John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Anfaal

Tafsir Ibn Kathir · The Spoils of War · 75 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

بخاری شریف میں ہے ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سورۃ الانفال غزوہ بدر کے بارے میں اتری ہے۔ [صحیح بخاری:4645] ‏ فرماتے ہیں انفال سے مراد غنیمتیں ہیں۔ [صحیح بخاری کتاب التفسیر سورۃ الانفال باب:1] ‏ جو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہی تھیں ان میں سے کوئی چیز کسی اور کیلئے نہ تھی۔ آپ نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا گھوڑا بھی انفال میں سے ہے اور سامان بھی۔ سائل نے پھر پوچھا آپ نے پھر یہی جواب دیا اس نے پھر پوچھا کہ جس انفال کا ذکر کتاب اللہ میں ہے اس سے کیا مراد ہے؟ غرض پوچھتے پوچھتے آپ کو تنگ کر دیا تو آپ نے فرمایا اس کا یہ کرتوت اس سے کم نہیں جسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مارا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:168/6] ‏

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے جب سوال ہوتا تو آپ فرماتے نہ تجھے حکم دیتا ہوں نہ منع کرتا ہوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں واللہ حق تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے والا حکم فرمانے والا حلال حرام کی وضاحت کرنے والا ہی بنا کر بھیجا ہے۔ آپ نے اس سائل کو جواب دیا کہ کسی کسی کو بطور نفل [ مال غنیمت ] ‏ گھوڑا بھی ملتا اور ہتھیار بھی۔ دو تین دفعہ اس نے یہی سوال کیا جس سے آپ غضبناک ہو گئے اور فرمانے لگے یہ تو ایسا ہی شخص ہے جسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کوڑے لگائے تھے یہاں تک کہ اس کی ایڑیاں اور ٹخنے خون آلود ہو گئے تھے۔ اس پر سائل کہنے لگا کہ خیر آپ سے تو اللہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا بدلہ لے ہی لیا۔ الغرض سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے نزدیک تو یہاں نفل سے مراد پانچویں حصے کے علاوہ وہ انعامی چیزیں ہیں جو امام اپنے سپاہیوں کو عطا فرمائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر3201

حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانچویں حصے کا مسئلہ پوچھا جو چار ایسے ہی حصوں کے بعد رہ جائے۔ پس یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:168/6] ‏

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں لڑائی والے دن اس سے زیادہ امام نہیں دے سکتا بلکہ لڑائی کے شروع سے پہلے اگر چاہے دیدے۔ عطا فرماتے ہیں کہ یہاں مراد مشرکوں کا وہ مال ہے جو بے لڑے بھڑے مل جائے خواہ جانور ہو خواہ لونڈی غلام یا اسباب ہو پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہی تھا آپ کو اختیار تھا کہ جس کام میں چاہیں لگا لیں تو گویا ان کے نزدیک مال فے انفال ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:169/6] ‏ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد لشکر کے کسی رسالے کو بعوض ان کی کارکردگی یا حوصلہ افزائی کے امام انہیں عام تقسیم سے کچھ زیادہ دے اسے انفال کہا جاتا ہے۔

مسند احمد میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر والے دن جب میرے بھائی عمیر قتل کئے گئے میں نے سعید بن العاص کو قتل کیا اور اس کی تلوار لے لی جسے ذوالکتیعہ کہا جاتا تھا سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے باقی مال کے ساتھ رکھ آؤ۔ میں نے حکم کی تعمیل تو کر لی لیکن اللہ ہی کو معلوم ہے کہ اس وقت میرے دل پر کیا گذری۔

صفحہ نمبر3202

ایک طرف بھائی کے قتل کا صدمہ دوسری طرف اپنا حاصل کردہ سامان واپس ہونے کا صدمہ۔ ابھی میں چند قدم ہی چلا ہوں گا جو سورۃ الانفال نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جاؤ اور وہ تلوار جو تم ڈال آئے ہو لے جاؤ ۔ [مسند احمد:180/1:حسن لغیرہ] ‏

مسند میں سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آج کے دن اللہ تعالیٰ نے مجھے مشرکوں سے بچا لیا اب آپ یہ تلوار مجھے دے دیجئیے آپ نے فرمایا: سنو نہ یہ تمہاری ہے نہ میری ہے۔ اسے بیت المال میں داخل کر دو ،میں نے رکھ دی اور میرے دل میں خیال آیا کہ آج جس نے مجھ جیسی محنت نہیں کی اسے یہ انعام مل جائے گا یہ کہتا ہوا جا ہی رہا تھا جو آواز آئی کہ کوئی میرا نام لے کر میرے پیچھے سے مجھے پکار رہا ہے لوٹا اور پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کہیں میرے بارے میں کوئی وحی نہیں اتری؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں تم نے مجھ سے تلوار مانگی تھی اس وقت وہ میری نہ تھی اب وہ مجھے دے دی گئی اور میں تمہیں دے رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ہے۔ [سنن ابوداود:2740،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

پس آیت «‏يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ ۭقُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۠ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ» [8-الأنفال:1] ‏، اس بارے میں اتری ہے جو ابوداؤد طیالسی میں انہی سے مروی ہے کہ میرے بارے میں چار آیتیں نازل ہوئی ہیں۔ مجھے بدر والے دن ایک تلوار ملی میں اسے لے کر سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یہ تلوار آپ مجھے عنایت فرمائیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ جہاں سے لی ہے وہیں رکھ دو ۔ میں نے پھر طلب کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا۔ میں نے پھر مانگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا۔ اسی وقت یہ آیت اتری۔

صفحہ نمبر3203

یہ پوری حدیث ہم نے آیت «‏وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْـنًا ۭ وَاِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِيْ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۭ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ‏ [ 29- العنكبوت: 8 ] ‏، کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ پس ایک تو یہ آیت دوسری آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ» [ 5- المآئدہ: 90 ] ‏، چوتھی آیت وصیت۔ [صحیح مسلم:1748] ‏

سیرت ابن اسحاق میں ہے ابوسعید مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی میں مجھے سیف بن عاند کی تلوار ملی جسے مرزبان کہا جاتا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ جو کچھ جس کسی کے پاس ہو وہ جمع کرا دے، میں بھی گیا اور وہ تلوار رکھ آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ اگر کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگتا تو آپ انکار نہ کرتے۔ ارقم بن ارقم خزاعی رضی اللہ عنہ نے اس تلوار کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کا سوال کیا آپ نے انہیں عطا فرما دی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15672] ‏

اس آیت کے نزول کا سبب مسند امام احمد میں ہے کہ ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے عبادہ رضی اللہ عنہ سے انفال کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا ہم بدریوں کے بارے میں ہے جبکہ ہم مال کفار کے بارے میں باہم اختلاف کرنے لگے اور جھگڑے بڑھ گئے تو یہ آیت اتری اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد ہو گئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال کو برابری سے تقسیم فرمایا۔ [مسند احمد:319/5:حسن لغیرہ] ‏

صفحہ نمبر3204

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوۂ بدر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ [مسند احمد:324/5:حسن لغیرہ] ‏ ہم غزوہ بدر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اللہ تعالیٰ نے کافروں کو شکست دے دی ہماری ایک جماعت نے تو ان کا تعاقب کیا کہ پوری ہزیمت دیدے دوسری جماعت نے مال غنیمت میدان جنگ سے سمیٹنا شروع کیا اور ایک جماعت اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد کھڑی ہو گئی کہ کہیں کوئی دشمن آپ کو کوئی ایذاء نہ پہنچائے۔ رات کو سب لوگ جمع ہوئے اور ہر جماعت اپنا حق اس مال پر جتانے لگی۔ پہلی جماعت نے کہا دشمنوں کو ہم نے ہی ہرایا ہے۔ دوسری جماعت نے کہا مال غنیمت ہمارا ہی سمیٹا ہوا ہے۔ تیسری جماعت نے کہا ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی چوکیداری کی ہے پس یہ آیت اتری اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس مال کو ہم میں تقسیم فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ حملے کی موجودگی میں چوتھائی بانٹتے اور لوٹتے وقت تہائی آپ انفال کو مکروہ سمجھتے۔ [سنن ترمذي:1561،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ابن مردویہ میں ہے کہ بدر والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ جو ایسا کرے اسے یہ انعام اور جو ایسا کرے اسے یہ انعام۔ اب نوجوان تو دوڑ پڑے اور کار نمایاں انجام دیئے۔ بوڑھوں نے مورچے تھامے اور جھنڈوں تلے رہے۔ اب جوانوں کا مطالبہ تھا کہ کل مال ہمیں ملنا چاہیئے بوڑھے کہتے تھے کہ لشکر گاہ کو ہم نے محفوظ رکھا تم اگر شکست اٹھاتے تو یہیں آتے۔

صفحہ نمبر3205

اسی جھگڑے کے فیصلے میں یہ آیت اتری۔ [سنن ابوداود:2737،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان ہو گیا تھا کہ جو کسی کافر کو قتل کرے اسے اتنا ملے گا اور جو کسی کافر کو قید کرے اسے اتنا ملے گا۔ ابوالیسر رضی اللہ عنہ دو قیدی پکڑ لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وعدہ یاد دلایا اس پر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما نے کہا کہ پھر تو ہم سب یونہی رہ جائیں گے۔ بزدلی یا بے طاقتی کی وجہ سے ہم آگے نہ بڑھے ہوں یہ بات نہیں بلکہ اس لیے کہ پچھلی جانب سے کفار نہ آ پڑیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف نہ پہنچے اس لیے ہم آپ کے اردگرد رہے، اسی جھگڑے کے فیصلے میں یہ آیت اتری اور آیت «وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ باللّٰهِ وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ ۭوَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [ 8- الانفال: 41 ] ‏، بھی اتری۔

امام ابو عبیداللہ قاسم بن سلام نے اپنی کتاب احوال الشرعیہ میں لکھا ہے کہ انفال غنیمت ہے اور حربی کافروں کے جو مال مسلمانوں کے قبضے میں آئیں وہ سب ہیں پس انفال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں تھے بدر والے دن بغیر پانچواں حصہ نکالے جس طرح اللہ نے آپ کو سمجھایا آپ نے مجادین میں تقسیم کیا اس کے بعد پانچواں حصہ نکالنے کے حکم کی آیت اتری [سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:0000،۔] ‏ اور یہ پہلا حکم منسوخ ہو گیا لیکن ابن زید وغیرہ اسے منسوخ نہیں بتلاتے بلکہ محکم کہتے ہیں۔ انفال غنیمت کی جمع ہے مگر اس میں سے پانجواں حصہ مخصوص ہے۔ اس کی اہل کیلئے جیسے کہ کتاب اللہ میں حکم ہے اور جیسے کہ سنت رسول اللہ جاری ہوئی ہے۔

انفال کے معنی کلام عرب میں ہر اس احسان کے ہیں جسے کوئی بغیر کسی پابندی یا وجہ کے دوسرے کے ساتھ کرے۔ پہلے کی تمام امتوں پر یہ مال حرام تھے اس امت پر اللہ نے رحم فرمایا اور مال غنیمت ان کے لیے حلال کیا۔

صفحہ نمبر3206

چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں پھر ان کے ذکر میں ایک یہ ہے کہ آپ نے فرمایا میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئیں مجھ سے پہلے کسی کو حلال نہ تھیں۔ [صحیح بخاری:335] ‏

امام ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام جن لشکریوں کو کوئی انعام دے جو اس کے مقررہ حصہ کے علاوہ ہو اسے نفل کہتے ہیں غنیمت کے انداز اور اس کے کارنامے کے صلے کے برابر یہ ملتا ہے۔ اس نفل کی چار صورتیں ہیں ایک تو مقتول کا مال اسباب وغیرہ جس میں سے پانچواں حصہ نہیں نکالا جاتا۔ دوسرے وہ نفل جو پانچواں حصہ علیحدہ کرنے کے بعد دیا جاتا ہے۔ مثلاً امام نے کوئی چھوٹا سا لشکر کسی دشمن پر بھیج دیا وہ غنیمت یا مال لے کر پلٹا تو امام اس میں سے اسے چوتھائی یا تہائی بانٹ دے تیسرے صورت یہ کہ جو پانچواں حصہ نکال کر باقی کا تقسیم ہو چکا ہے، اب امام بقدر خزانہ اور بقدر شخصی جرات کے اس میں سے جسے جتنا چاہے دے۔ چوتھی صورت یہ کہ امام پانچواں حصہ نکالنے سے پہلے ہی کسی کو کچھ دے مثلاً چرواہوں کو، سائیسوں کو، بہشتیوں کو وغیرہ۔ پھر ہر صورت میں بہت کچھ اختلاف ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ نکالنے سے پہلے جو سامان اسباب مقتولین کا مجاہدین کو دیا جائے وہ انفال میں داخل ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا حصہ پانچویں حصے میں سے پانچواں جو تھا اس میں سے آپ جسے جاہیں جتنا چاہیں عطا فرمائیں یہ نفل ہے۔

صفحہ نمبر3207

پس امام کو چاہیئے کہ دشمنوں کی کثرت مسلمانوں کی قلت اور ایسے ہی ضروری وقتوں میں اس سنت کی تابعیداری کرے۔ ہاں جب ایسا موقع نہ ہو تو نفل ضروری نہیں۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ امام ایک چھوٹی سی جماعت کہیں بھیجتا ہے اور ان سے کہدیتا ہے کہ جو شخص جو کچھ حاصل کرے پانچواں حصہ نکال کر باقی سب اسی کا ہے تو وہ سب انہی کا ہے کیونکہ انہوں نے اسی شرط پر غزوہ کیا ہے اور یہ رضا مندی سے طے ہو چکی ہے۔ لیکن ان کے اس بیان میں جو کہا گیا ہے کہ بدر کی غنیمت کا پانچواں حصہ نہیں نکالا گیا۔ اس میں ذرا کلام ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ دو اونٹنیاں وہ ہیں جو انہیں بدر کے دن پانچویں حصے میں ملی تھیں میں نے اس کا پورا بیان کتاب السیرہ میں کر دیا ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

قولہ تعالیٰ «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ» ” تم اپنے کاموں میں اللہ کا ڈر رکھو، آپس میں صلح و صفائی رکھو، ظلم، جھگڑے اور مخالفت سے باز آ جاؤ۔ جو ہدایت و علم اللہ کی طرف سے تمہیں ملا ہے اس کی قدر کرو۔ اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے رہو، عدل و انصاف سے ان مالوں کو تقسیم کرو۔ پرہیزگاری اور صلاحیت اپنے اندر پیدا کرو “۔ سدی رحمة الله کہتے ہیں کہ «وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ» کے معنی ہیں کہ آپس میں لڑو جھگرو نہیں اور گالی گلوچ نہ بکو۔

مسند ابویعلیٰ میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے بیٹھے ایک مرتبہ مسکرائے اور پھر ہنس دیئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ فدا ہوں، کیسے ہنس دیئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے دو شخص اللہ رب العزت کے سامنے گھٹنوں کے بل کھڑے ہو گئے ایک نے کہا اللہ میرے بھائی سے میرے ظلم کا بدلہ لے اللہ نے اس سے فرمایا ٹھیک ہے اسے بدلہ دے اس نے کہا اللہ میرے پاس تو نیکیاں اب باقی نہیں رہیں اس نے کہا پھر اللہ میری برائیاں اس پر لا دھ دے۔

صفحہ نمبر3208

اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو نکل آئے اور فرمانے لگے وہ دن بڑا ہی سخت ہے لوگ چاہتے ہوں گے تلاش میں ہوں گے کہ کسی پر ان کا بوجھ لادھ دیا جائے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے طالب اپنی نگاہ اٹھا اور ان جنتیوں کو دیکھ وہ دیکھے گا اور کہے گا چاندی کے قلعے اور سونے کے محل میں دیکھ رہا ہوں جو لؤ لؤ اور موتیوں سے جڑاؤ کئے ہوئے ہیں پروردگار مجھے بتایا جائے کہ یہ مکانات اور یہ درجے کسی نبی کے ہیں یا کسی صدیق کے یا کسی شہید کے؟ اللہ فرمائے گا یہ اس کے ہیں جو ان کی قیمت ادا کر دے۔ وہ کہے گا اللہ کس سے ان کی قیمت ادا ہو سکے گی؟ فرمائے گا تیرے پاس تو اس کی قیمت ہے وہ خوش ہو کر پوچھے گا کہ پروردگار کیا؟ اللہ فرمائے گا یہی کہ تیرا جو حق اس مسلمان پر ہے تو اسے معاف کر دے، بہت جلد کہے گا کہ اللہ میں نے معاف کیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہو گا کہ اب اس کا ہاتھ تھام لے اور تم دونوں جنت میں چلے جاؤ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کا آخری حصہ تلاوت فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور آپس کی اصلاح کرو دیکھو اللہ تعالیٰ خود قیامت کے دن مومنوں میں صلح کرائے گا۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،۔] ‏

صفحہ نمبر3209

ایمان سے خالی لوگ اور حقیقت ایمان ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں منافقوں کے دل میں نہ فریضے کی ادائیگی کے وقت ذکر اللہ ہوتا ہے نہ کسی اور وقت پر۔ نہ ان کے دلوں میں ایمان کا نور ہوتا ہے نہ اللہ پر بھروسہ ہوتا ہے۔ نہ تنہائی میں نمازی رہتے ہیں نہ اپنے مال کی زکوٰۃ دیتے ہیں، ایسے لوگ ایمان سے خالی ہوتے ہیں، لیکن ایماندار ان کے برعکس ہوتے ہیں۔ ان کے دل یاد خالق سے کپکپاتے رہتے ہیں فرائض ادا کرتے ہیں آیات الٰہی سن کر ایمان چمک اٹھتے ہیں تصدیق میں بڑھ جاتے ہیں رب کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ کی یاد سے تھر تھراتے رہتے ہیں اللہ کا ڈر ان میں سمایا ہوا ہوتا ہے اسی وجہ سے نہ تو حکم کا خلاف کرتے ہیں نہ منع کئے ہوئے کام کو کرتے ہیں۔

جیسے فرمان ہے کہ «وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّـهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّـهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ» [ 3-آل عمران: 135 ] ‏ ” ان سے اگر کوئی برائی سرزد ہو بھی جاتی ہے تو یاد اللہ کرتے ہیں پھر اپنے گناہ سے استغفار کرتے ہیں حقیقت میں سوائے اللہ کے کوئی گناہوں کا بخشنے والا بھی نہیں۔ یہ لوگ باوجود علم کے کسی گناہ پر اصرار نہیں کرتے۔ “

اور آیتوں میں ہے آیت «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ» [ 79- النازعات: 40، 41 ] ‏، یعنی ” جو شخص اپنے رب کے پاس کھڑا ہونے سے ڈرا اور اپنے نفس کو خواہشوں سے روکا اس کا ٹھکانا جنت ہے۔ “

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے جی میں ظلم کرنے کی یا گناہ کرنے کی آتی ہے لیکن اگر ان سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈر جا وہیں ان کا دل کانپنے لگتا ہے، ام الدرداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دل اللہ کے خوف سے حرکت کرنے لگتے ہیں ایسے وقت انسان کو اللہ عزوجل سے دعا مانگنی چاہیئے۔ ایمانی حالت بھی ان کی روز بروز زیادتی میں رہتی ہے ادھر قرآنی آیات سنیں اور ایمان بڑھا۔

صفحہ نمبر3210

جیسے اور جگہ ہے کہ «وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـٰذِهِ إِيمَانًا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ» [ 9-التوبة: 124 ] ‏ ” جب کوئی سورت اترتی ہے تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس نے تم میں سے کس کا ایمان بڑھا دیا؟ بات یہ ہے کہ ایمان والوں کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور وہ خوش ہو جاتے ہیں۔“

اس آیت سے اور اس جیسی اور آیتوں سے امام الائمہ امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ کرام رحمہ اللہ علیہم نے استدلال کیا ہے کہ ایمان کی زیادتی سے مراد ہے کہ دلوں میں ایمان کم یا زیادہ ہوتا رہتا ہے یہی مذہب جمہور امت کا ہے بلکہ کئی ایک نے اس پر اجماع نقل کیا ہے جیسے شافعی، احمد بن حنبل، ابوعبیدہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ جیسے کہ ہم نے شرح بخاری کے شروع میں پوری طرح بیان کر دیا ہے۔ «والْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

«وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» یعنی ” ان کا بھروسہ صرف اپنے رب پر ہوتا ہے “ نہ اس کے سوا کسی سے وہ امید رکھیں نہ اس کے سوا کوئی ان کا مقصود، نہ اس کے سوا کسی سے وہ پناہ چاہیں نہ اس کے سوا کسی سے مرادیں مانگیں نہ کسی اور کی طرف جھکیں وہ جانتے ہیں کہ قدرتوں والا وہی ہے جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا ہرگز نہیں ہوتا تمام ملک میں اسی کا حکم چلتا ہے ملک صرف وہی ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں نہ اس کے کسی حکم کو کوئی ٹال سکے وہ جلد ہی حساب لینے والا ہے۔

سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ پر توکل کرنا ہی پورا ایمان ہے۔ «الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» ‏ [8-الأنفال:3] ‏ ان مومنوں کے ایمان اور اعتقاد کی حالت بیان فرما کر اب ان کے اعمال کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” وہ نمازوں کے پابند ہوتے ہیں۔ وقت کی، وضو کی، رکوع کی، سجدے کی، کامل پاکیزگی کی، قرآن کی تلاوت، تشہد، درود، سب چیزوں کی حفاظت و نگرانی کرتے ہیں۔“

صفحہ نمبر3211

اللہ کے اس حق کی ادائیگی کے ساتھ ہی بندوں کے حق بھی نہیں بھولتے۔ واجب خرچ یعنی زکوٰۃ مستحب خرچ یعنی للہ فی اللہ خیرات برابر دیتے ہیں چونکہ تمام مخلوق اللہ کی عیال ہے اس لیے اللہ کو سب سے زیادہ پیارا وہ ہے جو اس کی مخلوق کی سب سے زیادہ خدمت کرے اللہ کے دیئے ہوئے کو اللہ کی راہ میں دیتے رہو یہ مال تمہارے پاس اللہ کی امانت ہے بہت جلد تم اسے چھوڑ کر رخصت ہونے والے ہو۔

پھر فرماتا ہے کہ «أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا» [8-الأنفال:4] ‏ ” جن میں یہ اوصاف ہوں وہ سچے مومن ہیں “

طبرانی میں ہے کہ حارث بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرے تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ تمہاری صبح کس حال میں ہوئی؟ انہوں نے جواب دیا کہ سچے مومن ہونے کی حالت میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سمجھ لو کہ کیا کہہ رہے ہو؟ ہرچیز کی حقیقت ہوا کرتی ہے۔ جانتے ہو حقیقت ایمان کیا ہے؟ جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اپنی خواہشیں دنیا سے الگ کر لیں راتیں یاد اللہ میں جاگ کر دن اللہ کی راہ میں بھوکے پیاسے رہ کر گذراتا ہوں۔ گویا میں اللہ کے عرش کو اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھتا رہتا ہوں اور گویا کہ میں اہل جنت کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ آپس میں ہنسی خوشی ایک دوسرے سے مل جل رہے ہیں اور گویا کہ میں اہل دوزخ کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ دوزخ میں جل بھن رہے ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حارثہ تو نے حقیقت جان لی پس اس حال پر ہمیشہ قائم رہنا۔ تین مرتبہ یہی فرمایا۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏

پس آیت میں بالکل محاورہ عرب کے مطابق ہے جیسے وہ کہا کرتے ہیں کہ گو فلاں قوم میں سردار بہت سے ہیں لیکن صحیح معنی میں سردار فلاں ہے یا فلاں قبیلے میں تاجر بہت ہیں لیکن صحیح طور پر تاجر فلاں ہے، فلاں لوگوں میں شاعر ہیں لیکن سچا شاعر فلاں ہے۔

صفحہ نمبر3212

آیت میں ہے «هُمْ دَرَجَاتٌ عِندَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ» [ 3-آل عمران: 163 ] ‏ یعنی ” ان کے مرتبے اللہ کے ہاں بڑے بڑے ہیں اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے وہ ان کی لغزشوں سے درگذر فرمائے گا ان کی نیکیوں کی قدردانی کرے گا۔ “

گویہ درجے اونچے نیچے ہوں گے لیکن کسی بلند مرتبہ شخص کے دل میں یہ خیال نہ ہو گا کہ میں فلاں سے اعلیٰ ہوں اور نہ کسی ادنیٰ درجے والوں کو یہ خیال ہو گا کہ میں فلاں سے کم ہوں۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ علیین والوں کو نیچے کے درجے کے لوگ اس طرح دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے کناروں کے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یہ مرتبے تو انبیاء کے ہونگے؟ کوئی اور تو اس مرتبے پر نہ پہنچ سکے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں؟ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ لوگ بھی جو اللہ پر ایمان لائیں اور رسولوں کو سچ جانیں۔ [صحیح بخاری:3656] ‏

اہل سنن کی حدیث میں ہے کہ اہل جنت بلند درجہ جنتیوں کو ایسے دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے کناروں کے چمکیلے ستاروں کو دیکھا کرتے ہو یقیناً سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہم انہی میں ہیں اور بہت اچھے ہیں۔ [سنن ابن ماجہ:0000،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر3213

ایمان سے خالی لوگ اور حقیقت ایمان ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں منافقوں کے دل میں نہ فریضے کی ادائیگی کے وقت ذکر اللہ ہوتا ہے نہ کسی اور وقت پر۔ نہ ان کے دلوں میں ایمان کا نور ہوتا ہے نہ اللہ پر بھروسہ ہوتا ہے۔ نہ تنہائی میں نمازی رہتے ہیں نہ اپنے مال کی زکوٰۃ دیتے ہیں، ایسے لوگ ایمان سے خالی ہوتے ہیں، لیکن ایماندار ان کے برعکس ہوتے ہیں۔ ان کے دل یاد خالق سے کپکپاتے رہتے ہیں فرائض ادا کرتے ہیں آیات الٰہی سن کر ایمان چمک اٹھتے ہیں تصدیق میں بڑھ جاتے ہیں رب کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ کی یاد سے تھر تھراتے رہتے ہیں اللہ کا ڈر ان میں سمایا ہوا ہوتا ہے اسی وجہ سے نہ تو حکم کا خلاف کرتے ہیں نہ منع کئے ہوئے کام کو کرتے ہیں۔

جیسے فرمان ہے کہ «وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّـهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّـهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ» [ 3-آل عمران: 135 ] ‏ ” ان سے اگر کوئی برائی سرزد ہو بھی جاتی ہے تو یاد اللہ کرتے ہیں پھر اپنے گناہ سے استغفار کرتے ہیں حقیقت میں سوائے اللہ کے کوئی گناہوں کا بخشنے والا بھی نہیں۔ یہ لوگ باوجود علم کے کسی گناہ پر اصرار نہیں کرتے۔ “

اور آیتوں میں ہے آیت «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ» [ 79- النازعات: 40، 41 ] ‏، یعنی ” جو شخص اپنے رب کے پاس کھڑا ہونے سے ڈرا اور اپنے نفس کو خواہشوں سے روکا اس کا ٹھکانا جنت ہے۔ “

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے جی میں ظلم کرنے کی یا گناہ کرنے کی آتی ہے لیکن اگر ان سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈر جا وہیں ان کا دل کانپنے لگتا ہے، ام الدرداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دل اللہ کے خوف سے حرکت کرنے لگتے ہیں ایسے وقت انسان کو اللہ عزوجل سے دعا مانگنی چاہیئے۔ ایمانی حالت بھی ان کی روز بروز زیادتی میں رہتی ہے ادھر قرآنی آیات سنیں اور ایمان بڑھا۔

صفحہ نمبر3210

جیسے اور جگہ ہے کہ «وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـٰذِهِ إِيمَانًا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ» [ 9-التوبة: 124 ] ‏ ” جب کوئی سورت اترتی ہے تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس نے تم میں سے کس کا ایمان بڑھا دیا؟ بات یہ ہے کہ ایمان والوں کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور وہ خوش ہو جاتے ہیں۔“

اس آیت سے اور اس جیسی اور آیتوں سے امام الائمہ امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ کرام رحمہ اللہ علیہم نے استدلال کیا ہے کہ ایمان کی زیادتی سے مراد ہے کہ دلوں میں ایمان کم یا زیادہ ہوتا رہتا ہے یہی مذہب جمہور امت کا ہے بلکہ کئی ایک نے اس پر اجماع نقل کیا ہے جیسے شافعی، احمد بن حنبل، ابوعبیدہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ جیسے کہ ہم نے شرح بخاری کے شروع میں پوری طرح بیان کر دیا ہے۔ «والْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

«وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» یعنی ” ان کا بھروسہ صرف اپنے رب پر ہوتا ہے “ نہ اس کے سوا کسی سے وہ امید رکھیں نہ اس کے سوا کوئی ان کا مقصود، نہ اس کے سوا کسی سے وہ پناہ چاہیں نہ اس کے سوا کسی سے مرادیں مانگیں نہ کسی اور کی طرف جھکیں وہ جانتے ہیں کہ قدرتوں والا وہی ہے جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا ہرگز نہیں ہوتا تمام ملک میں اسی کا حکم چلتا ہے ملک صرف وہی ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں نہ اس کے کسی حکم کو کوئی ٹال سکے وہ جلد ہی حساب لینے والا ہے۔

سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ پر توکل کرنا ہی پورا ایمان ہے۔ «الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» ‏ [8-الأنفال:3] ‏ ان مومنوں کے ایمان اور اعتقاد کی حالت بیان فرما کر اب ان کے اعمال کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” وہ نمازوں کے پابند ہوتے ہیں۔ وقت کی، وضو کی، رکوع کی، سجدے کی، کامل پاکیزگی کی، قرآن کی تلاوت، تشہد، درود، سب چیزوں کی حفاظت و نگرانی کرتے ہیں۔“

صفحہ نمبر3211

اللہ کے اس حق کی ادائیگی کے ساتھ ہی بندوں کے حق بھی نہیں بھولتے۔ واجب خرچ یعنی زکوٰۃ مستحب خرچ یعنی للہ فی اللہ خیرات برابر دیتے ہیں چونکہ تمام مخلوق اللہ کی عیال ہے اس لیے اللہ کو سب سے زیادہ پیارا وہ ہے جو اس کی مخلوق کی سب سے زیادہ خدمت کرے اللہ کے دیئے ہوئے کو اللہ کی راہ میں دیتے رہو یہ مال تمہارے پاس اللہ کی امانت ہے بہت جلد تم اسے چھوڑ کر رخصت ہونے والے ہو۔

پھر فرماتا ہے کہ «أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا» [8-الأنفال:4] ‏ ” جن میں یہ اوصاف ہوں وہ سچے مومن ہیں “

طبرانی میں ہے کہ حارث بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرے تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ تمہاری صبح کس حال میں ہوئی؟ انہوں نے جواب دیا کہ سچے مومن ہونے کی حالت میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سمجھ لو کہ کیا کہہ رہے ہو؟ ہرچیز کی حقیقت ہوا کرتی ہے۔ جانتے ہو حقیقت ایمان کیا ہے؟ جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اپنی خواہشیں دنیا سے الگ کر لیں راتیں یاد اللہ میں جاگ کر دن اللہ کی راہ میں بھوکے پیاسے رہ کر گذراتا ہوں۔ گویا میں اللہ کے عرش کو اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھتا رہتا ہوں اور گویا کہ میں اہل جنت کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ آپس میں ہنسی خوشی ایک دوسرے سے مل جل رہے ہیں اور گویا کہ میں اہل دوزخ کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ دوزخ میں جل بھن رہے ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حارثہ تو نے حقیقت جان لی پس اس حال پر ہمیشہ قائم رہنا۔ تین مرتبہ یہی فرمایا۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏

پس آیت میں بالکل محاورہ عرب کے مطابق ہے جیسے وہ کہا کرتے ہیں کہ گو فلاں قوم میں سردار بہت سے ہیں لیکن صحیح معنی میں سردار فلاں ہے یا فلاں قبیلے میں تاجر بہت ہیں لیکن صحیح طور پر تاجر فلاں ہے، فلاں لوگوں میں شاعر ہیں لیکن سچا شاعر فلاں ہے۔

صفحہ نمبر3212

آیت میں ہے «هُمْ دَرَجَاتٌ عِندَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ» [ 3-آل عمران: 163 ] ‏ یعنی ” ان کے مرتبے اللہ کے ہاں بڑے بڑے ہیں اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے وہ ان کی لغزشوں سے درگذر فرمائے گا ان کی نیکیوں کی قدردانی کرے گا۔ “

گویہ درجے اونچے نیچے ہوں گے لیکن کسی بلند مرتبہ شخص کے دل میں یہ خیال نہ ہو گا کہ میں فلاں سے اعلیٰ ہوں اور نہ کسی ادنیٰ درجے والوں کو یہ خیال ہو گا کہ میں فلاں سے کم ہوں۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ علیین والوں کو نیچے کے درجے کے لوگ اس طرح دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے کناروں کے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یہ مرتبے تو انبیاء کے ہونگے؟ کوئی اور تو اس مرتبے پر نہ پہنچ سکے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں؟ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ لوگ بھی جو اللہ پر ایمان لائیں اور رسولوں کو سچ جانیں۔ [صحیح بخاری:3656] ‏

اہل سنن کی حدیث میں ہے کہ اہل جنت بلند درجہ جنتیوں کو ایسے دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے کناروں کے چمکیلے ستاروں کو دیکھا کرتے ہو یقیناً سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہم انہی میں ہیں اور بہت اچھے ہیں۔ [سنن ابن ماجہ:0000،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر3213

ایمان سے خالی لوگ اور حقیقت ایمان ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں منافقوں کے دل میں نہ فریضے کی ادائیگی کے وقت ذکر اللہ ہوتا ہے نہ کسی اور وقت پر۔ نہ ان کے دلوں میں ایمان کا نور ہوتا ہے نہ اللہ پر بھروسہ ہوتا ہے۔ نہ تنہائی میں نمازی رہتے ہیں نہ اپنے مال کی زکوٰۃ دیتے ہیں، ایسے لوگ ایمان سے خالی ہوتے ہیں، لیکن ایماندار ان کے برعکس ہوتے ہیں۔ ان کے دل یاد خالق سے کپکپاتے رہتے ہیں فرائض ادا کرتے ہیں آیات الٰہی سن کر ایمان چمک اٹھتے ہیں تصدیق میں بڑھ جاتے ہیں رب کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ کی یاد سے تھر تھراتے رہتے ہیں اللہ کا ڈر ان میں سمایا ہوا ہوتا ہے اسی وجہ سے نہ تو حکم کا خلاف کرتے ہیں نہ منع کئے ہوئے کام کو کرتے ہیں۔

