John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Anfaal

Tafsir Ibn Kathir · The Spoils of War · 75 ayat · ayat 31–60 · Quran text →

عذاب الٰہی نہ آنے کا سبب : اللہ کے رسول اور استغفار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے غرور و تکبر، ان کی سرکشی اور ناحق شناسی کی، ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی حالت بیان کرتا ہے کہ ” جھوٹ موت بک دیتے ہیں کہ ہاں بھئی ہم نے قرآن سن لیا، اس میں رکھا کیا ہے۔ ہم خود قدر ہیں، اگر چاہیں تو اسی جیسا کلام کہدیں۔ حالانکہ وہ کہہ نہیں سکتے۔“ اپنی عاجزی اور تہی دستی کو خوب جانتے، لیکن زبان سے شیخی بگھارتے تھے۔ جہاں قرآن سنا تو اس کی قدر گھٹانے کیلئے بک دیا جب کہ ان سے زبردست دعوے کے ساتھ کہا گیا کہ لاؤ اس جیسی ایک ہی سورت بنا کر لاؤ تو سب عاجز ہو گئے۔

پس یہ قول صرف جاہلوں کی خوش طبعی کیلئے کہتے تھے۔ کہا گیا ہے کہ یہ کہنے والا نصر بن حارث ملعون تھا۔ یہ خبیث فارس کے ملک گیا تو تھا اور رستم و اسفند یار کے قصے یاد کر آیا تھا۔ یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت مل چکی تھی آپ لوگوں کو کلام اللہ شریف سنا رہے ہوتے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوتے تو یہ اپنی مجلس جماتا اور فارس کے قصے سناتا، پھر فخراً کہتا کہو میرا بیان اچھا ہے یا محمد کا؟ صلی اللہ علیہ وسلم ۔

یہ بدر کے دن قید ہو کر لایا گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی گردن ماری گئی «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اسے قید کرنے والے سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ تھے۔ قبہ بن ابی معیط، طعیمہ بن عدی، نصر بن حارث، یہ تینوں اسی قید میں قتل کئے گئے۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا بھی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا قیدی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ عزوجل کی کتاب کے بارے میں زبان درازی کرتا تھا۔ انہوں نے بعد از قتل پھر کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں جسے باندھ کر لایا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ یا اللہ اپنے فضل سے مقداد کو غنی کر دے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15993] ‏

صفحہ نمبر3281

آپ خوش ہو گئے اور عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہی میرا مقصد اور مقصود تھا۔ اسی کے بارے میں یہ آیت «وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا قَالُوا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَـٰذَا ۙ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ» اتری ہے۔

ایک روایت میں طعیمہ کی بجائے مطعم بن عدی کا نام ہے لیکن یہ غلط ہے بدر والے دن وہ تو زندہ ہی نہ تھا بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ اگر آج یہ زندہ ہوتا اور مجھ سے ان قیدیوں کو طلب کرتا تو میں اسے دے دیتا۔ [صحیح بخاری:3139] ‏ اس لیے کہ طائف سے لوٹتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہی اپنی پناہ میں مکہ میں لے گیا تھا۔

یہ کفار کہتے تھے کہ قرآن میں سوائے پہلے لوگوں کی لکھی ہوئی کہانیوں کے کیا دھرا ہے انہیں کو پڑھ پڑھ کر لوگوں کو سناتا رہتا ہے۔ حالانکہ یہ محض جھوت بات تھی جو انہوں نے گھڑ لی تھی اسی لیے ان کے اس قول کو نقل کر کے جناب باری نے فرمایا ہے کہ «‏وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَىٰ عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ‏ [ 25-الفرقان: 5، 6 ] ‏ ” انہیں جواب دے کہ اسے تو آسمان و زمین کی تمام غائب باتوں کے جاننے والے نے اتارا ہے جو غفور بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ توبہ کرنے والوں کی خطائیں معاف فرماتا ہے، اپنے سامنے جھکنے والوں پر بڑے کرم کرتا ہے۔ “

پھر ان کی جہالت کا کرشمہ بیان ہو رہا ہے کہ چاہیئے تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ یا اللہ اگر یہ حق ہے تو ہمیں اس کی ہدایت دے اور اس کی اتباع کی توفیق نصیب فرما لیکن بجائے اس کے یہ دعا کرنے لگے کہ ہمیں جلد عذاب کر۔ «وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ ۚ وَلَوْلَا أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَاءَهُمُ الْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ» [ 29-العنکبوت: 53 ] ‏ بات یہ ہے کہ ” اللہ کی طرف سے ہرچیز کا وقت مقرر ہے ورنہ اس پر بھی عذاب آ جاتا لیکن اگر تمہارا یہی حال رہا تو پھر بھی وہ دن دور نہیں اچانک ان کی بیخبری میں اپنے وقت پر آ ہی جائے گا۔“

صفحہ نمبر3282

یہ تو کہا کرتے تھے کہ «‏وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ» [38-ص:16] ‏ ” ہمارا فیصلہ فیصلے کے دن سے پہلے ہی ہو جائے گا “ بطور مذاق عذاب کے واقع ہونے کی درخواست کرتے تھے جو کافروں پر آنے ولا ہے، جسے کوئی روک نہیں سکتا، آیت میں ہے «سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ لِّلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ مِّنَ اللَّـهِ ذِي الْمَعَارِجِ» ‏ [ 70-المعارج: 1 - 3 ] ‏ ” جو اس اللہ کی طرف سے ہو گا جو سیڑھیوں والا ہے۔“ اگلی امتوں کے جاہلوں کا بھی یہی وطیرہ رہا۔ قوم شعیب نے کہا تھا کہ اے مدعی نبوت اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان کو گرا دے۔ اسی طرح ان لوگوں نے کہا۔

ابوجہل وغیرہ نے یہ دعا کی تھی جس کے جواب میں فرمایا گیا کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی اور انہی میں سے بعض کا استغفار اللہ کے عذاب کی ڈھال ہے۔ “ [صحیح بخاری:4648] ‏

نصر بن حارث بن کلدہ نے بھی یہی دعا کی تھی جس کا ذکر «سَأَلَ سَائِلٌ» میں ہے ان کے اسی قول کا ذکر آیت «‏وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ» ‏ [ 38-ص: 16 ] ‏، میں ہے اور آیت «‏وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَىٰ كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ» [ 6-الأنعام: 94 ] ‏، میں ہے اور آیت «سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ لِّلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ مِّنَ اللَّـهِ ذِي الْمَعَارِجِ» [ 70-المعارج: 1 - 3 ] ‏، میں ہے۔ غرض دس سے اوپر اوپر آیتیں اس بیان میں ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:231/6] ‏

عمرو بن العاص جنگ احد میں اپنے گھوڑے پر سوار تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے اللہ اگر محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏ کا لایا ہوا دین حق ہے تو مجھے میرے گھوڑے سمیت زمین میں دھنسا دے گو اس امت کے بیوقوفوں نے یہ تمنا کی لیکن اللہ نے اس امت پر رحم فرمایا اور جواب دیا کہ ایک تو پیغمبر کی موجودگی عام عذاب سے مانع ہے دوسرے تم لوگوں کا استغفار۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:231/6] ‏

ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ مشرک حج میں طواف کے وقت کہتے تھے «لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ» اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: بس بس یہیں تک بولو آگے نہ بڑھو لیکن وہ پھر کہتے «اَلاَ شَرِیْكّا هُوَ لَكَ تَمْلِکُهُ وَمَا مَلَك» یعنی ہم حاضر ہیں اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں۔پھر کہتے ہاں وہ شریک جو خود بھی تیری ملکیت میں ہیں اور جن چیزوں کو وہ مالک ہیں ان کا بھی اصل مالک تو ہی ہے اور کہتے «غُفْرَانَكَ غُفْرَانَكَ» اے اللہ ہم تجھ سے استغفار کرتے ہیں اے اللہ تو ہمیں معاف فرما۔

صفحہ نمبر3283

اسی طلب بخشش کو عذاب کے جلد نہ آنے کا سبب بتایا گیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان میں دو سبب تھے ایک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے استغفار پس آپ تو چل دیئے اور استغفار باقی رہ گیا۔ [سنن ترمذي:3082،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

قریشی آپس میں کہا کرتے تھے کہ محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏ کو اللہ نے ہم میں سے ہم پر بزرگ بنایا اے اللہ اگر یہ سچا ہے تو تو ہمیں عذاب کر۔ جب ایمان لائے تو اپنے اس قول پر برا ہی نادم ہوئے اور استغفار کیا اسی کا بیان دوسری آیت میں ہے۔ پس انبیاء کی موجودگی میں قوموں پر عذاب نہیں آتا ہاں وہ نکل جائیں پھر عذاب برس پڑتے ہیں اور چونکہ ان کی قسمت میں ایمان تھا اور بعد از ایمان وہ استغفار اہل مکہ کے لیے باعث امن و امان تھا۔ ان دو وجہہ امن میں سے ایک تو اب نہ رہا دوسرا اب بھی موجود ہے۔

صفحہ نمبر3284

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مجھ پر دو امن میری امت کیلئے اترے ہیں ایک میری موجودگی دوسرے ان کا استغفار پس جب میں چلا جاؤں گا تو استغفار قیامت تک کیلئے ان میں چھوڑ جاؤں گا۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ شیطان نے کہا اے اللہ مجھے تیری عزت کی قسم میں تو جب تک تیرے بندوں کے جسم میں روح ہے انہیں بہکاتا رہوں گا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: ” مجھے بھی میری جلالت اور میری بزرگی کی قسم جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا۔“ [سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:104] ‏

مسند احمد میں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بندہ اللہ کے عذابوں سے امن میں رہتا ہے جب تک وہ اللہ عزوجل سے استغفار کرتا ہے۔ [مسند احمد:20/6:صحیح] ‏

صفحہ نمبر3285

عذاب الٰہی نہ آنے کا سبب : اللہ کے رسول اور استغفار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے غرور و تکبر، ان کی سرکشی اور ناحق شناسی کی، ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی حالت بیان کرتا ہے کہ ” جھوٹ موت بک دیتے ہیں کہ ہاں بھئی ہم نے قرآن سن لیا، اس میں رکھا کیا ہے۔ ہم خود قدر ہیں، اگر چاہیں تو اسی جیسا کلام کہدیں۔ حالانکہ وہ کہہ نہیں سکتے۔“ اپنی عاجزی اور تہی دستی کو خوب جانتے، لیکن زبان سے شیخی بگھارتے تھے۔ جہاں قرآن سنا تو اس کی قدر گھٹانے کیلئے بک دیا جب کہ ان سے زبردست دعوے کے ساتھ کہا گیا کہ لاؤ اس جیسی ایک ہی سورت بنا کر لاؤ تو سب عاجز ہو گئے۔

پس یہ قول صرف جاہلوں کی خوش طبعی کیلئے کہتے تھے۔ کہا گیا ہے کہ یہ کہنے والا نصر بن حارث ملعون تھا۔ یہ خبیث فارس کے ملک گیا تو تھا اور رستم و اسفند یار کے قصے یاد کر آیا تھا۔ یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت مل چکی تھی آپ لوگوں کو کلام اللہ شریف سنا رہے ہوتے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوتے تو یہ اپنی مجلس جماتا اور فارس کے قصے سناتا، پھر فخراً کہتا کہو میرا بیان اچھا ہے یا محمد کا؟ صلی اللہ علیہ وسلم ۔

یہ بدر کے دن قید ہو کر لایا گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی گردن ماری گئی «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اسے قید کرنے والے سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ تھے۔ قبہ بن ابی معیط، طعیمہ بن عدی، نصر بن حارث، یہ تینوں اسی قید میں قتل کئے گئے۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا بھی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا قیدی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ عزوجل کی کتاب کے بارے میں زبان درازی کرتا تھا۔ انہوں نے بعد از قتل پھر کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں جسے باندھ کر لایا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ یا اللہ اپنے فضل سے مقداد کو غنی کر دے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15993] ‏

صفحہ نمبر3281

آپ خوش ہو گئے اور عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہی میرا مقصد اور مقصود تھا۔ اسی کے بارے میں یہ آیت «وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا قَالُوا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَـٰذَا ۙ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ» اتری ہے۔

ایک روایت میں طعیمہ کی بجائے مطعم بن عدی کا نام ہے لیکن یہ غلط ہے بدر والے دن وہ تو زندہ ہی نہ تھا بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ اگر آج یہ زندہ ہوتا اور مجھ سے ان قیدیوں کو طلب کرتا تو میں اسے دے دیتا۔ [صحیح بخاری:3139] ‏ اس لیے کہ طائف سے لوٹتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہی اپنی پناہ میں مکہ میں لے گیا تھا۔

یہ کفار کہتے تھے کہ قرآن میں سوائے پہلے لوگوں کی لکھی ہوئی کہانیوں کے کیا دھرا ہے انہیں کو پڑھ پڑھ کر لوگوں کو سناتا رہتا ہے۔ حالانکہ یہ محض جھوت بات تھی جو انہوں نے گھڑ لی تھی اسی لیے ان کے اس قول کو نقل کر کے جناب باری نے فرمایا ہے کہ «‏وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَىٰ عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ‏ [ 25-الفرقان: 5، 6 ] ‏ ” انہیں جواب دے کہ اسے تو آسمان و زمین کی تمام غائب باتوں کے جاننے والے نے اتارا ہے جو غفور بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ توبہ کرنے والوں کی خطائیں معاف فرماتا ہے، اپنے سامنے جھکنے والوں پر بڑے کرم کرتا ہے۔ “

پھر ان کی جہالت کا کرشمہ بیان ہو رہا ہے کہ چاہیئے تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ یا اللہ اگر یہ حق ہے تو ہمیں اس کی ہدایت دے اور اس کی اتباع کی توفیق نصیب فرما لیکن بجائے اس کے یہ دعا کرنے لگے کہ ہمیں جلد عذاب کر۔ «وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ ۚ وَلَوْلَا أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَاءَهُمُ الْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ» [ 29-العنکبوت: 53 ] ‏ بات یہ ہے کہ ” اللہ کی طرف سے ہرچیز کا وقت مقرر ہے ورنہ اس پر بھی عذاب آ جاتا لیکن اگر تمہارا یہی حال رہا تو پھر بھی وہ دن دور نہیں اچانک ان کی بیخبری میں اپنے وقت پر آ ہی جائے گا۔“

صفحہ نمبر3282

یہ تو کہا کرتے تھے کہ «‏وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ» [38-ص:16] ‏ ” ہمارا فیصلہ فیصلے کے دن سے پہلے ہی ہو جائے گا “ بطور مذاق عذاب کے واقع ہونے کی درخواست کرتے تھے جو کافروں پر آنے ولا ہے، جسے کوئی روک نہیں سکتا، آیت میں ہے «سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ لِّلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ مِّنَ اللَّـهِ ذِي الْمَعَارِجِ» ‏ [ 70-المعارج: 1 - 3 ] ‏ ” جو اس اللہ کی طرف سے ہو گا جو سیڑھیوں والا ہے۔“ اگلی امتوں کے جاہلوں کا بھی یہی وطیرہ رہا۔ قوم شعیب نے کہا تھا کہ اے مدعی نبوت اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان کو گرا دے۔ اسی طرح ان لوگوں نے کہا۔

ابوجہل وغیرہ نے یہ دعا کی تھی جس کے جواب میں فرمایا گیا کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی اور انہی میں سے بعض کا استغفار اللہ کے عذاب کی ڈھال ہے۔ “ [صحیح بخاری:4648] ‏

نصر بن حارث بن کلدہ نے بھی یہی دعا کی تھی جس کا ذکر «سَأَلَ سَائِلٌ» میں ہے ان کے اسی قول کا ذکر آیت «‏وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ» ‏ [ 38-ص: 16 ] ‏، میں ہے اور آیت «‏وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَىٰ كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ» [ 6-الأنعام: 94 ] ‏، میں ہے اور آیت «سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ لِّلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ مِّنَ اللَّـهِ ذِي الْمَعَارِجِ» [ 70-المعارج: 1 - 3 ] ‏، میں ہے۔ غرض دس سے اوپر اوپر آیتیں اس بیان میں ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:231/6] ‏

عمرو بن العاص جنگ احد میں اپنے گھوڑے پر سوار تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے اللہ اگر محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏ کا لایا ہوا دین حق ہے تو مجھے میرے گھوڑے سمیت زمین میں دھنسا دے گو اس امت کے بیوقوفوں نے یہ تمنا کی لیکن اللہ نے اس امت پر رحم فرمایا اور جواب دیا کہ ایک تو پیغمبر کی موجودگی عام عذاب سے مانع ہے دوسرے تم لوگوں کا استغفار۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:231/6] ‏

ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ مشرک حج میں طواف کے وقت کہتے تھے «لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ» اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: بس بس یہیں تک بولو آگے نہ بڑھو لیکن وہ پھر کہتے «اَلاَ شَرِیْكّا هُوَ لَكَ تَمْلِکُهُ وَمَا مَلَك» یعنی ہم حاضر ہیں اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں۔پھر کہتے ہاں وہ شریک جو خود بھی تیری ملکیت میں ہیں اور جن چیزوں کو وہ مالک ہیں ان کا بھی اصل مالک تو ہی ہے اور کہتے «غُفْرَانَكَ غُفْرَانَكَ» اے اللہ ہم تجھ سے استغفار کرتے ہیں اے اللہ تو ہمیں معاف فرما۔

صفحہ نمبر3283

اسی طلب بخشش کو عذاب کے جلد نہ آنے کا سبب بتایا گیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان میں دو سبب تھے ایک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے استغفار پس آپ تو چل دیئے اور استغفار باقی رہ گیا۔ [سنن ترمذي:3082،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

قریشی آپس میں کہا کرتے تھے کہ محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏ کو اللہ نے ہم میں سے ہم پر بزرگ بنایا اے اللہ اگر یہ سچا ہے تو تو ہمیں عذاب کر۔ جب ایمان لائے تو اپنے اس قول پر برا ہی نادم ہوئے اور استغفار کیا اسی کا بیان دوسری آیت میں ہے۔ پس انبیاء کی موجودگی میں قوموں پر عذاب نہیں آتا ہاں وہ نکل جائیں پھر عذاب برس پڑتے ہیں اور چونکہ ان کی قسمت میں ایمان تھا اور بعد از ایمان وہ استغفار اہل مکہ کے لیے باعث امن و امان تھا۔ ان دو وجہہ امن میں سے ایک تو اب نہ رہا دوسرا اب بھی موجود ہے۔

صفحہ نمبر3284

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مجھ پر دو امن میری امت کیلئے اترے ہیں ایک میری موجودگی دوسرے ان کا استغفار پس جب میں چلا جاؤں گا تو استغفار قیامت تک کیلئے ان میں چھوڑ جاؤں گا۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ شیطان نے کہا اے اللہ مجھے تیری عزت کی قسم میں تو جب تک تیرے بندوں کے جسم میں روح ہے انہیں بہکاتا رہوں گا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: ” مجھے بھی میری جلالت اور میری بزرگی کی قسم جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا۔“ [سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:104] ‏

مسند احمد میں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بندہ اللہ کے عذابوں سے امن میں رہتا ہے جب تک وہ اللہ عزوجل سے استغفار کرتا ہے۔ [مسند احمد:20/6:صحیح] ‏

صفحہ نمبر3285

عذاب الٰہی نہ آنے کا سبب : اللہ کے رسول اور استغفار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے غرور و تکبر، ان کی سرکشی اور ناحق شناسی کی، ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی حالت بیان کرتا ہے کہ ” جھوٹ موت بک دیتے ہیں کہ ہاں بھئی ہم نے قرآن سن لیا، اس میں رکھا کیا ہے۔ ہم خود قدر ہیں، اگر چاہیں تو اسی جیسا کلام کہدیں۔ حالانکہ وہ کہہ نہیں سکتے۔“ اپنی عاجزی اور تہی دستی کو خوب جانتے، لیکن زبان سے شیخی بگھارتے تھے۔ جہاں قرآن سنا تو اس کی قدر گھٹانے کیلئے بک دیا جب کہ ان سے زبردست دعوے کے ساتھ کہا گیا کہ لاؤ اس جیسی ایک ہی سورت بنا کر لاؤ تو سب عاجز ہو گئے۔

پس یہ قول صرف جاہلوں کی خوش طبعی کیلئے کہتے تھے۔ کہا گیا ہے کہ یہ کہنے والا نصر بن حارث ملعون تھا۔ یہ خبیث فارس کے ملک گیا تو تھا اور رستم و اسفند یار کے قصے یاد کر آیا تھا۔ یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت مل چکی تھی آپ لوگوں کو کلام اللہ شریف سنا رہے ہوتے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوتے تو یہ اپنی مجلس جماتا اور فارس کے قصے سناتا، پھر فخراً کہتا کہو میرا بیان اچھا ہے یا محمد کا؟ صلی اللہ علیہ وسلم ۔

یہ بدر کے دن قید ہو کر لایا گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی گردن ماری گئی «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اسے قید کرنے والے سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ تھے۔ قبہ بن ابی معیط، طعیمہ بن عدی، نصر بن حارث، یہ تینوں اسی قید میں قتل کئے گئے۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا بھی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا قیدی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ عزوجل کی کتاب کے بارے میں زبان درازی کرتا تھا۔ انہوں نے بعد از قتل پھر کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں جسے باندھ کر لایا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ یا اللہ اپنے فضل سے مقداد کو غنی کر دے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15993] ‏

صفحہ نمبر3281

آپ خوش ہو گئے اور عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہی میرا مقصد اور مقصود تھا۔ اسی کے بارے میں یہ آیت «وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا قَالُوا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَـٰذَا ۙ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ» اتری ہے۔

ایک روایت میں طعیمہ کی بجائے مطعم بن عدی کا نام ہے لیکن یہ غلط ہے بدر والے دن وہ تو زندہ ہی نہ تھا بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ اگر آج یہ زندہ ہوتا اور مجھ سے ان قیدیوں کو طلب کرتا تو میں اسے دے دیتا۔ [صحیح بخاری:3139] ‏ اس لیے کہ طائف سے لوٹتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہی اپنی پناہ میں مکہ میں لے گیا تھا۔

یہ کفار کہتے تھے کہ قرآن میں سوائے پہلے لوگوں کی لکھی ہوئی کہانیوں کے کیا دھرا ہے انہیں کو پڑھ پڑھ کر لوگوں کو سناتا رہتا ہے۔ حالانکہ یہ محض جھوت بات تھی جو انہوں نے گھڑ لی تھی اسی لیے ان کے اس قول کو نقل کر کے جناب باری نے فرمایا ہے کہ «‏وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَىٰ عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ‏ [ 25-الفرقان: 5، 6 ] ‏ ” انہیں جواب دے کہ اسے تو آسمان و زمین کی تمام غائب باتوں کے جاننے والے نے اتارا ہے جو غفور بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ توبہ کرنے والوں کی خطائیں معاف فرماتا ہے، اپنے سامنے جھکنے والوں پر بڑے کرم کرتا ہے۔ “

پھر ان کی جہالت کا کرشمہ بیان ہو رہا ہے کہ چاہیئے تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ یا اللہ اگر یہ حق ہے تو ہمیں اس کی ہدایت دے اور اس کی اتباع کی توفیق نصیب فرما لیکن بجائے اس کے یہ دعا کرنے لگے کہ ہمیں جلد عذاب کر۔ «وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ ۚ وَلَوْلَا أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَاءَهُمُ الْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ» [ 29-العنکبوت: 53 ] ‏ بات یہ ہے کہ ” اللہ کی طرف سے ہرچیز کا وقت مقرر ہے ورنہ اس پر بھی عذاب آ جاتا لیکن اگر تمہارا یہی حال رہا تو پھر بھی وہ دن دور نہیں اچانک ان کی بیخبری میں اپنے وقت پر آ ہی جائے گا۔“

صفحہ نمبر3282

یہ تو کہا کرتے تھے کہ «‏وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ» [38-ص:16] ‏ ” ہمارا فیصلہ فیصلے کے دن سے پہلے ہی ہو جائے گا “ بطور مذاق عذاب کے واقع ہونے کی درخواست کرتے تھے جو کافروں پر آنے ولا ہے، جسے کوئی روک نہیں سکتا، آیت میں ہے «سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ لِّلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ مِّنَ اللَّـهِ ذِي الْمَعَارِجِ» ‏ [ 70-المعارج: 1 - 3 ] ‏ ” جو اس اللہ کی طرف سے ہو گا جو سیڑھیوں والا ہے۔“ اگلی امتوں کے جاہلوں کا بھی یہی وطیرہ رہا۔ قوم شعیب نے کہا تھا کہ اے مدعی نبوت اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان کو گرا دے۔ اسی طرح ان لوگوں نے کہا۔

ابوجہل وغیرہ نے یہ دعا کی تھی جس کے جواب میں فرمایا گیا کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی اور انہی میں سے بعض کا استغفار اللہ کے عذاب کی ڈھال ہے۔ “ [صحیح بخاری:4648] ‏

نصر بن حارث بن کلدہ نے بھی یہی دعا کی تھی جس کا ذکر «سَأَلَ سَائِلٌ» میں ہے ان کے اسی قول کا ذکر آیت «‏وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ» ‏ [ 38-ص: 16 ] ‏، میں ہے اور آیت «‏وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَىٰ كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ» [ 6-الأنعام: 94 ] ‏، میں ہے اور آیت «سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ لِّلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ مِّنَ اللَّـهِ ذِي الْمَعَارِجِ» [ 70-المعارج: 1 - 3 ] ‏، میں ہے۔ غرض دس سے اوپر اوپر آیتیں اس بیان میں ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:231/6] ‏

عمرو بن العاص جنگ احد میں اپنے گھوڑے پر سوار تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے اللہ اگر محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏ کا لایا ہوا دین حق ہے تو مجھے میرے گھوڑے سمیت زمین میں دھنسا دے گو اس امت کے بیوقوفوں نے یہ تمنا کی لیکن اللہ نے اس امت پر رحم فرمایا اور جواب دیا کہ ایک تو پیغمبر کی موجودگی عام عذاب سے مانع ہے دوسرے تم لوگوں کا استغفار۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:231/6] ‏

ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ مشرک حج میں طواف کے وقت کہتے تھے «لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ» اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: بس بس یہیں تک بولو آگے نہ بڑھو لیکن وہ پھر کہتے «اَلاَ شَرِیْكّا هُوَ لَكَ تَمْلِکُهُ وَمَا مَلَك» یعنی ہم حاضر ہیں اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں۔پھر کہتے ہاں وہ شریک جو خود بھی تیری ملکیت میں ہیں اور جن چیزوں کو وہ مالک ہیں ان کا بھی اصل مالک تو ہی ہے اور کہتے «غُفْرَانَكَ غُفْرَانَكَ» اے اللہ ہم تجھ سے استغفار کرتے ہیں اے اللہ تو ہمیں معاف فرما۔

صفحہ نمبر3283

اسی طلب بخشش کو عذاب کے جلد نہ آنے کا سبب بتایا گیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان میں دو سبب تھے ایک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے استغفار پس آپ تو چل دیئے اور استغفار باقی رہ گیا۔ [سنن ترمذي:3082،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

قریشی آپس میں کہا کرتے تھے کہ محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏ کو اللہ نے ہم میں سے ہم پر بزرگ بنایا اے اللہ اگر یہ سچا ہے تو تو ہمیں عذاب کر۔ جب ایمان لائے تو اپنے اس قول پر برا ہی نادم ہوئے اور استغفار کیا اسی کا بیان دوسری آیت میں ہے۔ پس انبیاء کی موجودگی میں قوموں پر عذاب نہیں آتا ہاں وہ نکل جائیں پھر عذاب برس پڑتے ہیں اور چونکہ ان کی قسمت میں ایمان تھا اور بعد از ایمان وہ استغفار اہل مکہ کے لیے باعث امن و امان تھا۔ ان دو وجہہ امن میں سے ایک تو اب نہ رہا دوسرا اب بھی موجود ہے۔

