John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Ash-Shura

Tafsir Ibn Kathir · Consultation · 53 ayat · ayat 31–53 · Quran text →

آفات اور تکالیف سے خطاؤں کی معافی ہوتی ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ کی عظمت قدرت اور سلطنت کا بیان ہو رہا ہے۔ کہ آسمان و زمین اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور ان میں کئی ساری مخلوق بھی اسی کی پیدا کی ہوئی ہے فرشتے انسان جنات اور مختلف قسموں کے حیوانات جو کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں قیامت کے دن وہ ان سب کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا۔ جبکہ ان کے حواس گم ہو چکے ہوں گے۔ اور ان میں عدل و انصاف کیا جائے گا پھر فرماتا ہے لوگو! تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ سب دراصل تمہارے اپنے کئے گناہوں کا بدلہ ہیں اور ابھی تو وہ غفور و رحیم اللہ تمہاری بہت سی حکم عدولیوں سے چشم پوشی فرماتا ہے اور انہیں معاف فرما دیتا ہے «وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّـهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَىٰ ظَهْرِهَا مِن دَابَّةٍ» ‏ [ 35-فاطر: 45 ] ‏ اگر ہر اک گناہ پر پکڑے تو تم زمین پر چل پھر بھی نہ سکو۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مومن کو جو تکلیف سختی غم اور پریشانی ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے یہاں تک کہ ایک کانٹا لگنے کے عوض بھی۔ [صحیح بخاری:5642] ‏

جب آیت «‏فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ‏ [ 99- الزلزلة: 8، 7 ] ‏، اتری اس وقت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کھانا کھا رہے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے سن کر کھانے سے ہاتھ ہٹا لیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہر برائی بھلائی کا بدلہ دیا جائے گا؟ آپ نے فرمایا سنو طبیعت کے خلاف جو چیزیں ہوتی ہیں یہ سب برائیوں کے بدلے ہیں اور ساری نیکیاں اللہ کے پاس جمع شدہ ہیں ابو ادریس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہی مضمون اس آیت میں بیان ہوا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30704] ‏

امیر المؤمنین علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں آؤ میں تمہیں کتاب اللہ شریف کی افضل ترین آیت سناؤں اور ساتھ ہی حدیث بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت کی اور میرا نام لے کر فرمایا سن میں اس کی تفسیر بھی تجھے بتا دوں تجھے جو بیماریاں سختیاں اور بلائیں آفتیں دنیا میں پہنچتی ہیں وہ سب بدلہ ہے تمہارے اپنے اعمال کا اللہ تعالیٰ کا حکم اس سے بہت زیادہ ہے کہ پھر انہی پر آخرت میں بھی سزا کرے اور اکثر برائیاں معاف فرما دیتا ہے تو اس کے کرم سے یہ بالکل ناممکن ہے کہ دنیا میں معاف کی ہوئی خطاؤں پر آخرت میں پکڑے [ مسند احمد 85/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8160

ابن ابی حاتم میں یہی روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی کے قول سے مروی ہے اس میں ہے کہ ابوحجیفہ رحمہ اللہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جسے یاد رکھنا ہر مومن کا فرض ہے پھر یہ تفسیر آیت کی اپنی طرف سے کر کے سنائی مسند میں ہے کہ مسلمان کے جسم میں جو تکلیف ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرماتا ہے۔ [مسند احمد:98/4:صحیح] ‏

مسند ہی کی اور حدیث میں ہے جب ایماندار بندے کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اور اس کے کفارے کی کوئی چیز اس کے پاس نہیں ہوتی تو اللہ اسے کسی رنج و غم میں مبتلا کر دیتا ہے اور وہی اس کے ان گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے [مسند احمد:157/6:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم میں حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس آیت کے اترنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ لکڑی کی ذرا سی خراش ہڈی کی ذرا سی تکلیف یہاں تک کہ قدم کا پھسلنا بھی کسی نہ کسی گناہ پر ہے اور ابھی اللہ کے عفو کئے ہوئے بہت سے گناہ تو یونہی مٹ جاتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30705:مرسل] ‏

ابن ابی حاتم ہی میں ہے کہ جب حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے جسم میں تکلیف ہوئی اور لوگ ان کی عیادت کو گئے تو حضرت حسن رحمہ اللہ نے کہا آپ کی یہ حالت تو دیکھی نہیں جاتی ہمیں بڑا صدمہ ہو رہا ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا نہ کہو جو تم دیکھ رہے ہو یہ سب گناہوں کا کفارہ ہے اور بھی بہت سے گناہ تو اللہ معاف فرما چکا ہے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی ہے۔ ابو البلاد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے علاء بن بدر رحمہ اللہ سے کہا کہ قرآن میں تو یہ آیت ہے اور میں ابھی نابالغ بچہ ہوں اور اندھا ہو گیا ہوں آپ رحمہ اللہ نے فرمایا یہ تیرے ماں باپ کے گناہوں کا بدلہ ہے حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن پڑھ کر بھول جانے والا یقیناً اپنے کسی گناہ میں پکڑا گیا ہے۔ اس کی اور کوئی وجہ نہیں پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا بتاؤ تو اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہو گی کہ انسان یاد کر کے کلام اللہ بھول جائے۔

صفحہ نمبر8161

سمندروں کی تسخیر قدرت الہی کی نشانی ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کے نشان اپنی مخلوق کے سامنے رکھتا ہے کہ اس نے سمندروں کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ کشتیاں ان میں برابر آئیں جائیں۔ بڑی بڑی کشتیاں سمندروں میں ایسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے زمین میں اونچے پہاڑ۔ ان کشتیوں کو ادھر سے ادھر لے جانے والی ہوائیں اس کے قبضے میں ہیں اگر وہی چاہے تو ان ہواؤں کو روک لے پھر تو بادبان بیکار ہو جائیں اور کشتی رک کر کھڑی ہو جائے ہر وہ شخص جو سختیوں میں صبر کا اور آسانیوں میں شکر کا عادی ہو اس کے لیے تو بڑی عبرت کی جا ہے وہ رب کی عظیم الشان قدرت اور اس کی بےپایاں سلطنت کو ان نشانوں سے سمجھ سکتا ہے اور جس طرح ہوائیں بند کر کے کشتیوں کو کھڑا کر لینا اور روک لینا اس کے بس میں ہے اسی طرح ان پہاڑوں جیسی کشتیوں کو دم بھر میں ڈبو دینا بھی اس کے ہاتھ ہے اگر وہ چاہے تو اہل کشتی کے گناہوں کے باعث انہیں غرق کر دے۔ ابھی تو وہ بہت سے گناہوں سے درگذر فرما لیتا ہے اور اگر سب گناہوں پر پکڑے تو جو بھی کشتی میں بیٹھے سیدھا سمندر میں ڈوبے۔ لیکن اس کی بےپایاں رحمت ان کو اس پار سے اس پار کر دیتی ہے۔

صفحہ نمبر8164

علماء تفسیر نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اسی ہوا کو ناموافق کر دے۔ تیز و تند آندھی چلا دے جو کشتی کو سیدھی راہ چلنے ہی نہ دے ادھر سے ادھر کر دے سنبھالے نہ سنبھل سکے جہاں جانا ہے اس طرف جا ہی نہ سکے اور یونہی سرگشتہ و حیران ہو ہو کر اہل کشتی تباہ ہو جائیں۔ الغرض اگر ہوا بند کر دے تو کھڑے کھڑے ناکام رہیں اگر تیز کر دے تو ناکامی۔

لیکن یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ خوشگوار موافق ہوائیں چلاتا ہے اور لمبے لمبے سفر ان کشتیوں کے ذریعہ بنی آدم طے کرتا ہے اور اپنے مقصد کو پالیتا ہے یہی حال پانی کا ہے کہ اگر بالکل نہ برسائے خشک سالی رہے دنیا تباہ ہو جائے۔ اگر بہت ہی برسا دے تو تر سالی کوئی چیز پیدا نہ ہونے دے اور دنیا ہلاک ہو جائے۔ ساتھ ہی مینہ کی کثرت طغیانی کا مکانوں کے گرنے کا اور پوری بربادی کا سبب بن جائے یہاں تک کہ رب کی مہربانی سے جن شہروں میں اور جن زمینوں میں زیادہ بارش کی ضرورت ہے وہاں کثرت سے مینہ برستا ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہے وہاں کمی سے۔

صفحہ نمبر8165

پھر فرماتا ہے کہ ہماری نشانیوں سے جھگڑنے والے ایسے موقعوں پر تو مان لیتے ہیں کہ ہماری قدرت سے باہر نہیں۔ ہم اگر انتقام لینا چاہیں ہم اگر عذاب کرنا چاہیں تو وہ چھوٹ نہیں سکتے سب ہماری قدرت اور مشیت تلے ہیں «فَسُبْحَانَہُ مَا اَعْظَمَ شَاْنَہُ»

صفحہ نمبر8166

سمندروں کی تسخیر قدرت الہی کی نشانی ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کے نشان اپنی مخلوق کے سامنے رکھتا ہے کہ اس نے سمندروں کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ کشتیاں ان میں برابر آئیں جائیں۔ بڑی بڑی کشتیاں سمندروں میں ایسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے زمین میں اونچے پہاڑ۔ ان کشتیوں کو ادھر سے ادھر لے جانے والی ہوائیں اس کے قبضے میں ہیں اگر وہی چاہے تو ان ہواؤں کو روک لے پھر تو بادبان بیکار ہو جائیں اور کشتی رک کر کھڑی ہو جائے ہر وہ شخص جو سختیوں میں صبر کا اور آسانیوں میں شکر کا عادی ہو اس کے لیے تو بڑی عبرت کی جا ہے وہ رب کی عظیم الشان قدرت اور اس کی بےپایاں سلطنت کو ان نشانوں سے سمجھ سکتا ہے اور جس طرح ہوائیں بند کر کے کشتیوں کو کھڑا کر لینا اور روک لینا اس کے بس میں ہے اسی طرح ان پہاڑوں جیسی کشتیوں کو دم بھر میں ڈبو دینا بھی اس کے ہاتھ ہے اگر وہ چاہے تو اہل کشتی کے گناہوں کے باعث انہیں غرق کر دے۔ ابھی تو وہ بہت سے گناہوں سے درگذر فرما لیتا ہے اور اگر سب گناہوں پر پکڑے تو جو بھی کشتی میں بیٹھے سیدھا سمندر میں ڈوبے۔ لیکن اس کی بےپایاں رحمت ان کو اس پار سے اس پار کر دیتی ہے۔