جیسے فرمان ہے کہ «وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّـهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّـهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ» [ 3-آل عمران: 135 ] ‏ ” ان سے اگر کوئی برائی سرزد ہو بھی جاتی ہے تو یاد اللہ کرتے ہیں پھر اپنے گناہ سے استغفار کرتے ہیں حقیقت میں سوائے اللہ کے کوئی گناہوں کا بخشنے والا بھی نہیں۔ یہ لوگ باوجود علم کے کسی گناہ پر اصرار نہیں کرتے۔ “

اور آیتوں میں ہے آیت «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ» [ 79- النازعات: 40، 41 ] ‏، یعنی ” جو شخص اپنے رب کے پاس کھڑا ہونے سے ڈرا اور اپنے نفس کو خواہشوں سے روکا اس کا ٹھکانا جنت ہے۔ “

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے جی میں ظلم کرنے کی یا گناہ کرنے کی آتی ہے لیکن اگر ان سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈر جا وہیں ان کا دل کانپنے لگتا ہے، ام الدرداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دل اللہ کے خوف سے حرکت کرنے لگتے ہیں ایسے وقت انسان کو اللہ عزوجل سے دعا مانگنی چاہیئے۔ ایمانی حالت بھی ان کی روز بروز زیادتی میں رہتی ہے ادھر قرآنی آیات سنیں اور ایمان بڑھا۔

صفحہ نمبر3210

جیسے اور جگہ ہے کہ «وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـٰذِهِ إِيمَانًا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ» [ 9-التوبة: 124 ] ‏ ” جب کوئی سورت اترتی ہے تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس نے تم میں سے کس کا ایمان بڑھا دیا؟ بات یہ ہے کہ ایمان والوں کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور وہ خوش ہو جاتے ہیں۔“

اس آیت سے اور اس جیسی اور آیتوں سے امام الائمہ امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ کرام رحمہ اللہ علیہم نے استدلال کیا ہے کہ ایمان کی زیادتی سے مراد ہے کہ دلوں میں ایمان کم یا زیادہ ہوتا رہتا ہے یہی مذہب جمہور امت کا ہے بلکہ کئی ایک نے اس پر اجماع نقل کیا ہے جیسے شافعی، احمد بن حنبل، ابوعبیدہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ جیسے کہ ہم نے شرح بخاری کے شروع میں پوری طرح بیان کر دیا ہے۔ «والْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

«وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» یعنی ” ان کا بھروسہ صرف اپنے رب پر ہوتا ہے “ نہ اس کے سوا کسی سے وہ امید رکھیں نہ اس کے سوا کوئی ان کا مقصود، نہ اس کے سوا کسی سے وہ پناہ چاہیں نہ اس کے سوا کسی سے مرادیں مانگیں نہ کسی اور کی طرف جھکیں وہ جانتے ہیں کہ قدرتوں والا وہی ہے جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا ہرگز نہیں ہوتا تمام ملک میں اسی کا حکم چلتا ہے ملک صرف وہی ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں نہ اس کے کسی حکم کو کوئی ٹال سکے وہ جلد ہی حساب لینے والا ہے۔

سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ پر توکل کرنا ہی پورا ایمان ہے۔ «الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» ‏ [8-الأنفال:3] ‏ ان مومنوں کے ایمان اور اعتقاد کی حالت بیان فرما کر اب ان کے اعمال کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” وہ نمازوں کے پابند ہوتے ہیں۔ وقت کی، وضو کی، رکوع کی، سجدے کی، کامل پاکیزگی کی، قرآن کی تلاوت، تشہد، درود، سب چیزوں کی حفاظت و نگرانی کرتے ہیں۔“

صفحہ نمبر3211

اللہ کے اس حق کی ادائیگی کے ساتھ ہی بندوں کے حق بھی نہیں بھولتے۔ واجب خرچ یعنی زکوٰۃ مستحب خرچ یعنی للہ فی اللہ خیرات برابر دیتے ہیں چونکہ تمام مخلوق اللہ کی عیال ہے اس لیے اللہ کو سب سے زیادہ پیارا وہ ہے جو اس کی مخلوق کی سب سے زیادہ خدمت کرے اللہ کے دیئے ہوئے کو اللہ کی راہ میں دیتے رہو یہ مال تمہارے پاس اللہ کی امانت ہے بہت جلد تم اسے چھوڑ کر رخصت ہونے والے ہو۔

پھر فرماتا ہے کہ «أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا» [8-الأنفال:4] ‏ ” جن میں یہ اوصاف ہوں وہ سچے مومن ہیں “

طبرانی میں ہے کہ حارث بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرے تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ تمہاری صبح کس حال میں ہوئی؟ انہوں نے جواب دیا کہ سچے مومن ہونے کی حالت میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سمجھ لو کہ کیا کہہ رہے ہو؟ ہرچیز کی حقیقت ہوا کرتی ہے۔ جانتے ہو حقیقت ایمان کیا ہے؟ جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اپنی خواہشیں دنیا سے الگ کر لیں راتیں یاد اللہ میں جاگ کر دن اللہ کی راہ میں بھوکے پیاسے رہ کر گذراتا ہوں۔ گویا میں اللہ کے عرش کو اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھتا رہتا ہوں اور گویا کہ میں اہل جنت کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ آپس میں ہنسی خوشی ایک دوسرے سے مل جل رہے ہیں اور گویا کہ میں اہل دوزخ کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ دوزخ میں جل بھن رہے ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حارثہ تو نے حقیقت جان لی پس اس حال پر ہمیشہ قائم رہنا۔ تین مرتبہ یہی فرمایا۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏

پس آیت میں بالکل محاورہ عرب کے مطابق ہے جیسے وہ کہا کرتے ہیں کہ گو فلاں قوم میں سردار بہت سے ہیں لیکن صحیح معنی میں سردار فلاں ہے یا فلاں قبیلے میں تاجر بہت ہیں لیکن صحیح طور پر تاجر فلاں ہے، فلاں لوگوں میں شاعر ہیں لیکن سچا شاعر فلاں ہے۔

صفحہ نمبر3212

آیت میں ہے «هُمْ دَرَجَاتٌ عِندَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ» [ 3-آل عمران: 163 ] ‏ یعنی ” ان کے مرتبے اللہ کے ہاں بڑے بڑے ہیں اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے وہ ان کی لغزشوں سے درگذر فرمائے گا ان کی نیکیوں کی قدردانی کرے گا۔ “

گویہ درجے اونچے نیچے ہوں گے لیکن کسی بلند مرتبہ شخص کے دل میں یہ خیال نہ ہو گا کہ میں فلاں سے اعلیٰ ہوں اور نہ کسی ادنیٰ درجے والوں کو یہ خیال ہو گا کہ میں فلاں سے کم ہوں۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ علیین والوں کو نیچے کے درجے کے لوگ اس طرح دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے کناروں کے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یہ مرتبے تو انبیاء کے ہونگے؟ کوئی اور تو اس مرتبے پر نہ پہنچ سکے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں؟ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ لوگ بھی جو اللہ پر ایمان لائیں اور رسولوں کو سچ جانیں۔ [صحیح بخاری:3656] ‏

اہل سنن کی حدیث میں ہے کہ اہل جنت بلند درجہ جنتیوں کو ایسے دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے کناروں کے چمکیلے ستاروں کو دیکھا کرتے ہو یقیناً سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہم انہی میں ہیں اور بہت اچھے ہیں۔ [سنن ابن ماجہ:0000،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر3213

شمع رسالت کے جاں نثاروں کی دعائیں ٭٭

مفسرین نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ «كَمَا أَخْرَجَكَ» میں «كَمَا» کے آنے کا کیا سبب ہے۔ بعض نے کہا کہ آیت زیر ذکر میں تشبیہہ دی گئی ہے، مومنین کے باہمی صلح ساتھ ان کے ارتقاب اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں۔

ایک مطلب تو اس کا یہ ہے کہ جیسے تم نے مال غنیمت میں اختلاف کیا آخر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنے نبی کو اس کی تقسیم کا اختیار دے دیا اور اپنے عدل و انصاف کے ساتھ اسے تم میں بانٹ دیا درحقیقت تمہارے لیے اسی میں بھلائی تھی اسی طرح اس نے باوجود تمہاری اس چاہت کے کہ قریش کا تجارتی قافلہ تمہیں مل جائے اور جنگی جماعت سے مقابلہ نہ ہو اس نے تمہارا مقابلہ بغیر کسی وعدے کے ایک پر شکوہ جماعت سے کرا دیا اور تمہیں اس پر غالب کر دیا کہ اللہ کی بات بلند ہو جائے اور تمہیں فتح، نصرت، غلبہ اور شان شوکت عطا ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت «كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» ‏ [ 2-البقرة: 216 ] ‏، یعنی ” تم پر جہاد فرض کیا گیا حالانکہ تم اسے برا جانتے ہو بہت ممکن ہے کہ ایک چیز کو اپنے حق میں اچھی نہ جانو اور درحقیقت وہی تمہارے حق میں بہتر ہو اور حق میں وہ بد تر ہو۔ دراصل حقائق کا علم اللہ ہی کو ہے تم محض بےعلم ہو۔ “

دوسرا مطلب یہ ہے کہ جیسے مومنوں کے ایک گروہ کی چاہت کے خلاف تجھے تیرے رب نے شہر سے باہر لڑائی کیلئے نکالا اور نتیجہ اسی کا اچھا ہوا ایسے ہی جو لوگ جہاد کیلئے نکلنا بوجھ سمجھ رہے ہیں دراصل یہی ان کے حق میں بہتر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مال غنیمت میں ان کا اختلاف بالکل بدر والے دن کے اختلاف کے مشابہ تھا۔ کہنے لگے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قافلے کا فرمایا تھا لشکر کا نہیں ہم جنگی تیاری کر کے نکلے ہی نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے سے اسی ارادے سے نکلے تھے کہ ابوسفیان کے اس قافلے کو روکیں جو شام سے مدینہ کو قریشیوں کے بہت سے مال اسباب لے کر آ رہا تھا۔

صفحہ نمبر3216

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو تیار کیا اور تین سو دس سے کچھ اوپر لوگوں کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے سے چلے اور سمندر کے کنارے کے راستے کی طرف سے بدر کے مقام سے چلے۔ ابوسفیان کو چونکہ آپ کے نکلنے کی خبر پہنچ چکی تھی اس نے اپنا راستہ بدل دیا اور ایک تیز رو قاصد کو مکے دوڑایا۔ وہاں سے قریش قریب ایک ہزار کے لشکر جرار لے کر لوہے میں ڈوبے ہوئے بدر کے میدان میں پہنچ گئے پس یہ دونوں جماعتیں ٹکرا گئیں ایک گھمسان کی لڑائی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے حق کو فتح دلوائی اپنا دین بلند کیا اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی اور اسلام کو کفر پر غالب کیا جیسے کہ اب بیان ہو گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔

یہاں مقصد بیان صرف اتنا ہی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پتہ چلا کہ مشرکین کی جنگی مہم مکے سے آ رہی ہے اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ سے بذریعہ وحی کے وعدہ کیا کہ یا تو قافلہ آپ کو ملے گا یا لشکر کفار۔ اکثر مسلمان جی سے چاہتے تھے کہ قافلہ مل جائے کیونکہ یہ نسبتاً ہلکی چیز تھی لیکن اللہ کا ارادہ تھا کہ اسی وقت بغیر زیادہ تیاری اور اہتمام کے اور آپس کے قول قرار کے مڈبھیڑ ہو جائے اور حق وباطل کی تمیز ہو جائے کفار کی ہمت ٹوٹ جائے اور دین حق نکھر آئے۔

تفسیر ابن مردویہ میں ہے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ مدینے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ ابوسفیان کا قافلہ لوٹ رہا ہے تو کیا تم اس کے لیے تیار ہو کہ ہم اس قافلے کی طرف بڑھیں؟ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مال غنیمت دلوا دے۔ ہم سب نے تیاری ظاہر کی آپ ہمیں لے کر چلے ایک دن یا دو دن کا سفر کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ قریشیوں سے جہاد کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انہیں تمہارے چلنے کا علم ہو گیا ہے اور وہ تم سے لڑنے کیلئے چل پڑے ہیں۔

صفحہ نمبر3217

ہم نے جواب دیا کہ واللہ ہم میں ان سے مقابلے کی طاقت نہیں ہم تو صرف قافلے کے ارادے سے نکلے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی سوال کیا اور ہم نے پھر یہی جواب دیا۔ اب مقداد بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اس وقت آپ کو وہ نہ کہیں گے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ تو اور تیرا رب جا کر کافروں سے لڑے، ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب تو ہمیں بڑا ہی رنج ہونے لگا کہ کاش یہی جواب ہم بھی دیتے تو ہمیں مال کے ملنے سے اچھا تھا، پس یہ آیت «كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِن بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ» [8-الأنفال:5] ‏ اتری۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ بدر کی جانب چلتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روحا میں پہنچے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اس میں فرمایا کہ بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں ہمیں بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ فلاں فلاں جگہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر خطبہ دیا اور یہی فرمایا اب کی مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہی جواب دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تیسرے خطبے میں یہی فرمایا اس پر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے دریافت فرما رہے ہیں؟ اس اللہ کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت وبزرگی عنایت فرمائی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے نہ میں ان راستوں میں کبھی چلا ہوں اور نہ مجھے اس لشکر کا علم ہے ہاں اتنا میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ برک غماد تک بھی چڑھائی کریں تو واللہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب تھامے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوں گے ہم ان کی طرح نہیں جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہدیا تھا کہ «فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ» [ 5-المائدہ: 24 ] ‏ یعنی ” تو اپنے ساتھ اپنے پروردگار کو لے کر چلا جا اور تم دونوں ان سے لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔“

صفحہ نمبر3218

نہیں نہیں بلکہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ چلئے اللہ آپ کا ساتھ دے ہم تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر حکم کفار سے جہاد کے لیے صدق دل سے تیار ہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گو آپ کسی کام کو زیر نظر رکھ رکھ نکلے ہوں لیکن اس وقت کوئی اور نیا کام پیش نگاہ ہو تو «بِسْمِ اللَّـهِ» کیجئے، ہم تابعداری سے منہ پھیرنے والے نہیں۔ آپ جس سے چاہیں ناطہٰ توڑ لیجئے اور جس سے چاہیں جوڑ لیجئے جس سے چاہیں عداوت کیجئے اور جس سے چاہیں محبت کیجئے ہم اسی میں آپ کے ساتھ ہیں۔ یا رسول اللہ ہماری جانوں کے ساتھ ہمارے مال بھی حاضر ہیں، آپ کو جس قدر ضرورت ہو لیجئے اور کام میں لگائیے۔ پس سعد کے اس فرمان پر قران کی یہ آیتیں اتری ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15724:ضعیف] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن سے بدر میں جنگ کرنے کی بابت صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا اور سعد بن عباد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کو کمر بندی کا حکم دے دیا اس وقت بعض مسلمانوں کو یہ ذرا گراں گذرا اس پر یہ آیتیں اتریں۔

پس حق میں جھگڑنے سے مراد جہاد میں اختلاف کرنا ہے اور مشرکوں کے لشکر سے مڈبھیڑ ہونے اور ان کی طرف چلنے کو ناپسند کرنا ہے۔ اس کے بعد ان کے لیے واضح ہو گیا یعنی یہ امر کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بغیر حکم رب العزت کے کوئی حکم نہیں دیتے۔

صفحہ نمبر3219

دوسری تفسیر میں ہے کہ اس سے مراد مشرک لوگ ہیں جو حق میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ اسلام کا ماننا ان کے نزدیک ایسا ہے جیسے دیکھتے ہوئے موت کے منہ میں کودنا۔ یہ وصف مشرکوں کے سوا اور کسی کا نہیں اہل کفر کی پہلی علامت یہی ہے ابن زید کا یہ قول وارد کر کے امام ابن جرید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قول بالکل بے معنی ہے اس لیے کہ اس سے پہلے کا قول آیت «يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنظُرُونَ» [ 8-الانفال: 6 ] ‏ اہل ایمان کی خبر ہے تو اس سے متصل خبر بھی انہی کی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن اسحاق رحمہ اللہ ہی کا قول اس بارے میں ٹھیک ہے کہ یہ خبر مومنوں کی ہے نہ کہ کافروں کی۔ حق بات یہی ہے جو امام صاحب نے کہی۔ سیاق کلام کی دلالت بھی اسی پر ہے ـ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

مسند احمد میں ہے کہ بدر کی لڑائی کی فتح کے بعد بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اب چلئے قافلے کو بھی دبالیں اب کوئی روک نہیں ہے۔ اس وقت سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کفار سے قید ہو کر آئے ہوئے زنجیروں سے جکڑے ہوئے تھے اونچی آواز سے کہنے لگے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیوں؟ انہوں نے جواب دیا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا وہ اللہ نے پورا کیا ایک جماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مل گئی۔ [سنن ترمذي:3080،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر3220

مسلمانوں کی چاہت تھی کہ لڑائی والے گروہ سے تو مڈبھیڑ نہ ہو البتہ قافلے والے مل جائیں اور اللہ کی چاہت تھی کہ شوکت و شان والی قوت و گھمنڈوالی لڑائی بھڑائی والی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو جائے تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر تمہیں غالب کر کے تمہاری مدد کرے، اپنے دین کو ظاہر کر دے اور اپنے کلمے کو بلند کر دے اور اپنے دین کو دوسرے تمام دینوں پر اونچا کر دے پس انجام کی بھلائی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ اپنی عمدہ تدبیر سے تمہیں سنبھال رہا ہے تمہاری مرضی کے خلاف کرتا ہے اور اسی میں تمہاری مصلحت اور بھلائی ہوتی ہے جیسے فرمایا کہ «كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» [2-البقرة:216] ‏ ” جہاد تم پر لکھا گیا اور وہ تمہیں ناپسند ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ تمہاری ناپسندیدگی کی چیز میں ہی انجام کے لحاظ سے تمہارے لیے بہتری ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ درحقیقت تمہارے حق میں بری ہو۔“

اب جنگ بدر کا مختصر سا واقعہ بزبان سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سنئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ابوسفیان شام سے مع قافلے کے اور مع اسباب کے آ رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو فرمایا کہ چلو ان کا راستہ روکو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے یہ اسباب تمہیں دلوا دے۔ چونکہ کسی لڑانے والی جماعت سے لڑائی کرنے کا خیال بھی نہ تھا، اس لیے لوگ بغیر کسی خاص تیاری کے جیسے تھے ویسے ہی ہلکے پھلکے نکل کھڑے ہوئے۔

ابوسفیان بھی غافل نہ تھا اس نے جاسوس چھوڑ رکھے تھے اور آتے جاتوں سے بھی دریافت حال کر رہا تھا ایک قافلے سے اسے معلوم ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر تیرے اور تیرے قافلے کی طرف چل پڑے ہیں۔

صفحہ نمبر3221

اس نے ضیغم بن عمرو غفاری کو انعام دے دلا کر اسی وقت قریش مکہ کے پاس یہ پیغام دے کر روانہ کیا کہ تمہارے مال خطرے میں ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے اس طرف آ رہے ہیں تمہیں چاہیئے کہ پوری تیاری سے فوراً ہماری مدد کو آؤ اس نے بہت جلد وہاں پہنچ کر خبر دی تو قریشیوں نے زبردست حملے کی تیار کر لی اور نکل کھڑے ہوئے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب ذفران وادی میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے لشکروں کا سازو سامان سے نکلنا معلوم ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ لیا اور یہ خبر بھی کر دی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر جواب دیا اور بہت اچھا کہا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور آپ نے بھی معقول جواب دیا۔ پھر مقداد رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہو اسے انجام دیجئیے ہم جان و مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں اور ہر طرح فرمانبردار ہیں ہم بنو اسرائیل کی طرح نہیں کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہدیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب جا کر لڑ لو ہم تماشا دیکھتے ہیں نہیں بلکہ ہمارا یہ قول ہے کہ اللہ کی مدد کے ساتھ چلئے جنگ کیجئے ہم آپکے ساتھ ہیں اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ برک غماد تک یعنی حبشہ کے ملک تک بھی چلیں تو ہم ساتھ سے منہ نہ موڑیں گے اور وہاں پہنچائے اور پہنچے بغیر کسی طرح نہ رہیں گے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بہت اچھا کہا اور ان کو بڑی دعائیں دیں لیکن پھر بھی یہی فرماتے رہے کہ لوگو مجھے مشورہ دو میری بات کا جواب دو۔ اس سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انصاریوں کے گروہ سے تھی ایک تو اس لیے کہ گنتی میں یہی زیادہ تھے۔

صفحہ نمبر3222

دوسرے اس لیے بھی کہ عقبہ میں جب انصار نے بیعت کی تھی تو اس بات پر کی تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکے سے نکل کر مدینے میں پہنچ جائیں پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں جو بھی دشمن آپ پر چڑھائی کر کے آئے ہم اس کے مقابلے میں سینہ سپر ہو جائیں گے اس میں چونکہ یہ وعدہ نہ تھا کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی پر چڑھ کر جائیں تو بھی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیں گے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ اب ان کا ارادہ معلوم کر لیں۔

یہ سمجھ کر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور عرض کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جواب طلب فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہی بات ہے تو سعد نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا جانتے ہیں اور جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں اسے بھی حق مانتے ہیں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سننے اور اس پر عمل کرنے کی بیعت کر چکے ہیں۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو حکم اللہ تعالیٰ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا ہے اسے پورا کیجئے، ہم آپ کی ہمرکابی سے نہ ہٹیں گے۔

صفحہ نمبر3223

اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو اپنا سچا رسول بنا کر بھیجا ہے کہ اگر سمندر کے کنارے پر کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں گھوڑا ڈال دیں تو ہم بھی بلا تامل اس میں کود پڑیں گے ہم میں سے ایک کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ پائیں گے جسے ذرا سا بھی تامل ہو ہم اس پر بخوشی رضامند ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دشمنوں کے مقابلے پر چھوڑ دیں۔

ہم لڑائیوں میں بہادری کرنے والے مصیبت کے جھیلنے والے اور دشمن کے دل پر سکہ جما دینے والے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے کام دیکھ کر ان شاءاللہ خوش ہوں گے چلئے اللہ کا نام لے کر چڑھائی کیجئے اللہ برکت دے۔ ان کے اس جواب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی مسرور ہوئے اسی وقت کوچ کا حکم دیا کہ چلو اللہ کی برکت پر خوش ہو جاؤ۔ رب مجھ سے وعدہ کر چکا ہے کہ دو جماعتوں میں سے ایک جماعت ہمارے ہاتھ لگے گی واللہ میں تو ان لوگوں کے گرنے کی جگہ ابھی یہیں سے گویا اپنی آنکھوں دیکھ رہا ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15732] ‏

صفحہ نمبر3224

شمع رسالت کے جاں نثاروں کی دعائیں ٭٭

مفسرین نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ «كَمَا أَخْرَجَكَ» میں «كَمَا» کے آنے کا کیا سبب ہے۔ بعض نے کہا کہ آیت زیر ذکر میں تشبیہہ دی گئی ہے، مومنین کے باہمی صلح ساتھ ان کے ارتقاب اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں۔

ایک مطلب تو اس کا یہ ہے کہ جیسے تم نے مال غنیمت میں اختلاف کیا آخر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنے نبی کو اس کی تقسیم کا اختیار دے دیا اور اپنے عدل و انصاف کے ساتھ اسے تم میں بانٹ دیا درحقیقت تمہارے لیے اسی میں بھلائی تھی اسی طرح اس نے باوجود تمہاری اس چاہت کے کہ قریش کا تجارتی قافلہ تمہیں مل جائے اور جنگی جماعت سے مقابلہ نہ ہو اس نے تمہارا مقابلہ بغیر کسی وعدے کے ایک پر شکوہ جماعت سے کرا دیا اور تمہیں اس پر غالب کر دیا کہ اللہ کی بات بلند ہو جائے اور تمہیں فتح، نصرت، غلبہ اور شان شوکت عطا ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت «كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» ‏ [ 2-البقرة: 216 ] ‏، یعنی ” تم پر جہاد فرض کیا گیا حالانکہ تم اسے برا جانتے ہو بہت ممکن ہے کہ ایک چیز کو اپنے حق میں اچھی نہ جانو اور درحقیقت وہی تمہارے حق میں بہتر ہو اور حق میں وہ بد تر ہو۔ دراصل حقائق کا علم اللہ ہی کو ہے تم محض بےعلم ہو۔ “

دوسرا مطلب یہ ہے کہ جیسے مومنوں کے ایک گروہ کی چاہت کے خلاف تجھے تیرے رب نے شہر سے باہر لڑائی کیلئے نکالا اور نتیجہ اسی کا اچھا ہوا ایسے ہی جو لوگ جہاد کیلئے نکلنا بوجھ سمجھ رہے ہیں دراصل یہی ان کے حق میں بہتر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مال غنیمت میں ان کا اختلاف بالکل بدر والے دن کے اختلاف کے مشابہ تھا۔ کہنے لگے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قافلے کا فرمایا تھا لشکر کا نہیں ہم جنگی تیاری کر کے نکلے ہی نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے سے اسی ارادے سے نکلے تھے کہ ابوسفیان کے اس قافلے کو روکیں جو شام سے مدینہ کو قریشیوں کے بہت سے مال اسباب لے کر آ رہا تھا۔

صفحہ نمبر3216

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو تیار کیا اور تین سو دس سے کچھ اوپر لوگوں کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے سے چلے اور سمندر کے کنارے کے راستے کی طرف سے بدر کے مقام سے چلے۔ ابوسفیان کو چونکہ آپ کے نکلنے کی خبر پہنچ چکی تھی اس نے اپنا راستہ بدل دیا اور ایک تیز رو قاصد کو مکے دوڑایا۔ وہاں سے قریش قریب ایک ہزار کے لشکر جرار لے کر لوہے میں ڈوبے ہوئے بدر کے میدان میں پہنچ گئے پس یہ دونوں جماعتیں ٹکرا گئیں ایک گھمسان کی لڑائی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے حق کو فتح دلوائی اپنا دین بلند کیا اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی اور اسلام کو کفر پر غالب کیا جیسے کہ اب بیان ہو گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔

یہاں مقصد بیان صرف اتنا ہی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پتہ چلا کہ مشرکین کی جنگی مہم مکے سے آ رہی ہے اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ سے بذریعہ وحی کے وعدہ کیا کہ یا تو قافلہ آپ کو ملے گا یا لشکر کفار۔ اکثر مسلمان جی سے چاہتے تھے کہ قافلہ مل جائے کیونکہ یہ نسبتاً ہلکی چیز تھی لیکن اللہ کا ارادہ تھا کہ اسی وقت بغیر زیادہ تیاری اور اہتمام کے اور آپس کے قول قرار کے مڈبھیڑ ہو جائے اور حق وباطل کی تمیز ہو جائے کفار کی ہمت ٹوٹ جائے اور دین حق نکھر آئے۔

تفسیر ابن مردویہ میں ہے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ مدینے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ ابوسفیان کا قافلہ لوٹ رہا ہے تو کیا تم اس کے لیے تیار ہو کہ ہم اس قافلے کی طرف بڑھیں؟ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مال غنیمت دلوا دے۔ ہم سب نے تیاری ظاہر کی آپ ہمیں لے کر چلے ایک دن یا دو دن کا سفر کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ قریشیوں سے جہاد کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انہیں تمہارے چلنے کا علم ہو گیا ہے اور وہ تم سے لڑنے کیلئے چل پڑے ہیں۔

صفحہ نمبر3217

ہم نے جواب دیا کہ واللہ ہم میں ان سے مقابلے کی طاقت نہیں ہم تو صرف قافلے کے ارادے سے نکلے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی سوال کیا اور ہم نے پھر یہی جواب دیا۔ اب مقداد بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اس وقت آپ کو وہ نہ کہیں گے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ تو اور تیرا رب جا کر کافروں سے لڑے، ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب تو ہمیں بڑا ہی رنج ہونے لگا کہ کاش یہی جواب ہم بھی دیتے تو ہمیں مال کے ملنے سے اچھا تھا، پس یہ آیت «كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِن بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ» [8-الأنفال:5] ‏ اتری۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ بدر کی جانب چلتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روحا میں پہنچے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اس میں فرمایا کہ بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں ہمیں بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ فلاں فلاں جگہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر خطبہ دیا اور یہی فرمایا اب کی مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہی جواب دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تیسرے خطبے میں یہی فرمایا اس پر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے دریافت فرما رہے ہیں؟ اس اللہ کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت وبزرگی عنایت فرمائی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے نہ میں ان راستوں میں کبھی چلا ہوں اور نہ مجھے اس لشکر کا علم ہے ہاں اتنا میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ برک غماد تک بھی چڑھائی کریں تو واللہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب تھامے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوں گے ہم ان کی طرح نہیں جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہدیا تھا کہ «فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ» [ 5-المائدہ: 24 ] ‏ یعنی ” تو اپنے ساتھ اپنے پروردگار کو لے کر چلا جا اور تم دونوں ان سے لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔“

صفحہ نمبر3218

نہیں نہیں بلکہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ چلئے اللہ آپ کا ساتھ دے ہم تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر حکم کفار سے جہاد کے لیے صدق دل سے تیار ہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گو آپ کسی کام کو زیر نظر رکھ رکھ نکلے ہوں لیکن اس وقت کوئی اور نیا کام پیش نگاہ ہو تو «بِسْمِ اللَّـهِ» کیجئے، ہم تابعداری سے منہ پھیرنے والے نہیں۔ آپ جس سے چاہیں ناطہٰ توڑ لیجئے اور جس سے چاہیں جوڑ لیجئے جس سے چاہیں عداوت کیجئے اور جس سے چاہیں محبت کیجئے ہم اسی میں آپ کے ساتھ ہیں۔ یا رسول اللہ ہماری جانوں کے ساتھ ہمارے مال بھی حاضر ہیں، آپ کو جس قدر ضرورت ہو لیجئے اور کام میں لگائیے۔ پس سعد کے اس فرمان پر قران کی یہ آیتیں اتری ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15724:ضعیف] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن سے بدر میں جنگ کرنے کی بابت صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا اور سعد بن عباد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کو کمر بندی کا حکم دے دیا اس وقت بعض مسلمانوں کو یہ ذرا گراں گذرا اس پر یہ آیتیں اتریں۔

پس حق میں جھگڑنے سے مراد جہاد میں اختلاف کرنا ہے اور مشرکوں کے لشکر سے مڈبھیڑ ہونے اور ان کی طرف چلنے کو ناپسند کرنا ہے۔ اس کے بعد ان کے لیے واضح ہو گیا یعنی یہ امر کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بغیر حکم رب العزت کے کوئی حکم نہیں دیتے۔

صفحہ نمبر3219

دوسری تفسیر میں ہے کہ اس سے مراد مشرک لوگ ہیں جو حق میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ اسلام کا ماننا ان کے نزدیک ایسا ہے جیسے دیکھتے ہوئے موت کے منہ میں کودنا۔ یہ وصف مشرکوں کے سوا اور کسی کا نہیں اہل کفر کی پہلی علامت یہی ہے ابن زید کا یہ قول وارد کر کے امام ابن جرید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قول بالکل بے معنی ہے اس لیے کہ اس سے پہلے کا قول آیت «يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنظُرُونَ» [ 8-الانفال: 6 ] ‏ اہل ایمان کی خبر ہے تو اس سے متصل خبر بھی انہی کی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن اسحاق رحمہ اللہ ہی کا قول اس بارے میں ٹھیک ہے کہ یہ خبر مومنوں کی ہے نہ کہ کافروں کی۔ حق بات یہی ہے جو امام صاحب نے کہی۔ سیاق کلام کی دلالت بھی اسی پر ہے ـ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

مسند احمد میں ہے کہ بدر کی لڑائی کی فتح کے بعد بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اب چلئے قافلے کو بھی دبالیں اب کوئی روک نہیں ہے۔ اس وقت سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کفار سے قید ہو کر آئے ہوئے زنجیروں سے جکڑے ہوئے تھے اونچی آواز سے کہنے لگے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیوں؟ انہوں نے جواب دیا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا وہ اللہ نے پورا کیا ایک جماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مل گئی۔ [سنن ترمذي:3080،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر3220

مسلمانوں کی چاہت تھی کہ لڑائی والے گروہ سے تو مڈبھیڑ نہ ہو البتہ قافلے والے مل جائیں اور اللہ کی چاہت تھی کہ شوکت و شان والی قوت و گھمنڈوالی لڑائی بھڑائی والی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو جائے تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر تمہیں غالب کر کے تمہاری مدد کرے، اپنے دین کو ظاہر کر دے اور اپنے کلمے کو بلند کر دے اور اپنے دین کو دوسرے تمام دینوں پر اونچا کر دے پس انجام کی بھلائی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ اپنی عمدہ تدبیر سے تمہیں سنبھال رہا ہے تمہاری مرضی کے خلاف کرتا ہے اور اسی میں تمہاری مصلحت اور بھلائی ہوتی ہے جیسے فرمایا کہ «كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» [2-البقرة:216] ‏ ” جہاد تم پر لکھا گیا اور وہ تمہیں ناپسند ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ تمہاری ناپسندیدگی کی چیز میں ہی انجام کے لحاظ سے تمہارے لیے بہتری ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ درحقیقت تمہارے حق میں بری ہو۔“

اب جنگ بدر کا مختصر سا واقعہ بزبان سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سنئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ابوسفیان شام سے مع قافلے کے اور مع اسباب کے آ رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو فرمایا کہ چلو ان کا راستہ روکو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے یہ اسباب تمہیں دلوا دے۔ چونکہ کسی لڑانے والی جماعت سے لڑائی کرنے کا خیال بھی نہ تھا، اس لیے لوگ بغیر کسی خاص تیاری کے جیسے تھے ویسے ہی ہلکے پھلکے نکل کھڑے ہوئے۔

ابوسفیان بھی غافل نہ تھا اس نے جاسوس چھوڑ رکھے تھے اور آتے جاتوں سے بھی دریافت حال کر رہا تھا ایک قافلے سے اسے معلوم ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر تیرے اور تیرے قافلے کی طرف چل پڑے ہیں۔

