Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Ad-Dukhaan
Tafsir Ibn Kathir · The Smoke · 59 ayat · ayat 31–59 · Quran text →
باب
اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ «إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» [ 28-القص: 4 ] ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے «قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ الشَّاكِرِينَ» [ 7- الاعراف: 144 ] فرمایا "اے موسیٰ علیہ السلام، میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا کہ میری پیغمبری کرے اور مجھ سے ہم کلام ہو پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجالا"۔
صفحہ نمبر8353
جیسے مریم علیہا السلام کے لیے فرمایا «وَإِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ» [ سورة آل عمران 3: 42 ] اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لیے کہ ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا ان سے یقیناً افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر۔ [صحیح مسلم:70-89]
پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت و برہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لیے صاف صاف امتحان تھا۔
صفحہ نمبر8354
باب
اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ «إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» [ 28-القص: 4 ] ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے «قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ الشَّاكِرِينَ» [ 7- الاعراف: 144 ] فرمایا "اے موسیٰ علیہ السلام، میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا کہ میری پیغمبری کرے اور مجھ سے ہم کلام ہو پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجالا"۔
صفحہ نمبر8353
جیسے مریم علیہا السلام کے لیے فرمایا «وَإِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ» [ سورة آل عمران 3: 42 ] اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لیے کہ ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا ان سے یقیناً افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر۔ [صحیح مسلم:70-89]
پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت و برہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لیے صاف صاف امتحان تھا۔
صفحہ نمبر8354
باب
اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ «إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» [ 28-القص: 4 ] ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے «قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ الشَّاكِرِينَ» [ 7- الاعراف: 144 ] فرمایا "اے موسیٰ علیہ السلام، میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا کہ میری پیغمبری کرے اور مجھ سے ہم کلام ہو پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجالا"۔
صفحہ نمبر8353
جیسے مریم علیہا السلام کے لیے فرمایا «وَإِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ» [ سورة آل عمران 3: 42 ] اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لیے کہ ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا ان سے یقیناً افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر۔ [صحیح مسلم:70-89]
پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت و برہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لیے صاف صاف امتحان تھا۔
صفحہ نمبر8354
شہنشاہ تبع کی کہانی ٭٭
یہاں مشرکین کا انکار قیامت اور اس کی دلیل بیان فرما کر اللہ تعالیٰ اس کی تردید کرتا ہے ان کا خیال تھا کہ قیامت آنی نہیں مرنے کے بعد جینا نہیں۔ حشر اور نشر سب غلط ہے دلیل یہ پیش کرتے تھے کہ ہمارے باپ دادا مر گئے وہ کیوں دوبارہ جی کر نہیں آئے؟ خیال کیجئے یہ کس قدر بودی اور بے ہودہ دلیل ہے دوبارہ اٹھ کھڑا ہونا مرنے کے بعد جینا قیامت کو ہو گا نہ کہ دنیا میں پھر لوٹ کر آئیں گے۔ اس دن یہ ظالم جہنم کا ایندھن بنیں گے اس وقت یہ امت اگلی امتوں پر گواہی دے گی اور ان پر ان کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دیں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ انہیں ڈرا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے جو عذاب اسی جرم پر اگلی قوموں پر آئے وہ تم پر بھی آ جائیں اور ان کی طرح بے نام و نشان کر دئیے جاؤ۔ ان کے واقعات سورۃ سبا میں گذر چکے ہیں وہ لوگ بھی قحطان کے عرب تھے جیسے یہ عدنان کے عرب ہیں حمیر جو سبا کے تھے وہ اپنے بادشاہ کو تبع کہتے تھے جیسے فارس کے بادشاہ کو کسریٰ اور روم کے ہر بادشاہ کو قیصر اور مصر کے ہر بادشاہ کو فرعون اور حبشہ کے ہر بادشاہ کو نجاشی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک تبع یمن سے نکلا اور زمین پھرتا رہا سمرقند پہنچ گیا ہر جگہ کے بادشاہوں کو شکست دیتا رہا اور اپنا بہت بڑا ملک کر لیا زبردست لشکر اور بےشمار رعایا اس کے ماتحت تھی اس نے حیرہ نامی بستی بسائی یہ اپنے زمانے میں مدینے میں بھی آیا تھا اور یہاں کے باشندوں سے بھی لڑا لیکن اسے لوگوں نے اس سے روکا خود اہل مدینہ کا بھی اس سے یہ سلوک رہا کہ دن کو تو لڑتے تھے اور رات کو ان کی مہمان داری کرتے تھے آخر اس کو بھی لحاظ آ گیا اور لڑائی بند کر دی اس کے ساتھ یہاں کے دو یہودی عالم ہو گئے تھے جو موسیٰ کے سچے دین کے عامل بھی تھے وہ اسے ہر وقت بھلائی برائی سمجھاتے رہتے تھے انہوں نے کہا کہ آپ مدینے کو تاخت وتاراج نہیں کر سکتے کیونکہ یہ آخر زمانے کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی جگہ ہے۔
صفحہ نمبر8358
پس یہاں سے لوٹ گیا اور ان دونوں عالموں کو اپنے ساتھ لیتا چلا جب یہ مکے پہنچا تو اس نے بیت اللہ کو گرانا چاہا لیکن ان دونوں عالموں نے اسے روکا اور اس پاک گھر کی عظمت و حرمت بیان کی اور کہا کہ اس کے بانی خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ اور اس نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پھر اس کی اصلی عظمت آشکارا ہو جائے گی۔ چنانچہ یہ اپنے ارادے سے باز آیا بلکہ بیت اللہ کی بڑی تعظیم و تکریم کی طواف کیا غلاف چڑھایا اور یہاں سے یمن واپس چلا گیا۔ خود موسیٰ علیہ السلام کے دین میں داخل ہوا اور تمام یمن میں یہی دین پھیلایا اس وقت تک مسیح علیہ السلام کا ظہور نہیں ہوا تھا اور اس زمانے والوں کے لیے یہی سچا دین تھا۔ اس طرح کے واقعات بہت تفصیل سے سیرۃ ابن اسحاق رحمہ اللہ میں موجود ہیں۔ اور حافظ ابن عساکر بھی اپنی کتاب میں بہت تفصیل کے ساتھ لائے ہیں اس میں ہے کہ اس کا پائے تخت دمشق میں تھا اس کے لشکروں کی صفیں دمشق سے لے کر یمن تک پہنچتی تھیں۔
ایک حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ میں نہیں جان سکا کہ حد لگنے سے گناہ کا کفارہ ہو جاتا ہے یا نہیں؟ اور نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ تبع ملعون تھا یا نہیں؟ اور نہ مجھے یہ خبر ہے کہ ذوالقرنین نبی تھے یا بادشاہ اور روایت میں ہے کہ یہ بھی فرمایا عزیر پیغمبر تھے یا نہیں؟ [سنن ابوداود:4674،قال الشيخ الألباني:صحیح]
[ ابن ابی حاتم ] دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث کی روایت صرف عبدالرزاق سے ہی ہے اور سند سے مروی ہے کہ عزیر کا نبی ہونا مجھے معلوم نہیں نہ میں یہ جانتا ہوں کہ تبع پر لعنت کروں یا نہیں؟ [تاریخ دمشق501/3] اسے وارد کرنے کے بعد حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے وہ روایتیں درج کی ہیں جن میں تبع کو گالی دینے اور لعنت کرنے سے ممانعت آئی ہے جیسے کہ ہم بھی وارد کریں گے ان شاءاللہ۔
معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ پہلے کافر تھے پھر مسلمان ہو گئے یعنی موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کے دین میں داخل ہوئے اور اس زمانے کے علماء کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا۔ بعثت مسیح علیہ السلام سے پہلے کا یہ واقعہ ہے جرہم کے زمانے میں بیت اللہ کا حج بھی کیا غلاف بھی چڑھایا اور بڑی تعظیم و تکریم کی چھ ہزار اونٹ نام اللہ قربان کئے اور بھی بہت بڑا طویل واقعہ ہے جو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ اور اصل قصہ کا دارومدار سیدنا کعب احبار اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما پر ہے۔ وہب بن منبہ نے بھی اس قصہ کو وارد کیا ہے۔ حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے اس تبع کے قصے کے ساتھ دوسرے تبع کے قصے کو بھی ملا دیا ہے جو ان کے بہت بعد تھا اس کی قوم تو اس کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئی تھی پھر ان کے انتقال کے بعد وہ کفر کی طرف لوٹ گئی۔ اور دوبارہ آگ اور بتوں کی پرستش شروع کر دی۔ جیسے کہ سورۃ سباء میں مذکور ہے اسی کی تفسیر میں ہم نے بھی وہاں اس کی پوری تفصیل لکھ دی ہے فالحمدللہ۔
صفحہ نمبر8359
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس تبع نے کعبے پر غلاف چڑھایا تھا آپ لوگوں کو منع کرتے تھے کہ اس تبع کو برا نہ کہو یہ درمیان کا تبع ہے اس کا نام اسعد ابو کرب بن ملکیرب یمانی ہے۔ اس کی سلطنت تین سو چھبیس سال تک رہی اس سے زیادہ لمبی مدت ان بادشاہوں میں سے کسی نے نہیں پائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریبًا سات سو سال پہلے اس کا انتقال ہوا ہے مورخین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان دونوں موسوی عالموں نے جو مدینے کے تھے انہوں نے جب تبع بادشاہ کو یقین دلایا کہ یہ شہر نبی آخر الزمان احمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہجرت گاہ ہے تو اس نے ایک قصیدہ کہا تھا اور اہل مدینہ کو بطور امانت دے گیا تھا جو ان کے پاس ہی رہا اور بطور میراث ایک دوسرے کے ہاتھ لگتا رہا اور اس کی روایت سند کے ساتھ برابر چلی آتی رہی یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے وقت اس کے حافظ ابو ایوب خالد بن زید رضی اللہ عنہ تھے اور اتفاق سے بلکہ بہ حکم اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نزول جلال بھی یہیں ہوا تھا۔ اس قصیدے کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں
«شھدت علی احمد انہ *** رسول من اللہ باری النسیم فلو مد عمری الی عمرہ *** لکنت وزیر الہ و ابن عم وجاھدت بالسیف اعداء ہ *** وفرجت عن صدرہ کل غم»
صفحہ نمبر8360
یعنی میری تہ دل سے گواہی ہے کہ احمد مجتبیٰ [ صلی اللہ علیہ وسلم ] اس اللہ کے سچے رسول ہیں جو تمام جانداروں کا پیدا کرنے والا ہے۔ اگر میں اس کے زمانے تک زندہ رہا تو قسم اللہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاون بن کر رہوں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے تلوار کے ساتھ جہاد کروں گا اور کسی کھٹکے اور غم کو آپ کے پاس تک پھٹکنے نہ دوں گا۔
