Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Waaqia
Tafsir Ibn Kathir · The Inevitable · 96 ayat · ayat 31–60 · Quran text →
اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی ٭٭
سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں، جہاں بیری کے درخت ہیں، لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں، دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے
ابوبکر بن سلمان نجاد رحمہ اللہ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی نے آ کر کہا: یا رسول اللہ ! قرآن میں ایک ایسے درخت کا بھی ذکر ہے جو ایذاء دیتا، آپ نے پوچھا: ”وہ کون سا“، اس نے کہا بیری کا درخت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو نے اس کے ساتھ ہی لفظ «مَخْضُود» نہیں پڑھا؟ اس کے کانٹے اللہ تعالیٰ نے دور کر دیئے ہیں اور ان کے بدلے پھل پیدا کر دیئے ہیں ہر ایک بیری میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے جن کا رنگ و مزہ مختلف ہو گا“ ۔ [مستدرک حاکم476/2صحیح]
یہ روایت دوسری کتابوں میں بھی مروی ہے اس میں لفظ «طَلْح» ہے اور ستر ذائقوں کا بیان ہے۔ [طبرانی کبیر:130/17صحیح]
«طَلْح» ایک بڑا درخت ہے جو حجاز کی سر زمین میں ہوتا ہے، یہ کانٹے دار درخت ہے اس میں کانٹے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابن جریر نے اس کی شہادت عربی کے ایک شعر سے بھی دی ہے۔
«مَنْضُود» کے معنی تہہ بہ تہہ پھل والا، پھل سے لدا ہوا۔ ان دونوں کا ذکر اس لیے ہوا کہ عرب ان درختوں کی گہری اور میٹھی چھاؤں کو پسند کرتے تھے، یہ درخت بظاہر دنیوی درخت جیسا ہو گا لیکن بجائے کانٹوں کے اس میں شیرین پھل ہوں گے۔
جوہری فرماتے ہیں «طلح» بھی کہتے ہیں اور «طلع» بھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے، تو ممکن ہے کہ یہ بھی بیری کی ہی صفت ہو، یعنی وہ بیریاں بے خار اور بکثرت پھلدار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور حضرات نے «طلح» سے مراد کیلے کا درخت کہا ہے، اہل یمن کیلے کو «طَلْح» کہتے ہیں اور اہل حجاز «موز» کہتے ہیں۔ لمبے لمبے سایوں میں یہ ہوں گے۔
صحیح بخاری میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت کے درخت کے سائے تلے تیز سوار سو سال تک چلتا رہے گا لیکن سایہ ختم نہ ہو گا۔ اگر تم چاہو اس آیت کو پڑھو“ ۔ [صحیح بخاری4881]
مسلم میں بھی یہ روایت موجود ہے اور مسند احمد، مسند ابو یعلیٰ میں بھی، مسند کی اور حدیث میں شک کے ساتھ ہے یعنی ستر یا سو اور یہ بھی ہے کہ یہ «شجرۃ الخلد» ہے۔ [مسند احمد:455/2:صحیح]
صفحہ نمبر9192
ابن جریر اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے پس یہ حدث متواتر اور قطعاً صحیح ہے اس کی اسناد بہت ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے،
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ روایت بیان کی اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے کانوں تک پہنچی، تو آپ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے تورات موسیٰ علیہ السلام پر اور قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا کہ اگر کوئی شخص نوجوان اونٹنی پر سوار ہو کر اس وقت چلتا رہے جب تک وہ بوڑھا ہو کر گر جائے تو بھی اس کی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور خود آپ اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی ہے، اس کی شاخیں جنت کی دیواروں سے باہر نکلی ہوئی ہیں، جنت کی تمام نہریں اسی درخت کی جڑ سے نکلتی ہیں۔
ابوحصین کہتے ہیں کہ ایک موضع میں ایک دروازے پر ہم تھے ہمارے ساتھ ابوصالح اور شفیق جہنی بھی تھے اور ابوصالح رحمہ اللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی اوپر کی حدیث بیان کی اور کہا: کیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جھٹلاتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، انہیں تو نہیں تجھے جھٹلاتا ہوں۔ پس یہ قاریوں پر بہت گراں گزرا۔ میں کہتا ہوں اس ثابت، صحیح اور مرفوع حدیث کو جو جھٹلائے وہ غلطی پر ہے۔ ترمذی میں ہے جنت کے ہر درخت کا تنا سونے کا ہے۔ [سنن ترمذي:2525،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر طرف سو سو سال کے راستے تک سایہ پھیلا ہوا ہے۔ جنتی لوگ اس کے نیچے آ کر بیٹھتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ کسی کو دنیوی کھیل تماشے اور دل بہلاوے یاد آتے ہیں تو اسی وقت ایک جنتی ہوا چلتی ہے اور اس درخت میں سے تمام راگ راگنیاں، باجے گاجے اور کھیل تماشوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں، یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند قوی ہے۔ عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سایہ ستر ہزار سال کی طولانی میں ہو گا۔ آپ سے مرفوع حدیث میں ایک سو سال مروی ہے یہ سایہ گھٹتا ہی نہیں، نہ سورج آئے، نہ گرمی ستائے، فجر کے طلوع ہونے سے پیشتر کا سماں ہر وقت اس کے نیچے رہتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنت میں ہمیشہ وہ وقت رہے گا جو صبح صادق کے بعد سے لے کر آفتاب کے طلوع ہونے کے درمیان درمیان رہتا ہے سایہ کے مضمون کی روایتیں بھی اس سے پہلے گزر چکی ہیں، جیسے آیت «وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا» [4-النسآء:57] اور آیت «اُكُلُهَا دَاىِٕمٌ وَّظِلُّهَا» [13-الرعد:35] اور آیت «اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ» [77-المرسلات:41] وغیرہ پانی ہو گا بہتا ہوا مگر نہروں کے گڑھے اور کھدی ہوئی زمین نہ ہو گی، اس کی پوری تفسیر آیت «فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ» [47-محمد:15] میں گزر چکی ہے۔
ان کے پاس بکثرت طرح طرح کے لذیذ میوے ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے، نہ کسی کان نے سنے، نہ کسی انسانی دل پر ان کا وہم و خیال گزرا۔ جیسے اور آیت میں ہے جب وہاں پھلوں سے روزی دیئے جائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے بھی دئیے گئے تھے کیونکہ بالکل ہم شکل ہوں گے، لیکن جب کھائیں گے تو ذائقہ اور ہی پائیں گے۔ بخاری و مسلم میں سدرۃ المنتہیٰ کے ذکر میں ہے کہ اس کے پتے مثل ہاتھی کے کانوں کے ہوں گے اور پھل مثل ہجر کے بڑے بڑے مٹکوں کے ہوں گے، [صحیح بخاری:3207]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث میں جس میں آپ نے سورج کے گرہن ہونے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سورج گرہن کی نماز ادا کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے یہ بھی ہے کہ بعد فراغت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے نمازیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو اس جگہ آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے دیکھا کیا بات تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی، جنت کے میوے کا خوشہ لینا چاہا اگر میں لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے“ ۔ [صحیح بخاری:1052-3202]
ابو یعلیٰ میں ہے ظہر کی فرض نماز پڑھاتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور ہم بھی، پھر آپ نے گویا کوئی چیز لینی چاہی، پھر پیچھے ہٹ آئے، نماز سے فارغ ہو کر سیدنا ابی کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! آج تو آپ نے ایسی بات کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے جنت لائی گئی اور جو اس میں تروتازگی اور سبزی ہے میں نے اس میں سے ایک انگور کا خوشہ توڑنا چاہا تاکہ لا کر تمہیں دوں، پس میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا اور اگر اس میں اسے تمہارے پاس لے آتا تو زمین و آسمان کے درمیان کی مخلوق اسے کھاتی رہتی تاہم اس میں ذرا سی بھی کمی نہ آتی“ ۔ اسی کے مثل سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم شریف میں بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:904]
صفحہ نمبر9193
مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کوثر کی بابت سوال کیا اور جنت کا بھی ذکر کیا پوچھا کہ کیا اس میں میوے بھی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وہاں طوبیٰ نامی درخت بھی ہے؟“ پھر کچھ کہا جو مجھے یاد نہیں، پھر پوچھا: وہ درخت ہماری زمین کے کس درخت سے مشابہت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تیرے ملک کی زمین میں کوئی درخت اس کا ہم شکل نہیں۔ کیا تو شام میں گیا ہے؟“، اس نے کہا نہیں، فرمایا: شام میں ایک درخت ہوتا ہے جسے جوزہ کہتے ہیں، ایک ہی تنا ہوتا ہے اور اوپر کا حصہ پھیلا ہوا ہوتا ہے وہ البتہ اس کے مشابہ ہے، اس نے پوچھا: جنتی خوشے کتنے بڑے ہوتے ہیں؟ فرمایا: ”کالا کوا مہینہ بھر تک اڑتا رہے اتنے بڑے۔“ وہ کہنے لگا: اس درخت کا تنا کس قدر موٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اپنی اونٹنی کے بچے کو چھوڑ دے اور وہ چلتا رہے یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر گر پڑے تب بھی اس کے تنے کا چکر پورا نہیں کر سکتا۔“ اس نے کہا: اس میں انگور بھی لگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: کتنے بڑے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ کیا کبھی تیرے باپ نے اپنے ریوڑ میں سے کوئی موٹا تازہ بکرا ذبح کر کے اس کی کھال کھینچ کر تیری ماں کو دے کر کہا ہے کہ اس کا ڈول بنا لو؟ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: ”بس اتنے ہی بڑے بڑے انگور کے دانے ہوتے ہیں۔“ اس نے کہا: پھر تو ایک ہی دانہ مجھ کو اور میرے گھر والوں کو کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”بلکہ ساری برادری کو۔“ [مسند احمد:183/4:ضعیف]
پھر یہ میوے بھی ہمیشہ رہنے والے ہیں، نہ کبھی ختم ہوں، نہ کبھی ان سے روکا جائے۔ یہ نہیں کہ جاڑے میں ہیں اور گرمیوں میں نہیں، یا گرمیوں میں ہیں اور جاڑوں میں نہیں، بلکہ یہ میوے دوام والے اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں جب طلب کریں پا لیں اللہ کی قدرت سے ہر وقت وہ موجود رہیں گے، بلکہ کسی کانٹے اور کسی شاخ کو بھی آڑ نہ ہو گی، نہ دوری ہو گی، نہ حاصل کرنے میں تکلف اور تکلیف ہو گی۔ بلکہ ادھر پھل توڑا ادھر اس کے قائم مقام دوسرا پھل لگ گیا، جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گزر چکا۔ ان کے فرش بلند و بالا نرم اور گدے راحت و آرام دینے والے ہوں گے۔
صفحہ نمبر9194
نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کی اونچائی اتنی ہو گی جتنی زمین و آسمان کی یعنی پانچ سو سال کی۔ [سنن ترمذي:3294،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مطلب اس حدیث شریف کا یہ ہے کہ فرش کی بلندی درجے کی آسمان و زمین کے برابر ہے یعنی ایک درجہ دوسرے درجے سے اس قدر بلند ہے۔ ہر دو درجوں میں پانچ سو سال کی راہ کا فاصلہ ہے، پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ روایت صرف رشد بن سعد سے مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔ یہ روایت ابن جریر، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی ہے۔ حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان کی اونچائی اسی سال کی ہے۔ اس کے بعد ضمیر لائے جس کا مرجع پہلے مذکور نہیں اس لیے کہ قرینہ موجود ہے۔ بستر کا ذکر آیا جس پر جنتیوں کی بیویاں ہوں گی پس ان کی طرف ضمیر پھیر دی۔ جیسے سلیمان علیہ السلام کے ذکر میں تورات کا لفظ آیا ہے اور «شمس» کا لفظ اس سے پہلے نہیں پس قرینہ کافی ہے۔ لیکن ابوعبیدہ کہتے ہیں پہلے مذکورہ ہو چکا «وَحُوْرٌ عِيْنٌ» [56-الواقعة:22]
صفحہ نمبر9195
اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی ٭٭
سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں، جہاں بیری کے درخت ہیں، لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں، دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے
ابوبکر بن سلمان نجاد رحمہ اللہ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی نے آ کر کہا: یا رسول اللہ ! قرآن میں ایک ایسے درخت کا بھی ذکر ہے جو ایذاء دیتا، آپ نے پوچھا: ”وہ کون سا“، اس نے کہا بیری کا درخت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو نے اس کے ساتھ ہی لفظ «مَخْضُود» نہیں پڑھا؟ اس کے کانٹے اللہ تعالیٰ نے دور کر دیئے ہیں اور ان کے بدلے پھل پیدا کر دیئے ہیں ہر ایک بیری میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے جن کا رنگ و مزہ مختلف ہو گا“ ۔ [مستدرک حاکم476/2صحیح]
یہ روایت دوسری کتابوں میں بھی مروی ہے اس میں لفظ «طَلْح» ہے اور ستر ذائقوں کا بیان ہے۔ [طبرانی کبیر:130/17صحیح]
«طَلْح» ایک بڑا درخت ہے جو حجاز کی سر زمین میں ہوتا ہے، یہ کانٹے دار درخت ہے اس میں کانٹے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابن جریر نے اس کی شہادت عربی کے ایک شعر سے بھی دی ہے۔
«مَنْضُود» کے معنی تہہ بہ تہہ پھل والا، پھل سے لدا ہوا۔ ان دونوں کا ذکر اس لیے ہوا کہ عرب ان درختوں کی گہری اور میٹھی چھاؤں کو پسند کرتے تھے، یہ درخت بظاہر دنیوی درخت جیسا ہو گا لیکن بجائے کانٹوں کے اس میں شیرین پھل ہوں گے۔
جوہری فرماتے ہیں «طلح» بھی کہتے ہیں اور «طلع» بھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے، تو ممکن ہے کہ یہ بھی بیری کی ہی صفت ہو، یعنی وہ بیریاں بے خار اور بکثرت پھلدار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور حضرات نے «طلح» سے مراد کیلے کا درخت کہا ہے، اہل یمن کیلے کو «طَلْح» کہتے ہیں اور اہل حجاز «موز» کہتے ہیں۔ لمبے لمبے سایوں میں یہ ہوں گے۔
صحیح بخاری میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت کے درخت کے سائے تلے تیز سوار سو سال تک چلتا رہے گا لیکن سایہ ختم نہ ہو گا۔ اگر تم چاہو اس آیت کو پڑھو“ ۔ [صحیح بخاری4881]
مسلم میں بھی یہ روایت موجود ہے اور مسند احمد، مسند ابو یعلیٰ میں بھی، مسند کی اور حدیث میں شک کے ساتھ ہے یعنی ستر یا سو اور یہ بھی ہے کہ یہ «شجرۃ الخلد» ہے۔ [مسند احمد:455/2:صحیح]
صفحہ نمبر9192
ابن جریر اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے پس یہ حدث متواتر اور قطعاً صحیح ہے اس کی اسناد بہت ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے،
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ روایت بیان کی اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے کانوں تک پہنچی، تو آپ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے تورات موسیٰ علیہ السلام پر اور قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا کہ اگر کوئی شخص نوجوان اونٹنی پر سوار ہو کر اس وقت چلتا رہے جب تک وہ بوڑھا ہو کر گر جائے تو بھی اس کی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور خود آپ اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی ہے، اس کی شاخیں جنت کی دیواروں سے باہر نکلی ہوئی ہیں، جنت کی تمام نہریں اسی درخت کی جڑ سے نکلتی ہیں۔
ابوحصین کہتے ہیں کہ ایک موضع میں ایک دروازے پر ہم تھے ہمارے ساتھ ابوصالح اور شفیق جہنی بھی تھے اور ابوصالح رحمہ اللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی اوپر کی حدیث بیان کی اور کہا: کیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جھٹلاتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، انہیں تو نہیں تجھے جھٹلاتا ہوں۔ پس یہ قاریوں پر بہت گراں گزرا۔ میں کہتا ہوں اس ثابت، صحیح اور مرفوع حدیث کو جو جھٹلائے وہ غلطی پر ہے۔ ترمذی میں ہے جنت کے ہر درخت کا تنا سونے کا ہے۔ [سنن ترمذي:2525،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر طرف سو سو سال کے راستے تک سایہ پھیلا ہوا ہے۔ جنتی لوگ اس کے نیچے آ کر بیٹھتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ کسی کو دنیوی کھیل تماشے اور دل بہلاوے یاد آتے ہیں تو اسی وقت ایک جنتی ہوا چلتی ہے اور اس درخت میں سے تمام راگ راگنیاں، باجے گاجے اور کھیل تماشوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں، یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند قوی ہے۔ عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سایہ ستر ہزار سال کی طولانی میں ہو گا۔ آپ سے مرفوع حدیث میں ایک سو سال مروی ہے یہ سایہ گھٹتا ہی نہیں، نہ سورج آئے، نہ گرمی ستائے، فجر کے طلوع ہونے سے پیشتر کا سماں ہر وقت اس کے نیچے رہتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنت میں ہمیشہ وہ وقت رہے گا جو صبح صادق کے بعد سے لے کر آفتاب کے طلوع ہونے کے درمیان درمیان رہتا ہے سایہ کے مضمون کی روایتیں بھی اس سے پہلے گزر چکی ہیں، جیسے آیت «وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا» [4-النسآء:57] اور آیت «اُكُلُهَا دَاىِٕمٌ وَّظِلُّهَا» [13-الرعد:35] اور آیت «اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ» [77-المرسلات:41] وغیرہ پانی ہو گا بہتا ہوا مگر نہروں کے گڑھے اور کھدی ہوئی زمین نہ ہو گی، اس کی پوری تفسیر آیت «فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ» [47-محمد:15] میں گزر چکی ہے۔
ان کے پاس بکثرت طرح طرح کے لذیذ میوے ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے، نہ کسی کان نے سنے، نہ کسی انسانی دل پر ان کا وہم و خیال گزرا۔ جیسے اور آیت میں ہے جب وہاں پھلوں سے روزی دیئے جائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے بھی دئیے گئے تھے کیونکہ بالکل ہم شکل ہوں گے، لیکن جب کھائیں گے تو ذائقہ اور ہی پائیں گے۔ بخاری و مسلم میں سدرۃ المنتہیٰ کے ذکر میں ہے کہ اس کے پتے مثل ہاتھی کے کانوں کے ہوں گے اور پھل مثل ہجر کے بڑے بڑے مٹکوں کے ہوں گے، [صحیح بخاری:3207]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث میں جس میں آپ نے سورج کے گرہن ہونے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سورج گرہن کی نماز ادا کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے یہ بھی ہے کہ بعد فراغت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے نمازیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو اس جگہ آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے دیکھا کیا بات تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی، جنت کے میوے کا خوشہ لینا چاہا اگر میں لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے“ ۔ [صحیح بخاری:1052-3202]
ابو یعلیٰ میں ہے ظہر کی فرض نماز پڑھاتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور ہم بھی، پھر آپ نے گویا کوئی چیز لینی چاہی، پھر پیچھے ہٹ آئے، نماز سے فارغ ہو کر سیدنا ابی کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! آج تو آپ نے ایسی بات کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے جنت لائی گئی اور جو اس میں تروتازگی اور سبزی ہے میں نے اس میں سے ایک انگور کا خوشہ توڑنا چاہا تاکہ لا کر تمہیں دوں، پس میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا اور اگر اس میں اسے تمہارے پاس لے آتا تو زمین و آسمان کے درمیان کی مخلوق اسے کھاتی رہتی تاہم اس میں ذرا سی بھی کمی نہ آتی“ ۔ اسی کے مثل سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم شریف میں بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:904]
صفحہ نمبر9193
مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کوثر کی بابت سوال کیا اور جنت کا بھی ذکر کیا پوچھا کہ کیا اس میں میوے بھی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وہاں طوبیٰ نامی درخت بھی ہے؟“ پھر کچھ کہا جو مجھے یاد نہیں، پھر پوچھا: وہ درخت ہماری زمین کے کس درخت سے مشابہت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تیرے ملک کی زمین میں کوئی درخت اس کا ہم شکل نہیں۔ کیا تو شام میں گیا ہے؟“، اس نے کہا نہیں، فرمایا: شام میں ایک درخت ہوتا ہے جسے جوزہ کہتے ہیں، ایک ہی تنا ہوتا ہے اور اوپر کا حصہ پھیلا ہوا ہوتا ہے وہ البتہ اس کے مشابہ ہے، اس نے پوچھا: جنتی خوشے کتنے بڑے ہوتے ہیں؟ فرمایا: ”کالا کوا مہینہ بھر تک اڑتا رہے اتنے بڑے۔“ وہ کہنے لگا: اس درخت کا تنا کس قدر موٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اپنی اونٹنی کے بچے کو چھوڑ دے اور وہ چلتا رہے یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر گر پڑے تب بھی اس کے تنے کا چکر پورا نہیں کر سکتا۔“ اس نے کہا: اس میں انگور بھی لگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: کتنے بڑے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ کیا کبھی تیرے باپ نے اپنے ریوڑ میں سے کوئی موٹا تازہ بکرا ذبح کر کے اس کی کھال کھینچ کر تیری ماں کو دے کر کہا ہے کہ اس کا ڈول بنا لو؟ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: ”بس اتنے ہی بڑے بڑے انگور کے دانے ہوتے ہیں۔“ اس نے کہا: پھر تو ایک ہی دانہ مجھ کو اور میرے گھر والوں کو کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”بلکہ ساری برادری کو۔“ [مسند احمد:183/4:ضعیف]
پھر یہ میوے بھی ہمیشہ رہنے والے ہیں، نہ کبھی ختم ہوں، نہ کبھی ان سے روکا جائے۔ یہ نہیں کہ جاڑے میں ہیں اور گرمیوں میں نہیں، یا گرمیوں میں ہیں اور جاڑوں میں نہیں، بلکہ یہ میوے دوام والے اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں جب طلب کریں پا لیں اللہ کی قدرت سے ہر وقت وہ موجود رہیں گے، بلکہ کسی کانٹے اور کسی شاخ کو بھی آڑ نہ ہو گی، نہ دوری ہو گی، نہ حاصل کرنے میں تکلف اور تکلیف ہو گی۔ بلکہ ادھر پھل توڑا ادھر اس کے قائم مقام دوسرا پھل لگ گیا، جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گزر چکا۔ ان کے فرش بلند و بالا نرم اور گدے راحت و آرام دینے والے ہوں گے۔
صفحہ نمبر9194
نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کی اونچائی اتنی ہو گی جتنی زمین و آسمان کی یعنی پانچ سو سال کی۔ [سنن ترمذي:3294،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مطلب اس حدیث شریف کا یہ ہے کہ فرش کی بلندی درجے کی آسمان و زمین کے برابر ہے یعنی ایک درجہ دوسرے درجے سے اس قدر بلند ہے۔ ہر دو درجوں میں پانچ سو سال کی راہ کا فاصلہ ہے، پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ روایت صرف رشد بن سعد سے مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔ یہ روایت ابن جریر، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی ہے۔ حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان کی اونچائی اسی سال کی ہے۔ اس کے بعد ضمیر لائے جس کا مرجع پہلے مذکور نہیں اس لیے کہ قرینہ موجود ہے۔ بستر کا ذکر آیا جس پر جنتیوں کی بیویاں ہوں گی پس ان کی طرف ضمیر پھیر دی۔ جیسے سلیمان علیہ السلام کے ذکر میں تورات کا لفظ آیا ہے اور «شمس» کا لفظ اس سے پہلے نہیں پس قرینہ کافی ہے۔ لیکن ابوعبیدہ کہتے ہیں پہلے مذکورہ ہو چکا «وَحُوْرٌ عِيْنٌ» [56-الواقعة:22]
صفحہ نمبر9195
اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی ٭٭
سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں، جہاں بیری کے درخت ہیں، لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں، دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے
ابوبکر بن سلمان نجاد رحمہ اللہ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی نے آ کر کہا: یا رسول اللہ ! قرآن میں ایک ایسے درخت کا بھی ذکر ہے جو ایذاء دیتا، آپ نے پوچھا: ”وہ کون سا“، اس نے کہا بیری کا درخت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو نے اس کے ساتھ ہی لفظ «مَخْضُود» نہیں پڑھا؟ اس کے کانٹے اللہ تعالیٰ نے دور کر دیئے ہیں اور ان کے بدلے پھل پیدا کر دیئے ہیں ہر ایک بیری میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے جن کا رنگ و مزہ مختلف ہو گا“ ۔ [مستدرک حاکم476/2صحیح]
یہ روایت دوسری کتابوں میں بھی مروی ہے اس میں لفظ «طَلْح» ہے اور ستر ذائقوں کا بیان ہے۔ [طبرانی کبیر:130/17صحیح]
«طَلْح» ایک بڑا درخت ہے جو حجاز کی سر زمین میں ہوتا ہے، یہ کانٹے دار درخت ہے اس میں کانٹے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابن جریر نے اس کی شہادت عربی کے ایک شعر سے بھی دی ہے۔
«مَنْضُود» کے معنی تہہ بہ تہہ پھل والا، پھل سے لدا ہوا۔ ان دونوں کا ذکر اس لیے ہوا کہ عرب ان درختوں کی گہری اور میٹھی چھاؤں کو پسند کرتے تھے، یہ درخت بظاہر دنیوی درخت جیسا ہو گا لیکن بجائے کانٹوں کے اس میں شیرین پھل ہوں گے۔
جوہری فرماتے ہیں «طلح» بھی کہتے ہیں اور «طلع» بھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے، تو ممکن ہے کہ یہ بھی بیری کی ہی صفت ہو، یعنی وہ بیریاں بے خار اور بکثرت پھلدار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور حضرات نے «طلح» سے مراد کیلے کا درخت کہا ہے، اہل یمن کیلے کو «طَلْح» کہتے ہیں اور اہل حجاز «موز» کہتے ہیں۔ لمبے لمبے سایوں میں یہ ہوں گے۔
صحیح بخاری میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت کے درخت کے سائے تلے تیز سوار سو سال تک چلتا رہے گا لیکن سایہ ختم نہ ہو گا۔ اگر تم چاہو اس آیت کو پڑھو“ ۔ [صحیح بخاری4881]
