John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Qaaf

Tafsir Ibn Kathir · The letter Qaaf · 45 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

تفسیر سورۃ ق:

جن سورتوں کو مفصل کی سورتیں کہا جاتا ہے ان میں سب سے پہلی سورت یہی ہے، گو ایک قول یہ بھی ہے کہ مفصل کی سورتیں سورۃ الحجرات سے شروع ہوتی ہیں یہ بالکل بے اصل بات ہے، علماء میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں، مفصل کی سورتوں کی پہلی سورت یہی ہے، اس کی دلیل ابوداؤد کی یہ حدیث ہے جو [ باب تحریب القران ] میں ہے۔ سیدنا اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وفد ثقیف میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرے اور بنو مالک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قبے میں ٹھہرایا۔ فرماتے ہیں: ہر رات عشاء کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آتے اور کھڑے کھڑے ہمیں اپنی باتیں سناتے یہاں تک کہ آپ کو دیر تک کھڑے رہنے کی وجہ سے قدموں کو بدلنے کی ضرورت پڑتی، کبھی اس قدم کھڑے ہوتے، کبھی اس قدم پر، عموماً آپ ہم سے وہ واقعات بیان کرتے جو آپ کو اپنی قوم قریش سے سہنے پڑے تھے، پھر فرماتے کوئی حرج نہیں ہم مکے میں کمزور تھے بے وقعت تھے۔ پھر ہم مدینے میں آ گئے اب ہم میں ان میں لڑائی ڈولوں کے مثل ہے کبھی ہم ان پر غالب، کبھی وہ ہم پر، غرض ہر رات یہ لطف صحبت رہا کرتا تھا، ایک رات کو وقت ہو چکا اور آپ نہ آئے۔ بہت دیر کے بعد تشریف لائے ہم نے کہا: یا رسول اللہ ! آج تو آپ کو بہت دیر ہو گئی، آپ نے فرمایا: ”ہاں قرآن کا جو حصہ روزانہ پڑھا کرتا تھا آج اس وقت اسے پڑھا اور ادھورا چھوڑ کر آنے کو جی نہ چاہا“۔ سیدنا اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ تم قرآن کے حصے کسی طرح کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: پہلی تین سورتوں کی ایک منزل، پھر پانچ سورتوں کی ایک منزل، پھر سات سورتوں کی ایک منزل، پھر نو سورتوں کی ایک منزل، پھر گیارہ سورتوں کی ایک منزل، پھر تیرہ سورتوں کی ایک منزل اور مفصل کی سورتوں کی ایک منزل۔ (سنن ابوداود:1393،قال الشيخ الألباني:ضعیف) یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے

پس پہلی چھ منزلوں کی کل اڑتالیس سورتیں ہوئیں پھر ان کے بعد مفصل کی تمام سورتوں کی ایک منزل تو انچاسویں سورت یہی سورۃ ق پڑتی ہے۔ باقاعدہ گنتی سنئیے۔ پہلی منزل کی تین سورتیں البقرہ، آل عمران اور النساء ہوئیں۔ دوسری منزل کی پانچ سورتیں المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہوئیں۔ تیسری منزل کی سات سورتیں یونس، ہود، یوسف، الرعد، ابراہیم، الحجر، اور النحل ہوئیں۔ چوتھی منزل کی نو سورتیں الاِسراء، الکہف، مریم، طہٰ، الانبیاء، الحج، المومنون، النور اور الفرقان ہوئیں۔ پانچویں منزل کی گیارہ سورتیں الشعراء، النمل، القصص، العنکبوت، الروم، لقمان، السجدہ، الاحزاب، سبا، فاطر، اور یٰسین ہوئیں۔ چھٹی منزل کی تیرہ سورتیں الصافات، ص، الزمر، غافر، فصلت، الشوریٰ، الزخرف، الدخان، الجاثیہ، الاحقاف، محمد، الفتح اور الحجرات ہوئیں۔ اب ساتویں منزل مفصل کی سورتیں باقی رہیں جو الحجرات کے بعد کی سورت سے شروع ہوں گی اور وہ سورۃ ق ہے۔ اور یہی ہم نے کہا تھا۔ «فالحمداللہ»

مسلم شریف میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ عید کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا پڑھتے تھے؟ آپ نے فرمایا: سورۃ ق اور سورۃ القمر «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» الخ (صحیح مسلم:891)

مسلم میں ہے سیدہ ام ہشام بنت حارثہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دو سال تک یا ایک سال کچھ ماہ تک ایک ہی دستور رہا میں نے سورۃ ق کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن سن کر یاد کر لیا، اس لیے کہ ہر جمعہ کے دن جب آپ لوگوں کو خطبہ سنانے کیلئے منبر پر آتے تو اس سورت کی تلاوت کرتے۔ (صحیح مسلم:873-45)

الغرض بڑے بڑے مجمع کے موقع پر جیسے عید ہے جمعہ ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سورت کی تلاوت کرتے کیونکہ اس میں ابتداء خلق کا، مرنے کے بعد جینے کا، اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا، حساب کتاب کا، جنت دوزخ کا ثواب عذاب اور رغبت و ڈراوے کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

تفسیر سورۂ ق ٭٭

«ق» حروف ہجا سے ہے جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں جیسے «ص، ن، الم، حم، طس»، وغیرہ ہم نے ان کی پوری تشریح سورۃ البقرہ کی تفسیر میں شروع میں کر دی ہے۔

بعض سلف کا قول ہے کہ قاف ایک پہاڑ ہے زمین کو گھیرے ہوئے ہے، میں تو جانتا ہوں کہ دراصل یہ بنی اسرائیل کی خرافات میں سے ہے جنہیں بعض لوگوں نے لے لیا۔ یہ سمجھ کر کہ یہ روایت لینا مباح ہے گو تصدیق تکذیب نہیں کر سکتے۔

صفحہ نمبر8693

اہل کتاب کی موضوع روایتیں ٭٭

لیکن میرا خیال ہے کہ یہ اور اس جیسی اور روایتیں تو بنی اسرائیل کے بددینوں نے گھڑ لی ہوں گی تاکہ لوگوں پر دین کو خلط ملط کر دیں، آپ خیال کیجئے کہ اس امت میں باوجود یہ کہ علماء کرام اور حافظان عظام کی بہت بڑی دیندار مخلص جماعت ہر زمانے میں موجود ہے تاہم بددینوں نے بہت تھوڑی مدت میں موضوع احادیث تک گھڑ لیں۔

صفحہ نمبر8694

پس بنی اسرائیل جن پر مدتیں گزر چکیں، جو حفظ سے عاری تھے، جن میں نقادان فن موجود نہ تھے، جو کلام اللہ کو اصلیت سے ہٹا دیا کرتے تھے، جو شرابوں میں مخمور رہا کرتے تھے، جو آیات اللہ کو بدل ڈالا کرتے تھے، ان کا کیا ٹھیک ہے؟ پس حدیث نے جن روایات کو ان سے لینا مباح رکھا ہے یہ وہ ہیں جو کم از کم عقل و فہم میں تو آ سکیں، نہ وہ جو صریح خلاف عقل ہوں، سنتے ہی ان کے باطل اور غلط ہونے کا فیصلہ عقل کر دیتی ہو اور اس کا جھوٹ ہونا اتنا واضح ہو کہ اس پر دلیل لانے کی ضرورت نہ پڑے۔

پس مندرجہ بالا روایات بھی ایسی ہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ افسوس کہ بہت سلف و خلف نے اہل کتاب سے اس قسم کی حکایتیں قرآن مجید کی تفسیر میں وارد کر دی ہیں دراصل قرآن کریم ایسی بےسروپا باتوں کا کچھ محتاج نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

صفحہ نمبر8695

یہاں تک کہ امام ابو محمد عبدالرحمٰن بن ابوحاتم رازی رحمہ اللہ نے بھی یہاں ایک عجیب و غریب اثر بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وارد کر دیا ہے جو ازروے سند ثابت نہیں۔ اس میں ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک سمندر پیدا کیا ہے جو اس ساری زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور اس سمندر کے پچھے ایک پہاڑ ہے جو اس کو روکے ہوئے ہے اس کا نام قاف ہے، آسمان اور دنیا اسی پر اٹھا ہوا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پہاڑ کے پیچھے ایک زمین بنائی ہے جو اس زمین سے سات گنا بڑی ہے، پھر اس کے پیچھے ایک سمندر ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے، پھر اس کے پیچھے پہاڑ ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اسے بھی قاف کہتے ہیں دوسرا آسمان اسی پر بلند کیا ہوا ہے اسی طرح سات زمینیں، سات سمندر، سات پہاڑ اور سات آسمان گنوائے۔ پھر یہ آیت پڑھی «وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» [31-لقمان:27] ‏ اس اثر کی اسناد میں انقطاع ہے۔ [ضعیف و منقطع] ‏

صفحہ نمبر8696

علی بن ابوطلحہ جو روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کرتے ہیں اس میں ہے کہ «ق» اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ق» بھی مثل «ص، ن، طس، الم» وغیرہ کے حروف ہجا میں سے ہے۔

پس ان روایات سے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان ہونا اور بعید ہو جاتا ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ کام کا فیصلہ کر دیا گیا ہے قسم اللہ کی اور «ق» کہہ کر باقی جملہ چھوڑ دیا گیا کہ یہ دلیل ہے محذوف پر۔

جیسے شاعر کہتا ہے۔ «قلت لھا قفی فقالت ق» لیکن یہ کہنا بھی ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ محذوف پر دلالت کرنے والا کلام صاف ہونا چاہیئے اور یہاں کون سا کلام ہے؟ جس سے اتنے بڑے جملے کے محذوف ہونے کا پتہ چلے۔ پھر اس کرم اور عظمت والے قرآن کی قسم کھائی جس کے آگے سے یا پیچھے سے باطل نہیں آ سکتا، جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔

اس قسم کا جواب کیا ہے؟ اس میں بھی کئی قول ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے تو بعض نحویوں سے نقل کیا ہے کہ اس کا جواب «قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِندَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ» [50-ق:4] ‏ پوری آیت تک ہے۔

لیکن یہ بھی غور طلب ہے بلکہ جواب قسم کے بعد کا مضمون کلام ہے یعنی نبوت اور دوبارہ جی اٹھنے کا ثبوت اور تحقیق گو قسم لفظوں سے اس کا جواب نہ بتاتی ہو ایسا قرآن کی قسموں کے جواب میں اکثر ہے جیسے کہ سورۃ ص کی تفسیر کے شروع میں گزر چکا ہے، اسی طرح یہاں بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے اس بات پر تعجب ظاہر کیا ہے کہ انہی میں سے ایک انسان کیسے رسول بن گیا؟ جیسے اور آیت میں ہے «اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ» [10-يونس:2] ‏ یعنی ” کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص کی طرف وحی بھیجی تاکہ تم لوگوں کو خبردار کر دے۔ “ یعنی دراصل یہ کوئی تعجب کی چیز نہ تھی اللہ جسے چاہے اپنے فرشتوں میں سے اپنی رسالت کے لیے چن لیتا ہے اور جسے چاہے انسانوں میں سے چن لیتا ہے۔

اسی کے ساتھ یہ بھی بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے مرنے کے بعد جینے کو بھی تعجب کی نگاہوں سے دیکھا اور کہا کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہمارے جسم کے اجزا جدا جدا ہو کر، ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی ہو جائیں گے اس کے بعد تو اسی ہئیت و ترکیب میں ہمارا دوبارہ جینا بالکل محال ہے اس کے جواب میں فرمان صادر ہوا کہ زمین ان کے جسموں کو جو کھا جاتی ہے اس سے بھی ہم غافل نہیں ہمیں معلوم ہے کہ ان کے ذرے کہاں گئے اور کس حالت میں کہاں ہیں؟ ہمارے پاس کتاب ہے جو اس کی حافظ ہے ہمارا علم ان سب معلومات پر مشتمل ہے اور ساتھ ہی کتاب میں محفوظ ہے۔

صفحہ نمبر8697

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی ان کے گوشت، چمڑے، ہڈیاں اور بال جو کچھ زمین کھا جاتی ہے، ہمارے علم میں ہے۔ پھر پروردگار عالم ان کے اس محال سمجھنے کی اصل وجہ بیان فرما رہا ہے کہ دراصل یہ حق کو جھٹلانے والے لوگ ہیں اور جو لوگ اپنے پاس حق کے آ جانے کے بعد اس کا انکار کر دیں ان سے اچھی سمجھ ہی چھن جاتی ہے، «مریج» کے معنی ہیں مختلف، مضطرب، منکر اور خلط ملط کے جیسے فرمان ہے «اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ» [51-الذاريات:8] ‏ یعنی ” یقیناً تم ایک جھگڑے کی بات میں پڑے ہوئے ہو۔ “ نافرمانی وہی کرتا ہے جو بھلائی سے محروم کر دیا گیا ہے۔

صفحہ نمبر8698

تفسیر سورۃ ق:

جن سورتوں کو مفصل کی سورتیں کہا جاتا ہے ان میں سب سے پہلی سورت یہی ہے، گو ایک قول یہ بھی ہے کہ مفصل کی سورتیں سورۃ الحجرات سے شروع ہوتی ہیں یہ بالکل بے اصل بات ہے، علماء میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں، مفصل کی سورتوں کی پہلی سورت یہی ہے، اس کی دلیل ابوداؤد کی یہ حدیث ہے جو [ باب تحریب القران ] میں ہے۔ سیدنا اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وفد ثقیف میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرے اور بنو مالک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قبے میں ٹھہرایا۔ فرماتے ہیں: ہر رات عشاء کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آتے اور کھڑے کھڑے ہمیں اپنی باتیں سناتے یہاں تک کہ آپ کو دیر تک کھڑے رہنے کی وجہ سے قدموں کو بدلنے کی ضرورت پڑتی، کبھی اس قدم کھڑے ہوتے، کبھی اس قدم پر، عموماً آپ ہم سے وہ واقعات بیان کرتے جو آپ کو اپنی قوم قریش سے سہنے پڑے تھے، پھر فرماتے کوئی حرج نہیں ہم مکے میں کمزور تھے بے وقعت تھے۔ پھر ہم مدینے میں آ گئے اب ہم میں ان میں لڑائی ڈولوں کے مثل ہے کبھی ہم ان پر غالب، کبھی وہ ہم پر، غرض ہر رات یہ لطف صحبت رہا کرتا تھا، ایک رات کو وقت ہو چکا اور آپ نہ آئے۔ بہت دیر کے بعد تشریف لائے ہم نے کہا: یا رسول اللہ ! آج تو آپ کو بہت دیر ہو گئی، آپ نے فرمایا: ”ہاں قرآن کا جو حصہ روزانہ پڑھا کرتا تھا آج اس وقت اسے پڑھا اور ادھورا چھوڑ کر آنے کو جی نہ چاہا“۔ سیدنا اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ تم قرآن کے حصے کسی طرح کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: پہلی تین سورتوں کی ایک منزل، پھر پانچ سورتوں کی ایک منزل، پھر سات سورتوں کی ایک منزل، پھر نو سورتوں کی ایک منزل، پھر گیارہ سورتوں کی ایک منزل، پھر تیرہ سورتوں کی ایک منزل اور مفصل کی سورتوں کی ایک منزل۔ (سنن ابوداود:1393،قال الشيخ الألباني:ضعیف) یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے

پس پہلی چھ منزلوں کی کل اڑتالیس سورتیں ہوئیں پھر ان کے بعد مفصل کی تمام سورتوں کی ایک منزل تو انچاسویں سورت یہی سورۃ ق پڑتی ہے۔ باقاعدہ گنتی سنئیے۔ پہلی منزل کی تین سورتیں البقرہ، آل عمران اور النساء ہوئیں۔ دوسری منزل کی پانچ سورتیں المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہوئیں۔ تیسری منزل کی سات سورتیں یونس، ہود، یوسف، الرعد، ابراہیم، الحجر، اور النحل ہوئیں۔ چوتھی منزل کی نو سورتیں الاِسراء، الکہف، مریم، طہٰ، الانبیاء، الحج، المومنون، النور اور الفرقان ہوئیں۔ پانچویں منزل کی گیارہ سورتیں الشعراء، النمل، القصص، العنکبوت، الروم، لقمان، السجدہ، الاحزاب، سبا، فاطر، اور یٰسین ہوئیں۔ چھٹی منزل کی تیرہ سورتیں الصافات، ص، الزمر، غافر، فصلت، الشوریٰ، الزخرف، الدخان، الجاثیہ، الاحقاف، محمد، الفتح اور الحجرات ہوئیں۔ اب ساتویں منزل مفصل کی سورتیں باقی رہیں جو الحجرات کے بعد کی سورت سے شروع ہوں گی اور وہ سورۃ ق ہے۔ اور یہی ہم نے کہا تھا۔ «فالحمداللہ»

مسلم شریف میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ عید کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا پڑھتے تھے؟ آپ نے فرمایا: سورۃ ق اور سورۃ القمر «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» الخ (صحیح مسلم:891)

مسلم میں ہے سیدہ ام ہشام بنت حارثہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دو سال تک یا ایک سال کچھ ماہ تک ایک ہی دستور رہا میں نے سورۃ ق کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن سن کر یاد کر لیا، اس لیے کہ ہر جمعہ کے دن جب آپ لوگوں کو خطبہ سنانے کیلئے منبر پر آتے تو اس سورت کی تلاوت کرتے۔ (صحیح مسلم:873-45)

الغرض بڑے بڑے مجمع کے موقع پر جیسے عید ہے جمعہ ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سورت کی تلاوت کرتے کیونکہ اس میں ابتداء خلق کا، مرنے کے بعد جینے کا، اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا، حساب کتاب کا، جنت دوزخ کا ثواب عذاب اور رغبت و ڈراوے کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

تفسیر سورۂ ق ٭٭

«ق» حروف ہجا سے ہے جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں جیسے «ص، ن، الم، حم، طس»، وغیرہ ہم نے ان کی پوری تشریح سورۃ البقرہ کی تفسیر میں شروع میں کر دی ہے۔

بعض سلف کا قول ہے کہ قاف ایک پہاڑ ہے زمین کو گھیرے ہوئے ہے، میں تو جانتا ہوں کہ دراصل یہ بنی اسرائیل کی خرافات میں سے ہے جنہیں بعض لوگوں نے لے لیا۔ یہ سمجھ کر کہ یہ روایت لینا مباح ہے گو تصدیق تکذیب نہیں کر سکتے۔

صفحہ نمبر8693

اہل کتاب کی موضوع روایتیں ٭٭

لیکن میرا خیال ہے کہ یہ اور اس جیسی اور روایتیں تو بنی اسرائیل کے بددینوں نے گھڑ لی ہوں گی تاکہ لوگوں پر دین کو خلط ملط کر دیں، آپ خیال کیجئے کہ اس امت میں باوجود یہ کہ علماء کرام اور حافظان عظام کی بہت بڑی دیندار مخلص جماعت ہر زمانے میں موجود ہے تاہم بددینوں نے بہت تھوڑی مدت میں موضوع احادیث تک گھڑ لیں۔

صفحہ نمبر8694

پس بنی اسرائیل جن پر مدتیں گزر چکیں، جو حفظ سے عاری تھے، جن میں نقادان فن موجود نہ تھے، جو کلام اللہ کو اصلیت سے ہٹا دیا کرتے تھے، جو شرابوں میں مخمور رہا کرتے تھے، جو آیات اللہ کو بدل ڈالا کرتے تھے، ان کا کیا ٹھیک ہے؟ پس حدیث نے جن روایات کو ان سے لینا مباح رکھا ہے یہ وہ ہیں جو کم از کم عقل و فہم میں تو آ سکیں، نہ وہ جو صریح خلاف عقل ہوں، سنتے ہی ان کے باطل اور غلط ہونے کا فیصلہ عقل کر دیتی ہو اور اس کا جھوٹ ہونا اتنا واضح ہو کہ اس پر دلیل لانے کی ضرورت نہ پڑے۔

پس مندرجہ بالا روایات بھی ایسی ہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ افسوس کہ بہت سلف و خلف نے اہل کتاب سے اس قسم کی حکایتیں قرآن مجید کی تفسیر میں وارد کر دی ہیں دراصل قرآن کریم ایسی بےسروپا باتوں کا کچھ محتاج نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

صفحہ نمبر8695

یہاں تک کہ امام ابو محمد عبدالرحمٰن بن ابوحاتم رازی رحمہ اللہ نے بھی یہاں ایک عجیب و غریب اثر بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وارد کر دیا ہے جو ازروے سند ثابت نہیں۔ اس میں ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک سمندر پیدا کیا ہے جو اس ساری زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور اس سمندر کے پچھے ایک پہاڑ ہے جو اس کو روکے ہوئے ہے اس کا نام قاف ہے، آسمان اور دنیا اسی پر اٹھا ہوا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پہاڑ کے پیچھے ایک زمین بنائی ہے جو اس زمین سے سات گنا بڑی ہے، پھر اس کے پیچھے ایک سمندر ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے، پھر اس کے پیچھے پہاڑ ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اسے بھی قاف کہتے ہیں دوسرا آسمان اسی پر بلند کیا ہوا ہے اسی طرح سات زمینیں، سات سمندر، سات پہاڑ اور سات آسمان گنوائے۔ پھر یہ آیت پڑھی «وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» [31-لقمان:27] ‏ اس اثر کی اسناد میں انقطاع ہے۔ [ضعیف و منقطع] ‏

صفحہ نمبر8696

علی بن ابوطلحہ جو روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کرتے ہیں اس میں ہے کہ «ق» اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ق» بھی مثل «ص، ن، طس، الم» وغیرہ کے حروف ہجا میں سے ہے۔

پس ان روایات سے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان ہونا اور بعید ہو جاتا ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ کام کا فیصلہ کر دیا گیا ہے قسم اللہ کی اور «ق» کہہ کر باقی جملہ چھوڑ دیا گیا کہ یہ دلیل ہے محذوف پر۔

جیسے شاعر کہتا ہے۔ «قلت لھا قفی فقالت ق» لیکن یہ کہنا بھی ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ محذوف پر دلالت کرنے والا کلام صاف ہونا چاہیئے اور یہاں کون سا کلام ہے؟ جس سے اتنے بڑے جملے کے محذوف ہونے کا پتہ چلے۔ پھر اس کرم اور عظمت والے قرآن کی قسم کھائی جس کے آگے سے یا پیچھے سے باطل نہیں آ سکتا، جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔

اس قسم کا جواب کیا ہے؟ اس میں بھی کئی قول ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے تو بعض نحویوں سے نقل کیا ہے کہ اس کا جواب «قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِندَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ» [50-ق:4] ‏ پوری آیت تک ہے۔

لیکن یہ بھی غور طلب ہے بلکہ جواب قسم کے بعد کا مضمون کلام ہے یعنی نبوت اور دوبارہ جی اٹھنے کا ثبوت اور تحقیق گو قسم لفظوں سے اس کا جواب نہ بتاتی ہو ایسا قرآن کی قسموں کے جواب میں اکثر ہے جیسے کہ سورۃ ص کی تفسیر کے شروع میں گزر چکا ہے، اسی طرح یہاں بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے اس بات پر تعجب ظاہر کیا ہے کہ انہی میں سے ایک انسان کیسے رسول بن گیا؟ جیسے اور آیت میں ہے «اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ» [10-يونس:2] ‏ یعنی ” کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص کی طرف وحی بھیجی تاکہ تم لوگوں کو خبردار کر دے۔ “ یعنی دراصل یہ کوئی تعجب کی چیز نہ تھی اللہ جسے چاہے اپنے فرشتوں میں سے اپنی رسالت کے لیے چن لیتا ہے اور جسے چاہے انسانوں میں سے چن لیتا ہے۔

اسی کے ساتھ یہ بھی بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے مرنے کے بعد جینے کو بھی تعجب کی نگاہوں سے دیکھا اور کہا کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہمارے جسم کے اجزا جدا جدا ہو کر، ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی ہو جائیں گے اس کے بعد تو اسی ہئیت و ترکیب میں ہمارا دوبارہ جینا بالکل محال ہے اس کے جواب میں فرمان صادر ہوا کہ زمین ان کے جسموں کو جو کھا جاتی ہے اس سے بھی ہم غافل نہیں ہمیں معلوم ہے کہ ان کے ذرے کہاں گئے اور کس حالت میں کہاں ہیں؟ ہمارے پاس کتاب ہے جو اس کی حافظ ہے ہمارا علم ان سب معلومات پر مشتمل ہے اور ساتھ ہی کتاب میں محفوظ ہے۔

صفحہ نمبر8697

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی ان کے گوشت، چمڑے، ہڈیاں اور بال جو کچھ زمین کھا جاتی ہے، ہمارے علم میں ہے۔ پھر پروردگار عالم ان کے اس محال سمجھنے کی اصل وجہ بیان فرما رہا ہے کہ دراصل یہ حق کو جھٹلانے والے لوگ ہیں اور جو لوگ اپنے پاس حق کے آ جانے کے بعد اس کا انکار کر دیں ان سے اچھی سمجھ ہی چھن جاتی ہے، «مریج» کے معنی ہیں مختلف، مضطرب، منکر اور خلط ملط کے جیسے فرمان ہے «اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ» [51-الذاريات:8] ‏ یعنی ” یقیناً تم ایک جھگڑے کی بات میں پڑے ہوئے ہو۔ “ نافرمانی وہی کرتا ہے جو بھلائی سے محروم کر دیا گیا ہے۔

صفحہ نمبر8698

تفسیر سورۃ ق:

جن سورتوں کو مفصل کی سورتیں کہا جاتا ہے ان میں سب سے پہلی سورت یہی ہے، گو ایک قول یہ بھی ہے کہ مفصل کی سورتیں سورۃ الحجرات سے شروع ہوتی ہیں یہ بالکل بے اصل بات ہے، علماء میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں، مفصل کی سورتوں کی پہلی سورت یہی ہے، اس کی دلیل ابوداؤد کی یہ حدیث ہے جو [ باب تحریب القران ] میں ہے۔ سیدنا اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وفد ثقیف میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرے اور بنو مالک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قبے میں ٹھہرایا۔ فرماتے ہیں: ہر رات عشاء کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آتے اور کھڑے کھڑے ہمیں اپنی باتیں سناتے یہاں تک کہ آپ کو دیر تک کھڑے رہنے کی وجہ سے قدموں کو بدلنے کی ضرورت پڑتی، کبھی اس قدم کھڑے ہوتے، کبھی اس قدم پر، عموماً آپ ہم سے وہ واقعات بیان کرتے جو آپ کو اپنی قوم قریش سے سہنے پڑے تھے، پھر فرماتے کوئی حرج نہیں ہم مکے میں کمزور تھے بے وقعت تھے۔ پھر ہم مدینے میں آ گئے اب ہم میں ان میں لڑائی ڈولوں کے مثل ہے کبھی ہم ان پر غالب، کبھی وہ ہم پر، غرض ہر رات یہ لطف صحبت رہا کرتا تھا، ایک رات کو وقت ہو چکا اور آپ نہ آئے۔ بہت دیر کے بعد تشریف لائے ہم نے کہا: یا رسول اللہ ! آج تو آپ کو بہت دیر ہو گئی، آپ نے فرمایا: ”ہاں قرآن کا جو حصہ روزانہ پڑھا کرتا تھا آج اس وقت اسے پڑھا اور ادھورا چھوڑ کر آنے کو جی نہ چاہا“۔ سیدنا اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ تم قرآن کے حصے کسی طرح کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: پہلی تین سورتوں کی ایک منزل، پھر پانچ سورتوں کی ایک منزل، پھر سات سورتوں کی ایک منزل، پھر نو سورتوں کی ایک منزل، پھر گیارہ سورتوں کی ایک منزل، پھر تیرہ سورتوں کی ایک منزل اور مفصل کی سورتوں کی ایک منزل۔ (سنن ابوداود:1393،قال الشيخ الألباني:ضعیف) یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے

پس پہلی چھ منزلوں کی کل اڑتالیس سورتیں ہوئیں پھر ان کے بعد مفصل کی تمام سورتوں کی ایک منزل تو انچاسویں سورت یہی سورۃ ق پڑتی ہے۔ باقاعدہ گنتی سنئیے۔ پہلی منزل کی تین سورتیں البقرہ، آل عمران اور النساء ہوئیں۔ دوسری منزل کی پانچ سورتیں المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہوئیں۔ تیسری منزل کی سات سورتیں یونس، ہود، یوسف، الرعد، ابراہیم، الحجر، اور النحل ہوئیں۔ چوتھی منزل کی نو سورتیں الاِسراء، الکہف، مریم، طہٰ، الانبیاء، الحج، المومنون، النور اور الفرقان ہوئیں۔ پانچویں منزل کی گیارہ سورتیں الشعراء، النمل، القصص، العنکبوت، الروم، لقمان، السجدہ، الاحزاب، سبا، فاطر، اور یٰسین ہوئیں۔ چھٹی منزل کی تیرہ سورتیں الصافات، ص، الزمر، غافر، فصلت، الشوریٰ، الزخرف، الدخان، الجاثیہ، الاحقاف، محمد، الفتح اور الحجرات ہوئیں۔ اب ساتویں منزل مفصل کی سورتیں باقی رہیں جو الحجرات کے بعد کی سورت سے شروع ہوں گی اور وہ سورۃ ق ہے۔ اور یہی ہم نے کہا تھا۔ «فالحمداللہ»

مسلم شریف میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ عید کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا پڑھتے تھے؟ آپ نے فرمایا: سورۃ ق اور سورۃ القمر «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» الخ (صحیح مسلم:891)

مسلم میں ہے سیدہ ام ہشام بنت حارثہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دو سال تک یا ایک سال کچھ ماہ تک ایک ہی دستور رہا میں نے سورۃ ق کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن سن کر یاد کر لیا، اس لیے کہ ہر جمعہ کے دن جب آپ لوگوں کو خطبہ سنانے کیلئے منبر پر آتے تو اس سورت کی تلاوت کرتے۔ (صحیح مسلم:873-45)

الغرض بڑے بڑے مجمع کے موقع پر جیسے عید ہے جمعہ ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سورت کی تلاوت کرتے کیونکہ اس میں ابتداء خلق کا، مرنے کے بعد جینے کا، اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا، حساب کتاب کا، جنت دوزخ کا ثواب عذاب اور رغبت و ڈراوے کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

تفسیر سورۂ ق ٭٭

«ق» حروف ہجا سے ہے جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں جیسے «ص، ن، الم، حم، طس»، وغیرہ ہم نے ان کی پوری تشریح سورۃ البقرہ کی تفسیر میں شروع میں کر دی ہے۔

بعض سلف کا قول ہے کہ قاف ایک پہاڑ ہے زمین کو گھیرے ہوئے ہے، میں تو جانتا ہوں کہ دراصل یہ بنی اسرائیل کی خرافات میں سے ہے جنہیں بعض لوگوں نے لے لیا۔ یہ سمجھ کر کہ یہ روایت لینا مباح ہے گو تصدیق تکذیب نہیں کر سکتے۔

صفحہ نمبر8693

اہل کتاب کی موضوع روایتیں ٭٭

لیکن میرا خیال ہے کہ یہ اور اس جیسی اور روایتیں تو بنی اسرائیل کے بددینوں نے گھڑ لی ہوں گی تاکہ لوگوں پر دین کو خلط ملط کر دیں، آپ خیال کیجئے کہ اس امت میں باوجود یہ کہ علماء کرام اور حافظان عظام کی بہت بڑی دیندار مخلص جماعت ہر زمانے میں موجود ہے تاہم بددینوں نے بہت تھوڑی مدت میں موضوع احادیث تک گھڑ لیں۔

صفحہ نمبر8694

پس بنی اسرائیل جن پر مدتیں گزر چکیں، جو حفظ سے عاری تھے، جن میں نقادان فن موجود نہ تھے، جو کلام اللہ کو اصلیت سے ہٹا دیا کرتے تھے، جو شرابوں میں مخمور رہا کرتے تھے، جو آیات اللہ کو بدل ڈالا کرتے تھے، ان کا کیا ٹھیک ہے؟ پس حدیث نے جن روایات کو ان سے لینا مباح رکھا ہے یہ وہ ہیں جو کم از کم عقل و فہم میں تو آ سکیں، نہ وہ جو صریح خلاف عقل ہوں، سنتے ہی ان کے باطل اور غلط ہونے کا فیصلہ عقل کر دیتی ہو اور اس کا جھوٹ ہونا اتنا واضح ہو کہ اس پر دلیل لانے کی ضرورت نہ پڑے۔

پس مندرجہ بالا روایات بھی ایسی ہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ افسوس کہ بہت سلف و خلف نے اہل کتاب سے اس قسم کی حکایتیں قرآن مجید کی تفسیر میں وارد کر دی ہیں دراصل قرآن کریم ایسی بےسروپا باتوں کا کچھ محتاج نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

صفحہ نمبر8695

یہاں تک کہ امام ابو محمد عبدالرحمٰن بن ابوحاتم رازی رحمہ اللہ نے بھی یہاں ایک عجیب و غریب اثر بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وارد کر دیا ہے جو ازروے سند ثابت نہیں۔ اس میں ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک سمندر پیدا کیا ہے جو اس ساری زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور اس سمندر کے پچھے ایک پہاڑ ہے جو اس کو روکے ہوئے ہے اس کا نام قاف ہے، آسمان اور دنیا اسی پر اٹھا ہوا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پہاڑ کے پیچھے ایک زمین بنائی ہے جو اس زمین سے سات گنا بڑی ہے، پھر اس کے پیچھے ایک سمندر ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے، پھر اس کے پیچھے پہاڑ ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اسے بھی قاف کہتے ہیں دوسرا آسمان اسی پر بلند کیا ہوا ہے اسی طرح سات زمینیں، سات سمندر، سات پہاڑ اور سات آسمان گنوائے۔ پھر یہ آیت پڑھی «وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» [31-لقمان:27] ‏ اس اثر کی اسناد میں انقطاع ہے۔ [ضعیف و منقطع] ‏

صفحہ نمبر8696

علی بن ابوطلحہ جو روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کرتے ہیں اس میں ہے کہ «ق» اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ق» بھی مثل «ص، ن، طس، الم» وغیرہ کے حروف ہجا میں سے ہے۔

پس ان روایات سے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان ہونا اور بعید ہو جاتا ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ کام کا فیصلہ کر دیا گیا ہے قسم اللہ کی اور «ق» کہہ کر باقی جملہ چھوڑ دیا گیا کہ یہ دلیل ہے محذوف پر۔

جیسے شاعر کہتا ہے۔ «قلت لھا قفی فقالت ق» لیکن یہ کہنا بھی ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ محذوف پر دلالت کرنے والا کلام صاف ہونا چاہیئے اور یہاں کون سا کلام ہے؟ جس سے اتنے بڑے جملے کے محذوف ہونے کا پتہ چلے۔ پھر اس کرم اور عظمت والے قرآن کی قسم کھائی جس کے آگے سے یا پیچھے سے باطل نہیں آ سکتا، جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔

اس قسم کا جواب کیا ہے؟ اس میں بھی کئی قول ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے تو بعض نحویوں سے نقل کیا ہے کہ اس کا جواب «قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِندَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ» [50-ق:4] ‏ پوری آیت تک ہے۔

لیکن یہ بھی غور طلب ہے بلکہ جواب قسم کے بعد کا مضمون کلام ہے یعنی نبوت اور دوبارہ جی اٹھنے کا ثبوت اور تحقیق گو قسم لفظوں سے اس کا جواب نہ بتاتی ہو ایسا قرآن کی قسموں کے جواب میں اکثر ہے جیسے کہ سورۃ ص کی تفسیر کے شروع میں گزر چکا ہے، اسی طرح یہاں بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے اس بات پر تعجب ظاہر کیا ہے کہ انہی میں سے ایک انسان کیسے رسول بن گیا؟ جیسے اور آیت میں ہے «اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ» [10-يونس:2] ‏ یعنی ” کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص کی طرف وحی بھیجی تاکہ تم لوگوں کو خبردار کر دے۔ “ یعنی دراصل یہ کوئی تعجب کی چیز نہ تھی اللہ جسے چاہے اپنے فرشتوں میں سے اپنی رسالت کے لیے چن لیتا ہے اور جسے چاہے انسانوں میں سے چن لیتا ہے۔

اسی کے ساتھ یہ بھی بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے مرنے کے بعد جینے کو بھی تعجب کی نگاہوں سے دیکھا اور کہا کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہمارے جسم کے اجزا جدا جدا ہو کر، ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی ہو جائیں گے اس کے بعد تو اسی ہئیت و ترکیب میں ہمارا دوبارہ جینا بالکل محال ہے اس کے جواب میں فرمان صادر ہوا کہ زمین ان کے جسموں کو جو کھا جاتی ہے اس سے بھی ہم غافل نہیں ہمیں معلوم ہے کہ ان کے ذرے کہاں گئے اور کس حالت میں کہاں ہیں؟ ہمارے پاس کتاب ہے جو اس کی حافظ ہے ہمارا علم ان سب معلومات پر مشتمل ہے اور ساتھ ہی کتاب میں محفوظ ہے۔

صفحہ نمبر8697

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی ان کے گوشت، چمڑے، ہڈیاں اور بال جو کچھ زمین کھا جاتی ہے، ہمارے علم میں ہے۔ پھر پروردگار عالم ان کے اس محال سمجھنے کی اصل وجہ بیان فرما رہا ہے کہ دراصل یہ حق کو جھٹلانے والے لوگ ہیں اور جو لوگ اپنے پاس حق کے آ جانے کے بعد اس کا انکار کر دیں ان سے اچھی سمجھ ہی چھن جاتی ہے، «مریج» کے معنی ہیں مختلف، مضطرب، منکر اور خلط ملط کے جیسے فرمان ہے «اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ» [51-الذاريات:8] ‏ یعنی ” یقیناً تم ایک جھگڑے کی بات میں پڑے ہوئے ہو۔ “ نافرمانی وہی کرتا ہے جو بھلائی سے محروم کر دیا گیا ہے۔

صفحہ نمبر8698

تفسیر سورۃ ق:

جن سورتوں کو مفصل کی سورتیں کہا جاتا ہے ان میں سب سے پہلی سورت یہی ہے، گو ایک قول یہ بھی ہے کہ مفصل کی سورتیں سورۃ الحجرات سے شروع ہوتی ہیں یہ بالکل بے اصل بات ہے، علماء میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں، مفصل کی سورتوں کی پہلی سورت یہی ہے، اس کی دلیل ابوداؤد کی یہ حدیث ہے جو [ باب تحریب القران ] میں ہے۔ سیدنا اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وفد ثقیف میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرے اور بنو مالک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قبے میں ٹھہرایا۔ فرماتے ہیں: ہر رات عشاء کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آتے اور کھڑے کھڑے ہمیں اپنی باتیں سناتے یہاں تک کہ آپ کو دیر تک کھڑے رہنے کی وجہ سے قدموں کو بدلنے کی ضرورت پڑتی، کبھی اس قدم کھڑے ہوتے، کبھی اس قدم پر، عموماً آپ ہم سے وہ واقعات بیان کرتے جو آپ کو اپنی قوم قریش سے سہنے پڑے تھے، پھر فرماتے کوئی حرج نہیں ہم مکے میں کمزور تھے بے وقعت تھے۔ پھر ہم مدینے میں آ گئے اب ہم میں ان میں لڑائی ڈولوں کے مثل ہے کبھی ہم ان پر غالب، کبھی وہ ہم پر، غرض ہر رات یہ لطف صحبت رہا کرتا تھا، ایک رات کو وقت ہو چکا اور آپ نہ آئے۔ بہت دیر کے بعد تشریف لائے ہم نے کہا: یا رسول اللہ ! آج تو آپ کو بہت دیر ہو گئی، آپ نے فرمایا: ”ہاں قرآن کا جو حصہ روزانہ پڑھا کرتا تھا آج اس وقت اسے پڑھا اور ادھورا چھوڑ کر آنے کو جی نہ چاہا“۔ سیدنا اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ تم قرآن کے حصے کسی طرح کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: پہلی تین سورتوں کی ایک منزل، پھر پانچ سورتوں کی ایک منزل، پھر سات سورتوں کی ایک منزل، پھر نو سورتوں کی ایک منزل، پھر گیارہ سورتوں کی ایک منزل، پھر تیرہ سورتوں کی ایک منزل اور مفصل کی سورتوں کی ایک منزل۔ (سنن ابوداود:1393،قال الشيخ الألباني:ضعیف) یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے

پس پہلی چھ منزلوں کی کل اڑتالیس سورتیں ہوئیں پھر ان کے بعد مفصل کی تمام سورتوں کی ایک منزل تو انچاسویں سورت یہی سورۃ ق پڑتی ہے۔ باقاعدہ گنتی سنئیے۔ پہلی منزل کی تین سورتیں البقرہ، آل عمران اور النساء ہوئیں۔ دوسری منزل کی پانچ سورتیں المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہوئیں۔ تیسری منزل کی سات سورتیں یونس، ہود، یوسف، الرعد، ابراہیم، الحجر، اور النحل ہوئیں۔ چوتھی منزل کی نو سورتیں الاِسراء، الکہف، مریم، طہٰ، الانبیاء، الحج، المومنون، النور اور الفرقان ہوئیں۔ پانچویں منزل کی گیارہ سورتیں الشعراء، النمل، القصص، العنکبوت، الروم، لقمان، السجدہ، الاحزاب، سبا، فاطر، اور یٰسین ہوئیں۔ چھٹی منزل کی تیرہ سورتیں الصافات، ص، الزمر، غافر، فصلت، الشوریٰ، الزخرف، الدخان، الجاثیہ، الاحقاف، محمد، الفتح اور الحجرات ہوئیں۔ اب ساتویں منزل مفصل کی سورتیں باقی رہیں جو الحجرات کے بعد کی سورت سے شروع ہوں گی اور وہ سورۃ ق ہے۔ اور یہی ہم نے کہا تھا۔ «فالحمداللہ»

مسلم شریف میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ عید کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا پڑھتے تھے؟ آپ نے فرمایا: سورۃ ق اور سورۃ القمر «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» الخ (صحیح مسلم:891)

مسلم میں ہے سیدہ ام ہشام بنت حارثہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دو سال تک یا ایک سال کچھ ماہ تک ایک ہی دستور رہا میں نے سورۃ ق کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن سن کر یاد کر لیا، اس لیے کہ ہر جمعہ کے دن جب آپ لوگوں کو خطبہ سنانے کیلئے منبر پر آتے تو اس سورت کی تلاوت کرتے۔ (صحیح مسلم:873-45)

الغرض بڑے بڑے مجمع کے موقع پر جیسے عید ہے جمعہ ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سورت کی تلاوت کرتے کیونکہ اس میں ابتداء خلق کا، مرنے کے بعد جینے کا، اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا، حساب کتاب کا، جنت دوزخ کا ثواب عذاب اور رغبت و ڈراوے کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

تفسیر سورۂ ق ٭٭

«ق» حروف ہجا سے ہے جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں جیسے «ص، ن، الم، حم، طس»، وغیرہ ہم نے ان کی پوری تشریح سورۃ البقرہ کی تفسیر میں شروع میں کر دی ہے۔

بعض سلف کا قول ہے کہ قاف ایک پہاڑ ہے زمین کو گھیرے ہوئے ہے، میں تو جانتا ہوں کہ دراصل یہ بنی اسرائیل کی خرافات میں سے ہے جنہیں بعض لوگوں نے لے لیا۔ یہ سمجھ کر کہ یہ روایت لینا مباح ہے گو تصدیق تکذیب نہیں کر سکتے۔

صفحہ نمبر8693

اہل کتاب کی موضوع روایتیں ٭٭

لیکن میرا خیال ہے کہ یہ اور اس جیسی اور روایتیں تو بنی اسرائیل کے بددینوں نے گھڑ لی ہوں گی تاکہ لوگوں پر دین کو خلط ملط کر دیں، آپ خیال کیجئے کہ اس امت میں باوجود یہ کہ علماء کرام اور حافظان عظام کی بہت بڑی دیندار مخلص جماعت ہر زمانے میں موجود ہے تاہم بددینوں نے بہت تھوڑی مدت میں موضوع احادیث تک گھڑ لیں۔

صفحہ نمبر8694

پس بنی اسرائیل جن پر مدتیں گزر چکیں، جو حفظ سے عاری تھے، جن میں نقادان فن موجود نہ تھے، جو کلام اللہ کو اصلیت سے ہٹا دیا کرتے تھے، جو شرابوں میں مخمور رہا کرتے تھے، جو آیات اللہ کو بدل ڈالا کرتے تھے، ان کا کیا ٹھیک ہے؟ پس حدیث نے جن روایات کو ان سے لینا مباح رکھا ہے یہ وہ ہیں جو کم از کم عقل و فہم میں تو آ سکیں، نہ وہ جو صریح خلاف عقل ہوں، سنتے ہی ان کے باطل اور غلط ہونے کا فیصلہ عقل کر دیتی ہو اور اس کا جھوٹ ہونا اتنا واضح ہو کہ اس پر دلیل لانے کی ضرورت نہ پڑے۔