صفحہ نمبر3221

اس نے ضیغم بن عمرو غفاری کو انعام دے دلا کر اسی وقت قریش مکہ کے پاس یہ پیغام دے کر روانہ کیا کہ تمہارے مال خطرے میں ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے اس طرف آ رہے ہیں تمہیں چاہیئے کہ پوری تیاری سے فوراً ہماری مدد کو آؤ اس نے بہت جلد وہاں پہنچ کر خبر دی تو قریشیوں نے زبردست حملے کی تیار کر لی اور نکل کھڑے ہوئے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب ذفران وادی میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے لشکروں کا سازو سامان سے نکلنا معلوم ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ لیا اور یہ خبر بھی کر دی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر جواب دیا اور بہت اچھا کہا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور آپ نے بھی معقول جواب دیا۔ پھر مقداد رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہو اسے انجام دیجئیے ہم جان و مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں اور ہر طرح فرمانبردار ہیں ہم بنو اسرائیل کی طرح نہیں کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہدیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب جا کر لڑ لو ہم تماشا دیکھتے ہیں نہیں بلکہ ہمارا یہ قول ہے کہ اللہ کی مدد کے ساتھ چلئے جنگ کیجئے ہم آپکے ساتھ ہیں اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ برک غماد تک یعنی حبشہ کے ملک تک بھی چلیں تو ہم ساتھ سے منہ نہ موڑیں گے اور وہاں پہنچائے اور پہنچے بغیر کسی طرح نہ رہیں گے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بہت اچھا کہا اور ان کو بڑی دعائیں دیں لیکن پھر بھی یہی فرماتے رہے کہ لوگو مجھے مشورہ دو میری بات کا جواب دو۔ اس سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انصاریوں کے گروہ سے تھی ایک تو اس لیے کہ گنتی میں یہی زیادہ تھے۔

صفحہ نمبر3222

دوسرے اس لیے بھی کہ عقبہ میں جب انصار نے بیعت کی تھی تو اس بات پر کی تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکے سے نکل کر مدینے میں پہنچ جائیں پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں جو بھی دشمن آپ پر چڑھائی کر کے آئے ہم اس کے مقابلے میں سینہ سپر ہو جائیں گے اس میں چونکہ یہ وعدہ نہ تھا کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی پر چڑھ کر جائیں تو بھی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیں گے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ اب ان کا ارادہ معلوم کر لیں۔

یہ سمجھ کر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور عرض کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جواب طلب فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہی بات ہے تو سعد نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا جانتے ہیں اور جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں اسے بھی حق مانتے ہیں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سننے اور اس پر عمل کرنے کی بیعت کر چکے ہیں۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو حکم اللہ تعالیٰ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا ہے اسے پورا کیجئے، ہم آپ کی ہمرکابی سے نہ ہٹیں گے۔

صفحہ نمبر3223

اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو اپنا سچا رسول بنا کر بھیجا ہے کہ اگر سمندر کے کنارے پر کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں گھوڑا ڈال دیں تو ہم بھی بلا تامل اس میں کود پڑیں گے ہم میں سے ایک کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ پائیں گے جسے ذرا سا بھی تامل ہو ہم اس پر بخوشی رضامند ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دشمنوں کے مقابلے پر چھوڑ دیں۔

ہم لڑائیوں میں بہادری کرنے والے مصیبت کے جھیلنے والے اور دشمن کے دل پر سکہ جما دینے والے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے کام دیکھ کر ان شاءاللہ خوش ہوں گے چلئے اللہ کا نام لے کر چڑھائی کیجئے اللہ برکت دے۔ ان کے اس جواب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی مسرور ہوئے اسی وقت کوچ کا حکم دیا کہ چلو اللہ کی برکت پر خوش ہو جاؤ۔ رب مجھ سے وعدہ کر چکا ہے کہ دو جماعتوں میں سے ایک جماعت ہمارے ہاتھ لگے گی واللہ میں تو ان لوگوں کے گرنے کی جگہ ابھی یہیں سے گویا اپنی آنکھوں دیکھ رہا ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15732] ‏

صفحہ نمبر3224

شمع رسالت کے جاں نثاروں کی دعائیں ٭٭

مفسرین نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ «كَمَا أَخْرَجَكَ» میں «كَمَا» کے آنے کا کیا سبب ہے۔ بعض نے کہا کہ آیت زیر ذکر میں تشبیہہ دی گئی ہے، مومنین کے باہمی صلح ساتھ ان کے ارتقاب اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں۔

ایک مطلب تو اس کا یہ ہے کہ جیسے تم نے مال غنیمت میں اختلاف کیا آخر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنے نبی کو اس کی تقسیم کا اختیار دے دیا اور اپنے عدل و انصاف کے ساتھ اسے تم میں بانٹ دیا درحقیقت تمہارے لیے اسی میں بھلائی تھی اسی طرح اس نے باوجود تمہاری اس چاہت کے کہ قریش کا تجارتی قافلہ تمہیں مل جائے اور جنگی جماعت سے مقابلہ نہ ہو اس نے تمہارا مقابلہ بغیر کسی وعدے کے ایک پر شکوہ جماعت سے کرا دیا اور تمہیں اس پر غالب کر دیا کہ اللہ کی بات بلند ہو جائے اور تمہیں فتح، نصرت، غلبہ اور شان شوکت عطا ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت «كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» ‏ [ 2-البقرة: 216 ] ‏، یعنی ” تم پر جہاد فرض کیا گیا حالانکہ تم اسے برا جانتے ہو بہت ممکن ہے کہ ایک چیز کو اپنے حق میں اچھی نہ جانو اور درحقیقت وہی تمہارے حق میں بہتر ہو اور حق میں وہ بد تر ہو۔ دراصل حقائق کا علم اللہ ہی کو ہے تم محض بےعلم ہو۔ “

دوسرا مطلب یہ ہے کہ جیسے مومنوں کے ایک گروہ کی چاہت کے خلاف تجھے تیرے رب نے شہر سے باہر لڑائی کیلئے نکالا اور نتیجہ اسی کا اچھا ہوا ایسے ہی جو لوگ جہاد کیلئے نکلنا بوجھ سمجھ رہے ہیں دراصل یہی ان کے حق میں بہتر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مال غنیمت میں ان کا اختلاف بالکل بدر والے دن کے اختلاف کے مشابہ تھا۔ کہنے لگے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قافلے کا فرمایا تھا لشکر کا نہیں ہم جنگی تیاری کر کے نکلے ہی نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے سے اسی ارادے سے نکلے تھے کہ ابوسفیان کے اس قافلے کو روکیں جو شام سے مدینہ کو قریشیوں کے بہت سے مال اسباب لے کر آ رہا تھا۔

صفحہ نمبر3216

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو تیار کیا اور تین سو دس سے کچھ اوپر لوگوں کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے سے چلے اور سمندر کے کنارے کے راستے کی طرف سے بدر کے مقام سے چلے۔ ابوسفیان کو چونکہ آپ کے نکلنے کی خبر پہنچ چکی تھی اس نے اپنا راستہ بدل دیا اور ایک تیز رو قاصد کو مکے دوڑایا۔ وہاں سے قریش قریب ایک ہزار کے لشکر جرار لے کر لوہے میں ڈوبے ہوئے بدر کے میدان میں پہنچ گئے پس یہ دونوں جماعتیں ٹکرا گئیں ایک گھمسان کی لڑائی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے حق کو فتح دلوائی اپنا دین بلند کیا اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی اور اسلام کو کفر پر غالب کیا جیسے کہ اب بیان ہو گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔

یہاں مقصد بیان صرف اتنا ہی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پتہ چلا کہ مشرکین کی جنگی مہم مکے سے آ رہی ہے اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ سے بذریعہ وحی کے وعدہ کیا کہ یا تو قافلہ آپ کو ملے گا یا لشکر کفار۔ اکثر مسلمان جی سے چاہتے تھے کہ قافلہ مل جائے کیونکہ یہ نسبتاً ہلکی چیز تھی لیکن اللہ کا ارادہ تھا کہ اسی وقت بغیر زیادہ تیاری اور اہتمام کے اور آپس کے قول قرار کے مڈبھیڑ ہو جائے اور حق وباطل کی تمیز ہو جائے کفار کی ہمت ٹوٹ جائے اور دین حق نکھر آئے۔

تفسیر ابن مردویہ میں ہے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ مدینے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ ابوسفیان کا قافلہ لوٹ رہا ہے تو کیا تم اس کے لیے تیار ہو کہ ہم اس قافلے کی طرف بڑھیں؟ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مال غنیمت دلوا دے۔ ہم سب نے تیاری ظاہر کی آپ ہمیں لے کر چلے ایک دن یا دو دن کا سفر کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ قریشیوں سے جہاد کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انہیں تمہارے چلنے کا علم ہو گیا ہے اور وہ تم سے لڑنے کیلئے چل پڑے ہیں۔

صفحہ نمبر3217

ہم نے جواب دیا کہ واللہ ہم میں ان سے مقابلے کی طاقت نہیں ہم تو صرف قافلے کے ارادے سے نکلے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی سوال کیا اور ہم نے پھر یہی جواب دیا۔ اب مقداد بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اس وقت آپ کو وہ نہ کہیں گے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ تو اور تیرا رب جا کر کافروں سے لڑے، ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب تو ہمیں بڑا ہی رنج ہونے لگا کہ کاش یہی جواب ہم بھی دیتے تو ہمیں مال کے ملنے سے اچھا تھا، پس یہ آیت «كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِن بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ» [8-الأنفال:5] ‏ اتری۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ بدر کی جانب چلتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روحا میں پہنچے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اس میں فرمایا کہ بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں ہمیں بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ فلاں فلاں جگہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر خطبہ دیا اور یہی فرمایا اب کی مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہی جواب دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تیسرے خطبے میں یہی فرمایا اس پر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے دریافت فرما رہے ہیں؟ اس اللہ کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت وبزرگی عنایت فرمائی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے نہ میں ان راستوں میں کبھی چلا ہوں اور نہ مجھے اس لشکر کا علم ہے ہاں اتنا میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ برک غماد تک بھی چڑھائی کریں تو واللہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب تھامے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوں گے ہم ان کی طرح نہیں جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہدیا تھا کہ «فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ» [ 5-المائدہ: 24 ] ‏ یعنی ” تو اپنے ساتھ اپنے پروردگار کو لے کر چلا جا اور تم دونوں ان سے لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔“

صفحہ نمبر3218

نہیں نہیں بلکہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ چلئے اللہ آپ کا ساتھ دے ہم تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر حکم کفار سے جہاد کے لیے صدق دل سے تیار ہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گو آپ کسی کام کو زیر نظر رکھ رکھ نکلے ہوں لیکن اس وقت کوئی اور نیا کام پیش نگاہ ہو تو «بِسْمِ اللَّـهِ» کیجئے، ہم تابعداری سے منہ پھیرنے والے نہیں۔ آپ جس سے چاہیں ناطہٰ توڑ لیجئے اور جس سے چاہیں جوڑ لیجئے جس سے چاہیں عداوت کیجئے اور جس سے چاہیں محبت کیجئے ہم اسی میں آپ کے ساتھ ہیں۔ یا رسول اللہ ہماری جانوں کے ساتھ ہمارے مال بھی حاضر ہیں، آپ کو جس قدر ضرورت ہو لیجئے اور کام میں لگائیے۔ پس سعد کے اس فرمان پر قران کی یہ آیتیں اتری ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15724:ضعیف] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن سے بدر میں جنگ کرنے کی بابت صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا اور سعد بن عباد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کو کمر بندی کا حکم دے دیا اس وقت بعض مسلمانوں کو یہ ذرا گراں گذرا اس پر یہ آیتیں اتریں۔

پس حق میں جھگڑنے سے مراد جہاد میں اختلاف کرنا ہے اور مشرکوں کے لشکر سے مڈبھیڑ ہونے اور ان کی طرف چلنے کو ناپسند کرنا ہے۔ اس کے بعد ان کے لیے واضح ہو گیا یعنی یہ امر کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بغیر حکم رب العزت کے کوئی حکم نہیں دیتے۔

صفحہ نمبر3219

دوسری تفسیر میں ہے کہ اس سے مراد مشرک لوگ ہیں جو حق میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ اسلام کا ماننا ان کے نزدیک ایسا ہے جیسے دیکھتے ہوئے موت کے منہ میں کودنا۔ یہ وصف مشرکوں کے سوا اور کسی کا نہیں اہل کفر کی پہلی علامت یہی ہے ابن زید کا یہ قول وارد کر کے امام ابن جرید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قول بالکل بے معنی ہے اس لیے کہ اس سے پہلے کا قول آیت «يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنظُرُونَ» [ 8-الانفال: 6 ] ‏ اہل ایمان کی خبر ہے تو اس سے متصل خبر بھی انہی کی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن اسحاق رحمہ اللہ ہی کا قول اس بارے میں ٹھیک ہے کہ یہ خبر مومنوں کی ہے نہ کہ کافروں کی۔ حق بات یہی ہے جو امام صاحب نے کہی۔ سیاق کلام کی دلالت بھی اسی پر ہے ـ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

مسند احمد میں ہے کہ بدر کی لڑائی کی فتح کے بعد بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اب چلئے قافلے کو بھی دبالیں اب کوئی روک نہیں ہے۔ اس وقت سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کفار سے قید ہو کر آئے ہوئے زنجیروں سے جکڑے ہوئے تھے اونچی آواز سے کہنے لگے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیوں؟ انہوں نے جواب دیا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا وہ اللہ نے پورا کیا ایک جماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مل گئی۔ [سنن ترمذي:3080،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر3220

مسلمانوں کی چاہت تھی کہ لڑائی والے گروہ سے تو مڈبھیڑ نہ ہو البتہ قافلے والے مل جائیں اور اللہ کی چاہت تھی کہ شوکت و شان والی قوت و گھمنڈوالی لڑائی بھڑائی والی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو جائے تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر تمہیں غالب کر کے تمہاری مدد کرے، اپنے دین کو ظاہر کر دے اور اپنے کلمے کو بلند کر دے اور اپنے دین کو دوسرے تمام دینوں پر اونچا کر دے پس انجام کی بھلائی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ اپنی عمدہ تدبیر سے تمہیں سنبھال رہا ہے تمہاری مرضی کے خلاف کرتا ہے اور اسی میں تمہاری مصلحت اور بھلائی ہوتی ہے جیسے فرمایا کہ «كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» [2-البقرة:216] ‏ ” جہاد تم پر لکھا گیا اور وہ تمہیں ناپسند ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ تمہاری ناپسندیدگی کی چیز میں ہی انجام کے لحاظ سے تمہارے لیے بہتری ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ درحقیقت تمہارے حق میں بری ہو۔“

اب جنگ بدر کا مختصر سا واقعہ بزبان سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سنئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ابوسفیان شام سے مع قافلے کے اور مع اسباب کے آ رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو فرمایا کہ چلو ان کا راستہ روکو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے یہ اسباب تمہیں دلوا دے۔ چونکہ کسی لڑانے والی جماعت سے لڑائی کرنے کا خیال بھی نہ تھا، اس لیے لوگ بغیر کسی خاص تیاری کے جیسے تھے ویسے ہی ہلکے پھلکے نکل کھڑے ہوئے۔

ابوسفیان بھی غافل نہ تھا اس نے جاسوس چھوڑ رکھے تھے اور آتے جاتوں سے بھی دریافت حال کر رہا تھا ایک قافلے سے اسے معلوم ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر تیرے اور تیرے قافلے کی طرف چل پڑے ہیں۔

صفحہ نمبر3221

اس نے ضیغم بن عمرو غفاری کو انعام دے دلا کر اسی وقت قریش مکہ کے پاس یہ پیغام دے کر روانہ کیا کہ تمہارے مال خطرے میں ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے اس طرف آ رہے ہیں تمہیں چاہیئے کہ پوری تیاری سے فوراً ہماری مدد کو آؤ اس نے بہت جلد وہاں پہنچ کر خبر دی تو قریشیوں نے زبردست حملے کی تیار کر لی اور نکل کھڑے ہوئے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب ذفران وادی میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے لشکروں کا سازو سامان سے نکلنا معلوم ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ لیا اور یہ خبر بھی کر دی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر جواب دیا اور بہت اچھا کہا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور آپ نے بھی معقول جواب دیا۔ پھر مقداد رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہو اسے انجام دیجئیے ہم جان و مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں اور ہر طرح فرمانبردار ہیں ہم بنو اسرائیل کی طرح نہیں کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہدیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب جا کر لڑ لو ہم تماشا دیکھتے ہیں نہیں بلکہ ہمارا یہ قول ہے کہ اللہ کی مدد کے ساتھ چلئے جنگ کیجئے ہم آپکے ساتھ ہیں اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ برک غماد تک یعنی حبشہ کے ملک تک بھی چلیں تو ہم ساتھ سے منہ نہ موڑیں گے اور وہاں پہنچائے اور پہنچے بغیر کسی طرح نہ رہیں گے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بہت اچھا کہا اور ان کو بڑی دعائیں دیں لیکن پھر بھی یہی فرماتے رہے کہ لوگو مجھے مشورہ دو میری بات کا جواب دو۔ اس سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انصاریوں کے گروہ سے تھی ایک تو اس لیے کہ گنتی میں یہی زیادہ تھے۔

صفحہ نمبر3222

دوسرے اس لیے بھی کہ عقبہ میں جب انصار نے بیعت کی تھی تو اس بات پر کی تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکے سے نکل کر مدینے میں پہنچ جائیں پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں جو بھی دشمن آپ پر چڑھائی کر کے آئے ہم اس کے مقابلے میں سینہ سپر ہو جائیں گے اس میں چونکہ یہ وعدہ نہ تھا کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی پر چڑھ کر جائیں تو بھی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیں گے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ اب ان کا ارادہ معلوم کر لیں۔

یہ سمجھ کر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور عرض کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جواب طلب فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہی بات ہے تو سعد نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا جانتے ہیں اور جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں اسے بھی حق مانتے ہیں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سننے اور اس پر عمل کرنے کی بیعت کر چکے ہیں۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو حکم اللہ تعالیٰ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا ہے اسے پورا کیجئے، ہم آپ کی ہمرکابی سے نہ ہٹیں گے۔

صفحہ نمبر3223

اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو اپنا سچا رسول بنا کر بھیجا ہے کہ اگر سمندر کے کنارے پر کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں گھوڑا ڈال دیں تو ہم بھی بلا تامل اس میں کود پڑیں گے ہم میں سے ایک کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ پائیں گے جسے ذرا سا بھی تامل ہو ہم اس پر بخوشی رضامند ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دشمنوں کے مقابلے پر چھوڑ دیں۔

ہم لڑائیوں میں بہادری کرنے والے مصیبت کے جھیلنے والے اور دشمن کے دل پر سکہ جما دینے والے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے کام دیکھ کر ان شاءاللہ خوش ہوں گے چلئے اللہ کا نام لے کر چڑھائی کیجئے اللہ برکت دے۔ ان کے اس جواب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی مسرور ہوئے اسی وقت کوچ کا حکم دیا کہ چلو اللہ کی برکت پر خوش ہو جاؤ۔ رب مجھ سے وعدہ کر چکا ہے کہ دو جماعتوں میں سے ایک جماعت ہمارے ہاتھ لگے گی واللہ میں تو ان لوگوں کے گرنے کی جگہ ابھی یہیں سے گویا اپنی آنکھوں دیکھ رہا ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15732] ‏

صفحہ نمبر3224

شمع رسالت کے جاں نثاروں کی دعائیں ٭٭

مفسرین نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ «كَمَا أَخْرَجَكَ» میں «كَمَا» کے آنے کا کیا سبب ہے۔ بعض نے کہا کہ آیت زیر ذکر میں تشبیہہ دی گئی ہے، مومنین کے باہمی صلح ساتھ ان کے ارتقاب اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں۔

ایک مطلب تو اس کا یہ ہے کہ جیسے تم نے مال غنیمت میں اختلاف کیا آخر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنے نبی کو اس کی تقسیم کا اختیار دے دیا اور اپنے عدل و انصاف کے ساتھ اسے تم میں بانٹ دیا درحقیقت تمہارے لیے اسی میں بھلائی تھی اسی طرح اس نے باوجود تمہاری اس چاہت کے کہ قریش کا تجارتی قافلہ تمہیں مل جائے اور جنگی جماعت سے مقابلہ نہ ہو اس نے تمہارا مقابلہ بغیر کسی وعدے کے ایک پر شکوہ جماعت سے کرا دیا اور تمہیں اس پر غالب کر دیا کہ اللہ کی بات بلند ہو جائے اور تمہیں فتح، نصرت، غلبہ اور شان شوکت عطا ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت «كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» ‏ [ 2-البقرة: 216 ] ‏، یعنی ” تم پر جہاد فرض کیا گیا حالانکہ تم اسے برا جانتے ہو بہت ممکن ہے کہ ایک چیز کو اپنے حق میں اچھی نہ جانو اور درحقیقت وہی تمہارے حق میں بہتر ہو اور حق میں وہ بد تر ہو۔ دراصل حقائق کا علم اللہ ہی کو ہے تم محض بےعلم ہو۔ “

دوسرا مطلب یہ ہے کہ جیسے مومنوں کے ایک گروہ کی چاہت کے خلاف تجھے تیرے رب نے شہر سے باہر لڑائی کیلئے نکالا اور نتیجہ اسی کا اچھا ہوا ایسے ہی جو لوگ جہاد کیلئے نکلنا بوجھ سمجھ رہے ہیں دراصل یہی ان کے حق میں بہتر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مال غنیمت میں ان کا اختلاف بالکل بدر والے دن کے اختلاف کے مشابہ تھا۔ کہنے لگے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قافلے کا فرمایا تھا لشکر کا نہیں ہم جنگی تیاری کر کے نکلے ہی نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے سے اسی ارادے سے نکلے تھے کہ ابوسفیان کے اس قافلے کو روکیں جو شام سے مدینہ کو قریشیوں کے بہت سے مال اسباب لے کر آ رہا تھا۔

صفحہ نمبر3216

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو تیار کیا اور تین سو دس سے کچھ اوپر لوگوں کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے سے چلے اور سمندر کے کنارے کے راستے کی طرف سے بدر کے مقام سے چلے۔ ابوسفیان کو چونکہ آپ کے نکلنے کی خبر پہنچ چکی تھی اس نے اپنا راستہ بدل دیا اور ایک تیز رو قاصد کو مکے دوڑایا۔ وہاں سے قریش قریب ایک ہزار کے لشکر جرار لے کر لوہے میں ڈوبے ہوئے بدر کے میدان میں پہنچ گئے پس یہ دونوں جماعتیں ٹکرا گئیں ایک گھمسان کی لڑائی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے حق کو فتح دلوائی اپنا دین بلند کیا اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی اور اسلام کو کفر پر غالب کیا جیسے کہ اب بیان ہو گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔

یہاں مقصد بیان صرف اتنا ہی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پتہ چلا کہ مشرکین کی جنگی مہم مکے سے آ رہی ہے اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ سے بذریعہ وحی کے وعدہ کیا کہ یا تو قافلہ آپ کو ملے گا یا لشکر کفار۔ اکثر مسلمان جی سے چاہتے تھے کہ قافلہ مل جائے کیونکہ یہ نسبتاً ہلکی چیز تھی لیکن اللہ کا ارادہ تھا کہ اسی وقت بغیر زیادہ تیاری اور اہتمام کے اور آپس کے قول قرار کے مڈبھیڑ ہو جائے اور حق وباطل کی تمیز ہو جائے کفار کی ہمت ٹوٹ جائے اور دین حق نکھر آئے۔

تفسیر ابن مردویہ میں ہے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ مدینے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ ابوسفیان کا قافلہ لوٹ رہا ہے تو کیا تم اس کے لیے تیار ہو کہ ہم اس قافلے کی طرف بڑھیں؟ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مال غنیمت دلوا دے۔ ہم سب نے تیاری ظاہر کی آپ ہمیں لے کر چلے ایک دن یا دو دن کا سفر کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ قریشیوں سے جہاد کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انہیں تمہارے چلنے کا علم ہو گیا ہے اور وہ تم سے لڑنے کیلئے چل پڑے ہیں۔

صفحہ نمبر3217

ہم نے جواب دیا کہ واللہ ہم میں ان سے مقابلے کی طاقت نہیں ہم تو صرف قافلے کے ارادے سے نکلے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی سوال کیا اور ہم نے پھر یہی جواب دیا۔ اب مقداد بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اس وقت آپ کو وہ نہ کہیں گے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ تو اور تیرا رب جا کر کافروں سے لڑے، ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب تو ہمیں بڑا ہی رنج ہونے لگا کہ کاش یہی جواب ہم بھی دیتے تو ہمیں مال کے ملنے سے اچھا تھا، پس یہ آیت «كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِن بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ» [8-الأنفال:5] ‏ اتری۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ بدر کی جانب چلتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روحا میں پہنچے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اس میں فرمایا کہ بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں ہمیں بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ فلاں فلاں جگہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر خطبہ دیا اور یہی فرمایا اب کی مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہی جواب دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تیسرے خطبے میں یہی فرمایا اس پر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے دریافت فرما رہے ہیں؟ اس اللہ کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت وبزرگی عنایت فرمائی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے نہ میں ان راستوں میں کبھی چلا ہوں اور نہ مجھے اس لشکر کا علم ہے ہاں اتنا میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ برک غماد تک بھی چڑھائی کریں تو واللہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب تھامے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوں گے ہم ان کی طرح نہیں جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہدیا تھا کہ «فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ» [ 5-المائدہ: 24 ] ‏ یعنی ” تو اپنے ساتھ اپنے پروردگار کو لے کر چلا جا اور تم دونوں ان سے لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔“

صفحہ نمبر3218

نہیں نہیں بلکہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ چلئے اللہ آپ کا ساتھ دے ہم تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر حکم کفار سے جہاد کے لیے صدق دل سے تیار ہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گو آپ کسی کام کو زیر نظر رکھ رکھ نکلے ہوں لیکن اس وقت کوئی اور نیا کام پیش نگاہ ہو تو «بِسْمِ اللَّـهِ» کیجئے، ہم تابعداری سے منہ پھیرنے والے نہیں۔ آپ جس سے چاہیں ناطہٰ توڑ لیجئے اور جس سے چاہیں جوڑ لیجئے جس سے چاہیں عداوت کیجئے اور جس سے چاہیں محبت کیجئے ہم اسی میں آپ کے ساتھ ہیں۔ یا رسول اللہ ہماری جانوں کے ساتھ ہمارے مال بھی حاضر ہیں، آپ کو جس قدر ضرورت ہو لیجئے اور کام میں لگائیے۔ پس سعد کے اس فرمان پر قران کی یہ آیتیں اتری ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15724:ضعیف] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن سے بدر میں جنگ کرنے کی بابت صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا اور سعد بن عباد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کو کمر بندی کا حکم دے دیا اس وقت بعض مسلمانوں کو یہ ذرا گراں گذرا اس پر یہ آیتیں اتریں۔

پس حق میں جھگڑنے سے مراد جہاد میں اختلاف کرنا ہے اور مشرکوں کے لشکر سے مڈبھیڑ ہونے اور ان کی طرف چلنے کو ناپسند کرنا ہے۔ اس کے بعد ان کے لیے واضح ہو گیا یعنی یہ امر کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بغیر حکم رب العزت کے کوئی حکم نہیں دیتے۔

صفحہ نمبر3219

دوسری تفسیر میں ہے کہ اس سے مراد مشرک لوگ ہیں جو حق میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ اسلام کا ماننا ان کے نزدیک ایسا ہے جیسے دیکھتے ہوئے موت کے منہ میں کودنا۔ یہ وصف مشرکوں کے سوا اور کسی کا نہیں اہل کفر کی پہلی علامت یہی ہے ابن زید کا یہ قول وارد کر کے امام ابن جرید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قول بالکل بے معنی ہے اس لیے کہ اس سے پہلے کا قول آیت «يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنظُرُونَ» [ 8-الانفال: 6 ] ‏ اہل ایمان کی خبر ہے تو اس سے متصل خبر بھی انہی کی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن اسحاق رحمہ اللہ ہی کا قول اس بارے میں ٹھیک ہے کہ یہ خبر مومنوں کی ہے نہ کہ کافروں کی۔ حق بات یہی ہے جو امام صاحب نے کہی۔ سیاق کلام کی دلالت بھی اسی پر ہے ـ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

مسند احمد میں ہے کہ بدر کی لڑائی کی فتح کے بعد بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اب چلئے قافلے کو بھی دبالیں اب کوئی روک نہیں ہے۔ اس وقت سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کفار سے قید ہو کر آئے ہوئے زنجیروں سے جکڑے ہوئے تھے اونچی آواز سے کہنے لگے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیوں؟ انہوں نے جواب دیا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا وہ اللہ نے پورا کیا ایک جماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مل گئی۔ [سنن ترمذي:3080،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر3220

مسلمانوں کی چاہت تھی کہ لڑائی والے گروہ سے تو مڈبھیڑ نہ ہو البتہ قافلے والے مل جائیں اور اللہ کی چاہت تھی کہ شوکت و شان والی قوت و گھمنڈوالی لڑائی بھڑائی والی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو جائے تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر تمہیں غالب کر کے تمہاری مدد کرے، اپنے دین کو ظاہر کر دے اور اپنے کلمے کو بلند کر دے اور اپنے دین کو دوسرے تمام دینوں پر اونچا کر دے پس انجام کی بھلائی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ اپنی عمدہ تدبیر سے تمہیں سنبھال رہا ہے تمہاری مرضی کے خلاف کرتا ہے اور اسی میں تمہاری مصلحت اور بھلائی ہوتی ہے جیسے فرمایا کہ «كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» [2-البقرة:216] ‏ ” جہاد تم پر لکھا گیا اور وہ تمہیں ناپسند ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ تمہاری ناپسندیدگی کی چیز میں ہی انجام کے لحاظ سے تمہارے لیے بہتری ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ درحقیقت تمہارے حق میں بری ہو۔“

اب جنگ بدر کا مختصر سا واقعہ بزبان سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سنئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ابوسفیان شام سے مع قافلے کے اور مع اسباب کے آ رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو فرمایا کہ چلو ان کا راستہ روکو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے یہ اسباب تمہیں دلوا دے۔ چونکہ کسی لڑانے والی جماعت سے لڑائی کرنے کا خیال بھی نہ تھا، اس لیے لوگ بغیر کسی خاص تیاری کے جیسے تھے ویسے ہی ہلکے پھلکے نکل کھڑے ہوئے۔

ابوسفیان بھی غافل نہ تھا اس نے جاسوس چھوڑ رکھے تھے اور آتے جاتوں سے بھی دریافت حال کر رہا تھا ایک قافلے سے اسے معلوم ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر تیرے اور تیرے قافلے کی طرف چل پڑے ہیں۔

صفحہ نمبر3221

اس نے ضیغم بن عمرو غفاری کو انعام دے دلا کر اسی وقت قریش مکہ کے پاس یہ پیغام دے کر روانہ کیا کہ تمہارے مال خطرے میں ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے اس طرف آ رہے ہیں تمہیں چاہیئے کہ پوری تیاری سے فوراً ہماری مدد کو آؤ اس نے بہت جلد وہاں پہنچ کر خبر دی تو قریشیوں نے زبردست حملے کی تیار کر لی اور نکل کھڑے ہوئے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب ذفران وادی میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے لشکروں کا سازو سامان سے نکلنا معلوم ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ لیا اور یہ خبر بھی کر دی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر جواب دیا اور بہت اچھا کہا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور آپ نے بھی معقول جواب دیا۔ پھر مقداد رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہو اسے انجام دیجئیے ہم جان و مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں اور ہر طرح فرمانبردار ہیں ہم بنو اسرائیل کی طرح نہیں کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہدیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب جا کر لڑ لو ہم تماشا دیکھتے ہیں نہیں بلکہ ہمارا یہ قول ہے کہ اللہ کی مدد کے ساتھ چلئے جنگ کیجئے ہم آپکے ساتھ ہیں اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ برک غماد تک یعنی حبشہ کے ملک تک بھی چلیں تو ہم ساتھ سے منہ نہ موڑیں گے اور وہاں پہنچائے اور پہنچے بغیر کسی طرح نہ رہیں گے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بہت اچھا کہا اور ان کو بڑی دعائیں دیں لیکن پھر بھی یہی فرماتے رہے کہ لوگو مجھے مشورہ دو میری بات کا جواب دو۔ اس سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انصاریوں کے گروہ سے تھی ایک تو اس لیے کہ گنتی میں یہی زیادہ تھے۔

صفحہ نمبر3222

دوسرے اس لیے بھی کہ عقبہ میں جب انصار نے بیعت کی تھی تو اس بات پر کی تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکے سے نکل کر مدینے میں پہنچ جائیں پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں جو بھی دشمن آپ پر چڑھائی کر کے آئے ہم اس کے مقابلے میں سینہ سپر ہو جائیں گے اس میں چونکہ یہ وعدہ نہ تھا کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی پر چڑھ کر جائیں تو بھی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیں گے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ اب ان کا ارادہ معلوم کر لیں۔

یہ سمجھ کر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور عرض کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جواب طلب فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہی بات ہے تو سعد نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا جانتے ہیں اور جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں اسے بھی حق مانتے ہیں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سننے اور اس پر عمل کرنے کی بیعت کر چکے ہیں۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو حکم اللہ تعالیٰ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا ہے اسے پورا کیجئے، ہم آپ کی ہمرکابی سے نہ ہٹیں گے۔

صفحہ نمبر3223

اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو اپنا سچا رسول بنا کر بھیجا ہے کہ اگر سمندر کے کنارے پر کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں گھوڑا ڈال دیں تو ہم بھی بلا تامل اس میں کود پڑیں گے ہم میں سے ایک کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ پائیں گے جسے ذرا سا بھی تامل ہو ہم اس پر بخوشی رضامند ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دشمنوں کے مقابلے پر چھوڑ دیں۔

ہم لڑائیوں میں بہادری کرنے والے مصیبت کے جھیلنے والے اور دشمن کے دل پر سکہ جما دینے والے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے کام دیکھ کر ان شاءاللہ خوش ہوں گے چلئے اللہ کا نام لے کر چڑھائی کیجئے اللہ برکت دے۔ ان کے اس جواب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی مسرور ہوئے اسی وقت کوچ کا حکم دیا کہ چلو اللہ کی برکت پر خوش ہو جاؤ۔ رب مجھ سے وعدہ کر چکا ہے کہ دو جماعتوں میں سے ایک جماعت ہمارے ہاتھ لگے گی واللہ میں تو ان لوگوں کے گرنے کی جگہ ابھی یہیں سے گویا اپنی آنکھوں دیکھ رہا ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15732] ‏

