John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Ahqaf

Tafsir Ibn Kathir · The Dunes · 35 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

باب

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس قرآن کریم کو اس نے اپنے بندے اور اپنے سچے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے اور بیان فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی بڑی عزت والا ہے جو کبھی کم نہ ہو گی۔ اور ایسی زبردست حکمت والا ہے جس کا کوئی قول، کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں۔

پھر ارشاد فرماتا ہے کہ آسمان و زمین وغیرہ تمام چیزیں اس نے عبث اور باطل پیدا نہیں کیں بلکہ سراسر حق کے ساتھ اور بہترین تدبیر کے ساتھ بنائی ہیں اور ان سب کے لیے وقت مقرر ہے جو نہ گھٹے، نہ بڑھے۔ اس رسول سے، اس کتاب سے اور اللہ کے ڈراوے کی اور نشانیوں سے جو بدباطن لوگ بےپرواہی اور لا ابالی کرتے ہیں انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ انہوں نے کس قدر خود اپنا ہی نقصان کیا۔ پھر فرماتا ہے ذرا ان مشرکین سے پوچھو تو کہ اللہ کے سوا جن کے نام تم پوجتے ہو جنہیں تم پکارتے ہو اور جن کی عبادت کرتے ہو ذرا مجھے بھی تو ان کی طاقت قدرت دکھاؤ بتاؤ تو زمین کے کس ٹکڑے کو خود انہوں نے بنایا ہے؟ یا ثابت تو کرو کہ آسمانوں میں ان کی شرکت کتنی ہے اور کہاں ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ آسمان ہوں یا زمینیں ہوں یا اور چیزیں ہوں ان سب کا پیدا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

صفحہ نمبر8432

بجز اس کے کسی کو ایک ذرے کا بھی اختیار نہیں، تمام ملک کا مالک وہی ہے، وہ ہر چیز پر کامل تصرف اور قبضہ رکھنے والا ہے، تم اس کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہو؟ کیوں اس کے سوا دوسروں کو اپنی مصیبتوں میں پکارتے ہو؟ تمہیں یہ تعلیم کس نے دی؟ کس نے یہ شرک تمہیں سکھایا؟ دراصل کسی بھلے اور سمجھدار شخص کی یہ تعلیم نہیں ہو سکتی۔ نہ اللہ نے یہ تعلیم دی ہے اگر تم اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پر کوئی آسمانی دلیل رکھتے ہو، تو اچھا اس کتاب کو تو جانے دو اور کوئی آسمانی صحیفہ ہی پیش کر دو۔ اچھا نہ سہی اپنے مسلک پر کوئی دلیل علم ہی قائم کرو لیکن یہ تو جب ہو سکتا ہے کہ تمہارا یہ فعل صحیح بھی ہو، اس باطل فعل پر نہ تو تم کوئی نقلی دلیل پیش کر سکتے ہو نہ عقلی ایک قرأت میں «او اثرة من علم» یعنی کوئی صحیح علم کی نقل اگلوں سے ہی پیش کرو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ کسی کو پیش کرو جو علم کی نقل کرے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:273/11] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس امر کی کوئی بھی دلیل لے آؤ۔ مسند احمد میں ہے اس سے مراد علمی تحریر ہے [مسند احمد:262/1:صحیح] ‏

راوی کہتے ہیں میرا تو خیال ہے یہ حدیث مرفوع ہے۔ ابوبکر بن عیاش رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد بقیہ علم ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کسی مخفی دلیل کو ہی پیش کر دو ان اور بزرگوں سے یہ بھی منقول ہے کہ مراد اس سے اگلی تحریریں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کوئی خاص علم، اور یہ سب اقوال قریب قریب ہم معنی ہیں۔ مراد وہی ہے جو ہم نے شروع میں بیان کر دی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔

صفحہ نمبر8433

باب

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس قرآن کریم کو اس نے اپنے بندے اور اپنے سچے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے اور بیان فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی بڑی عزت والا ہے جو کبھی کم نہ ہو گی۔ اور ایسی زبردست حکمت والا ہے جس کا کوئی قول، کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں۔

پھر ارشاد فرماتا ہے کہ آسمان و زمین وغیرہ تمام چیزیں اس نے عبث اور باطل پیدا نہیں کیں بلکہ سراسر حق کے ساتھ اور بہترین تدبیر کے ساتھ بنائی ہیں اور ان سب کے لیے وقت مقرر ہے جو نہ گھٹے، نہ بڑھے۔ اس رسول سے، اس کتاب سے اور اللہ کے ڈراوے کی اور نشانیوں سے جو بدباطن لوگ بےپرواہی اور لا ابالی کرتے ہیں انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ انہوں نے کس قدر خود اپنا ہی نقصان کیا۔ پھر فرماتا ہے ذرا ان مشرکین سے پوچھو تو کہ اللہ کے سوا جن کے نام تم پوجتے ہو جنہیں تم پکارتے ہو اور جن کی عبادت کرتے ہو ذرا مجھے بھی تو ان کی طاقت قدرت دکھاؤ بتاؤ تو زمین کے کس ٹکڑے کو خود انہوں نے بنایا ہے؟ یا ثابت تو کرو کہ آسمانوں میں ان کی شرکت کتنی ہے اور کہاں ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ آسمان ہوں یا زمینیں ہوں یا اور چیزیں ہوں ان سب کا پیدا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

صفحہ نمبر8432

بجز اس کے کسی کو ایک ذرے کا بھی اختیار نہیں، تمام ملک کا مالک وہی ہے، وہ ہر چیز پر کامل تصرف اور قبضہ رکھنے والا ہے، تم اس کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہو؟ کیوں اس کے سوا دوسروں کو اپنی مصیبتوں میں پکارتے ہو؟ تمہیں یہ تعلیم کس نے دی؟ کس نے یہ شرک تمہیں سکھایا؟ دراصل کسی بھلے اور سمجھدار شخص کی یہ تعلیم نہیں ہو سکتی۔ نہ اللہ نے یہ تعلیم دی ہے اگر تم اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پر کوئی آسمانی دلیل رکھتے ہو، تو اچھا اس کتاب کو تو جانے دو اور کوئی آسمانی صحیفہ ہی پیش کر دو۔ اچھا نہ سہی اپنے مسلک پر کوئی دلیل علم ہی قائم کرو لیکن یہ تو جب ہو سکتا ہے کہ تمہارا یہ فعل صحیح بھی ہو، اس باطل فعل پر نہ تو تم کوئی نقلی دلیل پیش کر سکتے ہو نہ عقلی ایک قرأت میں «او اثرة من علم» یعنی کوئی صحیح علم کی نقل اگلوں سے ہی پیش کرو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ کسی کو پیش کرو جو علم کی نقل کرے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:273/11] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس امر کی کوئی بھی دلیل لے آؤ۔ مسند احمد میں ہے اس سے مراد علمی تحریر ہے [مسند احمد:262/1:صحیح] ‏

راوی کہتے ہیں میرا تو خیال ہے یہ حدیث مرفوع ہے۔ ابوبکر بن عیاش رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد بقیہ علم ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کسی مخفی دلیل کو ہی پیش کر دو ان اور بزرگوں سے یہ بھی منقول ہے کہ مراد اس سے اگلی تحریریں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کوئی خاص علم، اور یہ سب اقوال قریب قریب ہم معنی ہیں۔ مراد وہی ہے جو ہم نے شروع میں بیان کر دی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔

صفحہ نمبر8433

باب

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس قرآن کریم کو اس نے اپنے بندے اور اپنے سچے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے اور بیان فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی بڑی عزت والا ہے جو کبھی کم نہ ہو گی۔ اور ایسی زبردست حکمت والا ہے جس کا کوئی قول، کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں۔

پھر ارشاد فرماتا ہے کہ آسمان و زمین وغیرہ تمام چیزیں اس نے عبث اور باطل پیدا نہیں کیں بلکہ سراسر حق کے ساتھ اور بہترین تدبیر کے ساتھ بنائی ہیں اور ان سب کے لیے وقت مقرر ہے جو نہ گھٹے، نہ بڑھے۔ اس رسول سے، اس کتاب سے اور اللہ کے ڈراوے کی اور نشانیوں سے جو بدباطن لوگ بےپرواہی اور لا ابالی کرتے ہیں انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ انہوں نے کس قدر خود اپنا ہی نقصان کیا۔ پھر فرماتا ہے ذرا ان مشرکین سے پوچھو تو کہ اللہ کے سوا جن کے نام تم پوجتے ہو جنہیں تم پکارتے ہو اور جن کی عبادت کرتے ہو ذرا مجھے بھی تو ان کی طاقت قدرت دکھاؤ بتاؤ تو زمین کے کس ٹکڑے کو خود انہوں نے بنایا ہے؟ یا ثابت تو کرو کہ آسمانوں میں ان کی شرکت کتنی ہے اور کہاں ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ آسمان ہوں یا زمینیں ہوں یا اور چیزیں ہوں ان سب کا پیدا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

صفحہ نمبر8432

بجز اس کے کسی کو ایک ذرے کا بھی اختیار نہیں، تمام ملک کا مالک وہی ہے، وہ ہر چیز پر کامل تصرف اور قبضہ رکھنے والا ہے، تم اس کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہو؟ کیوں اس کے سوا دوسروں کو اپنی مصیبتوں میں پکارتے ہو؟ تمہیں یہ تعلیم کس نے دی؟ کس نے یہ شرک تمہیں سکھایا؟ دراصل کسی بھلے اور سمجھدار شخص کی یہ تعلیم نہیں ہو سکتی۔ نہ اللہ نے یہ تعلیم دی ہے اگر تم اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پر کوئی آسمانی دلیل رکھتے ہو، تو اچھا اس کتاب کو تو جانے دو اور کوئی آسمانی صحیفہ ہی پیش کر دو۔ اچھا نہ سہی اپنے مسلک پر کوئی دلیل علم ہی قائم کرو لیکن یہ تو جب ہو سکتا ہے کہ تمہارا یہ فعل صحیح بھی ہو، اس باطل فعل پر نہ تو تم کوئی نقلی دلیل پیش کر سکتے ہو نہ عقلی ایک قرأت میں «او اثرة من علم» یعنی کوئی صحیح علم کی نقل اگلوں سے ہی پیش کرو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ کسی کو پیش کرو جو علم کی نقل کرے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:273/11] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس امر کی کوئی بھی دلیل لے آؤ۔ مسند احمد میں ہے اس سے مراد علمی تحریر ہے [مسند احمد:262/1:صحیح] ‏

راوی کہتے ہیں میرا تو خیال ہے یہ حدیث مرفوع ہے۔ ابوبکر بن عیاش رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد بقیہ علم ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کسی مخفی دلیل کو ہی پیش کر دو ان اور بزرگوں سے یہ بھی منقول ہے کہ مراد اس سے اگلی تحریریں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کوئی خاص علم، اور یہ سب اقوال قریب قریب ہم معنی ہیں۔ مراد وہی ہے جو ہم نے شروع میں بیان کر دی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔

صفحہ نمبر8433

باب

پھر فرماتا ہے اس سے بڑھ کر کوئی گمراہ کردہ نہیں جو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پکارے اور اس سے حاجتیں طلب کرے جن حاجتوں کو پورا کرنے کی ان میں طاقت ہی نہیں بلکہ وہ تو اس سے بھی بے خبر ہیں نہ کسی چیز کو لے دے سکتے ہیں اس لیے کہ وہ تو پتھر ہیں، جمادات میں سے ہیں۔ قیامت کے دن جب سب لوگ اکھٹے کئے جائیں گے تو یہ معبودان باطل اپنے عابدوں کے دشمن بن جائیں گے اور اس بات سے کہ یہ لوگ ان کی پوجا کرتے تھے صاف انکار کر جائیں گے۔

جیسے اللہ عزوجل کا اور جگہ ارشاد ہے «وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» [19-مريم:82،81] ‏، یعنی ان لوگوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کی عزت کا باعث بنیں۔ واقعہ ایسا نہیں بلکہ وہ تو ان کی عبادت کا انکار کر جائیں گے اور ان کے پورے مخالف ہو جائیں گے یعنی جب کہ یہ ان کے پورے محتاج ہوں گے اس وقت وہ ان سے منہ پھیر لیں گے۔

خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی امت سے فرمایا تھا «اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» [29-العنكبوت:25] ‏، یعنی تم نے اللہ کے سوا بتوں سے جو تعلقات قائم کر لیے ہیں اس کا نتیجہ قیامت کے دن دیکھ لو گے جب کہ تم ایک دوسرے سے انکار کر جاؤ گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگو گے اور تمہاری جگہ جہنم مقرر اور متعین ہو جائے گی اور تم اپنا مددگار کسی کو نہ پاؤ گے۔

صفحہ نمبر8436

باب

پھر فرماتا ہے اس سے بڑھ کر کوئی گمراہ کردہ نہیں جو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پکارے اور اس سے حاجتیں طلب کرے جن حاجتوں کو پورا کرنے کی ان میں طاقت ہی نہیں بلکہ وہ تو اس سے بھی بے خبر ہیں نہ کسی چیز کو لے دے سکتے ہیں اس لیے کہ وہ تو پتھر ہیں، جمادات میں سے ہیں۔ قیامت کے دن جب سب لوگ اکھٹے کئے جائیں گے تو یہ معبودان باطل اپنے عابدوں کے دشمن بن جائیں گے اور اس بات سے کہ یہ لوگ ان کی پوجا کرتے تھے صاف انکار کر جائیں گے۔

جیسے اللہ عزوجل کا اور جگہ ارشاد ہے «وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» [19-مريم:82،81] ‏، یعنی ان لوگوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کی عزت کا باعث بنیں۔ واقعہ ایسا نہیں بلکہ وہ تو ان کی عبادت کا انکار کر جائیں گے اور ان کے پورے مخالف ہو جائیں گے یعنی جب کہ یہ ان کے پورے محتاج ہوں گے اس وقت وہ ان سے منہ پھیر لیں گے۔

خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی امت سے فرمایا تھا «اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» [29-العنكبوت:25] ‏، یعنی تم نے اللہ کے سوا بتوں سے جو تعلقات قائم کر لیے ہیں اس کا نتیجہ قیامت کے دن دیکھ لو گے جب کہ تم ایک دوسرے سے انکار کر جاؤ گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگو گے اور تمہاری جگہ جہنم مقرر اور متعین ہو جائے گی اور تم اپنا مددگار کسی کو نہ پاؤ گے۔

صفحہ نمبر8436

باب

پھر فرماتا ہے اس سے بڑھ کر کوئی گمراہ کردہ نہیں جو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پکارے اور اس سے حاجتیں طلب کرے جن حاجتوں کو پورا کرنے کی ان میں طاقت ہی نہیں بلکہ وہ تو اس سے بھی بے خبر ہیں نہ کسی چیز کو لے دے سکتے ہیں اس لیے کہ وہ تو پتھر ہیں، جمادات میں سے ہیں۔ قیامت کے دن جب سب لوگ اکھٹے کئے جائیں گے تو یہ معبودان باطل اپنے عابدوں کے دشمن بن جائیں گے اور اس بات سے کہ یہ لوگ ان کی پوجا کرتے تھے صاف انکار کر جائیں گے۔

جیسے اللہ عزوجل کا اور جگہ ارشاد ہے «وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» [19-مريم:82،81] ‏، یعنی ان لوگوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کی عزت کا باعث بنیں۔ واقعہ ایسا نہیں بلکہ وہ تو ان کی عبادت کا انکار کر جائیں گے اور ان کے پورے مخالف ہو جائیں گے یعنی جب کہ یہ ان کے پورے محتاج ہوں گے اس وقت وہ ان سے منہ پھیر لیں گے۔

خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی امت سے فرمایا تھا «اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» [29-العنكبوت:25] ‏، یعنی تم نے اللہ کے سوا بتوں سے جو تعلقات قائم کر لیے ہیں اس کا نتیجہ قیامت کے دن دیکھ لو گے جب کہ تم ایک دوسرے سے انکار کر جاؤ گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگو گے اور تمہاری جگہ جہنم مقرر اور متعین ہو جائے گی اور تم اپنا مددگار کسی کو نہ پاؤ گے۔

صفحہ نمبر8436

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار بےبسی ٭٭

مشرکوں کی سرکشی اور ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جب انہیں اللہ کی ظاہر و باطن واضح اور صاف آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے، تکذیب و افترا، ضلالت و کفر گویا ان کا شیوہ ہو گیا ہے۔ جادو کہہ کر ہی بس نہیں کرتے بلکہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اسے تو محمد نے گھڑ لیا ہے۔ پس نبی کی زبانی اللہ جواب دلواتا ہے کہ اگر میں نے ہی اس قرآن کو بنایا ہے اور میں اس کا سچا نبی نہیں تو یقینًا وہ مجھے میرے اس جھوٹ اور بہتان پر سخت تر عذاب کرے گا اور پھر تم کیا سارے جہان میں کوئی ایسا نہیں جو مجھے اس کے عذابوں سے چھڑا سکے۔

جیسے اور جگہ ہے «قُلْ اِنِّىْ لَنْ يُّجِيْرَنِيْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ ڏ وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا إِلَّا بَلَاغًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِسَالَاتِهِ» [72-الجن:23،22] ‏، یعنی تو کہہ دے کہ مجھے اللہ کے ہاتھ سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ اس کے سوا کہیں اور مجھے پناہ کی جگہ مل سکے گی لیکن میں اللہ کی تبلیغ اور اس کی رسالت کو بجا لاتا ہوں۔

اور جگہ ہے «وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ» [69-الحاقة:47-44] ‏، یعنی اگر یہ ہم پر کوئی بات بنا لیتا، تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے اور تم میں سے کوئی بھی اسے نہ بچا سکتا۔

پھر کفار کو دھمکایا جا رہا ہے کہ تمہاری گفتگو کا پورا علم اس علیم اللہ کو ہے، وہی میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اس کی دھمکی کے بعد انہیں توبہ اور انابت کی رغبت دلائی جا رہی ہے اور فرماتا ہے، وہ غفور و رحیم ہے، اگر تم اس کی طرف رجوع کرو اپنے کرتوت سے باز آؤ تو وہ بھی تمہیں بخش دے گا اور تم پر رحم کرے گا۔ سورۃ الفرقان میں بھی اسی مضمون کی آیت ہے۔ فرمان ہے «وَقَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6،5] ‏، یعنی یہ کہتے ہیں کہ یہ اگلوں کی کہانیاں ہیں جو اس نے لکھ لی ہیں اور صبح شام لکھائی جا رہی ہیں تو کہہ دے کہ اسے اس اللہ نے اتارا ہے جو ہر پوشیدہ کو جانتا ہے خواہ آسمانوں میں ہو، خواہ زمین میں ہو وہ غفور و رحیم ہے۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میں دنیا میں کوئی پہلا نبی تو نہیں، مجھ سے پہلے بھی تو دنیا میں لوگوں کی طرف رسول آتے رہے پھر میرے آنے سے تمہیں اس قدر اچنبھا کیوں ہوا؟ مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے بعد آیت «لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَـقِيْمًا» [48-الفتح:2] ‏، اتری ہے۔ اسی طرح عکرمہ، حسن، قتادہ رحمہم اللہ علیہم بھی اسے منسوخ بتاتے ہیں۔

یہ بھی مروی ہے کہ جب آیت بخشش اتری جس میں فرمایا گیا تاکہ اللہ تیرے اگلے پچھلے گناہ بخشے تو ایک صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول ! یہ تو اللہ نے بیان فرما دیا کہ وہ آپ کے ساتھ کیا کرنے والا ہے پس وہ ہمارے ساتھ کیا کرنے والا ہے؟ اس پر آیت «لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا» [48-الفتح:5] ‏ اتری یعنی تاکہ اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، صحیح حدیث سے بھی یہ تو ثابت ہے کہ مومنوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ کو مبارک ہو، فرمائیے! ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری [صحیح مسلم:1786] ‏

ضحاک رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا حکم دیا جاؤں اور کس چیز سے روک دیا جاؤں؟ امام حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ آخرت کا انجام تو مجھے قطعًا معلوم ہے کہ میں جنت میں جاؤں گا، ہاں دنیوی حال معلوم نہیں کہ اگلے بعض انبیاء کی طرح قتل کیا جاؤں یا اپنی زندگی کے دن پورے کر کے اللہ کے ہاں جاؤں؟ اور اسی طرح میں نہیں کہہ سکتا کہ تمہیں دھنسایا جائے یا تم پر پتھر برسائے جائیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:277/11] ‏

صفحہ نمبر8439

امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو معتبر کہتے ہیں اور فی الواقع ہے بھی یہ ٹھیک۔ آپ بالیقین جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو جنت میں ہی جائیں گے اور دنیا کی حالت کے انجام سے آپ بےخبر تھے کہ انجام کار آپ کا اور آپ کے مخالفین قریش کا کیا حال ہو گا؟ آیا وہ ایمان لائیں گے یا کفر پر ہی رہیں گے اور عذاب کئے جائیں گے یا بالکل ہی ہلاک کر دئیے جائیں گے۔

لیکن جو حدیث مسند احمد میں ہے [مسند احمد:436/6:صحیح] ‏ سیدہ ام العلاء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی کہ جس وقت مہاجرین بذریعہ قرعہ اندازی انصاریوں میں تقسیم ہو رہے تھے اس وقت ہمارے حصہ میں سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ آئے، آپ ہمارے ہاں بیمار ہوئے اور فوت بھی ہو گئے جب ہم آپ کو کفن پہنا چکے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لا چکے، تو میرے منہ سے نکل گیا، اے ابوالسائب! اللہ تجھ پر رحم کرے میری تو تجھ پر گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ یقیناً تیرا اکرام ہی کرے گا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ یقیناً اس کا اکرام ہی کرے گا۔‏“ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! پر میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں مجھے کچھ نہیں معلوم پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! ان کے پاس تو ان کے رب کی طرف کا یقین آ پہنچا اور مجھے ان کیلئے بھلائی اور خیر کی امید ہے، قسم ہے اللہ کے باوجود رسول ہونے کے میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟“ اس پر میں نے کہا: اللہ کی قسم اب اس کے بعد میں کسی کی برات نہیں کروں گی اور مجھے اس کا بڑا صدمہ ہوا، لیکن میں نے خواب میں دیکھا کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی ایک نہر بہہ رہی ہے، میں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان کے اعمال ہیں“ ، یہ حدیث بخاری میں ہے [صحیح بخاری:1243] ‏ مسلم میں نہیں اور اس کی ایک سند میں ہے ”میں نہیں جانتا باوجود یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟“ دل کو تو کچھ ایسا لگتا ہے کہ یہی الفاظ موقعہ کے لحاظ سے ٹھیک ہیں کیونکہ اس کے بعد ہی یہ جملہ ہے کہ مجھے اس بات سے بڑا صدمہ ہوا۔

الغرض یہ حدیث اور اسی کی ہم معنی اور حدیثیں دلالت ہیں اس امر پر کہ کسی معین شخص کے جنتی ہونے کا قطعی علم کسی کو نہیں، نہ کسی کو ایسی بات زبان سے کہنی چاہیئے۔ بجز ان بزرگوں کے جن کے نام لے کر شارع علیہ السلام نے انہیں جنتی کہا ہے، جیسے عشرہ مبشرہ اور ابن سلام اور عمیصا اور بلال اور سراقہ اور عبداللہ بن عمرو بن حرام جو جابر کے والد ہیں اور وہ ستر قاری جو بیرمعونہ کی جنگ میں شہید کئے گئے اور زید بن حارثہ اور جعفر اور ابن رواحہ اور ان جیسے اور بزرگ رضی اللہ عنہم اجمعین۔ پھر فرماتا ہے اے نبی! تم کہہ دو کہ میں تو صرف اس وحی کا مطیع ہوں جو اللہ کی جناب سے میری جانب آئے اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں کہ کھول کھول کر ہر شخص کو آگاہ کر رہا ہوں ہر عقلمند میرے منصب سے باخبر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8440

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار بےبسی ٭٭

مشرکوں کی سرکشی اور ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جب انہیں اللہ کی ظاہر و باطن واضح اور صاف آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے، تکذیب و افترا، ضلالت و کفر گویا ان کا شیوہ ہو گیا ہے۔ جادو کہہ کر ہی بس نہیں کرتے بلکہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اسے تو محمد نے گھڑ لیا ہے۔ پس نبی کی زبانی اللہ جواب دلواتا ہے کہ اگر میں نے ہی اس قرآن کو بنایا ہے اور میں اس کا سچا نبی نہیں تو یقینًا وہ مجھے میرے اس جھوٹ اور بہتان پر سخت تر عذاب کرے گا اور پھر تم کیا سارے جہان میں کوئی ایسا نہیں جو مجھے اس کے عذابوں سے چھڑا سکے۔

جیسے اور جگہ ہے «قُلْ اِنِّىْ لَنْ يُّجِيْرَنِيْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ ڏ وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا إِلَّا بَلَاغًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِسَالَاتِهِ» [72-الجن:23،22] ‏، یعنی تو کہہ دے کہ مجھے اللہ کے ہاتھ سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ اس کے سوا کہیں اور مجھے پناہ کی جگہ مل سکے گی لیکن میں اللہ کی تبلیغ اور اس کی رسالت کو بجا لاتا ہوں۔

اور جگہ ہے «وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ» [69-الحاقة:47-44] ‏، یعنی اگر یہ ہم پر کوئی بات بنا لیتا، تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے اور تم میں سے کوئی بھی اسے نہ بچا سکتا۔

پھر کفار کو دھمکایا جا رہا ہے کہ تمہاری گفتگو کا پورا علم اس علیم اللہ کو ہے، وہی میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اس کی دھمکی کے بعد انہیں توبہ اور انابت کی رغبت دلائی جا رہی ہے اور فرماتا ہے، وہ غفور و رحیم ہے، اگر تم اس کی طرف رجوع کرو اپنے کرتوت سے باز آؤ تو وہ بھی تمہیں بخش دے گا اور تم پر رحم کرے گا۔ سورۃ الفرقان میں بھی اسی مضمون کی آیت ہے۔ فرمان ہے «وَقَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6،5] ‏، یعنی یہ کہتے ہیں کہ یہ اگلوں کی کہانیاں ہیں جو اس نے لکھ لی ہیں اور صبح شام لکھائی جا رہی ہیں تو کہہ دے کہ اسے اس اللہ نے اتارا ہے جو ہر پوشیدہ کو جانتا ہے خواہ آسمانوں میں ہو، خواہ زمین میں ہو وہ غفور و رحیم ہے۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میں دنیا میں کوئی پہلا نبی تو نہیں، مجھ سے پہلے بھی تو دنیا میں لوگوں کی طرف رسول آتے رہے پھر میرے آنے سے تمہیں اس قدر اچنبھا کیوں ہوا؟ مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے بعد آیت «لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَـقِيْمًا» [48-الفتح:2] ‏، اتری ہے۔ اسی طرح عکرمہ، حسن، قتادہ رحمہم اللہ علیہم بھی اسے منسوخ بتاتے ہیں۔

یہ بھی مروی ہے کہ جب آیت بخشش اتری جس میں فرمایا گیا تاکہ اللہ تیرے اگلے پچھلے گناہ بخشے تو ایک صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول ! یہ تو اللہ نے بیان فرما دیا کہ وہ آپ کے ساتھ کیا کرنے والا ہے پس وہ ہمارے ساتھ کیا کرنے والا ہے؟ اس پر آیت «لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا» [48-الفتح:5] ‏ اتری یعنی تاکہ اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، صحیح حدیث سے بھی یہ تو ثابت ہے کہ مومنوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ کو مبارک ہو، فرمائیے! ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری [صحیح مسلم:1786] ‏

