John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Haaqqa

Tafsir Ibn Kathir · The Reality · 52 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

حاقہ ٭٭

«حَاقَّه» قیامت کا ایک نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ وعدے وعید کی عملی تعبیر اور حقیقت کا دن وہی ہے، اسی لیے اس دن کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے فرمایا: ” تم اس «حاقہ» کی صحیح کیفیت سے بے خبر ہو “، پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن لوگوں نے اسے جھٹلایا اور خمیازہ اٹھایا تھا تو فرمایا: ” ثمودیوں کو دیکھو ایک طرف سے فرشتے کے دہاڑنے اور کلیجوں کو پاش پاش کر دینے والی آواز آتی ہے تو دوسری جانب سے زمین میں غضبناک بھونچال آتا ہے اور سب تہ و بالا ہو جاتے ہیں۔ “

پس بقول قتادہ رحمہ اللہ «طَّاغِيَةِ» کے معنی چنگھاڑ کے ہیں، اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے مراد گناہ ہیں یعنی وہ اپنے گناہوں کے باعث برباد کر دیئے گئے۔

سیدنا ربیع بن انس اور سیدنا ابن زید رضی اللہ عنہم کا قول ہے کہ اس سے مراد ان کی سرکشی ہے۔ سیدنا ابن زید نے اس کی شہادت میں یہ آیت پڑھی «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَآ» [91-الشمس:11] ‏ یعنی ” ثمودیوں نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلایا۔ “ یعنی اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں اور قوم عاد کی ٹھنڈی ہواؤں کے تیز جھونکوں سے دل چھید دیئے اور وہ نیست و نابود کر دیئے گئے۔

صفحہ نمبر9731

حاقہ ٭٭

«حَاقَّه» قیامت کا ایک نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ وعدے وعید کی عملی تعبیر اور حقیقت کا دن وہی ہے، اسی لیے اس دن کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے فرمایا: ” تم اس «حاقہ» کی صحیح کیفیت سے بے خبر ہو “، پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن لوگوں نے اسے جھٹلایا اور خمیازہ اٹھایا تھا تو فرمایا: ” ثمودیوں کو دیکھو ایک طرف سے فرشتے کے دہاڑنے اور کلیجوں کو پاش پاش کر دینے والی آواز آتی ہے تو دوسری جانب سے زمین میں غضبناک بھونچال آتا ہے اور سب تہ و بالا ہو جاتے ہیں۔ “

پس بقول قتادہ رحمہ اللہ «طَّاغِيَةِ» کے معنی چنگھاڑ کے ہیں، اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے مراد گناہ ہیں یعنی وہ اپنے گناہوں کے باعث برباد کر دیئے گئے۔

سیدنا ربیع بن انس اور سیدنا ابن زید رضی اللہ عنہم کا قول ہے کہ اس سے مراد ان کی سرکشی ہے۔ سیدنا ابن زید نے اس کی شہادت میں یہ آیت پڑھی «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَآ» [91-الشمس:11] ‏ یعنی ” ثمودیوں نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلایا۔ “ یعنی اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں اور قوم عاد کی ٹھنڈی ہواؤں کے تیز جھونکوں سے دل چھید دیئے اور وہ نیست و نابود کر دیئے گئے۔

صفحہ نمبر9731

حاقہ ٭٭

«حَاقَّه» قیامت کا ایک نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ وعدے وعید کی عملی تعبیر اور حقیقت کا دن وہی ہے، اسی لیے اس دن کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے فرمایا: ” تم اس «حاقہ» کی صحیح کیفیت سے بے خبر ہو “، پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن لوگوں نے اسے جھٹلایا اور خمیازہ اٹھایا تھا تو فرمایا: ” ثمودیوں کو دیکھو ایک طرف سے فرشتے کے دہاڑنے اور کلیجوں کو پاش پاش کر دینے والی آواز آتی ہے تو دوسری جانب سے زمین میں غضبناک بھونچال آتا ہے اور سب تہ و بالا ہو جاتے ہیں۔ “

پس بقول قتادہ رحمہ اللہ «طَّاغِيَةِ» کے معنی چنگھاڑ کے ہیں، اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے مراد گناہ ہیں یعنی وہ اپنے گناہوں کے باعث برباد کر دیئے گئے۔

سیدنا ربیع بن انس اور سیدنا ابن زید رضی اللہ عنہم کا قول ہے کہ اس سے مراد ان کی سرکشی ہے۔ سیدنا ابن زید نے اس کی شہادت میں یہ آیت پڑھی «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَآ» [91-الشمس:11] ‏ یعنی ” ثمودیوں نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلایا۔ “ یعنی اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں اور قوم عاد کی ٹھنڈی ہواؤں کے تیز جھونکوں سے دل چھید دیئے اور وہ نیست و نابود کر دیئے گئے۔

صفحہ نمبر9731

حاقہ ٭٭

«حَاقَّه» قیامت کا ایک نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ وعدے وعید کی عملی تعبیر اور حقیقت کا دن وہی ہے، اسی لیے اس دن کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے فرمایا: ” تم اس «حاقہ» کی صحیح کیفیت سے بے خبر ہو “، پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن لوگوں نے اسے جھٹلایا اور خمیازہ اٹھایا تھا تو فرمایا: ” ثمودیوں کو دیکھو ایک طرف سے فرشتے کے دہاڑنے اور کلیجوں کو پاش پاش کر دینے والی آواز آتی ہے تو دوسری جانب سے زمین میں غضبناک بھونچال آتا ہے اور سب تہ و بالا ہو جاتے ہیں۔ “

پس بقول قتادہ رحمہ اللہ «طَّاغِيَةِ» کے معنی چنگھاڑ کے ہیں، اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے مراد گناہ ہیں یعنی وہ اپنے گناہوں کے باعث برباد کر دیئے گئے۔

سیدنا ربیع بن انس اور سیدنا ابن زید رضی اللہ عنہم کا قول ہے کہ اس سے مراد ان کی سرکشی ہے۔ سیدنا ابن زید نے اس کی شہادت میں یہ آیت پڑھی «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَآ» [91-الشمس:11] ‏ یعنی ” ثمودیوں نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلایا۔ “ یعنی اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں اور قوم عاد کی ٹھنڈی ہواؤں کے تیز جھونکوں سے دل چھید دیئے اور وہ نیست و نابود کر دیئے گئے۔

صفحہ نمبر9731

حاقہ ٭٭

«حَاقَّه» قیامت کا ایک نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ وعدے وعید کی عملی تعبیر اور حقیقت کا دن وہی ہے، اسی لیے اس دن کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے فرمایا: ” تم اس «حاقہ» کی صحیح کیفیت سے بے خبر ہو “، پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن لوگوں نے اسے جھٹلایا اور خمیازہ اٹھایا تھا تو فرمایا: ” ثمودیوں کو دیکھو ایک طرف سے فرشتے کے دہاڑنے اور کلیجوں کو پاش پاش کر دینے والی آواز آتی ہے تو دوسری جانب سے زمین میں غضبناک بھونچال آتا ہے اور سب تہ و بالا ہو جاتے ہیں۔ “

پس بقول قتادہ رحمہ اللہ «طَّاغِيَةِ» کے معنی چنگھاڑ کے ہیں، اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے مراد گناہ ہیں یعنی وہ اپنے گناہوں کے باعث برباد کر دیئے گئے۔

سیدنا ربیع بن انس اور سیدنا ابن زید رضی اللہ عنہم کا قول ہے کہ اس سے مراد ان کی سرکشی ہے۔ سیدنا ابن زید نے اس کی شہادت میں یہ آیت پڑھی «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَآ» [91-الشمس:11] ‏ یعنی ” ثمودیوں نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلایا۔ “ یعنی اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں اور قوم عاد کی ٹھنڈی ہواؤں کے تیز جھونکوں سے دل چھید دیئے اور وہ نیست و نابود کر دیئے گئے۔

صفحہ نمبر9731

باب

یہ آندھیاں جو خیر و برکت سے خالی تھیں اور فرشتوں کے ہاتھوں سے نکلتی تھیں برابر پے درپے لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن تک چلتی رہیں، ان دنوں میں ان کے لیے سوائے نحوست و بربادی کے اور کوئی بھلائی نہ تھی اور جیسے اور جگہ ہے «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا فِيْٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيْقَهُمْ عَذَابَ الْخِــزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَهُمْ لَا يُنْصَرُوْنَ» [41-فصلت:16] ‏

ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں جمعہ کے دن سے یہ شروع ہوئی تھیں۔ بعض کہتے ہیں بدھ کے دن۔ ان ہواؤں کو عرب «اعجاز» اس لیے بھی کہتے ہیں کہ قرآن نے فرمایا ہے ” قوم عاد کی حالت «اعجاز» یعنی کھجوروں کے کھوکھلے تنوں جیسی ہو گئی “، دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ عموماً یہ ہوائیں جاڑوں کے آخر میں چلا کرتی ہیں اور عجز کہتے ہیں آخر کو، اور یہ وجہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ قوم عاد کی ایک بڑھیا ایک غار میں گھس گئی تھی جو ان ہواؤں سے آٹھویں روز وہیں تباہ ہو گئی اور بڑھیا کو عربی میں «عجوز» کہتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9736

«خَاوِيَةٍ» کے معنی ہیں خراب، گلا، سڑا، کھوکھلا، مطلب یہ ہے کہ ہواؤں نے انہیں اٹھا اٹھا کر الٹا ان کے سر پھٹ گئے سروں کا چورا چورا ہو گیا اور باقی جسم ایسا رہ گیا جیسے کھجور کے درختوں کا پتوں والا سرا کاٹ کر صرف تنا رہنے دیا ہو۔

بخاری مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صبا کے ساتھ میری مدد کی گئی یعنی مشرقی ہوا کے ساتھ اور عادی ہلاک کئے گئے دبور سے یعنی مغربی ہوا سے۔“ [صحیح بخاری:1035] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عادیوں کو ہلاک کرنے کے لیے ہواؤں کے خزانے میں سے صرف انگوٹھی کے برابر جگہ کشادہ کی گئی تھی جس سے ہوائیں نکلیں اور پہلے وہ گاؤں اور دیہات والوں پر آئی ان تمام مردوں عورتوں کو چھوٹے بڑوں کو ان کے مالوں اور جانوروں سمیت لے کر آسمان و زمین کے درمیان معلق کر دیا، شہریوں کو بوجہ بہت بلندی اور کافی اونچائی کے یہ معلوم ہونے لگا کہ یہ سیاہ رنگ بادل چڑھا ہوا ہے خوش ہونے لگے کہ گرمی کے باعث جو ہماری بری حالت ہو رہی ہے اب پانی برس جائے گا اتنے میں ہواؤں کو حکم ہوا اور اس نے ان تمام کو ان شہریوں پر پھینک دیا یہ اور وہ سب ہلاک ہو گئے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس ہوا کے پر اور دم تھی۔

پھر فرماتا ہے ” بتاؤ کہ ان میں سے یا ان کی نسل میں سے کسی ایک کا نشان بھی تم دیکھ رہے ہو؟ “ یعنی سب کے سب تباو و برباد کر دیئے گئے کوئی نام لینے والا پانی دینے والا بھی باقی نہ رہا۔

صفحہ نمبر9737

پھر فرمایا ” فرعون اور اس سے اگلے خطاکار، اور رسولوں کے نافرمانوں کا یہی انجام ہوا “۔ «قَبْلَهُ» کی دوسری قرأت «قِبْلَهُ» بھی ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ فرعون اور اس کے پاس اور ساتھ کے لوگ یعنی فرعونی، قبطی، کفار۔ «مُؤْتَفِكَاتُ» سے مراد بھی پیغمبروں کی جھٹلانے والی اگلی امتیں ہیں، «خَاطِئَةِ» سے مطلب معصیت اور خطائیں ہیں۔ پس فرمایا ” ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے زمانے کے رسول کی تکذیب کی۔ “

جیسے اور جگہ ہے «كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ» [50-ق:14] ‏ یعنی ” ان سب نے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر عذاب نازل ہوئے۔ “

اور یہ بھی یاد رہے کہ ایک پیغمبر کا انکار گویا تمام انبیاء کا علیہ السلام انکار ہے جیسے قرآن نے فرمایا «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِۨ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:105] ‏

اور فرمایا «كَذَّبَتْ عَادُۨ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:123] ‏

اور فرمایا «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:141] ‏ یعنی قوم نوح نے عادیوں نے ثمودیوں نے رسولوں کو جھٹلایا، حالانکہ سب کے پاس یعنی ہر ہر امت کے پاس ایک ہی رسول آیا تھا، یہی مطلب یہاں بھی ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامبر کی نافرمانی کی، پس اللہ نے انہیں سخت تر مہلک بڑی درد ناک المناک پکڑ میں پکڑ لیا۔

صفحہ نمبر9738

طوفان نوح ٭٭

بعد ازاں اپنا احسان جتاتا ہے کہ ” دیکھو جب نوح کی دعا کی وجہ سے زمین پر طوفان آیا اور پانی حد سے گزر گیا چاروں طرف ریل پیل ہو گئی نجات کی کوئی جگہ نہ رہی اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا۔ “

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب قوم نوح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذاء رسانی شروع کی اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے اس وقت نوح علیہ السلام نے تنگ آ کر ان کی ہلاکت کی دعا کی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا اور مشہور طوفان نوح نازل فرمایا جس سے سوائے ان لوگوں کے جو نوح علیہ السلام کی کشتی میں تھے روئے زمین پر کوئی نہ بچا پس سب لوگ نوح علیہ السلام کی نسل اور آپ علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔

صفحہ نمبر9739

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پانی کا ایک ایک قطرہ بہ اجازت اللہ پانی کے داروغہ فرشتہ کے ناپ تول سے برستا ہے اسی طرح ہوا کا ہلکا سا جھونکا بھی بے ناپے تولے نہیں چلتا لیکن ہاں عادیوں پر جو ہوائیں چلیں اور قوم نوح پر جو طوفان آیا وہ تو بے حد، بے شمار اور بغیر ناپ تول کے تھا اللہ کی اجازت سے پانی اور ہوا نے وہ زور باندھا کہ نگہبان فرشتوں کی کچھ نہ چلی۔ اسی لیے قرآن میں «اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» [69-الحاقة:11] ‏ اور «وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ» [69-الحاقة:6] ‏ کے الفاظ ہیں، اسی لیے اس اہم احسان کو اللہ تعالیٰ یاد دلا رہا ہے کہ ” ایسے پُر خطر موقعہ پر ہم نے تمہیں چلتی کشتی پر سوار کرا دیا تا کہ یہ کشتی تمہارے لیے نمونہ بن جائے چنانچہ آج بھی ویسی ہی کشتیوں پر سوار ہو کر سمندر کے لمبے چوڑے سفر طے کر رہے ہو۔ “

جیسے اور جگہ ہے «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ» [43-الزخرف:13،12] ‏، یعنی ” تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے جانور بنائے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور سوار ہو کر اپنے رب کی نعمت یاد کرو۔ “

اور جگہ فرمایا «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] ‏ یعنی ” ان کے لیے ایک نشان قدرت یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری کشتی میں چڑھا لیا اور بھی ہم نے اس جیسی ان کی سواریاں پیدا کر دیں۔ “

قتادہ رحمہ اللہ نے اوپر کی اس آیت کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ وہی کشتی نوح باقی رہی یہاں تک کہ اس امت کے اگلوں نے بھی اسے دیکھا، لیکن زیادہ ظاہر مطلب پہلا ہی ہے۔ پھر فرمایا ” یہ اس لیے بھی کہ یاد رکھنے اور سننے والا کان اسے یاد کرے اور محفوظ رکھ لے اور اس نعمت کو نہ بھولے “، یعنی صحیح سمجھ اور سچی سماعت والے، عقل سلیم اور فہم مستقیم رکھنے والے، جو اللہ کی باتوں اور اس کی نعمتوں سے بےپرواہی اور لاابالی نہیں برتتے ان کی پندو نصیحت کا ایک ذریعہ یہ بھی بن گیا۔

ابن ابی حاتم میں ہے مکحول فرماتے ہیں جب یہ الفاظ اترے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ علی کو ایسا ہی بنا دے۔“ ، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز سن کر پھر میں نے فراموش نہیں کی، یہ روایت ابن جریر میں بھی ہے لیکن مرسل ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34771:مرسل] ‏

ابن ابی حاتم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے حکم کیا گیا ہے کہ میں تجھے نزدیک کروں، دور نہ کروں اور تجھے تعلیم دوں اور تو بھی یاد رکھے اور یہی تجھے بھی چاہیئے۔“ اس پر یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34772:ضعیف] ‏ یہ روایت دوسری سند سے بھی ابن جریر میں مروی ہے لیکن وہ بھی صحیح نہیں۔

صفحہ نمبر9740

باب

یہ آندھیاں جو خیر و برکت سے خالی تھیں اور فرشتوں کے ہاتھوں سے نکلتی تھیں برابر پے درپے لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن تک چلتی رہیں، ان دنوں میں ان کے لیے سوائے نحوست و بربادی کے اور کوئی بھلائی نہ تھی اور جیسے اور جگہ ہے «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا فِيْٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيْقَهُمْ عَذَابَ الْخِــزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَهُمْ لَا يُنْصَرُوْنَ» [41-فصلت:16] ‏

ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں جمعہ کے دن سے یہ شروع ہوئی تھیں۔ بعض کہتے ہیں بدھ کے دن۔ ان ہواؤں کو عرب «اعجاز» اس لیے بھی کہتے ہیں کہ قرآن نے فرمایا ہے ” قوم عاد کی حالت «اعجاز» یعنی کھجوروں کے کھوکھلے تنوں جیسی ہو گئی “، دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ عموماً یہ ہوائیں جاڑوں کے آخر میں چلا کرتی ہیں اور عجز کہتے ہیں آخر کو، اور یہ وجہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ قوم عاد کی ایک بڑھیا ایک غار میں گھس گئی تھی جو ان ہواؤں سے آٹھویں روز وہیں تباہ ہو گئی اور بڑھیا کو عربی میں «عجوز» کہتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9736

