Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Fath
Tafsir Ibn Kathir · The Victory · 29 ayat · Quran text →
تفسیر سورۃ الفتح:
صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مسند احمد میں عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ والے سال اثناء سفر میں راہ چلتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر ہی سورۃ فتح کی تلاوت کی اور ترجیع سے پڑھ رہے تھے۔ اگر مجھے لوگوں کے جمع ہو جانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں آپ کی تلاوت کی طرح ہی تلاوت کر کے تمہیں سنا دیتا۔ (صحیح بخاری:4281)
تفسیر سورۃ فتح ٭٭
صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مسند احمد میں عبداللہ بن مغفل سے روایت ہے کہ فتح مکہ والے سال اثناء سفر میں راہ چلتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر ہی سورۃ الفتح کی تلاوت کی اور ترجیع سے پڑھ رہے تھے۔ اگر مجھے لوگوں کے جمع ہو جانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں آپ کی تلاوت کی طرح ہی تلاوت کر کے تمہیں سنا دیتا۔ [صحیح بخاری:4281]
صفحہ نمبر8556
ذی قعدہ سنہ ۶ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ ادا کرنے کے ارادے سے مدینہ سے مکہ کو چلے لیکن راہ میں مشرکین مکہ نے روک دیا اور مسجد الحرام کی زیارت سے مانع ہوئے پھر وہ لوگ صلح کی طرف جھکے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس بات پر کہ اگلے سال عمرہ ادا کریں گے ان سے صلح کر لی جسے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت پسند نہ کرتی تھی، جس میں خاص قابل ذکر ہستی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ہے آپ نے وہیں اپنی قربانیاں کیں اور لوٹ گئے، جس کا پورا واقعہ ابھی اسی سورت کی تفسیر میں آ رہا ہے، ان شاءاللہ۔
پس لوٹتے ہوئے راہ میں یہ مبارک سورت آپ پر نازل ہوئی جس میں اس واقعہ کا ذکر ہے اور اس صلح کو بااعتبار نتیجہ فتح کہا گیا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ تم تو فتح فتح مکہ کو کہتے ہو لیکن ہم صلح حدیبیہ کو فتح جانتے تھے۔ [صحیح مسلم:794]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:332/11]
صحیح بخاری میں ہے سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تم فتح مکہ کو فتح شمار کرتے ہو اور ہم بیعت الرضوان کے واقعہ حدیبیہ کو فتح گنتے ہیں۔ ہم چودہ سو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس موقعہ پر تھے حدیبیہ نامی ایک کنواں تھا، ہم نے اس میں سے پانی اپنی ضرورت کے مطابق لینا شروع کیا تھوڑی دیر میں پانی بالکل ختم ہو گیا ایک قطرہ بھی نہ بچا آخر پانی نہ ہونے کی شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں پہنچی، آپ اس کنویں کے پاس آئے اس کے کنارے بیٹھ گئے اور پانی کا برتن منگوا کر وضو کیا جس میں کلی بھی کی، پھر کچھ دعا کی اور وہ پانی اس کنویں میں ڈلوا دیا، تھوڑی دیر بعد جو ہم نے دیکھا تو وہ تو پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا ہم نے پیا جانوروں نے بھی پیا اپنی حاجتیں پوری کیں اور سارے برتن بھر لیے۔ [صحیح بخاری:4150]
صفحہ نمبر8557
مسند احمد میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، تین مرتبہ میں نے آپ سے کچھ پوچھا آپ نے کوئی جواب نہ دیا، اب تو مجھے سخت ندامت ہوئی اس امر پر کہ افسوس میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی آپ جواب دینا نہیں چاہتے اور میں خوامخواہ سر ہوتا رہا۔ پھر مجھے ڈر لگنے لگا کہ میری اس بے ادبی پر میرے بارے میں کوئی وحی آسمان سے نہ نازل ہو۔ چنانچہ میں نے اپنی سواری کو تیز کیا اور آگے نکل گیا، تھوڑی دیر گزری تھی کہ میں نے سنا کوئی منادی میرے نام کی ندا کر رہا ہے، میں نے جواب دیا تو اس نے کہا چلو تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یاد فرماتے ہیں، اب تو میرے ہوش گم ہو گئے کہ ضرور کوئی وحی نازل ہوئی اور میں ہلاک ہوا، جلدی جلدی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گذشتہ شب مجھ پر ایک سورت اتری ہے جو مجھے دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے“ پھر آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» [48-الفتح:1] تلاوت کی۔ [صحیح بخاری:4177] یہ حدیث بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی ہے
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حدیبیہ سے لوٹتے ہوئے آیت «لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا» [48-الفتح:2] نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ایک آیت اتاری گئی ہے جو مجھے روئے زمین سے زیادہ محبوب ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ سنائی“، صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارکباد دینے لگے اور کہا یا رسول اللہ ! یہ تو ہوئی آپ کے لیے ہمارے لیے کیا ہے؟ اس پر یہ آیت «لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا» [48-الفتح:5] نازل ہوئی۔ [صحیح بخاری:4172]
صفحہ نمبر8558
سیدنا مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ جو قاری قرآن تھے فرماتے ہیں حدیبیہ سے ہم واپس آ رہے تھے کہ میں نے دیکھا کہ لوگ اونٹوں کو بھگائے لیے جا رہے ہیں پوچھا کیا بات ہے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی وحی نازل ہوئی ہے تو ہم لوگ بھی اپنے اونٹوں کو دوڑاتے ہوئے سب کے ساتھ پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کراع الغمیم میں تھے جب سب جمع ہو گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت تلاوت کر کے سنائی، ایک صحابی نے کہا یا رسول اللہ! کیا یہ فتح ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے یہ فتح ہے“، خیبر کی تقسیم صرف انہی پر کی گئی جو حدیبیہ میں موجود تھے اٹھارہ حصے بنائے گئے کل لشکر پندرہ سو کا تھا جس میں تین سو گھوڑے سوار تھے پس سوار کو دوہرا حصہ ملا اور پیدل کو اکہرا۔ [سنن ابوداود:2736،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر8559
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حدیبیہ سے آتے ہوئے ایک جگہ رات گزارنے کیلئے ہم اتر کر سو گئے، تو ایسے سوئے کہ سورج نکلنے کے بعد جاگے، دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سوئے ہوئے ہیں، ہم نے کہا: آپ کو جگانا چاہیئے کہ آپ خود جاگ گئے اور فرمانے لگے: ”جو کچھ کرتے تھے کرو اور اسی طرح کرے جو سو جائے یا بھول جائے۔ اسی سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کہیں گم ہو گئی، ہم ڈھونڈنے نکلے تو دیکھا کہ ایک درخت میں نکیل اٹک گئی ہے اور وہ رکی کھڑی ہے اسے کھول کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے آپ سوار ہوئے اور ہم نے کوچ کیا، ناگہاں راستے میں ہی آپ پر وحی آنے لگی وحی کے وقت آپ پر بہت دشواری ہوتی تھی جب وحی ہٹ گئی تو آپ نے ہمیں بتایا کہ آپ پر سورۃ «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» [48-الفتح:1] اتری ہے۔ [سنن ابوداود:447،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر8560
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نوافل تہجد وغیرہ میں اس قدر وقت لگاتے کہ پیروں پر ورم چڑھ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف نہیں فرما دیئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا، کیا پھر میں اللہ کا شکر گزار غلام نہ بنوں؟ [صحیح بخاری:4836] اور روایت میں ہے کہ یہ پوچھنے والی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ [صحیح مسلم:2820]
صفحہ نمبر8561
پس «مبین» سے مراد کھلی صریح صاف ظاہر ہے اور «فتح» سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس کی وجہ سے بڑی خیر و برکت حاصل ہوئی، لوگوں میں امن و امان ہوا، مومن کافر میں بول چال شروع ہو گئی، علم اور ایمان کے پھیلانے کا موقعہ ملا، آپ کے اگلے پچھلے گناہوں کی معافی یہ آپ کا خاصہ ہے جس میں کوئی آپ کا شریک نہیں۔ ہاں، بعض اعمال کے ثواب میں یہ الفاظ اوروں کے لیے بھی آئے ہیں، اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت بڑی شرافت و عظمت ہے آپ اپنے تمام کاموں میں بھلائی استقامت اور فرمانبرداری الٰہی پر مستقیم تھے ایسے کہ اولین و آخرین میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا۔
صفحہ نمبر8562
آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے زیادہ اکمل انسان اور دنیا اور آخرت میں کل اولاد آدم کے سردار اور رہبر تھے۔ اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اللہ کے فرمانبردار اور سب سے زیادہ اللہ کے احکام کا لحاظ کرنے والے تھے۔ اسی لیے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر بیٹھ گئی تو آپ نے فرمایا: ”اسے ہاتھیوں کے روکنے والے نے روک لیا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آج یہ کفار مجھ سے جو مانگیں گے دوں گا بشرطیکہ اللہ کی حرمت کی ہتک نہ ہو۔“ [صحیح بخاری:2731]
پس جب آپ نے اللہ کی مان لی اور صلح کو قبول کر لیا تو اللہ عزوجل نے سورہ «فتح» اتاری اور دنیا اور آخرت میں اپنی نعمتیں آپ پر پوری کیں اور شرع عظیم اور دین قدیم کی طرف آپ کی رہبری کی اور آپ کے خشوع و خضوع کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلند و بالا کیا، آپ کی تواضع، فروتنی، عاجزی اور انکساری کے بدلے آپ کو عز و جاہ مرتبہ منصب عطا فرمایا، آپ کے دشمنوں پر آپ کو غلبہ دیا چنانچہ خود آپ کا فرمان ہے بندہ درگزر کرنے سے عزت میں بڑھ جاتا ہے اور عاجزی اور انکساری کرنے سے بلندی اور عالی رتبہ حاصل کر لیتا ہے۔ [صحیح مسلم:2588]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ تو نے کسی کو جس نے تیرے بارے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہو ایسی سزا نہیں دی کہ تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے۔
صفحہ نمبر8563
تفسیر سورۃ الفتح:
صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مسند احمد میں عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ والے سال اثناء سفر میں راہ چلتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر ہی سورۃ فتح کی تلاوت کی اور ترجیع سے پڑھ رہے تھے۔ اگر مجھے لوگوں کے جمع ہو جانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں آپ کی تلاوت کی طرح ہی تلاوت کر کے تمہیں سنا دیتا۔ (صحیح بخاری:4281)
تفسیر سورۃ فتح ٭٭
صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مسند احمد میں عبداللہ بن مغفل سے روایت ہے کہ فتح مکہ والے سال اثناء سفر میں راہ چلتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر ہی سورۃ الفتح کی تلاوت کی اور ترجیع سے پڑھ رہے تھے۔ اگر مجھے لوگوں کے جمع ہو جانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں آپ کی تلاوت کی طرح ہی تلاوت کر کے تمہیں سنا دیتا۔ [صحیح بخاری:4281]
صفحہ نمبر8556
ذی قعدہ سنہ ۶ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ ادا کرنے کے ارادے سے مدینہ سے مکہ کو چلے لیکن راہ میں مشرکین مکہ نے روک دیا اور مسجد الحرام کی زیارت سے مانع ہوئے پھر وہ لوگ صلح کی طرف جھکے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس بات پر کہ اگلے سال عمرہ ادا کریں گے ان سے صلح کر لی جسے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت پسند نہ کرتی تھی، جس میں خاص قابل ذکر ہستی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ہے آپ نے وہیں اپنی قربانیاں کیں اور لوٹ گئے، جس کا پورا واقعہ ابھی اسی سورت کی تفسیر میں آ رہا ہے، ان شاءاللہ۔
پس لوٹتے ہوئے راہ میں یہ مبارک سورت آپ پر نازل ہوئی جس میں اس واقعہ کا ذکر ہے اور اس صلح کو بااعتبار نتیجہ فتح کہا گیا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ تم تو فتح فتح مکہ کو کہتے ہو لیکن ہم صلح حدیبیہ کو فتح جانتے تھے۔ [صحیح مسلم:794]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:332/11]
صحیح بخاری میں ہے سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تم فتح مکہ کو فتح شمار کرتے ہو اور ہم بیعت الرضوان کے واقعہ حدیبیہ کو فتح گنتے ہیں۔ ہم چودہ سو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس موقعہ پر تھے حدیبیہ نامی ایک کنواں تھا، ہم نے اس میں سے پانی اپنی ضرورت کے مطابق لینا شروع کیا تھوڑی دیر میں پانی بالکل ختم ہو گیا ایک قطرہ بھی نہ بچا آخر پانی نہ ہونے کی شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں پہنچی، آپ اس کنویں کے پاس آئے اس کے کنارے بیٹھ گئے اور پانی کا برتن منگوا کر وضو کیا جس میں کلی بھی کی، پھر کچھ دعا کی اور وہ پانی اس کنویں میں ڈلوا دیا، تھوڑی دیر بعد جو ہم نے دیکھا تو وہ تو پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا ہم نے پیا جانوروں نے بھی پیا اپنی حاجتیں پوری کیں اور سارے برتن بھر لیے۔ [صحیح بخاری:4150]
صفحہ نمبر8557
مسند احمد میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، تین مرتبہ میں نے آپ سے کچھ پوچھا آپ نے کوئی جواب نہ دیا، اب تو مجھے سخت ندامت ہوئی اس امر پر کہ افسوس میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی آپ جواب دینا نہیں چاہتے اور میں خوامخواہ سر ہوتا رہا۔ پھر مجھے ڈر لگنے لگا کہ میری اس بے ادبی پر میرے بارے میں کوئی وحی آسمان سے نہ نازل ہو۔ چنانچہ میں نے اپنی سواری کو تیز کیا اور آگے نکل گیا، تھوڑی دیر گزری تھی کہ میں نے سنا کوئی منادی میرے نام کی ندا کر رہا ہے، میں نے جواب دیا تو اس نے کہا چلو تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یاد فرماتے ہیں، اب تو میرے ہوش گم ہو گئے کہ ضرور کوئی وحی نازل ہوئی اور میں ہلاک ہوا، جلدی جلدی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گذشتہ شب مجھ پر ایک سورت اتری ہے جو مجھے دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے“ پھر آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» [48-الفتح:1] تلاوت کی۔ [صحیح بخاری:4177] یہ حدیث بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی ہے
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حدیبیہ سے لوٹتے ہوئے آیت «لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا» [48-الفتح:2] نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ایک آیت اتاری گئی ہے جو مجھے روئے زمین سے زیادہ محبوب ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ سنائی“، صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارکباد دینے لگے اور کہا یا رسول اللہ ! یہ تو ہوئی آپ کے لیے ہمارے لیے کیا ہے؟ اس پر یہ آیت «لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا» [48-الفتح:5] نازل ہوئی۔ [صحیح بخاری:4172]
صفحہ نمبر8558
سیدنا مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ جو قاری قرآن تھے فرماتے ہیں حدیبیہ سے ہم واپس آ رہے تھے کہ میں نے دیکھا کہ لوگ اونٹوں کو بھگائے لیے جا رہے ہیں پوچھا کیا بات ہے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی وحی نازل ہوئی ہے تو ہم لوگ بھی اپنے اونٹوں کو دوڑاتے ہوئے سب کے ساتھ پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کراع الغمیم میں تھے جب سب جمع ہو گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت تلاوت کر کے سنائی، ایک صحابی نے کہا یا رسول اللہ! کیا یہ فتح ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے یہ فتح ہے“، خیبر کی تقسیم صرف انہی پر کی گئی جو حدیبیہ میں موجود تھے اٹھارہ حصے بنائے گئے کل لشکر پندرہ سو کا تھا جس میں تین سو گھوڑے سوار تھے پس سوار کو دوہرا حصہ ملا اور پیدل کو اکہرا۔ [سنن ابوداود:2736،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر8559
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حدیبیہ سے آتے ہوئے ایک جگہ رات گزارنے کیلئے ہم اتر کر سو گئے، تو ایسے سوئے کہ سورج نکلنے کے بعد جاگے، دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سوئے ہوئے ہیں، ہم نے کہا: آپ کو جگانا چاہیئے کہ آپ خود جاگ گئے اور فرمانے لگے: ”جو کچھ کرتے تھے کرو اور اسی طرح کرے جو سو جائے یا بھول جائے۔ اسی سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کہیں گم ہو گئی، ہم ڈھونڈنے نکلے تو دیکھا کہ ایک درخت میں نکیل اٹک گئی ہے اور وہ رکی کھڑی ہے اسے کھول کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے آپ سوار ہوئے اور ہم نے کوچ کیا، ناگہاں راستے میں ہی آپ پر وحی آنے لگی وحی کے وقت آپ پر بہت دشواری ہوتی تھی جب وحی ہٹ گئی تو آپ نے ہمیں بتایا کہ آپ پر سورۃ «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» [48-الفتح:1] اتری ہے۔ [سنن ابوداود:447،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر8560
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نوافل تہجد وغیرہ میں اس قدر وقت لگاتے کہ پیروں پر ورم چڑھ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف نہیں فرما دیئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا، کیا پھر میں اللہ کا شکر گزار غلام نہ بنوں؟ [صحیح بخاری:4836] اور روایت میں ہے کہ یہ پوچھنے والی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ [صحیح مسلم:2820]
صفحہ نمبر8561
پس «مبین» سے مراد کھلی صریح صاف ظاہر ہے اور «فتح» سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس کی وجہ سے بڑی خیر و برکت حاصل ہوئی، لوگوں میں امن و امان ہوا، مومن کافر میں بول چال شروع ہو گئی، علم اور ایمان کے پھیلانے کا موقعہ ملا، آپ کے اگلے پچھلے گناہوں کی معافی یہ آپ کا خاصہ ہے جس میں کوئی آپ کا شریک نہیں۔ ہاں، بعض اعمال کے ثواب میں یہ الفاظ اوروں کے لیے بھی آئے ہیں، اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت بڑی شرافت و عظمت ہے آپ اپنے تمام کاموں میں بھلائی استقامت اور فرمانبرداری الٰہی پر مستقیم تھے ایسے کہ اولین و آخرین میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا۔
صفحہ نمبر8562
آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے زیادہ اکمل انسان اور دنیا اور آخرت میں کل اولاد آدم کے سردار اور رہبر تھے۔ اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اللہ کے فرمانبردار اور سب سے زیادہ اللہ کے احکام کا لحاظ کرنے والے تھے۔ اسی لیے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر بیٹھ گئی تو آپ نے فرمایا: ”اسے ہاتھیوں کے روکنے والے نے روک لیا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آج یہ کفار مجھ سے جو مانگیں گے دوں گا بشرطیکہ اللہ کی حرمت کی ہتک نہ ہو۔“ [صحیح بخاری:2731]
پس جب آپ نے اللہ کی مان لی اور صلح کو قبول کر لیا تو اللہ عزوجل نے سورہ «فتح» اتاری اور دنیا اور آخرت میں اپنی نعمتیں آپ پر پوری کیں اور شرع عظیم اور دین قدیم کی طرف آپ کی رہبری کی اور آپ کے خشوع و خضوع کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلند و بالا کیا، آپ کی تواضع، فروتنی، عاجزی اور انکساری کے بدلے آپ کو عز و جاہ مرتبہ منصب عطا فرمایا، آپ کے دشمنوں پر آپ کو غلبہ دیا چنانچہ خود آپ کا فرمان ہے بندہ درگزر کرنے سے عزت میں بڑھ جاتا ہے اور عاجزی اور انکساری کرنے سے بلندی اور عالی رتبہ حاصل کر لیتا ہے۔ [صحیح مسلم:2588]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ تو نے کسی کو جس نے تیرے بارے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہو ایسی سزا نہیں دی کہ تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے۔
صفحہ نمبر8563
تفسیر سورۃ الفتح:
صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مسند احمد میں عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ والے سال اثناء سفر میں راہ چلتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر ہی سورۃ فتح کی تلاوت کی اور ترجیع سے پڑھ رہے تھے۔ اگر مجھے لوگوں کے جمع ہو جانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں آپ کی تلاوت کی طرح ہی تلاوت کر کے تمہیں سنا دیتا۔ (صحیح بخاری:4281)
تفسیر سورۃ فتح ٭٭
صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مسند احمد میں عبداللہ بن مغفل سے روایت ہے کہ فتح مکہ والے سال اثناء سفر میں راہ چلتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر ہی سورۃ الفتح کی تلاوت کی اور ترجیع سے پڑھ رہے تھے۔ اگر مجھے لوگوں کے جمع ہو جانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں آپ کی تلاوت کی طرح ہی تلاوت کر کے تمہیں سنا دیتا۔ [صحیح بخاری:4281]
صفحہ نمبر8556
ذی قعدہ سنہ ۶ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ ادا کرنے کے ارادے سے مدینہ سے مکہ کو چلے لیکن راہ میں مشرکین مکہ نے روک دیا اور مسجد الحرام کی زیارت سے مانع ہوئے پھر وہ لوگ صلح کی طرف جھکے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس بات پر کہ اگلے سال عمرہ ادا کریں گے ان سے صلح کر لی جسے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت پسند نہ کرتی تھی، جس میں خاص قابل ذکر ہستی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ہے آپ نے وہیں اپنی قربانیاں کیں اور لوٹ گئے، جس کا پورا واقعہ ابھی اسی سورت کی تفسیر میں آ رہا ہے، ان شاءاللہ۔
پس لوٹتے ہوئے راہ میں یہ مبارک سورت آپ پر نازل ہوئی جس میں اس واقعہ کا ذکر ہے اور اس صلح کو بااعتبار نتیجہ فتح کہا گیا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ تم تو فتح فتح مکہ کو کہتے ہو لیکن ہم صلح حدیبیہ کو فتح جانتے تھے۔ [صحیح مسلم:794]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:332/11]
صحیح بخاری میں ہے سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تم فتح مکہ کو فتح شمار کرتے ہو اور ہم بیعت الرضوان کے واقعہ حدیبیہ کو فتح گنتے ہیں۔ ہم چودہ سو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس موقعہ پر تھے حدیبیہ نامی ایک کنواں تھا، ہم نے اس میں سے پانی اپنی ضرورت کے مطابق لینا شروع کیا تھوڑی دیر میں پانی بالکل ختم ہو گیا ایک قطرہ بھی نہ بچا آخر پانی نہ ہونے کی شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں پہنچی، آپ اس کنویں کے پاس آئے اس کے کنارے بیٹھ گئے اور پانی کا برتن منگوا کر وضو کیا جس میں کلی بھی کی، پھر کچھ دعا کی اور وہ پانی اس کنویں میں ڈلوا دیا، تھوڑی دیر بعد جو ہم نے دیکھا تو وہ تو پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا ہم نے پیا جانوروں نے بھی پیا اپنی حاجتیں پوری کیں اور سارے برتن بھر لیے۔ [صحیح بخاری:4150]
صفحہ نمبر8557
مسند احمد میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، تین مرتبہ میں نے آپ سے کچھ پوچھا آپ نے کوئی جواب نہ دیا، اب تو مجھے سخت ندامت ہوئی اس امر پر کہ افسوس میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی آپ جواب دینا نہیں چاہتے اور میں خوامخواہ سر ہوتا رہا۔ پھر مجھے ڈر لگنے لگا کہ میری اس بے ادبی پر میرے بارے میں کوئی وحی آسمان سے نہ نازل ہو۔ چنانچہ میں نے اپنی سواری کو تیز کیا اور آگے نکل گیا، تھوڑی دیر گزری تھی کہ میں نے سنا کوئی منادی میرے نام کی ندا کر رہا ہے، میں نے جواب دیا تو اس نے کہا چلو تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یاد فرماتے ہیں، اب تو میرے ہوش گم ہو گئے کہ ضرور کوئی وحی نازل ہوئی اور میں ہلاک ہوا، جلدی جلدی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گذشتہ شب مجھ پر ایک سورت اتری ہے جو مجھے دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے“ پھر آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» [48-الفتح:1] تلاوت کی۔ [صحیح بخاری:4177] یہ حدیث بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی ہے
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حدیبیہ سے لوٹتے ہوئے آیت «لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا» [48-الفتح:2] نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ایک آیت اتاری گئی ہے جو مجھے روئے زمین سے زیادہ محبوب ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ سنائی“، صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارکباد دینے لگے اور کہا یا رسول اللہ ! یہ تو ہوئی آپ کے لیے ہمارے لیے کیا ہے؟ اس پر یہ آیت «لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا» [48-الفتح:5] نازل ہوئی۔ [صحیح بخاری:4172]
صفحہ نمبر8558
