعصر میں ہے «وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ» [103-العصر:1-2]
مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ لوگوں کی آپس میں محبت بڑھانے اور صلح صفائی کے لیے جو بھی بات کہے اِدھر اُدھر سے کہے یا قسم اٹھائے وہ جھوٹوں میں داخل نہیں، سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِدھر کی بات اُدھر کہنے کی تین صورتوں میں اجازت دیتے ہوئے سنا ہے جہاد کی ترغیب میں، لوگوں میں صلح کرانے اور میاں بیوی کو ملانے کی صورت میں یہ ہجرت کرنے والیوں اور بیعت کرنے والیوں میں سے ہیں۔ [صحیح بخاری:6292]
صفحہ نمبر1941
ایک اور حدیث میں ہے کیا میں تمہیں ایک ایسا عمل بتاؤں؟ جو روزہ نماز اور صدقہ سے بھی افضل ہے لوگوں نے خواہش کی تو آپ نے فرمایا وہ آپس میں اصلاح کرانا ہے فرماتے ہیں اور آپس کا فساد نیکیوں کو ختم کر دیتا ہے (ابو داود وغیرہ) [مسند احمد:444/6:قال الشيخ الألباني:صحیح]
بزار میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے فرمایا آ میں تجھے ایک تجارت بتاؤں لوگ جب لڑ جھگڑ رہے ہوں تو ان میں مصالحت کرا دے جب ایک دوسرے سے رنجیدہ ہوں تو انہیں ملا دے۔ [مسند بزار:2060:ضعیف] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی بھلی باتیں رب کی رضا مندی خلوص اور نیک نیتی سے جو کرے وہ اجر عظیم پائے گا۔
صفحہ نمبر1942
جو شخص غیر شرعی طریق پر چلے یعنی شرع ایک طرف ہو اور اس کی راہ ایک طرف ہو۔ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ہو اور اس کا مقصد عمل اور ہو۔ حالانکہ اس پر حق واضح ہو چکا ہو دلیل دیکھ چکا ہو پھر بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کر کے مسلمانوں کی صاف راہ سے ہٹ جائے تو ہم بھی اسے ٹیڑھی اور بری راہ پر ہی لگا دیتے ہیں اسے وہی غلط راہ اچھی اور بھلی معلوم ہونے لگتی ہے یہاں تک کہ بیچوں بیچ جہنم میں جا پہنچتا ہے۔
مومنوں کی راہ کے علاوہ راہ اختیار کرنا دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور دشمنی کے مترادف ہے جو کبھی تو شارع علیہ السلام کی صاف بات کے خلاف اور کبھی اس چیز کے خلاف ہوتا ہے جس پر ساری امت محمدیہ متفق ہے جس میں انہیں اللہ نے بوجہ ان کی شرافت وکرامت کے محفوظ کر رکھا ہے۔ اس بارے میں بہت سی حدیثیں بھی ہیں اور ہم نے بھی احادیث اصول میں ان کا بڑا حصہ بیان کر دیا ہے، بعض علماء تو اس کے تواتر معنی کے قائل ہیں،
امام شافعی رحمہ اللہ غورو فکر کے بعد اس آیت سے امت کے اتفاق کی دلیل ہونے پر استدلال کیا ہے حقیقتاً یہی موقف بہترین اور قوی تر ہے، بعض دیگر ائمہ نے اس دلالت کو مشکل اور دور از آیت بھی بتایا ہے، غرض ایسا کرنے والے کی رسی اللہ میاں بھی ڈھیلی چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «فَذَرْنِي وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـٰذَا الْحَدِيثِ ۖ سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ» [68-القلم:44] یعنی ” ہم ان کی بیخبری میں آہستہ آہستہ مہلت بڑھاتے رہتے ہیں، ان کے بہکتے ہی ہم ان کے دلوں کو ٹیڑہ کر دیتے ہیں “ «فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ» [61-الصف:5] ” ہم بھی ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیتے ہیں، ہم انہیں ان کی سرکشی میں گم چھوڑ دیتے ہیں۔ بالآخر ان کی جائے بازگشت جہنم بن جاتی ہے۔ “
جیسے فرمان ہے «وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» [6-الأنعام:110] ” ظالموں کو ان کے ساتھیوں کے ساتھ قبروں سے اٹھائیں گے۔“
اور جیسے فرمایا «وَرَأَى الْمُجْرِمُونَ النَّارَ فَظَنُّوا أَنَّهُم مُّوَاقِعُوهَا وَلَمْ يَجِدُوا عَنْهَا مَصْرِفًا» [18-الكهف:53] ” ظالم آگ کو دیکھ کر جان لے گا کہ اس میں کودنا پڑے گا لیکن کوئی صورت چھٹکارے کی نہ پائے گا۔“
صفحہ نمبر1943
اچھے کاموں کی دعوت اور برے کاموں سے روکنے کے علاوہ تمام باتیں قابل مواخذہ ہیں ٭٭
لوگوں کے اکثر کلام بے معنی ہوتے ہیں سوائے ان کے جن کی باتوں کا مقصد دوسروں کی بھلائی اور لوگوں میں میل ملاپ کرانا ہو، سیدنا سفیان ثوری رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے لوگ جاتے ہیں ان میں سعید بن حسان رحمہ اللہ بھی ہیں تو آپ فرماتے ہیں سعید رحمہ اللہ تم نے ام صالح کی روایت سے جو حدیث بیان کی تھی آج اسے پھر سناؤ، آپ سند بیان کر کے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کی تمام باتیں قابل مواخذہ ہیں بجز اللہ کے ذکر اور اچھے کاموں کے بتانے اور برے کاموں سے روکنے کے۔ [سنن ترمذي:2412،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
سفیان رحمہ اللہ نے کہا یہی مضمون اس آیت میں ہے، یہی مضمون آیت «يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ صَفًّا ٷ لَّا يَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» [78-النبأ:38] میں ہے یہی مضمون سورۃ والعصر میں ہے «وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ» [103-العصر:1-2]
مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ لوگوں کی آپس میں محبت بڑھانے اور صلح صفائی کے لیے جو بھی بات کہے اِدھر اُدھر سے کہے یا قسم اٹھائے وہ جھوٹوں میں داخل نہیں، سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِدھر کی بات اُدھر کہنے کی تین صورتوں میں اجازت دیتے ہوئے سنا ہے جہاد کی ترغیب میں، لوگوں میں صلح کرانے اور میاں بیوی کو ملانے کی صورت میں یہ ہجرت کرنے والیوں اور بیعت کرنے والیوں میں سے ہیں۔ [صحیح بخاری:6292]
صفحہ نمبر1941
