John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Muhammad

Tafsir Ibn Kathir · Muhammad · 38 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

باب

ارشاد ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے خود بھی اللہ کی آیتوں کا انکار کیا اور دوسروں کو بھی راہ اللہ سے روکا اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دئیے ان کی نیکیاں بیکار ہو گئیں۔

جیسے فرمان ہے «وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَّنثُورًا» [25-الفرقان:23] ‏ ” ہم نے ان کے اعمال پہلے ہی غارت و برباد کر دئیے ہیں “، اور جو لوگ ایمان لائے دل سے اور شرع کے مطابق اعمال کئے بدن سے یعنی ظاہر و باطن دونوں اللہ کی طرف جھکا دئیے۔ اور اس وحی الٰہی کو بھی مان لیا جو موجودہ آخر الزمان پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی ہے۔ اور جو فی الواقع رب کی طرف سے ہی ہے اور جو سراسر حق و صداقت ہی ہے۔ ان کی برائیاں برباد ہیں اور ان کے حال کی اصلاح کا ذمہ دار خود اللہ ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہو چکنے کے بعد ایمان کی شرط آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور قرآن پر ایمان لانا بھی ہے۔ حدیث کا حکم ہے کہ جس کی چھینک پر حمد کرنے کا جواب دیا گیا ہو اسے چاہیئے کہ «يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» کہے یعنی اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت سنوار دے ۔ [صحیح بخاری:6224] ‏

پھر فرماتا ہے کفار کے اعمال غارت کر دینے کی مومنوں کی برائیاں معاف فرما دینے اور ان کی شان سنوار دینے کی وجہ یہ ہے کہ کفار تو ناحق کو اختیار کرتے ہیں حق کو چھوڑ کر اور مومن ناحق کو پرے پھینک کر حق کی پابندی کرتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کے انجام کو بیان فرماتا ہے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ خوب جاننے والا ہے۔

صفحہ نمبر8502

باب

ارشاد ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے خود بھی اللہ کی آیتوں کا انکار کیا اور دوسروں کو بھی راہ اللہ سے روکا اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دئیے ان کی نیکیاں بیکار ہو گئیں۔

جیسے فرمان ہے «وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَّنثُورًا» [25-الفرقان:23] ‏ ” ہم نے ان کے اعمال پہلے ہی غارت و برباد کر دئیے ہیں “، اور جو لوگ ایمان لائے دل سے اور شرع کے مطابق اعمال کئے بدن سے یعنی ظاہر و باطن دونوں اللہ کی طرف جھکا دئیے۔ اور اس وحی الٰہی کو بھی مان لیا جو موجودہ آخر الزمان پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی ہے۔ اور جو فی الواقع رب کی طرف سے ہی ہے اور جو سراسر حق و صداقت ہی ہے۔ ان کی برائیاں برباد ہیں اور ان کے حال کی اصلاح کا ذمہ دار خود اللہ ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہو چکنے کے بعد ایمان کی شرط آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور قرآن پر ایمان لانا بھی ہے۔ حدیث کا حکم ہے کہ جس کی چھینک پر حمد کرنے کا جواب دیا گیا ہو اسے چاہیئے کہ «يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» کہے یعنی اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت سنوار دے ۔ [صحیح بخاری:6224] ‏

پھر فرماتا ہے کفار کے اعمال غارت کر دینے کی مومنوں کی برائیاں معاف فرما دینے اور ان کی شان سنوار دینے کی وجہ یہ ہے کہ کفار تو ناحق کو اختیار کرتے ہیں حق کو چھوڑ کر اور مومن ناحق کو پرے پھینک کر حق کی پابندی کرتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کے انجام کو بیان فرماتا ہے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ خوب جاننے والا ہے۔

صفحہ نمبر8502

باب

ارشاد ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے خود بھی اللہ کی آیتوں کا انکار کیا اور دوسروں کو بھی راہ اللہ سے روکا اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دئیے ان کی نیکیاں بیکار ہو گئیں۔

جیسے فرمان ہے «وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَّنثُورًا» [25-الفرقان:23] ‏ ” ہم نے ان کے اعمال پہلے ہی غارت و برباد کر دئیے ہیں “، اور جو لوگ ایمان لائے دل سے اور شرع کے مطابق اعمال کئے بدن سے یعنی ظاہر و باطن دونوں اللہ کی طرف جھکا دئیے۔ اور اس وحی الٰہی کو بھی مان لیا جو موجودہ آخر الزمان پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی ہے۔ اور جو فی الواقع رب کی طرف سے ہی ہے اور جو سراسر حق و صداقت ہی ہے۔ ان کی برائیاں برباد ہیں اور ان کے حال کی اصلاح کا ذمہ دار خود اللہ ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہو چکنے کے بعد ایمان کی شرط آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور قرآن پر ایمان لانا بھی ہے۔ حدیث کا حکم ہے کہ جس کی چھینک پر حمد کرنے کا جواب دیا گیا ہو اسے چاہیئے کہ «يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» کہے یعنی اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت سنوار دے ۔ [صحیح بخاری:6224] ‏

پھر فرماتا ہے کفار کے اعمال غارت کر دینے کی مومنوں کی برائیاں معاف فرما دینے اور ان کی شان سنوار دینے کی وجہ یہ ہے کہ کفار تو ناحق کو اختیار کرتے ہیں حق کو چھوڑ کر اور مومن ناحق کو پرے پھینک کر حق کی پابندی کرتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کے انجام کو بیان فرماتا ہے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ خوب جاننے والا ہے۔

صفحہ نمبر8502

جب کفار سے میدان جہاد میں آمنا سامنا ہو جائے ٭٭

یہاں ایمان داروں کو جنگی احکام دئیے جاتے ہیں کہ جب کافروں سے مڈبھیڑ ہو جائے دستی لڑائی شروع ہو جائے تو ان کی گردنیں اڑاؤ، تلواریں چلا کر گردن دھڑ سے اڑا دو۔ پھر جب دیکھو کہ دشمن ہارا اس کے آدمی کافی کٹ چکے تو باقی ماندہ کو مضبوط قید و بند کے ساتھ مقید کر لو، جب لڑائی ختم ہو چکے، معرکہ پورا ہو جائے، تو پھر تمہیں اختیار ہے کہ قیدیوں کو بطور احسان بغیر کچھ لیے ہی چھوڑ دو اور یہ بھی اختیار ہے کہ ان سے تاوان جنگ وصول کرو پھر چھوڑو۔

بہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ بدر کے غزوے کے بعد یہ آیت اتری ہے کیونکہ بدر کے معرکہ میں زیادہ تر مخالفین کو قید کرنے اور قید کرنے کی کمی کرنے میں مسلمانوں پر عتاب کیا گیا تھا اور فرمایا تھا «مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ تُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ لَّوْلَا كِتَابٌ مِّنَ اللَّـهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» [8-الانفال:67] ‏، ” نبی کو لائق نہ تھا کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ ایک مرتبہ جی کھول کر مخالفین میں موت کی گرم بازاری نہ ہو لے کیا تم دنیوی اسباب کی چاہت میں ہو؟ اللہ کا ارادہ تو آخرت کا ہے اور اللہ عزیز و حکیم ہے۔ اگر پہلے ہی سے اللہ کا لکھا ہوا نہ ہوتا تو جو تم نے لیا اس کی بابت تمہیں بڑا عذاب ہوتا “۔

بعض علماء کا قول ہے کہ یہ اختیار منسوخ ہے اور یہ آیت ناسخ ہے آیت «فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَــلُّوْا سَـبِيْلَهُمْ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [9-التوبة:5] ‏، کی یعنی ” حرمت والے مہینے جب گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ وہیں قتل کرو “۔ لیکن اکثر علماء کا فرمان ہے کہ منسوخ نہیں۔

اب بعض تو کہتے ہیں قتل کر ڈالنے کا بھی اختیار ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ بدر کے قیدیوں میں سے نضر بن حارث اور عقبہ بن ابومعیط کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کرا دیا تھا اور یہ بھی اس کی دلیل ہے کہ ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ نے جب کہ وہ اسیری حالت میں تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا تھا کہ کہو ثمامہ! کیا خیال ہے؟، تو انہوں نے کہا: اگر آپ قتل کریں گے تو ایک خون والے کو قتل کریں گے اور اگر آپ احسان رکھیں گے تو ایک شکر گزار پر احسان رکھیں گے اور اگر مال طلب کرتے ہیں تو جو آپ مانگیں گے مل جائے گا ۔ [صحیح بخاری:4372] ‏

صفحہ نمبر8505

امام شافعی رحمہ اللہ ایک چوتھی بات کا بھی اختیار بتاتے ہیں یعنی قتل، احسان، بدلے کا اور غلام بنا کر رکھ لینے کا۔ اس مسئلے کی تفصیل کی جگہ فروعی مسائل کی کتابیں ہیں۔ اور ہم نے بھی اللہ کے فضل و کرم سے کتاب الاحکام میں اس کے دلائل بیان کر دئیے ہیں۔

پھر فرماتا ہے یہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے یعنی بقول مجاہد رحمہ اللہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو جائیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:308/11:] ‏

ممکن ہے مجاہد رحمہ اللہ کی نظریں اس حدیث پر ہوں جس میں ہے میری امت ہمیشہ حق کے ساتھ ظاہر رہے گی یہاں تک کہ ان کا آخری شخص دجال سے لڑے گا ۔ [سنن ابوداود:2484،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8506

مسند احمد اور نسائی میں ہے کہ سلمہ بن نفیل رضی اللہ عنہ خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے میں نے گھوڑوں کو چھوڑ دیا اور ہتھیار الگ کر دئیے اور لڑائی نے اپنے ہتھیار رکھ دئیے اور میں نے کہہ دیا کہ اب لڑائی ہے ہی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب لڑائی آ گئی، میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ لوگوں پر ظاہر رہے گی جن لوگوں کے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے، یہ ان سے لڑیں گے اور اللہ تعالیٰ انہیں ان سے روزیاں دے گا یہاں تک کہ اللہ کا امر آ جائے اور وہ اسی حالت پر ہوں گے مومنوں کی زمین شام میں ہے۔ گھوڑوں کی ایال میں قیامت تک کے لیے اللہ نے خیر رکھ دی ہے“ ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1935،] ‏

یہ حدیث امام بغوی رحمہ اللہ نے بھی وارد کی ہے اور حافظ ابو یعلیٰ موصلی رحمہ اللہ نے بھی، اس سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ جو لوگ اس آیت کو منسوخ نہیں بتاتے گویا کہ یہ حکم مشروع ہے جب تک لڑائی باقی رہے اور اس حدیث نے بتایا کہ لڑائی قیامت تک باقی رہے گی یہ آیت مثل اس آیت کے ہے «قَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّـهِ» [2-البقرة:193] ‏، یعنی ” ان سے لڑتے رہو جب تک کہ فتنہ باقی ہے اور جب تک کہ دین اللہ ہی کیلئے نہ ہو جائے “۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں لڑائی کے ہتھیار رکھ دینے سے مراد شرک کا باقی نہ رہنا ہے اور بعض سے مروی ہے کہ مراد یہ ہے کہ مشرکین اپنے شرک سے توبہ کر لیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنی کوششیں اللہ کی اطاعت میں صرف کرنے لگ جائیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ” اگر اللہ چاہتا تو خود ہی کفار کو برباد کر دیتا اپنے پاس سے ان پر عذاب بھیج دیتا لیکن وہ تو یہ چاہتا ہے کہ تمہیں آزما لے “، اسی لیے جہاد کے احکام جاری فرمائے ہیں۔ سورۃ آل عمران اور برأت میں بھی اسی مضمون کو بیان کیا ہے۔

آل عمران میں ہے «اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصّٰبِرِيْنَ» [3-آل عمران:142] ‏ ” کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ بغیر اس بات کے کہ اللہ جان لے کہ تم میں سے مجاہد کون ہیں اور تم میں سے صبر کرنے والے کون ہیں تم جنت میں چلے جاؤ گے؟ “۔

سورۃ براۃ میں ہے «قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ وَيَتُوبُ اللَّـهُ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ» [9-التوبة:14-15] ‏ ” ان سے جہاد کرو اللہ تمہارے ہاتھوں انہیں عذاب کرے گا اور تمہیں ان پر نصرت عطا فرمائے گا اور ایمان والوں کے سینے شفاء والے کر دے گا اور اپنے دلوں کے ولولے نکالنے کا انہیں موقعہ دے گا اور جس کی چاہے گا توبہ قبول فرمائے گا اللہ بڑا علیم و حکیم ہے “۔

اب چونکہ یہ بھی تھا کہ جہاد میں مومن بھی شہید ہوں اس لیے فرماتا ہے «وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ» [47-محمد:4] ‏ ” شہیدوں کے اعمال اکارت نہیں جائیں گے بلکہ بہت بڑھا چڑھا کر ثواب انہیں دئیے جائیں گے “۔ بعض کو تو قیامت تک کے ثواب ملیں گے۔

مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ شہید کو چھ انعامات حاصل ہوتے ہیں، اس کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرتے ہی اس کے کل گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اسے اس کا جنت کا مکان دکھا دیا جاتا ہے اور نہایت خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے اس کا نکاح کرا دیا جاتا ہے وہ بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہتا ہے وہ عذاب قبر سے بچا لیا جاتا ہے اسے ایمان کے زیور سے آراستہ کر دیا جاتا ہے ۔

ایک اور حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جاتا ہے۔ جو درو یاقوت کا جڑاؤ ہوتا ہے جس کا ایک یاقوت تمام دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے گراں بہا ہے۔ اسے بہتر حورعین ملتی ہیں اور اپنے خاندان کے ستر شخصوں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے ۔ یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے - [سنن ترمذي:1663،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صحیح مسلم شریف میں ہے سوائے قرض کے شہیدوں کے سب گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ۔ [صحیح مسلم:1886] ‏ شہیدوں کے فضائل کی اور بھی بہت حدیثیں ہیں۔

صفحہ نمبر8507

باب

پھر فرماتا ہے انہیں اللہ جنت کی راہ سمجھا دے گا۔ جیسے یہ آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ يَهْدِيْهِمْ رَبُّھُمْ بِاِيْمَانِهِمْ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ» [10-یونس:9] ‏ یعنی ” جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کئے ان کے ایمان کے باعث ان کا رب انہیں ان جنتوں کی طرف رہبری کرے گا جو نعمتوں سے پر ہیں اور جن کے چپے چپے میں چشمے بہہ رہے ہیں “۔ اللہ ان کے حال اور ان کے کام سنوار دے گا اور جن جنتوں سے انہیں پہلے ہی آگاہ کر چکا ہے اور جن کی طرف ان کی رہبری کر چکا ہے آخر انہی میں انہیں پہنچائے گا۔

یعنی ہر شخص اپنے مکان اور پانی کی جگہ کو جنت میں اس طرح پہچان لے گا جیسے دنیا میں پہچان لیا کرتا تھا۔ انہیں کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے گی یہ معلوم ہو گا گویا شروع پیدائش سے یہیں مقیم ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جس انسان کے ساتھ اس کے اعمال کا محافظ جو فرشتہ تھا وہی اس کے آگے آگے چلے گا جب یہ اپنی جگہ پہنچے گا تو ازخود پہچان لے گا کہ میری جگہ یہی ہے۔ یونہی پھر اپنی زمین میں سیر کرتا ہوا جب سب دیکھ چکے گا تب فرشتہ ہٹ جائے گا اور یہ اپنی لذتوں میں مشغول ہو جائے گا ۔

صحیح بخاری کی مرفوع حدیث میں ہے جب مومن آگ سے چھوٹ جائیں گے تو جنت، دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک لیے جائیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر جو مظالم تھے ان کے بدلے اتار لیے جائیں گے، جب بالکل پاک صاف ہو جائیں گے، تو جنت میں جانے کی اجازت مل جائے گی، قسم اللہ کی جس طرح تم میں سے ہر ایک شخص اپنے دنیوی گھر کی راہ جانتا ہے اور گھر کو پہچانتا ہے اس سے بہت زیادہ وہ لوگ اپنی منزل اور اپنی جگہ سے واقف ہوں گے ۔ [صحیح بخاری:6535] ‏

صفحہ نمبر8508

پھر فرماتا ہے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط کر دے گا۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [22-الحج:40] ‏ ” اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کرے گا “ اس لیے کہ جیسا عمل ہوتا ہے اسی جنس کی جزا ہوتی ہے اور وہ تمہارے قدم بھی مضبوط کر دے گا۔

حدیث میں ہے جو شخص کسی اختیار والے کے سامنے ایک ایسے حاجت مند کی حاجت پہنچائے جو خود وہاں نہ پہنچ سکتا ہو، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پل صراط پر اس کے قدم مضبوطی سے جما دے گا ۔