مسلم میں بھی یہ روایت موجود ہے اور مسند احمد، مسند ابو یعلیٰ میں بھی، مسند کی اور حدیث میں شک کے ساتھ ہے یعنی ستر یا سو اور یہ بھی ہے کہ یہ «شجرۃ الخلد» ہے۔ [مسند احمد:455/2:صحیح]
صفحہ نمبر9192
ابن جریر اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے پس یہ حدث متواتر اور قطعاً صحیح ہے اس کی اسناد بہت ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے،
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ روایت بیان کی اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے کانوں تک پہنچی، تو آپ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے تورات موسیٰ علیہ السلام پر اور قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا کہ اگر کوئی شخص نوجوان اونٹنی پر سوار ہو کر اس وقت چلتا رہے جب تک وہ بوڑھا ہو کر گر جائے تو بھی اس کی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور خود آپ اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی ہے، اس کی شاخیں جنت کی دیواروں سے باہر نکلی ہوئی ہیں، جنت کی تمام نہریں اسی درخت کی جڑ سے نکلتی ہیں۔
ابوحصین کہتے ہیں کہ ایک موضع میں ایک دروازے پر ہم تھے ہمارے ساتھ ابوصالح اور شفیق جہنی بھی تھے اور ابوصالح رحمہ اللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی اوپر کی حدیث بیان کی اور کہا: کیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جھٹلاتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، انہیں تو نہیں تجھے جھٹلاتا ہوں۔ پس یہ قاریوں پر بہت گراں گزرا۔ میں کہتا ہوں اس ثابت، صحیح اور مرفوع حدیث کو جو جھٹلائے وہ غلطی پر ہے۔ ترمذی میں ہے جنت کے ہر درخت کا تنا سونے کا ہے۔ [سنن ترمذي:2525،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر طرف سو سو سال کے راستے تک سایہ پھیلا ہوا ہے۔ جنتی لوگ اس کے نیچے آ کر بیٹھتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ کسی کو دنیوی کھیل تماشے اور دل بہلاوے یاد آتے ہیں تو اسی وقت ایک جنتی ہوا چلتی ہے اور اس درخت میں سے تمام راگ راگنیاں، باجے گاجے اور کھیل تماشوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں، یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند قوی ہے۔ عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سایہ ستر ہزار سال کی طولانی میں ہو گا۔ آپ سے مرفوع حدیث میں ایک سو سال مروی ہے یہ سایہ گھٹتا ہی نہیں، نہ سورج آئے، نہ گرمی ستائے، فجر کے طلوع ہونے سے پیشتر کا سماں ہر وقت اس کے نیچے رہتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنت میں ہمیشہ وہ وقت رہے گا جو صبح صادق کے بعد سے لے کر آفتاب کے طلوع ہونے کے درمیان درمیان رہتا ہے سایہ کے مضمون کی روایتیں بھی اس سے پہلے گزر چکی ہیں، جیسے آیت «وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا» [4-النسآء:57] اور آیت «اُكُلُهَا دَاىِٕمٌ وَّظِلُّهَا» [13-الرعد:35] اور آیت «اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ» [77-المرسلات:41] وغیرہ پانی ہو گا بہتا ہوا مگر نہروں کے گڑھے اور کھدی ہوئی زمین نہ ہو گی، اس کی پوری تفسیر آیت «فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ» [47-محمد:15] میں گزر چکی ہے۔
ان کے پاس بکثرت طرح طرح کے لذیذ میوے ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے، نہ کسی کان نے سنے، نہ کسی انسانی دل پر ان کا وہم و خیال گزرا۔ جیسے اور آیت میں ہے جب وہاں پھلوں سے روزی دیئے جائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے بھی دئیے گئے تھے کیونکہ بالکل ہم شکل ہوں گے، لیکن جب کھائیں گے تو ذائقہ اور ہی پائیں گے۔ بخاری و مسلم میں سدرۃ المنتہیٰ کے ذکر میں ہے کہ اس کے پتے مثل ہاتھی کے کانوں کے ہوں گے اور پھل مثل ہجر کے بڑے بڑے مٹکوں کے ہوں گے، [صحیح بخاری:3207]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث میں جس میں آپ نے سورج کے گرہن ہونے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سورج گرہن کی نماز ادا کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے یہ بھی ہے کہ بعد فراغت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے نمازیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو اس جگہ آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے دیکھا کیا بات تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی، جنت کے میوے کا خوشہ لینا چاہا اگر میں لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے“ ۔ [صحیح بخاری:1052-3202]
ابو یعلیٰ میں ہے ظہر کی فرض نماز پڑھاتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور ہم بھی، پھر آپ نے گویا کوئی چیز لینی چاہی، پھر پیچھے ہٹ آئے، نماز سے فارغ ہو کر سیدنا ابی کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! آج تو آپ نے ایسی بات کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے جنت لائی گئی اور جو اس میں تروتازگی اور سبزی ہے میں نے اس میں سے ایک انگور کا خوشہ توڑنا چاہا تاکہ لا کر تمہیں دوں، پس میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا اور اگر اس میں اسے تمہارے پاس لے آتا تو زمین و آسمان کے درمیان کی مخلوق اسے کھاتی رہتی تاہم اس میں ذرا سی بھی کمی نہ آتی“ ۔ اسی کے مثل سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم شریف میں بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:904]
صفحہ نمبر9193
مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کوثر کی بابت سوال کیا اور جنت کا بھی ذکر کیا پوچھا کہ کیا اس میں میوے بھی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وہاں طوبیٰ نامی درخت بھی ہے؟“ پھر کچھ کہا جو مجھے یاد نہیں، پھر پوچھا: وہ درخت ہماری زمین کے کس درخت سے مشابہت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تیرے ملک کی زمین میں کوئی درخت اس کا ہم شکل نہیں۔ کیا تو شام میں گیا ہے؟“، اس نے کہا نہیں، فرمایا: شام میں ایک درخت ہوتا ہے جسے جوزہ کہتے ہیں، ایک ہی تنا ہوتا ہے اور اوپر کا حصہ پھیلا ہوا ہوتا ہے وہ البتہ اس کے مشابہ ہے، اس نے پوچھا: جنتی خوشے کتنے بڑے ہوتے ہیں؟ فرمایا: ”کالا کوا مہینہ بھر تک اڑتا رہے اتنے بڑے۔“ وہ کہنے لگا: اس درخت کا تنا کس قدر موٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اپنی اونٹنی کے بچے کو چھوڑ دے اور وہ چلتا رہے یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر گر پڑے تب بھی اس کے تنے کا چکر پورا نہیں کر سکتا۔“ اس نے کہا: اس میں انگور بھی لگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: کتنے بڑے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ کیا کبھی تیرے باپ نے اپنے ریوڑ میں سے کوئی موٹا تازہ بکرا ذبح کر کے اس کی کھال کھینچ کر تیری ماں کو دے کر کہا ہے کہ اس کا ڈول بنا لو؟ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: ”بس اتنے ہی بڑے بڑے انگور کے دانے ہوتے ہیں۔“ اس نے کہا: پھر تو ایک ہی دانہ مجھ کو اور میرے گھر والوں کو کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”بلکہ ساری برادری کو۔“ [مسند احمد:183/4:ضعیف]
پھر یہ میوے بھی ہمیشہ رہنے والے ہیں، نہ کبھی ختم ہوں، نہ کبھی ان سے روکا جائے۔ یہ نہیں کہ جاڑے میں ہیں اور گرمیوں میں نہیں، یا گرمیوں میں ہیں اور جاڑوں میں نہیں، بلکہ یہ میوے دوام والے اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں جب طلب کریں پا لیں اللہ کی قدرت سے ہر وقت وہ موجود رہیں گے، بلکہ کسی کانٹے اور کسی شاخ کو بھی آڑ نہ ہو گی، نہ دوری ہو گی، نہ حاصل کرنے میں تکلف اور تکلیف ہو گی۔ بلکہ ادھر پھل توڑا ادھر اس کے قائم مقام دوسرا پھل لگ گیا، جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گزر چکا۔ ان کے فرش بلند و بالا نرم اور گدے راحت و آرام دینے والے ہوں گے۔
صفحہ نمبر9194
نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کی اونچائی اتنی ہو گی جتنی زمین و آسمان کی یعنی پانچ سو سال کی۔ [سنن ترمذي:3294،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مطلب اس حدیث شریف کا یہ ہے کہ فرش کی بلندی درجے کی آسمان و زمین کے برابر ہے یعنی ایک درجہ دوسرے درجے سے اس قدر بلند ہے۔ ہر دو درجوں میں پانچ سو سال کی راہ کا فاصلہ ہے، پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ روایت صرف رشد بن سعد سے مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔ یہ روایت ابن جریر، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی ہے۔ حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان کی اونچائی اسی سال کی ہے۔ اس کے بعد ضمیر لائے جس کا مرجع پہلے مذکور نہیں اس لیے کہ قرینہ موجود ہے۔ بستر کا ذکر آیا جس پر جنتیوں کی بیویاں ہوں گی پس ان کی طرف ضمیر پھیر دی۔ جیسے سلیمان علیہ السلام کے ذکر میں تورات کا لفظ آیا ہے اور «شمس» کا لفظ اس سے پہلے نہیں پس قرینہ کافی ہے۔ لیکن ابوعبیدہ کہتے ہیں پہلے مذکورہ ہو چکا «وَحُوْرٌ عِيْنٌ» [56-الواقعة:22]
صفحہ نمبر9195
اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی ٭٭
سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں، جہاں بیری کے درخت ہیں، لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں، دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے
ابوبکر بن سلمان نجاد رحمہ اللہ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی نے آ کر کہا: یا رسول اللہ ! قرآن میں ایک ایسے درخت کا بھی ذکر ہے جو ایذاء دیتا، آپ نے پوچھا: ”وہ کون سا“، اس نے کہا بیری کا درخت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو نے اس کے ساتھ ہی لفظ «مَخْضُود» نہیں پڑھا؟ اس کے کانٹے اللہ تعالیٰ نے دور کر دیئے ہیں اور ان کے بدلے پھل پیدا کر دیئے ہیں ہر ایک بیری میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے جن کا رنگ و مزہ مختلف ہو گا“ ۔ [مستدرک حاکم476/2صحیح]
یہ روایت دوسری کتابوں میں بھی مروی ہے اس میں لفظ «طَلْح» ہے اور ستر ذائقوں کا بیان ہے۔ [طبرانی کبیر:130/17صحیح]
«طَلْح» ایک بڑا درخت ہے جو حجاز کی سر زمین میں ہوتا ہے، یہ کانٹے دار درخت ہے اس میں کانٹے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابن جریر نے اس کی شہادت عربی کے ایک شعر سے بھی دی ہے۔
«مَنْضُود» کے معنی تہہ بہ تہہ پھل والا، پھل سے لدا ہوا۔ ان دونوں کا ذکر اس لیے ہوا کہ عرب ان درختوں کی گہری اور میٹھی چھاؤں کو پسند کرتے تھے، یہ درخت بظاہر دنیوی درخت جیسا ہو گا لیکن بجائے کانٹوں کے اس میں شیرین پھل ہوں گے۔
جوہری فرماتے ہیں «طلح» بھی کہتے ہیں اور «طلع» بھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے، تو ممکن ہے کہ یہ بھی بیری کی ہی صفت ہو، یعنی وہ بیریاں بے خار اور بکثرت پھلدار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور حضرات نے «طلح» سے مراد کیلے کا درخت کہا ہے، اہل یمن کیلے کو «طَلْح» کہتے ہیں اور اہل حجاز «موز» کہتے ہیں۔ لمبے لمبے سایوں میں یہ ہوں گے۔
صحیح بخاری میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت کے درخت کے سائے تلے تیز سوار سو سال تک چلتا رہے گا لیکن سایہ ختم نہ ہو گا۔ اگر تم چاہو اس آیت کو پڑھو“ ۔ [صحیح بخاری4881]
مسلم میں بھی یہ روایت موجود ہے اور مسند احمد، مسند ابو یعلیٰ میں بھی، مسند کی اور حدیث میں شک کے ساتھ ہے یعنی ستر یا سو اور یہ بھی ہے کہ یہ «شجرۃ الخلد» ہے۔ [مسند احمد:455/2:صحیح]
صفحہ نمبر9192
ابن جریر اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے پس یہ حدث متواتر اور قطعاً صحیح ہے اس کی اسناد بہت ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے،
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ روایت بیان کی اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے کانوں تک پہنچی، تو آپ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے تورات موسیٰ علیہ السلام پر اور قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا کہ اگر کوئی شخص نوجوان اونٹنی پر سوار ہو کر اس وقت چلتا رہے جب تک وہ بوڑھا ہو کر گر جائے تو بھی اس کی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور خود آپ اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی ہے، اس کی شاخیں جنت کی دیواروں سے باہر نکلی ہوئی ہیں، جنت کی تمام نہریں اسی درخت کی جڑ سے نکلتی ہیں۔
ابوحصین کہتے ہیں کہ ایک موضع میں ایک دروازے پر ہم تھے ہمارے ساتھ ابوصالح اور شفیق جہنی بھی تھے اور ابوصالح رحمہ اللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی اوپر کی حدیث بیان کی اور کہا: کیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جھٹلاتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، انہیں تو نہیں تجھے جھٹلاتا ہوں۔ پس یہ قاریوں پر بہت گراں گزرا۔ میں کہتا ہوں اس ثابت، صحیح اور مرفوع حدیث کو جو جھٹلائے وہ غلطی پر ہے۔ ترمذی میں ہے جنت کے ہر درخت کا تنا سونے کا ہے۔ [سنن ترمذي:2525،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر طرف سو سو سال کے راستے تک سایہ پھیلا ہوا ہے۔ جنتی لوگ اس کے نیچے آ کر بیٹھتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ کسی کو دنیوی کھیل تماشے اور دل بہلاوے یاد آتے ہیں تو اسی وقت ایک جنتی ہوا چلتی ہے اور اس درخت میں سے تمام راگ راگنیاں، باجے گاجے اور کھیل تماشوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں، یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند قوی ہے۔ عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سایہ ستر ہزار سال کی طولانی میں ہو گا۔ آپ سے مرفوع حدیث میں ایک سو سال مروی ہے یہ سایہ گھٹتا ہی نہیں، نہ سورج آئے، نہ گرمی ستائے، فجر کے طلوع ہونے سے پیشتر کا سماں ہر وقت اس کے نیچے رہتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنت میں ہمیشہ وہ وقت رہے گا جو صبح صادق کے بعد سے لے کر آفتاب کے طلوع ہونے کے درمیان درمیان رہتا ہے سایہ کے مضمون کی روایتیں بھی اس سے پہلے گزر چکی ہیں، جیسے آیت «وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا» [4-النسآء:57] اور آیت «اُكُلُهَا دَاىِٕمٌ وَّظِلُّهَا» [13-الرعد:35] اور آیت «اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ» [77-المرسلات:41] وغیرہ پانی ہو گا بہتا ہوا مگر نہروں کے گڑھے اور کھدی ہوئی زمین نہ ہو گی، اس کی پوری تفسیر آیت «فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ» [47-محمد:15] میں گزر چکی ہے۔
ان کے پاس بکثرت طرح طرح کے لذیذ میوے ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے، نہ کسی کان نے سنے، نہ کسی انسانی دل پر ان کا وہم و خیال گزرا۔ جیسے اور آیت میں ہے جب وہاں پھلوں سے روزی دیئے جائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے بھی دئیے گئے تھے کیونکہ بالکل ہم شکل ہوں گے، لیکن جب کھائیں گے تو ذائقہ اور ہی پائیں گے۔ بخاری و مسلم میں سدرۃ المنتہیٰ کے ذکر میں ہے کہ اس کے پتے مثل ہاتھی کے کانوں کے ہوں گے اور پھل مثل ہجر کے بڑے بڑے مٹکوں کے ہوں گے، [صحیح بخاری:3207]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث میں جس میں آپ نے سورج کے گرہن ہونے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سورج گرہن کی نماز ادا کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے یہ بھی ہے کہ بعد فراغت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے نمازیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو اس جگہ آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے دیکھا کیا بات تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی، جنت کے میوے کا خوشہ لینا چاہا اگر میں لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے“ ۔ [صحیح بخاری:1052-3202]
ابو یعلیٰ میں ہے ظہر کی فرض نماز پڑھاتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور ہم بھی، پھر آپ نے گویا کوئی چیز لینی چاہی، پھر پیچھے ہٹ آئے، نماز سے فارغ ہو کر سیدنا ابی کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! آج تو آپ نے ایسی بات کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے جنت لائی گئی اور جو اس میں تروتازگی اور سبزی ہے میں نے اس میں سے ایک انگور کا خوشہ توڑنا چاہا تاکہ لا کر تمہیں دوں، پس میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا اور اگر اس میں اسے تمہارے پاس لے آتا تو زمین و آسمان کے درمیان کی مخلوق اسے کھاتی رہتی تاہم اس میں ذرا سی بھی کمی نہ آتی“ ۔ اسی کے مثل سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم شریف میں بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:904]
صفحہ نمبر9193
مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کوثر کی بابت سوال کیا اور جنت کا بھی ذکر کیا پوچھا کہ کیا اس میں میوے بھی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وہاں طوبیٰ نامی درخت بھی ہے؟“ پھر کچھ کہا جو مجھے یاد نہیں، پھر پوچھا: وہ درخت ہماری زمین کے کس درخت سے مشابہت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تیرے ملک کی زمین میں کوئی درخت اس کا ہم شکل نہیں۔ کیا تو شام میں گیا ہے؟“، اس نے کہا نہیں، فرمایا: شام میں ایک درخت ہوتا ہے جسے جوزہ کہتے ہیں، ایک ہی تنا ہوتا ہے اور اوپر کا حصہ پھیلا ہوا ہوتا ہے وہ البتہ اس کے مشابہ ہے، اس نے پوچھا: جنتی خوشے کتنے بڑے ہوتے ہیں؟ فرمایا: ”کالا کوا مہینہ بھر تک اڑتا رہے اتنے بڑے۔“ وہ کہنے لگا: اس درخت کا تنا کس قدر موٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اپنی اونٹنی کے بچے کو چھوڑ دے اور وہ چلتا رہے یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر گر پڑے تب بھی اس کے تنے کا چکر پورا نہیں کر سکتا۔“ اس نے کہا: اس میں انگور بھی لگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: کتنے بڑے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ کیا کبھی تیرے باپ نے اپنے ریوڑ میں سے کوئی موٹا تازہ بکرا ذبح کر کے اس کی کھال کھینچ کر تیری ماں کو دے کر کہا ہے کہ اس کا ڈول بنا لو؟ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: ”بس اتنے ہی بڑے بڑے انگور کے دانے ہوتے ہیں۔“ اس نے کہا: پھر تو ایک ہی دانہ مجھ کو اور میرے گھر والوں کو کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”بلکہ ساری برادری کو۔“ [مسند احمد:183/4:ضعیف]
پھر یہ میوے بھی ہمیشہ رہنے والے ہیں، نہ کبھی ختم ہوں، نہ کبھی ان سے روکا جائے۔ یہ نہیں کہ جاڑے میں ہیں اور گرمیوں میں نہیں، یا گرمیوں میں ہیں اور جاڑوں میں نہیں، بلکہ یہ میوے دوام والے اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں جب طلب کریں پا لیں اللہ کی قدرت سے ہر وقت وہ موجود رہیں گے، بلکہ کسی کانٹے اور کسی شاخ کو بھی آڑ نہ ہو گی، نہ دوری ہو گی، نہ حاصل کرنے میں تکلف اور تکلیف ہو گی۔ بلکہ ادھر پھل توڑا ادھر اس کے قائم مقام دوسرا پھل لگ گیا، جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گزر چکا۔ ان کے فرش بلند و بالا نرم اور گدے راحت و آرام دینے والے ہوں گے۔
صفحہ نمبر9194
نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کی اونچائی اتنی ہو گی جتنی زمین و آسمان کی یعنی پانچ سو سال کی۔ [سنن ترمذي:3294،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مطلب اس حدیث شریف کا یہ ہے کہ فرش کی بلندی درجے کی آسمان و زمین کے برابر ہے یعنی ایک درجہ دوسرے درجے سے اس قدر بلند ہے۔ ہر دو درجوں میں پانچ سو سال کی راہ کا فاصلہ ہے، پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ روایت صرف رشد بن سعد سے مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔ یہ روایت ابن جریر، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی ہے۔ حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان کی اونچائی اسی سال کی ہے۔ اس کے بعد ضمیر لائے جس کا مرجع پہلے مذکور نہیں اس لیے کہ قرینہ موجود ہے۔ بستر کا ذکر آیا جس پر جنتیوں کی بیویاں ہوں گی پس ان کی طرف ضمیر پھیر دی۔ جیسے سلیمان علیہ السلام کے ذکر میں تورات کا لفظ آیا ہے اور «شمس» کا لفظ اس سے پہلے نہیں پس قرینہ کافی ہے۔ لیکن ابوعبیدہ کہتے ہیں پہلے مذکورہ ہو چکا «وَحُوْرٌ عِيْنٌ» [56-الواقعة:22]
صفحہ نمبر9195
اہل جنت کی بیویوں کا حسن و جمال ٭٭
پس فرماتا ہے کہ ہم نے ان بیویوں کو نئی پیدائش میں پیدا کیا ہے، اس کے بعد کہ وہ بلکل پھوس بڑھیا تھیں ہم نے انہیں نوعمر کنواریاں کر کے ایک خاص پیدائش میں پیدا کیا۔ وہ اپنے ظرافت و ملاحت، حسن و صورت و جسامت سے خوش خلقی اور حلاوت کی وجہ سے اپنے خاوندوں کی بڑی پیاریاں ہیں۔ بعض کہتے ہیں «عرباء» کہتے ہیں ناز و کرشمہ والیوں کو۔
حدیث میں ہے کہ یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں بڑھیا تھیں اور اب جنت میں گئی ہیں تو انہیں نوعمر وغیرہ کر دیا ہے ۔ [سنن ترمذي:3296،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ خواہ یہ عورتیں کنواری تھیں یا ثیبہ تھیں اللہ ان سب کو ایسی کر دے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:3393:ضعیف]
ایک بڑھیا عورت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہتی ہے کہ یا رسول اللہ ! میرے لیے دعا کیجیئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام فلاں! جنت میں کوئی بڑھیا نہیں جائے گی، وہ روتی ہوئی واپس لوٹیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، انہیں سمجھا دو“، مطلب یہ ہے کہ جب وہ جنت میں جائیں گی، بڑھیا نہ ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم انہیں نئی پیدائش میں پیدا کریں گے پھر باکرہ کر دیں گے شمائل ترمذی وغیرہ۔ [شمائل ترمذی:240ضعیف]
طبرانی میں ہے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کہا: یا رسول اللہ ! حورعین کی خبر مجھے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”وہ گورے رنگ کی ہیں، بڑی بڑی آنکھوں والی ہیں، سخت سیاہ اور بڑے بڑے بالوں والی ہیں جیسے گدھ کا پر۔“ میں نے کہا «اللُّؤْلُـہ الْمَكْنُوْنِ» [56-الواقعة:23] کی بابت خبر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دن کی صفائی اور جوت مثل اس موتی کے ہے جو سیپ سے ابھی ابھی نکلا ہو جسے کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو“، میں نے کہا «خَيراتٌ حِسانٌ» [33-الأحزاب:70] کی کیا تفسیر ہے؟ فرمایا: ”خوش خلق خوبصورت“ میں نے کہا «كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ» [37-الصافات:49] سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ان کی نزاکت اور نرمی انڈے کی اس جھلی کی مانند ہو گی جو اندر ہوتی ہے“، میں نے «عُرُبًا أَترابًا» [56-الواقعة:37] کے معنی دریافت کئے، فرمایا: ”اس سے مراد دنیا کی مسلمان جنتی عورتیں ہیں جو بالکل بڑھیا پھوس تھیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں نئے سرے سے پیدا کیا اور کنواریاں اور خاوندوں کی چہیتیاں اور خاوندوں سے عشق رکھنے والیاں اور ہم عمر بنا دیں“، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! دنیا کی عورتیں افضل ہیں یا حورعین؟ فرمایا: ”دنیا کی عورتیں حورعین سے بہت افضل ہیں، جیسے استر سے ابرا ہوتا ہے“، میں نے کہا: اس فضیلت کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: ”نمازیں، روزے اور اللہ تعالیٰ کی عبادتیں، اللہ نے ان کے چہرے نور سے، ان کے جسم ریشم سے سنوار دیئے ہیں، سفید ریشم، سبز ریشم اور زرد سنہرے ریشم اور زرد سنہرے زیور بخوردان موتی کے کنگھیاں سونے کی یہ کہتی رہیں گی۔ «نحن الخالدات فلا نموت ابدا» *** «ونحن الناعمات فلا نباس ابدا» *** «ونحن المقیمات فلانطعن ابدا» *** «ونحن الراضیات فلا نسخط ابدا» *** «طوبی لمن کنا لہ وکان لنا» یعنی ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی مریں گی نہیں، ہم ناز اور نعمت والیاں ہیں کہ کبھی سفر میں نہیں جائیں گی ہم اپنے خاوندوں سے خوش رہنے والیاں ہیں کہ کبھی روٹھیں گی نہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے لیے ہم ہیں اور خوش نصیب ہیں ہم کہ ان کے لیے ہیں۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! بعض عورتوں کے دو دو تین تین چار چار خاوند ہو جاتے ہیں اس کے بعد اسے موت آتی ہے مرنے کے بعد اگر یہ جنت میں گئی اور اس کے سب خاوند بھی گئے تو یہ کسے ملے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس کے ساتھ چاہے رہے“، چنانچہ یہ ان میں سے اسے پسند کرے گی جو اس کے ساتھ بہترین برتاؤ کرتا رہا ہو، اللہ تعالیٰ سے کہے گی، پروردگار! یہ مجھ سے بہت اچھی بودوباش رکھتا تھا اسی کے نکاح میں مجھے دے“، اے ام سلمہ! حسن خلق دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کو لیے ہوئے ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33402:ضعیف]