صفحہ نمبر3284

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مجھ پر دو امن میری امت کیلئے اترے ہیں ایک میری موجودگی دوسرے ان کا استغفار پس جب میں چلا جاؤں گا تو استغفار قیامت تک کیلئے ان میں چھوڑ جاؤں گا۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ شیطان نے کہا اے اللہ مجھے تیری عزت کی قسم میں تو جب تک تیرے بندوں کے جسم میں روح ہے انہیں بہکاتا رہوں گا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: ” مجھے بھی میری جلالت اور میری بزرگی کی قسم جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا۔“ [سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:104] ‏

مسند احمد میں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بندہ اللہ کے عذابوں سے امن میں رہتا ہے جب تک وہ اللہ عزوجل سے استغفار کرتا ہے۔ [مسند احمد:20/6:صحیح] ‏

صفحہ نمبر3285

باب

ارشاد ہے کہ فی الواقع یہ کفار عذابوں کے لائق ہیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی سے عذاب رکے ہوئے ہیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد ان پر عذاب الٰہی آیا۔ بدر کے دن ان کے تمام سردار مار ڈالے گئے یا قید کر دیئے گئے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ ٰ نے انہیں استغفار کی ہدایت کی کہ ” اپنے شرک و فساد سے ہٹ جائیں اور اللہ سے معاف طلب کریں۔ “ قتادہ اور سدی رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ وہ لوگ معافی نہیں مانگتے تھے ورنہ عذاب نہ ہوتا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:235/6] ‏

ہاں ان میں جو کمزر مسلمان رہ گئے تھے اور ہجرت پر قادر نہ تھے وہ استغفار میں لگے رہتے تھے اور ان کی ان میں موجودگی اللہ کے عذابوں کے رکنے کا ذریعہ تھی چنانچہ حدیبیہ کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد الٰہی ہے «هُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعْكُوفًا أَن يَبْلُغَ مَحِلَّهُ ۚ وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُّؤْمِنَاتٌ لَّمْ تَعْلَمُوهُمْ أَن تَطَئُوهُمْ فَتُصِيبَكُم مِّنْهُم مَّعَرَّةٌ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ لِّيُدْخِلَ اللَّـهُ فِي رَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ ۚ لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا» ‏ [ 48-الفتح: 25 ] ‏، یعنی ” یہ مکے والے ہی تو وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد الحرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی نہ آنے دیا کہ وہ جہاں تھے وہیں رکے کھڑے رہے اور اپنے حلال ہونے کی جگہ نہ پہنچ سکے۔ اگر شہر مکہ میں کچھ مسلمان مرد اور کچھ مسلمان عورتیں ایسی نہ ہوتیں کہ تم ان کے حال سے واقف نہیں تھے، اور عین ممکن تھا کہ لڑائی کی صورت میں تم انہیں بھی پامال کر ڈالتے اور نادانستہ ان کی طرف سے تمہیں نقصان پہنچ جاتا تو بیشک تمہیں اسی وقت لڑائی کی اجازت مل جاتی۔ اس وقت کی صلح اس لیے ہے کہ اللہ جسے چاہے اپنی رحمت میں لے لے۔“

صفحہ نمبر3288

اگر مکے میں رکے ہوئے مسلمان وہاں سے کہیں تل جاتے تو یقیناً ان کافروں کو درد ناک مار ماری جاتی۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی اہل مکہ کے لیے باعث امن رہی پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد جو ضعیف مسلمان وہاں رہ گئے تھے اور استغفار کرتے رہے تھے، ان کی موجودگی کی وجہ سے عذاب نہ آیا جب وہ بھی مکے سے نکل گئے تب یہ آیت اتری کہ اب کوئی مانع باقی نہ رہا پس مسلمانوں کو مکے پر چڑھائی کرنے کی اجازت مل گئی اور یہ مفتوح ہوئے۔

ہاں ایک قول یہ بھی ہے کہ اگر مراد ان کا خود کا استغفار ہو تو اس آیت نے پہلی آیت «وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ» کو منسوخ کر دیا۔ چنانچہ عکرمہ اور حسن بصری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہ قول بھی ہے کہ «انفال» میں «وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ» والی آیت کو اسکے بعد والی آیت «وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّـهُ» نے منسوخ کردیا ہے۔

چنانچہ «فَذُوقُوا الْعَذَابَ» فرمایا گیا چنانچہ اہل مکہ سے جنگ بھی ہوئی، انہیں ضرور بھی پہنچے، ان پر قحط سالیاں بھی آئیں پس ان مشرکوں کا اس آیت میں استثنا کر لیا گیا ہے۔ انہیں اللہ کے عذاب کیوں نہ ہوں؟ یہ مومن لوگوں کو کعبتہ اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتے ہیں جو مومن بوجہ اپنی کمزوری کے اب تک مکہ میں ہی ہیں اور ان کے سوار اور مومنوں کو بھی طواف و نماز سے روکتے ہیں حالانکہ اصل اہلیت ان ہی میں ہے۔ ان مشرکوں میں اس کی اہلیت نہیں جیسے فرمان ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ ۚ أُولَـٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ» [9-التوبة:17] ‏، ” مشرکین اللہ کے گھروں کی آبادی کے اہل نہیں وہ تو کفر میں مبتلا ہیں ان کے اعمال اکارت ہیں اور وہ ہمیشہ کے جہنمی ہیں۔“

صفحہ نمبر3289

«‏إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّـهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّـهَ ۖ فَعَسَىٰ أُولَـٰئِكَ أَن يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ» ‏ [ 9-التوبہ: 18 ] ‏ ” مسجدوں کی آبادی کے اہل اللہ پر، قیامت پر ایمان رکھنے والے، نمازی، زکوٰۃ ادا کرنے والے، صرف خوف الٰہی رکھنے والے ہی ہیں اور وہی راہ یافتہ لوگ ہیں۔ “

اور آیت میں ہے کہ «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ ۚ أُولَـٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ» ‏ [ 9-التوبہ: 17 ] ‏ ” مشرکوں کی زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد کریں جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بیکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ “

«وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِندَ اللَّـهِ» [ 2-البقرة: 217 ] ‏ ” راہ رب سے روکنا، اللہ کے ساتھ کفر کرنا، مسجد الحرام کی بیحرمتی کرنا اور اس کے لائق لوگوں کو اس سے نکالنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا جرم ہے۔“

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر ایک پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا «إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ» ۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:1304] ‏

مستدرک حاکم میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو جمع کیا پھر پوچھا کہ تم میں اس وقت کوئی اور تو نہیں؟ انہوں نے کہا بہنوں کی اولاد اور حلیف اور مولیٰ ہیں۔ فرمایا: یہ تینوں تو تم میں سے ہی ہیں۔ سنو تم میں سے میرے دوست وہی ہیں جو تقوے اور پرہیزگاری والے ہوں [سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:1688] ‏

پس اللہ کے اولیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم اور کل مجاہد خواہ وہ کوئی ہو اور کہیں کے ہوں۔

پھر ان کی ایک اور شرارت اور بےڈھنگا پن بیان فرماتا ہے۔ کعبے میں آ کر کیا کرتے ہیں؟ یا تو جانوروں کی سی سیٹیاں بجاتے ہیں، منہ میں انگلیاں رکھین اور سیٹیاں شروع کریں یا تالیاں پیٹنے لگے۔ طواف کرتے ہیں تو ننگے ہو کر، رخسار جھکا کر، سیٹی بجائی، تالی بجائی، چلئے نماز ہو گئی۔ کبھی رخسار زمین پر لٹکا لیا۔ بائیں طرف سے طواف کیا۔ یہ بھی مقصود تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بگاڑیں، مومنوں کا مذاق اڑائیں، لوگوں کو راہ رب سے روکیں۔ اب اپنے کفر کا بھرپور پھل چکھو، بدر کے دن قید ہو کے قتل ہوئے، تو لاچاری، چیخ اور زلزلے آئے۔

صفحہ نمبر3290

باب

ارشاد ہے کہ فی الواقع یہ کفار عذابوں کے لائق ہیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی سے عذاب رکے ہوئے ہیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد ان پر عذاب الٰہی آیا۔ بدر کے دن ان کے تمام سردار مار ڈالے گئے یا قید کر دیئے گئے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ ٰ نے انہیں استغفار کی ہدایت کی کہ ” اپنے شرک و فساد سے ہٹ جائیں اور اللہ سے معاف طلب کریں۔ “ قتادہ اور سدی رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ وہ لوگ معافی نہیں مانگتے تھے ورنہ عذاب نہ ہوتا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:235/6] ‏

ہاں ان میں جو کمزر مسلمان رہ گئے تھے اور ہجرت پر قادر نہ تھے وہ استغفار میں لگے رہتے تھے اور ان کی ان میں موجودگی اللہ کے عذابوں کے رکنے کا ذریعہ تھی چنانچہ حدیبیہ کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد الٰہی ہے «هُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعْكُوفًا أَن يَبْلُغَ مَحِلَّهُ ۚ وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُّؤْمِنَاتٌ لَّمْ تَعْلَمُوهُمْ أَن تَطَئُوهُمْ فَتُصِيبَكُم مِّنْهُم مَّعَرَّةٌ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ لِّيُدْخِلَ اللَّـهُ فِي رَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ ۚ لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا» ‏ [ 48-الفتح: 25 ] ‏، یعنی ” یہ مکے والے ہی تو وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد الحرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی نہ آنے دیا کہ وہ جہاں تھے وہیں رکے کھڑے رہے اور اپنے حلال ہونے کی جگہ نہ پہنچ سکے۔ اگر شہر مکہ میں کچھ مسلمان مرد اور کچھ مسلمان عورتیں ایسی نہ ہوتیں کہ تم ان کے حال سے واقف نہیں تھے، اور عین ممکن تھا کہ لڑائی کی صورت میں تم انہیں بھی پامال کر ڈالتے اور نادانستہ ان کی طرف سے تمہیں نقصان پہنچ جاتا تو بیشک تمہیں اسی وقت لڑائی کی اجازت مل جاتی۔ اس وقت کی صلح اس لیے ہے کہ اللہ جسے چاہے اپنی رحمت میں لے لے۔“

صفحہ نمبر3288

اگر مکے میں رکے ہوئے مسلمان وہاں سے کہیں تل جاتے تو یقیناً ان کافروں کو درد ناک مار ماری جاتی۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی اہل مکہ کے لیے باعث امن رہی پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد جو ضعیف مسلمان وہاں رہ گئے تھے اور استغفار کرتے رہے تھے، ان کی موجودگی کی وجہ سے عذاب نہ آیا جب وہ بھی مکے سے نکل گئے تب یہ آیت اتری کہ اب کوئی مانع باقی نہ رہا پس مسلمانوں کو مکے پر چڑھائی کرنے کی اجازت مل گئی اور یہ مفتوح ہوئے۔

ہاں ایک قول یہ بھی ہے کہ اگر مراد ان کا خود کا استغفار ہو تو اس آیت نے پہلی آیت «وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ» کو منسوخ کر دیا۔ چنانچہ عکرمہ اور حسن بصری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہ قول بھی ہے کہ «انفال» میں «وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ» والی آیت کو اسکے بعد والی آیت «وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّـهُ» نے منسوخ کردیا ہے۔

چنانچہ «فَذُوقُوا الْعَذَابَ» فرمایا گیا چنانچہ اہل مکہ سے جنگ بھی ہوئی، انہیں ضرور بھی پہنچے، ان پر قحط سالیاں بھی آئیں پس ان مشرکوں کا اس آیت میں استثنا کر لیا گیا ہے۔ انہیں اللہ کے عذاب کیوں نہ ہوں؟ یہ مومن لوگوں کو کعبتہ اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتے ہیں جو مومن بوجہ اپنی کمزوری کے اب تک مکہ میں ہی ہیں اور ان کے سوار اور مومنوں کو بھی طواف و نماز سے روکتے ہیں حالانکہ اصل اہلیت ان ہی میں ہے۔ ان مشرکوں میں اس کی اہلیت نہیں جیسے فرمان ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ ۚ أُولَـٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ» [9-التوبة:17] ‏، ” مشرکین اللہ کے گھروں کی آبادی کے اہل نہیں وہ تو کفر میں مبتلا ہیں ان کے اعمال اکارت ہیں اور وہ ہمیشہ کے جہنمی ہیں۔“

صفحہ نمبر3289

«‏إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّـهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّـهَ ۖ فَعَسَىٰ أُولَـٰئِكَ أَن يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ» ‏ [ 9-التوبہ: 18 ] ‏ ” مسجدوں کی آبادی کے اہل اللہ پر، قیامت پر ایمان رکھنے والے، نمازی، زکوٰۃ ادا کرنے والے، صرف خوف الٰہی رکھنے والے ہی ہیں اور وہی راہ یافتہ لوگ ہیں۔ “

اور آیت میں ہے کہ «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ ۚ أُولَـٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ» ‏ [ 9-التوبہ: 17 ] ‏ ” مشرکوں کی زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد کریں جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بیکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ “

«وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِندَ اللَّـهِ» [ 2-البقرة: 217 ] ‏ ” راہ رب سے روکنا، اللہ کے ساتھ کفر کرنا، مسجد الحرام کی بیحرمتی کرنا اور اس کے لائق لوگوں کو اس سے نکالنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا جرم ہے۔“

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر ایک پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا «إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ» ۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:1304] ‏

مستدرک حاکم میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو جمع کیا پھر پوچھا کہ تم میں اس وقت کوئی اور تو نہیں؟ انہوں نے کہا بہنوں کی اولاد اور حلیف اور مولیٰ ہیں۔ فرمایا: یہ تینوں تو تم میں سے ہی ہیں۔ سنو تم میں سے میرے دوست وہی ہیں جو تقوے اور پرہیزگاری والے ہوں [سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:1688] ‏

پس اللہ کے اولیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم اور کل مجاہد خواہ وہ کوئی ہو اور کہیں کے ہوں۔

پھر ان کی ایک اور شرارت اور بےڈھنگا پن بیان فرماتا ہے۔ کعبے میں آ کر کیا کرتے ہیں؟ یا تو جانوروں کی سی سیٹیاں بجاتے ہیں، منہ میں انگلیاں رکھین اور سیٹیاں شروع کریں یا تالیاں پیٹنے لگے۔ طواف کرتے ہیں تو ننگے ہو کر، رخسار جھکا کر، سیٹی بجائی، تالی بجائی، چلئے نماز ہو گئی۔ کبھی رخسار زمین پر لٹکا لیا۔ بائیں طرف سے طواف کیا۔ یہ بھی مقصود تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بگاڑیں، مومنوں کا مذاق اڑائیں، لوگوں کو راہ رب سے روکیں۔ اب اپنے کفر کا بھرپور پھل چکھو، بدر کے دن قید ہو کے قتل ہوئے، تو لاچاری، چیخ اور زلزلے آئے۔

صفحہ نمبر3290

شکست خوردہ کفار کی سازشیں ٭٭

قریشیوں کو بدر میں شکست فاش ہوئی، اپنے مردے اور اپنے قیدی مسلمانوں کے ہاتھوں میں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ابوسفیان اپنا قافلہ اور مال و متاع لے کر پہنچا تو عبداللہ بن ابی ربیعہ، عکرمہ بن ابی جہل، صفوان بن امیہ اور وہ لوگ جن کے عزیز و اقارب اس لڑائی میں کام آئے تھے ابو ابوسفیان کے پاس پہنچے اور کہا کہ آپ دیکھتے ہیں ہماری کیا درگت ہوئی؟ اب اگر آپ رضامند ہوں تو یہ سارا مال روک لیا جائے اور اسی خزانے سے دوسری جنگ کی تیاری وسیع پیمانے پر کی جائے اور انہیں مزا چکھا دیا جائے چنانچہ یہ بات مان لی گئی اور پختہ ہوگئ۔

اسی پر یہ آیت «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ» الخ اتری کہ ” بلاشک یہ کافر لوگ اپنے مالوں کو اس لئے خرچ کر رہے ہیں کہ اللہ کی راه سے روکیں سو یہ لوگ تو اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہی رہیں گے، پھر وه مال ان کے حق میں باعث حسرت ہو جائیں گے۔ پھر مغلوب ہو جائیں گے اور کافر لوگوں کو دوزخ کی طرف جمع کیا جائے گا۔ “

ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت بھی بدر کے بارے میں اتری ہے۔ الفاظ آیت کے عام ہیں گو سبب نزول خاص ہو حق کو روکنے کے لیے جو بھی مال خرچ کرے وہ آخر ندامت کے ساتھ رہ جائے گا۔ دین کا چراغ انسانی پھونکوں سے بجھ نہیں سکتا۔ اس خواہش کا انجام نا مرادی ہی ہے۔ خود اللہ اپنے دین کا ناصر اور حافظ ہے۔ اس کا کلمہ بلند ہو گا، اس کا بول بالا ہو گا، اس کا دین غالب ہو گا کفار منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔

صفحہ نمبر3292

قولہ تعالیٰ: «لِيَمِيزَ اللَّـهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَيَجْعَلَ الْخَبِيثَ بَعْضَهُ عَلَىٰ بَعْضٍ فَيَرْكُمَهُ جَمِيعًا فَيَجْعَلَهُ فِي جَهَنَّمَ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اہلِ سعادت کا امتیاز اہلِ شقاوت سے ہے کہ مومن کافر سے ممتاز ہوجائے گا اور یہ بھی محتمل ہے کہ امتیاز سے مراد آخرت کا امتیاز ہو۔ دنیا میں الگ رسوائی اور ذلت ہو گی آخرت میں الگ بربادی اور خواری ہو گی۔ جیتے جی یا تو اپنے سامنے اپنی پستی ذلت نکبت و ادبار اور خوری دیکھ لیں گے یا مرنے پر عذاب نار دیکھ لیں گے۔ پستی و غلامی کی مار اور شکست ان کے ماتھے پر لکھ دی گئی ہے۔ پھر آخری ٹھکانا جہنم ہے تاکہ اللہ شقی اور سعید کو الگ الگ کر دے۔ برے اور بھلے کو ممتاز کر دے یہ تفریق اور امتیاز آخرت میں ہو گی اور دنیا میں بھی۔

فرمان ہے «ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَاؤُكُمْ ۚ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ» [ 10-یونس: 28 ] ‏، ” قیامت کے دن ہم کافروں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے معبود یہیں اسی جگہ ٹھہرے رہو۔ “

اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ» [ 30-الروم: 14 ] ‏ ” قیامت کے دن یہ سب جدا جدا ہو جائیں گے“ اور آیت میں ہے «يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ» [ الروم: 43 ] ‏ ” اس دن یہ منتشر ہو جائیں گے “ اور آیت میں ہے «‏وَامْتَازُوا الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَوِ ادْفَعُوا ۖ قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعْنَاكُمْ» [ 36-یس: 59 ] ‏ ” اے گنہگار و تم آج نیک کاروں سے الگ ہو جاؤ۔ “

اسی طرح دنیا میں بھی ایک دوسرے سے بالکل ممتاز تھے۔ مومنوں کے اعمال ان کے اپنے ہیں اور ان سے بالکل جدا گانہ «لِيَمِيزَ» کا لام تو دلیل ہو سکتا ہے یعنی کافر اپنے مالوں کو اللہ کی راہ کی روک کیلئے خرچ کرتے ہیں تاکہ مومن و کافر میں علیحدگی ہو جائے کہ کون اللہ کا فرمانبردار ہے اور کون نافرمانی میں ممتاز ہے؟

چنانچہ فرمان ہے «وَمَا أَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللَّـهِ وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِينَ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَوِ ادْفَعُوا ۖ قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعْنَاكُمْ» [ 3-آل عمران: 166، 167 ] ‏، یعنی ” دونوں لشکروں کی مڈبھیڑ کے وقت جو کچھ تم سے ہوا وہ اللہ کے حکم سے تھا تاکہ مومنوں اور منافقوں میں تمیز ہو جائے ان سے جب کہا گیا کہ آؤ راہ حق میں جہاد کرو یا دشمنوں کو دفع کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہم فنون جنگ سے واقف ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے۔ “

اور آیت میں ہے «‏مَّا كَانَ اللَّـهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَىٰ مَا أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ ۗ وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ» [ 3-آل عمران: 179 ] ‏، یعنی ” اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری موجودہ حالتوں پر ہی چھوڑنے والا نہیں وہ پاک اور پلید کو علیحدہ علیحدہ کرنے والا ہے۔“

صفحہ نمبر3293

یہ ہی نہیں کہ اللہ تمہیں اپنے غیب پر خبردار کر دے۔ فرمان ہے «أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّـهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ» [ 3-آل عمران: 142 ] ‏، ” کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک تو اللہ نے تم میں سے مجاہدین کو اور صبر کرنے والوں کو کھلم کھلا نہیں کیا۔ “

سورۃ برات میں بھی اسی جیسی آیت موجود ہے تو مطلب یہ ہوا کہ ہم نے تمہیں کافروں کے ہاتھوں میں اس لیے مبتلا کیا ہے اور اس لیے انہیں اپنے مال باطل میں خرچ کرنے پر لگایا ہے کہ نیک و بد کی تمیز ہو جائے۔ «فَيَجْعَلَهُ فِي جَهَنَّمَ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» ” خبیث کو خبیث سے ملا کر جمع کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ دنیا و آخرت میں یہ لوگ برباد ہیں۔“

صفحہ نمبر3294

شکست خوردہ کفار کی سازشیں ٭٭

قریشیوں کو بدر میں شکست فاش ہوئی، اپنے مردے اور اپنے قیدی مسلمانوں کے ہاتھوں میں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ابوسفیان اپنا قافلہ اور مال و متاع لے کر پہنچا تو عبداللہ بن ابی ربیعہ، عکرمہ بن ابی جہل، صفوان بن امیہ اور وہ لوگ جن کے عزیز و اقارب اس لڑائی میں کام آئے تھے ابو ابوسفیان کے پاس پہنچے اور کہا کہ آپ دیکھتے ہیں ہماری کیا درگت ہوئی؟ اب اگر آپ رضامند ہوں تو یہ سارا مال روک لیا جائے اور اسی خزانے سے دوسری جنگ کی تیاری وسیع پیمانے پر کی جائے اور انہیں مزا چکھا دیا جائے چنانچہ یہ بات مان لی گئی اور پختہ ہوگئ۔

اسی پر یہ آیت «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ» الخ اتری کہ ” بلاشک یہ کافر لوگ اپنے مالوں کو اس لئے خرچ کر رہے ہیں کہ اللہ کی راه سے روکیں سو یہ لوگ تو اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہی رہیں گے، پھر وه مال ان کے حق میں باعث حسرت ہو جائیں گے۔ پھر مغلوب ہو جائیں گے اور کافر لوگوں کو دوزخ کی طرف جمع کیا جائے گا۔ “

ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت بھی بدر کے بارے میں اتری ہے۔ الفاظ آیت کے عام ہیں گو سبب نزول خاص ہو حق کو روکنے کے لیے جو بھی مال خرچ کرے وہ آخر ندامت کے ساتھ رہ جائے گا۔ دین کا چراغ انسانی پھونکوں سے بجھ نہیں سکتا۔ اس خواہش کا انجام نا مرادی ہی ہے۔ خود اللہ اپنے دین کا ناصر اور حافظ ہے۔ اس کا کلمہ بلند ہو گا، اس کا بول بالا ہو گا، اس کا دین غالب ہو گا کفار منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔

صفحہ نمبر3292

قولہ تعالیٰ: «لِيَمِيزَ اللَّـهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَيَجْعَلَ الْخَبِيثَ بَعْضَهُ عَلَىٰ بَعْضٍ فَيَرْكُمَهُ جَمِيعًا فَيَجْعَلَهُ فِي جَهَنَّمَ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اہلِ سعادت کا امتیاز اہلِ شقاوت سے ہے کہ مومن کافر سے ممتاز ہوجائے گا اور یہ بھی محتمل ہے کہ امتیاز سے مراد آخرت کا امتیاز ہو۔ دنیا میں الگ رسوائی اور ذلت ہو گی آخرت میں الگ بربادی اور خواری ہو گی۔ جیتے جی یا تو اپنے سامنے اپنی پستی ذلت نکبت و ادبار اور خوری دیکھ لیں گے یا مرنے پر عذاب نار دیکھ لیں گے۔ پستی و غلامی کی مار اور شکست ان کے ماتھے پر لکھ دی گئی ہے۔ پھر آخری ٹھکانا جہنم ہے تاکہ اللہ شقی اور سعید کو الگ الگ کر دے۔ برے اور بھلے کو ممتاز کر دے یہ تفریق اور امتیاز آخرت میں ہو گی اور دنیا میں بھی۔

فرمان ہے «ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَاؤُكُمْ ۚ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ» [ 10-یونس: 28 ] ‏، ” قیامت کے دن ہم کافروں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے معبود یہیں اسی جگہ ٹھہرے رہو۔ “

اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ» [ 30-الروم: 14 ] ‏ ” قیامت کے دن یہ سب جدا جدا ہو جائیں گے“ اور آیت میں ہے «يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ» [ الروم: 43 ] ‏ ” اس دن یہ منتشر ہو جائیں گے “ اور آیت میں ہے «‏وَامْتَازُوا الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَوِ ادْفَعُوا ۖ قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعْنَاكُمْ» [ 36-یس: 59 ] ‏ ” اے گنہگار و تم آج نیک کاروں سے الگ ہو جاؤ۔ “

اسی طرح دنیا میں بھی ایک دوسرے سے بالکل ممتاز تھے۔ مومنوں کے اعمال ان کے اپنے ہیں اور ان سے بالکل جدا گانہ «لِيَمِيزَ» کا لام تو دلیل ہو سکتا ہے یعنی کافر اپنے مالوں کو اللہ کی راہ کی روک کیلئے خرچ کرتے ہیں تاکہ مومن و کافر میں علیحدگی ہو جائے کہ کون اللہ کا فرمانبردار ہے اور کون نافرمانی میں ممتاز ہے؟

چنانچہ فرمان ہے «وَمَا أَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللَّـهِ وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِينَ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَوِ ادْفَعُوا ۖ قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعْنَاكُمْ» [ 3-آل عمران: 166، 167 ] ‏، یعنی ” دونوں لشکروں کی مڈبھیڑ کے وقت جو کچھ تم سے ہوا وہ اللہ کے حکم سے تھا تاکہ مومنوں اور منافقوں میں تمیز ہو جائے ان سے جب کہا گیا کہ آؤ راہ حق میں جہاد کرو یا دشمنوں کو دفع کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہم فنون جنگ سے واقف ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے۔ “

اور آیت میں ہے «‏مَّا كَانَ اللَّـهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَىٰ مَا أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ ۗ وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ» [ 3-آل عمران: 179 ] ‏، یعنی ” اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری موجودہ حالتوں پر ہی چھوڑنے والا نہیں وہ پاک اور پلید کو علیحدہ علیحدہ کرنے والا ہے۔“

صفحہ نمبر3293

یہ ہی نہیں کہ اللہ تمہیں اپنے غیب پر خبردار کر دے۔ فرمان ہے «أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّـهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ» [ 3-آل عمران: 142 ] ‏، ” کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک تو اللہ نے تم میں سے مجاہدین کو اور صبر کرنے والوں کو کھلم کھلا نہیں کیا۔ “