ابن ابی الدنیا میں ہے کہ دور اسلام میں صفا شہر میں اتفاق سے قبر کھد گئی تو دیکھا گیا کہ دو عورتیں مدفون ہیں جن کے جسم بالکل سالم ہیں اور سرہانے پر چاندی کی ایک تختی لگی ہوئی ہے جس میں سونے کے حروف سے یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ قبر حی اور لمیس کی ہے اور ایک روایت میں ان کے نام حبی اور تماخر ہیں یہ دونوں تبع کی بہنیں ہیں یہ دونوں مرتے وقت تک اس بات کی شہادت دیتی رہیں کہ لائق عبادت صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے یہ دونوں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی تھیں۔ ان سے پہلے کے تمام نیک صالح لوگ بھی اسی شہادت کے ادا کرتے ہوئے انتقال فرماتے رہے ہیں۔ سورۃ سباء میں ہم نے اس واقعہ کے متعلق سبا کے اشعار بھی نقل کر دئیے ہیں۔ ضرت کعب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ تبع کی تعریف قرآن سے اس طرح معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی مذمت کی ان کی نہیں کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ تبع کو برا نہ کہو وہ صالح شخص تھا ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تبع کو گالی نہ دو وہ مسلمان ہو چکا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:241/11:ضعیف]
طبرانی اور مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے عبدالرزاق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مجھے معلوم نہیں تبع نبی تھا یا نہ تھا؟ اور روایت میں جو اس سے پہلے گذر چکی کہ میں نہیں جانتا تبع ملعون تھا یا نہیں؟ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہی روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے عطاء بن ابو رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں تبع کو گالی نہ دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں برا کہنا منع فرمایا ہے۔ «واللہ تعالیٰ اعلم» ۔
صفحہ نمبر8361
شہنشاہ تبع کی کہانی ٭٭
یہاں مشرکین کا انکار قیامت اور اس کی دلیل بیان فرما کر اللہ تعالیٰ اس کی تردید کرتا ہے ان کا خیال تھا کہ قیامت آنی نہیں مرنے کے بعد جینا نہیں۔ حشر اور نشر سب غلط ہے دلیل یہ پیش کرتے تھے کہ ہمارے باپ دادا مر گئے وہ کیوں دوبارہ جی کر نہیں آئے؟ خیال کیجئے یہ کس قدر بودی اور بے ہودہ دلیل ہے دوبارہ اٹھ کھڑا ہونا مرنے کے بعد جینا قیامت کو ہو گا نہ کہ دنیا میں پھر لوٹ کر آئیں گے۔ اس دن یہ ظالم جہنم کا ایندھن بنیں گے اس وقت یہ امت اگلی امتوں پر گواہی دے گی اور ان پر ان کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دیں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ انہیں ڈرا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے جو عذاب اسی جرم پر اگلی قوموں پر آئے وہ تم پر بھی آ جائیں اور ان کی طرح بے نام و نشان کر دئیے جاؤ۔ ان کے واقعات سورۃ سبا میں گذر چکے ہیں وہ لوگ بھی قحطان کے عرب تھے جیسے یہ عدنان کے عرب ہیں حمیر جو سبا کے تھے وہ اپنے بادشاہ کو تبع کہتے تھے جیسے فارس کے بادشاہ کو کسریٰ اور روم کے ہر بادشاہ کو قیصر اور مصر کے ہر بادشاہ کو فرعون اور حبشہ کے ہر بادشاہ کو نجاشی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک تبع یمن سے نکلا اور زمین پھرتا رہا سمرقند پہنچ گیا ہر جگہ کے بادشاہوں کو شکست دیتا رہا اور اپنا بہت بڑا ملک کر لیا زبردست لشکر اور بےشمار رعایا اس کے ماتحت تھی اس نے حیرہ نامی بستی بسائی یہ اپنے زمانے میں مدینے میں بھی آیا تھا اور یہاں کے باشندوں سے بھی لڑا لیکن اسے لوگوں نے اس سے روکا خود اہل مدینہ کا بھی اس سے یہ سلوک رہا کہ دن کو تو لڑتے تھے اور رات کو ان کی مہمان داری کرتے تھے آخر اس کو بھی لحاظ آ گیا اور لڑائی بند کر دی اس کے ساتھ یہاں کے دو یہودی عالم ہو گئے تھے جو موسیٰ کے سچے دین کے عامل بھی تھے وہ اسے ہر وقت بھلائی برائی سمجھاتے رہتے تھے انہوں نے کہا کہ آپ مدینے کو تاخت وتاراج نہیں کر سکتے کیونکہ یہ آخر زمانے کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی جگہ ہے۔
صفحہ نمبر8358
پس یہاں سے لوٹ گیا اور ان دونوں عالموں کو اپنے ساتھ لیتا چلا جب یہ مکے پہنچا تو اس نے بیت اللہ کو گرانا چاہا لیکن ان دونوں عالموں نے اسے روکا اور اس پاک گھر کی عظمت و حرمت بیان کی اور کہا کہ اس کے بانی خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ اور اس نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پھر اس کی اصلی عظمت آشکارا ہو جائے گی۔ چنانچہ یہ اپنے ارادے سے باز آیا بلکہ بیت اللہ کی بڑی تعظیم و تکریم کی طواف کیا غلاف چڑھایا اور یہاں سے یمن واپس چلا گیا۔ خود موسیٰ علیہ السلام کے دین میں داخل ہوا اور تمام یمن میں یہی دین پھیلایا اس وقت تک مسیح علیہ السلام کا ظہور نہیں ہوا تھا اور اس زمانے والوں کے لیے یہی سچا دین تھا۔ اس طرح کے واقعات بہت تفصیل سے سیرۃ ابن اسحاق رحمہ اللہ میں موجود ہیں۔ اور حافظ ابن عساکر بھی اپنی کتاب میں بہت تفصیل کے ساتھ لائے ہیں اس میں ہے کہ اس کا پائے تخت دمشق میں تھا اس کے لشکروں کی صفیں دمشق سے لے کر یمن تک پہنچتی تھیں۔
ایک حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ میں نہیں جان سکا کہ حد لگنے سے گناہ کا کفارہ ہو جاتا ہے یا نہیں؟ اور نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ تبع ملعون تھا یا نہیں؟ اور نہ مجھے یہ خبر ہے کہ ذوالقرنین نبی تھے یا بادشاہ اور روایت میں ہے کہ یہ بھی فرمایا عزیر پیغمبر تھے یا نہیں؟ [سنن ابوداود:4674،قال الشيخ الألباني:صحیح]
[ ابن ابی حاتم ] دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث کی روایت صرف عبدالرزاق سے ہی ہے اور سند سے مروی ہے کہ عزیر کا نبی ہونا مجھے معلوم نہیں نہ میں یہ جانتا ہوں کہ تبع پر لعنت کروں یا نہیں؟ [تاریخ دمشق501/3] اسے وارد کرنے کے بعد حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے وہ روایتیں درج کی ہیں جن میں تبع کو گالی دینے اور لعنت کرنے سے ممانعت آئی ہے جیسے کہ ہم بھی وارد کریں گے ان شاءاللہ۔
معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ پہلے کافر تھے پھر مسلمان ہو گئے یعنی موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کے دین میں داخل ہوئے اور اس زمانے کے علماء کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا۔ بعثت مسیح علیہ السلام سے پہلے کا یہ واقعہ ہے جرہم کے زمانے میں بیت اللہ کا حج بھی کیا غلاف بھی چڑھایا اور بڑی تعظیم و تکریم کی چھ ہزار اونٹ نام اللہ قربان کئے اور بھی بہت بڑا طویل واقعہ ہے جو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ اور اصل قصہ کا دارومدار سیدنا کعب احبار اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما پر ہے۔ وہب بن منبہ نے بھی اس قصہ کو وارد کیا ہے۔ حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے اس تبع کے قصے کے ساتھ دوسرے تبع کے قصے کو بھی ملا دیا ہے جو ان کے بہت بعد تھا اس کی قوم تو اس کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئی تھی پھر ان کے انتقال کے بعد وہ کفر کی طرف لوٹ گئی۔ اور دوبارہ آگ اور بتوں کی پرستش شروع کر دی۔ جیسے کہ سورۃ سباء میں مذکور ہے اسی کی تفسیر میں ہم نے بھی وہاں اس کی پوری تفصیل لکھ دی ہے فالحمدللہ۔
صفحہ نمبر8359
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس تبع نے کعبے پر غلاف چڑھایا تھا آپ لوگوں کو منع کرتے تھے کہ اس تبع کو برا نہ کہو یہ درمیان کا تبع ہے اس کا نام اسعد ابو کرب بن ملکیرب یمانی ہے۔ اس کی سلطنت تین سو چھبیس سال تک رہی اس سے زیادہ لمبی مدت ان بادشاہوں میں سے کسی نے نہیں پائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریبًا سات سو سال پہلے اس کا انتقال ہوا ہے مورخین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان دونوں موسوی عالموں نے جو مدینے کے تھے انہوں نے جب تبع بادشاہ کو یقین دلایا کہ یہ شہر نبی آخر الزمان احمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہجرت گاہ ہے تو اس نے ایک قصیدہ کہا تھا اور اہل مدینہ کو بطور امانت دے گیا تھا جو ان کے پاس ہی رہا اور بطور میراث ایک دوسرے کے ہاتھ لگتا رہا اور اس کی روایت سند کے ساتھ برابر چلی آتی رہی یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے وقت اس کے حافظ ابو ایوب خالد بن زید رضی اللہ عنہ تھے اور اتفاق سے بلکہ بہ حکم اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نزول جلال بھی یہیں ہوا تھا۔ اس قصیدے کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں
«شھدت علی احمد انہ *** رسول من اللہ باری النسیم فلو مد عمری الی عمرہ *** لکنت وزیر الہ و ابن عم وجاھدت بالسیف اعداء ہ *** وفرجت عن صدرہ کل غم»
صفحہ نمبر8360
یعنی میری تہ دل سے گواہی ہے کہ احمد مجتبیٰ [ صلی اللہ علیہ وسلم ] اس اللہ کے سچے رسول ہیں جو تمام جانداروں کا پیدا کرنے والا ہے۔ اگر میں اس کے زمانے تک زندہ رہا تو قسم اللہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاون بن کر رہوں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے تلوار کے ساتھ جہاد کروں گا اور کسی کھٹکے اور غم کو آپ کے پاس تک پھٹکنے نہ دوں گا۔
ابن ابی الدنیا میں ہے کہ دور اسلام میں صفا شہر میں اتفاق سے قبر کھد گئی تو دیکھا گیا کہ دو عورتیں مدفون ہیں جن کے جسم بالکل سالم ہیں اور سرہانے پر چاندی کی ایک تختی لگی ہوئی ہے جس میں سونے کے حروف سے یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ قبر حی اور لمیس کی ہے اور ایک روایت میں ان کے نام حبی اور تماخر ہیں یہ دونوں تبع کی بہنیں ہیں یہ دونوں مرتے وقت تک اس بات کی شہادت دیتی رہیں کہ لائق عبادت صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے یہ دونوں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی تھیں۔ ان سے پہلے کے تمام نیک صالح لوگ بھی اسی شہادت کے ادا کرتے ہوئے انتقال فرماتے رہے ہیں۔ سورۃ سباء میں ہم نے اس واقعہ کے متعلق سبا کے اشعار بھی نقل کر دئیے ہیں۔ ضرت کعب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ تبع کی تعریف قرآن سے اس طرح معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی مذمت کی ان کی نہیں کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ تبع کو برا نہ کہو وہ صالح شخص تھا ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تبع کو گالی نہ دو وہ مسلمان ہو چکا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:241/11:ضعیف]
