John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Hujuraat

Tafsir Ibn Kathir · The Inner Apartments · 18 ayat · Quran text →

باب

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو اپنے نبی کے آداب سکھاتا ہے کہ تمہیں اپنے نبی کی توقیر و احترام عزت و عظمت کا خیال کرنا چاہیئے، تمام کاموں میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے رہنا چاہیئے، اتباع اور تابعداری کی خو ڈالنی چاہیئے۔

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف بھیجا تو دریافت فرمایا: ”اپنے احکامات کے نفاذ کی بنیاد کسے بناؤ گے؟“ جواب دیا: اللہ کی کتاب کو، فرمایا: ”اگر نہ پاؤ؟“، جواب دیا: سنت کو، فرمایا: ”اگر نہ پاؤ؟“ جواب دیا: اجتہاد کروں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے جس نے رسول اللہ کے قاصد کو ایسی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول خوش ہو۔‏“ [سنن ابوداود:3592،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8644

یہاں اس حدیث کے وارد کرنے سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی رائے، نظر اور اجتہاد کو کتاب و سنت سے مؤخر رکھا پس کتاب و سنت پر رائے کو مقدم کرنا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھنا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ کتاب و سنت کے خلاف نہ کہو۔ عوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے سامنے بولنے سے منع کر دیا گیا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک کسی امر کی بابت اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نہ فرمائیں تم خاموش رہو۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں امر دین، احکام شرعی میں سوائے اللہ کے کلام اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے تم کسی اور چیز سے فیصلہ نہ کرو۔

سفیان ثوری رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کسی قول و فعل میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پہل نہ کرو۔

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ امام سے پہلے دعا نہ کرو۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں اگر فلاں فلاں میں حکم اترے تو اس طرح رکھنا چاہیئے اسے اللہ نے ناپسند فرمایا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ حکم اللہ کی بجا آوری میں اللہ کا لحاظ رکھو، اللہ تمہاری باتیں سن رہا ہے اور تمہارے ارادے جان رہا ہے۔ پھر دوسرا ادب سکھاتا ہے کہ وہ نبی کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کریں۔ یہ آیت سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی۔ صحیح بخاری میں ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ قریب تھا کہ وہ بہترین ہستیاں ہلاک ہو جائیں یعنی سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما ان دونوں کی آوازیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بلند ہو گئیں جبکہ بنو تمیم کا وفد حاضر ہوا تھا ایک تو اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو کہتے تھے، جو بنی مجاشع میں تھے اور دوسرے شخص کی بابت کہتے تھے۔ اس پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”تم تو میرے خلاف ہی کیا کرتے ہو؟“ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ”نہیں، نہیں آپ یہ خیال بھی نہ فرمائیے“، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے بعد تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نرم کلامی کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ پوچھنا پڑتا تھا ۔ [صحیح بخاری:4845] ‏

صفحہ نمبر8645

اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے قعقاع بن معبد رضی اللہ عنہ کو اس وفد کا امیر بنائیے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے نہیں بلکہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو، اس اختلاف میں آوازیں کچھ بلند ہو گئیں، جس پر آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّـهِ وَرَ‌سُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» [49-الحجرات:1] ‏ نازل ہوئی اور آیت «وَلَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» ۔ [49-الحجرات:5] ‏ [صحیح بخاری:4847] ‏

مسند بزار میں ہے آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْـهَرُوْا لَهٗ بالْقَوْلِ كَجَــهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَــطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ» [49-الحجرات:2] ‏ کے نازل ہونے کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”یا رسول اللہ! قسم اللہ کی اب تو میں آپ سے اس طرح باتیں کروں گا جس طرح کوئی سرگوشی کرتا ہے“ ۔ [مسند بزار:2257:حسن] ‏

صفحہ نمبر8646

صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کئی دن تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں نظر نہ آئے، اس پر ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! اس کی بابت آپ کو بتاؤں گا، چنانچہ وہ ثابت رضی اللہ عنہ کے مکان پر آئے دیکھا کہ وہ سر جھکائے ہوئے بیٹھے ہیں۔ پوچھا: کیا حال ہے۔ جواب ملا، برا حال ہے، میں تو صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر اپنی آواز کو بلند کرتا تھا میرے اعمال برباد ہو گئے اور میں جہنمی بن گیا۔ یہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ سنایا پھر تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے ایک زبردست بشارت لے کر دوبارہ یہ ثابت رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جاؤ اور ان سے کہو کہ تو جہنمی نہیں بلکہ جنتی ہے۔“ [صحیح بخاری:4846] ‏

مسند احمد میں بھی یہ واقعہ ہے اس میں یہ بھی ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تھا کہ ”ثابت کہاں ہیں، نظر نہیں آتے؟“ اس کے آخر میں ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم انہیں زندہ چلتا پھرتا دیکھتے تھے اور جانتے تھے کہ وہ اہل جنت میں سے ہیں۔ یمامہ کی جنگ میں جب کہ مسلمان قدرے بددل ہو گئے تو ہم نے دیکھا کہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ خوشبو ملے، کفن پہنے ہوئے، دشمن کی طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور فرما رہے ہیں: ”مسلمانو تم لوگ اپنے بعد والوں کے لیے برا نمونہ نہ چھوڑ جاؤ“، یہ کہہ کر دشمنوں میں گھس گئے اور بہادرانہ لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے ۔ [مسند احمد:137/3:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8647

صحیح مسلم میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں نہیں دیکھا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے جو ان کے پڑوسی تھے دریافت فرمایا کہ ”کیا ثابت بیمار ہیں؟“ [صحیح مسلم:187] ‏

لیکن اس حدیث کی اور سندوں میں سعد رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت معطل ہے اور یہی بات صحیح بھی ہے اس لیے کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اس وقت زندہ ہی نہ تھے بلکہ آپ کا انتقال بنو قریظہ کی جنگ کے بعد تھوڑے ہی دنوں میں ہو گیا تھا اور بنو قریظہ کی جنگ سنہ ۵ ہجری میں ہوئی تھی اور یہ آیت وفد بنی تمیم کی آمد کے وقت اتری ہے اور وفود کا پے در پے آنے کا واقعہ سنہ ۹ ہجری کا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8648

ابن جریر میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:379/11] ‏ جب یہ آیت اتری تو سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ راستے میں بیٹھ گئے اور رونے لگے سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ جب وہاں سے گزرے اور انہیں روتے دیکھا تو سبب دریافت کیا جواب ملا کہ مجھے خوف ہے کہ کہیں یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل نہ ہوئی ہو میری آواز بلند ہے سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ یہ سن کر چلے گئے اور سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کی ہچکی بندھ گئی دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور اپنی بیوی صاحبہ جمیلہ بنت عبداللہ بن ابی سلول سے کہا میں اپنے گھوڑے کے طویلے میں جا رہا ہوں تم اس کا دروازہ باہر سے بند کر کے لوہے کی کیل سے اسے جڑ دو۔ اللہ کی قسم! میں اس میں سے نہ نکلوں گا یہاں تک کہ یا مر جاؤں یا اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے رضامند کر دے۔

یہاں تو یہ ہوا، وہاں جب عاصم رضی اللہ عنہ نے دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں ثابت رضی اللہ عنہ کی حالت بیان کی تو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”تم جاؤ اور ثابت کو میرے پاس بلا لاؤ“، لیکن عاصم رضی اللہ عنہ اس جگہ آئے تو دیکھا کہ ثابت وہاں نہیں، مکان پر گئے تو معلوم ہوا کہ وہ تو گھوڑے کے طویلے میں ہیں یہاں آ کر کہا: ثابت! چلو تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاد فرما رہے ہیں۔

سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: بہت خوب کیل نکال ڈالو اور دروازہ کھول دو، پھر باہر نکل کر سرکار میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رونے کی وجہ پوچھی، جس کا سچا جواب سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ سے سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم قابل تعریف زندگی گزارو اور شہید ہو کر مرو اور جنت میں جاؤ۔‏“ اس پر سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کا سارا رنج کافور ہو گیا اور باچھیں کھل گئیں اور فرمانے لگے ”یا رسول اللہ! میں اللہ تعالیٰ کی اور آپ کی اس بشارت پر بہت خوش ہوں اور اب آئندہ کبھی بھی اپنی آواز آپ کی آواز سے اونچی نہ کروں گا۔ اس پر اس کے بعد کی آیت «إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَ‌سُولِ اللَّـهِ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ لَهُم مَّغْفِرَ‌ةٌ وَأَجْرٌ‌ عَظِيمٌ» [49-الحجرات:3] ‏ نازل ہوئی، یہ قصہ اسی طرح کئی ایک تابعین سے بھی مروی ہے۔

صفحہ نمبر8649

الغرض اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آواز بلند کرنے سے منع فرما دیا۔ سیدنا امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دو شخصوں کی کچھ بلند آوازیں مسجد نبوی میں سن کر وہاں آ کر ان سے فرمایا: ”تمہیں معلوم بھی ہے کہ تم کہاں ہو؟“، پھر ان سے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ انہوں نے کہا: طائف کے، آپ نے فرمایا: اگر تم مدینے کے ہوتے تو میں تمہیں پوری سزا دیتا۔

علماء کرام کا فرمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف کے پاس بھی بلند آواز سے بولنا مکروہ ہے جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مکروہ تھا، اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح اپنی زندگی میں قابل احترام و عزت تھے اب اور ہمیشہ تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر شریف میں بھی باعزت اور قابل احترام ہی ہیں۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے جس طرح عام لوگوں سے باآواز بلند باتیں کرتے ہیں باتیں کرنی منع فرمائیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تسکین و وقار، عزت و ادب، حرمت و عظمت سے باتیں کرنی چاہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «لَّا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّ‌سُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا» [24-النور:63] ‏ ” اے مسلمانو! رسول (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اس طرح نہ پکارو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ “

پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے تمہیں اس بلند آواز سے اس لیے روکا ہے کہ ایسا نہ ہو کسی وقت نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) ناراض ہو جائیں اور آپ کی ناراضگی کی وجہ سے اللہ ناراض ہو جائے اور تمہارے کل اعمال ضبط کر لے اور تمہیں اس کا پتہ بھی نہ چلے “۔

چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ ایک شخص اللہ کی رضا مندی کا کوئی کلمہ ایسا کہہ گزرتا ہے کہ اس کے نزدیک تو اس کلمہ کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، لیکن اللہ کو وہ اتنا پسند آتا ہے کہ اس کی وجہ سے وہ جنتی ہو جاتا ہے، اسی طرح انسان اللہ کی ناراضگی کا کوئی ایسا کلمہ کہہ جاتا ہے کہ اس کے نزدیک تو اس کی کوئی وقعت نہیں ہوتی لیکن اللہ تعالیٰ اسے اس ایک کلمہ کی وجہ سے جہنم کے اس قدر نیچے کے طبقے میں پہنچا دیتا ہے کہ جو گڑھا آسمان و زمین سے زیادہ گہرا ہے ۔ [صحیح بخاری:6478] ‏

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آواز پست کرنے کی رغبت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ” جو لوگ اللہ کے نبی کے سامنے اپنی آوازیں دھیمی کرتے ہیں انہیں اللہ رب العزت نے تقوے کے لیے خالص کر لیا ہے، اہل تقویٰ اور محل تقویٰ یہی لوگ ہیں، یہ اللہ کی مغفرت کے مستحق اور اجر عظیم کے لائق ہیں “۔

صفحہ نمبر8650

امام احمد رحمہ اللہ نے کتاب الزہد میں ایک روایت نقل کی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ایک تحریراً استفتاء لیا گیا کہ اے امیر المؤمنین ایک وہ شخص جسے نافرمانی کی خواہش ہی نہ ہو اور نہ کوئی نافرمانی اس نے کی ہو وہ اور وہ شخص جسے خواہش معصیت ہے لیکن وہ برا کام نہیں کرتا تو ان میں سے افضل کون ہے؟

آپ نے جواب میں لکھا کہ جنہیں معصیت کی خواہش ہوتی ہے پھر نافرمانیوں سے بچتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے پرہیزگاری کے لیے آزما لیا ہے ان کے لیے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر و ثواب ہے۔

صفحہ نمبر8651

باب

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو اپنے نبی کے آداب سکھاتا ہے کہ تمہیں اپنے نبی کی توقیر و احترام عزت و عظمت کا خیال کرنا چاہیئے، تمام کاموں میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے رہنا چاہیئے، اتباع اور تابعداری کی خو ڈالنی چاہیئے۔

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف بھیجا تو دریافت فرمایا: ”اپنے احکامات کے نفاذ کی بنیاد کسے بناؤ گے؟“ جواب دیا: اللہ کی کتاب کو، فرمایا: ”اگر نہ پاؤ؟“، جواب دیا: سنت کو، فرمایا: ”اگر نہ پاؤ؟“ جواب دیا: اجتہاد کروں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے جس نے رسول اللہ کے قاصد کو ایسی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول خوش ہو۔‏“ [سنن ابوداود:3592،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8644

یہاں اس حدیث کے وارد کرنے سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی رائے، نظر اور اجتہاد کو کتاب و سنت سے مؤخر رکھا پس کتاب و سنت پر رائے کو مقدم کرنا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھنا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ کتاب و سنت کے خلاف نہ کہو۔ عوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے سامنے بولنے سے منع کر دیا گیا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک کسی امر کی بابت اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نہ فرمائیں تم خاموش رہو۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں امر دین، احکام شرعی میں سوائے اللہ کے کلام اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے تم کسی اور چیز سے فیصلہ نہ کرو۔

سفیان ثوری رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کسی قول و فعل میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پہل نہ کرو۔

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ امام سے پہلے دعا نہ کرو۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں اگر فلاں فلاں میں حکم اترے تو اس طرح رکھنا چاہیئے اسے اللہ نے ناپسند فرمایا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ حکم اللہ کی بجا آوری میں اللہ کا لحاظ رکھو، اللہ تمہاری باتیں سن رہا ہے اور تمہارے ارادے جان رہا ہے۔ پھر دوسرا ادب سکھاتا ہے کہ وہ نبی کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کریں۔ یہ آیت سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی۔ صحیح بخاری میں ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ قریب تھا کہ وہ بہترین ہستیاں ہلاک ہو جائیں یعنی سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما ان دونوں کی آوازیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بلند ہو گئیں جبکہ بنو تمیم کا وفد حاضر ہوا تھا ایک تو اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو کہتے تھے، جو بنی مجاشع میں تھے اور دوسرے شخص کی بابت کہتے تھے۔ اس پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”تم تو میرے خلاف ہی کیا کرتے ہو؟“ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ”نہیں، نہیں آپ یہ خیال بھی نہ فرمائیے“، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے بعد تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نرم کلامی کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ پوچھنا پڑتا تھا ۔ [صحیح بخاری:4845] ‏

صفحہ نمبر8645

اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے قعقاع بن معبد رضی اللہ عنہ کو اس وفد کا امیر بنائیے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے نہیں بلکہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو، اس اختلاف میں آوازیں کچھ بلند ہو گئیں، جس پر آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّـهِ وَرَ‌سُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» [49-الحجرات:1] ‏ نازل ہوئی اور آیت «وَلَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» ۔ [49-الحجرات:5] ‏ [صحیح بخاری:4847] ‏

مسند بزار میں ہے آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْـهَرُوْا لَهٗ بالْقَوْلِ كَجَــهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَــطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ» [49-الحجرات:2] ‏ کے نازل ہونے کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”یا رسول اللہ! قسم اللہ کی اب تو میں آپ سے اس طرح باتیں کروں گا جس طرح کوئی سرگوشی کرتا ہے“ ۔ [مسند بزار:2257:حسن] ‏

صفحہ نمبر8646

صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کئی دن تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں نظر نہ آئے، اس پر ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! اس کی بابت آپ کو بتاؤں گا، چنانچہ وہ ثابت رضی اللہ عنہ کے مکان پر آئے دیکھا کہ وہ سر جھکائے ہوئے بیٹھے ہیں۔ پوچھا: کیا حال ہے۔ جواب ملا، برا حال ہے، میں تو صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر اپنی آواز کو بلند کرتا تھا میرے اعمال برباد ہو گئے اور میں جہنمی بن گیا۔ یہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ سنایا پھر تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے ایک زبردست بشارت لے کر دوبارہ یہ ثابت رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جاؤ اور ان سے کہو کہ تو جہنمی نہیں بلکہ جنتی ہے۔“ [صحیح بخاری:4846] ‏

