Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Az-Zukhruf
Tafsir Ibn Kathir · Ornaments of gold · 89 ayat · ayat 31–60 · Quran text →
امام الموحدین کا ذکر اور دنیا کی قیمت ٭٭
قریشی کفار نسب اور دین کے اعتبار سے چونکہ خلیل اللہ امام الحنفاء سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سنت ابراہیمی ان کے سامنے رکھی کہ دیکھو جو اپنے بندے آنے والے تمام نبیوں کے باپ، اللہ کے رسول امام الموحدین تھے انہوں نے کھلے لفظوں میں نہ صرف اپنی قوم سے بلکہ اپنے سگے باپ سے بھی کہہ دیا کہ مجھ میں تم میں کوئی تعلق نہیں۔ میں سوائے اپنے سچے اللہ کے جو میرا خالق اور ہادی ہے تمہارے ان معبودوں سے بیزار ہوں سب سے بے تعلق ہوں۔
اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی اس جرأت “ حق گوئی اور جوش توحید کا بدلہ یہ دیا کہ کلمہ توحید کو ان کی اولاد میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھ لیا۔ ناممکن ہے کہ آپ علیہ السلام کی اولاد میں اس پاک کلمے کے قائل نہ ہوں۔ انہی کی اولاد اس توحید کلمہ کی اشاعت کرے گی اور سعید روحیں اور نیک نصیب لوگ اسی گھرانے سے توحید سیکھیں گے۔ غرض اسلام اور توحید کا معلم یہ گھرانہ قرار پا گیا۔
صفحہ نمبر8228
پھر فرماتا ہے بات یہ ہے کہ یہ کفار کفر کرتے رہے اور میں انہیں متاع دنیا دیتا رہا یہ اور بہکتے گئے اور اس قدر بد مست بن گئے کہ جب ان کے پاس دین حق اور رسول حق آئے تو انہوں نے جھٹلانا شروع کر دیا کہ کلام اللہ اور معجزات انبیاء علیہم السلام جادو ہیں اور ہم ان کے منکر ہیں۔ سرکشی اور ضد میں آ کر کفر کر بیٹھے۔ عناد اور بغض سے حق کے مقابلے پر اتر آئے اور باتیں بنانے لگے کہ کیوں صاحب اگر یہ قرآن سچ مچ اللہ ہی کا کلام ہے تو پھر مکے اور طائف کے کسی رئیس پر “ کسی بڑے آدمی پر“ کسی دنیوی وجاہت والے پر کیوں نہ اترا؟
اور بڑے آدمی سے ان کی مراد ولید بن مغیرہ، عروہ بن مسعود، عمیر بن عمرو، عتبہ بن ربیعہ، حبیب بن عمرو ابن عبد یا لیل، کنانہ بن عمرو وغیرہ سے تھی۔ غرض یہ تھی کہ ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے مرتبے کے آدمی پر قرآن نازل ہونا چاہیئے تھا۔
صفحہ نمبر8229
باب
اس اعتراض کے جواب میں فرمان باری سرزد ہوتا ہے کہ کیا رحمت الٰہی کے یہ مالک ہے جو یہ اسے تقسیم کرنے بیٹھے ہیں؟ اللہ کی چیز اللہ کی ملکیت وہ جسے چاہے دے پھر کہاں اس کا علم اور کہاں تمہارا علم؟ اسے بخوبی معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رسالت کا حقدار صحیح معنی میں کون ہے؟ یہ نعمت اسی کو دی جاتی ہے جو تمام مخلوق سے زیادہ پاک دل ہو۔ سب سے زیادہ پاک نفس ہو سب سے بڑھ کر اشرف گھر کا ہو اور سب سے زیادہ پاک اصل کا ہو۔
دنیا کی قدر و قیمت: پھر فرماتا ہے کہ ” یہ رحمت اللہ کے تقسیم کرنے والے کہاں سے ہو گئے؟ اپنی روزیاں بھی ان کے اپنے قبضے کی نہیں وہ بھی ان میں ہم بانٹتے ہیں اور فرق وتفاوت کے ساتھ جسے جب جتنا چاہیں دیں۔ جس سے جب جو چاہیں چھین لیں عقل و فہم، قوت طاقت وغیرہ بھی ہماری ہی دی ہوئی ہے اور اس میں بھی مراتب جداگانہ ہیں۔ “ اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے سے کام لے کیونکہ اس کی اسے اور اس کی اسے ضرورت اور حاجت رہتی ہے۔ ایک ایک کے ماتحت رہے۔
صفحہ نمبر8235
پھر ارشاد ہوا کہ ” تم جو کچھ دنیا جمع کر رہے ہو اس کے مقابلہ میں رب کی رحمت بہت ہی بہتر اور افضل ہے“، زاں بعد اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ مال کو میرا فضل اور میری رضا مندی کی دلیل جان کر مالداروں کے مثل بن جائیں تو میں تو کفار کو یہ دنیا اتنی دیتا کہ ان کے گھر کی چھتیں بلکہ ان کے کوٹھوں کی سیڑھیاں بھی چاندی کی ہوتیں جن کے ذریعے یہ اپنے بالا خانوں پر پہنچتے۔ اور ان کے گھروں کے دروازے ان کے بیٹھنے کے تخت بھی چاندی کے ہوتے اور سونے کے بھی۔ میرے نزدیک دنیا کوئی قدر کی چیز نہیں یہ فانی ہے زائل ہونے والی ہے اور ساری مل بھی جائے جب بھی آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ ان لوگوں کی اچھائیوں کے بدلے انہیں یہیں مل جاتے ہیں۔ کھانے، پینے، رہنے، سہنے، برتنے برتانے میں کچھ سہولتیں بہم پہنچ جاتی ہیں۔ آخرت میں تو محض خالی ہاتھ ہوں گے۔ ایک نیکی باقی نہ ہو گی جو اللہ سے کچھ حاصل کر سکیں “۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے اور حدیث میں ہے اگر دنیا کی قدر اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو یہاں پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔ [سنن ترمذي:2320،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا آخرت کی بھلائیاں ان کے لیے جو دنیا میں پھونک پھونک کے قدم رکھتے رہے ڈر ڈر کر زندگی گزارتے رہے۔ وہاں رب کی خاص نعمتیں اور مخصوص رحمتیں جو انہیں ملیں گی ان میں کوئی اور ان کا شریک نہ ہو گا۔ چنانچہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالا خانہ میں گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہما سے ایلا کر رکھا تھا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی کے ٹکڑے پر لیٹے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر نمایاں ہیں تو رو دئیے اور کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیصر و کسرٰی کس آن بان اور کس شان و شوکت سے زندگی گزار رہے ہیں اور آپ اللہ کی برگذیدہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر کس حال میں ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا تو تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے یا فوراً تکیہ چھوڑ دیا اور فرمانے لگے اے ابن خطاب رضی اللہ عنہ کیا تو شک میں ہے؟ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں جلدی سے یہیں انہیں مل گئیں۔ [صحیح بخاری:2468]
ایک اور روایت میں ہے کہ کیا تو اس سے خوش نہیں کہ انہیں دنیا ملے اور ہمیں آخرت ۔ [صحیح بخاری:4913]
صفحہ نمبر8236
بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سونے چاندی کے برتنوں میں نہیں کھاؤ پیو یہ دنیا میں ان کے لیے ہیں اور آخرت میں ہمارے لیے ہیں۔ اور دنیا میں یہ ان کے لیے یوں ہیں کہ رب کی نظروں میں دنیا ذلیل و خوار ہے ۔ [صحیح بخاری:5426]
ترمذی وغیرہ کی ایک حسن صحیح حدیث میں ہے کہ حضور سلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت رکھتی تو کسی کافر کو کبھی بھی اللہ تعالیٰ ایک گھونٹ پانی کا نہ پلاتا ۔ [سنن ترمذي:2320،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر8237
باب
اس اعتراض کے جواب میں فرمان باری سرزد ہوتا ہے کہ کیا رحمت الٰہی کے یہ مالک ہے جو یہ اسے تقسیم کرنے بیٹھے ہیں؟ اللہ کی چیز اللہ کی ملکیت وہ جسے چاہے دے پھر کہاں اس کا علم اور کہاں تمہارا علم؟ اسے بخوبی معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رسالت کا حقدار صحیح معنی میں کون ہے؟ یہ نعمت اسی کو دی جاتی ہے جو تمام مخلوق سے زیادہ پاک دل ہو۔ سب سے زیادہ پاک نفس ہو سب سے بڑھ کر اشرف گھر کا ہو اور سب سے زیادہ پاک اصل کا ہو۔
دنیا کی قدر و قیمت: پھر فرماتا ہے کہ ” یہ رحمت اللہ کے تقسیم کرنے والے کہاں سے ہو گئے؟ اپنی روزیاں بھی ان کے اپنے قبضے کی نہیں وہ بھی ان میں ہم بانٹتے ہیں اور فرق وتفاوت کے ساتھ جسے جب جتنا چاہیں دیں۔ جس سے جب جو چاہیں چھین لیں عقل و فہم، قوت طاقت وغیرہ بھی ہماری ہی دی ہوئی ہے اور اس میں بھی مراتب جداگانہ ہیں۔ “ اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے سے کام لے کیونکہ اس کی اسے اور اس کی اسے ضرورت اور حاجت رہتی ہے۔ ایک ایک کے ماتحت رہے۔
صفحہ نمبر8235
پھر ارشاد ہوا کہ ” تم جو کچھ دنیا جمع کر رہے ہو اس کے مقابلہ میں رب کی رحمت بہت ہی بہتر اور افضل ہے“، زاں بعد اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ مال کو میرا فضل اور میری رضا مندی کی دلیل جان کر مالداروں کے مثل بن جائیں تو میں تو کفار کو یہ دنیا اتنی دیتا کہ ان کے گھر کی چھتیں بلکہ ان کے کوٹھوں کی سیڑھیاں بھی چاندی کی ہوتیں جن کے ذریعے یہ اپنے بالا خانوں پر پہنچتے۔ اور ان کے گھروں کے دروازے ان کے بیٹھنے کے تخت بھی چاندی کے ہوتے اور سونے کے بھی۔ میرے نزدیک دنیا کوئی قدر کی چیز نہیں یہ فانی ہے زائل ہونے والی ہے اور ساری مل بھی جائے جب بھی آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ ان لوگوں کی اچھائیوں کے بدلے انہیں یہیں مل جاتے ہیں۔ کھانے، پینے، رہنے، سہنے، برتنے برتانے میں کچھ سہولتیں بہم پہنچ جاتی ہیں۔ آخرت میں تو محض خالی ہاتھ ہوں گے۔ ایک نیکی باقی نہ ہو گی جو اللہ سے کچھ حاصل کر سکیں “۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے اور حدیث میں ہے اگر دنیا کی قدر اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو یہاں پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔ [سنن ترمذي:2320،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا آخرت کی بھلائیاں ان کے لیے جو دنیا میں پھونک پھونک کے قدم رکھتے رہے ڈر ڈر کر زندگی گزارتے رہے۔ وہاں رب کی خاص نعمتیں اور مخصوص رحمتیں جو انہیں ملیں گی ان میں کوئی اور ان کا شریک نہ ہو گا۔ چنانچہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالا خانہ میں گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہما سے ایلا کر رکھا تھا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی کے ٹکڑے پر لیٹے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر نمایاں ہیں تو رو دئیے اور کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیصر و کسرٰی کس آن بان اور کس شان و شوکت سے زندگی گزار رہے ہیں اور آپ اللہ کی برگذیدہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر کس حال میں ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا تو تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے یا فوراً تکیہ چھوڑ دیا اور فرمانے لگے اے ابن خطاب رضی اللہ عنہ کیا تو شک میں ہے؟ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں جلدی سے یہیں انہیں مل گئیں۔ [صحیح بخاری:2468]
ایک اور روایت میں ہے کہ کیا تو اس سے خوش نہیں کہ انہیں دنیا ملے اور ہمیں آخرت ۔ [صحیح بخاری:4913]
صفحہ نمبر8236
بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سونے چاندی کے برتنوں میں نہیں کھاؤ پیو یہ دنیا میں ان کے لیے ہیں اور آخرت میں ہمارے لیے ہیں۔ اور دنیا میں یہ ان کے لیے یوں ہیں کہ رب کی نظروں میں دنیا ذلیل و خوار ہے ۔ [صحیح بخاری:5426]
ترمذی وغیرہ کی ایک حسن صحیح حدیث میں ہے کہ حضور سلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت رکھتی تو کسی کافر کو کبھی بھی اللہ تعالیٰ ایک گھونٹ پانی کا نہ پلاتا ۔ [سنن ترمذي:2320،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر8237
باب
اس اعتراض کے جواب میں فرمان باری سرزد ہوتا ہے کہ کیا رحمت الٰہی کے یہ مالک ہے جو یہ اسے تقسیم کرنے بیٹھے ہیں؟ اللہ کی چیز اللہ کی ملکیت وہ جسے چاہے دے پھر کہاں اس کا علم اور کہاں تمہارا علم؟ اسے بخوبی معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رسالت کا حقدار صحیح معنی میں کون ہے؟ یہ نعمت اسی کو دی جاتی ہے جو تمام مخلوق سے زیادہ پاک دل ہو۔ سب سے زیادہ پاک نفس ہو سب سے بڑھ کر اشرف گھر کا ہو اور سب سے زیادہ پاک اصل کا ہو۔
دنیا کی قدر و قیمت: پھر فرماتا ہے کہ ” یہ رحمت اللہ کے تقسیم کرنے والے کہاں سے ہو گئے؟ اپنی روزیاں بھی ان کے اپنے قبضے کی نہیں وہ بھی ان میں ہم بانٹتے ہیں اور فرق وتفاوت کے ساتھ جسے جب جتنا چاہیں دیں۔ جس سے جب جو چاہیں چھین لیں عقل و فہم، قوت طاقت وغیرہ بھی ہماری ہی دی ہوئی ہے اور اس میں بھی مراتب جداگانہ ہیں۔ “ اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے سے کام لے کیونکہ اس کی اسے اور اس کی اسے ضرورت اور حاجت رہتی ہے۔ ایک ایک کے ماتحت رہے۔
صفحہ نمبر8235
پھر ارشاد ہوا کہ ” تم جو کچھ دنیا جمع کر رہے ہو اس کے مقابلہ میں رب کی رحمت بہت ہی بہتر اور افضل ہے“، زاں بعد اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ مال کو میرا فضل اور میری رضا مندی کی دلیل جان کر مالداروں کے مثل بن جائیں تو میں تو کفار کو یہ دنیا اتنی دیتا کہ ان کے گھر کی چھتیں بلکہ ان کے کوٹھوں کی سیڑھیاں بھی چاندی کی ہوتیں جن کے ذریعے یہ اپنے بالا خانوں پر پہنچتے۔ اور ان کے گھروں کے دروازے ان کے بیٹھنے کے تخت بھی چاندی کے ہوتے اور سونے کے بھی۔ میرے نزدیک دنیا کوئی قدر کی چیز نہیں یہ فانی ہے زائل ہونے والی ہے اور ساری مل بھی جائے جب بھی آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ ان لوگوں کی اچھائیوں کے بدلے انہیں یہیں مل جاتے ہیں۔ کھانے، پینے، رہنے، سہنے، برتنے برتانے میں کچھ سہولتیں بہم پہنچ جاتی ہیں۔ آخرت میں تو محض خالی ہاتھ ہوں گے۔ ایک نیکی باقی نہ ہو گی جو اللہ سے کچھ حاصل کر سکیں “۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے اور حدیث میں ہے اگر دنیا کی قدر اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو یہاں پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔ [سنن ترمذي:2320،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا آخرت کی بھلائیاں ان کے لیے جو دنیا میں پھونک پھونک کے قدم رکھتے رہے ڈر ڈر کر زندگی گزارتے رہے۔ وہاں رب کی خاص نعمتیں اور مخصوص رحمتیں جو انہیں ملیں گی ان میں کوئی اور ان کا شریک نہ ہو گا۔ چنانچہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالا خانہ میں گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہما سے ایلا کر رکھا تھا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی کے ٹکڑے پر لیٹے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر نمایاں ہیں تو رو دئیے اور کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیصر و کسرٰی کس آن بان اور کس شان و شوکت سے زندگی گزار رہے ہیں اور آپ اللہ کی برگذیدہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر کس حال میں ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا تو تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے یا فوراً تکیہ چھوڑ دیا اور فرمانے لگے اے ابن خطاب رضی اللہ عنہ کیا تو شک میں ہے؟ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں جلدی سے یہیں انہیں مل گئیں۔ [صحیح بخاری:2468]
ایک اور روایت میں ہے کہ کیا تو اس سے خوش نہیں کہ انہیں دنیا ملے اور ہمیں آخرت ۔ [صحیح بخاری:4913]
صفحہ نمبر8236
بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سونے چاندی کے برتنوں میں نہیں کھاؤ پیو یہ دنیا میں ان کے لیے ہیں اور آخرت میں ہمارے لیے ہیں۔ اور دنیا میں یہ ان کے لیے یوں ہیں کہ رب کی نظروں میں دنیا ذلیل و خوار ہے ۔ [صحیح بخاری:5426]
ترمذی وغیرہ کی ایک حسن صحیح حدیث میں ہے کہ حضور سلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت رکھتی تو کسی کافر کو کبھی بھی اللہ تعالیٰ ایک گھونٹ پانی کا نہ پلاتا ۔ [سنن ترمذي:2320،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر8237
باب
اس اعتراض کے جواب میں فرمان باری سرزد ہوتا ہے کہ کیا رحمت الٰہی کے یہ مالک ہے جو یہ اسے تقسیم کرنے بیٹھے ہیں؟ اللہ کی چیز اللہ کی ملکیت وہ جسے چاہے دے پھر کہاں اس کا علم اور کہاں تمہارا علم؟ اسے بخوبی معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رسالت کا حقدار صحیح معنی میں کون ہے؟ یہ نعمت اسی کو دی جاتی ہے جو تمام مخلوق سے زیادہ پاک دل ہو۔ سب سے زیادہ پاک نفس ہو سب سے بڑھ کر اشرف گھر کا ہو اور سب سے زیادہ پاک اصل کا ہو۔
