Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Mutaffifin
Tafsir Ibn Kathir · Defrauding · 36 ayat · ayat 1–30 · Quran text →
ناپ تول میں کمی کے نتائج ٭٭
نسائی اور ابن ماجہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اس وقت اہل مدینہ ناپ تول کے اعتبار سے بہت برے تھے۔ جب یہ آیت اتری پھر انہوں نے ناپ تول بہت درست کر لیا۔“ [سنن ابن ماجہ:2223،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ہلال بن طلق نے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ ”مکے مدینے والے بہت ہی عمدہ ناپ تول رکھتے ہیں۔“ آپ نے فرمایا ”وہ کیوں نہ رکھتے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ» [83-المطففين:1] ہے۔“
پس «تَّطْفِيفِ» سے مراد ناپ تول کی کمی ہے خواہ اس صورت میں کہ اوروں سے لیتے وقت زیادہ لے لیا اور دیتے وقت کم دیا۔ اسی لیے انہیں دھمکایا کہ ” یہ نقصان اٹھانے والے ہیں کہ جب اپنا حق لیں تو پورا لیں بلکہ زیادہ لے لیں اور دوسروں کو دینے بیٹھیں تو کم دیں۔ “ ٹھیک یہ ہے کہ «کَالُوْا» اور «وَزَنُوْا» کو متعدی مانیں اور «ھُمْ» کو محلاً منصوب کہیں گو بعض نے اسے ضمیر موکد مانا ہے۔ جو «كَالُوْا» اور «وَّزَنُوْا» کی پوشیدہ ضمیر کی تاکید کے لیے ہے اور مفعول محذوف مانا ہے جس پر دلالت کلام موجود ہے دونوں طرح مطلب قریب قریب ایک ہی ہے۔
قرآن کریم نے ناپ تول درست کرنے کا حکم اس آیت میں بھی دیا ہے «وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» [17-الإسراء:35] یعنی ” جب ناپو تو ناپ پورا کرو اور وزن سیدھے ترازو سے تول کر دیا کرو۔ “
اور جگہ حکم ہے «اَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَان بالْقِسْطِ ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا» [6-الأنعام:152] ” ناپ تول انصاف کے ساتھ برابر کر دیا کرو، ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ “
اور جگہ فرمایا «وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْزَانَ» [55-الرحمن:9] یعنی ” تول کو قائم رکھو اور میزان کو گھٹاؤ نہیں۔ “
شعیب علیہ السلام کی قوم کو اسی بد عادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے غارت و برباد کر دیا یہاں بھی اللہ تعالیٰ ڈرا رہا ہے کہ ” لوگوں کے حق مارنے والے کیا قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے جس دن یہ اس ذات پاک کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔ جس پر نہ کوئی پوشیدہ بات پوشیدہ ہے نہ ظاہر، وہ دن بھی نہایت ہولناک و خطرناک ہو گا۔ بڑی گھبراہٹ اور پریشانی والا دن ہو گا، اس دن یہ نقصان رساں لوگ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے وہ جگہ بھی نہایت تنگ و تاریک ہو گی اور میدان آفات و بلیات سے پر ہو گا اور وہ مصائب نازل ہو رہے ہوں گے کہ دل پریشان ہوں گے حواس بگڑے ہوئے ہوں گے ہوش جاتا رہے گا “۔ صحیح حدیث میں ہے کہ آدھے آدھے کانوں تک پسینہ پہنچ گیا ہوگا ۔ [صحیح بخاری:6531]
10389
مسند احمد کی حدیث میں ہے اس دن رحمان عزوجل کی عظمت کے سامنے سب کھڑے کپکپا رہے ہوں گے۔ [مسند احمد:31/2:صحیح]
اور حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن بندوں سے سورج اس قدر قریب ہو جائے گا کہ ایک یا دو نیزے کے برابر اونچا ہو گا اور سخت تیز ہو گا ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق اپنے پسینے میں غرق ہو گا بعض کی ایڑیوں تک پسینہ ہو گا بعض کے گھٹنوں تک بعض کی کمر تک بعض کو تو ان کا پسینہ لگام بنا ہوا ہو گا۔ [صحیح مسلم:2864]
اور حدیث میں ہے دھوپ اس قدر تیز ہو گی کہ کھوپڑی بھنا اٹھے گی اور اس طرح اس میں جوش اٹھنے لگے گا جس طرح ہنڈیا میں ابال آتا ہے۔ [مسند احمد:254/5:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ پر اپنی انگلیاں رکھ کر بتایا کہ اس طرح پسینہ کی لگام چڑھی ہوئی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ بعض بالکل ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ [مسند احمد:157/4:صحیح]
اور حدیث میں ہے ستر سال تک بغیر بولے چالے کھڑے رہیں گے یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین سو سال تک کھڑے رہیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چالیس ہزار سال تک کھڑے رہیں گے اور دس ہزار سال میں فیصلہ کیا جائے گا۔ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ”اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہو گی۔“ [صحیح مسلم:987]
10390
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشیر غفاری رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تو کیا کرے گا جس دن لوگ اللہ رب العالمین کے سامنے تین سو سال تک کھڑے رہیں گے نہ تو کوئی خبر آسمان سے آئیگی نہ کوئی حکم کیا جائے گا۔“ بشیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے، اللہ ہی مددگار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو جب بستر پر جاؤ تو اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کی تکلیفوں اور حساب کی برائی سے پناہ مانگ لیا کرو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:34290:ضعیف]
سنن ابوداؤد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن کے کھڑے ہونے کی جگہ کی تنگی سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ [سنن ابوداود:766،قال الشيخ الألباني:حسن]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چالیس سال تک لوگ اونچا سر کیے کھڑے رہیں گے کوئی بولے گا نہیں نیک و بد کو پسینے کی لگامیں چڑھی ہوئی ہوں گی۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سو سال تک کھڑے رہیں گے۔ [ ابن جریر ]
ابوداؤد، نسائی ابن ماجہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز شروع کرتے تو دس مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ»، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ» کہتے، دس مرتبہ «سُبْحَانَ اﷲِ» کہتے، دس مرتبہ «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ»، پھر کہتے دعا «اللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي» اے اللہ مجھے بخش، مجھے ہدایت دے، مجھے روزیاں دے اور عافیت عنایت فرما پھر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کے مقام کی تنگی سے پناہ مانگتے۔ [سنن ابن ماجہ:1356،قال الشيخ الألباني:حسن]
10391
ناپ تول میں کمی کے نتائج ٭٭
نسائی اور ابن ماجہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اس وقت اہل مدینہ ناپ تول کے اعتبار سے بہت برے تھے۔ جب یہ آیت اتری پھر انہوں نے ناپ تول بہت درست کر لیا۔“ [سنن ابن ماجہ:2223،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ہلال بن طلق نے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ ”مکے مدینے والے بہت ہی عمدہ ناپ تول رکھتے ہیں۔“ آپ نے فرمایا ”وہ کیوں نہ رکھتے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ» [83-المطففين:1] ہے۔“
پس «تَّطْفِيفِ» سے مراد ناپ تول کی کمی ہے خواہ اس صورت میں کہ اوروں سے لیتے وقت زیادہ لے لیا اور دیتے وقت کم دیا۔ اسی لیے انہیں دھمکایا کہ ” یہ نقصان اٹھانے والے ہیں کہ جب اپنا حق لیں تو پورا لیں بلکہ زیادہ لے لیں اور دوسروں کو دینے بیٹھیں تو کم دیں۔ “ ٹھیک یہ ہے کہ «کَالُوْا» اور «وَزَنُوْا» کو متعدی مانیں اور «ھُمْ» کو محلاً منصوب کہیں گو بعض نے اسے ضمیر موکد مانا ہے۔ جو «كَالُوْا» اور «وَّزَنُوْا» کی پوشیدہ ضمیر کی تاکید کے لیے ہے اور مفعول محذوف مانا ہے جس پر دلالت کلام موجود ہے دونوں طرح مطلب قریب قریب ایک ہی ہے۔
قرآن کریم نے ناپ تول درست کرنے کا حکم اس آیت میں بھی دیا ہے «وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» [17-الإسراء:35] یعنی ” جب ناپو تو ناپ پورا کرو اور وزن سیدھے ترازو سے تول کر دیا کرو۔ “
اور جگہ حکم ہے «اَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَان بالْقِسْطِ ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا» [6-الأنعام:152] ” ناپ تول انصاف کے ساتھ برابر کر دیا کرو، ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ “
اور جگہ فرمایا «وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْزَانَ» [55-الرحمن:9] یعنی ” تول کو قائم رکھو اور میزان کو گھٹاؤ نہیں۔ “
شعیب علیہ السلام کی قوم کو اسی بد عادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے غارت و برباد کر دیا یہاں بھی اللہ تعالیٰ ڈرا رہا ہے کہ ” لوگوں کے حق مارنے والے کیا قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے جس دن یہ اس ذات پاک کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔ جس پر نہ کوئی پوشیدہ بات پوشیدہ ہے نہ ظاہر، وہ دن بھی نہایت ہولناک و خطرناک ہو گا۔ بڑی گھبراہٹ اور پریشانی والا دن ہو گا، اس دن یہ نقصان رساں لوگ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے وہ جگہ بھی نہایت تنگ و تاریک ہو گی اور میدان آفات و بلیات سے پر ہو گا اور وہ مصائب نازل ہو رہے ہوں گے کہ دل پریشان ہوں گے حواس بگڑے ہوئے ہوں گے ہوش جاتا رہے گا “۔ صحیح حدیث میں ہے کہ آدھے آدھے کانوں تک پسینہ پہنچ گیا ہوگا ۔ [صحیح بخاری:6531]
10389
مسند احمد کی حدیث میں ہے اس دن رحمان عزوجل کی عظمت کے سامنے سب کھڑے کپکپا رہے ہوں گے۔ [مسند احمد:31/2:صحیح]
اور حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن بندوں سے سورج اس قدر قریب ہو جائے گا کہ ایک یا دو نیزے کے برابر اونچا ہو گا اور سخت تیز ہو گا ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق اپنے پسینے میں غرق ہو گا بعض کی ایڑیوں تک پسینہ ہو گا بعض کے گھٹنوں تک بعض کی کمر تک بعض کو تو ان کا پسینہ لگام بنا ہوا ہو گا۔ [صحیح مسلم:2864]
اور حدیث میں ہے دھوپ اس قدر تیز ہو گی کہ کھوپڑی بھنا اٹھے گی اور اس طرح اس میں جوش اٹھنے لگے گا جس طرح ہنڈیا میں ابال آتا ہے۔ [مسند احمد:254/5:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ پر اپنی انگلیاں رکھ کر بتایا کہ اس طرح پسینہ کی لگام چڑھی ہوئی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ بعض بالکل ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ [مسند احمد:157/4:صحیح]
اور حدیث میں ہے ستر سال تک بغیر بولے چالے کھڑے رہیں گے یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین سو سال تک کھڑے رہیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چالیس ہزار سال تک کھڑے رہیں گے اور دس ہزار سال میں فیصلہ کیا جائے گا۔ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ”اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہو گی۔“ [صحیح مسلم:987]
10390
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشیر غفاری رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تو کیا کرے گا جس دن لوگ اللہ رب العالمین کے سامنے تین سو سال تک کھڑے رہیں گے نہ تو کوئی خبر آسمان سے آئیگی نہ کوئی حکم کیا جائے گا۔“ بشیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے، اللہ ہی مددگار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو جب بستر پر جاؤ تو اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کی تکلیفوں اور حساب کی برائی سے پناہ مانگ لیا کرو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:34290:ضعیف]
سنن ابوداؤد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن کے کھڑے ہونے کی جگہ کی تنگی سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ [سنن ابوداود:766،قال الشيخ الألباني:حسن]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چالیس سال تک لوگ اونچا سر کیے کھڑے رہیں گے کوئی بولے گا نہیں نیک و بد کو پسینے کی لگامیں چڑھی ہوئی ہوں گی۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سو سال تک کھڑے رہیں گے۔ [ ابن جریر ]
ابوداؤد، نسائی ابن ماجہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز شروع کرتے تو دس مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ»، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ» کہتے، دس مرتبہ «سُبْحَانَ اﷲِ» کہتے، دس مرتبہ «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ»، پھر کہتے دعا «اللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي» اے اللہ مجھے بخش، مجھے ہدایت دے، مجھے روزیاں دے اور عافیت عنایت فرما پھر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کے مقام کی تنگی سے پناہ مانگتے۔ [سنن ابن ماجہ:1356،قال الشيخ الألباني:حسن]
10391
ناپ تول میں کمی کے نتائج ٭٭
نسائی اور ابن ماجہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اس وقت اہل مدینہ ناپ تول کے اعتبار سے بہت برے تھے۔ جب یہ آیت اتری پھر انہوں نے ناپ تول بہت درست کر لیا۔“ [سنن ابن ماجہ:2223،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ہلال بن طلق نے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ ”مکے مدینے والے بہت ہی عمدہ ناپ تول رکھتے ہیں۔“ آپ نے فرمایا ”وہ کیوں نہ رکھتے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ» [83-المطففين:1] ہے۔“
پس «تَّطْفِيفِ» سے مراد ناپ تول کی کمی ہے خواہ اس صورت میں کہ اوروں سے لیتے وقت زیادہ لے لیا اور دیتے وقت کم دیا۔ اسی لیے انہیں دھمکایا کہ ” یہ نقصان اٹھانے والے ہیں کہ جب اپنا حق لیں تو پورا لیں بلکہ زیادہ لے لیں اور دوسروں کو دینے بیٹھیں تو کم دیں۔ “ ٹھیک یہ ہے کہ «کَالُوْا» اور «وَزَنُوْا» کو متعدی مانیں اور «ھُمْ» کو محلاً منصوب کہیں گو بعض نے اسے ضمیر موکد مانا ہے۔ جو «كَالُوْا» اور «وَّزَنُوْا» کی پوشیدہ ضمیر کی تاکید کے لیے ہے اور مفعول محذوف مانا ہے جس پر دلالت کلام موجود ہے دونوں طرح مطلب قریب قریب ایک ہی ہے۔
قرآن کریم نے ناپ تول درست کرنے کا حکم اس آیت میں بھی دیا ہے «وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» [17-الإسراء:35] یعنی ” جب ناپو تو ناپ پورا کرو اور وزن سیدھے ترازو سے تول کر دیا کرو۔ “
اور جگہ حکم ہے «اَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَان بالْقِسْطِ ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا» [6-الأنعام:152] ” ناپ تول انصاف کے ساتھ برابر کر دیا کرو، ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ “
اور جگہ فرمایا «وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْزَانَ» [55-الرحمن:9] یعنی ” تول کو قائم رکھو اور میزان کو گھٹاؤ نہیں۔ “
شعیب علیہ السلام کی قوم کو اسی بد عادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے غارت و برباد کر دیا یہاں بھی اللہ تعالیٰ ڈرا رہا ہے کہ ” لوگوں کے حق مارنے والے کیا قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے جس دن یہ اس ذات پاک کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔ جس پر نہ کوئی پوشیدہ بات پوشیدہ ہے نہ ظاہر، وہ دن بھی نہایت ہولناک و خطرناک ہو گا۔ بڑی گھبراہٹ اور پریشانی والا دن ہو گا، اس دن یہ نقصان رساں لوگ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے وہ جگہ بھی نہایت تنگ و تاریک ہو گی اور میدان آفات و بلیات سے پر ہو گا اور وہ مصائب نازل ہو رہے ہوں گے کہ دل پریشان ہوں گے حواس بگڑے ہوئے ہوں گے ہوش جاتا رہے گا “۔ صحیح حدیث میں ہے کہ آدھے آدھے کانوں تک پسینہ پہنچ گیا ہوگا ۔ [صحیح بخاری:6531]
10389
مسند احمد کی حدیث میں ہے اس دن رحمان عزوجل کی عظمت کے سامنے سب کھڑے کپکپا رہے ہوں گے۔ [مسند احمد:31/2:صحیح]
اور حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن بندوں سے سورج اس قدر قریب ہو جائے گا کہ ایک یا دو نیزے کے برابر اونچا ہو گا اور سخت تیز ہو گا ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق اپنے پسینے میں غرق ہو گا بعض کی ایڑیوں تک پسینہ ہو گا بعض کے گھٹنوں تک بعض کی کمر تک بعض کو تو ان کا پسینہ لگام بنا ہوا ہو گا۔ [صحیح مسلم:2864]
اور حدیث میں ہے دھوپ اس قدر تیز ہو گی کہ کھوپڑی بھنا اٹھے گی اور اس طرح اس میں جوش اٹھنے لگے گا جس طرح ہنڈیا میں ابال آتا ہے۔ [مسند احمد:254/5:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ پر اپنی انگلیاں رکھ کر بتایا کہ اس طرح پسینہ کی لگام چڑھی ہوئی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ بعض بالکل ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ [مسند احمد:157/4:صحیح]
اور حدیث میں ہے ستر سال تک بغیر بولے چالے کھڑے رہیں گے یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین سو سال تک کھڑے رہیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چالیس ہزار سال تک کھڑے رہیں گے اور دس ہزار سال میں فیصلہ کیا جائے گا۔ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ”اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہو گی۔“ [صحیح مسلم:987]
10390
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشیر غفاری رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تو کیا کرے گا جس دن لوگ اللہ رب العالمین کے سامنے تین سو سال تک کھڑے رہیں گے نہ تو کوئی خبر آسمان سے آئیگی نہ کوئی حکم کیا جائے گا۔“ بشیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے، اللہ ہی مددگار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو جب بستر پر جاؤ تو اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کی تکلیفوں اور حساب کی برائی سے پناہ مانگ لیا کرو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:34290:ضعیف]
سنن ابوداؤد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن کے کھڑے ہونے کی جگہ کی تنگی سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ [سنن ابوداود:766،قال الشيخ الألباني:حسن]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چالیس سال تک لوگ اونچا سر کیے کھڑے رہیں گے کوئی بولے گا نہیں نیک و بد کو پسینے کی لگامیں چڑھی ہوئی ہوں گی۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سو سال تک کھڑے رہیں گے۔ [ ابن جریر ]
ابوداؤد، نسائی ابن ماجہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز شروع کرتے تو دس مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ»، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ» کہتے، دس مرتبہ «سُبْحَانَ اﷲِ» کہتے، دس مرتبہ «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ»، پھر کہتے دعا «اللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي» اے اللہ مجھے بخش، مجھے ہدایت دے، مجھے روزیاں دے اور عافیت عنایت فرما پھر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کے مقام کی تنگی سے پناہ مانگتے۔ [سنن ابن ماجہ:1356،قال الشيخ الألباني:حسن]
10391
ناپ تول میں کمی کے نتائج ٭٭
نسائی اور ابن ماجہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اس وقت اہل مدینہ ناپ تول کے اعتبار سے بہت برے تھے۔ جب یہ آیت اتری پھر انہوں نے ناپ تول بہت درست کر لیا۔“ [سنن ابن ماجہ:2223،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ہلال بن طلق نے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ ”مکے مدینے والے بہت ہی عمدہ ناپ تول رکھتے ہیں۔“ آپ نے فرمایا ”وہ کیوں نہ رکھتے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ» [83-المطففين:1] ہے۔“
پس «تَّطْفِيفِ» سے مراد ناپ تول کی کمی ہے خواہ اس صورت میں کہ اوروں سے لیتے وقت زیادہ لے لیا اور دیتے وقت کم دیا۔ اسی لیے انہیں دھمکایا کہ ” یہ نقصان اٹھانے والے ہیں کہ جب اپنا حق لیں تو پورا لیں بلکہ زیادہ لے لیں اور دوسروں کو دینے بیٹھیں تو کم دیں۔ “ ٹھیک یہ ہے کہ «کَالُوْا» اور «وَزَنُوْا» کو متعدی مانیں اور «ھُمْ» کو محلاً منصوب کہیں گو بعض نے اسے ضمیر موکد مانا ہے۔ جو «كَالُوْا» اور «وَّزَنُوْا» کی پوشیدہ ضمیر کی تاکید کے لیے ہے اور مفعول محذوف مانا ہے جس پر دلالت کلام موجود ہے دونوں طرح مطلب قریب قریب ایک ہی ہے۔