سیدنا مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ جو قاری قرآن تھے فرماتے ہیں حدیبیہ سے ہم واپس آ رہے تھے کہ میں نے دیکھا کہ لوگ اونٹوں کو بھگائے لیے جا رہے ہیں پوچھا کیا بات ہے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی وحی نازل ہوئی ہے تو ہم لوگ بھی اپنے اونٹوں کو دوڑاتے ہوئے سب کے ساتھ پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کراع الغمیم میں تھے جب سب جمع ہو گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت تلاوت کر کے سنائی، ایک صحابی نے کہا یا رسول اللہ! کیا یہ فتح ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے یہ فتح ہے“، خیبر کی تقسیم صرف انہی پر کی گئی جو حدیبیہ میں موجود تھے اٹھارہ حصے بنائے گئے کل لشکر پندرہ سو کا تھا جس میں تین سو گھوڑے سوار تھے پس سوار کو دوہرا حصہ ملا اور پیدل کو اکہرا۔ [سنن ابوداود:2736،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر8559
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حدیبیہ سے آتے ہوئے ایک جگہ رات گزارنے کیلئے ہم اتر کر سو گئے، تو ایسے سوئے کہ سورج نکلنے کے بعد جاگے، دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سوئے ہوئے ہیں، ہم نے کہا: آپ کو جگانا چاہیئے کہ آپ خود جاگ گئے اور فرمانے لگے: ”جو کچھ کرتے تھے کرو اور اسی طرح کرے جو سو جائے یا بھول جائے۔ اسی سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کہیں گم ہو گئی، ہم ڈھونڈنے نکلے تو دیکھا کہ ایک درخت میں نکیل اٹک گئی ہے اور وہ رکی کھڑی ہے اسے کھول کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے آپ سوار ہوئے اور ہم نے کوچ کیا، ناگہاں راستے میں ہی آپ پر وحی آنے لگی وحی کے وقت آپ پر بہت دشواری ہوتی تھی جب وحی ہٹ گئی تو آپ نے ہمیں بتایا کہ آپ پر سورۃ «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» [48-الفتح:1] اتری ہے۔ [سنن ابوداود:447،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر8560
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نوافل تہجد وغیرہ میں اس قدر وقت لگاتے کہ پیروں پر ورم چڑھ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف نہیں فرما دیئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا، کیا پھر میں اللہ کا شکر گزار غلام نہ بنوں؟ [صحیح بخاری:4836] اور روایت میں ہے کہ یہ پوچھنے والی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ [صحیح مسلم:2820]
صفحہ نمبر8561
پس «مبین» سے مراد کھلی صریح صاف ظاہر ہے اور «فتح» سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس کی وجہ سے بڑی خیر و برکت حاصل ہوئی، لوگوں میں امن و امان ہوا، مومن کافر میں بول چال شروع ہو گئی، علم اور ایمان کے پھیلانے کا موقعہ ملا، آپ کے اگلے پچھلے گناہوں کی معافی یہ آپ کا خاصہ ہے جس میں کوئی آپ کا شریک نہیں۔ ہاں، بعض اعمال کے ثواب میں یہ الفاظ اوروں کے لیے بھی آئے ہیں، اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت بڑی شرافت و عظمت ہے آپ اپنے تمام کاموں میں بھلائی استقامت اور فرمانبرداری الٰہی پر مستقیم تھے ایسے کہ اولین و آخرین میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا۔
صفحہ نمبر8562
آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے زیادہ اکمل انسان اور دنیا اور آخرت میں کل اولاد آدم کے سردار اور رہبر تھے۔ اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اللہ کے فرمانبردار اور سب سے زیادہ اللہ کے احکام کا لحاظ کرنے والے تھے۔ اسی لیے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر بیٹھ گئی تو آپ نے فرمایا: ”اسے ہاتھیوں کے روکنے والے نے روک لیا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آج یہ کفار مجھ سے جو مانگیں گے دوں گا بشرطیکہ اللہ کی حرمت کی ہتک نہ ہو۔“ [صحیح بخاری:2731]
پس جب آپ نے اللہ کی مان لی اور صلح کو قبول کر لیا تو اللہ عزوجل نے سورہ «فتح» اتاری اور دنیا اور آخرت میں اپنی نعمتیں آپ پر پوری کیں اور شرع عظیم اور دین قدیم کی طرف آپ کی رہبری کی اور آپ کے خشوع و خضوع کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلند و بالا کیا، آپ کی تواضع، فروتنی، عاجزی اور انکساری کے بدلے آپ کو عز و جاہ مرتبہ منصب عطا فرمایا، آپ کے دشمنوں پر آپ کو غلبہ دیا چنانچہ خود آپ کا فرمان ہے بندہ درگزر کرنے سے عزت میں بڑھ جاتا ہے اور عاجزی اور انکساری کرنے سے بلندی اور عالی رتبہ حاصل کر لیتا ہے۔ [صحیح مسلم:2588]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ تو نے کسی کو جس نے تیرے بارے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہو ایسی سزا نہیں دی کہ تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے۔
صفحہ نمبر8563
اطمینان و رحمت ٭٭
«سکینہ» کے معنی ہیں اطمینان، رحمت اور وقار کے۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لی اللہ نے ان کے دلوں کو مطمئن کر دیا اور ان کے ایمان اور بڑھ گئے، اس سے امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ دلوں میں ایمان بڑھتا ہے اور اسی طرح گھٹتا بھی ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے لشکروں کی کمی نہیں وہ اگر چاہتا تو خود ہی کفار کو ہلاک کر دیتا۔ ایک فرشتے کو بھیج دیتا تو وہ ان سب کو برباد اور بے نشان کر دینے کے لیے بس کافی تھا، لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ سے ایمانداروں کو جہاد کا حکم دیا جس میں اس کی حجت بھی پوری ہو جائے اور دلیل بھی سامنے آ جائے اس کا کوئی کام علم و حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ ایمانداروں کو اپنی بہترین نعمتیں اس بہانے عطا فرمائے۔ پہلے یہ روایت گزر چکی ہے کہ صحابہ نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارک باد دی اور پوچھا کہ یا رسول اللہ ! ہمارے لیے کیا ہے؟ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری کہ ” مومن مرد و عورت جنتوں میں جائیں گے جہاں چپے چپے پر نہریں جاری ہیں اور جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے “ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ اور ان کی برائیاں دور اور دفع کر دے، انہیں ان کی برائیوں کی سزا نہ دے بلکہ معاف فرما دے درگزر کر دے، بخش دے، پردہ ڈال دے، رحم کرے اور ان کی قدر دانی کرے، دراصل یہی اصل کامیابی ہے۔
جیسے کہ اللہ عزوجل نے فرمایا «فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ» [3-آلعمران:185] ” یعنی جو جہنم سے دور کر دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا۔ “
پھر ایک اور وجہ اور غایت بیان کی جاتی ہے کہ اس لیے بھی کہ نفاق اور شرک کرنے والے مرد و عورت جو اللہ تعالیٰ کے احکام میں بدظنی کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب رسول رضی اللہ عنہم کے ساتھ برے خیال رکھتے ہیں یہ ہیں ہی کتنے؟ آج نہیں تو کل ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا اس جنگ میں بچ گئے تو اور کسی لڑائی میں تباہ ہو جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دراصل اس برائی کا دائرہ انہی پر ہے ان پر اللہ کا غضب ہے یہ رحمت الٰہی سے دور ہیں ان کی جگہ جہنم ہے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔ دوبارہ اپنی قوت، قدرت اپنے اور اپنے بندوں کے دشمنوں سے انتقام لینے کی طاقت کو ظاہر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کے لشکر سب اللہ ہی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم ہے۔
صفحہ نمبر8566
اطمینان و رحمت ٭٭
«سکینہ» کے معنی ہیں اطمینان، رحمت اور وقار کے۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لی اللہ نے ان کے دلوں کو مطمئن کر دیا اور ان کے ایمان اور بڑھ گئے، اس سے امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ دلوں میں ایمان بڑھتا ہے اور اسی طرح گھٹتا بھی ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے لشکروں کی کمی نہیں وہ اگر چاہتا تو خود ہی کفار کو ہلاک کر دیتا۔ ایک فرشتے کو بھیج دیتا تو وہ ان سب کو برباد اور بے نشان کر دینے کے لیے بس کافی تھا، لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ سے ایمانداروں کو جہاد کا حکم دیا جس میں اس کی حجت بھی پوری ہو جائے اور دلیل بھی سامنے آ جائے اس کا کوئی کام علم و حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ ایمانداروں کو اپنی بہترین نعمتیں اس بہانے عطا فرمائے۔ پہلے یہ روایت گزر چکی ہے کہ صحابہ نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارک باد دی اور پوچھا کہ یا رسول اللہ ! ہمارے لیے کیا ہے؟ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری کہ ” مومن مرد و عورت جنتوں میں جائیں گے جہاں چپے چپے پر نہریں جاری ہیں اور جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے “ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ اور ان کی برائیاں دور اور دفع کر دے، انہیں ان کی برائیوں کی سزا نہ دے بلکہ معاف فرما دے درگزر کر دے، بخش دے، پردہ ڈال دے، رحم کرے اور ان کی قدر دانی کرے، دراصل یہی اصل کامیابی ہے۔
جیسے کہ اللہ عزوجل نے فرمایا «فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ» [3-آلعمران:185] ” یعنی جو جہنم سے دور کر دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا۔ “
پھر ایک اور وجہ اور غایت بیان کی جاتی ہے کہ اس لیے بھی کہ نفاق اور شرک کرنے والے مرد و عورت جو اللہ تعالیٰ کے احکام میں بدظنی کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب رسول رضی اللہ عنہم کے ساتھ برے خیال رکھتے ہیں یہ ہیں ہی کتنے؟ آج نہیں تو کل ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا اس جنگ میں بچ گئے تو اور کسی لڑائی میں تباہ ہو جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دراصل اس برائی کا دائرہ انہی پر ہے ان پر اللہ کا غضب ہے یہ رحمت الٰہی سے دور ہیں ان کی جگہ جہنم ہے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔ دوبارہ اپنی قوت، قدرت اپنے اور اپنے بندوں کے دشمنوں سے انتقام لینے کی طاقت کو ظاہر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کے لشکر سب اللہ ہی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم ہے۔
صفحہ نمبر8566
اطمینان و رحمت ٭٭
«سکینہ» کے معنی ہیں اطمینان، رحمت اور وقار کے۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لی اللہ نے ان کے دلوں کو مطمئن کر دیا اور ان کے ایمان اور بڑھ گئے، اس سے امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ دلوں میں ایمان بڑھتا ہے اور اسی طرح گھٹتا بھی ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے لشکروں کی کمی نہیں وہ اگر چاہتا تو خود ہی کفار کو ہلاک کر دیتا۔ ایک فرشتے کو بھیج دیتا تو وہ ان سب کو برباد اور بے نشان کر دینے کے لیے بس کافی تھا، لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ سے ایمانداروں کو جہاد کا حکم دیا جس میں اس کی حجت بھی پوری ہو جائے اور دلیل بھی سامنے آ جائے اس کا کوئی کام علم و حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ ایمانداروں کو اپنی بہترین نعمتیں اس بہانے عطا فرمائے۔ پہلے یہ روایت گزر چکی ہے کہ صحابہ نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارک باد دی اور پوچھا کہ یا رسول اللہ ! ہمارے لیے کیا ہے؟ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری کہ ” مومن مرد و عورت جنتوں میں جائیں گے جہاں چپے چپے پر نہریں جاری ہیں اور جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے “ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ اور ان کی برائیاں دور اور دفع کر دے، انہیں ان کی برائیوں کی سزا نہ دے بلکہ معاف فرما دے درگزر کر دے، بخش دے، پردہ ڈال دے، رحم کرے اور ان کی قدر دانی کرے، دراصل یہی اصل کامیابی ہے۔
جیسے کہ اللہ عزوجل نے فرمایا «فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ» [3-آلعمران:185] ” یعنی جو جہنم سے دور کر دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا۔ “
پھر ایک اور وجہ اور غایت بیان کی جاتی ہے کہ اس لیے بھی کہ نفاق اور شرک کرنے والے مرد و عورت جو اللہ تعالیٰ کے احکام میں بدظنی کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب رسول رضی اللہ عنہم کے ساتھ برے خیال رکھتے ہیں یہ ہیں ہی کتنے؟ آج نہیں تو کل ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا اس جنگ میں بچ گئے تو اور کسی لڑائی میں تباہ ہو جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دراصل اس برائی کا دائرہ انہی پر ہے ان پر اللہ کا غضب ہے یہ رحمت الٰہی سے دور ہیں ان کی جگہ جہنم ہے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔ دوبارہ اپنی قوت، قدرت اپنے اور اپنے بندوں کے دشمنوں سے انتقام لینے کی طاقت کو ظاہر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کے لشکر سب اللہ ہی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم ہے۔
صفحہ نمبر8566
اطمینان و رحمت ٭٭
«سکینہ» کے معنی ہیں اطمینان، رحمت اور وقار کے۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لی اللہ نے ان کے دلوں کو مطمئن کر دیا اور ان کے ایمان اور بڑھ گئے، اس سے امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ دلوں میں ایمان بڑھتا ہے اور اسی طرح گھٹتا بھی ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے لشکروں کی کمی نہیں وہ اگر چاہتا تو خود ہی کفار کو ہلاک کر دیتا۔ ایک فرشتے کو بھیج دیتا تو وہ ان سب کو برباد اور بے نشان کر دینے کے لیے بس کافی تھا، لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ سے ایمانداروں کو جہاد کا حکم دیا جس میں اس کی حجت بھی پوری ہو جائے اور دلیل بھی سامنے آ جائے اس کا کوئی کام علم و حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ ایمانداروں کو اپنی بہترین نعمتیں اس بہانے عطا فرمائے۔ پہلے یہ روایت گزر چکی ہے کہ صحابہ نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارک باد دی اور پوچھا کہ یا رسول اللہ ! ہمارے لیے کیا ہے؟ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری کہ ” مومن مرد و عورت جنتوں میں جائیں گے جہاں چپے چپے پر نہریں جاری ہیں اور جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے “ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ اور ان کی برائیاں دور اور دفع کر دے، انہیں ان کی برائیوں کی سزا نہ دے بلکہ معاف فرما دے درگزر کر دے، بخش دے، پردہ ڈال دے، رحم کرے اور ان کی قدر دانی کرے، دراصل یہی اصل کامیابی ہے۔
جیسے کہ اللہ عزوجل نے فرمایا «فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ» [3-آلعمران:185] ” یعنی جو جہنم سے دور کر دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا۔ “
پھر ایک اور وجہ اور غایت بیان کی جاتی ہے کہ اس لیے بھی کہ نفاق اور شرک کرنے والے مرد و عورت جو اللہ تعالیٰ کے احکام میں بدظنی کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب رسول رضی اللہ عنہم کے ساتھ برے خیال رکھتے ہیں یہ ہیں ہی کتنے؟ آج نہیں تو کل ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا اس جنگ میں بچ گئے تو اور کسی لڑائی میں تباہ ہو جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دراصل اس برائی کا دائرہ انہی پر ہے ان پر اللہ کا غضب ہے یہ رحمت الٰہی سے دور ہیں ان کی جگہ جہنم ہے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔ دوبارہ اپنی قوت، قدرت اپنے اور اپنے بندوں کے دشمنوں سے انتقام لینے کی طاقت کو ظاہر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کے لشکر سب اللہ ہی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم ہے۔
صفحہ نمبر8566
آنکھوں دیکھا گواہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو فرماتا ہے ہم نے تمہیں مخلوق پر شاہد بنا کر، مومنوں کو خوشخبریاں سنانے والا، کافروں کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اس آیت کی پوری تفسیر سورۃ الاحزاب میں گزر چکی ہے۔ تاکہ اے لوگو! اللہ پر اور اس کے نبی پر ایمان لاؤ اور اس کی عظمت و احترام کرو، بزرگی اور پاکیزگی کو تسلیم کرو اور اس لیے کہ تم اللہ تعالیٰ کی صبح شام تسبیح کرو۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی تعظیم و تکریم بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ دراصل خود اللہ تعالیٰ سے ہی بیعت کرتے ہیں۔
صفحہ نمبر8570
جیسے ارشاد ہے «مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّـهَ وَمَن تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا» [4-النساء:80] یعنی ” جس نے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اطاعت کی اس نے اللہ کا کہا مانا “۔
” اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے “ یعنی وہ ان کے ساتھ ہے، ان کی باتیں سنتا ہے، ان کا مکان دیکھتا ہے ان کے ظاہر باطن کو جانتا ہے۔ پس دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے ان سے بیعت لینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
جیسے فرمایا «اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ» [9-التوبة:111] ” یعنی اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں اور ان کے بدلے میں جنت انہیں دے دی ہے۔ “
وہ راہ اللہ میں جہاد کرتے ہیں، مرتے ہیں اور مارتے ہیں اللہ کا یہ سچا وعدہ تورات و انجیل میں بھی موجود ہے اور اس قرآن میں بھی، سمجھ لو کہ اللہ سے زیادہ سچے وعدے والا کون ہو گا؟ پس تمہیں اس خرید فروخت پر خوش ہو جانا چاہیئے دراصل سچی کامیابی یہی ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جس نے راہ اللہ میں تلوار اٹھا لی اس نے اللہ سے بیعت کر لی“ ۔
اور حدیث میں ہے حجر اسود کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کھڑا کرے گا اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے دیکھے گا اور زبان ہو گی جس سے بولے گا اور جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہے اس کی گواہی دے گا اسے بوسہ دینے والا دراصل اللہ تعالیٰ سے بیعت کرنے والا ہے“ ۔ [کنز العمال:10485،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔
صفحہ نمبر8571
آنکھوں دیکھا گواہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو فرماتا ہے ہم نے تمہیں مخلوق پر شاہد بنا کر، مومنوں کو خوشخبریاں سنانے والا، کافروں کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اس آیت کی پوری تفسیر سورۃ الاحزاب میں گزر چکی ہے۔ تاکہ اے لوگو! اللہ پر اور اس کے نبی پر ایمان لاؤ اور اس کی عظمت و احترام کرو، بزرگی اور پاکیزگی کو تسلیم کرو اور اس لیے کہ تم اللہ تعالیٰ کی صبح شام تسبیح کرو۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی تعظیم و تکریم بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ دراصل خود اللہ تعالیٰ سے ہی بیعت کرتے ہیں۔
صفحہ نمبر8570
جیسے ارشاد ہے «مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّـهَ وَمَن تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا» [4-النساء:80] یعنی ” جس نے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اطاعت کی اس نے اللہ کا کہا مانا “۔
” اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے “ یعنی وہ ان کے ساتھ ہے، ان کی باتیں سنتا ہے، ان کا مکان دیکھتا ہے ان کے ظاہر باطن کو جانتا ہے۔ پس دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے ان سے بیعت لینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
جیسے فرمایا «اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ» [9-التوبة:111] ” یعنی اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں اور ان کے بدلے میں جنت انہیں دے دی ہے۔ “
وہ راہ اللہ میں جہاد کرتے ہیں، مرتے ہیں اور مارتے ہیں اللہ کا یہ سچا وعدہ تورات و انجیل میں بھی موجود ہے اور اس قرآن میں بھی، سمجھ لو کہ اللہ سے زیادہ سچے وعدے والا کون ہو گا؟ پس تمہیں اس خرید فروخت پر خوش ہو جانا چاہیئے دراصل سچی کامیابی یہی ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جس نے راہ اللہ میں تلوار اٹھا لی اس نے اللہ سے بیعت کر لی“ ۔
اور حدیث میں ہے حجر اسود کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کھڑا کرے گا اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے دیکھے گا اور زبان ہو گی جس سے بولے گا اور جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہے اس کی گواہی دے گا اسے بوسہ دینے والا دراصل اللہ تعالیٰ سے بیعت کرنے والا ہے“ ۔ [کنز العمال:10485،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔
صفحہ نمبر8571
باب
پھر فرماتا ہے جو بیعت کے بعد عہد شکنی کرے اس کا وبال خود اسی پر ہو گا، اللہ کا وہ کچھ نہ بگاڑے گا اور جو اپنی بیعت کو نبھا جائے وہ بڑا ثواب پائے گا یہاں جس بیعت کا ذکر ہے وہ بیعت الرضوان ہے جو ایک ببول کے درخت تلے حدیبیہ کے میدان میں ہوئی تھی اس دن بیعت کرنے والے صحابہ کی تعداد تیرہ سو، چودہ سو یا پندرہ سو تھی ٹھیک یہ ہے کہ چودہ سو تھی اس واقعہ کی حدیثیں ملاحظہ ہوں۔
صفحہ نمبر8573
بخاری شریف میں ہے ہم اس دن چودہ سو تھے [سنن ترمذي:961،قال الشيخ الألباني:صحیح] بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے آپ نے اس پانی میں ہاتھ رکھا پس آپ کی انگلیوں کے درمیان سے اس پانی کی سوتیں ابلنے لگیں۔ [صحیح بخاری:4840]
یہ حدیث مختصر ہے اس حدیث سے جس میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سخت پیاسے ہوئے، پانی تھا نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر دیا انہوں نے جا کر حدیبیہ کے کنویں میں اسے گاڑ دیا اب تو پانی جوش کے ساتھ ابلنے لگا یہاں تک کہ سب کو کافی ہو گیا، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ اس روز تم کتنے تھے؟ فرمایا: چودہ سو لیکن اگر ایک لاکھ بھی ہوتے تو پانی اس قدر تھا کہ سب کو کافی ہو جاتا ۔ [صحیح بخاری:4840]
بخاری کی روایت میں ہے کہ پندرہ سو تھے [صحیح بخاری:25] سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں پندرہ سو بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:80]
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں فی الواقع تھے تو پندرہ سو اور یہی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا پہلا قول تھا پھر آپ کو کچھ وہم سا ہو گیا اور چودہ سو فرمانے لگے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سوا پندرہ سو تھے۔ [صحیح بخاری:4153]
لیکن آپ سے مشہور روایت چودہ سو کی ہے اکثر راویوں اور اکثر سیرت نویس بزرگوں کا یہی قول ہے کہ چودہ سو تھے ایک روایت میں ہے اصحاب شجرہ چودہ سو تھے اور اس دن آٹھواں حصہ مہاجرین کا مسلمان ہوا۔ [صحیح بخاری:4155]
صفحہ نمبر8574
سیرت محمد بن اسحاق میں ہے کہ حدیبیہ والے سال رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ سات سو صحابہ کو لے کر زیارت بیت اللہ کے ارادے سے مدینہ سے چلے، قربانی کے ستر اونٹ بھی آپ کے ہمراہ تھے، ہر دس اشخاص کی طرف سے ایک اونٹ، ہاں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ کے ساتھی اس دن چودہ سو تھے۔ ابن اسحاق اسی طرح کہتے ہیں اور یہ ان کے اوہام میں شمار ہے۔ بخاری و مسلم میں جو محفوظ ہے وہ یہ کہ ایک ہزار کئی سو تھے جیسے ابھی آ رہا ہے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس بیعت کا سبب سیرت محمد بن اسحاق میں ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا کہ آپ کو مکہ بھیج کر قریش کے سرداروں سے کہلوائیں کہ آپ لڑائی بھڑائی کے ارادے سے نہیں آئے بلکہ آپ بیت اللہ شریف کے عمرے کے لیے آئے ہیں۔ لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ! میرے خیال سے تو اس کام کے لیے آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیجیں کیونکہ مکہ میں میرے خاندان میں سے کوئی نہیں یعنی بنوعدی بن کعب کا قبیلہ نہیں جو میری حمایت کرے آپ جانتے ہیں کہ قریش سے میں نے کتنی کچھ اور کیا کچھ دشمنی کی ہے اور وہ مجھ سے وہ کس قدر خار کھائے ہوئے ہیں مجھے تو وہ زندہ ہی نہیں چھوڑیں گے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رائے کو پسند فرما کر سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو ابوسفیان اور سرداران قریش کے پاس بھیجا آپ جا ہی رہے تھے کہ راستے میں یا مکہ میں داخل ہوتے ہی ابان بن سعید بن عاص مل گیا اور اس نے آپ کو اپنے آگے سواری پر بٹھا لیا اپنی امان میں انہیں اپنے ساتھ مکہ میں لے گیا آپ قریش کے بڑوں کے پاس گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ بیت اللہ شریف کا طواف کرنا چاہیں تو کر لیجئے آپ نے جواب دیا کہ یہ ناممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے میں طواف کر لوں، اب ان لوگوں نے سیدنا ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو روک لیا، ادھر لشکر اسلام میں یہ خبر مشہور ہو گئی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اس وحشت اثر خبر نے مسلمانوں کو اور خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا صدمہ پہنچایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب تو ہم بغیر فیصلہ کئے یہاں سے نہیں ہٹیں گے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بلوایا اور ان سے بیعت لی ایک درخت تلے یہ بیعت الرضوان ہوئی۔ لوگ کہتے ہیں یہ بیعت موت پر لی تھی یعنی لڑتے لڑتے مر جائیں گے۔ لیکن سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ موت پر بیعت نہیں لی تھی بلکہ اس اقرار پر کہ ہم لڑائی سے بھاگیں گے نہیں، جتنے مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم اس میدان میں تھے سب نے آپ سے بہ رضا مندی بیعت کی سوائے جد بن قیس کے جو قبیلہ بنو سلمہ کا ایک شخص تھا یہ اپنی اونٹنی کی آڑ میں چھپ گیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کو معلوم ہو گیا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی افواہ غلط تھی۔ [سیرۃ ابن ھشام:315/2]
