Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Muddaththir
Tafsir Ibn Kathir · The Cloaked One · 56 ayat · ayat 1–30 · Quran text →
ابتدائے وحی ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں ۔ [صحیح بخاری:4922]
صفحہ نمبر9957
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں ۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر9958
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔
پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں ۔ [صحیح بخاری:3238]
صفحہ نمبر9959
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» [74-المدثر:7] تک اتریں۔ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
صفحہ نمبر9960
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ” کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو “۔
پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔
عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ” دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں “۔
عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔
ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» [33-الأحزاب:1] ” اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو “۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» [7-الأعراف:142] ” اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو “۔
صفحہ نمبر9961
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ” عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو “۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔
یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ” اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” طلب خیر میں غفلت نہ برتو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو “، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9962
پھر فرماتا ہے ” ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ “۔
«نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ [مسند احمد:1/326:صحیح]
پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ” وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا “۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ” یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے “۔
زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
صفحہ نمبر9963
ابتدائے وحی ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں ۔ [صحیح بخاری:4922]
صفحہ نمبر9957
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں ۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر9958
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔
پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں ۔ [صحیح بخاری:3238]
صفحہ نمبر9959
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» [74-المدثر:7] تک اتریں۔ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
صفحہ نمبر9960
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ” کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو “۔
پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔
عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ” دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں “۔
عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔
ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» [33-الأحزاب:1] ” اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو “۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» [7-الأعراف:142] ” اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو “۔
صفحہ نمبر9961
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ” عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو “۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔
یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ” اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” طلب خیر میں غفلت نہ برتو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو “، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9962
پھر فرماتا ہے ” ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ “۔
«نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ [مسند احمد:1/326:صحیح]
پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ” وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا “۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ” یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے “۔
زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
صفحہ نمبر9963
ابتدائے وحی ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں ۔ [صحیح بخاری:4922]
صفحہ نمبر9957
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں ۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر9958
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔
پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں ۔ [صحیح بخاری:3238]
صفحہ نمبر9959
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» [74-المدثر:7] تک اتریں۔ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
صفحہ نمبر9960
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ” کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو “۔
پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔
عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ” دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں “۔
عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔
ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» [33-الأحزاب:1] ” اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو “۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» [7-الأعراف:142] ” اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو “۔
صفحہ نمبر9961
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ” عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو “۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔
یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ” اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” طلب خیر میں غفلت نہ برتو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو “، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9962
پھر فرماتا ہے ” ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ “۔
«نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ [مسند احمد:1/326:صحیح]
پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ” وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا “۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ” یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے “۔
زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
صفحہ نمبر9963
ابتدائے وحی ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں ۔ [صحیح بخاری:4922]
صفحہ نمبر9957
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں ۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر9958
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔
پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں ۔ [صحیح بخاری:3238]
صفحہ نمبر9959
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» [74-المدثر:7] تک اتریں۔ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
صفحہ نمبر9960
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ” کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو “۔
پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔
عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ” دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں “۔
عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔
ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» [33-الأحزاب:1] ” اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو “۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» [7-الأعراف:142] ” اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو “۔
صفحہ نمبر9961
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ” عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو “۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔
یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ” اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” طلب خیر میں غفلت نہ برتو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو “، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9962
پھر فرماتا ہے ” ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ “۔
«نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ [مسند احمد:1/326:صحیح]
پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ” وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا “۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ” یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے “۔
زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
صفحہ نمبر9963
ابتدائے وحی ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں ۔ [صحیح بخاری:4922]
صفحہ نمبر9957
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں ۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر9958
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔
پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں ۔ [صحیح بخاری:3238]
صفحہ نمبر9959
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» [74-المدثر:7] تک اتریں۔ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
صفحہ نمبر9960
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ” کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو “۔
پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔
عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ” دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں “۔
عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔
ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» [33-الأحزاب:1] ” اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو “۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» [7-الأعراف:142] ” اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو “۔
صفحہ نمبر9961
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ” عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو “۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔
یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ” اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” طلب خیر میں غفلت نہ برتو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو “، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9962
پھر فرماتا ہے ” ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ “۔
«نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ [مسند احمد:1/326:صحیح]
پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ” وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا “۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ” یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے “۔
زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
صفحہ نمبر9963
ابتدائے وحی ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں ۔ [صحیح بخاری:4922]
صفحہ نمبر9957
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں ۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر9958
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔
پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں ۔ [صحیح بخاری:3238]
صفحہ نمبر9959
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» [74-المدثر:7] تک اتریں۔ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
صفحہ نمبر9960
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ” کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو “۔
پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔
عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ” دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں “۔
عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔
ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» [33-الأحزاب:1] ” اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو “۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» [7-الأعراف:142] ” اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو “۔
صفحہ نمبر9961
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ” عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو “۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔
یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ” اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” طلب خیر میں غفلت نہ برتو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو “، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9962
