Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Waaqia
Tafsir Ibn Kathir · The Inevitable · 96 ayat · ayat 1–30 · Quran text →
تفسیر سورۃ الواقعۃ:
ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! آپ بوڑھے ہو گئے، آپ نے فرمایا: ”ہاں مجھے سورۃ ہود، سورۃ الواقعہ، سورۃ والمرسلات، سورۃ النباء، سورۃ اذا الشمس کورت نے بوڑھا کر دیا اس حدیث کو امام ترمذی لائے ہیں اور اسے حسن غریب کہتے ہیں ۔ (سنن ترمذي:3297،قال الشيخ الألباني:صحیح)
حافظ ابن عساکر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے واقعات میں ایک روایت لائے ہیں کہ جب عبداللہ بیمار ہوئے جس بیماری سے آپ جاں بر نہ ہوئے، اس بیماری میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، پوچھا: آپ کو کیا شکوہ ہے؟ فرمایا: اپنے گناہوں کا، دریافت کیا: خواہش کیا ہے؟ فرمایا: اپنے رب کی رحمت کی، پوچھا: کسی طبیب کو بھیج دوں؟ فرمایا: طبیب نے ہی تو بیمار ڈالا ہے۔ پوچھا: کچھ مال بھیج دوں؟ فرمایا: مال کی کوئی حاجت نہیں، کہا: آپ کے بچوں کے کام آئے گا، فرمایا: کیا میری بچیوں کی نسبت آپ کو فقیری کا ڈر ہے؟ سنئے! میں نے اپنی سب لڑکیوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ ہر رات کو سورۃ الواقعہ پڑھ لیا کریں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص سورۃ الواقعہ کو ہر روز پڑھ لیا کرے اس کو ہرگز ہرگز فاقہ نہ پہنچے گا۔ اس واقعہ کے راوی ابوظبیہ بھی اس سورت کو بلاناغہ پڑھا کرتے تھے ۔ (سلسلة احادیث ضعیفه البانی:289:ضعیف)
مسند احمد میں ہے جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں اسی طرح پڑھتے تھے جس طرح تم آج پڑھتے ہو لیکن آپ کی نماز تخفیف والی ہوتی تھی، فجر کی نماز میں آپ سورۃ الواقعہ اور اسی جیسی سورتیں تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔ (مسند احمد:104/5:صحیح لغیره)
تفسیر سورۂ واقعہ ٭٭
«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15] ” اس دن ہو پڑے گی “، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔
جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] ” اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں “۔
اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» [70-المعارج:1] ” سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے “، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
صفحہ نمبر9154
یقینی امر ٭٭
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:73] ” جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے “۔
قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:622/11]
صفحہ نمبر9155
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ [99-الزلزلة:1]
اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» [22-الحج:1] ” لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے “۔
پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» [73-المزمل:14] آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔
«هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔
«مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔
لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
صفحہ نمبر9156
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین»
تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔
پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] یعنی ” پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں “۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» [35-فاطر:32] کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ” جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں “، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: ”یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔“ [مسند احمد:69/6:ضعیف] «سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» [3-آل عمران:133] ” اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے “، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
صفحہ نمبر9157
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔
صفحہ نمبر9158
تفسیر سورۃ الواقعۃ:
ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! آپ بوڑھے ہو گئے، آپ نے فرمایا: ”ہاں مجھے سورۃ ہود، سورۃ الواقعہ، سورۃ والمرسلات، سورۃ النباء، سورۃ اذا الشمس کورت نے بوڑھا کر دیا اس حدیث کو امام ترمذی لائے ہیں اور اسے حسن غریب کہتے ہیں ۔ (سنن ترمذي:3297،قال الشيخ الألباني:صحیح)
حافظ ابن عساکر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے واقعات میں ایک روایت لائے ہیں کہ جب عبداللہ بیمار ہوئے جس بیماری سے آپ جاں بر نہ ہوئے، اس بیماری میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، پوچھا: آپ کو کیا شکوہ ہے؟ فرمایا: اپنے گناہوں کا، دریافت کیا: خواہش کیا ہے؟ فرمایا: اپنے رب کی رحمت کی، پوچھا: کسی طبیب کو بھیج دوں؟ فرمایا: طبیب نے ہی تو بیمار ڈالا ہے۔ پوچھا: کچھ مال بھیج دوں؟ فرمایا: مال کی کوئی حاجت نہیں، کہا: آپ کے بچوں کے کام آئے گا، فرمایا: کیا میری بچیوں کی نسبت آپ کو فقیری کا ڈر ہے؟ سنئے! میں نے اپنی سب لڑکیوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ ہر رات کو سورۃ الواقعہ پڑھ لیا کریں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص سورۃ الواقعہ کو ہر روز پڑھ لیا کرے اس کو ہرگز ہرگز فاقہ نہ پہنچے گا۔ اس واقعہ کے راوی ابوظبیہ بھی اس سورت کو بلاناغہ پڑھا کرتے تھے ۔ (سلسلة احادیث ضعیفه البانی:289:ضعیف)
مسند احمد میں ہے جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں اسی طرح پڑھتے تھے جس طرح تم آج پڑھتے ہو لیکن آپ کی نماز تخفیف والی ہوتی تھی، فجر کی نماز میں آپ سورۃ الواقعہ اور اسی جیسی سورتیں تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔ (مسند احمد:104/5:صحیح لغیره)
تفسیر سورۂ واقعہ ٭٭
«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15] ” اس دن ہو پڑے گی “، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔
جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] ” اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں “۔
اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» [70-المعارج:1] ” سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے “، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
صفحہ نمبر9154
یقینی امر ٭٭
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:73] ” جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے “۔
قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:622/11]
صفحہ نمبر9155
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ [99-الزلزلة:1]
اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» [22-الحج:1] ” لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے “۔
پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» [73-المزمل:14] آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔
«هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔
«مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔
لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
صفحہ نمبر9156
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین»
تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔
پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] یعنی ” پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں “۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» [35-فاطر:32] کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ” جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں “، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: ”یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔“ [مسند احمد:69/6:ضعیف] «سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» [3-آل عمران:133] ” اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے “، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
صفحہ نمبر9157
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔
صفحہ نمبر9158
تفسیر سورۃ الواقعۃ:
ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! آپ بوڑھے ہو گئے، آپ نے فرمایا: ”ہاں مجھے سورۃ ہود، سورۃ الواقعہ، سورۃ والمرسلات، سورۃ النباء، سورۃ اذا الشمس کورت نے بوڑھا کر دیا اس حدیث کو امام ترمذی لائے ہیں اور اسے حسن غریب کہتے ہیں ۔ (سنن ترمذي:3297،قال الشيخ الألباني:صحیح)
حافظ ابن عساکر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے واقعات میں ایک روایت لائے ہیں کہ جب عبداللہ بیمار ہوئے جس بیماری سے آپ جاں بر نہ ہوئے، اس بیماری میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، پوچھا: آپ کو کیا شکوہ ہے؟ فرمایا: اپنے گناہوں کا، دریافت کیا: خواہش کیا ہے؟ فرمایا: اپنے رب کی رحمت کی، پوچھا: کسی طبیب کو بھیج دوں؟ فرمایا: طبیب نے ہی تو بیمار ڈالا ہے۔ پوچھا: کچھ مال بھیج دوں؟ فرمایا: مال کی کوئی حاجت نہیں، کہا: آپ کے بچوں کے کام آئے گا، فرمایا: کیا میری بچیوں کی نسبت آپ کو فقیری کا ڈر ہے؟ سنئے! میں نے اپنی سب لڑکیوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ ہر رات کو سورۃ الواقعہ پڑھ لیا کریں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص سورۃ الواقعہ کو ہر روز پڑھ لیا کرے اس کو ہرگز ہرگز فاقہ نہ پہنچے گا۔ اس واقعہ کے راوی ابوظبیہ بھی اس سورت کو بلاناغہ پڑھا کرتے تھے ۔ (سلسلة احادیث ضعیفه البانی:289:ضعیف)
مسند احمد میں ہے جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں اسی طرح پڑھتے تھے جس طرح تم آج پڑھتے ہو لیکن آپ کی نماز تخفیف والی ہوتی تھی، فجر کی نماز میں آپ سورۃ الواقعہ اور اسی جیسی سورتیں تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔ (مسند احمد:104/5:صحیح لغیره)
تفسیر سورۂ واقعہ ٭٭
«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15] ” اس دن ہو پڑے گی “، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔
جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] ” اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں “۔
اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» [70-المعارج:1] ” سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے “، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
صفحہ نمبر9154
یقینی امر ٭٭
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:73] ” جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے “۔
قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:622/11]
صفحہ نمبر9155
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ [99-الزلزلة:1]
اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» [22-الحج:1] ” لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے “۔
پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» [73-المزمل:14] آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔
«هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔
«مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔
لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
صفحہ نمبر9156
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین»
تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔
پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] یعنی ” پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں “۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» [35-فاطر:32] کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ” جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں “، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: ”یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔“ [مسند احمد:69/6:ضعیف] «سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» [3-آل عمران:133] ” اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے “، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
صفحہ نمبر9157
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔
صفحہ نمبر9158
تفسیر سورۃ الواقعۃ:
ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! آپ بوڑھے ہو گئے، آپ نے فرمایا: ”ہاں مجھے سورۃ ہود، سورۃ الواقعہ، سورۃ والمرسلات، سورۃ النباء، سورۃ اذا الشمس کورت نے بوڑھا کر دیا اس حدیث کو امام ترمذی لائے ہیں اور اسے حسن غریب کہتے ہیں ۔ (سنن ترمذي:3297،قال الشيخ الألباني:صحیح)
حافظ ابن عساکر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے واقعات میں ایک روایت لائے ہیں کہ جب عبداللہ بیمار ہوئے جس بیماری سے آپ جاں بر نہ ہوئے، اس بیماری میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، پوچھا: آپ کو کیا شکوہ ہے؟ فرمایا: اپنے گناہوں کا، دریافت کیا: خواہش کیا ہے؟ فرمایا: اپنے رب کی رحمت کی، پوچھا: کسی طبیب کو بھیج دوں؟ فرمایا: طبیب نے ہی تو بیمار ڈالا ہے۔ پوچھا: کچھ مال بھیج دوں؟ فرمایا: مال کی کوئی حاجت نہیں، کہا: آپ کے بچوں کے کام آئے گا، فرمایا: کیا میری بچیوں کی نسبت آپ کو فقیری کا ڈر ہے؟ سنئے! میں نے اپنی سب لڑکیوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ ہر رات کو سورۃ الواقعہ پڑھ لیا کریں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص سورۃ الواقعہ کو ہر روز پڑھ لیا کرے اس کو ہرگز ہرگز فاقہ نہ پہنچے گا۔ اس واقعہ کے راوی ابوظبیہ بھی اس سورت کو بلاناغہ پڑھا کرتے تھے ۔ (سلسلة احادیث ضعیفه البانی:289:ضعیف)
مسند احمد میں ہے جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں اسی طرح پڑھتے تھے جس طرح تم آج پڑھتے ہو لیکن آپ کی نماز تخفیف والی ہوتی تھی، فجر کی نماز میں آپ سورۃ الواقعہ اور اسی جیسی سورتیں تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔ (مسند احمد:104/5:صحیح لغیره)
تفسیر سورۂ واقعہ ٭٭
«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15] ” اس دن ہو پڑے گی “، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔
جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] ” اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں “۔
اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» [70-المعارج:1] ” سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے “، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
صفحہ نمبر9154
یقینی امر ٭٭
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:73] ” جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے “۔
قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:622/11]
صفحہ نمبر9155
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ [99-الزلزلة:1]
اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» [22-الحج:1] ” لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے “۔
پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» [73-المزمل:14] آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔
«هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔
«مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔
لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
صفحہ نمبر9156
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین»
تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔
پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] یعنی ” پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں “۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» [35-فاطر:32] کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ” جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں “، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: ”یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔“ [مسند احمد:69/6:ضعیف] «سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» [3-آل عمران:133] ” اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے “، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
صفحہ نمبر9157
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔
صفحہ نمبر9158
تفسیر سورۃ الواقعۃ:
ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! آپ بوڑھے ہو گئے، آپ نے فرمایا: ”ہاں مجھے سورۃ ہود، سورۃ الواقعہ، سورۃ والمرسلات، سورۃ النباء، سورۃ اذا الشمس کورت نے بوڑھا کر دیا اس حدیث کو امام ترمذی لائے ہیں اور اسے حسن غریب کہتے ہیں ۔ (سنن ترمذي:3297،قال الشيخ الألباني:صحیح)
حافظ ابن عساکر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے واقعات میں ایک روایت لائے ہیں کہ جب عبداللہ بیمار ہوئے جس بیماری سے آپ جاں بر نہ ہوئے، اس بیماری میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، پوچھا: آپ کو کیا شکوہ ہے؟ فرمایا: اپنے گناہوں کا، دریافت کیا: خواہش کیا ہے؟ فرمایا: اپنے رب کی رحمت کی، پوچھا: کسی طبیب کو بھیج دوں؟ فرمایا: طبیب نے ہی تو بیمار ڈالا ہے۔ پوچھا: کچھ مال بھیج دوں؟ فرمایا: مال کی کوئی حاجت نہیں، کہا: آپ کے بچوں کے کام آئے گا، فرمایا: کیا میری بچیوں کی نسبت آپ کو فقیری کا ڈر ہے؟ سنئے! میں نے اپنی سب لڑکیوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ ہر رات کو سورۃ الواقعہ پڑھ لیا کریں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص سورۃ الواقعہ کو ہر روز پڑھ لیا کرے اس کو ہرگز ہرگز فاقہ نہ پہنچے گا۔ اس واقعہ کے راوی ابوظبیہ بھی اس سورت کو بلاناغہ پڑھا کرتے تھے ۔ (سلسلة احادیث ضعیفه البانی:289:ضعیف)
مسند احمد میں ہے جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں اسی طرح پڑھتے تھے جس طرح تم آج پڑھتے ہو لیکن آپ کی نماز تخفیف والی ہوتی تھی، فجر کی نماز میں آپ سورۃ الواقعہ اور اسی جیسی سورتیں تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔ (مسند احمد:104/5:صحیح لغیره)
تفسیر سورۂ واقعہ ٭٭
«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15] ” اس دن ہو پڑے گی “، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔
جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] ” اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں “۔
اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» [70-المعارج:1] ” سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے “، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
صفحہ نمبر9154
یقینی امر ٭٭
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:73] ” جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے “۔
قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:622/11]
صفحہ نمبر9155
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ [99-الزلزلة:1]
اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» [22-الحج:1] ” لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے “۔
پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» [73-المزمل:14] آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔
«هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔
«مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔
لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
صفحہ نمبر9156
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین»
تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔
پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] یعنی ” پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں “۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» [35-فاطر:32] کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ” جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں “، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: ”یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔“ [مسند احمد:69/6:ضعیف] «سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» [3-آل عمران:133] ” اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے “، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
صفحہ نمبر9157
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔
صفحہ نمبر9158
تفسیر سورۃ الواقعۃ:
ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! آپ بوڑھے ہو گئے، آپ نے فرمایا: ”ہاں مجھے سورۃ ہود، سورۃ الواقعہ، سورۃ والمرسلات، سورۃ النباء، سورۃ اذا الشمس کورت نے بوڑھا کر دیا اس حدیث کو امام ترمذی لائے ہیں اور اسے حسن غریب کہتے ہیں ۔ (سنن ترمذي:3297،قال الشيخ الألباني:صحیح)
حافظ ابن عساکر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے واقعات میں ایک روایت لائے ہیں کہ جب عبداللہ بیمار ہوئے جس بیماری سے آپ جاں بر نہ ہوئے، اس بیماری میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، پوچھا: آپ کو کیا شکوہ ہے؟ فرمایا: اپنے گناہوں کا، دریافت کیا: خواہش کیا ہے؟ فرمایا: اپنے رب کی رحمت کی، پوچھا: کسی طبیب کو بھیج دوں؟ فرمایا: طبیب نے ہی تو بیمار ڈالا ہے۔ پوچھا: کچھ مال بھیج دوں؟ فرمایا: مال کی کوئی حاجت نہیں، کہا: آپ کے بچوں کے کام آئے گا، فرمایا: کیا میری بچیوں کی نسبت آپ کو فقیری کا ڈر ہے؟ سنئے! میں نے اپنی سب لڑکیوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ ہر رات کو سورۃ الواقعہ پڑھ لیا کریں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص سورۃ الواقعہ کو ہر روز پڑھ لیا کرے اس کو ہرگز ہرگز فاقہ نہ پہنچے گا۔ اس واقعہ کے راوی ابوظبیہ بھی اس سورت کو بلاناغہ پڑھا کرتے تھے ۔ (سلسلة احادیث ضعیفه البانی:289:ضعیف)