سورۃ برات میں بھی اسی جیسی آیت موجود ہے تو مطلب یہ ہوا کہ ہم نے تمہیں کافروں کے ہاتھوں میں اس لیے مبتلا کیا ہے اور اس لیے انہیں اپنے مال باطل میں خرچ کرنے پر لگایا ہے کہ نیک و بد کی تمیز ہو جائے۔ «فَيَجْعَلَهُ فِي جَهَنَّمَ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» ” خبیث کو خبیث سے ملا کر جمع کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ دنیا و آخرت میں یہ لوگ برباد ہیں۔“

صفحہ نمبر3294

فتنے کے اختتام تک جہاد جاری رکھو ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب ہورہا ہے کہ ” کافروں سے کہدو کہ اگر وہ اپنے کفر سے اور ضد سے باز آ جائیں، اسلام اور اطاعت قبول کر لیں، رب کی طرف جھک جائیں تو ان سے جو ہو چکا ہے سب معاف کر دیا جائے گا، کفر بھی، خطا بھی گناہ بھی۔“

حدیث میں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اسلام لا کر نیکیاں کرے وہ اپنے جاہلیت کے اعمال پر پکڑا نہ جائے گا اور اسلام میں بھی پھر برائیاں کرے تو اگلی پچھلی تمام خطاؤں پر اس کی پکڑ ہو گی [صحیح بخاری:6921] ‏

اور حدیث میں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام سے پہلے کے سب گناہ معاف ہیں توبہ بھی اپنے سے پہلے کے گناہ کو مٹا دیتی ہے۔ [صحیح مسلم:121] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” اگر یہ نہ مانیں اور اپنے کفر پر قائم رہیں تو وہ اگلوں کی حالت دیکھ لیں کہ ہم نے انہیں ان کے کفر کی وجہ سے کیسا غارت کیا؟ ابھی بدری کفار کا حشر بھی ان کے سامنے ہے۔ جب تک فتنہ باقی ہے تم جنگ جاری رکھو۔“

ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آیت «وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا» [ 49-الحجرات: 9 ] ‏، کو پیش نظر رکھ کر آپ اس وقت کی باہمی جنگ میں شرکت کیوں نہیں کرتے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگوں کا یہ طعنہ اس سے بہت ہلکا ہے کہ میں کسی مومن کو قتل کر کے جہنمی بن جاؤں جیسے فرمان الٰہی ہے «وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا» ‏ [ 4-النساء: 93 ] ‏، اس نے کہا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ” فتنہ باقی ہو تب تک لڑائی جاری رکھو۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہی ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کیا۔ اس وقت مسلمان کم تھے، انہیں کافر گرفتار کر لیتے تھے اور دین میں فتنے ڈالتے تھے یا تو قتل کر ڈالتے تھے یا قید کر لیتے تھے۔ جب مسلمان بڑھ گئے وہ فتنہ جاتا رہا۔

صفحہ نمبر3296

اس معترض شخص نے جب دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ مانتے نہیں تو کہا اچھا سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے بارے میں کیا خیال رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اللہ نے معاف فرمایا لیکن تمہیں اللہ کی وہ معافی بری معلوم ہوتی ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے اور آپ کے داماد تھے، یہ ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی، یہ کہتے ہوئے ان [سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا] ‏ کے مکان کی طرف اشارہ کیا۔ [صحیح بخاری:4650] ‏

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ لوگوں کے پاس آئے تو کسی نے کہا کہ اس فتنے کے وقت کی لڑائی کی نسبت جناب کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا جانتے بھی ہو فتنے سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کافروں سے جنگ کرتے تھے، اس وقت ان کا زور تھا، ان میں جانا فتنہ تھا، تمہاری تو یہ ملکی لڑائیاں ہیں۔ [صحیح بخاری:4651] ‏

صفحہ نمبر3297

اور روایت میں ہے کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں دو شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں وہ آپ کے سامنے ہے آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، آپ کیوں میدان جنگ میں نہیں اترے؟ فرمایا اس لیے کہ اللہ نے ہر مومن کا خون حرام کر دیا ہے انہوں نے کہا کیا فتنے کے باقی رہنے تک لڑنا اللہ کا حکم نہیں؟ آپ نے فرمایا ہے اور ہم نے اسے نبھایا بھی یہاں تک کہ فتنہ دور ہو گیا اور دین سب اللہ ہی کا ہو گیا، اب تم اپنی اس باہمی جنگ سے فتنہ کھڑا کرنا اور غیر اللہ کے دین کے لیے ہو جانا جاہتے ہو۔ [صحیح بخاری:4513] ‏

ذوالسطبین اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے میں ہرگز اس شخص سے جنگ نہ کروں گا جو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کا قائل ہو۔ سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر اس کی تائید کی اور فرمایا میں بھی یہی کہتا ہوں تو ان پر بھی یہی آیت «وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّـهِ» پیش کی گئی اور یہی جواب آپ نے بھی دیا۔

بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وعیرہ فتنہ سے مراد شرک ہے اور یہ بھی کہ مسلمانوں کی کمزوری ایسی نہ رہے کہ کوئی انہیں ان کے سچے دین سے مرتد کرنے کی طاقت رکھے۔ دین سب اللہ کا ہو جائے یعنی توحید نکھر جائے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کا کلمہ زبانوں پر چڑھ جائے شرک اور معبود ان باطل کی پرستش اٹھ جائے، تمہارے دین کے ساتھ کفر باقی نہ رہے۔

بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے حکم فرمایا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد جاری رکھوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ لیں جب وہ اسے کہہ لیں گے تو مجھ سے اپنی جانیں اور اپنے مال بچا لیں گے ہاں حق اسلام کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ [صحیح بخاری:1399] ‏

صفحہ نمبر3298

بخاری مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بہادری کیلئے، ایک شخص غیرت کیلئے، ایک شخص ریا کاری کیلئے لڑائی کر رہا ہے تو اللہ کی راہ میں ان میں سے کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کی غرض سے جہاد کرے وہ اللہ کی راہ میں ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر تمہارے جہاد کی وجہ سے یہ اپنے کفر سے باز آ جائیں تو تم ان سے لڑائی موقوف کر دو ان کے دلوں کا حال سپرد رب کر دو۔ اللہ ان کے اعمال کا دیکھنے والا ہے۔ [صحیح بخاری:2810] ‏

جیسے فرمان ہے «فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ‏ [ 9-التوبہ: 5 ] ‏، یعنی ” اگر یہ توبہ کر لیں اور نمازی اور زکوٰۃ دیین والے بن جائیں تو ان کی راہ چھوڑ دو، ان کے راستے نہ روکو“۔

اور آیت میں ہے کہ «فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ» [ 9-التوبہ: 11 ] ‏ ” اس صورت میں وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ “

اور آیت میں ہے کہ «وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّـهِ ۖ فَإِنِ انتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ» [ 2-البقرة: 193 ] ‏ ” ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہو جائے پھر اگر وہ باز آ جائیں تو زیادتی کا بدلہ تو صرف ظالموں کے لیے ہی ہے۔“

ایک صحیح رویت میں ہے کہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ ایک شخص پر تلوار لے کر چڑھ گئے جب وہ زد میں آ گیا اور دیکھا کہ تلوار چلا جاتی ہے تو اس نے جلدی سے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ دیا لیکن اس کے سر پر تلوار پڑ گئی اور وہ قتل ہو گیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعہ کا بیان ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا تو نے اسے اس کے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہنے کے بعد قتل کیا؟ تو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے ساتھ قیامت کے دن کیا کرے گا؟ حضرت اسامہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ تو اس نے صرف اپنے بچاؤ کیلئے کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟ بتا کون ہو گا جو قیامت کے دن «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کا مقابلہ کرے۔ باربار آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے، یہاں تک کہ اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے دل میں خیال آنے لگا کہ کاش کہ میں آج کے دن سے پہلے مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا، تاکہ اسلام کے زعم میں اس کو قتل نہ کردیتا۔ [صحیح بخاری:4269] ‏

صفحہ نمبر3299

پھر فرماتا ہے کہ ” اگر یہ اب بھی باز نہ رہیں تمہاری مخالفت اور تم سے لڑائی نہ چھوڑیں تو تم یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ تمہارا مولا، تمہارا مالک، تمہارا مددگار اور ناصر ہے۔ وہ تمہیں ان پر غالب کرے گا۔ وہ بہترین مولا اور بہترین مددگار ہے۔“

ابن جریر میں ہے کہ عبدالملک بن مروان نے عروہ رحمہ اللہ سے کچھ باتیں دریافت کی تھیں جس کے جواب میں آپ نے انہیں لکھا سلام علیک کے بعد میں آپ کے سامنے اس اللہ کی تعریفیں کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ بعد حمد و صلوۃ کے آپ کا خط ملا آپ نے ہجرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت مجھ سے سوال کیا ہے میں آپ کو اس واقعہ کی خبر لکھتا ہوں۔ اللہ ہی کی مدد پر خیر کرنا اور شر سے روکنا موقوف ہے مکہ شریف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کا واقعہ یوں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت دی، سبحان اللہ کیسے اچھے پیشوا بہترین رہنما تھے، اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جزائے خیر عطا فرمائے ہمیں جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب فرمائے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے دین پر زندہ رکھے اسی پر موت دے اور اسی پر قیامت کے دن کھڑا کرے، آمین۔

صفحہ نمبر3300

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو ہدایت اور نور کی طرف دعوت دی جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا تھا تو شروع شروع تو انہیں کچھ زیادہ برا نہیں معلوم ہوا بلکہ قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننے لگیں مگر جب ان کے معبودان باطل کا ذکر آیا اس وقت وہ بگڑے بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کا برا ماننے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سختی کرنے لگے۔

اسی زمانے میں طائف کے چند قریشی مال لے کر پہنچے وہ بھی ان کے شریک حال ہو گئے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کے ماننے والے مسلمانوں کو طرح طرح سے ستانے لگے جس کی وجہ سے عام لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس آنے جانے سے ہٹ گئے بجز ان چند ہستیوں کے جو اللہ کی حفاظت میں تھیں یہی حالت ایک عرصے تک رہی جب تک کہ مسلمانوں کی تعداد کی کمی زیادتی کی حد تک نہیں پہنچی تھی۔

پھر سرداران کفر نے آپس میں مشورہ کیا کہ جتنے لوگ ایمان لا چکے ہیں ان پر اور زیادہ سختی کی جائے جو جس کا رشتہ دار اور قریبی ہو وہ اسے ہر طرح تنگ کرے تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دیں اب فتنہ بڑھ گیا اور بعض لوگ ان کی سزاؤں کی تاب نہ لا کر ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگے۔

کھرے اور ثابت قدم لوگ دین حق پر اس مصیبت کے زمانے میں بھی جمے رہے اور اللہ نے انہیں مضبوط کر دیا اور محفوظ رکھ لیا۔ آخر جب تکلیفیں حد سے گذر نے لگیں تو رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کی اجازت دے دی۔ حبشہ کا بادشاہ نجاشی ایک نیک آدمی تھا اس کی سلطنت ظلم و زیادتی سے خالی تھی ہر طرف اس کی تعریفیں ہو رہی تھیں۔

صفحہ نمبر3301

یہ جگہ قریش کی تجارتی منڈی تھی جہاں ان کے تاجر رہا کرتے تھے اور بے خوف و خطر بڑی بڑی تجارتیں کیا کرتے تھے۔ پس جو لوگ یہاں مکہ شریف میں کافروں کے ہاتھوں بہت تنگ آ گئے تھے اور اب مصیبت جھیلنے کے قابل نہیں رہے تھے اور ہر وقت انہیں اپنے دین کے اپنے ہاتھ سے چھوٹ جانے کا خطرہ لگا رہتا تھا وہ سب حبشہ چلے گئے۔ لیکن خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہیں ٹھہرے رہے۔

اس پر بھی جب کئی سال گذر گئے تو یہاں اللہ کے فضل سے مسلمانوں کی تعداد خاصی ہو گئی اسلام پھیل گیا اور شریف اور سردار لوگ بھی اسلامی جھنڈے تلے آ گئے یہ دیکھ کر کفر کو اپنی دشمنی کا جوش ٹھنڈا کرنا پڑا۔ وہ ظلم و زیادتی سے بالکل تو نہیں لیکن کچھ نہ کچھ رک گئے۔ پس وہ فتنہ جس کے زلزلوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو وطن چھوڑ نے اور حبشہ جانے پر مجبور کیا تھا اس کے کچھ دب جانے کی خبروں نے مہاجرین حبشہ کو پھر آمادہ کیا کہ وہ مکے شریف واپس چلے آئیں۔ چنانچہ وہ بھی تھوڑے بہت آ گئے اسی اثناء میں مدینہ شریف کے چند انصار مسلمان ہو گئے۔ ان کی وجہ سے مدینہ شریف میں بھی اشاعت اسلام ہونے لگی۔ ان کا مکہ شریف آنا جانا شروع ہوا اس سے مکہ والے کچھ بگڑے اور بپھر کر ارادہ کر لیا کہ دوبارہ سخت سختی کریں چنانچہ دوسری مرتبہ پھر فتنہ شروع ہوا۔ ہجرت حبشہ پر پہلے فتنے نے آمادہ کیا واپسی پر پھر فتنہ پھیلا۔ اب ستر بزرگ سرداران مدینہ یہاں آئے اور مسلمان ہو کر نبی کریم رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔

صفحہ نمبر3302

موسم حج کے موقعہ پر یہ آئے تھے۔ قبہ میں انہوں نے بیعت کی، عہدو پیمان، قول و قرر ہوئے کہ ہم آپ کے اور آپ ہمارے۔ اگر کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آدمی ہمارے ہاں آ جائے تو ہم اس کے امن و امان کے ذمے دار ہیں خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر تشریف لائیں تو ہم جان مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں۔

اس چیز نے قریش کو اور بھڑکا دیا اور انہوں نے ضعیف اور کمزور مسلمانوں کو اور ستانا شروع کر دیا۔ ان کی سزائیں بڑھا دیں اور خون کے پیاسے ہو گئے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی کہ وہ مدینہ شریف کی طرف ہجرت کر جائیں یہ تھا آخری اور انتہائی فتنہ جس نے نہ صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہی نکالا بلکہ خود اللہ کے محترم رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی مکے کو خالی کر گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16097:مرسل] ‏

یہی ہے وہ فتنہ جسے اللہ فرماتا ہے ” ان سے جہاد جاری رکھو یہاں تک کہ فتنہ مٹ جائے اور سارا دین اللہ کا ہی ہو جائے۔ “ «الْحَمْدُ لِلَّـه» نویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔

صفحہ نمبر3303

فتنے کے اختتام تک جہاد جاری رکھو ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب ہورہا ہے کہ ” کافروں سے کہدو کہ اگر وہ اپنے کفر سے اور ضد سے باز آ جائیں، اسلام اور اطاعت قبول کر لیں، رب کی طرف جھک جائیں تو ان سے جو ہو چکا ہے سب معاف کر دیا جائے گا، کفر بھی، خطا بھی گناہ بھی۔“

حدیث میں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اسلام لا کر نیکیاں کرے وہ اپنے جاہلیت کے اعمال پر پکڑا نہ جائے گا اور اسلام میں بھی پھر برائیاں کرے تو اگلی پچھلی تمام خطاؤں پر اس کی پکڑ ہو گی [صحیح بخاری:6921] ‏

اور حدیث میں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام سے پہلے کے سب گناہ معاف ہیں توبہ بھی اپنے سے پہلے کے گناہ کو مٹا دیتی ہے۔ [صحیح مسلم:121] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” اگر یہ نہ مانیں اور اپنے کفر پر قائم رہیں تو وہ اگلوں کی حالت دیکھ لیں کہ ہم نے انہیں ان کے کفر کی وجہ سے کیسا غارت کیا؟ ابھی بدری کفار کا حشر بھی ان کے سامنے ہے۔ جب تک فتنہ باقی ہے تم جنگ جاری رکھو۔“

ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آیت «وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا» [ 49-الحجرات: 9 ] ‏، کو پیش نظر رکھ کر آپ اس وقت کی باہمی جنگ میں شرکت کیوں نہیں کرتے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگوں کا یہ طعنہ اس سے بہت ہلکا ہے کہ میں کسی مومن کو قتل کر کے جہنمی بن جاؤں جیسے فرمان الٰہی ہے «وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا» ‏ [ 4-النساء: 93 ] ‏، اس نے کہا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ” فتنہ باقی ہو تب تک لڑائی جاری رکھو۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہی ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کیا۔ اس وقت مسلمان کم تھے، انہیں کافر گرفتار کر لیتے تھے اور دین میں فتنے ڈالتے تھے یا تو قتل کر ڈالتے تھے یا قید کر لیتے تھے۔ جب مسلمان بڑھ گئے وہ فتنہ جاتا رہا۔

صفحہ نمبر3296

اس معترض شخص نے جب دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ مانتے نہیں تو کہا اچھا سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے بارے میں کیا خیال رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اللہ نے معاف فرمایا لیکن تمہیں اللہ کی وہ معافی بری معلوم ہوتی ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے اور آپ کے داماد تھے، یہ ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی، یہ کہتے ہوئے ان [سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا] ‏ کے مکان کی طرف اشارہ کیا۔ [صحیح بخاری:4650] ‏

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ لوگوں کے پاس آئے تو کسی نے کہا کہ اس فتنے کے وقت کی لڑائی کی نسبت جناب کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا جانتے بھی ہو فتنے سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کافروں سے جنگ کرتے تھے، اس وقت ان کا زور تھا، ان میں جانا فتنہ تھا، تمہاری تو یہ ملکی لڑائیاں ہیں۔ [صحیح بخاری:4651] ‏

صفحہ نمبر3297

اور روایت میں ہے کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں دو شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں وہ آپ کے سامنے ہے آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، آپ کیوں میدان جنگ میں نہیں اترے؟ فرمایا اس لیے کہ اللہ نے ہر مومن کا خون حرام کر دیا ہے انہوں نے کہا کیا فتنے کے باقی رہنے تک لڑنا اللہ کا حکم نہیں؟ آپ نے فرمایا ہے اور ہم نے اسے نبھایا بھی یہاں تک کہ فتنہ دور ہو گیا اور دین سب اللہ ہی کا ہو گیا، اب تم اپنی اس باہمی جنگ سے فتنہ کھڑا کرنا اور غیر اللہ کے دین کے لیے ہو جانا جاہتے ہو۔ [صحیح بخاری:4513] ‏

ذوالسطبین اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے میں ہرگز اس شخص سے جنگ نہ کروں گا جو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کا قائل ہو۔ سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر اس کی تائید کی اور فرمایا میں بھی یہی کہتا ہوں تو ان پر بھی یہی آیت «وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّـهِ» پیش کی گئی اور یہی جواب آپ نے بھی دیا۔

بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وعیرہ فتنہ سے مراد شرک ہے اور یہ بھی کہ مسلمانوں کی کمزوری ایسی نہ رہے کہ کوئی انہیں ان کے سچے دین سے مرتد کرنے کی طاقت رکھے۔ دین سب اللہ کا ہو جائے یعنی توحید نکھر جائے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کا کلمہ زبانوں پر چڑھ جائے شرک اور معبود ان باطل کی پرستش اٹھ جائے، تمہارے دین کے ساتھ کفر باقی نہ رہے۔

بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے حکم فرمایا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد جاری رکھوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ لیں جب وہ اسے کہہ لیں گے تو مجھ سے اپنی جانیں اور اپنے مال بچا لیں گے ہاں حق اسلام کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ [صحیح بخاری:1399] ‏

صفحہ نمبر3298

بخاری مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بہادری کیلئے، ایک شخص غیرت کیلئے، ایک شخص ریا کاری کیلئے لڑائی کر رہا ہے تو اللہ کی راہ میں ان میں سے کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کی غرض سے جہاد کرے وہ اللہ کی راہ میں ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر تمہارے جہاد کی وجہ سے یہ اپنے کفر سے باز آ جائیں تو تم ان سے لڑائی موقوف کر دو ان کے دلوں کا حال سپرد رب کر دو۔ اللہ ان کے اعمال کا دیکھنے والا ہے۔ [صحیح بخاری:2810] ‏

جیسے فرمان ہے «فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ‏ [ 9-التوبہ: 5 ] ‏، یعنی ” اگر یہ توبہ کر لیں اور نمازی اور زکوٰۃ دیین والے بن جائیں تو ان کی راہ چھوڑ دو، ان کے راستے نہ روکو“۔

اور آیت میں ہے کہ «فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ» [ 9-التوبہ: 11 ] ‏ ” اس صورت میں وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ “

اور آیت میں ہے کہ «وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّـهِ ۖ فَإِنِ انتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ» [ 2-البقرة: 193 ] ‏ ” ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہو جائے پھر اگر وہ باز آ جائیں تو زیادتی کا بدلہ تو صرف ظالموں کے لیے ہی ہے۔“

ایک صحیح رویت میں ہے کہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ ایک شخص پر تلوار لے کر چڑھ گئے جب وہ زد میں آ گیا اور دیکھا کہ تلوار چلا جاتی ہے تو اس نے جلدی سے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ دیا لیکن اس کے سر پر تلوار پڑ گئی اور وہ قتل ہو گیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعہ کا بیان ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا تو نے اسے اس کے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہنے کے بعد قتل کیا؟ تو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے ساتھ قیامت کے دن کیا کرے گا؟ حضرت اسامہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ تو اس نے صرف اپنے بچاؤ کیلئے کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟ بتا کون ہو گا جو قیامت کے دن «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کا مقابلہ کرے۔ باربار آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے، یہاں تک کہ اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے دل میں خیال آنے لگا کہ کاش کہ میں آج کے دن سے پہلے مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا، تاکہ اسلام کے زعم میں اس کو قتل نہ کردیتا۔ [صحیح بخاری:4269] ‏

صفحہ نمبر3299

پھر فرماتا ہے کہ ” اگر یہ اب بھی باز نہ رہیں تمہاری مخالفت اور تم سے لڑائی نہ چھوڑیں تو تم یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ تمہارا مولا، تمہارا مالک، تمہارا مددگار اور ناصر ہے۔ وہ تمہیں ان پر غالب کرے گا۔ وہ بہترین مولا اور بہترین مددگار ہے۔“

ابن جریر میں ہے کہ عبدالملک بن مروان نے عروہ رحمہ اللہ سے کچھ باتیں دریافت کی تھیں جس کے جواب میں آپ نے انہیں لکھا سلام علیک کے بعد میں آپ کے سامنے اس اللہ کی تعریفیں کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ بعد حمد و صلوۃ کے آپ کا خط ملا آپ نے ہجرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت مجھ سے سوال کیا ہے میں آپ کو اس واقعہ کی خبر لکھتا ہوں۔ اللہ ہی کی مدد پر خیر کرنا اور شر سے روکنا موقوف ہے مکہ شریف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کا واقعہ یوں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت دی، سبحان اللہ کیسے اچھے پیشوا بہترین رہنما تھے، اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جزائے خیر عطا فرمائے ہمیں جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب فرمائے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے دین پر زندہ رکھے اسی پر موت دے اور اسی پر قیامت کے دن کھڑا کرے، آمین۔

صفحہ نمبر3300

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو ہدایت اور نور کی طرف دعوت دی جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا تھا تو شروع شروع تو انہیں کچھ زیادہ برا نہیں معلوم ہوا بلکہ قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننے لگیں مگر جب ان کے معبودان باطل کا ذکر آیا اس وقت وہ بگڑے بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کا برا ماننے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سختی کرنے لگے۔

اسی زمانے میں طائف کے چند قریشی مال لے کر پہنچے وہ بھی ان کے شریک حال ہو گئے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کے ماننے والے مسلمانوں کو طرح طرح سے ستانے لگے جس کی وجہ سے عام لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس آنے جانے سے ہٹ گئے بجز ان چند ہستیوں کے جو اللہ کی حفاظت میں تھیں یہی حالت ایک عرصے تک رہی جب تک کہ مسلمانوں کی تعداد کی کمی زیادتی کی حد تک نہیں پہنچی تھی۔

پھر سرداران کفر نے آپس میں مشورہ کیا کہ جتنے لوگ ایمان لا چکے ہیں ان پر اور زیادہ سختی کی جائے جو جس کا رشتہ دار اور قریبی ہو وہ اسے ہر طرح تنگ کرے تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دیں اب فتنہ بڑھ گیا اور بعض لوگ ان کی سزاؤں کی تاب نہ لا کر ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگے۔

کھرے اور ثابت قدم لوگ دین حق پر اس مصیبت کے زمانے میں بھی جمے رہے اور اللہ نے انہیں مضبوط کر دیا اور محفوظ رکھ لیا۔ آخر جب تکلیفیں حد سے گذر نے لگیں تو رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کی اجازت دے دی۔ حبشہ کا بادشاہ نجاشی ایک نیک آدمی تھا اس کی سلطنت ظلم و زیادتی سے خالی تھی ہر طرف اس کی تعریفیں ہو رہی تھیں۔

صفحہ نمبر3301

یہ جگہ قریش کی تجارتی منڈی تھی جہاں ان کے تاجر رہا کرتے تھے اور بے خوف و خطر بڑی بڑی تجارتیں کیا کرتے تھے۔ پس جو لوگ یہاں مکہ شریف میں کافروں کے ہاتھوں بہت تنگ آ گئے تھے اور اب مصیبت جھیلنے کے قابل نہیں رہے تھے اور ہر وقت انہیں اپنے دین کے اپنے ہاتھ سے چھوٹ جانے کا خطرہ لگا رہتا تھا وہ سب حبشہ چلے گئے۔ لیکن خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہیں ٹھہرے رہے۔

اس پر بھی جب کئی سال گذر گئے تو یہاں اللہ کے فضل سے مسلمانوں کی تعداد خاصی ہو گئی اسلام پھیل گیا اور شریف اور سردار لوگ بھی اسلامی جھنڈے تلے آ گئے یہ دیکھ کر کفر کو اپنی دشمنی کا جوش ٹھنڈا کرنا پڑا۔ وہ ظلم و زیادتی سے بالکل تو نہیں لیکن کچھ نہ کچھ رک گئے۔ پس وہ فتنہ جس کے زلزلوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو وطن چھوڑ نے اور حبشہ جانے پر مجبور کیا تھا اس کے کچھ دب جانے کی خبروں نے مہاجرین حبشہ کو پھر آمادہ کیا کہ وہ مکے شریف واپس چلے آئیں۔ چنانچہ وہ بھی تھوڑے بہت آ گئے اسی اثناء میں مدینہ شریف کے چند انصار مسلمان ہو گئے۔ ان کی وجہ سے مدینہ شریف میں بھی اشاعت اسلام ہونے لگی۔ ان کا مکہ شریف آنا جانا شروع ہوا اس سے مکہ والے کچھ بگڑے اور بپھر کر ارادہ کر لیا کہ دوبارہ سخت سختی کریں چنانچہ دوسری مرتبہ پھر فتنہ شروع ہوا۔ ہجرت حبشہ پر پہلے فتنے نے آمادہ کیا واپسی پر پھر فتنہ پھیلا۔ اب ستر بزرگ سرداران مدینہ یہاں آئے اور مسلمان ہو کر نبی کریم رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔

صفحہ نمبر3302

موسم حج کے موقعہ پر یہ آئے تھے۔ قبہ میں انہوں نے بیعت کی، عہدو پیمان، قول و قرر ہوئے کہ ہم آپ کے اور آپ ہمارے۔ اگر کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آدمی ہمارے ہاں آ جائے تو ہم اس کے امن و امان کے ذمے دار ہیں خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر تشریف لائیں تو ہم جان مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں۔

