John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Inshiqaaq

Tafsir Ibn Kathir · The Splitting Open · 25 ayat · Quran text →

تفسیر سورۃ الانشقاق:

موطا امام مالک میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس میں «اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ» [84-الانشقاق:1] ‏ کی سورت پڑھی اور سجدہ کیا اور فارغ ہو کر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے پڑھتے ہوئے سجدہ کیا تھا، یہ حدیث مسلم اور نسائی میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:578] ‏

بخاری میں ہے سیدنا ابورافع فرماتے ہیں میں نے سیدنا ابوہریر رضی اللہ عنہ کے پیچھے عشاء کی نماز پڑھی آپ نے اس میں «اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ» [84-الانشقاق:1] ‏ کی تلاوت کی اور سجدہ کیا میں نے پوچھا تو جواب دیا کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سجدہ کیا ہے (‏یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سورت کو نماز میں پڑھا اور آیت سجدہ پر سجدہ کیا اور مقتدیوں نے بھی سجدہ کیا) پس میں تو جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملوں گا (‏اس موقعہ پر) سجدہ کرتا رہوں گا (‏یعنی مرتے دم تک) اس حدیث کی سندیں اور بھی ہیں اور صحیح مسلم شریف اور سنن میں مروی ہے۔ [صحیح بخاری:766] ‏

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورۃ الانشقاق میں اور سورۃ العلق میں سجدہ کیا۔ [صحیح مسلم:578] ‏

زمین مردے اگل دے گی ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہو گا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ “ اسے بھی چاہیئے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کر دی جائیگی۔

حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائے گا، جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا، اے اللہ! جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چنانچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36725:مرسل] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جائے گی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہو گی اور اسے بھی یہی لائق ہے۔ “

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اے انسان تو کوشش کرتا رہے گا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہے گا، اعمال کرتا رہے گا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائے گا اور اس کے سامنے کھڑا ہو گا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا۔ “

ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کر لے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کر لے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے۔ [مسند طیالسی:1755:حسن] ‏

«مُلَاقِيهِ» کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کر لے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہو سکتی۔“

10431

تفسیر سورۃ الانشقاق:

موطا امام مالک میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس میں «اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ» [84-الانشقاق:1] ‏ کی سورت پڑھی اور سجدہ کیا اور فارغ ہو کر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے پڑھتے ہوئے سجدہ کیا تھا، یہ حدیث مسلم اور نسائی میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:578] ‏

بخاری میں ہے سیدنا ابورافع فرماتے ہیں میں نے سیدنا ابوہریر رضی اللہ عنہ کے پیچھے عشاء کی نماز پڑھی آپ نے اس میں «اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ» [84-الانشقاق:1] ‏ کی تلاوت کی اور سجدہ کیا میں نے پوچھا تو جواب دیا کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سجدہ کیا ہے (‏یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سورت کو نماز میں پڑھا اور آیت سجدہ پر سجدہ کیا اور مقتدیوں نے بھی سجدہ کیا) پس میں تو جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملوں گا (‏اس موقعہ پر) سجدہ کرتا رہوں گا (‏یعنی مرتے دم تک) اس حدیث کی سندیں اور بھی ہیں اور صحیح مسلم شریف اور سنن میں مروی ہے۔ [صحیح بخاری:766] ‏

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورۃ الانشقاق میں اور سورۃ العلق میں سجدہ کیا۔ [صحیح مسلم:578] ‏

زمین مردے اگل دے گی ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہو گا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ “ اسے بھی چاہیئے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کر دی جائیگی۔

حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائے گا، جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا، اے اللہ! جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چنانچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36725:مرسل] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جائے گی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہو گی اور اسے بھی یہی لائق ہے۔ “

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اے انسان تو کوشش کرتا رہے گا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہے گا، اعمال کرتا رہے گا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائے گا اور اس کے سامنے کھڑا ہو گا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا۔ “

ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کر لے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کر لے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے۔ [مسند طیالسی:1755:حسن] ‏

«مُلَاقِيهِ» کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کر لے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہو سکتی۔“

10431

تفسیر سورۃ الانشقاق:

موطا امام مالک میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس میں «اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ» [84-الانشقاق:1] ‏ کی سورت پڑھی اور سجدہ کیا اور فارغ ہو کر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے پڑھتے ہوئے سجدہ کیا تھا، یہ حدیث مسلم اور نسائی میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:578] ‏

بخاری میں ہے سیدنا ابورافع فرماتے ہیں میں نے سیدنا ابوہریر رضی اللہ عنہ کے پیچھے عشاء کی نماز پڑھی آپ نے اس میں «اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ» [84-الانشقاق:1] ‏ کی تلاوت کی اور سجدہ کیا میں نے پوچھا تو جواب دیا کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سجدہ کیا ہے (‏یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سورت کو نماز میں پڑھا اور آیت سجدہ پر سجدہ کیا اور مقتدیوں نے بھی سجدہ کیا) پس میں تو جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملوں گا (‏اس موقعہ پر) سجدہ کرتا رہوں گا (‏یعنی مرتے دم تک) اس حدیث کی سندیں اور بھی ہیں اور صحیح مسلم شریف اور سنن میں مروی ہے۔ [صحیح بخاری:766] ‏