صفحہ نمبر8164

علماء تفسیر نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اسی ہوا کو ناموافق کر دے۔ تیز و تند آندھی چلا دے جو کشتی کو سیدھی راہ چلنے ہی نہ دے ادھر سے ادھر کر دے سنبھالے نہ سنبھل سکے جہاں جانا ہے اس طرف جا ہی نہ سکے اور یونہی سرگشتہ و حیران ہو ہو کر اہل کشتی تباہ ہو جائیں۔ الغرض اگر ہوا بند کر دے تو کھڑے کھڑے ناکام رہیں اگر تیز کر دے تو ناکامی۔

لیکن یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ خوشگوار موافق ہوائیں چلاتا ہے اور لمبے لمبے سفر ان کشتیوں کے ذریعہ بنی آدم طے کرتا ہے اور اپنے مقصد کو پالیتا ہے یہی حال پانی کا ہے کہ اگر بالکل نہ برسائے خشک سالی رہے دنیا تباہ ہو جائے۔ اگر بہت ہی برسا دے تو تر سالی کوئی چیز پیدا نہ ہونے دے اور دنیا ہلاک ہو جائے۔ ساتھ ہی مینہ کی کثرت طغیانی کا مکانوں کے گرنے کا اور پوری بربادی کا سبب بن جائے یہاں تک کہ رب کی مہربانی سے جن شہروں میں اور جن زمینوں میں زیادہ بارش کی ضرورت ہے وہاں کثرت سے مینہ برستا ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہے وہاں کمی سے۔

صفحہ نمبر8165

پھر فرماتا ہے کہ ہماری نشانیوں سے جھگڑنے والے ایسے موقعوں پر تو مان لیتے ہیں کہ ہماری قدرت سے باہر نہیں۔ ہم اگر انتقام لینا چاہیں ہم اگر عذاب کرنا چاہیں تو وہ چھوٹ نہیں سکتے سب ہماری قدرت اور مشیت تلے ہیں «فَسُبْحَانَہُ مَا اَعْظَمَ شَاْنَہُ»

صفحہ نمبر8166

سمندروں کی تسخیر قدرت الہی کی نشانی ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کے نشان اپنی مخلوق کے سامنے رکھتا ہے کہ اس نے سمندروں کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ کشتیاں ان میں برابر آئیں جائیں۔ بڑی بڑی کشتیاں سمندروں میں ایسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے زمین میں اونچے پہاڑ۔ ان کشتیوں کو ادھر سے ادھر لے جانے والی ہوائیں اس کے قبضے میں ہیں اگر وہی چاہے تو ان ہواؤں کو روک لے پھر تو بادبان بیکار ہو جائیں اور کشتی رک کر کھڑی ہو جائے ہر وہ شخص جو سختیوں میں صبر کا اور آسانیوں میں شکر کا عادی ہو اس کے لیے تو بڑی عبرت کی جا ہے وہ رب کی عظیم الشان قدرت اور اس کی بےپایاں سلطنت کو ان نشانوں سے سمجھ سکتا ہے اور جس طرح ہوائیں بند کر کے کشتیوں کو کھڑا کر لینا اور روک لینا اس کے بس میں ہے اسی طرح ان پہاڑوں جیسی کشتیوں کو دم بھر میں ڈبو دینا بھی اس کے ہاتھ ہے اگر وہ چاہے تو اہل کشتی کے گناہوں کے باعث انہیں غرق کر دے۔ ابھی تو وہ بہت سے گناہوں سے درگذر فرما لیتا ہے اور اگر سب گناہوں پر پکڑے تو جو بھی کشتی میں بیٹھے سیدھا سمندر میں ڈوبے۔ لیکن اس کی بےپایاں رحمت ان کو اس پار سے اس پار کر دیتی ہے۔

صفحہ نمبر8164

علماء تفسیر نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اسی ہوا کو ناموافق کر دے۔ تیز و تند آندھی چلا دے جو کشتی کو سیدھی راہ چلنے ہی نہ دے ادھر سے ادھر کر دے سنبھالے نہ سنبھل سکے جہاں جانا ہے اس طرف جا ہی نہ سکے اور یونہی سرگشتہ و حیران ہو ہو کر اہل کشتی تباہ ہو جائیں۔ الغرض اگر ہوا بند کر دے تو کھڑے کھڑے ناکام رہیں اگر تیز کر دے تو ناکامی۔

لیکن یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ خوشگوار موافق ہوائیں چلاتا ہے اور لمبے لمبے سفر ان کشتیوں کے ذریعہ بنی آدم طے کرتا ہے اور اپنے مقصد کو پالیتا ہے یہی حال پانی کا ہے کہ اگر بالکل نہ برسائے خشک سالی رہے دنیا تباہ ہو جائے۔ اگر بہت ہی برسا دے تو تر سالی کوئی چیز پیدا نہ ہونے دے اور دنیا ہلاک ہو جائے۔ ساتھ ہی مینہ کی کثرت طغیانی کا مکانوں کے گرنے کا اور پوری بربادی کا سبب بن جائے یہاں تک کہ رب کی مہربانی سے جن شہروں میں اور جن زمینوں میں زیادہ بارش کی ضرورت ہے وہاں کثرت سے مینہ برستا ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہے وہاں کمی سے۔

صفحہ نمبر8165

پھر فرماتا ہے کہ ہماری نشانیوں سے جھگڑنے والے ایسے موقعوں پر تو مان لیتے ہیں کہ ہماری قدرت سے باہر نہیں۔ ہم اگر انتقام لینا چاہیں ہم اگر عذاب کرنا چاہیں تو وہ چھوٹ نہیں سکتے سب ہماری قدرت اور مشیت تلے ہیں «فَسُبْحَانَہُ مَا اَعْظَمَ شَاْنَہُ»

صفحہ نمبر8166

سمندروں کی تسخیر قدرت الہی کی نشانی ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کے نشان اپنی مخلوق کے سامنے رکھتا ہے کہ اس نے سمندروں کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ کشتیاں ان میں برابر آئیں جائیں۔ بڑی بڑی کشتیاں سمندروں میں ایسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے زمین میں اونچے پہاڑ۔ ان کشتیوں کو ادھر سے ادھر لے جانے والی ہوائیں اس کے قبضے میں ہیں اگر وہی چاہے تو ان ہواؤں کو روک لے پھر تو بادبان بیکار ہو جائیں اور کشتی رک کر کھڑی ہو جائے ہر وہ شخص جو سختیوں میں صبر کا اور آسانیوں میں شکر کا عادی ہو اس کے لیے تو بڑی عبرت کی جا ہے وہ رب کی عظیم الشان قدرت اور اس کی بےپایاں سلطنت کو ان نشانوں سے سمجھ سکتا ہے اور جس طرح ہوائیں بند کر کے کشتیوں کو کھڑا کر لینا اور روک لینا اس کے بس میں ہے اسی طرح ان پہاڑوں جیسی کشتیوں کو دم بھر میں ڈبو دینا بھی اس کے ہاتھ ہے اگر وہ چاہے تو اہل کشتی کے گناہوں کے باعث انہیں غرق کر دے۔ ابھی تو وہ بہت سے گناہوں سے درگذر فرما لیتا ہے اور اگر سب گناہوں پر پکڑے تو جو بھی کشتی میں بیٹھے سیدھا سمندر میں ڈوبے۔ لیکن اس کی بےپایاں رحمت ان کو اس پار سے اس پار کر دیتی ہے۔

صفحہ نمبر8164

علماء تفسیر نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اسی ہوا کو ناموافق کر دے۔ تیز و تند آندھی چلا دے جو کشتی کو سیدھی راہ چلنے ہی نہ دے ادھر سے ادھر کر دے سنبھالے نہ سنبھل سکے جہاں جانا ہے اس طرف جا ہی نہ سکے اور یونہی سرگشتہ و حیران ہو ہو کر اہل کشتی تباہ ہو جائیں۔ الغرض اگر ہوا بند کر دے تو کھڑے کھڑے ناکام رہیں اگر تیز کر دے تو ناکامی۔

لیکن یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ خوشگوار موافق ہوائیں چلاتا ہے اور لمبے لمبے سفر ان کشتیوں کے ذریعہ بنی آدم طے کرتا ہے اور اپنے مقصد کو پالیتا ہے یہی حال پانی کا ہے کہ اگر بالکل نہ برسائے خشک سالی رہے دنیا تباہ ہو جائے۔ اگر بہت ہی برسا دے تو تر سالی کوئی چیز پیدا نہ ہونے دے اور دنیا ہلاک ہو جائے۔ ساتھ ہی مینہ کی کثرت طغیانی کا مکانوں کے گرنے کا اور پوری بربادی کا سبب بن جائے یہاں تک کہ رب کی مہربانی سے جن شہروں میں اور جن زمینوں میں زیادہ بارش کی ضرورت ہے وہاں کثرت سے مینہ برستا ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہے وہاں کمی سے۔

صفحہ نمبر8165

پھر فرماتا ہے کہ ہماری نشانیوں سے جھگڑنے والے ایسے موقعوں پر تو مان لیتے ہیں کہ ہماری قدرت سے باہر نہیں۔ ہم اگر انتقام لینا چاہیں ہم اگر عذاب کرنا چاہیں تو وہ چھوٹ نہیں سکتے سب ہماری قدرت اور مشیت تلے ہیں «فَسُبْحَانَہُ مَا اَعْظَمَ شَاْنَہُ»