صفحہ نمبر8575
اس کے بعد قریش نے سہیل بن عمرو، حویطب بن عبدالعزیٰ اور مکرز بن حفص کو آپ کے پاس بھیجا یہ لوگ ابھی یہیں تھے کہ بعض مشرکین میں سے کچھ تیز کلامی شروع ہو گئی نوبت یہاں تک پہنچی کہ سنگ باری اور تیر باری بھی ہوئی اور دونوں طرف کے لوگ آمنے سامنے ہو گئے۔
ادھر ان لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ وغیرہ کو روک لیا، ادھر یہ لوگ رک گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے ندا کر دی کہ روح القدس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بیعت کا حکم دے گئے، آؤ اللہ کا نام لے کر بیعت کر جاؤ۔
اب کیا تھا مسلمان بے تابانہ دوڑے ہوئے حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت درخت تلے تھے، سب نے بیعت کی اس بات پر کہ وہ ہرگز ہرگز کسی صورت میں میدان سے منہ موڑنے کا نام نہ لیں گے اس سے مشرکین کانپ اٹھے اور جتنے مسلمان ان کے پاس تھے سب کو چھوڑ دیا اور صلح کی درخواست کرنے لگے۔ [دلائل النبوۃ للبیہقی:133/4:مرسل و ضعیف]
بیہقی میں ہے کہ بیعت کے وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الٰہی! عثمان تیرے اور تیرے رسول کے کام کو گئے ہوئے ہیں پس آپ نے خود اپنا ایک ہاتھ اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھا گویا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیعت کی۔
صفحہ نمبر8576
پس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ان کے اپنے ہاتھ سے بہت افضل تھا۔ (ضعیف: اس میں حکم بن عبدالملک ضعیف ہے)
اس بیعت میں سب سے پہل کرنے والے سیدنا ابوسنان اسدی رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے سب سے آگے بڑھ کر فرمایا: اے اللہ کے رسول ! ہاتھ پھیلائیے تاکہ میں بیعت کر لوں آپ نے فرمایا: ”کس بات پر بیعت کرتے ہو؟“ جواب دیا جو آپ کے دل میں ہو اس پر۔ [دلائل النبوۃ للبیہقی:137/4:مرسل و ضعیف] آپ کے والد کا نام وہب تھا۔
صفحہ نمبر8577
صحیح بخاری میں نافع سے مروی ہے کہ لوگ کہتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے لڑکے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے پہلے اسلام قبول کیا دراصل واقعہ یوں نہیں۔ بات یہ ہے کہ حدیبیہ والے سال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ایک انصاری کے پاس بھیجا کہ جا کر اپنے گھوڑے لے آؤ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لے رہے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس کا علم نہ تھا یہ اپنے طور پوشیدگی سے لڑائی کی تیاریاں کر رہے تھے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت ہو رہی ہے تو یہ بیعت سے مشرف ہوئے پھر گھوڑا لینے گئے اور گھوڑا لا کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیعت لے رہے ہیں اب سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اس بنا پر لوگ کہتے ہیں کہ بیٹے کا اسلام باپ سے پہلے کا ہے ۔ [صحیح بخاری:4187]
صفحہ نمبر8578
بخاری کی دوسری روایت میں ہے لوگ الگ الگ درختوں تلے آرام کر رہے تھے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ہر ایک کی نگاہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہیں اور لوگ آپ کو گھیرے ہوئے ہیں، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: جاؤ ذرا دیکھو تو کیا ہو رہا ہے؟ یہ آئے دیکھا کہ بیعت ہو رہی ہے تو بیعت کر لی، پھر جا کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خبر کی چنانچہ آپ بھی فوراً آئے اور بیعت سے مشرف ہوئے ۔ [صحیح بخاری:4187]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب ہم نے بیعت کی ہے اس وقت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آپ کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے اور آپ ایک ببول کے درخت تلے تھے ۔ [صحیح مسلم:1856]
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اس موقعہ پر درخت کی ایک جھکی ہوئی شاخ کو آپ کے سر سے اوپر کو اٹھا کر میں تھامے ہوئے تھا ہم نے آپ سے موت پر بیعت نہیں کی بلکہ نہ بھاگنے پر ۔ [صحیح مسلم:1858-76]
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے مرنے پر بیعت کی تھی ۔ [صحیح بخاری:2960]
آپ فرماتے ہیں ایک مرتبہ بیعت کر کے میں ہٹ کر ایک طرف کو کھڑا ہو گیا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: ”سلمہ! تم بیعت نہیں کرتے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں نے تو بیعت کر لی، آپ نے فرمایا: ”خیر آؤ، بیعت کرو“، چنانچہ میں نے قریب جا کر پھر بیعت کی ۔ [صحیح بخاری:7208]
صفحہ نمبر8579
حدیبیہ کا وہ کنواں جس کا ذکر اوپر گزرا صرف اتنے پانی کا تھا کہ پچاس بکریاں بھی آسودہ نہ ہو سکیں، آپ فرماتے ہیں کہ دوبارہ بیعت کر لینے کے بعد آپ نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ میں بے سپر ہوں تو آپ نے مجھے ایک ڈھال عنایت فرمائی۔ پھر لوگوں سے بیعت لینی شروع کر دی پھر آخری مرتبہ میری طرف دیکھ کر فرمایا: ”سلمہ! تم بیعت نہیں کرتے؟“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! پہلی مرتبہ جن لوگوں نے بیعت کی میں نے ان کے ساتھ ہی بیعت کی تھی پھر بیچ میں دوبارہ بیعت کر چکا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”اچھا پھر سہی“ چنانچہ اس آخری جماعت کے ساتھ بھی میں نے بیعت کی آپ نے پھر میری طرف دیکھ کر فرمایا: ”سلمہ! تمہیں ہم نے جو ڈھال دی تھی وہ کیا ہوئی؟“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! عامر سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے دیکھا کہ ان کے پاس دشمن کا وار روکنے والی کوئی چیز نہیں میں نے وہ ڈھال انہیں دے دی۔ تو آپ ہنسے اور فرمایا: ”تم بھی اس شخص کی طرح ہو جس نے اللہ سے دعا کی کہ اے الٰہی میرے پاس کسی ایسے کو بھیج دے جو مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہو۔“
صفحہ نمبر8580
پھر اہل مکہ سے صلح کی تحریک کی آمدورفت ہوئی اور صلح ہو گئی، میں سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کا خادم تھا ان کے گھوڑے کی اور ان کی خدمت کیا کرتا تھا، وہ مجھے کھانے کو دے دیتے تھے، میں تو اپنا گھربار بال بچے مال دولت سب راہ اللہ میں چھوڑ کر ہجرت کر کے چلا آیا تھا۔
جب صلح ہو چکی ادھر کے لوگ ادھر اور ادھر کے ادھر آنے لگے، تو میں ایک درخت تلے جا کر کانٹے وغیرہ ہٹا کر اس کی جڑ سے لگ کر سو گیا، اچانک مشرکین مکہ میں سے چار شخص وہیں آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کچھ گستاخانہ کلمات سے آپس میں باتیں کرنے لگے، مجھے بڑا برا معلوم ہوا، میں وہاں سے اٹھ کر دوسرے درخت تلے چلا گیا۔
ان لوگوں نے اپنے ہتھیار اتارے درخت پر لٹکا کر وہاں لیٹ گئے تھوڑی دیر گزری ہو گی جو میں نے سنا کہ وادی کے نیچے کے حصہ سے کوئی منادی ندا کر رہا ہے کہ اے مہاجر بھائیو سیدنا ابن زنیم رضی اللہ عنہ قتل کر دئیے گئے۔ میں نے جھٹ سے تلوار تان لی اور اسی درخت تلے گیا جہاں چاروں سوئے ہوئے تھے، جاتے ہی پہلے تو ان کے ہتھیار قبضے میں کئے اور اپنے ایک ہاتھ میں انہیں دبا کر دوسرے ہاتھ سے تلوار تول کر ان سے کہا: سنو! اس اللہ کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت دی ہے تم میں سے جس نے بھی سر اٹھایا میں اس کا سر قلم کر دوں گا۔
جب وہ اسے مان چکے میں نے کہا: اٹھو اور میرے آگے آگے چلو چنانچہ ان چاروں کو لے کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، ادھر میرے چچا سیدنا عامر رضی اللہ عنہ بھی مکرز نامی عبلات کے ایک مشرک کو گرفتار کر کے لائے اور بھی اسی طرح کے ستر مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کئے گئے تھے۔
آپ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو، برائی کی ابتداء بھی انہی کے سر رہے اور پھر اس کی تکرار کے ذمہ دار بھی یہی رہیں۔“ چنانچہ ان سب کو رہا کر دیا گیا
اسی کا بیان آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۭ وَكَان اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا» [48-الفتح:24] میں ہے۔ [صحیح مسلم:1807]
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے والد بھی اس موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ کا بیان ہے کہ اگلے سال جب ہم حج کو گئے تو اس درخت کی جگہ ہم پر پوشیدہ رہی ہم معلوم نہ کر سکے کہ کس جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ہم نے بیعت کی تھی اب اگر تم پر یہ پوشیدگی کھل گئی ہو تو تم جانو۔ [صحیح بخاری:4162]
ایک روایت میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج زمین پر جتنے ہیں ان سب پر افضل تم لوگ ہو۔“ آپ فرماتے ہیں اگر میری آنکھیں ہوتیں تو میں تمہیں اس درخت کی جگہ دکھا دیتا ۔ [صحیح بخاری:4154]
سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس جگہ کی تعین میں بڑا اختلاف ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جن لوگوں نے اس بیعت میں شرکت کی ہے ان میں سے کوئی جہنم میں نہیں جائے گا ۔ [سنن ابوداود:4653،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جن لوگوں نے اس درخت تلے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے سب جنت میں جائیں گے مگر سرخ اونٹ والا“، ہم جلدی دوڑے دیکھا تو ایک شخص اپنے کھوئے ہوئے اونٹ کی تلاش میں تھا ہم نے کہا چل بیعت کر اس نے جواب دیا کہ بیعت سے زیادہ نفع تو اس میں ہے کہ میں اپنا گمشدہ اونٹ پا لوں ۔ [سنن ترمذي:3863،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر8581
مسند احمد میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے جو ثنیۃ المرار پر چڑھ جائے اس سے وہ دور ہو جائے گا جو بنی اسرائیل سے دور ہوا“، پس سب سے پہلے قبیلہ خزرج کے ایک صحابی اس پر چڑھ گئے پھر تو اور لوگ بھی پہنچ گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب بخشے جاؤ گے مگر سرخ اونٹ والا۔“ ہم اس کے پاس آئے اور اس سے کہا تیرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استغفار طلب کریں تو اس نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم مجھے میرا اونٹ مل جائے تو میں زیادہ خوش ہوں گا بہ نسبت اس کے کہ تمہارے صاحب میرے لیے استغفار کریں یہ شخص اپنا گمشدہ اونٹ ڈھونڈ رہا تھا ۔ [صحیح مسلم:2785]
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ سنا کہ اس بیعت والے دوزخ میں داخل نہیں ہوں گے تو کہا: ہاں ہوں گے، آپ نے انہیں روک دیا تو مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے آیت «وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا» [19-مريم:71] پڑھی یعنی ” تم میں سے ہر شخص کو اس پر وارد ہونا ہے “، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے بعد ہی فرمان باری ہے «ثُمَّ نُـنَجِّي الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِيْنَ فِيْهَا جِثِيًّا» [19-مريم:72] ” یعنی پھر ہم تقویٰ والوں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو گھٹنوں کے بل اس میں گرا دیں گے ۔ [صحیح مسلم:2496]
صفحہ نمبر8582
سیدنا حاطب بن ابوبلتعہ رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! حاطب ضرور جہنم میں جائیں گے، آپ نے فرمایا: ”تو جھوٹا ہے، وہ جہنمی نہیں، وہ بدر میں اور حدیبیہ میں موجود رہا“ ۔ [صحیح مسلم:2495-162]
ان بزرگوں کی ثنا بیان ہو رہی ہے کہ یہ اللہ سے بیعت کر رہے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کے ہاتھ ہیں، اس بیعت کو توڑنے والا اپنا ہی نقصان کرنے والا ہے اور اسے پورا کرنے والا بڑے اجر کا مستحق ہے۔ جیسے فرمایا «لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا» [48-الفتح:18] ” یعنی اللہ تعالیٰ ایمان والوں سے راضی ہو گیا جبکہ انہوں نے درخت تلے تجھ سے بیعت کی ان کے دلی ارادوں کو اس نے جان لیا پھر ان پر دلجمعی نازل فرمائی اور قریب کی فتح سے انہیں سرفراز فرمایا “۔
صفحہ نمبر8583
مجاہدین کی کامیاب واپسی ٭٭
جو اعراب لوگ جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ کر موت کے ڈر کے مارے گھر سے نہ نکلے تھے اور جانتے تھے کہ کفر کی زبردست طاقت ہمیں چکنا چور کر دے گی اور جو اتنی بڑی جماعت سے ٹکر لینے گئے ہیں یہ تباہ ہو جائیں گے، بال بچوں کو ترس جائیں گے اور وہیں کاٹ ڈالے جائیں گے۔
جب انہوں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے پاکباز مجاہدین کی جماعت کے ہنسی خوشی واپس آ رہے ہیں، تو اپنے دل میں مسودے گانٹھنے لگے کہ اپنی مشیخت بنی رہے، یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی سے خبردار کر دیا کہ یہ بدباطن لوگ آ کر اپنے ضمیر کے خلاف اپنی زبان کو حرکت دیں گے اور عذر پیش کریں گے کہ حضور بال بچوں اور کام کاج کی وجہ سے نکل نہ سکے ورنہ ہم تو ہر طرح تابع فرمان ہیں ہماری جان تک حاضر ہے اپنی مزید ایمانداری کے اظہار کے لیے یہ بھی کہہ دیں گے کہ آپ ہمارے لیے استغفار کیجئے۔
تو آپ انہیں جواب دے دینا کہ تمہارا معاملہ سپرد اللہ ہے وہ دلوں کے بھید سے واقف ہے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچائے تو کون ہے جو اسے دفع کر سکے؟ اور اگر وہ تمہیں نفع دینا چاہے تو کون ہے جو اسے روک سکے؟ تصنع اور بناوٹ سے تمہاری ایمانداری اور نفاق سے وہ بخوبی آگاہ ہے، ایک ایک عمل سے وہ باخبر ہے، اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، دراصل تمہارا پیچھے رہ جانا کسی عذر کے باعث نہ تھا بلکہ بطور نافرمانی کے ہی تھا۔ صاف طور پر تمہارا نفاق اس کے باعث تھا تمہارے دل ایمان سے خالی ہیں اللہ پر بھروسہ نہیں رسول کی اطاعت میں بھلائی کا یقین نہیں اس وجہ سے تمہاری جانیں تم پر گراں ہیں تم اپنی نسبت تو کیا بلکہ رسول اور صحابہ کی نسبت بھی یہی خیال کرتے تھے کہ یہ قتل کر دئیے جائیں گے ان کی بھوسی اڑا دی جائے گی ان میں سے ایک بھی نہ بچ سکے گا جو ان کی خبر تو لا کر دے۔ ان بدخیالیوں نے تمہیں نامرد بنا رکھا تھا تم دراصل برباد شدہ لوگ ہو کہا گیا ہے کہ «بورا» لغت عمان ہے جو شخص اپنا عمل خالص نہ کرے اپنا عقیدہ مضبوط نہ بنا لے اسے اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ میں عذاب کرے گا گو دنیا میں وہ بہ خلاف اپنے باطن کے ظاہر کرتے رہے۔
صفحہ نمبر8584
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے ملک، اپنی شہنشاہی اور اپنے اختیارات کا بیان فرماتا ہے کہ مالک و متصرف وہی ہے، بخشش اور عذاب پر قادر وہ ہے لیکن ہے غفور اور رحیم، جو بھی اس کی طرف جھکے وہ اس کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور جو اس کا در کھٹکھٹائے وہ اس کے لیے اپنا دروازہ کھول دیتا ہے، خواہ کتنے ہی گناہ کئے ہوں جب توبہ کرے اللہ قبول فرما لیتا ہے اور گناہ بخش دیتا ہے بلکہ رحم اور مہربانی سے پیش آتا ہے۔
صفحہ نمبر8585
مجاہدین کی کامیاب واپسی ٭٭
جو اعراب لوگ جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ کر موت کے ڈر کے مارے گھر سے نہ نکلے تھے اور جانتے تھے کہ کفر کی زبردست طاقت ہمیں چکنا چور کر دے گی اور جو اتنی بڑی جماعت سے ٹکر لینے گئے ہیں یہ تباہ ہو جائیں گے، بال بچوں کو ترس جائیں گے اور وہیں کاٹ ڈالے جائیں گے۔
جب انہوں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے پاکباز مجاہدین کی جماعت کے ہنسی خوشی واپس آ رہے ہیں، تو اپنے دل میں مسودے گانٹھنے لگے کہ اپنی مشیخت بنی رہے، یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی سے خبردار کر دیا کہ یہ بدباطن لوگ آ کر اپنے ضمیر کے خلاف اپنی زبان کو حرکت دیں گے اور عذر پیش کریں گے کہ حضور بال بچوں اور کام کاج کی وجہ سے نکل نہ سکے ورنہ ہم تو ہر طرح تابع فرمان ہیں ہماری جان تک حاضر ہے اپنی مزید ایمانداری کے اظہار کے لیے یہ بھی کہہ دیں گے کہ آپ ہمارے لیے استغفار کیجئے۔
تو آپ انہیں جواب دے دینا کہ تمہارا معاملہ سپرد اللہ ہے وہ دلوں کے بھید سے واقف ہے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچائے تو کون ہے جو اسے دفع کر سکے؟ اور اگر وہ تمہیں نفع دینا چاہے تو کون ہے جو اسے روک سکے؟ تصنع اور بناوٹ سے تمہاری ایمانداری اور نفاق سے وہ بخوبی آگاہ ہے، ایک ایک عمل سے وہ باخبر ہے، اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، دراصل تمہارا پیچھے رہ جانا کسی عذر کے باعث نہ تھا بلکہ بطور نافرمانی کے ہی تھا۔ صاف طور پر تمہارا نفاق اس کے باعث تھا تمہارے دل ایمان سے خالی ہیں اللہ پر بھروسہ نہیں رسول کی اطاعت میں بھلائی کا یقین نہیں اس وجہ سے تمہاری جانیں تم پر گراں ہیں تم اپنی نسبت تو کیا بلکہ رسول اور صحابہ کی نسبت بھی یہی خیال کرتے تھے کہ یہ قتل کر دئیے جائیں گے ان کی بھوسی اڑا دی جائے گی ان میں سے ایک بھی نہ بچ سکے گا جو ان کی خبر تو لا کر دے۔ ان بدخیالیوں نے تمہیں نامرد بنا رکھا تھا تم دراصل برباد شدہ لوگ ہو کہا گیا ہے کہ «بورا» لغت عمان ہے جو شخص اپنا عمل خالص نہ کرے اپنا عقیدہ مضبوط نہ بنا لے اسے اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ میں عذاب کرے گا گو دنیا میں وہ بہ خلاف اپنے باطن کے ظاہر کرتے رہے۔
صفحہ نمبر8584
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے ملک، اپنی شہنشاہی اور اپنے اختیارات کا بیان فرماتا ہے کہ مالک و متصرف وہی ہے، بخشش اور عذاب پر قادر وہ ہے لیکن ہے غفور اور رحیم، جو بھی اس کی طرف جھکے وہ اس کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور جو اس کا در کھٹکھٹائے وہ اس کے لیے اپنا دروازہ کھول دیتا ہے، خواہ کتنے ہی گناہ کئے ہوں جب توبہ کرے اللہ قبول فرما لیتا ہے اور گناہ بخش دیتا ہے بلکہ رحم اور مہربانی سے پیش آتا ہے۔
صفحہ نمبر8585
مجاہدین کی کامیاب واپسی ٭٭
جو اعراب لوگ جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ کر موت کے ڈر کے مارے گھر سے نہ نکلے تھے اور جانتے تھے کہ کفر کی زبردست طاقت ہمیں چکنا چور کر دے گی اور جو اتنی بڑی جماعت سے ٹکر لینے گئے ہیں یہ تباہ ہو جائیں گے، بال بچوں کو ترس جائیں گے اور وہیں کاٹ ڈالے جائیں گے۔
جب انہوں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے پاکباز مجاہدین کی جماعت کے ہنسی خوشی واپس آ رہے ہیں، تو اپنے دل میں مسودے گانٹھنے لگے کہ اپنی مشیخت بنی رہے، یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی سے خبردار کر دیا کہ یہ بدباطن لوگ آ کر اپنے ضمیر کے خلاف اپنی زبان کو حرکت دیں گے اور عذر پیش کریں گے کہ حضور بال بچوں اور کام کاج کی وجہ سے نکل نہ سکے ورنہ ہم تو ہر طرح تابع فرمان ہیں ہماری جان تک حاضر ہے اپنی مزید ایمانداری کے اظہار کے لیے یہ بھی کہہ دیں گے کہ آپ ہمارے لیے استغفار کیجئے۔
تو آپ انہیں جواب دے دینا کہ تمہارا معاملہ سپرد اللہ ہے وہ دلوں کے بھید سے واقف ہے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچائے تو کون ہے جو اسے دفع کر سکے؟ اور اگر وہ تمہیں نفع دینا چاہے تو کون ہے جو اسے روک سکے؟ تصنع اور بناوٹ سے تمہاری ایمانداری اور نفاق سے وہ بخوبی آگاہ ہے، ایک ایک عمل سے وہ باخبر ہے، اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، دراصل تمہارا پیچھے رہ جانا کسی عذر کے باعث نہ تھا بلکہ بطور نافرمانی کے ہی تھا۔ صاف طور پر تمہارا نفاق اس کے باعث تھا تمہارے دل ایمان سے خالی ہیں اللہ پر بھروسہ نہیں رسول کی اطاعت میں بھلائی کا یقین نہیں اس وجہ سے تمہاری جانیں تم پر گراں ہیں تم اپنی نسبت تو کیا بلکہ رسول اور صحابہ کی نسبت بھی یہی خیال کرتے تھے کہ یہ قتل کر دئیے جائیں گے ان کی بھوسی اڑا دی جائے گی ان میں سے ایک بھی نہ بچ سکے گا جو ان کی خبر تو لا کر دے۔ ان بدخیالیوں نے تمہیں نامرد بنا رکھا تھا تم دراصل برباد شدہ لوگ ہو کہا گیا ہے کہ «بورا» لغت عمان ہے جو شخص اپنا عمل خالص نہ کرے اپنا عقیدہ مضبوط نہ بنا لے اسے اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ میں عذاب کرے گا گو دنیا میں وہ بہ خلاف اپنے باطن کے ظاہر کرتے رہے۔
صفحہ نمبر8584
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے ملک، اپنی شہنشاہی اور اپنے اختیارات کا بیان فرماتا ہے کہ مالک و متصرف وہی ہے، بخشش اور عذاب پر قادر وہ ہے لیکن ہے غفور اور رحیم، جو بھی اس کی طرف جھکے وہ اس کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور جو اس کا در کھٹکھٹائے وہ اس کے لیے اپنا دروازہ کھول دیتا ہے، خواہ کتنے ہی گناہ کئے ہوں جب توبہ کرے اللہ قبول فرما لیتا ہے اور گناہ بخش دیتا ہے بلکہ رحم اور مہربانی سے پیش آتا ہے۔
صفحہ نمبر8585
مجاہدین کی کامیاب واپسی ٭٭
جو اعراب لوگ جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ کر موت کے ڈر کے مارے گھر سے نہ نکلے تھے اور جانتے تھے کہ کفر کی زبردست طاقت ہمیں چکنا چور کر دے گی اور جو اتنی بڑی جماعت سے ٹکر لینے گئے ہیں یہ تباہ ہو جائیں گے، بال بچوں کو ترس جائیں گے اور وہیں کاٹ ڈالے جائیں گے۔
جب انہوں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے پاکباز مجاہدین کی جماعت کے ہنسی خوشی واپس آ رہے ہیں، تو اپنے دل میں مسودے گانٹھنے لگے کہ اپنی مشیخت بنی رہے، یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی سے خبردار کر دیا کہ یہ بدباطن لوگ آ کر اپنے ضمیر کے خلاف اپنی زبان کو حرکت دیں گے اور عذر پیش کریں گے کہ حضور بال بچوں اور کام کاج کی وجہ سے نکل نہ سکے ورنہ ہم تو ہر طرح تابع فرمان ہیں ہماری جان تک حاضر ہے اپنی مزید ایمانداری کے اظہار کے لیے یہ بھی کہہ دیں گے کہ آپ ہمارے لیے استغفار کیجئے۔
تو آپ انہیں جواب دے دینا کہ تمہارا معاملہ سپرد اللہ ہے وہ دلوں کے بھید سے واقف ہے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچائے تو کون ہے جو اسے دفع کر سکے؟ اور اگر وہ تمہیں نفع دینا چاہے تو کون ہے جو اسے روک سکے؟ تصنع اور بناوٹ سے تمہاری ایمانداری اور نفاق سے وہ بخوبی آگاہ ہے، ایک ایک عمل سے وہ باخبر ہے، اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، دراصل تمہارا پیچھے رہ جانا کسی عذر کے باعث نہ تھا بلکہ بطور نافرمانی کے ہی تھا۔ صاف طور پر تمہارا نفاق اس کے باعث تھا تمہارے دل ایمان سے خالی ہیں اللہ پر بھروسہ نہیں رسول کی اطاعت میں بھلائی کا یقین نہیں اس وجہ سے تمہاری جانیں تم پر گراں ہیں تم اپنی نسبت تو کیا بلکہ رسول اور صحابہ کی نسبت بھی یہی خیال کرتے تھے کہ یہ قتل کر دئیے جائیں گے ان کی بھوسی اڑا دی جائے گی ان میں سے ایک بھی نہ بچ سکے گا جو ان کی خبر تو لا کر دے۔ ان بدخیالیوں نے تمہیں نامرد بنا رکھا تھا تم دراصل برباد شدہ لوگ ہو کہا گیا ہے کہ «بورا» لغت عمان ہے جو شخص اپنا عمل خالص نہ کرے اپنا عقیدہ مضبوط نہ بنا لے اسے اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ میں عذاب کرے گا گو دنیا میں وہ بہ خلاف اپنے باطن کے ظاہر کرتے رہے۔
صفحہ نمبر8584
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے ملک، اپنی شہنشاہی اور اپنے اختیارات کا بیان فرماتا ہے کہ مالک و متصرف وہی ہے، بخشش اور عذاب پر قادر وہ ہے لیکن ہے غفور اور رحیم، جو بھی اس کی طرف جھکے وہ اس کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور جو اس کا در کھٹکھٹائے وہ اس کے لیے اپنا دروازہ کھول دیتا ہے، خواہ کتنے ہی گناہ کئے ہوں جب توبہ کرے اللہ قبول فرما لیتا ہے اور گناہ بخش دیتا ہے بلکہ رحم اور مہربانی سے پیش آتا ہے۔
صفحہ نمبر8585