مسند احمد میں ہے جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں اسی طرح پڑھتے تھے جس طرح تم آج پڑھتے ہو لیکن آپ کی نماز تخفیف والی ہوتی تھی، فجر کی نماز میں آپ سورۃ الواقعہ اور اسی جیسی سورتیں تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔ (مسند احمد:104/5:صحیح لغیره)
تفسیر سورۂ واقعہ ٭٭
«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15] ” اس دن ہو پڑے گی “، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔
جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] ” اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں “۔
اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» [70-المعارج:1] ” سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے “، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
صفحہ نمبر9154
یقینی امر ٭٭
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:73] ” جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے “۔
قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:622/11]
صفحہ نمبر9155
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ [99-الزلزلة:1]
اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» [22-الحج:1] ” لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے “۔
پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» [73-المزمل:14] آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔
«هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔
«مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔
لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
صفحہ نمبر9156
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین»
تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔
پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] یعنی ” پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں “۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» [35-فاطر:32] کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ” جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں “، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: ”یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔“ [مسند احمد:69/6:ضعیف] «سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» [3-آل عمران:133] ” اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے “، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
صفحہ نمبر9157
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔
صفحہ نمبر9158
تفسیر سورۃ الواقعۃ:
ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! آپ بوڑھے ہو گئے، آپ نے فرمایا: ”ہاں مجھے سورۃ ہود، سورۃ الواقعہ، سورۃ والمرسلات، سورۃ النباء، سورۃ اذا الشمس کورت نے بوڑھا کر دیا اس حدیث کو امام ترمذی لائے ہیں اور اسے حسن غریب کہتے ہیں ۔ (سنن ترمذي:3297،قال الشيخ الألباني:صحیح)
حافظ ابن عساکر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے واقعات میں ایک روایت لائے ہیں کہ جب عبداللہ بیمار ہوئے جس بیماری سے آپ جاں بر نہ ہوئے، اس بیماری میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، پوچھا: آپ کو کیا شکوہ ہے؟ فرمایا: اپنے گناہوں کا، دریافت کیا: خواہش کیا ہے؟ فرمایا: اپنے رب کی رحمت کی، پوچھا: کسی طبیب کو بھیج دوں؟ فرمایا: طبیب نے ہی تو بیمار ڈالا ہے۔ پوچھا: کچھ مال بھیج دوں؟ فرمایا: مال کی کوئی حاجت نہیں، کہا: آپ کے بچوں کے کام آئے گا، فرمایا: کیا میری بچیوں کی نسبت آپ کو فقیری کا ڈر ہے؟ سنئے! میں نے اپنی سب لڑکیوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ ہر رات کو سورۃ الواقعہ پڑھ لیا کریں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص سورۃ الواقعہ کو ہر روز پڑھ لیا کرے اس کو ہرگز ہرگز فاقہ نہ پہنچے گا۔ اس واقعہ کے راوی ابوظبیہ بھی اس سورت کو بلاناغہ پڑھا کرتے تھے ۔ (سلسلة احادیث ضعیفه البانی:289:ضعیف)
مسند احمد میں ہے جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں اسی طرح پڑھتے تھے جس طرح تم آج پڑھتے ہو لیکن آپ کی نماز تخفیف والی ہوتی تھی، فجر کی نماز میں آپ سورۃ الواقعہ اور اسی جیسی سورتیں تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔ (مسند احمد:104/5:صحیح لغیره)
تفسیر سورۂ واقعہ ٭٭
«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15] ” اس دن ہو پڑے گی “، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔
جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] ” اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں “۔
اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» [70-المعارج:1] ” سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے “، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
صفحہ نمبر9154
یقینی امر ٭٭
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:73] ” جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے “۔
قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:622/11]
صفحہ نمبر9155
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ [99-الزلزلة:1]
اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» [22-الحج:1] ” لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے “۔
پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» [73-المزمل:14] آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔
«هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔
«مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔
لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
صفحہ نمبر9156
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین»
تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔
پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] یعنی ” پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں “۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» [35-فاطر:32] کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ” جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں “، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: ”یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔“ [مسند احمد:69/6:ضعیف] «سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» [3-آل عمران:133] ” اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے “، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
صفحہ نمبر9157
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔
صفحہ نمبر9158
تفسیر سورۃ الواقعۃ:
ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! آپ بوڑھے ہو گئے، آپ نے فرمایا: ”ہاں مجھے سورۃ ہود، سورۃ الواقعہ، سورۃ والمرسلات، سورۃ النباء، سورۃ اذا الشمس کورت نے بوڑھا کر دیا اس حدیث کو امام ترمذی لائے ہیں اور اسے حسن غریب کہتے ہیں ۔ (سنن ترمذي:3297،قال الشيخ الألباني:صحیح)
حافظ ابن عساکر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے واقعات میں ایک روایت لائے ہیں کہ جب عبداللہ بیمار ہوئے جس بیماری سے آپ جاں بر نہ ہوئے، اس بیماری میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، پوچھا: آپ کو کیا شکوہ ہے؟ فرمایا: اپنے گناہوں کا، دریافت کیا: خواہش کیا ہے؟ فرمایا: اپنے رب کی رحمت کی، پوچھا: کسی طبیب کو بھیج دوں؟ فرمایا: طبیب نے ہی تو بیمار ڈالا ہے۔ پوچھا: کچھ مال بھیج دوں؟ فرمایا: مال کی کوئی حاجت نہیں، کہا: آپ کے بچوں کے کام آئے گا، فرمایا: کیا میری بچیوں کی نسبت آپ کو فقیری کا ڈر ہے؟ سنئے! میں نے اپنی سب لڑکیوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ ہر رات کو سورۃ الواقعہ پڑھ لیا کریں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص سورۃ الواقعہ کو ہر روز پڑھ لیا کرے اس کو ہرگز ہرگز فاقہ نہ پہنچے گا۔ اس واقعہ کے راوی ابوظبیہ بھی اس سورت کو بلاناغہ پڑھا کرتے تھے ۔ (سلسلة احادیث ضعیفه البانی:289:ضعیف)
مسند احمد میں ہے جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں اسی طرح پڑھتے تھے جس طرح تم آج پڑھتے ہو لیکن آپ کی نماز تخفیف والی ہوتی تھی، فجر کی نماز میں آپ سورۃ الواقعہ اور اسی جیسی سورتیں تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔ (مسند احمد:104/5:صحیح لغیره)
تفسیر سورۂ واقعہ ٭٭
«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15] ” اس دن ہو پڑے گی “، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔
جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] ” اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں “۔
اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» [70-المعارج:1] ” سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے “، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
صفحہ نمبر9154
یقینی امر ٭٭
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:73] ” جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے “۔
قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:622/11]
صفحہ نمبر9155
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ [99-الزلزلة:1]
اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» [22-الحج:1] ” لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے “۔
پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» [73-المزمل:14] آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔
«هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔
«مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔
لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
صفحہ نمبر9156
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین»
تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔
پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] یعنی ” پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں “۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» [35-فاطر:32] کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ” جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں “، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: ”یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔“ [مسند احمد:69/6:ضعیف] «سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» [3-آل عمران:133] ” اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے “، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
صفحہ نمبر9157
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔
صفحہ نمبر9158
تفسیر سورۃ الواقعۃ:
ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! آپ بوڑھے ہو گئے، آپ نے فرمایا: ”ہاں مجھے سورۃ ہود، سورۃ الواقعہ، سورۃ والمرسلات، سورۃ النباء، سورۃ اذا الشمس کورت نے بوڑھا کر دیا اس حدیث کو امام ترمذی لائے ہیں اور اسے حسن غریب کہتے ہیں ۔ (سنن ترمذي:3297،قال الشيخ الألباني:صحیح)
حافظ ابن عساکر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے واقعات میں ایک روایت لائے ہیں کہ جب عبداللہ بیمار ہوئے جس بیماری سے آپ جاں بر نہ ہوئے، اس بیماری میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، پوچھا: آپ کو کیا شکوہ ہے؟ فرمایا: اپنے گناہوں کا، دریافت کیا: خواہش کیا ہے؟ فرمایا: اپنے رب کی رحمت کی، پوچھا: کسی طبیب کو بھیج دوں؟ فرمایا: طبیب نے ہی تو بیمار ڈالا ہے۔ پوچھا: کچھ مال بھیج دوں؟ فرمایا: مال کی کوئی حاجت نہیں، کہا: آپ کے بچوں کے کام آئے گا، فرمایا: کیا میری بچیوں کی نسبت آپ کو فقیری کا ڈر ہے؟ سنئے! میں نے اپنی سب لڑکیوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ ہر رات کو سورۃ الواقعہ پڑھ لیا کریں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص سورۃ الواقعہ کو ہر روز پڑھ لیا کرے اس کو ہرگز ہرگز فاقہ نہ پہنچے گا۔ اس واقعہ کے راوی ابوظبیہ بھی اس سورت کو بلاناغہ پڑھا کرتے تھے ۔ (سلسلة احادیث ضعیفه البانی:289:ضعیف)
مسند احمد میں ہے جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں اسی طرح پڑھتے تھے جس طرح تم آج پڑھتے ہو لیکن آپ کی نماز تخفیف والی ہوتی تھی، فجر کی نماز میں آپ سورۃ الواقعہ اور اسی جیسی سورتیں تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔ (مسند احمد:104/5:صحیح لغیره)
تفسیر سورۂ واقعہ ٭٭
«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15] ” اس دن ہو پڑے گی “، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔
جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] ” اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں “۔
اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» [70-المعارج:1] ” سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے “، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
صفحہ نمبر9154
یقینی امر ٭٭
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:73] ” جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے “۔
قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:622/11]
صفحہ نمبر9155
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ [99-الزلزلة:1]
اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» [22-الحج:1] ” لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے “۔
پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» [73-المزمل:14] آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔
«هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔
«مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔
لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
صفحہ نمبر9156
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین»
تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔
پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] یعنی ” پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں “۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» [35-فاطر:32] کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ” جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں “، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: ”یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔“ [مسند احمد:69/6:ضعیف] «سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» [3-آل عمران:133] ” اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے “، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
صفحہ نمبر9157
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔
صفحہ نمبر9158
تفسیر سورۃ الواقعۃ:
ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! آپ بوڑھے ہو گئے، آپ نے فرمایا: ”ہاں مجھے سورۃ ہود، سورۃ الواقعہ، سورۃ والمرسلات، سورۃ النباء، سورۃ اذا الشمس کورت نے بوڑھا کر دیا اس حدیث کو امام ترمذی لائے ہیں اور اسے حسن غریب کہتے ہیں ۔ (سنن ترمذي:3297،قال الشيخ الألباني:صحیح)
حافظ ابن عساکر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے واقعات میں ایک روایت لائے ہیں کہ جب عبداللہ بیمار ہوئے جس بیماری سے آپ جاں بر نہ ہوئے، اس بیماری میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، پوچھا: آپ کو کیا شکوہ ہے؟ فرمایا: اپنے گناہوں کا، دریافت کیا: خواہش کیا ہے؟ فرمایا: اپنے رب کی رحمت کی، پوچھا: کسی طبیب کو بھیج دوں؟ فرمایا: طبیب نے ہی تو بیمار ڈالا ہے۔ پوچھا: کچھ مال بھیج دوں؟ فرمایا: مال کی کوئی حاجت نہیں، کہا: آپ کے بچوں کے کام آئے گا، فرمایا: کیا میری بچیوں کی نسبت آپ کو فقیری کا ڈر ہے؟ سنئے! میں نے اپنی سب لڑکیوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ ہر رات کو سورۃ الواقعہ پڑھ لیا کریں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص سورۃ الواقعہ کو ہر روز پڑھ لیا کرے اس کو ہرگز ہرگز فاقہ نہ پہنچے گا۔ اس واقعہ کے راوی ابوظبیہ بھی اس سورت کو بلاناغہ پڑھا کرتے تھے ۔ (سلسلة احادیث ضعیفه البانی:289:ضعیف)
مسند احمد میں ہے جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں اسی طرح پڑھتے تھے جس طرح تم آج پڑھتے ہو لیکن آپ کی نماز تخفیف والی ہوتی تھی، فجر کی نماز میں آپ سورۃ الواقعہ اور اسی جیسی سورتیں تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔ (مسند احمد:104/5:صحیح لغیره)
تفسیر سورۂ واقعہ ٭٭
«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15] ” اس دن ہو پڑے گی “، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔
جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] ” اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں “۔
اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» [70-المعارج:1] ” سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے “، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
صفحہ نمبر9154
یقینی امر ٭٭
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:73] ” جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے “۔
قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:622/11]
صفحہ نمبر9155
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ [99-الزلزلة:1]
اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» [22-الحج:1] ” لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے “۔
پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» [73-المزمل:14] آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔
«هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔
«مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔
لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
صفحہ نمبر9156
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین»
تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔
پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] یعنی ” پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں “۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» [35-فاطر:32] کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ” جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں “، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: ”یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔“ [مسند احمد:69/6:ضعیف] «سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» [3-آل عمران:133] ” اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے “، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
صفحہ نمبر9157
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔
صفحہ نمبر9158
تفسیر سورۃ الواقعۃ:
ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! آپ بوڑھے ہو گئے، آپ نے فرمایا: ”ہاں مجھے سورۃ ہود، سورۃ الواقعہ، سورۃ والمرسلات، سورۃ النباء، سورۃ اذا الشمس کورت نے بوڑھا کر دیا اس حدیث کو امام ترمذی لائے ہیں اور اسے حسن غریب کہتے ہیں ۔ (سنن ترمذي:3297،قال الشيخ الألباني:صحیح)
حافظ ابن عساکر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے واقعات میں ایک روایت لائے ہیں کہ جب عبداللہ بیمار ہوئے جس بیماری سے آپ جاں بر نہ ہوئے، اس بیماری میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، پوچھا: آپ کو کیا شکوہ ہے؟ فرمایا: اپنے گناہوں کا، دریافت کیا: خواہش کیا ہے؟ فرمایا: اپنے رب کی رحمت کی، پوچھا: کسی طبیب کو بھیج دوں؟ فرمایا: طبیب نے ہی تو بیمار ڈالا ہے۔ پوچھا: کچھ مال بھیج دوں؟ فرمایا: مال کی کوئی حاجت نہیں، کہا: آپ کے بچوں کے کام آئے گا، فرمایا: کیا میری بچیوں کی نسبت آپ کو فقیری کا ڈر ہے؟ سنئے! میں نے اپنی سب لڑکیوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ ہر رات کو سورۃ الواقعہ پڑھ لیا کریں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص سورۃ الواقعہ کو ہر روز پڑھ لیا کرے اس کو ہرگز ہرگز فاقہ نہ پہنچے گا۔ اس واقعہ کے راوی ابوظبیہ بھی اس سورت کو بلاناغہ پڑھا کرتے تھے ۔ (سلسلة احادیث ضعیفه البانی:289:ضعیف)
مسند احمد میں ہے جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں اسی طرح پڑھتے تھے جس طرح تم آج پڑھتے ہو لیکن آپ کی نماز تخفیف والی ہوتی تھی، فجر کی نماز میں آپ سورۃ الواقعہ اور اسی جیسی سورتیں تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔ (مسند احمد:104/5:صحیح لغیره)
تفسیر سورۂ واقعہ ٭٭
«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15] ” اس دن ہو پڑے گی “، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔
جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] ” اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں “۔
اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» [70-المعارج:1] ” سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے “، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
صفحہ نمبر9154
یقینی امر ٭٭
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:73] ” جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے “۔
قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:622/11]
صفحہ نمبر9155
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ [99-الزلزلة:1]
اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» [22-الحج:1] ” لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے “۔
پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» [73-المزمل:14] آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔
«هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔
«مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔
لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
صفحہ نمبر9156
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین»
تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔
پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] یعنی ” پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں “۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» [35-فاطر:32] کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ” جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں “، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: ”یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔“ [مسند احمد:69/6:ضعیف] «سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» [3-آل عمران:133] ” اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے “، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
صفحہ نمبر9157
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔
صفحہ نمبر9158
تفسیر سورۃ الواقعۃ:
ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! آپ بوڑھے ہو گئے، آپ نے فرمایا: ”ہاں مجھے سورۃ ہود، سورۃ الواقعہ، سورۃ والمرسلات، سورۃ النباء، سورۃ اذا الشمس کورت نے بوڑھا کر دیا اس حدیث کو امام ترمذی لائے ہیں اور اسے حسن غریب کہتے ہیں ۔ (سنن ترمذي:3297،قال الشيخ الألباني:صحیح)
حافظ ابن عساکر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے واقعات میں ایک روایت لائے ہیں کہ جب عبداللہ بیمار ہوئے جس بیماری سے آپ جاں بر نہ ہوئے، اس بیماری میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، پوچھا: آپ کو کیا شکوہ ہے؟ فرمایا: اپنے گناہوں کا، دریافت کیا: خواہش کیا ہے؟ فرمایا: اپنے رب کی رحمت کی، پوچھا: کسی طبیب کو بھیج دوں؟ فرمایا: طبیب نے ہی تو بیمار ڈالا ہے۔ پوچھا: کچھ مال بھیج دوں؟ فرمایا: مال کی کوئی حاجت نہیں، کہا: آپ کے بچوں کے کام آئے گا، فرمایا: کیا میری بچیوں کی نسبت آپ کو فقیری کا ڈر ہے؟ سنئے! میں نے اپنی سب لڑکیوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ ہر رات کو سورۃ الواقعہ پڑھ لیا کریں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص سورۃ الواقعہ کو ہر روز پڑھ لیا کرے اس کو ہرگز ہرگز فاقہ نہ پہنچے گا۔ اس واقعہ کے راوی ابوظبیہ بھی اس سورت کو بلاناغہ پڑھا کرتے تھے ۔ (سلسلة احادیث ضعیفه البانی:289:ضعیف)
مسند احمد میں ہے جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں اسی طرح پڑھتے تھے جس طرح تم آج پڑھتے ہو لیکن آپ کی نماز تخفیف والی ہوتی تھی، فجر کی نماز میں آپ سورۃ الواقعہ اور اسی جیسی سورتیں تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔ (مسند احمد:104/5:صحیح لغیره)
تفسیر سورۂ واقعہ ٭٭
«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15] ” اس دن ہو پڑے گی “، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔
جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] ” اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں “۔
اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» [70-المعارج:1] ” سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے “، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
صفحہ نمبر9154
یقینی امر ٭٭
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:73] ” جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے “۔
قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:622/11]
صفحہ نمبر9155
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ [99-الزلزلة:1]
اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» [22-الحج:1] ” لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے “۔
پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» [73-المزمل:14] آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔
«هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔
«مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔
لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
صفحہ نمبر9156
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین»
تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔
پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] یعنی ” پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں “۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» [35-فاطر:32] کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ” جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں “، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: ”یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔“ [مسند احمد:69/6:ضعیف] «سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» [3-آل عمران:133] ” اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے “، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
صفحہ نمبر9157
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔
صفحہ نمبر9158
مقربین کون ہیں اور اولین کون؟ ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلوں میں ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اوّلین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا: ”ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں“، اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہو سکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت گراں گزری، پس یہ آیت اتری «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39،40] تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو، بلکہ تہائی تم ہو، بلکہ آدھوں آدھ تم ہو، تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہو گی جن میں تم بھی شریک ہو۔“ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ [مسند احمد:391/2:حسن لغيره و اسناد ضعیف]
ابن عساکر رحمہ اللہ میں ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کو سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر کہا: ”سنو! آدم سے لے کر مجھ تک «ثلۃ» ہے اور صرف میری امت «ثلۃ» ہے، ہم اپنے «ثلۃ» کو پورا کرنے کے لیے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں ۔ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق555/11] لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس «الحمداللہ» یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔
امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہو سکتا ہے؟ کہ مقربین بارگاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہو سکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہو گی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم، یہی قول رائج ہے۔
صفحہ نمبر9170
چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: سابقین تو گزر چکے، اے اللہ! تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے ۔ امام ابن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہو جاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے۔
چنانچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد والا، پھر اس کا متصل زمانہ الخ۔ [صحیح بخاری:3650] ۔
ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا میری امت کی مثال بارش جیسی ہے، نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی ۔ [مسند احمد:319/4:حسن بالشواھد]
تو یہ حدیث جبکہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں، اسی طرح آخر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے، جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں، اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اوّل والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح، جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے، اس لیے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں، نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کر سکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی اور وہ اس طرح ہوں“ ۔ [صحیح مسلم247]
صفحہ نمبر9171
الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الٰیہہ بہ نسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔
تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے“ ۔ [صحیح مسلم369-370]
طبرانی میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی، جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہو گی کہ گویا رات آ گئی زمین کے تمام کناروں کو گھیر لے گی، فرشتے کہنے لگیں گے، سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں ۔ [طبرانی کبیر3455:ضعیف]
صفحہ نمبر9172
مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کر دی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی رحمہ اللہ نے دلائل النبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ اَسْتَغْفِرُ اﷲَ إِنَّ اللّہَ کَانَ تَوَّابًا» پھر فرماتے: ”ستر کے بدلے سات سو ہیں، جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بےخبر ہے“، پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے، پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھتے اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لیے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ سیدنا ابوزمل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا: ”اللہ خیر سے ملائے، شر سے بچائے، ہمارے لیے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لیے بدتر بنائے، ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بےشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا، پانی ہر سو رواں ہے، سبزے سے اٹا پڑا ہے، انواع و اقسام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں، اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کر لیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔
صفحہ نمبر9173
پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے، پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گزران گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو بھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے، میں نے یہ دیکھا لیکن میں تو چلتا ہی رہا، جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے، دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں، ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں، تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں، جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ متغیر ہو گیا تھوڑی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت بدل گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہرا بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گزر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہو گے، نہ وہ ہمیں چمٹے گی، نہ ہمارا تعلق اس سے ہو گا، نہ اس کا تعلق ہم سے، نہ ہم اس کی چاہت کریں گے، نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہو گی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پا لیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہو جائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی «فإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ۔
صفحہ نمبر9174
اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہو جائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں، میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ موسیٰ علیہ السلام ہیں، جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہو چکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے، جو میری امت پر قائم ہو گی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔
فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی36/7:موضوع]
ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے، جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے درو یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ «فعیل» معنی میں مفعول کے ہے اسی لیے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو «وضین» کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہو گا، وہ غلمان ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے، نہ بڑے ہوں، نہ بوڑھے ہوں، نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ «اکواب» کہتے ہیں ان کوزوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور «اباریق» وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو، نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لیے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔
صفحہ نمبر9175
مقربین کون ہیں اور اولین کون؟ ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلوں میں ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اوّلین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا: ”ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں“، اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہو سکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت گراں گزری، پس یہ آیت اتری «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39،40] تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو، بلکہ تہائی تم ہو، بلکہ آدھوں آدھ تم ہو، تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہو گی جن میں تم بھی شریک ہو۔“ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ [مسند احمد:391/2:حسن لغيره و اسناد ضعیف]
ابن عساکر رحمہ اللہ میں ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کو سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر کہا: ”سنو! آدم سے لے کر مجھ تک «ثلۃ» ہے اور صرف میری امت «ثلۃ» ہے، ہم اپنے «ثلۃ» کو پورا کرنے کے لیے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں ۔ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق555/11] لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس «الحمداللہ» یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔
امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہو سکتا ہے؟ کہ مقربین بارگاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہو سکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہو گی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم، یہی قول رائج ہے۔
صفحہ نمبر9170
چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: سابقین تو گزر چکے، اے اللہ! تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے ۔ امام ابن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہو جاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے۔
چنانچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد والا، پھر اس کا متصل زمانہ الخ۔ [صحیح بخاری:3650] ۔
ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا میری امت کی مثال بارش جیسی ہے، نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی ۔ [مسند احمد:319/4:حسن بالشواھد]
تو یہ حدیث جبکہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں، اسی طرح آخر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے، جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں، اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اوّل والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح، جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے، اس لیے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں، نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کر سکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی اور وہ اس طرح ہوں“ ۔ [صحیح مسلم247]
صفحہ نمبر9171
الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الٰیہہ بہ نسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔
تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے“ ۔ [صحیح مسلم369-370]
طبرانی میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی، جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہو گی کہ گویا رات آ گئی زمین کے تمام کناروں کو گھیر لے گی، فرشتے کہنے لگیں گے، سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں ۔ [طبرانی کبیر3455:ضعیف]
صفحہ نمبر9172
مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کر دی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی رحمہ اللہ نے دلائل النبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ اَسْتَغْفِرُ اﷲَ إِنَّ اللّہَ کَانَ تَوَّابًا» پھر فرماتے: ”ستر کے بدلے سات سو ہیں، جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بےخبر ہے“، پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے، پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھتے اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لیے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ سیدنا ابوزمل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا: ”اللہ خیر سے ملائے، شر سے بچائے، ہمارے لیے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لیے بدتر بنائے، ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بےشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا، پانی ہر سو رواں ہے، سبزے سے اٹا پڑا ہے، انواع و اقسام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں، اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کر لیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔
صفحہ نمبر9173
پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے، پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گزران گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو بھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے، میں نے یہ دیکھا لیکن میں تو چلتا ہی رہا، جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے، دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں، ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں، تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں، جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ متغیر ہو گیا تھوڑی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت بدل گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہرا بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گزر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہو گے، نہ وہ ہمیں چمٹے گی، نہ ہمارا تعلق اس سے ہو گا، نہ اس کا تعلق ہم سے، نہ ہم اس کی چاہت کریں گے، نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہو گی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پا لیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہو جائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی «فإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ۔
صفحہ نمبر9174
اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہو جائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں، میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ موسیٰ علیہ السلام ہیں، جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہو چکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے، جو میری امت پر قائم ہو گی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔
فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی36/7:موضوع]
ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے، جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے درو یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ «فعیل» معنی میں مفعول کے ہے اسی لیے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو «وضین» کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہو گا، وہ غلمان ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے، نہ بڑے ہوں، نہ بوڑھے ہوں، نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ «اکواب» کہتے ہیں ان کوزوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور «اباریق» وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو، نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لیے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔
صفحہ نمبر9175