پھر فرماتا ہے ” کافروں کا حال بالکل برعکس ہے یہ قدم قدم پر ٹھوکریں کھائیں گے “۔ حدیث میں ہے دینار درہم اور کپڑے لتے کا بندہ ٹھوکر کھا گیا وہ برباد ہوا اور ہلاک ہوا وہ اگر بیمار پڑ جائے تو اللہ کرے اسے شفاء بھی نہ ہو ۔ [صحیح بخاری:2887] ‏

ایسے لوگوں کے نیک اعمال بھی اکارت ہیں اس لیے کہ یہ قرآن و حدیث سے ناخوش ہیں نہ اس کی عزت و عظمت ان کے دل میں نہ ان کا قصد و تسلیم کا ارادہ۔ پس ان کے جو کچھ اچھے کام تھے اللہ نے انہیں بھی غارت کر دیا۔

صفحہ نمبر8509

باب

پھر فرماتا ہے انہیں اللہ جنت کی راہ سمجھا دے گا۔ جیسے یہ آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ يَهْدِيْهِمْ رَبُّھُمْ بِاِيْمَانِهِمْ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ» [10-یونس:9] ‏ یعنی ” جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کئے ان کے ایمان کے باعث ان کا رب انہیں ان جنتوں کی طرف رہبری کرے گا جو نعمتوں سے پر ہیں اور جن کے چپے چپے میں چشمے بہہ رہے ہیں “۔ اللہ ان کے حال اور ان کے کام سنوار دے گا اور جن جنتوں سے انہیں پہلے ہی آگاہ کر چکا ہے اور جن کی طرف ان کی رہبری کر چکا ہے آخر انہی میں انہیں پہنچائے گا۔

یعنی ہر شخص اپنے مکان اور پانی کی جگہ کو جنت میں اس طرح پہچان لے گا جیسے دنیا میں پہچان لیا کرتا تھا۔ انہیں کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے گی یہ معلوم ہو گا گویا شروع پیدائش سے یہیں مقیم ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جس انسان کے ساتھ اس کے اعمال کا محافظ جو فرشتہ تھا وہی اس کے آگے آگے چلے گا جب یہ اپنی جگہ پہنچے گا تو ازخود پہچان لے گا کہ میری جگہ یہی ہے۔ یونہی پھر اپنی زمین میں سیر کرتا ہوا جب سب دیکھ چکے گا تب فرشتہ ہٹ جائے گا اور یہ اپنی لذتوں میں مشغول ہو جائے گا ۔

صحیح بخاری کی مرفوع حدیث میں ہے جب مومن آگ سے چھوٹ جائیں گے تو جنت، دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک لیے جائیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر جو مظالم تھے ان کے بدلے اتار لیے جائیں گے، جب بالکل پاک صاف ہو جائیں گے، تو جنت میں جانے کی اجازت مل جائے گی، قسم اللہ کی جس طرح تم میں سے ہر ایک شخص اپنے دنیوی گھر کی راہ جانتا ہے اور گھر کو پہچانتا ہے اس سے بہت زیادہ وہ لوگ اپنی منزل اور اپنی جگہ سے واقف ہوں گے ۔ [صحیح بخاری:6535] ‏

صفحہ نمبر8508

پھر فرماتا ہے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط کر دے گا۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [22-الحج:40] ‏ ” اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کرے گا “ اس لیے کہ جیسا عمل ہوتا ہے اسی جنس کی جزا ہوتی ہے اور وہ تمہارے قدم بھی مضبوط کر دے گا۔

حدیث میں ہے جو شخص کسی اختیار والے کے سامنے ایک ایسے حاجت مند کی حاجت پہنچائے جو خود وہاں نہ پہنچ سکتا ہو، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پل صراط پر اس کے قدم مضبوطی سے جما دے گا ۔

پھر فرماتا ہے ” کافروں کا حال بالکل برعکس ہے یہ قدم قدم پر ٹھوکریں کھائیں گے “۔ حدیث میں ہے دینار درہم اور کپڑے لتے کا بندہ ٹھوکر کھا گیا وہ برباد ہوا اور ہلاک ہوا وہ اگر بیمار پڑ جائے تو اللہ کرے اسے شفاء بھی نہ ہو ۔ [صحیح بخاری:2887] ‏

ایسے لوگوں کے نیک اعمال بھی اکارت ہیں اس لیے کہ یہ قرآن و حدیث سے ناخوش ہیں نہ اس کی عزت و عظمت ان کے دل میں نہ ان کا قصد و تسلیم کا ارادہ۔ پس ان کے جو کچھ اچھے کام تھے اللہ نے انہیں بھی غارت کر دیا۔

صفحہ نمبر8509

باب

پھر فرماتا ہے انہیں اللہ جنت کی راہ سمجھا دے گا۔ جیسے یہ آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ يَهْدِيْهِمْ رَبُّھُمْ بِاِيْمَانِهِمْ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ» [10-یونس:9] ‏ یعنی ” جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کئے ان کے ایمان کے باعث ان کا رب انہیں ان جنتوں کی طرف رہبری کرے گا جو نعمتوں سے پر ہیں اور جن کے چپے چپے میں چشمے بہہ رہے ہیں “۔ اللہ ان کے حال اور ان کے کام سنوار دے گا اور جن جنتوں سے انہیں پہلے ہی آگاہ کر چکا ہے اور جن کی طرف ان کی رہبری کر چکا ہے آخر انہی میں انہیں پہنچائے گا۔

یعنی ہر شخص اپنے مکان اور پانی کی جگہ کو جنت میں اس طرح پہچان لے گا جیسے دنیا میں پہچان لیا کرتا تھا۔ انہیں کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے گی یہ معلوم ہو گا گویا شروع پیدائش سے یہیں مقیم ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جس انسان کے ساتھ اس کے اعمال کا محافظ جو فرشتہ تھا وہی اس کے آگے آگے چلے گا جب یہ اپنی جگہ پہنچے گا تو ازخود پہچان لے گا کہ میری جگہ یہی ہے۔ یونہی پھر اپنی زمین میں سیر کرتا ہوا جب سب دیکھ چکے گا تب فرشتہ ہٹ جائے گا اور یہ اپنی لذتوں میں مشغول ہو جائے گا ۔

صحیح بخاری کی مرفوع حدیث میں ہے جب مومن آگ سے چھوٹ جائیں گے تو جنت، دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک لیے جائیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر جو مظالم تھے ان کے بدلے اتار لیے جائیں گے، جب بالکل پاک صاف ہو جائیں گے، تو جنت میں جانے کی اجازت مل جائے گی، قسم اللہ کی جس طرح تم میں سے ہر ایک شخص اپنے دنیوی گھر کی راہ جانتا ہے اور گھر کو پہچانتا ہے اس سے بہت زیادہ وہ لوگ اپنی منزل اور اپنی جگہ سے واقف ہوں گے ۔ [صحیح بخاری:6535] ‏

صفحہ نمبر8508

پھر فرماتا ہے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط کر دے گا۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [22-الحج:40] ‏ ” اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کرے گا “ اس لیے کہ جیسا عمل ہوتا ہے اسی جنس کی جزا ہوتی ہے اور وہ تمہارے قدم بھی مضبوط کر دے گا۔

حدیث میں ہے جو شخص کسی اختیار والے کے سامنے ایک ایسے حاجت مند کی حاجت پہنچائے جو خود وہاں نہ پہنچ سکتا ہو، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پل صراط پر اس کے قدم مضبوطی سے جما دے گا ۔

پھر فرماتا ہے ” کافروں کا حال بالکل برعکس ہے یہ قدم قدم پر ٹھوکریں کھائیں گے “۔ حدیث میں ہے دینار درہم اور کپڑے لتے کا بندہ ٹھوکر کھا گیا وہ برباد ہوا اور ہلاک ہوا وہ اگر بیمار پڑ جائے تو اللہ کرے اسے شفاء بھی نہ ہو ۔ [صحیح بخاری:2887] ‏

ایسے لوگوں کے نیک اعمال بھی اکارت ہیں اس لیے کہ یہ قرآن و حدیث سے ناخوش ہیں نہ اس کی عزت و عظمت ان کے دل میں نہ ان کا قصد و تسلیم کا ارادہ۔ پس ان کے جو کچھ اچھے کام تھے اللہ نے انہیں بھی غارت کر دیا۔

صفحہ نمبر8509

باب

پھر فرماتا ہے انہیں اللہ جنت کی راہ سمجھا دے گا۔ جیسے یہ آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ يَهْدِيْهِمْ رَبُّھُمْ بِاِيْمَانِهِمْ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ» [10-یونس:9] ‏ یعنی ” جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کئے ان کے ایمان کے باعث ان کا رب انہیں ان جنتوں کی طرف رہبری کرے گا جو نعمتوں سے پر ہیں اور جن کے چپے چپے میں چشمے بہہ رہے ہیں “۔ اللہ ان کے حال اور ان کے کام سنوار دے گا اور جن جنتوں سے انہیں پہلے ہی آگاہ کر چکا ہے اور جن کی طرف ان کی رہبری کر چکا ہے آخر انہی میں انہیں پہنچائے گا۔

یعنی ہر شخص اپنے مکان اور پانی کی جگہ کو جنت میں اس طرح پہچان لے گا جیسے دنیا میں پہچان لیا کرتا تھا۔ انہیں کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے گی یہ معلوم ہو گا گویا شروع پیدائش سے یہیں مقیم ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جس انسان کے ساتھ اس کے اعمال کا محافظ جو فرشتہ تھا وہی اس کے آگے آگے چلے گا جب یہ اپنی جگہ پہنچے گا تو ازخود پہچان لے گا کہ میری جگہ یہی ہے۔ یونہی پھر اپنی زمین میں سیر کرتا ہوا جب سب دیکھ چکے گا تب فرشتہ ہٹ جائے گا اور یہ اپنی لذتوں میں مشغول ہو جائے گا ۔

صحیح بخاری کی مرفوع حدیث میں ہے جب مومن آگ سے چھوٹ جائیں گے تو جنت، دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک لیے جائیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر جو مظالم تھے ان کے بدلے اتار لیے جائیں گے، جب بالکل پاک صاف ہو جائیں گے، تو جنت میں جانے کی اجازت مل جائے گی، قسم اللہ کی جس طرح تم میں سے ہر ایک شخص اپنے دنیوی گھر کی راہ جانتا ہے اور گھر کو پہچانتا ہے اس سے بہت زیادہ وہ لوگ اپنی منزل اور اپنی جگہ سے واقف ہوں گے ۔ [صحیح بخاری:6535] ‏

صفحہ نمبر8508

پھر فرماتا ہے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط کر دے گا۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [22-الحج:40] ‏ ” اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کرے گا “ اس لیے کہ جیسا عمل ہوتا ہے اسی جنس کی جزا ہوتی ہے اور وہ تمہارے قدم بھی مضبوط کر دے گا۔

حدیث میں ہے جو شخص کسی اختیار والے کے سامنے ایک ایسے حاجت مند کی حاجت پہنچائے جو خود وہاں نہ پہنچ سکتا ہو، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پل صراط پر اس کے قدم مضبوطی سے جما دے گا ۔

پھر فرماتا ہے ” کافروں کا حال بالکل برعکس ہے یہ قدم قدم پر ٹھوکریں کھائیں گے “۔ حدیث میں ہے دینار درہم اور کپڑے لتے کا بندہ ٹھوکر کھا گیا وہ برباد ہوا اور ہلاک ہوا وہ اگر بیمار پڑ جائے تو اللہ کرے اسے شفاء بھی نہ ہو ۔ [صحیح بخاری:2887] ‏

ایسے لوگوں کے نیک اعمال بھی اکارت ہیں اس لیے کہ یہ قرآن و حدیث سے ناخوش ہیں نہ اس کی عزت و عظمت ان کے دل میں نہ ان کا قصد و تسلیم کا ارادہ۔ پس ان کے جو کچھ اچھے کام تھے اللہ نے انہیں بھی غارت کر دیا۔

صفحہ نمبر8509

باب

پھر فرماتا ہے انہیں اللہ جنت کی راہ سمجھا دے گا۔ جیسے یہ آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ يَهْدِيْهِمْ رَبُّھُمْ بِاِيْمَانِهِمْ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ» [10-یونس:9] ‏ یعنی ” جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کئے ان کے ایمان کے باعث ان کا رب انہیں ان جنتوں کی طرف رہبری کرے گا جو نعمتوں سے پر ہیں اور جن کے چپے چپے میں چشمے بہہ رہے ہیں “۔ اللہ ان کے حال اور ان کے کام سنوار دے گا اور جن جنتوں سے انہیں پہلے ہی آگاہ کر چکا ہے اور جن کی طرف ان کی رہبری کر چکا ہے آخر انہی میں انہیں پہنچائے گا۔

یعنی ہر شخص اپنے مکان اور پانی کی جگہ کو جنت میں اس طرح پہچان لے گا جیسے دنیا میں پہچان لیا کرتا تھا۔ انہیں کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے گی یہ معلوم ہو گا گویا شروع پیدائش سے یہیں مقیم ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جس انسان کے ساتھ اس کے اعمال کا محافظ جو فرشتہ تھا وہی اس کے آگے آگے چلے گا جب یہ اپنی جگہ پہنچے گا تو ازخود پہچان لے گا کہ میری جگہ یہی ہے۔ یونہی پھر اپنی زمین میں سیر کرتا ہوا جب سب دیکھ چکے گا تب فرشتہ ہٹ جائے گا اور یہ اپنی لذتوں میں مشغول ہو جائے گا ۔

صحیح بخاری کی مرفوع حدیث میں ہے جب مومن آگ سے چھوٹ جائیں گے تو جنت، دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک لیے جائیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر جو مظالم تھے ان کے بدلے اتار لیے جائیں گے، جب بالکل پاک صاف ہو جائیں گے، تو جنت میں جانے کی اجازت مل جائے گی، قسم اللہ کی جس طرح تم میں سے ہر ایک شخص اپنے دنیوی گھر کی راہ جانتا ہے اور گھر کو پہچانتا ہے اس سے بہت زیادہ وہ لوگ اپنی منزل اور اپنی جگہ سے واقف ہوں گے ۔ [صحیح بخاری:6535] ‏

صفحہ نمبر8508

پھر فرماتا ہے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط کر دے گا۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [22-الحج:40] ‏ ” اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کرے گا “ اس لیے کہ جیسا عمل ہوتا ہے اسی جنس کی جزا ہوتی ہے اور وہ تمہارے قدم بھی مضبوط کر دے گا۔

حدیث میں ہے جو شخص کسی اختیار والے کے سامنے ایک ایسے حاجت مند کی حاجت پہنچائے جو خود وہاں نہ پہنچ سکتا ہو، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پل صراط پر اس کے قدم مضبوطی سے جما دے گا ۔

پھر فرماتا ہے ” کافروں کا حال بالکل برعکس ہے یہ قدم قدم پر ٹھوکریں کھائیں گے “۔ حدیث میں ہے دینار درہم اور کپڑے لتے کا بندہ ٹھوکر کھا گیا وہ برباد ہوا اور ہلاک ہوا وہ اگر بیمار پڑ جائے تو اللہ کرے اسے شفاء بھی نہ ہو ۔ [صحیح بخاری:2887] ‏

ایسے لوگوں کے نیک اعمال بھی اکارت ہیں اس لیے کہ یہ قرآن و حدیث سے ناخوش ہیں نہ اس کی عزت و عظمت ان کے دل میں نہ ان کا قصد و تسلیم کا ارادہ۔ پس ان کے جو کچھ اچھے کام تھے اللہ نے انہیں بھی غارت کر دیا۔

صفحہ نمبر8509

تمام شہروں سے پیارا شہر ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے جو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور اس کے رسول کو جھٹلا رہے ہیں زمین کی سیر نہیں کی؟ جو یہ معلوم کر لیتے ہیں اور اپنی آنکھوں دیکھ لیتے ہیں کہ ان سے اگلے جو ان جیسے تھے ان کے انجام کیا ہوئے؟ کس طرح وہ تخت و تاراج کر دئیے گئے اور ان میں سے صرف اسلام و ایمان والے ہی نجات پا سکے کافروں کے لیے اسی طرح کے عذاب آیا کرتے ہیں۔