صفحہ نمبر9203
«صور» کی مشہور مطول حدیث میں ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں کو جنت میں لے جانے کی سفارش کریں گے جس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے آپ کی شفاعت قبول کی اور آپ کو انہیں جنت میں پہنچانے کی اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر میں انہیں جنت میں لے جاؤں گا، اللہ کی قسم! تم جس قدر اپنے گھربار اور اپنی بیویوں سے واقف ہو اس سے بہت زیادہ اہل جنت اپنے گھروں اور بیویوں سے واقف ہوں گے۔ پس ایک ایک جنتی کی بہتّر بہتّر بیویاں ہوں گی جو اللہ کی بنائی ہوئی ہیں اور دو دو بیویاں عورتوں میں سے ہوں گی کہ انہیں بوجہ اپنی عبادت کے ان سب عورتوں پر فضیلت حاصل ہو گی جنتی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا، یہ اس بالاخانے میں ہو گی، جو یاقوت کا بنا ہوا ہو گا، اس پلنگ پر ہو گی جو سونے کی تاروں سے بنا ہوا ہو گا اور جڑاؤ جڑا ہوا ہو گا، ستر جوڑے پہنے ہوئے ہوں گے جو سب باریک اور سبز چمکیلے خالص ریشم کے ہوں گے، یہ بیوی اس قدر نازک نورانی ہو گی کہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر سینے کی طرف سے دیکھے گا تو صاف نظر آ جائے گا، کہ کپڑے گوشت ہڈی کوئی چیز روک نہ ہو گی اس قدر اس کا جسم صاف اور آئینہ نما ہو گا جس طرح مروارید میں سوراخ کر کے ڈورا ڈال دیں تو وہ ڈورا باہر سے نظر آتا ہے اسی طرح اس کی پنڈلی کا گودا نظر آئے گا۔ ایسا ہی نورانی بدن اس جنتی کا بھی ہو گا، الغرض یہ اس کا آئینہ ہو گی، اور وہ اس کا یہ اس کے ساتھ عیش و عشرت میں مشغول ہو گا، نہ یہ تھکے، نہ وہ اس کا دل بھرے، نہ اس کا، جب کبھی نزدیکی کرے گا تو کنواری پائے گا، نہ اس کا عضو سست ہو، نہ اسے گراں گزرے مگر خاص پانی وہاں نہ ہو گا جس سے گھن آئے، یہ یونہی مشغول ہو گا جو کان میں ندا آئے گی کہ یہ تو ہمیں خوب معلوم ہے کہ نہ آپ کا دل ان سے بھرے گا نہ ان کا آپ سے مگر آپ کی دوسری بیویاں بھی ہیں، اب یہ یہاں سے باہر آئے گا اور ایک ایک کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا اسے دیکھ کر بےساختہ اس کے منہ سے نکل جائے گا کہ رب کی قسم تجھ سے بہتر جنت میں کوئی چیز نہیں نہ میری محبت کسی سے تجھ سے زیادہ ہے۔ «بیھقی فی البعث والنشور669:ضعیف»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ! کیا جنت میں جنتی لوگ جماع بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے خوب اچھی طرح، بہترین طریق پر جب الگ ہو گا وہ اسی وقت پھر پاک صاف اچھوتی باکرہ بن جائے گی۔“ «حسن»
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مومن کو جنت میں اتنی اتنی عورتوں کے پاس جانے کی قوت عطا کی جائے گی، سیدنا انس رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا اتنی طاقت رکھے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سو آدمیوں کے برابر اسے قوت ملے گی۔“ [سنن ترمذي:2536،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر9204
طبرانی کی حدیث میں ہے ایک سو کنواریوں کے پاس ایک ایک دن میں ہو آئے گا۔ [طبرانی اوسط:5236:ضعیف] حافظ عبداللہ مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ حدیث شرط صحیح پر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما «عربا» کی تفسیر میں فرماتے ہیں یہ اپنے خاوندوں کی محبوبہ ہوں گی، یہ اپنے خاوندوں کی عاشق اور خاوند ان کے عاشق۔
عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس کا معنی ناز و کرشمہ والی ہے اور سند سے مروی ہے کہ معنی نزاکت والی ہے، تمیم بن حدلم کہتے ہیں «عربا» اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خاوند کا دل مٹھی میں رکھے۔
زید بن اسلم رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد خوش کلام ہے اپنی باتوں سے اپنے خاوندوں کا دل مول لیتی ہیں جب کچھ بولیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ پھول جھڑتے ہیں اور نور برستا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ انہیں عرب اس لیے کہا گیا ہے کہ ان کی بول چال عربی زبان میں ہو گی۔ «ضعیف و منقطع»
«اتراب» کے معنی ہیں ہم عمر یعنی تینتیس برس کی اور معنی ہیں کہ خاوند کی اور ان کی طبیعت اور خلق بالکل یکساں ہے جس سے وہ خوش یہ خوش جو اسے ناپسند اسے بھی ناپسند۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ آپس میں ان میں بیر، بغض، سوتیا، ڈاہ، حسد اور رشک نہ ہو گا۔ یہ سب آپس میں بھی ہم عمر ہوں گی تاکہ بےتکلف ایک دوسری سے ملیں جلیں، کھیلیں کودیں۔
ترمذی کی حدیث میں ہے کہ یہ جنتی حوریں ایک روح افزا باغ میں جمع ہو کر نہایت پیارے گلے سے گانا گائیں گی کہ ایسی سریلی اور رسیلی آواز مخلوق نے کبھی نہ سنی ہو گی۔ [سنن ترمذي:2564،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ان کا گانا وہی ہو گا جو اوپر بیان ہوا ابو یعلیٰ میں ہے ان کے گانے میں یہ بھی ہو گا «نحن خیرات حسان» *** «خبئنا لازواج کرام» ہم پاک صاف خوش وضع خوبصورت عورتیں ہیں جو بزرگ اور ذی عزت شوہروں کے لیے چھپا کر رکھی گئی تھیں۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:280/2]
اور روایت میں «خیرات» کے بدلے «جوار» کا لفظ آیا ہے۔ پھر فرمایا یہ اصحاب یمین کے لیے پیدا کی گئی ہیں اور انہی کے لیے محفوظ و مصؤن رکھی گئی تھیں۔ لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ یہ متعلق ہے «اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاءً» [56-الواقعة:35] کے یعنی ہم نے انہیں ان کے لیے پیدا کیا ہے۔
صفحہ نمبر9205
ابوسلیمان دارانی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں نے ایک رات تہجد کی نماز کے بعد دعا مانگنی شروع کی، چونکہ سخت سردی تھی، بڑے زور کا پالا پڑ رہا تھا، ہاتھ اٹھائے نہیں جاتے تھے اس لیے میں نے ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگی اور اسی حالت میں دعا مانگتے مانگتے مجھے نیند آ گئی خواب میں میں نے ایک حور کو دیکھا کہ اس جیسی خوبصورت نورانی شکل کبھی میری نگاہ سے نہیں گزری اس نے مجھ سے کہا: اے ابوسلیمان! ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگنے لگے اور یہ خیال نہیں کہ پانچ سو سال سے اللہ تعالیٰ مجھے تمہارے لیے اپنی خاص نعمتوں میں پرورش کر رہا ہے۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ «لام» متعلق «اَترَاباً» کے ہو یعنی ان کی ہم عمر ہوں گی جیسے کہ بخاری مسلم وغیرہ کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودہویں رات جیسے روشن ہوں گے ان کے بعد والی جماعت کے بہت چمکدار ستارے جیسے روشن ہوں گے۔ یہ پاخانے، پیشاب، تھوک، رینٹ سے پاک ہوں گے ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ان کے پسینے مشک کی خوشبو والے ہوں گے ان کی انگیٹھیاں لؤلؤ کی ہوں گی ان کی بیویاں حورعین ہوں گی ان سب کے اخلاق مثل ایک ہی شخص کے ہوں گے، یہ سب اپنے باپ آدم علیہ السلام کی شکل پر ساٹھ ہاتھ کے لمبے قد کے ہوں گے ۔ [صحیح بخاری:3327]
صفحہ نمبر9206
طبرانی میں ہے اہل جنت بےبال اور بےریش، گورے رنگ والے، خوش خلق اور خوبصورت سرمگیں آنکھوں والے تینتیس برس کی عمر کے، سات ہاتھ لمبے اور سات ہاتھ چوڑے چکلے مضبوط بدن والے ہوں گے۔ [مسند احمد:295/2:حسن]
اس کا کچھ حصہ ترمذی میں بھی مروی ہے۔ [سنن ترمذي:2545،قال الشيخ الألباني:حسن] اور حدیث میں ہے کہ گو کسی عمر میں انتقال ہوا ہو دخول جنت کے وقت تینتیس سالہ عمر کے ہوں گے اور اسی عمر میں ہمیشہ رہیں گے، اسی طرح جہنمی بھی [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن]
اور روایت میں ہے کہ ان کے قد سات ہاتھ فرشتے کے ہاتھ کے اعتبار سے ہوں گے قد آدم علیہ السلام، حسن یوسف علیہ السلام، عمر عیسیٰ علیہ السلام یعنی تینتیس سال اور زبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم یعنی عربی والے ہوں گے، بےبال اور سرمگیں آنکھوں والے [ابن ابی الدنیا:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ دخول جنت کے ساتھ ہی انہیں ایک جنتی درخت کے پاس لایا جائے گا اور وہاں انہیں کپڑے پہنائے جائیں گے ان کے کپڑے نہ گلیں، نہ سڑیں، نہ پرانے ہوں، نہ میلے ہوں ان کی جوانی نہ ڈھلے، نہ جائے، نہ فنا ہو۔ [ابونعیم فی صفةالجنة:255ضعیف]
اصحاب یمین گزشتہ امتوں میں سے بھی بہت ہیں اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے بیان فرمایا میرے سامنے انبیاء مع اپنے تابعدار امتیوں کے پیش ہوئے بعض نبی گزرتے تھے اور بعض نبی کے ساتھ ایک جماعت ہوتی تھی اور بعض نبی کے ساتھ صرف تین آدمی ہوتے تھے اور بعض کے ساتھ ایک بھی نہ تھا راوی حدیث قتادہ رحمہ اللہ نے اتنا بیان فرمایا کہ یہ آیت پڑھی «اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ» [11-ھود:78] کیا تم میں سے ایک بھی رشد و سمجھ والا نہیں؟ یہاں تک کہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام گزرے جو بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت ساتھ لیے ہوئے تھے، میں نے پوچھا: ”پروردگار یہ کون ہیں؟“ جواب ملا یہ تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ ان کی تابعداری کرنے والی امت ہے، میں نے پوچھا: ”الٰہی پھر میری امت کہاں ہے؟“ فرمایا: اپنی داہنی جانب نیچے کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو بہت بڑی جماعت نظر آئی لوگوں کے بکثرت چہرے دمک رہے تھے، پھر مجھ سے پوچھا: کہو اب تو خوش ہو، میں نے کہا: ”ہاں الٰہی میں خوش ہوں“، مجھ سے فرمایا: اب اپنی بائیں جانب کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا وہ وہاں بےشمار لوگ تھے پھر مجھ سے پوچھا اب تو راضی ہو گئے؟ میں نے کہا: ”ہاں میرے رب میں راضی ہوں“، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور سنو ان کے ساتھ ستر ہزار اور لوگ ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے یہ سن کر سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، یہ قبیلہ بنو اسد سے محصن کے لڑکے تھے بدر کی لڑائی میں موجود تھے عرض کی کہ یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالٰی مجھے بھی انہی میں سے کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی پھر ایک اور شخص کھڑے ہوئے اور کہا اے اللہ کے رسول! میرے لیے بھی دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تجھ پر سبقت کر گئے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں اگر تم سے ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے بنو، جو بے حساب جنت میں جائیں گے، ورنہ کم سے کم دائیں جانب والوں میں سے ہو جاؤ گے، یہ بھی نہ ہو سکے تو کنارے والوں میں سے بن جاؤ، میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ اپنے حال میں ہی لٹک جاتے ہیں۔“ پھر فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ تمام اہل جنت کی چوتھائی تعداد صرف تمہاری ہی ہو گی۔“ پس ہم نے تکبیر کہی پھر فرمایا: ”بلکہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت کی تہائی والے ہو گے۔“ ہم نے پھر تکبیر کہی۔ فرمایا: ”اور سنو! تم آدھوں آدھ اہل جنت کے ہو گے“، ہم نے پھر تکبیر کہی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39،40] کی تلاوت کی۔ اب ہم میں آپس میں مذاکرہ شروع ہو گیا کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے؟ پھر ہم نے کہا وہ لوگ جو اسلام میں پیدا ہوئے اور شرک کیا ہی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگواتے اور جھاڑ پھونک نہیں کرواتے اور فال نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں“ ۔ [مسند احمد:401/1:صحیح]
یہ حدیث بہت سی سندوں سے صحابہ رضی اللہ عنہم کی روایت سے بہت سی کتابوں میں صحت کے ساتھ مروی ہے۔
صفحہ نمبر9207
ابن جریر میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آیت میں پہلوں پچھلوں سے مراد میری امت کے اگلے پچھلے ہی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:646/11:ضعیف]
صفحہ نمبر9208
اہل جنت کی بیویوں کا حسن و جمال ٭٭
پس فرماتا ہے کہ ہم نے ان بیویوں کو نئی پیدائش میں پیدا کیا ہے، اس کے بعد کہ وہ بلکل پھوس بڑھیا تھیں ہم نے انہیں نوعمر کنواریاں کر کے ایک خاص پیدائش میں پیدا کیا۔ وہ اپنے ظرافت و ملاحت، حسن و صورت و جسامت سے خوش خلقی اور حلاوت کی وجہ سے اپنے خاوندوں کی بڑی پیاریاں ہیں۔ بعض کہتے ہیں «عرباء» کہتے ہیں ناز و کرشمہ والیوں کو۔
حدیث میں ہے کہ یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں بڑھیا تھیں اور اب جنت میں گئی ہیں تو انہیں نوعمر وغیرہ کر دیا ہے ۔ [سنن ترمذي:3296،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ خواہ یہ عورتیں کنواری تھیں یا ثیبہ تھیں اللہ ان سب کو ایسی کر دے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:3393:ضعیف]
ایک بڑھیا عورت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہتی ہے کہ یا رسول اللہ ! میرے لیے دعا کیجیئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام فلاں! جنت میں کوئی بڑھیا نہیں جائے گی، وہ روتی ہوئی واپس لوٹیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، انہیں سمجھا دو“، مطلب یہ ہے کہ جب وہ جنت میں جائیں گی، بڑھیا نہ ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم انہیں نئی پیدائش میں پیدا کریں گے پھر باکرہ کر دیں گے شمائل ترمذی وغیرہ۔ [شمائل ترمذی:240ضعیف]
طبرانی میں ہے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کہا: یا رسول اللہ ! حورعین کی خبر مجھے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”وہ گورے رنگ کی ہیں، بڑی بڑی آنکھوں والی ہیں، سخت سیاہ اور بڑے بڑے بالوں والی ہیں جیسے گدھ کا پر۔“ میں نے کہا «اللُّؤْلُـہ الْمَكْنُوْنِ» [56-الواقعة:23] کی بابت خبر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دن کی صفائی اور جوت مثل اس موتی کے ہے جو سیپ سے ابھی ابھی نکلا ہو جسے کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو“، میں نے کہا «خَيراتٌ حِسانٌ» [33-الأحزاب:70] کی کیا تفسیر ہے؟ فرمایا: ”خوش خلق خوبصورت“ میں نے کہا «كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ» [37-الصافات:49] سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ان کی نزاکت اور نرمی انڈے کی اس جھلی کی مانند ہو گی جو اندر ہوتی ہے“، میں نے «عُرُبًا أَترابًا» [56-الواقعة:37] کے معنی دریافت کئے، فرمایا: ”اس سے مراد دنیا کی مسلمان جنتی عورتیں ہیں جو بالکل بڑھیا پھوس تھیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں نئے سرے سے پیدا کیا اور کنواریاں اور خاوندوں کی چہیتیاں اور خاوندوں سے عشق رکھنے والیاں اور ہم عمر بنا دیں“، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! دنیا کی عورتیں افضل ہیں یا حورعین؟ فرمایا: ”دنیا کی عورتیں حورعین سے بہت افضل ہیں، جیسے استر سے ابرا ہوتا ہے“، میں نے کہا: اس فضیلت کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: ”نمازیں، روزے اور اللہ تعالیٰ کی عبادتیں، اللہ نے ان کے چہرے نور سے، ان کے جسم ریشم سے سنوار دیئے ہیں، سفید ریشم، سبز ریشم اور زرد سنہرے ریشم اور زرد سنہرے زیور بخوردان موتی کے کنگھیاں سونے کی یہ کہتی رہیں گی۔ «نحن الخالدات فلا نموت ابدا» *** «ونحن الناعمات فلا نباس ابدا» *** «ونحن المقیمات فلانطعن ابدا» *** «ونحن الراضیات فلا نسخط ابدا» *** «طوبی لمن کنا لہ وکان لنا» یعنی ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی مریں گی نہیں، ہم ناز اور نعمت والیاں ہیں کہ کبھی سفر میں نہیں جائیں گی ہم اپنے خاوندوں سے خوش رہنے والیاں ہیں کہ کبھی روٹھیں گی نہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے لیے ہم ہیں اور خوش نصیب ہیں ہم کہ ان کے لیے ہیں۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! بعض عورتوں کے دو دو تین تین چار چار خاوند ہو جاتے ہیں اس کے بعد اسے موت آتی ہے مرنے کے بعد اگر یہ جنت میں گئی اور اس کے سب خاوند بھی گئے تو یہ کسے ملے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس کے ساتھ چاہے رہے“، چنانچہ یہ ان میں سے اسے پسند کرے گی جو اس کے ساتھ بہترین برتاؤ کرتا رہا ہو، اللہ تعالیٰ سے کہے گی، پروردگار! یہ مجھ سے بہت اچھی بودوباش رکھتا تھا اسی کے نکاح میں مجھے دے“، اے ام سلمہ! حسن خلق دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کو لیے ہوئے ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33402:ضعیف]
صفحہ نمبر9203
«صور» کی مشہور مطول حدیث میں ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں کو جنت میں لے جانے کی سفارش کریں گے جس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے آپ کی شفاعت قبول کی اور آپ کو انہیں جنت میں پہنچانے کی اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر میں انہیں جنت میں لے جاؤں گا، اللہ کی قسم! تم جس قدر اپنے گھربار اور اپنی بیویوں سے واقف ہو اس سے بہت زیادہ اہل جنت اپنے گھروں اور بیویوں سے واقف ہوں گے۔ پس ایک ایک جنتی کی بہتّر بہتّر بیویاں ہوں گی جو اللہ کی بنائی ہوئی ہیں اور دو دو بیویاں عورتوں میں سے ہوں گی کہ انہیں بوجہ اپنی عبادت کے ان سب عورتوں پر فضیلت حاصل ہو گی جنتی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا، یہ اس بالاخانے میں ہو گی، جو یاقوت کا بنا ہوا ہو گا، اس پلنگ پر ہو گی جو سونے کی تاروں سے بنا ہوا ہو گا اور جڑاؤ جڑا ہوا ہو گا، ستر جوڑے پہنے ہوئے ہوں گے جو سب باریک اور سبز چمکیلے خالص ریشم کے ہوں گے، یہ بیوی اس قدر نازک نورانی ہو گی کہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر سینے کی طرف سے دیکھے گا تو صاف نظر آ جائے گا، کہ کپڑے گوشت ہڈی کوئی چیز روک نہ ہو گی اس قدر اس کا جسم صاف اور آئینہ نما ہو گا جس طرح مروارید میں سوراخ کر کے ڈورا ڈال دیں تو وہ ڈورا باہر سے نظر آتا ہے اسی طرح اس کی پنڈلی کا گودا نظر آئے گا۔ ایسا ہی نورانی بدن اس جنتی کا بھی ہو گا، الغرض یہ اس کا آئینہ ہو گی، اور وہ اس کا یہ اس کے ساتھ عیش و عشرت میں مشغول ہو گا، نہ یہ تھکے، نہ وہ اس کا دل بھرے، نہ اس کا، جب کبھی نزدیکی کرے گا تو کنواری پائے گا، نہ اس کا عضو سست ہو، نہ اسے گراں گزرے مگر خاص پانی وہاں نہ ہو گا جس سے گھن آئے، یہ یونہی مشغول ہو گا جو کان میں ندا آئے گی کہ یہ تو ہمیں خوب معلوم ہے کہ نہ آپ کا دل ان سے بھرے گا نہ ان کا آپ سے مگر آپ کی دوسری بیویاں بھی ہیں، اب یہ یہاں سے باہر آئے گا اور ایک ایک کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا اسے دیکھ کر بےساختہ اس کے منہ سے نکل جائے گا کہ رب کی قسم تجھ سے بہتر جنت میں کوئی چیز نہیں نہ میری محبت کسی سے تجھ سے زیادہ ہے۔ «بیھقی فی البعث والنشور669:ضعیف»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ! کیا جنت میں جنتی لوگ جماع بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے خوب اچھی طرح، بہترین طریق پر جب الگ ہو گا وہ اسی وقت پھر پاک صاف اچھوتی باکرہ بن جائے گی۔“ «حسن»
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مومن کو جنت میں اتنی اتنی عورتوں کے پاس جانے کی قوت عطا کی جائے گی، سیدنا انس رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا اتنی طاقت رکھے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سو آدمیوں کے برابر اسے قوت ملے گی۔“ [سنن ترمذي:2536،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر9204
طبرانی کی حدیث میں ہے ایک سو کنواریوں کے پاس ایک ایک دن میں ہو آئے گا۔ [طبرانی اوسط:5236:ضعیف] حافظ عبداللہ مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ حدیث شرط صحیح پر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما «عربا» کی تفسیر میں فرماتے ہیں یہ اپنے خاوندوں کی محبوبہ ہوں گی، یہ اپنے خاوندوں کی عاشق اور خاوند ان کے عاشق۔
عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس کا معنی ناز و کرشمہ والی ہے اور سند سے مروی ہے کہ معنی نزاکت والی ہے، تمیم بن حدلم کہتے ہیں «عربا» اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خاوند کا دل مٹھی میں رکھے۔
زید بن اسلم رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد خوش کلام ہے اپنی باتوں سے اپنے خاوندوں کا دل مول لیتی ہیں جب کچھ بولیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ پھول جھڑتے ہیں اور نور برستا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ انہیں عرب اس لیے کہا گیا ہے کہ ان کی بول چال عربی زبان میں ہو گی۔ «ضعیف و منقطع»
«اتراب» کے معنی ہیں ہم عمر یعنی تینتیس برس کی اور معنی ہیں کہ خاوند کی اور ان کی طبیعت اور خلق بالکل یکساں ہے جس سے وہ خوش یہ خوش جو اسے ناپسند اسے بھی ناپسند۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ آپس میں ان میں بیر، بغض، سوتیا، ڈاہ، حسد اور رشک نہ ہو گا۔ یہ سب آپس میں بھی ہم عمر ہوں گی تاکہ بےتکلف ایک دوسری سے ملیں جلیں، کھیلیں کودیں۔
ترمذی کی حدیث میں ہے کہ یہ جنتی حوریں ایک روح افزا باغ میں جمع ہو کر نہایت پیارے گلے سے گانا گائیں گی کہ ایسی سریلی اور رسیلی آواز مخلوق نے کبھی نہ سنی ہو گی۔ [سنن ترمذي:2564،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ان کا گانا وہی ہو گا جو اوپر بیان ہوا ابو یعلیٰ میں ہے ان کے گانے میں یہ بھی ہو گا «نحن خیرات حسان» *** «خبئنا لازواج کرام» ہم پاک صاف خوش وضع خوبصورت عورتیں ہیں جو بزرگ اور ذی عزت شوہروں کے لیے چھپا کر رکھی گئی تھیں۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:280/2]
اور روایت میں «خیرات» کے بدلے «جوار» کا لفظ آیا ہے۔ پھر فرمایا یہ اصحاب یمین کے لیے پیدا کی گئی ہیں اور انہی کے لیے محفوظ و مصؤن رکھی گئی تھیں۔ لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ یہ متعلق ہے «اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاءً» [56-الواقعة:35] کے یعنی ہم نے انہیں ان کے لیے پیدا کیا ہے۔
صفحہ نمبر9205
ابوسلیمان دارانی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں نے ایک رات تہجد کی نماز کے بعد دعا مانگنی شروع کی، چونکہ سخت سردی تھی، بڑے زور کا پالا پڑ رہا تھا، ہاتھ اٹھائے نہیں جاتے تھے اس لیے میں نے ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگی اور اسی حالت میں دعا مانگتے مانگتے مجھے نیند آ گئی خواب میں میں نے ایک حور کو دیکھا کہ اس جیسی خوبصورت نورانی شکل کبھی میری نگاہ سے نہیں گزری اس نے مجھ سے کہا: اے ابوسلیمان! ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگنے لگے اور یہ خیال نہیں کہ پانچ سو سال سے اللہ تعالیٰ مجھے تمہارے لیے اپنی خاص نعمتوں میں پرورش کر رہا ہے۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ «لام» متعلق «اَترَاباً» کے ہو یعنی ان کی ہم عمر ہوں گی جیسے کہ بخاری مسلم وغیرہ کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودہویں رات جیسے روشن ہوں گے ان کے بعد والی جماعت کے بہت چمکدار ستارے جیسے روشن ہوں گے۔ یہ پاخانے، پیشاب، تھوک، رینٹ سے پاک ہوں گے ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ان کے پسینے مشک کی خوشبو والے ہوں گے ان کی انگیٹھیاں لؤلؤ کی ہوں گی ان کی بیویاں حورعین ہوں گی ان سب کے اخلاق مثل ایک ہی شخص کے ہوں گے، یہ سب اپنے باپ آدم علیہ السلام کی شکل پر ساٹھ ہاتھ کے لمبے قد کے ہوں گے ۔ [صحیح بخاری:3327]
صفحہ نمبر9206
طبرانی میں ہے اہل جنت بےبال اور بےریش، گورے رنگ والے، خوش خلق اور خوبصورت سرمگیں آنکھوں والے تینتیس برس کی عمر کے، سات ہاتھ لمبے اور سات ہاتھ چوڑے چکلے مضبوط بدن والے ہوں گے۔ [مسند احمد:295/2:حسن]
اس کا کچھ حصہ ترمذی میں بھی مروی ہے۔ [سنن ترمذي:2545،قال الشيخ الألباني:حسن] اور حدیث میں ہے کہ گو کسی عمر میں انتقال ہوا ہو دخول جنت کے وقت تینتیس سالہ عمر کے ہوں گے اور اسی عمر میں ہمیشہ رہیں گے، اسی طرح جہنمی بھی [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن]
اور روایت میں ہے کہ ان کے قد سات ہاتھ فرشتے کے ہاتھ کے اعتبار سے ہوں گے قد آدم علیہ السلام، حسن یوسف علیہ السلام، عمر عیسیٰ علیہ السلام یعنی تینتیس سال اور زبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم یعنی عربی والے ہوں گے، بےبال اور سرمگیں آنکھوں والے [ابن ابی الدنیا:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ دخول جنت کے ساتھ ہی انہیں ایک جنتی درخت کے پاس لایا جائے گا اور وہاں انہیں کپڑے پہنائے جائیں گے ان کے کپڑے نہ گلیں، نہ سڑیں، نہ پرانے ہوں، نہ میلے ہوں ان کی جوانی نہ ڈھلے، نہ جائے، نہ فنا ہو۔ [ابونعیم فی صفةالجنة:255ضعیف]