مسند احمد میں بھی یہ واقعہ ہے اس میں یہ بھی ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تھا کہ ”ثابت کہاں ہیں، نظر نہیں آتے؟“ اس کے آخر میں ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم انہیں زندہ چلتا پھرتا دیکھتے تھے اور جانتے تھے کہ وہ اہل جنت میں سے ہیں۔ یمامہ کی جنگ میں جب کہ مسلمان قدرے بددل ہو گئے تو ہم نے دیکھا کہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ خوشبو ملے، کفن پہنے ہوئے، دشمن کی طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور فرما رہے ہیں: ”مسلمانو تم لوگ اپنے بعد والوں کے لیے برا نمونہ نہ چھوڑ جاؤ“، یہ کہہ کر دشمنوں میں گھس گئے اور بہادرانہ لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے ۔ [مسند احمد:137/3:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8647

صحیح مسلم میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں نہیں دیکھا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے جو ان کے پڑوسی تھے دریافت فرمایا کہ ”کیا ثابت بیمار ہیں؟“ [صحیح مسلم:187] ‏

لیکن اس حدیث کی اور سندوں میں سعد رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت معطل ہے اور یہی بات صحیح بھی ہے اس لیے کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اس وقت زندہ ہی نہ تھے بلکہ آپ کا انتقال بنو قریظہ کی جنگ کے بعد تھوڑے ہی دنوں میں ہو گیا تھا اور بنو قریظہ کی جنگ سنہ ۵ ہجری میں ہوئی تھی اور یہ آیت وفد بنی تمیم کی آمد کے وقت اتری ہے اور وفود کا پے در پے آنے کا واقعہ سنہ ۹ ہجری کا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8648

ابن جریر میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:379/11] ‏ جب یہ آیت اتری تو سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ راستے میں بیٹھ گئے اور رونے لگے سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ جب وہاں سے گزرے اور انہیں روتے دیکھا تو سبب دریافت کیا جواب ملا کہ مجھے خوف ہے کہ کہیں یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل نہ ہوئی ہو میری آواز بلند ہے سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ یہ سن کر چلے گئے اور سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کی ہچکی بندھ گئی دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور اپنی بیوی صاحبہ جمیلہ بنت عبداللہ بن ابی سلول سے کہا میں اپنے گھوڑے کے طویلے میں جا رہا ہوں تم اس کا دروازہ باہر سے بند کر کے لوہے کی کیل سے اسے جڑ دو۔ اللہ کی قسم! میں اس میں سے نہ نکلوں گا یہاں تک کہ یا مر جاؤں یا اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے رضامند کر دے۔

یہاں تو یہ ہوا، وہاں جب عاصم رضی اللہ عنہ نے دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں ثابت رضی اللہ عنہ کی حالت بیان کی تو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”تم جاؤ اور ثابت کو میرے پاس بلا لاؤ“، لیکن عاصم رضی اللہ عنہ اس جگہ آئے تو دیکھا کہ ثابت وہاں نہیں، مکان پر گئے تو معلوم ہوا کہ وہ تو گھوڑے کے طویلے میں ہیں یہاں آ کر کہا: ثابت! چلو تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاد فرما رہے ہیں۔

سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: بہت خوب کیل نکال ڈالو اور دروازہ کھول دو، پھر باہر نکل کر سرکار میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رونے کی وجہ پوچھی، جس کا سچا جواب سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ سے سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم قابل تعریف زندگی گزارو اور شہید ہو کر مرو اور جنت میں جاؤ۔‏“ اس پر سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کا سارا رنج کافور ہو گیا اور باچھیں کھل گئیں اور فرمانے لگے ”یا رسول اللہ! میں اللہ تعالیٰ کی اور آپ کی اس بشارت پر بہت خوش ہوں اور اب آئندہ کبھی بھی اپنی آواز آپ کی آواز سے اونچی نہ کروں گا۔ اس پر اس کے بعد کی آیت «إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَ‌سُولِ اللَّـهِ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ لَهُم مَّغْفِرَ‌ةٌ وَأَجْرٌ‌ عَظِيمٌ» [49-الحجرات:3] ‏ نازل ہوئی، یہ قصہ اسی طرح کئی ایک تابعین سے بھی مروی ہے۔

صفحہ نمبر8649

الغرض اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آواز بلند کرنے سے منع فرما دیا۔ سیدنا امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دو شخصوں کی کچھ بلند آوازیں مسجد نبوی میں سن کر وہاں آ کر ان سے فرمایا: ”تمہیں معلوم بھی ہے کہ تم کہاں ہو؟“، پھر ان سے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ انہوں نے کہا: طائف کے، آپ نے فرمایا: اگر تم مدینے کے ہوتے تو میں تمہیں پوری سزا دیتا۔

علماء کرام کا فرمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف کے پاس بھی بلند آواز سے بولنا مکروہ ہے جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مکروہ تھا، اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح اپنی زندگی میں قابل احترام و عزت تھے اب اور ہمیشہ تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر شریف میں بھی باعزت اور قابل احترام ہی ہیں۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے جس طرح عام لوگوں سے باآواز بلند باتیں کرتے ہیں باتیں کرنی منع فرمائیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تسکین و وقار، عزت و ادب، حرمت و عظمت سے باتیں کرنی چاہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «لَّا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّ‌سُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا» [24-النور:63] ‏ ” اے مسلمانو! رسول (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اس طرح نہ پکارو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ “

پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے تمہیں اس بلند آواز سے اس لیے روکا ہے کہ ایسا نہ ہو کسی وقت نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) ناراض ہو جائیں اور آپ کی ناراضگی کی وجہ سے اللہ ناراض ہو جائے اور تمہارے کل اعمال ضبط کر لے اور تمہیں اس کا پتہ بھی نہ چلے “۔

چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ ایک شخص اللہ کی رضا مندی کا کوئی کلمہ ایسا کہہ گزرتا ہے کہ اس کے نزدیک تو اس کلمہ کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، لیکن اللہ کو وہ اتنا پسند آتا ہے کہ اس کی وجہ سے وہ جنتی ہو جاتا ہے، اسی طرح انسان اللہ کی ناراضگی کا کوئی ایسا کلمہ کہہ جاتا ہے کہ اس کے نزدیک تو اس کی کوئی وقعت نہیں ہوتی لیکن اللہ تعالیٰ اسے اس ایک کلمہ کی وجہ سے جہنم کے اس قدر نیچے کے طبقے میں پہنچا دیتا ہے کہ جو گڑھا آسمان و زمین سے زیادہ گہرا ہے ۔ [صحیح بخاری:6478] ‏

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آواز پست کرنے کی رغبت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ” جو لوگ اللہ کے نبی کے سامنے اپنی آوازیں دھیمی کرتے ہیں انہیں اللہ رب العزت نے تقوے کے لیے خالص کر لیا ہے، اہل تقویٰ اور محل تقویٰ یہی لوگ ہیں، یہ اللہ کی مغفرت کے مستحق اور اجر عظیم کے لائق ہیں “۔

صفحہ نمبر8650

امام احمد رحمہ اللہ نے کتاب الزہد میں ایک روایت نقل کی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ایک تحریراً استفتاء لیا گیا کہ اے امیر المؤمنین ایک وہ شخص جسے نافرمانی کی خواہش ہی نہ ہو اور نہ کوئی نافرمانی اس نے کی ہو وہ اور وہ شخص جسے خواہش معصیت ہے لیکن وہ برا کام نہیں کرتا تو ان میں سے افضل کون ہے؟

آپ نے جواب میں لکھا کہ جنہیں معصیت کی خواہش ہوتی ہے پھر نافرمانیوں سے بچتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے پرہیزگاری کے لیے آزما لیا ہے ان کے لیے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر و ثواب ہے۔

صفحہ نمبر8651

باب

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو اپنے نبی کے آداب سکھاتا ہے کہ تمہیں اپنے نبی کی توقیر و احترام عزت و عظمت کا خیال کرنا چاہیئے، تمام کاموں میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے رہنا چاہیئے، اتباع اور تابعداری کی خو ڈالنی چاہیئے۔

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف بھیجا تو دریافت فرمایا: ”اپنے احکامات کے نفاذ کی بنیاد کسے بناؤ گے؟“ جواب دیا: اللہ کی کتاب کو، فرمایا: ”اگر نہ پاؤ؟“، جواب دیا: سنت کو، فرمایا: ”اگر نہ پاؤ؟“ جواب دیا: اجتہاد کروں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے جس نے رسول اللہ کے قاصد کو ایسی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول خوش ہو۔‏“ [سنن ابوداود:3592،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8644

یہاں اس حدیث کے وارد کرنے سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی رائے، نظر اور اجتہاد کو کتاب و سنت سے مؤخر رکھا پس کتاب و سنت پر رائے کو مقدم کرنا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھنا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ کتاب و سنت کے خلاف نہ کہو۔ عوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے سامنے بولنے سے منع کر دیا گیا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک کسی امر کی بابت اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نہ فرمائیں تم خاموش رہو۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں امر دین، احکام شرعی میں سوائے اللہ کے کلام اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے تم کسی اور چیز سے فیصلہ نہ کرو۔

سفیان ثوری رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کسی قول و فعل میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پہل نہ کرو۔

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ امام سے پہلے دعا نہ کرو۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں اگر فلاں فلاں میں حکم اترے تو اس طرح رکھنا چاہیئے اسے اللہ نے ناپسند فرمایا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ حکم اللہ کی بجا آوری میں اللہ کا لحاظ رکھو، اللہ تمہاری باتیں سن رہا ہے اور تمہارے ارادے جان رہا ہے۔ پھر دوسرا ادب سکھاتا ہے کہ وہ نبی کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کریں۔ یہ آیت سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی۔ صحیح بخاری میں ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ قریب تھا کہ وہ بہترین ہستیاں ہلاک ہو جائیں یعنی سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما ان دونوں کی آوازیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بلند ہو گئیں جبکہ بنو تمیم کا وفد حاضر ہوا تھا ایک تو اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو کہتے تھے، جو بنی مجاشع میں تھے اور دوسرے شخص کی بابت کہتے تھے۔ اس پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”تم تو میرے خلاف ہی کیا کرتے ہو؟“ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ”نہیں، نہیں آپ یہ خیال بھی نہ فرمائیے“، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے بعد تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نرم کلامی کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ پوچھنا پڑتا تھا ۔ [صحیح بخاری:4845] ‏

صفحہ نمبر8645

اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے قعقاع بن معبد رضی اللہ عنہ کو اس وفد کا امیر بنائیے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے نہیں بلکہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو، اس اختلاف میں آوازیں کچھ بلند ہو گئیں، جس پر آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّـهِ وَرَ‌سُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» [49-الحجرات:1] ‏ نازل ہوئی اور آیت «وَلَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» ۔ [49-الحجرات:5] ‏ [صحیح بخاری:4847] ‏

مسند بزار میں ہے آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْـهَرُوْا لَهٗ بالْقَوْلِ كَجَــهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَــطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ» [49-الحجرات:2] ‏ کے نازل ہونے کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”یا رسول اللہ! قسم اللہ کی اب تو میں آپ سے اس طرح باتیں کروں گا جس طرح کوئی سرگوشی کرتا ہے“ ۔ [مسند بزار:2257:حسن] ‏

صفحہ نمبر8646

صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کئی دن تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں نظر نہ آئے، اس پر ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! اس کی بابت آپ کو بتاؤں گا، چنانچہ وہ ثابت رضی اللہ عنہ کے مکان پر آئے دیکھا کہ وہ سر جھکائے ہوئے بیٹھے ہیں۔ پوچھا: کیا حال ہے۔ جواب ملا، برا حال ہے، میں تو صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر اپنی آواز کو بلند کرتا تھا میرے اعمال برباد ہو گئے اور میں جہنمی بن گیا۔ یہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ سنایا پھر تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے ایک زبردست بشارت لے کر دوبارہ یہ ثابت رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جاؤ اور ان سے کہو کہ تو جہنمی نہیں بلکہ جنتی ہے۔“ [صحیح بخاری:4846] ‏

مسند احمد میں بھی یہ واقعہ ہے اس میں یہ بھی ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تھا کہ ”ثابت کہاں ہیں، نظر نہیں آتے؟“ اس کے آخر میں ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم انہیں زندہ چلتا پھرتا دیکھتے تھے اور جانتے تھے کہ وہ اہل جنت میں سے ہیں۔ یمامہ کی جنگ میں جب کہ مسلمان قدرے بددل ہو گئے تو ہم نے دیکھا کہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ خوشبو ملے، کفن پہنے ہوئے، دشمن کی طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور فرما رہے ہیں: ”مسلمانو تم لوگ اپنے بعد والوں کے لیے برا نمونہ نہ چھوڑ جاؤ“، یہ کہہ کر دشمنوں میں گھس گئے اور بہادرانہ لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے ۔ [مسند احمد:137/3:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8647

صحیح مسلم میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں نہیں دیکھا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے جو ان کے پڑوسی تھے دریافت فرمایا کہ ”کیا ثابت بیمار ہیں؟“ [صحیح مسلم:187] ‏

لیکن اس حدیث کی اور سندوں میں سعد رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت معطل ہے اور یہی بات صحیح بھی ہے اس لیے کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اس وقت زندہ ہی نہ تھے بلکہ آپ کا انتقال بنو قریظہ کی جنگ کے بعد تھوڑے ہی دنوں میں ہو گیا تھا اور بنو قریظہ کی جنگ سنہ ۵ ہجری میں ہوئی تھی اور یہ آیت وفد بنی تمیم کی آمد کے وقت اتری ہے اور وفود کا پے در پے آنے کا واقعہ سنہ ۹ ہجری کا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8648

ابن جریر میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:379/11] ‏ جب یہ آیت اتری تو سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ راستے میں بیٹھ گئے اور رونے لگے سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ جب وہاں سے گزرے اور انہیں روتے دیکھا تو سبب دریافت کیا جواب ملا کہ مجھے خوف ہے کہ کہیں یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل نہ ہوئی ہو میری آواز بلند ہے سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ یہ سن کر چلے گئے اور سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کی ہچکی بندھ گئی دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور اپنی بیوی صاحبہ جمیلہ بنت عبداللہ بن ابی سلول سے کہا میں اپنے گھوڑے کے طویلے میں جا رہا ہوں تم اس کا دروازہ باہر سے بند کر کے لوہے کی کیل سے اسے جڑ دو۔ اللہ کی قسم! میں اس میں سے نہ نکلوں گا یہاں تک کہ یا مر جاؤں یا اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے رضامند کر دے۔

یہاں تو یہ ہوا، وہاں جب عاصم رضی اللہ عنہ نے دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں ثابت رضی اللہ عنہ کی حالت بیان کی تو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”تم جاؤ اور ثابت کو میرے پاس بلا لاؤ“، لیکن عاصم رضی اللہ عنہ اس جگہ آئے تو دیکھا کہ ثابت وہاں نہیں، مکان پر گئے تو معلوم ہوا کہ وہ تو گھوڑے کے طویلے میں ہیں یہاں آ کر کہا: ثابت! چلو تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاد فرما رہے ہیں۔

سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: بہت خوب کیل نکال ڈالو اور دروازہ کھول دو، پھر باہر نکل کر سرکار میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رونے کی وجہ پوچھی، جس کا سچا جواب سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ سے سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم قابل تعریف زندگی گزارو اور شہید ہو کر مرو اور جنت میں جاؤ۔‏“ اس پر سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کا سارا رنج کافور ہو گیا اور باچھیں کھل گئیں اور فرمانے لگے ”یا رسول اللہ! میں اللہ تعالیٰ کی اور آپ کی اس بشارت پر بہت خوش ہوں اور اب آئندہ کبھی بھی اپنی آواز آپ کی آواز سے اونچی نہ کروں گا۔ اس پر اس کے بعد کی آیت «إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَ‌سُولِ اللَّـهِ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ لَهُم مَّغْفِرَ‌ةٌ وَأَجْرٌ‌ عَظِيمٌ» [49-الحجرات:3] ‏ نازل ہوئی، یہ قصہ اسی طرح کئی ایک تابعین سے بھی مروی ہے۔

صفحہ نمبر8649

الغرض اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آواز بلند کرنے سے منع فرما دیا۔ سیدنا امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دو شخصوں کی کچھ بلند آوازیں مسجد نبوی میں سن کر وہاں آ کر ان سے فرمایا: ”تمہیں معلوم بھی ہے کہ تم کہاں ہو؟“، پھر ان سے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ انہوں نے کہا: طائف کے، آپ نے فرمایا: اگر تم مدینے کے ہوتے تو میں تمہیں پوری سزا دیتا۔

