John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Ash-Shura

Tafsir Ibn Kathir · Consultation · 53 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

حم عسق کی تفسیر ٭٭

حروف مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے جو منکر ہے اس میں ہے کہ ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اس وقت آپ کے پاس سیدنا حذیفہرضی اللہ عنہ بن یمان بھی تھے۔ اس نے ان حروف کی تفسیر آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھی آپ نے ذرا سی دیر سر نیچا کر لیا پھر منہ پھیر لیا اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی منہ پھیر لیا اور اس کے سوال کو برا جانا اس نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اس پر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں تجھے بتاتا ہوں اور مجھے یہ معلوم ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اسے کیوں ناپسند کر رہے ہیں۔ ان کے اہل بیت میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے جسے «عبد الا لہٰ» اور عبداللہ کہا جاتا ہو گا وہ مشرق کی نہروں میں سے ایک نہر کے پاس اترے گا۔ اور وہاں دو شہر بسائے گا نہر کو کاٹ کر دونوں شہروں میں لے جائے گا جب اللہ تعالیٰ ان کے ملک کے زوال اور ان کی دولت کا استیصال کا ارادہ کرے گا۔ اور ان کا وقت ختم ہونے کا ہو گا تو ان دونوں شہروں میں سے ایک پر رات کے وقت آگ آئے گی جو اسے جلا کر بھسم کر دے گی وہاں کے لوگ صبح کو اسے دیکھ کر تعجب کریں گے ایسا معلوم ہو گا کہ گویا یہاں کچھ تھا ہی نہیں صبح ہی صبح وہاں تمام بڑے بڑے سرکش متکبر مخالف حق لوگ جمع ہوں گے اسی وقت اللہ تعالیٰ ان سب کو اس شہر سمیت غارت کر دے گا۔ یہی معنی ہیں «حم عسق» کے یعنی اللہ کی طرف سے یہ عزیمت یعنی ضروری ہے یہ فتنہ قضاء کیا ہوا یعنی فیصل شدہ ہے۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے عین سے مراد عدل سین سے مراد ”سَِیَکوُنٌ“ یعنی یہ عنقریب ہو کر رہے گا [ ق ] ‏ سے مراد واقع ہونے والا ان دونوں شہروں میں۔ اس سے بھی زیادہ غربت والی ایک اور روایت میں مسند حافظ ابو یعلیٰ کی دوسری جلد میں مسند سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ میں ہے جو مرفوع بھی ہے لیکن اس کی سند بالکل ضعیف ہے اور منقطع بھی ہے۔ اس میں ہے کہ کسی نے ان حروف کی تفسیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ جلدی سے اکھٹے ہوئے اور فرمایا ہاں میں نے سنی ہے «حم» اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے عین سے مراد «عاین المولون عذاب یوم بدر» ہے۔ سین سے مراد «وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ» [ سورة الشعراء: 227 ] ‏ [ ق ] ‏ سے کیا مراد ہے اسے آپ رضی اللہ عنہ نہ بتا سکے تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر کے مطابق تفسیر کی اور فرمایا [ ق ] ‏ سے مراد «قارعہ» آسمانی ہے جو تمام لوگوں کو ڈھانپ لے گا «ضعیف» ترجمہ یہ ہوا کہ بدر کے دن پیٹھ موڑ کر بھاگنے والے کفار نے عذاب کا مزہ چکھ لیا۔ ان ظالموں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ان کا کتنا برا انجام ہوا

؟ ان پر آسمانی عذاب آئے گا جو انہیں تباہ و برباد کر دے گا پھر فرماتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح تم پر اس قرآن کی وحی نازل ہوئی ہے اسی طرح تم سے پہلے کے پیغمبروں پر کتابیں اور صحیفے نازل ہو چکے ہیں یہ سب اس اللہ کی طرف سے اترے ہیں جو اپنا انتقام لینے میں غالب اور زبردست ہے جو اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے۔

صفحہ نمبر8108

سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبھی تو گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے جب وہ ختم ہوتی ہے تو مجھے جو کچھ کہا گیا وہ سب یاد ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے مجھ سے باتیں کر جاتا ہے جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد رکھ لیتا ہوں سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں سخت جاڑوں کے ایام میں بھی جب آپ پر وحی اترتی تھی تو شدت وحی سے آپ پانی پانی ہو جاتے تھے یہاں تک کہ پیشانی سے پسینہ کی بوندیں ٹپکنے لگتی تھیں۔ [صحیح بخاری:2] ‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ایک زنجیر کی سی گھڑگھڑاہٹ سنتا ہوں پھر کان لگا لیتا ہوں ایسی وحی میں مجھ پر اتنی شدت سی ہوتی ہے کہ ہر مرتبہ مجھے اپنی روح نکل جانے کا گمان ہوتا ہے۔ [مسند احمد:222/2:حدیث صحیح و ھذا اسناد ضعیف] ‏

شرح صحیح بخاری کے شروع میں ہم کیفیت وحی پر مفصل کلام کر چکے ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

صفحہ نمبر8109

حم عسق کی تفسیر ٭٭

حروف مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے جو منکر ہے اس میں ہے کہ ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اس وقت آپ کے پاس سیدنا حذیفہرضی اللہ عنہ بن یمان بھی تھے۔ اس نے ان حروف کی تفسیر آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھی آپ نے ذرا سی دیر سر نیچا کر لیا پھر منہ پھیر لیا اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی منہ پھیر لیا اور اس کے سوال کو برا جانا اس نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اس پر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں تجھے بتاتا ہوں اور مجھے یہ معلوم ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اسے کیوں ناپسند کر رہے ہیں۔ ان کے اہل بیت میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے جسے «عبد الا لہٰ» اور عبداللہ کہا جاتا ہو گا وہ مشرق کی نہروں میں سے ایک نہر کے پاس اترے گا۔ اور وہاں دو شہر بسائے گا نہر کو کاٹ کر دونوں شہروں میں لے جائے گا جب اللہ تعالیٰ ان کے ملک کے زوال اور ان کی دولت کا استیصال کا ارادہ کرے گا۔ اور ان کا وقت ختم ہونے کا ہو گا تو ان دونوں شہروں میں سے ایک پر رات کے وقت آگ آئے گی جو اسے جلا کر بھسم کر دے گی وہاں کے لوگ صبح کو اسے دیکھ کر تعجب کریں گے ایسا معلوم ہو گا کہ گویا یہاں کچھ تھا ہی نہیں صبح ہی صبح وہاں تمام بڑے بڑے سرکش متکبر مخالف حق لوگ جمع ہوں گے اسی وقت اللہ تعالیٰ ان سب کو اس شہر سمیت غارت کر دے گا۔ یہی معنی ہیں «حم عسق» کے یعنی اللہ کی طرف سے یہ عزیمت یعنی ضروری ہے یہ فتنہ قضاء کیا ہوا یعنی فیصل شدہ ہے۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے عین سے مراد عدل سین سے مراد ”سَِیَکوُنٌ“ یعنی یہ عنقریب ہو کر رہے گا [ ق ] ‏ سے مراد واقع ہونے والا ان دونوں شہروں میں۔ اس سے بھی زیادہ غربت والی ایک اور روایت میں مسند حافظ ابو یعلیٰ کی دوسری جلد میں مسند سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ میں ہے جو مرفوع بھی ہے لیکن اس کی سند بالکل ضعیف ہے اور منقطع بھی ہے۔ اس میں ہے کہ کسی نے ان حروف کی تفسیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ جلدی سے اکھٹے ہوئے اور فرمایا ہاں میں نے سنی ہے «حم» اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے عین سے مراد «عاین المولون عذاب یوم بدر» ہے۔ سین سے مراد «وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ» [ سورة الشعراء: 227 ] ‏ [ ق ] ‏ سے کیا مراد ہے اسے آپ رضی اللہ عنہ نہ بتا سکے تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر کے مطابق تفسیر کی اور فرمایا [ ق ] ‏ سے مراد «قارعہ» آسمانی ہے جو تمام لوگوں کو ڈھانپ لے گا «ضعیف» ترجمہ یہ ہوا کہ بدر کے دن پیٹھ موڑ کر بھاگنے والے کفار نے عذاب کا مزہ چکھ لیا۔ ان ظالموں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ان کا کتنا برا انجام ہوا

؟ ان پر آسمانی عذاب آئے گا جو انہیں تباہ و برباد کر دے گا پھر فرماتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح تم پر اس قرآن کی وحی نازل ہوئی ہے اسی طرح تم سے پہلے کے پیغمبروں پر کتابیں اور صحیفے نازل ہو چکے ہیں یہ سب اس اللہ کی طرف سے اترے ہیں جو اپنا انتقام لینے میں غالب اور زبردست ہے جو اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے۔

صفحہ نمبر8108

سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبھی تو گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے جب وہ ختم ہوتی ہے تو مجھے جو کچھ کہا گیا وہ سب یاد ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے مجھ سے باتیں کر جاتا ہے جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد رکھ لیتا ہوں سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں سخت جاڑوں کے ایام میں بھی جب آپ پر وحی اترتی تھی تو شدت وحی سے آپ پانی پانی ہو جاتے تھے یہاں تک کہ پیشانی سے پسینہ کی بوندیں ٹپکنے لگتی تھیں۔ [صحیح بخاری:2] ‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ایک زنجیر کی سی گھڑگھڑاہٹ سنتا ہوں پھر کان لگا لیتا ہوں ایسی وحی میں مجھ پر اتنی شدت سی ہوتی ہے کہ ہر مرتبہ مجھے اپنی روح نکل جانے کا گمان ہوتا ہے۔ [مسند احمد:222/2:حدیث صحیح و ھذا اسناد ضعیف] ‏

شرح صحیح بخاری کے شروع میں ہم کیفیت وحی پر مفصل کلام کر چکے ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

صفحہ نمبر8109

حم عسق کی تفسیر ٭٭

حروف مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے جو منکر ہے اس میں ہے کہ ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اس وقت آپ کے پاس سیدنا حذیفہرضی اللہ عنہ بن یمان بھی تھے۔ اس نے ان حروف کی تفسیر آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھی آپ نے ذرا سی دیر سر نیچا کر لیا پھر منہ پھیر لیا اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی منہ پھیر لیا اور اس کے سوال کو برا جانا اس نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اس پر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں تجھے بتاتا ہوں اور مجھے یہ معلوم ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اسے کیوں ناپسند کر رہے ہیں۔ ان کے اہل بیت میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے جسے «عبد الا لہٰ» اور عبداللہ کہا جاتا ہو گا وہ مشرق کی نہروں میں سے ایک نہر کے پاس اترے گا۔ اور وہاں دو شہر بسائے گا نہر کو کاٹ کر دونوں شہروں میں لے جائے گا جب اللہ تعالیٰ ان کے ملک کے زوال اور ان کی دولت کا استیصال کا ارادہ کرے گا۔ اور ان کا وقت ختم ہونے کا ہو گا تو ان دونوں شہروں میں سے ایک پر رات کے وقت آگ آئے گی جو اسے جلا کر بھسم کر دے گی وہاں کے لوگ صبح کو اسے دیکھ کر تعجب کریں گے ایسا معلوم ہو گا کہ گویا یہاں کچھ تھا ہی نہیں صبح ہی صبح وہاں تمام بڑے بڑے سرکش متکبر مخالف حق لوگ جمع ہوں گے اسی وقت اللہ تعالیٰ ان سب کو اس شہر سمیت غارت کر دے گا۔ یہی معنی ہیں «حم عسق» کے یعنی اللہ کی طرف سے یہ عزیمت یعنی ضروری ہے یہ فتنہ قضاء کیا ہوا یعنی فیصل شدہ ہے۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے عین سے مراد عدل سین سے مراد ”سَِیَکوُنٌ“ یعنی یہ عنقریب ہو کر رہے گا [ ق ] ‏ سے مراد واقع ہونے والا ان دونوں شہروں میں۔ اس سے بھی زیادہ غربت والی ایک اور روایت میں مسند حافظ ابو یعلیٰ کی دوسری جلد میں مسند سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ میں ہے جو مرفوع بھی ہے لیکن اس کی سند بالکل ضعیف ہے اور منقطع بھی ہے۔ اس میں ہے کہ کسی نے ان حروف کی تفسیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ جلدی سے اکھٹے ہوئے اور فرمایا ہاں میں نے سنی ہے «حم» اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے عین سے مراد «عاین المولون عذاب یوم بدر» ہے۔ سین سے مراد «وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ» [ سورة الشعراء: 227 ] ‏ [ ق ] ‏ سے کیا مراد ہے اسے آپ رضی اللہ عنہ نہ بتا سکے تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر کے مطابق تفسیر کی اور فرمایا [ ق ] ‏ سے مراد «قارعہ» آسمانی ہے جو تمام لوگوں کو ڈھانپ لے گا «ضعیف» ترجمہ یہ ہوا کہ بدر کے دن پیٹھ موڑ کر بھاگنے والے کفار نے عذاب کا مزہ چکھ لیا۔ ان ظالموں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ان کا کتنا برا انجام ہوا

؟ ان پر آسمانی عذاب آئے گا جو انہیں تباہ و برباد کر دے گا پھر فرماتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح تم پر اس قرآن کی وحی نازل ہوئی ہے اسی طرح تم سے پہلے کے پیغمبروں پر کتابیں اور صحیفے نازل ہو چکے ہیں یہ سب اس اللہ کی طرف سے اترے ہیں جو اپنا انتقام لینے میں غالب اور زبردست ہے جو اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے۔

صفحہ نمبر8108

سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبھی تو گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے جب وہ ختم ہوتی ہے تو مجھے جو کچھ کہا گیا وہ سب یاد ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے مجھ سے باتیں کر جاتا ہے جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد رکھ لیتا ہوں سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں سخت جاڑوں کے ایام میں بھی جب آپ پر وحی اترتی تھی تو شدت وحی سے آپ پانی پانی ہو جاتے تھے یہاں تک کہ پیشانی سے پسینہ کی بوندیں ٹپکنے لگتی تھیں۔ [صحیح بخاری:2] ‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ایک زنجیر کی سی گھڑگھڑاہٹ سنتا ہوں پھر کان لگا لیتا ہوں ایسی وحی میں مجھ پر اتنی شدت سی ہوتی ہے کہ ہر مرتبہ مجھے اپنی روح نکل جانے کا گمان ہوتا ہے۔ [مسند احمد:222/2:حدیث صحیح و ھذا اسناد ضعیف] ‏

شرح صحیح بخاری کے شروع میں ہم کیفیت وحی پر مفصل کلام کر چکے ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

صفحہ نمبر8109

باب

پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی غلام ہے اس کی ملکیت ہے اس کے دباؤ تلے اور اس کے سامنے عاجز و مجبور ہے «عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ» [ 13-الرعد: 9 ] ‏ وہ بلندیوں والا اور بڑائیوں والا ہے وہ بہت بڑا اور بہت بلند ہے وہ اونچائی والا اور کبریائی والا ہے۔ اس کی عظمت اور جلالت کا یہ حال ہے کہ قریب ہے آسمان پھٹ پڑیں۔ فرشتے اس کی عظمت سے کپکپاتے ہوئے اس کی پاکی اور تعریف بیان کرتے رہتے ہیں اور زمین والوں کے لیے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں۔

صفحہ نمبر8112

جیسے اور جگہ ارشاد ہے «اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ» ‏ [ 40- غافر: 7 ] ‏ یعنی حاملان عرش اور اس کے قرب و جوار کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہتے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے اپنی رحمت و علم سے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے پس تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے کے تابع ہیں انہیں عذاب جہنم سے بچا لے۔ پھر فرمایا جان لو کہ اللہ غفور و رحیم ہے، پھر فرماتا ہے کہ مشرکوں کے اعمال کی دیکھ بھال میں آپ کر رہا ہوں انہیں خود ہی پورا پورا بدلہ دوں گا۔ «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» ‏ [ 88-سورة الغاشية: 21، 22 ] ‏ تیرا کام صرف انہیں آگاہ کر دینا ہے تو کچھ ان پر داروغہ نہیں۔