طبرانی اور مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے عبدالرزاق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مجھے معلوم نہیں تبع نبی تھا یا نہ تھا؟ اور روایت میں جو اس سے پہلے گذر چکی کہ میں نہیں جانتا تبع ملعون تھا یا نہیں؟ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہی روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے عطاء بن ابو رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں تبع کو گالی نہ دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں برا کہنا منع فرمایا ہے۔ «واللہ تعالیٰ اعلم» ۔
صفحہ نمبر8361
شہنشاہ تبع کی کہانی ٭٭
یہاں مشرکین کا انکار قیامت اور اس کی دلیل بیان فرما کر اللہ تعالیٰ اس کی تردید کرتا ہے ان کا خیال تھا کہ قیامت آنی نہیں مرنے کے بعد جینا نہیں۔ حشر اور نشر سب غلط ہے دلیل یہ پیش کرتے تھے کہ ہمارے باپ دادا مر گئے وہ کیوں دوبارہ جی کر نہیں آئے؟ خیال کیجئے یہ کس قدر بودی اور بے ہودہ دلیل ہے دوبارہ اٹھ کھڑا ہونا مرنے کے بعد جینا قیامت کو ہو گا نہ کہ دنیا میں پھر لوٹ کر آئیں گے۔ اس دن یہ ظالم جہنم کا ایندھن بنیں گے اس وقت یہ امت اگلی امتوں پر گواہی دے گی اور ان پر ان کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دیں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ انہیں ڈرا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے جو عذاب اسی جرم پر اگلی قوموں پر آئے وہ تم پر بھی آ جائیں اور ان کی طرح بے نام و نشان کر دئیے جاؤ۔ ان کے واقعات سورۃ سبا میں گذر چکے ہیں وہ لوگ بھی قحطان کے عرب تھے جیسے یہ عدنان کے عرب ہیں حمیر جو سبا کے تھے وہ اپنے بادشاہ کو تبع کہتے تھے جیسے فارس کے بادشاہ کو کسریٰ اور روم کے ہر بادشاہ کو قیصر اور مصر کے ہر بادشاہ کو فرعون اور حبشہ کے ہر بادشاہ کو نجاشی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک تبع یمن سے نکلا اور زمین پھرتا رہا سمرقند پہنچ گیا ہر جگہ کے بادشاہوں کو شکست دیتا رہا اور اپنا بہت بڑا ملک کر لیا زبردست لشکر اور بےشمار رعایا اس کے ماتحت تھی اس نے حیرہ نامی بستی بسائی یہ اپنے زمانے میں مدینے میں بھی آیا تھا اور یہاں کے باشندوں سے بھی لڑا لیکن اسے لوگوں نے اس سے روکا خود اہل مدینہ کا بھی اس سے یہ سلوک رہا کہ دن کو تو لڑتے تھے اور رات کو ان کی مہمان داری کرتے تھے آخر اس کو بھی لحاظ آ گیا اور لڑائی بند کر دی اس کے ساتھ یہاں کے دو یہودی عالم ہو گئے تھے جو موسیٰ کے سچے دین کے عامل بھی تھے وہ اسے ہر وقت بھلائی برائی سمجھاتے رہتے تھے انہوں نے کہا کہ آپ مدینے کو تاخت وتاراج نہیں کر سکتے کیونکہ یہ آخر زمانے کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی جگہ ہے۔
صفحہ نمبر8358
پس یہاں سے لوٹ گیا اور ان دونوں عالموں کو اپنے ساتھ لیتا چلا جب یہ مکے پہنچا تو اس نے بیت اللہ کو گرانا چاہا لیکن ان دونوں عالموں نے اسے روکا اور اس پاک گھر کی عظمت و حرمت بیان کی اور کہا کہ اس کے بانی خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ اور اس نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پھر اس کی اصلی عظمت آشکارا ہو جائے گی۔ چنانچہ یہ اپنے ارادے سے باز آیا بلکہ بیت اللہ کی بڑی تعظیم و تکریم کی طواف کیا غلاف چڑھایا اور یہاں سے یمن واپس چلا گیا۔ خود موسیٰ علیہ السلام کے دین میں داخل ہوا اور تمام یمن میں یہی دین پھیلایا اس وقت تک مسیح علیہ السلام کا ظہور نہیں ہوا تھا اور اس زمانے والوں کے لیے یہی سچا دین تھا۔ اس طرح کے واقعات بہت تفصیل سے سیرۃ ابن اسحاق رحمہ اللہ میں موجود ہیں۔ اور حافظ ابن عساکر بھی اپنی کتاب میں بہت تفصیل کے ساتھ لائے ہیں اس میں ہے کہ اس کا پائے تخت دمشق میں تھا اس کے لشکروں کی صفیں دمشق سے لے کر یمن تک پہنچتی تھیں۔
ایک حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ میں نہیں جان سکا کہ حد لگنے سے گناہ کا کفارہ ہو جاتا ہے یا نہیں؟ اور نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ تبع ملعون تھا یا نہیں؟ اور نہ مجھے یہ خبر ہے کہ ذوالقرنین نبی تھے یا بادشاہ اور روایت میں ہے کہ یہ بھی فرمایا عزیر پیغمبر تھے یا نہیں؟ [سنن ابوداود:4674،قال الشيخ الألباني:صحیح]
[ ابن ابی حاتم ] دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث کی روایت صرف عبدالرزاق سے ہی ہے اور سند سے مروی ہے کہ عزیر کا نبی ہونا مجھے معلوم نہیں نہ میں یہ جانتا ہوں کہ تبع پر لعنت کروں یا نہیں؟ [تاریخ دمشق501/3] اسے وارد کرنے کے بعد حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے وہ روایتیں درج کی ہیں جن میں تبع کو گالی دینے اور لعنت کرنے سے ممانعت آئی ہے جیسے کہ ہم بھی وارد کریں گے ان شاءاللہ۔
معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ پہلے کافر تھے پھر مسلمان ہو گئے یعنی موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کے دین میں داخل ہوئے اور اس زمانے کے علماء کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا۔ بعثت مسیح علیہ السلام سے پہلے کا یہ واقعہ ہے جرہم کے زمانے میں بیت اللہ کا حج بھی کیا غلاف بھی چڑھایا اور بڑی تعظیم و تکریم کی چھ ہزار اونٹ نام اللہ قربان کئے اور بھی بہت بڑا طویل واقعہ ہے جو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ اور اصل قصہ کا دارومدار سیدنا کعب احبار اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما پر ہے۔ وہب بن منبہ نے بھی اس قصہ کو وارد کیا ہے۔ حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے اس تبع کے قصے کے ساتھ دوسرے تبع کے قصے کو بھی ملا دیا ہے جو ان کے بہت بعد تھا اس کی قوم تو اس کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئی تھی پھر ان کے انتقال کے بعد وہ کفر کی طرف لوٹ گئی۔ اور دوبارہ آگ اور بتوں کی پرستش شروع کر دی۔ جیسے کہ سورۃ سباء میں مذکور ہے اسی کی تفسیر میں ہم نے بھی وہاں اس کی پوری تفصیل لکھ دی ہے فالحمدللہ۔
صفحہ نمبر8359
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس تبع نے کعبے پر غلاف چڑھایا تھا آپ لوگوں کو منع کرتے تھے کہ اس تبع کو برا نہ کہو یہ درمیان کا تبع ہے اس کا نام اسعد ابو کرب بن ملکیرب یمانی ہے۔ اس کی سلطنت تین سو چھبیس سال تک رہی اس سے زیادہ لمبی مدت ان بادشاہوں میں سے کسی نے نہیں پائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریبًا سات سو سال پہلے اس کا انتقال ہوا ہے مورخین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان دونوں موسوی عالموں نے جو مدینے کے تھے انہوں نے جب تبع بادشاہ کو یقین دلایا کہ یہ شہر نبی آخر الزمان احمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہجرت گاہ ہے تو اس نے ایک قصیدہ کہا تھا اور اہل مدینہ کو بطور امانت دے گیا تھا جو ان کے پاس ہی رہا اور بطور میراث ایک دوسرے کے ہاتھ لگتا رہا اور اس کی روایت سند کے ساتھ برابر چلی آتی رہی یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے وقت اس کے حافظ ابو ایوب خالد بن زید رضی اللہ عنہ تھے اور اتفاق سے بلکہ بہ حکم اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نزول جلال بھی یہیں ہوا تھا۔ اس قصیدے کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں
«شھدت علی احمد انہ *** رسول من اللہ باری النسیم فلو مد عمری الی عمرہ *** لکنت وزیر الہ و ابن عم وجاھدت بالسیف اعداء ہ *** وفرجت عن صدرہ کل غم»
صفحہ نمبر8360
یعنی میری تہ دل سے گواہی ہے کہ احمد مجتبیٰ [ صلی اللہ علیہ وسلم ] اس اللہ کے سچے رسول ہیں جو تمام جانداروں کا پیدا کرنے والا ہے۔ اگر میں اس کے زمانے تک زندہ رہا تو قسم اللہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاون بن کر رہوں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے تلوار کے ساتھ جہاد کروں گا اور کسی کھٹکے اور غم کو آپ کے پاس تک پھٹکنے نہ دوں گا۔
ابن ابی الدنیا میں ہے کہ دور اسلام میں صفا شہر میں اتفاق سے قبر کھد گئی تو دیکھا گیا کہ دو عورتیں مدفون ہیں جن کے جسم بالکل سالم ہیں اور سرہانے پر چاندی کی ایک تختی لگی ہوئی ہے جس میں سونے کے حروف سے یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ قبر حی اور لمیس کی ہے اور ایک روایت میں ان کے نام حبی اور تماخر ہیں یہ دونوں تبع کی بہنیں ہیں یہ دونوں مرتے وقت تک اس بات کی شہادت دیتی رہیں کہ لائق عبادت صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے یہ دونوں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی تھیں۔ ان سے پہلے کے تمام نیک صالح لوگ بھی اسی شہادت کے ادا کرتے ہوئے انتقال فرماتے رہے ہیں۔ سورۃ سباء میں ہم نے اس واقعہ کے متعلق سبا کے اشعار بھی نقل کر دئیے ہیں۔ ضرت کعب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ تبع کی تعریف قرآن سے اس طرح معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی مذمت کی ان کی نہیں کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ تبع کو برا نہ کہو وہ صالح شخص تھا ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تبع کو گالی نہ دو وہ مسلمان ہو چکا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:241/11:ضعیف]
طبرانی اور مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے عبدالرزاق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مجھے معلوم نہیں تبع نبی تھا یا نہ تھا؟ اور روایت میں جو اس سے پہلے گذر چکی کہ میں نہیں جانتا تبع ملعون تھا یا نہیں؟ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہی روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے عطاء بن ابو رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں تبع کو گالی نہ دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں برا کہنا منع فرمایا ہے۔ «واللہ تعالیٰ اعلم» ۔
صفحہ نمبر8361
شہنشاہ تبع کی کہانی ٭٭
