John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Ahqaf

Tafsir Ibn Kathir · The Dunes · 35 ayat · ayat 31–35 · Quran text →

ایمان دار جنوں کی آخری منزل ٭٭

اب بیان ہو رہا ہے جنات کے اس وعظ کا جو انہوں نے اپنی قوم میں کیا۔ فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو سنا ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے، عیسیٰ کی کتاب انجیل کا ذکر اس لیے چھوڑ دیا کہ وہ دراصل توراۃ پوری کرنے والی تھی۔ اس میں زیادہ تر وعظ کے اور دل کو نرم کرنے کے بیانات تھے، حرام حلال کے مسائل بہت کم تھے، پس اصل چیز توراۃ ہی رہی، اسی لیے ان مسلم جنات نے اسی کا ذکر کیا اور اسی بات کو پیش نظر رکھ کر ورقہ بن نوفل نے جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جبرائیل علیہ السلام کے اول دفعہ آنے کا حال سنا تو کہا تھا کہ واہ واہ یہی تو وہ مبارک وجود اللہ کے بھیدی کا ہے جو موسیٰ کے پاس آیا کرتے تھے، کاش کہ میں اور کچھ زمانہ زندہ رہتا، الخ۔

پھر قرآن کی اور صف بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے سے پہلے تمام آسمانی کتابوں کو سچا بتلاتا ہے، وہ اعتقادی مسائل اور اخباری مسائل میں حق کی جانب رہبری کرتا ہے اور اعمال میں راہ راست دکھاتا ہے۔ قرآن میں دو چیزیں ہیں یا خبر یا طلب، پس اس کی خبر سچی اور اس کی طلب عدل والی۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» [6-الانعام:115] ‏ یعنی ” تیرے رب کا کلمہ سچائی اور عدل کے لحاظ سے بالکل پورا ہی ہے “۔

اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ» [9-التوبة:33] ‏ الخ یعنی ” وہ اللہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور حق دین کے ساتھ بھیجا ہے “،پس ہدایت نفع دینے والا علم ہے اور دین حق نیک عمل ہے یہی مقصد جنات کا تھا۔

پھر کہتے ہیں، اے ہماری قوم! اللہ کے داعی کی دعوت پر لبیک کہو۔ اس میں دلالت ہے اس امر کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن و انس کی دونوں جماعتوں کی طرف اللہ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اس لیے کہ آپ نے جنات کو اللہ کی طرف دعوت دی اور ان کے سامنے قرآن کریم کی وہ سورت پڑھی جس میں ان دونوں جماعتوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور ان کے نام احکام جاری فرمائے ہیں اور وعدہ وعید بیان کیا ہے یعنی سورۃ الرحمن۔

پھر فرماتے ہیں ایسا کرنے سے وہ تمہارے بعض گناہ بخش دے گا۔ لیکن یہ اس صورت میں ہو سکتا ہے جب لفظ «من» کو زائدہ نہ مانیں، چنانچہ ایک قول مفسرین کا یہ بھی ہے اور قاعدے کے مطابق اثبات کے موقعہ پر لفظ «من» بہت ہی کم زائد آتا ہے اور اگر زائد مان لیا جائے تو مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرمائے گا اور تمہیں اپنے المناک عذابوں سے رہائی دے گا۔

اس آیت سے بعض علماء نے استدلال کیا ہے کہ ایماندار جنوں کو بھی جنت نہیں ملے گی، ہاں عذاب سے وہ چھٹکارا پا لیں گے، یہی ان کی نیک اعمالیوں کا بدلہ ہے اور اگر اس سے زیادہ مرتبہ بھی انہیں ملنے والا ہوتا تو اس مقام پر یہ مومن جن اسے ضرور بیان کر دیتے۔