صفحہ نمبر8113

باب

پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی غلام ہے اس کی ملکیت ہے اس کے دباؤ تلے اور اس کے سامنے عاجز و مجبور ہے «عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ» [ 13-الرعد: 9 ] ‏ وہ بلندیوں والا اور بڑائیوں والا ہے وہ بہت بڑا اور بہت بلند ہے وہ اونچائی والا اور کبریائی والا ہے۔ اس کی عظمت اور جلالت کا یہ حال ہے کہ قریب ہے آسمان پھٹ پڑیں۔ فرشتے اس کی عظمت سے کپکپاتے ہوئے اس کی پاکی اور تعریف بیان کرتے رہتے ہیں اور زمین والوں کے لیے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں۔

صفحہ نمبر8112

جیسے اور جگہ ارشاد ہے «اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ» ‏ [ 40- غافر: 7 ] ‏ یعنی حاملان عرش اور اس کے قرب و جوار کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہتے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے اپنی رحمت و علم سے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے پس تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے کے تابع ہیں انہیں عذاب جہنم سے بچا لے۔ پھر فرمایا جان لو کہ اللہ غفور و رحیم ہے، پھر فرماتا ہے کہ مشرکوں کے اعمال کی دیکھ بھال میں آپ کر رہا ہوں انہیں خود ہی پورا پورا بدلہ دوں گا۔ «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» ‏ [ 88-سورة الغاشية: 21، 22 ] ‏ تیرا کام صرف انہیں آگاہ کر دینا ہے تو کچھ ان پر داروغہ نہیں۔

صفحہ نمبر8113

باب

پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی غلام ہے اس کی ملکیت ہے اس کے دباؤ تلے اور اس کے سامنے عاجز و مجبور ہے «عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ» [ 13-الرعد: 9 ] ‏ وہ بلندیوں والا اور بڑائیوں والا ہے وہ بہت بڑا اور بہت بلند ہے وہ اونچائی والا اور کبریائی والا ہے۔ اس کی عظمت اور جلالت کا یہ حال ہے کہ قریب ہے آسمان پھٹ پڑیں۔ فرشتے اس کی عظمت سے کپکپاتے ہوئے اس کی پاکی اور تعریف بیان کرتے رہتے ہیں اور زمین والوں کے لیے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں۔

صفحہ نمبر8112

جیسے اور جگہ ارشاد ہے «اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ» ‏ [ 40- غافر: 7 ] ‏ یعنی حاملان عرش اور اس کے قرب و جوار کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہتے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے اپنی رحمت و علم سے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے پس تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے کے تابع ہیں انہیں عذاب جہنم سے بچا لے۔ پھر فرمایا جان لو کہ اللہ غفور و رحیم ہے، پھر فرماتا ہے کہ مشرکوں کے اعمال کی دیکھ بھال میں آپ کر رہا ہوں انہیں خود ہی پورا پورا بدلہ دوں گا۔ «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» ‏ [ 88-سورة الغاشية: 21، 22 ] ‏ تیرا کام صرف انہیں آگاہ کر دینا ہے تو کچھ ان پر داروغہ نہیں۔

صفحہ نمبر8113

قیامت کا آنا یقینی ہے ٭٭

یعنی جس طرح اے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم تم سے پہلے انبیاء پر وحی الٰہی آتی رہی تم پر بھی یہ قرآن وحی کے ذریعہ نازل کیا گیا ہے۔ یہ عربی میں بہت واضح بالکل کھلا ہوا اور سلجھے ہوئے بیان والا ہے تاکہ تو شہر مکہ کے رہنے والوں کو احکام الٰہی اور اللہ کے عذاب سے آگاہ کر دے نیز تمام اطراف عالم کو۔ آس پاس سے مراد مشرق و مغرب کی ہر سمت ہے مکہ شریف کو ام القرٰی اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ تمام شہروں سے افضل و بہتر ہے اس کے دلائل بہت سے ہیں جو اپنی اپنی جگہ مذکور ہیں ہاں! یہاں پر ایک دلیل جو مختصر بھی ہے اور صاف بھی ہے سن لیجئے۔ ترمذی نسائی، ابن ماجہ، مسند احمد وغیرہ میں ہے سیدنا عبداللہ بن عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف کے بازار خزورہ میں کھڑے ہوئے فرما رہے تھے کہ اے مکہ! قسم ہے اللہ کی تو اللہ کی ساری زمین سے اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب اور زیادہ افضل ہے اگر میں تجھ میں سے نہ نکالا جاتا تو قسم ہے اللہ کی ہرگز تجھے نہ چھوڑتا۔ امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو حسن صحیح فرماتے ہیں [مسند احمد:305/4:صحیح] ‏

اور اس لیے کہ تو قیامت کے دن سے سب کو ڈرا دے جس دن تمام اول و آخر زمانے کے لوگ ایک میدان میں جمع ہوں گے۔ جس دن کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں جس دن کچھ لوگ جنتی ہوں گے اور کچھ جہنمی یہ وہ دن ہو گا کہ جنتی نفع میں رہیں گے اور جہنمی گھاٹے میں۔

صفحہ نمبر8116

دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے «ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ ۙ لَّهُ النَّاسُ وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» ‏ [ 11-ھود: 105-103 ] ‏ یعنی ان واقعات میں اس شخص کے لیے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو آخرت کا وہ دن ہے جس میں تمام لوگ جمع کئے جائیں گے اور وہ سب کی حاضری کا دن ہے۔ ہم تو اسے تھوڑی سی مدت معلوم کے لیے مؤخر کئے ہوئے ہیں۔ اس دن کوئی شخص بغیر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بات تک نہ کر سکے گا ان میں سے بعض تو بدقسمت ہوں گے اور بعض خوش نصیب۔

صفحہ نمبر8117

مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس ایک مرتبہ دو کتابیں اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر آئے اور ہم سے پوچھا جانتے ہو یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا ہمیں تو خبر نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی داہنے ہاتھ کی کتاب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ رب العالمین کی کتاب ہے جس میں جنتیوں کے نام ہیں مع ان کے والد اور ان کے قبیلہ کے نام کے اور آخر میں حساب کر کے میزان لگا دی گئی ہے اب ان میں نہ ایک بڑھے نہ ایک گھٹے۔

پھر اپنے بائیں ہاتھ کی کتاب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ جہنمیوں کے ناموں کا رجسٹر ہے ان کے نام ان کی ولدیت اور ان کی قوم سب اس میں لکھی ہوئی ہے پھر آخر میں میزان لگا دی گئی ہے ان میں بھی کمی بیشی ناممکن ہے۔

صفحہ نمبر8118

صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا پھر ہمیں عمل کی کیا ضرورت؟ جب کہ سب لکھا جا چکا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ٹھاک رہو بھلائی کی نزدیکی لیے رہو۔ اہل جنت کا خاتمہ نیکیوں اور بھلے اعمال پر ہی ہو گا گو وہ کیسے ہی اعمال کرتا ہو اور نار کا خاتمہ جہنمی اعمال پر ہی ہو گا گو وہ کیسے ہی کاموں کا مرتکب رہا ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا تمہارا رب عزوجل بندوں کے فیصلوں سے فراغت حاصل کر چکا ہے ایک فرقہ جنت میں ہے اور ایک جہنم میں اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں بائیں ہاتھوں سے اشارہ کیا گویا کوئی چیز پھینک رہے ہیں۔ [سنن ترمذي:2141،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

یہی حدیث اور کتابوں میں بھی ہے کسی میں یہ بھی ہے کہ یہ تمام عدل ہی عدل ہے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کی تمام اولاد ان میں سے نکالی اور چیونٹیوں کی طرح وہ میدان میں پھیل گئی تو اسے اپنی دونوں مٹھیوں میں لے لیا اور فرمایا ایک حصہ نیکوں کا دوسرا بدوں کا۔ پھر انہیں پھیلا دیا دوبارہ انہیں سمیٹ لیا اور اسی طرح اپنی مٹھیوں میں لے کر فرمایا ایک حصہ جنتی اور دوسرا جہنمی یہ روایت موقوف ہی ٹھیک ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر8119

مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ ابوعبداللہ نامی صحابی رضی اللہ عنہ بیمار تھے ہم لوگ ان کی بیمار پرسی کے لیے گئے۔ دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں تو کہا کہ آپ کیوں روتے ہیں آپ رضی اللہ عنہ سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے کہ اپنی مونچھیں کم رکھا کرو یہاں تک کہ مجھ سے ملو اس پر صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ تو ٹھیک ہے لیکن مجھے تو یہ حدیث رلا رہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اللہ تعالیٰ اپنی دائیں مٹھی میں مخلوق لی اور اسی طرح دوسرے ہاتھ کی مٹھی میں بھی اور فرمایا یہ لوگ اس کے لیے ہیں یعنی جنت کے لیے اور یہ اس کے لیے ہیں یعنی جہنم کے لیے اور مجھے کچھ پرواہ نہیں۔ پس مجھے خبر نہیں کہ اللہ کی کس مٹھی میں میں تھا؟ [مسند احمد:176/4:صحیح] ‏

اس طرح کی اثبات تقدیر کی اور بہت سی حدیثیں ہیں پھر فرماتا ہے اگر اللہ کو منظور ہوتا تو سب کو ایک ہی طریقے پر کر دیتا یعنی یا تو ہدایت پر یا گمراہی پر لیکن رب نے ان میں تفاوت رکھا بعض کو حق کی ہدایت کی اور بعض کو اس سے بھلا دیا اپنی حکمت کو وہی جانتا ہے وہ جسے چاہے اپنی رحمت تلے کھڑا کر لے ظالموں کا حمایتی اور مددگار کوئی نہیں۔ ابن جریر میں ہے اللہ تعالیٰ سے موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے عرض کی کہ اے میرے رب تو نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا پھر ان میں سے کچھ کو تو جنت میں لے جائے گا اور کچھ اوروں کو جہنم میں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ سب ہی جنت میں جاتے جناب باری نے ارشاد فرمایا موسیٰ اپنا پیرہن اونچا کرو آپ علیہ السلام نے اونچا کیا پھر فرمایا اور اونچا کرو آپ علیہ السلام نے اور اونچا کیا فرمایا اور اوپر اٹھاؤ جواب دیا اے اللہ اب تو سارے جسم سے اونچا کر لیا سوائے اس جگہ کے جس کے اوپر سے ہٹانے میں خیر نہیں فرمایا بس موسیٰ اسی طرح میں بھی اپنی تمام مخلوق کو جنت میں داخل کروں گا سوائے ان کے جو بالکل ہی خیر سے خالی ہیں۔

صفحہ نمبر8120

قیامت کا آنا یقینی ہے ٭٭

یعنی جس طرح اے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم تم سے پہلے انبیاء پر وحی الٰہی آتی رہی تم پر بھی یہ قرآن وحی کے ذریعہ نازل کیا گیا ہے۔ یہ عربی میں بہت واضح بالکل کھلا ہوا اور سلجھے ہوئے بیان والا ہے تاکہ تو شہر مکہ کے رہنے والوں کو احکام الٰہی اور اللہ کے عذاب سے آگاہ کر دے نیز تمام اطراف عالم کو۔ آس پاس سے مراد مشرق و مغرب کی ہر سمت ہے مکہ شریف کو ام القرٰی اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ تمام شہروں سے افضل و بہتر ہے اس کے دلائل بہت سے ہیں جو اپنی اپنی جگہ مذکور ہیں ہاں! یہاں پر ایک دلیل جو مختصر بھی ہے اور صاف بھی ہے سن لیجئے۔ ترمذی نسائی، ابن ماجہ، مسند احمد وغیرہ میں ہے سیدنا عبداللہ بن عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف کے بازار خزورہ میں کھڑے ہوئے فرما رہے تھے کہ اے مکہ! قسم ہے اللہ کی تو اللہ کی ساری زمین سے اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب اور زیادہ افضل ہے اگر میں تجھ میں سے نہ نکالا جاتا تو قسم ہے اللہ کی ہرگز تجھے نہ چھوڑتا۔ امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو حسن صحیح فرماتے ہیں [مسند احمد:305/4:صحیح] ‏

اور اس لیے کہ تو قیامت کے دن سے سب کو ڈرا دے جس دن تمام اول و آخر زمانے کے لوگ ایک میدان میں جمع ہوں گے۔ جس دن کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں جس دن کچھ لوگ جنتی ہوں گے اور کچھ جہنمی یہ وہ دن ہو گا کہ جنتی نفع میں رہیں گے اور جہنمی گھاٹے میں۔

صفحہ نمبر8116

دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے «ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ ۙ لَّهُ النَّاسُ وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» ‏ [ 11-ھود: 105-103 ] ‏ یعنی ان واقعات میں اس شخص کے لیے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو آخرت کا وہ دن ہے جس میں تمام لوگ جمع کئے جائیں گے اور وہ سب کی حاضری کا دن ہے۔ ہم تو اسے تھوڑی سی مدت معلوم کے لیے مؤخر کئے ہوئے ہیں۔ اس دن کوئی شخص بغیر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بات تک نہ کر سکے گا ان میں سے بعض تو بدقسمت ہوں گے اور بعض خوش نصیب۔

صفحہ نمبر8117

مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس ایک مرتبہ دو کتابیں اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر آئے اور ہم سے پوچھا جانتے ہو یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا ہمیں تو خبر نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی داہنے ہاتھ کی کتاب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ رب العالمین کی کتاب ہے جس میں جنتیوں کے نام ہیں مع ان کے والد اور ان کے قبیلہ کے نام کے اور آخر میں حساب کر کے میزان لگا دی گئی ہے اب ان میں نہ ایک بڑھے نہ ایک گھٹے۔

پھر اپنے بائیں ہاتھ کی کتاب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ جہنمیوں کے ناموں کا رجسٹر ہے ان کے نام ان کی ولدیت اور ان کی قوم سب اس میں لکھی ہوئی ہے پھر آخر میں میزان لگا دی گئی ہے ان میں بھی کمی بیشی ناممکن ہے۔

صفحہ نمبر8118

صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا پھر ہمیں عمل کی کیا ضرورت؟ جب کہ سب لکھا جا چکا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ٹھاک رہو بھلائی کی نزدیکی لیے رہو۔ اہل جنت کا خاتمہ نیکیوں اور بھلے اعمال پر ہی ہو گا گو وہ کیسے ہی اعمال کرتا ہو اور نار کا خاتمہ جہنمی اعمال پر ہی ہو گا گو وہ کیسے ہی کاموں کا مرتکب رہا ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا تمہارا رب عزوجل بندوں کے فیصلوں سے فراغت حاصل کر چکا ہے ایک فرقہ جنت میں ہے اور ایک جہنم میں اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں بائیں ہاتھوں سے اشارہ کیا گویا کوئی چیز پھینک رہے ہیں۔ [سنن ترمذي:2141،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

یہی حدیث اور کتابوں میں بھی ہے کسی میں یہ بھی ہے کہ یہ تمام عدل ہی عدل ہے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کی تمام اولاد ان میں سے نکالی اور چیونٹیوں کی طرح وہ میدان میں پھیل گئی تو اسے اپنی دونوں مٹھیوں میں لے لیا اور فرمایا ایک حصہ نیکوں کا دوسرا بدوں کا۔ پھر انہیں پھیلا دیا دوبارہ انہیں سمیٹ لیا اور اسی طرح اپنی مٹھیوں میں لے کر فرمایا ایک حصہ جنتی اور دوسرا جہنمی یہ روایت موقوف ہی ٹھیک ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر8119

مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ ابوعبداللہ نامی صحابی رضی اللہ عنہ بیمار تھے ہم لوگ ان کی بیمار پرسی کے لیے گئے۔ دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں تو کہا کہ آپ کیوں روتے ہیں آپ رضی اللہ عنہ سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے کہ اپنی مونچھیں کم رکھا کرو یہاں تک کہ مجھ سے ملو اس پر صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ تو ٹھیک ہے لیکن مجھے تو یہ حدیث رلا رہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اللہ تعالیٰ اپنی دائیں مٹھی میں مخلوق لی اور اسی طرح دوسرے ہاتھ کی مٹھی میں بھی اور فرمایا یہ لوگ اس کے لیے ہیں یعنی جنت کے لیے اور یہ اس کے لیے ہیں یعنی جہنم کے لیے اور مجھے کچھ پرواہ نہیں۔ پس مجھے خبر نہیں کہ اللہ کی کس مٹھی میں میں تھا؟ [مسند احمد:176/4:صحیح] ‏

