Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Insaan
Tafsir Ibn Kathir · Man · 31 ayat · ayat 1–30 · Quran text →
تفسیر سورۃ الإنسان:
صحیح مسلم کے حوالے سے یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ جمعہ کے دن صبح کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الم تنزیل [یعنی سورۃ السجدہ] اور سورۃ «هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ» پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:891]
ایک مرسل غریب حدیث میں ہے کہ جب یہ سورت اتری اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی اس وقت آپ کے پاس ایک سانولے رنگ کے صحابی بیٹھے ہوئے تھے، جب جنت کی صفتوں کا ذکر آیا تو ان کے منہ سے بےساختہ ایک چیخ نکل گئی اور ساتھ ہی روح پرواز کر گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے ساتھی اور تمہارے بھائی کی جان جنت کے شوق میں نکل گئی۔“ [اللآلي المصنوعة للسيوطي:410/1،ضعيف]
اے انسان اپنے فرائض پہچان ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” اس نے انسان کو پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے وہ اپنی حقارت اور ضعف کی وجہ سے ایسی چیز نہ تھا کہ ذکر کیا جائے۔ اسے مرد و عورت کے ملے جلے پانی سے پیدا کیا اور عجب عجب تبدیلیوں کے بعد یہ موجودہ شکل و صورت اور ہئیت پر آیا، اسے ہم آزما رہے ہیں “۔
جیسے اور جگہ ہے «لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا» [67-الملك:2] ” تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے؟ “
پس اس نے تمہیں کان اور آنکھیں عطا فرمائیں تاکہ اطاعت اور معصیت میں تمیز کر سکو۔ ہم نے اسے راہ دکھا دی خوب واضح اور صاف کر کے اپنا سیدھا راستہ اس پر کھول دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» [41-فصلت:17] یعنی ” ثمودیوں کو ہم نے ہدایت کی لیکن انہوں نے اندھے پن کو ہدایت پر ترجیح دی “۔
10080
اور جگہ ہے «وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ» [90- البلد:10] ” ہم نے انسان کو دونوں راہیں دکھا دیں “، یعنی بھلائی برائی کی، اس آیت کی تفسیر میں مجاہد ابوصالح ضحاک اور سدی رحمہ اللہ علیہم سے مروی ہے کہ ”اسے ہم نے راہ دکھائی“ یعنی ماں کے پیٹ سے باہر آنے کی، لیکن یہ قول غریب ہے اور صحیح قول پہلا ہی ہے اور جمہور سے یہی منقول ہے۔
«شاکراً» اور «کفوراً» کا نصب حال کی وجہ سے ذوالحال «لا» کی ضمیر ہے جو «اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» [76-الإنسان:3] میں ہے، یعنی ” وہ اس حالت میں یا تو شقی ہے یا سعید ہے “۔
جیسے صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ ہر شخص صبح کے وقت اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتا ہے یا تو اسے ہلاک کر دیتا ہے یا آزاد کرا لیتا ہے ۔ [صحیح مسلم:223]
10081
مسند احمد میں ہے کہ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تجھے بیوقوفوں کی سرداری سے بچائے۔“ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا:یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟ فرمایا: ”وہ میرے بعد کے سردار ہوں گے جو میری سنتوں پر نہ عمل کریں گے، نہ میرے طریقوں پر چلیں گے پس جو لوگ ان کی جھوٹ کی تصدیق کریں اور ان کے ظلم کی امداد کریں وہ نہ میرے ہیں اور نہ میں ان کا ہوں یاد رکھو وہ میرے حوض کوثر پر بھی نہیں آ سکتے اور جو ان کے جھوٹ کو سچا نہ کرے اور ان کے ظلموں میں ان کا مددگار نہ بنے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں یہ لوگ میرے حوض کوثر پر مجھے ملیں گے۔ اے کعب! روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور نماز قرب اللہ کا سبب ہے“ یا فرمایا ”دلیل نجات ہے۔ اے کعب! وہ گوشت پوست جنت میں نہیں جا سکتا جو حرام سے پلا ہو وہ تو جہنم میں ہی جانے کے قابل ہے، اے کعب! لوگ ہر صبح اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتے ہیں کوئی تو اسے آزاد کرا لیتا ہے اور کوئی ہلاک کر گزرتا ہے“ ۔ [مسند احمد:321/3:اسنادہ قوی]
10082
سورۃ الروم کی آیت «فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [30-الروم:30] کی تفسیر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی گزر چکا ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ زبان چلنے لگتی ہے، پھر یا تو شکر گزار بنتا ہے یا ناشکرا ۔
مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ جو نکلنے والا نکلتا ہے اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں ایک فرشتے کے ہاتھ میں، دوسرا شیطان کے ہاتھ میں، پس اگر وہ اس کام کے لیے نکلا جو اللہ کی مرضی کا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لیے ہوئے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور یہ واپسی تک فرشتے کے جھنڈے تلے ہی رہتا ہے اور اگر اللہ کی ناراضگی کے کام کے لیے نکلا ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لگائے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور واپسی تک یہ شیطانی جھنڈے تلے رہتا ہے ۔ [مسند احمد:323/2:ضعیف]
10083
تفسیر سورۃ الإنسان:
صحیح مسلم کے حوالے سے یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ جمعہ کے دن صبح کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الم تنزیل [یعنی سورۃ السجدہ] اور سورۃ «هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ» پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:891]
ایک مرسل غریب حدیث میں ہے کہ جب یہ سورت اتری اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی اس وقت آپ کے پاس ایک سانولے رنگ کے صحابی بیٹھے ہوئے تھے، جب جنت کی صفتوں کا ذکر آیا تو ان کے منہ سے بےساختہ ایک چیخ نکل گئی اور ساتھ ہی روح پرواز کر گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے ساتھی اور تمہارے بھائی کی جان جنت کے شوق میں نکل گئی۔“ [اللآلي المصنوعة للسيوطي:410/1،ضعيف]
اے انسان اپنے فرائض پہچان ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” اس نے انسان کو پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے وہ اپنی حقارت اور ضعف کی وجہ سے ایسی چیز نہ تھا کہ ذکر کیا جائے۔ اسے مرد و عورت کے ملے جلے پانی سے پیدا کیا اور عجب عجب تبدیلیوں کے بعد یہ موجودہ شکل و صورت اور ہئیت پر آیا، اسے ہم آزما رہے ہیں “۔
جیسے اور جگہ ہے «لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا» [67-الملك:2] ” تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے؟ “
پس اس نے تمہیں کان اور آنکھیں عطا فرمائیں تاکہ اطاعت اور معصیت میں تمیز کر سکو۔ ہم نے اسے راہ دکھا دی خوب واضح اور صاف کر کے اپنا سیدھا راستہ اس پر کھول دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» [41-فصلت:17] یعنی ” ثمودیوں کو ہم نے ہدایت کی لیکن انہوں نے اندھے پن کو ہدایت پر ترجیح دی “۔
10080
اور جگہ ہے «وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ» [90- البلد:10] ” ہم نے انسان کو دونوں راہیں دکھا دیں “، یعنی بھلائی برائی کی، اس آیت کی تفسیر میں مجاہد ابوصالح ضحاک اور سدی رحمہ اللہ علیہم سے مروی ہے کہ ”اسے ہم نے راہ دکھائی“ یعنی ماں کے پیٹ سے باہر آنے کی، لیکن یہ قول غریب ہے اور صحیح قول پہلا ہی ہے اور جمہور سے یہی منقول ہے۔
«شاکراً» اور «کفوراً» کا نصب حال کی وجہ سے ذوالحال «لا» کی ضمیر ہے جو «اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» [76-الإنسان:3] میں ہے، یعنی ” وہ اس حالت میں یا تو شقی ہے یا سعید ہے “۔
جیسے صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ ہر شخص صبح کے وقت اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتا ہے یا تو اسے ہلاک کر دیتا ہے یا آزاد کرا لیتا ہے ۔ [صحیح مسلم:223]
10081
مسند احمد میں ہے کہ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تجھے بیوقوفوں کی سرداری سے بچائے۔“ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا:یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟ فرمایا: ”وہ میرے بعد کے سردار ہوں گے جو میری سنتوں پر نہ عمل کریں گے، نہ میرے طریقوں پر چلیں گے پس جو لوگ ان کی جھوٹ کی تصدیق کریں اور ان کے ظلم کی امداد کریں وہ نہ میرے ہیں اور نہ میں ان کا ہوں یاد رکھو وہ میرے حوض کوثر پر بھی نہیں آ سکتے اور جو ان کے جھوٹ کو سچا نہ کرے اور ان کے ظلموں میں ان کا مددگار نہ بنے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں یہ لوگ میرے حوض کوثر پر مجھے ملیں گے۔ اے کعب! روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور نماز قرب اللہ کا سبب ہے“ یا فرمایا ”دلیل نجات ہے۔ اے کعب! وہ گوشت پوست جنت میں نہیں جا سکتا جو حرام سے پلا ہو وہ تو جہنم میں ہی جانے کے قابل ہے، اے کعب! لوگ ہر صبح اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتے ہیں کوئی تو اسے آزاد کرا لیتا ہے اور کوئی ہلاک کر گزرتا ہے“ ۔ [مسند احمد:321/3:اسنادہ قوی]
10082
سورۃ الروم کی آیت «فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [30-الروم:30] کی تفسیر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی گزر چکا ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ زبان چلنے لگتی ہے، پھر یا تو شکر گزار بنتا ہے یا ناشکرا ۔
مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ جو نکلنے والا نکلتا ہے اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں ایک فرشتے کے ہاتھ میں، دوسرا شیطان کے ہاتھ میں، پس اگر وہ اس کام کے لیے نکلا جو اللہ کی مرضی کا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لیے ہوئے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور یہ واپسی تک فرشتے کے جھنڈے تلے ہی رہتا ہے اور اگر اللہ کی ناراضگی کے کام کے لیے نکلا ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لگائے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور واپسی تک یہ شیطانی جھنڈے تلے رہتا ہے ۔ [مسند احمد:323/2:ضعیف]
10083
تفسیر سورۃ الإنسان:
صحیح مسلم کے حوالے سے یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ جمعہ کے دن صبح کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الم تنزیل [یعنی سورۃ السجدہ] اور سورۃ «هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ» پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:891]
ایک مرسل غریب حدیث میں ہے کہ جب یہ سورت اتری اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی اس وقت آپ کے پاس ایک سانولے رنگ کے صحابی بیٹھے ہوئے تھے، جب جنت کی صفتوں کا ذکر آیا تو ان کے منہ سے بےساختہ ایک چیخ نکل گئی اور ساتھ ہی روح پرواز کر گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے ساتھی اور تمہارے بھائی کی جان جنت کے شوق میں نکل گئی۔“ [اللآلي المصنوعة للسيوطي:410/1،ضعيف]
اے انسان اپنے فرائض پہچان ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” اس نے انسان کو پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے وہ اپنی حقارت اور ضعف کی وجہ سے ایسی چیز نہ تھا کہ ذکر کیا جائے۔ اسے مرد و عورت کے ملے جلے پانی سے پیدا کیا اور عجب عجب تبدیلیوں کے بعد یہ موجودہ شکل و صورت اور ہئیت پر آیا، اسے ہم آزما رہے ہیں “۔