صفحہ نمبر8494

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ مومن جن جنت میں نہیں جائیں گے اس لیے کہ وہ ابلیس کی اولاد سے ہیں اور اولاد ابلیس جنت میں نہیں جائے گی۔ لیکن حق یہ ہے کہ مومن جن مثل ایماندار انسانوں کے ہیں اور وہ جنت میں جگہ پائیں گے جیسا کہ سلف کی ایک جماعت کا مذہب ہے بعض لوگوں نے اس پر اس آیت سے استدلال کیا ہے «فِيهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ» [ 55- الرحمن: 56 ] ‏ یعنی ” حوران بہشتی کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان کا ہاتھ لگا نہ کسی جن کا “۔ لیکن اس استدلال میں نظر ہے اس سے بہت بہتر استدلال تو اللہ عزوجل کے اس فرمان سے ہے «وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ» * «فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» [55-الرحمن:47،46] ‏ یعنی ” جو کوئی اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے دو دو جنتیں ہیں، پھر اے جنو اور انسانو! تم اپنے پروردگار کی کون سی نعمت کو جھٹلاتے ہو؟ “۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ انسانوں اور جنوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ان کے نیک کار کا بدلہ جنت ہے اور اس آیت کو سن کر مسلمان انسانوں سے بہت زیادہ شکر یہ مسلمان جنوں نے کیا اور اسے سنتے ہی کہا کہ اللہ ہم تیری نعمتوں میں سے کسی کے انکاری نہیں، ہم تیرے بہت بہت شکر گزار ہیں، ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ ان کے سامنے ان پر وہ احسان جتایا جائے جو اصل انہیں ملنے کا نہیں۔ اور بھی ہماری ایک دلیل سنئے جب کافر جنات کو جہنم میں ڈالا جائے گا جو مقام عدل ہے تو مومن جنات کو جنت میں کیوں نہ لے جایا جائے جو مقام فضل ہے بلکہ یہ بہت زیادہ لائق اور بطور اولیٰ ہونے کے قابل ہے اور اس پر وہ آیتیں بھی دلیل ہیں جن میں عام طور پر ایمانداروں کو جنت کو خوشخبری دی گئی ہے مثلا «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا» [18-الكهف:107] ‏ وغیرہ وغیرہ یعنی ایمان داروں کا مہمان خانہ یقینًا جنت فردوس ہے۔

«الحمداللہ» میں نے اس مسئلہ کو بہت کچھ وضاحت کے ساتھ اپنی ایک مستقل تصنیف میں بیان کر دیا ہے اور سنئے جنت کا تو یہ حال ہے کہ ایمانداروں کے کل کے داخل ہو جانے کے بعد بھی اس میں بےحد و حساب جگہ بچ رہے گی۔ اور پھر ایک نئی مخلوق پیدا کر کے انہیں اس میں آباد کیا جائے گا۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ ایماندار اور نیک عمل والے جنات جنت میں نہ بھیجے جائیں اور سنئے یہاں دو باتیں بیان کی گئی ہیں گناہوں کی بخشش اور عذابوں سے رہائی اور جب یہ دونوں چیزیں ہیں تو یقیناً یہ مستلزم ہیں دخول جنت کو۔ اس لیے کہ آخرت میں یا جنت ہے یا جہنم، پس جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا وہ قطعًا جنت میں جانا چاہیئے اور کوئی نص صریح یا ظاہر اس بات کے بیان میں وارد نہیں ہوئی کہ مومن جن باوجود دوزخ سے بچ جانے کے جنت میں نہیں جائیں گے اگر کوئی اس قسم کی صاف دلیل ہو تو بیشک ہم اس کے ماننے کے لیے تیار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8495

نوح علیہ السلام کو دیکھئیے اپنی قوم سے فرماتے ہیں «يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى» [71-نوح:4] ‏ ” اللہ تمہارے گناہوں کو (‏بوجہ ایمان لانے کے) بخش دے گا اور ایک وقت مقرر تک تمہیں مہلت دے گا “۔ تو یہاں بھی دخول جنت کا ذکر نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ نوح علیہ السلام کی قوم کے مسلمان جنت میں نہیں جائیں گے بلکہ بالاتفاق وہ سب جنتی ہیں پس اسی طرح یہاں بھی سمجھ لیجئے۔