دنیا کی قدر و قیمت: پھر فرماتا ہے کہ ” یہ رحمت اللہ کے تقسیم کرنے والے کہاں سے ہو گئے؟ اپنی روزیاں بھی ان کے اپنے قبضے کی نہیں وہ بھی ان میں ہم بانٹتے ہیں اور فرق وتفاوت کے ساتھ جسے جب جتنا چاہیں دیں۔ جس سے جب جو چاہیں چھین لیں عقل و فہم، قوت طاقت وغیرہ بھی ہماری ہی دی ہوئی ہے اور اس میں بھی مراتب جداگانہ ہیں۔ “ اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے سے کام لے کیونکہ اس کی اسے اور اس کی اسے ضرورت اور حاجت رہتی ہے۔ ایک ایک کے ماتحت رہے۔
صفحہ نمبر8235
پھر ارشاد ہوا کہ ” تم جو کچھ دنیا جمع کر رہے ہو اس کے مقابلہ میں رب کی رحمت بہت ہی بہتر اور افضل ہے“، زاں بعد اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ مال کو میرا فضل اور میری رضا مندی کی دلیل جان کر مالداروں کے مثل بن جائیں تو میں تو کفار کو یہ دنیا اتنی دیتا کہ ان کے گھر کی چھتیں بلکہ ان کے کوٹھوں کی سیڑھیاں بھی چاندی کی ہوتیں جن کے ذریعے یہ اپنے بالا خانوں پر پہنچتے۔ اور ان کے گھروں کے دروازے ان کے بیٹھنے کے تخت بھی چاندی کے ہوتے اور سونے کے بھی۔ میرے نزدیک دنیا کوئی قدر کی چیز نہیں یہ فانی ہے زائل ہونے والی ہے اور ساری مل بھی جائے جب بھی آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ ان لوگوں کی اچھائیوں کے بدلے انہیں یہیں مل جاتے ہیں۔ کھانے، پینے، رہنے، سہنے، برتنے برتانے میں کچھ سہولتیں بہم پہنچ جاتی ہیں۔ آخرت میں تو محض خالی ہاتھ ہوں گے۔ ایک نیکی باقی نہ ہو گی جو اللہ سے کچھ حاصل کر سکیں “۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے اور حدیث میں ہے اگر دنیا کی قدر اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو یہاں پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔ [سنن ترمذي:2320،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا آخرت کی بھلائیاں ان کے لیے جو دنیا میں پھونک پھونک کے قدم رکھتے رہے ڈر ڈر کر زندگی گزارتے رہے۔ وہاں رب کی خاص نعمتیں اور مخصوص رحمتیں جو انہیں ملیں گی ان میں کوئی اور ان کا شریک نہ ہو گا۔ چنانچہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالا خانہ میں گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہما سے ایلا کر رکھا تھا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی کے ٹکڑے پر لیٹے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر نمایاں ہیں تو رو دئیے اور کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیصر و کسرٰی کس آن بان اور کس شان و شوکت سے زندگی گزار رہے ہیں اور آپ اللہ کی برگذیدہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر کس حال میں ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا تو تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے یا فوراً تکیہ چھوڑ دیا اور فرمانے لگے اے ابن خطاب رضی اللہ عنہ کیا تو شک میں ہے؟ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں جلدی سے یہیں انہیں مل گئیں۔ [صحیح بخاری:2468]
ایک اور روایت میں ہے کہ کیا تو اس سے خوش نہیں کہ انہیں دنیا ملے اور ہمیں آخرت ۔ [صحیح بخاری:4913]
صفحہ نمبر8236
بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سونے چاندی کے برتنوں میں نہیں کھاؤ پیو یہ دنیا میں ان کے لیے ہیں اور آخرت میں ہمارے لیے ہیں۔ اور دنیا میں یہ ان کے لیے یوں ہیں کہ رب کی نظروں میں دنیا ذلیل و خوار ہے ۔ [صحیح بخاری:5426]
ترمذی وغیرہ کی ایک حسن صحیح حدیث میں ہے کہ حضور سلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت رکھتی تو کسی کافر کو کبھی بھی اللہ تعالیٰ ایک گھونٹ پانی کا نہ پلاتا ۔ [سنن ترمذي:2320،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر8237
شیطان سے بچو ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ” جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بے رغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے “۔
آنکھ کی بینائی کی کمی کو عربی زبان میں «عَشْیٌ فِیْ الْعَیْنِ» کہتے ہیں۔ یہی مضمون قرآن کریم کی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے جیسے فرمایا آیت «وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاءَتْ مَصِيْرًا» [4-النساء:115] ، یعنی ” جو شخص ہدایت ظاہر کر چکنے کے بعد مخالفت رسول کر کے مومنوں کی راہ کے سوا دوسری راہ کی پیروی کرے ہم اسے وہیں چھوڑیں گے اور جہنم واصل کریں گے جو بڑی بری جگہ ہے “۔
اور آیت میں ارشاد ہے «فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ» [61-الصف:5] یعنی ” جب وہی ٹیڑھے ہو گئے اللہ نے ان کے دل بھی کج کر دئیے “۔
اور آیت میں فرمایا «وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَاءَ فَزَيَّنُوا لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنَّهُمْ كَانُوا خَاسِرِينَ» [41-فصلت:25] ، یعنی ” ان کے جو ہم نشین ہم نے مقرر کر دئیے ہیں وہ ان کے آگے پیچھے کی چیزوں کو زینت والی بنا کر انہیں دکھاتے ہیں “، یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ ” ایسے غافل لوگوں پر شیطان اپنا قابو کر لیتا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتا ہے اور ان کے دل میں یہ خیال جما دیتا ہے کہ ان کی روش بہت اچھی ہے یہ بالکل صحیح دین پر قائم ہیں قیامت کے دن جب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے اور معاملہ کھل جائے گا تو اپنے اس شیطان سے جو ان کے ساتھ تھا برات ظاہر کرے گا اور کہے گا کاش کے میرے اور تمہارے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا جتنا مشرق اور مغرب میں ہے۔ “ یہاں بہ اعتبار غلبے کے مشرقین یعنی دو مشرقوں کا لفظ کہدیا گیا ہے جیسے سورج چاند کو «قمرین» یعنی دو چاند کہہ دیا جاتا ہے اور ماں باپ کو «ابوین» یعنی دو باپ کہہ دیا جاتا ہے۔
صفحہ نمبر8241
ایک قرأت میں «جَاۤءَ انَا» بھی ہے یعنی ” شیطان اور یہ غافل انسان دونوں جب ہمارے پاس آئیں گے “۔ سعید جریری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”کافر کے اپنی قبر سے اٹھتے ہی شیطان آ کر اس کے ہاتھ سے ہاتھ ملا لیتا ہے پھر جدا نہیں ہوتا یہاں تک کہ جہنم میں بھی دونوں کو ساتھ ہی ڈالا جاتا ہے۔“
پھر فرماتا ہے کہ ” جہنم میں تم سب کا جمع ہونا اور وہاں کے عذابوں میں سب کا شریک ہونا تمہارے لیے نفع دینے والا نہیں “، اس کے بعد اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ” ازلی بہروں کے کان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت کی آواز نہیں ڈال سکتے مادر زاد اندھوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم راہ نہیں دکھا سکتے صریح گمراہی میں پڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت قبول نہیں کر سکتے “۔
یعنی تجھ پر ہماری جانب سے یہ فرض نہیں کہ خواہ مخواہ ہر ہر شخص مسلمان ہو ہی جائے ہدایت تیرے قبضے کی چیز نہیں جو حق کی طرف کان ہی نہ لگائے جو سیدھی راہ کی طرف آنکھ ہی نہ اٹھائے جو بہکے اور اسی میں خوش رہو تجھے ان کی بابت کیوں اتنا خیال ہے؟ تجھ پر ضروری کام صرف تبلیغ کرنا ہے ہدایت و ضلالت ہمارے ہاتھ کی چیزیں ہیں عادل ہیں ہم حکیم ہیں ہم جو چاہیں گے کریں گے تم تنگ دل نہ ہو جایا کرو۔
صفحہ نمبر8242
شیطان سے بچو ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ” جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بے رغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے “۔
آنکھ کی بینائی کی کمی کو عربی زبان میں «عَشْیٌ فِیْ الْعَیْنِ» کہتے ہیں۔ یہی مضمون قرآن کریم کی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے جیسے فرمایا آیت «وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاءَتْ مَصِيْرًا» [4-النساء:115] ، یعنی ” جو شخص ہدایت ظاہر کر چکنے کے بعد مخالفت رسول کر کے مومنوں کی راہ کے سوا دوسری راہ کی پیروی کرے ہم اسے وہیں چھوڑیں گے اور جہنم واصل کریں گے جو بڑی بری جگہ ہے “۔
اور آیت میں ارشاد ہے «فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ» [61-الصف:5] یعنی ” جب وہی ٹیڑھے ہو گئے اللہ نے ان کے دل بھی کج کر دئیے “۔
اور آیت میں فرمایا «وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَاءَ فَزَيَّنُوا لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنَّهُمْ كَانُوا خَاسِرِينَ» [41-فصلت:25] ، یعنی ” ان کے جو ہم نشین ہم نے مقرر کر دئیے ہیں وہ ان کے آگے پیچھے کی چیزوں کو زینت والی بنا کر انہیں دکھاتے ہیں “، یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ ” ایسے غافل لوگوں پر شیطان اپنا قابو کر لیتا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتا ہے اور ان کے دل میں یہ خیال جما دیتا ہے کہ ان کی روش بہت اچھی ہے یہ بالکل صحیح دین پر قائم ہیں قیامت کے دن جب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے اور معاملہ کھل جائے گا تو اپنے اس شیطان سے جو ان کے ساتھ تھا برات ظاہر کرے گا اور کہے گا کاش کے میرے اور تمہارے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا جتنا مشرق اور مغرب میں ہے۔ “ یہاں بہ اعتبار غلبے کے مشرقین یعنی دو مشرقوں کا لفظ کہدیا گیا ہے جیسے سورج چاند کو «قمرین» یعنی دو چاند کہہ دیا جاتا ہے اور ماں باپ کو «ابوین» یعنی دو باپ کہہ دیا جاتا ہے۔
صفحہ نمبر8241
ایک قرأت میں «جَاۤءَ انَا» بھی ہے یعنی ” شیطان اور یہ غافل انسان دونوں جب ہمارے پاس آئیں گے “۔ سعید جریری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”کافر کے اپنی قبر سے اٹھتے ہی شیطان آ کر اس کے ہاتھ سے ہاتھ ملا لیتا ہے پھر جدا نہیں ہوتا یہاں تک کہ جہنم میں بھی دونوں کو ساتھ ہی ڈالا جاتا ہے۔“
پھر فرماتا ہے کہ ” جہنم میں تم سب کا جمع ہونا اور وہاں کے عذابوں میں سب کا شریک ہونا تمہارے لیے نفع دینے والا نہیں “، اس کے بعد اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ” ازلی بہروں کے کان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت کی آواز نہیں ڈال سکتے مادر زاد اندھوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم راہ نہیں دکھا سکتے صریح گمراہی میں پڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت قبول نہیں کر سکتے “۔
یعنی تجھ پر ہماری جانب سے یہ فرض نہیں کہ خواہ مخواہ ہر ہر شخص مسلمان ہو ہی جائے ہدایت تیرے قبضے کی چیز نہیں جو حق کی طرف کان ہی نہ لگائے جو سیدھی راہ کی طرف آنکھ ہی نہ اٹھائے جو بہکے اور اسی میں خوش رہو تجھے ان کی بابت کیوں اتنا خیال ہے؟ تجھ پر ضروری کام صرف تبلیغ کرنا ہے ہدایت و ضلالت ہمارے ہاتھ کی چیزیں ہیں عادل ہیں ہم حکیم ہیں ہم جو چاہیں گے کریں گے تم تنگ دل نہ ہو جایا کرو۔
صفحہ نمبر8242
شیطان سے بچو ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ” جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بے رغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے “۔
آنکھ کی بینائی کی کمی کو عربی زبان میں «عَشْیٌ فِیْ الْعَیْنِ» کہتے ہیں۔ یہی مضمون قرآن کریم کی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے جیسے فرمایا آیت «وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاءَتْ مَصِيْرًا» [4-النساء:115] ، یعنی ” جو شخص ہدایت ظاہر کر چکنے کے بعد مخالفت رسول کر کے مومنوں کی راہ کے سوا دوسری راہ کی پیروی کرے ہم اسے وہیں چھوڑیں گے اور جہنم واصل کریں گے جو بڑی بری جگہ ہے “۔
اور آیت میں ارشاد ہے «فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ» [61-الصف:5] یعنی ” جب وہی ٹیڑھے ہو گئے اللہ نے ان کے دل بھی کج کر دئیے “۔
اور آیت میں فرمایا «وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَاءَ فَزَيَّنُوا لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنَّهُمْ كَانُوا خَاسِرِينَ» [41-فصلت:25] ، یعنی ” ان کے جو ہم نشین ہم نے مقرر کر دئیے ہیں وہ ان کے آگے پیچھے کی چیزوں کو زینت والی بنا کر انہیں دکھاتے ہیں “، یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ ” ایسے غافل لوگوں پر شیطان اپنا قابو کر لیتا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتا ہے اور ان کے دل میں یہ خیال جما دیتا ہے کہ ان کی روش بہت اچھی ہے یہ بالکل صحیح دین پر قائم ہیں قیامت کے دن جب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے اور معاملہ کھل جائے گا تو اپنے اس شیطان سے جو ان کے ساتھ تھا برات ظاہر کرے گا اور کہے گا کاش کے میرے اور تمہارے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا جتنا مشرق اور مغرب میں ہے۔ “ یہاں بہ اعتبار غلبے کے مشرقین یعنی دو مشرقوں کا لفظ کہدیا گیا ہے جیسے سورج چاند کو «قمرین» یعنی دو چاند کہہ دیا جاتا ہے اور ماں باپ کو «ابوین» یعنی دو باپ کہہ دیا جاتا ہے۔
صفحہ نمبر8241
ایک قرأت میں «جَاۤءَ انَا» بھی ہے یعنی ” شیطان اور یہ غافل انسان دونوں جب ہمارے پاس آئیں گے “۔ سعید جریری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”کافر کے اپنی قبر سے اٹھتے ہی شیطان آ کر اس کے ہاتھ سے ہاتھ ملا لیتا ہے پھر جدا نہیں ہوتا یہاں تک کہ جہنم میں بھی دونوں کو ساتھ ہی ڈالا جاتا ہے۔“
پھر فرماتا ہے کہ ” جہنم میں تم سب کا جمع ہونا اور وہاں کے عذابوں میں سب کا شریک ہونا تمہارے لیے نفع دینے والا نہیں “، اس کے بعد اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ” ازلی بہروں کے کان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت کی آواز نہیں ڈال سکتے مادر زاد اندھوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم راہ نہیں دکھا سکتے صریح گمراہی میں پڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت قبول نہیں کر سکتے “۔
یعنی تجھ پر ہماری جانب سے یہ فرض نہیں کہ خواہ مخواہ ہر ہر شخص مسلمان ہو ہی جائے ہدایت تیرے قبضے کی چیز نہیں جو حق کی طرف کان ہی نہ لگائے جو سیدھی راہ کی طرف آنکھ ہی نہ اٹھائے جو بہکے اور اسی میں خوش رہو تجھے ان کی بابت کیوں اتنا خیال ہے؟ تجھ پر ضروری کام صرف تبلیغ کرنا ہے ہدایت و ضلالت ہمارے ہاتھ کی چیزیں ہیں عادل ہیں ہم حکیم ہیں ہم جو چاہیں گے کریں گے تم تنگ دل نہ ہو جایا کرو۔
صفحہ نمبر8242
شیطان سے بچو ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ” جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بے رغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے “۔
آنکھ کی بینائی کی کمی کو عربی زبان میں «عَشْیٌ فِیْ الْعَیْنِ» کہتے ہیں۔ یہی مضمون قرآن کریم کی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے جیسے فرمایا آیت «وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاءَتْ مَصِيْرًا» [4-النساء:115] ، یعنی ” جو شخص ہدایت ظاہر کر چکنے کے بعد مخالفت رسول کر کے مومنوں کی راہ کے سوا دوسری راہ کی پیروی کرے ہم اسے وہیں چھوڑیں گے اور جہنم واصل کریں گے جو بڑی بری جگہ ہے “۔
اور آیت میں ارشاد ہے «فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ» [61-الصف:5] یعنی ” جب وہی ٹیڑھے ہو گئے اللہ نے ان کے دل بھی کج کر دئیے “۔