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورۃ الانشقاق میں اور سورۃ العلق میں سجدہ کیا۔ [صحیح مسلم:578] ‏

زمین مردے اگل دے گی ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہو گا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ “ اسے بھی چاہیئے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کر دی جائیگی۔

حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائے گا، جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا، اے اللہ! جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چنانچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36725:مرسل] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جائے گی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہو گی اور اسے بھی یہی لائق ہے۔ “

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اے انسان تو کوشش کرتا رہے گا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہے گا، اعمال کرتا رہے گا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائے گا اور اس کے سامنے کھڑا ہو گا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا۔ “

ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کر لے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کر لے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے۔ [مسند طیالسی:1755:حسن] ‏

«مُلَاقِيهِ» کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کر لے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہو سکتی۔“

10431

تفسیر سورۃ الانشقاق:

موطا امام مالک میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس میں «اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ» [84-الانشقاق:1] ‏ کی سورت پڑھی اور سجدہ کیا اور فارغ ہو کر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے پڑھتے ہوئے سجدہ کیا تھا، یہ حدیث مسلم اور نسائی میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:578] ‏

بخاری میں ہے سیدنا ابورافع فرماتے ہیں میں نے سیدنا ابوہریر رضی اللہ عنہ کے پیچھے عشاء کی نماز پڑھی آپ نے اس میں «اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ» [84-الانشقاق:1] ‏ کی تلاوت کی اور سجدہ کیا میں نے پوچھا تو جواب دیا کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سجدہ کیا ہے (‏یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سورت کو نماز میں پڑھا اور آیت سجدہ پر سجدہ کیا اور مقتدیوں نے بھی سجدہ کیا) پس میں تو جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملوں گا (‏اس موقعہ پر) سجدہ کرتا رہوں گا (‏یعنی مرتے دم تک) اس حدیث کی سندیں اور بھی ہیں اور صحیح مسلم شریف اور سنن میں مروی ہے۔ [صحیح بخاری:766] ‏

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورۃ الانشقاق میں اور سورۃ العلق میں سجدہ کیا۔ [صحیح مسلم:578] ‏

زمین مردے اگل دے گی ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہو گا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ “ اسے بھی چاہیئے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کر دی جائیگی۔

حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائے گا، جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا، اے اللہ! جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چنانچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36725:مرسل] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جائے گی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہو گی اور اسے بھی یہی لائق ہے۔ “

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اے انسان تو کوشش کرتا رہے گا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہے گا، اعمال کرتا رہے گا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائے گا اور اس کے سامنے کھڑا ہو گا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا۔ “

ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کر لے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کر لے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے۔ [مسند طیالسی:1755:حسن] ‏

«مُلَاقِيهِ» کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کر لے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہو سکتی۔“

10431

تفسیر سورۃ الانشقاق:

موطا امام مالک میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس میں «اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ» [84-الانشقاق:1] ‏ کی سورت پڑھی اور سجدہ کیا اور فارغ ہو کر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے پڑھتے ہوئے سجدہ کیا تھا، یہ حدیث مسلم اور نسائی میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:578] ‏

بخاری میں ہے سیدنا ابورافع فرماتے ہیں میں نے سیدنا ابوہریر رضی اللہ عنہ کے پیچھے عشاء کی نماز پڑھی آپ نے اس میں «اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ» [84-الانشقاق:1] ‏ کی تلاوت کی اور سجدہ کیا میں نے پوچھا تو جواب دیا کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سجدہ کیا ہے (‏یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سورت کو نماز میں پڑھا اور آیت سجدہ پر سجدہ کیا اور مقتدیوں نے بھی سجدہ کیا) پس میں تو جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملوں گا (‏اس موقعہ پر) سجدہ کرتا رہوں گا (‏یعنی مرتے دم تک) اس حدیث کی سندیں اور بھی ہیں اور صحیح مسلم شریف اور سنن میں مروی ہے۔ [صحیح بخاری:766] ‏

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورۃ الانشقاق میں اور سورۃ العلق میں سجدہ کیا۔ [صحیح مسلم:578] ‏

زمین مردے اگل دے گی ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہو گا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ “ اسے بھی چاہیئے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کر دی جائیگی۔

حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائے گا، جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا، اے اللہ! جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چنانچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36725:مرسل] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جائے گی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہو گی اور اسے بھی یہی لائق ہے۔ “

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اے انسان تو کوشش کرتا رہے گا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہے گا، اعمال کرتا رہے گا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائے گا اور اس کے سامنے کھڑا ہو گا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا۔ “

ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کر لے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کر لے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے۔ [مسند طیالسی:1755:حسن] ‏

«مُلَاقِيهِ» کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کر لے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہو سکتی۔“

10431

تفسیر سورۃ الانشقاق:

موطا امام مالک میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس میں «اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ» [84-الانشقاق:1] ‏ کی سورت پڑھی اور سجدہ کیا اور فارغ ہو کر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے پڑھتے ہوئے سجدہ کیا تھا، یہ حدیث مسلم اور نسائی میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:578] ‏

