Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Muzzammil
Tafsir Ibn Kathir · The Enshrouded One · 20 ayat · Quran text →
تفسیر سورۃ المزمل:
بزار میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قریش دارالندوہ میں جمع ہو کر آپس میں کہنے لگے کہ آؤ مل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایسا نام تجویز کریں کہ سب کی زبان سے وہی نکلے تاکہ باہر کے لوگ ایک ہی آواز سن کر جانیں، تو بعض نے کہا ان کا نام کاہن رکھو اس پر اوروں نے کہا درحقیقت وہ کاہن تو نہیں، کہا اچھا پھر ان کا نام مجنون رکھو اس پر بھی اوروں نے کہا کہ وہ مجنون بھی نہیں، پھر بعض نے کہا ساحر نام رکھو اس پر اور لوگوں نے کہا وہ ساحر یعنی جادوگر بھی نہیں، غرض وہ کوئی ایسا نام تجویز نہ کر سکے جس پر سب کا اتفاق ہو اور یہ مجمع یوں ہی اٹھ کھڑا ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ خبر سن کر منہ لپیٹ کر کپڑا اوڑھ کر لیٹ رہے جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور اسی طرح یعنی اے منہ لپیٹ کر کپڑا اوڑھنے والے کہہ کر آپ کو مخاطب کیا، [مسند بزار:2276:ضعیف] اس روایت کے ایک راوی معلی بن عبدالرحمٰن سے گو اہل علم کی جماعت روایت لیتی ہے اور اس سے حدیثیں نقل کرتے ہیں لیکن ان کی روایتوں میں بہت سی ایسی حدیثیں بھی ہیں جن پر ان کی متابعت نہیں کی جاتی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام اللیل اور ترتیل قرآن کا حکم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ راتوں کے وقت کپڑے لپیٹ کر سو رہنے کو چھوڑیں اور تہجد کی نماز کے قیام کو اختیار کر لیں، جیسے فرمان ہے «تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» [32-السجدة:16] ، یعنی ” ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور لالچ سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دیتے رہتے ہیں۔ “
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوری عمر اس حکم کی بجا آوری کرتے رہے تہجد کی نماز صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب تھی یعنی امت پر واجب نہیں ہے، جیسے اور جگہ ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] ، یعنی ” راتوں کو تہجد پڑھا کر یہ حکم صرف تجھے ہے تیرا رب تجھے مقام محمود میں پہچانے والا ہے۔ “ یہاں اس حکم کے ساتھ ہی مقدار بھی بیان فرما دی کہ آدھی رات یا کچھ کم و بیش۔
صفحہ نمبر9918
باب
«مُزَّمِّلُ» کے معنی سونے والے اور کپڑا لپیٹنے والے کے ہیں، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اے قرآن کے مفہوم کو اچھی طرح اخذ کرنے والے تو آدھی رات تک تہجد میں مشغول رہا کر، یا کچھ بڑھا گھٹا دیا کر اور قرآن کو آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کر تاکہ خوب سمجھتا جائے۔ “
اس حکم کے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عامل تھے، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھتے تھے جس سے بڑی دیر میں سورت ختم ہوتی تھی گویا چھوٹی سی سورت بڑی سے بڑی ہو جاتی تھی۔ [صحیح بخاری:733]
صفحہ نمبر9919
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا وصف پوچھا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوب مد کر کے پڑھا کرتے تھے پھر آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر سنائی جس میں لفظ «الله» پر لفظ «رحمن» پر لفظ «رحیم» پر مد کیا۔ [صحیح بخاری:5046]
ابن جریج میں ہے کہ ہر ہر آیت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا پورا وقف کرتے تھے، جیسے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» پڑھ کر ٹھہرتے۔ یہ حدیث مسند احمد ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:2927،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر9920
مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ قرآن کے قاری سے قیامت والے دن کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور ترتیل سے پڑھ جیسے دنیا میں ترتیل سے پڑھا کرتا تھا تیرا درجہ وہ ہے جہاں تیری آخری آیت ختم ہو۔ یہ حدیث ابوداؤد و ترمذی اور نسائی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [سنن ابوداود:1464،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
ہم نے اس تفسیر کے شروع میں وہ احادیث وارد کر دی ہیں، جو ترتیل کے مستحب ہونے اور اچھی آواز سے قرآن پڑھنے پر دلالت کرتی ہیں، جیسے وہ حدیث جس میں ہے قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو [سنن ابوداود:1468،قال الشيخ الألباني:صحیح] ، اور ہم میں سے وہ نہیں جو خوش آوازی سے قرآن نہ پڑھے [صحیح بخاری:2527] اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اسے آل داؤد کی خوش آوازی عطا کی گئی ہے [صحیح بخاری:5048] اور ابوموسیٰ کا فرمانا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن رہے ہیں تو میں اور اچھے گلے سے زیادہ عمدگی کے ساتھ پڑھتا۔“ [صحیح مسلم:793]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان کہ ریت کی طرح قرآن کو نہ پھیلاؤ اور شعروں کی طرح قرآن کو بے ادبی سے نہ پڑھو اس کی عجائب پر غور کرو اور دلوں میں اثر لیتے جاؤ اور اس میں دوڑ نہ لگاؤ کہ جلد سورت ختم ہو۔ [بغوی]
صفحہ نمبر9921
ایک شخص آ کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہتا ہے میں نے مفصل کی تمام سورتیں آج کی رات ایک ہی رکعت میں پڑھ ڈالیں۔ آپ نے فرمایا: پھر تو تو نے شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھا ہو گا مجھے برابر برابر کی سورتیں خوب یاد ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر مفصل کی سورتوں میں سے بیس سورتوں کے نام لیے کہ ان میں سے دو دو سورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:775]
پھر فرماتا ہے ” ہم تجھ پر عنقریب بھاری بوجھل بات اتاریں گے۔ “ یعنی عمل میں ثقیل ہو گی اور اترتے وقت بوجہ اپنی عظمت کے گراں قدر ہو گی۔
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری اس وقت آپ کا گھٹنا میرے گھٹنے پر تھا وحی کا اتنا بوجھ پڑا کہ میں تو ڈرنے لگا کہ میری ران کہیں ٹوٹ نہ جائے۔ [صحیح بخاری:4592]
صفحہ نمبر9922
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وحی کا احساس بھی آپ کو ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایسی آواز سنتا ہوں جیسے کسی زنجیر کے بجنے کی آواز ہو میں چپکا ہو جاتا ہوں جب بھی وحی نازل ہوتی ہے مجھ پر اتنا بوجھ پڑتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ میری جان نکل جائے گی۔“ [مسند احمد:222/2:ضعیف]
صحیح بخاری کے شروع میں ہے حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں ”یا رسول اللہ! آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی تو گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی ہے جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے اور وہ گنگناہٹ کی آواز ختم ہو جاتی ہے تو میں اس میں جو کچھ کہا گیا وہ مجھے خوب محفوظ ہو جاتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور میں یاد کر لیتا ہوں۔“
صفحہ نمبر9923
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے دیکھا ہے کہ سخت جاڑے والے دن میں بھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر چکتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک سے پسینے کے قطرے ٹپکتے۔ [صحیح بخاری:4592]
مسند احمد میں ہے کہ کبھی اونٹنی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوتے اور اسی طاقت میں وحی آتی تو اونٹنی جھک جاتی۔ [مسند احمد:118/6:صحیح]
ابن جریر میں یہ بھی ہے کہ پھر جب تک وحی ختم نہ ہو لے اونٹنی سے قدم نہ اٹھایا جاتا، نہ اس کی گردن اونچی ہوتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:127/29:مرسل] مطلب یہ ہے کہ خود وحی کا اترنا بھی اہم اور بوجھل تھا پھر احکام کا بجا لانا اور ان کا عامل ہونا بھی اہم اور بوجھل تھا۔ یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا ہے۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جس طرح دنیا میں یہ ثقیل کام ہے اسی طرح آخرت میں اجر بھی بڑا بھاری ملے گا۔
صفحہ نمبر9924
رات کا اٹھنا نفس کی درستگی ٭٭
پھر فرماتا ہے رات کا اٹھنا نفس کو زیر کرنے کے لیے اور زبان کو درست کرنے کے لیے اکسیر ہے، «نشاء» کے معنی حبشی زبان میں قیام کرنے کے ہیں، رات بھر میں جب اٹھے اسے «نَاشِئَتةَ الَّلیَلِ» کہتے ہیں، تہجد کی نماز کی خوبی یہ ہے کہ دل اور زبان ایک ہو جاتا ہے اور تلاوت کے جو الفاظ زبان سے نکلتے ہیں دل میں گڑ جاتے ہیں اور بہ نسبت دن کے رات کی تنہائی میں معنی خوب ذہن نشین ہوتا جاتا ہے کیونکہ دن بھیڑ بھاڑ کا، شورغل کا، کمائی دھندے کا وقت ہوتا ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے آیت «أَقْوَمُ قِيلًا» [73-المزمل:6] کو «اَصْوَبُ قِیْلًا» پڑھا تو لوگوں نے کہا ہم تو «أَقْوَمُ» پڑھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا «اَصْوَبُ اَقُوَمُ اَھْیَأ» اور ان جیسے سب الفاظ ہم معنی ہیں۔
صفحہ نمبر9925
تفسیر سورۃ المزمل:
بزار میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قریش دارالندوہ میں جمع ہو کر آپس میں کہنے لگے کہ آؤ مل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایسا نام تجویز کریں کہ سب کی زبان سے وہی نکلے تاکہ باہر کے لوگ ایک ہی آواز سن کر جانیں، تو بعض نے کہا ان کا نام کاہن رکھو اس پر اوروں نے کہا درحقیقت وہ کاہن تو نہیں، کہا اچھا پھر ان کا نام مجنون رکھو اس پر بھی اوروں نے کہا کہ وہ مجنون بھی نہیں، پھر بعض نے کہا ساحر نام رکھو اس پر اور لوگوں نے کہا وہ ساحر یعنی جادوگر بھی نہیں، غرض وہ کوئی ایسا نام تجویز نہ کر سکے جس پر سب کا اتفاق ہو اور یہ مجمع یوں ہی اٹھ کھڑا ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ خبر سن کر منہ لپیٹ کر کپڑا اوڑھ کر لیٹ رہے جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور اسی طرح یعنی اے منہ لپیٹ کر کپڑا اوڑھنے والے کہہ کر آپ کو مخاطب کیا، [مسند بزار:2276:ضعیف] اس روایت کے ایک راوی معلی بن عبدالرحمٰن سے گو اہل علم کی جماعت روایت لیتی ہے اور اس سے حدیثیں نقل کرتے ہیں لیکن ان کی روایتوں میں بہت سی ایسی حدیثیں بھی ہیں جن پر ان کی متابعت نہیں کی جاتی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام اللیل اور ترتیل قرآن کا حکم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ راتوں کے وقت کپڑے لپیٹ کر سو رہنے کو چھوڑیں اور تہجد کی نماز کے قیام کو اختیار کر لیں، جیسے فرمان ہے «تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» [32-السجدة:16] ، یعنی ” ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور لالچ سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دیتے رہتے ہیں۔ “
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوری عمر اس حکم کی بجا آوری کرتے رہے تہجد کی نماز صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب تھی یعنی امت پر واجب نہیں ہے، جیسے اور جگہ ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] ، یعنی ” راتوں کو تہجد پڑھا کر یہ حکم صرف تجھے ہے تیرا رب تجھے مقام محمود میں پہچانے والا ہے۔ “ یہاں اس حکم کے ساتھ ہی مقدار بھی بیان فرما دی کہ آدھی رات یا کچھ کم و بیش۔
صفحہ نمبر9918
باب
«مُزَّمِّلُ» کے معنی سونے والے اور کپڑا لپیٹنے والے کے ہیں، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اے قرآن کے مفہوم کو اچھی طرح اخذ کرنے والے تو آدھی رات تک تہجد میں مشغول رہا کر، یا کچھ بڑھا گھٹا دیا کر اور قرآن کو آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کر تاکہ خوب سمجھتا جائے۔ “
اس حکم کے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عامل تھے، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھتے تھے جس سے بڑی دیر میں سورت ختم ہوتی تھی گویا چھوٹی سی سورت بڑی سے بڑی ہو جاتی تھی۔ [صحیح بخاری:733]
صفحہ نمبر9919
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا وصف پوچھا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوب مد کر کے پڑھا کرتے تھے پھر آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر سنائی جس میں لفظ «الله» پر لفظ «رحمن» پر لفظ «رحیم» پر مد کیا۔ [صحیح بخاری:5046]
ابن جریج میں ہے کہ ہر ہر آیت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا پورا وقف کرتے تھے، جیسے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» پڑھ کر ٹھہرتے۔ یہ حدیث مسند احمد ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:2927،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر9920
مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ قرآن کے قاری سے قیامت والے دن کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور ترتیل سے پڑھ جیسے دنیا میں ترتیل سے پڑھا کرتا تھا تیرا درجہ وہ ہے جہاں تیری آخری آیت ختم ہو۔ یہ حدیث ابوداؤد و ترمذی اور نسائی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [سنن ابوداود:1464،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
ہم نے اس تفسیر کے شروع میں وہ احادیث وارد کر دی ہیں، جو ترتیل کے مستحب ہونے اور اچھی آواز سے قرآن پڑھنے پر دلالت کرتی ہیں، جیسے وہ حدیث جس میں ہے قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو [سنن ابوداود:1468،قال الشيخ الألباني:صحیح] ، اور ہم میں سے وہ نہیں جو خوش آوازی سے قرآن نہ پڑھے [صحیح بخاری:2527] اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اسے آل داؤد کی خوش آوازی عطا کی گئی ہے [صحیح بخاری:5048] اور ابوموسیٰ کا فرمانا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن رہے ہیں تو میں اور اچھے گلے سے زیادہ عمدگی کے ساتھ پڑھتا۔“ [صحیح مسلم:793]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان کہ ریت کی طرح قرآن کو نہ پھیلاؤ اور شعروں کی طرح قرآن کو بے ادبی سے نہ پڑھو اس کی عجائب پر غور کرو اور دلوں میں اثر لیتے جاؤ اور اس میں دوڑ نہ لگاؤ کہ جلد سورت ختم ہو۔ [بغوی]
صفحہ نمبر9921
ایک شخص آ کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہتا ہے میں نے مفصل کی تمام سورتیں آج کی رات ایک ہی رکعت میں پڑھ ڈالیں۔ آپ نے فرمایا: پھر تو تو نے شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھا ہو گا مجھے برابر برابر کی سورتیں خوب یاد ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر مفصل کی سورتوں میں سے بیس سورتوں کے نام لیے کہ ان میں سے دو دو سورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:775]
پھر فرماتا ہے ” ہم تجھ پر عنقریب بھاری بوجھل بات اتاریں گے۔ “ یعنی عمل میں ثقیل ہو گی اور اترتے وقت بوجہ اپنی عظمت کے گراں قدر ہو گی۔
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری اس وقت آپ کا گھٹنا میرے گھٹنے پر تھا وحی کا اتنا بوجھ پڑا کہ میں تو ڈرنے لگا کہ میری ران کہیں ٹوٹ نہ جائے۔ [صحیح بخاری:4592]
صفحہ نمبر9922
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وحی کا احساس بھی آپ کو ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایسی آواز سنتا ہوں جیسے کسی زنجیر کے بجنے کی آواز ہو میں چپکا ہو جاتا ہوں جب بھی وحی نازل ہوتی ہے مجھ پر اتنا بوجھ پڑتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ میری جان نکل جائے گی۔“ [مسند احمد:222/2:ضعیف]
صحیح بخاری کے شروع میں ہے حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں ”یا رسول اللہ! آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی تو گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی ہے جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے اور وہ گنگناہٹ کی آواز ختم ہو جاتی ہے تو میں اس میں جو کچھ کہا گیا وہ مجھے خوب محفوظ ہو جاتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور میں یاد کر لیتا ہوں۔“
صفحہ نمبر9923
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے دیکھا ہے کہ سخت جاڑے والے دن میں بھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر چکتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک سے پسینے کے قطرے ٹپکتے۔ [صحیح بخاری:4592]
مسند احمد میں ہے کہ کبھی اونٹنی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوتے اور اسی طاقت میں وحی آتی تو اونٹنی جھک جاتی۔ [مسند احمد:118/6:صحیح]
ابن جریر میں یہ بھی ہے کہ پھر جب تک وحی ختم نہ ہو لے اونٹنی سے قدم نہ اٹھایا جاتا، نہ اس کی گردن اونچی ہوتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:127/29:مرسل] مطلب یہ ہے کہ خود وحی کا اترنا بھی اہم اور بوجھل تھا پھر احکام کا بجا لانا اور ان کا عامل ہونا بھی اہم اور بوجھل تھا۔ یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا ہے۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جس طرح دنیا میں یہ ثقیل کام ہے اسی طرح آخرت میں اجر بھی بڑا بھاری ملے گا۔
صفحہ نمبر9924
رات کا اٹھنا نفس کی درستگی ٭٭