اصحاب یمین گزشتہ امتوں میں سے بھی بہت ہیں اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے بیان فرمایا میرے سامنے انبیاء مع اپنے تابعدار امتیوں کے پیش ہوئے بعض نبی گزرتے تھے اور بعض نبی کے ساتھ ایک جماعت ہوتی تھی اور بعض نبی کے ساتھ صرف تین آدمی ہوتے تھے اور بعض کے ساتھ ایک بھی نہ تھا راوی حدیث قتادہ رحمہ اللہ نے اتنا بیان فرمایا کہ یہ آیت پڑھی «اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ» [11-ھود:78] کیا تم میں سے ایک بھی رشد و سمجھ والا نہیں؟ یہاں تک کہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام گزرے جو بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت ساتھ لیے ہوئے تھے، میں نے پوچھا: ”پروردگار یہ کون ہیں؟“ جواب ملا یہ تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ ان کی تابعداری کرنے والی امت ہے، میں نے پوچھا: ”الٰہی پھر میری امت کہاں ہے؟“ فرمایا: اپنی داہنی جانب نیچے کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو بہت بڑی جماعت نظر آئی لوگوں کے بکثرت چہرے دمک رہے تھے، پھر مجھ سے پوچھا: کہو اب تو خوش ہو، میں نے کہا: ”ہاں الٰہی میں خوش ہوں“، مجھ سے فرمایا: اب اپنی بائیں جانب کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا وہ وہاں بےشمار لوگ تھے پھر مجھ سے پوچھا اب تو راضی ہو گئے؟ میں نے کہا: ”ہاں میرے رب میں راضی ہوں“، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور سنو ان کے ساتھ ستر ہزار اور لوگ ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے یہ سن کر سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، یہ قبیلہ بنو اسد سے محصن کے لڑکے تھے بدر کی لڑائی میں موجود تھے عرض کی کہ یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالٰی مجھے بھی انہی میں سے کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی پھر ایک اور شخص کھڑے ہوئے اور کہا اے اللہ کے رسول! میرے لیے بھی دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تجھ پر سبقت کر گئے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں اگر تم سے ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے بنو، جو بے حساب جنت میں جائیں گے، ورنہ کم سے کم دائیں جانب والوں میں سے ہو جاؤ گے، یہ بھی نہ ہو سکے تو کنارے والوں میں سے بن جاؤ، میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ اپنے حال میں ہی لٹک جاتے ہیں۔“ پھر فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ تمام اہل جنت کی چوتھائی تعداد صرف تمہاری ہی ہو گی۔“ پس ہم نے تکبیر کہی پھر فرمایا: ”بلکہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت کی تہائی والے ہو گے۔“ ہم نے پھر تکبیر کہی۔ فرمایا: ”اور سنو! تم آدھوں آدھ اہل جنت کے ہو گے“، ہم نے پھر تکبیر کہی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39،40] کی تلاوت کی۔ اب ہم میں آپس میں مذاکرہ شروع ہو گیا کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے؟ پھر ہم نے کہا وہ لوگ جو اسلام میں پیدا ہوئے اور شرک کیا ہی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگواتے اور جھاڑ پھونک نہیں کرواتے اور فال نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں“ ۔ [مسند احمد:401/1:صحیح]
یہ حدیث بہت سی سندوں سے صحابہ رضی اللہ عنہم کی روایت سے بہت سی کتابوں میں صحت کے ساتھ مروی ہے۔
صفحہ نمبر9207
ابن جریر میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آیت میں پہلوں پچھلوں سے مراد میری امت کے اگلے پچھلے ہی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:646/11:ضعیف]
صفحہ نمبر9208
اہل جنت کی بیویوں کا حسن و جمال ٭٭
پس فرماتا ہے کہ ہم نے ان بیویوں کو نئی پیدائش میں پیدا کیا ہے، اس کے بعد کہ وہ بلکل پھوس بڑھیا تھیں ہم نے انہیں نوعمر کنواریاں کر کے ایک خاص پیدائش میں پیدا کیا۔ وہ اپنے ظرافت و ملاحت، حسن و صورت و جسامت سے خوش خلقی اور حلاوت کی وجہ سے اپنے خاوندوں کی بڑی پیاریاں ہیں۔ بعض کہتے ہیں «عرباء» کہتے ہیں ناز و کرشمہ والیوں کو۔
حدیث میں ہے کہ یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں بڑھیا تھیں اور اب جنت میں گئی ہیں تو انہیں نوعمر وغیرہ کر دیا ہے ۔ [سنن ترمذي:3296،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ خواہ یہ عورتیں کنواری تھیں یا ثیبہ تھیں اللہ ان سب کو ایسی کر دے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:3393:ضعیف]
ایک بڑھیا عورت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہتی ہے کہ یا رسول اللہ ! میرے لیے دعا کیجیئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام فلاں! جنت میں کوئی بڑھیا نہیں جائے گی، وہ روتی ہوئی واپس لوٹیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، انہیں سمجھا دو“، مطلب یہ ہے کہ جب وہ جنت میں جائیں گی، بڑھیا نہ ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم انہیں نئی پیدائش میں پیدا کریں گے پھر باکرہ کر دیں گے شمائل ترمذی وغیرہ۔ [شمائل ترمذی:240ضعیف]
طبرانی میں ہے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کہا: یا رسول اللہ ! حورعین کی خبر مجھے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”وہ گورے رنگ کی ہیں، بڑی بڑی آنکھوں والی ہیں، سخت سیاہ اور بڑے بڑے بالوں والی ہیں جیسے گدھ کا پر۔“ میں نے کہا «اللُّؤْلُـہ الْمَكْنُوْنِ» [56-الواقعة:23] کی بابت خبر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دن کی صفائی اور جوت مثل اس موتی کے ہے جو سیپ سے ابھی ابھی نکلا ہو جسے کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو“، میں نے کہا «خَيراتٌ حِسانٌ» [33-الأحزاب:70] کی کیا تفسیر ہے؟ فرمایا: ”خوش خلق خوبصورت“ میں نے کہا «كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ» [37-الصافات:49] سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ان کی نزاکت اور نرمی انڈے کی اس جھلی کی مانند ہو گی جو اندر ہوتی ہے“، میں نے «عُرُبًا أَترابًا» [56-الواقعة:37] کے معنی دریافت کئے، فرمایا: ”اس سے مراد دنیا کی مسلمان جنتی عورتیں ہیں جو بالکل بڑھیا پھوس تھیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں نئے سرے سے پیدا کیا اور کنواریاں اور خاوندوں کی چہیتیاں اور خاوندوں سے عشق رکھنے والیاں اور ہم عمر بنا دیں“، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! دنیا کی عورتیں افضل ہیں یا حورعین؟ فرمایا: ”دنیا کی عورتیں حورعین سے بہت افضل ہیں، جیسے استر سے ابرا ہوتا ہے“، میں نے کہا: اس فضیلت کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: ”نمازیں، روزے اور اللہ تعالیٰ کی عبادتیں، اللہ نے ان کے چہرے نور سے، ان کے جسم ریشم سے سنوار دیئے ہیں، سفید ریشم، سبز ریشم اور زرد سنہرے ریشم اور زرد سنہرے زیور بخوردان موتی کے کنگھیاں سونے کی یہ کہتی رہیں گی۔ «نحن الخالدات فلا نموت ابدا» *** «ونحن الناعمات فلا نباس ابدا» *** «ونحن المقیمات فلانطعن ابدا» *** «ونحن الراضیات فلا نسخط ابدا» *** «طوبی لمن کنا لہ وکان لنا» یعنی ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی مریں گی نہیں، ہم ناز اور نعمت والیاں ہیں کہ کبھی سفر میں نہیں جائیں گی ہم اپنے خاوندوں سے خوش رہنے والیاں ہیں کہ کبھی روٹھیں گی نہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے لیے ہم ہیں اور خوش نصیب ہیں ہم کہ ان کے لیے ہیں۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! بعض عورتوں کے دو دو تین تین چار چار خاوند ہو جاتے ہیں اس کے بعد اسے موت آتی ہے مرنے کے بعد اگر یہ جنت میں گئی اور اس کے سب خاوند بھی گئے تو یہ کسے ملے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس کے ساتھ چاہے رہے“، چنانچہ یہ ان میں سے اسے پسند کرے گی جو اس کے ساتھ بہترین برتاؤ کرتا رہا ہو، اللہ تعالیٰ سے کہے گی، پروردگار! یہ مجھ سے بہت اچھی بودوباش رکھتا تھا اسی کے نکاح میں مجھے دے“، اے ام سلمہ! حسن خلق دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کو لیے ہوئے ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33402:ضعیف]
صفحہ نمبر9203
«صور» کی مشہور مطول حدیث میں ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں کو جنت میں لے جانے کی سفارش کریں گے جس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے آپ کی شفاعت قبول کی اور آپ کو انہیں جنت میں پہنچانے کی اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر میں انہیں جنت میں لے جاؤں گا، اللہ کی قسم! تم جس قدر اپنے گھربار اور اپنی بیویوں سے واقف ہو اس سے بہت زیادہ اہل جنت اپنے گھروں اور بیویوں سے واقف ہوں گے۔ پس ایک ایک جنتی کی بہتّر بہتّر بیویاں ہوں گی جو اللہ کی بنائی ہوئی ہیں اور دو دو بیویاں عورتوں میں سے ہوں گی کہ انہیں بوجہ اپنی عبادت کے ان سب عورتوں پر فضیلت حاصل ہو گی جنتی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا، یہ اس بالاخانے میں ہو گی، جو یاقوت کا بنا ہوا ہو گا، اس پلنگ پر ہو گی جو سونے کی تاروں سے بنا ہوا ہو گا اور جڑاؤ جڑا ہوا ہو گا، ستر جوڑے پہنے ہوئے ہوں گے جو سب باریک اور سبز چمکیلے خالص ریشم کے ہوں گے، یہ بیوی اس قدر نازک نورانی ہو گی کہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر سینے کی طرف سے دیکھے گا تو صاف نظر آ جائے گا، کہ کپڑے گوشت ہڈی کوئی چیز روک نہ ہو گی اس قدر اس کا جسم صاف اور آئینہ نما ہو گا جس طرح مروارید میں سوراخ کر کے ڈورا ڈال دیں تو وہ ڈورا باہر سے نظر آتا ہے اسی طرح اس کی پنڈلی کا گودا نظر آئے گا۔ ایسا ہی نورانی بدن اس جنتی کا بھی ہو گا، الغرض یہ اس کا آئینہ ہو گی، اور وہ اس کا یہ اس کے ساتھ عیش و عشرت میں مشغول ہو گا، نہ یہ تھکے، نہ وہ اس کا دل بھرے، نہ اس کا، جب کبھی نزدیکی کرے گا تو کنواری پائے گا، نہ اس کا عضو سست ہو، نہ اسے گراں گزرے مگر خاص پانی وہاں نہ ہو گا جس سے گھن آئے، یہ یونہی مشغول ہو گا جو کان میں ندا آئے گی کہ یہ تو ہمیں خوب معلوم ہے کہ نہ آپ کا دل ان سے بھرے گا نہ ان کا آپ سے مگر آپ کی دوسری بیویاں بھی ہیں، اب یہ یہاں سے باہر آئے گا اور ایک ایک کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا اسے دیکھ کر بےساختہ اس کے منہ سے نکل جائے گا کہ رب کی قسم تجھ سے بہتر جنت میں کوئی چیز نہیں نہ میری محبت کسی سے تجھ سے زیادہ ہے۔ «بیھقی فی البعث والنشور669:ضعیف»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ! کیا جنت میں جنتی لوگ جماع بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے خوب اچھی طرح، بہترین طریق پر جب الگ ہو گا وہ اسی وقت پھر پاک صاف اچھوتی باکرہ بن جائے گی۔“ «حسن»
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مومن کو جنت میں اتنی اتنی عورتوں کے پاس جانے کی قوت عطا کی جائے گی، سیدنا انس رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا اتنی طاقت رکھے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سو آدمیوں کے برابر اسے قوت ملے گی۔“ [سنن ترمذي:2536،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر9204
طبرانی کی حدیث میں ہے ایک سو کنواریوں کے پاس ایک ایک دن میں ہو آئے گا۔ [طبرانی اوسط:5236:ضعیف] حافظ عبداللہ مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ حدیث شرط صحیح پر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما «عربا» کی تفسیر میں فرماتے ہیں یہ اپنے خاوندوں کی محبوبہ ہوں گی، یہ اپنے خاوندوں کی عاشق اور خاوند ان کے عاشق۔
عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس کا معنی ناز و کرشمہ والی ہے اور سند سے مروی ہے کہ معنی نزاکت والی ہے، تمیم بن حدلم کہتے ہیں «عربا» اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خاوند کا دل مٹھی میں رکھے۔
زید بن اسلم رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد خوش کلام ہے اپنی باتوں سے اپنے خاوندوں کا دل مول لیتی ہیں جب کچھ بولیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ پھول جھڑتے ہیں اور نور برستا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ انہیں عرب اس لیے کہا گیا ہے کہ ان کی بول چال عربی زبان میں ہو گی۔ «ضعیف و منقطع»
«اتراب» کے معنی ہیں ہم عمر یعنی تینتیس برس کی اور معنی ہیں کہ خاوند کی اور ان کی طبیعت اور خلق بالکل یکساں ہے جس سے وہ خوش یہ خوش جو اسے ناپسند اسے بھی ناپسند۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ آپس میں ان میں بیر، بغض، سوتیا، ڈاہ، حسد اور رشک نہ ہو گا۔ یہ سب آپس میں بھی ہم عمر ہوں گی تاکہ بےتکلف ایک دوسری سے ملیں جلیں، کھیلیں کودیں۔
ترمذی کی حدیث میں ہے کہ یہ جنتی حوریں ایک روح افزا باغ میں جمع ہو کر نہایت پیارے گلے سے گانا گائیں گی کہ ایسی سریلی اور رسیلی آواز مخلوق نے کبھی نہ سنی ہو گی۔ [سنن ترمذي:2564،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ان کا گانا وہی ہو گا جو اوپر بیان ہوا ابو یعلیٰ میں ہے ان کے گانے میں یہ بھی ہو گا «نحن خیرات حسان» *** «خبئنا لازواج کرام» ہم پاک صاف خوش وضع خوبصورت عورتیں ہیں جو بزرگ اور ذی عزت شوہروں کے لیے چھپا کر رکھی گئی تھیں۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:280/2]
اور روایت میں «خیرات» کے بدلے «جوار» کا لفظ آیا ہے۔ پھر فرمایا یہ اصحاب یمین کے لیے پیدا کی گئی ہیں اور انہی کے لیے محفوظ و مصؤن رکھی گئی تھیں۔ لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ یہ متعلق ہے «اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاءً» [56-الواقعة:35] کے یعنی ہم نے انہیں ان کے لیے پیدا کیا ہے۔
صفحہ نمبر9205
ابوسلیمان دارانی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں نے ایک رات تہجد کی نماز کے بعد دعا مانگنی شروع کی، چونکہ سخت سردی تھی، بڑے زور کا پالا پڑ رہا تھا، ہاتھ اٹھائے نہیں جاتے تھے اس لیے میں نے ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگی اور اسی حالت میں دعا مانگتے مانگتے مجھے نیند آ گئی خواب میں میں نے ایک حور کو دیکھا کہ اس جیسی خوبصورت نورانی شکل کبھی میری نگاہ سے نہیں گزری اس نے مجھ سے کہا: اے ابوسلیمان! ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگنے لگے اور یہ خیال نہیں کہ پانچ سو سال سے اللہ تعالیٰ مجھے تمہارے لیے اپنی خاص نعمتوں میں پرورش کر رہا ہے۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ «لام» متعلق «اَترَاباً» کے ہو یعنی ان کی ہم عمر ہوں گی جیسے کہ بخاری مسلم وغیرہ کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودہویں رات جیسے روشن ہوں گے ان کے بعد والی جماعت کے بہت چمکدار ستارے جیسے روشن ہوں گے۔ یہ پاخانے، پیشاب، تھوک، رینٹ سے پاک ہوں گے ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ان کے پسینے مشک کی خوشبو والے ہوں گے ان کی انگیٹھیاں لؤلؤ کی ہوں گی ان کی بیویاں حورعین ہوں گی ان سب کے اخلاق مثل ایک ہی شخص کے ہوں گے، یہ سب اپنے باپ آدم علیہ السلام کی شکل پر ساٹھ ہاتھ کے لمبے قد کے ہوں گے ۔ [صحیح بخاری:3327]
صفحہ نمبر9206
طبرانی میں ہے اہل جنت بےبال اور بےریش، گورے رنگ والے، خوش خلق اور خوبصورت سرمگیں آنکھوں والے تینتیس برس کی عمر کے، سات ہاتھ لمبے اور سات ہاتھ چوڑے چکلے مضبوط بدن والے ہوں گے۔ [مسند احمد:295/2:حسن]
اس کا کچھ حصہ ترمذی میں بھی مروی ہے۔ [سنن ترمذي:2545،قال الشيخ الألباني:حسن] اور حدیث میں ہے کہ گو کسی عمر میں انتقال ہوا ہو دخول جنت کے وقت تینتیس سالہ عمر کے ہوں گے اور اسی عمر میں ہمیشہ رہیں گے، اسی طرح جہنمی بھی [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن]
اور روایت میں ہے کہ ان کے قد سات ہاتھ فرشتے کے ہاتھ کے اعتبار سے ہوں گے قد آدم علیہ السلام، حسن یوسف علیہ السلام، عمر عیسیٰ علیہ السلام یعنی تینتیس سال اور زبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم یعنی عربی والے ہوں گے، بےبال اور سرمگیں آنکھوں والے [ابن ابی الدنیا:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ دخول جنت کے ساتھ ہی انہیں ایک جنتی درخت کے پاس لایا جائے گا اور وہاں انہیں کپڑے پہنائے جائیں گے ان کے کپڑے نہ گلیں، نہ سڑیں، نہ پرانے ہوں، نہ میلے ہوں ان کی جوانی نہ ڈھلے، نہ جائے، نہ فنا ہو۔ [ابونعیم فی صفةالجنة:255ضعیف]
اصحاب یمین گزشتہ امتوں میں سے بھی بہت ہیں اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے بیان فرمایا میرے سامنے انبیاء مع اپنے تابعدار امتیوں کے پیش ہوئے بعض نبی گزرتے تھے اور بعض نبی کے ساتھ ایک جماعت ہوتی تھی اور بعض نبی کے ساتھ صرف تین آدمی ہوتے تھے اور بعض کے ساتھ ایک بھی نہ تھا راوی حدیث قتادہ رحمہ اللہ نے اتنا بیان فرمایا کہ یہ آیت پڑھی «اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ» [11-ھود:78] کیا تم میں سے ایک بھی رشد و سمجھ والا نہیں؟ یہاں تک کہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام گزرے جو بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت ساتھ لیے ہوئے تھے، میں نے پوچھا: ”پروردگار یہ کون ہیں؟“ جواب ملا یہ تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ ان کی تابعداری کرنے والی امت ہے، میں نے پوچھا: ”الٰہی پھر میری امت کہاں ہے؟“ فرمایا: اپنی داہنی جانب نیچے کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو بہت بڑی جماعت نظر آئی لوگوں کے بکثرت چہرے دمک رہے تھے، پھر مجھ سے پوچھا: کہو اب تو خوش ہو، میں نے کہا: ”ہاں الٰہی میں خوش ہوں“، مجھ سے فرمایا: اب اپنی بائیں جانب کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا وہ وہاں بےشمار لوگ تھے پھر مجھ سے پوچھا اب تو راضی ہو گئے؟ میں نے کہا: ”ہاں میرے رب میں راضی ہوں“، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور سنو ان کے ساتھ ستر ہزار اور لوگ ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے یہ سن کر سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، یہ قبیلہ بنو اسد سے محصن کے لڑکے تھے بدر کی لڑائی میں موجود تھے عرض کی کہ یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالٰی مجھے بھی انہی میں سے کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی پھر ایک اور شخص کھڑے ہوئے اور کہا اے اللہ کے رسول! میرے لیے بھی دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تجھ پر سبقت کر گئے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں اگر تم سے ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے بنو، جو بے حساب جنت میں جائیں گے، ورنہ کم سے کم دائیں جانب والوں میں سے ہو جاؤ گے، یہ بھی نہ ہو سکے تو کنارے والوں میں سے بن جاؤ، میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ اپنے حال میں ہی لٹک جاتے ہیں۔“ پھر فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ تمام اہل جنت کی چوتھائی تعداد صرف تمہاری ہی ہو گی۔“ پس ہم نے تکبیر کہی پھر فرمایا: ”بلکہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت کی تہائی والے ہو گے۔“ ہم نے پھر تکبیر کہی۔ فرمایا: ”اور سنو! تم آدھوں آدھ اہل جنت کے ہو گے“، ہم نے پھر تکبیر کہی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39،40] کی تلاوت کی۔ اب ہم میں آپس میں مذاکرہ شروع ہو گیا کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے؟ پھر ہم نے کہا وہ لوگ جو اسلام میں پیدا ہوئے اور شرک کیا ہی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگواتے اور جھاڑ پھونک نہیں کرواتے اور فال نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں“ ۔ [مسند احمد:401/1:صحیح]
یہ حدیث بہت سی سندوں سے صحابہ رضی اللہ عنہم کی روایت سے بہت سی کتابوں میں صحت کے ساتھ مروی ہے۔
صفحہ نمبر9207
ابن جریر میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آیت میں پہلوں پچھلوں سے مراد میری امت کے اگلے پچھلے ہی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:646/11:ضعیف]
صفحہ نمبر9208
اہل جنت کی بیویوں کا حسن و جمال ٭٭
پس فرماتا ہے کہ ہم نے ان بیویوں کو نئی پیدائش میں پیدا کیا ہے، اس کے بعد کہ وہ بلکل پھوس بڑھیا تھیں ہم نے انہیں نوعمر کنواریاں کر کے ایک خاص پیدائش میں پیدا کیا۔ وہ اپنے ظرافت و ملاحت، حسن و صورت و جسامت سے خوش خلقی اور حلاوت کی وجہ سے اپنے خاوندوں کی بڑی پیاریاں ہیں۔ بعض کہتے ہیں «عرباء» کہتے ہیں ناز و کرشمہ والیوں کو۔
حدیث میں ہے کہ یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں بڑھیا تھیں اور اب جنت میں گئی ہیں تو انہیں نوعمر وغیرہ کر دیا ہے ۔ [سنن ترمذي:3296،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ خواہ یہ عورتیں کنواری تھیں یا ثیبہ تھیں اللہ ان سب کو ایسی کر دے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:3393:ضعیف]
ایک بڑھیا عورت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہتی ہے کہ یا رسول اللہ ! میرے لیے دعا کیجیئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام فلاں! جنت میں کوئی بڑھیا نہیں جائے گی، وہ روتی ہوئی واپس لوٹیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، انہیں سمجھا دو“، مطلب یہ ہے کہ جب وہ جنت میں جائیں گی، بڑھیا نہ ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم انہیں نئی پیدائش میں پیدا کریں گے پھر باکرہ کر دیں گے شمائل ترمذی وغیرہ۔ [شمائل ترمذی:240ضعیف]
طبرانی میں ہے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کہا: یا رسول اللہ ! حورعین کی خبر مجھے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”وہ گورے رنگ کی ہیں، بڑی بڑی آنکھوں والی ہیں، سخت سیاہ اور بڑے بڑے بالوں والی ہیں جیسے گدھ کا پر۔“ میں نے کہا «اللُّؤْلُـہ الْمَكْنُوْنِ» [56-الواقعة:23] کی بابت خبر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دن کی صفائی اور جوت مثل اس موتی کے ہے جو سیپ سے ابھی ابھی نکلا ہو جسے کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو“، میں نے کہا «خَيراتٌ حِسانٌ» [33-الأحزاب:70] کی کیا تفسیر ہے؟ فرمایا: ”خوش خلق خوبصورت“ میں نے کہا «كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ» [37-الصافات:49] سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ان کی نزاکت اور نرمی انڈے کی اس جھلی کی مانند ہو گی جو اندر ہوتی ہے“، میں نے «عُرُبًا أَترابًا» [56-الواقعة:37] کے معنی دریافت کئے، فرمایا: ”اس سے مراد دنیا کی مسلمان جنتی عورتیں ہیں جو بالکل بڑھیا پھوس تھیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں نئے سرے سے پیدا کیا اور کنواریاں اور خاوندوں کی چہیتیاں اور خاوندوں سے عشق رکھنے والیاں اور ہم عمر بنا دیں“، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! دنیا کی عورتیں افضل ہیں یا حورعین؟ فرمایا: ”دنیا کی عورتیں حورعین سے بہت افضل ہیں، جیسے استر سے ابرا ہوتا ہے“، میں نے کہا: اس فضیلت کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: ”نمازیں، روزے اور اللہ تعالیٰ کی عبادتیں، اللہ نے ان کے چہرے نور سے، ان کے جسم ریشم سے سنوار دیئے ہیں، سفید ریشم، سبز ریشم اور زرد سنہرے ریشم اور زرد سنہرے زیور بخوردان موتی کے کنگھیاں سونے کی یہ کہتی رہیں گی۔ «نحن الخالدات فلا نموت ابدا» *** «ونحن الناعمات فلا نباس ابدا» *** «ونحن المقیمات فلانطعن ابدا» *** «ونحن الراضیات فلا نسخط ابدا» *** «طوبی لمن کنا لہ وکان لنا» یعنی ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی مریں گی نہیں، ہم ناز اور نعمت والیاں ہیں کہ کبھی سفر میں نہیں جائیں گی ہم اپنے خاوندوں سے خوش رہنے والیاں ہیں کہ کبھی روٹھیں گی نہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے لیے ہم ہیں اور خوش نصیب ہیں ہم کہ ان کے لیے ہیں۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! بعض عورتوں کے دو دو تین تین چار چار خاوند ہو جاتے ہیں اس کے بعد اسے موت آتی ہے مرنے کے بعد اگر یہ جنت میں گئی اور اس کے سب خاوند بھی گئے تو یہ کسے ملے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس کے ساتھ چاہے رہے“، چنانچہ یہ ان میں سے اسے پسند کرے گی جو اس کے ساتھ بہترین برتاؤ کرتا رہا ہو، اللہ تعالیٰ سے کہے گی، پروردگار! یہ مجھ سے بہت اچھی بودوباش رکھتا تھا اسی کے نکاح میں مجھے دے“، اے ام سلمہ! حسن خلق دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کو لیے ہوئے ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33402:ضعیف]
صفحہ نمبر9203