بخاری میں ہے سیدنا ابورافع فرماتے ہیں میں نے سیدنا ابوہریر رضی اللہ عنہ کے پیچھے عشاء کی نماز پڑھی آپ نے اس میں «اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ» [84-الانشقاق:1] ‏ کی تلاوت کی اور سجدہ کیا میں نے پوچھا تو جواب دیا کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سجدہ کیا ہے (‏یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سورت کو نماز میں پڑھا اور آیت سجدہ پر سجدہ کیا اور مقتدیوں نے بھی سجدہ کیا) پس میں تو جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملوں گا (‏اس موقعہ پر) سجدہ کرتا رہوں گا (‏یعنی مرتے دم تک) اس حدیث کی سندیں اور بھی ہیں اور صحیح مسلم شریف اور سنن میں مروی ہے۔ [صحیح بخاری:766] ‏

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورۃ الانشقاق میں اور سورۃ العلق میں سجدہ کیا۔ [صحیح مسلم:578] ‏

زمین مردے اگل دے گی ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہو گا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ “ اسے بھی چاہیئے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کر دی جائیگی۔

حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائے گا، جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا، اے اللہ! جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چنانچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36725:مرسل] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جائے گی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہو گی اور اسے بھی یہی لائق ہے۔ “

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اے انسان تو کوشش کرتا رہے گا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہے گا، اعمال کرتا رہے گا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائے گا اور اس کے سامنے کھڑا ہو گا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا۔ “

ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کر لے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کر لے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے۔ [مسند طیالسی:1755:حسن] ‏

«مُلَاقِيهِ» کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کر لے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہو سکتی۔“

10431

باب

پھر فرمایا ” جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائے گا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہو گا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہو جائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا۔ “

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہو گا وہ تباہ ہو گا، تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہو گا «فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا» [84-الإنشقاق:8] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہو گی وہ برباد ہو گا۔“ [صحیح بخاری:4939] ‏

10437

دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہو گی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا۔ [ضعیف] ‏

خود ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہو گا وہ تو بے عذاب پائے نہیں رہ سکتا اور «حساب یسیر» سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! یہ آسان حساب کیا ہے؟ فرمایا: ”صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائے گا کہ جاؤ ہم نے درگزر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہو گا۔“ [مسند احمد:48/6:صحیح] ‏

غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئے گا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئے گا۔

10438

طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائے گا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائے گا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بے فکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے۔“

پھر فرماتا ہے کہ ” ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔“

10439

باب

پھر فرمایا ” جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائے گا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہو گا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہو جائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا۔ “

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہو گا وہ تباہ ہو گا، تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہو گا «فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا» [84-الإنشقاق:8] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہو گی وہ برباد ہو گا۔“ [صحیح بخاری:4939] ‏

10437

دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہو گی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا۔ [ضعیف] ‏

خود ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہو گا وہ تو بے عذاب پائے نہیں رہ سکتا اور «حساب یسیر» سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! یہ آسان حساب کیا ہے؟ فرمایا: ”صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائے گا کہ جاؤ ہم نے درگزر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہو گا۔“ [مسند احمد:48/6:صحیح] ‏

غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئے گا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئے گا۔

10438

طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائے گا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائے گا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بے فکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے۔“

پھر فرماتا ہے کہ ” ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔“

10439

باب

پھر فرمایا ” جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائے گا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہو گا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہو جائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا۔ “

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہو گا وہ تباہ ہو گا، تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہو گا «فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا» [84-الإنشقاق:8] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہو گی وہ برباد ہو گا۔“ [صحیح بخاری:4939] ‏

10437

دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہو گی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا۔ [ضعیف] ‏

خود ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہو گا وہ تو بے عذاب پائے نہیں رہ سکتا اور «حساب یسیر» سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! یہ آسان حساب کیا ہے؟ فرمایا: ”صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائے گا کہ جاؤ ہم نے درگزر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہو گا۔“ [مسند احمد:48/6:صحیح] ‏

غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئے گا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئے گا۔

10438

طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائے گا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائے گا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بے فکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے۔“

پھر فرماتا ہے کہ ” ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔“

10439

باب

پھر فرمایا ” جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائے گا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہو گا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہو جائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا۔ “

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہو گا وہ تباہ ہو گا، تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہو گا «فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا» [84-الإنشقاق:8] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہو گی وہ برباد ہو گا۔“ [صحیح بخاری:4939] ‏

10437

دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہو گی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا۔ [ضعیف] ‏

خود ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہو گا وہ تو بے عذاب پائے نہیں رہ سکتا اور «حساب یسیر» سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! یہ آسان حساب کیا ہے؟ فرمایا: ”صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائے گا کہ جاؤ ہم نے درگزر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہو گا۔“ [مسند احمد:48/6:صحیح] ‏

غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئے گا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئے گا۔

10438

طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائے گا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائے گا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بے فکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے۔“

پھر فرماتا ہے کہ ” ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔“

10439

باب

پھر فرمایا ” جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائے گا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہو گا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہو جائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا۔ “

