John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Qalam

Tafsir Ibn Kathir · The Pen · 52 ayat · ayat 31–52 · Quran text →

باب

لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے، کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہو چکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہو گیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہو گیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے۔ پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہو گیا کہ باغ تو ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے، ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم ان شاء اللہ کیوں نہیں کہتے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی ان شاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا۔

صفحہ نمبر9696

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے معنی ہی ان شاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد و ثناء نہیں کرتے؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے، بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا، اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، سعید بن جیبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ لوگ ضروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لیے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کر دیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بے وقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کر لیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کر دیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے۔ پھر فرماتا ہے ” جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں “۔

بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے ۔ [السنن الکبری للبیھقی:9/298-290:مرسل و ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9697

باب

لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے، کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہو چکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہو گیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہو گیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے۔ پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہو گیا کہ باغ تو ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے، ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم ان شاء اللہ کیوں نہیں کہتے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی ان شاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا۔

صفحہ نمبر9696

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے معنی ہی ان شاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد و ثناء نہیں کرتے؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے، بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا، اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، سعید بن جیبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ لوگ ضروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لیے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کر دیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بے وقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کر لیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کر دیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے۔ پھر فرماتا ہے ” جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں “۔

بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے ۔ [السنن الکبری للبیھقی:9/298-290:مرسل و ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9697

باب

لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے، کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہو چکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہو گیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہو گیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے۔ پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہو گیا کہ باغ تو ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے، ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم ان شاء اللہ کیوں نہیں کہتے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی ان شاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا۔

صفحہ نمبر9696

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے معنی ہی ان شاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد و ثناء نہیں کرتے؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے، بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا، اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، سعید بن جیبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ لوگ ضروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لیے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کر دیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بے وقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کر لیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کر دیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے۔ پھر فرماتا ہے ” جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں “۔

بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے ۔ [السنن الکبری للبیھقی:9/298-290:مرسل و ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9697

گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے ٭٭

اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لیے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں۔

پھر فرماتا ہے ” کیا ہو سکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہو جائیں؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہو سکتا، کیا ہو گیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہو گا اور تمہاری بے جا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو “۔

صفحہ نمبر9705

گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے ٭٭

اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لیے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں۔

پھر فرماتا ہے ” کیا ہو سکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہو جائیں؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہو سکتا، کیا ہو گیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہو گا اور تمہاری بے جا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو “۔

صفحہ نمبر9705

گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے ٭٭

اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لیے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں۔

پھر فرماتا ہے ” کیا ہو سکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہو جائیں؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہو سکتا، کیا ہو گیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہو گا اور تمہاری بے جا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو “۔

صفحہ نمبر9705

گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے ٭٭

اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لیے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں۔

پھر فرماتا ہے ” کیا ہو سکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہو جائیں؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہو سکتا، کیا ہو گیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہو گا اور تمہاری بے جا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو “۔

صفحہ نمبر9705

گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے ٭٭

اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لیے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں۔

پھر فرماتا ہے ” کیا ہو سکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہو جائیں؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہو سکتا، کیا ہو گیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہو گا اور تمہاری بے جا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو “۔

صفحہ نمبر9705

گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے ٭٭

اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لیے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں۔

پھر فرماتا ہے ” کیا ہو سکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہو جائیں؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہو سکتا، کیا ہو گیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہو گا اور تمہاری بے جا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو “۔

صفحہ نمبر9705

گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے ٭٭

اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لیے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں۔

پھر فرماتا ہے ” کیا ہو سکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہو جائیں؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہو سکتا، کیا ہو گیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہو گا اور تمہاری بے جا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو “۔

صفحہ نمبر9705

گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے ٭٭

اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لیے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں۔

پھر فرماتا ہے ” کیا ہو سکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہو جائیں؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہو سکتا، کیا ہو گیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہو گا اور تمہاری بے جا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو “۔

صفحہ نمبر9705

سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہو گا ٭٭

اوپر بیان ہو چکا ہے کہ ” پرہیزگار لوگوں کے لیے نعمتوں والی جنتیں ہیں “، اس لئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی؟ تو فرمایا کہ ” اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی “۔ یعنی قیامت کے دن، جو دن بڑی ہولناکیوں والا، زلزلوں والا، امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہو گا۔

صحیح بخاری میں اس جگہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرماتے تھے ”ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گر پڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لیے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہو جائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لیے جھکا نہ جائے گا“ ۔ [صحیح بخاری:4919] ‏ یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے۔‏“ [ابن جریر] ‏ اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ سیدنا ابن مسعود یا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے «‏يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ» [68-القلم:42] ‏ کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے۔

جیسے شاعر کا قول ہے «وَقَامَتِ الْحَرْبُ بِنَا عَنْ سَاقٍ» یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہو گی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہو جائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آ جاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے۔ یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں۔ اس کے بعد یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر میں فرمایا: ”مراد بہت بڑا نور ہے لوگ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:42/29:ضعیف] ‏ یہ حدیث ابویعلیٰ میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

(‏یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گزری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اور اقوال بھی اس طرح ٹھیک ہیں کہ جہانوں کے پروردگار کی پنڈلی بھی ظاہر ہو گی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم)

صفحہ نمبر9713

دنیا میں سجدہ نہ کرنے والے کی قیامت کو حالت ٭٭

پھر فرمایا ” جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہو جائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا تو رک جاتے تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کر سکتے پہلے کر سکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گر پڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کر سکیں گے، کمر تختہ ہو جائے گی، جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گر پڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی، وہاں بھی خلاف ہی رہے گی “۔

پھر فرمایا ” مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں خود ان سے نپٹ لوں گا، دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے، میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہو گی “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُم بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:56،55] ‏، یعنی ” کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لیے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بے شعور ہیں “۔

اور جگہ فرمایا «‏فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ» [6-الأنعام:44] ‏ ” جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہو گئیں “۔

یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے ” میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے “۔

صفحہ نمبر9714

بخاری مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ۔ [صحیح بخاری:4686] ‏ «‏وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [11-ھود:102] ‏ یعنی ” اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے “۔

پھر فرمایا ” تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں “۔

ان دونوں جملوں کی تفسیر سورۃ والطور میں گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی! آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں۔

صفحہ نمبر9715

سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہو گا ٭٭

اوپر بیان ہو چکا ہے کہ ” پرہیزگار لوگوں کے لیے نعمتوں والی جنتیں ہیں “، اس لئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی؟ تو فرمایا کہ ” اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی “۔ یعنی قیامت کے دن، جو دن بڑی ہولناکیوں والا، زلزلوں والا، امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہو گا۔

صحیح بخاری میں اس جگہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرماتے تھے ”ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گر پڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لیے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہو جائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لیے جھکا نہ جائے گا“ ۔ [صحیح بخاری:4919] ‏ یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے۔‏“ [ابن جریر] ‏ اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ سیدنا ابن مسعود یا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے «‏يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ» [68-القلم:42] ‏ کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے۔

جیسے شاعر کا قول ہے «وَقَامَتِ الْحَرْبُ بِنَا عَنْ سَاقٍ» یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہو گی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہو جائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آ جاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے۔ یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں۔ اس کے بعد یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر میں فرمایا: ”مراد بہت بڑا نور ہے لوگ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:42/29:ضعیف] ‏ یہ حدیث ابویعلیٰ میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

(‏یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گزری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اور اقوال بھی اس طرح ٹھیک ہیں کہ جہانوں کے پروردگار کی پنڈلی بھی ظاہر ہو گی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم)

صفحہ نمبر9713

دنیا میں سجدہ نہ کرنے والے کی قیامت کو حالت ٭٭

پھر فرمایا ” جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہو جائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا تو رک جاتے تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کر سکتے پہلے کر سکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گر پڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کر سکیں گے، کمر تختہ ہو جائے گی، جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گر پڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی، وہاں بھی خلاف ہی رہے گی “۔

پھر فرمایا ” مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں خود ان سے نپٹ لوں گا، دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے، میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہو گی “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُم بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:56،55] ‏، یعنی ” کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لیے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بے شعور ہیں “۔

اور جگہ فرمایا «‏فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ» [6-الأنعام:44] ‏ ” جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہو گئیں “۔

یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے ” میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے “۔

صفحہ نمبر9714

بخاری مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ۔ [صحیح بخاری:4686] ‏ «‏وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [11-ھود:102] ‏ یعنی ” اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے “۔

پھر فرمایا ” تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں “۔

ان دونوں جملوں کی تفسیر سورۃ والطور میں گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی! آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں۔

صفحہ نمبر9715

سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہو گا ٭٭

اوپر بیان ہو چکا ہے کہ ” پرہیزگار لوگوں کے لیے نعمتوں والی جنتیں ہیں “، اس لئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی؟ تو فرمایا کہ ” اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی “۔ یعنی قیامت کے دن، جو دن بڑی ہولناکیوں والا، زلزلوں والا، امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہو گا۔

صحیح بخاری میں اس جگہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرماتے تھے ”ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گر پڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لیے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہو جائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لیے جھکا نہ جائے گا“ ۔ [صحیح بخاری:4919] ‏ یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے۔‏“ [ابن جریر] ‏ اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ سیدنا ابن مسعود یا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے «‏يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ» [68-القلم:42] ‏ کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے۔

جیسے شاعر کا قول ہے «وَقَامَتِ الْحَرْبُ بِنَا عَنْ سَاقٍ» یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہو گی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہو جائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آ جاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے۔ یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں۔ اس کے بعد یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر میں فرمایا: ”مراد بہت بڑا نور ہے لوگ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:42/29:ضعیف] ‏ یہ حدیث ابویعلیٰ میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