ضحاک رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا حکم دیا جاؤں اور کس چیز سے روک دیا جاؤں؟ امام حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ آخرت کا انجام تو مجھے قطعًا معلوم ہے کہ میں جنت میں جاؤں گا، ہاں دنیوی حال معلوم نہیں کہ اگلے بعض انبیاء کی طرح قتل کیا جاؤں یا اپنی زندگی کے دن پورے کر کے اللہ کے ہاں جاؤں؟ اور اسی طرح میں نہیں کہہ سکتا کہ تمہیں دھنسایا جائے یا تم پر پتھر برسائے جائیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:277/11] ‏

صفحہ نمبر8439

امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو معتبر کہتے ہیں اور فی الواقع ہے بھی یہ ٹھیک۔ آپ بالیقین جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو جنت میں ہی جائیں گے اور دنیا کی حالت کے انجام سے آپ بےخبر تھے کہ انجام کار آپ کا اور آپ کے مخالفین قریش کا کیا حال ہو گا؟ آیا وہ ایمان لائیں گے یا کفر پر ہی رہیں گے اور عذاب کئے جائیں گے یا بالکل ہی ہلاک کر دئیے جائیں گے۔

لیکن جو حدیث مسند احمد میں ہے [مسند احمد:436/6:صحیح] ‏ سیدہ ام العلاء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی کہ جس وقت مہاجرین بذریعہ قرعہ اندازی انصاریوں میں تقسیم ہو رہے تھے اس وقت ہمارے حصہ میں سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ آئے، آپ ہمارے ہاں بیمار ہوئے اور فوت بھی ہو گئے جب ہم آپ کو کفن پہنا چکے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لا چکے، تو میرے منہ سے نکل گیا، اے ابوالسائب! اللہ تجھ پر رحم کرے میری تو تجھ پر گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ یقیناً تیرا اکرام ہی کرے گا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ یقیناً اس کا اکرام ہی کرے گا۔‏“ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! پر میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں مجھے کچھ نہیں معلوم پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! ان کے پاس تو ان کے رب کی طرف کا یقین آ پہنچا اور مجھے ان کیلئے بھلائی اور خیر کی امید ہے، قسم ہے اللہ کے باوجود رسول ہونے کے میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟“ اس پر میں نے کہا: اللہ کی قسم اب اس کے بعد میں کسی کی برات نہیں کروں گی اور مجھے اس کا بڑا صدمہ ہوا، لیکن میں نے خواب میں دیکھا کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی ایک نہر بہہ رہی ہے، میں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان کے اعمال ہیں“ ، یہ حدیث بخاری میں ہے [صحیح بخاری:1243] ‏ مسلم میں نہیں اور اس کی ایک سند میں ہے ”میں نہیں جانتا باوجود یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟“ دل کو تو کچھ ایسا لگتا ہے کہ یہی الفاظ موقعہ کے لحاظ سے ٹھیک ہیں کیونکہ اس کے بعد ہی یہ جملہ ہے کہ مجھے اس بات سے بڑا صدمہ ہوا۔

الغرض یہ حدیث اور اسی کی ہم معنی اور حدیثیں دلالت ہیں اس امر پر کہ کسی معین شخص کے جنتی ہونے کا قطعی علم کسی کو نہیں، نہ کسی کو ایسی بات زبان سے کہنی چاہیئے۔ بجز ان بزرگوں کے جن کے نام لے کر شارع علیہ السلام نے انہیں جنتی کہا ہے، جیسے عشرہ مبشرہ اور ابن سلام اور عمیصا اور بلال اور سراقہ اور عبداللہ بن عمرو بن حرام جو جابر کے والد ہیں اور وہ ستر قاری جو بیرمعونہ کی جنگ میں شہید کئے گئے اور زید بن حارثہ اور جعفر اور ابن رواحہ اور ان جیسے اور بزرگ رضی اللہ عنہم اجمعین۔ پھر فرماتا ہے اے نبی! تم کہہ دو کہ میں تو صرف اس وحی کا مطیع ہوں جو اللہ کی جناب سے میری جانب آئے اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں کہ کھول کھول کر ہر شخص کو آگاہ کر رہا ہوں ہر عقلمند میرے منصب سے باخبر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8440

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار بےبسی ٭٭

مشرکوں کی سرکشی اور ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جب انہیں اللہ کی ظاہر و باطن واضح اور صاف آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے، تکذیب و افترا، ضلالت و کفر گویا ان کا شیوہ ہو گیا ہے۔ جادو کہہ کر ہی بس نہیں کرتے بلکہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اسے تو محمد نے گھڑ لیا ہے۔ پس نبی کی زبانی اللہ جواب دلواتا ہے کہ اگر میں نے ہی اس قرآن کو بنایا ہے اور میں اس کا سچا نبی نہیں تو یقینًا وہ مجھے میرے اس جھوٹ اور بہتان پر سخت تر عذاب کرے گا اور پھر تم کیا سارے جہان میں کوئی ایسا نہیں جو مجھے اس کے عذابوں سے چھڑا سکے۔

جیسے اور جگہ ہے «قُلْ اِنِّىْ لَنْ يُّجِيْرَنِيْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ ڏ وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا إِلَّا بَلَاغًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِسَالَاتِهِ» [72-الجن:23،22] ‏، یعنی تو کہہ دے کہ مجھے اللہ کے ہاتھ سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ اس کے سوا کہیں اور مجھے پناہ کی جگہ مل سکے گی لیکن میں اللہ کی تبلیغ اور اس کی رسالت کو بجا لاتا ہوں۔

اور جگہ ہے «وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ» [69-الحاقة:47-44] ‏، یعنی اگر یہ ہم پر کوئی بات بنا لیتا، تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے اور تم میں سے کوئی بھی اسے نہ بچا سکتا۔

پھر کفار کو دھمکایا جا رہا ہے کہ تمہاری گفتگو کا پورا علم اس علیم اللہ کو ہے، وہی میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اس کی دھمکی کے بعد انہیں توبہ اور انابت کی رغبت دلائی جا رہی ہے اور فرماتا ہے، وہ غفور و رحیم ہے، اگر تم اس کی طرف رجوع کرو اپنے کرتوت سے باز آؤ تو وہ بھی تمہیں بخش دے گا اور تم پر رحم کرے گا۔ سورۃ الفرقان میں بھی اسی مضمون کی آیت ہے۔ فرمان ہے «وَقَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6،5] ‏، یعنی یہ کہتے ہیں کہ یہ اگلوں کی کہانیاں ہیں جو اس نے لکھ لی ہیں اور صبح شام لکھائی جا رہی ہیں تو کہہ دے کہ اسے اس اللہ نے اتارا ہے جو ہر پوشیدہ کو جانتا ہے خواہ آسمانوں میں ہو، خواہ زمین میں ہو وہ غفور و رحیم ہے۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میں دنیا میں کوئی پہلا نبی تو نہیں، مجھ سے پہلے بھی تو دنیا میں لوگوں کی طرف رسول آتے رہے پھر میرے آنے سے تمہیں اس قدر اچنبھا کیوں ہوا؟ مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے بعد آیت «لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَـقِيْمًا» [48-الفتح:2] ‏، اتری ہے۔ اسی طرح عکرمہ، حسن، قتادہ رحمہم اللہ علیہم بھی اسے منسوخ بتاتے ہیں۔

یہ بھی مروی ہے کہ جب آیت بخشش اتری جس میں فرمایا گیا تاکہ اللہ تیرے اگلے پچھلے گناہ بخشے تو ایک صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول ! یہ تو اللہ نے بیان فرما دیا کہ وہ آپ کے ساتھ کیا کرنے والا ہے پس وہ ہمارے ساتھ کیا کرنے والا ہے؟ اس پر آیت «لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا» [48-الفتح:5] ‏ اتری یعنی تاکہ اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، صحیح حدیث سے بھی یہ تو ثابت ہے کہ مومنوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ کو مبارک ہو، فرمائیے! ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری [صحیح مسلم:1786] ‏

ضحاک رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا حکم دیا جاؤں اور کس چیز سے روک دیا جاؤں؟ امام حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ آخرت کا انجام تو مجھے قطعًا معلوم ہے کہ میں جنت میں جاؤں گا، ہاں دنیوی حال معلوم نہیں کہ اگلے بعض انبیاء کی طرح قتل کیا جاؤں یا اپنی زندگی کے دن پورے کر کے اللہ کے ہاں جاؤں؟ اور اسی طرح میں نہیں کہہ سکتا کہ تمہیں دھنسایا جائے یا تم پر پتھر برسائے جائیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:277/11] ‏

صفحہ نمبر8439

امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو معتبر کہتے ہیں اور فی الواقع ہے بھی یہ ٹھیک۔ آپ بالیقین جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو جنت میں ہی جائیں گے اور دنیا کی حالت کے انجام سے آپ بےخبر تھے کہ انجام کار آپ کا اور آپ کے مخالفین قریش کا کیا حال ہو گا؟ آیا وہ ایمان لائیں گے یا کفر پر ہی رہیں گے اور عذاب کئے جائیں گے یا بالکل ہی ہلاک کر دئیے جائیں گے۔

لیکن جو حدیث مسند احمد میں ہے [مسند احمد:436/6:صحیح] ‏ سیدہ ام العلاء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی کہ جس وقت مہاجرین بذریعہ قرعہ اندازی انصاریوں میں تقسیم ہو رہے تھے اس وقت ہمارے حصہ میں سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ آئے، آپ ہمارے ہاں بیمار ہوئے اور فوت بھی ہو گئے جب ہم آپ کو کفن پہنا چکے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لا چکے، تو میرے منہ سے نکل گیا، اے ابوالسائب! اللہ تجھ پر رحم کرے میری تو تجھ پر گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ یقیناً تیرا اکرام ہی کرے گا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ یقیناً اس کا اکرام ہی کرے گا۔‏“ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! پر میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں مجھے کچھ نہیں معلوم پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! ان کے پاس تو ان کے رب کی طرف کا یقین آ پہنچا اور مجھے ان کیلئے بھلائی اور خیر کی امید ہے، قسم ہے اللہ کے باوجود رسول ہونے کے میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟“ اس پر میں نے کہا: اللہ کی قسم اب اس کے بعد میں کسی کی برات نہیں کروں گی اور مجھے اس کا بڑا صدمہ ہوا، لیکن میں نے خواب میں دیکھا کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی ایک نہر بہہ رہی ہے، میں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان کے اعمال ہیں“ ، یہ حدیث بخاری میں ہے [صحیح بخاری:1243] ‏ مسلم میں نہیں اور اس کی ایک سند میں ہے ”میں نہیں جانتا باوجود یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟“ دل کو تو کچھ ایسا لگتا ہے کہ یہی الفاظ موقعہ کے لحاظ سے ٹھیک ہیں کیونکہ اس کے بعد ہی یہ جملہ ہے کہ مجھے اس بات سے بڑا صدمہ ہوا۔

الغرض یہ حدیث اور اسی کی ہم معنی اور حدیثیں دلالت ہیں اس امر پر کہ کسی معین شخص کے جنتی ہونے کا قطعی علم کسی کو نہیں، نہ کسی کو ایسی بات زبان سے کہنی چاہیئے۔ بجز ان بزرگوں کے جن کے نام لے کر شارع علیہ السلام نے انہیں جنتی کہا ہے، جیسے عشرہ مبشرہ اور ابن سلام اور عمیصا اور بلال اور سراقہ اور عبداللہ بن عمرو بن حرام جو جابر کے والد ہیں اور وہ ستر قاری جو بیرمعونہ کی جنگ میں شہید کئے گئے اور زید بن حارثہ اور جعفر اور ابن رواحہ اور ان جیسے اور بزرگ رضی اللہ عنہم اجمعین۔ پھر فرماتا ہے اے نبی! تم کہہ دو کہ میں تو صرف اس وحی کا مطیع ہوں جو اللہ کی جناب سے میری جانب آئے اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں کہ کھول کھول کر ہر شخص کو آگاہ کر رہا ہوں ہر عقلمند میرے منصب سے باخبر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8440

تابع قرآن اور جنتیوں کے حالات ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ان مشرکین کافرین سے کہو کہ اگر یہ قرآن سچ مچ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور پھر بھی تم اس کا انکار کر رہے ہو، تو بتلاؤ تو تمہارا کیا حال ہو گا؟ وہ اللہ جس نے مجھے حق کے ساتھ تمہاری طرف یہ پاک کتاب دے کر بھیجا ہے، وہ تمہیں کیسی کچھ سزائیں کرے گا؟، تم اس کا انکار کرتے ہو، اسے جھوٹا بتلاتے ہو حالانکہ اس کی سچائی اور صحت کی شہادت وہ کتابیں بھی دے رہی ہیں جو اس سے پہلے وقتاً فوقتاً اگلے انبیأء علیہ السلام پر نازل ہوتی رہیں اور بنی اسرائیل کے جس شخص نے اس کی سچائی کی گواہی دی، اس نے حقیقت کو پہچان کر اسے مانا اور اس پر ایمان لایا۔ لیکن تم نے اس کی اتباع سے جی چرایا اور تکبر کیا۔

یہ بھی مطلب بیان ہو گیا ہے کہ اس شاہد نے اپنے نبی پر اور اس کی کتاب پر یقین کر لیا لیکن تم نے اپنے نبی اور اپنی کتاب کے ساتھ کفر کیا۔ اللہ تعالیٰ ظالم گروہ کو ہدایت نہیں کرتا۔ «شَاھِدٌ» کا لفظ ہم جنس ہے اور یہ اپنے معانی کے لحاظ سے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ وغیرہ سب کو شامل ہے۔ یہ یاد رہے کہ یہ آیت مکی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے اسلام سے پہلے کی ہے۔

اسی جیسی آیت یہ بھی ہے «وَإِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ» [28-القصص:53] ‏ یعنی ” جب ان پر تلاوت کی جاتی ہے تو اقرار کرتے ہیں کہ یہ ہمارے رب کی جانب سے سراسر برحق ہے ہم تو اس سے پہلے ہی مسلمان ہیں “۔

اور فرمان ہے «قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا» [17-الإسراء:108،107] ‏ یعنی ” جن لوگوں کو اس سے پہلے علم عطا فرمایا گیا ہے ان پر جب تلاوت کی جاتی ہے تو وہ بلا پس و پیش سجدے میں گر پڑتے ہیں اور زبان سے کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے، اس کے وعدے یقناً سچے اور ہو کر رہنے والے ہیں “۔

مسروق اور شعبی رحمہا اللہ فرماتے ہیں یہاں اس آیت سے مراد سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نہیں، اس لئے کہ آیت مکہ میں اترتی ہے اور آپ مدینے کی ہجرت کے بعد اسلام قبول کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر8443

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کسی شخص کے بارے میں جو زندہ ہو اور زمین پر چل پھر رہا ہو، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اس کا جنتی ہونا نہیں سنا، بجز سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے، انہی کے بارے میں «قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن كَانَ مِنْ عِندِ اللَّـهِ وَكَفَرْتُم بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّن بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ» [سورةالأحقاف46:10] ‏ نازل ہوئی ہے [ صحیحین وغیرہ ] ‏

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد، ضحاک، قتادہ، عکرمہ، یوسف بن عبداللہ بن سلام، ہلال بن بشار، سدی، ثوری، مالک بن انس بن زبیر رحمہم اللہ علیہم کا قول ہے کہ اس سے مراد سیدنا ابن سلام رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ کفار کہا کرتے ہیں کہ اگر قرآن بہتری کی چیز ہوتی، تو ہم جیسے شریف انسان جو اللہ کے مقبول بندے ہیں، ان پر بھلا یہ نیچے کے درجے کے لوگ جیسے بلال، عمار، صہیب، خباب رضی اللہ عنہم اور انہی جیسے اور گرے پڑے لونڈی غلام کیسے سبقت کر جاتے۔ پھر تو اللہ سب سے پہلے ہمیں ہی نوازتا۔ حالانکہ یہ قول بالبداہت باطل ہے۔ اللہ تبارک تعالیٰ فرماتا ہے «وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لِّيَقُولُوا أَهَـٰؤُلَاءِ مَنَّ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَا أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» [سورةالأنعام6:53] ‏ یعنی انہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کیسے ہدایت پا گئے؟ اگر یہ چیز بھلی ہوتی تو ہم اس کی طرف لپک کر جاتے۔ پس یہ خیال ان کا خام تھا لیکن اتنی بات یقینی ہے کہ نیک سمجھ والے، سلامت روی والے، ہمیشہ بھلائی کی طرف سبقت کرتے ہیں۔

اسی لیے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ جو قول و فعل صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت نہ ہو وہ بدعت ہے، اس لیے کہ اگر اس میں بہتری ہوتی تو وہ پاک جماعت جو کسی چیز میں پیچھے رہنے والی نہ تھی وہ اسے ترک نہ کرتی۔ چونکہ اپنی بدنصیبی کے باعث یہ گروہ قرآن پر ایمان نہیں لایا اس لیے یہ اپنی خجالت دفع کرنے کو قرآن کی اہانت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تو پرانے لوگوں کی پرانی غلط باتیں ہیں، یہ کہہ کر وہ قرآن اور قرآن والوں کو طعنہ دیتے ہیں۔ یعنی وہ تکبر ہے جس کی بابت حدیث میں ہے کہ تکبر نام ہے حق کو ہٹا دینے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا ۔ [صحیح مسلم:91] ‏

صفحہ نمبر8444

تابع قرآن اور جنتیوں کے حالات ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ان مشرکین کافرین سے کہو کہ اگر یہ قرآن سچ مچ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور پھر بھی تم اس کا انکار کر رہے ہو، تو بتلاؤ تو تمہارا کیا حال ہو گا؟ وہ اللہ جس نے مجھے حق کے ساتھ تمہاری طرف یہ پاک کتاب دے کر بھیجا ہے، وہ تمہیں کیسی کچھ سزائیں کرے گا؟، تم اس کا انکار کرتے ہو، اسے جھوٹا بتلاتے ہو حالانکہ اس کی سچائی اور صحت کی شہادت وہ کتابیں بھی دے رہی ہیں جو اس سے پہلے وقتاً فوقتاً اگلے انبیأء علیہ السلام پر نازل ہوتی رہیں اور بنی اسرائیل کے جس شخص نے اس کی سچائی کی گواہی دی، اس نے حقیقت کو پہچان کر اسے مانا اور اس پر ایمان لایا۔ لیکن تم نے اس کی اتباع سے جی چرایا اور تکبر کیا۔

یہ بھی مطلب بیان ہو گیا ہے کہ اس شاہد نے اپنے نبی پر اور اس کی کتاب پر یقین کر لیا لیکن تم نے اپنے نبی اور اپنی کتاب کے ساتھ کفر کیا۔ اللہ تعالیٰ ظالم گروہ کو ہدایت نہیں کرتا۔ «شَاھِدٌ» کا لفظ ہم جنس ہے اور یہ اپنے معانی کے لحاظ سے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ وغیرہ سب کو شامل ہے۔ یہ یاد رہے کہ یہ آیت مکی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے اسلام سے پہلے کی ہے۔

اسی جیسی آیت یہ بھی ہے «وَإِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ» [28-القصص:53] ‏ یعنی ” جب ان پر تلاوت کی جاتی ہے تو اقرار کرتے ہیں کہ یہ ہمارے رب کی جانب سے سراسر برحق ہے ہم تو اس سے پہلے ہی مسلمان ہیں “۔

اور فرمان ہے «قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا» [17-الإسراء:108،107] ‏ یعنی ” جن لوگوں کو اس سے پہلے علم عطا فرمایا گیا ہے ان پر جب تلاوت کی جاتی ہے تو وہ بلا پس و پیش سجدے میں گر پڑتے ہیں اور زبان سے کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے، اس کے وعدے یقناً سچے اور ہو کر رہنے والے ہیں “۔

مسروق اور شعبی رحمہا اللہ فرماتے ہیں یہاں اس آیت سے مراد سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نہیں، اس لئے کہ آیت مکہ میں اترتی ہے اور آپ مدینے کی ہجرت کے بعد اسلام قبول کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر8443

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کسی شخص کے بارے میں جو زندہ ہو اور زمین پر چل پھر رہا ہو، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اس کا جنتی ہونا نہیں سنا، بجز سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے، انہی کے بارے میں «قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن كَانَ مِنْ عِندِ اللَّـهِ وَكَفَرْتُم بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّن بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ» [سورةالأحقاف46:10] ‏ نازل ہوئی ہے [ صحیحین وغیرہ ] ‏

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد، ضحاک، قتادہ، عکرمہ، یوسف بن عبداللہ بن سلام، ہلال بن بشار، سدی، ثوری، مالک بن انس بن زبیر رحمہم اللہ علیہم کا قول ہے کہ اس سے مراد سیدنا ابن سلام رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ کفار کہا کرتے ہیں کہ اگر قرآن بہتری کی چیز ہوتی، تو ہم جیسے شریف انسان جو اللہ کے مقبول بندے ہیں، ان پر بھلا یہ نیچے کے درجے کے لوگ جیسے بلال، عمار، صہیب، خباب رضی اللہ عنہم اور انہی جیسے اور گرے پڑے لونڈی غلام کیسے سبقت کر جاتے۔ پھر تو اللہ سب سے پہلے ہمیں ہی نوازتا۔ حالانکہ یہ قول بالبداہت باطل ہے۔ اللہ تبارک تعالیٰ فرماتا ہے «وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لِّيَقُولُوا أَهَـٰؤُلَاءِ مَنَّ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَا أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» [سورةالأنعام6:53] ‏ یعنی انہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کیسے ہدایت پا گئے؟ اگر یہ چیز بھلی ہوتی تو ہم اس کی طرف لپک کر جاتے۔ پس یہ خیال ان کا خام تھا لیکن اتنی بات یقینی ہے کہ نیک سمجھ والے، سلامت روی والے، ہمیشہ بھلائی کی طرف سبقت کرتے ہیں۔

اسی لیے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ جو قول و فعل صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت نہ ہو وہ بدعت ہے، اس لیے کہ اگر اس میں بہتری ہوتی تو وہ پاک جماعت جو کسی چیز میں پیچھے رہنے والی نہ تھی وہ اسے ترک نہ کرتی۔ چونکہ اپنی بدنصیبی کے باعث یہ گروہ قرآن پر ایمان نہیں لایا اس لیے یہ اپنی خجالت دفع کرنے کو قرآن کی اہانت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تو پرانے لوگوں کی پرانی غلط باتیں ہیں، یہ کہہ کر وہ قرآن اور قرآن والوں کو طعنہ دیتے ہیں۔ یعنی وہ تکبر ہے جس کی بابت حدیث میں ہے کہ تکبر نام ہے حق کو ہٹا دینے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا ۔ [صحیح مسلم:91] ‏

صفحہ نمبر8444

باب

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام پر نازل شدہ کتاب تورات امام و رحمت تھی اور یہ کتاب یعنی قرآن مجید اپنے سے پہلے کی تمام کتابوں کو منزل من اللہ اور سچی کتابیں مانتا ہے۔ یہ عربی فصیح اور بلیغ زبان میں نہایت واضح کتاب ہے۔ اس میں کفار کے لیے ڈراوا ہے اور ایمانداروں کے لیے بشارت ہے۔

اس کے بعد کی آیت کی پوری تفسیر سورۂ حم السجدہ میں گزر چکی ہے۔ ان پر خوف نہ ہو گا۔ یعنی آئندہ اور یہ غم نہ کھائیں گے یعنی چھوڑی ہوئی چیزوں کا۔ یہ ہمیشہ جنت میں رہنے والے جنتی ہیں، ان کے پاکیزہ اعمال تھے ہی ایسے کہ رحمت رحیم، کرم کریم کی بدلیاں ان پر جھوم جھوم کر موسلا دھار بارش برسائیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8446

باب

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام پر نازل شدہ کتاب تورات امام و رحمت تھی اور یہ کتاب یعنی قرآن مجید اپنے سے پہلے کی تمام کتابوں کو منزل من اللہ اور سچی کتابیں مانتا ہے۔ یہ عربی فصیح اور بلیغ زبان میں نہایت واضح کتاب ہے۔ اس میں کفار کے لیے ڈراوا ہے اور ایمانداروں کے لیے بشارت ہے۔

اس کے بعد کی آیت کی پوری تفسیر سورۂ حم السجدہ میں گزر چکی ہے۔ ان پر خوف نہ ہو گا۔ یعنی آئندہ اور یہ غم نہ کھائیں گے یعنی چھوڑی ہوئی چیزوں کا۔ یہ ہمیشہ جنت میں رہنے والے جنتی ہیں، ان کے پاکیزہ اعمال تھے ہی ایسے کہ رحمت رحیم، کرم کریم کی بدلیاں ان پر جھوم جھوم کر موسلا دھار بارش برسائیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8446

باب

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام پر نازل شدہ کتاب تورات امام و رحمت تھی اور یہ کتاب یعنی قرآن مجید اپنے سے پہلے کی تمام کتابوں کو منزل من اللہ اور سچی کتابیں مانتا ہے۔ یہ عربی فصیح اور بلیغ زبان میں نہایت واضح کتاب ہے۔ اس میں کفار کے لیے ڈراوا ہے اور ایمانداروں کے لیے بشارت ہے۔

اس کے بعد کی آیت کی پوری تفسیر سورۂ حم السجدہ میں گزر چکی ہے۔ ان پر خوف نہ ہو گا۔ یعنی آئندہ اور یہ غم نہ کھائیں گے یعنی چھوڑی ہوئی چیزوں کا۔ یہ ہمیشہ جنت میں رہنے والے جنتی ہیں، ان کے پاکیزہ اعمال تھے ہی ایسے کہ رحمت رحیم، کرم کریم کی بدلیاں ان پر جھوم جھوم کر موسلا دھار بارش برسائیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8446

والدین سے بہترین سلوک کرو ٭٭

اس سے پہلے چونکہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی عبادت کے اخلاص کا اور اس پر استقامت کرنے کا حکم ہوا تھا اس لیے یہاں ماں باپ کے حقوق کی بجا آوری کا حکم ہو رہا ہے۔ اسی مضمون کی اور بہت سی آیتیں قرآن پاک میں موجود ہیں۔

جیسے فرمایا «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰـهُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا» [17-الإسراء:23] ‏ یعنی ” تیرا رب یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو “۔

اور آیت میں ہے «أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ» [31-لقمان:14] ‏ یعنی ” میرا شکر کر اور اپنے والدین کا لوٹنا تو میری ہی طرف ہے “ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔

پس یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ «وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا» [29-العنكبوت:8] ‏ ” ہم نے انسان کو حکم کیا ہے کہ ماں باپ کے ساتھ احسان کرو ان سے تواضع سے پیش آؤ “۔

صفحہ نمبر8449

ابوداؤد طیالسی میں حدیث ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی والدہ نے آپ سے کہا کہ کیا ماں باپ کی اطاعت کا حکم اللہ نے نہیں دیا؟ سن میں نہ کھانا کھاؤں گی، نہ پانی پیوں گی، جب تک تو اللہ عزوجل کے ساتھ کفر نہ کرے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے انکار پر اس نے یہی کیا کہ کھانا پینا چھوڑ دیا یہاں تک کہ لکڑی سے اس کا منہ کھول کر جبراً پانی وغیرہ چھوا دیتے، اس پر یہ آیت اتری یہ حدیث مسلم شریف وغیرہ میں بھی ہے ۔ [صحیح مسلم:1748] ‏