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہو گا وہ تباہ ہو گا، تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہو گا «فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا» [84-الإنشقاق:8] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہو گی وہ برباد ہو گا۔“ [صحیح بخاری:4939] ‏

10437

دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہو گی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا۔ [ضعیف] ‏

خود ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہو گا وہ تو بے عذاب پائے نہیں رہ سکتا اور «حساب یسیر» سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! یہ آسان حساب کیا ہے؟ فرمایا: ”صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائے گا کہ جاؤ ہم نے درگزر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہو گا۔“ [مسند احمد:48/6:صحیح] ‏

غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئے گا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئے گا۔

10438

طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائے گا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائے گا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بے فکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے۔“

پھر فرماتا ہے کہ ” ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔“

10439

باب

پھر فرمایا ” جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائے گا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہو گا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہو جائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا۔ “

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہو گا وہ تباہ ہو گا، تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہو گا «فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا» [84-الإنشقاق:8] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہو گی وہ برباد ہو گا۔“ [صحیح بخاری:4939] ‏

10437

دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہو گی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا۔ [ضعیف] ‏

خود ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہو گا وہ تو بے عذاب پائے نہیں رہ سکتا اور «حساب یسیر» سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! یہ آسان حساب کیا ہے؟ فرمایا: ”صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائے گا کہ جاؤ ہم نے درگزر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہو گا۔“ [مسند احمد:48/6:صحیح] ‏

غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئے گا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئے گا۔

10438

طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائے گا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائے گا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بے فکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے۔“

پھر فرماتا ہے کہ ” ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔“

10439

باب

پھر فرمایا ” جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائے گا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہو گا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہو جائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا۔ “

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہو گا وہ تباہ ہو گا، تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہو گا «فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا» [84-الإنشقاق:8] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہو گی وہ برباد ہو گا۔“ [صحیح بخاری:4939] ‏

10437

دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہو گی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا۔ [ضعیف] ‏

خود ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہو گا وہ تو بے عذاب پائے نہیں رہ سکتا اور «حساب یسیر» سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! یہ آسان حساب کیا ہے؟ فرمایا: ”صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائے گا کہ جاؤ ہم نے درگزر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہو گا۔“ [مسند احمد:48/6:صحیح] ‏

غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئے گا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئے گا۔

10438

طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائے گا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائے گا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بے فکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے۔“

پھر فرماتا ہے کہ ” ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔“

10439

باب

پھر فرمایا ” جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائے گا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہو گا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہو جائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا۔ “

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہو گا وہ تباہ ہو گا، تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہو گا «فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا» [84-الإنشقاق:8] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہو گی وہ برباد ہو گا۔“ [صحیح بخاری:4939] ‏

10437

دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہو گی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا۔ [ضعیف] ‏

خود ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہو گا وہ تو بے عذاب پائے نہیں رہ سکتا اور «حساب یسیر» سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! یہ آسان حساب کیا ہے؟ فرمایا: ”صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائے گا کہ جاؤ ہم نے درگزر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہو گا۔“ [مسند احمد:48/6:صحیح] ‏

غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئے گا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئے گا۔

10438

طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائے گا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائے گا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بے فکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے۔“

پھر فرماتا ہے کہ ” ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔“

10439

باب

پھر فرمایا ” جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائے گا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہو گا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہو جائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا۔ “

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہو گا وہ تباہ ہو گا، تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہو گا «فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا» [84-الإنشقاق:8] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہو گی وہ برباد ہو گا۔“ [صحیح بخاری:4939] ‏

10437

دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہو گی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا۔ [ضعیف] ‏

خود ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہو گا وہ تو بے عذاب پائے نہیں رہ سکتا اور «حساب یسیر» سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! یہ آسان حساب کیا ہے؟ فرمایا: ”صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائے گا کہ جاؤ ہم نے درگزر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہو گا۔“ [مسند احمد:48/6:صحیح] ‏

غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئے گا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئے گا۔

10438

طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائے گا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائے گا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بے فکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے۔“

پھر فرماتا ہے کہ ” ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔“

10439

پیشین گوئی ٭٭

«شفق» سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے سیدنا علی، ابن عباس، عبادہ بن صامت، ابوہریرہ، شداد بن اوس، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم، محمد بن علی بن حسین، مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابوسلمہ، ماجشون رحمہ اللہ علیہم یہی فرماتے ہیں کہ «شفق» اس سرخی کو کہتے ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس «شفق» کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے۔

خلیل رحمہ اللہ کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ «شفق» باقی رہتی ہے، جوہری رحمہ اللہ کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور روشنی باقی رہتی ہے اسے «شفق» کہتے ہیں۔ یہ اول رات سے عشاء کے وقت تک رہتی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مغرب سے لے کر عشاء تک، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے مغرب کا وقت شفق غائب ہونے تک ہے۔ [صحیح مسلم:612] ‏