پھر بیان فرماتا ہے مسلمانوں کا خود اللہ ولی ہے اور کفار بے ولی ہیں۔ اسی لیے احد والے دن مشرکین کے سردار ابوسفیان (‏صخر)‏ بن حرب نے فخر کے ساتھ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں خلفاء کی نسبت سوال کیا اور کوئی جواب نہ پایا تو کہنے لگا کہ یہ سب ہلاک ہو گئے پھر اسے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اور فرمایا ”جن کی زندگی تجھے خار کی طرح کھٹکتی ہے اللہ نے ان سب کو اپنے فضل سے زندہ ہی رکھا ہے۔‏“ ابوسفیان کہنے لگا سنو یہ دن بدر کے بدلے کا دن ہے اور لڑائی تو مثل ڈولوں کے ہے کبھی کوئی اوپر کبھی کوئی اوپر۔ تم اپنے مقتولین میں بعض ایسے بھی پاؤ گے جن کے ناک کان وغیرہ ان کے مرنے کے بعد کاٹ لیے گئے ہیں میں نے ایسا حکم نہیں دیا لیکن مجھے کچھ برا بھی نہیں لگا پھر اس نے رجز کے اشعار فخریہ پڑھنے شروع کئے کہنے لگا «اُعْلُ هُبَل اُعْلُ هُبَل» ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے جواب کیوں نہیں دیتے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا جواب دیں؟ فرمایا: کہو «اَللهُ اَعْلَی وَاَجَلُّ» یعنی وہ کہتا تھا ”ہبل بت کا بول بالا ہو“، جس کے جواب میں کہا گیا ”سب سے زیادہ بلندی والا اور سب سے زیادہ عزت و کرم والا اللہ ہی ہے۔‏“ ابوسفیان نے پھر کہا «لَنَا الْعُزَّی وَلَا عُزَّی لَکُمْ» ‏ ”ہمارا عزیٰ (‏بت)‏ ہے اور تمہارا نہیں۔‏“ اس کے جواب میں بفرمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا گیا «اَللهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلٰى لَکُمْ» اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہار مولا کوئی نہیں ۔ [صحیح بخاری:4043] ‏

صفحہ نمبر8514

تمام شہروں سے پیارا شہر ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے جو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور اس کے رسول کو جھٹلا رہے ہیں زمین کی سیر نہیں کی؟ جو یہ معلوم کر لیتے ہیں اور اپنی آنکھوں دیکھ لیتے ہیں کہ ان سے اگلے جو ان جیسے تھے ان کے انجام کیا ہوئے؟ کس طرح وہ تخت و تاراج کر دئیے گئے اور ان میں سے صرف اسلام و ایمان والے ہی نجات پا سکے کافروں کے لیے اسی طرح کے عذاب آیا کرتے ہیں۔

پھر بیان فرماتا ہے مسلمانوں کا خود اللہ ولی ہے اور کفار بے ولی ہیں۔ اسی لیے احد والے دن مشرکین کے سردار ابوسفیان (‏صخر)‏ بن حرب نے فخر کے ساتھ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں خلفاء کی نسبت سوال کیا اور کوئی جواب نہ پایا تو کہنے لگا کہ یہ سب ہلاک ہو گئے پھر اسے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اور فرمایا ”جن کی زندگی تجھے خار کی طرح کھٹکتی ہے اللہ نے ان سب کو اپنے فضل سے زندہ ہی رکھا ہے۔‏“ ابوسفیان کہنے لگا سنو یہ دن بدر کے بدلے کا دن ہے اور لڑائی تو مثل ڈولوں کے ہے کبھی کوئی اوپر کبھی کوئی اوپر۔ تم اپنے مقتولین میں بعض ایسے بھی پاؤ گے جن کے ناک کان وغیرہ ان کے مرنے کے بعد کاٹ لیے گئے ہیں میں نے ایسا حکم نہیں دیا لیکن مجھے کچھ برا بھی نہیں لگا پھر اس نے رجز کے اشعار فخریہ پڑھنے شروع کئے کہنے لگا «اُعْلُ هُبَل اُعْلُ هُبَل» ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے جواب کیوں نہیں دیتے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا جواب دیں؟ فرمایا: کہو «اَللهُ اَعْلَی وَاَجَلُّ» یعنی وہ کہتا تھا ”ہبل بت کا بول بالا ہو“، جس کے جواب میں کہا گیا ”سب سے زیادہ بلندی والا اور سب سے زیادہ عزت و کرم والا اللہ ہی ہے۔‏“ ابوسفیان نے پھر کہا «لَنَا الْعُزَّی وَلَا عُزَّی لَکُمْ» ‏ ”ہمارا عزیٰ (‏بت)‏ ہے اور تمہارا نہیں۔‏“ اس کے جواب میں بفرمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا گیا «اَللهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلٰى لَکُمْ» اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہار مولا کوئی نہیں ۔ [صحیح بخاری:4043] ‏

صفحہ نمبر8514

باب

پھر جناب باری خبر دیتے ہیں کہ ایماندار قیامت کے دن جنت نشین ہوں گے اور کفر کرنے والے دنیا میں تو خواہ کچھ یونہی سا نفع اٹھا لیں لیکن ان کا اصلی ٹھکانا جہنم ہے۔ دنیا میں ان کی زندگی کا مقصد صرف کھانا پینا اور پیٹ بھرنا ہے اسے یہ لوگ مثل جانوروں کے پورا کر رہے ہیں، جس طرح وہ ادھر ادھر منہ مار کر گیلا سوکھا پیٹ میں بھرنے کا ہی ارادہ رکھتا ہے اسی طرح یہ ہے کہ حلال حرام کی اسے کچھ تمیز نہیں، پیٹ بھرنا مقصود ہے۔

حدیث شریف میں ہے مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں ۔ [صحیح بخاری:5396] ‏

جزا والے دن اپنے اس کفر کی پاداش میں ان کے لیے جہنم کی گوناگوں سزائیں ہیں۔ پھر کفار مکہ کو دھمکاتا ہے اور اپنے عذابوں سے ڈراتا ہے کہ «يُضَاعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ مَا كَانُوا يَسْتَطِيعُونَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوا يُبْصِرُونَ» [11-هود:20] ‏ دیکھو جن بستیوں والے تم سے بہت زیادہ طاقت قوت والے تھے ان کو ہم نے نبیوں کو جھٹلانے اور ہمارے احکام کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے تہس نہس کر دیا، تم جو ان سے کمزور اور کم طاقت ہو اس رسول کو جھٹلاتے اور ایذائیں پہنچاتے ہو جو خاتم الانبیاء اور سید الرسل ہیں، سمجھ لو کہ تمہارا انجام کیا ہو گا؟۔ مانا کہ اس نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک وجود کی وجہ سے اگر دنیوی عذاب تم پر بھی نہ آئے تو اخروی زبردست عذاب تو تم سے دور نہیں ہو سکتے؟

جب اہل مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار میں آ کر اپنے آپ کو چھپایا اس وقت مکہ کی طرف توجہ کی اور فرمانے لگے: ”اے مکہ! تو تمام شہروں سے زیادہ اللہ کو پیارا ہے اور اسی طرح مجھے بھی تمام شہروں سے زیادہ پیارا تو ہے اگر مشرکین مجھے تجھ میں سے نہ نکالتے تو میں ہرگز نہ نکلتا۔“

پس تمام حد سے گزر جانے والوں میں سب سے بڑا حد سے گزر جانے والا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی حدوں سے آگے نکل جائے یا حرم الٰہی میں کسی قاتل کے سوا کسی اور کو قتل کرے یا جاہلیت کے تعصب کی بنا پر قتل کرے پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتاری۔

صفحہ نمبر8516

باب

پھر جناب باری خبر دیتے ہیں کہ ایماندار قیامت کے دن جنت نشین ہوں گے اور کفر کرنے والے دنیا میں تو خواہ کچھ یونہی سا نفع اٹھا لیں لیکن ان کا اصلی ٹھکانا جہنم ہے۔ دنیا میں ان کی زندگی کا مقصد صرف کھانا پینا اور پیٹ بھرنا ہے اسے یہ لوگ مثل جانوروں کے پورا کر رہے ہیں، جس طرح وہ ادھر ادھر منہ مار کر گیلا سوکھا پیٹ میں بھرنے کا ہی ارادہ رکھتا ہے اسی طرح یہ ہے کہ حلال حرام کی اسے کچھ تمیز نہیں، پیٹ بھرنا مقصود ہے۔

حدیث شریف میں ہے مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں ۔ [صحیح بخاری:5396] ‏

جزا والے دن اپنے اس کفر کی پاداش میں ان کے لیے جہنم کی گوناگوں سزائیں ہیں۔ پھر کفار مکہ کو دھمکاتا ہے اور اپنے عذابوں سے ڈراتا ہے کہ «يُضَاعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ مَا كَانُوا يَسْتَطِيعُونَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوا يُبْصِرُونَ» [11-هود:20] ‏ دیکھو جن بستیوں والے تم سے بہت زیادہ طاقت قوت والے تھے ان کو ہم نے نبیوں کو جھٹلانے اور ہمارے احکام کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے تہس نہس کر دیا، تم جو ان سے کمزور اور کم طاقت ہو اس رسول کو جھٹلاتے اور ایذائیں پہنچاتے ہو جو خاتم الانبیاء اور سید الرسل ہیں، سمجھ لو کہ تمہارا انجام کیا ہو گا؟۔ مانا کہ اس نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک وجود کی وجہ سے اگر دنیوی عذاب تم پر بھی نہ آئے تو اخروی زبردست عذاب تو تم سے دور نہیں ہو سکتے؟

جب اہل مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار میں آ کر اپنے آپ کو چھپایا اس وقت مکہ کی طرف توجہ کی اور فرمانے لگے: ”اے مکہ! تو تمام شہروں سے زیادہ اللہ کو پیارا ہے اور اسی طرح مجھے بھی تمام شہروں سے زیادہ پیارا تو ہے اگر مشرکین مجھے تجھ میں سے نہ نکالتے تو میں ہرگز نہ نکلتا۔“

پس تمام حد سے گزر جانے والوں میں سب سے بڑا حد سے گزر جانے والا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی حدوں سے آگے نکل جائے یا حرم الٰہی میں کسی قاتل کے سوا کسی اور کو قتل کرے یا جاہلیت کے تعصب کی بنا پر قتل کرے پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتاری۔

صفحہ نمبر8516

دودھ پانی اور شہد کے سمندر ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص دین اللہ میں یقین کے درجے تک پہنچ چکا ہو، جسے بصیرت حاصل ہو چکی ہو، فطرت صحیحہ کے ساتھ ساتھ ہدایت و علم بھی ہو وہ اور وہ شخص جو بداعمالیوں کو نیک کاریاں سمجھ رہا ہو جو اپنی خواہش نفس کے پیچھے پڑا ہوا ہو، یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔

جیسے فرمان ہے «اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ» [13-الرعد:19] ‏ یعنی ” یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ کی وحی کو حق ماننے والا اور ایک اندھا برابر ہو جائے “۔

اور ارشاد ہے آیت «لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاىِٕزُوْنَ» [59-الحشر:20] ‏ یعنی ” جہنمی اور جنتی برابر نہیں ہو سکتے جنتی کامیاب اور مراد کو پہنچے ہوئے ہیں “۔

پھر جنت کے اور اوصاف بیان فرماتا ہے کہ اس میں پانی کے چشمے ہیں جو کبھی بگڑتا نہیں، متغیر نہیں ہوتا، سڑتا نہیں، نہ بدبو پیدا ہوتی ہے بہت صاف موتی جیسا ہے کوئی گدلا پن نہیں کوڑا کرکٹ نہیں۔

صفحہ نمبر8518

عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جنتی نہریں مشک کے پہاڑوں سے نکلتی ہیں اس میں پانی کے علاوہ دودھ کی نہریں بھی ہیں جن کا مزہ کبھی نہیں بدلتا بہت سفید، بہت میٹھا اور نہایت صاف شفاف اور بامزہ پرذائقہ۔‏“

ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ یہ دودھ جانوروں کے تھن سے نہیں نکلا ہوا بلکہ قدرتی ہے اور نہریں ہوں گی شراب صاف کی، جو پینے والے کا دل خوش کر دیں، دماغ کشادہ کر دیں ۔ [بیهقی فی البعث والنشور:293] ‏ «بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ» [37-الصافات:46] ‏ ” جو شراب نہ تو بدبودار ہے، نہ تلخی والی ہے، نہ بدمنظر ہے “۔

بلکہ دیکھنے میں بہت اچھی، پینے میں بہت لذیذ، نہایت خوشبودار «لَّا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا يُنزِفُونَ» [56-الواقعة:19] ‏ ” جس سے نہ عقل میں فتور آئے، نہ دماغ چکرائیں، نہ منہ سے بدبو آئے، نہ بک جھک لگے “۔ «لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ» [37-الصافات:47] ‏ ” نہ سر میں درد ہو، نہ چکر آئیں، نہ بہکیں، نہ بھٹکیں، نہ نشہ چڑھے، نہ عقل جائے “۔

حدیث میں ہے کہ یہ شراب بھی کسی کے ہاتھوں کی کشید کی ہوئی نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے تیار ہوئی ہے، خوش ذائقہ اور خوش رنگ ہے جنت میں شہد کی نہریں بھی ہیں جو بہت صاف ہے اور خوشبودار اور ذائقہ کا تو کہنا ہی کیا ہے ۔

حدیث شریف میں ہے کہ یہ شہد بھی مکھیوں کے پیٹ سے نہیں ۔

مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ جنت میں دودھ، پانی، شہد اور شراب کے سمندر ہیں جن میں سے ان کی نہریں اور چشمے جاری ہوتے ہیں ۔ [سنن ترمذي:2571،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ حدیث ترمذی شریف میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح فرماتے ہیں۔

ابن مردویہ کی حدیث میں ہے یہ نہریں جنت عدن سے نکلتی ہیں پھر ایک حوض میں آتی ہیں وہاں سے بذریعہ اور نہروں کے تمام جنتوں میں جاتی ہیں ۔ [مسند احمد:316/4:ضعیف] ‏

ایک اور صحیح حدیث میں ہے جب تم اللہ سے سوال کرو تو جنت الفردوس طلب کرو وہ سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ جنت ہے اسی سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے ۔ [صحیح بخاری:2790] ‏

صفحہ نمبر8519

طبرانی میں ہے لقیط بن عامر نے جب وفد میں آئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ جنت میں کیا کچھ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صاف شہد کی نہریں اور بغیر نشے کے سر درد نہ کرنے والی شراب کی نہریں اور نہ بگڑنے والے دودھ کی نہریں اور خراب نہ ہونے والے شفاف پانی کی نہریں اور طرح طرح کے میوہ جات عجیب و غریب بے مثل و بالکل تازہ اور پاک صاف بیویاں جو صالحین کو ملیں گی اور خود بھی صالحات ہوں گی دنیا کی لذتوں کی طرح ان سے لذتیں اٹھائیں گے ہاں وہاں بال بچے نہ ہوں گے“ ۔ [طبرانی کبیر:211/19:] ‏

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یہ نہ خیال کرنا کہ جنت کی نہریں بھی دنیا کی نہروں کی طرح کھدی ہوئی زمین میں اور گڑھوں میں بہتی ہیں، نہیں نہیں، قسم اللہ کی! وہ صاف زمین پر یکساں جاری ہیں ان کے کنارے کنارے «لؤلؤ» اور موتیوں کے خیمے ہیں ان کی مٹی مشک خالص ہے۔‏“

پھر فرماتا ہے وہاں ان کے لیے ہر طرح کے میوے اور پھل پھول ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا «يَدْعُوْنَ فِيْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِيْنَ» [44-الدخان:55] ‏، یعنی ” وہاں نہایت امن و امان کے ساتھ وہ ہر قسم کے میوے منگوائیں گے اور کھائیں گے “۔

ایک اور آیت میں ہے «فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِ» [55-الرحمن:52] ‏، ” دونوں جنتوں میں ہر اک قسم کے میوؤں کے جوڑے ہیں “۔ ان تمام نعمتوں کے ساتھ یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ رب خوش ہے وہ اپنی مغفرت ان کے لیے حلال کر چکا ہے۔ انہیں نواز چکا ہے اور ان سے راضی ہو چکا ہے اب کوئی کھٹکا ہی نہیں۔

جنتوں کی یہ دھوم دھام اور نعمتوں کے بیان کے بعد فرماتا ہے کہ دوسری جانب جہنمیوں کی یہ حالت ہے کہ وہ جہنم کے درکات میں جل بھلس رہے ہیں اور وہاں سے چھٹکارے کی کوئی سبیل نہیں اور سخت پیاس کے موقعہ پر وہ کھولتا ہوا گرم پانی جو دراصل آگ ہی ہے لیکن بشکل پانی انہیں پینے کے لیے ملتا ہے کہ ایک گھونٹ اندر جاتے ہی آنتیں کٹ جاتی ہیں۔ اللہ ہمیں پناہ میں رکھے۔ پھر بھلا اس کا اور اس کا کیا میل؟ کہاں جنتی کہاں جہنمی کہاں نعمت کہاں زحمت یہ دونوں کیسے برابر ہو سکتے ہیں؟

صفحہ نمبر8520

دودھ پانی اور شہد کے سمندر ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص دین اللہ میں یقین کے درجے تک پہنچ چکا ہو، جسے بصیرت حاصل ہو چکی ہو، فطرت صحیحہ کے ساتھ ساتھ ہدایت و علم بھی ہو وہ اور وہ شخص جو بداعمالیوں کو نیک کاریاں سمجھ رہا ہو جو اپنی خواہش نفس کے پیچھے پڑا ہوا ہو، یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔

جیسے فرمان ہے «اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ» [13-الرعد:19] ‏ یعنی ” یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ کی وحی کو حق ماننے والا اور ایک اندھا برابر ہو جائے “۔