پھر فرماتا ہے رات کا اٹھنا نفس کو زیر کرنے کے لیے اور زبان کو درست کرنے کے لیے اکسیر ہے، «نشاء» کے معنی حبشی زبان میں قیام کرنے کے ہیں، رات بھر میں جب اٹھے اسے «نَاشِئَتةَ الَّلیَلِ» کہتے ہیں، تہجد کی نماز کی خوبی یہ ہے کہ دل اور زبان ایک ہو جاتا ہے اور تلاوت کے جو الفاظ زبان سے نکلتے ہیں دل میں گڑ جاتے ہیں اور بہ نسبت دن کے رات کی تنہائی میں معنی خوب ذہن نشین ہوتا جاتا ہے کیونکہ دن بھیڑ بھاڑ کا، شورغل کا، کمائی دھندے کا وقت ہوتا ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے آیت «أَقْوَمُ قِيلًا» [73-المزمل:6] کو «اَصْوَبُ قِیْلًا» پڑھا تو لوگوں نے کہا ہم تو «أَقْوَمُ» پڑھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا «اَصْوَبُ اَقُوَمُ اَھْیَأ» اور ان جیسے سب الفاظ ہم معنی ہیں۔
صفحہ نمبر9925
تفسیر سورۃ المزمل:
بزار میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قریش دارالندوہ میں جمع ہو کر آپس میں کہنے لگے کہ آؤ مل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایسا نام تجویز کریں کہ سب کی زبان سے وہی نکلے تاکہ باہر کے لوگ ایک ہی آواز سن کر جانیں، تو بعض نے کہا ان کا نام کاہن رکھو اس پر اوروں نے کہا درحقیقت وہ کاہن تو نہیں، کہا اچھا پھر ان کا نام مجنون رکھو اس پر بھی اوروں نے کہا کہ وہ مجنون بھی نہیں، پھر بعض نے کہا ساحر نام رکھو اس پر اور لوگوں نے کہا وہ ساحر یعنی جادوگر بھی نہیں، غرض وہ کوئی ایسا نام تجویز نہ کر سکے جس پر سب کا اتفاق ہو اور یہ مجمع یوں ہی اٹھ کھڑا ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ خبر سن کر منہ لپیٹ کر کپڑا اوڑھ کر لیٹ رہے جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور اسی طرح یعنی اے منہ لپیٹ کر کپڑا اوڑھنے والے کہہ کر آپ کو مخاطب کیا، [مسند بزار:2276:ضعیف] اس روایت کے ایک راوی معلی بن عبدالرحمٰن سے گو اہل علم کی جماعت روایت لیتی ہے اور اس سے حدیثیں نقل کرتے ہیں لیکن ان کی روایتوں میں بہت سی ایسی حدیثیں بھی ہیں جن پر ان کی متابعت نہیں کی جاتی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام اللیل اور ترتیل قرآن کا حکم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ راتوں کے وقت کپڑے لپیٹ کر سو رہنے کو چھوڑیں اور تہجد کی نماز کے قیام کو اختیار کر لیں، جیسے فرمان ہے «تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» [32-السجدة:16] ، یعنی ” ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور لالچ سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دیتے رہتے ہیں۔ “
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوری عمر اس حکم کی بجا آوری کرتے رہے تہجد کی نماز صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب تھی یعنی امت پر واجب نہیں ہے، جیسے اور جگہ ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] ، یعنی ” راتوں کو تہجد پڑھا کر یہ حکم صرف تجھے ہے تیرا رب تجھے مقام محمود میں پہچانے والا ہے۔ “ یہاں اس حکم کے ساتھ ہی مقدار بھی بیان فرما دی کہ آدھی رات یا کچھ کم و بیش۔
صفحہ نمبر9918
باب
«مُزَّمِّلُ» کے معنی سونے والے اور کپڑا لپیٹنے والے کے ہیں، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اے قرآن کے مفہوم کو اچھی طرح اخذ کرنے والے تو آدھی رات تک تہجد میں مشغول رہا کر، یا کچھ بڑھا گھٹا دیا کر اور قرآن کو آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کر تاکہ خوب سمجھتا جائے۔ “
اس حکم کے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عامل تھے، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھتے تھے جس سے بڑی دیر میں سورت ختم ہوتی تھی گویا چھوٹی سی سورت بڑی سے بڑی ہو جاتی تھی۔ [صحیح بخاری:733]
صفحہ نمبر9919
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا وصف پوچھا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوب مد کر کے پڑھا کرتے تھے پھر آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر سنائی جس میں لفظ «الله» پر لفظ «رحمن» پر لفظ «رحیم» پر مد کیا۔ [صحیح بخاری:5046]
ابن جریج میں ہے کہ ہر ہر آیت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا پورا وقف کرتے تھے، جیسے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» پڑھ کر ٹھہرتے۔ یہ حدیث مسند احمد ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:2927،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر9920
مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ قرآن کے قاری سے قیامت والے دن کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور ترتیل سے پڑھ جیسے دنیا میں ترتیل سے پڑھا کرتا تھا تیرا درجہ وہ ہے جہاں تیری آخری آیت ختم ہو۔ یہ حدیث ابوداؤد و ترمذی اور نسائی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [سنن ابوداود:1464،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
ہم نے اس تفسیر کے شروع میں وہ احادیث وارد کر دی ہیں، جو ترتیل کے مستحب ہونے اور اچھی آواز سے قرآن پڑھنے پر دلالت کرتی ہیں، جیسے وہ حدیث جس میں ہے قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو [سنن ابوداود:1468،قال الشيخ الألباني:صحیح] ، اور ہم میں سے وہ نہیں جو خوش آوازی سے قرآن نہ پڑھے [صحیح بخاری:2527] اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اسے آل داؤد کی خوش آوازی عطا کی گئی ہے [صحیح بخاری:5048] اور ابوموسیٰ کا فرمانا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن رہے ہیں تو میں اور اچھے گلے سے زیادہ عمدگی کے ساتھ پڑھتا۔“ [صحیح مسلم:793]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان کہ ریت کی طرح قرآن کو نہ پھیلاؤ اور شعروں کی طرح قرآن کو بے ادبی سے نہ پڑھو اس کی عجائب پر غور کرو اور دلوں میں اثر لیتے جاؤ اور اس میں دوڑ نہ لگاؤ کہ جلد سورت ختم ہو۔ [بغوی]
صفحہ نمبر9921
ایک شخص آ کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہتا ہے میں نے مفصل کی تمام سورتیں آج کی رات ایک ہی رکعت میں پڑھ ڈالیں۔ آپ نے فرمایا: پھر تو تو نے شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھا ہو گا مجھے برابر برابر کی سورتیں خوب یاد ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر مفصل کی سورتوں میں سے بیس سورتوں کے نام لیے کہ ان میں سے دو دو سورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:775]
پھر فرماتا ہے ” ہم تجھ پر عنقریب بھاری بوجھل بات اتاریں گے۔ “ یعنی عمل میں ثقیل ہو گی اور اترتے وقت بوجہ اپنی عظمت کے گراں قدر ہو گی۔
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری اس وقت آپ کا گھٹنا میرے گھٹنے پر تھا وحی کا اتنا بوجھ پڑا کہ میں تو ڈرنے لگا کہ میری ران کہیں ٹوٹ نہ جائے۔ [صحیح بخاری:4592]
صفحہ نمبر9922
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وحی کا احساس بھی آپ کو ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایسی آواز سنتا ہوں جیسے کسی زنجیر کے بجنے کی آواز ہو میں چپکا ہو جاتا ہوں جب بھی وحی نازل ہوتی ہے مجھ پر اتنا بوجھ پڑتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ میری جان نکل جائے گی۔“ [مسند احمد:222/2:ضعیف]
صحیح بخاری کے شروع میں ہے حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں ”یا رسول اللہ! آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی تو گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی ہے جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے اور وہ گنگناہٹ کی آواز ختم ہو جاتی ہے تو میں اس میں جو کچھ کہا گیا وہ مجھے خوب محفوظ ہو جاتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور میں یاد کر لیتا ہوں۔“
صفحہ نمبر9923
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے دیکھا ہے کہ سخت جاڑے والے دن میں بھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر چکتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک سے پسینے کے قطرے ٹپکتے۔ [صحیح بخاری:4592]
مسند احمد میں ہے کہ کبھی اونٹنی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوتے اور اسی طاقت میں وحی آتی تو اونٹنی جھک جاتی۔ [مسند احمد:118/6:صحیح]
ابن جریر میں یہ بھی ہے کہ پھر جب تک وحی ختم نہ ہو لے اونٹنی سے قدم نہ اٹھایا جاتا، نہ اس کی گردن اونچی ہوتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:127/29:مرسل] مطلب یہ ہے کہ خود وحی کا اترنا بھی اہم اور بوجھل تھا پھر احکام کا بجا لانا اور ان کا عامل ہونا بھی اہم اور بوجھل تھا۔ یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا ہے۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جس طرح دنیا میں یہ ثقیل کام ہے اسی طرح آخرت میں اجر بھی بڑا بھاری ملے گا۔
صفحہ نمبر9924
رات کا اٹھنا نفس کی درستگی ٭٭
پھر فرماتا ہے رات کا اٹھنا نفس کو زیر کرنے کے لیے اور زبان کو درست کرنے کے لیے اکسیر ہے، «نشاء» کے معنی حبشی زبان میں قیام کرنے کے ہیں، رات بھر میں جب اٹھے اسے «نَاشِئَتةَ الَّلیَلِ» کہتے ہیں، تہجد کی نماز کی خوبی یہ ہے کہ دل اور زبان ایک ہو جاتا ہے اور تلاوت کے جو الفاظ زبان سے نکلتے ہیں دل میں گڑ جاتے ہیں اور بہ نسبت دن کے رات کی تنہائی میں معنی خوب ذہن نشین ہوتا جاتا ہے کیونکہ دن بھیڑ بھاڑ کا، شورغل کا، کمائی دھندے کا وقت ہوتا ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے آیت «أَقْوَمُ قِيلًا» [73-المزمل:6] کو «اَصْوَبُ قِیْلًا» پڑھا تو لوگوں نے کہا ہم تو «أَقْوَمُ» پڑھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا «اَصْوَبُ اَقُوَمُ اَھْیَأ» اور ان جیسے سب الفاظ ہم معنی ہیں۔
صفحہ نمبر9925
تفسیر سورۃ المزمل:
بزار میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قریش دارالندوہ میں جمع ہو کر آپس میں کہنے لگے کہ آؤ مل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایسا نام تجویز کریں کہ سب کی زبان سے وہی نکلے تاکہ باہر کے لوگ ایک ہی آواز سن کر جانیں، تو بعض نے کہا ان کا نام کاہن رکھو اس پر اوروں نے کہا درحقیقت وہ کاہن تو نہیں، کہا اچھا پھر ان کا نام مجنون رکھو اس پر بھی اوروں نے کہا کہ وہ مجنون بھی نہیں، پھر بعض نے کہا ساحر نام رکھو اس پر اور لوگوں نے کہا وہ ساحر یعنی جادوگر بھی نہیں، غرض وہ کوئی ایسا نام تجویز نہ کر سکے جس پر سب کا اتفاق ہو اور یہ مجمع یوں ہی اٹھ کھڑا ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ خبر سن کر منہ لپیٹ کر کپڑا اوڑھ کر لیٹ رہے جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور اسی طرح یعنی اے منہ لپیٹ کر کپڑا اوڑھنے والے کہہ کر آپ کو مخاطب کیا، [مسند بزار:2276:ضعیف] اس روایت کے ایک راوی معلی بن عبدالرحمٰن سے گو اہل علم کی جماعت روایت لیتی ہے اور اس سے حدیثیں نقل کرتے ہیں لیکن ان کی روایتوں میں بہت سی ایسی حدیثیں بھی ہیں جن پر ان کی متابعت نہیں کی جاتی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام اللیل اور ترتیل قرآن کا حکم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ راتوں کے وقت کپڑے لپیٹ کر سو رہنے کو چھوڑیں اور تہجد کی نماز کے قیام کو اختیار کر لیں، جیسے فرمان ہے «تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» [32-السجدة:16] ، یعنی ” ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور لالچ سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دیتے رہتے ہیں۔ “
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوری عمر اس حکم کی بجا آوری کرتے رہے تہجد کی نماز صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب تھی یعنی امت پر واجب نہیں ہے، جیسے اور جگہ ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] ، یعنی ” راتوں کو تہجد پڑھا کر یہ حکم صرف تجھے ہے تیرا رب تجھے مقام محمود میں پہچانے والا ہے۔ “ یہاں اس حکم کے ساتھ ہی مقدار بھی بیان فرما دی کہ آدھی رات یا کچھ کم و بیش۔
صفحہ نمبر9918
باب
«مُزَّمِّلُ» کے معنی سونے والے اور کپڑا لپیٹنے والے کے ہیں، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اے قرآن کے مفہوم کو اچھی طرح اخذ کرنے والے تو آدھی رات تک تہجد میں مشغول رہا کر، یا کچھ بڑھا گھٹا دیا کر اور قرآن کو آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کر تاکہ خوب سمجھتا جائے۔ “
اس حکم کے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عامل تھے، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھتے تھے جس سے بڑی دیر میں سورت ختم ہوتی تھی گویا چھوٹی سی سورت بڑی سے بڑی ہو جاتی تھی۔ [صحیح بخاری:733]
صفحہ نمبر9919
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا وصف پوچھا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوب مد کر کے پڑھا کرتے تھے پھر آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر سنائی جس میں لفظ «الله» پر لفظ «رحمن» پر لفظ «رحیم» پر مد کیا۔ [صحیح بخاری:5046]
ابن جریج میں ہے کہ ہر ہر آیت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا پورا وقف کرتے تھے، جیسے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» پڑھ کر ٹھہرتے۔ یہ حدیث مسند احمد ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:2927،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر9920
مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ قرآن کے قاری سے قیامت والے دن کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور ترتیل سے پڑھ جیسے دنیا میں ترتیل سے پڑھا کرتا تھا تیرا درجہ وہ ہے جہاں تیری آخری آیت ختم ہو۔ یہ حدیث ابوداؤد و ترمذی اور نسائی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [سنن ابوداود:1464،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
ہم نے اس تفسیر کے شروع میں وہ احادیث وارد کر دی ہیں، جو ترتیل کے مستحب ہونے اور اچھی آواز سے قرآن پڑھنے پر دلالت کرتی ہیں، جیسے وہ حدیث جس میں ہے قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو [سنن ابوداود:1468،قال الشيخ الألباني:صحیح] ، اور ہم میں سے وہ نہیں جو خوش آوازی سے قرآن نہ پڑھے [صحیح بخاری:2527] اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اسے آل داؤد کی خوش آوازی عطا کی گئی ہے [صحیح بخاری:5048] اور ابوموسیٰ کا فرمانا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن رہے ہیں تو میں اور اچھے گلے سے زیادہ عمدگی کے ساتھ پڑھتا۔“ [صحیح مسلم:793]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان کہ ریت کی طرح قرآن کو نہ پھیلاؤ اور شعروں کی طرح قرآن کو بے ادبی سے نہ پڑھو اس کی عجائب پر غور کرو اور دلوں میں اثر لیتے جاؤ اور اس میں دوڑ نہ لگاؤ کہ جلد سورت ختم ہو۔ [بغوی]
صفحہ نمبر9921
ایک شخص آ کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہتا ہے میں نے مفصل کی تمام سورتیں آج کی رات ایک ہی رکعت میں پڑھ ڈالیں۔ آپ نے فرمایا: پھر تو تو نے شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھا ہو گا مجھے برابر برابر کی سورتیں خوب یاد ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر مفصل کی سورتوں میں سے بیس سورتوں کے نام لیے کہ ان میں سے دو دو سورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:775]
پھر فرماتا ہے ” ہم تجھ پر عنقریب بھاری بوجھل بات اتاریں گے۔ “ یعنی عمل میں ثقیل ہو گی اور اترتے وقت بوجہ اپنی عظمت کے گراں قدر ہو گی۔
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری اس وقت آپ کا گھٹنا میرے گھٹنے پر تھا وحی کا اتنا بوجھ پڑا کہ میں تو ڈرنے لگا کہ میری ران کہیں ٹوٹ نہ جائے۔ [صحیح بخاری:4592]
صفحہ نمبر9922
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وحی کا احساس بھی آپ کو ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایسی آواز سنتا ہوں جیسے کسی زنجیر کے بجنے کی آواز ہو میں چپکا ہو جاتا ہوں جب بھی وحی نازل ہوتی ہے مجھ پر اتنا بوجھ پڑتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ میری جان نکل جائے گی۔“ [مسند احمد:222/2:ضعیف]
صحیح بخاری کے شروع میں ہے حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں ”یا رسول اللہ! آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی تو گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی ہے جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے اور وہ گنگناہٹ کی آواز ختم ہو جاتی ہے تو میں اس میں جو کچھ کہا گیا وہ مجھے خوب محفوظ ہو جاتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور میں یاد کر لیتا ہوں۔“
صفحہ نمبر9923
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے دیکھا ہے کہ سخت جاڑے والے دن میں بھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر چکتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک سے پسینے کے قطرے ٹپکتے۔ [صحیح بخاری:4592]
مسند احمد میں ہے کہ کبھی اونٹنی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوتے اور اسی طاقت میں وحی آتی تو اونٹنی جھک جاتی۔ [مسند احمد:118/6:صحیح]
ابن جریر میں یہ بھی ہے کہ پھر جب تک وحی ختم نہ ہو لے اونٹنی سے قدم نہ اٹھایا جاتا، نہ اس کی گردن اونچی ہوتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:127/29:مرسل] مطلب یہ ہے کہ خود وحی کا اترنا بھی اہم اور بوجھل تھا پھر احکام کا بجا لانا اور ان کا عامل ہونا بھی اہم اور بوجھل تھا۔ یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا ہے۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جس طرح دنیا میں یہ ثقیل کام ہے اسی طرح آخرت میں اجر بھی بڑا بھاری ملے گا۔