(‏یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گزری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اور اقوال بھی اس طرح ٹھیک ہیں کہ جہانوں کے پروردگار کی پنڈلی بھی ظاہر ہو گی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم)

صفحہ نمبر9713

دنیا میں سجدہ نہ کرنے والے کی قیامت کو حالت ٭٭

پھر فرمایا ” جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہو جائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا تو رک جاتے تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کر سکتے پہلے کر سکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گر پڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کر سکیں گے، کمر تختہ ہو جائے گی، جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گر پڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی، وہاں بھی خلاف ہی رہے گی “۔

پھر فرمایا ” مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں خود ان سے نپٹ لوں گا، دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے، میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہو گی “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُم بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:56،55] ‏، یعنی ” کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لیے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بے شعور ہیں “۔

اور جگہ فرمایا «‏فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ» [6-الأنعام:44] ‏ ” جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہو گئیں “۔

یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے ” میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے “۔

صفحہ نمبر9714

بخاری مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ۔ [صحیح بخاری:4686] ‏ «‏وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [11-ھود:102] ‏ یعنی ” اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے “۔

پھر فرمایا ” تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں “۔

ان دونوں جملوں کی تفسیر سورۃ والطور میں گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی! آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں۔

صفحہ نمبر9715

سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہو گا ٭٭

اوپر بیان ہو چکا ہے کہ ” پرہیزگار لوگوں کے لیے نعمتوں والی جنتیں ہیں “، اس لئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی؟ تو فرمایا کہ ” اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی “۔ یعنی قیامت کے دن، جو دن بڑی ہولناکیوں والا، زلزلوں والا، امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہو گا۔

صحیح بخاری میں اس جگہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرماتے تھے ”ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گر پڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لیے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہو جائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لیے جھکا نہ جائے گا“ ۔ [صحیح بخاری:4919] ‏ یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے۔‏“ [ابن جریر] ‏ اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ سیدنا ابن مسعود یا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے «‏يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ» [68-القلم:42] ‏ کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے۔

جیسے شاعر کا قول ہے «وَقَامَتِ الْحَرْبُ بِنَا عَنْ سَاقٍ» یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہو گی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہو جائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آ جاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے۔ یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں۔ اس کے بعد یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر میں فرمایا: ”مراد بہت بڑا نور ہے لوگ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:42/29:ضعیف] ‏ یہ حدیث ابویعلیٰ میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

(‏یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گزری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اور اقوال بھی اس طرح ٹھیک ہیں کہ جہانوں کے پروردگار کی پنڈلی بھی ظاہر ہو گی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم)

صفحہ نمبر9713

دنیا میں سجدہ نہ کرنے والے کی قیامت کو حالت ٭٭

پھر فرمایا ” جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہو جائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا تو رک جاتے تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کر سکتے پہلے کر سکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گر پڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کر سکیں گے، کمر تختہ ہو جائے گی، جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گر پڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی، وہاں بھی خلاف ہی رہے گی “۔

پھر فرمایا ” مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں خود ان سے نپٹ لوں گا، دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے، میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہو گی “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُم بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:56،55] ‏، یعنی ” کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لیے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بے شعور ہیں “۔

اور جگہ فرمایا «‏فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ» [6-الأنعام:44] ‏ ” جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہو گئیں “۔

یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے ” میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے “۔

صفحہ نمبر9714

بخاری مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ۔ [صحیح بخاری:4686] ‏ «‏وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [11-ھود:102] ‏ یعنی ” اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے “۔

پھر فرمایا ” تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں “۔

ان دونوں جملوں کی تفسیر سورۃ والطور میں گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی! آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں۔

صفحہ نمبر9715

سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہو گا ٭٭

اوپر بیان ہو چکا ہے کہ ” پرہیزگار لوگوں کے لیے نعمتوں والی جنتیں ہیں “، اس لئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی؟ تو فرمایا کہ ” اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی “۔ یعنی قیامت کے دن، جو دن بڑی ہولناکیوں والا، زلزلوں والا، امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہو گا۔

صحیح بخاری میں اس جگہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرماتے تھے ”ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گر پڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لیے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہو جائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لیے جھکا نہ جائے گا“ ۔ [صحیح بخاری:4919] ‏ یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے۔‏“ [ابن جریر] ‏ اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ سیدنا ابن مسعود یا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے «‏يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ» [68-القلم:42] ‏ کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے۔

جیسے شاعر کا قول ہے «وَقَامَتِ الْحَرْبُ بِنَا عَنْ سَاقٍ» یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہو گی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہو جائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آ جاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے۔ یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں۔ اس کے بعد یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر میں فرمایا: ”مراد بہت بڑا نور ہے لوگ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:42/29:ضعیف] ‏ یہ حدیث ابویعلیٰ میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

(‏یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گزری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اور اقوال بھی اس طرح ٹھیک ہیں کہ جہانوں کے پروردگار کی پنڈلی بھی ظاہر ہو گی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم)

صفحہ نمبر9713

دنیا میں سجدہ نہ کرنے والے کی قیامت کو حالت ٭٭

پھر فرمایا ” جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہو جائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا تو رک جاتے تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کر سکتے پہلے کر سکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گر پڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کر سکیں گے، کمر تختہ ہو جائے گی، جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گر پڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی، وہاں بھی خلاف ہی رہے گی “۔

پھر فرمایا ” مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں خود ان سے نپٹ لوں گا، دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے، میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہو گی “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُم بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:56،55] ‏، یعنی ” کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لیے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بے شعور ہیں “۔

اور جگہ فرمایا «‏فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ» [6-الأنعام:44] ‏ ” جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہو گئیں “۔

یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے ” میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے “۔

صفحہ نمبر9714

بخاری مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ۔ [صحیح بخاری:4686] ‏ «‏وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [11-ھود:102] ‏ یعنی ” اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے “۔

پھر فرمایا ” تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں “۔

ان دونوں جملوں کی تفسیر سورۃ والطور میں گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی! آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں۔

صفحہ نمبر9715

سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہو گا ٭٭

اوپر بیان ہو چکا ہے کہ ” پرہیزگار لوگوں کے لیے نعمتوں والی جنتیں ہیں “، اس لئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی؟ تو فرمایا کہ ” اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی “۔ یعنی قیامت کے دن، جو دن بڑی ہولناکیوں والا، زلزلوں والا، امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہو گا۔

صحیح بخاری میں اس جگہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرماتے تھے ”ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گر پڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لیے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہو جائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لیے جھکا نہ جائے گا“ ۔ [صحیح بخاری:4919] ‏ یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے۔‏“ [ابن جریر] ‏ اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ سیدنا ابن مسعود یا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے «‏يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ» [68-القلم:42] ‏ کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے۔

جیسے شاعر کا قول ہے «وَقَامَتِ الْحَرْبُ بِنَا عَنْ سَاقٍ» یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہو گی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہو جائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آ جاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے۔ یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں۔ اس کے بعد یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر میں فرمایا: ”مراد بہت بڑا نور ہے لوگ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:42/29:ضعیف] ‏ یہ حدیث ابویعلیٰ میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

(‏یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گزری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اور اقوال بھی اس طرح ٹھیک ہیں کہ جہانوں کے پروردگار کی پنڈلی بھی ظاہر ہو گی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم)

صفحہ نمبر9713

دنیا میں سجدہ نہ کرنے والے کی قیامت کو حالت ٭٭

پھر فرمایا ” جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہو جائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا تو رک جاتے تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کر سکتے پہلے کر سکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گر پڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کر سکیں گے، کمر تختہ ہو جائے گی، جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گر پڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی، وہاں بھی خلاف ہی رہے گی “۔

پھر فرمایا ” مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں خود ان سے نپٹ لوں گا، دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے، میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہو گی “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُم بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:56،55] ‏، یعنی ” کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لیے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بے شعور ہیں “۔

اور جگہ فرمایا «‏فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ» [6-الأنعام:44] ‏ ” جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہو گئیں “۔

یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے ” میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے “۔

صفحہ نمبر9714

بخاری مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ۔ [صحیح بخاری:4686] ‏ «‏وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [11-ھود:102] ‏ یعنی ” اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے “۔

پھر فرمایا ” تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں “۔

ان دونوں جملوں کی تفسیر سورۃ والطور میں گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی! آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں۔

صفحہ نمبر9715

مصائب سے نجات دلانے والی دعا، نظر، فال اور شگون ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اے نبی! اپنی قوم کی ایذاء پر اور ان کے جھٹلانے پر صبر و ضبط کرو عنقریب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہونے والا ہے، انجام کار آپ کا اور آپ کے ماتحتوں کا ہی غلبہ ہو گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیکھو تم مچھلی والے نبی کی طرح نہ ہونا “۔ اس سے مراد یونس بن متی علیہ السلام ہیں جبکہ وہ اپنی قوم پر غضب ناک ہو کر نکل کھڑے ہوئے پھر جو ہوا سو ہوا، یعنی آپ علیہ السلام کا جہاز میں سوار ہونا مچھلی کا آپ کو نگل جانا اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ جانا اور ان تہ بہ تہ اندھیروں میں اس قدر نیچے آپ کا سمندر میں اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے سننا اور خود آپ کا بھی پکارنا اور «‏لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» [21-الأنبياء:87] ‏ پڑھنا پھر آپ کی دعا کا قبول ہونا، اس غم سے نجات پانا وغیرہ جس واقعہ کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے۔

جس کے بیان کے بعد اللہ سبحان و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ «‏فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ» [21-الأنبياء:88] ‏ ” ہم اسی طرح ایمانداروں کو نجات دیا کرتے ہیں “ اور فرماتا ہے کہ «فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ» [37-الصافات:143-144] ‏ ” اگر وہ تسبیح نہ کرتے تو قیامت تک اسی کے پیٹ میں پڑے رہتے “۔