پھر فرماتا ہے ” ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ “۔
«نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ [مسند احمد:1/326:صحیح]
پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ” وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا “۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ” یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے “۔
زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
صفحہ نمبر9963
ابتدائے وحی ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں ۔ [صحیح بخاری:4922]
صفحہ نمبر9957
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں ۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر9958
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔
پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں ۔ [صحیح بخاری:3238]
صفحہ نمبر9959
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» [74-المدثر:7] تک اتریں۔ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
صفحہ نمبر9960
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ” کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو “۔
پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔
عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ” دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں “۔
عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔
ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» [33-الأحزاب:1] ” اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو “۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» [7-الأعراف:142] ” اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو “۔
صفحہ نمبر9961
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ” عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو “۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔
یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ” اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” طلب خیر میں غفلت نہ برتو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو “، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9962
پھر فرماتا ہے ” ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ “۔
«نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ [مسند احمد:1/326:صحیح]
پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ” وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا “۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ” یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے “۔
زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
صفحہ نمبر9963
ابتدائے وحی ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں ۔ [صحیح بخاری:4922]
صفحہ نمبر9957
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں ۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر9958
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔
پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں ۔ [صحیح بخاری:3238]
صفحہ نمبر9959
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» [74-المدثر:7] تک اتریں۔ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
صفحہ نمبر9960
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ” کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو “۔
پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔
عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ” دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں “۔
عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔
ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» [33-الأحزاب:1] ” اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو “۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» [7-الأعراف:142] ” اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو “۔
صفحہ نمبر9961
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ” عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو “۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔
یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ” اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” طلب خیر میں غفلت نہ برتو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو “، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9962
پھر فرماتا ہے ” ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ “۔
«نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ [مسند احمد:1/326:صحیح]
پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ” وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا “۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ” یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے “۔
زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
صفحہ نمبر9963
ابتدائے وحی ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں ۔ [صحیح بخاری:4922]
صفحہ نمبر9957
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں ۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر9958
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔
پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں ۔ [صحیح بخاری:3238]
صفحہ نمبر9959
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» [74-المدثر:7] تک اتریں۔ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
صفحہ نمبر9960
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ” کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو “۔
پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔
عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ” دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں “۔
عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔
ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» [33-الأحزاب:1] ” اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو “۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» [7-الأعراف:142] ” اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو “۔
صفحہ نمبر9961
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ” عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو “۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔
یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ” اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” طلب خیر میں غفلت نہ برتو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو “، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9962
پھر فرماتا ہے ” ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ “۔
«نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ [مسند احمد:1/326:صحیح]
پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ” وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا “۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ” یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے “۔
زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
صفحہ نمبر9963
ابتدائے وحی ٭٭
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یحییٰ بن ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] میں نے کہا لوگ تو آیت «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] بتاتے ہیں فرمایا ”میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» [74-المدثر:1] کی آیتیں اتریں ۔ [صحیح بخاری:4922]
صفحہ نمبر9957
صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورۃ المدثر کی «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» [74-المدثر:5] تک کی آیتیں اتریں ۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رُّجْزَ» سے مراد بت ہیں۔ پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی۔ [صحیح بخاری:4926] یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے۔
صفحہ نمبر9958
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورۃ اقراء کی آیتیں «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا گئے تھے۔
پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی سب سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں ۔ [صحیح بخاری:3238]
صفحہ نمبر9959
طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے، بعض نے کہا شاعر ہے، بعض نے کہا شاعر نہیں ہے، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» [74-المدثر:7] تک اتریں۔ [طبرانی کبیر:11250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
صفحہ نمبر9960
دعوت دین کے لوازمات ٭٭
پھر فرمایا ہے کہ ” کھڑے ہو جاؤ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے، جہنم سے، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈراؤ۔ ان کو آگاہ کر دو، ان سے غفلت کو دور کر دو “۔
پہلی وحی سے نبوت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت، بدعہدی، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ «إَنِّي بِحَمْدِ اللَّهِ لَا ثَوْبَ فَاجِرٍ لَبِسْتُ وَلَا مِنْ غَدْرَةٍ أَتَقَنَّعُ» بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں۔
عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو، اعمال صالح کر لو۔ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ” دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرواہ بھی نہ کریں “۔
عربی محاورے میں جو معصیت آلود، بدعہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے «إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ» *** «فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ» یعنی انسان جبکہ سیاہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو۔ کپڑے پاک صاف رکھو، میلوں کو دھو ڈالا کرو، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی۔
ساتھ ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ہے «أَفَاطِمَ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّلِ» *** «وَإِنْ كُنْتِ قَدْ أَزْمَعْتِ هَجْرِي فَأَجْمِلِي» *** «وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ» *** «فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ» اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو“، محمد بن کعب قرظی اور حسن رحمہ اللہ علیہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا» [33-الأحزاب:1] ” اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو “۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا «قَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ» [7-الأعراف:142] ” اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو “۔
صفحہ نمبر9961
نیکی کر دریا میں ڈال ٭٭
پھر فرماتا ہے ” عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو “۔ ابن مسعود کی قرأت میں «وَلَا تَمْنُنْ أَنْ تَسْتَكْثِرَ» ہے۔
یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ ” اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” طلب خیر میں غفلت نہ برتو “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو “، یہ چار قول ہوئے، لیکن اول اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9962
پھر فرماتا ہے ” ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضا مندی کی خاطر صبر و ضبط کر، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ “۔
«نَّاقُورِ» سے مراد صور ہے، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے“، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا: ”کہو «حَسْبنَا اللَّه وَنِعْمَ الْوَكِيل عَلَى اللَّه تَوَكَّلْنَا» “ [مسند احمد:1/326:صحیح]
پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ ” وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا “۔ جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ «يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ” یہ آج کا دن تو بے حد گراں اور سخت مشکل کا دن ہے “۔
زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرہ کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
صفحہ نمبر9963
جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ ٭٭
جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ تن تنہا، خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا، مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنا دیا، ہزاروں لاکھوں دینار، زر، زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اور اقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر، چاکر، لونڈی، غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی مہیا تھی، پھر بھی خواہش نفس پوری نہیں ہوتی تھی اور چاہتا تھا کہ اللہ اور بڑھا دے، حالانکہ ایسا اب نہ ہو گا، یہ ہمارے احکامات کے علم کے بعد بھی کفر اور سرکشی کرتا ہے اسے «صعود» پر چڑھایا جائے گا “۔
صفحہ نمبر9973
جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ ٭٭
جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ تن تنہا، خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا، مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنا دیا، ہزاروں لاکھوں دینار، زر، زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اور اقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر، چاکر، لونڈی، غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی مہیا تھی، پھر بھی خواہش نفس پوری نہیں ہوتی تھی اور چاہتا تھا کہ اللہ اور بڑھا دے، حالانکہ ایسا اب نہ ہو گا، یہ ہمارے احکامات کے علم کے بعد بھی کفر اور سرکشی کرتا ہے اسے «صعود» پر چڑھایا جائے گا “۔
صفحہ نمبر9973
جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ ٭٭
جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ تن تنہا، خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا، مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنا دیا، ہزاروں لاکھوں دینار، زر، زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اور اقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر، چاکر، لونڈی، غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی مہیا تھی، پھر بھی خواہش نفس پوری نہیں ہوتی تھی اور چاہتا تھا کہ اللہ اور بڑھا دے، حالانکہ ایسا اب نہ ہو گا، یہ ہمارے احکامات کے علم کے بعد بھی کفر اور سرکشی کرتا ہے اسے «صعود» پر چڑھایا جائے گا “۔
صفحہ نمبر9973
جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ ٭٭
جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ تن تنہا، خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا، مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنا دیا، ہزاروں لاکھوں دینار، زر، زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اور اقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر، چاکر، لونڈی، غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی مہیا تھی، پھر بھی خواہش نفس پوری نہیں ہوتی تھی اور چاہتا تھا کہ اللہ اور بڑھا دے، حالانکہ ایسا اب نہ ہو گا، یہ ہمارے احکامات کے علم کے بعد بھی کفر اور سرکشی کرتا ہے اسے «صعود» پر چڑھایا جائے گا “۔
صفحہ نمبر9973
جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ ٭٭
جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ تن تنہا، خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا، مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنا دیا، ہزاروں لاکھوں دینار، زر، زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اور اقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر، چاکر، لونڈی، غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی مہیا تھی، پھر بھی خواہش نفس پوری نہیں ہوتی تھی اور چاہتا تھا کہ اللہ اور بڑھا دے، حالانکہ ایسا اب نہ ہو گا، یہ ہمارے احکامات کے علم کے بعد بھی کفر اور سرکشی کرتا ہے اسے «صعود» پر چڑھایا جائے گا “۔
صفحہ نمبر9973
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984
باب
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ «ویل» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرایا جائے گا چالیس سال تک اندر ہی اندر جاتا رہے گا لیکن پھر بھی تہ تک نہ پہنچے گا اور «صعود» جہنم کے ایک ناری پہاڑ کا نام ہے جس پر کافر کو چڑھایا جائے گا ستر سال تک تو چڑھتا ہی رہے گا پھر وہاں سے نیچے گرا دیا جائے گا ستر سال تک نیچے لڑھکتا رہے گا اور اسی ابدی سزا میں گرفتار رہے گا ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ حدیث منکر ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ «صعود» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو آگ کا ہے اسے مجبور کیا جائے گا اس پر چڑھے ہاتھ رکھتے ہی رکھتے ہی راکھ ہو جائے گا اور اٹھاتے ہی بدستور ویسا ہی ہو جائے گا اسی طرح پاؤں بھی۔
صفحہ نمبر9978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہنم کی ایک چٹان کا نام ہے جس پر کافر اپنے منہ کے بل گھسیٹتا جائے گا۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ پتھر بڑا پھسلنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم اسے مشقت والا عذاب دیں گے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا عذاب جس میں اور جس سے کبھی بھی راحت نہ ہو۔ امام جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس تکلیف دہ عذاب سے اس لیے قریب کر دیا کہ وہ ایمان سے بہت دور تھا وہ سوچ سوچ کر خود ساختہ دنیا میں رہتا تھا کہ وہ قرآن کی مانند کہے اور بات بنائے پھر اس پر افسوس کیا جاتا ہے “، اور محاورہ عرب کے مطابق اس کی ہلاکت کے کلمے کہے جاتے ہیں کہ یہ غارت کر دیا جائے، یہ برباد کر دیا جائے کتنا بدکلام، بری سوچ، کتنی بے حیائی سے جھوٹ بات گھڑلی، اور بار بار غور و فکر کے بعد پیشانی پر بل ڈال کر، منہ بگاڑ کر، حق سے ہٹ کر، بھلائی سے منہ موڑ کر، اطاعت اللہ سے منہ پھیر کر، دل کڑا کر کے کہہ دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد اپنے سے پہلے لوگوں کا جادو کا منتر نقل کر لیا کرتے ہیں اور اسی کو سنا رہے ہیں یہ کلام اللہ کا نہیں بلکہ انسانی قول ہے اور جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس ملعون کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی تھا، قریش کا سردار تھا۔
صفحہ نمبر9979
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ”ایک مرتبہ یہ ولید پلید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ کچھ قرآن سنائیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چند آیتیں پڑھ سنائیں جو اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ جب یہاں سے نکلا اور کفار قریش کے مجمع میں پہنچا تو کہنے لگا، لوگو! تعجب کی بات ہے محمد جو قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو کا منتر ہے، نہ مجنونانہ بڑ ہے بلکہ واللہ! وہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں، قریشیوں نے یہ سن کر سر پکڑ لئے اور کہنے لگے اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بس پھر قریش میں سے ایک بھی بغیر اسلام لائے باقی نہ رہے گا۔
