John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Ad-Dukhaan

Tafsir Ibn Kathir · The Smoke · 59 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

تفسیر سورۃ الدخان:

ترمذی شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو شخص رات کو سورۃ «حم دخان» پڑھے اس کے لئے صبح تک ستر ہزار فرشتے استغفار کرتے رہتے ہیں“۔ (سنن ترمذي:2888،قال الشيخ الألباني:باطل و موضوع) یہ حدیث غریب ہے اور اس کے ایک راوی عمرو بن ابی خثعم ضعیف ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں۔

ترمذی کی اور حدیث میں ہے کہ جس نے اس سورۃ کو جمعہ کی رات پڑھا اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ (سنن ترمذي:2891،قال الشيخ الألباني:ضعیف) یہ حدیث بھی غریب ہے۔ اور اس کے ایک راوی ابوالمقدام ہشام ضعیف ہیں اور دوسرے راوی حسن کا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔

مسند بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کے سامنے اپنے دل میں سورۃ دخان کو پوشیدہ کر کے اس سے پوچھا کہ بتا میرے دل میں کیا ہے؟ اس نے کہا «دخ» آپ نے فرمایا ”بس پرے ہٹ جا نامراد رہ گیا جو اللہ چاہتا ہے ہوتا ہے“، پھر آپ لوٹ گئے۔ (طبرانی کبیر:4666:ضعیف)

عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے «اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» ‏ [ 97- القدر: 1 ] ‏ ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ» ‏ [ 2- البقرة: 185 ] ‏ رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لیے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلة المبارکہ جس میں قرآن شریف نازل ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بے دلیل ہے۔ اس لیے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:222/11:مرسل و ضعیف] ‏

اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جا سکتا ہم لوگوں کو آگاہ کر دینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہو جائے اور لوگ علم شرعی حاصل کر لیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کر لی جاتی ہے۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا» ‏ [ 7- الاعراف: 158 ] ‏ الخ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی۔ جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے۔

صفحہ نمبر8315

تفسیر سورۃ الدخان:

ترمذی شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو شخص رات کو سورۃ «حم دخان» پڑھے اس کے لئے صبح تک ستر ہزار فرشتے استغفار کرتے رہتے ہیں“۔ (سنن ترمذي:2888،قال الشيخ الألباني:باطل و موضوع) یہ حدیث غریب ہے اور اس کے ایک راوی عمرو بن ابی خثعم ضعیف ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں۔

ترمذی کی اور حدیث میں ہے کہ جس نے اس سورۃ کو جمعہ کی رات پڑھا اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ (سنن ترمذي:2891،قال الشيخ الألباني:ضعیف) یہ حدیث بھی غریب ہے۔ اور اس کے ایک راوی ابوالمقدام ہشام ضعیف ہیں اور دوسرے راوی حسن کا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔

مسند بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کے سامنے اپنے دل میں سورۃ دخان کو پوشیدہ کر کے اس سے پوچھا کہ بتا میرے دل میں کیا ہے؟ اس نے کہا «دخ» آپ نے فرمایا ”بس پرے ہٹ جا نامراد رہ گیا جو اللہ چاہتا ہے ہوتا ہے“، پھر آپ لوٹ گئے۔ (طبرانی کبیر:4666:ضعیف)

عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے «اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» ‏ [ 97- القدر: 1 ] ‏ ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ» ‏ [ 2- البقرة: 185 ] ‏ رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لیے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلة المبارکہ جس میں قرآن شریف نازل ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بے دلیل ہے۔ اس لیے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:222/11:مرسل و ضعیف] ‏

اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جا سکتا ہم لوگوں کو آگاہ کر دینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہو جائے اور لوگ علم شرعی حاصل کر لیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کر لی جاتی ہے۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا» ‏ [ 7- الاعراف: 158 ] ‏ الخ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی۔ جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے۔

صفحہ نمبر8315

تفسیر سورۃ الدخان:

ترمذی شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو شخص رات کو سورۃ «حم دخان» پڑھے اس کے لئے صبح تک ستر ہزار فرشتے استغفار کرتے رہتے ہیں“۔ (سنن ترمذي:2888،قال الشيخ الألباني:باطل و موضوع) یہ حدیث غریب ہے اور اس کے ایک راوی عمرو بن ابی خثعم ضعیف ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں۔

ترمذی کی اور حدیث میں ہے کہ جس نے اس سورۃ کو جمعہ کی رات پڑھا اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ (سنن ترمذي:2891،قال الشيخ الألباني:ضعیف) یہ حدیث بھی غریب ہے۔ اور اس کے ایک راوی ابوالمقدام ہشام ضعیف ہیں اور دوسرے راوی حسن کا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔

مسند بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کے سامنے اپنے دل میں سورۃ دخان کو پوشیدہ کر کے اس سے پوچھا کہ بتا میرے دل میں کیا ہے؟ اس نے کہا «دخ» آپ نے فرمایا ”بس پرے ہٹ جا نامراد رہ گیا جو اللہ چاہتا ہے ہوتا ہے“، پھر آپ لوٹ گئے۔ (طبرانی کبیر:4666:ضعیف)

عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے «اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» ‏ [ 97- القدر: 1 ] ‏ ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ» ‏ [ 2- البقرة: 185 ] ‏ رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لیے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلة المبارکہ جس میں قرآن شریف نازل ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بے دلیل ہے۔ اس لیے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:222/11:مرسل و ضعیف] ‏

اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جا سکتا ہم لوگوں کو آگاہ کر دینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہو جائے اور لوگ علم شرعی حاصل کر لیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کر لی جاتی ہے۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا» ‏ [ 7- الاعراف: 158 ] ‏ الخ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی۔ جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے۔

صفحہ نمبر8315

تفسیر سورۃ الدخان:

ترمذی شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو شخص رات کو سورۃ «حم دخان» پڑھے اس کے لئے صبح تک ستر ہزار فرشتے استغفار کرتے رہتے ہیں“۔ (سنن ترمذي:2888،قال الشيخ الألباني:باطل و موضوع) یہ حدیث غریب ہے اور اس کے ایک راوی عمرو بن ابی خثعم ضعیف ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں۔

ترمذی کی اور حدیث میں ہے کہ جس نے اس سورۃ کو جمعہ کی رات پڑھا اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ (سنن ترمذي:2891،قال الشيخ الألباني:ضعیف) یہ حدیث بھی غریب ہے۔ اور اس کے ایک راوی ابوالمقدام ہشام ضعیف ہیں اور دوسرے راوی حسن کا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔

مسند بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کے سامنے اپنے دل میں سورۃ دخان کو پوشیدہ کر کے اس سے پوچھا کہ بتا میرے دل میں کیا ہے؟ اس نے کہا «دخ» آپ نے فرمایا ”بس پرے ہٹ جا نامراد رہ گیا جو اللہ چاہتا ہے ہوتا ہے“، پھر آپ لوٹ گئے۔ (طبرانی کبیر:4666:ضعیف)

عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے «اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» ‏ [ 97- القدر: 1 ] ‏ ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ» ‏ [ 2- البقرة: 185 ] ‏ رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لیے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلة المبارکہ جس میں قرآن شریف نازل ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بے دلیل ہے۔ اس لیے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:222/11:مرسل و ضعیف] ‏

اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جا سکتا ہم لوگوں کو آگاہ کر دینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہو جائے اور لوگ علم شرعی حاصل کر لیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کر لی جاتی ہے۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا» ‏ [ 7- الاعراف: 158 ] ‏ الخ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی۔ جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے۔

صفحہ نمبر8315

تفسیر سورۃ الدخان:

ترمذی شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو شخص رات کو سورۃ «حم دخان» پڑھے اس کے لئے صبح تک ستر ہزار فرشتے استغفار کرتے رہتے ہیں“۔ (سنن ترمذي:2888،قال الشيخ الألباني:باطل و موضوع) یہ حدیث غریب ہے اور اس کے ایک راوی عمرو بن ابی خثعم ضعیف ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں۔

ترمذی کی اور حدیث میں ہے کہ جس نے اس سورۃ کو جمعہ کی رات پڑھا اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ (سنن ترمذي:2891،قال الشيخ الألباني:ضعیف) یہ حدیث بھی غریب ہے۔ اور اس کے ایک راوی ابوالمقدام ہشام ضعیف ہیں اور دوسرے راوی حسن کا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔

مسند بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کے سامنے اپنے دل میں سورۃ دخان کو پوشیدہ کر کے اس سے پوچھا کہ بتا میرے دل میں کیا ہے؟ اس نے کہا «دخ» آپ نے فرمایا ”بس پرے ہٹ جا نامراد رہ گیا جو اللہ چاہتا ہے ہوتا ہے“، پھر آپ لوٹ گئے۔ (طبرانی کبیر:4666:ضعیف)

عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے «اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» ‏ [ 97- القدر: 1 ] ‏ ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ» ‏ [ 2- البقرة: 185 ] ‏ رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لیے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلة المبارکہ جس میں قرآن شریف نازل ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بے دلیل ہے۔ اس لیے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:222/11:مرسل و ضعیف] ‏

اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جا سکتا ہم لوگوں کو آگاہ کر دینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہو جائے اور لوگ علم شرعی حاصل کر لیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کر لی جاتی ہے۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا» ‏ [ 7- الاعراف: 158 ] ‏ الخ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی۔ جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے۔

صفحہ نمبر8315

تفسیر سورۃ الدخان:

ترمذی شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو شخص رات کو سورۃ «حم دخان» پڑھے اس کے لئے صبح تک ستر ہزار فرشتے استغفار کرتے رہتے ہیں“۔ (سنن ترمذي:2888،قال الشيخ الألباني:باطل و موضوع) یہ حدیث غریب ہے اور اس کے ایک راوی عمرو بن ابی خثعم ضعیف ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں۔

ترمذی کی اور حدیث میں ہے کہ جس نے اس سورۃ کو جمعہ کی رات پڑھا اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ (سنن ترمذي:2891،قال الشيخ الألباني:ضعیف) یہ حدیث بھی غریب ہے۔ اور اس کے ایک راوی ابوالمقدام ہشام ضعیف ہیں اور دوسرے راوی حسن کا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔

مسند بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کے سامنے اپنے دل میں سورۃ دخان کو پوشیدہ کر کے اس سے پوچھا کہ بتا میرے دل میں کیا ہے؟ اس نے کہا «دخ» آپ نے فرمایا ”بس پرے ہٹ جا نامراد رہ گیا جو اللہ چاہتا ہے ہوتا ہے“، پھر آپ لوٹ گئے۔ (طبرانی کبیر:4666:ضعیف)

عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے «اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» ‏ [ 97- القدر: 1 ] ‏ ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ» ‏ [ 2- البقرة: 185 ] ‏ رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لیے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلة المبارکہ جس میں قرآن شریف نازل ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بے دلیل ہے۔ اس لیے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:222/11:مرسل و ضعیف] ‏

اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جا سکتا ہم لوگوں کو آگاہ کر دینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہو جائے اور لوگ علم شرعی حاصل کر لیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کر لی جاتی ہے۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا» ‏ [ 7- الاعراف: 158 ] ‏ الخ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی۔ جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے۔

صفحہ نمبر8315

تفسیر سورۃ الدخان:

ترمذی شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو شخص رات کو سورۃ «حم دخان» پڑھے اس کے لئے صبح تک ستر ہزار فرشتے استغفار کرتے رہتے ہیں“۔ (سنن ترمذي:2888،قال الشيخ الألباني:باطل و موضوع) یہ حدیث غریب ہے اور اس کے ایک راوی عمرو بن ابی خثعم ضعیف ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں۔

ترمذی کی اور حدیث میں ہے کہ جس نے اس سورۃ کو جمعہ کی رات پڑھا اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ (سنن ترمذي:2891،قال الشيخ الألباني:ضعیف) یہ حدیث بھی غریب ہے۔ اور اس کے ایک راوی ابوالمقدام ہشام ضعیف ہیں اور دوسرے راوی حسن کا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔

مسند بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کے سامنے اپنے دل میں سورۃ دخان کو پوشیدہ کر کے اس سے پوچھا کہ بتا میرے دل میں کیا ہے؟ اس نے کہا «دخ» آپ نے فرمایا ”بس پرے ہٹ جا نامراد رہ گیا جو اللہ چاہتا ہے ہوتا ہے“، پھر آپ لوٹ گئے۔ (طبرانی کبیر:4666:ضعیف)

عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے «اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» ‏ [ 97- القدر: 1 ] ‏ ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ» ‏ [ 2- البقرة: 185 ] ‏ رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لیے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلة المبارکہ جس میں قرآن شریف نازل ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بے دلیل ہے۔ اس لیے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:222/11:مرسل و ضعیف] ‏

اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جا سکتا ہم لوگوں کو آگاہ کر دینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہو جائے اور لوگ علم شرعی حاصل کر لیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کر لی جاتی ہے۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا» ‏ [ 7- الاعراف: 158 ] ‏ الخ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی۔ جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے۔

صفحہ نمبر8315

تفسیر سورۃ الدخان:

ترمذی شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو شخص رات کو سورۃ «حم دخان» پڑھے اس کے لئے صبح تک ستر ہزار فرشتے استغفار کرتے رہتے ہیں“۔ (سنن ترمذي:2888،قال الشيخ الألباني:باطل و موضوع) یہ حدیث غریب ہے اور اس کے ایک راوی عمرو بن ابی خثعم ضعیف ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں۔

ترمذی کی اور حدیث میں ہے کہ جس نے اس سورۃ کو جمعہ کی رات پڑھا اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ (سنن ترمذي:2891،قال الشيخ الألباني:ضعیف) یہ حدیث بھی غریب ہے۔ اور اس کے ایک راوی ابوالمقدام ہشام ضعیف ہیں اور دوسرے راوی حسن کا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔

مسند بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کے سامنے اپنے دل میں سورۃ دخان کو پوشیدہ کر کے اس سے پوچھا کہ بتا میرے دل میں کیا ہے؟ اس نے کہا «دخ» آپ نے فرمایا ”بس پرے ہٹ جا نامراد رہ گیا جو اللہ چاہتا ہے ہوتا ہے“، پھر آپ لوٹ گئے۔ (طبرانی کبیر:4666:ضعیف)

عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے «اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» ‏ [ 97- القدر: 1 ] ‏ ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ» ‏ [ 2- البقرة: 185 ] ‏ رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لیے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلة المبارکہ جس میں قرآن شریف نازل ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بے دلیل ہے۔ اس لیے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:222/11:مرسل و ضعیف] ‏

اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جا سکتا ہم لوگوں کو آگاہ کر دینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہو جائے اور لوگ علم شرعی حاصل کر لیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کر لی جاتی ہے۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا» ‏ [ 7- الاعراف: 158 ] ‏ الخ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی۔ جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے۔

صفحہ نمبر8315

دھواں ہی دھواں اور کفار ٭٭

فرماتا ہے کہ حق آ چکا اور یہ شک شبہ میں اور لہو لعب میں مشغول و مصروف ہیں انہیں اس دن سے آگاہ کر دے جس دن آسمان سے سخت دھواں آئے گا حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ کوفے کی مسجد میں گئے جو کندہ کے دروازوں کے پاس ہے تو دیکھا کہ ایک اپنے ساتھیوں میں قصہ گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس دھوئیں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے دن منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں بھر جائے گا اور مومنوں کو مثل زکام کے ہو جائے گا۔ ہم وہاں سے جب واپس لوٹے اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا تو آپ رضی اللہ عنہ لیٹے لیٹے بیتابی کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے اللہ عزوجل نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں چاہتا اور میں تکلف کرنے والوں میں نہیں ہوں۔ یہ بھی علم ہے کہ انسان جس چیز کو نہ جانتا ہو کہہ دے کہ اللہ جانے سنو میں تمہیں اس آیت کا صحیح مطلب سناؤں جب کہ قریشیوں نے اسلام قبول کرنے میں تاخیر کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ستانے لگے تو آپ نے ان پر بد دعا کی کہ یوسف کے زمانے جیسا قحط ان پر آ پڑے۔ چنانچہ وہ دعا قبول ہوئی اور ایسی خشک سالی آئی کہ انہوں نے ہڈیاں اور مردار چبانا شروع کیا۔ اور آسمان کی طرف نگاہیں ڈالتے تھے تو دھویں کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:31043] ‏

ایک روایت میں ہے کہ بوجہ بھوک کے ان کی آنکھوں میں چکر آنے لگے جب آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تو درمیان میں ایک دھواں نظر آتا۔ اسی کا بیان ان دو آیتوں میں ہے۔ لیکن پھر اس کے بعد لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی ہلاکت کی شکایت کی۔ آپ کو رحم آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب باری تعالیٰ میں التجا کی چنانچہ بارش برسی اسی کا بیان اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ عذاب کے ہٹتے ہی پھر کفر کرنے لگیں گے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ یہ دنیا کا عذاب ہے کیونکہ آخرت کے عذاب تو ہٹتے کھلتے اور دور ہوتے نہیں۔

صفحہ نمبر8323

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ پانچ چیزیں گذر چکیں۔ دخان، روم، قمر، بطشہ، اور لزام [صحیح بخاری:2798] ‏

یعنی آسمان سے دھوئیں کا آنا۔ رومیوں کا اپنی شکست کے بعد غلبہ پانا۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونا بدر کی لڑائی میں کفار کا پکڑا جانا اور ہارنا۔ اور چمٹ جانے والا عذاب بڑی سخت پکڑ سے مراد بدر کے دن لڑائی ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت نخعی، ضحاک، عطیہ، عوفی رحمہ اللہ علیہم، وغیرہ کا ہے اور اسی کو ابن جریر بھی ترجیح دیتے ہیں۔ حضرت عبدالرحمٰن اعرج رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ فتح مکہ کے دن ہوا۔ یہ قول بالکل غریب بلکہ منکر ہے۔ اور بعض حضرات فرماتے ہیں یہ گذر نہیں گیا بلکہ قرب قیامت کے آئے گا۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ صحابہ قیامت کا ذکر کر رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک دس نشانات تم نہ دیکھ لو قیامت نہیں آئے گی سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، یاجوج ماجوج کا آنا، مشرق مغرب اور جزیرۃ العرب میں زمین کا دھنسایا جانا، آگ کا عدن سے نکل کر لوگوں کو ہانک کر ایکجا کرنا۔ جہاں یہ رات گذاریں گے آگ بھی گذارے گی اور جہاں یہ دوپہر کو سوئیں گے آگ بھی قیلولہ کرے گی۔ [صحیح مسلم:2901] ‏

صفحہ نمبر8324

بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کے لیے دل میں آیت «فَارْتَـقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَاۗءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ» ‏ [ 44- الدخان: 10 ] ‏ چھپا کر اس سے پوچھا کہ بتا میں نے اپنے دل میں کیا چھپا رکھا ہے؟ اس نے کہا [ دخ ] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس برباد ہو اس سے آگے تیری نہیں چلنے کی۔ [صحیح بخاری:1354] ‏

اس میں بھی ایک قسم کا اشارہ ہے کہ ابھی اس کا انتظار باقی ہے اور یہ کوئی آنے والی چیز ہے چونکہ ابن صیاد بطور کاہنوں کے بعض باتیں دل کی زبان سے بتانے کا مدعی تھا اس کے جھوٹ کو ظاہر کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا اور جب وہ پورا نہ بتا سکا تو آپ نے لوگوں کو اس کی حالت سے واقف کر دیا کہ اس کے ساتھ شیطان ہے کلام صرف چرا لیتا ہے اور یہ اس سے زیادہ پر قدرت نہیں پانے کا۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے اولین نشانیاں یہ ہیں۔ دجال کا آنا اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا نازل ہونا اور آگ کا بیچ عدن سے نکلنا جو لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی قیلولے کے وقت اور رات کی نیند کے وقت بھی ان کے ساتھ رہے گی اور دھویں کا آنا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یارسول صلی اللہ علیہ وسلم دھواں کیسا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ دھواں چالیس دن تک گھٹا رہے گا جس سے مسلمانوں کو تو مثل نزلے کے ہو جائے گا اور کافر بے ہوش و بدمست ہو جائے گا اس کے نتھنوں سے کانوں سے اور دوسری جگہ سے دھواں نکلتا رہے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:228/11:ضعیف] ‏

یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو پھر دخان کے معنی مقرر ہو جانے میں کوئی بات باقی نہ رہتی۔ لیکن اس کی صحت کی گواہی نہیں دی جا سکتی اس کے راوی رواد سے محمد بن خلف عسقلانی نے سوال کیا کہ کیا حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ سے تو نے خود یہ حدیث سنی ہے؟ اس نے انکار کیا پوچھا کیا تو نے پڑھی اور اس نے سنی ہے؟ کہا نہیں۔ پوچھا اچھا تمہاری موجودگی میں اس کے سامنے یہ حدیث پڑھی گئی؟ کہا نہیں کہا پھر تم اس حدیث کو کیسے بیان کرتے ہو؟ کہا میں نے تو بیان نہیں کی میرے پاس کچھ لوگ آئے اس روایت کو پیش کی پھر جا کر میرے نام سے اسے بیان کرنی شروع کر دی بات بھی یہی ہے یہ حدیث بالکل موضوع ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ اسے کئی جگہ لائے ہیں اور اس میں بہت سی منکرات ہیں خصوصًا مسجد الاقصیٰ کے بیان میں جو سورۃ بنی اسرائیل کے شروع میں ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر8325

اور حدیث میں ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں تین چیزوں سے ڈرایا، دھواں جو مومن کو زکام کر دے گا اور کافر کا تو سارا جسم پھلا دے گا۔ روئیں روئیں سے دھواں اٹھے گا دابة الارض اور دجال۔ اس کی سند بہت عمدہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دھواں پھیل جائے گا مومن کو تو مثل زکام کے لگے گا اور کافر کے جوڑ جوڑ سے نکلے گا یہ حدیث سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی مروی ہے اور حضرت حسن رحمہ اللہ کے اپنے قول سے بھی مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دخان گذر نہیں گیا بلکہ اب آئے گا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے دھویں کی بابت اوپر کی حدیث کی طرح روایت ہے حضرت ابن ابی ملکیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دن صبح کے وقت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے رات کو میں بالکل نہیں سویا میں نے پوچھا کیوں؟ فرمایا اس لیے کہ لوگوں سے سنا کہ دم دار ستارہ نکلا ہے تو مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہی دخان نہ ہو پس صبح تک میں نے آنکھ سے آنکھ نہیں ملائی۔ اس کی سند صحیح ہے اور [ حبرالامتہ ] ‏ ترجمان القرآن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعینرحمہ اللہ علیہم بھی ہیں اور مرفوع حدیثیں بھی ہیں۔ جن میں صحیح حسن اور ہر طرح کی ہیں اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ دخان ایک علامت قیامت ہے جو آنے والی ہے ظاہری الفاظ قرآن بھی اسی کی تائید کرتے ہیں کیونکہ قرآن نے اسے واضح اور ظاہر دھواں کہا ہے جسے ہر شخص دیکھ سکے اور بھوک کے دھوئیں سے اسے تعبیر کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ وہ تو ایک خیالی چیز ہے بھوک پیاس کی سختی کی وجہ سے دھواں سا آنکھوں کے آگے نمودار ہو جاتا ہے جو دراصل دھواں نہیں اور قرآن کے الفاظ ہیں آیت «دخان مبین» ‏ کے۔ پھر یہ فرمان کہ وہ لوگوں کو ڈھانک لے گی یہ بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر کی تائید کرتا ہے کیونکہ بھوک کے اس دھوئیں نے صرف اہل مکہ کو ڈھانپا تھا نہ کہ تمام لوگوں کو پھر فرماتا ہے کہ یہ ہے المناک عذاب یعنی ان سے یوں کہا جائے گا جیسے اور آیت میں ہے «‏يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ» ‏ [ 52- الطور: 14-13 ] ‏، جس دن انہیں جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا کہ یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلا رہے تھے یا یہ مطلب کہ وہ خود ایک دوسرے سے یوں کہیں گے کافر جب اس عذاب کو دیکھیں گے تو اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا کریں گے جیسے کہ اس آیت میں ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» [ 6- الانعام: 27 ] ‏، یعنی کاش کہ تو انہیں دیکھتا جب یہ آگ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کاش کے ہم لوٹائے جاتے تو ہم اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلاتے اور باایمان بن کر رہتے۔

صفحہ نمبر8326

دھواں ہی دھواں اور کفار ٭٭

فرماتا ہے کہ حق آ چکا اور یہ شک شبہ میں اور لہو لعب میں مشغول و مصروف ہیں انہیں اس دن سے آگاہ کر دے جس دن آسمان سے سخت دھواں آئے گا حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ کوفے کی مسجد میں گئے جو کندہ کے دروازوں کے پاس ہے تو دیکھا کہ ایک اپنے ساتھیوں میں قصہ گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس دھوئیں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے دن منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں بھر جائے گا اور مومنوں کو مثل زکام کے ہو جائے گا۔ ہم وہاں سے جب واپس لوٹے اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا تو آپ رضی اللہ عنہ لیٹے لیٹے بیتابی کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے اللہ عزوجل نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں چاہتا اور میں تکلف کرنے والوں میں نہیں ہوں۔ یہ بھی علم ہے کہ انسان جس چیز کو نہ جانتا ہو کہہ دے کہ اللہ جانے سنو میں تمہیں اس آیت کا صحیح مطلب سناؤں جب کہ قریشیوں نے اسلام قبول کرنے میں تاخیر کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ستانے لگے تو آپ نے ان پر بد دعا کی کہ یوسف کے زمانے جیسا قحط ان پر آ پڑے۔ چنانچہ وہ دعا قبول ہوئی اور ایسی خشک سالی آئی کہ انہوں نے ہڈیاں اور مردار چبانا شروع کیا۔ اور آسمان کی طرف نگاہیں ڈالتے تھے تو دھویں کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:31043] ‏

ایک روایت میں ہے کہ بوجہ بھوک کے ان کی آنکھوں میں چکر آنے لگے جب آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تو درمیان میں ایک دھواں نظر آتا۔ اسی کا بیان ان دو آیتوں میں ہے۔ لیکن پھر اس کے بعد لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی ہلاکت کی شکایت کی۔ آپ کو رحم آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب باری تعالیٰ میں التجا کی چنانچہ بارش برسی اسی کا بیان اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ عذاب کے ہٹتے ہی پھر کفر کرنے لگیں گے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ یہ دنیا کا عذاب ہے کیونکہ آخرت کے عذاب تو ہٹتے کھلتے اور دور ہوتے نہیں۔

صفحہ نمبر8323

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ پانچ چیزیں گذر چکیں۔ دخان، روم، قمر، بطشہ، اور لزام [صحیح بخاری:2798] ‏

یعنی آسمان سے دھوئیں کا آنا۔ رومیوں کا اپنی شکست کے بعد غلبہ پانا۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونا بدر کی لڑائی میں کفار کا پکڑا جانا اور ہارنا۔ اور چمٹ جانے والا عذاب بڑی سخت پکڑ سے مراد بدر کے دن لڑائی ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت نخعی، ضحاک، عطیہ، عوفی رحمہ اللہ علیہم، وغیرہ کا ہے اور اسی کو ابن جریر بھی ترجیح دیتے ہیں۔ حضرت عبدالرحمٰن اعرج رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ فتح مکہ کے دن ہوا۔ یہ قول بالکل غریب بلکہ منکر ہے۔ اور بعض حضرات فرماتے ہیں یہ گذر نہیں گیا بلکہ قرب قیامت کے آئے گا۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ صحابہ قیامت کا ذکر کر رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک دس نشانات تم نہ دیکھ لو قیامت نہیں آئے گی سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، یاجوج ماجوج کا آنا، مشرق مغرب اور جزیرۃ العرب میں زمین کا دھنسایا جانا، آگ کا عدن سے نکل کر لوگوں کو ہانک کر ایکجا کرنا۔ جہاں یہ رات گذاریں گے آگ بھی گذارے گی اور جہاں یہ دوپہر کو سوئیں گے آگ بھی قیلولہ کرے گی۔ [صحیح مسلم:2901] ‏

صفحہ نمبر8324

بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کے لیے دل میں آیت «فَارْتَـقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَاۗءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ» ‏ [ 44- الدخان: 10 ] ‏ چھپا کر اس سے پوچھا کہ بتا میں نے اپنے دل میں کیا چھپا رکھا ہے؟ اس نے کہا [ دخ ] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس برباد ہو اس سے آگے تیری نہیں چلنے کی۔ [صحیح بخاری:1354] ‏

اس میں بھی ایک قسم کا اشارہ ہے کہ ابھی اس کا انتظار باقی ہے اور یہ کوئی آنے والی چیز ہے چونکہ ابن صیاد بطور کاہنوں کے بعض باتیں دل کی زبان سے بتانے کا مدعی تھا اس کے جھوٹ کو ظاہر کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا اور جب وہ پورا نہ بتا سکا تو آپ نے لوگوں کو اس کی حالت سے واقف کر دیا کہ اس کے ساتھ شیطان ہے کلام صرف چرا لیتا ہے اور یہ اس سے زیادہ پر قدرت نہیں پانے کا۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے اولین نشانیاں یہ ہیں۔ دجال کا آنا اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا نازل ہونا اور آگ کا بیچ عدن سے نکلنا جو لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی قیلولے کے وقت اور رات کی نیند کے وقت بھی ان کے ساتھ رہے گی اور دھویں کا آنا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یارسول صلی اللہ علیہ وسلم دھواں کیسا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ دھواں چالیس دن تک گھٹا رہے گا جس سے مسلمانوں کو تو مثل نزلے کے ہو جائے گا اور کافر بے ہوش و بدمست ہو جائے گا اس کے نتھنوں سے کانوں سے اور دوسری جگہ سے دھواں نکلتا رہے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:228/11:ضعیف] ‏

یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو پھر دخان کے معنی مقرر ہو جانے میں کوئی بات باقی نہ رہتی۔ لیکن اس کی صحت کی گواہی نہیں دی جا سکتی اس کے راوی رواد سے محمد بن خلف عسقلانی نے سوال کیا کہ کیا حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ سے تو نے خود یہ حدیث سنی ہے؟ اس نے انکار کیا پوچھا کیا تو نے پڑھی اور اس نے سنی ہے؟ کہا نہیں۔ پوچھا اچھا تمہاری موجودگی میں اس کے سامنے یہ حدیث پڑھی گئی؟ کہا نہیں کہا پھر تم اس حدیث کو کیسے بیان کرتے ہو؟ کہا میں نے تو بیان نہیں کی میرے پاس کچھ لوگ آئے اس روایت کو پیش کی پھر جا کر میرے نام سے اسے بیان کرنی شروع کر دی بات بھی یہی ہے یہ حدیث بالکل موضوع ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ اسے کئی جگہ لائے ہیں اور اس میں بہت سی منکرات ہیں خصوصًا مسجد الاقصیٰ کے بیان میں جو سورۃ بنی اسرائیل کے شروع میں ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر8325

اور حدیث میں ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں تین چیزوں سے ڈرایا، دھواں جو مومن کو زکام کر دے گا اور کافر کا تو سارا جسم پھلا دے گا۔ روئیں روئیں سے دھواں اٹھے گا دابة الارض اور دجال۔ اس کی سند بہت عمدہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دھواں پھیل جائے گا مومن کو تو مثل زکام کے لگے گا اور کافر کے جوڑ جوڑ سے نکلے گا یہ حدیث سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی مروی ہے اور حضرت حسن رحمہ اللہ کے اپنے قول سے بھی مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دخان گذر نہیں گیا بلکہ اب آئے گا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے دھویں کی بابت اوپر کی حدیث کی طرح روایت ہے حضرت ابن ابی ملکیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دن صبح کے وقت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے رات کو میں بالکل نہیں سویا میں نے پوچھا کیوں؟ فرمایا اس لیے کہ لوگوں سے سنا کہ دم دار ستارہ نکلا ہے تو مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہی دخان نہ ہو پس صبح تک میں نے آنکھ سے آنکھ نہیں ملائی۔ اس کی سند صحیح ہے اور [ حبرالامتہ ] ‏ ترجمان القرآن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعینرحمہ اللہ علیہم بھی ہیں اور مرفوع حدیثیں بھی ہیں۔ جن میں صحیح حسن اور ہر طرح کی ہیں اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ دخان ایک علامت قیامت ہے جو آنے والی ہے ظاہری الفاظ قرآن بھی اسی کی تائید کرتے ہیں کیونکہ قرآن نے اسے واضح اور ظاہر دھواں کہا ہے جسے ہر شخص دیکھ سکے اور بھوک کے دھوئیں سے اسے تعبیر کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ وہ تو ایک خیالی چیز ہے بھوک پیاس کی سختی کی وجہ سے دھواں سا آنکھوں کے آگے نمودار ہو جاتا ہے جو دراصل دھواں نہیں اور قرآن کے الفاظ ہیں آیت «دخان مبین» ‏ کے۔ پھر یہ فرمان کہ وہ لوگوں کو ڈھانک لے گی یہ بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر کی تائید کرتا ہے کیونکہ بھوک کے اس دھوئیں نے صرف اہل مکہ کو ڈھانپا تھا نہ کہ تمام لوگوں کو پھر فرماتا ہے کہ یہ ہے المناک عذاب یعنی ان سے یوں کہا جائے گا جیسے اور آیت میں ہے «‏يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ» ‏ [ 52- الطور: 14-13 ] ‏، جس دن انہیں جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا کہ یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلا رہے تھے یا یہ مطلب کہ وہ خود ایک دوسرے سے یوں کہیں گے کافر جب اس عذاب کو دیکھیں گے تو اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا کریں گے جیسے کہ اس آیت میں ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» [ 6- الانعام: 27 ] ‏، یعنی کاش کہ تو انہیں دیکھتا جب یہ آگ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کاش کے ہم لوٹائے جاتے تو ہم اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلاتے اور باایمان بن کر رہتے۔

صفحہ نمبر8326

دھواں ہی دھواں اور کفار ٭٭

فرماتا ہے کہ حق آ چکا اور یہ شک شبہ میں اور لہو لعب میں مشغول و مصروف ہیں انہیں اس دن سے آگاہ کر دے جس دن آسمان سے سخت دھواں آئے گا حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ کوفے کی مسجد میں گئے جو کندہ کے دروازوں کے پاس ہے تو دیکھا کہ ایک اپنے ساتھیوں میں قصہ گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس دھوئیں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے دن منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں بھر جائے گا اور مومنوں کو مثل زکام کے ہو جائے گا۔ ہم وہاں سے جب واپس لوٹے اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا تو آپ رضی اللہ عنہ لیٹے لیٹے بیتابی کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے اللہ عزوجل نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں چاہتا اور میں تکلف کرنے والوں میں نہیں ہوں۔ یہ بھی علم ہے کہ انسان جس چیز کو نہ جانتا ہو کہہ دے کہ اللہ جانے سنو میں تمہیں اس آیت کا صحیح مطلب سناؤں جب کہ قریشیوں نے اسلام قبول کرنے میں تاخیر کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ستانے لگے تو آپ نے ان پر بد دعا کی کہ یوسف کے زمانے جیسا قحط ان پر آ پڑے۔ چنانچہ وہ دعا قبول ہوئی اور ایسی خشک سالی آئی کہ انہوں نے ہڈیاں اور مردار چبانا شروع کیا۔ اور آسمان کی طرف نگاہیں ڈالتے تھے تو دھویں کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:31043] ‏

ایک روایت میں ہے کہ بوجہ بھوک کے ان کی آنکھوں میں چکر آنے لگے جب آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تو درمیان میں ایک دھواں نظر آتا۔ اسی کا بیان ان دو آیتوں میں ہے۔ لیکن پھر اس کے بعد لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی ہلاکت کی شکایت کی۔ آپ کو رحم آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب باری تعالیٰ میں التجا کی چنانچہ بارش برسی اسی کا بیان اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ عذاب کے ہٹتے ہی پھر کفر کرنے لگیں گے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ یہ دنیا کا عذاب ہے کیونکہ آخرت کے عذاب تو ہٹتے کھلتے اور دور ہوتے نہیں۔

صفحہ نمبر8323

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ پانچ چیزیں گذر چکیں۔ دخان، روم، قمر، بطشہ، اور لزام [صحیح بخاری:2798] ‏

یعنی آسمان سے دھوئیں کا آنا۔ رومیوں کا اپنی شکست کے بعد غلبہ پانا۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونا بدر کی لڑائی میں کفار کا پکڑا جانا اور ہارنا۔ اور چمٹ جانے والا عذاب بڑی سخت پکڑ سے مراد بدر کے دن لڑائی ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت نخعی، ضحاک، عطیہ، عوفی رحمہ اللہ علیہم، وغیرہ کا ہے اور اسی کو ابن جریر بھی ترجیح دیتے ہیں۔ حضرت عبدالرحمٰن اعرج رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ فتح مکہ کے دن ہوا۔ یہ قول بالکل غریب بلکہ منکر ہے۔ اور بعض حضرات فرماتے ہیں یہ گذر نہیں گیا بلکہ قرب قیامت کے آئے گا۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ صحابہ قیامت کا ذکر کر رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک دس نشانات تم نہ دیکھ لو قیامت نہیں آئے گی سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، یاجوج ماجوج کا آنا، مشرق مغرب اور جزیرۃ العرب میں زمین کا دھنسایا جانا، آگ کا عدن سے نکل کر لوگوں کو ہانک کر ایکجا کرنا۔ جہاں یہ رات گذاریں گے آگ بھی گذارے گی اور جہاں یہ دوپہر کو سوئیں گے آگ بھی قیلولہ کرے گی۔ [صحیح مسلم:2901] ‏

صفحہ نمبر8324

بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کے لیے دل میں آیت «فَارْتَـقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَاۗءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ» ‏ [ 44- الدخان: 10 ] ‏ چھپا کر اس سے پوچھا کہ بتا میں نے اپنے دل میں کیا چھپا رکھا ہے؟ اس نے کہا [ دخ ] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس برباد ہو اس سے آگے تیری نہیں چلنے کی۔ [صحیح بخاری:1354] ‏

اس میں بھی ایک قسم کا اشارہ ہے کہ ابھی اس کا انتظار باقی ہے اور یہ کوئی آنے والی چیز ہے چونکہ ابن صیاد بطور کاہنوں کے بعض باتیں دل کی زبان سے بتانے کا مدعی تھا اس کے جھوٹ کو ظاہر کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا اور جب وہ پورا نہ بتا سکا تو آپ نے لوگوں کو اس کی حالت سے واقف کر دیا کہ اس کے ساتھ شیطان ہے کلام صرف چرا لیتا ہے اور یہ اس سے زیادہ پر قدرت نہیں پانے کا۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے اولین نشانیاں یہ ہیں۔ دجال کا آنا اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا نازل ہونا اور آگ کا بیچ عدن سے نکلنا جو لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی قیلولے کے وقت اور رات کی نیند کے وقت بھی ان کے ساتھ رہے گی اور دھویں کا آنا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یارسول صلی اللہ علیہ وسلم دھواں کیسا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ دھواں چالیس دن تک گھٹا رہے گا جس سے مسلمانوں کو تو مثل نزلے کے ہو جائے گا اور کافر بے ہوش و بدمست ہو جائے گا اس کے نتھنوں سے کانوں سے اور دوسری جگہ سے دھواں نکلتا رہے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:228/11:ضعیف] ‏

یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو پھر دخان کے معنی مقرر ہو جانے میں کوئی بات باقی نہ رہتی۔ لیکن اس کی صحت کی گواہی نہیں دی جا سکتی اس کے راوی رواد سے محمد بن خلف عسقلانی نے سوال کیا کہ کیا حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ سے تو نے خود یہ حدیث سنی ہے؟ اس نے انکار کیا پوچھا کیا تو نے پڑھی اور اس نے سنی ہے؟ کہا نہیں۔ پوچھا اچھا تمہاری موجودگی میں اس کے سامنے یہ حدیث پڑھی گئی؟ کہا نہیں کہا پھر تم اس حدیث کو کیسے بیان کرتے ہو؟ کہا میں نے تو بیان نہیں کی میرے پاس کچھ لوگ آئے اس روایت کو پیش کی پھر جا کر میرے نام سے اسے بیان کرنی شروع کر دی بات بھی یہی ہے یہ حدیث بالکل موضوع ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ اسے کئی جگہ لائے ہیں اور اس میں بہت سی منکرات ہیں خصوصًا مسجد الاقصیٰ کے بیان میں جو سورۃ بنی اسرائیل کے شروع میں ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر8325