اور آیت میں فرمایا «وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَاءَ فَزَيَّنُوا لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنَّهُمْ كَانُوا خَاسِرِينَ» [41-فصلت:25] ، یعنی ” ان کے جو ہم نشین ہم نے مقرر کر دئیے ہیں وہ ان کے آگے پیچھے کی چیزوں کو زینت والی بنا کر انہیں دکھاتے ہیں “، یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ ” ایسے غافل لوگوں پر شیطان اپنا قابو کر لیتا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتا ہے اور ان کے دل میں یہ خیال جما دیتا ہے کہ ان کی روش بہت اچھی ہے یہ بالکل صحیح دین پر قائم ہیں قیامت کے دن جب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے اور معاملہ کھل جائے گا تو اپنے اس شیطان سے جو ان کے ساتھ تھا برات ظاہر کرے گا اور کہے گا کاش کے میرے اور تمہارے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا جتنا مشرق اور مغرب میں ہے۔ “ یہاں بہ اعتبار غلبے کے مشرقین یعنی دو مشرقوں کا لفظ کہدیا گیا ہے جیسے سورج چاند کو «قمرین» یعنی دو چاند کہہ دیا جاتا ہے اور ماں باپ کو «ابوین» یعنی دو باپ کہہ دیا جاتا ہے۔
صفحہ نمبر8241
ایک قرأت میں «جَاۤءَ انَا» بھی ہے یعنی ” شیطان اور یہ غافل انسان دونوں جب ہمارے پاس آئیں گے “۔ سعید جریری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”کافر کے اپنی قبر سے اٹھتے ہی شیطان آ کر اس کے ہاتھ سے ہاتھ ملا لیتا ہے پھر جدا نہیں ہوتا یہاں تک کہ جہنم میں بھی دونوں کو ساتھ ہی ڈالا جاتا ہے۔“
پھر فرماتا ہے کہ ” جہنم میں تم سب کا جمع ہونا اور وہاں کے عذابوں میں سب کا شریک ہونا تمہارے لیے نفع دینے والا نہیں “، اس کے بعد اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ” ازلی بہروں کے کان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت کی آواز نہیں ڈال سکتے مادر زاد اندھوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم راہ نہیں دکھا سکتے صریح گمراہی میں پڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت قبول نہیں کر سکتے “۔
یعنی تجھ پر ہماری جانب سے یہ فرض نہیں کہ خواہ مخواہ ہر ہر شخص مسلمان ہو ہی جائے ہدایت تیرے قبضے کی چیز نہیں جو حق کی طرف کان ہی نہ لگائے جو سیدھی راہ کی طرف آنکھ ہی نہ اٹھائے جو بہکے اور اسی میں خوش رہو تجھے ان کی بابت کیوں اتنا خیال ہے؟ تجھ پر ضروری کام صرف تبلیغ کرنا ہے ہدایت و ضلالت ہمارے ہاتھ کی چیزیں ہیں عادل ہیں ہم حکیم ہیں ہم جو چاہیں گے کریں گے تم تنگ دل نہ ہو جایا کرو۔
صفحہ نمبر8242
شیطان سے بچو ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ” جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بے رغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے “۔
آنکھ کی بینائی کی کمی کو عربی زبان میں «عَشْیٌ فِیْ الْعَیْنِ» کہتے ہیں۔ یہی مضمون قرآن کریم کی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے جیسے فرمایا آیت «وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاءَتْ مَصِيْرًا» [4-النساء:115] ، یعنی ” جو شخص ہدایت ظاہر کر چکنے کے بعد مخالفت رسول کر کے مومنوں کی راہ کے سوا دوسری راہ کی پیروی کرے ہم اسے وہیں چھوڑیں گے اور جہنم واصل کریں گے جو بڑی بری جگہ ہے “۔
اور آیت میں ارشاد ہے «فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ» [61-الصف:5] یعنی ” جب وہی ٹیڑھے ہو گئے اللہ نے ان کے دل بھی کج کر دئیے “۔
اور آیت میں فرمایا «وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَاءَ فَزَيَّنُوا لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنَّهُمْ كَانُوا خَاسِرِينَ» [41-فصلت:25] ، یعنی ” ان کے جو ہم نشین ہم نے مقرر کر دئیے ہیں وہ ان کے آگے پیچھے کی چیزوں کو زینت والی بنا کر انہیں دکھاتے ہیں “، یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ ” ایسے غافل لوگوں پر شیطان اپنا قابو کر لیتا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتا ہے اور ان کے دل میں یہ خیال جما دیتا ہے کہ ان کی روش بہت اچھی ہے یہ بالکل صحیح دین پر قائم ہیں قیامت کے دن جب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے اور معاملہ کھل جائے گا تو اپنے اس شیطان سے جو ان کے ساتھ تھا برات ظاہر کرے گا اور کہے گا کاش کے میرے اور تمہارے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا جتنا مشرق اور مغرب میں ہے۔ “ یہاں بہ اعتبار غلبے کے مشرقین یعنی دو مشرقوں کا لفظ کہدیا گیا ہے جیسے سورج چاند کو «قمرین» یعنی دو چاند کہہ دیا جاتا ہے اور ماں باپ کو «ابوین» یعنی دو باپ کہہ دیا جاتا ہے۔
صفحہ نمبر8241
ایک قرأت میں «جَاۤءَ انَا» بھی ہے یعنی ” شیطان اور یہ غافل انسان دونوں جب ہمارے پاس آئیں گے “۔ سعید جریری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”کافر کے اپنی قبر سے اٹھتے ہی شیطان آ کر اس کے ہاتھ سے ہاتھ ملا لیتا ہے پھر جدا نہیں ہوتا یہاں تک کہ جہنم میں بھی دونوں کو ساتھ ہی ڈالا جاتا ہے۔“
پھر فرماتا ہے کہ ” جہنم میں تم سب کا جمع ہونا اور وہاں کے عذابوں میں سب کا شریک ہونا تمہارے لیے نفع دینے والا نہیں “، اس کے بعد اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ” ازلی بہروں کے کان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت کی آواز نہیں ڈال سکتے مادر زاد اندھوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم راہ نہیں دکھا سکتے صریح گمراہی میں پڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت قبول نہیں کر سکتے “۔
یعنی تجھ پر ہماری جانب سے یہ فرض نہیں کہ خواہ مخواہ ہر ہر شخص مسلمان ہو ہی جائے ہدایت تیرے قبضے کی چیز نہیں جو حق کی طرف کان ہی نہ لگائے جو سیدھی راہ کی طرف آنکھ ہی نہ اٹھائے جو بہکے اور اسی میں خوش رہو تجھے ان کی بابت کیوں اتنا خیال ہے؟ تجھ پر ضروری کام صرف تبلیغ کرنا ہے ہدایت و ضلالت ہمارے ہاتھ کی چیزیں ہیں عادل ہیں ہم حکیم ہیں ہم جو چاہیں گے کریں گے تم تنگ دل نہ ہو جایا کرو۔
صفحہ نمبر8242
باب
پھر فرماتا ہے کہ ” اگرچہ ہم تجھے یہاں سے لے جائیں پھر بھی ہم ان ظالموں سے بدلہ لیے بغیر تو رہیں گے نہیں اگر ہم تجھے تیری آنکھوں سے وہ دکھا دیں جس کا وعدہ ہم نے ان سے کیا ہے تو ہم اس سے عاجز نہیں “۔ غرض اس طرح اور اسطرح دونوں صورتوں میں کفار پر عذاب تو آئے گا ہی۔ لیکن پھر وہ صورت پسند کی گئی جس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت زیادہ تھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فوت نہ کیا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو مغلوب نہ کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ٹھنڈی نہ کر دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی جانوں اور مالوں اور ملکیتوں کے مالک نہ بن گئے۔ یہ تو ہے تفسیر سدی رحمہ اللہ وغیرہ کی۔
لیکن قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اٹھا لیے گئے اور انتقام باقی رہ گیا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں امت میں وہ معاملات نہ دکھائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناپسندیدہ تھے بجز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور تمام انبیاء علیہ السلام کے سامنے ان کی امتوں پر عذاب آئے ہم سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم کرا دیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر کیا کیا وبال آئیں گے اس وقت سے لے کر وصال کے وقت تک کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھل کھلا کر ہنستے ہوئے دیکھے نہیں گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30872:مرسل و ضعیف]
حسن رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح کی روایت ہے ایک حدیث میں ہے ستارے آسمان کے بچاؤ کا سبب ہیں جب ستارے جھڑ جائیں گے تو آسمان پر مصیبت آ جائے گی میں اپنے اصحاب کا ذریعہ امن ہوں میرے جانے کے بعد میرے اصحاب پر وہ آ جائے گا جس کا یہ وعدہ دئیے جاتے ہیں ۔ [صحیح مسلم:2531]
صفحہ نمبر8247
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” جو قرآن تجھ پر نازل کیا گیا ہے جو سراسر حق و صدق ہے جو حقانیت کی سیدھی اور صاف راہ کی راہنمائی کرتا ہے تو اسے مضبوطی کے ساتھ لیے رہ۔ یہی جنت نعیم اور راہ مستقیم کا رہبر ہے اس پر چلنے والا اس کے احکام کو تھامنے والا بہک اور بھٹک نہیں سکتا یہ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے ذکر ہے “ یعنی شرف اور بزرگی ہے۔
صفحہ نمبر8248
بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ امر (یعنی خلافت و امامت) قریش میں ہی رہے گا جو ان سے جھگڑے گا اور چھینے گا اسے اللہ تعالیٰ اوندھے منہ گرائے گا جب تک دین کو قائم رکھیں ۔ [صحیح بخاری:7139]
اس لیے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرافت قومی اس میں ہے کہ یہ قرآن آپ ہی کی زبان میں اترا ہے۔ لغت قریش میں ہی نازل ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ اسے یہی سمجھیں گے۔ انہیں لائق ہے کہ سب سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ عمل بھی انہی کا اس پر رہے بالخصوص اس میں بڑی بھاری بزرگی ہے ان مہاجرین کرام رضی اللہ عنہم کی جنہوں نے اول اول سبقت کر کے اسلام قبول کیا۔ اور ہجرت میں بھی سب سے پیش پیش رہے اور جو ان کے قدم بہ قدم چلے۔
ذکر کے معنی نصیحت کے بھی کئے گئے ہیں۔ اس صورت میں یہ یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے لئے اس کا نصیحت ہونا دوسروں کے لئے نصیحت نہ ہونے کے معنی میں نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ» [21-الأنبياء:10] یعنی ” بالیقین ہم نے تمہاری طرف کتاب نازل فرمائی جس میں تمہارے لیے نصیحت ہے کیا پس تم عقل نہیں رکھتے؟ “ اور آیت میں ہے «وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ» [26-الشعراء:214] یعنی ” اپنے خاندانی قرابت داروں کو ہوشیار کر دے “۔ غرض نصیحت قرآنی رسالت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم عام ہے کنبہ والوں کو قوم کو اور دنیا کے کل لوگوں کو شامل ہے۔
پھر فرماتا ہے ” تم سے عنقریب سوال ہو گا کہ کہاں تک اس کلام اللہ شریف پر عمل کیا اور کہاں تک اسے مانا؟ تمام رسولوں نے اپنی اپنی قوم کو وہی دعوت دی جو اے آخرالزمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو دے رہے ہیں “۔
کل انبیاء کے دعوت ناموں کا خلاصہ صرف اس قدر ہے کہ انہوں نے توحید پھیلائی اور شرک کو ختم کیا جیسے خود قرآن میں ہے کہ ” ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت نہ کرو “۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں یہ آیت اس طرح ہے «وَاسْأَلْ الَّذِينَ أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمْ قَبْلك رُسُلنَا» پس یہ مثل تفسیر کے ہے نہ تلاوت کے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
تو مطلب یہ ہوا کہ ان سے دریافت کر لے جن میں تجھ سے پہلے ہم اپنے اور رسولوں کو بھیج چکے ہیں۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبیوں سے پوچھ لے یعنی معراج والی رات کو جب کہ انبیاء علیہم السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جمع تھے کہ ہر نبی علیہ السلام توحید سکھانے اور شرک مٹانے کی ہی تعلیم لے کر ہماری جانب سے مبعوث ہوتا رہا۔
صفحہ نمبر8249
باب
پھر فرماتا ہے کہ ” اگرچہ ہم تجھے یہاں سے لے جائیں پھر بھی ہم ان ظالموں سے بدلہ لیے بغیر تو رہیں گے نہیں اگر ہم تجھے تیری آنکھوں سے وہ دکھا دیں جس کا وعدہ ہم نے ان سے کیا ہے تو ہم اس سے عاجز نہیں “۔ غرض اس طرح اور اسطرح دونوں صورتوں میں کفار پر عذاب تو آئے گا ہی۔ لیکن پھر وہ صورت پسند کی گئی جس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت زیادہ تھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فوت نہ کیا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو مغلوب نہ کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ٹھنڈی نہ کر دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی جانوں اور مالوں اور ملکیتوں کے مالک نہ بن گئے۔ یہ تو ہے تفسیر سدی رحمہ اللہ وغیرہ کی۔
لیکن قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اٹھا لیے گئے اور انتقام باقی رہ گیا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں امت میں وہ معاملات نہ دکھائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناپسندیدہ تھے بجز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور تمام انبیاء علیہ السلام کے سامنے ان کی امتوں پر عذاب آئے ہم سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم کرا دیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر کیا کیا وبال آئیں گے اس وقت سے لے کر وصال کے وقت تک کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھل کھلا کر ہنستے ہوئے دیکھے نہیں گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30872:مرسل و ضعیف]
حسن رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح کی روایت ہے ایک حدیث میں ہے ستارے آسمان کے بچاؤ کا سبب ہیں جب ستارے جھڑ جائیں گے تو آسمان پر مصیبت آ جائے گی میں اپنے اصحاب کا ذریعہ امن ہوں میرے جانے کے بعد میرے اصحاب پر وہ آ جائے گا جس کا یہ وعدہ دئیے جاتے ہیں ۔ [صحیح مسلم:2531]
صفحہ نمبر8247
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” جو قرآن تجھ پر نازل کیا گیا ہے جو سراسر حق و صدق ہے جو حقانیت کی سیدھی اور صاف راہ کی راہنمائی کرتا ہے تو اسے مضبوطی کے ساتھ لیے رہ۔ یہی جنت نعیم اور راہ مستقیم کا رہبر ہے اس پر چلنے والا اس کے احکام کو تھامنے والا بہک اور بھٹک نہیں سکتا یہ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے ذکر ہے “ یعنی شرف اور بزرگی ہے۔
صفحہ نمبر8248
بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ امر (یعنی خلافت و امامت) قریش میں ہی رہے گا جو ان سے جھگڑے گا اور چھینے گا اسے اللہ تعالیٰ اوندھے منہ گرائے گا جب تک دین کو قائم رکھیں ۔ [صحیح بخاری:7139]
اس لیے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرافت قومی اس میں ہے کہ یہ قرآن آپ ہی کی زبان میں اترا ہے۔ لغت قریش میں ہی نازل ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ اسے یہی سمجھیں گے۔ انہیں لائق ہے کہ سب سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ عمل بھی انہی کا اس پر رہے بالخصوص اس میں بڑی بھاری بزرگی ہے ان مہاجرین کرام رضی اللہ عنہم کی جنہوں نے اول اول سبقت کر کے اسلام قبول کیا۔ اور ہجرت میں بھی سب سے پیش پیش رہے اور جو ان کے قدم بہ قدم چلے۔
ذکر کے معنی نصیحت کے بھی کئے گئے ہیں۔ اس صورت میں یہ یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے لئے اس کا نصیحت ہونا دوسروں کے لئے نصیحت نہ ہونے کے معنی میں نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ» [21-الأنبياء:10] یعنی ” بالیقین ہم نے تمہاری طرف کتاب نازل فرمائی جس میں تمہارے لیے نصیحت ہے کیا پس تم عقل نہیں رکھتے؟ “ اور آیت میں ہے «وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ» [26-الشعراء:214] یعنی ” اپنے خاندانی قرابت داروں کو ہوشیار کر دے “۔ غرض نصیحت قرآنی رسالت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم عام ہے کنبہ والوں کو قوم کو اور دنیا کے کل لوگوں کو شامل ہے۔