ایک اور حدیث میں ہے کیا میں تمہیں ایک ایسا عمل بتاؤں؟ جو روزہ نماز اور صدقہ سے بھی افضل ہے لوگوں نے خواہش کی تو آپ نے فرمایا وہ آپس میں اصلاح کرانا ہے فرماتے ہیں اور آپس کا فساد نیکیوں کو ختم کر دیتا ہے (ابو داود وغیرہ) [مسند احمد:444/6:قال الشيخ الألباني:صحیح]
بزار میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے فرمایا آ میں تجھے ایک تجارت بتاؤں لوگ جب لڑ جھگڑ رہے ہوں تو ان میں مصالحت کرا دے جب ایک دوسرے سے رنجیدہ ہوں تو انہیں ملا دے۔ [مسند بزار:2060:ضعیف] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی بھلی باتیں رب کی رضا مندی خلوص اور نیک نیتی سے جو کرے وہ اجر عظیم پائے گا۔
صفحہ نمبر1942
جو شخص غیر شرعی طریق پر چلے یعنی شرع ایک طرف ہو اور اس کی راہ ایک طرف ہو۔ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ہو اور اس کا مقصد عمل اور ہو۔ حالانکہ اس پر حق واضح ہو چکا ہو دلیل دیکھ چکا ہو پھر بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کر کے مسلمانوں کی صاف راہ سے ہٹ جائے تو ہم بھی اسے ٹیڑھی اور بری راہ پر ہی لگا دیتے ہیں اسے وہی غلط راہ اچھی اور بھلی معلوم ہونے لگتی ہے یہاں تک کہ بیچوں بیچ جہنم میں جا پہنچتا ہے۔
مومنوں کی راہ کے علاوہ راہ اختیار کرنا دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور دشمنی کے مترادف ہے جو کبھی تو شارع علیہ السلام کی صاف بات کے خلاف اور کبھی اس چیز کے خلاف ہوتا ہے جس پر ساری امت محمدیہ متفق ہے جس میں انہیں اللہ نے بوجہ ان کی شرافت وکرامت کے محفوظ کر رکھا ہے۔ اس بارے میں بہت سی حدیثیں بھی ہیں اور ہم نے بھی احادیث اصول میں ان کا بڑا حصہ بیان کر دیا ہے، بعض علماء تو اس کے تواتر معنی کے قائل ہیں،
امام شافعی رحمہ اللہ غورو فکر کے بعد اس آیت سے امت کے اتفاق کی دلیل ہونے پر استدلال کیا ہے حقیقتاً یہی موقف بہترین اور قوی تر ہے، بعض دیگر ائمہ نے اس دلالت کو مشکل اور دور از آیت بھی بتایا ہے، غرض ایسا کرنے والے کی رسی اللہ میاں بھی ڈھیلی چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «فَذَرْنِي وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـٰذَا الْحَدِيثِ ۖ سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ» [68-القلم:44] یعنی ” ہم ان کی بیخبری میں آہستہ آہستہ مہلت بڑھاتے رہتے ہیں، ان کے بہکتے ہی ہم ان کے دلوں کو ٹیڑہ کر دیتے ہیں “ «فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ» [61-الصف:5] ” ہم بھی ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیتے ہیں، ہم انہیں ان کی سرکشی میں گم چھوڑ دیتے ہیں۔ بالآخر ان کی جائے بازگشت جہنم بن جاتی ہے۔ “
جیسے فرمان ہے «وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» [6-الأنعام:110] ” ظالموں کو ان کے ساتھیوں کے ساتھ قبروں سے اٹھائیں گے۔“
اور جیسے فرمایا «وَرَأَى الْمُجْرِمُونَ النَّارَ فَظَنُّوا أَنَّهُم مُّوَاقِعُوهَا وَلَمْ يَجِدُوا عَنْهَا مَصْرِفًا» [18-الكهف:53] ” ظالم آگ کو دیکھ کر جان لے گا کہ اس میں کودنا پڑے گا لیکن کوئی صورت چھٹکارے کی نہ پائے گا۔“
صفحہ نمبر1943
مشرک کی پہچان اور ان کا انجام ٭٭
اس سورت کے شروع میں پہلی آیت کے متعلق ہم پوری تفسیر کر چکے ہیں اور وہیں اس آیت سے تعلق رکھنے والی حدیثیں بھی بیان کر دی ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے قرآن کی کوئی آیت مجھے اس آیت سے زیادہ محبوب نہیں [سنن ترمذي:3037،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مشرکین سے دنیا اور آخرت کی بھلائی دور ہو جاتی ہے اور وہ راہ حق سے دور ہو جاتے ہیں وہ اپنے آپ کو اور اپنے دونوں جہانوں کو برباد کر لیتے ہیں، یہ مشرکین عورتوں کے پرستار ہیں، سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر صنم کے ساتھ ایک جننی عورت ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں «اِنَاثًا» سے مراد بت ہیں، یہ قول اور بھی مفسرین کا ہے۔
ضحاک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مشرک فرشتوں کو پوجتے تھے اور انہیں اللہ کی لڑکیاں مانتے تھے [تفسیر ابن جریر الطبری:209/9] اور کہتے تھے کہ ان کی عبادت سے- ہماری اصل غرض اللہ عزوجل کی نزدیکی حاصل کرنا ہے اور ان کی تصویریں عورتوں کی شکل پر بناتے تھے پھر حکم کرتے تھے اور تقلید کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ صورتیں فرشتوں کی ہیں جو اللہ کی لڑکیاں ہیں۔
صفحہ نمبر1945
یہ تفسیر «اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى» [53-النجم:19] ” کیا تم نے ﻻت اور عزیٰ کو دیکھا “ کے مضمون سے خوب ملتی ہے جہاں ان کے بتوں کے نام لے کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ خوب انصاف ہے کہ لڑکے تو تمہارے اور لڑکیاں میری؟ اور آیت میں ہے «وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ» [43-الزخرف:19] ” اور انہوں نے فرشتوں کو جو رحمٰن کے عبادت گزار ہیں عورتیں قرار دے لیا۔ کیا ان کی پیدائش کے موقع پر یہ موجود تھے؟ ان کی یہ گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے [اس چیز کی] باز پرس کی جائے گی۔ “
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «اناث» مراد مردے ہیں، حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر بے روح چیز «اناث» ہے خواہ خشک لکڑی ہو خواہ پتھر ہو، لیکن یہ قول غریب ہے۔
صفحہ نمبر1946
پھر ارشاد ہے کہ «أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ» [36-يس:60] ” اے بنی آدم کیا میں نے تم سے شیطان کی عبادت نہ کرنے کا وعدہ نہیں لیا تھا؟ “ اسی وجہ سے فرشتے قیامت کے دن صاف کہہ دینگے کہ ہماری عبادت کے دعوےدار دراصل شیطانی پوجا کے پھندے میں تھے، شیطان کو رب نے اپنی رحمت سے دورکر دیا ہے اور اپنی بارگاہ سے نکال باہر کیا ہے، اس نے بھی بیڑا اٹھا رکھا ہے کہ اللہ کے بندوں کو معقول تعداد میں بہکائے۔
مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے کو جہنم میں اپنے ساتھ لے جائے گا، ایک بچ رہے گا جو جنت کا مستحق ہو گا، شیطان نے کہا ہے کہ میں انہیں حق سے بہکاؤں گا اور انہیں اُمید دلاتا رہوں گا یہ توبہ ترک کر بیٹھیں گے، خواہشوں کے پیچھے پڑ جائیں گے موت کو بھول بیٹھیں گے نفس پروری اور آخرت سے غافل ہو جائیں گے، جانوروں کے کان کاٹ کر یا سوراخ دار کر کے اللہ کے سوا دوسروں کے نام کرنے کی انہیں تلقین کروں گا، اللہ کی بنائی ہوئی صورتوں کو بگاڑنا سکھاؤں گا جیسے جانوروں کو خصی کرنا۔
صفحہ نمبر1947
ایک حدیث میں اس سے بھی ممانعت آئی ہے شاید مراد اس سے نسل منقطع کرنے کی غرض سے ایسا کرنا ہے۔ ایک معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ چہرے پر گودنا گدوانا، جو صحیح مسلم کی حدیث میں ممنوع ہے [صحیح مسلم:2116] اور جس کے کرنے والے پر اللہ کی لعنت وارد ہوئی ہے۔ [صحیح مسلم:2117]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے صحیح سند سے مروی ہے کہ ” گود نے والیوں اور گدوانے والیوں، پیشانی کے بال نوچنے والیوں اور نچوانے والیوں اور دانتوں میں کشادگی کرنے والیوں پر جو حسن و خوبصورتی کے لیے اللہ کی بناوٹ کو بگاڑتی ہیں اللہ کی لعنت ہے “ میں ان پر لعنت کیوں نہ بھیجوں؟ جن پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور جو کتاب اللہ میں موجود ہے پھر آپ نے «وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ» [59-الحشر:7] پڑھی۔ [صحیح بخاری:5931]
بعض اور مفسرین کرام سے مروی ہے کہ مراد اللہ کے دین کو بدل دینا ہے جیسے اور آیت میں ہے «فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا ۭ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [30-الروم:30] ” یعنی اپنا چہرہ قائم رکھ کر اللہ کے یکطرفہ دین کا رخ اختیار کرنا یہ اللہ کی وہ فطرت ہے جس پر تمام انسانوں کو اس نے پیدا کیا ہے اللہ کی خلق میں کوئی تبدیلی نہیں۔ “ اس سے پچھلے (آخری) جملے کو اگر امر کے معنی میں لیا جائے تو یہ تفسیر ٹھیک ہو جاتی ہے یعنی اللہ کی فطرف کو نہ بدلو لوگوں کو میں نے جس فطرت پر پیدا کیا ہے اسی پر رہنے دو۔
صفحہ نمبر1948
بخاری و مسلم میں ہے ” ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ پھر اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں “ جیسے بکری کا صحیح سالم بچہ بےعیب ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان وغیرہ کاٹ دیتے ہیں اور اسے عیب دار کر دیتے ہیں [صحیح بخاری:4775]
صحیح مسلم میں ہے اللہ عزوجل فرماتا ہے ” میں نے اپنے بندوں کو یکسوئی والے دین پر پیدا کیا لیکن شیطان نے آکر انہیں بہکا دیا پھر میں نے اپنے حلال کو ان پر حرام کر دیا۔“ [صحیح مسلم:2865] شیطان کو دوست بنانے والا اپنا نقصان کرنے والا ہے جس نقصان کی کبھی تلافی نہ ہو سکے۔ کیونکہ شیطان انہیں سبز باغ دکھاتا رہتا ہے غلط راہوں میں ان کی فلاح وبہود کا یقین دلاتا ہے دراصل وہ بڑا فریب اور صاف دھوکا ہوتا ہے۔
چنانچہ شیطان قیامت کے دن صاف کہے گا اللہ کے وعدے سچے تھے اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی میرا کوئی زور تم پر تھا ہی نہیں میری پکار کو سنتے ہی کیوں تم مست و بےعقل بن گئے؟ اب مجھے کیوں کوستے ہو؟ اپنے آپ کو برا کہو۔ شیطانی وعدوں کو صحیح جاننے والے اس کی دلائی ہوئی اُمیدوں کو پوری ہونے والی سمجھنے والے آخر جہنم واصل ہو نگے جہاں سے چھٹکارا محال ہو گا۔
صفحہ نمبر1949
ان بدبختوں کے ذکر کے بعد اب نیک لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جو دل سے میرے ماننے والے ہیں اور جسم سے میری تابعداری کرنے والے ہیں میرے احکام پر عمل کرتے ہیں میری منع کردہ چیزوں سے باز رہتے ہیں میں انہیں اپنی نعمتیں دوں گا انہیں جنتوں میں لے جاؤں گا جن کی نہریں جہاں یہ چاہیں خودبخود بہنے لگیں جن میں زوال، کمی یا نقصان بھی نہیں ہے، اللہ کا یہ وعدہ اصل اور بالکل سچا ہے اور یقیناً ہونے والا ہے اللہ سے زیادہ سچی بات اور کس کی ہو گی؟ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں نہ ہی کوئی اس کے سوا مربی ہے۔
” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبے میں فرمایا کرتے تھے سب سے زیادہ سچی بات اللہ کا کلام ہے اور سب سے بہتر ہدایت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے اور تمام کاموں میں سب سے برا کام دین میں نئی بات نکالنا ہے اور ہر ایسی نئی بات کا نام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی جہنم میں ہے۔ “ [صحیح مسلم:867]
صفحہ نمبر1950
مشرک کی پہچان اور ان کا انجام ٭٭
اس سورت کے شروع میں پہلی آیت کے متعلق ہم پوری تفسیر کر چکے ہیں اور وہیں اس آیت سے تعلق رکھنے والی حدیثیں بھی بیان کر دی ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے قرآن کی کوئی آیت مجھے اس آیت سے زیادہ محبوب نہیں [سنن ترمذي:3037،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مشرکین سے دنیا اور آخرت کی بھلائی دور ہو جاتی ہے اور وہ راہ حق سے دور ہو جاتے ہیں وہ اپنے آپ کو اور اپنے دونوں جہانوں کو برباد کر لیتے ہیں، یہ مشرکین عورتوں کے پرستار ہیں، سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر صنم کے ساتھ ایک جننی عورت ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں «اِنَاثًا» سے مراد بت ہیں، یہ قول اور بھی مفسرین کا ہے۔