مقربین کون ہیں اور اولین کون؟ ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلوں میں ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اوّلین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا: ”ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں“، اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہو سکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت گراں گزری، پس یہ آیت اتری «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39،40] تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو، بلکہ تہائی تم ہو، بلکہ آدھوں آدھ تم ہو، تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہو گی جن میں تم بھی شریک ہو۔“ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ [مسند احمد:391/2:حسن لغيره و اسناد ضعیف]
ابن عساکر رحمہ اللہ میں ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کو سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر کہا: ”سنو! آدم سے لے کر مجھ تک «ثلۃ» ہے اور صرف میری امت «ثلۃ» ہے، ہم اپنے «ثلۃ» کو پورا کرنے کے لیے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں ۔ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق555/11] لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس «الحمداللہ» یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔
امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہو سکتا ہے؟ کہ مقربین بارگاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہو سکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہو گی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم، یہی قول رائج ہے۔
صفحہ نمبر9170
چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: سابقین تو گزر چکے، اے اللہ! تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے ۔ امام ابن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہو جاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے۔
چنانچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد والا، پھر اس کا متصل زمانہ الخ۔ [صحیح بخاری:3650] ۔
ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا میری امت کی مثال بارش جیسی ہے، نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی ۔ [مسند احمد:319/4:حسن بالشواھد]
تو یہ حدیث جبکہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں، اسی طرح آخر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے، جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں، اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اوّل والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح، جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے، اس لیے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں، نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کر سکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی اور وہ اس طرح ہوں“ ۔ [صحیح مسلم247]
صفحہ نمبر9171
الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الٰیہہ بہ نسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔
تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے“ ۔ [صحیح مسلم369-370]
طبرانی میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی، جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہو گی کہ گویا رات آ گئی زمین کے تمام کناروں کو گھیر لے گی، فرشتے کہنے لگیں گے، سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں ۔ [طبرانی کبیر3455:ضعیف]
صفحہ نمبر9172
مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کر دی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی رحمہ اللہ نے دلائل النبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ اَسْتَغْفِرُ اﷲَ إِنَّ اللّہَ کَانَ تَوَّابًا» پھر فرماتے: ”ستر کے بدلے سات سو ہیں، جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بےخبر ہے“، پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے، پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھتے اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لیے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ سیدنا ابوزمل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا: ”اللہ خیر سے ملائے، شر سے بچائے، ہمارے لیے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لیے بدتر بنائے، ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بےشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا، پانی ہر سو رواں ہے، سبزے سے اٹا پڑا ہے، انواع و اقسام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں، اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کر لیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔
صفحہ نمبر9173
پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے، پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گزران گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو بھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے، میں نے یہ دیکھا لیکن میں تو چلتا ہی رہا، جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے، دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں، ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں، تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں، جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ متغیر ہو گیا تھوڑی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت بدل گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہرا بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گزر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہو گے، نہ وہ ہمیں چمٹے گی، نہ ہمارا تعلق اس سے ہو گا، نہ اس کا تعلق ہم سے، نہ ہم اس کی چاہت کریں گے، نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہو گی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پا لیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہو جائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی «فإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ۔
صفحہ نمبر9174
اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہو جائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں، میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ موسیٰ علیہ السلام ہیں، جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہو چکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے، جو میری امت پر قائم ہو گی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔
فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی36/7:موضوع]
ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے، جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے درو یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ «فعیل» معنی میں مفعول کے ہے اسی لیے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو «وضین» کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہو گا، وہ غلمان ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے، نہ بڑے ہوں، نہ بوڑھے ہوں، نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ «اکواب» کہتے ہیں ان کوزوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور «اباریق» وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو، نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لیے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔
صفحہ نمبر9175
مقربین کون ہیں اور اولین کون؟ ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلوں میں ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اوّلین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا: ”ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں“، اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہو سکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت گراں گزری، پس یہ آیت اتری «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39،40] تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو، بلکہ تہائی تم ہو، بلکہ آدھوں آدھ تم ہو، تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہو گی جن میں تم بھی شریک ہو۔“ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ [مسند احمد:391/2:حسن لغيره و اسناد ضعیف]
ابن عساکر رحمہ اللہ میں ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کو سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر کہا: ”سنو! آدم سے لے کر مجھ تک «ثلۃ» ہے اور صرف میری امت «ثلۃ» ہے، ہم اپنے «ثلۃ» کو پورا کرنے کے لیے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں ۔ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق555/11] لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس «الحمداللہ» یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔
امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہو سکتا ہے؟ کہ مقربین بارگاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہو سکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہو گی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم، یہی قول رائج ہے۔
صفحہ نمبر9170
چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: سابقین تو گزر چکے، اے اللہ! تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے ۔ امام ابن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہو جاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے۔
چنانچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد والا، پھر اس کا متصل زمانہ الخ۔ [صحیح بخاری:3650] ۔
ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا میری امت کی مثال بارش جیسی ہے، نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی ۔ [مسند احمد:319/4:حسن بالشواھد]
تو یہ حدیث جبکہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں، اسی طرح آخر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے، جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں، اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اوّل والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح، جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے، اس لیے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں، نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کر سکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی اور وہ اس طرح ہوں“ ۔ [صحیح مسلم247]
صفحہ نمبر9171
الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الٰیہہ بہ نسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔
تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے“ ۔ [صحیح مسلم369-370]
طبرانی میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی، جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہو گی کہ گویا رات آ گئی زمین کے تمام کناروں کو گھیر لے گی، فرشتے کہنے لگیں گے، سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں ۔ [طبرانی کبیر3455:ضعیف]
صفحہ نمبر9172
مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کر دی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی رحمہ اللہ نے دلائل النبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ اَسْتَغْفِرُ اﷲَ إِنَّ اللّہَ کَانَ تَوَّابًا» پھر فرماتے: ”ستر کے بدلے سات سو ہیں، جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بےخبر ہے“، پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے، پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھتے اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لیے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ سیدنا ابوزمل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا: ”اللہ خیر سے ملائے، شر سے بچائے، ہمارے لیے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لیے بدتر بنائے، ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بےشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا، پانی ہر سو رواں ہے، سبزے سے اٹا پڑا ہے، انواع و اقسام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں، اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کر لیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔
صفحہ نمبر9173
پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے، پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گزران گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو بھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے، میں نے یہ دیکھا لیکن میں تو چلتا ہی رہا، جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے، دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں، ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں، تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں، جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ متغیر ہو گیا تھوڑی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت بدل گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہرا بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گزر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہو گے، نہ وہ ہمیں چمٹے گی، نہ ہمارا تعلق اس سے ہو گا، نہ اس کا تعلق ہم سے، نہ ہم اس کی چاہت کریں گے، نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہو گی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پا لیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہو جائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی «فإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ۔
صفحہ نمبر9174
اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہو جائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں، میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ موسیٰ علیہ السلام ہیں، جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہو چکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے، جو میری امت پر قائم ہو گی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔
فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی36/7:موضوع]
ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے، جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے درو یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ «فعیل» معنی میں مفعول کے ہے اسی لیے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو «وضین» کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہو گا، وہ غلمان ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے، نہ بڑے ہوں، نہ بوڑھے ہوں، نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ «اکواب» کہتے ہیں ان کوزوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور «اباریق» وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو، نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لیے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔
صفحہ نمبر9175
مقربین کون ہیں اور اولین کون؟ ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلوں میں ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اوّلین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا: ”ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں“، اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہو سکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت گراں گزری، پس یہ آیت اتری «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39،40] تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو، بلکہ تہائی تم ہو، بلکہ آدھوں آدھ تم ہو، تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہو گی جن میں تم بھی شریک ہو۔“ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ [مسند احمد:391/2:حسن لغيره و اسناد ضعیف]
ابن عساکر رحمہ اللہ میں ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کو سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر کہا: ”سنو! آدم سے لے کر مجھ تک «ثلۃ» ہے اور صرف میری امت «ثلۃ» ہے، ہم اپنے «ثلۃ» کو پورا کرنے کے لیے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں ۔ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق555/11] لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس «الحمداللہ» یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔
امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہو سکتا ہے؟ کہ مقربین بارگاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہو سکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہو گی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم، یہی قول رائج ہے۔
صفحہ نمبر9170
چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: سابقین تو گزر چکے، اے اللہ! تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے ۔ امام ابن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہو جاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے۔
چنانچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد والا، پھر اس کا متصل زمانہ الخ۔ [صحیح بخاری:3650] ۔
ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا میری امت کی مثال بارش جیسی ہے، نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی ۔ [مسند احمد:319/4:حسن بالشواھد]
تو یہ حدیث جبکہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں، اسی طرح آخر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے، جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں، اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اوّل والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح، جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے، اس لیے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں، نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کر سکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی اور وہ اس طرح ہوں“ ۔ [صحیح مسلم247]
صفحہ نمبر9171
الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الٰیہہ بہ نسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔
تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے“ ۔ [صحیح مسلم369-370]
طبرانی میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی، جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہو گی کہ گویا رات آ گئی زمین کے تمام کناروں کو گھیر لے گی، فرشتے کہنے لگیں گے، سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں ۔ [طبرانی کبیر3455:ضعیف]
صفحہ نمبر9172
مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کر دی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی رحمہ اللہ نے دلائل النبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ اَسْتَغْفِرُ اﷲَ إِنَّ اللّہَ کَانَ تَوَّابًا» پھر فرماتے: ”ستر کے بدلے سات سو ہیں، جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بےخبر ہے“، پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے، پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھتے اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لیے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ سیدنا ابوزمل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا: ”اللہ خیر سے ملائے، شر سے بچائے، ہمارے لیے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لیے بدتر بنائے، ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بےشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا، پانی ہر سو رواں ہے، سبزے سے اٹا پڑا ہے، انواع و اقسام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں، اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کر لیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔
صفحہ نمبر9173
پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے، پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گزران گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو بھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے، میں نے یہ دیکھا لیکن میں تو چلتا ہی رہا، جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے، دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں، ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں، تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں، جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ متغیر ہو گیا تھوڑی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت بدل گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہرا بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گزر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہو گے، نہ وہ ہمیں چمٹے گی، نہ ہمارا تعلق اس سے ہو گا، نہ اس کا تعلق ہم سے، نہ ہم اس کی چاہت کریں گے، نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہو گی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پا لیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہو جائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی «فإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ۔