صفحہ نمبر9924
رات کا اٹھنا نفس کی درستگی ٭٭
پھر فرماتا ہے رات کا اٹھنا نفس کو زیر کرنے کے لیے اور زبان کو درست کرنے کے لیے اکسیر ہے، «نشاء» کے معنی حبشی زبان میں قیام کرنے کے ہیں، رات بھر میں جب اٹھے اسے «نَاشِئَتةَ الَّلیَلِ» کہتے ہیں، تہجد کی نماز کی خوبی یہ ہے کہ دل اور زبان ایک ہو جاتا ہے اور تلاوت کے جو الفاظ زبان سے نکلتے ہیں دل میں گڑ جاتے ہیں اور بہ نسبت دن کے رات کی تنہائی میں معنی خوب ذہن نشین ہوتا جاتا ہے کیونکہ دن بھیڑ بھاڑ کا، شورغل کا، کمائی دھندے کا وقت ہوتا ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے آیت «أَقْوَمُ قِيلًا» [73-المزمل:6] کو «اَصْوَبُ قِیْلًا» پڑھا تو لوگوں نے کہا ہم تو «أَقْوَمُ» پڑھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا «اَصْوَبُ اَقُوَمُ اَھْیَأ» اور ان جیسے سب الفاظ ہم معنی ہیں۔
صفحہ نمبر9925
تفسیر سورۃ المزمل:
بزار میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قریش دارالندوہ میں جمع ہو کر آپس میں کہنے لگے کہ آؤ مل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایسا نام تجویز کریں کہ سب کی زبان سے وہی نکلے تاکہ باہر کے لوگ ایک ہی آواز سن کر جانیں، تو بعض نے کہا ان کا نام کاہن رکھو اس پر اوروں نے کہا درحقیقت وہ کاہن تو نہیں، کہا اچھا پھر ان کا نام مجنون رکھو اس پر بھی اوروں نے کہا کہ وہ مجنون بھی نہیں، پھر بعض نے کہا ساحر نام رکھو اس پر اور لوگوں نے کہا وہ ساحر یعنی جادوگر بھی نہیں، غرض وہ کوئی ایسا نام تجویز نہ کر سکے جس پر سب کا اتفاق ہو اور یہ مجمع یوں ہی اٹھ کھڑا ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ خبر سن کر منہ لپیٹ کر کپڑا اوڑھ کر لیٹ رہے جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور اسی طرح یعنی اے منہ لپیٹ کر کپڑا اوڑھنے والے کہہ کر آپ کو مخاطب کیا، [مسند بزار:2276:ضعیف] اس روایت کے ایک راوی معلی بن عبدالرحمٰن سے گو اہل علم کی جماعت روایت لیتی ہے اور اس سے حدیثیں نقل کرتے ہیں لیکن ان کی روایتوں میں بہت سی ایسی حدیثیں بھی ہیں جن پر ان کی متابعت نہیں کی جاتی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام اللیل اور ترتیل قرآن کا حکم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ راتوں کے وقت کپڑے لپیٹ کر سو رہنے کو چھوڑیں اور تہجد کی نماز کے قیام کو اختیار کر لیں، جیسے فرمان ہے «تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» [32-السجدة:16] ، یعنی ” ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور لالچ سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دیتے رہتے ہیں۔ “
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوری عمر اس حکم کی بجا آوری کرتے رہے تہجد کی نماز صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب تھی یعنی امت پر واجب نہیں ہے، جیسے اور جگہ ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] ، یعنی ” راتوں کو تہجد پڑھا کر یہ حکم صرف تجھے ہے تیرا رب تجھے مقام محمود میں پہچانے والا ہے۔ “ یہاں اس حکم کے ساتھ ہی مقدار بھی بیان فرما دی کہ آدھی رات یا کچھ کم و بیش۔
صفحہ نمبر9918
باب
«مُزَّمِّلُ» کے معنی سونے والے اور کپڑا لپیٹنے والے کے ہیں، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اے قرآن کے مفہوم کو اچھی طرح اخذ کرنے والے تو آدھی رات تک تہجد میں مشغول رہا کر، یا کچھ بڑھا گھٹا دیا کر اور قرآن کو آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کر تاکہ خوب سمجھتا جائے۔ “
اس حکم کے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عامل تھے، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھتے تھے جس سے بڑی دیر میں سورت ختم ہوتی تھی گویا چھوٹی سی سورت بڑی سے بڑی ہو جاتی تھی۔ [صحیح بخاری:733]
صفحہ نمبر9919
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا وصف پوچھا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوب مد کر کے پڑھا کرتے تھے پھر آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر سنائی جس میں لفظ «الله» پر لفظ «رحمن» پر لفظ «رحیم» پر مد کیا۔ [صحیح بخاری:5046]
ابن جریج میں ہے کہ ہر ہر آیت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا پورا وقف کرتے تھے، جیسے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» پڑھ کر ٹھہرتے۔ یہ حدیث مسند احمد ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:2927،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر9920
مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ قرآن کے قاری سے قیامت والے دن کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور ترتیل سے پڑھ جیسے دنیا میں ترتیل سے پڑھا کرتا تھا تیرا درجہ وہ ہے جہاں تیری آخری آیت ختم ہو۔ یہ حدیث ابوداؤد و ترمذی اور نسائی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [سنن ابوداود:1464،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
ہم نے اس تفسیر کے شروع میں وہ احادیث وارد کر دی ہیں، جو ترتیل کے مستحب ہونے اور اچھی آواز سے قرآن پڑھنے پر دلالت کرتی ہیں، جیسے وہ حدیث جس میں ہے قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو [سنن ابوداود:1468،قال الشيخ الألباني:صحیح] ، اور ہم میں سے وہ نہیں جو خوش آوازی سے قرآن نہ پڑھے [صحیح بخاری:2527] اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اسے آل داؤد کی خوش آوازی عطا کی گئی ہے [صحیح بخاری:5048] اور ابوموسیٰ کا فرمانا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن رہے ہیں تو میں اور اچھے گلے سے زیادہ عمدگی کے ساتھ پڑھتا۔“ [صحیح مسلم:793]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان کہ ریت کی طرح قرآن کو نہ پھیلاؤ اور شعروں کی طرح قرآن کو بے ادبی سے نہ پڑھو اس کی عجائب پر غور کرو اور دلوں میں اثر لیتے جاؤ اور اس میں دوڑ نہ لگاؤ کہ جلد سورت ختم ہو۔ [بغوی]
صفحہ نمبر9921
ایک شخص آ کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہتا ہے میں نے مفصل کی تمام سورتیں آج کی رات ایک ہی رکعت میں پڑھ ڈالیں۔ آپ نے فرمایا: پھر تو تو نے شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھا ہو گا مجھے برابر برابر کی سورتیں خوب یاد ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر مفصل کی سورتوں میں سے بیس سورتوں کے نام لیے کہ ان میں سے دو دو سورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:775]
پھر فرماتا ہے ” ہم تجھ پر عنقریب بھاری بوجھل بات اتاریں گے۔ “ یعنی عمل میں ثقیل ہو گی اور اترتے وقت بوجہ اپنی عظمت کے گراں قدر ہو گی۔
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری اس وقت آپ کا گھٹنا میرے گھٹنے پر تھا وحی کا اتنا بوجھ پڑا کہ میں تو ڈرنے لگا کہ میری ران کہیں ٹوٹ نہ جائے۔ [صحیح بخاری:4592]
صفحہ نمبر9922
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وحی کا احساس بھی آپ کو ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایسی آواز سنتا ہوں جیسے کسی زنجیر کے بجنے کی آواز ہو میں چپکا ہو جاتا ہوں جب بھی وحی نازل ہوتی ہے مجھ پر اتنا بوجھ پڑتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ میری جان نکل جائے گی۔“ [مسند احمد:222/2:ضعیف]
صحیح بخاری کے شروع میں ہے حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں ”یا رسول اللہ! آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی تو گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی ہے جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے اور وہ گنگناہٹ کی آواز ختم ہو جاتی ہے تو میں اس میں جو کچھ کہا گیا وہ مجھے خوب محفوظ ہو جاتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور میں یاد کر لیتا ہوں۔“
صفحہ نمبر9923
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے دیکھا ہے کہ سخت جاڑے والے دن میں بھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر چکتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک سے پسینے کے قطرے ٹپکتے۔ [صحیح بخاری:4592]
مسند احمد میں ہے کہ کبھی اونٹنی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوتے اور اسی طاقت میں وحی آتی تو اونٹنی جھک جاتی۔ [مسند احمد:118/6:صحیح]
ابن جریر میں یہ بھی ہے کہ پھر جب تک وحی ختم نہ ہو لے اونٹنی سے قدم نہ اٹھایا جاتا، نہ اس کی گردن اونچی ہوتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:127/29:مرسل] مطلب یہ ہے کہ خود وحی کا اترنا بھی اہم اور بوجھل تھا پھر احکام کا بجا لانا اور ان کا عامل ہونا بھی اہم اور بوجھل تھا۔ یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا ہے۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جس طرح دنیا میں یہ ثقیل کام ہے اسی طرح آخرت میں اجر بھی بڑا بھاری ملے گا۔
صفحہ نمبر9924
رات کا اٹھنا نفس کی درستگی ٭٭
پھر فرماتا ہے رات کا اٹھنا نفس کو زیر کرنے کے لیے اور زبان کو درست کرنے کے لیے اکسیر ہے، «نشاء» کے معنی حبشی زبان میں قیام کرنے کے ہیں، رات بھر میں جب اٹھے اسے «نَاشِئَتةَ الَّلیَلِ» کہتے ہیں، تہجد کی نماز کی خوبی یہ ہے کہ دل اور زبان ایک ہو جاتا ہے اور تلاوت کے جو الفاظ زبان سے نکلتے ہیں دل میں گڑ جاتے ہیں اور بہ نسبت دن کے رات کی تنہائی میں معنی خوب ذہن نشین ہوتا جاتا ہے کیونکہ دن بھیڑ بھاڑ کا، شورغل کا، کمائی دھندے کا وقت ہوتا ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے آیت «أَقْوَمُ قِيلًا» [73-المزمل:6] کو «اَصْوَبُ قِیْلًا» پڑھا تو لوگوں نے کہا ہم تو «أَقْوَمُ» پڑھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا «اَصْوَبُ اَقُوَمُ اَھْیَأ» اور ان جیسے سب الفاظ ہم معنی ہیں۔
صفحہ نمبر9925
تفسیر سورۃ المزمل:
بزار میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قریش دارالندوہ میں جمع ہو کر آپس میں کہنے لگے کہ آؤ مل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایسا نام تجویز کریں کہ سب کی زبان سے وہی نکلے تاکہ باہر کے لوگ ایک ہی آواز سن کر جانیں، تو بعض نے کہا ان کا نام کاہن رکھو اس پر اوروں نے کہا درحقیقت وہ کاہن تو نہیں، کہا اچھا پھر ان کا نام مجنون رکھو اس پر بھی اوروں نے کہا کہ وہ مجنون بھی نہیں، پھر بعض نے کہا ساحر نام رکھو اس پر اور لوگوں نے کہا وہ ساحر یعنی جادوگر بھی نہیں، غرض وہ کوئی ایسا نام تجویز نہ کر سکے جس پر سب کا اتفاق ہو اور یہ مجمع یوں ہی اٹھ کھڑا ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ خبر سن کر منہ لپیٹ کر کپڑا اوڑھ کر لیٹ رہے جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور اسی طرح یعنی اے منہ لپیٹ کر کپڑا اوڑھنے والے کہہ کر آپ کو مخاطب کیا، [مسند بزار:2276:ضعیف] اس روایت کے ایک راوی معلی بن عبدالرحمٰن سے گو اہل علم کی جماعت روایت لیتی ہے اور اس سے حدیثیں نقل کرتے ہیں لیکن ان کی روایتوں میں بہت سی ایسی حدیثیں بھی ہیں جن پر ان کی متابعت نہیں کی جاتی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام اللیل اور ترتیل قرآن کا حکم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ راتوں کے وقت کپڑے لپیٹ کر سو رہنے کو چھوڑیں اور تہجد کی نماز کے قیام کو اختیار کر لیں، جیسے فرمان ہے «تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» [32-السجدة:16] ، یعنی ” ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور لالچ سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دیتے رہتے ہیں۔ “
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوری عمر اس حکم کی بجا آوری کرتے رہے تہجد کی نماز صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب تھی یعنی امت پر واجب نہیں ہے، جیسے اور جگہ ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] ، یعنی ” راتوں کو تہجد پڑھا کر یہ حکم صرف تجھے ہے تیرا رب تجھے مقام محمود میں پہچانے والا ہے۔ “ یہاں اس حکم کے ساتھ ہی مقدار بھی بیان فرما دی کہ آدھی رات یا کچھ کم و بیش۔
صفحہ نمبر9918
باب
«مُزَّمِّلُ» کے معنی سونے والے اور کپڑا لپیٹنے والے کے ہیں، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اے قرآن کے مفہوم کو اچھی طرح اخذ کرنے والے تو آدھی رات تک تہجد میں مشغول رہا کر، یا کچھ بڑھا گھٹا دیا کر اور قرآن کو آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کر تاکہ خوب سمجھتا جائے۔ “
اس حکم کے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عامل تھے، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھتے تھے جس سے بڑی دیر میں سورت ختم ہوتی تھی گویا چھوٹی سی سورت بڑی سے بڑی ہو جاتی تھی۔ [صحیح بخاری:733]
صفحہ نمبر9919
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا وصف پوچھا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوب مد کر کے پڑھا کرتے تھے پھر آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر سنائی جس میں لفظ «الله» پر لفظ «رحمن» پر لفظ «رحیم» پر مد کیا۔ [صحیح بخاری:5046]
ابن جریج میں ہے کہ ہر ہر آیت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا پورا وقف کرتے تھے، جیسے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» پڑھ کر ٹھہرتے۔ یہ حدیث مسند احمد ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:2927،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر9920
مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ قرآن کے قاری سے قیامت والے دن کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور ترتیل سے پڑھ جیسے دنیا میں ترتیل سے پڑھا کرتا تھا تیرا درجہ وہ ہے جہاں تیری آخری آیت ختم ہو۔ یہ حدیث ابوداؤد و ترمذی اور نسائی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [سنن ابوداود:1464،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
ہم نے اس تفسیر کے شروع میں وہ احادیث وارد کر دی ہیں، جو ترتیل کے مستحب ہونے اور اچھی آواز سے قرآن پڑھنے پر دلالت کرتی ہیں، جیسے وہ حدیث جس میں ہے قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو [سنن ابوداود:1468،قال الشيخ الألباني:صحیح] ، اور ہم میں سے وہ نہیں جو خوش آوازی سے قرآن نہ پڑھے [صحیح بخاری:2527] اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اسے آل داؤد کی خوش آوازی عطا کی گئی ہے [صحیح بخاری:5048] اور ابوموسیٰ کا فرمانا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن رہے ہیں تو میں اور اچھے گلے سے زیادہ عمدگی کے ساتھ پڑھتا۔“ [صحیح مسلم:793]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان کہ ریت کی طرح قرآن کو نہ پھیلاؤ اور شعروں کی طرح قرآن کو بے ادبی سے نہ پڑھو اس کی عجائب پر غور کرو اور دلوں میں اثر لیتے جاؤ اور اس میں دوڑ نہ لگاؤ کہ جلد سورت ختم ہو۔ [بغوی]
صفحہ نمبر9921
ایک شخص آ کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہتا ہے میں نے مفصل کی تمام سورتیں آج کی رات ایک ہی رکعت میں پڑھ ڈالیں۔ آپ نے فرمایا: پھر تو تو نے شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھا ہو گا مجھے برابر برابر کی سورتیں خوب یاد ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر مفصل کی سورتوں میں سے بیس سورتوں کے نام لیے کہ ان میں سے دو دو سورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:775]
پھر فرماتا ہے ” ہم تجھ پر عنقریب بھاری بوجھل بات اتاریں گے۔ “ یعنی عمل میں ثقیل ہو گی اور اترتے وقت بوجہ اپنی عظمت کے گراں قدر ہو گی۔
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری اس وقت آپ کا گھٹنا میرے گھٹنے پر تھا وحی کا اتنا بوجھ پڑا کہ میں تو ڈرنے لگا کہ میری ران کہیں ٹوٹ نہ جائے۔ [صحیح بخاری:4592]
صفحہ نمبر9922
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وحی کا احساس بھی آپ کو ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایسی آواز سنتا ہوں جیسے کسی زنجیر کے بجنے کی آواز ہو میں چپکا ہو جاتا ہوں جب بھی وحی نازل ہوتی ہے مجھ پر اتنا بوجھ پڑتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ میری جان نکل جائے گی۔“ [مسند احمد:222/2:ضعیف]
صحیح بخاری کے شروع میں ہے حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں ”یا رسول اللہ! آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی تو گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی ہے جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے اور وہ گنگناہٹ کی آواز ختم ہو جاتی ہے تو میں اس میں جو کچھ کہا گیا وہ مجھے خوب محفوظ ہو جاتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور میں یاد کر لیتا ہوں۔“
صفحہ نمبر9923
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے دیکھا ہے کہ سخت جاڑے والے دن میں بھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر چکتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک سے پسینے کے قطرے ٹپکتے۔ [صحیح بخاری:4592]
مسند احمد میں ہے کہ کبھی اونٹنی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوتے اور اسی طاقت میں وحی آتی تو اونٹنی جھک جاتی۔ [مسند احمد:118/6:صحیح]