مال غنیمت کے طالب ٭٭
ارشاد الٰہی ہے کہ جن بدوی لوگوں نے حدیبیہ میں اللہ کے رسول اور صحابہ کا ساتھ نہ دیا وہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان صحابہ رضی اللہ عنہم کو خیبر کی فتح کے موقع پر مال غنیمت سمیٹنے کے لیے جاتے ہوئے دیکھیں گے تو آرزو کریں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے لو، مصیبت کو دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے راحت کو دیکھ کر شامل ہونا چاہتے ہیں۔
اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ انہیں ہرگز ساتھ نہ لینا جب یہ جنگ سے جی چرائیں تو پھر غنیمت میں حصہ کیوں لیں؟ اللہ تعالیٰ نے خیبر کی غنیمتوں کا وعدہ اہل حدیبیہ سے کیا ہے نہ کہ ان سے جو مشکل وقت پر ساتھ نہ دیں اور آرام کے وقت مل جائیں ان کی چاہت ہے کہ کلام الٰہی کو بدل دیں۔ یعنی اللہ نے تو صرف حدیبیہ کی حاضری والوں سے وعدہ کیا تو یہ چاہتے ہیں کہ باوجود اپنی غیر حاضری کے اللہ کے اس وعدے میں مل جائیں تاکہ وہ بھی بدلا ہوا ثابت ہو جائے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:343/11]
ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اس سے یہ حکم الٰہی ہے «فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَاىِٕفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِيَ اَبَدًا وَّلَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِيَ عَدُوًّا» [9-التوبة:83] یعنی ” اے نبی! اگر تمہیں اللہ ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے جائے اور وہ تم سے جہاد کے لیے نکلنے کی اجازت مانگیں تو تم ان سے کہہ دینا کہ تم میرے ساتھ ہرگز نہ نکلو اور میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے نہ لڑو “، تم وہی ہو کہ پہلی مرتبہ ہم سے پیچھے رہ جانے میں ہی خوش رہے بس اب ہمیشہ بیٹھے رہنے والوں کے ساتھ ہی بیٹھے رہو لیکن اس قول میں نظر ہے اس لیے کہ یہ آیت سورۃ برات کی ہے جو غزوہ تبوک کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور غزوہ تبوک غزوہ حدیبیہ کے بہت بعد کا ہے۔
صفحہ نمبر8589
ابن جریج رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مراد اس سے ان منافقوں کا مسلمانوں کو بھی اپنے ساتھ ملا کر جہاد سے باز رکھنا ہے، فرماتا ہے کہ انہیں ان کی اس آرزو کا جواب دو کہ تم ہمارے ساتھ چلنا چاہو اس سے پہلے اللہ یہ وعدہ اہل حدیبیہ سے کر چکا ہے اس لیے تم ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ اب وہ طعنہ دیں گے کہ اچھا ہمیں معلوم ہو گیا تم ہم سے جلتے ہو تم نہیں چاہتے کہ غنیمت کا حصہ تمہارے سوا کسی اور کو ملے، اللہ فرماتا ہے دراصل یہ ان کی ناسمجھی ہے اور اسی ایک پر کیا موقوف ہے یہ لوگ سراسر بےسمجھ ہیں۔
صفحہ نمبر8590
باب
وہ سخت لڑاکا قوم جن سے لڑنے کی طرف یہ بلائے جائیں گے کون سی قوم ہے؟ اس میں کئی اقوال ہیں ایک تو یہ کہ اس سے مراد قبیلہ ہوازن ہے، دوسرے یہ کہ اس سے مراد قبیلہ ثقیف ہے، تیسرے یہ کہ اس سے مراد قبیلہ بنو حنیفہ ہے، چوتھے یہ کہ اس سے مراد اہل فارس ہیں، پانچویں یہ کہ اس سے مراد رومی ہیں، چھٹے یہ کہ اس سے مراد بت پرست ہیں۔
بعض فرماتے ہیں اس سے مراد کوئی خاص قبیلہ یا گروہ نہیں بلکہ مطلق جنگجو قوم مراد ہے جو ابھی تک مقابلہ میں نہیں آئی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد کرد لوگ ہیں۔
صفحہ نمبر8591
ایک مرفوع حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ تم ایک ایسی قوم سے نہ لڑو جن کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی اور ناک بیٹھی ہوئی ہو گی ان کے منہ مثل تہہ بہ تہہ ڈھالوں کے ہوں گے۔“ [صحیح بخاری:2928]
سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ترک ہیں ایک حدیث میں ہے کہ تمہیں ایک قوم سے جہاد کرنا پڑے گا جن کی جوتیاں بال دار ہوں گی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد کرد لوگ ہیں ۔
پھر فرماتا ہے کہ ان سے جہاد قتال تم پر مشروع کر دیا گیا ہے اور یہ حکم باقی رہے گا اللہ تعالیٰ ان پر تمہاری مدد کرے گا یا یہ کہ وہ خودبخود بغیر لڑے بھڑے دین اسلام قبول کر لیں گے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے اگر تم مان لو گے اور جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہو جاؤ گے اور حکم کی بجا آوری کرو گے تو تمہیں بہت ساری نیکیاں ملیں گی اور اگر تم نے وہی کیا جو حدیبیہ کے موقع پر کیا تھا یعنی بزدلی سے بیٹھے رہے جہاد میں شرکت نہ کی احکام کی تعمیل سے جی چرایا تو تمہیں المناک عذاب ہو گا۔ پھر جہاد کے ترک کرنے کے جو صحیح عذر ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے پس دو عذر تو وہ بیان فرمائے جو لازمی ہیں یعنی اندھا پن اور لنگڑا پن اور ایک عذر وہ بیان فرمایا جو عارضی ہے جیسے بیماری کہ چند دن رہی پھر چلی گئی۔
صفحہ نمبر8592
پس یہ بھی اپنی بیماری کے زمانہ میں معذور ہیں ہاں تندرست ہونے کے بعد یہ معذور نہیں پھر جہاد کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانبردار جنتی ہے اور جو جہاد سے بے رغبتی کرے اور دنیا کی طرف سراسر متوجہ ہو جائے، معاش کے پیچھے معاد کو بھول جائے اس کی سزا دنیا میں ذلت اور آخرت کی دکھ مار ہے۔
صفحہ نمبر8593
باب
وہ سخت لڑاکا قوم جن سے لڑنے کی طرف یہ بلائے جائیں گے کون سی قوم ہے؟ اس میں کئی اقوال ہیں ایک تو یہ کہ اس سے مراد قبیلہ ہوازن ہے، دوسرے یہ کہ اس سے مراد قبیلہ ثقیف ہے، تیسرے یہ کہ اس سے مراد قبیلہ بنو حنیفہ ہے، چوتھے یہ کہ اس سے مراد اہل فارس ہیں، پانچویں یہ کہ اس سے مراد رومی ہیں، چھٹے یہ کہ اس سے مراد بت پرست ہیں۔
بعض فرماتے ہیں اس سے مراد کوئی خاص قبیلہ یا گروہ نہیں بلکہ مطلق جنگجو قوم مراد ہے جو ابھی تک مقابلہ میں نہیں آئی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد کرد لوگ ہیں۔
صفحہ نمبر8591
ایک مرفوع حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ تم ایک ایسی قوم سے نہ لڑو جن کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی اور ناک بیٹھی ہوئی ہو گی ان کے منہ مثل تہہ بہ تہہ ڈھالوں کے ہوں گے۔“ [صحیح بخاری:2928]
سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ترک ہیں ایک حدیث میں ہے کہ تمہیں ایک قوم سے جہاد کرنا پڑے گا جن کی جوتیاں بال دار ہوں گی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد کرد لوگ ہیں ۔
پھر فرماتا ہے کہ ان سے جہاد قتال تم پر مشروع کر دیا گیا ہے اور یہ حکم باقی رہے گا اللہ تعالیٰ ان پر تمہاری مدد کرے گا یا یہ کہ وہ خودبخود بغیر لڑے بھڑے دین اسلام قبول کر لیں گے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے اگر تم مان لو گے اور جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہو جاؤ گے اور حکم کی بجا آوری کرو گے تو تمہیں بہت ساری نیکیاں ملیں گی اور اگر تم نے وہی کیا جو حدیبیہ کے موقع پر کیا تھا یعنی بزدلی سے بیٹھے رہے جہاد میں شرکت نہ کی احکام کی تعمیل سے جی چرایا تو تمہیں المناک عذاب ہو گا۔ پھر جہاد کے ترک کرنے کے جو صحیح عذر ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے پس دو عذر تو وہ بیان فرمائے جو لازمی ہیں یعنی اندھا پن اور لنگڑا پن اور ایک عذر وہ بیان فرمایا جو عارضی ہے جیسے بیماری کہ چند دن رہی پھر چلی گئی۔
صفحہ نمبر8592
پس یہ بھی اپنی بیماری کے زمانہ میں معذور ہیں ہاں تندرست ہونے کے بعد یہ معذور نہیں پھر جہاد کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانبردار جنتی ہے اور جو جہاد سے بے رغبتی کرے اور دنیا کی طرف سراسر متوجہ ہو جائے، معاش کے پیچھے معاد کو بھول جائے اس کی سزا دنیا میں ذلت اور آخرت کی دکھ مار ہے۔
صفحہ نمبر8593
چودہ سو صحابہ اور بیعت رضوان ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یہ بیعت کرنے والے چودہ سو کی تعداد میں تھے اور یہ درخت ببول کا تھا جو حدیبیہ کے میدان میں تھا، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ جب حج کو گئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ایک جگہ نماز ادا کر رہے ہیں پوچھا کہ کیا بات ہے؟ تو جواب ملا کہ یہ وہی درخت ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت الرضوان ہوئی تھی۔ سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے واپس آ کر یہ قصہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے بیان کیا۔ تو آپ نے فرمایا: میرے والد صاحب بھی ان بیعت کرنے والوں میں تھے، ان کا بیان ہے کہ بیعت کے دوسرے سال ہم وہاں گئے لیکن ہم سب کو بھلا دیا گیا وہ درخت ہمیں نہ ملا، پھر سعید فرمانے لگے تعجب ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم خود بیعت کرنے والے تو اس جگہ کو نہ پا سکیں انہیں معلوم نہ ہو لیکن تم لوگ جان لو گویا تم اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زیادہ جاننے والے ہو ۔ [صحیح بخاری:4163]
پھر فرمایا ہے ان کی دلی صداقت نیت وفا اور سننے اوج جاننے والی عادت کو اللہ نے معلوم کر لیا پس ان کے دلوں میں اطمینان ڈال دیا اور قریب کی فتح انعام فرمائی۔
صفحہ نمبر8595
یہ فتح وہ صلح ہے جو حدیبیہ کے میدان میں ہوئی جس سے عام بھلائی حاصل ہوئی اور جس کے قریب ہی خیبر فتح ہوا، پھر تھوڑے ہی زمانے کے بعد مکہ بھی فتح ہو گیا، پھر اور قلعے اور علاقے بھی فتح ہوتے چلے گئے۔ اور وہ عزت و نصرت و فتح و ظفر و اقبال اور رفعت حاصل ہوئی کہ دنیا انگشت بدنداں حیران و پریشان رہ گئی۔ اسی لیے فرمایا کہ بہت سی غنیمتیں عطا فرمائے گا۔ سچے غلبہ والا اور کامل حکمت والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے ہم حدیبیہ کے میدان میں دوپہر کے وقت آرام کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے ندا کی کہ لوگو! بیعت کے لیے آگے بڑھو، روح القدس آ چکے ہیں۔ ہم بھاگے دوڑے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ اس وقت ببول کے درخت تلے تھے ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی جس کا ذکر آیت «لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا» [48-الفتح:18] میں ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے آپ نے اپنا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر خود ہی بیعت کر لی، تو ہم نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بڑے خوش نصیب رہے کہ ہم تو یہاں پڑے ہوئے ہیں اور وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہوں گے یہ سن کر جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بالکل ناممکن ہے کہ عثمان ہم سے پہلے طواف کر لے، گو کئی سال تک وہاں رہے۔“ (ضعیف: اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہیں)
صفحہ نمبر8596
چودہ سو صحابہ اور بیعت رضوان ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یہ بیعت کرنے والے چودہ سو کی تعداد میں تھے اور یہ درخت ببول کا تھا جو حدیبیہ کے میدان میں تھا، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ جب حج کو گئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ایک جگہ نماز ادا کر رہے ہیں پوچھا کہ کیا بات ہے؟ تو جواب ملا کہ یہ وہی درخت ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت الرضوان ہوئی تھی۔ سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے واپس آ کر یہ قصہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے بیان کیا۔ تو آپ نے فرمایا: میرے والد صاحب بھی ان بیعت کرنے والوں میں تھے، ان کا بیان ہے کہ بیعت کے دوسرے سال ہم وہاں گئے لیکن ہم سب کو بھلا دیا گیا وہ درخت ہمیں نہ ملا، پھر سعید فرمانے لگے تعجب ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم خود بیعت کرنے والے تو اس جگہ کو نہ پا سکیں انہیں معلوم نہ ہو لیکن تم لوگ جان لو گویا تم اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زیادہ جاننے والے ہو ۔ [صحیح بخاری:4163]
پھر فرمایا ہے ان کی دلی صداقت نیت وفا اور سننے اوج جاننے والی عادت کو اللہ نے معلوم کر لیا پس ان کے دلوں میں اطمینان ڈال دیا اور قریب کی فتح انعام فرمائی۔
صفحہ نمبر8595
یہ فتح وہ صلح ہے جو حدیبیہ کے میدان میں ہوئی جس سے عام بھلائی حاصل ہوئی اور جس کے قریب ہی خیبر فتح ہوا، پھر تھوڑے ہی زمانے کے بعد مکہ بھی فتح ہو گیا، پھر اور قلعے اور علاقے بھی فتح ہوتے چلے گئے۔ اور وہ عزت و نصرت و فتح و ظفر و اقبال اور رفعت حاصل ہوئی کہ دنیا انگشت بدنداں حیران و پریشان رہ گئی۔ اسی لیے فرمایا کہ بہت سی غنیمتیں عطا فرمائے گا۔ سچے غلبہ والا اور کامل حکمت والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے ہم حدیبیہ کے میدان میں دوپہر کے وقت آرام کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے ندا کی کہ لوگو! بیعت کے لیے آگے بڑھو، روح القدس آ چکے ہیں۔ ہم بھاگے دوڑے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ اس وقت ببول کے درخت تلے تھے ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی جس کا ذکر آیت «لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا» [48-الفتح:18] میں ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے آپ نے اپنا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر خود ہی بیعت کر لی، تو ہم نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بڑے خوش نصیب رہے کہ ہم تو یہاں پڑے ہوئے ہیں اور وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہوں گے یہ سن کر جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بالکل ناممکن ہے کہ عثمان ہم سے پہلے طواف کر لے، گو کئی سال تک وہاں رہے۔“ (ضعیف: اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہیں)
صفحہ نمبر8596
کفار کے بد ارادے ناکام ہوئے ٭٭
ان بہت سی غنیمتوں سے مراد آپ کے زمانے اور بعد کی سب غنیمتیں ہیں جلدی کی غنیمت سے مراد خیبر کی غنیمت ہے اور حدیبیہ کی صلح ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:351/11]
اس اللہ کا ایک احسان یہ بھی ہے کہ کفار کے بدارادوں کو اس نے پورا نہ ہونے دیا، نہ مکے کے کافروں کے، نہ ان منافقوں کے جو تمہارے پیچھے مدینے میں رہے تھے، نہ یہ تم پر حملہ آور ہو سکے، نہ وہ تمہارے بال بچوں کو ستا سکے، یہ اس لیے کہ مسلمان اس سے عبرت حاصل کریں اور جان لیں کہ اصل حافظ و ناصر اللہ ہی ہے، پس دشمنوں کی کثرت اور اپنی قلت سے ہمت نہ ہار دیں اور یہ بھی یقین کر لیں کہ ہر کام کے انجام کا علم اللہ ہی کو ہے بندوں کے حق میں بہتری یہی ہے کہ وہ اس کے فرمان پر عامل رہیں اور اسی میں اپنی خیریت سمجھیں گو وہ فرمان بظاہر خلاف طبع ہو۔
صفحہ نمبر8598
بہت ممکن ہے کہ تم جسے ناپسند رکھتے ہو وہی تمہارے حق میں بہتر ہو وہ تمہیں تمہاری حکم بجا آوری اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سچی جانثاری کی عوض راہ مستقیم دکھائے گا اور دیگر غنیمتیں اور فتح مندیاں بھی عطا فرمائے گا جو تمہارے بس کی نہیں۔
لیکن اللہ خود تمہاری مدد کرے گا اور ان مشکلات کو تم پر آسان کر دے گا سب چیزیں اللہ کے بس میں ہیں، وہ اپنا ڈر رکھنے والے بندوں کو ایسی جگہ سے روزیاں پہنچاتا ہے جو کسی کے خیال میں تو کیا؟ خود ان کے اپنے خیال میں بھی نہ ہوں، اس غنیمت سے مراد خیبر کی غنیمت ہے جس کا وعدہ صلح حدیبیہ میں پنہاں تھا یا مکہ کی فتح تھی یا فارس اور روم کے مال ہیں یا وہ تمام فتوحات ہیں جو قیامت تک مسلمانوں کو حاصل ہوں گی۔
صفحہ نمبر8599
کفار کے بد ارادے ناکام ہوئے ٭٭
ان بہت سی غنیمتوں سے مراد آپ کے زمانے اور بعد کی سب غنیمتیں ہیں جلدی کی غنیمت سے مراد خیبر کی غنیمت ہے اور حدیبیہ کی صلح ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:351/11]
اس اللہ کا ایک احسان یہ بھی ہے کہ کفار کے بدارادوں کو اس نے پورا نہ ہونے دیا، نہ مکے کے کافروں کے، نہ ان منافقوں کے جو تمہارے پیچھے مدینے میں رہے تھے، نہ یہ تم پر حملہ آور ہو سکے، نہ وہ تمہارے بال بچوں کو ستا سکے، یہ اس لیے کہ مسلمان اس سے عبرت حاصل کریں اور جان لیں کہ اصل حافظ و ناصر اللہ ہی ہے، پس دشمنوں کی کثرت اور اپنی قلت سے ہمت نہ ہار دیں اور یہ بھی یقین کر لیں کہ ہر کام کے انجام کا علم اللہ ہی کو ہے بندوں کے حق میں بہتری یہی ہے کہ وہ اس کے فرمان پر عامل رہیں اور اسی میں اپنی خیریت سمجھیں گو وہ فرمان بظاہر خلاف طبع ہو۔
صفحہ نمبر8598
بہت ممکن ہے کہ تم جسے ناپسند رکھتے ہو وہی تمہارے حق میں بہتر ہو وہ تمہیں تمہاری حکم بجا آوری اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سچی جانثاری کی عوض راہ مستقیم دکھائے گا اور دیگر غنیمتیں اور فتح مندیاں بھی عطا فرمائے گا جو تمہارے بس کی نہیں۔
لیکن اللہ خود تمہاری مدد کرے گا اور ان مشکلات کو تم پر آسان کر دے گا سب چیزیں اللہ کے بس میں ہیں، وہ اپنا ڈر رکھنے والے بندوں کو ایسی جگہ سے روزیاں پہنچاتا ہے جو کسی کے خیال میں تو کیا؟ خود ان کے اپنے خیال میں بھی نہ ہوں، اس غنیمت سے مراد خیبر کی غنیمت ہے جس کا وعدہ صلح حدیبیہ میں پنہاں تھا یا مکہ کی فتح تھی یا فارس اور روم کے مال ہیں یا وہ تمام فتوحات ہیں جو قیامت تک مسلمانوں کو حاصل ہوں گی۔
صفحہ نمبر8599
باب
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ مسلمانوں کو خوشخبری سناتا ہے کہ وہ کفار سے مرعوب اور خائف نہ ہوں اگر کافر مقابلہ پر آئے تو اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی مدد کرے گا۔ اور ان بے ایمانوں کو شکست فاش دے گا یہ پیٹھ دکھائیں گے اور منہ پھیر لیں گے اور کوئی والی اور مددگار بھی انہیں نہ ملے گا اس لیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لیے آئے ہیں اور اس کے ایماندار بندوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے یہی اللہ کی عادت ہے کہ جب کفر و ایمان کا مقابلہ ہو وہ ایمان کو کفر پر غالب کرتا ہے اور حق کو ظاہر کر کے باطل کو دبا دیتا ہے جیسے کہ بدر والے دن بہت سے کافروں کو جو باسامان تھے چند مسلمانوں کے مقابلہ میں جو بےسرو سامان تھے شکست فاش دی۔ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے میرے احسان کو بھی نہ بھولو کہ میں نے مشرکوں کے ہاتھ تم تک نہ پہنچنے دئیے اور تمہیں بھی مسجد الحرام کے پاس لڑنے سے روک دیا اور تم میں اور ان میں صلے کرا دی جو دراصل تمہارے حق میں سراسر بہتری ہے کیا دنیا کے اعتبار سے اور کیا آخرت کے اعتبار سے۔ وہ حدیث یاد ہو گی جو اسی سورت کی تفسیر میں بروایت سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ گزر چکی ہے کہ جب ستر کافروں کو باندھ کر صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کیا تو آپ نے فرمایا: ”انہیں جانے دو ان کی طرف سے ہی ابتداء ہو اور انہی کی طرف سے دوبارہ شروع ہو“ ۔ اسی بابت یہ آیت اتری۔
صفحہ نمبر8601
مسند احمد میں ہے کہ اسی (80) کافر ہتھیاروں سے آراستہ جبل تنعیم کی طرف سے چپ چپاتے موقعہ پا کر اتر آئے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غافل نہ تھے، آپ نے فوراً لوگوں کو آگاہ کر دیا سب گرفتار کر لیے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے آپ نے ازراہ مہربانی ان کی خطا معاف فرما دی اور سب کو چھوڑ دیا ۔
اور نسائی میں بھی ہے سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس درخت کا ذکر قرآن میں ہے اس کے نیچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے ہم لوگ بھی آپ کے اردگرد تھے اس درخت کی شاخیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر سے لگ رہی تھیں، سیدنا علی بن ابوطالب اور سیدنا سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہما آپ کے سامنے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ” «بسم اللہ الرحمن الرحیم» لکھو“ اس پر سہیل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھام لیا اور کہا ہم «رحمن» اور «رحیم» کو نہیں جانتے، ہمارے اس صلح نامہ میں ہمارے دستور کے مطابق لکھوائیے، پس آپ نے فرمایا: ” «باسمک اللھم» لکھ لو۔“ پھر لکھا یہ وہ ہے جس پر اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ سے صلح کی اس پر پھر سہیل نے آپ کا ہاتھ تھام کر کہا آپ رسول اللہ ہی ہیں تو پھر ہم نے بڑا ظلم کیا، اس صلح نامہ میں وہی لکھوائیے جو ہم میں مشہور ہے، تو آپ نے فرمایا: ”لکھو یہ وہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے اہل مکہ سے صلح کی“، اتنے میں تیس نوجوان کفار ہتھیار بند آن پڑے، آپ نے ان کے حق میں بد دعا کی، اللہ نے انہیں بہرا بنا دیا ہم اٹھے اور ان سب کو گرفتار کر کے آپ کے سامنے پیش کر دیا۔ آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہیں کسی نے امن دیا ہے ـ؟ یا تم کسی کی ذمہ داری پر آئے ہو؟ انہوں نے انکار کیا لیکن باوجود اس کے آپ نے ان سے درگزر فرمایا اور انہیں چھوڑ دیا۔ اس پر یہ آیت «وھوالذی» الخ، نازل ہوئی ۔ [صحیح مسلم:1808-133]
ابن جریر میں ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے جانور لے کر چلے اور ذوالحلیفہ تک پہنچ گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی، اے اللہ کے نبی! آپ ایک ایسی قوم کی بستی میں جا رہے ہیں [مسند احمد:86/4:صحیح] جو برسرپیکار ہیں اور آپ کے پاس نہ تو ہتھیار ہیں نہ اسباب۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر آدمی بھیج کر مدینہ سے سب ہتھیار اور کل سامان منگوا لیا جب آپ مکہ کے قریب پہنچ گئے تو مشرکین نے آپ کو روکا، آپ مکہ نہ آئیں، آپ کو خبر دی کہ عکرمہ بن ابوجہل پانچ سو کا لشکر لے کر آپ پر چڑھائی کرنے کے لیے آ رہا ہے آپ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے خالد! تیرا چچازاد بھائی لشکر لے کر آ رہا ہے۔“ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر کیا ہوا؟ میں اللہ کی تلوار ہوں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی، اسی دن سے آپ کا لقب سیف اللہ ہوا۔ مجھے آپ جہاں چاہیں اور جس کے مقابلہ میں چاہیں بھیجیں، چنانچہ عکرمہ کے مقابلہ کے لیے آپ روانہ ہوئے گھاٹی میں دونوں کی مڈبھیڑ ہوئی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ایسا سخت حملہ کیا کہ عکرمہ کے پاؤں نہ جمے اسے مکہ کی گلیوں تک پہنچا کر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ واپس آ گئے لیکن پھر دوبارہ وہ تازہ دم ہو کر مقابلہ پر آیا، اب کی مرتبہ بھی شکست کھا کر مکہ کی گلیوں میں پہنچ گیا وہ پھر تیسری مرتبہ نکلا اس مرتبہ بھی یہی حشر ہوا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:356/11:مرسل]
صفحہ نمبر8602
اسی کا بیان آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۭ وَكَان اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا» [48-الفتح:24] میں ہے۔
پس اللہ تعالیٰ نے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ظفر مندی کے کفار کو بھی بچا لیا تاکہ جو مسلمان ضعفاء اور کمزور مکہ میں تھے انہیں اسلامی لشکر کے ہاتھوں کوئی گذند نہ پہنچے لیکن اس روایت میں بہت کچھ نظر ہے ناممکن ہے کہ یہ حدیبیہ والے واقعہ کا ذکر ہو، اس لیے کہ اس وقت تک تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ مسلمان ہی نہ ہوئے تھے بلکہ مشرکین کے طلایہ کے یہ اس دن سردار تھے۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں موجود ہے اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ واقعہ عمرۃ القضاء کا ہو۔ اس لیے کہ حدیبیہ کے صلح نامہ کی شرائط کے مطابق یہ طے شدہ امر تھا کہ اگلے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں عمرہ ادا کریں اور تین دن تک مکہ میں ٹھہریں چنانچہ اسی قرارداد کے مطابق جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے تو کافروں نے آپ کو روکا نہیں، نہ آپ سے جنگ و جدال کیا۔
اسی طرح یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ واقعہ فتح مکہ کا ہو اس لیے کہ فتح مکہ والے سال آپ اپنے ساتھ قربانیاں لے کر نہیں گئے تھے اس وقت تو آپ جنگی حیثیت سے گئے تھے، لڑنے اور جہاد کرنے کی نیت سے تشریف لے گئے تھے، پس اس روایت میں بہت کچھ خلل ہے اور اس میں ضرور قباحت واقع ہوئی ہے خوب سوچ لینا چاہیئے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8603
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قریش نے اپنے چالیس یا پچاس آدمی بھیجے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کے اردگرد گھومتے رہیں اور موقعہ پا کر کچھ نقصان پہنچائیں یا کسی کو گرفتار کر کے لے آئیں، یہاں یہ سارے کے سارے پکڑے لیے گئے لیکن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں معاف فرما دیا اور سب کو چھوڑ دیا انہوں نے آپ کے لشکر پر کچھ پتھر بھی پھینکے تھے اور کچھ تیر بھی چلائے تھے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:31556]