اب چند اور اقوال بھی اس مسئلہ میں سن لیجئے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بیچ جنت میں تو یہ پہنچیں گے نہیں البتہ کناروں پر ادھر ادھر رہیں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں جنت میں تو وہ ہوں گے لیکن دنیا کے بالکل برعکس انسان انہیں دیکھیں گے اور یہ انسانوں کو دیکھ نہیں سکیں گے۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ وہ جنت میں کھائیں پئیں گے نہیں صرف تسبیح و تحمید و تقدیس کا طَعام ہو گا جیسے فرشتے اس لیے کہ یہ بھی انہی کی جنس سے ہیں۔ لیکن ان تمام اقوال میں نظر ہے اور سب بے دلیل ہیں۔ پھر مومن واعظ فرماتے ہیں کہ جو اللہ کے داعی کی دعوت کو قبول نہ کرے گا وہ زمین میں اللہ تعالیٰ کو ہرا نہیں سکتا بلکہ قدرت اللہ اس پر شامل اور اسے گھیرے ہوئے ہے اس کے عذابوں سے انہیں کوئی بچا نہیں سکتا، یہ کھلے بہکاوے میں ہیں، خیال فرمائیے کہ تبلیغ کا یہ طریقہ کتنا پیارا اور کس قدر موثر ہے، رغبت بھی دلائی اور دھمکایا بھی اسی لیے ان میں سے اکثر ٹھیک ہو گئے اور قافلے کے قافلے اور فوجیں بن کر کئی کئی بار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں باریاب ہوئے اور اسلام قبول کیا جیسے کہ پہلے مفصلًا ہم نے بیان کر دیا ہے جس پر ہم جناب باری کے احسان کے شکر گزار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8496

ایمان دار جنوں کی آخری منزل ٭٭

اب بیان ہو رہا ہے جنات کے اس وعظ کا جو انہوں نے اپنی قوم میں کیا۔ فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو سنا ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے، عیسیٰ کی کتاب انجیل کا ذکر اس لیے چھوڑ دیا کہ وہ دراصل توراۃ پوری کرنے والی تھی۔ اس میں زیادہ تر وعظ کے اور دل کو نرم کرنے کے بیانات تھے، حرام حلال کے مسائل بہت کم تھے، پس اصل چیز توراۃ ہی رہی، اسی لیے ان مسلم جنات نے اسی کا ذکر کیا اور اسی بات کو پیش نظر رکھ کر ورقہ بن نوفل نے جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جبرائیل علیہ السلام کے اول دفعہ آنے کا حال سنا تو کہا تھا کہ واہ واہ یہی تو وہ مبارک وجود اللہ کے بھیدی کا ہے جو موسیٰ کے پاس آیا کرتے تھے، کاش کہ میں اور کچھ زمانہ زندہ رہتا، الخ۔

پھر قرآن کی اور صف بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے سے پہلے تمام آسمانی کتابوں کو سچا بتلاتا ہے، وہ اعتقادی مسائل اور اخباری مسائل میں حق کی جانب رہبری کرتا ہے اور اعمال میں راہ راست دکھاتا ہے۔ قرآن میں دو چیزیں ہیں یا خبر یا طلب، پس اس کی خبر سچی اور اس کی طلب عدل والی۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» [6-الانعام:115] ‏ یعنی ” تیرے رب کا کلمہ سچائی اور عدل کے لحاظ سے بالکل پورا ہی ہے “۔

اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ» [9-التوبة:33] ‏ الخ یعنی ” وہ اللہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور حق دین کے ساتھ بھیجا ہے “،پس ہدایت نفع دینے والا علم ہے اور دین حق نیک عمل ہے یہی مقصد جنات کا تھا۔

پھر کہتے ہیں، اے ہماری قوم! اللہ کے داعی کی دعوت پر لبیک کہو۔ اس میں دلالت ہے اس امر کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن و انس کی دونوں جماعتوں کی طرف اللہ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اس لیے کہ آپ نے جنات کو اللہ کی طرف دعوت دی اور ان کے سامنے قرآن کریم کی وہ سورت پڑھی جس میں ان دونوں جماعتوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور ان کے نام احکام جاری فرمائے ہیں اور وعدہ وعید بیان کیا ہے یعنی سورۃ الرحمن۔