پھر فرماتا ہے ” تم سے عنقریب سوال ہو گا کہ کہاں تک اس کلام اللہ شریف پر عمل کیا اور کہاں تک اسے مانا؟ تمام رسولوں نے اپنی اپنی قوم کو وہی دعوت دی جو اے آخرالزمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو دے رہے ہیں “۔
کل انبیاء کے دعوت ناموں کا خلاصہ صرف اس قدر ہے کہ انہوں نے توحید پھیلائی اور شرک کو ختم کیا جیسے خود قرآن میں ہے کہ ” ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت نہ کرو “۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں یہ آیت اس طرح ہے «وَاسْأَلْ الَّذِينَ أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمْ قَبْلك رُسُلنَا» پس یہ مثل تفسیر کے ہے نہ تلاوت کے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
تو مطلب یہ ہوا کہ ان سے دریافت کر لے جن میں تجھ سے پہلے ہم اپنے اور رسولوں کو بھیج چکے ہیں۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبیوں سے پوچھ لے یعنی معراج والی رات کو جب کہ انبیاء علیہم السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جمع تھے کہ ہر نبی علیہ السلام توحید سکھانے اور شرک مٹانے کی ہی تعلیم لے کر ہماری جانب سے مبعوث ہوتا رہا۔
صفحہ نمبر8249
باب
پھر فرماتا ہے کہ ” اگرچہ ہم تجھے یہاں سے لے جائیں پھر بھی ہم ان ظالموں سے بدلہ لیے بغیر تو رہیں گے نہیں اگر ہم تجھے تیری آنکھوں سے وہ دکھا دیں جس کا وعدہ ہم نے ان سے کیا ہے تو ہم اس سے عاجز نہیں “۔ غرض اس طرح اور اسطرح دونوں صورتوں میں کفار پر عذاب تو آئے گا ہی۔ لیکن پھر وہ صورت پسند کی گئی جس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت زیادہ تھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فوت نہ کیا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو مغلوب نہ کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ٹھنڈی نہ کر دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی جانوں اور مالوں اور ملکیتوں کے مالک نہ بن گئے۔ یہ تو ہے تفسیر سدی رحمہ اللہ وغیرہ کی۔
لیکن قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اٹھا لیے گئے اور انتقام باقی رہ گیا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں امت میں وہ معاملات نہ دکھائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناپسندیدہ تھے بجز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور تمام انبیاء علیہ السلام کے سامنے ان کی امتوں پر عذاب آئے ہم سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم کرا دیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر کیا کیا وبال آئیں گے اس وقت سے لے کر وصال کے وقت تک کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھل کھلا کر ہنستے ہوئے دیکھے نہیں گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30872:مرسل و ضعیف]
حسن رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح کی روایت ہے ایک حدیث میں ہے ستارے آسمان کے بچاؤ کا سبب ہیں جب ستارے جھڑ جائیں گے تو آسمان پر مصیبت آ جائے گی میں اپنے اصحاب کا ذریعہ امن ہوں میرے جانے کے بعد میرے اصحاب پر وہ آ جائے گا جس کا یہ وعدہ دئیے جاتے ہیں ۔ [صحیح مسلم:2531]
صفحہ نمبر8247
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” جو قرآن تجھ پر نازل کیا گیا ہے جو سراسر حق و صدق ہے جو حقانیت کی سیدھی اور صاف راہ کی راہنمائی کرتا ہے تو اسے مضبوطی کے ساتھ لیے رہ۔ یہی جنت نعیم اور راہ مستقیم کا رہبر ہے اس پر چلنے والا اس کے احکام کو تھامنے والا بہک اور بھٹک نہیں سکتا یہ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے ذکر ہے “ یعنی شرف اور بزرگی ہے۔
صفحہ نمبر8248
بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ امر (یعنی خلافت و امامت) قریش میں ہی رہے گا جو ان سے جھگڑے گا اور چھینے گا اسے اللہ تعالیٰ اوندھے منہ گرائے گا جب تک دین کو قائم رکھیں ۔ [صحیح بخاری:7139]
اس لیے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرافت قومی اس میں ہے کہ یہ قرآن آپ ہی کی زبان میں اترا ہے۔ لغت قریش میں ہی نازل ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ اسے یہی سمجھیں گے۔ انہیں لائق ہے کہ سب سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ عمل بھی انہی کا اس پر رہے بالخصوص اس میں بڑی بھاری بزرگی ہے ان مہاجرین کرام رضی اللہ عنہم کی جنہوں نے اول اول سبقت کر کے اسلام قبول کیا۔ اور ہجرت میں بھی سب سے پیش پیش رہے اور جو ان کے قدم بہ قدم چلے۔
ذکر کے معنی نصیحت کے بھی کئے گئے ہیں۔ اس صورت میں یہ یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے لئے اس کا نصیحت ہونا دوسروں کے لئے نصیحت نہ ہونے کے معنی میں نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ» [21-الأنبياء:10] یعنی ” بالیقین ہم نے تمہاری طرف کتاب نازل فرمائی جس میں تمہارے لیے نصیحت ہے کیا پس تم عقل نہیں رکھتے؟ “ اور آیت میں ہے «وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ» [26-الشعراء:214] یعنی ” اپنے خاندانی قرابت داروں کو ہوشیار کر دے “۔ غرض نصیحت قرآنی رسالت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم عام ہے کنبہ والوں کو قوم کو اور دنیا کے کل لوگوں کو شامل ہے۔
پھر فرماتا ہے ” تم سے عنقریب سوال ہو گا کہ کہاں تک اس کلام اللہ شریف پر عمل کیا اور کہاں تک اسے مانا؟ تمام رسولوں نے اپنی اپنی قوم کو وہی دعوت دی جو اے آخرالزمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو دے رہے ہیں “۔
کل انبیاء کے دعوت ناموں کا خلاصہ صرف اس قدر ہے کہ انہوں نے توحید پھیلائی اور شرک کو ختم کیا جیسے خود قرآن میں ہے کہ ” ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت نہ کرو “۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں یہ آیت اس طرح ہے «وَاسْأَلْ الَّذِينَ أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمْ قَبْلك رُسُلنَا» پس یہ مثل تفسیر کے ہے نہ تلاوت کے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
تو مطلب یہ ہوا کہ ان سے دریافت کر لے جن میں تجھ سے پہلے ہم اپنے اور رسولوں کو بھیج چکے ہیں۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبیوں سے پوچھ لے یعنی معراج والی رات کو جب کہ انبیاء علیہم السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جمع تھے کہ ہر نبی علیہ السلام توحید سکھانے اور شرک مٹانے کی ہی تعلیم لے کر ہماری جانب سے مبعوث ہوتا رہا۔
صفحہ نمبر8249
باب
پھر فرماتا ہے کہ ” اگرچہ ہم تجھے یہاں سے لے جائیں پھر بھی ہم ان ظالموں سے بدلہ لیے بغیر تو رہیں گے نہیں اگر ہم تجھے تیری آنکھوں سے وہ دکھا دیں جس کا وعدہ ہم نے ان سے کیا ہے تو ہم اس سے عاجز نہیں “۔ غرض اس طرح اور اسطرح دونوں صورتوں میں کفار پر عذاب تو آئے گا ہی۔ لیکن پھر وہ صورت پسند کی گئی جس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت زیادہ تھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فوت نہ کیا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو مغلوب نہ کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ٹھنڈی نہ کر دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی جانوں اور مالوں اور ملکیتوں کے مالک نہ بن گئے۔ یہ تو ہے تفسیر سدی رحمہ اللہ وغیرہ کی۔
لیکن قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اٹھا لیے گئے اور انتقام باقی رہ گیا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں امت میں وہ معاملات نہ دکھائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناپسندیدہ تھے بجز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور تمام انبیاء علیہ السلام کے سامنے ان کی امتوں پر عذاب آئے ہم سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم کرا دیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر کیا کیا وبال آئیں گے اس وقت سے لے کر وصال کے وقت تک کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھل کھلا کر ہنستے ہوئے دیکھے نہیں گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30872:مرسل و ضعیف]
حسن رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح کی روایت ہے ایک حدیث میں ہے ستارے آسمان کے بچاؤ کا سبب ہیں جب ستارے جھڑ جائیں گے تو آسمان پر مصیبت آ جائے گی میں اپنے اصحاب کا ذریعہ امن ہوں میرے جانے کے بعد میرے اصحاب پر وہ آ جائے گا جس کا یہ وعدہ دئیے جاتے ہیں ۔ [صحیح مسلم:2531]
صفحہ نمبر8247
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” جو قرآن تجھ پر نازل کیا گیا ہے جو سراسر حق و صدق ہے جو حقانیت کی سیدھی اور صاف راہ کی راہنمائی کرتا ہے تو اسے مضبوطی کے ساتھ لیے رہ۔ یہی جنت نعیم اور راہ مستقیم کا رہبر ہے اس پر چلنے والا اس کے احکام کو تھامنے والا بہک اور بھٹک نہیں سکتا یہ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے ذکر ہے “ یعنی شرف اور بزرگی ہے۔
صفحہ نمبر8248
بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ امر (یعنی خلافت و امامت) قریش میں ہی رہے گا جو ان سے جھگڑے گا اور چھینے گا اسے اللہ تعالیٰ اوندھے منہ گرائے گا جب تک دین کو قائم رکھیں ۔ [صحیح بخاری:7139]
اس لیے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرافت قومی اس میں ہے کہ یہ قرآن آپ ہی کی زبان میں اترا ہے۔ لغت قریش میں ہی نازل ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ اسے یہی سمجھیں گے۔ انہیں لائق ہے کہ سب سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ عمل بھی انہی کا اس پر رہے بالخصوص اس میں بڑی بھاری بزرگی ہے ان مہاجرین کرام رضی اللہ عنہم کی جنہوں نے اول اول سبقت کر کے اسلام قبول کیا۔ اور ہجرت میں بھی سب سے پیش پیش رہے اور جو ان کے قدم بہ قدم چلے۔
ذکر کے معنی نصیحت کے بھی کئے گئے ہیں۔ اس صورت میں یہ یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے لئے اس کا نصیحت ہونا دوسروں کے لئے نصیحت نہ ہونے کے معنی میں نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ» [21-الأنبياء:10] یعنی ” بالیقین ہم نے تمہاری طرف کتاب نازل فرمائی جس میں تمہارے لیے نصیحت ہے کیا پس تم عقل نہیں رکھتے؟ “ اور آیت میں ہے «وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ» [26-الشعراء:214] یعنی ” اپنے خاندانی قرابت داروں کو ہوشیار کر دے “۔ غرض نصیحت قرآنی رسالت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم عام ہے کنبہ والوں کو قوم کو اور دنیا کے کل لوگوں کو شامل ہے۔
پھر فرماتا ہے ” تم سے عنقریب سوال ہو گا کہ کہاں تک اس کلام اللہ شریف پر عمل کیا اور کہاں تک اسے مانا؟ تمام رسولوں نے اپنی اپنی قوم کو وہی دعوت دی جو اے آخرالزمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو دے رہے ہیں “۔
کل انبیاء کے دعوت ناموں کا خلاصہ صرف اس قدر ہے کہ انہوں نے توحید پھیلائی اور شرک کو ختم کیا جیسے خود قرآن میں ہے کہ ” ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت نہ کرو “۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں یہ آیت اس طرح ہے «وَاسْأَلْ الَّذِينَ أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمْ قَبْلك رُسُلنَا» پس یہ مثل تفسیر کے ہے نہ تلاوت کے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
تو مطلب یہ ہوا کہ ان سے دریافت کر لے جن میں تجھ سے پہلے ہم اپنے اور رسولوں کو بھیج چکے ہیں۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبیوں سے پوچھ لے یعنی معراج والی رات کو جب کہ انبیاء علیہم السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جمع تھے کہ ہر نبی علیہ السلام توحید سکھانے اور شرک مٹانے کی ہی تعلیم لے کر ہماری جانب سے مبعوث ہوتا رہا۔
صفحہ نمبر8249
باب
پھر فرماتا ہے کہ ” اگرچہ ہم تجھے یہاں سے لے جائیں پھر بھی ہم ان ظالموں سے بدلہ لیے بغیر تو رہیں گے نہیں اگر ہم تجھے تیری آنکھوں سے وہ دکھا دیں جس کا وعدہ ہم نے ان سے کیا ہے تو ہم اس سے عاجز نہیں “۔ غرض اس طرح اور اسطرح دونوں صورتوں میں کفار پر عذاب تو آئے گا ہی۔ لیکن پھر وہ صورت پسند کی گئی جس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت زیادہ تھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فوت نہ کیا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو مغلوب نہ کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ٹھنڈی نہ کر دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی جانوں اور مالوں اور ملکیتوں کے مالک نہ بن گئے۔ یہ تو ہے تفسیر سدی رحمہ اللہ وغیرہ کی۔
لیکن قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اٹھا لیے گئے اور انتقام باقی رہ گیا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں امت میں وہ معاملات نہ دکھائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناپسندیدہ تھے بجز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور تمام انبیاء علیہ السلام کے سامنے ان کی امتوں پر عذاب آئے ہم سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم کرا دیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر کیا کیا وبال آئیں گے اس وقت سے لے کر وصال کے وقت تک کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھل کھلا کر ہنستے ہوئے دیکھے نہیں گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30872:مرسل و ضعیف]
حسن رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح کی روایت ہے ایک حدیث میں ہے ستارے آسمان کے بچاؤ کا سبب ہیں جب ستارے جھڑ جائیں گے تو آسمان پر مصیبت آ جائے گی میں اپنے اصحاب کا ذریعہ امن ہوں میرے جانے کے بعد میرے اصحاب پر وہ آ جائے گا جس کا یہ وعدہ دئیے جاتے ہیں ۔ [صحیح مسلم:2531]
صفحہ نمبر8247
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” جو قرآن تجھ پر نازل کیا گیا ہے جو سراسر حق و صدق ہے جو حقانیت کی سیدھی اور صاف راہ کی راہنمائی کرتا ہے تو اسے مضبوطی کے ساتھ لیے رہ۔ یہی جنت نعیم اور راہ مستقیم کا رہبر ہے اس پر چلنے والا اس کے احکام کو تھامنے والا بہک اور بھٹک نہیں سکتا یہ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے ذکر ہے “ یعنی شرف اور بزرگی ہے۔
صفحہ نمبر8248
بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ امر (یعنی خلافت و امامت) قریش میں ہی رہے گا جو ان سے جھگڑے گا اور چھینے گا اسے اللہ تعالیٰ اوندھے منہ گرائے گا جب تک دین کو قائم رکھیں ۔ [صحیح بخاری:7139]
اس لیے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرافت قومی اس میں ہے کہ یہ قرآن آپ ہی کی زبان میں اترا ہے۔ لغت قریش میں ہی نازل ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ اسے یہی سمجھیں گے۔ انہیں لائق ہے کہ سب سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ عمل بھی انہی کا اس پر رہے بالخصوص اس میں بڑی بھاری بزرگی ہے ان مہاجرین کرام رضی اللہ عنہم کی جنہوں نے اول اول سبقت کر کے اسلام قبول کیا۔ اور ہجرت میں بھی سب سے پیش پیش رہے اور جو ان کے قدم بہ قدم چلے۔