پس مندرجہ بالا روایات بھی ایسی ہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ افسوس کہ بہت سلف و خلف نے اہل کتاب سے اس قسم کی حکایتیں قرآن مجید کی تفسیر میں وارد کر دی ہیں دراصل قرآن کریم ایسی بےسروپا باتوں کا کچھ محتاج نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

صفحہ نمبر8695

یہاں تک کہ امام ابو محمد عبدالرحمٰن بن ابوحاتم رازی رحمہ اللہ نے بھی یہاں ایک عجیب و غریب اثر بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وارد کر دیا ہے جو ازروے سند ثابت نہیں۔ اس میں ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک سمندر پیدا کیا ہے جو اس ساری زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور اس سمندر کے پچھے ایک پہاڑ ہے جو اس کو روکے ہوئے ہے اس کا نام قاف ہے، آسمان اور دنیا اسی پر اٹھا ہوا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پہاڑ کے پیچھے ایک زمین بنائی ہے جو اس زمین سے سات گنا بڑی ہے، پھر اس کے پیچھے ایک سمندر ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے، پھر اس کے پیچھے پہاڑ ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اسے بھی قاف کہتے ہیں دوسرا آسمان اسی پر بلند کیا ہوا ہے اسی طرح سات زمینیں، سات سمندر، سات پہاڑ اور سات آسمان گنوائے۔ پھر یہ آیت پڑھی «وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» [31-لقمان:27] ‏ اس اثر کی اسناد میں انقطاع ہے۔ [ضعیف و منقطع] ‏

صفحہ نمبر8696

علی بن ابوطلحہ جو روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کرتے ہیں اس میں ہے کہ «ق» اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ق» بھی مثل «ص، ن، طس، الم» وغیرہ کے حروف ہجا میں سے ہے۔

پس ان روایات سے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان ہونا اور بعید ہو جاتا ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ کام کا فیصلہ کر دیا گیا ہے قسم اللہ کی اور «ق» کہہ کر باقی جملہ چھوڑ دیا گیا کہ یہ دلیل ہے محذوف پر۔

جیسے شاعر کہتا ہے۔ «قلت لھا قفی فقالت ق» لیکن یہ کہنا بھی ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ محذوف پر دلالت کرنے والا کلام صاف ہونا چاہیئے اور یہاں کون سا کلام ہے؟ جس سے اتنے بڑے جملے کے محذوف ہونے کا پتہ چلے۔ پھر اس کرم اور عظمت والے قرآن کی قسم کھائی جس کے آگے سے یا پیچھے سے باطل نہیں آ سکتا، جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔

اس قسم کا جواب کیا ہے؟ اس میں بھی کئی قول ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے تو بعض نحویوں سے نقل کیا ہے کہ اس کا جواب «قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِندَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ» [50-ق:4] ‏ پوری آیت تک ہے۔

لیکن یہ بھی غور طلب ہے بلکہ جواب قسم کے بعد کا مضمون کلام ہے یعنی نبوت اور دوبارہ جی اٹھنے کا ثبوت اور تحقیق گو قسم لفظوں سے اس کا جواب نہ بتاتی ہو ایسا قرآن کی قسموں کے جواب میں اکثر ہے جیسے کہ سورۃ ص کی تفسیر کے شروع میں گزر چکا ہے، اسی طرح یہاں بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے اس بات پر تعجب ظاہر کیا ہے کہ انہی میں سے ایک انسان کیسے رسول بن گیا؟ جیسے اور آیت میں ہے «اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ» [10-يونس:2] ‏ یعنی ” کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص کی طرف وحی بھیجی تاکہ تم لوگوں کو خبردار کر دے۔ “ یعنی دراصل یہ کوئی تعجب کی چیز نہ تھی اللہ جسے چاہے اپنے فرشتوں میں سے اپنی رسالت کے لیے چن لیتا ہے اور جسے چاہے انسانوں میں سے چن لیتا ہے۔

اسی کے ساتھ یہ بھی بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے مرنے کے بعد جینے کو بھی تعجب کی نگاہوں سے دیکھا اور کہا کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہمارے جسم کے اجزا جدا جدا ہو کر، ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی ہو جائیں گے اس کے بعد تو اسی ہئیت و ترکیب میں ہمارا دوبارہ جینا بالکل محال ہے اس کے جواب میں فرمان صادر ہوا کہ زمین ان کے جسموں کو جو کھا جاتی ہے اس سے بھی ہم غافل نہیں ہمیں معلوم ہے کہ ان کے ذرے کہاں گئے اور کس حالت میں کہاں ہیں؟ ہمارے پاس کتاب ہے جو اس کی حافظ ہے ہمارا علم ان سب معلومات پر مشتمل ہے اور ساتھ ہی کتاب میں محفوظ ہے۔

صفحہ نمبر8697

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی ان کے گوشت، چمڑے، ہڈیاں اور بال جو کچھ زمین کھا جاتی ہے، ہمارے علم میں ہے۔ پھر پروردگار عالم ان کے اس محال سمجھنے کی اصل وجہ بیان فرما رہا ہے کہ دراصل یہ حق کو جھٹلانے والے لوگ ہیں اور جو لوگ اپنے پاس حق کے آ جانے کے بعد اس کا انکار کر دیں ان سے اچھی سمجھ ہی چھن جاتی ہے، «مریج» کے معنی ہیں مختلف، مضطرب، منکر اور خلط ملط کے جیسے فرمان ہے «اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ» [51-الذاريات:8] ‏ یعنی ” یقیناً تم ایک جھگڑے کی بات میں پڑے ہوئے ہو۔ “ نافرمانی وہی کرتا ہے جو بھلائی سے محروم کر دیا گیا ہے۔

صفحہ نمبر8698

تفسیر سورۃ ق:

جن سورتوں کو مفصل کی سورتیں کہا جاتا ہے ان میں سب سے پہلی سورت یہی ہے، گو ایک قول یہ بھی ہے کہ مفصل کی سورتیں سورۃ الحجرات سے شروع ہوتی ہیں یہ بالکل بے اصل بات ہے، علماء میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں، مفصل کی سورتوں کی پہلی سورت یہی ہے، اس کی دلیل ابوداؤد کی یہ حدیث ہے جو [ باب تحریب القران ] میں ہے۔ سیدنا اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وفد ثقیف میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرے اور بنو مالک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قبے میں ٹھہرایا۔ فرماتے ہیں: ہر رات عشاء کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آتے اور کھڑے کھڑے ہمیں اپنی باتیں سناتے یہاں تک کہ آپ کو دیر تک کھڑے رہنے کی وجہ سے قدموں کو بدلنے کی ضرورت پڑتی، کبھی اس قدم کھڑے ہوتے، کبھی اس قدم پر، عموماً آپ ہم سے وہ واقعات بیان کرتے جو آپ کو اپنی قوم قریش سے سہنے پڑے تھے، پھر فرماتے کوئی حرج نہیں ہم مکے میں کمزور تھے بے وقعت تھے۔ پھر ہم مدینے میں آ گئے اب ہم میں ان میں لڑائی ڈولوں کے مثل ہے کبھی ہم ان پر غالب، کبھی وہ ہم پر، غرض ہر رات یہ لطف صحبت رہا کرتا تھا، ایک رات کو وقت ہو چکا اور آپ نہ آئے۔ بہت دیر کے بعد تشریف لائے ہم نے کہا: یا رسول اللہ ! آج تو آپ کو بہت دیر ہو گئی، آپ نے فرمایا: ”ہاں قرآن کا جو حصہ روزانہ پڑھا کرتا تھا آج اس وقت اسے پڑھا اور ادھورا چھوڑ کر آنے کو جی نہ چاہا“۔ سیدنا اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ تم قرآن کے حصے کسی طرح کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: پہلی تین سورتوں کی ایک منزل، پھر پانچ سورتوں کی ایک منزل، پھر سات سورتوں کی ایک منزل، پھر نو سورتوں کی ایک منزل، پھر گیارہ سورتوں کی ایک منزل، پھر تیرہ سورتوں کی ایک منزل اور مفصل کی سورتوں کی ایک منزل۔ (سنن ابوداود:1393،قال الشيخ الألباني:ضعیف) یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے

پس پہلی چھ منزلوں کی کل اڑتالیس سورتیں ہوئیں پھر ان کے بعد مفصل کی تمام سورتوں کی ایک منزل تو انچاسویں سورت یہی سورۃ ق پڑتی ہے۔ باقاعدہ گنتی سنئیے۔ پہلی منزل کی تین سورتیں البقرہ، آل عمران اور النساء ہوئیں۔ دوسری منزل کی پانچ سورتیں المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہوئیں۔ تیسری منزل کی سات سورتیں یونس، ہود، یوسف، الرعد، ابراہیم، الحجر، اور النحل ہوئیں۔ چوتھی منزل کی نو سورتیں الاِسراء، الکہف، مریم، طہٰ، الانبیاء، الحج، المومنون، النور اور الفرقان ہوئیں۔ پانچویں منزل کی گیارہ سورتیں الشعراء، النمل، القصص، العنکبوت، الروم، لقمان، السجدہ، الاحزاب، سبا، فاطر، اور یٰسین ہوئیں۔ چھٹی منزل کی تیرہ سورتیں الصافات، ص، الزمر، غافر، فصلت، الشوریٰ، الزخرف، الدخان، الجاثیہ، الاحقاف، محمد، الفتح اور الحجرات ہوئیں۔ اب ساتویں منزل مفصل کی سورتیں باقی رہیں جو الحجرات کے بعد کی سورت سے شروع ہوں گی اور وہ سورۃ ق ہے۔ اور یہی ہم نے کہا تھا۔ «فالحمداللہ»

مسلم شریف میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ عید کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا پڑھتے تھے؟ آپ نے فرمایا: سورۃ ق اور سورۃ القمر «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» الخ (صحیح مسلم:891)

مسلم میں ہے سیدہ ام ہشام بنت حارثہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دو سال تک یا ایک سال کچھ ماہ تک ایک ہی دستور رہا میں نے سورۃ ق کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن سن کر یاد کر لیا، اس لیے کہ ہر جمعہ کے دن جب آپ لوگوں کو خطبہ سنانے کیلئے منبر پر آتے تو اس سورت کی تلاوت کرتے۔ (صحیح مسلم:873-45)

الغرض بڑے بڑے مجمع کے موقع پر جیسے عید ہے جمعہ ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سورت کی تلاوت کرتے کیونکہ اس میں ابتداء خلق کا، مرنے کے بعد جینے کا، اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا، حساب کتاب کا، جنت دوزخ کا ثواب عذاب اور رغبت و ڈراوے کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

تفسیر سورۂ ق ٭٭

«ق» حروف ہجا سے ہے جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں جیسے «ص، ن، الم، حم، طس»، وغیرہ ہم نے ان کی پوری تشریح سورۃ البقرہ کی تفسیر میں شروع میں کر دی ہے۔

بعض سلف کا قول ہے کہ قاف ایک پہاڑ ہے زمین کو گھیرے ہوئے ہے، میں تو جانتا ہوں کہ دراصل یہ بنی اسرائیل کی خرافات میں سے ہے جنہیں بعض لوگوں نے لے لیا۔ یہ سمجھ کر کہ یہ روایت لینا مباح ہے گو تصدیق تکذیب نہیں کر سکتے۔

صفحہ نمبر8693

اہل کتاب کی موضوع روایتیں ٭٭

لیکن میرا خیال ہے کہ یہ اور اس جیسی اور روایتیں تو بنی اسرائیل کے بددینوں نے گھڑ لی ہوں گی تاکہ لوگوں پر دین کو خلط ملط کر دیں، آپ خیال کیجئے کہ اس امت میں باوجود یہ کہ علماء کرام اور حافظان عظام کی بہت بڑی دیندار مخلص جماعت ہر زمانے میں موجود ہے تاہم بددینوں نے بہت تھوڑی مدت میں موضوع احادیث تک گھڑ لیں۔

صفحہ نمبر8694

پس بنی اسرائیل جن پر مدتیں گزر چکیں، جو حفظ سے عاری تھے، جن میں نقادان فن موجود نہ تھے، جو کلام اللہ کو اصلیت سے ہٹا دیا کرتے تھے، جو شرابوں میں مخمور رہا کرتے تھے، جو آیات اللہ کو بدل ڈالا کرتے تھے، ان کا کیا ٹھیک ہے؟ پس حدیث نے جن روایات کو ان سے لینا مباح رکھا ہے یہ وہ ہیں جو کم از کم عقل و فہم میں تو آ سکیں، نہ وہ جو صریح خلاف عقل ہوں، سنتے ہی ان کے باطل اور غلط ہونے کا فیصلہ عقل کر دیتی ہو اور اس کا جھوٹ ہونا اتنا واضح ہو کہ اس پر دلیل لانے کی ضرورت نہ پڑے۔

پس مندرجہ بالا روایات بھی ایسی ہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ افسوس کہ بہت سلف و خلف نے اہل کتاب سے اس قسم کی حکایتیں قرآن مجید کی تفسیر میں وارد کر دی ہیں دراصل قرآن کریم ایسی بےسروپا باتوں کا کچھ محتاج نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

صفحہ نمبر8695

یہاں تک کہ امام ابو محمد عبدالرحمٰن بن ابوحاتم رازی رحمہ اللہ نے بھی یہاں ایک عجیب و غریب اثر بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وارد کر دیا ہے جو ازروے سند ثابت نہیں۔ اس میں ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک سمندر پیدا کیا ہے جو اس ساری زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور اس سمندر کے پچھے ایک پہاڑ ہے جو اس کو روکے ہوئے ہے اس کا نام قاف ہے، آسمان اور دنیا اسی پر اٹھا ہوا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پہاڑ کے پیچھے ایک زمین بنائی ہے جو اس زمین سے سات گنا بڑی ہے، پھر اس کے پیچھے ایک سمندر ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے، پھر اس کے پیچھے پہاڑ ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اسے بھی قاف کہتے ہیں دوسرا آسمان اسی پر بلند کیا ہوا ہے اسی طرح سات زمینیں، سات سمندر، سات پہاڑ اور سات آسمان گنوائے۔ پھر یہ آیت پڑھی «وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» [31-لقمان:27] ‏ اس اثر کی اسناد میں انقطاع ہے۔ [ضعیف و منقطع] ‏

صفحہ نمبر8696

علی بن ابوطلحہ جو روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کرتے ہیں اس میں ہے کہ «ق» اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ق» بھی مثل «ص، ن، طس، الم» وغیرہ کے حروف ہجا میں سے ہے۔

پس ان روایات سے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان ہونا اور بعید ہو جاتا ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ کام کا فیصلہ کر دیا گیا ہے قسم اللہ کی اور «ق» کہہ کر باقی جملہ چھوڑ دیا گیا کہ یہ دلیل ہے محذوف پر۔

جیسے شاعر کہتا ہے۔ «قلت لھا قفی فقالت ق» لیکن یہ کہنا بھی ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ محذوف پر دلالت کرنے والا کلام صاف ہونا چاہیئے اور یہاں کون سا کلام ہے؟ جس سے اتنے بڑے جملے کے محذوف ہونے کا پتہ چلے۔ پھر اس کرم اور عظمت والے قرآن کی قسم کھائی جس کے آگے سے یا پیچھے سے باطل نہیں آ سکتا، جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔

اس قسم کا جواب کیا ہے؟ اس میں بھی کئی قول ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے تو بعض نحویوں سے نقل کیا ہے کہ اس کا جواب «قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِندَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ» [50-ق:4] ‏ پوری آیت تک ہے۔

لیکن یہ بھی غور طلب ہے بلکہ جواب قسم کے بعد کا مضمون کلام ہے یعنی نبوت اور دوبارہ جی اٹھنے کا ثبوت اور تحقیق گو قسم لفظوں سے اس کا جواب نہ بتاتی ہو ایسا قرآن کی قسموں کے جواب میں اکثر ہے جیسے کہ سورۃ ص کی تفسیر کے شروع میں گزر چکا ہے، اسی طرح یہاں بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے اس بات پر تعجب ظاہر کیا ہے کہ انہی میں سے ایک انسان کیسے رسول بن گیا؟ جیسے اور آیت میں ہے «اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ» [10-يونس:2] ‏ یعنی ” کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص کی طرف وحی بھیجی تاکہ تم لوگوں کو خبردار کر دے۔ “ یعنی دراصل یہ کوئی تعجب کی چیز نہ تھی اللہ جسے چاہے اپنے فرشتوں میں سے اپنی رسالت کے لیے چن لیتا ہے اور جسے چاہے انسانوں میں سے چن لیتا ہے۔

اسی کے ساتھ یہ بھی بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے مرنے کے بعد جینے کو بھی تعجب کی نگاہوں سے دیکھا اور کہا کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہمارے جسم کے اجزا جدا جدا ہو کر، ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی ہو جائیں گے اس کے بعد تو اسی ہئیت و ترکیب میں ہمارا دوبارہ جینا بالکل محال ہے اس کے جواب میں فرمان صادر ہوا کہ زمین ان کے جسموں کو جو کھا جاتی ہے اس سے بھی ہم غافل نہیں ہمیں معلوم ہے کہ ان کے ذرے کہاں گئے اور کس حالت میں کہاں ہیں؟ ہمارے پاس کتاب ہے جو اس کی حافظ ہے ہمارا علم ان سب معلومات پر مشتمل ہے اور ساتھ ہی کتاب میں محفوظ ہے۔

صفحہ نمبر8697

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی ان کے گوشت، چمڑے، ہڈیاں اور بال جو کچھ زمین کھا جاتی ہے، ہمارے علم میں ہے۔ پھر پروردگار عالم ان کے اس محال سمجھنے کی اصل وجہ بیان فرما رہا ہے کہ دراصل یہ حق کو جھٹلانے والے لوگ ہیں اور جو لوگ اپنے پاس حق کے آ جانے کے بعد اس کا انکار کر دیں ان سے اچھی سمجھ ہی چھن جاتی ہے، «مریج» کے معنی ہیں مختلف، مضطرب، منکر اور خلط ملط کے جیسے فرمان ہے «اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ» [51-الذاريات:8] ‏ یعنی ” یقیناً تم ایک جھگڑے کی بات میں پڑے ہوئے ہو۔ “ نافرمانی وہی کرتا ہے جو بھلائی سے محروم کر دیا گیا ہے۔

صفحہ نمبر8698

اللہ کے محیر العقول شاہکار ٭٭

یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں۔ چنانچہ سورۃ تبارک میں فرمایا «الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ» [67-الملك:3] ‏، ” اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے، تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے؟ “ پھر باربار غور کر اور دیکھ تیری نگاہ نامراد اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔

پھر فرمایا زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور بچھا دیا اور اس میں پہاڑ جما دئیے تاکہ ہل نہ سکے کیونکہ وہ ہر طرف سے پانی سے گھری ہوئی ہے اور اس میں ہر قسم کی کھیتیاں، پھل، سبزے اور قسم قسم کی چیزیں اگا دیں جیسے اور جگہ ہے «وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہر چیز کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو۔ “ «بھیج» کے معنی خوشنما، خوش منظر، بارونق۔

صفحہ نمبر8703

پھر فرمایا آسمان و زمین اور ان کے علاوہ قدرت کے اور نشانات , دانائی اور بینائی کا ذریعہ ہیں ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کی طرف رغبت کرنے والا ہو۔

پھر فرماتا ہے ہم نے نفع دینے والا پانی آسمان سے برسا کر اس سے باغات بنائے اور وہ کھیتیاں بنائیں جو کاٹی جاتی ہیں اور جن کے اناج کھلیان میں ڈالے جاتے ہیں اور اونچے اونچے کھجور کے درخت اگا دئیے جو بھرپور میوے لادتے اور لدے رہتے ہیں یہ مخلوق کی روزیاں ہیں اور اسی پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کر دیا وہ لہلہانے لگی اور خشکی کے بعد تروتازہ ہو گئی۔ اور چٹیل سوکھے میدان سرسبز ہو گئے۔ یہ مثال ہے موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی اور ہلاکت کے بعد آباد ہونے کی یہ نشانیاں جنہیں تم روزمرہ دیکھ رہے ہو کیا تمہاری رہبری اس امر کی طرف نہیں کرتیں؟ کہ اللہ مردوں کے جلانے پر قادر ہے چنانچہ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] ‏ یعنی ” آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ “

اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [46-الأحقاف:33] ‏ یعنی ” کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا , کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو جلا دے؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“

اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [41-فصلت:39] ‏ ” یعنی تو دیکھتا ہے کہ زمین بالکل خشک اور بنجر ہوتی ہے، ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں، جس سے وہ لہلہانے اور پیداوار اگانے لگتی ہے، کیا یہ میری قدرت کی نشانی نہیں بتاتی؟ کہ جس ذات نے اسے زندہ کر دیا، وہ مردوں کے جلانے پر بلا شک و شبہ قادر ہے، یقینًا وہ تمام تر چیزوں پر قدرت رکھتی ہے۔ “

صفحہ نمبر8704

اللہ کے محیر العقول شاہکار ٭٭

یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں۔ چنانچہ سورۃ تبارک میں فرمایا «الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ» [67-الملك:3] ‏، ” اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے، تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے؟ “ پھر باربار غور کر اور دیکھ تیری نگاہ نامراد اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔

پھر فرمایا زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور بچھا دیا اور اس میں پہاڑ جما دئیے تاکہ ہل نہ سکے کیونکہ وہ ہر طرف سے پانی سے گھری ہوئی ہے اور اس میں ہر قسم کی کھیتیاں، پھل، سبزے اور قسم قسم کی چیزیں اگا دیں جیسے اور جگہ ہے «وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہر چیز کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو۔ “ «بھیج» کے معنی خوشنما، خوش منظر، بارونق۔

صفحہ نمبر8703

پھر فرمایا آسمان و زمین اور ان کے علاوہ قدرت کے اور نشانات , دانائی اور بینائی کا ذریعہ ہیں ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کی طرف رغبت کرنے والا ہو۔