اس طرح کی اثبات تقدیر کی اور بہت سی حدیثیں ہیں پھر فرماتا ہے اگر اللہ کو منظور ہوتا تو سب کو ایک ہی طریقے پر کر دیتا یعنی یا تو ہدایت پر یا گمراہی پر لیکن رب نے ان میں تفاوت رکھا بعض کو حق کی ہدایت کی اور بعض کو اس سے بھلا دیا اپنی حکمت کو وہی جانتا ہے وہ جسے چاہے اپنی رحمت تلے کھڑا کر لے ظالموں کا حمایتی اور مددگار کوئی نہیں۔ ابن جریر میں ہے اللہ تعالیٰ سے موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے عرض کی کہ اے میرے رب تو نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا پھر ان میں سے کچھ کو تو جنت میں لے جائے گا اور کچھ اوروں کو جہنم میں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ سب ہی جنت میں جاتے جناب باری نے ارشاد فرمایا موسیٰ اپنا پیرہن اونچا کرو آپ علیہ السلام نے اونچا کیا پھر فرمایا اور اونچا کرو آپ علیہ السلام نے اور اونچا کیا فرمایا اور اوپر اٹھاؤ جواب دیا اے اللہ اب تو سارے جسم سے اونچا کر لیا سوائے اس جگہ کے جس کے اوپر سے ہٹانے میں خیر نہیں فرمایا بس موسیٰ اسی طرح میں بھی اپنی تمام مخلوق کو جنت میں داخل کروں گا سوائے ان کے جو بالکل ہی خیر سے خالی ہیں۔

صفحہ نمبر8120

مشرکین کا شرک ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس مشرکانہ فعل کی قباحت بیان فرماتا ہے جو وہ اللہ کے ساتھ شریک کیا کرتے تھے اور دوسروں کی پرستش کرتے تھے۔ اور بیان فرماتا ہے کہ سچا ولی اور حقیقی کارساز تو میں ہوں۔ مردوں کو جلانا میری صفت ہے ہر چیز پر قابو اور قدرت رکھنا میرا وصف ہے پھر میرے سوا اور کی عبادت کیسی؟ پھر فرماتا ہے جس کسی امر میں تم میں اختلاف رونما ہو جائے اس کا فیصلہ اللہ کی طرف لے جاؤ یعنی تمام دینی اور دنیوی اختلاف کے فیصلے کی چیز کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مانو۔ جیسے فرمان عالی شان ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» ‏ [ 4- النسآء: 59 ] ‏ اگر تم میں کوئی جھگڑا ہو تو اسے اللہ کی اور اس کے رسول کی طرف لوٹا لے جاؤ۔

پھر فرماتا ہے کہ وہ اللہ جو ہر چیز پر حاکم ہے وہی میرا رب ہے۔ میرا توکل اسی پر ہے اور اپنے تمام کام اسی کی طرف سونپتا ہوں اور ہر وقت اسی کی جانب رجوع کرتا ہوں وہ آسمانوں و زمین اور ان کے درمیان کی کل مخلوق کا خالق ہے اس کا احسان دیکھو کہ اس نے تمہاری ہی جنس اور تمہاری ہی شکل کے تمہارے جوڑے بنا دئیے یعنی مرد و عورت اور چوپایوں کے بھی جوڑے پیدا کئے جو آٹھ ہیں وہ اسی پیدائش میں تمہیں پیدا کرتا ہے یعنی اسی صفت پر یعنی جوڑ جوڑ پیدا کرتا جا رہا ہے نسلیں کی نسلیں پھیلا دیں قرنوں گذر گئے اور سلسلہ اسی طرح چلا آ رہا ہے ادھر انسانوں کا ادھر جانوروں کا۔

صفحہ نمبر8122

حضرت بغوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد رحم میں پیدا کرتا ہے بعض کہتے ہیں پیٹ میں بعض کہتے ہیں اسی طریق پر پھیلانا ہے حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نسلیں پھیلانی مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں یہاں «فِیُہِ» معنی «بِہِ» کے ہے یعنی مرد اور عورت کے جوڑے سے نسل انسانی کو وہ پھیلا رہا اور پیدا کر رہا ہے حق یہ ہے کہ خالق کے ساتھ کوئی اور نہیں وہ فرد و صمد ہے وہ بینظیر ہے وہ سمیع و بصیر ہے آسمان و زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھوں میں ہیں سورۃ الزمر میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے مقصد یہ ہے کہ سارے عالم کا متصرف مالک حاکم وہی یکتا لا شریک ہے جسے چاہے کشادہ روزی دے جس پر چاہے تنگی کر دے اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں۔ کسی حالت میں وہ کسی پر ظلم کرنے والا نہیں اس کا وسیع علم ساری مخلوق کو گھیرے ہوئے ہے۔

صفحہ نمبر8123

مشرکین کا شرک ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس مشرکانہ فعل کی قباحت بیان فرماتا ہے جو وہ اللہ کے ساتھ شریک کیا کرتے تھے اور دوسروں کی پرستش کرتے تھے۔ اور بیان فرماتا ہے کہ سچا ولی اور حقیقی کارساز تو میں ہوں۔ مردوں کو جلانا میری صفت ہے ہر چیز پر قابو اور قدرت رکھنا میرا وصف ہے پھر میرے سوا اور کی عبادت کیسی؟ پھر فرماتا ہے جس کسی امر میں تم میں اختلاف رونما ہو جائے اس کا فیصلہ اللہ کی طرف لے جاؤ یعنی تمام دینی اور دنیوی اختلاف کے فیصلے کی چیز کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مانو۔ جیسے فرمان عالی شان ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» ‏ [ 4- النسآء: 59 ] ‏ اگر تم میں کوئی جھگڑا ہو تو اسے اللہ کی اور اس کے رسول کی طرف لوٹا لے جاؤ۔

پھر فرماتا ہے کہ وہ اللہ جو ہر چیز پر حاکم ہے وہی میرا رب ہے۔ میرا توکل اسی پر ہے اور اپنے تمام کام اسی کی طرف سونپتا ہوں اور ہر وقت اسی کی جانب رجوع کرتا ہوں وہ آسمانوں و زمین اور ان کے درمیان کی کل مخلوق کا خالق ہے اس کا احسان دیکھو کہ اس نے تمہاری ہی جنس اور تمہاری ہی شکل کے تمہارے جوڑے بنا دئیے یعنی مرد و عورت اور چوپایوں کے بھی جوڑے پیدا کئے جو آٹھ ہیں وہ اسی پیدائش میں تمہیں پیدا کرتا ہے یعنی اسی صفت پر یعنی جوڑ جوڑ پیدا کرتا جا رہا ہے نسلیں کی نسلیں پھیلا دیں قرنوں گذر گئے اور سلسلہ اسی طرح چلا آ رہا ہے ادھر انسانوں کا ادھر جانوروں کا۔

صفحہ نمبر8122

حضرت بغوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد رحم میں پیدا کرتا ہے بعض کہتے ہیں پیٹ میں بعض کہتے ہیں اسی طریق پر پھیلانا ہے حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نسلیں پھیلانی مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں یہاں «فِیُہِ» معنی «بِہِ» کے ہے یعنی مرد اور عورت کے جوڑے سے نسل انسانی کو وہ پھیلا رہا اور پیدا کر رہا ہے حق یہ ہے کہ خالق کے ساتھ کوئی اور نہیں وہ فرد و صمد ہے وہ بینظیر ہے وہ سمیع و بصیر ہے آسمان و زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھوں میں ہیں سورۃ الزمر میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے مقصد یہ ہے کہ سارے عالم کا متصرف مالک حاکم وہی یکتا لا شریک ہے جسے چاہے کشادہ روزی دے جس پر چاہے تنگی کر دے اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں۔ کسی حالت میں وہ کسی پر ظلم کرنے والا نہیں اس کا وسیع علم ساری مخلوق کو گھیرے ہوئے ہے۔

صفحہ نمبر8123

مشرکین کا شرک ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس مشرکانہ فعل کی قباحت بیان فرماتا ہے جو وہ اللہ کے ساتھ شریک کیا کرتے تھے اور دوسروں کی پرستش کرتے تھے۔ اور بیان فرماتا ہے کہ سچا ولی اور حقیقی کارساز تو میں ہوں۔ مردوں کو جلانا میری صفت ہے ہر چیز پر قابو اور قدرت رکھنا میرا وصف ہے پھر میرے سوا اور کی عبادت کیسی؟ پھر فرماتا ہے جس کسی امر میں تم میں اختلاف رونما ہو جائے اس کا فیصلہ اللہ کی طرف لے جاؤ یعنی تمام دینی اور دنیوی اختلاف کے فیصلے کی چیز کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مانو۔ جیسے فرمان عالی شان ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» ‏ [ 4- النسآء: 59 ] ‏ اگر تم میں کوئی جھگڑا ہو تو اسے اللہ کی اور اس کے رسول کی طرف لوٹا لے جاؤ۔

پھر فرماتا ہے کہ وہ اللہ جو ہر چیز پر حاکم ہے وہی میرا رب ہے۔ میرا توکل اسی پر ہے اور اپنے تمام کام اسی کی طرف سونپتا ہوں اور ہر وقت اسی کی جانب رجوع کرتا ہوں وہ آسمانوں و زمین اور ان کے درمیان کی کل مخلوق کا خالق ہے اس کا احسان دیکھو کہ اس نے تمہاری ہی جنس اور تمہاری ہی شکل کے تمہارے جوڑے بنا دئیے یعنی مرد و عورت اور چوپایوں کے بھی جوڑے پیدا کئے جو آٹھ ہیں وہ اسی پیدائش میں تمہیں پیدا کرتا ہے یعنی اسی صفت پر یعنی جوڑ جوڑ پیدا کرتا جا رہا ہے نسلیں کی نسلیں پھیلا دیں قرنوں گذر گئے اور سلسلہ اسی طرح چلا آ رہا ہے ادھر انسانوں کا ادھر جانوروں کا۔

صفحہ نمبر8122

حضرت بغوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد رحم میں پیدا کرتا ہے بعض کہتے ہیں پیٹ میں بعض کہتے ہیں اسی طریق پر پھیلانا ہے حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نسلیں پھیلانی مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں یہاں «فِیُہِ» معنی «بِہِ» کے ہے یعنی مرد اور عورت کے جوڑے سے نسل انسانی کو وہ پھیلا رہا اور پیدا کر رہا ہے حق یہ ہے کہ خالق کے ساتھ کوئی اور نہیں وہ فرد و صمد ہے وہ بینظیر ہے وہ سمیع و بصیر ہے آسمان و زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھوں میں ہیں سورۃ الزمر میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے مقصد یہ ہے کہ سارے عالم کا متصرف مالک حاکم وہی یکتا لا شریک ہے جسے چاہے کشادہ روزی دے جس پر چاہے تنگی کر دے اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں۔ کسی حالت میں وہ کسی پر ظلم کرنے والا نہیں اس کا وسیع علم ساری مخلوق کو گھیرے ہوئے ہے۔

صفحہ نمبر8123

مشرکین کا شرک ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس مشرکانہ فعل کی قباحت بیان فرماتا ہے جو وہ اللہ کے ساتھ شریک کیا کرتے تھے اور دوسروں کی پرستش کرتے تھے۔ اور بیان فرماتا ہے کہ سچا ولی اور حقیقی کارساز تو میں ہوں۔ مردوں کو جلانا میری صفت ہے ہر چیز پر قابو اور قدرت رکھنا میرا وصف ہے پھر میرے سوا اور کی عبادت کیسی؟ پھر فرماتا ہے جس کسی امر میں تم میں اختلاف رونما ہو جائے اس کا فیصلہ اللہ کی طرف لے جاؤ یعنی تمام دینی اور دنیوی اختلاف کے فیصلے کی چیز کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مانو۔ جیسے فرمان عالی شان ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» ‏ [ 4- النسآء: 59 ] ‏ اگر تم میں کوئی جھگڑا ہو تو اسے اللہ کی اور اس کے رسول کی طرف لوٹا لے جاؤ۔

پھر فرماتا ہے کہ وہ اللہ جو ہر چیز پر حاکم ہے وہی میرا رب ہے۔ میرا توکل اسی پر ہے اور اپنے تمام کام اسی کی طرف سونپتا ہوں اور ہر وقت اسی کی جانب رجوع کرتا ہوں وہ آسمانوں و زمین اور ان کے درمیان کی کل مخلوق کا خالق ہے اس کا احسان دیکھو کہ اس نے تمہاری ہی جنس اور تمہاری ہی شکل کے تمہارے جوڑے بنا دئیے یعنی مرد و عورت اور چوپایوں کے بھی جوڑے پیدا کئے جو آٹھ ہیں وہ اسی پیدائش میں تمہیں پیدا کرتا ہے یعنی اسی صفت پر یعنی جوڑ جوڑ پیدا کرتا جا رہا ہے نسلیں کی نسلیں پھیلا دیں قرنوں گذر گئے اور سلسلہ اسی طرح چلا آ رہا ہے ادھر انسانوں کا ادھر جانوروں کا۔

صفحہ نمبر8122

حضرت بغوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد رحم میں پیدا کرتا ہے بعض کہتے ہیں پیٹ میں بعض کہتے ہیں اسی طریق پر پھیلانا ہے حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نسلیں پھیلانی مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں یہاں «فِیُہِ» معنی «بِہِ» کے ہے یعنی مرد اور عورت کے جوڑے سے نسل انسانی کو وہ پھیلا رہا اور پیدا کر رہا ہے حق یہ ہے کہ خالق کے ساتھ کوئی اور نہیں وہ فرد و صمد ہے وہ بینظیر ہے وہ سمیع و بصیر ہے آسمان و زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھوں میں ہیں سورۃ الزمر میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے مقصد یہ ہے کہ سارے عالم کا متصرف مالک حاکم وہی یکتا لا شریک ہے جسے چاہے کشادہ روزی دے جس پر چاہے تنگی کر دے اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں۔ کسی حالت میں وہ کسی پر ظلم کرنے والا نہیں اس کا وسیع علم ساری مخلوق کو گھیرے ہوئے ہے۔

صفحہ نمبر8123

امت محمدیہ پر شریعت الٰہی کا انعام ٭٭

اللہ تعالیٰ نے جو انعام اس امت پر کیا ہے اس کا ذکر یہاں فرماتا ہے کہ تمہارے لیے جو شرع مقرر کی ہے وہ ہے جو آدم کے بعد دنیا کے سب سے پہلے پیغمبر اور دنیا کے سب سے آخری پیغمبر اور ان کے درمیان کے اولو العزم پیغمبروں کی تھی۔ پس یہاں جن پانچ پیغمبروں کا ذکر ہوا ہے انہی پانچ کا ذکر سورۃ الاحزاب میں بھی کیا گیا ہے فرمایا: «‏وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّـبِيّٖنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۠ وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا» [ 33- الأحزاب: 7 ] ‏، وہ دین جو تمام انبیاء کا مشترک طور پر ہے وہ اللہ واحد کی عبادت ہے جیسے اللہ جل و علا کا فرمان ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» ‏ [ سورة الأنبياء21: 25 ] ‏ یعنی تجھ سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ان سب کی طرف ہم نے یہی وحی کی ہے کہ معبود میرے سوا کوئی نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرتے رہو حدیث میں ہے ہم انبیاء کی جماعت آپس میں علاتی بھائیوں کی طرح ہیں ہم سب کا دین ایک ہی ہے جیسے علاتی بھائیوں کا باپ ایک ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:3443] ‏