صفحہ نمبر9174
اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہو جائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں، میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ موسیٰ علیہ السلام ہیں، جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہو چکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے، جو میری امت پر قائم ہو گی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔
فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی36/7:موضوع]
ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے، جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے درو یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ «فعیل» معنی میں مفعول کے ہے اسی لیے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو «وضین» کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہو گا، وہ غلمان ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے، نہ بڑے ہوں، نہ بوڑھے ہوں، نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ «اکواب» کہتے ہیں ان کوزوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور «اباریق» وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو، نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لیے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔
صفحہ نمبر9175
مقربین کون ہیں اور اولین کون؟ ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلوں میں ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اوّلین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا: ”ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں“، اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہو سکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت گراں گزری، پس یہ آیت اتری «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39،40] تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو، بلکہ تہائی تم ہو، بلکہ آدھوں آدھ تم ہو، تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہو گی جن میں تم بھی شریک ہو۔“ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ [مسند احمد:391/2:حسن لغيره و اسناد ضعیف]
ابن عساکر رحمہ اللہ میں ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کو سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر کہا: ”سنو! آدم سے لے کر مجھ تک «ثلۃ» ہے اور صرف میری امت «ثلۃ» ہے، ہم اپنے «ثلۃ» کو پورا کرنے کے لیے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں ۔ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق555/11] لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس «الحمداللہ» یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔
امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہو سکتا ہے؟ کہ مقربین بارگاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہو سکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہو گی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم، یہی قول رائج ہے۔
صفحہ نمبر9170
چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: سابقین تو گزر چکے، اے اللہ! تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے ۔ امام ابن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہو جاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے۔
چنانچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد والا، پھر اس کا متصل زمانہ الخ۔ [صحیح بخاری:3650] ۔
ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا میری امت کی مثال بارش جیسی ہے، نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی ۔ [مسند احمد:319/4:حسن بالشواھد]
تو یہ حدیث جبکہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں، اسی طرح آخر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے، جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں، اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اوّل والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح، جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے، اس لیے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں، نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کر سکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی اور وہ اس طرح ہوں“ ۔ [صحیح مسلم247]
صفحہ نمبر9171
الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الٰیہہ بہ نسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔
تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے“ ۔ [صحیح مسلم369-370]
طبرانی میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی، جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہو گی کہ گویا رات آ گئی زمین کے تمام کناروں کو گھیر لے گی، فرشتے کہنے لگیں گے، سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں ۔ [طبرانی کبیر3455:ضعیف]
صفحہ نمبر9172
مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کر دی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی رحمہ اللہ نے دلائل النبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ اَسْتَغْفِرُ اﷲَ إِنَّ اللّہَ کَانَ تَوَّابًا» پھر فرماتے: ”ستر کے بدلے سات سو ہیں، جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بےخبر ہے“، پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے، پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھتے اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لیے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ سیدنا ابوزمل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا: ”اللہ خیر سے ملائے، شر سے بچائے، ہمارے لیے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لیے بدتر بنائے، ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بےشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا، پانی ہر سو رواں ہے، سبزے سے اٹا پڑا ہے، انواع و اقسام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں، اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کر لیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔
صفحہ نمبر9173
پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے، پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گزران گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو بھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے، میں نے یہ دیکھا لیکن میں تو چلتا ہی رہا، جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے، دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں، ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں، تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں، جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ متغیر ہو گیا تھوڑی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت بدل گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہرا بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گزر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہو گے، نہ وہ ہمیں چمٹے گی، نہ ہمارا تعلق اس سے ہو گا، نہ اس کا تعلق ہم سے، نہ ہم اس کی چاہت کریں گے، نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہو گی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پا لیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہو جائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی «فإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ۔
صفحہ نمبر9174
اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہو جائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں، میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ موسیٰ علیہ السلام ہیں، جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہو چکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے، جو میری امت پر قائم ہو گی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔
فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی36/7:موضوع]
ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے، جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے درو یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ «فعیل» معنی میں مفعول کے ہے اسی لیے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو «وضین» کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہو گا، وہ غلمان ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے، نہ بڑے ہوں، نہ بوڑھے ہوں، نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ «اکواب» کہتے ہیں ان کوزوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور «اباریق» وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو، نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لیے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔
صفحہ نمبر9175
جنت کی نعمتیں ٭٭
اس شراب سے انہیں درد سر ہو نہ ان کی عقل زائل ہو بلکہ باوجود پورے سرور اور کیف کے عقل و حواس اپنی جگہ قائم رہیں گے اور کامل لذت حاصل ہو گی۔
شراب میں چار صفتیں ہیں نشہ، سر درد، قے اور پیشاب، پس پروردگار عالم نے جنت کی شراب کا ذکر کر کے ان چاروں نقصانوں کی نفی کر دی کہ وہ شراب ان نقصانات سے پاک ہے۔ پھر قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے پرندوں کے گوشت انہیں ملیں گے جس میوے کو جی چاہے اور جس طرح کے گوشت کی طرف دل کی رغبت ہو موجود ہو جائے گا، یہ تمام چیزیں لیے ہوئے ان کے سلیقہ شعار خدام ہر وقت ان کے اردگرد گھومتے رہیں گے تاکہ جس چیز کی جب کبھی خواہش ہو لے لیں، اس آیت میں دلیل ہے کہ آدمی میوے چن چن کر اپنی خواہش کے مطابق کھا سکتا ہے۔
صفحہ نمبر9181
مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے سیدنا عکراش بن ذویب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اپنی قوم کے صدقہ کے مال لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین اور انصار میں تشریف فرما تھے، میرے ساتھ زکوٰۃ کے بہت سے اونٹ تھے گویا کہ وہ ریت کے درختوں کے چرئے ہوئے نوجوان اونٹ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کون ہو؟“، میں نے کہا: عکراش بن ذویب فرمایا: ”اپنا نسب نامہ دور تک بیان کر دو“، میں نے مرہ بن عبید تک کہہ سنایا اور ساتھ ہی کہا کہ زکوٰۃ مرہ بن عبید کی ہے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمانے لگے یہ میری قوم کے اونٹ ہیں، یہ میری قوم کے صدقہ کا مال ہے، پھر حکم دیا کہ صدقے کے اونٹوں کے نشان ان پر کر دو اور ان کے ساتھ انہیں بھی ملا دو، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے اور فرمایا: ”کچھ کھانے کو ہے؟“ جواب ملا کہ ہاں چنانچہ ایک بڑے لگن میں ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی روٹی آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور میں نے کھانا شروع کیا۔ میں ادھر ادھر سے نوالے لینے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا، اور فرمایا: ”اے عکراش! یہ تو ایک قسم کا کھانا ہے، ایک جگہ سے کھاؤ“، پھر ایک سینی تر کھجوروں خشک کھجوروں کی آئی میں نے صرف میرے سامنے جو تھیں انہیں کھانا شروع کیا، ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینی کے ادھر ادھر سے جہاں سے جو پسند آتی تھی لے لیتے تھے اور مجھ سے بھی فرمایا: ”اے عکراش! اس میں ہر طرح کی کھجوریں ہیں جہاں سے چاہو کھاؤ، جس قسم کی کھجور چاہو لے لو“، پھر پانی آیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور وہی تر ہاتھ اپنے چہرے پر اور دونوں بازوؤں اور سر پر تین دفعہ پھیر لیے اور فرمایا: ”اے عکراش! یہ وضو ہے اس چیز سے جسے آگ نے متغیر کیا ہو“ ۔ [ ترمذی اور ابن ماجہ ] امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:1848،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب پسند تھا بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھ لیا کرتے تھے کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ اگر کوئی ذکر کرتا اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس خواب سے خوش ہوتے تو اسے بہت اچھا لگتا۔ ایک مرتبہ ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں کہا: یا رسول اللہ ! میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے کہ گویا میرے پاس کوئی آیا اور مجھے مدینہ سے لے چلا اور جنت میں پہنچا دیا پھر میں نے یکایک دھماکا سنا جس سے جنت میں ہل چل مچ گئی، میں نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو دیکھا، بارہ شخصوں کے نام لیے انہیں بارہ شخصوں کا ایک لشکر بنا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی دن ہوئے ایک مہم پر روانہ کیا ہوا تھا، فرماتی ہیں انہیں لایا گیا یہ اطلس کے کپڑے پہنچے ہوئے تھے ان کی رگیں جوش مار رہی تھیں، حکم ہوا کہ انہیں نہر بیدج میں لے جاؤں یا بیذک کہا، جب ان لوگوں نے اس نہر میں غوطہٰ لگایا تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنے لگ گئے، پھر ایک سونے کی سینی میں گدری کھجوریں آئیں جو انہوں نے اپنی حسب منشا کھائیں اور ساتھ ہی ہر طرح کے میوے جو چاروں طرف چنے ہوئے تھے جس میوے کو ان کا جی چاہتا تھا لیتے تھے اور کھاتے تھے، میں نے بھی ان کے ساتھ شرکت کی اور وہ میوے کھائے، مدت کے بعد ایک قاصد آیا اور کہا: فلاں فلاں اشخاص جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر میں بھیجا تھا، شہید ہو گئے ٹھیک بارہ شخصوں کے نام لیے اور یہ وہی نام تھے جنہیں اس بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خواب میں دیکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نیک بخت صحابیہ کو پھر بلوایا اور فرمایا: ”اپنا خواب دوبارہ بیان کرو، اس نے پھر بیان کیا اور انہیں لوگوں کے نام لیے جن کے نام قاصد نے لیے تھے“ ۔ [مسند احمد:135/3:صحیح]
طبرانی میں ہے کہ جنتی جس میوے کو درخت سے توڑے گا وہیں اس جیسا اور پھل لگ جائے گا ۔ [طبرانی کبیر1449:ضعیف]
صفحہ نمبر9182
مسند احمد میں ہے کہ جنتی پرند بختی اور اونٹ کے برابر ہیں جو جنت میں چرتے چگتے رہتے ہیں، سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ پرند تو نہایت ہی مزے کے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے کھانے والے ان سے بھی زیادہ ناز و نعمت والے ہوں گے۔“ تین مرتبہ یہی جملہ ارشاد فرما کر پھر فرمایا: ”مجھے اللہ سے امید ہے کہ اے ابوبکر! تم ان میں سے ہو جو ان پرندوں کا گوشت کھائیں گے ۔ [مسند احمد:221/3:صحيح وھذا اسناد ضعیف]
حافظ ابوعبداللہ مقدسی کی کتاب صفۃ الجنۃ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے طوبی ٰ کا ذکر ہو پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو طوبیٰ کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول کو پورا علم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت کا ایک درخت ہے جس کی طولانی کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں، اس کی ایک ایک شاخ تلے تیز سوار ستر ستر سال تک چلا جائے گا۔ پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو، اس کے پتے بڑے چوڑے ہیں، ان پر بختی اونٹنی کے برابر پرند آ کر بیٹھتے ہیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تو یہ پرند بڑی ہی نعمتوں والے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے زیادہ نعمتوں والے ان کے کھانے والے ہوں گے اور ان شاءاللہ تم بھی انہی میں سے ہو“ ۔ قتادہ رحمہ اللہ سے بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے۔ [سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:2514]
ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوثر کی بابت سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جنتی نہر ہے جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا فرمائی ہے، دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اس کا پانی ہے، اس کے کنارے بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ پرند تو بڑے مزے میں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا کھانے والا ان سے زیادہ مزے میں ہے“ ۔ امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2542،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر9183
ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت میں ایک پرند ہے جس کے ستر ہزار پر ہیں، جنتی کے دستر خوان پر وہ آئے گا اور اس کے ہر پر سے ایک قسم نکلے گی جو دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھی، پھر دوسرے پر سے دوسری قسم نکلے گی اسی طرح ہر پر سے ایک دوسرے سے جداگانہ، پھر وہ پرند اڑ جائے گا ۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کے راوی رصافی اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:340ضعیف]
ابن ابی حاتم میں سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جنتی پرند مثل بختی اونٹوں کے ہیں جو جنت کے پھل کھاتے ہیں اور جنت کی نہروں کا پانی پیتے ہیں، جنتیوں کا دل جس پرند کے کھانے کو چاہے گا وہ اس کے سامنے آ جائے گا وہ جتنا چاہے گا جس پہلو کا گوشت پسند کرے گا کھائے گا، پھر وہ پرند اڑ جائے گا اور جیسا تھا ویسا ہی ہو گا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنت کے جس پرند کو تو چاہے گا وہ بھنا بھنایا تیرے سامنے آ جائے گا ۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:341ضعیف]
صفحہ نمبر9184
جنت کی نعمتیں ٭٭
اس شراب سے انہیں درد سر ہو نہ ان کی عقل زائل ہو بلکہ باوجود پورے سرور اور کیف کے عقل و حواس اپنی جگہ قائم رہیں گے اور کامل لذت حاصل ہو گی۔
شراب میں چار صفتیں ہیں نشہ، سر درد، قے اور پیشاب، پس پروردگار عالم نے جنت کی شراب کا ذکر کر کے ان چاروں نقصانوں کی نفی کر دی کہ وہ شراب ان نقصانات سے پاک ہے۔ پھر قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے پرندوں کے گوشت انہیں ملیں گے جس میوے کو جی چاہے اور جس طرح کے گوشت کی طرف دل کی رغبت ہو موجود ہو جائے گا، یہ تمام چیزیں لیے ہوئے ان کے سلیقہ شعار خدام ہر وقت ان کے اردگرد گھومتے رہیں گے تاکہ جس چیز کی جب کبھی خواہش ہو لے لیں، اس آیت میں دلیل ہے کہ آدمی میوے چن چن کر اپنی خواہش کے مطابق کھا سکتا ہے۔
صفحہ نمبر9181
مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے سیدنا عکراش بن ذویب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اپنی قوم کے صدقہ کے مال لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین اور انصار میں تشریف فرما تھے، میرے ساتھ زکوٰۃ کے بہت سے اونٹ تھے گویا کہ وہ ریت کے درختوں کے چرئے ہوئے نوجوان اونٹ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کون ہو؟“، میں نے کہا: عکراش بن ذویب فرمایا: ”اپنا نسب نامہ دور تک بیان کر دو“، میں نے مرہ بن عبید تک کہہ سنایا اور ساتھ ہی کہا کہ زکوٰۃ مرہ بن عبید کی ہے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمانے لگے یہ میری قوم کے اونٹ ہیں، یہ میری قوم کے صدقہ کا مال ہے، پھر حکم دیا کہ صدقے کے اونٹوں کے نشان ان پر کر دو اور ان کے ساتھ انہیں بھی ملا دو، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے اور فرمایا: ”کچھ کھانے کو ہے؟“ جواب ملا کہ ہاں چنانچہ ایک بڑے لگن میں ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی روٹی آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور میں نے کھانا شروع کیا۔ میں ادھر ادھر سے نوالے لینے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا، اور فرمایا: ”اے عکراش! یہ تو ایک قسم کا کھانا ہے، ایک جگہ سے کھاؤ“، پھر ایک سینی تر کھجوروں خشک کھجوروں کی آئی میں نے صرف میرے سامنے جو تھیں انہیں کھانا شروع کیا، ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینی کے ادھر ادھر سے جہاں سے جو پسند آتی تھی لے لیتے تھے اور مجھ سے بھی فرمایا: ”اے عکراش! اس میں ہر طرح کی کھجوریں ہیں جہاں سے چاہو کھاؤ، جس قسم کی کھجور چاہو لے لو“، پھر پانی آیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور وہی تر ہاتھ اپنے چہرے پر اور دونوں بازوؤں اور سر پر تین دفعہ پھیر لیے اور فرمایا: ”اے عکراش! یہ وضو ہے اس چیز سے جسے آگ نے متغیر کیا ہو“ ۔ [ ترمذی اور ابن ماجہ ] امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:1848،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب پسند تھا بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھ لیا کرتے تھے کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ اگر کوئی ذکر کرتا اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس خواب سے خوش ہوتے تو اسے بہت اچھا لگتا۔ ایک مرتبہ ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں کہا: یا رسول اللہ ! میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے کہ گویا میرے پاس کوئی آیا اور مجھے مدینہ سے لے چلا اور جنت میں پہنچا دیا پھر میں نے یکایک دھماکا سنا جس سے جنت میں ہل چل مچ گئی، میں نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو دیکھا، بارہ شخصوں کے نام لیے انہیں بارہ شخصوں کا ایک لشکر بنا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی دن ہوئے ایک مہم پر روانہ کیا ہوا تھا، فرماتی ہیں انہیں لایا گیا یہ اطلس کے کپڑے پہنچے ہوئے تھے ان کی رگیں جوش مار رہی تھیں، حکم ہوا کہ انہیں نہر بیدج میں لے جاؤں یا بیذک کہا، جب ان لوگوں نے اس نہر میں غوطہٰ لگایا تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنے لگ گئے، پھر ایک سونے کی سینی میں گدری کھجوریں آئیں جو انہوں نے اپنی حسب منشا کھائیں اور ساتھ ہی ہر طرح کے میوے جو چاروں طرف چنے ہوئے تھے جس میوے کو ان کا جی چاہتا تھا لیتے تھے اور کھاتے تھے، میں نے بھی ان کے ساتھ شرکت کی اور وہ میوے کھائے، مدت کے بعد ایک قاصد آیا اور کہا: فلاں فلاں اشخاص جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر میں بھیجا تھا، شہید ہو گئے ٹھیک بارہ شخصوں کے نام لیے اور یہ وہی نام تھے جنہیں اس بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خواب میں دیکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نیک بخت صحابیہ کو پھر بلوایا اور فرمایا: ”اپنا خواب دوبارہ بیان کرو، اس نے پھر بیان کیا اور انہیں لوگوں کے نام لیے جن کے نام قاصد نے لیے تھے“ ۔ [مسند احمد:135/3:صحیح]