یہ بھی مروی ہے کہ ایک صحابی جنہیں ابن زنیم کہا جاتا تھا حدیبیہ کے ایک ٹیلے پر چڑھے تھے مشرکین نے تیربازی کر کے ان کو شہید کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سوار ان کے تعاقب میں روانہ کئے وہ ان سب کو جو تعداد میں بارہ سو تھے گرفتار کر کے لے آئے، آپ نے ان سے پوچھا کہ کوئی عہد و پیمان ہے؟ کہا نہیں لیکن پھر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا۔ اور اسی بارے میں آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ وَكَان اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا» [48-الفتح:24] نازل ہوئی۔
صفحہ نمبر8604
باب
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ مسلمانوں کو خوشخبری سناتا ہے کہ وہ کفار سے مرعوب اور خائف نہ ہوں اگر کافر مقابلہ پر آئے تو اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی مدد کرے گا۔ اور ان بے ایمانوں کو شکست فاش دے گا یہ پیٹھ دکھائیں گے اور منہ پھیر لیں گے اور کوئی والی اور مددگار بھی انہیں نہ ملے گا اس لیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لیے آئے ہیں اور اس کے ایماندار بندوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے یہی اللہ کی عادت ہے کہ جب کفر و ایمان کا مقابلہ ہو وہ ایمان کو کفر پر غالب کرتا ہے اور حق کو ظاہر کر کے باطل کو دبا دیتا ہے جیسے کہ بدر والے دن بہت سے کافروں کو جو باسامان تھے چند مسلمانوں کے مقابلہ میں جو بےسرو سامان تھے شکست فاش دی۔ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے میرے احسان کو بھی نہ بھولو کہ میں نے مشرکوں کے ہاتھ تم تک نہ پہنچنے دئیے اور تمہیں بھی مسجد الحرام کے پاس لڑنے سے روک دیا اور تم میں اور ان میں صلے کرا دی جو دراصل تمہارے حق میں سراسر بہتری ہے کیا دنیا کے اعتبار سے اور کیا آخرت کے اعتبار سے۔ وہ حدیث یاد ہو گی جو اسی سورت کی تفسیر میں بروایت سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ گزر چکی ہے کہ جب ستر کافروں کو باندھ کر صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کیا تو آپ نے فرمایا: ”انہیں جانے دو ان کی طرف سے ہی ابتداء ہو اور انہی کی طرف سے دوبارہ شروع ہو“ ۔ اسی بابت یہ آیت اتری۔
صفحہ نمبر8601
مسند احمد میں ہے کہ اسی (80) کافر ہتھیاروں سے آراستہ جبل تنعیم کی طرف سے چپ چپاتے موقعہ پا کر اتر آئے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غافل نہ تھے، آپ نے فوراً لوگوں کو آگاہ کر دیا سب گرفتار کر لیے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے آپ نے ازراہ مہربانی ان کی خطا معاف فرما دی اور سب کو چھوڑ دیا ۔
اور نسائی میں بھی ہے سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس درخت کا ذکر قرآن میں ہے اس کے نیچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے ہم لوگ بھی آپ کے اردگرد تھے اس درخت کی شاخیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر سے لگ رہی تھیں، سیدنا علی بن ابوطالب اور سیدنا سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہما آپ کے سامنے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ” «بسم اللہ الرحمن الرحیم» لکھو“ اس پر سہیل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھام لیا اور کہا ہم «رحمن» اور «رحیم» کو نہیں جانتے، ہمارے اس صلح نامہ میں ہمارے دستور کے مطابق لکھوائیے، پس آپ نے فرمایا: ” «باسمک اللھم» لکھ لو۔“ پھر لکھا یہ وہ ہے جس پر اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ سے صلح کی اس پر پھر سہیل نے آپ کا ہاتھ تھام کر کہا آپ رسول اللہ ہی ہیں تو پھر ہم نے بڑا ظلم کیا، اس صلح نامہ میں وہی لکھوائیے جو ہم میں مشہور ہے، تو آپ نے فرمایا: ”لکھو یہ وہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے اہل مکہ سے صلح کی“، اتنے میں تیس نوجوان کفار ہتھیار بند آن پڑے، آپ نے ان کے حق میں بد دعا کی، اللہ نے انہیں بہرا بنا دیا ہم اٹھے اور ان سب کو گرفتار کر کے آپ کے سامنے پیش کر دیا۔ آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہیں کسی نے امن دیا ہے ـ؟ یا تم کسی کی ذمہ داری پر آئے ہو؟ انہوں نے انکار کیا لیکن باوجود اس کے آپ نے ان سے درگزر فرمایا اور انہیں چھوڑ دیا۔ اس پر یہ آیت «وھوالذی» الخ، نازل ہوئی ۔ [صحیح مسلم:1808-133]
ابن جریر میں ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے جانور لے کر چلے اور ذوالحلیفہ تک پہنچ گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی، اے اللہ کے نبی! آپ ایک ایسی قوم کی بستی میں جا رہے ہیں [مسند احمد:86/4:صحیح] جو برسرپیکار ہیں اور آپ کے پاس نہ تو ہتھیار ہیں نہ اسباب۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر آدمی بھیج کر مدینہ سے سب ہتھیار اور کل سامان منگوا لیا جب آپ مکہ کے قریب پہنچ گئے تو مشرکین نے آپ کو روکا، آپ مکہ نہ آئیں، آپ کو خبر دی کہ عکرمہ بن ابوجہل پانچ سو کا لشکر لے کر آپ پر چڑھائی کرنے کے لیے آ رہا ہے آپ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے خالد! تیرا چچازاد بھائی لشکر لے کر آ رہا ہے۔“ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر کیا ہوا؟ میں اللہ کی تلوار ہوں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی، اسی دن سے آپ کا لقب سیف اللہ ہوا۔ مجھے آپ جہاں چاہیں اور جس کے مقابلہ میں چاہیں بھیجیں، چنانچہ عکرمہ کے مقابلہ کے لیے آپ روانہ ہوئے گھاٹی میں دونوں کی مڈبھیڑ ہوئی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ایسا سخت حملہ کیا کہ عکرمہ کے پاؤں نہ جمے اسے مکہ کی گلیوں تک پہنچا کر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ واپس آ گئے لیکن پھر دوبارہ وہ تازہ دم ہو کر مقابلہ پر آیا، اب کی مرتبہ بھی شکست کھا کر مکہ کی گلیوں میں پہنچ گیا وہ پھر تیسری مرتبہ نکلا اس مرتبہ بھی یہی حشر ہوا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:356/11:مرسل]
صفحہ نمبر8602
اسی کا بیان آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۭ وَكَان اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا» [48-الفتح:24] میں ہے۔
پس اللہ تعالیٰ نے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ظفر مندی کے کفار کو بھی بچا لیا تاکہ جو مسلمان ضعفاء اور کمزور مکہ میں تھے انہیں اسلامی لشکر کے ہاتھوں کوئی گذند نہ پہنچے لیکن اس روایت میں بہت کچھ نظر ہے ناممکن ہے کہ یہ حدیبیہ والے واقعہ کا ذکر ہو، اس لیے کہ اس وقت تک تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ مسلمان ہی نہ ہوئے تھے بلکہ مشرکین کے طلایہ کے یہ اس دن سردار تھے۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں موجود ہے اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ واقعہ عمرۃ القضاء کا ہو۔ اس لیے کہ حدیبیہ کے صلح نامہ کی شرائط کے مطابق یہ طے شدہ امر تھا کہ اگلے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں عمرہ ادا کریں اور تین دن تک مکہ میں ٹھہریں چنانچہ اسی قرارداد کے مطابق جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے تو کافروں نے آپ کو روکا نہیں، نہ آپ سے جنگ و جدال کیا۔
اسی طرح یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ واقعہ فتح مکہ کا ہو اس لیے کہ فتح مکہ والے سال آپ اپنے ساتھ قربانیاں لے کر نہیں گئے تھے اس وقت تو آپ جنگی حیثیت سے گئے تھے، لڑنے اور جہاد کرنے کی نیت سے تشریف لے گئے تھے، پس اس روایت میں بہت کچھ خلل ہے اور اس میں ضرور قباحت واقع ہوئی ہے خوب سوچ لینا چاہیئے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8603
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قریش نے اپنے چالیس یا پچاس آدمی بھیجے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کے اردگرد گھومتے رہیں اور موقعہ پا کر کچھ نقصان پہنچائیں یا کسی کو گرفتار کر کے لے آئیں، یہاں یہ سارے کے سارے پکڑے لیے گئے لیکن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں معاف فرما دیا اور سب کو چھوڑ دیا انہوں نے آپ کے لشکر پر کچھ پتھر بھی پھینکے تھے اور کچھ تیر بھی چلائے تھے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:31556]
یہ بھی مروی ہے کہ ایک صحابی جنہیں ابن زنیم کہا جاتا تھا حدیبیہ کے ایک ٹیلے پر چڑھے تھے مشرکین نے تیربازی کر کے ان کو شہید کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سوار ان کے تعاقب میں روانہ کئے وہ ان سب کو جو تعداد میں بارہ سو تھے گرفتار کر کے لے آئے، آپ نے ان سے پوچھا کہ کوئی عہد و پیمان ہے؟ کہا نہیں لیکن پھر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا۔ اور اسی بارے میں آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ وَكَان اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا» [48-الفتح:24] نازل ہوئی۔
صفحہ نمبر8604
باب
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ مسلمانوں کو خوشخبری سناتا ہے کہ وہ کفار سے مرعوب اور خائف نہ ہوں اگر کافر مقابلہ پر آئے تو اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی مدد کرے گا۔ اور ان بے ایمانوں کو شکست فاش دے گا یہ پیٹھ دکھائیں گے اور منہ پھیر لیں گے اور کوئی والی اور مددگار بھی انہیں نہ ملے گا اس لیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لیے آئے ہیں اور اس کے ایماندار بندوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے یہی اللہ کی عادت ہے کہ جب کفر و ایمان کا مقابلہ ہو وہ ایمان کو کفر پر غالب کرتا ہے اور حق کو ظاہر کر کے باطل کو دبا دیتا ہے جیسے کہ بدر والے دن بہت سے کافروں کو جو باسامان تھے چند مسلمانوں کے مقابلہ میں جو بےسرو سامان تھے شکست فاش دی۔ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے میرے احسان کو بھی نہ بھولو کہ میں نے مشرکوں کے ہاتھ تم تک نہ پہنچنے دئیے اور تمہیں بھی مسجد الحرام کے پاس لڑنے سے روک دیا اور تم میں اور ان میں صلے کرا دی جو دراصل تمہارے حق میں سراسر بہتری ہے کیا دنیا کے اعتبار سے اور کیا آخرت کے اعتبار سے۔ وہ حدیث یاد ہو گی جو اسی سورت کی تفسیر میں بروایت سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ گزر چکی ہے کہ جب ستر کافروں کو باندھ کر صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کیا تو آپ نے فرمایا: ”انہیں جانے دو ان کی طرف سے ہی ابتداء ہو اور انہی کی طرف سے دوبارہ شروع ہو“ ۔ اسی بابت یہ آیت اتری۔
صفحہ نمبر8601
مسند احمد میں ہے کہ اسی (80) کافر ہتھیاروں سے آراستہ جبل تنعیم کی طرف سے چپ چپاتے موقعہ پا کر اتر آئے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غافل نہ تھے، آپ نے فوراً لوگوں کو آگاہ کر دیا سب گرفتار کر لیے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے آپ نے ازراہ مہربانی ان کی خطا معاف فرما دی اور سب کو چھوڑ دیا ۔
اور نسائی میں بھی ہے سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس درخت کا ذکر قرآن میں ہے اس کے نیچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے ہم لوگ بھی آپ کے اردگرد تھے اس درخت کی شاخیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر سے لگ رہی تھیں، سیدنا علی بن ابوطالب اور سیدنا سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہما آپ کے سامنے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ” «بسم اللہ الرحمن الرحیم» لکھو“ اس پر سہیل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھام لیا اور کہا ہم «رحمن» اور «رحیم» کو نہیں جانتے، ہمارے اس صلح نامہ میں ہمارے دستور کے مطابق لکھوائیے، پس آپ نے فرمایا: ” «باسمک اللھم» لکھ لو۔“ پھر لکھا یہ وہ ہے جس پر اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ سے صلح کی اس پر پھر سہیل نے آپ کا ہاتھ تھام کر کہا آپ رسول اللہ ہی ہیں تو پھر ہم نے بڑا ظلم کیا، اس صلح نامہ میں وہی لکھوائیے جو ہم میں مشہور ہے، تو آپ نے فرمایا: ”لکھو یہ وہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے اہل مکہ سے صلح کی“، اتنے میں تیس نوجوان کفار ہتھیار بند آن پڑے، آپ نے ان کے حق میں بد دعا کی، اللہ نے انہیں بہرا بنا دیا ہم اٹھے اور ان سب کو گرفتار کر کے آپ کے سامنے پیش کر دیا۔ آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہیں کسی نے امن دیا ہے ـ؟ یا تم کسی کی ذمہ داری پر آئے ہو؟ انہوں نے انکار کیا لیکن باوجود اس کے آپ نے ان سے درگزر فرمایا اور انہیں چھوڑ دیا۔ اس پر یہ آیت «وھوالذی» الخ، نازل ہوئی ۔ [صحیح مسلم:1808-133]
ابن جریر میں ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے جانور لے کر چلے اور ذوالحلیفہ تک پہنچ گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی، اے اللہ کے نبی! آپ ایک ایسی قوم کی بستی میں جا رہے ہیں [مسند احمد:86/4:صحیح] جو برسرپیکار ہیں اور آپ کے پاس نہ تو ہتھیار ہیں نہ اسباب۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر آدمی بھیج کر مدینہ سے سب ہتھیار اور کل سامان منگوا لیا جب آپ مکہ کے قریب پہنچ گئے تو مشرکین نے آپ کو روکا، آپ مکہ نہ آئیں، آپ کو خبر دی کہ عکرمہ بن ابوجہل پانچ سو کا لشکر لے کر آپ پر چڑھائی کرنے کے لیے آ رہا ہے آپ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے خالد! تیرا چچازاد بھائی لشکر لے کر آ رہا ہے۔“ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر کیا ہوا؟ میں اللہ کی تلوار ہوں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی، اسی دن سے آپ کا لقب سیف اللہ ہوا۔ مجھے آپ جہاں چاہیں اور جس کے مقابلہ میں چاہیں بھیجیں، چنانچہ عکرمہ کے مقابلہ کے لیے آپ روانہ ہوئے گھاٹی میں دونوں کی مڈبھیڑ ہوئی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ایسا سخت حملہ کیا کہ عکرمہ کے پاؤں نہ جمے اسے مکہ کی گلیوں تک پہنچا کر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ واپس آ گئے لیکن پھر دوبارہ وہ تازہ دم ہو کر مقابلہ پر آیا، اب کی مرتبہ بھی شکست کھا کر مکہ کی گلیوں میں پہنچ گیا وہ پھر تیسری مرتبہ نکلا اس مرتبہ بھی یہی حشر ہوا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:356/11:مرسل]
صفحہ نمبر8602
اسی کا بیان آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۭ وَكَان اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا» [48-الفتح:24] میں ہے۔
پس اللہ تعالیٰ نے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ظفر مندی کے کفار کو بھی بچا لیا تاکہ جو مسلمان ضعفاء اور کمزور مکہ میں تھے انہیں اسلامی لشکر کے ہاتھوں کوئی گذند نہ پہنچے لیکن اس روایت میں بہت کچھ نظر ہے ناممکن ہے کہ یہ حدیبیہ والے واقعہ کا ذکر ہو، اس لیے کہ اس وقت تک تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ مسلمان ہی نہ ہوئے تھے بلکہ مشرکین کے طلایہ کے یہ اس دن سردار تھے۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں موجود ہے اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ واقعہ عمرۃ القضاء کا ہو۔ اس لیے کہ حدیبیہ کے صلح نامہ کی شرائط کے مطابق یہ طے شدہ امر تھا کہ اگلے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں عمرہ ادا کریں اور تین دن تک مکہ میں ٹھہریں چنانچہ اسی قرارداد کے مطابق جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے تو کافروں نے آپ کو روکا نہیں، نہ آپ سے جنگ و جدال کیا۔
اسی طرح یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ واقعہ فتح مکہ کا ہو اس لیے کہ فتح مکہ والے سال آپ اپنے ساتھ قربانیاں لے کر نہیں گئے تھے اس وقت تو آپ جنگی حیثیت سے گئے تھے، لڑنے اور جہاد کرنے کی نیت سے تشریف لے گئے تھے، پس اس روایت میں بہت کچھ خلل ہے اور اس میں ضرور قباحت واقع ہوئی ہے خوب سوچ لینا چاہیئے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8603
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قریش نے اپنے چالیس یا پچاس آدمی بھیجے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کے اردگرد گھومتے رہیں اور موقعہ پا کر کچھ نقصان پہنچائیں یا کسی کو گرفتار کر کے لے آئیں، یہاں یہ سارے کے سارے پکڑے لیے گئے لیکن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں معاف فرما دیا اور سب کو چھوڑ دیا انہوں نے آپ کے لشکر پر کچھ پتھر بھی پھینکے تھے اور کچھ تیر بھی چلائے تھے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:31556]
یہ بھی مروی ہے کہ ایک صحابی جنہیں ابن زنیم کہا جاتا تھا حدیبیہ کے ایک ٹیلے پر چڑھے تھے مشرکین نے تیربازی کر کے ان کو شہید کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سوار ان کے تعاقب میں روانہ کئے وہ ان سب کو جو تعداد میں بارہ سو تھے گرفتار کر کے لے آئے، آپ نے ان سے پوچھا کہ کوئی عہد و پیمان ہے؟ کہا نہیں لیکن پھر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا۔ اور اسی بارے میں آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ وَكَان اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا» [48-الفتح:24] نازل ہوئی۔
صفحہ نمبر8604
مسجد حرام بیت اللہ کے اصل حقدار ٭٭
مشرکین عرب جو قریش تھے اور جو ان کے ساتھ اس عہد پر تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کریں گے ان کی نسبت قرآن خبر دیتا ہے کہ دراصل یہ لوگ کفر پر ہیں، انہوں نے ہی تمہیں مسجد الحرام بیت اللہ شریف سے روکا ہے حالانکہ اصلی حقدار اور زیادہ لائق بیت اللہ کے تم ہی لوگ تھے، پھر ان کی سرکشی اور مخالفت نے انہیں یہاں تک اندھا کر دیا کہ اللہ کی راہ کی قربانیوں کو بھی قربان گاہ تک نہ جانے دیا، یہ قربانیاں تعداد میں ستر تھیں جیسے کہ عنقریب ان کا بیان آ رہا ہے۔ «ان شاءاللہ تعالیٰ»
پھر فرماتا ہے کہ سردست تمہیں لڑائی کی اجازت نہ دینے میں یہ راز پوشیدہ تھے کہ ابھی چند کمزور مسلمان مکے میں ایسے ہیں جو ان ظالموں کی وجہ سے نہ اپنے ایمان کو ظاہر کر سکے ہیں، نہ ہجرت کر کے تم میں مل سکے ہیں اور نہ تم انہیں جانتے ہو، تو یوں دفعۃً اگر تمہیں اجازت دے دی جاتی اور تم اہل مکہ پر چھاپہ مارتے تو وہ سچے پکے مسلمان بھی تمہارے ہاتھوں شہید ہو جاتے اور بےعلمی میں تم ہی مستحق گناہ اور مستحق دیت بن جاتے۔ پس ان کفار کی سزا کو اللہ نے کچھ اور پیچھے ہٹا دیا تاکہ ان کمزور مسلمانوں کو چھٹکارا مل جائے اور بھی جن کی قسمت میں ایمان ہے وہ ایمان لے آئیں۔ اگر یہ مومن ان میں نہ ہوتے تو یقیناً ہم تمہیں ان کفار پر ابھی اسی وقت غلبہ دے دیتے اور ان کا نام مٹا دیتے۔ جنید بن سبیع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صبح کو میں کافروں کے ساتھ مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑ رہا تھا لیکن اسی شام کو اللہ تعالیٰ نے میرا دل پھیر دیا میں مسلمان ہو گیا اور اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو کر کفار سے لڑ رہا تھا، ہمارے ہی بارے میں یہ آیت «وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُّؤْمِنَاتٌ لَّمْ تَعْلَمُوهُمْ» [48-الفتح:25] نازل ہوئی ہے۔ ہم کل نو شخص تھے سات مرد و عورتیں۔ [مسند ابویعلیٰ:1560]
اور روایت میں ہے کہ ہم تین مرد تھے اور نو عورتیں تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر یہ مومن ان کافروں میں ملے جلے نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ اسی وقت مسلمانوں کے ہاتھوں ان کافروں کو سخت سزا دیتا یہ قتل کر دئیے جاتے۔
صفحہ نمبر8607
باب
پھر فرماتا ہے جبکہ یہ کافر اپنے دلوں میں غیرت و حمیت جاہلیت کو جما چکے تھے صلح نامہ میں آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھنے سے انکار کر دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے ساتھ لفظ رسول اللہ لکھوانے سے انکار کیا، پس اللہ تعالیٰ نے اس وقت اپنے نبی اور مومنوں کے دل کھول دئیے ان پر اپنی سکینت نازل فرما کر انہیں مضبوط کر دیا اور تقوے کے کلمے پر انہیں جما دیا یعنی «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ» پر جیسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے اور جیسے کہ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں موجود ہے۔ [سنن ترمذي:3265،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر8608
ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد کرتا رہوں جب تک کہ وہ «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ» نہ کہہ لیں، جس نے «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ» کہہ لیا، اس نے مجھ سے اپنے مال کو اور اپنی جان کو بچا لیا مگر حق اسلام کی وجہ سے اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے“ ۔
اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ایک قوم کی مذمت بیان کرتے ہوئے فرمایا «اِنَّهُمْ كَانُوْٓا اِذَا قِيْلَ لَهُمْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ يَسْتَكْبِرُوْنَ» [37-الصافات:35] یعنی ” ان سے کہا جاتا تھا کہ سوائے اللہ کے کوئی عبادت کے لائق نہیں تو یہ تکبر کرتے تھے “۔
اور اللہ تعالیٰ نے یہاں مسلمانوں کی تعریف بیان کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ یہی اس کے زیادہ حقدار اور یہی اس کے قابل بھی تھے۔ یہ کلمہ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» ہے انہوں نے اس سے تکبر کیا اور مشرکین قریش نے اسی سے حدیبیہ والے دن تکبر کیا پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک مدت معینہ تک کے لیے صلح نامہ مکمل کر لیا۔
ابن جریر میں بھی یہ حدیث ان ہی زیادتیوں کے ساتھ مروی ہے لیکن بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ پچھلے جملے راوی کے اپنے ہیں یعنی زہری رحمہ اللہ کا قول ہے جو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ گویا حدیث میں ہی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد اخلاص ہے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ کلمہ یہ ہے «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْك لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ» ۔
مسور رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْك لَہٗ» ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد «لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَاﷲُ اَکْبَرُ» ہے۔
یہی قول سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد اللہ کی وحدانیت کی شہادت ہے جو تمام تقوے کی جڑ ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ» بھی ہے اور جہاد فی سبیل اللہ بھی ہے۔
عطا خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کلمہ تقویٰ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» ہے۔ زہری فرماتے رحمہ اللہ ہیں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» مراد ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ» ہے۔
صفحہ نمبر8609
پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ ہر چیز کو بخوبی جاننے والا ہے اسے معلوم ہے کہ مستحق خیر کون ہے؟ اور مستحق شر کون ہے؟ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت اسی طرح ہے «اذ جعل الذین کفروا فی قلوبھم الحمیتہ حمیتہ الجاھلیتہ ولو حمیتم کما حموا الفسد المسجد الحرام» یعنی ” کافروں نے جس وقت اپنے دل میں جاہلانہ ضد پیدا کر لی اگر اس وقت تم بھی ان کی طرح ضد پر آ جاتے تو نتیجہ یہ ہوتا کہ مسجد الحرام میں فساد برپا ہو جاتا “۔
جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس قرأت کی خبر پہنچی تو بہت تیز ہوئے لیکن سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تو آپ کو بھی معلوم ہو گا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا جاتا رہتا تھا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ آپ کو سکھاتا تھا آپ اس میں سے مجھے بھی سکھاتے تھے اس پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ ذی علم اور قرآن دان ہیں آپ کو جو کچھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے وہ پڑھئے اور سکھائیے۔ [سنن نسائی]
صفحہ نمبر8610
ان احادیث کا بیان جن میں حدیبیہ کا قصہ اور صلح کا واقعہ ہے مسند احمد میں۔ [مسند احمد:323/4:حسن]
سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا مروان بن حکم رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیارت بیت اللہ کے ارادے سے چلے آپ کا ارادہ جنگ کا نہ تھا، ستر اونٹ قربانی کے آپ کے ساتھ تھے، کل ساتھی آپ کے سات سو تھے، ایک ایک اونٹ دس دس آدمیوں کی طرف سے تھا۔ آپ جب عسفان پہنچے تو سیدنا بشر بن سفیان کعبی رضی اللہ عنہ نے آپ کو خبر دی کہ یا رسول اللہ! قریشیوں نے آپ کے آنے کی خبر پا کر مقابلہ کی تیاریاں کر لی ہیں، انہوں نے اونٹوں کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی اپنے ساتھ لے لیے ہیں اور چیتے کی کھالیں پہن لی ہیں اور عہد و پیمان کر لیے ہیں کہ وہ آپ کو اس طرح جبراً مکہ میں نہیں آنے دیں گے، خالد بن ولید کو انہوں نے چھوٹا سا لشکر دے کر کراع غمیم تک پہنچا دیا۔
یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس قریشیوں کو لڑائیوں نے کھا لیا کتنی اچھی بات تھی کہ وہ مجھے اور لوگوں کو چھوڑ دیتے اگر وہ مجھ پر غالب آ جاتے تو ان کا مقصود پورا ہو جاتا اور اگر اللہ تعالیٰ مجھے اور لوگوں پر غالب کر دیتا تو پھر یہ لوگ بھی دین اسلام کو قبول کر لیتے اور اگر اس وقت بھی اس دین میں نہ آنا چاہتے تو مجھ سے لڑتے اور اس وقت ان کی طاقت بھی پوری ہوتی قریشیوں نے کیا سمجھ رکھا ہے؟ قسم اللہ کی اس دین پر میں ان سے جہاد کرتا رہوں گا اور ان سے مقابلہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ یا تو اللہ مجھے ان پر کھلم کھلا غلبہ عطا فرما دے یا میری گردن کٹ جائے۔“
پھر آپ نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ دائیں طرف حمص کے پیچھے سے اس راستہ پر چلیں جو ثنیۃ المرار کو جاتا ہے اور حدیبیہ مکہ کے نیچے کے حصے میں ہے۔ خالد والے لشکر نے جب دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے راستہ بدل دیا ہے تو یہ دوڑے ہوئے قریشیوں کے پاس گئے اور انہیں اس کی خبر دی، ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ثنیۃ المرار میں پہنچے تو آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی، لوگ کہنے لگے اونٹنی تھک گئی۔
صفحہ نمبر8611
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ یہ تھکی، نہ اس کی بیٹھ جانے کی عادت ہے، اسے اس اللہ نے روک لیا ہے جس نے مکہ سے ہاتھیوں کو روک لیا تھا، سنو قریش آج مجھ سے جو چیز مانگیں گے، جس میں صلہ رحمی ہو میں انہیں دوں گا۔“
پھر آپ نے لشکریوں کو حکم دیا کہ وہ پڑاؤ کریں انہوں نے کہا یا رسول اللہ! اس پوری وادی میں پانی نہیں آپ نے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر ایک صحابی کو دیا اور فرمایا: ”اسے یہاں کے کسی کنویں میں گاڑ دو“، اس کے گاڑتے ہی پانی جوش مارتا ہوا ابل پڑا تمام لشکر نے پانی لے لیا اور وہ برابر بڑھتا چلا جا رہا تھا۔
جب پڑاؤ ہو گیا اور وہ اطمینان سے بیٹھ گئے اتنے میں بدیل بن ورقہ اپنے ساتھ قبیلہ خزاعہ کے چند لوگوں کو لے کر آیا آپ نے اس سے بھی وہی فرمایا جو بشر بن سفیان سے فرمایا تھا چنانچہ یہ لوٹ گیا اور جا کر قریش سے کہا کہ تم لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بڑی عجلت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم سے لڑنے کو نہیں آئے، آپ تو صرف بیت اللہ کی زیارت کرنے اور اس کی عزت کرنے کو آئے ہیں تم اپنے فیصلے پر دوبارہ نظر ڈالو۔
دراصل قبیلہ خزاعہ کے مسلم و کافر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرفدار تھے مکہ کی خبریں انہی لوگوں سے آپ کو پہنچا کرتی تھیں۔ قریشیوں نے انہیں جواب دیا کہ گو آپ اسی ارادے سے آئے ہوں لیکن یوں اچانک تو ہم انہیں یہاں نہیں آنے دیں گے ورنہ لوگوں میں تو یہی باتیں ہوں گی کہ آپ مکہ گئے اور کوئی آپ کو روک نہ سکا۔
انہوں نے پھر مکرز بن حفص کو بھیجا یہ بنو عامر بن لوئی کے قبیلے میں سے تھا اسے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عہد شکن شخص ہے“ اور اس سے بھی آپ نے وہی فرمایا جو اس سے پہلے آنے والے دونوں اور شخصوں سے فرمایا تھا، یہ بھی لوٹ گیا اور جا کر قریشیوں سے سارا واقعہ بیان کر دیا قریشیوں نے پھر حلیس بن علقمہ کنانی کو بھیجا یہ ادھر ادھر کے مختلف لوگوں کا سردار تھا اسے دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس قوم سے ہے جو اللہ کے کاموں کی عظمت کرتی ہے اپنی قربانی کے جانوروں کو کھڑا کر دو۔“
اس نے جو دیکھا کہ ہر طرف سے قربانی کے نشان دار جانور آ جا رہے ہیں اور رک جانے کی وجہ سے ان کے بال اڑے ہوئے ہیں یہ تو وہیں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے بغیر لوٹ گیا اور جا کر قریش سے کہا کہ اللہ جانتا ہے تمہیں حلال نہیں کہ تم انہیں بیت اللہ سے روکو، اللہ کے نام کے جانور قربان گاہ سے رکے کھڑے ہیں یہ سخت ظلم ہے، اتنے دن رکے رہنے سے ان کے بال تک اڑ گئے ہیں میں اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آ رہا ہوں قریش نے کہا تو تو نرا اعرابی ہے خاموش ہو کر بیٹھ جا۔
صفحہ نمبر8612
اب انہوں نے مشورہ کر کے عروہ بن مسعود ثقفی کو بھیجا عروہ نے اپنے جانے سے پہلے کہا کہ اے قریشیو! جن جن کو تم نے وہاں بھیجا وہ جب واپس ہوئے تو ان سے تم نے کیا سلوک کیا، یہ میں دیکھ رہا ہوں، تم نے انہیں برا کہا، ان کی بےعزتی کی، ان پر تہمت رکھی، ان سے بدگمانی کی، میری حالت تمہیں معلوم ہے کہ میں تمہیں مثل باپ کے سمجھتا ہوں، تم خوب جانتے ہو کہ جب تم نے ہائے وائے کی میں نے اپنی تمام قوم کو اکٹھا کیا اور جس نے میری بات مانی میں نے اسے اپنے ساتھ لیا اور تمہاری مدد کے لیے اپنی جان مال اور اپنی قوم کو لے کر آ پہنچا سب نے کہا بیشک آپ سچے ہیں ہمیں آپ سے کسی قسم کی بدگمانی نہیں آپ جائیے۔
اب یہ چلا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ کر آپ کے سامنے بیٹھ کر کہنے لگا کہ آپ نے ادھر ادھر کے کچھ لوگوں کو جمع کر لیا ہے اور آئے ہیں، اپنی قوم کی شان و شوکت کو خود ہی توڑنے کے لیے۔ سنئے یہ قریشی ہیں آج یہ مصمم ارادہ کر چکے ہیں اور چھوٹے چھوٹے بچے بھی ان کے ساتھ ہیں جو چیتوں کی کھالیں پہنے ہوئے ہیں، وہ اللہ کو بیچ میں رکھ کر عہد و پیمان کر چکے ہیں کہ ہرگز ہرگز آپ کو اس طرح اچانک زبردستی مکہ میں نہیں آنے دیں گے۔
اللہ کی قسم! مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ یہ لوگ جو اس وقت بھیڑ لگائے آپ کے اردگرد کھڑے ہوئے ہیں یہ لڑائی کے وقت ڈھونڈنے سے بھی نہ ملیں گے۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے رہا نہ گیا، آپ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے کہا جا لات کی وہ چوستا رہ، ہم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوں؟ عروہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ابوقحافہ کے بیٹے“، تو کہنے لگا اگر مجھ پر تیرا احسان پہلے کا نہ ہوتا تو میں تجھے ضرور مزہ چکھاتا۔
اس کے بعد عروہ نے پھر کچھ کہنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی میں ہاتھ ڈالا، اس کی بےادبی کو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ برداشت نہ کر سکے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی کھڑے تھے، لوہا ان کے ہاتھ میں تھا، وہی اس کے ہاتھ پر مار کر فرمایا: اپنا ہاتھ دور رکھ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کو چھو نہیں سکتا۔ یہ کہنے لگا تو بڑا ہی بدزبان اور ٹیڑھا آدمی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا اس نے پوچھا یہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ تیرا بھتیجا مغیرہ بن شعبہ ہے؟“، تو کہنے لگا غدار تو تو کل تک طہارت بھی نہ جانتا تھا۔
صفحہ نمبر8613
الغرض اسے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی جواب دیا جو اس سے پہلے والوں کو فرمایا تھا اور یقین دلا دیا کہ ہم لڑنے نہیں آئے۔ یہ واپس چلا اور اس نے یہاں کا یہ نقشہ دیکھا تھا کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پروانے بنے ہوئے ہیں، آپ کے وضو کا پانی وہ اپنے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں، آپ کے تھوک کو اپنے ہاتھوں میں لینے کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہیں، آپ کا کوئی بال گر پڑے تو ہر شخص لپکتا ہے کہ وہ اسے لے لے۔
جب یہ قریشیوں کے پاس پہنچا تو کہنے لگا: اے قریش کی جماعت کے لوگو! میں کسریٰ کے ہاں اس کے دربار میں اور نجاشی کے یہاں اس کے دربار میں ہو آیا ہوں، اللہ کی قسم! میں نے ان بادشاہوں کی بھی وہ عظمت اور وہ احترام نہیں دیکھا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیکھا ہے۔
آپ کے اصحاب تو آپ کی وہ عزت کرتے ہیں کہ اس سے زیادہ ناممکن ہے اب تم سوچ سمجھ لو اور اس بات کو باور کر لو کہ اصحاب رضی اللہ عنہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایسے نہیں کہ اپنے نبی کو تمہارے ہاتھوں میں دے دیں۔
اب آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں مکہ والوں کے پاس بھیجنا چاہا لیکن اس سے پہلے یہ واقعہ ہو چکا تھا کہ آپ نے ایک مرتبہ سیدنا خراش بن امیہ خزاعی رضی اللہ عنہ کو اپنے اونٹ پر جس کا نام ثعلب تھا سوار کرا کر مکہ مکرمہ بھیجا تھا قریش نے اس اونٹ کی کوچیں کاٹ دیں تھیں اور خود قاصد کو بھی قتل کر ڈالتے لیکن احابیش قوم نے انہیں بچا لیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں کہا کہ یا رسول اللہ! مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں یہ لوگ مجھے قتل نہ کر دیں کیونکہ وہاں میرے قبیلہ بنو عدی کا کوئی شخص نہیں جو مجھے ان قریشیوں سے بچانے کی کوشش کرے، اس لیے کیا یہ اچھا نہ ہو گا کہ آپ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بھیجیں جو ان کی نگاہوں میں مجھ سے بہت زیادہ ذی عزت ہیں۔ چنانچہ آپ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا کر انہیں مکہ میں بھیجا کہ جا کر قریش سے کہہ دیں کہ ہم لڑنے کے لیے نہیں آئے بلکہ صرف بیت اللہ شریف کی زیارت اور اس کی عظمت بڑھانے کو آئے ہیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے شہر میں قدم رکھا ہی تھا جو ابان بن سعید بن عاص آپ کو مل گئے اور اپنی سواری سے اتر کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو آگے بٹھایا اور خود پیچھے بیٹھا اور اپنی ذمہ داری پر آپ کو لے چلا کہ آپ پیغام رسول اہل مکہ کو پہنچا دیں، چنانچہ آپ وہاں گئے اور قریش کو یہ پیغام پہنچا دیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ تو آ ہی گئے ہیں آپ اگر چاہیں تو بیت اللہ کا طواف کر لیں لیکن سیدنا ذوالنورین رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف نہ کر لیں ناممکن ہے کہ میں طواف کروں قریشیوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو روک لیا اور انہیں واپس نہ جانے دیا، ادھر لشکر اسلام میں یہ خبر پہنچی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے۔
صفحہ نمبر8614
زہری رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ پھر قریشیوں نے سہیل بن عمرو کو آپ کے پاس بھیجا کہ تم جا کر صلح کر لو لیکن یہ ضروری ہے کہ اس سال آپ مکہ میں نہیں آ سکتے تاکہ عرب ہمیں یہ طعنہ نہ دے سکیں کہ وہ آئے اور تم روک نہ سکے چنانچہ سہیل یہ سفارت لے کر چلا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: ”معلوم ہوتا ہے کہ قریشیوں کا ارادہ اب صلح کا ہو گیا جو اسے بھیجا ہے“، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں شروع کیں اور دیر تک سوال جواب اور بات چیت ہوتی رہی،شرائط صلح طے ہو گئیں صرف لکھنا باقی رہا۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دوڑے ہوئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور فرمانے لگے، کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟ کیا یہ لوگ مشرک نہیں ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، تو کہا: پھر کیا وجہ ہے کہ ہم دینی معاملات میں اتنی کمزوری دکھائیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا عمر اللہ کے رسول کی رکاب تھامے رہو، آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔
صفحہ نمبر8615
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ مجھے بھی کامل یقین ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہا سے پھر بھی نہ صبر ہو سکا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسی طرح کہا، آپ نے جواب میں فرمایا: ”سنو میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کا غلام ہوں، میں اس کے فرمان کے خلاف نہیں کر سکتا اور مجھے یقین ہے کہ وہ مجھے ضائع نہ کرے گا۔“
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہنے کو تو اس وقت جوش میں، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سب کچھ کہہ گیا لیکن پھر مجھے بڑی ندامت ہوئی میں نے اس کے بدلے بہت روزے رکھے، بہت سی نمازیں پڑھیں اور بہت سے غلام آزاد کئے، اس سے ڈر کر کہ مجھے اس گستاخی کی کوئی سزا اللہ کی طرف سے نہ ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو صلح نامہ لکھنے کے لیے بلوایا اور فرمایا: ”لکھو «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» “ اس پر سہیل نے کہا: میں اسے نہیں جانتا یوں لکھئیے «بسمک اللھم»، آپ نے فرمایا: ”اچھا یوں ہی لکھو۔“ پھر فرمایا: ”لکھو یہ وہ صلح نامہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا“، اس پر سہیل نے کہا: اگر میں آپ کو رسول مانتا تو آپ سے لڑتا ہی کیوں؟ یوں لکھئے کہ یہ وہ صلح نامہ ہے جو محمد بن عبداللہ اور سہیل بن عمرو نے کیا، اس بات پر کہ دس سال تک ہم میں کوئی لڑائی نہ ہو گی، لوگ امن و امان سے رہیں گے، ایک دوسرے سے بچے ہوئے رہیں گے اور یہ کہ جو شخص آپ کے پاس اپنے ولی کی اجازت کے بغیر چلا جائے گا آپ اسے واپس لوٹا دیں گے اور جو صحابی رسول قریشیوں کے پاس چلا جائے گا وہ اسے نہیں لوٹائیں گے، ہم میں آپ میں لڑائیاں بند رہیں گی، صلح قائم رہے گی، کوئی طوق و زنجیر قیدو بند بھی نہ ہو گا۔
اسی میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت اور آپ کے عہد و پیمان میں آنا چاہے وہ آ سکتا ہے اور جو شخص قریش کے عہد و پیمان میں آنا چاہے وہ بھی آ سکتا ہے، اس پر بنو خزاعہ جلدی سے بول اٹھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدو پیمان میں آنا اور بنوبکر نے کہا کہ ہم قریشیوں کے ساتھ ان کے ذمہ میں ہیں۔
صلح نامہ میں یہ بھی تھا کہ اس سال آپ واپس لوٹ جائیں، مکہ میں نہ آئیں، اگلے سال آئیں اس وقت ہم باہر نکل جائیں گے اور آپ اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سمیت آئیں، تین دن مکہ میں ٹھہریں، ہتھیار اتنے ہی ہوں جتنے ایک سوار کے پاس ہوتے ہیں، تلوار میان میں ہو۔ ابھی صلح نامہ لکھا جا رہا تھا کہ سہیل کے لڑکے سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ لوہے کی بھاری زنجیروں میں جکڑے ہوئے گرتے پڑتے مکہ سے چھپتے چھپاتے بھاگ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔
صفحہ نمبر8616
صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین مدینہ سے نکلتے ہوئے ہی فتح کا یقین کئے ہوئے تھے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خواب دیکھ چکے تھے اس لیے انہیں فتح ہونے میں ذرا سا بھی شک نہ تھا، یہاں آ کر جو یہ رنگ دیکھا کہ صلح ہو رہی ہے اور بغیر طواف کے، بغیر زیارت بیت اللہ کے، یہیں سے واپس ہونا پڑے گا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نفس پر دباؤ ڈال کر صلح کر رہے ہیں، تو اس سے وہ بہت ہی پریشان خاطر تھے، بلکہ قریب تھا کہ ہلاک ہو جائیں۔
یہ سب کچھ تو تھا ہی، مزید برآں جب سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ جو مسلمان تھے اور جنہیں مشرکین نے قید کر رکھا تھا اور جن پر طرح طرح کے مظالم توڑ رہے تھے یہ سن کر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہوئے ہیں کسی نہ کسی طرح موقعہ پا کر بھاگ آتے ہیں اور طوق و زنجیر میں جکڑے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاس حاضر ہوتے ہیں، تو سہیل اٹھ کر انہیں طمانچے مارنا شروع کر دیتا ہے اور کہتا ہے اے محمد! میرے آپ کے درمیان تصفیہ ہو چکا ہے یہ اس کے بعد آیا ہے لہٰذا اس شرط کے مطابق میں اسے واپس لے جاؤں گا
آپ جواب دیتے ہیں کہ ہاں ٹھیک ہے، سہیل کھڑا ہوتا ہے اور ابوجندل کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر گھسیٹتا ہوا انہیں لے کر چلتا ہے، سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ بلند آواز کہتے ہیں، اے مسلمانو! مجھے مشرکوں کی طرف لوٹا رہے ہو؟ ہائے یہ میرا دین مجھ سے چھیننا چاہتے ہیں اس واقعہ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اور برافروختہ کر دیا۔
صفحہ نمبر8617
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ابوجندل صبر کر اور نیک نیت رہ اور طلب ثواب میں رہ، نہ صرف تیرے لیے ہی بلکہ تجھ جیسے جتنے کمزور مسلمان ہیں ان سب کے لیے اللہ تعالیٰ راستہ نکالنے والا ہے اور تم سب کو اس درد و غم، رنج و الم، ظلم و ستم سے چھڑوانے والا ہے، ہم چونکہ صلح کر چکے ہیں شرطیں طے ہو چکی ہیں اس بنا پر ہم نے انہیں سردست واپس کر دیا ہے، ہم غدر کرنا، شرائط کے خلاف کرنا، عہد شکنی کرنا نہیں چاہتے۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ پہلو بہ پہلو جانے لگے اور کہتے جاتے تھے کہ ابوجندل صبر کرو، ان میں رکھا ہی کیا ہے؟ یہ مشرک لوگ ہیں ان کا خون مثل کتے کے خون کے ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ساتھ ہی ساتھ اپنی تلوار کی موٹھ سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ کی طرف کرتے جا رہے تھے کہ وہ تلوار کھینچ لیں اور ایک ہی وار میں باپ کے آرپار کر دیں۔ لیکن سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ کا ہاتھ باپ پر نہ اٹھا۔ صلح نامہ مکمل ہو گیا فیصلہ پورا ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام میں نماز پڑھتے تھے اور جانور حلال ہونے کے لیے مضطرب تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ اٹھو اپنی اپنی قربانیاں کر لو اور سر منڈوا لو لیکن ایک بھی کھڑا نہ ہوا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا، آپ لوٹ کر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمانے لگے: ”لوگوں کو یہ کیا ہو گیا ہے؟“ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: یا رسول اللہ! اس وقت جس قدر صدمے میں یہ ہیں آپ کو بخوبی علم ہے، آپ ان سے کچھ نہ کہئے، اپنی قربانی کے جانور کے پاس جائیے اور اسے جہاں وہ ہو وہیں قربان کر دیجئیے اور خود سر منڈوا لیجئے، پھر تو ناممکن ہے کہ اور لوگ بھی یہی نہ کریں۔ آپ نے یہی کیا اب کیا تھا ہر شخص اٹھ کھڑا ہوا قربانی کو قربان کیا اور سر منڈوا لیا، اب آپ یہاں سے واپس چلے آدھا راستہ طے کیا ہو گا جو سورۃ الفتح نازل ہوئی۔ یہ روایت صحیح بخاری شریف میں بھی ہے [صحیح بخاری:2731]
صفحہ نمبر8618
اس میں ہے کہ آپ کے سامنے ایک ہزار کئی سو صحابہ رضی اللہ عنہم تھے، ذوالحلیفہ پہنچ کر آپ نے قربانی کے اونٹوں کو نشان دار کیا اور عمرے کا احرام باندھا اور اپنے ایک جاسوس کو جو قبیلہ خزاعہ میں سے تھا، تجسس کے لیے روانہ کیا۔ غدیر اشطاط میں آ کر اس نے خبر دی کہ قریش نے پورا مجمع تیار کر لیا ہے ادھر ادھر کے مختلف لوگوں کو بھی انہوں نے جمع کر لیا ہے اور ان کا ارادہ لڑائی کا اور آپ کو بیت اللہ سے روکنے کا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”اب بتاؤ کیا ہم ان کے اہل و عیال پر حملہ کر دیں اگر وہ ہمارے پاس آئیں گے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی گردن کاٹ دی ہو گی ورنہ ہم انہیں غمگین چھوڑ کر جائیں گے اگر وہ بیٹھ رہیں گے تو اس غم و رنج میں رہیں گے اور اگر انہوں نے نجات پا لی تو یہ گردنیں ہوں گی جو اللہ عزوجل نے کاٹ دی ہوں گی۔ دیکھو تو بھلا کتنا ظلم ہے کہ ہم نہ کسی سے لڑنے کو آئے، نہ کسی اور ارادے سے آئے، صرف اللہ کے گھر کی زیارت کے لیے جا رہے ہیں اور وہ ہمیں روک رہے ہیں، بتاؤ ان سے ہم کیوں نہ لڑیں؟“
اس پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ! آپ بیت اللہ کی زیارت کو نکلے ہیں، آپ چلے چلئیے ہمارا ارادہ جدال و قتال کا نہیں لیکن جو ہمیں اللہ کے گھر سے روکے گا ہم اس سے ضرور لڑیں گے خواہ کوئی ہو، آپ نے فرمایا: ”بس اب اللہ کا نام لو اور چل کھڑے ہو۔“ کچھ اور آگے چل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خالد بن ولید طلائیہ کا لشکر لے کر آ رہا ہے پس تم دائیں طرف کو ہو لو، خالد کو اس کی خبر بھی نہ ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مع صحابہ رضی اللہ عنہم کے ان کے کلے پر پہنچ گئے۔
اب خالد دوڑا ہوا قریشیوں میں پہنچا اور انہیں اس سے مطلع کیا، اونٹنی کا نام اس روایت میں قصویٰ بیان ہوا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ فرمایا کہ جو کچھ وہ مجھ سے طلب کریں گے میں دوں گا بشرطیکہ حرمت اللہ کی اہانت نہ ہو پھر جو آپ نے اونٹنی کو للکارا تو وہ فوراً کھڑی ہو گئی۔
صفحہ نمبر8619
بدیل بن ورقاء خزاعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر قریشیوں کو جب جواب پہنچاتا ہے تو عروہ بن مسعود ثقفی کھڑے ہو کر اپنا تعارف کرا کر جو پہلے بیان ہو چکا یہ بھی کہتا ہے کہ دیکھو اس شخص نے نہایت معقول اور واجبی بات کہی ہے اسے قبول کر لو۔
اور جب یہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر آپ کا یہی جواب آپ کے منہ سے سنتا ہے، تو آپ سے کہتا ہے کہ سنئیے جناب دو ہی باتیں ہیں، یا آپ غالب وہ مغلوب، یا وہ غالب آپ مغلوب اگر پہلی بات ہی ہوئی تو بھی کیا ہوا، آپ ہی کی قوم ہے، آپ نے کسی کے بارے میں ایسا سنا ہے کہ جس نے اپنی قوم کا ستیاناس کیا ہو؟ اور اگر دوسری بات ہو گی تو یہ جتنے آپ کے پاس ہیں، میں تو دیکھتا ہوں کہ سارے ہی آپ کو چھوڑ چھاڑ دوڑ جائیں گے۔ اس پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وہ جواب دیا جو پہلے گزر چکا۔
مغیرہ والے بیان میں یہ بھی ہے کہ ان کے ہاتھ میں تلوار تھی اور سر پر خود تھا، ان کے مارنے پر عروہ نے کہا غدار میں نے تو تیری غداری میں تیرا ساتھ دیا تھا، بات یہ ہے کہ پہلے یہ جاہلیت کے زمانہ میں کافروں کے ایک گروہ کے ساتھ تھے، موقعہ پا کر انہیں قتل کر ڈالا اور ان کا مال لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے، آپ نے فرمایا: ”تمہارا اسلام تو میں منظور کرتا ہوں لیکن اس مال سے میرا کوئی تعلق نہیں۔“
عروہ نے یہاں یہ منظر بھی بچشم خود دیکھا کہ آپ تھوکتے ہیں تو کوئی نہ کوئی صحابی لپک کر اسے اپنے ہاتھوں میں لے لیتا ہے اور اپنے چہرے اور جسم پر مل لیتا ہے، آپ کے ہونٹوں کو جنبش ہوتے ہی فرمانبرداری کے لیے ایک سے ایک آگے بڑھتا ہے، جب آپ وضو کرتے ہیں تو آپ کے اعضاء بدن سے گرے ہوئے پانی پر جو قریب ہوتا ہے یوں لپکتا ہے جیسے صحابہ رضی اللہ عنہم لڑ پڑیں، جب آپ بات کرتے ہیں تو بالکل سناٹا ہو جاتا ہے، مجال نہیں جو کہیں سے چوں کی آواز بھی سنائی دے۔ حد تعظیم یہ ہے کہ صحابہ آنکھ بھر کر آپ کے چہرہ منور کی طرف تکتے ہی نہیں بلکہ نیچی نگاہوں سے ہر وقت باادب رہتے ہیں اس نے پھر واپس آ کر یہی حال قریشیوں کو سنایا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو انصاف و عدل کی بات پیش کر رہے ہیں اسے مان لو۔
صفحہ نمبر8620
بنو کنانہ کے جس شخص کو اس کے بعد قریش نے بھیجا اسے دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لوگ قربانی کے جانوروں کی بڑی تعظیم کرتے ہیں اس لیے قربانی کے جانوروں کو کھڑا کر دو اور اس کی طرف ہانک دو۔“
اس نے جو یہ منظر دیکھا ادھر صحابہ رضی اللہ عنہم کی زبانی لبیک کی صدائیں سنیں تو کہہ اٹھا کہ ان لوگوں کو بیت اللہ سے روکنا نہایت لغو حرکت ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ مکرز کو دیکھ کر آپ نے فرمایا: ”یہ ایک تاجر شخص ہے“، ابھی یہ بیٹھا باتیں کر ہی رہا تھا جو سہیل آ گیا اسے دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”لو اب کام سہل ہو گیا“، اس نے جب «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھنے پر اعتراض کیا تو آپ نے فرمایا: ”واللہ! میں رسول اللہ ہی ہوں گو تم نہ مانو۔“
یہ اس بنا پر کہ جب آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی تھی تو آپ نے کہہ دیا تھا کہ یہ حرمات الٰہی کی عزت رکھتے ہوئے، مجھ سے جو کہیں گے میں منظور کر لوں گا، آپ نے صلح نامہ لکھواتے ہوئے فرمایا کہ اس سال ہمیں یہ بیت اللہ کی زیارت کر لینے دیں گے لیکن سہیل نے کہا یہ ہمیں منظور نہیں ورنہ لوگ کہیں گے کہ ہم دب گئے اور کچھ نہ کر سکے۔ جب یہ شرط ہو رہی تھی کہ جو کافر ان میں سے مسلمان ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا جائے آپ اسے واپس کر دیں گے اس پر مسلمانوں نے کہا سبحان اللہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کہ وہ مسلمان ہو کر آئے اور ہم اسے کافروں کو سونپ دیں یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ اپنی بیڑیوں میں جکڑے ہوئے آ گئے، سہیل نے کہا اسے واپس کیجئے۔