صفحہ نمبر8166

درگزر کرنا بدلہ لینے سے بہتر ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بے قدری اور اس کی حقارت بیان فرمائی کہ اسے جمع کر کے کسی کو اس پر اترانا نہیں چاہیئے کیونکہ یہ فانی چیز ہے۔ بلکہ آخرت کی طرف رغبت کرنی چاہیئے نیک اعمال کر کے ثواب جمع کرنا چاہیئے جو سرمدی اور باقی چیز ہے۔ پس فانی کو باقی پر، کمی کو زیادتی پر ترجیح دینا عقلمندی نہیں، اب اس ثواب کے حاصل کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں کہ ایمان مضبوط ہو تاکہ دنیاوی لذتوں کے ترک پر صبر ہو سکے اللہ پر کامل بھروسہ ہو تاکہ صبر پر اس کی امداد ملے اور احکام الٰہی کی بجا آوری اور نافرمانیوں سے اجتناب آسان ہو جائے کبیرہ گناہوں اور فحش کاموں سے پرہیز چاہیئے۔

صفحہ نمبر8170

اس جملہ کی تفسیر سورۃ الاعراف میں گذر چکی ہے۔ غصے پر قابو چاہیئے کہ عین غصے اور غضب کی حالت میں بھی خوش خلقی اور درگذر کی عادت نہ چھوٹے چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے نفس کا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں اگر اللہ کے احکام کی بےعزتی اور بے توقیری ہوتی ہو تو اور بات ہے۔ [صحیح بخاری:3560] ‏

اور حدیث میں ہے کہ بہت ہی زیادہ غصے کی حالت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس کے سوا اور کچھ الفاظ نہ نکلتے کہ فرماتے اسے کیا ہو گیا ہے اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ [صحیح بخاری:6031] ‏

حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں مسلمان پست و ذلیل ہوتا تو پسند نہیں کرتے تھے لیکن غالب آ کر انتقام بھی نہیں لیتے تھے بلکہ درگذر کر جاتے اور معاف فرما دیتے۔ ان کی اور صفت یہ ہے کہ یہ اللہ کا کہا کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں جس کا وہ حکم کرے بجا لاتے ہیں جس سے وہ روکے رک جاتے ہیں نماز کے پابند ہوتے ہیں جو سب سے اعلیٰ عبادت ہے۔

صفحہ نمبر8171

بڑے بڑے امور میں بغیر آپس کی مشاورت کے ہاتھ نہیں ڈالتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوتا ہے «وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْر» [ 3- آل عمران: 159 ] ‏ یعنی ان سے مشورہ کر لیا کرو اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جہاد وغیرہ کے موقعہ پر لوگوں سے مشورہ کر لیا کرتے تاکہ ان کے جی خوش ہو جائیں۔ اور اسی بنا پر امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے جب کہ آپ رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا اور وفات کا وقت آ گیا چھ آدمی مقرر کر دئیے کہ یہ اپنے مشورے سے میرے بعد کسی کو میرا جانشین مقرر کریں ان چھ بزرگوں کے نام یہ ہیں۔ عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف رضٰی اللہ تعالیٰ عنہم۔

صفحہ نمبر8172

پس سب نے باتفاق رائے سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنا امیر مقرر کیا پھر ان کا جن کے لیے آخرت کی تیاری اور وہاں کے ثواب ہیں ایک اور وصف بیان فرمایا کہ جہاں یہ حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں بھی کمی نہیں کرتے اپنے مال میں محتاجوں کا حصہ بھی رکھتے ہیں اور درجہ بدرجہ اپنی طاقت کے مطابق ہر ایک کے ساتھ سلوک و احسان کرتے رہتے ہیں اور یہ ایسے ذلیل پست اور بیزور نہیں ہوتے کہ ظالم کے ظلم کی روک تھام نہ کر سکیں بلکہ اتنی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں کہ ظالموں سے انتقام لیں اور مظلوم کو اس کے پنجے سے نجات دلوائیں لیکن ہاں! اپنی شرافت کی وجہ سے غالب آ کر پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے کہ نبی اللہ یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں پر قابو پا کر فرما دیا کہ جاؤ تمہیں میں کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرتا بلکہ میری خواہش ہے اور دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرما دے۔ [12-يوسف:92] ‏۔

اور جیسے کہ سردار انبیاء رسول اللہ احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں کیا جبکہ اسی وقت کفار غفلت کا موقع ڈھونڈ کر چپ چاپ لشکر اسلام میں گھس آئے جب یہ پکڑ لیے گئے اور گرفتار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دئیے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو معافی دے دی اور چھوڑ دیا۔

صفحہ نمبر8173

اور اسی طرح آپ نے غورث بن حارث کو معاف فرما دیا یہ وہ شخص ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوتے ہوئے اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پر قبضہ کر لیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے اور اسے ڈانٹا تو تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار لے لی اور وہ مجرم گردن جھکائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بلا کر یہ منظر دکھایا اور یہ قصہ بھی سنایا پھر اسے معاف فرما دیا اور جانے دیا۔ [صحیح بخاری:4135] ‏

اسی طرح لبید بن اعصم نے جب آپ پر جادو کیا تو علم و قدرت کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے درگذر فرما لے۔ [صحیح بخاری:5763] ‏

اور اسی طرح جس یہودیہ عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی بدلہ نہ لیا اور قابو پانے اور معلوم ہو جانے کے باوجود بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنے بڑے واقعہ کو جانا آنا کر دیا اس عورت کا نام زینب تھا یہ مرحب یہودی کی بہن تھی۔ جو جنگ خیبر میں محمود بن سلمہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس نے بکری کے شانے کے گوشت میں زہر ملا کر خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تھا خود شانے نے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے زہر آلود ہونے کی خبر دی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر دریافت فرمایا تو اس نے اقرار کیا تھا اور وجہ یہ بیان کی تھی کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور اگر آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے راحت حاصل ہو جائے گی یہ معلوم ہو جانے پر اور اس کے اقبال کر لینے پر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ [صحیح بخاری:3169] ‏

معاف فرما دیا گو بعد میں وہ قتل کر دی گئی اس لیے کہ اسی زہر سے اور زہریلے کھانے سے بشر بن برا رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تب قصاصاً یہ یہودیہ عورت بھی قتل کرائی گئی۔ اور بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عفو درگزر کے ایسے بہت سے واقعات ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔

صفحہ نمبر8174

درگزر کرنا بدلہ لینے سے بہتر ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بے قدری اور اس کی حقارت بیان فرمائی کہ اسے جمع کر کے کسی کو اس پر اترانا نہیں چاہیئے کیونکہ یہ فانی چیز ہے۔ بلکہ آخرت کی طرف رغبت کرنی چاہیئے نیک اعمال کر کے ثواب جمع کرنا چاہیئے جو سرمدی اور باقی چیز ہے۔ پس فانی کو باقی پر، کمی کو زیادتی پر ترجیح دینا عقلمندی نہیں، اب اس ثواب کے حاصل کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں کہ ایمان مضبوط ہو تاکہ دنیاوی لذتوں کے ترک پر صبر ہو سکے اللہ پر کامل بھروسہ ہو تاکہ صبر پر اس کی امداد ملے اور احکام الٰہی کی بجا آوری اور نافرمانیوں سے اجتناب آسان ہو جائے کبیرہ گناہوں اور فحش کاموں سے پرہیز چاہیئے۔

صفحہ نمبر8170

اس جملہ کی تفسیر سورۃ الاعراف میں گذر چکی ہے۔ غصے پر قابو چاہیئے کہ عین غصے اور غضب کی حالت میں بھی خوش خلقی اور درگذر کی عادت نہ چھوٹے چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے نفس کا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں اگر اللہ کے احکام کی بےعزتی اور بے توقیری ہوتی ہو تو اور بات ہے۔ [صحیح بخاری:3560] ‏

اور حدیث میں ہے کہ بہت ہی زیادہ غصے کی حالت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس کے سوا اور کچھ الفاظ نہ نکلتے کہ فرماتے اسے کیا ہو گیا ہے اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ [صحیح بخاری:6031] ‏

حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں مسلمان پست و ذلیل ہوتا تو پسند نہیں کرتے تھے لیکن غالب آ کر انتقام بھی نہیں لیتے تھے بلکہ درگذر کر جاتے اور معاف فرما دیتے۔ ان کی اور صفت یہ ہے کہ یہ اللہ کا کہا کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں جس کا وہ حکم کرے بجا لاتے ہیں جس سے وہ روکے رک جاتے ہیں نماز کے پابند ہوتے ہیں جو سب سے اعلیٰ عبادت ہے۔

صفحہ نمبر8171

بڑے بڑے امور میں بغیر آپس کی مشاورت کے ہاتھ نہیں ڈالتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوتا ہے «وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْر» [ 3- آل عمران: 159 ] ‏ یعنی ان سے مشورہ کر لیا کرو اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جہاد وغیرہ کے موقعہ پر لوگوں سے مشورہ کر لیا کرتے تاکہ ان کے جی خوش ہو جائیں۔ اور اسی بنا پر امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے جب کہ آپ رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا اور وفات کا وقت آ گیا چھ آدمی مقرر کر دئیے کہ یہ اپنے مشورے سے میرے بعد کسی کو میرا جانشین مقرر کریں ان چھ بزرگوں کے نام یہ ہیں۔ عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف رضٰی اللہ تعالیٰ عنہم۔