«خَاوِيَةٍ» کے معنی ہیں خراب، گلا، سڑا، کھوکھلا، مطلب یہ ہے کہ ہواؤں نے انہیں اٹھا اٹھا کر الٹا ان کے سر پھٹ گئے سروں کا چورا چورا ہو گیا اور باقی جسم ایسا رہ گیا جیسے کھجور کے درختوں کا پتوں والا سرا کاٹ کر صرف تنا رہنے دیا ہو۔

بخاری مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صبا کے ساتھ میری مدد کی گئی یعنی مشرقی ہوا کے ساتھ اور عادی ہلاک کئے گئے دبور سے یعنی مغربی ہوا سے۔“ [صحیح بخاری:1035] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عادیوں کو ہلاک کرنے کے لیے ہواؤں کے خزانے میں سے صرف انگوٹھی کے برابر جگہ کشادہ کی گئی تھی جس سے ہوائیں نکلیں اور پہلے وہ گاؤں اور دیہات والوں پر آئی ان تمام مردوں عورتوں کو چھوٹے بڑوں کو ان کے مالوں اور جانوروں سمیت لے کر آسمان و زمین کے درمیان معلق کر دیا، شہریوں کو بوجہ بہت بلندی اور کافی اونچائی کے یہ معلوم ہونے لگا کہ یہ سیاہ رنگ بادل چڑھا ہوا ہے خوش ہونے لگے کہ گرمی کے باعث جو ہماری بری حالت ہو رہی ہے اب پانی برس جائے گا اتنے میں ہواؤں کو حکم ہوا اور اس نے ان تمام کو ان شہریوں پر پھینک دیا یہ اور وہ سب ہلاک ہو گئے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس ہوا کے پر اور دم تھی۔

پھر فرماتا ہے ” بتاؤ کہ ان میں سے یا ان کی نسل میں سے کسی ایک کا نشان بھی تم دیکھ رہے ہو؟ “ یعنی سب کے سب تباو و برباد کر دیئے گئے کوئی نام لینے والا پانی دینے والا بھی باقی نہ رہا۔

صفحہ نمبر9737

پھر فرمایا ” فرعون اور اس سے اگلے خطاکار، اور رسولوں کے نافرمانوں کا یہی انجام ہوا “۔ «قَبْلَهُ» کی دوسری قرأت «قِبْلَهُ» بھی ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ فرعون اور اس کے پاس اور ساتھ کے لوگ یعنی فرعونی، قبطی، کفار۔ «مُؤْتَفِكَاتُ» سے مراد بھی پیغمبروں کی جھٹلانے والی اگلی امتیں ہیں، «خَاطِئَةِ» سے مطلب معصیت اور خطائیں ہیں۔ پس فرمایا ” ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے زمانے کے رسول کی تکذیب کی۔ “

جیسے اور جگہ ہے «كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ» [50-ق:14] ‏ یعنی ” ان سب نے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر عذاب نازل ہوئے۔ “

اور یہ بھی یاد رہے کہ ایک پیغمبر کا انکار گویا تمام انبیاء کا علیہ السلام انکار ہے جیسے قرآن نے فرمایا «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِۨ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:105] ‏

اور فرمایا «كَذَّبَتْ عَادُۨ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:123] ‏

اور فرمایا «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:141] ‏ یعنی قوم نوح نے عادیوں نے ثمودیوں نے رسولوں کو جھٹلایا، حالانکہ سب کے پاس یعنی ہر ہر امت کے پاس ایک ہی رسول آیا تھا، یہی مطلب یہاں بھی ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامبر کی نافرمانی کی، پس اللہ نے انہیں سخت تر مہلک بڑی درد ناک المناک پکڑ میں پکڑ لیا۔

صفحہ نمبر9738

طوفان نوح ٭٭

بعد ازاں اپنا احسان جتاتا ہے کہ ” دیکھو جب نوح کی دعا کی وجہ سے زمین پر طوفان آیا اور پانی حد سے گزر گیا چاروں طرف ریل پیل ہو گئی نجات کی کوئی جگہ نہ رہی اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا۔ “

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب قوم نوح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذاء رسانی شروع کی اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے اس وقت نوح علیہ السلام نے تنگ آ کر ان کی ہلاکت کی دعا کی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا اور مشہور طوفان نوح نازل فرمایا جس سے سوائے ان لوگوں کے جو نوح علیہ السلام کی کشتی میں تھے روئے زمین پر کوئی نہ بچا پس سب لوگ نوح علیہ السلام کی نسل اور آپ علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔

صفحہ نمبر9739

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پانی کا ایک ایک قطرہ بہ اجازت اللہ پانی کے داروغہ فرشتہ کے ناپ تول سے برستا ہے اسی طرح ہوا کا ہلکا سا جھونکا بھی بے ناپے تولے نہیں چلتا لیکن ہاں عادیوں پر جو ہوائیں چلیں اور قوم نوح پر جو طوفان آیا وہ تو بے حد، بے شمار اور بغیر ناپ تول کے تھا اللہ کی اجازت سے پانی اور ہوا نے وہ زور باندھا کہ نگہبان فرشتوں کی کچھ نہ چلی۔ اسی لیے قرآن میں «اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» [69-الحاقة:11] ‏ اور «وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ» [69-الحاقة:6] ‏ کے الفاظ ہیں، اسی لیے اس اہم احسان کو اللہ تعالیٰ یاد دلا رہا ہے کہ ” ایسے پُر خطر موقعہ پر ہم نے تمہیں چلتی کشتی پر سوار کرا دیا تا کہ یہ کشتی تمہارے لیے نمونہ بن جائے چنانچہ آج بھی ویسی ہی کشتیوں پر سوار ہو کر سمندر کے لمبے چوڑے سفر طے کر رہے ہو۔ “

جیسے اور جگہ ہے «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ» [43-الزخرف:13،12] ‏، یعنی ” تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے جانور بنائے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور سوار ہو کر اپنے رب کی نعمت یاد کرو۔ “

اور جگہ فرمایا «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] ‏ یعنی ” ان کے لیے ایک نشان قدرت یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری کشتی میں چڑھا لیا اور بھی ہم نے اس جیسی ان کی سواریاں پیدا کر دیں۔ “

قتادہ رحمہ اللہ نے اوپر کی اس آیت کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ وہی کشتی نوح باقی رہی یہاں تک کہ اس امت کے اگلوں نے بھی اسے دیکھا، لیکن زیادہ ظاہر مطلب پہلا ہی ہے۔ پھر فرمایا ” یہ اس لیے بھی کہ یاد رکھنے اور سننے والا کان اسے یاد کرے اور محفوظ رکھ لے اور اس نعمت کو نہ بھولے “، یعنی صحیح سمجھ اور سچی سماعت والے، عقل سلیم اور فہم مستقیم رکھنے والے، جو اللہ کی باتوں اور اس کی نعمتوں سے بےپرواہی اور لاابالی نہیں برتتے ان کی پندو نصیحت کا ایک ذریعہ یہ بھی بن گیا۔

ابن ابی حاتم میں ہے مکحول فرماتے ہیں جب یہ الفاظ اترے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ علی کو ایسا ہی بنا دے۔“ ، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز سن کر پھر میں نے فراموش نہیں کی، یہ روایت ابن جریر میں بھی ہے لیکن مرسل ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34771:مرسل] ‏

ابن ابی حاتم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے حکم کیا گیا ہے کہ میں تجھے نزدیک کروں، دور نہ کروں اور تجھے تعلیم دوں اور تو بھی یاد رکھے اور یہی تجھے بھی چاہیئے۔“ اس پر یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34772:ضعیف] ‏ یہ روایت دوسری سند سے بھی ابن جریر میں مروی ہے لیکن وہ بھی صحیح نہیں۔

صفحہ نمبر9740

باب

یہ آندھیاں جو خیر و برکت سے خالی تھیں اور فرشتوں کے ہاتھوں سے نکلتی تھیں برابر پے درپے لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن تک چلتی رہیں، ان دنوں میں ان کے لیے سوائے نحوست و بربادی کے اور کوئی بھلائی نہ تھی اور جیسے اور جگہ ہے «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا فِيْٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيْقَهُمْ عَذَابَ الْخِــزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَهُمْ لَا يُنْصَرُوْنَ» [41-فصلت:16] ‏

ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں جمعہ کے دن سے یہ شروع ہوئی تھیں۔ بعض کہتے ہیں بدھ کے دن۔ ان ہواؤں کو عرب «اعجاز» اس لیے بھی کہتے ہیں کہ قرآن نے فرمایا ہے ” قوم عاد کی حالت «اعجاز» یعنی کھجوروں کے کھوکھلے تنوں جیسی ہو گئی “، دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ عموماً یہ ہوائیں جاڑوں کے آخر میں چلا کرتی ہیں اور عجز کہتے ہیں آخر کو، اور یہ وجہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ قوم عاد کی ایک بڑھیا ایک غار میں گھس گئی تھی جو ان ہواؤں سے آٹھویں روز وہیں تباہ ہو گئی اور بڑھیا کو عربی میں «عجوز» کہتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9736

«خَاوِيَةٍ» کے معنی ہیں خراب، گلا، سڑا، کھوکھلا، مطلب یہ ہے کہ ہواؤں نے انہیں اٹھا اٹھا کر الٹا ان کے سر پھٹ گئے سروں کا چورا چورا ہو گیا اور باقی جسم ایسا رہ گیا جیسے کھجور کے درختوں کا پتوں والا سرا کاٹ کر صرف تنا رہنے دیا ہو۔

بخاری مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صبا کے ساتھ میری مدد کی گئی یعنی مشرقی ہوا کے ساتھ اور عادی ہلاک کئے گئے دبور سے یعنی مغربی ہوا سے۔“ [صحیح بخاری:1035] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عادیوں کو ہلاک کرنے کے لیے ہواؤں کے خزانے میں سے صرف انگوٹھی کے برابر جگہ کشادہ کی گئی تھی جس سے ہوائیں نکلیں اور پہلے وہ گاؤں اور دیہات والوں پر آئی ان تمام مردوں عورتوں کو چھوٹے بڑوں کو ان کے مالوں اور جانوروں سمیت لے کر آسمان و زمین کے درمیان معلق کر دیا، شہریوں کو بوجہ بہت بلندی اور کافی اونچائی کے یہ معلوم ہونے لگا کہ یہ سیاہ رنگ بادل چڑھا ہوا ہے خوش ہونے لگے کہ گرمی کے باعث جو ہماری بری حالت ہو رہی ہے اب پانی برس جائے گا اتنے میں ہواؤں کو حکم ہوا اور اس نے ان تمام کو ان شہریوں پر پھینک دیا یہ اور وہ سب ہلاک ہو گئے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس ہوا کے پر اور دم تھی۔

پھر فرماتا ہے ” بتاؤ کہ ان میں سے یا ان کی نسل میں سے کسی ایک کا نشان بھی تم دیکھ رہے ہو؟ “ یعنی سب کے سب تباو و برباد کر دیئے گئے کوئی نام لینے والا پانی دینے والا بھی باقی نہ رہا۔

صفحہ نمبر9737

پھر فرمایا ” فرعون اور اس سے اگلے خطاکار، اور رسولوں کے نافرمانوں کا یہی انجام ہوا “۔ «قَبْلَهُ» کی دوسری قرأت «قِبْلَهُ» بھی ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ فرعون اور اس کے پاس اور ساتھ کے لوگ یعنی فرعونی، قبطی، کفار۔ «مُؤْتَفِكَاتُ» سے مراد بھی پیغمبروں کی جھٹلانے والی اگلی امتیں ہیں، «خَاطِئَةِ» سے مطلب معصیت اور خطائیں ہیں۔ پس فرمایا ” ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے زمانے کے رسول کی تکذیب کی۔ “

جیسے اور جگہ ہے «كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ» [50-ق:14] ‏ یعنی ” ان سب نے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر عذاب نازل ہوئے۔ “

اور یہ بھی یاد رہے کہ ایک پیغمبر کا انکار گویا تمام انبیاء کا علیہ السلام انکار ہے جیسے قرآن نے فرمایا «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِۨ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:105] ‏

اور فرمایا «كَذَّبَتْ عَادُۨ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:123] ‏

اور فرمایا «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:141] ‏ یعنی قوم نوح نے عادیوں نے ثمودیوں نے رسولوں کو جھٹلایا، حالانکہ سب کے پاس یعنی ہر ہر امت کے پاس ایک ہی رسول آیا تھا، یہی مطلب یہاں بھی ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامبر کی نافرمانی کی، پس اللہ نے انہیں سخت تر مہلک بڑی درد ناک المناک پکڑ میں پکڑ لیا۔

صفحہ نمبر9738

طوفان نوح ٭٭

بعد ازاں اپنا احسان جتاتا ہے کہ ” دیکھو جب نوح کی دعا کی وجہ سے زمین پر طوفان آیا اور پانی حد سے گزر گیا چاروں طرف ریل پیل ہو گئی نجات کی کوئی جگہ نہ رہی اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا۔ “

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب قوم نوح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذاء رسانی شروع کی اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے اس وقت نوح علیہ السلام نے تنگ آ کر ان کی ہلاکت کی دعا کی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا اور مشہور طوفان نوح نازل فرمایا جس سے سوائے ان لوگوں کے جو نوح علیہ السلام کی کشتی میں تھے روئے زمین پر کوئی نہ بچا پس سب لوگ نوح علیہ السلام کی نسل اور آپ علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔

صفحہ نمبر9739

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پانی کا ایک ایک قطرہ بہ اجازت اللہ پانی کے داروغہ فرشتہ کے ناپ تول سے برستا ہے اسی طرح ہوا کا ہلکا سا جھونکا بھی بے ناپے تولے نہیں چلتا لیکن ہاں عادیوں پر جو ہوائیں چلیں اور قوم نوح پر جو طوفان آیا وہ تو بے حد، بے شمار اور بغیر ناپ تول کے تھا اللہ کی اجازت سے پانی اور ہوا نے وہ زور باندھا کہ نگہبان فرشتوں کی کچھ نہ چلی۔ اسی لیے قرآن میں «اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» [69-الحاقة:11] ‏ اور «وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ» [69-الحاقة:6] ‏ کے الفاظ ہیں، اسی لیے اس اہم احسان کو اللہ تعالیٰ یاد دلا رہا ہے کہ ” ایسے پُر خطر موقعہ پر ہم نے تمہیں چلتی کشتی پر سوار کرا دیا تا کہ یہ کشتی تمہارے لیے نمونہ بن جائے چنانچہ آج بھی ویسی ہی کشتیوں پر سوار ہو کر سمندر کے لمبے چوڑے سفر طے کر رہے ہو۔ “

جیسے اور جگہ ہے «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ» [43-الزخرف:13،12] ‏، یعنی ” تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے جانور بنائے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور سوار ہو کر اپنے رب کی نعمت یاد کرو۔ “

اور جگہ فرمایا «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] ‏ یعنی ” ان کے لیے ایک نشان قدرت یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری کشتی میں چڑھا لیا اور بھی ہم نے اس جیسی ان کی سواریاں پیدا کر دیں۔ “

قتادہ رحمہ اللہ نے اوپر کی اس آیت کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ وہی کشتی نوح باقی رہی یہاں تک کہ اس امت کے اگلوں نے بھی اسے دیکھا، لیکن زیادہ ظاہر مطلب پہلا ہی ہے۔ پھر فرمایا ” یہ اس لیے بھی کہ یاد رکھنے اور سننے والا کان اسے یاد کرے اور محفوظ رکھ لے اور اس نعمت کو نہ بھولے “، یعنی صحیح سمجھ اور سچی سماعت والے، عقل سلیم اور فہم مستقیم رکھنے والے، جو اللہ کی باتوں اور اس کی نعمتوں سے بےپرواہی اور لاابالی نہیں برتتے ان کی پندو نصیحت کا ایک ذریعہ یہ بھی بن گیا۔

ابن ابی حاتم میں ہے مکحول فرماتے ہیں جب یہ الفاظ اترے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ علی کو ایسا ہی بنا دے۔“ ، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز سن کر پھر میں نے فراموش نہیں کی، یہ روایت ابن جریر میں بھی ہے لیکن مرسل ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34771:مرسل] ‏

ابن ابی حاتم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے حکم کیا گیا ہے کہ میں تجھے نزدیک کروں، دور نہ کروں اور تجھے تعلیم دوں اور تو بھی یاد رکھے اور یہی تجھے بھی چاہیئے۔“ اس پر یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34772:ضعیف] ‏ یہ روایت دوسری سند سے بھی ابن جریر میں مروی ہے لیکن وہ بھی صحیح نہیں۔

صفحہ نمبر9740

باب

یہ آندھیاں جو خیر و برکت سے خالی تھیں اور فرشتوں کے ہاتھوں سے نکلتی تھیں برابر پے درپے لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن تک چلتی رہیں، ان دنوں میں ان کے لیے سوائے نحوست و بربادی کے اور کوئی بھلائی نہ تھی اور جیسے اور جگہ ہے «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا فِيْٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيْقَهُمْ عَذَابَ الْخِــزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَهُمْ لَا يُنْصَرُوْنَ» [41-فصلت:16] ‏

ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں جمعہ کے دن سے یہ شروع ہوئی تھیں۔ بعض کہتے ہیں بدھ کے دن۔ ان ہواؤں کو عرب «اعجاز» اس لیے بھی کہتے ہیں کہ قرآن نے فرمایا ہے ” قوم عاد کی حالت «اعجاز» یعنی کھجوروں کے کھوکھلے تنوں جیسی ہو گئی “، دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ عموماً یہ ہوائیں جاڑوں کے آخر میں چلا کرتی ہیں اور عجز کہتے ہیں آخر کو، اور یہ وجہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ قوم عاد کی ایک بڑھیا ایک غار میں گھس گئی تھی جو ان ہواؤں سے آٹھویں روز وہیں تباہ ہو گئی اور بڑھیا کو عربی میں «عجوز» کہتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9736

«خَاوِيَةٍ» کے معنی ہیں خراب، گلا، سڑا، کھوکھلا، مطلب یہ ہے کہ ہواؤں نے انہیں اٹھا اٹھا کر الٹا ان کے سر پھٹ گئے سروں کا چورا چورا ہو گیا اور باقی جسم ایسا رہ گیا جیسے کھجور کے درختوں کا پتوں والا سرا کاٹ کر صرف تنا رہنے دیا ہو۔