صفحہ نمبر3224

سب سے پہلا غزوہ بدر بنیاد لا الہ الا اللہ ٭٭

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کی طرف نظر ڈالی وہ تین سو سے کچھ اوپر تھے پھر مشرکین کو دیکھا ان کی تعدد ایک ہزار سے زیادہ تھی۔ اسی وقت آپ قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے چادر اوڑھے ہوئے تھے اور تہبند باندھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا شروع کی کہ الٰہی جو تیرا وعدہ ہے اسے اب پورا فرما الٰہی جو وعدہ تو نے مجھ سے کیا ہے وہی کر اے اللہ اہل اسلام کی یہ تھوڑی سی جماعت اگر ہلاک ہو جائے گی تو پھر کبھی بھی تیری توحید کے ساتھ زمین پر عبادت نہ ہو گی۔ یونہی آپ دعا اور فریاد میں لگے رہے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں پر سے اتر گئی اسی وقت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر اٹھا کر آپ کے جسم مبارک پر ڈال کر (‏پیچھے سے آپ کو اپنی بانہوں میں لے کر) کو آپ کو وہاں سے ہٹانے لگے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب بس کیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے جی بھر کر دعا مانگ لی وہ اپنے وعدے کو ضرور پورا کرے گا اسی وقت یہ آیت اتری۔

اس کے بعد مشرک اور مسلمان آپس میں لڑائی میں گتھم گتھا ہو گئے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو شکست دی ان میں سے ستر شخص تو قتل ہوئے اور ستر قید ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قیدی کفار کے بارے میں سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا علی رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا۔

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے تو فرمایا رسول اللہ آخر یہ ہمارے کنبے برادری کے خویش و اقارب ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیجئیے مال ہمیں کام آئے گا اور کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ کل انہیں ہدایت دیدے اور یہ ہمارے قوت و بازو بن جائیں۔

صفحہ نمبر3228

اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا میری رائے تو اس بارے میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے کے خلاف ہے میرے نزدیک تو ان میں سے فلاں جو میرا قریشی رشتہ دار ہے مجھے سونپ دیجئیے کہ میں اس کی گردن ماروں اور عقیل کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کیجئے کہ وہ اس کا کام تمام کریں اور حمزہ رضی اللہ عنہ کے سپرد ان کا فلاں بھائی کیجئے کہ وہ اسے صاف کر دیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ ظاہر کر دیں کہ ہمارے دل ان مشرکوں کی محبت سے خالی ہیں، اللہ رب العزت کے نام پر انہیں چھوڑ چکے ہیں اور رشتہ داریاں ان سے توڑ چکے ہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لوگ سرداران کفر ہیں اور کافروں کے گروہ ہیں۔ انہیں زندہ چھوڑنا مناسب نہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مشورہ قبول کیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بات کی طرف مائل نہ ہوئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دوسرے دن صبح ہی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رو رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آخر اس رونے کا کیا سبب ہے؟ اگر کوئی ایسا ہی باعث ہو تو میں بھی ساتھ دوں ورنہ تکلف سے ہی رونے لگوں کیونکہ آپ دونوں بزرگوں کو روتا دیکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ رونا بوجہ اس عذاب کے ہے جو تیرے ساتھیوں پر فدیہ لے لینے کے باعث پیش ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس کے ایک درخت کی طرف اشارہ کر کے فرمایا دیکھو اللہ کا عذاب اس درخت تک پہنچ چکا ہے۔ اسی کا بیان آیت «‏مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ ۭتُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ ۭوَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» ‏ [ 8- الانفال: 67 ] ‏ سے «‏فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَيِّبًا ڮ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [ 8- الانفال: 69 ] ‏ تک ہے ـ

صفحہ نمبر3229

پس اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت حلال فرمایا پھر اگلے سال جنگ احد کے موقعہ پر فدیہ لینے کے بدلے ان کی سزا طے ہوئی ستر مسلمان صحابہ شہید ہوئے لشکر اسلام میں بھگدڑ مچ گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے چار دانت شہید ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر جو خود تھا وہ ٹوٹ گیا چہرہ خون آلودہ ہو گیا۔

پس یہ آیت اتری «‏اَوَلَمَّآ اَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَيْھَا ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا ۭ قُلْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [ 3- آل عمران: 165 ] ‏، ” یعنی جب تمہیں مصیبت پہنچی تو کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آ گئی؟ جواب دے کہ یہ خود تمہاری اپنی طرف سے ہے۔ تم اس سے پہلے اس سے دگنی راحت بھی تو پا چکے ہو یقین مانو کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔ “

مطلب یہ ہے کہ یہ فدیہ لینے کا بدل ہے یہ حدیث مسلم شریف وغیرہ میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:1763] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے کہ یہ آیت «إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ» الخ انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بارے میں ہے اور روایت میں ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا میں اپنا پورا مبالغہ کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب مناجات ختم کیجئے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے وہ اسے ضرور پورا کرے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15754] ‏

اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مقداد بن اسود نے ایک ایسا کام کیا کہ اگر میں کرتا تو مجھے اپنے اور تمام اعمال سے زیادہ پسندیدہ ہوتا۔

صفحہ نمبر3230

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مشرکوں پر بد دعا کر رہے تھے تو آپ آئے اور کہنے لگے ہم آپ سے وہ نہیں کہیں گے جو قوم موسیٰ نے کہا تھا کہ «فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ» [ 5-المائدہ: 24 ] ‏ خود اپنے رب کو ساتھ لے کر جا اور لڑ بھڑ لو بلکہ ہم جو کہتے ہیں وہ کر کے بھی دکھائیں گے چلئے ہم آپ کے دائیں بائیں برابر کفار سے جہاد کریں گے آگے پیچھے بھی ہم ہی ہم نظر آئیں گے میں نے دیکھا کہ ان کے اس قول سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے اور آپ کا چہرہ مبارک چمکنے لگا۔

ایک اور روایت میں ہے کہ اس دعا کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے تشریف لائے کہ «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» ‏ [ 54-القمر: 45 ] ‏ عنقریب مشرکین شکست کھائیں گے اور پیٹھ دکھائیں گے۔ [صحیح بخاری:3953] ‏

ارشاد ہوا کہ «إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ» یعنی ” ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری امداد کی جائے گی جو برابر ایک دوسرے کے پیچھے سلسلہ وار آئیں گے اور تمہاری مدد کریں گے ایک کے بعد ایک آتا رہے گا۔“

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کے دائیں حصے میں آئے تھے جس پر کمان سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تھی اور بائیں حصے پر میکائیل علیہ السلام ایک ہزار فرشتوں کی فوج کے ساتھ اترے تھے۔ اس طرف میری کمان تھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15769:ضعیف] ‏ ایک قرأت میں «مُرْدَفِينَ» بھی ہے۔

مشہور یہ ہے کہ ان دونوں فرشتوں کے ساتھ پانچ پانچ سو فرشتے تھے جو بطور امداد آسمان سے بحکم الٰہی اترے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک مسلمان ایک کافر پر حملہ کرنے کیلئے اس کا تعاقت کر رہا تھا کہ اچانک ایک کوڑا مانگنے کی آواز اور ساتھ ہی ایک گھوڑ سوار کی آواز آئی کہ اے خیروم آگے بڑھ وہیں دیکھا کہ وہ مشرک چت گرا ہوا ہے اس کا منہ کوڑے کے لگنے سے بگڑ گیا ہے اور ہڈیاں پسلیاں چور چور ہو گئی ہیں۔

صفحہ نمبر3231

اس انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو سچا ہے یہ تیری آسمانی مدد تھی۔ پس اس دن ستر کافر قتل ہوئے اور ستر قید ہوئے۔ [صحیح مسلم:1763] ‏

امام بخاری رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے کہ ”بدر والے دن فرشتوں کا اترنا“ پھر حدیث لائے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا کہ بدری صحابہ رضی اللہ عنہم کا درجہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں کیسا سمجھا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور مسلمانوں سے بہت افضل۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اس طرح بدر میں آنے والے فرشتے بھی اور فرشتوں میں افضل گنے جاتے ہیں۔ [صحیح بخاری:3992] ‏

بخاری اور مسلم میں ہے کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حاطب بن ابو بلتعہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا مشورہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو بدری صحابی ہیں تم نہیں جانتے اللہ تعالیٰ نے بدریوں پر نظر ڈالی اور فرمایا تم جو چاہے کرو میں نے تمہیں بخش دیا۔ [صحیح بخاری:3007] ‏

پھر اللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالَىٰ فرماتا ہے کہ «وَمَا جَعَلَهُ اللَّـهُ إِلَّا بُشْرَىٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِ قُلُوبُكُمْ ۚ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» [8-الأنفال:10] ‏ ” فرشتوں کا بھیجنا اور تمہیں اس کی خوشخبری دینا صرف تمہاری خوشی اور اطمینان دل کے لیے تھا ورنہ اللہ تعالیٰ ان کو بھیجے بغیر بھی اس پر قادر ہے جس کی چاہے مدد کرے اور اسے غالب کر دے۔ “ بغیر نصرت پروردگار کے کوئی فتح پا نہیں سکتا اللہ ہی کی طرف سے مدد ہوتی ہے۔

جیسے فرمان ہے آیت «فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ۚ ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّـهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ ۗ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ» ‏ [ 47- محمد: 6-4 ] ‏، یعنی ” کافروں سے جب میدان ہو تو گردن مارنا ہے جب اس میں کامیابی ہو جائے تو پھر قید کرنا ہے۔ اس کے بعد یا احسان کے طور پر چھوڑ دینا یا فدیہ لے لینا ہے یہاں تک کہ لڑائی موقوف ہو جائے۔ “

یہ ظاہری صورت ہے «فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لِيَبْلُوَ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ» یعنی ” اگر رب چاہے تو آپ ہی ان سے بدلے لے لے لیکن وہ ایک سے ایک کو آزما رہا ہے اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے اعمال اکارت نہیں جائیں گے۔ انہیں اللہ تعالیٰ راہ رکھائے گا اور انہیں خوشحال کر دے گا اور جان پہچان کی جنت میں لے جائے گا۔“ [47-محمد:4-6] ‏

صفحہ نمبر3232

اور آیت میں ہے «وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ ۚ وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاۗءَ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ وَلِيُمَحِّصَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ» [ 3- آل عمران: 141، 140 ] ‏، ” یہ دن ہم لوگوں میں گھماتے رہتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ جانچ لے اور شہیدوں کو الگ کر لے ظالموں سے اللہ ناخوش رہتا ہے اس میں ایمانداروں کا امتیاز ہو جاتا ہے اور یہ کفار کے مٹانے کی صورت ہے۔“

جہاد کا شرعی فلسفہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکوں کو موحدوں کے ہاتھوں سزا دیتا ہے۔ اس سے پہلے عام آسمانی عذابوں سے وہ ہلاک کر دیئے جاتے تھے جیسے قوم نوح پر طوفان آیا، عاد والے آندھی میں تباہ ہوئے، ثمودی چیخ سے غارت کر دیئے گئے، قوم لوط پر پتھر بھی برسے، زمین میں بھی دھنسائے گئے اور ان کی بستیاں الٹ دی گئیں، قوم شعیب پر ابر کا عذاب آیا۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں دشمنان دین مع فرعون اور اس کی قوم اور اس کے لشکروں کے ڈبو دیئے گئے۔ اللہ نے توراۃ اتاری اور اس کے بعد سے اللہ کا حکم جاری ہو گیا جیسے فرمان ہےآیت «‏وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَآ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَاۗىِٕرَ للنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ» [ 28- القص: 43 ] ‏ یعنی ” پہلی بستیوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ کو کتاب دی جو سوچنے سمجھنے کی بات تھی۔“

صفحہ نمبر3233

پھر سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ہاتھوں کافروں کو سزا دینا شروع کر دیا تاکہ مسلمانوں کے دل صاف ہو جائیں اور کافروں کی ذلت اور بڑھ جائے جیسے اس امت کو اللہ جل شانہ کا حکم ہے آیت «‏قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ» [ 9- التوبہ: 14 ] ‏، یعنی ” اے مومنو! ان سے جہاد کرو اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سزا دے گا انہیں ذلیل کرے گا اور تمہیں ان پر مدد عطا فرما کر مومنوں کے سینے صاف کر دے گا۔ “

اسی میدان بدر میں گھمنڈ و نخوت کے پتلوں کا، کفر کے سرداروں کا ان مسلمانوں کے ہاتھ قتل ہونا جن پر ہمیشہ ان کی نظریں ذلت و حقارت کے ساتھ پڑتی رہیں کچھ کم نہ تھا۔ ابوجہل اگر اپنے گھر میں اللہ کے کسی عذاب سے ہلاک ہو جاتا تو اس میں وہ شان نہ تھی جو معرکہ قتال میں مسلمانوں کے ہاتھوں ٹکڑے ہونے میں ہے۔ جیسے کہ ابولہب کی موت اسی طرح کی واقع ہوئی تھی کہ اللہ کے عذاب میں ایسا سڑا کہ موت کے بعد کسی نے نہ تو اسے نہلایا نہ دفنایا بلکہ دور سے پانی ڈال کر لوگوں نے پتھر پھینکنے شروع کئے اور انہیں میں وہ دب گیا۔ اللہ عزت والا ہے پھر اس کا رسول اور ایماندار۔ دنیا آخرت میں عزت اور بھلائی ان ہی کے حصے کی چیز ہے۔ جیسے ارشاد ہے ہے آیت «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ ۖ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» ‏ [ 40- غافر: 52، 51 ] ‏، یعنی ” ہم ضرور بضرور اپنے رسولوں کی، ایماندار بندوں کی اس جہان میں اور اس جہان میں مدد فرمائیں گے۔ اللہ حکیم ہے گو وہ قادر تھا کہ بغیر تمہارے لڑے بھڑے کفار کو ملیامیٹ کر دے لیکن اس میں بھی اس کی حکمت ہے جو وہ تمہارے ہاتھوں انہیں ڈھیر کر رہا ہے۔“

صفحہ نمبر3234

سب سے پہلا غزوہ بدر بنیاد لا الہ الا اللہ ٭٭

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کی طرف نظر ڈالی وہ تین سو سے کچھ اوپر تھے پھر مشرکین کو دیکھا ان کی تعدد ایک ہزار سے زیادہ تھی۔ اسی وقت آپ قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے چادر اوڑھے ہوئے تھے اور تہبند باندھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا شروع کی کہ الٰہی جو تیرا وعدہ ہے اسے اب پورا فرما الٰہی جو وعدہ تو نے مجھ سے کیا ہے وہی کر اے اللہ اہل اسلام کی یہ تھوڑی سی جماعت اگر ہلاک ہو جائے گی تو پھر کبھی بھی تیری توحید کے ساتھ زمین پر عبادت نہ ہو گی۔ یونہی آپ دعا اور فریاد میں لگے رہے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں پر سے اتر گئی اسی وقت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر اٹھا کر آپ کے جسم مبارک پر ڈال کر (‏پیچھے سے آپ کو اپنی بانہوں میں لے کر) کو آپ کو وہاں سے ہٹانے لگے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب بس کیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے جی بھر کر دعا مانگ لی وہ اپنے وعدے کو ضرور پورا کرے گا اسی وقت یہ آیت اتری۔

اس کے بعد مشرک اور مسلمان آپس میں لڑائی میں گتھم گتھا ہو گئے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو شکست دی ان میں سے ستر شخص تو قتل ہوئے اور ستر قید ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قیدی کفار کے بارے میں سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا علی رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا۔

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے تو فرمایا رسول اللہ آخر یہ ہمارے کنبے برادری کے خویش و اقارب ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیجئیے مال ہمیں کام آئے گا اور کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ کل انہیں ہدایت دیدے اور یہ ہمارے قوت و بازو بن جائیں۔

صفحہ نمبر3228

اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا میری رائے تو اس بارے میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے کے خلاف ہے میرے نزدیک تو ان میں سے فلاں جو میرا قریشی رشتہ دار ہے مجھے سونپ دیجئیے کہ میں اس کی گردن ماروں اور عقیل کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کیجئے کہ وہ اس کا کام تمام کریں اور حمزہ رضی اللہ عنہ کے سپرد ان کا فلاں بھائی کیجئے کہ وہ اسے صاف کر دیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ ظاہر کر دیں کہ ہمارے دل ان مشرکوں کی محبت سے خالی ہیں، اللہ رب العزت کے نام پر انہیں چھوڑ چکے ہیں اور رشتہ داریاں ان سے توڑ چکے ہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لوگ سرداران کفر ہیں اور کافروں کے گروہ ہیں۔ انہیں زندہ چھوڑنا مناسب نہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مشورہ قبول کیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بات کی طرف مائل نہ ہوئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دوسرے دن صبح ہی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رو رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آخر اس رونے کا کیا سبب ہے؟ اگر کوئی ایسا ہی باعث ہو تو میں بھی ساتھ دوں ورنہ تکلف سے ہی رونے لگوں کیونکہ آپ دونوں بزرگوں کو روتا دیکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ رونا بوجہ اس عذاب کے ہے جو تیرے ساتھیوں پر فدیہ لے لینے کے باعث پیش ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس کے ایک درخت کی طرف اشارہ کر کے فرمایا دیکھو اللہ کا عذاب اس درخت تک پہنچ چکا ہے۔ اسی کا بیان آیت «‏مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ ۭتُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ ۭوَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» ‏ [ 8- الانفال: 67 ] ‏ سے «‏فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَيِّبًا ڮ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [ 8- الانفال: 69 ] ‏ تک ہے ـ

صفحہ نمبر3229

پس اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت حلال فرمایا پھر اگلے سال جنگ احد کے موقعہ پر فدیہ لینے کے بدلے ان کی سزا طے ہوئی ستر مسلمان صحابہ شہید ہوئے لشکر اسلام میں بھگدڑ مچ گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے چار دانت شہید ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر جو خود تھا وہ ٹوٹ گیا چہرہ خون آلودہ ہو گیا۔

پس یہ آیت اتری «‏اَوَلَمَّآ اَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَيْھَا ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا ۭ قُلْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [ 3- آل عمران: 165 ] ‏، ” یعنی جب تمہیں مصیبت پہنچی تو کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آ گئی؟ جواب دے کہ یہ خود تمہاری اپنی طرف سے ہے۔ تم اس سے پہلے اس سے دگنی راحت بھی تو پا چکے ہو یقین مانو کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔ “

مطلب یہ ہے کہ یہ فدیہ لینے کا بدل ہے یہ حدیث مسلم شریف وغیرہ میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:1763] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے کہ یہ آیت «إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ» الخ انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بارے میں ہے اور روایت میں ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا میں اپنا پورا مبالغہ کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب مناجات ختم کیجئے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے وہ اسے ضرور پورا کرے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15754] ‏

اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مقداد بن اسود نے ایک ایسا کام کیا کہ اگر میں کرتا تو مجھے اپنے اور تمام اعمال سے زیادہ پسندیدہ ہوتا۔

صفحہ نمبر3230

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مشرکوں پر بد دعا کر رہے تھے تو آپ آئے اور کہنے لگے ہم آپ سے وہ نہیں کہیں گے جو قوم موسیٰ نے کہا تھا کہ «فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ» [ 5-المائدہ: 24 ] ‏ خود اپنے رب کو ساتھ لے کر جا اور لڑ بھڑ لو بلکہ ہم جو کہتے ہیں وہ کر کے بھی دکھائیں گے چلئے ہم آپ کے دائیں بائیں برابر کفار سے جہاد کریں گے آگے پیچھے بھی ہم ہی ہم نظر آئیں گے میں نے دیکھا کہ ان کے اس قول سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے اور آپ کا چہرہ مبارک چمکنے لگا۔

ایک اور روایت میں ہے کہ اس دعا کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے تشریف لائے کہ «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» ‏ [ 54-القمر: 45 ] ‏ عنقریب مشرکین شکست کھائیں گے اور پیٹھ دکھائیں گے۔ [صحیح بخاری:3953] ‏

ارشاد ہوا کہ «إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ» یعنی ” ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری امداد کی جائے گی جو برابر ایک دوسرے کے پیچھے سلسلہ وار آئیں گے اور تمہاری مدد کریں گے ایک کے بعد ایک آتا رہے گا۔“

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کے دائیں حصے میں آئے تھے جس پر کمان سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تھی اور بائیں حصے پر میکائیل علیہ السلام ایک ہزار فرشتوں کی فوج کے ساتھ اترے تھے۔ اس طرف میری کمان تھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15769:ضعیف] ‏ ایک قرأت میں «مُرْدَفِينَ» بھی ہے۔

مشہور یہ ہے کہ ان دونوں فرشتوں کے ساتھ پانچ پانچ سو فرشتے تھے جو بطور امداد آسمان سے بحکم الٰہی اترے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک مسلمان ایک کافر پر حملہ کرنے کیلئے اس کا تعاقت کر رہا تھا کہ اچانک ایک کوڑا مانگنے کی آواز اور ساتھ ہی ایک گھوڑ سوار کی آواز آئی کہ اے خیروم آگے بڑھ وہیں دیکھا کہ وہ مشرک چت گرا ہوا ہے اس کا منہ کوڑے کے لگنے سے بگڑ گیا ہے اور ہڈیاں پسلیاں چور چور ہو گئی ہیں۔

صفحہ نمبر3231

اس انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو سچا ہے یہ تیری آسمانی مدد تھی۔ پس اس دن ستر کافر قتل ہوئے اور ستر قید ہوئے۔ [صحیح مسلم:1763] ‏

امام بخاری رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے کہ ”بدر والے دن فرشتوں کا اترنا“ پھر حدیث لائے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا کہ بدری صحابہ رضی اللہ عنہم کا درجہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں کیسا سمجھا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور مسلمانوں سے بہت افضل۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اس طرح بدر میں آنے والے فرشتے بھی اور فرشتوں میں افضل گنے جاتے ہیں۔ [صحیح بخاری:3992] ‏

بخاری اور مسلم میں ہے کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حاطب بن ابو بلتعہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا مشورہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو بدری صحابی ہیں تم نہیں جانتے اللہ تعالیٰ نے بدریوں پر نظر ڈالی اور فرمایا تم جو چاہے کرو میں نے تمہیں بخش دیا۔ [صحیح بخاری:3007] ‏

پھر اللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالَىٰ فرماتا ہے کہ «وَمَا جَعَلَهُ اللَّـهُ إِلَّا بُشْرَىٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِ قُلُوبُكُمْ ۚ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» [8-الأنفال:10] ‏ ” فرشتوں کا بھیجنا اور تمہیں اس کی خوشخبری دینا صرف تمہاری خوشی اور اطمینان دل کے لیے تھا ورنہ اللہ تعالیٰ ان کو بھیجے بغیر بھی اس پر قادر ہے جس کی چاہے مدد کرے اور اسے غالب کر دے۔ “ بغیر نصرت پروردگار کے کوئی فتح پا نہیں سکتا اللہ ہی کی طرف سے مدد ہوتی ہے۔

جیسے فرمان ہے آیت «فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ۚ ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّـهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ ۗ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ» ‏ [ 47- محمد: 6-4 ] ‏، یعنی ” کافروں سے جب میدان ہو تو گردن مارنا ہے جب اس میں کامیابی ہو جائے تو پھر قید کرنا ہے۔ اس کے بعد یا احسان کے طور پر چھوڑ دینا یا فدیہ لے لینا ہے یہاں تک کہ لڑائی موقوف ہو جائے۔ “

یہ ظاہری صورت ہے «فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لِيَبْلُوَ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ» یعنی ” اگر رب چاہے تو آپ ہی ان سے بدلے لے لے لیکن وہ ایک سے ایک کو آزما رہا ہے اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے اعمال اکارت نہیں جائیں گے۔ انہیں اللہ تعالیٰ راہ رکھائے گا اور انہیں خوشحال کر دے گا اور جان پہچان کی جنت میں لے جائے گا۔“ [47-محمد:4-6] ‏

صفحہ نمبر3232

اور آیت میں ہے «وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ ۚ وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاۗءَ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ وَلِيُمَحِّصَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ» [ 3- آل عمران: 141، 140 ] ‏، ” یہ دن ہم لوگوں میں گھماتے رہتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ جانچ لے اور شہیدوں کو الگ کر لے ظالموں سے اللہ ناخوش رہتا ہے اس میں ایمانداروں کا امتیاز ہو جاتا ہے اور یہ کفار کے مٹانے کی صورت ہے۔“

جہاد کا شرعی فلسفہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکوں کو موحدوں کے ہاتھوں سزا دیتا ہے۔ اس سے پہلے عام آسمانی عذابوں سے وہ ہلاک کر دیئے جاتے تھے جیسے قوم نوح پر طوفان آیا، عاد والے آندھی میں تباہ ہوئے، ثمودی چیخ سے غارت کر دیئے گئے، قوم لوط پر پتھر بھی برسے، زمین میں بھی دھنسائے گئے اور ان کی بستیاں الٹ دی گئیں، قوم شعیب پر ابر کا عذاب آیا۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں دشمنان دین مع فرعون اور اس کی قوم اور اس کے لشکروں کے ڈبو دیئے گئے۔ اللہ نے توراۃ اتاری اور اس کے بعد سے اللہ کا حکم جاری ہو گیا جیسے فرمان ہےآیت «‏وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَآ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَاۗىِٕرَ للنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ» [ 28- القص: 43 ] ‏ یعنی ” پہلی بستیوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ کو کتاب دی جو سوچنے سمجھنے کی بات تھی۔“

صفحہ نمبر3233

پھر سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ہاتھوں کافروں کو سزا دینا شروع کر دیا تاکہ مسلمانوں کے دل صاف ہو جائیں اور کافروں کی ذلت اور بڑھ جائے جیسے اس امت کو اللہ جل شانہ کا حکم ہے آیت «‏قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ» [ 9- التوبہ: 14 ] ‏، یعنی ” اے مومنو! ان سے جہاد کرو اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سزا دے گا انہیں ذلیل کرے گا اور تمہیں ان پر مدد عطا فرما کر مومنوں کے سینے صاف کر دے گا۔ “

اسی میدان بدر میں گھمنڈ و نخوت کے پتلوں کا، کفر کے سرداروں کا ان مسلمانوں کے ہاتھ قتل ہونا جن پر ہمیشہ ان کی نظریں ذلت و حقارت کے ساتھ پڑتی رہیں کچھ کم نہ تھا۔ ابوجہل اگر اپنے گھر میں اللہ کے کسی عذاب سے ہلاک ہو جاتا تو اس میں وہ شان نہ تھی جو معرکہ قتال میں مسلمانوں کے ہاتھوں ٹکڑے ہونے میں ہے۔ جیسے کہ ابولہب کی موت اسی طرح کی واقع ہوئی تھی کہ اللہ کے عذاب میں ایسا سڑا کہ موت کے بعد کسی نے نہ تو اسے نہلایا نہ دفنایا بلکہ دور سے پانی ڈال کر لوگوں نے پتھر پھینکنے شروع کئے اور انہیں میں وہ دب گیا۔ اللہ عزت والا ہے پھر اس کا رسول اور ایماندار۔ دنیا آخرت میں عزت اور بھلائی ان ہی کے حصے کی چیز ہے۔ جیسے ارشاد ہے ہے آیت «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ ۖ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» ‏ [ 40- غافر: 52، 51 ] ‏، یعنی ” ہم ضرور بضرور اپنے رسولوں کی، ایماندار بندوں کی اس جہان میں اور اس جہان میں مدد فرمائیں گے۔ اللہ حکیم ہے گو وہ قادر تھا کہ بغیر تمہارے لڑے بھڑے کفار کو ملیامیٹ کر دے لیکن اس میں بھی اس کی حکمت ہے جو وہ تمہارے ہاتھوں انہیں ڈھیر کر رہا ہے۔“

صفحہ نمبر3234

باب

تائید الٰہی کے بعد فتح و کامرانی۔ اللہ تعالیٰ اپنے احسانات بیان فرماتا ہے کہ اس جنگ بدر میں جبکہ اپنی کمی اور کافروں کی زیادتی، اپنی بےسرو سامانی اور کافروں کے پر شوکت سروسامان دیکھ کر مسلمانوں کے دل پر برا اثر پڑ رہا تھا پروردگار نے ان کے دلوں کے اطمینان کیلئے ان پر اونگھ ڈال دی جنگ احد میں بھی یہی حال ہوا تھا جیسے فرمان ہے آیت «‏ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغْشٰى طَاۗىِٕفَةً مِّنْكُمْ ۙ وَطَاۗىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ» [ 3- آل عمران: 154 ] ‏، یعنی ” پورے غم و رنج کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں امن دیا جو اونگھ کی صورت میں تمہیں ڈھانکے ہوئے تھا ایک جماعت اسی میں مشغول تھی۔ “

ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن پر احد والے دن اونگھ غالب آ گئی تھی اس وقت میں نیند میں جھوم رہا تھا میری تلوار میرے ہاتھ سے گر پڑتی تھی اور میں اٹھاتا تھا میں نے جب نظر ڈالی تو دیکھا کہ لوگ ڈھالیں سروں پر رکھے ہوئے نیند کے جھولے لے رہے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بدر والے دن ہمارے پورے لشکر میں گھوڑ سوار صرف ایک ہی مقداد تھے میں نے نگاہ بھر کر دیکھا کہ سارا لشکر نیند میں مست ہے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگ رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت تلے نماز میں مشغول تھے روتے جاتے تھے اور نماز پڑھتے جاتے تھے صبح تک آپ اسی طرح مناجات میں مشغول رہے۔ [مسند احمد:125/1:صحیح] ‏

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی للہ عنہ فرماتے ہیں کہ میدان جنگ میں اونگھ کا آنا اللہ کی طرف سے امن کا ملنا ہے اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حرکت ہے، اونگھ صرف آنکھوں میں ہی ہوتی ہے اور نیند کا تعلق دل سے ہے۔

صفحہ نمبر3236

یہ یاد رہے کہ اونگھ آنے کا مشہور واقعہ تو جنگ احد کا ہے لیکن اس آیت میں جو بدر کے واقعہ کے قصے کے بیان میں اونگھ کا اترنا موجود ہے پس سخت لڑائی کے وقت یہ واقعہ ہوا اور مومنوں کے دل اللہ کے عطا کردہ امن سے مطمئن ہو گئے یہ بھی مومنوں پر اللہ کا فضل و کرم اور اس کا لطف و رحم تھا «‏فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» [ 94-الشرح: 5، 6 ] ‏ سچ ہے سختی کے بعد آسانی ہے۔

صحیح حدیث میں ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھپر تلے دعا میں مشغول تھے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اونگھنے لگے۔ تھوڑی دیر میں جاگے اور تبسم فرما کر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: خوش ہو یہ ہیں جبرائیل علیہ السلام گرد آلود پھر آیت قرآنی «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» [ 54-القمر: 45 ] ‏ پڑھتے ہوئے جھونپڑی کے دروازے سے باہر تشریف لائے۔ یعنی ابھی ابھی یہ لشکر شکست کھائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔ [صحیح بخاری:2915] ‏

دوسرا احسان اس جنگ کے موقعہ پر یہ ہوا کہ بارش برس گئی۔ قوله تعالٰى «وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً» یعنی ” اللہ نے تم پر آسمان سے پانی برسایا۔ “

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے میدان بدر کے پانی پر قبضہ کر لیا تھا مسلمانوں کے اور پانی کے درمیان وہ حائل ہو گئے تھے مسلمان کمزوری کی حالت میں تھے شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالنا شروع کیا کہ تم تو اپنے تئیں اللہ والے سمجھتے ہو اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے میں موجود مانتے ہو اور حالت یہ ہے کہ پانی تک تمہارے قبضہ میں نہیں مشرکین کے ہاتھ میں پانی ہے تم نماز بھی جنبی ہونے کی حالت میں پڑھ رہے ہو ایسے وقت آسمان سے مینہ برسنا شروع ہوا اور پانی کی ریل پیل ہو گئی۔

صفحہ نمبر3237

مسلمانوں نے پانی پیا بھی، پلایا بھی، نہا دھو کر پاکی بھی حاصل کر لی اور پانی بھر بھی لیا اور شیطانی وسوسہ بھی زائل ہو گیا اور جو چکنی مٹی پانی کے راستے میں تھی دھل کر وہاں کی سخت زمین نکل آئی اور ریت جم گئی کہ اس پر آمد ورفت آسان ہو گئی اور فرشتوں کی امداد آسمان سے آ گئی پانچ سو فرشتے تو جبرائیل علیہ السلام کی ما تحتیٰ میں اور پانچ سو میکائیل کی ما تحتیٰ میں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15783:ضعیف و منقطع] ‏

مشہور یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف تشریف لے چلے تو سب سے پہلے جو پانی تھا وہاں ٹھہرے حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا کہ اگر آپ کو اللہ کا حکم یہاں پڑاؤ کرنے کا ہوا تب تو خیر اور اگر جنگی مصلحت کے ساتھ پڑاؤ یہاں کیا ہو تو آپ اور آگے چلئے آخری پانی پر قبضہ کیجئے وہیں حوض بنا کر یہاں کے سب پانی وہاں جمع کر لیں تو پانی پر ہمارا قبضہ رہے گا اور دشمن پانی بغیر رہ جائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کیا بھی۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏

مغازی اموی میں ہے کہ اس رائے کے بعد جبرائیل علیہ السلام کی موجودگی میں ایک فرشتے نے آ کر آپ کو سلام پہنچایا اور اللہ کا حکم بھی کہ یہی رائے ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ آپ انہیں جانتے ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا میں آسمان کے تمام فرشتوں سے واقف نہیں ہوں ہاں ہیں یہ فرشتے شیطان نہیں۔

سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ مشرکین ڈھلوان کی طرف تھے اور مسلمان اونچائی کی طرف تھے بارش ہونے سے مسلمانوں کی طرف تو زمین دھل کر صاف ہو گئی اور پانی سے انہیں نفع پہنچا لیکن مشرکین کی طرف پانی کھڑا ہو گیا۔

صفحہ نمبر3238

کیچڑ اور پھسلن ہو گئی کہ انہیں چلنا پھرنا دو بھر ہو گیا بارش اس سے پہلے ہوئی تھی غبار جم گیا تھا زمین سخت ہو گئی تھی دلوں میں خوشی پیدا ہو گئی تھی ثابت قدمی میسر ہو چکی تھی اب اونگھ آنے لگی اور مسلمان تازہ دم ہو گئے۔ صبح لڑائی ہونے والی ہے رات کو ہلکی سی بارش ہو گئی ہم درختوں تلے جاچھپے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلاتے رہے۔

یہ اس لیے کہ اللہ تمہیں پاک کر دے وضو بھی کر لو اور غسل بھی اس ظاہری پاکی کے ساتھ ہی باطنی پاکیزگی بھی حاصل ہوئی شیطانی وسوسے بھی دور ہو گئے دل مطمئن ہو گئے جیسے کہ جنتیوں کے بارے میں فرمان ہے کہ آیت «‏عَالِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ ۖ وَحُلُّوا أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٍ وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا» [ 76-الإنسان: 21 ] ‏، یعنی ” ان کے بدن پر نہیں اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنکھن پہنائے جائیں گے اور انہیں ان کا رب پاک اور پاک کرنے والا شربت پلائے گا۔ “