اس چیز نے قریش کو اور بھڑکا دیا اور انہوں نے ضعیف اور کمزور مسلمانوں کو اور ستانا شروع کر دیا۔ ان کی سزائیں بڑھا دیں اور خون کے پیاسے ہو گئے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی کہ وہ مدینہ شریف کی طرف ہجرت کر جائیں یہ تھا آخری اور انتہائی فتنہ جس نے نہ صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہی نکالا بلکہ خود اللہ کے محترم رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی مکے کو خالی کر گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16097:مرسل] ‏

یہی ہے وہ فتنہ جسے اللہ فرماتا ہے ” ان سے جہاد جاری رکھو یہاں تک کہ فتنہ مٹ جائے اور سارا دین اللہ کا ہی ہو جائے۔ “ «الْحَمْدُ لِلَّـه» نویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔

صفحہ نمبر3303

فتنے کے اختتام تک جہاد جاری رکھو ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب ہورہا ہے کہ ” کافروں سے کہدو کہ اگر وہ اپنے کفر سے اور ضد سے باز آ جائیں، اسلام اور اطاعت قبول کر لیں، رب کی طرف جھک جائیں تو ان سے جو ہو چکا ہے سب معاف کر دیا جائے گا، کفر بھی، خطا بھی گناہ بھی۔“

حدیث میں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اسلام لا کر نیکیاں کرے وہ اپنے جاہلیت کے اعمال پر پکڑا نہ جائے گا اور اسلام میں بھی پھر برائیاں کرے تو اگلی پچھلی تمام خطاؤں پر اس کی پکڑ ہو گی [صحیح بخاری:6921] ‏

اور حدیث میں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام سے پہلے کے سب گناہ معاف ہیں توبہ بھی اپنے سے پہلے کے گناہ کو مٹا دیتی ہے۔ [صحیح مسلم:121] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” اگر یہ نہ مانیں اور اپنے کفر پر قائم رہیں تو وہ اگلوں کی حالت دیکھ لیں کہ ہم نے انہیں ان کے کفر کی وجہ سے کیسا غارت کیا؟ ابھی بدری کفار کا حشر بھی ان کے سامنے ہے۔ جب تک فتنہ باقی ہے تم جنگ جاری رکھو۔“

ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آیت «وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا» [ 49-الحجرات: 9 ] ‏، کو پیش نظر رکھ کر آپ اس وقت کی باہمی جنگ میں شرکت کیوں نہیں کرتے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگوں کا یہ طعنہ اس سے بہت ہلکا ہے کہ میں کسی مومن کو قتل کر کے جہنمی بن جاؤں جیسے فرمان الٰہی ہے «وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا» ‏ [ 4-النساء: 93 ] ‏، اس نے کہا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ” فتنہ باقی ہو تب تک لڑائی جاری رکھو۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہی ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کیا۔ اس وقت مسلمان کم تھے، انہیں کافر گرفتار کر لیتے تھے اور دین میں فتنے ڈالتے تھے یا تو قتل کر ڈالتے تھے یا قید کر لیتے تھے۔ جب مسلمان بڑھ گئے وہ فتنہ جاتا رہا۔

صفحہ نمبر3296

اس معترض شخص نے جب دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ مانتے نہیں تو کہا اچھا سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے بارے میں کیا خیال رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اللہ نے معاف فرمایا لیکن تمہیں اللہ کی وہ معافی بری معلوم ہوتی ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے اور آپ کے داماد تھے، یہ ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی، یہ کہتے ہوئے ان [سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا] ‏ کے مکان کی طرف اشارہ کیا۔ [صحیح بخاری:4650] ‏

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ لوگوں کے پاس آئے تو کسی نے کہا کہ اس فتنے کے وقت کی لڑائی کی نسبت جناب کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا جانتے بھی ہو فتنے سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کافروں سے جنگ کرتے تھے، اس وقت ان کا زور تھا، ان میں جانا فتنہ تھا، تمہاری تو یہ ملکی لڑائیاں ہیں۔ [صحیح بخاری:4651] ‏

صفحہ نمبر3297

اور روایت میں ہے کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں دو شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں وہ آپ کے سامنے ہے آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، آپ کیوں میدان جنگ میں نہیں اترے؟ فرمایا اس لیے کہ اللہ نے ہر مومن کا خون حرام کر دیا ہے انہوں نے کہا کیا فتنے کے باقی رہنے تک لڑنا اللہ کا حکم نہیں؟ آپ نے فرمایا ہے اور ہم نے اسے نبھایا بھی یہاں تک کہ فتنہ دور ہو گیا اور دین سب اللہ ہی کا ہو گیا، اب تم اپنی اس باہمی جنگ سے فتنہ کھڑا کرنا اور غیر اللہ کے دین کے لیے ہو جانا جاہتے ہو۔ [صحیح بخاری:4513] ‏

ذوالسطبین اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے میں ہرگز اس شخص سے جنگ نہ کروں گا جو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کا قائل ہو۔ سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر اس کی تائید کی اور فرمایا میں بھی یہی کہتا ہوں تو ان پر بھی یہی آیت «وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّـهِ» پیش کی گئی اور یہی جواب آپ نے بھی دیا۔

بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وعیرہ فتنہ سے مراد شرک ہے اور یہ بھی کہ مسلمانوں کی کمزوری ایسی نہ رہے کہ کوئی انہیں ان کے سچے دین سے مرتد کرنے کی طاقت رکھے۔ دین سب اللہ کا ہو جائے یعنی توحید نکھر جائے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کا کلمہ زبانوں پر چڑھ جائے شرک اور معبود ان باطل کی پرستش اٹھ جائے، تمہارے دین کے ساتھ کفر باقی نہ رہے۔

بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے حکم فرمایا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد جاری رکھوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ لیں جب وہ اسے کہہ لیں گے تو مجھ سے اپنی جانیں اور اپنے مال بچا لیں گے ہاں حق اسلام کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ [صحیح بخاری:1399] ‏

صفحہ نمبر3298

بخاری مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بہادری کیلئے، ایک شخص غیرت کیلئے، ایک شخص ریا کاری کیلئے لڑائی کر رہا ہے تو اللہ کی راہ میں ان میں سے کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کی غرض سے جہاد کرے وہ اللہ کی راہ میں ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر تمہارے جہاد کی وجہ سے یہ اپنے کفر سے باز آ جائیں تو تم ان سے لڑائی موقوف کر دو ان کے دلوں کا حال سپرد رب کر دو۔ اللہ ان کے اعمال کا دیکھنے والا ہے۔ [صحیح بخاری:2810] ‏

جیسے فرمان ہے «فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ‏ [ 9-التوبہ: 5 ] ‏، یعنی ” اگر یہ توبہ کر لیں اور نمازی اور زکوٰۃ دیین والے بن جائیں تو ان کی راہ چھوڑ دو، ان کے راستے نہ روکو“۔

اور آیت میں ہے کہ «فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ» [ 9-التوبہ: 11 ] ‏ ” اس صورت میں وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ “

اور آیت میں ہے کہ «وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّـهِ ۖ فَإِنِ انتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ» [ 2-البقرة: 193 ] ‏ ” ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہو جائے پھر اگر وہ باز آ جائیں تو زیادتی کا بدلہ تو صرف ظالموں کے لیے ہی ہے۔“

ایک صحیح رویت میں ہے کہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ ایک شخص پر تلوار لے کر چڑھ گئے جب وہ زد میں آ گیا اور دیکھا کہ تلوار چلا جاتی ہے تو اس نے جلدی سے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ دیا لیکن اس کے سر پر تلوار پڑ گئی اور وہ قتل ہو گیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعہ کا بیان ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا تو نے اسے اس کے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہنے کے بعد قتل کیا؟ تو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے ساتھ قیامت کے دن کیا کرے گا؟ حضرت اسامہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ تو اس نے صرف اپنے بچاؤ کیلئے کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟ بتا کون ہو گا جو قیامت کے دن «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کا مقابلہ کرے۔ باربار آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے، یہاں تک کہ اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے دل میں خیال آنے لگا کہ کاش کہ میں آج کے دن سے پہلے مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا، تاکہ اسلام کے زعم میں اس کو قتل نہ کردیتا۔ [صحیح بخاری:4269] ‏

صفحہ نمبر3299

پھر فرماتا ہے کہ ” اگر یہ اب بھی باز نہ رہیں تمہاری مخالفت اور تم سے لڑائی نہ چھوڑیں تو تم یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ تمہارا مولا، تمہارا مالک، تمہارا مددگار اور ناصر ہے۔ وہ تمہیں ان پر غالب کرے گا۔ وہ بہترین مولا اور بہترین مددگار ہے۔“

ابن جریر میں ہے کہ عبدالملک بن مروان نے عروہ رحمہ اللہ سے کچھ باتیں دریافت کی تھیں جس کے جواب میں آپ نے انہیں لکھا سلام علیک کے بعد میں آپ کے سامنے اس اللہ کی تعریفیں کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ بعد حمد و صلوۃ کے آپ کا خط ملا آپ نے ہجرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت مجھ سے سوال کیا ہے میں آپ کو اس واقعہ کی خبر لکھتا ہوں۔ اللہ ہی کی مدد پر خیر کرنا اور شر سے روکنا موقوف ہے مکہ شریف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کا واقعہ یوں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت دی، سبحان اللہ کیسے اچھے پیشوا بہترین رہنما تھے، اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جزائے خیر عطا فرمائے ہمیں جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب فرمائے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے دین پر زندہ رکھے اسی پر موت دے اور اسی پر قیامت کے دن کھڑا کرے، آمین۔

صفحہ نمبر3300

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو ہدایت اور نور کی طرف دعوت دی جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا تھا تو شروع شروع تو انہیں کچھ زیادہ برا نہیں معلوم ہوا بلکہ قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننے لگیں مگر جب ان کے معبودان باطل کا ذکر آیا اس وقت وہ بگڑے بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کا برا ماننے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سختی کرنے لگے۔

اسی زمانے میں طائف کے چند قریشی مال لے کر پہنچے وہ بھی ان کے شریک حال ہو گئے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کے ماننے والے مسلمانوں کو طرح طرح سے ستانے لگے جس کی وجہ سے عام لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس آنے جانے سے ہٹ گئے بجز ان چند ہستیوں کے جو اللہ کی حفاظت میں تھیں یہی حالت ایک عرصے تک رہی جب تک کہ مسلمانوں کی تعداد کی کمی زیادتی کی حد تک نہیں پہنچی تھی۔

پھر سرداران کفر نے آپس میں مشورہ کیا کہ جتنے لوگ ایمان لا چکے ہیں ان پر اور زیادہ سختی کی جائے جو جس کا رشتہ دار اور قریبی ہو وہ اسے ہر طرح تنگ کرے تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دیں اب فتنہ بڑھ گیا اور بعض لوگ ان کی سزاؤں کی تاب نہ لا کر ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگے۔

کھرے اور ثابت قدم لوگ دین حق پر اس مصیبت کے زمانے میں بھی جمے رہے اور اللہ نے انہیں مضبوط کر دیا اور محفوظ رکھ لیا۔ آخر جب تکلیفیں حد سے گذر نے لگیں تو رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کی اجازت دے دی۔ حبشہ کا بادشاہ نجاشی ایک نیک آدمی تھا اس کی سلطنت ظلم و زیادتی سے خالی تھی ہر طرف اس کی تعریفیں ہو رہی تھیں۔

صفحہ نمبر3301

یہ جگہ قریش کی تجارتی منڈی تھی جہاں ان کے تاجر رہا کرتے تھے اور بے خوف و خطر بڑی بڑی تجارتیں کیا کرتے تھے۔ پس جو لوگ یہاں مکہ شریف میں کافروں کے ہاتھوں بہت تنگ آ گئے تھے اور اب مصیبت جھیلنے کے قابل نہیں رہے تھے اور ہر وقت انہیں اپنے دین کے اپنے ہاتھ سے چھوٹ جانے کا خطرہ لگا رہتا تھا وہ سب حبشہ چلے گئے۔ لیکن خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہیں ٹھہرے رہے۔

اس پر بھی جب کئی سال گذر گئے تو یہاں اللہ کے فضل سے مسلمانوں کی تعداد خاصی ہو گئی اسلام پھیل گیا اور شریف اور سردار لوگ بھی اسلامی جھنڈے تلے آ گئے یہ دیکھ کر کفر کو اپنی دشمنی کا جوش ٹھنڈا کرنا پڑا۔ وہ ظلم و زیادتی سے بالکل تو نہیں لیکن کچھ نہ کچھ رک گئے۔ پس وہ فتنہ جس کے زلزلوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو وطن چھوڑ نے اور حبشہ جانے پر مجبور کیا تھا اس کے کچھ دب جانے کی خبروں نے مہاجرین حبشہ کو پھر آمادہ کیا کہ وہ مکے شریف واپس چلے آئیں۔ چنانچہ وہ بھی تھوڑے بہت آ گئے اسی اثناء میں مدینہ شریف کے چند انصار مسلمان ہو گئے۔ ان کی وجہ سے مدینہ شریف میں بھی اشاعت اسلام ہونے لگی۔ ان کا مکہ شریف آنا جانا شروع ہوا اس سے مکہ والے کچھ بگڑے اور بپھر کر ارادہ کر لیا کہ دوبارہ سخت سختی کریں چنانچہ دوسری مرتبہ پھر فتنہ شروع ہوا۔ ہجرت حبشہ پر پہلے فتنے نے آمادہ کیا واپسی پر پھر فتنہ پھیلا۔ اب ستر بزرگ سرداران مدینہ یہاں آئے اور مسلمان ہو کر نبی کریم رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔

صفحہ نمبر3302

موسم حج کے موقعہ پر یہ آئے تھے۔ قبہ میں انہوں نے بیعت کی، عہدو پیمان، قول و قرر ہوئے کہ ہم آپ کے اور آپ ہمارے۔ اگر کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آدمی ہمارے ہاں آ جائے تو ہم اس کے امن و امان کے ذمے دار ہیں خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر تشریف لائیں تو ہم جان مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں۔

اس چیز نے قریش کو اور بھڑکا دیا اور انہوں نے ضعیف اور کمزور مسلمانوں کو اور ستانا شروع کر دیا۔ ان کی سزائیں بڑھا دیں اور خون کے پیاسے ہو گئے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی کہ وہ مدینہ شریف کی طرف ہجرت کر جائیں یہ تھا آخری اور انتہائی فتنہ جس نے نہ صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہی نکالا بلکہ خود اللہ کے محترم رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی مکے کو خالی کر گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16097:مرسل] ‏

یہی ہے وہ فتنہ جسے اللہ فرماتا ہے ” ان سے جہاد جاری رکھو یہاں تک کہ فتنہ مٹ جائے اور سارا دین اللہ کا ہی ہو جائے۔ “ «الْحَمْدُ لِلَّـه» نویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔

صفحہ نمبر3303

مال غنیمت کی تقسیم کا بیان ٭٭

اللہ تعالیٰ یہاں مال غنیمت کی تفصیل بیان کرتا ہے جو اس نے خاص طور پر امت کے لئے حلال کیا ہے۔ اس سے قبل تمام اگلی امتوں پر مال غنیمت حرام تھا۔ لیکن اس امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے اسے حلال کر دیا۔ اس کی تقسیم کی تفصیل یہاں بیان ہو رہی ہے۔ مال غنیمت وہ ہے جو مسلمانوں کو جہاد کے بعد کافروں سے ہاتھ لگے اور جو مال بغیر لڑے جنگ کے ہاتھ آئے مثلاً صلح ہو گئی اور مقررہ تاوان جنگ ان سے وصول کیا یا کوئی مر گیا اور لاوارث تھا یا جزئیے اور خراج کی رقم وغیرہ وہ فے ہے۔ سلف و خلف کی ایک جماعت کا اور امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا یہی خیال ہے۔ بعض لوگ غنیمت کا اطلاق فے پر اور فے کا اطلاق غنیمت پر بھی کرتے ہیں۔

اسی لیے قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کا قول ہے کہ یہ آیت سورۃ الحشر کی «‏مَّا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّـهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ» [ 59-الحشر: 7 ] ‏ کی ناسخ ہے۔

اب مال غنیمت میں فرق کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ وہ آیت تو فے کے بارے میں ہے اور یہ غنیمت کے بارے میں۔ بعض بزرگوں کا خیال ہے کہ ان دونوں قسم کے مال کی تقسیم امام کی رائے پر ہے۔ پس مقررہ حشر کی آیت اور اس آیت میں کوئی اختلاف نہیں جبکہ امام کی مرضی ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

آیت میں بیان ہے کہ خمس یعنی پانچواں حصہ مال غنیمت میں سے نکال دینا چاہیئے۔ چاہے وہ کم ہو یا زیادہ ہو۔ گو سوئی ہو یا دھاگہ ہو۔ پروردگار عالم فرماتا ہے «وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ» [3-آل عمران:161] ‏ ” جو خیانت کرے گا وہ اسے لے کر قیامت کے دن پیش ہو گا اور ہر ایک کو اس عمل کا پورا بدلہ ملے گا کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا۔“

کہتے ہیں کہ خمس میں سے اللہ کے لیے مقرر شدہ حصہ کعبے میں داخل کیا جائے گا۔

صفحہ نمبر3306

حضرت ابوالعالیہ ریاحی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ غنیمت کے مال کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ حصے کرتے تھے۔ چار مجاہدین میں تقسیم ہوتے پانچویں میں سے آپ مٹھی بھر کر نکال لیتے اسے کعبے میں داخل کر دیتے پھر جو بچا اس کے پانچ حصے کر ڈالتے ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قرابت داروں کا۔ ایک یتیموں کا ایک مسکینوں کا ایک مسافروں کا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16117] ‏

یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں اللہ کا نام صرف بطور تبرک ہے گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے کے بیان کا وہ شروع ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوئی لشکر بھیجتے اور مال غنیمت کا مال ملتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پانچ حصے کرتے اور پھر پانچویں حصے کے پانچ حصے کر ڈالتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔

پس یہ فرمان کہ «أَنَّ لِلَّـهِ خُمُسَهُ» یہ صرف کلام کے شروع کیلئے ہے۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ پانچویں حصے میں سے پانچواں حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے بہت سے بزرگوں کا قول یہی ہے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ہی حصہ ہے۔

اسی کی تائید بیھقی کی اس صحیح سند والی حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وادی القریٰ میں آ کر سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غنیمت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کا ہے باقی کے چار حصے لشکریوں کے۔ اس نے پوچھا تو اس میں کسی کو کسی پر زیادہ حق نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرگز نہیں یہاں تک کہ تو اپنے کسی دوست کے جسم سے تیر نکالے تو اس تیر کا بھی تو اس سے زیادہ مستحق نہیں۔ [بیہقی فی السنن الکبری:324/6] ‏

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے مال کے پانجویں حصے کی وصیت کی اور فرمایا کیا میں اپنے لیے اس حصے پر رضامند نہ ہو جاؤں جو اللہ تعالیٰ نے خود اپنا رکھا ہے؟

صفحہ نمبر3307

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مال غنیمت کے پانچ حصے برابر کئے جاتے تھے چار تو ان لشکریوں کو ملتے تھے جو اس جنگ میں شامل تھے پھر پانچویں حصے کے چار حصے کئے جاتے تھے ایک چوتھائی اللہ کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پھر یہ حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لیتے تھے یعنی پانچویں حصے کا پانچواں حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہو اس کا ہے۔

سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کا حصہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا ہے۔

عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حصہ ہے وہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ہے اختیار ہے جس کام میں آپ چاہیں لگائیں۔

مقدام بن معدیکرب عبادہ بن صامت ابودرداء اور حارث بن معاویہ کندی رضی اللہ عنہم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا ذکر ہونے لگا تو ابوداؤد نے عبادہ بن صامت سے کہا فلاں فلاں غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا تھا؟ آپ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جہاد میں خمس کے ایک اونٹ کے پیچھے صحابہ رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھائی سلام کے بعد کھڑے ہو گئے اور چند بال چٹکی میں لے کر فرمایا کہ ”مال غنیمت کے اونٹ کے یہ بال بھی مال غنیمت میں سے ہی ہیں اور میرے نہیں ہیں میرا حصہ تو تمہارے ساتھ صرف پانچواں ہے اور پھر وہ بھی تم ہی کو واپس دے دیا جاتا ہے پس سوئی دھاگے تک ہر چھوٹی بڑی چیز پہنچا دیا کرو، خیانت نہ کرو، خیانت عار ہے اور خیانت کرنے والے کیلئے دونوں جہان میں آگ ہے۔ قریب والوں سے دور والوں سے راہ حق میں جہاد جاری رکھو۔ شرعی کاموں میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خیال تک نہ کرو۔ وطن میں اور سفر میں اللہ کی مقرر کردہ حدیں جاری کرتے رہو اللہ کے لیے جہاد کرتے رہو جہاد جنت کے بہت بڑے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اسی جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ غم و رنج سے نجات دیتا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:2850،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ حدیث حسن ہے اور بہت ہی اعلیٰ ہے۔

صفحہ نمبر3308

صحاح ستہ میں اس سند سے مروی نہیں لیکن مسند ہی کی دوسری روایت میں دوسری سند سے خمس کا اور خیانت کا ذکر مروی ہے۔ ابوداؤد اور نسائی میں بھی مختصراً یہ حدیث مروی ہے اس حصے میں سے نبی کریم رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم بعض چیزیں اپنی ذات کے لیے بھی مخصوص فرما لیا کرتے تھے لونڈی غلام تلوار گھوڑا وغیرہ۔ [سنن ابوداود:2694،قال الشيخ الألباني:] ‏

جیسا کہ محمد بن سیرین اور عامر شعبی رحمہ اللہ علیہم اور اکثر علماء نے فرمایا ہے ترمذی وغیرہ میں ہے کہ ذوالفقار نامی تلوار بدر کے دن کے مال غنیمت میں سے تھی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی اسی کے بارے میں احد والے دن خواب دیکھا تھا۔ [سنن ترمذي:1561،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر3309

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بھی اسی طرح آئیں تھیں۔ [سنن ابوداود:2994،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ابوداؤد وغیرہ میں ہے یزید بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ہم باڑے میں بیٹھے ہوئے تھے جو ایک صاحب تشریف لائے ان کے ہاتھ میں چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا ہم نے اسے پڑھا تو اس میں تحریر تھا کہ یہ محمد رسول اللہ کی طرف سے زہیر بن اقیش کی طرف ہے کہ اگر تم اللہ کی وحدت کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دو اور نمازیں قائم رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور غنیمت کے مال سے خمس ادا کرتے رہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ اور خالص حصہ ادا کرتے رہو تو تم اللہ اور اس کے رسول کی امان میں ہو۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ تجھے یہ کس نے لکھ دیا ہے اس نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ [سنن ابوداود:2999،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پس ان صحیح احادیث کی دلالت اور ثبوت اس بات پر ہے اسی لیے اکثر بزرگوں نے اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خواص میں سے شمار کیا ہے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔

صفحہ نمبر3310

اور لوگ کہتے ہیں کہ خمس میں امام وقت مسلمانوں کی مصلحت کے مطابق جو چاہے کر سکتا ہے، جیسے کہ مال فے میں اسے اختیار ہے۔ ہمارے شیخ علامہ ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہی قول امام مالک رحمہ اللہ کا ہے اور اکثر سلف کا ہے اور یہی سب سے زیادہ صحیح قول ہے۔ جب یہ ثابت ہو گیا اور معلوم ہو گیا تو یہ بھی خیال رہے کہ خمس جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ تھا اسے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیا کیا جائے بعض تو کہتے ہیں کہ اب یہ حصہ امام وقت یعنی خلیفتہ المسلمین کا ہو گا۔ سیدنا ابوبکر، سیدنا علی رضی اللہ عنہم،قتادہ رحمہ اللہ اور ایک جماعت کا یہی قول ہے۔

اور اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مسلمانوں کی مصلحت میں صرف ہو گا ایک قول ہے کہ یہ بھی اہل حاجت کی بقایا قسموں پر خرچ ہو گا یعنی قرابت دار یتیم مسکین اور مسافر۔ امام ابن جریر کا مختار مذہب یہی ہے اور بزرگوں کا فرمان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کا حصہ یتیموں مسکینوں اور مسافروں کو دے دیا جائے۔

عراق والوں کی ایک جماعت کا یہی قول ہے اور کہا گیا ہے خمس کا یہ پانچواں حصہ سب کا سب قرابت داروں کا ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن محمد بن علی اور علی بن حسین رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ یہ ہمارا حق ہے پوچھا گیا کہ آیت میں یتیموں اور مسکینوں کا بھی ذکر ہے تو امام علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس سے مراد بھی ہمارے یتیم اور مسکین ہیں۔

صفحہ نمبر3311

امام حسن بن محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ تعالیٰ سے اس آیت کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں کہ کلام کا شروع اس طرح ہوا ہے ورنہ دنیا آخرت کا سب کچھ اللہ ہی کا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان دونوں حصوں کے بارے میں کیا ہوا اس میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کا حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ کو ملے گے۔ بعض کہتے ہیں آپ کے قرابت داروں کو۔ بعض کہتے ہیں خلیفہ کے قرابت داروں کو ان کی رائے میں ان دونوں حصوں کو گھوڑوں اور ہتھیاروں کے کام میں لگایا جائے اسی طرح خلافت صدیقی و فاروقی میں ہوتا بھی رہا ہے۔

ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں صدیق اکبر اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حصے کو جہاد کے کام میں خرچ کرتے تھے۔ پوچھا گیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس بارے میں کیا کرتے تھے؟ فرمایا وہ اس بارے میں ان سے سخت تھے۔ اکثر علماء رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے۔

ہاں ذوی القربیٰ کا جو حصہ ہے وہ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کا ہے۔ اس لیے کہ اولاد عبدالمطلب نے اولاد ہاشم کی جاہلیت میں اور اول اسلام میں موافقت کی اور انہی کے ساتھ انہوں نے گھاٹی میں قید ہونا بھی منظور کر لیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ستائے جانے کی وجہ سے یہ لوگ بگڑ بیٹھے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت میں تھے، ان میں سے مسلمان تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی وجہ سے۔ کافر خاندانی طرف داری اور رشتوں ناتوں کی حمایت کی وجہ سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب کی فرمانبرداری کی وجہ سے ستائے گئے ہاں بنو عبدشمس اور بنو نوفل گو یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی تھے۔

صفحہ نمبر3312

لیکن وہ ان کی موافقت میں نہ تھے بلکہ ان کے خلاف تھے انہیں الگ کر چکے تھے اور ان سے لڑ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ قریش کے تمام قبائل ان کے مخالف ہیں اسی لیے ابوطالب نے اپنے قصیدہ لامیہ میں ان کی بہت ہی مذمت کی ہے کیونکہ یہ قریبی قرابت دار تھے اس قصیدے میں انہوں نے کہا ہے کہ انہیں بہت جلد اللہ کی طرف سے ان کی اس شرارت کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔

ان بیوقوفوں نے اپنے ہو کر ایک خاندان اور ایک خون کے ہو کر ہم سے آنکھیں پھیر لی ہیں وغیرہ۔ ایک موقعہ پر ابن جبیر بن معطم بن عدی بن نوفل اور سیدنا عثمان بن عفان بن ابوالعاص بن امیہ بن عبد شمس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور شکایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے خمس میں سے بنو عبدالملطب کو تو دیا لیکن ہمیں چھوڑ دیا حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری کے لحاظ سے وہ اور ہم بالکل یکساں اور برابر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! بنو ہاشم اور بنو المطلب تو بالکل ایک ہی چیز ہیں۔ [صحیح بخاری:3140] ‏۔

