Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Haaqqa
Tafsir Ibn Kathir · The Reality · 52 ayat · ayat 31–52 · Quran text →
بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭
یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔
یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ” اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ “
منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔
صفحہ نمبر9763
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔
مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرمایا کہ ” یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ “ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمان ہوتا ہے کہ ” یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے “۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
صفحہ نمبر9764
بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭
یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔
یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ” اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ “
منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔
صفحہ نمبر9763
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔
مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرمایا کہ ” یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ “ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمان ہوتا ہے کہ ” یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے “۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
صفحہ نمبر9764
بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭
یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔
یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ” اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ “
منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔
صفحہ نمبر9763
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔
مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرمایا کہ ” یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ “ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمان ہوتا ہے کہ ” یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے “۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
صفحہ نمبر9764
بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭
یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔
یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ” اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ “
منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔
صفحہ نمبر9763
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔
مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرمایا کہ ” یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ “ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمان ہوتا ہے کہ ” یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے “۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
صفحہ نمبر9764
بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭
یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔
یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ” اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ “
منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔
صفحہ نمبر9763
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔
مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرمایا کہ ” یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ “ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمان ہوتا ہے کہ ” یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے “۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
صفحہ نمبر9764
بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭
یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔
یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ” اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ “
منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔
صفحہ نمبر9763
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔
مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرمایا کہ ” یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ “ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمان ہوتا ہے کہ ” یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے “۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
صفحہ نمبر9764
بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭
یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔
یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ” اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ “
منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔
صفحہ نمبر9763
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔
مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرمایا کہ ” یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ “ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمان ہوتا ہے کہ ” یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے “۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
صفحہ نمبر9764
ظاہر و باطن آیات الٰہی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لیے پسند فرما لیا ہے۔ رسول اللہ سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس کی اضافت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس لیے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ اسی لیے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سورۃ التکویر میں اس کی نسبت اس رسول کی طرف کی گئی ہے جو فرشتوں میں سے ہیں فرمان ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ» [81-التكوير:19-25] ، یعنی ” یہ قول اس بزرگ رسول کا ہے جو قوت والا اور مالک عرش کے پاس رہنے والا ہے وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے اور ہے بھی وہ امانت دار۔ “، اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، اسی لیے اس کے بعد فرمایا ” تمہارے ساتھی یعنی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مجنون نہیں بلکہ آپ نے جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صاف کناروں پر دیکھا بھی ہے اور وہ پوشیدہ علم پر بخیل بھی نہیں، نہ یہ شیطان رجیم کا قول ہے۔ “
اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ ” نہ تو یہ شاعر کا کلام ہے، نہ کاہن کا قول ہے البتہ تمہارے ایمان میں اور نصیحت حاصل کرنے میں کمی ہے۔ “ پس کبھی تو اپنے کلام کی نسبت رسول انسی کی طرف کی اور کبھی رسول ملکی کی طرف، اس لیے کہ یہ اس کے پہنچانے والے لانے والے اور اس پر امین ہیں، ہاں دراصل کلام کس کا ہے؟ اسے بھی ساتھ ہی ساتھ بیان فرما دیا کہ ” یہ اتارا ہوا رب العالمین کا ہے۔ “
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا دیکھا کہ آپ مسجد حرم میں پہنچ گئے ہیں، میں بھی گیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا آپ نے سورۃ الحاقہ شروع کی جسے سن کر مجھے اس کی پیاری نشست الفاظ اور بندش مضامین اور فصاحت و بلاغت پر تعجب آنے لگا آخر میں میرے دل میں خیال آیا کہ قریش ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص شاعر ہے ابھی میں اسی خیال میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیتیں تلاوت کیں کہ ” یہ قول رسول اللہ کا ہے، شاعر کا نہیں، تم میں ایمان ہی کم ہے “ تو میں نے کہا اچھا شاعر نہ سہی، کاہن تو ضرور ہے، ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت میں یہ آیت آئی کہ ” یہ کاہن کا قول بھی نہیں تم نے نصیحت ہی کم لی ہے “، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ پوری سورت ختم کی۔ فرماتے ہیں یہ پہلا موقعہ تھا کہ میرے دل میں اسلام پوری طرح گھر کر گیا اور روئیں روئیں میں اسلام کی سچائی گھس گئی۔“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6531]
پس یہ بھی منجملہ ان اسباب کے جو عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کا باعث ہوئے ایک خاص سبب ہے، ہم نے آپ کے اسلام لانے کی پوری کیفیت سیرت عمر میں لکھ دی ہے۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
صفحہ نمبر9777
ظاہر و باطن آیات الٰہی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لیے پسند فرما لیا ہے۔ رسول اللہ سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس کی اضافت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس لیے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ اسی لیے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سورۃ التکویر میں اس کی نسبت اس رسول کی طرف کی گئی ہے جو فرشتوں میں سے ہیں فرمان ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ» [81-التكوير:19-25] ، یعنی ” یہ قول اس بزرگ رسول کا ہے جو قوت والا اور مالک عرش کے پاس رہنے والا ہے وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے اور ہے بھی وہ امانت دار۔ “، اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، اسی لیے اس کے بعد فرمایا ” تمہارے ساتھی یعنی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مجنون نہیں بلکہ آپ نے جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صاف کناروں پر دیکھا بھی ہے اور وہ پوشیدہ علم پر بخیل بھی نہیں، نہ یہ شیطان رجیم کا قول ہے۔ “
اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ ” نہ تو یہ شاعر کا کلام ہے، نہ کاہن کا قول ہے البتہ تمہارے ایمان میں اور نصیحت حاصل کرنے میں کمی ہے۔ “ پس کبھی تو اپنے کلام کی نسبت رسول انسی کی طرف کی اور کبھی رسول ملکی کی طرف، اس لیے کہ یہ اس کے پہنچانے والے لانے والے اور اس پر امین ہیں، ہاں دراصل کلام کس کا ہے؟ اسے بھی ساتھ ہی ساتھ بیان فرما دیا کہ ” یہ اتارا ہوا رب العالمین کا ہے۔ “
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا دیکھا کہ آپ مسجد حرم میں پہنچ گئے ہیں، میں بھی گیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا آپ نے سورۃ الحاقہ شروع کی جسے سن کر مجھے اس کی پیاری نشست الفاظ اور بندش مضامین اور فصاحت و بلاغت پر تعجب آنے لگا آخر میں میرے دل میں خیال آیا کہ قریش ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص شاعر ہے ابھی میں اسی خیال میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیتیں تلاوت کیں کہ ” یہ قول رسول اللہ کا ہے، شاعر کا نہیں، تم میں ایمان ہی کم ہے “ تو میں نے کہا اچھا شاعر نہ سہی، کاہن تو ضرور ہے، ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت میں یہ آیت آئی کہ ” یہ کاہن کا قول بھی نہیں تم نے نصیحت ہی کم لی ہے “، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ پوری سورت ختم کی۔ فرماتے ہیں یہ پہلا موقعہ تھا کہ میرے دل میں اسلام پوری طرح گھر کر گیا اور روئیں روئیں میں اسلام کی سچائی گھس گئی۔“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6531]
پس یہ بھی منجملہ ان اسباب کے جو عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کا باعث ہوئے ایک خاص سبب ہے، ہم نے آپ کے اسلام لانے کی پوری کیفیت سیرت عمر میں لکھ دی ہے۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
صفحہ نمبر9777
ظاہر و باطن آیات الٰہی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لیے پسند فرما لیا ہے۔ رسول اللہ سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس کی اضافت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس لیے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ اسی لیے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سورۃ التکویر میں اس کی نسبت اس رسول کی طرف کی گئی ہے جو فرشتوں میں سے ہیں فرمان ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ» [81-التكوير:19-25] ، یعنی ” یہ قول اس بزرگ رسول کا ہے جو قوت والا اور مالک عرش کے پاس رہنے والا ہے وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے اور ہے بھی وہ امانت دار۔ “، اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، اسی لیے اس کے بعد فرمایا ” تمہارے ساتھی یعنی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مجنون نہیں بلکہ آپ نے جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صاف کناروں پر دیکھا بھی ہے اور وہ پوشیدہ علم پر بخیل بھی نہیں، نہ یہ شیطان رجیم کا قول ہے۔ “
اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ ” نہ تو یہ شاعر کا کلام ہے، نہ کاہن کا قول ہے البتہ تمہارے ایمان میں اور نصیحت حاصل کرنے میں کمی ہے۔ “ پس کبھی تو اپنے کلام کی نسبت رسول انسی کی طرف کی اور کبھی رسول ملکی کی طرف، اس لیے کہ یہ اس کے پہنچانے والے لانے والے اور اس پر امین ہیں، ہاں دراصل کلام کس کا ہے؟ اسے بھی ساتھ ہی ساتھ بیان فرما دیا کہ ” یہ اتارا ہوا رب العالمین کا ہے۔ “
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا دیکھا کہ آپ مسجد حرم میں پہنچ گئے ہیں، میں بھی گیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا آپ نے سورۃ الحاقہ شروع کی جسے سن کر مجھے اس کی پیاری نشست الفاظ اور بندش مضامین اور فصاحت و بلاغت پر تعجب آنے لگا آخر میں میرے دل میں خیال آیا کہ قریش ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص شاعر ہے ابھی میں اسی خیال میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیتیں تلاوت کیں کہ ” یہ قول رسول اللہ کا ہے، شاعر کا نہیں، تم میں ایمان ہی کم ہے “ تو میں نے کہا اچھا شاعر نہ سہی، کاہن تو ضرور ہے، ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت میں یہ آیت آئی کہ ” یہ کاہن کا قول بھی نہیں تم نے نصیحت ہی کم لی ہے “، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ پوری سورت ختم کی۔ فرماتے ہیں یہ پہلا موقعہ تھا کہ میرے دل میں اسلام پوری طرح گھر کر گیا اور روئیں روئیں میں اسلام کی سچائی گھس گئی۔“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6531]
پس یہ بھی منجملہ ان اسباب کے جو عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کا باعث ہوئے ایک خاص سبب ہے، ہم نے آپ کے اسلام لانے کی پوری کیفیت سیرت عمر میں لکھ دی ہے۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
صفحہ نمبر9777
ظاہر و باطن آیات الٰہی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لیے پسند فرما لیا ہے۔ رسول اللہ سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس کی اضافت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس لیے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ اسی لیے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سورۃ التکویر میں اس کی نسبت اس رسول کی طرف کی گئی ہے جو فرشتوں میں سے ہیں فرمان ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ» [81-التكوير:19-25] ، یعنی ” یہ قول اس بزرگ رسول کا ہے جو قوت والا اور مالک عرش کے پاس رہنے والا ہے وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے اور ہے بھی وہ امانت دار۔ “، اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، اسی لیے اس کے بعد فرمایا ” تمہارے ساتھی یعنی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مجنون نہیں بلکہ آپ نے جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صاف کناروں پر دیکھا بھی ہے اور وہ پوشیدہ علم پر بخیل بھی نہیں، نہ یہ شیطان رجیم کا قول ہے۔ “
اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ ” نہ تو یہ شاعر کا کلام ہے، نہ کاہن کا قول ہے البتہ تمہارے ایمان میں اور نصیحت حاصل کرنے میں کمی ہے۔ “ پس کبھی تو اپنے کلام کی نسبت رسول انسی کی طرف کی اور کبھی رسول ملکی کی طرف، اس لیے کہ یہ اس کے پہنچانے والے لانے والے اور اس پر امین ہیں، ہاں دراصل کلام کس کا ہے؟ اسے بھی ساتھ ہی ساتھ بیان فرما دیا کہ ” یہ اتارا ہوا رب العالمین کا ہے۔ “
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا دیکھا کہ آپ مسجد حرم میں پہنچ گئے ہیں، میں بھی گیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا آپ نے سورۃ الحاقہ شروع کی جسے سن کر مجھے اس کی پیاری نشست الفاظ اور بندش مضامین اور فصاحت و بلاغت پر تعجب آنے لگا آخر میں میرے دل میں خیال آیا کہ قریش ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص شاعر ہے ابھی میں اسی خیال میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیتیں تلاوت کیں کہ ” یہ قول رسول اللہ کا ہے، شاعر کا نہیں، تم میں ایمان ہی کم ہے “ تو میں نے کہا اچھا شاعر نہ سہی، کاہن تو ضرور ہے، ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت میں یہ آیت آئی کہ ” یہ کاہن کا قول بھی نہیں تم نے نصیحت ہی کم لی ہے “، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ پوری سورت ختم کی۔ فرماتے ہیں یہ پہلا موقعہ تھا کہ میرے دل میں اسلام پوری طرح گھر کر گیا اور روئیں روئیں میں اسلام کی سچائی گھس گئی۔“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6531]
پس یہ بھی منجملہ ان اسباب کے جو عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کا باعث ہوئے ایک خاص سبب ہے، ہم نے آپ کے اسلام لانے کی پوری کیفیت سیرت عمر میں لکھ دی ہے۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
صفحہ نمبر9777
ظاہر و باطن آیات الٰہی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لیے پسند فرما لیا ہے۔ رسول اللہ سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس کی اضافت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس لیے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ اسی لیے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سورۃ التکویر میں اس کی نسبت اس رسول کی طرف کی گئی ہے جو فرشتوں میں سے ہیں فرمان ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ» [81-التكوير:19-25] ، یعنی ” یہ قول اس بزرگ رسول کا ہے جو قوت والا اور مالک عرش کے پاس رہنے والا ہے وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے اور ہے بھی وہ امانت دار۔ “، اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، اسی لیے اس کے بعد فرمایا ” تمہارے ساتھی یعنی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مجنون نہیں بلکہ آپ نے جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صاف کناروں پر دیکھا بھی ہے اور وہ پوشیدہ علم پر بخیل بھی نہیں، نہ یہ شیطان رجیم کا قول ہے۔ “
اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ ” نہ تو یہ شاعر کا کلام ہے، نہ کاہن کا قول ہے البتہ تمہارے ایمان میں اور نصیحت حاصل کرنے میں کمی ہے۔ “ پس کبھی تو اپنے کلام کی نسبت رسول انسی کی طرف کی اور کبھی رسول ملکی کی طرف، اس لیے کہ یہ اس کے پہنچانے والے لانے والے اور اس پر امین ہیں، ہاں دراصل کلام کس کا ہے؟ اسے بھی ساتھ ہی ساتھ بیان فرما دیا کہ ” یہ اتارا ہوا رب العالمین کا ہے۔ “