ذکر کے معنی نصیحت کے بھی کئے گئے ہیں۔ اس صورت میں یہ یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے لئے اس کا نصیحت ہونا دوسروں کے لئے نصیحت نہ ہونے کے معنی میں نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ» [21-الأنبياء:10] یعنی ” بالیقین ہم نے تمہاری طرف کتاب نازل فرمائی جس میں تمہارے لیے نصیحت ہے کیا پس تم عقل نہیں رکھتے؟ “ اور آیت میں ہے «وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ» [26-الشعراء:214] یعنی ” اپنے خاندانی قرابت داروں کو ہوشیار کر دے “۔ غرض نصیحت قرآنی رسالت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم عام ہے کنبہ والوں کو قوم کو اور دنیا کے کل لوگوں کو شامل ہے۔
پھر فرماتا ہے ” تم سے عنقریب سوال ہو گا کہ کہاں تک اس کلام اللہ شریف پر عمل کیا اور کہاں تک اسے مانا؟ تمام رسولوں نے اپنی اپنی قوم کو وہی دعوت دی جو اے آخرالزمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو دے رہے ہیں “۔
کل انبیاء کے دعوت ناموں کا خلاصہ صرف اس قدر ہے کہ انہوں نے توحید پھیلائی اور شرک کو ختم کیا جیسے خود قرآن میں ہے کہ ” ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت نہ کرو “۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں یہ آیت اس طرح ہے «وَاسْأَلْ الَّذِينَ أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمْ قَبْلك رُسُلنَا» پس یہ مثل تفسیر کے ہے نہ تلاوت کے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
تو مطلب یہ ہوا کہ ان سے دریافت کر لے جن میں تجھ سے پہلے ہم اپنے اور رسولوں کو بھیج چکے ہیں۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبیوں سے پوچھ لے یعنی معراج والی رات کو جب کہ انبیاء علیہم السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جمع تھے کہ ہر نبی علیہ السلام توحید سکھانے اور شرک مٹانے کی ہی تعلیم لے کر ہماری جانب سے مبعوث ہوتا رہا۔
صفحہ نمبر8249
قلاباز بنی اسرائیل ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جناب باری نے اپنا رسول و نبی فرما کر فرعون اور اس کے امراء اور اس کی رعایا قبطیوں اور بنی اسرائیل کی طرف بھیجا تاکہ آپ علیہ السلام انہیں توحید سکھائیں اور شرک سے بچائیں۔ آپ علیہ السلام کو بڑے بڑے معجزے بھی عطا فرمائے جیسے ہاتھ کا روشن ہو جانا لکڑی کا اژدھابن جانا وغیرہ۔ لیکن فرعونیوں نے اپنے نبی کی کوئی قدر نہ کی بلکہ تکذیب کی اور تمسخر اڑایا۔ اس پر اللہ کا عذاب آیا تاکہ انہیں عبرت بھی ہو۔ اور نبوت موسیٰ علیہ السلام پر دلیل بھی ہو پس طوفان آیا ٹڈیاں آئیں جوئیں آئیں، مینڈک آئے اور کھیت، مال، جان اور پھل وغیرہ کی کمی میں مبتلا ہوئے۔
جب کوئی عذاب آتا تو تلملا اٹھتے موسیٰ علیہ السلام کی خوشامد کرتے انہیں رضامند کرتے ان سے قول قرار کرتے آپ علیہ السلام دعا مانگتے عذاب ہٹ جاتا۔ یہ پھر سرکشی پر اتر آتے پھر عذاب آتا پھر یہی ہوتا۔ ساحر یعنی جادوگر سے وہ بڑا عالم مراد لیتے تھے ان کے زمانے کے علماء کا یہی لقب تھا اور انہی لوگوں میں علم تھا اور ان کے زمانے میں یہ علم مذموم نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ پس ان کا جناب موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر کہہ کر خطاب کرنا بطور عزت کے تھا اعتراض کے طور پر نہ تھا کیونکہ انہیں تو اپنا کام نکالنا تھا۔ ہر بار اقرار کرتے تھے کہ مسلمان ہو جائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کر دیں گے پھر جب عذاب ہٹ جاتا تو وعدہ شکنی کرتے اور قول توڑ دیتے۔ اور آیت «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْاقَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ» الخ [7-الأعراف:133-135] میں اس پورے واقعہ کو بیان فرمایا ہے۔
صفحہ نمبر8254
قلاباز بنی اسرائیل ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جناب باری نے اپنا رسول و نبی فرما کر فرعون اور اس کے امراء اور اس کی رعایا قبطیوں اور بنی اسرائیل کی طرف بھیجا تاکہ آپ علیہ السلام انہیں توحید سکھائیں اور شرک سے بچائیں۔ آپ علیہ السلام کو بڑے بڑے معجزے بھی عطا فرمائے جیسے ہاتھ کا روشن ہو جانا لکڑی کا اژدھابن جانا وغیرہ۔ لیکن فرعونیوں نے اپنے نبی کی کوئی قدر نہ کی بلکہ تکذیب کی اور تمسخر اڑایا۔ اس پر اللہ کا عذاب آیا تاکہ انہیں عبرت بھی ہو۔ اور نبوت موسیٰ علیہ السلام پر دلیل بھی ہو پس طوفان آیا ٹڈیاں آئیں جوئیں آئیں، مینڈک آئے اور کھیت، مال، جان اور پھل وغیرہ کی کمی میں مبتلا ہوئے۔
جب کوئی عذاب آتا تو تلملا اٹھتے موسیٰ علیہ السلام کی خوشامد کرتے انہیں رضامند کرتے ان سے قول قرار کرتے آپ علیہ السلام دعا مانگتے عذاب ہٹ جاتا۔ یہ پھر سرکشی پر اتر آتے پھر عذاب آتا پھر یہی ہوتا۔ ساحر یعنی جادوگر سے وہ بڑا عالم مراد لیتے تھے ان کے زمانے کے علماء کا یہی لقب تھا اور انہی لوگوں میں علم تھا اور ان کے زمانے میں یہ علم مذموم نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ پس ان کا جناب موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر کہہ کر خطاب کرنا بطور عزت کے تھا اعتراض کے طور پر نہ تھا کیونکہ انہیں تو اپنا کام نکالنا تھا۔ ہر بار اقرار کرتے تھے کہ مسلمان ہو جائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کر دیں گے پھر جب عذاب ہٹ جاتا تو وعدہ شکنی کرتے اور قول توڑ دیتے۔ اور آیت «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْاقَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ» الخ [7-الأعراف:133-135] میں اس پورے واقعہ کو بیان فرمایا ہے۔
صفحہ نمبر8254
قلاباز بنی اسرائیل ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جناب باری نے اپنا رسول و نبی فرما کر فرعون اور اس کے امراء اور اس کی رعایا قبطیوں اور بنی اسرائیل کی طرف بھیجا تاکہ آپ علیہ السلام انہیں توحید سکھائیں اور شرک سے بچائیں۔ آپ علیہ السلام کو بڑے بڑے معجزے بھی عطا فرمائے جیسے ہاتھ کا روشن ہو جانا لکڑی کا اژدھابن جانا وغیرہ۔ لیکن فرعونیوں نے اپنے نبی کی کوئی قدر نہ کی بلکہ تکذیب کی اور تمسخر اڑایا۔ اس پر اللہ کا عذاب آیا تاکہ انہیں عبرت بھی ہو۔ اور نبوت موسیٰ علیہ السلام پر دلیل بھی ہو پس طوفان آیا ٹڈیاں آئیں جوئیں آئیں، مینڈک آئے اور کھیت، مال، جان اور پھل وغیرہ کی کمی میں مبتلا ہوئے۔
جب کوئی عذاب آتا تو تلملا اٹھتے موسیٰ علیہ السلام کی خوشامد کرتے انہیں رضامند کرتے ان سے قول قرار کرتے آپ علیہ السلام دعا مانگتے عذاب ہٹ جاتا۔ یہ پھر سرکشی پر اتر آتے پھر عذاب آتا پھر یہی ہوتا۔ ساحر یعنی جادوگر سے وہ بڑا عالم مراد لیتے تھے ان کے زمانے کے علماء کا یہی لقب تھا اور انہی لوگوں میں علم تھا اور ان کے زمانے میں یہ علم مذموم نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ پس ان کا جناب موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر کہہ کر خطاب کرنا بطور عزت کے تھا اعتراض کے طور پر نہ تھا کیونکہ انہیں تو اپنا کام نکالنا تھا۔ ہر بار اقرار کرتے تھے کہ مسلمان ہو جائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کر دیں گے پھر جب عذاب ہٹ جاتا تو وعدہ شکنی کرتے اور قول توڑ دیتے۔ اور آیت «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْاقَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ» الخ [7-الأعراف:133-135] میں اس پورے واقعہ کو بیان فرمایا ہے۔
صفحہ نمبر8254
قلاباز بنی اسرائیل ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جناب باری نے اپنا رسول و نبی فرما کر فرعون اور اس کے امراء اور اس کی رعایا قبطیوں اور بنی اسرائیل کی طرف بھیجا تاکہ آپ علیہ السلام انہیں توحید سکھائیں اور شرک سے بچائیں۔ آپ علیہ السلام کو بڑے بڑے معجزے بھی عطا فرمائے جیسے ہاتھ کا روشن ہو جانا لکڑی کا اژدھابن جانا وغیرہ۔ لیکن فرعونیوں نے اپنے نبی کی کوئی قدر نہ کی بلکہ تکذیب کی اور تمسخر اڑایا۔ اس پر اللہ کا عذاب آیا تاکہ انہیں عبرت بھی ہو۔ اور نبوت موسیٰ علیہ السلام پر دلیل بھی ہو پس طوفان آیا ٹڈیاں آئیں جوئیں آئیں، مینڈک آئے اور کھیت، مال، جان اور پھل وغیرہ کی کمی میں مبتلا ہوئے۔
جب کوئی عذاب آتا تو تلملا اٹھتے موسیٰ علیہ السلام کی خوشامد کرتے انہیں رضامند کرتے ان سے قول قرار کرتے آپ علیہ السلام دعا مانگتے عذاب ہٹ جاتا۔ یہ پھر سرکشی پر اتر آتے پھر عذاب آتا پھر یہی ہوتا۔ ساحر یعنی جادوگر سے وہ بڑا عالم مراد لیتے تھے ان کے زمانے کے علماء کا یہی لقب تھا اور انہی لوگوں میں علم تھا اور ان کے زمانے میں یہ علم مذموم نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ پس ان کا جناب موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر کہہ کر خطاب کرنا بطور عزت کے تھا اعتراض کے طور پر نہ تھا کیونکہ انہیں تو اپنا کام نکالنا تھا۔ ہر بار اقرار کرتے تھے کہ مسلمان ہو جائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کر دیں گے پھر جب عذاب ہٹ جاتا تو وعدہ شکنی کرتے اور قول توڑ دیتے۔ اور آیت «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْاقَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ» الخ [7-الأعراف:133-135] میں اس پورے واقعہ کو بیان فرمایا ہے۔
صفحہ نمبر8254
قلاباز بنی اسرائیل ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جناب باری نے اپنا رسول و نبی فرما کر فرعون اور اس کے امراء اور اس کی رعایا قبطیوں اور بنی اسرائیل کی طرف بھیجا تاکہ آپ علیہ السلام انہیں توحید سکھائیں اور شرک سے بچائیں۔ آپ علیہ السلام کو بڑے بڑے معجزے بھی عطا فرمائے جیسے ہاتھ کا روشن ہو جانا لکڑی کا اژدھابن جانا وغیرہ۔ لیکن فرعونیوں نے اپنے نبی کی کوئی قدر نہ کی بلکہ تکذیب کی اور تمسخر اڑایا۔ اس پر اللہ کا عذاب آیا تاکہ انہیں عبرت بھی ہو۔ اور نبوت موسیٰ علیہ السلام پر دلیل بھی ہو پس طوفان آیا ٹڈیاں آئیں جوئیں آئیں، مینڈک آئے اور کھیت، مال، جان اور پھل وغیرہ کی کمی میں مبتلا ہوئے۔
جب کوئی عذاب آتا تو تلملا اٹھتے موسیٰ علیہ السلام کی خوشامد کرتے انہیں رضامند کرتے ان سے قول قرار کرتے آپ علیہ السلام دعا مانگتے عذاب ہٹ جاتا۔ یہ پھر سرکشی پر اتر آتے پھر عذاب آتا پھر یہی ہوتا۔ ساحر یعنی جادوگر سے وہ بڑا عالم مراد لیتے تھے ان کے زمانے کے علماء کا یہی لقب تھا اور انہی لوگوں میں علم تھا اور ان کے زمانے میں یہ علم مذموم نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ پس ان کا جناب موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر کہہ کر خطاب کرنا بطور عزت کے تھا اعتراض کے طور پر نہ تھا کیونکہ انہیں تو اپنا کام نکالنا تھا۔ ہر بار اقرار کرتے تھے کہ مسلمان ہو جائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کر دیں گے پھر جب عذاب ہٹ جاتا تو وعدہ شکنی کرتے اور قول توڑ دیتے۔ اور آیت «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْاقَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ» الخ [7-الأعراف:133-135] میں اس پورے واقعہ کو بیان فرمایا ہے۔
صفحہ نمبر8254
فرعون کے دعوے ٭٭
فرعون کی سرکشی اور خود بینی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے ان میں بڑی باتیں ہانکنے لگا اور کہا ”کیا میں تنہا ملک مصر کا بادشاہ نہیں ہوں؟ کیا میرے باغات اور محلات میں نہریں جاری نہیں؟ کیا تم میری عظمت و سلطنت کو دیکھ نہیں رہے؟ پھر موسیٰ علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں کو دیکھو جو فقراء اور ضعفاء ہیں۔“
کلام پاک میں اور جگہ ہے «فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ» [79-النازعات:23-25] یعنی ” اس نے جمع کر کے سب سے کہا میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں جس پر اللہ نے اسے یہاں کے اور وہاں کے عذابوں میں گرفتار کیا “۔ «اَمْ» معنی میں «بَل ْ» کے ہے۔ بعض قاریوں کی قرأت «اَمَآ اَناَ» بھی ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر یہ قرأت صحیح ہو جائے تو معنی تو بالکل واضح اور صاف ہو جاتے ہیں لیکن یہ قرأت تمام شہروں کی قرأت کے خلاف ہے سب کی قرأت «اَم ْ» استفہام کا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ” فرعون ملعون اپنے آپ کو کلیم اللہ علیہ السلام سے بہتر و برتر بنا رہا ہے اور یہ دراصل اس ملعون کا جھوٹ ہے “۔ «مُهِیْنٌ» کے معنی حقیر، ضعیف، بے مال، بے شان۔
پھر کہتا ہے ”موسیٰ (علیہ السلام) تو صاف بولنا بھی نہیں جانتا اس کا کلام فصیح نہیں وہ اپنا ما فی الضمیر ادا نہیں کر سکتا۔“ بعض کہتے ہیں بچپن میں آپ علیہ السلام نے اپنے منہ میں آگ کا انگارہ رکھ لیا تھا جس کا اثر زبان پر باقی رہ گیا تھا۔ یہ بھی فرعون کا مکر جھوٹ اور دجل ہے۔
صفحہ نمبر8259
حضرت موسیٰ صاف گو صحیح کلام کرنے والے ذی عزت بارعب و وقار تھے۔ لیکن چونکہ ملعون اپنی کفر کی آنکھ سے نبی اللہ علیہ السلام کو دیکھتا تھا اس لیے اسے یہی نظر آتا تھا۔ حقیقتاً ذلیل و غبی تھا۔
گو موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں بوجہ اس انگارے کے جسے بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا کچھ لکنت تھی لیکن آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور آپ علیہ السلام کی زبان کی گرہ کھل گئی تاکہ آپ علیہ السلام لوگوں کو باآسانی اپنا مدعا سمجھا سکیں۔ اور اگر مان لیا جائے کہ تاہم کچھ باقی رہ گئی تھی کیونکہ دعاء کلیم میں اتنا ہی تھا کہ ” میری زبان کی اس قدر گرہ کھل جائے کہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ “، تو یہ بھی کوئی عیب کی بات نہیں اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو جیسا بنا دیا وہ ویسا ہی ہے اس میں عیب کی کون سی بات ہے؟ دراصل فرعون ایک کلام بنا کر ایک مسودہ گھڑ کر اپنی جاہل رعایا کو بھڑکانا اور بہکانا چاہتا تھا۔
دیکھئیے وہ آگے چل کر کہتا ہے کہ ”کیوں جی اس پر آسمان سے ہن (دولت) کیوں نہیں برستا مالداری تو اسے اتنی ہونی چاہیئے کہ ہاتھ سونے سے پر ہوں لیکن یہ محض مفلس ہے اچھا یہ بھی نہیں تو اللہ اس کے ساتھ فرشتے ہی کر دیتا جو کم از کم ہمیں باور کرا دیتے کہ یہ اللہ کے نبی ہیں۔“ غرض ہزار جتن کر کے لوگوں کو بیوقوف بنا لیا اور انہیں اپنا ہم خیال اور ہم سخن کر لیا۔ یہ خود فاسق فاجر تھے۔
فسق و فجور کی پکار پر فوراً ریجھ گئے پس جب ان کا پیمانہ چھلک گیا اور انہوں نے دل کھول کر رب کی نافرمانی کر اور رب کو خوب ناراض کر دیا تو پھر اللہ کا کوڑا ان کی پیٹھ پر برسا اور اگلے پچھلے سارے کرتوت پکڑ لیے گئے یہاں ایک ساتھ پانی میں غرق کر دئیے گئے وہاں جہنم میں جلتے جھلستے رہیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب کسی انسان کو اللہ دنیا دیتا چلا جائے اور وہ اللہ کی نافرمانیوں پر جما ہوا ہو تو سمجھ لو کہ اللہ نے اسے ڈھیل دے رکھی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف]
صفحہ نمبر8260
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے جب اچانک موت کا ذکر آیا تو فرمایا ”ایماندار پر تو یہ تخفیف ہے اور کافر پر حسرت ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کو پڑھ کر سنایا۔“ [الدرالمنشور للسیوطی:384/7] عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”انتقام غفلت کے ساتھ ہے۔“
پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ” ہم نے انہیں نمونہ بنا دیا کہ ان کے سے کام کرنے والے ان کے انجام کو دیکھ لیں اور یہ مثال یعنی باعث عبرت بن جائے کہ ان کے بعد آنے والے ان کے واقعات پر غور کریں اور اپنا بچاؤ ڈھونڈیں “۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ الْمُوَفِّق لِلصَّوَابِ وَإِلَيْهِ الْمَرْجِع وَالْمَآب»
صفحہ نمبر8261
فرعون کے دعوے ٭٭