یہاں مشرکین کا انکار قیامت اور اس کی دلیل بیان فرما کر اللہ تعالیٰ اس کی تردید کرتا ہے ان کا خیال تھا کہ قیامت آنی نہیں مرنے کے بعد جینا نہیں۔ حشر اور نشر سب غلط ہے دلیل یہ پیش کرتے تھے کہ ہمارے باپ دادا مر گئے وہ کیوں دوبارہ جی کر نہیں آئے؟ خیال کیجئے یہ کس قدر بودی اور بے ہودہ دلیل ہے دوبارہ اٹھ کھڑا ہونا مرنے کے بعد جینا قیامت کو ہو گا نہ کہ دنیا میں پھر لوٹ کر آئیں گے۔ اس دن یہ ظالم جہنم کا ایندھن بنیں گے اس وقت یہ امت اگلی امتوں پر گواہی دے گی اور ان پر ان کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دیں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ انہیں ڈرا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے جو عذاب اسی جرم پر اگلی قوموں پر آئے وہ تم پر بھی آ جائیں اور ان کی طرح بے نام و نشان کر دئیے جاؤ۔ ان کے واقعات سورۃ سبا میں گذر چکے ہیں وہ لوگ بھی قحطان کے عرب تھے جیسے یہ عدنان کے عرب ہیں حمیر جو سبا کے تھے وہ اپنے بادشاہ کو تبع کہتے تھے جیسے فارس کے بادشاہ کو کسریٰ اور روم کے ہر بادشاہ کو قیصر اور مصر کے ہر بادشاہ کو فرعون اور حبشہ کے ہر بادشاہ کو نجاشی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک تبع یمن سے نکلا اور زمین پھرتا رہا سمرقند پہنچ گیا ہر جگہ کے بادشاہوں کو شکست دیتا رہا اور اپنا بہت بڑا ملک کر لیا زبردست لشکر اور بےشمار رعایا اس کے ماتحت تھی اس نے حیرہ نامی بستی بسائی یہ اپنے زمانے میں مدینے میں بھی آیا تھا اور یہاں کے باشندوں سے بھی لڑا لیکن اسے لوگوں نے اس سے روکا خود اہل مدینہ کا بھی اس سے یہ سلوک رہا کہ دن کو تو لڑتے تھے اور رات کو ان کی مہمان داری کرتے تھے آخر اس کو بھی لحاظ آ گیا اور لڑائی بند کر دی اس کے ساتھ یہاں کے دو یہودی عالم ہو گئے تھے جو موسیٰ کے سچے دین کے عامل بھی تھے وہ اسے ہر وقت بھلائی برائی سمجھاتے رہتے تھے انہوں نے کہا کہ آپ مدینے کو تاخت وتاراج نہیں کر سکتے کیونکہ یہ آخر زمانے کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی جگہ ہے۔
صفحہ نمبر8358
پس یہاں سے لوٹ گیا اور ان دونوں عالموں کو اپنے ساتھ لیتا چلا جب یہ مکے پہنچا تو اس نے بیت اللہ کو گرانا چاہا لیکن ان دونوں عالموں نے اسے روکا اور اس پاک گھر کی عظمت و حرمت بیان کی اور کہا کہ اس کے بانی خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ اور اس نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پھر اس کی اصلی عظمت آشکارا ہو جائے گی۔ چنانچہ یہ اپنے ارادے سے باز آیا بلکہ بیت اللہ کی بڑی تعظیم و تکریم کی طواف کیا غلاف چڑھایا اور یہاں سے یمن واپس چلا گیا۔ خود موسیٰ علیہ السلام کے دین میں داخل ہوا اور تمام یمن میں یہی دین پھیلایا اس وقت تک مسیح علیہ السلام کا ظہور نہیں ہوا تھا اور اس زمانے والوں کے لیے یہی سچا دین تھا۔ اس طرح کے واقعات بہت تفصیل سے سیرۃ ابن اسحاق رحمہ اللہ میں موجود ہیں۔ اور حافظ ابن عساکر بھی اپنی کتاب میں بہت تفصیل کے ساتھ لائے ہیں اس میں ہے کہ اس کا پائے تخت دمشق میں تھا اس کے لشکروں کی صفیں دمشق سے لے کر یمن تک پہنچتی تھیں۔
ایک حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ میں نہیں جان سکا کہ حد لگنے سے گناہ کا کفارہ ہو جاتا ہے یا نہیں؟ اور نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ تبع ملعون تھا یا نہیں؟ اور نہ مجھے یہ خبر ہے کہ ذوالقرنین نبی تھے یا بادشاہ اور روایت میں ہے کہ یہ بھی فرمایا عزیر پیغمبر تھے یا نہیں؟ [سنن ابوداود:4674،قال الشيخ الألباني:صحیح]
[ ابن ابی حاتم ] دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث کی روایت صرف عبدالرزاق سے ہی ہے اور سند سے مروی ہے کہ عزیر کا نبی ہونا مجھے معلوم نہیں نہ میں یہ جانتا ہوں کہ تبع پر لعنت کروں یا نہیں؟ [تاریخ دمشق501/3] اسے وارد کرنے کے بعد حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے وہ روایتیں درج کی ہیں جن میں تبع کو گالی دینے اور لعنت کرنے سے ممانعت آئی ہے جیسے کہ ہم بھی وارد کریں گے ان شاءاللہ۔
معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ پہلے کافر تھے پھر مسلمان ہو گئے یعنی موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کے دین میں داخل ہوئے اور اس زمانے کے علماء کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا۔ بعثت مسیح علیہ السلام سے پہلے کا یہ واقعہ ہے جرہم کے زمانے میں بیت اللہ کا حج بھی کیا غلاف بھی چڑھایا اور بڑی تعظیم و تکریم کی چھ ہزار اونٹ نام اللہ قربان کئے اور بھی بہت بڑا طویل واقعہ ہے جو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ اور اصل قصہ کا دارومدار سیدنا کعب احبار اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما پر ہے۔ وہب بن منبہ نے بھی اس قصہ کو وارد کیا ہے۔ حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے اس تبع کے قصے کے ساتھ دوسرے تبع کے قصے کو بھی ملا دیا ہے جو ان کے بہت بعد تھا اس کی قوم تو اس کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئی تھی پھر ان کے انتقال کے بعد وہ کفر کی طرف لوٹ گئی۔ اور دوبارہ آگ اور بتوں کی پرستش شروع کر دی۔ جیسے کہ سورۃ سباء میں مذکور ہے اسی کی تفسیر میں ہم نے بھی وہاں اس کی پوری تفصیل لکھ دی ہے فالحمدللہ۔
صفحہ نمبر8359
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس تبع نے کعبے پر غلاف چڑھایا تھا آپ لوگوں کو منع کرتے تھے کہ اس تبع کو برا نہ کہو یہ درمیان کا تبع ہے اس کا نام اسعد ابو کرب بن ملکیرب یمانی ہے۔ اس کی سلطنت تین سو چھبیس سال تک رہی اس سے زیادہ لمبی مدت ان بادشاہوں میں سے کسی نے نہیں پائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریبًا سات سو سال پہلے اس کا انتقال ہوا ہے مورخین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان دونوں موسوی عالموں نے جو مدینے کے تھے انہوں نے جب تبع بادشاہ کو یقین دلایا کہ یہ شہر نبی آخر الزمان احمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہجرت گاہ ہے تو اس نے ایک قصیدہ کہا تھا اور اہل مدینہ کو بطور امانت دے گیا تھا جو ان کے پاس ہی رہا اور بطور میراث ایک دوسرے کے ہاتھ لگتا رہا اور اس کی روایت سند کے ساتھ برابر چلی آتی رہی یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے وقت اس کے حافظ ابو ایوب خالد بن زید رضی اللہ عنہ تھے اور اتفاق سے بلکہ بہ حکم اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نزول جلال بھی یہیں ہوا تھا۔ اس قصیدے کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں
«شھدت علی احمد انہ *** رسول من اللہ باری النسیم فلو مد عمری الی عمرہ *** لکنت وزیر الہ و ابن عم وجاھدت بالسیف اعداء ہ *** وفرجت عن صدرہ کل غم»
صفحہ نمبر8360
یعنی میری تہ دل سے گواہی ہے کہ احمد مجتبیٰ [ صلی اللہ علیہ وسلم ] اس اللہ کے سچے رسول ہیں جو تمام جانداروں کا پیدا کرنے والا ہے۔ اگر میں اس کے زمانے تک زندہ رہا تو قسم اللہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاون بن کر رہوں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے تلوار کے ساتھ جہاد کروں گا اور کسی کھٹکے اور غم کو آپ کے پاس تک پھٹکنے نہ دوں گا۔
ابن ابی الدنیا میں ہے کہ دور اسلام میں صفا شہر میں اتفاق سے قبر کھد گئی تو دیکھا گیا کہ دو عورتیں مدفون ہیں جن کے جسم بالکل سالم ہیں اور سرہانے پر چاندی کی ایک تختی لگی ہوئی ہے جس میں سونے کے حروف سے یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ قبر حی اور لمیس کی ہے اور ایک روایت میں ان کے نام حبی اور تماخر ہیں یہ دونوں تبع کی بہنیں ہیں یہ دونوں مرتے وقت تک اس بات کی شہادت دیتی رہیں کہ لائق عبادت صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے یہ دونوں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی تھیں۔ ان سے پہلے کے تمام نیک صالح لوگ بھی اسی شہادت کے ادا کرتے ہوئے انتقال فرماتے رہے ہیں۔ سورۃ سباء میں ہم نے اس واقعہ کے متعلق سبا کے اشعار بھی نقل کر دئیے ہیں۔ ضرت کعب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ تبع کی تعریف قرآن سے اس طرح معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی مذمت کی ان کی نہیں کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ تبع کو برا نہ کہو وہ صالح شخص تھا ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تبع کو گالی نہ دو وہ مسلمان ہو چکا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:241/11:ضعیف]
طبرانی اور مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے عبدالرزاق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مجھے معلوم نہیں تبع نبی تھا یا نہ تھا؟ اور روایت میں جو اس سے پہلے گذر چکی کہ میں نہیں جانتا تبع ملعون تھا یا نہیں؟ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہی روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے عطاء بن ابو رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں تبع کو گالی نہ دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں برا کہنا منع فرمایا ہے۔ «واللہ تعالیٰ اعلم» ۔
صفحہ نمبر8361
صور پھونکنے کے بعد ٭٭
یہاں اللہ عزوجل اپنے عدل کا بیان فرما رہا ہے اور بے فائدہ لغو اور عبث کاموں سے اپنی پاکیزگی کا اظہار فرماتا ہے جیسے اور آیت میں ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی مخلوق کو باطل پیدا نہیں کیا ایسا گمان ہماری نسبت صرف ان کا ہے جو کفار ہیں اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے [38-ص:27] اور ارشاد ہے آیت «أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ فَتَعَالَى اللَّـهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۖ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» [ 23-سورة المؤمنون: 116، 115 ] ، یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار و عبث پیدا کیا ہے اور تم لوٹ کر ہماری طرف آنے ہی کے نہیں؟ اللہ حق مالک بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے فیصلوں کا دن یعنی قیامت کا دن جس دن باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان حق فیصلے کرے گا کافروں کو سزا اور مومنوں کو جزا ملے گی۔ اس دن تمام اگلے پچھلے اللہ کے سامنے جمع ہوں گے یہ وہ وقت ہو گا کہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائے گا رشتے دار رشتے دار کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 101 ] ، یعنی جب صور پھونک دیا جائے گا تو نہ تو کوئی نسب باقی رہے گا نہ پوچھ گچھ۔ اور آیت میں ہے «وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا يُبَصَّرُونَهُمْ ۚ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ» [ 70-المعارج: 10، 11 ] کوئی دوست اس دن اپنے دوست کو پریشان حالی میں دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہ پوچھے گا اور نہ کوئی اس دن کسی کی کسی طرح کی مدد کرے گا نہ اور کوئی بیرونی مدد آئے گی مگر ہاں اللہ کی رحمت جو مخلوق پر شامل ہے وہ بڑا غالب اور وسیع رحمت والا ہے۔
صفحہ نمبر8365
صور پھونکنے کے بعد ٭٭