«صور» کی مشہور مطول حدیث میں ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں کو جنت میں لے جانے کی سفارش کریں گے جس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے آپ کی شفاعت قبول کی اور آپ کو انہیں جنت میں پہنچانے کی اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر میں انہیں جنت میں لے جاؤں گا، اللہ کی قسم! تم جس قدر اپنے گھربار اور اپنی بیویوں سے واقف ہو اس سے بہت زیادہ اہل جنت اپنے گھروں اور بیویوں سے واقف ہوں گے۔ پس ایک ایک جنتی کی بہتّر بہتّر بیویاں ہوں گی جو اللہ کی بنائی ہوئی ہیں اور دو دو بیویاں عورتوں میں سے ہوں گی کہ انہیں بوجہ اپنی عبادت کے ان سب عورتوں پر فضیلت حاصل ہو گی جنتی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا، یہ اس بالاخانے میں ہو گی، جو یاقوت کا بنا ہوا ہو گا، اس پلنگ پر ہو گی جو سونے کی تاروں سے بنا ہوا ہو گا اور جڑاؤ جڑا ہوا ہو گا، ستر جوڑے پہنے ہوئے ہوں گے جو سب باریک اور سبز چمکیلے خالص ریشم کے ہوں گے، یہ بیوی اس قدر نازک نورانی ہو گی کہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر سینے کی طرف سے دیکھے گا تو صاف نظر آ جائے گا، کہ کپڑے گوشت ہڈی کوئی چیز روک نہ ہو گی اس قدر اس کا جسم صاف اور آئینہ نما ہو گا جس طرح مروارید میں سوراخ کر کے ڈورا ڈال دیں تو وہ ڈورا باہر سے نظر آتا ہے اسی طرح اس کی پنڈلی کا گودا نظر آئے گا۔ ایسا ہی نورانی بدن اس جنتی کا بھی ہو گا، الغرض یہ اس کا آئینہ ہو گی، اور وہ اس کا یہ اس کے ساتھ عیش و عشرت میں مشغول ہو گا، نہ یہ تھکے، نہ وہ اس کا دل بھرے، نہ اس کا، جب کبھی نزدیکی کرے گا تو کنواری پائے گا، نہ اس کا عضو سست ہو، نہ اسے گراں گزرے مگر خاص پانی وہاں نہ ہو گا جس سے گھن آئے، یہ یونہی مشغول ہو گا جو کان میں ندا آئے گی کہ یہ تو ہمیں خوب معلوم ہے کہ نہ آپ کا دل ان سے بھرے گا نہ ان کا آپ سے مگر آپ کی دوسری بیویاں بھی ہیں، اب یہ یہاں سے باہر آئے گا اور ایک ایک کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا اسے دیکھ کر بےساختہ اس کے منہ سے نکل جائے گا کہ رب کی قسم تجھ سے بہتر جنت میں کوئی چیز نہیں نہ میری محبت کسی سے تجھ سے زیادہ ہے۔ «بیھقی فی البعث والنشور669:ضعیف»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ! کیا جنت میں جنتی لوگ جماع بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے خوب اچھی طرح، بہترین طریق پر جب الگ ہو گا وہ اسی وقت پھر پاک صاف اچھوتی باکرہ بن جائے گی۔“ «حسن»
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مومن کو جنت میں اتنی اتنی عورتوں کے پاس جانے کی قوت عطا کی جائے گی، سیدنا انس رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا اتنی طاقت رکھے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سو آدمیوں کے برابر اسے قوت ملے گی۔“ [سنن ترمذي:2536،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر9204
طبرانی کی حدیث میں ہے ایک سو کنواریوں کے پاس ایک ایک دن میں ہو آئے گا۔ [طبرانی اوسط:5236:ضعیف] حافظ عبداللہ مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ حدیث شرط صحیح پر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما «عربا» کی تفسیر میں فرماتے ہیں یہ اپنے خاوندوں کی محبوبہ ہوں گی، یہ اپنے خاوندوں کی عاشق اور خاوند ان کے عاشق۔
عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس کا معنی ناز و کرشمہ والی ہے اور سند سے مروی ہے کہ معنی نزاکت والی ہے، تمیم بن حدلم کہتے ہیں «عربا» اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خاوند کا دل مٹھی میں رکھے۔
زید بن اسلم رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد خوش کلام ہے اپنی باتوں سے اپنے خاوندوں کا دل مول لیتی ہیں جب کچھ بولیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ پھول جھڑتے ہیں اور نور برستا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ انہیں عرب اس لیے کہا گیا ہے کہ ان کی بول چال عربی زبان میں ہو گی۔ «ضعیف و منقطع»
«اتراب» کے معنی ہیں ہم عمر یعنی تینتیس برس کی اور معنی ہیں کہ خاوند کی اور ان کی طبیعت اور خلق بالکل یکساں ہے جس سے وہ خوش یہ خوش جو اسے ناپسند اسے بھی ناپسند۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ آپس میں ان میں بیر، بغض، سوتیا، ڈاہ، حسد اور رشک نہ ہو گا۔ یہ سب آپس میں بھی ہم عمر ہوں گی تاکہ بےتکلف ایک دوسری سے ملیں جلیں، کھیلیں کودیں۔
ترمذی کی حدیث میں ہے کہ یہ جنتی حوریں ایک روح افزا باغ میں جمع ہو کر نہایت پیارے گلے سے گانا گائیں گی کہ ایسی سریلی اور رسیلی آواز مخلوق نے کبھی نہ سنی ہو گی۔ [سنن ترمذي:2564،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ان کا گانا وہی ہو گا جو اوپر بیان ہوا ابو یعلیٰ میں ہے ان کے گانے میں یہ بھی ہو گا «نحن خیرات حسان» *** «خبئنا لازواج کرام» ہم پاک صاف خوش وضع خوبصورت عورتیں ہیں جو بزرگ اور ذی عزت شوہروں کے لیے چھپا کر رکھی گئی تھیں۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:280/2]
اور روایت میں «خیرات» کے بدلے «جوار» کا لفظ آیا ہے۔ پھر فرمایا یہ اصحاب یمین کے لیے پیدا کی گئی ہیں اور انہی کے لیے محفوظ و مصؤن رکھی گئی تھیں۔ لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ یہ متعلق ہے «اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاءً» [56-الواقعة:35] کے یعنی ہم نے انہیں ان کے لیے پیدا کیا ہے۔
صفحہ نمبر9205
ابوسلیمان دارانی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں نے ایک رات تہجد کی نماز کے بعد دعا مانگنی شروع کی، چونکہ سخت سردی تھی، بڑے زور کا پالا پڑ رہا تھا، ہاتھ اٹھائے نہیں جاتے تھے اس لیے میں نے ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگی اور اسی حالت میں دعا مانگتے مانگتے مجھے نیند آ گئی خواب میں میں نے ایک حور کو دیکھا کہ اس جیسی خوبصورت نورانی شکل کبھی میری نگاہ سے نہیں گزری اس نے مجھ سے کہا: اے ابوسلیمان! ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگنے لگے اور یہ خیال نہیں کہ پانچ سو سال سے اللہ تعالیٰ مجھے تمہارے لیے اپنی خاص نعمتوں میں پرورش کر رہا ہے۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ «لام» متعلق «اَترَاباً» کے ہو یعنی ان کی ہم عمر ہوں گی جیسے کہ بخاری مسلم وغیرہ کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودہویں رات جیسے روشن ہوں گے ان کے بعد والی جماعت کے بہت چمکدار ستارے جیسے روشن ہوں گے۔ یہ پاخانے، پیشاب، تھوک، رینٹ سے پاک ہوں گے ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ان کے پسینے مشک کی خوشبو والے ہوں گے ان کی انگیٹھیاں لؤلؤ کی ہوں گی ان کی بیویاں حورعین ہوں گی ان سب کے اخلاق مثل ایک ہی شخص کے ہوں گے، یہ سب اپنے باپ آدم علیہ السلام کی شکل پر ساٹھ ہاتھ کے لمبے قد کے ہوں گے ۔ [صحیح بخاری:3327]
صفحہ نمبر9206
طبرانی میں ہے اہل جنت بےبال اور بےریش، گورے رنگ والے، خوش خلق اور خوبصورت سرمگیں آنکھوں والے تینتیس برس کی عمر کے، سات ہاتھ لمبے اور سات ہاتھ چوڑے چکلے مضبوط بدن والے ہوں گے۔ [مسند احمد:295/2:حسن]
اس کا کچھ حصہ ترمذی میں بھی مروی ہے۔ [سنن ترمذي:2545،قال الشيخ الألباني:حسن] اور حدیث میں ہے کہ گو کسی عمر میں انتقال ہوا ہو دخول جنت کے وقت تینتیس سالہ عمر کے ہوں گے اور اسی عمر میں ہمیشہ رہیں گے، اسی طرح جہنمی بھی [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن]
اور روایت میں ہے کہ ان کے قد سات ہاتھ فرشتے کے ہاتھ کے اعتبار سے ہوں گے قد آدم علیہ السلام، حسن یوسف علیہ السلام، عمر عیسیٰ علیہ السلام یعنی تینتیس سال اور زبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم یعنی عربی والے ہوں گے، بےبال اور سرمگیں آنکھوں والے [ابن ابی الدنیا:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ دخول جنت کے ساتھ ہی انہیں ایک جنتی درخت کے پاس لایا جائے گا اور وہاں انہیں کپڑے پہنائے جائیں گے ان کے کپڑے نہ گلیں، نہ سڑیں، نہ پرانے ہوں، نہ میلے ہوں ان کی جوانی نہ ڈھلے، نہ جائے، نہ فنا ہو۔ [ابونعیم فی صفةالجنة:255ضعیف]
اصحاب یمین گزشتہ امتوں میں سے بھی بہت ہیں اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے بیان فرمایا میرے سامنے انبیاء مع اپنے تابعدار امتیوں کے پیش ہوئے بعض نبی گزرتے تھے اور بعض نبی کے ساتھ ایک جماعت ہوتی تھی اور بعض نبی کے ساتھ صرف تین آدمی ہوتے تھے اور بعض کے ساتھ ایک بھی نہ تھا راوی حدیث قتادہ رحمہ اللہ نے اتنا بیان فرمایا کہ یہ آیت پڑھی «اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ» [11-ھود:78] کیا تم میں سے ایک بھی رشد و سمجھ والا نہیں؟ یہاں تک کہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام گزرے جو بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت ساتھ لیے ہوئے تھے، میں نے پوچھا: ”پروردگار یہ کون ہیں؟“ جواب ملا یہ تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ ان کی تابعداری کرنے والی امت ہے، میں نے پوچھا: ”الٰہی پھر میری امت کہاں ہے؟“ فرمایا: اپنی داہنی جانب نیچے کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو بہت بڑی جماعت نظر آئی لوگوں کے بکثرت چہرے دمک رہے تھے، پھر مجھ سے پوچھا: کہو اب تو خوش ہو، میں نے کہا: ”ہاں الٰہی میں خوش ہوں“، مجھ سے فرمایا: اب اپنی بائیں جانب کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا وہ وہاں بےشمار لوگ تھے پھر مجھ سے پوچھا اب تو راضی ہو گئے؟ میں نے کہا: ”ہاں میرے رب میں راضی ہوں“، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور سنو ان کے ساتھ ستر ہزار اور لوگ ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے یہ سن کر سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، یہ قبیلہ بنو اسد سے محصن کے لڑکے تھے بدر کی لڑائی میں موجود تھے عرض کی کہ یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالٰی مجھے بھی انہی میں سے کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی پھر ایک اور شخص کھڑے ہوئے اور کہا اے اللہ کے رسول! میرے لیے بھی دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تجھ پر سبقت کر گئے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں اگر تم سے ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے بنو، جو بے حساب جنت میں جائیں گے، ورنہ کم سے کم دائیں جانب والوں میں سے ہو جاؤ گے، یہ بھی نہ ہو سکے تو کنارے والوں میں سے بن جاؤ، میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ اپنے حال میں ہی لٹک جاتے ہیں۔“ پھر فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ تمام اہل جنت کی چوتھائی تعداد صرف تمہاری ہی ہو گی۔“ پس ہم نے تکبیر کہی پھر فرمایا: ”بلکہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت کی تہائی والے ہو گے۔“ ہم نے پھر تکبیر کہی۔ فرمایا: ”اور سنو! تم آدھوں آدھ اہل جنت کے ہو گے“، ہم نے پھر تکبیر کہی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39،40] کی تلاوت کی۔ اب ہم میں آپس میں مذاکرہ شروع ہو گیا کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے؟ پھر ہم نے کہا وہ لوگ جو اسلام میں پیدا ہوئے اور شرک کیا ہی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگواتے اور جھاڑ پھونک نہیں کرواتے اور فال نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں“ ۔ [مسند احمد:401/1:صحیح]
یہ حدیث بہت سی سندوں سے صحابہ رضی اللہ عنہم کی روایت سے بہت سی کتابوں میں صحت کے ساتھ مروی ہے۔
صفحہ نمبر9207
ابن جریر میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آیت میں پہلوں پچھلوں سے مراد میری امت کے اگلے پچھلے ہی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:646/11:ضعیف]
صفحہ نمبر9208
اہل جنت کی بیویوں کا حسن و جمال ٭٭
پس فرماتا ہے کہ ہم نے ان بیویوں کو نئی پیدائش میں پیدا کیا ہے، اس کے بعد کہ وہ بلکل پھوس بڑھیا تھیں ہم نے انہیں نوعمر کنواریاں کر کے ایک خاص پیدائش میں پیدا کیا۔ وہ اپنے ظرافت و ملاحت، حسن و صورت و جسامت سے خوش خلقی اور حلاوت کی وجہ سے اپنے خاوندوں کی بڑی پیاریاں ہیں۔ بعض کہتے ہیں «عرباء» کہتے ہیں ناز و کرشمہ والیوں کو۔
حدیث میں ہے کہ یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں بڑھیا تھیں اور اب جنت میں گئی ہیں تو انہیں نوعمر وغیرہ کر دیا ہے ۔ [سنن ترمذي:3296،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ خواہ یہ عورتیں کنواری تھیں یا ثیبہ تھیں اللہ ان سب کو ایسی کر دے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:3393:ضعیف]
ایک بڑھیا عورت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہتی ہے کہ یا رسول اللہ ! میرے لیے دعا کیجیئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام فلاں! جنت میں کوئی بڑھیا نہیں جائے گی، وہ روتی ہوئی واپس لوٹیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، انہیں سمجھا دو“، مطلب یہ ہے کہ جب وہ جنت میں جائیں گی، بڑھیا نہ ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم انہیں نئی پیدائش میں پیدا کریں گے پھر باکرہ کر دیں گے شمائل ترمذی وغیرہ۔ [شمائل ترمذی:240ضعیف]
طبرانی میں ہے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کہا: یا رسول اللہ ! حورعین کی خبر مجھے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”وہ گورے رنگ کی ہیں، بڑی بڑی آنکھوں والی ہیں، سخت سیاہ اور بڑے بڑے بالوں والی ہیں جیسے گدھ کا پر۔“ میں نے کہا «اللُّؤْلُـہ الْمَكْنُوْنِ» [56-الواقعة:23] کی بابت خبر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دن کی صفائی اور جوت مثل اس موتی کے ہے جو سیپ سے ابھی ابھی نکلا ہو جسے کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو“، میں نے کہا «خَيراتٌ حِسانٌ» [33-الأحزاب:70] کی کیا تفسیر ہے؟ فرمایا: ”خوش خلق خوبصورت“ میں نے کہا «كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ» [37-الصافات:49] سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ان کی نزاکت اور نرمی انڈے کی اس جھلی کی مانند ہو گی جو اندر ہوتی ہے“، میں نے «عُرُبًا أَترابًا» [56-الواقعة:37] کے معنی دریافت کئے، فرمایا: ”اس سے مراد دنیا کی مسلمان جنتی عورتیں ہیں جو بالکل بڑھیا پھوس تھیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں نئے سرے سے پیدا کیا اور کنواریاں اور خاوندوں کی چہیتیاں اور خاوندوں سے عشق رکھنے والیاں اور ہم عمر بنا دیں“، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! دنیا کی عورتیں افضل ہیں یا حورعین؟ فرمایا: ”دنیا کی عورتیں حورعین سے بہت افضل ہیں، جیسے استر سے ابرا ہوتا ہے“، میں نے کہا: اس فضیلت کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: ”نمازیں، روزے اور اللہ تعالیٰ کی عبادتیں، اللہ نے ان کے چہرے نور سے، ان کے جسم ریشم سے سنوار دیئے ہیں، سفید ریشم، سبز ریشم اور زرد سنہرے ریشم اور زرد سنہرے زیور بخوردان موتی کے کنگھیاں سونے کی یہ کہتی رہیں گی۔ «نحن الخالدات فلا نموت ابدا» *** «ونحن الناعمات فلا نباس ابدا» *** «ونحن المقیمات فلانطعن ابدا» *** «ونحن الراضیات فلا نسخط ابدا» *** «طوبی لمن کنا لہ وکان لنا» یعنی ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی مریں گی نہیں، ہم ناز اور نعمت والیاں ہیں کہ کبھی سفر میں نہیں جائیں گی ہم اپنے خاوندوں سے خوش رہنے والیاں ہیں کہ کبھی روٹھیں گی نہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے لیے ہم ہیں اور خوش نصیب ہیں ہم کہ ان کے لیے ہیں۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! بعض عورتوں کے دو دو تین تین چار چار خاوند ہو جاتے ہیں اس کے بعد اسے موت آتی ہے مرنے کے بعد اگر یہ جنت میں گئی اور اس کے سب خاوند بھی گئے تو یہ کسے ملے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس کے ساتھ چاہے رہے“، چنانچہ یہ ان میں سے اسے پسند کرے گی جو اس کے ساتھ بہترین برتاؤ کرتا رہا ہو، اللہ تعالیٰ سے کہے گی، پروردگار! یہ مجھ سے بہت اچھی بودوباش رکھتا تھا اسی کے نکاح میں مجھے دے“، اے ام سلمہ! حسن خلق دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کو لیے ہوئے ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33402:ضعیف]
صفحہ نمبر9203
«صور» کی مشہور مطول حدیث میں ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں کو جنت میں لے جانے کی سفارش کریں گے جس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے آپ کی شفاعت قبول کی اور آپ کو انہیں جنت میں پہنچانے کی اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر میں انہیں جنت میں لے جاؤں گا، اللہ کی قسم! تم جس قدر اپنے گھربار اور اپنی بیویوں سے واقف ہو اس سے بہت زیادہ اہل جنت اپنے گھروں اور بیویوں سے واقف ہوں گے۔ پس ایک ایک جنتی کی بہتّر بہتّر بیویاں ہوں گی جو اللہ کی بنائی ہوئی ہیں اور دو دو بیویاں عورتوں میں سے ہوں گی کہ انہیں بوجہ اپنی عبادت کے ان سب عورتوں پر فضیلت حاصل ہو گی جنتی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا، یہ اس بالاخانے میں ہو گی، جو یاقوت کا بنا ہوا ہو گا، اس پلنگ پر ہو گی جو سونے کی تاروں سے بنا ہوا ہو گا اور جڑاؤ جڑا ہوا ہو گا، ستر جوڑے پہنے ہوئے ہوں گے جو سب باریک اور سبز چمکیلے خالص ریشم کے ہوں گے، یہ بیوی اس قدر نازک نورانی ہو گی کہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر سینے کی طرف سے دیکھے گا تو صاف نظر آ جائے گا، کہ کپڑے گوشت ہڈی کوئی چیز روک نہ ہو گی اس قدر اس کا جسم صاف اور آئینہ نما ہو گا جس طرح مروارید میں سوراخ کر کے ڈورا ڈال دیں تو وہ ڈورا باہر سے نظر آتا ہے اسی طرح اس کی پنڈلی کا گودا نظر آئے گا۔ ایسا ہی نورانی بدن اس جنتی کا بھی ہو گا، الغرض یہ اس کا آئینہ ہو گی، اور وہ اس کا یہ اس کے ساتھ عیش و عشرت میں مشغول ہو گا، نہ یہ تھکے، نہ وہ اس کا دل بھرے، نہ اس کا، جب کبھی نزدیکی کرے گا تو کنواری پائے گا، نہ اس کا عضو سست ہو، نہ اسے گراں گزرے مگر خاص پانی وہاں نہ ہو گا جس سے گھن آئے، یہ یونہی مشغول ہو گا جو کان میں ندا آئے گی کہ یہ تو ہمیں خوب معلوم ہے کہ نہ آپ کا دل ان سے بھرے گا نہ ان کا آپ سے مگر آپ کی دوسری بیویاں بھی ہیں، اب یہ یہاں سے باہر آئے گا اور ایک ایک کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا اسے دیکھ کر بےساختہ اس کے منہ سے نکل جائے گا کہ رب کی قسم تجھ سے بہتر جنت میں کوئی چیز نہیں نہ میری محبت کسی سے تجھ سے زیادہ ہے۔ «بیھقی فی البعث والنشور669:ضعیف»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ! کیا جنت میں جنتی لوگ جماع بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے خوب اچھی طرح، بہترین طریق پر جب الگ ہو گا وہ اسی وقت پھر پاک صاف اچھوتی باکرہ بن جائے گی۔“ «حسن»
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مومن کو جنت میں اتنی اتنی عورتوں کے پاس جانے کی قوت عطا کی جائے گی، سیدنا انس رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا اتنی طاقت رکھے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سو آدمیوں کے برابر اسے قوت ملے گی۔“ [سنن ترمذي:2536،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر9204
طبرانی کی حدیث میں ہے ایک سو کنواریوں کے پاس ایک ایک دن میں ہو آئے گا۔ [طبرانی اوسط:5236:ضعیف] حافظ عبداللہ مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ حدیث شرط صحیح پر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما «عربا» کی تفسیر میں فرماتے ہیں یہ اپنے خاوندوں کی محبوبہ ہوں گی، یہ اپنے خاوندوں کی عاشق اور خاوند ان کے عاشق۔
عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس کا معنی ناز و کرشمہ والی ہے اور سند سے مروی ہے کہ معنی نزاکت والی ہے، تمیم بن حدلم کہتے ہیں «عربا» اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خاوند کا دل مٹھی میں رکھے۔
زید بن اسلم رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد خوش کلام ہے اپنی باتوں سے اپنے خاوندوں کا دل مول لیتی ہیں جب کچھ بولیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ پھول جھڑتے ہیں اور نور برستا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ انہیں عرب اس لیے کہا گیا ہے کہ ان کی بول چال عربی زبان میں ہو گی۔ «ضعیف و منقطع»
«اتراب» کے معنی ہیں ہم عمر یعنی تینتیس برس کی اور معنی ہیں کہ خاوند کی اور ان کی طبیعت اور خلق بالکل یکساں ہے جس سے وہ خوش یہ خوش جو اسے ناپسند اسے بھی ناپسند۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ آپس میں ان میں بیر، بغض، سوتیا، ڈاہ، حسد اور رشک نہ ہو گا۔ یہ سب آپس میں بھی ہم عمر ہوں گی تاکہ بےتکلف ایک دوسری سے ملیں جلیں، کھیلیں کودیں۔
ترمذی کی حدیث میں ہے کہ یہ جنتی حوریں ایک روح افزا باغ میں جمع ہو کر نہایت پیارے گلے سے گانا گائیں گی کہ ایسی سریلی اور رسیلی آواز مخلوق نے کبھی نہ سنی ہو گی۔ [سنن ترمذي:2564،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ان کا گانا وہی ہو گا جو اوپر بیان ہوا ابو یعلیٰ میں ہے ان کے گانے میں یہ بھی ہو گا «نحن خیرات حسان» *** «خبئنا لازواج کرام» ہم پاک صاف خوش وضع خوبصورت عورتیں ہیں جو بزرگ اور ذی عزت شوہروں کے لیے چھپا کر رکھی گئی تھیں۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:280/2]
اور روایت میں «خیرات» کے بدلے «جوار» کا لفظ آیا ہے۔ پھر فرمایا یہ اصحاب یمین کے لیے پیدا کی گئی ہیں اور انہی کے لیے محفوظ و مصؤن رکھی گئی تھیں۔ لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ یہ متعلق ہے «اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاءً» [56-الواقعة:35] کے یعنی ہم نے انہیں ان کے لیے پیدا کیا ہے۔
صفحہ نمبر9205
ابوسلیمان دارانی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں نے ایک رات تہجد کی نماز کے بعد دعا مانگنی شروع کی، چونکہ سخت سردی تھی، بڑے زور کا پالا پڑ رہا تھا، ہاتھ اٹھائے نہیں جاتے تھے اس لیے میں نے ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگی اور اسی حالت میں دعا مانگتے مانگتے مجھے نیند آ گئی خواب میں میں نے ایک حور کو دیکھا کہ اس جیسی خوبصورت نورانی شکل کبھی میری نگاہ سے نہیں گزری اس نے مجھ سے کہا: اے ابوسلیمان! ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگنے لگے اور یہ خیال نہیں کہ پانچ سو سال سے اللہ تعالیٰ مجھے تمہارے لیے اپنی خاص نعمتوں میں پرورش کر رہا ہے۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ «لام» متعلق «اَترَاباً» کے ہو یعنی ان کی ہم عمر ہوں گی جیسے کہ بخاری مسلم وغیرہ کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودہویں رات جیسے روشن ہوں گے ان کے بعد والی جماعت کے بہت چمکدار ستارے جیسے روشن ہوں گے۔ یہ پاخانے، پیشاب، تھوک، رینٹ سے پاک ہوں گے ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ان کے پسینے مشک کی خوشبو والے ہوں گے ان کی انگیٹھیاں لؤلؤ کی ہوں گی ان کی بیویاں حورعین ہوں گی ان سب کے اخلاق مثل ایک ہی شخص کے ہوں گے، یہ سب اپنے باپ آدم علیہ السلام کی شکل پر ساٹھ ہاتھ کے لمبے قد کے ہوں گے ۔ [صحیح بخاری:3327]
صفحہ نمبر9206
طبرانی میں ہے اہل جنت بےبال اور بےریش، گورے رنگ والے، خوش خلق اور خوبصورت سرمگیں آنکھوں والے تینتیس برس کی عمر کے، سات ہاتھ لمبے اور سات ہاتھ چوڑے چکلے مضبوط بدن والے ہوں گے۔ [مسند احمد:295/2:حسن]
اس کا کچھ حصہ ترمذی میں بھی مروی ہے۔ [سنن ترمذي:2545،قال الشيخ الألباني:حسن] اور حدیث میں ہے کہ گو کسی عمر میں انتقال ہوا ہو دخول جنت کے وقت تینتیس سالہ عمر کے ہوں گے اور اسی عمر میں ہمیشہ رہیں گے، اسی طرح جہنمی بھی [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن]
اور روایت میں ہے کہ ان کے قد سات ہاتھ فرشتے کے ہاتھ کے اعتبار سے ہوں گے قد آدم علیہ السلام، حسن یوسف علیہ السلام، عمر عیسیٰ علیہ السلام یعنی تینتیس سال اور زبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم یعنی عربی والے ہوں گے، بےبال اور سرمگیں آنکھوں والے [ابن ابی الدنیا:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ دخول جنت کے ساتھ ہی انہیں ایک جنتی درخت کے پاس لایا جائے گا اور وہاں انہیں کپڑے پہنائے جائیں گے ان کے کپڑے نہ گلیں، نہ سڑیں، نہ پرانے ہوں، نہ میلے ہوں ان کی جوانی نہ ڈھلے، نہ جائے، نہ فنا ہو۔ [ابونعیم فی صفةالجنة:255ضعیف]