فرعون کی سرکشی اور خود بینی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے ان میں بڑی باتیں ہانکنے لگا اور کہا ”کیا میں تنہا ملک مصر کا بادشاہ نہیں ہوں؟ کیا میرے باغات اور محلات میں نہریں جاری نہیں؟ کیا تم میری عظمت و سلطنت کو دیکھ نہیں رہے؟ پھر موسیٰ علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں کو دیکھو جو فقراء اور ضعفاء ہیں۔“
کلام پاک میں اور جگہ ہے «فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ» [79-النازعات:23-25] یعنی ” اس نے جمع کر کے سب سے کہا میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں جس پر اللہ نے اسے یہاں کے اور وہاں کے عذابوں میں گرفتار کیا “۔ «اَمْ» معنی میں «بَل ْ» کے ہے۔ بعض قاریوں کی قرأت «اَمَآ اَناَ» بھی ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر یہ قرأت صحیح ہو جائے تو معنی تو بالکل واضح اور صاف ہو جاتے ہیں لیکن یہ قرأت تمام شہروں کی قرأت کے خلاف ہے سب کی قرأت «اَم ْ» استفہام کا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ” فرعون ملعون اپنے آپ کو کلیم اللہ علیہ السلام سے بہتر و برتر بنا رہا ہے اور یہ دراصل اس ملعون کا جھوٹ ہے “۔ «مُهِیْنٌ» کے معنی حقیر، ضعیف، بے مال، بے شان۔
پھر کہتا ہے ”موسیٰ (علیہ السلام) تو صاف بولنا بھی نہیں جانتا اس کا کلام فصیح نہیں وہ اپنا ما فی الضمیر ادا نہیں کر سکتا۔“ بعض کہتے ہیں بچپن میں آپ علیہ السلام نے اپنے منہ میں آگ کا انگارہ رکھ لیا تھا جس کا اثر زبان پر باقی رہ گیا تھا۔ یہ بھی فرعون کا مکر جھوٹ اور دجل ہے۔
صفحہ نمبر8259
حضرت موسیٰ صاف گو صحیح کلام کرنے والے ذی عزت بارعب و وقار تھے۔ لیکن چونکہ ملعون اپنی کفر کی آنکھ سے نبی اللہ علیہ السلام کو دیکھتا تھا اس لیے اسے یہی نظر آتا تھا۔ حقیقتاً ذلیل و غبی تھا۔
گو موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں بوجہ اس انگارے کے جسے بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا کچھ لکنت تھی لیکن آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور آپ علیہ السلام کی زبان کی گرہ کھل گئی تاکہ آپ علیہ السلام لوگوں کو باآسانی اپنا مدعا سمجھا سکیں۔ اور اگر مان لیا جائے کہ تاہم کچھ باقی رہ گئی تھی کیونکہ دعاء کلیم میں اتنا ہی تھا کہ ” میری زبان کی اس قدر گرہ کھل جائے کہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ “، تو یہ بھی کوئی عیب کی بات نہیں اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو جیسا بنا دیا وہ ویسا ہی ہے اس میں عیب کی کون سی بات ہے؟ دراصل فرعون ایک کلام بنا کر ایک مسودہ گھڑ کر اپنی جاہل رعایا کو بھڑکانا اور بہکانا چاہتا تھا۔
دیکھئیے وہ آگے چل کر کہتا ہے کہ ”کیوں جی اس پر آسمان سے ہن (دولت) کیوں نہیں برستا مالداری تو اسے اتنی ہونی چاہیئے کہ ہاتھ سونے سے پر ہوں لیکن یہ محض مفلس ہے اچھا یہ بھی نہیں تو اللہ اس کے ساتھ فرشتے ہی کر دیتا جو کم از کم ہمیں باور کرا دیتے کہ یہ اللہ کے نبی ہیں۔“ غرض ہزار جتن کر کے لوگوں کو بیوقوف بنا لیا اور انہیں اپنا ہم خیال اور ہم سخن کر لیا۔ یہ خود فاسق فاجر تھے۔
فسق و فجور کی پکار پر فوراً ریجھ گئے پس جب ان کا پیمانہ چھلک گیا اور انہوں نے دل کھول کر رب کی نافرمانی کر اور رب کو خوب ناراض کر دیا تو پھر اللہ کا کوڑا ان کی پیٹھ پر برسا اور اگلے پچھلے سارے کرتوت پکڑ لیے گئے یہاں ایک ساتھ پانی میں غرق کر دئیے گئے وہاں جہنم میں جلتے جھلستے رہیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب کسی انسان کو اللہ دنیا دیتا چلا جائے اور وہ اللہ کی نافرمانیوں پر جما ہوا ہو تو سمجھ لو کہ اللہ نے اسے ڈھیل دے رکھی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف]
صفحہ نمبر8260
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے جب اچانک موت کا ذکر آیا تو فرمایا ”ایماندار پر تو یہ تخفیف ہے اور کافر پر حسرت ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کو پڑھ کر سنایا۔“ [الدرالمنشور للسیوطی:384/7] عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”انتقام غفلت کے ساتھ ہے۔“
پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ” ہم نے انہیں نمونہ بنا دیا کہ ان کے سے کام کرنے والے ان کے انجام کو دیکھ لیں اور یہ مثال یعنی باعث عبرت بن جائے کہ ان کے بعد آنے والے ان کے واقعات پر غور کریں اور اپنا بچاؤ ڈھونڈیں “۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ الْمُوَفِّق لِلصَّوَابِ وَإِلَيْهِ الْمَرْجِع وَالْمَآب»
صفحہ نمبر8261
فرعون کے دعوے ٭٭
فرعون کی سرکشی اور خود بینی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے ان میں بڑی باتیں ہانکنے لگا اور کہا ”کیا میں تنہا ملک مصر کا بادشاہ نہیں ہوں؟ کیا میرے باغات اور محلات میں نہریں جاری نہیں؟ کیا تم میری عظمت و سلطنت کو دیکھ نہیں رہے؟ پھر موسیٰ علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں کو دیکھو جو فقراء اور ضعفاء ہیں۔“
کلام پاک میں اور جگہ ہے «فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ» [79-النازعات:23-25] یعنی ” اس نے جمع کر کے سب سے کہا میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں جس پر اللہ نے اسے یہاں کے اور وہاں کے عذابوں میں گرفتار کیا “۔ «اَمْ» معنی میں «بَل ْ» کے ہے۔ بعض قاریوں کی قرأت «اَمَآ اَناَ» بھی ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر یہ قرأت صحیح ہو جائے تو معنی تو بالکل واضح اور صاف ہو جاتے ہیں لیکن یہ قرأت تمام شہروں کی قرأت کے خلاف ہے سب کی قرأت «اَم ْ» استفہام کا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ” فرعون ملعون اپنے آپ کو کلیم اللہ علیہ السلام سے بہتر و برتر بنا رہا ہے اور یہ دراصل اس ملعون کا جھوٹ ہے “۔ «مُهِیْنٌ» کے معنی حقیر، ضعیف، بے مال، بے شان۔
پھر کہتا ہے ”موسیٰ (علیہ السلام) تو صاف بولنا بھی نہیں جانتا اس کا کلام فصیح نہیں وہ اپنا ما فی الضمیر ادا نہیں کر سکتا۔“ بعض کہتے ہیں بچپن میں آپ علیہ السلام نے اپنے منہ میں آگ کا انگارہ رکھ لیا تھا جس کا اثر زبان پر باقی رہ گیا تھا۔ یہ بھی فرعون کا مکر جھوٹ اور دجل ہے۔
صفحہ نمبر8259
حضرت موسیٰ صاف گو صحیح کلام کرنے والے ذی عزت بارعب و وقار تھے۔ لیکن چونکہ ملعون اپنی کفر کی آنکھ سے نبی اللہ علیہ السلام کو دیکھتا تھا اس لیے اسے یہی نظر آتا تھا۔ حقیقتاً ذلیل و غبی تھا۔
گو موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں بوجہ اس انگارے کے جسے بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا کچھ لکنت تھی لیکن آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور آپ علیہ السلام کی زبان کی گرہ کھل گئی تاکہ آپ علیہ السلام لوگوں کو باآسانی اپنا مدعا سمجھا سکیں۔ اور اگر مان لیا جائے کہ تاہم کچھ باقی رہ گئی تھی کیونکہ دعاء کلیم میں اتنا ہی تھا کہ ” میری زبان کی اس قدر گرہ کھل جائے کہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ “، تو یہ بھی کوئی عیب کی بات نہیں اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو جیسا بنا دیا وہ ویسا ہی ہے اس میں عیب کی کون سی بات ہے؟ دراصل فرعون ایک کلام بنا کر ایک مسودہ گھڑ کر اپنی جاہل رعایا کو بھڑکانا اور بہکانا چاہتا تھا۔
دیکھئیے وہ آگے چل کر کہتا ہے کہ ”کیوں جی اس پر آسمان سے ہن (دولت) کیوں نہیں برستا مالداری تو اسے اتنی ہونی چاہیئے کہ ہاتھ سونے سے پر ہوں لیکن یہ محض مفلس ہے اچھا یہ بھی نہیں تو اللہ اس کے ساتھ فرشتے ہی کر دیتا جو کم از کم ہمیں باور کرا دیتے کہ یہ اللہ کے نبی ہیں۔“ غرض ہزار جتن کر کے لوگوں کو بیوقوف بنا لیا اور انہیں اپنا ہم خیال اور ہم سخن کر لیا۔ یہ خود فاسق فاجر تھے۔
فسق و فجور کی پکار پر فوراً ریجھ گئے پس جب ان کا پیمانہ چھلک گیا اور انہوں نے دل کھول کر رب کی نافرمانی کر اور رب کو خوب ناراض کر دیا تو پھر اللہ کا کوڑا ان کی پیٹھ پر برسا اور اگلے پچھلے سارے کرتوت پکڑ لیے گئے یہاں ایک ساتھ پانی میں غرق کر دئیے گئے وہاں جہنم میں جلتے جھلستے رہیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب کسی انسان کو اللہ دنیا دیتا چلا جائے اور وہ اللہ کی نافرمانیوں پر جما ہوا ہو تو سمجھ لو کہ اللہ نے اسے ڈھیل دے رکھی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف]
صفحہ نمبر8260
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے جب اچانک موت کا ذکر آیا تو فرمایا ”ایماندار پر تو یہ تخفیف ہے اور کافر پر حسرت ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کو پڑھ کر سنایا۔“ [الدرالمنشور للسیوطی:384/7] عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”انتقام غفلت کے ساتھ ہے۔“
پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ” ہم نے انہیں نمونہ بنا دیا کہ ان کے سے کام کرنے والے ان کے انجام کو دیکھ لیں اور یہ مثال یعنی باعث عبرت بن جائے کہ ان کے بعد آنے والے ان کے واقعات پر غور کریں اور اپنا بچاؤ ڈھونڈیں “۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ الْمُوَفِّق لِلصَّوَابِ وَإِلَيْهِ الْمَرْجِع وَالْمَآب»
صفحہ نمبر8261
فرعون کے دعوے ٭٭
فرعون کی سرکشی اور خود بینی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے ان میں بڑی باتیں ہانکنے لگا اور کہا ”کیا میں تنہا ملک مصر کا بادشاہ نہیں ہوں؟ کیا میرے باغات اور محلات میں نہریں جاری نہیں؟ کیا تم میری عظمت و سلطنت کو دیکھ نہیں رہے؟ پھر موسیٰ علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں کو دیکھو جو فقراء اور ضعفاء ہیں۔“
کلام پاک میں اور جگہ ہے «فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ» [79-النازعات:23-25] یعنی ” اس نے جمع کر کے سب سے کہا میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں جس پر اللہ نے اسے یہاں کے اور وہاں کے عذابوں میں گرفتار کیا “۔ «اَمْ» معنی میں «بَل ْ» کے ہے۔ بعض قاریوں کی قرأت «اَمَآ اَناَ» بھی ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر یہ قرأت صحیح ہو جائے تو معنی تو بالکل واضح اور صاف ہو جاتے ہیں لیکن یہ قرأت تمام شہروں کی قرأت کے خلاف ہے سب کی قرأت «اَم ْ» استفہام کا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ” فرعون ملعون اپنے آپ کو کلیم اللہ علیہ السلام سے بہتر و برتر بنا رہا ہے اور یہ دراصل اس ملعون کا جھوٹ ہے “۔ «مُهِیْنٌ» کے معنی حقیر، ضعیف، بے مال، بے شان۔
پھر کہتا ہے ”موسیٰ (علیہ السلام) تو صاف بولنا بھی نہیں جانتا اس کا کلام فصیح نہیں وہ اپنا ما فی الضمیر ادا نہیں کر سکتا۔“ بعض کہتے ہیں بچپن میں آپ علیہ السلام نے اپنے منہ میں آگ کا انگارہ رکھ لیا تھا جس کا اثر زبان پر باقی رہ گیا تھا۔ یہ بھی فرعون کا مکر جھوٹ اور دجل ہے۔
صفحہ نمبر8259
حضرت موسیٰ صاف گو صحیح کلام کرنے والے ذی عزت بارعب و وقار تھے۔ لیکن چونکہ ملعون اپنی کفر کی آنکھ سے نبی اللہ علیہ السلام کو دیکھتا تھا اس لیے اسے یہی نظر آتا تھا۔ حقیقتاً ذلیل و غبی تھا۔
گو موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں بوجہ اس انگارے کے جسے بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا کچھ لکنت تھی لیکن آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور آپ علیہ السلام کی زبان کی گرہ کھل گئی تاکہ آپ علیہ السلام لوگوں کو باآسانی اپنا مدعا سمجھا سکیں۔ اور اگر مان لیا جائے کہ تاہم کچھ باقی رہ گئی تھی کیونکہ دعاء کلیم میں اتنا ہی تھا کہ ” میری زبان کی اس قدر گرہ کھل جائے کہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ “، تو یہ بھی کوئی عیب کی بات نہیں اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو جیسا بنا دیا وہ ویسا ہی ہے اس میں عیب کی کون سی بات ہے؟ دراصل فرعون ایک کلام بنا کر ایک مسودہ گھڑ کر اپنی جاہل رعایا کو بھڑکانا اور بہکانا چاہتا تھا۔
دیکھئیے وہ آگے چل کر کہتا ہے کہ ”کیوں جی اس پر آسمان سے ہن (دولت) کیوں نہیں برستا مالداری تو اسے اتنی ہونی چاہیئے کہ ہاتھ سونے سے پر ہوں لیکن یہ محض مفلس ہے اچھا یہ بھی نہیں تو اللہ اس کے ساتھ فرشتے ہی کر دیتا جو کم از کم ہمیں باور کرا دیتے کہ یہ اللہ کے نبی ہیں۔“ غرض ہزار جتن کر کے لوگوں کو بیوقوف بنا لیا اور انہیں اپنا ہم خیال اور ہم سخن کر لیا۔ یہ خود فاسق فاجر تھے۔
فسق و فجور کی پکار پر فوراً ریجھ گئے پس جب ان کا پیمانہ چھلک گیا اور انہوں نے دل کھول کر رب کی نافرمانی کر اور رب کو خوب ناراض کر دیا تو پھر اللہ کا کوڑا ان کی پیٹھ پر برسا اور اگلے پچھلے سارے کرتوت پکڑ لیے گئے یہاں ایک ساتھ پانی میں غرق کر دئیے گئے وہاں جہنم میں جلتے جھلستے رہیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب کسی انسان کو اللہ دنیا دیتا چلا جائے اور وہ اللہ کی نافرمانیوں پر جما ہوا ہو تو سمجھ لو کہ اللہ نے اسے ڈھیل دے رکھی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف]
صفحہ نمبر8260
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے جب اچانک موت کا ذکر آیا تو فرمایا ”ایماندار پر تو یہ تخفیف ہے اور کافر پر حسرت ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کو پڑھ کر سنایا۔“ [الدرالمنشور للسیوطی:384/7] عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”انتقام غفلت کے ساتھ ہے۔“
پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ” ہم نے انہیں نمونہ بنا دیا کہ ان کے سے کام کرنے والے ان کے انجام کو دیکھ لیں اور یہ مثال یعنی باعث عبرت بن جائے کہ ان کے بعد آنے والے ان کے واقعات پر غور کریں اور اپنا بچاؤ ڈھونڈیں “۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ الْمُوَفِّق لِلصَّوَابِ وَإِلَيْهِ الْمَرْجِع وَالْمَآب»
صفحہ نمبر8261
فرعون کے دعوے ٭٭
فرعون کی سرکشی اور خود بینی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے ان میں بڑی باتیں ہانکنے لگا اور کہا ”کیا میں تنہا ملک مصر کا بادشاہ نہیں ہوں؟ کیا میرے باغات اور محلات میں نہریں جاری نہیں؟ کیا تم میری عظمت و سلطنت کو دیکھ نہیں رہے؟ پھر موسیٰ علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں کو دیکھو جو فقراء اور ضعفاء ہیں۔“
کلام پاک میں اور جگہ ہے «فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ» [79-النازعات:23-25] یعنی ” اس نے جمع کر کے سب سے کہا میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں جس پر اللہ نے اسے یہاں کے اور وہاں کے عذابوں میں گرفتار کیا “۔ «اَمْ» معنی میں «بَل ْ» کے ہے۔ بعض قاریوں کی قرأت «اَمَآ اَناَ» بھی ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر یہ قرأت صحیح ہو جائے تو معنی تو بالکل واضح اور صاف ہو جاتے ہیں لیکن یہ قرأت تمام شہروں کی قرأت کے خلاف ہے سب کی قرأت «اَم ْ» استفہام کا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ” فرعون ملعون اپنے آپ کو کلیم اللہ علیہ السلام سے بہتر و برتر بنا رہا ہے اور یہ دراصل اس ملعون کا جھوٹ ہے “۔ «مُهِیْنٌ» کے معنی حقیر، ضعیف، بے مال، بے شان۔
پھر کہتا ہے ”موسیٰ (علیہ السلام) تو صاف بولنا بھی نہیں جانتا اس کا کلام فصیح نہیں وہ اپنا ما فی الضمیر ادا نہیں کر سکتا۔“ بعض کہتے ہیں بچپن میں آپ علیہ السلام نے اپنے منہ میں آگ کا انگارہ رکھ لیا تھا جس کا اثر زبان پر باقی رہ گیا تھا۔ یہ بھی فرعون کا مکر جھوٹ اور دجل ہے۔
صفحہ نمبر8259