یہاں بھی فرمان ہے کہ ” جب اس نے غم اور دکھ کی حالت میں ہمیں پکارا “، پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یونس علیہ السلام کی زبان سے نکلتے ہی یہ کلمہ عرش پر پہنچا، فرشتوں نے کہا یا رب اس کمزور غیر معروف شخص کی آواز تو ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے پہلے کی سنی ہوئی ہو۔

صفحہ نمبر9721

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ” کیا تم نے اسے پہچانا نہیں؟ “ فرشتوں نے عرض کیا نہیں، جناب باری نے فرمایا: ” یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے “۔ فرشتوں نے کہا پروردگار! پھر تو تیرا یہ بندہ وہ ہے جس کے اعمال صالحہ ہر روز آسمانوں پر چڑھتے رہے جس کی دعائیں ہر وقت قبولیت کا درجہ پاتی رہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” سچ ہے “، فرشتوں نے کہا پھر اے ارحم الراحمین! ان کی آسانیوں کے وقت کے نیک اعمال کی بنا پر انہیں اس سختی سے نجات عطا فرما، چنانچہ فرمان باری ہوا کہ ” اے مچھلی! تو انہیں اگل دے “ اور مچھلی نے انہیں کنارے پر آ کر اگل دیا۔

یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ” اللہ نے اسے پھر برگزیدہ بنا لیا اور نیک کاروں میں کر دیا “۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو یونس بن متی سے افضل بتائے“ ۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ حدیث ہے، [صحیح بخاری:3395] ‏

اگلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ ” تیرے بغض و حسد کی وجہ سے یہ کفار تو اپنی آنکھوں سے گھور گھور کر تجھے پھسلا دینا چاہتے ہیں اگر اللہ کی طرف سے حمایت اور بچاؤ نہ ہوتا تو یقیناً یہ ایسا کر گزرتے “، اس آیت میں دلیل ہے اس امر پر کہ نظر کا لگنا اور اس کی تاثیر کا اللہ کے حکم سے ہونا حق ہے جیسا کہ بہت سی احادیث میں بھی ہے جو کئی کئی سندوں سے مروی ہے۔

ابوداؤد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دم جھاڑا صرف نظر کا اور زہریلے جانوروں کا اور نہ تھمنے والے خون کا ہے“ [سنن ابوداود:3889،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

بعض سندوں میں نظر کا لفظ نہیں یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے [سنن ابن ماجہ:3513،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور صحیح مسلم میں بھی ایک قصہ کے ساتھ موقوفاً مروی ہے، [صحیح مسلم:200] ‏ اور بخاری اور ترمذی میں بھی ہے۔ ایک غریب حدیث ابویعلیٰ میں ہے کہ نظر میں کچھ بھی حق نہیں ۔ [مسند احمد:5/146:صحیح] ‏ سب سے سچا شگون فال ہے ، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب کہتے ہیں [سنن ترمذي:2061،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے کہ کوئی ڈر، خوف، الو اور نظر نہیں اور نیک فالی سب سے زیادہ سچا فال ہے ۔

اور روایت میں ہے کہ نظر حق ہے، نظر حق ہے، وہ بلندی والے کو بھی اتار دیتی ہے ۔ [مسند احمد:294/1:حسن] ‏

صفحہ نمبر9722

نظر لگنا حق ہے ٭٭

صحیح مسلم میں ہے نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر کر جاتی جب تم سے غسل کرایا جائے تو غسل کر لیا کرو ۔ [صحیح مسلم:2188] ‏

عبدالرزاق میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو ان الفاظ کے ساتھ پناہ میں دیتے «أُعِيذكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّه التَّامَّة مِنْ كُلّ شَيْطَان وَهَامَة وَمِنْ كُلّ عَيْن لَامَّة» یعنی تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے بھرپور کلمات کی پناہ میں سونپتا ہوں ہر شیطان سے اور ہر ایک زہریلے جانور سے اور ہر ایک لگ جانے والی نظر سے، اور فرماتے کہ ابراہیم علیہ السلام بھی اسحاق اور اسماعیل کو انہی الفاظ سے اللہ کی پناہ میں دیا کرتے تھے ، یہ حدیث سنن میں اور بخاری شریف میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:3371] ‏

ابن ماجہ میں ہے کہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ غسل کر رہے تھے عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں نے تو آج تک ایسا بدن کسی پردہ نشین کا بھی نہیں دیکھا بس ذرا سی دیر میں وہ بیہوش ہو کر گر پڑے لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ ! ان کی خبر لیجئے یہ تو بیہوش ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی پر تمہارا شک بھی ہے؟“ لوگوں نے کہا، ہاں، عامر بن ربیعہ پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کیوں کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے کہ اسے بہت اچھی لگے تو اسے چاہیئے کہ اس کے لیے برکت کی دعا کرے“، پھر پانی منگوا کر عامر سے فرمایا: ”تم وضو کرو، منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور گھٹنے اور تہمبد کے اندر کا حصہ جسم دھو ڈالو“ ۔

دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن کو اس کی پیٹھ کے پیچھے سے اوندھا دو“ ۔ نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ [سنن نسائی:7617،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر9723

نظر لگنے کا دم ٭٭

ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنات کی اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب سورۃ معوذتیں نازل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لے لیا اور سب کو چھوڑ دیا ، [سنن ابن ماجہ:3511،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند وغیرہ میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا اے نبی! کیا آپ بیمار ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا «بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك مِنْ كُلّ شَيْء يُؤْذِيك مِنْ شَرّ كُلّ نَفْس أَوْ عَيْن حَاسِد اللَّه يَشْفِيك بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك» ۔ [صحیح مسلم:2186] ‏

بعض روایات میں کچھ الفاظ کا ہیر پھیر بھی ہے، بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ یقیناً نظر کا لگ جانا برحق ہے ۔ [صحیح بخاری:5740] ‏

مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ اس کا سبب شیطان ہے اور ابن آدم کا حسد ہے ۔ [مسند احمد:2/439:ضعیف] ‏

مسند کی اور روایت میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ شگون تین چیزوں میں ہے گھر، گھوڑا اور عورت تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ کہوں گا جو آپ نے نہیں فرمایا، ہاں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ تو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”سب سے سچا شگون نیک فالی ہے اور نظر کا لگنا حق ہے“ ۔ [مسند احمد:289/2:صحیح لغیرہ] ‏

ترمذی وغیرہ میں ہے کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ ! سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے بچوں کو نظر لگ جایا کرتی ہے تو کیا میں کچھ دم کرا لیا کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کر جانے والی ہوتی تو وہ نظر تھی“ ۔ [سنن ترمذي:2059،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نظر بد سے دم کرنے کا حکم مروی ہے ۔ [صحیح بخاری:5738] ‏

صفحہ نمبر9724

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نظر لگانے والے کو حکم کیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے اور جس کو نظر لگی ہے اسے اس پانی سے غسل کرایا جاتا تھا۔ [سنن ابوداود:3880،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اور حدیث میں ہے نہیں ہے الو اور نظر حق ہے اور سب سے سچا شگون فال ہے ۔ مسند احمد میں بھی سیدنا سہل اور سیدنا عامر رضی اللہ عنہما والا قصہ جو اوپر بیان ہوا قدرے تفصیل کے ساتھ مروی ہے، [مسند احمد:486/3:صحیح] ‏

بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ یہ دونوں بزرگ غسل کے ارادے سے چلے اور سیدنا عامر رضی اللہ عنہ پانی میں غسل کے لیے اترے اور ان کا بدن دیکھ کر سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کی نظر لگ گئی اور وہ وہیں پانی میں خرخراہٹ کرنے لگے میں نے تین مرتبہ آوازیں دیں لیکن جواب نہ ملا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور واقعہ سنایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لائے اور تھوڑے سے پانی میں کھچ کھچ کرتے ہوئے، تہمبد اونچا اٹھائے ہوئے، وہاں تک پہنچے اور ان کے سینے میں ہاتھ مارا اور دعا کی «اللَّهُمَّ اِصْرِفْ عَنْهُ حَرّهَا وَبَرْدهَا وَوَصَبهَا» ”اے اللہ! تو اس سے اس کی گرمی اور سردی اور تکلیف دور کر دے“ ۔ [مسند احمد:447/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9725

مسند بزار میں ہے کہ میری امت کی قضاء و قدر کے بعد اکثر موت نظر سے ہو گی ۔ [مسند بزار:3052:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں نظر حق ہے انسان کو قبر تک پہنچا دیتی ہے اور اونٹ کو ہنڈیا تک، میری امت کی اکثر ہلاکی اسی میں ہے ۔ [ضعیف] ‏ ایک اور صحیح سند سے بھی یہ روایت مروی ہے، [ابو نعیم فی الحیلة:90/7] ‏

فرمان رسالت ہے کہ ایک کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی اور نہ الو کی وجہ سے بربادی کا یقین کر لینا کوئی حقیقت رکھتا ہے اور نہ حسد کوئی چیز ہے، ہاں نظر سچ ہے ۔ [مسند احمد:2/222:صحیح] ‏

ابن عساکر میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غمزدہ تھے جب پوچھا تو فرمایا: ”حسن اور حسین کو نظر لگ گئی ہے“، فرمایا: یہ سچائی کے قابل چیز ہے نظر واقعی لگتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات پڑھ کر انہیں پناہ میں کیوں نہ دیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کلمات کیا ہیں؟“ فرمایا: یوں کہیئے «للَّهُمَّ ذَا السُّلْطَان الْعَظِيم وَالْمَنّ الْقَدِيم ذَا الْوَجْه الْكَرِيم وَلِيّ الْكَلِمَات التَّامَّات وَالدَّعَوَات الْمُسْتَجَابَات عَافِ الْحَسَن وَالْحُسَيْن مِنْ أَنْفُس الْجِنّ وَأَعْيُن الْإِنْس» یعنی اے اللہ! اے بہت بڑی بادشاہی والے، اے زبردست قدیم احسانوں والے، اے بزرگ تر چہرے والے، اے پورے کلموں والے اور اے دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دینے والے تو حسن اور حسین کو تمام جنات کی ہواؤں سے اور تمام انسان کی آنکھوں سے اپنی پناہ دے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی وہیں دونوں بچے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھیلنے کودنے لگے تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”لوگو اپنی جانوں کو اپنی بیویوں کو اور اپنی اولاد کو اسی پناہ کے ساتھ پناہ دیا کرو، اس جیسی اور کوئی پناہ کی دعا نہیں“ ۔ [ابن عساکر فی تاریخہ:503/8] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” جہاں یہ کافر اپنی حقارت بھری نظریں آپ پر ڈالتے ہیں وہاں اپنی طعنہ آمیز زبان بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کھولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو قرآن لانے میں مجنون ہیں “۔ اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے ” قرآن تو اللہ ان کی طرف سے تمام عالم کے لیے نصیحت نامہ ہے “۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ نون کی تفسیم ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر9726