ضحاک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مشرک فرشتوں کو پوجتے تھے اور انہیں اللہ کی لڑکیاں مانتے تھے [تفسیر ابن جریر الطبری:209/9] اور کہتے تھے کہ ان کی عبادت سے- ہماری اصل غرض اللہ عزوجل کی نزدیکی حاصل کرنا ہے اور ان کی تصویریں عورتوں کی شکل پر بناتے تھے پھر حکم کرتے تھے اور تقلید کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ صورتیں فرشتوں کی ہیں جو اللہ کی لڑکیاں ہیں۔
صفحہ نمبر1945
یہ تفسیر «اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى» [53-النجم:19] ” کیا تم نے ﻻت اور عزیٰ کو دیکھا “ کے مضمون سے خوب ملتی ہے جہاں ان کے بتوں کے نام لے کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ خوب انصاف ہے کہ لڑکے تو تمہارے اور لڑکیاں میری؟ اور آیت میں ہے «وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ» [43-الزخرف:19] ” اور انہوں نے فرشتوں کو جو رحمٰن کے عبادت گزار ہیں عورتیں قرار دے لیا۔ کیا ان کی پیدائش کے موقع پر یہ موجود تھے؟ ان کی یہ گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے [اس چیز کی] باز پرس کی جائے گی۔ “
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «اناث» مراد مردے ہیں، حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر بے روح چیز «اناث» ہے خواہ خشک لکڑی ہو خواہ پتھر ہو، لیکن یہ قول غریب ہے۔
صفحہ نمبر1946
پھر ارشاد ہے کہ «أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ» [36-يس:60] ” اے بنی آدم کیا میں نے تم سے شیطان کی عبادت نہ کرنے کا وعدہ نہیں لیا تھا؟ “ اسی وجہ سے فرشتے قیامت کے دن صاف کہہ دینگے کہ ہماری عبادت کے دعوےدار دراصل شیطانی پوجا کے پھندے میں تھے، شیطان کو رب نے اپنی رحمت سے دورکر دیا ہے اور اپنی بارگاہ سے نکال باہر کیا ہے، اس نے بھی بیڑا اٹھا رکھا ہے کہ اللہ کے بندوں کو معقول تعداد میں بہکائے۔
مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے کو جہنم میں اپنے ساتھ لے جائے گا، ایک بچ رہے گا جو جنت کا مستحق ہو گا، شیطان نے کہا ہے کہ میں انہیں حق سے بہکاؤں گا اور انہیں اُمید دلاتا رہوں گا یہ توبہ ترک کر بیٹھیں گے، خواہشوں کے پیچھے پڑ جائیں گے موت کو بھول بیٹھیں گے نفس پروری اور آخرت سے غافل ہو جائیں گے، جانوروں کے کان کاٹ کر یا سوراخ دار کر کے اللہ کے سوا دوسروں کے نام کرنے کی انہیں تلقین کروں گا، اللہ کی بنائی ہوئی صورتوں کو بگاڑنا سکھاؤں گا جیسے جانوروں کو خصی کرنا۔
صفحہ نمبر1947
ایک حدیث میں اس سے بھی ممانعت آئی ہے شاید مراد اس سے نسل منقطع کرنے کی غرض سے ایسا کرنا ہے۔ ایک معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ چہرے پر گودنا گدوانا، جو صحیح مسلم کی حدیث میں ممنوع ہے [صحیح مسلم:2116] اور جس کے کرنے والے پر اللہ کی لعنت وارد ہوئی ہے۔ [صحیح مسلم:2117]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے صحیح سند سے مروی ہے کہ ” گود نے والیوں اور گدوانے والیوں، پیشانی کے بال نوچنے والیوں اور نچوانے والیوں اور دانتوں میں کشادگی کرنے والیوں پر جو حسن و خوبصورتی کے لیے اللہ کی بناوٹ کو بگاڑتی ہیں اللہ کی لعنت ہے “ میں ان پر لعنت کیوں نہ بھیجوں؟ جن پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور جو کتاب اللہ میں موجود ہے پھر آپ نے «وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ» [59-الحشر:7] پڑھی۔ [صحیح بخاری:5931]
بعض اور مفسرین کرام سے مروی ہے کہ مراد اللہ کے دین کو بدل دینا ہے جیسے اور آیت میں ہے «فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا ۭ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [30-الروم:30] ” یعنی اپنا چہرہ قائم رکھ کر اللہ کے یکطرفہ دین کا رخ اختیار کرنا یہ اللہ کی وہ فطرت ہے جس پر تمام انسانوں کو اس نے پیدا کیا ہے اللہ کی خلق میں کوئی تبدیلی نہیں۔ “ اس سے پچھلے (آخری) جملے کو اگر امر کے معنی میں لیا جائے تو یہ تفسیر ٹھیک ہو جاتی ہے یعنی اللہ کی فطرف کو نہ بدلو لوگوں کو میں نے جس فطرت پر پیدا کیا ہے اسی پر رہنے دو۔
صفحہ نمبر1948
بخاری و مسلم میں ہے ” ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ پھر اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں “ جیسے بکری کا صحیح سالم بچہ بےعیب ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان وغیرہ کاٹ دیتے ہیں اور اسے عیب دار کر دیتے ہیں [صحیح بخاری:4775]
صحیح مسلم میں ہے اللہ عزوجل فرماتا ہے ” میں نے اپنے بندوں کو یکسوئی والے دین پر پیدا کیا لیکن شیطان نے آکر انہیں بہکا دیا پھر میں نے اپنے حلال کو ان پر حرام کر دیا۔“ [صحیح مسلم:2865] شیطان کو دوست بنانے والا اپنا نقصان کرنے والا ہے جس نقصان کی کبھی تلافی نہ ہو سکے۔ کیونکہ شیطان انہیں سبز باغ دکھاتا رہتا ہے غلط راہوں میں ان کی فلاح وبہود کا یقین دلاتا ہے دراصل وہ بڑا فریب اور صاف دھوکا ہوتا ہے۔
چنانچہ شیطان قیامت کے دن صاف کہے گا اللہ کے وعدے سچے تھے اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی میرا کوئی زور تم پر تھا ہی نہیں میری پکار کو سنتے ہی کیوں تم مست و بےعقل بن گئے؟ اب مجھے کیوں کوستے ہو؟ اپنے آپ کو برا کہو۔ شیطانی وعدوں کو صحیح جاننے والے اس کی دلائی ہوئی اُمیدوں کو پوری ہونے والی سمجھنے والے آخر جہنم واصل ہو نگے جہاں سے چھٹکارا محال ہو گا۔
صفحہ نمبر1949
ان بدبختوں کے ذکر کے بعد اب نیک لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جو دل سے میرے ماننے والے ہیں اور جسم سے میری تابعداری کرنے والے ہیں میرے احکام پر عمل کرتے ہیں میری منع کردہ چیزوں سے باز رہتے ہیں میں انہیں اپنی نعمتیں دوں گا انہیں جنتوں میں لے جاؤں گا جن کی نہریں جہاں یہ چاہیں خودبخود بہنے لگیں جن میں زوال، کمی یا نقصان بھی نہیں ہے، اللہ کا یہ وعدہ اصل اور بالکل سچا ہے اور یقیناً ہونے والا ہے اللہ سے زیادہ سچی بات اور کس کی ہو گی؟ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں نہ ہی کوئی اس کے سوا مربی ہے۔
” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبے میں فرمایا کرتے تھے سب سے زیادہ سچی بات اللہ کا کلام ہے اور سب سے بہتر ہدایت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے اور تمام کاموں میں سب سے برا کام دین میں نئی بات نکالنا ہے اور ہر ایسی نئی بات کا نام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی جہنم میں ہے۔ “ [صحیح مسلم:867]
صفحہ نمبر1950
مشرک کی پہچان اور ان کا انجام ٭٭
اس سورت کے شروع میں پہلی آیت کے متعلق ہم پوری تفسیر کر چکے ہیں اور وہیں اس آیت سے تعلق رکھنے والی حدیثیں بھی بیان کر دی ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے قرآن کی کوئی آیت مجھے اس آیت سے زیادہ محبوب نہیں [سنن ترمذي:3037،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مشرکین سے دنیا اور آخرت کی بھلائی دور ہو جاتی ہے اور وہ راہ حق سے دور ہو جاتے ہیں وہ اپنے آپ کو اور اپنے دونوں جہانوں کو برباد کر لیتے ہیں، یہ مشرکین عورتوں کے پرستار ہیں، سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر صنم کے ساتھ ایک جننی عورت ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں «اِنَاثًا» سے مراد بت ہیں، یہ قول اور بھی مفسرین کا ہے۔
ضحاک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مشرک فرشتوں کو پوجتے تھے اور انہیں اللہ کی لڑکیاں مانتے تھے [تفسیر ابن جریر الطبری:209/9] اور کہتے تھے کہ ان کی عبادت سے- ہماری اصل غرض اللہ عزوجل کی نزدیکی حاصل کرنا ہے اور ان کی تصویریں عورتوں کی شکل پر بناتے تھے پھر حکم کرتے تھے اور تقلید کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ صورتیں فرشتوں کی ہیں جو اللہ کی لڑکیاں ہیں۔
صفحہ نمبر1945
یہ تفسیر «اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى» [53-النجم:19] ” کیا تم نے ﻻت اور عزیٰ کو دیکھا “ کے مضمون سے خوب ملتی ہے جہاں ان کے بتوں کے نام لے کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ خوب انصاف ہے کہ لڑکے تو تمہارے اور لڑکیاں میری؟ اور آیت میں ہے «وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ» [43-الزخرف:19] ” اور انہوں نے فرشتوں کو جو رحمٰن کے عبادت گزار ہیں عورتیں قرار دے لیا۔ کیا ان کی پیدائش کے موقع پر یہ موجود تھے؟ ان کی یہ گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے [اس چیز کی] باز پرس کی جائے گی۔ “
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «اناث» مراد مردے ہیں، حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر بے روح چیز «اناث» ہے خواہ خشک لکڑی ہو خواہ پتھر ہو، لیکن یہ قول غریب ہے۔
صفحہ نمبر1946
پھر ارشاد ہے کہ «أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ» [36-يس:60] ” اے بنی آدم کیا میں نے تم سے شیطان کی عبادت نہ کرنے کا وعدہ نہیں لیا تھا؟ “ اسی وجہ سے فرشتے قیامت کے دن صاف کہہ دینگے کہ ہماری عبادت کے دعوےدار دراصل شیطانی پوجا کے پھندے میں تھے، شیطان کو رب نے اپنی رحمت سے دورکر دیا ہے اور اپنی بارگاہ سے نکال باہر کیا ہے، اس نے بھی بیڑا اٹھا رکھا ہے کہ اللہ کے بندوں کو معقول تعداد میں بہکائے۔
مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے کو جہنم میں اپنے ساتھ لے جائے گا، ایک بچ رہے گا جو جنت کا مستحق ہو گا، شیطان نے کہا ہے کہ میں انہیں حق سے بہکاؤں گا اور انہیں اُمید دلاتا رہوں گا یہ توبہ ترک کر بیٹھیں گے، خواہشوں کے پیچھے پڑ جائیں گے موت کو بھول بیٹھیں گے نفس پروری اور آخرت سے غافل ہو جائیں گے، جانوروں کے کان کاٹ کر یا سوراخ دار کر کے اللہ کے سوا دوسروں کے نام کرنے کی انہیں تلقین کروں گا، اللہ کی بنائی ہوئی صورتوں کو بگاڑنا سکھاؤں گا جیسے جانوروں کو خصی کرنا۔
صفحہ نمبر1947
ایک حدیث میں اس سے بھی ممانعت آئی ہے شاید مراد اس سے نسل منقطع کرنے کی غرض سے ایسا کرنا ہے۔ ایک معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ چہرے پر گودنا گدوانا، جو صحیح مسلم کی حدیث میں ممنوع ہے [صحیح مسلم:2116] اور جس کے کرنے والے پر اللہ کی لعنت وارد ہوئی ہے۔ [صحیح مسلم:2117]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے صحیح سند سے مروی ہے کہ ” گود نے والیوں اور گدوانے والیوں، پیشانی کے بال نوچنے والیوں اور نچوانے والیوں اور دانتوں میں کشادگی کرنے والیوں پر جو حسن و خوبصورتی کے لیے اللہ کی بناوٹ کو بگاڑتی ہیں اللہ کی لعنت ہے “ میں ان پر لعنت کیوں نہ بھیجوں؟ جن پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور جو کتاب اللہ میں موجود ہے پھر آپ نے «وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ» [59-الحشر:7] پڑھی۔ [صحیح بخاری:5931]
بعض اور مفسرین کرام سے مروی ہے کہ مراد اللہ کے دین کو بدل دینا ہے جیسے اور آیت میں ہے «فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا ۭ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [30-الروم:30] ” یعنی اپنا چہرہ قائم رکھ کر اللہ کے یکطرفہ دین کا رخ اختیار کرنا یہ اللہ کی وہ فطرت ہے جس پر تمام انسانوں کو اس نے پیدا کیا ہے اللہ کی خلق میں کوئی تبدیلی نہیں۔ “ اس سے پچھلے (آخری) جملے کو اگر امر کے معنی میں لیا جائے تو یہ تفسیر ٹھیک ہو جاتی ہے یعنی اللہ کی فطرف کو نہ بدلو لوگوں کو میں نے جس فطرت پر پیدا کیا ہے اسی پر رہنے دو۔
صفحہ نمبر1948