اور ارشاد ہے آیت «لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاىِٕزُوْنَ» [59-الحشر:20] ‏ یعنی ” جہنمی اور جنتی برابر نہیں ہو سکتے جنتی کامیاب اور مراد کو پہنچے ہوئے ہیں “۔

پھر جنت کے اور اوصاف بیان فرماتا ہے کہ اس میں پانی کے چشمے ہیں جو کبھی بگڑتا نہیں، متغیر نہیں ہوتا، سڑتا نہیں، نہ بدبو پیدا ہوتی ہے بہت صاف موتی جیسا ہے کوئی گدلا پن نہیں کوڑا کرکٹ نہیں۔

صفحہ نمبر8518

عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جنتی نہریں مشک کے پہاڑوں سے نکلتی ہیں اس میں پانی کے علاوہ دودھ کی نہریں بھی ہیں جن کا مزہ کبھی نہیں بدلتا بہت سفید، بہت میٹھا اور نہایت صاف شفاف اور بامزہ پرذائقہ۔‏“

ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ یہ دودھ جانوروں کے تھن سے نہیں نکلا ہوا بلکہ قدرتی ہے اور نہریں ہوں گی شراب صاف کی، جو پینے والے کا دل خوش کر دیں، دماغ کشادہ کر دیں ۔ [بیهقی فی البعث والنشور:293] ‏ «بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ» [37-الصافات:46] ‏ ” جو شراب نہ تو بدبودار ہے، نہ تلخی والی ہے، نہ بدمنظر ہے “۔

بلکہ دیکھنے میں بہت اچھی، پینے میں بہت لذیذ، نہایت خوشبودار «لَّا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا يُنزِفُونَ» [56-الواقعة:19] ‏ ” جس سے نہ عقل میں فتور آئے، نہ دماغ چکرائیں، نہ منہ سے بدبو آئے، نہ بک جھک لگے “۔ «لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ» [37-الصافات:47] ‏ ” نہ سر میں درد ہو، نہ چکر آئیں، نہ بہکیں، نہ بھٹکیں، نہ نشہ چڑھے، نہ عقل جائے “۔

حدیث میں ہے کہ یہ شراب بھی کسی کے ہاتھوں کی کشید کی ہوئی نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے تیار ہوئی ہے، خوش ذائقہ اور خوش رنگ ہے جنت میں شہد کی نہریں بھی ہیں جو بہت صاف ہے اور خوشبودار اور ذائقہ کا تو کہنا ہی کیا ہے ۔

حدیث شریف میں ہے کہ یہ شہد بھی مکھیوں کے پیٹ سے نہیں ۔

مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ جنت میں دودھ، پانی، شہد اور شراب کے سمندر ہیں جن میں سے ان کی نہریں اور چشمے جاری ہوتے ہیں ۔ [سنن ترمذي:2571،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ حدیث ترمذی شریف میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح فرماتے ہیں۔

ابن مردویہ کی حدیث میں ہے یہ نہریں جنت عدن سے نکلتی ہیں پھر ایک حوض میں آتی ہیں وہاں سے بذریعہ اور نہروں کے تمام جنتوں میں جاتی ہیں ۔ [مسند احمد:316/4:ضعیف] ‏

ایک اور صحیح حدیث میں ہے جب تم اللہ سے سوال کرو تو جنت الفردوس طلب کرو وہ سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ جنت ہے اسی سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے ۔ [صحیح بخاری:2790] ‏

صفحہ نمبر8519

طبرانی میں ہے لقیط بن عامر نے جب وفد میں آئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ جنت میں کیا کچھ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صاف شہد کی نہریں اور بغیر نشے کے سر درد نہ کرنے والی شراب کی نہریں اور نہ بگڑنے والے دودھ کی نہریں اور خراب نہ ہونے والے شفاف پانی کی نہریں اور طرح طرح کے میوہ جات عجیب و غریب بے مثل و بالکل تازہ اور پاک صاف بیویاں جو صالحین کو ملیں گی اور خود بھی صالحات ہوں گی دنیا کی لذتوں کی طرح ان سے لذتیں اٹھائیں گے ہاں وہاں بال بچے نہ ہوں گے“ ۔ [طبرانی کبیر:211/19:] ‏

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یہ نہ خیال کرنا کہ جنت کی نہریں بھی دنیا کی نہروں کی طرح کھدی ہوئی زمین میں اور گڑھوں میں بہتی ہیں، نہیں نہیں، قسم اللہ کی! وہ صاف زمین پر یکساں جاری ہیں ان کے کنارے کنارے «لؤلؤ» اور موتیوں کے خیمے ہیں ان کی مٹی مشک خالص ہے۔‏“

پھر فرماتا ہے وہاں ان کے لیے ہر طرح کے میوے اور پھل پھول ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا «يَدْعُوْنَ فِيْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِيْنَ» [44-الدخان:55] ‏، یعنی ” وہاں نہایت امن و امان کے ساتھ وہ ہر قسم کے میوے منگوائیں گے اور کھائیں گے “۔

ایک اور آیت میں ہے «فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِ» [55-الرحمن:52] ‏، ” دونوں جنتوں میں ہر اک قسم کے میوؤں کے جوڑے ہیں “۔ ان تمام نعمتوں کے ساتھ یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ رب خوش ہے وہ اپنی مغفرت ان کے لیے حلال کر چکا ہے۔ انہیں نواز چکا ہے اور ان سے راضی ہو چکا ہے اب کوئی کھٹکا ہی نہیں۔

جنتوں کی یہ دھوم دھام اور نعمتوں کے بیان کے بعد فرماتا ہے کہ دوسری جانب جہنمیوں کی یہ حالت ہے کہ وہ جہنم کے درکات میں جل بھلس رہے ہیں اور وہاں سے چھٹکارے کی کوئی سبیل نہیں اور سخت پیاس کے موقعہ پر وہ کھولتا ہوا گرم پانی جو دراصل آگ ہی ہے لیکن بشکل پانی انہیں پینے کے لیے ملتا ہے کہ ایک گھونٹ اندر جاتے ہی آنتیں کٹ جاتی ہیں۔ اللہ ہمیں پناہ میں رکھے۔ پھر بھلا اس کا اور اس کا کیا میل؟ کہاں جنتی کہاں جہنمی کہاں نعمت کہاں زحمت یہ دونوں کیسے برابر ہو سکتے ہیں؟

صفحہ نمبر8520

بے وقوف ، کند ذہن اور جاہل ٭٭

منافقوں کی کند ذہنی اور بےعلمی، ناسمجھی اور بیوقوفی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجود مجلس میں شریک ہونے کے، کلام الرسول صلی اللہ علیہ وسلم سن لینے کے، پاس بیٹھے ہونے کے، ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ مجلس کے خاتمے کے بعد اہل علم صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت کیا کیا کہا؟ یہ ہیں جن کے دلوں پر مہر اللہ لگ چکی ہے اور اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے پڑ گئے ہیں، فہم صریح اور قصد صحیح ہے ہی نہیں۔

پھر اللہ عزوجل فرماتا ہے جو لوگ ہدایت کا قصد کرتے ہیں، انہیں خود اللہ بھی توفیق دیتا ہے اور ہدایت نصیب فرماتا ہے، پھر اس پر جم جانے کی ہمت بھی عطا فرماتا ہے اور ان کی ہدایت بڑھاتا رہتا ہے اور انہیں رشد و ہدایت الہام فرماتا رہتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ تو اسی انتظار میں ہیں کہ اچانک قیامت قائم ہو جائے۔ تو یہ معلوم کر لیں کہ اس کے قریب کے نشانات تو ظاہر ہو چکے ہیں۔ جیسے اور موقعہ پر ارشاد ہوا ہے «ھٰذَا نَذِيْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى أَزِفَتِ الْآزِفَةُ» [53-النجم:57،56] ‏ ” یہ ڈرانے والا ہے اگلے ڈرانے والوں سے، قریب آنے والی قریب آ چکی ہے “۔

اور بھی ارشاد ہوتا ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» [54-القمر:1] ‏، قیامت قریب ہو گئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمایا «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:1] ‏ ” لوگوں کا حساب قریب آ گیا پھر بھی وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں “۔

پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی ہو کر دنیا میں آنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسولوں کے ختم کرنے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو کامل کیا اور اپنی حجت اپنی مخلوق پر پوری کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی شرطیں اور اس کی علامتیں اس طرح بیان فرما دیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی نے اس قدر وضاحت نہیں کی تھی جیسے کہ اپنی جگہ وہ سب بیان ہوئی ہیں۔

صفحہ نمبر8522

حسن بصری فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا قیامت کی شرطوں میں سے ہے“، چنانچہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام حدیث میں یہ آئے ہیں «نبی التوبہ»، «نبی الملحمہ»، «حاشر» جس کے قدموں پر لوگ جمع کئے جائیں، «عاقب» جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ [صحیح مسلم:124] ‏

بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیچ کی انگلی اور اس کے پاس والی انگلی کو اٹھا کر فرمایا: ”میں اور قیامت مثل ان دونوں کے بھیجے گئے ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:4936] ‏

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروں کو قیامت قائم ہو جانے کے بعد نصیحت و عبرت کیا سود مند ہو گی؟ جیسے ارشاد ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» [89-الفجر:23] ‏ ” اس دن انسان نصیحت حاصل کر لے گا لیکن اس کے لیے نصیحت کہاں؟ “ یعنی قیامت کے دن کی عبرت بےسود ہے۔

اور آیت میں ہے «وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ» [34-سبأ:52] ‏ یعنی ” اس وقت کہیں گے کہ ہم قرآن پر ایمان لائے حالانکہ اب انہیں ایسے دور از امکان پر دسترس کہاں ہو سکتی ہے؟ “ یعنی ان کا ایمان اس وقت بےسود ہے۔

پھر فرماتا ہے ” اے نبی! جان لو کہ اللہ ہی معبود برحق ہے کوئی اور نہیں “، یہ دراصل خبر دینا ہے اپنی وحدانیت کا، یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اللہ اس کے علم کا حکم دیتا ہو۔ اسی لیے اس پر عطف ڈال کر فرمایا اپنے گناہوں کا اور مومن مرد و عورت کے گناہوں کا استغفار کرو۔

صفحہ نمبر8523

صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ” «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي، وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي هَزْلِي وَجِدِّي، وَخَطَئي، وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي» ‏ یعنی، اے اللہ! میری خطاؤں کو اور میری جہالت کو اور میرے کاموں میں مجھ سے جو زیادتی ہو گئی ہو اس کو اور ہر چیز کو جسے تو مجھ سے بہت زیادہ جاننے والا ہے بخش۔ اے اللہ میرے بے قصد گناہوں کو اور میرے عزم سے کئے ہوئے گناہوں کو اور میری خطاؤں اور میرے قصد کو بخش اور یہ تمام میرے پاس ہے“ ۔ [صحیح بخاری:2398] ‏

اور صحیح حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے آخر میں کہتے «اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہٖ مِنِّیْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُوَخِّرُ لَا اِلٰہَ إلاَّ أَنْتَ» یعنی، ”اے اللہ! میں نے جو کچھ گناہ پہلے کئے ہیں اور جو کچھ پیچھے کئے ہیں اور جو چھپا کر کئے ہیں اور جو ظاہر کئے ہیں اور جو زیادتی کی ہے اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے بخش دے، تو ہی میرا اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں“ ۔ [صحیح مسلم:771] ‏

اور صحیح حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنے رب کی طرف توبہ کرو پس تحقیق میں اپنے رب کی طرف استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں، ہر ایک دن ستر بار سے بھی زیادہ“ ۔ [صحیح بخاری:6307] ‏

مسند احمد میں ہے عبداللہ بن سرخس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کھانے میں سے کھانا کھایا، پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ آپ کو بخشے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تجھے بھی“ تو میں نے کہا: کیا میں آپ کے لیے استغفار کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور اپنے لیے بھی“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ”اپنے گناہوں اور مومن مردوں اور باایمان عورتوں کے گناہوں کی بخشش طلب کر۔‏“ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے کھوے یا بائیں ہتھیلی کو دیکھا وہاں کچھ جگہ ابھری ہوئی تھی جس پر گویا تل تھے [صحیح مسلم:2346] ‏۔ اسے مسلم، ترمذی، نسائی وغیرہ نے بھی روایت کیا ہے۔

ابو یعلیٰ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم « «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» » کا اور «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ» کا کہنا لازم پکڑو اور انہیں بکثرت کہا کرو اس لیے کہ ابلیس کہتا میں نے لوگوں کو گناہوں سے ہلاک کیا اور انہوں نے مجھے ان دونوں کلموں سے ہلاک کیا۔ میں نے جب یہ دیکھا تو انہیں خواہشوں کے پیچھے لگا دیا پس وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں“ ۔

ایک اور اثر میں ہے کہ ابلیس نے کہا: اللہ مجھے تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم جب تک کسی شخص کی روح اس کے جسم میں ہے، میں اسے بہکاتا رہوں گا پس اللہ عزوجل نے فرمایا: ” مجھے بھی قسم ہے اپنی بزرگی اور بڑائی کی کہ میں بھی انہیں بخشتا ہی رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں “ ۔ [مسند احمد:76/3:ضعیف وله شواهد] ‏ استغفار کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔

صفحہ نمبر8524

پھر اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا دن میں ہیر پھیر اور تصرف کرنا اور تمہارا رات کو جگہ پکڑنا اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [6-الأنعام:60] ‏ یعنی ” اللہ وہ ہے جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتا ہے “۔

ایک اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْ‌ضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِ‌زْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّ‌هَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» [11-هود:6] ‏، یعنی ” زمین پر جتنے بھی چلنے والے ہیں ان سب کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور وہ ان کے رہنے کی جگہ اور دفن ہونے کا مقام جانتا ہے یہ سب باتیں واضح کتاب میں لکھی ہوئی ہیں “۔ ابن جریج رحمہ اللہ کا یہی قول ہے اور امام جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:318/11:] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ مراد آخرت کا ٹھکانا ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمہارا چلنا پھرنا دنیا میں اور تمہاری قبروں کی جگہ اسے معلوم ہے لیکن اول قول ہی اولیٰ اور زیادہ ظاہر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8525

بے وقوف ، کند ذہن اور جاہل ٭٭

منافقوں کی کند ذہنی اور بےعلمی، ناسمجھی اور بیوقوفی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجود مجلس میں شریک ہونے کے، کلام الرسول صلی اللہ علیہ وسلم سن لینے کے، پاس بیٹھے ہونے کے، ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ مجلس کے خاتمے کے بعد اہل علم صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت کیا کیا کہا؟ یہ ہیں جن کے دلوں پر مہر اللہ لگ چکی ہے اور اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے پڑ گئے ہیں، فہم صریح اور قصد صحیح ہے ہی نہیں۔

پھر اللہ عزوجل فرماتا ہے جو لوگ ہدایت کا قصد کرتے ہیں، انہیں خود اللہ بھی توفیق دیتا ہے اور ہدایت نصیب فرماتا ہے، پھر اس پر جم جانے کی ہمت بھی عطا فرماتا ہے اور ان کی ہدایت بڑھاتا رہتا ہے اور انہیں رشد و ہدایت الہام فرماتا رہتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ تو اسی انتظار میں ہیں کہ اچانک قیامت قائم ہو جائے۔ تو یہ معلوم کر لیں کہ اس کے قریب کے نشانات تو ظاہر ہو چکے ہیں۔ جیسے اور موقعہ پر ارشاد ہوا ہے «ھٰذَا نَذِيْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى أَزِفَتِ الْآزِفَةُ» [53-النجم:57،56] ‏ ” یہ ڈرانے والا ہے اگلے ڈرانے والوں سے، قریب آنے والی قریب آ چکی ہے “۔

اور بھی ارشاد ہوتا ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» [54-القمر:1] ‏، قیامت قریب ہو گئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمایا «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:1] ‏ ” لوگوں کا حساب قریب آ گیا پھر بھی وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں “۔

پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی ہو کر دنیا میں آنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسولوں کے ختم کرنے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو کامل کیا اور اپنی حجت اپنی مخلوق پر پوری کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی شرطیں اور اس کی علامتیں اس طرح بیان فرما دیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی نے اس قدر وضاحت نہیں کی تھی جیسے کہ اپنی جگہ وہ سب بیان ہوئی ہیں۔

صفحہ نمبر8522

حسن بصری فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا قیامت کی شرطوں میں سے ہے“، چنانچہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام حدیث میں یہ آئے ہیں «نبی التوبہ»، «نبی الملحمہ»، «حاشر» جس کے قدموں پر لوگ جمع کئے جائیں، «عاقب» جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ [صحیح مسلم:124] ‏

بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیچ کی انگلی اور اس کے پاس والی انگلی کو اٹھا کر فرمایا: ”میں اور قیامت مثل ان دونوں کے بھیجے گئے ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:4936] ‏