اور حدیث میں ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں تین چیزوں سے ڈرایا، دھواں جو مومن کو زکام کر دے گا اور کافر کا تو سارا جسم پھلا دے گا۔ روئیں روئیں سے دھواں اٹھے گا دابة الارض اور دجال۔ اس کی سند بہت عمدہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دھواں پھیل جائے گا مومن کو تو مثل زکام کے لگے گا اور کافر کے جوڑ جوڑ سے نکلے گا یہ حدیث سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی مروی ہے اور حضرت حسن رحمہ اللہ کے اپنے قول سے بھی مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دخان گذر نہیں گیا بلکہ اب آئے گا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے دھویں کی بابت اوپر کی حدیث کی طرح روایت ہے حضرت ابن ابی ملکیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دن صبح کے وقت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے رات کو میں بالکل نہیں سویا میں نے پوچھا کیوں؟ فرمایا اس لیے کہ لوگوں سے سنا کہ دم دار ستارہ نکلا ہے تو مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہی دخان نہ ہو پس صبح تک میں نے آنکھ سے آنکھ نہیں ملائی۔ اس کی سند صحیح ہے اور [ حبرالامتہ ] ‏ ترجمان القرآن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعینرحمہ اللہ علیہم بھی ہیں اور مرفوع حدیثیں بھی ہیں۔ جن میں صحیح حسن اور ہر طرح کی ہیں اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ دخان ایک علامت قیامت ہے جو آنے والی ہے ظاہری الفاظ قرآن بھی اسی کی تائید کرتے ہیں کیونکہ قرآن نے اسے واضح اور ظاہر دھواں کہا ہے جسے ہر شخص دیکھ سکے اور بھوک کے دھوئیں سے اسے تعبیر کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ وہ تو ایک خیالی چیز ہے بھوک پیاس کی سختی کی وجہ سے دھواں سا آنکھوں کے آگے نمودار ہو جاتا ہے جو دراصل دھواں نہیں اور قرآن کے الفاظ ہیں آیت «دخان مبین» ‏ کے۔ پھر یہ فرمان کہ وہ لوگوں کو ڈھانک لے گی یہ بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر کی تائید کرتا ہے کیونکہ بھوک کے اس دھوئیں نے صرف اہل مکہ کو ڈھانپا تھا نہ کہ تمام لوگوں کو پھر فرماتا ہے کہ یہ ہے المناک عذاب یعنی ان سے یوں کہا جائے گا جیسے اور آیت میں ہے «‏يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ» ‏ [ 52- الطور: 14-13 ] ‏، جس دن انہیں جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا کہ یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلا رہے تھے یا یہ مطلب کہ وہ خود ایک دوسرے سے یوں کہیں گے کافر جب اس عذاب کو دیکھیں گے تو اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا کریں گے جیسے کہ اس آیت میں ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» [ 6- الانعام: 27 ] ‏، یعنی کاش کہ تو انہیں دیکھتا جب یہ آگ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کاش کے ہم لوٹائے جاتے تو ہم اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلاتے اور باایمان بن کر رہتے۔

صفحہ نمبر8326

روز آخرت توبہ نہیں ٭٭

اور آیت میں ہے «وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُوا رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ۗ أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٍ» [ 14-إبراهيم: 44 ] ‏ لوگوں کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کر دے جس دن ان کے پاس عذاب آئے گا اس دن گنہگار کہیں گے پروردگار ہمیں تھوڑے سے وقت تک اور ڈھیل دیدے تو ہم تیری پکار پر لبیک کہہ لیں اور تیرے رسولوں کی فرمانبرداری کر لیں۔پس یہاں یہی کہا جاتا ہے کہ ان کے لیے نصیحت کہاں؟ ان کے پاس میرے پیغمبر آچکے انہوں نے ان کے سامنے میرے احکام واضح طور پر رکھ دئیے لیکن ماننا تو کجا انہوں نے پرواہ تک نہ کی بلکہ انہیں جھوٹا کہا، ان کی تعلیم کو غلط کہا اور صاف کہہ دیا کہ یہ تو سکھائے پڑھائے ہیں، انہیں جنوں ہو گیا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا لیکن اب اس کے لیے نصیحت کہاں ہے؟ اور جگہ فرمایا ہے «وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ ۚ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ» [ 34- سبأ: 52 ] ‏، یعنی اس دن عذابوں کو دیکھ کر ایمان لانا سراسر بےسود ہے پھر جو ارشاد ہوتا ہے اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ اگر بالفرض ہم عذاب ہٹا لیں اور تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیں تو بھی تم پھر وہاں جا کر یہی کرو گے جو اس سے پہلے کر کے آئے ہو جیسے فرمایا «‏وَلَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّـــلَجُّوْا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 75 ] ‏، یعنی اگر ہم ان پر رحم کریں اور برائی ان سے ہٹا لیں تو پھر یہ اپنی سرکشی میں آنکھیں بند کر کے منہمک ہو جائیں گے اور جیسے فرمایا «وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ» [ 6- الانعام: 28 ] ‏، یعنی اگر یہ لوٹائے جائیں تو قطعًا دوبارہ پھر ہماری نافرمانیاں کرنے لگیں گے اور محض جھوٹے ثابت ہوں گے۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اگر عذاب کے اسباب قائم ہو چکنے اور عذاب آ جانے کے بعد بھی گو ہم اسے کچھ دیر ٹھہرا لیں تاہم یہ اپنی بد باطنی اور خباثت سے باز نہیں آنے کے۔ اس سے یہ لازم آتا کہ عذاب انہیں پہنچا اور پھر ہٹ گیا جیسے قوم یونس کی حق تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ «إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ» ‏ [ 10-يونس: 98 ] ‏ قوم یونس جب ایمان لائی ہم نے ان سے عذاب ہٹا لیا۔ گویا عذاب انہیں ہونا شروع نہیں ہوا تھا ہاں اس کے اسباب موجود و فراہم ہو چکے تھے ان تک اللہ کا عذاب پہنچ چکا تھا اور اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے کفر سے ہٹ گئے تھے پھر اس کی طرف لوٹ گئے۔

صفحہ نمبر8329

«قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللَّـهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ رَبُّنَا ۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى اللَّـهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ» ‏ [ 7-الأعراف: 88، 89 ] ‏ چنانچہ حضرت شعیب علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والوں سے جب قوم نے کہا کہ یا تو تم ہماری بستی چھوڑ دو یا ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ تو جواب میں اللہ کے رسول علیہ السلام نے فرمایا کہ گو ہم اسے برا جانتے ہوں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے رکھی ہے پھر بھی اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں تو ہم سے بڑھ کر جھوٹا اور اللہ کے ذمے بہتان باندھنے والا اور کون ہو گا؟ ظاہر ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام نے اس سے پہلے بھی کبھی کفر میں قدم نہیں رکھا تھا اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تم لوٹنے والے ہو۔ اس سے مطلب اللہ کے عذاب کی طرف لوٹنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:229/11:] ‏

بڑی اور سخت پکڑ سے مراد جنگ بدر ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کی وہ جماعت جو دخان کو ہو چکا مانتی ہے وہ تو [ بطشہ ] ‏ کے معنی یہی کرتی ہے بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ایک اور جماعت سے یہی منقول ہے گو یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد قیامت کے دن کی پکڑ ہے گو بدر کا دن بھی پکڑ کا اور کفار پر سخت دن تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اسے بدر کا دن بتاتے ہیں لیکن میرے نزدیک تو اس سے مراد قیامت کا دن ہے اس کی اسناد صحیح ہے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ اور حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے بھی دونوں روایتوں میں زیادہ صحیح روایت یہی ہے واللہ اعلم۔

صفحہ نمبر8330

روز آخرت توبہ نہیں ٭٭

اور آیت میں ہے «وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُوا رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ۗ أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٍ» [ 14-إبراهيم: 44 ] ‏ لوگوں کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کر دے جس دن ان کے پاس عذاب آئے گا اس دن گنہگار کہیں گے پروردگار ہمیں تھوڑے سے وقت تک اور ڈھیل دیدے تو ہم تیری پکار پر لبیک کہہ لیں اور تیرے رسولوں کی فرمانبرداری کر لیں۔پس یہاں یہی کہا جاتا ہے کہ ان کے لیے نصیحت کہاں؟ ان کے پاس میرے پیغمبر آچکے انہوں نے ان کے سامنے میرے احکام واضح طور پر رکھ دئیے لیکن ماننا تو کجا انہوں نے پرواہ تک نہ کی بلکہ انہیں جھوٹا کہا، ان کی تعلیم کو غلط کہا اور صاف کہہ دیا کہ یہ تو سکھائے پڑھائے ہیں، انہیں جنوں ہو گیا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا لیکن اب اس کے لیے نصیحت کہاں ہے؟ اور جگہ فرمایا ہے «وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ ۚ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ» [ 34- سبأ: 52 ] ‏، یعنی اس دن عذابوں کو دیکھ کر ایمان لانا سراسر بےسود ہے پھر جو ارشاد ہوتا ہے اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ اگر بالفرض ہم عذاب ہٹا لیں اور تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیں تو بھی تم پھر وہاں جا کر یہی کرو گے جو اس سے پہلے کر کے آئے ہو جیسے فرمایا «‏وَلَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّـــلَجُّوْا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 75 ] ‏، یعنی اگر ہم ان پر رحم کریں اور برائی ان سے ہٹا لیں تو پھر یہ اپنی سرکشی میں آنکھیں بند کر کے منہمک ہو جائیں گے اور جیسے فرمایا «وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ» [ 6- الانعام: 28 ] ‏، یعنی اگر یہ لوٹائے جائیں تو قطعًا دوبارہ پھر ہماری نافرمانیاں کرنے لگیں گے اور محض جھوٹے ثابت ہوں گے۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اگر عذاب کے اسباب قائم ہو چکنے اور عذاب آ جانے کے بعد بھی گو ہم اسے کچھ دیر ٹھہرا لیں تاہم یہ اپنی بد باطنی اور خباثت سے باز نہیں آنے کے۔ اس سے یہ لازم آتا کہ عذاب انہیں پہنچا اور پھر ہٹ گیا جیسے قوم یونس کی حق تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ «إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ» ‏ [ 10-يونس: 98 ] ‏ قوم یونس جب ایمان لائی ہم نے ان سے عذاب ہٹا لیا۔ گویا عذاب انہیں ہونا شروع نہیں ہوا تھا ہاں اس کے اسباب موجود و فراہم ہو چکے تھے ان تک اللہ کا عذاب پہنچ چکا تھا اور اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے کفر سے ہٹ گئے تھے پھر اس کی طرف لوٹ گئے۔