بخاری و مسلم میں ہے ” ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ پھر اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں “ جیسے بکری کا صحیح سالم بچہ بےعیب ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان وغیرہ کاٹ دیتے ہیں اور اسے عیب دار کر دیتے ہیں [صحیح بخاری:4775]
صحیح مسلم میں ہے اللہ عزوجل فرماتا ہے ” میں نے اپنے بندوں کو یکسوئی والے دین پر پیدا کیا لیکن شیطان نے آکر انہیں بہکا دیا پھر میں نے اپنے حلال کو ان پر حرام کر دیا۔“ [صحیح مسلم:2865] شیطان کو دوست بنانے والا اپنا نقصان کرنے والا ہے جس نقصان کی کبھی تلافی نہ ہو سکے۔ کیونکہ شیطان انہیں سبز باغ دکھاتا رہتا ہے غلط راہوں میں ان کی فلاح وبہود کا یقین دلاتا ہے دراصل وہ بڑا فریب اور صاف دھوکا ہوتا ہے۔
چنانچہ شیطان قیامت کے دن صاف کہے گا اللہ کے وعدے سچے تھے اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی میرا کوئی زور تم پر تھا ہی نہیں میری پکار کو سنتے ہی کیوں تم مست و بےعقل بن گئے؟ اب مجھے کیوں کوستے ہو؟ اپنے آپ کو برا کہو۔ شیطانی وعدوں کو صحیح جاننے والے اس کی دلائی ہوئی اُمیدوں کو پوری ہونے والی سمجھنے والے آخر جہنم واصل ہو نگے جہاں سے چھٹکارا محال ہو گا۔
صفحہ نمبر1949
ان بدبختوں کے ذکر کے بعد اب نیک لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جو دل سے میرے ماننے والے ہیں اور جسم سے میری تابعداری کرنے والے ہیں میرے احکام پر عمل کرتے ہیں میری منع کردہ چیزوں سے باز رہتے ہیں میں انہیں اپنی نعمتیں دوں گا انہیں جنتوں میں لے جاؤں گا جن کی نہریں جہاں یہ چاہیں خودبخود بہنے لگیں جن میں زوال، کمی یا نقصان بھی نہیں ہے، اللہ کا یہ وعدہ اصل اور بالکل سچا ہے اور یقیناً ہونے والا ہے اللہ سے زیادہ سچی بات اور کس کی ہو گی؟ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں نہ ہی کوئی اس کے سوا مربی ہے۔
” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبے میں فرمایا کرتے تھے سب سے زیادہ سچی بات اللہ کا کلام ہے اور سب سے بہتر ہدایت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے اور تمام کاموں میں سب سے برا کام دین میں نئی بات نکالنا ہے اور ہر ایسی نئی بات کا نام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی جہنم میں ہے۔ “ [صحیح مسلم:867]
صفحہ نمبر1950
مشرک کی پہچان اور ان کا انجام ٭٭
اس سورت کے شروع میں پہلی آیت کے متعلق ہم پوری تفسیر کر چکے ہیں اور وہیں اس آیت سے تعلق رکھنے والی حدیثیں بھی بیان کر دی ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے قرآن کی کوئی آیت مجھے اس آیت سے زیادہ محبوب نہیں [سنن ترمذي:3037،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مشرکین سے دنیا اور آخرت کی بھلائی دور ہو جاتی ہے اور وہ راہ حق سے دور ہو جاتے ہیں وہ اپنے آپ کو اور اپنے دونوں جہانوں کو برباد کر لیتے ہیں، یہ مشرکین عورتوں کے پرستار ہیں، سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر صنم کے ساتھ ایک جننی عورت ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں «اِنَاثًا» سے مراد بت ہیں، یہ قول اور بھی مفسرین کا ہے۔
ضحاک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مشرک فرشتوں کو پوجتے تھے اور انہیں اللہ کی لڑکیاں مانتے تھے [تفسیر ابن جریر الطبری:209/9] اور کہتے تھے کہ ان کی عبادت سے- ہماری اصل غرض اللہ عزوجل کی نزدیکی حاصل کرنا ہے اور ان کی تصویریں عورتوں کی شکل پر بناتے تھے پھر حکم کرتے تھے اور تقلید کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ صورتیں فرشتوں کی ہیں جو اللہ کی لڑکیاں ہیں۔
صفحہ نمبر1945
یہ تفسیر «اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى» [53-النجم:19] ” کیا تم نے ﻻت اور عزیٰ کو دیکھا “ کے مضمون سے خوب ملتی ہے جہاں ان کے بتوں کے نام لے کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ خوب انصاف ہے کہ لڑکے تو تمہارے اور لڑکیاں میری؟ اور آیت میں ہے «وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ» [43-الزخرف:19] ” اور انہوں نے فرشتوں کو جو رحمٰن کے عبادت گزار ہیں عورتیں قرار دے لیا۔ کیا ان کی پیدائش کے موقع پر یہ موجود تھے؟ ان کی یہ گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے [اس چیز کی] باز پرس کی جائے گی۔ “
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «اناث» مراد مردے ہیں، حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر بے روح چیز «اناث» ہے خواہ خشک لکڑی ہو خواہ پتھر ہو، لیکن یہ قول غریب ہے۔
صفحہ نمبر1946
پھر ارشاد ہے کہ «أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ» [36-يس:60] ” اے بنی آدم کیا میں نے تم سے شیطان کی عبادت نہ کرنے کا وعدہ نہیں لیا تھا؟ “ اسی وجہ سے فرشتے قیامت کے دن صاف کہہ دینگے کہ ہماری عبادت کے دعوےدار دراصل شیطانی پوجا کے پھندے میں تھے، شیطان کو رب نے اپنی رحمت سے دورکر دیا ہے اور اپنی بارگاہ سے نکال باہر کیا ہے، اس نے بھی بیڑا اٹھا رکھا ہے کہ اللہ کے بندوں کو معقول تعداد میں بہکائے۔
مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے کو جہنم میں اپنے ساتھ لے جائے گا، ایک بچ رہے گا جو جنت کا مستحق ہو گا، شیطان نے کہا ہے کہ میں انہیں حق سے بہکاؤں گا اور انہیں اُمید دلاتا رہوں گا یہ توبہ ترک کر بیٹھیں گے، خواہشوں کے پیچھے پڑ جائیں گے موت کو بھول بیٹھیں گے نفس پروری اور آخرت سے غافل ہو جائیں گے، جانوروں کے کان کاٹ کر یا سوراخ دار کر کے اللہ کے سوا دوسروں کے نام کرنے کی انہیں تلقین کروں گا، اللہ کی بنائی ہوئی صورتوں کو بگاڑنا سکھاؤں گا جیسے جانوروں کو خصی کرنا۔