پھر فرماتے ہیں ایسا کرنے سے وہ تمہارے بعض گناہ بخش دے گا۔ لیکن یہ اس صورت میں ہو سکتا ہے جب لفظ «من» کو زائدہ نہ مانیں، چنانچہ ایک قول مفسرین کا یہ بھی ہے اور قاعدے کے مطابق اثبات کے موقعہ پر لفظ «من» بہت ہی کم زائد آتا ہے اور اگر زائد مان لیا جائے تو مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرمائے گا اور تمہیں اپنے المناک عذابوں سے رہائی دے گا۔

اس آیت سے بعض علماء نے استدلال کیا ہے کہ ایماندار جنوں کو بھی جنت نہیں ملے گی، ہاں عذاب سے وہ چھٹکارا پا لیں گے، یہی ان کی نیک اعمالیوں کا بدلہ ہے اور اگر اس سے زیادہ مرتبہ بھی انہیں ملنے والا ہوتا تو اس مقام پر یہ مومن جن اسے ضرور بیان کر دیتے۔

صفحہ نمبر8494

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ مومن جن جنت میں نہیں جائیں گے اس لیے کہ وہ ابلیس کی اولاد سے ہیں اور اولاد ابلیس جنت میں نہیں جائے گی۔ لیکن حق یہ ہے کہ مومن جن مثل ایماندار انسانوں کے ہیں اور وہ جنت میں جگہ پائیں گے جیسا کہ سلف کی ایک جماعت کا مذہب ہے بعض لوگوں نے اس پر اس آیت سے استدلال کیا ہے «فِيهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ» [ 55- الرحمن: 56 ] ‏ یعنی ” حوران بہشتی کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان کا ہاتھ لگا نہ کسی جن کا “۔ لیکن اس استدلال میں نظر ہے اس سے بہت بہتر استدلال تو اللہ عزوجل کے اس فرمان سے ہے «وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ» * «فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» [55-الرحمن:47،46] ‏ یعنی ” جو کوئی اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے دو دو جنتیں ہیں، پھر اے جنو اور انسانو! تم اپنے پروردگار کی کون سی نعمت کو جھٹلاتے ہو؟ “۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ انسانوں اور جنوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ان کے نیک کار کا بدلہ جنت ہے اور اس آیت کو سن کر مسلمان انسانوں سے بہت زیادہ شکر یہ مسلمان جنوں نے کیا اور اسے سنتے ہی کہا کہ اللہ ہم تیری نعمتوں میں سے کسی کے انکاری نہیں، ہم تیرے بہت بہت شکر گزار ہیں، ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ ان کے سامنے ان پر وہ احسان جتایا جائے جو اصل انہیں ملنے کا نہیں۔ اور بھی ہماری ایک دلیل سنئے جب کافر جنات کو جہنم میں ڈالا جائے گا جو مقام عدل ہے تو مومن جنات کو جنت میں کیوں نہ لے جایا جائے جو مقام فضل ہے بلکہ یہ بہت زیادہ لائق اور بطور اولیٰ ہونے کے قابل ہے اور اس پر وہ آیتیں بھی دلیل ہیں جن میں عام طور پر ایمانداروں کو جنت کو خوشخبری دی گئی ہے مثلا «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا» [18-الكهف:107] ‏ وغیرہ وغیرہ یعنی ایمان داروں کا مہمان خانہ یقینًا جنت فردوس ہے۔