علماء کرام کا فرمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف کے پاس بھی بلند آواز سے بولنا مکروہ ہے جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مکروہ تھا، اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح اپنی زندگی میں قابل احترام و عزت تھے اب اور ہمیشہ تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر شریف میں بھی باعزت اور قابل احترام ہی ہیں۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے جس طرح عام لوگوں سے باآواز بلند باتیں کرتے ہیں باتیں کرنی منع فرمائیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تسکین و وقار، عزت و ادب، حرمت و عظمت سے باتیں کرنی چاہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «لَّا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّ‌سُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا» [24-النور:63] ‏ ” اے مسلمانو! رسول (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اس طرح نہ پکارو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ “

پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے تمہیں اس بلند آواز سے اس لیے روکا ہے کہ ایسا نہ ہو کسی وقت نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) ناراض ہو جائیں اور آپ کی ناراضگی کی وجہ سے اللہ ناراض ہو جائے اور تمہارے کل اعمال ضبط کر لے اور تمہیں اس کا پتہ بھی نہ چلے “۔

چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ ایک شخص اللہ کی رضا مندی کا کوئی کلمہ ایسا کہہ گزرتا ہے کہ اس کے نزدیک تو اس کلمہ کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، لیکن اللہ کو وہ اتنا پسند آتا ہے کہ اس کی وجہ سے وہ جنتی ہو جاتا ہے، اسی طرح انسان اللہ کی ناراضگی کا کوئی ایسا کلمہ کہہ جاتا ہے کہ اس کے نزدیک تو اس کی کوئی وقعت نہیں ہوتی لیکن اللہ تعالیٰ اسے اس ایک کلمہ کی وجہ سے جہنم کے اس قدر نیچے کے طبقے میں پہنچا دیتا ہے کہ جو گڑھا آسمان و زمین سے زیادہ گہرا ہے ۔ [صحیح بخاری:6478] ‏

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آواز پست کرنے کی رغبت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ” جو لوگ اللہ کے نبی کے سامنے اپنی آوازیں دھیمی کرتے ہیں انہیں اللہ رب العزت نے تقوے کے لیے خالص کر لیا ہے، اہل تقویٰ اور محل تقویٰ یہی لوگ ہیں، یہ اللہ کی مغفرت کے مستحق اور اجر عظیم کے لائق ہیں “۔

صفحہ نمبر8650

امام احمد رحمہ اللہ نے کتاب الزہد میں ایک روایت نقل کی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ایک تحریراً استفتاء لیا گیا کہ اے امیر المؤمنین ایک وہ شخص جسے نافرمانی کی خواہش ہی نہ ہو اور نہ کوئی نافرمانی اس نے کی ہو وہ اور وہ شخص جسے خواہش معصیت ہے لیکن وہ برا کام نہیں کرتا تو ان میں سے افضل کون ہے؟

آپ نے جواب میں لکھا کہ جنہیں معصیت کی خواہش ہوتی ہے پھر نافرمانیوں سے بچتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے پرہیزگاری کے لیے آزما لیا ہے ان کے لیے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر و ثواب ہے۔

صفحہ نمبر8651

آداب خطاب ٭٭

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت بیان کرتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکانوں کے پیچھے سے آپ کو آوازیں دیتے اور پکارتے ہیں۔ جس طرح اعراب میں دستور تھا تو فرمایا کہ ” ان میں سے اکثر بےعقل ہیں “۔

پھر اس کی بابت ادب سکھاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” چاہیئے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں ٹھہر جاتے اور جب آپ مکان سے باہر نکلتے تو آپ سے جو کہنا ہوتا کہتے “، نہ کہ آوازیں دے کر باہر سے پکارتے۔ دنیا اور دین کی مصلحت اور بہتری اسی میں تھی۔

صفحہ نمبر8654

پھر حکم دیتا ہے کہ ” ایسے لوگوں کو توبہ استغفار کرنا چاہیئے کیونکہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے “۔ یہ آیت اقرع بن حابس تمیمی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا، آپ کا نام لے کر پکارا ”یا محمد! یا محمد! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، تو اس نے کہا: سنئے، یا رسول اللہ! میرا تعریف کرنا بڑائی کا سبب ہے اور میرا مذمت کرنا ذلت کا سبب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی ذات محض اللہ تعالیٰ کی ہی ہے“ ۔ [مسند احمد:488/3:صحیح لغیرہ] ‏

بشر بن غالب نے حجاج کے سامنے بشر بن عطارد وغیرہ سے کہا کہ تیری قوم بنو تمیم کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ جب سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا: اگر وہ عالم ہوتے تو اس کے بعد کی آیت «يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا قُل لَّا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَامَكُم بَلِ اللَّـهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ لِلْإِيمَانِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [49-الحجرات:17] ‏ پڑھ دیتے یعنی ” اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت کی اگر تم راست گو ہو “ اور بنو اسد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلیم کرنے میں کچھ دیر نہیں کی۔

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ عرب جمع ہوئے اور کہنے لگے ہمیں اس شخص کے پاس لے چلو اگر وہ سچا نبی ہے تو سب سے زیادہ اس سے سعادت حاصل کرنے کے مستحق ہم ہیں اور اگر وہ بادشاہ ہے تو ہم اس کے پروں تلے پل جائیں گے۔ میں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا پھر وہ لوگ آئے اور حجرے کے پیچھے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے کر آپ کو پکارنے لگے، اس پر یہ آیت اتری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کان پکڑ کر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تیری بات سچی کر دی اللہ تعالیٰ نے تیری بات سچی کر دی“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:382/11:حسن] ‏

صفحہ نمبر8655

آداب خطاب ٭٭

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت بیان کرتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکانوں کے پیچھے سے آپ کو آوازیں دیتے اور پکارتے ہیں۔ جس طرح اعراب میں دستور تھا تو فرمایا کہ ” ان میں سے اکثر بےعقل ہیں “۔

پھر اس کی بابت ادب سکھاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” چاہیئے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں ٹھہر جاتے اور جب آپ مکان سے باہر نکلتے تو آپ سے جو کہنا ہوتا کہتے “، نہ کہ آوازیں دے کر باہر سے پکارتے۔ دنیا اور دین کی مصلحت اور بہتری اسی میں تھی۔

صفحہ نمبر8654

پھر حکم دیتا ہے کہ ” ایسے لوگوں کو توبہ استغفار کرنا چاہیئے کیونکہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے “۔ یہ آیت اقرع بن حابس تمیمی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا، آپ کا نام لے کر پکارا ”یا محمد! یا محمد! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، تو اس نے کہا: سنئے، یا رسول اللہ! میرا تعریف کرنا بڑائی کا سبب ہے اور میرا مذمت کرنا ذلت کا سبب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی ذات محض اللہ تعالیٰ کی ہی ہے“ ۔ [مسند احمد:488/3:صحیح لغیرہ] ‏

بشر بن غالب نے حجاج کے سامنے بشر بن عطارد وغیرہ سے کہا کہ تیری قوم بنو تمیم کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ جب سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا: اگر وہ عالم ہوتے تو اس کے بعد کی آیت «يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا قُل لَّا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَامَكُم بَلِ اللَّـهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ لِلْإِيمَانِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [49-الحجرات:17] ‏ پڑھ دیتے یعنی ” اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت کی اگر تم راست گو ہو “ اور بنو اسد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلیم کرنے میں کچھ دیر نہیں کی۔

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ عرب جمع ہوئے اور کہنے لگے ہمیں اس شخص کے پاس لے چلو اگر وہ سچا نبی ہے تو سب سے زیادہ اس سے سعادت حاصل کرنے کے مستحق ہم ہیں اور اگر وہ بادشاہ ہے تو ہم اس کے پروں تلے پل جائیں گے۔ میں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا پھر وہ لوگ آئے اور حجرے کے پیچھے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے کر آپ کو پکارنے لگے، اس پر یہ آیت اتری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کان پکڑ کر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تیری بات سچی کر دی اللہ تعالیٰ نے تیری بات سچی کر دی“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:382/11:حسن] ‏

صفحہ نمبر8655

فاسق کی خبر پر اعتماد نہ کرو ٭٭

اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ فاسق کی خبر کا اعتماد نہ کرو، جب تک پوری تحقیق و تفتیش سے اصل واقعہ صاف طور پر معلوم نہ ہو جائے کوئی حرکت نہ کرو، ممکن ہے کہ کسی فاسق شخص نے کوئی جھوٹی بات کہہ دی ہو یا خود اس سے غلطی ہوئی ہو اور تم اس کی خبر کے مطابق کوئی کام کر گزرو تو اصل اس کی پیروی ہو گی اور مفسد لوگوں کی پیروی حرام ہے۔

اسی آیت کو دلیل بنا کر بعض محدثین کرام نے اس شخص کی روایت کو بھی غیر معتبر بتایا ہے جس کا حال نہ معلوم ہو اس لیے کہ بہت ممکن ہے یہ شخص فی الواقع فاسق ہو۔ گو بعض لوگوں نے ایسے مجہول الحال راویوں کی روایت لی بھی ہے، اور انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں فاسق کی خبر قبول کرنے سے منع کیا گیا ہے اور جس کا حال معلوم نہیں اس کا فاسق ہونا ہم پر ظاہر نہیں۔ ہم نے اس مسئلہ کی پوری وضاحت سے صحیح بخاری شریف کی شرح میں کتاب العلم میں بیان کر دیا ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

اکثر مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ بن ابومعیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبیلہ بنو مصطلق سے زکوٰۃ لینے کے لیے بھیجا تھا۔

صفحہ نمبر8657

چنانچہ مسند احمد میں ہے حارث بن ضرار خزاعی جو ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے والد ہیں فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسلام کی دعوت دی جو میں نے منظور کر لی اور مسلمان ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کی فرضیت سنائی میں نے اس کا بھی اقرار کیا اور کہا کہ میں واپس اپنی قوم میں جاتا ہوں اور ان میں سے جو ایمان لائیں اور زکوٰۃ ادا کریں، میں ان کی زکوۃٰ جمع کرتا ہوں، اتنے اتنے دنوں کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف کسی آدمی کو بھیج دیجئیے، میں اس کے ہاتھ جمع شدہ مال زکوٰۃ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجوا دوں گا۔ سیدنا حارث رضی اللہ عنہ نے واپس آ کر یہی کیا، مال زکوٰۃ جمع کیا، جب وقت مقررہ گزر چکا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی قاصد نہ آیا، تو آپ نے اپنی قوم کے سرداروں کو جمع کیا اور ان سے کہا: یہ تو ناممکن ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وعدے کے مطابق اپنا کوئی آدمی نہ بھیجیں، مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں کسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ناراض نہ ہو گئے ہوں؟ اور اس بنا پر آپ نے اپنا کوئی قاصد مال زکوٰۃ لے جانے کے لیے نہ بھیجا ہو، اگر آپ لوگ متفق ہوں تو ہم اس مال کو لے کر خود ہی مدینہ شریف چلیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیں یہ تجویز طے ہو گئی اور یہ حضرات اپنا مال زکوٰۃ ساتھ لے کر چل کھڑے ہوئے۔ ادھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو اپنا قاصد بنا کر بھیج چکے تھے لیکن یہ راستے ہی میں سے ڈر کے مارے لوٹ آئے اور یہاں آ کر کہہ دیا کہ حارث نے زکوٰۃ بھی روک لی اور میرے قتل کے درپے ہو گیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے اور کچھ آدمی تنبیہ کے لیے روانہ فرمائے، مدینہ کے قریب راستے ہی میں اس مختصر سے لشکر نے حارث کو پا لیا اور گھیر لیا۔ حارث نے پوچھا: آخر کیا بات ہے؟ تم کہاں اور کس کے پاس جا رہے ہو؟ انہوں نے کہا ہم تیری طرف بھیجے گئے ہیں پوچھا کیوں؟ کہا: اس لیے کہ تو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد ولید رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ نہ دی بلکہ انہیں قتل کرنا چاہا۔ حارث رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم ہے اس اللہ کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا رسول بنا کر بھیجا ہے، نہ میں نے اسے دیکھا، نہ وہ میرے پاس آیا، چلو میں تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو رہا ہوں، یہاں آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ تو نے زکوٰۃ بھی روک لی اور میرے آدمی کو بھی قتل کرنا چاہا؟ حارث نے جواب دیا ہرگز نہیں یا رسول اللہ! قسم ہے اللہ کی جس نے آپ کو سچا رسول بنا کر بھیجا ہے، نہ میں نے انہیں دیکھا، نہ وہ میرے پاس آئے۔ بلکہ قاصد کو نہ دیکھ کر اس ڈر کے مارے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ناراض نہ ہو گئے ہوں اور اسی وجہ سے قاصد نہ بھیجا ہو میں خود حاضر خدمت ہوا، اس پر یہ آیت «وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ» [49-الحجرات:8] ‏ تک نازل ہوئی ۔ [مسند احمد:279/4:حسن بشواھدہ] ‏

صفحہ نمبر8658

طبرانی میں یہ بھی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد حارث کی بستی کے پاس پہنچا تو یہ لوگ خوش ہو کر اس کے استقبال کیلئے خاص تیاری کر کے نکلے، ادھر ان کے دل میں یہ شیطانی خیال پیدا ہوا کہ یہ لوگ مجھ سے لڑنے کے لیے آ رہے ہیں، تو یہ لوٹ کر واپس چلے آئے، انہوں نے جب یہ دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد واپس چلے گئے، تو خود ہی حاضر ہوئے اور ظہر کی نماز کے بعد صف بستہ کھڑے ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے اپنے آدمی کو بھیجا، ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں، ہم بے حد خوش ہوئے، لیکن اللہ جانے کیا ہوا کہ وہ راستے میں سے ہی لوٹ گئے تو اس خوف سے کہ کہیں اللہ ہم سے ناراض نہ ہو گیا ہو ہم حاضر ہوئے ہیں اسی طرح وہ عذر معذرت کرتے رہے۔ عصر کی اذان جب سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے دی اس وقت یہ آیت نازل ہوئی ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:383/11:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے کہ ولید رضی اللہ عنہ کی اس خبر پر ابھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوچ ہی رہے تھے کہ کچھ آدمی ان کی طرف بھیجیں جو ان کا وفد آ گیا اور انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد آدھے راستے سے ہی لوٹ گیا، تو ہم نے خیال کیا کہ آپ نے کسی ناراضگی کی بنا پر انہیں واپسی کا حکم بھیج دیا ہو گا اس لیے حاضر ہوئے ہیں، ہم اللہ کے غصے سے اور آپ کی ناراضگی سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور اس کا عذر سچا بتایا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:383/11:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8659

اور روایت میں ہے کہ قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ ان لوگوں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لیے لشکر جمع کر لیا ہے اور اسلام سے مرتد ہو گئے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی زیر امارت ایک فوجی دستے کو بھیج دیا لیکن انہیں فرما دیا تھا کہ ”پہلے تحقیق و تفتیش اچھی طرح کر لینا، جلدی سے حملہ نہ کر دینا“۔ اسی کے مطابق سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے وہاں پہنچ کر اپنے جاسوس شہر میں بھیج دئیے وہ خبر لائے کہ وہ لوگ دین اسلام پر قائم ہیں، مسجد میں اذانیں ہوئیں، جنہیں ہم نے خود سنا اور لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے خود دیکھا۔ صبح ہوتے ہی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ خود گئے اور وہاں کے اسلامی منظر سے خوش ہوئے، واپس آ کر سرکار نبوی میں ساری خبر دی۔ اس پر یہ آیت اتری۔

قتادہ رحمہ اللہ جو اس واقعہ کو بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ”تحقیق و تلاش بردباری اور دور بینی اللہ کی طرف سے ہے۔ اور عجلت اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:384/11:ضعیف] ‏

سلف میں سے قتادہ رحمہ اللہ کے علاوہ اور بھی بہت سے حضرات نے یہی ذکر کیا ہے جیسے ابن ابی لیلیٰ، یزید بن رومان، ضحاک، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم وغیرہ۔ ان سب کا بیان ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8660

باب

پھر فرماتا ہے کہ جان لو کہ تم میں اللہ کے رسول موجود ہیں ان کی تعظیم و توقیر کرنا عزت و ادب کرنا ان کے احکام کو سر آنکھوں سے بجا لانا تمہارا فرض ہے، وہ تمہاری مصلحتوں سے بہت آگاہ ہیں، انہیں تم سے بہت محبت ہے، وہ تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتے۔ تم اپنی بھلائی کے اتنے خواہاں اور اتنے واقف نہیں ہو جتنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

چنانچہ اور جگہ ارشاد ہے «النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ وَأُولُو الْأَرْ‌حَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّـهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهَاجِرِ‌ينَ إِلَّا أَن تَفْعَلُوا إِلَىٰ أَوْلِيَائِكُم مَّعْرُ‌وفًا كَانَ ذَٰلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورً‌ا» [33-الأحزاب:6] ‏ یعنی ” مسلمانوں کے معاملات میں ان کی اپنی بہ نسبت نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) ان کے لیے زیادہ خیر اندیش ہیں “۔