بعض روایت میں یہ بھی ہے کہ انہوں نے تو مجھ سے نہ کبھی جاہلیت میں جدائی برتی نہ اسلام میں۔ [سنن ابوداود:2980،قال الشيخ الألباني:] ‏

مجاہد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اللہ کو علم تھا کہ بنو ہاشم میں فقراء ہیں پس صدقے کی جگہ ان کا حصہ مال غنیمت میں مقرر کر دیا۔ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ قرابت دار ہیں جن پر صدقہ حرام ہے۔ علی بن حسین رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔

بعض کہتے ہیں یہ سب قریش ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے استفتاء کیا گیا کہ ذوی القربیٰ کون ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب تحریر فرمایا کہ ہم تو کہتے تھے ہم ہیں لیکن ہماری قوم نہیں مانتی وہ سب کہتے ہیں کہ سارے ہی قریش ہیں۔ [صحیح مسلم:1812] ‏ بعض روایتوں میں صرف پہلا جملہ ہی ہے۔

صفحہ نمبر3313

دوسرے جملے کی روایت کے راوی ابو معشر نجیح بن عبدالرحمٰن مدنی کی روایت میں ہی یہ جملہ ہے کہ سب کہتے ہیں کہ سارے قریش ہیں۔ اس میں ضعف بھی ہے۔

ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے لوگوں کے میل کچیل سے تو میں نے منہ پھیر لیا خمس کا پانچواں حصہ تمہیں کافی ہے۔ یہ حدیث حسن ہے اس کے راوی ابراہیم بن مہدی کو امام ابوحاتم ثقہ بتاتے ہیں لیکن یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ یہ منکر روایتیں لاتے ہیں۔ [میزان الاعتدال:68/1] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

آیت میں یتیموں کا ذکر ہے یعنی مسلمانوں کے وہ بچے جن کا باپ فوت ہو چکا ہو۔ پھر بعض تو کہتے ہیں کہ یتیمی کے ساتھ فقیری بھی ہو تو وہ مستحق ہیں اور بعض کہتے ہیں ہر امیر فقیر یتیم کو یہ الفاظ شامل ہیں۔ «مَسَاكِينِ» سے مراد وہ محتاج ہیں جن کے پاس اتنا نہیں کہ ان کی فقیری اور ان کی حاجت پوری ہو جائے اور انہیں کافی ہو جائے۔ «ابْنِ السَّبِيلِ» وہ مسافر ہے جو اتنی حد تک وطن سے نکل چکا ہو یا جا رہا ہو کہ جہاں پہنچ کر اسے نماز کو قصر پڑھنا جائز ہو اور سفر خرچ کافی اس کے پاس نہ رہا ہو۔ اس کی تفسیر سورۃ برات کی «‏إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ» [ 9-التوبہ: 60 ] ‏ کی تفسیر میں آئے گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔ ہمارا اللہ پر بھروسہ ہے اور اسی سے ہم مدد طلب کرتے ہیں۔

پھر فرماتا ہے کہ ” اگر تمہارا اللہ پر اور اس کی اتاری ہوئی وحی پر ایمان ہے تو جو وہ فرما رہا ہے لاؤ یعنی مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ الگ کر دیا کرو۔“

بخاری و مسلم میں ہے کہ وفد عبدالقیس کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چار باتوں کا حکم کرتا ہوں اور چار سے منع کرتا ہوں میں تمہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں۔ جانتے بھی ہو کہ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز کو پابندی سے ادا کرنا زکوٰۃ دینا اور غنیمت میں سے خمس ادا کرنا۔ [صحیح بخاری:53] ‏

صفحہ نمبر3314

پس خمس کا دینا بھی ایمان میں داخل ہے۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب صحیح بخاری شریف میں باب باندھا ہے کہ خمس کا ادا کرنا ایمان میں ہے پھر اس حدیث کو وارد فرمایا ہے اور ہم نے شرح صحیح بخاری میں اس کا پورا مطلب واضح بھی کر دیا ہے «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة» ۔

پھر اللہ تعالیٰ اپنا ایک احسان و انعام بیان فرماتا ہے کہ ” اس نے حق و باطل میں فرق کر دیا۔ اپنے دین کو غالب کیا اپنے نبی کی اور آپ کے لشکریوں کی مدد فرمائی اور جنگ بدر میں انہیں غلبہ دیا۔ کلمہ ایمان کلمہ کفر پر چھا گیا۔ “

پس یوم الفرقان سے مراد بدر کا دن ہے جس میں حق و باطل کی تمیز ہوگئی۔ بہت سے بزرگوں سے یہی تفسیر مروی ہے۔ یہی سب سے پہلا غزوہ تھا۔ مشرک لوگ عتبہ بن ربیعہ کی ماتحتی میں تھے جمعہ کے دن انیس یا سترہ رمضان کو یہ لڑائی ہوئی تھی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم تین سو دس سے کچھ اوپر تھے اور مشرکوں کی تعداد نو سو سے ایک ہزار تھی۔

صفحہ نمبر3315

باوجود اس کے اللہ تبارک و تعالیٰ نے کافروں کو شکست دی ستر سے زائد تو کافر مارے گئے اور اتنے ہی قید کر لیے گئے۔

مستدرک حاکم میں ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لیلتہ القدر کو گیارہویں رات میں ہی یقین کے ساتھ تلاش کرو اس لیے کہ اس کی صبح کو بدر کی لڑائی کا دن تھا۔ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لیلتہ الفرقان جس دن دونوں جماعتوں میں گھمسان کی لڑائی ہوئی رمضان شریف کی سترہویں تھی یہ رات بھی جمعہ کی رات تھی۔ غزوے اور سیرت کے مرتب کرنے والے کے نزدیک یہی صحیح ہے۔ ہاں یزید بن ابوجعد رحمہ اللہ جو اپنے زمانے کے مصری علاقے کے امام تھے فرماتے ہیں کہ بدر کا دن پیر کا دن تھا لیکن کسی اور نے ان کی متابعت نہیں کی اور جمہور کا قول یقیناً ان کے قول پر مقدم ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر3316

اللہ تعالی نے غزوہ بدر کے ذریعے ایمان کو کفر سے ممتاز کر دیا ٭٭

فرماتا ہے کہ ” اس دن تم وادی الدینا میں تھے جو مدینے شریف سے قریب ہے اور مشرک لوگ مکے کی جانب مدینے کی دور کی وادی میں تھے اور ابوسفیان اور اس کا قافلہ تجارتی اسباب سمیت نیچے کی جانب دریا کی طرف تھا اگر تم کفار قریش سے جنگ کا ارادہ پہلے سے کرتے تو یقیناً تم میں اختلاف پڑتا کہ لڑائی کہاں ہو؟“

یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ” اگر تم لوگ آپس میں طے کر کے جنگ کے لیے تیار ہوتے اور پھر تمہیں ان کی کثرت تعداد اور کثرت اسباب معلوم ہوتی تو بہت ممکن تھا کہ ارادے پست ہو جاتے۔ “ اس لیے قدرت نے پہلے سے طے کئے بغیر دونوں جماعتوں کو اچانک ملا دیا کہ اللہ کا یہ ارادہ پورا ہو جائے کہ اسلام اور مسلمانوں کو بلندی حاصل ہو اور شرک اور مشرکوں کو پستی ملے پس جو کرنا تھا اللہ پاک کر گذرا۔

چنانچہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان تو صرف قافلے کے ارادے سے ہی نکلے تھے اللہ نے دشمن سے مڈبھیڑ کرا دی بغیر کسی تقرر کے اور بغیر کسی جنگی تیاری کے۔ ابوسفیان ملک شام سے قافلہ لے کر چلا ابوجہل اسے مسلمانوں سے بچانے کیلئے مکے سے نکلا۔ قافلہ دوسرے راستے سے نکل گیا اور مسلمانوں اور کافروں کی جنگ ہو گئی اس سے پہلے دونوں ایک دوسرے سے بے خبر تھے ایک دوسرے کو خصوصاً پانی لانے والوں کو دیکھ کر انہیں ان کا اور انہیں ان کا علم ہوا۔

صفحہ نمبر3317

سیرت محمد بن اسحاق میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم برابر اپنے ارادے سے جا رہے تھے صفراء کے قریب پہنچ کر سیس بن عمرو اور عدی بن ابو الزعباء جہنی کو ابوسفیان کا پتہ چلانے کیلئے بھیجا ان دونوں نے بدر کے میدان میں پہنچ کر بطحاء کے ایک ٹیلے پر اپنی سواریاں بٹھائیں اور پانی کے لیے نکلے۔ راستے میں دو لڑکیوں کو آپس میں جھگڑتے ہوئے دیکھا ایک دوسری سے کہتی ہے تو میرا قرضہ کیوں ادا نہیں کرتی؟ اس نے کہا جلدی نہ کر کل یا پرسوں یہاں قافلہ آنے والا ہے میں تجھے تیرا حق دے دوں گی۔

مجدیٰ بن عمرو بیچ میں بول اٹھا اور کہا یہ سچ کہتی ہے اسے ان دونوں صحابیوں رضی اللہ عنہم نے سن لیا اپنے اونٹ کسے اور فوراً خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ ادھر ابوسفیان اپنے قافلے سے پہلے یہاں اکیلا پہنچا اور مجدی بن عمرو سے کہا کہ اس کنویں پر تم نے کسی کو دیکھا؟ اس نے کہا نہیں البتہ دو سوار آئے تھے اپنے اونٹ اور ٹیلے پر بٹھائے اپنی مشک میں پانی بھر اور چل دئیے۔

یہ سن کر یہ اس جگہ پہنچا مینگنیاں لیں اور انہیں توڑا اور کھجورں کی گھٹلیاں ان میں پا کر کہنے لگا واللہ یہ مدنی لوگ ہیں وہیں سے واپس اپنے قافلے میں پہنچا اور راستہ بدل کر سمندر کے کنارے چل دیا جب اسے اس طرف سے اطمینان ہو گیا تو اس نے اپنا قاصد قریشیوں کو بھیجا کہ اللہ نے تمہارے قافلے مال اور آدمیوں کو بچا لیا تم لوٹ جاؤ یہ سن کر ابوجہل نے کہا نہیں جب یہاں تک ہم آ چکے ہیں تو ہم بدر تک ضرور جائیں گے یہاں ایک بازار لگا کرتا تھا۔ وہاں ہم تین روز ٹھہریں گے وہاں اونٹ ذبح کریں گے۔ شرابیں پئیں گے کباب بنائیں گے تاکہ عرب میں ہماری دھوم مچ جائے اور ہر ایک کو ہماری بہادری اور بے جگری معلوم ہو اور وہ ہمیشہ ہم سے خوف زدہ رہیں۔ لیکن اخنس بن شریق نے کہا کہ بنو زہرہ کے لوگو اللہ تعالیٰ نے تمہارے مال محفوظ کر دیئے تم کو چاہیئے کہ اب واپس چلے جاؤ۔ اس کے قبیلے نے اس کی مان لی یہ لوگ اور بنو عدی لوٹ گئے۔ [دلائل النبوۃ للبیھقی:31/3:] ‏

صفحہ نمبر3318

بدر کے قریب پہنچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب، سعد بن وقاص اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم کو خبر لانے کے لیے بھیجا چند اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی ان کے ساتھ کر دیا انہیں بنوسعید بن عاص کا اور بنو حجاج کا غلام کنویں پر مل گیا دونوں کو گرفتار کر لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔

اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان سے سوال کرنا شروع کیا کہ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا قریش کے سقے ہیں انہوں نے ہمیں پانی لانے کیلئے بھیجا تھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کا خیال تھا کہ یہ ابوسفیان کے آدمی ہیں اس لیے انہوں نے ان پر سختی شروع کی آخر گھبرا کر انہوں نے کہدیا کہ ہم ابوسفیان کے قافلے کے ہیں تب انہیں چھوڑا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا اور فرمایا کہ جب تک یہ سچ بولتے رہے تم انہیں مارتے پیٹتے رہے اور جب انہوں نے جھوٹ کہا تم نے چھوڑ دیا واللہ یہ سچے ہیں یہ قریش کے غلام ہیں۔ ہاں جی بتاؤ قریش کا لشکر کہاں ہے؟ انہوں نے کہا وادی قصویٰ کے اس طرف ٹیلے کے پیچھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تعداد میں کتنے ہیں؟ انہوں نے کہا بہت ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخر کتنے ایک؟ انہوں نے کہا تعداد تو ہمیں معلوم نہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتا سکتے ہو ہر روز کتنے اونٹ کٹتے ہیں؟ انہوں نے کہا ایک دن نو ایک دن دس۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ نو سو سے ایک ہزار تک ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ان میں سرداران قریش میں سے کون کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابوالبختری بن ہشام، حکیم بن حزام، نوفل، طعیمہ بن عدی، نضر بن حارث، زمعہ بن اسود، ابوجہل، امیہ بن خلف، منبہ بن حجاج، سہیل بن عمرو، عمرو بن عبدود۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: لو مکے نے اپنے جگر کے ٹکڑے تمہاری طرف ڈال دیئے ہیں۔ [صحیح مسلم:1779] ‏

صفحہ نمبر3319

بدر کے دن جب دونوں جماعتوں کا مقابلہ شروع ہونے لگا تو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک جھونپڑی بنا دیں آپ وہاں رہیں ہم اپنے جانوروں کو یہیں بٹھا کر میدان میں جا کودیں اگر فتح ہوئی تو «الْحَمْدُ لِلَّـه» یہی مطلوب ہے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے جانوروں پر سوار ہو کر انہیں اپنے ساتھ لے کر ہماری قوم کے ان حضرات کے پاس چلے جائیں جو مدینہ شریف میں ہیں وہ ہم سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ کوئی جنگ ہونے والی ہے ورنہ وہ ہرگز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑتے آپ کی مدد کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب نکل کھڑے ہوتے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس مشورے کی قدر کی انہیں دعا دی اور اس ڈیرے میں آپ ٹھہر گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور کوئی نہ تھا۔ [دلائل النبوۃ للبیھقی:44/3:] ‏

صبح ہوتے ہی قریشیوں کے لشکر ٹیلے کے پیچھے سے آتے ہوئے نمودار ہوئے انہیں دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب باری میں دعا کی کہ باری تعالیٰ یہ فخر و غرور کے ساتھ تجھ سے لڑنے اور تیرے رسول کو جھٹلانے کیلئے آ رہے ہیں، باری تعالیٰ تو انہیں پست و ذلیل کر۔

صفحہ نمبر3320

اس آیت کے آخری جملے کی تفسیر سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ یہ اس لیے کہ کفر کرنے والے دلیل ربانی دیکھ لیں گو کفر ہی پر رہیں اور ایمان والے بھی دلیل کے ساتھ ایمان لائیں۔ یعنی آمادگی اور بغیر شرط و قرار داد کے اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور مشرکوں کا یہاں اچانک آمنا سامنا کرا دیا کہ حقانیت کو باطل پر غلبہ دے کر حق کو مکمل طور پر ظاہر کر دے اس طرح کہ کسی کو شک شبہ باقی نہ رہے۔ اب جو کفر پر رہے وہ بھی کفر کو کفر سمجھ کے رہے اور جو ایمان والا ہو جائے وہ دلیل دیکھ کر ایماندار بنے ایمان ہی دلوں کی زندگی ہے اور کفر ہی اصلی ہلاکت ہے۔

جیسے فرمان قرآن ہے «أَوَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ» ‏ [ 6-الأنعام: 122 ] ‏ یعنی ” وہ جو مردہ تھا پھر ہم نے اسے جلا دیا اور اس کے لیے نور بنا دیا کہ اس کی روشنی میں وہ لوگوں میں چل پھر رہا ہے۔“

تہمت کے قصہ میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے الفاظ ہیں کہ ”پھر جسے ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہو گیا یعنی بہتان میں حصہ لیا۔“ [صحیح بخاری:2966] ‏

” اللہ تعالیٰ تمہارے تضرع و زاری اور تمہاری دعا و استغفار اور فریاد و مناجات کا سننے والا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ تم اہل حق ہو تم مستحق امداد ہو تم اس قابل ہو کر تمہیں کافروں اور مشرکوں پر غلبہ دیا جائے۔“

صفحہ نمبر3321

لڑائی میں مومن کم اور کفار زیادہ دکھائی دئیے ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں مشرکوں کی تعداد بہت کم دکھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے ذکر کیا، یہ چیز ان کی ثابت قدمی کا باعث بن گئی۔

بعض بزرگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے ان کی تعداد کم دکھائی۔ جن آنکھوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے تھے۔ لیکن یہ قول غریب ہے جب قرآن میں «مَنَامِ» کے لفظ ہیں تو اس کی تاویل بلا دلیل کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟

ممکن تھا کہ ان کی تعداد کی زیادتی میں رعب بٹھا دے اور آپس میں اختلاف شروع ہو جائے کہ آیا ان سے لڑیں یا نہ لڑیں؟ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے ہی بچا لیا اور ان کی تعداد کم کر کے دکھائی۔ اللہ پاک دلوں کے بھید سے سینے کے راز سے واقف ہے آنکھوں کی خیانت اور دل کے بھید جانتا ہے۔ خواب میں تعداد میں کم دکھا کر پھر یہ بھی مہربانی فرمائی کہ بوقت جنگ بھی مسلمانوں کی نگاہوں اور ان کی جانچ میں وہ بہت ہی کم آئے تاکہ مسلمان دلیر ہو جائیں اور انہیں کوئی چیز نہ سمجھیں۔

صفحہ نمبر3322

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں میں نے اندازہ کر کے اپنے ساتھی سے کہا کہ یہ لوگ تو کوئی ستر کے قریب ہوں گے اس نے پورا اندازہ کر کے کہا نہیں کوئی ایک ہزار کا یہ لشکر ہے۔

پھر اسی طرح کافروں کی نظروں میں بھی اللہ حکیم نے مسلمانوں کی تعداد کم دکھائی اب تو وہ ان پر اور یہ ان پر ٹوٹ پڑے۔ تاکہ رب کا کام جس کا کرنا وہ اپنے علم میں مقرر کر چکا تھا پورا ہو جائے کافروں پر اپنی پکڑ اور مومنوں پر اپنی رحمت نازل فرما دے۔ جب تک لڑائی شروع نہیں ہوئی تھی یہی کیفیت دونوں جانب رہی لڑائی شروع ہوتے ہی اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار فرشتوں سے اپنے بندوں کی مدد فرمائی مسلمانوں کا لشکر بڑھ گیا اور کافروں کا زور ٹوٹ گیا۔ چنانچہ اب تو کافروں کو مسلمان اپنے سے دگنے نظر آنے لگے اور اللہ نے موحدوں کی مدد کی اور آنکھوں والوں کیلئے عبرت کا خزانہ کھول دیا۔ جیسے کہ «‏قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا ۖ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَأُخْرَىٰ كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُم مِّثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ ۚ وَاللَّـهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَن يَشَاءُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُولِي الْأَبْصَارِ» [ 3-آل عمران: 13 ] ‏، میں بیان ہوا ہے۔ پس دونوں آیتیں ایک سی ہیں مسلمان تب تک کم نظر آتے رہے جب تک لڑائی شروع نہیں ہوئی۔ شروع ہوتے ہیں مسلمان دگنے دکھائی دینے لگے۔

صفحہ نمبر3323

لڑائی میں مومن کم اور کفار زیادہ دکھائی دئیے ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں مشرکوں کی تعداد بہت کم دکھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے ذکر کیا، یہ چیز ان کی ثابت قدمی کا باعث بن گئی۔

بعض بزرگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے ان کی تعداد کم دکھائی۔ جن آنکھوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے تھے۔ لیکن یہ قول غریب ہے جب قرآن میں «مَنَامِ» کے لفظ ہیں تو اس کی تاویل بلا دلیل کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟

ممکن تھا کہ ان کی تعداد کی زیادتی میں رعب بٹھا دے اور آپس میں اختلاف شروع ہو جائے کہ آیا ان سے لڑیں یا نہ لڑیں؟ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے ہی بچا لیا اور ان کی تعداد کم کر کے دکھائی۔ اللہ پاک دلوں کے بھید سے سینے کے راز سے واقف ہے آنکھوں کی خیانت اور دل کے بھید جانتا ہے۔ خواب میں تعداد میں کم دکھا کر پھر یہ بھی مہربانی فرمائی کہ بوقت جنگ بھی مسلمانوں کی نگاہوں اور ان کی جانچ میں وہ بہت ہی کم آئے تاکہ مسلمان دلیر ہو جائیں اور انہیں کوئی چیز نہ سمجھیں۔

صفحہ نمبر3322

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں میں نے اندازہ کر کے اپنے ساتھی سے کہا کہ یہ لوگ تو کوئی ستر کے قریب ہوں گے اس نے پورا اندازہ کر کے کہا نہیں کوئی ایک ہزار کا یہ لشکر ہے۔

پھر اسی طرح کافروں کی نظروں میں بھی اللہ حکیم نے مسلمانوں کی تعداد کم دکھائی اب تو وہ ان پر اور یہ ان پر ٹوٹ پڑے۔ تاکہ رب کا کام جس کا کرنا وہ اپنے علم میں مقرر کر چکا تھا پورا ہو جائے کافروں پر اپنی پکڑ اور مومنوں پر اپنی رحمت نازل فرما دے۔ جب تک لڑائی شروع نہیں ہوئی تھی یہی کیفیت دونوں جانب رہی لڑائی شروع ہوتے ہی اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار فرشتوں سے اپنے بندوں کی مدد فرمائی مسلمانوں کا لشکر بڑھ گیا اور کافروں کا زور ٹوٹ گیا۔ چنانچہ اب تو کافروں کو مسلمان اپنے سے دگنے نظر آنے لگے اور اللہ نے موحدوں کی مدد کی اور آنکھوں والوں کیلئے عبرت کا خزانہ کھول دیا۔ جیسے کہ «‏قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا ۖ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَأُخْرَىٰ كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُم مِّثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ ۚ وَاللَّـهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَن يَشَاءُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُولِي الْأَبْصَارِ» [ 3-آل عمران: 13 ] ‏، میں بیان ہوا ہے۔ پس دونوں آیتیں ایک سی ہیں مسلمان تب تک کم نظر آتے رہے جب تک لڑائی شروع نہیں ہوئی۔ شروع ہوتے ہیں مسلمان دگنے دکھائی دینے لگے۔

صفحہ نمبر3323

جہاد کے وقت کثرت سے اللہ کا ذکر ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو لڑائی کی کامیابی کی تدبیر اور دشمن کے مقابلے کے وقت شجاعت کا سبق سکھا رہا ہے ایک غزوے میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج ڈھلنے کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا: لوگو دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگتے رہو لیکن جب دشمنوں سے مقابلہ ہو جائے تو استقلال رکھو اور یقین مانو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے سچی کتاب کے نازل فرمانے والے اے بادلوں کے چلانے والے اور لشکروں کو ہزیمت دینے والے اللہ ان کافروں کو شکست دے اور ان پر ہماری مدد فرما۔ [صحیح بخاری:2818] ‏

عبدالرزاق کی روایت میں ہے کہ دشمن کے مقابلے کی تمنا نہ کرو اور مقابلے کے وقت ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ گو وہ چیخیں چلائیں لیکن تم خاموش رہا کرو۔ [عبد الرزاق:9518:ضعیف] ‏

طبرانی میں ہے تین وقت ایسے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کو خاموشی پسند ہے [ ١ ] ‏ تلاوت قرآن کے وقت [ ٢ ] ‏ جہاد کے وقت اور [ ٣ ] ‏ جنازے کے وقت۔ [طبرانی کبیر:5130:ضعیف] ‏

ایک اور حدیث میں ہے کامل بندہ وہ ہے جو دشمن کے مقابلے کے وقت میرا ذکر کرتا رہے یعنی اس حال میں بھی میرے ذکر کو مجھ سے دعا کرنے اور فریاد کرنے کو ترک نہ کرے۔ [سنن ترمذي:3580،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں لڑائی کے دوران یعنی جب تلوار چلتی ہو تب بھی اللہ تعالیٰ نے اپنا ذکر فرض رکھا ہے۔ عطا رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ چپ رہنا اور ذکر اللہ کرنا لڑائی کے وقت بھی واجب ہے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ تو جریج نے آپ سے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ کی یاد بلند آواز سے کریں؟ آپ نے فرمایا ہاں کعب احبار فرماتے ہیں قرآن کریم کی تلاوت اور ذکر اللہ سے زیادہ محبوب اللہ کے نزدیک اور کوئی چیز نہیں۔

صفحہ نمبر3325

اس میں بھی اولیٰ وہ ہے جس کا حکم لوگوں کو نماز میں کیا گیا ہے اور جہاد میں کیا تم نہیں دیکھتے؟ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بوقت جہاد بھی اپنے ذکر کا حکم فرمایا ہے پھر آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت پڑھی۔

شاعر کہتا ہے کہ عین جنگ و جدال کے وقت بھی میرے دل میں تیری یاد ہوتی ہے۔ عنترہ کہتا ہے نیزوں اور تلواروں کے شپاشپ چلتے ہوئے بھی میں تجھے یاد کرتا رہتا ہوں۔ پس آیت میں جناب باری نے دشمنوں کے مقابلے کے وقت میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے اور صبر و استقامت کا حکم دیا کہ ” نامرد، بزدل اور ڈرپوک نہ بنو اللہ کو یاد کرو اسے نہ بھولو۔ اس سے فریاد کرو اس سے دعائیں کرو اسی پر بھروسہ رکھو اس سے مدد طلب کرو۔ یہی کامیابی کے گر ہیں۔ اس وقت بھی اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو ہاتھ سے نہ جانے دو وہ جو فرمائیں بجا لاؤ جن سے روکیں رک جاؤ آپس میں جھگڑے اور اختلاف نہ پھیلاؤ ورنہ ذلیل ہو جاؤ گے بزدلی جم جائے گی ہوا اکھڑ جائے گی۔ قوت اور تیزی جاتی رہے گی اقبال اور ترقی رک جائے گی۔ دیکھو صبر کا دامن نہ چھوڑو اور یقین رکھو کہ صابروں کے ساتھ خود اللہ ہوتا ہے۔“

صفحہ نمبر3326

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان احکام میں ایسے پورے اترے کہ ان کی مثال اگلوں میں بھی نہیں پیچھے والوں کا تو ذکر ہی کیا ہے؟

یہی شجاعت یہی اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہی صبر و استقلال تھا جس کے باعث مدد ربانی شامل حال رہی اور بہت ہی کم مدت میں باوجود تعداد اور اسباب کی کمی کے مشرق و مغرب کو فتح کر لیا نہ صرف لوگوں کے ملکوں کے ہی مالک بنے بلکہ ان کے دلوں کو بھی فتح کر کے اللہ کی طرف لگا دیا۔

رومیوں اور فارسیوں کو ترکوں اور صقلیہ کو بربریوں اور حبشیوں کو سوڈانیوں اور قبطیوں کو غرض دنیا کے گوروں کالوں کو مغلوب کر لیا اللہ کے کلمہ کو بلند کیا دین حق کو پھیلایا اور اسلامی حکومت کو دنیا کے کونے کونے میں جما دیا اللہ ان سے خوش رہے اور انہیں بھی خوش رکھے۔ خیال تو کرو کہ تیس سال میں دنیا کا نقشہ بدل دیا تاریخ کا ورق پلٹ دیا۔ اللہ تعالیٰ ہمارا بھی انہی کی جماعت میں حشر کرے وہ کریم و وھاب ہے۔