قرآن کریم نے ناپ تول درست کرنے کا حکم اس آیت میں بھی دیا ہے «وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» [17-الإسراء:35] یعنی ” جب ناپو تو ناپ پورا کرو اور وزن سیدھے ترازو سے تول کر دیا کرو۔ “
اور جگہ حکم ہے «اَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَان بالْقِسْطِ ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا» [6-الأنعام:152] ” ناپ تول انصاف کے ساتھ برابر کر دیا کرو، ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ “
اور جگہ فرمایا «وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْزَانَ» [55-الرحمن:9] یعنی ” تول کو قائم رکھو اور میزان کو گھٹاؤ نہیں۔ “
شعیب علیہ السلام کی قوم کو اسی بد عادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے غارت و برباد کر دیا یہاں بھی اللہ تعالیٰ ڈرا رہا ہے کہ ” لوگوں کے حق مارنے والے کیا قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے جس دن یہ اس ذات پاک کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔ جس پر نہ کوئی پوشیدہ بات پوشیدہ ہے نہ ظاہر، وہ دن بھی نہایت ہولناک و خطرناک ہو گا۔ بڑی گھبراہٹ اور پریشانی والا دن ہو گا، اس دن یہ نقصان رساں لوگ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے وہ جگہ بھی نہایت تنگ و تاریک ہو گی اور میدان آفات و بلیات سے پر ہو گا اور وہ مصائب نازل ہو رہے ہوں گے کہ دل پریشان ہوں گے حواس بگڑے ہوئے ہوں گے ہوش جاتا رہے گا “۔ صحیح حدیث میں ہے کہ آدھے آدھے کانوں تک پسینہ پہنچ گیا ہوگا ۔ [صحیح بخاری:6531]
10389
مسند احمد کی حدیث میں ہے اس دن رحمان عزوجل کی عظمت کے سامنے سب کھڑے کپکپا رہے ہوں گے۔ [مسند احمد:31/2:صحیح]
اور حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن بندوں سے سورج اس قدر قریب ہو جائے گا کہ ایک یا دو نیزے کے برابر اونچا ہو گا اور سخت تیز ہو گا ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق اپنے پسینے میں غرق ہو گا بعض کی ایڑیوں تک پسینہ ہو گا بعض کے گھٹنوں تک بعض کی کمر تک بعض کو تو ان کا پسینہ لگام بنا ہوا ہو گا۔ [صحیح مسلم:2864]
اور حدیث میں ہے دھوپ اس قدر تیز ہو گی کہ کھوپڑی بھنا اٹھے گی اور اس طرح اس میں جوش اٹھنے لگے گا جس طرح ہنڈیا میں ابال آتا ہے۔ [مسند احمد:254/5:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ پر اپنی انگلیاں رکھ کر بتایا کہ اس طرح پسینہ کی لگام چڑھی ہوئی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ بعض بالکل ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ [مسند احمد:157/4:صحیح]
اور حدیث میں ہے ستر سال تک بغیر بولے چالے کھڑے رہیں گے یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین سو سال تک کھڑے رہیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چالیس ہزار سال تک کھڑے رہیں گے اور دس ہزار سال میں فیصلہ کیا جائے گا۔ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ”اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہو گی۔“ [صحیح مسلم:987]
10390
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشیر غفاری رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تو کیا کرے گا جس دن لوگ اللہ رب العالمین کے سامنے تین سو سال تک کھڑے رہیں گے نہ تو کوئی خبر آسمان سے آئیگی نہ کوئی حکم کیا جائے گا۔“ بشیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے، اللہ ہی مددگار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو جب بستر پر جاؤ تو اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کی تکلیفوں اور حساب کی برائی سے پناہ مانگ لیا کرو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:34290:ضعیف]
سنن ابوداؤد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن کے کھڑے ہونے کی جگہ کی تنگی سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ [سنن ابوداود:766،قال الشيخ الألباني:حسن]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چالیس سال تک لوگ اونچا سر کیے کھڑے رہیں گے کوئی بولے گا نہیں نیک و بد کو پسینے کی لگامیں چڑھی ہوئی ہوں گی۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سو سال تک کھڑے رہیں گے۔ [ ابن جریر ]
ابوداؤد، نسائی ابن ماجہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز شروع کرتے تو دس مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ»، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ» کہتے، دس مرتبہ «سُبْحَانَ اﷲِ» کہتے، دس مرتبہ «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ»، پھر کہتے دعا «اللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي» اے اللہ مجھے بخش، مجھے ہدایت دے، مجھے روزیاں دے اور عافیت عنایت فرما پھر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کے مقام کی تنگی سے پناہ مانگتے۔ [سنن ابن ماجہ:1356،قال الشيخ الألباني:حسن]
10391
ناپ تول میں کمی کے نتائج ٭٭
نسائی اور ابن ماجہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اس وقت اہل مدینہ ناپ تول کے اعتبار سے بہت برے تھے۔ جب یہ آیت اتری پھر انہوں نے ناپ تول بہت درست کر لیا۔“ [سنن ابن ماجہ:2223،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ہلال بن طلق نے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ ”مکے مدینے والے بہت ہی عمدہ ناپ تول رکھتے ہیں۔“ آپ نے فرمایا ”وہ کیوں نہ رکھتے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ» [83-المطففين:1] ہے۔“
پس «تَّطْفِيفِ» سے مراد ناپ تول کی کمی ہے خواہ اس صورت میں کہ اوروں سے لیتے وقت زیادہ لے لیا اور دیتے وقت کم دیا۔ اسی لیے انہیں دھمکایا کہ ” یہ نقصان اٹھانے والے ہیں کہ جب اپنا حق لیں تو پورا لیں بلکہ زیادہ لے لیں اور دوسروں کو دینے بیٹھیں تو کم دیں۔ “ ٹھیک یہ ہے کہ «کَالُوْا» اور «وَزَنُوْا» کو متعدی مانیں اور «ھُمْ» کو محلاً منصوب کہیں گو بعض نے اسے ضمیر موکد مانا ہے۔ جو «كَالُوْا» اور «وَّزَنُوْا» کی پوشیدہ ضمیر کی تاکید کے لیے ہے اور مفعول محذوف مانا ہے جس پر دلالت کلام موجود ہے دونوں طرح مطلب قریب قریب ایک ہی ہے۔
قرآن کریم نے ناپ تول درست کرنے کا حکم اس آیت میں بھی دیا ہے «وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» [17-الإسراء:35] یعنی ” جب ناپو تو ناپ پورا کرو اور وزن سیدھے ترازو سے تول کر دیا کرو۔ “
اور جگہ حکم ہے «اَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَان بالْقِسْطِ ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا» [6-الأنعام:152] ” ناپ تول انصاف کے ساتھ برابر کر دیا کرو، ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ “
اور جگہ فرمایا «وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْزَانَ» [55-الرحمن:9] یعنی ” تول کو قائم رکھو اور میزان کو گھٹاؤ نہیں۔ “
شعیب علیہ السلام کی قوم کو اسی بد عادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے غارت و برباد کر دیا یہاں بھی اللہ تعالیٰ ڈرا رہا ہے کہ ” لوگوں کے حق مارنے والے کیا قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے جس دن یہ اس ذات پاک کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔ جس پر نہ کوئی پوشیدہ بات پوشیدہ ہے نہ ظاہر، وہ دن بھی نہایت ہولناک و خطرناک ہو گا۔ بڑی گھبراہٹ اور پریشانی والا دن ہو گا، اس دن یہ نقصان رساں لوگ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے وہ جگہ بھی نہایت تنگ و تاریک ہو گی اور میدان آفات و بلیات سے پر ہو گا اور وہ مصائب نازل ہو رہے ہوں گے کہ دل پریشان ہوں گے حواس بگڑے ہوئے ہوں گے ہوش جاتا رہے گا “۔ صحیح حدیث میں ہے کہ آدھے آدھے کانوں تک پسینہ پہنچ گیا ہوگا ۔ [صحیح بخاری:6531]
10389
مسند احمد کی حدیث میں ہے اس دن رحمان عزوجل کی عظمت کے سامنے سب کھڑے کپکپا رہے ہوں گے۔ [مسند احمد:31/2:صحیح]
اور حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن بندوں سے سورج اس قدر قریب ہو جائے گا کہ ایک یا دو نیزے کے برابر اونچا ہو گا اور سخت تیز ہو گا ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق اپنے پسینے میں غرق ہو گا بعض کی ایڑیوں تک پسینہ ہو گا بعض کے گھٹنوں تک بعض کی کمر تک بعض کو تو ان کا پسینہ لگام بنا ہوا ہو گا۔ [صحیح مسلم:2864]
اور حدیث میں ہے دھوپ اس قدر تیز ہو گی کہ کھوپڑی بھنا اٹھے گی اور اس طرح اس میں جوش اٹھنے لگے گا جس طرح ہنڈیا میں ابال آتا ہے۔ [مسند احمد:254/5:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ پر اپنی انگلیاں رکھ کر بتایا کہ اس طرح پسینہ کی لگام چڑھی ہوئی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ بعض بالکل ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ [مسند احمد:157/4:صحیح]
اور حدیث میں ہے ستر سال تک بغیر بولے چالے کھڑے رہیں گے یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین سو سال تک کھڑے رہیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چالیس ہزار سال تک کھڑے رہیں گے اور دس ہزار سال میں فیصلہ کیا جائے گا۔ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ”اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہو گی۔“ [صحیح مسلم:987]
10390
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشیر غفاری رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تو کیا کرے گا جس دن لوگ اللہ رب العالمین کے سامنے تین سو سال تک کھڑے رہیں گے نہ تو کوئی خبر آسمان سے آئیگی نہ کوئی حکم کیا جائے گا۔“ بشیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے، اللہ ہی مددگار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو جب بستر پر جاؤ تو اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کی تکلیفوں اور حساب کی برائی سے پناہ مانگ لیا کرو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:34290:ضعیف]
سنن ابوداؤد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن کے کھڑے ہونے کی جگہ کی تنگی سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ [سنن ابوداود:766،قال الشيخ الألباني:حسن]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چالیس سال تک لوگ اونچا سر کیے کھڑے رہیں گے کوئی بولے گا نہیں نیک و بد کو پسینے کی لگامیں چڑھی ہوئی ہوں گی۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سو سال تک کھڑے رہیں گے۔ [ ابن جریر ]
ابوداؤد، نسائی ابن ماجہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز شروع کرتے تو دس مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ»، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ» کہتے، دس مرتبہ «سُبْحَانَ اﷲِ» کہتے، دس مرتبہ «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ»، پھر کہتے دعا «اللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي» اے اللہ مجھے بخش، مجھے ہدایت دے، مجھے روزیاں دے اور عافیت عنایت فرما پھر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کے مقام کی تنگی سے پناہ مانگتے۔ [سنن ابن ماجہ:1356،قال الشيخ الألباني:حسن]
10391
ناپ تول میں کمی کے نتائج ٭٭
نسائی اور ابن ماجہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اس وقت اہل مدینہ ناپ تول کے اعتبار سے بہت برے تھے۔ جب یہ آیت اتری پھر انہوں نے ناپ تول بہت درست کر لیا۔“ [سنن ابن ماجہ:2223،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ہلال بن طلق نے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ ”مکے مدینے والے بہت ہی عمدہ ناپ تول رکھتے ہیں۔“ آپ نے فرمایا ”وہ کیوں نہ رکھتے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ» [83-المطففين:1] ہے۔“
پس «تَّطْفِيفِ» سے مراد ناپ تول کی کمی ہے خواہ اس صورت میں کہ اوروں سے لیتے وقت زیادہ لے لیا اور دیتے وقت کم دیا۔ اسی لیے انہیں دھمکایا کہ ” یہ نقصان اٹھانے والے ہیں کہ جب اپنا حق لیں تو پورا لیں بلکہ زیادہ لے لیں اور دوسروں کو دینے بیٹھیں تو کم دیں۔ “ ٹھیک یہ ہے کہ «کَالُوْا» اور «وَزَنُوْا» کو متعدی مانیں اور «ھُمْ» کو محلاً منصوب کہیں گو بعض نے اسے ضمیر موکد مانا ہے۔ جو «كَالُوْا» اور «وَّزَنُوْا» کی پوشیدہ ضمیر کی تاکید کے لیے ہے اور مفعول محذوف مانا ہے جس پر دلالت کلام موجود ہے دونوں طرح مطلب قریب قریب ایک ہی ہے۔
قرآن کریم نے ناپ تول درست کرنے کا حکم اس آیت میں بھی دیا ہے «وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» [17-الإسراء:35] یعنی ” جب ناپو تو ناپ پورا کرو اور وزن سیدھے ترازو سے تول کر دیا کرو۔ “
اور جگہ حکم ہے «اَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَان بالْقِسْطِ ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا» [6-الأنعام:152] ” ناپ تول انصاف کے ساتھ برابر کر دیا کرو، ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ “
اور جگہ فرمایا «وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْزَانَ» [55-الرحمن:9] یعنی ” تول کو قائم رکھو اور میزان کو گھٹاؤ نہیں۔ “
شعیب علیہ السلام کی قوم کو اسی بد عادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے غارت و برباد کر دیا یہاں بھی اللہ تعالیٰ ڈرا رہا ہے کہ ” لوگوں کے حق مارنے والے کیا قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے جس دن یہ اس ذات پاک کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔ جس پر نہ کوئی پوشیدہ بات پوشیدہ ہے نہ ظاہر، وہ دن بھی نہایت ہولناک و خطرناک ہو گا۔ بڑی گھبراہٹ اور پریشانی والا دن ہو گا، اس دن یہ نقصان رساں لوگ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے وہ جگہ بھی نہایت تنگ و تاریک ہو گی اور میدان آفات و بلیات سے پر ہو گا اور وہ مصائب نازل ہو رہے ہوں گے کہ دل پریشان ہوں گے حواس بگڑے ہوئے ہوں گے ہوش جاتا رہے گا “۔ صحیح حدیث میں ہے کہ آدھے آدھے کانوں تک پسینہ پہنچ گیا ہوگا ۔ [صحیح بخاری:6531]
10389
مسند احمد کی حدیث میں ہے اس دن رحمان عزوجل کی عظمت کے سامنے سب کھڑے کپکپا رہے ہوں گے۔ [مسند احمد:31/2:صحیح]
اور حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن بندوں سے سورج اس قدر قریب ہو جائے گا کہ ایک یا دو نیزے کے برابر اونچا ہو گا اور سخت تیز ہو گا ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق اپنے پسینے میں غرق ہو گا بعض کی ایڑیوں تک پسینہ ہو گا بعض کے گھٹنوں تک بعض کی کمر تک بعض کو تو ان کا پسینہ لگام بنا ہوا ہو گا۔ [صحیح مسلم:2864]
اور حدیث میں ہے دھوپ اس قدر تیز ہو گی کہ کھوپڑی بھنا اٹھے گی اور اس طرح اس میں جوش اٹھنے لگے گا جس طرح ہنڈیا میں ابال آتا ہے۔ [مسند احمد:254/5:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ پر اپنی انگلیاں رکھ کر بتایا کہ اس طرح پسینہ کی لگام چڑھی ہوئی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ بعض بالکل ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ [مسند احمد:157/4:صحیح]
اور حدیث میں ہے ستر سال تک بغیر بولے چالے کھڑے رہیں گے یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین سو سال تک کھڑے رہیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چالیس ہزار سال تک کھڑے رہیں گے اور دس ہزار سال میں فیصلہ کیا جائے گا۔ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ”اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہو گی۔“ [صحیح مسلم:987]
10390
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشیر غفاری رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تو کیا کرے گا جس دن لوگ اللہ رب العالمین کے سامنے تین سو سال تک کھڑے رہیں گے نہ تو کوئی خبر آسمان سے آئیگی نہ کوئی حکم کیا جائے گا۔“ بشیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے، اللہ ہی مددگار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو جب بستر پر جاؤ تو اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کی تکلیفوں اور حساب کی برائی سے پناہ مانگ لیا کرو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:34290:ضعیف]
سنن ابوداؤد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن کے کھڑے ہونے کی جگہ کی تنگی سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ [سنن ابوداود:766،قال الشيخ الألباني:حسن]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چالیس سال تک لوگ اونچا سر کیے کھڑے رہیں گے کوئی بولے گا نہیں نیک و بد کو پسینے کی لگامیں چڑھی ہوئی ہوں گی۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سو سال تک کھڑے رہیں گے۔ [ ابن جریر ]
ابوداؤد، نسائی ابن ماجہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز شروع کرتے تو دس مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ»، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ» کہتے، دس مرتبہ «سُبْحَانَ اﷲِ» کہتے، دس مرتبہ «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ»، پھر کہتے دعا «اللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي» اے اللہ مجھے بخش، مجھے ہدایت دے، مجھے روزیاں دے اور عافیت عنایت فرما پھر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کے مقام کی تنگی سے پناہ مانگتے۔ [سنن ابن ماجہ:1356،قال الشيخ الألباني:حسن]
10391
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ ٭٭
مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا «سِجِّينٍ» ہے یہ لفظ «فِعِّیْلٌ» کے وزن پر «سِجْنٌ» سے ماخوذ ہے «سِجْنٌ» کہتے ہیں لغتاً تنگی کو «ضِّيق»، «فِسِّيقٌ»، «وَشِرِّيبٌ» «وَخِمِّيرٌ»، «وَسِكِّيرٌ» وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی «سِجِّينٌ» ہے۔
پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ ” تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے۔ “ مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ ” اس کی کتاب «سجین» میں لکھ لو۔ “ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:1676:صحیح] اور «سجین» ساتویں زمین کے نیچے ہے۔
کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ جہنم میں ایک گڑھا ہے۔ ابن جریر کی ایک غریب منکر اور غیر صحیح حدیث میں ہے کہ «فلق» جہنم کا ایک منہ بند کردہ کنواں ہے اور «سجین» کھلے منہ والا گڑھا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36614:ضعیف]
10397
صحیح بات یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں تنگ جگہ جیل خانہ کے نیچے کی مخلوق میں تنگی ہے اور اوپر کی مخلوق میں کشادگی آسمانوں میں ہر اوپر والا آسمان نیچے والے آسمان سے کشادہ ہے اور زمینوں میں ہر نیچے کی زمین اوپر کی زمین سے تنگ ہے یہاں تک کہ بالکل نیچے کی تہہ بہت تنگ ہے اور سب سے زیادہ تنگ جگہ ساتویں زمین کا وسطی مرکز ہے چونکہ کافروں کے لوٹنے کی جگہ جہنم ہے اور وہ سب سے نیچے ہے۔
اور جگہ ہے «ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» [95-التين:6،5] یعنی ” ہم نے اسے پھر نیچوں کا نیچ کر دیا ہاں جو ایمان والے اور نیک اعمال والے ہیں۔ “
غرض «سجین» ایک تنگ اور تہہ کی جگہ ہے جیسے قرآن کریم نے اور جگہ فرمایا ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» [25-الفرقان:13] ” جب وہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے۔ “
«کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ» یہ «سجین» کی تفسیر نہیں بلکہ یہ اس کی تفسیر ہے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے کہ آخرش جہنم میں پہنچیں گے ان کا یہ نتیجہ لکھا جا چکا ہے اور اس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے نہ اب اس میں کچھ زیادتی ہو نہ کمی، تو فرمایا ” ان کا انجام «سجین» ہونا ہماری کتاب میں پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہے ان جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی ہو گی انہیں جہنم کا قید خانہ اور رسوائی والے المناک عذاب ہوں گے۔ “
«ویل» کی مکمل تفسیر اس سے پہلے گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ان کی ہلاکی بربادی اور خرابی ہے جیسے کہا جاتا ہے «وَیْلٌ لِّفُـلَانٍ» ۔ مسند اور سنن کی حدیث میں ہے «ویل» ہے اس شخص کے لیے جو کوئی جھوٹی بات کہہ کر لوگوں کو ہنسانا چاہے اور اسے «ویل» ہے اسے «ویل» ہے۔ [سنن ابوداود:4990،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر ان جھٹلانے والے بدکار کافروں کی مزید تشریح کی اور فرمایا ” یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزاء کو نہیں مانتے اسے خلاف عقل کہہ کر اس کے واقع ہونے کو محال جانتے ہیں۔ “
پھر فرمایا کہ ” قیامت کا جھٹلانا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے کاموں میں حد سے بڑھ جائیں اسی طرح اپنے اقوال میں گنہگار ہوں جھوٹ بولیں وعدہ خلافی کریں گالیاں بکیں وغیرہ۔ “
10398
یہ لوگ ہیں کہ ہماری آیتوں کو سن کر انہیں جھٹلاتے ہیں بدگمانی کرتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ پہلی کتابوں سے کچھ جمع اکٹھا کر لیا ہے۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ» [16-النحل:24] ” جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا کچھ نازل فرمایا تو کہتے ہیں اگلوں کے افسانے ہیں۔ “
اور جگہ ہے آیت «وَقَالُوا أَسَاطِير الْأَوَّلِينَ اِكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَة وَأَصِيلًا» [25-الفرقان:5] یعنی ” یہ کہتے ہیں کہ اگلوں کے قصے ہیں جو اسے صبح شام لکھوائے جا رہے ہیں۔ “
اللہ تعالیٰ انہیں جواب میں فرماتا ہے کہ ” واقعہ ان کے قول اور ان کے خیال کے مطابق نہیں بلکہ دراصل یہ قرآن کلام الٰہی ہے اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے پر نازل کی ہے ہاں ان کے دلوں پر ان کے بداعمال نے پردے ڈال دئیے ہیں گناہوں اور خطاؤں کی کثرت نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے کافروں کے دلوں پر «رین» ہوتا ہے اور نیک کار لوگوں کے دلوں پر «غَيْم» ہوتا ہے۔“
10399
ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی صفائی ہو جاتی ہے اور اگر گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی پھیلتی جاتی ہے۔ اسی کا بیان «کَّلا بَلْ رَانَ» میں ہے۔ [سنن ترمذي:3334،قال الشيخ الألباني:حسن] نسائی کے الفاظ میں کچھ اختلاف بھی ہے مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے۔ [مسند احمد:297/2:حسن]
حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ گناہوں پر گناہ کرنے سے دل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان عذابوں میں مبتلا ہو کر دیدار باری سے بھی محروم اور محجوب کر دئیے جائیں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں دلیل ہے کہ مومن قیامت کے دن دیدار باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔ امام صاحب کا یہ فرمان بالکل درست ہے اور آیت کا صاف مفہوم یہی ہے اور دوسری جگہ کھلے الفاظ میں بھی یہ بیان موجود ہے فرمان ہے آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» [75-القيامة:23،22] یعنی ” اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ “
صحیح اور متواتر احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ ایماندار قیامت والے دن اپنے رب عزوجل کو اپنی آنکھوں سے قیامت کے میدان میں اور جنت کے نفیس باغیچوں میں دیکھیں گے۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاب ہٹ جائیں گے اور مومن اپنے رب کو دیکھیں گے اور کافر پھر کافروں کو پردوں کے پیچھے کر دیا جائے گا البتہ مومن ہر صبح و شام پروردگار عالم کا دیدار حاصل کریں گے یا اسی جیسا اور کلام ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” برے لوگ نہ صرف دیدار الٰہی سے ہی محروم رہیں گے بلکہ یہ لوگ جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے اور انہیں حقارت ذلت اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر غصہ کے ساتھ کہا جائے گا کہ یہی وہ جسے تم جھٹلاتے رہے۔ “
10400
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ ٭٭
مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا «سِجِّينٍ» ہے یہ لفظ «فِعِّیْلٌ» کے وزن پر «سِجْنٌ» سے ماخوذ ہے «سِجْنٌ» کہتے ہیں لغتاً تنگی کو «ضِّيق»، «فِسِّيقٌ»، «وَشِرِّيبٌ» «وَخِمِّيرٌ»، «وَسِكِّيرٌ» وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی «سِجِّينٌ» ہے۔
پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ ” تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے۔ “ مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ ” اس کی کتاب «سجین» میں لکھ لو۔ “ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:1676:صحیح] اور «سجین» ساتویں زمین کے نیچے ہے۔
کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ جہنم میں ایک گڑھا ہے۔ ابن جریر کی ایک غریب منکر اور غیر صحیح حدیث میں ہے کہ «فلق» جہنم کا ایک منہ بند کردہ کنواں ہے اور «سجین» کھلے منہ والا گڑھا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36614:ضعیف]
10397
صحیح بات یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں تنگ جگہ جیل خانہ کے نیچے کی مخلوق میں تنگی ہے اور اوپر کی مخلوق میں کشادگی آسمانوں میں ہر اوپر والا آسمان نیچے والے آسمان سے کشادہ ہے اور زمینوں میں ہر نیچے کی زمین اوپر کی زمین سے تنگ ہے یہاں تک کہ بالکل نیچے کی تہہ بہت تنگ ہے اور سب سے زیادہ تنگ جگہ ساتویں زمین کا وسطی مرکز ہے چونکہ کافروں کے لوٹنے کی جگہ جہنم ہے اور وہ سب سے نیچے ہے۔
اور جگہ ہے «ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» [95-التين:6،5] یعنی ” ہم نے اسے پھر نیچوں کا نیچ کر دیا ہاں جو ایمان والے اور نیک اعمال والے ہیں۔ “
غرض «سجین» ایک تنگ اور تہہ کی جگہ ہے جیسے قرآن کریم نے اور جگہ فرمایا ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» [25-الفرقان:13] ” جب وہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے۔ “
«کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ» یہ «سجین» کی تفسیر نہیں بلکہ یہ اس کی تفسیر ہے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے کہ آخرش جہنم میں پہنچیں گے ان کا یہ نتیجہ لکھا جا چکا ہے اور اس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے نہ اب اس میں کچھ زیادتی ہو نہ کمی، تو فرمایا ” ان کا انجام «سجین» ہونا ہماری کتاب میں پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہے ان جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی ہو گی انہیں جہنم کا قید خانہ اور رسوائی والے المناک عذاب ہوں گے۔ “
«ویل» کی مکمل تفسیر اس سے پہلے گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ان کی ہلاکی بربادی اور خرابی ہے جیسے کہا جاتا ہے «وَیْلٌ لِّفُـلَانٍ» ۔ مسند اور سنن کی حدیث میں ہے «ویل» ہے اس شخص کے لیے جو کوئی جھوٹی بات کہہ کر لوگوں کو ہنسانا چاہے اور اسے «ویل» ہے اسے «ویل» ہے۔ [سنن ابوداود:4990،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر ان جھٹلانے والے بدکار کافروں کی مزید تشریح کی اور فرمایا ” یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزاء کو نہیں مانتے اسے خلاف عقل کہہ کر اس کے واقع ہونے کو محال جانتے ہیں۔ “
پھر فرمایا کہ ” قیامت کا جھٹلانا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے کاموں میں حد سے بڑھ جائیں اسی طرح اپنے اقوال میں گنہگار ہوں جھوٹ بولیں وعدہ خلافی کریں گالیاں بکیں وغیرہ۔ “
10398
یہ لوگ ہیں کہ ہماری آیتوں کو سن کر انہیں جھٹلاتے ہیں بدگمانی کرتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ پہلی کتابوں سے کچھ جمع اکٹھا کر لیا ہے۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ» [16-النحل:24] ” جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا کچھ نازل فرمایا تو کہتے ہیں اگلوں کے افسانے ہیں۔ “
اور جگہ ہے آیت «وَقَالُوا أَسَاطِير الْأَوَّلِينَ اِكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَة وَأَصِيلًا» [25-الفرقان:5] یعنی ” یہ کہتے ہیں کہ اگلوں کے قصے ہیں جو اسے صبح شام لکھوائے جا رہے ہیں۔ “
اللہ تعالیٰ انہیں جواب میں فرماتا ہے کہ ” واقعہ ان کے قول اور ان کے خیال کے مطابق نہیں بلکہ دراصل یہ قرآن کلام الٰہی ہے اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے پر نازل کی ہے ہاں ان کے دلوں پر ان کے بداعمال نے پردے ڈال دئیے ہیں گناہوں اور خطاؤں کی کثرت نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے کافروں کے دلوں پر «رین» ہوتا ہے اور نیک کار لوگوں کے دلوں پر «غَيْم» ہوتا ہے۔“
10399
ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی صفائی ہو جاتی ہے اور اگر گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی پھیلتی جاتی ہے۔ اسی کا بیان «کَّلا بَلْ رَانَ» میں ہے۔ [سنن ترمذي:3334،قال الشيخ الألباني:حسن] نسائی کے الفاظ میں کچھ اختلاف بھی ہے مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے۔ [مسند احمد:297/2:حسن]
حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ گناہوں پر گناہ کرنے سے دل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان عذابوں میں مبتلا ہو کر دیدار باری سے بھی محروم اور محجوب کر دئیے جائیں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں دلیل ہے کہ مومن قیامت کے دن دیدار باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔ امام صاحب کا یہ فرمان بالکل درست ہے اور آیت کا صاف مفہوم یہی ہے اور دوسری جگہ کھلے الفاظ میں بھی یہ بیان موجود ہے فرمان ہے آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» [75-القيامة:23،22] یعنی ” اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ “
صحیح اور متواتر احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ ایماندار قیامت والے دن اپنے رب عزوجل کو اپنی آنکھوں سے قیامت کے میدان میں اور جنت کے نفیس باغیچوں میں دیکھیں گے۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاب ہٹ جائیں گے اور مومن اپنے رب کو دیکھیں گے اور کافر پھر کافروں کو پردوں کے پیچھے کر دیا جائے گا البتہ مومن ہر صبح و شام پروردگار عالم کا دیدار حاصل کریں گے یا اسی جیسا اور کلام ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” برے لوگ نہ صرف دیدار الٰہی سے ہی محروم رہیں گے بلکہ یہ لوگ جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے اور انہیں حقارت ذلت اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر غصہ کے ساتھ کہا جائے گا کہ یہی وہ جسے تم جھٹلاتے رہے۔ “
10400
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ ٭٭
مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا «سِجِّينٍ» ہے یہ لفظ «فِعِّیْلٌ» کے وزن پر «سِجْنٌ» سے ماخوذ ہے «سِجْنٌ» کہتے ہیں لغتاً تنگی کو «ضِّيق»، «فِسِّيقٌ»، «وَشِرِّيبٌ» «وَخِمِّيرٌ»، «وَسِكِّيرٌ» وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی «سِجِّينٌ» ہے۔
پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ ” تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے۔ “ مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ ” اس کی کتاب «سجین» میں لکھ لو۔ “ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:1676:صحیح] اور «سجین» ساتویں زمین کے نیچے ہے۔
کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ جہنم میں ایک گڑھا ہے۔ ابن جریر کی ایک غریب منکر اور غیر صحیح حدیث میں ہے کہ «فلق» جہنم کا ایک منہ بند کردہ کنواں ہے اور «سجین» کھلے منہ والا گڑھا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36614:ضعیف]
10397
صحیح بات یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں تنگ جگہ جیل خانہ کے نیچے کی مخلوق میں تنگی ہے اور اوپر کی مخلوق میں کشادگی آسمانوں میں ہر اوپر والا آسمان نیچے والے آسمان سے کشادہ ہے اور زمینوں میں ہر نیچے کی زمین اوپر کی زمین سے تنگ ہے یہاں تک کہ بالکل نیچے کی تہہ بہت تنگ ہے اور سب سے زیادہ تنگ جگہ ساتویں زمین کا وسطی مرکز ہے چونکہ کافروں کے لوٹنے کی جگہ جہنم ہے اور وہ سب سے نیچے ہے۔
اور جگہ ہے «ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» [95-التين:6،5] یعنی ” ہم نے اسے پھر نیچوں کا نیچ کر دیا ہاں جو ایمان والے اور نیک اعمال والے ہیں۔ “
غرض «سجین» ایک تنگ اور تہہ کی جگہ ہے جیسے قرآن کریم نے اور جگہ فرمایا ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» [25-الفرقان:13] ” جب وہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے۔ “
«کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ» یہ «سجین» کی تفسیر نہیں بلکہ یہ اس کی تفسیر ہے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے کہ آخرش جہنم میں پہنچیں گے ان کا یہ نتیجہ لکھا جا چکا ہے اور اس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے نہ اب اس میں کچھ زیادتی ہو نہ کمی، تو فرمایا ” ان کا انجام «سجین» ہونا ہماری کتاب میں پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہے ان جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی ہو گی انہیں جہنم کا قید خانہ اور رسوائی والے المناک عذاب ہوں گے۔ “
«ویل» کی مکمل تفسیر اس سے پہلے گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ان کی ہلاکی بربادی اور خرابی ہے جیسے کہا جاتا ہے «وَیْلٌ لِّفُـلَانٍ» ۔ مسند اور سنن کی حدیث میں ہے «ویل» ہے اس شخص کے لیے جو کوئی جھوٹی بات کہہ کر لوگوں کو ہنسانا چاہے اور اسے «ویل» ہے اسے «ویل» ہے۔ [سنن ابوداود:4990،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر ان جھٹلانے والے بدکار کافروں کی مزید تشریح کی اور فرمایا ” یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزاء کو نہیں مانتے اسے خلاف عقل کہہ کر اس کے واقع ہونے کو محال جانتے ہیں۔ “
پھر فرمایا کہ ” قیامت کا جھٹلانا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے کاموں میں حد سے بڑھ جائیں اسی طرح اپنے اقوال میں گنہگار ہوں جھوٹ بولیں وعدہ خلافی کریں گالیاں بکیں وغیرہ۔ “
10398
یہ لوگ ہیں کہ ہماری آیتوں کو سن کر انہیں جھٹلاتے ہیں بدگمانی کرتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ پہلی کتابوں سے کچھ جمع اکٹھا کر لیا ہے۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ» [16-النحل:24] ” جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا کچھ نازل فرمایا تو کہتے ہیں اگلوں کے افسانے ہیں۔ “
اور جگہ ہے آیت «وَقَالُوا أَسَاطِير الْأَوَّلِينَ اِكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَة وَأَصِيلًا» [25-الفرقان:5] یعنی ” یہ کہتے ہیں کہ اگلوں کے قصے ہیں جو اسے صبح شام لکھوائے جا رہے ہیں۔ “
اللہ تعالیٰ انہیں جواب میں فرماتا ہے کہ ” واقعہ ان کے قول اور ان کے خیال کے مطابق نہیں بلکہ دراصل یہ قرآن کلام الٰہی ہے اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے پر نازل کی ہے ہاں ان کے دلوں پر ان کے بداعمال نے پردے ڈال دئیے ہیں گناہوں اور خطاؤں کی کثرت نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے کافروں کے دلوں پر «رین» ہوتا ہے اور نیک کار لوگوں کے دلوں پر «غَيْم» ہوتا ہے۔“
10399
ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی صفائی ہو جاتی ہے اور اگر گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی پھیلتی جاتی ہے۔ اسی کا بیان «کَّلا بَلْ رَانَ» میں ہے۔ [سنن ترمذي:3334،قال الشيخ الألباني:حسن] نسائی کے الفاظ میں کچھ اختلاف بھی ہے مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے۔ [مسند احمد:297/2:حسن]
حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ گناہوں پر گناہ کرنے سے دل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان عذابوں میں مبتلا ہو کر دیدار باری سے بھی محروم اور محجوب کر دئیے جائیں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں دلیل ہے کہ مومن قیامت کے دن دیدار باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔ امام صاحب کا یہ فرمان بالکل درست ہے اور آیت کا صاف مفہوم یہی ہے اور دوسری جگہ کھلے الفاظ میں بھی یہ بیان موجود ہے فرمان ہے آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» [75-القيامة:23،22] یعنی ” اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ “
صحیح اور متواتر احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ ایماندار قیامت والے دن اپنے رب عزوجل کو اپنی آنکھوں سے قیامت کے میدان میں اور جنت کے نفیس باغیچوں میں دیکھیں گے۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاب ہٹ جائیں گے اور مومن اپنے رب کو دیکھیں گے اور کافر پھر کافروں کو پردوں کے پیچھے کر دیا جائے گا البتہ مومن ہر صبح و شام پروردگار عالم کا دیدار حاصل کریں گے یا اسی جیسا اور کلام ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” برے لوگ نہ صرف دیدار الٰہی سے ہی محروم رہیں گے بلکہ یہ لوگ جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے اور انہیں حقارت ذلت اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر غصہ کے ساتھ کہا جائے گا کہ یہی وہ جسے تم جھٹلاتے رہے۔ “
10400
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ ٭٭
مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا «سِجِّينٍ» ہے یہ لفظ «فِعِّیْلٌ» کے وزن پر «سِجْنٌ» سے ماخوذ ہے «سِجْنٌ» کہتے ہیں لغتاً تنگی کو «ضِّيق»، «فِسِّيقٌ»، «وَشِرِّيبٌ» «وَخِمِّيرٌ»، «وَسِكِّيرٌ» وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی «سِجِّينٌ» ہے۔
پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ ” تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے۔ “ مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ ” اس کی کتاب «سجین» میں لکھ لو۔ “ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:1676:صحیح] اور «سجین» ساتویں زمین کے نیچے ہے۔
کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ جہنم میں ایک گڑھا ہے۔ ابن جریر کی ایک غریب منکر اور غیر صحیح حدیث میں ہے کہ «فلق» جہنم کا ایک منہ بند کردہ کنواں ہے اور «سجین» کھلے منہ والا گڑھا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36614:ضعیف]
10397
صحیح بات یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں تنگ جگہ جیل خانہ کے نیچے کی مخلوق میں تنگی ہے اور اوپر کی مخلوق میں کشادگی آسمانوں میں ہر اوپر والا آسمان نیچے والے آسمان سے کشادہ ہے اور زمینوں میں ہر نیچے کی زمین اوپر کی زمین سے تنگ ہے یہاں تک کہ بالکل نیچے کی تہہ بہت تنگ ہے اور سب سے زیادہ تنگ جگہ ساتویں زمین کا وسطی مرکز ہے چونکہ کافروں کے لوٹنے کی جگہ جہنم ہے اور وہ سب سے نیچے ہے۔
اور جگہ ہے «ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» [95-التين:6،5] یعنی ” ہم نے اسے پھر نیچوں کا نیچ کر دیا ہاں جو ایمان والے اور نیک اعمال والے ہیں۔ “