صفحہ نمبر8127

الغرض احکام شرع میں گو جزوی اختلاف ہو۔ لیکن اصولی طور پر دین ایک ہی ہے اور وہ توحید باری تعالیٰ ہے، فرمان اللہ ہے «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا» ‏ [ 5- المآئدہ: 48 ] ‏ تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے شریعت و راہ بنا دی ہے۔ یہاں اس وحی کی تفصیل یوں بیان ہو رہی ہے کہ دین کو قائم رکھو جماعت بندی کے ساتھ اتفاق سے رہو اختلاف اور پھوٹ نہ کرو پھر فرماتا ہے کہ یہی توحید کی صدائیں ان مشرکوں کو ناگوار گزرتی ہیں۔ حق یہ ہے کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے جو مستحق ہدایت ہوتا ہے وہ رب کی طرف رجوع کرتا ہے اور اللہ اس کا ہاتھ تھام کر ہدایت کے راستے لا کھڑا کرتا ہے اور جو از خود برے راستے کو اختیار کر لیتا ہے اور صاف راہ چھوڑ دیتا ہے اللہ بھی اس کے ماتھے پر ضلالت لکھ دیتا ہے۔

صفحہ نمبر8128

آیت ۱۴

جب ان کے پاس حق آ گیا حجت ان پر قائم ہو چکی۔ اس وقت وہ آپس میں ضد اور بحث کی بنا پر مختلف ہو گئے۔ اگر قیامت کا دن حساب کتاب اور جزا سزا کے لیے مقرر شدہ نہ ہوتا تو ان کے ہر بد عمل کی سزا انہیں یہیں مل جایا کرتی۔

پھر فرماتا ہے کہ یہ گزشتہ جو پہلوں سے کتابیں پائے ہوئے ہیں۔ یہ صرف تقلیدی طور پر مانتے ہیں اور ظاہر ہے کہ مقلد کا ایمان شک شبہ سے خالی نہیں ہوتا۔ انہیں خود یقین نہیں دلیل و حجت کی بناء پر ایمان نہیں، بلکہ یہ اپنے پیشروؤں کے جو حق کے جھٹلانے والے تھے مقلد ہیں۔

صفحہ نمبر8129

تمام انبیاء کی شریعت یکساں ہے ٭٭

اس آیت میں ایک لطیفہ ہے جو قرآن کریم کی صرف ایک اور آیت میں پایا جاتا ہے باقی کسی اور آیت میں نہیں وہ یہ کہ اس میں دس کلمے ہیں جو سب مستقل ہیں الگ الگ ایک ایک کلمہ اپنی ذات میں ایک مستقل حکم ہے یہی بات دوسری آیت یعنی آیت الکرسی میں بھی ہے۔

1 - پہلا حکم تو یہ ہوتا ہے کہ جو وحی تجھ پر نازل کی گئی ہے اور وہی وحی تجھ سے پہلے کے تمام انبیاء پر آتی رہی ہے اور جو شرع تیرے لیے مقرر کی گئی ہے اور وہی تجھ سے پہلے تمام انبیاء کرام کے لیے بھی مقرر کی گئی تھی تو تمام لوگوں کو اس کی دعوت دے ہر ایک کو اسی کی طرف بلا اور اسی کے منوانے اور پھیلانے کی کوشش میں لگا رہ۔ 2 - اور اللہ تعالیٰ کی عبادت و وحدانیت پر تو آپ استقامت کر اور اپنے ماننے والوں سے استقامت کروا۔ 3 - مشرکین نے جو کچھ اختلاف کر رکھے ہیں جو تکذیب و افتراء ان کا شیوہ ہے جو عبادت غیر اللہ ان کی عادت ہے خبردار تو ہرگز ہرگز ان کی خواہش اور ان کی چاہتوں میں نہ آ جانا۔ ان کی ایک بھی نہ ماننا۔ 4 - اور علی الاعلان اپنے اس عقیدے کی تبلیغ کر کہ اللہ کی نازل کردہ تمام کتابوں پر میرا ایمان ہے میرا یہ کام نہیں کہ ایک کو مانوں اور دوسری سے انکار کروں، ایک کو لے لوں اور دوسری کو چھوڑ دوں۔ 5 - میں تم میں بھی وہی احکام جاری کرنا چاہتا ہوں جو اللہ کی طرف سے میرے پاس پہنچائے گئے ہیں اور جو سراسر عدل اور یکسر انصاف پر مبنی ہیں۔ 6 - معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ہمارا تمہارا معبود برحق وہی ہے اور وہی سب کا پالنہار ہے گو کوئی اپنی خوشی سے اس کے سامنے نہ جھکے لیکن دراصل ہر شخص بلکہ ہر چیز اس کے آگے جھکی ہوئی ہے اور سجدے میں پڑی ہوئی ہے۔ 7 - ہمارے عمل ہمارے ساتھ تمہاری کرنی تمہیں بھرنی۔ ہم تم میں کوئی تعلق نہیں۔

صفحہ نمبر8130

جیسے اور آیت میں ہے «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۖ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [ 10-يونس: 41 ] ‏ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ میرے لیے میرے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں۔ تم میرے اعمال سے بری اور میں تمہارے اعمال سے بیزار۔

8 - ہم؎ تم میں کوئی خصومت اور جھگڑا نہیں۔ کسی بحث مباحثے کی ضرورت نہیں۔ حضرت سدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ حکم تو مکہ میں تھا لیکن مدینے میں جہاد کے احکام اترے۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور جہاد کی آیتیں ہجرت کے بعد کی ہیں۔ 9 - قیامت کے دن اللہ ہم سب کو جمع کرے گا جیسے اور آیت میں ہے «‏قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بالْحَقِّ ۭ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ» ‏ [ 34- سبأ: 26 ] ‏، یعنی تو کہہ دے کہ ہمیں ہمارا رب جمع کرے گا پھر ہم میں حق کے ساتھ فیصلے کرے گا اور وہی فیصلے کرنے والا اور علم والا ہے۔

10 - پھر فرماتا ہے لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے۔

صفحہ نمبر8131

منکرین قیامت کے لئے وعیدیں ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو ایمان داروں سے فضول حجتیں کیا کرتے ہیں، انہیں راہ ہدایت سے بہکانا چاہتے ہیں اور اللہ کے دین میں اختلاف پیدا کرتے ہیں۔ ان کی حجت باطل ہے ان پر رب غضبناک ہے۔ اور انہیں قیامت کے روز سخت اور ناقابل برداشت مار ماری جائے گی۔ ان کی طمع پوری ہونی یعنی مسلمانوں میں پھر دوبارہ جاہلیت کی خو بو آنا محال ہے ٹھیک اسی طرح یہود و نصارٰی کا بھی یہ جادو نہیں چلنے دے گا۔ ناممکن ہے کہ مسلمان ان کے موجودہ دین کو اپنے سچے اچھے اصل اور کھرے دین پر ترجیح دیں۔ اور اس دین کو لیں جس میں جھوٹ ملا ہوا ہے جو محرف و مبدل ہے۔ پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور عدل و انصاف اتارا۔ جیسے فرمان باری ہے «لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ» ‏ [ 57- الحديد: 25 ] ‏، یعنی ہم نے اپنے رسولوں کو ظاہر دلیلوں کے ساتھ بھیجا قرآن کے ہمراہ کتاب اور میزان اتارا تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہو جائیں۔ ایک اور آیت میں ہے «‏وَالسَّمَاۗءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيْزَانَ أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ» ‏ [ 55- الرحمن: 9-7 ] ‏ یعنی آسمان کو اسی نے اونچا کیا اور ترازؤں کو اسی نے رکھا تاکہ تم تولنے میں کمی بیشی نہ کرو۔ اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول کو مت گھٹاؤ۔ پھر فرماتا ہے تو نہیں جان سکتا کہ قیامت بالکل قریب ہے اس میں خوف اور لالچ دونوں ہی ہیں اور اس میں دنیا سے بے رغبت کرنا بھی مقصود ہے۔ پھر فرمایا «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [ 34-سبأ: 29 ] ‏ اس کے منکر تو جلدی مچا رہے ہیں کہ قیامت کیوں نہیں آتی؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو قیامت قائم کر دو کیونکہ ان کے نزدیک قیامت ہونا محال ہے۔ لیکن ان کے برخلاف ایماندار اس سے کانپ رہے ہیں کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ روز جزا کا آنا حتمی اور ضروری ہے۔ یہ اس سے ڈر کر وہ اعمال بجا لا رہے ہیں جو انہیں اس روز کام دیں۔

صفحہ نمبر8132

ایک بالکل صحیح حدیث میں ہے جو تقریباً تواتر کے درجہ کو پہنچی ہوئی ہے کہ ایک شخص نے بلند آواز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کب ہو گی؟ یہ واقعہ سفر کا ہے وہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ دور تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ہاں وہ یقیناً آنے والی ہے تو بتا کہ تو نے اس کے لیے تیاری کیا کر رکھی ہے؟ اس نے کہا اللہ اور اس کے رسول کی محبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو ان کے ساتھ ہو گا جن سے تو محبت رکھتا ہے۔ [صحیح بخاری:6171] ‏

اور حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ہر شخص اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا تھا۔ [صحیح بخاری:6171] ‏

یہ حدیث یقیناً متواتر ہے الغرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کے جواب میں قیامت کے وقت کا تعین نہیں کیا بلکہ سائل کو اس دن کے لیے تیاری کرنے کو فرمایا پس قیامت کے آنے کے وقت علم کا سوائے اللہ کے کسی اور کو نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ قیامت کے آنے میں جو لوگ جھگڑ رہے ہیں اور اس کے منکر ہیں اسے محال جانتے ہیں وہ نرے جاہل ہیں سچی سمجھ صحیح عقل سے دور پڑے ہوئے ہیں سیدھے راستے سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔ تعجب ہے کہ زمین و آسمان کا ابتدائی خالق اللہ کو مانیں اور انسان کو مار ڈالنے کے بعد دوبارہ زندہ کر دینے پر اسے قادر نہ جانیں جس نے بغیر کسی نمونے کے اور بغیر کسی جز کے ابتداء ً اسے پیدا کر دیا «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» [ 30-الروم: 27 ] ‏ تو دوبارہ جب کہ اس کے اجزاء بھی کسی نہ کسی صورت میں کچھ نہ کچھ موجود ہیں اسے پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہے بلکہ عقل سلیم بھی اسے تسلیم کرتی ہے اور اب تو اور بھی آسان ہے۔

صفحہ نمبر8133

منکرین قیامت کے لئے وعیدیں ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو ایمان داروں سے فضول حجتیں کیا کرتے ہیں، انہیں راہ ہدایت سے بہکانا چاہتے ہیں اور اللہ کے دین میں اختلاف پیدا کرتے ہیں۔ ان کی حجت باطل ہے ان پر رب غضبناک ہے۔ اور انہیں قیامت کے روز سخت اور ناقابل برداشت مار ماری جائے گی۔ ان کی طمع پوری ہونی یعنی مسلمانوں میں پھر دوبارہ جاہلیت کی خو بو آنا محال ہے ٹھیک اسی طرح یہود و نصارٰی کا بھی یہ جادو نہیں چلنے دے گا۔ ناممکن ہے کہ مسلمان ان کے موجودہ دین کو اپنے سچے اچھے اصل اور کھرے دین پر ترجیح دیں۔ اور اس دین کو لیں جس میں جھوٹ ملا ہوا ہے جو محرف و مبدل ہے۔ پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور عدل و انصاف اتارا۔ جیسے فرمان باری ہے «لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ» ‏ [ 57- الحديد: 25 ] ‏، یعنی ہم نے اپنے رسولوں کو ظاہر دلیلوں کے ساتھ بھیجا قرآن کے ہمراہ کتاب اور میزان اتارا تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہو جائیں۔ ایک اور آیت میں ہے «‏وَالسَّمَاۗءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيْزَانَ أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ» ‏ [ 55- الرحمن: 9-7 ] ‏ یعنی آسمان کو اسی نے اونچا کیا اور ترازؤں کو اسی نے رکھا تاکہ تم تولنے میں کمی بیشی نہ کرو۔ اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول کو مت گھٹاؤ۔ پھر فرماتا ہے تو نہیں جان سکتا کہ قیامت بالکل قریب ہے اس میں خوف اور لالچ دونوں ہی ہیں اور اس میں دنیا سے بے رغبت کرنا بھی مقصود ہے۔ پھر فرمایا «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [ 34-سبأ: 29 ] ‏ اس کے منکر تو جلدی مچا رہے ہیں کہ قیامت کیوں نہیں آتی؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو قیامت قائم کر دو کیونکہ ان کے نزدیک قیامت ہونا محال ہے۔ لیکن ان کے برخلاف ایماندار اس سے کانپ رہے ہیں کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ روز جزا کا آنا حتمی اور ضروری ہے۔ یہ اس سے ڈر کر وہ اعمال بجا لا رہے ہیں جو انہیں اس روز کام دیں۔

صفحہ نمبر8132

ایک بالکل صحیح حدیث میں ہے جو تقریباً تواتر کے درجہ کو پہنچی ہوئی ہے کہ ایک شخص نے بلند آواز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کب ہو گی؟ یہ واقعہ سفر کا ہے وہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ دور تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ہاں وہ یقیناً آنے والی ہے تو بتا کہ تو نے اس کے لیے تیاری کیا کر رکھی ہے؟ اس نے کہا اللہ اور اس کے رسول کی محبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو ان کے ساتھ ہو گا جن سے تو محبت رکھتا ہے۔ [صحیح بخاری:6171] ‏

اور حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ہر شخص اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا تھا۔ [صحیح بخاری:6171] ‏

یہ حدیث یقیناً متواتر ہے الغرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کے جواب میں قیامت کے وقت کا تعین نہیں کیا بلکہ سائل کو اس دن کے لیے تیاری کرنے کو فرمایا پس قیامت کے آنے کے وقت علم کا سوائے اللہ کے کسی اور کو نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ قیامت کے آنے میں جو لوگ جھگڑ رہے ہیں اور اس کے منکر ہیں اسے محال جانتے ہیں وہ نرے جاہل ہیں سچی سمجھ صحیح عقل سے دور پڑے ہوئے ہیں سیدھے راستے سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔ تعجب ہے کہ زمین و آسمان کا ابتدائی خالق اللہ کو مانیں اور انسان کو مار ڈالنے کے بعد دوبارہ زندہ کر دینے پر اسے قادر نہ جانیں جس نے بغیر کسی نمونے کے اور بغیر کسی جز کے ابتداء ً اسے پیدا کر دیا «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» [ 30-الروم: 27 ] ‏ تو دوبارہ جب کہ اس کے اجزاء بھی کسی نہ کسی صورت میں کچھ نہ کچھ موجود ہیں اسے پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہے بلکہ عقل سلیم بھی اسے تسلیم کرتی ہے اور اب تو اور بھی آسان ہے۔

صفحہ نمبر8133

منکرین قیامت کے لئے وعیدیں ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو ایمان داروں سے فضول حجتیں کیا کرتے ہیں، انہیں راہ ہدایت سے بہکانا چاہتے ہیں اور اللہ کے دین میں اختلاف پیدا کرتے ہیں۔ ان کی حجت باطل ہے ان پر رب غضبناک ہے۔ اور انہیں قیامت کے روز سخت اور ناقابل برداشت مار ماری جائے گی۔ ان کی طمع پوری ہونی یعنی مسلمانوں میں پھر دوبارہ جاہلیت کی خو بو آنا محال ہے ٹھیک اسی طرح یہود و نصارٰی کا بھی یہ جادو نہیں چلنے دے گا۔ ناممکن ہے کہ مسلمان ان کے موجودہ دین کو اپنے سچے اچھے اصل اور کھرے دین پر ترجیح دیں۔ اور اس دین کو لیں جس میں جھوٹ ملا ہوا ہے جو محرف و مبدل ہے۔ پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور عدل و انصاف اتارا۔ جیسے فرمان باری ہے «لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ» ‏ [ 57- الحديد: 25 ] ‏، یعنی ہم نے اپنے رسولوں کو ظاہر دلیلوں کے ساتھ بھیجا قرآن کے ہمراہ کتاب اور میزان اتارا تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہو جائیں۔ ایک اور آیت میں ہے «‏وَالسَّمَاۗءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيْزَانَ أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ» ‏ [ 55- الرحمن: 9-7 ] ‏ یعنی آسمان کو اسی نے اونچا کیا اور ترازؤں کو اسی نے رکھا تاکہ تم تولنے میں کمی بیشی نہ کرو۔ اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول کو مت گھٹاؤ۔ پھر فرماتا ہے تو نہیں جان سکتا کہ قیامت بالکل قریب ہے اس میں خوف اور لالچ دونوں ہی ہیں اور اس میں دنیا سے بے رغبت کرنا بھی مقصود ہے۔ پھر فرمایا «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [ 34-سبأ: 29 ] ‏ اس کے منکر تو جلدی مچا رہے ہیں کہ قیامت کیوں نہیں آتی؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو قیامت قائم کر دو کیونکہ ان کے نزدیک قیامت ہونا محال ہے۔ لیکن ان کے برخلاف ایماندار اس سے کانپ رہے ہیں کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ روز جزا کا آنا حتمی اور ضروری ہے۔ یہ اس سے ڈر کر وہ اعمال بجا لا رہے ہیں جو انہیں اس روز کام دیں۔