ماں نے حالت حمل میں کیسی کچھ تکلیفیں برداشت کی ہیں؟ اسی طرح بچہ ہونے کے وقت کیسی کیسی مصیبتوں کا وہ شکار بنی ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس آیت سے اور اس کے ساتھ سورۃ لقمان کی آیت «وَّفِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ» ۔ [31-لقمان:14] ‏

اور اللہ عزوجل کا فرمان «وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ» [2-البقرة:233] ‏ یعنی مائیں اپنے بچوں کو دو سال کامل دودھ پلائیں ان کے لیے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہیں ملا کر استدلال کیا ہے کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ ہے۔ یہ استدلال بہت قوی اور بالکل صحیح ہے۔

صفحہ نمبر8450

سیدنا عثمان اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت نے بھی اس کی تائید کی ہے معمر بن عبداللہ جہنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے قبیلے کے ایک شخص نے جہنیہ کی ایک عورت سے نکاح کیا چھ مہینے پورے ہوتے ہی اسے بچہ تولد ہوا اس کے خاوند نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا آپ نے اس عورت کے پاس آدمی بھیجا وہ تیار ہو کر آنے لگی تو ان کی بہن نے گریہ و زاری شروع کر دی اس بیوی صاحبہ نے اپنی بہن کو تسکین دی اور فرمایا: کیوں روتی ہو، اللہ کی قسم! اس کی مخلوق میں سے کسی سے میں نہیں ملی میں نے کبھی کوئی برا فعل نہیں کیا، تو دیکھو کہ اللہ کا فیصلہ میرے بارے میں کیا ہوتا ہے، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس یہ آئیں تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے خلیفۃ المسلمین سے دریافت کیا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ اس عورت کو نکاح کے چھ مہینے کے بعد بچہ ہوا ہے جو ناممکن ہے۔ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ نے قرآن نہیں پڑھا؟ فرمایا: ہاں پڑھا ہے فرمایا: کیا یہ آیت نہیں پڑھی «وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» [46-الأحقاف:15] ‏ اور ساتھ ہی یہ آیت بھی «حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ» [2-البقرة:233] ‏ پس مدت حمل اور مدت دودھ پلائی دونوں کے مل کر تیس مہینے اور اس میں سے جب دودھ پلائی کی کل مدت دو سال کے چوبیس وضع کر دئیے جائیں تو باقی چھ مہینے رہ جاتے ہیں، تو قرآن کریم سے معلوم ہوا کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے اور اس بیوی صاحبہ کو بھی اتنی ہی مدت میں بچہ ہوا، پھر اس پر زنا کا الزام کیسے قائم کر رہے ہیں؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واللہ! یہ بات بہت ٹھیک ہے، افسوس میرا خیال ہے میں اس طرف نہیں گیا، جاؤ اس عورت کو لے آؤ پس لوگوں نے اس عورت کو اس حال پر پایا کہ اسے فراغت ہو چکی تھی۔ معمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں، واللہ! ایک کوا دوسرے کوے سے اور ایک انڈا دوسرے انڈے سے بھی اتنا مشابہ نہیں ہوتا جتنا اس عورت کا یہ بچہ اپنے باپ سے مشابہ تھا، خود اس کے والد نے بھی اسے دیکھ کر کہا: اللہ کی قسم! اس بچے کے بارے میں مجھے اب کوئی شک نہیں رہا اور اسے اللہ تعالیٰ نے ایک ناسور کے ساتھ مبتلا کیا جو اس کے چہرے پر تھا وہ ہی اسے گھلاتا رہا یہاں تک کہ وہ مر گیا ۔ ابن ابی حاتم [الدالمنثورللسیوطی9/6] ‏

صفحہ نمبر8451

یہ روایت دوسری سند سے «فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ» [43-الزخرف:81] ‏ کی تفسیر میں ہم نے وارد کی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب کسی عورت کو نو مہینے میں بچہ ہو تو اس کی دودھ پلائی کی مدت اکیس ماہ کافی ہیں اور جب سات مہینے میں ہو تو مدت رضاعت تئیس ماہ اور جب چھ ماہ میں بچہ ہو جائے تو مدت رضاعت دو سال کامل اس لیے کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے کہ حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہے۔

جب وہ اپنی پوری قوت کے زمانے کو پہنچا یعنی قوی ہو گیا، جوانی کی عمر میں پہنچ گیا، مردوں کی گنتی میں آیا اور چالیس سال کا ہوا، عقل پوری آئی، فہم و کمال کو پہنچا، حلم اور بردباری آ گئی۔ یہ کہا جاتا ہے کہ چالیس سال کی عمر میں جو حالت اس کی ہوتی ہے عموماً پھر باقی عمر وہی رہتی ہے۔ مسروق رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ انسان کب اپنے گناہوں پر پکڑا جاتا ہے؟ تو فرمایا: جب تو چالیس سال کا ہو جائے تو اپنا بچاؤ مہیا کر لے۔ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جب مسلمان بندہ چالیس سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے حساب میں تخفیف کر دیتا ہے اور جب ساٹھ سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف جھکنا نصیب فرماتا ہے اور جب ستر سال کی عمر کا ہو جاتا ہے تو آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب اسی سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں ثابت رکھتا ہے اور اس کی برائیاں مٹا دیتا ہے اور جب نوے سال کا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرماتا ہے اور اس کے گھرانے کے آدمیوں کے بارے میں اسے شفاعت کرنے والا بناتا ہے اور آسمانوں میں لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ اللہ کی زمین میں اس کا قیدی ہے ۔ [مجمع الزوائد204/10ضعیف] ‏

یہ حدیث دوسری سند سے مسند احمد میں بھی ہے۔ [مسند احمد:217/3:ضعیف] ‏

بنو امیہ کے دمشقی گورنر حجاج بن عبداللہ حکمی فرماتے ہیں کہ چالیس سال کی عمر میں تو میں نے نافرمانیوں اور گناہوں کو لوگوں کی شرم و حیاء سے چھوڑا تھا اس کے بعد گناہوں کے چھوڑنے کا باعث خود ذات اللہ سے حیاء تھی۔ عرب شاعر کہتا ہے بچپنے میں ناسمجھی کی حالت میں تو جو کچھ ہو گیا ہو گیا لیکن جس وقت بڑھاپے نے منہ دکھایا تو سر کی سفیدی نے خود ہی برائیوں سے کہہ دیا کہ اب تم کوچ کر جاؤ۔ پھر اس کی دعا کا بیان ہو رہا ہے کہ اس نے کہا میرے پرورودگار میرے دل میں ڈال کہ تیری نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام فرمائی اور میں وہ اعمال کروں جن سے تو مستقبل میں خوش ہو جائے اور میری اولاد میں میرے لیے اصلاح کر دے یعنی میری نسل اور میرے پیچھے والوں میں، میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میرا اقرار ہے کہ میں فرنبرداروں میں ہوں۔ اس میں ارشاد ہے کہ چالیس سال کی عمر کو پہنچ کر انسان کو پختہ دل سے اللہ کی طرف توبہ کرنی چاہیئے اور نئے سرے سے اللہ کی طرف رجوع و رغبت کر کے اس پر جم جانا چاہیئے۔

صفحہ نمبر8452

ابوداؤد میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم التحیات میں پڑھنے کے لیے اس دعا کی تعلیم کیا کرتے تھے «اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَبَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا، وَأَبْصَارِنَا، وَقُلُوبِنَا، وَأَزْوَاجِنَا، وَذُرِّيَّاتِنَا، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمِكَ مُثْنِينَ بِهَا عَلَيْكَ، قَابِلِينَ لَهَا، وَأَتِمِمْهَا عَلَيْنَا» یعنی، اے اللہ! ہمارے دلوں میں الفت ڈال اور ہمارے آپس میں اصلاح کر دے اور ہمیں سلامتی کی راہیں دکھا اور ہمیں اندھیروں سے بچا کر نور کی طرف نجات دے اور ہمیں ہر برائی سے بچا لے، خواہ وہ ظاہر ہو، خواہ چھپی ہوئی ہو اور ہمیں ہمارے کانوں میں اور آنکھوں میں اور دلوں میں اور بیوی بچوں میں برکت دے اور ہم پر رجوع فرما، یقیناً تو رجوع فرمانے والا مہربان ہے اے اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر گزار اور ان کے باعث اپنا ثنا خواں اور نعمتوں کا اقراری بنا اور اپنی بھرپور نعمتیں ہمیں عطا فرما ۔ [سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8453

پھر فرماتا ہے یہ جن کا بیان گزرا جو اللہ کی طرف توبہ کرنے والے اس کی جانب میں جھکنے والے اور جو نیکیاں چھوٹ جائیں انہیں کثرت استغفار سے پا لینے والے ہی وہ ہیں جن کی اکثر لغزشیں ہم معاف فرما دیتے ہیں اور ان کے تھوڑے نیک اعمال کے بدلے ہم انہیں جنتی بنا دیتے ہیں ان کا یہی حکم ہے جیسے کہ وعدہ کیا اور فرمایا یہ وہ سچا وعدہ ہے جو ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بروایت روح الامین علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”انسان کی نیکیاں اور بدیاں لائی جائیں گی اور ایک کو ایک کے بدلے میں کیا جائے گا پس اگر ایک نیکی بھی بچ رہی تو اللہ تعالیٰ اسی کے عوض اسے جنت میں پہنچا دے گا۔‏“ راوی حدیث نے اپنے استاد سے پوچھا اگر تمام نیکیاں ہی برائیوں کے بدلے میں چلی جائیں تو؟ آپ نے فرمایا: ”ان کی برائیوں سے اللہ رب العزت تجاوز فرما لیتا ہے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:286/11:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8454

دوسری سند میں یہ بفرمان اللہ عزوجل مروی ہے۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند بہت پختہ ہے، یوسف بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ اہل بصرہ پر غالب آئے اس وقت میرے ہاں مجمد بن حاطب رحمہ اللہ آئے۔ ایک دن مجھ سے فرمانے لگے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور اس وقت سیدنا عمار، صعصعہ، اشتر، محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ بعض لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نکالا اور کچھ گستاخی کی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس وقت تخت پر بیٹھے ہوئے تھے، ہاتھ میں چھڑی تھی۔ حاضرین مجلس میں سے کسی نے کہا کہ آپ کے سامنے تو آپ کی اس بحث کا صحیح محاکمہ کرنے والے موجود ہی ہیں، چنانچہ سب لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا۔ اس پر آپ نے فرمایا: عثمان ان لوگوں میں سے تھے جن کے بارے میں اللہ عزوجل فرماتا ہے «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَـيِّاٰتِهِمْ فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَــنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ» [46-الأحقاف:16] ‏ قسم اللہ کی یہ لوگ جن کا ذکر اس آیت میں ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہیں اور ان کے ساتھی، تین مرتبہ یہی فرمایا۔ راوی یوسف کہتے ہیں میں نے محمد بن حاطب رحمہ اللہ سے پوچھا: سچ کہو، تمہیں اللہ کی قسم تم نے خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، قسم اللہ کی میں نے خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ سنا ہے ۔

صفحہ نمبر8455

والدین سے بہترین سلوک کرو ٭٭

اس سے پہلے چونکہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی عبادت کے اخلاص کا اور اس پر استقامت کرنے کا حکم ہوا تھا اس لیے یہاں ماں باپ کے حقوق کی بجا آوری کا حکم ہو رہا ہے۔ اسی مضمون کی اور بہت سی آیتیں قرآن پاک میں موجود ہیں۔

جیسے فرمایا «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰـهُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا» [17-الإسراء:23] ‏ یعنی ” تیرا رب یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو “۔

اور آیت میں ہے «أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ» [31-لقمان:14] ‏ یعنی ” میرا شکر کر اور اپنے والدین کا لوٹنا تو میری ہی طرف ہے “ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔

پس یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ «وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا» [29-العنكبوت:8] ‏ ” ہم نے انسان کو حکم کیا ہے کہ ماں باپ کے ساتھ احسان کرو ان سے تواضع سے پیش آؤ “۔

صفحہ نمبر8449

ابوداؤد طیالسی میں حدیث ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی والدہ نے آپ سے کہا کہ کیا ماں باپ کی اطاعت کا حکم اللہ نے نہیں دیا؟ سن میں نہ کھانا کھاؤں گی، نہ پانی پیوں گی، جب تک تو اللہ عزوجل کے ساتھ کفر نہ کرے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے انکار پر اس نے یہی کیا کہ کھانا پینا چھوڑ دیا یہاں تک کہ لکڑی سے اس کا منہ کھول کر جبراً پانی وغیرہ چھوا دیتے، اس پر یہ آیت اتری یہ حدیث مسلم شریف وغیرہ میں بھی ہے ۔ [صحیح مسلم:1748] ‏

ماں نے حالت حمل میں کیسی کچھ تکلیفیں برداشت کی ہیں؟ اسی طرح بچہ ہونے کے وقت کیسی کیسی مصیبتوں کا وہ شکار بنی ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس آیت سے اور اس کے ساتھ سورۃ لقمان کی آیت «وَّفِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ» ۔ [31-لقمان:14] ‏

اور اللہ عزوجل کا فرمان «وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ» [2-البقرة:233] ‏ یعنی مائیں اپنے بچوں کو دو سال کامل دودھ پلائیں ان کے لیے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہیں ملا کر استدلال کیا ہے کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ ہے۔ یہ استدلال بہت قوی اور بالکل صحیح ہے۔

صفحہ نمبر8450

سیدنا عثمان اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت نے بھی اس کی تائید کی ہے معمر بن عبداللہ جہنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے قبیلے کے ایک شخص نے جہنیہ کی ایک عورت سے نکاح کیا چھ مہینے پورے ہوتے ہی اسے بچہ تولد ہوا اس کے خاوند نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا آپ نے اس عورت کے پاس آدمی بھیجا وہ تیار ہو کر آنے لگی تو ان کی بہن نے گریہ و زاری شروع کر دی اس بیوی صاحبہ نے اپنی بہن کو تسکین دی اور فرمایا: کیوں روتی ہو، اللہ کی قسم! اس کی مخلوق میں سے کسی سے میں نہیں ملی میں نے کبھی کوئی برا فعل نہیں کیا، تو دیکھو کہ اللہ کا فیصلہ میرے بارے میں کیا ہوتا ہے، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس یہ آئیں تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے خلیفۃ المسلمین سے دریافت کیا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ اس عورت کو نکاح کے چھ مہینے کے بعد بچہ ہوا ہے جو ناممکن ہے۔ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ نے قرآن نہیں پڑھا؟ فرمایا: ہاں پڑھا ہے فرمایا: کیا یہ آیت نہیں پڑھی «وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» [46-الأحقاف:15] ‏ اور ساتھ ہی یہ آیت بھی «حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ» [2-البقرة:233] ‏ پس مدت حمل اور مدت دودھ پلائی دونوں کے مل کر تیس مہینے اور اس میں سے جب دودھ پلائی کی کل مدت دو سال کے چوبیس وضع کر دئیے جائیں تو باقی چھ مہینے رہ جاتے ہیں، تو قرآن کریم سے معلوم ہوا کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے اور اس بیوی صاحبہ کو بھی اتنی ہی مدت میں بچہ ہوا، پھر اس پر زنا کا الزام کیسے قائم کر رہے ہیں؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واللہ! یہ بات بہت ٹھیک ہے، افسوس میرا خیال ہے میں اس طرف نہیں گیا، جاؤ اس عورت کو لے آؤ پس لوگوں نے اس عورت کو اس حال پر پایا کہ اسے فراغت ہو چکی تھی۔ معمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں، واللہ! ایک کوا دوسرے کوے سے اور ایک انڈا دوسرے انڈے سے بھی اتنا مشابہ نہیں ہوتا جتنا اس عورت کا یہ بچہ اپنے باپ سے مشابہ تھا، خود اس کے والد نے بھی اسے دیکھ کر کہا: اللہ کی قسم! اس بچے کے بارے میں مجھے اب کوئی شک نہیں رہا اور اسے اللہ تعالیٰ نے ایک ناسور کے ساتھ مبتلا کیا جو اس کے چہرے پر تھا وہ ہی اسے گھلاتا رہا یہاں تک کہ وہ مر گیا ۔ ابن ابی حاتم [الدالمنثورللسیوطی9/6] ‏

صفحہ نمبر8451

یہ روایت دوسری سند سے «فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ» [43-الزخرف:81] ‏ کی تفسیر میں ہم نے وارد کی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب کسی عورت کو نو مہینے میں بچہ ہو تو اس کی دودھ پلائی کی مدت اکیس ماہ کافی ہیں اور جب سات مہینے میں ہو تو مدت رضاعت تئیس ماہ اور جب چھ ماہ میں بچہ ہو جائے تو مدت رضاعت دو سال کامل اس لیے کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے کہ حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہے۔

جب وہ اپنی پوری قوت کے زمانے کو پہنچا یعنی قوی ہو گیا، جوانی کی عمر میں پہنچ گیا، مردوں کی گنتی میں آیا اور چالیس سال کا ہوا، عقل پوری آئی، فہم و کمال کو پہنچا، حلم اور بردباری آ گئی۔ یہ کہا جاتا ہے کہ چالیس سال کی عمر میں جو حالت اس کی ہوتی ہے عموماً پھر باقی عمر وہی رہتی ہے۔ مسروق رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ انسان کب اپنے گناہوں پر پکڑا جاتا ہے؟ تو فرمایا: جب تو چالیس سال کا ہو جائے تو اپنا بچاؤ مہیا کر لے۔ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جب مسلمان بندہ چالیس سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے حساب میں تخفیف کر دیتا ہے اور جب ساٹھ سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف جھکنا نصیب فرماتا ہے اور جب ستر سال کی عمر کا ہو جاتا ہے تو آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب اسی سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں ثابت رکھتا ہے اور اس کی برائیاں مٹا دیتا ہے اور جب نوے سال کا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرماتا ہے اور اس کے گھرانے کے آدمیوں کے بارے میں اسے شفاعت کرنے والا بناتا ہے اور آسمانوں میں لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ اللہ کی زمین میں اس کا قیدی ہے ۔ [مجمع الزوائد204/10ضعیف] ‏

یہ حدیث دوسری سند سے مسند احمد میں بھی ہے۔ [مسند احمد:217/3:ضعیف] ‏

بنو امیہ کے دمشقی گورنر حجاج بن عبداللہ حکمی فرماتے ہیں کہ چالیس سال کی عمر میں تو میں نے نافرمانیوں اور گناہوں کو لوگوں کی شرم و حیاء سے چھوڑا تھا اس کے بعد گناہوں کے چھوڑنے کا باعث خود ذات اللہ سے حیاء تھی۔ عرب شاعر کہتا ہے بچپنے میں ناسمجھی کی حالت میں تو جو کچھ ہو گیا ہو گیا لیکن جس وقت بڑھاپے نے منہ دکھایا تو سر کی سفیدی نے خود ہی برائیوں سے کہہ دیا کہ اب تم کوچ کر جاؤ۔ پھر اس کی دعا کا بیان ہو رہا ہے کہ اس نے کہا میرے پرورودگار میرے دل میں ڈال کہ تیری نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام فرمائی اور میں وہ اعمال کروں جن سے تو مستقبل میں خوش ہو جائے اور میری اولاد میں میرے لیے اصلاح کر دے یعنی میری نسل اور میرے پیچھے والوں میں، میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میرا اقرار ہے کہ میں فرنبرداروں میں ہوں۔ اس میں ارشاد ہے کہ چالیس سال کی عمر کو پہنچ کر انسان کو پختہ دل سے اللہ کی طرف توبہ کرنی چاہیئے اور نئے سرے سے اللہ کی طرف رجوع و رغبت کر کے اس پر جم جانا چاہیئے۔

صفحہ نمبر8452

ابوداؤد میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم التحیات میں پڑھنے کے لیے اس دعا کی تعلیم کیا کرتے تھے «اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَبَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا، وَأَبْصَارِنَا، وَقُلُوبِنَا، وَأَزْوَاجِنَا، وَذُرِّيَّاتِنَا، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمِكَ مُثْنِينَ بِهَا عَلَيْكَ، قَابِلِينَ لَهَا، وَأَتِمِمْهَا عَلَيْنَا» یعنی، اے اللہ! ہمارے دلوں میں الفت ڈال اور ہمارے آپس میں اصلاح کر دے اور ہمیں سلامتی کی راہیں دکھا اور ہمیں اندھیروں سے بچا کر نور کی طرف نجات دے اور ہمیں ہر برائی سے بچا لے، خواہ وہ ظاہر ہو، خواہ چھپی ہوئی ہو اور ہمیں ہمارے کانوں میں اور آنکھوں میں اور دلوں میں اور بیوی بچوں میں برکت دے اور ہم پر رجوع فرما، یقیناً تو رجوع فرمانے والا مہربان ہے اے اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر گزار اور ان کے باعث اپنا ثنا خواں اور نعمتوں کا اقراری بنا اور اپنی بھرپور نعمتیں ہمیں عطا فرما ۔ [سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8453

پھر فرماتا ہے یہ جن کا بیان گزرا جو اللہ کی طرف توبہ کرنے والے اس کی جانب میں جھکنے والے اور جو نیکیاں چھوٹ جائیں انہیں کثرت استغفار سے پا لینے والے ہی وہ ہیں جن کی اکثر لغزشیں ہم معاف فرما دیتے ہیں اور ان کے تھوڑے نیک اعمال کے بدلے ہم انہیں جنتی بنا دیتے ہیں ان کا یہی حکم ہے جیسے کہ وعدہ کیا اور فرمایا یہ وہ سچا وعدہ ہے جو ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بروایت روح الامین علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”انسان کی نیکیاں اور بدیاں لائی جائیں گی اور ایک کو ایک کے بدلے میں کیا جائے گا پس اگر ایک نیکی بھی بچ رہی تو اللہ تعالیٰ اسی کے عوض اسے جنت میں پہنچا دے گا۔‏“ راوی حدیث نے اپنے استاد سے پوچھا اگر تمام نیکیاں ہی برائیوں کے بدلے میں چلی جائیں تو؟ آپ نے فرمایا: ”ان کی برائیوں سے اللہ رب العزت تجاوز فرما لیتا ہے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:286/11:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8454

دوسری سند میں یہ بفرمان اللہ عزوجل مروی ہے۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند بہت پختہ ہے، یوسف بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ اہل بصرہ پر غالب آئے اس وقت میرے ہاں مجمد بن حاطب رحمہ اللہ آئے۔ ایک دن مجھ سے فرمانے لگے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور اس وقت سیدنا عمار، صعصعہ، اشتر، محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ بعض لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نکالا اور کچھ گستاخی کی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس وقت تخت پر بیٹھے ہوئے تھے، ہاتھ میں چھڑی تھی۔ حاضرین مجلس میں سے کسی نے کہا کہ آپ کے سامنے تو آپ کی اس بحث کا صحیح محاکمہ کرنے والے موجود ہی ہیں، چنانچہ سب لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا۔ اس پر آپ نے فرمایا: عثمان ان لوگوں میں سے تھے جن کے بارے میں اللہ عزوجل فرماتا ہے «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَـيِّاٰتِهِمْ فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَــنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ» [46-الأحقاف:16] ‏ قسم اللہ کی یہ لوگ جن کا ذکر اس آیت میں ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہیں اور ان کے ساتھی، تین مرتبہ یہی فرمایا۔ راوی یوسف کہتے ہیں میں نے محمد بن حاطب رحمہ اللہ سے پوچھا: سچ کہو، تمہیں اللہ کی قسم تم نے خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، قسم اللہ کی میں نے خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ سنا ہے ۔

صفحہ نمبر8455

اس دنیا کے طالب آخرت سے محروم ہوں گے ٭٭

چونکہ اوپر ان لوگوں کا حال بیان ہوا تھا جو اپنے ماں باپ کے حق میں نیک دعائیں کرتے ہیں اور ان کی خدمتیں کرتے رہتے ہیں اور ساتھ ہی ان کے اخروی درجات کا اور وہاں نجات پانے اور اپنے رب کی نعمتوں سے مالا مال ہونے کا ذکر ہوا تھا۔ اس لیے اس کے بعد ان بدبختوں کا بیان ہو رہا ہے جو اپنے ماں باپ کے نافرمان ہیں انہیں باتیں سناتے ہیں۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے حق میں نازل ہوئی ہے جیسے کہ عوفی بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جس کی صحت میں بھی کلام ہے اور جو قول نہایت کمزور ہے اس لیے کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما تو مسلمان ہو گئے تھے اور بہت اچھے اسلام والوں میں سے تھے بلکہ اپنے زمانے کے بہترین لوگوں میں سے تھے بعض اور مفسرین کا بھی یہ قول ہے لیکن ٹھیک یہی ہے کہ یہ آیت عام ہے۔

صفحہ نمبر8457

ابن ابی حاتم میں ہے کہ مروان نے اپنے خطبہ میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے امیر المؤمنین کو یزید کے بارے میں ایک اچھی رائے سمجھائی ہے اگر وہ انہیں اپنے بعد بطور خلیفہ کے نامزد کر جائیں تو سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے بھی تو اپنے بعد خلیفہ مقرر کیا ہے اس پر سیدنا عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما بول اٹھے کہ کیا ہرقل کے دستور پر اور نصرانیوں کے قانون پر عمل کرنا چاہتے ہو؟ قسم ہے اللہ کی نہ تو خلیفہ اول نے اپنی اولاد میں سے کسی کو خلافت کے لیے منتخب کیا، نہ اپنے کنبے قبیلے والوں سے کسی کو نامزد کیا اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے جو اسے کیا وہ صرف ان کی عزت افزائی اور ان کے بچوں پر رحم کھا کر کیا، یہ سن کر مروان کہنے لگا کہ تو وہی نہیں جس نے اپنے والدین کو اف کہا تھا؟ تو سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تو ایک ملعون شخص کی اولاد میں سے نہیں؟ تیرے باپ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی تھی۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ سن کر مروان سے کہا تو نے عبدالرحمٰن سے جو کہا وہ بالکل جھوٹ ہے وہ آیت ان کے بارے میں نہیں بلکہ وہ فلاں بن فلاں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پھر مروان جلدی ہی منبر سے اتر کر آپ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے دروازے پر آیا اور کچھ باتیں کر کے لوٹ گیا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:18572:حسن] ‏

صفحہ نمبر8458

بخاری میں یہ حدیث دوسری سند سے اور الفاظ کے ساتھ ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی طرف سے مروان حجاز کا امیر بنایا گیا تھا، اس میں یہ بھی ہے کہ مروان نے سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو گرفتار کر لینے کا حکم اپنے سپاہیوں کو دیا لیکن یہ دوڑ کر اپنی ہمشیرہ صاحبہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں چلے گئے اس وجہ سے انہیں کوئی پکڑ نہ سکا۔ اور اس میں یہ بھی ہے کہ سیدہ صدیقہ کبریٰ رضی اللہ عنہا نے پردہ میں سے ہی فرمایا کہ ہمارے بارے میں بجز میری پاک دامنی کی آیتوں کے اور کوئی آیت نہیں اتری ۔ [صحیح بخاری:4827] ‏