مصائب سے نجات دلانے والی دعا، نظر، فال اور شگون ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اے نبی! اپنی قوم کی ایذاء پر اور ان کے جھٹلانے پر صبر و ضبط کرو عنقریب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہونے والا ہے، انجام کار آپ کا اور آپ کے ماتحتوں کا ہی غلبہ ہو گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیکھو تم مچھلی والے نبی کی طرح نہ ہونا “۔ اس سے مراد یونس بن متی علیہ السلام ہیں جبکہ وہ اپنی قوم پر غضب ناک ہو کر نکل کھڑے ہوئے پھر جو ہوا سو ہوا، یعنی آپ علیہ السلام کا جہاز میں سوار ہونا مچھلی کا آپ کو نگل جانا اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ جانا اور ان تہ بہ تہ اندھیروں میں اس قدر نیچے آپ کا سمندر میں اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے سننا اور خود آپ کا بھی پکارنا اور «‏لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» [21-الأنبياء:87] ‏ پڑھنا پھر آپ کی دعا کا قبول ہونا، اس غم سے نجات پانا وغیرہ جس واقعہ کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے۔

جس کے بیان کے بعد اللہ سبحان و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ «‏فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ» [21-الأنبياء:88] ‏ ” ہم اسی طرح ایمانداروں کو نجات دیا کرتے ہیں “ اور فرماتا ہے کہ «فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ» [37-الصافات:143-144] ‏ ” اگر وہ تسبیح نہ کرتے تو قیامت تک اسی کے پیٹ میں پڑے رہتے “۔

یہاں بھی فرمان ہے کہ ” جب اس نے غم اور دکھ کی حالت میں ہمیں پکارا “، پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یونس علیہ السلام کی زبان سے نکلتے ہی یہ کلمہ عرش پر پہنچا، فرشتوں نے کہا یا رب اس کمزور غیر معروف شخص کی آواز تو ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے پہلے کی سنی ہوئی ہو۔

صفحہ نمبر9721

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ” کیا تم نے اسے پہچانا نہیں؟ “ فرشتوں نے عرض کیا نہیں، جناب باری نے فرمایا: ” یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے “۔ فرشتوں نے کہا پروردگار! پھر تو تیرا یہ بندہ وہ ہے جس کے اعمال صالحہ ہر روز آسمانوں پر چڑھتے رہے جس کی دعائیں ہر وقت قبولیت کا درجہ پاتی رہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” سچ ہے “، فرشتوں نے کہا پھر اے ارحم الراحمین! ان کی آسانیوں کے وقت کے نیک اعمال کی بنا پر انہیں اس سختی سے نجات عطا فرما، چنانچہ فرمان باری ہوا کہ ” اے مچھلی! تو انہیں اگل دے “ اور مچھلی نے انہیں کنارے پر آ کر اگل دیا۔

یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ” اللہ نے اسے پھر برگزیدہ بنا لیا اور نیک کاروں میں کر دیا “۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو یونس بن متی سے افضل بتائے“ ۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ حدیث ہے، [صحیح بخاری:3395] ‏

اگلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ ” تیرے بغض و حسد کی وجہ سے یہ کفار تو اپنی آنکھوں سے گھور گھور کر تجھے پھسلا دینا چاہتے ہیں اگر اللہ کی طرف سے حمایت اور بچاؤ نہ ہوتا تو یقیناً یہ ایسا کر گزرتے “، اس آیت میں دلیل ہے اس امر پر کہ نظر کا لگنا اور اس کی تاثیر کا اللہ کے حکم سے ہونا حق ہے جیسا کہ بہت سی احادیث میں بھی ہے جو کئی کئی سندوں سے مروی ہے۔

ابوداؤد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دم جھاڑا صرف نظر کا اور زہریلے جانوروں کا اور نہ تھمنے والے خون کا ہے“ [سنن ابوداود:3889،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

بعض سندوں میں نظر کا لفظ نہیں یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے [سنن ابن ماجہ:3513،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور صحیح مسلم میں بھی ایک قصہ کے ساتھ موقوفاً مروی ہے، [صحیح مسلم:200] ‏ اور بخاری اور ترمذی میں بھی ہے۔ ایک غریب حدیث ابویعلیٰ میں ہے کہ نظر میں کچھ بھی حق نہیں ۔ [مسند احمد:5/146:صحیح] ‏ سب سے سچا شگون فال ہے ، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب کہتے ہیں [سنن ترمذي:2061،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے کہ کوئی ڈر، خوف، الو اور نظر نہیں اور نیک فالی سب سے زیادہ سچا فال ہے ۔

اور روایت میں ہے کہ نظر حق ہے، نظر حق ہے، وہ بلندی والے کو بھی اتار دیتی ہے ۔ [مسند احمد:294/1:حسن] ‏

صفحہ نمبر9722

نظر لگنا حق ہے ٭٭

صحیح مسلم میں ہے نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر کر جاتی جب تم سے غسل کرایا جائے تو غسل کر لیا کرو ۔ [صحیح مسلم:2188] ‏

عبدالرزاق میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو ان الفاظ کے ساتھ پناہ میں دیتے «أُعِيذكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّه التَّامَّة مِنْ كُلّ شَيْطَان وَهَامَة وَمِنْ كُلّ عَيْن لَامَّة» یعنی تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے بھرپور کلمات کی پناہ میں سونپتا ہوں ہر شیطان سے اور ہر ایک زہریلے جانور سے اور ہر ایک لگ جانے والی نظر سے، اور فرماتے کہ ابراہیم علیہ السلام بھی اسحاق اور اسماعیل کو انہی الفاظ سے اللہ کی پناہ میں دیا کرتے تھے ، یہ حدیث سنن میں اور بخاری شریف میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:3371] ‏

ابن ماجہ میں ہے کہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ غسل کر رہے تھے عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں نے تو آج تک ایسا بدن کسی پردہ نشین کا بھی نہیں دیکھا بس ذرا سی دیر میں وہ بیہوش ہو کر گر پڑے لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ ! ان کی خبر لیجئے یہ تو بیہوش ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی پر تمہارا شک بھی ہے؟“ لوگوں نے کہا، ہاں، عامر بن ربیعہ پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کیوں کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے کہ اسے بہت اچھی لگے تو اسے چاہیئے کہ اس کے لیے برکت کی دعا کرے“، پھر پانی منگوا کر عامر سے فرمایا: ”تم وضو کرو، منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور گھٹنے اور تہمبد کے اندر کا حصہ جسم دھو ڈالو“ ۔

دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن کو اس کی پیٹھ کے پیچھے سے اوندھا دو“ ۔ نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ [سنن نسائی:7617،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر9723

نظر لگنے کا دم ٭٭

ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنات کی اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب سورۃ معوذتیں نازل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لے لیا اور سب کو چھوڑ دیا ، [سنن ابن ماجہ:3511،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند وغیرہ میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا اے نبی! کیا آپ بیمار ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا «بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك مِنْ كُلّ شَيْء يُؤْذِيك مِنْ شَرّ كُلّ نَفْس أَوْ عَيْن حَاسِد اللَّه يَشْفِيك بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك» ۔ [صحیح مسلم:2186] ‏

بعض روایات میں کچھ الفاظ کا ہیر پھیر بھی ہے، بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ یقیناً نظر کا لگ جانا برحق ہے ۔ [صحیح بخاری:5740] ‏

مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ اس کا سبب شیطان ہے اور ابن آدم کا حسد ہے ۔ [مسند احمد:2/439:ضعیف] ‏

مسند کی اور روایت میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ شگون تین چیزوں میں ہے گھر، گھوڑا اور عورت تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ کہوں گا جو آپ نے نہیں فرمایا، ہاں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ تو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”سب سے سچا شگون نیک فالی ہے اور نظر کا لگنا حق ہے“ ۔ [مسند احمد:289/2:صحیح لغیرہ] ‏

ترمذی وغیرہ میں ہے کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ ! سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے بچوں کو نظر لگ جایا کرتی ہے تو کیا میں کچھ دم کرا لیا کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کر جانے والی ہوتی تو وہ نظر تھی“ ۔ [سنن ترمذي:2059،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نظر بد سے دم کرنے کا حکم مروی ہے ۔ [صحیح بخاری:5738] ‏

صفحہ نمبر9724

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نظر لگانے والے کو حکم کیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے اور جس کو نظر لگی ہے اسے اس پانی سے غسل کرایا جاتا تھا۔ [سنن ابوداود:3880،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اور حدیث میں ہے نہیں ہے الو اور نظر حق ہے اور سب سے سچا شگون فال ہے ۔ مسند احمد میں بھی سیدنا سہل اور سیدنا عامر رضی اللہ عنہما والا قصہ جو اوپر بیان ہوا قدرے تفصیل کے ساتھ مروی ہے، [مسند احمد:486/3:صحیح] ‏

بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ یہ دونوں بزرگ غسل کے ارادے سے چلے اور سیدنا عامر رضی اللہ عنہ پانی میں غسل کے لیے اترے اور ان کا بدن دیکھ کر سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کی نظر لگ گئی اور وہ وہیں پانی میں خرخراہٹ کرنے لگے میں نے تین مرتبہ آوازیں دیں لیکن جواب نہ ملا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور واقعہ سنایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لائے اور تھوڑے سے پانی میں کھچ کھچ کرتے ہوئے، تہمبد اونچا اٹھائے ہوئے، وہاں تک پہنچے اور ان کے سینے میں ہاتھ مارا اور دعا کی «اللَّهُمَّ اِصْرِفْ عَنْهُ حَرّهَا وَبَرْدهَا وَوَصَبهَا» ”اے اللہ! تو اس سے اس کی گرمی اور سردی اور تکلیف دور کر دے“ ۔ [مسند احمد:447/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9725