صفحہ نمبر8172

پس سب نے باتفاق رائے سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنا امیر مقرر کیا پھر ان کا جن کے لیے آخرت کی تیاری اور وہاں کے ثواب ہیں ایک اور وصف بیان فرمایا کہ جہاں یہ حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں بھی کمی نہیں کرتے اپنے مال میں محتاجوں کا حصہ بھی رکھتے ہیں اور درجہ بدرجہ اپنی طاقت کے مطابق ہر ایک کے ساتھ سلوک و احسان کرتے رہتے ہیں اور یہ ایسے ذلیل پست اور بیزور نہیں ہوتے کہ ظالم کے ظلم کی روک تھام نہ کر سکیں بلکہ اتنی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں کہ ظالموں سے انتقام لیں اور مظلوم کو اس کے پنجے سے نجات دلوائیں لیکن ہاں! اپنی شرافت کی وجہ سے غالب آ کر پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے کہ نبی اللہ یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں پر قابو پا کر فرما دیا کہ جاؤ تمہیں میں کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرتا بلکہ میری خواہش ہے اور دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرما دے۔ [12-يوسف:92] ‏۔

اور جیسے کہ سردار انبیاء رسول اللہ احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں کیا جبکہ اسی وقت کفار غفلت کا موقع ڈھونڈ کر چپ چاپ لشکر اسلام میں گھس آئے جب یہ پکڑ لیے گئے اور گرفتار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دئیے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو معافی دے دی اور چھوڑ دیا۔

صفحہ نمبر8173

اور اسی طرح آپ نے غورث بن حارث کو معاف فرما دیا یہ وہ شخص ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوتے ہوئے اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پر قبضہ کر لیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے اور اسے ڈانٹا تو تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار لے لی اور وہ مجرم گردن جھکائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بلا کر یہ منظر دکھایا اور یہ قصہ بھی سنایا پھر اسے معاف فرما دیا اور جانے دیا۔ [صحیح بخاری:4135] ‏

اسی طرح لبید بن اعصم نے جب آپ پر جادو کیا تو علم و قدرت کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے درگذر فرما لے۔ [صحیح بخاری:5763] ‏

اور اسی طرح جس یہودیہ عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی بدلہ نہ لیا اور قابو پانے اور معلوم ہو جانے کے باوجود بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنے بڑے واقعہ کو جانا آنا کر دیا اس عورت کا نام زینب تھا یہ مرحب یہودی کی بہن تھی۔ جو جنگ خیبر میں محمود بن سلمہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس نے بکری کے شانے کے گوشت میں زہر ملا کر خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تھا خود شانے نے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے زہر آلود ہونے کی خبر دی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر دریافت فرمایا تو اس نے اقرار کیا تھا اور وجہ یہ بیان کی تھی کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور اگر آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے راحت حاصل ہو جائے گی یہ معلوم ہو جانے پر اور اس کے اقبال کر لینے پر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ [صحیح بخاری:3169] ‏

معاف فرما دیا گو بعد میں وہ قتل کر دی گئی اس لیے کہ اسی زہر سے اور زہریلے کھانے سے بشر بن برا رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تب قصاصاً یہ یہودیہ عورت بھی قتل کرائی گئی۔ اور بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عفو درگزر کے ایسے بہت سے واقعات ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔

صفحہ نمبر8174

باب

بڑے بڑے امور میں بغیر آپس کی مشاورت کے ہاتھ نہیں ڈالتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم اللہ ہوتا ہے آیت «وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْر» [ 3- آل عمران: 159 ] ‏ یعنی ان سے مشورہ کر لیا کرو اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جہاد وغیرہ کے موقعہ پر لوگوں سے مشورہ کر لیا کرتے تاکہ ان کے جی خوش ہو جائیں۔ اور اسی بنا پر امیر المؤمنین عمر نے جب کہ آپ کو زخمی کر دیا گیا اور وفات کا وقت آ گیا چھ آدمی مقرر کر دئیے کہ یہ اپنے مشورے سے میرے بعد کسی کو میرا جانشین مقرر کریں ان چھ بزرگوں کے نام یہ ہیں۔ عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف رضٰی اللہ تعالیٰ عنہم۔ پس سب نے باتفاق رائے عثمان کو اپنا امیر مقرر کیا پھر ان کا جن کے لیے آخرت کی تیاری اور وہاں کے ثواب ہیں ایک اور وصف بیان فرمایا کہ جہاں یہ حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں بھی کمی نہیں کرتے اپنے مال میں محتاجوں کا حصہ بھی رکھتے ہیں اور درجہ بدرجہ اپنی طاقت کے مطابق ہر ایک کے ساتھ سلوک و احسان کرتے رہتے ہیں اور یہ ایسے ذلیل پست اور بیزور نہیں ہوتے کہ ظالم کے ظلم کی روک تھام نہ کر سکیں بلکہ اتنی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں کہ ظالموں سے انتقام لیں اور مظلوم کو اس کے پنجے سے نجات دلوائیں لیکن ہاں! اپنی شرافت کی وجہ سے غالب آ کر پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے کہ نبی اللہ یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں پر قابو پا کر فرما دیا کہ جاؤ تمہیں میں کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرتا بلکہ میری خواہش ہے اور دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرما دے۔ اور جیسے کہ سردار انبیاء رسول اللہ احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں کیا جبکہ اسی وقت کفار غفلت کا موقع ڈھونڈ کر چپ چاپ لشکر اسلام میں گھس آئے جب یہ پکڑ لیے گئے اور گرفتار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دئیے گئے تو آپ نے ان سب کو معافی دے دی اور چھوڑ دیا۔ اور اسی طرح آپ نے غورث بن حارث کو معاف فرما دیا یہ وہ شخص ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوتے ہوئے اس نے آپ کی تلوار پر قبضہ کر لیا جب آپ جاگے اور اسے ڈانٹا تو تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور آپ نے تلوار لے لی اور وہ مجرم گردن جھکائے آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا آپ نے صحابہ کو بلا کر یہ منظر دکھایا اور یہ قصہ بھی سنایا پھر اسے معاف فرما دیا اور جانے دیا۔ اسی طرح لبید بن اعصم نے جب آپ پر جادو کیا تو علم و قدرت کے باوجود آپ نے اس سے درگذر فرما لے اور اسی طرح جس یہودیہ عورت نے آپ کو زہر دیا تھا آپ نے اس سے بھی بدلہ نہ لیا اور قابو پانے اور معلوم ہو جانے کے باوجود بھی آپ نے اتنے بڑے واقعہ کو جانا آنا کر دیا اس عورت کا نام زینب تھا یہ مرحب یہودی کی بہن تھی۔ جو جنگ خیبر میں محمود بن سلمہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس نے بکری کے شانے کے گوشت میں زہر ملا کر خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تھا خود شانے نے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے زہر آلود ہونے کی خبر دی تھی جب آپ نے اسے بلا کر دریافت فرمایا تو اس نے اقرار کیا تھا اور وجہ یہ بیان کی تھی کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور اگر آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ سے راحت حاصل ہو جائے گی یہ معلوم ہو جانے پر اور اس کے اقبال کر لینے پر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ معاف فرما دیا گو بعد میں وہ قتل کر دی گئی اس لیے اسی زہر سے اور زہریلے کھانے سے بشر بن برا فوت ہو گئے تب قصاصاً یہ یہودیہ عورت بھی قتل کرائی گئی اور بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عفو درگزر کے ایسے بہت سے واقعات ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔

صفحہ نمبر8176

باب

بڑے بڑے امور میں بغیر آپس کی مشاورت کے ہاتھ نہیں ڈالتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم اللہ ہوتا ہے آیت «وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْر» [ 3- آل عمران: 159 ] ‏ یعنی ان سے مشورہ کر لیا کرو اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جہاد وغیرہ کے موقعہ پر لوگوں سے مشورہ کر لیا کرتے تاکہ ان کے جی خوش ہو جائیں۔ اور اسی بنا پر امیر المؤمنین عمر نے جب کہ آپ کو زخمی کر دیا گیا اور وفات کا وقت آ گیا چھ آدمی مقرر کر دئیے کہ یہ اپنے مشورے سے میرے بعد کسی کو میرا جانشین مقرر کریں ان چھ بزرگوں کے نام یہ ہیں۔ عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف رضٰی اللہ تعالیٰ عنہم۔ پس سب نے باتفاق رائے عثمان کو اپنا امیر مقرر کیا پھر ان کا جن کے لیے آخرت کی تیاری اور وہاں کے ثواب ہیں ایک اور وصف بیان فرمایا کہ جہاں یہ حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں بھی کمی نہیں کرتے اپنے مال میں محتاجوں کا حصہ بھی رکھتے ہیں اور درجہ بدرجہ اپنی طاقت کے مطابق ہر ایک کے ساتھ سلوک و احسان کرتے رہتے ہیں اور یہ ایسے ذلیل پست اور بیزور نہیں ہوتے کہ ظالم کے ظلم کی روک تھام نہ کر سکیں بلکہ اتنی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں کہ ظالموں سے انتقام لیں اور مظلوم کو اس کے پنجے سے نجات دلوائیں لیکن ہاں! اپنی شرافت کی وجہ سے غالب آ کر پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے کہ نبی اللہ یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں پر قابو پا کر فرما دیا کہ جاؤ تمہیں میں کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرتا بلکہ میری خواہش ہے اور دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرما دے۔ اور جیسے کہ سردار انبیاء رسول اللہ احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں کیا جبکہ اسی وقت کفار غفلت کا موقع ڈھونڈ کر چپ چاپ لشکر اسلام میں گھس آئے جب یہ پکڑ لیے گئے اور گرفتار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دئیے گئے تو آپ نے ان سب کو معافی دے دی اور چھوڑ دیا۔ اور اسی طرح آپ نے غورث بن حارث کو معاف فرما دیا یہ وہ شخص ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوتے ہوئے اس نے آپ کی تلوار پر قبضہ کر لیا جب آپ جاگے اور اسے ڈانٹا تو تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور آپ نے تلوار لے لی اور وہ مجرم گردن جھکائے آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا آپ نے صحابہ کو بلا کر یہ منظر دکھایا اور یہ قصہ بھی سنایا پھر اسے معاف فرما دیا اور جانے دیا۔ اسی طرح لبید بن اعصم نے جب آپ پر جادو کیا تو علم و قدرت کے باوجود آپ نے اس سے درگذر فرما لے اور اسی طرح جس یہودیہ عورت نے آپ کو زہر دیا تھا آپ نے اس سے بھی بدلہ نہ لیا اور قابو پانے اور معلوم ہو جانے کے باوجود بھی آپ نے اتنے بڑے واقعہ کو جانا آنا کر دیا اس عورت کا نام زینب تھا یہ مرحب یہودی کی بہن تھی۔ جو جنگ خیبر میں محمود بن سلمہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس نے بکری کے شانے کے گوشت میں زہر ملا کر خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تھا خود شانے نے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے زہر آلود ہونے کی خبر دی تھی جب آپ نے اسے بلا کر دریافت فرمایا تو اس نے اقرار کیا تھا اور وجہ یہ بیان کی تھی کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور اگر آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ سے راحت حاصل ہو جائے گی یہ معلوم ہو جانے پر اور اس کے اقبال کر لینے پر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ معاف فرما دیا گو بعد میں وہ قتل کر دی گئی اس لیے اسی زہر سے اور زہریلے کھانے سے بشر بن برا فوت ہو گئے تب قصاصاً یہ یہودیہ عورت بھی قتل کرائی گئی اور بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عفو درگزر کے ایسے بہت سے واقعات ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔

صفحہ نمبر8176

برائی کا بدلہ لینا جائز ہے ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ برائی کا بدلہ لینا جائز ہے۔ جیسے فرمایا «فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ» ‏ [ 2- البقرة: 194 ] ‏ اور آیت میں ہے «وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ۭوَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ» ‏ [ 16- النحل: 126 ] ‏ یعنی خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے پھر اسے معاف کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہو جائے گا۔ یہاں بھی فرمایا جو شخص معاف کر دے اور صلح و صفائی کر لے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ حدیث میں ہے درگذر کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت اور بڑھا دیتا ہے۔ [صحیح مسلم:2588] ‏

لیکن جو بدلے میں اصل جرم سے بڑھ جائے وہ اللہ کا دشمن ہے۔ پھر برائی کی ابتداء اسی کی طرف سے سمجھی جائے گی پھر فرماتا ہے جس پر ظلم ہو اسے بدلہ لینے میں کوئی گناہ نہیں۔ حضرت ابن عون رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں اس لفظ «انتَصَرَ» کی تفسیر کی طلب میں تھا تو مجھ سے علی بن زید بن جدعان رحمہ اللہ نے بروایت اپنی والدہ ام محمد کے جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جایا کرتی تھیں بیان کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گئے اس وقت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا وہاں موجود تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہ تھا صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بڑھایا تو سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اشارے سے بتایا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے صدیقہ رضی اللہ عنہا کو برا بھلا کہنا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت پر بھی خاموش نہ ہوئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اجازت دی کہ جواب دیں۔ اب جو جواب ہوا تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا عاجز آ گئیں اور سیدھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں اور کہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تمہیں یوں یوں کہتی ہیں اور ایسا ایسا کرتی ہیں۔ یہ سن کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا قسم رب کعبہ کی! عائشہ رضی اللہ عنہا سے میں محبت رکھتا ہوں یہ تو اسی وقت واپس چلی گئیں۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سارا واقعہ کہہ سنایا پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے اور آپ سے باتیں کیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30729:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8178

یہ روایت ابن جریر میں اسی طرح ہے لیکن اس کے راوی اپنی روایتوں میں عموماً منکر حدیثیں لایا کرتے ہیں اور یہ روایت بھی منکر ہے نسائی اور ابن ماجہ میں اس طرح ہے کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا غصہ میں بھری ہوئی بلا اطلاع سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلی آئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صدیقہ رضی اللہ عنہا کی نسبت کچھ کہا پھر عائشہ سے لڑنے لگیں لیکن مائی صاحبہ نے خاموشی اختیار کی جب وہ بہت کہہ چکیں تو آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تو اپنا بدلہ لے لے پھر جو صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جواب دینے شروع کئے تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا تھوک خشک ہو گیا۔ کوئی جواب نہ دے سکیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے وہ صدمہ مٹ گیا۔ [سنن ابن ماجہ:1981،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

حاصل یہ ہے کہ مظلوم ظالم کو جواب دے اور اپنا بدلہ لے لے۔ بزار میں ہے ظالم کے لیے جس نے بد دعا کی اس نے بدلہ لے لیا۔ [سنن ترمذي:3552،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

یہی حدیث ترمذی میں ہے لیکن اس کے ایک راوی میں کچھ کلام ہے پھر فرماتا ہے حرج و گناہ ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کریں اور زمین میں بلا وجہ شرو فساد کریں۔

صفحہ نمبر8179

برائی کا بدلہ لینا جائز ہے ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ برائی کا بدلہ لینا جائز ہے۔ جیسے فرمایا «فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ» ‏ [ 2- البقرة: 194 ] ‏ اور آیت میں ہے «وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ۭوَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ» ‏ [ 16- النحل: 126 ] ‏ یعنی خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے پھر اسے معاف کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہو جائے گا۔ یہاں بھی فرمایا جو شخص معاف کر دے اور صلح و صفائی کر لے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ حدیث میں ہے درگذر کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت اور بڑھا دیتا ہے۔ [صحیح مسلم:2588] ‏

لیکن جو بدلے میں اصل جرم سے بڑھ جائے وہ اللہ کا دشمن ہے۔ پھر برائی کی ابتداء اسی کی طرف سے سمجھی جائے گی پھر فرماتا ہے جس پر ظلم ہو اسے بدلہ لینے میں کوئی گناہ نہیں۔ حضرت ابن عون رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں اس لفظ «انتَصَرَ» کی تفسیر کی طلب میں تھا تو مجھ سے علی بن زید بن جدعان رحمہ اللہ نے بروایت اپنی والدہ ام محمد کے جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جایا کرتی تھیں بیان کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گئے اس وقت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا وہاں موجود تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہ تھا صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بڑھایا تو سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اشارے سے بتایا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے صدیقہ رضی اللہ عنہا کو برا بھلا کہنا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت پر بھی خاموش نہ ہوئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اجازت دی کہ جواب دیں۔ اب جو جواب ہوا تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا عاجز آ گئیں اور سیدھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں اور کہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تمہیں یوں یوں کہتی ہیں اور ایسا ایسا کرتی ہیں۔ یہ سن کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا قسم رب کعبہ کی! عائشہ رضی اللہ عنہا سے میں محبت رکھتا ہوں یہ تو اسی وقت واپس چلی گئیں۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سارا واقعہ کہہ سنایا پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے اور آپ سے باتیں کیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30729:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8178

یہ روایت ابن جریر میں اسی طرح ہے لیکن اس کے راوی اپنی روایتوں میں عموماً منکر حدیثیں لایا کرتے ہیں اور یہ روایت بھی منکر ہے نسائی اور ابن ماجہ میں اس طرح ہے کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا غصہ میں بھری ہوئی بلا اطلاع سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلی آئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صدیقہ رضی اللہ عنہا کی نسبت کچھ کہا پھر عائشہ سے لڑنے لگیں لیکن مائی صاحبہ نے خاموشی اختیار کی جب وہ بہت کہہ چکیں تو آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تو اپنا بدلہ لے لے پھر جو صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جواب دینے شروع کئے تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا تھوک خشک ہو گیا۔ کوئی جواب نہ دے سکیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے وہ صدمہ مٹ گیا۔ [سنن ابن ماجہ:1981،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

حاصل یہ ہے کہ مظلوم ظالم کو جواب دے اور اپنا بدلہ لے لے۔ بزار میں ہے ظالم کے لیے جس نے بد دعا کی اس نے بدلہ لے لیا۔ [سنن ترمذي:3552،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

یہی حدیث ترمذی میں ہے لیکن اس کے ایک راوی میں کچھ کلام ہے پھر فرماتا ہے حرج و گناہ ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کریں اور زمین میں بلا وجہ شرو فساد کریں۔

صفحہ نمبر8179

فسادیوں کے لئے دردناک عذاب ٭٭

چنانچہ صحیح حدیث میں ہے دو برا کہنے والے جو کچھ کہیں سب کا بوجھ شروع کرنے والے پر ہے جب کہ مظلوم بدلے کی حد سے آگے نہ نکل جائے۔ [صحیح مسلم:2587] ‏

ایسے فسادی قیامت کے دن درد ناک عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے محمد بن واسع رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں مکہ جانے لگا تو دیکھا کہ خندق پر پل بنا ہوا ہے میں ابھی وہیں تھا جو گرفتار کر لیا گیا اور امیر بصرہ مروان بن مہلب کے پاس پہنچا دیا گیا اس نے مجھ سے کہا ابوعبداللہ تم کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا یہی کہ اگر تم سے ہو سکے تو بنو عدی کے بھائی جیسے بن جاؤ پوچھا وہ کون ہے؟ کہا علا بن زیاد کہ اپنے ایک دوست کو ایک مرتبہ کسی صیغہ پر عامل بنایا تو انہوں نے اسے لکھا کہ حمد و صلوۃ کے بعد اگر تجھ سے ہو سکے تو یہ کرنا کہ تیری کمر بوجھ سے خالی رہے تیرا پیٹ حرام سے بچ جائے تیرے ہاتھ مسلمانوں کے خون و مال سے آلودہ نہ ہوں تو جب یہ کرے گا تو تجھ پر کوئی گناہ کی راہ باقی نہ رہے گی یہ راہ تو ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کریں اور بیوجہ ناحق زمین میں فساد پھیلائیں۔ مروان نے کہا اللہ جانتا ہے اس نے سچ کہا اور خیر خواہی کی بات کہی۔ اچھا اب کیا آرزو ہے؟ فرمایا یہی کہ تم مجھے میرے گھر پہنچا دو مروان نے کہا بہت اچھا۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏

صفحہ نمبر8181

پس ظلم و اہل ظلم کی مذمت بیان کر کے بدلے کی اجازت دے کر اب افضیلت کی طرف رغبت دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ جو ایذاء برداشت کر لے اور برائی سے درگذر کر لے اس نے بڑی بہادری سے کام کیا جس پر وہ بڑے ثواب اور پورے بدلے کا مستحق ہے۔ حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ جب تم سے آ کر کوئی شخص کسی اور کی شکایت کرے تو اسے تلقین کرو کہ بھائی معاف کر دو معافی میں ہی بہتری ہے اور یہی پرہیزگاری کا ثبوت ہے اگر وہ نہ مانے اور اپنے دل کی کمزوری کا اظہار کرے تو خیر کہدو کہ جاؤ بدلہ لے لو لیکن اس صورت میں کہ پھر کہیں تم بڑھ نہ جاؤ ورنہ ہم تو اب بھی یہی کہیں گے کہ معاف کر دو یہ دروازہ بہت وسعت والا ہے اور بدلے کی راہ بہت تنگ ہے سنو معاف کر دینے والا تو آرام سے میٹھی نیند سو جاتا ہے اور بدلے کی دھن والا دن رات متفکر رہتا ہے۔ اور توڑ جوڑ سوچتا ہے۔

صفحہ نمبر8182

مسند امام احمد میں ہے کہ ایک شخص نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنا شروع کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہیں تشریف فرما تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تعجب کے ساتھ مسکرانے لگے صدیق رضی اللہ عنہ خاموش تھے لیکن جب کہ اس نے بہت گالیاں دیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی بعض کا جواب دیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو کر وہاں سے چل دئیے۔سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے رہا نہ گیا آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ مجھے برا بھلا کہتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے سنتے رہے اور جب میں نے اس کی دو ایک باتوں کا جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراضگی سے اٹھ کے چلے آئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو! جب تک تم خاموش تھے فرشتہ تمہاری طرف سے جواب دیتا تھا جب تم آپ بولے تو فرشتہ ہٹ گیا اور شیطان بیچ میں آ گیا پھر بھلا میں شیطان کی موجودگی میں وہاں کیسے بیٹھا رہتا؟ پھر فرمایا سنو ابوبکر رضی اللہ عنہ تین چیزیں بالکل حق ہیں [ ١ ] ‏ جس پر کوئی ظلم کیا جائے اور وہ اس سے چشم پوشی کر لے تو ضرور اللہ اسے عزت دے گا اور اس کی مدد کرے گا [ ٢ ] ‏ جو شخص سلوک اور احسان کا دروازہ کھولے گا اور صلہ رحمی کے ارادے سے لوگوں کو دیتا رہے گا اللہ اسے برکت دے گا اور زیادتی عطا فرمائے گا [ ٣ ] ‏ اور جو شخص مال بڑھانے کے لیے سوال کا دروازہ کھول لے گا اور دوسروں سے مانگتا پھرے گا اللہ اس کے ہاں بے برکتی کر دے گا اور کمی میں ہی وہ مبتلا رہے گا یہ روایت ابوداؤد میں بھی ہے اور مضمون کے اعتبار سے یہ بڑی پیاری حدیث ہے۔ [سنن ابوداود:4896،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر8183

فسادیوں کے لئے دردناک عذاب ٭٭

چنانچہ صحیح حدیث میں ہے دو برا کہنے والے جو کچھ کہیں سب کا بوجھ شروع کرنے والے پر ہے جب کہ مظلوم بدلے کی حد سے آگے نہ نکل جائے۔ [صحیح مسلم:2587] ‏

ایسے فسادی قیامت کے دن درد ناک عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے محمد بن واسع رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں مکہ جانے لگا تو دیکھا کہ خندق پر پل بنا ہوا ہے میں ابھی وہیں تھا جو گرفتار کر لیا گیا اور امیر بصرہ مروان بن مہلب کے پاس پہنچا دیا گیا اس نے مجھ سے کہا ابوعبداللہ تم کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا یہی کہ اگر تم سے ہو سکے تو بنو عدی کے بھائی جیسے بن جاؤ پوچھا وہ کون ہے؟ کہا علا بن زیاد کہ اپنے ایک دوست کو ایک مرتبہ کسی صیغہ پر عامل بنایا تو انہوں نے اسے لکھا کہ حمد و صلوۃ کے بعد اگر تجھ سے ہو سکے تو یہ کرنا کہ تیری کمر بوجھ سے خالی رہے تیرا پیٹ حرام سے بچ جائے تیرے ہاتھ مسلمانوں کے خون و مال سے آلودہ نہ ہوں تو جب یہ کرے گا تو تجھ پر کوئی گناہ کی راہ باقی نہ رہے گی یہ راہ تو ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کریں اور بیوجہ ناحق زمین میں فساد پھیلائیں۔ مروان نے کہا اللہ جانتا ہے اس نے سچ کہا اور خیر خواہی کی بات کہی۔ اچھا اب کیا آرزو ہے؟ فرمایا یہی کہ تم مجھے میرے گھر پہنچا دو مروان نے کہا بہت اچھا۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏

صفحہ نمبر8181

پس ظلم و اہل ظلم کی مذمت بیان کر کے بدلے کی اجازت دے کر اب افضیلت کی طرف رغبت دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ جو ایذاء برداشت کر لے اور برائی سے درگذر کر لے اس نے بڑی بہادری سے کام کیا جس پر وہ بڑے ثواب اور پورے بدلے کا مستحق ہے۔ حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ جب تم سے آ کر کوئی شخص کسی اور کی شکایت کرے تو اسے تلقین کرو کہ بھائی معاف کر دو معافی میں ہی بہتری ہے اور یہی پرہیزگاری کا ثبوت ہے اگر وہ نہ مانے اور اپنے دل کی کمزوری کا اظہار کرے تو خیر کہدو کہ جاؤ بدلہ لے لو لیکن اس صورت میں کہ پھر کہیں تم بڑھ نہ جاؤ ورنہ ہم تو اب بھی یہی کہیں گے کہ معاف کر دو یہ دروازہ بہت وسعت والا ہے اور بدلے کی راہ بہت تنگ ہے سنو معاف کر دینے والا تو آرام سے میٹھی نیند سو جاتا ہے اور بدلے کی دھن والا دن رات متفکر رہتا ہے۔ اور توڑ جوڑ سوچتا ہے۔

صفحہ نمبر8182

مسند امام احمد میں ہے کہ ایک شخص نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنا شروع کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہیں تشریف فرما تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تعجب کے ساتھ مسکرانے لگے صدیق رضی اللہ عنہ خاموش تھے لیکن جب کہ اس نے بہت گالیاں دیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی بعض کا جواب دیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو کر وہاں سے چل دئیے۔سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے رہا نہ گیا آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ مجھے برا بھلا کہتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے سنتے رہے اور جب میں نے اس کی دو ایک باتوں کا جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراضگی سے اٹھ کے چلے آئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو! جب تک تم خاموش تھے فرشتہ تمہاری طرف سے جواب دیتا تھا جب تم آپ بولے تو فرشتہ ہٹ گیا اور شیطان بیچ میں آ گیا پھر بھلا میں شیطان کی موجودگی میں وہاں کیسے بیٹھا رہتا؟ پھر فرمایا سنو ابوبکر رضی اللہ عنہ تین چیزیں بالکل حق ہیں [ ١ ] ‏ جس پر کوئی ظلم کیا جائے اور وہ اس سے چشم پوشی کر لے تو ضرور اللہ اسے عزت دے گا اور اس کی مدد کرے گا [ ٢ ] ‏ جو شخص سلوک اور احسان کا دروازہ کھولے گا اور صلہ رحمی کے ارادے سے لوگوں کو دیتا رہے گا اللہ اسے برکت دے گا اور زیادتی عطا فرمائے گا [ ٣ ] ‏ اور جو شخص مال بڑھانے کے لیے سوال کا دروازہ کھول لے گا اور دوسروں سے مانگتا پھرے گا اللہ اس کے ہاں بے برکتی کر دے گا اور کمی میں ہی وہ مبتلا رہے گا یہ روایت ابوداؤد میں بھی ہے اور مضمون کے اعتبار سے یہ بڑی پیاری حدیث ہے۔ [سنن ابوداود:4896،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر8183

اللہ تعالٰی کو کوئی پوچھنے والا نہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا اور نہ اسے کوئی کر سکتا ہے وہ جسے راہ راست دکھا دے اسے بہکا نہیں سکتا اور جس سے وہ راہ حق گم کر دے اسے کوئی اس راہ کو دکھا نہیں سکتا اور جگہ فرمان ہے «وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرْشِدًا» [ 18- الكهف: 17 ] ‏ جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی چارہ ساز اور رہبر نہیں۔ پھر فرماتا ہے یہ مشرکین قیامت کے عذاب کو دیکھ کر دوبارہ دنیا میں آنے کی تمنا کریں گے جیسے اور جگہ ہے «‏وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ ۖ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» ‏ [ 6- الانعام: 28، 27 ] ‏ کاش کہ تو انہیں دیکھتا جب کہ یہ دوزخ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے ہائے کیا اچھی بات ہو کہ ہم دوبارہ واپس بھیج دئیے جائیں تو ہم ہرگز اپنے رب کی آیتوں کو جھوٹ نہ بتائیں بلکہ ایمان لے آئیں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ لوگ جس چیز کو اس سے پہلے پوشیدہ کئے ہوئے تھے وہ ان کے سامنے آ گئی۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ دوبارہ بھیج بھی دیئے جائیں تب بھی وہی کریں گے جس سے منع کئے جاتے ہیں یقیناً یہ جھوٹے ہیں۔