آپ نے فرمایا: ”ابھی تک صلح نامہ مکمل نہیں ہوا میں اسے کیسے واپس کر دوں؟“ اس نے کہا: پھر تو اللہ کی قسم میں کسی طرح اور کسی شرط پر صلح کرنے میں رضامند نہیں ہوں، آپ نے فرمایا: ”تم خود مجھے خاص اس کی بابت اجازت دے دو“، اس نے کہا میں اس کی اجازت بھی آپ کو نہیں دوں گا، آپ نے دوبارہ فرمایا لیکن اس نے پھر بھی انکار کر دیا۔ مگر مکرز نے کہا ہاں ہم آپ کو اس کی اجازت دیتے ہیں۔
اس وقت سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں سے فریاد کی ان بیچاروں کو مشرکین بڑی سخت سنگین سزائیں کر رہے تھے، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ کہا جو پہلے گزر چکا، پھر پوچھا: کیا آپ نے ہم سے یہ نہیں کہا کہ ہم بیت اللہ جائیں گے اور اس کا طواف بھی کریں گے؟
آپ نے فرمایا: ”ہاں یہ تو میں نے کہا ہے، لیکن یہ تو نہیں کہا یہ اسی سال ہو گا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں یہ تو آپ نے نہیں فرمایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس تو تم وہاں جاؤ گے ضرور اور بیت اللہ کا طواف کرو گے ضرور۔“
صفحہ نمبر8621
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور وہی کہا جس کا اوپر بیان گزرا ہے اس میں اتنا اور ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول نہیں؟ اس کے جواب میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں، پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کا اسی طرح ذکر کیا اور وہی جواب مجھے ملا جو ذکر ہوا۔ جو جواب خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا۔
اس روایت میں یہ بھی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنے اونٹ کو نحر کیا اور نائی کو بلوا کر سر منڈوا لیا پھر تو سب صحابہ ایک ساتھ کھڑے ہو گئے اور قربانیوں سے فارغ ہو کر ایک دوسرے کا سر خود مونڈنے لگے اور مارے غم کے اور اژدھام کے قریب تھا کہ آس میں لڑ پڑیں۔
اس کے بعد ایمان والی عورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں جن کے بارے میں آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا جَاۗءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ ۭ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِـاِيْمَانِهِنَّ ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ ۭ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُنَّ ۭ وَاٰتُوْهُمْ مَّآ اَنْفَقُوْا ۭ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَآ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ ۭ وَلَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَاسْـَٔــلُوْا مَآ اَنْفَقْتُمْ وَلْيَسْـَٔــلُوْا مَآ اَنْفَقُوْا ۭ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ ۭ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ» [60-الممتحنة:10] نازل ہوئی۔
اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس حکم کے تحت اپنی دو مشرکہ بیویوں کو اسی دن طلاق دے دی جن میں سے ایک نے معاویہ بن ابوسفیان سے نکاح کر لیا اور دوسری نے صفوان بن امیہ سے نکاح کر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہیں سے واپس لوٹ کر مدینہ شریف آ گئے۔
سیدنا ابوبصیر رضی اللہ عنہ نامی ایک قریشی جو مسلمان تھے موقعہ پا کر مکہ سے نکل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ شریف پہنچے ان کے پیچھے ہی دو کافر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ عہد نامہ کی بنا پر اس شخص کو آپ واپس کیجئے ہم قریشیوں کے بھیجے ہوئے قاصد ہیں اور سیدنا ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو واپس لینے کے لیے آئے ہیں آپ نے فرمایا: ”اچھی بات ہے میں اسے واپس کر دیتا ہوں۔“
صفحہ نمبر8622
چنانچہ آپ نے سیدنا ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو انہیں سونپ دیا یہ انہیں لے کر چلے جب ذوالحلیفہ پہنچے کھجوریں کھانے لگے، تو سیدنا ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ایک شخص سے کہا: واللہ! میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کی تلوار نہایت عمدہ ہے۔ اس نے کہا: ہاں بیشک بہت ہی اچھے لوہے کی ہے، میں نے بارہا اس کا تجربہ کر لیا ہے اس کی کاٹ کا کیا پوچھنا ہے؟ یوں کہتے ہوئے اس نے تلوار میان سے نکال لی۔
سیدنا ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ بڑھا کر کہا، ذرا مجھے دکھانا اس نے دے دی آپ نے ہاتھ میں لیتے ہی تول کر ایک ہی ہاتھ میں اس ایک کافر کا تو کام تمام کیا، دوسرا اس رنگ کو دیکھتے ہی مٹھیاں بند کر کے ایسا سرپٹ بھاگا کہ سیدھا مدینہ پہنچ کر دم لیا، اسے دیکھتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بڑی گھبراہٹ میں ہے کوئی خوفناک منظر دیکھ چکا ہے“، اتنے میں یہ قریب پہنچ گیا اور دہائیاں دینے لگا کہ حضور میرا ساتھی تو مار ڈالا گیا اور میں بھی اب تھوڑے دم کا مہمان ہوں دیکھئیے وہ آیا۔
اتنے میں سیدنا ابوبصیر رضی اللہ عنہ پہنچ گئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذمہ کو پورا کر دیا آپ نے اپنے وعدے کے مطابق مجھے ان کے حوالے کر دیا، اب یہ اللہ تعالیٰ کی کریمی ہے کہ اس نے مجھے ان سے رہائی دلوائی۔
صفحہ نمبر8623
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس یہ کیسا شخص ہے؟ یہ تو لڑائی کی آگ بھڑکانے والا ہے، کاش کہ کوئی اسے سمجھا دیتا“، یہ سنتے ہی سیدنا ابوبصیر رضی اللہ عنہ چونک گئے کہ معلوم ہوتا ہے، آپ شاید مجھے دوبارہ مشرکین کے حوالے کر دیں گے، یہ سوچتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے چلے گئے مدینہ کو الوداع کہا اور لمبے قدموں سمندر کے کنارے کی طرف چل دئیے اور وہیں بودوباش اختیار کر لی یہ واقعہ مشہور ہو گیا۔
ادھر سے سیدنا ابوجندل بن سہیل رضی اللہ عنہ جنہیں حدیبیہ میں اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس کیا تھا وہ بھی موقعہ پا کر مکہ سے بھاگ کھڑے ہوئے اور براہ راست سیدنا ابوبصیر رضی اللہ عنہ کے پاس چلے۔ اب یہ ہوا کہ مشرکین قریش میں سے جو بھی ایمان قبول کرتا سیدھا سیدنا ابوبصیر رضی اللہ عنہ کے پاس آ جاتا اور یہیں رہتا سہتا یہاں تک کہ ایک خاص معقول جماعت ایسے ہی لوگوں کی یہاں جمع ہو گئی۔
اور انہوں نے یہ کرنا شروع کیا کہ قریشیوں کا جو قافلہ شام کی طرف جانے کے لیے نکلتا یہ اس سے جنگ کرتے جس میں قریشی کفار قتل بھی ہوئے اور ان کے مال بھی ان مہاجر مسلمانوں کے ہاتھ لگے یہاں تک کہ قریش تنگ آ گئے بالاخر انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آدمی کو بھیجا کہ حضور ہم پر رحم فرما کر ان لوگوں کو وہاں سے واپس بلوا لیجئے، ہم ان سے دستبردار ہوتے ہیں، ان میں سے جو بھی آپ کے پاس آ جائے وہ امن میں ہے، ہم آپ کو اپنی رشتہ داریاں یاد دلاتے ہیں اور اللہ کا واسطہ دیتے ہیں کہ انہیں اپنے پاس بلوا لیں۔
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درخواست کو منظور فرما لیا اور ان حضرات کے پاس ایک آدمی بھیج کر سب کو بلوا لیا اور اللہ عزوجل نے آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ وَكَان اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا» [48-الفتح:24] نازل فرمائی۔
ان کفار کی حمیت جاہلیت یہ تھی کہ انہوں نے آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» نہ لکھنے دی آپ کے نام کے ساتھ رسول اللہ نہ لکھنے دیا آپ کو بیت اللہ شریف کی زیارت نہ کرنے دی۔
صفحہ نمبر8624
صحیح بخاری شریف کی کتاب التفسیر میں ہے حبیب بن ابوثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں میں ابووائل کے پاس گیا تاکہ ان سے پوچھوں، انہوں نے کہا: ہم صفین میں تھے ایک شخص نے کہا کیا تو نے انہیں نہیں دیکھا کہ وہ کتاب اللہ کی طرف بلائے جاتے ہیں۔ پس سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں پس سہیل بن حنیف نے کہا: اپنی جانوں پر تہمت رکھو، ہم نے اپنے آپ کو حدیبیہ والے دن دیکھا یعنی اس صلح کے موقعہ پر جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان ہوئی تھی اگر ہماری رائے لڑنے کی ہوتی تو ہم یقیناً لڑتے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آ کر کہا کہ کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں؟ کیا ہمارے مقتول جنتی اور ان کے مقتول جہنمی نہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، کہا: پھر ہم کیوں اپنے دین میں جھک جائیں اور لوٹ جائیں؟ حالانکہ اب تک اللہ تعالیٰ نے ہم میں ان میں کوئی فیصلہ کن کاروائی نہیں کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن خطاب! میں اللہ کا رسول ہوں وہ مجھے کبھی بھی ضائع نہ کرے گا“، یہ جواب سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوٹ آئے لیکن بہت غصے میں تھے، وہاں سے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور یہی سوال و جواب یہاں بھی ہوئے اور سورۃ الفتح نازل ہوئی ۔ [صحیح بخاری:4844]
صفحہ نمبر8625
بعض روایات میں سہیل بن حنیف کے یہ الفاظ بھی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو ابوجندل والے دن دیکھا کہ اگر مجھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو لوٹانے کی قدرت ہوتی تو میں یقیناً لوٹا دیتا، اس میں یہ بھی ہے کہ جب سورۃ الفتح اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر یہ سورت انہیں سنائی ۔ [صحیح مسلم:48]
صفحہ نمبر8626
مسند احمد کی روایت میں ہے کہ جس وقت یہ شرط طے ہوئی کہ ان کا آدمی انہیں واپس کیا جائے اور ہمارا آدمی وہ واپس نہ کریں گے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ کیا ہم یہ بھی مان لیں؟ اور لکھ دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اس لیے کہ ہم میں سے جو ان میں جائے، اللہ اسے ہم سے دور ہی رکھے“ ۔ [صحیح مسلم:1748]
مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب خارجی نکل کھڑے ہوئے اور انہوں نے علیحدگی اختیار کی تو میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ والے دن جب مشرکین سے صلح کی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: لکھو! یہ وہ شرائط صلح ہیں جن پر اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی تو مشرکین نے کہا: اگر ہم آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مانتے تو آپ سے ہرگز نہ لڑتے، تو آپ نے فرمایا: ”علی! اسے مٹا دو، اللہ تو خوب جانتا ہے کہ میں تیرا رسول ہوں، علی اسے کاٹ دو اور لکھو یہ وہ شرائط ہیں جن پر صلح کی محمد بن عبداللہ نے۔“ اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بہت بہتر تھے پھر بھی آپ نے اس لکھے ہوئے کو کٹوایا اس سے کچھ آپ نبوت سے نہیں نکل گئے ۔ [مسند احمد:342/1:حسن]
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ والے دن ستر اونٹ قربان کئے جن میں ایک اونٹ ابوجہل کا بھی تھا جب یہ اونٹ بیت اللہ سے روک دئیے گئے تو اس طرح نالہ و بکا کرتے تھے جیسے کسی سے اس کا دودھ پیتا بچہ الگ ہو گیا ہو ۔ [مسند احمد:314/1:ضعیف]
صفحہ نمبر8627
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ میں گئے اور بیت اللہ شریف کا طواف کیا، آپ نے اس کا ذکر اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے مدینہ شریف میں ہی کر دیا تھا۔ حدیبیہ والے سال جب آپ عمرے کے ارادے سے چلے تو اس خواب کی بنا پر صحابہ کو یقین کامل تھا کہ اس سفر میں ہی کامیابی کے ساتھ اس خواب کا ظہور دیکھ لیں گے۔ وہاں جا کر جو رنگت بدلی ہوئی دیکھی یہاں تک کہ صلح نامہ لکھ کر بغیر زیارت بیت اللہ واپس ہونا پڑا تو ان صحابہ رضی اللہ عنہم پر نہایت شاق گزرا۔
صفحہ نمبر8628
چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا بھی کہ آپ نے تو ہم سے فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ جائیں گے اور طواف سے مشرف ہوں گے، آپ نے فرمایا: ”یہ صحیح ہے لیکن یہ تو میں نے نہیں کہا تھا کہ اسی سال ہو گا؟“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں یہ تو نہیں فرمایا تھا، آپ نے فرمایا: ”پھر جلدی کیا ہے؟ تم بیت اللہ میں جاؤ گے ضرور اور طواف بھی یقیناً کرو گے۔“ پھر سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ سے یہی کہا اور ٹھیک یہی جواب پایا۔
اس آیت میں جو «ان شاءاللہ» ہے یہ استثناء کے لیے نہیں بلکہ تحقیق اور تاکید کے لیے ہے اس مبارک خواب کی تاویل کو صحابہ رضی اللہ عنہم نے دیکھ لیا اور پورے امن و اطمینان کے ساتھ مکہ میں گئے اور وہاں جا کر احرام کھولتے ہوئے بعض نے اپنا سر منڈوایا اور بعض نے بال کتروائے۔
صفحہ نمبر8629
صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ سر منڈوانے والوں پر رحم کرے لوگوں نے کہا اور کتروانے والوں پر بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ بھی یہی فرمایا پھر لوگوں نے وہی کہا آخر تیسری یا چوتھی دفعہ میں آپ نے کتروانے والوں کے لیے بھی رحم کی دعا کی۔ [صحیح بخاری:1727]
پھر فرمایا بےخوف ہو کر یعنی مکہ جاتے وقت بھی امن و امان سے ہوں گے اور مکہ کا قیام بھی بےخوفی کا ہو گا۔ چنانچہ عمرۃ القضاء میں یہی ہوا یہ عمرہ ذی قعدہ سنہ ۷ ہجری میں ہوا تھا۔ حدیبیہ سے آپ ذی قعدہ کے مہینے میں لوٹے، ذی الحجہ اور محرم تو مدینہ شریف میں قیام رہا، صفر میں خیبر کی طرف گئے اس کا کچھ حصہ تو ازروئے جنگ فتح ہوا اور کچھ حصہ ازروئے صلح مسخر ہوا یہ بہت بڑا علاقہ تھا اس میں کھجوروں کے باغات اور کھیتیاں بکثرت تھیں۔ یہیں کے یہودیوں کو آپ نے بطور خادم یہاں رکھ کر ان سے یہ معاملہ طے کیا کہ وہ باغوں اور کھیتوں کی حفاظت اور خدمت کریں اور پیداوار کا نصف حصہ دے دیا کریں، خیبر کی تقسیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ان ہی صحابہ رضی اللہ عنہم میں کی جو حدیبیہ میں موجود تھے ان کے سوا کسی اور کو اس جنگ میں آپ نے حصہ دار نہیں بنایا، سوائے ان لوگوں کے جو حبشہ کی ہجرت سے واپس آئے تھے، جو حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وہ سب اس فتح خیبر میں بھی ساتھ تھے۔
ابودجانہ، سماک بن خرشہ رحمہا اللہ علیہ کے سوا، جیسے کہ اس کا پورا بیان اپنی جگہ ہے۔ یہاں سے آپ سالم و غنیمت لیے ہوئے واپس تشریف لائے اور ماہ ذوالقعدہ سنہ ۷ ہجری میں مکہ کی طرف باارادہ عمرہ اہل حدیبیہ کو ساتھ لے کر آپ روانہ ہوئے، ذوالحلفیہ سے احرام باندھا قربانی کے لیے ساٹھ اونٹ ساتھ لیے اور لبیک پکارتے ہوئے ظہران کے قریب پہنچ کر سیدنا محمد بن سلمہ رضی اللہ عنہ کو کچھ گھوڑے سواروں کے ساتھ ہتھیار بند آگے آگے روانہ کیا۔ اس سے مشرکین کے اوسان خطا ہو گئے اور مارے رعب کے ان کے کلیجے اچھلنے لگے۔ انہیں یہ خیال گزرا کہ یہ تو پوری تیاری اور کامل ساز و سامان کے ساتھ آئے ہیں تو ضرور لڑائی کے ارادے سے آئے ہیں۔ انہوں نے شرط توڑ دی کہ دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہو گی، چنانچہ یہ لوگ دوڑے ہوئے مکہ میں گئے اور اہلِ مکہ کو اس کی اطلاع دی۔
صفحہ نمبر8630
َنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مرالظہران میں پہنچے جہاں سے کعبہ کے بت دکھائی دیتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام نیزے بھالے تیر کمان بطن یاجج میں بھیج دئیے، مطابق شرط کے صرف تلواریں پاس رکھ لیں اور وہ بھی میان میں تھیں ابھی آپ راستے میں ہی تھے جو قریش کا بھیجا ہوا آدمی مکرز بن حفص آیا اور کہنے لگا: حضور آپ کی عادت تو عہد توڑنے کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا بات ہے؟“، وہ کہنے لگا کہ آپ تیر اور نیزے لے کر آ رہے ہیں آپ نے فرمایا: ”نہیں تو ہم نے وہ سب یاجج بھیج دیے ہیں۔“
اس نے کہا: یہی ہمیں آپ کی ذات سے امید تھی، آپ ہمیشہ سے بھلائی اور نیکی اور وفاداری ہی کرنے والے ہیں، سرداران کفار تو بوجہ غیظ و غضب اور رنج و غم کے شہر سے باہر چلے گئے کیونکہ وہ تو آپ کو اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم کو دیکھنا بھی نہیں چاہتے تھے اور لوگ جو مکہ میں رہ گئے تھے وہ مرد، عورت، بچے تمام راستوں پر اور کوٹھوں پر اور چھتوں پر کھڑے ہو گئے اور ایک استعجاب کی نظر سے اس مخلص گروہ کو اس پاک لشکر کو اس اللہ کی فوج کو دیکھ رہے تھے۔ آپ نے قربانی کے جانور ذی طوٰی میں بھیج دئیے تھے، خود آپ اپنی مشہور و معروف سواری اونٹنی قصوا پر سوار تھے، آگے آگے آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم تھے جو برابر لبیک پکار رہے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ آپ کی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھے اور یہ اشعار پڑھ رہے تھے «باسم الذی لا دین الا دینہ» *** «بسم الذی محمد رسولہ» *** «خلوا بنی الکفار عن سبیلہ» *** «الیوم نضربکم علی تاویلہ» *** «کما ضربنا کم علی تنزیلہ» *** «ضربا یزیل الھام عن مقیلہ» *** «ویذھل الخلیل عن خلیلہ» *** «قد انزل الرحمن فی تنزیلہ» *** «فی صحف تتلی علی رسولہ» *** «بان خیرالقتل فی سبیلہ» *** «یا رب انی مومن بقیلہ» [سیرۃ ابن ھشام:320/3:مرسل]
یعنی ” اس اللہ عزوجل کے نام سے جس کے دین کے سوا اور کوئی دین قابل قبول نہیں۔ اس اللہ کے نام سے جس کے رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے کافروں کے بچو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے سے ہٹ جاو، آج ہم تمہیں آپ کے لوٹنے پر بھی ویسا ہی ماریں گے، جیسے آپ کے آنے پر مارا تھا، وہ مار جو دماغ کو اس کے ٹھکانے سے ہٹا دے اور دوست کو دوست سے بھلا دے۔ اللہ تعالیٰ رحم والے نے اپنی وحی میں نازل فرمایا ہے، جو ان صحیفوں میں موجود ہے جو اس کے رسول کے سامنے تلاوت کیے جاتے ہیں کہ سب سے بہتر موت شہادت کی موت ہے، جو اس کی راہ میں ہو۔ اے میرے پروردگار اس بات پے ایمان لا چکا ہوں “۔ بعض روایتوں میں یہ الفاظ میں کچھ ہیر پھیر بھی ہے۔
صفحہ نمبر8631
مسند احمد میں ہے کہ اس عمرے کے سفر میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مر الظہران) میں پہنچے تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سنا کہ اہل مکہ کہتے ہیں یہ لوگ بوجہ لاغری اور کمزوری کے اٹھ بیٹھ نہیں سکتے یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اگر آپ اجازت دیں تو ہم اپنی سواریوں کے چند جانور ذبح کر لیں ان کا گوشت کھائیں اور شوربا پئیں اور تازہ دم ہو کر مکہ میں جائیں۔ آپ نے فرمایا: ”نہیں ایسا نہ کرو، تمہارے پاس جو کھانا ہو اسے جمع کرو“، چنانچہ جمع کیا دستر خوان بچھایا اور کھانے بیٹھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی وجہ سے کھانے میں اتنی برکت ہوئی کہ سب نے کھا پی لیا اور توشے دان بھر لیے۔
آپ مکہ شریف آئے سیدھے بیت اللہ گئے قریشی حطیم کی طرف بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چادر کے پلے دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈال لیے اور اصحاب رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”یہ لوگ تم میں سستی اور لاغری محسوس نہ کریں“، اب آپ نے رکن کو بوسہ دے کر دوڑنے کی سی چال سے طواف شروع کیا جب رکن یمانی کے پاس پہنچے جہاں قریش کی نظریں نہیں پڑتی تھیں تو وہاں سے آہستہ آہستہ چل کر حجر اسود تک پہنچے۔
قریش کہنے لگے تم لوگ تو ہرنوں کی طرح چوکڑیاں بھر رہے ہو گویا چلنا تمہیں پسند ہی نہیں، تین مرتبہ تو آپ اسی طرح ہلکی دوڑ کی سی چال حجر اسود سے رکن یمانی تک چلتے رہے تین پھیرے اس طرح کئے چنانچہ یہی مسنون طریقہ ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے حجتہ الوداع میں بھی اسی طرح طواف کے تین پھیروں میں رمل کیا یعنی دلکی چال چلے۔ [سنن ابوداود:1889]
صفحہ نمبر8632
بخاری مسلم میں ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینے کی آب و ہوا شروع میں کچھ ناموافق پڑی تھی اور بخار کی وجہ سے یہ کچھ لاغر ہو گئے تھے، جب آپ مکہ پہنچے تو مشرکین مکہ نے کہا یہ لوگ جو آ رہے ہیں انہیں مدینے کے بخار نے کمزور اور سست کر دیا اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اس کلام کی خبر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کر دی۔ مشرکین حطیم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ حجر اسود سے لے کر رکن یمانی تک طواف کے تین پہلے پھیروں میں دلکی چال چلیں اور رکن یمانی سے حجر اسود تک جہاں جانے کے بعد مشرکین کی نگاہیں نہیں پڑتی تھیں، وہاں ہلکی چال چلیں پورے ساتوں پھیروں میں رمل کرنے کو نہ کہنا یہ صرف بطور رحم کے تھا، مشرکوں نے جب دیکھا کہ یہ تو سب کے سب کود کود کر پھرتی اور چستی سے طواف کر رہے ہیں تو آپس میں کہنے لگے کیوں جی انہی کی نسبت اڑا رکھا تھا کہ مدینے کے بخار نے انہیں سست و لاغر کر دیا ہے؟ یہ لوگ تو فلاں فلاں سے بھی زیادہ چست و چالاک ہیں ۔ [صحیح بخاری:4256]
ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذوالقعدہ کی چوتھی تاریخ کو مکہ شریف پہنچ گئے تھے اور روایت میں ہے کہ مشرکین اس وقت قعیقعان کی طرف تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صفا مروہ کی طرف سعی کرنا بھی مشرکوں کو اپنی قوت دکھانے کے لیے تھا ۔ [صحیح بخاری:4257]
سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس دن ہم آپ پر چھائے ہوئے تھے اس لیے کہ کوئی مشرک یا کوئی ناسمجھ آپ کو کوئی ایذاء نہ پہنچا سکے ۔ [صحیح بخاری:4255]
صفحہ نمبر8633
بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرے کے لیے نکلے لیکن کفار قریش نے راستہ روک لیا اور آپ کو بیت اللہ شریف تک نہ جانے دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں قربانیاں کیں اور وہیں یعنی حدیبیہ میں سر منڈوا لیا اور ان سے صلح کر لی جس میں یہ طے ہوا کہ آپ اگلے سال عمرہ کریں گے سوائے تلواروں کے اور کوئی ہتھیار اپنے ساتھ لے کر مکہ مکرمہ میں نہیں آئیں گے اور وہاں اتنی ہی مدت ٹھہریں گے جتنی اہل مکہ چاہیں پس اگلے سال آپ اسی طرح آئے تین دن تک ٹھہرے پھر مشرکین نے کہا اب آپ چلے جائیں چنانچہ آپ وہاں سے واپس ہوئے ۔ [صحیح بخاری:4252]
صفحہ نمبر8634
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قعدہ میں عمرہ کرنے کا ارادہ کیا لیکن اہل مکہ حائل ہوئے تو آپ نے ان سے یہ فیصلہ کیا کہ آپ صرف تین دن ہی مکہ میں ٹھہریں گے جب صلح نامہ لکھنے لگے تو لکھا یہ وہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی تو اہل مکہ نے کہا کہ اگر آپ کو ہم رسول اللہ جانتے تو ہرگز نہ روکتے بلکہ آپ محمد بن عبداللہ لکھئیے۔ آپ نے فرمایا: ”میں رسول اللہ ہوں میں محمد بن عبداللہ ہوں“، پھر آپ نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”لفظ رسول کو مٹا دو۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں نہیں، قسم اللہ کی! میں اسے ہرگز نہ مٹاؤں گا“، چنانچہ آپ نے اس صلح نامہ کو اپنے ہاتھ میں لے کر باوجود اچھی طرح لکھنا نہ جاننے کے لکھا، کہ یہ وہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے صلح کی۔ یہ کہ مکہ میں ہتھیار لے کر داخل نہ ہوں گے، صرف تلوار ہو گی اور وہ بھی میان میں اور یہ کہ اہل مکہ میں سے جو آپ کے ساتھ جانا چاہے گا اسے آپ اپنے ساتھ نہیں لے جائیں گے اور یہ کہ آپ کے ساتھیوں میں سے جو مکے میں رہنے کے ارادے سے ٹھہر جانا چاہے گا آپ اسے روکیں گے نہیں، پس جب آپ آئے اور وقت مقررہ گزر چکا تو مشرکین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا آپ حضور سے کہئے کہ اب وقت گزر چکا تشریف لے جائیں، چنانچہ آپ نے کوچ کر دیا۔ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی چچا چچا کہہ کر آپ کے پیچھے ہو لیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں لے لیا اور انگلی تھام کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے گئے اور فرمایا: اپنے چچا کی لڑکی کو اچھی طرح رکھو سیدہ زہرا رضی اللہ عنہا نے بڑی خوشی سے بچی کو اپنے پاس بٹھا لیا۔ اب سیدنا علی اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہما میں جھگڑا ہونے لگا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے انہیں میں لے آیا ہوں اور یہ میرے چچا کی صاحبزادی ہیں، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے میری چچا زاد بہن ہے اور ان کی خالہ میرے گھر میں ہیں۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے تھے میرے بھائی کی لڑکی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جھگڑے کا فیصلہ یوں کیا کہ لڑکی کو تو ان کی خالہ کو سونپا اور فرمایا خالہ قائم مقام ماں کے ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔“ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تو خلق اور خلق میں مجھ سے پوری مشابہت رکھتا ہے۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تو ہمارا بھائی اور ہمارا مولیٰ ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! آپ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی لڑکی سے نکاح کیوں نہ کر لیں؟ آپ نے فرمایا: ”وہ میرے رضاعی بھائی کی لڑکی ہے۔“ [صحیح بخاری:4251]