بخاری مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صبا کے ساتھ میری مدد کی گئی یعنی مشرقی ہوا کے ساتھ اور عادی ہلاک کئے گئے دبور سے یعنی مغربی ہوا سے۔“ [صحیح بخاری:1035] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عادیوں کو ہلاک کرنے کے لیے ہواؤں کے خزانے میں سے صرف انگوٹھی کے برابر جگہ کشادہ کی گئی تھی جس سے ہوائیں نکلیں اور پہلے وہ گاؤں اور دیہات والوں پر آئی ان تمام مردوں عورتوں کو چھوٹے بڑوں کو ان کے مالوں اور جانوروں سمیت لے کر آسمان و زمین کے درمیان معلق کر دیا، شہریوں کو بوجہ بہت بلندی اور کافی اونچائی کے یہ معلوم ہونے لگا کہ یہ سیاہ رنگ بادل چڑھا ہوا ہے خوش ہونے لگے کہ گرمی کے باعث جو ہماری بری حالت ہو رہی ہے اب پانی برس جائے گا اتنے میں ہواؤں کو حکم ہوا اور اس نے ان تمام کو ان شہریوں پر پھینک دیا یہ اور وہ سب ہلاک ہو گئے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس ہوا کے پر اور دم تھی۔

پھر فرماتا ہے ” بتاؤ کہ ان میں سے یا ان کی نسل میں سے کسی ایک کا نشان بھی تم دیکھ رہے ہو؟ “ یعنی سب کے سب تباو و برباد کر دیئے گئے کوئی نام لینے والا پانی دینے والا بھی باقی نہ رہا۔

صفحہ نمبر9737

پھر فرمایا ” فرعون اور اس سے اگلے خطاکار، اور رسولوں کے نافرمانوں کا یہی انجام ہوا “۔ «قَبْلَهُ» کی دوسری قرأت «قِبْلَهُ» بھی ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ فرعون اور اس کے پاس اور ساتھ کے لوگ یعنی فرعونی، قبطی، کفار۔ «مُؤْتَفِكَاتُ» سے مراد بھی پیغمبروں کی جھٹلانے والی اگلی امتیں ہیں، «خَاطِئَةِ» سے مطلب معصیت اور خطائیں ہیں۔ پس فرمایا ” ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے زمانے کے رسول کی تکذیب کی۔ “

جیسے اور جگہ ہے «كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ» [50-ق:14] ‏ یعنی ” ان سب نے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر عذاب نازل ہوئے۔ “

اور یہ بھی یاد رہے کہ ایک پیغمبر کا انکار گویا تمام انبیاء کا علیہ السلام انکار ہے جیسے قرآن نے فرمایا «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِۨ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:105] ‏

اور فرمایا «كَذَّبَتْ عَادُۨ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:123] ‏

اور فرمایا «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:141] ‏ یعنی قوم نوح نے عادیوں نے ثمودیوں نے رسولوں کو جھٹلایا، حالانکہ سب کے پاس یعنی ہر ہر امت کے پاس ایک ہی رسول آیا تھا، یہی مطلب یہاں بھی ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامبر کی نافرمانی کی، پس اللہ نے انہیں سخت تر مہلک بڑی درد ناک المناک پکڑ میں پکڑ لیا۔

صفحہ نمبر9738

طوفان نوح ٭٭

بعد ازاں اپنا احسان جتاتا ہے کہ ” دیکھو جب نوح کی دعا کی وجہ سے زمین پر طوفان آیا اور پانی حد سے گزر گیا چاروں طرف ریل پیل ہو گئی نجات کی کوئی جگہ نہ رہی اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا۔ “

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب قوم نوح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذاء رسانی شروع کی اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے اس وقت نوح علیہ السلام نے تنگ آ کر ان کی ہلاکت کی دعا کی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا اور مشہور طوفان نوح نازل فرمایا جس سے سوائے ان لوگوں کے جو نوح علیہ السلام کی کشتی میں تھے روئے زمین پر کوئی نہ بچا پس سب لوگ نوح علیہ السلام کی نسل اور آپ علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔

صفحہ نمبر9739

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پانی کا ایک ایک قطرہ بہ اجازت اللہ پانی کے داروغہ فرشتہ کے ناپ تول سے برستا ہے اسی طرح ہوا کا ہلکا سا جھونکا بھی بے ناپے تولے نہیں چلتا لیکن ہاں عادیوں پر جو ہوائیں چلیں اور قوم نوح پر جو طوفان آیا وہ تو بے حد، بے شمار اور بغیر ناپ تول کے تھا اللہ کی اجازت سے پانی اور ہوا نے وہ زور باندھا کہ نگہبان فرشتوں کی کچھ نہ چلی۔ اسی لیے قرآن میں «اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» [69-الحاقة:11] ‏ اور «وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ» [69-الحاقة:6] ‏ کے الفاظ ہیں، اسی لیے اس اہم احسان کو اللہ تعالیٰ یاد دلا رہا ہے کہ ” ایسے پُر خطر موقعہ پر ہم نے تمہیں چلتی کشتی پر سوار کرا دیا تا کہ یہ کشتی تمہارے لیے نمونہ بن جائے چنانچہ آج بھی ویسی ہی کشتیوں پر سوار ہو کر سمندر کے لمبے چوڑے سفر طے کر رہے ہو۔ “

جیسے اور جگہ ہے «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ» [43-الزخرف:13،12] ‏، یعنی ” تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے جانور بنائے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور سوار ہو کر اپنے رب کی نعمت یاد کرو۔ “

اور جگہ فرمایا «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] ‏ یعنی ” ان کے لیے ایک نشان قدرت یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری کشتی میں چڑھا لیا اور بھی ہم نے اس جیسی ان کی سواریاں پیدا کر دیں۔ “

قتادہ رحمہ اللہ نے اوپر کی اس آیت کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ وہی کشتی نوح باقی رہی یہاں تک کہ اس امت کے اگلوں نے بھی اسے دیکھا، لیکن زیادہ ظاہر مطلب پہلا ہی ہے۔ پھر فرمایا ” یہ اس لیے بھی کہ یاد رکھنے اور سننے والا کان اسے یاد کرے اور محفوظ رکھ لے اور اس نعمت کو نہ بھولے “، یعنی صحیح سمجھ اور سچی سماعت والے، عقل سلیم اور فہم مستقیم رکھنے والے، جو اللہ کی باتوں اور اس کی نعمتوں سے بےپرواہی اور لاابالی نہیں برتتے ان کی پندو نصیحت کا ایک ذریعہ یہ بھی بن گیا۔

ابن ابی حاتم میں ہے مکحول فرماتے ہیں جب یہ الفاظ اترے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ علی کو ایسا ہی بنا دے۔“ ، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز سن کر پھر میں نے فراموش نہیں کی، یہ روایت ابن جریر میں بھی ہے لیکن مرسل ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34771:مرسل] ‏

ابن ابی حاتم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے حکم کیا گیا ہے کہ میں تجھے نزدیک کروں، دور نہ کروں اور تجھے تعلیم دوں اور تو بھی یاد رکھے اور یہی تجھے بھی چاہیئے۔“ اس پر یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34772:ضعیف] ‏ یہ روایت دوسری سند سے بھی ابن جریر میں مروی ہے لیکن وہ بھی صحیح نہیں۔

صفحہ نمبر9740

باب

یہ آندھیاں جو خیر و برکت سے خالی تھیں اور فرشتوں کے ہاتھوں سے نکلتی تھیں برابر پے درپے لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن تک چلتی رہیں، ان دنوں میں ان کے لیے سوائے نحوست و بربادی کے اور کوئی بھلائی نہ تھی اور جیسے اور جگہ ہے «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا فِيْٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيْقَهُمْ عَذَابَ الْخِــزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَهُمْ لَا يُنْصَرُوْنَ» [41-فصلت:16] ‏

ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں جمعہ کے دن سے یہ شروع ہوئی تھیں۔ بعض کہتے ہیں بدھ کے دن۔ ان ہواؤں کو عرب «اعجاز» اس لیے بھی کہتے ہیں کہ قرآن نے فرمایا ہے ” قوم عاد کی حالت «اعجاز» یعنی کھجوروں کے کھوکھلے تنوں جیسی ہو گئی “، دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ عموماً یہ ہوائیں جاڑوں کے آخر میں چلا کرتی ہیں اور عجز کہتے ہیں آخر کو، اور یہ وجہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ قوم عاد کی ایک بڑھیا ایک غار میں گھس گئی تھی جو ان ہواؤں سے آٹھویں روز وہیں تباہ ہو گئی اور بڑھیا کو عربی میں «عجوز» کہتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9736

«خَاوِيَةٍ» کے معنی ہیں خراب، گلا، سڑا، کھوکھلا، مطلب یہ ہے کہ ہواؤں نے انہیں اٹھا اٹھا کر الٹا ان کے سر پھٹ گئے سروں کا چورا چورا ہو گیا اور باقی جسم ایسا رہ گیا جیسے کھجور کے درختوں کا پتوں والا سرا کاٹ کر صرف تنا رہنے دیا ہو۔

بخاری مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صبا کے ساتھ میری مدد کی گئی یعنی مشرقی ہوا کے ساتھ اور عادی ہلاک کئے گئے دبور سے یعنی مغربی ہوا سے۔“ [صحیح بخاری:1035] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عادیوں کو ہلاک کرنے کے لیے ہواؤں کے خزانے میں سے صرف انگوٹھی کے برابر جگہ کشادہ کی گئی تھی جس سے ہوائیں نکلیں اور پہلے وہ گاؤں اور دیہات والوں پر آئی ان تمام مردوں عورتوں کو چھوٹے بڑوں کو ان کے مالوں اور جانوروں سمیت لے کر آسمان و زمین کے درمیان معلق کر دیا، شہریوں کو بوجہ بہت بلندی اور کافی اونچائی کے یہ معلوم ہونے لگا کہ یہ سیاہ رنگ بادل چڑھا ہوا ہے خوش ہونے لگے کہ گرمی کے باعث جو ہماری بری حالت ہو رہی ہے اب پانی برس جائے گا اتنے میں ہواؤں کو حکم ہوا اور اس نے ان تمام کو ان شہریوں پر پھینک دیا یہ اور وہ سب ہلاک ہو گئے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس ہوا کے پر اور دم تھی۔

پھر فرماتا ہے ” بتاؤ کہ ان میں سے یا ان کی نسل میں سے کسی ایک کا نشان بھی تم دیکھ رہے ہو؟ “ یعنی سب کے سب تباو و برباد کر دیئے گئے کوئی نام لینے والا پانی دینے والا بھی باقی نہ رہا۔

صفحہ نمبر9737

پھر فرمایا ” فرعون اور اس سے اگلے خطاکار، اور رسولوں کے نافرمانوں کا یہی انجام ہوا “۔ «قَبْلَهُ» کی دوسری قرأت «قِبْلَهُ» بھی ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ فرعون اور اس کے پاس اور ساتھ کے لوگ یعنی فرعونی، قبطی، کفار۔ «مُؤْتَفِكَاتُ» سے مراد بھی پیغمبروں کی جھٹلانے والی اگلی امتیں ہیں، «خَاطِئَةِ» سے مطلب معصیت اور خطائیں ہیں۔ پس فرمایا ” ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے زمانے کے رسول کی تکذیب کی۔ “

جیسے اور جگہ ہے «كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ» [50-ق:14] ‏ یعنی ” ان سب نے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر عذاب نازل ہوئے۔ “

اور یہ بھی یاد رہے کہ ایک پیغمبر کا انکار گویا تمام انبیاء کا علیہ السلام انکار ہے جیسے قرآن نے فرمایا «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِۨ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:105] ‏

اور فرمایا «كَذَّبَتْ عَادُۨ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:123] ‏

اور فرمایا «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:141] ‏ یعنی قوم نوح نے عادیوں نے ثمودیوں نے رسولوں کو جھٹلایا، حالانکہ سب کے پاس یعنی ہر ہر امت کے پاس ایک ہی رسول آیا تھا، یہی مطلب یہاں بھی ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامبر کی نافرمانی کی، پس اللہ نے انہیں سخت تر مہلک بڑی درد ناک المناک پکڑ میں پکڑ لیا۔

صفحہ نمبر9738

طوفان نوح ٭٭

بعد ازاں اپنا احسان جتاتا ہے کہ ” دیکھو جب نوح کی دعا کی وجہ سے زمین پر طوفان آیا اور پانی حد سے گزر گیا چاروں طرف ریل پیل ہو گئی نجات کی کوئی جگہ نہ رہی اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا۔ “

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب قوم نوح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذاء رسانی شروع کی اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے اس وقت نوح علیہ السلام نے تنگ آ کر ان کی ہلاکت کی دعا کی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا اور مشہور طوفان نوح نازل فرمایا جس سے سوائے ان لوگوں کے جو نوح علیہ السلام کی کشتی میں تھے روئے زمین پر کوئی نہ بچا پس سب لوگ نوح علیہ السلام کی نسل اور آپ علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔

صفحہ نمبر9739

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پانی کا ایک ایک قطرہ بہ اجازت اللہ پانی کے داروغہ فرشتہ کے ناپ تول سے برستا ہے اسی طرح ہوا کا ہلکا سا جھونکا بھی بے ناپے تولے نہیں چلتا لیکن ہاں عادیوں پر جو ہوائیں چلیں اور قوم نوح پر جو طوفان آیا وہ تو بے حد، بے شمار اور بغیر ناپ تول کے تھا اللہ کی اجازت سے پانی اور ہوا نے وہ زور باندھا کہ نگہبان فرشتوں کی کچھ نہ چلی۔ اسی لیے قرآن میں «اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» [69-الحاقة:11] ‏ اور «وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ» [69-الحاقة:6] ‏ کے الفاظ ہیں، اسی لیے اس اہم احسان کو اللہ تعالیٰ یاد دلا رہا ہے کہ ” ایسے پُر خطر موقعہ پر ہم نے تمہیں چلتی کشتی پر سوار کرا دیا تا کہ یہ کشتی تمہارے لیے نمونہ بن جائے چنانچہ آج بھی ویسی ہی کشتیوں پر سوار ہو کر سمندر کے لمبے چوڑے سفر طے کر رہے ہو۔ “

جیسے اور جگہ ہے «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ» [43-الزخرف:13،12] ‏، یعنی ” تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے جانور بنائے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور سوار ہو کر اپنے رب کی نعمت یاد کرو۔ “

اور جگہ فرمایا «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] ‏ یعنی ” ان کے لیے ایک نشان قدرت یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری کشتی میں چڑھا لیا اور بھی ہم نے اس جیسی ان کی سواریاں پیدا کر دیں۔ “

قتادہ رحمہ اللہ نے اوپر کی اس آیت کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ وہی کشتی نوح باقی رہی یہاں تک کہ اس امت کے اگلوں نے بھی اسے دیکھا، لیکن زیادہ ظاہر مطلب پہلا ہی ہے۔ پھر فرمایا ” یہ اس لیے بھی کہ یاد رکھنے اور سننے والا کان اسے یاد کرے اور محفوظ رکھ لے اور اس نعمت کو نہ بھولے “، یعنی صحیح سمجھ اور سچی سماعت والے، عقل سلیم اور فہم مستقیم رکھنے والے، جو اللہ کی باتوں اور اس کی نعمتوں سے بےپرواہی اور لاابالی نہیں برتتے ان کی پندو نصیحت کا ایک ذریعہ یہ بھی بن گیا۔

ابن ابی حاتم میں ہے مکحول فرماتے ہیں جب یہ الفاظ اترے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ علی کو ایسا ہی بنا دے۔“ ، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز سن کر پھر میں نے فراموش نہیں کی، یہ روایت ابن جریر میں بھی ہے لیکن مرسل ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34771:مرسل] ‏

ابن ابی حاتم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے حکم کیا گیا ہے کہ میں تجھے نزدیک کروں، دور نہ کروں اور تجھے تعلیم دوں اور تو بھی یاد رکھے اور یہی تجھے بھی چاہیئے۔“ اس پر یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34772:ضعیف] ‏ یہ روایت دوسری سند سے بھی ابن جریر میں مروی ہے لیکن وہ بھی صحیح نہیں۔

صفحہ نمبر9740

باب

یہ آندھیاں جو خیر و برکت سے خالی تھیں اور فرشتوں کے ہاتھوں سے نکلتی تھیں برابر پے درپے لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن تک چلتی رہیں، ان دنوں میں ان کے لیے سوائے نحوست و بربادی کے اور کوئی بھلائی نہ تھی اور جیسے اور جگہ ہے «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا فِيْٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيْقَهُمْ عَذَابَ الْخِــزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَهُمْ لَا يُنْصَرُوْنَ» [41-فصلت:16] ‏

ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں جمعہ کے دن سے یہ شروع ہوئی تھیں۔ بعض کہتے ہیں بدھ کے دن۔ ان ہواؤں کو عرب «اعجاز» اس لیے بھی کہتے ہیں کہ قرآن نے فرمایا ہے ” قوم عاد کی حالت «اعجاز» یعنی کھجوروں کے کھوکھلے تنوں جیسی ہو گئی “، دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ عموماً یہ ہوائیں جاڑوں کے آخر میں چلا کرتی ہیں اور عجز کہتے ہیں آخر کو، اور یہ وجہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ قوم عاد کی ایک بڑھیا ایک غار میں گھس گئی تھی جو ان ہواؤں سے آٹھویں روز وہیں تباہ ہو گئی اور بڑھیا کو عربی میں «عجوز» کہتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9736

«خَاوِيَةٍ» کے معنی ہیں خراب، گلا، سڑا، کھوکھلا، مطلب یہ ہے کہ ہواؤں نے انہیں اٹھا اٹھا کر الٹا ان کے سر پھٹ گئے سروں کا چورا چورا ہو گیا اور باقی جسم ایسا رہ گیا جیسے کھجور کے درختوں کا پتوں والا سرا کاٹ کر صرف تنا رہنے دیا ہو۔