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروں کو قیامت قائم ہو جانے کے بعد نصیحت و عبرت کیا سود مند ہو گی؟ جیسے ارشاد ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» [89-الفجر:23] ‏ ” اس دن انسان نصیحت حاصل کر لے گا لیکن اس کے لیے نصیحت کہاں؟ “ یعنی قیامت کے دن کی عبرت بےسود ہے۔

اور آیت میں ہے «وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ» [34-سبأ:52] ‏ یعنی ” اس وقت کہیں گے کہ ہم قرآن پر ایمان لائے حالانکہ اب انہیں ایسے دور از امکان پر دسترس کہاں ہو سکتی ہے؟ “ یعنی ان کا ایمان اس وقت بےسود ہے۔

پھر فرماتا ہے ” اے نبی! جان لو کہ اللہ ہی معبود برحق ہے کوئی اور نہیں “، یہ دراصل خبر دینا ہے اپنی وحدانیت کا، یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اللہ اس کے علم کا حکم دیتا ہو۔ اسی لیے اس پر عطف ڈال کر فرمایا اپنے گناہوں کا اور مومن مرد و عورت کے گناہوں کا استغفار کرو۔

صفحہ نمبر8523

صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ” «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي، وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي هَزْلِي وَجِدِّي، وَخَطَئي، وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي» ‏ یعنی، اے اللہ! میری خطاؤں کو اور میری جہالت کو اور میرے کاموں میں مجھ سے جو زیادتی ہو گئی ہو اس کو اور ہر چیز کو جسے تو مجھ سے بہت زیادہ جاننے والا ہے بخش۔ اے اللہ میرے بے قصد گناہوں کو اور میرے عزم سے کئے ہوئے گناہوں کو اور میری خطاؤں اور میرے قصد کو بخش اور یہ تمام میرے پاس ہے“ ۔ [صحیح بخاری:2398] ‏

اور صحیح حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے آخر میں کہتے «اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہٖ مِنِّیْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُوَخِّرُ لَا اِلٰہَ إلاَّ أَنْتَ» یعنی، ”اے اللہ! میں نے جو کچھ گناہ پہلے کئے ہیں اور جو کچھ پیچھے کئے ہیں اور جو چھپا کر کئے ہیں اور جو ظاہر کئے ہیں اور جو زیادتی کی ہے اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے بخش دے، تو ہی میرا اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں“ ۔ [صحیح مسلم:771] ‏

اور صحیح حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنے رب کی طرف توبہ کرو پس تحقیق میں اپنے رب کی طرف استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں، ہر ایک دن ستر بار سے بھی زیادہ“ ۔ [صحیح بخاری:6307] ‏

مسند احمد میں ہے عبداللہ بن سرخس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کھانے میں سے کھانا کھایا، پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ آپ کو بخشے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تجھے بھی“ تو میں نے کہا: کیا میں آپ کے لیے استغفار کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور اپنے لیے بھی“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ”اپنے گناہوں اور مومن مردوں اور باایمان عورتوں کے گناہوں کی بخشش طلب کر۔‏“ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے کھوے یا بائیں ہتھیلی کو دیکھا وہاں کچھ جگہ ابھری ہوئی تھی جس پر گویا تل تھے [صحیح مسلم:2346] ‏۔ اسے مسلم، ترمذی، نسائی وغیرہ نے بھی روایت کیا ہے۔

ابو یعلیٰ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم « «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» » کا اور «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ» کا کہنا لازم پکڑو اور انہیں بکثرت کہا کرو اس لیے کہ ابلیس کہتا میں نے لوگوں کو گناہوں سے ہلاک کیا اور انہوں نے مجھے ان دونوں کلموں سے ہلاک کیا۔ میں نے جب یہ دیکھا تو انہیں خواہشوں کے پیچھے لگا دیا پس وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں“ ۔

ایک اور اثر میں ہے کہ ابلیس نے کہا: اللہ مجھے تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم جب تک کسی شخص کی روح اس کے جسم میں ہے، میں اسے بہکاتا رہوں گا پس اللہ عزوجل نے فرمایا: ” مجھے بھی قسم ہے اپنی بزرگی اور بڑائی کی کہ میں بھی انہیں بخشتا ہی رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں “ ۔ [مسند احمد:76/3:ضعیف وله شواهد] ‏ استغفار کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔

صفحہ نمبر8524

پھر اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا دن میں ہیر پھیر اور تصرف کرنا اور تمہارا رات کو جگہ پکڑنا اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [6-الأنعام:60] ‏ یعنی ” اللہ وہ ہے جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتا ہے “۔

ایک اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْ‌ضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِ‌زْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّ‌هَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» [11-هود:6] ‏، یعنی ” زمین پر جتنے بھی چلنے والے ہیں ان سب کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور وہ ان کے رہنے کی جگہ اور دفن ہونے کا مقام جانتا ہے یہ سب باتیں واضح کتاب میں لکھی ہوئی ہیں “۔ ابن جریج رحمہ اللہ کا یہی قول ہے اور امام جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:318/11:] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ مراد آخرت کا ٹھکانا ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمہارا چلنا پھرنا دنیا میں اور تمہاری قبروں کی جگہ اسے معلوم ہے لیکن اول قول ہی اولیٰ اور زیادہ ظاہر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8525

بے وقوف ، کند ذہن اور جاہل ٭٭

منافقوں کی کند ذہنی اور بےعلمی، ناسمجھی اور بیوقوفی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجود مجلس میں شریک ہونے کے، کلام الرسول صلی اللہ علیہ وسلم سن لینے کے، پاس بیٹھے ہونے کے، ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ مجلس کے خاتمے کے بعد اہل علم صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت کیا کیا کہا؟ یہ ہیں جن کے دلوں پر مہر اللہ لگ چکی ہے اور اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے پڑ گئے ہیں، فہم صریح اور قصد صحیح ہے ہی نہیں۔

پھر اللہ عزوجل فرماتا ہے جو لوگ ہدایت کا قصد کرتے ہیں، انہیں خود اللہ بھی توفیق دیتا ہے اور ہدایت نصیب فرماتا ہے، پھر اس پر جم جانے کی ہمت بھی عطا فرماتا ہے اور ان کی ہدایت بڑھاتا رہتا ہے اور انہیں رشد و ہدایت الہام فرماتا رہتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ تو اسی انتظار میں ہیں کہ اچانک قیامت قائم ہو جائے۔ تو یہ معلوم کر لیں کہ اس کے قریب کے نشانات تو ظاہر ہو چکے ہیں۔ جیسے اور موقعہ پر ارشاد ہوا ہے «ھٰذَا نَذِيْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى أَزِفَتِ الْآزِفَةُ» [53-النجم:57،56] ‏ ” یہ ڈرانے والا ہے اگلے ڈرانے والوں سے، قریب آنے والی قریب آ چکی ہے “۔

اور بھی ارشاد ہوتا ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» [54-القمر:1] ‏، قیامت قریب ہو گئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمایا «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:1] ‏ ” لوگوں کا حساب قریب آ گیا پھر بھی وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں “۔

پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی ہو کر دنیا میں آنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسولوں کے ختم کرنے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو کامل کیا اور اپنی حجت اپنی مخلوق پر پوری کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی شرطیں اور اس کی علامتیں اس طرح بیان فرما دیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی نے اس قدر وضاحت نہیں کی تھی جیسے کہ اپنی جگہ وہ سب بیان ہوئی ہیں۔

صفحہ نمبر8522

حسن بصری فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا قیامت کی شرطوں میں سے ہے“، چنانچہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام حدیث میں یہ آئے ہیں «نبی التوبہ»، «نبی الملحمہ»، «حاشر» جس کے قدموں پر لوگ جمع کئے جائیں، «عاقب» جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ [صحیح مسلم:124] ‏

بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیچ کی انگلی اور اس کے پاس والی انگلی کو اٹھا کر فرمایا: ”میں اور قیامت مثل ان دونوں کے بھیجے گئے ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:4936] ‏

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروں کو قیامت قائم ہو جانے کے بعد نصیحت و عبرت کیا سود مند ہو گی؟ جیسے ارشاد ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» [89-الفجر:23] ‏ ” اس دن انسان نصیحت حاصل کر لے گا لیکن اس کے لیے نصیحت کہاں؟ “ یعنی قیامت کے دن کی عبرت بےسود ہے۔

اور آیت میں ہے «وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ» [34-سبأ:52] ‏ یعنی ” اس وقت کہیں گے کہ ہم قرآن پر ایمان لائے حالانکہ اب انہیں ایسے دور از امکان پر دسترس کہاں ہو سکتی ہے؟ “ یعنی ان کا ایمان اس وقت بےسود ہے۔

پھر فرماتا ہے ” اے نبی! جان لو کہ اللہ ہی معبود برحق ہے کوئی اور نہیں “، یہ دراصل خبر دینا ہے اپنی وحدانیت کا، یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اللہ اس کے علم کا حکم دیتا ہو۔ اسی لیے اس پر عطف ڈال کر فرمایا اپنے گناہوں کا اور مومن مرد و عورت کے گناہوں کا استغفار کرو۔

صفحہ نمبر8523

صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ” «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي، وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي هَزْلِي وَجِدِّي، وَخَطَئي، وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي» ‏ یعنی، اے اللہ! میری خطاؤں کو اور میری جہالت کو اور میرے کاموں میں مجھ سے جو زیادتی ہو گئی ہو اس کو اور ہر چیز کو جسے تو مجھ سے بہت زیادہ جاننے والا ہے بخش۔ اے اللہ میرے بے قصد گناہوں کو اور میرے عزم سے کئے ہوئے گناہوں کو اور میری خطاؤں اور میرے قصد کو بخش اور یہ تمام میرے پاس ہے“ ۔ [صحیح بخاری:2398] ‏

اور صحیح حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے آخر میں کہتے «اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہٖ مِنِّیْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُوَخِّرُ لَا اِلٰہَ إلاَّ أَنْتَ» یعنی، ”اے اللہ! میں نے جو کچھ گناہ پہلے کئے ہیں اور جو کچھ پیچھے کئے ہیں اور جو چھپا کر کئے ہیں اور جو ظاہر کئے ہیں اور جو زیادتی کی ہے اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے بخش دے، تو ہی میرا اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں“ ۔ [صحیح مسلم:771] ‏

اور صحیح حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنے رب کی طرف توبہ کرو پس تحقیق میں اپنے رب کی طرف استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں، ہر ایک دن ستر بار سے بھی زیادہ“ ۔ [صحیح بخاری:6307] ‏

مسند احمد میں ہے عبداللہ بن سرخس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کھانے میں سے کھانا کھایا، پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ آپ کو بخشے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تجھے بھی“ تو میں نے کہا: کیا میں آپ کے لیے استغفار کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور اپنے لیے بھی“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ”اپنے گناہوں اور مومن مردوں اور باایمان عورتوں کے گناہوں کی بخشش طلب کر۔‏“ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے کھوے یا بائیں ہتھیلی کو دیکھا وہاں کچھ جگہ ابھری ہوئی تھی جس پر گویا تل تھے [صحیح مسلم:2346] ‏۔ اسے مسلم، ترمذی، نسائی وغیرہ نے بھی روایت کیا ہے۔

ابو یعلیٰ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم « «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» » کا اور «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ» کا کہنا لازم پکڑو اور انہیں بکثرت کہا کرو اس لیے کہ ابلیس کہتا میں نے لوگوں کو گناہوں سے ہلاک کیا اور انہوں نے مجھے ان دونوں کلموں سے ہلاک کیا۔ میں نے جب یہ دیکھا تو انہیں خواہشوں کے پیچھے لگا دیا پس وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں“ ۔

ایک اور اثر میں ہے کہ ابلیس نے کہا: اللہ مجھے تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم جب تک کسی شخص کی روح اس کے جسم میں ہے، میں اسے بہکاتا رہوں گا پس اللہ عزوجل نے فرمایا: ” مجھے بھی قسم ہے اپنی بزرگی اور بڑائی کی کہ میں بھی انہیں بخشتا ہی رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں “ ۔ [مسند احمد:76/3:ضعیف وله شواهد] ‏ استغفار کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔

صفحہ نمبر8524

پھر اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا دن میں ہیر پھیر اور تصرف کرنا اور تمہارا رات کو جگہ پکڑنا اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [6-الأنعام:60] ‏ یعنی ” اللہ وہ ہے جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتا ہے “۔

ایک اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْ‌ضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِ‌زْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّ‌هَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» [11-هود:6] ‏، یعنی ” زمین پر جتنے بھی چلنے والے ہیں ان سب کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور وہ ان کے رہنے کی جگہ اور دفن ہونے کا مقام جانتا ہے یہ سب باتیں واضح کتاب میں لکھی ہوئی ہیں “۔ ابن جریج رحمہ اللہ کا یہی قول ہے اور امام جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:318/11:] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ مراد آخرت کا ٹھکانا ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمہارا چلنا پھرنا دنیا میں اور تمہاری قبروں کی جگہ اسے معلوم ہے لیکن اول قول ہی اولیٰ اور زیادہ ظاہر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8525

بے وقوف ، کند ذہن اور جاہل ٭٭

منافقوں کی کند ذہنی اور بےعلمی، ناسمجھی اور بیوقوفی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجود مجلس میں شریک ہونے کے، کلام الرسول صلی اللہ علیہ وسلم سن لینے کے، پاس بیٹھے ہونے کے، ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ مجلس کے خاتمے کے بعد اہل علم صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت کیا کیا کہا؟ یہ ہیں جن کے دلوں پر مہر اللہ لگ چکی ہے اور اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے پڑ گئے ہیں، فہم صریح اور قصد صحیح ہے ہی نہیں۔

پھر اللہ عزوجل فرماتا ہے جو لوگ ہدایت کا قصد کرتے ہیں، انہیں خود اللہ بھی توفیق دیتا ہے اور ہدایت نصیب فرماتا ہے، پھر اس پر جم جانے کی ہمت بھی عطا فرماتا ہے اور ان کی ہدایت بڑھاتا رہتا ہے اور انہیں رشد و ہدایت الہام فرماتا رہتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ تو اسی انتظار میں ہیں کہ اچانک قیامت قائم ہو جائے۔ تو یہ معلوم کر لیں کہ اس کے قریب کے نشانات تو ظاہر ہو چکے ہیں۔ جیسے اور موقعہ پر ارشاد ہوا ہے «ھٰذَا نَذِيْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى أَزِفَتِ الْآزِفَةُ» [53-النجم:57،56] ‏ ” یہ ڈرانے والا ہے اگلے ڈرانے والوں سے، قریب آنے والی قریب آ چکی ہے “۔

اور بھی ارشاد ہوتا ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» [54-القمر:1] ‏، قیامت قریب ہو گئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمایا «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:1] ‏ ” لوگوں کا حساب قریب آ گیا پھر بھی وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں “۔

پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی ہو کر دنیا میں آنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسولوں کے ختم کرنے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو کامل کیا اور اپنی حجت اپنی مخلوق پر پوری کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی شرطیں اور اس کی علامتیں اس طرح بیان فرما دیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی نے اس قدر وضاحت نہیں کی تھی جیسے کہ اپنی جگہ وہ سب بیان ہوئی ہیں۔

صفحہ نمبر8522

حسن بصری فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا قیامت کی شرطوں میں سے ہے“، چنانچہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام حدیث میں یہ آئے ہیں «نبی التوبہ»، «نبی الملحمہ»، «حاشر» جس کے قدموں پر لوگ جمع کئے جائیں، «عاقب» جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ [صحیح مسلم:124] ‏

بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیچ کی انگلی اور اس کے پاس والی انگلی کو اٹھا کر فرمایا: ”میں اور قیامت مثل ان دونوں کے بھیجے گئے ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:4936] ‏

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروں کو قیامت قائم ہو جانے کے بعد نصیحت و عبرت کیا سود مند ہو گی؟ جیسے ارشاد ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» [89-الفجر:23] ‏ ” اس دن انسان نصیحت حاصل کر لے گا لیکن اس کے لیے نصیحت کہاں؟ “ یعنی قیامت کے دن کی عبرت بےسود ہے۔

اور آیت میں ہے «وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ» [34-سبأ:52] ‏ یعنی ” اس وقت کہیں گے کہ ہم قرآن پر ایمان لائے حالانکہ اب انہیں ایسے دور از امکان پر دسترس کہاں ہو سکتی ہے؟ “ یعنی ان کا ایمان اس وقت بےسود ہے۔

پھر فرماتا ہے ” اے نبی! جان لو کہ اللہ ہی معبود برحق ہے کوئی اور نہیں “، یہ دراصل خبر دینا ہے اپنی وحدانیت کا، یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اللہ اس کے علم کا حکم دیتا ہو۔ اسی لیے اس پر عطف ڈال کر فرمایا اپنے گناہوں کا اور مومن مرد و عورت کے گناہوں کا استغفار کرو۔