صفحہ نمبر8635
پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ جس خیر و مصلحت کو جانتا تھا اور جسے تم نہیں جانتے تھے اس بنا پر تمہیں اس سال مکہ میں نہ جانے دیا اور اگلے سال جانے دیا اور اس جانے سے پہلے ہی جس کا وعدہ خواب کی شکل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تھا تمہیں فتح قریب عنایت فرمائی۔ یہ فتح وہ صلح ہے جو تمہارے دشمنوں کے درمیان ہوئی۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ مومنوں کو خوشخبری سناتا ہے کہ وہ اپنے رسول کو ان دشمنوں پر اور تمام دشمنوں پر فتح دے گا اس نے آپ کو علم نافع اور عمل صالح کے ساتھ بھیجا ہے، شریعت میں دو ہی چیزیں ہوتی ہیں علم اور عمل پس علم شرعی صحیح علم ہے اور عمل شرعی مقبولیت والا عمل ہے۔ اس کے اخبار سچے، اس کے احکام سراسر عدل و حق والے۔ چاہتا یہ ہے کہ روئے زمین پر جتنے دین ہیں عربوں میں، عجمیوں میں، مسلمین میں، مشرکین میں، ان سب پر اس اپنے دین کو غالب اور ظاہر کرے، اللہ کافی گواہ ہے اس بات پر کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ ہی آپ کا مددگار ہے۔ «واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم»
صفحہ نمبر8636
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ میں گئے اور بیت اللہ شریف کا طواف کیا، آپ نے اس کا ذکر اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے مدینہ شریف میں ہی کر دیا تھا۔ حدیبیہ والے سال جب آپ عمرے کے ارادے سے چلے تو اس خواب کی بنا پر صحابہ کو یقین کامل تھا کہ اس سفر میں ہی کامیابی کے ساتھ اس خواب کا ظہور دیکھ لیں گے۔ وہاں جا کر جو رنگت بدلی ہوئی دیکھی یہاں تک کہ صلح نامہ لکھ کر بغیر زیارت بیت اللہ واپس ہونا پڑا تو ان صحابہ رضی اللہ عنہم پر نہایت شاق گزرا۔
صفحہ نمبر8628
چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا بھی کہ آپ نے تو ہم سے فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ جائیں گے اور طواف سے مشرف ہوں گے، آپ نے فرمایا: ”یہ صحیح ہے لیکن یہ تو میں نے نہیں کہا تھا کہ اسی سال ہو گا؟“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں یہ تو نہیں فرمایا تھا، آپ نے فرمایا: ”پھر جلدی کیا ہے؟ تم بیت اللہ میں جاؤ گے ضرور اور طواف بھی یقیناً کرو گے۔“ پھر سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ سے یہی کہا اور ٹھیک یہی جواب پایا۔
اس آیت میں جو «ان شاءاللہ» ہے یہ استثناء کے لیے نہیں بلکہ تحقیق اور تاکید کے لیے ہے اس مبارک خواب کی تاویل کو صحابہ رضی اللہ عنہم نے دیکھ لیا اور پورے امن و اطمینان کے ساتھ مکہ میں گئے اور وہاں جا کر احرام کھولتے ہوئے بعض نے اپنا سر منڈوایا اور بعض نے بال کتروائے۔
صفحہ نمبر8629
صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ سر منڈوانے والوں پر رحم کرے لوگوں نے کہا اور کتروانے والوں پر بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ بھی یہی فرمایا پھر لوگوں نے وہی کہا آخر تیسری یا چوتھی دفعہ میں آپ نے کتروانے والوں کے لیے بھی رحم کی دعا کی۔ [صحیح بخاری:1727]
پھر فرمایا بےخوف ہو کر یعنی مکہ جاتے وقت بھی امن و امان سے ہوں گے اور مکہ کا قیام بھی بےخوفی کا ہو گا۔ چنانچہ عمرۃ القضاء میں یہی ہوا یہ عمرہ ذی قعدہ سنہ ۷ ہجری میں ہوا تھا۔ حدیبیہ سے آپ ذی قعدہ کے مہینے میں لوٹے، ذی الحجہ اور محرم تو مدینہ شریف میں قیام رہا، صفر میں خیبر کی طرف گئے اس کا کچھ حصہ تو ازروئے جنگ فتح ہوا اور کچھ حصہ ازروئے صلح مسخر ہوا یہ بہت بڑا علاقہ تھا اس میں کھجوروں کے باغات اور کھیتیاں بکثرت تھیں۔ یہیں کے یہودیوں کو آپ نے بطور خادم یہاں رکھ کر ان سے یہ معاملہ طے کیا کہ وہ باغوں اور کھیتوں کی حفاظت اور خدمت کریں اور پیداوار کا نصف حصہ دے دیا کریں، خیبر کی تقسیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ان ہی صحابہ رضی اللہ عنہم میں کی جو حدیبیہ میں موجود تھے ان کے سوا کسی اور کو اس جنگ میں آپ نے حصہ دار نہیں بنایا، سوائے ان لوگوں کے جو حبشہ کی ہجرت سے واپس آئے تھے، جو حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وہ سب اس فتح خیبر میں بھی ساتھ تھے۔
ابودجانہ، سماک بن خرشہ رحمہا اللہ علیہ کے سوا، جیسے کہ اس کا پورا بیان اپنی جگہ ہے۔ یہاں سے آپ سالم و غنیمت لیے ہوئے واپس تشریف لائے اور ماہ ذوالقعدہ سنہ ۷ ہجری میں مکہ کی طرف باارادہ عمرہ اہل حدیبیہ کو ساتھ لے کر آپ روانہ ہوئے، ذوالحلفیہ سے احرام باندھا قربانی کے لیے ساٹھ اونٹ ساتھ لیے اور لبیک پکارتے ہوئے ظہران کے قریب پہنچ کر سیدنا محمد بن سلمہ رضی اللہ عنہ کو کچھ گھوڑے سواروں کے ساتھ ہتھیار بند آگے آگے روانہ کیا۔ اس سے مشرکین کے اوسان خطا ہو گئے اور مارے رعب کے ان کے کلیجے اچھلنے لگے۔ انہیں یہ خیال گزرا کہ یہ تو پوری تیاری اور کامل ساز و سامان کے ساتھ آئے ہیں تو ضرور لڑائی کے ارادے سے آئے ہیں۔ انہوں نے شرط توڑ دی کہ دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہو گی، چنانچہ یہ لوگ دوڑے ہوئے مکہ میں گئے اور اہلِ مکہ کو اس کی اطلاع دی۔
صفحہ نمبر8630
َنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مرالظہران میں پہنچے جہاں سے کعبہ کے بت دکھائی دیتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام نیزے بھالے تیر کمان بطن یاجج میں بھیج دئیے، مطابق شرط کے صرف تلواریں پاس رکھ لیں اور وہ بھی میان میں تھیں ابھی آپ راستے میں ہی تھے جو قریش کا بھیجا ہوا آدمی مکرز بن حفص آیا اور کہنے لگا: حضور آپ کی عادت تو عہد توڑنے کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا بات ہے؟“، وہ کہنے لگا کہ آپ تیر اور نیزے لے کر آ رہے ہیں آپ نے فرمایا: ”نہیں تو ہم نے وہ سب یاجج بھیج دیے ہیں۔“
اس نے کہا: یہی ہمیں آپ کی ذات سے امید تھی، آپ ہمیشہ سے بھلائی اور نیکی اور وفاداری ہی کرنے والے ہیں، سرداران کفار تو بوجہ غیظ و غضب اور رنج و غم کے شہر سے باہر چلے گئے کیونکہ وہ تو آپ کو اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم کو دیکھنا بھی نہیں چاہتے تھے اور لوگ جو مکہ میں رہ گئے تھے وہ مرد، عورت، بچے تمام راستوں پر اور کوٹھوں پر اور چھتوں پر کھڑے ہو گئے اور ایک استعجاب کی نظر سے اس مخلص گروہ کو اس پاک لشکر کو اس اللہ کی فوج کو دیکھ رہے تھے۔ آپ نے قربانی کے جانور ذی طوٰی میں بھیج دئیے تھے، خود آپ اپنی مشہور و معروف سواری اونٹنی قصوا پر سوار تھے، آگے آگے آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم تھے جو برابر لبیک پکار رہے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ آپ کی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھے اور یہ اشعار پڑھ رہے تھے «باسم الذی لا دین الا دینہ» *** «بسم الذی محمد رسولہ» *** «خلوا بنی الکفار عن سبیلہ» *** «الیوم نضربکم علی تاویلہ» *** «کما ضربنا کم علی تنزیلہ» *** «ضربا یزیل الھام عن مقیلہ» *** «ویذھل الخلیل عن خلیلہ» *** «قد انزل الرحمن فی تنزیلہ» *** «فی صحف تتلی علی رسولہ» *** «بان خیرالقتل فی سبیلہ» *** «یا رب انی مومن بقیلہ» [سیرۃ ابن ھشام:320/3:مرسل]
یعنی ” اس اللہ عزوجل کے نام سے جس کے دین کے سوا اور کوئی دین قابل قبول نہیں۔ اس اللہ کے نام سے جس کے رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے کافروں کے بچو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے سے ہٹ جاو، آج ہم تمہیں آپ کے لوٹنے پر بھی ویسا ہی ماریں گے، جیسے آپ کے آنے پر مارا تھا، وہ مار جو دماغ کو اس کے ٹھکانے سے ہٹا دے اور دوست کو دوست سے بھلا دے۔ اللہ تعالیٰ رحم والے نے اپنی وحی میں نازل فرمایا ہے، جو ان صحیفوں میں موجود ہے جو اس کے رسول کے سامنے تلاوت کیے جاتے ہیں کہ سب سے بہتر موت شہادت کی موت ہے، جو اس کی راہ میں ہو۔ اے میرے پروردگار اس بات پے ایمان لا چکا ہوں “۔ بعض روایتوں میں یہ الفاظ میں کچھ ہیر پھیر بھی ہے۔
صفحہ نمبر8631
مسند احمد میں ہے کہ اس عمرے کے سفر میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مر الظہران) میں پہنچے تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سنا کہ اہل مکہ کہتے ہیں یہ لوگ بوجہ لاغری اور کمزوری کے اٹھ بیٹھ نہیں سکتے یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اگر آپ اجازت دیں تو ہم اپنی سواریوں کے چند جانور ذبح کر لیں ان کا گوشت کھائیں اور شوربا پئیں اور تازہ دم ہو کر مکہ میں جائیں۔ آپ نے فرمایا: ”نہیں ایسا نہ کرو، تمہارے پاس جو کھانا ہو اسے جمع کرو“، چنانچہ جمع کیا دستر خوان بچھایا اور کھانے بیٹھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی وجہ سے کھانے میں اتنی برکت ہوئی کہ سب نے کھا پی لیا اور توشے دان بھر لیے۔
آپ مکہ شریف آئے سیدھے بیت اللہ گئے قریشی حطیم کی طرف بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چادر کے پلے دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈال لیے اور اصحاب رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”یہ لوگ تم میں سستی اور لاغری محسوس نہ کریں“، اب آپ نے رکن کو بوسہ دے کر دوڑنے کی سی چال سے طواف شروع کیا جب رکن یمانی کے پاس پہنچے جہاں قریش کی نظریں نہیں پڑتی تھیں تو وہاں سے آہستہ آہستہ چل کر حجر اسود تک پہنچے۔
قریش کہنے لگے تم لوگ تو ہرنوں کی طرح چوکڑیاں بھر رہے ہو گویا چلنا تمہیں پسند ہی نہیں، تین مرتبہ تو آپ اسی طرح ہلکی دوڑ کی سی چال حجر اسود سے رکن یمانی تک چلتے رہے تین پھیرے اس طرح کئے چنانچہ یہی مسنون طریقہ ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے حجتہ الوداع میں بھی اسی طرح طواف کے تین پھیروں میں رمل کیا یعنی دلکی چال چلے۔ [سنن ابوداود:1889]
صفحہ نمبر8632
بخاری مسلم میں ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینے کی آب و ہوا شروع میں کچھ ناموافق پڑی تھی اور بخار کی وجہ سے یہ کچھ لاغر ہو گئے تھے، جب آپ مکہ پہنچے تو مشرکین مکہ نے کہا یہ لوگ جو آ رہے ہیں انہیں مدینے کے بخار نے کمزور اور سست کر دیا اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اس کلام کی خبر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کر دی۔ مشرکین حطیم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ حجر اسود سے لے کر رکن یمانی تک طواف کے تین پہلے پھیروں میں دلکی چال چلیں اور رکن یمانی سے حجر اسود تک جہاں جانے کے بعد مشرکین کی نگاہیں نہیں پڑتی تھیں، وہاں ہلکی چال چلیں پورے ساتوں پھیروں میں رمل کرنے کو نہ کہنا یہ صرف بطور رحم کے تھا، مشرکوں نے جب دیکھا کہ یہ تو سب کے سب کود کود کر پھرتی اور چستی سے طواف کر رہے ہیں تو آپس میں کہنے لگے کیوں جی انہی کی نسبت اڑا رکھا تھا کہ مدینے کے بخار نے انہیں سست و لاغر کر دیا ہے؟ یہ لوگ تو فلاں فلاں سے بھی زیادہ چست و چالاک ہیں ۔ [صحیح بخاری:4256]
ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذوالقعدہ کی چوتھی تاریخ کو مکہ شریف پہنچ گئے تھے اور روایت میں ہے کہ مشرکین اس وقت قعیقعان کی طرف تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صفا مروہ کی طرف سعی کرنا بھی مشرکوں کو اپنی قوت دکھانے کے لیے تھا ۔ [صحیح بخاری:4257]
سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس دن ہم آپ پر چھائے ہوئے تھے اس لیے کہ کوئی مشرک یا کوئی ناسمجھ آپ کو کوئی ایذاء نہ پہنچا سکے ۔ [صحیح بخاری:4255]
صفحہ نمبر8633
بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرے کے لیے نکلے لیکن کفار قریش نے راستہ روک لیا اور آپ کو بیت اللہ شریف تک نہ جانے دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں قربانیاں کیں اور وہیں یعنی حدیبیہ میں سر منڈوا لیا اور ان سے صلح کر لی جس میں یہ طے ہوا کہ آپ اگلے سال عمرہ کریں گے سوائے تلواروں کے اور کوئی ہتھیار اپنے ساتھ لے کر مکہ مکرمہ میں نہیں آئیں گے اور وہاں اتنی ہی مدت ٹھہریں گے جتنی اہل مکہ چاہیں پس اگلے سال آپ اسی طرح آئے تین دن تک ٹھہرے پھر مشرکین نے کہا اب آپ چلے جائیں چنانچہ آپ وہاں سے واپس ہوئے ۔ [صحیح بخاری:4252]
صفحہ نمبر8634
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قعدہ میں عمرہ کرنے کا ارادہ کیا لیکن اہل مکہ حائل ہوئے تو آپ نے ان سے یہ فیصلہ کیا کہ آپ صرف تین دن ہی مکہ میں ٹھہریں گے جب صلح نامہ لکھنے لگے تو لکھا یہ وہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی تو اہل مکہ نے کہا کہ اگر آپ کو ہم رسول اللہ جانتے تو ہرگز نہ روکتے بلکہ آپ محمد بن عبداللہ لکھئیے۔ آپ نے فرمایا: ”میں رسول اللہ ہوں میں محمد بن عبداللہ ہوں“، پھر آپ نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”لفظ رسول کو مٹا دو۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں نہیں، قسم اللہ کی! میں اسے ہرگز نہ مٹاؤں گا“، چنانچہ آپ نے اس صلح نامہ کو اپنے ہاتھ میں لے کر باوجود اچھی طرح لکھنا نہ جاننے کے لکھا، کہ یہ وہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے صلح کی۔ یہ کہ مکہ میں ہتھیار لے کر داخل نہ ہوں گے، صرف تلوار ہو گی اور وہ بھی میان میں اور یہ کہ اہل مکہ میں سے جو آپ کے ساتھ جانا چاہے گا اسے آپ اپنے ساتھ نہیں لے جائیں گے اور یہ کہ آپ کے ساتھیوں میں سے جو مکے میں رہنے کے ارادے سے ٹھہر جانا چاہے گا آپ اسے روکیں گے نہیں، پس جب آپ آئے اور وقت مقررہ گزر چکا تو مشرکین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا آپ حضور سے کہئے کہ اب وقت گزر چکا تشریف لے جائیں، چنانچہ آپ نے کوچ کر دیا۔ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی چچا چچا کہہ کر آپ کے پیچھے ہو لیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں لے لیا اور انگلی تھام کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے گئے اور فرمایا: اپنے چچا کی لڑکی کو اچھی طرح رکھو سیدہ زہرا رضی اللہ عنہا نے بڑی خوشی سے بچی کو اپنے پاس بٹھا لیا۔ اب سیدنا علی اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہما میں جھگڑا ہونے لگا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے انہیں میں لے آیا ہوں اور یہ میرے چچا کی صاحبزادی ہیں، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے میری چچا زاد بہن ہے اور ان کی خالہ میرے گھر میں ہیں۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے تھے میرے بھائی کی لڑکی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جھگڑے کا فیصلہ یوں کیا کہ لڑکی کو تو ان کی خالہ کو سونپا اور فرمایا خالہ قائم مقام ماں کے ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔“ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تو خلق اور خلق میں مجھ سے پوری مشابہت رکھتا ہے۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تو ہمارا بھائی اور ہمارا مولیٰ ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! آپ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی لڑکی سے نکاح کیوں نہ کر لیں؟ آپ نے فرمایا: ”وہ میرے رضاعی بھائی کی لڑکی ہے۔“ [صحیح بخاری:4251]
صفحہ نمبر8635
پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ جس خیر و مصلحت کو جانتا تھا اور جسے تم نہیں جانتے تھے اس بنا پر تمہیں اس سال مکہ میں نہ جانے دیا اور اگلے سال جانے دیا اور اس جانے سے پہلے ہی جس کا وعدہ خواب کی شکل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تھا تمہیں فتح قریب عنایت فرمائی۔ یہ فتح وہ صلح ہے جو تمہارے دشمنوں کے درمیان ہوئی۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ مومنوں کو خوشخبری سناتا ہے کہ وہ اپنے رسول کو ان دشمنوں پر اور تمام دشمنوں پر فتح دے گا اس نے آپ کو علم نافع اور عمل صالح کے ساتھ بھیجا ہے، شریعت میں دو ہی چیزیں ہوتی ہیں علم اور عمل پس علم شرعی صحیح علم ہے اور عمل شرعی مقبولیت والا عمل ہے۔ اس کے اخبار سچے، اس کے احکام سراسر عدل و حق والے۔ چاہتا یہ ہے کہ روئے زمین پر جتنے دین ہیں عربوں میں، عجمیوں میں، مسلمین میں، مشرکین میں، ان سب پر اس اپنے دین کو غالب اور ظاہر کرے، اللہ کافی گواہ ہے اس بات پر کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ ہی آپ کا مددگار ہے۔ «واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم»
صفحہ نمبر8636
تصدیق رسالت بزبان الہ ٭٭
ان آیتوں میں پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت و ثنا بیان ہوئی کہ آپ اللہ کے برحق رسول ہیں پھر آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی صفت و ثنا بیان ہو رہی ہے کہ وہ مخالفین پر سختی کرنے والے اور مسلمانوں پر نرمی کرنے والے ہیں جیسے اور آیت میں ہے «أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ» [5-المائدة:54] مومنوں کے سامنے نرم کفار کے مقابلہ میں گرم، ہر مومن کی یہی شان ہونی چاہیئے کہ وہ مومنوں سے خوش خلقی اور متواضع رہے اور کفار پر سختی کرنے والا اور کفر سے ناخوش رہے۔
قرآن حکیم فرماتا ہے «يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِيْنَ يَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوْا فِيْكُمْ غِلْظَةً وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ» [9-التوبة:123] ” ایمان والو! اپنے پاس کے کافروں سے جہاد کرو، وہ تم میں سختی محسوس کریں “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”آپس کی محبت اور نرم دلی میں مومنوں کی مثال ایک جسم کی طرح ہے کہ اگر کسی ایک عضو میں درد ہو تو سارا جسم بےقرار ہو جاتا ہے کبھی بخار چڑھ آتا ہے کبھی نیند اچاٹ ہو جاتی ہے“ ۔ [صحیح بخاری:6011]
صفحہ نمبر8638
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مومن مومن کے لیے مثل دیوار کے ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو تقویت پہنچاتا ہے اور مضبوط کرتا ہے، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسری میں ملا کر بتائیں“ ۔ [صحیح مسلم:2446]
پھر ان کا اور وصف بیان فرمایا کہ نیکیاں بکثرت کرتے ہیں خصوصاً نماز جو تمام نیکیوں سے افضل و اعلیٰ ہے، پھر ان کی نیکیوں میں چار چاند لگانے والی چیز کا بیان یعنی ان کے خلوص اور رضائے اللہ طلبی کا کہ یہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا کے متلاشی ہیں۔ یہ اپنے اعمال کا بدلہ اللہ تعالیٰ سے چاہتے ہیں جو جنت ہے اور اللہ کے فضل سے انہیں ملے گی اور اللہ تعالیٰ اپنی رضا مندی بھی انہیں عطا فرمائے گا جو بہت بڑی چیز ہے۔ جیسے فرمایا «وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ» [9-التوبة:72] ” اللہ تعالیٰ کی ذرا سی رضا بھی سب سے بڑی چیز ہے۔ “
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ چہروں پر سجدوں کے اثر سے علامت ہونے سے مراد اچھے اخلاق ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:370/11] مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں خشوع اور تواضع ہے۔
صفحہ نمبر8639
منصور رحمہ اللہ مجاہد رحمہ اللہ سے کہتے ہیں میرا تو یہ خیال تھا کہ اس سے مراد نماز کا نشان ہے جو ماتھے پر پڑ جاتا ہے، آپ نے فرمایا یہ تو ان کی پیشانیوں پر بھی ہوتا ہے جن کے دل فرعون سے بھی زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نماز ان کے چہرے اچھے کر دیتی ہے۔
بعض سلف سے منقول ہے جو رات کو بکثرت نماز پڑھے گا اس کا چہرہ دن کو خوبصورت ہو گا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے ابن ماجہ کی ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی مضمون ہے۔ [سنن ابن ماجہ:1333،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے بعض بزرگوں کا قول ہے کہ نیکی کی وجہ سے دل میں نور پیدا ہوتا ہے چہرے پر روشنی آتی ہے، روزی میں کشادگی ہوتی ہے، لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے۔ امیرالمؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ جو شخص اپنے اندرونی پوشیدہ حالات کی اصلاح کرے اور بھلائیاں پوشیدگی سے کرے، اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کی سلوٹوں پر اور اس کی زبان کے کناروں پر ان نیکیوں کو ظاہر کر دیتا ہے الغرض دل کا آئینہ چہرہ ہے، جو اس میں ہوتا ہے اس کا اثر چہرہ پر ہوتا ہے۔ پس مومن جب اپنے دل کو درست کر لیتا ہے، اپنا باطن سنوار لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کو بھی لوگوں کی نگاہوں میں سنوار دیتا ہے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص اپنے باطن کی اصلاح کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کو بھی آراستہ و پیراستہ کر دیتا ہے۔
صفحہ نمبر8640
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو شخص جیسی بات کو پوشیدہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کی چادر اڑھا دیتا ہے اگر وہ پوشیدگی بھلی ہے تو بھلائی کی اور اگر بری ہے تو برائی کی“ ۔ [اسنادہ موضوع] لیکن اس کا ایک راوی عراقی متروک ہے۔
مسند احمد میں آپ کا فرمان ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص کسی ٹھوس چٹان میں گھس کر جس کا نہ کوئی دروازہ ہو، نہ اس میں کوئی سوراخ ہو کوئی عمل کرے گا، اللہ اسے بھی لوگوں کے سامنے رکھ دے گا برائی ہو تو یا بھلائی ہو تو“ ۔ [مسند احمد:28/3:ضعیف]
مسند کی اور حدیث میں ہے نیک طریقہ، اچھا خلق، میانہ روی نبوت کے پچیسویں حصہ میں سے ایک حصہ ہے۔ [سنن ترمذي:2010،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر8641
الغرض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نیتیں خالص تھیں اعمال اچھے تھے پس جس کی نگاہ ان کے پاک چہروں پر پڑتی تھی اسے ان کی پاکبازی جچ جاتی تھی اور وہ ان کے چال چلن اور ان کے اخلاق اور ان کے طریقہ کار پر خوش ہوتا تھا۔
امام مالک رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ جن صحابہ رضی اللہ عنہم نے شام کا ملک فتح کیا جب وہاں کے نصرانی ان کے چہرے دیکھتے تو بےساختہ پکار اٹھتے، اللہ کی قسم یہ عیسیٰ کے حواریوں سے بہت ہی بہتر و افضل ہیں۔ فی الواقع ان کا یہ قول سچا ہے، اگلی کتابوں میں اس امت کی فضیلت و عظمت موجود ہے اور اس امت کی صف اول ان کے بہتر بزرگ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور خود ان کا ذکر بھی اگلی اللہ کی کتابوں میں اور پہلے کے واقعات میں موجود ہے۔ پس فرمایا یہی مثال ان کی توراۃ میں ہے۔
پھر فرماتا ہے اور ان کی مثال انجیل کی مانند کھیتی کے بیان کی گئی ہے جو اپنا سبزہ نکالتی ہے پھر اسے مضبوط اور قوی کرتی ہے پھر وہ طاقتور اور موٹا ہو جاتا ہے اور اپنی بال پر سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے اب کھیتی والے کی خوشی کا کیا پوچھنا ہے؟ اسی طرح اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ انہوں نے آپ کی تائید و نصرت کی پس وہ آپ کے ساتھ وہی تعلق رکھتے ہیں جو پٹھے اور سبزے کو کھیتی سے تھا یہ اس لیے کہ کفار شرمسار ہوں۔ امام مالک رحمہ اللہ نے اس آیت سے رافضیوں کے کفر پر استدلال کیا ہے کیونکہ وہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے چڑتے اور ان سے بغض رکھنے والا کافر ہے۔
علماء کی ایک جماعت بھی اس مسئلہ میں امام صاحب کے ساتھ ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل میں اور ان کی لغزشوں سے چشم پوشی کرنے میں بہت سی احادیث آئی ہیں خود اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریفیں بیان کیں اور ان سے اپنی رضا مندی کا اظہار کیا ہے کیا ان کی بزرگی میں یہ کافی نہیں؟ پھر فرماتا ہے ان ایمان والوں اور نیک اعمال والوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کے گناہ معاف اور انکا اجر عظیم اور رزق کریم ثواب جزیل اور بدلہ کبیر ثابت یاد رہے کہ «منھم» میں جو «من» ہے وہ یہاں بیان جنس کے لیے ہے، اللہ کا یہ سچا اور اٹل وعدہ ہے جو نہ بدلے، نہ خلاف ہو ان کے قدم بقدم چلنے والوں، ان کی روش پر کاربند ہونے والوں سے بھی اللہ کا یہ وعدہ ثابت ہے لیکن فضیلت اور سبقت کمال اور بزرگی جو انہیں ہے امت میں سے کسی کو حاصل نہیں، اللہ ان سے خوش، اللہ ان سے راضی، یہ جنتی ہو چکے اور بدلے پالئے۔
صفحہ نمبر8642
صحیح مسلم شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”کو برا نہ کہو ان کی بےادبی اور گستاخی نہ کرو اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو ان کے تین پاؤ اناج بلکہ ڈیڑھ پاؤ اناج کے اجر کو بھی نہیں پا سکتا“ ۔ [صحیح مسلم:2540]
«الحمداللہ» سورۃ الفتح کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر8643