مسند بزار میں ہے کہ میری امت کی قضاء و قدر کے بعد اکثر موت نظر سے ہو گی ۔ [مسند بزار:3052:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں نظر حق ہے انسان کو قبر تک پہنچا دیتی ہے اور اونٹ کو ہنڈیا تک، میری امت کی اکثر ہلاکی اسی میں ہے ۔ [ضعیف] ‏ ایک اور صحیح سند سے بھی یہ روایت مروی ہے، [ابو نعیم فی الحیلة:90/7] ‏

فرمان رسالت ہے کہ ایک کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی اور نہ الو کی وجہ سے بربادی کا یقین کر لینا کوئی حقیقت رکھتا ہے اور نہ حسد کوئی چیز ہے، ہاں نظر سچ ہے ۔ [مسند احمد:2/222:صحیح] ‏

ابن عساکر میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غمزدہ تھے جب پوچھا تو فرمایا: ”حسن اور حسین کو نظر لگ گئی ہے“، فرمایا: یہ سچائی کے قابل چیز ہے نظر واقعی لگتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات پڑھ کر انہیں پناہ میں کیوں نہ دیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کلمات کیا ہیں؟“ فرمایا: یوں کہیئے «للَّهُمَّ ذَا السُّلْطَان الْعَظِيم وَالْمَنّ الْقَدِيم ذَا الْوَجْه الْكَرِيم وَلِيّ الْكَلِمَات التَّامَّات وَالدَّعَوَات الْمُسْتَجَابَات عَافِ الْحَسَن وَالْحُسَيْن مِنْ أَنْفُس الْجِنّ وَأَعْيُن الْإِنْس» یعنی اے اللہ! اے بہت بڑی بادشاہی والے، اے زبردست قدیم احسانوں والے، اے بزرگ تر چہرے والے، اے پورے کلموں والے اور اے دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دینے والے تو حسن اور حسین کو تمام جنات کی ہواؤں سے اور تمام انسان کی آنکھوں سے اپنی پناہ دے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی وہیں دونوں بچے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھیلنے کودنے لگے تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”لوگو اپنی جانوں کو اپنی بیویوں کو اور اپنی اولاد کو اسی پناہ کے ساتھ پناہ دیا کرو، اس جیسی اور کوئی پناہ کی دعا نہیں“ ۔ [ابن عساکر فی تاریخہ:503/8] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” جہاں یہ کافر اپنی حقارت بھری نظریں آپ پر ڈالتے ہیں وہاں اپنی طعنہ آمیز زبان بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کھولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو قرآن لانے میں مجنون ہیں “۔ اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے ” قرآن تو اللہ ان کی طرف سے تمام عالم کے لیے نصیحت نامہ ہے “۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ نون کی تفسیم ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر9726

مصائب سے نجات دلانے والی دعا، نظر، فال اور شگون ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اے نبی! اپنی قوم کی ایذاء پر اور ان کے جھٹلانے پر صبر و ضبط کرو عنقریب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہونے والا ہے، انجام کار آپ کا اور آپ کے ماتحتوں کا ہی غلبہ ہو گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیکھو تم مچھلی والے نبی کی طرح نہ ہونا “۔ اس سے مراد یونس بن متی علیہ السلام ہیں جبکہ وہ اپنی قوم پر غضب ناک ہو کر نکل کھڑے ہوئے پھر جو ہوا سو ہوا، یعنی آپ علیہ السلام کا جہاز میں سوار ہونا مچھلی کا آپ کو نگل جانا اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ جانا اور ان تہ بہ تہ اندھیروں میں اس قدر نیچے آپ کا سمندر میں اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے سننا اور خود آپ کا بھی پکارنا اور «‏لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» [21-الأنبياء:87] ‏ پڑھنا پھر آپ کی دعا کا قبول ہونا، اس غم سے نجات پانا وغیرہ جس واقعہ کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے۔

جس کے بیان کے بعد اللہ سبحان و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ «‏فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ» [21-الأنبياء:88] ‏ ” ہم اسی طرح ایمانداروں کو نجات دیا کرتے ہیں “ اور فرماتا ہے کہ «فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ» [37-الصافات:143-144] ‏ ” اگر وہ تسبیح نہ کرتے تو قیامت تک اسی کے پیٹ میں پڑے رہتے “۔

یہاں بھی فرمان ہے کہ ” جب اس نے غم اور دکھ کی حالت میں ہمیں پکارا “، پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یونس علیہ السلام کی زبان سے نکلتے ہی یہ کلمہ عرش پر پہنچا، فرشتوں نے کہا یا رب اس کمزور غیر معروف شخص کی آواز تو ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے پہلے کی سنی ہوئی ہو۔

صفحہ نمبر9721

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ” کیا تم نے اسے پہچانا نہیں؟ “ فرشتوں نے عرض کیا نہیں، جناب باری نے فرمایا: ” یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے “۔ فرشتوں نے کہا پروردگار! پھر تو تیرا یہ بندہ وہ ہے جس کے اعمال صالحہ ہر روز آسمانوں پر چڑھتے رہے جس کی دعائیں ہر وقت قبولیت کا درجہ پاتی رہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” سچ ہے “، فرشتوں نے کہا پھر اے ارحم الراحمین! ان کی آسانیوں کے وقت کے نیک اعمال کی بنا پر انہیں اس سختی سے نجات عطا فرما، چنانچہ فرمان باری ہوا کہ ” اے مچھلی! تو انہیں اگل دے “ اور مچھلی نے انہیں کنارے پر آ کر اگل دیا۔

یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ” اللہ نے اسے پھر برگزیدہ بنا لیا اور نیک کاروں میں کر دیا “۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو یونس بن متی سے افضل بتائے“ ۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ حدیث ہے، [صحیح بخاری:3395] ‏

اگلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ ” تیرے بغض و حسد کی وجہ سے یہ کفار تو اپنی آنکھوں سے گھور گھور کر تجھے پھسلا دینا چاہتے ہیں اگر اللہ کی طرف سے حمایت اور بچاؤ نہ ہوتا تو یقیناً یہ ایسا کر گزرتے “، اس آیت میں دلیل ہے اس امر پر کہ نظر کا لگنا اور اس کی تاثیر کا اللہ کے حکم سے ہونا حق ہے جیسا کہ بہت سی احادیث میں بھی ہے جو کئی کئی سندوں سے مروی ہے۔

ابوداؤد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دم جھاڑا صرف نظر کا اور زہریلے جانوروں کا اور نہ تھمنے والے خون کا ہے“ [سنن ابوداود:3889،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

بعض سندوں میں نظر کا لفظ نہیں یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے [سنن ابن ماجہ:3513،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور صحیح مسلم میں بھی ایک قصہ کے ساتھ موقوفاً مروی ہے، [صحیح مسلم:200] ‏ اور بخاری اور ترمذی میں بھی ہے۔ ایک غریب حدیث ابویعلیٰ میں ہے کہ نظر میں کچھ بھی حق نہیں ۔ [مسند احمد:5/146:صحیح] ‏ سب سے سچا شگون فال ہے ، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب کہتے ہیں [سنن ترمذي:2061،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے کہ کوئی ڈر، خوف، الو اور نظر نہیں اور نیک فالی سب سے زیادہ سچا فال ہے ۔

اور روایت میں ہے کہ نظر حق ہے، نظر حق ہے، وہ بلندی والے کو بھی اتار دیتی ہے ۔ [مسند احمد:294/1:حسن] ‏

صفحہ نمبر9722

نظر لگنا حق ہے ٭٭

صحیح مسلم میں ہے نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر کر جاتی جب تم سے غسل کرایا جائے تو غسل کر لیا کرو ۔ [صحیح مسلم:2188] ‏

عبدالرزاق میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو ان الفاظ کے ساتھ پناہ میں دیتے «أُعِيذكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّه التَّامَّة مِنْ كُلّ شَيْطَان وَهَامَة وَمِنْ كُلّ عَيْن لَامَّة» یعنی تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے بھرپور کلمات کی پناہ میں سونپتا ہوں ہر شیطان سے اور ہر ایک زہریلے جانور سے اور ہر ایک لگ جانے والی نظر سے، اور فرماتے کہ ابراہیم علیہ السلام بھی اسحاق اور اسماعیل کو انہی الفاظ سے اللہ کی پناہ میں دیا کرتے تھے ، یہ حدیث سنن میں اور بخاری شریف میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:3371] ‏

ابن ماجہ میں ہے کہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ غسل کر رہے تھے عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں نے تو آج تک ایسا بدن کسی پردہ نشین کا بھی نہیں دیکھا بس ذرا سی دیر میں وہ بیہوش ہو کر گر پڑے لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ ! ان کی خبر لیجئے یہ تو بیہوش ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی پر تمہارا شک بھی ہے؟“ لوگوں نے کہا، ہاں، عامر بن ربیعہ پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کیوں کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے کہ اسے بہت اچھی لگے تو اسے چاہیئے کہ اس کے لیے برکت کی دعا کرے“، پھر پانی منگوا کر عامر سے فرمایا: ”تم وضو کرو، منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور گھٹنے اور تہمبد کے اندر کا حصہ جسم دھو ڈالو“ ۔

دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن کو اس کی پیٹھ کے پیچھے سے اوندھا دو“ ۔ نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ [سنن نسائی:7617،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر9723

نظر لگنے کا دم ٭٭

ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنات کی اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب سورۃ معوذتیں نازل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لے لیا اور سب کو چھوڑ دیا ، [سنن ابن ماجہ:3511،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند وغیرہ میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا اے نبی! کیا آپ بیمار ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا «بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك مِنْ كُلّ شَيْء يُؤْذِيك مِنْ شَرّ كُلّ نَفْس أَوْ عَيْن حَاسِد اللَّه يَشْفِيك بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك» ۔ [صحیح مسلم:2186] ‏