صفحہ نمبر8523

صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ” «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي، وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي هَزْلِي وَجِدِّي، وَخَطَئي، وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي» ‏ یعنی، اے اللہ! میری خطاؤں کو اور میری جہالت کو اور میرے کاموں میں مجھ سے جو زیادتی ہو گئی ہو اس کو اور ہر چیز کو جسے تو مجھ سے بہت زیادہ جاننے والا ہے بخش۔ اے اللہ میرے بے قصد گناہوں کو اور میرے عزم سے کئے ہوئے گناہوں کو اور میری خطاؤں اور میرے قصد کو بخش اور یہ تمام میرے پاس ہے“ ۔ [صحیح بخاری:2398] ‏

اور صحیح حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے آخر میں کہتے «اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہٖ مِنِّیْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُوَخِّرُ لَا اِلٰہَ إلاَّ أَنْتَ» یعنی، ”اے اللہ! میں نے جو کچھ گناہ پہلے کئے ہیں اور جو کچھ پیچھے کئے ہیں اور جو چھپا کر کئے ہیں اور جو ظاہر کئے ہیں اور جو زیادتی کی ہے اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے بخش دے، تو ہی میرا اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں“ ۔ [صحیح مسلم:771] ‏

اور صحیح حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنے رب کی طرف توبہ کرو پس تحقیق میں اپنے رب کی طرف استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں، ہر ایک دن ستر بار سے بھی زیادہ“ ۔ [صحیح بخاری:6307] ‏

مسند احمد میں ہے عبداللہ بن سرخس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کھانے میں سے کھانا کھایا، پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ آپ کو بخشے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تجھے بھی“ تو میں نے کہا: کیا میں آپ کے لیے استغفار کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور اپنے لیے بھی“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ”اپنے گناہوں اور مومن مردوں اور باایمان عورتوں کے گناہوں کی بخشش طلب کر۔‏“ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے کھوے یا بائیں ہتھیلی کو دیکھا وہاں کچھ جگہ ابھری ہوئی تھی جس پر گویا تل تھے [صحیح مسلم:2346] ‏۔ اسے مسلم، ترمذی، نسائی وغیرہ نے بھی روایت کیا ہے۔

ابو یعلیٰ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم « «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» » کا اور «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ» کا کہنا لازم پکڑو اور انہیں بکثرت کہا کرو اس لیے کہ ابلیس کہتا میں نے لوگوں کو گناہوں سے ہلاک کیا اور انہوں نے مجھے ان دونوں کلموں سے ہلاک کیا۔ میں نے جب یہ دیکھا تو انہیں خواہشوں کے پیچھے لگا دیا پس وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں“ ۔

ایک اور اثر میں ہے کہ ابلیس نے کہا: اللہ مجھے تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم جب تک کسی شخص کی روح اس کے جسم میں ہے، میں اسے بہکاتا رہوں گا پس اللہ عزوجل نے فرمایا: ” مجھے بھی قسم ہے اپنی بزرگی اور بڑائی کی کہ میں بھی انہیں بخشتا ہی رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں “ ۔ [مسند احمد:76/3:ضعیف وله شواهد] ‏ استغفار کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔

صفحہ نمبر8524

پھر اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا دن میں ہیر پھیر اور تصرف کرنا اور تمہارا رات کو جگہ پکڑنا اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [6-الأنعام:60] ‏ یعنی ” اللہ وہ ہے جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتا ہے “۔

ایک اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْ‌ضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِ‌زْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّ‌هَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» [11-هود:6] ‏، یعنی ” زمین پر جتنے بھی چلنے والے ہیں ان سب کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور وہ ان کے رہنے کی جگہ اور دفن ہونے کا مقام جانتا ہے یہ سب باتیں واضح کتاب میں لکھی ہوئی ہیں “۔ ابن جریج رحمہ اللہ کا یہی قول ہے اور امام جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:318/11:] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ مراد آخرت کا ٹھکانا ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمہارا چلنا پھرنا دنیا میں اور تمہاری قبروں کی جگہ اسے معلوم ہے لیکن اول قول ہی اولیٰ اور زیادہ ظاہر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8525

ایمان کی دلیل حکم جہاد کی تعمیل ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ مومن تو جہاد کے حکم کی تمنا کرتے ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ جہاد کو فرض کر دیتا ہے اور اس کا حکم نازل فرما دیتا ہے تو اس سے اکثر لوگ ہٹ جاتے ہیں، جیسے اور آیت میں ہے «أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِ‌يقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّـهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً وَقَالُوا رَ‌بَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلَا أَخَّرْ‌تَنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِ‌يبٍ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَ‌ةُ خَيْرٌ‌ لِّمَنِ اتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا» [4-النساء:77] ‏ یعنی ” کیا تو نے انہیں نہیں دیکھا جن لوگوں سے کہا گیا کہ تم اپنے ہاتھوں کو روک لو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو۔ پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک فریق لوگوں سے اس طرح ڈرنے لگا جیسے اللہ کا ڈر ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور کہنے لگے، اے ہمارے رب! ہم پر تو نے جہاد کیوں فرض کر دیا تو نے ہم کو قریب کی مدت تک ڈھیل کیوں نہ دی؟ تو کہہ کہ دنیا کی متاع بہت ہی کم ہے اور پرہیزگاروں کے لیے آخرت بہت ہی بہتر ہے اور تم پر بالکل ذرا سا بھی ظلم نہ کیا جائے گا “۔

پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ایمان والے تو جہاد کے حکموں کی آیتوں کے نازل ہونے کی تمنا کرتے ہیں لیکن منافق لوگ جب ان آیتوں کو سنتے ہیں تو بوجہ اپنی گھبراہٹ بوکھلاہٹ اور نامردی کے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس طرح تجھے دیکھنے لگتے ہیں جیسے موت کی غشی والا۔

صفحہ نمبر8529

پھر انہیں مرد میدان بننے کی رغبت دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ان کے حق میں بہتر تو یہ ہوتا کہ یہ سنتے مانتے اور جب موقعہ آ جاتا معرکہ کارزار گرم ہوتا تو نیک نیتی کے ساتھ جہاد کر کے اپنے خلوص کا ثبوت دیتے۔

پھر فرمایا ” قریب ہے کہ تم جہاد سے رک جاؤ اور اس سے بچنے لگو تو زمین میں فساد کرنے لگو اور صلہ رحمی توڑنے لگو “، یعنی زمانہ جاہلیت میں جو حالت تمہاری تھی وہی تم میں لوٹ آئے۔

پس فرمایا ” ایسے لوگوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور یہ رب کی طرف سے بہرے اندھے ہیں “۔ اس میں زمین میں فساد کرنے کی عموماً اور قطع رحمی کی خصوصا ممانعت ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں اصلاح اور صلہ رحمی کرنے کی ہدایت کی ہے اور ان کا حکم فرمایا ہے۔ صلہ رحمی کے معنی ہیں قرابت داروں سے بات چیت میں، کام کاج میں، سلوک و احسان کرنا اور ان کی مالی مشکلات میں ان کے کام آنا۔ اس بارے میں بہت سی صحیح اور حسن حدیثیں مروی ہیں۔

صفحہ نمبر8530

صحیح بخاری میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو پیدا کر چکا تو رحم کھڑا ہوا اور رحمٰن سے چمٹ گیا اس سے پوچھا گیا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: یہ مقام ہے ٹوٹنے سے تیری پناہ میں آنے کا، اس پر اللہ عزوجل نے فرمایا: کیا تو اس سے راضی نہیں؟ کہ تیرے ملانے والے کو میں ملاؤں اور تیرے کاٹنے والے کو میں کاٹ دوں؟ اس نے کہا: ہاں، اس پر میں بہت خوش ہوں اس حدیث کو بیان فرما کر پھر راوی حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو «فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَتُـقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَكُمْ» “ [47-محمد:22] ‏ [صحیح بخاری:4830] ‏ اور سند سے ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کوئی گناہ اتنا بڑا اور اتنا برا نہیں جس کی بہت جلدی سزا دنیا میں اور پھر اس کی برائی آخرت میں بہت بری پہنچتی ہو بہ نسبت سرکشی بغاوت اور قطع رحمی کے ۔ [سنن ابوداود:4902،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند احمد میں ہے جو شخص چاہے کہ اس کی عمر بڑی ہو اور روزی کشادہ ہو وہ صلہ رحمی کرے ۔ [مسند احمد:279/5:صحیح لغیره] ‏

صفحہ نمبر8531

اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میرے نزدیکی قرابت دار مجھ سے تعلق توڑتے رہتے ہیں اور میں انہیں معاف کرتا رہتا ہوں وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برائیاں کرتے رہتے ہیں تو کیا میں ان سے بدلہ نہ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں اگر ایسا کرو گے تو تم سب کے سب چھوڑ دئیے جاؤ گے، تو صلہ رحمی پر ہی رہ اور یاد رکھ کہ جب تک تو اس پر باقی رہے گا اللہ کی طرف سے تیرے ساتھ ہر وقت معاونت کرنے والا رہے گا“ ۔ [مسند احمد:181/2:حسن لغیره] ‏

بخاری وغیرہ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صلہ رحمی عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے، حقیقتًا صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو کسی احسان کے بدلے احسان کرے بلکہ صحیح معنی میں رشتے ناطے ملانے والا وہ ہے کہ گو تو اسے کاٹتا جائے وہ تجھ سے جوڑتا جائے“ ۔ [صحیح بخاری:5991] ‏

مسند احمد میں ہے کہ صلہ رحمی قیامت کے دن رکھی جائے گی، اس کی رانیں ہوں گی مثل ہرن کی رانوں کے، وہ بہت صاف اور تیز زبان سے بولے گی، پس وہ کاٹ دیا جائے گا جو اسے کاٹتا تھا اور وہ ملایا جائے گا جو اسے ملاتا تھا ۔ [مسند احمد:189/2:ضعیف] ‏

مسند کی ایک اور حدیث میں ہے رحم کرنے والوں پر رحمٰن بھی رحم کرتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا۔ رحم رحمان کی طرف سے ہے اس کے ملانے والے کو اللہ ملاتا ہے اور اس کے توڑنے والے کو اللہ تعالیٰ خود توڑ دیتا ہے ۔ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔

سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لیے لوگ گئے تو آپ فرمانے لگے: ”تم نے صلہ رحمی کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ عزوجل نے فرمایا ہے میں رحمن ہوں اور رحم کا نام میں نے اپنے نام پر رکھا ہے اسے جوڑنے والے کو میں جوڑوں گا اور اس کے توڑنے والے کو میں توڑ دوں گا“ ۔ [سنن ابوداود:1694،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8532

اور حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”روحیں ملی جلی ہیں جو روز ازل میں میل کر چکی ہیں وہ یہاں یگانگت برتتی ہیں اور جن میں وہاں نفرت رہی ہے یہاں بھی دوری رہتی ہے“ ۔ [طبرانی کبیر:6172:صحیح بالشواهد] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جب زبانی دعوے بڑھ جائیں، عملی کام گھٹ جائیں، زبانی میل جول ہو، دلی بغض و عداوت ہو، رشتے دار رشتے دار سے بدسلوکی کرے، اس وقت ایسے لوگوں پر لعنت اللہ نازل ہوتی ہے اور ان کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی کر دی جاتی ہیں ۔ [طبرانی کبیر:6170:ضعیف] ‏ اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8533

اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں غور و فکر کرنے اور سوچنے سمجھنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اس سے بےپرواہی کرنے اور منہ پھیر لینے سے روکتا ہے۔

پس فرماتا ہے ” غور و تامل تو کجا ان کے دلوں پر تو قفل لگے ہوئے ہیں “۔ کوئی کلام اس میں اثر بھی نہیں کرتا، اندر جائے تو اثر کرے، جائے کہاں سے، جب کہ جانے کی راہ نہ پائے۔

ابن جریر میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے ایک نوجوان یمنی نے کہا بلکہ ان پر ان کے قفل ہیں جب تک اللہ نہ کھولے اور الگ نہ کرے پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ بات رہی یہاں تک کہ اپنی خلافت کے زمانے میں اس سے مدد لیتے رہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:321/11:مرسل] ‏

صفحہ نمبر8534

ایمان کی دلیل حکم جہاد کی تعمیل ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ مومن تو جہاد کے حکم کی تمنا کرتے ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ جہاد کو فرض کر دیتا ہے اور اس کا حکم نازل فرما دیتا ہے تو اس سے اکثر لوگ ہٹ جاتے ہیں، جیسے اور آیت میں ہے «أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِ‌يقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّـهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً وَقَالُوا رَ‌بَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلَا أَخَّرْ‌تَنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِ‌يبٍ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَ‌ةُ خَيْرٌ‌ لِّمَنِ اتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا» [4-النساء:77] ‏ یعنی ” کیا تو نے انہیں نہیں دیکھا جن لوگوں سے کہا گیا کہ تم اپنے ہاتھوں کو روک لو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو۔ پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک فریق لوگوں سے اس طرح ڈرنے لگا جیسے اللہ کا ڈر ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور کہنے لگے، اے ہمارے رب! ہم پر تو نے جہاد کیوں فرض کر دیا تو نے ہم کو قریب کی مدت تک ڈھیل کیوں نہ دی؟ تو کہہ کہ دنیا کی متاع بہت ہی کم ہے اور پرہیزگاروں کے لیے آخرت بہت ہی بہتر ہے اور تم پر بالکل ذرا سا بھی ظلم نہ کیا جائے گا “۔

پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ایمان والے تو جہاد کے حکموں کی آیتوں کے نازل ہونے کی تمنا کرتے ہیں لیکن منافق لوگ جب ان آیتوں کو سنتے ہیں تو بوجہ اپنی گھبراہٹ بوکھلاہٹ اور نامردی کے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس طرح تجھے دیکھنے لگتے ہیں جیسے موت کی غشی والا۔

صفحہ نمبر8529

پھر انہیں مرد میدان بننے کی رغبت دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ان کے حق میں بہتر تو یہ ہوتا کہ یہ سنتے مانتے اور جب موقعہ آ جاتا معرکہ کارزار گرم ہوتا تو نیک نیتی کے ساتھ جہاد کر کے اپنے خلوص کا ثبوت دیتے۔

پھر فرمایا ” قریب ہے کہ تم جہاد سے رک جاؤ اور اس سے بچنے لگو تو زمین میں فساد کرنے لگو اور صلہ رحمی توڑنے لگو “، یعنی زمانہ جاہلیت میں جو حالت تمہاری تھی وہی تم میں لوٹ آئے۔

پس فرمایا ” ایسے لوگوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور یہ رب کی طرف سے بہرے اندھے ہیں “۔ اس میں زمین میں فساد کرنے کی عموماً اور قطع رحمی کی خصوصا ممانعت ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں اصلاح اور صلہ رحمی کرنے کی ہدایت کی ہے اور ان کا حکم فرمایا ہے۔ صلہ رحمی کے معنی ہیں قرابت داروں سے بات چیت میں، کام کاج میں، سلوک و احسان کرنا اور ان کی مالی مشکلات میں ان کے کام آنا۔ اس بارے میں بہت سی صحیح اور حسن حدیثیں مروی ہیں۔

صفحہ نمبر8530

صحیح بخاری میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو پیدا کر چکا تو رحم کھڑا ہوا اور رحمٰن سے چمٹ گیا اس سے پوچھا گیا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: یہ مقام ہے ٹوٹنے سے تیری پناہ میں آنے کا، اس پر اللہ عزوجل نے فرمایا: کیا تو اس سے راضی نہیں؟ کہ تیرے ملانے والے کو میں ملاؤں اور تیرے کاٹنے والے کو میں کاٹ دوں؟ اس نے کہا: ہاں، اس پر میں بہت خوش ہوں اس حدیث کو بیان فرما کر پھر راوی حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو «فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَتُـقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَكُمْ» “ [47-محمد:22] ‏ [صحیح بخاری:4830] ‏ اور سند سے ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کوئی گناہ اتنا بڑا اور اتنا برا نہیں جس کی بہت جلدی سزا دنیا میں اور پھر اس کی برائی آخرت میں بہت بری پہنچتی ہو بہ نسبت سرکشی بغاوت اور قطع رحمی کے ۔ [سنن ابوداود:4902،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند احمد میں ہے جو شخص چاہے کہ اس کی عمر بڑی ہو اور روزی کشادہ ہو وہ صلہ رحمی کرے ۔ [مسند احمد:279/5:صحیح لغیره] ‏

صفحہ نمبر8531

اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میرے نزدیکی قرابت دار مجھ سے تعلق توڑتے رہتے ہیں اور میں انہیں معاف کرتا رہتا ہوں وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برائیاں کرتے رہتے ہیں تو کیا میں ان سے بدلہ نہ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں اگر ایسا کرو گے تو تم سب کے سب چھوڑ دئیے جاؤ گے، تو صلہ رحمی پر ہی رہ اور یاد رکھ کہ جب تک تو اس پر باقی رہے گا اللہ کی طرف سے تیرے ساتھ ہر وقت معاونت کرنے والا رہے گا“ ۔ [مسند احمد:181/2:حسن لغیره] ‏