صفحہ نمبر8132

ایک بالکل صحیح حدیث میں ہے جو تقریباً تواتر کے درجہ کو پہنچی ہوئی ہے کہ ایک شخص نے بلند آواز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کب ہو گی؟ یہ واقعہ سفر کا ہے وہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ دور تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ہاں وہ یقیناً آنے والی ہے تو بتا کہ تو نے اس کے لیے تیاری کیا کر رکھی ہے؟ اس نے کہا اللہ اور اس کے رسول کی محبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو ان کے ساتھ ہو گا جن سے تو محبت رکھتا ہے۔ [صحیح بخاری:6171] ‏

اور حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ہر شخص اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا تھا۔ [صحیح بخاری:6171] ‏

یہ حدیث یقیناً متواتر ہے الغرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کے جواب میں قیامت کے وقت کا تعین نہیں کیا بلکہ سائل کو اس دن کے لیے تیاری کرنے کو فرمایا پس قیامت کے آنے کے وقت علم کا سوائے اللہ کے کسی اور کو نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ قیامت کے آنے میں جو لوگ جھگڑ رہے ہیں اور اس کے منکر ہیں اسے محال جانتے ہیں وہ نرے جاہل ہیں سچی سمجھ صحیح عقل سے دور پڑے ہوئے ہیں سیدھے راستے سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔ تعجب ہے کہ زمین و آسمان کا ابتدائی خالق اللہ کو مانیں اور انسان کو مار ڈالنے کے بعد دوبارہ زندہ کر دینے پر اسے قادر نہ جانیں جس نے بغیر کسی نمونے کے اور بغیر کسی جز کے ابتداء ً اسے پیدا کر دیا «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» [ 30-الروم: 27 ] ‏ تو دوبارہ جب کہ اس کے اجزاء بھی کسی نہ کسی صورت میں کچھ نہ کچھ موجود ہیں اسے پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہے بلکہ عقل سلیم بھی اسے تسلیم کرتی ہے اور اب تو اور بھی آسان ہے۔

صفحہ نمبر8133

غفور و رحیم اللہ ٭٭

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے ایک کو دوسرے کے ہاتھ سے روزی پہنچا رہا ہے ایک بھی نہیں جسے اللہ بھول جائے نیک بد ہر ایک اس کے ہاں کا وظیفہ خوار ہے جیسے فرمایا «وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» ‏ [ 11-ھود: 6 ] ‏، زمین پر چلنے والے تمام جانداروں کی روزیوں کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے وہ ہر ایک کے رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے اور سب کچھ لوح محفوظ میں لکھا ہوا بھی ہے وہ جس کے لیے چاہتا ہے کشادہ روزی مقرر کرتا ہے وہ طاقتور غالب ہے جسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی پھر فرماتا ہے جو آخرت کے اعمال کی طرف توجہ کرتا ہے ہم خود اس کی مدد کرتے ہیں اسے قوت طاقت دیتے ہیں اس کی نیکیاں بڑھاتے رہتے ہیں کسی نیکی کو دس گنی کر دیتے ہیں کسی کو سات سو گنا کسی کو اس سے بھی زیادہ۔

صفحہ نمبر8136

الغرض آخرت کی چاہت جس دل میں ہوتی ہے اس شخص کو نیک اعمال کی توفیق اللہ کی طرف سے عطا فرمائی جاتی ہے۔ اور جس کی تمام کوشش دنیا حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہیں آخرت کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوتی تو وہ دونوں جہاں سے محروم رہتا ہے دنیا کا ملنا اللہ کے ارادے پر موقوف ہے ممکن ہے وہ ہزاروں جتن کر لے اور دنیا سے بھی محروم رہ جائے۔ بد نیتی کے باعث عقبیٰ تو برباد کر ہی چکا تھا۔ دنیا بھی نہ ملی تو دونوں جہان سے بھی گیا اور تھوڑی سی دنیا مل بھی گئی تو کیا۔

دوسری آیت میں اس مضمون کو مقید بیان کیا گیا ہے۔ فرمان ہے «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا كُلًّا نُّمِدُّ هَـٰؤُلَاءِ وَهَـٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ ۚ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ وَلَلْآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلًا» [ 17- الإسراء: 21-18 ] ‏، یعنی جو شخص دنیا کا ہو گا ایسے لوگوں میں سے ہم جسے چاہیں اور جتنا چاہیں دے دیں گے پھر اس کے لیے جہنم تجویز کریں گے جس میں وہ بدحال اور راندہ درگاہ ہو کر داخل ہو گا اور جو آخرت کی طلب کرے گا اور اس کے لیے جو کوشش کرنی چاہیئے کرے گا اور وہ با ایمان بھی ہو گا۔ تو ناممکن ہے کہ اس کی کوشش کی قدر دانی نہ کی جائے۔ دنیوی بخشش و عطا تو عام ہے۔ اس سے ہم ان سب کی امداد کیا کرتے ہیں اور تیرے رب کی یہ دنیوی عطا کسی پر بند نہیں، خود دیکھ لو کہ ہم نے ایک کو دوسرے پر کس طرح فوقیت دے رکھی ہے یقین مان لو کہ درجوں کے اعتبار سے بھی اور فضیلت کی حیثیت سے بھی آخرت بہت بڑی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اس امت کو برتری اور بلندی کی نصرت اور سلطنت کی خوشخبری ہو ان میں سے جو شخص دینی عمل دنیا کے لیے کرے گا اسے آخرت میں کوئی حصہ نہ ملے گا۔ [مسند احمد:134/5:اسناد قوی] ‏۔

صفحہ نمبر8137

غفور و رحیم اللہ ٭٭

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے ایک کو دوسرے کے ہاتھ سے روزی پہنچا رہا ہے ایک بھی نہیں جسے اللہ بھول جائے نیک بد ہر ایک اس کے ہاں کا وظیفہ خوار ہے جیسے فرمایا «وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» ‏ [ 11-ھود: 6 ] ‏، زمین پر چلنے والے تمام جانداروں کی روزیوں کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے وہ ہر ایک کے رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے اور سب کچھ لوح محفوظ میں لکھا ہوا بھی ہے وہ جس کے لیے چاہتا ہے کشادہ روزی مقرر کرتا ہے وہ طاقتور غالب ہے جسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی پھر فرماتا ہے جو آخرت کے اعمال کی طرف توجہ کرتا ہے ہم خود اس کی مدد کرتے ہیں اسے قوت طاقت دیتے ہیں اس کی نیکیاں بڑھاتے رہتے ہیں کسی نیکی کو دس گنی کر دیتے ہیں کسی کو سات سو گنا کسی کو اس سے بھی زیادہ۔

صفحہ نمبر8136

الغرض آخرت کی چاہت جس دل میں ہوتی ہے اس شخص کو نیک اعمال کی توفیق اللہ کی طرف سے عطا فرمائی جاتی ہے۔ اور جس کی تمام کوشش دنیا حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہیں آخرت کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوتی تو وہ دونوں جہاں سے محروم رہتا ہے دنیا کا ملنا اللہ کے ارادے پر موقوف ہے ممکن ہے وہ ہزاروں جتن کر لے اور دنیا سے بھی محروم رہ جائے۔ بد نیتی کے باعث عقبیٰ تو برباد کر ہی چکا تھا۔ دنیا بھی نہ ملی تو دونوں جہان سے بھی گیا اور تھوڑی سی دنیا مل بھی گئی تو کیا۔

دوسری آیت میں اس مضمون کو مقید بیان کیا گیا ہے۔ فرمان ہے «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا كُلًّا نُّمِدُّ هَـٰؤُلَاءِ وَهَـٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ ۚ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ وَلَلْآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلًا» [ 17- الإسراء: 21-18 ] ‏، یعنی جو شخص دنیا کا ہو گا ایسے لوگوں میں سے ہم جسے چاہیں اور جتنا چاہیں دے دیں گے پھر اس کے لیے جہنم تجویز کریں گے جس میں وہ بدحال اور راندہ درگاہ ہو کر داخل ہو گا اور جو آخرت کی طلب کرے گا اور اس کے لیے جو کوشش کرنی چاہیئے کرے گا اور وہ با ایمان بھی ہو گا۔ تو ناممکن ہے کہ اس کی کوشش کی قدر دانی نہ کی جائے۔ دنیوی بخشش و عطا تو عام ہے۔ اس سے ہم ان سب کی امداد کیا کرتے ہیں اور تیرے رب کی یہ دنیوی عطا کسی پر بند نہیں، خود دیکھ لو کہ ہم نے ایک کو دوسرے پر کس طرح فوقیت دے رکھی ہے یقین مان لو کہ درجوں کے اعتبار سے بھی اور فضیلت کی حیثیت سے بھی آخرت بہت بڑی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اس امت کو برتری اور بلندی کی نصرت اور سلطنت کی خوشخبری ہو ان میں سے جو شخص دینی عمل دنیا کے لیے کرے گا اسے آخرت میں کوئی حصہ نہ ملے گا۔ [مسند احمد:134/5:اسناد قوی] ‏۔

صفحہ نمبر8137

باب

پھر فرمایا ہے کہ یہ مشرکین دین اللہ کی تو پیروی کرتے نہیں بلکہ جن شیاطین اور انسانوں کو انہوں نے اپنا بڑا سمجھ رکھا ہے یہ جو احکام انہیں بتاتے ہیں انہی احکام کے مجموعے کو دین سمجھتے ہیں۔ حلال و حرام کا تعین اپنے ان بڑوں کے کہنے پر کرتے ہیں انہی کے ایجاد کردہ عبادات کے طریقے استعمال کر رہے ہیں اسی طرح مال کے احکام بھی ازخود تراشیدہ ہیں جنہیں شرعی سمجھ بیٹھے ہیں چنانچہ جاہلیت میں بعض جانوروں کو انہوں نے از خود حرام کر لیا تھا مثلا وہ جانور جس کا کان چیر کر اپنے معبودان باطل کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور داغ دے کر سانڈ چھوڑ دیتے تھے اور مادہ بچے کو حمل کی صورت میں ہی ان کے نام کر دیتے تھے جس اونٹ سے دس بچے حاصل کر لیں اسے ان کے نام چھوڑ دیتے تھے پھر انہیں ان کی تعظیم کے خیال سے اپنے اوپر حرام سمجھتے تھے۔ اور بعض چیزوں کو حلال کر لیا تھا جیسے مردار، خون اور جوا۔ صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے عمرو بن لحی بن قمعہ کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا تھا یہی وہ شخص ہے جس نے سب سے پہلے غیر اللہ کے نام پر جانوروں کا چھوڑنا بتایا۔ [صحیح بخاری:3521] ‏ یہ شخص خزاعہ کے بادشاہوں میں سے ایک تھا اسی نے سب سے پہلے ان کاموں کی ایجاد کی تھی۔ جو جاہلیت کے کام عربوں میں مروج تھے۔ اسی نے قریشیوں کو بت پرستی میں ڈال دیا اللہ اس پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے۔

فرماتا ہے کہ اگر میری یہ بات پہلے سے میرے ہاں طے شدہ نہ ہوتی کہ میں گنہگاروں کو قیامت کے آنے تک ڈھیل دوں گا تو میں آج ہی ان کفار کو اپنے عذاب میں جکڑ لیتا۔

صفحہ نمبر8139

اب انہیں قیامت کے دن جہنم کے المناک اور بڑے سخت عذاب ہوں گے،میدان قیامت میں تم دیکھو گے کہ یہ ظالم لوگ اپنے کرتوتوں سے لرزاں و ترساں ہوں گے۔ مارے خوف کے تھرا رہے ہوں گے۔لیکن آج کوئی چیز نہ ہو گی جو انہیں بچا سکے۔ آج تو یہ اعمال کا مزہ چکھ کر ہی رہیں گے ان کے بالکل برعکس ایماندار نیکوکار لوگوں کا حال ہو گا کہ وہ امن چین سے جنتوں کے باغات میں مزے کر رہے ہوں گے ان [ظالموں ] ‏ کی ذلت و رسوائی ڈر،خوف کو دیکھو اور ان [ایمانداروں] ‏ کی عزت بڑائی امن چین کا خیال کر لو، وہ [ظالم] ‏ طرح طرح کی مصیبتوں تکلیفوں میں ہوں گے یہ [ایماندار] ‏ طرح طرح کی راحتوں اور لذتوں میں ہوں گے۔ عمدہ بہترین غذائیں، بہترین لباس، مکانات، بہترین بیویاں اور بہترین سازو سامان انہیں ملے ہوئے ہوں گے جن کا دیکھنا سننا تو کہاں؟ کسی انسان کے ذہن اور تصور میں بھی یہ چیزیں نہیں آسکتیں۔

حضرت ابوطیبہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنتیوں کے سروں پر ابر آئے گا اور انہیں ندا ہو گی کہ بتاؤ کس چیز کی بارش چاہتے ہو؟ پس جو لوگ جس چیز کی بارش چاہیں گے وہی چیز ان پر اس بادل سے برسے گی یہاں تک کہ کہیں گے ہم پر ابھرے ہوئے سینے والی ہم عمر عورتیں برسائی جائیں چنانچہ وہی برسیں گی۔ اسی لیے فرمایا کہ فضل کبیر یعنی زبردست کامیابی کامل نعمت یہی ہے۔

صفحہ نمبر8140

باب

پھر فرمایا ہے کہ یہ مشرکین دین اللہ کی تو پیروی کرتے نہیں بلکہ جن شیاطین اور انسانوں کو انہوں نے اپنا بڑا سمجھ رکھا ہے یہ جو احکام انہیں بتاتے ہیں انہی احکام کے مجموعے کو دین سمجھتے ہیں۔ حلال و حرام کا تعین اپنے ان بڑوں کے کہنے پر کرتے ہیں انہی کے ایجاد کردہ عبادات کے طریقے استعمال کر رہے ہیں اسی طرح مال کے احکام بھی ازخود تراشیدہ ہیں جنہیں شرعی سمجھ بیٹھے ہیں چنانچہ جاہلیت میں بعض جانوروں کو انہوں نے از خود حرام کر لیا تھا مثلا وہ جانور جس کا کان چیر کر اپنے معبودان باطل کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور داغ دے کر سانڈ چھوڑ دیتے تھے اور مادہ بچے کو حمل کی صورت میں ہی ان کے نام کر دیتے تھے جس اونٹ سے دس بچے حاصل کر لیں اسے ان کے نام چھوڑ دیتے تھے پھر انہیں ان کی تعظیم کے خیال سے اپنے اوپر حرام سمجھتے تھے۔ اور بعض چیزوں کو حلال کر لیا تھا جیسے مردار، خون اور جوا۔ صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے عمرو بن لحی بن قمعہ کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا تھا یہی وہ شخص ہے جس نے سب سے پہلے غیر اللہ کے نام پر جانوروں کا چھوڑنا بتایا۔ [صحیح بخاری:3521] ‏ یہ شخص خزاعہ کے بادشاہوں میں سے ایک تھا اسی نے سب سے پہلے ان کاموں کی ایجاد کی تھی۔ جو جاہلیت کے کام عربوں میں مروج تھے۔ اسی نے قریشیوں کو بت پرستی میں ڈال دیا اللہ اس پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے۔