پھر فرماتا ہے ہم نے نفع دینے والا پانی آسمان سے برسا کر اس سے باغات بنائے اور وہ کھیتیاں بنائیں جو کاٹی جاتی ہیں اور جن کے اناج کھلیان میں ڈالے جاتے ہیں اور اونچے اونچے کھجور کے درخت اگا دئیے جو بھرپور میوے لادتے اور لدے رہتے ہیں یہ مخلوق کی روزیاں ہیں اور اسی پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کر دیا وہ لہلہانے لگی اور خشکی کے بعد تروتازہ ہو گئی۔ اور چٹیل سوکھے میدان سرسبز ہو گئے۔ یہ مثال ہے موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی اور ہلاکت کے بعد آباد ہونے کی یہ نشانیاں جنہیں تم روزمرہ دیکھ رہے ہو کیا تمہاری رہبری اس امر کی طرف نہیں کرتیں؟ کہ اللہ مردوں کے جلانے پر قادر ہے چنانچہ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] ‏ یعنی ” آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ “

اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [46-الأحقاف:33] ‏ یعنی ” کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا , کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو جلا دے؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“

اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [41-فصلت:39] ‏ ” یعنی تو دیکھتا ہے کہ زمین بالکل خشک اور بنجر ہوتی ہے، ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں، جس سے وہ لہلہانے اور پیداوار اگانے لگتی ہے، کیا یہ میری قدرت کی نشانی نہیں بتاتی؟ کہ جس ذات نے اسے زندہ کر دیا، وہ مردوں کے جلانے پر بلا شک و شبہ قادر ہے، یقینًا وہ تمام تر چیزوں پر قدرت رکھتی ہے۔ “

صفحہ نمبر8704

اللہ کے محیر العقول شاہکار ٭٭

یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں۔ چنانچہ سورۃ تبارک میں فرمایا «الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ» [67-الملك:3] ‏، ” اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے، تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے؟ “ پھر باربار غور کر اور دیکھ تیری نگاہ نامراد اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔

پھر فرمایا زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور بچھا دیا اور اس میں پہاڑ جما دئیے تاکہ ہل نہ سکے کیونکہ وہ ہر طرف سے پانی سے گھری ہوئی ہے اور اس میں ہر قسم کی کھیتیاں، پھل، سبزے اور قسم قسم کی چیزیں اگا دیں جیسے اور جگہ ہے «وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہر چیز کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو۔ “ «بھیج» کے معنی خوشنما، خوش منظر، بارونق۔

صفحہ نمبر8703

پھر فرمایا آسمان و زمین اور ان کے علاوہ قدرت کے اور نشانات , دانائی اور بینائی کا ذریعہ ہیں ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کی طرف رغبت کرنے والا ہو۔

پھر فرماتا ہے ہم نے نفع دینے والا پانی آسمان سے برسا کر اس سے باغات بنائے اور وہ کھیتیاں بنائیں جو کاٹی جاتی ہیں اور جن کے اناج کھلیان میں ڈالے جاتے ہیں اور اونچے اونچے کھجور کے درخت اگا دئیے جو بھرپور میوے لادتے اور لدے رہتے ہیں یہ مخلوق کی روزیاں ہیں اور اسی پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کر دیا وہ لہلہانے لگی اور خشکی کے بعد تروتازہ ہو گئی۔ اور چٹیل سوکھے میدان سرسبز ہو گئے۔ یہ مثال ہے موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی اور ہلاکت کے بعد آباد ہونے کی یہ نشانیاں جنہیں تم روزمرہ دیکھ رہے ہو کیا تمہاری رہبری اس امر کی طرف نہیں کرتیں؟ کہ اللہ مردوں کے جلانے پر قادر ہے چنانچہ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] ‏ یعنی ” آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ “

اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [46-الأحقاف:33] ‏ یعنی ” کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا , کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو جلا دے؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“

اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [41-فصلت:39] ‏ ” یعنی تو دیکھتا ہے کہ زمین بالکل خشک اور بنجر ہوتی ہے، ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں، جس سے وہ لہلہانے اور پیداوار اگانے لگتی ہے، کیا یہ میری قدرت کی نشانی نہیں بتاتی؟ کہ جس ذات نے اسے زندہ کر دیا، وہ مردوں کے جلانے پر بلا شک و شبہ قادر ہے، یقینًا وہ تمام تر چیزوں پر قدرت رکھتی ہے۔ “

صفحہ نمبر8704

اللہ کے محیر العقول شاہکار ٭٭

یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں۔ چنانچہ سورۃ تبارک میں فرمایا «الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ» [67-الملك:3] ‏، ” اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے، تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے؟ “ پھر باربار غور کر اور دیکھ تیری نگاہ نامراد اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔

پھر فرمایا زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور بچھا دیا اور اس میں پہاڑ جما دئیے تاکہ ہل نہ سکے کیونکہ وہ ہر طرف سے پانی سے گھری ہوئی ہے اور اس میں ہر قسم کی کھیتیاں، پھل، سبزے اور قسم قسم کی چیزیں اگا دیں جیسے اور جگہ ہے «وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہر چیز کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو۔ “ «بھیج» کے معنی خوشنما، خوش منظر، بارونق۔

صفحہ نمبر8703

پھر فرمایا آسمان و زمین اور ان کے علاوہ قدرت کے اور نشانات , دانائی اور بینائی کا ذریعہ ہیں ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کی طرف رغبت کرنے والا ہو۔

پھر فرماتا ہے ہم نے نفع دینے والا پانی آسمان سے برسا کر اس سے باغات بنائے اور وہ کھیتیاں بنائیں جو کاٹی جاتی ہیں اور جن کے اناج کھلیان میں ڈالے جاتے ہیں اور اونچے اونچے کھجور کے درخت اگا دئیے جو بھرپور میوے لادتے اور لدے رہتے ہیں یہ مخلوق کی روزیاں ہیں اور اسی پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کر دیا وہ لہلہانے لگی اور خشکی کے بعد تروتازہ ہو گئی۔ اور چٹیل سوکھے میدان سرسبز ہو گئے۔ یہ مثال ہے موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی اور ہلاکت کے بعد آباد ہونے کی یہ نشانیاں جنہیں تم روزمرہ دیکھ رہے ہو کیا تمہاری رہبری اس امر کی طرف نہیں کرتیں؟ کہ اللہ مردوں کے جلانے پر قادر ہے چنانچہ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] ‏ یعنی ” آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ “

اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [46-الأحقاف:33] ‏ یعنی ” کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا , کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو جلا دے؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“

اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [41-فصلت:39] ‏ ” یعنی تو دیکھتا ہے کہ زمین بالکل خشک اور بنجر ہوتی ہے، ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں، جس سے وہ لہلہانے اور پیداوار اگانے لگتی ہے، کیا یہ میری قدرت کی نشانی نہیں بتاتی؟ کہ جس ذات نے اسے زندہ کر دیا، وہ مردوں کے جلانے پر بلا شک و شبہ قادر ہے، یقینًا وہ تمام تر چیزوں پر قدرت رکھتی ہے۔ “

صفحہ نمبر8704

اللہ کے محیر العقول شاہکار ٭٭

یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں۔ چنانچہ سورۃ تبارک میں فرمایا «الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ» [67-الملك:3] ‏، ” اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے، تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے؟ “ پھر باربار غور کر اور دیکھ تیری نگاہ نامراد اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔

پھر فرمایا زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور بچھا دیا اور اس میں پہاڑ جما دئیے تاکہ ہل نہ سکے کیونکہ وہ ہر طرف سے پانی سے گھری ہوئی ہے اور اس میں ہر قسم کی کھیتیاں، پھل، سبزے اور قسم قسم کی چیزیں اگا دیں جیسے اور جگہ ہے «وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہر چیز کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو۔ “ «بھیج» کے معنی خوشنما، خوش منظر، بارونق۔

صفحہ نمبر8703

پھر فرمایا آسمان و زمین اور ان کے علاوہ قدرت کے اور نشانات , دانائی اور بینائی کا ذریعہ ہیں ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کی طرف رغبت کرنے والا ہو۔

پھر فرماتا ہے ہم نے نفع دینے والا پانی آسمان سے برسا کر اس سے باغات بنائے اور وہ کھیتیاں بنائیں جو کاٹی جاتی ہیں اور جن کے اناج کھلیان میں ڈالے جاتے ہیں اور اونچے اونچے کھجور کے درخت اگا دئیے جو بھرپور میوے لادتے اور لدے رہتے ہیں یہ مخلوق کی روزیاں ہیں اور اسی پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کر دیا وہ لہلہانے لگی اور خشکی کے بعد تروتازہ ہو گئی۔ اور چٹیل سوکھے میدان سرسبز ہو گئے۔ یہ مثال ہے موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی اور ہلاکت کے بعد آباد ہونے کی یہ نشانیاں جنہیں تم روزمرہ دیکھ رہے ہو کیا تمہاری رہبری اس امر کی طرف نہیں کرتیں؟ کہ اللہ مردوں کے جلانے پر قادر ہے چنانچہ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] ‏ یعنی ” آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ “

اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [46-الأحقاف:33] ‏ یعنی ” کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا , کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو جلا دے؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“

اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [41-فصلت:39] ‏ ” یعنی تو دیکھتا ہے کہ زمین بالکل خشک اور بنجر ہوتی ہے، ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں، جس سے وہ لہلہانے اور پیداوار اگانے لگتی ہے، کیا یہ میری قدرت کی نشانی نہیں بتاتی؟ کہ جس ذات نے اسے زندہ کر دیا، وہ مردوں کے جلانے پر بلا شک و شبہ قادر ہے، یقینًا وہ تمام تر چیزوں پر قدرت رکھتی ہے۔ “

صفحہ نمبر8704

اللہ کے محیر العقول شاہکار ٭٭

یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں۔ چنانچہ سورۃ تبارک میں فرمایا «الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ» [67-الملك:3] ‏، ” اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے، تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے؟ “ پھر باربار غور کر اور دیکھ تیری نگاہ نامراد اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔

پھر فرمایا زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور بچھا دیا اور اس میں پہاڑ جما دئیے تاکہ ہل نہ سکے کیونکہ وہ ہر طرف سے پانی سے گھری ہوئی ہے اور اس میں ہر قسم کی کھیتیاں، پھل، سبزے اور قسم قسم کی چیزیں اگا دیں جیسے اور جگہ ہے «وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہر چیز کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو۔ “ «بھیج» کے معنی خوشنما، خوش منظر، بارونق۔

صفحہ نمبر8703

پھر فرمایا آسمان و زمین اور ان کے علاوہ قدرت کے اور نشانات , دانائی اور بینائی کا ذریعہ ہیں ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کی طرف رغبت کرنے والا ہو۔

پھر فرماتا ہے ہم نے نفع دینے والا پانی آسمان سے برسا کر اس سے باغات بنائے اور وہ کھیتیاں بنائیں جو کاٹی جاتی ہیں اور جن کے اناج کھلیان میں ڈالے جاتے ہیں اور اونچے اونچے کھجور کے درخت اگا دئیے جو بھرپور میوے لادتے اور لدے رہتے ہیں یہ مخلوق کی روزیاں ہیں اور اسی پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کر دیا وہ لہلہانے لگی اور خشکی کے بعد تروتازہ ہو گئی۔ اور چٹیل سوکھے میدان سرسبز ہو گئے۔ یہ مثال ہے موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی اور ہلاکت کے بعد آباد ہونے کی یہ نشانیاں جنہیں تم روزمرہ دیکھ رہے ہو کیا تمہاری رہبری اس امر کی طرف نہیں کرتیں؟ کہ اللہ مردوں کے جلانے پر قادر ہے چنانچہ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] ‏ یعنی ” آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ “

اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [46-الأحقاف:33] ‏ یعنی ” کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا , کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو جلا دے؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“

اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [41-فصلت:39] ‏ ” یعنی تو دیکھتا ہے کہ زمین بالکل خشک اور بنجر ہوتی ہے، ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں، جس سے وہ لہلہانے اور پیداوار اگانے لگتی ہے، کیا یہ میری قدرت کی نشانی نہیں بتاتی؟ کہ جس ذات نے اسے زندہ کر دیا، وہ مردوں کے جلانے پر بلا شک و شبہ قادر ہے، یقینًا وہ تمام تر چیزوں پر قدرت رکھتی ہے۔ “

صفحہ نمبر8704

شامت اعمال ٭٭

اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو ان عذابوں سے ڈرا رہا ہے جو ان جیسے جھٹلانے والوں پر ان سے پہلے آچکے ہیں، جیسے کہ نوح علیہ السلام کی قوم جنہیں اللہ تعالیٰ نے پانی میں غرق کر دیا اور اصحاب «رس» جن کا پورا قصہ سورۃ الفرقان کی تفسیر میں گزر چکا ہے اور ثمود اور عاد اور امت لوط جسے زمین میں دھنسا دیا اور اس زمین کو سڑا ہوا دلدل بنا دیا یہ سب کیا تھا؟ ان کے کفر، ان کی سرکشی، اور مخالفت حق کا نتیجہ تھا اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے (‏علیہ الصلوۃ والسلام) اور قوم تبع سے مراد یمانی ہیں۔

سورۃ الدخان میں ان کا واقعہ بھی گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر ہے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

ان تمام امتوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی اور عذاب اللہ سے ہلاک کر دئیے گئے یہی اللہ کا اصول جاری ہے۔ یہ یاد رہے کہ ایک رسول کا جھٹلانے والا تمام رسولوں کا منکر ہے۔

صفحہ نمبر8710

جیسے اللہ عزوجل و علا کا فرمان ہے «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:105] ‏ ” قوم نوح نے رسولوں کا انکار کیا “ حالانکہ ان کے پاس صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے، پس دراصل یہ تھے ایسے کہ اگر ان کے پاس تمام رسول آ جاتے تو یہ سب کو جھٹلاتے، ایک کو بھی نہ مانتے، سب کی تکذیب کرتے، ایک کی بھی تصدیق نہ کرتے، ان سب پر اللہ کے عذاب کا وعدہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ثابت ہو گیا اور صادق آ گیا۔

پس اہل مکہ اور دیگر مخاطب لوگوں کو بھی اس بدخصلت سے پرہیز کرنا چاہیئے کہیں ایسا نہ ہو کہ عذاب کا کوڑا ان پر بھی برس پڑے، کیا جب یہ کچھ نہ تھے ان کا بسانا ہم پر بھاری پڑا تھا؟ جو اب دوبارہ پیدا کرنے کے منکر ہو رہے ہیں، ابتداء سے تو اعادہ بہت ہی آسان ہوا کرتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] ‏ یعنی ” ابتداءً اسی نے پیدا کیا ہے اور دوبارہ بھی وہی اعادہ کرے گا اور یہ اس پر بہت آسان ہے “۔

سورۃ یٰسین میں فرمان الٰہی جل جلالہ گزر چکا کہ «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-يس:79-78] ‏ ” یعنی اپنی پیدائش کو بھول کر ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگا اور کہنے لگا، بوسیدہ سڑی گلی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ ان کو تو جواب دے کہ وہ جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا اور تمام خلق کو جانتا ہے۔ “

صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے بنی آدم ایذاء دیتا ہے جب یہ کہتا ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا حالانکہ پہلی دفعہ پیدا کرنا دوبارہ پیدا کرنے سے کچھ آسان نہیں۔

صفحہ نمبر8711

شامت اعمال ٭٭

اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو ان عذابوں سے ڈرا رہا ہے جو ان جیسے جھٹلانے والوں پر ان سے پہلے آچکے ہیں، جیسے کہ نوح علیہ السلام کی قوم جنہیں اللہ تعالیٰ نے پانی میں غرق کر دیا اور اصحاب «رس» جن کا پورا قصہ سورۃ الفرقان کی تفسیر میں گزر چکا ہے اور ثمود اور عاد اور امت لوط جسے زمین میں دھنسا دیا اور اس زمین کو سڑا ہوا دلدل بنا دیا یہ سب کیا تھا؟ ان کے کفر، ان کی سرکشی، اور مخالفت حق کا نتیجہ تھا اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے (‏علیہ الصلوۃ والسلام) اور قوم تبع سے مراد یمانی ہیں۔

سورۃ الدخان میں ان کا واقعہ بھی گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر ہے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

ان تمام امتوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی اور عذاب اللہ سے ہلاک کر دئیے گئے یہی اللہ کا اصول جاری ہے۔ یہ یاد رہے کہ ایک رسول کا جھٹلانے والا تمام رسولوں کا منکر ہے۔

صفحہ نمبر8710

جیسے اللہ عزوجل و علا کا فرمان ہے «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:105] ‏ ” قوم نوح نے رسولوں کا انکار کیا “ حالانکہ ان کے پاس صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے، پس دراصل یہ تھے ایسے کہ اگر ان کے پاس تمام رسول آ جاتے تو یہ سب کو جھٹلاتے، ایک کو بھی نہ مانتے، سب کی تکذیب کرتے، ایک کی بھی تصدیق نہ کرتے، ان سب پر اللہ کے عذاب کا وعدہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ثابت ہو گیا اور صادق آ گیا۔

پس اہل مکہ اور دیگر مخاطب لوگوں کو بھی اس بدخصلت سے پرہیز کرنا چاہیئے کہیں ایسا نہ ہو کہ عذاب کا کوڑا ان پر بھی برس پڑے، کیا جب یہ کچھ نہ تھے ان کا بسانا ہم پر بھاری پڑا تھا؟ جو اب دوبارہ پیدا کرنے کے منکر ہو رہے ہیں، ابتداء سے تو اعادہ بہت ہی آسان ہوا کرتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] ‏ یعنی ” ابتداءً اسی نے پیدا کیا ہے اور دوبارہ بھی وہی اعادہ کرے گا اور یہ اس پر بہت آسان ہے “۔

سورۃ یٰسین میں فرمان الٰہی جل جلالہ گزر چکا کہ «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-يس:79-78] ‏ ” یعنی اپنی پیدائش کو بھول کر ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگا اور کہنے لگا، بوسیدہ سڑی گلی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ ان کو تو جواب دے کہ وہ جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا اور تمام خلق کو جانتا ہے۔ “

صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے بنی آدم ایذاء دیتا ہے جب یہ کہتا ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا حالانکہ پہلی دفعہ پیدا کرنا دوبارہ پیدا کرنے سے کچھ آسان نہیں۔

صفحہ نمبر8711

شامت اعمال ٭٭

اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو ان عذابوں سے ڈرا رہا ہے جو ان جیسے جھٹلانے والوں پر ان سے پہلے آچکے ہیں، جیسے کہ نوح علیہ السلام کی قوم جنہیں اللہ تعالیٰ نے پانی میں غرق کر دیا اور اصحاب «رس» جن کا پورا قصہ سورۃ الفرقان کی تفسیر میں گزر چکا ہے اور ثمود اور عاد اور امت لوط جسے زمین میں دھنسا دیا اور اس زمین کو سڑا ہوا دلدل بنا دیا یہ سب کیا تھا؟ ان کے کفر، ان کی سرکشی، اور مخالفت حق کا نتیجہ تھا اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے (‏علیہ الصلوۃ والسلام) اور قوم تبع سے مراد یمانی ہیں۔

سورۃ الدخان میں ان کا واقعہ بھی گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر ہے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

ان تمام امتوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی اور عذاب اللہ سے ہلاک کر دئیے گئے یہی اللہ کا اصول جاری ہے۔ یہ یاد رہے کہ ایک رسول کا جھٹلانے والا تمام رسولوں کا منکر ہے۔

صفحہ نمبر8710

جیسے اللہ عزوجل و علا کا فرمان ہے «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:105] ‏ ” قوم نوح نے رسولوں کا انکار کیا “ حالانکہ ان کے پاس صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے، پس دراصل یہ تھے ایسے کہ اگر ان کے پاس تمام رسول آ جاتے تو یہ سب کو جھٹلاتے، ایک کو بھی نہ مانتے، سب کی تکذیب کرتے، ایک کی بھی تصدیق نہ کرتے، ان سب پر اللہ کے عذاب کا وعدہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ثابت ہو گیا اور صادق آ گیا۔

پس اہل مکہ اور دیگر مخاطب لوگوں کو بھی اس بدخصلت سے پرہیز کرنا چاہیئے کہیں ایسا نہ ہو کہ عذاب کا کوڑا ان پر بھی برس پڑے، کیا جب یہ کچھ نہ تھے ان کا بسانا ہم پر بھاری پڑا تھا؟ جو اب دوبارہ پیدا کرنے کے منکر ہو رہے ہیں، ابتداء سے تو اعادہ بہت ہی آسان ہوا کرتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] ‏ یعنی ” ابتداءً اسی نے پیدا کیا ہے اور دوبارہ بھی وہی اعادہ کرے گا اور یہ اس پر بہت آسان ہے “۔

سورۃ یٰسین میں فرمان الٰہی جل جلالہ گزر چکا کہ «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-يس:79-78] ‏ ” یعنی اپنی پیدائش کو بھول کر ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگا اور کہنے لگا، بوسیدہ سڑی گلی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ ان کو تو جواب دے کہ وہ جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا اور تمام خلق کو جانتا ہے۔ “

صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے بنی آدم ایذاء دیتا ہے جب یہ کہتا ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا حالانکہ پہلی دفعہ پیدا کرنا دوبارہ پیدا کرنے سے کچھ آسان نہیں۔

صفحہ نمبر8711

شامت اعمال ٭٭

اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو ان عذابوں سے ڈرا رہا ہے جو ان جیسے جھٹلانے والوں پر ان سے پہلے آچکے ہیں، جیسے کہ نوح علیہ السلام کی قوم جنہیں اللہ تعالیٰ نے پانی میں غرق کر دیا اور اصحاب «رس» جن کا پورا قصہ سورۃ الفرقان کی تفسیر میں گزر چکا ہے اور ثمود اور عاد اور امت لوط جسے زمین میں دھنسا دیا اور اس زمین کو سڑا ہوا دلدل بنا دیا یہ سب کیا تھا؟ ان کے کفر، ان کی سرکشی، اور مخالفت حق کا نتیجہ تھا اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے (‏علیہ الصلوۃ والسلام) اور قوم تبع سے مراد یمانی ہیں۔

سورۃ الدخان میں ان کا واقعہ بھی گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر ہے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

ان تمام امتوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی اور عذاب اللہ سے ہلاک کر دئیے گئے یہی اللہ کا اصول جاری ہے۔ یہ یاد رہے کہ ایک رسول کا جھٹلانے والا تمام رسولوں کا منکر ہے۔