غرض «سجین» ایک تنگ اور تہہ کی جگہ ہے جیسے قرآن کریم نے اور جگہ فرمایا ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» [25-الفرقان:13] ” جب وہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے۔ “
«کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ» یہ «سجین» کی تفسیر نہیں بلکہ یہ اس کی تفسیر ہے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے کہ آخرش جہنم میں پہنچیں گے ان کا یہ نتیجہ لکھا جا چکا ہے اور اس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے نہ اب اس میں کچھ زیادتی ہو نہ کمی، تو فرمایا ” ان کا انجام «سجین» ہونا ہماری کتاب میں پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہے ان جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی ہو گی انہیں جہنم کا قید خانہ اور رسوائی والے المناک عذاب ہوں گے۔ “
«ویل» کی مکمل تفسیر اس سے پہلے گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ان کی ہلاکی بربادی اور خرابی ہے جیسے کہا جاتا ہے «وَیْلٌ لِّفُـلَانٍ» ۔ مسند اور سنن کی حدیث میں ہے «ویل» ہے اس شخص کے لیے جو کوئی جھوٹی بات کہہ کر لوگوں کو ہنسانا چاہے اور اسے «ویل» ہے اسے «ویل» ہے۔ [سنن ابوداود:4990،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر ان جھٹلانے والے بدکار کافروں کی مزید تشریح کی اور فرمایا ” یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزاء کو نہیں مانتے اسے خلاف عقل کہہ کر اس کے واقع ہونے کو محال جانتے ہیں۔ “
پھر فرمایا کہ ” قیامت کا جھٹلانا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے کاموں میں حد سے بڑھ جائیں اسی طرح اپنے اقوال میں گنہگار ہوں جھوٹ بولیں وعدہ خلافی کریں گالیاں بکیں وغیرہ۔ “
10398
یہ لوگ ہیں کہ ہماری آیتوں کو سن کر انہیں جھٹلاتے ہیں بدگمانی کرتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ پہلی کتابوں سے کچھ جمع اکٹھا کر لیا ہے۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ» [16-النحل:24] ” جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا کچھ نازل فرمایا تو کہتے ہیں اگلوں کے افسانے ہیں۔ “
اور جگہ ہے آیت «وَقَالُوا أَسَاطِير الْأَوَّلِينَ اِكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَة وَأَصِيلًا» [25-الفرقان:5] یعنی ” یہ کہتے ہیں کہ اگلوں کے قصے ہیں جو اسے صبح شام لکھوائے جا رہے ہیں۔ “
اللہ تعالیٰ انہیں جواب میں فرماتا ہے کہ ” واقعہ ان کے قول اور ان کے خیال کے مطابق نہیں بلکہ دراصل یہ قرآن کلام الٰہی ہے اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے پر نازل کی ہے ہاں ان کے دلوں پر ان کے بداعمال نے پردے ڈال دئیے ہیں گناہوں اور خطاؤں کی کثرت نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے کافروں کے دلوں پر «رین» ہوتا ہے اور نیک کار لوگوں کے دلوں پر «غَيْم» ہوتا ہے۔“
10399
ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی صفائی ہو جاتی ہے اور اگر گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی پھیلتی جاتی ہے۔ اسی کا بیان «کَّلا بَلْ رَانَ» میں ہے۔ [سنن ترمذي:3334،قال الشيخ الألباني:حسن] نسائی کے الفاظ میں کچھ اختلاف بھی ہے مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے۔ [مسند احمد:297/2:حسن]
حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ گناہوں پر گناہ کرنے سے دل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان عذابوں میں مبتلا ہو کر دیدار باری سے بھی محروم اور محجوب کر دئیے جائیں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں دلیل ہے کہ مومن قیامت کے دن دیدار باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔ امام صاحب کا یہ فرمان بالکل درست ہے اور آیت کا صاف مفہوم یہی ہے اور دوسری جگہ کھلے الفاظ میں بھی یہ بیان موجود ہے فرمان ہے آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» [75-القيامة:23،22] یعنی ” اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ “
صحیح اور متواتر احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ ایماندار قیامت والے دن اپنے رب عزوجل کو اپنی آنکھوں سے قیامت کے میدان میں اور جنت کے نفیس باغیچوں میں دیکھیں گے۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاب ہٹ جائیں گے اور مومن اپنے رب کو دیکھیں گے اور کافر پھر کافروں کو پردوں کے پیچھے کر دیا جائے گا البتہ مومن ہر صبح و شام پروردگار عالم کا دیدار حاصل کریں گے یا اسی جیسا اور کلام ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” برے لوگ نہ صرف دیدار الٰہی سے ہی محروم رہیں گے بلکہ یہ لوگ جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے اور انہیں حقارت ذلت اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر غصہ کے ساتھ کہا جائے گا کہ یہی وہ جسے تم جھٹلاتے رہے۔ “
10400
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ ٭٭
مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا «سِجِّينٍ» ہے یہ لفظ «فِعِّیْلٌ» کے وزن پر «سِجْنٌ» سے ماخوذ ہے «سِجْنٌ» کہتے ہیں لغتاً تنگی کو «ضِّيق»، «فِسِّيقٌ»، «وَشِرِّيبٌ» «وَخِمِّيرٌ»، «وَسِكِّيرٌ» وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی «سِجِّينٌ» ہے۔
پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ ” تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے۔ “ مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ ” اس کی کتاب «سجین» میں لکھ لو۔ “ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:1676:صحیح] اور «سجین» ساتویں زمین کے نیچے ہے۔
کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ جہنم میں ایک گڑھا ہے۔ ابن جریر کی ایک غریب منکر اور غیر صحیح حدیث میں ہے کہ «فلق» جہنم کا ایک منہ بند کردہ کنواں ہے اور «سجین» کھلے منہ والا گڑھا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36614:ضعیف]
10397
صحیح بات یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں تنگ جگہ جیل خانہ کے نیچے کی مخلوق میں تنگی ہے اور اوپر کی مخلوق میں کشادگی آسمانوں میں ہر اوپر والا آسمان نیچے والے آسمان سے کشادہ ہے اور زمینوں میں ہر نیچے کی زمین اوپر کی زمین سے تنگ ہے یہاں تک کہ بالکل نیچے کی تہہ بہت تنگ ہے اور سب سے زیادہ تنگ جگہ ساتویں زمین کا وسطی مرکز ہے چونکہ کافروں کے لوٹنے کی جگہ جہنم ہے اور وہ سب سے نیچے ہے۔
اور جگہ ہے «ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» [95-التين:6،5] یعنی ” ہم نے اسے پھر نیچوں کا نیچ کر دیا ہاں جو ایمان والے اور نیک اعمال والے ہیں۔ “
غرض «سجین» ایک تنگ اور تہہ کی جگہ ہے جیسے قرآن کریم نے اور جگہ فرمایا ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» [25-الفرقان:13] ” جب وہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے۔ “
«کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ» یہ «سجین» کی تفسیر نہیں بلکہ یہ اس کی تفسیر ہے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے کہ آخرش جہنم میں پہنچیں گے ان کا یہ نتیجہ لکھا جا چکا ہے اور اس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے نہ اب اس میں کچھ زیادتی ہو نہ کمی، تو فرمایا ” ان کا انجام «سجین» ہونا ہماری کتاب میں پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہے ان جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی ہو گی انہیں جہنم کا قید خانہ اور رسوائی والے المناک عذاب ہوں گے۔ “
«ویل» کی مکمل تفسیر اس سے پہلے گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ان کی ہلاکی بربادی اور خرابی ہے جیسے کہا جاتا ہے «وَیْلٌ لِّفُـلَانٍ» ۔ مسند اور سنن کی حدیث میں ہے «ویل» ہے اس شخص کے لیے جو کوئی جھوٹی بات کہہ کر لوگوں کو ہنسانا چاہے اور اسے «ویل» ہے اسے «ویل» ہے۔ [سنن ابوداود:4990،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر ان جھٹلانے والے بدکار کافروں کی مزید تشریح کی اور فرمایا ” یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزاء کو نہیں مانتے اسے خلاف عقل کہہ کر اس کے واقع ہونے کو محال جانتے ہیں۔ “
پھر فرمایا کہ ” قیامت کا جھٹلانا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے کاموں میں حد سے بڑھ جائیں اسی طرح اپنے اقوال میں گنہگار ہوں جھوٹ بولیں وعدہ خلافی کریں گالیاں بکیں وغیرہ۔ “
10398
یہ لوگ ہیں کہ ہماری آیتوں کو سن کر انہیں جھٹلاتے ہیں بدگمانی کرتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ پہلی کتابوں سے کچھ جمع اکٹھا کر لیا ہے۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ» [16-النحل:24] ” جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا کچھ نازل فرمایا تو کہتے ہیں اگلوں کے افسانے ہیں۔ “
اور جگہ ہے آیت «وَقَالُوا أَسَاطِير الْأَوَّلِينَ اِكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَة وَأَصِيلًا» [25-الفرقان:5] یعنی ” یہ کہتے ہیں کہ اگلوں کے قصے ہیں جو اسے صبح شام لکھوائے جا رہے ہیں۔ “
اللہ تعالیٰ انہیں جواب میں فرماتا ہے کہ ” واقعہ ان کے قول اور ان کے خیال کے مطابق نہیں بلکہ دراصل یہ قرآن کلام الٰہی ہے اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے پر نازل کی ہے ہاں ان کے دلوں پر ان کے بداعمال نے پردے ڈال دئیے ہیں گناہوں اور خطاؤں کی کثرت نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے کافروں کے دلوں پر «رین» ہوتا ہے اور نیک کار لوگوں کے دلوں پر «غَيْم» ہوتا ہے۔“
10399
ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی صفائی ہو جاتی ہے اور اگر گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی پھیلتی جاتی ہے۔ اسی کا بیان «کَّلا بَلْ رَانَ» میں ہے۔ [سنن ترمذي:3334،قال الشيخ الألباني:حسن] نسائی کے الفاظ میں کچھ اختلاف بھی ہے مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے۔ [مسند احمد:297/2:حسن]
حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ گناہوں پر گناہ کرنے سے دل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان عذابوں میں مبتلا ہو کر دیدار باری سے بھی محروم اور محجوب کر دئیے جائیں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں دلیل ہے کہ مومن قیامت کے دن دیدار باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔ امام صاحب کا یہ فرمان بالکل درست ہے اور آیت کا صاف مفہوم یہی ہے اور دوسری جگہ کھلے الفاظ میں بھی یہ بیان موجود ہے فرمان ہے آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» [75-القيامة:23،22] یعنی ” اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ “
صحیح اور متواتر احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ ایماندار قیامت والے دن اپنے رب عزوجل کو اپنی آنکھوں سے قیامت کے میدان میں اور جنت کے نفیس باغیچوں میں دیکھیں گے۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاب ہٹ جائیں گے اور مومن اپنے رب کو دیکھیں گے اور کافر پھر کافروں کو پردوں کے پیچھے کر دیا جائے گا البتہ مومن ہر صبح و شام پروردگار عالم کا دیدار حاصل کریں گے یا اسی جیسا اور کلام ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” برے لوگ نہ صرف دیدار الٰہی سے ہی محروم رہیں گے بلکہ یہ لوگ جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے اور انہیں حقارت ذلت اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر غصہ کے ساتھ کہا جائے گا کہ یہی وہ جسے تم جھٹلاتے رہے۔ “
10400
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ ٭٭
مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا «سِجِّينٍ» ہے یہ لفظ «فِعِّیْلٌ» کے وزن پر «سِجْنٌ» سے ماخوذ ہے «سِجْنٌ» کہتے ہیں لغتاً تنگی کو «ضِّيق»، «فِسِّيقٌ»، «وَشِرِّيبٌ» «وَخِمِّيرٌ»، «وَسِكِّيرٌ» وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی «سِجِّينٌ» ہے۔
پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ ” تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے۔ “ مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ ” اس کی کتاب «سجین» میں لکھ لو۔ “ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:1676:صحیح] اور «سجین» ساتویں زمین کے نیچے ہے۔
کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ جہنم میں ایک گڑھا ہے۔ ابن جریر کی ایک غریب منکر اور غیر صحیح حدیث میں ہے کہ «فلق» جہنم کا ایک منہ بند کردہ کنواں ہے اور «سجین» کھلے منہ والا گڑھا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36614:ضعیف]
10397
صحیح بات یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں تنگ جگہ جیل خانہ کے نیچے کی مخلوق میں تنگی ہے اور اوپر کی مخلوق میں کشادگی آسمانوں میں ہر اوپر والا آسمان نیچے والے آسمان سے کشادہ ہے اور زمینوں میں ہر نیچے کی زمین اوپر کی زمین سے تنگ ہے یہاں تک کہ بالکل نیچے کی تہہ بہت تنگ ہے اور سب سے زیادہ تنگ جگہ ساتویں زمین کا وسطی مرکز ہے چونکہ کافروں کے لوٹنے کی جگہ جہنم ہے اور وہ سب سے نیچے ہے۔
اور جگہ ہے «ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» [95-التين:6،5] یعنی ” ہم نے اسے پھر نیچوں کا نیچ کر دیا ہاں جو ایمان والے اور نیک اعمال والے ہیں۔ “
غرض «سجین» ایک تنگ اور تہہ کی جگہ ہے جیسے قرآن کریم نے اور جگہ فرمایا ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» [25-الفرقان:13] ” جب وہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے۔ “
«کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ» یہ «سجین» کی تفسیر نہیں بلکہ یہ اس کی تفسیر ہے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے کہ آخرش جہنم میں پہنچیں گے ان کا یہ نتیجہ لکھا جا چکا ہے اور اس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے نہ اب اس میں کچھ زیادتی ہو نہ کمی، تو فرمایا ” ان کا انجام «سجین» ہونا ہماری کتاب میں پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہے ان جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی ہو گی انہیں جہنم کا قید خانہ اور رسوائی والے المناک عذاب ہوں گے۔ “
«ویل» کی مکمل تفسیر اس سے پہلے گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ان کی ہلاکی بربادی اور خرابی ہے جیسے کہا جاتا ہے «وَیْلٌ لِّفُـلَانٍ» ۔ مسند اور سنن کی حدیث میں ہے «ویل» ہے اس شخص کے لیے جو کوئی جھوٹی بات کہہ کر لوگوں کو ہنسانا چاہے اور اسے «ویل» ہے اسے «ویل» ہے۔ [سنن ابوداود:4990،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر ان جھٹلانے والے بدکار کافروں کی مزید تشریح کی اور فرمایا ” یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزاء کو نہیں مانتے اسے خلاف عقل کہہ کر اس کے واقع ہونے کو محال جانتے ہیں۔ “
پھر فرمایا کہ ” قیامت کا جھٹلانا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے کاموں میں حد سے بڑھ جائیں اسی طرح اپنے اقوال میں گنہگار ہوں جھوٹ بولیں وعدہ خلافی کریں گالیاں بکیں وغیرہ۔ “
10398
یہ لوگ ہیں کہ ہماری آیتوں کو سن کر انہیں جھٹلاتے ہیں بدگمانی کرتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ پہلی کتابوں سے کچھ جمع اکٹھا کر لیا ہے۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ» [16-النحل:24] ” جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا کچھ نازل فرمایا تو کہتے ہیں اگلوں کے افسانے ہیں۔ “
اور جگہ ہے آیت «وَقَالُوا أَسَاطِير الْأَوَّلِينَ اِكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَة وَأَصِيلًا» [25-الفرقان:5] یعنی ” یہ کہتے ہیں کہ اگلوں کے قصے ہیں جو اسے صبح شام لکھوائے جا رہے ہیں۔ “
اللہ تعالیٰ انہیں جواب میں فرماتا ہے کہ ” واقعہ ان کے قول اور ان کے خیال کے مطابق نہیں بلکہ دراصل یہ قرآن کلام الٰہی ہے اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے پر نازل کی ہے ہاں ان کے دلوں پر ان کے بداعمال نے پردے ڈال دئیے ہیں گناہوں اور خطاؤں کی کثرت نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے کافروں کے دلوں پر «رین» ہوتا ہے اور نیک کار لوگوں کے دلوں پر «غَيْم» ہوتا ہے۔“
10399
ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی صفائی ہو جاتی ہے اور اگر گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی پھیلتی جاتی ہے۔ اسی کا بیان «کَّلا بَلْ رَانَ» میں ہے۔ [سنن ترمذي:3334،قال الشيخ الألباني:حسن] نسائی کے الفاظ میں کچھ اختلاف بھی ہے مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے۔ [مسند احمد:297/2:حسن]
حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ گناہوں پر گناہ کرنے سے دل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان عذابوں میں مبتلا ہو کر دیدار باری سے بھی محروم اور محجوب کر دئیے جائیں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں دلیل ہے کہ مومن قیامت کے دن دیدار باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔ امام صاحب کا یہ فرمان بالکل درست ہے اور آیت کا صاف مفہوم یہی ہے اور دوسری جگہ کھلے الفاظ میں بھی یہ بیان موجود ہے فرمان ہے آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» [75-القيامة:23،22] یعنی ” اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ “
صحیح اور متواتر احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ ایماندار قیامت والے دن اپنے رب عزوجل کو اپنی آنکھوں سے قیامت کے میدان میں اور جنت کے نفیس باغیچوں میں دیکھیں گے۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاب ہٹ جائیں گے اور مومن اپنے رب کو دیکھیں گے اور کافر پھر کافروں کو پردوں کے پیچھے کر دیا جائے گا البتہ مومن ہر صبح و شام پروردگار عالم کا دیدار حاصل کریں گے یا اسی جیسا اور کلام ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” برے لوگ نہ صرف دیدار الٰہی سے ہی محروم رہیں گے بلکہ یہ لوگ جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے اور انہیں حقارت ذلت اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر غصہ کے ساتھ کہا جائے گا کہ یہی وہ جسے تم جھٹلاتے رہے۔ “
10400
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ ٭٭
مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا «سِجِّينٍ» ہے یہ لفظ «فِعِّیْلٌ» کے وزن پر «سِجْنٌ» سے ماخوذ ہے «سِجْنٌ» کہتے ہیں لغتاً تنگی کو «ضِّيق»، «فِسِّيقٌ»، «وَشِرِّيبٌ» «وَخِمِّيرٌ»، «وَسِكِّيرٌ» وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی «سِجِّينٌ» ہے۔
پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ ” تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے۔ “ مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ ” اس کی کتاب «سجین» میں لکھ لو۔ “ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:1676:صحیح] اور «سجین» ساتویں زمین کے نیچے ہے۔
کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ جہنم میں ایک گڑھا ہے۔ ابن جریر کی ایک غریب منکر اور غیر صحیح حدیث میں ہے کہ «فلق» جہنم کا ایک منہ بند کردہ کنواں ہے اور «سجین» کھلے منہ والا گڑھا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36614:ضعیف]
10397