جیسے اور جگہ ہے «لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا» [67-الملك:2] ” تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے؟ “
پس اس نے تمہیں کان اور آنکھیں عطا فرمائیں تاکہ اطاعت اور معصیت میں تمیز کر سکو۔ ہم نے اسے راہ دکھا دی خوب واضح اور صاف کر کے اپنا سیدھا راستہ اس پر کھول دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» [41-فصلت:17] یعنی ” ثمودیوں کو ہم نے ہدایت کی لیکن انہوں نے اندھے پن کو ہدایت پر ترجیح دی “۔
10080
اور جگہ ہے «وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ» [90- البلد:10] ” ہم نے انسان کو دونوں راہیں دکھا دیں “، یعنی بھلائی برائی کی، اس آیت کی تفسیر میں مجاہد ابوصالح ضحاک اور سدی رحمہ اللہ علیہم سے مروی ہے کہ ”اسے ہم نے راہ دکھائی“ یعنی ماں کے پیٹ سے باہر آنے کی، لیکن یہ قول غریب ہے اور صحیح قول پہلا ہی ہے اور جمہور سے یہی منقول ہے۔
«شاکراً» اور «کفوراً» کا نصب حال کی وجہ سے ذوالحال «لا» کی ضمیر ہے جو «اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» [76-الإنسان:3] میں ہے، یعنی ” وہ اس حالت میں یا تو شقی ہے یا سعید ہے “۔
جیسے صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ ہر شخص صبح کے وقت اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتا ہے یا تو اسے ہلاک کر دیتا ہے یا آزاد کرا لیتا ہے ۔ [صحیح مسلم:223]
10081
مسند احمد میں ہے کہ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تجھے بیوقوفوں کی سرداری سے بچائے۔“ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا:یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟ فرمایا: ”وہ میرے بعد کے سردار ہوں گے جو میری سنتوں پر نہ عمل کریں گے، نہ میرے طریقوں پر چلیں گے پس جو لوگ ان کی جھوٹ کی تصدیق کریں اور ان کے ظلم کی امداد کریں وہ نہ میرے ہیں اور نہ میں ان کا ہوں یاد رکھو وہ میرے حوض کوثر پر بھی نہیں آ سکتے اور جو ان کے جھوٹ کو سچا نہ کرے اور ان کے ظلموں میں ان کا مددگار نہ بنے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں یہ لوگ میرے حوض کوثر پر مجھے ملیں گے۔ اے کعب! روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور نماز قرب اللہ کا سبب ہے“ یا فرمایا ”دلیل نجات ہے۔ اے کعب! وہ گوشت پوست جنت میں نہیں جا سکتا جو حرام سے پلا ہو وہ تو جہنم میں ہی جانے کے قابل ہے، اے کعب! لوگ ہر صبح اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتے ہیں کوئی تو اسے آزاد کرا لیتا ہے اور کوئی ہلاک کر گزرتا ہے“ ۔ [مسند احمد:321/3:اسنادہ قوی]
10082
سورۃ الروم کی آیت «فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [30-الروم:30] کی تفسیر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی گزر چکا ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ زبان چلنے لگتی ہے، پھر یا تو شکر گزار بنتا ہے یا ناشکرا ۔
مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ جو نکلنے والا نکلتا ہے اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں ایک فرشتے کے ہاتھ میں، دوسرا شیطان کے ہاتھ میں، پس اگر وہ اس کام کے لیے نکلا جو اللہ کی مرضی کا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لیے ہوئے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور یہ واپسی تک فرشتے کے جھنڈے تلے ہی رہتا ہے اور اگر اللہ کی ناراضگی کے کام کے لیے نکلا ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لگائے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور واپسی تک یہ شیطانی جھنڈے تلے رہتا ہے ۔ [مسند احمد:323/2:ضعیف]
10083
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر:71-72] ” جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے “۔
ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو “۔
کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔
«تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» [18-الکھف:33] میں۔
10086
پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔
حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے ۔ [صحیح بخاری:6696]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» [2-البقرة:177] یعنی ” مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں “۔
اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» [3-آل عمران:92] یعنی ” تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو “۔
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ [بیہقی]
10087
اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے ۔ [صحیح بخاری:1419] یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔
یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو ۔ [مسند احمد:3/117:صحیح] یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔
10088
سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔
10089
«قَمْطَرِيرً» کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔
اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» [80-عبس:38-39] ” اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے “۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے ۔ [صحیح بخاری:4418]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں الخ۔، [صحیح بخاری:3555]
پھر فرماتا ہے ” ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا “۔
ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
10090
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر:71-72] ” جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے “۔
ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو “۔
کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔
«تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» [18-الکھف:33] میں۔
10086
پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔
حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے ۔ [صحیح بخاری:6696]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» [2-البقرة:177] یعنی ” مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں “۔
اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» [3-آل عمران:92] یعنی ” تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو “۔
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ [بیہقی]
10087
اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے ۔ [صحیح بخاری:1419] یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔
یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو ۔ [مسند احمد:3/117:صحیح] یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔
10088
سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔
10089
«قَمْطَرِيرً» کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔
اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» [80-عبس:38-39] ” اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے “۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے ۔ [صحیح بخاری:4418]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں الخ۔، [صحیح بخاری:3555]
پھر فرماتا ہے ” ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا “۔
ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
10090
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر:71-72] ” جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے “۔
ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو “۔
کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔
«تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» [18-الکھف:33] میں۔
10086
پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔
حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے ۔ [صحیح بخاری:6696]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» [2-البقرة:177] یعنی ” مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں “۔
اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» [3-آل عمران:92] یعنی ” تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو “۔
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ [بیہقی]
10087
اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے ۔ [صحیح بخاری:1419] یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔
یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو ۔ [مسند احمد:3/117:صحیح] یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔
10088
سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔
10089
«قَمْطَرِيرً» کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔
اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» [80-عبس:38-39] ” اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے “۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے ۔ [صحیح بخاری:4418]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں الخ۔، [صحیح بخاری:3555]
پھر فرماتا ہے ” ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا “۔
ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
10090
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر:71-72] ” جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے “۔
ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو “۔
کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔
«تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» [18-الکھف:33] میں۔
10086
پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔
حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے ۔ [صحیح بخاری:6696]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» [2-البقرة:177] یعنی ” مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں “۔
اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» [3-آل عمران:92] یعنی ” تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو “۔
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ [بیہقی]
10087
اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے ۔ [صحیح بخاری:1419] یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔
یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو ۔ [مسند احمد:3/117:صحیح] یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔
10088
سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔
10089
«قَمْطَرِيرً» کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔
اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» [80-عبس:38-39] ” اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے “۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے ۔ [صحیح بخاری:4418]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں الخ۔، [صحیح بخاری:3555]
پھر فرماتا ہے ” ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا “۔
ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
10090
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر:71-72] ” جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے “۔
ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو “۔
کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔
«تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» [18-الکھف:33] میں۔
10086
پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔
حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے ۔ [صحیح بخاری:6696]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» [2-البقرة:177] یعنی ” مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں “۔
اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» [3-آل عمران:92] یعنی ” تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو “۔
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ [بیہقی]
10087
اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے ۔ [صحیح بخاری:1419] یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔
یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو ۔ [مسند احمد:3/117:صحیح] یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔
10088
سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔
10089
«قَمْطَرِيرً» کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔
اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» [80-عبس:38-39] ” اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے “۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے ۔ [صحیح بخاری:4418]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں الخ۔، [صحیح بخاری:3555]
پھر فرماتا ہے ” ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا “۔
ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
10090
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر:71-72] ” جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے “۔
ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو “۔
کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔
«تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» [18-الکھف:33] میں۔
10086
پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔
حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے ۔ [صحیح بخاری:6696]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» [2-البقرة:177] یعنی ” مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں “۔
اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» [3-آل عمران:92] یعنی ” تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو “۔
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ [بیہقی]
10087
اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے ۔ [صحیح بخاری:1419] یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔
یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو ۔ [مسند احمد:3/117:صحیح] یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔
10088
سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔
10089
«قَمْطَرِيرً» کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔
اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» [80-عبس:38-39] ” اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے “۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے ۔ [صحیح بخاری:4418]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں الخ۔، [صحیح بخاری:3555]
پھر فرماتا ہے ” ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا “۔
ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
10090
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر:71-72] ” جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے “۔
ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو “۔
کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔
«تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» [18-الکھف:33] میں۔
10086
پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔
حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے ۔ [صحیح بخاری:6696]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» [2-البقرة:177] یعنی ” مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں “۔
اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» [3-آل عمران:92] یعنی ” تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو “۔
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ [بیہقی]
10087
اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے ۔ [صحیح بخاری:1419] یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔
یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو ۔ [مسند احمد:3/117:صحیح] یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔
10088
سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔
10089
«قَمْطَرِيرً» کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔
اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» [80-عبس:38-39] ” اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے “۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے ۔ [صحیح بخاری:4418]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں الخ۔، [صحیح بخاری:3555]
پھر فرماتا ہے ” ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا “۔
ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
10090
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر:71-72] ” جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے “۔
ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو “۔
کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔
«تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» [18-الکھف:33] میں۔
10086
پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔
حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے ۔ [صحیح بخاری:6696]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» [2-البقرة:177] یعنی ” مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں “۔
اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» [3-آل عمران:92] یعنی ” تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو “۔
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ [بیہقی]
10087
اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے ۔ [صحیح بخاری:1419] یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔
یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو ۔ [مسند احمد:3/117:صحیح] یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔
10088
سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔
10089
«قَمْطَرِيرً» کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔
اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» [80-عبس:38-39] ” اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے “۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے ۔ [صحیح بخاری:4418]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں الخ۔، [صحیح بخاری:3555]
پھر فرماتا ہے ” ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا “۔
ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
10090
زنجیریں طوق اور شعلے ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لیے زنجیریں، طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر:71-72] ” جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ «حمیم» میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے “۔
ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کافور نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کافور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو “۔
کافور ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لیے یہاں اسے «ب» سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر «عَیْناً» پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل کافور کے ہے یا یہ ٹھیک کافور ہی ہے اور «عَیْناً» کا زبر «یشرب» کی وجہ سے ہے پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات، مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی۔
«تَفْجِيرً» کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] میں اور «وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا» [18-الکھف:33] میں۔
10086
پھر ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔
حدیث میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے ۔ [صحیح بخاری:6696]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام مالک رحمہ اللہ کی روایت سے بیان فرمایا ہے ـ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے۔ «استطار» کے معنی پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں، یہ نیکوکار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے اور «لا» کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طَعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی طَعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے باوجود راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ» [2-البقرة:177] یعنی ” مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں “۔
اور فرمان ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» [3-آل عمران:92] یعنی ” تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو “۔
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سب اسی کو دے دو“، چنانچہ دے دیئے گئے پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے۔ [بیہقی]
10087
اور صحیح حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں، مال کی محبت، امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے ۔ [صحیح بخاری:1419] یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔
یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے، قیدی کی نسبت سعید رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بسبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلم مشرک سب کو شامل کرتے ہیں، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے کہ نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو ۔ [مسند احمد:3/117:صحیح] یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں۔
10088
سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اس ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے، یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو، تنگ و تاریک اور طویل طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بے کسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «عَبُوسً» کے معنی تنگی والا اور «قَمْطَرِيرً» کے معنی طویل طویل مروی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا“، سعید اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی۔“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا، لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔
10089
«قَمْطَرِيرً» کے لغوی معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔ ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے۔
اور جگہ ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» [80-عبس:38-39] ” اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے “۔ یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا۔
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے ۔ [صحیح بخاری:4418]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لمبی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں الخ۔، [صحیح بخاری:3555]
پھر فرماتا ہے ” ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا “۔
ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کے سامنے اس سورت کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔ «كَمْ قَتِيل لِشَهْوَةٍ وَأَسِير» «أُفّ مِنْ مُشْتَهًى خِلَاف الْجَمِيل» *** «شَهَوَات الْإِنْسَان تُورِثهُ الذُّلّ» *** «وَتُلْقِيه فِي الْبَلَاء الطَّوِيل» افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلاف برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا، نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔
10090
دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی ٭٭
اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکیے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے “۔
سورۃ الصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گزر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اِتکَّاً» سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اَرَائِک» چھپرکھٹوں کو کہتے ہیں۔
پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ ” وہاں نہ تو سورج کی تیز شعاعوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گزریں بلکہ بہار کا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں، جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھا لیں، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کر لے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں سروں پر میوے دار گچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھا لیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آ گئے، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے “۔
10099
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے، اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں، ڈالیاں لولو زبرجد اور یاقوت کی ہیں، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی دقت اور مشکل نہیں چاہو بیٹھے بیٹھے توڑ لو، چاہو کھڑے کھڑے، بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے ـ
ایک طرف خوش خرام، خوش دل، خوبصورت، با ادب، سلیقہ شعار، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لیے کھڑے ہیں۔ دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لیے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں، یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے، دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظیر نہیں ملتی، ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ «قواریر» پر زبر تو اس لیے ہے کہ وہ «کان» کی خبر ہے اور دوسرے پر زبر یا تو بدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر، پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور پینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے۔
ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بے نشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر «سلسبیل» کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی، اوپر گزر چکا ہے کہ نہر کافور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اسی ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے، کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے، یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے۔
10100
دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی ٭٭
اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکیے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے “۔
سورۃ الصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گزر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اِتکَّاً» سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اَرَائِک» چھپرکھٹوں کو کہتے ہیں۔
پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ ” وہاں نہ تو سورج کی تیز شعاعوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گزریں بلکہ بہار کا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں، جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھا لیں، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کر لے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں سروں پر میوے دار گچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھا لیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آ گئے، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے “۔
10099
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے، اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں، ڈالیاں لولو زبرجد اور یاقوت کی ہیں، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی دقت اور مشکل نہیں چاہو بیٹھے بیٹھے توڑ لو، چاہو کھڑے کھڑے، بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے ـ
ایک طرف خوش خرام، خوش دل، خوبصورت، با ادب، سلیقہ شعار، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لیے کھڑے ہیں۔ دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لیے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں، یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے، دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظیر نہیں ملتی، ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ «قواریر» پر زبر تو اس لیے ہے کہ وہ «کان» کی خبر ہے اور دوسرے پر زبر یا تو بدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر، پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور پینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے۔
ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بے نشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر «سلسبیل» کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی، اوپر گزر چکا ہے کہ نہر کافور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اسی ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے، کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے، یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے۔
10100
دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی ٭٭
اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکیے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے “۔
سورۃ الصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گزر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اِتکَّاً» سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اَرَائِک» چھپرکھٹوں کو کہتے ہیں۔
پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ ” وہاں نہ تو سورج کی تیز شعاعوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گزریں بلکہ بہار کا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں، جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھا لیں، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کر لے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں سروں پر میوے دار گچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھا لیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آ گئے، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے “۔
10099
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے، اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں، ڈالیاں لولو زبرجد اور یاقوت کی ہیں، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی دقت اور مشکل نہیں چاہو بیٹھے بیٹھے توڑ لو، چاہو کھڑے کھڑے، بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے ـ
ایک طرف خوش خرام، خوش دل، خوبصورت، با ادب، سلیقہ شعار، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لیے کھڑے ہیں۔ دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لیے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں، یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے، دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظیر نہیں ملتی، ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ «قواریر» پر زبر تو اس لیے ہے کہ وہ «کان» کی خبر ہے اور دوسرے پر زبر یا تو بدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر، پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور پینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے۔
ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بے نشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر «سلسبیل» کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی، اوپر گزر چکا ہے کہ نہر کافور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اسی ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے، کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے، یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے۔
10100
دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی ٭٭
اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکیے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے “۔
سورۃ الصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گزر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اِتکَّاً» سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اَرَائِک» چھپرکھٹوں کو کہتے ہیں۔
پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ ” وہاں نہ تو سورج کی تیز شعاعوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گزریں بلکہ بہار کا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں، جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھا لیں، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کر لے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں سروں پر میوے دار گچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھا لیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آ گئے، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے “۔
10099