فرماتا ہے کہ اگر میری یہ بات پہلے سے میرے ہاں طے شدہ نہ ہوتی کہ میں گنہگاروں کو قیامت کے آنے تک ڈھیل دوں گا تو میں آج ہی ان کفار کو اپنے عذاب میں جکڑ لیتا۔

صفحہ نمبر8139

اب انہیں قیامت کے دن جہنم کے المناک اور بڑے سخت عذاب ہوں گے،میدان قیامت میں تم دیکھو گے کہ یہ ظالم لوگ اپنے کرتوتوں سے لرزاں و ترساں ہوں گے۔ مارے خوف کے تھرا رہے ہوں گے۔لیکن آج کوئی چیز نہ ہو گی جو انہیں بچا سکے۔ آج تو یہ اعمال کا مزہ چکھ کر ہی رہیں گے ان کے بالکل برعکس ایماندار نیکوکار لوگوں کا حال ہو گا کہ وہ امن چین سے جنتوں کے باغات میں مزے کر رہے ہوں گے ان [ظالموں ] ‏ کی ذلت و رسوائی ڈر،خوف کو دیکھو اور ان [ایمانداروں] ‏ کی عزت بڑائی امن چین کا خیال کر لو، وہ [ظالم] ‏ طرح طرح کی مصیبتوں تکلیفوں میں ہوں گے یہ [ایماندار] ‏ طرح طرح کی راحتوں اور لذتوں میں ہوں گے۔ عمدہ بہترین غذائیں، بہترین لباس، مکانات، بہترین بیویاں اور بہترین سازو سامان انہیں ملے ہوئے ہوں گے جن کا دیکھنا سننا تو کہاں؟ کسی انسان کے ذہن اور تصور میں بھی یہ چیزیں نہیں آسکتیں۔

حضرت ابوطیبہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنتیوں کے سروں پر ابر آئے گا اور انہیں ندا ہو گی کہ بتاؤ کس چیز کی بارش چاہتے ہو؟ پس جو لوگ جس چیز کی بارش چاہیں گے وہی چیز ان پر اس بادل سے برسے گی یہاں تک کہ کہیں گے ہم پر ابھرے ہوئے سینے والی ہم عمر عورتیں برسائی جائیں چنانچہ وہی برسیں گی۔ اسی لیے فرمایا کہ فضل کبیر یعنی زبردست کامیابی کامل نعمت یہی ہے۔

صفحہ نمبر8140

رسول اللہ سے قرابت داری کی فضیلت ٭٭

اوپر کی آیتوں میں جنت کی نعمتوں کا ذکر کر کے بیان فرما رہا ہے کہ ایماندار , نیک کار بندوں کو اس کی بشارت ہو پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ قریش کے مشرکین سے کہہ دو کہ اس تبلیغ پر اور اس تمہاری خیر خواہی پر میں تم سے کچھ طلب تو نہیں کر رہا۔ تمہاری بھلائی تو ایک طرف رہی تم اگر اپنی برائی سے ہی ٹل جاؤ اور مجھے رب کی رسالت پہنچانے دو اور قرابت داری کے رشتے کو سامنے رکھ کر میری ایذاء رسانی سے ہی رک جاؤ تو یہی بہت ہے صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی گئی تو حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا اس سے مراد قرابت آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے عجلت سے کام لیا سنو قریش کے جس قدر قبیلے تھے سب کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رشتہ داری تھی تو مطلب یہی کہ تم اس رشتے داری کا لحاظ رکھو جو مجھ میں اور تم میں ہے۔ [صحیح بخاری:4818] ‏

صفحہ نمبر8142

حضرت مجاہدرحمہ اللہ، عکرمہ رحمہ اللہ، قتادہ رحمہ اللہ، سدی رحمہ اللہ، ابو مالک رحمہ اللہ، عبد الرحمن رحمہ اللہ وغیرہ بھی اس آیت کی یہی تفسیر کرتے ہیں۔طبرانی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار قریش سے کہا میں تم سے اس کی کوئی اجرت طلب نہیں کرتا مگر یہ کہ تم اس قرابت داری کا خیال رکھو جو مجھ اور تم میں ہے۔ اس میری قرابت کا حق جو تم پر ہے وہ ادا کرو۔ [طبرانی اوسط:3347:ضعیف] ‏

مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں جو دلیلیں دی ہیں جس ہدایت کا راستہ بتایا ہے اس پر کوئی اجر تم سے نہیں چاہتا سوائے اس کے کہ تم اللہ کو چاہنے لگو اور اس کی اطاعت کی وجہ سے اس سے قرب اور نزدیکی حاصل کر لو۔ [مسند احمد:268/1:ضعیف] ‏

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی یہی تفسیر منقول ہے تو یہ دوسرا قول ہوا پہلا قول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی رشتے داری کو یاد دلانا۔

صفحہ نمبر8143

دوسرا قول آپ کی یہ طلب کہ لوگ اللہ کی نزدیکی حاصل کر لیں۔

تیسرا قول جو حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کی روایت سے گزرا کہ تم میری قرابت کے ساتھ احسان اور نیکی کرو۔ ابو الدیلم کا بیان ہے کہ جب حضرت علی بن حسین رحمہ اللہ کو قید کر کے لایا گیا اور دمشق کے بالاخانے میں رکھا گیا تو ایک شامی نے کہا اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہیں قتل کرایا اور تمہارا ناس کرا دیا اور فتنہ کی ترقی کو روک دیا یہ سن کر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کیا تو نے قرآن بھی پڑھا ہے اس نے کہا کیوں نہیں؟ فرمایا اس میں [ حٰم ] ‏ والی سورتیں بھی پڑھی ہیں؟ اس نے کہا واہ سارا قرآن پڑھ لیا اور [ حم ] ‏ والی سورتیں نہیں پڑھیں؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا پھر کیا ان میں اس آیت کی تلاوت تو نے نہیں کی؟ آیت «قُلْ لَّآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى ۭ وَمَنْ يَّــقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ» [ 42- الشورى: 23 ] ‏ یعنی میں تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا مگر محبت قرابت کی۔ اس نے کہا پھر کیا تم وہ ہو؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ہاں! حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا مراد قرابت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔

صفحہ نمبر8144

ابن جریر میں ہے کہ انصار رضی اللہ عنہم نے اپنی خدمات اسلام گنوائیں گویا فخر کے طور پر۔ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم تم سے افضل ہیں جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی مجلس میں آئے اور فرمایا انصاریو کیا تم ذلت کی حالت میں نہ تھے؟ پھر اللہ نے تمہیں میری وجہ سے عزت بخشی! انہوں نے کہا بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں۔ فرمایا کیا تم گمراہ نہ تھے؟ پھر اللہ نے تمہیں میری وجہ سے ہدایت کی؟ انہوں نے کہا ہاں بیشک آپ نے سچ فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب تم مجھے کیوں نہیں کہتے؟ انہوں نے کہا کیا کہیں؟ فرمایا کیوں نہیں کہتے؟ کہ کیا تیری قوم نے تجھے نکال نہیں دیا تھا؟ اس وقت ہم نے تجھے پناہ دی کیا انہوں نے تجھے جھٹلایا نہ تھا؟ اس وقت ہم نے تیری تصدیق کی؟ کیا انہوں نے تجھے پست کرنا نہیں چاہا تھا اس وقت ہم نے تیری مدد کی؟ اس طرح کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور بھی بہت سی باتیں کیں یہاں تک کہ انصار اپنے گھٹنوں پر جھک پڑے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اولاد اور جو کچھ ہمارے پاس ہے سب اللہ کا اور سب اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے۔

[تفسیر ابن جریر الطبری:30678:ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر8145

پھر یہ آیت «قُلْ لَّآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى ۭ وَمَنْ يَّــقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ» [ 42- الشورى: 23 ] ‏ نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم میں بھی اسی کے قریب ضعیف سند سے مروی ہے بخاری و مسلم میں یہ حدیث ہے . [صحیح بخاری:4330] ‏

اس میں ہے کہ یہ واقعہ حنین کی غنیمت کی تقسیم کے وقت پیش آیا تھا اور اس میں آیت کے اترنے کا ذکر بھی نہیں اور اس آیت کو مدینے میں نازل شدہ ماننے میں بھی قدرے تامل ہے اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے پھر جو واقعہ حدیث میں مذکور ہے اس واقعہ میں اور اس آیت میں کچھ ایسی زیادہ ظاہر مناسبت بھی نہیں ایک روایت میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا اس آیت سے کون لوگ مراد ہیں جن کی محبت رکھنے کا ہمیں حکم باری ہوا ہے آپ نے فرمایا فاطمہ اور ان کی اولاد رضی اللہ عنہم۔ [طبرانی کبیر:12384:ضعیف] ‏

لیکن اس کی سند ضعیف ہے اور اس کا راوی مبہم ہے جو معروف نہیں پھر اس کا استاد ایک شیعہ ہے جو بالکل ثقاہت سے گرا ہوا ہے اس کا نام حسین اشغر ہے اس جیسی حدیث بھلا اس کی روایت سے کیسے مان لی جائے گی؟ پھر مدینے میں آیت نازل ہونا ہی مستعد ہے حق یہ ہے کہ آیت مکی ہے اور مکہ شریف میں فاطمہ کا عقد ہی نہ ہوا تھا اولاد کیسی؟ آپرضی اللہ عنہا کا عقد تو صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ بدر کے بعد سنہ 2 ھ میں ہوا۔

صفحہ نمبر8146

پس صحیح تفسیر اس کی وہی ہے جو حبرالامة ترجمان القرآن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کی ہے جو بحوالہ بخاری پہلے گذر چکی ہم اہل بیت کے ساتھ خیر خواہی کرنے کے منکر نہیں ہے ہم مانتے ہیں کہ ان کے ساتھ احسان و سلوک اور ان کا اکرام و احترام ضروری چیز ہے روئے زمین پر ان سے زیادہ پاک اور صاف ستھرا گھرانا اور نہیں حسب و نسب میں اور فخر و مباہات میں بلا شک یہ سب سے اعلیٰ ہیں۔ بالخصوص ان میں سے وہ جو متبع سنت نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم ہوں جیسے کہ اسلاف کی روش تھی یعنی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور آل عباس رضی اللہ عنہ کی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور آل علی رضی اللہ عنہ کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا ہے میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں کتاب اللہ اور میری عزت اور یہ دونوں جدا نہ ہوں گے جب تک کہ حوض پر میرے پاس نہ آئیں۔ [صحیح مسلم:2408] ‏

صفحہ نمبر8147

مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ قریشی جب آپس میں ملتے ہیں تو بڑی خندہ پیشانی سے ملتے ہیں۔ لیکن ہم سے اس ہنسی خوشی کے ساتھ نہیں ملتے۔ یہ سن کر آپ بہت رنجیدہ ہوئے اور فرمانے لگے اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کسی کے دل میں ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اللہ کے لیے اور اس کے رسول کی وجہ سے تم سے محبت نہ رکھے۔ [سنن ترمذي:3758،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا قریشی باتیں کرتے ہوتے ہیں ہمیں دیکھ کر چپ ہو جاتے ہیں اسے سن کر مارے غصے کے آپ کی پیشانی پر بل پڑ گئے اور فرمایا واللہ! کسی مسلمان کے دل میں ایمان جاگزیں نہیں ہو گا جب تک کہ وہ تم سے اللہ کے لیے اور میری قرابت داری کی وجہ سے محبت نہ رکھے۔ [مسند احمد:207/1:ضعیف] ‏

صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لحاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں رکھو۔ [صحیح بخاری:3713] ‏

ایک اور روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں سے سلوک کرنا مجھے اپنے قرابت داروں کے سلوک سے بھی پیارا ہے۔ [صحیح بخاری:3712] ‏

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا واللہ تمہارا اسلام لانا مجھے اپنے والد خطاب کے اسلام لانے سے بھی زیادہ اچھا لگا اس لیے کہ تمہارا اسلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کے اسلام سے زیادہ محبوب تھا۔ پس اسلام کے ان دو چمکتے ستاروں کا مسلمانوں کے ان دونوں سیدوں کا جو معاملہ آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اقربا پیغمبر کے ساتھ تھا وہی عزت و محبت کا معاملہ مسلمانوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت اور قرابت داروں سے رکھنا چاہیئے۔ کیونکہ نبیوں اور رسولوں کے بعد تمام دنیا سے افضل یہی دونوں بزرگ خلیفہ رسول تھے رضی اللہ عنہما۔ پس مسلمانوں کو ان کی پیروی کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت اور کنبے قبیلے کے ساتھ جس عقیدت سے پیش آنا چاہیئے۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں خلیفہ سے اہل بیت سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کل صحابہ رضی اللہ عنہم سے خوش ہو جائے اور سب کو اپنی رضا مندی میں لے لے۔ آمین۔

صفحہ نمبر8148

صحیح مسلم وغیرہ میں حدیث ہے کہ یزید بن حیان اور حصین بن میسرہ اور عمر بن مسلم رحمہ اللہ علیہم سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے حصین نے کہا اے حضرت! آپ کو تو بڑی بڑی خیر و برکت مل گئی آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اپنے کانوں سے سنیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازیں پڑھیں حق تو یہ ہے کہ بڑی بڑی فضیلتیں آپ رضی اللہ عنہم نے سمیٹ لیں اچھا اب کوئی حدیث ہمیں بھی بتائیے۔ اس پر سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے بھتیجے سنو میری عمر اب بڑی ہو گئی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کو عرصہ گذر چکا بعض چیزیں ذہن میں محفوظ نہیں رہیں اب تو یہی رکھو کہ جو از خود سنا دوں اسے مان لیا کرو ورنہ مجھے تکلیف نہ دو کہ تکلف سے بیان کرنا پڑے پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مکے اور مدینے کے درمیان پانی کی جگہ کے پاس جسے خم کہا جاتا تھا کھڑے ہو کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ سنایا اللہ کی حمد و ثنا کی وعظ و پند کیا پھر فرمایا لوگو میں ایک انسان ہوں کیا عجب کہ ابھی ابھی میرے پاس اللہ کا قاصد پہنچ جائے اور میں اس کی مان لوں سنو میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک تو کتاب اللہ جس میں نور و ہدایت ہے تم اللہ کی کتاب کو مضبوط تھام لو اور اس کو مضبوطی سے تھامے رہو پس اس کی بڑی رغبت دلائی اور بہت کچھ تاکید کی پھر فرمایا اے میرے اہل بیت میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں یہ سن کر حصین رحمہ اللہ نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے زید رضی اللہ عنہ آپ کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ کی بیویاں اہل بیت میں داخل نہیں؟ فرمایا بیشک آپ کی بیویاں وہ ہیں جن پر آپ کے بعد صدقہ حرام ہے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا آل علی، آل عقیل، آل جعفر، آل عباس رضی اللہ عنہم پوچھا کیا ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ فرمایا ہاں! [صحیح مسلم:4208] ‏

صفحہ نمبر8149

ترمذی شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوط تھامے رہے تو بہکو گے نہیں ایک دوسرے سے زیادہ عظمت والی ہے کتاب اللہ جو اللہ کی طرف سے ایک لٹکائی ہوئی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک آئی ہے اور دوسری چیز میری عترت میرے اہل بیت ہے اور یہ دونوں جدا نہ ہوں گی یہاں تک کہ دونوں میرے پاس حوض کوثر پر آئیں۔ پس دیکھ لو کہ میرے بعد کس طرح ان میں میری جانشینی کرتے ہو؟ [سنن ترمذي:3788،قال الشيخ الألباني:صحیح ] ‏ امام صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے اور صرف ترمذی میں ہے

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے ترمذی میں ہے کہ عرفے والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر جسے قصواء کہا جاتا تھا خطبہ دیا جس میں فرمایا لوگو میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے تھامے رہے تو ہرگز گمراہ نہیں ہو گے کتاب اللہ اور میری عترت اہل بیت۔ [سنن ترمذي:3786،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ اللہ کی نعمتوں کو مدنظر رکھ کر تم لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت رکھو اور اللہ کی محبت کی وجہ سے مجھ سے محبت رکھو اور میری محبت کی وجہ سے میری اہل بیت سے محبت رکھو۔ [سنن ترمذي:3789،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