اصحاب یمین گزشتہ امتوں میں سے بھی بہت ہیں اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے بیان فرمایا میرے سامنے انبیاء مع اپنے تابعدار امتیوں کے پیش ہوئے بعض نبی گزرتے تھے اور بعض نبی کے ساتھ ایک جماعت ہوتی تھی اور بعض نبی کے ساتھ صرف تین آدمی ہوتے تھے اور بعض کے ساتھ ایک بھی نہ تھا راوی حدیث قتادہ رحمہ اللہ نے اتنا بیان فرمایا کہ یہ آیت پڑھی «اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ» [11-ھود:78] کیا تم میں سے ایک بھی رشد و سمجھ والا نہیں؟ یہاں تک کہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام گزرے جو بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت ساتھ لیے ہوئے تھے، میں نے پوچھا: ”پروردگار یہ کون ہیں؟“ جواب ملا یہ تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ ان کی تابعداری کرنے والی امت ہے، میں نے پوچھا: ”الٰہی پھر میری امت کہاں ہے؟“ فرمایا: اپنی داہنی جانب نیچے کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو بہت بڑی جماعت نظر آئی لوگوں کے بکثرت چہرے دمک رہے تھے، پھر مجھ سے پوچھا: کہو اب تو خوش ہو، میں نے کہا: ”ہاں الٰہی میں خوش ہوں“، مجھ سے فرمایا: اب اپنی بائیں جانب کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا وہ وہاں بےشمار لوگ تھے پھر مجھ سے پوچھا اب تو راضی ہو گئے؟ میں نے کہا: ”ہاں میرے رب میں راضی ہوں“، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور سنو ان کے ساتھ ستر ہزار اور لوگ ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے یہ سن کر سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، یہ قبیلہ بنو اسد سے محصن کے لڑکے تھے بدر کی لڑائی میں موجود تھے عرض کی کہ یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالٰی مجھے بھی انہی میں سے کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی پھر ایک اور شخص کھڑے ہوئے اور کہا اے اللہ کے رسول! میرے لیے بھی دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تجھ پر سبقت کر گئے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں اگر تم سے ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے بنو، جو بے حساب جنت میں جائیں گے، ورنہ کم سے کم دائیں جانب والوں میں سے ہو جاؤ گے، یہ بھی نہ ہو سکے تو کنارے والوں میں سے بن جاؤ، میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ اپنے حال میں ہی لٹک جاتے ہیں۔“ پھر فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ تمام اہل جنت کی چوتھائی تعداد صرف تمہاری ہی ہو گی۔“ پس ہم نے تکبیر کہی پھر فرمایا: ”بلکہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت کی تہائی والے ہو گے۔“ ہم نے پھر تکبیر کہی۔ فرمایا: ”اور سنو! تم آدھوں آدھ اہل جنت کے ہو گے“، ہم نے پھر تکبیر کہی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39،40] کی تلاوت کی۔ اب ہم میں آپس میں مذاکرہ شروع ہو گیا کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے؟ پھر ہم نے کہا وہ لوگ جو اسلام میں پیدا ہوئے اور شرک کیا ہی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگواتے اور جھاڑ پھونک نہیں کرواتے اور فال نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں“ ۔ [مسند احمد:401/1:صحیح]
یہ حدیث بہت سی سندوں سے صحابہ رضی اللہ عنہم کی روایت سے بہت سی کتابوں میں صحت کے ساتھ مروی ہے۔
صفحہ نمبر9207
ابن جریر میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آیت میں پہلوں پچھلوں سے مراد میری امت کے اگلے پچھلے ہی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:646/11:ضعیف]
صفحہ نمبر9208
اہل جنت کی بیویوں کا حسن و جمال ٭٭
پس فرماتا ہے کہ ہم نے ان بیویوں کو نئی پیدائش میں پیدا کیا ہے، اس کے بعد کہ وہ بلکل پھوس بڑھیا تھیں ہم نے انہیں نوعمر کنواریاں کر کے ایک خاص پیدائش میں پیدا کیا۔ وہ اپنے ظرافت و ملاحت، حسن و صورت و جسامت سے خوش خلقی اور حلاوت کی وجہ سے اپنے خاوندوں کی بڑی پیاریاں ہیں۔ بعض کہتے ہیں «عرباء» کہتے ہیں ناز و کرشمہ والیوں کو۔
حدیث میں ہے کہ یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں بڑھیا تھیں اور اب جنت میں گئی ہیں تو انہیں نوعمر وغیرہ کر دیا ہے ۔ [سنن ترمذي:3296،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ خواہ یہ عورتیں کنواری تھیں یا ثیبہ تھیں اللہ ان سب کو ایسی کر دے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:3393:ضعیف]
ایک بڑھیا عورت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہتی ہے کہ یا رسول اللہ ! میرے لیے دعا کیجیئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام فلاں! جنت میں کوئی بڑھیا نہیں جائے گی، وہ روتی ہوئی واپس لوٹیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، انہیں سمجھا دو“، مطلب یہ ہے کہ جب وہ جنت میں جائیں گی، بڑھیا نہ ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم انہیں نئی پیدائش میں پیدا کریں گے پھر باکرہ کر دیں گے شمائل ترمذی وغیرہ۔ [شمائل ترمذی:240ضعیف]
طبرانی میں ہے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کہا: یا رسول اللہ ! حورعین کی خبر مجھے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”وہ گورے رنگ کی ہیں، بڑی بڑی آنکھوں والی ہیں، سخت سیاہ اور بڑے بڑے بالوں والی ہیں جیسے گدھ کا پر۔“ میں نے کہا «اللُّؤْلُـہ الْمَكْنُوْنِ» [56-الواقعة:23] کی بابت خبر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دن کی صفائی اور جوت مثل اس موتی کے ہے جو سیپ سے ابھی ابھی نکلا ہو جسے کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو“، میں نے کہا «خَيراتٌ حِسانٌ» [33-الأحزاب:70] کی کیا تفسیر ہے؟ فرمایا: ”خوش خلق خوبصورت“ میں نے کہا «كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ» [37-الصافات:49] سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ان کی نزاکت اور نرمی انڈے کی اس جھلی کی مانند ہو گی جو اندر ہوتی ہے“، میں نے «عُرُبًا أَترابًا» [56-الواقعة:37] کے معنی دریافت کئے، فرمایا: ”اس سے مراد دنیا کی مسلمان جنتی عورتیں ہیں جو بالکل بڑھیا پھوس تھیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں نئے سرے سے پیدا کیا اور کنواریاں اور خاوندوں کی چہیتیاں اور خاوندوں سے عشق رکھنے والیاں اور ہم عمر بنا دیں“، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! دنیا کی عورتیں افضل ہیں یا حورعین؟ فرمایا: ”دنیا کی عورتیں حورعین سے بہت افضل ہیں، جیسے استر سے ابرا ہوتا ہے“، میں نے کہا: اس فضیلت کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: ”نمازیں، روزے اور اللہ تعالیٰ کی عبادتیں، اللہ نے ان کے چہرے نور سے، ان کے جسم ریشم سے سنوار دیئے ہیں، سفید ریشم، سبز ریشم اور زرد سنہرے ریشم اور زرد سنہرے زیور بخوردان موتی کے کنگھیاں سونے کی یہ کہتی رہیں گی۔ «نحن الخالدات فلا نموت ابدا» *** «ونحن الناعمات فلا نباس ابدا» *** «ونحن المقیمات فلانطعن ابدا» *** «ونحن الراضیات فلا نسخط ابدا» *** «طوبی لمن کنا لہ وکان لنا» یعنی ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی مریں گی نہیں، ہم ناز اور نعمت والیاں ہیں کہ کبھی سفر میں نہیں جائیں گی ہم اپنے خاوندوں سے خوش رہنے والیاں ہیں کہ کبھی روٹھیں گی نہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے لیے ہم ہیں اور خوش نصیب ہیں ہم کہ ان کے لیے ہیں۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! بعض عورتوں کے دو دو تین تین چار چار خاوند ہو جاتے ہیں اس کے بعد اسے موت آتی ہے مرنے کے بعد اگر یہ جنت میں گئی اور اس کے سب خاوند بھی گئے تو یہ کسے ملے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس کے ساتھ چاہے رہے“، چنانچہ یہ ان میں سے اسے پسند کرے گی جو اس کے ساتھ بہترین برتاؤ کرتا رہا ہو، اللہ تعالیٰ سے کہے گی، پروردگار! یہ مجھ سے بہت اچھی بودوباش رکھتا تھا اسی کے نکاح میں مجھے دے“، اے ام سلمہ! حسن خلق دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کو لیے ہوئے ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33402:ضعیف]
صفحہ نمبر9203
«صور» کی مشہور مطول حدیث میں ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں کو جنت میں لے جانے کی سفارش کریں گے جس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے آپ کی شفاعت قبول کی اور آپ کو انہیں جنت میں پہنچانے کی اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر میں انہیں جنت میں لے جاؤں گا، اللہ کی قسم! تم جس قدر اپنے گھربار اور اپنی بیویوں سے واقف ہو اس سے بہت زیادہ اہل جنت اپنے گھروں اور بیویوں سے واقف ہوں گے۔ پس ایک ایک جنتی کی بہتّر بہتّر بیویاں ہوں گی جو اللہ کی بنائی ہوئی ہیں اور دو دو بیویاں عورتوں میں سے ہوں گی کہ انہیں بوجہ اپنی عبادت کے ان سب عورتوں پر فضیلت حاصل ہو گی جنتی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا، یہ اس بالاخانے میں ہو گی، جو یاقوت کا بنا ہوا ہو گا، اس پلنگ پر ہو گی جو سونے کی تاروں سے بنا ہوا ہو گا اور جڑاؤ جڑا ہوا ہو گا، ستر جوڑے پہنے ہوئے ہوں گے جو سب باریک اور سبز چمکیلے خالص ریشم کے ہوں گے، یہ بیوی اس قدر نازک نورانی ہو گی کہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر سینے کی طرف سے دیکھے گا تو صاف نظر آ جائے گا، کہ کپڑے گوشت ہڈی کوئی چیز روک نہ ہو گی اس قدر اس کا جسم صاف اور آئینہ نما ہو گا جس طرح مروارید میں سوراخ کر کے ڈورا ڈال دیں تو وہ ڈورا باہر سے نظر آتا ہے اسی طرح اس کی پنڈلی کا گودا نظر آئے گا۔ ایسا ہی نورانی بدن اس جنتی کا بھی ہو گا، الغرض یہ اس کا آئینہ ہو گی، اور وہ اس کا یہ اس کے ساتھ عیش و عشرت میں مشغول ہو گا، نہ یہ تھکے، نہ وہ اس کا دل بھرے، نہ اس کا، جب کبھی نزدیکی کرے گا تو کنواری پائے گا، نہ اس کا عضو سست ہو، نہ اسے گراں گزرے مگر خاص پانی وہاں نہ ہو گا جس سے گھن آئے، یہ یونہی مشغول ہو گا جو کان میں ندا آئے گی کہ یہ تو ہمیں خوب معلوم ہے کہ نہ آپ کا دل ان سے بھرے گا نہ ان کا آپ سے مگر آپ کی دوسری بیویاں بھی ہیں، اب یہ یہاں سے باہر آئے گا اور ایک ایک کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا اسے دیکھ کر بےساختہ اس کے منہ سے نکل جائے گا کہ رب کی قسم تجھ سے بہتر جنت میں کوئی چیز نہیں نہ میری محبت کسی سے تجھ سے زیادہ ہے۔ «بیھقی فی البعث والنشور669:ضعیف»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ! کیا جنت میں جنتی لوگ جماع بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے خوب اچھی طرح، بہترین طریق پر جب الگ ہو گا وہ اسی وقت پھر پاک صاف اچھوتی باکرہ بن جائے گی۔“ «حسن»
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مومن کو جنت میں اتنی اتنی عورتوں کے پاس جانے کی قوت عطا کی جائے گی، سیدنا انس رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا اتنی طاقت رکھے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سو آدمیوں کے برابر اسے قوت ملے گی۔“ [سنن ترمذي:2536،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر9204
طبرانی کی حدیث میں ہے ایک سو کنواریوں کے پاس ایک ایک دن میں ہو آئے گا۔ [طبرانی اوسط:5236:ضعیف] حافظ عبداللہ مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ حدیث شرط صحیح پر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما «عربا» کی تفسیر میں فرماتے ہیں یہ اپنے خاوندوں کی محبوبہ ہوں گی، یہ اپنے خاوندوں کی عاشق اور خاوند ان کے عاشق۔
عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس کا معنی ناز و کرشمہ والی ہے اور سند سے مروی ہے کہ معنی نزاکت والی ہے، تمیم بن حدلم کہتے ہیں «عربا» اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خاوند کا دل مٹھی میں رکھے۔
زید بن اسلم رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد خوش کلام ہے اپنی باتوں سے اپنے خاوندوں کا دل مول لیتی ہیں جب کچھ بولیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ پھول جھڑتے ہیں اور نور برستا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ انہیں عرب اس لیے کہا گیا ہے کہ ان کی بول چال عربی زبان میں ہو گی۔ «ضعیف و منقطع»
«اتراب» کے معنی ہیں ہم عمر یعنی تینتیس برس کی اور معنی ہیں کہ خاوند کی اور ان کی طبیعت اور خلق بالکل یکساں ہے جس سے وہ خوش یہ خوش جو اسے ناپسند اسے بھی ناپسند۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ آپس میں ان میں بیر، بغض، سوتیا، ڈاہ، حسد اور رشک نہ ہو گا۔ یہ سب آپس میں بھی ہم عمر ہوں گی تاکہ بےتکلف ایک دوسری سے ملیں جلیں، کھیلیں کودیں۔
ترمذی کی حدیث میں ہے کہ یہ جنتی حوریں ایک روح افزا باغ میں جمع ہو کر نہایت پیارے گلے سے گانا گائیں گی کہ ایسی سریلی اور رسیلی آواز مخلوق نے کبھی نہ سنی ہو گی۔ [سنن ترمذي:2564،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ان کا گانا وہی ہو گا جو اوپر بیان ہوا ابو یعلیٰ میں ہے ان کے گانے میں یہ بھی ہو گا «نحن خیرات حسان» *** «خبئنا لازواج کرام» ہم پاک صاف خوش وضع خوبصورت عورتیں ہیں جو بزرگ اور ذی عزت شوہروں کے لیے چھپا کر رکھی گئی تھیں۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:280/2]
اور روایت میں «خیرات» کے بدلے «جوار» کا لفظ آیا ہے۔ پھر فرمایا یہ اصحاب یمین کے لیے پیدا کی گئی ہیں اور انہی کے لیے محفوظ و مصؤن رکھی گئی تھیں۔ لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ یہ متعلق ہے «اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاءً» [56-الواقعة:35] کے یعنی ہم نے انہیں ان کے لیے پیدا کیا ہے۔
صفحہ نمبر9205
ابوسلیمان دارانی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں نے ایک رات تہجد کی نماز کے بعد دعا مانگنی شروع کی، چونکہ سخت سردی تھی، بڑے زور کا پالا پڑ رہا تھا، ہاتھ اٹھائے نہیں جاتے تھے اس لیے میں نے ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگی اور اسی حالت میں دعا مانگتے مانگتے مجھے نیند آ گئی خواب میں میں نے ایک حور کو دیکھا کہ اس جیسی خوبصورت نورانی شکل کبھی میری نگاہ سے نہیں گزری اس نے مجھ سے کہا: اے ابوسلیمان! ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگنے لگے اور یہ خیال نہیں کہ پانچ سو سال سے اللہ تعالیٰ مجھے تمہارے لیے اپنی خاص نعمتوں میں پرورش کر رہا ہے۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ «لام» متعلق «اَترَاباً» کے ہو یعنی ان کی ہم عمر ہوں گی جیسے کہ بخاری مسلم وغیرہ کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودہویں رات جیسے روشن ہوں گے ان کے بعد والی جماعت کے بہت چمکدار ستارے جیسے روشن ہوں گے۔ یہ پاخانے، پیشاب، تھوک، رینٹ سے پاک ہوں گے ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ان کے پسینے مشک کی خوشبو والے ہوں گے ان کی انگیٹھیاں لؤلؤ کی ہوں گی ان کی بیویاں حورعین ہوں گی ان سب کے اخلاق مثل ایک ہی شخص کے ہوں گے، یہ سب اپنے باپ آدم علیہ السلام کی شکل پر ساٹھ ہاتھ کے لمبے قد کے ہوں گے ۔ [صحیح بخاری:3327]
صفحہ نمبر9206
طبرانی میں ہے اہل جنت بےبال اور بےریش، گورے رنگ والے، خوش خلق اور خوبصورت سرمگیں آنکھوں والے تینتیس برس کی عمر کے، سات ہاتھ لمبے اور سات ہاتھ چوڑے چکلے مضبوط بدن والے ہوں گے۔ [مسند احمد:295/2:حسن]
اس کا کچھ حصہ ترمذی میں بھی مروی ہے۔ [سنن ترمذي:2545،قال الشيخ الألباني:حسن] اور حدیث میں ہے کہ گو کسی عمر میں انتقال ہوا ہو دخول جنت کے وقت تینتیس سالہ عمر کے ہوں گے اور اسی عمر میں ہمیشہ رہیں گے، اسی طرح جہنمی بھی [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن]
اور روایت میں ہے کہ ان کے قد سات ہاتھ فرشتے کے ہاتھ کے اعتبار سے ہوں گے قد آدم علیہ السلام، حسن یوسف علیہ السلام، عمر عیسیٰ علیہ السلام یعنی تینتیس سال اور زبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم یعنی عربی والے ہوں گے، بےبال اور سرمگیں آنکھوں والے [ابن ابی الدنیا:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ دخول جنت کے ساتھ ہی انہیں ایک جنتی درخت کے پاس لایا جائے گا اور وہاں انہیں کپڑے پہنائے جائیں گے ان کے کپڑے نہ گلیں، نہ سڑیں، نہ پرانے ہوں، نہ میلے ہوں ان کی جوانی نہ ڈھلے، نہ جائے، نہ فنا ہو۔ [ابونعیم فی صفةالجنة:255ضعیف]
اصحاب یمین گزشتہ امتوں میں سے بھی بہت ہیں اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے بیان فرمایا میرے سامنے انبیاء مع اپنے تابعدار امتیوں کے پیش ہوئے بعض نبی گزرتے تھے اور بعض نبی کے ساتھ ایک جماعت ہوتی تھی اور بعض نبی کے ساتھ صرف تین آدمی ہوتے تھے اور بعض کے ساتھ ایک بھی نہ تھا راوی حدیث قتادہ رحمہ اللہ نے اتنا بیان فرمایا کہ یہ آیت پڑھی «اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ» [11-ھود:78] کیا تم میں سے ایک بھی رشد و سمجھ والا نہیں؟ یہاں تک کہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام گزرے جو بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت ساتھ لیے ہوئے تھے، میں نے پوچھا: ”پروردگار یہ کون ہیں؟“ جواب ملا یہ تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ ان کی تابعداری کرنے والی امت ہے، میں نے پوچھا: ”الٰہی پھر میری امت کہاں ہے؟“ فرمایا: اپنی داہنی جانب نیچے کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو بہت بڑی جماعت نظر آئی لوگوں کے بکثرت چہرے دمک رہے تھے، پھر مجھ سے پوچھا: کہو اب تو خوش ہو، میں نے کہا: ”ہاں الٰہی میں خوش ہوں“، مجھ سے فرمایا: اب اپنی بائیں جانب کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا وہ وہاں بےشمار لوگ تھے پھر مجھ سے پوچھا اب تو راضی ہو گئے؟ میں نے کہا: ”ہاں میرے رب میں راضی ہوں“، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور سنو ان کے ساتھ ستر ہزار اور لوگ ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے یہ سن کر سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، یہ قبیلہ بنو اسد سے محصن کے لڑکے تھے بدر کی لڑائی میں موجود تھے عرض کی کہ یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالٰی مجھے بھی انہی میں سے کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی پھر ایک اور شخص کھڑے ہوئے اور کہا اے اللہ کے رسول! میرے لیے بھی دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تجھ پر سبقت کر گئے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں اگر تم سے ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے بنو، جو بے حساب جنت میں جائیں گے، ورنہ کم سے کم دائیں جانب والوں میں سے ہو جاؤ گے، یہ بھی نہ ہو سکے تو کنارے والوں میں سے بن جاؤ، میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ اپنے حال میں ہی لٹک جاتے ہیں۔“ پھر فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ تمام اہل جنت کی چوتھائی تعداد صرف تمہاری ہی ہو گی۔“ پس ہم نے تکبیر کہی پھر فرمایا: ”بلکہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت کی تہائی والے ہو گے۔“ ہم نے پھر تکبیر کہی۔ فرمایا: ”اور سنو! تم آدھوں آدھ اہل جنت کے ہو گے“، ہم نے پھر تکبیر کہی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39،40] کی تلاوت کی۔ اب ہم میں آپس میں مذاکرہ شروع ہو گیا کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے؟ پھر ہم نے کہا وہ لوگ جو اسلام میں پیدا ہوئے اور شرک کیا ہی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگواتے اور جھاڑ پھونک نہیں کرواتے اور فال نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں“ ۔ [مسند احمد:401/1:صحیح]
یہ حدیث بہت سی سندوں سے صحابہ رضی اللہ عنہم کی روایت سے بہت سی کتابوں میں صحت کے ساتھ مروی ہے۔
صفحہ نمبر9207
ابن جریر میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آیت میں پہلوں پچھلوں سے مراد میری امت کے اگلے پچھلے ہی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:646/11:ضعیف]
صفحہ نمبر9208
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی ٭٭
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال ہے یہ کس عذاب میں ہوں گے؟ پھر ان عذابوں کا بیان فرماتا ہے کہ یہ گرم ہوا کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیاہ سائے میں جیسے اور جگہ «انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» * «انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ» * «لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ» * «إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ» * «كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:34-29] فرمایا ہے یعنی ” اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے “۔
اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے، نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر لی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد «وَلَا كَرِيمٍ» کہہ دیتے ہیں۔
صفحہ نمبر9214
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لیے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔
«الْحِنْثِ الْعَظِيمِ» سے مراد بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» * «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ» * «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-ھود:103-105] تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہو گی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہو گا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو۔
جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے، قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے؟ انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہو گی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو! زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے، انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے حلق میں ٹھونسا جائے گا،پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو۔ «هِيمِ» جمع ہے اس کا واحد «اهِيم» ہے مونث «ہیماء» ہے «ہائم» اور «ہائمہ» بھی کہا جاتا ہے۔ سخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے پیاس کی بیماری ہوتی ہے پانی چوستا رہتا ہے لیکن سیرابی نہیں ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جہنمی جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہو گا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟
سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے «إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً» [18-الکھف:107] ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔
صفحہ نمبر9215
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی ٭٭
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال ہے یہ کس عذاب میں ہوں گے؟ پھر ان عذابوں کا بیان فرماتا ہے کہ یہ گرم ہوا کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیاہ سائے میں جیسے اور جگہ «انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» * «انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ» * «لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ» * «إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ» * «كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:34-29] فرمایا ہے یعنی ” اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے “۔
اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے، نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر لی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد «وَلَا كَرِيمٍ» کہہ دیتے ہیں۔
صفحہ نمبر9214
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لیے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔
«الْحِنْثِ الْعَظِيمِ» سے مراد بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» * «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ» * «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-ھود:103-105] تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہو گی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہو گا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو۔
جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے، قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے؟ انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہو گی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو! زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے، انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے حلق میں ٹھونسا جائے گا،پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو۔ «هِيمِ» جمع ہے اس کا واحد «اهِيم» ہے مونث «ہیماء» ہے «ہائم» اور «ہائمہ» بھی کہا جاتا ہے۔ سخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے پیاس کی بیماری ہوتی ہے پانی چوستا رہتا ہے لیکن سیرابی نہیں ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جہنمی جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہو گا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟
سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے «إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً» [18-الکھف:107] ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔
صفحہ نمبر9215
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی ٭٭