ابن جریر میں یہ بھی ہے کہ پھر جب تک وحی ختم نہ ہو لے اونٹنی سے قدم نہ اٹھایا جاتا، نہ اس کی گردن اونچی ہوتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:127/29:مرسل] مطلب یہ ہے کہ خود وحی کا اترنا بھی اہم اور بوجھل تھا پھر احکام کا بجا لانا اور ان کا عامل ہونا بھی اہم اور بوجھل تھا۔ یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا ہے۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جس طرح دنیا میں یہ ثقیل کام ہے اسی طرح آخرت میں اجر بھی بڑا بھاری ملے گا۔
صفحہ نمبر9924
رات کا اٹھنا نفس کی درستگی ٭٭
پھر فرماتا ہے رات کا اٹھنا نفس کو زیر کرنے کے لیے اور زبان کو درست کرنے کے لیے اکسیر ہے، «نشاء» کے معنی حبشی زبان میں قیام کرنے کے ہیں، رات بھر میں جب اٹھے اسے «نَاشِئَتةَ الَّلیَلِ» کہتے ہیں، تہجد کی نماز کی خوبی یہ ہے کہ دل اور زبان ایک ہو جاتا ہے اور تلاوت کے جو الفاظ زبان سے نکلتے ہیں دل میں گڑ جاتے ہیں اور بہ نسبت دن کے رات کی تنہائی میں معنی خوب ذہن نشین ہوتا جاتا ہے کیونکہ دن بھیڑ بھاڑ کا، شورغل کا، کمائی دھندے کا وقت ہوتا ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے آیت «أَقْوَمُ قِيلًا» [73-المزمل:6] کو «اَصْوَبُ قِیْلًا» پڑھا تو لوگوں نے کہا ہم تو «أَقْوَمُ» پڑھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا «اَصْوَبُ اَقُوَمُ اَھْیَأ» اور ان جیسے سب الفاظ ہم معنی ہیں۔
صفحہ نمبر9925
باب
پھر فرماتا ہے ” دن میں تجھے بہت فراغت ہے، نیند کر سکتے ہو، سو بیٹھ سکتے ہو، راحت حاصل کر سکتے ہو، نوافل بکثرت ادا کر سکتے ہو، اپنے دنیوی کام کاج پورے کر سکتے ہو، پھر رات کو آخرت کے کام کے لیے خاص کر لو۔ “
اس بناء پر یہ حکم اس وقت تھا جب رات کی نماز فرض تھی پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں پر احسان کیا اور بطور تخفیف کے اس میں کمی کر دی اور فرمایا ” تھوڑی سی رات کا قیام کرو۔ “ اس فرمان کے بعد عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم نے آیت «إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ» سے «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ» [73-المزمل:20] تک پڑھا اور آیت «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] ، کی بھی تلاوت کی۔ آپ کا یہ قول ہے بھی ٹھیک۔
مسند احمد میں ہے کہ سعید بن ہشام رحمہ اللہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور مدینہ کی طرف چلے تاکہ وہاں کے اپنے مکانات بیچ ڈالیں اور ان کی قیمت سے ہتھیار وغیرہ خرید کر جہاد میں جائیں اور رومیوں سے لڑتے رہیں یہاں تک کہ یا تو روم فتح ہو یا شہادت ملے، مدینہ شریف میں اپنی قوم والوں سے ملے اور اپنا ارادہ ظاہر کیا تو انہوں نے کہا ”سنو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی قوم میں سے چھ شخصوں نے بھی ارادہ کیا تھا کہ عورتوں کو طلاق دے دیں مکانات وغیرہ بیچ ڈالیں اور راہ اللہ کھڑے ہو جائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا جس طرح میں کرتا ہوں کیا اس طرح کرنے میں تمہارے لیے اچھائی نہیں ہے؟ خبردار ایسا نہ کرنا اپنے اس ارادے سے باز آ جاؤ۔“ یہ حدیث سن کر سعید رحمہ اللہ نے بھی اپنا ارادہ ترک کیا اور وہیں اسی جماعت سے کہا کہ تم گواہ رہنا میں نے اپنی بیوی سے رجوع کر لیا۔
صفحہ نمبر9931
اب سعید چلے گئے پھر جب اس جماعت سے ملاقات ہوئی تو کہا کہ یہاں سے جانے کے بعد میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پڑھنے کی کیفیت دریافت تو انہوں نے کہا اس مسئلے کو سب سے زیادہ بہتر طور پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتا سکتی ہیں تم وہیں جاؤ اور ام المؤمنین ہی سے دریافت کرو اور ام المؤمنین سے جو سنو وہ ذرا مجھ سے کہہ جانا۔ میں حکیم بن افلح رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے میں نے کہا تم مجھے ام المؤمنین کی خدمت میں لے چلو۔ انہوں نے فرمایا: میں وہاں نہیں جاؤں گا اس لیے کہ میں نے انہیں مشورہ دیا کہ آپس میں لڑنے والی جماعتوں یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے مقابلین کے بارے میں آپ دخل نہ دیجئیے لیکن انہوں نے نہ مانا اور دخل دیا۔ میں نے انہیں قسم دی اور کہا کہ نہیں آپ مجھے ضرور وہاں لے چلئے خیر بمشکل تمام وہ راضی ہوئے اور میں ان کے ساتھ گیا۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا صاحبہ نے حکیم رضی اللہ عنہ کی آواز پہچان لی اور کہا: کیا حکیم ہے؟ جواب دیا گیا کہ ہاں! میں حکیم بن افلح ہوں۔ پوچھا: تمہارے ساتھ کون ہیں؟ کہا: سعید بن ہشام پوچھا: ہشام کون؟ عامر کے لڑکے؟ کہا: ہاں! عامر کے لڑکے۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے عامر کے لیے دعائے رحمت کی اور فرمایا عامر بہت اچھا آدمی تھا اللہ اس پر رحم کرے، میں نے کہا ام المومنین مجھے بتائیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیا تھے؟ آپ نے فرمایا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا کیوں نہیں؟ فرمایا: بس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا۔
صفحہ نمبر9932
اب میں نے اجازت مانگنے کا قصد کیا لیکن فوراً ہی یاد آ گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کا حال بھی دریافت کر لوں، اس سوال کے جواب میں ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم نے سورۃ مزمل نہیں پڑھی؟ میں نے کہا: ہاں پڑھی ہے۔ فرمایا: سنو اس سورت کے اول حصے میں قیام الیل فرض ہوا اور سال بھر تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم تہجد کی نماز بطور فرضیت کے ادا کرتے رہے یہاں تک کہ قدموں پر ورم آ گیا، بارہ ماہ کے بعد اس سورت کے خاتمہ کی آیتیں اتریں اور اللہ تعالیٰ نے تخفیف کر دی فرضیت اٹھ گئی اور عملی صورت باقی رہ گئی۔ میں نے پھر اٹھنے کا ارادہ کیا لیکن خیال آیا کہ وتر کا مسئلہ بھی دریافت کر لوں تو میں نے کہا: ام المؤمنین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پڑھنے کی کیفیت سے بھی آگاہ فرمایئے۔ آپ نے فرمایا: ہاں، سنو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسواک وضو کا پانی وغیرہ تیار ایک طرف رکھ دیا کرتے تھے جب بھی اللہ چاہتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھلتی اٹھتے مسواک کرتے وضو کرتے اور آٹھ رکعت پڑھتے بیچ میں تشہد میں بالکل نہ بیٹھتے آٹھویں رکعت پوری کر کے آپ التحیات میں بیٹھتے اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر کرتے دعا کرتے اور زور سے سلام پھیرتے کہ ہم بھی سن لیں پھر بیٹھے بیٹھے ہی دو رکعت اور ادا کرتے (اور ایک وتر پڑھتے) بیٹا یہ سب مل کر گیارہ رکعت ہوئیں، اب جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر رسیدہ ہوئے اور بدن بھاری ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات وتر پڑھے پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعت ادا کیں بس بیٹا یہ نو رکعت ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جب کسی نماز کو پڑھتے تو پھر اس پر مداومت کرتے ہاں اگر کسی شغل یا نیند یا دکھ تکلیف اور بیماری کی وجہ سے رات کو نماز نہ پڑھ سکتے تو دن کو بارہ رکعت ادا فرما لیا کرتے میں نہیں جانتی کہ کسی ایک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا قرآن صبح تک پڑھا ہو اور نہ رمضان کے سوا کسی اور مہینے کے پورے روزے رکھے۔ اب میں ام المؤمنین سے رخصت ہو کر ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور وہاں کے تمام سوال جواب دوہرائے آپ نے سب کی تصدیق کی اور فرمایا اگر میری بھی آمد و رفت ام المؤمنین کے پاس ہوتی تو جا کر خود اپنے کانوں سن آتا۔ یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:746]
صفحہ نمبر9933
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تہجد ٭٭
ابن جریر میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بوریا رکھ دیا کرتی جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز پڑھتے لوگوں نے کہیں یہ خبر سن لی اور رات کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرنے کے لیے وہ بھی آ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہو کر باہر نکلے چونکہ شفقت و رحمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امت پر تھی اور ساتھ ہی ڈر تھا کہ ایسا نہ ہو یہ نماز فرض ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرمانے لگے کہ لوگو! ان ہی اعمال کی تکلیف اٹھاؤ جن کی تم میں طاقت ہو اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے نہ تھکے گا البتہ تم عمل کرنے سے تھک جاؤ گے سب سے بہتر عمل وہ ہے جس پر دوام ہو سکے۔
ادھر قرآن کریم میں یہ آیتیں اتریں اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے قیام الیل شروع کیا یہاں تک کہ رسیاں باندھنے لگے کہ نیند نہ آ جائے، آٹھ مہینے اسی طرح گزر گئے ان کی اس کوشش کو جو وہ اللہ کی رضا مندی کی طلب میں کر رہے تھے دیکھ کر اللہ نے بھی ان پر رحم کیا اور اسے فرض عشاء کی طرف لوٹا دیا اور قیام الیل چھوڑ دیا۔ یہ روایت ابن ابی حاتم میں بھی ہے لیکن اس کا راوی موسیٰ بن عبیدہ زبیدی ضعیف ہے اصل حدیث بغیر سورۃ مزمل کے نازل ہونے کے ذکر کی صحیح میں بھی ہے اور اس حدیث کے الفاظ کے تسلسل سے تو یہ پایا جاتا ہے کہ یہ سورت مدینہ میں نازل ہوئی حالانکہ دراصل یہ سورت مکہ شریف میں اتری ہے، اسی طرح اس روایت میں ہے کہ آٹھ مہینے کے بعد اس کی آخری آیتیں نازل ہوئیں یہ قول بھی غریب ہے، صحیح وہی ہے جو بحوالہ مسند پہلے گزر چکا کہ سال بھر کے بعد آخری آیتیں نازل ہوئیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی ابن ابی حاتم میں منقول ہے کہ سورۃ مزمل کی ابتدائی آیتوں کے اترنے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مثل رمضان شریف کے قیام کے قیام کرتے رہے اور اس سورت کی اول آخر کی آیتوں کے اترنے میں تقریباً سال بھر کا فاصلہ تھا۔ ابواسامہ سے بھی ابن جریر میں اسی طرح مروی ہے۔
صفحہ نمبر9934
صحابہ کرام رضی اللہ عنہما اور تہجد ٭٭
ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابتدائی آیتوں کے اترنے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سال بھر تک قیام کیا یہاں تک کہ ان کے قدم اور پنڈلیوں پر ورم آ گیا پھر آیت «فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْه» [73-المزمل:20] ، نازل ہوئی اور لوگوں نے راحت پائی۔ حسن بصری اور سدی رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے۔
ابن ابی حاتم میں بہ روایت ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سولہ مہینے کا فاصلہ مروی ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک سال یا دو سال تک قیام کرتے رہے پنڈلیاں اور قدم سوج گئے پھر آخری سورت کی آیتیں اتریں اور تخفیف ہو گئی۔ سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ دس سال کا فاصلہ بتاتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35174:مرسل]
صفحہ نمبر9935
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پہلی آیت کے حکم کے مطابق ایمانداروں نے قیام الیل شروع کیا لیکن بڑی مشقت پڑتی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے رحم کیا اور آیت «عَلِمَ اَنْ سَيَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى» سے «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ» [73-المزمل:20] تک آیتیں نازل فرما کر وسعت کر دی اور تنگی نہ رکھی۔ «فَلَهُ الْحَمْدُ»
پھر فرمان ہے ” اپنے رب کے نام کا ذکر کرتا رہ اور اس کی عبادت کے لیے فارغ ہو جا۔ “ یعنی امور دنیا سے فارغ ہو کر دل جمعی اور اطمینان کے ساتھ بہ کثرت اس کا ذکر کر، اس کی طرف مائل اور سراسر راغب ہو جا، جیسے اور جگہ ہے «فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ» [94-الشرح:7] ، یعنی ” جب اپنے شغل سے فارغ ہو تو ہماری عبادت محنت سے بجا لاؤ، اخلاص، فارغ البالی، کوشش، محنت، دل لگی اور یکسوئی سے اللہ کی طرف جھک جاؤ۔ “
ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «تتبل» سے منع فرمایا یعنی بال بچے اور دنیا کو چھوڑ دینے سے۔ [سنن ترمذي:1082،قال الشيخ الألباني:حسن لغیرہ]
یہاں مطلب یہ ہے کہ علائق دنیوی سے کٹ کر اللہ کی عبادت میں توجہ اور انہماک کا وقت بھی ضرور نکالا کرو۔ وہ مالک ہے، وہ متصرف ہے مشرق مغرب سب اس کے قبضہ میں ہے اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں، تو جس طرح صرف اسی اللہ کی عبادت کرتا ہے اسی طرح صرف اسی پر بھروسہ بھی رکھ۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ» [11-ھود:123] ” اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ کر۔ “ یہی مضمون آیت «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» [1-الفاتحة:5] میں بھی ہے، اس معنی کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں کہ عبادت، اطاعت، توکل اور بھروسہ کے لائق ایک اس کی پاک ذات ہے۔
صفحہ نمبر9936
باب
پھر فرماتا ہے ” دن میں تجھے بہت فراغت ہے، نیند کر سکتے ہو، سو بیٹھ سکتے ہو، راحت حاصل کر سکتے ہو، نوافل بکثرت ادا کر سکتے ہو، اپنے دنیوی کام کاج پورے کر سکتے ہو، پھر رات کو آخرت کے کام کے لیے خاص کر لو۔ “
اس بناء پر یہ حکم اس وقت تھا جب رات کی نماز فرض تھی پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں پر احسان کیا اور بطور تخفیف کے اس میں کمی کر دی اور فرمایا ” تھوڑی سی رات کا قیام کرو۔ “ اس فرمان کے بعد عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم نے آیت «إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ» سے «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ» [73-المزمل:20] تک پڑھا اور آیت «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] ، کی بھی تلاوت کی۔ آپ کا یہ قول ہے بھی ٹھیک۔
مسند احمد میں ہے کہ سعید بن ہشام رحمہ اللہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور مدینہ کی طرف چلے تاکہ وہاں کے اپنے مکانات بیچ ڈالیں اور ان کی قیمت سے ہتھیار وغیرہ خرید کر جہاد میں جائیں اور رومیوں سے لڑتے رہیں یہاں تک کہ یا تو روم فتح ہو یا شہادت ملے، مدینہ شریف میں اپنی قوم والوں سے ملے اور اپنا ارادہ ظاہر کیا تو انہوں نے کہا ”سنو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی قوم میں سے چھ شخصوں نے بھی ارادہ کیا تھا کہ عورتوں کو طلاق دے دیں مکانات وغیرہ بیچ ڈالیں اور راہ اللہ کھڑے ہو جائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا جس طرح میں کرتا ہوں کیا اس طرح کرنے میں تمہارے لیے اچھائی نہیں ہے؟ خبردار ایسا نہ کرنا اپنے اس ارادے سے باز آ جاؤ۔“ یہ حدیث سن کر سعید رحمہ اللہ نے بھی اپنا ارادہ ترک کیا اور وہیں اسی جماعت سے کہا کہ تم گواہ رہنا میں نے اپنی بیوی سے رجوع کر لیا۔
صفحہ نمبر9931
اب سعید چلے گئے پھر جب اس جماعت سے ملاقات ہوئی تو کہا کہ یہاں سے جانے کے بعد میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پڑھنے کی کیفیت دریافت تو انہوں نے کہا اس مسئلے کو سب سے زیادہ بہتر طور پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتا سکتی ہیں تم وہیں جاؤ اور ام المؤمنین ہی سے دریافت کرو اور ام المؤمنین سے جو سنو وہ ذرا مجھ سے کہہ جانا۔ میں حکیم بن افلح رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے میں نے کہا تم مجھے ام المؤمنین کی خدمت میں لے چلو۔ انہوں نے فرمایا: میں وہاں نہیں جاؤں گا اس لیے کہ میں نے انہیں مشورہ دیا کہ آپس میں لڑنے والی جماعتوں یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے مقابلین کے بارے میں آپ دخل نہ دیجئیے لیکن انہوں نے نہ مانا اور دخل دیا۔ میں نے انہیں قسم دی اور کہا کہ نہیں آپ مجھے ضرور وہاں لے چلئے خیر بمشکل تمام وہ راضی ہوئے اور میں ان کے ساتھ گیا۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا صاحبہ نے حکیم رضی اللہ عنہ کی آواز پہچان لی اور کہا: کیا حکیم ہے؟ جواب دیا گیا کہ ہاں! میں حکیم بن افلح ہوں۔ پوچھا: تمہارے ساتھ کون ہیں؟ کہا: سعید بن ہشام پوچھا: ہشام کون؟ عامر کے لڑکے؟ کہا: ہاں! عامر کے لڑکے۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے عامر کے لیے دعائے رحمت کی اور فرمایا عامر بہت اچھا آدمی تھا اللہ اس پر رحم کرے، میں نے کہا ام المومنین مجھے بتائیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیا تھے؟ آپ نے فرمایا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا کیوں نہیں؟ فرمایا: بس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا۔
صفحہ نمبر9932