صحیح بات یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں تنگ جگہ جیل خانہ کے نیچے کی مخلوق میں تنگی ہے اور اوپر کی مخلوق میں کشادگی آسمانوں میں ہر اوپر والا آسمان نیچے والے آسمان سے کشادہ ہے اور زمینوں میں ہر نیچے کی زمین اوپر کی زمین سے تنگ ہے یہاں تک کہ بالکل نیچے کی تہہ بہت تنگ ہے اور سب سے زیادہ تنگ جگہ ساتویں زمین کا وسطی مرکز ہے چونکہ کافروں کے لوٹنے کی جگہ جہنم ہے اور وہ سب سے نیچے ہے۔
اور جگہ ہے «ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» [95-التين:6،5] یعنی ” ہم نے اسے پھر نیچوں کا نیچ کر دیا ہاں جو ایمان والے اور نیک اعمال والے ہیں۔ “
غرض «سجین» ایک تنگ اور تہہ کی جگہ ہے جیسے قرآن کریم نے اور جگہ فرمایا ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» [25-الفرقان:13] ” جب وہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے۔ “
«کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ» یہ «سجین» کی تفسیر نہیں بلکہ یہ اس کی تفسیر ہے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے کہ آخرش جہنم میں پہنچیں گے ان کا یہ نتیجہ لکھا جا چکا ہے اور اس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے نہ اب اس میں کچھ زیادتی ہو نہ کمی، تو فرمایا ” ان کا انجام «سجین» ہونا ہماری کتاب میں پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہے ان جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی ہو گی انہیں جہنم کا قید خانہ اور رسوائی والے المناک عذاب ہوں گے۔ “
«ویل» کی مکمل تفسیر اس سے پہلے گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ان کی ہلاکی بربادی اور خرابی ہے جیسے کہا جاتا ہے «وَیْلٌ لِّفُـلَانٍ» ۔ مسند اور سنن کی حدیث میں ہے «ویل» ہے اس شخص کے لیے جو کوئی جھوٹی بات کہہ کر لوگوں کو ہنسانا چاہے اور اسے «ویل» ہے اسے «ویل» ہے۔ [سنن ابوداود:4990،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر ان جھٹلانے والے بدکار کافروں کی مزید تشریح کی اور فرمایا ” یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزاء کو نہیں مانتے اسے خلاف عقل کہہ کر اس کے واقع ہونے کو محال جانتے ہیں۔ “
پھر فرمایا کہ ” قیامت کا جھٹلانا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے کاموں میں حد سے بڑھ جائیں اسی طرح اپنے اقوال میں گنہگار ہوں جھوٹ بولیں وعدہ خلافی کریں گالیاں بکیں وغیرہ۔ “
10398
یہ لوگ ہیں کہ ہماری آیتوں کو سن کر انہیں جھٹلاتے ہیں بدگمانی کرتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ پہلی کتابوں سے کچھ جمع اکٹھا کر لیا ہے۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ» [16-النحل:24] ” جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا کچھ نازل فرمایا تو کہتے ہیں اگلوں کے افسانے ہیں۔ “
اور جگہ ہے آیت «وَقَالُوا أَسَاطِير الْأَوَّلِينَ اِكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَة وَأَصِيلًا» [25-الفرقان:5] یعنی ” یہ کہتے ہیں کہ اگلوں کے قصے ہیں جو اسے صبح شام لکھوائے جا رہے ہیں۔ “
اللہ تعالیٰ انہیں جواب میں فرماتا ہے کہ ” واقعہ ان کے قول اور ان کے خیال کے مطابق نہیں بلکہ دراصل یہ قرآن کلام الٰہی ہے اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے پر نازل کی ہے ہاں ان کے دلوں پر ان کے بداعمال نے پردے ڈال دئیے ہیں گناہوں اور خطاؤں کی کثرت نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے کافروں کے دلوں پر «رین» ہوتا ہے اور نیک کار لوگوں کے دلوں پر «غَيْم» ہوتا ہے۔“
10399
ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی صفائی ہو جاتی ہے اور اگر گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی پھیلتی جاتی ہے۔ اسی کا بیان «کَّلا بَلْ رَانَ» میں ہے۔ [سنن ترمذي:3334،قال الشيخ الألباني:حسن] نسائی کے الفاظ میں کچھ اختلاف بھی ہے مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے۔ [مسند احمد:297/2:حسن]
حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ گناہوں پر گناہ کرنے سے دل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان عذابوں میں مبتلا ہو کر دیدار باری سے بھی محروم اور محجوب کر دئیے جائیں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں دلیل ہے کہ مومن قیامت کے دن دیدار باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔ امام صاحب کا یہ فرمان بالکل درست ہے اور آیت کا صاف مفہوم یہی ہے اور دوسری جگہ کھلے الفاظ میں بھی یہ بیان موجود ہے فرمان ہے آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» [75-القيامة:23،22] یعنی ” اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ “
صحیح اور متواتر احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ ایماندار قیامت والے دن اپنے رب عزوجل کو اپنی آنکھوں سے قیامت کے میدان میں اور جنت کے نفیس باغیچوں میں دیکھیں گے۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاب ہٹ جائیں گے اور مومن اپنے رب کو دیکھیں گے اور کافر پھر کافروں کو پردوں کے پیچھے کر دیا جائے گا البتہ مومن ہر صبح و شام پروردگار عالم کا دیدار حاصل کریں گے یا اسی جیسا اور کلام ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” برے لوگ نہ صرف دیدار الٰہی سے ہی محروم رہیں گے بلکہ یہ لوگ جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے اور انہیں حقارت ذلت اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر غصہ کے ساتھ کہا جائے گا کہ یہی وہ جسے تم جھٹلاتے رہے۔ “
10400
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ ٭٭
مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا «سِجِّينٍ» ہے یہ لفظ «فِعِّیْلٌ» کے وزن پر «سِجْنٌ» سے ماخوذ ہے «سِجْنٌ» کہتے ہیں لغتاً تنگی کو «ضِّيق»، «فِسِّيقٌ»، «وَشِرِّيبٌ» «وَخِمِّيرٌ»، «وَسِكِّيرٌ» وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی «سِجِّينٌ» ہے۔
پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ ” تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے۔ “ مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ ” اس کی کتاب «سجین» میں لکھ لو۔ “ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:1676:صحیح] اور «سجین» ساتویں زمین کے نیچے ہے۔
کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ جہنم میں ایک گڑھا ہے۔ ابن جریر کی ایک غریب منکر اور غیر صحیح حدیث میں ہے کہ «فلق» جہنم کا ایک منہ بند کردہ کنواں ہے اور «سجین» کھلے منہ والا گڑھا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36614:ضعیف]
10397
صحیح بات یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں تنگ جگہ جیل خانہ کے نیچے کی مخلوق میں تنگی ہے اور اوپر کی مخلوق میں کشادگی آسمانوں میں ہر اوپر والا آسمان نیچے والے آسمان سے کشادہ ہے اور زمینوں میں ہر نیچے کی زمین اوپر کی زمین سے تنگ ہے یہاں تک کہ بالکل نیچے کی تہہ بہت تنگ ہے اور سب سے زیادہ تنگ جگہ ساتویں زمین کا وسطی مرکز ہے چونکہ کافروں کے لوٹنے کی جگہ جہنم ہے اور وہ سب سے نیچے ہے۔
اور جگہ ہے «ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» [95-التين:6،5] یعنی ” ہم نے اسے پھر نیچوں کا نیچ کر دیا ہاں جو ایمان والے اور نیک اعمال والے ہیں۔ “
غرض «سجین» ایک تنگ اور تہہ کی جگہ ہے جیسے قرآن کریم نے اور جگہ فرمایا ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» [25-الفرقان:13] ” جب وہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے۔ “
«کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ» یہ «سجین» کی تفسیر نہیں بلکہ یہ اس کی تفسیر ہے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے کہ آخرش جہنم میں پہنچیں گے ان کا یہ نتیجہ لکھا جا چکا ہے اور اس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے نہ اب اس میں کچھ زیادتی ہو نہ کمی، تو فرمایا ” ان کا انجام «سجین» ہونا ہماری کتاب میں پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہے ان جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی ہو گی انہیں جہنم کا قید خانہ اور رسوائی والے المناک عذاب ہوں گے۔ “
«ویل» کی مکمل تفسیر اس سے پہلے گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ان کی ہلاکی بربادی اور خرابی ہے جیسے کہا جاتا ہے «وَیْلٌ لِّفُـلَانٍ» ۔ مسند اور سنن کی حدیث میں ہے «ویل» ہے اس شخص کے لیے جو کوئی جھوٹی بات کہہ کر لوگوں کو ہنسانا چاہے اور اسے «ویل» ہے اسے «ویل» ہے۔ [سنن ابوداود:4990،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر ان جھٹلانے والے بدکار کافروں کی مزید تشریح کی اور فرمایا ” یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزاء کو نہیں مانتے اسے خلاف عقل کہہ کر اس کے واقع ہونے کو محال جانتے ہیں۔ “
پھر فرمایا کہ ” قیامت کا جھٹلانا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے کاموں میں حد سے بڑھ جائیں اسی طرح اپنے اقوال میں گنہگار ہوں جھوٹ بولیں وعدہ خلافی کریں گالیاں بکیں وغیرہ۔ “
10398
یہ لوگ ہیں کہ ہماری آیتوں کو سن کر انہیں جھٹلاتے ہیں بدگمانی کرتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ پہلی کتابوں سے کچھ جمع اکٹھا کر لیا ہے۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ» [16-النحل:24] ” جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا کچھ نازل فرمایا تو کہتے ہیں اگلوں کے افسانے ہیں۔ “
اور جگہ ہے آیت «وَقَالُوا أَسَاطِير الْأَوَّلِينَ اِكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَة وَأَصِيلًا» [25-الفرقان:5] یعنی ” یہ کہتے ہیں کہ اگلوں کے قصے ہیں جو اسے صبح شام لکھوائے جا رہے ہیں۔ “
اللہ تعالیٰ انہیں جواب میں فرماتا ہے کہ ” واقعہ ان کے قول اور ان کے خیال کے مطابق نہیں بلکہ دراصل یہ قرآن کلام الٰہی ہے اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے پر نازل کی ہے ہاں ان کے دلوں پر ان کے بداعمال نے پردے ڈال دئیے ہیں گناہوں اور خطاؤں کی کثرت نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے کافروں کے دلوں پر «رین» ہوتا ہے اور نیک کار لوگوں کے دلوں پر «غَيْم» ہوتا ہے۔“
10399
ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی صفائی ہو جاتی ہے اور اگر گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی پھیلتی جاتی ہے۔ اسی کا بیان «کَّلا بَلْ رَانَ» میں ہے۔ [سنن ترمذي:3334،قال الشيخ الألباني:حسن] نسائی کے الفاظ میں کچھ اختلاف بھی ہے مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے۔ [مسند احمد:297/2:حسن]
حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ گناہوں پر گناہ کرنے سے دل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان عذابوں میں مبتلا ہو کر دیدار باری سے بھی محروم اور محجوب کر دئیے جائیں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں دلیل ہے کہ مومن قیامت کے دن دیدار باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔ امام صاحب کا یہ فرمان بالکل درست ہے اور آیت کا صاف مفہوم یہی ہے اور دوسری جگہ کھلے الفاظ میں بھی یہ بیان موجود ہے فرمان ہے آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» [75-القيامة:23،22] یعنی ” اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ “
صحیح اور متواتر احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ ایماندار قیامت والے دن اپنے رب عزوجل کو اپنی آنکھوں سے قیامت کے میدان میں اور جنت کے نفیس باغیچوں میں دیکھیں گے۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاب ہٹ جائیں گے اور مومن اپنے رب کو دیکھیں گے اور کافر پھر کافروں کو پردوں کے پیچھے کر دیا جائے گا البتہ مومن ہر صبح و شام پروردگار عالم کا دیدار حاصل کریں گے یا اسی جیسا اور کلام ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” برے لوگ نہ صرف دیدار الٰہی سے ہی محروم رہیں گے بلکہ یہ لوگ جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے اور انہیں حقارت ذلت اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر غصہ کے ساتھ کہا جائے گا کہ یہی وہ جسے تم جھٹلاتے رہے۔ “
10400
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ ٭٭
مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا «سِجِّينٍ» ہے یہ لفظ «فِعِّیْلٌ» کے وزن پر «سِجْنٌ» سے ماخوذ ہے «سِجْنٌ» کہتے ہیں لغتاً تنگی کو «ضِّيق»، «فِسِّيقٌ»، «وَشِرِّيبٌ» «وَخِمِّيرٌ»، «وَسِكِّيرٌ» وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی «سِجِّينٌ» ہے۔
پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ ” تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے۔ “ مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ ” اس کی کتاب «سجین» میں لکھ لو۔ “ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:1676:صحیح] اور «سجین» ساتویں زمین کے نیچے ہے۔
کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ جہنم میں ایک گڑھا ہے۔ ابن جریر کی ایک غریب منکر اور غیر صحیح حدیث میں ہے کہ «فلق» جہنم کا ایک منہ بند کردہ کنواں ہے اور «سجین» کھلے منہ والا گڑھا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36614:ضعیف]
10397
صحیح بات یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں تنگ جگہ جیل خانہ کے نیچے کی مخلوق میں تنگی ہے اور اوپر کی مخلوق میں کشادگی آسمانوں میں ہر اوپر والا آسمان نیچے والے آسمان سے کشادہ ہے اور زمینوں میں ہر نیچے کی زمین اوپر کی زمین سے تنگ ہے یہاں تک کہ بالکل نیچے کی تہہ بہت تنگ ہے اور سب سے زیادہ تنگ جگہ ساتویں زمین کا وسطی مرکز ہے چونکہ کافروں کے لوٹنے کی جگہ جہنم ہے اور وہ سب سے نیچے ہے۔
اور جگہ ہے «ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» [95-التين:6،5] یعنی ” ہم نے اسے پھر نیچوں کا نیچ کر دیا ہاں جو ایمان والے اور نیک اعمال والے ہیں۔ “
غرض «سجین» ایک تنگ اور تہہ کی جگہ ہے جیسے قرآن کریم نے اور جگہ فرمایا ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» [25-الفرقان:13] ” جب وہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے۔ “
«کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ» یہ «سجین» کی تفسیر نہیں بلکہ یہ اس کی تفسیر ہے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے کہ آخرش جہنم میں پہنچیں گے ان کا یہ نتیجہ لکھا جا چکا ہے اور اس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے نہ اب اس میں کچھ زیادتی ہو نہ کمی، تو فرمایا ” ان کا انجام «سجین» ہونا ہماری کتاب میں پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہے ان جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی ہو گی انہیں جہنم کا قید خانہ اور رسوائی والے المناک عذاب ہوں گے۔ “
«ویل» کی مکمل تفسیر اس سے پہلے گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ان کی ہلاکی بربادی اور خرابی ہے جیسے کہا جاتا ہے «وَیْلٌ لِّفُـلَانٍ» ۔ مسند اور سنن کی حدیث میں ہے «ویل» ہے اس شخص کے لیے جو کوئی جھوٹی بات کہہ کر لوگوں کو ہنسانا چاہے اور اسے «ویل» ہے اسے «ویل» ہے۔ [سنن ابوداود:4990،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر ان جھٹلانے والے بدکار کافروں کی مزید تشریح کی اور فرمایا ” یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزاء کو نہیں مانتے اسے خلاف عقل کہہ کر اس کے واقع ہونے کو محال جانتے ہیں۔ “
پھر فرمایا کہ ” قیامت کا جھٹلانا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے کاموں میں حد سے بڑھ جائیں اسی طرح اپنے اقوال میں گنہگار ہوں جھوٹ بولیں وعدہ خلافی کریں گالیاں بکیں وغیرہ۔ “
10398
یہ لوگ ہیں کہ ہماری آیتوں کو سن کر انہیں جھٹلاتے ہیں بدگمانی کرتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ پہلی کتابوں سے کچھ جمع اکٹھا کر لیا ہے۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ» [16-النحل:24] ” جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا کچھ نازل فرمایا تو کہتے ہیں اگلوں کے افسانے ہیں۔ “
اور جگہ ہے آیت «وَقَالُوا أَسَاطِير الْأَوَّلِينَ اِكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَة وَأَصِيلًا» [25-الفرقان:5] یعنی ” یہ کہتے ہیں کہ اگلوں کے قصے ہیں جو اسے صبح شام لکھوائے جا رہے ہیں۔ “
اللہ تعالیٰ انہیں جواب میں فرماتا ہے کہ ” واقعہ ان کے قول اور ان کے خیال کے مطابق نہیں بلکہ دراصل یہ قرآن کلام الٰہی ہے اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے پر نازل کی ہے ہاں ان کے دلوں پر ان کے بداعمال نے پردے ڈال دئیے ہیں گناہوں اور خطاؤں کی کثرت نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے کافروں کے دلوں پر «رین» ہوتا ہے اور نیک کار لوگوں کے دلوں پر «غَيْم» ہوتا ہے۔“
10399
ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی صفائی ہو جاتی ہے اور اگر گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی پھیلتی جاتی ہے۔ اسی کا بیان «کَّلا بَلْ رَانَ» میں ہے۔ [سنن ترمذي:3334،قال الشيخ الألباني:حسن] نسائی کے الفاظ میں کچھ اختلاف بھی ہے مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے۔ [مسند احمد:297/2:حسن]
حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ گناہوں پر گناہ کرنے سے دل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان عذابوں میں مبتلا ہو کر دیدار باری سے بھی محروم اور محجوب کر دئیے جائیں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں دلیل ہے کہ مومن قیامت کے دن دیدار باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔ امام صاحب کا یہ فرمان بالکل درست ہے اور آیت کا صاف مفہوم یہی ہے اور دوسری جگہ کھلے الفاظ میں بھی یہ بیان موجود ہے فرمان ہے آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» [75-القيامة:23،22] یعنی ” اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ “
صحیح اور متواتر احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ ایماندار قیامت والے دن اپنے رب عزوجل کو اپنی آنکھوں سے قیامت کے میدان میں اور جنت کے نفیس باغیچوں میں دیکھیں گے۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاب ہٹ جائیں گے اور مومن اپنے رب کو دیکھیں گے اور کافر پھر کافروں کو پردوں کے پیچھے کر دیا جائے گا البتہ مومن ہر صبح و شام پروردگار عالم کا دیدار حاصل کریں گے یا اسی جیسا اور کلام ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” برے لوگ نہ صرف دیدار الٰہی سے ہی محروم رہیں گے بلکہ یہ لوگ جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے اور انہیں حقارت ذلت اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر غصہ کے ساتھ کہا جائے گا کہ یہی وہ جسے تم جھٹلاتے رہے۔ “
10400
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ ٭٭
مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا «سِجِّينٍ» ہے یہ لفظ «فِعِّیْلٌ» کے وزن پر «سِجْنٌ» سے ماخوذ ہے «سِجْنٌ» کہتے ہیں لغتاً تنگی کو «ضِّيق»، «فِسِّيقٌ»، «وَشِرِّيبٌ» «وَخِمِّيرٌ»، «وَسِكِّيرٌ» وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی «سِجِّينٌ» ہے۔
پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ ” تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے۔ “ مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ ” اس کی کتاب «سجین» میں لکھ لو۔ “ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:1676:صحیح] اور «سجین» ساتویں زمین کے نیچے ہے۔
کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ جہنم میں ایک گڑھا ہے۔ ابن جریر کی ایک غریب منکر اور غیر صحیح حدیث میں ہے کہ «فلق» جہنم کا ایک منہ بند کردہ کنواں ہے اور «سجین» کھلے منہ والا گڑھا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36614:ضعیف]
