Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Az-Zukhruf
Tafsir Ibn Kathir · Ornaments of gold · 89 ayat · ayat 61–89 · Quran text →
باب
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” عیسیٰ علیہ السلام اللہ عزوجل کے بندوں میں سے ایک بندے تھے۔ جن پر نبوت و رسالت کا انعام باری تعالیٰ ہوا تھا اور انہیں اللہ کی قدرت کی نشانی بنا کر بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ جو چاہے اس پر قادر ہے “۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین بنا کر فرشتوں کو اس زمین میں آباد کر دیتے “۔ یا یہ کہ جس طرح تم ایک دوسرے کے جانشین ہوتے ہو یہی بات ان میں کر دیتے مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یعنی بجائے تمہارے زمین کی آبادی ان سے ہوتی ہے۔“ اس کے بعد جو فرمایا ہے کہ ” وہ قیامت کی نشانی ہے “، اس کا مطلب جو ابن اسحاق رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے وہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ دور کی بات یہ ہے کہ بقول قتادہ، حسن بصری اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہہ کی ضمیر کا مرجع عائد ہے عیسیٰ علیہ السلام پر۔
صفحہ نمبر8274
یعنی عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی ایک نشانی ہیں۔ اس لیے کہ اوپر سے ہی آپ علیہ السلام کا بیان چلا آ رہا ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ مراد یہاں عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت سے پہلے کا نازل ہونا ہے جیسے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا آیت «وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا» [4-النساء:159] یعنی ” ان کی موت سے پہلے ایک ایک اہل کتاب ان پر ایمان لائے گا “۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے قیامت کے دن یہ ان پر گواہ ہوں گے۔
اس مطلب کی پوری وضاحت اسی آیت کی دوسری قرأت سے ہوتی ہے جس میں ہے «وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوْنِ ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ» [43-الزخرف:61] یعنی ” جناب روح اللہ قیامت کے قائم ہونے کا نشان اور علامت ہیں “۔
صفحہ نمبر8275
حضرت مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نشان ہیں قیامت کے لیے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا قیامت سے پہلے آنا۔ اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ سے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہم سے اور یہی مروی ہے۔ ابو لعالیہ، ابومالک، عکرمہ، حسن، قتادہ، ضحاک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سے۔
اور متواتر احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ قیامت کے دن سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام امام عادل اور حاکم باانصاف ہو کر نازل ہوں گے۔ پس تم قیامت کا آنا یقینی جانو اس میں شک شبہ نہ کرو اور جو خبریں تمہیں دے رہا ہوں اس میں میری تابعداری کرو یہی صراط مستقیم ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان جو تمہارا کھلا دشمن ہے تمہیں صحیح راہ سے اور میری واجب اتباع سے روک دے حضرت عیسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ میں حکمت یعنی نبوت لے کر تمہارے پاس آیا ہوں اور دینی امور میں جو اختلافات تم نے ڈال رکھے ہیں۔ میں اس میں جو حق ہے اسے ظاہر کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:207/11:]
صفحہ نمبر8276
باب
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” عیسیٰ علیہ السلام اللہ عزوجل کے بندوں میں سے ایک بندے تھے۔ جن پر نبوت و رسالت کا انعام باری تعالیٰ ہوا تھا اور انہیں اللہ کی قدرت کی نشانی بنا کر بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ جو چاہے اس پر قادر ہے “۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین بنا کر فرشتوں کو اس زمین میں آباد کر دیتے “۔ یا یہ کہ جس طرح تم ایک دوسرے کے جانشین ہوتے ہو یہی بات ان میں کر دیتے مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یعنی بجائے تمہارے زمین کی آبادی ان سے ہوتی ہے۔“ اس کے بعد جو فرمایا ہے کہ ” وہ قیامت کی نشانی ہے “، اس کا مطلب جو ابن اسحاق رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے وہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ دور کی بات یہ ہے کہ بقول قتادہ، حسن بصری اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہہ کی ضمیر کا مرجع عائد ہے عیسیٰ علیہ السلام پر۔
صفحہ نمبر8274
یعنی عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی ایک نشانی ہیں۔ اس لیے کہ اوپر سے ہی آپ علیہ السلام کا بیان چلا آ رہا ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ مراد یہاں عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت سے پہلے کا نازل ہونا ہے جیسے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا آیت «وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا» [4-النساء:159] یعنی ” ان کی موت سے پہلے ایک ایک اہل کتاب ان پر ایمان لائے گا “۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے قیامت کے دن یہ ان پر گواہ ہوں گے۔
اس مطلب کی پوری وضاحت اسی آیت کی دوسری قرأت سے ہوتی ہے جس میں ہے «وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوْنِ ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ» [43-الزخرف:61] یعنی ” جناب روح اللہ قیامت کے قائم ہونے کا نشان اور علامت ہیں “۔
صفحہ نمبر8275
حضرت مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نشان ہیں قیامت کے لیے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا قیامت سے پہلے آنا۔ اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ سے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہم سے اور یہی مروی ہے۔ ابو لعالیہ، ابومالک، عکرمہ، حسن، قتادہ، ضحاک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سے۔
اور متواتر احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ قیامت کے دن سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام امام عادل اور حاکم باانصاف ہو کر نازل ہوں گے۔ پس تم قیامت کا آنا یقینی جانو اس میں شک شبہ نہ کرو اور جو خبریں تمہیں دے رہا ہوں اس میں میری تابعداری کرو یہی صراط مستقیم ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان جو تمہارا کھلا دشمن ہے تمہیں صحیح راہ سے اور میری واجب اتباع سے روک دے حضرت عیسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ میں حکمت یعنی نبوت لے کر تمہارے پاس آیا ہوں اور دینی امور میں جو اختلافات تم نے ڈال رکھے ہیں۔ میں اس میں جو حق ہے اسے ظاہر کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:207/11:]
صفحہ نمبر8276
باب
ابن جریر رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں اور یہی قول بہتر اور پختہ ہے۔ پھر امام صاحب نے ان لوگوں کے قول کی تردید کی ہے جو کہتے ہیں کہ ”بعض“ کا لفظ یہاں پر ”کل“ کے معنی میں ہے اور اس کی دلیل میں لبید شاعر کا ایک شعر پیش کرتے ہیں۔ لیکن وہاں بھی بعض سے مراد قائل کا خود اپنا نفس ہے نہ کہ سب نفس۔ امام صاحب نے شعر کا جو مطلب بیان کیا ہے یہ بھی ممکن ہے۔
پھر فرمایا جو میں تمہیں حکم دیتا ہوں اس میں اللہ کا لحاظ رکھو اس سے ڈرتے رہو اور میری اطاعت گذاری کرو جو لایا ہوں اسے مانو یقین مانو کہ تم سب اور خود میں اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے در کے فقیر ہیں اس کی عبادت ہم سب پر فرض ہے وہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ» ہے ۔
بس یہی توحید کی راہ راہ مستقیم ہے اب لوگ آپس میں متفرق ہو گئے بعض تو کلمۃ اللہ کو اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہتے تھے اور یہی حق والی جماعت تھی اور بعض نے ان کی نسبت دعویٰ کیا کہ وہ اللہ کے فرزند ہیں۔ اور بعض نے کہا آپ علیہ السلام ہی اللہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں دعوں سے پاک ہے اور بلند و برتر ہے۔ اسی لیے ارشاد فرماتا ہے کہ ” ان ظالموں کے لیے خرابی ہے قیامت والے دن انہیں المناک عذاب اور درد ناک سزائیں ہوں گی “۔
صفحہ نمبر8280
باب
ابن جریر رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں اور یہی قول بہتر اور پختہ ہے۔ پھر امام صاحب نے ان لوگوں کے قول کی تردید کی ہے جو کہتے ہیں کہ ”بعض“ کا لفظ یہاں پر ”کل“ کے معنی میں ہے اور اس کی دلیل میں لبید شاعر کا ایک شعر پیش کرتے ہیں۔ لیکن وہاں بھی بعض سے مراد قائل کا خود اپنا نفس ہے نہ کہ سب نفس۔ امام صاحب نے شعر کا جو مطلب بیان کیا ہے یہ بھی ممکن ہے۔
پھر فرمایا جو میں تمہیں حکم دیتا ہوں اس میں اللہ کا لحاظ رکھو اس سے ڈرتے رہو اور میری اطاعت گذاری کرو جو لایا ہوں اسے مانو یقین مانو کہ تم سب اور خود میں اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے در کے فقیر ہیں اس کی عبادت ہم سب پر فرض ہے وہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ» ہے ۔
بس یہی توحید کی راہ راہ مستقیم ہے اب لوگ آپس میں متفرق ہو گئے بعض تو کلمۃ اللہ کو اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہتے تھے اور یہی حق والی جماعت تھی اور بعض نے ان کی نسبت دعویٰ کیا کہ وہ اللہ کے فرزند ہیں۔ اور بعض نے کہا آپ علیہ السلام ہی اللہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں دعوں سے پاک ہے اور بلند و برتر ہے۔ اسی لیے ارشاد فرماتا ہے کہ ” ان ظالموں کے لیے خرابی ہے قیامت والے دن انہیں المناک عذاب اور درد ناک سزائیں ہوں گی “۔
صفحہ نمبر8280
باب
ابن جریر رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں اور یہی قول بہتر اور پختہ ہے۔ پھر امام صاحب نے ان لوگوں کے قول کی تردید کی ہے جو کہتے ہیں کہ ”بعض“ کا لفظ یہاں پر ”کل“ کے معنی میں ہے اور اس کی دلیل میں لبید شاعر کا ایک شعر پیش کرتے ہیں۔ لیکن وہاں بھی بعض سے مراد قائل کا خود اپنا نفس ہے نہ کہ سب نفس۔ امام صاحب نے شعر کا جو مطلب بیان کیا ہے یہ بھی ممکن ہے۔
پھر فرمایا جو میں تمہیں حکم دیتا ہوں اس میں اللہ کا لحاظ رکھو اس سے ڈرتے رہو اور میری اطاعت گذاری کرو جو لایا ہوں اسے مانو یقین مانو کہ تم سب اور خود میں اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے در کے فقیر ہیں اس کی عبادت ہم سب پر فرض ہے وہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ» ہے ۔
بس یہی توحید کی راہ راہ مستقیم ہے اب لوگ آپس میں متفرق ہو گئے بعض تو کلمۃ اللہ کو اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہتے تھے اور یہی حق والی جماعت تھی اور بعض نے ان کی نسبت دعویٰ کیا کہ وہ اللہ کے فرزند ہیں۔ اور بعض نے کہا آپ علیہ السلام ہی اللہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں دعوں سے پاک ہے اور بلند و برتر ہے۔ اسی لیے ارشاد فرماتا ہے کہ ” ان ظالموں کے لیے خرابی ہے قیامت والے دن انہیں المناک عذاب اور درد ناک سزائیں ہوں گی “۔
صفحہ نمبر8280
جنت میں جنت کے حقدار ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لیے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بے خبری کی حالت میں آ جائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقیناً آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لیے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی “۔
جیسے خلیل الرحمن علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ» [ 29-العنكبوت: 25 ] ” تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ صرف دنیا کے رہنے تک ہی ہیں قیامت کے دن تو ایک دوسرے کا نہ صرف انکار کریں گے بلکہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور کوئی نہ ہو گا جو تمہاری امداد پر آئے “۔
صفحہ نمبر8283
ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں ”دو ایماندار جو آپس میں دوست ہوتے ہیں جب ان میں سے ایک کا انتقال ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جنت کی خوشخبری ملتی ہے تو وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ فلاں شخص میرا دلی دوست تھا جو مجھے تیرے اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیتا تھا بھلائی کی ہدایت کرتا تھا برائی سے روکتا تھا اور مجھے یقین دلایا کرتا تھا کہ ایک روز اللہ سے ملنا ہے، پس اے باری تعالیٰ تو اسے راہ حق پر ثابت قدر رکھ یہاں تک کہ اسے بھی تو وہ دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا ہے اور اس سے بھی اسی طرح راضی ہو جائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے۔ اللہ کی طرف سے جواب ملتا ہے ” تو ٹھنڈے کلیجوں چلا جا اس کے لیے جو کچھ میں نے تیار کیا ہے اگر تو اسے دیکھ لیتا تو تو بہت ہنستا اور بالکل آزردہ نہ ہوتا “۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں ملتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ” تم آپس میں ایک دوسرے کا تعلق بیان کرو “، پس ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ میرا بڑا اچھا بھائی تھا اور نہایت نیک ساتھی تھا اور بہت بہتر دوست تھا۔ دو کافر جو آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے جب ان میں سے ایک مرتا ہے اور جہنم کی خبر دیا جاتا ہے تو اسے بھی اپنا دوست یاد آتا ہے اور کہتا ہے باری تعالیٰ فلاں شخص میرا دوست تھا تیری اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی مجھے تعلیم دیتا تھا برائیوں کی رغبت دلاتا تھا بھلائیوں سے روکتا تھا اور تیری ملاقات نہ ہونے کا مجھے یقین دلاتا تھا پس تو اسے میرے بعد ہدایت نہ کرتا کہ وہ بھی وہی دیکھے جو میں نے دیکھا اور اس پر تو اسی طرح ناراض ہو جس طرح مجھ پر غضب ناک ہوا۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں جمع کی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ” تم دونوں ایک دوسرے کے اوصاف بیان کرو “، تو ہر ایک کہتا ہے تو بڑا برا بھائی تھا اور بدترین دوست تھا۔“
صفحہ نمبر8284
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور مجاہد، قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں ”ہر دوستی قیامت کے دن دشمنی سے بدل جائے گی مگر پرہیزگاروں کی دوستی۔ ابن عساکر میں ہے کہ جن دو شخصوں نے اللہ کے لیے آپس میں دوستانہ کر رکھا ہے خواہ ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں لیکن قیامت کے دن اللہ انہیں جمع کر کے فرمائے گا کہ ” یہ جسے تو میری وجہ سے چاہتا تھا “۔ [مختصر تاریخ دمشق:79/27:اسنادہ ضعیف]
صفحہ نمبر8285
پھر فرمایا کہ ان متقیوں سے روز قیامت میں کہا جائے گا کہ ” تم خوف و ہراس سے دور ہو۔ ہر طرح امن چین سے رہو سہو یہ ہے تمہارے ایمان و اسلام کا بدلہ “۔ یعنی باطن میں یقین و اعتقاد کامل۔ اور ظاہر میں شریعت پر عمل۔
معتمر بن سلیمان رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ”قیامت کے دن جب کہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے کھڑے کئے جائیں گے۔ تو سب کے سب گھبراہٹ اور بے چینی میں ہوں گے اس وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ” اے میرے بندو! آج کے دن نہ تم پر خوشہ ہے نہ خوف “، تو تمام کے تمام اسے عام سمجھ کر خوش ہو جائیں گے وہیں منادی کہے گا ” وہ لوگ جو دل سے ایمان لائے تھے اور جسم سے نیک کام کئے تھے “، اس وقت سوائے سچے پکے مسلمانوں کے باقی سب مایوس ہو جائیں گے پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم نعمت وسعادت کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ۔“ سورۃ الروم میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔
صفحہ نمبر8286
جنت میں جنت کے حقدار ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لیے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بے خبری کی حالت میں آ جائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقیناً آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لیے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی “۔
جیسے خلیل الرحمن علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ» [ 29-العنكبوت: 25 ] ” تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ صرف دنیا کے رہنے تک ہی ہیں قیامت کے دن تو ایک دوسرے کا نہ صرف انکار کریں گے بلکہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور کوئی نہ ہو گا جو تمہاری امداد پر آئے “۔
صفحہ نمبر8283
ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں ”دو ایماندار جو آپس میں دوست ہوتے ہیں جب ان میں سے ایک کا انتقال ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جنت کی خوشخبری ملتی ہے تو وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ فلاں شخص میرا دلی دوست تھا جو مجھے تیرے اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیتا تھا بھلائی کی ہدایت کرتا تھا برائی سے روکتا تھا اور مجھے یقین دلایا کرتا تھا کہ ایک روز اللہ سے ملنا ہے، پس اے باری تعالیٰ تو اسے راہ حق پر ثابت قدر رکھ یہاں تک کہ اسے بھی تو وہ دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا ہے اور اس سے بھی اسی طرح راضی ہو جائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے۔ اللہ کی طرف سے جواب ملتا ہے ” تو ٹھنڈے کلیجوں چلا جا اس کے لیے جو کچھ میں نے تیار کیا ہے اگر تو اسے دیکھ لیتا تو تو بہت ہنستا اور بالکل آزردہ نہ ہوتا “۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں ملتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ” تم آپس میں ایک دوسرے کا تعلق بیان کرو “، پس ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ میرا بڑا اچھا بھائی تھا اور نہایت نیک ساتھی تھا اور بہت بہتر دوست تھا۔ دو کافر جو آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے جب ان میں سے ایک مرتا ہے اور جہنم کی خبر دیا جاتا ہے تو اسے بھی اپنا دوست یاد آتا ہے اور کہتا ہے باری تعالیٰ فلاں شخص میرا دوست تھا تیری اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی مجھے تعلیم دیتا تھا برائیوں کی رغبت دلاتا تھا بھلائیوں سے روکتا تھا اور تیری ملاقات نہ ہونے کا مجھے یقین دلاتا تھا پس تو اسے میرے بعد ہدایت نہ کرتا کہ وہ بھی وہی دیکھے جو میں نے دیکھا اور اس پر تو اسی طرح ناراض ہو جس طرح مجھ پر غضب ناک ہوا۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں جمع کی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ” تم دونوں ایک دوسرے کے اوصاف بیان کرو “، تو ہر ایک کہتا ہے تو بڑا برا بھائی تھا اور بدترین دوست تھا۔“
صفحہ نمبر8284
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور مجاہد، قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں ”ہر دوستی قیامت کے دن دشمنی سے بدل جائے گی مگر پرہیزگاروں کی دوستی۔ ابن عساکر میں ہے کہ جن دو شخصوں نے اللہ کے لیے آپس میں دوستانہ کر رکھا ہے خواہ ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں لیکن قیامت کے دن اللہ انہیں جمع کر کے فرمائے گا کہ ” یہ جسے تو میری وجہ سے چاہتا تھا “۔ [مختصر تاریخ دمشق:79/27:اسنادہ ضعیف]
صفحہ نمبر8285
پھر فرمایا کہ ان متقیوں سے روز قیامت میں کہا جائے گا کہ ” تم خوف و ہراس سے دور ہو۔ ہر طرح امن چین سے رہو سہو یہ ہے تمہارے ایمان و اسلام کا بدلہ “۔ یعنی باطن میں یقین و اعتقاد کامل۔ اور ظاہر میں شریعت پر عمل۔
معتمر بن سلیمان رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ”قیامت کے دن جب کہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے کھڑے کئے جائیں گے۔ تو سب کے سب گھبراہٹ اور بے چینی میں ہوں گے اس وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ” اے میرے بندو! آج کے دن نہ تم پر خوشہ ہے نہ خوف “، تو تمام کے تمام اسے عام سمجھ کر خوش ہو جائیں گے وہیں منادی کہے گا ” وہ لوگ جو دل سے ایمان لائے تھے اور جسم سے نیک کام کئے تھے “، اس وقت سوائے سچے پکے مسلمانوں کے باقی سب مایوس ہو جائیں گے پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم نعمت وسعادت کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ۔“ سورۃ الروم میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔
صفحہ نمبر8286
جنت میں جنت کے حقدار ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لیے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بے خبری کی حالت میں آ جائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقیناً آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لیے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی “۔
جیسے خلیل الرحمن علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ» [ 29-العنكبوت: 25 ] ” تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ صرف دنیا کے رہنے تک ہی ہیں قیامت کے دن تو ایک دوسرے کا نہ صرف انکار کریں گے بلکہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور کوئی نہ ہو گا جو تمہاری امداد پر آئے “۔
صفحہ نمبر8283
ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں ”دو ایماندار جو آپس میں دوست ہوتے ہیں جب ان میں سے ایک کا انتقال ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جنت کی خوشخبری ملتی ہے تو وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ فلاں شخص میرا دلی دوست تھا جو مجھے تیرے اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیتا تھا بھلائی کی ہدایت کرتا تھا برائی سے روکتا تھا اور مجھے یقین دلایا کرتا تھا کہ ایک روز اللہ سے ملنا ہے، پس اے باری تعالیٰ تو اسے راہ حق پر ثابت قدر رکھ یہاں تک کہ اسے بھی تو وہ دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا ہے اور اس سے بھی اسی طرح راضی ہو جائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے۔ اللہ کی طرف سے جواب ملتا ہے ” تو ٹھنڈے کلیجوں چلا جا اس کے لیے جو کچھ میں نے تیار کیا ہے اگر تو اسے دیکھ لیتا تو تو بہت ہنستا اور بالکل آزردہ نہ ہوتا “۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں ملتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ” تم آپس میں ایک دوسرے کا تعلق بیان کرو “، پس ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ میرا بڑا اچھا بھائی تھا اور نہایت نیک ساتھی تھا اور بہت بہتر دوست تھا۔ دو کافر جو آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے جب ان میں سے ایک مرتا ہے اور جہنم کی خبر دیا جاتا ہے تو اسے بھی اپنا دوست یاد آتا ہے اور کہتا ہے باری تعالیٰ فلاں شخص میرا دوست تھا تیری اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی مجھے تعلیم دیتا تھا برائیوں کی رغبت دلاتا تھا بھلائیوں سے روکتا تھا اور تیری ملاقات نہ ہونے کا مجھے یقین دلاتا تھا پس تو اسے میرے بعد ہدایت نہ کرتا کہ وہ بھی وہی دیکھے جو میں نے دیکھا اور اس پر تو اسی طرح ناراض ہو جس طرح مجھ پر غضب ناک ہوا۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں جمع کی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ” تم دونوں ایک دوسرے کے اوصاف بیان کرو “، تو ہر ایک کہتا ہے تو بڑا برا بھائی تھا اور بدترین دوست تھا۔“
صفحہ نمبر8284
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور مجاہد، قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں ”ہر دوستی قیامت کے دن دشمنی سے بدل جائے گی مگر پرہیزگاروں کی دوستی۔ ابن عساکر میں ہے کہ جن دو شخصوں نے اللہ کے لیے آپس میں دوستانہ کر رکھا ہے خواہ ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں لیکن قیامت کے دن اللہ انہیں جمع کر کے فرمائے گا کہ ” یہ جسے تو میری وجہ سے چاہتا تھا “۔ [مختصر تاریخ دمشق:79/27:اسنادہ ضعیف]
صفحہ نمبر8285
پھر فرمایا کہ ان متقیوں سے روز قیامت میں کہا جائے گا کہ ” تم خوف و ہراس سے دور ہو۔ ہر طرح امن چین سے رہو سہو یہ ہے تمہارے ایمان و اسلام کا بدلہ “۔ یعنی باطن میں یقین و اعتقاد کامل۔ اور ظاہر میں شریعت پر عمل۔