صفحہ نمبر1947
ایک حدیث میں اس سے بھی ممانعت آئی ہے شاید مراد اس سے نسل منقطع کرنے کی غرض سے ایسا کرنا ہے۔ ایک معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ چہرے پر گودنا گدوانا، جو صحیح مسلم کی حدیث میں ممنوع ہے [صحیح مسلم:2116] اور جس کے کرنے والے پر اللہ کی لعنت وارد ہوئی ہے۔ [صحیح مسلم:2117]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے صحیح سند سے مروی ہے کہ ” گود نے والیوں اور گدوانے والیوں، پیشانی کے بال نوچنے والیوں اور نچوانے والیوں اور دانتوں میں کشادگی کرنے والیوں پر جو حسن و خوبصورتی کے لیے اللہ کی بناوٹ کو بگاڑتی ہیں اللہ کی لعنت ہے “ میں ان پر لعنت کیوں نہ بھیجوں؟ جن پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور جو کتاب اللہ میں موجود ہے پھر آپ نے «وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ» [59-الحشر:7] پڑھی۔ [صحیح بخاری:5931]
بعض اور مفسرین کرام سے مروی ہے کہ مراد اللہ کے دین کو بدل دینا ہے جیسے اور آیت میں ہے «فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا ۭ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [30-الروم:30] ” یعنی اپنا چہرہ قائم رکھ کر اللہ کے یکطرفہ دین کا رخ اختیار کرنا یہ اللہ کی وہ فطرت ہے جس پر تمام انسانوں کو اس نے پیدا کیا ہے اللہ کی خلق میں کوئی تبدیلی نہیں۔ “ اس سے پچھلے (آخری) جملے کو اگر امر کے معنی میں لیا جائے تو یہ تفسیر ٹھیک ہو جاتی ہے یعنی اللہ کی فطرف کو نہ بدلو لوگوں کو میں نے جس فطرت پر پیدا کیا ہے اسی پر رہنے دو۔
صفحہ نمبر1948
بخاری و مسلم میں ہے ” ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ پھر اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں “ جیسے بکری کا صحیح سالم بچہ بےعیب ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان وغیرہ کاٹ دیتے ہیں اور اسے عیب دار کر دیتے ہیں [صحیح بخاری:4775]
صحیح مسلم میں ہے اللہ عزوجل فرماتا ہے ” میں نے اپنے بندوں کو یکسوئی والے دین پر پیدا کیا لیکن شیطان نے آکر انہیں بہکا دیا پھر میں نے اپنے حلال کو ان پر حرام کر دیا۔“ [صحیح مسلم:2865] شیطان کو دوست بنانے والا اپنا نقصان کرنے والا ہے جس نقصان کی کبھی تلافی نہ ہو سکے۔ کیونکہ شیطان انہیں سبز باغ دکھاتا رہتا ہے غلط راہوں میں ان کی فلاح وبہود کا یقین دلاتا ہے دراصل وہ بڑا فریب اور صاف دھوکا ہوتا ہے۔
چنانچہ شیطان قیامت کے دن صاف کہے گا اللہ کے وعدے سچے تھے اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی میرا کوئی زور تم پر تھا ہی نہیں میری پکار کو سنتے ہی کیوں تم مست و بےعقل بن گئے؟ اب مجھے کیوں کوستے ہو؟ اپنے آپ کو برا کہو۔ شیطانی وعدوں کو صحیح جاننے والے اس کی دلائی ہوئی اُمیدوں کو پوری ہونے والی سمجھنے والے آخر جہنم واصل ہو نگے جہاں سے چھٹکارا محال ہو گا۔
صفحہ نمبر1949
ان بدبختوں کے ذکر کے بعد اب نیک لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جو دل سے میرے ماننے والے ہیں اور جسم سے میری تابعداری کرنے والے ہیں میرے احکام پر عمل کرتے ہیں میری منع کردہ چیزوں سے باز رہتے ہیں میں انہیں اپنی نعمتیں دوں گا انہیں جنتوں میں لے جاؤں گا جن کی نہریں جہاں یہ چاہیں خودبخود بہنے لگیں جن میں زوال، کمی یا نقصان بھی نہیں ہے، اللہ کا یہ وعدہ اصل اور بالکل سچا ہے اور یقیناً ہونے والا ہے اللہ سے زیادہ سچی بات اور کس کی ہو گی؟ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں نہ ہی کوئی اس کے سوا مربی ہے۔
” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبے میں فرمایا کرتے تھے سب سے زیادہ سچی بات اللہ کا کلام ہے اور سب سے بہتر ہدایت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے اور تمام کاموں میں سب سے برا کام دین میں نئی بات نکالنا ہے اور ہر ایسی نئی بات کا نام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی جہنم میں ہے۔ “ [صحیح مسلم:867]
صفحہ نمبر1950
مشرک کی پہچان اور ان کا انجام ٭٭
اس سورت کے شروع میں پہلی آیت کے متعلق ہم پوری تفسیر کر چکے ہیں اور وہیں اس آیت سے تعلق رکھنے والی حدیثیں بھی بیان کر دی ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے قرآن کی کوئی آیت مجھے اس آیت سے زیادہ محبوب نہیں [سنن ترمذي:3037،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مشرکین سے دنیا اور آخرت کی بھلائی دور ہو جاتی ہے اور وہ راہ حق سے دور ہو جاتے ہیں وہ اپنے آپ کو اور اپنے دونوں جہانوں کو برباد کر لیتے ہیں، یہ مشرکین عورتوں کے پرستار ہیں، سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر صنم کے ساتھ ایک جننی عورت ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں «اِنَاثًا» سے مراد بت ہیں، یہ قول اور بھی مفسرین کا ہے۔
ضحاک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مشرک فرشتوں کو پوجتے تھے اور انہیں اللہ کی لڑکیاں مانتے تھے [تفسیر ابن جریر الطبری:209/9] اور کہتے تھے کہ ان کی عبادت سے- ہماری اصل غرض اللہ عزوجل کی نزدیکی حاصل کرنا ہے اور ان کی تصویریں عورتوں کی شکل پر بناتے تھے پھر حکم کرتے تھے اور تقلید کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ صورتیں فرشتوں کی ہیں جو اللہ کی لڑکیاں ہیں۔
صفحہ نمبر1945
یہ تفسیر «اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى» [53-النجم:19] ” کیا تم نے ﻻت اور عزیٰ کو دیکھا “ کے مضمون سے خوب ملتی ہے جہاں ان کے بتوں کے نام لے کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ خوب انصاف ہے کہ لڑکے تو تمہارے اور لڑکیاں میری؟ اور آیت میں ہے «وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ» [43-الزخرف:19] ” اور انہوں نے فرشتوں کو جو رحمٰن کے عبادت گزار ہیں عورتیں قرار دے لیا۔ کیا ان کی پیدائش کے موقع پر یہ موجود تھے؟ ان کی یہ گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے [اس چیز کی] باز پرس کی جائے گی۔ “