10397
صحیح بات یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں تنگ جگہ جیل خانہ کے نیچے کی مخلوق میں تنگی ہے اور اوپر کی مخلوق میں کشادگی آسمانوں میں ہر اوپر والا آسمان نیچے والے آسمان سے کشادہ ہے اور زمینوں میں ہر نیچے کی زمین اوپر کی زمین سے تنگ ہے یہاں تک کہ بالکل نیچے کی تہہ بہت تنگ ہے اور سب سے زیادہ تنگ جگہ ساتویں زمین کا وسطی مرکز ہے چونکہ کافروں کے لوٹنے کی جگہ جہنم ہے اور وہ سب سے نیچے ہے۔
اور جگہ ہے «ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» [95-التين:6،5] یعنی ” ہم نے اسے پھر نیچوں کا نیچ کر دیا ہاں جو ایمان والے اور نیک اعمال والے ہیں۔ “
غرض «سجین» ایک تنگ اور تہہ کی جگہ ہے جیسے قرآن کریم نے اور جگہ فرمایا ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» [25-الفرقان:13] ” جب وہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے۔ “
«کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ» یہ «سجین» کی تفسیر نہیں بلکہ یہ اس کی تفسیر ہے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے کہ آخرش جہنم میں پہنچیں گے ان کا یہ نتیجہ لکھا جا چکا ہے اور اس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے نہ اب اس میں کچھ زیادتی ہو نہ کمی، تو فرمایا ” ان کا انجام «سجین» ہونا ہماری کتاب میں پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہے ان جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی ہو گی انہیں جہنم کا قید خانہ اور رسوائی والے المناک عذاب ہوں گے۔ “
«ویل» کی مکمل تفسیر اس سے پہلے گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ان کی ہلاکی بربادی اور خرابی ہے جیسے کہا جاتا ہے «وَیْلٌ لِّفُـلَانٍ» ۔ مسند اور سنن کی حدیث میں ہے «ویل» ہے اس شخص کے لیے جو کوئی جھوٹی بات کہہ کر لوگوں کو ہنسانا چاہے اور اسے «ویل» ہے اسے «ویل» ہے۔ [سنن ابوداود:4990،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر ان جھٹلانے والے بدکار کافروں کی مزید تشریح کی اور فرمایا ” یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزاء کو نہیں مانتے اسے خلاف عقل کہہ کر اس کے واقع ہونے کو محال جانتے ہیں۔ “
پھر فرمایا کہ ” قیامت کا جھٹلانا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے کاموں میں حد سے بڑھ جائیں اسی طرح اپنے اقوال میں گنہگار ہوں جھوٹ بولیں وعدہ خلافی کریں گالیاں بکیں وغیرہ۔ “
10398
یہ لوگ ہیں کہ ہماری آیتوں کو سن کر انہیں جھٹلاتے ہیں بدگمانی کرتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ پہلی کتابوں سے کچھ جمع اکٹھا کر لیا ہے۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ» [16-النحل:24] ” جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا کچھ نازل فرمایا تو کہتے ہیں اگلوں کے افسانے ہیں۔ “
اور جگہ ہے آیت «وَقَالُوا أَسَاطِير الْأَوَّلِينَ اِكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَة وَأَصِيلًا» [25-الفرقان:5] یعنی ” یہ کہتے ہیں کہ اگلوں کے قصے ہیں جو اسے صبح شام لکھوائے جا رہے ہیں۔ “
اللہ تعالیٰ انہیں جواب میں فرماتا ہے کہ ” واقعہ ان کے قول اور ان کے خیال کے مطابق نہیں بلکہ دراصل یہ قرآن کلام الٰہی ہے اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے پر نازل کی ہے ہاں ان کے دلوں پر ان کے بداعمال نے پردے ڈال دئیے ہیں گناہوں اور خطاؤں کی کثرت نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے کافروں کے دلوں پر «رین» ہوتا ہے اور نیک کار لوگوں کے دلوں پر «غَيْم» ہوتا ہے۔“
10399
ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی صفائی ہو جاتی ہے اور اگر گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی پھیلتی جاتی ہے۔ اسی کا بیان «کَّلا بَلْ رَانَ» میں ہے۔ [سنن ترمذي:3334،قال الشيخ الألباني:حسن] نسائی کے الفاظ میں کچھ اختلاف بھی ہے مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے۔ [مسند احمد:297/2:حسن]
حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ گناہوں پر گناہ کرنے سے دل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان عذابوں میں مبتلا ہو کر دیدار باری سے بھی محروم اور محجوب کر دئیے جائیں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں دلیل ہے کہ مومن قیامت کے دن دیدار باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔ امام صاحب کا یہ فرمان بالکل درست ہے اور آیت کا صاف مفہوم یہی ہے اور دوسری جگہ کھلے الفاظ میں بھی یہ بیان موجود ہے فرمان ہے آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» [75-القيامة:23،22] یعنی ” اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ “
صحیح اور متواتر احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ ایماندار قیامت والے دن اپنے رب عزوجل کو اپنی آنکھوں سے قیامت کے میدان میں اور جنت کے نفیس باغیچوں میں دیکھیں گے۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاب ہٹ جائیں گے اور مومن اپنے رب کو دیکھیں گے اور کافر پھر کافروں کو پردوں کے پیچھے کر دیا جائے گا البتہ مومن ہر صبح و شام پروردگار عالم کا دیدار حاصل کریں گے یا اسی جیسا اور کلام ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” برے لوگ نہ صرف دیدار الٰہی سے ہی محروم رہیں گے بلکہ یہ لوگ جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے اور انہیں حقارت ذلت اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر غصہ کے ساتھ کہا جائے گا کہ یہی وہ جسے تم جھٹلاتے رہے۔ “
10400
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ ٭٭
مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا «سِجِّينٍ» ہے یہ لفظ «فِعِّیْلٌ» کے وزن پر «سِجْنٌ» سے ماخوذ ہے «سِجْنٌ» کہتے ہیں لغتاً تنگی کو «ضِّيق»، «فِسِّيقٌ»، «وَشِرِّيبٌ» «وَخِمِّيرٌ»، «وَسِكِّيرٌ» وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی «سِجِّينٌ» ہے۔
پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ ” تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے۔ “ مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ ” اس کی کتاب «سجین» میں لکھ لو۔ “ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:1676:صحیح] اور «سجین» ساتویں زمین کے نیچے ہے۔
کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ جہنم میں ایک گڑھا ہے۔ ابن جریر کی ایک غریب منکر اور غیر صحیح حدیث میں ہے کہ «فلق» جہنم کا ایک منہ بند کردہ کنواں ہے اور «سجین» کھلے منہ والا گڑھا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36614:ضعیف]
10397
صحیح بات یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں تنگ جگہ جیل خانہ کے نیچے کی مخلوق میں تنگی ہے اور اوپر کی مخلوق میں کشادگی آسمانوں میں ہر اوپر والا آسمان نیچے والے آسمان سے کشادہ ہے اور زمینوں میں ہر نیچے کی زمین اوپر کی زمین سے تنگ ہے یہاں تک کہ بالکل نیچے کی تہہ بہت تنگ ہے اور سب سے زیادہ تنگ جگہ ساتویں زمین کا وسطی مرکز ہے چونکہ کافروں کے لوٹنے کی جگہ جہنم ہے اور وہ سب سے نیچے ہے۔
اور جگہ ہے «ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» [95-التين:6،5] یعنی ” ہم نے اسے پھر نیچوں کا نیچ کر دیا ہاں جو ایمان والے اور نیک اعمال والے ہیں۔ “
غرض «سجین» ایک تنگ اور تہہ کی جگہ ہے جیسے قرآن کریم نے اور جگہ فرمایا ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» [25-الفرقان:13] ” جب وہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے۔ “
«کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ» یہ «سجین» کی تفسیر نہیں بلکہ یہ اس کی تفسیر ہے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے کہ آخرش جہنم میں پہنچیں گے ان کا یہ نتیجہ لکھا جا چکا ہے اور اس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے نہ اب اس میں کچھ زیادتی ہو نہ کمی، تو فرمایا ” ان کا انجام «سجین» ہونا ہماری کتاب میں پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہے ان جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی ہو گی انہیں جہنم کا قید خانہ اور رسوائی والے المناک عذاب ہوں گے۔ “
«ویل» کی مکمل تفسیر اس سے پہلے گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ان کی ہلاکی بربادی اور خرابی ہے جیسے کہا جاتا ہے «وَیْلٌ لِّفُـلَانٍ» ۔ مسند اور سنن کی حدیث میں ہے «ویل» ہے اس شخص کے لیے جو کوئی جھوٹی بات کہہ کر لوگوں کو ہنسانا چاہے اور اسے «ویل» ہے اسے «ویل» ہے۔ [سنن ابوداود:4990،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر ان جھٹلانے والے بدکار کافروں کی مزید تشریح کی اور فرمایا ” یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزاء کو نہیں مانتے اسے خلاف عقل کہہ کر اس کے واقع ہونے کو محال جانتے ہیں۔ “
پھر فرمایا کہ ” قیامت کا جھٹلانا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے کاموں میں حد سے بڑھ جائیں اسی طرح اپنے اقوال میں گنہگار ہوں جھوٹ بولیں وعدہ خلافی کریں گالیاں بکیں وغیرہ۔ “
10398
یہ لوگ ہیں کہ ہماری آیتوں کو سن کر انہیں جھٹلاتے ہیں بدگمانی کرتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ پہلی کتابوں سے کچھ جمع اکٹھا کر لیا ہے۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ» [16-النحل:24] ” جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا کچھ نازل فرمایا تو کہتے ہیں اگلوں کے افسانے ہیں۔ “
اور جگہ ہے آیت «وَقَالُوا أَسَاطِير الْأَوَّلِينَ اِكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَة وَأَصِيلًا» [25-الفرقان:5] یعنی ” یہ کہتے ہیں کہ اگلوں کے قصے ہیں جو اسے صبح شام لکھوائے جا رہے ہیں۔ “
اللہ تعالیٰ انہیں جواب میں فرماتا ہے کہ ” واقعہ ان کے قول اور ان کے خیال کے مطابق نہیں بلکہ دراصل یہ قرآن کلام الٰہی ہے اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے پر نازل کی ہے ہاں ان کے دلوں پر ان کے بداعمال نے پردے ڈال دئیے ہیں گناہوں اور خطاؤں کی کثرت نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے کافروں کے دلوں پر «رین» ہوتا ہے اور نیک کار لوگوں کے دلوں پر «غَيْم» ہوتا ہے۔“
10399
ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی صفائی ہو جاتی ہے اور اگر گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی پھیلتی جاتی ہے۔ اسی کا بیان «کَّلا بَلْ رَانَ» میں ہے۔ [سنن ترمذي:3334،قال الشيخ الألباني:حسن] نسائی کے الفاظ میں کچھ اختلاف بھی ہے مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے۔ [مسند احمد:297/2:حسن]
حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ گناہوں پر گناہ کرنے سے دل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان عذابوں میں مبتلا ہو کر دیدار باری سے بھی محروم اور محجوب کر دئیے جائیں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں دلیل ہے کہ مومن قیامت کے دن دیدار باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔ امام صاحب کا یہ فرمان بالکل درست ہے اور آیت کا صاف مفہوم یہی ہے اور دوسری جگہ کھلے الفاظ میں بھی یہ بیان موجود ہے فرمان ہے آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» [75-القيامة:23،22] یعنی ” اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ “
صحیح اور متواتر احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ ایماندار قیامت والے دن اپنے رب عزوجل کو اپنی آنکھوں سے قیامت کے میدان میں اور جنت کے نفیس باغیچوں میں دیکھیں گے۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاب ہٹ جائیں گے اور مومن اپنے رب کو دیکھیں گے اور کافر پھر کافروں کو پردوں کے پیچھے کر دیا جائے گا البتہ مومن ہر صبح و شام پروردگار عالم کا دیدار حاصل کریں گے یا اسی جیسا اور کلام ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” برے لوگ نہ صرف دیدار الٰہی سے ہی محروم رہیں گے بلکہ یہ لوگ جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے اور انہیں حقارت ذلت اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر غصہ کے ساتھ کہا جائے گا کہ یہی وہ جسے تم جھٹلاتے رہے۔ “
10400
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ ٭٭
بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا «عِلِّيِّينَ» ہے جو کہ «سِجِّينٍ» کے بالکل برعکس ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے «سِجِّينٍ» کا سوال کیا تو فرمایا کہ ”وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں۔“ اور «عِلِّيِّينَ» کے سوال کے جواب میں فرمایا ”یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے۔ عوفی رحمہ اللہ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ لفظ «علو» یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی چیز اونچی اور بلند ہو گی اسی قدر بڑی اور کشادہ ہو گی اس لیے اس کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لیے فرمایا ” تمہیں اس کی حقیقت معلوم ہی نہیں۔ “ پھر اس کی تاکید کی کہ ” یہ یقینی چیز ہے کتاب میں لکھی جا چکی ہے کہ یہ لوگ علیین میں جائیں گے جس کے پاس ہر آسمان کے مقرب فرشتے جاتے ہیں۔ “
پھر فرمایا کہ ” قیامت کے دن یہ نیکوکار دائمی والی نعمتوں اور باغات میں ہوں گے یہ مسہریوں پر بیٹھے ہوں گے اپنے ملک و مال نعمتوں راحتوں عزت و جاہ مال و متاع کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے یہ خیر و فضل یہ نعمت و رحمت نہ کبھی کم ہو، نہ گم ہو، نہ گھٹے، نہ مٹے۔ “
اور یہ بھی معنی ہیں کہ ” اپنی آرام گاہوں میں تخت سلطنت پر بیٹھے دیدار اللہ سے مشرف ہوتے رہیں گے۔ “ تو گویا کہ فاجروں کے بالکل برعکس ہوں گے ان پر دیدار باری حرام تھا ان کے لیے ہر وقت اجازت ہے جیسے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ سب سے نیچے درجے کا جنتی اپنے ملک اور ملکیت کو دو ہزار سال کی راہ تک دیکھے گا اور سب سے آخر کی چیزیں اس طرح اس کی نظروں کے سامنے ہوں گی جس طرح سب سے اول چیز۔ اور اعلیٰ درجہ کے جنتی تو دن بھر میں دو دو مرتبہ دیدار باری کی نعمت سے اپنے دل کو مسرور اور اپنی آنکھوں کو پر نور کریں گے۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
10411
ان کے چہرے پر کوئی نظر ڈالے تو بیک نگاہ آسودگی اور خوش حالی، جاہ و حشمت، شوکت و سطوت، خوشی و سرور، بہشت و نور دیکھ کر ان کا مرتبہ تاڑ لے اور سمجھ لے کہ راحت و آرام میں خوش و خرم ہیں جنتی شراب کا دور چلتا رہتا ہے۔ «رحیق» جنت کی ایک قسم کی شراب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے رحیق مختوم پلائے گا یعنی جنت کی مہر والی شراب اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اسے اللہ تعالیٰ جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے اللہ تعالیٰ اسے جنتی سبز ریشم کے جوڑے پہنائے گا۔ [سنن ترمذي:2449،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
«خِتٰمُ» کے معنی ملونی اور آمیزش کے ہیں اسے اللہ نے پاک صاف کر دیا ہے اور مشک کی مہر لگا دی ہے یہ بھی معنی ہیں کہ انجام اس کا مشک ہے یعنی کوئی بدبو نہیں بلکہ مشک کی سی خوشبو ہے چاندی کی طرح سفید رنگ شراب ہے جس قدر مہر لگے گی یا ملاوٹ ہو گی اس قدر خوشبو والی ہے کہ اگر کسی اہل دنیا کی انگلی اس میں تر ہو جائے پھر چاہے اسی وقت اسے وہ نکال لے لیکن تمام دنیا اس کی خوشبو سے مہک جائے اور «ختام» کے معنی خوشبو کے بھی کیے گئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” حرص کرنے والے فخر و مباہات کرنے والے کثرت اور سبقت کرنے والوں کو چاہیئے کہ اس کی طرف تمام تر توجہ کریں“ جیسے اور جگہ ہے «لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» [37-الصافات:61] ” ایسی چیزوں کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیئے۔ “
«تسنیم» جنت کی بہترین شراب کا نام ہے یہ ایک نہر ہے جس سے سابقین لوگ تو برابر پیا کرتے ہیں اور داہنے ہاتھ والے اپنی شراب رحیق میں ملا کر پیتے ہیں۔
10412
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ ٭٭
بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا «عِلِّيِّينَ» ہے جو کہ «سِجِّينٍ» کے بالکل برعکس ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے «سِجِّينٍ» کا سوال کیا تو فرمایا کہ ”وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں۔“ اور «عِلِّيِّينَ» کے سوال کے جواب میں فرمایا ”یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے۔ عوفی رحمہ اللہ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ لفظ «علو» یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی چیز اونچی اور بلند ہو گی اسی قدر بڑی اور کشادہ ہو گی اس لیے اس کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لیے فرمایا ” تمہیں اس کی حقیقت معلوم ہی نہیں۔ “ پھر اس کی تاکید کی کہ ” یہ یقینی چیز ہے کتاب میں لکھی جا چکی ہے کہ یہ لوگ علیین میں جائیں گے جس کے پاس ہر آسمان کے مقرب فرشتے جاتے ہیں۔ “
پھر فرمایا کہ ” قیامت کے دن یہ نیکوکار دائمی والی نعمتوں اور باغات میں ہوں گے یہ مسہریوں پر بیٹھے ہوں گے اپنے ملک و مال نعمتوں راحتوں عزت و جاہ مال و متاع کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے یہ خیر و فضل یہ نعمت و رحمت نہ کبھی کم ہو، نہ گم ہو، نہ گھٹے، نہ مٹے۔ “
اور یہ بھی معنی ہیں کہ ” اپنی آرام گاہوں میں تخت سلطنت پر بیٹھے دیدار اللہ سے مشرف ہوتے رہیں گے۔ “ تو گویا کہ فاجروں کے بالکل برعکس ہوں گے ان پر دیدار باری حرام تھا ان کے لیے ہر وقت اجازت ہے جیسے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ سب سے نیچے درجے کا جنتی اپنے ملک اور ملکیت کو دو ہزار سال کی راہ تک دیکھے گا اور سب سے آخر کی چیزیں اس طرح اس کی نظروں کے سامنے ہوں گی جس طرح سب سے اول چیز۔ اور اعلیٰ درجہ کے جنتی تو دن بھر میں دو دو مرتبہ دیدار باری کی نعمت سے اپنے دل کو مسرور اور اپنی آنکھوں کو پر نور کریں گے۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
10411
ان کے چہرے پر کوئی نظر ڈالے تو بیک نگاہ آسودگی اور خوش حالی، جاہ و حشمت، شوکت و سطوت، خوشی و سرور، بہشت و نور دیکھ کر ان کا مرتبہ تاڑ لے اور سمجھ لے کہ راحت و آرام میں خوش و خرم ہیں جنتی شراب کا دور چلتا رہتا ہے۔ «رحیق» جنت کی ایک قسم کی شراب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے رحیق مختوم پلائے گا یعنی جنت کی مہر والی شراب اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اسے اللہ تعالیٰ جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے اللہ تعالیٰ اسے جنتی سبز ریشم کے جوڑے پہنائے گا۔ [سنن ترمذي:2449،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
«خِتٰمُ» کے معنی ملونی اور آمیزش کے ہیں اسے اللہ نے پاک صاف کر دیا ہے اور مشک کی مہر لگا دی ہے یہ بھی معنی ہیں کہ انجام اس کا مشک ہے یعنی کوئی بدبو نہیں بلکہ مشک کی سی خوشبو ہے چاندی کی طرح سفید رنگ شراب ہے جس قدر مہر لگے گی یا ملاوٹ ہو گی اس قدر خوشبو والی ہے کہ اگر کسی اہل دنیا کی انگلی اس میں تر ہو جائے پھر چاہے اسی وقت اسے وہ نکال لے لیکن تمام دنیا اس کی خوشبو سے مہک جائے اور «ختام» کے معنی خوشبو کے بھی کیے گئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” حرص کرنے والے فخر و مباہات کرنے والے کثرت اور سبقت کرنے والوں کو چاہیئے کہ اس کی طرف تمام تر توجہ کریں“ جیسے اور جگہ ہے «لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» [37-الصافات:61] ” ایسی چیزوں کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیئے۔ “