معتمر بن سلیمان رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ”قیامت کے دن جب کہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے کھڑے کئے جائیں گے۔ تو سب کے سب گھبراہٹ اور بے چینی میں ہوں گے اس وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ” اے میرے بندو! آج کے دن نہ تم پر خوشہ ہے نہ خوف “، تو تمام کے تمام اسے عام سمجھ کر خوش ہو جائیں گے وہیں منادی کہے گا ” وہ لوگ جو دل سے ایمان لائے تھے اور جسم سے نیک کام کئے تھے “، اس وقت سوائے سچے پکے مسلمانوں کے باقی سب مایوس ہو جائیں گے پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم نعمت وسعادت کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ۔“ سورۃ الروم میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔
صفحہ نمبر8286
جنت میں جنت کے حقدار ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لیے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بے خبری کی حالت میں آ جائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقیناً آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لیے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی “۔
جیسے خلیل الرحمن علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ» [ 29-العنكبوت: 25 ] ” تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ صرف دنیا کے رہنے تک ہی ہیں قیامت کے دن تو ایک دوسرے کا نہ صرف انکار کریں گے بلکہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور کوئی نہ ہو گا جو تمہاری امداد پر آئے “۔
صفحہ نمبر8283
ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں ”دو ایماندار جو آپس میں دوست ہوتے ہیں جب ان میں سے ایک کا انتقال ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جنت کی خوشخبری ملتی ہے تو وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ فلاں شخص میرا دلی دوست تھا جو مجھے تیرے اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیتا تھا بھلائی کی ہدایت کرتا تھا برائی سے روکتا تھا اور مجھے یقین دلایا کرتا تھا کہ ایک روز اللہ سے ملنا ہے، پس اے باری تعالیٰ تو اسے راہ حق پر ثابت قدر رکھ یہاں تک کہ اسے بھی تو وہ دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا ہے اور اس سے بھی اسی طرح راضی ہو جائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے۔ اللہ کی طرف سے جواب ملتا ہے ” تو ٹھنڈے کلیجوں چلا جا اس کے لیے جو کچھ میں نے تیار کیا ہے اگر تو اسے دیکھ لیتا تو تو بہت ہنستا اور بالکل آزردہ نہ ہوتا “۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں ملتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ” تم آپس میں ایک دوسرے کا تعلق بیان کرو “، پس ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ میرا بڑا اچھا بھائی تھا اور نہایت نیک ساتھی تھا اور بہت بہتر دوست تھا۔ دو کافر جو آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے جب ان میں سے ایک مرتا ہے اور جہنم کی خبر دیا جاتا ہے تو اسے بھی اپنا دوست یاد آتا ہے اور کہتا ہے باری تعالیٰ فلاں شخص میرا دوست تھا تیری اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی مجھے تعلیم دیتا تھا برائیوں کی رغبت دلاتا تھا بھلائیوں سے روکتا تھا اور تیری ملاقات نہ ہونے کا مجھے یقین دلاتا تھا پس تو اسے میرے بعد ہدایت نہ کرتا کہ وہ بھی وہی دیکھے جو میں نے دیکھا اور اس پر تو اسی طرح ناراض ہو جس طرح مجھ پر غضب ناک ہوا۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں جمع کی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ” تم دونوں ایک دوسرے کے اوصاف بیان کرو “، تو ہر ایک کہتا ہے تو بڑا برا بھائی تھا اور بدترین دوست تھا۔“
صفحہ نمبر8284
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور مجاہد، قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں ”ہر دوستی قیامت کے دن دشمنی سے بدل جائے گی مگر پرہیزگاروں کی دوستی۔ ابن عساکر میں ہے کہ جن دو شخصوں نے اللہ کے لیے آپس میں دوستانہ کر رکھا ہے خواہ ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں لیکن قیامت کے دن اللہ انہیں جمع کر کے فرمائے گا کہ ” یہ جسے تو میری وجہ سے چاہتا تھا “۔ [مختصر تاریخ دمشق:79/27:اسنادہ ضعیف]
صفحہ نمبر8285
پھر فرمایا کہ ان متقیوں سے روز قیامت میں کہا جائے گا کہ ” تم خوف و ہراس سے دور ہو۔ ہر طرح امن چین سے رہو سہو یہ ہے تمہارے ایمان و اسلام کا بدلہ “۔ یعنی باطن میں یقین و اعتقاد کامل۔ اور ظاہر میں شریعت پر عمل۔
معتمر بن سلیمان رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ”قیامت کے دن جب کہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے کھڑے کئے جائیں گے۔ تو سب کے سب گھبراہٹ اور بے چینی میں ہوں گے اس وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ” اے میرے بندو! آج کے دن نہ تم پر خوشہ ہے نہ خوف “، تو تمام کے تمام اسے عام سمجھ کر خوش ہو جائیں گے وہیں منادی کہے گا ” وہ لوگ جو دل سے ایمان لائے تھے اور جسم سے نیک کام کئے تھے “، اس وقت سوائے سچے پکے مسلمانوں کے باقی سب مایوس ہو جائیں گے پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم نعمت وسعادت کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ۔“ سورۃ الروم میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔
صفحہ نمبر8286
جنت میں جنت کے حقدار ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لیے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بے خبری کی حالت میں آ جائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقیناً آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لیے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی “۔
جیسے خلیل الرحمن علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ» [ 29-العنكبوت: 25 ] ” تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ صرف دنیا کے رہنے تک ہی ہیں قیامت کے دن تو ایک دوسرے کا نہ صرف انکار کریں گے بلکہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور کوئی نہ ہو گا جو تمہاری امداد پر آئے “۔
صفحہ نمبر8283
ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں ”دو ایماندار جو آپس میں دوست ہوتے ہیں جب ان میں سے ایک کا انتقال ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جنت کی خوشخبری ملتی ہے تو وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ فلاں شخص میرا دلی دوست تھا جو مجھے تیرے اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیتا تھا بھلائی کی ہدایت کرتا تھا برائی سے روکتا تھا اور مجھے یقین دلایا کرتا تھا کہ ایک روز اللہ سے ملنا ہے، پس اے باری تعالیٰ تو اسے راہ حق پر ثابت قدر رکھ یہاں تک کہ اسے بھی تو وہ دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا ہے اور اس سے بھی اسی طرح راضی ہو جائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے۔ اللہ کی طرف سے جواب ملتا ہے ” تو ٹھنڈے کلیجوں چلا جا اس کے لیے جو کچھ میں نے تیار کیا ہے اگر تو اسے دیکھ لیتا تو تو بہت ہنستا اور بالکل آزردہ نہ ہوتا “۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں ملتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ” تم آپس میں ایک دوسرے کا تعلق بیان کرو “، پس ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ میرا بڑا اچھا بھائی تھا اور نہایت نیک ساتھی تھا اور بہت بہتر دوست تھا۔ دو کافر جو آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے جب ان میں سے ایک مرتا ہے اور جہنم کی خبر دیا جاتا ہے تو اسے بھی اپنا دوست یاد آتا ہے اور کہتا ہے باری تعالیٰ فلاں شخص میرا دوست تھا تیری اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی مجھے تعلیم دیتا تھا برائیوں کی رغبت دلاتا تھا بھلائیوں سے روکتا تھا اور تیری ملاقات نہ ہونے کا مجھے یقین دلاتا تھا پس تو اسے میرے بعد ہدایت نہ کرتا کہ وہ بھی وہی دیکھے جو میں نے دیکھا اور اس پر تو اسی طرح ناراض ہو جس طرح مجھ پر غضب ناک ہوا۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں جمع کی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ” تم دونوں ایک دوسرے کے اوصاف بیان کرو “، تو ہر ایک کہتا ہے تو بڑا برا بھائی تھا اور بدترین دوست تھا۔“
صفحہ نمبر8284
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور مجاہد، قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں ”ہر دوستی قیامت کے دن دشمنی سے بدل جائے گی مگر پرہیزگاروں کی دوستی۔ ابن عساکر میں ہے کہ جن دو شخصوں نے اللہ کے لیے آپس میں دوستانہ کر رکھا ہے خواہ ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں لیکن قیامت کے دن اللہ انہیں جمع کر کے فرمائے گا کہ ” یہ جسے تو میری وجہ سے چاہتا تھا “۔ [مختصر تاریخ دمشق:79/27:اسنادہ ضعیف]
صفحہ نمبر8285
پھر فرمایا کہ ان متقیوں سے روز قیامت میں کہا جائے گا کہ ” تم خوف و ہراس سے دور ہو۔ ہر طرح امن چین سے رہو سہو یہ ہے تمہارے ایمان و اسلام کا بدلہ “۔ یعنی باطن میں یقین و اعتقاد کامل۔ اور ظاہر میں شریعت پر عمل۔
معتمر بن سلیمان رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ”قیامت کے دن جب کہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے کھڑے کئے جائیں گے۔ تو سب کے سب گھبراہٹ اور بے چینی میں ہوں گے اس وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ” اے میرے بندو! آج کے دن نہ تم پر خوشہ ہے نہ خوف “، تو تمام کے تمام اسے عام سمجھ کر خوش ہو جائیں گے وہیں منادی کہے گا ” وہ لوگ جو دل سے ایمان لائے تھے اور جسم سے نیک کام کئے تھے “، اس وقت سوائے سچے پکے مسلمانوں کے باقی سب مایوس ہو جائیں گے پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم نعمت وسعادت کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ۔“ سورۃ الروم میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔
صفحہ نمبر8286
جنت کی نعمتیں ٭٭
چاروں طرف سے ان کے سامنے طرح طرح کے ملذذ مرغن خوش ذائقہ مرغوب کھانوں کی طشتریاں رکابیاں اور پیالیاں پیش ہوں گی اور چھلکتے ہوئے جام ہاتھوں میں لیے غلمان ادھر ادھر گردش کر رہے ہوں گے۔ «تَشْـتَهیْـهِ الْاَنْفُسُ» اور «تَشْتَهِی الْاَنْفُسُ» دونوں قرأتیں ہیں۔ یعنی انہیں مزیدار خوشبو والے اچھی رنگت والے من مانے کھانے پینے ملیں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سب سے نیچے درجے کا جنتی جو سب سے آخر میں جنت میں جائے گا اس کی نگاہ سو سال کے راستے تک جاتی ہو گی لیکن برابر وہاں تک اسے اپنے ہی ڈیرے اور محل سونے کے زمرد کے نظر آئیں گے جو تمام کے تمام قسم قسم اور رنگ برنگ کے سازو سامان سے پر ہوں گے صبح شام ستر ستر ہزار رکابیاں پیالے الگ الگ وضع کے کھانے سے پر اس کے سامنے رکھے جائیں گے جن میں سے ہر ایک اس کی خواہش کے مطابق ہو گا۔ اور اول سے آخر تک اس کے اشتہاء برابر اور یکساں رہے گی۔ اگر وہ روئے زمین والوں کی دعوت کر دے تو سب کو کفایت ہو جائے اور کچھ نہ گھٹے ۔ [تفسیر عبدالرزاق:2785:مرسل]
صفحہ نمبر8291
ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جنتی ایک لقمہ اٹھائے گا اور اس کے دل میں خیال آئے گا کہ فلاں قسم کا کھانا ہوتا تو اچھا ہوتا چنانچہ وہ نوالہ اس کے منہ میں وہ چیز بن جائے گا جس کی اس نے خواہش کی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی ۔ [ضعیف]
مسند احمد میں ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سب سے ادنیٰ مرتبے کے جنتی کے بالاخانے کی سات منزلیں ہوں گی یہ چھٹی منزل میں ہو گا اور اس کے اوپر ساتویں ہو گی اس کے تیس خادم ہوں گے جو صبح شام تین سو سونے کے برتنوں میں اس کے طعام و شراب پیش کریں گے ہر ایک میں الگ الگ قسم کا عجیب و غریب اور نہایت لذیز کھانا ہو گا اول سے آخر تک اسے کھانے کی اشتہاء ویسی ہی رہے گی۔ اسی طرح تین سو سونے کے پیالوں اور کٹوروں اور گلاسوں میں اسے پینے کی چیزیں دی جائیں گی۔ وہ بھی ایک سے ایک سوا ہو گی یہ کہے گا کہ اے اللہ اگر تو مجھے اجازت دے تو میں تمام جنتیوں کی دعوت کروں۔ سب بھی اگر میرے ہاں کھا جائیں تو بھی میرے کھانے میں کمی نہیں آ سکتی اور اس کی بہتر بیویاں حور عین میں سے ہوں گی۔ اور دنیا کی بیویاں الگ ہوں گی۔ ان میں سے ایک ایک میل میل بھر کی جگہ میں بیٹھے گی پھر ساتھ ہی ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتیں بھی ہمیشہ رہنے والی ہیں اور تم بھی یہاں ہمیشہ رہو گے۔ نہ موت آئے نہ گھاٹا آئے نہ جگہ بدلے نہ تکلیف پہنچے ۔ [مسند احمد:537/2:ضعیف]