«الحمداللہ» میں نے اس مسئلہ کو بہت کچھ وضاحت کے ساتھ اپنی ایک مستقل تصنیف میں بیان کر دیا ہے اور سنئے جنت کا تو یہ حال ہے کہ ایمانداروں کے کل کے داخل ہو جانے کے بعد بھی اس میں بےحد و حساب جگہ بچ رہے گی۔ اور پھر ایک نئی مخلوق پیدا کر کے انہیں اس میں آباد کیا جائے گا۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ ایماندار اور نیک عمل والے جنات جنت میں نہ بھیجے جائیں اور سنئے یہاں دو باتیں بیان کی گئی ہیں گناہوں کی بخشش اور عذابوں سے رہائی اور جب یہ دونوں چیزیں ہیں تو یقیناً یہ مستلزم ہیں دخول جنت کو۔ اس لیے کہ آخرت میں یا جنت ہے یا جہنم، پس جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا وہ قطعًا جنت میں جانا چاہیئے اور کوئی نص صریح یا ظاہر اس بات کے بیان میں وارد نہیں ہوئی کہ مومن جن باوجود دوزخ سے بچ جانے کے جنت میں نہیں جائیں گے اگر کوئی اس قسم کی صاف دلیل ہو تو بیشک ہم اس کے ماننے کے لیے تیار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8495

نوح علیہ السلام کو دیکھئیے اپنی قوم سے فرماتے ہیں «يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى» [71-نوح:4] ‏ ” اللہ تمہارے گناہوں کو (‏بوجہ ایمان لانے کے) بخش دے گا اور ایک وقت مقرر تک تمہیں مہلت دے گا “۔ تو یہاں بھی دخول جنت کا ذکر نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ نوح علیہ السلام کی قوم کے مسلمان جنت میں نہیں جائیں گے بلکہ بالاتفاق وہ سب جنتی ہیں پس اسی طرح یہاں بھی سمجھ لیجئے۔

اب چند اور اقوال بھی اس مسئلہ میں سن لیجئے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بیچ جنت میں تو یہ پہنچیں گے نہیں البتہ کناروں پر ادھر ادھر رہیں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں جنت میں تو وہ ہوں گے لیکن دنیا کے بالکل برعکس انسان انہیں دیکھیں گے اور یہ انسانوں کو دیکھ نہیں سکیں گے۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ وہ جنت میں کھائیں پئیں گے نہیں صرف تسبیح و تحمید و تقدیس کا طَعام ہو گا جیسے فرشتے اس لیے کہ یہ بھی انہی کی جنس سے ہیں۔ لیکن ان تمام اقوال میں نظر ہے اور سب بے دلیل ہیں۔ پھر مومن واعظ فرماتے ہیں کہ جو اللہ کے داعی کی دعوت کو قبول نہ کرے گا وہ زمین میں اللہ تعالیٰ کو ہرا نہیں سکتا بلکہ قدرت اللہ اس پر شامل اور اسے گھیرے ہوئے ہے اس کے عذابوں سے انہیں کوئی بچا نہیں سکتا، یہ کھلے بہکاوے میں ہیں، خیال فرمائیے کہ تبلیغ کا یہ طریقہ کتنا پیارا اور کس قدر موثر ہے، رغبت بھی دلائی اور دھمکایا بھی اسی لیے ان میں سے اکثر ٹھیک ہو گئے اور قافلے کے قافلے اور فوجیں بن کر کئی کئی بار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں باریاب ہوئے اور اسلام قبول کیا جیسے کہ پہلے مفصلًا ہم نے بیان کر دیا ہے جس پر ہم جناب باری کے احسان کے شکر گزار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8496

باب

اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا ان لوگوں نے جو مرنے کے بعد جینے کے منکر ہیں اور قیامت کے دن جسموں سمیت جی اٹھنے کو محال جانتے ہیں یہ نہیں دیکھا کہ اللہ نے کل آسمانوں اور تمام زمینوں کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش نے اسے کچھ نہ تھکایا بلکہ صرف ہو جا کے کہنے سے ہی ہو گئیں، کون تھا جو اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتا، یا مخالفت کرتا بلکہ حکم برداری سے راضی خوشی ڈرے دبتے سب موجود ہو گئے، کیا اتنی کامل قدرت و قوت والا مرُدوں کے زندہ کر دینے کی سکت نہیں رکھتا؟