بعض روایات میں کچھ الفاظ کا ہیر پھیر بھی ہے، بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ یقیناً نظر کا لگ جانا برحق ہے ۔ [صحیح بخاری:5740] ‏

مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ اس کا سبب شیطان ہے اور ابن آدم کا حسد ہے ۔ [مسند احمد:2/439:ضعیف] ‏

مسند کی اور روایت میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ شگون تین چیزوں میں ہے گھر، گھوڑا اور عورت تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ کہوں گا جو آپ نے نہیں فرمایا، ہاں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ تو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”سب سے سچا شگون نیک فالی ہے اور نظر کا لگنا حق ہے“ ۔ [مسند احمد:289/2:صحیح لغیرہ] ‏

ترمذی وغیرہ میں ہے کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ ! سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے بچوں کو نظر لگ جایا کرتی ہے تو کیا میں کچھ دم کرا لیا کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کر جانے والی ہوتی تو وہ نظر تھی“ ۔ [سنن ترمذي:2059،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نظر بد سے دم کرنے کا حکم مروی ہے ۔ [صحیح بخاری:5738] ‏

صفحہ نمبر9724

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نظر لگانے والے کو حکم کیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے اور جس کو نظر لگی ہے اسے اس پانی سے غسل کرایا جاتا تھا۔ [سنن ابوداود:3880،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اور حدیث میں ہے نہیں ہے الو اور نظر حق ہے اور سب سے سچا شگون فال ہے ۔ مسند احمد میں بھی سیدنا سہل اور سیدنا عامر رضی اللہ عنہما والا قصہ جو اوپر بیان ہوا قدرے تفصیل کے ساتھ مروی ہے، [مسند احمد:486/3:صحیح] ‏

بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ یہ دونوں بزرگ غسل کے ارادے سے چلے اور سیدنا عامر رضی اللہ عنہ پانی میں غسل کے لیے اترے اور ان کا بدن دیکھ کر سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کی نظر لگ گئی اور وہ وہیں پانی میں خرخراہٹ کرنے لگے میں نے تین مرتبہ آوازیں دیں لیکن جواب نہ ملا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور واقعہ سنایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لائے اور تھوڑے سے پانی میں کھچ کھچ کرتے ہوئے، تہمبد اونچا اٹھائے ہوئے، وہاں تک پہنچے اور ان کے سینے میں ہاتھ مارا اور دعا کی «اللَّهُمَّ اِصْرِفْ عَنْهُ حَرّهَا وَبَرْدهَا وَوَصَبهَا» ”اے اللہ! تو اس سے اس کی گرمی اور سردی اور تکلیف دور کر دے“ ۔ [مسند احمد:447/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9725

مسند بزار میں ہے کہ میری امت کی قضاء و قدر کے بعد اکثر موت نظر سے ہو گی ۔ [مسند بزار:3052:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں نظر حق ہے انسان کو قبر تک پہنچا دیتی ہے اور اونٹ کو ہنڈیا تک، میری امت کی اکثر ہلاکی اسی میں ہے ۔ [ضعیف] ‏ ایک اور صحیح سند سے بھی یہ روایت مروی ہے، [ابو نعیم فی الحیلة:90/7] ‏

فرمان رسالت ہے کہ ایک کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی اور نہ الو کی وجہ سے بربادی کا یقین کر لینا کوئی حقیقت رکھتا ہے اور نہ حسد کوئی چیز ہے، ہاں نظر سچ ہے ۔ [مسند احمد:2/222:صحیح] ‏

ابن عساکر میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غمزدہ تھے جب پوچھا تو فرمایا: ”حسن اور حسین کو نظر لگ گئی ہے“، فرمایا: یہ سچائی کے قابل چیز ہے نظر واقعی لگتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات پڑھ کر انہیں پناہ میں کیوں نہ دیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کلمات کیا ہیں؟“ فرمایا: یوں کہیئے «للَّهُمَّ ذَا السُّلْطَان الْعَظِيم وَالْمَنّ الْقَدِيم ذَا الْوَجْه الْكَرِيم وَلِيّ الْكَلِمَات التَّامَّات وَالدَّعَوَات الْمُسْتَجَابَات عَافِ الْحَسَن وَالْحُسَيْن مِنْ أَنْفُس الْجِنّ وَأَعْيُن الْإِنْس» یعنی اے اللہ! اے بہت بڑی بادشاہی والے، اے زبردست قدیم احسانوں والے، اے بزرگ تر چہرے والے، اے پورے کلموں والے اور اے دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دینے والے تو حسن اور حسین کو تمام جنات کی ہواؤں سے اور تمام انسان کی آنکھوں سے اپنی پناہ دے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی وہیں دونوں بچے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھیلنے کودنے لگے تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”لوگو اپنی جانوں کو اپنی بیویوں کو اور اپنی اولاد کو اسی پناہ کے ساتھ پناہ دیا کرو، اس جیسی اور کوئی پناہ کی دعا نہیں“ ۔ [ابن عساکر فی تاریخہ:503/8] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” جہاں یہ کافر اپنی حقارت بھری نظریں آپ پر ڈالتے ہیں وہاں اپنی طعنہ آمیز زبان بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کھولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو قرآن لانے میں مجنون ہیں “۔ اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے ” قرآن تو اللہ ان کی طرف سے تمام عالم کے لیے نصیحت نامہ ہے “۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ نون کی تفسیم ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر9726

مصائب سے نجات دلانے والی دعا، نظر، فال اور شگون ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اے نبی! اپنی قوم کی ایذاء پر اور ان کے جھٹلانے پر صبر و ضبط کرو عنقریب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہونے والا ہے، انجام کار آپ کا اور آپ کے ماتحتوں کا ہی غلبہ ہو گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیکھو تم مچھلی والے نبی کی طرح نہ ہونا “۔ اس سے مراد یونس بن متی علیہ السلام ہیں جبکہ وہ اپنی قوم پر غضب ناک ہو کر نکل کھڑے ہوئے پھر جو ہوا سو ہوا، یعنی آپ علیہ السلام کا جہاز میں سوار ہونا مچھلی کا آپ کو نگل جانا اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ جانا اور ان تہ بہ تہ اندھیروں میں اس قدر نیچے آپ کا سمندر میں اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے سننا اور خود آپ کا بھی پکارنا اور «‏لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» [21-الأنبياء:87] ‏ پڑھنا پھر آپ کی دعا کا قبول ہونا، اس غم سے نجات پانا وغیرہ جس واقعہ کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے۔

جس کے بیان کے بعد اللہ سبحان و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ «‏فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ» [21-الأنبياء:88] ‏ ” ہم اسی طرح ایمانداروں کو نجات دیا کرتے ہیں “ اور فرماتا ہے کہ «فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ» [37-الصافات:143-144] ‏ ” اگر وہ تسبیح نہ کرتے تو قیامت تک اسی کے پیٹ میں پڑے رہتے “۔

یہاں بھی فرمان ہے کہ ” جب اس نے غم اور دکھ کی حالت میں ہمیں پکارا “، پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یونس علیہ السلام کی زبان سے نکلتے ہی یہ کلمہ عرش پر پہنچا، فرشتوں نے کہا یا رب اس کمزور غیر معروف شخص کی آواز تو ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے پہلے کی سنی ہوئی ہو۔

صفحہ نمبر9721

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ” کیا تم نے اسے پہچانا نہیں؟ “ فرشتوں نے عرض کیا نہیں، جناب باری نے فرمایا: ” یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے “۔ فرشتوں نے کہا پروردگار! پھر تو تیرا یہ بندہ وہ ہے جس کے اعمال صالحہ ہر روز آسمانوں پر چڑھتے رہے جس کی دعائیں ہر وقت قبولیت کا درجہ پاتی رہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” سچ ہے “، فرشتوں نے کہا پھر اے ارحم الراحمین! ان کی آسانیوں کے وقت کے نیک اعمال کی بنا پر انہیں اس سختی سے نجات عطا فرما، چنانچہ فرمان باری ہوا کہ ” اے مچھلی! تو انہیں اگل دے “ اور مچھلی نے انہیں کنارے پر آ کر اگل دیا۔

یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ” اللہ نے اسے پھر برگزیدہ بنا لیا اور نیک کاروں میں کر دیا “۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو یونس بن متی سے افضل بتائے“ ۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ حدیث ہے، [صحیح بخاری:3395] ‏

اگلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ ” تیرے بغض و حسد کی وجہ سے یہ کفار تو اپنی آنکھوں سے گھور گھور کر تجھے پھسلا دینا چاہتے ہیں اگر اللہ کی طرف سے حمایت اور بچاؤ نہ ہوتا تو یقیناً یہ ایسا کر گزرتے “، اس آیت میں دلیل ہے اس امر پر کہ نظر کا لگنا اور اس کی تاثیر کا اللہ کے حکم سے ہونا حق ہے جیسا کہ بہت سی احادیث میں بھی ہے جو کئی کئی سندوں سے مروی ہے۔

ابوداؤد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دم جھاڑا صرف نظر کا اور زہریلے جانوروں کا اور نہ تھمنے والے خون کا ہے“ [سنن ابوداود:3889،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

بعض سندوں میں نظر کا لفظ نہیں یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے [سنن ابن ماجہ:3513،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور صحیح مسلم میں بھی ایک قصہ کے ساتھ موقوفاً مروی ہے، [صحیح مسلم:200] ‏ اور بخاری اور ترمذی میں بھی ہے۔ ایک غریب حدیث ابویعلیٰ میں ہے کہ نظر میں کچھ بھی حق نہیں ۔ [مسند احمد:5/146:صحیح] ‏ سب سے سچا شگون فال ہے ، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب کہتے ہیں [سنن ترمذي:2061،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے کہ کوئی ڈر، خوف، الو اور نظر نہیں اور نیک فالی سب سے زیادہ سچا فال ہے ۔

اور روایت میں ہے کہ نظر حق ہے، نظر حق ہے، وہ بلندی والے کو بھی اتار دیتی ہے ۔ [مسند احمد:294/1:حسن] ‏