صفحہ نمبر8329

«قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللَّـهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ رَبُّنَا ۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى اللَّـهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ» ‏ [ 7-الأعراف: 88، 89 ] ‏ چنانچہ حضرت شعیب علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والوں سے جب قوم نے کہا کہ یا تو تم ہماری بستی چھوڑ دو یا ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ تو جواب میں اللہ کے رسول علیہ السلام نے فرمایا کہ گو ہم اسے برا جانتے ہوں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے رکھی ہے پھر بھی اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں تو ہم سے بڑھ کر جھوٹا اور اللہ کے ذمے بہتان باندھنے والا اور کون ہو گا؟ ظاہر ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام نے اس سے پہلے بھی کبھی کفر میں قدم نہیں رکھا تھا اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تم لوٹنے والے ہو۔ اس سے مطلب اللہ کے عذاب کی طرف لوٹنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:229/11:] ‏

بڑی اور سخت پکڑ سے مراد جنگ بدر ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کی وہ جماعت جو دخان کو ہو چکا مانتی ہے وہ تو [ بطشہ ] ‏ کے معنی یہی کرتی ہے بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ایک اور جماعت سے یہی منقول ہے گو یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد قیامت کے دن کی پکڑ ہے گو بدر کا دن بھی پکڑ کا اور کفار پر سخت دن تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اسے بدر کا دن بتاتے ہیں لیکن میرے نزدیک تو اس سے مراد قیامت کا دن ہے اس کی اسناد صحیح ہے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ اور حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے بھی دونوں روایتوں میں زیادہ صحیح روایت یہی ہے واللہ اعلم۔

صفحہ نمبر8330

روز آخرت توبہ نہیں ٭٭

اور آیت میں ہے «وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُوا رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ۗ أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٍ» [ 14-إبراهيم: 44 ] ‏ لوگوں کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کر دے جس دن ان کے پاس عذاب آئے گا اس دن گنہگار کہیں گے پروردگار ہمیں تھوڑے سے وقت تک اور ڈھیل دیدے تو ہم تیری پکار پر لبیک کہہ لیں اور تیرے رسولوں کی فرمانبرداری کر لیں۔پس یہاں یہی کہا جاتا ہے کہ ان کے لیے نصیحت کہاں؟ ان کے پاس میرے پیغمبر آچکے انہوں نے ان کے سامنے میرے احکام واضح طور پر رکھ دئیے لیکن ماننا تو کجا انہوں نے پرواہ تک نہ کی بلکہ انہیں جھوٹا کہا، ان کی تعلیم کو غلط کہا اور صاف کہہ دیا کہ یہ تو سکھائے پڑھائے ہیں، انہیں جنوں ہو گیا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا لیکن اب اس کے لیے نصیحت کہاں ہے؟ اور جگہ فرمایا ہے «وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ ۚ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ» [ 34- سبأ: 52 ] ‏، یعنی اس دن عذابوں کو دیکھ کر ایمان لانا سراسر بےسود ہے پھر جو ارشاد ہوتا ہے اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ اگر بالفرض ہم عذاب ہٹا لیں اور تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیں تو بھی تم پھر وہاں جا کر یہی کرو گے جو اس سے پہلے کر کے آئے ہو جیسے فرمایا «‏وَلَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّـــلَجُّوْا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 75 ] ‏، یعنی اگر ہم ان پر رحم کریں اور برائی ان سے ہٹا لیں تو پھر یہ اپنی سرکشی میں آنکھیں بند کر کے منہمک ہو جائیں گے اور جیسے فرمایا «وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ» [ 6- الانعام: 28 ] ‏، یعنی اگر یہ لوٹائے جائیں تو قطعًا دوبارہ پھر ہماری نافرمانیاں کرنے لگیں گے اور محض جھوٹے ثابت ہوں گے۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اگر عذاب کے اسباب قائم ہو چکنے اور عذاب آ جانے کے بعد بھی گو ہم اسے کچھ دیر ٹھہرا لیں تاہم یہ اپنی بد باطنی اور خباثت سے باز نہیں آنے کے۔ اس سے یہ لازم آتا کہ عذاب انہیں پہنچا اور پھر ہٹ گیا جیسے قوم یونس کی حق تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ «إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ» ‏ [ 10-يونس: 98 ] ‏ قوم یونس جب ایمان لائی ہم نے ان سے عذاب ہٹا لیا۔ گویا عذاب انہیں ہونا شروع نہیں ہوا تھا ہاں اس کے اسباب موجود و فراہم ہو چکے تھے ان تک اللہ کا عذاب پہنچ چکا تھا اور اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے کفر سے ہٹ گئے تھے پھر اس کی طرف لوٹ گئے۔

صفحہ نمبر8329

«قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللَّـهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ رَبُّنَا ۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى اللَّـهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ» ‏ [ 7-الأعراف: 88، 89 ] ‏ چنانچہ حضرت شعیب علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والوں سے جب قوم نے کہا کہ یا تو تم ہماری بستی چھوڑ دو یا ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ تو جواب میں اللہ کے رسول علیہ السلام نے فرمایا کہ گو ہم اسے برا جانتے ہوں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے رکھی ہے پھر بھی اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں تو ہم سے بڑھ کر جھوٹا اور اللہ کے ذمے بہتان باندھنے والا اور کون ہو گا؟ ظاہر ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام نے اس سے پہلے بھی کبھی کفر میں قدم نہیں رکھا تھا اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تم لوٹنے والے ہو۔ اس سے مطلب اللہ کے عذاب کی طرف لوٹنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:229/11:] ‏

بڑی اور سخت پکڑ سے مراد جنگ بدر ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کی وہ جماعت جو دخان کو ہو چکا مانتی ہے وہ تو [ بطشہ ] ‏ کے معنی یہی کرتی ہے بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ایک اور جماعت سے یہی منقول ہے گو یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد قیامت کے دن کی پکڑ ہے گو بدر کا دن بھی پکڑ کا اور کفار پر سخت دن تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اسے بدر کا دن بتاتے ہیں لیکن میرے نزدیک تو اس سے مراد قیامت کا دن ہے اس کی اسناد صحیح ہے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ اور حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے بھی دونوں روایتوں میں زیادہ صحیح روایت یہی ہے واللہ اعلم۔

صفحہ نمبر8330

روز آخرت توبہ نہیں ٭٭

اور آیت میں ہے «وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُوا رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ۗ أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٍ» [ 14-إبراهيم: 44 ] ‏ لوگوں کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کر دے جس دن ان کے پاس عذاب آئے گا اس دن گنہگار کہیں گے پروردگار ہمیں تھوڑے سے وقت تک اور ڈھیل دیدے تو ہم تیری پکار پر لبیک کہہ لیں اور تیرے رسولوں کی فرمانبرداری کر لیں۔پس یہاں یہی کہا جاتا ہے کہ ان کے لیے نصیحت کہاں؟ ان کے پاس میرے پیغمبر آچکے انہوں نے ان کے سامنے میرے احکام واضح طور پر رکھ دئیے لیکن ماننا تو کجا انہوں نے پرواہ تک نہ کی بلکہ انہیں جھوٹا کہا، ان کی تعلیم کو غلط کہا اور صاف کہہ دیا کہ یہ تو سکھائے پڑھائے ہیں، انہیں جنوں ہو گیا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا لیکن اب اس کے لیے نصیحت کہاں ہے؟ اور جگہ فرمایا ہے «وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ ۚ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ» [ 34- سبأ: 52 ] ‏، یعنی اس دن عذابوں کو دیکھ کر ایمان لانا سراسر بےسود ہے پھر جو ارشاد ہوتا ہے اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ اگر بالفرض ہم عذاب ہٹا لیں اور تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیں تو بھی تم پھر وہاں جا کر یہی کرو گے جو اس سے پہلے کر کے آئے ہو جیسے فرمایا «‏وَلَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّـــلَجُّوْا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 75 ] ‏، یعنی اگر ہم ان پر رحم کریں اور برائی ان سے ہٹا لیں تو پھر یہ اپنی سرکشی میں آنکھیں بند کر کے منہمک ہو جائیں گے اور جیسے فرمایا «وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ» [ 6- الانعام: 28 ] ‏، یعنی اگر یہ لوٹائے جائیں تو قطعًا دوبارہ پھر ہماری نافرمانیاں کرنے لگیں گے اور محض جھوٹے ثابت ہوں گے۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اگر عذاب کے اسباب قائم ہو چکنے اور عذاب آ جانے کے بعد بھی گو ہم اسے کچھ دیر ٹھہرا لیں تاہم یہ اپنی بد باطنی اور خباثت سے باز نہیں آنے کے۔ اس سے یہ لازم آتا کہ عذاب انہیں پہنچا اور پھر ہٹ گیا جیسے قوم یونس کی حق تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ «إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ» ‏ [ 10-يونس: 98 ] ‏ قوم یونس جب ایمان لائی ہم نے ان سے عذاب ہٹا لیا۔ گویا عذاب انہیں ہونا شروع نہیں ہوا تھا ہاں اس کے اسباب موجود و فراہم ہو چکے تھے ان تک اللہ کا عذاب پہنچ چکا تھا اور اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے کفر سے ہٹ گئے تھے پھر اس کی طرف لوٹ گئے۔