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے، اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں، ڈالیاں لولو زبرجد اور یاقوت کی ہیں، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی دقت اور مشکل نہیں چاہو بیٹھے بیٹھے توڑ لو، چاہو کھڑے کھڑے، بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے ـ
ایک طرف خوش خرام، خوش دل، خوبصورت، با ادب، سلیقہ شعار، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لیے کھڑے ہیں۔ دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لیے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں، یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے، دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظیر نہیں ملتی، ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ «قواریر» پر زبر تو اس لیے ہے کہ وہ «کان» کی خبر ہے اور دوسرے پر زبر یا تو بدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر، پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور پینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے۔
ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بے نشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر «سلسبیل» کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی، اوپر گزر چکا ہے کہ نہر کافور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اسی ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے، کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے، یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے۔
10100
باب
«سَلْسَبِيْلً» بقول عکرمہ رحمہ اللہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہر یا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوشبو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔
ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لیے کمربستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمت جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہو گا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لیے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال، بوٹے سے قد والے، سفید نورانی چہروں والے، پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے، زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پرتکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں۔
10104
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔
پھر فرماتا ہے ” اے نبی! تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے “۔
چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ” جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا “ ۔ [صحیح بخاری:6571]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے جس میں ہے کہ ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہو گا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر، یکساں نگاہیں ہوں گی ۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضیف]
یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہو گا؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی۔ (اے اللہ! اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے، ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گزار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقوف نہیں، آمین۔ مترجم)
10105
طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ ایک حبشی دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو۔“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے، اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہو سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا“ پھر حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: ”جو شخص «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہے اس کے لیے اللہ کے پاس عہد مقرر ہو جاتا ہے اور جو شخص «سُبْحَانَ اللہ وَ بِحَمْدِهٖ» کہے اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں“ ۔
تو ایک شخص نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیسے ہلاک ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہو گا کہ سب فنا ہو جائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے“ ۔ اس وقت یہ سورۃ «وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا» [76-الإنسان:20] تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں“، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کر گئی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے دفن کیا ۔ [طبرانی کبیر:13595،قال الشيخ زبیر علی زئی:ضعیف]
10106
پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہو گا، «سُندُسٍ» اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہو گا، اور «اِسْتَبْرَقْ» عمدہ، بیش بہا، گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہو گی جو اوپر پہنایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس «ابرار» کا ہے “۔
اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ» [22-الحج:23] ” انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خالص نرم ریشمی لباس ہو گا “۔ ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائی جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے، حسد، کینہ، بدخلقی، غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں ازخود خیال پیدا ہو گا، ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جو کچھ تھا سب دور ہو جائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے تروتازہ ہشاش بشاش ہو جائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔“ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو باربار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوششوں کی قدردانی ہے،
جیسے اور جگہ ہے «كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْئًا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] ” دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو “۔
اور فرمان ہے «وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [7-الأعراف:43] یعنی ” منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے “۔ یہاں بھی فرمایا ہے ” تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے “۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
10107
باب
«سَلْسَبِيْلً» بقول عکرمہ رحمہ اللہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہر یا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوشبو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔
ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لیے کمربستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمت جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہو گا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لیے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال، بوٹے سے قد والے، سفید نورانی چہروں والے، پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے، زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پرتکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں۔
10104
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔
پھر فرماتا ہے ” اے نبی! تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے “۔
چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ” جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا “ ۔ [صحیح بخاری:6571]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے جس میں ہے کہ ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہو گا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر، یکساں نگاہیں ہوں گی ۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضیف]
یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہو گا؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی۔ (اے اللہ! اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے، ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گزار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقوف نہیں، آمین۔ مترجم)
10105
طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ ایک حبشی دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو۔“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے، اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہو سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا“ پھر حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: ”جو شخص «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہے اس کے لیے اللہ کے پاس عہد مقرر ہو جاتا ہے اور جو شخص «سُبْحَانَ اللہ وَ بِحَمْدِهٖ» کہے اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں“ ۔
تو ایک شخص نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیسے ہلاک ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہو گا کہ سب فنا ہو جائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے“ ۔ اس وقت یہ سورۃ «وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا» [76-الإنسان:20] تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں“، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کر گئی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے دفن کیا ۔ [طبرانی کبیر:13595،قال الشيخ زبیر علی زئی:ضعیف]
10106
پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہو گا، «سُندُسٍ» اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہو گا، اور «اِسْتَبْرَقْ» عمدہ، بیش بہا، گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہو گی جو اوپر پہنایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس «ابرار» کا ہے “۔
اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ» [22-الحج:23] ” انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خالص نرم ریشمی لباس ہو گا “۔ ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائی جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے، حسد، کینہ، بدخلقی، غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں ازخود خیال پیدا ہو گا، ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جو کچھ تھا سب دور ہو جائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے تروتازہ ہشاش بشاش ہو جائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔“ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو باربار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوششوں کی قدردانی ہے،
جیسے اور جگہ ہے «كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْئًا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] ” دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو “۔