نسائی کی روایت میں ہے کہ اس خطبے سے مقصود یزید کی طرف سے بیعت حاصل کرنا تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فرمان میں یہ بھی ہے کہ مروان اپنے قول میں جھوٹا ہے جس کے بارے میں یہ آیت اتری ہے مجھے بخوبی معلوم ہے لیکن میں اس وقت اسے ظاہر کرنا نہیں چاہتی لیکن ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مروان کے باپ کو ملعون کہا ہے اور مروان اس کی پشت میں تھا، پس یہ اس اللہ تعالیٰ کی لعنت کا بقیہ ہے۔ یہ جہاں اپنے ماں باپ کی بےادبی کرتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی بےادبی سے بھی نہیں چوکتا، مرنے کے بعد کی زندگی کو جھٹلاتا ہے اور اپنے ماں باپ سے کہتا ہے کہ تم مجھے اس دوسری زندگی سے کیا ڈراتے ہو، مجھ سے پہلے سینکڑوں زمانے گزر گئے، لاکھوں کروڑوں انسان مرے، میں تو کسی کو دوبارہ زندہ ہوتے نہیں دیکھا، ان میں سے ایک بھی تو لوٹ کر خبر دینے نہیں آیا۔ ماں باپ بیچارے اس سے تنگ آ کر جناب باری سے اس کی ہدایت چاہتے ہیں، اس بارگاہ میں اپنی فریاد پہنچاتے ہیں اور پھر اس سے کہتے ہیں کہ بدنصیب ابھی کچھ نہیں بگڑا اب بھی مسلمان بن جا لیکن یہ مغرور پھر جواب دیتا ہے کہ جسے تم ماننے کو کہتے ہو، میں تو اسے ایک دیرینہ قصہ سے زیادہ وقعت کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ اپنے جیسے گزشتہ جنات اور انسانوں کے زمرے میں داخل ہو گئے جنہوں نے خود اپنا نقصان بھی کیا اور اپنے والوں کو بھی برباد کیا۔

صفحہ نمبر8459

اللہ تعالیٰ کے فرمان میں یہاں لفظ «اولئک» ہے حالانکہ اس سے پہلے لفظ «والذی» ہے اس سے بھی ہماری تفسیر کی پوری تائید ہوتی ہے کہ مراد اس سے عام ہے جو بھی ایسا ہو یعنی ماں باپ کا بے ادب اور قیامت کا منکر اس کے لیے یہی حکم ہے چنانچہ حسن اور قتادہ رحمہا اللہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد کافر فاجر، ماں باپ کا نافرمان اور مر کر جی اٹھنے کا منکر ہے۔ [ضعیف] ‏

ابن عساکر کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ چار شخصوں پر اللہ عزوجل نے اپنے عرش پر سے لعنت کی ہے اور اس پر فرشتوں نے آمین کہی ہے جو کسی مسکین کو بہکائے اور کہے کہ آؤ تجھے کچھ دوں گا اور جب وہ آئے تو کہہ دے کہ میرے پاس تو کچھ نہیں اور جو «ماعون» سے کہے سب حاضر ہے حالانکہ اس کے آگے کچھ نہ ہو۔ اور وہ لوگ جو کسی کو اس کے اس سوال کے جواب میں فلاں کا مکان کون سا ہے؟ کسی دوسرے کا مکان بتا دیں اور وہ جو اپنے ماں باپ کو مارے یہاں تک کہ تنگ آ جائیں اور چیخ و پکار کرنے لگیں۔

صفحہ نمبر8460

اس دنیا کے طالب آخرت سے محروم ہوں گے ٭٭

چونکہ اوپر ان لوگوں کا حال بیان ہوا تھا جو اپنے ماں باپ کے حق میں نیک دعائیں کرتے ہیں اور ان کی خدمتیں کرتے رہتے ہیں اور ساتھ ہی ان کے اخروی درجات کا اور وہاں نجات پانے اور اپنے رب کی نعمتوں سے مالا مال ہونے کا ذکر ہوا تھا۔ اس لیے اس کے بعد ان بدبختوں کا بیان ہو رہا ہے جو اپنے ماں باپ کے نافرمان ہیں انہیں باتیں سناتے ہیں۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے حق میں نازل ہوئی ہے جیسے کہ عوفی بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جس کی صحت میں بھی کلام ہے اور جو قول نہایت کمزور ہے اس لیے کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما تو مسلمان ہو گئے تھے اور بہت اچھے اسلام والوں میں سے تھے بلکہ اپنے زمانے کے بہترین لوگوں میں سے تھے بعض اور مفسرین کا بھی یہ قول ہے لیکن ٹھیک یہی ہے کہ یہ آیت عام ہے۔

صفحہ نمبر8457

ابن ابی حاتم میں ہے کہ مروان نے اپنے خطبہ میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے امیر المؤمنین کو یزید کے بارے میں ایک اچھی رائے سمجھائی ہے اگر وہ انہیں اپنے بعد بطور خلیفہ کے نامزد کر جائیں تو سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے بھی تو اپنے بعد خلیفہ مقرر کیا ہے اس پر سیدنا عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما بول اٹھے کہ کیا ہرقل کے دستور پر اور نصرانیوں کے قانون پر عمل کرنا چاہتے ہو؟ قسم ہے اللہ کی نہ تو خلیفہ اول نے اپنی اولاد میں سے کسی کو خلافت کے لیے منتخب کیا، نہ اپنے کنبے قبیلے والوں سے کسی کو نامزد کیا اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے جو اسے کیا وہ صرف ان کی عزت افزائی اور ان کے بچوں پر رحم کھا کر کیا، یہ سن کر مروان کہنے لگا کہ تو وہی نہیں جس نے اپنے والدین کو اف کہا تھا؟ تو سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تو ایک ملعون شخص کی اولاد میں سے نہیں؟ تیرے باپ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی تھی۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ سن کر مروان سے کہا تو نے عبدالرحمٰن سے جو کہا وہ بالکل جھوٹ ہے وہ آیت ان کے بارے میں نہیں بلکہ وہ فلاں بن فلاں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پھر مروان جلدی ہی منبر سے اتر کر آپ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے دروازے پر آیا اور کچھ باتیں کر کے لوٹ گیا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:18572:حسن] ‏

صفحہ نمبر8458

بخاری میں یہ حدیث دوسری سند سے اور الفاظ کے ساتھ ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی طرف سے مروان حجاز کا امیر بنایا گیا تھا، اس میں یہ بھی ہے کہ مروان نے سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو گرفتار کر لینے کا حکم اپنے سپاہیوں کو دیا لیکن یہ دوڑ کر اپنی ہمشیرہ صاحبہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں چلے گئے اس وجہ سے انہیں کوئی پکڑ نہ سکا۔ اور اس میں یہ بھی ہے کہ سیدہ صدیقہ کبریٰ رضی اللہ عنہا نے پردہ میں سے ہی فرمایا کہ ہمارے بارے میں بجز میری پاک دامنی کی آیتوں کے اور کوئی آیت نہیں اتری ۔ [صحیح بخاری:4827] ‏

نسائی کی روایت میں ہے کہ اس خطبے سے مقصود یزید کی طرف سے بیعت حاصل کرنا تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فرمان میں یہ بھی ہے کہ مروان اپنے قول میں جھوٹا ہے جس کے بارے میں یہ آیت اتری ہے مجھے بخوبی معلوم ہے لیکن میں اس وقت اسے ظاہر کرنا نہیں چاہتی لیکن ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مروان کے باپ کو ملعون کہا ہے اور مروان اس کی پشت میں تھا، پس یہ اس اللہ تعالیٰ کی لعنت کا بقیہ ہے۔ یہ جہاں اپنے ماں باپ کی بےادبی کرتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی بےادبی سے بھی نہیں چوکتا، مرنے کے بعد کی زندگی کو جھٹلاتا ہے اور اپنے ماں باپ سے کہتا ہے کہ تم مجھے اس دوسری زندگی سے کیا ڈراتے ہو، مجھ سے پہلے سینکڑوں زمانے گزر گئے، لاکھوں کروڑوں انسان مرے، میں تو کسی کو دوبارہ زندہ ہوتے نہیں دیکھا، ان میں سے ایک بھی تو لوٹ کر خبر دینے نہیں آیا۔ ماں باپ بیچارے اس سے تنگ آ کر جناب باری سے اس کی ہدایت چاہتے ہیں، اس بارگاہ میں اپنی فریاد پہنچاتے ہیں اور پھر اس سے کہتے ہیں کہ بدنصیب ابھی کچھ نہیں بگڑا اب بھی مسلمان بن جا لیکن یہ مغرور پھر جواب دیتا ہے کہ جسے تم ماننے کو کہتے ہو، میں تو اسے ایک دیرینہ قصہ سے زیادہ وقعت کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ اپنے جیسے گزشتہ جنات اور انسانوں کے زمرے میں داخل ہو گئے جنہوں نے خود اپنا نقصان بھی کیا اور اپنے والوں کو بھی برباد کیا۔

صفحہ نمبر8459

اللہ تعالیٰ کے فرمان میں یہاں لفظ «اولئک» ہے حالانکہ اس سے پہلے لفظ «والذی» ہے اس سے بھی ہماری تفسیر کی پوری تائید ہوتی ہے کہ مراد اس سے عام ہے جو بھی ایسا ہو یعنی ماں باپ کا بے ادب اور قیامت کا منکر اس کے لیے یہی حکم ہے چنانچہ حسن اور قتادہ رحمہا اللہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد کافر فاجر، ماں باپ کا نافرمان اور مر کر جی اٹھنے کا منکر ہے۔ [ضعیف] ‏

ابن عساکر کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ چار شخصوں پر اللہ عزوجل نے اپنے عرش پر سے لعنت کی ہے اور اس پر فرشتوں نے آمین کہی ہے جو کسی مسکین کو بہکائے اور کہے کہ آؤ تجھے کچھ دوں گا اور جب وہ آئے تو کہہ دے کہ میرے پاس تو کچھ نہیں اور جو «ماعون» سے کہے سب حاضر ہے حالانکہ اس کے آگے کچھ نہ ہو۔ اور وہ لوگ جو کسی کو اس کے اس سوال کے جواب میں فلاں کا مکان کون سا ہے؟ کسی دوسرے کا مکان بتا دیں اور وہ جو اپنے ماں باپ کو مارے یہاں تک کہ تنگ آ جائیں اور چیخ و پکار کرنے لگیں۔

صفحہ نمبر8460

باب

پھر فرماتا ہے ہر ایک کے لیے اس کی برائی کے مطابق سزا ہے، اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بلکہ اس سے بھی کم کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں جہنم کے درجے نیچے ہیں اور جنت کے درجے اونچے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:288/11] ‏

پھر فرماتا ہے کہ جب جہنمی جہنم پر لا کھڑے کئے جائیں گے انہیں بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ تم اپنی نیکیاں دنیا میں ہی وصول کر چکے ان سے فائدہ وہیں اٹھا لیا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بہت زیادہ مرغوب اور لطیف غذا سے اسی آیت کو پیش نظر رکھ کر اجتناب کر لیا تھا اور فرماتے تھے مجھے خوف ہے کہیں میں بھی ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤں جنہیں اللہ تعالیٰ ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ یہ فرمائے گا۔ ابو مجلز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو دنیا میں کی ہوئی اپنی نیکیاں قیامت کے دن گم پائیں گے اور ان سے یہی کہا جائے گا۔ پھر فرماتا ہے آج انہیں ذلت کے عذابوں کی سزا دی جائے گی ان کے تکبر اور ان کے فسق کی وجہ سے۔ جیسا عمل ویسا ہی بدلہ ملا۔ دنیا میں یہ ناز و نعمت سے اپنی جانوں کو پالنے والے اور نخوت و بڑائی سے اتباع حق کو چھوڑنے والے اور برائیوں اور نافرمانیوں میں ہمہ تن مشغول رہنے والے تھے، تو آج قیامت کے دن انہیں اہانت اور رسوائی والے عذاب اور سخت درد ناک سزائیں اور ہائے وائے اور افسوس و حسرت کے ساتھ جہنم کے نیچے کے طبقوں میں جگہ ملے گی اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں ان سب باتوں سے محفوظ رکھے۔

صفحہ نمبر8462

باب

پھر فرماتا ہے ہر ایک کے لیے اس کی برائی کے مطابق سزا ہے، اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بلکہ اس سے بھی کم کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں جہنم کے درجے نیچے ہیں اور جنت کے درجے اونچے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:288/11] ‏

پھر فرماتا ہے کہ جب جہنمی جہنم پر لا کھڑے کئے جائیں گے انہیں بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ تم اپنی نیکیاں دنیا میں ہی وصول کر چکے ان سے فائدہ وہیں اٹھا لیا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بہت زیادہ مرغوب اور لطیف غذا سے اسی آیت کو پیش نظر رکھ کر اجتناب کر لیا تھا اور فرماتے تھے مجھے خوف ہے کہیں میں بھی ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤں جنہیں اللہ تعالیٰ ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ یہ فرمائے گا۔ ابو مجلز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو دنیا میں کی ہوئی اپنی نیکیاں قیامت کے دن گم پائیں گے اور ان سے یہی کہا جائے گا۔ پھر فرماتا ہے آج انہیں ذلت کے عذابوں کی سزا دی جائے گی ان کے تکبر اور ان کے فسق کی وجہ سے۔ جیسا عمل ویسا ہی بدلہ ملا۔ دنیا میں یہ ناز و نعمت سے اپنی جانوں کو پالنے والے اور نخوت و بڑائی سے اتباع حق کو چھوڑنے والے اور برائیوں اور نافرمانیوں میں ہمہ تن مشغول رہنے والے تھے، تو آج قیامت کے دن انہیں اہانت اور رسوائی والے عذاب اور سخت درد ناک سزائیں اور ہائے وائے اور افسوس و حسرت کے ساتھ جہنم کے نیچے کے طبقوں میں جگہ ملے گی اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں ان سب باتوں سے محفوظ رکھے۔

صفحہ نمبر8462

قوم عاد کی تباہی کے اسباب ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے تو آپ اگلے انبیاء کے واقعات یاد کر لیجئے کہ ان کی قوم نے بھی ان کی تکذیب کی عادیوں کے بھائی سے مراد ہود پیغمبر ہیں علیہ السلام والصلوۃ۔ انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے عاد اولیٰ کی طرف بھیجا تھا جو «احقاف» میں رہتے تھے «احقاف» جمع ہے «حقف» کی اور «حقف» کہتے ہیں ریت کے پہاڑ کو۔ مطلق پہاڑ اور غار اور حضر موت کی وادی جس کا نام برہوت ہے جہاں کفار کی روحیں ڈالی جاتی ہیں یہ مطلب بھی «احقاف» کا بیان کیا گیا ہے قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ یمن میں سمندر کے کنارے ریت کے ٹیلوں میں ایک جگہ تھی جس کا نام شحر تھا یہاں یہ لوگ آباد تھے، [تفسیر ابن جریر الطبری:291/11] ‏

امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے کہ جب دعا مانگے تو اپنے نفس سے شروع کرے اس میں ایک حدیث لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہم پر اور عادیوں کے بھائی پر رحم کرے“ ۔ [سنن ابن ماجہ:3852،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

پھر فرماتا ہے کہ اللہ عزوجل نے ان کے اردگرد کے شہروں میں بھی اپنے رسول علیہم السلام مبعوث فرمائے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَجَــعَلْنٰھَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ» ۔ [2-البقرة:66] ‏

اور جیسے اللہ جل وعلا کا فرمان ہے «فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِّثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ إِذْ جَاءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّـهَ قَالُوا لَوْ شَاءَ رَبُّنَا لَأَنزَلَ مَلَائِكَةً فَإِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ كَافِرُونَ» ۔ [41-فصلت:14،13] ‏

صفحہ نمبر8464

پھر فرماتا ہے کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم موحد بن جاؤ ورنہ تمہیں اس بڑے بھاری دن میں عذاب ہو گا۔ جس پر قوم نے کہا: کیا تو ہمیں ہمارے معبودوں سے روک رہا ہے؟ جا جس عذاب سے تو ہمیں ڈرا رہا ہے وہ لے آ۔ یہ تو اپنے ذہن میں اسے محال جانتے تھے تو جرات کر کے جلد طلب کیا۔

جیسے کہ اور آیت میں ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا» [42-الشورى:18] ‏ یعنی ایمان نہ لانے والے ہمارے عذابوں کے جلد آنے کی خواہش کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں ان کے پیغمبر نے کہا کہ اللہ ہی کو بہتر علم ہے اگر وہ تمہیں اسی لائق جانے گا تو تم پر عذاب بھیج دے گا۔ میرا منصب تو صرف اتنا ہی ہے کہ میں اپنے رب کی رسالت تمہیں پہنچا دوں لیکن میں جانتا ہوں کہ تم بالکل بےعقل اور بیوقوف لوگ ہو، اب اللہ کا عذاب آ گیا انہوں نے دیکھا کہ ایک کالا ابر ان کی طرف بڑھتا چلا آ رہا ہے چونکہ خشک سالی تھی، گرمی سخت تھی، یہ خوشیاں منانے لگے کہ اچھا ہوا ابر چڑھا ہے اور اسی طرف رخ ہے، اب بارش برسے گی۔ دراصل ابر کی صورت میں یہ وہ قہر الٰہی تھا جس کے آنے کی وہ جلدی مچا رہے تھے، اس میں وہ عذاب تھا، جسے ہود علیہ السلام سے یہ طلب کر رہے تھے وہ عذاب ان کی بستیوں کی تمام ان چیزوں کو بھی جن کی بربادی ہونے والی تھی تہس نہس کرتا ہوا آیا اور اسی کا اسے حکم تھا۔

جیسے اور آیت میں ہے «مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ اَتَتْ عَلَيْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيْمِ» [51-الذاريات:42] ‏ یعنی جس چیز پر وہ گزر جاتی تھی اسے چورا چورا کر دیتی تھی، پس سب کے سب ہلاک و تباہ ہو گئے ایک بھی نہ بچ سکا۔

پھر فرماتا ہے ہم اسی طرح ان کا فیصلہ کرتے ہیں جو ہمارے رسولوں کو جھٹلائیں اور ہمارے احکام کی خلاف ورزی کریں ایک بہت ہی غریب حدیث میں ان کا جو قصہ آیا ہے وہ بھی سن لیجئے۔

صفحہ نمبر8465

سیدنا حارث بکری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں سیدنا علا بن حضرمی رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا رہا تھا۔ ربذہ میں مجھے بنو تمیم کی ایک بڑھیا ملی جس کے پاس سواری وغیرہ نہ تھی، مجھ سے کہنے لگی، اے اللہ کے بندے! میرا ایک کام اللہ کے رسول سے ہے، کیا تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دے گا؟ میں نے اقرار کیا اور انہیں اپنی سواری پر بٹھا لیا اور مدینہ شریف پہنچا میں نے دیکھا کہ مسجد نبوی لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہے، سیاہ رنگ جھنڈا لہرا رہا ہے اور بلال تلوار لٹکائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہیں میں نے دریافت کیا کہ کیا بات ہے؟ تو لوگوں نے مجھ سے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو کسی طرف بھیجنا چاہتے ہیں میں ایک طرف بیٹھ گیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل یا اپنے خیمے میں تشریف لے گئے تو میں بھی گیا اجازت طلب کی اور اجازت ملنے پر آپ کی خدمت میں باریاب ہوا۔ سلام علیک کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے اور بنو تمیم کے درمیان کچھ رنجش تھی؟ میں نے کہا: ہاں اور ہم ان پر غالب رہے تھے اور اب میرے اس سفر میں بنو تمیم کی ایک نادار بڑھیا راستے میں مجھے ملی اور یہ خواہش ظاہر کی کہ میں اسے اپنے ساتھ آپ کی خدمت میں پہنچاؤں چنانچہ میں اسے اپنے ساتھ لایا ہوں اور وہ دروازہ پر منتظر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بھی اندر بلا لو“، چنانچہ وہ آ گئیں میں نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر آپ ہم میں اور بنو تمیم میں کوئی روک کر سکتے ہیں تو اسے کر دیجئیے، اس پر بڑھیا کو حمیت لاحق ہوئی اور وہ بھرائی ہوئی آواز میں بول اٹھی کہ پھر یا رسول اللہ ! آپ کا مضطر کہاں قرار کرے گا؟ میں نے کہا: سبحان اللہ میری تو وہی مثل ہوئی کہ ”اپنے پاؤں میں آپ ہی کلہاڑی ماری“ مجھے کیا خبر تھی کہ یہ میری ہی دشمنی کرے گی؟ ورنہ میں اسے لاتا ہی کیوں؟ اللہ کی پناہ، واللہ! کہیں ایسا نہ ہو کہ میں بھی مثل عادیوں کے قاصد کے ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ عادیوں کے قاصد کا واقعہ کیا ہے؟ باوجود یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس واقعہ سے بہ نسبت میرے بہت زیادہ واقف تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر میں نے وہ قصہ بیان کیا کہ عادیوں کی بستیوں میں جب سخت قحط سالی ہوئی تو انہوں نے اپنا ایک قاصد قیل نامی روانہ کیا، یہ راستے میں معاویہ بن بکر کے ہاں آ کر ٹھہرا اور شراب پینے لگا اور اس کی دونوں کنیزوں کا گانا سننے میں جن کا نام جرادہ تھا اس قدر مشغول ہوا کہ مہینہ بھر تک یہیں پڑا رہا پھر چلا اور جبال مہرہ میں جا کر اس نے دعا کی کہ اللہ تو خوب جانتا ہے میں کسی مریض کی دوا کے لیے یا کسی قیدی کا فدیہ ادا کرنے کے لیے تو آیا نہیں الٰہی عادیوں کو وہ پلا جو تو انہیں پلانے والا ہے۔ چنانچہ چند سیاہ رنگ بادل اٹھے اور ان میں سے ایک آواز آئی کہ ان میں سے جسے تو چاہے پسند کر لے چنانچہ اس نے سخت سیاہ بادل کو پسند کر لیا اسی وقت ان میں سے ایک آواز آئی کہ اسے راکھ اور خاک بنانے والا کر دے تاکہ عادیوں میں سے کوئی باقی نہ رہے۔ کہا اور مجھے جہاں تک علم ہوا ہے یہی ہے کہ ہواؤں کے مخزن میں سے صرف پہلے ہی سوراخ سے ہوا چھوڑی گئی تھی جیسے میری اس انگوٹھی کا حلقہ اسی سے سب ہلاک ہو گئے۔ ابووائل کہتے ہیں یہ بالکل ٹھیک نقل ہے عرب میں دستور تھا کہ جب کسی قاصد کو بھیجتے تو کہہ دیتے کہ عادیوں کے قاصد کی طرح نہ کرنا ۔ [مسند احمد:482/3:حسن] ‏ یہ روایت ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔

صفحہ نمبر8466

جیسے کہ سورۃ الاعراف کی تفسیر میں گزرا مسند احمد میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کھل کھلا کر اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کے مسوڑھے نظر آئیں۔ آپ صرف تبسم فرمایا کرتے تھے اور جب ابر اٹھتا اور آندھی چلتی تو آپ کے چہرے سے فکر کے آثار نمودار ہو جاتے۔ چنانچہ ایک روز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! لوگ تو ابروباد کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ اب بارش برسے گی لیکن آپ کی اس کے بالکل برعکس حالت ہو جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ میں اس بات سے کہ کہیں اس میں عذاب ہو کیسے مطمئن ہو جاؤں؟ ایک قوم ہوا ہی سے ہلاک کی گئی ایک قوم نے عذاب کے بادل کو دیکھ کہا تھا کہ یہ ابر ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔‏“ صحیح بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے ۔ [صحیح بخاری:4828] ‏

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی آسمان کے کسی کنارے سے ابر اٹھتا ہوا دیکھتے تو اپنے تمام کام چھوڑ دیتے اگرچہ نماز میں ہوں اور یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَآ فِیہ» اللہ میں تجھ سے اس برائی سے پناہ چاہتا ہوں جو اس میں ہے، پس اگر یہ کھل جاتا تو اللہ عزوجل کی حمد کرتے اور اگر برس جاتا تو یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ صَیِّباً نَّافِعًا» اے اللہ! اسے نفع دینے والا اور برسنے والا بنا دے ۔ [مسند احمد:190/6:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8467

صحیح مسلم میں روایت ہے کہ جب ہوائیں چلتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرِهَا وَخَيْرِ مَا فِیھَا وَخَيْرَ مآ اَرسَلتَ بِہِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرّ مَآ فِیھَا وَشَرِ مَآ اَرسَلتَ بِہِ» یا اللہ! میں تجھ سے اس کی اور اس میں جو ہے اس کی اور جس کو یہ ساتھ لے کر آئی ہے اس کی بھلائی طلب کرتا ہوں اور تجھ سے اس کی اور اس میں جو ہے اس کی اور جس چیز کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے اس کی برائی سے پناہ چاہتا ہوں۔ اور جب ابر اٹھتا تو آپ کا رنگ متغیر ہو جاتا، کبھی اندر، کبھی باہر آتے کبھی جاتے۔ جب بارش ہو جاتی تو آپ کی یہ فکرمندی دور ہو جاتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے سمجھ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ عائشہ خوف اس بات کا ہوتا ہے کہ کہیں یہ اسی طرح نہ ہو جس طرح قوم ہود نے اپنی طرف بادل بڑھتا دیکھ کر خوشی سے کہا تھا کہ یہ ابر ہمیں سیراب کرے گا ۔ [صحیح مسلم:899,15] ‏

سورۃ الاعراف میں عادیوں کی ہلاکت کا اور ہود کا پورا واقعہ گزر چکا ہے اس لیے ہم اسے یہاں نہیں دوہراتے «فللہ الحمد والمنہ» طبرانی کی مرفوع حدیث میں ہے کہ عادیوں پر اتنی ہی ہوا کھولی گئی تھی جتنا انگوٹھی کا حلقہ ہوتا ہے، یہ ہوا پہلے دیہات والوں اور بادیہ نشینوں پر آئی وہاں سے شہری لوگوں پر آئی جسے دیکھ کر یہ کہنے لگے کہ یہ ابر جو ہماری طرف بڑھا چلا آ رہا ہے یہ ضرور ہم پر بارش برسائے گا لیکن اس میں جنگلی لوگ تھے جو ان شہریوں پر گرا دئیے گئے اور سب ہلاک ہو گئے، ہوا کے خزانچیوں پر ہوا کی سرکشی اس وقت اتنی تھی کہ دروازوں کے سوراخوں سے وہ نکلی جا رہی تھی ۔ [طبرانی کبیر:12416:ضعیف] ‏ «واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم»

صفحہ نمبر8468

قوم عاد کی تباہی کے اسباب ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے تو آپ اگلے انبیاء کے واقعات یاد کر لیجئے کہ ان کی قوم نے بھی ان کی تکذیب کی عادیوں کے بھائی سے مراد ہود پیغمبر ہیں علیہ السلام والصلوۃ۔ انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے عاد اولیٰ کی طرف بھیجا تھا جو «احقاف» میں رہتے تھے «احقاف» جمع ہے «حقف» کی اور «حقف» کہتے ہیں ریت کے پہاڑ کو۔ مطلق پہاڑ اور غار اور حضر موت کی وادی جس کا نام برہوت ہے جہاں کفار کی روحیں ڈالی جاتی ہیں یہ مطلب بھی «احقاف» کا بیان کیا گیا ہے قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ یمن میں سمندر کے کنارے ریت کے ٹیلوں میں ایک جگہ تھی جس کا نام شحر تھا یہاں یہ لوگ آباد تھے، [تفسیر ابن جریر الطبری:291/11] ‏

امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے کہ جب دعا مانگے تو اپنے نفس سے شروع کرے اس میں ایک حدیث لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہم پر اور عادیوں کے بھائی پر رحم کرے“ ۔ [سنن ابن ماجہ:3852،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