پھر بیان فرمایا کہ ” لوگو تمہاری عقلیں تمہاری مصلحتوں اور بھلائیوں کو نہیں پا سکتیں انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پا رہے ہیں۔ پس اگر وہ تمہاری ہر پسندیدگی کی رائے پر عامل بنتے رہیں تو اس میں تمہارا ہی حرج واقع ہو گا۔ “

جیسے اور آیت میں ہے «وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أَهْوَاءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْ‌ضُ وَمَن فِيهِنَّ بَلْ أَتَيْنَاهُم بِذِكْرِ‌هِمْ فَهُمْ عَن ذِكْرِ‌هِم مُّعْرِ‌ضُونَ» [23-المؤمنون:71] ‏ یعنی ” اگر سچا رب ان کی خوشی پر چلے تو آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز خراب ہو جائے یہ نہیں بلکہ ہم نے انہیں ان کی نصیحت پہنچا دی ہے لیکن یہ اپنی نصیحت پر دھیان ہی نہیں دھرتے “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” اللہ نے ایمان کو تمہارے نفسوں میں محبوب بنا دیا ہے اور تمہارے دلوں میں اس کی عمدگی بٹھا دی ہے “۔

مسند احمد میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اسلام ظاہر ہے اور ایمان دل میں ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سینے کی طرف تین بار اشارہ کرتے اور فرماتے تقویٰ یہاں ہے، پرہیزگاری کی جگہ یہ ہے“ ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6906] ‏

اس نے تمہارے دلوں میں کبیرہ گناہ اور تمام نافرمانیوں کی عداوت ڈال دی ہے اس طرح بتدریج تم پر اپنی نعمتیں بھرپور کر دی ہیں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے جن میں یہ پاک اوصاف ہیں انہیں اللہ نے رشد نیکی ہدایت اور بھلائی دے رکھی ہے۔

صفحہ نمبر8661

مسند احمد میں ہے احد کے دن جب مشرکین ٹوٹ پڑے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درستگی کے ساتھ ٹھیک ٹھاک ہو جاؤ، تو میں نے اپنے رب عزوجل کی ثنأ بیان کروں“، پس لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں باندھ کر کھڑے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ، اللَّهُمَّ لاَ قَابِضَ لِمَا بَسَطْتَ، وَلاَ بَاسِطَ لِمَا قَبَضْتَ، وَلاَ هَادِيَ لِمَنْ أَضْلَلْتَ، وَلاَ مُضِلَّ لِمَنْ هَدَيْتَ، وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلاَ مُقَرِّبَ لِمَا بَاعَدْتَ، وَلاَ مُبَاعِدَ لِمَا قَرَّبْتَ، اللَّهُمَّ ابْسُطْ عَلَيْنَا مِنْ بَرَكَاتِكَ، وَرَحْمَتِكَ، وَفَضْلِكَ، وَرِزْقِكَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ الْمُقِيمَ الَّذِي لاَ يَحُولُ وَلاَ يَزُولُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ يَوْمَ الْعَيْلَةِ، وَالأَمْنَ يَوْمَ الْخَوْفِ، اللَّهُمَّ إِنِّي عَائِذٌ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أَعْطَيْتَنَا وَشَرِّ مَا مَنَعْتَنَا، اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الإِيمَانَ وَزِيِّنْهُ فِي قُلُوبِنَا، وَكَرِّهْ إِلَيْنَا الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الرَّاشِدِينَ، اللَّهُمَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ، وَأَحْيِنَا مُسْلِمِينَ، وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ غَيْرَ خَزَايَا وَلاَ مَفْتُونِينَ، اللَّهُمَّ قَاتِلِ الْكَفَرَةَ الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ، وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ، اللَّهُمَّ قَاتِلِ الكَفَرَةَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ، إِلَهَ الْحَقِّ» [نسائی] ‏ یعنی ”اے اللہ! تمام تر تعریف تیرے ہی لیے ہے، تو جسے کشادگی دے اسے کوئی تنگ نہیں کر سکتا اور جس پر تو تنگی کرے اسے کوئی کشادہ نہیں کر سکتا، تو جسے گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا اور جسے تو ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، جس سے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا اور جسے تو دے اس سے کوئی باز نہیں رکھ سکتا، جسے تو دور کر دے اسے قریب کرنے والا کوئی نہیں اور جسے تو قریب کر لے اسے دور ڈالنے والا کوئی نہیں، اے اللہ! ہم پر اپنی برکتیں رحمتیں فضل اور رزق کشادہ کر دے، اے اللہ! میں تجھ سے وہ ہمیشہ کی نعمتیں چاہتا ہوں جو نہ ادھر ادھر ہوں، نہ زائل ہوں۔ اللہ! فقیری اور احتیاج والے دن مجھے اپنی نعمتیں عطا فرمانا اور خوف والے دن مجھے امن عطا فرمانا۔ پروردگار! جو تو نے مجھے دے رکھا ہے اور جو نہیں دیا ان سب کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے میرے معبود! ہمارے دلوں میں ایمان کی محبت ڈال دے اور اسے ہماری نظروں میں زینت دار بنا دے اور کفر، بدکاری اور نافرمانی سے ہمارے دل میں دوری اور عداوت پیدا کر دے اور ہمیں راہ یافتہ لوگوں میں کر دے۔ اے ہمارے رب! ہمیں اسلام کی حالت میں فوت کر اور اسلام پر ہی زندہ رکھ اور نیک کار لوگوں سے ملا دے، ہم رسوا نہ ہوں، ہم فتنے میں نہ ڈالے جائیں۔ اللہ! ان کافروں کا ستیاناس کر جو تیرے رسولوں کو جھٹلائیں اور تیری راہ سے روکیں تو ان پر اپنی سزا اور اپنا عذاب نازل فرما۔ الٰہی! اہل کتاب کے کافروں کو بھی تباہ کر، اے سچے معبود“ ۔ [مسند احمد:2424/3:صحیح] ‏ یہ حدیث امام نسائی بھی اپنی کتاب [عمل الیوم واللیله] ‏ میں لائے ہیں۔

مرفوع حدیث میں ہے جس شخص کو اپنی نیکی اچھی لگے اور برائی اسے ناراض کرے وہ مومن ہے ۔ [سنن ترمذي:2165،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر فرماتا ہے یہ بخشش جو تمہیں عطا ہوئی ہے یہ تم پر اللہ کا فضل ہے اور اس کی نعمت ہے اللہ مستحقین ہدایت کو اور مستحقین ضلالت کو بخوبی جانتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے۔

صفحہ نمبر8662

باب

پھر فرماتا ہے کہ جان لو کہ تم میں اللہ کے رسول موجود ہیں ان کی تعظیم و توقیر کرنا عزت و ادب کرنا ان کے احکام کو سر آنکھوں سے بجا لانا تمہارا فرض ہے، وہ تمہاری مصلحتوں سے بہت آگاہ ہیں، انہیں تم سے بہت محبت ہے، وہ تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتے۔ تم اپنی بھلائی کے اتنے خواہاں اور اتنے واقف نہیں ہو جتنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

چنانچہ اور جگہ ارشاد ہے «النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ وَأُولُو الْأَرْ‌حَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّـهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهَاجِرِ‌ينَ إِلَّا أَن تَفْعَلُوا إِلَىٰ أَوْلِيَائِكُم مَّعْرُ‌وفًا كَانَ ذَٰلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورً‌ا» [33-الأحزاب:6] ‏ یعنی ” مسلمانوں کے معاملات میں ان کی اپنی بہ نسبت نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) ان کے لیے زیادہ خیر اندیش ہیں “۔

پھر بیان فرمایا کہ ” لوگو تمہاری عقلیں تمہاری مصلحتوں اور بھلائیوں کو نہیں پا سکتیں انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پا رہے ہیں۔ پس اگر وہ تمہاری ہر پسندیدگی کی رائے پر عامل بنتے رہیں تو اس میں تمہارا ہی حرج واقع ہو گا۔ “

جیسے اور آیت میں ہے «وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أَهْوَاءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْ‌ضُ وَمَن فِيهِنَّ بَلْ أَتَيْنَاهُم بِذِكْرِ‌هِمْ فَهُمْ عَن ذِكْرِ‌هِم مُّعْرِ‌ضُونَ» [23-المؤمنون:71] ‏ یعنی ” اگر سچا رب ان کی خوشی پر چلے تو آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز خراب ہو جائے یہ نہیں بلکہ ہم نے انہیں ان کی نصیحت پہنچا دی ہے لیکن یہ اپنی نصیحت پر دھیان ہی نہیں دھرتے “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” اللہ نے ایمان کو تمہارے نفسوں میں محبوب بنا دیا ہے اور تمہارے دلوں میں اس کی عمدگی بٹھا دی ہے “۔

مسند احمد میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اسلام ظاہر ہے اور ایمان دل میں ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سینے کی طرف تین بار اشارہ کرتے اور فرماتے تقویٰ یہاں ہے، پرہیزگاری کی جگہ یہ ہے“ ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6906] ‏

اس نے تمہارے دلوں میں کبیرہ گناہ اور تمام نافرمانیوں کی عداوت ڈال دی ہے اس طرح بتدریج تم پر اپنی نعمتیں بھرپور کر دی ہیں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے جن میں یہ پاک اوصاف ہیں انہیں اللہ نے رشد نیکی ہدایت اور بھلائی دے رکھی ہے۔

صفحہ نمبر8661

مسند احمد میں ہے احد کے دن جب مشرکین ٹوٹ پڑے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درستگی کے ساتھ ٹھیک ٹھاک ہو جاؤ، تو میں نے اپنے رب عزوجل کی ثنأ بیان کروں“، پس لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں باندھ کر کھڑے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ، اللَّهُمَّ لاَ قَابِضَ لِمَا بَسَطْتَ، وَلاَ بَاسِطَ لِمَا قَبَضْتَ، وَلاَ هَادِيَ لِمَنْ أَضْلَلْتَ، وَلاَ مُضِلَّ لِمَنْ هَدَيْتَ، وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلاَ مُقَرِّبَ لِمَا بَاعَدْتَ، وَلاَ مُبَاعِدَ لِمَا قَرَّبْتَ، اللَّهُمَّ ابْسُطْ عَلَيْنَا مِنْ بَرَكَاتِكَ، وَرَحْمَتِكَ، وَفَضْلِكَ، وَرِزْقِكَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ الْمُقِيمَ الَّذِي لاَ يَحُولُ وَلاَ يَزُولُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ يَوْمَ الْعَيْلَةِ، وَالأَمْنَ يَوْمَ الْخَوْفِ، اللَّهُمَّ إِنِّي عَائِذٌ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أَعْطَيْتَنَا وَشَرِّ مَا مَنَعْتَنَا، اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الإِيمَانَ وَزِيِّنْهُ فِي قُلُوبِنَا، وَكَرِّهْ إِلَيْنَا الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الرَّاشِدِينَ، اللَّهُمَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ، وَأَحْيِنَا مُسْلِمِينَ، وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ غَيْرَ خَزَايَا وَلاَ مَفْتُونِينَ، اللَّهُمَّ قَاتِلِ الْكَفَرَةَ الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ، وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ، اللَّهُمَّ قَاتِلِ الكَفَرَةَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ، إِلَهَ الْحَقِّ» [نسائی] ‏ یعنی ”اے اللہ! تمام تر تعریف تیرے ہی لیے ہے، تو جسے کشادگی دے اسے کوئی تنگ نہیں کر سکتا اور جس پر تو تنگی کرے اسے کوئی کشادہ نہیں کر سکتا، تو جسے گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا اور جسے تو ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، جس سے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا اور جسے تو دے اس سے کوئی باز نہیں رکھ سکتا، جسے تو دور کر دے اسے قریب کرنے والا کوئی نہیں اور جسے تو قریب کر لے اسے دور ڈالنے والا کوئی نہیں، اے اللہ! ہم پر اپنی برکتیں رحمتیں فضل اور رزق کشادہ کر دے، اے اللہ! میں تجھ سے وہ ہمیشہ کی نعمتیں چاہتا ہوں جو نہ ادھر ادھر ہوں، نہ زائل ہوں۔ اللہ! فقیری اور احتیاج والے دن مجھے اپنی نعمتیں عطا فرمانا اور خوف والے دن مجھے امن عطا فرمانا۔ پروردگار! جو تو نے مجھے دے رکھا ہے اور جو نہیں دیا ان سب کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے میرے معبود! ہمارے دلوں میں ایمان کی محبت ڈال دے اور اسے ہماری نظروں میں زینت دار بنا دے اور کفر، بدکاری اور نافرمانی سے ہمارے دل میں دوری اور عداوت پیدا کر دے اور ہمیں راہ یافتہ لوگوں میں کر دے۔ اے ہمارے رب! ہمیں اسلام کی حالت میں فوت کر اور اسلام پر ہی زندہ رکھ اور نیک کار لوگوں سے ملا دے، ہم رسوا نہ ہوں، ہم فتنے میں نہ ڈالے جائیں۔ اللہ! ان کافروں کا ستیاناس کر جو تیرے رسولوں کو جھٹلائیں اور تیری راہ سے روکیں تو ان پر اپنی سزا اور اپنا عذاب نازل فرما۔ الٰہی! اہل کتاب کے کافروں کو بھی تباہ کر، اے سچے معبود“ ۔ [مسند احمد:2424/3:صحیح] ‏ یہ حدیث امام نسائی بھی اپنی کتاب [عمل الیوم واللیله] ‏ میں لائے ہیں۔

مرفوع حدیث میں ہے جس شخص کو اپنی نیکی اچھی لگے اور برائی اسے ناراض کرے وہ مومن ہے ۔ [سنن ترمذي:2165،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر فرماتا ہے یہ بخشش جو تمہیں عطا ہوئی ہے یہ تم پر اللہ کا فضل ہے اور اس کی نعمت ہے اللہ مستحقین ہدایت کو اور مستحقین ضلالت کو بخوبی جانتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے۔

صفحہ نمبر8662

دو متحارب مسلمان جماعتوں میں صلح کرانا ہر مسلمان کا فرض ہے ٭٭

یہاں حکم ہو رہا ہے کہ اگر مسلمانوں کی کوئی دو جماعتیں لڑنے لگ جائیں تو دوسرے مسلمانوں کو چاہیئے کہ ان میں صلح کرا دیں۔ آپس میں لڑنے والی جماعتوں کو مومن کہنا اس سے امام بخاری رحمہ اللہ نے استدلال کیا ہے کہ نافرمانی گو کتنی ہی بڑی ہو وہ انسان کو ایمان سے الگ نہیں کرتی۔

خارجیوں کا اور ان کے موافق معتزلہ کا مذہب اس بارے میں خلاف حق ہے۔ اسی آیت کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو صحیح بخاری وغیرہ میں مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے آپ کے ساتھ منبر پر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ بھی تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ان کی طرف دیکھتے کبھی لوگوں کی طرف اور فرماتے کہ ”میرا یہ بچہ سید ہے اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی دو بڑی بڑی جماعتوں میں صلح کرا دے گا“ ۔ [صحیح بخاری:2704] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی سچی نکلی اور اہل شام اور اہل عراق میں بڑی لمبی لڑائیوں اور بڑے ناپسندیدہ واقعات کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کی وجہ سے صلح ہو گئی۔

پھر ارشاد ہوتا ہے ” اگر ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑائی کی جائے تاکہ وہ پھر ٹھکانے آ جائے حق کو سنے اور مان لے “۔

صحیح حدیث میں ہے اپنے بھائی کی مدد کر ظالم ہو تو مظلوم ہو تو بھی، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ”مظلوم ہونے کی حالت میں تو ظاہر ہے لیکن ظالم ہونے کی حالت میں کیسے مدد کروں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ظلم سے باز رکھو یہی اس کی اس وقت یہ مدد ہے“ ۔ [صحیح بخاری:6952] ‏

مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ کہا گیا: ”کیا اچھا ہو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کے ہاں چلئے“، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہوئے اور صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمرکابی میں ساتھ ہو لیئے، زمین شور تھی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے، تو یہ کہنے لگا مجھ سے الگ رہیے، اللہ کی قسم آپ کے گدھے کی بدبو نے میرا دماغ پریشان کر دیا۔ اس پر ایک انصاری نے کہا: واللہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گدھے کی بو تیری خوشبو سے بہت ہی اچھی ہے اس پر ادھر سے ادھر کچھ لوگ بول پڑے اور معاملہ بڑھنے لگا بلکہ کچھ ہاتھا پائی اور جوتے چھڑیاں بھی کام میں لائی گئیں ان کے بارے میں یہ آیت اتری ہے ۔

سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اوس اور خزرج قبائل میں کچھ چشمک ہو گئی تھی ان میں صلح کرا دینے کا اس آیت میں حکم ہو رہا ہے۔

صفحہ نمبر8664

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، عمران نامی ایک انصاری تھے ان کی بیوی صاحبہ کا نام ام زید تھا، اس نے اپنے میکے جانا چاہا، خاوند نے روکا اور منع کر دیا کہ میکے کا کوئی شخص یہاں بھی نہ آئے۔ عورت نے یہ خبر اپنے میکے کہلوا دی وہ لوگ آئے اور اسے بالاخانے سے اتار لائے اور لے جانا چاہا ان کے خاوند گھر پر تھے نہیں، خاوند والوں نے اس کے چچا زاد بھائیوں کو اطلاع دے کر انہیں بلا لیا، اب کھینچا تانی ہونے لگی اور ان کے بارے میں یہ آیت اتری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں طرف کے لوگوں کو بلا کر بیچ میں بیٹھ کر صلح کرا دی اور سب لوگ مل گئے

پھر حکم ہوتا ہے ” دونوں فریقوں میں عدل کرو، اللہ عادلوں کو پسند فرماتا ہے “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دنیا میں جو عدل و انصاف کرتے رہے وہ موتیوں کے منبروں پر رحمن عزوجل کے سامنے ہوں گے اور یہ بدلہ ہو گا ان کے عدل و انصاف کا“ ۔ [مسند احمد:159/2:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8665

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے یہ لوگ ان منبروں پر رحمن عزوجل کے دائیں جانب ہوں گے یہ اپنے فیصلوں میں، اپنے اہل و عیال میں اور جو کچھ ان کے قبضہ میں ہے اس میں عدل سے کام لیا کرتے تھے۔ [صحیح مسلم:18] ‏

پھر فرمایا ” کل مومن دینی بھائی ہیں “۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اسے اس پر ظلم و ستم نہ کرنا چاہیئے“ ۔ [صحیح بخاری:2442] ‏

صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہے ۔

اور صحیح حدیث میں ہے جب کوئی مسلمان اپنے غیر حاضر بھائی مسلمان کے لیے اس کی پس پشت دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے آمین۔ اور تجھے بھی اللہ ایسا ہی دے ۔ [صحیح مسلم:87] ‏

اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں صحیح حدیث میں ہے مسلمان سارے کے سارے اپنی محبت رحم دلی اور میل جول میں مثل ایک جسم کے ہیں جب کسی عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم تڑپ اٹھتا ہے کبھی بخار چڑھ آتا ہے کبھی شب بیداری کی تکلیف ہوتی ہے ۔ [صحیح بخاری:6011] ‏

ایک اور حدیث میں ہے مومن مومن کے لیے مثل دیوار کے ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تقویت پہنچاتا اور مضبوط کرتا ہے، پھر آپ نے اپنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا ۔ [صحیح بخاری:2446] ‏

مسند احمد میں ہے مومن کا تعلق اور اہل ایمان سے ایسا ہے جیسے سر کا تعلق جسم سے ہے، مومن اہل ایمان کے لیے وہی درد مندی کرتا ہے جو درد مندی جسم کو سر کے ساتھ ہے ۔ [مسند احمد:340/5:صحیح لغیرہ و ھذا اسناد ضعیف] ‏

پھر فرماتا ہے دونوں لڑنے والی جماعتوں اور دونوں طرف کے اسلامی بھائیوں میں صلح کرا دو اپنے تمام کاموں میں اللہ کا ڈر رکھو۔ یہی وہ اوصاف ہیں جن کی وجہ سے اللہ کی رحمت تم پر نازل ہو گی پرہیزگاروں کے ساتھ ہی رب کا رحم رہتا ہے۔

صفحہ نمبر8666

دو متحارب مسلمان جماعتوں میں صلح کرانا ہر مسلمان کا فرض ہے ٭٭

یہاں حکم ہو رہا ہے کہ اگر مسلمانوں کی کوئی دو جماعتیں لڑنے لگ جائیں تو دوسرے مسلمانوں کو چاہیئے کہ ان میں صلح کرا دیں۔ آپس میں لڑنے والی جماعتوں کو مومن کہنا اس سے امام بخاری رحمہ اللہ نے استدلال کیا ہے کہ نافرمانی گو کتنی ہی بڑی ہو وہ انسان کو ایمان سے الگ نہیں کرتی۔

خارجیوں کا اور ان کے موافق معتزلہ کا مذہب اس بارے میں خلاف حق ہے۔ اسی آیت کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو صحیح بخاری وغیرہ میں مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے آپ کے ساتھ منبر پر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ بھی تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ان کی طرف دیکھتے کبھی لوگوں کی طرف اور فرماتے کہ ”میرا یہ بچہ سید ہے اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی دو بڑی بڑی جماعتوں میں صلح کرا دے گا“ ۔ [صحیح بخاری:2704] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی سچی نکلی اور اہل شام اور اہل عراق میں بڑی لمبی لڑائیوں اور بڑے ناپسندیدہ واقعات کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کی وجہ سے صلح ہو گئی۔

پھر ارشاد ہوتا ہے ” اگر ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑائی کی جائے تاکہ وہ پھر ٹھکانے آ جائے حق کو سنے اور مان لے “۔

صحیح حدیث میں ہے اپنے بھائی کی مدد کر ظالم ہو تو مظلوم ہو تو بھی، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ”مظلوم ہونے کی حالت میں تو ظاہر ہے لیکن ظالم ہونے کی حالت میں کیسے مدد کروں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ظلم سے باز رکھو یہی اس کی اس وقت یہ مدد ہے“ ۔ [صحیح بخاری:6952] ‏

مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ کہا گیا: ”کیا اچھا ہو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کے ہاں چلئے“، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہوئے اور صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمرکابی میں ساتھ ہو لیئے، زمین شور تھی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے، تو یہ کہنے لگا مجھ سے الگ رہیے، اللہ کی قسم آپ کے گدھے کی بدبو نے میرا دماغ پریشان کر دیا۔ اس پر ایک انصاری نے کہا: واللہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گدھے کی بو تیری خوشبو سے بہت ہی اچھی ہے اس پر ادھر سے ادھر کچھ لوگ بول پڑے اور معاملہ بڑھنے لگا بلکہ کچھ ہاتھا پائی اور جوتے چھڑیاں بھی کام میں لائی گئیں ان کے بارے میں یہ آیت اتری ہے ۔

سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اوس اور خزرج قبائل میں کچھ چشمک ہو گئی تھی ان میں صلح کرا دینے کا اس آیت میں حکم ہو رہا ہے۔

صفحہ نمبر8664

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، عمران نامی ایک انصاری تھے ان کی بیوی صاحبہ کا نام ام زید تھا، اس نے اپنے میکے جانا چاہا، خاوند نے روکا اور منع کر دیا کہ میکے کا کوئی شخص یہاں بھی نہ آئے۔ عورت نے یہ خبر اپنے میکے کہلوا دی وہ لوگ آئے اور اسے بالاخانے سے اتار لائے اور لے جانا چاہا ان کے خاوند گھر پر تھے نہیں، خاوند والوں نے اس کے چچا زاد بھائیوں کو اطلاع دے کر انہیں بلا لیا، اب کھینچا تانی ہونے لگی اور ان کے بارے میں یہ آیت اتری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں طرف کے لوگوں کو بلا کر بیچ میں بیٹھ کر صلح کرا دی اور سب لوگ مل گئے

پھر حکم ہوتا ہے ” دونوں فریقوں میں عدل کرو، اللہ عادلوں کو پسند فرماتا ہے “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دنیا میں جو عدل و انصاف کرتے رہے وہ موتیوں کے منبروں پر رحمن عزوجل کے سامنے ہوں گے اور یہ بدلہ ہو گا ان کے عدل و انصاف کا“ ۔ [مسند احمد:159/2:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8665

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے یہ لوگ ان منبروں پر رحمن عزوجل کے دائیں جانب ہوں گے یہ اپنے فیصلوں میں، اپنے اہل و عیال میں اور جو کچھ ان کے قبضہ میں ہے اس میں عدل سے کام لیا کرتے تھے۔ [صحیح مسلم:18] ‏

پھر فرمایا ” کل مومن دینی بھائی ہیں “۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اسے اس پر ظلم و ستم نہ کرنا چاہیئے“ ۔ [صحیح بخاری:2442] ‏

صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہے ۔

اور صحیح حدیث میں ہے جب کوئی مسلمان اپنے غیر حاضر بھائی مسلمان کے لیے اس کی پس پشت دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے آمین۔ اور تجھے بھی اللہ ایسا ہی دے ۔ [صحیح مسلم:87] ‏

اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں صحیح حدیث میں ہے مسلمان سارے کے سارے اپنی محبت رحم دلی اور میل جول میں مثل ایک جسم کے ہیں جب کسی عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم تڑپ اٹھتا ہے کبھی بخار چڑھ آتا ہے کبھی شب بیداری کی تکلیف ہوتی ہے ۔ [صحیح بخاری:6011] ‏

ایک اور حدیث میں ہے مومن مومن کے لیے مثل دیوار کے ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تقویت پہنچاتا اور مضبوط کرتا ہے، پھر آپ نے اپنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا ۔ [صحیح بخاری:2446] ‏

مسند احمد میں ہے مومن کا تعلق اور اہل ایمان سے ایسا ہے جیسے سر کا تعلق جسم سے ہے، مومن اہل ایمان کے لیے وہی درد مندی کرتا ہے جو درد مندی جسم کو سر کے ساتھ ہے ۔ [مسند احمد:340/5:صحیح لغیرہ و ھذا اسناد ضعیف] ‏

پھر فرماتا ہے دونوں لڑنے والی جماعتوں اور دونوں طرف کے اسلامی بھائیوں میں صلح کرا دو اپنے تمام کاموں میں اللہ کا ڈر رکھو۔ یہی وہ اوصاف ہیں جن کی وجہ سے اللہ کی رحمت تم پر نازل ہو گی پرہیزگاروں کے ساتھ ہی رب کا رحم رہتا ہے۔

صفحہ نمبر8666

ہر طعنہ باز عیب جو مجرم ہے ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ لوگوں کو حقیر و ذلیل کرنے اور ان کا مذاق اڑانے سے روک رہا ہے، حدیث شریف میں ہے تکبر حق سے منہ موڑ لینے اور لوگوں کو ذلیل و خوار سمجھنے کا نام ہے ۔ [صحیح مسلم:91] ‏

اس کی وجہ قرآن کریم نے یہ بیان فرمائی کہ ” جسے تم ذلیل کر رہے ہو جس کا تم مذاق اڑا رہے ہو ممکن ہے کہ اللہ کے نزدیک وہ تم سے زیادہ باوقعت ہو “۔

مردوں کو منع کر کے پھر خاصتہً عورتوں کو بھی اس سے روکا اور اس ملعون خصلت کو حرام قرار دیا، چنانچہ قرآن کریم کا ارشاد ہے «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ» [104-الهمزة:1] ‏ یعنی ” ہر طعنہ باز عیب جو کے لیے خرابی ہے “۔

«هُمَزَ» فعل سے ہوتا ہے اور «لُّمَزَةِ» قول سے۔

ایک اور آیت میں ہے «هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ» [68-القلم:11] ‏ یعنی ” وہ جو لوگوں کو حقیر گنتا ہو۔ “ ان پر چڑھا چلا جا رہا ہو اور لگانے بجھانے والا ہو غرض ان تمام کاموں کو ہماری شریعت نے حرام قرار دیا۔

یہاں لفظ تو یہ ہیں کہ اپنے آپ کو عیب نہ لگاؤ مطلب یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ، جیسے فرمایا: «وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِكُمْ رَ‌حِيمًا» [4-النساء:29] ‏ یعنی ” ایک دوسرے کو قتل نہ کرو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نہایت مہربان ہے“۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، سعید بن جبیر، قتادہ، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے کو طعنے نہ دے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:391/11:] ‏

پھر فرمایا کسی کو چڑاؤ مت! جس لقب سے وہ ناراض ہوتا ہو اس لقب سے اسے نہ پکارو، نہ اس کو برا نام دو۔ مسند احمد میں ہے کہ یہ حکم بنو سلمہ کے بارے میں نازل ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینے میں آئے تو یہاں ہر شخص کے دو دو تین تین نام تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی کو کسی نام سے پکارتے تو لوگ کہتے، یا رسول اللہ ! یہ اس سے چڑتا ہے۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ [سنن ابوداود:4962،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر فرمان ہے کہ ” ایمان کی حالت میں فاسقانہ القاب سے آپس میں ایک دوسرے کو نامزد کرنا نہایت بری بات ہے اب تمہیں اس سے توبہ کرنی چاہیئے ورنہ ظالم گنے جاؤ گے “۔

صفحہ نمبر8668

مذاق اور عیب گیری کی ممانعت ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو بدگمانی کرنے، تہمت رکھنے اپنوں اور غیروں کو خوفزدہ کرنے، خواہ مخواہ کی دہشت دل میں رکھ لینے سے روکتا ہے اور فرماتا ہے کہ بسا اوقات اکثر اس قسم کے گمان بالکل گناہ ہوتے ہیں پس تمہیں اس میں پوری احتیاط چاہیئے۔

سیدنا امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”تیرے مسلمان بھائی کی زبان سے جو کلمہ نکلا ہو جہاں تک تجھ سے ہو سکے اسے بھلائی اور اچھائی پر محمول کر۔‏“

ابن ماجہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کعبہ کرتے ہوئے فرمایا: ”تو کتنا پاک گھر ہے؟، تو کیسی بڑی حرمت والا ہے؟، اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے کہ مومن کی حرمت اس کے مال اور اس کی جان کی حرمت اور اس کے ساتھ نیک گمان کرنے کی حرمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک تیری حرمت سے بہت بڑی ہے“ ۔ [سنن ابن ماجہ:3932،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث صرف ابن ماجہ میں ہی ہے۔

صفحہ نمبر8669

صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”بدگمانی سے بچو، گمان سب سے بڑی جھوٹی بات ہے، بھید نہ ٹٹولو۔ ایک دوسرے کی ٹوہ حاصل کرنے کی کوشش میں نہ لگ جایا کرو، حسد بغض اور ایک دوسرے سے منہ پھلانے سے بچو، سب مل کر اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو سہو۔ [صحیح بخاری:6066] ‏

مسلم وغیرہ میں ہے ایک دوسرے سے روٹھ کر نہ بیٹھ جایا کرو، ایک دوسرے سے میل جول ترک نہ کر لیا کرو، ایک دوسرے کا حسد بغض نہ کیا کرو بلکہ سب مل کر اللہ کے بندے آپس میں دوسرے کے بھائی بند ہو کر زندگی گزارو۔ کسی مسلمان کو حلال نہیں کہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ بول چال اور میل جول چھوڑ دے ۔ [صحیح بخاری:6564] ‏

طبرانی میں ہے کہ تین خصلتیں میری امت میں رہ جائیں گی فال لینا، حسد کرنا اور بدگمانی کرنا، ایک شخص نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! پھر ان کا تدارک کیا ہے؟ فرمایا: ”جب حسد کرے تو استغفار کر لے، جب گمان پیدا ہو تو اسے چھوڑ دے اور یقین نہ کر اور جب شگون لے خواہ نیک نکلے، خواہ بد اپنے کام سے نہ رک اسے پورا کر“ ۔ [طبرانی کبیر:3727:ضعیف] ‏

ابوداؤد میں ہے کہ ایک شخص کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اور کہا گیا کہ اس کی ڈاڑھی سے شراب کے قطرے گر رہے ہیں آپ نے فرمایا: ”ہمیں بھید ٹٹولنے سے منع فرمایا گیا ہے اگر ہمارے سامنے کوئی چیز ظاہر ہو گئی تو ہم اس پر پکڑ سکتے ہیں ۔‏“ [سنن ابوداود:4890،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8670

مسند احمد میں ہے کہ عقبہ کے کاتب وحین کے پاس ابولہیثم گئے اور ان سے کہا کہ میرے پڑوس میں کچھ لوگ شرابی ہیں میرا ارادہ ہے کہ میں داروغہ کو بلا کر انہیں گرفتار کرا دوں، آپ نے فرمایا: ایسا نہ کرنا بلکہ انہیں سمجھاؤ بجھاؤ ڈانٹ ڈپٹ کر دو، پھر کچھ دنوں کے بعد آئے اور کہا: وہ باز نہیں آتے اب تو میں ضرور داروغہ کو بلاؤں گا آپ نے فرمایا: افسوس! افسوس! تم ہرگز ہرگز ایسا نہ کرو، سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مسلمان کی پردہ داری کرے اسے اتنا ثواب ملے گا جیسے کسی نے زندہ درگور کردہ لڑکی کو بچا لیا“ ۔ [سنن ابوداود:4891،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ابوداؤد میں ہے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”اگر تو لوگوں کے باطن اور ان کے راز ٹٹولنے کے درپے ہو گا تو، تو انہیں بگاڑ دے گا“، یا فرمایا ”ممکن ہے تو انہیں خراب کر دے۔‏“ ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس حدیث سے اللہ تعالیٰ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بہت فائدہ پہنچایا“ ۔ [سنن ابوداود:4888،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8671