صفحہ نمبر3327

جہاد کے وقت کثرت سے اللہ کا ذکر ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو لڑائی کی کامیابی کی تدبیر اور دشمن کے مقابلے کے وقت شجاعت کا سبق سکھا رہا ہے ایک غزوے میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج ڈھلنے کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا: لوگو دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگتے رہو لیکن جب دشمنوں سے مقابلہ ہو جائے تو استقلال رکھو اور یقین مانو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے سچی کتاب کے نازل فرمانے والے اے بادلوں کے چلانے والے اور لشکروں کو ہزیمت دینے والے اللہ ان کافروں کو شکست دے اور ان پر ہماری مدد فرما۔ [صحیح بخاری:2818] ‏

عبدالرزاق کی روایت میں ہے کہ دشمن کے مقابلے کی تمنا نہ کرو اور مقابلے کے وقت ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ گو وہ چیخیں چلائیں لیکن تم خاموش رہا کرو۔ [عبد الرزاق:9518:ضعیف] ‏

طبرانی میں ہے تین وقت ایسے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کو خاموشی پسند ہے [ ١ ] ‏ تلاوت قرآن کے وقت [ ٢ ] ‏ جہاد کے وقت اور [ ٣ ] ‏ جنازے کے وقت۔ [طبرانی کبیر:5130:ضعیف] ‏

ایک اور حدیث میں ہے کامل بندہ وہ ہے جو دشمن کے مقابلے کے وقت میرا ذکر کرتا رہے یعنی اس حال میں بھی میرے ذکر کو مجھ سے دعا کرنے اور فریاد کرنے کو ترک نہ کرے۔ [سنن ترمذي:3580،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں لڑائی کے دوران یعنی جب تلوار چلتی ہو تب بھی اللہ تعالیٰ نے اپنا ذکر فرض رکھا ہے۔ عطا رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ چپ رہنا اور ذکر اللہ کرنا لڑائی کے وقت بھی واجب ہے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ تو جریج نے آپ سے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ کی یاد بلند آواز سے کریں؟ آپ نے فرمایا ہاں کعب احبار فرماتے ہیں قرآن کریم کی تلاوت اور ذکر اللہ سے زیادہ محبوب اللہ کے نزدیک اور کوئی چیز نہیں۔

صفحہ نمبر3325

اس میں بھی اولیٰ وہ ہے جس کا حکم لوگوں کو نماز میں کیا گیا ہے اور جہاد میں کیا تم نہیں دیکھتے؟ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بوقت جہاد بھی اپنے ذکر کا حکم فرمایا ہے پھر آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت پڑھی۔

شاعر کہتا ہے کہ عین جنگ و جدال کے وقت بھی میرے دل میں تیری یاد ہوتی ہے۔ عنترہ کہتا ہے نیزوں اور تلواروں کے شپاشپ چلتے ہوئے بھی میں تجھے یاد کرتا رہتا ہوں۔ پس آیت میں جناب باری نے دشمنوں کے مقابلے کے وقت میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے اور صبر و استقامت کا حکم دیا کہ ” نامرد، بزدل اور ڈرپوک نہ بنو اللہ کو یاد کرو اسے نہ بھولو۔ اس سے فریاد کرو اس سے دعائیں کرو اسی پر بھروسہ رکھو اس سے مدد طلب کرو۔ یہی کامیابی کے گر ہیں۔ اس وقت بھی اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو ہاتھ سے نہ جانے دو وہ جو فرمائیں بجا لاؤ جن سے روکیں رک جاؤ آپس میں جھگڑے اور اختلاف نہ پھیلاؤ ورنہ ذلیل ہو جاؤ گے بزدلی جم جائے گی ہوا اکھڑ جائے گی۔ قوت اور تیزی جاتی رہے گی اقبال اور ترقی رک جائے گی۔ دیکھو صبر کا دامن نہ چھوڑو اور یقین رکھو کہ صابروں کے ساتھ خود اللہ ہوتا ہے۔“

صفحہ نمبر3326

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان احکام میں ایسے پورے اترے کہ ان کی مثال اگلوں میں بھی نہیں پیچھے والوں کا تو ذکر ہی کیا ہے؟

یہی شجاعت یہی اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہی صبر و استقلال تھا جس کے باعث مدد ربانی شامل حال رہی اور بہت ہی کم مدت میں باوجود تعداد اور اسباب کی کمی کے مشرق و مغرب کو فتح کر لیا نہ صرف لوگوں کے ملکوں کے ہی مالک بنے بلکہ ان کے دلوں کو بھی فتح کر کے اللہ کی طرف لگا دیا۔

رومیوں اور فارسیوں کو ترکوں اور صقلیہ کو بربریوں اور حبشیوں کو سوڈانیوں اور قبطیوں کو غرض دنیا کے گوروں کالوں کو مغلوب کر لیا اللہ کے کلمہ کو بلند کیا دین حق کو پھیلایا اور اسلامی حکومت کو دنیا کے کونے کونے میں جما دیا اللہ ان سے خوش رہے اور انہیں بھی خوش رکھے۔ خیال تو کرو کہ تیس سال میں دنیا کا نقشہ بدل دیا تاریخ کا ورق پلٹ دیا۔ اللہ تعالیٰ ہمارا بھی انہی کی جماعت میں حشر کرے وہ کریم و وھاب ہے۔

صفحہ نمبر3327

میدان بدر میں ابلیس مشرکین کا ہمراہی تھا ٭٭

جہاد میں ثابت قدمی نیک نیتی ذکر اللہ کی کثرت کی نصیحت فرما کر مشرکین کی مشابہت سے روک رہا ہے کہ ” جیسے وہ حق کو مٹانے اور لوگوں میں اپنی بہادری دھانے کے لیے فخر و غرور کے ساتھ اپنے شہروں سے چلے تم ایسا نہ کرنا۔ “

چنانچہ ابوجہل سے جب کہا گیا کہ قافلہ تو بچ گیا اب لوٹ کر واپس چلنا چاہیئے تو اس ملعون نے جواب دیا کہ واہ کس کا لوٹنا بدر کے پانی پر جا کر پڑاؤ کریں گے۔ وہاں شرابیں اڑائیں گے کباب کھائیں گے گانا سنیں گے تاکہ لوگوں میں شہرت ہو جائے۔ اللہ کی شان کے قربان جائیے ان کے ارمان قدرت نے پلٹ دیئے یہیں ان کی لاشیں گریں اور یہیں کے گڑھوں میں ذلت کے ساتھ ٹھونس دیئے گئے۔ اللہ ان کے اعمال کا احاطہٰ کرنے والا ہے ان کے ارادے اس پر کھلے ہیں اسی لیے انہیں برے وقت سے پالا پڑا۔ پس یہ مشرکین کا ذکر ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رسولوں کے سرتاج سے بدر میں لڑنے چلے تھے ان کے ساتھ گانے والیاں بھی تھیں باجے گاجے بھی تھے۔ شیطان لعین ان کا پشت پناہ بنا ہوا تھا انہیں پھسلا رہا تھا۔ ان کے کام کو خوبصورت بھلا دکھا رہا تھا ان کے کانوں میں پھونک رہا تھا کہ بھلا تمہیں کون ہرا سکتا ہے؟ ان کے دل سے بنوبکر کا مکہ پر چڑھائی کرنے کا خوف نکال رہا تھا اور سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں ان کے سامنے کھڑا ہو کر کہہ رہا تھا کہ میں تو اس علاقے کا سردار ہوں بنو مدلج سب میرے تابع ہیں میں تمہارا حمایتی ہوں بیفکر رہو۔

«يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ ۖ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا» ‏ [4-النساء: 120 ] ‏ ” شیطان کا کام بھی یہی ہے کہ جھوٹے وعدے، نہ پورا ہونے والی امیدوں کے سبز باغ دکھائے اور دھوکے کے جال میں پھنسائے۔“ بدر والے دن یہ اپنے جھنڈے اور لشکر کو ساتھ لے کر مشرکوں کی حمایت میں نکلا ان کے دلوں میں ڈالتا رہا کہ بس تم بازی لے گئے میں تمہارا مددگار ہوں۔

صفحہ نمبر3329

لیکن جب مسلمانوں سے مقابلہ شروع ہوا اور اس خبیث کی نظریں فرشتوں پر پڑیں تو پچھلے پیروں بھاگا اور کہنے لگا میں وہ دیکھتا ہوں جس سے تمہاری آنکھیں اندھی ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں بدر والے دن ابلیس اپنا جھنڈا بلند کئے مدلجی شخص کی صورت میں اپنے لشکر سمیت پہنچا اور شیطان سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں نمودار ہوا اور مشرکین کے دل بڑھائے ہمت دلائی جب میدان جنگ میں صف بندی ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کی مٹھی بھر کر مشرکوں کے منہ پر ماری اس سے ان کے قدم اکھڑ گئے اور ان میں بھگدڑ مچ گئی۔

جبرائیل علیہ السلام شیطان کی طرف چلے اس وقت یہ ایک مشرک کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے ہوئے تھا آپ کو دیکھتے ہی اس کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑا کر اپنے لشکروں سمیت بھاگ کھڑا ہوا اس شخص نے کہا سراقہ تم تو کہہ رہے تھے کہ تم ہمارے حمایتی ہو پھر یہ کیا کر رہے ہو؟ یہ ملعون چونکہ فرشتوں کو دیکھ رہا تھا کہنے لگا میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں تو اللہ سے ڈرنے والا آدمی ہوں اللہ کے عذاب بڑے بھاری ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16198:منقطع] ‏

اور روایت میں ہے کہ اسے پیٹھ پھیرتا دیکھ کر حارث بن ہشام نے پکڑ لیا۔ اس نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا جس سے یہ بیہوش ہو کر گر پڑا دوسرے لوگوں نے کہا سراقہ تو اس حال میں ہمیں ذلیل کرتا ہے؟ اور ایسے وقت ہمیں دھوکہ دیتا ہے وہ کہنے لگا ہاں ہاں میں تم سے بری الذمہ اور بے تعلق ہوں میں انہیں دیکھ رہا ہوں جنہیں تم نہیں دیکھ رہے۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏

صفحہ نمبر3330

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھوڑی سی دیر کے لیے ایک طرح کی بیخودی سی طاری ہو گئی پھر ہوشیار ہو کر فرمانے لگے صحابیو خوش ہو جاؤ یہ ہیں تمہاری دائیں جانب جبرائیل علیہ السلام اور یہ ہیں تمہاری بائیں طرف میکائیل علیہ السلام اور یہ ہیں اسرافیل علیہ السلام تینوں مع اپنی اپنی فوجوں کے آ موجود ہوئے ہیں۔

ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی صورت میں مشرکوں میں تھا ان کے دل بڑھا رہا تھا اور ان میں پشین گوئیاں کر رہا تھا کہ بے فکر رہو آج تمہیں کوئی ہرا نہیں سکتا۔ لیکن فرشتوں کے لشکر کو دیکھتے ہی اس نے تو منہ موڑا اور یہ کہتا ہوا بھاگا کہ میں تم سے بری ہوں میں انہیں دیکھ رہا ہوں جو تمہاری نگاہ میں نہیں آتے۔ حارث بن ہشام چونکہ اسے سراقہ ہی سمجھے ہوئے تھا اس لیے اس نے اس کا ہاتھ تھام لیا اس نے اس کے سینے میں اس زور سے گھونسہ مارا کہ یہ منہ کے بل گر پڑا اور شیطان بھاگ گیا سمندر میں کود پڑا اور اپنا کپڑا اونچا کر کے کہنے لگایا اللہ میں تجھے تیرا وہ وعدہ یاد دلاتا ہوں جو تو نے مجھ سے کیا ہے۔ طبرانی میں رفاعہ بن رافع سے بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏

سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب قریشیوں نے مکے سے نکلنے کا ارادہ کیا تو انہیں بنی بکر کی جنگ یاد آ گئی اور خیال کیا کہ ایسا نہ ہو ہماری عدم موجودگی میں یہاں چڑھائی کر دیں قریب تھا کہ وہ اپنے ارادے سے دست بردار ہو جائیں اسی وقت ابلیس لعین سراقہ کی صورت میں ان کے پاس آیا جو بنو کنانہ کے سرداروں میں سے تھا کہنے لگا اپنی قوم کا میں ذمہ دار ہوں تم ان کا بے خطر ساتھ دو اور مسلمانوں کے مقابلے کے لیے مکمل تیار ہو کر جاؤ۔

صفحہ نمبر3331

خود بھی ان کے ساتھ چلا ہر منزل میں یہ اسے دیکھتے تھے سب کو یقین تھا کہ سراقہ خود ہمارے ساتھ ہے یہاں تک کہ لڑائی شروع ہو گئی اس وقت یہ مردود دم دبا کر بھاگا۔ حارث بن ہشام یا عمیر بن وہب نے اسے جاتے دیکھ لیا اس نے شور مچا دیا کہ سراقہ کہاں بھاگا جا رہا ہے؟ شیطان انہیں موت اور دوزخ کے منہ میں دھکیل کر خود فرار ہو گیا۔ کیونکہ اس نے اللہ کے لشکروں کو مسلمانوں کی امداد کے لیے آتے ہوئے دیکھ لیا تھا صاف کہدیا کہ میں تم سے بری ہوں میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اس بات میں وہ سچا بھی تھا۔ پھر کہتا ہے میں اللہ کے خوف سے ڈرتا ہوں۔ اللہ کے عذاب سخت اور بھاری ہیں۔

اس نے جبرائیل علیہ السلام کو فرشتوں کے ساتھ اترتے دیکھ لیا تھا سمجھ گیا تھا کہ ان کے مقابلے کی مجھ میں یا مشرکوں میں طاقت نہیں وہ اپنے اس قول میں تو جھوٹا تھا کہ میں خوف الٰہی کرتا ہوں یہ تو صرف اس کی زبانی بات تھی دراصل وہ اپنے میں طاقت ہی نہیں پاتا تھا۔ یہی اس دشمن رب کی عادت ہے کہ بھڑکاتا اور بہکاتا ہے حق کے مقابلے میں لاکھڑا کر دیتا ہے پھر روپوش ہو جاتا ہے۔ قران فرماتا ہے «كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِّنكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّـهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ» [ 59-الحشر: 16 ] ‏ ” شیطان انسان کو کفر کا حکم دیتا ہے پھر جب وہ کفر کر چکتا ہے تو یہ کہنے لگتا ہے کہ میں تجھ سے بیزار ہوں میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ “

اور آیت میں ہے کہ «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم ۖ مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ ۖ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ ۗ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ‏ [ 14-إبراهيم: 22 ] ‏ ” جب حق واضح جاتا ہے تو یہ کہتا ہے اللہ کے وعدے سچے ہیں میں خود جھوٹا میرے وعدے بھی سراسر جھوٹے میرا تم پر کوئی زور دعویٰ تو تھا ہی نہیں تم نے تو آپ میری آرزو پر گردن جھکا دی اب مھے سرزنش نہ کرو خود اپنے تئیں ملامت کرو نہ میں تمہیں بچا سکوں گا نہ تم میرے کام آسکو گے۔ اس سے پہلے جو تم مجھے شریک رب بنا رہے تھے میں تو آج اس کا بھی انکاری ہوں۔ یقین مانو کہ ظالموں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے۔“

صفحہ نمبر3332

سیدنا ابواسید مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر میری آنکھیں آج بھی ہوتیں تو میں تمہیں بدر کے میدان میں وہ گھاٹی دکھا دیتا جہاں سے فرشتے آتے تھے بیشک و شبہ مجھے وہ معلوم ہے۔ [دلائل النبوۃ للبیھقی:52/3:ضعیف] ‏

انہیں ابلیس نے دیکھ لیا اور اللہ نے انہیں حکم دیا کہ مومنوں کو ثابت قدم رکھو یہ لوگوں کے پاس ان کے جان پہچان کے آدمیوں کی شکل میں آتے اور کہتے خوش ہو جاؤ یہ کافر بھی کوئی چیز ہیں اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ہے بے خوفی کے ساتھ شیر کا سا حملہ کر دو۔ ابلیس یہ دیکھ کر بھاگ کھڑا ہوا اب تک وہ سراقہ کی شکل میں کفار میں موجود تھا۔ ابوجہل نے یہ حال دیکھ کر اپنے لشکروں میں گشت شروع کیا کہہ رہا تھا کہ گھبراؤ نہیں اس کے بھاگ کھڑے ہونے سے دل تنگ نہ ہو جاؤ، وہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سیکھا پڑھا آیا تھا کہ تمیں عین موقعہ پر بزدل کر دے کوئی گھبرانے کی بات نہیں لات و عزیٰ کی قسم! آج ان مسلمانوں کو ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمیت گرفتار کر لیں گے نامردی نہ کرو دل بڑھاؤ اور سخت حملہ کرو۔ دیکھو خبردار انہیں قتل نہ کرنا زندہ پکڑنا تاکہ انہیں دل کھول کر سزا دیں۔

یہ بھی اپنے زمانے کا فرعون ہی تھا اس نے بھی جادوگروں کے ایمان لانے کو کہا تھا کہ «إِنَّ هَـٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا» [ 7-الاعراف: 123 ] ‏ ” یہ تو صرف تمہارا ایک مکر ہے کہ یہاں سے تم ہمیں نکال دو۔“ اس نے بھی کہا تھا کہ «إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ» [ 20-طہٰ: 71 ] ‏ ” جادوگرو یہ موسیٰ تمہارا استاد ہے حالانکہ یہ محض اس کا فریب تھا۔“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں عرفے کے دن جس قدر ابلیس حقیر و ذلیل رسوا اور درماندہ ہوتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں دیکھا گیا۔ کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عام معافی اور عام رحمت اتری ہے ہر ایک کے گناہ عموماً معاف ہو جاتے ہیں ہاں بدر کے دن اس کی ذلت و رسوائی کا کچھ مت پوچھو جب اس نے دیکھا کہ فرشتوں کی فوجیں جبرائیل کی ماتحتی میں آ رہی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16204:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر3333

جب دونوں فوجیں صف بندی کر کے آمنے سامنے آ گئیں تو اللہ کی قدرت و حکمت سے مسلمان کافروں کو بہت کم نظر آنے لگے اور کافر مسلمانوں کی نگاہ میں کم جچنے لگے۔ اس پر کافروں نے قہقہہ لگایا کہ دیکھو مسلمان کیسے مذہبی دیوانے ہیں؟ مٹھی بھر آدمی ہم ایک ہزار کے لشکر سے ٹکرا رہے ہیں ابھی کوئی دم میں ان کا چورا ہو جائے گا پہلے ہی حملے میں وہ چوٹ کھائیں گے کہ سر ہلاتے رہ جائیں۔

رب العالمین فرماتا ہے ” انہیں نہیں معلوم کہ یہ متوکلین کا گروہ ہے ان کا بھروسہ اس پر ہے جو غلبہ کا مالک ہے، حکمت کا مالک ہے اللہ کے دین کی سختی مسلمانوں میں محسوس کر کے ان کی زبان سے یہ کلمہ نکلا کہ انہیں ذہبی دیوانگی ہے۔“

دشمن الٰہی ابوجہل ملعون ٹیلے کے اوپر سے جھانک کر اللہ والوں کی کمی اور بےسروسامانی دیکھ کر گدھے کی طرح پھول گیا اور کہنے لگا لو پالا مار لیا ہے، بس آج سے اللہ کی عبادت کرنے والوں سے زمین خالی نظر آئے گی، ابھی ہم ان میں سے ایک ایک کے دو دو کر کے رکھ دیں گے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے دین میں طعنہ دینے والے مکہ کے منافق تھے۔ عامر کہتے ہیں یہ چند لوگ تھے جو زبانی مسلمان ہوئے تھے لیکن آج بدر کے میدان میں مشرکوں کے ساتھ تھے۔ انہیں مسلمانوں کی کمی اور کمزوری دیکھ کر تعجب معلوم ہوا اور کہا کہ یہ لوگ تو مذہبی فریب خوردہ ہیں۔

صفحہ نمبر3334

مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ قریش کی ایک جماعت تھی قیس بن ولید بن مغیرہ، ابوقیس بن فاکہ بن مغیرہ، حارث بن زمعہ بن اسود بن عبدالمطلب اور علی بن امیہ بن خلف اور عاص بن منبہ بن حجاج یہ قریش کے ساتھ تھے لیکن یہ متردد تھے اور اسی میں رکے ہوئے تھے یہاں مسلمانوں کی حالت دیکھ کر کہنے لگے یہ لوگ تو صرف مذہبی مجنوں ہیں ورنہ مٹھی بھر بے رسد اور بے ہتھیار آدمی اتنی ٹڈی دل شوکت و شان والی فوجوں کے سامنے کیوں کھڑے ہو جاتے؟

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ بدر کی لڑائی میں نہیں آئے تھے ان کا نام منافق رکھ دیا گیا۔ کہتے ہیں کہ یہ قوم اسلام کا اقرار کرتی تھی لیکن مشرکوں کی رو میں بہہ کر یہاں چلی آئی یہاں آ کر مسلمانوں کا قلیل سا لشکر دیکھ کر انہوں نے یہ کہا۔ جناب باری جل شانہ ارشاد فرماتا ہے کہ ” جو اس مالک الملک پر بھروسہ کرے اسے وہ ذی عزت کر دیتا ہے کیونکہ عزت اس کی لونڈی ہے، غلبہ اس کا غلام ہے وہ بلند جناب ہے وہ بڑا ذی شان ہے وہ سچا سلطان ہے۔ وہ حکیم ہے اس کے سب کام الحکمت سے ہوتے ہیں وہ ہرچیز کو اس کی ٹھیک جگہ رکھتا ہے۔ مستحقین امداد کی وہ مدد فرماتا ہے اور مستحقین ذلت کو وہ ذلیل کرتا ہے وہ سب کو خوب جانتا ہے۔“

صفحہ نمبر3335

میدان بدر میں ابلیس مشرکین کا ہمراہی تھا ٭٭

جہاد میں ثابت قدمی نیک نیتی ذکر اللہ کی کثرت کی نصیحت فرما کر مشرکین کی مشابہت سے روک رہا ہے کہ ” جیسے وہ حق کو مٹانے اور لوگوں میں اپنی بہادری دھانے کے لیے فخر و غرور کے ساتھ اپنے شہروں سے چلے تم ایسا نہ کرنا۔ “

چنانچہ ابوجہل سے جب کہا گیا کہ قافلہ تو بچ گیا اب لوٹ کر واپس چلنا چاہیئے تو اس ملعون نے جواب دیا کہ واہ کس کا لوٹنا بدر کے پانی پر جا کر پڑاؤ کریں گے۔ وہاں شرابیں اڑائیں گے کباب کھائیں گے گانا سنیں گے تاکہ لوگوں میں شہرت ہو جائے۔ اللہ کی شان کے قربان جائیے ان کے ارمان قدرت نے پلٹ دیئے یہیں ان کی لاشیں گریں اور یہیں کے گڑھوں میں ذلت کے ساتھ ٹھونس دیئے گئے۔ اللہ ان کے اعمال کا احاطہٰ کرنے والا ہے ان کے ارادے اس پر کھلے ہیں اسی لیے انہیں برے وقت سے پالا پڑا۔ پس یہ مشرکین کا ذکر ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رسولوں کے سرتاج سے بدر میں لڑنے چلے تھے ان کے ساتھ گانے والیاں بھی تھیں باجے گاجے بھی تھے۔ شیطان لعین ان کا پشت پناہ بنا ہوا تھا انہیں پھسلا رہا تھا۔ ان کے کام کو خوبصورت بھلا دکھا رہا تھا ان کے کانوں میں پھونک رہا تھا کہ بھلا تمہیں کون ہرا سکتا ہے؟ ان کے دل سے بنوبکر کا مکہ پر چڑھائی کرنے کا خوف نکال رہا تھا اور سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں ان کے سامنے کھڑا ہو کر کہہ رہا تھا کہ میں تو اس علاقے کا سردار ہوں بنو مدلج سب میرے تابع ہیں میں تمہارا حمایتی ہوں بیفکر رہو۔

«يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ ۖ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا» ‏ [4-النساء: 120 ] ‏ ” شیطان کا کام بھی یہی ہے کہ جھوٹے وعدے، نہ پورا ہونے والی امیدوں کے سبز باغ دکھائے اور دھوکے کے جال میں پھنسائے۔“ بدر والے دن یہ اپنے جھنڈے اور لشکر کو ساتھ لے کر مشرکوں کی حمایت میں نکلا ان کے دلوں میں ڈالتا رہا کہ بس تم بازی لے گئے میں تمہارا مددگار ہوں۔

صفحہ نمبر3329

لیکن جب مسلمانوں سے مقابلہ شروع ہوا اور اس خبیث کی نظریں فرشتوں پر پڑیں تو پچھلے پیروں بھاگا اور کہنے لگا میں وہ دیکھتا ہوں جس سے تمہاری آنکھیں اندھی ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں بدر والے دن ابلیس اپنا جھنڈا بلند کئے مدلجی شخص کی صورت میں اپنے لشکر سمیت پہنچا اور شیطان سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں نمودار ہوا اور مشرکین کے دل بڑھائے ہمت دلائی جب میدان جنگ میں صف بندی ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کی مٹھی بھر کر مشرکوں کے منہ پر ماری اس سے ان کے قدم اکھڑ گئے اور ان میں بھگدڑ مچ گئی۔

جبرائیل علیہ السلام شیطان کی طرف چلے اس وقت یہ ایک مشرک کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے ہوئے تھا آپ کو دیکھتے ہی اس کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑا کر اپنے لشکروں سمیت بھاگ کھڑا ہوا اس شخص نے کہا سراقہ تم تو کہہ رہے تھے کہ تم ہمارے حمایتی ہو پھر یہ کیا کر رہے ہو؟ یہ ملعون چونکہ فرشتوں کو دیکھ رہا تھا کہنے لگا میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں تو اللہ سے ڈرنے والا آدمی ہوں اللہ کے عذاب بڑے بھاری ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16198:منقطع] ‏

اور روایت میں ہے کہ اسے پیٹھ پھیرتا دیکھ کر حارث بن ہشام نے پکڑ لیا۔ اس نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا جس سے یہ بیہوش ہو کر گر پڑا دوسرے لوگوں نے کہا سراقہ تو اس حال میں ہمیں ذلیل کرتا ہے؟ اور ایسے وقت ہمیں دھوکہ دیتا ہے وہ کہنے لگا ہاں ہاں میں تم سے بری الذمہ اور بے تعلق ہوں میں انہیں دیکھ رہا ہوں جنہیں تم نہیں دیکھ رہے۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏

صفحہ نمبر3330

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھوڑی سی دیر کے لیے ایک طرح کی بیخودی سی طاری ہو گئی پھر ہوشیار ہو کر فرمانے لگے صحابیو خوش ہو جاؤ یہ ہیں تمہاری دائیں جانب جبرائیل علیہ السلام اور یہ ہیں تمہاری بائیں طرف میکائیل علیہ السلام اور یہ ہیں اسرافیل علیہ السلام تینوں مع اپنی اپنی فوجوں کے آ موجود ہوئے ہیں۔

ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی صورت میں مشرکوں میں تھا ان کے دل بڑھا رہا تھا اور ان میں پشین گوئیاں کر رہا تھا کہ بے فکر رہو آج تمہیں کوئی ہرا نہیں سکتا۔ لیکن فرشتوں کے لشکر کو دیکھتے ہی اس نے تو منہ موڑا اور یہ کہتا ہوا بھاگا کہ میں تم سے بری ہوں میں انہیں دیکھ رہا ہوں جو تمہاری نگاہ میں نہیں آتے۔ حارث بن ہشام چونکہ اسے سراقہ ہی سمجھے ہوئے تھا اس لیے اس نے اس کا ہاتھ تھام لیا اس نے اس کے سینے میں اس زور سے گھونسہ مارا کہ یہ منہ کے بل گر پڑا اور شیطان بھاگ گیا سمندر میں کود پڑا اور اپنا کپڑا اونچا کر کے کہنے لگایا اللہ میں تجھے تیرا وہ وعدہ یاد دلاتا ہوں جو تو نے مجھ سے کیا ہے۔ طبرانی میں رفاعہ بن رافع سے بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏

سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب قریشیوں نے مکے سے نکلنے کا ارادہ کیا تو انہیں بنی بکر کی جنگ یاد آ گئی اور خیال کیا کہ ایسا نہ ہو ہماری عدم موجودگی میں یہاں چڑھائی کر دیں قریب تھا کہ وہ اپنے ارادے سے دست بردار ہو جائیں اسی وقت ابلیس لعین سراقہ کی صورت میں ان کے پاس آیا جو بنو کنانہ کے سرداروں میں سے تھا کہنے لگا اپنی قوم کا میں ذمہ دار ہوں تم ان کا بے خطر ساتھ دو اور مسلمانوں کے مقابلے کے لیے مکمل تیار ہو کر جاؤ۔

صفحہ نمبر3331

خود بھی ان کے ساتھ چلا ہر منزل میں یہ اسے دیکھتے تھے سب کو یقین تھا کہ سراقہ خود ہمارے ساتھ ہے یہاں تک کہ لڑائی شروع ہو گئی اس وقت یہ مردود دم دبا کر بھاگا۔ حارث بن ہشام یا عمیر بن وہب نے اسے جاتے دیکھ لیا اس نے شور مچا دیا کہ سراقہ کہاں بھاگا جا رہا ہے؟ شیطان انہیں موت اور دوزخ کے منہ میں دھکیل کر خود فرار ہو گیا۔ کیونکہ اس نے اللہ کے لشکروں کو مسلمانوں کی امداد کے لیے آتے ہوئے دیکھ لیا تھا صاف کہدیا کہ میں تم سے بری ہوں میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اس بات میں وہ سچا بھی تھا۔ پھر کہتا ہے میں اللہ کے خوف سے ڈرتا ہوں۔ اللہ کے عذاب سخت اور بھاری ہیں۔

اس نے جبرائیل علیہ السلام کو فرشتوں کے ساتھ اترتے دیکھ لیا تھا سمجھ گیا تھا کہ ان کے مقابلے کی مجھ میں یا مشرکوں میں طاقت نہیں وہ اپنے اس قول میں تو جھوٹا تھا کہ میں خوف الٰہی کرتا ہوں یہ تو صرف اس کی زبانی بات تھی دراصل وہ اپنے میں طاقت ہی نہیں پاتا تھا۔ یہی اس دشمن رب کی عادت ہے کہ بھڑکاتا اور بہکاتا ہے حق کے مقابلے میں لاکھڑا کر دیتا ہے پھر روپوش ہو جاتا ہے۔ قران فرماتا ہے «كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِّنكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّـهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ» [ 59-الحشر: 16 ] ‏ ” شیطان انسان کو کفر کا حکم دیتا ہے پھر جب وہ کفر کر چکتا ہے تو یہ کہنے لگتا ہے کہ میں تجھ سے بیزار ہوں میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ “

اور آیت میں ہے کہ «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم ۖ مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ ۖ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ ۗ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ‏ [ 14-إبراهيم: 22 ] ‏ ” جب حق واضح جاتا ہے تو یہ کہتا ہے اللہ کے وعدے سچے ہیں میں خود جھوٹا میرے وعدے بھی سراسر جھوٹے میرا تم پر کوئی زور دعویٰ تو تھا ہی نہیں تم نے تو آپ میری آرزو پر گردن جھکا دی اب مھے سرزنش نہ کرو خود اپنے تئیں ملامت کرو نہ میں تمہیں بچا سکوں گا نہ تم میرے کام آسکو گے۔ اس سے پہلے جو تم مجھے شریک رب بنا رہے تھے میں تو آج اس کا بھی انکاری ہوں۔ یقین مانو کہ ظالموں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے۔“

صفحہ نمبر3332

سیدنا ابواسید مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر میری آنکھیں آج بھی ہوتیں تو میں تمہیں بدر کے میدان میں وہ گھاٹی دکھا دیتا جہاں سے فرشتے آتے تھے بیشک و شبہ مجھے وہ معلوم ہے۔ [دلائل النبوۃ للبیھقی:52/3:ضعیف] ‏

انہیں ابلیس نے دیکھ لیا اور اللہ نے انہیں حکم دیا کہ مومنوں کو ثابت قدم رکھو یہ لوگوں کے پاس ان کے جان پہچان کے آدمیوں کی شکل میں آتے اور کہتے خوش ہو جاؤ یہ کافر بھی کوئی چیز ہیں اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ہے بے خوفی کے ساتھ شیر کا سا حملہ کر دو۔ ابلیس یہ دیکھ کر بھاگ کھڑا ہوا اب تک وہ سراقہ کی شکل میں کفار میں موجود تھا۔ ابوجہل نے یہ حال دیکھ کر اپنے لشکروں میں گشت شروع کیا کہہ رہا تھا کہ گھبراؤ نہیں اس کے بھاگ کھڑے ہونے سے دل تنگ نہ ہو جاؤ، وہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سیکھا پڑھا آیا تھا کہ تمیں عین موقعہ پر بزدل کر دے کوئی گھبرانے کی بات نہیں لات و عزیٰ کی قسم! آج ان مسلمانوں کو ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمیت گرفتار کر لیں گے نامردی نہ کرو دل بڑھاؤ اور سخت حملہ کرو۔ دیکھو خبردار انہیں قتل نہ کرنا زندہ پکڑنا تاکہ انہیں دل کھول کر سزا دیں۔

یہ بھی اپنے زمانے کا فرعون ہی تھا اس نے بھی جادوگروں کے ایمان لانے کو کہا تھا کہ «إِنَّ هَـٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا» [ 7-الاعراف: 123 ] ‏ ” یہ تو صرف تمہارا ایک مکر ہے کہ یہاں سے تم ہمیں نکال دو۔“ اس نے بھی کہا تھا کہ «إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ» [ 20-طہٰ: 71 ] ‏ ” جادوگرو یہ موسیٰ تمہارا استاد ہے حالانکہ یہ محض اس کا فریب تھا۔“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں عرفے کے دن جس قدر ابلیس حقیر و ذلیل رسوا اور درماندہ ہوتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں دیکھا گیا۔ کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عام معافی اور عام رحمت اتری ہے ہر ایک کے گناہ عموماً معاف ہو جاتے ہیں ہاں بدر کے دن اس کی ذلت و رسوائی کا کچھ مت پوچھو جب اس نے دیکھا کہ فرشتوں کی فوجیں جبرائیل کی ماتحتی میں آ رہی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16204:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر3333

جب دونوں فوجیں صف بندی کر کے آمنے سامنے آ گئیں تو اللہ کی قدرت و حکمت سے مسلمان کافروں کو بہت کم نظر آنے لگے اور کافر مسلمانوں کی نگاہ میں کم جچنے لگے۔ اس پر کافروں نے قہقہہ لگایا کہ دیکھو مسلمان کیسے مذہبی دیوانے ہیں؟ مٹھی بھر آدمی ہم ایک ہزار کے لشکر سے ٹکرا رہے ہیں ابھی کوئی دم میں ان کا چورا ہو جائے گا پہلے ہی حملے میں وہ چوٹ کھائیں گے کہ سر ہلاتے رہ جائیں۔

رب العالمین فرماتا ہے ” انہیں نہیں معلوم کہ یہ متوکلین کا گروہ ہے ان کا بھروسہ اس پر ہے جو غلبہ کا مالک ہے، حکمت کا مالک ہے اللہ کے دین کی سختی مسلمانوں میں محسوس کر کے ان کی زبان سے یہ کلمہ نکلا کہ انہیں ذہبی دیوانگی ہے۔“

دشمن الٰہی ابوجہل ملعون ٹیلے کے اوپر سے جھانک کر اللہ والوں کی کمی اور بےسروسامانی دیکھ کر گدھے کی طرح پھول گیا اور کہنے لگا لو پالا مار لیا ہے، بس آج سے اللہ کی عبادت کرنے والوں سے زمین خالی نظر آئے گی، ابھی ہم ان میں سے ایک ایک کے دو دو کر کے رکھ دیں گے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے دین میں طعنہ دینے والے مکہ کے منافق تھے۔ عامر کہتے ہیں یہ چند لوگ تھے جو زبانی مسلمان ہوئے تھے لیکن آج بدر کے میدان میں مشرکوں کے ساتھ تھے۔ انہیں مسلمانوں کی کمی اور کمزوری دیکھ کر تعجب معلوم ہوا اور کہا کہ یہ لوگ تو مذہبی فریب خوردہ ہیں۔

صفحہ نمبر3334

مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ قریش کی ایک جماعت تھی قیس بن ولید بن مغیرہ، ابوقیس بن فاکہ بن مغیرہ، حارث بن زمعہ بن اسود بن عبدالمطلب اور علی بن امیہ بن خلف اور عاص بن منبہ بن حجاج یہ قریش کے ساتھ تھے لیکن یہ متردد تھے اور اسی میں رکے ہوئے تھے یہاں مسلمانوں کی حالت دیکھ کر کہنے لگے یہ لوگ تو صرف مذہبی مجنوں ہیں ورنہ مٹھی بھر بے رسد اور بے ہتھیار آدمی اتنی ٹڈی دل شوکت و شان والی فوجوں کے سامنے کیوں کھڑے ہو جاتے؟

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ بدر کی لڑائی میں نہیں آئے تھے ان کا نام منافق رکھ دیا گیا۔ کہتے ہیں کہ یہ قوم اسلام کا اقرار کرتی تھی لیکن مشرکوں کی رو میں بہہ کر یہاں چلی آئی یہاں آ کر مسلمانوں کا قلیل سا لشکر دیکھ کر انہوں نے یہ کہا۔ جناب باری جل شانہ ارشاد فرماتا ہے کہ ” جو اس مالک الملک پر بھروسہ کرے اسے وہ ذی عزت کر دیتا ہے کیونکہ عزت اس کی لونڈی ہے، غلبہ اس کا غلام ہے وہ بلند جناب ہے وہ بڑا ذی شان ہے وہ سچا سلطان ہے۔ وہ حکیم ہے اس کے سب کام الحکمت سے ہوتے ہیں وہ ہرچیز کو اس کی ٹھیک جگہ رکھتا ہے۔ مستحقین امداد کی وہ مدد فرماتا ہے اور مستحقین ذلت کو وہ ذلیل کرتا ہے وہ سب کو خوب جانتا ہے۔“

صفحہ نمبر3335

میدان بدر میں ابلیس مشرکین کا ہمراہی تھا ٭٭

جہاد میں ثابت قدمی نیک نیتی ذکر اللہ کی کثرت کی نصیحت فرما کر مشرکین کی مشابہت سے روک رہا ہے کہ ” جیسے وہ حق کو مٹانے اور لوگوں میں اپنی بہادری دھانے کے لیے فخر و غرور کے ساتھ اپنے شہروں سے چلے تم ایسا نہ کرنا۔ “

چنانچہ ابوجہل سے جب کہا گیا کہ قافلہ تو بچ گیا اب لوٹ کر واپس چلنا چاہیئے تو اس ملعون نے جواب دیا کہ واہ کس کا لوٹنا بدر کے پانی پر جا کر پڑاؤ کریں گے۔ وہاں شرابیں اڑائیں گے کباب کھائیں گے گانا سنیں گے تاکہ لوگوں میں شہرت ہو جائے۔ اللہ کی شان کے قربان جائیے ان کے ارمان قدرت نے پلٹ دیئے یہیں ان کی لاشیں گریں اور یہیں کے گڑھوں میں ذلت کے ساتھ ٹھونس دیئے گئے۔ اللہ ان کے اعمال کا احاطہٰ کرنے والا ہے ان کے ارادے اس پر کھلے ہیں اسی لیے انہیں برے وقت سے پالا پڑا۔ پس یہ مشرکین کا ذکر ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رسولوں کے سرتاج سے بدر میں لڑنے چلے تھے ان کے ساتھ گانے والیاں بھی تھیں باجے گاجے بھی تھے۔ شیطان لعین ان کا پشت پناہ بنا ہوا تھا انہیں پھسلا رہا تھا۔ ان کے کام کو خوبصورت بھلا دکھا رہا تھا ان کے کانوں میں پھونک رہا تھا کہ بھلا تمہیں کون ہرا سکتا ہے؟ ان کے دل سے بنوبکر کا مکہ پر چڑھائی کرنے کا خوف نکال رہا تھا اور سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں ان کے سامنے کھڑا ہو کر کہہ رہا تھا کہ میں تو اس علاقے کا سردار ہوں بنو مدلج سب میرے تابع ہیں میں تمہارا حمایتی ہوں بیفکر رہو۔

«يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ ۖ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا» ‏ [4-النساء: 120 ] ‏ ” شیطان کا کام بھی یہی ہے کہ جھوٹے وعدے، نہ پورا ہونے والی امیدوں کے سبز باغ دکھائے اور دھوکے کے جال میں پھنسائے۔“ بدر والے دن یہ اپنے جھنڈے اور لشکر کو ساتھ لے کر مشرکوں کی حمایت میں نکلا ان کے دلوں میں ڈالتا رہا کہ بس تم بازی لے گئے میں تمہارا مددگار ہوں۔

صفحہ نمبر3329

لیکن جب مسلمانوں سے مقابلہ شروع ہوا اور اس خبیث کی نظریں فرشتوں پر پڑیں تو پچھلے پیروں بھاگا اور کہنے لگا میں وہ دیکھتا ہوں جس سے تمہاری آنکھیں اندھی ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں بدر والے دن ابلیس اپنا جھنڈا بلند کئے مدلجی شخص کی صورت میں اپنے لشکر سمیت پہنچا اور شیطان سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں نمودار ہوا اور مشرکین کے دل بڑھائے ہمت دلائی جب میدان جنگ میں صف بندی ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کی مٹھی بھر کر مشرکوں کے منہ پر ماری اس سے ان کے قدم اکھڑ گئے اور ان میں بھگدڑ مچ گئی۔

جبرائیل علیہ السلام شیطان کی طرف چلے اس وقت یہ ایک مشرک کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے ہوئے تھا آپ کو دیکھتے ہی اس کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑا کر اپنے لشکروں سمیت بھاگ کھڑا ہوا اس شخص نے کہا سراقہ تم تو کہہ رہے تھے کہ تم ہمارے حمایتی ہو پھر یہ کیا کر رہے ہو؟ یہ ملعون چونکہ فرشتوں کو دیکھ رہا تھا کہنے لگا میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں تو اللہ سے ڈرنے والا آدمی ہوں اللہ کے عذاب بڑے بھاری ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16198:منقطع] ‏

اور روایت میں ہے کہ اسے پیٹھ پھیرتا دیکھ کر حارث بن ہشام نے پکڑ لیا۔ اس نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا جس سے یہ بیہوش ہو کر گر پڑا دوسرے لوگوں نے کہا سراقہ تو اس حال میں ہمیں ذلیل کرتا ہے؟ اور ایسے وقت ہمیں دھوکہ دیتا ہے وہ کہنے لگا ہاں ہاں میں تم سے بری الذمہ اور بے تعلق ہوں میں انہیں دیکھ رہا ہوں جنہیں تم نہیں دیکھ رہے۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏

صفحہ نمبر3330

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھوڑی سی دیر کے لیے ایک طرح کی بیخودی سی طاری ہو گئی پھر ہوشیار ہو کر فرمانے لگے صحابیو خوش ہو جاؤ یہ ہیں تمہاری دائیں جانب جبرائیل علیہ السلام اور یہ ہیں تمہاری بائیں طرف میکائیل علیہ السلام اور یہ ہیں اسرافیل علیہ السلام تینوں مع اپنی اپنی فوجوں کے آ موجود ہوئے ہیں۔

ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی صورت میں مشرکوں میں تھا ان کے دل بڑھا رہا تھا اور ان میں پشین گوئیاں کر رہا تھا کہ بے فکر رہو آج تمہیں کوئی ہرا نہیں سکتا۔ لیکن فرشتوں کے لشکر کو دیکھتے ہی اس نے تو منہ موڑا اور یہ کہتا ہوا بھاگا کہ میں تم سے بری ہوں میں انہیں دیکھ رہا ہوں جو تمہاری نگاہ میں نہیں آتے۔ حارث بن ہشام چونکہ اسے سراقہ ہی سمجھے ہوئے تھا اس لیے اس نے اس کا ہاتھ تھام لیا اس نے اس کے سینے میں اس زور سے گھونسہ مارا کہ یہ منہ کے بل گر پڑا اور شیطان بھاگ گیا سمندر میں کود پڑا اور اپنا کپڑا اونچا کر کے کہنے لگایا اللہ میں تجھے تیرا وہ وعدہ یاد دلاتا ہوں جو تو نے مجھ سے کیا ہے۔ طبرانی میں رفاعہ بن رافع سے بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏

سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب قریشیوں نے مکے سے نکلنے کا ارادہ کیا تو انہیں بنی بکر کی جنگ یاد آ گئی اور خیال کیا کہ ایسا نہ ہو ہماری عدم موجودگی میں یہاں چڑھائی کر دیں قریب تھا کہ وہ اپنے ارادے سے دست بردار ہو جائیں اسی وقت ابلیس لعین سراقہ کی صورت میں ان کے پاس آیا جو بنو کنانہ کے سرداروں میں سے تھا کہنے لگا اپنی قوم کا میں ذمہ دار ہوں تم ان کا بے خطر ساتھ دو اور مسلمانوں کے مقابلے کے لیے مکمل تیار ہو کر جاؤ۔

صفحہ نمبر3331

خود بھی ان کے ساتھ چلا ہر منزل میں یہ اسے دیکھتے تھے سب کو یقین تھا کہ سراقہ خود ہمارے ساتھ ہے یہاں تک کہ لڑائی شروع ہو گئی اس وقت یہ مردود دم دبا کر بھاگا۔ حارث بن ہشام یا عمیر بن وہب نے اسے جاتے دیکھ لیا اس نے شور مچا دیا کہ سراقہ کہاں بھاگا جا رہا ہے؟ شیطان انہیں موت اور دوزخ کے منہ میں دھکیل کر خود فرار ہو گیا۔ کیونکہ اس نے اللہ کے لشکروں کو مسلمانوں کی امداد کے لیے آتے ہوئے دیکھ لیا تھا صاف کہدیا کہ میں تم سے بری ہوں میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اس بات میں وہ سچا بھی تھا۔ پھر کہتا ہے میں اللہ کے خوف سے ڈرتا ہوں۔ اللہ کے عذاب سخت اور بھاری ہیں۔

اس نے جبرائیل علیہ السلام کو فرشتوں کے ساتھ اترتے دیکھ لیا تھا سمجھ گیا تھا کہ ان کے مقابلے کی مجھ میں یا مشرکوں میں طاقت نہیں وہ اپنے اس قول میں تو جھوٹا تھا کہ میں خوف الٰہی کرتا ہوں یہ تو صرف اس کی زبانی بات تھی دراصل وہ اپنے میں طاقت ہی نہیں پاتا تھا۔ یہی اس دشمن رب کی عادت ہے کہ بھڑکاتا اور بہکاتا ہے حق کے مقابلے میں لاکھڑا کر دیتا ہے پھر روپوش ہو جاتا ہے۔ قران فرماتا ہے «كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِّنكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّـهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ» [ 59-الحشر: 16 ] ‏ ” شیطان انسان کو کفر کا حکم دیتا ہے پھر جب وہ کفر کر چکتا ہے تو یہ کہنے لگتا ہے کہ میں تجھ سے بیزار ہوں میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ “

اور آیت میں ہے کہ «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم ۖ مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ ۖ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ ۗ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ‏ [ 14-إبراهيم: 22 ] ‏ ” جب حق واضح جاتا ہے تو یہ کہتا ہے اللہ کے وعدے سچے ہیں میں خود جھوٹا میرے وعدے بھی سراسر جھوٹے میرا تم پر کوئی زور دعویٰ تو تھا ہی نہیں تم نے تو آپ میری آرزو پر گردن جھکا دی اب مھے سرزنش نہ کرو خود اپنے تئیں ملامت کرو نہ میں تمہیں بچا سکوں گا نہ تم میرے کام آسکو گے۔ اس سے پہلے جو تم مجھے شریک رب بنا رہے تھے میں تو آج اس کا بھی انکاری ہوں۔ یقین مانو کہ ظالموں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے۔“

صفحہ نمبر3332

سیدنا ابواسید مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر میری آنکھیں آج بھی ہوتیں تو میں تمہیں بدر کے میدان میں وہ گھاٹی دکھا دیتا جہاں سے فرشتے آتے تھے بیشک و شبہ مجھے وہ معلوم ہے۔ [دلائل النبوۃ للبیھقی:52/3:ضعیف] ‏

انہیں ابلیس نے دیکھ لیا اور اللہ نے انہیں حکم دیا کہ مومنوں کو ثابت قدم رکھو یہ لوگوں کے پاس ان کے جان پہچان کے آدمیوں کی شکل میں آتے اور کہتے خوش ہو جاؤ یہ کافر بھی کوئی چیز ہیں اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ہے بے خوفی کے ساتھ شیر کا سا حملہ کر دو۔ ابلیس یہ دیکھ کر بھاگ کھڑا ہوا اب تک وہ سراقہ کی شکل میں کفار میں موجود تھا۔ ابوجہل نے یہ حال دیکھ کر اپنے لشکروں میں گشت شروع کیا کہہ رہا تھا کہ گھبراؤ نہیں اس کے بھاگ کھڑے ہونے سے دل تنگ نہ ہو جاؤ، وہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سیکھا پڑھا آیا تھا کہ تمیں عین موقعہ پر بزدل کر دے کوئی گھبرانے کی بات نہیں لات و عزیٰ کی قسم! آج ان مسلمانوں کو ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمیت گرفتار کر لیں گے نامردی نہ کرو دل بڑھاؤ اور سخت حملہ کرو۔ دیکھو خبردار انہیں قتل نہ کرنا زندہ پکڑنا تاکہ انہیں دل کھول کر سزا دیں۔

یہ بھی اپنے زمانے کا فرعون ہی تھا اس نے بھی جادوگروں کے ایمان لانے کو کہا تھا کہ «إِنَّ هَـٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا» [ 7-الاعراف: 123 ] ‏ ” یہ تو صرف تمہارا ایک مکر ہے کہ یہاں سے تم ہمیں نکال دو۔“ اس نے بھی کہا تھا کہ «إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ» [ 20-طہٰ: 71 ] ‏ ” جادوگرو یہ موسیٰ تمہارا استاد ہے حالانکہ یہ محض اس کا فریب تھا۔“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں عرفے کے دن جس قدر ابلیس حقیر و ذلیل رسوا اور درماندہ ہوتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں دیکھا گیا۔ کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عام معافی اور عام رحمت اتری ہے ہر ایک کے گناہ عموماً معاف ہو جاتے ہیں ہاں بدر کے دن اس کی ذلت و رسوائی کا کچھ مت پوچھو جب اس نے دیکھا کہ فرشتوں کی فوجیں جبرائیل کی ماتحتی میں آ رہی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16204:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر3333

جب دونوں فوجیں صف بندی کر کے آمنے سامنے آ گئیں تو اللہ کی قدرت و حکمت سے مسلمان کافروں کو بہت کم نظر آنے لگے اور کافر مسلمانوں کی نگاہ میں کم جچنے لگے۔ اس پر کافروں نے قہقہہ لگایا کہ دیکھو مسلمان کیسے مذہبی دیوانے ہیں؟ مٹھی بھر آدمی ہم ایک ہزار کے لشکر سے ٹکرا رہے ہیں ابھی کوئی دم میں ان کا چورا ہو جائے گا پہلے ہی حملے میں وہ چوٹ کھائیں گے کہ سر ہلاتے رہ جائیں۔

رب العالمین فرماتا ہے ” انہیں نہیں معلوم کہ یہ متوکلین کا گروہ ہے ان کا بھروسہ اس پر ہے جو غلبہ کا مالک ہے، حکمت کا مالک ہے اللہ کے دین کی سختی مسلمانوں میں محسوس کر کے ان کی زبان سے یہ کلمہ نکلا کہ انہیں ذہبی دیوانگی ہے۔“

دشمن الٰہی ابوجہل ملعون ٹیلے کے اوپر سے جھانک کر اللہ والوں کی کمی اور بےسروسامانی دیکھ کر گدھے کی طرح پھول گیا اور کہنے لگا لو پالا مار لیا ہے، بس آج سے اللہ کی عبادت کرنے والوں سے زمین خالی نظر آئے گی، ابھی ہم ان میں سے ایک ایک کے دو دو کر کے رکھ دیں گے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے دین میں طعنہ دینے والے مکہ کے منافق تھے۔ عامر کہتے ہیں یہ چند لوگ تھے جو زبانی مسلمان ہوئے تھے لیکن آج بدر کے میدان میں مشرکوں کے ساتھ تھے۔ انہیں مسلمانوں کی کمی اور کمزوری دیکھ کر تعجب معلوم ہوا اور کہا کہ یہ لوگ تو مذہبی فریب خوردہ ہیں۔

صفحہ نمبر3334

مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ قریش کی ایک جماعت تھی قیس بن ولید بن مغیرہ، ابوقیس بن فاکہ بن مغیرہ، حارث بن زمعہ بن اسود بن عبدالمطلب اور علی بن امیہ بن خلف اور عاص بن منبہ بن حجاج یہ قریش کے ساتھ تھے لیکن یہ متردد تھے اور اسی میں رکے ہوئے تھے یہاں مسلمانوں کی حالت دیکھ کر کہنے لگے یہ لوگ تو صرف مذہبی مجنوں ہیں ورنہ مٹھی بھر بے رسد اور بے ہتھیار آدمی اتنی ٹڈی دل شوکت و شان والی فوجوں کے سامنے کیوں کھڑے ہو جاتے؟

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ بدر کی لڑائی میں نہیں آئے تھے ان کا نام منافق رکھ دیا گیا۔ کہتے ہیں کہ یہ قوم اسلام کا اقرار کرتی تھی لیکن مشرکوں کی رو میں بہہ کر یہاں چلی آئی یہاں آ کر مسلمانوں کا قلیل سا لشکر دیکھ کر انہوں نے یہ کہا۔ جناب باری جل شانہ ارشاد فرماتا ہے کہ ” جو اس مالک الملک پر بھروسہ کرے اسے وہ ذی عزت کر دیتا ہے کیونکہ عزت اس کی لونڈی ہے، غلبہ اس کا غلام ہے وہ بلند جناب ہے وہ بڑا ذی شان ہے وہ سچا سلطان ہے۔ وہ حکیم ہے اس کے سب کام الحکمت سے ہوتے ہیں وہ ہرچیز کو اس کی ٹھیک جگہ رکھتا ہے۔ مستحقین امداد کی وہ مدد فرماتا ہے اور مستحقین ذلت کو وہ ذلیل کرتا ہے وہ سب کو خوب جانتا ہے۔“

صفحہ نمبر3335

کفار کے لیے سکرات موت کا وقت بڑا شدید ہے ٭٭

” کاش کہ تو اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم تو دیکھتا کے فرشتے کس بری طرح کافروں کی روح قبض کرتے ہیں وہ اس وقت ان کے چہروں اور کمروں پر مارتے ہیں اور کہتے ہیں آگ کا عذاب اپنی بداعمالیوں کے بدلے چکھو۔ “

یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ بھی بدر کے دن کا ہے کہ سامنے سے ان کافروں کے چہروں پر تلواریں پڑتی تھیں اور جب بھاگتے تھے تو پیٹھ پر وار پڑتے تھے فرشتے انکا خوب بھرتہ بنا رہے تھے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ”میں نے ابوجہل کی پیٹھ پر کانٹوں کے نشان دیکھے ہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہ فرشتوں کی مار کے نشان ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16220:مرسل و ضعیف] ‏