مجاہد رحمہ اللہ سے البتہ یہ مروی ہے کہ اس سے مراد سارا دن ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ مراد سورج ہے، غالباً اس مطلب کی وجہ اس کے بعد کا جملہ ہے تو گویا روشنی اور اندھیرے کی قسم کھائی۔

10448

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں دن کے جانے اور رات کے آنے کی قسم ہے۔ اوروں نے کہا ہے سفیدی اور سرخی کا نام «شَّفَقِ» ہے اور قول ہے کہ یہ لفظ ان دونوں مختلف معنوں میں بولا جاتا ہے۔

«وَسَقَ» کے معنی ہیں جمع کیا یعنی رات کے ستاروں اور رات کے جانوروں کی قسم، اسی طرح رات کے اندھیرے میں تمام چیزوں کا اپنی اپنی جگہ چلے جانا، اور چاند کی قسم جبکہ وہ پورا ہو جائے اور پوری روشنی والا بن جائے، «لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ» [84-الإنشقاق:17] ‏ کی تفسیر بخاری میں مرفوع حدیث سے مروی ہے کہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھتے چلے جاؤ گے۔ [صحیح بخاری:4940] ‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو سال آئے گا وہ اپنے پہلے سے زیادہ برا ہو گا۔ میں نے اسی طرح تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔ [صحیح بخاری:7068] ‏ اس حدیث سے اور اوپر والی حدیث کے الفاظ بالکل یکساں ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرفوع حدیث ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور یہ مطلب بھی اسی حدیث کا بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد ذات نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور اس کی تائید سیدنا عمر، ابن مسعود، ابن عباس رضی اللہ عنہم اور عام اہل مکہ اور اہل کوفہ کی قرأت سے بھی ہوتی ہے۔ ان کی قرأت ہے «لَتَرْكَبَنَّ» ۔

شعبی کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اے نبی! تم ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان پر چڑھو گے، مراد اس سے معراج ہے، یعنی منزل بمنزل چڑھتے چلے جاؤ گے۔

10449

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق منزلیں طے کرو گے۔ جیسے حدیث میں ہے کہ تم اپنے سے اگلے لوگوں کے طریقوں پر چڑھو گے بالکل برابر برابر یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا ہو تو تم بھی یہی کرو گے۔ لوگوں نے کہا اگلوں سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا یہود و نصرانی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اور کون؟“ [صحیح بخاری:7320] ‏

مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہر بیس سال کے بعد تم کسی نہ کسی ایسے کام کی ایجاد کرو گے جو اس سے پہلے نہ تھا۔“ عبداللہ فرماتے ہیں ”آسمان پھٹے گا پھر سرخ رنگ ہو جائے گا۔ پھر بھی رنگ بدلتے چلے جائیں گے۔“

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کبھی تو آسمان دھواں بن جائے گا پھر پھٹ جائے گا۔ سعید بن جیبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یعنی بہت سے لوگ جو دنیا میں پست و ذلیل تھے آخرت میں بلند و ذی عزت بن جائیں گے، اور بہت سے لوگ دنیا میں مرتبے اور عزت والے تھے وہ آخرت میں ذلیل و نامراد ہو جائیں گے۔ عکرمہ رضی اللہ عنہ یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ پہلے دودھ پیتے تھے پھر غذا کھانے لگے، پہلے جوان تھے پھر بڈھے ہوئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں نرمی کے بعد سختی، سختی کے بعد نرمی، امیری کے بعد فقیری، فقیری کے بعد امیری، صحت کے بعد بیماری، بیماری کے بعد تندرستی۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ابن آدم غفلت میں ہے وہ پرواہ نہیں کرتا کہ کس لیے پیدا کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ جب کسی کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتے سے کہتا ہے اس کی روزی اس کی اجل، اس کی زندگی، اس کا بد یا نیک ہونا لکھ لے پھر وہ فارغ ہو کر چلا جاتا ہے، اور دوسرا فرشتہ آتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ اسے سمجھ آ جائے پھر وہ فرشتہ اٹھ جاتا ہے پھر دو فرشتے اس کا نامہ اعمال لکھنے والے آ جاتے ہیں۔ موت کے وقت وہ بھی چلے جاتے ہیں اور ملک الموت آ جاتے ہیں اس کی روح قبض کرتے ہیں پھر قبر میں اس کی روح لوٹا دی جاتی ہے، ملک الموت چلے جاتے ہیں قیامت کے دن نیکی بدی کے فرشتے آ جائیں گے اور اس کی گردن سے اس کا نامہ اعمال کھول لیں گے، پھر اس کے ساتھ ہی رہیں گے، ایک سائق ہے دوسرا شہید ہے۔“

10450

پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا «لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا» [50-ق:22] ‏ ” تو اس سے غافل تھا “، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ» [84-الإنشقاق:19] ‏ پڑھی یعنی ” ایک حال سے دوسرا حال “، پھر فرمایا: ”لوگو تمہارے آگے بڑے بڑے ہم امور آ رہے ہیں جن کی برداشت تمہارے بس کی بات نہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ بلند و برتر سے مدد چاہو ۔ یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے، منکر حدیث ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں لیکن اس کا مطلب بالکل صحیح اور درست ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