ابوداؤد کی ایک اور حدیث میں ہے کہ امیر اور بادشاہ جب اپنے ماتحتوں اور رعایا کی برائیاں ٹٹولنے لگ جاتا ہے اور گہرا اترنا شروع کر دیتا ہے تو انہیں بگاڑ دیتا ہے ۔ [سنن ابوداود:4889،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ] ‏

پھر فرمایا کہ تجسس نہ کرو یعنی برائیاں معلوم کرنے کی کوشش نہ کرو تاک جھانک نہ کیا کرو۔ اسی سے جاسوس ماخذ ہے «تجسس» کا اطلاق عموماً برائی پر ہوتا ہے اور «تحسس» کا اطلاق بھلائی ڈھونڈنے پر۔ جیسے یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں سے فرماتے ہیں «يَا بَنِيَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّ‌وْحِ اللَّـهِ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّ‌وْحِ اللَّـهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُ‌ونَ» [12-یوسف:87] ‏، بچو تم جاؤ اور یوسف کو ڈھونڈو اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، اور کبھی کبھی ان دونوں کا استعمال شر اور برائی میں بھی ہوتا ہے۔

چنانچہ حدیث شریف میں ہے نہ «تجسس» کرو، نہ «تحسس» کرو، نہ حسد و بغض کرو، نہ منہ موڑو بلکہ سب مل کر اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ ۔

امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں «تجسس» کہتے ہیں کسی چیز میں کرید کرنے کو اور «تحسس» کہتے ہیں ان لوگوں کی سرگوشی پر کان لگانے کو جو کسی کو اپنی باتیں سنانا نہ چاہتے ہوں۔ اور «تدابر» کہتے ہیں ایک دوسرے سے رک کر آزردہ ہو کر قطع تعلقات کرنے کو۔

پھر غیبت سے منع فرماتا ہے، ابوداؤد میں ہے لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! غیبت کیا ہے؟ فرمایا: ”یہ کہ تو اپنے مسلمان بھائی کی کسی ایسی بات کا ذکر کرے جو اسے بری معلوم ہو“، تو کہا گیا اگر وہ برائی اس میں ہو جب بھی؟ فرمایا: ”ہاں! غیبت تو یہی ہے ورنہ بہتان اور تہمت ہے“ ۔ [سنن ابوداود:4874،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ابوداؤد میں ہے ایک مرتبہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ صفیہ تو ایسی ایسی ہیں، مسدد راوی کہتے ہیں یعنی کم قامت، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے ایسی بات کہی ہے کہ سمندر کے پانی میں اگر ملا دی جائے تو اسے بھی بگاڑ دے“ ۔

اور ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی شخص کی کچھ ایسی ہی باتیں بیان کی گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسے پسند نہیں کرتا مجھے چاہے ایسا کرنے میں کوئی بہت بڑا نفع بھی مل جائے“ ۔ [سنن ابوداود:4875،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8672

ابن جریر میں ہے کہ ایک بی بی صاحبہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے ہاں آئیں جب وہ جانے لگیں تو صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اشارے سے کہا کہ یہ بہت پست قامت ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ان کی غیبت کی“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:395/11] ‏

الغرض غیبت حرام ہے اور اس کی حرمت پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔ لیکن ہاں شرعی مصلحت کی بنا پر کسی کی ایسی بات کا ذکر کرنا غیبت میں داخل نہیں جیسے جرح و تعدیل نصیحت و خیر خواہی جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فاجر شخص کی نسبت فرمایا تھا: ”یہ بہت برا آدمی ہے“ [صحیح بخاری:6054] ‏

اور جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”معاویہ مفلس شخص ہے اور ابوالجہم بڑا مارنے پیٹنے والا آدمی ہے“ ۔ [صحیح مسلم:1480] ‏ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا تھا جبکہ ان دونوں بزرگوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے نکاح کا مانگا ڈالا تھا اور بھی جو باتیں اس طرح کی ہوں ان کی تو اجازت ہے باقی اور غیبت حرام ہے اور کبیرہ گناہ ہے۔

اسی لیے یہاں فرمایا کہ ” جس طرح تم اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے گھن کرتے ہو اس سے بہت زیادہ نفرت تمہیں غیبت سے کرنی چاہیئے “۔

جیسے حدیث میں ہے اپنے دئیے ہوئے ہبہ کو واپس لینے والا ایسا ہے جیسے کتا جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے اور فرمایا بری مثال ہمارے لیے لائق نہیں ۔ [صحیح بخاری:2622] ‏

حجۃ الوداع کے خطبے میں ہے تمہارے خون مال آبرو تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیسی حرمت تمہارے اس دن کی تمہارے اس مہینے میں اور تمہارے اس شہر میں ہے ۔ [صحیح بخاری:67] ‏

صفحہ نمبر8673

ابوداؤد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ”مسلمان کا مال اس کی عزت اور اس کا خون مسلمان پر حرام ہے انسان کو اتنی ہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی حقارت کرے“ ۔ [صحیح مسلم:2564] ‏

اور حدیث میں ہے اے وہ لوگو! جن کی زبانیں تو ایمان لا چکیں ہیں لیکن دل ایماندار نہیں ہوئے، تم مسلمانوں کی غیبتیں کرنا چھوڑ دو اور ان کے عیبوں کی کرید نہ کیا کرو، یاد رکھو اگر تم نے ان کے عیب ٹٹولے تو اللہ تعالیٰ تمہاری پوشیدہ خرابیوں کو ظاہر کر دے گا یہاں تک کہ تم اپنے گھرانے والوں میں بھی بدنام اور رسوا ہو جاؤ گے ۔ [سنن ابوداود:4880،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏

مسند ابو یعلیٰ میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ سنایا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ نشین عورتوں کے کانوں میں بھی اپنی آواز پہنچائی اور اس خطبہ میں اوپر والی حدیث بیان فرمائی ۔ [مسند ابویعلیٰ:1675:ضعیف] ‏

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ کعبہ کی طرف دیکھا اور فرمایا ”تیری حرمت و عظمت کا کیا ہی کہنا ہے لیکن تجھ سے بھی بہت زیادہ حرمت ایک ایماندار شخص کی اللہ کے نزدیک ہے ۔‏“ [سنن ترمذي:5763،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏

ابوداؤد میں ہے جس نے کسی مسلمان کی برائی کر کے ایک نوالہ حاصل کیا اسے جہنم کی اتنی ہی غذا کھلائی جائے گی اسی طرح جس نے مسلمانوں کی برائی کرنے پر پوشاک حاصل کی اسے اسی جیسی پوشاک جہنم کی پہنائی جائے گی اور جو شخص کسی دوسرے کی بڑائی دکھانے سنانے کو کھڑا ہوا اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دکھاوے سناوے کے مقام میں کھڑا کر دے گا ۔ [سنن ابوداود:4881،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8674

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”معراج والی رات میں نے دیکھا کہ کچھ لوگوں کے ناخن تانبے کے ہیں جن سے وہ اپنے چہرے اور سینے نوچ رہے ہیں میں نے پوچھا کہ جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا: یہ وہ ہیں جو لوگوں کے گوشت کھاتے تھے اور ان کی عزتیں لوٹتے تھے ۔ [سنن ابوداود:4878،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اور روایت میں ہے کہ لوگوں کے سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معراج والی رات میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا جن میں مرد و عورت دونوں تھے کہ فرشتے ان کے پہلوؤں سے گوشت کاٹتے ہیں اور پھر انہیں اس کے کھانے پر مجبور کر رہے ہیں اور وہ اسے چبا رہے ہیں، میرے سوال پر کہا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو طعنہ زن، غیبت گو، چغل خور تھے، انہیں جبراً آج خود ان کا گوشت کھلایا جا رہا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:308/22:ضعیف] ‏ یہ حدیث بہت مطول ہے اور ہم نے پوری حدیث سورۃ سبحٰن کی تفسیر میں بیان بھی کر دی ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

مسند ابوداؤد طیالسی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو روزے کا حکم دیا اور فرمایا: ”جب تک میں نہ کہوں کوئی افطار نہ کرے“، شام کو لوگ آنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اجازت دیتے اور وہ افطار کرتے، اتنے میں ایک صاحب آئے اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول ! دو عورتوں نے روزہ رکھا تھا جو آپ ہی کے متعلقین میں سے ہیں انہیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیجئیے کہ روزہ کھول لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا اس نے دوبارہ عرض کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ روزے سے نہیں ہیں، کیا وہ بھی روزے دار ہو سکتا ہے؟ جو انسانی گوشت کھائے، جاؤ انہیں کہو کہ اگر وہ روزے سے ہیں تو قے کریں۔“ چنانچہ انہوں نے قے کی جس میں خون جمے کے لوتھڑے نکلے اس نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ اسی حالت میں مر جاتیں تو آگ کا لقمہ بنتیں“ ۔ [مسند طیالسی:2107:ضعیف] ‏ اس کی سند ضعیف ہے اور متن بھی غریب ہے۔

صفحہ نمبر8675

دوسری روایت میں ہے کہ اس شخص نے کہا تھا: اے اللہ کے رسول ! ان دونوں عورتوں کی روزے میں بری حالت ہے، مارے پیاس کے مر رہی ہیں اور یہ دوپہر کا وقت تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی پر اس نے دوبارہ کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ تو مر گئی ہوں گی یا تھوڑی دیر میں مر جائیں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ انہیں بلا لاؤ“، جب وہ آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا مٹکا ایک کے سامنے رکھ کر فرمایا: ”اس میں قے کر“، اس نے قے کی تو اس میں پیپ خون جامد وغیرہ نکلی جس سے آدھا مٹکا بھر گیا پھر دوسری سے قے کرائی اس میں بھی یہی چیزیں اور گوشت کے لوتھڑے وغیرہ نکلے اور مٹکا بھر گیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں دیکھو حلال روزہ رکھے ہوئے تھیں اور حرام کھا رہی تھیں دونوں بیٹھ کر لوگوں کے گوشت کھانے لگی تھیں“ (‏یعنی غیبت کر رہی تھیں) ۔ [مسند احمد:431/5:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8676

مسند حافظ ابو یعلیٰ میں ہے کہ سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”یا رسول اللہ ! میں نے زنا کیا ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیر لیا یہاں تک کہ وہ چار مرتبہ کہہ چکے، پھر پانچویں دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”تو نے زنا کیا ہے؟“، جواب دیا ہاں، فرمایا: ”جانتا ہے زنا کسے کہتے ہیں؟“، جواب دیا، ہاں! جس طرح انسان اپنی حلال عورت کے پاس جاتا ہے اسی طرح میں نے حرام عورت سے کیا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تیرا مقصد کیا ہے؟“ کہا: یہ کہ آپ مجھے اس گناہ سے پاک کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اسی طرح دخول کیا تھا جس طرح سلائی سرمہ دانی میں اور لکڑی کنویں میں؟“، کہا: ہاں، یا رسول اللہ !، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کرنے یعنی پتھراؤ کرنے کا حکم دیا چنانچہ یہ رجم کر دئے گئے ۔ [سنن ابوداود:4419،قال الشيخ الألباني:صحيح دون قوله لعله أن] ‏

اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شخصوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اسے دیکھو اللہ نے اس کی پردہ پوشی کی تھی لیکن اس نے اپنے تئیں نہ چھوڑا یہاں تک کہ کتے کی طرح پتھراؤ کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سنتے ہوئے چلتے رہے تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ راستے میں ایک مردہ گدھا پڑا ہوا ہے فرمایا: ”فلاں فلاں شخص کہاں ہیں؟ وہ سواری سے اتریں اور اس گدھے کا گوشت کھائیں“، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ آپ کو بخشے کیا یہ کھانے کے قابل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی جو تم نے اپنے بھائی کی بدی بیان کی تھی وہ اس سے بھی زیادہ بری چیز تھی۔ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ شخص جسے تم نے برا کہا تھا وہ تو اب اس وقت جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہا ہے“ ، اس کی اسناد صحیح ہے۔ [نسائی فی السنن الکبری:7164:ضعیف] ‏

مسند احمد میں ہے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ نہایت سڑی ہوئی مرداری بو والی ہوا چلی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو، یہ بو کس چیز کی ہے؟ یہ بدبو ان کی ہے جو لوگوں کی غیبت کرتے ہیں“ ۔

اور روایت میں ہے کہ منافقوں کے ایک گروہ نے مسلمانوں کی غیبت کی ہے یہ بدبودار ہوا وہ ہے ۔ [مسند احمد:351/3:قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8677

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ایک سفر میں دو شخصوں کے ساتھ تھے جن کی یہ خدمت کرتے تھے اور وہ انہیں کھانا کھلاتے تھے ایک مرتبہ سلمان رضی اللہ عنہ سو گئے تھے اور قافلہ آگے چل پڑا۔ پڑاؤ ڈالنے کے بعد ان دونوں نے دیکھا کہ سلمان رضی اللہ عنہ نہیں تو اپنے ہاتھوں سے انہیں خیمہ کھڑا کرنا پڑا اور غصہ سے کہا: سلمان تو بس اتنے ہی کام کا ہے کہ پکی پکائی کھا لے اور تیار خیمے میں آ کر آرام کر لے۔ تھوڑی دیر بعد سلمان رضی اللہ عنہ پہنچے ان دونوں کے پاس سالن نہ تھا تو کہا: تم جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے لیے سالن لے آؤ۔ یہ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ ! مجھے میرے دونوں ساتھیوں نے بھیجا ہے کہ اگر آپ کے پاس سالن ہو تو دے دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سالن کا کیا کریں گے؟ انہوں نے تو سالن پا لیا“، سلمان واپس گئے اور جا کر ان سے یہ بات کہی وہ اٹھے اور خود حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول ! ہمارے پاس تو سالن نہیں، نہ آپ نے بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مسلمان کے گوشت کا سالن کھا لیا جبکہ تم نے انہیں یوں کہا“، اس پر یہ آیت نازل ہوئی «أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ» [49-الحجرات:12] ‏ اس لیے کہ وہ سوئے ہوئے تھے اور یہ ان کی غیبت کر رہے تھے ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:102/6:ضعیف] ‏

مختار ابوضیاء میں تقریبًا ایسا ہی واقعہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہم کا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے اس خادم کا گوشت تمہارے دانتوں میں اٹکا ہوا دیکھ رہا ہوں“، اور ان کا اپنے غلام سے جبکہ وہ سویا ہوا تھا اور ان کا کھانا تیار نہیں کیا تھا صرف اتنا ہی کہنا مروی ہے کہ ”یہ تو بڑا سونے والا ہے“، ان دونوں بزرگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ ہمارے لیے استغفار کریں ۔ [المختارۃ للمقدسی:71/5:حسن] ‏

ابو یعلیٰ میں ہے جس نے دنیا میں اپنے بھائی کا گوشت کھایا (‏یعنی اس کی غیبت کی) قیامت کے دن اس کے سامنے وہ گوشت لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ جیسے اس کی زندگی میں تو نے اس کا گوشت کھایا تھا اب اس مردے کا گوشت بھی کھا۔ اب یہ چیخے گا چلائے گا ہائے وائے کرے گا اور اسے جبراً وہ مردہ گوشت کھانا پڑے گا۔ یہ روایت بہت غریب ہے۔

صفحہ نمبر8678

پھر فرماتا ہے کہ اللہ کا لحاظ کرو، اس کے احکام بجا لاؤ، اس کی منع کردہ چیزوں سے رک جاؤ اور اس سے ڈرتے رہا کرو۔ جو اس کی طرف جھکے وہ اس کی طرف مائل ہو جاتا ہے توبہ کرنے والے کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جو اس پر بھروسہ کرے اس کی طرف رجوع کرے وہ اس پر رحم اور مہربانی فرماتا ہے۔