اور فرمان ہے «وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [7-الأعراف:43] یعنی ” منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے “۔ یہاں بھی فرمایا ہے ” تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے “۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
10107
باب
«سَلْسَبِيْلً» بقول عکرمہ رحمہ اللہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہر یا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوشبو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔
ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لیے کمربستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمت جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہو گا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لیے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال، بوٹے سے قد والے، سفید نورانی چہروں والے، پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے، زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پرتکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں۔
10104
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔
پھر فرماتا ہے ” اے نبی! تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے “۔
چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ” جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا “ ۔ [صحیح بخاری:6571]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے جس میں ہے کہ ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہو گا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر، یکساں نگاہیں ہوں گی ۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضیف]
یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہو گا؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی۔ (اے اللہ! اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے، ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گزار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقوف نہیں، آمین۔ مترجم)
10105
طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ ایک حبشی دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو۔“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے، اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہو سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا“ پھر حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: ”جو شخص «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہے اس کے لیے اللہ کے پاس عہد مقرر ہو جاتا ہے اور جو شخص «سُبْحَانَ اللہ وَ بِحَمْدِهٖ» کہے اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں“ ۔
تو ایک شخص نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیسے ہلاک ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہو گا کہ سب فنا ہو جائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے“ ۔ اس وقت یہ سورۃ «وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا» [76-الإنسان:20] تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں“، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کر گئی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے دفن کیا ۔ [طبرانی کبیر:13595،قال الشيخ زبیر علی زئی:ضعیف]
10106
پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہو گا، «سُندُسٍ» اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہو گا، اور «اِسْتَبْرَقْ» عمدہ، بیش بہا، گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہو گی جو اوپر پہنایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس «ابرار» کا ہے “۔
اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ» [22-الحج:23] ” انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خالص نرم ریشمی لباس ہو گا “۔ ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائی جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے، حسد، کینہ، بدخلقی، غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں ازخود خیال پیدا ہو گا، ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جو کچھ تھا سب دور ہو جائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے تروتازہ ہشاش بشاش ہو جائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔“ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو باربار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوششوں کی قدردانی ہے،
جیسے اور جگہ ہے «كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْئًا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] ” دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو “۔
اور فرمان ہے «وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [7-الأعراف:43] یعنی ” منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے “۔ یہاں بھی فرمایا ہے ” تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے “۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
10107
باب
«سَلْسَبِيْلً» بقول عکرمہ رحمہ اللہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہر یا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوشبو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔
ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لیے کمربستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمت جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہو گا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لیے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال، بوٹے سے قد والے، سفید نورانی چہروں والے، پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے، زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پرتکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں۔
10104
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔
پھر فرماتا ہے ” اے نبی! تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے “۔
چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ” جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا “ ۔ [صحیح بخاری:6571]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے جس میں ہے کہ ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہو گا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر، یکساں نگاہیں ہوں گی ۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضیف]
یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہو گا؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی۔ (اے اللہ! اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے، ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گزار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقوف نہیں، آمین۔ مترجم)
10105
طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ ایک حبشی دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو۔“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے، اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہو سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا“ پھر حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: ”جو شخص «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہے اس کے لیے اللہ کے پاس عہد مقرر ہو جاتا ہے اور جو شخص «سُبْحَانَ اللہ وَ بِحَمْدِهٖ» کہے اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں“ ۔
تو ایک شخص نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیسے ہلاک ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہو گا کہ سب فنا ہو جائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے“ ۔ اس وقت یہ سورۃ «وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا» [76-الإنسان:20] تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں“، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کر گئی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے دفن کیا ۔ [طبرانی کبیر:13595،قال الشيخ زبیر علی زئی:ضعیف]
10106
پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہو گا، «سُندُسٍ» اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہو گا، اور «اِسْتَبْرَقْ» عمدہ، بیش بہا، گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہو گی جو اوپر پہنایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس «ابرار» کا ہے “۔
اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ» [22-الحج:23] ” انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خالص نرم ریشمی لباس ہو گا “۔ ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائی جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے، حسد، کینہ، بدخلقی، غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں ازخود خیال پیدا ہو گا، ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جو کچھ تھا سب دور ہو جائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے تروتازہ ہشاش بشاش ہو جائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔“ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو باربار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوششوں کی قدردانی ہے،
جیسے اور جگہ ہے «كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْئًا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] ” دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو “۔
اور فرمان ہے «وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [7-الأعراف:43] یعنی ” منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے “۔ یہاں بھی فرمایا ہے ” تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے “۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
10107
باب
«سَلْسَبِيْلً» بقول عکرمہ رحمہ اللہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہر یا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوشبو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔
ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لیے کمربستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمت جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہو گا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لیے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال، بوٹے سے قد والے، سفید نورانی چہروں والے، پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے، زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پرتکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں۔
10104
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔
پھر فرماتا ہے ” اے نبی! تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے “۔
چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ” جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا “ ۔ [صحیح بخاری:6571]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے جس میں ہے کہ ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہو گا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر، یکساں نگاہیں ہوں گی ۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضیف]
یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہو گا؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی۔ (اے اللہ! اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے، ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گزار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقوف نہیں، آمین۔ مترجم)
10105
طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ ایک حبشی دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو۔“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے، اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہو سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا“ پھر حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: ”جو شخص «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہے اس کے لیے اللہ کے پاس عہد مقرر ہو جاتا ہے اور جو شخص «سُبْحَانَ اللہ وَ بِحَمْدِهٖ» کہے اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں“ ۔
تو ایک شخص نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیسے ہلاک ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہو گا کہ سب فنا ہو جائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے“ ۔ اس وقت یہ سورۃ «وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا» [76-الإنسان:20] تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں“، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کر گئی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے دفن کیا ۔ [طبرانی کبیر:13595،قال الشيخ زبیر علی زئی:ضعیف]
10106
پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہو گا، «سُندُسٍ» اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہو گا، اور «اِسْتَبْرَقْ» عمدہ، بیش بہا، گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہو گی جو اوپر پہنایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس «ابرار» کا ہے “۔
اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ» [22-الحج:23] ” انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خالص نرم ریشمی لباس ہو گا “۔ ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائی جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے، حسد، کینہ، بدخلقی، غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں ازخود خیال پیدا ہو گا، ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جو کچھ تھا سب دور ہو جائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے تروتازہ ہشاش بشاش ہو جائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔“ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو باربار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوششوں کی قدردانی ہے،
جیسے اور جگہ ہے «كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْئًا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] ” دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو “۔
اور فرمان ہے «وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [7-الأعراف:43] یعنی ” منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے “۔ یہاں بھی فرمایا ہے ” تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے “۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
10107
باب
«سَلْسَبِيْلً» بقول عکرمہ رحمہ اللہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہر یا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں، خوش ذائقہ اور خوشبو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔
ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لیے کمربستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمت جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہو گا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لیے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال، بوٹے سے قد والے، سفید نورانی چہروں والے، پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے، زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پرتکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں۔
10104
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔
پھر فرماتا ہے ” اے نبی! تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے “۔
چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ” جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا “ ۔ [صحیح بخاری:6571]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے جس میں ہے کہ ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہو گا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر، یکساں نگاہیں ہوں گی ۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضیف]
یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہو گا؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی۔ (اے اللہ! اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے، ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گزار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقوف نہیں، آمین۔ مترجم)
10105
طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ ایک حبشی دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو۔“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے، اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہو سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا“ پھر حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: ”جو شخص «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہے اس کے لیے اللہ کے پاس عہد مقرر ہو جاتا ہے اور جو شخص «سُبْحَانَ اللہ وَ بِحَمْدِهٖ» کہے اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں“ ۔
تو ایک شخص نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیسے ہلاک ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہو گا کہ سب فنا ہو جائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے“ ۔ اس وقت یہ سورۃ «وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا» [76-الإنسان:20] تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں“، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کر گئی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے دفن کیا ۔ [طبرانی کبیر:13595،قال الشيخ زبیر علی زئی:ضعیف]
10106
پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہو گا، «سُندُسٍ» اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہو گا، اور «اِسْتَبْرَقْ» عمدہ، بیش بہا، گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہو گی جو اوپر پہنایا جائے گا، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس «ابرار» کا ہے “۔
اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے «يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ» [22-الحج:23] ” انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خالص نرم ریشمی لباس ہو گا “۔ ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائی جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے، حسد، کینہ، بدخلقی، غصہ وغیرہ سب دور کر دے، جیسے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں ازخود خیال پیدا ہو گا، ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جو کچھ تھا سب دور ہو جائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے تروتازہ ہشاش بشاش ہو جائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔“ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو باربار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوششوں کی قدردانی ہے،
جیسے اور جگہ ہے «كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْئًا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] ” دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو “۔
اور فرمان ہے «وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [7-الأعراف:43] یعنی ” منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے “۔ یہاں بھی فرمایا ہے ” تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے “۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔
10107
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ” ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں “۔
، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ” دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» [17-الإسراء:79] ” رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا “۔
سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» [73-المزمل:1-4] ” اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ “ ـ
پھر کفار کو روکتا ہے کہ ” حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں “۔
10113
پھر فرماتا ہے ” سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں “۔
یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ” اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں “۔
جیسے اور جگہ ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» [4-النساء:133] ” اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے “۔
اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» [14-إبراهيم:19-20] ” اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں “۔
پھر فرماتا ہے ” یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے “۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» [4-النساء:39] ” ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے “۔
پھر فرمایا ” بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے “۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
10114
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ” ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں “۔
، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ” دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» [17-الإسراء:79] ” رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا “۔
سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» [73-المزمل:1-4] ” اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ “ ـ
پھر کفار کو روکتا ہے کہ ” حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں “۔
10113
پھر فرماتا ہے ” سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں “۔
یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ” اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں “۔