پس لباس اور زیور تو ظاہری زینت کی چیز ہوئی اور پاک کرنے والا پانی جس سے دلوں کی پاکیزگی اور حسد و بغض کی دوری ہو جائے۔ یہ تھی باطنی زینت۔ پھر فرماتا ہے کہ اس سے مقصود دلوں کی مضبوطی بھی تھی کہ صبرو برداشت پیدا ہو شجاعت و بہادری ہو دل بڑھ جائے ثابت قدمی ظاہر ہو جائے اور حملے میں استقامت پیدا ہو جائے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر اپنی ایک باطنی نعمت کا اظہار فرما رہا ہے تاکہ مسلمان اس پر بھی اللہ کا شکر بجا لائیں کہ اللہ تعالیٰ تبارک و تقدس و تمجد نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم جاؤ مسلمانوں کی مدد و نصرت کرو، ان کے ساتھ مل کر ہمارے دشمنوں کو نیچا دکھاؤ۔ ان کی گنتی گھٹاؤ اور ہمارے دوستوں کی تعداد بڑھاؤ۔

صفحہ نمبر3239

کہا گیا ہے کہ فرشتہ کسی مسلمان کے پاس آتا اور کہتا کہ مشرکوں میں عجیب بد دلی پھیلی ہوئی ہے۔ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ اگر مسلمانوں نے حملہ کر دیا تو ہمارے قدم نہیں ٹک سکتے ہم تو بھاگ کھڑے ہوں گے۔ اب ہر ایک دوسرے سے کہتا دوسرا تیسرے سے پھر صحابہ رضی اللہ عنہم کے دل بڑھ جاتے اور سمجھ لیتے کہ مشرکوں میں طاقت و قوت نہیں۔

پھر فرماتا ہے «إِذْ يُوحِي رَبُّكَ إِلَى الْمَلَائِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا» کہ ” تم اے فرشتوں اس کام میں لگو ادھر میں مشرکوں کے دلوں میں مسلمانوں کی دھاک بٹھا دوں گا میں ان کے دلوں میں ذلت اور حقارت ڈال دوں گا میرے حکم کے نہ ماننے والوں کا میرے رسول کے منکروں کا یہی حال ہوتا ہے۔ “ پھر تم ان کے سروں پر وار لگا کر دماغ نکال دو، گردنوں پر تلوار مار کے سر اور دھڑ میں جدائی کر دو۔ «فَوْقَ الْأَعْنَاقِ» ہاتھ پاؤں اور جوڑ جوڑ پور پور کو تاک تاک کر زخم لگاؤ۔ پس گردنوں کے اوپر سے بعض کے نزدیک مراد تو سر ہیں اور بعض کے نزدیک خود گردن مراد ہے، چنانچہ اور جگہ ہے آیت «فَإِذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ» [47-محمد:4] ‏ ” جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اُڑا دو۔ “ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں قدرتی عذابوں سے لوگوں کو ہلاک کرنے کیلئے نہیں بھیجا گیا بلکہ گردن مارنے اور قید کرنے کیلئے بھیجا گیا ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15798] ‏

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گردن پر اور سر پر وار کرنے کا استدلال اس سے ہو سکتا ہے۔ مغازی اموی میں ہے کہ مقتولین بدر کے پاس سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گذرے تو ایک شعر کا ابتدائی ٹکڑا «نُفَلِّقُ هَامًا . . .» ‏ یعنی سر ٹوٹے پڑے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ دیا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پورا شعر پڑھ دیا «مِنْ رِجَالٍ أَعِزَّةٍ عَلَيْنَا وَهُمْ كَانُوا أَعَقَّ وَأَظْلَمَا» یعنی سر ٹوٹے پڑے ہیں ان لوگو کے جو ہم پر غرور کرتے تھے کیونکہ وہ لوگ بڑے ہی ظالم اور نافرمان تھے۔

صفحہ نمبر3240

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ شعر یاد تھے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائق، جیسے آیت میں ہے «وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ» [ 36-يس: 69 ] ‏ ” اور ہم نے ان [ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏ کو شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ وہ ان کو شایاں ہے۔ “

اس شعر کا مطلب یہی ہے کہ جو لوگ ظالم اور باغی تھے اور آج تک غلبے اور شوکت سے تھے آج ان کے سر ٹوٹے ہوئے اور ان کے دماغ بکھرے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جو مشرک لوگ فرشتوں کے ہاتھ قتل ہوئے تھے انہیں مسلمان اس طرح پہچان لیتے تھے کہ ان کی گردنوں کے اوپر اور ہاتھ پیروں کے جوڑ ایسے زخم زدہ تھے جیسے آگ سے جلے ہونے کے نشانات۔ «‏وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ» ” اے مومنو! دشمنوں کو مارو ان کے جوڑ بندوں پر تاکہ ہاتھ پاؤں ٹوٹ جائیں۔“ «بَنَانٍ» جمع ہے «‏بَنَانَةً» ‏ کی۔ عربی شعروں میں بَنَانَةً کا استعمال موجود ہے پس ہر جوڑ اور ہر حصے کو «بَنَانٍ» کہتے ہیں۔

اوزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں منہ پر آنکھ پر آگ کے کوڑے برساؤ ہاں جب انہیں گرفتار کر لو پھر نہ مارنا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بدر کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ ابوجہل ملعون نے کہا تھا کہ جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کو زندہ گرفتار کر لو تاکہ ہم انہیں اس بات کا مزہ زیادہ دیر تک چکھائیں کہ وہ ہمارے دین کو برا کہتے تھے، ہمارے دین سے ہٹ گئے تھے، لات و عزی کی پرستش چھوڑ بیٹھے ٹھے۔

صفحہ نمبر3241

پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور فرشتوں کو یہ حکم دیا۔ چنانچہ جو ستر آدمی ان کافروں کے قتل ہوئے ان میں ایک یہ پاجی بھی تھا اور جو ستر آدمی قید ہوئے ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط بھی تھا لعنہ اللہ تعالیٰ، اس کو قید میں ہی قتل کیا گیا اور اس سمیت مقتولین مشرکین کی تعداد ستر ہی تھی۔ «ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ» ” اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کا نتیجہ اور بدلہ یہ ہے۔“ شقاق ماخوذ ہے شق سے۔ شق کہتے ہیں پھاڑنے چیرنے اور دو ٹکڑے کرنے کو۔

پس ان لوگوں نے گویا شریعت، ایمان اور فرماں برداری کو ایک طرف کیا اور دوسری جانب خود رہے۔ لکڑی کے پھاڑنے کو بھی عرب یہی کہتے ہیں جبکہ لکڑی کے دو ٹکڑے کر دیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف چل کر کوئی بچ نہیں سکا۔ کون ہے جو اللہ سے چھپ جائے؟ اور اس کے بےپناہ اور سخت عذابوں سے بچ جائے؟ نہ کوئی اس کے مقابلے کا نہ کسی کو اس کے عذابوں کی طاقت نہ اس سے کوئی بچ نکلے۔ نہ اس کا غضب کوئی سہہ سکے۔ وہ بلند و بالا وہ غالب اور انتقام والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود اور رب نہیں۔ وہ اپنی ذات میں، اپنی صفتوں میں یکتا اور لا شریک ہے۔ «ذَلِكُمْ فَذُوقُوهُ وَأَنَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابَ النَّارِ» ‏ ” اے کافرو! دنیا کے یہ عذاب اٹھاؤ اور ابھی آخرت میں دوزخ کا عذاب باقی ہے۔“

صفحہ نمبر3242

باب

تائید الٰہی کے بعد فتح و کامرانی۔ اللہ تعالیٰ اپنے احسانات بیان فرماتا ہے کہ اس جنگ بدر میں جبکہ اپنی کمی اور کافروں کی زیادتی، اپنی بےسرو سامانی اور کافروں کے پر شوکت سروسامان دیکھ کر مسلمانوں کے دل پر برا اثر پڑ رہا تھا پروردگار نے ان کے دلوں کے اطمینان کیلئے ان پر اونگھ ڈال دی جنگ احد میں بھی یہی حال ہوا تھا جیسے فرمان ہے آیت «‏ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغْشٰى طَاۗىِٕفَةً مِّنْكُمْ ۙ وَطَاۗىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ» [ 3- آل عمران: 154 ] ‏، یعنی ” پورے غم و رنج کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں امن دیا جو اونگھ کی صورت میں تمہیں ڈھانکے ہوئے تھا ایک جماعت اسی میں مشغول تھی۔ “

ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن پر احد والے دن اونگھ غالب آ گئی تھی اس وقت میں نیند میں جھوم رہا تھا میری تلوار میرے ہاتھ سے گر پڑتی تھی اور میں اٹھاتا تھا میں نے جب نظر ڈالی تو دیکھا کہ لوگ ڈھالیں سروں پر رکھے ہوئے نیند کے جھولے لے رہے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بدر والے دن ہمارے پورے لشکر میں گھوڑ سوار صرف ایک ہی مقداد تھے میں نے نگاہ بھر کر دیکھا کہ سارا لشکر نیند میں مست ہے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگ رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت تلے نماز میں مشغول تھے روتے جاتے تھے اور نماز پڑھتے جاتے تھے صبح تک آپ اسی طرح مناجات میں مشغول رہے۔ [مسند احمد:125/1:صحیح] ‏

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی للہ عنہ فرماتے ہیں کہ میدان جنگ میں اونگھ کا آنا اللہ کی طرف سے امن کا ملنا ہے اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حرکت ہے، اونگھ صرف آنکھوں میں ہی ہوتی ہے اور نیند کا تعلق دل سے ہے۔

صفحہ نمبر3236

یہ یاد رہے کہ اونگھ آنے کا مشہور واقعہ تو جنگ احد کا ہے لیکن اس آیت میں جو بدر کے واقعہ کے قصے کے بیان میں اونگھ کا اترنا موجود ہے پس سخت لڑائی کے وقت یہ واقعہ ہوا اور مومنوں کے دل اللہ کے عطا کردہ امن سے مطمئن ہو گئے یہ بھی مومنوں پر اللہ کا فضل و کرم اور اس کا لطف و رحم تھا «‏فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» [ 94-الشرح: 5، 6 ] ‏ سچ ہے سختی کے بعد آسانی ہے۔

صحیح حدیث میں ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھپر تلے دعا میں مشغول تھے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اونگھنے لگے۔ تھوڑی دیر میں جاگے اور تبسم فرما کر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: خوش ہو یہ ہیں جبرائیل علیہ السلام گرد آلود پھر آیت قرآنی «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» [ 54-القمر: 45 ] ‏ پڑھتے ہوئے جھونپڑی کے دروازے سے باہر تشریف لائے۔ یعنی ابھی ابھی یہ لشکر شکست کھائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔ [صحیح بخاری:2915] ‏

دوسرا احسان اس جنگ کے موقعہ پر یہ ہوا کہ بارش برس گئی۔ قوله تعالٰى «وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً» یعنی ” اللہ نے تم پر آسمان سے پانی برسایا۔ “

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے میدان بدر کے پانی پر قبضہ کر لیا تھا مسلمانوں کے اور پانی کے درمیان وہ حائل ہو گئے تھے مسلمان کمزوری کی حالت میں تھے شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالنا شروع کیا کہ تم تو اپنے تئیں اللہ والے سمجھتے ہو اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے میں موجود مانتے ہو اور حالت یہ ہے کہ پانی تک تمہارے قبضہ میں نہیں مشرکین کے ہاتھ میں پانی ہے تم نماز بھی جنبی ہونے کی حالت میں پڑھ رہے ہو ایسے وقت آسمان سے مینہ برسنا شروع ہوا اور پانی کی ریل پیل ہو گئی۔

صفحہ نمبر3237

مسلمانوں نے پانی پیا بھی، پلایا بھی، نہا دھو کر پاکی بھی حاصل کر لی اور پانی بھر بھی لیا اور شیطانی وسوسہ بھی زائل ہو گیا اور جو چکنی مٹی پانی کے راستے میں تھی دھل کر وہاں کی سخت زمین نکل آئی اور ریت جم گئی کہ اس پر آمد ورفت آسان ہو گئی اور فرشتوں کی امداد آسمان سے آ گئی پانچ سو فرشتے تو جبرائیل علیہ السلام کی ما تحتیٰ میں اور پانچ سو میکائیل کی ما تحتیٰ میں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15783:ضعیف و منقطع] ‏

مشہور یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف تشریف لے چلے تو سب سے پہلے جو پانی تھا وہاں ٹھہرے حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا کہ اگر آپ کو اللہ کا حکم یہاں پڑاؤ کرنے کا ہوا تب تو خیر اور اگر جنگی مصلحت کے ساتھ پڑاؤ یہاں کیا ہو تو آپ اور آگے چلئے آخری پانی پر قبضہ کیجئے وہیں حوض بنا کر یہاں کے سب پانی وہاں جمع کر لیں تو پانی پر ہمارا قبضہ رہے گا اور دشمن پانی بغیر رہ جائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کیا بھی۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏

مغازی اموی میں ہے کہ اس رائے کے بعد جبرائیل علیہ السلام کی موجودگی میں ایک فرشتے نے آ کر آپ کو سلام پہنچایا اور اللہ کا حکم بھی کہ یہی رائے ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ آپ انہیں جانتے ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا میں آسمان کے تمام فرشتوں سے واقف نہیں ہوں ہاں ہیں یہ فرشتے شیطان نہیں۔

سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ مشرکین ڈھلوان کی طرف تھے اور مسلمان اونچائی کی طرف تھے بارش ہونے سے مسلمانوں کی طرف تو زمین دھل کر صاف ہو گئی اور پانی سے انہیں نفع پہنچا لیکن مشرکین کی طرف پانی کھڑا ہو گیا۔

صفحہ نمبر3238

کیچڑ اور پھسلن ہو گئی کہ انہیں چلنا پھرنا دو بھر ہو گیا بارش اس سے پہلے ہوئی تھی غبار جم گیا تھا زمین سخت ہو گئی تھی دلوں میں خوشی پیدا ہو گئی تھی ثابت قدمی میسر ہو چکی تھی اب اونگھ آنے لگی اور مسلمان تازہ دم ہو گئے۔ صبح لڑائی ہونے والی ہے رات کو ہلکی سی بارش ہو گئی ہم درختوں تلے جاچھپے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلاتے رہے۔

یہ اس لیے کہ اللہ تمہیں پاک کر دے وضو بھی کر لو اور غسل بھی اس ظاہری پاکی کے ساتھ ہی باطنی پاکیزگی بھی حاصل ہوئی شیطانی وسوسے بھی دور ہو گئے دل مطمئن ہو گئے جیسے کہ جنتیوں کے بارے میں فرمان ہے کہ آیت «‏عَالِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ ۖ وَحُلُّوا أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٍ وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا» [ 76-الإنسان: 21 ] ‏، یعنی ” ان کے بدن پر نہیں اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنکھن پہنائے جائیں گے اور انہیں ان کا رب پاک اور پاک کرنے والا شربت پلائے گا۔ “

پس لباس اور زیور تو ظاہری زینت کی چیز ہوئی اور پاک کرنے والا پانی جس سے دلوں کی پاکیزگی اور حسد و بغض کی دوری ہو جائے۔ یہ تھی باطنی زینت۔ پھر فرماتا ہے کہ اس سے مقصود دلوں کی مضبوطی بھی تھی کہ صبرو برداشت پیدا ہو شجاعت و بہادری ہو دل بڑھ جائے ثابت قدمی ظاہر ہو جائے اور حملے میں استقامت پیدا ہو جائے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر اپنی ایک باطنی نعمت کا اظہار فرما رہا ہے تاکہ مسلمان اس پر بھی اللہ کا شکر بجا لائیں کہ اللہ تعالیٰ تبارک و تقدس و تمجد نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم جاؤ مسلمانوں کی مدد و نصرت کرو، ان کے ساتھ مل کر ہمارے دشمنوں کو نیچا دکھاؤ۔ ان کی گنتی گھٹاؤ اور ہمارے دوستوں کی تعداد بڑھاؤ۔

صفحہ نمبر3239

کہا گیا ہے کہ فرشتہ کسی مسلمان کے پاس آتا اور کہتا کہ مشرکوں میں عجیب بد دلی پھیلی ہوئی ہے۔ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ اگر مسلمانوں نے حملہ کر دیا تو ہمارے قدم نہیں ٹک سکتے ہم تو بھاگ کھڑے ہوں گے۔ اب ہر ایک دوسرے سے کہتا دوسرا تیسرے سے پھر صحابہ رضی اللہ عنہم کے دل بڑھ جاتے اور سمجھ لیتے کہ مشرکوں میں طاقت و قوت نہیں۔

پھر فرماتا ہے «إِذْ يُوحِي رَبُّكَ إِلَى الْمَلَائِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا» کہ ” تم اے فرشتوں اس کام میں لگو ادھر میں مشرکوں کے دلوں میں مسلمانوں کی دھاک بٹھا دوں گا میں ان کے دلوں میں ذلت اور حقارت ڈال دوں گا میرے حکم کے نہ ماننے والوں کا میرے رسول کے منکروں کا یہی حال ہوتا ہے۔ “ پھر تم ان کے سروں پر وار لگا کر دماغ نکال دو، گردنوں پر تلوار مار کے سر اور دھڑ میں جدائی کر دو۔ «فَوْقَ الْأَعْنَاقِ» ہاتھ پاؤں اور جوڑ جوڑ پور پور کو تاک تاک کر زخم لگاؤ۔ پس گردنوں کے اوپر سے بعض کے نزدیک مراد تو سر ہیں اور بعض کے نزدیک خود گردن مراد ہے، چنانچہ اور جگہ ہے آیت «فَإِذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ» [47-محمد:4] ‏ ” جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اُڑا دو۔ “ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں قدرتی عذابوں سے لوگوں کو ہلاک کرنے کیلئے نہیں بھیجا گیا بلکہ گردن مارنے اور قید کرنے کیلئے بھیجا گیا ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15798] ‏

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گردن پر اور سر پر وار کرنے کا استدلال اس سے ہو سکتا ہے۔ مغازی اموی میں ہے کہ مقتولین بدر کے پاس سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گذرے تو ایک شعر کا ابتدائی ٹکڑا «نُفَلِّقُ هَامًا . . .» ‏ یعنی سر ٹوٹے پڑے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ دیا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پورا شعر پڑھ دیا «مِنْ رِجَالٍ أَعِزَّةٍ عَلَيْنَا وَهُمْ كَانُوا أَعَقَّ وَأَظْلَمَا» یعنی سر ٹوٹے پڑے ہیں ان لوگو کے جو ہم پر غرور کرتے تھے کیونکہ وہ لوگ بڑے ہی ظالم اور نافرمان تھے۔

صفحہ نمبر3240

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ شعر یاد تھے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائق، جیسے آیت میں ہے «وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ» [ 36-يس: 69 ] ‏ ” اور ہم نے ان [ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏ کو شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ وہ ان کو شایاں ہے۔ “

اس شعر کا مطلب یہی ہے کہ جو لوگ ظالم اور باغی تھے اور آج تک غلبے اور شوکت سے تھے آج ان کے سر ٹوٹے ہوئے اور ان کے دماغ بکھرے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جو مشرک لوگ فرشتوں کے ہاتھ قتل ہوئے تھے انہیں مسلمان اس طرح پہچان لیتے تھے کہ ان کی گردنوں کے اوپر اور ہاتھ پیروں کے جوڑ ایسے زخم زدہ تھے جیسے آگ سے جلے ہونے کے نشانات۔ «‏وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ» ” اے مومنو! دشمنوں کو مارو ان کے جوڑ بندوں پر تاکہ ہاتھ پاؤں ٹوٹ جائیں۔“ «بَنَانٍ» جمع ہے «‏بَنَانَةً» ‏ کی۔ عربی شعروں میں بَنَانَةً کا استعمال موجود ہے پس ہر جوڑ اور ہر حصے کو «بَنَانٍ» کہتے ہیں۔

اوزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں منہ پر آنکھ پر آگ کے کوڑے برساؤ ہاں جب انہیں گرفتار کر لو پھر نہ مارنا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بدر کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ ابوجہل ملعون نے کہا تھا کہ جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کو زندہ گرفتار کر لو تاکہ ہم انہیں اس بات کا مزہ زیادہ دیر تک چکھائیں کہ وہ ہمارے دین کو برا کہتے تھے، ہمارے دین سے ہٹ گئے تھے، لات و عزی کی پرستش چھوڑ بیٹھے ٹھے۔

صفحہ نمبر3241

پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور فرشتوں کو یہ حکم دیا۔ چنانچہ جو ستر آدمی ان کافروں کے قتل ہوئے ان میں ایک یہ پاجی بھی تھا اور جو ستر آدمی قید ہوئے ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط بھی تھا لعنہ اللہ تعالیٰ، اس کو قید میں ہی قتل کیا گیا اور اس سمیت مقتولین مشرکین کی تعداد ستر ہی تھی۔ «ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ» ” اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کا نتیجہ اور بدلہ یہ ہے۔“ شقاق ماخوذ ہے شق سے۔ شق کہتے ہیں پھاڑنے چیرنے اور دو ٹکڑے کرنے کو۔

پس ان لوگوں نے گویا شریعت، ایمان اور فرماں برداری کو ایک طرف کیا اور دوسری جانب خود رہے۔ لکڑی کے پھاڑنے کو بھی عرب یہی کہتے ہیں جبکہ لکڑی کے دو ٹکڑے کر دیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف چل کر کوئی بچ نہیں سکا۔ کون ہے جو اللہ سے چھپ جائے؟ اور اس کے بےپناہ اور سخت عذابوں سے بچ جائے؟ نہ کوئی اس کے مقابلے کا نہ کسی کو اس کے عذابوں کی طاقت نہ اس سے کوئی بچ نکلے۔ نہ اس کا غضب کوئی سہہ سکے۔ وہ بلند و بالا وہ غالب اور انتقام والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود اور رب نہیں۔ وہ اپنی ذات میں، اپنی صفتوں میں یکتا اور لا شریک ہے۔ «ذَلِكُمْ فَذُوقُوهُ وَأَنَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابَ النَّارِ» ‏ ” اے کافرو! دنیا کے یہ عذاب اٹھاؤ اور ابھی آخرت میں دوزخ کا عذاب باقی ہے۔“

صفحہ نمبر3242

باب

تائید الٰہی کے بعد فتح و کامرانی۔ اللہ تعالیٰ اپنے احسانات بیان فرماتا ہے کہ اس جنگ بدر میں جبکہ اپنی کمی اور کافروں کی زیادتی، اپنی بےسرو سامانی اور کافروں کے پر شوکت سروسامان دیکھ کر مسلمانوں کے دل پر برا اثر پڑ رہا تھا پروردگار نے ان کے دلوں کے اطمینان کیلئے ان پر اونگھ ڈال دی جنگ احد میں بھی یہی حال ہوا تھا جیسے فرمان ہے آیت «‏ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغْشٰى طَاۗىِٕفَةً مِّنْكُمْ ۙ وَطَاۗىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ» [ 3- آل عمران: 154 ] ‏، یعنی ” پورے غم و رنج کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں امن دیا جو اونگھ کی صورت میں تمہیں ڈھانکے ہوئے تھا ایک جماعت اسی میں مشغول تھی۔ “

ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن پر احد والے دن اونگھ غالب آ گئی تھی اس وقت میں نیند میں جھوم رہا تھا میری تلوار میرے ہاتھ سے گر پڑتی تھی اور میں اٹھاتا تھا میں نے جب نظر ڈالی تو دیکھا کہ لوگ ڈھالیں سروں پر رکھے ہوئے نیند کے جھولے لے رہے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بدر والے دن ہمارے پورے لشکر میں گھوڑ سوار صرف ایک ہی مقداد تھے میں نے نگاہ بھر کر دیکھا کہ سارا لشکر نیند میں مست ہے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگ رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت تلے نماز میں مشغول تھے روتے جاتے تھے اور نماز پڑھتے جاتے تھے صبح تک آپ اسی طرح مناجات میں مشغول رہے۔ [مسند احمد:125/1:صحیح] ‏

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی للہ عنہ فرماتے ہیں کہ میدان جنگ میں اونگھ کا آنا اللہ کی طرف سے امن کا ملنا ہے اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حرکت ہے، اونگھ صرف آنکھوں میں ہی ہوتی ہے اور نیند کا تعلق دل سے ہے۔

صفحہ نمبر3236

یہ یاد رہے کہ اونگھ آنے کا مشہور واقعہ تو جنگ احد کا ہے لیکن اس آیت میں جو بدر کے واقعہ کے قصے کے بیان میں اونگھ کا اترنا موجود ہے پس سخت لڑائی کے وقت یہ واقعہ ہوا اور مومنوں کے دل اللہ کے عطا کردہ امن سے مطمئن ہو گئے یہ بھی مومنوں پر اللہ کا فضل و کرم اور اس کا لطف و رحم تھا «‏فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» [ 94-الشرح: 5، 6 ] ‏ سچ ہے سختی کے بعد آسانی ہے۔

صحیح حدیث میں ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھپر تلے دعا میں مشغول تھے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اونگھنے لگے۔ تھوڑی دیر میں جاگے اور تبسم فرما کر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: خوش ہو یہ ہیں جبرائیل علیہ السلام گرد آلود پھر آیت قرآنی «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» [ 54-القمر: 45 ] ‏ پڑھتے ہوئے جھونپڑی کے دروازے سے باہر تشریف لائے۔ یعنی ابھی ابھی یہ لشکر شکست کھائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔ [صحیح بخاری:2915] ‏

دوسرا احسان اس جنگ کے موقعہ پر یہ ہوا کہ بارش برس گئی۔ قوله تعالٰى «وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً» یعنی ” اللہ نے تم پر آسمان سے پانی برسایا۔ “

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے میدان بدر کے پانی پر قبضہ کر لیا تھا مسلمانوں کے اور پانی کے درمیان وہ حائل ہو گئے تھے مسلمان کمزوری کی حالت میں تھے شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالنا شروع کیا کہ تم تو اپنے تئیں اللہ والے سمجھتے ہو اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے میں موجود مانتے ہو اور حالت یہ ہے کہ پانی تک تمہارے قبضہ میں نہیں مشرکین کے ہاتھ میں پانی ہے تم نماز بھی جنبی ہونے کی حالت میں پڑھ رہے ہو ایسے وقت آسمان سے مینہ برسنا شروع ہوا اور پانی کی ریل پیل ہو گئی۔

صفحہ نمبر3237

مسلمانوں نے پانی پیا بھی، پلایا بھی، نہا دھو کر پاکی بھی حاصل کر لی اور پانی بھر بھی لیا اور شیطانی وسوسہ بھی زائل ہو گیا اور جو چکنی مٹی پانی کے راستے میں تھی دھل کر وہاں کی سخت زمین نکل آئی اور ریت جم گئی کہ اس پر آمد ورفت آسان ہو گئی اور فرشتوں کی امداد آسمان سے آ گئی پانچ سو فرشتے تو جبرائیل علیہ السلام کی ما تحتیٰ میں اور پانچ سو میکائیل کی ما تحتیٰ میں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15783:ضعیف و منقطع] ‏

مشہور یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف تشریف لے چلے تو سب سے پہلے جو پانی تھا وہاں ٹھہرے حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا کہ اگر آپ کو اللہ کا حکم یہاں پڑاؤ کرنے کا ہوا تب تو خیر اور اگر جنگی مصلحت کے ساتھ پڑاؤ یہاں کیا ہو تو آپ اور آگے چلئے آخری پانی پر قبضہ کیجئے وہیں حوض بنا کر یہاں کے سب پانی وہاں جمع کر لیں تو پانی پر ہمارا قبضہ رہے گا اور دشمن پانی بغیر رہ جائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کیا بھی۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏

مغازی اموی میں ہے کہ اس رائے کے بعد جبرائیل علیہ السلام کی موجودگی میں ایک فرشتے نے آ کر آپ کو سلام پہنچایا اور اللہ کا حکم بھی کہ یہی رائے ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ آپ انہیں جانتے ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا میں آسمان کے تمام فرشتوں سے واقف نہیں ہوں ہاں ہیں یہ فرشتے شیطان نہیں۔

سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ مشرکین ڈھلوان کی طرف تھے اور مسلمان اونچائی کی طرف تھے بارش ہونے سے مسلمانوں کی طرف تو زمین دھل کر صاف ہو گئی اور پانی سے انہیں نفع پہنچا لیکن مشرکین کی طرف پانی کھڑا ہو گیا۔

صفحہ نمبر3238

کیچڑ اور پھسلن ہو گئی کہ انہیں چلنا پھرنا دو بھر ہو گیا بارش اس سے پہلے ہوئی تھی غبار جم گیا تھا زمین سخت ہو گئی تھی دلوں میں خوشی پیدا ہو گئی تھی ثابت قدمی میسر ہو چکی تھی اب اونگھ آنے لگی اور مسلمان تازہ دم ہو گئے۔ صبح لڑائی ہونے والی ہے رات کو ہلکی سی بارش ہو گئی ہم درختوں تلے جاچھپے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلاتے رہے۔

یہ اس لیے کہ اللہ تمہیں پاک کر دے وضو بھی کر لو اور غسل بھی اس ظاہری پاکی کے ساتھ ہی باطنی پاکیزگی بھی حاصل ہوئی شیطانی وسوسے بھی دور ہو گئے دل مطمئن ہو گئے جیسے کہ جنتیوں کے بارے میں فرمان ہے کہ آیت «‏عَالِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ ۖ وَحُلُّوا أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٍ وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا» [ 76-الإنسان: 21 ] ‏، یعنی ” ان کے بدن پر نہیں اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنکھن پہنائے جائیں گے اور انہیں ان کا رب پاک اور پاک کرنے والا شربت پلائے گا۔ “

پس لباس اور زیور تو ظاہری زینت کی چیز ہوئی اور پاک کرنے والا پانی جس سے دلوں کی پاکیزگی اور حسد و بغض کی دوری ہو جائے۔ یہ تھی باطنی زینت۔ پھر فرماتا ہے کہ اس سے مقصود دلوں کی مضبوطی بھی تھی کہ صبرو برداشت پیدا ہو شجاعت و بہادری ہو دل بڑھ جائے ثابت قدمی ظاہر ہو جائے اور حملے میں استقامت پیدا ہو جائے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر اپنی ایک باطنی نعمت کا اظہار فرما رہا ہے تاکہ مسلمان اس پر بھی اللہ کا شکر بجا لائیں کہ اللہ تعالیٰ تبارک و تقدس و تمجد نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم جاؤ مسلمانوں کی مدد و نصرت کرو، ان کے ساتھ مل کر ہمارے دشمنوں کو نیچا دکھاؤ۔ ان کی گنتی گھٹاؤ اور ہمارے دوستوں کی تعداد بڑھاؤ۔

صفحہ نمبر3239

کہا گیا ہے کہ فرشتہ کسی مسلمان کے پاس آتا اور کہتا کہ مشرکوں میں عجیب بد دلی پھیلی ہوئی ہے۔ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ اگر مسلمانوں نے حملہ کر دیا تو ہمارے قدم نہیں ٹک سکتے ہم تو بھاگ کھڑے ہوں گے۔ اب ہر ایک دوسرے سے کہتا دوسرا تیسرے سے پھر صحابہ رضی اللہ عنہم کے دل بڑھ جاتے اور سمجھ لیتے کہ مشرکوں میں طاقت و قوت نہیں۔

پھر فرماتا ہے «إِذْ يُوحِي رَبُّكَ إِلَى الْمَلَائِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا» کہ ” تم اے فرشتوں اس کام میں لگو ادھر میں مشرکوں کے دلوں میں مسلمانوں کی دھاک بٹھا دوں گا میں ان کے دلوں میں ذلت اور حقارت ڈال دوں گا میرے حکم کے نہ ماننے والوں کا میرے رسول کے منکروں کا یہی حال ہوتا ہے۔ “ پھر تم ان کے سروں پر وار لگا کر دماغ نکال دو، گردنوں پر تلوار مار کے سر اور دھڑ میں جدائی کر دو۔ «فَوْقَ الْأَعْنَاقِ» ہاتھ پاؤں اور جوڑ جوڑ پور پور کو تاک تاک کر زخم لگاؤ۔ پس گردنوں کے اوپر سے بعض کے نزدیک مراد تو سر ہیں اور بعض کے نزدیک خود گردن مراد ہے، چنانچہ اور جگہ ہے آیت «فَإِذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ» [47-محمد:4] ‏ ” جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اُڑا دو۔ “ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں قدرتی عذابوں سے لوگوں کو ہلاک کرنے کیلئے نہیں بھیجا گیا بلکہ گردن مارنے اور قید کرنے کیلئے بھیجا گیا ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15798] ‏

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گردن پر اور سر پر وار کرنے کا استدلال اس سے ہو سکتا ہے۔ مغازی اموی میں ہے کہ مقتولین بدر کے پاس سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گذرے تو ایک شعر کا ابتدائی ٹکڑا «نُفَلِّقُ هَامًا . . .» ‏ یعنی سر ٹوٹے پڑے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ دیا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پورا شعر پڑھ دیا «مِنْ رِجَالٍ أَعِزَّةٍ عَلَيْنَا وَهُمْ كَانُوا أَعَقَّ وَأَظْلَمَا» یعنی سر ٹوٹے پڑے ہیں ان لوگو کے جو ہم پر غرور کرتے تھے کیونکہ وہ لوگ بڑے ہی ظالم اور نافرمان تھے۔

صفحہ نمبر3240

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ شعر یاد تھے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائق، جیسے آیت میں ہے «وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ» [ 36-يس: 69 ] ‏ ” اور ہم نے ان [ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏ کو شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ وہ ان کو شایاں ہے۔ “

اس شعر کا مطلب یہی ہے کہ جو لوگ ظالم اور باغی تھے اور آج تک غلبے اور شوکت سے تھے آج ان کے سر ٹوٹے ہوئے اور ان کے دماغ بکھرے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جو مشرک لوگ فرشتوں کے ہاتھ قتل ہوئے تھے انہیں مسلمان اس طرح پہچان لیتے تھے کہ ان کی گردنوں کے اوپر اور ہاتھ پیروں کے جوڑ ایسے زخم زدہ تھے جیسے آگ سے جلے ہونے کے نشانات۔ «‏وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ» ” اے مومنو! دشمنوں کو مارو ان کے جوڑ بندوں پر تاکہ ہاتھ پاؤں ٹوٹ جائیں۔“ «بَنَانٍ» جمع ہے «‏بَنَانَةً» ‏ کی۔ عربی شعروں میں بَنَانَةً کا استعمال موجود ہے پس ہر جوڑ اور ہر حصے کو «بَنَانٍ» کہتے ہیں۔

اوزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں منہ پر آنکھ پر آگ کے کوڑے برساؤ ہاں جب انہیں گرفتار کر لو پھر نہ مارنا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بدر کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ ابوجہل ملعون نے کہا تھا کہ جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کو زندہ گرفتار کر لو تاکہ ہم انہیں اس بات کا مزہ زیادہ دیر تک چکھائیں کہ وہ ہمارے دین کو برا کہتے تھے، ہمارے دین سے ہٹ گئے تھے، لات و عزی کی پرستش چھوڑ بیٹھے ٹھے۔

صفحہ نمبر3241

پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور فرشتوں کو یہ حکم دیا۔ چنانچہ جو ستر آدمی ان کافروں کے قتل ہوئے ان میں ایک یہ پاجی بھی تھا اور جو ستر آدمی قید ہوئے ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط بھی تھا لعنہ اللہ تعالیٰ، اس کو قید میں ہی قتل کیا گیا اور اس سمیت مقتولین مشرکین کی تعداد ستر ہی تھی۔ «ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ» ” اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کا نتیجہ اور بدلہ یہ ہے۔“ شقاق ماخوذ ہے شق سے۔ شق کہتے ہیں پھاڑنے چیرنے اور دو ٹکڑے کرنے کو۔

پس ان لوگوں نے گویا شریعت، ایمان اور فرماں برداری کو ایک طرف کیا اور دوسری جانب خود رہے۔ لکڑی کے پھاڑنے کو بھی عرب یہی کہتے ہیں جبکہ لکڑی کے دو ٹکڑے کر دیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف چل کر کوئی بچ نہیں سکا۔ کون ہے جو اللہ سے چھپ جائے؟ اور اس کے بےپناہ اور سخت عذابوں سے بچ جائے؟ نہ کوئی اس کے مقابلے کا نہ کسی کو اس کے عذابوں کی طاقت نہ اس سے کوئی بچ نکلے۔ نہ اس کا غضب کوئی سہہ سکے۔ وہ بلند و بالا وہ غالب اور انتقام والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود اور رب نہیں۔ وہ اپنی ذات میں، اپنی صفتوں میں یکتا اور لا شریک ہے۔ «ذَلِكُمْ فَذُوقُوهُ وَأَنَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابَ النَّارِ» ‏ ” اے کافرو! دنیا کے یہ عذاب اٹھاؤ اور ابھی آخرت میں دوزخ کا عذاب باقی ہے۔“

صفحہ نمبر3242

باب

تائید الٰہی کے بعد فتح و کامرانی۔ اللہ تعالیٰ اپنے احسانات بیان فرماتا ہے کہ اس جنگ بدر میں جبکہ اپنی کمی اور کافروں کی زیادتی، اپنی بےسرو سامانی اور کافروں کے پر شوکت سروسامان دیکھ کر مسلمانوں کے دل پر برا اثر پڑ رہا تھا پروردگار نے ان کے دلوں کے اطمینان کیلئے ان پر اونگھ ڈال دی جنگ احد میں بھی یہی حال ہوا تھا جیسے فرمان ہے آیت «‏ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغْشٰى طَاۗىِٕفَةً مِّنْكُمْ ۙ وَطَاۗىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ» [ 3- آل عمران: 154 ] ‏، یعنی ” پورے غم و رنج کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں امن دیا جو اونگھ کی صورت میں تمہیں ڈھانکے ہوئے تھا ایک جماعت اسی میں مشغول تھی۔ “

ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن پر احد والے دن اونگھ غالب آ گئی تھی اس وقت میں نیند میں جھوم رہا تھا میری تلوار میرے ہاتھ سے گر پڑتی تھی اور میں اٹھاتا تھا میں نے جب نظر ڈالی تو دیکھا کہ لوگ ڈھالیں سروں پر رکھے ہوئے نیند کے جھولے لے رہے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بدر والے دن ہمارے پورے لشکر میں گھوڑ سوار صرف ایک ہی مقداد تھے میں نے نگاہ بھر کر دیکھا کہ سارا لشکر نیند میں مست ہے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگ رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت تلے نماز میں مشغول تھے روتے جاتے تھے اور نماز پڑھتے جاتے تھے صبح تک آپ اسی طرح مناجات میں مشغول رہے۔ [مسند احمد:125/1:صحیح] ‏

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی للہ عنہ فرماتے ہیں کہ میدان جنگ میں اونگھ کا آنا اللہ کی طرف سے امن کا ملنا ہے اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حرکت ہے، اونگھ صرف آنکھوں میں ہی ہوتی ہے اور نیند کا تعلق دل سے ہے۔

صفحہ نمبر3236

یہ یاد رہے کہ اونگھ آنے کا مشہور واقعہ تو جنگ احد کا ہے لیکن اس آیت میں جو بدر کے واقعہ کے قصے کے بیان میں اونگھ کا اترنا موجود ہے پس سخت لڑائی کے وقت یہ واقعہ ہوا اور مومنوں کے دل اللہ کے عطا کردہ امن سے مطمئن ہو گئے یہ بھی مومنوں پر اللہ کا فضل و کرم اور اس کا لطف و رحم تھا «‏فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» [ 94-الشرح: 5، 6 ] ‏ سچ ہے سختی کے بعد آسانی ہے۔

صحیح حدیث میں ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھپر تلے دعا میں مشغول تھے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اونگھنے لگے۔ تھوڑی دیر میں جاگے اور تبسم فرما کر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: خوش ہو یہ ہیں جبرائیل علیہ السلام گرد آلود پھر آیت قرآنی «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» [ 54-القمر: 45 ] ‏ پڑھتے ہوئے جھونپڑی کے دروازے سے باہر تشریف لائے۔ یعنی ابھی ابھی یہ لشکر شکست کھائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔ [صحیح بخاری:2915] ‏

دوسرا احسان اس جنگ کے موقعہ پر یہ ہوا کہ بارش برس گئی۔ قوله تعالٰى «وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً» یعنی ” اللہ نے تم پر آسمان سے پانی برسایا۔ “

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے میدان بدر کے پانی پر قبضہ کر لیا تھا مسلمانوں کے اور پانی کے درمیان وہ حائل ہو گئے تھے مسلمان کمزوری کی حالت میں تھے شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالنا شروع کیا کہ تم تو اپنے تئیں اللہ والے سمجھتے ہو اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے میں موجود مانتے ہو اور حالت یہ ہے کہ پانی تک تمہارے قبضہ میں نہیں مشرکین کے ہاتھ میں پانی ہے تم نماز بھی جنبی ہونے کی حالت میں پڑھ رہے ہو ایسے وقت آسمان سے مینہ برسنا شروع ہوا اور پانی کی ریل پیل ہو گئی۔

صفحہ نمبر3237

مسلمانوں نے پانی پیا بھی، پلایا بھی، نہا دھو کر پاکی بھی حاصل کر لی اور پانی بھر بھی لیا اور شیطانی وسوسہ بھی زائل ہو گیا اور جو چکنی مٹی پانی کے راستے میں تھی دھل کر وہاں کی سخت زمین نکل آئی اور ریت جم گئی کہ اس پر آمد ورفت آسان ہو گئی اور فرشتوں کی امداد آسمان سے آ گئی پانچ سو فرشتے تو جبرائیل علیہ السلام کی ما تحتیٰ میں اور پانچ سو میکائیل کی ما تحتیٰ میں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15783:ضعیف و منقطع] ‏

مشہور یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف تشریف لے چلے تو سب سے پہلے جو پانی تھا وہاں ٹھہرے حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا کہ اگر آپ کو اللہ کا حکم یہاں پڑاؤ کرنے کا ہوا تب تو خیر اور اگر جنگی مصلحت کے ساتھ پڑاؤ یہاں کیا ہو تو آپ اور آگے چلئے آخری پانی پر قبضہ کیجئے وہیں حوض بنا کر یہاں کے سب پانی وہاں جمع کر لیں تو پانی پر ہمارا قبضہ رہے گا اور دشمن پانی بغیر رہ جائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کیا بھی۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏

مغازی اموی میں ہے کہ اس رائے کے بعد جبرائیل علیہ السلام کی موجودگی میں ایک فرشتے نے آ کر آپ کو سلام پہنچایا اور اللہ کا حکم بھی کہ یہی رائے ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ آپ انہیں جانتے ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا میں آسمان کے تمام فرشتوں سے واقف نہیں ہوں ہاں ہیں یہ فرشتے شیطان نہیں۔

سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ مشرکین ڈھلوان کی طرف تھے اور مسلمان اونچائی کی طرف تھے بارش ہونے سے مسلمانوں کی طرف تو زمین دھل کر صاف ہو گئی اور پانی سے انہیں نفع پہنچا لیکن مشرکین کی طرف پانی کھڑا ہو گیا۔

صفحہ نمبر3238

کیچڑ اور پھسلن ہو گئی کہ انہیں چلنا پھرنا دو بھر ہو گیا بارش اس سے پہلے ہوئی تھی غبار جم گیا تھا زمین سخت ہو گئی تھی دلوں میں خوشی پیدا ہو گئی تھی ثابت قدمی میسر ہو چکی تھی اب اونگھ آنے لگی اور مسلمان تازہ دم ہو گئے۔ صبح لڑائی ہونے والی ہے رات کو ہلکی سی بارش ہو گئی ہم درختوں تلے جاچھپے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلاتے رہے۔

یہ اس لیے کہ اللہ تمہیں پاک کر دے وضو بھی کر لو اور غسل بھی اس ظاہری پاکی کے ساتھ ہی باطنی پاکیزگی بھی حاصل ہوئی شیطانی وسوسے بھی دور ہو گئے دل مطمئن ہو گئے جیسے کہ جنتیوں کے بارے میں فرمان ہے کہ آیت «‏عَالِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ ۖ وَحُلُّوا أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٍ وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا» [ 76-الإنسان: 21 ] ‏، یعنی ” ان کے بدن پر نہیں اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنکھن پہنائے جائیں گے اور انہیں ان کا رب پاک اور پاک کرنے والا شربت پلائے گا۔ “

پس لباس اور زیور تو ظاہری زینت کی چیز ہوئی اور پاک کرنے والا پانی جس سے دلوں کی پاکیزگی اور حسد و بغض کی دوری ہو جائے۔ یہ تھی باطنی زینت۔ پھر فرماتا ہے کہ اس سے مقصود دلوں کی مضبوطی بھی تھی کہ صبرو برداشت پیدا ہو شجاعت و بہادری ہو دل بڑھ جائے ثابت قدمی ظاہر ہو جائے اور حملے میں استقامت پیدا ہو جائے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر اپنی ایک باطنی نعمت کا اظہار فرما رہا ہے تاکہ مسلمان اس پر بھی اللہ کا شکر بجا لائیں کہ اللہ تعالیٰ تبارک و تقدس و تمجد نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم جاؤ مسلمانوں کی مدد و نصرت کرو، ان کے ساتھ مل کر ہمارے دشمنوں کو نیچا دکھاؤ۔ ان کی گنتی گھٹاؤ اور ہمارے دوستوں کی تعداد بڑھاؤ۔

صفحہ نمبر3239

کہا گیا ہے کہ فرشتہ کسی مسلمان کے پاس آتا اور کہتا کہ مشرکوں میں عجیب بد دلی پھیلی ہوئی ہے۔ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ اگر مسلمانوں نے حملہ کر دیا تو ہمارے قدم نہیں ٹک سکتے ہم تو بھاگ کھڑے ہوں گے۔ اب ہر ایک دوسرے سے کہتا دوسرا تیسرے سے پھر صحابہ رضی اللہ عنہم کے دل بڑھ جاتے اور سمجھ لیتے کہ مشرکوں میں طاقت و قوت نہیں۔

پھر فرماتا ہے «إِذْ يُوحِي رَبُّكَ إِلَى الْمَلَائِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا» کہ ” تم اے فرشتوں اس کام میں لگو ادھر میں مشرکوں کے دلوں میں مسلمانوں کی دھاک بٹھا دوں گا میں ان کے دلوں میں ذلت اور حقارت ڈال دوں گا میرے حکم کے نہ ماننے والوں کا میرے رسول کے منکروں کا یہی حال ہوتا ہے۔ “ پھر تم ان کے سروں پر وار لگا کر دماغ نکال دو، گردنوں پر تلوار مار کے سر اور دھڑ میں جدائی کر دو۔ «فَوْقَ الْأَعْنَاقِ» ہاتھ پاؤں اور جوڑ جوڑ پور پور کو تاک تاک کر زخم لگاؤ۔ پس گردنوں کے اوپر سے بعض کے نزدیک مراد تو سر ہیں اور بعض کے نزدیک خود گردن مراد ہے، چنانچہ اور جگہ ہے آیت «فَإِذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ» [47-محمد:4] ‏ ” جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اُڑا دو۔ “ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں قدرتی عذابوں سے لوگوں کو ہلاک کرنے کیلئے نہیں بھیجا گیا بلکہ گردن مارنے اور قید کرنے کیلئے بھیجا گیا ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15798] ‏

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گردن پر اور سر پر وار کرنے کا استدلال اس سے ہو سکتا ہے۔ مغازی اموی میں ہے کہ مقتولین بدر کے پاس سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گذرے تو ایک شعر کا ابتدائی ٹکڑا «نُفَلِّقُ هَامًا . . .» ‏ یعنی سر ٹوٹے پڑے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ دیا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پورا شعر پڑھ دیا «مِنْ رِجَالٍ أَعِزَّةٍ عَلَيْنَا وَهُمْ كَانُوا أَعَقَّ وَأَظْلَمَا» یعنی سر ٹوٹے پڑے ہیں ان لوگو کے جو ہم پر غرور کرتے تھے کیونکہ وہ لوگ بڑے ہی ظالم اور نافرمان تھے۔

صفحہ نمبر3240

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ شعر یاد تھے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائق، جیسے آیت میں ہے «وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ» [ 36-يس: 69 ] ‏ ” اور ہم نے ان [ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏ کو شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ وہ ان کو شایاں ہے۔ “

اس شعر کا مطلب یہی ہے کہ جو لوگ ظالم اور باغی تھے اور آج تک غلبے اور شوکت سے تھے آج ان کے سر ٹوٹے ہوئے اور ان کے دماغ بکھرے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جو مشرک لوگ فرشتوں کے ہاتھ قتل ہوئے تھے انہیں مسلمان اس طرح پہچان لیتے تھے کہ ان کی گردنوں کے اوپر اور ہاتھ پیروں کے جوڑ ایسے زخم زدہ تھے جیسے آگ سے جلے ہونے کے نشانات۔ «‏وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ» ” اے مومنو! دشمنوں کو مارو ان کے جوڑ بندوں پر تاکہ ہاتھ پاؤں ٹوٹ جائیں۔“ «بَنَانٍ» جمع ہے «‏بَنَانَةً» ‏ کی۔ عربی شعروں میں بَنَانَةً کا استعمال موجود ہے پس ہر جوڑ اور ہر حصے کو «بَنَانٍ» کہتے ہیں۔

اوزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں منہ پر آنکھ پر آگ کے کوڑے برساؤ ہاں جب انہیں گرفتار کر لو پھر نہ مارنا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بدر کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ ابوجہل ملعون نے کہا تھا کہ جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کو زندہ گرفتار کر لو تاکہ ہم انہیں اس بات کا مزہ زیادہ دیر تک چکھائیں کہ وہ ہمارے دین کو برا کہتے تھے، ہمارے دین سے ہٹ گئے تھے، لات و عزی کی پرستش چھوڑ بیٹھے ٹھے۔

صفحہ نمبر3241

پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور فرشتوں کو یہ حکم دیا۔ چنانچہ جو ستر آدمی ان کافروں کے قتل ہوئے ان میں ایک یہ پاجی بھی تھا اور جو ستر آدمی قید ہوئے ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط بھی تھا لعنہ اللہ تعالیٰ، اس کو قید میں ہی قتل کیا گیا اور اس سمیت مقتولین مشرکین کی تعداد ستر ہی تھی۔ «ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ» ” اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کا نتیجہ اور بدلہ یہ ہے۔“ شقاق ماخوذ ہے شق سے۔ شق کہتے ہیں پھاڑنے چیرنے اور دو ٹکڑے کرنے کو۔

پس ان لوگوں نے گویا شریعت، ایمان اور فرماں برداری کو ایک طرف کیا اور دوسری جانب خود رہے۔ لکڑی کے پھاڑنے کو بھی عرب یہی کہتے ہیں جبکہ لکڑی کے دو ٹکڑے کر دیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف چل کر کوئی بچ نہیں سکا۔ کون ہے جو اللہ سے چھپ جائے؟ اور اس کے بےپناہ اور سخت عذابوں سے بچ جائے؟ نہ کوئی اس کے مقابلے کا نہ کسی کو اس کے عذابوں کی طاقت نہ اس سے کوئی بچ نکلے۔ نہ اس کا غضب کوئی سہہ سکے۔ وہ بلند و بالا وہ غالب اور انتقام والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود اور رب نہیں۔ وہ اپنی ذات میں، اپنی صفتوں میں یکتا اور لا شریک ہے۔ «ذَلِكُمْ فَذُوقُوهُ وَأَنَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابَ النَّارِ» ‏ ” اے کافرو! دنیا کے یہ عذاب اٹھاؤ اور ابھی آخرت میں دوزخ کا عذاب باقی ہے۔“

صفحہ نمبر3242

شہیدان وفا کے قصے ٭٭

جہاد کے میدان میں جو مسلمان بھی بھاگ کھڑا ہوا اس کی سزا اللہ کے ہاں جہنم کی آگ ہے۔ جب لشکر کفار سے مڈبھیڑ ہو جائے اس وقت پیٹھ پھیڑ ہو جائے اس وقت پیٹھ پھیرنا حرام ہے ہاں اس شخص کے لیے جو فن جنگ کے طور پر پینترا بدلے یا دشمن کو اپنے پیچھے لگا کر موقعہ پر وار کرنے کے لیے بھاگے یا اس طرح لشکر پیچھے ہٹے اور دشمن کو گھات میں لے کر پھر ان پر اچانک چھاپہ مار دے تو بیشک اس کیلئے پیٹھ پھیرنا جائز ہے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ ایک لشکر میں سے دوسرے لشکر میں جانا ہو جہاں چھوٹے سے لشکر سے بڑے لشکر کا ٹکراؤ ہو یا امام اعظم سے ملنا ہو تو وہ بھی اس میں داخل ہے۔ مسند احمد میں ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا تھا میں بھی اس میں ہی تھا لوگوں میں بھگدڑ مچی میں بھی بھاگا ہم لوگ بہت ہی نادم ہوئے کہ ہم اللہ کی راہ سے بھاگے ہیں اللہ کا غضب ہم پر ہے ہم اب مدینے جائیں اور وہاں رات گذار کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوں اگر ہماری توبہ کی کوئی صورت نکل آئے تو خیر ورنہ ہم جنگوں میں نکل جائیں۔ چنانچہ نماز فجر سے پہلے ہم جا کر بیٹھ گئے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم کون لوگ ہو؟ ہم نے کہا بھاگنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ تم لوٹنے والے ہو میں تمہاری جماعت ہوں اور میں تمام مسلمانوں کی جماعت ہوں۔ ہم نے بےساختہ آگے بڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ چوم لیے۔ [سنن ترمذي:1716،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ ابوداؤد و ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن کہہ کر فرماتے ہیں ہم اسے ابن ابی زیاد کے علاوہ کسی کی حدیث سے پہچانتے نہیں۔

صفحہ نمبر3246

ابن ابی حاتم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد آپ کا اس آیت «أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَى فِئَةٍ» کا تلاوت کرنا بھی مذکور ہے۔ [سنن ابوداود:2647،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ابوعبیدہ جنگ فارس میں ایک پل پر گھیر لیے گئے مجوسیوں کے ٹڈی دل لشکروں نے چاروں طرف سے آپ کو گھیر لیا موقعہ تھا کہ آپ ان میں سے بچ کر نکل آتے لیکن آپ نے مردانہ وار اللہ کی راہ میں جام شہادت نوش فرمایا جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا اگر وہ وہاں سے میرے پاس چلے آتے تو ان کے لیے جائز تھا کیونکہ میں مسلمانوں کی جماعت ہوں مجھ سے مل جانے میں کوئی حرج نہیں اور روایت میں ہے میں تمام مسلمانوں کی جماعت ہوں۔ اور روایت میں ہے کہ تم اس آیت کا غلط مطلب نہ لینا یہ واقعہ بدر کے متعلق ہے۔ اب تمام مسلمانوں کیلئے وہ فعتہ جس کی طرف پناہ لینے کے لیے واپس مڑنا جائز ہے، میں ہوں۔ ابن عمر سے نافع نے سوال کیا کہ ہم لوگ دشمن کی لڑائی کے وقت ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور ہمیں یہ معلوم نہیں کہ فئتہ سے مراد امام لشکر ہے یا مسلمانوں کو جنگی مرکز آپ نے فرمایا فئتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے میں نے اس آیت «إِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبَارَ» کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا یہ آیت بدر کے دن اتری ہے نہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد۔

«مُتَحَيِّزًا» کے معنی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پناہ لینے والا۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں لشکر کفار سے بھاگ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس پناہ لے اس کے لیے جائز ہے۔ آج بھی امیر اور سالار لشکر کے پاس یا اپنے مرکز میں جو بھی آئے اس کیلئے یہی حکم ہے۔

صفحہ نمبر3247

ہاں اس صورت کے سوا نامردی اور بزدلی کے طور پر لشکر گاہ سے جو بھاگ کھڑا ہو لڑائی میں پشت دکھائے وہ جہنمی ہے اور اس پر اللہ کا غضب ہے وہ حرمت کے کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے۔

بخاری مسلم کی حدیث میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو [۱] ‏ شرک باللہ [۲] ‏ جادو کرنا [۳] ‏ کسی کو نا حق قتل کردینا [۴] ‏ سود کھانا [۵] ‏ مالِ یتیم کھاجانا [۶] ‏ جہاد میں پیٹھ پھیر کر بھاگ جانا [۷] ‏ پاک دامن اور بے گناہ عورتوں پر الزام لگانا۔ [صحیح بخاری:2766] ‏

یہ بات اور کئی طرح بھی ثابت ہے کہ یہ آیت بدر کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” وہ بھاگے تو اللہ تعالیٰ کا غضب لے کر بھاگے گا۔ اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے جو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔“ [مسند احمد:224/5:ضعیف] ‏

. بشر بن معبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بیعت کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو بیعت کے لئے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط کی کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ» کی گواہی دو، میری رسالت کو مانو، نماز پابندی سے پڑھو، زکواۃ دیتے رہو، حج کرو، رمضان کے روزے رکھو اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کروگے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اس میں دو باتیں میرے لئے دشوار ہیں ایک تو جہاد کہ اگر بہ حالت جنگ کوئی پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے گا تو اللہ تعالیٰ کا غضب اس پر نازل ہوجائے گا اور مجھے خوف ہے کہ موت سے گھبرا کر کہیں مجھ سے یہ گناہ سرزد نہ ہوجائے۔ دوسرے صدقہ سو اللہ تعالیٰ کی قسم مجھے غنیمت اور اس کے سوا کچھ نہیں ملتا ہے اور دس اونٹنیاں ہیں جن کا دودھ دوھ لیا، پیا پلایا، اس پر سواری کرلی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ تھام لیا اس کو ہلایا اور کہا جہاد بھی نہ کرو گے، صدقہ بھی نہ دوگے تو پھر جنت کا استحقاق کیسے حاصل کروگے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے منظور ہے میں ہر شرط پر بیعت کروں گا۔ [مسند احمد:224/5:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر3248

طبرانی میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ تین گناہوں کے ساتھ کوئی نیکی نفع نہیں دیتی اللہ کے ساتھ شرک، ماں باپ کی نافرمانی، لڑائی سے بھاگنا، یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:1384] ‏ اسی طرح طبرانی میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس نے دعا «أَسْتَغْفِرُ اللہ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» پڑھ لیا اس کے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں گو وہ لڑائی سے بھاگا ہو۔ [سنن ترمذي:3577،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ابوداؤد اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب بتاتے ہیں اور نبی کریم کے مولیٰ زید رضی اللہ عنہ اس کے راوی ہیں۔ ان سے اس کے سوا کوئی حدیث نظر سے نہیں گزری۔

بعض حضرات کا قول ہے کہ بھاگنے کی حرمت کا یہ حکم صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ مخصوص تھا اس لیے کہ ان پر جہاد فرض عین تھا اور کہا گیا ہے کہ انصار کے ساتھ ہی مخصوص تھا اسلئے کہ ان کی بیعت سننے اور ماننے کی تھی خوشی میں بھی اور ناخوشی میں بھی۔

صفحہ نمبر3249

ایک قول یہ بھی ہے کہ بدری صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ یہ خاص تھا کیونکہ ان کی کوئی جماعت تھی ہی نہیں چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں کہا تھا کہ اے اللہ اگر تو اس جماعت کو ہلاک کر دے گا تو پھر زمین میں تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ [صحیح مسلم:1763] ‏

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں «وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ» سے مراد بدر کا دن ہے اب اگر کوئی اپنی بری جماعت کی طرف آ جائے یا کسی قلعے میں پناہ لے تو میرے خیال میں تو اس پر کوئی حرج نہیں۔ یزید بن ابی حبیب فرماتے ہیں کہ بدر والے دن جو بھاگے اس کیلئے دوزخ واجب تھی اس کے بعد جنگ احد ہوئی اس وقت یہ آیتیں اتریں «‏إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا ۖ وَلَقَدْ عَفَا اللَّـهُ عَنْهُمْ» [ 3- آل عمران: 155 ] ‏ تک۔ اس کے سات سال بعد جنگ حنین ہوئی جس کے بارے میں قرانی ذکر ہے آیت «‏ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ» [ 9- التوبہ: 25 ] ‏ یعنی ” پھر اللہ نے جس کی چاہی توبہ قبول فرمائی۔ “

اور آیت میں ہے «ثُمَّ يَتُوبُ اللَّـهُ مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ» [ 9- التوبہ: 27 ] ‏ یعنی ” پھر اللہ اس کے بعد جس پر چاہے مہربانی سے توجہ فرمائے۔“ ابوداؤد نسائی مستدرک حاکم وغیرہ میں ہے کہ ابوسعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت بدریوں کے بارے میں اتری ہے [سنن ابوداود:2648،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

لیکن یہ یاد رہے کہ گویہ مان لیا جائے کہ سبب نزول اس آیت کا بدری لوگ ہیں مگر لڑائی سے منہ پھیرنا تو حرام ہے جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گذرا کہ سات ہلاک کرنے والے گناہوں میں ایک یہ بھی ہے اور یہی مذہب جمہور کا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر3250

شہیدان وفا کے قصے ٭٭

جہاد کے میدان میں جو مسلمان بھی بھاگ کھڑا ہوا اس کی سزا اللہ کے ہاں جہنم کی آگ ہے۔ جب لشکر کفار سے مڈبھیڑ ہو جائے اس وقت پیٹھ پھیڑ ہو جائے اس وقت پیٹھ پھیرنا حرام ہے ہاں اس شخص کے لیے جو فن جنگ کے طور پر پینترا بدلے یا دشمن کو اپنے پیچھے لگا کر موقعہ پر وار کرنے کے لیے بھاگے یا اس طرح لشکر پیچھے ہٹے اور دشمن کو گھات میں لے کر پھر ان پر اچانک چھاپہ مار دے تو بیشک اس کیلئے پیٹھ پھیرنا جائز ہے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ ایک لشکر میں سے دوسرے لشکر میں جانا ہو جہاں چھوٹے سے لشکر سے بڑے لشکر کا ٹکراؤ ہو یا امام اعظم سے ملنا ہو تو وہ بھی اس میں داخل ہے۔ مسند احمد میں ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا تھا میں بھی اس میں ہی تھا لوگوں میں بھگدڑ مچی میں بھی بھاگا ہم لوگ بہت ہی نادم ہوئے کہ ہم اللہ کی راہ سے بھاگے ہیں اللہ کا غضب ہم پر ہے ہم اب مدینے جائیں اور وہاں رات گذار کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوں اگر ہماری توبہ کی کوئی صورت نکل آئے تو خیر ورنہ ہم جنگوں میں نکل جائیں۔ چنانچہ نماز فجر سے پہلے ہم جا کر بیٹھ گئے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم کون لوگ ہو؟ ہم نے کہا بھاگنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ تم لوٹنے والے ہو میں تمہاری جماعت ہوں اور میں تمام مسلمانوں کی جماعت ہوں۔ ہم نے بےساختہ آگے بڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ چوم لیے۔ [سنن ترمذي:1716،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ ابوداؤد و ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن کہہ کر فرماتے ہیں ہم اسے ابن ابی زیاد کے علاوہ کسی کی حدیث سے پہچانتے نہیں۔

صفحہ نمبر3246

ابن ابی حاتم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد آپ کا اس آیت «أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَى فِئَةٍ» کا تلاوت کرنا بھی مذکور ہے۔ [سنن ابوداود:2647،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ابوعبیدہ جنگ فارس میں ایک پل پر گھیر لیے گئے مجوسیوں کے ٹڈی دل لشکروں نے چاروں طرف سے آپ کو گھیر لیا موقعہ تھا کہ آپ ان میں سے بچ کر نکل آتے لیکن آپ نے مردانہ وار اللہ کی راہ میں جام شہادت نوش فرمایا جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا اگر وہ وہاں سے میرے پاس چلے آتے تو ان کے لیے جائز تھا کیونکہ میں مسلمانوں کی جماعت ہوں مجھ سے مل جانے میں کوئی حرج نہیں اور روایت میں ہے میں تمام مسلمانوں کی جماعت ہوں۔ اور روایت میں ہے کہ تم اس آیت کا غلط مطلب نہ لینا یہ واقعہ بدر کے متعلق ہے۔ اب تمام مسلمانوں کیلئے وہ فعتہ جس کی طرف پناہ لینے کے لیے واپس مڑنا جائز ہے، میں ہوں۔ ابن عمر سے نافع نے سوال کیا کہ ہم لوگ دشمن کی لڑائی کے وقت ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور ہمیں یہ معلوم نہیں کہ فئتہ سے مراد امام لشکر ہے یا مسلمانوں کو جنگی مرکز آپ نے فرمایا فئتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے میں نے اس آیت «إِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبَارَ» کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا یہ آیت بدر کے دن اتری ہے نہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد۔

«مُتَحَيِّزًا» کے معنی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پناہ لینے والا۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں لشکر کفار سے بھاگ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس پناہ لے اس کے لیے جائز ہے۔ آج بھی امیر اور سالار لشکر کے پاس یا اپنے مرکز میں جو بھی آئے اس کیلئے یہی حکم ہے۔

صفحہ نمبر3247

ہاں اس صورت کے سوا نامردی اور بزدلی کے طور پر لشکر گاہ سے جو بھاگ کھڑا ہو لڑائی میں پشت دکھائے وہ جہنمی ہے اور اس پر اللہ کا غضب ہے وہ حرمت کے کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے۔

بخاری مسلم کی حدیث میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو [۱] ‏ شرک باللہ [۲] ‏ جادو کرنا [۳] ‏ کسی کو نا حق قتل کردینا [۴] ‏ سود کھانا [۵] ‏ مالِ یتیم کھاجانا [۶] ‏ جہاد میں پیٹھ پھیر کر بھاگ جانا [۷] ‏ پاک دامن اور بے گناہ عورتوں پر الزام لگانا۔ [صحیح بخاری:2766] ‏

یہ بات اور کئی طرح بھی ثابت ہے کہ یہ آیت بدر کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” وہ بھاگے تو اللہ تعالیٰ کا غضب لے کر بھاگے گا۔ اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے جو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔“ [مسند احمد:224/5:ضعیف] ‏

. بشر بن معبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بیعت کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو بیعت کے لئے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط کی کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ» کی گواہی دو، میری رسالت کو مانو، نماز پابندی سے پڑھو، زکواۃ دیتے رہو، حج کرو، رمضان کے روزے رکھو اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کروگے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اس میں دو باتیں میرے لئے دشوار ہیں ایک تو جہاد کہ اگر بہ حالت جنگ کوئی پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے گا تو اللہ تعالیٰ کا غضب اس پر نازل ہوجائے گا اور مجھے خوف ہے کہ موت سے گھبرا کر کہیں مجھ سے یہ گناہ سرزد نہ ہوجائے۔ دوسرے صدقہ سو اللہ تعالیٰ کی قسم مجھے غنیمت اور اس کے سوا کچھ نہیں ملتا ہے اور دس اونٹنیاں ہیں جن کا دودھ دوھ لیا، پیا پلایا، اس پر سواری کرلی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ تھام لیا اس کو ہلایا اور کہا جہاد بھی نہ کرو گے، صدقہ بھی نہ دوگے تو پھر جنت کا استحقاق کیسے حاصل کروگے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے منظور ہے میں ہر شرط پر بیعت کروں گا۔ [مسند احمد:224/5:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر3248

طبرانی میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ تین گناہوں کے ساتھ کوئی نیکی نفع نہیں دیتی اللہ کے ساتھ شرک، ماں باپ کی نافرمانی، لڑائی سے بھاگنا، یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:1384] ‏ اسی طرح طبرانی میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس نے دعا «أَسْتَغْفِرُ اللہ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» پڑھ لیا اس کے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں گو وہ لڑائی سے بھاگا ہو۔ [سنن ترمذي:3577،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ابوداؤد اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب بتاتے ہیں اور نبی کریم کے مولیٰ زید رضی اللہ عنہ اس کے راوی ہیں۔ ان سے اس کے سوا کوئی حدیث نظر سے نہیں گزری۔

بعض حضرات کا قول ہے کہ بھاگنے کی حرمت کا یہ حکم صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ مخصوص تھا اس لیے کہ ان پر جہاد فرض عین تھا اور کہا گیا ہے کہ انصار کے ساتھ ہی مخصوص تھا اسلئے کہ ان کی بیعت سننے اور ماننے کی تھی خوشی میں بھی اور ناخوشی میں بھی۔

صفحہ نمبر3249

ایک قول یہ بھی ہے کہ بدری صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ یہ خاص تھا کیونکہ ان کی کوئی جماعت تھی ہی نہیں چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں کہا تھا کہ اے اللہ اگر تو اس جماعت کو ہلاک کر دے گا تو پھر زمین میں تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ [صحیح مسلم:1763] ‏

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں «وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ» سے مراد بدر کا دن ہے اب اگر کوئی اپنی بری جماعت کی طرف آ جائے یا کسی قلعے میں پناہ لے تو میرے خیال میں تو اس پر کوئی حرج نہیں۔ یزید بن ابی حبیب فرماتے ہیں کہ بدر والے دن جو بھاگے اس کیلئے دوزخ واجب تھی اس کے بعد جنگ احد ہوئی اس وقت یہ آیتیں اتریں «‏إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا ۖ وَلَقَدْ عَفَا اللَّـهُ عَنْهُمْ» [ 3- آل عمران: 155 ] ‏ تک۔ اس کے سات سال بعد جنگ حنین ہوئی جس کے بارے میں قرانی ذکر ہے آیت «‏ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ» [ 9- التوبہ: 25 ] ‏ یعنی ” پھر اللہ نے جس کی چاہی توبہ قبول فرمائی۔ “