طبرانی میں ہے کہ جنتی جس میوے کو درخت سے توڑے گا وہیں اس جیسا اور پھل لگ جائے گا ۔ [طبرانی کبیر1449:ضعیف]
صفحہ نمبر9182
مسند احمد میں ہے کہ جنتی پرند بختی اور اونٹ کے برابر ہیں جو جنت میں چرتے چگتے رہتے ہیں، سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ پرند تو نہایت ہی مزے کے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے کھانے والے ان سے بھی زیادہ ناز و نعمت والے ہوں گے۔“ تین مرتبہ یہی جملہ ارشاد فرما کر پھر فرمایا: ”مجھے اللہ سے امید ہے کہ اے ابوبکر! تم ان میں سے ہو جو ان پرندوں کا گوشت کھائیں گے ۔ [مسند احمد:221/3:صحيح وھذا اسناد ضعیف]
حافظ ابوعبداللہ مقدسی کی کتاب صفۃ الجنۃ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے طوبی ٰ کا ذکر ہو پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو طوبیٰ کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول کو پورا علم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت کا ایک درخت ہے جس کی طولانی کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں، اس کی ایک ایک شاخ تلے تیز سوار ستر ستر سال تک چلا جائے گا۔ پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو، اس کے پتے بڑے چوڑے ہیں، ان پر بختی اونٹنی کے برابر پرند آ کر بیٹھتے ہیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تو یہ پرند بڑی ہی نعمتوں والے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے زیادہ نعمتوں والے ان کے کھانے والے ہوں گے اور ان شاءاللہ تم بھی انہی میں سے ہو“ ۔ قتادہ رحمہ اللہ سے بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے۔ [سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:2514]
ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوثر کی بابت سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جنتی نہر ہے جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا فرمائی ہے، دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اس کا پانی ہے، اس کے کنارے بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ پرند تو بڑے مزے میں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا کھانے والا ان سے زیادہ مزے میں ہے“ ۔ امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2542،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر9183
ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت میں ایک پرند ہے جس کے ستر ہزار پر ہیں، جنتی کے دستر خوان پر وہ آئے گا اور اس کے ہر پر سے ایک قسم نکلے گی جو دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھی، پھر دوسرے پر سے دوسری قسم نکلے گی اسی طرح ہر پر سے ایک دوسرے سے جداگانہ، پھر وہ پرند اڑ جائے گا ۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کے راوی رصافی اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:340ضعیف]
ابن ابی حاتم میں سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جنتی پرند مثل بختی اونٹوں کے ہیں جو جنت کے پھل کھاتے ہیں اور جنت کی نہروں کا پانی پیتے ہیں، جنتیوں کا دل جس پرند کے کھانے کو چاہے گا وہ اس کے سامنے آ جائے گا وہ جتنا چاہے گا جس پہلو کا گوشت پسند کرے گا کھائے گا، پھر وہ پرند اڑ جائے گا اور جیسا تھا ویسا ہی ہو گا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنت کے جس پرند کو تو چاہے گا وہ بھنا بھنایا تیرے سامنے آ جائے گا ۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:341ضعیف]
صفحہ نمبر9184
جنت کی نعمتیں ٭٭
اس شراب سے انہیں درد سر ہو نہ ان کی عقل زائل ہو بلکہ باوجود پورے سرور اور کیف کے عقل و حواس اپنی جگہ قائم رہیں گے اور کامل لذت حاصل ہو گی۔
شراب میں چار صفتیں ہیں نشہ، سر درد، قے اور پیشاب، پس پروردگار عالم نے جنت کی شراب کا ذکر کر کے ان چاروں نقصانوں کی نفی کر دی کہ وہ شراب ان نقصانات سے پاک ہے۔ پھر قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے پرندوں کے گوشت انہیں ملیں گے جس میوے کو جی چاہے اور جس طرح کے گوشت کی طرف دل کی رغبت ہو موجود ہو جائے گا، یہ تمام چیزیں لیے ہوئے ان کے سلیقہ شعار خدام ہر وقت ان کے اردگرد گھومتے رہیں گے تاکہ جس چیز کی جب کبھی خواہش ہو لے لیں، اس آیت میں دلیل ہے کہ آدمی میوے چن چن کر اپنی خواہش کے مطابق کھا سکتا ہے۔
صفحہ نمبر9181
مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے سیدنا عکراش بن ذویب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اپنی قوم کے صدقہ کے مال لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین اور انصار میں تشریف فرما تھے، میرے ساتھ زکوٰۃ کے بہت سے اونٹ تھے گویا کہ وہ ریت کے درختوں کے چرئے ہوئے نوجوان اونٹ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کون ہو؟“، میں نے کہا: عکراش بن ذویب فرمایا: ”اپنا نسب نامہ دور تک بیان کر دو“، میں نے مرہ بن عبید تک کہہ سنایا اور ساتھ ہی کہا کہ زکوٰۃ مرہ بن عبید کی ہے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمانے لگے یہ میری قوم کے اونٹ ہیں، یہ میری قوم کے صدقہ کا مال ہے، پھر حکم دیا کہ صدقے کے اونٹوں کے نشان ان پر کر دو اور ان کے ساتھ انہیں بھی ملا دو، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے اور فرمایا: ”کچھ کھانے کو ہے؟“ جواب ملا کہ ہاں چنانچہ ایک بڑے لگن میں ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی روٹی آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور میں نے کھانا شروع کیا۔ میں ادھر ادھر سے نوالے لینے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا، اور فرمایا: ”اے عکراش! یہ تو ایک قسم کا کھانا ہے، ایک جگہ سے کھاؤ“، پھر ایک سینی تر کھجوروں خشک کھجوروں کی آئی میں نے صرف میرے سامنے جو تھیں انہیں کھانا شروع کیا، ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینی کے ادھر ادھر سے جہاں سے جو پسند آتی تھی لے لیتے تھے اور مجھ سے بھی فرمایا: ”اے عکراش! اس میں ہر طرح کی کھجوریں ہیں جہاں سے چاہو کھاؤ، جس قسم کی کھجور چاہو لے لو“، پھر پانی آیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور وہی تر ہاتھ اپنے چہرے پر اور دونوں بازوؤں اور سر پر تین دفعہ پھیر لیے اور فرمایا: ”اے عکراش! یہ وضو ہے اس چیز سے جسے آگ نے متغیر کیا ہو“ ۔ [ ترمذی اور ابن ماجہ ] امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:1848،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب پسند تھا بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھ لیا کرتے تھے کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ اگر کوئی ذکر کرتا اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس خواب سے خوش ہوتے تو اسے بہت اچھا لگتا۔ ایک مرتبہ ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں کہا: یا رسول اللہ ! میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے کہ گویا میرے پاس کوئی آیا اور مجھے مدینہ سے لے چلا اور جنت میں پہنچا دیا پھر میں نے یکایک دھماکا سنا جس سے جنت میں ہل چل مچ گئی، میں نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو دیکھا، بارہ شخصوں کے نام لیے انہیں بارہ شخصوں کا ایک لشکر بنا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی دن ہوئے ایک مہم پر روانہ کیا ہوا تھا، فرماتی ہیں انہیں لایا گیا یہ اطلس کے کپڑے پہنچے ہوئے تھے ان کی رگیں جوش مار رہی تھیں، حکم ہوا کہ انہیں نہر بیدج میں لے جاؤں یا بیذک کہا، جب ان لوگوں نے اس نہر میں غوطہٰ لگایا تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنے لگ گئے، پھر ایک سونے کی سینی میں گدری کھجوریں آئیں جو انہوں نے اپنی حسب منشا کھائیں اور ساتھ ہی ہر طرح کے میوے جو چاروں طرف چنے ہوئے تھے جس میوے کو ان کا جی چاہتا تھا لیتے تھے اور کھاتے تھے، میں نے بھی ان کے ساتھ شرکت کی اور وہ میوے کھائے، مدت کے بعد ایک قاصد آیا اور کہا: فلاں فلاں اشخاص جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر میں بھیجا تھا، شہید ہو گئے ٹھیک بارہ شخصوں کے نام لیے اور یہ وہی نام تھے جنہیں اس بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خواب میں دیکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نیک بخت صحابیہ کو پھر بلوایا اور فرمایا: ”اپنا خواب دوبارہ بیان کرو، اس نے پھر بیان کیا اور انہیں لوگوں کے نام لیے جن کے نام قاصد نے لیے تھے“ ۔ [مسند احمد:135/3:صحیح]
طبرانی میں ہے کہ جنتی جس میوے کو درخت سے توڑے گا وہیں اس جیسا اور پھل لگ جائے گا ۔ [طبرانی کبیر1449:ضعیف]
صفحہ نمبر9182
مسند احمد میں ہے کہ جنتی پرند بختی اور اونٹ کے برابر ہیں جو جنت میں چرتے چگتے رہتے ہیں، سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ پرند تو نہایت ہی مزے کے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے کھانے والے ان سے بھی زیادہ ناز و نعمت والے ہوں گے۔“ تین مرتبہ یہی جملہ ارشاد فرما کر پھر فرمایا: ”مجھے اللہ سے امید ہے کہ اے ابوبکر! تم ان میں سے ہو جو ان پرندوں کا گوشت کھائیں گے ۔ [مسند احمد:221/3:صحيح وھذا اسناد ضعیف]
حافظ ابوعبداللہ مقدسی کی کتاب صفۃ الجنۃ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے طوبی ٰ کا ذکر ہو پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو طوبیٰ کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول کو پورا علم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت کا ایک درخت ہے جس کی طولانی کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں، اس کی ایک ایک شاخ تلے تیز سوار ستر ستر سال تک چلا جائے گا۔ پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو، اس کے پتے بڑے چوڑے ہیں، ان پر بختی اونٹنی کے برابر پرند آ کر بیٹھتے ہیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تو یہ پرند بڑی ہی نعمتوں والے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے زیادہ نعمتوں والے ان کے کھانے والے ہوں گے اور ان شاءاللہ تم بھی انہی میں سے ہو“ ۔ قتادہ رحمہ اللہ سے بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے۔ [سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:2514]
ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوثر کی بابت سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جنتی نہر ہے جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا فرمائی ہے، دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اس کا پانی ہے، اس کے کنارے بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ پرند تو بڑے مزے میں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا کھانے والا ان سے زیادہ مزے میں ہے“ ۔ امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2542،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر9183
ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت میں ایک پرند ہے جس کے ستر ہزار پر ہیں، جنتی کے دستر خوان پر وہ آئے گا اور اس کے ہر پر سے ایک قسم نکلے گی جو دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھی، پھر دوسرے پر سے دوسری قسم نکلے گی اسی طرح ہر پر سے ایک دوسرے سے جداگانہ، پھر وہ پرند اڑ جائے گا ۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کے راوی رصافی اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:340ضعیف]
ابن ابی حاتم میں سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جنتی پرند مثل بختی اونٹوں کے ہیں جو جنت کے پھل کھاتے ہیں اور جنت کی نہروں کا پانی پیتے ہیں، جنتیوں کا دل جس پرند کے کھانے کو چاہے گا وہ اس کے سامنے آ جائے گا وہ جتنا چاہے گا جس پہلو کا گوشت پسند کرے گا کھائے گا، پھر وہ پرند اڑ جائے گا اور جیسا تھا ویسا ہی ہو گا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنت کے جس پرند کو تو چاہے گا وہ بھنا بھنایا تیرے سامنے آ جائے گا ۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:341ضعیف]
صفحہ نمبر9184
حور العین ٭٭
«حور» کی دوسری قرأت «ر» کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لیے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے جیسے «وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ» [5-المآئدہ:6] میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ «عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ» [76-الإنسان:21] ہیں۔
اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لیے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورۃ الصافات میں ہے «كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ» [37-الصافات:49] سورۃ الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گزر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔
یہ جنت میں لغو بیہودہ بے معنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے، حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے «لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً» [88-الغاشية:11] فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے، نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔
ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ» [14-ابراھیم:23] ان کا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہو گا۔ ان کی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہو گی۔
صفحہ نمبر9187
حور العین ٭٭
«حور» کی دوسری قرأت «ر» کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لیے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے جیسے «وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ» [5-المآئدہ:6] میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ «عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ» [76-الإنسان:21] ہیں۔
اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لیے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورۃ الصافات میں ہے «كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ» [37-الصافات:49] سورۃ الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گزر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔
یہ جنت میں لغو بیہودہ بے معنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے، حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے «لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً» [88-الغاشية:11] فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے، نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔
ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ» [14-ابراھیم:23] ان کا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہو گا۔ ان کی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہو گی۔
صفحہ نمبر9187
حور العین ٭٭
«حور» کی دوسری قرأت «ر» کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لیے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے جیسے «وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ» [5-المآئدہ:6] میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ «عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ» [76-الإنسان:21] ہیں۔
اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لیے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورۃ الصافات میں ہے «كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ» [37-الصافات:49] سورۃ الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گزر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔
یہ جنت میں لغو بیہودہ بے معنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے، حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے «لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً» [88-الغاشية:11] فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے، نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔
ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ» [14-ابراھیم:23] ان کا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہو گا۔ ان کی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہو گی۔
صفحہ نمبر9187
حور العین ٭٭
«حور» کی دوسری قرأت «ر» کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لیے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے جیسے «وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ» [5-المآئدہ:6] میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ «عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ» [76-الإنسان:21] ہیں۔
اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لیے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورۃ الصافات میں ہے «كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ» [37-الصافات:49] سورۃ الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گزر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔
یہ جنت میں لغو بیہودہ بے معنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے، حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے «لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً» [88-الغاشية:11] فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے، نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔
ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ» [14-ابراھیم:23] ان کا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہو گا۔ ان کی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہو گی۔
صفحہ نمبر9187
حور العین ٭٭
«حور» کی دوسری قرأت «ر» کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لیے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے جیسے «وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ» [5-المآئدہ:6] میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ «عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ» [76-الإنسان:21] ہیں۔
اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لیے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورۃ الصافات میں ہے «كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ» [37-الصافات:49] سورۃ الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گزر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔
یہ جنت میں لغو بیہودہ بے معنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے، حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے «لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً» [88-الغاشية:11] فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے، نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔
ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ» [14-ابراھیم:23] ان کا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہو گا۔ ان کی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہو گی۔
صفحہ نمبر9187
اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی ٭٭
سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں، جہاں بیری کے درخت ہیں، لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں، دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے
ابوبکر بن سلمان نجاد رحمہ اللہ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی نے آ کر کہا: یا رسول اللہ ! قرآن میں ایک ایسے درخت کا بھی ذکر ہے جو ایذاء دیتا، آپ نے پوچھا: ”وہ کون سا“، اس نے کہا بیری کا درخت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو نے اس کے ساتھ ہی لفظ «مَخْضُود» نہیں پڑھا؟ اس کے کانٹے اللہ تعالیٰ نے دور کر دیئے ہیں اور ان کے بدلے پھل پیدا کر دیئے ہیں ہر ایک بیری میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے جن کا رنگ و مزہ مختلف ہو گا“ ۔ [مستدرک حاکم476/2صحیح]
یہ روایت دوسری کتابوں میں بھی مروی ہے اس میں لفظ «طَلْح» ہے اور ستر ذائقوں کا بیان ہے۔ [طبرانی کبیر:130/17صحیح]
«طَلْح» ایک بڑا درخت ہے جو حجاز کی سر زمین میں ہوتا ہے، یہ کانٹے دار درخت ہے اس میں کانٹے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابن جریر نے اس کی شہادت عربی کے ایک شعر سے بھی دی ہے۔
«مَنْضُود» کے معنی تہہ بہ تہہ پھل والا، پھل سے لدا ہوا۔ ان دونوں کا ذکر اس لیے ہوا کہ عرب ان درختوں کی گہری اور میٹھی چھاؤں کو پسند کرتے تھے، یہ درخت بظاہر دنیوی درخت جیسا ہو گا لیکن بجائے کانٹوں کے اس میں شیرین پھل ہوں گے۔