یہ حدیث اور اوپر کی حدیث حسن غریب ہے اس مضمون کی اور احادیث ہم نے آیت «اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا» [ 33- الأحزاب: 33 ] ‏ کی تفسیر میں وارد کر دی ہیں یہاں ان کے دہرانے کی ضرورت نہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

صفحہ نمبر8150

ایک ضعیف حدیث مسند ابو یعلیٰ میں ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیت اللہ کے دروازے کا کنڈا تھامے ہوئے فرمایا لوگو جو مجھے جانتے ہیں وہ تو جانتے ہی ہیں جو نہیں پہچانتے وہ اب پہچان کر لیں کہ میرا نام ابوذر ہے سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تم میں میرے اہل بیت کی مثال مثل نوح علیہ السلام کی کشتی کے ہے اس میں جو چلا گیا اس نے نجات پالی اور جو اس میں داخل نہ ہوا ہلاک ہوا۔مسند ابویعلیٰ:ضعیف] ‏

پھر فرماتا ہے جو نیک عمل کرے ہم اس کا ثواب اور بڑھا دیتے ہیں جیسے ایک اور آیت میں فرمایا اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر ظلم نہیں کرتا اگر نیکی ہو تو اور بڑھا دیتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے بعض سلف کا قول ہے کہ نیکی کا ثواب اس کے بعد نیکی ہے اور برائی کا بدلہ اس کے بعد برائی ہے پھر فرمان ہوا کہ اللہ گناہوں کو بخشنے والا ہے اور نیکیوں کی قدر دانی کرنے والا ہے انہیں بڑھا چڑھا کر دیتا ہے۔

صفحہ نمبر8151

جاہل کفار کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تہمت لگانا ٭٭

پھر فرماتا ہے کہ یہ جاہل کفار جو کہتے ہیں کہ یہ قرآن تو نے گھڑ لیا ہے اور اللہ کے نام لگا دیا ہے ایسا نہیں اگر ایسا ہوتا تو اللہ تیرے دل پر مہر لگا دیتا اور تجھے کچھ بھی یاد نہ رہتا جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ» [ 69- الحاقة: 44 ] ‏، اگر یہ رسول ہمارے ذمے کچھ باتیں لگا دیتے تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑ کر ان کے دل کی رگ کاٹ ڈالتے اور تم میں سے کوئی انہیں اس سزا سے نہ بچا سکتا۔ یعنی یہ اگر ہمارے کلام میں کچھ بھی زیادتی کرتے تو ایسا انتقام لیتے کہ دنیا کی کوئی ہستی اسے نہ بچا سکتی۔

اس کے بعد کا جملہ «أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا ۖ فَإِن يَشَإِ اللَّـهُ يَخْتِمْ عَلَىٰ قَلْبِكَ ۗ وَيَمْحُ اللَّـهُ الْبَاطِلَ وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ] ‏] ‏ ٢٤ [ [» [سورةالشورى(‏42:24)‏] ‏، «یَخْتِمْ» پر معطوف نہیں بلکہ یہ مبتدا ہے اور مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ «یَخْتِمْ» پر عطف نہیں جو مجزوم ہو۔ واؤ کا کتابت میں نہ آنا یہ صرف امام کے رسم خط کی موافقت کی وجہ سے ہے جیسے آیت «سَـنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ» [ 96- العلق: 18 ] ‏ میں واؤ لکھنے میں نہیں آئی۔ اور آیت «‏وَيَدْعُ الْإِنسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاءَهُ بِالْخَيْرِ وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا» ‏ [ الإسراء 17: 11 ] ‏ میں واؤ نہیں لکھی گئی ہاں اس کے بعد کے جملے «اَنْ يُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ» ‏ [ 8- الانفال: 7 ] ‏ کا عطف «وَيَمْــحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ ۭ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ» [ 42- الشورى: 24 ] ‏، پر ہے یعنی اللہ تعالیٰ حق کو واضح اور مبین کر دیتا ہے اپنے کلمات سے یعنی دلائل بیان فرما کر حجت پیش کر کے وہ خوب دانا بینا ہے دلوں کے راز سینوں کے بھید اس پر کھلے ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر8152

توبہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنا احسان اور اپنا کرم بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے غلاموں پر اس قدر مہربان ہے کہ بد سے بد گنہگار بھی جب اپنی بد کرداری سے باز آئے اور خلوص کے ساتھ اس کے سامنے جھکے اور سچے دل سے توبہ کرے تو وہ اپنے رحم و کرم سے اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اپنا فضل اس کے شامل حال کر دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [ 4- النسآء: 110 ] ‏، جو شخص بد عملی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو غفور و رحیم پائے گا۔

صفحہ نمبر8153

صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی اونٹنی جنگل بیابان میں گم ہو گئی ہو جس پر اس کا کھانا پینا بھی ہو یہ اس کی جستجو کر کے عاجز آ کر کسی درخت تلے پڑ رہا اور اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا اونٹنی سے بالکل مایوس ہو گیا کہ یکایک وہ دیکھتا ہے کہ اونٹنی اس کے پاس ہی کھڑی ہے یہ فوراً اٹھ بیٹھتا ہے اس کی نکیل تھام لیتا ہے اور اس قدر خوش ہوتا ہے کہ بے تحاشا اس کی زبان سے نکل جاتا ہے کہ یا اللہ بیشک تو میرا غلام ہے اور میں تیرا رب ہوں وہ اپنی خوشی کی وجہ سے خطا کر جاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2747] ‏

ایک مختصر حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس قدر خوش ہوتا ہے کہ اتنی خوشی اس شخص کو بھی نہیں ہوتی جو ایسی جگہ میں ہو جہاں پیاس کے مارے ہلاک ہو رہا ہو اور وہیں اس کی سواری کا جانور گم ہو گیا ہو جو اسے دفعتًا مل جائے۔

صفحہ نمبر8154

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص ایک عورت سے برا کام کرتا ہے پھر اس سے نکاح کر سکتا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نکاح میں کوئی حرج نہیں پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:147/11:] ‏

توبہ تو مستقبل کے لیے قبول ہوتی ہے اور برائیاں گذشتہ معاف کر دی جاتی ہیں تمہارے ہر قول و فعل اور عمل کا اسے علم ہے۔ باوجود اس کے جھکنے والے کی طرف مائل ہوتا ہے اور توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ وہ ایمان والوں اور نیک کاروں کی دعا قبول فرماتا ہے۔ وہ خواہ اپنے لیے دعا کریں خواہ دوسروں کے لیے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ملک شام میں خطبہ پڑھتے ہوئے اپنے مجاہد ساتھیوں سے فرماتے ہیں تم ایماندار ہو اور جنتی ہو اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ رومی اور فارسی جنہیں تم قید کر لائے ہو کیا عجب کہ یہ بھی جنت میں پہنچ جائیں کیونکہ ان میں سے جب تمہارا کوئی کام کر دیتا ہے تو تم اسے کہتے ہو اللہ تجھ پر رحم کرے تو نے بہت اچھا کام کیا اللہ تجھے برکت دے تو نے بہت اچھا کیا وغیرہ اور قرآن کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول فرماتا ہے پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کا یہ جملہ «وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا» [ الشوری: 26 ] ‏ تلاوت فرمایا معنی اس کے یہ کہ اللہ ان کی سنتا ہے آیت «الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّـهُ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ» ‏ [ 39-الزمر: 18 ] ‏ کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ جو بات کو مان لیتے ہیں اور اس کی اتباع کرتے ہیں اور جیسے فرمایا «اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ» ‏ [ 6- الانعام: 36 ] ‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ اپنے فضل سے زیادتی دینا یہ ہے کہ ان کے حق میں ایسے لوگوں کی سفارش قبول فرما لے گا جن کے ساتھ انہوں نے کچھ سلوک کیا ہو۔

[طبرانی کبیر:248/10:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8155

حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے وہ اپنے بھائیوں کی سفارش کریں گے اور انہیں زیادہ فضل ملے گا یعنی بھائیوں کے بھائیوں کی بھی شفاعت کی اجازت ہو جائے گی مومنوں کی اس عزت و شان کو بیان فرما کر کفار کی بد حالی بیان فرمائی کہ انہیں سخت درد ناک اور گھبراہٹ والے عذاب ہونگے پھر فرمایا اگر ان بندوں کو ان کی روزیوں میں وسعت مل جاتی ان کی ضرورت سے زیادہ ان کے پلے پڑ جاتا تو یہ خرمستی میں آ کر دنیا میں ہلڑ مچا دیتے اور دنیا کے امن کو آگ لگا دیتے ایک دوسرے کو پھونک دیتے، بھون کھاتے، سرکشی اور طغیان تکبر اور بےپرواہی حد سے بڑھ جاتی۔ اسی لیے حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا فلسفیانہ مقولہ ہے کہ زندگی کا سامان اتنا ہی اچھا ہے جتنے میں سرکشی اور لاابالی پن نہ آئے۔ اس مضمون کی پوری حدیث کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر دنیا کی نمائش کا ہے پہلے بیان ہو چکی ہے [صحیح بخاری:6427] ‏

پھر فرماتا ہے وہ ایک اندازے سے روزیاں پہنچا رہا ہے بندے کی صلاحیت کا اسے علم ہے۔ غنا اور فقیری کے مستحق کو وہ خوب جانتا ہے۔ حدیث قدسی میں ہے میرے بندے ایسے بھی ہیں جن کی صلاحیت مالداری میں ہی ہے اگر میں انہیں فقیر بنا دوں تو وہ دینداری سے بھی جاتے رہیں گے۔ اور بعض میرے بندے ایسے بھی ہیں کہ ان کے لائق فقیری ہی ہے اگر وہ مال حاصل کر لیں اور توانگر بن جائیں تو اس حالت میں گویا ان کا دین فاسد کر دوں۔ [بغوی فی التفسیر:1877:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8156

توبہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنا احسان اور اپنا کرم بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے غلاموں پر اس قدر مہربان ہے کہ بد سے بد گنہگار بھی جب اپنی بد کرداری سے باز آئے اور خلوص کے ساتھ اس کے سامنے جھکے اور سچے دل سے توبہ کرے تو وہ اپنے رحم و کرم سے اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اپنا فضل اس کے شامل حال کر دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [ 4- النسآء: 110 ] ‏، جو شخص بد عملی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو غفور و رحیم پائے گا۔

صفحہ نمبر8153

صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی اونٹنی جنگل بیابان میں گم ہو گئی ہو جس پر اس کا کھانا پینا بھی ہو یہ اس کی جستجو کر کے عاجز آ کر کسی درخت تلے پڑ رہا اور اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا اونٹنی سے بالکل مایوس ہو گیا کہ یکایک وہ دیکھتا ہے کہ اونٹنی اس کے پاس ہی کھڑی ہے یہ فوراً اٹھ بیٹھتا ہے اس کی نکیل تھام لیتا ہے اور اس قدر خوش ہوتا ہے کہ بے تحاشا اس کی زبان سے نکل جاتا ہے کہ یا اللہ بیشک تو میرا غلام ہے اور میں تیرا رب ہوں وہ اپنی خوشی کی وجہ سے خطا کر جاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2747] ‏

ایک مختصر حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس قدر خوش ہوتا ہے کہ اتنی خوشی اس شخص کو بھی نہیں ہوتی جو ایسی جگہ میں ہو جہاں پیاس کے مارے ہلاک ہو رہا ہو اور وہیں اس کی سواری کا جانور گم ہو گیا ہو جو اسے دفعتًا مل جائے۔

صفحہ نمبر8154

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص ایک عورت سے برا کام کرتا ہے پھر اس سے نکاح کر سکتا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نکاح میں کوئی حرج نہیں پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:147/11:] ‏

توبہ تو مستقبل کے لیے قبول ہوتی ہے اور برائیاں گذشتہ معاف کر دی جاتی ہیں تمہارے ہر قول و فعل اور عمل کا اسے علم ہے۔ باوجود اس کے جھکنے والے کی طرف مائل ہوتا ہے اور توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ وہ ایمان والوں اور نیک کاروں کی دعا قبول فرماتا ہے۔ وہ خواہ اپنے لیے دعا کریں خواہ دوسروں کے لیے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ملک شام میں خطبہ پڑھتے ہوئے اپنے مجاہد ساتھیوں سے فرماتے ہیں تم ایماندار ہو اور جنتی ہو اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ رومی اور فارسی جنہیں تم قید کر لائے ہو کیا عجب کہ یہ بھی جنت میں پہنچ جائیں کیونکہ ان میں سے جب تمہارا کوئی کام کر دیتا ہے تو تم اسے کہتے ہو اللہ تجھ پر رحم کرے تو نے بہت اچھا کام کیا اللہ تجھے برکت دے تو نے بہت اچھا کیا وغیرہ اور قرآن کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول فرماتا ہے پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کا یہ جملہ «وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا» [ الشوری: 26 ] ‏ تلاوت فرمایا معنی اس کے یہ کہ اللہ ان کی سنتا ہے آیت «الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّـهُ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ» ‏ [ 39-الزمر: 18 ] ‏ کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ جو بات کو مان لیتے ہیں اور اس کی اتباع کرتے ہیں اور جیسے فرمایا «اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ» ‏ [ 6- الانعام: 36 ] ‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ اپنے فضل سے زیادتی دینا یہ ہے کہ ان کے حق میں ایسے لوگوں کی سفارش قبول فرما لے گا جن کے ساتھ انہوں نے کچھ سلوک کیا ہو۔

[طبرانی کبیر:248/10:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8155

حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے وہ اپنے بھائیوں کی سفارش کریں گے اور انہیں زیادہ فضل ملے گا یعنی بھائیوں کے بھائیوں کی بھی شفاعت کی اجازت ہو جائے گی مومنوں کی اس عزت و شان کو بیان فرما کر کفار کی بد حالی بیان فرمائی کہ انہیں سخت درد ناک اور گھبراہٹ والے عذاب ہونگے پھر فرمایا اگر ان بندوں کو ان کی روزیوں میں وسعت مل جاتی ان کی ضرورت سے زیادہ ان کے پلے پڑ جاتا تو یہ خرمستی میں آ کر دنیا میں ہلڑ مچا دیتے اور دنیا کے امن کو آگ لگا دیتے ایک دوسرے کو پھونک دیتے، بھون کھاتے، سرکشی اور طغیان تکبر اور بےپرواہی حد سے بڑھ جاتی۔ اسی لیے حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا فلسفیانہ مقولہ ہے کہ زندگی کا سامان اتنا ہی اچھا ہے جتنے میں سرکشی اور لاابالی پن نہ آئے۔ اس مضمون کی پوری حدیث کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر دنیا کی نمائش کا ہے پہلے بیان ہو چکی ہے [صحیح بخاری:6427] ‏

پھر فرماتا ہے وہ ایک اندازے سے روزیاں پہنچا رہا ہے بندے کی صلاحیت کا اسے علم ہے۔ غنا اور فقیری کے مستحق کو وہ خوب جانتا ہے۔ حدیث قدسی میں ہے میرے بندے ایسے بھی ہیں جن کی صلاحیت مالداری میں ہی ہے اگر میں انہیں فقیر بنا دوں تو وہ دینداری سے بھی جاتے رہیں گے۔ اور بعض میرے بندے ایسے بھی ہیں کہ ان کے لائق فقیری ہی ہے اگر وہ مال حاصل کر لیں اور توانگر بن جائیں تو اس حالت میں گویا ان کا دین فاسد کر دوں۔ [بغوی فی التفسیر:1877:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8156

توبہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنا احسان اور اپنا کرم بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے غلاموں پر اس قدر مہربان ہے کہ بد سے بد گنہگار بھی جب اپنی بد کرداری سے باز آئے اور خلوص کے ساتھ اس کے سامنے جھکے اور سچے دل سے توبہ کرے تو وہ اپنے رحم و کرم سے اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اپنا فضل اس کے شامل حال کر دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [ 4- النسآء: 110 ] ‏، جو شخص بد عملی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو غفور و رحیم پائے گا۔