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال ہے یہ کس عذاب میں ہوں گے؟ پھر ان عذابوں کا بیان فرماتا ہے کہ یہ گرم ہوا کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیاہ سائے میں جیسے اور جگہ «انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» * «انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ» * «لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ» * «إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ» * «كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:34-29] فرمایا ہے یعنی ” اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے “۔
اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے، نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر لی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد «وَلَا كَرِيمٍ» کہہ دیتے ہیں۔
صفحہ نمبر9214
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لیے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔
«الْحِنْثِ الْعَظِيمِ» سے مراد بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» * «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ» * «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-ھود:103-105] تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہو گی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہو گا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو۔
جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے، قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے؟ انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہو گی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو! زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے، انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے حلق میں ٹھونسا جائے گا،پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو۔ «هِيمِ» جمع ہے اس کا واحد «اهِيم» ہے مونث «ہیماء» ہے «ہائم» اور «ہائمہ» بھی کہا جاتا ہے۔ سخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے پیاس کی بیماری ہوتی ہے پانی چوستا رہتا ہے لیکن سیرابی نہیں ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جہنمی جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہو گا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟
سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے «إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً» [18-الکھف:107] ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔
صفحہ نمبر9215
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی ٭٭
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال ہے یہ کس عذاب میں ہوں گے؟ پھر ان عذابوں کا بیان فرماتا ہے کہ یہ گرم ہوا کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیاہ سائے میں جیسے اور جگہ «انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» * «انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ» * «لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ» * «إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ» * «كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:34-29] فرمایا ہے یعنی ” اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے “۔
اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے، نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر لی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد «وَلَا كَرِيمٍ» کہہ دیتے ہیں۔
صفحہ نمبر9214
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لیے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔
«الْحِنْثِ الْعَظِيمِ» سے مراد بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» * «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ» * «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-ھود:103-105] تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہو گی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہو گا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو۔
جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے، قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے؟ انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہو گی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو! زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے، انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے حلق میں ٹھونسا جائے گا،پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو۔ «هِيمِ» جمع ہے اس کا واحد «اهِيم» ہے مونث «ہیماء» ہے «ہائم» اور «ہائمہ» بھی کہا جاتا ہے۔ سخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے پیاس کی بیماری ہوتی ہے پانی چوستا رہتا ہے لیکن سیرابی نہیں ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جہنمی جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہو گا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟
سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے «إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً» [18-الکھف:107] ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔
صفحہ نمبر9215
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی ٭٭
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال ہے یہ کس عذاب میں ہوں گے؟ پھر ان عذابوں کا بیان فرماتا ہے کہ یہ گرم ہوا کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیاہ سائے میں جیسے اور جگہ «انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» * «انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ» * «لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ» * «إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ» * «كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:34-29] فرمایا ہے یعنی ” اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے “۔
اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے، نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر لی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد «وَلَا كَرِيمٍ» کہہ دیتے ہیں۔
صفحہ نمبر9214
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لیے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔
«الْحِنْثِ الْعَظِيمِ» سے مراد بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» * «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ» * «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-ھود:103-105] تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہو گی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہو گا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو۔
جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے، قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے؟ انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہو گی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو! زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے، انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے حلق میں ٹھونسا جائے گا،پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو۔ «هِيمِ» جمع ہے اس کا واحد «اهِيم» ہے مونث «ہیماء» ہے «ہائم» اور «ہائمہ» بھی کہا جاتا ہے۔ سخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے پیاس کی بیماری ہوتی ہے پانی چوستا رہتا ہے لیکن سیرابی نہیں ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جہنمی جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہو گا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟
سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے «إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً» [18-الکھف:107] ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔
صفحہ نمبر9215
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی ٭٭
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال ہے یہ کس عذاب میں ہوں گے؟ پھر ان عذابوں کا بیان فرماتا ہے کہ یہ گرم ہوا کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیاہ سائے میں جیسے اور جگہ «انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» * «انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ» * «لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ» * «إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ» * «كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:34-29] فرمایا ہے یعنی ” اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے “۔
اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے، نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر لی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد «وَلَا كَرِيمٍ» کہہ دیتے ہیں۔
صفحہ نمبر9214
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لیے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔
«الْحِنْثِ الْعَظِيمِ» سے مراد بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» * «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ» * «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-ھود:103-105] تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہو گی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہو گا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو۔
جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے، قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے؟ انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہو گی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو! زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے، انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے حلق میں ٹھونسا جائے گا،پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو۔ «هِيمِ» جمع ہے اس کا واحد «اهِيم» ہے مونث «ہیماء» ہے «ہائم» اور «ہائمہ» بھی کہا جاتا ہے۔ سخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے پیاس کی بیماری ہوتی ہے پانی چوستا رہتا ہے لیکن سیرابی نہیں ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جہنمی جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہو گا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟
سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے «إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً» [18-الکھف:107] ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔
صفحہ نمبر9215
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی ٭٭
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال ہے یہ کس عذاب میں ہوں گے؟ پھر ان عذابوں کا بیان فرماتا ہے کہ یہ گرم ہوا کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیاہ سائے میں جیسے اور جگہ «انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» * «انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ» * «لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ» * «إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ» * «كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:34-29] فرمایا ہے یعنی ” اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے “۔
اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے، نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر لی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد «وَلَا كَرِيمٍ» کہہ دیتے ہیں۔
صفحہ نمبر9214
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لیے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔
«الْحِنْثِ الْعَظِيمِ» سے مراد بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» * «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ» * «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-ھود:103-105] تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہو گی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہو گا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو۔
جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے، قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے؟ انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہو گی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو! زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے، انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے حلق میں ٹھونسا جائے گا،پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو۔ «هِيمِ» جمع ہے اس کا واحد «اهِيم» ہے مونث «ہیماء» ہے «ہائم» اور «ہائمہ» بھی کہا جاتا ہے۔ سخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے پیاس کی بیماری ہوتی ہے پانی چوستا رہتا ہے لیکن سیرابی نہیں ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جہنمی جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہو گا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟
سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے «إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً» [18-الکھف:107] ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔
صفحہ نمبر9215
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی ٭٭
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال ہے یہ کس عذاب میں ہوں گے؟ پھر ان عذابوں کا بیان فرماتا ہے کہ یہ گرم ہوا کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیاہ سائے میں جیسے اور جگہ «انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» * «انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ» * «لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ» * «إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ» * «كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:34-29] فرمایا ہے یعنی ” اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے “۔
اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے، نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر لی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد «وَلَا كَرِيمٍ» کہہ دیتے ہیں۔
صفحہ نمبر9214
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لیے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔
«الْحِنْثِ الْعَظِيمِ» سے مراد بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» * «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ» * «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-ھود:103-105] تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہو گی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہو گا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو۔
جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے، قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے؟ انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہو گی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو! زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے، انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے حلق میں ٹھونسا جائے گا،پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو۔ «هِيمِ» جمع ہے اس کا واحد «اهِيم» ہے مونث «ہیماء» ہے «ہائم» اور «ہائمہ» بھی کہا جاتا ہے۔ سخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے پیاس کی بیماری ہوتی ہے پانی چوستا رہتا ہے لیکن سیرابی نہیں ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جہنمی جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہو گا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟
سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے «إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً» [18-الکھف:107] ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔
صفحہ نمبر9215
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی ٭٭
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال ہے یہ کس عذاب میں ہوں گے؟ پھر ان عذابوں کا بیان فرماتا ہے کہ یہ گرم ہوا کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیاہ سائے میں جیسے اور جگہ «انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» * «انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ» * «لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ» * «إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ» * «كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:34-29] فرمایا ہے یعنی ” اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے “۔
اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے، نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر لی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد «وَلَا كَرِيمٍ» کہہ دیتے ہیں۔
صفحہ نمبر9214
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لیے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔
«الْحِنْثِ الْعَظِيمِ» سے مراد بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» * «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ» * «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-ھود:103-105] تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہو گی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہو گا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو۔
جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے، قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے؟ انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہو گی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو! زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے، انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے حلق میں ٹھونسا جائے گا،پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو۔ «هِيمِ» جمع ہے اس کا واحد «اهِيم» ہے مونث «ہیماء» ہے «ہائم» اور «ہائمہ» بھی کہا جاتا ہے۔ سخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے پیاس کی بیماری ہوتی ہے پانی چوستا رہتا ہے لیکن سیرابی نہیں ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جہنمی جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہو گا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟
سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے «إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً» [18-الکھف:107] ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔
صفحہ نمبر9215
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی ٭٭
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال ہے یہ کس عذاب میں ہوں گے؟ پھر ان عذابوں کا بیان فرماتا ہے کہ یہ گرم ہوا کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیاہ سائے میں جیسے اور جگہ «انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» * «انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ» * «لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ» * «إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ» * «كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:34-29] فرمایا ہے یعنی ” اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے “۔
اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے، نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر لی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد «وَلَا كَرِيمٍ» کہہ دیتے ہیں۔
صفحہ نمبر9214
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لیے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔
«الْحِنْثِ الْعَظِيمِ» سے مراد بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» * «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ» * «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-ھود:103-105] تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہو گی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہو گا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو۔
جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے، قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے؟ انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہو گی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو! زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے، انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے حلق میں ٹھونسا جائے گا،پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو۔ «هِيمِ» جمع ہے اس کا واحد «اهِيم» ہے مونث «ہیماء» ہے «ہائم» اور «ہائمہ» بھی کہا جاتا ہے۔ سخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے پیاس کی بیماری ہوتی ہے پانی چوستا رہتا ہے لیکن سیرابی نہیں ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جہنمی جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہو گا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟
سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے «إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً» [18-الکھف:107] ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔
صفحہ نمبر9215
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی ٭٭
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال ہے یہ کس عذاب میں ہوں گے؟ پھر ان عذابوں کا بیان فرماتا ہے کہ یہ گرم ہوا کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیاہ سائے میں جیسے اور جگہ «انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» * «انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ» * «لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ» * «إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ» * «كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:34-29] فرمایا ہے یعنی ” اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے “۔
اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے، نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر لی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد «وَلَا كَرِيمٍ» کہہ دیتے ہیں۔
صفحہ نمبر9214
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لیے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔
«الْحِنْثِ الْعَظِيمِ» سے مراد بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» * «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ» * «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-ھود:103-105] تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہو گی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہو گا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو۔
جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے، قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے؟ انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہو گی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو! زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے، انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے حلق میں ٹھونسا جائے گا،پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو۔ «هِيمِ» جمع ہے اس کا واحد «اهِيم» ہے مونث «ہیماء» ہے «ہائم» اور «ہائمہ» بھی کہا جاتا ہے۔ سخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے پیاس کی بیماری ہوتی ہے پانی چوستا رہتا ہے لیکن سیرابی نہیں ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جہنمی جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہو گا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟
سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے «إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً» [18-الکھف:107] ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔
صفحہ نمبر9215
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی ٭٭