ابوجہل کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا گھبراؤ نہیں دیکھو میں ایک ترکیب سے اسے اسلام سے پھیر دوں گا یہ کہتے ہی اپنے ذہن میں ایک ترکیب سوچ کر یہ ولید کے گھر پہنچا اور کہنے لگا آپ کی قوم نے آپ کے لیے چندہ کر کے بہت سا مال جمع کر لیا ہے اور وہ آپ کو صدقہ میں دینے والے ہیں، اس نے کہا واہ! کیا مزے کی بات ہے مجھے ان کے چندوں اور صدقوں کی کیا ضرورت ہے دنیا جانتی ہے کہ ان سب میں مجھ سے زیادہ مال و اولاد والا کوئی نہیں۔ ابوجہل نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ جو ابوبکر کے پاس آتے جاتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ان سے کچھ حاصل و صول ہو، ولید کہنے لگا اوہو! میرے خاندان میں میری نسبت یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مجھے مطلق معلوم نہ تھا اب قسم اللہ کی نہ میں ابوبکر کے پاس جاؤں نہ عمر کے پاس نہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یعنی «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» [74-المدثر:11] سے «لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ» [74-المدثر:28] تک۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35420:ضعیف]
صفحہ نمبر9980
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کہا تھا قرآن کے بارے میں بہت کچھ غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شعر تو نہیں اس میں حلاوت ہے، اس میں چمک ہے، یہ غالب ہے مغلوب نہیں لیکن ہے یقینًا جادو۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
ابن جریر میں ہے کہ ولید حضور علیہ السلام کے پاس آیا تھا اور قرآن سن کر اس کا دل نرم پڑ گیا تھا اور پورا اثر ہو چکا تھا۔ جب ابوجہل کو یہ معلوم ہوا تو دوڑا بھاگا آیا اور اس ڈر سے کہ کہیں یہ کھلم کھلا مسلمان نہ ہو جائے اسے بھڑکانے کے لیے جھوٹ موٹ کہنے لگا کہ چچا آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ آپ کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کا جانا چھڑوائیں کیونکہ آپ وہاں مال حاصل کرنے کی غرض سے ہی جاتے آتے ہیں اس نے غصہ میں آ کر کہا میری قوم کو معلوم نہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں؟ ابوجہل نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن اس وقت تو لوگوں کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ محمد سے مال حاصل کرنے کی غرض سے آپ اسی کے ہو گئے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے تو آپ اس کے بارے میں کچھ سخت الفاظ کہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ آپ اس کے مخالف ہیں اور آپ کو اس سے کوئی طمع نہیں۔
اس نے کہا: بھئی بات تو یہ ہے کہ اس نے جو قرآن مجھے سنایا ہے قسم ہے اللہ کی نہ وہ شعر ہے، نہ قصیدہ ہے اور نہ رجز ہے، نہ جنات کا قول اور نہ ان کے اشعار ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنات اور انسان کا کلام مجھے خوب یاد ہے میں خود نامی گرامی شاعر ہوں، کلام کے حسن و قبح سے خوب واقف ہوں لیکن اللہ کی قسم محمد کا کلام اس میں سے کچھ بھی نہیں اللہ جانتا ہے اس میں عجب حلاوت مٹھاس لذت شیفتگی اور دلیری ہے وہ تمام کلاموں کا سردار ہے اس کے سامنے اور کوئی کلام جچتا نہیں وہ سب پر چھا جاتا ہے اس میں کشش، بلندی اور جذب ہے اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس کلام کی نسبت کیا کہوں؟
صفحہ نمبر9981
ابوجہل نے کہا سنو! جب تک تم اسے برائی کے ساتھ یاد نہ کرو گے تمہاری قوم کے خیالات تمہاری نسبت صاف نہیں ہوں گے، اس نے کہا: اچھا تو مجھے مہلت دو میں سوچ کر اس کی نسبت کوئی ایسا کلمہ کہہ دوں گا چنانچہ سوچ سوچ کر قومی حمیت اور ناک رکھنے کی خاطر اس نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جسے وہ نقل کرتا ہے اس پر «ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا» سے «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [المدثر:11۔30] تک کی آیتیں اتریں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں بیٹھ کر ان سب لوگوں نے مشورہ کیا کہ موسم حج پر چاروں طرف سے لوگ آئیں گے تو بتاؤ انہیں محمد کی نسبت کیا کہیں؟ کوئی ایسی تجویز کرو کہ سب بیک زبان وہی بات کہیں تاکہ عرب بھر میں اور پھر ہر جگہ بھی وہی مشہور ہو جائے تو اب کسی نے شاعر کہا، کسی نے جادوگر کہا، کسی نے کاہن اور نجومی کہا، کسی نے مجنون اور دیوانہ کہا ولید بیٹھا سوچتا رہا اور غور و فکر کر کے دیکھ بھال کر تیوری چڑھا اور منہ بنا کر کہنے لگا جادوگروں کا قول ہے جسے یہ نقل کر رہا ہے، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:48] یعنی ” ذرا دیکھ تو سہی تیری کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں لیکن بہک بہک کر رہ جاتے ہیں اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے “۔
صفحہ نمبر9982
ولید کے لئے جہنم کی سزا ٭٭
اب اس کی سزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” میں انہیں جہنم کی آگ میں غرق کر دوں گا جو زبردست خوفناک عذاب کی آگ ہے جو گوشت پوست کے رگ پٹھوں کو کھا جاتی ہے پھر یہ سب تازہ پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر زندہ کئے جاتے ہیں، نہ موت آئے، نہ راحت والی زندگی لے، کھال ادھیڑ دینے والی وہ آگ ہے ایک ہی لپک میں جسم کو رات سے زیادہ سیاہ کر دیتی وہ جسم و جلد کو بھون بھلس دیتی ہے، انیس انیس داروغے اس پر مقرر ہیں جو نہ تھکیں نہ رحم کریں “۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند یہودیوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: بتاؤ تو جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، پھر کسی شخص نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا اسی وقت آیت «عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ» [74-المدثر:30] نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنا دی اور کہا: ”ذرا انہیں میرے پاس تو لاؤ میں بھی ان سے پوچھوں کہ جنت کی مٹی کیا ہے؟ سنو وہ سفید میدہ کی طرح ہے“، پھر یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو دفعہ جھکائیں دوسری دفعہ میں انگوٹھا روک لیا یعنی انیس۔ پھر فرمایا: ”تم بتلاؤ کے جنت کی مٹی کیا ہے؟“ انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہی کہئے ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا وہ سفید روٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو یہ سفید روٹی وہ جو خالص میدے کی ہو۔“ [بہیقی فی النشور:509:ضعیف]
صفحہ نمبر9983
مسند بزار میں ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے لاجواب ہونے کی خبر دی اس نے آ کر کہا کہ آج تو آپ کے اصحاب ہار گئے پوچھا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: ان سے جواب نہ بن پڑا اور کہنا پڑا کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا وہ ہارے ہوئے کیسے کہے جا سکتے ہیں؟ جن سے جو بات پوچھی جاتی ہے اگر وہ نہیں جانتے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ کر جواب دیں گے۔ ان یہودیوں کو دشمنان الٰہی کو ذرا میرے پاس تو لاؤ ہاں انہوں نے اپنے نبی سے اللہ کو دیکھنے کا سوال کیا تھا اور ان پر عذاب بھیجا گیا تھا“ ۔ اب یہود بلوائے گئے جواب دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر یہ بڑے چکرائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ [سنن ترمذي:3327،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر9984