اور آیت میں ہے «ثُمَّ يَتُوبُ اللَّـهُ مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ» [ 9- التوبہ: 27 ] ‏ یعنی ” پھر اللہ اس کے بعد جس پر چاہے مہربانی سے توجہ فرمائے۔“ ابوداؤد نسائی مستدرک حاکم وغیرہ میں ہے کہ ابوسعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت بدریوں کے بارے میں اتری ہے [سنن ابوداود:2648،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

لیکن یہ یاد رہے کہ گویہ مان لیا جائے کہ سبب نزول اس آیت کا بدری لوگ ہیں مگر لڑائی سے منہ پھیرنا تو حرام ہے جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گذرا کہ سات ہلاک کرنے والے گناہوں میں ایک یہ بھی ہے اور یہی مذہب جمہور کا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر3250

اللہ کی مدد ہی وجہ کامرانی ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ بندوں کے کل کاموں کا خالق وہی ہے ان سے جو بھی اچھائیاں سرزد ہوں اس پر قابل تعریف وہی ہے اس لیے کہ توفیق اسی کی طرف سے ہے اور اعانت و مدد بھی اسی کی جانب سے ہے اسی لیے فرماتا ہے کہ ” اے مسلمانوں تم نے آپ اپنی طاقت و قوت سے اپنے دشمنوں کو قتل نہیں کیا تم تو مٹی بھر تھے اور دشمن بہت زیادہ تھے تم بیکس اور کمزور تھے دشمن کس بل والے قوت طاقت والے تھے۔ یہ اللہ ہی کی مدد تھی کہ اس نے تمہیں ان پر غالب کر دیا “۔

جیسے فرمان ہے آیت «‏وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [ 3- آل عمران: 123 ] ‏، ” اللہ نے بدر کے دن تمہاری مدد کی “ اور آیت میں ہے آیت «‏لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ ۙ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ» [ 9- التوبہ: 25 ] ‏، ” بہت سی جگہ اللہ جل شانہ نے تمہاری امداد فرمائی ہے، حنین کے دن بھی جبکہ تمہیں اپنی زیادتی پر گھمنڈ ہوا لیکن وہ بیکارثابت ہوئی اور یہ وسیع زمین تم پر تنگ ہو گئی اور آخر منہ موڑ کر تم بھاگ کھڑے ہوئے۔ “

پس ثابت ہے کہ گنتی کی زیادتی، ہتھیاروں کی عمدگی اور سازو سامان کی فروانی پر غلبہ موقوف نہیں وہ تو اللہ کی مدد پر موقوف ہے۔ جیسے ارشاد الٰہی ہے آیت «كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ مَعَ الصَّابِرِينَ» [ 2-البقرة: 249 ] ‏ یعنی ” بسا اوقات چھوٹی چھوٹی جماعتوں نے بڑے بڑے لشکروں کے منہ پھیر دیئے ہیں اور ان پر غلبہ حاصل کر لیا ہے یہ سب اللہ کے حکم اور اس کی مدد سے ہے اور یقیناً اللہ تعالیٰ کی مدد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ “

پھر مٹی کی اس مٹھی کا ذکر ہو رہا ہے «وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ رَمَىٰ» جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی میں کافروں کی طرف پھینکی تھی پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جھونپڑی میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔

صفحہ نمبر3252

روئے، گڑگڑائے اور مناجات کر کے باہر نکلے اور کنکریوں کی ایک مٹھی اٹھا کر کافروں کی طرف پھینکی اور فرمایا: ان کے چہرے بگڑ جائیں، ان کے منہ پھر جائیں ساتھ ہی صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ فوراً عام حملہ کر دو۔ ادھر حملہ ہوا ادھر سے وہ کنکریاں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے کافروں کی آنکھوں میں ڈال دیں۔ وہ سب اپنی آنکھیں مل ہی رہے تھے جو لشکر اسلام ان کے کلے پر پہنچ گیا۔

پس فرماتا ہے کہ وہ مٹھی تو نے نہیں بلکہ ہم نے پھینکی تھی یعنی پھینکی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لیکن ان کی آنکھوں تک پہنچا کر انہیں شکست دینے والا اللہ تعالیٰ ہی تھا نہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا کی جس میں یہ بھی کہا کہ اے میرے پروردگار اگر تو نے اس جماعت کو ہلاک کر دیا تو پھر کبھی بھی تیری عبادت زمین پر نہ کی جائے گی۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ایک مٹھی زمین سے مٹی کی بھرلیں اور ان کے منہ کی طرف پھینک دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کیا پس مشرکین کے سارے لشکر کے منہ اور آنکھ اور نتھنوں میں وہ مٹی گھس گئی اور انہیں پیٹھ پھیرتے ہی بنی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15740:ضعیف و منقطع] ‏

مسلمانوں نے ان کو قتل کرتے ہوئے ان کا پیچھا کیا اور قید کرلیا۔ کافروں کو یہ ہزیمت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزے کے سبب ہوئی۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین کنکر لئے تھے ایک سامنے پھینکا دو کنکر دشمن فوج کے سیدھی و بائیں طرف پھینکے تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15839:مرسل و ضعیف] ‏

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کنکریوں کی ایک مٹھی زمین سے بھر کر مجھے دو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مٹھی بھردی جس میں کنکریاں تھیں اور مٹی بھی۔ آپ نے مشرکوں کی طرف وہ مٹھی پھینکی جس سے ان کی آنکھیں بھر گئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15835:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر3253

ادھر سے مسلمانوں نے ان پر حملہ کر دیا اور قتل کرنا اور قیمہ کرنا شروع کر دیا اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ یہ تیرے بس کی بات نہ تھی بلکہ یہ اللہ کے بس کی چیز تھی۔

ایک روایت میں ہے کہ تین کنکر لے کر آپ نے پھینکے تھے ایک دائیں ایک بائیں ایک بیچ میں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15839:مرسل و ضعیف] ‏ گو حنین والے دن بھی آپ نے کنکریاں مشرکوں کی طرف پھینکی تھیں لیکن یہاں ذکر جنگ بدر کے دن کا ہے۔ حکیم بن حزام کا بیان ہے کہ جنگ بدر کے دن ہم نے ایک آواز سنی کہ گویا آسمان سے کوئی کنکر کسی طشت میں گرا اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھینکی ہوئی کنکریاں ہم میں پہنچیں اور ہمیں شکست ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15835:ضعیف] ‏ یہ روایت اس سند سے بہت غریب ہے۔

یہاں دو قول اور بھی ہیں لیکن بالکل غریب ہیں۔ ایک تو یہ کہ خیبر کی جنگ کے موقع پر یوم ابن ابی حقیق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کمان منگائی لوگوں نے بہت لمبی کمان لا کر آپ کو دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے قلعے کی طرف تیر پھینکا وہ گھومتا ہوا چلا اور سردار قلعہ الوالحقیق کو اس کے گھر میں اس کے بسترے پر جا کر لگا اور اسی سے وہ مرا اس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ ” وہ تیر تو نے نہیں بلکہ ہم نے پھینکا تھا۔ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:443/13:مرسل و ضعیف] ‏ یہ روایت غریب ہے ممکن ہے راوی کو شبہ ہو گیا ہو یا مراد ان کی یہ ہو کہ یہ آیت عام ہے یہ واقعہ بھی اسی میں شامل ہے۔

صفحہ نمبر3254

ورنہ یہ تو ظاہر ہے کہ سورۃ الانفال کی اس آیت میں جنگ بدر کے بیان کا ذکر ہے۔ تو یہ واقعہ اسی جنگ بدر کا ہے اور یہ بات بالکل ظاہر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر فرماتا ہے «وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَاءً حَسَنًا» ” تاکہ مومنوں کو اپنی نعمت کا اقرار کرا دے کہ باوجود ان کی کثرت ان کی قلت، ان کے سازو سامان ان کی بےسرو سامانی کے رب العالمین نے انہیں ان پر غالب کر دیا۔“

حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ نے بڑا اچھا امتحان ہم سے لیا ہے۔ «إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» ‏ ” اللہ دعاؤں کا سننے والا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ مدد اور غلبے کا مستحق کون ہے؟ “

پھر فرماتا ہے «ذَٰلِكُمْ وَأَنَّ اللَّـهَ مُوهِنُ كَيْدِ الْكَافِرِينَ» ” اس فتح کے ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سن لو کہ اللہ تعالیٰ کافروں کے حیلے حوالے کمزور کر دے گا ان کی شان گھٹا دے گا ان کا انجام تباہی کے سوا اور کچھ نہ ہوگا “ اور یہی ہوا بھی۔

صفحہ نمبر3255

اللہ کی مدد ہی وجہ کامرانی ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ بندوں کے کل کاموں کا خالق وہی ہے ان سے جو بھی اچھائیاں سرزد ہوں اس پر قابل تعریف وہی ہے اس لیے کہ توفیق اسی کی طرف سے ہے اور اعانت و مدد بھی اسی کی جانب سے ہے اسی لیے فرماتا ہے کہ ” اے مسلمانوں تم نے آپ اپنی طاقت و قوت سے اپنے دشمنوں کو قتل نہیں کیا تم تو مٹی بھر تھے اور دشمن بہت زیادہ تھے تم بیکس اور کمزور تھے دشمن کس بل والے قوت طاقت والے تھے۔ یہ اللہ ہی کی مدد تھی کہ اس نے تمہیں ان پر غالب کر دیا “۔

جیسے فرمان ہے آیت «‏وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [ 3- آل عمران: 123 ] ‏، ” اللہ نے بدر کے دن تمہاری مدد کی “ اور آیت میں ہے آیت «‏لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ ۙ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ» [ 9- التوبہ: 25 ] ‏، ” بہت سی جگہ اللہ جل شانہ نے تمہاری امداد فرمائی ہے، حنین کے دن بھی جبکہ تمہیں اپنی زیادتی پر گھمنڈ ہوا لیکن وہ بیکارثابت ہوئی اور یہ وسیع زمین تم پر تنگ ہو گئی اور آخر منہ موڑ کر تم بھاگ کھڑے ہوئے۔ “

پس ثابت ہے کہ گنتی کی زیادتی، ہتھیاروں کی عمدگی اور سازو سامان کی فروانی پر غلبہ موقوف نہیں وہ تو اللہ کی مدد پر موقوف ہے۔ جیسے ارشاد الٰہی ہے آیت «كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ مَعَ الصَّابِرِينَ» [ 2-البقرة: 249 ] ‏ یعنی ” بسا اوقات چھوٹی چھوٹی جماعتوں نے بڑے بڑے لشکروں کے منہ پھیر دیئے ہیں اور ان پر غلبہ حاصل کر لیا ہے یہ سب اللہ کے حکم اور اس کی مدد سے ہے اور یقیناً اللہ تعالیٰ کی مدد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ “

پھر مٹی کی اس مٹھی کا ذکر ہو رہا ہے «وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ رَمَىٰ» جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی میں کافروں کی طرف پھینکی تھی پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جھونپڑی میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔

صفحہ نمبر3252

روئے، گڑگڑائے اور مناجات کر کے باہر نکلے اور کنکریوں کی ایک مٹھی اٹھا کر کافروں کی طرف پھینکی اور فرمایا: ان کے چہرے بگڑ جائیں، ان کے منہ پھر جائیں ساتھ ہی صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ فوراً عام حملہ کر دو۔ ادھر حملہ ہوا ادھر سے وہ کنکریاں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے کافروں کی آنکھوں میں ڈال دیں۔ وہ سب اپنی آنکھیں مل ہی رہے تھے جو لشکر اسلام ان کے کلے پر پہنچ گیا۔

پس فرماتا ہے کہ وہ مٹھی تو نے نہیں بلکہ ہم نے پھینکی تھی یعنی پھینکی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لیکن ان کی آنکھوں تک پہنچا کر انہیں شکست دینے والا اللہ تعالیٰ ہی تھا نہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا کی جس میں یہ بھی کہا کہ اے میرے پروردگار اگر تو نے اس جماعت کو ہلاک کر دیا تو پھر کبھی بھی تیری عبادت زمین پر نہ کی جائے گی۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ایک مٹھی زمین سے مٹی کی بھرلیں اور ان کے منہ کی طرف پھینک دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کیا پس مشرکین کے سارے لشکر کے منہ اور آنکھ اور نتھنوں میں وہ مٹی گھس گئی اور انہیں پیٹھ پھیرتے ہی بنی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15740:ضعیف و منقطع] ‏

مسلمانوں نے ان کو قتل کرتے ہوئے ان کا پیچھا کیا اور قید کرلیا۔ کافروں کو یہ ہزیمت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزے کے سبب ہوئی۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین کنکر لئے تھے ایک سامنے پھینکا دو کنکر دشمن فوج کے سیدھی و بائیں طرف پھینکے تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15839:مرسل و ضعیف] ‏

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کنکریوں کی ایک مٹھی زمین سے بھر کر مجھے دو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مٹھی بھردی جس میں کنکریاں تھیں اور مٹی بھی۔ آپ نے مشرکوں کی طرف وہ مٹھی پھینکی جس سے ان کی آنکھیں بھر گئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15835:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر3253

ادھر سے مسلمانوں نے ان پر حملہ کر دیا اور قتل کرنا اور قیمہ کرنا شروع کر دیا اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ یہ تیرے بس کی بات نہ تھی بلکہ یہ اللہ کے بس کی چیز تھی۔

ایک روایت میں ہے کہ تین کنکر لے کر آپ نے پھینکے تھے ایک دائیں ایک بائیں ایک بیچ میں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15839:مرسل و ضعیف] ‏ گو حنین والے دن بھی آپ نے کنکریاں مشرکوں کی طرف پھینکی تھیں لیکن یہاں ذکر جنگ بدر کے دن کا ہے۔ حکیم بن حزام کا بیان ہے کہ جنگ بدر کے دن ہم نے ایک آواز سنی کہ گویا آسمان سے کوئی کنکر کسی طشت میں گرا اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھینکی ہوئی کنکریاں ہم میں پہنچیں اور ہمیں شکست ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15835:ضعیف] ‏ یہ روایت اس سند سے بہت غریب ہے۔

یہاں دو قول اور بھی ہیں لیکن بالکل غریب ہیں۔ ایک تو یہ کہ خیبر کی جنگ کے موقع پر یوم ابن ابی حقیق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کمان منگائی لوگوں نے بہت لمبی کمان لا کر آپ کو دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے قلعے کی طرف تیر پھینکا وہ گھومتا ہوا چلا اور سردار قلعہ الوالحقیق کو اس کے گھر میں اس کے بسترے پر جا کر لگا اور اسی سے وہ مرا اس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ ” وہ تیر تو نے نہیں بلکہ ہم نے پھینکا تھا۔ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:443/13:مرسل و ضعیف] ‏ یہ روایت غریب ہے ممکن ہے راوی کو شبہ ہو گیا ہو یا مراد ان کی یہ ہو کہ یہ آیت عام ہے یہ واقعہ بھی اسی میں شامل ہے۔

صفحہ نمبر3254

ورنہ یہ تو ظاہر ہے کہ سورۃ الانفال کی اس آیت میں جنگ بدر کے بیان کا ذکر ہے۔ تو یہ واقعہ اسی جنگ بدر کا ہے اور یہ بات بالکل ظاہر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر فرماتا ہے «وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَاءً حَسَنًا» ” تاکہ مومنوں کو اپنی نعمت کا اقرار کرا دے کہ باوجود ان کی کثرت ان کی قلت، ان کے سازو سامان ان کی بےسرو سامانی کے رب العالمین نے انہیں ان پر غالب کر دیا۔“

حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ نے بڑا اچھا امتحان ہم سے لیا ہے۔ «إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» ‏ ” اللہ دعاؤں کا سننے والا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ مدد اور غلبے کا مستحق کون ہے؟ “

پھر فرماتا ہے «ذَٰلِكُمْ وَأَنَّ اللَّـهَ مُوهِنُ كَيْدِ الْكَافِرِينَ» ” اس فتح کے ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سن لو کہ اللہ تعالیٰ کافروں کے حیلے حوالے کمزور کر دے گا ان کی شان گھٹا دے گا ان کا انجام تباہی کے سوا اور کچھ نہ ہوگا “ اور یہی ہوا بھی۔

صفحہ نمبر3255

ایمان والوں کا متعین و مددگار اللہ عزاسمہ ٭٭

اللہ تعالیٰ کافروں سے فرما رہا ہے کہ «إِن تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ» ” تم یہ دعائیں کرتے تھے کہ ہم میں اور مسلمانوں میں اللہ تعالیٰ فیصلہ کر دے جو حق پر ہوا سے غالب کر دے اور اس کی مد فرمائے تو اب تمہاری یہ خواہش بھی پوری ہو گئی مسلمان بحکم الٰہی اپنے دشمنوں پر غالب آ گئے۔“ [سنن نسائی:221،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ابوجہل نے بدر والے دن کہا تھا کہ اے اللہ ہم میں سے جو رشتوں ناتوں کا توڑنے والا ہو اور غیر معروف چیز لے کر آیا ہو اسے توکل کی لڑائی میں شکست دے پس اللہ تعالیٰ نے یہی کیا اور یہ اور اس کا لشکر ہار گئے، مکے سے نکلنے سے پہلے ان مشرکوں نے خانہ کعبہ کا غلاف پکڑ کر دعا کی تھی کہ الٰہی دونوں لشکروں میں سے تیرے نزدیک جو اعلیٰ ہو اور زیادہ بزرگ ہو اور زیادہ بہتری والا ہو تو اس کی مدد کر۔ پس اس آیت میں ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ ” لو اللہ کی مدد آ گئی تمہارا کہا ہوا پورا ہو گیا۔ ہم نے اپنے نبی کو جو ہمارے نزدیک بزرگ، بہتر اور اعلیٰ تھے غالب کر دیا۔“

خود قرآن نے ان کی دعا نقل کی ہے کہ یہ کہتے تھے دعا «وَاِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» [ 8- الانفال: 32 ] ‏، ” الٰہی اگر یہ تیری جانب سے راست ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور درد ناک عذاب ہم پر لا۔“

پھر فرماتا ہے «وَإِن تَعُودُوا نَعُدْ وَلَن تُغْنِيَ عَنكُمْ فِئَتُكُمْ شَيْئًا وَلَوْ كَثُرَتْ» کہ ” اگر اب بھی تم اپنے کفر سے باز آ جاؤ تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول کو نہ جھٹلاؤ تو دونوں جہان میں بھلائی پاؤ گے۔ “

اور «وَإِنْ عُدتُّمْ عُدْنَا» [ 17-الاسراء: 8 ] ‏ ” اگر پھر تم نے یہی کفر و گمراہی کو تو ہم بھی اسی طرح مسلمانوں کے ہاتھوں تمہیں پست کریں گے۔ اگر تم نے پھر اسی طرح فتح مانگی تو ہم پھر اپنے نیک بندوں پر اپنی مدد اتاریں گے “ لیکن اول قول قوی ہے۔

یاد رکھو گو تم سب کے سب مل کر چڑھائی کرو تمہاری تعداد کتنی ہی بڑھ جائے اپنے تمام لشکر جمع کر لو لیکن سب تدبیریں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہو اسے کوئی مغلوب نہیں کر سکتا۔ «وَأَنَّ اللَّـهَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ» ظاہر ہے کہ ” خالق کائنات مومنوں کے ساتھ ہے“ اس لیے کہ وہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں۔

صفحہ نمبر3257

اللہ کی نگاہ میں بدترین مخلوق ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو اپنی اور اپنے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیتا ہے اور مخالفت سے اور کافروں جیسا ہونے سے منع فرماتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ «لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ» ” اطاعت کو نہ چھوڑو، تابع داری سے منہ نہ موڑو۔ جن کاموں سے اللہ اور اس کا رسول روک دے رک جایا کرو۔ “

«وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ» ‏ ” سن کر ان سنی نہ کر دیا کرو، مشرکوں کی طرح نہ بن جاؤ کہ سنا نہیں اور کہدیا کہ سن لیا، نہ منافقوں کی طرح بنو کہ بظاہر ماننے والا ظاہر کر دیا اور درحقیقت یہ بات نہیں۔“ بدترین مخلوق جانوروں، کیڑے مکوڑوں سے بھی برے اللہ کے نزدیک ایسے ہی لوگ ہیں جو حق باتوں سے اپنے کان بہرے کر لیں اور حق کے سمجھنے سے گونگے بن جائیں، بےعقلی سے کام لیں۔ اس لیے کہ تمام جانور بھی اللہ قادر کل کے زیر فرمان ہیں جو جس کام کیلئے بنایا گیا ہے اس میں مشغول ہے مگر یہ ہیں کہ پیدا کئے گئے عبادت کے لیے لیکن کفر کرتے ہیں۔

چنانچہ اور آیت میں انہیں جانوروں سے تشبیہ دی گئی۔ فرمان ہے آیت «وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ» [ 2-البقرة: 171 ] ‏، یعنی ” کافروں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی انہیں آواز دے تو سوائے پکارا اور ندا کے کچھ نہ سنیں۔ “

اور آیت میں ہے کہ «أُولَـٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ» [ 7-الأعراف: 179 ] ‏، یعنی ” یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہکے ہوئے اور غافل۔“

ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اس سے بنا عبدالدار کے قریشی ہیں۔ [صحیح بخاری:4646] ‏

محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اس سے منافق ہیں۔ بات یہ ہے کہ مشرک منافق دونوں ہی مراد ہیں دونوں ہی مراد ہیں دونوں میں صحیح فہم اور سلامتی والی عقل نہیں ہوتی نہ ہی عمل صالح کی انہیں توفیق ہوتی ہے۔ اگر ان میں بھلائی ہوتی تو اللہ انہیں سنا دیتا لیکن نہ ان میں بھلائی نہ توفیق الہٰ۔ اللہ جل شانہُ کو علم ہے کہ انہیں سنایا بھی سمجھایا بھی تو بھی یہ اپنی سرکشی سے باز نہیں آئیں گے بلکہ اور اکڑ کر بھاگ جائیں گے۔

صفحہ نمبر3258

اللہ کی نگاہ میں بدترین مخلوق ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو اپنی اور اپنے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیتا ہے اور مخالفت سے اور کافروں جیسا ہونے سے منع فرماتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ «لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ» ” اطاعت کو نہ چھوڑو، تابع داری سے منہ نہ موڑو۔ جن کاموں سے اللہ اور اس کا رسول روک دے رک جایا کرو۔ “

«وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ» ‏ ” سن کر ان سنی نہ کر دیا کرو، مشرکوں کی طرح نہ بن جاؤ کہ سنا نہیں اور کہدیا کہ سن لیا، نہ منافقوں کی طرح بنو کہ بظاہر ماننے والا ظاہر کر دیا اور درحقیقت یہ بات نہیں۔“ بدترین مخلوق جانوروں، کیڑے مکوڑوں سے بھی برے اللہ کے نزدیک ایسے ہی لوگ ہیں جو حق باتوں سے اپنے کان بہرے کر لیں اور حق کے سمجھنے سے گونگے بن جائیں، بےعقلی سے کام لیں۔ اس لیے کہ تمام جانور بھی اللہ قادر کل کے زیر فرمان ہیں جو جس کام کیلئے بنایا گیا ہے اس میں مشغول ہے مگر یہ ہیں کہ پیدا کئے گئے عبادت کے لیے لیکن کفر کرتے ہیں۔

چنانچہ اور آیت میں انہیں جانوروں سے تشبیہ دی گئی۔ فرمان ہے آیت «وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ» [ 2-البقرة: 171 ] ‏، یعنی ” کافروں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی انہیں آواز دے تو سوائے پکارا اور ندا کے کچھ نہ سنیں۔ “

اور آیت میں ہے کہ «أُولَـٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ» [ 7-الأعراف: 179 ] ‏، یعنی ” یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہکے ہوئے اور غافل۔“

ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اس سے بنا عبدالدار کے قریشی ہیں۔ [صحیح بخاری:4646] ‏

محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اس سے منافق ہیں۔ بات یہ ہے کہ مشرک منافق دونوں ہی مراد ہیں دونوں ہی مراد ہیں دونوں میں صحیح فہم اور سلامتی والی عقل نہیں ہوتی نہ ہی عمل صالح کی انہیں توفیق ہوتی ہے۔ اگر ان میں بھلائی ہوتی تو اللہ انہیں سنا دیتا لیکن نہ ان میں بھلائی نہ توفیق الہٰ۔ اللہ جل شانہُ کو علم ہے کہ انہیں سنایا بھی سمجھایا بھی تو بھی یہ اپنی سرکشی سے باز نہیں آئیں گے بلکہ اور اکڑ کر بھاگ جائیں گے۔

صفحہ نمبر3258

اللہ کی نگاہ میں بدترین مخلوق ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو اپنی اور اپنے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیتا ہے اور مخالفت سے اور کافروں جیسا ہونے سے منع فرماتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ «لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ» ” اطاعت کو نہ چھوڑو، تابع داری سے منہ نہ موڑو۔ جن کاموں سے اللہ اور اس کا رسول روک دے رک جایا کرو۔ “

«وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ» ‏ ” سن کر ان سنی نہ کر دیا کرو، مشرکوں کی طرح نہ بن جاؤ کہ سنا نہیں اور کہدیا کہ سن لیا، نہ منافقوں کی طرح بنو کہ بظاہر ماننے والا ظاہر کر دیا اور درحقیقت یہ بات نہیں۔“ بدترین مخلوق جانوروں، کیڑے مکوڑوں سے بھی برے اللہ کے نزدیک ایسے ہی لوگ ہیں جو حق باتوں سے اپنے کان بہرے کر لیں اور حق کے سمجھنے سے گونگے بن جائیں، بےعقلی سے کام لیں۔ اس لیے کہ تمام جانور بھی اللہ قادر کل کے زیر فرمان ہیں جو جس کام کیلئے بنایا گیا ہے اس میں مشغول ہے مگر یہ ہیں کہ پیدا کئے گئے عبادت کے لیے لیکن کفر کرتے ہیں۔

چنانچہ اور آیت میں انہیں جانوروں سے تشبیہ دی گئی۔ فرمان ہے آیت «وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ» [ 2-البقرة: 171 ] ‏، یعنی ” کافروں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی انہیں آواز دے تو سوائے پکارا اور ندا کے کچھ نہ سنیں۔ “

اور آیت میں ہے کہ «أُولَـٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ» [ 7-الأعراف: 179 ] ‏، یعنی ” یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہکے ہوئے اور غافل۔“

ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اس سے بنا عبدالدار کے قریشی ہیں۔ [صحیح بخاری:4646] ‏

محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اس سے منافق ہیں۔ بات یہ ہے کہ مشرک منافق دونوں ہی مراد ہیں دونوں ہی مراد ہیں دونوں میں صحیح فہم اور سلامتی والی عقل نہیں ہوتی نہ ہی عمل صالح کی انہیں توفیق ہوتی ہے۔ اگر ان میں بھلائی ہوتی تو اللہ انہیں سنا دیتا لیکن نہ ان میں بھلائی نہ توفیق الہٰ۔ اللہ جل شانہُ کو علم ہے کہ انہیں سنایا بھی سمجھایا بھی تو بھی یہ اپنی سرکشی سے باز نہیں آئیں گے بلکہ اور اکڑ کر بھاگ جائیں گے۔

صفحہ نمبر3258

اللہ کی نگاہ میں بدترین مخلوق ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو اپنی اور اپنے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیتا ہے اور مخالفت سے اور کافروں جیسا ہونے سے منع فرماتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ «لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ» ” اطاعت کو نہ چھوڑو، تابع داری سے منہ نہ موڑو۔ جن کاموں سے اللہ اور اس کا رسول روک دے رک جایا کرو۔ “

«وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ» ‏ ” سن کر ان سنی نہ کر دیا کرو، مشرکوں کی طرح نہ بن جاؤ کہ سنا نہیں اور کہدیا کہ سن لیا، نہ منافقوں کی طرح بنو کہ بظاہر ماننے والا ظاہر کر دیا اور درحقیقت یہ بات نہیں۔“ بدترین مخلوق جانوروں، کیڑے مکوڑوں سے بھی برے اللہ کے نزدیک ایسے ہی لوگ ہیں جو حق باتوں سے اپنے کان بہرے کر لیں اور حق کے سمجھنے سے گونگے بن جائیں، بےعقلی سے کام لیں۔ اس لیے کہ تمام جانور بھی اللہ قادر کل کے زیر فرمان ہیں جو جس کام کیلئے بنایا گیا ہے اس میں مشغول ہے مگر یہ ہیں کہ پیدا کئے گئے عبادت کے لیے لیکن کفر کرتے ہیں۔

چنانچہ اور آیت میں انہیں جانوروں سے تشبیہ دی گئی۔ فرمان ہے آیت «وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ» [ 2-البقرة: 171 ] ‏، یعنی ” کافروں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی انہیں آواز دے تو سوائے پکارا اور ندا کے کچھ نہ سنیں۔ “

اور آیت میں ہے کہ «أُولَـٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ» [ 7-الأعراف: 179 ] ‏، یعنی ” یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہکے ہوئے اور غافل۔“

ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اس سے بنا عبدالدار کے قریشی ہیں۔ [صحیح بخاری:4646] ‏

محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اس سے منافق ہیں۔ بات یہ ہے کہ مشرک منافق دونوں ہی مراد ہیں دونوں ہی مراد ہیں دونوں میں صحیح فہم اور سلامتی والی عقل نہیں ہوتی نہ ہی عمل صالح کی انہیں توفیق ہوتی ہے۔ اگر ان میں بھلائی ہوتی تو اللہ انہیں سنا دیتا لیکن نہ ان میں بھلائی نہ توفیق الہٰ۔ اللہ جل شانہُ کو علم ہے کہ انہیں سنایا بھی سمجھایا بھی تو بھی یہ اپنی سرکشی سے باز نہیں آئیں گے بلکہ اور اکڑ کر بھاگ جائیں گے۔

صفحہ نمبر3258

دل رب کی انگلیوں میں ہیں ٭٭

صحیح بخاری شریف میں ہے «اسْتَجِيبُوا» معنی میں «أَجِيبُوا» کے ہے «لِمَا يُحْيِيكُمْ» معنی «بِما يُصْلِحُكُم» کے ہے یعنی ” اللہ اور اس کا رسول تمہیں جب آواز دے تم جواب دو اور مان لو کیونکہ اس کے فرمان کے ماننے میں ہی تمہاری مصلحت ہے۔“

ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نماز میں تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گذرے۔ مجھے آواز دی، میں آپ کے پاس نہ آیا۔ جب نماز پڑھ چکا تو حاضر خدمت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے کس نے روکا تھا کہ تو میرے پاس چلا آئے؟ کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ اے ایمان والو اللہ اور اللہ کا رسول تمہیں جب آواز دیں تم قبول کر لیا کرو کیونکہ اسی میں تمہاری زندگی ہے۔ سنیں اس مسجد سے نکلنے سے پہلے ہی میں تمہیں قرآن کی سب سے بڑی سورت سکھاؤں گا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد سے جانے کا ارادہ کیا تو میں نے آپ کو آپ کا وعدہ یاد دلایا [صحیح بخاری:4647] ‏

اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سورت فاتحہ بتلائی اور فرمایا: سات آیتیں دوہرائی ہوئی یہی ہیں۔ اس حدیث کا پورا پورا بیان سورۃ فاتحہ کی تفسیر میں گذر چکا ہے۔

زندگی، آخرت میں نجات، عذاب سے بچاؤ اور چھٹکارا قرآن کی تعلیم، حق کو تسلیم کرنے اور اسلام لانے اور جہاد میں ہے۔ ان ہی چیزوں کا حکم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے۔ اللہ انسان اور اس کے دل میں حائل ہے۔ یعنی مومن میں اور کفر میں کافر میں اور ایمان میں۔ یہ معنی ایک مرفوع حدیث میں بھی ہیں لیکن ٹھیک یہی ہے کہ یہ قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ہے مرفوع حدیث نہیں۔ [الدر المنشور للسیوطی:320/3] ‏

صفحہ نمبر3262

مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں یعنی اسے اس حال میں چھوڑنا ہے کہ وہ کسی چیز کو سمجھتا نہیں۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر نہ ایمان لا سکے نہ کفر کر سکے۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ آیت مثل آیت «‏وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ» [ 50- ق: 16 ] ‏ کے ہے یعنی ” بندے کی رگ جان سے بھی زیادہ نزدیک ہم ہیں۔ “

اس آیت کے مناسب حدیثیں بھی ہیں۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر فرمایا کرتے تھے کہ «يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّت قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔ تو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری ہوئی وحی پر ایمان لا چکے ہیں کیا پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری نسبت خطرہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان دل ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے ان کا تغیر و تبدل کرتا رہتا ہے۔ [سنن ترمذي:2140،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ترمذی میں بھی یہ روایت کتاب القدر میں موجود ہے۔

مسند احمد میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے «يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» اے دلوں کے پھیر نے والے میرے دل کو اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رکھ۔

مسند احمد میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر دل اللہ تعالیٰ رب العالمین کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے جب سیدھا کرنا چاہتا ہے کر دیتا ہے اور جب ٹیڑھا کرنا چاہتا ہے کر دیتا ہے [سنن ترمذي:2140،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا تھی کہ اے مقلب القلوب اللہ میرا دل اپنے دین پر ثابت قدم رکھ، فرماتے ہیں میزان رب رحمان کے ہاتھ میں ہے، جھکاتا ہے اور اونچی کرتا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:199،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند کی اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کو اکثر سن کر مائی عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ بکثرت اس دعا کے کرنے کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے جب چاہتا ہے ٹیڑھا کر دیتا ہے اور جب چاہتا ہے سیدھا کر دیتا ہے۔

صفحہ نمبر3263

مسند احمد میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کو بکثرت سن کر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا دل پلٹ جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جواب دیا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے جو ہمارا پروردگار ہے دعا کرتے ہیں کہ «‏رَبَّنَا أَنْ لَا يُزِيغَ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا، وَنَسْأَلُهُ أَنْ يَهَبَ لَنَا مِنْ لَدُنْهُ رَحْمَةً إِنَّهُ هُوَ الْوَهَّابُ» وہ ہدایت کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت و نعمت عطا فرمائے وہ بڑی ہی بخشش کرنے والا اور بہت انعاموں والا ہے۔