پھر ان پر اپنا فضل و احسان بتایا جاتا ہے کہ ” تمہارے اعمال کا بدلہ میں نے اپنی وسیع رحمت سے تمہیں یہ دیا ہے “۔ کیونکہ کوئی شخص بغیر رحمت اللہ کے صرف اپنے اعمال کی بناء پر جنت میں نہیں جا سکتا۔ البتہ جنت کے درجوں میں تفاوت جو ہو گا وہ نیک اعمال کے تفاوت کی وجہ سے ہو گا۔
صفحہ نمبر8292
ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جہنمی اپنی جنت کی جگہ جہنم میں دیکھیں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے «أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّـهَ هَدَانِي لَكُنتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ» [39-الزمر:57] ” اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت کرتا تو میں بھی متقیوں میں ہو جاتا “۔ اور ہر ایک جنتی بھی اپنی جہنم کی جگہ جنت میں سے دیکھے گا اور اللہ کا شکر کرتے ہوئے کہے گا کہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَـٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّـهُ» [7-الأعراف:43] ” ہم خود اپنے طور پر راہ راست کے حاصل کرنے پر قادر نہ تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے خود ہماری رہنمائی نہ کرتا “ ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر ہر شخص کی ایک جگہ جنت میں ہے اور ایک جگہ جہنم میں۔ پس کافر مومن کی جہنم کی جگہ کا وارث ہو گا۔ اور مومن کافر کی جنت کی جگہ کا وارث ہو گا یہی فرمان باری ہے ” اس جنت کے وارث تم بہ سبب اپنے اعمال کے بنائے گئے ہو “۔
کھانے پینے کے ذکر کے بعد اب میووں اور ترکاریوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ بھی بہ کثرت مرغوب طبع انہیں ملیں گی۔ جس قسم کی یہ چاہیں اور ان کی خواہش ہو “۔ غرض بھرپور نعمتوں کے ساتھ رب کے رضا مندی کے گھر میں ہمیشہ رہیں گے اللہ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ آمین۔
صفحہ نمبر8293
جنت کی نعمتیں ٭٭
چاروں طرف سے ان کے سامنے طرح طرح کے ملذذ مرغن خوش ذائقہ مرغوب کھانوں کی طشتریاں رکابیاں اور پیالیاں پیش ہوں گی اور چھلکتے ہوئے جام ہاتھوں میں لیے غلمان ادھر ادھر گردش کر رہے ہوں گے۔ «تَشْـتَهیْـهِ الْاَنْفُسُ» اور «تَشْتَهِی الْاَنْفُسُ» دونوں قرأتیں ہیں۔ یعنی انہیں مزیدار خوشبو والے اچھی رنگت والے من مانے کھانے پینے ملیں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سب سے نیچے درجے کا جنتی جو سب سے آخر میں جنت میں جائے گا اس کی نگاہ سو سال کے راستے تک جاتی ہو گی لیکن برابر وہاں تک اسے اپنے ہی ڈیرے اور محل سونے کے زمرد کے نظر آئیں گے جو تمام کے تمام قسم قسم اور رنگ برنگ کے سازو سامان سے پر ہوں گے صبح شام ستر ستر ہزار رکابیاں پیالے الگ الگ وضع کے کھانے سے پر اس کے سامنے رکھے جائیں گے جن میں سے ہر ایک اس کی خواہش کے مطابق ہو گا۔ اور اول سے آخر تک اس کے اشتہاء برابر اور یکساں رہے گی۔ اگر وہ روئے زمین والوں کی دعوت کر دے تو سب کو کفایت ہو جائے اور کچھ نہ گھٹے ۔ [تفسیر عبدالرزاق:2785:مرسل]
صفحہ نمبر8291
ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جنتی ایک لقمہ اٹھائے گا اور اس کے دل میں خیال آئے گا کہ فلاں قسم کا کھانا ہوتا تو اچھا ہوتا چنانچہ وہ نوالہ اس کے منہ میں وہ چیز بن جائے گا جس کی اس نے خواہش کی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی ۔ [ضعیف]
مسند احمد میں ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سب سے ادنیٰ مرتبے کے جنتی کے بالاخانے کی سات منزلیں ہوں گی یہ چھٹی منزل میں ہو گا اور اس کے اوپر ساتویں ہو گی اس کے تیس خادم ہوں گے جو صبح شام تین سو سونے کے برتنوں میں اس کے طعام و شراب پیش کریں گے ہر ایک میں الگ الگ قسم کا عجیب و غریب اور نہایت لذیز کھانا ہو گا اول سے آخر تک اسے کھانے کی اشتہاء ویسی ہی رہے گی۔ اسی طرح تین سو سونے کے پیالوں اور کٹوروں اور گلاسوں میں اسے پینے کی چیزیں دی جائیں گی۔ وہ بھی ایک سے ایک سوا ہو گی یہ کہے گا کہ اے اللہ اگر تو مجھے اجازت دے تو میں تمام جنتیوں کی دعوت کروں۔ سب بھی اگر میرے ہاں کھا جائیں تو بھی میرے کھانے میں کمی نہیں آ سکتی اور اس کی بہتر بیویاں حور عین میں سے ہوں گی۔ اور دنیا کی بیویاں الگ ہوں گی۔ ان میں سے ایک ایک میل میل بھر کی جگہ میں بیٹھے گی پھر ساتھ ہی ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتیں بھی ہمیشہ رہنے والی ہیں اور تم بھی یہاں ہمیشہ رہو گے۔ نہ موت آئے نہ گھاٹا آئے نہ جگہ بدلے نہ تکلیف پہنچے ۔ [مسند احمد:537/2:ضعیف]
پھر ان پر اپنا فضل و احسان بتایا جاتا ہے کہ ” تمہارے اعمال کا بدلہ میں نے اپنی وسیع رحمت سے تمہیں یہ دیا ہے “۔ کیونکہ کوئی شخص بغیر رحمت اللہ کے صرف اپنے اعمال کی بناء پر جنت میں نہیں جا سکتا۔ البتہ جنت کے درجوں میں تفاوت جو ہو گا وہ نیک اعمال کے تفاوت کی وجہ سے ہو گا۔
صفحہ نمبر8292
ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جہنمی اپنی جنت کی جگہ جہنم میں دیکھیں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے «أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّـهَ هَدَانِي لَكُنتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ» [39-الزمر:57] ” اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت کرتا تو میں بھی متقیوں میں ہو جاتا “۔ اور ہر ایک جنتی بھی اپنی جہنم کی جگہ جنت میں سے دیکھے گا اور اللہ کا شکر کرتے ہوئے کہے گا کہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَـٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّـهُ» [7-الأعراف:43] ” ہم خود اپنے طور پر راہ راست کے حاصل کرنے پر قادر نہ تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے خود ہماری رہنمائی نہ کرتا “ ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر ہر شخص کی ایک جگہ جنت میں ہے اور ایک جگہ جہنم میں۔ پس کافر مومن کی جہنم کی جگہ کا وارث ہو گا۔ اور مومن کافر کی جنت کی جگہ کا وارث ہو گا یہی فرمان باری ہے ” اس جنت کے وارث تم بہ سبب اپنے اعمال کے بنائے گئے ہو “۔
کھانے پینے کے ذکر کے بعد اب میووں اور ترکاریوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ بھی بہ کثرت مرغوب طبع انہیں ملیں گی۔ جس قسم کی یہ چاہیں اور ان کی خواہش ہو “۔ غرض بھرپور نعمتوں کے ساتھ رب کے رضا مندی کے گھر میں ہمیشہ رہیں گے اللہ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ آمین۔
صفحہ نمبر8293
جنت کی نعمتیں ٭٭
چاروں طرف سے ان کے سامنے طرح طرح کے ملذذ مرغن خوش ذائقہ مرغوب کھانوں کی طشتریاں رکابیاں اور پیالیاں پیش ہوں گی اور چھلکتے ہوئے جام ہاتھوں میں لیے غلمان ادھر ادھر گردش کر رہے ہوں گے۔ «تَشْـتَهیْـهِ الْاَنْفُسُ» اور «تَشْتَهِی الْاَنْفُسُ» دونوں قرأتیں ہیں۔ یعنی انہیں مزیدار خوشبو والے اچھی رنگت والے من مانے کھانے پینے ملیں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سب سے نیچے درجے کا جنتی جو سب سے آخر میں جنت میں جائے گا اس کی نگاہ سو سال کے راستے تک جاتی ہو گی لیکن برابر وہاں تک اسے اپنے ہی ڈیرے اور محل سونے کے زمرد کے نظر آئیں گے جو تمام کے تمام قسم قسم اور رنگ برنگ کے سازو سامان سے پر ہوں گے صبح شام ستر ستر ہزار رکابیاں پیالے الگ الگ وضع کے کھانے سے پر اس کے سامنے رکھے جائیں گے جن میں سے ہر ایک اس کی خواہش کے مطابق ہو گا۔ اور اول سے آخر تک اس کے اشتہاء برابر اور یکساں رہے گی۔ اگر وہ روئے زمین والوں کی دعوت کر دے تو سب کو کفایت ہو جائے اور کچھ نہ گھٹے ۔ [تفسیر عبدالرزاق:2785:مرسل]
صفحہ نمبر8291
ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جنتی ایک لقمہ اٹھائے گا اور اس کے دل میں خیال آئے گا کہ فلاں قسم کا کھانا ہوتا تو اچھا ہوتا چنانچہ وہ نوالہ اس کے منہ میں وہ چیز بن جائے گا جس کی اس نے خواہش کی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی ۔ [ضعیف]
مسند احمد میں ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سب سے ادنیٰ مرتبے کے جنتی کے بالاخانے کی سات منزلیں ہوں گی یہ چھٹی منزل میں ہو گا اور اس کے اوپر ساتویں ہو گی اس کے تیس خادم ہوں گے جو صبح شام تین سو سونے کے برتنوں میں اس کے طعام و شراب پیش کریں گے ہر ایک میں الگ الگ قسم کا عجیب و غریب اور نہایت لذیز کھانا ہو گا اول سے آخر تک اسے کھانے کی اشتہاء ویسی ہی رہے گی۔ اسی طرح تین سو سونے کے پیالوں اور کٹوروں اور گلاسوں میں اسے پینے کی چیزیں دی جائیں گی۔ وہ بھی ایک سے ایک سوا ہو گی یہ کہے گا کہ اے اللہ اگر تو مجھے اجازت دے تو میں تمام جنتیوں کی دعوت کروں۔ سب بھی اگر میرے ہاں کھا جائیں تو بھی میرے کھانے میں کمی نہیں آ سکتی اور اس کی بہتر بیویاں حور عین میں سے ہوں گی۔ اور دنیا کی بیویاں الگ ہوں گی۔ ان میں سے ایک ایک میل میل بھر کی جگہ میں بیٹھے گی پھر ساتھ ہی ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتیں بھی ہمیشہ رہنے والی ہیں اور تم بھی یہاں ہمیشہ رہو گے۔ نہ موت آئے نہ گھاٹا آئے نہ جگہ بدلے نہ تکلیف پہنچے ۔ [مسند احمد:537/2:ضعیف]
پھر ان پر اپنا فضل و احسان بتایا جاتا ہے کہ ” تمہارے اعمال کا بدلہ میں نے اپنی وسیع رحمت سے تمہیں یہ دیا ہے “۔ کیونکہ کوئی شخص بغیر رحمت اللہ کے صرف اپنے اعمال کی بناء پر جنت میں نہیں جا سکتا۔ البتہ جنت کے درجوں میں تفاوت جو ہو گا وہ نیک اعمال کے تفاوت کی وجہ سے ہو گا۔
صفحہ نمبر8292
ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جہنمی اپنی جنت کی جگہ جہنم میں دیکھیں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے «أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّـهَ هَدَانِي لَكُنتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ» [39-الزمر:57] ” اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت کرتا تو میں بھی متقیوں میں ہو جاتا “۔ اور ہر ایک جنتی بھی اپنی جہنم کی جگہ جنت میں سے دیکھے گا اور اللہ کا شکر کرتے ہوئے کہے گا کہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَـٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّـهُ» [7-الأعراف:43] ” ہم خود اپنے طور پر راہ راست کے حاصل کرنے پر قادر نہ تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے خود ہماری رہنمائی نہ کرتا “ ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر ہر شخص کی ایک جگہ جنت میں ہے اور ایک جگہ جہنم میں۔ پس کافر مومن کی جہنم کی جگہ کا وارث ہو گا۔ اور مومن کافر کی جنت کی جگہ کا وارث ہو گا یہی فرمان باری ہے ” اس جنت کے وارث تم بہ سبب اپنے اعمال کے بنائے گئے ہو “۔
کھانے پینے کے ذکر کے بعد اب میووں اور ترکاریوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ بھی بہ کثرت مرغوب طبع انہیں ملیں گی۔ جس قسم کی یہ چاہیں اور ان کی خواہش ہو “۔ غرض بھرپور نعمتوں کے ساتھ رب کے رضا مندی کے گھر میں ہمیشہ رہیں گے اللہ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ آمین۔
صفحہ نمبر8293
دوزخ اور دوزخیوں کی درگت ٭٭
اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لیے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہو گی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہو جائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کر دی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو پکاریں گے “۔
صفحہ نمبر8296
صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: یہ موت کی آرزو کریں گے تاکہ عذاب سے چھوٹ جائیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ «وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ» [35-فاطر:36] یعنی ” نہ تو انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب کی تخفیف ہو گی“۔ اور فرمان باری ہے آیت «وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَىٰ ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ» [87-الأعلى:-13-11] یعنی ” وہ بدبخت اس نصیحت سے علیحدہ ہو جائے گا جو بڑی سخت آگ میں پڑے گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا “ ۔