صفحہ نمبر8710

جیسے اللہ عزوجل و علا کا فرمان ہے «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:105] ‏ ” قوم نوح نے رسولوں کا انکار کیا “ حالانکہ ان کے پاس صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے، پس دراصل یہ تھے ایسے کہ اگر ان کے پاس تمام رسول آ جاتے تو یہ سب کو جھٹلاتے، ایک کو بھی نہ مانتے، سب کی تکذیب کرتے، ایک کی بھی تصدیق نہ کرتے، ان سب پر اللہ کے عذاب کا وعدہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ثابت ہو گیا اور صادق آ گیا۔

پس اہل مکہ اور دیگر مخاطب لوگوں کو بھی اس بدخصلت سے پرہیز کرنا چاہیئے کہیں ایسا نہ ہو کہ عذاب کا کوڑا ان پر بھی برس پڑے، کیا جب یہ کچھ نہ تھے ان کا بسانا ہم پر بھاری پڑا تھا؟ جو اب دوبارہ پیدا کرنے کے منکر ہو رہے ہیں، ابتداء سے تو اعادہ بہت ہی آسان ہوا کرتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] ‏ یعنی ” ابتداءً اسی نے پیدا کیا ہے اور دوبارہ بھی وہی اعادہ کرے گا اور یہ اس پر بہت آسان ہے “۔

سورۃ یٰسین میں فرمان الٰہی جل جلالہ گزر چکا کہ «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-يس:79-78] ‏ ” یعنی اپنی پیدائش کو بھول کر ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگا اور کہنے لگا، بوسیدہ سڑی گلی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ ان کو تو جواب دے کہ وہ جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا اور تمام خلق کو جانتا ہے۔ “

صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے بنی آدم ایذاء دیتا ہے جب یہ کہتا ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا حالانکہ پہلی دفعہ پیدا کرنا دوبارہ پیدا کرنے سے کچھ آسان نہیں۔

صفحہ نمبر8711

دائیں اور بائیں دو فرشتے ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہی انسان کا خالق ہے اور اس کا علم تمام چیزوں کا احاطہٰ کئے ہوئے ہے یہاں تک کہ انسان کے دل میں جو بھلے برے خیالات پیدا ہوتے ہیں انہیں بھی وہ جانتا ہے۔

صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دل میں جو خیالات آئیں ان سے درگزر فرما لیا ہے جب تک کہ وہ زبان سے نہ نکالیں یا عمل نہ کریں۔ [صحیح بخاری:2528] ‏

اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس کے نزدیک ہیں یعنی ہمارے فرشتے اور بعض نے کہا ہے ہمارا علم۔ ان کی غرض یہ ہے کہ کہیں حلول اور اتحاد نہ لازم آ جائے جو بالاجماع اس رب کی مقدس ذات سے بعید ہے اور وہ اس سے بالکل پاک ہے لیکن لفظ کا اقتضاء یہ نہیں ہے اس لیے کہ «وانا» نہیں کہا بلکہ «ونحن» کہا ہے یعنی میں نہیں کہا بلکہ ہم کہا ہے۔ یہی لفظ اس شخص کے بارے میں کہے گئے ہیں جس کی موت قریب آ گئی ہو اور وہ نزع کے عالم میں ہو فرمان ہے «وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ» [56-الواقعة:85] ‏ یعنی ” ہم تم سب سے زیادہ اس سے قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھتے۔ “

یہاں بھی مراد فرشتوں کا اس قدر قریب ہونا ہے۔ جیسے فرمان ہے «اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ» [15-الحجر:9] ‏ ” یعنی ہم نے ذکر کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کے محافظ بھی ہیں “ فرشتے ہی ذکر قرآن کریم کو لے کر نازل ہوئے ہیں اور یہاں بھی مراد فرشتوں کی اتنی نزدیکی ہے جس پر اللہ نے انہیں قدرت بخش رکھی ہے۔

پس انسان پر ایک پہرا فرشتے کا ہوتا ہے اور ایک شیطان کا اسی طرح شیطان بھی جسم انسان میں اسی طرح پھرتا ہے جس طرح خون۔ [صحیح بخاری:3107] ‏ جیسے کہ سچوں کے سچے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔

صفحہ نمبر8715

باب

اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ دو فرشتے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، ابن آدم کے منہ سے جو کلمہ نکلتا ہے، اسے محفوظ رکھنے والے اور اسے نہ چھوڑنے والے اور فوراً لکھ لینے والے فرشتے مقرر ہیں۔

جیسے فرمان ہے «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» [82-الإنفطار:12-10] ‏ ” تم پر محافظ ہیں بزرگ فرشتے جو تمہارے فعل سے باخبر ہیں اور لکھنے والے ہیں “

حسن اور قتادہ رحمہما اللہ تو فرماتے ہیں یہ فرشتے ہر نیک و بد عمل لکھ لیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دو قول ہیں ایک تو یہی ہے دوسرا قول آپ کا یہ ہے کہ ثواب و عذاب لکھ لیا کرتے ہیں۔ لیکن آیت کے ظاہری الفاظ پہلے قول کی ہی تائید کرتے ہیں کیونکہ فرمان ہے جو لفظ نکلتا ہے اس کے پاس محافظ تیار ہیں۔

صفحہ نمبر8716

مسند احمد میں ہے انسان ایک کلمہ اللہ کی رضا مندی کا کہہ گزرتا ہے جسے وہ کوئی بہت بڑا اجر کا کلمہ نہیں جانتا لیکن اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اپنی رضا مندی اس کے لیے قیامت تک کی لکھ دیتا ہے۔ اور کوئی برائی کا کلمہ، ناراضگی اللہ کا اسی طرح بےپرواہی سے کہہ گزرتا ہے جس کی وجہ سے اللہ اپنی ناراضی اس پر اپنی ملاقات کے دن تک کی لکھ دیتا ہے۔ [سنن ترمذي:2319،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث نے مجھے بہت سی باتوں سے بچا لیا۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتلاتے ہیں احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں دائیں طرف والا نیکیاں لکھتا ہے اور یہ بائیں طرف والے پر امین ہے۔ جب بندے سے کوئی خطا ہو جاتی ہے تو یہ کہتا ہے ٹھہر جا اگر اس نے اسی وقت توبہ کر لی تو اسے لکھنے نہیں دیتا اور اگر اس نے توبہ نہ کی تو وہ لکھ لیتا ہے۔ (‏ابن ابی حاتم)

صفحہ نمبر8717

امام حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے تھے اے ابن آدم تیرے لیے صحیفہ کھول دیا گیا ہے اور دو بزرگ فرشتے تجھ پر مقرر کر دئیے گئے ہیں، ایک تیرے دائیں دوسرا بائیں، دائیں طرف والا تو تیری نیکیوں کی حفاظت کرتا ہے اور بائیں طرف والا برائیوں کو دیکھتا رہتا ہے اب تو جو چاہے عمل کر کمی کر یا زیادتی کر جب تو مرے گا تو یہ دفتر لپیٹ دیا جائے گا اور تیرے ساتھ تیری قبر میں رکھ دیا جائے گا اور قیامت کے دن جب تو اپنی قبر سے اٹھے گا تو یہ تیرے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔

اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا» * «اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا» [17-الإسراء:14-13] ‏ ” ہر انسان کی شامت اعمال کی تفصیل ہم نے اس کے گلے لگا دی ہے اور ہم قیامت کے دن اس کے سامنے نامہ اعمال کی ایک کتاب پھینک دیں گے جسے وہ کھلی ہوئی پائے گا پھر اس سے کہیں گے کہ اپنی کتاب پڑھ لے آج تو خود ہی اپنا حساب لینے کو کافی ہے۔ “

پھر حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اس نے بڑا ہی عدل کیا جس نے خود تجھے ہی تیرا محاسب بنا دیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو کچھ تو بھلا برا کلمہ زبان سے نکالتا ہے وہ سب لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ تیرا یہ کہنا بھی کہ میں نے کھایا، میں نے پیا، میں گیا، میں آیا، میں نے دیکھا۔ پھر جمعرات والے دن اس کے اقوال و افعال پیش کئے جاتے ہیں خیر و شر باقی رکھ لی جاتی ہے اور سب کچھ مٹا دیا جاتا ہے یہی معنی ہیں فرمان باری تعالیٰ شانہ کے «يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ» ” اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے “ [13-الرعد:39] ‏

امام احمد رحمہ اللہ کی بابت مروی ہے کہ آپ اپنے مرض الموت میں کراہ رہے تھے تو آپ کو معلوم ہوا کہ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرشتے اسے بھی لکھتے ہیں چنانچہ آپ نے کراہنا بھی چھوڑ دیا اللہ آپ پر اپنی رحمت نازل فرمائے اپنی موت کے وقت تک اف بھی نہ کی۔

صفحہ نمبر8718

پھر فرماتا ہے، اے انسان! موت کی بیہوشی یقینًا آئے گی اس وقت وہ شک دور ہو جائے گا جس میں آج کل تو مبتلا ہے، اس وقت تجھ سے کہا جائے گا کہ یہی ہے جس سے تو بھاگتا پھرتا تھا، اب وہ آ گئی، تو کسی طرح اس سے نجات نہیں پا سکتا، نہ بچ سکتا ہے، نہ اسے روک سکتا ہے، نہ اسے دفع کر سکتا ہے، نہ ٹال سکتا ہے، نہ مقابلہ کر سکتا ہے، نہ کسی کی مدد و سفارش کچھ کام آ سکتی ہے۔

صحیح یہی ہے کہ یہاں خطاب مطلق انسان سے ہے اگرچہ بعض نے کہا ہے کافر سے ہے اور بعض نے کچھ اور بھی کہا ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اپنے والد کے آخری وقت میں آپ کے سرہانے بیٹھی تھی آپ پر غشی طاری ہوئی، تو میں نے یہ بیت پڑھا «من لا یزال دمعہ مقننعا» *** «فانہ لا بد مرۃ مدفوق» مطلب یہ ہے کہ جس کے آنسو ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی ایک مرتبہ ٹپک پڑیں گے۔ تو آپ نے اپنا سر اٹھا کر کہا پیاری بچی یوں نہیں بلکہ جس طرح اللہ نے فرمایا «وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ» [50-ق:19] ‏ ” اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا “۔

اور روایت میں بیت کا پڑھنا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ یوں نہیں بلکہ یہ آیت پڑھو۔ اس اثر کے اور بھی بہت سے طریق ہیں جنہیں میں نے سیرۃ الصدیق رضی اللہ عنہ میں آپ کی وفات کے بیان میں جمع کر دیا ہے۔

صفحہ نمبر8719

صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب موت کی غشی طاری ہونے لگی تو آپ اپنے چہرہ مبارک سے پسینہ پونچھتے جاتے اور فرماتے جاتے: ”سبحان اللہ موت کی بڑی سختیاں ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:4449] ‏

اس آیت کے پچھلے جملے کی تفسیر دو طرح کی گئی ہے ایک تو یہ کہ «ما» موصولہ ہے یعنی یہ وہی ہے جسے تو بعید از مکان جانتا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں «ما» نافیہ ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہ وہ چیز ہے جس کے جدا کرنے کی، جس سے بچنے کی تجھے قدرت نہیں تو اس سے ہٹ نہیں سکتا۔

معجم کبیر طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس شخص کی مثال جو موت سے بھاگتا ہے اس لومڑی جیسی ہے جس سے زمین اپنا قرضہ طلب کرنے لگی اور یہ اس سے بھاگنے لگی، بھاگتے بھاگتے جب تھک گئی اور بالکل چکنا چور ہو گئی تو اپنے بھٹ میں جا گھسی، زمین چونکہ وہاں بھی موجود تھی اس نے لومڑی سے کہا: میرا قرض دے تو یہ وہاں سے پھر بھاگی سانس پھولا ہوا تھا حال برا ہو رہا تھا آخر یونہی بھاگتے بھاگتے بےدم ہو کر مر گئی“ ۔ [طبرانی:6922:ضعیف] ‏

الغرض جس طرح اس لومڑی کو زمین سے بھاگنے کی راہیں بند تھیں اسی طرح انسان کو موت سے بچنے کے راستے بند ہیں اس کے بعد صور پھونکے جانے کا ذکر ہے جس کی پوری تفسیر والی حدیث گزر چکی ہے۔

صفحہ نمبر8720

اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں کس طرح راحت و آرام حاصل کر سکتا ہوں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور منہ میں لے لیا ہے اور گردن جھکائے حکم اللہ کا انتظار کر رہا ہے کہ کب حکم ملے اور کب وہ پھونک دے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیا کہیں آپ نے فرمایا کہو «حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ” ہمیں اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے ““ [3-آل عمران:173] ‏ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر فرماتا ہے ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ تو میدان محشر کی طرف لانے والا ہو گا اور ایک فرشتہ اس کے اعمال کی گواہی دینے والا ہو گا۔ ظاہر آیت یہی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت منبر پر کی اور فرمایا: ایک چلانے والا جس کے ہمراہ یہ میدان محشر میں آئے گا اور ایک گواہ ہو گا جو اس کے اعمال کی شہادت دے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «سائق» سے مراد فرشتہ ہے اور شہید سے مراد عمل ہے۔

صفحہ نمبر8721

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے «سائق» فرشتوں میں سے ہوں گے اور «شہید» سے مراد خود انسان ہے جو اپنے اوپر آپ گواہی دے گا، پھر اس کے بعد کی آیت میں جو خطاب ہے اس کی نسبت تین قول ہیں، ایک تو یہ کہ یہ خطاب کافر سے ہو گا، دوسرا یہ کہ اس سے مراد عام انسان ہیں نیک و بد سب، تیسرا یہ کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/11] ‏

دوسرے قول کی توجیہ یہ ہے کہ آخرت اور دنیا میں وہی نسبت ہے جو بیداری اور خواب میں ہے اور تیسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ تو اس قرآن کی وحی سے پہلے غفلت میں تھا۔ ہم نے یہ قرآن نازل فرما کر تیری آنکھوں پر سے پردہ ہٹا دیا اور تیری نظر قوی ہو گئی۔ لیکن الفاظ قرآنی سے تو ظاہر یہی ہے کہ اس سے مراد عام ہے یعنی ہر شخص سے کہا جائے گا کہ تو اس دن سے غافل تھا اس لیے کہ قیامت کے دن ہر شخص کی آنکھیں خوب کھل جائیں گی یہاں تک کہ کافر بھی استقامت پر ہو جائے گا لیکن یہ استقامت اسے نفع نہ دے گی۔ جیسے فرمان باری ہے «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا لَـكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ» [19-مريم:38] ‏ یعنی ” کیا خوب دیکھنے سننے والے ہوں گے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے، لیکن آج تو یہ ﻇالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں “

اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» [32-السجدة:12] ‏ یعنی ” کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں “۔

صفحہ نمبر8722

باب

اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ دو فرشتے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، ابن آدم کے منہ سے جو کلمہ نکلتا ہے، اسے محفوظ رکھنے والے اور اسے نہ چھوڑنے والے اور فوراً لکھ لینے والے فرشتے مقرر ہیں۔

جیسے فرمان ہے «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» [82-الإنفطار:12-10] ‏ ” تم پر محافظ ہیں بزرگ فرشتے جو تمہارے فعل سے باخبر ہیں اور لکھنے والے ہیں “

حسن اور قتادہ رحمہما اللہ تو فرماتے ہیں یہ فرشتے ہر نیک و بد عمل لکھ لیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دو قول ہیں ایک تو یہی ہے دوسرا قول آپ کا یہ ہے کہ ثواب و عذاب لکھ لیا کرتے ہیں۔ لیکن آیت کے ظاہری الفاظ پہلے قول کی ہی تائید کرتے ہیں کیونکہ فرمان ہے جو لفظ نکلتا ہے اس کے پاس محافظ تیار ہیں۔

صفحہ نمبر8716

مسند احمد میں ہے انسان ایک کلمہ اللہ کی رضا مندی کا کہہ گزرتا ہے جسے وہ کوئی بہت بڑا اجر کا کلمہ نہیں جانتا لیکن اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اپنی رضا مندی اس کے لیے قیامت تک کی لکھ دیتا ہے۔ اور کوئی برائی کا کلمہ، ناراضگی اللہ کا اسی طرح بےپرواہی سے کہہ گزرتا ہے جس کی وجہ سے اللہ اپنی ناراضی اس پر اپنی ملاقات کے دن تک کی لکھ دیتا ہے۔ [سنن ترمذي:2319،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث نے مجھے بہت سی باتوں سے بچا لیا۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتلاتے ہیں احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں دائیں طرف والا نیکیاں لکھتا ہے اور یہ بائیں طرف والے پر امین ہے۔ جب بندے سے کوئی خطا ہو جاتی ہے تو یہ کہتا ہے ٹھہر جا اگر اس نے اسی وقت توبہ کر لی تو اسے لکھنے نہیں دیتا اور اگر اس نے توبہ نہ کی تو وہ لکھ لیتا ہے۔ (‏ابن ابی حاتم)

صفحہ نمبر8717

امام حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے تھے اے ابن آدم تیرے لیے صحیفہ کھول دیا گیا ہے اور دو بزرگ فرشتے تجھ پر مقرر کر دئیے گئے ہیں، ایک تیرے دائیں دوسرا بائیں، دائیں طرف والا تو تیری نیکیوں کی حفاظت کرتا ہے اور بائیں طرف والا برائیوں کو دیکھتا رہتا ہے اب تو جو چاہے عمل کر کمی کر یا زیادتی کر جب تو مرے گا تو یہ دفتر لپیٹ دیا جائے گا اور تیرے ساتھ تیری قبر میں رکھ دیا جائے گا اور قیامت کے دن جب تو اپنی قبر سے اٹھے گا تو یہ تیرے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔

اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا» * «اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا» [17-الإسراء:14-13] ‏ ” ہر انسان کی شامت اعمال کی تفصیل ہم نے اس کے گلے لگا دی ہے اور ہم قیامت کے دن اس کے سامنے نامہ اعمال کی ایک کتاب پھینک دیں گے جسے وہ کھلی ہوئی پائے گا پھر اس سے کہیں گے کہ اپنی کتاب پڑھ لے آج تو خود ہی اپنا حساب لینے کو کافی ہے۔ “

پھر حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اس نے بڑا ہی عدل کیا جس نے خود تجھے ہی تیرا محاسب بنا دیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو کچھ تو بھلا برا کلمہ زبان سے نکالتا ہے وہ سب لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ تیرا یہ کہنا بھی کہ میں نے کھایا، میں نے پیا، میں گیا، میں آیا، میں نے دیکھا۔ پھر جمعرات والے دن اس کے اقوال و افعال پیش کئے جاتے ہیں خیر و شر باقی رکھ لی جاتی ہے اور سب کچھ مٹا دیا جاتا ہے یہی معنی ہیں فرمان باری تعالیٰ شانہ کے «يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ» ” اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے “ [13-الرعد:39] ‏

امام احمد رحمہ اللہ کی بابت مروی ہے کہ آپ اپنے مرض الموت میں کراہ رہے تھے تو آپ کو معلوم ہوا کہ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرشتے اسے بھی لکھتے ہیں چنانچہ آپ نے کراہنا بھی چھوڑ دیا اللہ آپ پر اپنی رحمت نازل فرمائے اپنی موت کے وقت تک اف بھی نہ کی۔

صفحہ نمبر8718

پھر فرماتا ہے، اے انسان! موت کی بیہوشی یقینًا آئے گی اس وقت وہ شک دور ہو جائے گا جس میں آج کل تو مبتلا ہے، اس وقت تجھ سے کہا جائے گا کہ یہی ہے جس سے تو بھاگتا پھرتا تھا، اب وہ آ گئی، تو کسی طرح اس سے نجات نہیں پا سکتا، نہ بچ سکتا ہے، نہ اسے روک سکتا ہے، نہ اسے دفع کر سکتا ہے، نہ ٹال سکتا ہے، نہ مقابلہ کر سکتا ہے، نہ کسی کی مدد و سفارش کچھ کام آ سکتی ہے۔

صحیح یہی ہے کہ یہاں خطاب مطلق انسان سے ہے اگرچہ بعض نے کہا ہے کافر سے ہے اور بعض نے کچھ اور بھی کہا ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اپنے والد کے آخری وقت میں آپ کے سرہانے بیٹھی تھی آپ پر غشی طاری ہوئی، تو میں نے یہ بیت پڑھا «من لا یزال دمعہ مقننعا» *** «فانہ لا بد مرۃ مدفوق» مطلب یہ ہے کہ جس کے آنسو ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی ایک مرتبہ ٹپک پڑیں گے۔ تو آپ نے اپنا سر اٹھا کر کہا پیاری بچی یوں نہیں بلکہ جس طرح اللہ نے فرمایا «وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ» [50-ق:19] ‏ ” اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا “۔

اور روایت میں بیت کا پڑھنا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ یوں نہیں بلکہ یہ آیت پڑھو۔ اس اثر کے اور بھی بہت سے طریق ہیں جنہیں میں نے سیرۃ الصدیق رضی اللہ عنہ میں آپ کی وفات کے بیان میں جمع کر دیا ہے۔

صفحہ نمبر8719

صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب موت کی غشی طاری ہونے لگی تو آپ اپنے چہرہ مبارک سے پسینہ پونچھتے جاتے اور فرماتے جاتے: ”سبحان اللہ موت کی بڑی سختیاں ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:4449] ‏

اس آیت کے پچھلے جملے کی تفسیر دو طرح کی گئی ہے ایک تو یہ کہ «ما» موصولہ ہے یعنی یہ وہی ہے جسے تو بعید از مکان جانتا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں «ما» نافیہ ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہ وہ چیز ہے جس کے جدا کرنے کی، جس سے بچنے کی تجھے قدرت نہیں تو اس سے ہٹ نہیں سکتا۔

معجم کبیر طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس شخص کی مثال جو موت سے بھاگتا ہے اس لومڑی جیسی ہے جس سے زمین اپنا قرضہ طلب کرنے لگی اور یہ اس سے بھاگنے لگی، بھاگتے بھاگتے جب تھک گئی اور بالکل چکنا چور ہو گئی تو اپنے بھٹ میں جا گھسی، زمین چونکہ وہاں بھی موجود تھی اس نے لومڑی سے کہا: میرا قرض دے تو یہ وہاں سے پھر بھاگی سانس پھولا ہوا تھا حال برا ہو رہا تھا آخر یونہی بھاگتے بھاگتے بےدم ہو کر مر گئی“ ۔ [طبرانی:6922:ضعیف] ‏