حق یہ ہے کہ یہ آیت بدر کے ساتھ مخصوص تو نہیں الفاظ عام ہیں ہر کافر کا یہی حال ہوتا ہے۔ سورۃ قتال میں بھی اس بات کا بیان ہوا ہے اور سورۃ الانعام کی «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ» [ 6-الأنعام: 93 ] ‏ میں بھی اس کا بیان مع تفسیر گذر چکا ہے۔

چونکہ یہ نافرمان لوگ تھے ان کی موت سے بدن میں چھپتی پھرتی ہیں جنہیں فرشتے جبراً گھسیٹا جاتا ہے جس طرح کسی زندہ شخص کی کھال کو اتارا جائے اسی کے ساتھ رگیں اور پٹھے بھی آ جاتے ہیں۔ [مسند احمد:287/4:حسن] ‏ فرشتے اس سے کہتے ہیں اب جلنے کا مزہ چکھو۔ یہ تمہاری دینوی بداعمالی کی سزا ہے اللہ تعالیٰ ظالم نہیں وہ تو عادل حاکم ہے۔ برکت و بلندی، غنا، پاکیزگی والا بزرگ اور تعریفوں والا ہے۔

چنانچہ صحیح مسلم شریف کی حدیث قدسی میں ہے کہ ” میرے بندو میں نے اپنے اوپر ظلم حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی حرام کر دیا ہے پس آپس میں کوئی کسی پر ظلم و ستم نہ کرے میرے غلاموں میں تو صرف تمہارے کئے ہوئے اعمال ہی کو گھیرے ہوئے ہوں بھلائی پاکر میری تعریفیں کرو اور اس کے سوا کچھ اور دیکھو تو اپنے تئیں ہی ملامت کرو۔“ [صحیح مسلم:2577] ‏

صفحہ نمبر3338

کفار کے لیے سکرات موت کا وقت بڑا شدید ہے ٭٭

” کاش کہ تو اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم تو دیکھتا کے فرشتے کس بری طرح کافروں کی روح قبض کرتے ہیں وہ اس وقت ان کے چہروں اور کمروں پر مارتے ہیں اور کہتے ہیں آگ کا عذاب اپنی بداعمالیوں کے بدلے چکھو۔ “

یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ بھی بدر کے دن کا ہے کہ سامنے سے ان کافروں کے چہروں پر تلواریں پڑتی تھیں اور جب بھاگتے تھے تو پیٹھ پر وار پڑتے تھے فرشتے انکا خوب بھرتہ بنا رہے تھے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ”میں نے ابوجہل کی پیٹھ پر کانٹوں کے نشان دیکھے ہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہ فرشتوں کی مار کے نشان ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16220:مرسل و ضعیف] ‏

حق یہ ہے کہ یہ آیت بدر کے ساتھ مخصوص تو نہیں الفاظ عام ہیں ہر کافر کا یہی حال ہوتا ہے۔ سورۃ قتال میں بھی اس بات کا بیان ہوا ہے اور سورۃ الانعام کی «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ» [ 6-الأنعام: 93 ] ‏ میں بھی اس کا بیان مع تفسیر گذر چکا ہے۔

چونکہ یہ نافرمان لوگ تھے ان کی موت سے بدن میں چھپتی پھرتی ہیں جنہیں فرشتے جبراً گھسیٹا جاتا ہے جس طرح کسی زندہ شخص کی کھال کو اتارا جائے اسی کے ساتھ رگیں اور پٹھے بھی آ جاتے ہیں۔ [مسند احمد:287/4:حسن] ‏ فرشتے اس سے کہتے ہیں اب جلنے کا مزہ چکھو۔ یہ تمہاری دینوی بداعمالی کی سزا ہے اللہ تعالیٰ ظالم نہیں وہ تو عادل حاکم ہے۔ برکت و بلندی، غنا، پاکیزگی والا بزرگ اور تعریفوں والا ہے۔

چنانچہ صحیح مسلم شریف کی حدیث قدسی میں ہے کہ ” میرے بندو میں نے اپنے اوپر ظلم حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی حرام کر دیا ہے پس آپس میں کوئی کسی پر ظلم و ستم نہ کرے میرے غلاموں میں تو صرف تمہارے کئے ہوئے اعمال ہی کو گھیرے ہوئے ہوں بھلائی پاکر میری تعریفیں کرو اور اس کے سوا کچھ اور دیکھو تو اپنے تئیں ہی ملامت کرو۔“ [صحیح مسلم:2577] ‏

صفحہ نمبر3338

کفار اللہ کے ازلی دشمن ہیں ٭٭

” ان کافروں نے بھی تیرے ساتھ وہی کیا جو ان سے پہلے کافروں نے اپنے نبیوں کے ساتھ کیا تھا پس ہم نے بھی ان کے ساتھ وہی کیا جو ہم نے ان سے گذشتہ لوگوں کے ساتھ کیا تھا جو ان ہی جیسے تھے۔“

مثلاً فرعونی اور ان سے پہلے کے لوگ جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو نہ مانا جس کے باعث اللہ کی پکڑ ان پر آئی۔ تمام قوتیں اللہ ہی کی ہیں اور اس کے عذاب بھی بڑے بھاری ہیں کوئی نہیں جو اس پر غالب آ سکے کوئی نہیں جو اس سے بھاگ سکے۔

صفحہ نمبر3340

اللہ ظالم نہیں لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنی دی ہوئی نعمتیں گناہوں سے پہلے نہیں چھینتا۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ ۗ وَإِذَا أَرَادَ اللَّـهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ ۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَالٍ» [ 13-الرعد: 11 ] ‏ ” اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی ان باتوں کو نہ بدل دیں جو ان کے دلوں میں ہیں۔ جب وہ کسی قوم کی باتوں کی وجہ سے انہیں برائی پہنچانا چاہتا ہے تو اس کے ارادے کوئی بدل نہیں سکتا۔ نہ اس کے پاس کوئی حمایتی کھڑا ہو سکتا ہے۔“

” تم دیکھ لو کہ فرعونیوں اور ان جیسے ان سے گزشتہ لوگوں کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ انہیں اللہ نے اپنی نعمتیں دیں وہ سیاہ کاریوں میں مبتلا ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے دیئے ہوئے باغات چشمے کھیتیاں خزانے محلات اور نعمتیں جن میں وہ بد مست ہو رہے تھے سب چھین لیں۔ اس بارے میں انہوں نے اپنا برا آپ کیا۔ اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا۔“

صفحہ نمبر3341

اللہ ظالم نہیں لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنی دی ہوئی نعمتیں گناہوں سے پہلے نہیں چھینتا۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ ۗ وَإِذَا أَرَادَ اللَّـهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ ۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَالٍ» [ 13-الرعد: 11 ] ‏ ” اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی ان باتوں کو نہ بدل دیں جو ان کے دلوں میں ہیں۔ جب وہ کسی قوم کی باتوں کی وجہ سے انہیں برائی پہنچانا چاہتا ہے تو اس کے ارادے کوئی بدل نہیں سکتا۔ نہ اس کے پاس کوئی حمایتی کھڑا ہو سکتا ہے۔“

” تم دیکھ لو کہ فرعونیوں اور ان جیسے ان سے گزشتہ لوگوں کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ انہیں اللہ نے اپنی نعمتیں دیں وہ سیاہ کاریوں میں مبتلا ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے دیئے ہوئے باغات چشمے کھیتیاں خزانے محلات اور نعمتیں جن میں وہ بد مست ہو رہے تھے سب چھین لیں۔ اس بارے میں انہوں نے اپنا برا آپ کیا۔ اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا۔“

صفحہ نمبر3341

زمیں کی بدترین مخلوق وعدہ خلاف کفار ہیں ٭٭

زمین پر جتنے بھی چلتے پھرتے ہیں ان سب سے بد تر اللہ کے نزدیک بے ایمان کافر ہیں جو عہد کر کے توڑ دیتے ہیں۔ ادھر قول و قرار کیا ادھر پھر گئے، ادھر قسمیں کھائیں ادھر توڑ دیں۔ نہ اللہ کا خوف نہ گناہ کا کھٹکا۔ پس جو ان پر لڑائی میں غالب آ جائے تو ایسی سزا کے بعد آنے والوں کو بھی عبرت حاصل ہو۔ وہ بھی خوف زدہ ہو جائیں پھر ممکن ہے کہ اپنے ایسے کرتوت سے باز رہیں۔

صفحہ نمبر3343

زمیں کی بدترین مخلوق وعدہ خلاف کفار ہیں ٭٭

زمین پر جتنے بھی چلتے پھرتے ہیں ان سب سے بد تر اللہ کے نزدیک بے ایمان کافر ہیں جو عہد کر کے توڑ دیتے ہیں۔ ادھر قول و قرار کیا ادھر پھر گئے، ادھر قسمیں کھائیں ادھر توڑ دیں۔ نہ اللہ کا خوف نہ گناہ کا کھٹکا۔ پس جو ان پر لڑائی میں غالب آ جائے تو ایسی سزا کے بعد آنے والوں کو بھی عبرت حاصل ہو۔ وہ بھی خوف زدہ ہو جائیں پھر ممکن ہے کہ اپنے ایسے کرتوت سے باز رہیں۔

صفحہ نمبر3343

زمیں کی بدترین مخلوق وعدہ خلاف کفار ہیں ٭٭

زمین پر جتنے بھی چلتے پھرتے ہیں ان سب سے بد تر اللہ کے نزدیک بے ایمان کافر ہیں جو عہد کر کے توڑ دیتے ہیں۔ ادھر قول و قرار کیا ادھر پھر گئے، ادھر قسمیں کھائیں ادھر توڑ دیں۔ نہ اللہ کا خوف نہ گناہ کا کھٹکا۔ پس جو ان پر لڑائی میں غالب آ جائے تو ایسی سزا کے بعد آنے والوں کو بھی عبرت حاصل ہو۔ وہ بھی خوف زدہ ہو جائیں پھر ممکن ہے کہ اپنے ایسے کرتوت سے باز رہیں۔

صفحہ نمبر3343

اللہ خائنوں کو پسند نہیں فرماتا ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ” اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی سے تمہارا عہد و پیمان ہو اور تمہیں خوف ہو کہ یہ بدعہدی اور وعدہ خلافی کریں گے تو تمہیں اختیار دیا جاتا ہے کہ برابری کی حالت میں عہد نامہ توڑ دو اور انہیں اطلاع کر دو تاکہ وہ بھی صلح کے خیال میں نہ رہیں۔ کچھ دن پہلے ہی سے انہیں خبر دو۔ اللہ خیانت کو ناپسند فرماتا ہے کافروں سے بھی تم خیانت نہ کرو۔“

مسند احمد میں ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے لشکریوں کی روم کی سرحد کی طرف پیش قدمی شروع کی کہ مدت صلح ختم ہوتے ہی ان پر اچانک حملہ کر دیں تو ایک شیخ اپنی سواری پر سوار یہ کہتے ہوئے آئے کہ وعدہ وفائی کرو، عذر درست نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جب کسی قوم سے عہد و پیمان ہو جائیں تو نہ کوئی گرہ کھولو نہ باندھو جب تک کہ مدت صلح ختم نہ جوئے یا انہیں اطلاع دے کر عہد نامہ چاک نہ ہو جائے۔ جب یہ بات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو آپ نے اسی وقت فوج کو واپسی کا حکم دے دیا۔ یہ شیخ عمرو بن عنبسہ رضی اللہ عنہ تھے۔ [سنن ابوداود:2759،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر3346

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ایک شہر کے قلعے کے پاس پہنچ کر اپنے ساتھیوں سے فرمایا ”تم مجھے بلاؤ میں تمہیں بلاؤں گا جیسے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو انہیں بلاتے دیکھا ہے۔“ پھر فرمایا ”میں بھی انہیں میں سے ایک شخص تھا پس مجھے اللہ عزوجل نے اسلام کی ہدایت کی اگر تم بھی مسلمان ہو جاؤ تو جو ہمارا حق ہے وہی تمہارا حق ہو گا اور جو ہم پر ہے تم پر بھی وہی ہو گا اور اگر تم اس نہیں مانتے تو ذلت کے ساتھ تمہیں جزیہ دینا ہو گا اسے بھی قبول نہ کرو تو ہم تمہیں ابھی سے مطلع کرتے ہیں جب کہ ہم تم برابری کی حالت میں ہیں اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں رکھتا۔“ تین دن تک انہیں اسی طرح دعوت دی آخر چوتھے روز صبح ہی حملہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فتح دی اور مدد فرمائی۔ [سنن ترمذي:1548،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر3347

کفار کے مقابلہ کے ہر وقت تیار رہو ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” کافر لوگ یہ نہ سمجھیں کہ وہ ہم سے بھاگ نکلے ہم ان کی پکڑ پر قادر نہیں بلکہ وہ ہر وقت ہمارے قبضہ قدرت میں ہیں وہ ہمیں ہرا نہیں سکتے۔ “

اور آیت میں ہے «أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَن يَسْبِقُونَا ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ» ‏ [ 29-العنکبوت: 4 ] ‏ ” برائیاں کرنے والے ہم سے آگے بڑھ نہیں سکتے۔“

اور جگہ فرماتا ہے «‏لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ ۚ وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ ۖ وَلَبِئْسَ الْمَصِيرُ» [ 24-النور: 57 ] ‏ ” کافر ہمیں یہاں ہرا نہیں سکتے وہاں کا ٹھکانا آگ ہے جو بدترین جگہ ہے“

اور فرمان ہے «‏لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ» [ 3-آل عمران: 196، 197 ] ‏ ” کافروں کا شہروں میں آنا جانا چلنا پھرنا کہیں تجھے دھوکے میں نہ ڈال دے۔ یہ تو سب آنی جانی چیزیں ہیں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے جو بدترین گود ہے۔“

پھر مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنی طاقت و امکان کے مطابق ان کفار کے مقابلے کے لیے ہر وقت مستعد رہو جو قوت طاقت گھوڑے، لشکر رکھ سکتے ہیں موجود رکھو۔ مسند میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر قوت کی تفسیر تیر اندازی سے کی اور دو مرتبہ یہی فرمایا: تیر اندازی کیا کرو سواری کیا کرو اور تیر اندازی گھوڑ سواری سے بہتر ہے۔ [صحیح مسلم:1917] ‏

فرماتے ہیں گھوڑوں کے پالنے والے تین قسم کے ہیں ایک تو اجر و ثواب پانے والے، ایک نہ تو ثواب نہ عذاب پانے والے ایک عذاب بھگتنے والے۔ جو جہاد کے ارادے سے پالے اس کے گھوڑے کا چلنا پھرنا تیرنا، چگنا باعث ثواب ہے یہاں تک کہ اگر وہ اپنی رسی توڑ کر کہیں چڑھ جائے تو بھی اس کے نشانات قدم اور اس کی لید پر اسے نیکیاں ملتی ہیں کسی نہر پر گزارتے ہوئے وہ پانی پی لے اگرچہ مجاہد نے پلانے کا ارادہ نہ بھی کیا ہو تاہم اسے نیکیاں ملتی ہیں۔ پس یہ گھوڑا تو اس کے پالنے والے کے لیے بڑے اجرو ثواب کا ذریعہ ہے۔ اور جس شخص نے گھوڑا اس نیت سے پالا کہ وہ دوسروں سے بے نیاز ہو جائے پھر اللہ کا حق بھی اس کی گردن اور اس کی سواری میں نہیں بھولا یہ اس کے لیے جائز ہے یعنی نہ اسے اجر نہ اسے گناہ۔ تیسرا وہ شخص جس نے فخر و ریا کے طور پر پالا اور مسلمانوں کے مقابلے کے لیے وہ اس کے ذمے و بال ہے اور اس کی گردن پر بوجھ ہے [سنن ترمذي:1637،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر3348

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اچھا گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ فرمایا: اس کے بارے میں کوئی آیت تو اتری نہیں ہاں یہ جامع عام آیت موجود ہے کہ «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ‏ [ 99- الزلزلة: 7، 8 ] ‏ ” جو شخص ایک ذرے کے برابر نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو کوئی ایک ذرے کے برابر بھی برائی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا۔“ [صحیح بخاری:2371] ‏ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے اور حدیث میں یہ الفاظ ہیں گھوڑے تین طرح کے ہیں۔ رحمان کے شیطان کے اور انسان کے۔ اس میں ہے کی شیطانی گھوڑے وہ ہیں جو گھوڑ دوڑ کی شرطیں لگانے اور جوئے بازی کرنے کے لیے ہوں۔ [مسند احمد:395/1:صحیح] ‏

اکثر علماء کا قول ہے کہ تیر اندازی گھوڑ سواری سے افضل ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ اس کے خلاف ہیں لیکن جمہور کا قول قوی ہے کہ کیونکہ حدیث میں آ چکا ہے۔ حضرت معاویہ بن خدیج سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اس وقت وہ اپنے گھوڑے کی خدمت کر رہے تھے پوچھا تمہیں یہ گھوڑا کیا کام آتا ہے؟ فرمایا ”میرا خیال ہے کہ اس جانور کی دعا میرے حق میں قبول ہو گی۔“ کہا جانور اور دعا؟ فرمایا ”ہاں اللہ کی قسم ہر گھوڑا ہرصبح دعا کرتا ہے کہ اے اللہ تو نے مجھے اپنے بندوں میں سے ایک کے حوالے کیا ہے تو مجھے اس کی تمام اہل سے اور مال سے اور اولاد سے زیادہ محبوب بنا کر اس کے پاس رکھ۔“ [مسند احمد:162/5:صحیح] ‏

ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر عربی گھوڑے کو ہر صبح دو دعائیں کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں گھوڑوں کی پیشانیوں میں بھلائی بندھی ہوئی ہے گھوڑوں والے اللہ کی مدد میں ہیں اسے نیک نیتی سے جہاد کے ارادے سے پالنے والا ایسا ہے جیسے کوئی شخص ہر وقت ہاتھ بڑھاکر خیرات کرتا رہے۔ [سنن ابوداود:4089،قال الشيخ الألباني:صحیح موقوف] ‏

صفحہ نمبر3349

اور بھی حدیثیں اس بارے میں بہت سی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں بھلائی کی تفصیل ہے کہ اجر اور غنیمت۔ [صحیح بخاری:2850] ‏

فرماتا ہے ” اس سے تمہارے دشمن خوف زدہ اور ہیبت خوردہ رہیں گے ان ظاہری مقابلے کے دشمنوں کے علاوہ اور دشمن بھی ہیں۔ “ یعنی بنو قریظہ، فارس اور محلوں کے شیاطین۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ اس سے مراد جنات ہیں۔ ایک منکر حدیث میں ہے جس گھر میں کوئی آزاد گھوڑا ہو وہ گھر کبھی بد نصیب نہیں ہو گا۔ [طبرانی کبیر:ضعیف189/17] ‏ لیکن اس روایت کی تو سند ٹھیک ہے نہ یہ صحیح ہے۔

اور اس سے مراد منافق بھی لی گئی ہے۔ اور یہی قول زیادہ مناسب بھی ہے جیسے فرمان الٰہی ہے «‏وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِيْنَةِ ڀ مَرَدُوْا عَلَي النِّفَاقِ ۣ لَا تَعْلَمُھُمْ ۭ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ۭ سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيْمٍ» [ 9- التوبہ: 101 ] ‏ ” تمہارے چاروں طرف دیہاتی اور شہری منافق ہیں جنہیں تم نہیں جانتے لیکن ہم ان سے خوب واقف ہیں۔“

پھر ارشاد ہے کہ ” جہاد میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا بدلہ پاؤ گے۔“ ابوداؤد میں ہے کہ ایک درہم کا ثواب سات سو گنا کر کے ملے گا۔ [سنن ابوداود:2498،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

جیسے کہ «‏مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَـبْعَ سَـنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ۭوَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ» ‏ [ 2- البقرة: 261 ] ‏ اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی جو سوال کرے چاہے وہ کسی دین کا ہو اس کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:9114/5:ضعیف] ‏ یہ روایت غریب ہے ابن ابی حاتم نے اسے روایت کیا ہے۔

صفحہ نمبر3350

کفار کے مقابلہ کے ہر وقت تیار رہو ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” کافر لوگ یہ نہ سمجھیں کہ وہ ہم سے بھاگ نکلے ہم ان کی پکڑ پر قادر نہیں بلکہ وہ ہر وقت ہمارے قبضہ قدرت میں ہیں وہ ہمیں ہرا نہیں سکتے۔ “

اور آیت میں ہے «أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَن يَسْبِقُونَا ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ» ‏ [ 29-العنکبوت: 4 ] ‏ ” برائیاں کرنے والے ہم سے آگے بڑھ نہیں سکتے۔“

اور جگہ فرماتا ہے «‏لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ ۚ وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ ۖ وَلَبِئْسَ الْمَصِيرُ» [ 24-النور: 57 ] ‏ ” کافر ہمیں یہاں ہرا نہیں سکتے وہاں کا ٹھکانا آگ ہے جو بدترین جگہ ہے“

اور فرمان ہے «‏لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ» [ 3-آل عمران: 196، 197 ] ‏ ” کافروں کا شہروں میں آنا جانا چلنا پھرنا کہیں تجھے دھوکے میں نہ ڈال دے۔ یہ تو سب آنی جانی چیزیں ہیں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے جو بدترین گود ہے۔“

پھر مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنی طاقت و امکان کے مطابق ان کفار کے مقابلے کے لیے ہر وقت مستعد رہو جو قوت طاقت گھوڑے، لشکر رکھ سکتے ہیں موجود رکھو۔ مسند میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر قوت کی تفسیر تیر اندازی سے کی اور دو مرتبہ یہی فرمایا: تیر اندازی کیا کرو سواری کیا کرو اور تیر اندازی گھوڑ سواری سے بہتر ہے۔ [صحیح مسلم:1917] ‏

فرماتے ہیں گھوڑوں کے پالنے والے تین قسم کے ہیں ایک تو اجر و ثواب پانے والے، ایک نہ تو ثواب نہ عذاب پانے والے ایک عذاب بھگتنے والے۔ جو جہاد کے ارادے سے پالے اس کے گھوڑے کا چلنا پھرنا تیرنا، چگنا باعث ثواب ہے یہاں تک کہ اگر وہ اپنی رسی توڑ کر کہیں چڑھ جائے تو بھی اس کے نشانات قدم اور اس کی لید پر اسے نیکیاں ملتی ہیں کسی نہر پر گزارتے ہوئے وہ پانی پی لے اگرچہ مجاہد نے پلانے کا ارادہ نہ بھی کیا ہو تاہم اسے نیکیاں ملتی ہیں۔ پس یہ گھوڑا تو اس کے پالنے والے کے لیے بڑے اجرو ثواب کا ذریعہ ہے۔ اور جس شخص نے گھوڑا اس نیت سے پالا کہ وہ دوسروں سے بے نیاز ہو جائے پھر اللہ کا حق بھی اس کی گردن اور اس کی سواری میں نہیں بھولا یہ اس کے لیے جائز ہے یعنی نہ اسے اجر نہ اسے گناہ۔ تیسرا وہ شخص جس نے فخر و ریا کے طور پر پالا اور مسلمانوں کے مقابلے کے لیے وہ اس کے ذمے و بال ہے اور اس کی گردن پر بوجھ ہے [سنن ترمذي:1637،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر3348

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اچھا گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ فرمایا: اس کے بارے میں کوئی آیت تو اتری نہیں ہاں یہ جامع عام آیت موجود ہے کہ «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ‏ [ 99- الزلزلة: 7، 8 ] ‏ ” جو شخص ایک ذرے کے برابر نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو کوئی ایک ذرے کے برابر بھی برائی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا۔“ [صحیح بخاری:2371] ‏ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے اور حدیث میں یہ الفاظ ہیں گھوڑے تین طرح کے ہیں۔ رحمان کے شیطان کے اور انسان کے۔ اس میں ہے کی شیطانی گھوڑے وہ ہیں جو گھوڑ دوڑ کی شرطیں لگانے اور جوئے بازی کرنے کے لیے ہوں۔ [مسند احمد:395/1:صحیح] ‏

اکثر علماء کا قول ہے کہ تیر اندازی گھوڑ سواری سے افضل ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ اس کے خلاف ہیں لیکن جمہور کا قول قوی ہے کہ کیونکہ حدیث میں آ چکا ہے۔ حضرت معاویہ بن خدیج سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اس وقت وہ اپنے گھوڑے کی خدمت کر رہے تھے پوچھا تمہیں یہ گھوڑا کیا کام آتا ہے؟ فرمایا ”میرا خیال ہے کہ اس جانور کی دعا میرے حق میں قبول ہو گی۔“ کہا جانور اور دعا؟ فرمایا ”ہاں اللہ کی قسم ہر گھوڑا ہرصبح دعا کرتا ہے کہ اے اللہ تو نے مجھے اپنے بندوں میں سے ایک کے حوالے کیا ہے تو مجھے اس کی تمام اہل سے اور مال سے اور اولاد سے زیادہ محبوب بنا کر اس کے پاس رکھ۔“ [مسند احمد:162/5:صحیح] ‏

ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر عربی گھوڑے کو ہر صبح دو دعائیں کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں گھوڑوں کی پیشانیوں میں بھلائی بندھی ہوئی ہے گھوڑوں والے اللہ کی مدد میں ہیں اسے نیک نیتی سے جہاد کے ارادے سے پالنے والا ایسا ہے جیسے کوئی شخص ہر وقت ہاتھ بڑھاکر خیرات کرتا رہے۔ [سنن ابوداود:4089،قال الشيخ الألباني:صحیح موقوف] ‏

صفحہ نمبر3349

اور بھی حدیثیں اس بارے میں بہت سی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں بھلائی کی تفصیل ہے کہ اجر اور غنیمت۔ [صحیح بخاری:2850] ‏

فرماتا ہے ” اس سے تمہارے دشمن خوف زدہ اور ہیبت خوردہ رہیں گے ان ظاہری مقابلے کے دشمنوں کے علاوہ اور دشمن بھی ہیں۔ “ یعنی بنو قریظہ، فارس اور محلوں کے شیاطین۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ اس سے مراد جنات ہیں۔ ایک منکر حدیث میں ہے جس گھر میں کوئی آزاد گھوڑا ہو وہ گھر کبھی بد نصیب نہیں ہو گا۔ [طبرانی کبیر:ضعیف189/17] ‏ لیکن اس روایت کی تو سند ٹھیک ہے نہ یہ صحیح ہے۔

اور اس سے مراد منافق بھی لی گئی ہے۔ اور یہی قول زیادہ مناسب بھی ہے جیسے فرمان الٰہی ہے «‏وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِيْنَةِ ڀ مَرَدُوْا عَلَي النِّفَاقِ ۣ لَا تَعْلَمُھُمْ ۭ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ۭ سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيْمٍ» [ 9- التوبہ: 101 ] ‏ ” تمہارے چاروں طرف دیہاتی اور شہری منافق ہیں جنہیں تم نہیں جانتے لیکن ہم ان سے خوب واقف ہیں۔“

پھر ارشاد ہے کہ ” جہاد میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا بدلہ پاؤ گے۔“ ابوداؤد میں ہے کہ ایک درہم کا ثواب سات سو گنا کر کے ملے گا۔ [سنن ابوداود:2498،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

جیسے کہ «‏مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَـبْعَ سَـنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ۭوَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ» ‏ [ 2- البقرة: 261 ] ‏ اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی جو سوال کرے چاہے وہ کسی دین کا ہو اس کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:9114/5:ضعیف] ‏ یہ روایت غریب ہے ابن ابی حاتم نے اسے روایت کیا ہے۔

صفحہ نمبر3350

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com