پھر فرماتا ہے کہ اللہ عزوجل نے ان کے اردگرد کے شہروں میں بھی اپنے رسول علیہم السلام مبعوث فرمائے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَجَــعَلْنٰھَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ» ۔ [2-البقرة:66] ‏

اور جیسے اللہ جل وعلا کا فرمان ہے «فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِّثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ إِذْ جَاءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّـهَ قَالُوا لَوْ شَاءَ رَبُّنَا لَأَنزَلَ مَلَائِكَةً فَإِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ كَافِرُونَ» ۔ [41-فصلت:14،13] ‏

صفحہ نمبر8464

پھر فرماتا ہے کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم موحد بن جاؤ ورنہ تمہیں اس بڑے بھاری دن میں عذاب ہو گا۔ جس پر قوم نے کہا: کیا تو ہمیں ہمارے معبودوں سے روک رہا ہے؟ جا جس عذاب سے تو ہمیں ڈرا رہا ہے وہ لے آ۔ یہ تو اپنے ذہن میں اسے محال جانتے تھے تو جرات کر کے جلد طلب کیا۔

جیسے کہ اور آیت میں ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا» [42-الشورى:18] ‏ یعنی ایمان نہ لانے والے ہمارے عذابوں کے جلد آنے کی خواہش کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں ان کے پیغمبر نے کہا کہ اللہ ہی کو بہتر علم ہے اگر وہ تمہیں اسی لائق جانے گا تو تم پر عذاب بھیج دے گا۔ میرا منصب تو صرف اتنا ہی ہے کہ میں اپنے رب کی رسالت تمہیں پہنچا دوں لیکن میں جانتا ہوں کہ تم بالکل بےعقل اور بیوقوف لوگ ہو، اب اللہ کا عذاب آ گیا انہوں نے دیکھا کہ ایک کالا ابر ان کی طرف بڑھتا چلا آ رہا ہے چونکہ خشک سالی تھی، گرمی سخت تھی، یہ خوشیاں منانے لگے کہ اچھا ہوا ابر چڑھا ہے اور اسی طرف رخ ہے، اب بارش برسے گی۔ دراصل ابر کی صورت میں یہ وہ قہر الٰہی تھا جس کے آنے کی وہ جلدی مچا رہے تھے، اس میں وہ عذاب تھا، جسے ہود علیہ السلام سے یہ طلب کر رہے تھے وہ عذاب ان کی بستیوں کی تمام ان چیزوں کو بھی جن کی بربادی ہونے والی تھی تہس نہس کرتا ہوا آیا اور اسی کا اسے حکم تھا۔

جیسے اور آیت میں ہے «مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ اَتَتْ عَلَيْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيْمِ» [51-الذاريات:42] ‏ یعنی جس چیز پر وہ گزر جاتی تھی اسے چورا چورا کر دیتی تھی، پس سب کے سب ہلاک و تباہ ہو گئے ایک بھی نہ بچ سکا۔

پھر فرماتا ہے ہم اسی طرح ان کا فیصلہ کرتے ہیں جو ہمارے رسولوں کو جھٹلائیں اور ہمارے احکام کی خلاف ورزی کریں ایک بہت ہی غریب حدیث میں ان کا جو قصہ آیا ہے وہ بھی سن لیجئے۔

صفحہ نمبر8465

سیدنا حارث بکری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں سیدنا علا بن حضرمی رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا رہا تھا۔ ربذہ میں مجھے بنو تمیم کی ایک بڑھیا ملی جس کے پاس سواری وغیرہ نہ تھی، مجھ سے کہنے لگی، اے اللہ کے بندے! میرا ایک کام اللہ کے رسول سے ہے، کیا تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دے گا؟ میں نے اقرار کیا اور انہیں اپنی سواری پر بٹھا لیا اور مدینہ شریف پہنچا میں نے دیکھا کہ مسجد نبوی لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہے، سیاہ رنگ جھنڈا لہرا رہا ہے اور بلال تلوار لٹکائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہیں میں نے دریافت کیا کہ کیا بات ہے؟ تو لوگوں نے مجھ سے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو کسی طرف بھیجنا چاہتے ہیں میں ایک طرف بیٹھ گیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل یا اپنے خیمے میں تشریف لے گئے تو میں بھی گیا اجازت طلب کی اور اجازت ملنے پر آپ کی خدمت میں باریاب ہوا۔ سلام علیک کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے اور بنو تمیم کے درمیان کچھ رنجش تھی؟ میں نے کہا: ہاں اور ہم ان پر غالب رہے تھے اور اب میرے اس سفر میں بنو تمیم کی ایک نادار بڑھیا راستے میں مجھے ملی اور یہ خواہش ظاہر کی کہ میں اسے اپنے ساتھ آپ کی خدمت میں پہنچاؤں چنانچہ میں اسے اپنے ساتھ لایا ہوں اور وہ دروازہ پر منتظر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بھی اندر بلا لو“، چنانچہ وہ آ گئیں میں نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر آپ ہم میں اور بنو تمیم میں کوئی روک کر سکتے ہیں تو اسے کر دیجئیے، اس پر بڑھیا کو حمیت لاحق ہوئی اور وہ بھرائی ہوئی آواز میں بول اٹھی کہ پھر یا رسول اللہ ! آپ کا مضطر کہاں قرار کرے گا؟ میں نے کہا: سبحان اللہ میری تو وہی مثل ہوئی کہ ”اپنے پاؤں میں آپ ہی کلہاڑی ماری“ مجھے کیا خبر تھی کہ یہ میری ہی دشمنی کرے گی؟ ورنہ میں اسے لاتا ہی کیوں؟ اللہ کی پناہ، واللہ! کہیں ایسا نہ ہو کہ میں بھی مثل عادیوں کے قاصد کے ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ عادیوں کے قاصد کا واقعہ کیا ہے؟ باوجود یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس واقعہ سے بہ نسبت میرے بہت زیادہ واقف تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر میں نے وہ قصہ بیان کیا کہ عادیوں کی بستیوں میں جب سخت قحط سالی ہوئی تو انہوں نے اپنا ایک قاصد قیل نامی روانہ کیا، یہ راستے میں معاویہ بن بکر کے ہاں آ کر ٹھہرا اور شراب پینے لگا اور اس کی دونوں کنیزوں کا گانا سننے میں جن کا نام جرادہ تھا اس قدر مشغول ہوا کہ مہینہ بھر تک یہیں پڑا رہا پھر چلا اور جبال مہرہ میں جا کر اس نے دعا کی کہ اللہ تو خوب جانتا ہے میں کسی مریض کی دوا کے لیے یا کسی قیدی کا فدیہ ادا کرنے کے لیے تو آیا نہیں الٰہی عادیوں کو وہ پلا جو تو انہیں پلانے والا ہے۔ چنانچہ چند سیاہ رنگ بادل اٹھے اور ان میں سے ایک آواز آئی کہ ان میں سے جسے تو چاہے پسند کر لے چنانچہ اس نے سخت سیاہ بادل کو پسند کر لیا اسی وقت ان میں سے ایک آواز آئی کہ اسے راکھ اور خاک بنانے والا کر دے تاکہ عادیوں میں سے کوئی باقی نہ رہے۔ کہا اور مجھے جہاں تک علم ہوا ہے یہی ہے کہ ہواؤں کے مخزن میں سے صرف پہلے ہی سوراخ سے ہوا چھوڑی گئی تھی جیسے میری اس انگوٹھی کا حلقہ اسی سے سب ہلاک ہو گئے۔ ابووائل کہتے ہیں یہ بالکل ٹھیک نقل ہے عرب میں دستور تھا کہ جب کسی قاصد کو بھیجتے تو کہہ دیتے کہ عادیوں کے قاصد کی طرح نہ کرنا ۔ [مسند احمد:482/3:حسن] ‏ یہ روایت ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔

صفحہ نمبر8466

جیسے کہ سورۃ الاعراف کی تفسیر میں گزرا مسند احمد میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کھل کھلا کر اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کے مسوڑھے نظر آئیں۔ آپ صرف تبسم فرمایا کرتے تھے اور جب ابر اٹھتا اور آندھی چلتی تو آپ کے چہرے سے فکر کے آثار نمودار ہو جاتے۔ چنانچہ ایک روز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! لوگ تو ابروباد کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ اب بارش برسے گی لیکن آپ کی اس کے بالکل برعکس حالت ہو جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ میں اس بات سے کہ کہیں اس میں عذاب ہو کیسے مطمئن ہو جاؤں؟ ایک قوم ہوا ہی سے ہلاک کی گئی ایک قوم نے عذاب کے بادل کو دیکھ کہا تھا کہ یہ ابر ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔‏“ صحیح بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے ۔ [صحیح بخاری:4828] ‏

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی آسمان کے کسی کنارے سے ابر اٹھتا ہوا دیکھتے تو اپنے تمام کام چھوڑ دیتے اگرچہ نماز میں ہوں اور یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَآ فِیہ» اللہ میں تجھ سے اس برائی سے پناہ چاہتا ہوں جو اس میں ہے، پس اگر یہ کھل جاتا تو اللہ عزوجل کی حمد کرتے اور اگر برس جاتا تو یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ صَیِّباً نَّافِعًا» اے اللہ! اسے نفع دینے والا اور برسنے والا بنا دے ۔ [مسند احمد:190/6:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8467

صحیح مسلم میں روایت ہے کہ جب ہوائیں چلتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرِهَا وَخَيْرِ مَا فِیھَا وَخَيْرَ مآ اَرسَلتَ بِہِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرّ مَآ فِیھَا وَشَرِ مَآ اَرسَلتَ بِہِ» یا اللہ! میں تجھ سے اس کی اور اس میں جو ہے اس کی اور جس کو یہ ساتھ لے کر آئی ہے اس کی بھلائی طلب کرتا ہوں اور تجھ سے اس کی اور اس میں جو ہے اس کی اور جس چیز کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے اس کی برائی سے پناہ چاہتا ہوں۔ اور جب ابر اٹھتا تو آپ کا رنگ متغیر ہو جاتا، کبھی اندر، کبھی باہر آتے کبھی جاتے۔ جب بارش ہو جاتی تو آپ کی یہ فکرمندی دور ہو جاتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے سمجھ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ عائشہ خوف اس بات کا ہوتا ہے کہ کہیں یہ اسی طرح نہ ہو جس طرح قوم ہود نے اپنی طرف بادل بڑھتا دیکھ کر خوشی سے کہا تھا کہ یہ ابر ہمیں سیراب کرے گا ۔ [صحیح مسلم:899,15] ‏

سورۃ الاعراف میں عادیوں کی ہلاکت کا اور ہود کا پورا واقعہ گزر چکا ہے اس لیے ہم اسے یہاں نہیں دوہراتے «فللہ الحمد والمنہ» طبرانی کی مرفوع حدیث میں ہے کہ عادیوں پر اتنی ہی ہوا کھولی گئی تھی جتنا انگوٹھی کا حلقہ ہوتا ہے، یہ ہوا پہلے دیہات والوں اور بادیہ نشینوں پر آئی وہاں سے شہری لوگوں پر آئی جسے دیکھ کر یہ کہنے لگے کہ یہ ابر جو ہماری طرف بڑھا چلا آ رہا ہے یہ ضرور ہم پر بارش برسائے گا لیکن اس میں جنگلی لوگ تھے جو ان شہریوں پر گرا دئیے گئے اور سب ہلاک ہو گئے، ہوا کے خزانچیوں پر ہوا کی سرکشی اس وقت اتنی تھی کہ دروازوں کے سوراخوں سے وہ نکلی جا رہی تھی ۔ [طبرانی کبیر:12416:ضعیف] ‏ «واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم»

صفحہ نمبر8468

قوم عاد کی تباہی کے اسباب ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے تو آپ اگلے انبیاء کے واقعات یاد کر لیجئے کہ ان کی قوم نے بھی ان کی تکذیب کی عادیوں کے بھائی سے مراد ہود پیغمبر ہیں علیہ السلام والصلوۃ۔ انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے عاد اولیٰ کی طرف بھیجا تھا جو «احقاف» میں رہتے تھے «احقاف» جمع ہے «حقف» کی اور «حقف» کہتے ہیں ریت کے پہاڑ کو۔ مطلق پہاڑ اور غار اور حضر موت کی وادی جس کا نام برہوت ہے جہاں کفار کی روحیں ڈالی جاتی ہیں یہ مطلب بھی «احقاف» کا بیان کیا گیا ہے قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ یمن میں سمندر کے کنارے ریت کے ٹیلوں میں ایک جگہ تھی جس کا نام شحر تھا یہاں یہ لوگ آباد تھے، [تفسیر ابن جریر الطبری:291/11] ‏

امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے کہ جب دعا مانگے تو اپنے نفس سے شروع کرے اس میں ایک حدیث لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہم پر اور عادیوں کے بھائی پر رحم کرے“ ۔ [سنن ابن ماجہ:3852،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

پھر فرماتا ہے کہ اللہ عزوجل نے ان کے اردگرد کے شہروں میں بھی اپنے رسول علیہم السلام مبعوث فرمائے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَجَــعَلْنٰھَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ» ۔ [2-البقرة:66] ‏

اور جیسے اللہ جل وعلا کا فرمان ہے «فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِّثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ إِذْ جَاءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّـهَ قَالُوا لَوْ شَاءَ رَبُّنَا لَأَنزَلَ مَلَائِكَةً فَإِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ كَافِرُونَ» ۔ [41-فصلت:14،13] ‏

صفحہ نمبر8464

پھر فرماتا ہے کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم موحد بن جاؤ ورنہ تمہیں اس بڑے بھاری دن میں عذاب ہو گا۔ جس پر قوم نے کہا: کیا تو ہمیں ہمارے معبودوں سے روک رہا ہے؟ جا جس عذاب سے تو ہمیں ڈرا رہا ہے وہ لے آ۔ یہ تو اپنے ذہن میں اسے محال جانتے تھے تو جرات کر کے جلد طلب کیا۔

جیسے کہ اور آیت میں ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا» [42-الشورى:18] ‏ یعنی ایمان نہ لانے والے ہمارے عذابوں کے جلد آنے کی خواہش کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں ان کے پیغمبر نے کہا کہ اللہ ہی کو بہتر علم ہے اگر وہ تمہیں اسی لائق جانے گا تو تم پر عذاب بھیج دے گا۔ میرا منصب تو صرف اتنا ہی ہے کہ میں اپنے رب کی رسالت تمہیں پہنچا دوں لیکن میں جانتا ہوں کہ تم بالکل بےعقل اور بیوقوف لوگ ہو، اب اللہ کا عذاب آ گیا انہوں نے دیکھا کہ ایک کالا ابر ان کی طرف بڑھتا چلا آ رہا ہے چونکہ خشک سالی تھی، گرمی سخت تھی، یہ خوشیاں منانے لگے کہ اچھا ہوا ابر چڑھا ہے اور اسی طرف رخ ہے، اب بارش برسے گی۔ دراصل ابر کی صورت میں یہ وہ قہر الٰہی تھا جس کے آنے کی وہ جلدی مچا رہے تھے، اس میں وہ عذاب تھا، جسے ہود علیہ السلام سے یہ طلب کر رہے تھے وہ عذاب ان کی بستیوں کی تمام ان چیزوں کو بھی جن کی بربادی ہونے والی تھی تہس نہس کرتا ہوا آیا اور اسی کا اسے حکم تھا۔

جیسے اور آیت میں ہے «مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ اَتَتْ عَلَيْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيْمِ» [51-الذاريات:42] ‏ یعنی جس چیز پر وہ گزر جاتی تھی اسے چورا چورا کر دیتی تھی، پس سب کے سب ہلاک و تباہ ہو گئے ایک بھی نہ بچ سکا۔

پھر فرماتا ہے ہم اسی طرح ان کا فیصلہ کرتے ہیں جو ہمارے رسولوں کو جھٹلائیں اور ہمارے احکام کی خلاف ورزی کریں ایک بہت ہی غریب حدیث میں ان کا جو قصہ آیا ہے وہ بھی سن لیجئے۔

صفحہ نمبر8465

سیدنا حارث بکری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں سیدنا علا بن حضرمی رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا رہا تھا۔ ربذہ میں مجھے بنو تمیم کی ایک بڑھیا ملی جس کے پاس سواری وغیرہ نہ تھی، مجھ سے کہنے لگی، اے اللہ کے بندے! میرا ایک کام اللہ کے رسول سے ہے، کیا تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دے گا؟ میں نے اقرار کیا اور انہیں اپنی سواری پر بٹھا لیا اور مدینہ شریف پہنچا میں نے دیکھا کہ مسجد نبوی لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہے، سیاہ رنگ جھنڈا لہرا رہا ہے اور بلال تلوار لٹکائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہیں میں نے دریافت کیا کہ کیا بات ہے؟ تو لوگوں نے مجھ سے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو کسی طرف بھیجنا چاہتے ہیں میں ایک طرف بیٹھ گیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل یا اپنے خیمے میں تشریف لے گئے تو میں بھی گیا اجازت طلب کی اور اجازت ملنے پر آپ کی خدمت میں باریاب ہوا۔ سلام علیک کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے اور بنو تمیم کے درمیان کچھ رنجش تھی؟ میں نے کہا: ہاں اور ہم ان پر غالب رہے تھے اور اب میرے اس سفر میں بنو تمیم کی ایک نادار بڑھیا راستے میں مجھے ملی اور یہ خواہش ظاہر کی کہ میں اسے اپنے ساتھ آپ کی خدمت میں پہنچاؤں چنانچہ میں اسے اپنے ساتھ لایا ہوں اور وہ دروازہ پر منتظر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بھی اندر بلا لو“، چنانچہ وہ آ گئیں میں نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر آپ ہم میں اور بنو تمیم میں کوئی روک کر سکتے ہیں تو اسے کر دیجئیے، اس پر بڑھیا کو حمیت لاحق ہوئی اور وہ بھرائی ہوئی آواز میں بول اٹھی کہ پھر یا رسول اللہ ! آپ کا مضطر کہاں قرار کرے گا؟ میں نے کہا: سبحان اللہ میری تو وہی مثل ہوئی کہ ”اپنے پاؤں میں آپ ہی کلہاڑی ماری“ مجھے کیا خبر تھی کہ یہ میری ہی دشمنی کرے گی؟ ورنہ میں اسے لاتا ہی کیوں؟ اللہ کی پناہ، واللہ! کہیں ایسا نہ ہو کہ میں بھی مثل عادیوں کے قاصد کے ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ عادیوں کے قاصد کا واقعہ کیا ہے؟ باوجود یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس واقعہ سے بہ نسبت میرے بہت زیادہ واقف تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر میں نے وہ قصہ بیان کیا کہ عادیوں کی بستیوں میں جب سخت قحط سالی ہوئی تو انہوں نے اپنا ایک قاصد قیل نامی روانہ کیا، یہ راستے میں معاویہ بن بکر کے ہاں آ کر ٹھہرا اور شراب پینے لگا اور اس کی دونوں کنیزوں کا گانا سننے میں جن کا نام جرادہ تھا اس قدر مشغول ہوا کہ مہینہ بھر تک یہیں پڑا رہا پھر چلا اور جبال مہرہ میں جا کر اس نے دعا کی کہ اللہ تو خوب جانتا ہے میں کسی مریض کی دوا کے لیے یا کسی قیدی کا فدیہ ادا کرنے کے لیے تو آیا نہیں الٰہی عادیوں کو وہ پلا جو تو انہیں پلانے والا ہے۔ چنانچہ چند سیاہ رنگ بادل اٹھے اور ان میں سے ایک آواز آئی کہ ان میں سے جسے تو چاہے پسند کر لے چنانچہ اس نے سخت سیاہ بادل کو پسند کر لیا اسی وقت ان میں سے ایک آواز آئی کہ اسے راکھ اور خاک بنانے والا کر دے تاکہ عادیوں میں سے کوئی باقی نہ رہے۔ کہا اور مجھے جہاں تک علم ہوا ہے یہی ہے کہ ہواؤں کے مخزن میں سے صرف پہلے ہی سوراخ سے ہوا چھوڑی گئی تھی جیسے میری اس انگوٹھی کا حلقہ اسی سے سب ہلاک ہو گئے۔ ابووائل کہتے ہیں یہ بالکل ٹھیک نقل ہے عرب میں دستور تھا کہ جب کسی قاصد کو بھیجتے تو کہہ دیتے کہ عادیوں کے قاصد کی طرح نہ کرنا ۔ [مسند احمد:482/3:حسن] ‏ یہ روایت ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔

صفحہ نمبر8466

جیسے کہ سورۃ الاعراف کی تفسیر میں گزرا مسند احمد میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کھل کھلا کر اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کے مسوڑھے نظر آئیں۔ آپ صرف تبسم فرمایا کرتے تھے اور جب ابر اٹھتا اور آندھی چلتی تو آپ کے چہرے سے فکر کے آثار نمودار ہو جاتے۔ چنانچہ ایک روز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! لوگ تو ابروباد کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ اب بارش برسے گی لیکن آپ کی اس کے بالکل برعکس حالت ہو جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ میں اس بات سے کہ کہیں اس میں عذاب ہو کیسے مطمئن ہو جاؤں؟ ایک قوم ہوا ہی سے ہلاک کی گئی ایک قوم نے عذاب کے بادل کو دیکھ کہا تھا کہ یہ ابر ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔‏“ صحیح بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے ۔ [صحیح بخاری:4828] ‏

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی آسمان کے کسی کنارے سے ابر اٹھتا ہوا دیکھتے تو اپنے تمام کام چھوڑ دیتے اگرچہ نماز میں ہوں اور یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَآ فِیہ» اللہ میں تجھ سے اس برائی سے پناہ چاہتا ہوں جو اس میں ہے، پس اگر یہ کھل جاتا تو اللہ عزوجل کی حمد کرتے اور اگر برس جاتا تو یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ صَیِّباً نَّافِعًا» اے اللہ! اسے نفع دینے والا اور برسنے والا بنا دے ۔ [مسند احمد:190/6:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8467

صحیح مسلم میں روایت ہے کہ جب ہوائیں چلتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرِهَا وَخَيْرِ مَا فِیھَا وَخَيْرَ مآ اَرسَلتَ بِہِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرّ مَآ فِیھَا وَشَرِ مَآ اَرسَلتَ بِہِ» یا اللہ! میں تجھ سے اس کی اور اس میں جو ہے اس کی اور جس کو یہ ساتھ لے کر آئی ہے اس کی بھلائی طلب کرتا ہوں اور تجھ سے اس کی اور اس میں جو ہے اس کی اور جس چیز کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے اس کی برائی سے پناہ چاہتا ہوں۔ اور جب ابر اٹھتا تو آپ کا رنگ متغیر ہو جاتا، کبھی اندر، کبھی باہر آتے کبھی جاتے۔ جب بارش ہو جاتی تو آپ کی یہ فکرمندی دور ہو جاتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے سمجھ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ عائشہ خوف اس بات کا ہوتا ہے کہ کہیں یہ اسی طرح نہ ہو جس طرح قوم ہود نے اپنی طرف بادل بڑھتا دیکھ کر خوشی سے کہا تھا کہ یہ ابر ہمیں سیراب کرے گا ۔ [صحیح مسلم:899,15] ‏

سورۃ الاعراف میں عادیوں کی ہلاکت کا اور ہود کا پورا واقعہ گزر چکا ہے اس لیے ہم اسے یہاں نہیں دوہراتے «فللہ الحمد والمنہ» طبرانی کی مرفوع حدیث میں ہے کہ عادیوں پر اتنی ہی ہوا کھولی گئی تھی جتنا انگوٹھی کا حلقہ ہوتا ہے، یہ ہوا پہلے دیہات والوں اور بادیہ نشینوں پر آئی وہاں سے شہری لوگوں پر آئی جسے دیکھ کر یہ کہنے لگے کہ یہ ابر جو ہماری طرف بڑھا چلا آ رہا ہے یہ ضرور ہم پر بارش برسائے گا لیکن اس میں جنگلی لوگ تھے جو ان شہریوں پر گرا دئیے گئے اور سب ہلاک ہو گئے، ہوا کے خزانچیوں پر ہوا کی سرکشی اس وقت اتنی تھی کہ دروازوں کے سوراخوں سے وہ نکلی جا رہی تھی ۔ [طبرانی کبیر:12416:ضعیف] ‏ «واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم»

صفحہ نمبر8468

قوم عاد کی تباہی کے اسباب ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے تو آپ اگلے انبیاء کے واقعات یاد کر لیجئے کہ ان کی قوم نے بھی ان کی تکذیب کی عادیوں کے بھائی سے مراد ہود پیغمبر ہیں علیہ السلام والصلوۃ۔ انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے عاد اولیٰ کی طرف بھیجا تھا جو «احقاف» میں رہتے تھے «احقاف» جمع ہے «حقف» کی اور «حقف» کہتے ہیں ریت کے پہاڑ کو۔ مطلق پہاڑ اور غار اور حضر موت کی وادی جس کا نام برہوت ہے جہاں کفار کی روحیں ڈالی جاتی ہیں یہ مطلب بھی «احقاف» کا بیان کیا گیا ہے قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ یمن میں سمندر کے کنارے ریت کے ٹیلوں میں ایک جگہ تھی جس کا نام شحر تھا یہاں یہ لوگ آباد تھے، [تفسیر ابن جریر الطبری:291/11] ‏

امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے کہ جب دعا مانگے تو اپنے نفس سے شروع کرے اس میں ایک حدیث لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہم پر اور عادیوں کے بھائی پر رحم کرے“ ۔ [سنن ابن ماجہ:3852،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

پھر فرماتا ہے کہ اللہ عزوجل نے ان کے اردگرد کے شہروں میں بھی اپنے رسول علیہم السلام مبعوث فرمائے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَجَــعَلْنٰھَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ» ۔ [2-البقرة:66] ‏

اور جیسے اللہ جل وعلا کا فرمان ہے «فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِّثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ إِذْ جَاءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّـهَ قَالُوا لَوْ شَاءَ رَبُّنَا لَأَنزَلَ مَلَائِكَةً فَإِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ كَافِرُونَ» ۔ [41-فصلت:14،13] ‏

صفحہ نمبر8464

پھر فرماتا ہے کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم موحد بن جاؤ ورنہ تمہیں اس بڑے بھاری دن میں عذاب ہو گا۔ جس پر قوم نے کہا: کیا تو ہمیں ہمارے معبودوں سے روک رہا ہے؟ جا جس عذاب سے تو ہمیں ڈرا رہا ہے وہ لے آ۔ یہ تو اپنے ذہن میں اسے محال جانتے تھے تو جرات کر کے جلد طلب کیا۔

جیسے کہ اور آیت میں ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا» [42-الشورى:18] ‏ یعنی ایمان نہ لانے والے ہمارے عذابوں کے جلد آنے کی خواہش کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں ان کے پیغمبر نے کہا کہ اللہ ہی کو بہتر علم ہے اگر وہ تمہیں اسی لائق جانے گا تو تم پر عذاب بھیج دے گا۔ میرا منصب تو صرف اتنا ہی ہے کہ میں اپنے رب کی رسالت تمہیں پہنچا دوں لیکن میں جانتا ہوں کہ تم بالکل بےعقل اور بیوقوف لوگ ہو، اب اللہ کا عذاب آ گیا انہوں نے دیکھا کہ ایک کالا ابر ان کی طرف بڑھتا چلا آ رہا ہے چونکہ خشک سالی تھی، گرمی سخت تھی، یہ خوشیاں منانے لگے کہ اچھا ہوا ابر چڑھا ہے اور اسی طرف رخ ہے، اب بارش برسے گی۔ دراصل ابر کی صورت میں یہ وہ قہر الٰہی تھا جس کے آنے کی وہ جلدی مچا رہے تھے، اس میں وہ عذاب تھا، جسے ہود علیہ السلام سے یہ طلب کر رہے تھے وہ عذاب ان کی بستیوں کی تمام ان چیزوں کو بھی جن کی بربادی ہونے والی تھی تہس نہس کرتا ہوا آیا اور اسی کا اسے حکم تھا۔