بخاری مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صبا کے ساتھ میری مدد کی گئی یعنی مشرقی ہوا کے ساتھ اور عادی ہلاک کئے گئے دبور سے یعنی مغربی ہوا سے۔“ [صحیح بخاری:1035] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عادیوں کو ہلاک کرنے کے لیے ہواؤں کے خزانے میں سے صرف انگوٹھی کے برابر جگہ کشادہ کی گئی تھی جس سے ہوائیں نکلیں اور پہلے وہ گاؤں اور دیہات والوں پر آئی ان تمام مردوں عورتوں کو چھوٹے بڑوں کو ان کے مالوں اور جانوروں سمیت لے کر آسمان و زمین کے درمیان معلق کر دیا، شہریوں کو بوجہ بہت بلندی اور کافی اونچائی کے یہ معلوم ہونے لگا کہ یہ سیاہ رنگ بادل چڑھا ہوا ہے خوش ہونے لگے کہ گرمی کے باعث جو ہماری بری حالت ہو رہی ہے اب پانی برس جائے گا اتنے میں ہواؤں کو حکم ہوا اور اس نے ان تمام کو ان شہریوں پر پھینک دیا یہ اور وہ سب ہلاک ہو گئے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس ہوا کے پر اور دم تھی۔

پھر فرماتا ہے ” بتاؤ کہ ان میں سے یا ان کی نسل میں سے کسی ایک کا نشان بھی تم دیکھ رہے ہو؟ “ یعنی سب کے سب تباو و برباد کر دیئے گئے کوئی نام لینے والا پانی دینے والا بھی باقی نہ رہا۔

صفحہ نمبر9737

پھر فرمایا ” فرعون اور اس سے اگلے خطاکار، اور رسولوں کے نافرمانوں کا یہی انجام ہوا “۔ «قَبْلَهُ» کی دوسری قرأت «قِبْلَهُ» بھی ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ فرعون اور اس کے پاس اور ساتھ کے لوگ یعنی فرعونی، قبطی، کفار۔ «مُؤْتَفِكَاتُ» سے مراد بھی پیغمبروں کی جھٹلانے والی اگلی امتیں ہیں، «خَاطِئَةِ» سے مطلب معصیت اور خطائیں ہیں۔ پس فرمایا ” ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے زمانے کے رسول کی تکذیب کی۔ “

جیسے اور جگہ ہے «كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ» [50-ق:14] ‏ یعنی ” ان سب نے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر عذاب نازل ہوئے۔ “

اور یہ بھی یاد رہے کہ ایک پیغمبر کا انکار گویا تمام انبیاء کا علیہ السلام انکار ہے جیسے قرآن نے فرمایا «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِۨ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:105] ‏

اور فرمایا «كَذَّبَتْ عَادُۨ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:123] ‏

اور فرمایا «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:141] ‏ یعنی قوم نوح نے عادیوں نے ثمودیوں نے رسولوں کو جھٹلایا، حالانکہ سب کے پاس یعنی ہر ہر امت کے پاس ایک ہی رسول آیا تھا، یہی مطلب یہاں بھی ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامبر کی نافرمانی کی، پس اللہ نے انہیں سخت تر مہلک بڑی درد ناک المناک پکڑ میں پکڑ لیا۔

صفحہ نمبر9738

طوفان نوح ٭٭

بعد ازاں اپنا احسان جتاتا ہے کہ ” دیکھو جب نوح کی دعا کی وجہ سے زمین پر طوفان آیا اور پانی حد سے گزر گیا چاروں طرف ریل پیل ہو گئی نجات کی کوئی جگہ نہ رہی اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا۔ “

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب قوم نوح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذاء رسانی شروع کی اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے اس وقت نوح علیہ السلام نے تنگ آ کر ان کی ہلاکت کی دعا کی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا اور مشہور طوفان نوح نازل فرمایا جس سے سوائے ان لوگوں کے جو نوح علیہ السلام کی کشتی میں تھے روئے زمین پر کوئی نہ بچا پس سب لوگ نوح علیہ السلام کی نسل اور آپ علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔

صفحہ نمبر9739

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پانی کا ایک ایک قطرہ بہ اجازت اللہ پانی کے داروغہ فرشتہ کے ناپ تول سے برستا ہے اسی طرح ہوا کا ہلکا سا جھونکا بھی بے ناپے تولے نہیں چلتا لیکن ہاں عادیوں پر جو ہوائیں چلیں اور قوم نوح پر جو طوفان آیا وہ تو بے حد، بے شمار اور بغیر ناپ تول کے تھا اللہ کی اجازت سے پانی اور ہوا نے وہ زور باندھا کہ نگہبان فرشتوں کی کچھ نہ چلی۔ اسی لیے قرآن میں «اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» [69-الحاقة:11] ‏ اور «وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ» [69-الحاقة:6] ‏ کے الفاظ ہیں، اسی لیے اس اہم احسان کو اللہ تعالیٰ یاد دلا رہا ہے کہ ” ایسے پُر خطر موقعہ پر ہم نے تمہیں چلتی کشتی پر سوار کرا دیا تا کہ یہ کشتی تمہارے لیے نمونہ بن جائے چنانچہ آج بھی ویسی ہی کشتیوں پر سوار ہو کر سمندر کے لمبے چوڑے سفر طے کر رہے ہو۔ “

جیسے اور جگہ ہے «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ» [43-الزخرف:13،12] ‏، یعنی ” تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے جانور بنائے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور سوار ہو کر اپنے رب کی نعمت یاد کرو۔ “

اور جگہ فرمایا «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] ‏ یعنی ” ان کے لیے ایک نشان قدرت یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری کشتی میں چڑھا لیا اور بھی ہم نے اس جیسی ان کی سواریاں پیدا کر دیں۔ “

قتادہ رحمہ اللہ نے اوپر کی اس آیت کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ وہی کشتی نوح باقی رہی یہاں تک کہ اس امت کے اگلوں نے بھی اسے دیکھا، لیکن زیادہ ظاہر مطلب پہلا ہی ہے۔ پھر فرمایا ” یہ اس لیے بھی کہ یاد رکھنے اور سننے والا کان اسے یاد کرے اور محفوظ رکھ لے اور اس نعمت کو نہ بھولے “، یعنی صحیح سمجھ اور سچی سماعت والے، عقل سلیم اور فہم مستقیم رکھنے والے، جو اللہ کی باتوں اور اس کی نعمتوں سے بےپرواہی اور لاابالی نہیں برتتے ان کی پندو نصیحت کا ایک ذریعہ یہ بھی بن گیا۔

ابن ابی حاتم میں ہے مکحول فرماتے ہیں جب یہ الفاظ اترے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ علی کو ایسا ہی بنا دے۔“ ، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز سن کر پھر میں نے فراموش نہیں کی، یہ روایت ابن جریر میں بھی ہے لیکن مرسل ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34771:مرسل] ‏

ابن ابی حاتم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے حکم کیا گیا ہے کہ میں تجھے نزدیک کروں، دور نہ کروں اور تجھے تعلیم دوں اور تو بھی یاد رکھے اور یہی تجھے بھی چاہیئے۔“ اس پر یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34772:ضعیف] ‏ یہ روایت دوسری سند سے بھی ابن جریر میں مروی ہے لیکن وہ بھی صحیح نہیں۔

صفحہ نمبر9740

باب

یہ آندھیاں جو خیر و برکت سے خالی تھیں اور فرشتوں کے ہاتھوں سے نکلتی تھیں برابر پے درپے لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن تک چلتی رہیں، ان دنوں میں ان کے لیے سوائے نحوست و بربادی کے اور کوئی بھلائی نہ تھی اور جیسے اور جگہ ہے «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا فِيْٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيْقَهُمْ عَذَابَ الْخِــزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَهُمْ لَا يُنْصَرُوْنَ» [41-فصلت:16] ‏

ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں جمعہ کے دن سے یہ شروع ہوئی تھیں۔ بعض کہتے ہیں بدھ کے دن۔ ان ہواؤں کو عرب «اعجاز» اس لیے بھی کہتے ہیں کہ قرآن نے فرمایا ہے ” قوم عاد کی حالت «اعجاز» یعنی کھجوروں کے کھوکھلے تنوں جیسی ہو گئی “، دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ عموماً یہ ہوائیں جاڑوں کے آخر میں چلا کرتی ہیں اور عجز کہتے ہیں آخر کو، اور یہ وجہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ قوم عاد کی ایک بڑھیا ایک غار میں گھس گئی تھی جو ان ہواؤں سے آٹھویں روز وہیں تباہ ہو گئی اور بڑھیا کو عربی میں «عجوز» کہتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9736

«خَاوِيَةٍ» کے معنی ہیں خراب، گلا، سڑا، کھوکھلا، مطلب یہ ہے کہ ہواؤں نے انہیں اٹھا اٹھا کر الٹا ان کے سر پھٹ گئے سروں کا چورا چورا ہو گیا اور باقی جسم ایسا رہ گیا جیسے کھجور کے درختوں کا پتوں والا سرا کاٹ کر صرف تنا رہنے دیا ہو۔

بخاری مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صبا کے ساتھ میری مدد کی گئی یعنی مشرقی ہوا کے ساتھ اور عادی ہلاک کئے گئے دبور سے یعنی مغربی ہوا سے۔“ [صحیح بخاری:1035] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عادیوں کو ہلاک کرنے کے لیے ہواؤں کے خزانے میں سے صرف انگوٹھی کے برابر جگہ کشادہ کی گئی تھی جس سے ہوائیں نکلیں اور پہلے وہ گاؤں اور دیہات والوں پر آئی ان تمام مردوں عورتوں کو چھوٹے بڑوں کو ان کے مالوں اور جانوروں سمیت لے کر آسمان و زمین کے درمیان معلق کر دیا، شہریوں کو بوجہ بہت بلندی اور کافی اونچائی کے یہ معلوم ہونے لگا کہ یہ سیاہ رنگ بادل چڑھا ہوا ہے خوش ہونے لگے کہ گرمی کے باعث جو ہماری بری حالت ہو رہی ہے اب پانی برس جائے گا اتنے میں ہواؤں کو حکم ہوا اور اس نے ان تمام کو ان شہریوں پر پھینک دیا یہ اور وہ سب ہلاک ہو گئے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس ہوا کے پر اور دم تھی۔

پھر فرماتا ہے ” بتاؤ کہ ان میں سے یا ان کی نسل میں سے کسی ایک کا نشان بھی تم دیکھ رہے ہو؟ “ یعنی سب کے سب تباو و برباد کر دیئے گئے کوئی نام لینے والا پانی دینے والا بھی باقی نہ رہا۔

صفحہ نمبر9737

پھر فرمایا ” فرعون اور اس سے اگلے خطاکار، اور رسولوں کے نافرمانوں کا یہی انجام ہوا “۔ «قَبْلَهُ» کی دوسری قرأت «قِبْلَهُ» بھی ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ فرعون اور اس کے پاس اور ساتھ کے لوگ یعنی فرعونی، قبطی، کفار۔ «مُؤْتَفِكَاتُ» سے مراد بھی پیغمبروں کی جھٹلانے والی اگلی امتیں ہیں، «خَاطِئَةِ» سے مطلب معصیت اور خطائیں ہیں۔ پس فرمایا ” ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے زمانے کے رسول کی تکذیب کی۔ “

جیسے اور جگہ ہے «كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ» [50-ق:14] ‏ یعنی ” ان سب نے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر عذاب نازل ہوئے۔ “

اور یہ بھی یاد رہے کہ ایک پیغمبر کا انکار گویا تمام انبیاء کا علیہ السلام انکار ہے جیسے قرآن نے فرمایا «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِۨ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:105] ‏

اور فرمایا «كَذَّبَتْ عَادُۨ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:123] ‏

اور فرمایا «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِيْنَ» [26-الشعراء:141] ‏ یعنی قوم نوح نے عادیوں نے ثمودیوں نے رسولوں کو جھٹلایا، حالانکہ سب کے پاس یعنی ہر ہر امت کے پاس ایک ہی رسول آیا تھا، یہی مطلب یہاں بھی ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامبر کی نافرمانی کی، پس اللہ نے انہیں سخت تر مہلک بڑی درد ناک المناک پکڑ میں پکڑ لیا۔

صفحہ نمبر9738

طوفان نوح ٭٭

بعد ازاں اپنا احسان جتاتا ہے کہ ” دیکھو جب نوح کی دعا کی وجہ سے زمین پر طوفان آیا اور پانی حد سے گزر گیا چاروں طرف ریل پیل ہو گئی نجات کی کوئی جگہ نہ رہی اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا۔ “

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب قوم نوح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذاء رسانی شروع کی اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے اس وقت نوح علیہ السلام نے تنگ آ کر ان کی ہلاکت کی دعا کی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا اور مشہور طوفان نوح نازل فرمایا جس سے سوائے ان لوگوں کے جو نوح علیہ السلام کی کشتی میں تھے روئے زمین پر کوئی نہ بچا پس سب لوگ نوح علیہ السلام کی نسل اور آپ علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔

صفحہ نمبر9739

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پانی کا ایک ایک قطرہ بہ اجازت اللہ پانی کے داروغہ فرشتہ کے ناپ تول سے برستا ہے اسی طرح ہوا کا ہلکا سا جھونکا بھی بے ناپے تولے نہیں چلتا لیکن ہاں عادیوں پر جو ہوائیں چلیں اور قوم نوح پر جو طوفان آیا وہ تو بے حد، بے شمار اور بغیر ناپ تول کے تھا اللہ کی اجازت سے پانی اور ہوا نے وہ زور باندھا کہ نگہبان فرشتوں کی کچھ نہ چلی۔ اسی لیے قرآن میں «اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» [69-الحاقة:11] ‏ اور «وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ» [69-الحاقة:6] ‏ کے الفاظ ہیں، اسی لیے اس اہم احسان کو اللہ تعالیٰ یاد دلا رہا ہے کہ ” ایسے پُر خطر موقعہ پر ہم نے تمہیں چلتی کشتی پر سوار کرا دیا تا کہ یہ کشتی تمہارے لیے نمونہ بن جائے چنانچہ آج بھی ویسی ہی کشتیوں پر سوار ہو کر سمندر کے لمبے چوڑے سفر طے کر رہے ہو۔ “

جیسے اور جگہ ہے «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ» [43-الزخرف:13،12] ‏، یعنی ” تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے جانور بنائے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور سوار ہو کر اپنے رب کی نعمت یاد کرو۔ “

اور جگہ فرمایا «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] ‏ یعنی ” ان کے لیے ایک نشان قدرت یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری کشتی میں چڑھا لیا اور بھی ہم نے اس جیسی ان کی سواریاں پیدا کر دیں۔ “

قتادہ رحمہ اللہ نے اوپر کی اس آیت کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ وہی کشتی نوح باقی رہی یہاں تک کہ اس امت کے اگلوں نے بھی اسے دیکھا، لیکن زیادہ ظاہر مطلب پہلا ہی ہے۔ پھر فرمایا ” یہ اس لیے بھی کہ یاد رکھنے اور سننے والا کان اسے یاد کرے اور محفوظ رکھ لے اور اس نعمت کو نہ بھولے “، یعنی صحیح سمجھ اور سچی سماعت والے، عقل سلیم اور فہم مستقیم رکھنے والے، جو اللہ کی باتوں اور اس کی نعمتوں سے بےپرواہی اور لاابالی نہیں برتتے ان کی پندو نصیحت کا ایک ذریعہ یہ بھی بن گیا۔

ابن ابی حاتم میں ہے مکحول فرماتے ہیں جب یہ الفاظ اترے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ علی کو ایسا ہی بنا دے۔“ ، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز سن کر پھر میں نے فراموش نہیں کی، یہ روایت ابن جریر میں بھی ہے لیکن مرسل ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34771:مرسل] ‏

ابن ابی حاتم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے حکم کیا گیا ہے کہ میں تجھے نزدیک کروں، دور نہ کروں اور تجھے تعلیم دوں اور تو بھی یاد رکھے اور یہی تجھے بھی چاہیئے۔“ اس پر یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34772:ضعیف] ‏ یہ روایت دوسری سند سے بھی ابن جریر میں مروی ہے لیکن وہ بھی صحیح نہیں۔

صفحہ نمبر9740

آواز کا بم صور اسرافیل ٭٭

قیامت کی ہولناکیوں کا بیان ہو رہا ہے جس میں سب سے پہلے گھبراہٹ پیدا کرنے والی چیز صور کا پھونکا جانا ہو گا جس سے سب کے دل ہل جائیں گے پھر «نفخه» پھونکا جائے گا جس سے تمام زمین و آسمان کی مخلوق بیہوش ہو جائے گی مگر جسے اللہ چاہے۔ پھر صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے تمام مخلوق اپنے رب کے سامنے کھڑی ہو جائے گی یہاں اسی پہلے «نفخه» کا بیان ہے۔

یہاں بطور تاکید کے یہ بھی فرمایا کہ یہ اٹھ کھڑے ہونے کا «نفخه» ایک ہی ہے اس لیے کہ جب اللہ کا حکم ہو گیا پھر نہ تو اس کا خلاف ہو سکتا ہے نہ وہ ٹل سکتا ہے نہ دوبارہ فرمان کی ضرورت ہے اور نہ تاکید کی، امام ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد آخری «نفخه» ہے لیکن ظاہر قول وہی ہے جو ہم نے کہا۔

اسی لیے یہاں اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ ” زمین و آسمان اٹھا لیے جائیں گے اور کھال کی طرح پھیلا دیئے جائیں گے اور زمین بدل دی جائے گی اور قیامت واقع ہو جائے گی۔ “

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آسمان ہر کھلنے کی جگہ سے پھٹ جائے گا، جیسے سورۃ نبا میں ہے «وَّفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا» [78-النبأ:19] ‏ یعنی ” آسمان کھول دیا جائے گا اور اس میں دروازے کھول دیے جائیں گے۔ “ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آسمان میں سوراخ اور غاریں پڑ جائیں گی اور شق ہو جائے گی عرش اس کے سامنے ہو گا فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے جو کنارے اب تک ٹوٹے نہ ہوں گے اور دوازوں پر ہوں گے آسمان کی لمبائی میں پھیلے ہوئے ہوں گے اور زمین والوں کو دیکھ رہے ہوں گے۔

صفحہ نمبر9747

اللہ کا عرش اٹھانے والے فرشتے ٭٭

پھر فرمایا ” قیامت والے دن آٹھ فرشتے اللہ تعالیٰ کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ “ پس یا تو مراد عرش عظیم کا اٹھانا ہے یا اس عرش کا اٹھانا مراد ہے جس پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کے فیصلوں کے لیے ہو گا۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت میں ہوں گے، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کی آنکھ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا ایک سو سال کا راستہ ہے۔ ابن ابی حاتم کی مرفوع حدیث میں ہے کہ مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں تمہیں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک کی نسبت خبر دوں کہ اس کی گردن اور کان کے نیچے کے لَو کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ اڑنے والا پرندہ سات سو سال تک اڑتا چلا جائے۔ اس کی اسناد بہت عمدہ ہے اور اس کے سب راوی ثقہ ہیں، اسے امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی اپنی سنن میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا۔ [سنن ابوداود:4727،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتوں کی آٹھ صفیں ہیں اور بھی بہت سے بزرگوں سے یہ مروی ہے۔