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال ہے یہ کس عذاب میں ہوں گے؟ پھر ان عذابوں کا بیان فرماتا ہے کہ یہ گرم ہوا کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیاہ سائے میں جیسے اور جگہ «انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» * «انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ» * «لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ» * «إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ» * «كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:34-29] فرمایا ہے یعنی ” اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے “۔
اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے، نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر لی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد «وَلَا كَرِيمٍ» کہہ دیتے ہیں۔
صفحہ نمبر9214
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لیے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔
«الْحِنْثِ الْعَظِيمِ» سے مراد بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» * «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ» * «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-ھود:103-105] تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہو گی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہو گا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو۔
جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے، قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے؟ انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہو گی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو! زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے، انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے حلق میں ٹھونسا جائے گا،پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو۔ «هِيمِ» جمع ہے اس کا واحد «اهِيم» ہے مونث «ہیماء» ہے «ہائم» اور «ہائمہ» بھی کہا جاتا ہے۔ سخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے پیاس کی بیماری ہوتی ہے پانی چوستا رہتا ہے لیکن سیرابی نہیں ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جہنمی جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہو گا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟
سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے «إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً» [18-الکھف:107] ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔
صفحہ نمبر9215
منکرین قیامت کو جواب ٭٭
اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لیے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کر دیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہو گا؟ جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے؟ ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی ہاتھ نہیں کوئی قدرت نہیں کوئی تدبیر نہیں، پیدا کرنا یہ صفت صرف خالق کل اللہ رب العزت کی ہی ہے ٹھیک اسی طرح مار ڈالنے پر بھی وہی قادر ہے۔ کل آسمان و زمین والوں کی موت کا متصرف بھی اللہ ہی ہے۔ پھر بھلا اتنی بڑی قدرتوں کا مالک کیا یہ نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن تمہاری پیدائش میں تبدیلی کر کے جس صفت اور جس حال میں چاہے تمہیں از سر نو پیدا کر دے۔ پس جبکہ جانتے ہو، مانتے ہو کہ ابتدائے آفرینش اسی نے کی ہے اور عقل باور کرتی ہے کہ پہلی پہلی پیدائش دوسری پیدائش سے مشکل ہے پھر دوسری پیدائش کا انکار کیوں کرتے ہو؟
یہی اور جگہ ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] اللہ ہی نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی دوبارہ دوہرائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے،
سورۃ یاسین میں «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ» * «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ» * «قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-یس:77-79] تک ارشاد فرمایا یعنی ” ہم انسان کو نطفے سے پیدا کرتے ہیں پھر وہ حجت بازیاں کرنے لگتا ہے اور ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے ان بوسیدہ گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا تم اے نبی! ہماری طرف سے جواب دو کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلے پہل پیدا کیا ہے وہ ہر پیدائش کا علم رکھنے والا ہے “۔
سورۃ القیامہ میں فرمایا «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى» * «أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى» * «ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى» * «فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى» * «أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى» [75-القيامة:40-36] سے آخر سورۃ تک، یعنی ” کیا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اسے یونہی آوارہ چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا یہ ایک غلیظ پانی کے نطفے کی شکل میں نہ تھا، پھر خون کے لوتھڑے کی صورت میں نمایاں ہوا تھا؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا درست کیا مرد عورت بنایا ایسا اللہ مُردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ “
صفحہ نمبر9227
منکرین قیامت کو جواب ٭٭
اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لیے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کر دیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہو گا؟ جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے؟ ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی ہاتھ نہیں کوئی قدرت نہیں کوئی تدبیر نہیں، پیدا کرنا یہ صفت صرف خالق کل اللہ رب العزت کی ہی ہے ٹھیک اسی طرح مار ڈالنے پر بھی وہی قادر ہے۔ کل آسمان و زمین والوں کی موت کا متصرف بھی اللہ ہی ہے۔ پھر بھلا اتنی بڑی قدرتوں کا مالک کیا یہ نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن تمہاری پیدائش میں تبدیلی کر کے جس صفت اور جس حال میں چاہے تمہیں از سر نو پیدا کر دے۔ پس جبکہ جانتے ہو، مانتے ہو کہ ابتدائے آفرینش اسی نے کی ہے اور عقل باور کرتی ہے کہ پہلی پہلی پیدائش دوسری پیدائش سے مشکل ہے پھر دوسری پیدائش کا انکار کیوں کرتے ہو؟
یہی اور جگہ ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] اللہ ہی نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی دوبارہ دوہرائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے،
سورۃ یاسین میں «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ» * «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ» * «قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-یس:77-79] تک ارشاد فرمایا یعنی ” ہم انسان کو نطفے سے پیدا کرتے ہیں پھر وہ حجت بازیاں کرنے لگتا ہے اور ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے ان بوسیدہ گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا تم اے نبی! ہماری طرف سے جواب دو کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلے پہل پیدا کیا ہے وہ ہر پیدائش کا علم رکھنے والا ہے “۔
سورۃ القیامہ میں فرمایا «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى» * «أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى» * «ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى» * «فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى» * «أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى» [75-القيامة:40-36] سے آخر سورۃ تک، یعنی ” کیا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اسے یونہی آوارہ چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا یہ ایک غلیظ پانی کے نطفے کی شکل میں نہ تھا، پھر خون کے لوتھڑے کی صورت میں نمایاں ہوا تھا؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا درست کیا مرد عورت بنایا ایسا اللہ مُردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ “
صفحہ نمبر9227
منکرین قیامت کو جواب ٭٭
اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لیے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کر دیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہو گا؟ جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے؟ ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی ہاتھ نہیں کوئی قدرت نہیں کوئی تدبیر نہیں، پیدا کرنا یہ صفت صرف خالق کل اللہ رب العزت کی ہی ہے ٹھیک اسی طرح مار ڈالنے پر بھی وہی قادر ہے۔ کل آسمان و زمین والوں کی موت کا متصرف بھی اللہ ہی ہے۔ پھر بھلا اتنی بڑی قدرتوں کا مالک کیا یہ نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن تمہاری پیدائش میں تبدیلی کر کے جس صفت اور جس حال میں چاہے تمہیں از سر نو پیدا کر دے۔ پس جبکہ جانتے ہو، مانتے ہو کہ ابتدائے آفرینش اسی نے کی ہے اور عقل باور کرتی ہے کہ پہلی پہلی پیدائش دوسری پیدائش سے مشکل ہے پھر دوسری پیدائش کا انکار کیوں کرتے ہو؟
یہی اور جگہ ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] اللہ ہی نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی دوبارہ دوہرائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے،
سورۃ یاسین میں «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ» * «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ» * «قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-یس:77-79] تک ارشاد فرمایا یعنی ” ہم انسان کو نطفے سے پیدا کرتے ہیں پھر وہ حجت بازیاں کرنے لگتا ہے اور ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے ان بوسیدہ گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا تم اے نبی! ہماری طرف سے جواب دو کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلے پہل پیدا کیا ہے وہ ہر پیدائش کا علم رکھنے والا ہے “۔
سورۃ القیامہ میں فرمایا «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى» * «أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى» * «ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى» * «فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى» * «أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى» [75-القيامة:40-36] سے آخر سورۃ تک، یعنی ” کیا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اسے یونہی آوارہ چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا یہ ایک غلیظ پانی کے نطفے کی شکل میں نہ تھا، پھر خون کے لوتھڑے کی صورت میں نمایاں ہوا تھا؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا درست کیا مرد عورت بنایا ایسا اللہ مُردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ “
صفحہ نمبر9227
منکرین قیامت کو جواب ٭٭
اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لیے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کر دیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہو گا؟ جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے؟ ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی ہاتھ نہیں کوئی قدرت نہیں کوئی تدبیر نہیں، پیدا کرنا یہ صفت صرف خالق کل اللہ رب العزت کی ہی ہے ٹھیک اسی طرح مار ڈالنے پر بھی وہی قادر ہے۔ کل آسمان و زمین والوں کی موت کا متصرف بھی اللہ ہی ہے۔ پھر بھلا اتنی بڑی قدرتوں کا مالک کیا یہ نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن تمہاری پیدائش میں تبدیلی کر کے جس صفت اور جس حال میں چاہے تمہیں از سر نو پیدا کر دے۔ پس جبکہ جانتے ہو، مانتے ہو کہ ابتدائے آفرینش اسی نے کی ہے اور عقل باور کرتی ہے کہ پہلی پہلی پیدائش دوسری پیدائش سے مشکل ہے پھر دوسری پیدائش کا انکار کیوں کرتے ہو؟
یہی اور جگہ ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] اللہ ہی نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی دوبارہ دوہرائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے،
سورۃ یاسین میں «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ» * «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ» * «قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-یس:77-79] تک ارشاد فرمایا یعنی ” ہم انسان کو نطفے سے پیدا کرتے ہیں پھر وہ حجت بازیاں کرنے لگتا ہے اور ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے ان بوسیدہ گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا تم اے نبی! ہماری طرف سے جواب دو کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلے پہل پیدا کیا ہے وہ ہر پیدائش کا علم رکھنے والا ہے “۔
سورۃ القیامہ میں فرمایا «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى» * «أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى» * «ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى» * «فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى» * «أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى» [75-القيامة:40-36] سے آخر سورۃ تک، یعنی ” کیا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اسے یونہی آوارہ چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا یہ ایک غلیظ پانی کے نطفے کی شکل میں نہ تھا، پھر خون کے لوتھڑے کی صورت میں نمایاں ہوا تھا؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا درست کیا مرد عورت بنایا ایسا اللہ مُردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ “
صفحہ نمبر9227
منکرین قیامت کو جواب ٭٭
اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لیے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کر دیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہو گا؟ جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے؟ ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی ہاتھ نہیں کوئی قدرت نہیں کوئی تدبیر نہیں، پیدا کرنا یہ صفت صرف خالق کل اللہ رب العزت کی ہی ہے ٹھیک اسی طرح مار ڈالنے پر بھی وہی قادر ہے۔ کل آسمان و زمین والوں کی موت کا متصرف بھی اللہ ہی ہے۔ پھر بھلا اتنی بڑی قدرتوں کا مالک کیا یہ نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن تمہاری پیدائش میں تبدیلی کر کے جس صفت اور جس حال میں چاہے تمہیں از سر نو پیدا کر دے۔ پس جبکہ جانتے ہو، مانتے ہو کہ ابتدائے آفرینش اسی نے کی ہے اور عقل باور کرتی ہے کہ پہلی پہلی پیدائش دوسری پیدائش سے مشکل ہے پھر دوسری پیدائش کا انکار کیوں کرتے ہو؟
یہی اور جگہ ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] اللہ ہی نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی دوبارہ دوہرائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے،
سورۃ یاسین میں «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ» * «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ» * «قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-یس:77-79] تک ارشاد فرمایا یعنی ” ہم انسان کو نطفے سے پیدا کرتے ہیں پھر وہ حجت بازیاں کرنے لگتا ہے اور ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے ان بوسیدہ گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا تم اے نبی! ہماری طرف سے جواب دو کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلے پہل پیدا کیا ہے وہ ہر پیدائش کا علم رکھنے والا ہے “۔
سورۃ القیامہ میں فرمایا «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى» * «أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى» * «ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى» * «فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى» * «أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى» [75-القيامة:40-36] سے آخر سورۃ تک، یعنی ” کیا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اسے یونہی آوارہ چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا یہ ایک غلیظ پانی کے نطفے کی شکل میں نہ تھا، پھر خون کے لوتھڑے کی صورت میں نمایاں ہوا تھا؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا درست کیا مرد عورت بنایا ایسا اللہ مُردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ “
صفحہ نمبر9227
منکرین قیامت کو جواب ٭٭
اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لیے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کر دیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہو گا؟ جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے؟ ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی ہاتھ نہیں کوئی قدرت نہیں کوئی تدبیر نہیں، پیدا کرنا یہ صفت صرف خالق کل اللہ رب العزت کی ہی ہے ٹھیک اسی طرح مار ڈالنے پر بھی وہی قادر ہے۔ کل آسمان و زمین والوں کی موت کا متصرف بھی اللہ ہی ہے۔ پھر بھلا اتنی بڑی قدرتوں کا مالک کیا یہ نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن تمہاری پیدائش میں تبدیلی کر کے جس صفت اور جس حال میں چاہے تمہیں از سر نو پیدا کر دے۔ پس جبکہ جانتے ہو، مانتے ہو کہ ابتدائے آفرینش اسی نے کی ہے اور عقل باور کرتی ہے کہ پہلی پہلی پیدائش دوسری پیدائش سے مشکل ہے پھر دوسری پیدائش کا انکار کیوں کرتے ہو؟
یہی اور جگہ ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] اللہ ہی نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی دوبارہ دوہرائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے،
سورۃ یاسین میں «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ» * «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ» * «قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-یس:77-79] تک ارشاد فرمایا یعنی ” ہم انسان کو نطفے سے پیدا کرتے ہیں پھر وہ حجت بازیاں کرنے لگتا ہے اور ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے ان بوسیدہ گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا تم اے نبی! ہماری طرف سے جواب دو کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلے پہل پیدا کیا ہے وہ ہر پیدائش کا علم رکھنے والا ہے “۔
سورۃ القیامہ میں فرمایا «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى» * «أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى» * «ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى» * «فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى» * «أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى» [75-القيامة:40-36] سے آخر سورۃ تک، یعنی ” کیا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اسے یونہی آوارہ چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا یہ ایک غلیظ پانی کے نطفے کی شکل میں نہ تھا، پھر خون کے لوتھڑے کی صورت میں نمایاں ہوا تھا؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا درست کیا مرد عورت بنایا ایسا اللہ مُردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ “
صفحہ نمبر9227
منکرین قیامت کو جواب ٭٭
اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لیے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کر دیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہو گا؟ جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے؟ ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی ہاتھ نہیں کوئی قدرت نہیں کوئی تدبیر نہیں، پیدا کرنا یہ صفت صرف خالق کل اللہ رب العزت کی ہی ہے ٹھیک اسی طرح مار ڈالنے پر بھی وہی قادر ہے۔ کل آسمان و زمین والوں کی موت کا متصرف بھی اللہ ہی ہے۔ پھر بھلا اتنی بڑی قدرتوں کا مالک کیا یہ نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن تمہاری پیدائش میں تبدیلی کر کے جس صفت اور جس حال میں چاہے تمہیں از سر نو پیدا کر دے۔ پس جبکہ جانتے ہو، مانتے ہو کہ ابتدائے آفرینش اسی نے کی ہے اور عقل باور کرتی ہے کہ پہلی پہلی پیدائش دوسری پیدائش سے مشکل ہے پھر دوسری پیدائش کا انکار کیوں کرتے ہو؟
یہی اور جگہ ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] اللہ ہی نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی دوبارہ دوہرائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے،
سورۃ یاسین میں «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ» * «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ» * «قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-یس:77-79] تک ارشاد فرمایا یعنی ” ہم انسان کو نطفے سے پیدا کرتے ہیں پھر وہ حجت بازیاں کرنے لگتا ہے اور ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے ان بوسیدہ گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا تم اے نبی! ہماری طرف سے جواب دو کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلے پہل پیدا کیا ہے وہ ہر پیدائش کا علم رکھنے والا ہے “۔
سورۃ القیامہ میں فرمایا «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى» * «أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى» * «ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى» * «فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى» * «أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى» [75-القيامة:40-36] سے آخر سورۃ تک، یعنی ” کیا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اسے یونہی آوارہ چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا یہ ایک غلیظ پانی کے نطفے کی شکل میں نہ تھا، پھر خون کے لوتھڑے کی صورت میں نمایاں ہوا تھا؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا درست کیا مرد عورت بنایا ایسا اللہ مُردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ “
صفحہ نمبر9227
منکرین قیامت کو جواب ٭٭
اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لیے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کر دیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہو گا؟ جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے؟ ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی ہاتھ نہیں کوئی قدرت نہیں کوئی تدبیر نہیں، پیدا کرنا یہ صفت صرف خالق کل اللہ رب العزت کی ہی ہے ٹھیک اسی طرح مار ڈالنے پر بھی وہی قادر ہے۔ کل آسمان و زمین والوں کی موت کا متصرف بھی اللہ ہی ہے۔ پھر بھلا اتنی بڑی قدرتوں کا مالک کیا یہ نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن تمہاری پیدائش میں تبدیلی کر کے جس صفت اور جس حال میں چاہے تمہیں از سر نو پیدا کر دے۔ پس جبکہ جانتے ہو، مانتے ہو کہ ابتدائے آفرینش اسی نے کی ہے اور عقل باور کرتی ہے کہ پہلی پہلی پیدائش دوسری پیدائش سے مشکل ہے پھر دوسری پیدائش کا انکار کیوں کرتے ہو؟
یہی اور جگہ ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] اللہ ہی نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی دوبارہ دوہرائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے،
سورۃ یاسین میں «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ» * «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ» * «قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-یس:77-79] تک ارشاد فرمایا یعنی ” ہم انسان کو نطفے سے پیدا کرتے ہیں پھر وہ حجت بازیاں کرنے لگتا ہے اور ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے ان بوسیدہ گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا تم اے نبی! ہماری طرف سے جواب دو کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلے پہل پیدا کیا ہے وہ ہر پیدائش کا علم رکھنے والا ہے “۔
سورۃ القیامہ میں فرمایا «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى» * «أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى» * «ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى» * «فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى» * «أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى» [75-القيامة:40-36] سے آخر سورۃ تک، یعنی ” کیا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اسے یونہی آوارہ چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا یہ ایک غلیظ پانی کے نطفے کی شکل میں نہ تھا، پھر خون کے لوتھڑے کی صورت میں نمایاں ہوا تھا؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا درست کیا مرد عورت بنایا ایسا اللہ مُردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ “
صفحہ نمبر9227