صفحہ نمبر8329

«قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللَّـهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ رَبُّنَا ۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى اللَّـهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ» ‏ [ 7-الأعراف: 88، 89 ] ‏ چنانچہ حضرت شعیب علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والوں سے جب قوم نے کہا کہ یا تو تم ہماری بستی چھوڑ دو یا ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ تو جواب میں اللہ کے رسول علیہ السلام نے فرمایا کہ گو ہم اسے برا جانتے ہوں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے رکھی ہے پھر بھی اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں تو ہم سے بڑھ کر جھوٹا اور اللہ کے ذمے بہتان باندھنے والا اور کون ہو گا؟ ظاہر ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام نے اس سے پہلے بھی کبھی کفر میں قدم نہیں رکھا تھا اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تم لوٹنے والے ہو۔ اس سے مطلب اللہ کے عذاب کی طرف لوٹنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:229/11:] ‏

بڑی اور سخت پکڑ سے مراد جنگ بدر ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کی وہ جماعت جو دخان کو ہو چکا مانتی ہے وہ تو [ بطشہ ] ‏ کے معنی یہی کرتی ہے بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ایک اور جماعت سے یہی منقول ہے گو یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد قیامت کے دن کی پکڑ ہے گو بدر کا دن بھی پکڑ کا اور کفار پر سخت دن تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اسے بدر کا دن بتاتے ہیں لیکن میرے نزدیک تو اس سے مراد قیامت کا دن ہے اس کی اسناد صحیح ہے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ اور حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے بھی دونوں روایتوں میں زیادہ صحیح روایت یہی ہے واللہ اعلم۔

صفحہ نمبر8330

روز آخرت توبہ نہیں ٭٭

اور آیت میں ہے «وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُوا رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ۗ أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٍ» [ 14-إبراهيم: 44 ] ‏ لوگوں کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کر دے جس دن ان کے پاس عذاب آئے گا اس دن گنہگار کہیں گے پروردگار ہمیں تھوڑے سے وقت تک اور ڈھیل دیدے تو ہم تیری پکار پر لبیک کہہ لیں اور تیرے رسولوں کی فرمانبرداری کر لیں۔پس یہاں یہی کہا جاتا ہے کہ ان کے لیے نصیحت کہاں؟ ان کے پاس میرے پیغمبر آچکے انہوں نے ان کے سامنے میرے احکام واضح طور پر رکھ دئیے لیکن ماننا تو کجا انہوں نے پرواہ تک نہ کی بلکہ انہیں جھوٹا کہا، ان کی تعلیم کو غلط کہا اور صاف کہہ دیا کہ یہ تو سکھائے پڑھائے ہیں، انہیں جنوں ہو گیا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا لیکن اب اس کے لیے نصیحت کہاں ہے؟ اور جگہ فرمایا ہے «وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ ۚ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ» [ 34- سبأ: 52 ] ‏، یعنی اس دن عذابوں کو دیکھ کر ایمان لانا سراسر بےسود ہے پھر جو ارشاد ہوتا ہے اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ اگر بالفرض ہم عذاب ہٹا لیں اور تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیں تو بھی تم پھر وہاں جا کر یہی کرو گے جو اس سے پہلے کر کے آئے ہو جیسے فرمایا «‏وَلَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّـــلَجُّوْا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 75 ] ‏، یعنی اگر ہم ان پر رحم کریں اور برائی ان سے ہٹا لیں تو پھر یہ اپنی سرکشی میں آنکھیں بند کر کے منہمک ہو جائیں گے اور جیسے فرمایا «وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ» [ 6- الانعام: 28 ] ‏، یعنی اگر یہ لوٹائے جائیں تو قطعًا دوبارہ پھر ہماری نافرمانیاں کرنے لگیں گے اور محض جھوٹے ثابت ہوں گے۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اگر عذاب کے اسباب قائم ہو چکنے اور عذاب آ جانے کے بعد بھی گو ہم اسے کچھ دیر ٹھہرا لیں تاہم یہ اپنی بد باطنی اور خباثت سے باز نہیں آنے کے۔ اس سے یہ لازم آتا کہ عذاب انہیں پہنچا اور پھر ہٹ گیا جیسے قوم یونس کی حق تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ «إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ» ‏ [ 10-يونس: 98 ] ‏ قوم یونس جب ایمان لائی ہم نے ان سے عذاب ہٹا لیا۔ گویا عذاب انہیں ہونا شروع نہیں ہوا تھا ہاں اس کے اسباب موجود و فراہم ہو چکے تھے ان تک اللہ کا عذاب پہنچ چکا تھا اور اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے کفر سے ہٹ گئے تھے پھر اس کی طرف لوٹ گئے۔

صفحہ نمبر8329

«قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللَّـهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ رَبُّنَا ۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى اللَّـهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ» ‏ [ 7-الأعراف: 88، 89 ] ‏ چنانچہ حضرت شعیب علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والوں سے جب قوم نے کہا کہ یا تو تم ہماری بستی چھوڑ دو یا ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ تو جواب میں اللہ کے رسول علیہ السلام نے فرمایا کہ گو ہم اسے برا جانتے ہوں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے رکھی ہے پھر بھی اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں تو ہم سے بڑھ کر جھوٹا اور اللہ کے ذمے بہتان باندھنے والا اور کون ہو گا؟ ظاہر ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام نے اس سے پہلے بھی کبھی کفر میں قدم نہیں رکھا تھا اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تم لوٹنے والے ہو۔ اس سے مطلب اللہ کے عذاب کی طرف لوٹنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:229/11:] ‏

بڑی اور سخت پکڑ سے مراد جنگ بدر ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کی وہ جماعت جو دخان کو ہو چکا مانتی ہے وہ تو [ بطشہ ] ‏ کے معنی یہی کرتی ہے بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ایک اور جماعت سے یہی منقول ہے گو یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد قیامت کے دن کی پکڑ ہے گو بدر کا دن بھی پکڑ کا اور کفار پر سخت دن تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اسے بدر کا دن بتاتے ہیں لیکن میرے نزدیک تو اس سے مراد قیامت کا دن ہے اس کی اسناد صحیح ہے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ اور حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے بھی دونوں روایتوں میں زیادہ صحیح روایت یہی ہے واللہ اعلم۔

صفحہ نمبر8330

قبطیوں کا انجام ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کر دو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے۔ [20-طه:47] ‏ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہیئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابو صالح رحمہ اللہ تو یہی کہتے ہیں اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا

پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کر لی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لیے ہر چند جتن کر لیے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بد دعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ‏ [ 10-يونس: 88 ] ‏ موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ درد ناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ «قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ» [ 10-يونس: 89 ] ‏ اے موسیٰ اور اے ہارون علیہم السلام میں نے تمہاری دعا قبول کر لی اب تم استقامت پر تل جاؤ۔ [10-يونس:88-89] ‏

صفحہ نمبر8335

قبطیوں کا انجام ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کر دو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے۔ [20-طه:47] ‏ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہیئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابو صالح رحمہ اللہ تو یہی کہتے ہیں اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا

پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کر لی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لیے ہر چند جتن کر لیے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بد دعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ‏ [ 10-يونس: 88 ] ‏ موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ درد ناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ «قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ» [ 10-يونس: 89 ] ‏ اے موسیٰ اور اے ہارون علیہم السلام میں نے تمہاری دعا قبول کر لی اب تم استقامت پر تل جاؤ۔ [10-يونس:88-89] ‏

صفحہ نمبر8335

قبطیوں کا انجام ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کر دو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے۔ [20-طه:47] ‏ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہیئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابو صالح رحمہ اللہ تو یہی کہتے ہیں اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا

پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کر لی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لیے ہر چند جتن کر لیے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بد دعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ‏ [ 10-يونس: 88 ] ‏ موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ درد ناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ «قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ» [ 10-يونس: 89 ] ‏ اے موسیٰ اور اے ہارون علیہم السلام میں نے تمہاری دعا قبول کر لی اب تم استقامت پر تل جاؤ۔ [10-يونس:88-89] ‏

صفحہ نمبر8335

قبطیوں کا انجام ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کر دو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے۔ [20-طه:47] ‏ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہیئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابو صالح رحمہ اللہ تو یہی کہتے ہیں اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا

پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کر لی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لیے ہر چند جتن کر لیے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بد دعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ‏ [ 10-يونس: 88 ] ‏ موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ درد ناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ «قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ» [ 10-يونس: 89 ] ‏ اے موسیٰ اور اے ہارون علیہم السلام میں نے تمہاری دعا قبول کر لی اب تم استقامت پر تل جاؤ۔ [10-يونس:88-89] ‏

صفحہ نمبر8335

قبطیوں کا انجام ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کر دو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے۔ [20-طه:47] ‏ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہیئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابو صالح رحمہ اللہ تو یہی کہتے ہیں اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا

پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کر لی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لیے ہر چند جتن کر لیے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بد دعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ‏ [ 10-يونس: 88 ] ‏ موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ درد ناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ «قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ» [ 10-يونس: 89 ] ‏ اے موسیٰ اور اے ہارون علیہم السلام میں نے تمہاری دعا قبول کر لی اب تم استقامت پر تل جاؤ۔ [10-يونس:88-89] ‏

صفحہ نمبر8335

قبطیوں کا انجام ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کر دو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے۔ [20-طه:47] ‏ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہیئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابو صالح رحمہ اللہ تو یہی کہتے ہیں اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا

پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کر لی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لیے ہر چند جتن کر لیے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بد دعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ‏ [ 10-يونس: 88 ] ‏ موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ درد ناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ «قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ» [ 10-يونس: 89 ] ‏ اے موسیٰ اور اے ہارون علیہم السلام میں نے تمہاری دعا قبول کر لی اب تم استقامت پر تل جاؤ۔ [10-يونس:88-89] ‏

صفحہ نمبر8335

باب

یہاں فرماتا ہے کہ «وَلَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ» [ 20-طه: 77 ] ‏ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بے خبری میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بے خوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لیے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہو گئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہدیں کہ اب تو اپنی روانی پر آ جا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتا دی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بے خوف ہو جاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں۔