جیسے اور جگہ ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» [4-النساء:133] ” اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے “۔
اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» [14-إبراهيم:19-20] ” اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں “۔
پھر فرماتا ہے ” یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے “۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» [4-النساء:39] ” ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے “۔
پھر فرمایا ” بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے “۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
10114
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ” ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں “۔
، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ” دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» [17-الإسراء:79] ” رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا “۔
سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» [73-المزمل:1-4] ” اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ “ ـ
پھر کفار کو روکتا ہے کہ ” حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں “۔
10113
پھر فرماتا ہے ” سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں “۔
یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ” اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں “۔
جیسے اور جگہ ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» [4-النساء:133] ” اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے “۔
اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» [14-إبراهيم:19-20] ” اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں “۔
پھر فرماتا ہے ” یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے “۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» [4-النساء:39] ” ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے “۔
پھر فرمایا ” بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے “۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
10114
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ” ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں “۔
، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ” دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» [17-الإسراء:79] ” رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا “۔
سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» [73-المزمل:1-4] ” اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ “ ـ
پھر کفار کو روکتا ہے کہ ” حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں “۔
10113
پھر فرماتا ہے ” سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں “۔
یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ” اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں “۔
جیسے اور جگہ ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» [4-النساء:133] ” اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے “۔
اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» [14-إبراهيم:19-20] ” اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں “۔
پھر فرماتا ہے ” یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے “۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» [4-النساء:39] ” ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے “۔
پھر فرمایا ” بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے “۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
10114
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ” ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں “۔
، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ” دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» [17-الإسراء:79] ” رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا “۔
سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» [73-المزمل:1-4] ” اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ “ ـ
پھر کفار کو روکتا ہے کہ ” حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں “۔
10113
پھر فرماتا ہے ” سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں “۔
یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ” اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں “۔
جیسے اور جگہ ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» [4-النساء:133] ” اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے “۔
اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» [14-إبراهيم:19-20] ” اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں “۔
پھر فرماتا ہے ” یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے “۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» [4-النساء:39] ” ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے “۔
پھر فرمایا ” بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے “۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
10114
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ” ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں “۔
، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ” دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» [17-الإسراء:79] ” رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا “۔
سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» [73-المزمل:1-4] ” اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ “ ـ
پھر کفار کو روکتا ہے کہ ” حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں “۔
10113
پھر فرماتا ہے ” سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں “۔
یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ” اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں “۔
جیسے اور جگہ ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» [4-النساء:133] ” اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے “۔
اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» [14-إبراهيم:19-20] ” اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں “۔
پھر فرماتا ہے ” یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے “۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» [4-النساء:39] ” ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے “۔
پھر فرمایا ” بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے “۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
10114
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ” ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں “۔
، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ” دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» [17-الإسراء:79] ” رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا “۔
سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» [73-المزمل:1-4] ” اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ “ ـ
پھر کفار کو روکتا ہے کہ ” حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں “۔
10113
پھر فرماتا ہے ” سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں “۔
یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ” اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں “۔
جیسے اور جگہ ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» [4-النساء:133] ” اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے “۔
اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» [14-إبراهيم:19-20] ” اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں “۔
پھر فرماتا ہے ” یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے “۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» [4-النساء:39] ” ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے “۔
پھر فرمایا ” بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے “۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
10114
اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات ٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ” ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہیئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضاء و قدر پر صابر شاکر رہو، دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا روک و رعایت، بغیر مایوسی اور تکان کے ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں “۔
، «فاجر» کہتے ہیں، بداعمال عاصی کو اور «کفور» کہتے ہیں دل کے منکر کو، ” دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» [17-الإسراء:79] ” رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا “۔
سورۃ مزمل کے شروع میں فرمایا «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا» [73-المزمل:1-4] ” اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ “ ـ
پھر کفار کو روکتا ہے کہ ” حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں “۔
10113
پھر فرماتا ہے ” سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قوی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں “۔
یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ ” اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں، انہیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں “۔
جیسے اور جگہ ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا» [4-النساء:133] ” اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے “۔
اور جگہ فرمایا «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» [14-إبراهيم:19-20] ” اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں “۔
پھر فرماتا ہے ” یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے “۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ وَكَان اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا» [4-النساء:39] ” ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو، قیامت کو مان لیتے “۔
پھر فرمایا ” بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی، اللہ علیم و حکیم ہے مستحقین ہدایت کے لیے وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت تامہ ہے “۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بے راہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے، نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے، اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافوں سے ہی مخصوص ہیں۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی، اللہ کا شکر ہے۔
10114