امام ابن جریر نے ان تمام اقوال کو بیان کر کے فرمایا ہے کہ صحیح مطلب یہ ہے کہ ” آپ اے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) سخت سخت کاموں میں ایک کے بعد ایک سے گزرنے والے ہیں “ اور گو خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی ہے لیکن مراد سب لوگ ہیں کہ وہ قیامت کی ایک کے بعد ایک ہولناکی دیکھیں گے۔

10451

پیشین گوئی ٭٭

«شفق» سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے سیدنا علی، ابن عباس، عبادہ بن صامت، ابوہریرہ، شداد بن اوس، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم، محمد بن علی بن حسین، مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابوسلمہ، ماجشون رحمہ اللہ علیہم یہی فرماتے ہیں کہ «شفق» اس سرخی کو کہتے ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس «شفق» کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے۔

خلیل رحمہ اللہ کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ «شفق» باقی رہتی ہے، جوہری رحمہ اللہ کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور روشنی باقی رہتی ہے اسے «شفق» کہتے ہیں۔ یہ اول رات سے عشاء کے وقت تک رہتی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مغرب سے لے کر عشاء تک، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے مغرب کا وقت شفق غائب ہونے تک ہے۔ [صحیح مسلم:612] ‏

مجاہد رحمہ اللہ سے البتہ یہ مروی ہے کہ اس سے مراد سارا دن ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ مراد سورج ہے، غالباً اس مطلب کی وجہ اس کے بعد کا جملہ ہے تو گویا روشنی اور اندھیرے کی قسم کھائی۔

10448

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں دن کے جانے اور رات کے آنے کی قسم ہے۔ اوروں نے کہا ہے سفیدی اور سرخی کا نام «شَّفَقِ» ہے اور قول ہے کہ یہ لفظ ان دونوں مختلف معنوں میں بولا جاتا ہے۔

«وَسَقَ» کے معنی ہیں جمع کیا یعنی رات کے ستاروں اور رات کے جانوروں کی قسم، اسی طرح رات کے اندھیرے میں تمام چیزوں کا اپنی اپنی جگہ چلے جانا، اور چاند کی قسم جبکہ وہ پورا ہو جائے اور پوری روشنی والا بن جائے، «لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ» [84-الإنشقاق:17] ‏ کی تفسیر بخاری میں مرفوع حدیث سے مروی ہے کہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھتے چلے جاؤ گے۔ [صحیح بخاری:4940] ‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو سال آئے گا وہ اپنے پہلے سے زیادہ برا ہو گا۔ میں نے اسی طرح تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔ [صحیح بخاری:7068] ‏ اس حدیث سے اور اوپر والی حدیث کے الفاظ بالکل یکساں ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرفوع حدیث ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور یہ مطلب بھی اسی حدیث کا بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد ذات نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور اس کی تائید سیدنا عمر، ابن مسعود، ابن عباس رضی اللہ عنہم اور عام اہل مکہ اور اہل کوفہ کی قرأت سے بھی ہوتی ہے۔ ان کی قرأت ہے «لَتَرْكَبَنَّ» ۔

شعبی کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اے نبی! تم ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان پر چڑھو گے، مراد اس سے معراج ہے، یعنی منزل بمنزل چڑھتے چلے جاؤ گے۔

10449

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق منزلیں طے کرو گے۔ جیسے حدیث میں ہے کہ تم اپنے سے اگلے لوگوں کے طریقوں پر چڑھو گے بالکل برابر برابر یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا ہو تو تم بھی یہی کرو گے۔ لوگوں نے کہا اگلوں سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا یہود و نصرانی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اور کون؟“ [صحیح بخاری:7320] ‏

مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہر بیس سال کے بعد تم کسی نہ کسی ایسے کام کی ایجاد کرو گے جو اس سے پہلے نہ تھا۔“ عبداللہ فرماتے ہیں ”آسمان پھٹے گا پھر سرخ رنگ ہو جائے گا۔ پھر بھی رنگ بدلتے چلے جائیں گے۔“

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کبھی تو آسمان دھواں بن جائے گا پھر پھٹ جائے گا۔ سعید بن جیبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یعنی بہت سے لوگ جو دنیا میں پست و ذلیل تھے آخرت میں بلند و ذی عزت بن جائیں گے، اور بہت سے لوگ دنیا میں مرتبے اور عزت والے تھے وہ آخرت میں ذلیل و نامراد ہو جائیں گے۔ عکرمہ رضی اللہ عنہ یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ پہلے دودھ پیتے تھے پھر غذا کھانے لگے، پہلے جوان تھے پھر بڈھے ہوئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں نرمی کے بعد سختی، سختی کے بعد نرمی، امیری کے بعد فقیری، فقیری کے بعد امیری، صحت کے بعد بیماری، بیماری کے بعد تندرستی۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ابن آدم غفلت میں ہے وہ پرواہ نہیں کرتا کہ کس لیے پیدا کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ جب کسی کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتے سے کہتا ہے اس کی روزی اس کی اجل، اس کی زندگی، اس کا بد یا نیک ہونا لکھ لے پھر وہ فارغ ہو کر چلا جاتا ہے، اور دوسرا فرشتہ آتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ اسے سمجھ آ جائے پھر وہ فرشتہ اٹھ جاتا ہے پھر دو فرشتے اس کا نامہ اعمال لکھنے والے آ جاتے ہیں۔ موت کے وقت وہ بھی چلے جاتے ہیں اور ملک الموت آ جاتے ہیں اس کی روح قبض کرتے ہیں پھر قبر میں اس کی روح لوٹا دی جاتی ہے، ملک الموت چلے جاتے ہیں قیامت کے دن نیکی بدی کے فرشتے آ جائیں گے اور اس کی گردن سے اس کا نامہ اعمال کھول لیں گے، پھر اس کے ساتھ ہی رہیں گے، ایک سائق ہے دوسرا شہید ہے۔“