جمہور علماء کرام فرماتے ہیں غیبت گو کی توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس خصلت کو چھوڑ دے اور پھر سے اس گناہ کو نہ کرے پہلے جو کر چکا ہے اس پر نادم ہونا بھی شرط ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے اور جس کی غیبت کی ہے اس سے معافی حاصل کر لے۔ بعض کہتے ہیں یہ بھی شرط نہیں اس لیے کہ ممکن ہے اسے خبر ہی نہ ہو اور معافی مانگنے کو جب جائے گا تو اسے اور رنج ہو گا۔ پس اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جن مجلسوں میں اس کی برائی بیان کی تھی ان میں اب اس کی سچی صفائی بیان کرے اور اس برائی کو اپنی طاقت کے مطابق دفع کر دے تو اولاً بدلہ ہو جائے گا۔ مسند احمد میں ہے جو شخص اس وقت کسی مومن کی حمایت کرے جبکہ کوئی منافق اس کی مذمت بیان کر رہا ہو اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو مقرر کر دیتا ہے جو قیامت والے دن اس کے گوشت کو نار جہنم سے بچائے گا اور جو شخص کسی مومن پر کوئی ایسی بات کہے گا جس سے اس کا ارادہ اسے مطعون کرنے کا ہو اسے اللہ تعالیٰ پل صراط پر روک لے گا یہاں تک کہ بدلا ہو جائے ۔ یہ حدیث ابوداؤد میں بھی ہے۔ [سنن ابوداود:4883،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ابوداؤد کی ایک اور حدیث میں ہے جو شخص کسی مسلمان کی بےعزتی ایسی جگہ میں کرے جہاں اس کی آبرو ریزی اور توہین ہوتی ہو تو اسے بھی اللہ تعالیٰ ایسی جگہ رسوا کرے گا جہاں وہ اپنی مدد کا طالب ہو اور جو مسلمان ایسی جگہ اپنے بھائی کی حمایت کرے اللہ تعالیٰ بھی ایسی جگہ اس کی نصرت کرے گا ۔ [سنن ابوداود:4884،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8679

نسل انسانی کا نکتہ آغاز ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” اس نے تمام انسانوں کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا ہے “۔ یعنی آدم علیہ السلام ہی سے ان کی بیوی صاحبہ حواء علیہا السلام کو پیدا کیا تھا اور پھر ان دونوں سے نسل انسانی پھیلی۔

«شعوب» قبائل سے عام ہے مثال کے طور پر عرب تو «شعوب» میں داخل ہے پھر قریش غیر قریش پھر ان کی تقسیم میں یہ سب قبائل داخل ہے۔

بعض کہتے ہیں «شعوب» سے مراد عجمی لوگ اور قبائل سے مراد عرب جماعتیں۔ جیسے کہ بنی اسرائیل کو «اسباط» کہا گیا ہے میں نے ان تمام باتوں کو ایک علیحدہ مقدمہ میں لکھ دیا ہے جسے میں نے ابوعمر بن عبدالبر کی کتاب «الاشباہ» اور کتاب «القصد والامم فی معرفۃ انساب العرب والعجم» سے جمع کیا ہے۔

مقصد اس آیت مبارکہ کا یہ ہے کہ آدم علیہ السلام جو مٹی سے پیدا ہوئے تھے ان کی طرف سے نسبت میں تو کل جہان کے آدمی ہم مرتبہ ہیں اب جو کچھ فضیلت جس کسی کو حاصل ہو گی وہ امر دینی، اطاعت اللہ اور اتباع نبوی کی وجہ سے ہو گی۔ یہی راز ہے جو اس آیت کو غیبت کی ممانعت اور ایک دوسرے کی توہین و تذلیل سے روکنے کے بعد وارد کی کہ سب لوگ اپنی پیدائشی نسبت کے لحاظ سے بالکل یکساں ہیں، کنبے قبیلے برادریاں اور جماعتیں صرف پہچان کے لیے ہیں تاکہ جتھا بندی اور ہمدردی قائم رہے۔ فلاں بن فلاں قبیلے والا کہا جا سکے اور اس طرح ایک دوسرے کی پہچان آسان ہو جائے ورنہ بشریت کے اعتبار سے سب قومیں یکساں ہیں۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قبیلہ حمیر اپنے حلیفوں کی طرف منسوب ہوتا تھا اور حجازی عرب اپنے قبیلوں کی طرف اپنی نسبت کرتے تھے۔

صفحہ نمبر8680

ترمذی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”نسب کا علم حاصل کرو تاکہ صلہ رحمی کر سکو صلہ رحمی سے لوگ تم سے محبت کرنے لگیں گے تمہارے مال اور تمہاری زندگی میں اللہ برکت دے گا“ ۔ [سنن ترمذي:1979،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔

پھر فرمایا ” حسب نسب اللہ کے ہاں نہیں چلتا وہاں تو فضیلت، تقویٰ اور پرہیزگاری سے ملتی ہے “۔

صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ سب سے زیادہ بزرگ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔‏“ لوگوں نے کہا: ہم یہ عام بات نہیں پوچھتے۔ فرمایا: ”پھر سب سے زیادہ بزرگ یوسف علیہ السلام ہیں جو خود نبی تھے نبی ذادے تھے دادا بھی نبی تھے پردادا تو خلیل اللہ علیہ السلام تھے“، انہوں نے کہا: ہم یہ بھی نہیں پوچھتے۔ فرمایا: ”پھر عرب کے بارے میں پوچھتے ہو؟ سنو! ان کے جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں ممتاز تھے وہی اب اسلام میں بھی پسندیدہ ہیں جب کہ وہ علم دین کی سمجھ حاصل کر لیں“ ۔ [صحیح مسلم:2378] ‏

صحیح مسلم میں ہے اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے ۔ [صحیح مسلم:2564] ‏

صفحہ نمبر8681

مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”خیال رکھ کہ تو کسی سرخ و سیاہ پر کوئی فضیلت نہیں رکھتا ہاں تقویٰ میں بڑھ جا تو فضیلت ہے“ ۔ [مسند احمد:158/5:ضعیف] ‏

طبرانی میں ہے مسلمان سب آپس میں بھائی ہیں کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے ساتھ ۔ [طبرانی کبیر:3547:ضعیف] ‏

مسند بزار میں ہے تم سب اولاد آدم ہو اور خود آدم علیہ السلام مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں، لوگو! اپنے باپ دادوں کے نام پر فخر کرنے سے باز آؤ ورنہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ریت کے تودوں اور آبی پرندوں سے بھی زیادہ ہلکے ہو جاؤ گے ۔ [مسند بزار:2043:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن اپنی اونٹنی قصوا پر سوار ہو کر طواف کیا اور ارکان کو آپ اپنی چھڑی سے چھو لیتے تھے۔ پھر چونکہ مسجد میں اس کے بٹھانے کو جگہ نہ ملی تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھوں ہاتھ اتارا اور اونٹنی کو بطن مسیل میں لے جا کر بٹھایا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر لوگوں کو خطبہ سنایا جس میں اللہ تعالیٰ کی پوری حمد و ثنا بیان کر کے فرمایا: ”لوگو اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے اسباب اور جاہلیت کے باپ دادوں پر فخر کرنے کی رسم اب دور کر دی ہے پس انسان دو ہی قسم کے ہیں یا تو نیک پرہیزگار جو اللہ کے نزدیک بلند مرتبہ ہیں یا بدکار غیر متقی جو اللہ کی نگاہوں میں ذلیل و خوار ہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ پھر فرمایا: ”میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے استغفار کرتا ہوں“ ۔ [مسند عبد بن حمید:793:ضعیف] ‏

مسند احمد میں ہے کہ تمہارے نسب نامے دراصل کوئی کام دینے والے نہیں تم سب بالکل برابر کے آدم کے لڑکے ہو کسی کو کسی پر فضیلت نہیں ہاں فضیلت دین و تقویٰ سے ہے، انسان کو یہی برائی کافی ہے کہ وہ بدگو، بخیل، اور فحش کلام ہو ۔ [مسند احمد:145/4:ضعیف] ‏

ابن جریر کی اس روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے حسب نسب کو قیامت کے دن نہ پوچھے گا، تم سب میں سے زیادہ بزرگ اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو تم سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں ۔

مسند احمد میں ہے کہ نبی علیہ السلام منبر پر تھے کہ ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! سب سے بہتر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سب سے زیادہ مہمان نواز، سب سے زیادہ پرہیزگار، سب سے زیادہ اچھی بات کا حکم دینے والا، سب سے زیادہ بری بات سے روکنے والا، سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہے“ ۔ [مسند احمد:432/6:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8682

مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کی کوئی چیز یا کوئی شخص کبھی بھلا نہیں لگتا تھا مگر تقوے والے انسان کے ۔ [مسند احمد:69/6:ضعیف] ‏

اللہ تمہیں جانتا ہے اور تمہارے کاموں سے بھی خبردار ہے، ہدایت کے لائق جو ہیں انہیں راہ راست دکھاتا ہے اور جو اس لائق نہیں وہ بے راہ ہو رہے ہیں۔ رحم اور عذاب اس کی مشیت پر موقوف ہیں، فضیلت اس کے ہاتھ ہے جسے چاہے جس پر چاہے بزرگی عطا فرمائے یہ تمام امور اس کے علم اور اس کی خبر پر مبنی ہیں۔ اس آیت کریمہ اور ان احادیث شریفہ سے استدلال کر کے علماء نے فرمایا ہے کہ نکاح میں قومیت اور حسب نسب کی شرط نہیں، سوائے دین کے اور کوئی شرط معتبر نہیں۔ دوسروں نے کہا ہے کہ ہم نسبی اور قومیت بھی شرط ہے اور ان کے دلائل ان کے سوا اور ہیں جو کتب فقہ میں مذکور ہیں اور ہم بھی انہیں «کتاب الاحکام» میں ذکر کر چکے ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

طبرانی میں عبدالرحمٰن سے مروی ہے کہ انہوں نے بنو ہاشم میں سے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ نسبت اور تمام لوگوں کے بہت زیادہ قریب ہوں۔ پس دوسرے نے کہا کہ تیری بہ نسبت میں آپ سے بہت زیادہ قریب ہوں اور مجھے آپ سے نسبت بھی ہے ۔

صفحہ نمبر8683

ایمان کا دعویٰ کرنے والے اپنا جائزہ تو لیں ٭٭

کچھ اعرابی لوگ اسلام میں داخل ہوتے ہی اپنے ایمان کا بڑھا چڑھا کر دعویٰ کرنے لگتے تھے حالانکہ دراصل ان کے دل میں اب تک ایمان کی جڑیں مضبوط نہیں ہوئی تھیں ان کو اللہ تعالیٰ اس دعوے سے روکتا ہے یہ کہتے تھے ہم ایمان لائے۔ اللہ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ ان کو کہئیے اب تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا تم یوں نہ کہو کہ ہم ایمان لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم مسلمان ہوئے یعنی اسلام کے حلقہ بگوش ہوئے نبی کی اطاعت میں آئے ہیں۔

اس آیت نے یہ فائدہ دیا کہ ایمان اسلام سے مخصوص چیز ہے جیسے کہ اہل سنت و الجماعت کا مذہب ہے، جبرائیل علیہ السلام والی حدیث بھی اسی پر دلالت کرتی ہے جبکہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے میں پھر احسان کے بارے میں۔ پس وہ زینہ بہ زینہ چڑھتے گئے عام سے خاص کی طرف آئے اور پھر خاص سے اخص کی طرف آئے۔

صفحہ نمبر8684

مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کو عطیہ اور انعام دیا اور ایک شخص کو کچھ بھی نہ دیا اس پر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ ! آپ نے فلاں فلاں کو دیا اور فلاں کو بالکل چھوڑ دیا حالانکہ وہ مومن ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان؟“ تین مرتبہ یکے بعد دیگرے، سعد رضی اللہ عنہ نے یہی کہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی جواب دیا پھر فرمایا: ”اے سعد! میں لوگوں کو دیتا ہوں اور جو ان میں مجھے بہت زیادہ محبوب ہوتا ہے اسے نہیں دیتا ہوں، دیتا ہوں اس ڈر سے کہ کہیں وہ اوندھے منہ آگ میں نہ گر پڑیں“ ۔ [صحیح بخاری:27] ‏ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔

پس اس حدیث میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن و مسلم میں فرق کیا اور معلوم ہو گیا کہ ایمان زیادہ خاص ہے بہ نسبت اسلام کے۔ ہم نے اسے مع دلائل صحیح بخاری کی «کتاب الایمان» کی شرح میں ذکر کر دیا ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

اور اس حدیث میں اس بات پر بھی دلالت ہے کہ یہ شخص مسلمان تھے منافق نہ تھے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی عطیہ عطا نہیں فرمایا اور اسے اس کے اسلام کے سپرد کر دیا۔

پس معلوم ہوا کہ یہ اعراب جن کا ذکر اس آیت میں ہے منافق نہ تھے، تھے تو مسلمان لیکن اب تک ان کے دلوں میں ایمان صحیح طور پر مستحکم نہ ہوا تھا اور انہوں نے اس بلند مقام تک اپنی رسائی ہو جانے کا ابھی سے دعویٰ کر دیا تھا اس لیے انہیں ادب سکھایا گیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کے قول کا یہی مطلب ہے اور اسی کو امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اختیار کیا ہے ہمیں یہ سب یوں کہنا پڑا کہ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ منافق تھے جو ایمان ظاہر کرتے تھے لیکن دراصل مومن نہ تھے (‏یہ یاد رہے ایمان و اسلام میں فرق اس وقت ہے جبکہ اسلام اپنی حقیقت پر نہ ہو جب اسلام حقیقی ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس وقت ایمان اسلام میں کوئی فرق نہیں) اس کے بہت سے قوی دلائل امام الائمہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں «کتاب الایمان» میں بیان فرمائے ہیں اور ان لوگوں کا منافق ہونا اس کا ثبوت بھی موجود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (‏مترجم)

صفحہ نمبر8685

سعید بن جبیر، مجاہد، ابن زید رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بلکہ تم «اَسْلَمْنَا» کہو اس سے مراد یہ ہے کہ ہم قتل اور قید بند ہونے سے بچنے کے لیے تابع ہو گئے ہیں۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت بنو اسد بن خزیمہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جو ایمان لانے کا دعویٰ کرتے تھے حالانکہ اب تک وہاں پہنچے نہ تھے پس انہیں ادب سکھایا گیا اور بتایا گیا کہ یہ اب تک ایمان تک نہیں پہنچے اگر یہ منافق ہوتے تو انہیں ڈانٹ ڈپٹ کی جاتی اور ان کی رسوائی کی جاتی جیسے کہ سورۃ برات میں منافقوں کا ذکر کیا گیا لیکن یہاں تو انہیں صرف ادب سکھایا گیا۔

صفحہ نمبر8686

پھر فرماتا ہے ” اگر تم اللہ اور اس کے رسول کے فرماں بردار رہو گے تو تمہارے کسی عمل کا اجر مارا نہ جائے گا “۔

جیسے فرمایا «وَمَا أَلَتْنَاهُم مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَيْءٍ كُلُّ امْرِ‌ئٍ بِمَا كَسَبَ رَ‌هِينٌ» [52-الطور:21] ‏ یعنی ” ہم نے ان کے اعمال میں سے کچھ بھی نہیں گھٹایا “۔

پھر فرمایا ” جو اللہ کی طرف رجوع کرے برائی سے لوٹ آئے اللہ اس کے گناہ معاف فرمانے والا اور اس کی طرف رحم بھری نگاہوں سے دیکھنے والا ہے “۔

پھر فرماتا ہے کہ کامل ایمان والے صرف وہ لوگ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر دل سے یقین رکھتے ہیں پھر نہ شک کرتے ہیں، نہ کبھی ان کے دل میں کوئی نکما خیال پیدا ہوتا ہے بلکہ اسی خیال تصدیق پر اور کامل یقین پر جم جاتے ہیں اور جمے ہی رہتے ہیں اور اپنے نفس اور دل کی پسندیدہ دولت کو بلکہ اپنی جانوں کو بھی راہ اللہ کے جہاد میں خرچ کرتے ہیں۔ یہ سچے لوگ ہیں یعنی یہ ہیں جو کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں یہ ان لوگوں کی طرح نہیں جو صرف زبان سے ہی ایمان کا دعویٰ کر کے رہ جاتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا میں مومن کی تین قسمیں ہیں (‏۱)‏ وہ جو اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے شک شبہ نہ کیا اور اپنی جان اور اپنے مال سے راہ اللہ میں جہاد کیا، (‏۲)‏ وہ جن سے لوگوں نے امن پا لیا، نہ یہ کسی کا مال ماریں، نہ کسی کی جان لیں، (‏۳)‏ وہ جو طمع کی طرف جب جھانکتے ہیں اللہ عزوجل کی یاد کرتے ہیں ۔ [مسند احمد:8/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8687