جیسے اور آیت میں ہے «مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ اَتَتْ عَلَيْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيْمِ» [51-الذاريات:42] ‏ یعنی جس چیز پر وہ گزر جاتی تھی اسے چورا چورا کر دیتی تھی، پس سب کے سب ہلاک و تباہ ہو گئے ایک بھی نہ بچ سکا۔

پھر فرماتا ہے ہم اسی طرح ان کا فیصلہ کرتے ہیں جو ہمارے رسولوں کو جھٹلائیں اور ہمارے احکام کی خلاف ورزی کریں ایک بہت ہی غریب حدیث میں ان کا جو قصہ آیا ہے وہ بھی سن لیجئے۔

صفحہ نمبر8465

سیدنا حارث بکری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں سیدنا علا بن حضرمی رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا رہا تھا۔ ربذہ میں مجھے بنو تمیم کی ایک بڑھیا ملی جس کے پاس سواری وغیرہ نہ تھی، مجھ سے کہنے لگی، اے اللہ کے بندے! میرا ایک کام اللہ کے رسول سے ہے، کیا تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دے گا؟ میں نے اقرار کیا اور انہیں اپنی سواری پر بٹھا لیا اور مدینہ شریف پہنچا میں نے دیکھا کہ مسجد نبوی لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہے، سیاہ رنگ جھنڈا لہرا رہا ہے اور بلال تلوار لٹکائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہیں میں نے دریافت کیا کہ کیا بات ہے؟ تو لوگوں نے مجھ سے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو کسی طرف بھیجنا چاہتے ہیں میں ایک طرف بیٹھ گیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل یا اپنے خیمے میں تشریف لے گئے تو میں بھی گیا اجازت طلب کی اور اجازت ملنے پر آپ کی خدمت میں باریاب ہوا۔ سلام علیک کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے اور بنو تمیم کے درمیان کچھ رنجش تھی؟ میں نے کہا: ہاں اور ہم ان پر غالب رہے تھے اور اب میرے اس سفر میں بنو تمیم کی ایک نادار بڑھیا راستے میں مجھے ملی اور یہ خواہش ظاہر کی کہ میں اسے اپنے ساتھ آپ کی خدمت میں پہنچاؤں چنانچہ میں اسے اپنے ساتھ لایا ہوں اور وہ دروازہ پر منتظر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بھی اندر بلا لو“، چنانچہ وہ آ گئیں میں نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر آپ ہم میں اور بنو تمیم میں کوئی روک کر سکتے ہیں تو اسے کر دیجئیے، اس پر بڑھیا کو حمیت لاحق ہوئی اور وہ بھرائی ہوئی آواز میں بول اٹھی کہ پھر یا رسول اللہ ! آپ کا مضطر کہاں قرار کرے گا؟ میں نے کہا: سبحان اللہ میری تو وہی مثل ہوئی کہ ”اپنے پاؤں میں آپ ہی کلہاڑی ماری“ مجھے کیا خبر تھی کہ یہ میری ہی دشمنی کرے گی؟ ورنہ میں اسے لاتا ہی کیوں؟ اللہ کی پناہ، واللہ! کہیں ایسا نہ ہو کہ میں بھی مثل عادیوں کے قاصد کے ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ عادیوں کے قاصد کا واقعہ کیا ہے؟ باوجود یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس واقعہ سے بہ نسبت میرے بہت زیادہ واقف تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر میں نے وہ قصہ بیان کیا کہ عادیوں کی بستیوں میں جب سخت قحط سالی ہوئی تو انہوں نے اپنا ایک قاصد قیل نامی روانہ کیا، یہ راستے میں معاویہ بن بکر کے ہاں آ کر ٹھہرا اور شراب پینے لگا اور اس کی دونوں کنیزوں کا گانا سننے میں جن کا نام جرادہ تھا اس قدر مشغول ہوا کہ مہینہ بھر تک یہیں پڑا رہا پھر چلا اور جبال مہرہ میں جا کر اس نے دعا کی کہ اللہ تو خوب جانتا ہے میں کسی مریض کی دوا کے لیے یا کسی قیدی کا فدیہ ادا کرنے کے لیے تو آیا نہیں الٰہی عادیوں کو وہ پلا جو تو انہیں پلانے والا ہے۔ چنانچہ چند سیاہ رنگ بادل اٹھے اور ان میں سے ایک آواز آئی کہ ان میں سے جسے تو چاہے پسند کر لے چنانچہ اس نے سخت سیاہ بادل کو پسند کر لیا اسی وقت ان میں سے ایک آواز آئی کہ اسے راکھ اور خاک بنانے والا کر دے تاکہ عادیوں میں سے کوئی باقی نہ رہے۔ کہا اور مجھے جہاں تک علم ہوا ہے یہی ہے کہ ہواؤں کے مخزن میں سے صرف پہلے ہی سوراخ سے ہوا چھوڑی گئی تھی جیسے میری اس انگوٹھی کا حلقہ اسی سے سب ہلاک ہو گئے۔ ابووائل کہتے ہیں یہ بالکل ٹھیک نقل ہے عرب میں دستور تھا کہ جب کسی قاصد کو بھیجتے تو کہہ دیتے کہ عادیوں کے قاصد کی طرح نہ کرنا ۔ [مسند احمد:482/3:حسن] ‏ یہ روایت ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔

صفحہ نمبر8466

جیسے کہ سورۃ الاعراف کی تفسیر میں گزرا مسند احمد میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کھل کھلا کر اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کے مسوڑھے نظر آئیں۔ آپ صرف تبسم فرمایا کرتے تھے اور جب ابر اٹھتا اور آندھی چلتی تو آپ کے چہرے سے فکر کے آثار نمودار ہو جاتے۔ چنانچہ ایک روز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! لوگ تو ابروباد کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ اب بارش برسے گی لیکن آپ کی اس کے بالکل برعکس حالت ہو جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ میں اس بات سے کہ کہیں اس میں عذاب ہو کیسے مطمئن ہو جاؤں؟ ایک قوم ہوا ہی سے ہلاک کی گئی ایک قوم نے عذاب کے بادل کو دیکھ کہا تھا کہ یہ ابر ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔‏“ صحیح بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے ۔ [صحیح بخاری:4828] ‏

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی آسمان کے کسی کنارے سے ابر اٹھتا ہوا دیکھتے تو اپنے تمام کام چھوڑ دیتے اگرچہ نماز میں ہوں اور یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَآ فِیہ» اللہ میں تجھ سے اس برائی سے پناہ چاہتا ہوں جو اس میں ہے، پس اگر یہ کھل جاتا تو اللہ عزوجل کی حمد کرتے اور اگر برس جاتا تو یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ صَیِّباً نَّافِعًا» اے اللہ! اسے نفع دینے والا اور برسنے والا بنا دے ۔ [مسند احمد:190/6:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8467

صحیح مسلم میں روایت ہے کہ جب ہوائیں چلتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرِهَا وَخَيْرِ مَا فِیھَا وَخَيْرَ مآ اَرسَلتَ بِہِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرّ مَآ فِیھَا وَشَرِ مَآ اَرسَلتَ بِہِ» یا اللہ! میں تجھ سے اس کی اور اس میں جو ہے اس کی اور جس کو یہ ساتھ لے کر آئی ہے اس کی بھلائی طلب کرتا ہوں اور تجھ سے اس کی اور اس میں جو ہے اس کی اور جس چیز کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے اس کی برائی سے پناہ چاہتا ہوں۔ اور جب ابر اٹھتا تو آپ کا رنگ متغیر ہو جاتا، کبھی اندر، کبھی باہر آتے کبھی جاتے۔ جب بارش ہو جاتی تو آپ کی یہ فکرمندی دور ہو جاتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے سمجھ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ عائشہ خوف اس بات کا ہوتا ہے کہ کہیں یہ اسی طرح نہ ہو جس طرح قوم ہود نے اپنی طرف بادل بڑھتا دیکھ کر خوشی سے کہا تھا کہ یہ ابر ہمیں سیراب کرے گا ۔ [صحیح مسلم:899,15] ‏

سورۃ الاعراف میں عادیوں کی ہلاکت کا اور ہود کا پورا واقعہ گزر چکا ہے اس لیے ہم اسے یہاں نہیں دوہراتے «فللہ الحمد والمنہ» طبرانی کی مرفوع حدیث میں ہے کہ عادیوں پر اتنی ہی ہوا کھولی گئی تھی جتنا انگوٹھی کا حلقہ ہوتا ہے، یہ ہوا پہلے دیہات والوں اور بادیہ نشینوں پر آئی وہاں سے شہری لوگوں پر آئی جسے دیکھ کر یہ کہنے لگے کہ یہ ابر جو ہماری طرف بڑھا چلا آ رہا ہے یہ ضرور ہم پر بارش برسائے گا لیکن اس میں جنگلی لوگ تھے جو ان شہریوں پر گرا دئیے گئے اور سب ہلاک ہو گئے، ہوا کے خزانچیوں پر ہوا کی سرکشی اس وقت اتنی تھی کہ دروازوں کے سوراخوں سے وہ نکلی جا رہی تھی ۔ [طبرانی کبیر:12416:ضعیف] ‏ «واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم»

صفحہ نمبر8468

قوم عاد کی تباہی کے اسباب ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے تو آپ اگلے انبیاء کے واقعات یاد کر لیجئے کہ ان کی قوم نے بھی ان کی تکذیب کی عادیوں کے بھائی سے مراد ہود پیغمبر ہیں علیہ السلام والصلوۃ۔ انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے عاد اولیٰ کی طرف بھیجا تھا جو «احقاف» میں رہتے تھے «احقاف» جمع ہے «حقف» کی اور «حقف» کہتے ہیں ریت کے پہاڑ کو۔ مطلق پہاڑ اور غار اور حضر موت کی وادی جس کا نام برہوت ہے جہاں کفار کی روحیں ڈالی جاتی ہیں یہ مطلب بھی «احقاف» کا بیان کیا گیا ہے قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ یمن میں سمندر کے کنارے ریت کے ٹیلوں میں ایک جگہ تھی جس کا نام شحر تھا یہاں یہ لوگ آباد تھے، [تفسیر ابن جریر الطبری:291/11] ‏

امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے کہ جب دعا مانگے تو اپنے نفس سے شروع کرے اس میں ایک حدیث لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہم پر اور عادیوں کے بھائی پر رحم کرے“ ۔ [سنن ابن ماجہ:3852،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

پھر فرماتا ہے کہ اللہ عزوجل نے ان کے اردگرد کے شہروں میں بھی اپنے رسول علیہم السلام مبعوث فرمائے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَجَــعَلْنٰھَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ» ۔ [2-البقرة:66] ‏

اور جیسے اللہ جل وعلا کا فرمان ہے «فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِّثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ إِذْ جَاءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّـهَ قَالُوا لَوْ شَاءَ رَبُّنَا لَأَنزَلَ مَلَائِكَةً فَإِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ كَافِرُونَ» ۔ [41-فصلت:14،13] ‏

صفحہ نمبر8464

پھر فرماتا ہے کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم موحد بن جاؤ ورنہ تمہیں اس بڑے بھاری دن میں عذاب ہو گا۔ جس پر قوم نے کہا: کیا تو ہمیں ہمارے معبودوں سے روک رہا ہے؟ جا جس عذاب سے تو ہمیں ڈرا رہا ہے وہ لے آ۔ یہ تو اپنے ذہن میں اسے محال جانتے تھے تو جرات کر کے جلد طلب کیا۔

جیسے کہ اور آیت میں ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا» [42-الشورى:18] ‏ یعنی ایمان نہ لانے والے ہمارے عذابوں کے جلد آنے کی خواہش کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں ان کے پیغمبر نے کہا کہ اللہ ہی کو بہتر علم ہے اگر وہ تمہیں اسی لائق جانے گا تو تم پر عذاب بھیج دے گا۔ میرا منصب تو صرف اتنا ہی ہے کہ میں اپنے رب کی رسالت تمہیں پہنچا دوں لیکن میں جانتا ہوں کہ تم بالکل بےعقل اور بیوقوف لوگ ہو، اب اللہ کا عذاب آ گیا انہوں نے دیکھا کہ ایک کالا ابر ان کی طرف بڑھتا چلا آ رہا ہے چونکہ خشک سالی تھی، گرمی سخت تھی، یہ خوشیاں منانے لگے کہ اچھا ہوا ابر چڑھا ہے اور اسی طرف رخ ہے، اب بارش برسے گی۔ دراصل ابر کی صورت میں یہ وہ قہر الٰہی تھا جس کے آنے کی وہ جلدی مچا رہے تھے، اس میں وہ عذاب تھا، جسے ہود علیہ السلام سے یہ طلب کر رہے تھے وہ عذاب ان کی بستیوں کی تمام ان چیزوں کو بھی جن کی بربادی ہونے والی تھی تہس نہس کرتا ہوا آیا اور اسی کا اسے حکم تھا۔

جیسے اور آیت میں ہے «مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ اَتَتْ عَلَيْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيْمِ» [51-الذاريات:42] ‏ یعنی جس چیز پر وہ گزر جاتی تھی اسے چورا چورا کر دیتی تھی، پس سب کے سب ہلاک و تباہ ہو گئے ایک بھی نہ بچ سکا۔

پھر فرماتا ہے ہم اسی طرح ان کا فیصلہ کرتے ہیں جو ہمارے رسولوں کو جھٹلائیں اور ہمارے احکام کی خلاف ورزی کریں ایک بہت ہی غریب حدیث میں ان کا جو قصہ آیا ہے وہ بھی سن لیجئے۔

صفحہ نمبر8465

سیدنا حارث بکری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں سیدنا علا بن حضرمی رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا رہا تھا۔ ربذہ میں مجھے بنو تمیم کی ایک بڑھیا ملی جس کے پاس سواری وغیرہ نہ تھی، مجھ سے کہنے لگی، اے اللہ کے بندے! میرا ایک کام اللہ کے رسول سے ہے، کیا تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دے گا؟ میں نے اقرار کیا اور انہیں اپنی سواری پر بٹھا لیا اور مدینہ شریف پہنچا میں نے دیکھا کہ مسجد نبوی لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہے، سیاہ رنگ جھنڈا لہرا رہا ہے اور بلال تلوار لٹکائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہیں میں نے دریافت کیا کہ کیا بات ہے؟ تو لوگوں نے مجھ سے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو کسی طرف بھیجنا چاہتے ہیں میں ایک طرف بیٹھ گیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل یا اپنے خیمے میں تشریف لے گئے تو میں بھی گیا اجازت طلب کی اور اجازت ملنے پر آپ کی خدمت میں باریاب ہوا۔ سلام علیک کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے اور بنو تمیم کے درمیان کچھ رنجش تھی؟ میں نے کہا: ہاں اور ہم ان پر غالب رہے تھے اور اب میرے اس سفر میں بنو تمیم کی ایک نادار بڑھیا راستے میں مجھے ملی اور یہ خواہش ظاہر کی کہ میں اسے اپنے ساتھ آپ کی خدمت میں پہنچاؤں چنانچہ میں اسے اپنے ساتھ لایا ہوں اور وہ دروازہ پر منتظر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بھی اندر بلا لو“، چنانچہ وہ آ گئیں میں نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر آپ ہم میں اور بنو تمیم میں کوئی روک کر سکتے ہیں تو اسے کر دیجئیے، اس پر بڑھیا کو حمیت لاحق ہوئی اور وہ بھرائی ہوئی آواز میں بول اٹھی کہ پھر یا رسول اللہ ! آپ کا مضطر کہاں قرار کرے گا؟ میں نے کہا: سبحان اللہ میری تو وہی مثل ہوئی کہ ”اپنے پاؤں میں آپ ہی کلہاڑی ماری“ مجھے کیا خبر تھی کہ یہ میری ہی دشمنی کرے گی؟ ورنہ میں اسے لاتا ہی کیوں؟ اللہ کی پناہ، واللہ! کہیں ایسا نہ ہو کہ میں بھی مثل عادیوں کے قاصد کے ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ عادیوں کے قاصد کا واقعہ کیا ہے؟ باوجود یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس واقعہ سے بہ نسبت میرے بہت زیادہ واقف تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر میں نے وہ قصہ بیان کیا کہ عادیوں کی بستیوں میں جب سخت قحط سالی ہوئی تو انہوں نے اپنا ایک قاصد قیل نامی روانہ کیا، یہ راستے میں معاویہ بن بکر کے ہاں آ کر ٹھہرا اور شراب پینے لگا اور اس کی دونوں کنیزوں کا گانا سننے میں جن کا نام جرادہ تھا اس قدر مشغول ہوا کہ مہینہ بھر تک یہیں پڑا رہا پھر چلا اور جبال مہرہ میں جا کر اس نے دعا کی کہ اللہ تو خوب جانتا ہے میں کسی مریض کی دوا کے لیے یا کسی قیدی کا فدیہ ادا کرنے کے لیے تو آیا نہیں الٰہی عادیوں کو وہ پلا جو تو انہیں پلانے والا ہے۔ چنانچہ چند سیاہ رنگ بادل اٹھے اور ان میں سے ایک آواز آئی کہ ان میں سے جسے تو چاہے پسند کر لے چنانچہ اس نے سخت سیاہ بادل کو پسند کر لیا اسی وقت ان میں سے ایک آواز آئی کہ اسے راکھ اور خاک بنانے والا کر دے تاکہ عادیوں میں سے کوئی باقی نہ رہے۔ کہا اور مجھے جہاں تک علم ہوا ہے یہی ہے کہ ہواؤں کے مخزن میں سے صرف پہلے ہی سوراخ سے ہوا چھوڑی گئی تھی جیسے میری اس انگوٹھی کا حلقہ اسی سے سب ہلاک ہو گئے۔ ابووائل کہتے ہیں یہ بالکل ٹھیک نقل ہے عرب میں دستور تھا کہ جب کسی قاصد کو بھیجتے تو کہہ دیتے کہ عادیوں کے قاصد کی طرح نہ کرنا ۔ [مسند احمد:482/3:حسن] ‏ یہ روایت ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔

صفحہ نمبر8466

جیسے کہ سورۃ الاعراف کی تفسیر میں گزرا مسند احمد میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کھل کھلا کر اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کے مسوڑھے نظر آئیں۔ آپ صرف تبسم فرمایا کرتے تھے اور جب ابر اٹھتا اور آندھی چلتی تو آپ کے چہرے سے فکر کے آثار نمودار ہو جاتے۔ چنانچہ ایک روز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! لوگ تو ابروباد کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ اب بارش برسے گی لیکن آپ کی اس کے بالکل برعکس حالت ہو جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ میں اس بات سے کہ کہیں اس میں عذاب ہو کیسے مطمئن ہو جاؤں؟ ایک قوم ہوا ہی سے ہلاک کی گئی ایک قوم نے عذاب کے بادل کو دیکھ کہا تھا کہ یہ ابر ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔‏“ صحیح بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے ۔ [صحیح بخاری:4828] ‏

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی آسمان کے کسی کنارے سے ابر اٹھتا ہوا دیکھتے تو اپنے تمام کام چھوڑ دیتے اگرچہ نماز میں ہوں اور یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَآ فِیہ» اللہ میں تجھ سے اس برائی سے پناہ چاہتا ہوں جو اس میں ہے، پس اگر یہ کھل جاتا تو اللہ عزوجل کی حمد کرتے اور اگر برس جاتا تو یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ صَیِّباً نَّافِعًا» اے اللہ! اسے نفع دینے والا اور برسنے والا بنا دے ۔ [مسند احمد:190/6:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8467

صحیح مسلم میں روایت ہے کہ جب ہوائیں چلتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرِهَا وَخَيْرِ مَا فِیھَا وَخَيْرَ مآ اَرسَلتَ بِہِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرّ مَآ فِیھَا وَشَرِ مَآ اَرسَلتَ بِہِ» یا اللہ! میں تجھ سے اس کی اور اس میں جو ہے اس کی اور جس کو یہ ساتھ لے کر آئی ہے اس کی بھلائی طلب کرتا ہوں اور تجھ سے اس کی اور اس میں جو ہے اس کی اور جس چیز کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے اس کی برائی سے پناہ چاہتا ہوں۔ اور جب ابر اٹھتا تو آپ کا رنگ متغیر ہو جاتا، کبھی اندر، کبھی باہر آتے کبھی جاتے۔ جب بارش ہو جاتی تو آپ کی یہ فکرمندی دور ہو جاتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے سمجھ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ عائشہ خوف اس بات کا ہوتا ہے کہ کہیں یہ اسی طرح نہ ہو جس طرح قوم ہود نے اپنی طرف بادل بڑھتا دیکھ کر خوشی سے کہا تھا کہ یہ ابر ہمیں سیراب کرے گا ۔ [صحیح مسلم:899,15] ‏

سورۃ الاعراف میں عادیوں کی ہلاکت کا اور ہود کا پورا واقعہ گزر چکا ہے اس لیے ہم اسے یہاں نہیں دوہراتے «فللہ الحمد والمنہ» طبرانی کی مرفوع حدیث میں ہے کہ عادیوں پر اتنی ہی ہوا کھولی گئی تھی جتنا انگوٹھی کا حلقہ ہوتا ہے، یہ ہوا پہلے دیہات والوں اور بادیہ نشینوں پر آئی وہاں سے شہری لوگوں پر آئی جسے دیکھ کر یہ کہنے لگے کہ یہ ابر جو ہماری طرف بڑھا چلا آ رہا ہے یہ ضرور ہم پر بارش برسائے گا لیکن اس میں جنگلی لوگ تھے جو ان شہریوں پر گرا دئیے گئے اور سب ہلاک ہو گئے، ہوا کے خزانچیوں پر ہوا کی سرکشی اس وقت اتنی تھی کہ دروازوں کے سوراخوں سے وہ نکلی جا رہی تھی ۔ [طبرانی کبیر:12416:ضعیف] ‏ «واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم»

صفحہ نمبر8468

مغضوب شدہ قوموں کی نشاندہی ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ اگلی امتوں کو جو اسباب دنیوی مال و اولاد وغیرہ ہماری طرف سے دئیے گئے تھے ویسے تو تمہیں اب تک مہیا بھی نہیں، ان کے بھی کان آنکھیں اور دل تھے لیکن جس وقت انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور ہمارے عذابوں کا مذاق اڑایا تو بالاخر ان کے ظاہری اسباب انہیں کچھ کام نہ آئے اور وہ سزائیں ان پر برس پڑیں جن کی یہ ہمیشہ ہنسی کرتے رہے تھے۔ پس تمہیں ان کی طرح نہ ہونا چاہیئے ایسا نہ ہو کہ ان کے سے عذاب تم پر بھی آ جائیں اور تم بھی ان کی طرح جڑ سے کاٹ دئیے جاؤ۔

پھر ارشاد ہوتا ہے اے اہل مکہ تم اپنے آس پاس ہی ایک نظر ڈالو اور دیکھو کہ کس قدر قومیں نیست و نابود کر دی گئی ہیں اور کس طرح انہوں نے اپنے کرتوت کے بدلے پائے ہیں احقاف جو یمن کے پاس ہے حضر موت کے علاقہ میں ہے، یہاں کے بسنے والے عادیوں کے انجام پر نظر ڈالو، تمہارے اور شام کے درمیان ثمودیوں کا جو حشر ہوا اسے دیکھو، اہل یمن اور اہل مدین کی قوم سبا کے نتیجہ پر غور کرو، تم تو اکثر غزوات اور تجارت وغیرہ کے لیے وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو، بحیرہ قوم لوط سے عبرت حاصل کرو وہ بھی تمہارے راستے میں ہی پڑتا ہے پھر فرماتا ہے ہم نے اپنی نشانیوں اور آیتوں سے خوب واضح کر دیا ہے تاکہ لوگ برائیوں سے بھلائیوں کی طرف لوٹ آئیں۔

صفحہ نمبر8473

پھر فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا جن جن معبودان باطل کی پرستش شروع کر رکھی تھی گو اس میں ان کا اپنا خیال تھا کہ اس کی وجہ سے ہم قرب الٰہی حاصل کریں گے، لیکن کیا ہمارے عذابوں کے وقت جبکہ ان کو ان کی مدد کی پوری ضرورت تھی انہوں نے ان کی کسی طرح مدد کی؟ ہرگز نہیں، بلکہ ان کی احتیاج اور مصیبت کے وقت وہ گم ہو گئے، ان سے بھاگ گئے، ان کا پتہ بھی نہ چلا الغرض ان کا پوجنا صریح غلطی تھی غرض جھوٹ تھا اور صاف افتراء اور فضول بہتان تھا کہ یہ انہیں معبود سمجھ رہے تھے پس ان کی عبادت کرنے میں اور ان پر اعتماد کرنے میں یہ دھوکے میں اور نقصان میں ہی رہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8474

مغضوب شدہ قوموں کی نشاندہی ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ اگلی امتوں کو جو اسباب دنیوی مال و اولاد وغیرہ ہماری طرف سے دئیے گئے تھے ویسے تو تمہیں اب تک مہیا بھی نہیں، ان کے بھی کان آنکھیں اور دل تھے لیکن جس وقت انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور ہمارے عذابوں کا مذاق اڑایا تو بالاخر ان کے ظاہری اسباب انہیں کچھ کام نہ آئے اور وہ سزائیں ان پر برس پڑیں جن کی یہ ہمیشہ ہنسی کرتے رہے تھے۔ پس تمہیں ان کی طرح نہ ہونا چاہیئے ایسا نہ ہو کہ ان کے سے عذاب تم پر بھی آ جائیں اور تم بھی ان کی طرح جڑ سے کاٹ دئیے جاؤ۔

پھر ارشاد ہوتا ہے اے اہل مکہ تم اپنے آس پاس ہی ایک نظر ڈالو اور دیکھو کہ کس قدر قومیں نیست و نابود کر دی گئی ہیں اور کس طرح انہوں نے اپنے کرتوت کے بدلے پائے ہیں احقاف جو یمن کے پاس ہے حضر موت کے علاقہ میں ہے، یہاں کے بسنے والے عادیوں کے انجام پر نظر ڈالو، تمہارے اور شام کے درمیان ثمودیوں کا جو حشر ہوا اسے دیکھو، اہل یمن اور اہل مدین کی قوم سبا کے نتیجہ پر غور کرو، تم تو اکثر غزوات اور تجارت وغیرہ کے لیے وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو، بحیرہ قوم لوط سے عبرت حاصل کرو وہ بھی تمہارے راستے میں ہی پڑتا ہے پھر فرماتا ہے ہم نے اپنی نشانیوں اور آیتوں سے خوب واضح کر دیا ہے تاکہ لوگ برائیوں سے بھلائیوں کی طرف لوٹ آئیں۔

صفحہ نمبر8473

پھر فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا جن جن معبودان باطل کی پرستش شروع کر رکھی تھی گو اس میں ان کا اپنا خیال تھا کہ اس کی وجہ سے ہم قرب الٰہی حاصل کریں گے، لیکن کیا ہمارے عذابوں کے وقت جبکہ ان کو ان کی مدد کی پوری ضرورت تھی انہوں نے ان کی کسی طرح مدد کی؟ ہرگز نہیں، بلکہ ان کی احتیاج اور مصیبت کے وقت وہ گم ہو گئے، ان سے بھاگ گئے، ان کا پتہ بھی نہ چلا الغرض ان کا پوجنا صریح غلطی تھی غرض جھوٹ تھا اور صاف افتراء اور فضول بہتان تھا کہ یہ انہیں معبود سمجھ رہے تھے پس ان کی عبادت کرنے میں اور ان پر اعتماد کرنے میں یہ دھوکے میں اور نقصان میں ہی رہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8474