صفحہ نمبر8185

پھر فرمایا یہ جہنم کے پاس لائے جائیں گے اور اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر ذلت برس رہی ہو گی عاجزی سے جھکے ہوئے ہوں گے اور نظریں بچاکر جہنم کو تک رہے ہوں گے۔ خوف زدہ اور حواس باختہ ہو رہے ہوں گے لیکن جس سے ڈر رہے ہیں اس سے بچ نہ سکیں گے نہ صرف اتنا ہی بلکہ ان کے وہم و گمان سے بھی زیادہ عذاب انہیں ہو گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے اس وقت ایماندار لوگ کہیں گے کہ حقیقی نقصان یافتہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ اپنے والوں کو بھی جہنم واصل کیا یہاں تک کہ آج کی ابدی نعمتوں سے محروم رہے اور انہیں بھی محروم رکھا آج وہ سب الگ الگ عذاب میں مبتلا ہیں دائمی ابدی اور سرمدی سزائیں بھگت رہے ہیں اور یہ ناامید ہو جائیں آج کوئی ایسا نہیں جو ان عذابوں سے چھڑا سکے یا تخفیف کرا سکے ان گمراہوں کو خلاصی دینے والا کوئی نہیں۔

صفحہ نمبر8186

اللہ تعالٰی کو کوئی پوچھنے والا نہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا اور نہ اسے کوئی کر سکتا ہے وہ جسے راہ راست دکھا دے اسے بہکا نہیں سکتا اور جس سے وہ راہ حق گم کر دے اسے کوئی اس راہ کو دکھا نہیں سکتا اور جگہ فرمان ہے «وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرْشِدًا» [ 18- الكهف: 17 ] ‏ جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی چارہ ساز اور رہبر نہیں۔ پھر فرماتا ہے یہ مشرکین قیامت کے عذاب کو دیکھ کر دوبارہ دنیا میں آنے کی تمنا کریں گے جیسے اور جگہ ہے «‏وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ ۖ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» ‏ [ 6- الانعام: 28، 27 ] ‏ کاش کہ تو انہیں دیکھتا جب کہ یہ دوزخ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے ہائے کیا اچھی بات ہو کہ ہم دوبارہ واپس بھیج دئیے جائیں تو ہم ہرگز اپنے رب کی آیتوں کو جھوٹ نہ بتائیں بلکہ ایمان لے آئیں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ لوگ جس چیز کو اس سے پہلے پوشیدہ کئے ہوئے تھے وہ ان کے سامنے آ گئی۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ دوبارہ بھیج بھی دیئے جائیں تب بھی وہی کریں گے جس سے منع کئے جاتے ہیں یقیناً یہ جھوٹے ہیں۔

صفحہ نمبر8185

پھر فرمایا یہ جہنم کے پاس لائے جائیں گے اور اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر ذلت برس رہی ہو گی عاجزی سے جھکے ہوئے ہوں گے اور نظریں بچاکر جہنم کو تک رہے ہوں گے۔ خوف زدہ اور حواس باختہ ہو رہے ہوں گے لیکن جس سے ڈر رہے ہیں اس سے بچ نہ سکیں گے نہ صرف اتنا ہی بلکہ ان کے وہم و گمان سے بھی زیادہ عذاب انہیں ہو گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے اس وقت ایماندار لوگ کہیں گے کہ حقیقی نقصان یافتہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ اپنے والوں کو بھی جہنم واصل کیا یہاں تک کہ آج کی ابدی نعمتوں سے محروم رہے اور انہیں بھی محروم رکھا آج وہ سب الگ الگ عذاب میں مبتلا ہیں دائمی ابدی اور سرمدی سزائیں بھگت رہے ہیں اور یہ ناامید ہو جائیں آج کوئی ایسا نہیں جو ان عذابوں سے چھڑا سکے یا تخفیف کرا سکے ان گمراہوں کو خلاصی دینے والا کوئی نہیں۔

صفحہ نمبر8186

اللہ تعالٰی کو کوئی پوچھنے والا نہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا اور نہ اسے کوئی کر سکتا ہے وہ جسے راہ راست دکھا دے اسے بہکا نہیں سکتا اور جس سے وہ راہ حق گم کر دے اسے کوئی اس راہ کو دکھا نہیں سکتا اور جگہ فرمان ہے «وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرْشِدًا» [ 18- الكهف: 17 ] ‏ جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی چارہ ساز اور رہبر نہیں۔ پھر فرماتا ہے یہ مشرکین قیامت کے عذاب کو دیکھ کر دوبارہ دنیا میں آنے کی تمنا کریں گے جیسے اور جگہ ہے «‏وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ ۖ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» ‏ [ 6- الانعام: 28، 27 ] ‏ کاش کہ تو انہیں دیکھتا جب کہ یہ دوزخ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے ہائے کیا اچھی بات ہو کہ ہم دوبارہ واپس بھیج دئیے جائیں تو ہم ہرگز اپنے رب کی آیتوں کو جھوٹ نہ بتائیں بلکہ ایمان لے آئیں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ لوگ جس چیز کو اس سے پہلے پوشیدہ کئے ہوئے تھے وہ ان کے سامنے آ گئی۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ دوبارہ بھیج بھی دیئے جائیں تب بھی وہی کریں گے جس سے منع کئے جاتے ہیں یقیناً یہ جھوٹے ہیں۔

صفحہ نمبر8185

پھر فرمایا یہ جہنم کے پاس لائے جائیں گے اور اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر ذلت برس رہی ہو گی عاجزی سے جھکے ہوئے ہوں گے اور نظریں بچاکر جہنم کو تک رہے ہوں گے۔ خوف زدہ اور حواس باختہ ہو رہے ہوں گے لیکن جس سے ڈر رہے ہیں اس سے بچ نہ سکیں گے نہ صرف اتنا ہی بلکہ ان کے وہم و گمان سے بھی زیادہ عذاب انہیں ہو گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے اس وقت ایماندار لوگ کہیں گے کہ حقیقی نقصان یافتہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ اپنے والوں کو بھی جہنم واصل کیا یہاں تک کہ آج کی ابدی نعمتوں سے محروم رہے اور انہیں بھی محروم رکھا آج وہ سب الگ الگ عذاب میں مبتلا ہیں دائمی ابدی اور سرمدی سزائیں بھگت رہے ہیں اور یہ ناامید ہو جائیں آج کوئی ایسا نہیں جو ان عذابوں سے چھڑا سکے یا تخفیف کرا سکے ان گمراہوں کو خلاصی دینے والا کوئی نہیں۔

صفحہ نمبر8186

آسانی میں شکر تنگی میں صبر مومنوں کی صفت ہے ٭٭

چونکہ اوپر یہ ذکر تھا کہ قیامت کے دن بڑے ہیبت ناک واقعات ہوں گے وہ سخت مصیبت کا دن ہو گا تو اب یہاں اس سے ڈرا رہا ہے اور اس دن کے لیے تیار رہنے کو فرماتا ہے کہ اس اچانک آجانے والے دن سے پہلے ہی پہلے اللہ کے فرمان پر پوری طرح عمل کر لو «يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ كَلَّا لَا وَزَرَ إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ» ‏ [ 75-القيامة: 10 - 12 ] ‏ جب وہ دن آ جائے تو تمہیں نہ تو کوئی جائے پناہ ملے گی نہ ایسی جگہ کہ وہاں انجان بن کر ایسے چھپ جاؤ کہ پہچانے نہ جاؤ اور نہ نظر پڑے۔

پھر فرماتا ہے کہ «‏لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» [ 2-البقرة: 272 ] ‏ اگر یہ مشرک نہ مانیں تو آپ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجے گئے انہیں ہدایت پر لاکھڑا کر دینا آپ کے ذمے نہیں یہ کام اللہ کا ہے۔ «فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» ‏ [ 13-الرعد: 40 ] ‏ آپ پر صرف تبلیغ ہے حساب ہم خود لے لیں گے انسان کی حالت یہ ہے کہ راحت میں بدمست بن جاتا ہے اور تکلیف میں ناشکرا پن کرتا ہے اس وقت اگلی نعمتوں کا بھی منکر بن جاتا ہے۔

حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا صدقہ کرو میں نے تمہیں زیادہ تعداد میں جہنم میں دیکھا ہے کسی عورت نے پوچھا یہ کس وجہ سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری شکایت کی زیادتی اور اپنے خاوندوں کی ناشکری کی وجہ سے اگر تو ان میں سے کوئی تمہارے ساتھ ایک زمانے تک احسان کرتا رہے پھر ایک دن چھوڑ دے تو تم کہہ دو گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی کوئی راحت پائی ہی نہیں۔ [صحیح بخاری:304] ‏

فی الواقع اکثر عورتوں کا یہی حال ہے لیکن جس پر اللہ رحم کرے اور نیکی کی توفیق دیدے۔ اور حقیقی ایمان نصیب فرمائے پھر تو اس کا یہ حال ہوتا ہے کہ ہر راحت پہ شکر ہر رنج پر صبر پس ہر حال میں نیکی حاصل ہوتی ہے اور یہ وصف بجز مومن کے کسی اور میں نہیں ہوتا۔ [صحیح مسلم:233] ‏

صفحہ نمبر8189

آسانی میں شکر تنگی میں صبر مومنوں کی صفت ہے ٭٭

چونکہ اوپر یہ ذکر تھا کہ قیامت کے دن بڑے ہیبت ناک واقعات ہوں گے وہ سخت مصیبت کا دن ہو گا تو اب یہاں اس سے ڈرا رہا ہے اور اس دن کے لیے تیار رہنے کو فرماتا ہے کہ اس اچانک آجانے والے دن سے پہلے ہی پہلے اللہ کے فرمان پر پوری طرح عمل کر لو «يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ كَلَّا لَا وَزَرَ إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ» ‏ [ 75-القيامة: 10 - 12 ] ‏ جب وہ دن آ جائے تو تمہیں نہ تو کوئی جائے پناہ ملے گی نہ ایسی جگہ کہ وہاں انجان بن کر ایسے چھپ جاؤ کہ پہچانے نہ جاؤ اور نہ نظر پڑے۔