«تسنیم» جنت کی بہترین شراب کا نام ہے یہ ایک نہر ہے جس سے سابقین لوگ تو برابر پیا کرتے ہیں اور داہنے ہاتھ والے اپنی شراب رحیق میں ملا کر پیتے ہیں۔
10412
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ ٭٭
بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا «عِلِّيِّينَ» ہے جو کہ «سِجِّينٍ» کے بالکل برعکس ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے «سِجِّينٍ» کا سوال کیا تو فرمایا کہ ”وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں۔“ اور «عِلِّيِّينَ» کے سوال کے جواب میں فرمایا ”یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے۔ عوفی رحمہ اللہ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ لفظ «علو» یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی چیز اونچی اور بلند ہو گی اسی قدر بڑی اور کشادہ ہو گی اس لیے اس کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لیے فرمایا ” تمہیں اس کی حقیقت معلوم ہی نہیں۔ “ پھر اس کی تاکید کی کہ ” یہ یقینی چیز ہے کتاب میں لکھی جا چکی ہے کہ یہ لوگ علیین میں جائیں گے جس کے پاس ہر آسمان کے مقرب فرشتے جاتے ہیں۔ “
پھر فرمایا کہ ” قیامت کے دن یہ نیکوکار دائمی والی نعمتوں اور باغات میں ہوں گے یہ مسہریوں پر بیٹھے ہوں گے اپنے ملک و مال نعمتوں راحتوں عزت و جاہ مال و متاع کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے یہ خیر و فضل یہ نعمت و رحمت نہ کبھی کم ہو، نہ گم ہو، نہ گھٹے، نہ مٹے۔ “
اور یہ بھی معنی ہیں کہ ” اپنی آرام گاہوں میں تخت سلطنت پر بیٹھے دیدار اللہ سے مشرف ہوتے رہیں گے۔ “ تو گویا کہ فاجروں کے بالکل برعکس ہوں گے ان پر دیدار باری حرام تھا ان کے لیے ہر وقت اجازت ہے جیسے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ سب سے نیچے درجے کا جنتی اپنے ملک اور ملکیت کو دو ہزار سال کی راہ تک دیکھے گا اور سب سے آخر کی چیزیں اس طرح اس کی نظروں کے سامنے ہوں گی جس طرح سب سے اول چیز۔ اور اعلیٰ درجہ کے جنتی تو دن بھر میں دو دو مرتبہ دیدار باری کی نعمت سے اپنے دل کو مسرور اور اپنی آنکھوں کو پر نور کریں گے۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
10411
ان کے چہرے پر کوئی نظر ڈالے تو بیک نگاہ آسودگی اور خوش حالی، جاہ و حشمت، شوکت و سطوت، خوشی و سرور، بہشت و نور دیکھ کر ان کا مرتبہ تاڑ لے اور سمجھ لے کہ راحت و آرام میں خوش و خرم ہیں جنتی شراب کا دور چلتا رہتا ہے۔ «رحیق» جنت کی ایک قسم کی شراب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے رحیق مختوم پلائے گا یعنی جنت کی مہر والی شراب اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اسے اللہ تعالیٰ جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے اللہ تعالیٰ اسے جنتی سبز ریشم کے جوڑے پہنائے گا۔ [سنن ترمذي:2449،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
«خِتٰمُ» کے معنی ملونی اور آمیزش کے ہیں اسے اللہ نے پاک صاف کر دیا ہے اور مشک کی مہر لگا دی ہے یہ بھی معنی ہیں کہ انجام اس کا مشک ہے یعنی کوئی بدبو نہیں بلکہ مشک کی سی خوشبو ہے چاندی کی طرح سفید رنگ شراب ہے جس قدر مہر لگے گی یا ملاوٹ ہو گی اس قدر خوشبو والی ہے کہ اگر کسی اہل دنیا کی انگلی اس میں تر ہو جائے پھر چاہے اسی وقت اسے وہ نکال لے لیکن تمام دنیا اس کی خوشبو سے مہک جائے اور «ختام» کے معنی خوشبو کے بھی کیے گئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” حرص کرنے والے فخر و مباہات کرنے والے کثرت اور سبقت کرنے والوں کو چاہیئے کہ اس کی طرف تمام تر توجہ کریں“ جیسے اور جگہ ہے «لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» [37-الصافات:61] ” ایسی چیزوں کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیئے۔ “
«تسنیم» جنت کی بہترین شراب کا نام ہے یہ ایک نہر ہے جس سے سابقین لوگ تو برابر پیا کرتے ہیں اور داہنے ہاتھ والے اپنی شراب رحیق میں ملا کر پیتے ہیں۔
10412
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ ٭٭
بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا «عِلِّيِّينَ» ہے جو کہ «سِجِّينٍ» کے بالکل برعکس ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے «سِجِّينٍ» کا سوال کیا تو فرمایا کہ ”وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں۔“ اور «عِلِّيِّينَ» کے سوال کے جواب میں فرمایا ”یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے۔ عوفی رحمہ اللہ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ لفظ «علو» یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی چیز اونچی اور بلند ہو گی اسی قدر بڑی اور کشادہ ہو گی اس لیے اس کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لیے فرمایا ” تمہیں اس کی حقیقت معلوم ہی نہیں۔ “ پھر اس کی تاکید کی کہ ” یہ یقینی چیز ہے کتاب میں لکھی جا چکی ہے کہ یہ لوگ علیین میں جائیں گے جس کے پاس ہر آسمان کے مقرب فرشتے جاتے ہیں۔ “
پھر فرمایا کہ ” قیامت کے دن یہ نیکوکار دائمی والی نعمتوں اور باغات میں ہوں گے یہ مسہریوں پر بیٹھے ہوں گے اپنے ملک و مال نعمتوں راحتوں عزت و جاہ مال و متاع کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے یہ خیر و فضل یہ نعمت و رحمت نہ کبھی کم ہو، نہ گم ہو، نہ گھٹے، نہ مٹے۔ “
اور یہ بھی معنی ہیں کہ ” اپنی آرام گاہوں میں تخت سلطنت پر بیٹھے دیدار اللہ سے مشرف ہوتے رہیں گے۔ “ تو گویا کہ فاجروں کے بالکل برعکس ہوں گے ان پر دیدار باری حرام تھا ان کے لیے ہر وقت اجازت ہے جیسے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ سب سے نیچے درجے کا جنتی اپنے ملک اور ملکیت کو دو ہزار سال کی راہ تک دیکھے گا اور سب سے آخر کی چیزیں اس طرح اس کی نظروں کے سامنے ہوں گی جس طرح سب سے اول چیز۔ اور اعلیٰ درجہ کے جنتی تو دن بھر میں دو دو مرتبہ دیدار باری کی نعمت سے اپنے دل کو مسرور اور اپنی آنکھوں کو پر نور کریں گے۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
10411
ان کے چہرے پر کوئی نظر ڈالے تو بیک نگاہ آسودگی اور خوش حالی، جاہ و حشمت، شوکت و سطوت، خوشی و سرور، بہشت و نور دیکھ کر ان کا مرتبہ تاڑ لے اور سمجھ لے کہ راحت و آرام میں خوش و خرم ہیں جنتی شراب کا دور چلتا رہتا ہے۔ «رحیق» جنت کی ایک قسم کی شراب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے رحیق مختوم پلائے گا یعنی جنت کی مہر والی شراب اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اسے اللہ تعالیٰ جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے اللہ تعالیٰ اسے جنتی سبز ریشم کے جوڑے پہنائے گا۔ [سنن ترمذي:2449،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
«خِتٰمُ» کے معنی ملونی اور آمیزش کے ہیں اسے اللہ نے پاک صاف کر دیا ہے اور مشک کی مہر لگا دی ہے یہ بھی معنی ہیں کہ انجام اس کا مشک ہے یعنی کوئی بدبو نہیں بلکہ مشک کی سی خوشبو ہے چاندی کی طرح سفید رنگ شراب ہے جس قدر مہر لگے گی یا ملاوٹ ہو گی اس قدر خوشبو والی ہے کہ اگر کسی اہل دنیا کی انگلی اس میں تر ہو جائے پھر چاہے اسی وقت اسے وہ نکال لے لیکن تمام دنیا اس کی خوشبو سے مہک جائے اور «ختام» کے معنی خوشبو کے بھی کیے گئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” حرص کرنے والے فخر و مباہات کرنے والے کثرت اور سبقت کرنے والوں کو چاہیئے کہ اس کی طرف تمام تر توجہ کریں“ جیسے اور جگہ ہے «لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» [37-الصافات:61] ” ایسی چیزوں کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیئے۔ “
«تسنیم» جنت کی بہترین شراب کا نام ہے یہ ایک نہر ہے جس سے سابقین لوگ تو برابر پیا کرتے ہیں اور داہنے ہاتھ والے اپنی شراب رحیق میں ملا کر پیتے ہیں۔
10412
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ ٭٭
بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا «عِلِّيِّينَ» ہے جو کہ «سِجِّينٍ» کے بالکل برعکس ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے «سِجِّينٍ» کا سوال کیا تو فرمایا کہ ”وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں۔“ اور «عِلِّيِّينَ» کے سوال کے جواب میں فرمایا ”یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے۔ عوفی رحمہ اللہ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ لفظ «علو» یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی چیز اونچی اور بلند ہو گی اسی قدر بڑی اور کشادہ ہو گی اس لیے اس کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لیے فرمایا ” تمہیں اس کی حقیقت معلوم ہی نہیں۔ “ پھر اس کی تاکید کی کہ ” یہ یقینی چیز ہے کتاب میں لکھی جا چکی ہے کہ یہ لوگ علیین میں جائیں گے جس کے پاس ہر آسمان کے مقرب فرشتے جاتے ہیں۔ “
پھر فرمایا کہ ” قیامت کے دن یہ نیکوکار دائمی والی نعمتوں اور باغات میں ہوں گے یہ مسہریوں پر بیٹھے ہوں گے اپنے ملک و مال نعمتوں راحتوں عزت و جاہ مال و متاع کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے یہ خیر و فضل یہ نعمت و رحمت نہ کبھی کم ہو، نہ گم ہو، نہ گھٹے، نہ مٹے۔ “
اور یہ بھی معنی ہیں کہ ” اپنی آرام گاہوں میں تخت سلطنت پر بیٹھے دیدار اللہ سے مشرف ہوتے رہیں گے۔ “ تو گویا کہ فاجروں کے بالکل برعکس ہوں گے ان پر دیدار باری حرام تھا ان کے لیے ہر وقت اجازت ہے جیسے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ سب سے نیچے درجے کا جنتی اپنے ملک اور ملکیت کو دو ہزار سال کی راہ تک دیکھے گا اور سب سے آخر کی چیزیں اس طرح اس کی نظروں کے سامنے ہوں گی جس طرح سب سے اول چیز۔ اور اعلیٰ درجہ کے جنتی تو دن بھر میں دو دو مرتبہ دیدار باری کی نعمت سے اپنے دل کو مسرور اور اپنی آنکھوں کو پر نور کریں گے۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
10411
ان کے چہرے پر کوئی نظر ڈالے تو بیک نگاہ آسودگی اور خوش حالی، جاہ و حشمت، شوکت و سطوت، خوشی و سرور، بہشت و نور دیکھ کر ان کا مرتبہ تاڑ لے اور سمجھ لے کہ راحت و آرام میں خوش و خرم ہیں جنتی شراب کا دور چلتا رہتا ہے۔ «رحیق» جنت کی ایک قسم کی شراب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے رحیق مختوم پلائے گا یعنی جنت کی مہر والی شراب اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اسے اللہ تعالیٰ جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے اللہ تعالیٰ اسے جنتی سبز ریشم کے جوڑے پہنائے گا۔ [سنن ترمذي:2449،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
«خِتٰمُ» کے معنی ملونی اور آمیزش کے ہیں اسے اللہ نے پاک صاف کر دیا ہے اور مشک کی مہر لگا دی ہے یہ بھی معنی ہیں کہ انجام اس کا مشک ہے یعنی کوئی بدبو نہیں بلکہ مشک کی سی خوشبو ہے چاندی کی طرح سفید رنگ شراب ہے جس قدر مہر لگے گی یا ملاوٹ ہو گی اس قدر خوشبو والی ہے کہ اگر کسی اہل دنیا کی انگلی اس میں تر ہو جائے پھر چاہے اسی وقت اسے وہ نکال لے لیکن تمام دنیا اس کی خوشبو سے مہک جائے اور «ختام» کے معنی خوشبو کے بھی کیے گئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” حرص کرنے والے فخر و مباہات کرنے والے کثرت اور سبقت کرنے والوں کو چاہیئے کہ اس کی طرف تمام تر توجہ کریں“ جیسے اور جگہ ہے «لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» [37-الصافات:61] ” ایسی چیزوں کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیئے۔ “
«تسنیم» جنت کی بہترین شراب کا نام ہے یہ ایک نہر ہے جس سے سابقین لوگ تو برابر پیا کرتے ہیں اور داہنے ہاتھ والے اپنی شراب رحیق میں ملا کر پیتے ہیں۔
10412
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ ٭٭
بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا «عِلِّيِّينَ» ہے جو کہ «سِجِّينٍ» کے بالکل برعکس ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے «سِجِّينٍ» کا سوال کیا تو فرمایا کہ ”وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں۔“ اور «عِلِّيِّينَ» کے سوال کے جواب میں فرمایا ”یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے۔ عوفی رحمہ اللہ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ لفظ «علو» یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی چیز اونچی اور بلند ہو گی اسی قدر بڑی اور کشادہ ہو گی اس لیے اس کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لیے فرمایا ” تمہیں اس کی حقیقت معلوم ہی نہیں۔ “ پھر اس کی تاکید کی کہ ” یہ یقینی چیز ہے کتاب میں لکھی جا چکی ہے کہ یہ لوگ علیین میں جائیں گے جس کے پاس ہر آسمان کے مقرب فرشتے جاتے ہیں۔ “
پھر فرمایا کہ ” قیامت کے دن یہ نیکوکار دائمی والی نعمتوں اور باغات میں ہوں گے یہ مسہریوں پر بیٹھے ہوں گے اپنے ملک و مال نعمتوں راحتوں عزت و جاہ مال و متاع کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے یہ خیر و فضل یہ نعمت و رحمت نہ کبھی کم ہو، نہ گم ہو، نہ گھٹے، نہ مٹے۔ “
اور یہ بھی معنی ہیں کہ ” اپنی آرام گاہوں میں تخت سلطنت پر بیٹھے دیدار اللہ سے مشرف ہوتے رہیں گے۔ “ تو گویا کہ فاجروں کے بالکل برعکس ہوں گے ان پر دیدار باری حرام تھا ان کے لیے ہر وقت اجازت ہے جیسے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ سب سے نیچے درجے کا جنتی اپنے ملک اور ملکیت کو دو ہزار سال کی راہ تک دیکھے گا اور سب سے آخر کی چیزیں اس طرح اس کی نظروں کے سامنے ہوں گی جس طرح سب سے اول چیز۔ اور اعلیٰ درجہ کے جنتی تو دن بھر میں دو دو مرتبہ دیدار باری کی نعمت سے اپنے دل کو مسرور اور اپنی آنکھوں کو پر نور کریں گے۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
10411
ان کے چہرے پر کوئی نظر ڈالے تو بیک نگاہ آسودگی اور خوش حالی، جاہ و حشمت، شوکت و سطوت، خوشی و سرور، بہشت و نور دیکھ کر ان کا مرتبہ تاڑ لے اور سمجھ لے کہ راحت و آرام میں خوش و خرم ہیں جنتی شراب کا دور چلتا رہتا ہے۔ «رحیق» جنت کی ایک قسم کی شراب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے رحیق مختوم پلائے گا یعنی جنت کی مہر والی شراب اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اسے اللہ تعالیٰ جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے اللہ تعالیٰ اسے جنتی سبز ریشم کے جوڑے پہنائے گا۔ [سنن ترمذي:2449،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
«خِتٰمُ» کے معنی ملونی اور آمیزش کے ہیں اسے اللہ نے پاک صاف کر دیا ہے اور مشک کی مہر لگا دی ہے یہ بھی معنی ہیں کہ انجام اس کا مشک ہے یعنی کوئی بدبو نہیں بلکہ مشک کی سی خوشبو ہے چاندی کی طرح سفید رنگ شراب ہے جس قدر مہر لگے گی یا ملاوٹ ہو گی اس قدر خوشبو والی ہے کہ اگر کسی اہل دنیا کی انگلی اس میں تر ہو جائے پھر چاہے اسی وقت اسے وہ نکال لے لیکن تمام دنیا اس کی خوشبو سے مہک جائے اور «ختام» کے معنی خوشبو کے بھی کیے گئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” حرص کرنے والے فخر و مباہات کرنے والے کثرت اور سبقت کرنے والوں کو چاہیئے کہ اس کی طرف تمام تر توجہ کریں“ جیسے اور جگہ ہے «لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» [37-الصافات:61] ” ایسی چیزوں کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیئے۔ “
«تسنیم» جنت کی بہترین شراب کا نام ہے یہ ایک نہر ہے جس سے سابقین لوگ تو برابر پیا کرتے ہیں اور داہنے ہاتھ والے اپنی شراب رحیق میں ملا کر پیتے ہیں۔
10412
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ ٭٭
بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا «عِلِّيِّينَ» ہے جو کہ «سِجِّينٍ» کے بالکل برعکس ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے «سِجِّينٍ» کا سوال کیا تو فرمایا کہ ”وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں۔“ اور «عِلِّيِّينَ» کے سوال کے جواب میں فرمایا ”یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے۔ عوفی رحمہ اللہ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ لفظ «علو» یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی چیز اونچی اور بلند ہو گی اسی قدر بڑی اور کشادہ ہو گی اس لیے اس کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لیے فرمایا ” تمہیں اس کی حقیقت معلوم ہی نہیں۔ “ پھر اس کی تاکید کی کہ ” یہ یقینی چیز ہے کتاب میں لکھی جا چکی ہے کہ یہ لوگ علیین میں جائیں گے جس کے پاس ہر آسمان کے مقرب فرشتے جاتے ہیں۔ “
پھر فرمایا کہ ” قیامت کے دن یہ نیکوکار دائمی والی نعمتوں اور باغات میں ہوں گے یہ مسہریوں پر بیٹھے ہوں گے اپنے ملک و مال نعمتوں راحتوں عزت و جاہ مال و متاع کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے یہ خیر و فضل یہ نعمت و رحمت نہ کبھی کم ہو، نہ گم ہو، نہ گھٹے، نہ مٹے۔ “
اور یہ بھی معنی ہیں کہ ” اپنی آرام گاہوں میں تخت سلطنت پر بیٹھے دیدار اللہ سے مشرف ہوتے رہیں گے۔ “ تو گویا کہ فاجروں کے بالکل برعکس ہوں گے ان پر دیدار باری حرام تھا ان کے لیے ہر وقت اجازت ہے جیسے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ سب سے نیچے درجے کا جنتی اپنے ملک اور ملکیت کو دو ہزار سال کی راہ تک دیکھے گا اور سب سے آخر کی چیزیں اس طرح اس کی نظروں کے سامنے ہوں گی جس طرح سب سے اول چیز۔ اور اعلیٰ درجہ کے جنتی تو دن بھر میں دو دو مرتبہ دیدار باری کی نعمت سے اپنے دل کو مسرور اور اپنی آنکھوں کو پر نور کریں گے۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
10411
ان کے چہرے پر کوئی نظر ڈالے تو بیک نگاہ آسودگی اور خوش حالی، جاہ و حشمت، شوکت و سطوت، خوشی و سرور، بہشت و نور دیکھ کر ان کا مرتبہ تاڑ لے اور سمجھ لے کہ راحت و آرام میں خوش و خرم ہیں جنتی شراب کا دور چلتا رہتا ہے۔ «رحیق» جنت کی ایک قسم کی شراب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے رحیق مختوم پلائے گا یعنی جنت کی مہر والی شراب اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اسے اللہ تعالیٰ جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے اللہ تعالیٰ اسے جنتی سبز ریشم کے جوڑے پہنائے گا۔ [سنن ترمذي:2449،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
«خِتٰمُ» کے معنی ملونی اور آمیزش کے ہیں اسے اللہ نے پاک صاف کر دیا ہے اور مشک کی مہر لگا دی ہے یہ بھی معنی ہیں کہ انجام اس کا مشک ہے یعنی کوئی بدبو نہیں بلکہ مشک کی سی خوشبو ہے چاندی کی طرح سفید رنگ شراب ہے جس قدر مہر لگے گی یا ملاوٹ ہو گی اس قدر خوشبو والی ہے کہ اگر کسی اہل دنیا کی انگلی اس میں تر ہو جائے پھر چاہے اسی وقت اسے وہ نکال لے لیکن تمام دنیا اس کی خوشبو سے مہک جائے اور «ختام» کے معنی خوشبو کے بھی کیے گئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” حرص کرنے والے فخر و مباہات کرنے والے کثرت اور سبقت کرنے والوں کو چاہیئے کہ اس کی طرف تمام تر توجہ کریں“ جیسے اور جگہ ہے «لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» [37-الصافات:61] ” ایسی چیزوں کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیئے۔ “
«تسنیم» جنت کی بہترین شراب کا نام ہے یہ ایک نہر ہے جس سے سابقین لوگ تو برابر پیا کرتے ہیں اور داہنے ہاتھ والے اپنی شراب رحیق میں ملا کر پیتے ہیں۔
10412
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ ٭٭
بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا «عِلِّيِّينَ» ہے جو کہ «سِجِّينٍ» کے بالکل برعکس ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے «سِجِّينٍ» کا سوال کیا تو فرمایا کہ ”وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں۔“ اور «عِلِّيِّينَ» کے سوال کے جواب میں فرمایا ”یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے۔ عوفی رحمہ اللہ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ لفظ «علو» یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی چیز اونچی اور بلند ہو گی اسی قدر بڑی اور کشادہ ہو گی اس لیے اس کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لیے فرمایا ” تمہیں اس کی حقیقت معلوم ہی نہیں۔ “ پھر اس کی تاکید کی کہ ” یہ یقینی چیز ہے کتاب میں لکھی جا چکی ہے کہ یہ لوگ علیین میں جائیں گے جس کے پاس ہر آسمان کے مقرب فرشتے جاتے ہیں۔ “
پھر فرمایا کہ ” قیامت کے دن یہ نیکوکار دائمی والی نعمتوں اور باغات میں ہوں گے یہ مسہریوں پر بیٹھے ہوں گے اپنے ملک و مال نعمتوں راحتوں عزت و جاہ مال و متاع کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے یہ خیر و فضل یہ نعمت و رحمت نہ کبھی کم ہو، نہ گم ہو، نہ گھٹے، نہ مٹے۔ “
اور یہ بھی معنی ہیں کہ ” اپنی آرام گاہوں میں تخت سلطنت پر بیٹھے دیدار اللہ سے مشرف ہوتے رہیں گے۔ “ تو گویا کہ فاجروں کے بالکل برعکس ہوں گے ان پر دیدار باری حرام تھا ان کے لیے ہر وقت اجازت ہے جیسے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ سب سے نیچے درجے کا جنتی اپنے ملک اور ملکیت کو دو ہزار سال کی راہ تک دیکھے گا اور سب سے آخر کی چیزیں اس طرح اس کی نظروں کے سامنے ہوں گی جس طرح سب سے اول چیز۔ اور اعلیٰ درجہ کے جنتی تو دن بھر میں دو دو مرتبہ دیدار باری کی نعمت سے اپنے دل کو مسرور اور اپنی آنکھوں کو پر نور کریں گے۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
10411
ان کے چہرے پر کوئی نظر ڈالے تو بیک نگاہ آسودگی اور خوش حالی، جاہ و حشمت، شوکت و سطوت، خوشی و سرور، بہشت و نور دیکھ کر ان کا مرتبہ تاڑ لے اور سمجھ لے کہ راحت و آرام میں خوش و خرم ہیں جنتی شراب کا دور چلتا رہتا ہے۔ «رحیق» جنت کی ایک قسم کی شراب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے رحیق مختوم پلائے گا یعنی جنت کی مہر والی شراب اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اسے اللہ تعالیٰ جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے اللہ تعالیٰ اسے جنتی سبز ریشم کے جوڑے پہنائے گا۔ [سنن ترمذي:2449،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
«خِتٰمُ» کے معنی ملونی اور آمیزش کے ہیں اسے اللہ نے پاک صاف کر دیا ہے اور مشک کی مہر لگا دی ہے یہ بھی معنی ہیں کہ انجام اس کا مشک ہے یعنی کوئی بدبو نہیں بلکہ مشک کی سی خوشبو ہے چاندی کی طرح سفید رنگ شراب ہے جس قدر مہر لگے گی یا ملاوٹ ہو گی اس قدر خوشبو والی ہے کہ اگر کسی اہل دنیا کی انگلی اس میں تر ہو جائے پھر چاہے اسی وقت اسے وہ نکال لے لیکن تمام دنیا اس کی خوشبو سے مہک جائے اور «ختام» کے معنی خوشبو کے بھی کیے گئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” حرص کرنے والے فخر و مباہات کرنے والے کثرت اور سبقت کرنے والوں کو چاہیئے کہ اس کی طرف تمام تر توجہ کریں“ جیسے اور جگہ ہے «لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» [37-الصافات:61] ” ایسی چیزوں کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیئے۔ “
«تسنیم» جنت کی بہترین شراب کا نام ہے یہ ایک نہر ہے جس سے سابقین لوگ تو برابر پیا کرتے ہیں اور داہنے ہاتھ والے اپنی شراب رحیق میں ملا کر پیتے ہیں۔
10412
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ ٭٭
بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا «عِلِّيِّينَ» ہے جو کہ «سِجِّينٍ» کے بالکل برعکس ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے «سِجِّينٍ» کا سوال کیا تو فرمایا کہ ”وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں۔“ اور «عِلِّيِّينَ» کے سوال کے جواب میں فرمایا ”یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے۔ عوفی رحمہ اللہ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ لفظ «علو» یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی چیز اونچی اور بلند ہو گی اسی قدر بڑی اور کشادہ ہو گی اس لیے اس کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لیے فرمایا ” تمہیں اس کی حقیقت معلوم ہی نہیں۔ “ پھر اس کی تاکید کی کہ ” یہ یقینی چیز ہے کتاب میں لکھی جا چکی ہے کہ یہ لوگ علیین میں جائیں گے جس کے پاس ہر آسمان کے مقرب فرشتے جاتے ہیں۔ “
پھر فرمایا کہ ” قیامت کے دن یہ نیکوکار دائمی والی نعمتوں اور باغات میں ہوں گے یہ مسہریوں پر بیٹھے ہوں گے اپنے ملک و مال نعمتوں راحتوں عزت و جاہ مال و متاع کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے یہ خیر و فضل یہ نعمت و رحمت نہ کبھی کم ہو، نہ گم ہو، نہ گھٹے، نہ مٹے۔ “
اور یہ بھی معنی ہیں کہ ” اپنی آرام گاہوں میں تخت سلطنت پر بیٹھے دیدار اللہ سے مشرف ہوتے رہیں گے۔ “ تو گویا کہ فاجروں کے بالکل برعکس ہوں گے ان پر دیدار باری حرام تھا ان کے لیے ہر وقت اجازت ہے جیسے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ سب سے نیچے درجے کا جنتی اپنے ملک اور ملکیت کو دو ہزار سال کی راہ تک دیکھے گا اور سب سے آخر کی چیزیں اس طرح اس کی نظروں کے سامنے ہوں گی جس طرح سب سے اول چیز۔ اور اعلیٰ درجہ کے جنتی تو دن بھر میں دو دو مرتبہ دیدار باری کی نعمت سے اپنے دل کو مسرور اور اپنی آنکھوں کو پر نور کریں گے۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
10411
ان کے چہرے پر کوئی نظر ڈالے تو بیک نگاہ آسودگی اور خوش حالی، جاہ و حشمت، شوکت و سطوت، خوشی و سرور، بہشت و نور دیکھ کر ان کا مرتبہ تاڑ لے اور سمجھ لے کہ راحت و آرام میں خوش و خرم ہیں جنتی شراب کا دور چلتا رہتا ہے۔ «رحیق» جنت کی ایک قسم کی شراب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے رحیق مختوم پلائے گا یعنی جنت کی مہر والی شراب اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اسے اللہ تعالیٰ جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے اللہ تعالیٰ اسے جنتی سبز ریشم کے جوڑے پہنائے گا۔ [سنن ترمذي:2449،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
«خِتٰمُ» کے معنی ملونی اور آمیزش کے ہیں اسے اللہ نے پاک صاف کر دیا ہے اور مشک کی مہر لگا دی ہے یہ بھی معنی ہیں کہ انجام اس کا مشک ہے یعنی کوئی بدبو نہیں بلکہ مشک کی سی خوشبو ہے چاندی کی طرح سفید رنگ شراب ہے جس قدر مہر لگے گی یا ملاوٹ ہو گی اس قدر خوشبو والی ہے کہ اگر کسی اہل دنیا کی انگلی اس میں تر ہو جائے پھر چاہے اسی وقت اسے وہ نکال لے لیکن تمام دنیا اس کی خوشبو سے مہک جائے اور «ختام» کے معنی خوشبو کے بھی کیے گئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” حرص کرنے والے فخر و مباہات کرنے والے کثرت اور سبقت کرنے والوں کو چاہیئے کہ اس کی طرف تمام تر توجہ کریں“ جیسے اور جگہ ہے «لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» [37-الصافات:61] ” ایسی چیزوں کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیئے۔ “
«تسنیم» جنت کی بہترین شراب کا نام ہے یہ ایک نہر ہے جس سے سابقین لوگ تو برابر پیا کرتے ہیں اور داہنے ہاتھ والے اپنی شراب رحیق میں ملا کر پیتے ہیں۔
10412
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ ٭٭
بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا «عِلِّيِّينَ» ہے جو کہ «سِجِّينٍ» کے بالکل برعکس ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے «سِجِّينٍ» کا سوال کیا تو فرمایا کہ ”وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں۔“ اور «عِلِّيِّينَ» کے سوال کے جواب میں فرمایا ”یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے۔ عوفی رحمہ اللہ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ لفظ «علو» یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی چیز اونچی اور بلند ہو گی اسی قدر بڑی اور کشادہ ہو گی اس لیے اس کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لیے فرمایا ” تمہیں اس کی حقیقت معلوم ہی نہیں۔ “ پھر اس کی تاکید کی کہ ” یہ یقینی چیز ہے کتاب میں لکھی جا چکی ہے کہ یہ لوگ علیین میں جائیں گے جس کے پاس ہر آسمان کے مقرب فرشتے جاتے ہیں۔ “
پھر فرمایا کہ ” قیامت کے دن یہ نیکوکار دائمی والی نعمتوں اور باغات میں ہوں گے یہ مسہریوں پر بیٹھے ہوں گے اپنے ملک و مال نعمتوں راحتوں عزت و جاہ مال و متاع کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے یہ خیر و فضل یہ نعمت و رحمت نہ کبھی کم ہو، نہ گم ہو، نہ گھٹے، نہ مٹے۔ “
اور یہ بھی معنی ہیں کہ ” اپنی آرام گاہوں میں تخت سلطنت پر بیٹھے دیدار اللہ سے مشرف ہوتے رہیں گے۔ “ تو گویا کہ فاجروں کے بالکل برعکس ہوں گے ان پر دیدار باری حرام تھا ان کے لیے ہر وقت اجازت ہے جیسے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ سب سے نیچے درجے کا جنتی اپنے ملک اور ملکیت کو دو ہزار سال کی راہ تک دیکھے گا اور سب سے آخر کی چیزیں اس طرح اس کی نظروں کے سامنے ہوں گی جس طرح سب سے اول چیز۔ اور اعلیٰ درجہ کے جنتی تو دن بھر میں دو دو مرتبہ دیدار باری کی نعمت سے اپنے دل کو مسرور اور اپنی آنکھوں کو پر نور کریں گے۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
10411
ان کے چہرے پر کوئی نظر ڈالے تو بیک نگاہ آسودگی اور خوش حالی، جاہ و حشمت، شوکت و سطوت، خوشی و سرور، بہشت و نور دیکھ کر ان کا مرتبہ تاڑ لے اور سمجھ لے کہ راحت و آرام میں خوش و خرم ہیں جنتی شراب کا دور چلتا رہتا ہے۔ «رحیق» جنت کی ایک قسم کی شراب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے رحیق مختوم پلائے گا یعنی جنت کی مہر والی شراب اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اسے اللہ تعالیٰ جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے اللہ تعالیٰ اسے جنتی سبز ریشم کے جوڑے پہنائے گا۔ [سنن ترمذي:2449،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
«خِتٰمُ» کے معنی ملونی اور آمیزش کے ہیں اسے اللہ نے پاک صاف کر دیا ہے اور مشک کی مہر لگا دی ہے یہ بھی معنی ہیں کہ انجام اس کا مشک ہے یعنی کوئی بدبو نہیں بلکہ مشک کی سی خوشبو ہے چاندی کی طرح سفید رنگ شراب ہے جس قدر مہر لگے گی یا ملاوٹ ہو گی اس قدر خوشبو والی ہے کہ اگر کسی اہل دنیا کی انگلی اس میں تر ہو جائے پھر چاہے اسی وقت اسے وہ نکال لے لیکن تمام دنیا اس کی خوشبو سے مہک جائے اور «ختام» کے معنی خوشبو کے بھی کیے گئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” حرص کرنے والے فخر و مباہات کرنے والے کثرت اور سبقت کرنے والوں کو چاہیئے کہ اس کی طرف تمام تر توجہ کریں“ جیسے اور جگہ ہے «لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» [37-الصافات:61] ” ایسی چیزوں کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیئے۔ “
«تسنیم» جنت کی بہترین شراب کا نام ہے یہ ایک نہر ہے جس سے سابقین لوگ تو برابر پیا کرتے ہیں اور داہنے ہاتھ والے اپنی شراب رحیق میں ملا کر پیتے ہیں۔
10412
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ ٭٭
بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا «عِلِّيِّينَ» ہے جو کہ «سِجِّينٍ» کے بالکل برعکس ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے «سِجِّينٍ» کا سوال کیا تو فرمایا کہ ”وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں۔“ اور «عِلِّيِّينَ» کے سوال کے جواب میں فرمایا ”یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے۔ عوفی رحمہ اللہ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے، اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ لفظ «علو» یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی چیز اونچی اور بلند ہو گی اسی قدر بڑی اور کشادہ ہو گی اس لیے اس کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لیے فرمایا ” تمہیں اس کی حقیقت معلوم ہی نہیں۔ “ پھر اس کی تاکید کی کہ ” یہ یقینی چیز ہے کتاب میں لکھی جا چکی ہے کہ یہ لوگ علیین میں جائیں گے جس کے پاس ہر آسمان کے مقرب فرشتے جاتے ہیں۔ “
پھر فرمایا کہ ” قیامت کے دن یہ نیکوکار دائمی والی نعمتوں اور باغات میں ہوں گے یہ مسہریوں پر بیٹھے ہوں گے اپنے ملک و مال نعمتوں راحتوں عزت و جاہ مال و متاع کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے یہ خیر و فضل یہ نعمت و رحمت نہ کبھی کم ہو، نہ گم ہو، نہ گھٹے، نہ مٹے۔ “
اور یہ بھی معنی ہیں کہ ” اپنی آرام گاہوں میں تخت سلطنت پر بیٹھے دیدار اللہ سے مشرف ہوتے رہیں گے۔ “ تو گویا کہ فاجروں کے بالکل برعکس ہوں گے ان پر دیدار باری حرام تھا ان کے لیے ہر وقت اجازت ہے جیسے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ سب سے نیچے درجے کا جنتی اپنے ملک اور ملکیت کو دو ہزار سال کی راہ تک دیکھے گا اور سب سے آخر کی چیزیں اس طرح اس کی نظروں کے سامنے ہوں گی جس طرح سب سے اول چیز۔ اور اعلیٰ درجہ کے جنتی تو دن بھر میں دو دو مرتبہ دیدار باری کی نعمت سے اپنے دل کو مسرور اور اپنی آنکھوں کو پر نور کریں گے۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
10411
ان کے چہرے پر کوئی نظر ڈالے تو بیک نگاہ آسودگی اور خوش حالی، جاہ و حشمت، شوکت و سطوت، خوشی و سرور، بہشت و نور دیکھ کر ان کا مرتبہ تاڑ لے اور سمجھ لے کہ راحت و آرام میں خوش و خرم ہیں جنتی شراب کا دور چلتا رہتا ہے۔ «رحیق» جنت کی ایک قسم کی شراب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے رحیق مختوم پلائے گا یعنی جنت کی مہر والی شراب اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اسے اللہ تعالیٰ جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے اللہ تعالیٰ اسے جنتی سبز ریشم کے جوڑے پہنائے گا۔ [سنن ترمذي:2449،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
«خِتٰمُ» کے معنی ملونی اور آمیزش کے ہیں اسے اللہ نے پاک صاف کر دیا ہے اور مشک کی مہر لگا دی ہے یہ بھی معنی ہیں کہ انجام اس کا مشک ہے یعنی کوئی بدبو نہیں بلکہ مشک کی سی خوشبو ہے چاندی کی طرح سفید رنگ شراب ہے جس قدر مہر لگے گی یا ملاوٹ ہو گی اس قدر خوشبو والی ہے کہ اگر کسی اہل دنیا کی انگلی اس میں تر ہو جائے پھر چاہے اسی وقت اسے وہ نکال لے لیکن تمام دنیا اس کی خوشبو سے مہک جائے اور «ختام» کے معنی خوشبو کے بھی کیے گئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” حرص کرنے والے فخر و مباہات کرنے والے کثرت اور سبقت کرنے والوں کو چاہیئے کہ اس کی طرف تمام تر توجہ کریں“ جیسے اور جگہ ہے «لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» [37-الصافات:61] ” ایسی چیزوں کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیئے۔ “
«تسنیم» جنت کی بہترین شراب کا نام ہے یہ ایک نہر ہے جس سے سابقین لوگ تو برابر پیا کرتے ہیں اور داہنے ہاتھ والے اپنی شراب رحیق میں ملا کر پیتے ہیں۔
10412
گنہگار لوگ روز قیامت رسوا ہوں گے ٭٭
یعنی دنیا میں تو ان کافروں کی خوب بن آئی تھی ایمان داروں کو مذاق میں اڑاتے رہے، چلتے پھرتے آواز کستے رہے اور حقارت و تذلیل کرتے رہے اور اپنے والوں میں جا کر خوب باتیں بناتے تھے جو چاہتے تھے پاتے تھے لیکن شکر تو کہاں اور کفر پر آمادہ ہو کر مسلمانوں کی ایذا رسانی کے درپے ہو جاتے تھے اور چونکہ مسلمان ان کی مانتے نہ تھے تو یہ انہیں گمراہ کہا کرتے تھے۔
اللہ فرماتا ہے ” کچھ یہ لوگ محافظ بنا کر تو نہیں بھیجے گئے انہیں مومنوں کی کیا پڑی کیوں ہر وقت ان کے پیچھے پڑے ہیں اور ان کے اعمال افعال کی دیکھ بھال رکھتے ہیں اور طعنہ آمیز باتیں بناتے رہتے ہیں؟ “
جیسے اور جگہ ہے «قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ إِنَّهُ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْ عِبَادِي يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا حَتَّىٰ أَنسَوْكُمْ ذِكْرِي وَكُنتُم مِّنْهُمْ تَضْحَكُونَ إِنِّي جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوا أَنَّهُمْ هُمُ الْفَائِزُونَ» [23-المؤمنون:108-111] یعنی ” اس جہنم میں پڑے جھلستے رہو مجھ سے بات نہ کرو میرے بعض خاص بندے کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش اور ہم پر رحم کر تو سب سے بڑا رحم و کرم کرنے والا ہے تو تم نے انہیں مذاق میں اڑایا اور اس قدر غافل ہوئے کہ میری یاد بھلا بیٹھے اور ان سے ہنسی مذاق کرنے لگے دیکھو آج میں نے انہیں ان کے صبر کا یہ بدلا دیا ہے کہ وہ ہر طرح کامیاب ہیں۔ “
یہاں بھی اس کے بعد ارشاد فرماتا ہے کہ ” آج قیامت کے دن ایماندار ان بدکاروں پر ہنس رہے ہیں اور تختوں پر بیٹھے اپنے اللہ کو دیکھ رہے ہیں جو اس کا صاف ثبوت ہے کہ یہ گمراہ نہ تھے گو تم انہیں گم کردہ راہ کہا کرتے تھے بلکہ یہ دراصل اولیاء اللہ تھے مقربین اللہ تھے اسی لیے آج اللہ کا دیدار ان کی نگاہوں کے سامنے ہے یہ اللہ کے مہمان ہیں اور اس کے بزرگی والے گھر میں ٹھہرے ہوئے ہیں جیسا کچھ ان کافروں نے مسلمانوں کے ساتھ دنیا میں کیا تھا اس کا پورا بدلہ انہیں آخرت میں مل گیا یا نہیں؟ ان کے مذاق کے بدلے آج ان کی ہنسی اڑائی گئی یہ ان کا مرتبہ گھٹاتے تھے اللہ نے ان کا مرتبہ بڑھایا۔ غرض پورا پورا تمام و کمال بدلہ دے دیا۔ “
«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ المطففین کی تفسیر ختم ہوئی۔
10423
گنہگار لوگ روز قیامت رسوا ہوں گے ٭٭
یعنی دنیا میں تو ان کافروں کی خوب بن آئی تھی ایمان داروں کو مذاق میں اڑاتے رہے، چلتے پھرتے آواز کستے رہے اور حقارت و تذلیل کرتے رہے اور اپنے والوں میں جا کر خوب باتیں بناتے تھے جو چاہتے تھے پاتے تھے لیکن شکر تو کہاں اور کفر پر آمادہ ہو کر مسلمانوں کی ایذا رسانی کے درپے ہو جاتے تھے اور چونکہ مسلمان ان کی مانتے نہ تھے تو یہ انہیں گمراہ کہا کرتے تھے۔
اللہ فرماتا ہے ” کچھ یہ لوگ محافظ بنا کر تو نہیں بھیجے گئے انہیں مومنوں کی کیا پڑی کیوں ہر وقت ان کے پیچھے پڑے ہیں اور ان کے اعمال افعال کی دیکھ بھال رکھتے ہیں اور طعنہ آمیز باتیں بناتے رہتے ہیں؟ “
جیسے اور جگہ ہے «قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ إِنَّهُ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْ عِبَادِي يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا حَتَّىٰ أَنسَوْكُمْ ذِكْرِي وَكُنتُم مِّنْهُمْ تَضْحَكُونَ إِنِّي جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوا أَنَّهُمْ هُمُ الْفَائِزُونَ» [23-المؤمنون:108-111] یعنی ” اس جہنم میں پڑے جھلستے رہو مجھ سے بات نہ کرو میرے بعض خاص بندے کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش اور ہم پر رحم کر تو سب سے بڑا رحم و کرم کرنے والا ہے تو تم نے انہیں مذاق میں اڑایا اور اس قدر غافل ہوئے کہ میری یاد بھلا بیٹھے اور ان سے ہنسی مذاق کرنے لگے دیکھو آج میں نے انہیں ان کے صبر کا یہ بدلا دیا ہے کہ وہ ہر طرح کامیاب ہیں۔ “
یہاں بھی اس کے بعد ارشاد فرماتا ہے کہ ” آج قیامت کے دن ایماندار ان بدکاروں پر ہنس رہے ہیں اور تختوں پر بیٹھے اپنے اللہ کو دیکھ رہے ہیں جو اس کا صاف ثبوت ہے کہ یہ گمراہ نہ تھے گو تم انہیں گم کردہ راہ کہا کرتے تھے بلکہ یہ دراصل اولیاء اللہ تھے مقربین اللہ تھے اسی لیے آج اللہ کا دیدار ان کی نگاہوں کے سامنے ہے یہ اللہ کے مہمان ہیں اور اس کے بزرگی والے گھر میں ٹھہرے ہوئے ہیں جیسا کچھ ان کافروں نے مسلمانوں کے ساتھ دنیا میں کیا تھا اس کا پورا بدلہ انہیں آخرت میں مل گیا یا نہیں؟ ان کے مذاق کے بدلے آج ان کی ہنسی اڑائی گئی یہ ان کا مرتبہ گھٹاتے تھے اللہ نے ان کا مرتبہ بڑھایا۔ غرض پورا پورا تمام و کمال بدلہ دے دیا۔ “
«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ المطففین کی تفسیر ختم ہوئی۔
10423