صفحہ نمبر9748

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اعلیٰ فرشتوں کے آٹھ حصے ہیں جن میں سے ہر ایک حصہ کی گنتی تمام انسانوں جنوں اور سب فرشتوں کے برابر ہے۔“

پھر فرمایا: ” قیامت کے روز تم اس اللہ کے سامنے کئے جاؤ گے جو پوشیدہ کو اور ظاہر کو بخوبی جانتا ہے جس طرح کھلی سے کھلی چیز کا وہ عالم ہے اس طرح چھپی سے چھپی چیز کو بھی وہ جانتا ہے، اسی لیے فرمایا تمہارا کوئی بھید اس روز چھپ نہ سکے گا۔ “

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”لوگو اپنی جانوں کا حساب کر لو اس سے پہلے کہ تم سے حساب لیا جائے اور اپنے اعمال کا آپ اندازہ کر لو اس سے پہلے کہ ان اعمال کا وزن کیا جائے تاکہ کل قیامت والے دن تم پر آسانی ہو جس دن کو تمہارا پورا پورا حساب لیا جائے گا اور بڑی پیشی میں خود اللہ جل شانہ کے سامنے تم پیش کر دیئے جاؤ گے۔“

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”قیامت کے دن لوگ تین مرتبہ اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے پہلی اور دوسری بار تو عذر، معذرت اور جھگڑا بحث کرتے رہیں گے لیکن تیسری پیشی جو آخری ہو گی اس وقت نامہ اعمال اڑائے جائیں گے، کسی کے دائیں ہاتھ میں آئے گا اور کسی کے بائیں ہاتھ میں۔“ یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:2425،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی یہی روایت ابن جریر میں مروی ہے اور قتادہ رحمہ اللہ سے بھی اس جیسی روایت مرسل مروی ہے۔

صفحہ نمبر9749

آواز کا بم صور اسرافیل ٭٭

قیامت کی ہولناکیوں کا بیان ہو رہا ہے جس میں سب سے پہلے گھبراہٹ پیدا کرنے والی چیز صور کا پھونکا جانا ہو گا جس سے سب کے دل ہل جائیں گے پھر «نفخه» پھونکا جائے گا جس سے تمام زمین و آسمان کی مخلوق بیہوش ہو جائے گی مگر جسے اللہ چاہے۔ پھر صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے تمام مخلوق اپنے رب کے سامنے کھڑی ہو جائے گی یہاں اسی پہلے «نفخه» کا بیان ہے۔

یہاں بطور تاکید کے یہ بھی فرمایا کہ یہ اٹھ کھڑے ہونے کا «نفخه» ایک ہی ہے اس لیے کہ جب اللہ کا حکم ہو گیا پھر نہ تو اس کا خلاف ہو سکتا ہے نہ وہ ٹل سکتا ہے نہ دوبارہ فرمان کی ضرورت ہے اور نہ تاکید کی، امام ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد آخری «نفخه» ہے لیکن ظاہر قول وہی ہے جو ہم نے کہا۔

اسی لیے یہاں اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ ” زمین و آسمان اٹھا لیے جائیں گے اور کھال کی طرح پھیلا دیئے جائیں گے اور زمین بدل دی جائے گی اور قیامت واقع ہو جائے گی۔ “

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آسمان ہر کھلنے کی جگہ سے پھٹ جائے گا، جیسے سورۃ نبا میں ہے «وَّفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا» [78-النبأ:19] ‏ یعنی ” آسمان کھول دیا جائے گا اور اس میں دروازے کھول دیے جائیں گے۔ “ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آسمان میں سوراخ اور غاریں پڑ جائیں گی اور شق ہو جائے گی عرش اس کے سامنے ہو گا فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے جو کنارے اب تک ٹوٹے نہ ہوں گے اور دوازوں پر ہوں گے آسمان کی لمبائی میں پھیلے ہوئے ہوں گے اور زمین والوں کو دیکھ رہے ہوں گے۔

صفحہ نمبر9747

اللہ کا عرش اٹھانے والے فرشتے ٭٭

پھر فرمایا ” قیامت والے دن آٹھ فرشتے اللہ تعالیٰ کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ “ پس یا تو مراد عرش عظیم کا اٹھانا ہے یا اس عرش کا اٹھانا مراد ہے جس پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کے فیصلوں کے لیے ہو گا۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت میں ہوں گے، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کی آنکھ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا ایک سو سال کا راستہ ہے۔ ابن ابی حاتم کی مرفوع حدیث میں ہے کہ مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں تمہیں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک کی نسبت خبر دوں کہ اس کی گردن اور کان کے نیچے کے لَو کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ اڑنے والا پرندہ سات سو سال تک اڑتا چلا جائے۔ اس کی اسناد بہت عمدہ ہے اور اس کے سب راوی ثقہ ہیں، اسے امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی اپنی سنن میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا۔ [سنن ابوداود:4727،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتوں کی آٹھ صفیں ہیں اور بھی بہت سے بزرگوں سے یہ مروی ہے۔

صفحہ نمبر9748

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اعلیٰ فرشتوں کے آٹھ حصے ہیں جن میں سے ہر ایک حصہ کی گنتی تمام انسانوں جنوں اور سب فرشتوں کے برابر ہے۔“

پھر فرمایا: ” قیامت کے روز تم اس اللہ کے سامنے کئے جاؤ گے جو پوشیدہ کو اور ظاہر کو بخوبی جانتا ہے جس طرح کھلی سے کھلی چیز کا وہ عالم ہے اس طرح چھپی سے چھپی چیز کو بھی وہ جانتا ہے، اسی لیے فرمایا تمہارا کوئی بھید اس روز چھپ نہ سکے گا۔ “

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”لوگو اپنی جانوں کا حساب کر لو اس سے پہلے کہ تم سے حساب لیا جائے اور اپنے اعمال کا آپ اندازہ کر لو اس سے پہلے کہ ان اعمال کا وزن کیا جائے تاکہ کل قیامت والے دن تم پر آسانی ہو جس دن کو تمہارا پورا پورا حساب لیا جائے گا اور بڑی پیشی میں خود اللہ جل شانہ کے سامنے تم پیش کر دیئے جاؤ گے۔“

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”قیامت کے دن لوگ تین مرتبہ اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے پہلی اور دوسری بار تو عذر، معذرت اور جھگڑا بحث کرتے رہیں گے لیکن تیسری پیشی جو آخری ہو گی اس وقت نامہ اعمال اڑائے جائیں گے، کسی کے دائیں ہاتھ میں آئے گا اور کسی کے بائیں ہاتھ میں۔“ یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:2425،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی یہی روایت ابن جریر میں مروی ہے اور قتادہ رحمہ اللہ سے بھی اس جیسی روایت مرسل مروی ہے۔

صفحہ نمبر9749

آواز کا بم صور اسرافیل ٭٭

قیامت کی ہولناکیوں کا بیان ہو رہا ہے جس میں سب سے پہلے گھبراہٹ پیدا کرنے والی چیز صور کا پھونکا جانا ہو گا جس سے سب کے دل ہل جائیں گے پھر «نفخه» پھونکا جائے گا جس سے تمام زمین و آسمان کی مخلوق بیہوش ہو جائے گی مگر جسے اللہ چاہے۔ پھر صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے تمام مخلوق اپنے رب کے سامنے کھڑی ہو جائے گی یہاں اسی پہلے «نفخه» کا بیان ہے۔

یہاں بطور تاکید کے یہ بھی فرمایا کہ یہ اٹھ کھڑے ہونے کا «نفخه» ایک ہی ہے اس لیے کہ جب اللہ کا حکم ہو گیا پھر نہ تو اس کا خلاف ہو سکتا ہے نہ وہ ٹل سکتا ہے نہ دوبارہ فرمان کی ضرورت ہے اور نہ تاکید کی، امام ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد آخری «نفخه» ہے لیکن ظاہر قول وہی ہے جو ہم نے کہا۔

اسی لیے یہاں اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ ” زمین و آسمان اٹھا لیے جائیں گے اور کھال کی طرح پھیلا دیئے جائیں گے اور زمین بدل دی جائے گی اور قیامت واقع ہو جائے گی۔ “

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آسمان ہر کھلنے کی جگہ سے پھٹ جائے گا، جیسے سورۃ نبا میں ہے «وَّفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا» [78-النبأ:19] ‏ یعنی ” آسمان کھول دیا جائے گا اور اس میں دروازے کھول دیے جائیں گے۔ “ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آسمان میں سوراخ اور غاریں پڑ جائیں گی اور شق ہو جائے گی عرش اس کے سامنے ہو گا فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے جو کنارے اب تک ٹوٹے نہ ہوں گے اور دوازوں پر ہوں گے آسمان کی لمبائی میں پھیلے ہوئے ہوں گے اور زمین والوں کو دیکھ رہے ہوں گے۔

صفحہ نمبر9747

اللہ کا عرش اٹھانے والے فرشتے ٭٭

پھر فرمایا ” قیامت والے دن آٹھ فرشتے اللہ تعالیٰ کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ “ پس یا تو مراد عرش عظیم کا اٹھانا ہے یا اس عرش کا اٹھانا مراد ہے جس پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کے فیصلوں کے لیے ہو گا۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت میں ہوں گے، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کی آنکھ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا ایک سو سال کا راستہ ہے۔ ابن ابی حاتم کی مرفوع حدیث میں ہے کہ مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں تمہیں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک کی نسبت خبر دوں کہ اس کی گردن اور کان کے نیچے کے لَو کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ اڑنے والا پرندہ سات سو سال تک اڑتا چلا جائے۔ اس کی اسناد بہت عمدہ ہے اور اس کے سب راوی ثقہ ہیں، اسے امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی اپنی سنن میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا۔ [سنن ابوداود:4727،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتوں کی آٹھ صفیں ہیں اور بھی بہت سے بزرگوں سے یہ مروی ہے۔

صفحہ نمبر9748

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اعلیٰ فرشتوں کے آٹھ حصے ہیں جن میں سے ہر ایک حصہ کی گنتی تمام انسانوں جنوں اور سب فرشتوں کے برابر ہے۔“

پھر فرمایا: ” قیامت کے روز تم اس اللہ کے سامنے کئے جاؤ گے جو پوشیدہ کو اور ظاہر کو بخوبی جانتا ہے جس طرح کھلی سے کھلی چیز کا وہ عالم ہے اس طرح چھپی سے چھپی چیز کو بھی وہ جانتا ہے، اسی لیے فرمایا تمہارا کوئی بھید اس روز چھپ نہ سکے گا۔ “

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”لوگو اپنی جانوں کا حساب کر لو اس سے پہلے کہ تم سے حساب لیا جائے اور اپنے اعمال کا آپ اندازہ کر لو اس سے پہلے کہ ان اعمال کا وزن کیا جائے تاکہ کل قیامت والے دن تم پر آسانی ہو جس دن کو تمہارا پورا پورا حساب لیا جائے گا اور بڑی پیشی میں خود اللہ جل شانہ کے سامنے تم پیش کر دیئے جاؤ گے۔“

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”قیامت کے دن لوگ تین مرتبہ اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے پہلی اور دوسری بار تو عذر، معذرت اور جھگڑا بحث کرتے رہیں گے لیکن تیسری پیشی جو آخری ہو گی اس وقت نامہ اعمال اڑائے جائیں گے، کسی کے دائیں ہاتھ میں آئے گا اور کسی کے بائیں ہاتھ میں۔“ یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:2425،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی یہی روایت ابن جریر میں مروی ہے اور قتادہ رحمہ اللہ سے بھی اس جیسی روایت مرسل مروی ہے۔

صفحہ نمبر9749

آواز کا بم صور اسرافیل ٭٭

قیامت کی ہولناکیوں کا بیان ہو رہا ہے جس میں سب سے پہلے گھبراہٹ پیدا کرنے والی چیز صور کا پھونکا جانا ہو گا جس سے سب کے دل ہل جائیں گے پھر «نفخه» پھونکا جائے گا جس سے تمام زمین و آسمان کی مخلوق بیہوش ہو جائے گی مگر جسے اللہ چاہے۔ پھر صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے تمام مخلوق اپنے رب کے سامنے کھڑی ہو جائے گی یہاں اسی پہلے «نفخه» کا بیان ہے۔

یہاں بطور تاکید کے یہ بھی فرمایا کہ یہ اٹھ کھڑے ہونے کا «نفخه» ایک ہی ہے اس لیے کہ جب اللہ کا حکم ہو گیا پھر نہ تو اس کا خلاف ہو سکتا ہے نہ وہ ٹل سکتا ہے نہ دوبارہ فرمان کی ضرورت ہے اور نہ تاکید کی، امام ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد آخری «نفخه» ہے لیکن ظاہر قول وہی ہے جو ہم نے کہا۔

اسی لیے یہاں اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ ” زمین و آسمان اٹھا لیے جائیں گے اور کھال کی طرح پھیلا دیئے جائیں گے اور زمین بدل دی جائے گی اور قیامت واقع ہو جائے گی۔ “

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آسمان ہر کھلنے کی جگہ سے پھٹ جائے گا، جیسے سورۃ نبا میں ہے «وَّفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا» [78-النبأ:19] ‏ یعنی ” آسمان کھول دیا جائے گا اور اس میں دروازے کھول دیے جائیں گے۔ “ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آسمان میں سوراخ اور غاریں پڑ جائیں گی اور شق ہو جائے گی عرش اس کے سامنے ہو گا فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے جو کنارے اب تک ٹوٹے نہ ہوں گے اور دوازوں پر ہوں گے آسمان کی لمبائی میں پھیلے ہوئے ہوں گے اور زمین والوں کو دیکھ رہے ہوں گے۔

صفحہ نمبر9747

اللہ کا عرش اٹھانے والے فرشتے ٭٭

پھر فرمایا ” قیامت والے دن آٹھ فرشتے اللہ تعالیٰ کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ “ پس یا تو مراد عرش عظیم کا اٹھانا ہے یا اس عرش کا اٹھانا مراد ہے جس پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کے فیصلوں کے لیے ہو گا۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت میں ہوں گے، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کی آنکھ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا ایک سو سال کا راستہ ہے۔ ابن ابی حاتم کی مرفوع حدیث میں ہے کہ مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں تمہیں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک کی نسبت خبر دوں کہ اس کی گردن اور کان کے نیچے کے لَو کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ اڑنے والا پرندہ سات سو سال تک اڑتا چلا جائے۔ اس کی اسناد بہت عمدہ ہے اور اس کے سب راوی ثقہ ہیں، اسے امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی اپنی سنن میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا۔ [سنن ابوداود:4727،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتوں کی آٹھ صفیں ہیں اور بھی بہت سے بزرگوں سے یہ مروی ہے۔

صفحہ نمبر9748

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اعلیٰ فرشتوں کے آٹھ حصے ہیں جن میں سے ہر ایک حصہ کی گنتی تمام انسانوں جنوں اور سب فرشتوں کے برابر ہے۔“

پھر فرمایا: ” قیامت کے روز تم اس اللہ کے سامنے کئے جاؤ گے جو پوشیدہ کو اور ظاہر کو بخوبی جانتا ہے جس طرح کھلی سے کھلی چیز کا وہ عالم ہے اس طرح چھپی سے چھپی چیز کو بھی وہ جانتا ہے، اسی لیے فرمایا تمہارا کوئی بھید اس روز چھپ نہ سکے گا۔ “

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”لوگو اپنی جانوں کا حساب کر لو اس سے پہلے کہ تم سے حساب لیا جائے اور اپنے اعمال کا آپ اندازہ کر لو اس سے پہلے کہ ان اعمال کا وزن کیا جائے تاکہ کل قیامت والے دن تم پر آسانی ہو جس دن کو تمہارا پورا پورا حساب لیا جائے گا اور بڑی پیشی میں خود اللہ جل شانہ کے سامنے تم پیش کر دیئے جاؤ گے۔“

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”قیامت کے دن لوگ تین مرتبہ اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے پہلی اور دوسری بار تو عذر، معذرت اور جھگڑا بحث کرتے رہیں گے لیکن تیسری پیشی جو آخری ہو گی اس وقت نامہ اعمال اڑائے جائیں گے، کسی کے دائیں ہاتھ میں آئے گا اور کسی کے بائیں ہاتھ میں۔“ یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:2425،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی یہی روایت ابن جریر میں مروی ہے اور قتادہ رحمہ اللہ سے بھی اس جیسی روایت مرسل مروی ہے۔

صفحہ نمبر9749

آواز کا بم صور اسرافیل ٭٭

قیامت کی ہولناکیوں کا بیان ہو رہا ہے جس میں سب سے پہلے گھبراہٹ پیدا کرنے والی چیز صور کا پھونکا جانا ہو گا جس سے سب کے دل ہل جائیں گے پھر «نفخه» پھونکا جائے گا جس سے تمام زمین و آسمان کی مخلوق بیہوش ہو جائے گی مگر جسے اللہ چاہے۔ پھر صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے تمام مخلوق اپنے رب کے سامنے کھڑی ہو جائے گی یہاں اسی پہلے «نفخه» کا بیان ہے۔

یہاں بطور تاکید کے یہ بھی فرمایا کہ یہ اٹھ کھڑے ہونے کا «نفخه» ایک ہی ہے اس لیے کہ جب اللہ کا حکم ہو گیا پھر نہ تو اس کا خلاف ہو سکتا ہے نہ وہ ٹل سکتا ہے نہ دوبارہ فرمان کی ضرورت ہے اور نہ تاکید کی، امام ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد آخری «نفخه» ہے لیکن ظاہر قول وہی ہے جو ہم نے کہا۔

اسی لیے یہاں اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ ” زمین و آسمان اٹھا لیے جائیں گے اور کھال کی طرح پھیلا دیئے جائیں گے اور زمین بدل دی جائے گی اور قیامت واقع ہو جائے گی۔ “