اب میں نے اجازت مانگنے کا قصد کیا لیکن فوراً ہی یاد آ گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کا حال بھی دریافت کر لوں، اس سوال کے جواب میں ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم نے سورۃ مزمل نہیں پڑھی؟ میں نے کہا: ہاں پڑھی ہے۔ فرمایا: سنو اس سورت کے اول حصے میں قیام الیل فرض ہوا اور سال بھر تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم تہجد کی نماز بطور فرضیت کے ادا کرتے رہے یہاں تک کہ قدموں پر ورم آ گیا، بارہ ماہ کے بعد اس سورت کے خاتمہ کی آیتیں اتریں اور اللہ تعالیٰ نے تخفیف کر دی فرضیت اٹھ گئی اور عملی صورت باقی رہ گئی۔ میں نے پھر اٹھنے کا ارادہ کیا لیکن خیال آیا کہ وتر کا مسئلہ بھی دریافت کر لوں تو میں نے کہا: ام المؤمنین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پڑھنے کی کیفیت سے بھی آگاہ فرمایئے۔ آپ نے فرمایا: ہاں، سنو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسواک وضو کا پانی وغیرہ تیار ایک طرف رکھ دیا کرتے تھے جب بھی اللہ چاہتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھلتی اٹھتے مسواک کرتے وضو کرتے اور آٹھ رکعت پڑھتے بیچ میں تشہد میں بالکل نہ بیٹھتے آٹھویں رکعت پوری کر کے آپ التحیات میں بیٹھتے اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر کرتے دعا کرتے اور زور سے سلام پھیرتے کہ ہم بھی سن لیں پھر بیٹھے بیٹھے ہی دو رکعت اور ادا کرتے (اور ایک وتر پڑھتے) بیٹا یہ سب مل کر گیارہ رکعت ہوئیں، اب جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر رسیدہ ہوئے اور بدن بھاری ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات وتر پڑھے پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعت ادا کیں بس بیٹا یہ نو رکعت ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جب کسی نماز کو پڑھتے تو پھر اس پر مداومت کرتے ہاں اگر کسی شغل یا نیند یا دکھ تکلیف اور بیماری کی وجہ سے رات کو نماز نہ پڑھ سکتے تو دن کو بارہ رکعت ادا فرما لیا کرتے میں نہیں جانتی کہ کسی ایک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا قرآن صبح تک پڑھا ہو اور نہ رمضان کے سوا کسی اور مہینے کے پورے روزے رکھے۔ اب میں ام المؤمنین سے رخصت ہو کر ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور وہاں کے تمام سوال جواب دوہرائے آپ نے سب کی تصدیق کی اور فرمایا اگر میری بھی آمد و رفت ام المؤمنین کے پاس ہوتی تو جا کر خود اپنے کانوں سن آتا۔ یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:746]
صفحہ نمبر9933
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تہجد ٭٭
ابن جریر میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بوریا رکھ دیا کرتی جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز پڑھتے لوگوں نے کہیں یہ خبر سن لی اور رات کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرنے کے لیے وہ بھی آ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہو کر باہر نکلے چونکہ شفقت و رحمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امت پر تھی اور ساتھ ہی ڈر تھا کہ ایسا نہ ہو یہ نماز فرض ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرمانے لگے کہ لوگو! ان ہی اعمال کی تکلیف اٹھاؤ جن کی تم میں طاقت ہو اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے نہ تھکے گا البتہ تم عمل کرنے سے تھک جاؤ گے سب سے بہتر عمل وہ ہے جس پر دوام ہو سکے۔
ادھر قرآن کریم میں یہ آیتیں اتریں اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے قیام الیل شروع کیا یہاں تک کہ رسیاں باندھنے لگے کہ نیند نہ آ جائے، آٹھ مہینے اسی طرح گزر گئے ان کی اس کوشش کو جو وہ اللہ کی رضا مندی کی طلب میں کر رہے تھے دیکھ کر اللہ نے بھی ان پر رحم کیا اور اسے فرض عشاء کی طرف لوٹا دیا اور قیام الیل چھوڑ دیا۔ یہ روایت ابن ابی حاتم میں بھی ہے لیکن اس کا راوی موسیٰ بن عبیدہ زبیدی ضعیف ہے اصل حدیث بغیر سورۃ مزمل کے نازل ہونے کے ذکر کی صحیح میں بھی ہے اور اس حدیث کے الفاظ کے تسلسل سے تو یہ پایا جاتا ہے کہ یہ سورت مدینہ میں نازل ہوئی حالانکہ دراصل یہ سورت مکہ شریف میں اتری ہے، اسی طرح اس روایت میں ہے کہ آٹھ مہینے کے بعد اس کی آخری آیتیں نازل ہوئیں یہ قول بھی غریب ہے، صحیح وہی ہے جو بحوالہ مسند پہلے گزر چکا کہ سال بھر کے بعد آخری آیتیں نازل ہوئیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی ابن ابی حاتم میں منقول ہے کہ سورۃ مزمل کی ابتدائی آیتوں کے اترنے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مثل رمضان شریف کے قیام کے قیام کرتے رہے اور اس سورت کی اول آخر کی آیتوں کے اترنے میں تقریباً سال بھر کا فاصلہ تھا۔ ابواسامہ سے بھی ابن جریر میں اسی طرح مروی ہے۔
صفحہ نمبر9934
صحابہ کرام رضی اللہ عنہما اور تہجد ٭٭
ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابتدائی آیتوں کے اترنے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سال بھر تک قیام کیا یہاں تک کہ ان کے قدم اور پنڈلیوں پر ورم آ گیا پھر آیت «فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْه» [73-المزمل:20] ، نازل ہوئی اور لوگوں نے راحت پائی۔ حسن بصری اور سدی رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے۔
ابن ابی حاتم میں بہ روایت ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سولہ مہینے کا فاصلہ مروی ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک سال یا دو سال تک قیام کرتے رہے پنڈلیاں اور قدم سوج گئے پھر آخری سورت کی آیتیں اتریں اور تخفیف ہو گئی۔ سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ دس سال کا فاصلہ بتاتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35174:مرسل]
صفحہ نمبر9935
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پہلی آیت کے حکم کے مطابق ایمانداروں نے قیام الیل شروع کیا لیکن بڑی مشقت پڑتی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے رحم کیا اور آیت «عَلِمَ اَنْ سَيَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى» سے «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ» [73-المزمل:20] تک آیتیں نازل فرما کر وسعت کر دی اور تنگی نہ رکھی۔ «فَلَهُ الْحَمْدُ»
پھر فرمان ہے ” اپنے رب کے نام کا ذکر کرتا رہ اور اس کی عبادت کے لیے فارغ ہو جا۔ “ یعنی امور دنیا سے فارغ ہو کر دل جمعی اور اطمینان کے ساتھ بہ کثرت اس کا ذکر کر، اس کی طرف مائل اور سراسر راغب ہو جا، جیسے اور جگہ ہے «فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ» [94-الشرح:7] ، یعنی ” جب اپنے شغل سے فارغ ہو تو ہماری عبادت محنت سے بجا لاؤ، اخلاص، فارغ البالی، کوشش، محنت، دل لگی اور یکسوئی سے اللہ کی طرف جھک جاؤ۔ “
ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «تتبل» سے منع فرمایا یعنی بال بچے اور دنیا کو چھوڑ دینے سے۔ [سنن ترمذي:1082،قال الشيخ الألباني:حسن لغیرہ]
یہاں مطلب یہ ہے کہ علائق دنیوی سے کٹ کر اللہ کی عبادت میں توجہ اور انہماک کا وقت بھی ضرور نکالا کرو۔ وہ مالک ہے، وہ متصرف ہے مشرق مغرب سب اس کے قبضہ میں ہے اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں، تو جس طرح صرف اسی اللہ کی عبادت کرتا ہے اسی طرح صرف اسی پر بھروسہ بھی رکھ۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ» [11-ھود:123] ” اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ کر۔ “ یہی مضمون آیت «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» [1-الفاتحة:5] میں بھی ہے، اس معنی کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں کہ عبادت، اطاعت، توکل اور بھروسہ کے لائق ایک اس کی پاک ذات ہے۔
صفحہ نمبر9936
باب
پھر فرماتا ہے ” دن میں تجھے بہت فراغت ہے، نیند کر سکتے ہو، سو بیٹھ سکتے ہو، راحت حاصل کر سکتے ہو، نوافل بکثرت ادا کر سکتے ہو، اپنے دنیوی کام کاج پورے کر سکتے ہو، پھر رات کو آخرت کے کام کے لیے خاص کر لو۔ “
اس بناء پر یہ حکم اس وقت تھا جب رات کی نماز فرض تھی پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں پر احسان کیا اور بطور تخفیف کے اس میں کمی کر دی اور فرمایا ” تھوڑی سی رات کا قیام کرو۔ “ اس فرمان کے بعد عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم نے آیت «إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ» سے «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ» [73-المزمل:20] تک پڑھا اور آیت «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] ، کی بھی تلاوت کی۔ آپ کا یہ قول ہے بھی ٹھیک۔
مسند احمد میں ہے کہ سعید بن ہشام رحمہ اللہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور مدینہ کی طرف چلے تاکہ وہاں کے اپنے مکانات بیچ ڈالیں اور ان کی قیمت سے ہتھیار وغیرہ خرید کر جہاد میں جائیں اور رومیوں سے لڑتے رہیں یہاں تک کہ یا تو روم فتح ہو یا شہادت ملے، مدینہ شریف میں اپنی قوم والوں سے ملے اور اپنا ارادہ ظاہر کیا تو انہوں نے کہا ”سنو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی قوم میں سے چھ شخصوں نے بھی ارادہ کیا تھا کہ عورتوں کو طلاق دے دیں مکانات وغیرہ بیچ ڈالیں اور راہ اللہ کھڑے ہو جائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا جس طرح میں کرتا ہوں کیا اس طرح کرنے میں تمہارے لیے اچھائی نہیں ہے؟ خبردار ایسا نہ کرنا اپنے اس ارادے سے باز آ جاؤ۔“ یہ حدیث سن کر سعید رحمہ اللہ نے بھی اپنا ارادہ ترک کیا اور وہیں اسی جماعت سے کہا کہ تم گواہ رہنا میں نے اپنی بیوی سے رجوع کر لیا۔
صفحہ نمبر9931
اب سعید چلے گئے پھر جب اس جماعت سے ملاقات ہوئی تو کہا کہ یہاں سے جانے کے بعد میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پڑھنے کی کیفیت دریافت تو انہوں نے کہا اس مسئلے کو سب سے زیادہ بہتر طور پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتا سکتی ہیں تم وہیں جاؤ اور ام المؤمنین ہی سے دریافت کرو اور ام المؤمنین سے جو سنو وہ ذرا مجھ سے کہہ جانا۔ میں حکیم بن افلح رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے میں نے کہا تم مجھے ام المؤمنین کی خدمت میں لے چلو۔ انہوں نے فرمایا: میں وہاں نہیں جاؤں گا اس لیے کہ میں نے انہیں مشورہ دیا کہ آپس میں لڑنے والی جماعتوں یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے مقابلین کے بارے میں آپ دخل نہ دیجئیے لیکن انہوں نے نہ مانا اور دخل دیا۔ میں نے انہیں قسم دی اور کہا کہ نہیں آپ مجھے ضرور وہاں لے چلئے خیر بمشکل تمام وہ راضی ہوئے اور میں ان کے ساتھ گیا۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا صاحبہ نے حکیم رضی اللہ عنہ کی آواز پہچان لی اور کہا: کیا حکیم ہے؟ جواب دیا گیا کہ ہاں! میں حکیم بن افلح ہوں۔ پوچھا: تمہارے ساتھ کون ہیں؟ کہا: سعید بن ہشام پوچھا: ہشام کون؟ عامر کے لڑکے؟ کہا: ہاں! عامر کے لڑکے۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے عامر کے لیے دعائے رحمت کی اور فرمایا عامر بہت اچھا آدمی تھا اللہ اس پر رحم کرے، میں نے کہا ام المومنین مجھے بتائیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیا تھے؟ آپ نے فرمایا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا کیوں نہیں؟ فرمایا: بس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا۔
صفحہ نمبر9932
اب میں نے اجازت مانگنے کا قصد کیا لیکن فوراً ہی یاد آ گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کا حال بھی دریافت کر لوں، اس سوال کے جواب میں ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم نے سورۃ مزمل نہیں پڑھی؟ میں نے کہا: ہاں پڑھی ہے۔ فرمایا: سنو اس سورت کے اول حصے میں قیام الیل فرض ہوا اور سال بھر تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم تہجد کی نماز بطور فرضیت کے ادا کرتے رہے یہاں تک کہ قدموں پر ورم آ گیا، بارہ ماہ کے بعد اس سورت کے خاتمہ کی آیتیں اتریں اور اللہ تعالیٰ نے تخفیف کر دی فرضیت اٹھ گئی اور عملی صورت باقی رہ گئی۔ میں نے پھر اٹھنے کا ارادہ کیا لیکن خیال آیا کہ وتر کا مسئلہ بھی دریافت کر لوں تو میں نے کہا: ام المؤمنین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پڑھنے کی کیفیت سے بھی آگاہ فرمایئے۔ آپ نے فرمایا: ہاں، سنو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسواک وضو کا پانی وغیرہ تیار ایک طرف رکھ دیا کرتے تھے جب بھی اللہ چاہتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھلتی اٹھتے مسواک کرتے وضو کرتے اور آٹھ رکعت پڑھتے بیچ میں تشہد میں بالکل نہ بیٹھتے آٹھویں رکعت پوری کر کے آپ التحیات میں بیٹھتے اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر کرتے دعا کرتے اور زور سے سلام پھیرتے کہ ہم بھی سن لیں پھر بیٹھے بیٹھے ہی دو رکعت اور ادا کرتے (اور ایک وتر پڑھتے) بیٹا یہ سب مل کر گیارہ رکعت ہوئیں، اب جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر رسیدہ ہوئے اور بدن بھاری ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات وتر پڑھے پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعت ادا کیں بس بیٹا یہ نو رکعت ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جب کسی نماز کو پڑھتے تو پھر اس پر مداومت کرتے ہاں اگر کسی شغل یا نیند یا دکھ تکلیف اور بیماری کی وجہ سے رات کو نماز نہ پڑھ سکتے تو دن کو بارہ رکعت ادا فرما لیا کرتے میں نہیں جانتی کہ کسی ایک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا قرآن صبح تک پڑھا ہو اور نہ رمضان کے سوا کسی اور مہینے کے پورے روزے رکھے۔ اب میں ام المؤمنین سے رخصت ہو کر ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور وہاں کے تمام سوال جواب دوہرائے آپ نے سب کی تصدیق کی اور فرمایا اگر میری بھی آمد و رفت ام المؤمنین کے پاس ہوتی تو جا کر خود اپنے کانوں سن آتا۔ یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:746]
صفحہ نمبر9933
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تہجد ٭٭
ابن جریر میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بوریا رکھ دیا کرتی جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز پڑھتے لوگوں نے کہیں یہ خبر سن لی اور رات کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرنے کے لیے وہ بھی آ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہو کر باہر نکلے چونکہ شفقت و رحمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امت پر تھی اور ساتھ ہی ڈر تھا کہ ایسا نہ ہو یہ نماز فرض ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرمانے لگے کہ لوگو! ان ہی اعمال کی تکلیف اٹھاؤ جن کی تم میں طاقت ہو اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے نہ تھکے گا البتہ تم عمل کرنے سے تھک جاؤ گے سب سے بہتر عمل وہ ہے جس پر دوام ہو سکے۔
ادھر قرآن کریم میں یہ آیتیں اتریں اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے قیام الیل شروع کیا یہاں تک کہ رسیاں باندھنے لگے کہ نیند نہ آ جائے، آٹھ مہینے اسی طرح گزر گئے ان کی اس کوشش کو جو وہ اللہ کی رضا مندی کی طلب میں کر رہے تھے دیکھ کر اللہ نے بھی ان پر رحم کیا اور اسے فرض عشاء کی طرف لوٹا دیا اور قیام الیل چھوڑ دیا۔ یہ روایت ابن ابی حاتم میں بھی ہے لیکن اس کا راوی موسیٰ بن عبیدہ زبیدی ضعیف ہے اصل حدیث بغیر سورۃ مزمل کے نازل ہونے کے ذکر کی صحیح میں بھی ہے اور اس حدیث کے الفاظ کے تسلسل سے تو یہ پایا جاتا ہے کہ یہ سورت مدینہ میں نازل ہوئی حالانکہ دراصل یہ سورت مکہ شریف میں اتری ہے، اسی طرح اس روایت میں ہے کہ آٹھ مہینے کے بعد اس کی آخری آیتیں نازل ہوئیں یہ قول بھی غریب ہے، صحیح وہی ہے جو بحوالہ مسند پہلے گزر چکا کہ سال بھر کے بعد آخری آیتیں نازل ہوئیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی ابن ابی حاتم میں منقول ہے کہ سورۃ مزمل کی ابتدائی آیتوں کے اترنے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مثل رمضان شریف کے قیام کے قیام کرتے رہے اور اس سورت کی اول آخر کی آیتوں کے اترنے میں تقریباً سال بھر کا فاصلہ تھا۔ ابواسامہ سے بھی ابن جریر میں اسی طرح مروی ہے۔
صفحہ نمبر9934
صحابہ کرام رضی اللہ عنہما اور تہجد ٭٭
ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابتدائی آیتوں کے اترنے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سال بھر تک قیام کیا یہاں تک کہ ان کے قدم اور پنڈلیوں پر ورم آ گیا پھر آیت «فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْه» [73-المزمل:20] ، نازل ہوئی اور لوگوں نے راحت پائی۔ حسن بصری اور سدی رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے۔
ابن ابی حاتم میں بہ روایت ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سولہ مہینے کا فاصلہ مروی ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک سال یا دو سال تک قیام کرتے رہے پنڈلیاں اور قدم سوج گئے پھر آخری سورت کی آیتیں اتریں اور تخفیف ہو گئی۔ سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ دس سال کا فاصلہ بتاتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35174:مرسل]
صفحہ نمبر9935
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پہلی آیت کے حکم کے مطابق ایمانداروں نے قیام الیل شروع کیا لیکن بڑی مشقت پڑتی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے رحم کیا اور آیت «عَلِمَ اَنْ سَيَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى» سے «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ» [73-المزمل:20] تک آیتیں نازل فرما کر وسعت کر دی اور تنگی نہ رکھی۔ «فَلَهُ الْحَمْدُ»
پھر فرمان ہے ” اپنے رب کے نام کا ذکر کرتا رہ اور اس کی عبادت کے لیے فارغ ہو جا۔ “ یعنی امور دنیا سے فارغ ہو کر دل جمعی اور اطمینان کے ساتھ بہ کثرت اس کا ذکر کر، اس کی طرف مائل اور سراسر راغب ہو جا، جیسے اور جگہ ہے «فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ» [94-الشرح:7] ، یعنی ” جب اپنے شغل سے فارغ ہو تو ہماری عبادت محنت سے بجا لاؤ، اخلاص، فارغ البالی، کوشش، محنت، دل لگی اور یکسوئی سے اللہ کی طرف جھک جاؤ۔ “
ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «تتبل» سے منع فرمایا یعنی بال بچے اور دنیا کو چھوڑ دینے سے۔ [سنن ترمذي:1082،قال الشيخ الألباني:حسن لغیرہ]
یہاں مطلب یہ ہے کہ علائق دنیوی سے کٹ کر اللہ کی عبادت میں توجہ اور انہماک کا وقت بھی ضرور نکالا کرو۔ وہ مالک ہے، وہ متصرف ہے مشرق مغرب سب اس کے قبضہ میں ہے اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں، تو جس طرح صرف اسی اللہ کی عبادت کرتا ہے اسی طرح صرف اسی پر بھروسہ بھی رکھ۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ» [11-ھود:123] ” اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ کر۔ “ یہی مضمون آیت «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» [1-الفاتحة:5] میں بھی ہے، اس معنی کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں کہ عبادت، اطاعت، توکل اور بھروسہ کے لائق ایک اس کی پاک ذات ہے۔
صفحہ نمبر9936
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ” ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خود ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بے فکر ہیں اور تجھے ستانے کے لیے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بے تعلق ہو جا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ “
«نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» [31-لقمان:24] ” تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے “، اور عذاب بھی کون سے؟ سخت قید و بند کے، بدترین بھڑکتی ہوئی نہ بجھنے والی اور نہ کم ہونے والی آگ کے اور ایسا کھانا جو حلق میں جا کر اٹک جائے نہ نگل سکیں نہ اگل سکیں اور بھی طرح طرح کے المناک عذاب ہوں گے، پھر وہ وقت بھی ہو گا جب زمینوں میں اور پہاڑوں پر زلزلہ طاری ہو گا سخت اور بڑی چٹانوں والے پہاڑ آپس میں ٹکرا ٹکرا کر چور چور ہو گئے ہوں گے جیسے بھربھری ریت کے بکھرے ہوئے ذرے ہوں جنہیں ہوا ادھر سے ادھر لے جائے گی اور نام و نشان تک مٹا دے گی اور زمین ایک چٹیل صاف میدان کی طرح رہ جائے گی جس میں کہیں اونچ نیچ نظر نہ آئے گی۔
صفحہ نمبر9939
اہل فرعون کی طرح نہ بنو ٭٭
پھر فرماتا ہے اے لوگو اور خصوصاً اے کافرو ہم نے تم پر گواہی دینے والا اپنا سچا رسول تم میں بھیج دیا ہے جیسے کہ فرعون کے پاس بھی ہم نے اپنے احکام کے پہنچا دینے کے لیے اپنے ایک رسول کو بھیجا تھا، اس نے جب اس رسول کی نہ مانی تو تم جانتے ہو کہ ہم نے اسے بری طرح برباد کیا اور سختی سے پکڑ لیا۔ “
اسی طرح یاد رکھو اگر اس نبی کی تم نے بھی نہ مانی تو تمہاری خیر نہیں اللہ کے عذاب تم پر بھی اتر آئیں گے اور نیست و نابود کر دیئے جاؤ گے کیونکہ یہ رسول رسولوں کے سردار ہیں ان کے جھٹلانے کا وبال بھی اور وبالوں سے بڑا ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ ” اگر تم نے کفر کیا تو بتاؤ تو سہی کہ اس دن کے عذابوں سے کیسے نجات حاصل کرو گے؟ جس دن کی ہیبت خوف اور ڈر بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ “ اور دوسرے معنی یہ کہ ” اگر تم نے اتنے بڑے ہولناک دن کا بھی کفر کیا اور اس کے بھی منکر رہے تو تمہیں تقویٰ اور اللہ کا ڈر کیسے حاصل ہو گا؟ “ گو یہ دونوں معنی نہایت عمدہ ہیں لیکن اول اولیٰ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9940
جنتیوں اور جہنمیوں کی نسبت ٭٭
طبرانی میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: یہ قیامت کا دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا اٹھو اور اپنی اولاد میں سے دوزخیوں کو الگ الگ کرو، وہ پوچھیں گے اے اللہ! کتنی تعداد میں سے کتنے؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کے تو ہوش اڑ گئے اور گھبرا گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے چہرے دیکھ کر سمجھ گئے اور بطور تشفی کے فرمایا: ”سنو بنو آدم بہت سے ہیں یاجوج ماجوج بھی اولاد آدم میں سے ہیں جن میں سے ہر ایک نسلی تسلسل میں خاص اپنی صلبی اولاد ایک ایک ہزار چھوڑ کر جاتا ہے پس ان میں اور ان حبشیوں میں مل کر دوزخیوں کی یہ تعداد ہو جائے گی اور جنت تمہارے لیے اور تم جنت کے لیے ہو جاؤ گے۔“ [طبرانی کبیر:12034:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور سورۃ الحج کی تفسیر کے شروع میں اس جیسی احادیث کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ اس دن کی ہیبت اور دہشت کے مارے آسمان بھی پھٹ جائے گا، بعض نے ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف کیا ہے لیکن یہ قوی نہیں اس لیے کہ یہاں ذکر ہی نہیں، اس دن کا وعدہ یقیناً سچ ہے اور ہو کر ہی رہے گا اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں۔
صفحہ نمبر9941
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ” ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خود ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بے فکر ہیں اور تجھے ستانے کے لیے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بے تعلق ہو جا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ “
«نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» [31-لقمان:24] ” تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے “، اور عذاب بھی کون سے؟ سخت قید و بند کے، بدترین بھڑکتی ہوئی نہ بجھنے والی اور نہ کم ہونے والی آگ کے اور ایسا کھانا جو حلق میں جا کر اٹک جائے نہ نگل سکیں نہ اگل سکیں اور بھی طرح طرح کے المناک عذاب ہوں گے، پھر وہ وقت بھی ہو گا جب زمینوں میں اور پہاڑوں پر زلزلہ طاری ہو گا سخت اور بڑی چٹانوں والے پہاڑ آپس میں ٹکرا ٹکرا کر چور چور ہو گئے ہوں گے جیسے بھربھری ریت کے بکھرے ہوئے ذرے ہوں جنہیں ہوا ادھر سے ادھر لے جائے گی اور نام و نشان تک مٹا دے گی اور زمین ایک چٹیل صاف میدان کی طرح رہ جائے گی جس میں کہیں اونچ نیچ نظر نہ آئے گی۔
صفحہ نمبر9939
اہل فرعون کی طرح نہ بنو ٭٭
پھر فرماتا ہے اے لوگو اور خصوصاً اے کافرو ہم نے تم پر گواہی دینے والا اپنا سچا رسول تم میں بھیج دیا ہے جیسے کہ فرعون کے پاس بھی ہم نے اپنے احکام کے پہنچا دینے کے لیے اپنے ایک رسول کو بھیجا تھا، اس نے جب اس رسول کی نہ مانی تو تم جانتے ہو کہ ہم نے اسے بری طرح برباد کیا اور سختی سے پکڑ لیا۔ “
اسی طرح یاد رکھو اگر اس نبی کی تم نے بھی نہ مانی تو تمہاری خیر نہیں اللہ کے عذاب تم پر بھی اتر آئیں گے اور نیست و نابود کر دیئے جاؤ گے کیونکہ یہ رسول رسولوں کے سردار ہیں ان کے جھٹلانے کا وبال بھی اور وبالوں سے بڑا ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ ” اگر تم نے کفر کیا تو بتاؤ تو سہی کہ اس دن کے عذابوں سے کیسے نجات حاصل کرو گے؟ جس دن کی ہیبت خوف اور ڈر بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ “ اور دوسرے معنی یہ کہ ” اگر تم نے اتنے بڑے ہولناک دن کا بھی کفر کیا اور اس کے بھی منکر رہے تو تمہیں تقویٰ اور اللہ کا ڈر کیسے حاصل ہو گا؟ “ گو یہ دونوں معنی نہایت عمدہ ہیں لیکن اول اولیٰ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9940
جنتیوں اور جہنمیوں کی نسبت ٭٭
طبرانی میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: یہ قیامت کا دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا اٹھو اور اپنی اولاد میں سے دوزخیوں کو الگ الگ کرو، وہ پوچھیں گے اے اللہ! کتنی تعداد میں سے کتنے؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کے تو ہوش اڑ گئے اور گھبرا گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے چہرے دیکھ کر سمجھ گئے اور بطور تشفی کے فرمایا: ”سنو بنو آدم بہت سے ہیں یاجوج ماجوج بھی اولاد آدم میں سے ہیں جن میں سے ہر ایک نسلی تسلسل میں خاص اپنی صلبی اولاد ایک ایک ہزار چھوڑ کر جاتا ہے پس ان میں اور ان حبشیوں میں مل کر دوزخیوں کی یہ تعداد ہو جائے گی اور جنت تمہارے لیے اور تم جنت کے لیے ہو جاؤ گے۔“ [طبرانی کبیر:12034:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور سورۃ الحج کی تفسیر کے شروع میں اس جیسی احادیث کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ اس دن کی ہیبت اور دہشت کے مارے آسمان بھی پھٹ جائے گا، بعض نے ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف کیا ہے لیکن یہ قوی نہیں اس لیے کہ یہاں ذکر ہی نہیں، اس دن کا وعدہ یقیناً سچ ہے اور ہو کر ہی رہے گا اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں۔
صفحہ نمبر9941
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ” ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خود ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بے فکر ہیں اور تجھے ستانے کے لیے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بے تعلق ہو جا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ “
«نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» [31-لقمان:24] ” تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے “، اور عذاب بھی کون سے؟ سخت قید و بند کے، بدترین بھڑکتی ہوئی نہ بجھنے والی اور نہ کم ہونے والی آگ کے اور ایسا کھانا جو حلق میں جا کر اٹک جائے نہ نگل سکیں نہ اگل سکیں اور بھی طرح طرح کے المناک عذاب ہوں گے، پھر وہ وقت بھی ہو گا جب زمینوں میں اور پہاڑوں پر زلزلہ طاری ہو گا سخت اور بڑی چٹانوں والے پہاڑ آپس میں ٹکرا ٹکرا کر چور چور ہو گئے ہوں گے جیسے بھربھری ریت کے بکھرے ہوئے ذرے ہوں جنہیں ہوا ادھر سے ادھر لے جائے گی اور نام و نشان تک مٹا دے گی اور زمین ایک چٹیل صاف میدان کی طرح رہ جائے گی جس میں کہیں اونچ نیچ نظر نہ آئے گی۔
صفحہ نمبر9939
اہل فرعون کی طرح نہ بنو ٭٭
پھر فرماتا ہے اے لوگو اور خصوصاً اے کافرو ہم نے تم پر گواہی دینے والا اپنا سچا رسول تم میں بھیج دیا ہے جیسے کہ فرعون کے پاس بھی ہم نے اپنے احکام کے پہنچا دینے کے لیے اپنے ایک رسول کو بھیجا تھا، اس نے جب اس رسول کی نہ مانی تو تم جانتے ہو کہ ہم نے اسے بری طرح برباد کیا اور سختی سے پکڑ لیا۔ “
اسی طرح یاد رکھو اگر اس نبی کی تم نے بھی نہ مانی تو تمہاری خیر نہیں اللہ کے عذاب تم پر بھی اتر آئیں گے اور نیست و نابود کر دیئے جاؤ گے کیونکہ یہ رسول رسولوں کے سردار ہیں ان کے جھٹلانے کا وبال بھی اور وبالوں سے بڑا ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ ” اگر تم نے کفر کیا تو بتاؤ تو سہی کہ اس دن کے عذابوں سے کیسے نجات حاصل کرو گے؟ جس دن کی ہیبت خوف اور ڈر بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ “ اور دوسرے معنی یہ کہ ” اگر تم نے اتنے بڑے ہولناک دن کا بھی کفر کیا اور اس کے بھی منکر رہے تو تمہیں تقویٰ اور اللہ کا ڈر کیسے حاصل ہو گا؟ “ گو یہ دونوں معنی نہایت عمدہ ہیں لیکن اول اولیٰ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9940
جنتیوں اور جہنمیوں کی نسبت ٭٭
طبرانی میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: یہ قیامت کا دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا اٹھو اور اپنی اولاد میں سے دوزخیوں کو الگ الگ کرو، وہ پوچھیں گے اے اللہ! کتنی تعداد میں سے کتنے؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کے تو ہوش اڑ گئے اور گھبرا گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے چہرے دیکھ کر سمجھ گئے اور بطور تشفی کے فرمایا: ”سنو بنو آدم بہت سے ہیں یاجوج ماجوج بھی اولاد آدم میں سے ہیں جن میں سے ہر ایک نسلی تسلسل میں خاص اپنی صلبی اولاد ایک ایک ہزار چھوڑ کر جاتا ہے پس ان میں اور ان حبشیوں میں مل کر دوزخیوں کی یہ تعداد ہو جائے گی اور جنت تمہارے لیے اور تم جنت کے لیے ہو جاؤ گے۔“ [طبرانی کبیر:12034:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور سورۃ الحج کی تفسیر کے شروع میں اس جیسی احادیث کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ اس دن کی ہیبت اور دہشت کے مارے آسمان بھی پھٹ جائے گا، بعض نے ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف کیا ہے لیکن یہ قوی نہیں اس لیے کہ یہاں ذکر ہی نہیں، اس دن کا وعدہ یقیناً سچ ہے اور ہو کر ہی رہے گا اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں۔
صفحہ نمبر9941
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ” ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خود ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بے فکر ہیں اور تجھے ستانے کے لیے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بے تعلق ہو جا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ “
«نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» [31-لقمان:24] ” تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے “، اور عذاب بھی کون سے؟ سخت قید و بند کے، بدترین بھڑکتی ہوئی نہ بجھنے والی اور نہ کم ہونے والی آگ کے اور ایسا کھانا جو حلق میں جا کر اٹک جائے نہ نگل سکیں نہ اگل سکیں اور بھی طرح طرح کے المناک عذاب ہوں گے، پھر وہ وقت بھی ہو گا جب زمینوں میں اور پہاڑوں پر زلزلہ طاری ہو گا سخت اور بڑی چٹانوں والے پہاڑ آپس میں ٹکرا ٹکرا کر چور چور ہو گئے ہوں گے جیسے بھربھری ریت کے بکھرے ہوئے ذرے ہوں جنہیں ہوا ادھر سے ادھر لے جائے گی اور نام و نشان تک مٹا دے گی اور زمین ایک چٹیل صاف میدان کی طرح رہ جائے گی جس میں کہیں اونچ نیچ نظر نہ آئے گی۔
صفحہ نمبر9939
اہل فرعون کی طرح نہ بنو ٭٭
پھر فرماتا ہے اے لوگو اور خصوصاً اے کافرو ہم نے تم پر گواہی دینے والا اپنا سچا رسول تم میں بھیج دیا ہے جیسے کہ فرعون کے پاس بھی ہم نے اپنے احکام کے پہنچا دینے کے لیے اپنے ایک رسول کو بھیجا تھا، اس نے جب اس رسول کی نہ مانی تو تم جانتے ہو کہ ہم نے اسے بری طرح برباد کیا اور سختی سے پکڑ لیا۔ “
اسی طرح یاد رکھو اگر اس نبی کی تم نے بھی نہ مانی تو تمہاری خیر نہیں اللہ کے عذاب تم پر بھی اتر آئیں گے اور نیست و نابود کر دیئے جاؤ گے کیونکہ یہ رسول رسولوں کے سردار ہیں ان کے جھٹلانے کا وبال بھی اور وبالوں سے بڑا ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ ” اگر تم نے کفر کیا تو بتاؤ تو سہی کہ اس دن کے عذابوں سے کیسے نجات حاصل کرو گے؟ جس دن کی ہیبت خوف اور ڈر بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ “ اور دوسرے معنی یہ کہ ” اگر تم نے اتنے بڑے ہولناک دن کا بھی کفر کیا اور اس کے بھی منکر رہے تو تمہیں تقویٰ اور اللہ کا ڈر کیسے حاصل ہو گا؟ “ گو یہ دونوں معنی نہایت عمدہ ہیں لیکن اول اولیٰ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9940
جنتیوں اور جہنمیوں کی نسبت ٭٭
طبرانی میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: یہ قیامت کا دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا اٹھو اور اپنی اولاد میں سے دوزخیوں کو الگ الگ کرو، وہ پوچھیں گے اے اللہ! کتنی تعداد میں سے کتنے؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کے تو ہوش اڑ گئے اور گھبرا گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے چہرے دیکھ کر سمجھ گئے اور بطور تشفی کے فرمایا: ”سنو بنو آدم بہت سے ہیں یاجوج ماجوج بھی اولاد آدم میں سے ہیں جن میں سے ہر ایک نسلی تسلسل میں خاص اپنی صلبی اولاد ایک ایک ہزار چھوڑ کر جاتا ہے پس ان میں اور ان حبشیوں میں مل کر دوزخیوں کی یہ تعداد ہو جائے گی اور جنت تمہارے لیے اور تم جنت کے لیے ہو جاؤ گے۔“ [طبرانی کبیر:12034:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور سورۃ الحج کی تفسیر کے شروع میں اس جیسی احادیث کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ اس دن کی ہیبت اور دہشت کے مارے آسمان بھی پھٹ جائے گا، بعض نے ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف کیا ہے لیکن یہ قوی نہیں اس لیے کہ یہاں ذکر ہی نہیں، اس دن کا وعدہ یقیناً سچ ہے اور ہو کر ہی رہے گا اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں۔
صفحہ نمبر9941
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ” ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خود ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بے فکر ہیں اور تجھے ستانے کے لیے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بے تعلق ہو جا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ “
«نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» [31-لقمان:24] ” تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے “، اور عذاب بھی کون سے؟ سخت قید و بند کے، بدترین بھڑکتی ہوئی نہ بجھنے والی اور نہ کم ہونے والی آگ کے اور ایسا کھانا جو حلق میں جا کر اٹک جائے نہ نگل سکیں نہ اگل سکیں اور بھی طرح طرح کے المناک عذاب ہوں گے، پھر وہ وقت بھی ہو گا جب زمینوں میں اور پہاڑوں پر زلزلہ طاری ہو گا سخت اور بڑی چٹانوں والے پہاڑ آپس میں ٹکرا ٹکرا کر چور چور ہو گئے ہوں گے جیسے بھربھری ریت کے بکھرے ہوئے ذرے ہوں جنہیں ہوا ادھر سے ادھر لے جائے گی اور نام و نشان تک مٹا دے گی اور زمین ایک چٹیل صاف میدان کی طرح رہ جائے گی جس میں کہیں اونچ نیچ نظر نہ آئے گی۔
صفحہ نمبر9939
اہل فرعون کی طرح نہ بنو ٭٭
پھر فرماتا ہے اے لوگو اور خصوصاً اے کافرو ہم نے تم پر گواہی دینے والا اپنا سچا رسول تم میں بھیج دیا ہے جیسے کہ فرعون کے پاس بھی ہم نے اپنے احکام کے پہنچا دینے کے لیے اپنے ایک رسول کو بھیجا تھا، اس نے جب اس رسول کی نہ مانی تو تم جانتے ہو کہ ہم نے اسے بری طرح برباد کیا اور سختی سے پکڑ لیا۔ “