الغرض جس طرح اس لومڑی کو زمین سے بھاگنے کی راہیں بند تھیں اسی طرح انسان کو موت سے بچنے کے راستے بند ہیں اس کے بعد صور پھونکے جانے کا ذکر ہے جس کی پوری تفسیر والی حدیث گزر چکی ہے۔

صفحہ نمبر8720

اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں کس طرح راحت و آرام حاصل کر سکتا ہوں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور منہ میں لے لیا ہے اور گردن جھکائے حکم اللہ کا انتظار کر رہا ہے کہ کب حکم ملے اور کب وہ پھونک دے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیا کہیں آپ نے فرمایا کہو «حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ” ہمیں اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے ““ [3-آل عمران:173] ‏ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر فرماتا ہے ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ تو میدان محشر کی طرف لانے والا ہو گا اور ایک فرشتہ اس کے اعمال کی گواہی دینے والا ہو گا۔ ظاہر آیت یہی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت منبر پر کی اور فرمایا: ایک چلانے والا جس کے ہمراہ یہ میدان محشر میں آئے گا اور ایک گواہ ہو گا جو اس کے اعمال کی شہادت دے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «سائق» سے مراد فرشتہ ہے اور شہید سے مراد عمل ہے۔

صفحہ نمبر8721

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے «سائق» فرشتوں میں سے ہوں گے اور «شہید» سے مراد خود انسان ہے جو اپنے اوپر آپ گواہی دے گا، پھر اس کے بعد کی آیت میں جو خطاب ہے اس کی نسبت تین قول ہیں، ایک تو یہ کہ یہ خطاب کافر سے ہو گا، دوسرا یہ کہ اس سے مراد عام انسان ہیں نیک و بد سب، تیسرا یہ کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/11] ‏

دوسرے قول کی توجیہ یہ ہے کہ آخرت اور دنیا میں وہی نسبت ہے جو بیداری اور خواب میں ہے اور تیسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ تو اس قرآن کی وحی سے پہلے غفلت میں تھا۔ ہم نے یہ قرآن نازل فرما کر تیری آنکھوں پر سے پردہ ہٹا دیا اور تیری نظر قوی ہو گئی۔ لیکن الفاظ قرآنی سے تو ظاہر یہی ہے کہ اس سے مراد عام ہے یعنی ہر شخص سے کہا جائے گا کہ تو اس دن سے غافل تھا اس لیے کہ قیامت کے دن ہر شخص کی آنکھیں خوب کھل جائیں گی یہاں تک کہ کافر بھی استقامت پر ہو جائے گا لیکن یہ استقامت اسے نفع نہ دے گی۔ جیسے فرمان باری ہے «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا لَـكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ» [19-مريم:38] ‏ یعنی ” کیا خوب دیکھنے سننے والے ہوں گے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے، لیکن آج تو یہ ﻇالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں “

اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» [32-السجدة:12] ‏ یعنی ” کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں “۔

صفحہ نمبر8722

باب

اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ دو فرشتے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، ابن آدم کے منہ سے جو کلمہ نکلتا ہے، اسے محفوظ رکھنے والے اور اسے نہ چھوڑنے والے اور فوراً لکھ لینے والے فرشتے مقرر ہیں۔

جیسے فرمان ہے «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» [82-الإنفطار:12-10] ‏ ” تم پر محافظ ہیں بزرگ فرشتے جو تمہارے فعل سے باخبر ہیں اور لکھنے والے ہیں “

حسن اور قتادہ رحمہما اللہ تو فرماتے ہیں یہ فرشتے ہر نیک و بد عمل لکھ لیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دو قول ہیں ایک تو یہی ہے دوسرا قول آپ کا یہ ہے کہ ثواب و عذاب لکھ لیا کرتے ہیں۔ لیکن آیت کے ظاہری الفاظ پہلے قول کی ہی تائید کرتے ہیں کیونکہ فرمان ہے جو لفظ نکلتا ہے اس کے پاس محافظ تیار ہیں۔

صفحہ نمبر8716

مسند احمد میں ہے انسان ایک کلمہ اللہ کی رضا مندی کا کہہ گزرتا ہے جسے وہ کوئی بہت بڑا اجر کا کلمہ نہیں جانتا لیکن اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اپنی رضا مندی اس کے لیے قیامت تک کی لکھ دیتا ہے۔ اور کوئی برائی کا کلمہ، ناراضگی اللہ کا اسی طرح بےپرواہی سے کہہ گزرتا ہے جس کی وجہ سے اللہ اپنی ناراضی اس پر اپنی ملاقات کے دن تک کی لکھ دیتا ہے۔ [سنن ترمذي:2319،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث نے مجھے بہت سی باتوں سے بچا لیا۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتلاتے ہیں احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں دائیں طرف والا نیکیاں لکھتا ہے اور یہ بائیں طرف والے پر امین ہے۔ جب بندے سے کوئی خطا ہو جاتی ہے تو یہ کہتا ہے ٹھہر جا اگر اس نے اسی وقت توبہ کر لی تو اسے لکھنے نہیں دیتا اور اگر اس نے توبہ نہ کی تو وہ لکھ لیتا ہے۔ (‏ابن ابی حاتم)

صفحہ نمبر8717

امام حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے تھے اے ابن آدم تیرے لیے صحیفہ کھول دیا گیا ہے اور دو بزرگ فرشتے تجھ پر مقرر کر دئیے گئے ہیں، ایک تیرے دائیں دوسرا بائیں، دائیں طرف والا تو تیری نیکیوں کی حفاظت کرتا ہے اور بائیں طرف والا برائیوں کو دیکھتا رہتا ہے اب تو جو چاہے عمل کر کمی کر یا زیادتی کر جب تو مرے گا تو یہ دفتر لپیٹ دیا جائے گا اور تیرے ساتھ تیری قبر میں رکھ دیا جائے گا اور قیامت کے دن جب تو اپنی قبر سے اٹھے گا تو یہ تیرے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔

اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا» * «اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا» [17-الإسراء:14-13] ‏ ” ہر انسان کی شامت اعمال کی تفصیل ہم نے اس کے گلے لگا دی ہے اور ہم قیامت کے دن اس کے سامنے نامہ اعمال کی ایک کتاب پھینک دیں گے جسے وہ کھلی ہوئی پائے گا پھر اس سے کہیں گے کہ اپنی کتاب پڑھ لے آج تو خود ہی اپنا حساب لینے کو کافی ہے۔ “

پھر حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اس نے بڑا ہی عدل کیا جس نے خود تجھے ہی تیرا محاسب بنا دیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو کچھ تو بھلا برا کلمہ زبان سے نکالتا ہے وہ سب لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ تیرا یہ کہنا بھی کہ میں نے کھایا، میں نے پیا، میں گیا، میں آیا، میں نے دیکھا۔ پھر جمعرات والے دن اس کے اقوال و افعال پیش کئے جاتے ہیں خیر و شر باقی رکھ لی جاتی ہے اور سب کچھ مٹا دیا جاتا ہے یہی معنی ہیں فرمان باری تعالیٰ شانہ کے «يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ» ” اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے “ [13-الرعد:39] ‏

امام احمد رحمہ اللہ کی بابت مروی ہے کہ آپ اپنے مرض الموت میں کراہ رہے تھے تو آپ کو معلوم ہوا کہ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرشتے اسے بھی لکھتے ہیں چنانچہ آپ نے کراہنا بھی چھوڑ دیا اللہ آپ پر اپنی رحمت نازل فرمائے اپنی موت کے وقت تک اف بھی نہ کی۔

صفحہ نمبر8718

پھر فرماتا ہے، اے انسان! موت کی بیہوشی یقینًا آئے گی اس وقت وہ شک دور ہو جائے گا جس میں آج کل تو مبتلا ہے، اس وقت تجھ سے کہا جائے گا کہ یہی ہے جس سے تو بھاگتا پھرتا تھا، اب وہ آ گئی، تو کسی طرح اس سے نجات نہیں پا سکتا، نہ بچ سکتا ہے، نہ اسے روک سکتا ہے، نہ اسے دفع کر سکتا ہے، نہ ٹال سکتا ہے، نہ مقابلہ کر سکتا ہے، نہ کسی کی مدد و سفارش کچھ کام آ سکتی ہے۔

صحیح یہی ہے کہ یہاں خطاب مطلق انسان سے ہے اگرچہ بعض نے کہا ہے کافر سے ہے اور بعض نے کچھ اور بھی کہا ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اپنے والد کے آخری وقت میں آپ کے سرہانے بیٹھی تھی آپ پر غشی طاری ہوئی، تو میں نے یہ بیت پڑھا «من لا یزال دمعہ مقننعا» *** «فانہ لا بد مرۃ مدفوق» مطلب یہ ہے کہ جس کے آنسو ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی ایک مرتبہ ٹپک پڑیں گے۔ تو آپ نے اپنا سر اٹھا کر کہا پیاری بچی یوں نہیں بلکہ جس طرح اللہ نے فرمایا «وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ» [50-ق:19] ‏ ” اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا “۔

اور روایت میں بیت کا پڑھنا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ یوں نہیں بلکہ یہ آیت پڑھو۔ اس اثر کے اور بھی بہت سے طریق ہیں جنہیں میں نے سیرۃ الصدیق رضی اللہ عنہ میں آپ کی وفات کے بیان میں جمع کر دیا ہے۔

صفحہ نمبر8719

صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب موت کی غشی طاری ہونے لگی تو آپ اپنے چہرہ مبارک سے پسینہ پونچھتے جاتے اور فرماتے جاتے: ”سبحان اللہ موت کی بڑی سختیاں ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:4449] ‏

اس آیت کے پچھلے جملے کی تفسیر دو طرح کی گئی ہے ایک تو یہ کہ «ما» موصولہ ہے یعنی یہ وہی ہے جسے تو بعید از مکان جانتا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں «ما» نافیہ ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہ وہ چیز ہے جس کے جدا کرنے کی، جس سے بچنے کی تجھے قدرت نہیں تو اس سے ہٹ نہیں سکتا۔

معجم کبیر طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس شخص کی مثال جو موت سے بھاگتا ہے اس لومڑی جیسی ہے جس سے زمین اپنا قرضہ طلب کرنے لگی اور یہ اس سے بھاگنے لگی، بھاگتے بھاگتے جب تھک گئی اور بالکل چکنا چور ہو گئی تو اپنے بھٹ میں جا گھسی، زمین چونکہ وہاں بھی موجود تھی اس نے لومڑی سے کہا: میرا قرض دے تو یہ وہاں سے پھر بھاگی سانس پھولا ہوا تھا حال برا ہو رہا تھا آخر یونہی بھاگتے بھاگتے بےدم ہو کر مر گئی“ ۔ [طبرانی:6922:ضعیف] ‏

الغرض جس طرح اس لومڑی کو زمین سے بھاگنے کی راہیں بند تھیں اسی طرح انسان کو موت سے بچنے کے راستے بند ہیں اس کے بعد صور پھونکے جانے کا ذکر ہے جس کی پوری تفسیر والی حدیث گزر چکی ہے۔

صفحہ نمبر8720

اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں کس طرح راحت و آرام حاصل کر سکتا ہوں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور منہ میں لے لیا ہے اور گردن جھکائے حکم اللہ کا انتظار کر رہا ہے کہ کب حکم ملے اور کب وہ پھونک دے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیا کہیں آپ نے فرمایا کہو «حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ” ہمیں اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے ““ [3-آل عمران:173] ‏ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر فرماتا ہے ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ تو میدان محشر کی طرف لانے والا ہو گا اور ایک فرشتہ اس کے اعمال کی گواہی دینے والا ہو گا۔ ظاہر آیت یہی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت منبر پر کی اور فرمایا: ایک چلانے والا جس کے ہمراہ یہ میدان محشر میں آئے گا اور ایک گواہ ہو گا جو اس کے اعمال کی شہادت دے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «سائق» سے مراد فرشتہ ہے اور شہید سے مراد عمل ہے۔

صفحہ نمبر8721

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے «سائق» فرشتوں میں سے ہوں گے اور «شہید» سے مراد خود انسان ہے جو اپنے اوپر آپ گواہی دے گا، پھر اس کے بعد کی آیت میں جو خطاب ہے اس کی نسبت تین قول ہیں، ایک تو یہ کہ یہ خطاب کافر سے ہو گا، دوسرا یہ کہ اس سے مراد عام انسان ہیں نیک و بد سب، تیسرا یہ کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/11] ‏

دوسرے قول کی توجیہ یہ ہے کہ آخرت اور دنیا میں وہی نسبت ہے جو بیداری اور خواب میں ہے اور تیسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ تو اس قرآن کی وحی سے پہلے غفلت میں تھا۔ ہم نے یہ قرآن نازل فرما کر تیری آنکھوں پر سے پردہ ہٹا دیا اور تیری نظر قوی ہو گئی۔ لیکن الفاظ قرآنی سے تو ظاہر یہی ہے کہ اس سے مراد عام ہے یعنی ہر شخص سے کہا جائے گا کہ تو اس دن سے غافل تھا اس لیے کہ قیامت کے دن ہر شخص کی آنکھیں خوب کھل جائیں گی یہاں تک کہ کافر بھی استقامت پر ہو جائے گا لیکن یہ استقامت اسے نفع نہ دے گی۔ جیسے فرمان باری ہے «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا لَـكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ» [19-مريم:38] ‏ یعنی ” کیا خوب دیکھنے سننے والے ہوں گے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے، لیکن آج تو یہ ﻇالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں “

اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» [32-السجدة:12] ‏ یعنی ” کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں “۔

صفحہ نمبر8722

باب

اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ دو فرشتے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، ابن آدم کے منہ سے جو کلمہ نکلتا ہے، اسے محفوظ رکھنے والے اور اسے نہ چھوڑنے والے اور فوراً لکھ لینے والے فرشتے مقرر ہیں۔

جیسے فرمان ہے «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» [82-الإنفطار:12-10] ‏ ” تم پر محافظ ہیں بزرگ فرشتے جو تمہارے فعل سے باخبر ہیں اور لکھنے والے ہیں “

حسن اور قتادہ رحمہما اللہ تو فرماتے ہیں یہ فرشتے ہر نیک و بد عمل لکھ لیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دو قول ہیں ایک تو یہی ہے دوسرا قول آپ کا یہ ہے کہ ثواب و عذاب لکھ لیا کرتے ہیں۔ لیکن آیت کے ظاہری الفاظ پہلے قول کی ہی تائید کرتے ہیں کیونکہ فرمان ہے جو لفظ نکلتا ہے اس کے پاس محافظ تیار ہیں۔

صفحہ نمبر8716

مسند احمد میں ہے انسان ایک کلمہ اللہ کی رضا مندی کا کہہ گزرتا ہے جسے وہ کوئی بہت بڑا اجر کا کلمہ نہیں جانتا لیکن اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اپنی رضا مندی اس کے لیے قیامت تک کی لکھ دیتا ہے۔ اور کوئی برائی کا کلمہ، ناراضگی اللہ کا اسی طرح بےپرواہی سے کہہ گزرتا ہے جس کی وجہ سے اللہ اپنی ناراضی اس پر اپنی ملاقات کے دن تک کی لکھ دیتا ہے۔ [سنن ترمذي:2319،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث نے مجھے بہت سی باتوں سے بچا لیا۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتلاتے ہیں احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں دائیں طرف والا نیکیاں لکھتا ہے اور یہ بائیں طرف والے پر امین ہے۔ جب بندے سے کوئی خطا ہو جاتی ہے تو یہ کہتا ہے ٹھہر جا اگر اس نے اسی وقت توبہ کر لی تو اسے لکھنے نہیں دیتا اور اگر اس نے توبہ نہ کی تو وہ لکھ لیتا ہے۔ (‏ابن ابی حاتم)

صفحہ نمبر8717

امام حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے تھے اے ابن آدم تیرے لیے صحیفہ کھول دیا گیا ہے اور دو بزرگ فرشتے تجھ پر مقرر کر دئیے گئے ہیں، ایک تیرے دائیں دوسرا بائیں، دائیں طرف والا تو تیری نیکیوں کی حفاظت کرتا ہے اور بائیں طرف والا برائیوں کو دیکھتا رہتا ہے اب تو جو چاہے عمل کر کمی کر یا زیادتی کر جب تو مرے گا تو یہ دفتر لپیٹ دیا جائے گا اور تیرے ساتھ تیری قبر میں رکھ دیا جائے گا اور قیامت کے دن جب تو اپنی قبر سے اٹھے گا تو یہ تیرے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔

اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا» * «اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا» [17-الإسراء:14-13] ‏ ” ہر انسان کی شامت اعمال کی تفصیل ہم نے اس کے گلے لگا دی ہے اور ہم قیامت کے دن اس کے سامنے نامہ اعمال کی ایک کتاب پھینک دیں گے جسے وہ کھلی ہوئی پائے گا پھر اس سے کہیں گے کہ اپنی کتاب پڑھ لے آج تو خود ہی اپنا حساب لینے کو کافی ہے۔ “

پھر حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اس نے بڑا ہی عدل کیا جس نے خود تجھے ہی تیرا محاسب بنا دیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو کچھ تو بھلا برا کلمہ زبان سے نکالتا ہے وہ سب لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ تیرا یہ کہنا بھی کہ میں نے کھایا، میں نے پیا، میں گیا، میں آیا، میں نے دیکھا۔ پھر جمعرات والے دن اس کے اقوال و افعال پیش کئے جاتے ہیں خیر و شر باقی رکھ لی جاتی ہے اور سب کچھ مٹا دیا جاتا ہے یہی معنی ہیں فرمان باری تعالیٰ شانہ کے «يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ» ” اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے “ [13-الرعد:39] ‏

امام احمد رحمہ اللہ کی بابت مروی ہے کہ آپ اپنے مرض الموت میں کراہ رہے تھے تو آپ کو معلوم ہوا کہ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرشتے اسے بھی لکھتے ہیں چنانچہ آپ نے کراہنا بھی چھوڑ دیا اللہ آپ پر اپنی رحمت نازل فرمائے اپنی موت کے وقت تک اف بھی نہ کی۔

صفحہ نمبر8718

پھر فرماتا ہے، اے انسان! موت کی بیہوشی یقینًا آئے گی اس وقت وہ شک دور ہو جائے گا جس میں آج کل تو مبتلا ہے، اس وقت تجھ سے کہا جائے گا کہ یہی ہے جس سے تو بھاگتا پھرتا تھا، اب وہ آ گئی، تو کسی طرح اس سے نجات نہیں پا سکتا، نہ بچ سکتا ہے، نہ اسے روک سکتا ہے، نہ اسے دفع کر سکتا ہے، نہ ٹال سکتا ہے، نہ مقابلہ کر سکتا ہے، نہ کسی کی مدد و سفارش کچھ کام آ سکتی ہے۔

صحیح یہی ہے کہ یہاں خطاب مطلق انسان سے ہے اگرچہ بعض نے کہا ہے کافر سے ہے اور بعض نے کچھ اور بھی کہا ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اپنے والد کے آخری وقت میں آپ کے سرہانے بیٹھی تھی آپ پر غشی طاری ہوئی، تو میں نے یہ بیت پڑھا «من لا یزال دمعہ مقننعا» *** «فانہ لا بد مرۃ مدفوق» مطلب یہ ہے کہ جس کے آنسو ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی ایک مرتبہ ٹپک پڑیں گے۔ تو آپ نے اپنا سر اٹھا کر کہا پیاری بچی یوں نہیں بلکہ جس طرح اللہ نے فرمایا «وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ» [50-ق:19] ‏ ” اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا “۔

اور روایت میں بیت کا پڑھنا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ یوں نہیں بلکہ یہ آیت پڑھو۔ اس اثر کے اور بھی بہت سے طریق ہیں جنہیں میں نے سیرۃ الصدیق رضی اللہ عنہ میں آپ کی وفات کے بیان میں جمع کر دیا ہے۔

صفحہ نمبر8719

صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب موت کی غشی طاری ہونے لگی تو آپ اپنے چہرہ مبارک سے پسینہ پونچھتے جاتے اور فرماتے جاتے: ”سبحان اللہ موت کی بڑی سختیاں ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:4449] ‏

اس آیت کے پچھلے جملے کی تفسیر دو طرح کی گئی ہے ایک تو یہ کہ «ما» موصولہ ہے یعنی یہ وہی ہے جسے تو بعید از مکان جانتا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں «ما» نافیہ ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہ وہ چیز ہے جس کے جدا کرنے کی، جس سے بچنے کی تجھے قدرت نہیں تو اس سے ہٹ نہیں سکتا۔

معجم کبیر طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس شخص کی مثال جو موت سے بھاگتا ہے اس لومڑی جیسی ہے جس سے زمین اپنا قرضہ طلب کرنے لگی اور یہ اس سے بھاگنے لگی، بھاگتے بھاگتے جب تھک گئی اور بالکل چکنا چور ہو گئی تو اپنے بھٹ میں جا گھسی، زمین چونکہ وہاں بھی موجود تھی اس نے لومڑی سے کہا: میرا قرض دے تو یہ وہاں سے پھر بھاگی سانس پھولا ہوا تھا حال برا ہو رہا تھا آخر یونہی بھاگتے بھاگتے بےدم ہو کر مر گئی“ ۔ [طبرانی:6922:ضعیف] ‏

الغرض جس طرح اس لومڑی کو زمین سے بھاگنے کی راہیں بند تھیں اسی طرح انسان کو موت سے بچنے کے راستے بند ہیں اس کے بعد صور پھونکے جانے کا ذکر ہے جس کی پوری تفسیر والی حدیث گزر چکی ہے۔

صفحہ نمبر8720

اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں کس طرح راحت و آرام حاصل کر سکتا ہوں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور منہ میں لے لیا ہے اور گردن جھکائے حکم اللہ کا انتظار کر رہا ہے کہ کب حکم ملے اور کب وہ پھونک دے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیا کہیں آپ نے فرمایا کہو «حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ” ہمیں اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے ““ [3-آل عمران:173] ‏ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر فرماتا ہے ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ تو میدان محشر کی طرف لانے والا ہو گا اور ایک فرشتہ اس کے اعمال کی گواہی دینے والا ہو گا۔ ظاہر آیت یہی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت منبر پر کی اور فرمایا: ایک چلانے والا جس کے ہمراہ یہ میدان محشر میں آئے گا اور ایک گواہ ہو گا جو اس کے اعمال کی شہادت دے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «سائق» سے مراد فرشتہ ہے اور شہید سے مراد عمل ہے۔