پس جب یہ داروغہ جہنم سے نہایت لجاجت سے کہیں گے کہ آپ ہماری موت کی دعا اللہ سے کیجئے تو وہ جواب دے گا کہ تم اسی میں پڑے رہنے والے ہو مرو گے نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکث ایک ہزار سال ہے۔ یعنی ” نہ مرو گے نہ چھٹکارا پاؤ گے نہ بھاگ سکو گے “۔
پھر ان کی سیاہ کاری کا بیان ہو رہا ہے کہ ” جب ہم نے ان کے سامنے حق کو پیش کر دیا واضح کر دیا تو انہوں نے اسے ماننا تو ایک طرف اس سے نفرت کی۔ ان کی طبیعت ہی اس طرف مائل نہ ہوئی حق اور حق والوں سے نفرت کرتے رہے اس سے رکتے رہے ہاں ناحق کی طرف مائل رہے ناحق والوں سے ان کی خوب بنتی رہی۔ پس تم اپنے نفس کو یہی ملامت کرو اور اپنے ہی اوپر افسوس کرو لیکن آج کا افسوس بھی بے فائدہ ہے “۔
پھر فرماتا ہے کہ ” انہوں نے بدترین مکر اور زبردست داؤ کھیلنا چاہا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا “۔ مجاہد رحمہ اللہ کی یہی تفسیر ہے اور اس کی شہادت اس آیت میں ہے «وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ» [ 27- النمل: 50 ] یعنی ” انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح مکر کیا کہ انہیں پتہ بھی نہ چلا “۔
مشرکین حق کو ٹالنے کے لیے طرح طرح کی حیلہ سازی کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں دھوکے میں ہی رکھا اور ان کا وبال جب تک ان کے سروں پر نہ آ گیا اور ان کی آنکھیں نہ کھلیں۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ” کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور خفیہ سرگوشیاں سن نہیں رہے؟ ان کا گمان بالکل غلط ہے ہم تو ان کی سرشت تک سے واقف ہیں بلکہ ہمارے مقرر کردہ فرشتے بھی ان کے پاس بلکہ ان کے ساتھ ہیں جو نہ صرف دیکھ ہی رہے ہیں بلکہ لکھ بھی رہے ہیں “۔
صفحہ نمبر8297
دوزخ اور دوزخیوں کی درگت ٭٭
اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لیے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہو گی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہو جائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کر دی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو پکاریں گے “۔
صفحہ نمبر8296
صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: یہ موت کی آرزو کریں گے تاکہ عذاب سے چھوٹ جائیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ «وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ» [35-فاطر:36] یعنی ” نہ تو انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب کی تخفیف ہو گی“۔ اور فرمان باری ہے آیت «وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَىٰ ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ» [87-الأعلى:-13-11] یعنی ” وہ بدبخت اس نصیحت سے علیحدہ ہو جائے گا جو بڑی سخت آگ میں پڑے گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا “ ۔
پس جب یہ داروغہ جہنم سے نہایت لجاجت سے کہیں گے کہ آپ ہماری موت کی دعا اللہ سے کیجئے تو وہ جواب دے گا کہ تم اسی میں پڑے رہنے والے ہو مرو گے نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکث ایک ہزار سال ہے۔ یعنی ” نہ مرو گے نہ چھٹکارا پاؤ گے نہ بھاگ سکو گے “۔
پھر ان کی سیاہ کاری کا بیان ہو رہا ہے کہ ” جب ہم نے ان کے سامنے حق کو پیش کر دیا واضح کر دیا تو انہوں نے اسے ماننا تو ایک طرف اس سے نفرت کی۔ ان کی طبیعت ہی اس طرف مائل نہ ہوئی حق اور حق والوں سے نفرت کرتے رہے اس سے رکتے رہے ہاں ناحق کی طرف مائل رہے ناحق والوں سے ان کی خوب بنتی رہی۔ پس تم اپنے نفس کو یہی ملامت کرو اور اپنے ہی اوپر افسوس کرو لیکن آج کا افسوس بھی بے فائدہ ہے “۔
پھر فرماتا ہے کہ ” انہوں نے بدترین مکر اور زبردست داؤ کھیلنا چاہا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا “۔ مجاہد رحمہ اللہ کی یہی تفسیر ہے اور اس کی شہادت اس آیت میں ہے «وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ» [ 27- النمل: 50 ] یعنی ” انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح مکر کیا کہ انہیں پتہ بھی نہ چلا “۔
مشرکین حق کو ٹالنے کے لیے طرح طرح کی حیلہ سازی کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں دھوکے میں ہی رکھا اور ان کا وبال جب تک ان کے سروں پر نہ آ گیا اور ان کی آنکھیں نہ کھلیں۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ” کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور خفیہ سرگوشیاں سن نہیں رہے؟ ان کا گمان بالکل غلط ہے ہم تو ان کی سرشت تک سے واقف ہیں بلکہ ہمارے مقرر کردہ فرشتے بھی ان کے پاس بلکہ ان کے ساتھ ہیں جو نہ صرف دیکھ ہی رہے ہیں بلکہ لکھ بھی رہے ہیں “۔
صفحہ نمبر8297
دوزخ اور دوزخیوں کی درگت ٭٭
اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لیے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہو گی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہو جائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کر دی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو پکاریں گے “۔
صفحہ نمبر8296
صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: یہ موت کی آرزو کریں گے تاکہ عذاب سے چھوٹ جائیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ «وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ» [35-فاطر:36] یعنی ” نہ تو انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب کی تخفیف ہو گی“۔ اور فرمان باری ہے آیت «وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَىٰ ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ» [87-الأعلى:-13-11] یعنی ” وہ بدبخت اس نصیحت سے علیحدہ ہو جائے گا جو بڑی سخت آگ میں پڑے گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا “ ۔
پس جب یہ داروغہ جہنم سے نہایت لجاجت سے کہیں گے کہ آپ ہماری موت کی دعا اللہ سے کیجئے تو وہ جواب دے گا کہ تم اسی میں پڑے رہنے والے ہو مرو گے نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکث ایک ہزار سال ہے۔ یعنی ” نہ مرو گے نہ چھٹکارا پاؤ گے نہ بھاگ سکو گے “۔
پھر ان کی سیاہ کاری کا بیان ہو رہا ہے کہ ” جب ہم نے ان کے سامنے حق کو پیش کر دیا واضح کر دیا تو انہوں نے اسے ماننا تو ایک طرف اس سے نفرت کی۔ ان کی طبیعت ہی اس طرف مائل نہ ہوئی حق اور حق والوں سے نفرت کرتے رہے اس سے رکتے رہے ہاں ناحق کی طرف مائل رہے ناحق والوں سے ان کی خوب بنتی رہی۔ پس تم اپنے نفس کو یہی ملامت کرو اور اپنے ہی اوپر افسوس کرو لیکن آج کا افسوس بھی بے فائدہ ہے “۔
پھر فرماتا ہے کہ ” انہوں نے بدترین مکر اور زبردست داؤ کھیلنا چاہا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا “۔ مجاہد رحمہ اللہ کی یہی تفسیر ہے اور اس کی شہادت اس آیت میں ہے «وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ» [ 27- النمل: 50 ] یعنی ” انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح مکر کیا کہ انہیں پتہ بھی نہ چلا “۔
مشرکین حق کو ٹالنے کے لیے طرح طرح کی حیلہ سازی کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں دھوکے میں ہی رکھا اور ان کا وبال جب تک ان کے سروں پر نہ آ گیا اور ان کی آنکھیں نہ کھلیں۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ” کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور خفیہ سرگوشیاں سن نہیں رہے؟ ان کا گمان بالکل غلط ہے ہم تو ان کی سرشت تک سے واقف ہیں بلکہ ہمارے مقرر کردہ فرشتے بھی ان کے پاس بلکہ ان کے ساتھ ہیں جو نہ صرف دیکھ ہی رہے ہیں بلکہ لکھ بھی رہے ہیں “۔
صفحہ نمبر8297
دوزخ اور دوزخیوں کی درگت ٭٭
اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لیے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہو گی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہو جائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کر دی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو پکاریں گے “۔
صفحہ نمبر8296
صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: یہ موت کی آرزو کریں گے تاکہ عذاب سے چھوٹ جائیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ «وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ» [35-فاطر:36] یعنی ” نہ تو انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب کی تخفیف ہو گی“۔ اور فرمان باری ہے آیت «وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَىٰ ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ» [87-الأعلى:-13-11] یعنی ” وہ بدبخت اس نصیحت سے علیحدہ ہو جائے گا جو بڑی سخت آگ میں پڑے گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا “ ۔
پس جب یہ داروغہ جہنم سے نہایت لجاجت سے کہیں گے کہ آپ ہماری موت کی دعا اللہ سے کیجئے تو وہ جواب دے گا کہ تم اسی میں پڑے رہنے والے ہو مرو گے نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکث ایک ہزار سال ہے۔ یعنی ” نہ مرو گے نہ چھٹکارا پاؤ گے نہ بھاگ سکو گے “۔
پھر ان کی سیاہ کاری کا بیان ہو رہا ہے کہ ” جب ہم نے ان کے سامنے حق کو پیش کر دیا واضح کر دیا تو انہوں نے اسے ماننا تو ایک طرف اس سے نفرت کی۔ ان کی طبیعت ہی اس طرف مائل نہ ہوئی حق اور حق والوں سے نفرت کرتے رہے اس سے رکتے رہے ہاں ناحق کی طرف مائل رہے ناحق والوں سے ان کی خوب بنتی رہی۔ پس تم اپنے نفس کو یہی ملامت کرو اور اپنے ہی اوپر افسوس کرو لیکن آج کا افسوس بھی بے فائدہ ہے “۔
پھر فرماتا ہے کہ ” انہوں نے بدترین مکر اور زبردست داؤ کھیلنا چاہا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا “۔ مجاہد رحمہ اللہ کی یہی تفسیر ہے اور اس کی شہادت اس آیت میں ہے «وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ» [ 27- النمل: 50 ] یعنی ” انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح مکر کیا کہ انہیں پتہ بھی نہ چلا “۔
مشرکین حق کو ٹالنے کے لیے طرح طرح کی حیلہ سازی کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں دھوکے میں ہی رکھا اور ان کا وبال جب تک ان کے سروں پر نہ آ گیا اور ان کی آنکھیں نہ کھلیں۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ” کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور خفیہ سرگوشیاں سن نہیں رہے؟ ان کا گمان بالکل غلط ہے ہم تو ان کی سرشت تک سے واقف ہیں بلکہ ہمارے مقرر کردہ فرشتے بھی ان کے پاس بلکہ ان کے ساتھ ہیں جو نہ صرف دیکھ ہی رہے ہیں بلکہ لکھ بھی رہے ہیں “۔
صفحہ نمبر8297
دوزخ اور دوزخیوں کی درگت ٭٭
اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لیے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہو گی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہو جائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کر دی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو پکاریں گے “۔
صفحہ نمبر8296
صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: یہ موت کی آرزو کریں گے تاکہ عذاب سے چھوٹ جائیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ «وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ» [35-فاطر:36] یعنی ” نہ تو انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب کی تخفیف ہو گی“۔ اور فرمان باری ہے آیت «وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَىٰ ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ» [87-الأعلى:-13-11] یعنی ” وہ بدبخت اس نصیحت سے علیحدہ ہو جائے گا جو بڑی سخت آگ میں پڑے گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا “ ۔
پس جب یہ داروغہ جہنم سے نہایت لجاجت سے کہیں گے کہ آپ ہماری موت کی دعا اللہ سے کیجئے تو وہ جواب دے گا کہ تم اسی میں پڑے رہنے والے ہو مرو گے نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکث ایک ہزار سال ہے۔ یعنی ” نہ مرو گے نہ چھٹکارا پاؤ گے نہ بھاگ سکو گے “۔
پھر ان کی سیاہ کاری کا بیان ہو رہا ہے کہ ” جب ہم نے ان کے سامنے حق کو پیش کر دیا واضح کر دیا تو انہوں نے اسے ماننا تو ایک طرف اس سے نفرت کی۔ ان کی طبیعت ہی اس طرف مائل نہ ہوئی حق اور حق والوں سے نفرت کرتے رہے اس سے رکتے رہے ہاں ناحق کی طرف مائل رہے ناحق والوں سے ان کی خوب بنتی رہی۔ پس تم اپنے نفس کو یہی ملامت کرو اور اپنے ہی اوپر افسوس کرو لیکن آج کا افسوس بھی بے فائدہ ہے “۔