10450

پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا «لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا» [50-ق:22] ‏ ” تو اس سے غافل تھا “، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ» [84-الإنشقاق:19] ‏ پڑھی یعنی ” ایک حال سے دوسرا حال “، پھر فرمایا: ”لوگو تمہارے آگے بڑے بڑے ہم امور آ رہے ہیں جن کی برداشت تمہارے بس کی بات نہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ بلند و برتر سے مدد چاہو ۔ یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے، منکر حدیث ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں لیکن اس کا مطلب بالکل صحیح اور درست ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

امام ابن جریر نے ان تمام اقوال کو بیان کر کے فرمایا ہے کہ صحیح مطلب یہ ہے کہ ” آپ اے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) سخت سخت کاموں میں ایک کے بعد ایک سے گزرنے والے ہیں “ اور گو خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی ہے لیکن مراد سب لوگ ہیں کہ وہ قیامت کی ایک کے بعد ایک ہولناکی دیکھیں گے۔

10451

پیشین گوئی ٭٭

«شفق» سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے سیدنا علی، ابن عباس، عبادہ بن صامت، ابوہریرہ، شداد بن اوس، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم، محمد بن علی بن حسین، مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابوسلمہ، ماجشون رحمہ اللہ علیہم یہی فرماتے ہیں کہ «شفق» اس سرخی کو کہتے ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس «شفق» کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے۔

خلیل رحمہ اللہ کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ «شفق» باقی رہتی ہے، جوہری رحمہ اللہ کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور روشنی باقی رہتی ہے اسے «شفق» کہتے ہیں۔ یہ اول رات سے عشاء کے وقت تک رہتی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مغرب سے لے کر عشاء تک، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے مغرب کا وقت شفق غائب ہونے تک ہے۔ [صحیح مسلم:612] ‏

مجاہد رحمہ اللہ سے البتہ یہ مروی ہے کہ اس سے مراد سارا دن ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ مراد سورج ہے، غالباً اس مطلب کی وجہ اس کے بعد کا جملہ ہے تو گویا روشنی اور اندھیرے کی قسم کھائی۔

10448

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں دن کے جانے اور رات کے آنے کی قسم ہے۔ اوروں نے کہا ہے سفیدی اور سرخی کا نام «شَّفَقِ» ہے اور قول ہے کہ یہ لفظ ان دونوں مختلف معنوں میں بولا جاتا ہے۔

«وَسَقَ» کے معنی ہیں جمع کیا یعنی رات کے ستاروں اور رات کے جانوروں کی قسم، اسی طرح رات کے اندھیرے میں تمام چیزوں کا اپنی اپنی جگہ چلے جانا، اور چاند کی قسم جبکہ وہ پورا ہو جائے اور پوری روشنی والا بن جائے، «لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ» [84-الإنشقاق:17] ‏ کی تفسیر بخاری میں مرفوع حدیث سے مروی ہے کہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھتے چلے جاؤ گے۔ [صحیح بخاری:4940] ‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو سال آئے گا وہ اپنے پہلے سے زیادہ برا ہو گا۔ میں نے اسی طرح تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔ [صحیح بخاری:7068] ‏ اس حدیث سے اور اوپر والی حدیث کے الفاظ بالکل یکساں ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرفوع حدیث ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور یہ مطلب بھی اسی حدیث کا بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد ذات نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور اس کی تائید سیدنا عمر، ابن مسعود، ابن عباس رضی اللہ عنہم اور عام اہل مکہ اور اہل کوفہ کی قرأت سے بھی ہوتی ہے۔ ان کی قرأت ہے «لَتَرْكَبَنَّ» ۔

شعبی کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اے نبی! تم ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان پر چڑھو گے، مراد اس سے معراج ہے، یعنی منزل بمنزل چڑھتے چلے جاؤ گے۔

10449

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق منزلیں طے کرو گے۔ جیسے حدیث میں ہے کہ تم اپنے سے اگلے لوگوں کے طریقوں پر چڑھو گے بالکل برابر برابر یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا ہو تو تم بھی یہی کرو گے۔ لوگوں نے کہا اگلوں سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا یہود و نصرانی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اور کون؟“ [صحیح بخاری:7320] ‏

مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہر بیس سال کے بعد تم کسی نہ کسی ایسے کام کی ایجاد کرو گے جو اس سے پہلے نہ تھا۔“ عبداللہ فرماتے ہیں ”آسمان پھٹے گا پھر سرخ رنگ ہو جائے گا۔ پھر بھی رنگ بدلتے چلے جائیں گے۔“