چنانچہ دوسری آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] ‏ یعنی ” انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بھاری اور مشکل اور بہت بڑی اہم پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےسمجھ ہیں “۔ جب زمین و آسمان کو اس نے پیدا کر دیا تو انسان کا پیدا کر دینا خواہ ابتدًا ہو، خواہ دوبارہ ہو اس پر کیا مشکل ہے؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ہاں وہ ہر شے پر قادر ہے اور انہی میں سے موت کے بعد زندہ کرتا ہے کہ اس پر بھی وہ صحیح طور پر قادر ہے۔

پھر اللہ جل و علا کافروں کو دھمکاتا ہے کہ قیامت والے دن جہنم میں ڈالے جائیں گے، اس سے پہلے جہنم کے کنارے پر انہیں کھڑا کر کے ایک مرتبہ پھر لاجواب اور بے حجت کیا جائے گا اور کہا جائے گا، کیوں جی ہمارے وعدے اور یہ دوزخ کے عذاب اب تو صحیح نکلے یا اب بھی شک و شبہ اور انکار و تکذیب ہے؟ یہ جادو تو نہیں، تمہاری آنکھیں تو اندھی نہیں ہو گئیں؟ جو دیکھ رہے ہو صحیح دیکھ رہے ہو یا درحقیقت صحیح نہیں؟ اب سوائے اقرار کے کچھ نہ بن پڑے گا، جواب دیں گے کہ ہاں ہاں سب حق ہے جو کہا گیا تھا وہی نکلا قسم اللہ کی اب ہمیں رتی برابر بھی شک نہیں، اللہ فرمائے گا اب دو گھڑی پہلے کے کفر کا مزہ چکھو۔

صفحہ نمبر8499

باب

اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا ان لوگوں نے جو مرنے کے بعد جینے کے منکر ہیں اور قیامت کے دن جسموں سمیت جی اٹھنے کو محال جانتے ہیں یہ نہیں دیکھا کہ اللہ نے کل آسمانوں اور تمام زمینوں کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش نے اسے کچھ نہ تھکایا بلکہ صرف ہو جا کے کہنے سے ہی ہو گئیں، کون تھا جو اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتا، یا مخالفت کرتا بلکہ حکم برداری سے راضی خوشی ڈرے دبتے سب موجود ہو گئے، کیا اتنی کامل قدرت و قوت والا مرُدوں کے زندہ کر دینے کی سکت نہیں رکھتا؟

چنانچہ دوسری آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] ‏ یعنی ” انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بھاری اور مشکل اور بہت بڑی اہم پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےسمجھ ہیں “۔ جب زمین و آسمان کو اس نے پیدا کر دیا تو انسان کا پیدا کر دینا خواہ ابتدًا ہو، خواہ دوبارہ ہو اس پر کیا مشکل ہے؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ہاں وہ ہر شے پر قادر ہے اور انہی میں سے موت کے بعد زندہ کرتا ہے کہ اس پر بھی وہ صحیح طور پر قادر ہے۔

پھر اللہ جل و علا کافروں کو دھمکاتا ہے کہ قیامت والے دن جہنم میں ڈالے جائیں گے، اس سے پہلے جہنم کے کنارے پر انہیں کھڑا کر کے ایک مرتبہ پھر لاجواب اور بے حجت کیا جائے گا اور کہا جائے گا، کیوں جی ہمارے وعدے اور یہ دوزخ کے عذاب اب تو صحیح نکلے یا اب بھی شک و شبہ اور انکار و تکذیب ہے؟ یہ جادو تو نہیں، تمہاری آنکھیں تو اندھی نہیں ہو گئیں؟ جو دیکھ رہے ہو صحیح دیکھ رہے ہو یا درحقیقت صحیح نہیں؟ اب سوائے اقرار کے کچھ نہ بن پڑے گا، جواب دیں گے کہ ہاں ہاں سب حق ہے جو کہا گیا تھا وہی نکلا قسم اللہ کی اب ہمیں رتی برابر بھی شک نہیں، اللہ فرمائے گا اب دو گھڑی پہلے کے کفر کا مزہ چکھو۔