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آسمان ہر کھلنے کی جگہ سے پھٹ جائے گا، جیسے سورۃ نبا میں ہے «وَّفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا» [78-النبأ:19] ‏ یعنی ” آسمان کھول دیا جائے گا اور اس میں دروازے کھول دیے جائیں گے۔ “ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آسمان میں سوراخ اور غاریں پڑ جائیں گی اور شق ہو جائے گی عرش اس کے سامنے ہو گا فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے جو کنارے اب تک ٹوٹے نہ ہوں گے اور دوازوں پر ہوں گے آسمان کی لمبائی میں پھیلے ہوئے ہوں گے اور زمین والوں کو دیکھ رہے ہوں گے۔

صفحہ نمبر9747

اللہ کا عرش اٹھانے والے فرشتے ٭٭

پھر فرمایا ” قیامت والے دن آٹھ فرشتے اللہ تعالیٰ کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ “ پس یا تو مراد عرش عظیم کا اٹھانا ہے یا اس عرش کا اٹھانا مراد ہے جس پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کے فیصلوں کے لیے ہو گا۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت میں ہوں گے، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کی آنکھ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا ایک سو سال کا راستہ ہے۔ ابن ابی حاتم کی مرفوع حدیث میں ہے کہ مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں تمہیں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک کی نسبت خبر دوں کہ اس کی گردن اور کان کے نیچے کے لَو کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ اڑنے والا پرندہ سات سو سال تک اڑتا چلا جائے۔ اس کی اسناد بہت عمدہ ہے اور اس کے سب راوی ثقہ ہیں، اسے امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی اپنی سنن میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا۔ [سنن ابوداود:4727،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتوں کی آٹھ صفیں ہیں اور بھی بہت سے بزرگوں سے یہ مروی ہے۔

صفحہ نمبر9748

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اعلیٰ فرشتوں کے آٹھ حصے ہیں جن میں سے ہر ایک حصہ کی گنتی تمام انسانوں جنوں اور سب فرشتوں کے برابر ہے۔“

پھر فرمایا: ” قیامت کے روز تم اس اللہ کے سامنے کئے جاؤ گے جو پوشیدہ کو اور ظاہر کو بخوبی جانتا ہے جس طرح کھلی سے کھلی چیز کا وہ عالم ہے اس طرح چھپی سے چھپی چیز کو بھی وہ جانتا ہے، اسی لیے فرمایا تمہارا کوئی بھید اس روز چھپ نہ سکے گا۔ “

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”لوگو اپنی جانوں کا حساب کر لو اس سے پہلے کہ تم سے حساب لیا جائے اور اپنے اعمال کا آپ اندازہ کر لو اس سے پہلے کہ ان اعمال کا وزن کیا جائے تاکہ کل قیامت والے دن تم پر آسانی ہو جس دن کو تمہارا پورا پورا حساب لیا جائے گا اور بڑی پیشی میں خود اللہ جل شانہ کے سامنے تم پیش کر دیئے جاؤ گے۔“

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”قیامت کے دن لوگ تین مرتبہ اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے پہلی اور دوسری بار تو عذر، معذرت اور جھگڑا بحث کرتے رہیں گے لیکن تیسری پیشی جو آخری ہو گی اس وقت نامہ اعمال اڑائے جائیں گے، کسی کے دائیں ہاتھ میں آئے گا اور کسی کے بائیں ہاتھ میں۔“ یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:2425،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی یہی روایت ابن جریر میں مروی ہے اور قتادہ رحمہ اللہ سے بھی اس جیسی روایت مرسل مروی ہے۔

صفحہ نمبر9749

آواز کا بم صور اسرافیل ٭٭

قیامت کی ہولناکیوں کا بیان ہو رہا ہے جس میں سب سے پہلے گھبراہٹ پیدا کرنے والی چیز صور کا پھونکا جانا ہو گا جس سے سب کے دل ہل جائیں گے پھر «نفخه» پھونکا جائے گا جس سے تمام زمین و آسمان کی مخلوق بیہوش ہو جائے گی مگر جسے اللہ چاہے۔ پھر صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے تمام مخلوق اپنے رب کے سامنے کھڑی ہو جائے گی یہاں اسی پہلے «نفخه» کا بیان ہے۔

یہاں بطور تاکید کے یہ بھی فرمایا کہ یہ اٹھ کھڑے ہونے کا «نفخه» ایک ہی ہے اس لیے کہ جب اللہ کا حکم ہو گیا پھر نہ تو اس کا خلاف ہو سکتا ہے نہ وہ ٹل سکتا ہے نہ دوبارہ فرمان کی ضرورت ہے اور نہ تاکید کی، امام ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد آخری «نفخه» ہے لیکن ظاہر قول وہی ہے جو ہم نے کہا۔

اسی لیے یہاں اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ ” زمین و آسمان اٹھا لیے جائیں گے اور کھال کی طرح پھیلا دیئے جائیں گے اور زمین بدل دی جائے گی اور قیامت واقع ہو جائے گی۔ “

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آسمان ہر کھلنے کی جگہ سے پھٹ جائے گا، جیسے سورۃ نبا میں ہے «وَّفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا» [78-النبأ:19] ‏ یعنی ” آسمان کھول دیا جائے گا اور اس میں دروازے کھول دیے جائیں گے۔ “ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آسمان میں سوراخ اور غاریں پڑ جائیں گی اور شق ہو جائے گی عرش اس کے سامنے ہو گا فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے جو کنارے اب تک ٹوٹے نہ ہوں گے اور دوازوں پر ہوں گے آسمان کی لمبائی میں پھیلے ہوئے ہوں گے اور زمین والوں کو دیکھ رہے ہوں گے۔

صفحہ نمبر9747

اللہ کا عرش اٹھانے والے فرشتے ٭٭

پھر فرمایا ” قیامت والے دن آٹھ فرشتے اللہ تعالیٰ کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ “ پس یا تو مراد عرش عظیم کا اٹھانا ہے یا اس عرش کا اٹھانا مراد ہے جس پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کے فیصلوں کے لیے ہو گا۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت میں ہوں گے، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کی آنکھ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا ایک سو سال کا راستہ ہے۔ ابن ابی حاتم کی مرفوع حدیث میں ہے کہ مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں تمہیں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک کی نسبت خبر دوں کہ اس کی گردن اور کان کے نیچے کے لَو کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ اڑنے والا پرندہ سات سو سال تک اڑتا چلا جائے۔ اس کی اسناد بہت عمدہ ہے اور اس کے سب راوی ثقہ ہیں، اسے امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی اپنی سنن میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا۔ [سنن ابوداود:4727،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتوں کی آٹھ صفیں ہیں اور بھی بہت سے بزرگوں سے یہ مروی ہے۔

صفحہ نمبر9748

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اعلیٰ فرشتوں کے آٹھ حصے ہیں جن میں سے ہر ایک حصہ کی گنتی تمام انسانوں جنوں اور سب فرشتوں کے برابر ہے۔“

پھر فرمایا: ” قیامت کے روز تم اس اللہ کے سامنے کئے جاؤ گے جو پوشیدہ کو اور ظاہر کو بخوبی جانتا ہے جس طرح کھلی سے کھلی چیز کا وہ عالم ہے اس طرح چھپی سے چھپی چیز کو بھی وہ جانتا ہے، اسی لیے فرمایا تمہارا کوئی بھید اس روز چھپ نہ سکے گا۔ “

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”لوگو اپنی جانوں کا حساب کر لو اس سے پہلے کہ تم سے حساب لیا جائے اور اپنے اعمال کا آپ اندازہ کر لو اس سے پہلے کہ ان اعمال کا وزن کیا جائے تاکہ کل قیامت والے دن تم پر آسانی ہو جس دن کو تمہارا پورا پورا حساب لیا جائے گا اور بڑی پیشی میں خود اللہ جل شانہ کے سامنے تم پیش کر دیئے جاؤ گے۔“

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”قیامت کے دن لوگ تین مرتبہ اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے پہلی اور دوسری بار تو عذر، معذرت اور جھگڑا بحث کرتے رہیں گے لیکن تیسری پیشی جو آخری ہو گی اس وقت نامہ اعمال اڑائے جائیں گے، کسی کے دائیں ہاتھ میں آئے گا اور کسی کے بائیں ہاتھ میں۔“ یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:2425،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی یہی روایت ابن جریر میں مروی ہے اور قتادہ رحمہ اللہ سے بھی اس جیسی روایت مرسل مروی ہے۔

صفحہ نمبر9749

دائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ جو خوش نصیب لوگ قیامت کے دن اپنا نامہ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ سعادت مند حضرات بے حد خوش ہوں گے اور جوش مسرت میں بےساختہ ہر ایک سے کہتے پھریں گے کہ میرا نامہ اعمال تو پڑھو اور یہ اس لیے کہ جو گناہ بتقاضائے بشریت ان سے ہو گئے وہ بھی ان کی توبہ سے نامہ اعمال میں سے مٹا دیئے گئے ہیں اور نہ صرف مٹا دیئے گئے ہیں بلکہ ان کے بجائے نیکیاں لکھ دی گئی ہیں۔ پس یہ سراسر نیکیوں کا نامہ اعمال ایک ایک کو پورے سرور اور سچی خوشی سے دکھاتے پھرتے ہیں۔

عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ھَا» کے بعد لفظ «ؤُمُ» زیادہ ہے لیکن ظاہر بات یہ ہے کہ «هَاؤُمُ» معنی میں «ھَاکُمْ» کے ہے۔ ابوعثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چپکے سے حجاب میں مومن کو اس کا نامہ اعمال دیا جاتا ہے جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہوتے ہیں یہ اسے پڑھتا ہے اور ہر ایک گناہ پر اس کے ہوش اڑ اڑ جاتے ہیں چہرے کی رنگت پھیکی پڑ جاتی ہے اتنے میں اب اس کی نگاہ اپنی نیکیوں پر پڑتی ہے جب انہیں پڑھنے لگتا ہے تب ذرا چین پڑتا ہے ہوش و حواس درست ہوتے ہیں اور چہرہ کھل جاتا ہے پھر نظریں جما کر پڑھتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کی برائیاں بھی بھلائیوں سے بدل دی گئی ہیں ہر برائی کی جگہ بھلائی لکھی ہوئی ہے۔ اب تو اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور خوشی خوشی نکل کھڑا ہوتا ہے اور جو ملتا ہے اس سے کہتا ہے ذرا میرا نامہ اعمال تو پڑھنا۔

عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ جنہیں فرشتوں نے ان کی شہادت کے بعد غسل دیا تھا ان کے لڑکے عبداللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو قیامت والے دن اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور اس کی برائیاں اس کے نامہ اعمال کی پشت پر لکھی ہوئی ہوں گی جو اس پر ظاہر کی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ ” بتا کیا تو نے یہ اعمال کئے ہیں؟ “ وہ اقرار کرے گا کہ ہاں بیشک اللہ یہ برائیاں مجھ سے ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” دیکھ میں نے دنیا میں بھی تجھے رسوا نہیں کیا، نہ فضیحت کیا، اب یہاں بھی میں تجھ سے درگزر کرتا ہوں اور تیرے تمام گناہوں کو معاف کرتا ہوں۔ “ جب یہ اس سے فارغ ہو گا تب اپنا نامہ اعمال لے کر خوشی سے ایک ایک کو دکھاتا پھرے گا۔

صفحہ نمبر9755

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما والی صحیح حدیث پہلے بیان ہو چکی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے کو اپنے پاس بلائے گا اور اس سے اس کے گناہوں کی بابت پوچھے گا کہ فلاں گناہ کیا ہے؟ فلاں گناہ کیا؟ یہ اقرار کرے گا یہاں تک کہ سمجھ لے گا کہ اب ہلاک ہوا اس وقت جناب باری تعالیٰ فرمائے گا ” اے میرے بندے دنیا میں میں نے تیری ان برائیوں پر پردہ ڈال رکھا تھا اب آج تجھے کیا رسوا کروں جا میں نے تجھے بخشا “، پھر اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جاتا ہے جس میں صرف نیکیاں ہی نیکیاں ہوتی ہیں لیکن کافروں اور منافقوں کے بارے میں تو گواہ پکار اٹھتے ہیں کہ «هَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّـهِ عَلَى الظَّالِمِينَ» [11-ھود:18] ‏ ” یہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کے بارے میں جھوٹ کہا “ لوگو سنو! ان ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہے“ [صحیح بخاری:2441] ‏۔

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ داہنے ہاتھ کے نامہ اعمال والا کہتا ہے کہ مجھے تو دنیا میں ہی یقین کامل تھا کہ یہ حساب کا دن قطعاً آنے والا ہے “،

جیسے اور جگہ فرمایا «الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ» [2-البقرۃ:46] ‏ یعنی ” انہیں یقین تھا کہ یہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں “۔

فرمایا ” ان کی جزا یہ ہے کہ یہ پسندیدہ اور دل خوش کن زندگی پائیں گے اور بلند و بالا بہشت میں رہیں گے، جس کے محلات اونچے اونچے ہوں گے جن میں حوریں قبول صورت اور نیک سیرت ہوں گی جو گھر نعمتوں کے بھرپور خزانے ہوں گے اور یہ تمام نعمتیں نہ ٹلنے والی، نہ ختم ہونے والی بلکہ کمی سے بھی محفوظ ہوں گی “۔

ایک شیخ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ ! کیا اونچے نیچے مرتبے والے جنتی آپس میں ایک دوسرے سے ملاقاتیں بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں بلند مرتبہ لوگ کم مرتبہ لوگوں کے پاس ملاقات کے لیے اتر آئیں گے اور خوب محبت و اخلاص سے سلام مصافحے اور آؤ بھگت ہو گی ہاں البتہ نیچے والے بہ سبب اپنے اعمال کی کمی کے اوپر نہ چڑھیں گے“ ۔ [المیزان:3298:ضعیف] ‏۔

ایک اور صحیح حدیث میں ہے جنت میں ایک سو درجے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں ۔ [صحیح بخاری:2790] ‏

پھر فرماتا ہے ” اس کے پھل نیچے نیچے ہوں گے “، براء بن عازب وغیرہ فرماتے ہیں ”اس قدر جھکے ہوئے ہوں گے کہ جنتی اپنے چھپر کھٹ پر لیٹے ہی لیٹے ان میوؤں کو توڑ لیا کریں گے۔‏“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر جنتی کو اللہ کی طرف سے ایک لکھا ہوا پروانہ ملے گا جس میں لکھا ہوا ہو گا «بِسْمِ اللَّه الرَّحْمَن الرَّحِيم هَذَا كِتَاب مِنْ اللَّه لِفُلَانِ بْن فُلَان أَدْخِلُوهُ جَنَّة عَالِيَة قُطُوفهَا دَانِيَة» یعنی اللہ رحمن و رحیم کے نام سے شروع یہ پروانہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فلاں شخص کے لیے جو فلاں کا بیٹا ہے اسے بلند و بالا جھکی ہوئی شاخوں اور لدے پھندے ہوئے خوشوں والی خوشگوار جنت میں جانے دو“ ۔ [طبرانی کبیر:6191:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9756

بعض روایتوں میں ہے یہ پروانہ پل صراط پر حوالے کر دیا جائے گا۔ [العلل المتناهیه لا ابن جوزی:1548:ضعیف] ‏

پھر فرمایا ” انہیں بطور احسان اور مزید لطف و کرم کے زبانی بھی کھانے پینے کی رخصت مرحمت ہو گی اور کہا جائے گا کہ یہ تمہارے نیک اعمال کا بدلہ ہے “۔

اعمال کا بدلہ کہنا صرف بطور لطف کے ہے ورنہ صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عمل کرتے جاؤ سیدھے اور قریب قریب رہو اور جان رکھو کہ صرف اعمال جنت میں لے جانے کے لیے کافی نہیں۔“، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ کے اعمال بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ میرے، ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت شامل حال ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6467] ‏

صفحہ نمبر9757

دائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ جو خوش نصیب لوگ قیامت کے دن اپنا نامہ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ سعادت مند حضرات بے حد خوش ہوں گے اور جوش مسرت میں بےساختہ ہر ایک سے کہتے پھریں گے کہ میرا نامہ اعمال تو پڑھو اور یہ اس لیے کہ جو گناہ بتقاضائے بشریت ان سے ہو گئے وہ بھی ان کی توبہ سے نامہ اعمال میں سے مٹا دیئے گئے ہیں اور نہ صرف مٹا دیئے گئے ہیں بلکہ ان کے بجائے نیکیاں لکھ دی گئی ہیں۔ پس یہ سراسر نیکیوں کا نامہ اعمال ایک ایک کو پورے سرور اور سچی خوشی سے دکھاتے پھرتے ہیں۔

عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ھَا» کے بعد لفظ «ؤُمُ» زیادہ ہے لیکن ظاہر بات یہ ہے کہ «هَاؤُمُ» معنی میں «ھَاکُمْ» کے ہے۔ ابوعثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چپکے سے حجاب میں مومن کو اس کا نامہ اعمال دیا جاتا ہے جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہوتے ہیں یہ اسے پڑھتا ہے اور ہر ایک گناہ پر اس کے ہوش اڑ اڑ جاتے ہیں چہرے کی رنگت پھیکی پڑ جاتی ہے اتنے میں اب اس کی نگاہ اپنی نیکیوں پر پڑتی ہے جب انہیں پڑھنے لگتا ہے تب ذرا چین پڑتا ہے ہوش و حواس درست ہوتے ہیں اور چہرہ کھل جاتا ہے پھر نظریں جما کر پڑھتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کی برائیاں بھی بھلائیوں سے بدل دی گئی ہیں ہر برائی کی جگہ بھلائی لکھی ہوئی ہے۔ اب تو اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور خوشی خوشی نکل کھڑا ہوتا ہے اور جو ملتا ہے اس سے کہتا ہے ذرا میرا نامہ اعمال تو پڑھنا۔

عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ جنہیں فرشتوں نے ان کی شہادت کے بعد غسل دیا تھا ان کے لڑکے عبداللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو قیامت والے دن اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور اس کی برائیاں اس کے نامہ اعمال کی پشت پر لکھی ہوئی ہوں گی جو اس پر ظاہر کی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ ” بتا کیا تو نے یہ اعمال کئے ہیں؟ “ وہ اقرار کرے گا کہ ہاں بیشک اللہ یہ برائیاں مجھ سے ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” دیکھ میں نے دنیا میں بھی تجھے رسوا نہیں کیا، نہ فضیحت کیا، اب یہاں بھی میں تجھ سے درگزر کرتا ہوں اور تیرے تمام گناہوں کو معاف کرتا ہوں۔ “ جب یہ اس سے فارغ ہو گا تب اپنا نامہ اعمال لے کر خوشی سے ایک ایک کو دکھاتا پھرے گا۔

صفحہ نمبر9755

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما والی صحیح حدیث پہلے بیان ہو چکی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے کو اپنے پاس بلائے گا اور اس سے اس کے گناہوں کی بابت پوچھے گا کہ فلاں گناہ کیا ہے؟ فلاں گناہ کیا؟ یہ اقرار کرے گا یہاں تک کہ سمجھ لے گا کہ اب ہلاک ہوا اس وقت جناب باری تعالیٰ فرمائے گا ” اے میرے بندے دنیا میں میں نے تیری ان برائیوں پر پردہ ڈال رکھا تھا اب آج تجھے کیا رسوا کروں جا میں نے تجھے بخشا “، پھر اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جاتا ہے جس میں صرف نیکیاں ہی نیکیاں ہوتی ہیں لیکن کافروں اور منافقوں کے بارے میں تو گواہ پکار اٹھتے ہیں کہ «هَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّـهِ عَلَى الظَّالِمِينَ» [11-ھود:18] ‏ ” یہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کے بارے میں جھوٹ کہا “ لوگو سنو! ان ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہے“ [صحیح بخاری:2441] ‏۔

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ داہنے ہاتھ کے نامہ اعمال والا کہتا ہے کہ مجھے تو دنیا میں ہی یقین کامل تھا کہ یہ حساب کا دن قطعاً آنے والا ہے “،

جیسے اور جگہ فرمایا «الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ» [2-البقرۃ:46] ‏ یعنی ” انہیں یقین تھا کہ یہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں “۔

فرمایا ” ان کی جزا یہ ہے کہ یہ پسندیدہ اور دل خوش کن زندگی پائیں گے اور بلند و بالا بہشت میں رہیں گے، جس کے محلات اونچے اونچے ہوں گے جن میں حوریں قبول صورت اور نیک سیرت ہوں گی جو گھر نعمتوں کے بھرپور خزانے ہوں گے اور یہ تمام نعمتیں نہ ٹلنے والی، نہ ختم ہونے والی بلکہ کمی سے بھی محفوظ ہوں گی “۔

ایک شیخ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ ! کیا اونچے نیچے مرتبے والے جنتی آپس میں ایک دوسرے سے ملاقاتیں بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں بلند مرتبہ لوگ کم مرتبہ لوگوں کے پاس ملاقات کے لیے اتر آئیں گے اور خوب محبت و اخلاص سے سلام مصافحے اور آؤ بھگت ہو گی ہاں البتہ نیچے والے بہ سبب اپنے اعمال کی کمی کے اوپر نہ چڑھیں گے“ ۔ [المیزان:3298:ضعیف] ‏۔

ایک اور صحیح حدیث میں ہے جنت میں ایک سو درجے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں ۔ [صحیح بخاری:2790] ‏

پھر فرماتا ہے ” اس کے پھل نیچے نیچے ہوں گے “، براء بن عازب وغیرہ فرماتے ہیں ”اس قدر جھکے ہوئے ہوں گے کہ جنتی اپنے چھپر کھٹ پر لیٹے ہی لیٹے ان میوؤں کو توڑ لیا کریں گے۔‏“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر جنتی کو اللہ کی طرف سے ایک لکھا ہوا پروانہ ملے گا جس میں لکھا ہوا ہو گا «بِسْمِ اللَّه الرَّحْمَن الرَّحِيم هَذَا كِتَاب مِنْ اللَّه لِفُلَانِ بْن فُلَان أَدْخِلُوهُ جَنَّة عَالِيَة قُطُوفهَا دَانِيَة» یعنی اللہ رحمن و رحیم کے نام سے شروع یہ پروانہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فلاں شخص کے لیے جو فلاں کا بیٹا ہے اسے بلند و بالا جھکی ہوئی شاخوں اور لدے پھندے ہوئے خوشوں والی خوشگوار جنت میں جانے دو“ ۔ [طبرانی کبیر:6191:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9756

بعض روایتوں میں ہے یہ پروانہ پل صراط پر حوالے کر دیا جائے گا۔ [العلل المتناهیه لا ابن جوزی:1548:ضعیف] ‏

پھر فرمایا ” انہیں بطور احسان اور مزید لطف و کرم کے زبانی بھی کھانے پینے کی رخصت مرحمت ہو گی اور کہا جائے گا کہ یہ تمہارے نیک اعمال کا بدلہ ہے “۔

اعمال کا بدلہ کہنا صرف بطور لطف کے ہے ورنہ صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عمل کرتے جاؤ سیدھے اور قریب قریب رہو اور جان رکھو کہ صرف اعمال جنت میں لے جانے کے لیے کافی نہیں۔“، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ کے اعمال بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ میرے، ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت شامل حال ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6467] ‏

صفحہ نمبر9757

دائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ جو خوش نصیب لوگ قیامت کے دن اپنا نامہ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ سعادت مند حضرات بے حد خوش ہوں گے اور جوش مسرت میں بےساختہ ہر ایک سے کہتے پھریں گے کہ میرا نامہ اعمال تو پڑھو اور یہ اس لیے کہ جو گناہ بتقاضائے بشریت ان سے ہو گئے وہ بھی ان کی توبہ سے نامہ اعمال میں سے مٹا دیئے گئے ہیں اور نہ صرف مٹا دیئے گئے ہیں بلکہ ان کے بجائے نیکیاں لکھ دی گئی ہیں۔ پس یہ سراسر نیکیوں کا نامہ اعمال ایک ایک کو پورے سرور اور سچی خوشی سے دکھاتے پھرتے ہیں۔

عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ھَا» کے بعد لفظ «ؤُمُ» زیادہ ہے لیکن ظاہر بات یہ ہے کہ «هَاؤُمُ» معنی میں «ھَاکُمْ» کے ہے۔ ابوعثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چپکے سے حجاب میں مومن کو اس کا نامہ اعمال دیا جاتا ہے جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہوتے ہیں یہ اسے پڑھتا ہے اور ہر ایک گناہ پر اس کے ہوش اڑ اڑ جاتے ہیں چہرے کی رنگت پھیکی پڑ جاتی ہے اتنے میں اب اس کی نگاہ اپنی نیکیوں پر پڑتی ہے جب انہیں پڑھنے لگتا ہے تب ذرا چین پڑتا ہے ہوش و حواس درست ہوتے ہیں اور چہرہ کھل جاتا ہے پھر نظریں جما کر پڑھتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کی برائیاں بھی بھلائیوں سے بدل دی گئی ہیں ہر برائی کی جگہ بھلائی لکھی ہوئی ہے۔ اب تو اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور خوشی خوشی نکل کھڑا ہوتا ہے اور جو ملتا ہے اس سے کہتا ہے ذرا میرا نامہ اعمال تو پڑھنا۔

عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ جنہیں فرشتوں نے ان کی شہادت کے بعد غسل دیا تھا ان کے لڑکے عبداللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو قیامت والے دن اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور اس کی برائیاں اس کے نامہ اعمال کی پشت پر لکھی ہوئی ہوں گی جو اس پر ظاہر کی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ ” بتا کیا تو نے یہ اعمال کئے ہیں؟ “ وہ اقرار کرے گا کہ ہاں بیشک اللہ یہ برائیاں مجھ سے ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” دیکھ میں نے دنیا میں بھی تجھے رسوا نہیں کیا، نہ فضیحت کیا، اب یہاں بھی میں تجھ سے درگزر کرتا ہوں اور تیرے تمام گناہوں کو معاف کرتا ہوں۔ “ جب یہ اس سے فارغ ہو گا تب اپنا نامہ اعمال لے کر خوشی سے ایک ایک کو دکھاتا پھرے گا۔

صفحہ نمبر9755

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما والی صحیح حدیث پہلے بیان ہو چکی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے کو اپنے پاس بلائے گا اور اس سے اس کے گناہوں کی بابت پوچھے گا کہ فلاں گناہ کیا ہے؟ فلاں گناہ کیا؟ یہ اقرار کرے گا یہاں تک کہ سمجھ لے گا کہ اب ہلاک ہوا اس وقت جناب باری تعالیٰ فرمائے گا ” اے میرے بندے دنیا میں میں نے تیری ان برائیوں پر پردہ ڈال رکھا تھا اب آج تجھے کیا رسوا کروں جا میں نے تجھے بخشا “، پھر اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جاتا ہے جس میں صرف نیکیاں ہی نیکیاں ہوتی ہیں لیکن کافروں اور منافقوں کے بارے میں تو گواہ پکار اٹھتے ہیں کہ «هَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّـهِ عَلَى الظَّالِمِينَ» [11-ھود:18] ‏ ” یہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کے بارے میں جھوٹ کہا “ لوگو سنو! ان ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہے“ [صحیح بخاری:2441] ‏۔

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ داہنے ہاتھ کے نامہ اعمال والا کہتا ہے کہ مجھے تو دنیا میں ہی یقین کامل تھا کہ یہ حساب کا دن قطعاً آنے والا ہے “،

جیسے اور جگہ فرمایا «الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ» [2-البقرۃ:46] ‏ یعنی ” انہیں یقین تھا کہ یہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں “۔

فرمایا ” ان کی جزا یہ ہے کہ یہ پسندیدہ اور دل خوش کن زندگی پائیں گے اور بلند و بالا بہشت میں رہیں گے، جس کے محلات اونچے اونچے ہوں گے جن میں حوریں قبول صورت اور نیک سیرت ہوں گی جو گھر نعمتوں کے بھرپور خزانے ہوں گے اور یہ تمام نعمتیں نہ ٹلنے والی، نہ ختم ہونے والی بلکہ کمی سے بھی محفوظ ہوں گی “۔

ایک شیخ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ ! کیا اونچے نیچے مرتبے والے جنتی آپس میں ایک دوسرے سے ملاقاتیں بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں بلند مرتبہ لوگ کم مرتبہ لوگوں کے پاس ملاقات کے لیے اتر آئیں گے اور خوب محبت و اخلاص سے سلام مصافحے اور آؤ بھگت ہو گی ہاں البتہ نیچے والے بہ سبب اپنے اعمال کی کمی کے اوپر نہ چڑھیں گے“ ۔ [المیزان:3298:ضعیف] ‏۔

ایک اور صحیح حدیث میں ہے جنت میں ایک سو درجے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں ۔ [صحیح بخاری:2790] ‏

پھر فرماتا ہے ” اس کے پھل نیچے نیچے ہوں گے “، براء بن عازب وغیرہ فرماتے ہیں ”اس قدر جھکے ہوئے ہوں گے کہ جنتی اپنے چھپر کھٹ پر لیٹے ہی لیٹے ان میوؤں کو توڑ لیا کریں گے۔‏“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر جنتی کو اللہ کی طرف سے ایک لکھا ہوا پروانہ ملے گا جس میں لکھا ہوا ہو گا «بِسْمِ اللَّه الرَّحْمَن الرَّحِيم هَذَا كِتَاب مِنْ اللَّه لِفُلَانِ بْن فُلَان أَدْخِلُوهُ جَنَّة عَالِيَة قُطُوفهَا دَانِيَة» یعنی اللہ رحمن و رحیم کے نام سے شروع یہ پروانہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فلاں شخص کے لیے جو فلاں کا بیٹا ہے اسے بلند و بالا جھکی ہوئی شاخوں اور لدے پھندے ہوئے خوشوں والی خوشگوار جنت میں جانے دو“ ۔ [طبرانی کبیر:6191:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9756

بعض روایتوں میں ہے یہ پروانہ پل صراط پر حوالے کر دیا جائے گا۔ [العلل المتناهیه لا ابن جوزی:1548:ضعیف] ‏

پھر فرمایا ” انہیں بطور احسان اور مزید لطف و کرم کے زبانی بھی کھانے پینے کی رخصت مرحمت ہو گی اور کہا جائے گا کہ یہ تمہارے نیک اعمال کا بدلہ ہے “۔

اعمال کا بدلہ کہنا صرف بطور لطف کے ہے ورنہ صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عمل کرتے جاؤ سیدھے اور قریب قریب رہو اور جان رکھو کہ صرف اعمال جنت میں لے جانے کے لیے کافی نہیں۔“، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ کے اعمال بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ میرے، ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت شامل حال ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6467] ‏

صفحہ نمبر9757

دائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ جو خوش نصیب لوگ قیامت کے دن اپنا نامہ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ سعادت مند حضرات بے حد خوش ہوں گے اور جوش مسرت میں بےساختہ ہر ایک سے کہتے پھریں گے کہ میرا نامہ اعمال تو پڑھو اور یہ اس لیے کہ جو گناہ بتقاضائے بشریت ان سے ہو گئے وہ بھی ان کی توبہ سے نامہ اعمال میں سے مٹا دیئے گئے ہیں اور نہ صرف مٹا دیئے گئے ہیں بلکہ ان کے بجائے نیکیاں لکھ دی گئی ہیں۔ پس یہ سراسر نیکیوں کا نامہ اعمال ایک ایک کو پورے سرور اور سچی خوشی سے دکھاتے پھرتے ہیں۔

عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ھَا» کے بعد لفظ «ؤُمُ» زیادہ ہے لیکن ظاہر بات یہ ہے کہ «هَاؤُمُ» معنی میں «ھَاکُمْ» کے ہے۔ ابوعثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چپکے سے حجاب میں مومن کو اس کا نامہ اعمال دیا جاتا ہے جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہوتے ہیں یہ اسے پڑھتا ہے اور ہر ایک گناہ پر اس کے ہوش اڑ اڑ جاتے ہیں چہرے کی رنگت پھیکی پڑ جاتی ہے اتنے میں اب اس کی نگاہ اپنی نیکیوں پر پڑتی ہے جب انہیں پڑھنے لگتا ہے تب ذرا چین پڑتا ہے ہوش و حواس درست ہوتے ہیں اور چہرہ کھل جاتا ہے پھر نظریں جما کر پڑھتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کی برائیاں بھی بھلائیوں سے بدل دی گئی ہیں ہر برائی کی جگہ بھلائی لکھی ہوئی ہے۔ اب تو اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور خوشی خوشی نکل کھڑا ہوتا ہے اور جو ملتا ہے اس سے کہتا ہے ذرا میرا نامہ اعمال تو پڑھنا۔

عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ جنہیں فرشتوں نے ان کی شہادت کے بعد غسل دیا تھا ان کے لڑکے عبداللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو قیامت والے دن اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور اس کی برائیاں اس کے نامہ اعمال کی پشت پر لکھی ہوئی ہوں گی جو اس پر ظاہر کی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ ” بتا کیا تو نے یہ اعمال کئے ہیں؟ “ وہ اقرار کرے گا کہ ہاں بیشک اللہ یہ برائیاں مجھ سے ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” دیکھ میں نے دنیا میں بھی تجھے رسوا نہیں کیا، نہ فضیحت کیا، اب یہاں بھی میں تجھ سے درگزر کرتا ہوں اور تیرے تمام گناہوں کو معاف کرتا ہوں۔ “ جب یہ اس سے فارغ ہو گا تب اپنا نامہ اعمال لے کر خوشی سے ایک ایک کو دکھاتا پھرے گا۔

صفحہ نمبر9755

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما والی صحیح حدیث پہلے بیان ہو چکی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے کو اپنے پاس بلائے گا اور اس سے اس کے گناہوں کی بابت پوچھے گا کہ فلاں گناہ کیا ہے؟ فلاں گناہ کیا؟ یہ اقرار کرے گا یہاں تک کہ سمجھ لے گا کہ اب ہلاک ہوا اس وقت جناب باری تعالیٰ فرمائے گا ” اے میرے بندے دنیا میں میں نے تیری ان برائیوں پر پردہ ڈال رکھا تھا اب آج تجھے کیا رسوا کروں جا میں نے تجھے بخشا “، پھر اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جاتا ہے جس میں صرف نیکیاں ہی نیکیاں ہوتی ہیں لیکن کافروں اور منافقوں کے بارے میں تو گواہ پکار اٹھتے ہیں کہ «هَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّـهِ عَلَى الظَّالِمِينَ» [11-ھود:18] ‏ ” یہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کے بارے میں جھوٹ کہا “ لوگو سنو! ان ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہے“ [صحیح بخاری:2441] ‏۔

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ داہنے ہاتھ کے نامہ اعمال والا کہتا ہے کہ مجھے تو دنیا میں ہی یقین کامل تھا کہ یہ حساب کا دن قطعاً آنے والا ہے “،

جیسے اور جگہ فرمایا «الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ» [2-البقرۃ:46] ‏ یعنی ” انہیں یقین تھا کہ یہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں “۔

فرمایا ” ان کی جزا یہ ہے کہ یہ پسندیدہ اور دل خوش کن زندگی پائیں گے اور بلند و بالا بہشت میں رہیں گے، جس کے محلات اونچے اونچے ہوں گے جن میں حوریں قبول صورت اور نیک سیرت ہوں گی جو گھر نعمتوں کے بھرپور خزانے ہوں گے اور یہ تمام نعمتیں نہ ٹلنے والی، نہ ختم ہونے والی بلکہ کمی سے بھی محفوظ ہوں گی “۔

ایک شیخ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ ! کیا اونچے نیچے مرتبے والے جنتی آپس میں ایک دوسرے سے ملاقاتیں بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں بلند مرتبہ لوگ کم مرتبہ لوگوں کے پاس ملاقات کے لیے اتر آئیں گے اور خوب محبت و اخلاص سے سلام مصافحے اور آؤ بھگت ہو گی ہاں البتہ نیچے والے بہ سبب اپنے اعمال کی کمی کے اوپر نہ چڑھیں گے“ ۔ [المیزان:3298:ضعیف] ‏۔

ایک اور صحیح حدیث میں ہے جنت میں ایک سو درجے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں ۔ [صحیح بخاری:2790] ‏