پھر فرماتا ہے کہ ” انہوں نے بدترین مکر اور زبردست داؤ کھیلنا چاہا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا “۔ مجاہد رحمہ اللہ کی یہی تفسیر ہے اور اس کی شہادت اس آیت میں ہے «وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ» [ 27- النمل: 50 ] یعنی ” انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح مکر کیا کہ انہیں پتہ بھی نہ چلا “۔
مشرکین حق کو ٹالنے کے لیے طرح طرح کی حیلہ سازی کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں دھوکے میں ہی رکھا اور ان کا وبال جب تک ان کے سروں پر نہ آ گیا اور ان کی آنکھیں نہ کھلیں۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ” کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور خفیہ سرگوشیاں سن نہیں رہے؟ ان کا گمان بالکل غلط ہے ہم تو ان کی سرشت تک سے واقف ہیں بلکہ ہمارے مقرر کردہ فرشتے بھی ان کے پاس بلکہ ان کے ساتھ ہیں جو نہ صرف دیکھ ہی رہے ہیں بلکہ لکھ بھی رہے ہیں “۔
صفحہ نمبر8297
دوزخ اور دوزخیوں کی درگت ٭٭
اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لیے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہو گی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہو جائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کر دی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو پکاریں گے “۔
صفحہ نمبر8296
صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: یہ موت کی آرزو کریں گے تاکہ عذاب سے چھوٹ جائیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ «وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ» [35-فاطر:36] یعنی ” نہ تو انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب کی تخفیف ہو گی“۔ اور فرمان باری ہے آیت «وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَىٰ ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ» [87-الأعلى:-13-11] یعنی ” وہ بدبخت اس نصیحت سے علیحدہ ہو جائے گا جو بڑی سخت آگ میں پڑے گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا “ ۔
پس جب یہ داروغہ جہنم سے نہایت لجاجت سے کہیں گے کہ آپ ہماری موت کی دعا اللہ سے کیجئے تو وہ جواب دے گا کہ تم اسی میں پڑے رہنے والے ہو مرو گے نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکث ایک ہزار سال ہے۔ یعنی ” نہ مرو گے نہ چھٹکارا پاؤ گے نہ بھاگ سکو گے “۔
پھر ان کی سیاہ کاری کا بیان ہو رہا ہے کہ ” جب ہم نے ان کے سامنے حق کو پیش کر دیا واضح کر دیا تو انہوں نے اسے ماننا تو ایک طرف اس سے نفرت کی۔ ان کی طبیعت ہی اس طرف مائل نہ ہوئی حق اور حق والوں سے نفرت کرتے رہے اس سے رکتے رہے ہاں ناحق کی طرف مائل رہے ناحق والوں سے ان کی خوب بنتی رہی۔ پس تم اپنے نفس کو یہی ملامت کرو اور اپنے ہی اوپر افسوس کرو لیکن آج کا افسوس بھی بے فائدہ ہے “۔
پھر فرماتا ہے کہ ” انہوں نے بدترین مکر اور زبردست داؤ کھیلنا چاہا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا “۔ مجاہد رحمہ اللہ کی یہی تفسیر ہے اور اس کی شہادت اس آیت میں ہے «وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ» [ 27- النمل: 50 ] یعنی ” انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح مکر کیا کہ انہیں پتہ بھی نہ چلا “۔
مشرکین حق کو ٹالنے کے لیے طرح طرح کی حیلہ سازی کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں دھوکے میں ہی رکھا اور ان کا وبال جب تک ان کے سروں پر نہ آ گیا اور ان کی آنکھیں نہ کھلیں۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ” کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور خفیہ سرگوشیاں سن نہیں رہے؟ ان کا گمان بالکل غلط ہے ہم تو ان کی سرشت تک سے واقف ہیں بلکہ ہمارے مقرر کردہ فرشتے بھی ان کے پاس بلکہ ان کے ساتھ ہیں جو نہ صرف دیکھ ہی رہے ہیں بلکہ لکھ بھی رہے ہیں “۔
صفحہ نمبر8297
دوزخ اور دوزخیوں کی درگت ٭٭
اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لیے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہو گی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہو جائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کر دی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو پکاریں گے “۔
صفحہ نمبر8296
صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: یہ موت کی آرزو کریں گے تاکہ عذاب سے چھوٹ جائیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ «وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ» [35-فاطر:36] یعنی ” نہ تو انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب کی تخفیف ہو گی“۔ اور فرمان باری ہے آیت «وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَىٰ ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ» [87-الأعلى:-13-11] یعنی ” وہ بدبخت اس نصیحت سے علیحدہ ہو جائے گا جو بڑی سخت آگ میں پڑے گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا “ ۔
پس جب یہ داروغہ جہنم سے نہایت لجاجت سے کہیں گے کہ آپ ہماری موت کی دعا اللہ سے کیجئے تو وہ جواب دے گا کہ تم اسی میں پڑے رہنے والے ہو مرو گے نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکث ایک ہزار سال ہے۔ یعنی ” نہ مرو گے نہ چھٹکارا پاؤ گے نہ بھاگ سکو گے “۔
پھر ان کی سیاہ کاری کا بیان ہو رہا ہے کہ ” جب ہم نے ان کے سامنے حق کو پیش کر دیا واضح کر دیا تو انہوں نے اسے ماننا تو ایک طرف اس سے نفرت کی۔ ان کی طبیعت ہی اس طرف مائل نہ ہوئی حق اور حق والوں سے نفرت کرتے رہے اس سے رکتے رہے ہاں ناحق کی طرف مائل رہے ناحق والوں سے ان کی خوب بنتی رہی۔ پس تم اپنے نفس کو یہی ملامت کرو اور اپنے ہی اوپر افسوس کرو لیکن آج کا افسوس بھی بے فائدہ ہے “۔
پھر فرماتا ہے کہ ” انہوں نے بدترین مکر اور زبردست داؤ کھیلنا چاہا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا “۔ مجاہد رحمہ اللہ کی یہی تفسیر ہے اور اس کی شہادت اس آیت میں ہے «وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ» [ 27- النمل: 50 ] یعنی ” انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح مکر کیا کہ انہیں پتہ بھی نہ چلا “۔
مشرکین حق کو ٹالنے کے لیے طرح طرح کی حیلہ سازی کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں دھوکے میں ہی رکھا اور ان کا وبال جب تک ان کے سروں پر نہ آ گیا اور ان کی آنکھیں نہ کھلیں۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ” کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور خفیہ سرگوشیاں سن نہیں رہے؟ ان کا گمان بالکل غلط ہے ہم تو ان کی سرشت تک سے واقف ہیں بلکہ ہمارے مقرر کردہ فرشتے بھی ان کے پاس بلکہ ان کے ساتھ ہیں جو نہ صرف دیکھ ہی رہے ہیں بلکہ لکھ بھی رہے ہیں “۔
صفحہ نمبر8297
جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالٰی کے ساتھ شرک ہے ٭٭
” اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ اعلان کر دیجئیے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے؟ “ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو۔
یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت «لَّوْ أَرَادَ اللَّـهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفَىٰ مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحَانَهُ هُوَ اللَّـهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» [39-الزمر:4] ، یعنی ” اگر حق جل و علا اولاد کی خواہش کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اس کی شان وحدانیت اس کے خلاف ہے اس کا تنہا غلبہ اور قہاریت اس کی صریح منافی ہے “۔
بعض مفسریں نے «عَابِدِیْنَ» کے معنی انکاری کے بھی کئے ہیں جیسے سفیان ثوری رحمہ اللہ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ «عَابِدِیْنَ» سے مراد یہاں «اَوَّلُ الْجَاحِدِیْـنَ» ہے یعنی پہلا انکار کرنے والا اور یہ «عَبْدَ یَعْبَدُ» کے باب سے ہے اور جو عبادت کے معنی میں ہوتا ہے۔ وہ «عَـبَدَ یَـعْـبُدُ» سے ہوتا ہے۔
اسی کی شہادت میں یہ واقعہ بھی ہے کہ ایک عورت کے نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ ہوا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کی مخالفت کی اور فرمایا ”اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے آیت «وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» [46-الأحقاف:15] یعنی ” حمل کی اور دودھ کی چھٹائی کی مدت ڈھائی سال کی ہے “۔ اور جگہ اللہ عزوجل نے فرمایا آیت «وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ» [31-لقمان:14] ” دو سال کے اندر اندر دودھ چھڑانے کی مدت ہے “۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان کا انکار نہ کر سکے اور فوراً آدمی بھیجا کہ اس عورت کو واپس کرو۔ یہاں بھی لفظ «عَـبِدَ» ہے یعنی انکار نہ کر سکے۔ ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں «عَـبِدَ» کے معنی نہ ماننا انکار کرنا ہے۔ شاعر کے شعر میں بھی «عَـبِدَ» انکار کے اور نہ ماننے کے معنی میں ہے۔
لیکن اس قول میں نظر ہے اس لیے کہ شرط کے جواب میں یہ کچھ ٹھیک طور پر لگتا نہیں اسے ماننے کے بعد مطلب یہ ہو گا کہ ”اگر رحمان کی اولاد ہے تو میں پہلا منکر ہوں۔“ اور اس میں کلام کی خوبصورتی قائم نہیں رہتی۔ ہاں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ «اِنْ» شرط کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ نفی کے لیے ہے جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول بھی ہے۔
تو اب مضمون کلام یہ ہو گا کہ چونکہ رحمان کی اولاد نہیں پس میں اس کا پہلا گواہ ہوں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ کلام عرب کے محاورے کے مطابق ہے یعنی ”نہ رحمان کی اولاد نہ میں اس کا قائل و عابد۔“
صفحہ نمبر8304
ابو صخر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”میں تو پہلے ہی اس کا عابد ہوں کہ اس کی اولاد ہے ہی نہیں اور میں اس کی توحید کو ماننے میں بھی آگے آگے ہوں۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں اس کا پہلا عبادت گذار ہوں اور موحد ہوں اور تمہاری تکذیب کرنے والا ہوں۔“
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں پہلا انکاری ہوں۔“ یہ دونوں لغت میں «عَابِد» اور «عَبِدَ» اور اول ہی زیادہ قریب ہے اس وجہ سے کہ یہ شرط و جزا ہے لیکن یہ ممتنع اور محال محض ناممکن۔
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر اس کی اولاد ہوتی تو میں اسے پہلے مان لیتا کہ اس کی اولاد ہے لیکن وہ اس سے پاک ہے۔“ ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور جو لوگ «اِنْ» کو نافیہ بتلاتے ہیں ان کے قول کی تردید کرتے ہیں، اسی لیے باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ ” آسمان و زمین اور تمام چیزوں کا حال اس سے پاک بہت دور اور بالکل منزہ ہے کہ اس کی اولاد ہو وہ فرد احمد صمد ہے اس کی نظیر کفو اولاد کوئی نہیں “۔
ارشاد ہوتا ہے کہ ” نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنی جہالت میں غوطے کھاتے چھوڑو اور دنیا کے کھیل تماشوں میں مشغول رہنے دو اسی غفلت میں ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس وقت اپنا انجام معلوم کر لیں “۔
پھر ذات حق کی بزرگی اور عظمت اور جلال کا مزید بیان ہوتا ہے کہ ” زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اس کی عابد ہے اس کے سامنے پست اور عاجز ہے۔ وہ خبیر و علیم ہے “۔
صفحہ نمبر8305
جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالٰی کے ساتھ شرک ہے ٭٭
” اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ اعلان کر دیجئیے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے؟ “ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو۔
یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت «لَّوْ أَرَادَ اللَّـهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفَىٰ مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحَانَهُ هُوَ اللَّـهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» [39-الزمر:4] ، یعنی ” اگر حق جل و علا اولاد کی خواہش کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اس کی شان وحدانیت اس کے خلاف ہے اس کا تنہا غلبہ اور قہاریت اس کی صریح منافی ہے “۔
بعض مفسریں نے «عَابِدِیْنَ» کے معنی انکاری کے بھی کئے ہیں جیسے سفیان ثوری رحمہ اللہ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ «عَابِدِیْنَ» سے مراد یہاں «اَوَّلُ الْجَاحِدِیْـنَ» ہے یعنی پہلا انکار کرنے والا اور یہ «عَبْدَ یَعْبَدُ» کے باب سے ہے اور جو عبادت کے معنی میں ہوتا ہے۔ وہ «عَـبَدَ یَـعْـبُدُ» سے ہوتا ہے۔
اسی کی شہادت میں یہ واقعہ بھی ہے کہ ایک عورت کے نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ ہوا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کی مخالفت کی اور فرمایا ”اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے آیت «وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» [46-الأحقاف:15] یعنی ” حمل کی اور دودھ کی چھٹائی کی مدت ڈھائی سال کی ہے “۔ اور جگہ اللہ عزوجل نے فرمایا آیت «وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ» [31-لقمان:14] ” دو سال کے اندر اندر دودھ چھڑانے کی مدت ہے “۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان کا انکار نہ کر سکے اور فوراً آدمی بھیجا کہ اس عورت کو واپس کرو۔ یہاں بھی لفظ «عَـبِدَ» ہے یعنی انکار نہ کر سکے۔ ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں «عَـبِدَ» کے معنی نہ ماننا انکار کرنا ہے۔ شاعر کے شعر میں بھی «عَـبِدَ» انکار کے اور نہ ماننے کے معنی میں ہے۔
لیکن اس قول میں نظر ہے اس لیے کہ شرط کے جواب میں یہ کچھ ٹھیک طور پر لگتا نہیں اسے ماننے کے بعد مطلب یہ ہو گا کہ ”اگر رحمان کی اولاد ہے تو میں پہلا منکر ہوں۔“ اور اس میں کلام کی خوبصورتی قائم نہیں رہتی۔ ہاں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ «اِنْ» شرط کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ نفی کے لیے ہے جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول بھی ہے۔
تو اب مضمون کلام یہ ہو گا کہ چونکہ رحمان کی اولاد نہیں پس میں اس کا پہلا گواہ ہوں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ کلام عرب کے محاورے کے مطابق ہے یعنی ”نہ رحمان کی اولاد نہ میں اس کا قائل و عابد۔“
صفحہ نمبر8304
ابو صخر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”میں تو پہلے ہی اس کا عابد ہوں کہ اس کی اولاد ہے ہی نہیں اور میں اس کی توحید کو ماننے میں بھی آگے آگے ہوں۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں اس کا پہلا عبادت گذار ہوں اور موحد ہوں اور تمہاری تکذیب کرنے والا ہوں۔“
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں پہلا انکاری ہوں۔“ یہ دونوں لغت میں «عَابِد» اور «عَبِدَ» اور اول ہی زیادہ قریب ہے اس وجہ سے کہ یہ شرط و جزا ہے لیکن یہ ممتنع اور محال محض ناممکن۔
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر اس کی اولاد ہوتی تو میں اسے پہلے مان لیتا کہ اس کی اولاد ہے لیکن وہ اس سے پاک ہے۔“ ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور جو لوگ «اِنْ» کو نافیہ بتلاتے ہیں ان کے قول کی تردید کرتے ہیں، اسی لیے باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ ” آسمان و زمین اور تمام چیزوں کا حال اس سے پاک بہت دور اور بالکل منزہ ہے کہ اس کی اولاد ہو وہ فرد احمد صمد ہے اس کی نظیر کفو اولاد کوئی نہیں “۔
ارشاد ہوتا ہے کہ ” نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنی جہالت میں غوطے کھاتے چھوڑو اور دنیا کے کھیل تماشوں میں مشغول رہنے دو اسی غفلت میں ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس وقت اپنا انجام معلوم کر لیں “۔
پھر ذات حق کی بزرگی اور عظمت اور جلال کا مزید بیان ہوتا ہے کہ ” زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اس کی عابد ہے اس کے سامنے پست اور عاجز ہے۔ وہ خبیر و علیم ہے “۔
صفحہ نمبر8305
جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالٰی کے ساتھ شرک ہے ٭٭
” اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ اعلان کر دیجئیے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے؟ “ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو۔
یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت «لَّوْ أَرَادَ اللَّـهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفَىٰ مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحَانَهُ هُوَ اللَّـهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» [39-الزمر:4] ، یعنی ” اگر حق جل و علا اولاد کی خواہش کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اس کی شان وحدانیت اس کے خلاف ہے اس کا تنہا غلبہ اور قہاریت اس کی صریح منافی ہے “۔
بعض مفسریں نے «عَابِدِیْنَ» کے معنی انکاری کے بھی کئے ہیں جیسے سفیان ثوری رحمہ اللہ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ «عَابِدِیْنَ» سے مراد یہاں «اَوَّلُ الْجَاحِدِیْـنَ» ہے یعنی پہلا انکار کرنے والا اور یہ «عَبْدَ یَعْبَدُ» کے باب سے ہے اور جو عبادت کے معنی میں ہوتا ہے۔ وہ «عَـبَدَ یَـعْـبُدُ» سے ہوتا ہے۔
اسی کی شہادت میں یہ واقعہ بھی ہے کہ ایک عورت کے نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ ہوا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کی مخالفت کی اور فرمایا ”اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے آیت «وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» [46-الأحقاف:15] یعنی ” حمل کی اور دودھ کی چھٹائی کی مدت ڈھائی سال کی ہے “۔ اور جگہ اللہ عزوجل نے فرمایا آیت «وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ» [31-لقمان:14] ” دو سال کے اندر اندر دودھ چھڑانے کی مدت ہے “۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان کا انکار نہ کر سکے اور فوراً آدمی بھیجا کہ اس عورت کو واپس کرو۔ یہاں بھی لفظ «عَـبِدَ» ہے یعنی انکار نہ کر سکے۔ ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں «عَـبِدَ» کے معنی نہ ماننا انکار کرنا ہے۔ شاعر کے شعر میں بھی «عَـبِدَ» انکار کے اور نہ ماننے کے معنی میں ہے۔
لیکن اس قول میں نظر ہے اس لیے کہ شرط کے جواب میں یہ کچھ ٹھیک طور پر لگتا نہیں اسے ماننے کے بعد مطلب یہ ہو گا کہ ”اگر رحمان کی اولاد ہے تو میں پہلا منکر ہوں۔“ اور اس میں کلام کی خوبصورتی قائم نہیں رہتی۔ ہاں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ «اِنْ» شرط کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ نفی کے لیے ہے جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول بھی ہے۔
تو اب مضمون کلام یہ ہو گا کہ چونکہ رحمان کی اولاد نہیں پس میں اس کا پہلا گواہ ہوں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ کلام عرب کے محاورے کے مطابق ہے یعنی ”نہ رحمان کی اولاد نہ میں اس کا قائل و عابد۔“
صفحہ نمبر8304
ابو صخر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”میں تو پہلے ہی اس کا عابد ہوں کہ اس کی اولاد ہے ہی نہیں اور میں اس کی توحید کو ماننے میں بھی آگے آگے ہوں۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں اس کا پہلا عبادت گذار ہوں اور موحد ہوں اور تمہاری تکذیب کرنے والا ہوں۔“
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں پہلا انکاری ہوں۔“ یہ دونوں لغت میں «عَابِد» اور «عَبِدَ» اور اول ہی زیادہ قریب ہے اس وجہ سے کہ یہ شرط و جزا ہے لیکن یہ ممتنع اور محال محض ناممکن۔
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر اس کی اولاد ہوتی تو میں اسے پہلے مان لیتا کہ اس کی اولاد ہے لیکن وہ اس سے پاک ہے۔“ ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور جو لوگ «اِنْ» کو نافیہ بتلاتے ہیں ان کے قول کی تردید کرتے ہیں، اسی لیے باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ ” آسمان و زمین اور تمام چیزوں کا حال اس سے پاک بہت دور اور بالکل منزہ ہے کہ اس کی اولاد ہو وہ فرد احمد صمد ہے اس کی نظیر کفو اولاد کوئی نہیں “۔
ارشاد ہوتا ہے کہ ” نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنی جہالت میں غوطے کھاتے چھوڑو اور دنیا کے کھیل تماشوں میں مشغول رہنے دو اسی غفلت میں ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس وقت اپنا انجام معلوم کر لیں “۔
پھر ذات حق کی بزرگی اور عظمت اور جلال کا مزید بیان ہوتا ہے کہ ” زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اس کی عابد ہے اس کے سامنے پست اور عاجز ہے۔ وہ خبیر و علیم ہے “۔
صفحہ نمبر8305
جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالٰی کے ساتھ شرک ہے ٭٭
” اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ اعلان کر دیجئیے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے؟ “ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو۔
یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت «لَّوْ أَرَادَ اللَّـهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفَىٰ مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحَانَهُ هُوَ اللَّـهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» [39-الزمر:4] ، یعنی ” اگر حق جل و علا اولاد کی خواہش کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اس کی شان وحدانیت اس کے خلاف ہے اس کا تنہا غلبہ اور قہاریت اس کی صریح منافی ہے “۔
بعض مفسریں نے «عَابِدِیْنَ» کے معنی انکاری کے بھی کئے ہیں جیسے سفیان ثوری رحمہ اللہ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ «عَابِدِیْنَ» سے مراد یہاں «اَوَّلُ الْجَاحِدِیْـنَ» ہے یعنی پہلا انکار کرنے والا اور یہ «عَبْدَ یَعْبَدُ» کے باب سے ہے اور جو عبادت کے معنی میں ہوتا ہے۔ وہ «عَـبَدَ یَـعْـبُدُ» سے ہوتا ہے۔
اسی کی شہادت میں یہ واقعہ بھی ہے کہ ایک عورت کے نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ ہوا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کی مخالفت کی اور فرمایا ”اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے آیت «وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» [46-الأحقاف:15] یعنی ” حمل کی اور دودھ کی چھٹائی کی مدت ڈھائی سال کی ہے “۔ اور جگہ اللہ عزوجل نے فرمایا آیت «وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ» [31-لقمان:14] ” دو سال کے اندر اندر دودھ چھڑانے کی مدت ہے “۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان کا انکار نہ کر سکے اور فوراً آدمی بھیجا کہ اس عورت کو واپس کرو۔ یہاں بھی لفظ «عَـبِدَ» ہے یعنی انکار نہ کر سکے۔ ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں «عَـبِدَ» کے معنی نہ ماننا انکار کرنا ہے۔ شاعر کے شعر میں بھی «عَـبِدَ» انکار کے اور نہ ماننے کے معنی میں ہے۔
لیکن اس قول میں نظر ہے اس لیے کہ شرط کے جواب میں یہ کچھ ٹھیک طور پر لگتا نہیں اسے ماننے کے بعد مطلب یہ ہو گا کہ ”اگر رحمان کی اولاد ہے تو میں پہلا منکر ہوں۔“ اور اس میں کلام کی خوبصورتی قائم نہیں رہتی۔ ہاں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ «اِنْ» شرط کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ نفی کے لیے ہے جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول بھی ہے۔
تو اب مضمون کلام یہ ہو گا کہ چونکہ رحمان کی اولاد نہیں پس میں اس کا پہلا گواہ ہوں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ کلام عرب کے محاورے کے مطابق ہے یعنی ”نہ رحمان کی اولاد نہ میں اس کا قائل و عابد۔“
صفحہ نمبر8304
ابو صخر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”میں تو پہلے ہی اس کا عابد ہوں کہ اس کی اولاد ہے ہی نہیں اور میں اس کی توحید کو ماننے میں بھی آگے آگے ہوں۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں اس کا پہلا عبادت گذار ہوں اور موحد ہوں اور تمہاری تکذیب کرنے والا ہوں۔“