حضرت موسیٰ صاف گو صحیح کلام کرنے والے ذی عزت بارعب و وقار تھے۔ لیکن چونکہ ملعون اپنی کفر کی آنکھ سے نبی اللہ علیہ السلام کو دیکھتا تھا اس لیے اسے یہی نظر آتا تھا۔ حقیقتاً ذلیل و غبی تھا۔
گو موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں بوجہ اس انگارے کے جسے بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا کچھ لکنت تھی لیکن آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور آپ علیہ السلام کی زبان کی گرہ کھل گئی تاکہ آپ علیہ السلام لوگوں کو باآسانی اپنا مدعا سمجھا سکیں۔ اور اگر مان لیا جائے کہ تاہم کچھ باقی رہ گئی تھی کیونکہ دعاء کلیم میں اتنا ہی تھا کہ ” میری زبان کی اس قدر گرہ کھل جائے کہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ “، تو یہ بھی کوئی عیب کی بات نہیں اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو جیسا بنا دیا وہ ویسا ہی ہے اس میں عیب کی کون سی بات ہے؟ دراصل فرعون ایک کلام بنا کر ایک مسودہ گھڑ کر اپنی جاہل رعایا کو بھڑکانا اور بہکانا چاہتا تھا۔
دیکھئیے وہ آگے چل کر کہتا ہے کہ ”کیوں جی اس پر آسمان سے ہن (دولت) کیوں نہیں برستا مالداری تو اسے اتنی ہونی چاہیئے کہ ہاتھ سونے سے پر ہوں لیکن یہ محض مفلس ہے اچھا یہ بھی نہیں تو اللہ اس کے ساتھ فرشتے ہی کر دیتا جو کم از کم ہمیں باور کرا دیتے کہ یہ اللہ کے نبی ہیں۔“ غرض ہزار جتن کر کے لوگوں کو بیوقوف بنا لیا اور انہیں اپنا ہم خیال اور ہم سخن کر لیا۔ یہ خود فاسق فاجر تھے۔
فسق و فجور کی پکار پر فوراً ریجھ گئے پس جب ان کا پیمانہ چھلک گیا اور انہوں نے دل کھول کر رب کی نافرمانی کر اور رب کو خوب ناراض کر دیا تو پھر اللہ کا کوڑا ان کی پیٹھ پر برسا اور اگلے پچھلے سارے کرتوت پکڑ لیے گئے یہاں ایک ساتھ پانی میں غرق کر دئیے گئے وہاں جہنم میں جلتے جھلستے رہیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب کسی انسان کو اللہ دنیا دیتا چلا جائے اور وہ اللہ کی نافرمانیوں پر جما ہوا ہو تو سمجھ لو کہ اللہ نے اسے ڈھیل دے رکھی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف]
صفحہ نمبر8260
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے جب اچانک موت کا ذکر آیا تو فرمایا ”ایماندار پر تو یہ تخفیف ہے اور کافر پر حسرت ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کو پڑھ کر سنایا۔“ [الدرالمنشور للسیوطی:384/7] عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”انتقام غفلت کے ساتھ ہے۔“
پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ” ہم نے انہیں نمونہ بنا دیا کہ ان کے سے کام کرنے والے ان کے انجام کو دیکھ لیں اور یہ مثال یعنی باعث عبرت بن جائے کہ ان کے بعد آنے والے ان کے واقعات پر غور کریں اور اپنا بچاؤ ڈھونڈیں “۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ الْمُوَفِّق لِلصَّوَابِ وَإِلَيْهِ الْمَرْجِع وَالْمَآب»
صفحہ نمبر8261
فرعون کے دعوے ٭٭
فرعون کی سرکشی اور خود بینی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے ان میں بڑی باتیں ہانکنے لگا اور کہا ”کیا میں تنہا ملک مصر کا بادشاہ نہیں ہوں؟ کیا میرے باغات اور محلات میں نہریں جاری نہیں؟ کیا تم میری عظمت و سلطنت کو دیکھ نہیں رہے؟ پھر موسیٰ علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں کو دیکھو جو فقراء اور ضعفاء ہیں۔“
کلام پاک میں اور جگہ ہے «فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ» [79-النازعات:23-25] یعنی ” اس نے جمع کر کے سب سے کہا میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں جس پر اللہ نے اسے یہاں کے اور وہاں کے عذابوں میں گرفتار کیا “۔ «اَمْ» معنی میں «بَل ْ» کے ہے۔ بعض قاریوں کی قرأت «اَمَآ اَناَ» بھی ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر یہ قرأت صحیح ہو جائے تو معنی تو بالکل واضح اور صاف ہو جاتے ہیں لیکن یہ قرأت تمام شہروں کی قرأت کے خلاف ہے سب کی قرأت «اَم ْ» استفہام کا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ” فرعون ملعون اپنے آپ کو کلیم اللہ علیہ السلام سے بہتر و برتر بنا رہا ہے اور یہ دراصل اس ملعون کا جھوٹ ہے “۔ «مُهِیْنٌ» کے معنی حقیر، ضعیف، بے مال، بے شان۔
پھر کہتا ہے ”موسیٰ (علیہ السلام) تو صاف بولنا بھی نہیں جانتا اس کا کلام فصیح نہیں وہ اپنا ما فی الضمیر ادا نہیں کر سکتا۔“ بعض کہتے ہیں بچپن میں آپ علیہ السلام نے اپنے منہ میں آگ کا انگارہ رکھ لیا تھا جس کا اثر زبان پر باقی رہ گیا تھا۔ یہ بھی فرعون کا مکر جھوٹ اور دجل ہے۔
صفحہ نمبر8259
حضرت موسیٰ صاف گو صحیح کلام کرنے والے ذی عزت بارعب و وقار تھے۔ لیکن چونکہ ملعون اپنی کفر کی آنکھ سے نبی اللہ علیہ السلام کو دیکھتا تھا اس لیے اسے یہی نظر آتا تھا۔ حقیقتاً ذلیل و غبی تھا۔
گو موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں بوجہ اس انگارے کے جسے بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا کچھ لکنت تھی لیکن آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور آپ علیہ السلام کی زبان کی گرہ کھل گئی تاکہ آپ علیہ السلام لوگوں کو باآسانی اپنا مدعا سمجھا سکیں۔ اور اگر مان لیا جائے کہ تاہم کچھ باقی رہ گئی تھی کیونکہ دعاء کلیم میں اتنا ہی تھا کہ ” میری زبان کی اس قدر گرہ کھل جائے کہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ “، تو یہ بھی کوئی عیب کی بات نہیں اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو جیسا بنا دیا وہ ویسا ہی ہے اس میں عیب کی کون سی بات ہے؟ دراصل فرعون ایک کلام بنا کر ایک مسودہ گھڑ کر اپنی جاہل رعایا کو بھڑکانا اور بہکانا چاہتا تھا۔
دیکھئیے وہ آگے چل کر کہتا ہے کہ ”کیوں جی اس پر آسمان سے ہن (دولت) کیوں نہیں برستا مالداری تو اسے اتنی ہونی چاہیئے کہ ہاتھ سونے سے پر ہوں لیکن یہ محض مفلس ہے اچھا یہ بھی نہیں تو اللہ اس کے ساتھ فرشتے ہی کر دیتا جو کم از کم ہمیں باور کرا دیتے کہ یہ اللہ کے نبی ہیں۔“ غرض ہزار جتن کر کے لوگوں کو بیوقوف بنا لیا اور انہیں اپنا ہم خیال اور ہم سخن کر لیا۔ یہ خود فاسق فاجر تھے۔
فسق و فجور کی پکار پر فوراً ریجھ گئے پس جب ان کا پیمانہ چھلک گیا اور انہوں نے دل کھول کر رب کی نافرمانی کر اور رب کو خوب ناراض کر دیا تو پھر اللہ کا کوڑا ان کی پیٹھ پر برسا اور اگلے پچھلے سارے کرتوت پکڑ لیے گئے یہاں ایک ساتھ پانی میں غرق کر دئیے گئے وہاں جہنم میں جلتے جھلستے رہیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب کسی انسان کو اللہ دنیا دیتا چلا جائے اور وہ اللہ کی نافرمانیوں پر جما ہوا ہو تو سمجھ لو کہ اللہ نے اسے ڈھیل دے رکھی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف]
صفحہ نمبر8260
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے جب اچانک موت کا ذکر آیا تو فرمایا ”ایماندار پر تو یہ تخفیف ہے اور کافر پر حسرت ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کو پڑھ کر سنایا۔“ [الدرالمنشور للسیوطی:384/7] عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”انتقام غفلت کے ساتھ ہے۔“
پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ” ہم نے انہیں نمونہ بنا دیا کہ ان کے سے کام کرنے والے ان کے انجام کو دیکھ لیں اور یہ مثال یعنی باعث عبرت بن جائے کہ ان کے بعد آنے والے ان کے واقعات پر غور کریں اور اپنا بچاؤ ڈھونڈیں “۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ الْمُوَفِّق لِلصَّوَابِ وَإِلَيْهِ الْمَرْجِع وَالْمَآب»
صفحہ نمبر8261
قیامت کے قریب نزول عیسیٰ علیہ السلام ٭٭
«يَصِدُّونَ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ،مجاہد،عکرمہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم نے کئے ہیں کہ ”وہ ہنسنے لگے“ یعنی اس سے ”انہیں تعجب معلوم ہوا۔“
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”گھبرا کر بول پڑے۔“ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول ہے ”منہ پھیرنے لگے۔“
اس کی وجہ جو امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ نے اپنی سیرت میں بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولید بن مغیرہ وغیرہ قریشیوں کے پاس تشریف فرما تھے جو نضر بن حارث آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ باتیں کرنے لگا جس میں وہ لاجواب ہو گیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ» [21-الأنبياء:98] ، آیتوں تک پڑھ کر سنائیں یعنی ” تم اور تمہارے معبود سب جہنم میں جھونک دئیے جاؤ گے “ ۔
صفحہ نمبر8267
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے گئے تھوڑی ہی دیر میں عبداللہ بن زہیری تمیمی آیا تو ولید بن مغیرہ نے اس سے کہا نضر بن حارث تو ابن عبدالمطلب سے ہار گیا اور بالآخر ابن عبدالمطلب ہمیں اور ہمارے معبودوں کو جہنم کا ایندھن کہتے ہوئے چلے گئے۔
اس نے کہا اگر میں ہوتا تو خود انہیں لاجواب کر دیتا جاؤ ذرا ان سے پوچھو تو کہ جب ہم اور ہمارے سارے معبود دوزخی ہیں تو لازم آیا کہ سارے فرشتے اور عزیر اور مسیح علیہم السلام بھی جہنم میں جائیں گے کیونکہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود عزیر علیہ السلام کی پرستش کرتے ہیں نصرانی عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت کرتے ہیں۔ اس پر مجلس کے کفار بہت خوش ہوئے اور کہا ہاں یہ جواب بہت ٹھیک ہے۔ لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ شخص جو غیر اللہ کی عبادت کرے اور ہر وہ شخص جو اپنی عبادت اپنی خوشی سے کرائے یہ دونوں عابد و معبود جہنمی ہیں فرشتوں یا نبیوں نے نہ اپنی عبادت کا حکم دیا نہ وہ اس سے خوش۔ ان کے نام سے دراصل یہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں وہی انہیں شرک کا حکم دیتا ہے۔ اور یہ بجا لاتے ہیں ۔
صفحہ نمبر8268
اس پر آیت «إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَـٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ» [21-الأنبياء:101] ، نازل ہوئی یعنی ”عیسیٰ، عزیر، اور ان کے علاوہ جن احبار و رہبان کی پرستش یہ لوگ کرتے ہیں اور خود وہ اللہ کی اطاعت پر تھے شرک سے بیزار اور اس سے روکنے والے تھے اور ان کے بعد گمراہوں جاہلوں نے انہیں معبود بنا لیا تو وہ محض بے قصور ہیں۔“
اور فرشتوں کو جو مشرکین اللہ کی بیٹیاں مان کر پوجتے تھے ان کی تردید میں آیت «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ» [21-الأنبياء:26] ، سے کئی آیتوں تک نازل ہوئیں اور ان کے اس باطل عقیدے کی پوری تردید کر دی۔
اور عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اس نے جو جواب دیا تھا جس پر مشرکین خوش ہوئے تھے یہ آیتیں اتریں کہ ” اس قول کو سنتے ہی کہ معبودان باطل بھی اپنے عابدوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے انہوں نے جھٹ سے عیسیٰ کی ذات گرامی کو پیش کر دیا اور یہ سنتے ہی مارے خوشی کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے مشرک اچھل پڑے اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے لگے کہ ہم نے دبا لیا۔ ان سے کہو کہ عیسیٰ علیہ السلام نے کسی سے اپنی یا کسی اور کی پرستش نہیں کرائی وہ تو خود برابر ہماری غلامی میں لگے رہے اور ہم نے بھی انہیں اپنی بہترین نعمتیں عطا فرمائیں۔ ان کے ہاتھوں جو معجزات دنیا کو دکھائے وہ قیامت کی دلیل تھے “۔
سیدنا ابن عباس سے ابن جریر میں ہے کہ مشرکین نے اپنے معبودوں کا جہنمی ہونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن کر کہا کہ ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن مریم علیہ السلام کی نسبت کیا کہتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ اب کوئی جواب ان کے پاس نہ رہا تو کہنے لگے واللہ یہ تو چاہتے ہیں کہ جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ مان لیا ہے ہم بھی انہیں رب مان لیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” یہ تو صرف بکواس ہے کھسیانے ہو کر بے تکی باتیں کرنے لگے ہیں “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:86/25:ضعیف]
صفحہ نمبر8269
مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”قرآن میں ایک آیت ہے مجھ سے کسی نے اس کی تفسیر نہیں پوچھی۔ میں نہیں جانتا کہ کیا ہر ایک اسے جانتا ہے یا نہ جان کر پھر بھی جاننے کی کوشش نہیں کرتے؟“ پھر اور باتیں بیان فرماتے رہے یہاں تک کہ مجلس ختم ہوئی اور آپ چلے گئے۔ اب ہمیں بڑا افسوس ہونے لگا کہ وہ آیت تو پھر بھی رہ گئی اور ہم میں سے کسی نے دریافت ہی نہ کیا۔ اس پر ابن عقیل انصاری کے مولیٰ ابویحییٰ نے کہا کہ اچھا کل صبح جب تشریف لائیں گے تو میں پوچھ لوں گا۔ دوسرے دن جو آئے تو میں نے ان کی کل کی بات دہرائی اور ان سے دریافت کیا کہ وہ کون سی آیت ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں سنو! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ قریش سے فرمایا کوئی ایسا نہیں جس کی عبادت اللہ کے سوا کی جاتی ہو اور اس میں خیر ہو ۔“
اس پر قریش نے کہا کیا عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت نہیں کرتے؟ اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا نبی اور اس کا برگذیدہ نیک بندہ نہیں مانتے؟ پھر اس کا کیا مطلب ہوا کہ اللہ کے سوا جس کی عبادت کی جاتی ہے وہ خیر سے خالی ہے؟ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ کہ جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا ذکر آیا تو لوگ ہنسنے لگے۔ ” وہ قیامت کا علم ہیں “ یعنی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا قیامت کے دن سے پہلے نکلنا ۔ [مسند احمد:318/1:حسن]
صفحہ نمبر8270
ابن ابی حاتم میں بھی یہ روایت پچھلے جملے کے علاوہ ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ان کے اس قول کا کہ کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے معبود محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر ہیں یہ تو اپنے آپ کو بچوانا چاہتے ہیں۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «اَمْ ھٰذَا» ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:202/11:]
اللہ فرماتا ہے ” یہ ان کا مناظرہ نہیں بلکہ مجادلہ اور مکابرہ ہے “، یعنی بے دلیل جھگڑا اور بے وجہ حجت بازی ہے خود یہ جانتے ہیں کہ نہ یہ مطلب ہے نہ ہمارا یہ اعتراض اس پر وارد ہوتا ہے۔ اس لیے اولاً تو آیت میں لفظ «مَــا» ہے جو غیر ذوی العقول کے لیے ہے دوسرے یہ کہ آیت میں خطاب کفار قریش سے ہے جو اصنام و انداد یعنی بتوں اور پتھروں کو پوجتے تھے وہ مسیح علیہ السلام کے پجاری نہ تھے جو یہ اعتراض برمحل مانا جائے پس یہ صرف جدل ہے یعنی وہ بات کہتے ہیں جس کے غیر صحیح ہونے کو ان کے اپنے دل کو بھی یقین ہے۔
ترمذی وغیرہ میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ کوئی قوم اس وقت تک ہلاک نہیں ہوتی جب تک بیدلیل حجت بازی اس میں نہ آ جائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی ۔ [ترمذي کتاب التفسیر:3253،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر8271
ابن ابی حاتم میں اس حدیث کے شروع میں یہ بھی ہے کہ ہر امت کی گمراہی کی پہلی بات اپنے نبی کے بعد تقدیر کا انکار کرنا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:203/11:ضعیف]