ایمان کا دعویٰ کرنے والے اپنا جائزہ تو لیں ٭٭

کچھ اعرابی لوگ اسلام میں داخل ہوتے ہی اپنے ایمان کا بڑھا چڑھا کر دعویٰ کرنے لگتے تھے حالانکہ دراصل ان کے دل میں اب تک ایمان کی جڑیں مضبوط نہیں ہوئی تھیں ان کو اللہ تعالیٰ اس دعوے سے روکتا ہے یہ کہتے تھے ہم ایمان لائے۔ اللہ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ ان کو کہئیے اب تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا تم یوں نہ کہو کہ ہم ایمان لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم مسلمان ہوئے یعنی اسلام کے حلقہ بگوش ہوئے نبی کی اطاعت میں آئے ہیں۔

اس آیت نے یہ فائدہ دیا کہ ایمان اسلام سے مخصوص چیز ہے جیسے کہ اہل سنت و الجماعت کا مذہب ہے، جبرائیل علیہ السلام والی حدیث بھی اسی پر دلالت کرتی ہے جبکہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے میں پھر احسان کے بارے میں۔ پس وہ زینہ بہ زینہ چڑھتے گئے عام سے خاص کی طرف آئے اور پھر خاص سے اخص کی طرف آئے۔

صفحہ نمبر8684

مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کو عطیہ اور انعام دیا اور ایک شخص کو کچھ بھی نہ دیا اس پر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ ! آپ نے فلاں فلاں کو دیا اور فلاں کو بالکل چھوڑ دیا حالانکہ وہ مومن ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان؟“ تین مرتبہ یکے بعد دیگرے، سعد رضی اللہ عنہ نے یہی کہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی جواب دیا پھر فرمایا: ”اے سعد! میں لوگوں کو دیتا ہوں اور جو ان میں مجھے بہت زیادہ محبوب ہوتا ہے اسے نہیں دیتا ہوں، دیتا ہوں اس ڈر سے کہ کہیں وہ اوندھے منہ آگ میں نہ گر پڑیں“ ۔ [صحیح بخاری:27] ‏ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔

پس اس حدیث میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن و مسلم میں فرق کیا اور معلوم ہو گیا کہ ایمان زیادہ خاص ہے بہ نسبت اسلام کے۔ ہم نے اسے مع دلائل صحیح بخاری کی «کتاب الایمان» کی شرح میں ذکر کر دیا ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

اور اس حدیث میں اس بات پر بھی دلالت ہے کہ یہ شخص مسلمان تھے منافق نہ تھے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی عطیہ عطا نہیں فرمایا اور اسے اس کے اسلام کے سپرد کر دیا۔

پس معلوم ہوا کہ یہ اعراب جن کا ذکر اس آیت میں ہے منافق نہ تھے، تھے تو مسلمان لیکن اب تک ان کے دلوں میں ایمان صحیح طور پر مستحکم نہ ہوا تھا اور انہوں نے اس بلند مقام تک اپنی رسائی ہو جانے کا ابھی سے دعویٰ کر دیا تھا اس لیے انہیں ادب سکھایا گیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کے قول کا یہی مطلب ہے اور اسی کو امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اختیار کیا ہے ہمیں یہ سب یوں کہنا پڑا کہ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ منافق تھے جو ایمان ظاہر کرتے تھے لیکن دراصل مومن نہ تھے (‏یہ یاد رہے ایمان و اسلام میں فرق اس وقت ہے جبکہ اسلام اپنی حقیقت پر نہ ہو جب اسلام حقیقی ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس وقت ایمان اسلام میں کوئی فرق نہیں) اس کے بہت سے قوی دلائل امام الائمہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں «کتاب الایمان» میں بیان فرمائے ہیں اور ان لوگوں کا منافق ہونا اس کا ثبوت بھی موجود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (‏مترجم)

صفحہ نمبر8685

سعید بن جبیر، مجاہد، ابن زید رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بلکہ تم «اَسْلَمْنَا» کہو اس سے مراد یہ ہے کہ ہم قتل اور قید بند ہونے سے بچنے کے لیے تابع ہو گئے ہیں۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت بنو اسد بن خزیمہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جو ایمان لانے کا دعویٰ کرتے تھے حالانکہ اب تک وہاں پہنچے نہ تھے پس انہیں ادب سکھایا گیا اور بتایا گیا کہ یہ اب تک ایمان تک نہیں پہنچے اگر یہ منافق ہوتے تو انہیں ڈانٹ ڈپٹ کی جاتی اور ان کی رسوائی کی جاتی جیسے کہ سورۃ برات میں منافقوں کا ذکر کیا گیا لیکن یہاں تو انہیں صرف ادب سکھایا گیا۔

صفحہ نمبر8686

پھر فرماتا ہے ” اگر تم اللہ اور اس کے رسول کے فرماں بردار رہو گے تو تمہارے کسی عمل کا اجر مارا نہ جائے گا “۔

جیسے فرمایا «وَمَا أَلَتْنَاهُم مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَيْءٍ كُلُّ امْرِ‌ئٍ بِمَا كَسَبَ رَ‌هِينٌ» [52-الطور:21] ‏ یعنی ” ہم نے ان کے اعمال میں سے کچھ بھی نہیں گھٹایا “۔

پھر فرمایا ” جو اللہ کی طرف رجوع کرے برائی سے لوٹ آئے اللہ اس کے گناہ معاف فرمانے والا اور اس کی طرف رحم بھری نگاہوں سے دیکھنے والا ہے “۔

پھر فرماتا ہے کہ کامل ایمان والے صرف وہ لوگ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر دل سے یقین رکھتے ہیں پھر نہ شک کرتے ہیں، نہ کبھی ان کے دل میں کوئی نکما خیال پیدا ہوتا ہے بلکہ اسی خیال تصدیق پر اور کامل یقین پر جم جاتے ہیں اور جمے ہی رہتے ہیں اور اپنے نفس اور دل کی پسندیدہ دولت کو بلکہ اپنی جانوں کو بھی راہ اللہ کے جہاد میں خرچ کرتے ہیں۔ یہ سچے لوگ ہیں یعنی یہ ہیں جو کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں یہ ان لوگوں کی طرح نہیں جو صرف زبان سے ہی ایمان کا دعویٰ کر کے رہ جاتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا میں مومن کی تین قسمیں ہیں (‏۱)‏ وہ جو اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے شک شبہ نہ کیا اور اپنی جان اور اپنے مال سے راہ اللہ میں جہاد کیا، (‏۲)‏ وہ جن سے لوگوں نے امن پا لیا، نہ یہ کسی کا مال ماریں، نہ کسی کی جان لیں، (‏۳)‏ وہ جو طمع کی طرف جب جھانکتے ہیں اللہ عزوجل کی یاد کرتے ہیں ۔ [مسند احمد:8/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8687

باب

پھر فرماتا ہے کہ کیا تم اپنے دل کا یقین و دین اللہ کو دکھاتے ہو؟ وہ تو ایسا ہے کہ زمین و آسمان کا کوئی ذرہ اس سے مخفی نہیں، وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

پھر فرمایا جو اعراب اپنے اسلام لانے کا بار احسان تجھ پر رکھتے ہیں ان سے کہہ دو کہ مجھ پر اسلام لانے کا احسان نہ جتاؤ تم اگر اسلام قبول کرو گے میری فرماں برداری کرو گے میری مدد کرو گے تو اس کا نفع تمہیں کو ملے گا۔ بلکہ دراصل ایمان کی دولت تمہیں دینا یہ اللہ ہی کا احسان ہے اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ (‏اب غور فرمائیے کہ کیا اسلام لانے کا احسان پیغمبر اللہ پر جتانے والے سچے مسلمان تھے؟)

پس آیات کی ترتیب سے ظاہر ہے کہ ان کا اسلام حقیقت پر مبنی نہ تھا اور یہی الفاظ بھی ہیں کہ ایمان اب تک ان کے ذہن نشین نہیں ہوا اور جب تک اسلام حقیقت پر مبنی نہ ہو تب تک بیشک وہ ایمان نہیں لیکن جب وہ اپنی حقیقت پر صحیح معنی میں ہو تو پھر ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے۔ خود اس آیت کے الفاظ میں غور فرمائیے ارشاد ہے ” اپنے اسلام کا احسان تجھ پر رکھتے ہیں حالانکہ دراصل ایمان کی ہدایت اللہ کا خود ان پر احسان ہے “۔

صفحہ نمبر8689

پس وہاں احسان اسلام رکھنے کو بیان کر کے اپنا احسان ہدایت ایمان جتانا بھی ایمان و اسلام کے ایک ہونے پر باریک اشارہ ہے۔ (‏مزید دلائل صحیح بخاری شریف وغیرہ ملاحظہ ہوں۔ مترجم)

پس اللہ تعالیٰ کا کسی کو ایمان کی راہ دکھانا اس پر احسان کرنا ہے جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین والے دن انصار سے فرمایا تھا: ”میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا؟ پھر اللہ تعالیٰ نے تم میں اتفاق دیا تم مفلس تھے میری وجہ سے اللہ نے تمہیں مالدار کیا۔‏“ جب کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ فرماتے وہ کہتے: ”بیشک اللہ اور اس کے رسول اس سے بھی زیادہ احسانوں والے ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:4330] ‏

مسند بزار میں ہے کہ بنو اسد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے، یا رسول اللہ ! ہم مسلمان ہوئے عرب آپ سے لڑتے رہے لیکن ہم آپ سے نہیں لڑے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سمجھ بہت کم ہے، شیطان ان کی زبانوں پر بول رہا ہے“ اور یہ آیت «يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا ۭ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَيَّ اِسْلَامَكُمْ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» [49-الحجرات:17] ‏، نازل ہوئی ۔

پھر دوبارہ اللہ رب العزت نے اپنے وسیع علم اور اپنی سچی باخبری اور مخلوق کے اعمال سے آگاہی کو بیان فرمایا کہ ” آسمان و زمین کے غیب اس پر ظاہر ہیں اور وہ تمہارے اعمال سے آگاہ ہے “۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحجرات کی تفسیر ختم ہوئی اللہ کا شکر ہے۔ توفیق اور ہمت اسی کے ہاتھ ہے۔

صفحہ نمبر8690

باب

پھر فرماتا ہے کہ کیا تم اپنے دل کا یقین و دین اللہ کو دکھاتے ہو؟ وہ تو ایسا ہے کہ زمین و آسمان کا کوئی ذرہ اس سے مخفی نہیں، وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

پھر فرمایا جو اعراب اپنے اسلام لانے کا بار احسان تجھ پر رکھتے ہیں ان سے کہہ دو کہ مجھ پر اسلام لانے کا احسان نہ جتاؤ تم اگر اسلام قبول کرو گے میری فرماں برداری کرو گے میری مدد کرو گے تو اس کا نفع تمہیں کو ملے گا۔ بلکہ دراصل ایمان کی دولت تمہیں دینا یہ اللہ ہی کا احسان ہے اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ (‏اب غور فرمائیے کہ کیا اسلام لانے کا احسان پیغمبر اللہ پر جتانے والے سچے مسلمان تھے؟)

پس آیات کی ترتیب سے ظاہر ہے کہ ان کا اسلام حقیقت پر مبنی نہ تھا اور یہی الفاظ بھی ہیں کہ ایمان اب تک ان کے ذہن نشین نہیں ہوا اور جب تک اسلام حقیقت پر مبنی نہ ہو تب تک بیشک وہ ایمان نہیں لیکن جب وہ اپنی حقیقت پر صحیح معنی میں ہو تو پھر ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے۔ خود اس آیت کے الفاظ میں غور فرمائیے ارشاد ہے ” اپنے اسلام کا احسان تجھ پر رکھتے ہیں حالانکہ دراصل ایمان کی ہدایت اللہ کا خود ان پر احسان ہے “۔

صفحہ نمبر8689

پس وہاں احسان اسلام رکھنے کو بیان کر کے اپنا احسان ہدایت ایمان جتانا بھی ایمان و اسلام کے ایک ہونے پر باریک اشارہ ہے۔ (‏مزید دلائل صحیح بخاری شریف وغیرہ ملاحظہ ہوں۔ مترجم)

پس اللہ تعالیٰ کا کسی کو ایمان کی راہ دکھانا اس پر احسان کرنا ہے جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین والے دن انصار سے فرمایا تھا: ”میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا؟ پھر اللہ تعالیٰ نے تم میں اتفاق دیا تم مفلس تھے میری وجہ سے اللہ نے تمہیں مالدار کیا۔‏“ جب کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ فرماتے وہ کہتے: ”بیشک اللہ اور اس کے رسول اس سے بھی زیادہ احسانوں والے ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:4330] ‏

مسند بزار میں ہے کہ بنو اسد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے، یا رسول اللہ ! ہم مسلمان ہوئے عرب آپ سے لڑتے رہے لیکن ہم آپ سے نہیں لڑے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سمجھ بہت کم ہے، شیطان ان کی زبانوں پر بول رہا ہے“ اور یہ آیت «يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا ۭ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَيَّ اِسْلَامَكُمْ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» [49-الحجرات:17] ‏، نازل ہوئی ۔

پھر دوبارہ اللہ رب العزت نے اپنے وسیع علم اور اپنی سچی باخبری اور مخلوق کے اعمال سے آگاہی کو بیان فرمایا کہ ” آسمان و زمین کے غیب اس پر ظاہر ہیں اور وہ تمہارے اعمال سے آگاہ ہے “۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحجرات کی تفسیر ختم ہوئی اللہ کا شکر ہے۔ توفیق اور ہمت اسی کے ہاتھ ہے۔

صفحہ نمبر8690

باب

پھر فرماتا ہے کہ کیا تم اپنے دل کا یقین و دین اللہ کو دکھاتے ہو؟ وہ تو ایسا ہے کہ زمین و آسمان کا کوئی ذرہ اس سے مخفی نہیں، وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

پھر فرمایا جو اعراب اپنے اسلام لانے کا بار احسان تجھ پر رکھتے ہیں ان سے کہہ دو کہ مجھ پر اسلام لانے کا احسان نہ جتاؤ تم اگر اسلام قبول کرو گے میری فرماں برداری کرو گے میری مدد کرو گے تو اس کا نفع تمہیں کو ملے گا۔ بلکہ دراصل ایمان کی دولت تمہیں دینا یہ اللہ ہی کا احسان ہے اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ (‏اب غور فرمائیے کہ کیا اسلام لانے کا احسان پیغمبر اللہ پر جتانے والے سچے مسلمان تھے؟)

پس آیات کی ترتیب سے ظاہر ہے کہ ان کا اسلام حقیقت پر مبنی نہ تھا اور یہی الفاظ بھی ہیں کہ ایمان اب تک ان کے ذہن نشین نہیں ہوا اور جب تک اسلام حقیقت پر مبنی نہ ہو تب تک بیشک وہ ایمان نہیں لیکن جب وہ اپنی حقیقت پر صحیح معنی میں ہو تو پھر ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے۔ خود اس آیت کے الفاظ میں غور فرمائیے ارشاد ہے ” اپنے اسلام کا احسان تجھ پر رکھتے ہیں حالانکہ دراصل ایمان کی ہدایت اللہ کا خود ان پر احسان ہے “۔

صفحہ نمبر8689

پس وہاں احسان اسلام رکھنے کو بیان کر کے اپنا احسان ہدایت ایمان جتانا بھی ایمان و اسلام کے ایک ہونے پر باریک اشارہ ہے۔ (‏مزید دلائل صحیح بخاری شریف وغیرہ ملاحظہ ہوں۔ مترجم)

پس اللہ تعالیٰ کا کسی کو ایمان کی راہ دکھانا اس پر احسان کرنا ہے جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین والے دن انصار سے فرمایا تھا: ”میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا؟ پھر اللہ تعالیٰ نے تم میں اتفاق دیا تم مفلس تھے میری وجہ سے اللہ نے تمہیں مالدار کیا۔‏“ جب کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ فرماتے وہ کہتے: ”بیشک اللہ اور اس کے رسول اس سے بھی زیادہ احسانوں والے ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:4330] ‏

مسند بزار میں ہے کہ بنو اسد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے، یا رسول اللہ ! ہم مسلمان ہوئے عرب آپ سے لڑتے رہے لیکن ہم آپ سے نہیں لڑے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سمجھ بہت کم ہے، شیطان ان کی زبانوں پر بول رہا ہے“ اور یہ آیت «يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا ۭ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَيَّ اِسْلَامَكُمْ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» [49-الحجرات:17] ‏، نازل ہوئی ۔

پھر دوبارہ اللہ رب العزت نے اپنے وسیع علم اور اپنی سچی باخبری اور مخلوق کے اعمال سے آگاہی کو بیان فرمایا کہ ” آسمان و زمین کے غیب اس پر ظاہر ہیں اور وہ تمہارے اعمال سے آگاہ ہے “۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحجرات کی تفسیر ختم ہوئی اللہ کا شکر ہے۔ توفیق اور ہمت اسی کے ہاتھ ہے۔

صفحہ نمبر8690

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com