جوہری فرماتے ہیں «طلح» بھی کہتے ہیں اور «طلع» بھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے، تو ممکن ہے کہ یہ بھی بیری کی ہی صفت ہو، یعنی وہ بیریاں بے خار اور بکثرت پھلدار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور حضرات نے «طلح» سے مراد کیلے کا درخت کہا ہے، اہل یمن کیلے کو «طَلْح» کہتے ہیں اور اہل حجاز «موز» کہتے ہیں۔ لمبے لمبے سایوں میں یہ ہوں گے۔
صحیح بخاری میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت کے درخت کے سائے تلے تیز سوار سو سال تک چلتا رہے گا لیکن سایہ ختم نہ ہو گا۔ اگر تم چاہو اس آیت کو پڑھو“ ۔ [صحیح بخاری4881]
مسلم میں بھی یہ روایت موجود ہے اور مسند احمد، مسند ابو یعلیٰ میں بھی، مسند کی اور حدیث میں شک کے ساتھ ہے یعنی ستر یا سو اور یہ بھی ہے کہ یہ «شجرۃ الخلد» ہے۔ [مسند احمد:455/2:صحیح]
صفحہ نمبر9192
ابن جریر اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے پس یہ حدث متواتر اور قطعاً صحیح ہے اس کی اسناد بہت ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے،
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ روایت بیان کی اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے کانوں تک پہنچی، تو آپ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے تورات موسیٰ علیہ السلام پر اور قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا کہ اگر کوئی شخص نوجوان اونٹنی پر سوار ہو کر اس وقت چلتا رہے جب تک وہ بوڑھا ہو کر گر جائے تو بھی اس کی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور خود آپ اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی ہے، اس کی شاخیں جنت کی دیواروں سے باہر نکلی ہوئی ہیں، جنت کی تمام نہریں اسی درخت کی جڑ سے نکلتی ہیں۔
ابوحصین کہتے ہیں کہ ایک موضع میں ایک دروازے پر ہم تھے ہمارے ساتھ ابوصالح اور شفیق جہنی بھی تھے اور ابوصالح رحمہ اللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی اوپر کی حدیث بیان کی اور کہا: کیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جھٹلاتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، انہیں تو نہیں تجھے جھٹلاتا ہوں۔ پس یہ قاریوں پر بہت گراں گزرا۔ میں کہتا ہوں اس ثابت، صحیح اور مرفوع حدیث کو جو جھٹلائے وہ غلطی پر ہے۔ ترمذی میں ہے جنت کے ہر درخت کا تنا سونے کا ہے۔ [سنن ترمذي:2525،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر طرف سو سو سال کے راستے تک سایہ پھیلا ہوا ہے۔ جنتی لوگ اس کے نیچے آ کر بیٹھتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ کسی کو دنیوی کھیل تماشے اور دل بہلاوے یاد آتے ہیں تو اسی وقت ایک جنتی ہوا چلتی ہے اور اس درخت میں سے تمام راگ راگنیاں، باجے گاجے اور کھیل تماشوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں، یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند قوی ہے۔ عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سایہ ستر ہزار سال کی طولانی میں ہو گا۔ آپ سے مرفوع حدیث میں ایک سو سال مروی ہے یہ سایہ گھٹتا ہی نہیں، نہ سورج آئے، نہ گرمی ستائے، فجر کے طلوع ہونے سے پیشتر کا سماں ہر وقت اس کے نیچے رہتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنت میں ہمیشہ وہ وقت رہے گا جو صبح صادق کے بعد سے لے کر آفتاب کے طلوع ہونے کے درمیان درمیان رہتا ہے سایہ کے مضمون کی روایتیں بھی اس سے پہلے گزر چکی ہیں، جیسے آیت «وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا» [4-النسآء:57] اور آیت «اُكُلُهَا دَاىِٕمٌ وَّظِلُّهَا» [13-الرعد:35] اور آیت «اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ» [77-المرسلات:41] وغیرہ پانی ہو گا بہتا ہوا مگر نہروں کے گڑھے اور کھدی ہوئی زمین نہ ہو گی، اس کی پوری تفسیر آیت «فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ» [47-محمد:15] میں گزر چکی ہے۔
ان کے پاس بکثرت طرح طرح کے لذیذ میوے ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے، نہ کسی کان نے سنے، نہ کسی انسانی دل پر ان کا وہم و خیال گزرا۔ جیسے اور آیت میں ہے جب وہاں پھلوں سے روزی دیئے جائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے بھی دئیے گئے تھے کیونکہ بالکل ہم شکل ہوں گے، لیکن جب کھائیں گے تو ذائقہ اور ہی پائیں گے۔ بخاری و مسلم میں سدرۃ المنتہیٰ کے ذکر میں ہے کہ اس کے پتے مثل ہاتھی کے کانوں کے ہوں گے اور پھل مثل ہجر کے بڑے بڑے مٹکوں کے ہوں گے، [صحیح بخاری:3207]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث میں جس میں آپ نے سورج کے گرہن ہونے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سورج گرہن کی نماز ادا کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے یہ بھی ہے کہ بعد فراغت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے نمازیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو اس جگہ آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے دیکھا کیا بات تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی، جنت کے میوے کا خوشہ لینا چاہا اگر میں لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے“ ۔ [صحیح بخاری:1052-3202]
ابو یعلیٰ میں ہے ظہر کی فرض نماز پڑھاتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور ہم بھی، پھر آپ نے گویا کوئی چیز لینی چاہی، پھر پیچھے ہٹ آئے، نماز سے فارغ ہو کر سیدنا ابی کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! آج تو آپ نے ایسی بات کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے جنت لائی گئی اور جو اس میں تروتازگی اور سبزی ہے میں نے اس میں سے ایک انگور کا خوشہ توڑنا چاہا تاکہ لا کر تمہیں دوں، پس میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا اور اگر اس میں اسے تمہارے پاس لے آتا تو زمین و آسمان کے درمیان کی مخلوق اسے کھاتی رہتی تاہم اس میں ذرا سی بھی کمی نہ آتی“ ۔ اسی کے مثل سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم شریف میں بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:904]
صفحہ نمبر9193
مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کوثر کی بابت سوال کیا اور جنت کا بھی ذکر کیا پوچھا کہ کیا اس میں میوے بھی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وہاں طوبیٰ نامی درخت بھی ہے؟“ پھر کچھ کہا جو مجھے یاد نہیں، پھر پوچھا: وہ درخت ہماری زمین کے کس درخت سے مشابہت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تیرے ملک کی زمین میں کوئی درخت اس کا ہم شکل نہیں۔ کیا تو شام میں گیا ہے؟“، اس نے کہا نہیں، فرمایا: شام میں ایک درخت ہوتا ہے جسے جوزہ کہتے ہیں، ایک ہی تنا ہوتا ہے اور اوپر کا حصہ پھیلا ہوا ہوتا ہے وہ البتہ اس کے مشابہ ہے، اس نے پوچھا: جنتی خوشے کتنے بڑے ہوتے ہیں؟ فرمایا: ”کالا کوا مہینہ بھر تک اڑتا رہے اتنے بڑے۔“ وہ کہنے لگا: اس درخت کا تنا کس قدر موٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اپنی اونٹنی کے بچے کو چھوڑ دے اور وہ چلتا رہے یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر گر پڑے تب بھی اس کے تنے کا چکر پورا نہیں کر سکتا۔“ اس نے کہا: اس میں انگور بھی لگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: کتنے بڑے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ کیا کبھی تیرے باپ نے اپنے ریوڑ میں سے کوئی موٹا تازہ بکرا ذبح کر کے اس کی کھال کھینچ کر تیری ماں کو دے کر کہا ہے کہ اس کا ڈول بنا لو؟ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: ”بس اتنے ہی بڑے بڑے انگور کے دانے ہوتے ہیں۔“ اس نے کہا: پھر تو ایک ہی دانہ مجھ کو اور میرے گھر والوں کو کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”بلکہ ساری برادری کو۔“ [مسند احمد:183/4:ضعیف]
پھر یہ میوے بھی ہمیشہ رہنے والے ہیں، نہ کبھی ختم ہوں، نہ کبھی ان سے روکا جائے۔ یہ نہیں کہ جاڑے میں ہیں اور گرمیوں میں نہیں، یا گرمیوں میں ہیں اور جاڑوں میں نہیں، بلکہ یہ میوے دوام والے اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں جب طلب کریں پا لیں اللہ کی قدرت سے ہر وقت وہ موجود رہیں گے، بلکہ کسی کانٹے اور کسی شاخ کو بھی آڑ نہ ہو گی، نہ دوری ہو گی، نہ حاصل کرنے میں تکلف اور تکلیف ہو گی۔ بلکہ ادھر پھل توڑا ادھر اس کے قائم مقام دوسرا پھل لگ گیا، جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گزر چکا۔ ان کے فرش بلند و بالا نرم اور گدے راحت و آرام دینے والے ہوں گے۔
صفحہ نمبر9194
نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کی اونچائی اتنی ہو گی جتنی زمین و آسمان کی یعنی پانچ سو سال کی۔ [سنن ترمذي:3294،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مطلب اس حدیث شریف کا یہ ہے کہ فرش کی بلندی درجے کی آسمان و زمین کے برابر ہے یعنی ایک درجہ دوسرے درجے سے اس قدر بلند ہے۔ ہر دو درجوں میں پانچ سو سال کی راہ کا فاصلہ ہے، پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ روایت صرف رشد بن سعد سے مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔ یہ روایت ابن جریر، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی ہے۔ حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان کی اونچائی اسی سال کی ہے۔ اس کے بعد ضمیر لائے جس کا مرجع پہلے مذکور نہیں اس لیے کہ قرینہ موجود ہے۔ بستر کا ذکر آیا جس پر جنتیوں کی بیویاں ہوں گی پس ان کی طرف ضمیر پھیر دی۔ جیسے سلیمان علیہ السلام کے ذکر میں تورات کا لفظ آیا ہے اور «شمس» کا لفظ اس سے پہلے نہیں پس قرینہ کافی ہے۔ لیکن ابوعبیدہ کہتے ہیں پہلے مذکورہ ہو چکا «وَحُوْرٌ عِيْنٌ» [56-الواقعة:22]
صفحہ نمبر9195
اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی ٭٭
سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں، جہاں بیری کے درخت ہیں، لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں، دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے
ابوبکر بن سلمان نجاد رحمہ اللہ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی نے آ کر کہا: یا رسول اللہ ! قرآن میں ایک ایسے درخت کا بھی ذکر ہے جو ایذاء دیتا، آپ نے پوچھا: ”وہ کون سا“، اس نے کہا بیری کا درخت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو نے اس کے ساتھ ہی لفظ «مَخْضُود» نہیں پڑھا؟ اس کے کانٹے اللہ تعالیٰ نے دور کر دیئے ہیں اور ان کے بدلے پھل پیدا کر دیئے ہیں ہر ایک بیری میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے جن کا رنگ و مزہ مختلف ہو گا“ ۔ [مستدرک حاکم476/2صحیح]
یہ روایت دوسری کتابوں میں بھی مروی ہے اس میں لفظ «طَلْح» ہے اور ستر ذائقوں کا بیان ہے۔ [طبرانی کبیر:130/17صحیح]
«طَلْح» ایک بڑا درخت ہے جو حجاز کی سر زمین میں ہوتا ہے، یہ کانٹے دار درخت ہے اس میں کانٹے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابن جریر نے اس کی شہادت عربی کے ایک شعر سے بھی دی ہے۔
«مَنْضُود» کے معنی تہہ بہ تہہ پھل والا، پھل سے لدا ہوا۔ ان دونوں کا ذکر اس لیے ہوا کہ عرب ان درختوں کی گہری اور میٹھی چھاؤں کو پسند کرتے تھے، یہ درخت بظاہر دنیوی درخت جیسا ہو گا لیکن بجائے کانٹوں کے اس میں شیرین پھل ہوں گے۔
جوہری فرماتے ہیں «طلح» بھی کہتے ہیں اور «طلع» بھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے، تو ممکن ہے کہ یہ بھی بیری کی ہی صفت ہو، یعنی وہ بیریاں بے خار اور بکثرت پھلدار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور حضرات نے «طلح» سے مراد کیلے کا درخت کہا ہے، اہل یمن کیلے کو «طَلْح» کہتے ہیں اور اہل حجاز «موز» کہتے ہیں۔ لمبے لمبے سایوں میں یہ ہوں گے۔
صحیح بخاری میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت کے درخت کے سائے تلے تیز سوار سو سال تک چلتا رہے گا لیکن سایہ ختم نہ ہو گا۔ اگر تم چاہو اس آیت کو پڑھو“ ۔ [صحیح بخاری4881]
مسلم میں بھی یہ روایت موجود ہے اور مسند احمد، مسند ابو یعلیٰ میں بھی، مسند کی اور حدیث میں شک کے ساتھ ہے یعنی ستر یا سو اور یہ بھی ہے کہ یہ «شجرۃ الخلد» ہے۔ [مسند احمد:455/2:صحیح]
صفحہ نمبر9192
ابن جریر اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے پس یہ حدث متواتر اور قطعاً صحیح ہے اس کی اسناد بہت ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے،
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ روایت بیان کی اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے کانوں تک پہنچی، تو آپ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے تورات موسیٰ علیہ السلام پر اور قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا کہ اگر کوئی شخص نوجوان اونٹنی پر سوار ہو کر اس وقت چلتا رہے جب تک وہ بوڑھا ہو کر گر جائے تو بھی اس کی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور خود آپ اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی ہے، اس کی شاخیں جنت کی دیواروں سے باہر نکلی ہوئی ہیں، جنت کی تمام نہریں اسی درخت کی جڑ سے نکلتی ہیں۔
ابوحصین کہتے ہیں کہ ایک موضع میں ایک دروازے پر ہم تھے ہمارے ساتھ ابوصالح اور شفیق جہنی بھی تھے اور ابوصالح رحمہ اللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی اوپر کی حدیث بیان کی اور کہا: کیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جھٹلاتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، انہیں تو نہیں تجھے جھٹلاتا ہوں۔ پس یہ قاریوں پر بہت گراں گزرا۔ میں کہتا ہوں اس ثابت، صحیح اور مرفوع حدیث کو جو جھٹلائے وہ غلطی پر ہے۔ ترمذی میں ہے جنت کے ہر درخت کا تنا سونے کا ہے۔ [سنن ترمذي:2525،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر طرف سو سو سال کے راستے تک سایہ پھیلا ہوا ہے۔ جنتی لوگ اس کے نیچے آ کر بیٹھتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ کسی کو دنیوی کھیل تماشے اور دل بہلاوے یاد آتے ہیں تو اسی وقت ایک جنتی ہوا چلتی ہے اور اس درخت میں سے تمام راگ راگنیاں، باجے گاجے اور کھیل تماشوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں، یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند قوی ہے۔ عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سایہ ستر ہزار سال کی طولانی میں ہو گا۔ آپ سے مرفوع حدیث میں ایک سو سال مروی ہے یہ سایہ گھٹتا ہی نہیں، نہ سورج آئے، نہ گرمی ستائے، فجر کے طلوع ہونے سے پیشتر کا سماں ہر وقت اس کے نیچے رہتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنت میں ہمیشہ وہ وقت رہے گا جو صبح صادق کے بعد سے لے کر آفتاب کے طلوع ہونے کے درمیان درمیان رہتا ہے سایہ کے مضمون کی روایتیں بھی اس سے پہلے گزر چکی ہیں، جیسے آیت «وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا» [4-النسآء:57] اور آیت «اُكُلُهَا دَاىِٕمٌ وَّظِلُّهَا» [13-الرعد:35] اور آیت «اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ» [77-المرسلات:41] وغیرہ پانی ہو گا بہتا ہوا مگر نہروں کے گڑھے اور کھدی ہوئی زمین نہ ہو گی، اس کی پوری تفسیر آیت «فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ» [47-محمد:15] میں گزر چکی ہے۔
ان کے پاس بکثرت طرح طرح کے لذیذ میوے ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے، نہ کسی کان نے سنے، نہ کسی انسانی دل پر ان کا وہم و خیال گزرا۔ جیسے اور آیت میں ہے جب وہاں پھلوں سے روزی دیئے جائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے بھی دئیے گئے تھے کیونکہ بالکل ہم شکل ہوں گے، لیکن جب کھائیں گے تو ذائقہ اور ہی پائیں گے۔ بخاری و مسلم میں سدرۃ المنتہیٰ کے ذکر میں ہے کہ اس کے پتے مثل ہاتھی کے کانوں کے ہوں گے اور پھل مثل ہجر کے بڑے بڑے مٹکوں کے ہوں گے، [صحیح بخاری:3207]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث میں جس میں آپ نے سورج کے گرہن ہونے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سورج گرہن کی نماز ادا کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے یہ بھی ہے کہ بعد فراغت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے نمازیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو اس جگہ آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے دیکھا کیا بات تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی، جنت کے میوے کا خوشہ لینا چاہا اگر میں لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے“ ۔ [صحیح بخاری:1052-3202]
ابو یعلیٰ میں ہے ظہر کی فرض نماز پڑھاتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور ہم بھی، پھر آپ نے گویا کوئی چیز لینی چاہی، پھر پیچھے ہٹ آئے، نماز سے فارغ ہو کر سیدنا ابی کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! آج تو آپ نے ایسی بات کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے جنت لائی گئی اور جو اس میں تروتازگی اور سبزی ہے میں نے اس میں سے ایک انگور کا خوشہ توڑنا چاہا تاکہ لا کر تمہیں دوں، پس میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا اور اگر اس میں اسے تمہارے پاس لے آتا تو زمین و آسمان کے درمیان کی مخلوق اسے کھاتی رہتی تاہم اس میں ذرا سی بھی کمی نہ آتی“ ۔ اسی کے مثل سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم شریف میں بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:904]
صفحہ نمبر9193
مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کوثر کی بابت سوال کیا اور جنت کا بھی ذکر کیا پوچھا کہ کیا اس میں میوے بھی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وہاں طوبیٰ نامی درخت بھی ہے؟“ پھر کچھ کہا جو مجھے یاد نہیں، پھر پوچھا: وہ درخت ہماری زمین کے کس درخت سے مشابہت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تیرے ملک کی زمین میں کوئی درخت اس کا ہم شکل نہیں۔ کیا تو شام میں گیا ہے؟“، اس نے کہا نہیں، فرمایا: شام میں ایک درخت ہوتا ہے جسے جوزہ کہتے ہیں، ایک ہی تنا ہوتا ہے اور اوپر کا حصہ پھیلا ہوا ہوتا ہے وہ البتہ اس کے مشابہ ہے، اس نے پوچھا: جنتی خوشے کتنے بڑے ہوتے ہیں؟ فرمایا: ”کالا کوا مہینہ بھر تک اڑتا رہے اتنے بڑے۔“ وہ کہنے لگا: اس درخت کا تنا کس قدر موٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اپنی اونٹنی کے بچے کو چھوڑ دے اور وہ چلتا رہے یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر گر پڑے تب بھی اس کے تنے کا چکر پورا نہیں کر سکتا۔“ اس نے کہا: اس میں انگور بھی لگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: کتنے بڑے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ کیا کبھی تیرے باپ نے اپنے ریوڑ میں سے کوئی موٹا تازہ بکرا ذبح کر کے اس کی کھال کھینچ کر تیری ماں کو دے کر کہا ہے کہ اس کا ڈول بنا لو؟ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: ”بس اتنے ہی بڑے بڑے انگور کے دانے ہوتے ہیں۔“ اس نے کہا: پھر تو ایک ہی دانہ مجھ کو اور میرے گھر والوں کو کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”بلکہ ساری برادری کو۔“ [مسند احمد:183/4:ضعیف]
پھر یہ میوے بھی ہمیشہ رہنے والے ہیں، نہ کبھی ختم ہوں، نہ کبھی ان سے روکا جائے۔ یہ نہیں کہ جاڑے میں ہیں اور گرمیوں میں نہیں، یا گرمیوں میں ہیں اور جاڑوں میں نہیں، بلکہ یہ میوے دوام والے اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں جب طلب کریں پا لیں اللہ کی قدرت سے ہر وقت وہ موجود رہیں گے، بلکہ کسی کانٹے اور کسی شاخ کو بھی آڑ نہ ہو گی، نہ دوری ہو گی، نہ حاصل کرنے میں تکلف اور تکلیف ہو گی۔ بلکہ ادھر پھل توڑا ادھر اس کے قائم مقام دوسرا پھل لگ گیا، جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گزر چکا۔ ان کے فرش بلند و بالا نرم اور گدے راحت و آرام دینے والے ہوں گے۔
صفحہ نمبر9194
نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کی اونچائی اتنی ہو گی جتنی زمین و آسمان کی یعنی پانچ سو سال کی۔ [سنن ترمذي:3294،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مطلب اس حدیث شریف کا یہ ہے کہ فرش کی بلندی درجے کی آسمان و زمین کے برابر ہے یعنی ایک درجہ دوسرے درجے سے اس قدر بلند ہے۔ ہر دو درجوں میں پانچ سو سال کی راہ کا فاصلہ ہے، پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ روایت صرف رشد بن سعد سے مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔ یہ روایت ابن جریر، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی ہے۔ حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان کی اونچائی اسی سال کی ہے۔ اس کے بعد ضمیر لائے جس کا مرجع پہلے مذکور نہیں اس لیے کہ قرینہ موجود ہے۔ بستر کا ذکر آیا جس پر جنتیوں کی بیویاں ہوں گی پس ان کی طرف ضمیر پھیر دی۔ جیسے سلیمان علیہ السلام کے ذکر میں تورات کا لفظ آیا ہے اور «شمس» کا لفظ اس سے پہلے نہیں پس قرینہ کافی ہے۔ لیکن ابوعبیدہ کہتے ہیں پہلے مذکورہ ہو چکا «وَحُوْرٌ عِيْنٌ» [56-الواقعة:22]
صفحہ نمبر9195
اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی ٭٭
سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں، جہاں بیری کے درخت ہیں، لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں، دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے
ابوبکر بن سلمان نجاد رحمہ اللہ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی نے آ کر کہا: یا رسول اللہ ! قرآن میں ایک ایسے درخت کا بھی ذکر ہے جو ایذاء دیتا، آپ نے پوچھا: ”وہ کون سا“، اس نے کہا بیری کا درخت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو نے اس کے ساتھ ہی لفظ «مَخْضُود» نہیں پڑھا؟ اس کے کانٹے اللہ تعالیٰ نے دور کر دیئے ہیں اور ان کے بدلے پھل پیدا کر دیئے ہیں ہر ایک بیری میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے جن کا رنگ و مزہ مختلف ہو گا“ ۔ [مستدرک حاکم476/2صحیح]