اسی طرح یاد رکھو اگر اس نبی کی تم نے بھی نہ مانی تو تمہاری خیر نہیں اللہ کے عذاب تم پر بھی اتر آئیں گے اور نیست و نابود کر دیئے جاؤ گے کیونکہ یہ رسول رسولوں کے سردار ہیں ان کے جھٹلانے کا وبال بھی اور وبالوں سے بڑا ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ ” اگر تم نے کفر کیا تو بتاؤ تو سہی کہ اس دن کے عذابوں سے کیسے نجات حاصل کرو گے؟ جس دن کی ہیبت خوف اور ڈر بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ “ اور دوسرے معنی یہ کہ ” اگر تم نے اتنے بڑے ہولناک دن کا بھی کفر کیا اور اس کے بھی منکر رہے تو تمہیں تقویٰ اور اللہ کا ڈر کیسے حاصل ہو گا؟ “ گو یہ دونوں معنی نہایت عمدہ ہیں لیکن اول اولیٰ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9940
جنتیوں اور جہنمیوں کی نسبت ٭٭
طبرانی میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: یہ قیامت کا دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا اٹھو اور اپنی اولاد میں سے دوزخیوں کو الگ الگ کرو، وہ پوچھیں گے اے اللہ! کتنی تعداد میں سے کتنے؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کے تو ہوش اڑ گئے اور گھبرا گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے چہرے دیکھ کر سمجھ گئے اور بطور تشفی کے فرمایا: ”سنو بنو آدم بہت سے ہیں یاجوج ماجوج بھی اولاد آدم میں سے ہیں جن میں سے ہر ایک نسلی تسلسل میں خاص اپنی صلبی اولاد ایک ایک ہزار چھوڑ کر جاتا ہے پس ان میں اور ان حبشیوں میں مل کر دوزخیوں کی یہ تعداد ہو جائے گی اور جنت تمہارے لیے اور تم جنت کے لیے ہو جاؤ گے۔“ [طبرانی کبیر:12034:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور سورۃ الحج کی تفسیر کے شروع میں اس جیسی احادیث کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ اس دن کی ہیبت اور دہشت کے مارے آسمان بھی پھٹ جائے گا، بعض نے ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف کیا ہے لیکن یہ قوی نہیں اس لیے کہ یہاں ذکر ہی نہیں، اس دن کا وعدہ یقیناً سچ ہے اور ہو کر ہی رہے گا اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں۔
صفحہ نمبر9941
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ” ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خود ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بے فکر ہیں اور تجھے ستانے کے لیے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بے تعلق ہو جا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ “
«نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» [31-لقمان:24] ” تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے “، اور عذاب بھی کون سے؟ سخت قید و بند کے، بدترین بھڑکتی ہوئی نہ بجھنے والی اور نہ کم ہونے والی آگ کے اور ایسا کھانا جو حلق میں جا کر اٹک جائے نہ نگل سکیں نہ اگل سکیں اور بھی طرح طرح کے المناک عذاب ہوں گے، پھر وہ وقت بھی ہو گا جب زمینوں میں اور پہاڑوں پر زلزلہ طاری ہو گا سخت اور بڑی چٹانوں والے پہاڑ آپس میں ٹکرا ٹکرا کر چور چور ہو گئے ہوں گے جیسے بھربھری ریت کے بکھرے ہوئے ذرے ہوں جنہیں ہوا ادھر سے ادھر لے جائے گی اور نام و نشان تک مٹا دے گی اور زمین ایک چٹیل صاف میدان کی طرح رہ جائے گی جس میں کہیں اونچ نیچ نظر نہ آئے گی۔
صفحہ نمبر9939
اہل فرعون کی طرح نہ بنو ٭٭
پھر فرماتا ہے اے لوگو اور خصوصاً اے کافرو ہم نے تم پر گواہی دینے والا اپنا سچا رسول تم میں بھیج دیا ہے جیسے کہ فرعون کے پاس بھی ہم نے اپنے احکام کے پہنچا دینے کے لیے اپنے ایک رسول کو بھیجا تھا، اس نے جب اس رسول کی نہ مانی تو تم جانتے ہو کہ ہم نے اسے بری طرح برباد کیا اور سختی سے پکڑ لیا۔ “
اسی طرح یاد رکھو اگر اس نبی کی تم نے بھی نہ مانی تو تمہاری خیر نہیں اللہ کے عذاب تم پر بھی اتر آئیں گے اور نیست و نابود کر دیئے جاؤ گے کیونکہ یہ رسول رسولوں کے سردار ہیں ان کے جھٹلانے کا وبال بھی اور وبالوں سے بڑا ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ ” اگر تم نے کفر کیا تو بتاؤ تو سہی کہ اس دن کے عذابوں سے کیسے نجات حاصل کرو گے؟ جس دن کی ہیبت خوف اور ڈر بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ “ اور دوسرے معنی یہ کہ ” اگر تم نے اتنے بڑے ہولناک دن کا بھی کفر کیا اور اس کے بھی منکر رہے تو تمہیں تقویٰ اور اللہ کا ڈر کیسے حاصل ہو گا؟ “ گو یہ دونوں معنی نہایت عمدہ ہیں لیکن اول اولیٰ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9940
جنتیوں اور جہنمیوں کی نسبت ٭٭
طبرانی میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: یہ قیامت کا دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا اٹھو اور اپنی اولاد میں سے دوزخیوں کو الگ الگ کرو، وہ پوچھیں گے اے اللہ! کتنی تعداد میں سے کتنے؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کے تو ہوش اڑ گئے اور گھبرا گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے چہرے دیکھ کر سمجھ گئے اور بطور تشفی کے فرمایا: ”سنو بنو آدم بہت سے ہیں یاجوج ماجوج بھی اولاد آدم میں سے ہیں جن میں سے ہر ایک نسلی تسلسل میں خاص اپنی صلبی اولاد ایک ایک ہزار چھوڑ کر جاتا ہے پس ان میں اور ان حبشیوں میں مل کر دوزخیوں کی یہ تعداد ہو جائے گی اور جنت تمہارے لیے اور تم جنت کے لیے ہو جاؤ گے۔“ [طبرانی کبیر:12034:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور سورۃ الحج کی تفسیر کے شروع میں اس جیسی احادیث کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ اس دن کی ہیبت اور دہشت کے مارے آسمان بھی پھٹ جائے گا، بعض نے ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف کیا ہے لیکن یہ قوی نہیں اس لیے کہ یہاں ذکر ہی نہیں، اس دن کا وعدہ یقیناً سچ ہے اور ہو کر ہی رہے گا اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں۔
صفحہ نمبر9941
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ” ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خود ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بے فکر ہیں اور تجھے ستانے کے لیے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بے تعلق ہو جا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ “
«نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» [31-لقمان:24] ” تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے “، اور عذاب بھی کون سے؟ سخت قید و بند کے، بدترین بھڑکتی ہوئی نہ بجھنے والی اور نہ کم ہونے والی آگ کے اور ایسا کھانا جو حلق میں جا کر اٹک جائے نہ نگل سکیں نہ اگل سکیں اور بھی طرح طرح کے المناک عذاب ہوں گے، پھر وہ وقت بھی ہو گا جب زمینوں میں اور پہاڑوں پر زلزلہ طاری ہو گا سخت اور بڑی چٹانوں والے پہاڑ آپس میں ٹکرا ٹکرا کر چور چور ہو گئے ہوں گے جیسے بھربھری ریت کے بکھرے ہوئے ذرے ہوں جنہیں ہوا ادھر سے ادھر لے جائے گی اور نام و نشان تک مٹا دے گی اور زمین ایک چٹیل صاف میدان کی طرح رہ جائے گی جس میں کہیں اونچ نیچ نظر نہ آئے گی۔
صفحہ نمبر9939
اہل فرعون کی طرح نہ بنو ٭٭
پھر فرماتا ہے اے لوگو اور خصوصاً اے کافرو ہم نے تم پر گواہی دینے والا اپنا سچا رسول تم میں بھیج دیا ہے جیسے کہ فرعون کے پاس بھی ہم نے اپنے احکام کے پہنچا دینے کے لیے اپنے ایک رسول کو بھیجا تھا، اس نے جب اس رسول کی نہ مانی تو تم جانتے ہو کہ ہم نے اسے بری طرح برباد کیا اور سختی سے پکڑ لیا۔ “
اسی طرح یاد رکھو اگر اس نبی کی تم نے بھی نہ مانی تو تمہاری خیر نہیں اللہ کے عذاب تم پر بھی اتر آئیں گے اور نیست و نابود کر دیئے جاؤ گے کیونکہ یہ رسول رسولوں کے سردار ہیں ان کے جھٹلانے کا وبال بھی اور وبالوں سے بڑا ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ ” اگر تم نے کفر کیا تو بتاؤ تو سہی کہ اس دن کے عذابوں سے کیسے نجات حاصل کرو گے؟ جس دن کی ہیبت خوف اور ڈر بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ “ اور دوسرے معنی یہ کہ ” اگر تم نے اتنے بڑے ہولناک دن کا بھی کفر کیا اور اس کے بھی منکر رہے تو تمہیں تقویٰ اور اللہ کا ڈر کیسے حاصل ہو گا؟ “ گو یہ دونوں معنی نہایت عمدہ ہیں لیکن اول اولیٰ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9940
جنتیوں اور جہنمیوں کی نسبت ٭٭
طبرانی میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: یہ قیامت کا دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا اٹھو اور اپنی اولاد میں سے دوزخیوں کو الگ الگ کرو، وہ پوچھیں گے اے اللہ! کتنی تعداد میں سے کتنے؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کے تو ہوش اڑ گئے اور گھبرا گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے چہرے دیکھ کر سمجھ گئے اور بطور تشفی کے فرمایا: ”سنو بنو آدم بہت سے ہیں یاجوج ماجوج بھی اولاد آدم میں سے ہیں جن میں سے ہر ایک نسلی تسلسل میں خاص اپنی صلبی اولاد ایک ایک ہزار چھوڑ کر جاتا ہے پس ان میں اور ان حبشیوں میں مل کر دوزخیوں کی یہ تعداد ہو جائے گی اور جنت تمہارے لیے اور تم جنت کے لیے ہو جاؤ گے۔“ [طبرانی کبیر:12034:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور سورۃ الحج کی تفسیر کے شروع میں اس جیسی احادیث کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ اس دن کی ہیبت اور دہشت کے مارے آسمان بھی پھٹ جائے گا، بعض نے ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف کیا ہے لیکن یہ قوی نہیں اس لیے کہ یہاں ذکر ہی نہیں، اس دن کا وعدہ یقیناً سچ ہے اور ہو کر ہی رہے گا اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں۔
صفحہ نمبر9941
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ” ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خود ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بے فکر ہیں اور تجھے ستانے کے لیے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بے تعلق ہو جا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ “
«نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» [31-لقمان:24] ” تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے “، اور عذاب بھی کون سے؟ سخت قید و بند کے، بدترین بھڑکتی ہوئی نہ بجھنے والی اور نہ کم ہونے والی آگ کے اور ایسا کھانا جو حلق میں جا کر اٹک جائے نہ نگل سکیں نہ اگل سکیں اور بھی طرح طرح کے المناک عذاب ہوں گے، پھر وہ وقت بھی ہو گا جب زمینوں میں اور پہاڑوں پر زلزلہ طاری ہو گا سخت اور بڑی چٹانوں والے پہاڑ آپس میں ٹکرا ٹکرا کر چور چور ہو گئے ہوں گے جیسے بھربھری ریت کے بکھرے ہوئے ذرے ہوں جنہیں ہوا ادھر سے ادھر لے جائے گی اور نام و نشان تک مٹا دے گی اور زمین ایک چٹیل صاف میدان کی طرح رہ جائے گی جس میں کہیں اونچ نیچ نظر نہ آئے گی۔
صفحہ نمبر9939
اہل فرعون کی طرح نہ بنو ٭٭
پھر فرماتا ہے اے لوگو اور خصوصاً اے کافرو ہم نے تم پر گواہی دینے والا اپنا سچا رسول تم میں بھیج دیا ہے جیسے کہ فرعون کے پاس بھی ہم نے اپنے احکام کے پہنچا دینے کے لیے اپنے ایک رسول کو بھیجا تھا، اس نے جب اس رسول کی نہ مانی تو تم جانتے ہو کہ ہم نے اسے بری طرح برباد کیا اور سختی سے پکڑ لیا۔ “
اسی طرح یاد رکھو اگر اس نبی کی تم نے بھی نہ مانی تو تمہاری خیر نہیں اللہ کے عذاب تم پر بھی اتر آئیں گے اور نیست و نابود کر دیئے جاؤ گے کیونکہ یہ رسول رسولوں کے سردار ہیں ان کے جھٹلانے کا وبال بھی اور وبالوں سے بڑا ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ ” اگر تم نے کفر کیا تو بتاؤ تو سہی کہ اس دن کے عذابوں سے کیسے نجات حاصل کرو گے؟ جس دن کی ہیبت خوف اور ڈر بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ “ اور دوسرے معنی یہ کہ ” اگر تم نے اتنے بڑے ہولناک دن کا بھی کفر کیا اور اس کے بھی منکر رہے تو تمہیں تقویٰ اور اللہ کا ڈر کیسے حاصل ہو گا؟ “ گو یہ دونوں معنی نہایت عمدہ ہیں لیکن اول اولیٰ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9940
جنتیوں اور جہنمیوں کی نسبت ٭٭
طبرانی میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: یہ قیامت کا دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا اٹھو اور اپنی اولاد میں سے دوزخیوں کو الگ الگ کرو، وہ پوچھیں گے اے اللہ! کتنی تعداد میں سے کتنے؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کے تو ہوش اڑ گئے اور گھبرا گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے چہرے دیکھ کر سمجھ گئے اور بطور تشفی کے فرمایا: ”سنو بنو آدم بہت سے ہیں یاجوج ماجوج بھی اولاد آدم میں سے ہیں جن میں سے ہر ایک نسلی تسلسل میں خاص اپنی صلبی اولاد ایک ایک ہزار چھوڑ کر جاتا ہے پس ان میں اور ان حبشیوں میں مل کر دوزخیوں کی یہ تعداد ہو جائے گی اور جنت تمہارے لیے اور تم جنت کے لیے ہو جاؤ گے۔“ [طبرانی کبیر:12034:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور سورۃ الحج کی تفسیر کے شروع میں اس جیسی احادیث کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ اس دن کی ہیبت اور دہشت کے مارے آسمان بھی پھٹ جائے گا، بعض نے ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف کیا ہے لیکن یہ قوی نہیں اس لیے کہ یہاں ذکر ہی نہیں، اس دن کا وعدہ یقیناً سچ ہے اور ہو کر ہی رہے گا اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں۔
صفحہ نمبر9941
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ” ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خود ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بے فکر ہیں اور تجھے ستانے کے لیے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بے تعلق ہو جا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ “
«نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» [31-لقمان:24] ” تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے “، اور عذاب بھی کون سے؟ سخت قید و بند کے، بدترین بھڑکتی ہوئی نہ بجھنے والی اور نہ کم ہونے والی آگ کے اور ایسا کھانا جو حلق میں جا کر اٹک جائے نہ نگل سکیں نہ اگل سکیں اور بھی طرح طرح کے المناک عذاب ہوں گے، پھر وہ وقت بھی ہو گا جب زمینوں میں اور پہاڑوں پر زلزلہ طاری ہو گا سخت اور بڑی چٹانوں والے پہاڑ آپس میں ٹکرا ٹکرا کر چور چور ہو گئے ہوں گے جیسے بھربھری ریت کے بکھرے ہوئے ذرے ہوں جنہیں ہوا ادھر سے ادھر لے جائے گی اور نام و نشان تک مٹا دے گی اور زمین ایک چٹیل صاف میدان کی طرح رہ جائے گی جس میں کہیں اونچ نیچ نظر نہ آئے گی۔
صفحہ نمبر9939
اہل فرعون کی طرح نہ بنو ٭٭
پھر فرماتا ہے اے لوگو اور خصوصاً اے کافرو ہم نے تم پر گواہی دینے والا اپنا سچا رسول تم میں بھیج دیا ہے جیسے کہ فرعون کے پاس بھی ہم نے اپنے احکام کے پہنچا دینے کے لیے اپنے ایک رسول کو بھیجا تھا، اس نے جب اس رسول کی نہ مانی تو تم جانتے ہو کہ ہم نے اسے بری طرح برباد کیا اور سختی سے پکڑ لیا۔ “
اسی طرح یاد رکھو اگر اس نبی کی تم نے بھی نہ مانی تو تمہاری خیر نہیں اللہ کے عذاب تم پر بھی اتر آئیں گے اور نیست و نابود کر دیئے جاؤ گے کیونکہ یہ رسول رسولوں کے سردار ہیں ان کے جھٹلانے کا وبال بھی اور وبالوں سے بڑا ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ ” اگر تم نے کفر کیا تو بتاؤ تو سہی کہ اس دن کے عذابوں سے کیسے نجات حاصل کرو گے؟ جس دن کی ہیبت خوف اور ڈر بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ “ اور دوسرے معنی یہ کہ ” اگر تم نے اتنے بڑے ہولناک دن کا بھی کفر کیا اور اس کے بھی منکر رہے تو تمہیں تقویٰ اور اللہ کا ڈر کیسے حاصل ہو گا؟ “ گو یہ دونوں معنی نہایت عمدہ ہیں لیکن اول اولیٰ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9940
جنتیوں اور جہنمیوں کی نسبت ٭٭
طبرانی میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: یہ قیامت کا دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا اٹھو اور اپنی اولاد میں سے دوزخیوں کو الگ الگ کرو، وہ پوچھیں گے اے اللہ! کتنی تعداد میں سے کتنے؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کے تو ہوش اڑ گئے اور گھبرا گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے چہرے دیکھ کر سمجھ گئے اور بطور تشفی کے فرمایا: ”سنو بنو آدم بہت سے ہیں یاجوج ماجوج بھی اولاد آدم میں سے ہیں جن میں سے ہر ایک نسلی تسلسل میں خاص اپنی صلبی اولاد ایک ایک ہزار چھوڑ کر جاتا ہے پس ان میں اور ان حبشیوں میں مل کر دوزخیوں کی یہ تعداد ہو جائے گی اور جنت تمہارے لیے اور تم جنت کے لیے ہو جاؤ گے۔“ [طبرانی کبیر:12034:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور سورۃ الحج کی تفسیر کے شروع میں اس جیسی احادیث کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ اس دن کی ہیبت اور دہشت کے مارے آسمان بھی پھٹ جائے گا، بعض نے ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف کیا ہے لیکن یہ قوی نہیں اس لیے کہ یہاں ذکر ہی نہیں، اس دن کا وعدہ یقیناً سچ ہے اور ہو کر ہی رہے گا اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں۔
صفحہ نمبر9941
پیغام نصیحت و عبرت اور قیام الیل ٭٭