صفحہ نمبر8341

«رھواً» کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہو گئے۔

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آ جاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج فیوم،خلیج منہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں۔ اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہو گئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بے نشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہو گئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے «كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ» ‏ [ 26-الشعراء: 59 ] ‏ ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔

صفحہ نمبر8342

جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ «وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ» [ 7-الأعراف: 137 ] ‏ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرما دیں اور بے ایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے ہر بندے کے لیے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مر جاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گمشدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی۔ [سنن ترمذي:3255،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر8343

ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آ جائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:238/11] ‏

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لیے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:237/11] ‏

بلکہ آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے۔

صفحہ نمبر8344

حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ رحمہ اللہ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں؟ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے؟ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایماندار پر روتے نہیں؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہو جانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہو گیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہو گیا تھا۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏

صفحہ نمبر8345

یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہو جانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمد خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بے بنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ ہی کے والد ماجد سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ رضی اللہ عنہ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا نہ اور کچھ ہوا۔

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بیدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئیے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیجئے جس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا۔ [صحیح بخاری:1043] ‏

صفحہ نمبر8346

باب

یہاں فرماتا ہے کہ «وَلَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ» [ 20-طه: 77 ] ‏ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بے خبری میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بے خوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لیے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہو گئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہدیں کہ اب تو اپنی روانی پر آ جا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتا دی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بے خوف ہو جاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں۔

صفحہ نمبر8341

«رھواً» کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہو گئے۔

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آ جاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج فیوم،خلیج منہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں۔ اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہو گئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بے نشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہو گئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے «كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ» ‏ [ 26-الشعراء: 59 ] ‏ ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔

صفحہ نمبر8342

جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ «وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ» [ 7-الأعراف: 137 ] ‏ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرما دیں اور بے ایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے ہر بندے کے لیے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مر جاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گمشدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی۔ [سنن ترمذي:3255،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر8343

ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آ جائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:238/11] ‏

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لیے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:237/11] ‏

بلکہ آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے۔

صفحہ نمبر8344

حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ رحمہ اللہ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں؟ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے؟ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایماندار پر روتے نہیں؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہو جانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہو گیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہو گیا تھا۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏

صفحہ نمبر8345

یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہو جانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمد خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بے بنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ ہی کے والد ماجد سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ رضی اللہ عنہ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا نہ اور کچھ ہوا۔

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بیدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئیے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیجئے جس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا۔ [صحیح بخاری:1043] ‏

صفحہ نمبر8346

باب

یہاں فرماتا ہے کہ «وَلَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ» [ 20-طه: 77 ] ‏ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بے خبری میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بے خوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لیے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہو گئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہدیں کہ اب تو اپنی روانی پر آ جا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتا دی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بے خوف ہو جاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں۔

صفحہ نمبر8341

«رھواً» کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہو گئے۔

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آ جاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج فیوم،خلیج منہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں۔ اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہو گئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بے نشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہو گئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے «كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ» ‏ [ 26-الشعراء: 59 ] ‏ ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔

صفحہ نمبر8342

جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ «وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ» [ 7-الأعراف: 137 ] ‏ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرما دیں اور بے ایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے ہر بندے کے لیے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مر جاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گمشدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی۔ [سنن ترمذي:3255،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر8343

ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آ جائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:238/11] ‏

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لیے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:237/11] ‏

بلکہ آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے۔

صفحہ نمبر8344

حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ رحمہ اللہ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں؟ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے؟ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایماندار پر روتے نہیں؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہو جانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہو گیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہو گیا تھا۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏

صفحہ نمبر8345

یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہو جانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمد خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بے بنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ ہی کے والد ماجد سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ رضی اللہ عنہ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا نہ اور کچھ ہوا۔

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بیدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئیے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیجئے جس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا۔ [صحیح بخاری:1043] ‏

صفحہ نمبر8346

باب

یہاں فرماتا ہے کہ «وَلَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ» [ 20-طه: 77 ] ‏ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بے خبری میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بے خوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لیے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہو گئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہدیں کہ اب تو اپنی روانی پر آ جا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتا دی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بے خوف ہو جاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں۔

صفحہ نمبر8341

«رھواً» کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہو گئے۔

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آ جاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج فیوم،خلیج منہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں۔ اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہو گئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بے نشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہو گئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے «كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ» ‏ [ 26-الشعراء: 59 ] ‏ ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔

صفحہ نمبر8342

جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ «وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ» [ 7-الأعراف: 137 ] ‏ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرما دیں اور بے ایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے ہر بندے کے لیے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مر جاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گمشدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی۔ [سنن ترمذي:3255،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر8343

ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آ جائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:238/11] ‏

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لیے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:237/11] ‏

بلکہ آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے۔

صفحہ نمبر8344

حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ رحمہ اللہ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں؟ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے؟ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایماندار پر روتے نہیں؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہو جانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہو گیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہو گیا تھا۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏

صفحہ نمبر8345

یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہو جانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمد خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بے بنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ ہی کے والد ماجد سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ رضی اللہ عنہ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا نہ اور کچھ ہوا۔

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بیدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئیے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیجئے جس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا۔ [صحیح بخاری:1043] ‏

صفحہ نمبر8346

باب

یہاں فرماتا ہے کہ «وَلَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ» [ 20-طه: 77 ] ‏ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بے خبری میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بے خوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لیے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہو گئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہدیں کہ اب تو اپنی روانی پر آ جا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتا دی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بے خوف ہو جاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں۔

صفحہ نمبر8341

«رھواً» کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہو گئے۔

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آ جاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج فیوم،خلیج منہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں۔ اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہو گئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بے نشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہو گئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے «كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ» ‏ [ 26-الشعراء: 59 ] ‏ ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔

صفحہ نمبر8342

جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ «وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ» [ 7-الأعراف: 137 ] ‏ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرما دیں اور بے ایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے ہر بندے کے لیے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مر جاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گمشدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی۔ [سنن ترمذي:3255،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر8343

ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آ جائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:238/11] ‏

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لیے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:237/11] ‏

بلکہ آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے۔

صفحہ نمبر8344

حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ رحمہ اللہ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں؟ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے؟ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایماندار پر روتے نہیں؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہو جانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہو گیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہو گیا تھا۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏

صفحہ نمبر8345

یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہو جانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمد خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بے بنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ ہی کے والد ماجد سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ رضی اللہ عنہ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا نہ اور کچھ ہوا۔

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بیدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئیے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیجئے جس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا۔ [صحیح بخاری:1043] ‏

صفحہ نمبر8346

باب

یہاں فرماتا ہے کہ «وَلَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ» [ 20-طه: 77 ] ‏ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بے خبری میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بے خوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لیے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہو گئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہدیں کہ اب تو اپنی روانی پر آ جا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتا دی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بے خوف ہو جاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں۔

صفحہ نمبر8341

«رھواً» کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہو گئے۔

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آ جاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج فیوم،خلیج منہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں۔ اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہو گئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بے نشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہو گئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے «كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ» ‏ [ 26-الشعراء: 59 ] ‏ ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔

صفحہ نمبر8342

جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ «وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ» [ 7-الأعراف: 137 ] ‏ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرما دیں اور بے ایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے ہر بندے کے لیے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مر جاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گمشدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی۔ [سنن ترمذي:3255،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر8343

ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آ جائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:238/11] ‏

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لیے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:237/11] ‏

بلکہ آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے۔

صفحہ نمبر8344

حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ رحمہ اللہ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں؟ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے؟ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایماندار پر روتے نہیں؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہو جانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہو گیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہو گیا تھا۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏

صفحہ نمبر8345

یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہو جانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمد خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بے بنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ ہی کے والد ماجد سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ رضی اللہ عنہ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا نہ اور کچھ ہوا۔

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بیدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئیے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیجئے جس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا۔ [صحیح بخاری:1043] ‏

صفحہ نمبر8346

باب

یہاں فرماتا ہے کہ «وَلَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ» [ 20-طه: 77 ] ‏ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بے خبری میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بے خوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لیے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہو گئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہدیں کہ اب تو اپنی روانی پر آ جا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتا دی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بے خوف ہو جاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں۔

صفحہ نمبر8341

«رھواً» کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہو گئے۔

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آ جاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج فیوم،خلیج منہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں۔ اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہو گئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بے نشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہو گئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے «كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ» ‏ [ 26-الشعراء: 59 ] ‏ ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔

صفحہ نمبر8342

جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ «وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ» [ 7-الأعراف: 137 ] ‏ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرما دیں اور بے ایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے ہر بندے کے لیے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مر جاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گمشدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی۔ [سنن ترمذي:3255،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر8343

ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آ جائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:238/11] ‏

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لیے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:237/11] ‏

بلکہ آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے۔

صفحہ نمبر8344

حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ رحمہ اللہ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں؟ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے؟ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایماندار پر روتے نہیں؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہو جانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہو گیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہو گیا تھا۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏

صفحہ نمبر8345

یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہو جانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمد خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بے بنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ ہی کے والد ماجد سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ رضی اللہ عنہ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا نہ اور کچھ ہوا۔

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بیدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئیے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیجئے جس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا۔ [صحیح بخاری:1043] ‏

صفحہ نمبر8346

باب

اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ «إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» [ 28-القص: 4 ] ‏ ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے «قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ الشَّاكِرِينَ» [ 7- الاعراف: 144 ] ‏ فرمایا "اے موسیٰ علیہ السلام، میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا کہ میری پیغمبری کرے اور مجھ سے ہم کلام ہو پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجالا"۔

صفحہ نمبر8353

جیسے مریم علیہا السلام کے لیے فرمایا «وَإِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ» [ سورة آل عمران 3: 42 ] ‏ اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لیے کہ ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا ان سے یقیناً افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر۔ [صحیح مسلم:70-89] ‏

پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت و برہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لیے صاف صاف امتحان تھا۔

صفحہ نمبر8354

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com