صفحہ نمبر8499

باب

پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو تسلی دے رہا ہے کہ آپ کی قوم نے اگر آپ کو جھٹلایا، آپ کی قدر نہ کی، آپ کی مخالفت کی، ایذاء رسانی کے درپے ہوئے تو یہ کوئی نئی بات تھوڑی ہی ہے؟ اگلے اولوالعزم پیغمبروں کو یاد کرو کہ کیسی کیسی ایذائیں، مصیبتیں اور تکلیفیں برداشت کیں اور کن کن زبردست مخالفوں کی مخالفت کو صبر سے برداشت کیا ان رسولوں کے نام یہ ہیں نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ، اور خاتم الانبیاء اللھم صلی علیہم اجمعین۔

انبیاء علیہ السلام کے بیان میں ان کے نام خصوصیت سے سورۃ الاحزاب اور سورۃ شوریٰ میں مذکور ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اولوالعزم رسول سے مراد سب پیغمبر علیہ السلام ہوں تو «من الرسل» کا «من» بیان جنس کے لیے ہو گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا پھر بھوکے ہی رہے پھر روزہ رکھا پھر بھوکے ہی رہے اور پھر روزہ رکھا پھر فرمانے لگے عائشہ محمد اور آل محمد کے لائق تو دنیا ہے ہی نہیں۔ عائشہ دنیا کی بلاؤں اور مصیبتوں پر صبر کرنے اور دنیا کی خواہش کی چیزوں سے اپنے تئیں بچائے رکھنے کا حکم اولوالعزم رسول کئے گئے اور وہی تکلیف مجھے بھی دی گئی ہے جو ان عالی ہمت رسولوں کو دی گئی تھی۔ قسم اللہ کی میں بھی انہی کی طرح اپنی طاقت بھر صبر و سہار سے ہی کام لوں گا اللہ کی قوت کے بھروسے پر یہ بات زبان سے نکال رہا ہوں۔ [شرح السنة للبغوی4046ضعیف] ‏

پھر فرمایا: اے نبی! یہ لوگ عذابوں میں مبتلا کئے جائیں اس کی جلدی نہ کرو۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا» ۔ [73-المزمل:11] ‏

اور «فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا» [86-الطارق:17] ‏، یعنی کافروں کو مہلت دو، انہیں تھوڑی دیر چھوڑ دو۔

پھر فرماتا ہے جس دن یہ ان چیزوں کا مشاہدہ کر لیں گے جن کے وعدے آج دئیے جاتے ہیں اس دن انہیں معلوم ہونے لگے گا کہ دنیا میں صرف دن کا کچھ ہی حصہ گزارا ہے۔ اور آیت میں ہے «أَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا» [79-النازعات:46] ‏ یعنی ” جس دن یہ قیامت کو دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہو گا کہ گویا دنیا میں صرف ایک صبح یا ایک شام ہی گزاری تھی “۔

«وَيَوْمَ يَحْشُرُھُمْ كَاَنْ لَّمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ يَتَعَارَفُوْنَ بَيْنَھُمْ قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَاءِ اللّٰهِ وَمَا كَانُوْا مُهْتَدِيْنَ» [10-یونس:45] ‏ یعنی ” جس دن ہم انہیں جمع کریں گے تو یہ محسوس کرنے لگیں گے کہ گویا دن کی ایک ساعت ہی دنیا میں رہے تھے “۔

پھر فرمایا پہنچا دینا ہے۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ دنیا کا ٹھہرنا صرف ہماری طرف سے ہماری باتوں کے پہنچا دینے کے لیے تھا دوسرے یہ کہ یہ قرآن صرف پہنچا دینے کیلئے ہے یہ کھلی تبلیغ ہے۔ پھر فرماتا ہے سوائے فاسقوں کے اور کسی کو ہلاکی نہیں۔ یہ اللہ جل و علا کا عدل ہے کہ جو خود ہلاک ہوا اسے ہی وہ ہلاک کرتا ہے، عذاب اسی کو ہوتے ہیں جو خود اپنے ہاتھوں اپنے لیے عذاب مہیا کرے اور اپنے آپ کو مستحق عذاب کر دے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«الحمدللہ» سورۃ الاحقاف کی تفسیر اختتام پذیر ہوئی۔

صفحہ نمبر8501

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com