پھر فرماتا ہے کہ «‏لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» [ 2-البقرة: 272 ] ‏ اگر یہ مشرک نہ مانیں تو آپ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجے گئے انہیں ہدایت پر لاکھڑا کر دینا آپ کے ذمے نہیں یہ کام اللہ کا ہے۔ «فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» ‏ [ 13-الرعد: 40 ] ‏ آپ پر صرف تبلیغ ہے حساب ہم خود لے لیں گے انسان کی حالت یہ ہے کہ راحت میں بدمست بن جاتا ہے اور تکلیف میں ناشکرا پن کرتا ہے اس وقت اگلی نعمتوں کا بھی منکر بن جاتا ہے۔

حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا صدقہ کرو میں نے تمہیں زیادہ تعداد میں جہنم میں دیکھا ہے کسی عورت نے پوچھا یہ کس وجہ سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری شکایت کی زیادتی اور اپنے خاوندوں کی ناشکری کی وجہ سے اگر تو ان میں سے کوئی تمہارے ساتھ ایک زمانے تک احسان کرتا رہے پھر ایک دن چھوڑ دے تو تم کہہ دو گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی کوئی راحت پائی ہی نہیں۔ [صحیح بخاری:304] ‏

فی الواقع اکثر عورتوں کا یہی حال ہے لیکن جس پر اللہ رحم کرے اور نیکی کی توفیق دیدے۔ اور حقیقی ایمان نصیب فرمائے پھر تو اس کا یہ حال ہوتا ہے کہ ہر راحت پہ شکر ہر رنج پر صبر پس ہر حال میں نیکی حاصل ہوتی ہے اور یہ وصف بجز مومن کے کسی اور میں نہیں ہوتا۔ [صحیح مسلم:233] ‏

صفحہ نمبر8189

اولاد کا اختیار اللہ کے پاس ہے ٭٭

فرماتا ہے کہ خالق مالک اور متصرف زمین و آسمان کا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے جو چاہے پیدا کرے اور بنائے جسے چاہے صرف لڑکیاں دے جیسے لوط علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور جسے چاہے صرف لڑکے ہی عطا فرماتا ہے جیسے ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور جسے چاہے لڑکے لڑکیاں سب کچھ دیتا ہے جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور جسے چاہے لا ولد رکھتا ہے جیسے یحییٰ اور عیسیٰ۔ پس یہ چار قسمیں ہوئیں۔ لڑکیوں والے لڑکوں والے دونوں والے اور دونوں سے خالی ہاتھ۔ وہ علیم ہے ہر مستحق کو جانتا ہے۔ قادر ہے جس طرح چاہے تفاوت رکھتا ہے۔

پس یہ مقام بھی مثل اس فرمان الٰہی کے ہے۔ جو عیسیٰ کے بارے میں ہے کہ «وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِّلنَّاسِ» [ 19-مريم: 21 ] ‏ تاکہ کہ ہم اسے لوگوں کے لیے نشان بنائیں یعنی دلیل قدرت بنائیں اور دکھا دیں کہ ہم نے مخلوق کو چار طور پر پیدا کیا آدم علیہ السلام صرف مٹی سے پیدا ہوئے نہ ماں نہ باپ۔ حواء صرف مرد سے پیدا ہوئیں باقی کل انسان مرد عورت دونوں سے سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کئے گئے۔ پس آپ کی پیدائش سے یہ چاروں قسمیں ہو گئیں۔ پس یہ مقام ماں باپ کے بارے میں تھا اور وہ مقام اولاد کے بارے میں اس کی بھی چار قسمیں اور اس کی بھی چار قسمیں سبحان اللہ یہ ہے اس اللہ کے علم و قدرت کی نشانی۔

صفحہ نمبر8191

اولاد کا اختیار اللہ کے پاس ہے ٭٭

فرماتا ہے کہ خالق مالک اور متصرف زمین و آسمان کا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے جو چاہے پیدا کرے اور بنائے جسے چاہے صرف لڑکیاں دے جیسے لوط علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور جسے چاہے صرف لڑکے ہی عطا فرماتا ہے جیسے ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور جسے چاہے لڑکے لڑکیاں سب کچھ دیتا ہے جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور جسے چاہے لا ولد رکھتا ہے جیسے یحییٰ اور عیسیٰ۔ پس یہ چار قسمیں ہوئیں۔ لڑکیوں والے لڑکوں والے دونوں والے اور دونوں سے خالی ہاتھ۔ وہ علیم ہے ہر مستحق کو جانتا ہے۔ قادر ہے جس طرح چاہے تفاوت رکھتا ہے۔

پس یہ مقام بھی مثل اس فرمان الٰہی کے ہے۔ جو عیسیٰ کے بارے میں ہے کہ «وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِّلنَّاسِ» [ 19-مريم: 21 ] ‏ تاکہ کہ ہم اسے لوگوں کے لیے نشان بنائیں یعنی دلیل قدرت بنائیں اور دکھا دیں کہ ہم نے مخلوق کو چار طور پر پیدا کیا آدم علیہ السلام صرف مٹی سے پیدا ہوئے نہ ماں نہ باپ۔ حواء صرف مرد سے پیدا ہوئیں باقی کل انسان مرد عورت دونوں سے سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کئے گئے۔ پس آپ کی پیدائش سے یہ چاروں قسمیں ہو گئیں۔ پس یہ مقام ماں باپ کے بارے میں تھا اور وہ مقام اولاد کے بارے میں اس کی بھی چار قسمیں اور اس کی بھی چار قسمیں سبحان اللہ یہ ہے اس اللہ کے علم و قدرت کی نشانی۔

صفحہ نمبر8191

قرآن حکیم شفا ہے ٭٭

مقامات و مراتب و کیفیات وحی کا بیان ہو رہا ہے کہ کبھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں وحی ڈال دی جاتی ہے جس کے وحی اللہ ہونے میں آپکو کوئی شک نہیں رہتا جیسے صحیح ابن حبان کی حدیث میں ہے کہ روح القدس نے میرے دل میں یہ بات پھونکی ہے کہ کوئی شخص بھی جب تک اپنی روزی اور اپنا وقت پورا نہ کر لے ہرگز نہیں مرتا پس اللہ سے ڈرو اور روزی کی طلب میں اچھائی اختیار کرو۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:2607،صحیح] ‏

یا پردے کی اوٹ سے جیسے موسیٰ سے کلام ہوا۔ کیونکہ انہوں نے کلام سن کر جمال دیکھنا چاہا لیکن وہ پردے میں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی سے کلام نہیں کیا مگر پردے کے پیچھے سے لیکن تیرے باپ سے اپنے سامنے کلام کیا۔ [سنن ترمذي:3010،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ یہ جنت احد میں کفار کے ہاتھوں شہید کئے گئے تھے۔

لیکن یہ یاد رہے کہ یہ کلام عالم برزخ کا ہے اور آیت میں جس کلام کا ذکر ہے اس سے مراد دنیا کا کلام ہے یا اپنے قاصد کو بھیج کر اپنی بات اس تک پہنچائے جیسے جبرائیل علیہ السلام وغیرہ فرشتے انبیاء علیہ السلام کے پاس آتے رہے وہ علو اور بلندی اور بزرگی والا ہے ساتھ ہی حکیم اور حکمت والا ہے۔

صفحہ نمبر8193

قرآن کو بذریعہ وحی اتارا ٭٭

روح سے مراد قرآن ہے فرماتا ہے اس قرآن کو بذریعہ وحی کے ہم نے تیری طرف اتارا ہے کتاب اور ایمان کو جس تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہم نے اپنی کتاب میں ہے تو اس سے پہلے جانتا بھی نہ تھا، لیکن ہم نے اس قرآن کو نور بنایا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم اپنے ایماندار بندوں کو راہ راست دکھلائیں جیسے آیت میں ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ» ‏ [ 41- فصلت: 44 ] ‏ کہدے کہ یہ ایمان والوں کے واسطے ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمانوں کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی ہیں پھر فرمایا کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم صریح اور مضبوط حق کی رہنمائی کر رہے ہو پھر صراط مستقیم کی تشریح کی اور فرمایا اسے شرع مقرر کرنے والا خود اللہ ہے جس کی شان یہ ہے کہ آسمانوں زمینوں کا مالک اور رب وہی ہے ان میں تصرف کرنے والا اور حکم چلانے والا بھی وہی ہے کوئی اس کے کسی حکم کو ٹال نہیں سکتا تمام امور اس کی طرف پھیرے جاتے ہیں وہی سب کاموں کے فیصلے کرتا ہے اور حکم کرتا ہے وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جو اس کی نسبت ظالم اور منکرین کہتے ہیں وہ بلندیوں اور بڑائیوں والا ہے۔

صفحہ نمبر8194

قرآن کو بذریعہ وحی اتارا ٭٭

روح سے مراد قرآن ہے فرماتا ہے اس قرآن کو بذریعہ وحی کے ہم نے تیری طرف اتارا ہے کتاب اور ایمان کو جس تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہم نے اپنی کتاب میں ہے تو اس سے پہلے جانتا بھی نہ تھا، لیکن ہم نے اس قرآن کو نور بنایا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم اپنے ایماندار بندوں کو راہ راست دکھلائیں جیسے آیت میں ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ» ‏ [ 41- فصلت: 44 ] ‏ کہدے کہ یہ ایمان والوں کے واسطے ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمانوں کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی ہیں پھر فرمایا کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم صریح اور مضبوط حق کی رہنمائی کر رہے ہو پھر صراط مستقیم کی تشریح کی اور فرمایا اسے شرع مقرر کرنے والا خود اللہ ہے جس کی شان یہ ہے کہ آسمانوں زمینوں کا مالک اور رب وہی ہے ان میں تصرف کرنے والا اور حکم چلانے والا بھی وہی ہے کوئی اس کے کسی حکم کو ٹال نہیں سکتا تمام امور اس کی طرف پھیرے جاتے ہیں وہی سب کاموں کے فیصلے کرتا ہے اور حکم کرتا ہے وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جو اس کی نسبت ظالم اور منکرین کہتے ہیں وہ بلندیوں اور بڑائیوں والا ہے۔

صفحہ نمبر8194

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com