مغضوب شدہ قوموں کی نشاندہی ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ اگلی امتوں کو جو اسباب دنیوی مال و اولاد وغیرہ ہماری طرف سے دئیے گئے تھے ویسے تو تمہیں اب تک مہیا بھی نہیں، ان کے بھی کان آنکھیں اور دل تھے لیکن جس وقت انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور ہمارے عذابوں کا مذاق اڑایا تو بالاخر ان کے ظاہری اسباب انہیں کچھ کام نہ آئے اور وہ سزائیں ان پر برس پڑیں جن کی یہ ہمیشہ ہنسی کرتے رہے تھے۔ پس تمہیں ان کی طرح نہ ہونا چاہیئے ایسا نہ ہو کہ ان کے سے عذاب تم پر بھی آ جائیں اور تم بھی ان کی طرح جڑ سے کاٹ دئیے جاؤ۔

پھر ارشاد ہوتا ہے اے اہل مکہ تم اپنے آس پاس ہی ایک نظر ڈالو اور دیکھو کہ کس قدر قومیں نیست و نابود کر دی گئی ہیں اور کس طرح انہوں نے اپنے کرتوت کے بدلے پائے ہیں احقاف جو یمن کے پاس ہے حضر موت کے علاقہ میں ہے، یہاں کے بسنے والے عادیوں کے انجام پر نظر ڈالو، تمہارے اور شام کے درمیان ثمودیوں کا جو حشر ہوا اسے دیکھو، اہل یمن اور اہل مدین کی قوم سبا کے نتیجہ پر غور کرو، تم تو اکثر غزوات اور تجارت وغیرہ کے لیے وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو، بحیرہ قوم لوط سے عبرت حاصل کرو وہ بھی تمہارے راستے میں ہی پڑتا ہے پھر فرماتا ہے ہم نے اپنی نشانیوں اور آیتوں سے خوب واضح کر دیا ہے تاکہ لوگ برائیوں سے بھلائیوں کی طرف لوٹ آئیں۔

صفحہ نمبر8473

پھر فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا جن جن معبودان باطل کی پرستش شروع کر رکھی تھی گو اس میں ان کا اپنا خیال تھا کہ اس کی وجہ سے ہم قرب الٰہی حاصل کریں گے، لیکن کیا ہمارے عذابوں کے وقت جبکہ ان کو ان کی مدد کی پوری ضرورت تھی انہوں نے ان کی کسی طرح مدد کی؟ ہرگز نہیں، بلکہ ان کی احتیاج اور مصیبت کے وقت وہ گم ہو گئے، ان سے بھاگ گئے، ان کا پتہ بھی نہ چلا الغرض ان کا پوجنا صریح غلطی تھی غرض جھوٹ تھا اور صاف افتراء اور فضول بہتان تھا کہ یہ انہیں معبود سمجھ رہے تھے پس ان کی عبادت کرنے میں اور ان پر اعتماد کرنے میں یہ دھوکے میں اور نقصان میں ہی رہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8474

طائف سے واپسی پر جنات نے کلام الہٰی سنا ، شیطان بوکھلایا ٭٭

مسند امام احمد میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ یہ واقعہ نخلہ کا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز عشاء ادا کر رہے تھے، یہ سب جنات سمٹ کر آپ کے اردگرد بھیڑ کی شکل میں کھڑے ہو گئے ۔ [مسند احمد:167/1:حسن] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ یہ جنات «نصیبین» کے تھے تعداد میں سات تھے ۔

صفحہ نمبر8477

کتاب دلائل النبوۃ میں بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنات کو سنانے کی غرض سے قرآن پڑھا تھا، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا، آپ تو اپنے صحابہ کے ساتھ عکاظ کے بازار جا رہے تھے ادھر یہ ہوا تھا شیاطین کے اور آسمانوں کی خبروں کے درمیان روک ہو گئی تھی اور ان پر شعلے برسنے شروع ہو گئے تھے۔ شیاطین نے آ کر اپنی قوم کو یہ خبر دی تو انہوں نے کہا کوئی نہ کوئی نئی بات پیدا ہوئی ہے جاؤ تلاش کرو پس یہ نکل کھڑے ہوئے ان میں کی جو جماعت عرب کی طرف متوجہ ہوئی تھی وہ جب یہاں پہنچی تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوق عکاظ کی طرف جاتے ہوئے نخلہ میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کی نماز پڑھا رہے تھے ان کے کانوں میں جب آپ کی تلاوت کی آواز پہنچی تو یہ ٹھہر گئے اور کان لگا کر بغور سننے لگے اس کے بعد انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ بس یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے تمہارا آسمانوں تک پہنچنا موقوف کر دیا گیا ہے یہاں سے فوراً ہی واپس لوٹ کر اپنی قوم کے پاس پہنچے اور ان سے کہنے لگے «قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا» [72-الجن:1] ‏ ہم نے عجیب قرآن سنا جو نیکی کا رہبر ہے ہم تو اس پر ایمان لا چکے اور اقرار کرتے ہیں کہ اب ناممکن ہے کہ اللہ کے ساتھ ہم کسی اور کو شریک کریں۔ اس واقعہ کی خبر اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ الجن میں دی ، یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:773] ‏

صفحہ نمبر8478

مسند میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنات وحی الٰہی سنا کرتے تھے ایک کلمہ جب ان کے کان میں پڑ جاتا تو وہ اس میں دس ملا لیا کرتے پس وہ ایک تو حق نکلتا باقی سب باطل نکلتے اور اس سے پہلے ان پر تارے پھینکے نہیں جاتے تھے۔ پس جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو ان پر شعلہ باری ہونے لگی، یہ اپنے بیٹھنے کی جگہ پہنچتے اور ان پر شعلہ گرتا اور یہ ٹھہر نہ سکتے انہوں نے آ کر ابلیس سے یہ شکایت کی تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نخلہ کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان نماز پڑھتے ہوئے پایا اور جا کر اسے خبر دی اس نے کہا بس یہی وجہ ہے جو آسمان محفوظ کر دیا گیا اور تمہارا جانا بند ہوا ۔ یہ روایت ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:3324،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

حسن بصری رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے کہ اس واقعہ کی خبر تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آئی تب آپ نے یہ معلوم کیا۔

سیرت ابن اسحاق میں محمد بن کعب کا ایک لمبا بیان منقول ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طائف جانا انہیں اسلام کی دعوت دینا ان کا انکار کرنا وغیرہ پورا واقعہ بیان ہے۔

حسن رحمہ اللہ نے اس دعا کا بھی ذکر کیا ہے جو آپ نے اس تنگی کے وقت کی تھی جو یہ ہے «اللّهُمّ إلَيْك أَشْكُو ضَعْفَ قُوّتِي، وَقِلّةَ حِيلَتِي، وَهَوَانِي عَلَى النّاسِ، يَا أَرْحَمَ الرّاحِمِينَ! أَنْتَ رَبّ الْمُسْتَضْعَفِينَ وَأَنْتَ رَبّي، إلَى مَنْ تَكِلُنِي؟ إلَى بَعِيدٍ يَتَجَهّمُنِي؟ أَمْ إلَى عَدُوّ مَلّكْتَهُ أَمْرِي؟ إنْ لَمْ يَكُنْ بِك عَلَيّ غَضَبٌ فَلَا أُبَالِي، وَلَكِنّ عَافِيَتَك هِيَ أَوْسَعُ لِي، أَعُوذُ بِنُورِ وَجْهِك الّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ الظّلُمَاتُ وَصَلُحَ عَلَيْهِ أَمْرُ الدّنْيَا وَالْآخِرَةِ مِنْ أَنْ تُنْزِلَ بِي غَضَبَك، أَوْ يَحِلّ عَلَيّ سُخْطُكَ، لَك الْعُتْبَى حَتّى تَرْضَى، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوّةَ إلّا بِك» یعنی اپنی کمزوری اور بےسروسامانی اور کسمپرسی کی شکایت صرف تیرے سامنے کرتا ہوں۔ اے ارحم الراحمین! تو دراصل سب سے زیادہ رحم و کرم کرنے والا ہے اور کمزوروں کا رب تو ہی ہے میرا پالنہار بھی تو ہی ہے، تو مجھے کس کو سونپ رہا ہے کسی دوری والے دشمن کو جو مجھے عاجز کر دے یا کسی قرب والے دوست کو جسے تو نے میرے بارے اختیار دے رکھا ہو، اگر تیری کوئی خفگی مجھ پر نہ ہو تو مجھے اس درد دکھ کی کوئی پرواہ نہیں لیکن تاہم اگر تو مجھے عافیت کے ساتھ ہی رکھ تو وہ میرے لیے بہت ہی راحت رساں ہے، میں تیرے چہرے کے اس نور کے باعث جس کی وجہ سے تمام اندھیریاں جگمگا اٹھی ہیں اور دین و دنیا کے تمام امور کی اصلاح کا مدار اسی پر ہے تجھ سے اس بات کی پناہ طلب کرتا ہوں کہ مجھ پر تیرا عتاب اور تیرا غصہ نازل ہو یا تیری ناراضگی مجھ پر آ جائے، مجھے تیری ہی رضا مندی اور خوشنودی درکار ہے اور نیکی کرنے اور بدی سے بچنے کی طاقت تیری ہی مدد سے ہے۔ اسی سفر کی واپسی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نخلہ میں رات گزاری اور اسی رات قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے «نصیبین» کے جنوں نے آپ کو سنا ۔ [سیرۃ ابن ہشام21/2:مرسل] ‏ یہ ہے تو صحیح لیکن اس میں قول تامل طلب ہے اس لیے کہ جنات کا، کلام اللہ سننے کا واقعہ وحی شروع ہونے کے زمانے کا ہے جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اوپر بیان کردہ حدیث سے ثابت ہو رہا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طائف جانا اپنے چچا ابوطالب کے انتقال کے بعد ہوا ہے جو ہجرت کے ایک یا زیادہ سے زیادہ دو سال پہلے کا واقعہ ہے جیسے کہ سیرت ابن اسحاق وغیرہ میں ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن ابی شیبہ میں ان جنات کی گنتی نو کی ہے جن میں سے ایک کا نام زوبعہ ہے۔ انہی کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں [دلائل النبوۃ للبیهقی:228/2:] ‏

پس یہ روایت اور اس سے پہلے کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کا اقتضاء یہ ہے کہ اس مرتبہ جو جن آئے تھے ان کی موجودگی کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم نہ تھا یہ تو آپ کی بے خبری میں ہی آپ کی زبانی قرآن سن کر واپس لوٹ گئے اس کے بعد بطور وفد فوجیں کی فوجیں اور جتھے کے جتھے ان کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جیسے کہ اس ذکر کے احادیث و آثار اپنی جگہ آ رہے ہیں۔ «ان شاءاللہ»

بخاری و مسلم میں ہے عبدالرحمٰن نے مسروق رحمہا اللہ سے پوچھا کہ جس رات جنات نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سنا تھا اس رات کس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا ذکر کیا تھا؟ تو فرمایا مجھ سے تیرے والد سیدنا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا ہے ان کی آگاہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک درخت نے دی تھی ۔ [صحیح بخاری:3859] ‏ تو ممکن ہے کہ یہ خبر پہلی دفعہ کی ہو اور اثبات کو ہم نفی پر مقدم مان لیں۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ جب وہ سن رہے تھے آپ کو تو کوئی خبر نہ تھی یہاں تک کہ اس درخت نے آپ کو ان کے اجتماع کی خبر دی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ اس کے بعد والے کئی واقعات میں سے ایک ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8479

امام حافظ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہلی مرتبہ نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں کو دیکھا نہ خاص ان کے سنانے کے لیے قرآن پڑھا ہاں البتہ اس کے بعد جن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قرآن پڑھ کر سنایا اور اللہ عزوجل کی طرف بلایا جیسے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

اس کی روایتیں سنئے۔ علقمہ رحمہ اللہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہیں کہ کیا تم میں سے کوئی اس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا؟ تو آپ نے جواب دیا کہ کوئی نہ تھا آپ رات بھر ہم سے غائب رہے اور ہمیں رہ رہ کر باربار یہی خیال گزرا کرتا تھا کہ شاید کسی دشمن نے آپ کو دھوکا دے دیا، اللہ نہ کرے آپ کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہو، وہ رات ہماری بڑی بری طرح کٹی، صبح صادق سے کچھ ہی پہلے ہم نے دیکھا کہ آپ غار حرا سے واپس آ رہے ہیں، پس ہم نے رات کی اپنی ساری کیفیت بیان کر دی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جنات کا قاصد آیا تھا جس کے ساتھ جا کر میں نے انہیں قرآن سنایا“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں لے کر گئے اور ان کے نشانات اور ان کی آگ کے نشانات ہمیں دکھائے۔ شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں انہوں نے آپ سے توشہ طلب کیا تو عامر کہتے ہیں یعنی مکے میں اور یہ جن جزیرے کے تھے تو آپ نے فرمایا: ”ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام ذکر کیا گیا ہو وہ تمہارے ہاتھوں میں پہلے سے زیادہ گوشت والی ہو کر پڑے گی، اور لید اور گوبر تمہارے جانوروں کا چارہ بنے گا، پس اے مسلمانو! ان دونوں چیزوں سے استنجاء نہ کرو یہ تمہارے جن بھائیوں کی خوراک ہیں“ ۔ [صحیح مسلم:450-150] ‏

دوسری روایت میں ہے کہ اس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پا کر ہم بہت ہی گھبرائے تھے اور تمام وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کر آئے تھے ۔ [ایضاً] ‏

اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات میں جنات کو قرآن سناتا رہا اور جنوں میں ہی اسی شغل میں رات گزاری“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری31320:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8480

ابن جریر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو چاہے آج کی رات جنات سے دلچسپی لینے والا میرے ساتھ رہے“، پس میں موجود ہو گیا آپ مجھے لے کر چلے جب مکہ شریف کے اونچے حصے میں پہنچے تو آپ نے اپنے پاؤں سے ایک خط کھینچ دیا اور مجھ سے فرمایا: ”بس یہیں بیٹھے رہو“، پھر آپ چلے اور ایک جگہ پر کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرأت شروع کی پھر تو اس قدر جماعت آپ کے اردگرد ٹھٹ لگا کر کھڑی ہو گئی کہ میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت سننے سے بھی رہ گیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ جس طرح ابر کے ٹکڑے پھٹتے ہیں اس طرح وہ ادھر ادھر جانے لگے اور یہاں تک کہ اب بہت تھوڑے باقی رہ گئے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت فارغ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے دور نکل گئے اور حاجت سے فارغ ہو کر میرے پاس تشریف لائے اور پوچھنے لگے ”وہ باقی کے کہاں ہیں؟“ میں نے کہا: وہ یہ ہیں پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہڈی اور لید دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ان دونوں چیزوں سے استنجاء کرنے سے منع فرما دیا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:31319:ضعیف] ‏

اس روایت کی دوسری سند میں ہے کہ جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو بٹھایا تھا وہاں بٹھا کر فرما دیا تھا کہ خبردار یہاں سے نکلنا نہیں ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے ۔

صفحہ نمبر8481

اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت آ کر ان سے دریافت کیا کہ کیا تم سو گئے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں نہیں , اللہ کی قسم! میں نے تو کئی مرتبہ چاہا کہ لوگوں سے فریاد کروں لیکن میں نے سن لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنی لکڑی سے دھمکا رہے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ بیٹھ جاؤ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم یہاں سے باہر نکلتے، تو مجھے خوف تھا کہ ان میں کے بعض تمہیں اچک نہ لے جائیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اچھا تم نے کچھ دیکھا بھی؟ میں نے کہا: ہاں، لوگ تھے سیاہ انجان خوفناک، سفید کپڑے پہنے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ [ «نصیبین» ] ‏ کے جن تھے انہوں نے مجھ سے توشہ طلب کیا تھا پس میں نے ہڈی اور لید، گوبر دیا، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! اس سے انہیں کیا فائدہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ہڈی ان کے ہاتھ لگتے ہی ایسی ہو جائے گی جیسی اس وقت تھی جب کھائی گئی تھی یعنی گوشت والی ہو کر انہیں ملے گی اور لید میں بھی وہی دانے پائیں گے جو اس روز تھے جب وہ دانے کھائے گئے تھے پس ہم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء سے نکل کر ہڈی لید اور گوبر سے استنجاء نہ کرے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:31317،ضعیف] ‏

اس روایت کی دوسری سند میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پندرہ جنات جو آپس میں چچازاد اور پھوپھی زاد بھائی ہیں آج رات مجھ سے قرآن سننے کیلئے آنے والے ہیں۔ اس میں ہڈی اور لید کے ساتھ کوئلے کا لفظ بھی ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دن نکلے میں اسی جگہ گیا تو دیکھا کہ وہ کوئی ساٹھ اونٹ بیٹھنے کی جگہ ہے ۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:231/2:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے کہ جب جنات کا اژدھام ہو گیا تو ان کے سردار نے کہا: یا رسول اللہ ! میں انہیں ادھر ادھر کر کے آپ کو اس تکلیف سے بچا لیتا ہوں، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ سے زیادہ مجھے کوئی بچانے والا نہیں۔‏“ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنات والی رات میں مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! پانی تو نہیں البتہ ایک ڈولچی نبیذ ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمدہ کھجوریں اور پاکیزہ پانی“ ۔ [سنن ابوداود:84،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8482

مسند احمد کی اس حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس سے وضو کراؤ“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور فرمایا: ”یہ تو پینے کی اور پاک چیز ہے“ ۔ [مسند احمد:398/1:ضعیف] ‏

جب آپ لوٹ کر آئے تو سانس چڑھ رہا تھا میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس میرے انتقال کی خبر آئی ہے“ ۔ [مسند احمد:449/1:ضعیف] ‏

یہی حدیث قدرے زیادتی کے ساتھ حافظ ابونعیم کی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی ہے اس میں ہے کہ میں نے یہ سن کر کہا: پھر یا رسول اللہ ! اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد کر جائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”کس کو؟“ میں نے کہا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے چلتے چلتے پھر کچھ دیر بعد یہی حالت طاری ہوئی۔ میں نے وہی سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی جواب دیا۔ میں نے خلیفہ مقرر کرنے کو کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کسے؟“ میں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس پر آپ خاموش ہو گئے کچھ دور چلنے کے بعد پھر یہی حالت اور یہی سوال جواب ہوئے اب کی مرتبہ میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا نام پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر یہ لوگ ان کی اطاعت کریں تو سب جنت میں چلے جائیں گے۔‏“ [طبرانی کبیر:9970:ضعیف] ‏

لیکن یہ حدیث بالکل ہی غریب ہے اور بہت ممکن ہے کہ یہ محفوظ نہ ہو اور اگر صحت تسلیم کر لی جائے تو اس واقعہ کو مدینہ کا واقعہ ماننا پڑے گا۔ وہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جنوں کے وفود آئے تھے جیسے کہ ہم عنقریب ان شاءاللہ تعالیٰ بیان کریں گے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری وقت فتح مکہ کے بعد تھا جب کہ دین الٰہی میں انسانوں اور جنوں کی فوجیں داخل ہو گئیں اور سورۃ «إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّـهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا» [110-النصر:1-3] ‏، اتر چکی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر انتقال دی گئی تھی۔ جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اس پر موافقت ہے جو حدیثیں ہم اسی سورت کی تفسیر میں لائیں گے ان شاءاللہ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8483

مندرجہ بالا حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے لیکن اس کی سند بھی غریب ہے اور سیاق بھی غریب ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جنات جزیرہ موصل کے تھے ان کی تعداد بارہ ہزار کی تھی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس خط کشیدہ کی جگہ میں بیٹھے ہوئے تھے، لیکن جنات کے کھجوروں کے درختوں کے برابر کے قد و قامت وغیرہ دیکھ کر ڈر گئے اور بھاگ جانا چاہا لیکن فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم یاد آ گیا کہ اس حد سے باہر نہ نکلنا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس حد سے باہر آ جاتے تو قیامت تک ہماری تمہاری ملاقات نہ ہو سکتی“ اور روایت میں ہے کہ جنات کی یہ جماعت جن کا ذکر آیت «وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا أَنصِتُوا فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا إِلَى قَوْمِهِم مُّنذِرِينَ» [46-الأحقاف:29] ‏ میں ہے نینویٰ کی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ انہیں قرآن سناؤں تم میں سے میرے ساتھ کون چلے گا؟ اس پر سب خاموش ہو گئے، دوبارہ پوچھا: پھر خاموشی رہی، تیسری مرتبہ دریافت کیا تو قبیلہ ہذیل کے شخص سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تیار ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ساتھ لے کر حجون کی گھاٹی میں گئے۔ ایک لکیر کھینچ کر انہیں یہاں بٹھا دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے۔ یہ دیکھنے لگے کہ گدھوں کی طرح کے زمین کے قریب اڑتے ہوئے کچھ جانور آ رہے ہیں، تھوڑی دیر بعد بڑا غل غپاڑہ سنائی دینے لگا یہاں تک کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر ڈر لگنے لگا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! یہ شور و غل کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے ایک مقتول کا قصہ تھا، جس میں یہ مختلف تھے، ان کے درمیان صحیح فیصلہ کر دیا گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:297/11:مرسل] ‏

یہ واقعات صاف ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قصدًا جا کر جنات کو قرآن سنایا، انہیں اسلام کی دعوت دی اور جن مسائل کی اس وقت انہیں ضرورت تھی وہ سب بتا دئیے۔ ہاں پہلی مرتبہ جب جنات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی قرآن سنا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ معلوم تھا، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سنانے کی غرض سے قرآن پڑھا تھا، جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس کے بعد وہ وفود کی صورت میں آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمداً تشریف لے گئے اور انہیں قرآن سنایا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت نہ تھے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بات چیت کی انہیں اسلام کی دعوت دی البتہ کچھ فاصلہ پر دور بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ کے ساتھ اس واقعہ میں سوائے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اور کوئی نہ تھا اور دوسری تطبیق ان روایات میں جن میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تھے اور جن میں ہے کہ نہ تھے یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پہلی دفعہ نہ تھے دوسری مرتبہ تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8484

یہ بھی مروی ہے کہ نخلہ میں جن جنوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی تھی وہ نینویٰ کے تھے اور مکہ شریف میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے وہ (‏نصیبین) کے تھے۔ اور یہ جو روایتوں میں آیا ہے کہ ہم نے وہ رات بہت بری بسر کی اس سے مراد سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سوا اور صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں، جنہیں اس بات کا علم نہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنات کو قرآن سنانے گئے ہیں۔ لیکن یہ تاویل ہے ذرا دور کی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بیہقی میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حاجت اور وضو کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پانی کی ڈولچی لیے ہوئے جایا کرتے تھے، ایک دن یہ پیچھے پیچھے پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون ہے؟“ جواب دیا کہ میں ابوہریرہ ہوں، فرمایا: ”میرے استنجے کے لیے پتھر لاؤ لیکن ہڈی اور لید نہ لانا“، میں اپنی جھولی میں پتھر بھر لایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رکھ دئیے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو چکے اور چلنے لگے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا اور پوچھا یا رسول اللہ ! کیا وجہ ہے جو آپ نے ہڈی اور لید سے منع فرما دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”میرے پاس [ نصیبین ] ‏ کے جنوں کا وفد آیا تھا اور انہوں نے مجھ سے توشہ طلب کیا تھا تو میں نے اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا کی کہ وہ جس لید اور ہڈی پر گذریں اسے طَعام پائیں“ ۔ [بیهقی فی السنن الکبریٰ:233/2:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8485

صحیح بخاری میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے [صحیح بخاری:3860] ‏

پس یہ حدیث اور اس سے پہلے کی حدیثیں دلالت کرتی ہیں کہ جنات کا وفد آپ کے پاس اس کے بعد بھی آیا تھا۔ اب ہم ان احادیث کو بیان کرتے ہیں جو دلالت کرتی ہیں کہ جنات آپ کے پاس کئی دفعہ حاضر ہوئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جو روایت اس سے پہلے بیان ہو چکی ہے اس کے سوا بھی آپ سے دوسری سند سے مروی ہے ابن جریر میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:297/11] ‏

آپ فرماتے ہیں یہ سات جن تھے (‏نصیبین) کے رہنے والے۔ انہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے قاصد بنا کر جنات کی طرف بھیجا تھا، مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ جنات تعداد میں سات تھے (‏نصیبین) کے تھے ان میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین کو اہل حران سے، کہا اور چار کو اہل (‏نصیبین) سے، ان کے نام یہ ہیں۔ «حسی»، «حسا»، «منسی»، «ساحر»، «ناصر»، «الاردوبیان»، «الاحتم» ۔

صفحہ نمبر8486

ابوحمزہ ثمالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں انہیں بنو شیصبان کہتے ہیں یہ قبیلہ جنات کے اور قبیلوں سے تعداد میں بہت زیادہ تھا اور یہ ان میں نصب کے بھی شریف مانے جاتے تھے اور عموماً یہ ابلیس کے لشکروں میں سے تھے۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ نو تھے ان میں سے ایک کا نام روبعہ تھا، اصل نخلہ سے آئے تھے۔ بعض حضرات سے مروی ہے کہ یہ پندرہ تھے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ساٹھ اونٹوں پر آئے تھے اور ان کے سردار کا نام وردان تھا اور کہا گیا ہے کہ تین سو تھے اور یہ بھی مروی ہے کہ بارہ ہزار تھے۔ ان سب میں تطبیق یہ ہے کہ چونکہ وفود کئی ایک آئے تھے ممکن ہے کہ کسی میں چھ سات نو ہی ہوں کسی میں زیادہ کسی میں اس سے بھی زیادہ۔ اس پر دلیل صحیح بخاری شریف کی یہ روایت بھی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جس چیز کی نسبت جب کبھی کہتے کہ میرے خیال میں یہ اس طرح ہو گی تو وہ عمومًا اسی طرح نکلتی، ایک مرتبہ آپ بیٹھے ہوئے تھے تو ایک حسین شخص گزرا آپ رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ کر فرمایا: اگر میرا گمان غلط نہ ہو تو یہ شخص اپنے جاہلیت کے زمانہ میں ان لوگوں کا کاہن تھا، جانا ذرا اسے لے آنا، جب وہ آ گیا تو آپ نے اپنا یہ خیال اس پر ظاہر فرمایا، وہ کہنے لگا مسلمانوں میں اس ذہانت و فطانت کا کوئی شخص آج تک میری نظر سے نہیں گزرا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اب میں تجھ سے کہتا ہوں کہ تو اپنی کوئی صحیح اور سچی خبر سنا، اس نے کہا: بہت اچھا سنئے میں جاہلیت کے زمانہ میں ان کا کاہن تھا، میرے پاس میرا جن جو سب سے زیادہ تعجب خیز خبر لایا وہ سنئے۔ میں ایک مرتبہ بازار جا رہا تھا تو وہ آ گیا اور سخت گھبراہٹ میں تھا اور کہنے لگا، کیا تو نے جنوں کی بربادی مایوسی اور ان کے پھیلنے کے بعد سمٹ جانا اور ان کی درگت نہیں دیکھی؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یہ سچا ہے میں ایک مرتبہ ان کے بتوں کے پاس سویا ہوا تھا ایک شخص نے وہاں ایک بچھڑا چڑھایا کہ ناگہاں ایک سخت پُرزور آواز آئی، ایسی کہ اتنی بلند اور کرخت آواز میں نے کبھی نہیں سنی اس نے کہا: اے جلیح! نجات دینے والا امر آ چکا، ایک شخص ہے جو فصیح زبان سے «لا الہ الا اللہ» کی منادی کر رہا ہے۔ سب لوگ تو مارے ڈر کے بھاگ گئے لیکن میں وہیں بیٹھا رہا کہ دیکھوں آخر یہ کیا ہے؟ کہ دوبارہ پھر اسی طرح وہی آواز سنائی دی اور اس نے وہی کہا پس کچھ ہی دن گزرے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی آوازیں ہمارے کانوں میں پڑنے لگیں ۔ [صحیح بخاری:3866] ‏