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «اناث» مراد مردے ہیں، حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر بے روح چیز «اناث» ہے خواہ خشک لکڑی ہو خواہ پتھر ہو، لیکن یہ قول غریب ہے۔
صفحہ نمبر1946
پھر ارشاد ہے کہ «أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ» [36-يس:60] ” اے بنی آدم کیا میں نے تم سے شیطان کی عبادت نہ کرنے کا وعدہ نہیں لیا تھا؟ “ اسی وجہ سے فرشتے قیامت کے دن صاف کہہ دینگے کہ ہماری عبادت کے دعوےدار دراصل شیطانی پوجا کے پھندے میں تھے، شیطان کو رب نے اپنی رحمت سے دورکر دیا ہے اور اپنی بارگاہ سے نکال باہر کیا ہے، اس نے بھی بیڑا اٹھا رکھا ہے کہ اللہ کے بندوں کو معقول تعداد میں بہکائے۔
مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے کو جہنم میں اپنے ساتھ لے جائے گا، ایک بچ رہے گا جو جنت کا مستحق ہو گا، شیطان نے کہا ہے کہ میں انہیں حق سے بہکاؤں گا اور انہیں اُمید دلاتا رہوں گا یہ توبہ ترک کر بیٹھیں گے، خواہشوں کے پیچھے پڑ جائیں گے موت کو بھول بیٹھیں گے نفس پروری اور آخرت سے غافل ہو جائیں گے، جانوروں کے کان کاٹ کر یا سوراخ دار کر کے اللہ کے سوا دوسروں کے نام کرنے کی انہیں تلقین کروں گا، اللہ کی بنائی ہوئی صورتوں کو بگاڑنا سکھاؤں گا جیسے جانوروں کو خصی کرنا۔
صفحہ نمبر1947
ایک حدیث میں اس سے بھی ممانعت آئی ہے شاید مراد اس سے نسل منقطع کرنے کی غرض سے ایسا کرنا ہے۔ ایک معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ چہرے پر گودنا گدوانا، جو صحیح مسلم کی حدیث میں ممنوع ہے [صحیح مسلم:2116] اور جس کے کرنے والے پر اللہ کی لعنت وارد ہوئی ہے۔ [صحیح مسلم:2117]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے صحیح سند سے مروی ہے کہ ” گود نے والیوں اور گدوانے والیوں، پیشانی کے بال نوچنے والیوں اور نچوانے والیوں اور دانتوں میں کشادگی کرنے والیوں پر جو حسن و خوبصورتی کے لیے اللہ کی بناوٹ کو بگاڑتی ہیں اللہ کی لعنت ہے “ میں ان پر لعنت کیوں نہ بھیجوں؟ جن پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور جو کتاب اللہ میں موجود ہے پھر آپ نے «وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ» [59-الحشر:7] پڑھی۔ [صحیح بخاری:5931]
بعض اور مفسرین کرام سے مروی ہے کہ مراد اللہ کے دین کو بدل دینا ہے جیسے اور آیت میں ہے «فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا ۭ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [30-الروم:30] ” یعنی اپنا چہرہ قائم رکھ کر اللہ کے یکطرفہ دین کا رخ اختیار کرنا یہ اللہ کی وہ فطرت ہے جس پر تمام انسانوں کو اس نے پیدا کیا ہے اللہ کی خلق میں کوئی تبدیلی نہیں۔ “ اس سے پچھلے (آخری) جملے کو اگر امر کے معنی میں لیا جائے تو یہ تفسیر ٹھیک ہو جاتی ہے یعنی اللہ کی فطرف کو نہ بدلو لوگوں کو میں نے جس فطرت پر پیدا کیا ہے اسی پر رہنے دو۔
صفحہ نمبر1948
بخاری و مسلم میں ہے ” ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ پھر اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں “ جیسے بکری کا صحیح سالم بچہ بےعیب ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان وغیرہ کاٹ دیتے ہیں اور اسے عیب دار کر دیتے ہیں [صحیح بخاری:4775]
صحیح مسلم میں ہے اللہ عزوجل فرماتا ہے ” میں نے اپنے بندوں کو یکسوئی والے دین پر پیدا کیا لیکن شیطان نے آکر انہیں بہکا دیا پھر میں نے اپنے حلال کو ان پر حرام کر دیا۔“ [صحیح مسلم:2865] شیطان کو دوست بنانے والا اپنا نقصان کرنے والا ہے جس نقصان کی کبھی تلافی نہ ہو سکے۔ کیونکہ شیطان انہیں سبز باغ دکھاتا رہتا ہے غلط راہوں میں ان کی فلاح وبہود کا یقین دلاتا ہے دراصل وہ بڑا فریب اور صاف دھوکا ہوتا ہے۔
چنانچہ شیطان قیامت کے دن صاف کہے گا اللہ کے وعدے سچے تھے اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی میرا کوئی زور تم پر تھا ہی نہیں میری پکار کو سنتے ہی کیوں تم مست و بےعقل بن گئے؟ اب مجھے کیوں کوستے ہو؟ اپنے آپ کو برا کہو۔ شیطانی وعدوں کو صحیح جاننے والے اس کی دلائی ہوئی اُمیدوں کو پوری ہونے والی سمجھنے والے آخر جہنم واصل ہو نگے جہاں سے چھٹکارا محال ہو گا۔
صفحہ نمبر1949
ان بدبختوں کے ذکر کے بعد اب نیک لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جو دل سے میرے ماننے والے ہیں اور جسم سے میری تابعداری کرنے والے ہیں میرے احکام پر عمل کرتے ہیں میری منع کردہ چیزوں سے باز رہتے ہیں میں انہیں اپنی نعمتیں دوں گا انہیں جنتوں میں لے جاؤں گا جن کی نہریں جہاں یہ چاہیں خودبخود بہنے لگیں جن میں زوال، کمی یا نقصان بھی نہیں ہے، اللہ کا یہ وعدہ اصل اور بالکل سچا ہے اور یقیناً ہونے والا ہے اللہ سے زیادہ سچی بات اور کس کی ہو گی؟ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں نہ ہی کوئی اس کے سوا مربی ہے۔
” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبے میں فرمایا کرتے تھے سب سے زیادہ سچی بات اللہ کا کلام ہے اور سب سے بہتر ہدایت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے اور تمام کاموں میں سب سے برا کام دین میں نئی بات نکالنا ہے اور ہر ایسی نئی بات کا نام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی جہنم میں ہے۔ “ [صحیح مسلم:867]
صفحہ نمبر1950