پھر فرماتا ہے ” اس کے پھل نیچے نیچے ہوں گے “، براء بن عازب وغیرہ فرماتے ہیں ”اس قدر جھکے ہوئے ہوں گے کہ جنتی اپنے چھپر کھٹ پر لیٹے ہی لیٹے ان میوؤں کو توڑ لیا کریں گے۔‏“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر جنتی کو اللہ کی طرف سے ایک لکھا ہوا پروانہ ملے گا جس میں لکھا ہوا ہو گا «بِسْمِ اللَّه الرَّحْمَن الرَّحِيم هَذَا كِتَاب مِنْ اللَّه لِفُلَانِ بْن فُلَان أَدْخِلُوهُ جَنَّة عَالِيَة قُطُوفهَا دَانِيَة» یعنی اللہ رحمن و رحیم کے نام سے شروع یہ پروانہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فلاں شخص کے لیے جو فلاں کا بیٹا ہے اسے بلند و بالا جھکی ہوئی شاخوں اور لدے پھندے ہوئے خوشوں والی خوشگوار جنت میں جانے دو“ ۔ [طبرانی کبیر:6191:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9756

بعض روایتوں میں ہے یہ پروانہ پل صراط پر حوالے کر دیا جائے گا۔ [العلل المتناهیه لا ابن جوزی:1548:ضعیف] ‏

پھر فرمایا ” انہیں بطور احسان اور مزید لطف و کرم کے زبانی بھی کھانے پینے کی رخصت مرحمت ہو گی اور کہا جائے گا کہ یہ تمہارے نیک اعمال کا بدلہ ہے “۔

اعمال کا بدلہ کہنا صرف بطور لطف کے ہے ورنہ صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عمل کرتے جاؤ سیدھے اور قریب قریب رہو اور جان رکھو کہ صرف اعمال جنت میں لے جانے کے لیے کافی نہیں۔“، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ کے اعمال بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ میرے، ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت شامل حال ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6467] ‏

صفحہ نمبر9757

دائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ جو خوش نصیب لوگ قیامت کے دن اپنا نامہ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ سعادت مند حضرات بے حد خوش ہوں گے اور جوش مسرت میں بےساختہ ہر ایک سے کہتے پھریں گے کہ میرا نامہ اعمال تو پڑھو اور یہ اس لیے کہ جو گناہ بتقاضائے بشریت ان سے ہو گئے وہ بھی ان کی توبہ سے نامہ اعمال میں سے مٹا دیئے گئے ہیں اور نہ صرف مٹا دیئے گئے ہیں بلکہ ان کے بجائے نیکیاں لکھ دی گئی ہیں۔ پس یہ سراسر نیکیوں کا نامہ اعمال ایک ایک کو پورے سرور اور سچی خوشی سے دکھاتے پھرتے ہیں۔

عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ھَا» کے بعد لفظ «ؤُمُ» زیادہ ہے لیکن ظاہر بات یہ ہے کہ «هَاؤُمُ» معنی میں «ھَاکُمْ» کے ہے۔ ابوعثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چپکے سے حجاب میں مومن کو اس کا نامہ اعمال دیا جاتا ہے جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہوتے ہیں یہ اسے پڑھتا ہے اور ہر ایک گناہ پر اس کے ہوش اڑ اڑ جاتے ہیں چہرے کی رنگت پھیکی پڑ جاتی ہے اتنے میں اب اس کی نگاہ اپنی نیکیوں پر پڑتی ہے جب انہیں پڑھنے لگتا ہے تب ذرا چین پڑتا ہے ہوش و حواس درست ہوتے ہیں اور چہرہ کھل جاتا ہے پھر نظریں جما کر پڑھتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کی برائیاں بھی بھلائیوں سے بدل دی گئی ہیں ہر برائی کی جگہ بھلائی لکھی ہوئی ہے۔ اب تو اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور خوشی خوشی نکل کھڑا ہوتا ہے اور جو ملتا ہے اس سے کہتا ہے ذرا میرا نامہ اعمال تو پڑھنا۔

عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ جنہیں فرشتوں نے ان کی شہادت کے بعد غسل دیا تھا ان کے لڑکے عبداللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو قیامت والے دن اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور اس کی برائیاں اس کے نامہ اعمال کی پشت پر لکھی ہوئی ہوں گی جو اس پر ظاہر کی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ ” بتا کیا تو نے یہ اعمال کئے ہیں؟ “ وہ اقرار کرے گا کہ ہاں بیشک اللہ یہ برائیاں مجھ سے ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” دیکھ میں نے دنیا میں بھی تجھے رسوا نہیں کیا، نہ فضیحت کیا، اب یہاں بھی میں تجھ سے درگزر کرتا ہوں اور تیرے تمام گناہوں کو معاف کرتا ہوں۔ “ جب یہ اس سے فارغ ہو گا تب اپنا نامہ اعمال لے کر خوشی سے ایک ایک کو دکھاتا پھرے گا۔

صفحہ نمبر9755

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما والی صحیح حدیث پہلے بیان ہو چکی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے کو اپنے پاس بلائے گا اور اس سے اس کے گناہوں کی بابت پوچھے گا کہ فلاں گناہ کیا ہے؟ فلاں گناہ کیا؟ یہ اقرار کرے گا یہاں تک کہ سمجھ لے گا کہ اب ہلاک ہوا اس وقت جناب باری تعالیٰ فرمائے گا ” اے میرے بندے دنیا میں میں نے تیری ان برائیوں پر پردہ ڈال رکھا تھا اب آج تجھے کیا رسوا کروں جا میں نے تجھے بخشا “، پھر اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جاتا ہے جس میں صرف نیکیاں ہی نیکیاں ہوتی ہیں لیکن کافروں اور منافقوں کے بارے میں تو گواہ پکار اٹھتے ہیں کہ «هَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّـهِ عَلَى الظَّالِمِينَ» [11-ھود:18] ‏ ” یہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کے بارے میں جھوٹ کہا “ لوگو سنو! ان ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہے“ [صحیح بخاری:2441] ‏۔

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ داہنے ہاتھ کے نامہ اعمال والا کہتا ہے کہ مجھے تو دنیا میں ہی یقین کامل تھا کہ یہ حساب کا دن قطعاً آنے والا ہے “،

جیسے اور جگہ فرمایا «الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ» [2-البقرۃ:46] ‏ یعنی ” انہیں یقین تھا کہ یہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں “۔

فرمایا ” ان کی جزا یہ ہے کہ یہ پسندیدہ اور دل خوش کن زندگی پائیں گے اور بلند و بالا بہشت میں رہیں گے، جس کے محلات اونچے اونچے ہوں گے جن میں حوریں قبول صورت اور نیک سیرت ہوں گی جو گھر نعمتوں کے بھرپور خزانے ہوں گے اور یہ تمام نعمتیں نہ ٹلنے والی، نہ ختم ہونے والی بلکہ کمی سے بھی محفوظ ہوں گی “۔

ایک شیخ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ ! کیا اونچے نیچے مرتبے والے جنتی آپس میں ایک دوسرے سے ملاقاتیں بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں بلند مرتبہ لوگ کم مرتبہ لوگوں کے پاس ملاقات کے لیے اتر آئیں گے اور خوب محبت و اخلاص سے سلام مصافحے اور آؤ بھگت ہو گی ہاں البتہ نیچے والے بہ سبب اپنے اعمال کی کمی کے اوپر نہ چڑھیں گے“ ۔ [المیزان:3298:ضعیف] ‏۔

ایک اور صحیح حدیث میں ہے جنت میں ایک سو درجے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں ۔ [صحیح بخاری:2790] ‏

پھر فرماتا ہے ” اس کے پھل نیچے نیچے ہوں گے “، براء بن عازب وغیرہ فرماتے ہیں ”اس قدر جھکے ہوئے ہوں گے کہ جنتی اپنے چھپر کھٹ پر لیٹے ہی لیٹے ان میوؤں کو توڑ لیا کریں گے۔‏“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر جنتی کو اللہ کی طرف سے ایک لکھا ہوا پروانہ ملے گا جس میں لکھا ہوا ہو گا «بِسْمِ اللَّه الرَّحْمَن الرَّحِيم هَذَا كِتَاب مِنْ اللَّه لِفُلَانِ بْن فُلَان أَدْخِلُوهُ جَنَّة عَالِيَة قُطُوفهَا دَانِيَة» یعنی اللہ رحمن و رحیم کے نام سے شروع یہ پروانہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فلاں شخص کے لیے جو فلاں کا بیٹا ہے اسے بلند و بالا جھکی ہوئی شاخوں اور لدے پھندے ہوئے خوشوں والی خوشگوار جنت میں جانے دو“ ۔ [طبرانی کبیر:6191:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9756

بعض روایتوں میں ہے یہ پروانہ پل صراط پر حوالے کر دیا جائے گا۔ [العلل المتناهیه لا ابن جوزی:1548:ضعیف] ‏

پھر فرمایا ” انہیں بطور احسان اور مزید لطف و کرم کے زبانی بھی کھانے پینے کی رخصت مرحمت ہو گی اور کہا جائے گا کہ یہ تمہارے نیک اعمال کا بدلہ ہے “۔

اعمال کا بدلہ کہنا صرف بطور لطف کے ہے ورنہ صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عمل کرتے جاؤ سیدھے اور قریب قریب رہو اور جان رکھو کہ صرف اعمال جنت میں لے جانے کے لیے کافی نہیں۔“، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ کے اعمال بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ میرے، ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت شامل حال ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6467] ‏

صفحہ نمبر9757

دائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ جو خوش نصیب لوگ قیامت کے دن اپنا نامہ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ سعادت مند حضرات بے حد خوش ہوں گے اور جوش مسرت میں بےساختہ ہر ایک سے کہتے پھریں گے کہ میرا نامہ اعمال تو پڑھو اور یہ اس لیے کہ جو گناہ بتقاضائے بشریت ان سے ہو گئے وہ بھی ان کی توبہ سے نامہ اعمال میں سے مٹا دیئے گئے ہیں اور نہ صرف مٹا دیئے گئے ہیں بلکہ ان کے بجائے نیکیاں لکھ دی گئی ہیں۔ پس یہ سراسر نیکیوں کا نامہ اعمال ایک ایک کو پورے سرور اور سچی خوشی سے دکھاتے پھرتے ہیں۔

عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ھَا» کے بعد لفظ «ؤُمُ» زیادہ ہے لیکن ظاہر بات یہ ہے کہ «هَاؤُمُ» معنی میں «ھَاکُمْ» کے ہے۔ ابوعثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چپکے سے حجاب میں مومن کو اس کا نامہ اعمال دیا جاتا ہے جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہوتے ہیں یہ اسے پڑھتا ہے اور ہر ایک گناہ پر اس کے ہوش اڑ اڑ جاتے ہیں چہرے کی رنگت پھیکی پڑ جاتی ہے اتنے میں اب اس کی نگاہ اپنی نیکیوں پر پڑتی ہے جب انہیں پڑھنے لگتا ہے تب ذرا چین پڑتا ہے ہوش و حواس درست ہوتے ہیں اور چہرہ کھل جاتا ہے پھر نظریں جما کر پڑھتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کی برائیاں بھی بھلائیوں سے بدل دی گئی ہیں ہر برائی کی جگہ بھلائی لکھی ہوئی ہے۔ اب تو اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور خوشی خوشی نکل کھڑا ہوتا ہے اور جو ملتا ہے اس سے کہتا ہے ذرا میرا نامہ اعمال تو پڑھنا۔

عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ جنہیں فرشتوں نے ان کی شہادت کے بعد غسل دیا تھا ان کے لڑکے عبداللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو قیامت والے دن اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور اس کی برائیاں اس کے نامہ اعمال کی پشت پر لکھی ہوئی ہوں گی جو اس پر ظاہر کی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ ” بتا کیا تو نے یہ اعمال کئے ہیں؟ “ وہ اقرار کرے گا کہ ہاں بیشک اللہ یہ برائیاں مجھ سے ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” دیکھ میں نے دنیا میں بھی تجھے رسوا نہیں کیا، نہ فضیحت کیا، اب یہاں بھی میں تجھ سے درگزر کرتا ہوں اور تیرے تمام گناہوں کو معاف کرتا ہوں۔ “ جب یہ اس سے فارغ ہو گا تب اپنا نامہ اعمال لے کر خوشی سے ایک ایک کو دکھاتا پھرے گا۔

صفحہ نمبر9755

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما والی صحیح حدیث پہلے بیان ہو چکی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے کو اپنے پاس بلائے گا اور اس سے اس کے گناہوں کی بابت پوچھے گا کہ فلاں گناہ کیا ہے؟ فلاں گناہ کیا؟ یہ اقرار کرے گا یہاں تک کہ سمجھ لے گا کہ اب ہلاک ہوا اس وقت جناب باری تعالیٰ فرمائے گا ” اے میرے بندے دنیا میں میں نے تیری ان برائیوں پر پردہ ڈال رکھا تھا اب آج تجھے کیا رسوا کروں جا میں نے تجھے بخشا “، پھر اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جاتا ہے جس میں صرف نیکیاں ہی نیکیاں ہوتی ہیں لیکن کافروں اور منافقوں کے بارے میں تو گواہ پکار اٹھتے ہیں کہ «هَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّـهِ عَلَى الظَّالِمِينَ» [11-ھود:18] ‏ ” یہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کے بارے میں جھوٹ کہا “ لوگو سنو! ان ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہے“ [صحیح بخاری:2441] ‏۔

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ داہنے ہاتھ کے نامہ اعمال والا کہتا ہے کہ مجھے تو دنیا میں ہی یقین کامل تھا کہ یہ حساب کا دن قطعاً آنے والا ہے “،

جیسے اور جگہ فرمایا «الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ» [2-البقرۃ:46] ‏ یعنی ” انہیں یقین تھا کہ یہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں “۔

فرمایا ” ان کی جزا یہ ہے کہ یہ پسندیدہ اور دل خوش کن زندگی پائیں گے اور بلند و بالا بہشت میں رہیں گے، جس کے محلات اونچے اونچے ہوں گے جن میں حوریں قبول صورت اور نیک سیرت ہوں گی جو گھر نعمتوں کے بھرپور خزانے ہوں گے اور یہ تمام نعمتیں نہ ٹلنے والی، نہ ختم ہونے والی بلکہ کمی سے بھی محفوظ ہوں گی “۔

ایک شیخ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ ! کیا اونچے نیچے مرتبے والے جنتی آپس میں ایک دوسرے سے ملاقاتیں بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں بلند مرتبہ لوگ کم مرتبہ لوگوں کے پاس ملاقات کے لیے اتر آئیں گے اور خوب محبت و اخلاص سے سلام مصافحے اور آؤ بھگت ہو گی ہاں البتہ نیچے والے بہ سبب اپنے اعمال کی کمی کے اوپر نہ چڑھیں گے“ ۔ [المیزان:3298:ضعیف] ‏۔

ایک اور صحیح حدیث میں ہے جنت میں ایک سو درجے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں ۔ [صحیح بخاری:2790] ‏

پھر فرماتا ہے ” اس کے پھل نیچے نیچے ہوں گے “، براء بن عازب وغیرہ فرماتے ہیں ”اس قدر جھکے ہوئے ہوں گے کہ جنتی اپنے چھپر کھٹ پر لیٹے ہی لیٹے ان میوؤں کو توڑ لیا کریں گے۔‏“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر جنتی کو اللہ کی طرف سے ایک لکھا ہوا پروانہ ملے گا جس میں لکھا ہوا ہو گا «بِسْمِ اللَّه الرَّحْمَن الرَّحِيم هَذَا كِتَاب مِنْ اللَّه لِفُلَانِ بْن فُلَان أَدْخِلُوهُ جَنَّة عَالِيَة قُطُوفهَا دَانِيَة» یعنی اللہ رحمن و رحیم کے نام سے شروع یہ پروانہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فلاں شخص کے لیے جو فلاں کا بیٹا ہے اسے بلند و بالا جھکی ہوئی شاخوں اور لدے پھندے ہوئے خوشوں والی خوشگوار جنت میں جانے دو“ ۔ [طبرانی کبیر:6191:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9756

بعض روایتوں میں ہے یہ پروانہ پل صراط پر حوالے کر دیا جائے گا۔ [العلل المتناهیه لا ابن جوزی:1548:ضعیف] ‏

پھر فرمایا ” انہیں بطور احسان اور مزید لطف و کرم کے زبانی بھی کھانے پینے کی رخصت مرحمت ہو گی اور کہا جائے گا کہ یہ تمہارے نیک اعمال کا بدلہ ہے “۔

اعمال کا بدلہ کہنا صرف بطور لطف کے ہے ورنہ صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عمل کرتے جاؤ سیدھے اور قریب قریب رہو اور جان رکھو کہ صرف اعمال جنت میں لے جانے کے لیے کافی نہیں۔“، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ کے اعمال بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ میرے، ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت شامل حال ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6467] ‏

صفحہ نمبر9757

بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭

یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔

یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ” اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ “

منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔

صفحہ نمبر9763

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔

مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

پھر فرمایا کہ ” یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ “ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر فرمان ہوتا ہے کہ ” یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے “۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔

صفحہ نمبر9764

بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭

یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔

یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ” اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ “

منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔

صفحہ نمبر9763

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔

مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

پھر فرمایا کہ ” یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ “ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر فرمان ہوتا ہے کہ ” یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے “۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔

صفحہ نمبر9764

بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭

یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔

یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ” اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ “

منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔

صفحہ نمبر9763

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔

مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

پھر فرمایا کہ ” یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ “ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر فرمان ہوتا ہے کہ ” یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے “۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔

صفحہ نمبر9764

بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭

یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔

یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ” اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ “

منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔

صفحہ نمبر9763

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔

مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

پھر فرمایا کہ ” یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ “ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر فرمان ہوتا ہے کہ ” یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے “۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔

صفحہ نمبر9764

بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭

یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔

یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ” اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ “

منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔

صفحہ نمبر9763

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔

مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

پھر فرمایا کہ ” یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ “ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر فرمان ہوتا ہے کہ ” یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے “۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔

صفحہ نمبر9764

بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭

یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔

یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ” اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ “

منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔

صفحہ نمبر9763

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔

مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

پھر فرمایا کہ ” یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ “ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر فرمان ہوتا ہے کہ ” یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے “۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔

صفحہ نمبر9764

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com