یہاں اللہ عزوجل اپنے عدل کا بیان فرما رہا ہے اور بے فائدہ لغو اور عبث کاموں سے اپنی پاکیزگی کا اظہار فرماتا ہے جیسے اور آیت میں ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی مخلوق کو باطل پیدا نہیں کیا ایسا گمان ہماری نسبت صرف ان کا ہے جو کفار ہیں اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے [38-ص:27] اور ارشاد ہے آیت «أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ فَتَعَالَى اللَّـهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۖ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» [ 23-سورة المؤمنون: 116، 115 ] ، یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار و عبث پیدا کیا ہے اور تم لوٹ کر ہماری طرف آنے ہی کے نہیں؟ اللہ حق مالک بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے فیصلوں کا دن یعنی قیامت کا دن جس دن باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان حق فیصلے کرے گا کافروں کو سزا اور مومنوں کو جزا ملے گی۔ اس دن تمام اگلے پچھلے اللہ کے سامنے جمع ہوں گے یہ وہ وقت ہو گا کہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائے گا رشتے دار رشتے دار کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 101 ] ، یعنی جب صور پھونک دیا جائے گا تو نہ تو کوئی نسب باقی رہے گا نہ پوچھ گچھ۔ اور آیت میں ہے «وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا يُبَصَّرُونَهُمْ ۚ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ» [ 70-المعارج: 10، 11 ] کوئی دوست اس دن اپنے دوست کو پریشان حالی میں دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہ پوچھے گا اور نہ کوئی اس دن کسی کی کسی طرح کی مدد کرے گا نہ اور کوئی بیرونی مدد آئے گی مگر ہاں اللہ کی رحمت جو مخلوق پر شامل ہے وہ بڑا غالب اور وسیع رحمت والا ہے۔
صفحہ نمبر8365
صور پھونکنے کے بعد ٭٭
یہاں اللہ عزوجل اپنے عدل کا بیان فرما رہا ہے اور بے فائدہ لغو اور عبث کاموں سے اپنی پاکیزگی کا اظہار فرماتا ہے جیسے اور آیت میں ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی مخلوق کو باطل پیدا نہیں کیا ایسا گمان ہماری نسبت صرف ان کا ہے جو کفار ہیں اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے [38-ص:27] اور ارشاد ہے آیت «أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ فَتَعَالَى اللَّـهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۖ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» [ 23-سورة المؤمنون: 116، 115 ] ، یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار و عبث پیدا کیا ہے اور تم لوٹ کر ہماری طرف آنے ہی کے نہیں؟ اللہ حق مالک بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے فیصلوں کا دن یعنی قیامت کا دن جس دن باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان حق فیصلے کرے گا کافروں کو سزا اور مومنوں کو جزا ملے گی۔ اس دن تمام اگلے پچھلے اللہ کے سامنے جمع ہوں گے یہ وہ وقت ہو گا کہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائے گا رشتے دار رشتے دار کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 101 ] ، یعنی جب صور پھونک دیا جائے گا تو نہ تو کوئی نسب باقی رہے گا نہ پوچھ گچھ۔ اور آیت میں ہے «وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا يُبَصَّرُونَهُمْ ۚ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ» [ 70-المعارج: 10، 11 ] کوئی دوست اس دن اپنے دوست کو پریشان حالی میں دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہ پوچھے گا اور نہ کوئی اس دن کسی کی کسی طرح کی مدد کرے گا نہ اور کوئی بیرونی مدد آئے گی مگر ہاں اللہ کی رحمت جو مخلوق پر شامل ہے وہ بڑا غالب اور وسیع رحمت والا ہے۔
صفحہ نمبر8365
صور پھونکنے کے بعد ٭٭
یہاں اللہ عزوجل اپنے عدل کا بیان فرما رہا ہے اور بے فائدہ لغو اور عبث کاموں سے اپنی پاکیزگی کا اظہار فرماتا ہے جیسے اور آیت میں ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی مخلوق کو باطل پیدا نہیں کیا ایسا گمان ہماری نسبت صرف ان کا ہے جو کفار ہیں اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے [38-ص:27] اور ارشاد ہے آیت «أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ فَتَعَالَى اللَّـهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۖ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» [ 23-سورة المؤمنون: 116، 115 ] ، یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار و عبث پیدا کیا ہے اور تم لوٹ کر ہماری طرف آنے ہی کے نہیں؟ اللہ حق مالک بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے فیصلوں کا دن یعنی قیامت کا دن جس دن باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان حق فیصلے کرے گا کافروں کو سزا اور مومنوں کو جزا ملے گی۔ اس دن تمام اگلے پچھلے اللہ کے سامنے جمع ہوں گے یہ وہ وقت ہو گا کہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائے گا رشتے دار رشتے دار کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 101 ] ، یعنی جب صور پھونک دیا جائے گا تو نہ تو کوئی نسب باقی رہے گا نہ پوچھ گچھ۔ اور آیت میں ہے «وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا يُبَصَّرُونَهُمْ ۚ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ» [ 70-المعارج: 10، 11 ] کوئی دوست اس دن اپنے دوست کو پریشان حالی میں دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہ پوچھے گا اور نہ کوئی اس دن کسی کی کسی طرح کی مدد کرے گا نہ اور کوئی بیرونی مدد آئے گی مگر ہاں اللہ کی رحمت جو مخلوق پر شامل ہے وہ بڑا غالب اور وسیع رحمت والا ہے۔
صفحہ نمبر8365
صور پھونکنے کے بعد ٭٭
یہاں اللہ عزوجل اپنے عدل کا بیان فرما رہا ہے اور بے فائدہ لغو اور عبث کاموں سے اپنی پاکیزگی کا اظہار فرماتا ہے جیسے اور آیت میں ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی مخلوق کو باطل پیدا نہیں کیا ایسا گمان ہماری نسبت صرف ان کا ہے جو کفار ہیں اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے [38-ص:27] اور ارشاد ہے آیت «أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ فَتَعَالَى اللَّـهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۖ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» [ 23-سورة المؤمنون: 116، 115 ] ، یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار و عبث پیدا کیا ہے اور تم لوٹ کر ہماری طرف آنے ہی کے نہیں؟ اللہ حق مالک بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے فیصلوں کا دن یعنی قیامت کا دن جس دن باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان حق فیصلے کرے گا کافروں کو سزا اور مومنوں کو جزا ملے گی۔ اس دن تمام اگلے پچھلے اللہ کے سامنے جمع ہوں گے یہ وہ وقت ہو گا کہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائے گا رشتے دار رشتے دار کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 101 ] ، یعنی جب صور پھونک دیا جائے گا تو نہ تو کوئی نسب باقی رہے گا نہ پوچھ گچھ۔ اور آیت میں ہے «وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا يُبَصَّرُونَهُمْ ۚ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ» [ 70-المعارج: 10، 11 ] کوئی دوست اس دن اپنے دوست کو پریشان حالی میں دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہ پوچھے گا اور نہ کوئی اس دن کسی کی کسی طرح کی مدد کرے گا نہ اور کوئی بیرونی مدد آئے گی مگر ہاں اللہ کی رحمت جو مخلوق پر شامل ہے وہ بڑا غالب اور وسیع رحمت والا ہے۔
صفحہ نمبر8365
زقوم ابوجہل کی خوراک ہو گا ٭٭
منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابوجہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ «اَثِیْم» ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے «طَعَامُ الْفَاجِر“» پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہو گا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا «يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ» [ 22- الحج: 20، 19 ] ، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہو جائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہو جائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لیے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لیے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔
صفحہ نمبر8370
مغازی اموی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہدوں «أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ“ ”ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ» [ 75- القيامة: 34، 35 ] » تیرے لیے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لیے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [ 52-الطور: 13 - 15 ] جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ ہے جس میں تم شک کر رہے تھے۔
صفحہ نمبر8371
زقوم ابوجہل کی خوراک ہو گا ٭٭
منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابوجہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ «اَثِیْم» ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے «طَعَامُ الْفَاجِر“» پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہو گا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا «يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ» [ 22- الحج: 20، 19 ] ، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہو جائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہو جائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لیے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لیے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔
صفحہ نمبر8370
مغازی اموی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہدوں «أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ“ ”ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ» [ 75- القيامة: 34، 35 ] » تیرے لیے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لیے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [ 52-الطور: 13 - 15 ] جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ ہے جس میں تم شک کر رہے تھے۔
صفحہ نمبر8371
زقوم ابوجہل کی خوراک ہو گا ٭٭
منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابوجہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ «اَثِیْم» ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے «طَعَامُ الْفَاجِر“» پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہو گا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا «يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ» [ 22- الحج: 20، 19 ] ، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہو جائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہو جائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لیے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لیے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔
صفحہ نمبر8370
مغازی اموی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہدوں «أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ“ ”ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ» [ 75- القيامة: 34، 35 ] » تیرے لیے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لیے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [ 52-الطور: 13 - 15 ] جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ ہے جس میں تم شک کر رہے تھے۔
صفحہ نمبر8371
زقوم ابوجہل کی خوراک ہو گا ٭٭
منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابوجہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ «اَثِیْم» ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے «طَعَامُ الْفَاجِر“» پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہو گا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا «يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ» [ 22- الحج: 20، 19 ] ، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہو جائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہو جائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لیے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لیے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔
صفحہ نمبر8370
مغازی اموی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہدوں «أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ“ ”ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ» [ 75- القيامة: 34، 35 ] » تیرے لیے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لیے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [ 52-الطور: 13 - 15 ] جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ ہے جس میں تم شک کر رہے تھے۔
صفحہ نمبر8371
زقوم ابوجہل کی خوراک ہو گا ٭٭
منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابوجہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ «اَثِیْم» ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے «طَعَامُ الْفَاجِر“» پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہو گا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا «يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ» [ 22- الحج: 20، 19 ] ، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہو جائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہو جائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لیے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لیے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔
صفحہ نمبر8370
مغازی اموی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہدوں «أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ“ ”ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ» [ 75- القيامة: 34، 35 ] » تیرے لیے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لیے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [ 52-الطور: 13 - 15 ] جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ ہے جس میں تم شک کر رہے تھے۔
صفحہ نمبر8371
زقوم ابوجہل کی خوراک ہو گا ٭٭
منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابوجہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ «اَثِیْم» ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے «طَعَامُ الْفَاجِر“» پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہو گا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا «يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ» [ 22- الحج: 20، 19 ] ، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہو جائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہو جائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لیے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لیے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔
صفحہ نمبر8370
مغازی اموی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہدوں «أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ“ ”ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ» [ 75- القيامة: 34، 35 ] » تیرے لیے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لیے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [ 52-الطور: 13 - 15 ] جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ ہے جس میں تم شک کر رہے تھے۔
صفحہ نمبر8371
زقوم ابوجہل کی خوراک ہو گا ٭٭
منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابوجہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ «اَثِیْم» ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے «طَعَامُ الْفَاجِر“» پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہو گا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا «يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ» [ 22- الحج: 20، 19 ] ، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہو جائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہو جائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لیے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لیے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔
صفحہ نمبر8370
مغازی اموی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہدوں «أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ“ ”ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ» [ 75- القيامة: 34، 35 ] » تیرے لیے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لیے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [ 52-الطور: 13 - 15 ] جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ ہے جس میں تم شک کر رہے تھے۔
صفحہ نمبر8371
زقوم ابوجہل کی خوراک ہو گا ٭٭
منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابوجہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ «اَثِیْم» ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے «طَعَامُ الْفَاجِر“» پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہو گا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا «يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ» [ 22- الحج: 20، 19 ] ، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہو جائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہو جائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لیے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لیے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔
صفحہ نمبر8370
مغازی اموی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہدوں «أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ“ ”ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ» [ 75- القيامة: 34، 35 ] » تیرے لیے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لیے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [ 52-الطور: 13 - 15 ] جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ ہے جس میں تم شک کر رہے تھے۔
صفحہ نمبر8371
جب موت کو ذبح کرایا جائے گا ٭٭
بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن و امان سے ہوں گے۔ موت سے، وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بے فکر مطمئن اور بے اندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہو گا اور دبیز چمکیلا بھی ہو گا۔ یہ تختوں پر بڑے طمطراق سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے اور کسی کی کسی کی طرف پیٹھ نہ ہو گی بلکہ سب ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس عطا کے ساتھ ہی انہیں حوریں دی جائیں گی جو گورے چٹے پنڈے کی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی ہوں گی جن کے پاک جسم کو ان سے پہلے کسی نے چھوا بھی نہ ہو گا۔ وہ یاقوت و مرجان کی طرح ہوں گی۔ اور کیوں نہ ہو جب انہوں نے اللہ کا ڈر دل میں رکھا اور دنیا کی خواہشوں کی چیزوں سے محض فرمان اللہ کو مدنظر رکھ کر بچے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ بہترین سلوک کیوں نہ کرتا؟ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر ان حوروں میں سے کوئی کھاری سمندر میں تھوک دے تو اس کا سارا پانی میٹھا ہو جائے۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:386،ضعیف و باطل]
پھر وہاں یہ جس میوے کی طلب کریں گے موجود ہو گا جو مانگیں گے ملے گا ادھر ارادہ کیا ادھر موجود ہوا، خواہش ہوئی اور حاضر ہوا پھر نہایت بے فکری سے کمی کا خوف نہیں ہو گا ختم ہو جانے کا کھٹکا نہیں ہو گا پھر فرمایا وہاں انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ [صحیح بخاری:4730]
پھر استثناء منقطع لا کر اس کی تاکید کر دی۔
صفحہ نمبر8379
بخاری و مسلم میں ہے کہ موت کو بھیڑیئے کی صورت میں لا کر جنت دوزخ کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ جنتیو! اب ہمیشگی ہے کبھی موت نہیں۔ اور اے جہنمیو! تمہارے لیے بھی ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہ آئے گی۔ سورۃ مریم کی تفسیر میں بھی یہ حدیث گذر چکی ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جنتیوں سے کہہ دیا جائے گا کہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی کمی نہ ہو گی اور ہمیشہ جوان بنے رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے [صحیح مسلم:2837]
اور حدیث میں ہے جو اللہ سے ڈرتا رہے گا جنت میں جائے گا جہاں نعمتیں پائے گا کبھی محتاج نہ ہو گا جئے گا کبھی مرے گا نہیں جہاں کپڑے میلے نہ ہوں گے اور جوانی فنا نہ ہو گی۔ [طبرانی اوسط:4895:ضعیف]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کیا جنتی سوئیں گے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیند موت کی بہن ہے جنتی سوئیں گے نہیں ہر وقت راحت و لذت میں مشغول رہیں گے۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1087،حسن] یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے اور اس سے پہلے سندوں کا خلاف گذر چکا ہے۔
«وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس راحت و نعمت کے ساتھ یہ بھی بڑی نعمت ہے کہ انہیں پروردگار عالم نے عذاب جہنم سے نجات دے دی ہے۔ تو مطلوب حاصل ہے اور خوف زائل ہے۔
صفحہ نمبر8380
جب موت کو ذبح کرایا جائے گا ٭٭
بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن و امان سے ہوں گے۔ موت سے، وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بے فکر مطمئن اور بے اندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہو گا اور دبیز چمکیلا بھی ہو گا۔ یہ تختوں پر بڑے طمطراق سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے اور کسی کی کسی کی طرف پیٹھ نہ ہو گی بلکہ سب ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس عطا کے ساتھ ہی انہیں حوریں دی جائیں گی جو گورے چٹے پنڈے کی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی ہوں گی جن کے پاک جسم کو ان سے پہلے کسی نے چھوا بھی نہ ہو گا۔ وہ یاقوت و مرجان کی طرح ہوں گی۔ اور کیوں نہ ہو جب انہوں نے اللہ کا ڈر دل میں رکھا اور دنیا کی خواہشوں کی چیزوں سے محض فرمان اللہ کو مدنظر رکھ کر بچے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ بہترین سلوک کیوں نہ کرتا؟ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر ان حوروں میں سے کوئی کھاری سمندر میں تھوک دے تو اس کا سارا پانی میٹھا ہو جائے۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:386،ضعیف و باطل]
پھر وہاں یہ جس میوے کی طلب کریں گے موجود ہو گا جو مانگیں گے ملے گا ادھر ارادہ کیا ادھر موجود ہوا، خواہش ہوئی اور حاضر ہوا پھر نہایت بے فکری سے کمی کا خوف نہیں ہو گا ختم ہو جانے کا کھٹکا نہیں ہو گا پھر فرمایا وہاں انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ [صحیح بخاری:4730]
پھر استثناء منقطع لا کر اس کی تاکید کر دی۔
صفحہ نمبر8379
بخاری و مسلم میں ہے کہ موت کو بھیڑیئے کی صورت میں لا کر جنت دوزخ کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ جنتیو! اب ہمیشگی ہے کبھی موت نہیں۔ اور اے جہنمیو! تمہارے لیے بھی ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہ آئے گی۔ سورۃ مریم کی تفسیر میں بھی یہ حدیث گذر چکی ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جنتیوں سے کہہ دیا جائے گا کہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی کمی نہ ہو گی اور ہمیشہ جوان بنے رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے [صحیح مسلم:2837]
اور حدیث میں ہے جو اللہ سے ڈرتا رہے گا جنت میں جائے گا جہاں نعمتیں پائے گا کبھی محتاج نہ ہو گا جئے گا کبھی مرے گا نہیں جہاں کپڑے میلے نہ ہوں گے اور جوانی فنا نہ ہو گی۔ [طبرانی اوسط:4895:ضعیف]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کیا جنتی سوئیں گے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیند موت کی بہن ہے جنتی سوئیں گے نہیں ہر وقت راحت و لذت میں مشغول رہیں گے۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1087،حسن] یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے اور اس سے پہلے سندوں کا خلاف گذر چکا ہے۔
«وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس راحت و نعمت کے ساتھ یہ بھی بڑی نعمت ہے کہ انہیں پروردگار عالم نے عذاب جہنم سے نجات دے دی ہے۔ تو مطلوب حاصل ہے اور خوف زائل ہے۔
صفحہ نمبر8380
جب موت کو ذبح کرایا جائے گا ٭٭
بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن و امان سے ہوں گے۔ موت سے، وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بے فکر مطمئن اور بے اندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہو گا اور دبیز چمکیلا بھی ہو گا۔ یہ تختوں پر بڑے طمطراق سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے اور کسی کی کسی کی طرف پیٹھ نہ ہو گی بلکہ سب ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس عطا کے ساتھ ہی انہیں حوریں دی جائیں گی جو گورے چٹے پنڈے کی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی ہوں گی جن کے پاک جسم کو ان سے پہلے کسی نے چھوا بھی نہ ہو گا۔ وہ یاقوت و مرجان کی طرح ہوں گی۔ اور کیوں نہ ہو جب انہوں نے اللہ کا ڈر دل میں رکھا اور دنیا کی خواہشوں کی چیزوں سے محض فرمان اللہ کو مدنظر رکھ کر بچے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ بہترین سلوک کیوں نہ کرتا؟ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر ان حوروں میں سے کوئی کھاری سمندر میں تھوک دے تو اس کا سارا پانی میٹھا ہو جائے۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:386،ضعیف و باطل]
پھر وہاں یہ جس میوے کی طلب کریں گے موجود ہو گا جو مانگیں گے ملے گا ادھر ارادہ کیا ادھر موجود ہوا، خواہش ہوئی اور حاضر ہوا پھر نہایت بے فکری سے کمی کا خوف نہیں ہو گا ختم ہو جانے کا کھٹکا نہیں ہو گا پھر فرمایا وہاں انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ [صحیح بخاری:4730]
پھر استثناء منقطع لا کر اس کی تاکید کر دی۔
صفحہ نمبر8379
بخاری و مسلم میں ہے کہ موت کو بھیڑیئے کی صورت میں لا کر جنت دوزخ کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ جنتیو! اب ہمیشگی ہے کبھی موت نہیں۔ اور اے جہنمیو! تمہارے لیے بھی ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہ آئے گی۔ سورۃ مریم کی تفسیر میں بھی یہ حدیث گذر چکی ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جنتیوں سے کہہ دیا جائے گا کہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی کمی نہ ہو گی اور ہمیشہ جوان بنے رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے [صحیح مسلم:2837]
اور حدیث میں ہے جو اللہ سے ڈرتا رہے گا جنت میں جائے گا جہاں نعمتیں پائے گا کبھی محتاج نہ ہو گا جئے گا کبھی مرے گا نہیں جہاں کپڑے میلے نہ ہوں گے اور جوانی فنا نہ ہو گی۔ [طبرانی اوسط:4895:ضعیف]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کیا جنتی سوئیں گے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیند موت کی بہن ہے جنتی سوئیں گے نہیں ہر وقت راحت و لذت میں مشغول رہیں گے۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1087،حسن] یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے اور اس سے پہلے سندوں کا خلاف گذر چکا ہے۔
«وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس راحت و نعمت کے ساتھ یہ بھی بڑی نعمت ہے کہ انہیں پروردگار عالم نے عذاب جہنم سے نجات دے دی ہے۔ تو مطلوب حاصل ہے اور خوف زائل ہے۔
صفحہ نمبر8380
جب موت کو ذبح کرایا جائے گا ٭٭
بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن و امان سے ہوں گے۔ موت سے، وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بے فکر مطمئن اور بے اندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہو گا اور دبیز چمکیلا بھی ہو گا۔ یہ تختوں پر بڑے طمطراق سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے اور کسی کی کسی کی طرف پیٹھ نہ ہو گی بلکہ سب ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس عطا کے ساتھ ہی انہیں حوریں دی جائیں گی جو گورے چٹے پنڈے کی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی ہوں گی جن کے پاک جسم کو ان سے پہلے کسی نے چھوا بھی نہ ہو گا۔ وہ یاقوت و مرجان کی طرح ہوں گی۔ اور کیوں نہ ہو جب انہوں نے اللہ کا ڈر دل میں رکھا اور دنیا کی خواہشوں کی چیزوں سے محض فرمان اللہ کو مدنظر رکھ کر بچے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ بہترین سلوک کیوں نہ کرتا؟ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر ان حوروں میں سے کوئی کھاری سمندر میں تھوک دے تو اس کا سارا پانی میٹھا ہو جائے۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:386،ضعیف و باطل]
پھر وہاں یہ جس میوے کی طلب کریں گے موجود ہو گا جو مانگیں گے ملے گا ادھر ارادہ کیا ادھر موجود ہوا، خواہش ہوئی اور حاضر ہوا پھر نہایت بے فکری سے کمی کا خوف نہیں ہو گا ختم ہو جانے کا کھٹکا نہیں ہو گا پھر فرمایا وہاں انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ [صحیح بخاری:4730]
پھر استثناء منقطع لا کر اس کی تاکید کر دی۔
صفحہ نمبر8379
بخاری و مسلم میں ہے کہ موت کو بھیڑیئے کی صورت میں لا کر جنت دوزخ کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ جنتیو! اب ہمیشگی ہے کبھی موت نہیں۔ اور اے جہنمیو! تمہارے لیے بھی ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہ آئے گی۔ سورۃ مریم کی تفسیر میں بھی یہ حدیث گذر چکی ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جنتیوں سے کہہ دیا جائے گا کہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی کمی نہ ہو گی اور ہمیشہ جوان بنے رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے [صحیح مسلم:2837]
اور حدیث میں ہے جو اللہ سے ڈرتا رہے گا جنت میں جائے گا جہاں نعمتیں پائے گا کبھی محتاج نہ ہو گا جئے گا کبھی مرے گا نہیں جہاں کپڑے میلے نہ ہوں گے اور جوانی فنا نہ ہو گی۔ [طبرانی اوسط:4895:ضعیف]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کیا جنتی سوئیں گے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیند موت کی بہن ہے جنتی سوئیں گے نہیں ہر وقت راحت و لذت میں مشغول رہیں گے۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1087،حسن] یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے اور اس سے پہلے سندوں کا خلاف گذر چکا ہے۔
«وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس راحت و نعمت کے ساتھ یہ بھی بڑی نعمت ہے کہ انہیں پروردگار عالم نے عذاب جہنم سے نجات دے دی ہے۔ تو مطلوب حاصل ہے اور خوف زائل ہے۔
صفحہ نمبر8380
جب موت کو ذبح کرایا جائے گا ٭٭
بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن و امان سے ہوں گے۔ موت سے، وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بے فکر مطمئن اور بے اندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہو گا اور دبیز چمکیلا بھی ہو گا۔ یہ تختوں پر بڑے طمطراق سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے اور کسی کی کسی کی طرف پیٹھ نہ ہو گی بلکہ سب ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس عطا کے ساتھ ہی انہیں حوریں دی جائیں گی جو گورے چٹے پنڈے کی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی ہوں گی جن کے پاک جسم کو ان سے پہلے کسی نے چھوا بھی نہ ہو گا۔ وہ یاقوت و مرجان کی طرح ہوں گی۔ اور کیوں نہ ہو جب انہوں نے اللہ کا ڈر دل میں رکھا اور دنیا کی خواہشوں کی چیزوں سے محض فرمان اللہ کو مدنظر رکھ کر بچے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ بہترین سلوک کیوں نہ کرتا؟ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر ان حوروں میں سے کوئی کھاری سمندر میں تھوک دے تو اس کا سارا پانی میٹھا ہو جائے۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:386،ضعیف و باطل]