ابن جریر میں ہے کہ ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں آئے اس وقت وہ قرآن کی آیتوں میں بحث کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا: اس طرح اللہ کی کتاب کی آیتوں کو ایک دوسری کے ساتھ ٹکراؤ نہیں یاد رکھو جھگڑے کی اسی عادت نے اگلے لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا ۭ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ» [43-الزخرف:58] کی تلاوت فرمائی ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:203/11:ضعیف]
صفحہ نمبر8272
قیامت کے قریب نزول عیسیٰ علیہ السلام ٭٭
«يَصِدُّونَ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ،مجاہد،عکرمہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم نے کئے ہیں کہ ”وہ ہنسنے لگے“ یعنی اس سے ”انہیں تعجب معلوم ہوا۔“
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”گھبرا کر بول پڑے۔“ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول ہے ”منہ پھیرنے لگے۔“
اس کی وجہ جو امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ نے اپنی سیرت میں بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولید بن مغیرہ وغیرہ قریشیوں کے پاس تشریف فرما تھے جو نضر بن حارث آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ باتیں کرنے لگا جس میں وہ لاجواب ہو گیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ» [21-الأنبياء:98] ، آیتوں تک پڑھ کر سنائیں یعنی ” تم اور تمہارے معبود سب جہنم میں جھونک دئیے جاؤ گے “ ۔
صفحہ نمبر8267
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے گئے تھوڑی ہی دیر میں عبداللہ بن زہیری تمیمی آیا تو ولید بن مغیرہ نے اس سے کہا نضر بن حارث تو ابن عبدالمطلب سے ہار گیا اور بالآخر ابن عبدالمطلب ہمیں اور ہمارے معبودوں کو جہنم کا ایندھن کہتے ہوئے چلے گئے۔
اس نے کہا اگر میں ہوتا تو خود انہیں لاجواب کر دیتا جاؤ ذرا ان سے پوچھو تو کہ جب ہم اور ہمارے سارے معبود دوزخی ہیں تو لازم آیا کہ سارے فرشتے اور عزیر اور مسیح علیہم السلام بھی جہنم میں جائیں گے کیونکہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود عزیر علیہ السلام کی پرستش کرتے ہیں نصرانی عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت کرتے ہیں۔ اس پر مجلس کے کفار بہت خوش ہوئے اور کہا ہاں یہ جواب بہت ٹھیک ہے۔ لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ شخص جو غیر اللہ کی عبادت کرے اور ہر وہ شخص جو اپنی عبادت اپنی خوشی سے کرائے یہ دونوں عابد و معبود جہنمی ہیں فرشتوں یا نبیوں نے نہ اپنی عبادت کا حکم دیا نہ وہ اس سے خوش۔ ان کے نام سے دراصل یہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں وہی انہیں شرک کا حکم دیتا ہے۔ اور یہ بجا لاتے ہیں ۔
صفحہ نمبر8268
اس پر آیت «إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَـٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ» [21-الأنبياء:101] ، نازل ہوئی یعنی ”عیسیٰ، عزیر، اور ان کے علاوہ جن احبار و رہبان کی پرستش یہ لوگ کرتے ہیں اور خود وہ اللہ کی اطاعت پر تھے شرک سے بیزار اور اس سے روکنے والے تھے اور ان کے بعد گمراہوں جاہلوں نے انہیں معبود بنا لیا تو وہ محض بے قصور ہیں۔“
اور فرشتوں کو جو مشرکین اللہ کی بیٹیاں مان کر پوجتے تھے ان کی تردید میں آیت «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ» [21-الأنبياء:26] ، سے کئی آیتوں تک نازل ہوئیں اور ان کے اس باطل عقیدے کی پوری تردید کر دی۔
اور عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اس نے جو جواب دیا تھا جس پر مشرکین خوش ہوئے تھے یہ آیتیں اتریں کہ ” اس قول کو سنتے ہی کہ معبودان باطل بھی اپنے عابدوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے انہوں نے جھٹ سے عیسیٰ کی ذات گرامی کو پیش کر دیا اور یہ سنتے ہی مارے خوشی کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے مشرک اچھل پڑے اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے لگے کہ ہم نے دبا لیا۔ ان سے کہو کہ عیسیٰ علیہ السلام نے کسی سے اپنی یا کسی اور کی پرستش نہیں کرائی وہ تو خود برابر ہماری غلامی میں لگے رہے اور ہم نے بھی انہیں اپنی بہترین نعمتیں عطا فرمائیں۔ ان کے ہاتھوں جو معجزات دنیا کو دکھائے وہ قیامت کی دلیل تھے “۔
سیدنا ابن عباس سے ابن جریر میں ہے کہ مشرکین نے اپنے معبودوں کا جہنمی ہونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن کر کہا کہ ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن مریم علیہ السلام کی نسبت کیا کہتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ اب کوئی جواب ان کے پاس نہ رہا تو کہنے لگے واللہ یہ تو چاہتے ہیں کہ جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ مان لیا ہے ہم بھی انہیں رب مان لیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” یہ تو صرف بکواس ہے کھسیانے ہو کر بے تکی باتیں کرنے لگے ہیں “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:86/25:ضعیف]
صفحہ نمبر8269
مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”قرآن میں ایک آیت ہے مجھ سے کسی نے اس کی تفسیر نہیں پوچھی۔ میں نہیں جانتا کہ کیا ہر ایک اسے جانتا ہے یا نہ جان کر پھر بھی جاننے کی کوشش نہیں کرتے؟“ پھر اور باتیں بیان فرماتے رہے یہاں تک کہ مجلس ختم ہوئی اور آپ چلے گئے۔ اب ہمیں بڑا افسوس ہونے لگا کہ وہ آیت تو پھر بھی رہ گئی اور ہم میں سے کسی نے دریافت ہی نہ کیا۔ اس پر ابن عقیل انصاری کے مولیٰ ابویحییٰ نے کہا کہ اچھا کل صبح جب تشریف لائیں گے تو میں پوچھ لوں گا۔ دوسرے دن جو آئے تو میں نے ان کی کل کی بات دہرائی اور ان سے دریافت کیا کہ وہ کون سی آیت ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں سنو! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ قریش سے فرمایا کوئی ایسا نہیں جس کی عبادت اللہ کے سوا کی جاتی ہو اور اس میں خیر ہو ۔“
اس پر قریش نے کہا کیا عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت نہیں کرتے؟ اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا نبی اور اس کا برگذیدہ نیک بندہ نہیں مانتے؟ پھر اس کا کیا مطلب ہوا کہ اللہ کے سوا جس کی عبادت کی جاتی ہے وہ خیر سے خالی ہے؟ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ کہ جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا ذکر آیا تو لوگ ہنسنے لگے۔ ” وہ قیامت کا علم ہیں “ یعنی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا قیامت کے دن سے پہلے نکلنا ۔ [مسند احمد:318/1:حسن]
صفحہ نمبر8270
ابن ابی حاتم میں بھی یہ روایت پچھلے جملے کے علاوہ ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ان کے اس قول کا کہ کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے معبود محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر ہیں یہ تو اپنے آپ کو بچوانا چاہتے ہیں۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «اَمْ ھٰذَا» ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:202/11:]
اللہ فرماتا ہے ” یہ ان کا مناظرہ نہیں بلکہ مجادلہ اور مکابرہ ہے “، یعنی بے دلیل جھگڑا اور بے وجہ حجت بازی ہے خود یہ جانتے ہیں کہ نہ یہ مطلب ہے نہ ہمارا یہ اعتراض اس پر وارد ہوتا ہے۔ اس لیے اولاً تو آیت میں لفظ «مَــا» ہے جو غیر ذوی العقول کے لیے ہے دوسرے یہ کہ آیت میں خطاب کفار قریش سے ہے جو اصنام و انداد یعنی بتوں اور پتھروں کو پوجتے تھے وہ مسیح علیہ السلام کے پجاری نہ تھے جو یہ اعتراض برمحل مانا جائے پس یہ صرف جدل ہے یعنی وہ بات کہتے ہیں جس کے غیر صحیح ہونے کو ان کے اپنے دل کو بھی یقین ہے۔
ترمذی وغیرہ میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ کوئی قوم اس وقت تک ہلاک نہیں ہوتی جب تک بیدلیل حجت بازی اس میں نہ آ جائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی ۔ [ترمذي کتاب التفسیر:3253،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر8271
ابن ابی حاتم میں اس حدیث کے شروع میں یہ بھی ہے کہ ہر امت کی گمراہی کی پہلی بات اپنے نبی کے بعد تقدیر کا انکار کرنا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:203/11:ضعیف]
ابن جریر میں ہے کہ ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں آئے اس وقت وہ قرآن کی آیتوں میں بحث کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا: اس طرح اللہ کی کتاب کی آیتوں کو ایک دوسری کے ساتھ ٹکراؤ نہیں یاد رکھو جھگڑے کی اسی عادت نے اگلے لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا ۭ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ» [43-الزخرف:58] کی تلاوت فرمائی ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:203/11:ضعیف]
صفحہ نمبر8272
باب
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” عیسیٰ علیہ السلام اللہ عزوجل کے بندوں میں سے ایک بندے تھے۔ جن پر نبوت و رسالت کا انعام باری تعالیٰ ہوا تھا اور انہیں اللہ کی قدرت کی نشانی بنا کر بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ جو چاہے اس پر قادر ہے “۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین بنا کر فرشتوں کو اس زمین میں آباد کر دیتے “۔ یا یہ کہ جس طرح تم ایک دوسرے کے جانشین ہوتے ہو یہی بات ان میں کر دیتے مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یعنی بجائے تمہارے زمین کی آبادی ان سے ہوتی ہے۔“ اس کے بعد جو فرمایا ہے کہ ” وہ قیامت کی نشانی ہے “، اس کا مطلب جو ابن اسحاق رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے وہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ دور کی بات یہ ہے کہ بقول قتادہ، حسن بصری اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہہ کی ضمیر کا مرجع عائد ہے عیسیٰ علیہ السلام پر۔
صفحہ نمبر8274
یعنی عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی ایک نشانی ہیں۔ اس لیے کہ اوپر سے ہی آپ علیہ السلام کا بیان چلا آ رہا ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ مراد یہاں عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت سے پہلے کا نازل ہونا ہے جیسے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا آیت «وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا» [4-النساء:159] یعنی ” ان کی موت سے پہلے ایک ایک اہل کتاب ان پر ایمان لائے گا “۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے قیامت کے دن یہ ان پر گواہ ہوں گے۔
اس مطلب کی پوری وضاحت اسی آیت کی دوسری قرأت سے ہوتی ہے جس میں ہے «وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوْنِ ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ» [43-الزخرف:61] یعنی ” جناب روح اللہ قیامت کے قائم ہونے کا نشان اور علامت ہیں “۔
صفحہ نمبر8275
حضرت مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نشان ہیں قیامت کے لیے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا قیامت سے پہلے آنا۔ اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ سے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہم سے اور یہی مروی ہے۔ ابو لعالیہ، ابومالک، عکرمہ، حسن، قتادہ، ضحاک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سے۔
اور متواتر احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ قیامت کے دن سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام امام عادل اور حاکم باانصاف ہو کر نازل ہوں گے۔ پس تم قیامت کا آنا یقینی جانو اس میں شک شبہ نہ کرو اور جو خبریں تمہیں دے رہا ہوں اس میں میری تابعداری کرو یہی صراط مستقیم ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان جو تمہارا کھلا دشمن ہے تمہیں صحیح راہ سے اور میری واجب اتباع سے روک دے حضرت عیسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ میں حکمت یعنی نبوت لے کر تمہارے پاس آیا ہوں اور دینی امور میں جو اختلافات تم نے ڈال رکھے ہیں۔ میں اس میں جو حق ہے اسے ظاہر کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:207/11:]
صفحہ نمبر8276
باب
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” عیسیٰ علیہ السلام اللہ عزوجل کے بندوں میں سے ایک بندے تھے۔ جن پر نبوت و رسالت کا انعام باری تعالیٰ ہوا تھا اور انہیں اللہ کی قدرت کی نشانی بنا کر بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ جو چاہے اس پر قادر ہے “۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین بنا کر فرشتوں کو اس زمین میں آباد کر دیتے “۔ یا یہ کہ جس طرح تم ایک دوسرے کے جانشین ہوتے ہو یہی بات ان میں کر دیتے مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یعنی بجائے تمہارے زمین کی آبادی ان سے ہوتی ہے۔“ اس کے بعد جو فرمایا ہے کہ ” وہ قیامت کی نشانی ہے “، اس کا مطلب جو ابن اسحاق رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے وہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ دور کی بات یہ ہے کہ بقول قتادہ، حسن بصری اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہہ کی ضمیر کا مرجع عائد ہے عیسیٰ علیہ السلام پر۔
صفحہ نمبر8274
یعنی عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی ایک نشانی ہیں۔ اس لیے کہ اوپر سے ہی آپ علیہ السلام کا بیان چلا آ رہا ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ مراد یہاں عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت سے پہلے کا نازل ہونا ہے جیسے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا آیت «وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا» [4-النساء:159] یعنی ” ان کی موت سے پہلے ایک ایک اہل کتاب ان پر ایمان لائے گا “۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے قیامت کے دن یہ ان پر گواہ ہوں گے۔
اس مطلب کی پوری وضاحت اسی آیت کی دوسری قرأت سے ہوتی ہے جس میں ہے «وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوْنِ ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ» [43-الزخرف:61] یعنی ” جناب روح اللہ قیامت کے قائم ہونے کا نشان اور علامت ہیں “۔
صفحہ نمبر8275
حضرت مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نشان ہیں قیامت کے لیے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا قیامت سے پہلے آنا۔ اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ سے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہم سے اور یہی مروی ہے۔ ابو لعالیہ، ابومالک، عکرمہ، حسن، قتادہ، ضحاک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سے۔
اور متواتر احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ قیامت کے دن سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام امام عادل اور حاکم باانصاف ہو کر نازل ہوں گے۔ پس تم قیامت کا آنا یقینی جانو اس میں شک شبہ نہ کرو اور جو خبریں تمہیں دے رہا ہوں اس میں میری تابعداری کرو یہی صراط مستقیم ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان جو تمہارا کھلا دشمن ہے تمہیں صحیح راہ سے اور میری واجب اتباع سے روک دے حضرت عیسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ میں حکمت یعنی نبوت لے کر تمہارے پاس آیا ہوں اور دینی امور میں جو اختلافات تم نے ڈال رکھے ہیں۔ میں اس میں جو حق ہے اسے ظاہر کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:207/11:]
صفحہ نمبر8276