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں پہلا انکاری ہوں۔“ یہ دونوں لغت میں «عَابِد» اور «عَبِدَ» اور اول ہی زیادہ قریب ہے اس وجہ سے کہ یہ شرط و جزا ہے لیکن یہ ممتنع اور محال محض ناممکن۔
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر اس کی اولاد ہوتی تو میں اسے پہلے مان لیتا کہ اس کی اولاد ہے لیکن وہ اس سے پاک ہے۔“ ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور جو لوگ «اِنْ» کو نافیہ بتلاتے ہیں ان کے قول کی تردید کرتے ہیں، اسی لیے باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ ” آسمان و زمین اور تمام چیزوں کا حال اس سے پاک بہت دور اور بالکل منزہ ہے کہ اس کی اولاد ہو وہ فرد احمد صمد ہے اس کی نظیر کفو اولاد کوئی نہیں “۔
ارشاد ہوتا ہے کہ ” نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنی جہالت میں غوطے کھاتے چھوڑو اور دنیا کے کھیل تماشوں میں مشغول رہنے دو اسی غفلت میں ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس وقت اپنا انجام معلوم کر لیں “۔
پھر ذات حق کی بزرگی اور عظمت اور جلال کا مزید بیان ہوتا ہے کہ ” زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اس کی عابد ہے اس کے سامنے پست اور عاجز ہے۔ وہ خبیر و علیم ہے “۔
صفحہ نمبر8305
اللہ تعالیٰ کی چند صفات ٭٭
جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَهُوَ اللَّـهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ» [6-الأنعام:3] ” زمین و آسمان میں اللہ وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کو اور تمہارے ہر ہر عمل کو جانتا ہے “۔
وہ سب کا خالق و مالک سب کو بسانے اور بنانے والا سب پر حکومت اور سلطنت رکھنے والا بڑی برکتوں والا ہے۔ وہ تمام عیبوں سے کل نقصانات سے پاک ہے وہ سب کا مالک ہے بلندیوں اور عظمتوں والا ہے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے کوئی نہیں جو اس کی مرضی بدل سکے ہر ایک پر قابض وہی ہے ہر ایک کام اس کی قدرت کے ماتحت ہے قیامت آنے کے وقت کو وہی جانتا ہے اس کے سوا کسی کو اس کے آنے کے ٹھیک وقت کا علم نہیں ساری مخلوق اسی کی طرف لوٹائی جائے گی وہ ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کا بدلہ دے گا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” ان کافروں کے معبودان باطل جنہیں یہ اپنا سفارشی خیال کئے بیٹھے ہیں ان میں سے کوئی بھی سفارش کے لیے آگے بڑھ نہیں سکتا کسی کی شفاعت انہیں کام نہ آئے گی “۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے یعنی لیکن جو شخص حق کا اقراری اور شاہد ہو اور وہ خود بھی بصیرت و بصارت پر یعنی علم و معرفت والا ہو اسے اللہ کے حکم سے نیک لوگوں کی شفاعت کار آمد ہو گی۔
صفحہ نمبر8309
اللہ تعالیٰ کی چند صفات ٭٭
جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَهُوَ اللَّـهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ» [6-الأنعام:3] ” زمین و آسمان میں اللہ وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کو اور تمہارے ہر ہر عمل کو جانتا ہے “۔
وہ سب کا خالق و مالک سب کو بسانے اور بنانے والا سب پر حکومت اور سلطنت رکھنے والا بڑی برکتوں والا ہے۔ وہ تمام عیبوں سے کل نقصانات سے پاک ہے وہ سب کا مالک ہے بلندیوں اور عظمتوں والا ہے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے کوئی نہیں جو اس کی مرضی بدل سکے ہر ایک پر قابض وہی ہے ہر ایک کام اس کی قدرت کے ماتحت ہے قیامت آنے کے وقت کو وہی جانتا ہے اس کے سوا کسی کو اس کے آنے کے ٹھیک وقت کا علم نہیں ساری مخلوق اسی کی طرف لوٹائی جائے گی وہ ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کا بدلہ دے گا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” ان کافروں کے معبودان باطل جنہیں یہ اپنا سفارشی خیال کئے بیٹھے ہیں ان میں سے کوئی بھی سفارش کے لیے آگے بڑھ نہیں سکتا کسی کی شفاعت انہیں کام نہ آئے گی “۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے یعنی لیکن جو شخص حق کا اقراری اور شاہد ہو اور وہ خود بھی بصیرت و بصارت پر یعنی علم و معرفت والا ہو اسے اللہ کے حکم سے نیک لوگوں کی شفاعت کار آمد ہو گی۔
صفحہ نمبر8309
مشرکین کی کم عقلی ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ” ان سے اگر تو پوچھے کہ ان کا خالق کون ہے؟ تو یہ اقرار کریں گے کہ اللہ ہی ہے “۔ افسوس کہ خالق اسی ایک کو مان کر پھر عبادت دوسروں کی بھی کرتے ہیں جو محض مجبور اور بالکل بے قدرت ہیں اور کبھی اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتے کہ جب پیدا اسی ایک نے کیا تو ہم دوسرے کی عبادت کیوں کریں؟ جہالت و خباثت کند ذہنی اور بیوقوفی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایسی سیدھی سی بات مرتے دم تک سمجھ نہ آئی۔ بلکہ سمجھانے سے بھی نہ سمجھا۔
اسی لیے تعجب سے ارشاد ہوا کہ ” اتنا مانتے ہوئے پھر کیوں اندھے ہو جاتے ہو؟ “ پھر ارشاد ہے کہ ” محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا یہ کہنا کہا “، یعنی اپنے رب کی طرف شکایت کی اور اپنی قوم کی تکذیب کا بیان کیا کہ یہ ایمان قبول نہیں کرتے۔
صفحہ نمبر8311
جیسے اور آیت میں ہے «وَقَال الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا» [25-الفرقان:30] یعنی ” رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شکایت اللہ کے سامنے ہو گی کہ میری امت نے اس قران کو چھوڑ رکھا تھا “۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت «وَقَالَ الرَّسُوْلُ يَا رَبِّ هَؤُلَاءِ» الخ ہے۔ اس کی ایک توجیہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ آیت «اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ» [43-الزخرف:80] پر معطوف ہے دوسرے یہ کہ یہاں فعل مقدر مانا جائے یعنی «قَالَ» کو مقدر مانا جائے۔
دوسری قرأت یعنی لام کے زیر کے ساتھ جب ہو تو یہ عجب ہو گا آیت «وَعِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [43-الزخرف:85] پر تو تقدیر یوں ہو گی کہ ” قیامت کا علم اور اس قول کا علم اس کے پاس ہے “۔
ختم سورۃ پر ارشاد ہوتا ہے کہ ” مشرکین سے منہ موڑ لے اور ان کی بد زبانی کا بد کالمی سے جواب نہ دو بلکہ ان کے دل پر چانے کی خاطر قول میں اور فعل میں دونوں میں نرمی برتو کہہ دو کہ سلام ہے۔ انہیں ابھی حقیقت حال معلوم ہو جائے گی “۔
اس میں رب قدوس کی طرف سے مشرکین کو بڑی دھمکی ہے اور یہی ہو کر بھی رہا کہ ان پر وہ عذاب آیا جو ان سے ٹل نہ سکا حق جل و علا نے اپنے دین کو بلند و بالا کیا اپنے کلمہ کو چاروں طرف پھیلا دیا اپنے موحد مومن اور مسلم بندوں کو قوی کر دیا اور پھر انہیں جہاد کے اور جلا وطن کرنے کے احکام دے کر اس طرح دنیا میں غالب کر دیا اللہ کے دین میں بےشمار آدمی داخل ہوئے اور مشرق و مغرب میں اسلام پھیل گیا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر8312
مشرکین کی کم عقلی ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ” ان سے اگر تو پوچھے کہ ان کا خالق کون ہے؟ تو یہ اقرار کریں گے کہ اللہ ہی ہے “۔ افسوس کہ خالق اسی ایک کو مان کر پھر عبادت دوسروں کی بھی کرتے ہیں جو محض مجبور اور بالکل بے قدرت ہیں اور کبھی اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتے کہ جب پیدا اسی ایک نے کیا تو ہم دوسرے کی عبادت کیوں کریں؟ جہالت و خباثت کند ذہنی اور بیوقوفی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایسی سیدھی سی بات مرتے دم تک سمجھ نہ آئی۔ بلکہ سمجھانے سے بھی نہ سمجھا۔
اسی لیے تعجب سے ارشاد ہوا کہ ” اتنا مانتے ہوئے پھر کیوں اندھے ہو جاتے ہو؟ “ پھر ارشاد ہے کہ ” محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا یہ کہنا کہا “، یعنی اپنے رب کی طرف شکایت کی اور اپنی قوم کی تکذیب کا بیان کیا کہ یہ ایمان قبول نہیں کرتے۔
صفحہ نمبر8311
جیسے اور آیت میں ہے «وَقَال الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا» [25-الفرقان:30] یعنی ” رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شکایت اللہ کے سامنے ہو گی کہ میری امت نے اس قران کو چھوڑ رکھا تھا “۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت «وَقَالَ الرَّسُوْلُ يَا رَبِّ هَؤُلَاءِ» الخ ہے۔ اس کی ایک توجیہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ آیت «اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ» [43-الزخرف:80] پر معطوف ہے دوسرے یہ کہ یہاں فعل مقدر مانا جائے یعنی «قَالَ» کو مقدر مانا جائے۔
دوسری قرأت یعنی لام کے زیر کے ساتھ جب ہو تو یہ عجب ہو گا آیت «وَعِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [43-الزخرف:85] پر تو تقدیر یوں ہو گی کہ ” قیامت کا علم اور اس قول کا علم اس کے پاس ہے “۔
ختم سورۃ پر ارشاد ہوتا ہے کہ ” مشرکین سے منہ موڑ لے اور ان کی بد زبانی کا بد کالمی سے جواب نہ دو بلکہ ان کے دل پر چانے کی خاطر قول میں اور فعل میں دونوں میں نرمی برتو کہہ دو کہ سلام ہے۔ انہیں ابھی حقیقت حال معلوم ہو جائے گی “۔
اس میں رب قدوس کی طرف سے مشرکین کو بڑی دھمکی ہے اور یہی ہو کر بھی رہا کہ ان پر وہ عذاب آیا جو ان سے ٹل نہ سکا حق جل و علا نے اپنے دین کو بلند و بالا کیا اپنے کلمہ کو چاروں طرف پھیلا دیا اپنے موحد مومن اور مسلم بندوں کو قوی کر دیا اور پھر انہیں جہاد کے اور جلا وطن کرنے کے احکام دے کر اس طرح دنیا میں غالب کر دیا اللہ کے دین میں بےشمار آدمی داخل ہوئے اور مشرق و مغرب میں اسلام پھیل گیا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر8312
مشرکین کی کم عقلی ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ” ان سے اگر تو پوچھے کہ ان کا خالق کون ہے؟ تو یہ اقرار کریں گے کہ اللہ ہی ہے “۔ افسوس کہ خالق اسی ایک کو مان کر پھر عبادت دوسروں کی بھی کرتے ہیں جو محض مجبور اور بالکل بے قدرت ہیں اور کبھی اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتے کہ جب پیدا اسی ایک نے کیا تو ہم دوسرے کی عبادت کیوں کریں؟ جہالت و خباثت کند ذہنی اور بیوقوفی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایسی سیدھی سی بات مرتے دم تک سمجھ نہ آئی۔ بلکہ سمجھانے سے بھی نہ سمجھا۔
اسی لیے تعجب سے ارشاد ہوا کہ ” اتنا مانتے ہوئے پھر کیوں اندھے ہو جاتے ہو؟ “ پھر ارشاد ہے کہ ” محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا یہ کہنا کہا “، یعنی اپنے رب کی طرف شکایت کی اور اپنی قوم کی تکذیب کا بیان کیا کہ یہ ایمان قبول نہیں کرتے۔
صفحہ نمبر8311
جیسے اور آیت میں ہے «وَقَال الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا» [25-الفرقان:30] یعنی ” رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شکایت اللہ کے سامنے ہو گی کہ میری امت نے اس قران کو چھوڑ رکھا تھا “۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت «وَقَالَ الرَّسُوْلُ يَا رَبِّ هَؤُلَاءِ» الخ ہے۔ اس کی ایک توجیہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ آیت «اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ» [43-الزخرف:80] پر معطوف ہے دوسرے یہ کہ یہاں فعل مقدر مانا جائے یعنی «قَالَ» کو مقدر مانا جائے۔
دوسری قرأت یعنی لام کے زیر کے ساتھ جب ہو تو یہ عجب ہو گا آیت «وَعِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [43-الزخرف:85] پر تو تقدیر یوں ہو گی کہ ” قیامت کا علم اور اس قول کا علم اس کے پاس ہے “۔
ختم سورۃ پر ارشاد ہوتا ہے کہ ” مشرکین سے منہ موڑ لے اور ان کی بد زبانی کا بد کالمی سے جواب نہ دو بلکہ ان کے دل پر چانے کی خاطر قول میں اور فعل میں دونوں میں نرمی برتو کہہ دو کہ سلام ہے۔ انہیں ابھی حقیقت حال معلوم ہو جائے گی “۔
اس میں رب قدوس کی طرف سے مشرکین کو بڑی دھمکی ہے اور یہی ہو کر بھی رہا کہ ان پر وہ عذاب آیا جو ان سے ٹل نہ سکا حق جل و علا نے اپنے دین کو بلند و بالا کیا اپنے کلمہ کو چاروں طرف پھیلا دیا اپنے موحد مومن اور مسلم بندوں کو قوی کر دیا اور پھر انہیں جہاد کے اور جلا وطن کرنے کے احکام دے کر اس طرح دنیا میں غالب کر دیا اللہ کے دین میں بےشمار آدمی داخل ہوئے اور مشرق و مغرب میں اسلام پھیل گیا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر8312