بخاری وغیرہ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صلہ رحمی عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے، حقیقتًا صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو کسی احسان کے بدلے احسان کرے بلکہ صحیح معنی میں رشتے ناطے ملانے والا وہ ہے کہ گو تو اسے کاٹتا جائے وہ تجھ سے جوڑتا جائے“ ۔ [صحیح بخاری:5991] ‏

مسند احمد میں ہے کہ صلہ رحمی قیامت کے دن رکھی جائے گی، اس کی رانیں ہوں گی مثل ہرن کی رانوں کے، وہ بہت صاف اور تیز زبان سے بولے گی، پس وہ کاٹ دیا جائے گا جو اسے کاٹتا تھا اور وہ ملایا جائے گا جو اسے ملاتا تھا ۔ [مسند احمد:189/2:ضعیف] ‏

مسند کی ایک اور حدیث میں ہے رحم کرنے والوں پر رحمٰن بھی رحم کرتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا۔ رحم رحمان کی طرف سے ہے اس کے ملانے والے کو اللہ ملاتا ہے اور اس کے توڑنے والے کو اللہ تعالیٰ خود توڑ دیتا ہے ۔ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔

سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لیے لوگ گئے تو آپ فرمانے لگے: ”تم نے صلہ رحمی کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ عزوجل نے فرمایا ہے میں رحمن ہوں اور رحم کا نام میں نے اپنے نام پر رکھا ہے اسے جوڑنے والے کو میں جوڑوں گا اور اس کے توڑنے والے کو میں توڑ دوں گا“ ۔ [سنن ابوداود:1694،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8532

اور حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”روحیں ملی جلی ہیں جو روز ازل میں میل کر چکی ہیں وہ یہاں یگانگت برتتی ہیں اور جن میں وہاں نفرت رہی ہے یہاں بھی دوری رہتی ہے“ ۔ [طبرانی کبیر:6172:صحیح بالشواهد] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جب زبانی دعوے بڑھ جائیں، عملی کام گھٹ جائیں، زبانی میل جول ہو، دلی بغض و عداوت ہو، رشتے دار رشتے دار سے بدسلوکی کرے، اس وقت ایسے لوگوں پر لعنت اللہ نازل ہوتی ہے اور ان کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی کر دی جاتی ہیں ۔ [طبرانی کبیر:6170:ضعیف] ‏ اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8533

اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں غور و فکر کرنے اور سوچنے سمجھنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اس سے بےپرواہی کرنے اور منہ پھیر لینے سے روکتا ہے۔

پس فرماتا ہے ” غور و تامل تو کجا ان کے دلوں پر تو قفل لگے ہوئے ہیں “۔ کوئی کلام اس میں اثر بھی نہیں کرتا، اندر جائے تو اثر کرے، جائے کہاں سے، جب کہ جانے کی راہ نہ پائے۔

ابن جریر میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے ایک نوجوان یمنی نے کہا بلکہ ان پر ان کے قفل ہیں جب تک اللہ نہ کھولے اور الگ نہ کرے پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ بات رہی یہاں تک کہ اپنی خلافت کے زمانے میں اس سے مدد لیتے رہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:321/11:مرسل] ‏

صفحہ نمبر8534

ایمان کی دلیل حکم جہاد کی تعمیل ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ مومن تو جہاد کے حکم کی تمنا کرتے ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ جہاد کو فرض کر دیتا ہے اور اس کا حکم نازل فرما دیتا ہے تو اس سے اکثر لوگ ہٹ جاتے ہیں، جیسے اور آیت میں ہے «أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِ‌يقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّـهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً وَقَالُوا رَ‌بَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلَا أَخَّرْ‌تَنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِ‌يبٍ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَ‌ةُ خَيْرٌ‌ لِّمَنِ اتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا» [4-النساء:77] ‏ یعنی ” کیا تو نے انہیں نہیں دیکھا جن لوگوں سے کہا گیا کہ تم اپنے ہاتھوں کو روک لو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو۔ پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک فریق لوگوں سے اس طرح ڈرنے لگا جیسے اللہ کا ڈر ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور کہنے لگے، اے ہمارے رب! ہم پر تو نے جہاد کیوں فرض کر دیا تو نے ہم کو قریب کی مدت تک ڈھیل کیوں نہ دی؟ تو کہہ کہ دنیا کی متاع بہت ہی کم ہے اور پرہیزگاروں کے لیے آخرت بہت ہی بہتر ہے اور تم پر بالکل ذرا سا بھی ظلم نہ کیا جائے گا “۔

پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ایمان والے تو جہاد کے حکموں کی آیتوں کے نازل ہونے کی تمنا کرتے ہیں لیکن منافق لوگ جب ان آیتوں کو سنتے ہیں تو بوجہ اپنی گھبراہٹ بوکھلاہٹ اور نامردی کے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس طرح تجھے دیکھنے لگتے ہیں جیسے موت کی غشی والا۔

صفحہ نمبر8529

پھر انہیں مرد میدان بننے کی رغبت دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ان کے حق میں بہتر تو یہ ہوتا کہ یہ سنتے مانتے اور جب موقعہ آ جاتا معرکہ کارزار گرم ہوتا تو نیک نیتی کے ساتھ جہاد کر کے اپنے خلوص کا ثبوت دیتے۔

پھر فرمایا ” قریب ہے کہ تم جہاد سے رک جاؤ اور اس سے بچنے لگو تو زمین میں فساد کرنے لگو اور صلہ رحمی توڑنے لگو “، یعنی زمانہ جاہلیت میں جو حالت تمہاری تھی وہی تم میں لوٹ آئے۔

پس فرمایا ” ایسے لوگوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور یہ رب کی طرف سے بہرے اندھے ہیں “۔ اس میں زمین میں فساد کرنے کی عموماً اور قطع رحمی کی خصوصا ممانعت ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں اصلاح اور صلہ رحمی کرنے کی ہدایت کی ہے اور ان کا حکم فرمایا ہے۔ صلہ رحمی کے معنی ہیں قرابت داروں سے بات چیت میں، کام کاج میں، سلوک و احسان کرنا اور ان کی مالی مشکلات میں ان کے کام آنا۔ اس بارے میں بہت سی صحیح اور حسن حدیثیں مروی ہیں۔

صفحہ نمبر8530

صحیح بخاری میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو پیدا کر چکا تو رحم کھڑا ہوا اور رحمٰن سے چمٹ گیا اس سے پوچھا گیا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: یہ مقام ہے ٹوٹنے سے تیری پناہ میں آنے کا، اس پر اللہ عزوجل نے فرمایا: کیا تو اس سے راضی نہیں؟ کہ تیرے ملانے والے کو میں ملاؤں اور تیرے کاٹنے والے کو میں کاٹ دوں؟ اس نے کہا: ہاں، اس پر میں بہت خوش ہوں اس حدیث کو بیان فرما کر پھر راوی حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو «فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَتُـقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَكُمْ» “ [47-محمد:22] ‏ [صحیح بخاری:4830] ‏ اور سند سے ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کوئی گناہ اتنا بڑا اور اتنا برا نہیں جس کی بہت جلدی سزا دنیا میں اور پھر اس کی برائی آخرت میں بہت بری پہنچتی ہو بہ نسبت سرکشی بغاوت اور قطع رحمی کے ۔ [سنن ابوداود:4902،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند احمد میں ہے جو شخص چاہے کہ اس کی عمر بڑی ہو اور روزی کشادہ ہو وہ صلہ رحمی کرے ۔ [مسند احمد:279/5:صحیح لغیره] ‏

صفحہ نمبر8531

اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میرے نزدیکی قرابت دار مجھ سے تعلق توڑتے رہتے ہیں اور میں انہیں معاف کرتا رہتا ہوں وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برائیاں کرتے رہتے ہیں تو کیا میں ان سے بدلہ نہ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں اگر ایسا کرو گے تو تم سب کے سب چھوڑ دئیے جاؤ گے، تو صلہ رحمی پر ہی رہ اور یاد رکھ کہ جب تک تو اس پر باقی رہے گا اللہ کی طرف سے تیرے ساتھ ہر وقت معاونت کرنے والا رہے گا“ ۔ [مسند احمد:181/2:حسن لغیره] ‏

بخاری وغیرہ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صلہ رحمی عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے، حقیقتًا صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو کسی احسان کے بدلے احسان کرے بلکہ صحیح معنی میں رشتے ناطے ملانے والا وہ ہے کہ گو تو اسے کاٹتا جائے وہ تجھ سے جوڑتا جائے“ ۔ [صحیح بخاری:5991] ‏

مسند احمد میں ہے کہ صلہ رحمی قیامت کے دن رکھی جائے گی، اس کی رانیں ہوں گی مثل ہرن کی رانوں کے، وہ بہت صاف اور تیز زبان سے بولے گی، پس وہ کاٹ دیا جائے گا جو اسے کاٹتا تھا اور وہ ملایا جائے گا جو اسے ملاتا تھا ۔ [مسند احمد:189/2:ضعیف] ‏

مسند کی ایک اور حدیث میں ہے رحم کرنے والوں پر رحمٰن بھی رحم کرتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا۔ رحم رحمان کی طرف سے ہے اس کے ملانے والے کو اللہ ملاتا ہے اور اس کے توڑنے والے کو اللہ تعالیٰ خود توڑ دیتا ہے ۔ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔

سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لیے لوگ گئے تو آپ فرمانے لگے: ”تم نے صلہ رحمی کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ عزوجل نے فرمایا ہے میں رحمن ہوں اور رحم کا نام میں نے اپنے نام پر رکھا ہے اسے جوڑنے والے کو میں جوڑوں گا اور اس کے توڑنے والے کو میں توڑ دوں گا“ ۔ [سنن ابوداود:1694،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8532

اور حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”روحیں ملی جلی ہیں جو روز ازل میں میل کر چکی ہیں وہ یہاں یگانگت برتتی ہیں اور جن میں وہاں نفرت رہی ہے یہاں بھی دوری رہتی ہے“ ۔ [طبرانی کبیر:6172:صحیح بالشواهد] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جب زبانی دعوے بڑھ جائیں، عملی کام گھٹ جائیں، زبانی میل جول ہو، دلی بغض و عداوت ہو، رشتے دار رشتے دار سے بدسلوکی کرے، اس وقت ایسے لوگوں پر لعنت اللہ نازل ہوتی ہے اور ان کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی کر دی جاتی ہیں ۔ [طبرانی کبیر:6170:ضعیف] ‏ اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8533

اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں غور و فکر کرنے اور سوچنے سمجھنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اس سے بےپرواہی کرنے اور منہ پھیر لینے سے روکتا ہے۔

پس فرماتا ہے ” غور و تامل تو کجا ان کے دلوں پر تو قفل لگے ہوئے ہیں “۔ کوئی کلام اس میں اثر بھی نہیں کرتا، اندر جائے تو اثر کرے، جائے کہاں سے، جب کہ جانے کی راہ نہ پائے۔

ابن جریر میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے ایک نوجوان یمنی نے کہا بلکہ ان پر ان کے قفل ہیں جب تک اللہ نہ کھولے اور الگ نہ کرے پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ بات رہی یہاں تک کہ اپنی خلافت کے زمانے میں اس سے مدد لیتے رہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:321/11:مرسل] ‏

صفحہ نمبر8534

ایمان کی دلیل حکم جہاد کی تعمیل ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ مومن تو جہاد کے حکم کی تمنا کرتے ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ جہاد کو فرض کر دیتا ہے اور اس کا حکم نازل فرما دیتا ہے تو اس سے اکثر لوگ ہٹ جاتے ہیں، جیسے اور آیت میں ہے «أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِ‌يقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّـهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً وَقَالُوا رَ‌بَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلَا أَخَّرْ‌تَنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِ‌يبٍ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَ‌ةُ خَيْرٌ‌ لِّمَنِ اتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا» [4-النساء:77] ‏ یعنی ” کیا تو نے انہیں نہیں دیکھا جن لوگوں سے کہا گیا کہ تم اپنے ہاتھوں کو روک لو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو۔ پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک فریق لوگوں سے اس طرح ڈرنے لگا جیسے اللہ کا ڈر ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور کہنے لگے، اے ہمارے رب! ہم پر تو نے جہاد کیوں فرض کر دیا تو نے ہم کو قریب کی مدت تک ڈھیل کیوں نہ دی؟ تو کہہ کہ دنیا کی متاع بہت ہی کم ہے اور پرہیزگاروں کے لیے آخرت بہت ہی بہتر ہے اور تم پر بالکل ذرا سا بھی ظلم نہ کیا جائے گا “۔

پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ایمان والے تو جہاد کے حکموں کی آیتوں کے نازل ہونے کی تمنا کرتے ہیں لیکن منافق لوگ جب ان آیتوں کو سنتے ہیں تو بوجہ اپنی گھبراہٹ بوکھلاہٹ اور نامردی کے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس طرح تجھے دیکھنے لگتے ہیں جیسے موت کی غشی والا۔

صفحہ نمبر8529

پھر انہیں مرد میدان بننے کی رغبت دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ان کے حق میں بہتر تو یہ ہوتا کہ یہ سنتے مانتے اور جب موقعہ آ جاتا معرکہ کارزار گرم ہوتا تو نیک نیتی کے ساتھ جہاد کر کے اپنے خلوص کا ثبوت دیتے۔

پھر فرمایا ” قریب ہے کہ تم جہاد سے رک جاؤ اور اس سے بچنے لگو تو زمین میں فساد کرنے لگو اور صلہ رحمی توڑنے لگو “، یعنی زمانہ جاہلیت میں جو حالت تمہاری تھی وہی تم میں لوٹ آئے۔

پس فرمایا ” ایسے لوگوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور یہ رب کی طرف سے بہرے اندھے ہیں “۔ اس میں زمین میں فساد کرنے کی عموماً اور قطع رحمی کی خصوصا ممانعت ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں اصلاح اور صلہ رحمی کرنے کی ہدایت کی ہے اور ان کا حکم فرمایا ہے۔ صلہ رحمی کے معنی ہیں قرابت داروں سے بات چیت میں، کام کاج میں، سلوک و احسان کرنا اور ان کی مالی مشکلات میں ان کے کام آنا۔ اس بارے میں بہت سی صحیح اور حسن حدیثیں مروی ہیں۔

صفحہ نمبر8530

صحیح بخاری میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو پیدا کر چکا تو رحم کھڑا ہوا اور رحمٰن سے چمٹ گیا اس سے پوچھا گیا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: یہ مقام ہے ٹوٹنے سے تیری پناہ میں آنے کا، اس پر اللہ عزوجل نے فرمایا: کیا تو اس سے راضی نہیں؟ کہ تیرے ملانے والے کو میں ملاؤں اور تیرے کاٹنے والے کو میں کاٹ دوں؟ اس نے کہا: ہاں، اس پر میں بہت خوش ہوں اس حدیث کو بیان فرما کر پھر راوی حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو «فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَتُـقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَكُمْ» “ [47-محمد:22] ‏ [صحیح بخاری:4830] ‏ اور سند سے ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کوئی گناہ اتنا بڑا اور اتنا برا نہیں جس کی بہت جلدی سزا دنیا میں اور پھر اس کی برائی آخرت میں بہت بری پہنچتی ہو بہ نسبت سرکشی بغاوت اور قطع رحمی کے ۔ [سنن ابوداود:4902،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند احمد میں ہے جو شخص چاہے کہ اس کی عمر بڑی ہو اور روزی کشادہ ہو وہ صلہ رحمی کرے ۔ [مسند احمد:279/5:صحیح لغیره] ‏

صفحہ نمبر8531

اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میرے نزدیکی قرابت دار مجھ سے تعلق توڑتے رہتے ہیں اور میں انہیں معاف کرتا رہتا ہوں وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برائیاں کرتے رہتے ہیں تو کیا میں ان سے بدلہ نہ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں اگر ایسا کرو گے تو تم سب کے سب چھوڑ دئیے جاؤ گے، تو صلہ رحمی پر ہی رہ اور یاد رکھ کہ جب تک تو اس پر باقی رہے گا اللہ کی طرف سے تیرے ساتھ ہر وقت معاونت کرنے والا رہے گا“ ۔ [مسند احمد:181/2:حسن لغیره] ‏

بخاری وغیرہ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صلہ رحمی عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے، حقیقتًا صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو کسی احسان کے بدلے احسان کرے بلکہ صحیح معنی میں رشتے ناطے ملانے والا وہ ہے کہ گو تو اسے کاٹتا جائے وہ تجھ سے جوڑتا جائے“ ۔ [صحیح بخاری:5991] ‏

مسند احمد میں ہے کہ صلہ رحمی قیامت کے دن رکھی جائے گی، اس کی رانیں ہوں گی مثل ہرن کی رانوں کے، وہ بہت صاف اور تیز زبان سے بولے گی، پس وہ کاٹ دیا جائے گا جو اسے کاٹتا تھا اور وہ ملایا جائے گا جو اسے ملاتا تھا ۔ [مسند احمد:189/2:ضعیف] ‏