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا دیکھا کہ آپ مسجد حرم میں پہنچ گئے ہیں، میں بھی گیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا آپ نے سورۃ الحاقہ شروع کی جسے سن کر مجھے اس کی پیاری نشست الفاظ اور بندش مضامین اور فصاحت و بلاغت پر تعجب آنے لگا آخر میں میرے دل میں خیال آیا کہ قریش ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص شاعر ہے ابھی میں اسی خیال میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیتیں تلاوت کیں کہ ” یہ قول رسول اللہ کا ہے، شاعر کا نہیں، تم میں ایمان ہی کم ہے “ تو میں نے کہا اچھا شاعر نہ سہی، کاہن تو ضرور ہے، ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت میں یہ آیت آئی کہ ” یہ کاہن کا قول بھی نہیں تم نے نصیحت ہی کم لی ہے “، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ پوری سورت ختم کی۔ فرماتے ہیں یہ پہلا موقعہ تھا کہ میرے دل میں اسلام پوری طرح گھر کر گیا اور روئیں روئیں میں اسلام کی سچائی گھس گئی۔“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6531]
پس یہ بھی منجملہ ان اسباب کے جو عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کا باعث ہوئے ایک خاص سبب ہے، ہم نے آپ کے اسلام لانے کی پوری کیفیت سیرت عمر میں لکھ دی ہے۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
صفحہ نمبر9777
ظاہر و باطن آیات الٰہی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لیے پسند فرما لیا ہے۔ رسول اللہ سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس کی اضافت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس لیے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ اسی لیے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سورۃ التکویر میں اس کی نسبت اس رسول کی طرف کی گئی ہے جو فرشتوں میں سے ہیں فرمان ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ» [81-التكوير:19-25] ، یعنی ” یہ قول اس بزرگ رسول کا ہے جو قوت والا اور مالک عرش کے پاس رہنے والا ہے وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے اور ہے بھی وہ امانت دار۔ “، اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، اسی لیے اس کے بعد فرمایا ” تمہارے ساتھی یعنی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مجنون نہیں بلکہ آپ نے جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صاف کناروں پر دیکھا بھی ہے اور وہ پوشیدہ علم پر بخیل بھی نہیں، نہ یہ شیطان رجیم کا قول ہے۔ “
اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ ” نہ تو یہ شاعر کا کلام ہے، نہ کاہن کا قول ہے البتہ تمہارے ایمان میں اور نصیحت حاصل کرنے میں کمی ہے۔ “ پس کبھی تو اپنے کلام کی نسبت رسول انسی کی طرف کی اور کبھی رسول ملکی کی طرف، اس لیے کہ یہ اس کے پہنچانے والے لانے والے اور اس پر امین ہیں، ہاں دراصل کلام کس کا ہے؟ اسے بھی ساتھ ہی ساتھ بیان فرما دیا کہ ” یہ اتارا ہوا رب العالمین کا ہے۔ “
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا دیکھا کہ آپ مسجد حرم میں پہنچ گئے ہیں، میں بھی گیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا آپ نے سورۃ الحاقہ شروع کی جسے سن کر مجھے اس کی پیاری نشست الفاظ اور بندش مضامین اور فصاحت و بلاغت پر تعجب آنے لگا آخر میں میرے دل میں خیال آیا کہ قریش ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص شاعر ہے ابھی میں اسی خیال میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیتیں تلاوت کیں کہ ” یہ قول رسول اللہ کا ہے، شاعر کا نہیں، تم میں ایمان ہی کم ہے “ تو میں نے کہا اچھا شاعر نہ سہی، کاہن تو ضرور ہے، ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت میں یہ آیت آئی کہ ” یہ کاہن کا قول بھی نہیں تم نے نصیحت ہی کم لی ہے “، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ پوری سورت ختم کی۔ فرماتے ہیں یہ پہلا موقعہ تھا کہ میرے دل میں اسلام پوری طرح گھر کر گیا اور روئیں روئیں میں اسلام کی سچائی گھس گئی۔“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6531]
پس یہ بھی منجملہ ان اسباب کے جو عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کا باعث ہوئے ایک خاص سبب ہے، ہم نے آپ کے اسلام لانے کی پوری کیفیت سیرت عمر میں لکھ دی ہے۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
صفحہ نمبر9777
ہدایت اور شفا قرآن حکیم ٭٭
یہاں فرمان باری ہے کہ ” جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کر دیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے۔ “ یعنی ” اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آ سکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے۔ “
پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لیے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرما رکھی ہیں۔
پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لیے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى» [41-فصلت:44] یعنی ” کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے اور بے ایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی۔ “
پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لیے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہو گی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہو گا، جیسے اور جگہ ہے «كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [26-الشعراء:200،201] ” اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے وه جب تک درد ناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کر لیں ایمان نہ لائیں گے۔“
اور جگہ ہے «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ» [34-سبأ:54] ” ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے۔ “ پھر فرمایا ” یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے۔ “ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔“
اللہ کے فضل سے سورۃ الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر9783
ہدایت اور شفا قرآن حکیم ٭٭
یہاں فرمان باری ہے کہ ” جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کر دیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے۔ “ یعنی ” اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آ سکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے۔ “
پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لیے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرما رکھی ہیں۔
پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لیے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى» [41-فصلت:44] یعنی ” کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے اور بے ایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی۔ “
پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لیے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہو گی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہو گا، جیسے اور جگہ ہے «كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [26-الشعراء:200،201] ” اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے وه جب تک درد ناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کر لیں ایمان نہ لائیں گے۔“
اور جگہ ہے «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ» [34-سبأ:54] ” ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے۔ “ پھر فرمایا ” یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے۔ “ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔“
اللہ کے فضل سے سورۃ الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر9783
ہدایت اور شفا قرآن حکیم ٭٭
یہاں فرمان باری ہے کہ ” جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کر دیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے۔ “ یعنی ” اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آ سکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے۔ “
پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لیے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرما رکھی ہیں۔
پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لیے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى» [41-فصلت:44] یعنی ” کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے اور بے ایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی۔ “
پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لیے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہو گی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہو گا، جیسے اور جگہ ہے «كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [26-الشعراء:200،201] ” اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے وه جب تک درد ناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کر لیں ایمان نہ لائیں گے۔“
اور جگہ ہے «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ» [34-سبأ:54] ” ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے۔ “ پھر فرمایا ” یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے۔ “ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔“
اللہ کے فضل سے سورۃ الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر9783
ہدایت اور شفا قرآن حکیم ٭٭
یہاں فرمان باری ہے کہ ” جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کر دیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے۔ “ یعنی ” اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آ سکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے۔ “
پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لیے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرما رکھی ہیں۔
پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لیے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى» [41-فصلت:44] یعنی ” کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے اور بے ایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی۔ “
پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لیے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہو گی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہو گا، جیسے اور جگہ ہے «كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [26-الشعراء:200،201] ” اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے وه جب تک درد ناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کر لیں ایمان نہ لائیں گے۔“
اور جگہ ہے «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ» [34-سبأ:54] ” ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے۔ “ پھر فرمایا ” یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے۔ “ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔“
اللہ کے فضل سے سورۃ الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر9783
ہدایت اور شفا قرآن حکیم ٭٭
یہاں فرمان باری ہے کہ ” جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کر دیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے۔ “ یعنی ” اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آ سکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے۔ “
پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لیے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرما رکھی ہیں۔
پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لیے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى» [41-فصلت:44] یعنی ” کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے اور بے ایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی۔ “
پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لیے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہو گی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہو گا، جیسے اور جگہ ہے «كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [26-الشعراء:200،201] ” اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے وه جب تک درد ناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کر لیں ایمان نہ لائیں گے۔“
اور جگہ ہے «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ» [34-سبأ:54] ” ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے۔ “ پھر فرمایا ” یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے۔ “ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔“
اللہ کے فضل سے سورۃ الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر9783
ہدایت اور شفا قرآن حکیم ٭٭
یہاں فرمان باری ہے کہ ” جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کر دیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے۔ “ یعنی ” اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آ سکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے۔ “
پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لیے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرما رکھی ہیں۔
پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لیے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى» [41-فصلت:44] یعنی ” کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے اور بے ایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی۔ “
پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لیے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہو گی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہو گا، جیسے اور جگہ ہے «كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [26-الشعراء:200،201] ” اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے وه جب تک درد ناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کر لیں ایمان نہ لائیں گے۔“
اور جگہ ہے «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ» [34-سبأ:54] ” ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے۔ “ پھر فرمایا ” یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے۔ “ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔“
اللہ کے فضل سے سورۃ الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر9783
ہدایت اور شفا قرآن حکیم ٭٭
یہاں فرمان باری ہے کہ ” جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کر دیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے۔ “ یعنی ” اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آ سکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے۔ “
پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لیے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرما رکھی ہیں۔
پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لیے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى» [41-فصلت:44] یعنی ” کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے اور بے ایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی۔ “
پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لیے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہو گی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہو گا، جیسے اور جگہ ہے «كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [26-الشعراء:200،201] ” اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے وه جب تک درد ناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کر لیں ایمان نہ لائیں گے۔“
اور جگہ ہے «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ» [34-سبأ:54] ” ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے۔ “ پھر فرمایا ” یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے۔ “ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔“
اللہ کے فضل سے سورۃ الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر9783
ہدایت اور شفا قرآن حکیم ٭٭
یہاں فرمان باری ہے کہ ” جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کر دیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے۔ “ یعنی ” اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آ سکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے۔ “
پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لیے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرما رکھی ہیں۔
پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لیے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى» [41-فصلت:44] یعنی ” کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے اور بے ایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی۔ “
پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لیے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہو گی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہو گا، جیسے اور جگہ ہے «كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [26-الشعراء:200،201] ” اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے وه جب تک درد ناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کر لیں ایمان نہ لائیں گے۔“
اور جگہ ہے «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ» [34-سبأ:54] ” ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے۔ “ پھر فرمایا ” یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے۔ “ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔“
اللہ کے فضل سے سورۃ الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر9783
ہدایت اور شفا قرآن حکیم ٭٭
یہاں فرمان باری ہے کہ ” جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کر دیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے۔ “ یعنی ” اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آ سکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے۔ “
پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لیے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرما رکھی ہیں۔
پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لیے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى» [41-فصلت:44] یعنی ” کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے اور بے ایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی۔ “
پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لیے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہو گی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہو گا، جیسے اور جگہ ہے «كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [26-الشعراء:200،201] ” اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے وه جب تک درد ناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کر لیں ایمان نہ لائیں گے۔“
اور جگہ ہے «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ» [34-سبأ:54] ” ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے۔ “ پھر فرمایا ” یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے۔ “ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔“
اللہ کے فضل سے سورۃ الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر9783