اس روایت سے ظاہر الفاظ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ خود عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ آوازیں اس ذبح شدہ بچھڑے سے سنیں اور ایک ضعیف روایت میں صریح طور پر یہ آ بھی گیا ہے لیکن باقی اور روایتیں یہ بتلا رہی ہیں کہ اسی کاہن نے اپنے دیکھنے سننے کا ایک واقعہ یہ بھی بیان کیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

امام بیہقی رحمہ اللہ نے یہی کہا ہے اور یہی کچھ اچھا معلوم ہوتا ہے اس شخص کا نام سواد بن قارب تھا جو شخص اس واقعہ کی پوری تفصیل دیکھنا چاہتا ہو وہ میری کتاب سیرۃ عمر دیکھ لے۔ «وللہ الحمد المنہ»

صفحہ نمبر8487

امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے یہی وہ کاہن ہو جس کا ذکر بغیر نام کے صحیح حدیث میں ہے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ منبر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک مرتبہ خطبہ سنا رہے تھے، اسی میں پوچھا کیا سواد بن قارب یہاں موجود ہیں لیکن اس پورے سال تک کسی نے ہاں نہیں کہی، اگلے سال آپ رضی اللہ عنہ نے پھر پوچھا، تو سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے کہا: سواد بن قارب کون ہے؟ اس سے کیا مطلب ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کے اسلام لانے کا قصہ عجیب و غریب ہے ابھی یہ باتیں ہو ہی رہیں تھیں جو سواد بن قارب آ گئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: سواد اپنے اسلام کا ابتدائی قصہ سناؤ، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سنئے میں ہند گیا ہوا تھا، میرا ساتھی جن ایک رات میرے پاس آیا میں اس وقت سویا ہوا تھا، مجھے اس نے جگا دیا اور کہنے لگا اٹھ اور اگر کچھ عقل و ہوش ہیں تو سن لے سمجھ لے اور سوچ لے قبیلہ لوی بن غالب میں سے اللہ کے رسول مبعوث ہو چکے ہیں، میں جنات کی حس اور ان کے بوریہ بستر باندھنے پر تعجب کر رہا ہوں اگر تو طالب ہدایت ہے تو فوراً مکے کی طرف کوچ کر، سمجھ لے کہ بہتر اور بدتر جن یکساں نہیں، جا جلدی جا اور بنو ہاشم کے اس دلارے کے منور مکھڑے پر نظریں تو ڈال لے، مجھے پھر غنودگی سی آ گئی تو اس نے دوبارہ جگایا اور کہنے لگا، اے سواد بن قارب! اللہ عزوجل نے اپنا رسول بھیج دیا ہے تم ان کی خدمت میں پہنچو اور ہدایت اور بھلائی سمیٹ لو۔ دوسری رات پھر آیا اور مجھے جگا کر کہنے لگا مجھے جنات کے جستجو کرنے اور جلد جلد پالان اور جھولیں کسنے پر تعجب معلوم ہوتا ہے اگر تو بھی ہدایت کا طالب ہے تو مکے کا قصد کر۔ سمجھ لے کہ اس کے دونوں قدم اس کی دموں کی طرح نہیں، تو اٹھ اور جلدی جلدی بنو ہاشم کے اس پسندیدہ شخص کی خدمت میں پہنچ اور اپنی آنکھیں اس کے دیدار سے منور کر۔ تیسری رات پھر آیا اور کہنے لگا مجھے جنات کے باخبر ہو جانے اور ان کے قافلوں کے فوراً تیار ہو جانے پر تعجب آ رہا ہے وہ سب طلب ہدایت کے لیے مکہ کی طرف دوڑے جا رہے ہیں ان میں کے برے بھلوں کی برابری نہیں کر سکتے تو بھی اٹھ اور اس بنو ہاشم کے چیدہ شخص کی طرف چل کھڑا ہو۔ مومن جنات کافروں کی طرح نہیں، تین راتوں تک برابر یہی سنتے رہنے کے بعد میرے دل میں بھی دفعتًہ اسلام کا ولولہ اٹھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وقعت اور محبت سے دل پر ہو گیا، میں نے اپنی سانڈنی پر کجاوہ کسا اور بغیر کسی جگہ قیام کئے سیدھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت شہر مکہ میں تھے اور لوگ آپ کے آس پاس ایسے تھے جیسے گھوڑے پر ایال۔ مجھے دیکھتے ہی یکبارگی اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سواد بن قارب کو مرحبا ہو، آؤ ہمیں معلوم ہے کہ کیسے اور کس لیے اور کس کے کہنے سننے سے آ رہے ہو“، میں نے کہا: یا رسول اللہ ! میں نے کچھ اشعار کہے ہیں اگر اجازت ہو تو پیش کروں؟ آپ نے فرمایا: ”سواد شوق سے کہو“،تو سواد نے وہ اشعار پڑھے جن کا مضمون یہ ہے کہ میرے پاس میرا جن میرے سو جانے کے بعد رات کو آیا اور اس نے مجھے ایک سچی خبر پہنچائی، تین راتیں برابر وہ میرے پاس آتا رہا اور ہر رات کہتا رہا کہ لوی بن غالب اللہ کے رسول مبعوث ہو چکے ہیں، میں نے بھی سفر کی تیاری کر لی اور جلد جلد راہ طے کرتا یہاں پہنچ ہی گیا، اب میری گواہی ہے کہ بجز اللہ کے اور کوئی رب نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے امانت دار رسول ہیں، آپ سے شفاعت کا آسرا سب سے زیادہ ہے، اے بہترین بزرگوں اور پاک لوگوں کی اولاد، اے تمام رسولوں سے بہتر رسول، جو حکم آسمانی آپ ہمیں پہنچائیں گے وہ کتنا ہی مشکل اور طبیعت کے خلاف کیوں نہ ہو ناممکن کہ ہم اسے ٹال دیں، آپ قیامت کے دن ضرور میرے سفارشی بننا کیونکہ وہاں بجز آپ کے سواد بن قارب کا سفارشی اور کون ہو گا؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہنسے اور فرمانے لگے: ”سواد تم نے فلاح پا لی۔‏“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ سن کر پوچھا: کیا وہ جن اب بھی تیرے پاس آتا ہے اس نے کہا: جب سے میں نے قرآن پڑھا وہ نہیں آتا اور اللہ کا بڑا شکر ہے کہ اس کے عوض میں نے رب کی پاک کتاب پائی ۔ [بیهقی فی السنن اکبریٰ:249/2:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8488

اور اب جس حدیث کو ہم حافظ ابونعیم کی کتاب دلائل النبوۃ سے نقل کرتے ہیں اس میں بھی اس کا بیان ہے کہ مدینہ شریف میں بھی جنات کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بازیاب ہوا تھا۔ سیدنا عمرو بن غیلان ثقفی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے پاس جا کر ان سے دریافت کرتے ہیں کہ مجھے یہ معلوم ہوا کہ جس رات جنات کا وفد حاضر نبوت ہوا تھا اس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ بھی تھے؟ جواب دیا کہ ہاں ٹھیک ہے، میں نے کہا: ذرا واقعہ تو سنائیے۔ فرمایا: صفہ والے مساکین صحابہ کو لوگ اپنے اپنے ساتھ شام کا کھانا کھلانے لے گئے اور میں یونہی رہ گیا، میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا، پوچھا: کون ہے؟ میں نے کہا: ابن مسعود، فرمایا: تمہیں کوئی نہیں لے گیا کہ تم بھی کھا لیتے؟ میں نے جواب دیا نہیں، کوئی نہیں لے گیا، فرمایا: اچھا میرے ساتھ چلو شاہد کچھ مل جائے تو دے دوں گا، میں ساتھ ہو لیا آپ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں گئے، میں باہر ہی ٹھہر گیا، تھوڑی دیر میں اندر سے ایک لونڈی آئی اور کہنے لگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم نے اپنے گھر میں کوئی چیز نہیں پائی، تم اپنی خواب گاہ میں چلے جاؤ۔ میں واپس مسجد میں آ گیا اور مسجد میں کنکریوں کا ایک چھوٹا سا ڈھیر کر کے اس پر سر رکھ کر اپنا کپڑا لپیٹ کر سو گیا تھوڑی ہی دیر گزری ہو گی تو وہی لونڈی پھر آئیں اور کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو یاد فرما رہے ہیں، ساتھ ہو لیا اور مجھے امید پیدا ہو گئی کہ اب تو کھانا ضرور ملے گا، جب میں اپنی جگہ پہنچا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کھجور کے درخت کی ایک چھڑی تھی جسے میرے سینے پر رکھ کر فرمانے لگے، جہاں میں جا رہا ہوں کیا تم بھی میرے ساتھ چلو گے؟ میں نے کہا: جو اللہ نے چاہا ہو، تین مرتبہ یہی سوال جواب ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنے لگا، تھوڑی دیر میں بقیع غرقد جا پہنچے، پھر قریب قریب وہی بیان ہے جو اوپر کی روایتوں میں گزر چکا ہے۔ اس کی سند غریب ہے اور اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے جس کا نام ذکر نہیں کیا گیا ۔

دلائل النبوۃ میں حافظ ابونعیم فرماتے ہیں کہ مدینہ کی مسجد میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی اور لوٹ کر لوگوں سے کہا: ”آج رات کو جنات کے وفد کی طرف تم میں سے کون میرے ساتھ چلے گا؟“ کسی نے جواب نہ دیا تین مرتبہ فرمان پر بھی کوئی نہ بولا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور میرا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ لے چلے، مدینہ کے پہاڑوں سے بہت آگے نکل کر صاف چٹیل میدان میں پہنچ گئے، اب نیزوں کے برابر لمبے لمبے قد کے آدمی، نیچے نیچے کپڑے پہنے ہوئے آنے شروع ہوئے، میں تو انہیں دیکھ کر مارے ڈر کے کانپنے لگا [ ضعیف ] ‏ پھر اور واقعہ مثل حدیث سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے بیان کیا ، یہ حدیث بھی غریب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8489

اسی کتاب میں ایک غریب حدیث میں ہے کہ عبداللہ کے ساتھی حج کو جا رہے تھے راستے میں ہم نے دیکھا کہ ایک سفید رنگ سانپ راستے میں لوٹ رہا ہے اور اس میں سے مشک کی خوشبو اڑ رہی ہے، ابراہیم کہتے ہیں، میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا تم تو سب جاؤ میں یہاں ٹھہر جاتا ہوں، دیکھوں تو اس سانپ کا کیا ہوتا ہے؟ چنانچہ وہ چل دئیے اور میں ٹھہر گیا، تھوڑی ہی دیر گزری ہو گی جو وہ سانپ مر گیا، میں نے ایک سفید کپڑا لے کر اس میں لپیٹ کر راستے کے ایک طرف دفن کر دیا اور رات کے کھانے کے وقت اپنے قافلے میں پہنچ گیا، اللہ کی قسم! میں بیٹھا ہوا تھا، جو چار عورتیں مغرب کی طرف آئیں، ان میں سے ایک نے پوچھا: عمرو کو کس نے دفن کیا؟ ہم نے کہا: کون عمرو؟ اس نے کہا: تم میں سے کسی نے ایک سانپ کو دفن کیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، میں نے دفن کیا ہے، کہنے لگی قسم ہے اللہ کی تم نے بڑے روزے دار بڑے پختہ نمازی کو دفن کیا ہے جو تمہارے نبی کو مانتا تھا اور جس نے آپ کے نبی ہونے سے چار سو سال پیشتر آسمان سے آپ کی صفت سنی تھی۔ [ابونعیم فی الحلیة275] ‏ ابراہیم کہتے ہیں اس پر ہم نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی حمد و ثنا کی پھر حج سے فارغ ہو کر جب ہم سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچے اور میں نے آپ رضی اللہ عنہ کو یہ سارا واقعہ سنایا تو آپ نے فرمایا: اس عورت نے سچ کہا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مجھ پر ایمان لایا تھا میری نبوت کے چار سو سال پہلے ، یہ حدیث بھی غریب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8490

ایک روایت میں ہے کہ دفن کفن کرنے والے سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ تھے، کہتے ہیں کہ یہ صاحب جو یہاں دفن کئے گئے یہ ان نو جنات میں سے ایک ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قرآن سننے کے لیے وفد بن کر آئے تھے، ان کا انتقال ان سب سے اخیر میں ہوا ۔

ابونعیم میں ایک روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے امیر المؤمنین! میں ایک جنگل میں تھا، میں نے دیکھا کہ دو سانپ آپس میں خوب لڑ رہے ہیں یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا۔ اب میں انہیں چھوڑ کر جہاں معرکہ ہوا تھا وہاں گیا تو بہت سے سانپ قتل کئے ہوئے پڑے ہیں اور بعض سے اسلام کی خوشبو آ رہی ہے پس میں نے ایک ایک کو سونگھنا شروع کیا یہاں تک کہ ایک زرد رنگ کے دبلے پتلے سانپ سے مجھے اسلام کی خوشبو آنے لگی، میں نے اپنے عمامے میں لپیٹ کر اسے دفنا دیا، اب میں چلا جا رہا تھا، جو میں نے ایک آواز سنی کہ اے اللہ کے بندے تجھے اللہ کی طرف سے ہدایت دی گئی۔ یہ دونوں سانپ جنات کے قبیلہ بنو شیعبان اور بنو اقیش میں سے تھے۔ ان دونوں میں جنگ ہوئی اور پھر جس قدر قتل ہوئے وہ تم نے خود دیکھ لیے انہی میں ایک شہید جنہیں تم نے دفن کیا وہ تھے جنہوں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی وحی الٰہی سنی تھی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس قصے کو سن کر فرمانے لگے: اے شخص! اگر تو سچا ہے تو اس میں شک نہیں کہ تو نے عجب واقعہ دیکھا اور اگر تو جھوٹا ہے تو جھوٹ کا بوجھ تجھ پر ہے ۔ [ابونعیم فی الحلیة256،منکر] ‏

اب آیت کی تفسیر سنئے ارشاد ہے کہ جب ہم نے تیری طرف جنات کے ایک گروہ کو پھیرا جو قرآن سن رہا تھا جب وہ حاضر ہو گئے اور تلاوت شروع ہونے کو تھی تو انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کو یہ ادب سکھایا کہ خاموشی سے سنو۔ ان کا ایک اور ادب بھی حدیث میں آیا ہے۔ ترمذی وغیرہ میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے سورۃ الرحمن کی تلاوت کی پھر فرمایا: ”کیا بات ہے؟ جو تم سب خاموش ہی رہے، تم سے تو بہت اچھے جواب دینے والے جنات ثابت ہوئے، جب بھی میرے منہ سے انہوں نے «فَبِاَيِّ اٰلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ» [55-الرحمن:13] ‏ سنی انہوں نے جواب میں کہا: «ولا بشیءٍ من الائک او نعمک ربنا نکذب فلک الحمد» ۔

صفحہ نمبر8491

پھر فرماتا ہے جب فراغت حاصل کی گئی۔ «قضی» کے معنی ان آیتوں میں بھی یہی ہیں «فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللَّـهِ وَاذْكُرُوا اللَّـهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» [62-الجمعة:10] ‏۔

اور «فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [41-فصلت:12] ‏۔

اور «فَإِذَا قَضَيْتُم مَّنَاسِكَكُمْ» [2-البقرة:200] ‏ وہ اپنی قوم کو دھمکانے اور انہیں آگاہ کرنے کے لیے واپس ان کی طرف چلے۔

جیسے اللہ عزوجل و علا کا فرمان ہے «فَّةً فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ» [9-التوبہ:122] ‏، یعنی وہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور جب واپس اپنی قوم کے پاس پہنچیں تو انہیں بھی ہوشیار کر دیں بہت ممکن ہے کہ وہ بچاؤ اختیار کر لیں۔

اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے کہ جنات میں بھی اللہ کی باتوں کو پہنچانے والے اور ڈر سنانے والے ہیں لیکن ان میں سے رسول نہیں بنائے گئے، یہ بات بلا شک ثابت ہے کہ جنوں میں پیغمبر نہیں ہیں۔

صفحہ نمبر8492

فرمان باری ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَى» [12-یوسف:109] ‏ یعنی ” ہم نے تجھ سے پہلے بھی جتنے رسول بھیجے وہ سب بستیوں کے رہنے والے انسان ہی تھے جن کی طرف ہم نے اپنی وحی بھیجا کرتے تھے “۔

اور آیت میں ہے «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً اَتَصْبِرُوْنَ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيْرًا» [25-الفرقان:20] ‏ یعنی ” تجھ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے “۔

ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی نسبت قرآن میں ہے «وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ» [29-العنكبوت:27] ‏ یعنی ” ہم نے ان کی اولاد میں نبوۃ اور کتاب رکھ دی “،پس آپ کے بعد جتنے بھی نبی آئے وہ آپ علیہ السلام ہی کے خاندان اور آپ علیہ السلام ہی کی نسل میں سے ہوئے ہیں۔

لیکن سورۃ الانعام کی آیت «يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَـذَا» [6-الانعام:130] ‏ یعنی ” اے جنوں اور انسانوں کے گروہ کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ “ اس کا مطلب اور اس سے مراد یہ دونوں جنس ہیں پس اس کا مصداق ایک جنس ہی ہو سکتی ہے، جیسے فرمان «يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ» [55-الرحمن:22] ‏ یعنی ” ان دونوں سمندروں میں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے “ حالانکہ دراصل ایک میں سے ہی نکلتا ہے۔

صفحہ نمبر8493

ایمان دار جنوں کی آخری منزل ٭٭

اب بیان ہو رہا ہے جنات کے اس وعظ کا جو انہوں نے اپنی قوم میں کیا۔ فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو سنا ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے، عیسیٰ کی کتاب انجیل کا ذکر اس لیے چھوڑ دیا کہ وہ دراصل توراۃ پوری کرنے والی تھی۔ اس میں زیادہ تر وعظ کے اور دل کو نرم کرنے کے بیانات تھے، حرام حلال کے مسائل بہت کم تھے، پس اصل چیز توراۃ ہی رہی، اسی لیے ان مسلم جنات نے اسی کا ذکر کیا اور اسی بات کو پیش نظر رکھ کر ورقہ بن نوفل نے جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جبرائیل علیہ السلام کے اول دفعہ آنے کا حال سنا تو کہا تھا کہ واہ واہ یہی تو وہ مبارک وجود اللہ کے بھیدی کا ہے جو موسیٰ کے پاس آیا کرتے تھے، کاش کہ میں اور کچھ زمانہ زندہ رہتا، الخ۔

پھر قرآن کی اور صف بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے سے پہلے تمام آسمانی کتابوں کو سچا بتلاتا ہے، وہ اعتقادی مسائل اور اخباری مسائل میں حق کی جانب رہبری کرتا ہے اور اعمال میں راہ راست دکھاتا ہے۔ قرآن میں دو چیزیں ہیں یا خبر یا طلب، پس اس کی خبر سچی اور اس کی طلب عدل والی۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» [6-الانعام:115] ‏ یعنی ” تیرے رب کا کلمہ سچائی اور عدل کے لحاظ سے بالکل پورا ہی ہے “۔

اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ» [9-التوبة:33] ‏ الخ یعنی ” وہ اللہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور حق دین کے ساتھ بھیجا ہے “،پس ہدایت نفع دینے والا علم ہے اور دین حق نیک عمل ہے یہی مقصد جنات کا تھا۔

پھر کہتے ہیں، اے ہماری قوم! اللہ کے داعی کی دعوت پر لبیک کہو۔ اس میں دلالت ہے اس امر کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن و انس کی دونوں جماعتوں کی طرف اللہ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اس لیے کہ آپ نے جنات کو اللہ کی طرف دعوت دی اور ان کے سامنے قرآن کریم کی وہ سورت پڑھی جس میں ان دونوں جماعتوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور ان کے نام احکام جاری فرمائے ہیں اور وعدہ وعید بیان کیا ہے یعنی سورۃ الرحمن۔

پھر فرماتے ہیں ایسا کرنے سے وہ تمہارے بعض گناہ بخش دے گا۔ لیکن یہ اس صورت میں ہو سکتا ہے جب لفظ «من» کو زائدہ نہ مانیں، چنانچہ ایک قول مفسرین کا یہ بھی ہے اور قاعدے کے مطابق اثبات کے موقعہ پر لفظ «من» بہت ہی کم زائد آتا ہے اور اگر زائد مان لیا جائے تو مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرمائے گا اور تمہیں اپنے المناک عذابوں سے رہائی دے گا۔

اس آیت سے بعض علماء نے استدلال کیا ہے کہ ایماندار جنوں کو بھی جنت نہیں ملے گی، ہاں عذاب سے وہ چھٹکارا پا لیں گے، یہی ان کی نیک اعمالیوں کا بدلہ ہے اور اگر اس سے زیادہ مرتبہ بھی انہیں ملنے والا ہوتا تو اس مقام پر یہ مومن جن اسے ضرور بیان کر دیتے۔

صفحہ نمبر8494

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ مومن جن جنت میں نہیں جائیں گے اس لیے کہ وہ ابلیس کی اولاد سے ہیں اور اولاد ابلیس جنت میں نہیں جائے گی۔ لیکن حق یہ ہے کہ مومن جن مثل ایماندار انسانوں کے ہیں اور وہ جنت میں جگہ پائیں گے جیسا کہ سلف کی ایک جماعت کا مذہب ہے بعض لوگوں نے اس پر اس آیت سے استدلال کیا ہے «فِيهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ» [ 55- الرحمن: 56 ] ‏ یعنی ” حوران بہشتی کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان کا ہاتھ لگا نہ کسی جن کا “۔ لیکن اس استدلال میں نظر ہے اس سے بہت بہتر استدلال تو اللہ عزوجل کے اس فرمان سے ہے «وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ» * «فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» [55-الرحمن:47،46] ‏ یعنی ” جو کوئی اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے دو دو جنتیں ہیں، پھر اے جنو اور انسانو! تم اپنے پروردگار کی کون سی نعمت کو جھٹلاتے ہو؟ “۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ انسانوں اور جنوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ان کے نیک کار کا بدلہ جنت ہے اور اس آیت کو سن کر مسلمان انسانوں سے بہت زیادہ شکر یہ مسلمان جنوں نے کیا اور اسے سنتے ہی کہا کہ اللہ ہم تیری نعمتوں میں سے کسی کے انکاری نہیں، ہم تیرے بہت بہت شکر گزار ہیں، ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ ان کے سامنے ان پر وہ احسان جتایا جائے جو اصل انہیں ملنے کا نہیں۔ اور بھی ہماری ایک دلیل سنئے جب کافر جنات کو جہنم میں ڈالا جائے گا جو مقام عدل ہے تو مومن جنات کو جنت میں کیوں نہ لے جایا جائے جو مقام فضل ہے بلکہ یہ بہت زیادہ لائق اور بطور اولیٰ ہونے کے قابل ہے اور اس پر وہ آیتیں بھی دلیل ہیں جن میں عام طور پر ایمانداروں کو جنت کو خوشخبری دی گئی ہے مثلا «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا» [18-الكهف:107] ‏ وغیرہ وغیرہ یعنی ایمان داروں کا مہمان خانہ یقینًا جنت فردوس ہے۔

«الحمداللہ» میں نے اس مسئلہ کو بہت کچھ وضاحت کے ساتھ اپنی ایک مستقل تصنیف میں بیان کر دیا ہے اور سنئے جنت کا تو یہ حال ہے کہ ایمانداروں کے کل کے داخل ہو جانے کے بعد بھی اس میں بےحد و حساب جگہ بچ رہے گی۔ اور پھر ایک نئی مخلوق پیدا کر کے انہیں اس میں آباد کیا جائے گا۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ ایماندار اور نیک عمل والے جنات جنت میں نہ بھیجے جائیں اور سنئے یہاں دو باتیں بیان کی گئی ہیں گناہوں کی بخشش اور عذابوں سے رہائی اور جب یہ دونوں چیزیں ہیں تو یقیناً یہ مستلزم ہیں دخول جنت کو۔ اس لیے کہ آخرت میں یا جنت ہے یا جہنم، پس جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا وہ قطعًا جنت میں جانا چاہیئے اور کوئی نص صریح یا ظاہر اس بات کے بیان میں وارد نہیں ہوئی کہ مومن جن باوجود دوزخ سے بچ جانے کے جنت میں نہیں جائیں گے اگر کوئی اس قسم کی صاف دلیل ہو تو بیشک ہم اس کے ماننے کے لیے تیار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8495

نوح علیہ السلام کو دیکھئیے اپنی قوم سے فرماتے ہیں «يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى» [71-نوح:4] ‏ ” اللہ تمہارے گناہوں کو (‏بوجہ ایمان لانے کے) بخش دے گا اور ایک وقت مقرر تک تمہیں مہلت دے گا “۔ تو یہاں بھی دخول جنت کا ذکر نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ نوح علیہ السلام کی قوم کے مسلمان جنت میں نہیں جائیں گے بلکہ بالاتفاق وہ سب جنتی ہیں پس اسی طرح یہاں بھی سمجھ لیجئے۔

اب چند اور اقوال بھی اس مسئلہ میں سن لیجئے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بیچ جنت میں تو یہ پہنچیں گے نہیں البتہ کناروں پر ادھر ادھر رہیں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں جنت میں تو وہ ہوں گے لیکن دنیا کے بالکل برعکس انسان انہیں دیکھیں گے اور یہ انسانوں کو دیکھ نہیں سکیں گے۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ وہ جنت میں کھائیں پئیں گے نہیں صرف تسبیح و تحمید و تقدیس کا طَعام ہو گا جیسے فرشتے اس لیے کہ یہ بھی انہی کی جنس سے ہیں۔ لیکن ان تمام اقوال میں نظر ہے اور سب بے دلیل ہیں۔ پھر مومن واعظ فرماتے ہیں کہ جو اللہ کے داعی کی دعوت کو قبول نہ کرے گا وہ زمین میں اللہ تعالیٰ کو ہرا نہیں سکتا بلکہ قدرت اللہ اس پر شامل اور اسے گھیرے ہوئے ہے اس کے عذابوں سے انہیں کوئی بچا نہیں سکتا، یہ کھلے بہکاوے میں ہیں، خیال فرمائیے کہ تبلیغ کا یہ طریقہ کتنا پیارا اور کس قدر موثر ہے، رغبت بھی دلائی اور دھمکایا بھی اسی لیے ان میں سے اکثر ٹھیک ہو گئے اور قافلے کے قافلے اور فوجیں بن کر کئی کئی بار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں باریاب ہوئے اور اسلام قبول کیا جیسے کہ پہلے مفصلًا ہم نے بیان کر دیا ہے جس پر ہم جناب باری کے احسان کے شکر گزار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8496

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com