مسند کی ایک اور حدیث میں ہے رحم کرنے والوں پر رحمٰن بھی رحم کرتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا۔ رحم رحمان کی طرف سے ہے اس کے ملانے والے کو اللہ ملاتا ہے اور اس کے توڑنے والے کو اللہ تعالیٰ خود توڑ دیتا ہے ۔ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔

سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لیے لوگ گئے تو آپ فرمانے لگے: ”تم نے صلہ رحمی کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ عزوجل نے فرمایا ہے میں رحمن ہوں اور رحم کا نام میں نے اپنے نام پر رکھا ہے اسے جوڑنے والے کو میں جوڑوں گا اور اس کے توڑنے والے کو میں توڑ دوں گا“ ۔ [سنن ابوداود:1694،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8532

اور حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”روحیں ملی جلی ہیں جو روز ازل میں میل کر چکی ہیں وہ یہاں یگانگت برتتی ہیں اور جن میں وہاں نفرت رہی ہے یہاں بھی دوری رہتی ہے“ ۔ [طبرانی کبیر:6172:صحیح بالشواهد] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جب زبانی دعوے بڑھ جائیں، عملی کام گھٹ جائیں، زبانی میل جول ہو، دلی بغض و عداوت ہو، رشتے دار رشتے دار سے بدسلوکی کرے، اس وقت ایسے لوگوں پر لعنت اللہ نازل ہوتی ہے اور ان کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی کر دی جاتی ہیں ۔ [طبرانی کبیر:6170:ضعیف] ‏ اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8533

اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں غور و فکر کرنے اور سوچنے سمجھنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اس سے بےپرواہی کرنے اور منہ پھیر لینے سے روکتا ہے۔

پس فرماتا ہے ” غور و تامل تو کجا ان کے دلوں پر تو قفل لگے ہوئے ہیں “۔ کوئی کلام اس میں اثر بھی نہیں کرتا، اندر جائے تو اثر کرے، جائے کہاں سے، جب کہ جانے کی راہ نہ پائے۔

ابن جریر میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے ایک نوجوان یمنی نے کہا بلکہ ان پر ان کے قفل ہیں جب تک اللہ نہ کھولے اور الگ نہ کرے پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ بات رہی یہاں تک کہ اپنی خلافت کے زمانے میں اس سے مدد لیتے رہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:321/11:مرسل] ‏

صفحہ نمبر8534

باب

پھر فرماتا ہے جو لوگ ہدایت ظاہر ہو چکنے کے بعد ایمان سے الگ ہو گئے اور کفر کی طرف لوٹ گئے دراصل شیطان نے اس کارِ بد کو ان کی نگاہوں میں اچھا دکھایا ہے اور انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ دراصل ان کا یہ کفر ان کی سزا ہے ان کے اس نفاق کی جو ان کے دل میں تھا، جس کی وجہ سے وہ ظاہر کے خلاف اپنا باطن رکھتے تھے، کافروں سے مل جل کر انہیں اپنا کرنے کے لیے ان سے باطن میں باطل پر موافقت کر کے کہتے تھے گھبراؤ نہیں ابھی ابھی ہم بھی بعض امور میں تمہارا ساتھ دیں گے۔ لیکن یہ باتیں اس اللہ سے تو چھپ نہیں سکتیں جو اندرونی اور بیرونی حالات سے یکسر اور یکساں واقف ہو، جو راتوں کے وقت کی پوشیدہ اور راز کی باتیں بھی سنتا ہو جس کے علم کی کوئی انتہا نہ ہو۔

صفحہ نمبر8538

باب

پھر فرماتا ہے جو لوگ ہدایت ظاہر ہو چکنے کے بعد ایمان سے الگ ہو گئے اور کفر کی طرف لوٹ گئے دراصل شیطان نے اس کارِ بد کو ان کی نگاہوں میں اچھا دکھایا ہے اور انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ دراصل ان کا یہ کفر ان کی سزا ہے ان کے اس نفاق کی جو ان کے دل میں تھا، جس کی وجہ سے وہ ظاہر کے خلاف اپنا باطن رکھتے تھے، کافروں سے مل جل کر انہیں اپنا کرنے کے لیے ان سے باطن میں باطل پر موافقت کر کے کہتے تھے گھبراؤ نہیں ابھی ابھی ہم بھی بعض امور میں تمہارا ساتھ دیں گے۔ لیکن یہ باتیں اس اللہ سے تو چھپ نہیں سکتیں جو اندرونی اور بیرونی حالات سے یکسر اور یکساں واقف ہو، جو راتوں کے وقت کی پوشیدہ اور راز کی باتیں بھی سنتا ہو جس کے علم کی کوئی انتہا نہ ہو۔

صفحہ نمبر8538

باب

پھر فرماتا ہے جو لوگ ہدایت ظاہر ہو چکنے کے بعد ایمان سے الگ ہو گئے اور کفر کی طرف لوٹ گئے دراصل شیطان نے اس کارِ بد کو ان کی نگاہوں میں اچھا دکھایا ہے اور انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ دراصل ان کا یہ کفر ان کی سزا ہے ان کے اس نفاق کی جو ان کے دل میں تھا، جس کی وجہ سے وہ ظاہر کے خلاف اپنا باطن رکھتے تھے، کافروں سے مل جل کر انہیں اپنا کرنے کے لیے ان سے باطن میں باطل پر موافقت کر کے کہتے تھے گھبراؤ نہیں ابھی ابھی ہم بھی بعض امور میں تمہارا ساتھ دیں گے۔ لیکن یہ باتیں اس اللہ سے تو چھپ نہیں سکتیں جو اندرونی اور بیرونی حالات سے یکسر اور یکساں واقف ہو، جو راتوں کے وقت کی پوشیدہ اور راز کی باتیں بھی سنتا ہو جس کے علم کی کوئی انتہا نہ ہو۔

صفحہ نمبر8538

باب

پھر فرماتا ہے ان کا کیا حال ہو گا؟ جبکہ فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کو آئیں گے اور ان کی روحیں جسموں میں چھپتی پھریں گی اور ملائکہ جبرا، قہرا، ڈانٹ، جھڑک اور مار پیٹ سے انہیں باہر نکالیں گے۔ جیسے ارشاد باری ہے «وَلَوْ تَرَ‌ىٰ إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُ‌وا الْمَلَائِكَةُ يَضْرِ‌بُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَ‌هُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِ‌يقِ» [8-الأنفال:50] ‏، یعنی ” کاش کہ تو دیکھتا جبکہ ان کافروں کی روحیں فرشتے قبض کرتے ہوئے ان کے منہ پر طمانچے اور ان کی پیٹھ پر مکے مارتے ہیں “۔

اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ» [6-الأنعام:93] ‏، یعنی ” کاش کہ تو دیکھتا جبکہ یہ ظالم سکرات موت میں ہوتے ہیں اور فرشتے اپنے ہاتھ ان کی طرف مارنے کے لیے پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں اپنی جانیں نکالو آج تمہیں ذلت کے عذاب کئے جائیں گے اس لیے کہ تم اللہ کے ذمے ناحق کہا کرتے تھے اور اس کی آیتوں میں تکبر کرتے تھے “۔

یہاں ان کا گناہ بیان کیا گیا کہ ان کاموں اور باتوں کے پیچھے لگے ہوئے تھے جن سے اللہ ناخوش ہو اور اللہ کی رضا سے کراہت کرتے تھے۔ پس ان کے اعمال اکارت ہو گئے۔

صفحہ نمبر8541

باب

پھر فرماتا ہے ان کا کیا حال ہو گا؟ جبکہ فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کو آئیں گے اور ان کی روحیں جسموں میں چھپتی پھریں گی اور ملائکہ جبرا، قہرا، ڈانٹ، جھڑک اور مار پیٹ سے انہیں باہر نکالیں گے۔ جیسے ارشاد باری ہے «وَلَوْ تَرَ‌ىٰ إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُ‌وا الْمَلَائِكَةُ يَضْرِ‌بُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَ‌هُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِ‌يقِ» [8-الأنفال:50] ‏، یعنی ” کاش کہ تو دیکھتا جبکہ ان کافروں کی روحیں فرشتے قبض کرتے ہوئے ان کے منہ پر طمانچے اور ان کی پیٹھ پر مکے مارتے ہیں “۔

اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ» [6-الأنعام:93] ‏، یعنی ” کاش کہ تو دیکھتا جبکہ یہ ظالم سکرات موت میں ہوتے ہیں اور فرشتے اپنے ہاتھ ان کی طرف مارنے کے لیے پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں اپنی جانیں نکالو آج تمہیں ذلت کے عذاب کئے جائیں گے اس لیے کہ تم اللہ کے ذمے ناحق کہا کرتے تھے اور اس کی آیتوں میں تکبر کرتے تھے “۔

یہاں ان کا گناہ بیان کیا گیا کہ ان کاموں اور باتوں کے پیچھے لگے ہوئے تھے جن سے اللہ ناخوش ہو اور اللہ کی رضا سے کراہت کرتے تھے۔ پس ان کے اعمال اکارت ہو گئے۔

صفحہ نمبر8541

منافق کو اس کے چہرے کی زبان سے پہچانو ٭٭

یعنی کیا منافقوں کا خیال ہے کہ ان کی مکاری اور عیاری کا اظہار اللہ مسلمانوں پر کرے گا ہی نہیں؟ یہ بالکل غلط خیال ہے اللہ تعالیٰ ان کا مکر اس طرح واضح کر دے گا کہ ہر عقلمند انہیں پہچان لے اور ان کی بدباطنی سے بچ سکے۔ ان کے بہت سے احوال سورۃ براۃ میں بیان کئے گئے اور ان کے نفاق کی بہت سی خصلتوں کا ذکر وہاں کیا گیا۔ یہاں تک کہ اس سورت کا دوسرا نام ہی «فاضحہ» رکھ دیا گیا یعنی منافقوں کو فضیحت کرنے والی۔

«اَضْغَانَ» جمع ہے «ضِّغْنُ» کی، «ضِّغْنُ» کہتے ہیں دلی حسد و بغض کو۔ اس کے بعد اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ اے نبی! اگر ہم چاہیں تو ان کے وجود تمہیں دکھا دیں پس تم انہیں کھلم کھلا جان جاؤ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا ان تمام منافقوں کو بتا نہیں دیا تاکہ اس کی مخلوق پر پردہ پڑا رہے ان کے عیوب پوشیدہ رہیں، اور باطنی حساب اسی ظاہر و باطن جاننے والے کے ہاتھ رہے لیکن ہاں تم ان کی بات چیت کے طرز اور کلام کے ڈھنگ سے ہی انہیں صاف پہچان لو گے۔

صفحہ نمبر8543

امیرالمؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں“ جو شخص کسی پوشیدگی کو چھپاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کے چہرے پر اور اس کی زبان پر ظاہر کر دیتا ہے۔‏“

حدیث شریف میں ہے جو شخص کسی راز کو پردہ میں رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اس پر عیاں کر دیتا ہے وہ بہتر ہے تو اور بدتر ہے تو ۔ ہم نے شرح صحیح بخاری کے شروع میں عملی اور اعتقادی نفاق کا بیان پوری طرح کر دیا ہے جس کے دوہرانے کی یہاں ضرورت نہیں۔ حدیث میں منافقوں کی ایک جماعت کی (‏تعیین)‏ آ چکی ہے۔ [طبرانی کبیر:1702:ضعیف] ‏

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ”تم میں بعض لوگ منافق ہیں پس جس کا میں نام لوں وہ کھڑا ہو جائے۔ اے فلاں کھڑا ہو جا، یہاں تک کہ چھتیس اشخاص کے نام لیے۔‏“ پھر فرمایا: ”تم میں، یا تم میں سے، منافق ہیں، پس اللہ سے ڈرو۔‏“ اس کے بعد ان لوگوں میں سے ایک کے سامنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گزرے وہ اس وقت کپڑے میں اپنا منہ لپیٹے ہوا تھا۔ آپ اسے خوب جانتے تھے پوچھا کہ کیا ہے؟ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اوپر والی حدیث بیان کی تو آپ نے فرمایا: اللہ تجھے غارت کرے ۔ [مسند احمد:273/5:ضعیف] ‏

پھر فرمایا ہے ہم حکم احکام دے کر، روک ٹوک کر کے تمہیں خود آزما کر معلوم کر لیں گے کہ تم میں سے مجاہد کون ہیں؟ اور صبر کرنے والے کون ہیں؟ اور ہم تمہارے احوال آزمائیں گے۔ یہ تو ہر مسلمان جانتا ہے کہ ظاہر ہونے سے پہلے ہی اس علام الغیوب کو ہر چیز، ہر شخص اور اس کے اعمال معلوم ہیں تو یہاں مطلب یہ ہے کہ دنیا کے سامنے کھول دے اور اس حال کو دیکھ لے اور دکھا دے اسی لیے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس جیسے مواقع پر «لِنَعْلَمَ» کے معنی کرتے تھے «ِلنَریٰ» یعنی تا کہ ہم دیکھ لیں۔

صفحہ نمبر8544

منافق کو اس کے چہرے کی زبان سے پہچانو ٭٭

یعنی کیا منافقوں کا خیال ہے کہ ان کی مکاری اور عیاری کا اظہار اللہ مسلمانوں پر کرے گا ہی نہیں؟ یہ بالکل غلط خیال ہے اللہ تعالیٰ ان کا مکر اس طرح واضح کر دے گا کہ ہر عقلمند انہیں پہچان لے اور ان کی بدباطنی سے بچ سکے۔ ان کے بہت سے احوال سورۃ براۃ میں بیان کئے گئے اور ان کے نفاق کی بہت سی خصلتوں کا ذکر وہاں کیا گیا۔ یہاں تک کہ اس سورت کا دوسرا نام ہی «فاضحہ» رکھ دیا گیا یعنی منافقوں کو فضیحت کرنے والی۔

«اَضْغَانَ» جمع ہے «ضِّغْنُ» کی، «ضِّغْنُ» کہتے ہیں دلی حسد و بغض کو۔ اس کے بعد اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ اے نبی! اگر ہم چاہیں تو ان کے وجود تمہیں دکھا دیں پس تم انہیں کھلم کھلا جان جاؤ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا ان تمام منافقوں کو بتا نہیں دیا تاکہ اس کی مخلوق پر پردہ پڑا رہے ان کے عیوب پوشیدہ رہیں، اور باطنی حساب اسی ظاہر و باطن جاننے والے کے ہاتھ رہے لیکن ہاں تم ان کی بات چیت کے طرز اور کلام کے ڈھنگ سے ہی انہیں صاف پہچان لو گے۔

صفحہ نمبر8543

امیرالمؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں“ جو شخص کسی پوشیدگی کو چھپاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کے چہرے پر اور اس کی زبان پر ظاہر کر دیتا ہے۔‏“

حدیث شریف میں ہے جو شخص کسی راز کو پردہ میں رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اس پر عیاں کر دیتا ہے وہ بہتر ہے تو اور بدتر ہے تو ۔ ہم نے شرح صحیح بخاری کے شروع میں عملی اور اعتقادی نفاق کا بیان پوری طرح کر دیا ہے جس کے دوہرانے کی یہاں ضرورت نہیں۔ حدیث میں منافقوں کی ایک جماعت کی (‏تعیین)‏ آ چکی ہے۔ [طبرانی کبیر:1702:ضعیف] ‏

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ”تم میں بعض لوگ منافق ہیں پس جس کا میں نام لوں وہ کھڑا ہو جائے۔ اے فلاں کھڑا ہو جا، یہاں تک کہ چھتیس اشخاص کے نام لیے۔‏“ پھر فرمایا: ”تم میں، یا تم میں سے، منافق ہیں، پس اللہ سے ڈرو۔‏“ اس کے بعد ان لوگوں میں سے ایک کے سامنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گزرے وہ اس وقت کپڑے میں اپنا منہ لپیٹے ہوا تھا۔ آپ اسے خوب جانتے تھے پوچھا کہ کیا ہے؟ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اوپر والی حدیث بیان کی تو آپ نے فرمایا: اللہ تجھے غارت کرے ۔ [مسند احمد:273/5:ضعیف] ‏

پھر فرمایا ہے ہم حکم احکام دے کر، روک ٹوک کر کے تمہیں خود آزما کر معلوم کر لیں گے کہ تم میں سے مجاہد کون ہیں؟ اور صبر کرنے والے کون ہیں؟ اور ہم تمہارے احوال آزمائیں گے۔ یہ تو ہر مسلمان جانتا ہے کہ ظاہر ہونے سے پہلے ہی اس علام الغیوب کو ہر چیز، ہر شخص اور اس کے اعمال معلوم ہیں تو یہاں مطلب یہ ہے کہ دنیا کے سامنے کھول دے اور اس حال کو دیکھ لے اور دکھا دے اسی لیے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس جیسے مواقع پر «لِنَعْلَمَ» کے معنی کرتے تھے «ِلنَریٰ» یعنی تا کہ ہم دیکھ لیں۔

صفحہ نمبر8544

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com