صفحہ نمبر9722

نظر لگنا حق ہے ٭٭

صحیح مسلم میں ہے نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر کر جاتی جب تم سے غسل کرایا جائے تو غسل کر لیا کرو ۔ [صحیح مسلم:2188] ‏

عبدالرزاق میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو ان الفاظ کے ساتھ پناہ میں دیتے «أُعِيذكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّه التَّامَّة مِنْ كُلّ شَيْطَان وَهَامَة وَمِنْ كُلّ عَيْن لَامَّة» یعنی تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے بھرپور کلمات کی پناہ میں سونپتا ہوں ہر شیطان سے اور ہر ایک زہریلے جانور سے اور ہر ایک لگ جانے والی نظر سے، اور فرماتے کہ ابراہیم علیہ السلام بھی اسحاق اور اسماعیل کو انہی الفاظ سے اللہ کی پناہ میں دیا کرتے تھے ، یہ حدیث سنن میں اور بخاری شریف میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:3371] ‏

ابن ماجہ میں ہے کہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ غسل کر رہے تھے عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں نے تو آج تک ایسا بدن کسی پردہ نشین کا بھی نہیں دیکھا بس ذرا سی دیر میں وہ بیہوش ہو کر گر پڑے لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ ! ان کی خبر لیجئے یہ تو بیہوش ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی پر تمہارا شک بھی ہے؟“ لوگوں نے کہا، ہاں، عامر بن ربیعہ پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کیوں کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے کہ اسے بہت اچھی لگے تو اسے چاہیئے کہ اس کے لیے برکت کی دعا کرے“، پھر پانی منگوا کر عامر سے فرمایا: ”تم وضو کرو، منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور گھٹنے اور تہمبد کے اندر کا حصہ جسم دھو ڈالو“ ۔

دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن کو اس کی پیٹھ کے پیچھے سے اوندھا دو“ ۔ نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ [سنن نسائی:7617،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر9723

نظر لگنے کا دم ٭٭

ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنات کی اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب سورۃ معوذتیں نازل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لے لیا اور سب کو چھوڑ دیا ، [سنن ابن ماجہ:3511،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند وغیرہ میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا اے نبی! کیا آپ بیمار ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا «بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك مِنْ كُلّ شَيْء يُؤْذِيك مِنْ شَرّ كُلّ نَفْس أَوْ عَيْن حَاسِد اللَّه يَشْفِيك بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك» ۔ [صحیح مسلم:2186] ‏

بعض روایات میں کچھ الفاظ کا ہیر پھیر بھی ہے، بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ یقیناً نظر کا لگ جانا برحق ہے ۔ [صحیح بخاری:5740] ‏

مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ اس کا سبب شیطان ہے اور ابن آدم کا حسد ہے ۔ [مسند احمد:2/439:ضعیف] ‏

مسند کی اور روایت میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ شگون تین چیزوں میں ہے گھر، گھوڑا اور عورت تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ کہوں گا جو آپ نے نہیں فرمایا، ہاں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ تو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”سب سے سچا شگون نیک فالی ہے اور نظر کا لگنا حق ہے“ ۔ [مسند احمد:289/2:صحیح لغیرہ] ‏

ترمذی وغیرہ میں ہے کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ ! سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے بچوں کو نظر لگ جایا کرتی ہے تو کیا میں کچھ دم کرا لیا کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کر جانے والی ہوتی تو وہ نظر تھی“ ۔ [سنن ترمذي:2059،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نظر بد سے دم کرنے کا حکم مروی ہے ۔ [صحیح بخاری:5738] ‏

صفحہ نمبر9724

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نظر لگانے والے کو حکم کیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے اور جس کو نظر لگی ہے اسے اس پانی سے غسل کرایا جاتا تھا۔ [سنن ابوداود:3880،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اور حدیث میں ہے نہیں ہے الو اور نظر حق ہے اور سب سے سچا شگون فال ہے ۔ مسند احمد میں بھی سیدنا سہل اور سیدنا عامر رضی اللہ عنہما والا قصہ جو اوپر بیان ہوا قدرے تفصیل کے ساتھ مروی ہے، [مسند احمد:486/3:صحیح] ‏

بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ یہ دونوں بزرگ غسل کے ارادے سے چلے اور سیدنا عامر رضی اللہ عنہ پانی میں غسل کے لیے اترے اور ان کا بدن دیکھ کر سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کی نظر لگ گئی اور وہ وہیں پانی میں خرخراہٹ کرنے لگے میں نے تین مرتبہ آوازیں دیں لیکن جواب نہ ملا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور واقعہ سنایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لائے اور تھوڑے سے پانی میں کھچ کھچ کرتے ہوئے، تہمبد اونچا اٹھائے ہوئے، وہاں تک پہنچے اور ان کے سینے میں ہاتھ مارا اور دعا کی «اللَّهُمَّ اِصْرِفْ عَنْهُ حَرّهَا وَبَرْدهَا وَوَصَبهَا» ”اے اللہ! تو اس سے اس کی گرمی اور سردی اور تکلیف دور کر دے“ ۔ [مسند احمد:447/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9725

مسند بزار میں ہے کہ میری امت کی قضاء و قدر کے بعد اکثر موت نظر سے ہو گی ۔ [مسند بزار:3052:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں نظر حق ہے انسان کو قبر تک پہنچا دیتی ہے اور اونٹ کو ہنڈیا تک، میری امت کی اکثر ہلاکی اسی میں ہے ۔ [ضعیف] ‏ ایک اور صحیح سند سے بھی یہ روایت مروی ہے، [ابو نعیم فی الحیلة:90/7] ‏

فرمان رسالت ہے کہ ایک کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی اور نہ الو کی وجہ سے بربادی کا یقین کر لینا کوئی حقیقت رکھتا ہے اور نہ حسد کوئی چیز ہے، ہاں نظر سچ ہے ۔ [مسند احمد:2/222:صحیح] ‏

ابن عساکر میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غمزدہ تھے جب پوچھا تو فرمایا: ”حسن اور حسین کو نظر لگ گئی ہے“، فرمایا: یہ سچائی کے قابل چیز ہے نظر واقعی لگتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات پڑھ کر انہیں پناہ میں کیوں نہ دیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کلمات کیا ہیں؟“ فرمایا: یوں کہیئے «للَّهُمَّ ذَا السُّلْطَان الْعَظِيم وَالْمَنّ الْقَدِيم ذَا الْوَجْه الْكَرِيم وَلِيّ الْكَلِمَات التَّامَّات وَالدَّعَوَات الْمُسْتَجَابَات عَافِ الْحَسَن وَالْحُسَيْن مِنْ أَنْفُس الْجِنّ وَأَعْيُن الْإِنْس» یعنی اے اللہ! اے بہت بڑی بادشاہی والے، اے زبردست قدیم احسانوں والے، اے بزرگ تر چہرے والے، اے پورے کلموں والے اور اے دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دینے والے تو حسن اور حسین کو تمام جنات کی ہواؤں سے اور تمام انسان کی آنکھوں سے اپنی پناہ دے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی وہیں دونوں بچے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھیلنے کودنے لگے تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”لوگو اپنی جانوں کو اپنی بیویوں کو اور اپنی اولاد کو اسی پناہ کے ساتھ پناہ دیا کرو، اس جیسی اور کوئی پناہ کی دعا نہیں“ ۔ [ابن عساکر فی تاریخہ:503/8] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” جہاں یہ کافر اپنی حقارت بھری نظریں آپ پر ڈالتے ہیں وہاں اپنی طعنہ آمیز زبان بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کھولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو قرآن لانے میں مجنون ہیں “۔ اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے ” قرآن تو اللہ ان کی طرف سے تمام عالم کے لیے نصیحت نامہ ہے “۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ نون کی تفسیم ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر9726

مصائب سے نجات دلانے والی دعا، نظر، فال اور شگون ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اے نبی! اپنی قوم کی ایذاء پر اور ان کے جھٹلانے پر صبر و ضبط کرو عنقریب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہونے والا ہے، انجام کار آپ کا اور آپ کے ماتحتوں کا ہی غلبہ ہو گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیکھو تم مچھلی والے نبی کی طرح نہ ہونا “۔ اس سے مراد یونس بن متی علیہ السلام ہیں جبکہ وہ اپنی قوم پر غضب ناک ہو کر نکل کھڑے ہوئے پھر جو ہوا سو ہوا، یعنی آپ علیہ السلام کا جہاز میں سوار ہونا مچھلی کا آپ کو نگل جانا اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ جانا اور ان تہ بہ تہ اندھیروں میں اس قدر نیچے آپ کا سمندر میں اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے سننا اور خود آپ کا بھی پکارنا اور «‏لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» [21-الأنبياء:87] ‏ پڑھنا پھر آپ کی دعا کا قبول ہونا، اس غم سے نجات پانا وغیرہ جس واقعہ کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے۔

جس کے بیان کے بعد اللہ سبحان و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ «‏فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ» [21-الأنبياء:88] ‏ ” ہم اسی طرح ایمانداروں کو نجات دیا کرتے ہیں “ اور فرماتا ہے کہ «فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ» [37-الصافات:143-144] ‏ ” اگر وہ تسبیح نہ کرتے تو قیامت تک اسی کے پیٹ میں پڑے رہتے “۔

یہاں بھی فرمان ہے کہ ” جب اس نے غم اور دکھ کی حالت میں ہمیں پکارا “، پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یونس علیہ السلام کی زبان سے نکلتے ہی یہ کلمہ عرش پر پہنچا، فرشتوں نے کہا یا رب اس کمزور غیر معروف شخص کی آواز تو ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے پہلے کی سنی ہوئی ہو۔

صفحہ نمبر9721

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ” کیا تم نے اسے پہچانا نہیں؟ “ فرشتوں نے عرض کیا نہیں، جناب باری نے فرمایا: ” یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے “۔ فرشتوں نے کہا پروردگار! پھر تو تیرا یہ بندہ وہ ہے جس کے اعمال صالحہ ہر روز آسمانوں پر چڑھتے رہے جس کی دعائیں ہر وقت قبولیت کا درجہ پاتی رہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” سچ ہے “، فرشتوں نے کہا پھر اے ارحم الراحمین! ان کی آسانیوں کے وقت کے نیک اعمال کی بنا پر انہیں اس سختی سے نجات عطا فرما، چنانچہ فرمان باری ہوا کہ ” اے مچھلی! تو انہیں اگل دے “ اور مچھلی نے انہیں کنارے پر آ کر اگل دیا۔

یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ” اللہ نے اسے پھر برگزیدہ بنا لیا اور نیک کاروں میں کر دیا “۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو یونس بن متی سے افضل بتائے“ ۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ حدیث ہے، [صحیح بخاری:3395] ‏

اگلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ ” تیرے بغض و حسد کی وجہ سے یہ کفار تو اپنی آنکھوں سے گھور گھور کر تجھے پھسلا دینا چاہتے ہیں اگر اللہ کی طرف سے حمایت اور بچاؤ نہ ہوتا تو یقیناً یہ ایسا کر گزرتے “، اس آیت میں دلیل ہے اس امر پر کہ نظر کا لگنا اور اس کی تاثیر کا اللہ کے حکم سے ہونا حق ہے جیسا کہ بہت سی احادیث میں بھی ہے جو کئی کئی سندوں سے مروی ہے۔

ابوداؤد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دم جھاڑا صرف نظر کا اور زہریلے جانوروں کا اور نہ تھمنے والے خون کا ہے“ [سنن ابوداود:3889،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

بعض سندوں میں نظر کا لفظ نہیں یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے [سنن ابن ماجہ:3513،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور صحیح مسلم میں بھی ایک قصہ کے ساتھ موقوفاً مروی ہے، [صحیح مسلم:200] ‏ اور بخاری اور ترمذی میں بھی ہے۔ ایک غریب حدیث ابویعلیٰ میں ہے کہ نظر میں کچھ بھی حق نہیں ۔ [مسند احمد:5/146:صحیح] ‏ سب سے سچا شگون فال ہے ، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب کہتے ہیں [سنن ترمذي:2061،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے کہ کوئی ڈر، خوف، الو اور نظر نہیں اور نیک فالی سب سے زیادہ سچا فال ہے ۔

اور روایت میں ہے کہ نظر حق ہے، نظر حق ہے، وہ بلندی والے کو بھی اتار دیتی ہے ۔ [مسند احمد:294/1:حسن] ‏

صفحہ نمبر9722

نظر لگنا حق ہے ٭٭

صحیح مسلم میں ہے نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر کر جاتی جب تم سے غسل کرایا جائے تو غسل کر لیا کرو ۔ [صحیح مسلم:2188] ‏

عبدالرزاق میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو ان الفاظ کے ساتھ پناہ میں دیتے «أُعِيذكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّه التَّامَّة مِنْ كُلّ شَيْطَان وَهَامَة وَمِنْ كُلّ عَيْن لَامَّة» یعنی تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے بھرپور کلمات کی پناہ میں سونپتا ہوں ہر شیطان سے اور ہر ایک زہریلے جانور سے اور ہر ایک لگ جانے والی نظر سے، اور فرماتے کہ ابراہیم علیہ السلام بھی اسحاق اور اسماعیل کو انہی الفاظ سے اللہ کی پناہ میں دیا کرتے تھے ، یہ حدیث سنن میں اور بخاری شریف میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:3371] ‏

ابن ماجہ میں ہے کہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ غسل کر رہے تھے عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں نے تو آج تک ایسا بدن کسی پردہ نشین کا بھی نہیں دیکھا بس ذرا سی دیر میں وہ بیہوش ہو کر گر پڑے لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ ! ان کی خبر لیجئے یہ تو بیہوش ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی پر تمہارا شک بھی ہے؟“ لوگوں نے کہا، ہاں، عامر بن ربیعہ پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کیوں کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے کہ اسے بہت اچھی لگے تو اسے چاہیئے کہ اس کے لیے برکت کی دعا کرے“، پھر پانی منگوا کر عامر سے فرمایا: ”تم وضو کرو، منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور گھٹنے اور تہمبد کے اندر کا حصہ جسم دھو ڈالو“ ۔

دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن کو اس کی پیٹھ کے پیچھے سے اوندھا دو“ ۔ نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ [سنن نسائی:7617،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر9723

نظر لگنے کا دم ٭٭

ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنات کی اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب سورۃ معوذتیں نازل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لے لیا اور سب کو چھوڑ دیا ، [سنن ابن ماجہ:3511،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند وغیرہ میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا اے نبی! کیا آپ بیمار ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا «بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك مِنْ كُلّ شَيْء يُؤْذِيك مِنْ شَرّ كُلّ نَفْس أَوْ عَيْن حَاسِد اللَّه يَشْفِيك بِسْمِ اللَّه أَرْقِيك» ۔ [صحیح مسلم:2186] ‏

بعض روایات میں کچھ الفاظ کا ہیر پھیر بھی ہے، بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ یقیناً نظر کا لگ جانا برحق ہے ۔ [صحیح بخاری:5740] ‏

مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ اس کا سبب شیطان ہے اور ابن آدم کا حسد ہے ۔ [مسند احمد:2/439:ضعیف] ‏

مسند کی اور روایت میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ شگون تین چیزوں میں ہے گھر، گھوڑا اور عورت تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ کہوں گا جو آپ نے نہیں فرمایا، ہاں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ تو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”سب سے سچا شگون نیک فالی ہے اور نظر کا لگنا حق ہے“ ۔ [مسند احمد:289/2:صحیح لغیرہ] ‏

ترمذی وغیرہ میں ہے کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ ! سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے بچوں کو نظر لگ جایا کرتی ہے تو کیا میں کچھ دم کرا لیا کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کر جانے والی ہوتی تو وہ نظر تھی“ ۔ [سنن ترمذي:2059،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نظر بد سے دم کرنے کا حکم مروی ہے ۔ [صحیح بخاری:5738] ‏

صفحہ نمبر9724

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نظر لگانے والے کو حکم کیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے اور جس کو نظر لگی ہے اسے اس پانی سے غسل کرایا جاتا تھا۔ [سنن ابوداود:3880،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اور حدیث میں ہے نہیں ہے الو اور نظر حق ہے اور سب سے سچا شگون فال ہے ۔ مسند احمد میں بھی سیدنا سہل اور سیدنا عامر رضی اللہ عنہما والا قصہ جو اوپر بیان ہوا قدرے تفصیل کے ساتھ مروی ہے، [مسند احمد:486/3:صحیح] ‏

بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ یہ دونوں بزرگ غسل کے ارادے سے چلے اور سیدنا عامر رضی اللہ عنہ پانی میں غسل کے لیے اترے اور ان کا بدن دیکھ کر سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کی نظر لگ گئی اور وہ وہیں پانی میں خرخراہٹ کرنے لگے میں نے تین مرتبہ آوازیں دیں لیکن جواب نہ ملا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور واقعہ سنایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لائے اور تھوڑے سے پانی میں کھچ کھچ کرتے ہوئے، تہمبد اونچا اٹھائے ہوئے، وہاں تک پہنچے اور ان کے سینے میں ہاتھ مارا اور دعا کی «اللَّهُمَّ اِصْرِفْ عَنْهُ حَرّهَا وَبَرْدهَا وَوَصَبهَا» ”اے اللہ! تو اس سے اس کی گرمی اور سردی اور تکلیف دور کر دے“ ۔ [مسند احمد:447/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9725

مسند بزار میں ہے کہ میری امت کی قضاء و قدر کے بعد اکثر موت نظر سے ہو گی ۔ [مسند بزار:3052:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں نظر حق ہے انسان کو قبر تک پہنچا دیتی ہے اور اونٹ کو ہنڈیا تک، میری امت کی اکثر ہلاکی اسی میں ہے ۔ [ضعیف] ‏ ایک اور صحیح سند سے بھی یہ روایت مروی ہے، [ابو نعیم فی الحیلة:90/7] ‏

فرمان رسالت ہے کہ ایک کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی اور نہ الو کی وجہ سے بربادی کا یقین کر لینا کوئی حقیقت رکھتا ہے اور نہ حسد کوئی چیز ہے، ہاں نظر سچ ہے ۔ [مسند احمد:2/222:صحیح] ‏

ابن عساکر میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غمزدہ تھے جب پوچھا تو فرمایا: ”حسن اور حسین کو نظر لگ گئی ہے“، فرمایا: یہ سچائی کے قابل چیز ہے نظر واقعی لگتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات پڑھ کر انہیں پناہ میں کیوں نہ دیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کلمات کیا ہیں؟“ فرمایا: یوں کہیئے «للَّهُمَّ ذَا السُّلْطَان الْعَظِيم وَالْمَنّ الْقَدِيم ذَا الْوَجْه الْكَرِيم وَلِيّ الْكَلِمَات التَّامَّات وَالدَّعَوَات الْمُسْتَجَابَات عَافِ الْحَسَن وَالْحُسَيْن مِنْ أَنْفُس الْجِنّ وَأَعْيُن الْإِنْس» یعنی اے اللہ! اے بہت بڑی بادشاہی والے، اے زبردست قدیم احسانوں والے، اے بزرگ تر چہرے والے، اے پورے کلموں والے اور اے دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دینے والے تو حسن اور حسین کو تمام جنات کی ہواؤں سے اور تمام انسان کی آنکھوں سے اپنی پناہ دے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی وہیں دونوں بچے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھیلنے کودنے لگے تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”لوگو اپنی جانوں کو اپنی بیویوں کو اور اپنی اولاد کو اسی پناہ کے ساتھ پناہ دیا کرو، اس جیسی اور کوئی پناہ کی دعا نہیں“ ۔ [ابن عساکر فی تاریخہ:503/8] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” جہاں یہ کافر اپنی حقارت بھری نظریں آپ پر ڈالتے ہیں وہاں اپنی طعنہ آمیز زبان بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کھولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو قرآن لانے میں مجنون ہیں “۔ اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے ” قرآن تو اللہ ان کی طرف سے تمام عالم کے لیے نصیحت نامہ ہے “۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ نون کی تفسیم ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر9726

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com