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر درخواست کی کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے میرے لیے بھی کوئی دعا سکھائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں یہ دعا مانگا کرو دعا «‏اللَّهُمَّ رَبَّ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ، اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي، وَأَجِرْنِي مِنْ مُضِلاتِ الْفِتَنِ» یعنی اے اللہ اسے محمد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار میرے گناہ معاف فرما میرے دل کی سختی دور کر دے مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بجا لے جب تک بھی تو مجھے زندہ رکھ۔ [مسند احمد:302/6:ضعیف] ‏

مسند احمد میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام انسانوں کے دل ایک ہی دل کی طرح اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔ جس طرح چاہتا ہے انہیں الٹ پلٹ کرتا رہتا ہے پھر آپ نے دعا کی کہ «اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ، صَرِّفْ قُلُوبَنَا إِلَى طَاعَتِكَ» اے دلوں کے پھیر نے والے اللہ ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر لے۔ [صحیح مسلم:2654] ‏

صفحہ نمبر3264

برائیوں سے نہ روکنا عذاب الٰہی کا سبب ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرا رہا ہے کہ اس امتحان اور اس محنت اور فتنے کا خوف رکھو جو گنہگاروں بدکاروں پر ہی نہیں رہے گا بلکہ اس بلاء کی وبا عام ہو گی۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے لوگوں نے کہا کہ اے ابوعبداللہ تمہیں کون سی چیز لائی ہے؟ تم نے مقتول خلیفہ کو دھوکہ دیا پھر اس کے خون کے بدلے کی جستجو میں تم آئے اس پر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے زمانے میں اس آیت «وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَّا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنكُمْ خَاصَّةً ۖ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ» [ 8-الانفال: 25 ] ‏، کو پڑھتے تھے لیکن یہ خیال بھی نہ تھا کہ ہم ہی اس کے اہل ہیں یہاں تک کہ یہ واقعات رونما ہوئے۔ [مسند احمد:165/1:جید] ‏

اور روایت میں ہے کہ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی ہم اس آیت سے ڈرا دئے گئے تھے لیکن یہ خیال بھی نہ تھا کہ ہم ہی اس کے ساتھ مخصوص کر دیئے گئے ہیں۔

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ آیت خاصتاً اہل بدر کے بارے میں اتری ہے کہ وہ جنگ جمل میں آپس میں خوب لڑے بھڑے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مراد اس سے خاص اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرماتے ہیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ مومنوں کو حکم فرما رہا کہ وہ آپس میں کسی خلاف شرع کام کو باقی اور جاری نہ رہنے دیں۔ ورنہ اللہ کے عام عذاب میں سب پکڑ لیے جائیں گے۔ یہ تفسیر نہایت عمدہ ہے۔

مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ حکم تمہارے لیے بھی ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تم میں سے ہر شخص فتنے میں مشغول ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ «‏إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ» [ 64-التغابن: 15 ] ‏ ” تمہارے مال اور تمہاری اولادیں فتنہ ہیں پس تم میں سے جو بھی پناہ مانگے وہ اللہ تعالیٰ سے مانگے ہر گمراہ کن فتنے سے پناہ طلب کر لیا کرے۔“

صفحہ نمبر3265

صحیح بات یہی ہے کہ اس فرمان میں صحابہ اور غزوی صحابہ رضی اللہ عنہم سب کو تنبیہ ہے گو خطاب انہی سے ہے اسی پر دلالت ان احادیث کی ہے جو فتنے سے ڈرانے کیلئے ہیں گو ان کے بیان میں ائمہ کرام کی مستقل تصانیف ہیں لیکن بعض مخصوص حدیثیں ہم یہاں بھی وارد کرتے ہیں اللہ ہماری مدد فرمائے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو اللہ عزوجل عذاب نہیں کرتا ہاں اگر وہ کوئی برائی دیکھیں اور اس کے مٹانے پر قادر ہوں پھر بھی اس خلاف شرع کام کو نہ روکیں تو اللہ تعالیٰ سب کو عذاب کرتا ہے۔ [مسند احمد:192/4:حسن لغیرہ] ‏ اس کی اسناد میں ایک راوی مبہم ہے۔

اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یا تو تم اچھی باتوں کا حکم اور بری باتوں سے منع کرتے رہو گے یا اللہ تعالیٰ تم پر اپنے پاس سے کوئی عام عذاب نازل فرمائے گا۔ [سنن ترمذي:2129،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ ایک آدمی ایک بات زبان سے نکالتا تھا اور منافق ہو جاتا تھا لیکن اب تو تم ایک ہی مجلس میں نہایت بےپرواہی سے چار چار دفعہ ایسے کلمات اپنی زبان سے نکال دیا کرتے ہو واللہ یا تو تم نیک باتوں کا حکم بری باتوں سے روکو اور نیکیوں کی رغبت دلاؤ ورنہ اللہ تعالیٰ تم سب کو تہس نہس کر دے گا یا تم پر برے لوگوں کو مسلط کر دے گا پھر نیک لوگ دعائیں کریں گے لیکن وہ قبول نہ فرمائے گا۔ [مسند احمد:390/5:ضعیف] ‏

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں اپنے کانوں کی طرف اپنی انگلیوں سے اشارہ کر کے فرمایا اللہ کی حدوں پر قائم رہنے والے، ان میں واقع ہونے والے اور ان کے بارے میں سستی کرنے والوں کی مثال ان لوگوں کی سی ہے جو ایک کشتی میں سوار ہوئے کوئی نیچے تھا کوئی اوپر تھا۔نیچے والے پانی لینے کے لیے اوپر آتے تھے اوپر والوں کو تکلیف ہوتی تھی آخر انہوں نے کہا آؤ یہیں سے نیچے سے ہی کشتی کا ایک تختہ توڑ لیں حسب ضرورت پانی یہیں سے لے لیا کریں گے تاکہ نہ اوپر جانا پڑے نہ انہیں تکلیف پہنچے پس اگر اوپر والے ان کے کام اپنے ذمہ لے لیں اور انہیں کشی کے نیچے کا تختہ اکھاڑ نے سے روک دیں تو وہ بھی بچیں اور یہ بھی ورنہ وہ بھی ڈوبیں گے اور یہ بھی۔ [صحیح بخاری:2686] ‏

صفحہ نمبر3266

ایک اور حدیث میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جب میری امت میں گناہ ظاہر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے عام عذاب آب پر بھیجے گا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں تو نیک لوگ بھی ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں؟ پوچھا پھر وہ لوگ کیا کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں بھی وہی پہنچے گا جو اوروں کو پہنچا اور پھر انہیں اللہ کی مغفرت اور رضا مندی ملے گی۔ [مسند احمد:294/6:صحیح] ‏ ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو لوگ برے کام کرنے لگیں اور ان میں کوئی ذی عزت ذی اثر شخص ہو اور وہ منع نہ کرے روکے نہیں تو ان سب کو اللہ کا عذاب ہو گا سزا میں سب شامل رہیں گے۔ [ مسند و ابوداؤد وغیرہ ] ‏ اور روایت میں ہے کہ کرنے والے تھوڑے ہوں نہ کرنے والے زیادہ اور ذی اثر ہوں پھر بھی وہ اس برائی کو نہ روکیں تو اللہ ان سب کو اجتماعی سزا دے گا۔ مسند کی اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب زمین والوں میں بدی ظاہر ہو جائے تو اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب اتارتا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ ان ہی میں اللہ کے اطاعت گذار بندے بھی ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عذاب عام ہو گا پھر وہ اللہ کی رحمت کی طرف لوٹ جائیں گے۔

صفحہ نمبر3267

اہل ایمان پر اللہ کے احسانات ٭٭

مومنوں کو پروردگار عالم اپنے احسانات یاد دلا رہا ہے کہ ان کی گنتی اس نے بڑھا دی، ان کی کمزوری کو زور سے بدل دیا، ان کے خوف کو امن سے بدل دیا، ان کی ناتوانی کو طاقت سے بدل دیا، ان کی فقیری کو امیری سے بدل دیا، انہوں نے جیسے جیسے اللہ کے فرمان کی بجا آوری کی ویسے ویسے یہ تری پا گئے۔

مومن صحابہ رضی اللہ عنہم مکہ کے قیام کی حالت میں تعداد میں بہت تھوڑے تھے، چھپے پھرتے تھے، بیقرار رہتے تھے، ہر وقت دشمنوں کا خطرہ لگا رہتا تھا، مجوسی ان کے دشمن تھے، یہودی ان کی جان کے پیچھے، بت پرست ان کے خون کے پیاسے، نصرانی ان کی فکر میں۔ دشمنوں کی یہ حالت تھی تو ان کی اپنی یہ حالت کہ تعداد میں انگلیوں پر گن لو۔ بغیر طاقت شان شوکت مطلقاً نہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں مدینے کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیتا ہے یہ مان لیتے ہیں وہاں پہنچتے ہی اللہ ان کے قدم جما دیتا ہے وہاں مدینہ والوں کو ان کا ساتھی بلکہ پشت پناہ بنا دیتا ہے وہ ان کی مدد پر اور ساتھ دینے پر تیار ہو جاتے ہیں بدر والے دن اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں، اپنے مال پانی کی طرح راہ حق میں بہاتے ہیں اور دوسرے موقعوں پر بھی نہ اطاعت چھوڑتے ہیں نہ ساتھ نہ سخاوت۔ «وَ اذۡکُرُوۡۤا اِذۡ اَنۡتُمۡ قَلِیۡلٌ مُّسۡتَضۡعَفُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ»

صفحہ نمبر3268

نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چاند کی طرح چمکنے لگتے ہیں اور سورج کی طرح دمکنے لگتے ہیں۔ قتادہ بن دعامہ سدوسی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عرب کے یہ لوگ سب سے زیادہ گرے ہوئے، سب سے زیادہ تنگ حال، سب سے زیادہ بھوکے ننگے، سب سے زیادہ گمراہ اور بےدین و مذہب تھے۔ جیتے تو ذلت کی حالت میں، مرتے تو جہنمی ہو کر، ہر ایک ان کے سر کچلتا لیکن یہ آپ میں الجھے رہتے۔

واللہ روئے زمین پر ان سے زیادہ گمراہ کوئی نہ تھا۔ اب یہ اسلام لائے اللہ کے رسول کے اطاعت گذار بنے تو ادھر سے ادھر تک شہروں بلکہ ملکوں پر ان کا قبضہ ہو گیا دنیا کی دولت ان کے قدموں پر بکھرنے لگی لوگوں کی گردنوں کے مالک اور دنیا کے بادشاہ بن گئے یاد رکھو یہ سب کچھ سچے دین اور اللہ کے رسول کی تعلیم پر عمل کے نتائج تھے پس تم اپنے پروردگار کے شکر میں لگے رہو اور اس کے بڑے بڑے احسان تم پر ہیں وہ شکر کو اور شکر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے سنو شکر گذار نعمتوں کی زیادتی میں ہی رہتے۔

صفحہ نمبر3269

اللہ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو ٭٭

کہتے ہیں کہ یہ آیت ابولبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کے یہودیوں کے پاس بھیجا تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کی شرط کے ماننے پر قلعہ خالی کر دیں ان یہودیوں نے آپ ہی سے مشورہ دریافت کیا تو آپ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر انہیں بتا دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ تمہارے حق میں یہی ہوگا۔

اب ابو لبابہ رضی اللہ عنہ بہت ہی نادم ہوئے کہ افسوس میں نے بہت برا کیا اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خیانت کی۔ اسی ندامت کی حالت میں قسم کھا بیٹھے کہ جب تک میری توبہ قبول نہ ہو میں کھانے کا ایک لقمہ بھی نہ اٹھاؤں گا چاہے مر ہی جاؤں۔ مسجد نبوی میں آ کر ایک ستون کے ساتھ اپنے تئیں بندھوا دیا نو دن اسی حالت میں گذر گئے غشی آ گئی بیہوش ہو کر مردے کی طرح گر پڑے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی توبہ قبول کر لی اور یہ آیتیں نازل ہوئیں لوگ آئے آپ کو خوشخبری سنائی اور اس ستون سے کھولنا چاہاتو انہوں نے فرمایا واللہ میں اپنے تئیں کسی سے نہ کھلواؤں گا بجز اس کے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ مبارک سے کھولیں۔

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے انہیں کھولا تو آپ عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول کر لے تو میں اپنا کل مال راہ للہ صدقہ کر دونگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں صرف ایک تہائی فی سبیل اللہ دے دو یہی کافی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15937:مرسل] ‏

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ امیر کو فتنہ و فساد کرکے قتل کردینا اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیانت ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15939:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر3270

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابوسفیان مکے سے چلا جبر ئیل علیہ السلام نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ ابوسفیان فلاں جگہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے ذکر کیا اور فرما دیا کہ اس طرف چلو لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہ کرنا ،لیکن ایک منافق نے اسے لکھ بھیجا کہ تیرے پکڑنے کے ارادے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں ہوشیار رہنا۔

پس یہ آیت اتری لیکن یہ روایت بہت غریب ہے اور اس کی سند اور متن دونوں ہی قابل نظر ہیں۔ بخاری و مسلم میں حاطب بن ابو بلتعہ رضی اللہ عنہ کا قصہ ہے کہ فتح مکہ والے سال انہوں نے قریش کو خط بھیج دیا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے سے انہیں مطلع کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی ان کے پیچھے دوڑائے اور خط پکڑا گیا۔ حاطب رضی اللہ عنہ نے اپنے قصور کا اقرار کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی گردن مارنے کی اجازت چاہی کہ اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں سے خیانت کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو یہ بدری صحابی ہے۔ تم نہیں جانتے بدری کی طرف اللہ تعالیٰ نے بذات خود فرما دیا ہے جو چاہو تم کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ [صحیح بخاری:3007] ‏

میں کہتا ہوں کسی خاص واقعہ کے بارے میں اترنے کے باوجود الفاظ کی عمومیت اپنے حکم عموم پر ہی رہے گی یہی جمہور علماء کا قول ہے۔ خیانت عام ہے چھوٹے بڑے لازم متعدی سب گناہ خیانت میں داخل ہیں۔ اپنی امانتوں میں بھی خیانت نہ کرو یعنی فرض کو ناقص نہ کرو، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو نہ چھوڑو، اس کی نافرمانی نہ کرو۔

صفحہ نمبر3271

عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کسی کے سامنے اس کے حق کا اظہار کرنا اور درپردہ کرنا اس کے الٹ، باتیں کرنا اور کے سامنے اس کے خلاف کرنا بھی امانت کو ضائع کرنا اور اپنے نفس کی خیانت کرنا ہے۔

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب کسی نے اللہ و رسول کی خیانت کی تو اس نے امانت داری میں رخنہ ڈال دیا، ایک صورت اس کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ بھی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی پھر اسے مشرکوں میں پھیلا دیا۔ پس منافقوں کے اس فعل سے مسلمانوں کو روکا جا رہا ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ” تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہارے امتحان کا باعث ہیں “۔ یہ دیکھیں آیا اللہ کا شکر کرتے ہو اور اس کی اطاعت کرتے ہو؟ یا ان میں مشغول ہو کر، ان کی محبت میں پھنس کر اللہ کی باتوں اور اس کی اطاعت سے ہٹ جاتے ہو؟ اسی طرح ہر خیرو شر سے اللہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔

اس کا ارشاد ہے کہ «‏إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ» [ 64-التغابن: 15 ] ‏ یعنی ” تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہے “، مسلمانو مال و اولاد کے چکر میں اللہ کی یاد نہ بھول جانا۔ ایسا کرنے والے نقصان پانے والے ہیں

اور آیت میں ہے کہ «‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ» [ 64-التغابن: 14 ] ‏ ” تمہاری بعض بیویاں اور بعض اولادیں تمہاری دشمن ہیں، ان سے ہوشیار رہنا۔ سمجھ لو کہ اللہ کے پاس اجر یہاں کے مال و اولاد سے بہت بہتر ہیں اور بہت بڑے ہیں کیونکہ ان میں سے بعض تو دشمن ہی ہوتے ہیں اور اکثر بینفع ہوتے ہیں۔“

صفحہ نمبر3272

اللہ سبحانہ و تعالیٰ متصرف و مالک ہے، دنیا و آخرت اسی کی ہے قیامت کے ثواب اسی کے قبضے میں ہیں، ایک اثر میں فرمان الٰہی ہے کہ ” اے ابن آدم مجھے ڈھونڈ تو پائے گا، مجھے پالینا تمام چیزوں کو پالینا ہے، میرا فوت ہو جانا تمام چیزوں کا فوت ہو جانا ہے، میں تیری تمام چیزوں سے تیری محبت کا زیادہ حقدار ہوں۔ “

صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے تین چیزیں جس میں ہوں اس نے ایمان کی مٹھاس چکھ لی [1] ‏ جسے اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ پیارا ہو، [2] ‏ جو محض اللہ کے لیے دوستی رکھتا ہو اور [3] ‏ جسے آگ میں جل جانے سے بھی زیادہ برا ایمان کے بعد کفر کرنامعلوم ہوتا ہو۔

بلکہ یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بھی اولاد و مال اور نفس کی محبت پر مقدم ہے جیسے کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی باایمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کو اس کے نفس سے اور اہل سے اور مال سے اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔

صفحہ نمبر3273

اللہ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو ٭٭

کہتے ہیں کہ یہ آیت ابولبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کے یہودیوں کے پاس بھیجا تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کی شرط کے ماننے پر قلعہ خالی کر دیں ان یہودیوں نے آپ ہی سے مشورہ دریافت کیا تو آپ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر انہیں بتا دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ تمہارے حق میں یہی ہوگا۔

اب ابو لبابہ رضی اللہ عنہ بہت ہی نادم ہوئے کہ افسوس میں نے بہت برا کیا اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خیانت کی۔ اسی ندامت کی حالت میں قسم کھا بیٹھے کہ جب تک میری توبہ قبول نہ ہو میں کھانے کا ایک لقمہ بھی نہ اٹھاؤں گا چاہے مر ہی جاؤں۔ مسجد نبوی میں آ کر ایک ستون کے ساتھ اپنے تئیں بندھوا دیا نو دن اسی حالت میں گذر گئے غشی آ گئی بیہوش ہو کر مردے کی طرح گر پڑے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی توبہ قبول کر لی اور یہ آیتیں نازل ہوئیں لوگ آئے آپ کو خوشخبری سنائی اور اس ستون سے کھولنا چاہاتو انہوں نے فرمایا واللہ میں اپنے تئیں کسی سے نہ کھلواؤں گا بجز اس کے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ مبارک سے کھولیں۔

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے انہیں کھولا تو آپ عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول کر لے تو میں اپنا کل مال راہ للہ صدقہ کر دونگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں صرف ایک تہائی فی سبیل اللہ دے دو یہی کافی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15937:مرسل] ‏

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ امیر کو فتنہ و فساد کرکے قتل کردینا اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیانت ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15939:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر3270

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابوسفیان مکے سے چلا جبر ئیل علیہ السلام نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ ابوسفیان فلاں جگہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے ذکر کیا اور فرما دیا کہ اس طرف چلو لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہ کرنا ،لیکن ایک منافق نے اسے لکھ بھیجا کہ تیرے پکڑنے کے ارادے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں ہوشیار رہنا۔

پس یہ آیت اتری لیکن یہ روایت بہت غریب ہے اور اس کی سند اور متن دونوں ہی قابل نظر ہیں۔ بخاری و مسلم میں حاطب بن ابو بلتعہ رضی اللہ عنہ کا قصہ ہے کہ فتح مکہ والے سال انہوں نے قریش کو خط بھیج دیا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے سے انہیں مطلع کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی ان کے پیچھے دوڑائے اور خط پکڑا گیا۔ حاطب رضی اللہ عنہ نے اپنے قصور کا اقرار کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی گردن مارنے کی اجازت چاہی کہ اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں سے خیانت کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو یہ بدری صحابی ہے۔ تم نہیں جانتے بدری کی طرف اللہ تعالیٰ نے بذات خود فرما دیا ہے جو چاہو تم کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ [صحیح بخاری:3007] ‏

میں کہتا ہوں کسی خاص واقعہ کے بارے میں اترنے کے باوجود الفاظ کی عمومیت اپنے حکم عموم پر ہی رہے گی یہی جمہور علماء کا قول ہے۔ خیانت عام ہے چھوٹے بڑے لازم متعدی سب گناہ خیانت میں داخل ہیں۔ اپنی امانتوں میں بھی خیانت نہ کرو یعنی فرض کو ناقص نہ کرو، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو نہ چھوڑو، اس کی نافرمانی نہ کرو۔

صفحہ نمبر3271

عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کسی کے سامنے اس کے حق کا اظہار کرنا اور درپردہ کرنا اس کے الٹ، باتیں کرنا اور کے سامنے اس کے خلاف کرنا بھی امانت کو ضائع کرنا اور اپنے نفس کی خیانت کرنا ہے۔

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب کسی نے اللہ و رسول کی خیانت کی تو اس نے امانت داری میں رخنہ ڈال دیا، ایک صورت اس کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ بھی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی پھر اسے مشرکوں میں پھیلا دیا۔ پس منافقوں کے اس فعل سے مسلمانوں کو روکا جا رہا ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ” تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہارے امتحان کا باعث ہیں “۔ یہ دیکھیں آیا اللہ کا شکر کرتے ہو اور اس کی اطاعت کرتے ہو؟ یا ان میں مشغول ہو کر، ان کی محبت میں پھنس کر اللہ کی باتوں اور اس کی اطاعت سے ہٹ جاتے ہو؟ اسی طرح ہر خیرو شر سے اللہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔

اس کا ارشاد ہے کہ «‏إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ» [ 64-التغابن: 15 ] ‏ یعنی ” تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہے “، مسلمانو مال و اولاد کے چکر میں اللہ کی یاد نہ بھول جانا۔ ایسا کرنے والے نقصان پانے والے ہیں

اور آیت میں ہے کہ «‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ» [ 64-التغابن: 14 ] ‏ ” تمہاری بعض بیویاں اور بعض اولادیں تمہاری دشمن ہیں، ان سے ہوشیار رہنا۔ سمجھ لو کہ اللہ کے پاس اجر یہاں کے مال و اولاد سے بہت بہتر ہیں اور بہت بڑے ہیں کیونکہ ان میں سے بعض تو دشمن ہی ہوتے ہیں اور اکثر بینفع ہوتے ہیں۔“

صفحہ نمبر3272

اللہ سبحانہ و تعالیٰ متصرف و مالک ہے، دنیا و آخرت اسی کی ہے قیامت کے ثواب اسی کے قبضے میں ہیں، ایک اثر میں فرمان الٰہی ہے کہ ” اے ابن آدم مجھے ڈھونڈ تو پائے گا، مجھے پالینا تمام چیزوں کو پالینا ہے، میرا فوت ہو جانا تمام چیزوں کا فوت ہو جانا ہے، میں تیری تمام چیزوں سے تیری محبت کا زیادہ حقدار ہوں۔ “

صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے تین چیزیں جس میں ہوں اس نے ایمان کی مٹھاس چکھ لی [1] ‏ جسے اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ پیارا ہو، [2] ‏ جو محض اللہ کے لیے دوستی رکھتا ہو اور [3] ‏ جسے آگ میں جل جانے سے بھی زیادہ برا ایمان کے بعد کفر کرنامعلوم ہوتا ہو۔

بلکہ یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بھی اولاد و مال اور نفس کی محبت پر مقدم ہے جیسے کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی باایمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کو اس کے نفس سے اور اہل سے اور مال سے اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔

صفحہ نمبر3273

دنیا و آخرت کی سعادت مندی ٭٭

” اے مومنو! اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو تو اللہ تم کو دین اور دنیا میں نجات دے گا۔“ «فُرۡقَانً» سے مراد نجات ہے دنیوی بھی اور اخروی بھی اور فتح و نصرت غلبہ و امتیاز بھی مراد ہے جس سے حق و باطل میں تمیز ہو جائے۔ بات یہی ہے کہ جو اللہ کی فرمانبرداری کرے، نافرمانی سے بچے اللہ اس کی مدد کرتا ہے۔ جو حق و باطل میں تمیز کر لیتا ہے، دنیاو آخرت کی سعادت مندی حاصل کر لیتا ہے اس کے گناہ مٹ جاتے ہیں لوگوں سے پوشیدہ کروئے جات یہیں اور اللہ کی طرف سے اجر و ثواب کا وہ کامل مستحق ٹھہر جاتا ہے۔

جیسے فرمان عالی شان ہے «‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِ وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۚ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [ 57-الحدید: 28 ] ‏ یعنی ” اے مسلمانو! اللہ کا ڈر دلوں میں رکھو۔ اس کے رسول پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت کے دوہرے حصے دے گا اور تمہارے لیے ایک نور مہیا کر دے گا جس کے ساتھ تم چلتے پھرتے رہو گے اور تمہیں بخش بھی دے گا، اللہ غفورو رحیم ہے۔“

صفحہ نمبر3275

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی ناپاک سازش ٭٭

کافروں نے یہی تین ارادے کئے تھے جب ابوطالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے راز اور ان کے پوشیدہ چالیں معلوم بھی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں وہ تین شورشیں کر رہے ہیں قید، قتل یا جلاوطنی۔ اس نے تعجب ہو کر پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر کس نے دی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پروردگار نے ، اس نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پروردگار بہترین پروردگار ہے، تم اس کی خیر خواہی میں ہی رہنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس کی خیر خواہی کیا کرتا وہ خود میری حفاظت اور بھلائی کرتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15978:مرسل و ضعیف] ‏

اسی کا ذکر اس آیت میں ہے لیکن اس واقعہ میں ابوطالب کا ذکر بہت غریب بلکہ منکر ہے اس لیے کہ آیت تو مدینے میں اتری ہے اور کافروں کا یہ مشورہ ہجرت کی رات تھا اور یہ واقعہ ابوطالب کی موت کے تقریباً تین سال کے بعد کا ہے۔ اسی کی موت نے ان کی جرأتیں دو بالا کر دی تھیں، اس ہمت اور نصرت کے بعد ہی تو کافروں نے آپ کی ایذاء دہی پر کمر باندھی تھی۔ چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ قریش کے تمام قبیلوں کے سرداروں نے دارالندوہ میں جمع ہونے کا ارادہ کیا۔ ملعون ابلیس انہیں ایک بہت بڑے مقطع بزرگ کی صورت میں ملا۔ انہوں نے پوچھا آپ کون ہیں؟ اس نے کہا اہل نجد کا شیخ ہوں۔ مجھے معلوم ہوا تھا کہ آپ لوگ آج ایک مشورے کی غرض سے جمع ہونے والے ہیں، میں بھی حاضر ہوا کہ اس مجلس میں شامل ہو جاؤں اور رائے میں اور خیر خواہی میں کوئی کمی نہ کروں۔

صفحہ نمبر3276

آخرمجلس جمع ہوئی تو اس نے کہا اس شخص کے بارے میں پورے غور و خوض سے کوئی صحیہ رائے قائم کر لو۔ واللہ اس نے تو سب کا ناک میں دم کر دیا ہے۔ وہ دلوں پر کیسے قبضہ کر لیتا ہے؟ کوئی نہیں جو اس کی باتوں کا بھوکوں کی طرح مشتاق نہ رہتا ہو۔ واللہ اگر تم نے اسے یہاں سے نکالا تو وہ اپنی شیریں زبانی اور آتش بیانی سے ہزارہا ساتھی پیدا کر لے گا اور پھر جو ادھر کا رخ کرے گا تو تمہیں چھٹی کا دودھ یاد آ جائے گا پھر تو تمہارے شریفوں کو تہ تیغ کر کے تم سب کو یہاں سے بیک بینی و دوگوش نکال باہر کرے گا۔

سب نے کہا شیخ جی سچ فرماتے ہیں اور کوئی رائے پیش کرو اس پر ابوجہل ملعون نے کہا ایک رائے میری سن لو۔ میرا خیال ہے کہ تم سب کے ذہن میں بھی یہ بات نہ آئی ہو گی، بس یہی رائے ٹھیک ہے، تم اس پر بے کھٹکے عمل کرو۔ سب نے کہا چچا بیان فرما ئیے! اس نے کہا ہر قبیلے سے ایک نوجوان جری بہادر شریف مانا ہوا شخص چن لو یہ سب نوجوان ایک ساتھ اس پر حملہ کریں اور اپنی تلواروں سے اس کے ٹکڑے اڑا دیں پھر تو اس کے قبیلے کے لوگ یعنی بنی ہاشم کو یہ تو ہمت نہ ہو گی قریش کے تمام قبیلوں سے لڑیں کیونکہ ہر قبیلے کا ایک نوجوان اس کے قتل میں شریک ہو گا۔ اس کا خون تمام قبائل قریش میں بٹا ہوا ہو گا نا چار وہ دیت لینے پر آمادہ ہو جائیں گے، ہم اس بلا سے چھوٹ جائیں گے اور اس شخص کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اب تو شیخ نجدی اچھل پڑا اور کہنے لگا اللہ جانتا ہے واللہ بس یہی ایک رائے بالکل ٹھیک ہے اس کے سوا کوئی اور بات سمجھ میں نہیں آتی بس یہی کرو اور اس قصے کو ختم کرو اس سے بہتر کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ یہ پختہ فیصلہ کر کے یہ مجلس برخاست ہوئی۔

صفحہ نمبر3277

وہیں جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا آج کی رات آپ اپنے گھر میں اپنے بسترے پر نہ سوئیں کافروں نے آپ کے خلاف آج میٹنگ میں یہ تجویز طے کی ہے۔

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کیا اس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر اپنے بستر پر نہ لیٹے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہجرت کی اجازت دے دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینے پہنچ جانے کے بعد اس آیت میں اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا اور ان کے اس فریب کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا «وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّـهُ ۖ وَاللَّـهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ» ” وہ تو اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا اور سب سے زیاده مستحکم تدبیر واﻻ اللہ ہے۔ “

ان کا قول تھا «ثُمَّ تَرَبَّصُوا بِهِ رَيْب الْمَنُون حَتَّى يَهْلِك كَمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْله مِنْ الشُّعَرَاء» اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشادِ باری تعالیٰ ہے «‏أَمْ يَقُولُونَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهِ رَيْبَ الْمَنُونِ» [ 52-الطور: 30 ] ‏، یعنی ” کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ شاعر ہے ہم اس کے بارے میں حادثہ موت کا انتظار کررہے ہیں۔“ اس دن کا نام ہی یوم الزحمہ ہو گیا کیونکہ اس روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش کی گئی تھی۔ [دلائل النبوۃ للبیھقی:468/2] ‏

ان کے انہی ارادوں کا ذکر آیت «وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا» ‏ [ 17-الإسراء: 76 ] ‏ میں ہے ” اور قریب تھا کہ یہ لوگ تمہیں زمین [ مکہ ] ‏ سے پھسلا دیں تاکہ تمہیں وہاں سے جلا وطن کر دیں۔ اور اس وقت تمہارے پیچھے یہ بھی نہ رہتے مگر کم۔“

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف میں اللہ کے حکم کے منتظر تھے یہاں تک کہ قریشیوں نے جمع ہو کر مکر کا ارادہ کیا۔ جبرائیل علیہ اسللام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کر دی اور کہا کہ آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مکان میں نہ سوئیں جہاں سویا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر اپنے بسترے پر اپنی سبز چادر اوڑھا کر لیٹنے کو فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے۔ قریش کے مختلف قبیلوں کا مقررہ جتھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دراوزے کو گھیرے کھڑا تھا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین سے ایک مٹھی مٹی اور کنکر بھر کر ان کے سروں اور آنکھوں میں ڈال کر سورۃ یاسین کی «يس وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ تَنزِيلَ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أُنذِرَ آبَاؤُهُمْ فَهُمْ غَافِلُونَ لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلَىٰ أَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ إِنَّا جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ أَغْلَالًا فَهِيَ إِلَى الْأَذْقَانِ فَهُم مُّقْمَحُونَ وَجَعَلْنَا مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ» [ 36-یس: 1-9 ] ‏ تک کی تلاوت کرتے ہوئے نکل گئے۔ [دلائل النبوۃ للبیھقی:469/2:معضل و ضعیف] ‏

صفحہ نمبر3278

صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتی ہوئی آئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ پیاری بیٹی کیوں رو رہی ہو؟ عرض کیا کہ ابا جی کیسے نہ روؤں یہ قریش خانہ کعبہ میں جمع ہیں لات و عزیٰ کی قسمیں کھا کر یہ طے کیا ہے کہ ہر قبیلے کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی اٹھ کھڑے ہوں اور ایک ساتھ حملہ کر کے قتل کر دیں تاکہ الزام سب پر آئے اور ایک بلوہ قرارپائے کوئی خاص شخص قاتل نہ ٹھہرے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹی پانی لاؤ پانی آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور مسجد الحرام کی طرف چلے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور دیکھتے ہی غل مچایا کہ لو وہ آ گیا اٹھو اسی وقت ان کے سر جھک گئے ٹھوڑیاں سینے سے لگ گئیں نگاہ اونچی نہ کر سکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مٹھی مٹی کی بھر کر ان کی طرف پھینکی اور فرمایا: یہ منہہ الٹے ہو جائیں گے یہ چہرے برباد ہو جائیں ،جس شخص پر ان کنکریوں میں سے کوئی کنکر پڑا وہ ہی بدر والے دن کفر کی حالت میں قتل کیا گیا۔ [مسند احمد:303/1:حسن] ‏

صفحہ نمبر3279

کسی نے کہا صبح کو اسے قید کر دو، کسی نے کہا مار ڈالو، کسی نے کہا دیس نکالا دے دو، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر مطلع فرما دیا۔

اس رات سیدنا علی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بسترے پر سوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکے سے نکل کھڑے ہوئے۔ غار میں جا کر بیٹھے رہے۔

مشرکین یہ سمجھ کر کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بسترے پر لیٹے ہوئے ہیں سار رات پہرہ دیتے رہے صبح سب کود کر اندر پہنچے دیکھا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں ساری تدبیر چوپٹ ہو گئی پوچھا کہ تمہارے ساتھی کہاں ہیں؟ آپ نے اپنی لاعلمی ظاہر کی۔

یہ لوگ قدموں کے نشان دیکھتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے اس پہاڑ تک پہنچ گئے۔ وہاں سے پھر کوئی پتہ نہ چلا سکا۔ پہاڑ پر چڑھ گئے، اس غار کے پاس سے گذرے لیکن دیکھا کہ وہاں مکڑی کا جالا تنا ہوا ہے کہنے لگے اگر اس میں جاتے تو یہ جالا کیسے ثابت رہ جاتا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین راتین اسی غار میں گذاریں۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:1129] ‏

پس فرماتا ہے کہ ” انہوں نے مکر کیا میں بھی ان سے ایسی مضبوط چال چلا کہ آج تجھے ان سے بچا کر لے ہی آیا۔“

صفحہ نمبر3280

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com