یہ روایت دوسری کتابوں میں بھی مروی ہے اس میں لفظ «طَلْح» ہے اور ستر ذائقوں کا بیان ہے۔ [طبرانی کبیر:130/17صحیح]
«طَلْح» ایک بڑا درخت ہے جو حجاز کی سر زمین میں ہوتا ہے، یہ کانٹے دار درخت ہے اس میں کانٹے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابن جریر نے اس کی شہادت عربی کے ایک شعر سے بھی دی ہے۔
«مَنْضُود» کے معنی تہہ بہ تہہ پھل والا، پھل سے لدا ہوا۔ ان دونوں کا ذکر اس لیے ہوا کہ عرب ان درختوں کی گہری اور میٹھی چھاؤں کو پسند کرتے تھے، یہ درخت بظاہر دنیوی درخت جیسا ہو گا لیکن بجائے کانٹوں کے اس میں شیرین پھل ہوں گے۔
جوہری فرماتے ہیں «طلح» بھی کہتے ہیں اور «طلع» بھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے، تو ممکن ہے کہ یہ بھی بیری کی ہی صفت ہو، یعنی وہ بیریاں بے خار اور بکثرت پھلدار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور حضرات نے «طلح» سے مراد کیلے کا درخت کہا ہے، اہل یمن کیلے کو «طَلْح» کہتے ہیں اور اہل حجاز «موز» کہتے ہیں۔ لمبے لمبے سایوں میں یہ ہوں گے۔
صحیح بخاری میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت کے درخت کے سائے تلے تیز سوار سو سال تک چلتا رہے گا لیکن سایہ ختم نہ ہو گا۔ اگر تم چاہو اس آیت کو پڑھو“ ۔ [صحیح بخاری4881]
مسلم میں بھی یہ روایت موجود ہے اور مسند احمد، مسند ابو یعلیٰ میں بھی، مسند کی اور حدیث میں شک کے ساتھ ہے یعنی ستر یا سو اور یہ بھی ہے کہ یہ «شجرۃ الخلد» ہے۔ [مسند احمد:455/2:صحیح]
صفحہ نمبر9192
ابن جریر اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے پس یہ حدث متواتر اور قطعاً صحیح ہے اس کی اسناد بہت ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے،
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ روایت بیان کی اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے کانوں تک پہنچی، تو آپ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے تورات موسیٰ علیہ السلام پر اور قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا کہ اگر کوئی شخص نوجوان اونٹنی پر سوار ہو کر اس وقت چلتا رہے جب تک وہ بوڑھا ہو کر گر جائے تو بھی اس کی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور خود آپ اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی ہے، اس کی شاخیں جنت کی دیواروں سے باہر نکلی ہوئی ہیں، جنت کی تمام نہریں اسی درخت کی جڑ سے نکلتی ہیں۔
ابوحصین کہتے ہیں کہ ایک موضع میں ایک دروازے پر ہم تھے ہمارے ساتھ ابوصالح اور شفیق جہنی بھی تھے اور ابوصالح رحمہ اللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی اوپر کی حدیث بیان کی اور کہا: کیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جھٹلاتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، انہیں تو نہیں تجھے جھٹلاتا ہوں۔ پس یہ قاریوں پر بہت گراں گزرا۔ میں کہتا ہوں اس ثابت، صحیح اور مرفوع حدیث کو جو جھٹلائے وہ غلطی پر ہے۔ ترمذی میں ہے جنت کے ہر درخت کا تنا سونے کا ہے۔ [سنن ترمذي:2525،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر طرف سو سو سال کے راستے تک سایہ پھیلا ہوا ہے۔ جنتی لوگ اس کے نیچے آ کر بیٹھتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ کسی کو دنیوی کھیل تماشے اور دل بہلاوے یاد آتے ہیں تو اسی وقت ایک جنتی ہوا چلتی ہے اور اس درخت میں سے تمام راگ راگنیاں، باجے گاجے اور کھیل تماشوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں، یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند قوی ہے۔ عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سایہ ستر ہزار سال کی طولانی میں ہو گا۔ آپ سے مرفوع حدیث میں ایک سو سال مروی ہے یہ سایہ گھٹتا ہی نہیں، نہ سورج آئے، نہ گرمی ستائے، فجر کے طلوع ہونے سے پیشتر کا سماں ہر وقت اس کے نیچے رہتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنت میں ہمیشہ وہ وقت رہے گا جو صبح صادق کے بعد سے لے کر آفتاب کے طلوع ہونے کے درمیان درمیان رہتا ہے سایہ کے مضمون کی روایتیں بھی اس سے پہلے گزر چکی ہیں، جیسے آیت «وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا» [4-النسآء:57] اور آیت «اُكُلُهَا دَاىِٕمٌ وَّظِلُّهَا» [13-الرعد:35] اور آیت «اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ» [77-المرسلات:41] وغیرہ پانی ہو گا بہتا ہوا مگر نہروں کے گڑھے اور کھدی ہوئی زمین نہ ہو گی، اس کی پوری تفسیر آیت «فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ» [47-محمد:15] میں گزر چکی ہے۔
ان کے پاس بکثرت طرح طرح کے لذیذ میوے ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے، نہ کسی کان نے سنے، نہ کسی انسانی دل پر ان کا وہم و خیال گزرا۔ جیسے اور آیت میں ہے جب وہاں پھلوں سے روزی دیئے جائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے بھی دئیے گئے تھے کیونکہ بالکل ہم شکل ہوں گے، لیکن جب کھائیں گے تو ذائقہ اور ہی پائیں گے۔ بخاری و مسلم میں سدرۃ المنتہیٰ کے ذکر میں ہے کہ اس کے پتے مثل ہاتھی کے کانوں کے ہوں گے اور پھل مثل ہجر کے بڑے بڑے مٹکوں کے ہوں گے، [صحیح بخاری:3207]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث میں جس میں آپ نے سورج کے گرہن ہونے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سورج گرہن کی نماز ادا کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے یہ بھی ہے کہ بعد فراغت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے نمازیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو اس جگہ آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے دیکھا کیا بات تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی، جنت کے میوے کا خوشہ لینا چاہا اگر میں لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے“ ۔ [صحیح بخاری:1052-3202]
ابو یعلیٰ میں ہے ظہر کی فرض نماز پڑھاتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور ہم بھی، پھر آپ نے گویا کوئی چیز لینی چاہی، پھر پیچھے ہٹ آئے، نماز سے فارغ ہو کر سیدنا ابی کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! آج تو آپ نے ایسی بات کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے جنت لائی گئی اور جو اس میں تروتازگی اور سبزی ہے میں نے اس میں سے ایک انگور کا خوشہ توڑنا چاہا تاکہ لا کر تمہیں دوں، پس میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا اور اگر اس میں اسے تمہارے پاس لے آتا تو زمین و آسمان کے درمیان کی مخلوق اسے کھاتی رہتی تاہم اس میں ذرا سی بھی کمی نہ آتی“ ۔ اسی کے مثل سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم شریف میں بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:904]
صفحہ نمبر9193
مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کوثر کی بابت سوال کیا اور جنت کا بھی ذکر کیا پوچھا کہ کیا اس میں میوے بھی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وہاں طوبیٰ نامی درخت بھی ہے؟“ پھر کچھ کہا جو مجھے یاد نہیں، پھر پوچھا: وہ درخت ہماری زمین کے کس درخت سے مشابہت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تیرے ملک کی زمین میں کوئی درخت اس کا ہم شکل نہیں۔ کیا تو شام میں گیا ہے؟“، اس نے کہا نہیں، فرمایا: شام میں ایک درخت ہوتا ہے جسے جوزہ کہتے ہیں، ایک ہی تنا ہوتا ہے اور اوپر کا حصہ پھیلا ہوا ہوتا ہے وہ البتہ اس کے مشابہ ہے، اس نے پوچھا: جنتی خوشے کتنے بڑے ہوتے ہیں؟ فرمایا: ”کالا کوا مہینہ بھر تک اڑتا رہے اتنے بڑے۔“ وہ کہنے لگا: اس درخت کا تنا کس قدر موٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اپنی اونٹنی کے بچے کو چھوڑ دے اور وہ چلتا رہے یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر گر پڑے تب بھی اس کے تنے کا چکر پورا نہیں کر سکتا۔“ اس نے کہا: اس میں انگور بھی لگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: کتنے بڑے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ کیا کبھی تیرے باپ نے اپنے ریوڑ میں سے کوئی موٹا تازہ بکرا ذبح کر کے اس کی کھال کھینچ کر تیری ماں کو دے کر کہا ہے کہ اس کا ڈول بنا لو؟ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: ”بس اتنے ہی بڑے بڑے انگور کے دانے ہوتے ہیں۔“ اس نے کہا: پھر تو ایک ہی دانہ مجھ کو اور میرے گھر والوں کو کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”بلکہ ساری برادری کو۔“ [مسند احمد:183/4:ضعیف]
پھر یہ میوے بھی ہمیشہ رہنے والے ہیں، نہ کبھی ختم ہوں، نہ کبھی ان سے روکا جائے۔ یہ نہیں کہ جاڑے میں ہیں اور گرمیوں میں نہیں، یا گرمیوں میں ہیں اور جاڑوں میں نہیں، بلکہ یہ میوے دوام والے اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں جب طلب کریں پا لیں اللہ کی قدرت سے ہر وقت وہ موجود رہیں گے، بلکہ کسی کانٹے اور کسی شاخ کو بھی آڑ نہ ہو گی، نہ دوری ہو گی، نہ حاصل کرنے میں تکلف اور تکلیف ہو گی۔ بلکہ ادھر پھل توڑا ادھر اس کے قائم مقام دوسرا پھل لگ گیا، جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گزر چکا۔ ان کے فرش بلند و بالا نرم اور گدے راحت و آرام دینے والے ہوں گے۔
صفحہ نمبر9194
نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کی اونچائی اتنی ہو گی جتنی زمین و آسمان کی یعنی پانچ سو سال کی۔ [سنن ترمذي:3294،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مطلب اس حدیث شریف کا یہ ہے کہ فرش کی بلندی درجے کی آسمان و زمین کے برابر ہے یعنی ایک درجہ دوسرے درجے سے اس قدر بلند ہے۔ ہر دو درجوں میں پانچ سو سال کی راہ کا فاصلہ ہے، پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ روایت صرف رشد بن سعد سے مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔ یہ روایت ابن جریر، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی ہے۔ حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان کی اونچائی اسی سال کی ہے۔ اس کے بعد ضمیر لائے جس کا مرجع پہلے مذکور نہیں اس لیے کہ قرینہ موجود ہے۔ بستر کا ذکر آیا جس پر جنتیوں کی بیویاں ہوں گی پس ان کی طرف ضمیر پھیر دی۔ جیسے سلیمان علیہ السلام کے ذکر میں تورات کا لفظ آیا ہے اور «شمس» کا لفظ اس سے پہلے نہیں پس قرینہ کافی ہے۔ لیکن ابوعبیدہ کہتے ہیں پہلے مذکورہ ہو چکا «وَحُوْرٌ عِيْنٌ» [56-الواقعة:22]
صفحہ نمبر9195
اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی ٭٭
سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں، جہاں بیری کے درخت ہیں، لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں، دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے
ابوبکر بن سلمان نجاد رحمہ اللہ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی نے آ کر کہا: یا رسول اللہ ! قرآن میں ایک ایسے درخت کا بھی ذکر ہے جو ایذاء دیتا، آپ نے پوچھا: ”وہ کون سا“، اس نے کہا بیری کا درخت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو نے اس کے ساتھ ہی لفظ «مَخْضُود» نہیں پڑھا؟ اس کے کانٹے اللہ تعالیٰ نے دور کر دیئے ہیں اور ان کے بدلے پھل پیدا کر دیئے ہیں ہر ایک بیری میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے جن کا رنگ و مزہ مختلف ہو گا“ ۔ [مستدرک حاکم476/2صحیح]
یہ روایت دوسری کتابوں میں بھی مروی ہے اس میں لفظ «طَلْح» ہے اور ستر ذائقوں کا بیان ہے۔ [طبرانی کبیر:130/17صحیح]
«طَلْح» ایک بڑا درخت ہے جو حجاز کی سر زمین میں ہوتا ہے، یہ کانٹے دار درخت ہے اس میں کانٹے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابن جریر نے اس کی شہادت عربی کے ایک شعر سے بھی دی ہے۔
«مَنْضُود» کے معنی تہہ بہ تہہ پھل والا، پھل سے لدا ہوا۔ ان دونوں کا ذکر اس لیے ہوا کہ عرب ان درختوں کی گہری اور میٹھی چھاؤں کو پسند کرتے تھے، یہ درخت بظاہر دنیوی درخت جیسا ہو گا لیکن بجائے کانٹوں کے اس میں شیرین پھل ہوں گے۔
جوہری فرماتے ہیں «طلح» بھی کہتے ہیں اور «طلع» بھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے، تو ممکن ہے کہ یہ بھی بیری کی ہی صفت ہو، یعنی وہ بیریاں بے خار اور بکثرت پھلدار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور حضرات نے «طلح» سے مراد کیلے کا درخت کہا ہے، اہل یمن کیلے کو «طَلْح» کہتے ہیں اور اہل حجاز «موز» کہتے ہیں۔ لمبے لمبے سایوں میں یہ ہوں گے۔
صحیح بخاری میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت کے درخت کے سائے تلے تیز سوار سو سال تک چلتا رہے گا لیکن سایہ ختم نہ ہو گا۔ اگر تم چاہو اس آیت کو پڑھو“ ۔ [صحیح بخاری4881]
مسلم میں بھی یہ روایت موجود ہے اور مسند احمد، مسند ابو یعلیٰ میں بھی، مسند کی اور حدیث میں شک کے ساتھ ہے یعنی ستر یا سو اور یہ بھی ہے کہ یہ «شجرۃ الخلد» ہے۔ [مسند احمد:455/2:صحیح]
صفحہ نمبر9192
ابن جریر اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے پس یہ حدث متواتر اور قطعاً صحیح ہے اس کی اسناد بہت ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے،
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ روایت بیان کی اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے کانوں تک پہنچی، تو آپ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے تورات موسیٰ علیہ السلام پر اور قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا کہ اگر کوئی شخص نوجوان اونٹنی پر سوار ہو کر اس وقت چلتا رہے جب تک وہ بوڑھا ہو کر گر جائے تو بھی اس کی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور خود آپ اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی ہے، اس کی شاخیں جنت کی دیواروں سے باہر نکلی ہوئی ہیں، جنت کی تمام نہریں اسی درخت کی جڑ سے نکلتی ہیں۔
ابوحصین کہتے ہیں کہ ایک موضع میں ایک دروازے پر ہم تھے ہمارے ساتھ ابوصالح اور شفیق جہنی بھی تھے اور ابوصالح رحمہ اللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی اوپر کی حدیث بیان کی اور کہا: کیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جھٹلاتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، انہیں تو نہیں تجھے جھٹلاتا ہوں۔ پس یہ قاریوں پر بہت گراں گزرا۔ میں کہتا ہوں اس ثابت، صحیح اور مرفوع حدیث کو جو جھٹلائے وہ غلطی پر ہے۔ ترمذی میں ہے جنت کے ہر درخت کا تنا سونے کا ہے۔ [سنن ترمذي:2525،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر طرف سو سو سال کے راستے تک سایہ پھیلا ہوا ہے۔ جنتی لوگ اس کے نیچے آ کر بیٹھتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ کسی کو دنیوی کھیل تماشے اور دل بہلاوے یاد آتے ہیں تو اسی وقت ایک جنتی ہوا چلتی ہے اور اس درخت میں سے تمام راگ راگنیاں، باجے گاجے اور کھیل تماشوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں، یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند قوی ہے۔ عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سایہ ستر ہزار سال کی طولانی میں ہو گا۔ آپ سے مرفوع حدیث میں ایک سو سال مروی ہے یہ سایہ گھٹتا ہی نہیں، نہ سورج آئے، نہ گرمی ستائے، فجر کے طلوع ہونے سے پیشتر کا سماں ہر وقت اس کے نیچے رہتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنت میں ہمیشہ وہ وقت رہے گا جو صبح صادق کے بعد سے لے کر آفتاب کے طلوع ہونے کے درمیان درمیان رہتا ہے سایہ کے مضمون کی روایتیں بھی اس سے پہلے گزر چکی ہیں، جیسے آیت «وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا» [4-النسآء:57] اور آیت «اُكُلُهَا دَاىِٕمٌ وَّظِلُّهَا» [13-الرعد:35] اور آیت «اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ» [77-المرسلات:41] وغیرہ پانی ہو گا بہتا ہوا مگر نہروں کے گڑھے اور کھدی ہوئی زمین نہ ہو گی، اس کی پوری تفسیر آیت «فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ» [47-محمد:15] میں گزر چکی ہے۔
ان کے پاس بکثرت طرح طرح کے لذیذ میوے ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے، نہ کسی کان نے سنے، نہ کسی انسانی دل پر ان کا وہم و خیال گزرا۔ جیسے اور آیت میں ہے جب وہاں پھلوں سے روزی دیئے جائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے بھی دئیے گئے تھے کیونکہ بالکل ہم شکل ہوں گے، لیکن جب کھائیں گے تو ذائقہ اور ہی پائیں گے۔ بخاری و مسلم میں سدرۃ المنتہیٰ کے ذکر میں ہے کہ اس کے پتے مثل ہاتھی کے کانوں کے ہوں گے اور پھل مثل ہجر کے بڑے بڑے مٹکوں کے ہوں گے، [صحیح بخاری:3207]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث میں جس میں آپ نے سورج کے گرہن ہونے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سورج گرہن کی نماز ادا کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے یہ بھی ہے کہ بعد فراغت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے نمازیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو اس جگہ آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے دیکھا کیا بات تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی، جنت کے میوے کا خوشہ لینا چاہا اگر میں لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے“ ۔ [صحیح بخاری:1052-3202]
ابو یعلیٰ میں ہے ظہر کی فرض نماز پڑھاتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور ہم بھی، پھر آپ نے گویا کوئی چیز لینی چاہی، پھر پیچھے ہٹ آئے، نماز سے فارغ ہو کر سیدنا ابی کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! آج تو آپ نے ایسی بات کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے جنت لائی گئی اور جو اس میں تروتازگی اور سبزی ہے میں نے اس میں سے ایک انگور کا خوشہ توڑنا چاہا تاکہ لا کر تمہیں دوں، پس میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا اور اگر اس میں اسے تمہارے پاس لے آتا تو زمین و آسمان کے درمیان کی مخلوق اسے کھاتی رہتی تاہم اس میں ذرا سی بھی کمی نہ آتی“ ۔ اسی کے مثل سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم شریف میں بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:904]
صفحہ نمبر9193
مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کوثر کی بابت سوال کیا اور جنت کا بھی ذکر کیا پوچھا کہ کیا اس میں میوے بھی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وہاں طوبیٰ نامی درخت بھی ہے؟“ پھر کچھ کہا جو مجھے یاد نہیں، پھر پوچھا: وہ درخت ہماری زمین کے کس درخت سے مشابہت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تیرے ملک کی زمین میں کوئی درخت اس کا ہم شکل نہیں۔ کیا تو شام میں گیا ہے؟“، اس نے کہا نہیں، فرمایا: شام میں ایک درخت ہوتا ہے جسے جوزہ کہتے ہیں، ایک ہی تنا ہوتا ہے اور اوپر کا حصہ پھیلا ہوا ہوتا ہے وہ البتہ اس کے مشابہ ہے، اس نے پوچھا: جنتی خوشے کتنے بڑے ہوتے ہیں؟ فرمایا: ”کالا کوا مہینہ بھر تک اڑتا رہے اتنے بڑے۔“ وہ کہنے لگا: اس درخت کا تنا کس قدر موٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اپنی اونٹنی کے بچے کو چھوڑ دے اور وہ چلتا رہے یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر گر پڑے تب بھی اس کے تنے کا چکر پورا نہیں کر سکتا۔“ اس نے کہا: اس میں انگور بھی لگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: کتنے بڑے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ کیا کبھی تیرے باپ نے اپنے ریوڑ میں سے کوئی موٹا تازہ بکرا ذبح کر کے اس کی کھال کھینچ کر تیری ماں کو دے کر کہا ہے کہ اس کا ڈول بنا لو؟ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: ”بس اتنے ہی بڑے بڑے انگور کے دانے ہوتے ہیں۔“ اس نے کہا: پھر تو ایک ہی دانہ مجھ کو اور میرے گھر والوں کو کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”بلکہ ساری برادری کو۔“ [مسند احمد:183/4:ضعیف]
پھر یہ میوے بھی ہمیشہ رہنے والے ہیں، نہ کبھی ختم ہوں، نہ کبھی ان سے روکا جائے۔ یہ نہیں کہ جاڑے میں ہیں اور گرمیوں میں نہیں، یا گرمیوں میں ہیں اور جاڑوں میں نہیں، بلکہ یہ میوے دوام والے اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں جب طلب کریں پا لیں اللہ کی قدرت سے ہر وقت وہ موجود رہیں گے، بلکہ کسی کانٹے اور کسی شاخ کو بھی آڑ نہ ہو گی، نہ دوری ہو گی، نہ حاصل کرنے میں تکلف اور تکلیف ہو گی۔ بلکہ ادھر پھل توڑا ادھر اس کے قائم مقام دوسرا پھل لگ گیا، جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گزر چکا۔ ان کے فرش بلند و بالا نرم اور گدے راحت و آرام دینے والے ہوں گے۔
صفحہ نمبر9194
نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کی اونچائی اتنی ہو گی جتنی زمین و آسمان کی یعنی پانچ سو سال کی۔ [سنن ترمذي:3294،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مطلب اس حدیث شریف کا یہ ہے کہ فرش کی بلندی درجے کی آسمان و زمین کے برابر ہے یعنی ایک درجہ دوسرے درجے سے اس قدر بلند ہے۔ ہر دو درجوں میں پانچ سو سال کی راہ کا فاصلہ ہے، پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ روایت صرف رشد بن سعد سے مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔ یہ روایت ابن جریر، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی ہے۔ حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان کی اونچائی اسی سال کی ہے۔ اس کے بعد ضمیر لائے جس کا مرجع پہلے مذکور نہیں اس لیے کہ قرینہ موجود ہے۔ بستر کا ذکر آیا جس پر جنتیوں کی بیویاں ہوں گی پس ان کی طرف ضمیر پھیر دی۔ جیسے سلیمان علیہ السلام کے ذکر میں تورات کا لفظ آیا ہے اور «شمس» کا لفظ اس سے پہلے نہیں پس قرینہ کافی ہے۔ لیکن ابوعبیدہ کہتے ہیں پہلے مذکورہ ہو چکا «وَحُوْرٌ عِيْنٌ» [56-الواقعة:22]
صفحہ نمبر9195