فرماتا ہے کہ ” یہ سورۃ عقلمندوں کے لیے سراسر نصیحت و عبرت ہے جو بھی طالب ہدایت ہو وہ مرضی مولا سے ہدایت کا راستہ پا لے گا اور اپنے رب کی طرف پہنچ جانے کا ذریعہ حاصل کر لے گا۔ “ جیسے دوسری سورۃ میں فرمایا «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا» [76-الإنسان:30] ” تمہاری چاہت کام نہیں آتی وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہے، صحیح علم والا اور پوری حکمت والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ “
پھر فرماتا ہے کہ ” اے نبی! آپ کا اور آپ کے اصحاب کی ایک جماعت کا کبھی دو تہائی رات تک قیام میں مشغول رہنا، کبھی آدھی رات اسی میں گزرنا، کبھی تہائی رات تک تہجد پڑھنا اللہ تعالیٰ کو بخوبی معلوم ہے گو تمہارا مقصد ٹھیک اس وقت کو پورا کرنا نہیں ہوتا اور ہے بھی وہ مشکل کام۔ “ کیونکہ رات دن کا صحیح اندازہ اللہ ہی کو ہے کبھی دونوں برابر ہوتے ہیں کبھی رات چھوٹی دن بڑا، کبھی دن چھوٹا رات بڑی، اللہ جانتا ہے کہ اس کو بنانے کی طاقت تم میں نہیں تو اب رات کی نماز اتنی ہی پڑھو جتنی تم باآسانی پڑھ سکو کوئی وقت مقرر نہیں کہ فرضاً اتنا وقت تو لگانا ہی ہو گا۔
یہاں صلٰوۃ کی تعبیر قرأت سے کی ہے جیسے سورۃ سبحان میں کی ہے «وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:110] ” نہ تو بہت بلند کر نہ بالکل پست کر۔“
صفحہ نمبر9950
نماز میں سورۂ فاتحہ ٭٭
امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ کے اصحاب نے اس آیت سے استدلال کر کے یہ مسئلہ لیا ہے کہ نماز میں سورۃ فاتحہ ہی کا پڑھنا متعین نہیں اسے پڑھے خواہ اور کہیں سے پڑھ لے گو ایک ہی آیت پڑھے کافی ہے اور پھر اس مسئلہ کی مضبوطی اس حدیث سے کی ہے جس میں ہے کہ بہت جلدی جلدی نماز ادا کرنے والے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”پھر پڑھ جو آسان ہو تیرے ساتھ قرآن سے۔“ [صحیح بخاری:397]
صفحہ نمبر9951
یہ مذہب جمہور کے خلاف ہے اور جمہور نے انہیں یہ جواب دیا ہے کہ بخاری و مسلم کی عبادہ بن صامت والی حدیث میں آ چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز نہیں ہے مگر یہ کہ تو سورۃ فاتحہ پڑھے۔ [صحیح بخاری:756]
اور صحیح مسلم شریف میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ نماز جس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ بالکل ادھوری محض ناکارہ ناقص اور ناتمام ہے۔“ [صحیح مسلم:385]
صحیح ابن خزیمہ میں بھی ان ہی کی روایت سے ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورۃ فاتحہ نہ پڑھے۔ [صحیح ابن خریمه:490:صحیح] (پس ٹھیک قول جمہور کا ہی ہے کہ ہر نماز کی ہر ایک رکعت میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا لازمی اور متعین ہے)۔
صفحہ نمبر9952
مکہ میں جہاد کی پیشن گوئی ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ” اللہ کو معلوم ہے کہ اس امت میں عذر والے لوگ بھی ہیں جو قیام الیل کے ترک پر معذور ہیں۔ “ مثلاً بیمار کہ جنہیں اس کی طاقت نہیں، مسافر جو روزی کی تلاش میں ادھر ادھر جا رہے ہیں، مجاہد جو اہم تر شغل میں مشغول ہیں۔
یہ آیت بلکہ یہ پوری سورت مکی ہے، مکہ شریف میں نازل ہوئی اس وقت جہاد فرض نہیں تھا بلکہ مسلمان نہایت پست حالت میں تھے پھر غیب کی یہ خبر دینا اور اسی طرح ظہور میں بھی آنا کہ مسلمانوں جہاد میں پوری طرح مشغول ہوئے یہ نبوت کی اعلیٰ اور بہترین دلیل ہے۔ تو ان معذورات کے باعث تمہیں رخصت دی جاتی ہے کہ جتنا قیام تم سے با آسانی کیا جا سکے کر لیا کرو۔
صفحہ نمبر9953
ابورجاء محمد رحمہ اللہ نے حسن رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ ”اے ابوسعید! اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو پورے قرآن کا حافظ ہے لیکن تہجد نہیں پڑھتا صرف فرض نماز پڑھتا ہے؟“ آپ نے فرمایا ”اس نے قرآن کو تکیہ بنا لیا اس پر اللہ کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک غلام کے لیے فرمایا کہ «وَإِنَّهُ لَذُو عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنَاهُ» [12-یوسف:68] ” وہ ہمارے علم کو جاننے والا ہے “ اور فرمایا «وَعُلِّمْتُم مَّا لَمْ تَعْلَمُوا أَنتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ» [6-الأنعام:91] ” تم وہ سکھائے گئے ہو جسے نہ تم جانتے تھے نہ تمہارے باپ دادا۔ “ میں نے کہا، ابوسعید! اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے ” جو قرآن آسانی سے تم پڑھ سکو پڑھو۔ “ فرمایا: ”ہاں ٹھیک تو ہے پانچ آیتیں ہی پڑھ لو۔“
پس بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حافظ قرآن کا رات کی نماز میں کچھ نہ کچھ قیام کرنا امام حسن بصری رحمہ اللہ کے نزدیک حق و واجب تھا، ایک حدیث بھی اس پر دلالت کرتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں سوال ہوا جو صبح تک سویا رہتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ شخص ہے جس کے کان میں شیطان پیشاب کر جاتا ہے۔“ [صحیح بخاری:1144] اس کا تو ایک تو یہ مطلب بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو عشاء کے فرض بھی نہ پڑھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو رات کو نفلی قیام نہ کرے۔
سنن کی حدیث میں ہے اے قرآن والو وتر پڑھا کرو۔ [سنن ابوداود:1416،قال الشيخ الألباني:صحیح]
دوسری روایت میں ہے جو وتر نہیں پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔ [سنن ابوداود:1419،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
حسن بصری رحمہ اللہ کے قول سے بھی زیادہ غریب قول ابوبکر بن عبدالعزیز حنبلی رحمہ اللہ کا ہے جو کہتے ہیں کہ رمضان کے مہینے کا قیام فرض ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (یہ یاد رہے کہ صحیح مسلک یہی ہے کہ تہجد کی نماز نہ تو رمضان میں واجب ہے، نہ غیر رمضان میں۔ رمضان کی بابت بھی حدیث شریف میں صاف آ چکا ہے «وَقِیَامَ لَیُلِهٖ تَطَوُّعاً» یعنی اللہ نے اس کے قیام کو نفلی قرار دیا ہے وغیرہ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم)
طبرانی کی حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں بہت مرفوعاً مروی ہے کہ گو سو ہی آیتیں ہوں۔ [طبرانی کبیر:10940:ضعیف] لیکن یہ حدیث بہت غریب ہے صرف معجم طبرانی میں ہی میں نے اسے دیکھا ہے۔
صفحہ نمبر9954
پھر ارشاد ہے کہ ” فرض نمازوں کی حفاظت کرو اور فرض زکوٰۃ کی ادائیگی کیا کرو۔ “ یہ آیت ان حضرات کی دلیل ہے جو فرماتے ہیں فرضیت زکوٰۃ کا حکم مکہ شریف میں ہی نازل ہو چکا تھا ہاں کتنی نکالی جائے؟ نصاب کیا ہے؟ وغیرہ یہ سب مدینہ میں بیان ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما،عکرمہ مجاہد، حسن، قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سلف کا فرمان ہے کہ ”اس آیت نے اس سے پہلے کے حکم رات کے قیام کو منسوخ کر دیا۔“ ان دونوں حکموں کے درمیان کس قدر مدت تھی؟ اس میں جو اختلاف ہے اس کا بیان اوپر گزر چکا۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”پانچ نمازیں دن رات میں فرض ہیں۔“ اس نے پوچھا: اس کے سوا بھی کوئی نماز مجھ پر فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باقی سب نوافل ہیں۔“ [صحیح بخاری:46]
پھر فرماتا ہے ” اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دو۔ “ یعنی راہ اللہ صدقہ خیرات کرتے رہو جس پر اللہ تعالیٰ تمہیں بہت بہتر اور اعلیٰ اور پورا بدلہ دے گا۔
جیسے اور جگہ ہے «مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» [2-البقرة:245] ” ایسا کون ہے کہ اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دے اور اللہ اسے بہت کچھ بڑھائے چڑھائے۔“ تم جو بھی نیکیاں کر کے بھیجو گے وہ تمہارے لیے اس چیز سے جسے تم اپنے پیچھے چھوڑ کر جاؤ گے بہت ہی بہتر اور اجر و ثواب میں بہت ہی زیادہ ہے۔
ابو یعلیٰ موصلی کی روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے ایک مرتبہ پوچھا: ”تم میں سے ایسا کون ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے تو ایک بھی ایسا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:: ”اور سوچ لو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! یہی بات ہے فرمایا: ”سنو تمہارا مال وہ ہے جسے تم راہ اللہ دے کر اپنے لیے آگے بھیج دو اور جو چھوڑ جاؤ گے وہ تمہارا مال نہیں وہ تو تمہارے وارثوں کا مال ہے۔“ یہ حدیث بخاری شریف اور نسائی میں بھی مروی ہے۔ [صحیح بخاری:6442]
پھر فرمان ہے کہ اللہ کا ذکر بکثرت کیا کرو اور اپنے تمام کاموں میں استغفار کیا کرو جو استغفار کرے وہ مغفرت حاصل کر لیتا ہے کیونکہ اللہ مغفرت کرنے والا اور مہربانیوں والا ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ مزمل کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر9955
پیغام نصیحت و عبرت اور قیام الیل ٭٭
فرماتا ہے کہ ” یہ سورۃ عقلمندوں کے لیے سراسر نصیحت و عبرت ہے جو بھی طالب ہدایت ہو وہ مرضی مولا سے ہدایت کا راستہ پا لے گا اور اپنے رب کی طرف پہنچ جانے کا ذریعہ حاصل کر لے گا۔ “ جیسے دوسری سورۃ میں فرمایا «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا» [76-الإنسان:30] ” تمہاری چاہت کام نہیں آتی وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہے، صحیح علم والا اور پوری حکمت والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ “
پھر فرماتا ہے کہ ” اے نبی! آپ کا اور آپ کے اصحاب کی ایک جماعت کا کبھی دو تہائی رات تک قیام میں مشغول رہنا، کبھی آدھی رات اسی میں گزرنا، کبھی تہائی رات تک تہجد پڑھنا اللہ تعالیٰ کو بخوبی معلوم ہے گو تمہارا مقصد ٹھیک اس وقت کو پورا کرنا نہیں ہوتا اور ہے بھی وہ مشکل کام۔ “ کیونکہ رات دن کا صحیح اندازہ اللہ ہی کو ہے کبھی دونوں برابر ہوتے ہیں کبھی رات چھوٹی دن بڑا، کبھی دن چھوٹا رات بڑی، اللہ جانتا ہے کہ اس کو بنانے کی طاقت تم میں نہیں تو اب رات کی نماز اتنی ہی پڑھو جتنی تم باآسانی پڑھ سکو کوئی وقت مقرر نہیں کہ فرضاً اتنا وقت تو لگانا ہی ہو گا۔
یہاں صلٰوۃ کی تعبیر قرأت سے کی ہے جیسے سورۃ سبحان میں کی ہے «وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:110] ” نہ تو بہت بلند کر نہ بالکل پست کر۔“
صفحہ نمبر9950
نماز میں سورۂ فاتحہ ٭٭
امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ کے اصحاب نے اس آیت سے استدلال کر کے یہ مسئلہ لیا ہے کہ نماز میں سورۃ فاتحہ ہی کا پڑھنا متعین نہیں اسے پڑھے خواہ اور کہیں سے پڑھ لے گو ایک ہی آیت پڑھے کافی ہے اور پھر اس مسئلہ کی مضبوطی اس حدیث سے کی ہے جس میں ہے کہ بہت جلدی جلدی نماز ادا کرنے والے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”پھر پڑھ جو آسان ہو تیرے ساتھ قرآن سے۔“ [صحیح بخاری:397]
صفحہ نمبر9951
یہ مذہب جمہور کے خلاف ہے اور جمہور نے انہیں یہ جواب دیا ہے کہ بخاری و مسلم کی عبادہ بن صامت والی حدیث میں آ چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز نہیں ہے مگر یہ کہ تو سورۃ فاتحہ پڑھے۔ [صحیح بخاری:756]
اور صحیح مسلم شریف میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ نماز جس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ بالکل ادھوری محض ناکارہ ناقص اور ناتمام ہے۔“ [صحیح مسلم:385]
صحیح ابن خزیمہ میں بھی ان ہی کی روایت سے ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورۃ فاتحہ نہ پڑھے۔ [صحیح ابن خریمه:490:صحیح] (پس ٹھیک قول جمہور کا ہی ہے کہ ہر نماز کی ہر ایک رکعت میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا لازمی اور متعین ہے)۔
صفحہ نمبر9952
مکہ میں جہاد کی پیشن گوئی ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ” اللہ کو معلوم ہے کہ اس امت میں عذر والے لوگ بھی ہیں جو قیام الیل کے ترک پر معذور ہیں۔ “ مثلاً بیمار کہ جنہیں اس کی طاقت نہیں، مسافر جو روزی کی تلاش میں ادھر ادھر جا رہے ہیں، مجاہد جو اہم تر شغل میں مشغول ہیں۔
یہ آیت بلکہ یہ پوری سورت مکی ہے، مکہ شریف میں نازل ہوئی اس وقت جہاد فرض نہیں تھا بلکہ مسلمان نہایت پست حالت میں تھے پھر غیب کی یہ خبر دینا اور اسی طرح ظہور میں بھی آنا کہ مسلمانوں جہاد میں پوری طرح مشغول ہوئے یہ نبوت کی اعلیٰ اور بہترین دلیل ہے۔ تو ان معذورات کے باعث تمہیں رخصت دی جاتی ہے کہ جتنا قیام تم سے با آسانی کیا جا سکے کر لیا کرو۔
صفحہ نمبر9953
ابورجاء محمد رحمہ اللہ نے حسن رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ ”اے ابوسعید! اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو پورے قرآن کا حافظ ہے لیکن تہجد نہیں پڑھتا صرف فرض نماز پڑھتا ہے؟“ آپ نے فرمایا ”اس نے قرآن کو تکیہ بنا لیا اس پر اللہ کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک غلام کے لیے فرمایا کہ «وَإِنَّهُ لَذُو عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنَاهُ» [12-یوسف:68] ” وہ ہمارے علم کو جاننے والا ہے “ اور فرمایا «وَعُلِّمْتُم مَّا لَمْ تَعْلَمُوا أَنتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ» [6-الأنعام:91] ” تم وہ سکھائے گئے ہو جسے نہ تم جانتے تھے نہ تمہارے باپ دادا۔ “ میں نے کہا، ابوسعید! اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے ” جو قرآن آسانی سے تم پڑھ سکو پڑھو۔ “ فرمایا: ”ہاں ٹھیک تو ہے پانچ آیتیں ہی پڑھ لو۔“
پس بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حافظ قرآن کا رات کی نماز میں کچھ نہ کچھ قیام کرنا امام حسن بصری رحمہ اللہ کے نزدیک حق و واجب تھا، ایک حدیث بھی اس پر دلالت کرتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں سوال ہوا جو صبح تک سویا رہتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ شخص ہے جس کے کان میں شیطان پیشاب کر جاتا ہے۔“ [صحیح بخاری:1144] اس کا تو ایک تو یہ مطلب بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو عشاء کے فرض بھی نہ پڑھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو رات کو نفلی قیام نہ کرے۔
سنن کی حدیث میں ہے اے قرآن والو وتر پڑھا کرو۔ [سنن ابوداود:1416،قال الشيخ الألباني:صحیح]
دوسری روایت میں ہے جو وتر نہیں پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔ [سنن ابوداود:1419،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
حسن بصری رحمہ اللہ کے قول سے بھی زیادہ غریب قول ابوبکر بن عبدالعزیز حنبلی رحمہ اللہ کا ہے جو کہتے ہیں کہ رمضان کے مہینے کا قیام فرض ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (یہ یاد رہے کہ صحیح مسلک یہی ہے کہ تہجد کی نماز نہ تو رمضان میں واجب ہے، نہ غیر رمضان میں۔ رمضان کی بابت بھی حدیث شریف میں صاف آ چکا ہے «وَقِیَامَ لَیُلِهٖ تَطَوُّعاً» یعنی اللہ نے اس کے قیام کو نفلی قرار دیا ہے وغیرہ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم)
طبرانی کی حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں بہت مرفوعاً مروی ہے کہ گو سو ہی آیتیں ہوں۔ [طبرانی کبیر:10940:ضعیف] لیکن یہ حدیث بہت غریب ہے صرف معجم طبرانی میں ہی میں نے اسے دیکھا ہے۔
صفحہ نمبر9954
پھر ارشاد ہے کہ ” فرض نمازوں کی حفاظت کرو اور فرض زکوٰۃ کی ادائیگی کیا کرو۔ “ یہ آیت ان حضرات کی دلیل ہے جو فرماتے ہیں فرضیت زکوٰۃ کا حکم مکہ شریف میں ہی نازل ہو چکا تھا ہاں کتنی نکالی جائے؟ نصاب کیا ہے؟ وغیرہ یہ سب مدینہ میں بیان ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما،عکرمہ مجاہد، حسن، قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سلف کا فرمان ہے کہ ”اس آیت نے اس سے پہلے کے حکم رات کے قیام کو منسوخ کر دیا۔“ ان دونوں حکموں کے درمیان کس قدر مدت تھی؟ اس میں جو اختلاف ہے اس کا بیان اوپر گزر چکا۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”پانچ نمازیں دن رات میں فرض ہیں۔“ اس نے پوچھا: اس کے سوا بھی کوئی نماز مجھ پر فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باقی سب نوافل ہیں۔“ [صحیح بخاری:46]
پھر فرماتا ہے ” اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دو۔ “ یعنی راہ اللہ صدقہ خیرات کرتے رہو جس پر اللہ تعالیٰ تمہیں بہت بہتر اور اعلیٰ اور پورا بدلہ دے گا۔
جیسے اور جگہ ہے «مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» [2-البقرة:245] ” ایسا کون ہے کہ اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دے اور اللہ اسے بہت کچھ بڑھائے چڑھائے۔“ تم جو بھی نیکیاں کر کے بھیجو گے وہ تمہارے لیے اس چیز سے جسے تم اپنے پیچھے چھوڑ کر جاؤ گے بہت ہی بہتر اور اجر و ثواب میں بہت ہی زیادہ ہے۔
ابو یعلیٰ موصلی کی روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے ایک مرتبہ پوچھا: ”تم میں سے ایسا کون ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے تو ایک بھی ایسا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:: ”اور سوچ لو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! یہی بات ہے فرمایا: ”سنو تمہارا مال وہ ہے جسے تم راہ اللہ دے کر اپنے لیے آگے بھیج دو اور جو چھوڑ جاؤ گے وہ تمہارا مال نہیں وہ تو تمہارے وارثوں کا مال ہے۔“ یہ حدیث بخاری شریف اور نسائی میں بھی مروی ہے۔ [صحیح بخاری:6442]
پھر فرمان ہے کہ اللہ کا ذکر بکثرت کیا کرو اور اپنے تمام کاموں میں استغفار کیا کرو جو استغفار کرے وہ مغفرت حاصل کر لیتا ہے کیونکہ اللہ مغفرت کرنے والا اور مہربانیوں والا ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ مزمل کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر9955