صفحہ نمبر8153

صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی اونٹنی جنگل بیابان میں گم ہو گئی ہو جس پر اس کا کھانا پینا بھی ہو یہ اس کی جستجو کر کے عاجز آ کر کسی درخت تلے پڑ رہا اور اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا اونٹنی سے بالکل مایوس ہو گیا کہ یکایک وہ دیکھتا ہے کہ اونٹنی اس کے پاس ہی کھڑی ہے یہ فوراً اٹھ بیٹھتا ہے اس کی نکیل تھام لیتا ہے اور اس قدر خوش ہوتا ہے کہ بے تحاشا اس کی زبان سے نکل جاتا ہے کہ یا اللہ بیشک تو میرا غلام ہے اور میں تیرا رب ہوں وہ اپنی خوشی کی وجہ سے خطا کر جاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2747] ‏

ایک مختصر حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس قدر خوش ہوتا ہے کہ اتنی خوشی اس شخص کو بھی نہیں ہوتی جو ایسی جگہ میں ہو جہاں پیاس کے مارے ہلاک ہو رہا ہو اور وہیں اس کی سواری کا جانور گم ہو گیا ہو جو اسے دفعتًا مل جائے۔

صفحہ نمبر8154

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص ایک عورت سے برا کام کرتا ہے پھر اس سے نکاح کر سکتا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نکاح میں کوئی حرج نہیں پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:147/11:] ‏

توبہ تو مستقبل کے لیے قبول ہوتی ہے اور برائیاں گذشتہ معاف کر دی جاتی ہیں تمہارے ہر قول و فعل اور عمل کا اسے علم ہے۔ باوجود اس کے جھکنے والے کی طرف مائل ہوتا ہے اور توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ وہ ایمان والوں اور نیک کاروں کی دعا قبول فرماتا ہے۔ وہ خواہ اپنے لیے دعا کریں خواہ دوسروں کے لیے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ملک شام میں خطبہ پڑھتے ہوئے اپنے مجاہد ساتھیوں سے فرماتے ہیں تم ایماندار ہو اور جنتی ہو اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ رومی اور فارسی جنہیں تم قید کر لائے ہو کیا عجب کہ یہ بھی جنت میں پہنچ جائیں کیونکہ ان میں سے جب تمہارا کوئی کام کر دیتا ہے تو تم اسے کہتے ہو اللہ تجھ پر رحم کرے تو نے بہت اچھا کام کیا اللہ تجھے برکت دے تو نے بہت اچھا کیا وغیرہ اور قرآن کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول فرماتا ہے پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کا یہ جملہ «وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا» [ الشوری: 26 ] ‏ تلاوت فرمایا معنی اس کے یہ کہ اللہ ان کی سنتا ہے آیت «الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّـهُ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ» ‏ [ 39-الزمر: 18 ] ‏ کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ جو بات کو مان لیتے ہیں اور اس کی اتباع کرتے ہیں اور جیسے فرمایا «اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ» ‏ [ 6- الانعام: 36 ] ‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ اپنے فضل سے زیادتی دینا یہ ہے کہ ان کے حق میں ایسے لوگوں کی سفارش قبول فرما لے گا جن کے ساتھ انہوں نے کچھ سلوک کیا ہو۔

[طبرانی کبیر:248/10:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8155

حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے وہ اپنے بھائیوں کی سفارش کریں گے اور انہیں زیادہ فضل ملے گا یعنی بھائیوں کے بھائیوں کی بھی شفاعت کی اجازت ہو جائے گی مومنوں کی اس عزت و شان کو بیان فرما کر کفار کی بد حالی بیان فرمائی کہ انہیں سخت درد ناک اور گھبراہٹ والے عذاب ہونگے پھر فرمایا اگر ان بندوں کو ان کی روزیوں میں وسعت مل جاتی ان کی ضرورت سے زیادہ ان کے پلے پڑ جاتا تو یہ خرمستی میں آ کر دنیا میں ہلڑ مچا دیتے اور دنیا کے امن کو آگ لگا دیتے ایک دوسرے کو پھونک دیتے، بھون کھاتے، سرکشی اور طغیان تکبر اور بےپرواہی حد سے بڑھ جاتی۔ اسی لیے حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا فلسفیانہ مقولہ ہے کہ زندگی کا سامان اتنا ہی اچھا ہے جتنے میں سرکشی اور لاابالی پن نہ آئے۔ اس مضمون کی پوری حدیث کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر دنیا کی نمائش کا ہے پہلے بیان ہو چکی ہے [صحیح بخاری:6427] ‏

پھر فرماتا ہے وہ ایک اندازے سے روزیاں پہنچا رہا ہے بندے کی صلاحیت کا اسے علم ہے۔ غنا اور فقیری کے مستحق کو وہ خوب جانتا ہے۔ حدیث قدسی میں ہے میرے بندے ایسے بھی ہیں جن کی صلاحیت مالداری میں ہی ہے اگر میں انہیں فقیر بنا دوں تو وہ دینداری سے بھی جاتے رہیں گے۔ اور بعض میرے بندے ایسے بھی ہیں کہ ان کے لائق فقیری ہی ہے اگر وہ مال حاصل کر لیں اور توانگر بن جائیں تو اس حالت میں گویا ان کا دین فاسد کر دوں۔ [بغوی فی التفسیر:1877:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8156

باب

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ لوگ باران رحمت کا انتظار کرتے کرتے مایوس ہو جاتے ہیں ایسی پوری حاجت اور سخت مصیبت کے وقت میں بارش برساتا ہوں ان کی ناامیدی اور خشک سالی ختم ہو جاتی ہے اور عام طور پر میری رحمت پھیل جاتی ہے امیر المؤمنین خلیفتہ المسلمین فاروق اعظم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایک شخص کہتا ہے امیر المؤمنین قحط سالی ہو گئی اور اب تو لوگ بارش سے بالکل مایوس ہو گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جاؤ اب ان شاءاللہ ضرور بارش ہو گی پھر اس آیت کی تلاوت کی وہ ولی و حمید ہے یعنی مخلوقات کے تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں اس کے کام قابل ستائش و تعریف ہیں۔ مخلوق کے بھلے کو وہ جانتا ہے اور ان کے نفع کا اسے علم ہے اس کے کام نفع سے خالی نہیں۔

صفحہ نمبر8159

آفات اور تکالیف سے خطاؤں کی معافی ہوتی ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ کی عظمت قدرت اور سلطنت کا بیان ہو رہا ہے۔ کہ آسمان و زمین اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور ان میں کئی ساری مخلوق بھی اسی کی پیدا کی ہوئی ہے فرشتے انسان جنات اور مختلف قسموں کے حیوانات جو کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں قیامت کے دن وہ ان سب کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا۔ جبکہ ان کے حواس گم ہو چکے ہوں گے۔ اور ان میں عدل و انصاف کیا جائے گا پھر فرماتا ہے لوگو! تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ سب دراصل تمہارے اپنے کئے گناہوں کا بدلہ ہیں اور ابھی تو وہ غفور و رحیم اللہ تمہاری بہت سی حکم عدولیوں سے چشم پوشی فرماتا ہے اور انہیں معاف فرما دیتا ہے «وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّـهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَىٰ ظَهْرِهَا مِن دَابَّةٍ» ‏ [ 35-فاطر: 45 ] ‏ اگر ہر اک گناہ پر پکڑے تو تم زمین پر چل پھر بھی نہ سکو۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مومن کو جو تکلیف سختی غم اور پریشانی ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے یہاں تک کہ ایک کانٹا لگنے کے عوض بھی۔ [صحیح بخاری:5642] ‏

جب آیت «‏فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ‏ [ 99- الزلزلة: 8، 7 ] ‏، اتری اس وقت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کھانا کھا رہے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے سن کر کھانے سے ہاتھ ہٹا لیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہر برائی بھلائی کا بدلہ دیا جائے گا؟ آپ نے فرمایا سنو طبیعت کے خلاف جو چیزیں ہوتی ہیں یہ سب برائیوں کے بدلے ہیں اور ساری نیکیاں اللہ کے پاس جمع شدہ ہیں ابو ادریس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہی مضمون اس آیت میں بیان ہوا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30704] ‏

امیر المؤمنین علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں آؤ میں تمہیں کتاب اللہ شریف کی افضل ترین آیت سناؤں اور ساتھ ہی حدیث بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت کی اور میرا نام لے کر فرمایا سن میں اس کی تفسیر بھی تجھے بتا دوں تجھے جو بیماریاں سختیاں اور بلائیں آفتیں دنیا میں پہنچتی ہیں وہ سب بدلہ ہے تمہارے اپنے اعمال کا اللہ تعالیٰ کا حکم اس سے بہت زیادہ ہے کہ پھر انہی پر آخرت میں بھی سزا کرے اور اکثر برائیاں معاف فرما دیتا ہے تو اس کے کرم سے یہ بالکل ناممکن ہے کہ دنیا میں معاف کی ہوئی خطاؤں پر آخرت میں پکڑے [ مسند احمد 85/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8160

ابن ابی حاتم میں یہی روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی کے قول سے مروی ہے اس میں ہے کہ ابوحجیفہ رحمہ اللہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جسے یاد رکھنا ہر مومن کا فرض ہے پھر یہ تفسیر آیت کی اپنی طرف سے کر کے سنائی مسند میں ہے کہ مسلمان کے جسم میں جو تکلیف ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرماتا ہے۔ [مسند احمد:98/4:صحیح] ‏

مسند ہی کی اور حدیث میں ہے جب ایماندار بندے کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اور اس کے کفارے کی کوئی چیز اس کے پاس نہیں ہوتی تو اللہ اسے کسی رنج و غم میں مبتلا کر دیتا ہے اور وہی اس کے ان گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے [مسند احمد:157/6:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم میں حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس آیت کے اترنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ لکڑی کی ذرا سی خراش ہڈی کی ذرا سی تکلیف یہاں تک کہ قدم کا پھسلنا بھی کسی نہ کسی گناہ پر ہے اور ابھی اللہ کے عفو کئے ہوئے بہت سے گناہ تو یونہی مٹ جاتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30705:مرسل] ‏

ابن ابی حاتم ہی میں ہے کہ جب حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے جسم میں تکلیف ہوئی اور لوگ ان کی عیادت کو گئے تو حضرت حسن رحمہ اللہ نے کہا آپ کی یہ حالت تو دیکھی نہیں جاتی ہمیں بڑا صدمہ ہو رہا ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا نہ کہو جو تم دیکھ رہے ہو یہ سب گناہوں کا کفارہ ہے اور بھی بہت سے گناہ تو اللہ معاف فرما چکا ہے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی ہے۔ ابو البلاد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے علاء بن بدر رحمہ اللہ سے کہا کہ قرآن میں تو یہ آیت ہے اور میں ابھی نابالغ بچہ ہوں اور اندھا ہو گیا ہوں آپ رحمہ اللہ نے فرمایا یہ تیرے ماں باپ کے گناہوں کا بدلہ ہے حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن پڑھ کر بھول جانے والا یقیناً اپنے کسی گناہ میں پکڑا گیا ہے۔ اس کی اور کوئی وجہ نہیں پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا بتاؤ تو اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہو گی کہ انسان یاد کر کے کلام اللہ بھول جائے۔

صفحہ نمبر8161

آفات اور تکالیف سے خطاؤں کی معافی ہوتی ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ کی عظمت قدرت اور سلطنت کا بیان ہو رہا ہے۔ کہ آسمان و زمین اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور ان میں کئی ساری مخلوق بھی اسی کی پیدا کی ہوئی ہے فرشتے انسان جنات اور مختلف قسموں کے حیوانات جو کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں قیامت کے دن وہ ان سب کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا۔ جبکہ ان کے حواس گم ہو چکے ہوں گے۔ اور ان میں عدل و انصاف کیا جائے گا پھر فرماتا ہے لوگو! تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ سب دراصل تمہارے اپنے کئے گناہوں کا بدلہ ہیں اور ابھی تو وہ غفور و رحیم اللہ تمہاری بہت سی حکم عدولیوں سے چشم پوشی فرماتا ہے اور انہیں معاف فرما دیتا ہے «وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّـهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَىٰ ظَهْرِهَا مِن دَابَّةٍ» ‏ [ 35-فاطر: 45 ] ‏ اگر ہر اک گناہ پر پکڑے تو تم زمین پر چل پھر بھی نہ سکو۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مومن کو جو تکلیف سختی غم اور پریشانی ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے یہاں تک کہ ایک کانٹا لگنے کے عوض بھی۔ [صحیح بخاری:5642] ‏

جب آیت «‏فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ‏ [ 99- الزلزلة: 8، 7 ] ‏، اتری اس وقت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کھانا کھا رہے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے سن کر کھانے سے ہاتھ ہٹا لیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہر برائی بھلائی کا بدلہ دیا جائے گا؟ آپ نے فرمایا سنو طبیعت کے خلاف جو چیزیں ہوتی ہیں یہ سب برائیوں کے بدلے ہیں اور ساری نیکیاں اللہ کے پاس جمع شدہ ہیں ابو ادریس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہی مضمون اس آیت میں بیان ہوا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30704] ‏

امیر المؤمنین علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں آؤ میں تمہیں کتاب اللہ شریف کی افضل ترین آیت سناؤں اور ساتھ ہی حدیث بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت کی اور میرا نام لے کر فرمایا سن میں اس کی تفسیر بھی تجھے بتا دوں تجھے جو بیماریاں سختیاں اور بلائیں آفتیں دنیا میں پہنچتی ہیں وہ سب بدلہ ہے تمہارے اپنے اعمال کا اللہ تعالیٰ کا حکم اس سے بہت زیادہ ہے کہ پھر انہی پر آخرت میں بھی سزا کرے اور اکثر برائیاں معاف فرما دیتا ہے تو اس کے کرم سے یہ بالکل ناممکن ہے کہ دنیا میں معاف کی ہوئی خطاؤں پر آخرت میں پکڑے [ مسند احمد 85/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8160

ابن ابی حاتم میں یہی روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی کے قول سے مروی ہے اس میں ہے کہ ابوحجیفہ رحمہ اللہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جسے یاد رکھنا ہر مومن کا فرض ہے پھر یہ تفسیر آیت کی اپنی طرف سے کر کے سنائی مسند میں ہے کہ مسلمان کے جسم میں جو تکلیف ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرماتا ہے۔ [مسند احمد:98/4:صحیح] ‏

مسند ہی کی اور حدیث میں ہے جب ایماندار بندے کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اور اس کے کفارے کی کوئی چیز اس کے پاس نہیں ہوتی تو اللہ اسے کسی رنج و غم میں مبتلا کر دیتا ہے اور وہی اس کے ان گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے [مسند احمد:157/6:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم میں حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس آیت کے اترنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ لکڑی کی ذرا سی خراش ہڈی کی ذرا سی تکلیف یہاں تک کہ قدم کا پھسلنا بھی کسی نہ کسی گناہ پر ہے اور ابھی اللہ کے عفو کئے ہوئے بہت سے گناہ تو یونہی مٹ جاتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30705:مرسل] ‏

ابن ابی حاتم ہی میں ہے کہ جب حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے جسم میں تکلیف ہوئی اور لوگ ان کی عیادت کو گئے تو حضرت حسن رحمہ اللہ نے کہا آپ کی یہ حالت تو دیکھی نہیں جاتی ہمیں بڑا صدمہ ہو رہا ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا نہ کہو جو تم دیکھ رہے ہو یہ سب گناہوں کا کفارہ ہے اور بھی بہت سے گناہ تو اللہ معاف فرما چکا ہے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی ہے۔ ابو البلاد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے علاء بن بدر رحمہ اللہ سے کہا کہ قرآن میں تو یہ آیت ہے اور میں ابھی نابالغ بچہ ہوں اور اندھا ہو گیا ہوں آپ رحمہ اللہ نے فرمایا یہ تیرے ماں باپ کے گناہوں کا بدلہ ہے حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن پڑھ کر بھول جانے والا یقیناً اپنے کسی گناہ میں پکڑا گیا ہے۔ اس کی اور کوئی وجہ نہیں پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا بتاؤ تو اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہو گی کہ انسان یاد کر کے کلام اللہ بھول جائے۔

صفحہ نمبر8161

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com