صفحہ نمبر8721

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے «سائق» فرشتوں میں سے ہوں گے اور «شہید» سے مراد خود انسان ہے جو اپنے اوپر آپ گواہی دے گا، پھر اس کے بعد کی آیت میں جو خطاب ہے اس کی نسبت تین قول ہیں، ایک تو یہ کہ یہ خطاب کافر سے ہو گا، دوسرا یہ کہ اس سے مراد عام انسان ہیں نیک و بد سب، تیسرا یہ کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/11] ‏

دوسرے قول کی توجیہ یہ ہے کہ آخرت اور دنیا میں وہی نسبت ہے جو بیداری اور خواب میں ہے اور تیسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ تو اس قرآن کی وحی سے پہلے غفلت میں تھا۔ ہم نے یہ قرآن نازل فرما کر تیری آنکھوں پر سے پردہ ہٹا دیا اور تیری نظر قوی ہو گئی۔ لیکن الفاظ قرآنی سے تو ظاہر یہی ہے کہ اس سے مراد عام ہے یعنی ہر شخص سے کہا جائے گا کہ تو اس دن سے غافل تھا اس لیے کہ قیامت کے دن ہر شخص کی آنکھیں خوب کھل جائیں گی یہاں تک کہ کافر بھی استقامت پر ہو جائے گا لیکن یہ استقامت اسے نفع نہ دے گی۔ جیسے فرمان باری ہے «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا لَـكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ» [19-مريم:38] ‏ یعنی ” کیا خوب دیکھنے سننے والے ہوں گے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے، لیکن آج تو یہ ﻇالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں “

اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» [32-السجدة:12] ‏ یعنی ” کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں “۔

صفحہ نمبر8722

باب

اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ دو فرشتے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، ابن آدم کے منہ سے جو کلمہ نکلتا ہے، اسے محفوظ رکھنے والے اور اسے نہ چھوڑنے والے اور فوراً لکھ لینے والے فرشتے مقرر ہیں۔

جیسے فرمان ہے «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» [82-الإنفطار:12-10] ‏ ” تم پر محافظ ہیں بزرگ فرشتے جو تمہارے فعل سے باخبر ہیں اور لکھنے والے ہیں “

حسن اور قتادہ رحمہما اللہ تو فرماتے ہیں یہ فرشتے ہر نیک و بد عمل لکھ لیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دو قول ہیں ایک تو یہی ہے دوسرا قول آپ کا یہ ہے کہ ثواب و عذاب لکھ لیا کرتے ہیں۔ لیکن آیت کے ظاہری الفاظ پہلے قول کی ہی تائید کرتے ہیں کیونکہ فرمان ہے جو لفظ نکلتا ہے اس کے پاس محافظ تیار ہیں۔

صفحہ نمبر8716

مسند احمد میں ہے انسان ایک کلمہ اللہ کی رضا مندی کا کہہ گزرتا ہے جسے وہ کوئی بہت بڑا اجر کا کلمہ نہیں جانتا لیکن اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اپنی رضا مندی اس کے لیے قیامت تک کی لکھ دیتا ہے۔ اور کوئی برائی کا کلمہ، ناراضگی اللہ کا اسی طرح بےپرواہی سے کہہ گزرتا ہے جس کی وجہ سے اللہ اپنی ناراضی اس پر اپنی ملاقات کے دن تک کی لکھ دیتا ہے۔ [سنن ترمذي:2319،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث نے مجھے بہت سی باتوں سے بچا لیا۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتلاتے ہیں احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں دائیں طرف والا نیکیاں لکھتا ہے اور یہ بائیں طرف والے پر امین ہے۔ جب بندے سے کوئی خطا ہو جاتی ہے تو یہ کہتا ہے ٹھہر جا اگر اس نے اسی وقت توبہ کر لی تو اسے لکھنے نہیں دیتا اور اگر اس نے توبہ نہ کی تو وہ لکھ لیتا ہے۔ (‏ابن ابی حاتم)

صفحہ نمبر8717

امام حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے تھے اے ابن آدم تیرے لیے صحیفہ کھول دیا گیا ہے اور دو بزرگ فرشتے تجھ پر مقرر کر دئیے گئے ہیں، ایک تیرے دائیں دوسرا بائیں، دائیں طرف والا تو تیری نیکیوں کی حفاظت کرتا ہے اور بائیں طرف والا برائیوں کو دیکھتا رہتا ہے اب تو جو چاہے عمل کر کمی کر یا زیادتی کر جب تو مرے گا تو یہ دفتر لپیٹ دیا جائے گا اور تیرے ساتھ تیری قبر میں رکھ دیا جائے گا اور قیامت کے دن جب تو اپنی قبر سے اٹھے گا تو یہ تیرے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔

اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا» * «اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا» [17-الإسراء:14-13] ‏ ” ہر انسان کی شامت اعمال کی تفصیل ہم نے اس کے گلے لگا دی ہے اور ہم قیامت کے دن اس کے سامنے نامہ اعمال کی ایک کتاب پھینک دیں گے جسے وہ کھلی ہوئی پائے گا پھر اس سے کہیں گے کہ اپنی کتاب پڑھ لے آج تو خود ہی اپنا حساب لینے کو کافی ہے۔ “

پھر حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اس نے بڑا ہی عدل کیا جس نے خود تجھے ہی تیرا محاسب بنا دیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو کچھ تو بھلا برا کلمہ زبان سے نکالتا ہے وہ سب لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ تیرا یہ کہنا بھی کہ میں نے کھایا، میں نے پیا، میں گیا، میں آیا، میں نے دیکھا۔ پھر جمعرات والے دن اس کے اقوال و افعال پیش کئے جاتے ہیں خیر و شر باقی رکھ لی جاتی ہے اور سب کچھ مٹا دیا جاتا ہے یہی معنی ہیں فرمان باری تعالیٰ شانہ کے «يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ» ” اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے “ [13-الرعد:39] ‏

امام احمد رحمہ اللہ کی بابت مروی ہے کہ آپ اپنے مرض الموت میں کراہ رہے تھے تو آپ کو معلوم ہوا کہ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرشتے اسے بھی لکھتے ہیں چنانچہ آپ نے کراہنا بھی چھوڑ دیا اللہ آپ پر اپنی رحمت نازل فرمائے اپنی موت کے وقت تک اف بھی نہ کی۔

صفحہ نمبر8718

پھر فرماتا ہے، اے انسان! موت کی بیہوشی یقینًا آئے گی اس وقت وہ شک دور ہو جائے گا جس میں آج کل تو مبتلا ہے، اس وقت تجھ سے کہا جائے گا کہ یہی ہے جس سے تو بھاگتا پھرتا تھا، اب وہ آ گئی، تو کسی طرح اس سے نجات نہیں پا سکتا، نہ بچ سکتا ہے، نہ اسے روک سکتا ہے، نہ اسے دفع کر سکتا ہے، نہ ٹال سکتا ہے، نہ مقابلہ کر سکتا ہے، نہ کسی کی مدد و سفارش کچھ کام آ سکتی ہے۔

صحیح یہی ہے کہ یہاں خطاب مطلق انسان سے ہے اگرچہ بعض نے کہا ہے کافر سے ہے اور بعض نے کچھ اور بھی کہا ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اپنے والد کے آخری وقت میں آپ کے سرہانے بیٹھی تھی آپ پر غشی طاری ہوئی، تو میں نے یہ بیت پڑھا «من لا یزال دمعہ مقننعا» *** «فانہ لا بد مرۃ مدفوق» مطلب یہ ہے کہ جس کے آنسو ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی ایک مرتبہ ٹپک پڑیں گے۔ تو آپ نے اپنا سر اٹھا کر کہا پیاری بچی یوں نہیں بلکہ جس طرح اللہ نے فرمایا «وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ» [50-ق:19] ‏ ” اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا “۔

اور روایت میں بیت کا پڑھنا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ یوں نہیں بلکہ یہ آیت پڑھو۔ اس اثر کے اور بھی بہت سے طریق ہیں جنہیں میں نے سیرۃ الصدیق رضی اللہ عنہ میں آپ کی وفات کے بیان میں جمع کر دیا ہے۔

صفحہ نمبر8719

صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب موت کی غشی طاری ہونے لگی تو آپ اپنے چہرہ مبارک سے پسینہ پونچھتے جاتے اور فرماتے جاتے: ”سبحان اللہ موت کی بڑی سختیاں ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:4449] ‏

اس آیت کے پچھلے جملے کی تفسیر دو طرح کی گئی ہے ایک تو یہ کہ «ما» موصولہ ہے یعنی یہ وہی ہے جسے تو بعید از مکان جانتا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں «ما» نافیہ ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہ وہ چیز ہے جس کے جدا کرنے کی، جس سے بچنے کی تجھے قدرت نہیں تو اس سے ہٹ نہیں سکتا۔

معجم کبیر طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس شخص کی مثال جو موت سے بھاگتا ہے اس لومڑی جیسی ہے جس سے زمین اپنا قرضہ طلب کرنے لگی اور یہ اس سے بھاگنے لگی، بھاگتے بھاگتے جب تھک گئی اور بالکل چکنا چور ہو گئی تو اپنے بھٹ میں جا گھسی، زمین چونکہ وہاں بھی موجود تھی اس نے لومڑی سے کہا: میرا قرض دے تو یہ وہاں سے پھر بھاگی سانس پھولا ہوا تھا حال برا ہو رہا تھا آخر یونہی بھاگتے بھاگتے بےدم ہو کر مر گئی“ ۔ [طبرانی:6922:ضعیف] ‏

الغرض جس طرح اس لومڑی کو زمین سے بھاگنے کی راہیں بند تھیں اسی طرح انسان کو موت سے بچنے کے راستے بند ہیں اس کے بعد صور پھونکے جانے کا ذکر ہے جس کی پوری تفسیر والی حدیث گزر چکی ہے۔

صفحہ نمبر8720

اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں کس طرح راحت و آرام حاصل کر سکتا ہوں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور منہ میں لے لیا ہے اور گردن جھکائے حکم اللہ کا انتظار کر رہا ہے کہ کب حکم ملے اور کب وہ پھونک دے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیا کہیں آپ نے فرمایا کہو «حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ” ہمیں اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے ““ [3-آل عمران:173] ‏ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر فرماتا ہے ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ تو میدان محشر کی طرف لانے والا ہو گا اور ایک فرشتہ اس کے اعمال کی گواہی دینے والا ہو گا۔ ظاہر آیت یہی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت منبر پر کی اور فرمایا: ایک چلانے والا جس کے ہمراہ یہ میدان محشر میں آئے گا اور ایک گواہ ہو گا جو اس کے اعمال کی شہادت دے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «سائق» سے مراد فرشتہ ہے اور شہید سے مراد عمل ہے۔

صفحہ نمبر8721

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے «سائق» فرشتوں میں سے ہوں گے اور «شہید» سے مراد خود انسان ہے جو اپنے اوپر آپ گواہی دے گا، پھر اس کے بعد کی آیت میں جو خطاب ہے اس کی نسبت تین قول ہیں، ایک تو یہ کہ یہ خطاب کافر سے ہو گا، دوسرا یہ کہ اس سے مراد عام انسان ہیں نیک و بد سب، تیسرا یہ کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/11] ‏

دوسرے قول کی توجیہ یہ ہے کہ آخرت اور دنیا میں وہی نسبت ہے جو بیداری اور خواب میں ہے اور تیسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ تو اس قرآن کی وحی سے پہلے غفلت میں تھا۔ ہم نے یہ قرآن نازل فرما کر تیری آنکھوں پر سے پردہ ہٹا دیا اور تیری نظر قوی ہو گئی۔ لیکن الفاظ قرآنی سے تو ظاہر یہی ہے کہ اس سے مراد عام ہے یعنی ہر شخص سے کہا جائے گا کہ تو اس دن سے غافل تھا اس لیے کہ قیامت کے دن ہر شخص کی آنکھیں خوب کھل جائیں گی یہاں تک کہ کافر بھی استقامت پر ہو جائے گا لیکن یہ استقامت اسے نفع نہ دے گی۔ جیسے فرمان باری ہے «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا لَـكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ» [19-مريم:38] ‏ یعنی ” کیا خوب دیکھنے سننے والے ہوں گے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے، لیکن آج تو یہ ﻇالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں “

اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» [32-السجدة:12] ‏ یعنی ” کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں “۔

صفحہ نمبر8722

باب

اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ دو فرشتے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، ابن آدم کے منہ سے جو کلمہ نکلتا ہے، اسے محفوظ رکھنے والے اور اسے نہ چھوڑنے والے اور فوراً لکھ لینے والے فرشتے مقرر ہیں۔

جیسے فرمان ہے «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» [82-الإنفطار:12-10] ‏ ” تم پر محافظ ہیں بزرگ فرشتے جو تمہارے فعل سے باخبر ہیں اور لکھنے والے ہیں “

حسن اور قتادہ رحمہما اللہ تو فرماتے ہیں یہ فرشتے ہر نیک و بد عمل لکھ لیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دو قول ہیں ایک تو یہی ہے دوسرا قول آپ کا یہ ہے کہ ثواب و عذاب لکھ لیا کرتے ہیں۔ لیکن آیت کے ظاہری الفاظ پہلے قول کی ہی تائید کرتے ہیں کیونکہ فرمان ہے جو لفظ نکلتا ہے اس کے پاس محافظ تیار ہیں۔

صفحہ نمبر8716

مسند احمد میں ہے انسان ایک کلمہ اللہ کی رضا مندی کا کہہ گزرتا ہے جسے وہ کوئی بہت بڑا اجر کا کلمہ نہیں جانتا لیکن اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اپنی رضا مندی اس کے لیے قیامت تک کی لکھ دیتا ہے۔ اور کوئی برائی کا کلمہ، ناراضگی اللہ کا اسی طرح بےپرواہی سے کہہ گزرتا ہے جس کی وجہ سے اللہ اپنی ناراضی اس پر اپنی ملاقات کے دن تک کی لکھ دیتا ہے۔ [سنن ترمذي:2319،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث نے مجھے بہت سی باتوں سے بچا لیا۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتلاتے ہیں احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں دائیں طرف والا نیکیاں لکھتا ہے اور یہ بائیں طرف والے پر امین ہے۔ جب بندے سے کوئی خطا ہو جاتی ہے تو یہ کہتا ہے ٹھہر جا اگر اس نے اسی وقت توبہ کر لی تو اسے لکھنے نہیں دیتا اور اگر اس نے توبہ نہ کی تو وہ لکھ لیتا ہے۔ (‏ابن ابی حاتم)

صفحہ نمبر8717

امام حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے تھے اے ابن آدم تیرے لیے صحیفہ کھول دیا گیا ہے اور دو بزرگ فرشتے تجھ پر مقرر کر دئیے گئے ہیں، ایک تیرے دائیں دوسرا بائیں، دائیں طرف والا تو تیری نیکیوں کی حفاظت کرتا ہے اور بائیں طرف والا برائیوں کو دیکھتا رہتا ہے اب تو جو چاہے عمل کر کمی کر یا زیادتی کر جب تو مرے گا تو یہ دفتر لپیٹ دیا جائے گا اور تیرے ساتھ تیری قبر میں رکھ دیا جائے گا اور قیامت کے دن جب تو اپنی قبر سے اٹھے گا تو یہ تیرے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔

اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا» * «اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا» [17-الإسراء:14-13] ‏ ” ہر انسان کی شامت اعمال کی تفصیل ہم نے اس کے گلے لگا دی ہے اور ہم قیامت کے دن اس کے سامنے نامہ اعمال کی ایک کتاب پھینک دیں گے جسے وہ کھلی ہوئی پائے گا پھر اس سے کہیں گے کہ اپنی کتاب پڑھ لے آج تو خود ہی اپنا حساب لینے کو کافی ہے۔ “

پھر حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اس نے بڑا ہی عدل کیا جس نے خود تجھے ہی تیرا محاسب بنا دیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو کچھ تو بھلا برا کلمہ زبان سے نکالتا ہے وہ سب لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ تیرا یہ کہنا بھی کہ میں نے کھایا، میں نے پیا، میں گیا، میں آیا، میں نے دیکھا۔ پھر جمعرات والے دن اس کے اقوال و افعال پیش کئے جاتے ہیں خیر و شر باقی رکھ لی جاتی ہے اور سب کچھ مٹا دیا جاتا ہے یہی معنی ہیں فرمان باری تعالیٰ شانہ کے «يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ» ” اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے “ [13-الرعد:39] ‏

امام احمد رحمہ اللہ کی بابت مروی ہے کہ آپ اپنے مرض الموت میں کراہ رہے تھے تو آپ کو معلوم ہوا کہ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرشتے اسے بھی لکھتے ہیں چنانچہ آپ نے کراہنا بھی چھوڑ دیا اللہ آپ پر اپنی رحمت نازل فرمائے اپنی موت کے وقت تک اف بھی نہ کی۔

صفحہ نمبر8718

پھر فرماتا ہے، اے انسان! موت کی بیہوشی یقینًا آئے گی اس وقت وہ شک دور ہو جائے گا جس میں آج کل تو مبتلا ہے، اس وقت تجھ سے کہا جائے گا کہ یہی ہے جس سے تو بھاگتا پھرتا تھا، اب وہ آ گئی، تو کسی طرح اس سے نجات نہیں پا سکتا، نہ بچ سکتا ہے، نہ اسے روک سکتا ہے، نہ اسے دفع کر سکتا ہے، نہ ٹال سکتا ہے، نہ مقابلہ کر سکتا ہے، نہ کسی کی مدد و سفارش کچھ کام آ سکتی ہے۔

صحیح یہی ہے کہ یہاں خطاب مطلق انسان سے ہے اگرچہ بعض نے کہا ہے کافر سے ہے اور بعض نے کچھ اور بھی کہا ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اپنے والد کے آخری وقت میں آپ کے سرہانے بیٹھی تھی آپ پر غشی طاری ہوئی، تو میں نے یہ بیت پڑھا «من لا یزال دمعہ مقننعا» *** «فانہ لا بد مرۃ مدفوق» مطلب یہ ہے کہ جس کے آنسو ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی ایک مرتبہ ٹپک پڑیں گے۔ تو آپ نے اپنا سر اٹھا کر کہا پیاری بچی یوں نہیں بلکہ جس طرح اللہ نے فرمایا «وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ» [50-ق:19] ‏ ” اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا “۔

اور روایت میں بیت کا پڑھنا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ یوں نہیں بلکہ یہ آیت پڑھو۔ اس اثر کے اور بھی بہت سے طریق ہیں جنہیں میں نے سیرۃ الصدیق رضی اللہ عنہ میں آپ کی وفات کے بیان میں جمع کر دیا ہے۔

صفحہ نمبر8719

صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب موت کی غشی طاری ہونے لگی تو آپ اپنے چہرہ مبارک سے پسینہ پونچھتے جاتے اور فرماتے جاتے: ”سبحان اللہ موت کی بڑی سختیاں ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:4449] ‏

اس آیت کے پچھلے جملے کی تفسیر دو طرح کی گئی ہے ایک تو یہ کہ «ما» موصولہ ہے یعنی یہ وہی ہے جسے تو بعید از مکان جانتا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں «ما» نافیہ ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہ وہ چیز ہے جس کے جدا کرنے کی، جس سے بچنے کی تجھے قدرت نہیں تو اس سے ہٹ نہیں سکتا۔

معجم کبیر طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس شخص کی مثال جو موت سے بھاگتا ہے اس لومڑی جیسی ہے جس سے زمین اپنا قرضہ طلب کرنے لگی اور یہ اس سے بھاگنے لگی، بھاگتے بھاگتے جب تھک گئی اور بالکل چکنا چور ہو گئی تو اپنے بھٹ میں جا گھسی، زمین چونکہ وہاں بھی موجود تھی اس نے لومڑی سے کہا: میرا قرض دے تو یہ وہاں سے پھر بھاگی سانس پھولا ہوا تھا حال برا ہو رہا تھا آخر یونہی بھاگتے بھاگتے بےدم ہو کر مر گئی“ ۔ [طبرانی:6922:ضعیف] ‏

الغرض جس طرح اس لومڑی کو زمین سے بھاگنے کی راہیں بند تھیں اسی طرح انسان کو موت سے بچنے کے راستے بند ہیں اس کے بعد صور پھونکے جانے کا ذکر ہے جس کی پوری تفسیر والی حدیث گزر چکی ہے۔

صفحہ نمبر8720

اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں کس طرح راحت و آرام حاصل کر سکتا ہوں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور منہ میں لے لیا ہے اور گردن جھکائے حکم اللہ کا انتظار کر رہا ہے کہ کب حکم ملے اور کب وہ پھونک دے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیا کہیں آپ نے فرمایا کہو «حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ” ہمیں اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے ““ [3-آل عمران:173] ‏ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر فرماتا ہے ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ تو میدان محشر کی طرف لانے والا ہو گا اور ایک فرشتہ اس کے اعمال کی گواہی دینے والا ہو گا۔ ظاہر آیت یہی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت منبر پر کی اور فرمایا: ایک چلانے والا جس کے ہمراہ یہ میدان محشر میں آئے گا اور ایک گواہ ہو گا جو اس کے اعمال کی شہادت دے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «سائق» سے مراد فرشتہ ہے اور شہید سے مراد عمل ہے۔

صفحہ نمبر8721

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے «سائق» فرشتوں میں سے ہوں گے اور «شہید» سے مراد خود انسان ہے جو اپنے اوپر آپ گواہی دے گا، پھر اس کے بعد کی آیت میں جو خطاب ہے اس کی نسبت تین قول ہیں، ایک تو یہ کہ یہ خطاب کافر سے ہو گا، دوسرا یہ کہ اس سے مراد عام انسان ہیں نیک و بد سب، تیسرا یہ کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/11] ‏

دوسرے قول کی توجیہ یہ ہے کہ آخرت اور دنیا میں وہی نسبت ہے جو بیداری اور خواب میں ہے اور تیسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ تو اس قرآن کی وحی سے پہلے غفلت میں تھا۔ ہم نے یہ قرآن نازل فرما کر تیری آنکھوں پر سے پردہ ہٹا دیا اور تیری نظر قوی ہو گئی۔ لیکن الفاظ قرآنی سے تو ظاہر یہی ہے کہ اس سے مراد عام ہے یعنی ہر شخص سے کہا جائے گا کہ تو اس دن سے غافل تھا اس لیے کہ قیامت کے دن ہر شخص کی آنکھیں خوب کھل جائیں گی یہاں تک کہ کافر بھی استقامت پر ہو جائے گا لیکن یہ استقامت اسے نفع نہ دے گی۔ جیسے فرمان باری ہے «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا لَـكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ» [19-مريم:38] ‏ یعنی ” کیا خوب دیکھنے سننے والے ہوں گے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے، لیکن آج تو یہ ﻇالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں “

اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» [32-السجدة:12] ‏ یعنی ” کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں “۔

صفحہ نمبر8722

ہمارے اعمال کے گواہ ٭٭

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہو رہا ہے کہ جو فرشتہ ابن آدم کے اعمال پر مقرر ہے وہ اس کے اعمال کی شہادت دے گا اور کہے گا کہ یہ ہے میرے پاس تفصیل بلا کم و کاست حاضر ہے۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اس فرشتے کا کلام ہو گا جسے سائق کہا گیا ہے جو اس کو محشر میں لے آیا تھا۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک مختار قول یہ ہے کہ وہ اس فرشتے پر بھی اور گواہی دینے والے فرشتے دونوں پہ مشتمل ہے اب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے عدل و انصاف سے کرے گا۔ «القیا» تثنیہ کا صیغہ ہے بعض نحوی کہتے ہیں کہ بعض عرب واحد کو «تثنیہ» کر دیا کرتے ہیں جیسے کہ حجاج کا مقولہ مشہور ہے کہ وہ اپنے جلاد سے کہتا تھا «اضربا عنقہ» تم دونوں اس کی گردن مار دو حالانکہ جلاد ایک ہی ہوتا تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کی شہادت میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:422/11] ‏

بعض کہتے ہیں کہ دراصل یہ نون تاکید ہے جس کی تسہیل الف کی طرف کر لی ہے لیکن یہ بعید ہے اس لیے کہ ایسا تو وقف کی حالت میں ہوتا ہے بظاہر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب اوپر والے دونوں فرشتوں سے ہو گا، لانے والے فرشتے نے اسے حساب کے لیے پیش کیا اور گواہی دینے والے نے گواہی دے دی تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کو حکم دے گا کہ اسے جہنم کی آگ میں ڈال دو جو بدترین جگہ ہے اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔

صفحہ نمبر8728

ہمارے اعمال کے گواہ ٭٭

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہو رہا ہے کہ جو فرشتہ ابن آدم کے اعمال پر مقرر ہے وہ اس کے اعمال کی شہادت دے گا اور کہے گا کہ یہ ہے میرے پاس تفصیل بلا کم و کاست حاضر ہے۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اس فرشتے کا کلام ہو گا جسے سائق کہا گیا ہے جو اس کو محشر میں لے آیا تھا۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک مختار قول یہ ہے کہ وہ اس فرشتے پر بھی اور گواہی دینے والے فرشتے دونوں پہ مشتمل ہے اب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے عدل و انصاف سے کرے گا۔ «القیا» تثنیہ کا صیغہ ہے بعض نحوی کہتے ہیں کہ بعض عرب واحد کو «تثنیہ» کر دیا کرتے ہیں جیسے کہ حجاج کا مقولہ مشہور ہے کہ وہ اپنے جلاد سے کہتا تھا «اضربا عنقہ» تم دونوں اس کی گردن مار دو حالانکہ جلاد ایک ہی ہوتا تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کی شہادت میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:422/11] ‏

بعض کہتے ہیں کہ دراصل یہ نون تاکید ہے جس کی تسہیل الف کی طرف کر لی ہے لیکن یہ بعید ہے اس لیے کہ ایسا تو وقف کی حالت میں ہوتا ہے بظاہر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب اوپر والے دونوں فرشتوں سے ہو گا، لانے والے فرشتے نے اسے حساب کے لیے پیش کیا اور گواہی دینے والے نے گواہی دے دی تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کو حکم دے گا کہ اسے جہنم کی آگ میں ڈال دو جو بدترین جگہ ہے اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔

صفحہ نمبر8728

باب

پھر فرماتا ہے کہ ہر کافر اور ہر حق کے مخالف اور ہر حق کے نہ ادا کرنے والے اور ہر نیکی صلہ رحمی اور بھلائی سے خالی رہنے والے اور ہر حد سے گزر جانے والے خواہ وہ مال کے خرچ میں اسراف کرتا ہو، خواہ بولنے اور چلنے پھرنے میں اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کرتا ہو اور ہر شک کرنے والے اور ہر اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے کے لیے یہی حکم ہے کہ اسے پکڑ کر سخت عذاب میں ڈال دو۔

پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ جہنم قیامت کے دن لوگوں کے سامنے اپنی گردن نکالے گی اور باآواز بلند پکار کر کہے گی جسے تمام محشر کا مجمع سنے گا کہ میں تین قسم کے لوگوں پر مقرر کی گئی ہوں ہر سرکش حق کے مخالف کے لیے اور ہر مشرک کے لیے اور ہر تصویر بنانے والے کے لیے، پھر وہ ان سب سے لپٹ جائے گی۔

مسند کی حدیث میں تیسری قسم کے لوگ وہ بتائے ہیں جو ظالمانہ قتل کرنے والے ہوں۔ [مسند احمد:40/3:ضعیف] ‏

پھر فرمایا اس کا ساتھی کہے گا، اس سے مراد شیطان ہے جو اس کے ساتھ موکل تھا یہ اس کافر کو دیکھ کر اپنی براءت کرے گا اور کہے گا کہ میں نے اسے نہیں بہکایا بلکہ یہ تو خود گمراہ تھا باطل کو از خود قبول کر لیتا تھا حق کا اپنے آپ مخالف تھا۔

صفحہ نمبر8730

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [14-إبراهيم:22] ‏ ” شیطان جب دیکھے گا کہ کام ختم ہوا تو کہے گا اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی، میرا کوئی زور تو تم پر تھا ہی نہیں، میں نے تم سے کہا تم نے فوراً مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنی جانوں کو ملامت کرو، نہ میں تمہیں کام دے سکوں گا، نہ تم میرے کام آ سکوں تم جو مجھے شریک بنا رہے تھے تو میں پہلے ہی سے ان کا انکاری تھا، ظالموں کے لیے المناک عذاب ہیں۔ “

پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ انسان سے اور اس کے ساتھی شیطان سے فرمائے گا کہ میرے سامنے نہ جھگڑو کیونکہ انسان کہہ رہا ہو گا کہ اللہ اس نے مجھے جبکہ میرے پاس نصیحت آ چکی گمراہ کر دیا اور شیطان کہے گا اللہ میں نے اسے گمراہ نہیں کیا، تو اللہ انہیں تو تو میں میں سے روک دے گا اور فرمائے گا، میں تو اپنی حجت ختم کر چکا رسولوں کی زبانی یہ سب باتیں تمہیں سنا چکا تھا، تمہیں کتابیں بھیج دی تھیں اور ہر ہر طریقہ سے ہر طرح سے تمہیں سمجھا بھجا دیا تھا، ہر شخص پر اتمام حجت ہو چکی اور ہر شخص اپنے گناہوں کا خود ذمہ دار ہے۔

صفحہ نمبر8731

باب

پھر فرماتا ہے کہ ہر کافر اور ہر حق کے مخالف اور ہر حق کے نہ ادا کرنے والے اور ہر نیکی صلہ رحمی اور بھلائی سے خالی رہنے والے اور ہر حد سے گزر جانے والے خواہ وہ مال کے خرچ میں اسراف کرتا ہو، خواہ بولنے اور چلنے پھرنے میں اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کرتا ہو اور ہر شک کرنے والے اور ہر اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے کے لیے یہی حکم ہے کہ اسے پکڑ کر سخت عذاب میں ڈال دو۔

پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ جہنم قیامت کے دن لوگوں کے سامنے اپنی گردن نکالے گی اور باآواز بلند پکار کر کہے گی جسے تمام محشر کا مجمع سنے گا کہ میں تین قسم کے لوگوں پر مقرر کی گئی ہوں ہر سرکش حق کے مخالف کے لیے اور ہر مشرک کے لیے اور ہر تصویر بنانے والے کے لیے، پھر وہ ان سب سے لپٹ جائے گی۔

مسند کی حدیث میں تیسری قسم کے لوگ وہ بتائے ہیں جو ظالمانہ قتل کرنے والے ہوں۔ [مسند احمد:40/3:ضعیف] ‏

پھر فرمایا اس کا ساتھی کہے گا، اس سے مراد شیطان ہے جو اس کے ساتھ موکل تھا یہ اس کافر کو دیکھ کر اپنی براءت کرے گا اور کہے گا کہ میں نے اسے نہیں بہکایا بلکہ یہ تو خود گمراہ تھا باطل کو از خود قبول کر لیتا تھا حق کا اپنے آپ مخالف تھا۔

صفحہ نمبر8730

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [14-إبراهيم:22] ‏ ” شیطان جب دیکھے گا کہ کام ختم ہوا تو کہے گا اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی، میرا کوئی زور تو تم پر تھا ہی نہیں، میں نے تم سے کہا تم نے فوراً مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنی جانوں کو ملامت کرو، نہ میں تمہیں کام دے سکوں گا، نہ تم میرے کام آ سکوں تم جو مجھے شریک بنا رہے تھے تو میں پہلے ہی سے ان کا انکاری تھا، ظالموں کے لیے المناک عذاب ہیں۔ “

پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ انسان سے اور اس کے ساتھی شیطان سے فرمائے گا کہ میرے سامنے نہ جھگڑو کیونکہ انسان کہہ رہا ہو گا کہ اللہ اس نے مجھے جبکہ میرے پاس نصیحت آ چکی گمراہ کر دیا اور شیطان کہے گا اللہ میں نے اسے گمراہ نہیں کیا، تو اللہ انہیں تو تو میں میں سے روک دے گا اور فرمائے گا، میں تو اپنی حجت ختم کر چکا رسولوں کی زبانی یہ سب باتیں تمہیں سنا چکا تھا، تمہیں کتابیں بھیج دی تھیں اور ہر ہر طریقہ سے ہر طرح سے تمہیں سمجھا بھجا دیا تھا، ہر شخص پر اتمام حجت ہو چکی اور ہر شخص اپنے گناہوں کا خود ذمہ دار ہے۔

صفحہ نمبر8731

باب

پھر فرماتا ہے کہ ہر کافر اور ہر حق کے مخالف اور ہر حق کے نہ ادا کرنے والے اور ہر نیکی صلہ رحمی اور بھلائی سے خالی رہنے والے اور ہر حد سے گزر جانے والے خواہ وہ مال کے خرچ میں اسراف کرتا ہو، خواہ بولنے اور چلنے پھرنے میں اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کرتا ہو اور ہر شک کرنے والے اور ہر اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے کے لیے یہی حکم ہے کہ اسے پکڑ کر سخت عذاب میں ڈال دو۔

پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ جہنم قیامت کے دن لوگوں کے سامنے اپنی گردن نکالے گی اور باآواز بلند پکار کر کہے گی جسے تمام محشر کا مجمع سنے گا کہ میں تین قسم کے لوگوں پر مقرر کی گئی ہوں ہر سرکش حق کے مخالف کے لیے اور ہر مشرک کے لیے اور ہر تصویر بنانے والے کے لیے، پھر وہ ان سب سے لپٹ جائے گی۔

مسند کی حدیث میں تیسری قسم کے لوگ وہ بتائے ہیں جو ظالمانہ قتل کرنے والے ہوں۔ [مسند احمد:40/3:ضعیف] ‏

پھر فرمایا اس کا ساتھی کہے گا، اس سے مراد شیطان ہے جو اس کے ساتھ موکل تھا یہ اس کافر کو دیکھ کر اپنی براءت کرے گا اور کہے گا کہ میں نے اسے نہیں بہکایا بلکہ یہ تو خود گمراہ تھا باطل کو از خود قبول کر لیتا تھا حق کا اپنے آپ مخالف تھا۔

صفحہ نمبر8730

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [14-إبراهيم:22] ‏ ” شیطان جب دیکھے گا کہ کام ختم ہوا تو کہے گا اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی، میرا کوئی زور تو تم پر تھا ہی نہیں، میں نے تم سے کہا تم نے فوراً مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنی جانوں کو ملامت کرو، نہ میں تمہیں کام دے سکوں گا، نہ تم میرے کام آ سکوں تم جو مجھے شریک بنا رہے تھے تو میں پہلے ہی سے ان کا انکاری تھا، ظالموں کے لیے المناک عذاب ہیں۔ “

پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ انسان سے اور اس کے ساتھی شیطان سے فرمائے گا کہ میرے سامنے نہ جھگڑو کیونکہ انسان کہہ رہا ہو گا کہ اللہ اس نے مجھے جبکہ میرے پاس نصیحت آ چکی گمراہ کر دیا اور شیطان کہے گا اللہ میں نے اسے گمراہ نہیں کیا، تو اللہ انہیں تو تو میں میں سے روک دے گا اور فرمائے گا، میں تو اپنی حجت ختم کر چکا رسولوں کی زبانی یہ سب باتیں تمہیں سنا چکا تھا، تمہیں کتابیں بھیج دی تھیں اور ہر ہر طریقہ سے ہر طرح سے تمہیں سمجھا بھجا دیا تھا، ہر شخص پر اتمام حجت ہو چکی اور ہر شخص اپنے گناہوں کا خود ذمہ دار ہے۔

صفحہ نمبر8731

باب

پھر فرماتا ہے کہ ہر کافر اور ہر حق کے مخالف اور ہر حق کے نہ ادا کرنے والے اور ہر نیکی صلہ رحمی اور بھلائی سے خالی رہنے والے اور ہر حد سے گزر جانے والے خواہ وہ مال کے خرچ میں اسراف کرتا ہو، خواہ بولنے اور چلنے پھرنے میں اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کرتا ہو اور ہر شک کرنے والے اور ہر اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے کے لیے یہی حکم ہے کہ اسے پکڑ کر سخت عذاب میں ڈال دو۔

پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ جہنم قیامت کے دن لوگوں کے سامنے اپنی گردن نکالے گی اور باآواز بلند پکار کر کہے گی جسے تمام محشر کا مجمع سنے گا کہ میں تین قسم کے لوگوں پر مقرر کی گئی ہوں ہر سرکش حق کے مخالف کے لیے اور ہر مشرک کے لیے اور ہر تصویر بنانے والے کے لیے، پھر وہ ان سب سے لپٹ جائے گی۔

مسند کی حدیث میں تیسری قسم کے لوگ وہ بتائے ہیں جو ظالمانہ قتل کرنے والے ہوں۔ [مسند احمد:40/3:ضعیف] ‏

پھر فرمایا اس کا ساتھی کہے گا، اس سے مراد شیطان ہے جو اس کے ساتھ موکل تھا یہ اس کافر کو دیکھ کر اپنی براءت کرے گا اور کہے گا کہ میں نے اسے نہیں بہکایا بلکہ یہ تو خود گمراہ تھا باطل کو از خود قبول کر لیتا تھا حق کا اپنے آپ مخالف تھا۔

صفحہ نمبر8730

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [14-إبراهيم:22] ‏ ” شیطان جب دیکھے گا کہ کام ختم ہوا تو کہے گا اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی، میرا کوئی زور تو تم پر تھا ہی نہیں، میں نے تم سے کہا تم نے فوراً مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنی جانوں کو ملامت کرو، نہ میں تمہیں کام دے سکوں گا، نہ تم میرے کام آ سکوں تم جو مجھے شریک بنا رہے تھے تو میں پہلے ہی سے ان کا انکاری تھا، ظالموں کے لیے المناک عذاب ہیں۔ “

پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ انسان سے اور اس کے ساتھی شیطان سے فرمائے گا کہ میرے سامنے نہ جھگڑو کیونکہ انسان کہہ رہا ہو گا کہ اللہ اس نے مجھے جبکہ میرے پاس نصیحت آ چکی گمراہ کر دیا اور شیطان کہے گا اللہ میں نے اسے گمراہ نہیں کیا، تو اللہ انہیں تو تو میں میں سے روک دے گا اور فرمائے گا، میں تو اپنی حجت ختم کر چکا رسولوں کی زبانی یہ سب باتیں تمہیں سنا چکا تھا، تمہیں کتابیں بھیج دی تھیں اور ہر ہر طریقہ سے ہر طرح سے تمہیں سمجھا بھجا دیا تھا، ہر شخص پر اتمام حجت ہو چکی اور ہر شخص اپنے گناہوں کا خود ذمہ دار ہے۔

صفحہ نمبر8731

باب

پھر فرماتا ہے کہ ہر کافر اور ہر حق کے مخالف اور ہر حق کے نہ ادا کرنے والے اور ہر نیکی صلہ رحمی اور بھلائی سے خالی رہنے والے اور ہر حد سے گزر جانے والے خواہ وہ مال کے خرچ میں اسراف کرتا ہو، خواہ بولنے اور چلنے پھرنے میں اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کرتا ہو اور ہر شک کرنے والے اور ہر اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے کے لیے یہی حکم ہے کہ اسے پکڑ کر سخت عذاب میں ڈال دو۔

پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ جہنم قیامت کے دن لوگوں کے سامنے اپنی گردن نکالے گی اور باآواز بلند پکار کر کہے گی جسے تمام محشر کا مجمع سنے گا کہ میں تین قسم کے لوگوں پر مقرر کی گئی ہوں ہر سرکش حق کے مخالف کے لیے اور ہر مشرک کے لیے اور ہر تصویر بنانے والے کے لیے، پھر وہ ان سب سے لپٹ جائے گی۔

مسند کی حدیث میں تیسری قسم کے لوگ وہ بتائے ہیں جو ظالمانہ قتل کرنے والے ہوں۔ [مسند احمد:40/3:ضعیف] ‏

پھر فرمایا اس کا ساتھی کہے گا، اس سے مراد شیطان ہے جو اس کے ساتھ موکل تھا یہ اس کافر کو دیکھ کر اپنی براءت کرے گا اور کہے گا کہ میں نے اسے نہیں بہکایا بلکہ یہ تو خود گمراہ تھا باطل کو از خود قبول کر لیتا تھا حق کا اپنے آپ مخالف تھا۔

صفحہ نمبر8730

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [14-إبراهيم:22] ‏ ” شیطان جب دیکھے گا کہ کام ختم ہوا تو کہے گا اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی، میرا کوئی زور تو تم پر تھا ہی نہیں، میں نے تم سے کہا تم نے فوراً مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنی جانوں کو ملامت کرو، نہ میں تمہیں کام دے سکوں گا، نہ تم میرے کام آ سکوں تم جو مجھے شریک بنا رہے تھے تو میں پہلے ہی سے ان کا انکاری تھا، ظالموں کے لیے المناک عذاب ہیں۔ “

پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ انسان سے اور اس کے ساتھی شیطان سے فرمائے گا کہ میرے سامنے نہ جھگڑو کیونکہ انسان کہہ رہا ہو گا کہ اللہ اس نے مجھے جبکہ میرے پاس نصیحت آ چکی گمراہ کر دیا اور شیطان کہے گا اللہ میں نے اسے گمراہ نہیں کیا، تو اللہ انہیں تو تو میں میں سے روک دے گا اور فرمائے گا، میں تو اپنی حجت ختم کر چکا رسولوں کی زبانی یہ سب باتیں تمہیں سنا چکا تھا، تمہیں کتابیں بھیج دی تھیں اور ہر ہر طریقہ سے ہر طرح سے تمہیں سمجھا بھجا دیا تھا، ہر شخص پر اتمام حجت ہو چکی اور ہر شخص اپنے گناہوں کا خود ذمہ دار ہے۔

صفحہ نمبر8731

متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ ٭٭

چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لیے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے گا اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہو گئی؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔

صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس“ ۔ [صحیح بخاری:4848] ‏

مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم، بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک نئی مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا۔ [صحیح مسلم:2848] ‏

صحیح بخاری میں ہے جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی، جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لیے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے۔ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے، اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی، تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا، اب وہ کہے گی بس بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لیے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا۔ [صحیح بخاری:4850] ‏

مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ مجھ میں جبر کرنے والے، تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے۔ [مسند احمد:13/3:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8736

مسند ابو یعلیٰ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا، میں سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو گا، پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہو جائے گا، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی، پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گزرنے لگے گی، بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہو جائیں گے، بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہو جائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گزر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہو گا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا۔‏“ لوگوں نے کہا: حوض کیا ہے؟ فرمایا: ”اللہ کی قسم! اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کر سکے۔ [ذکرہ ابن حجر فی المطالب العالیہ:383/4:ضعیف و موضوع] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے؟ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے؟ میں بھر گئی۔

صفحہ نمبر8737

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے؟

امام ابن جریر رحمہ اللہ پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے، اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آ سکے؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہو گئی۔ عوفی رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہو گا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8738

پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لیے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا۔

«اواب» کے معنی رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا، گناہوں سے رک جانے والا۔

«حفیظ» کے معنی وعدوں کا پابند۔ عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «اواب حفیظ» وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کر لے۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے۔

حدیث میں ہے وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں۔ [صحیح بخاری:660] ‏

اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ «خلود» کا دن ہے۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لیے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں۔

پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی۔ کثیر بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گزرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو؟ جو تم چاہو میں برساؤں، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی۔

صفحہ نمبر8739

کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہو جائے گا“ ۔

مسند احمد میں ہے کہ اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہو جائے گی ۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہو جائے گا۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

اور آیت میں ہے «لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ» [10-يونس:26] ‏

صہیب بن سنان رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے۔ [صحیح مسلم:181] ‏

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہو گا یہی مطلب مزید کا ہے۔ مسند شافعی میں ہے جبرائیل علیہ السلام ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے۔ سب لوگ اس میں آپ کے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی آپ کے لیے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام «یوم المزید» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں، جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے، اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء علیہم السلام رونق افروز ہوتے ہیں، یہ منبر سونے کے ہیں، جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضا مندی مطلوب ہے، اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہو گیا، اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے، پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہشمند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی۔ [مسند ابویعلیٰ:229/7:ضعیف] ‏

اسی طرح اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہو گی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہو گی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہو گا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہو جائے، وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں «مزید» کہا گیا تھا۔ اس پر ستر حلے ہوں گے تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہو گا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کر دینے کے لیے کافی ہے“ ۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8740

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com