پھر وہاں یہ جس میوے کی طلب کریں گے موجود ہو گا جو مانگیں گے ملے گا ادھر ارادہ کیا ادھر موجود ہوا، خواہش ہوئی اور حاضر ہوا پھر نہایت بے فکری سے کمی کا خوف نہیں ہو گا ختم ہو جانے کا کھٹکا نہیں ہو گا پھر فرمایا وہاں انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ [صحیح بخاری:4730]
پھر استثناء منقطع لا کر اس کی تاکید کر دی۔
صفحہ نمبر8379
بخاری و مسلم میں ہے کہ موت کو بھیڑیئے کی صورت میں لا کر جنت دوزخ کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ جنتیو! اب ہمیشگی ہے کبھی موت نہیں۔ اور اے جہنمیو! تمہارے لیے بھی ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہ آئے گی۔ سورۃ مریم کی تفسیر میں بھی یہ حدیث گذر چکی ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جنتیوں سے کہہ دیا جائے گا کہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی کمی نہ ہو گی اور ہمیشہ جوان بنے رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے [صحیح مسلم:2837]
اور حدیث میں ہے جو اللہ سے ڈرتا رہے گا جنت میں جائے گا جہاں نعمتیں پائے گا کبھی محتاج نہ ہو گا جئے گا کبھی مرے گا نہیں جہاں کپڑے میلے نہ ہوں گے اور جوانی فنا نہ ہو گی۔ [طبرانی اوسط:4895:ضعیف]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کیا جنتی سوئیں گے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیند موت کی بہن ہے جنتی سوئیں گے نہیں ہر وقت راحت و لذت میں مشغول رہیں گے۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1087،حسن] یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے اور اس سے پہلے سندوں کا خلاف گذر چکا ہے۔
«وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس راحت و نعمت کے ساتھ یہ بھی بڑی نعمت ہے کہ انہیں پروردگار عالم نے عذاب جہنم سے نجات دے دی ہے۔ تو مطلوب حاصل ہے اور خوف زائل ہے۔
صفحہ نمبر8380
جب موت کو ذبح کرایا جائے گا ٭٭
بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن و امان سے ہوں گے۔ موت سے، وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بے فکر مطمئن اور بے اندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہو گا اور دبیز چمکیلا بھی ہو گا۔ یہ تختوں پر بڑے طمطراق سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے اور کسی کی کسی کی طرف پیٹھ نہ ہو گی بلکہ سب ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس عطا کے ساتھ ہی انہیں حوریں دی جائیں گی جو گورے چٹے پنڈے کی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی ہوں گی جن کے پاک جسم کو ان سے پہلے کسی نے چھوا بھی نہ ہو گا۔ وہ یاقوت و مرجان کی طرح ہوں گی۔ اور کیوں نہ ہو جب انہوں نے اللہ کا ڈر دل میں رکھا اور دنیا کی خواہشوں کی چیزوں سے محض فرمان اللہ کو مدنظر رکھ کر بچے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ بہترین سلوک کیوں نہ کرتا؟ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر ان حوروں میں سے کوئی کھاری سمندر میں تھوک دے تو اس کا سارا پانی میٹھا ہو جائے۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:386،ضعیف و باطل]
پھر وہاں یہ جس میوے کی طلب کریں گے موجود ہو گا جو مانگیں گے ملے گا ادھر ارادہ کیا ادھر موجود ہوا، خواہش ہوئی اور حاضر ہوا پھر نہایت بے فکری سے کمی کا خوف نہیں ہو گا ختم ہو جانے کا کھٹکا نہیں ہو گا پھر فرمایا وہاں انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ [صحیح بخاری:4730]
پھر استثناء منقطع لا کر اس کی تاکید کر دی۔
صفحہ نمبر8379
بخاری و مسلم میں ہے کہ موت کو بھیڑیئے کی صورت میں لا کر جنت دوزخ کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ جنتیو! اب ہمیشگی ہے کبھی موت نہیں۔ اور اے جہنمیو! تمہارے لیے بھی ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہ آئے گی۔ سورۃ مریم کی تفسیر میں بھی یہ حدیث گذر چکی ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جنتیوں سے کہہ دیا جائے گا کہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی کمی نہ ہو گی اور ہمیشہ جوان بنے رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے [صحیح مسلم:2837]
اور حدیث میں ہے جو اللہ سے ڈرتا رہے گا جنت میں جائے گا جہاں نعمتیں پائے گا کبھی محتاج نہ ہو گا جئے گا کبھی مرے گا نہیں جہاں کپڑے میلے نہ ہوں گے اور جوانی فنا نہ ہو گی۔ [طبرانی اوسط:4895:ضعیف]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کیا جنتی سوئیں گے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیند موت کی بہن ہے جنتی سوئیں گے نہیں ہر وقت راحت و لذت میں مشغول رہیں گے۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1087،حسن] یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے اور اس سے پہلے سندوں کا خلاف گذر چکا ہے۔
«وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس راحت و نعمت کے ساتھ یہ بھی بڑی نعمت ہے کہ انہیں پروردگار عالم نے عذاب جہنم سے نجات دے دی ہے۔ تو مطلوب حاصل ہے اور خوف زائل ہے۔
صفحہ نمبر8380
باب
اسی لیے ساتھ ہی فرمایا کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا احسان و فضل ہے۔ صحیح حدیث میں ہے تم ٹھیک ٹھاک رہو قریب قریب رہو اور یقین مانو کہ کسی کے اعمال اسے جنت میں نہیں لے جا سکتے لوگوں نے کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال بھی؟ فرمایا ہاں میرے اعمال بھی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت میرے شامل حال ہو۔ [صحیح بخاری:6467]
ہم نے اپنے نازل کردہ اس قرآن کریم کو بہت سہل، بالکل آسان،صاف ظاہر، بہت واضح مدلل اور روشن کر کے تجھ پر تیری زبان میں نازل فرمایا ہے جو بہت فصیح و بلیغ بڑی شیریں اور پختہ ہے تاکہ لوگ بآسانی سمجھ لیں اور بخوشی عمل کریں۔ باوجود اس کے بھی جو لوگ اسے جھٹلائیں نہ مانیں تو انہیں ہوشیار کر دے اور کہ دے کہ اچھا اب تم بھی انتظار کرو میں بھی منتظر ہوں تم دیکھ لو گے کہ اللہ کی طرف سے تائید ہوتی ہے؟ کس کا کلمہ بلند ہوتا ہے؟ کسے دنیا اور آخرت ملتی ہے؟ مطلب یہ ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم تسلی رکھو فتح و ظفر تمہیں ہو گی میری عادت ہے کہ اپنے نبیوں اور ان کے ماننے والوں کو اونچا کروں جیسے ارشاد ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [ 58- المجادلة: 21 ] ، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے
اور آیت میں ہے «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ ۖ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [ 40- غافر: 52، 51 ] ، یعنی یقیناً ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیا میں بھی مدد کریں گے اور قیامت میں بھی جس دن گواہ قائم ہوں گے اور ظالموں کو ان کے عذر نفع نہ دیں گے ان پر لعنت ہو گی اور ان کے لیے برا گھر ہو گا۔
صفحہ نمبر8386
باب
اسی لیے ساتھ ہی فرمایا کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا احسان و فضل ہے۔ صحیح حدیث میں ہے تم ٹھیک ٹھاک رہو قریب قریب رہو اور یقین مانو کہ کسی کے اعمال اسے جنت میں نہیں لے جا سکتے لوگوں نے کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال بھی؟ فرمایا ہاں میرے اعمال بھی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت میرے شامل حال ہو۔ [صحیح بخاری:6467]
ہم نے اپنے نازل کردہ اس قرآن کریم کو بہت سہل، بالکل آسان،صاف ظاہر، بہت واضح مدلل اور روشن کر کے تجھ پر تیری زبان میں نازل فرمایا ہے جو بہت فصیح و بلیغ بڑی شیریں اور پختہ ہے تاکہ لوگ بآسانی سمجھ لیں اور بخوشی عمل کریں۔ باوجود اس کے بھی جو لوگ اسے جھٹلائیں نہ مانیں تو انہیں ہوشیار کر دے اور کہ دے کہ اچھا اب تم بھی انتظار کرو میں بھی منتظر ہوں تم دیکھ لو گے کہ اللہ کی طرف سے تائید ہوتی ہے؟ کس کا کلمہ بلند ہوتا ہے؟ کسے دنیا اور آخرت ملتی ہے؟ مطلب یہ ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم تسلی رکھو فتح و ظفر تمہیں ہو گی میری عادت ہے کہ اپنے نبیوں اور ان کے ماننے والوں کو اونچا کروں جیسے ارشاد ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [ 58- المجادلة: 21 ] ، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے
اور آیت میں ہے «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ ۖ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [ 40- غافر: 52، 51 ] ، یعنی یقیناً ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیا میں بھی مدد کریں گے اور قیامت میں بھی جس دن گواہ قائم ہوں گے اور ظالموں کو ان کے عذر نفع نہ دیں گے ان پر لعنت ہو گی اور ان کے لیے برا گھر ہو گا۔
صفحہ نمبر8386
باب
اسی لیے ساتھ ہی فرمایا کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا احسان و فضل ہے۔ صحیح حدیث میں ہے تم ٹھیک ٹھاک رہو قریب قریب رہو اور یقین مانو کہ کسی کے اعمال اسے جنت میں نہیں لے جا سکتے لوگوں نے کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال بھی؟ فرمایا ہاں میرے اعمال بھی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت میرے شامل حال ہو۔ [صحیح بخاری:6467]
ہم نے اپنے نازل کردہ اس قرآن کریم کو بہت سہل، بالکل آسان،صاف ظاہر، بہت واضح مدلل اور روشن کر کے تجھ پر تیری زبان میں نازل فرمایا ہے جو بہت فصیح و بلیغ بڑی شیریں اور پختہ ہے تاکہ لوگ بآسانی سمجھ لیں اور بخوشی عمل کریں۔ باوجود اس کے بھی جو لوگ اسے جھٹلائیں نہ مانیں تو انہیں ہوشیار کر دے اور کہ دے کہ اچھا اب تم بھی انتظار کرو میں بھی منتظر ہوں تم دیکھ لو گے کہ اللہ کی طرف سے تائید ہوتی ہے؟ کس کا کلمہ بلند ہوتا ہے؟ کسے دنیا اور آخرت ملتی ہے؟ مطلب یہ ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم تسلی رکھو فتح و ظفر تمہیں ہو گی میری عادت ہے کہ اپنے نبیوں اور ان کے ماننے والوں کو اونچا کروں جیسے ارشاد ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [ 58- المجادلة: 21 ] ، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے
اور آیت میں ہے «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ ۖ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [ 40- غافر: 52، 51 ] ، یعنی یقیناً ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیا میں بھی مدد کریں گے اور قیامت میں بھی جس دن گواہ قائم ہوں گے اور ظالموں کو ان کے عذر نفع نہ دیں گے ان پر لعنت ہو گی اور ان کے لیے برا گھر ہو گا۔
صفحہ نمبر8386