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کبھی تو آسمان دھواں بن جائے گا پھر پھٹ جائے گا۔ سعید بن جیبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یعنی بہت سے لوگ جو دنیا میں پست و ذلیل تھے آخرت میں بلند و ذی عزت بن جائیں گے، اور بہت سے لوگ دنیا میں مرتبے اور عزت والے تھے وہ آخرت میں ذلیل و نامراد ہو جائیں گے۔ عکرمہ رضی اللہ عنہ یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ پہلے دودھ پیتے تھے پھر غذا کھانے لگے، پہلے جوان تھے پھر بڈھے ہوئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں نرمی کے بعد سختی، سختی کے بعد نرمی، امیری کے بعد فقیری، فقیری کے بعد امیری، صحت کے بعد بیماری، بیماری کے بعد تندرستی۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ابن آدم غفلت میں ہے وہ پرواہ نہیں کرتا کہ کس لیے پیدا کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ جب کسی کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتے سے کہتا ہے اس کی روزی اس کی اجل، اس کی زندگی، اس کا بد یا نیک ہونا لکھ لے پھر وہ فارغ ہو کر چلا جاتا ہے، اور دوسرا فرشتہ آتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ اسے سمجھ آ جائے پھر وہ فرشتہ اٹھ جاتا ہے پھر دو فرشتے اس کا نامہ اعمال لکھنے والے آ جاتے ہیں۔ موت کے وقت وہ بھی چلے جاتے ہیں اور ملک الموت آ جاتے ہیں اس کی روح قبض کرتے ہیں پھر قبر میں اس کی روح لوٹا دی جاتی ہے، ملک الموت چلے جاتے ہیں قیامت کے دن نیکی بدی کے فرشتے آ جائیں گے اور اس کی گردن سے اس کا نامہ اعمال کھول لیں گے، پھر اس کے ساتھ ہی رہیں گے، ایک سائق ہے دوسرا شہید ہے۔“

10450

پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا «لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا» [50-ق:22] ‏ ” تو اس سے غافل تھا “، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ» [84-الإنشقاق:19] ‏ پڑھی یعنی ” ایک حال سے دوسرا حال “، پھر فرمایا: ”لوگو تمہارے آگے بڑے بڑے ہم امور آ رہے ہیں جن کی برداشت تمہارے بس کی بات نہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ بلند و برتر سے مدد چاہو ۔ یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے، منکر حدیث ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں لیکن اس کا مطلب بالکل صحیح اور درست ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

امام ابن جریر نے ان تمام اقوال کو بیان کر کے فرمایا ہے کہ صحیح مطلب یہ ہے کہ ” آپ اے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) سخت سخت کاموں میں ایک کے بعد ایک سے گزرنے والے ہیں “ اور گو خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی ہے لیکن مراد سب لوگ ہیں کہ وہ قیامت کی ایک کے بعد ایک ہولناکی دیکھیں گے۔

10451

پیشین گوئی ٭٭

«شفق» سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے سیدنا علی، ابن عباس، عبادہ بن صامت، ابوہریرہ، شداد بن اوس، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم، محمد بن علی بن حسین، مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابوسلمہ، ماجشون رحمہ اللہ علیہم یہی فرماتے ہیں کہ «شفق» اس سرخی کو کہتے ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس «شفق» کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے۔

خلیل رحمہ اللہ کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ «شفق» باقی رہتی ہے، جوہری رحمہ اللہ کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور روشنی باقی رہتی ہے اسے «شفق» کہتے ہیں۔ یہ اول رات سے عشاء کے وقت تک رہتی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مغرب سے لے کر عشاء تک، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے مغرب کا وقت شفق غائب ہونے تک ہے۔ [صحیح مسلم:612] ‏

مجاہد رحمہ اللہ سے البتہ یہ مروی ہے کہ اس سے مراد سارا دن ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ مراد سورج ہے، غالباً اس مطلب کی وجہ اس کے بعد کا جملہ ہے تو گویا روشنی اور اندھیرے کی قسم کھائی۔

10448

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں دن کے جانے اور رات کے آنے کی قسم ہے۔ اوروں نے کہا ہے سفیدی اور سرخی کا نام «شَّفَقِ» ہے اور قول ہے کہ یہ لفظ ان دونوں مختلف معنوں میں بولا جاتا ہے۔

«وَسَقَ» کے معنی ہیں جمع کیا یعنی رات کے ستاروں اور رات کے جانوروں کی قسم، اسی طرح رات کے اندھیرے میں تمام چیزوں کا اپنی اپنی جگہ چلے جانا، اور چاند کی قسم جبکہ وہ پورا ہو جائے اور پوری روشنی والا بن جائے، «لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ» [84-الإنشقاق:17] ‏ کی تفسیر بخاری میں مرفوع حدیث سے مروی ہے کہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھتے چلے جاؤ گے۔ [صحیح بخاری:4940] ‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو سال آئے گا وہ اپنے پہلے سے زیادہ برا ہو گا۔ میں نے اسی طرح تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔ [صحیح بخاری:7068] ‏ اس حدیث سے اور اوپر والی حدیث کے الفاظ بالکل یکساں ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرفوع حدیث ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور یہ مطلب بھی اسی حدیث کا بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد ذات نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور اس کی تائید سیدنا عمر، ابن مسعود، ابن عباس رضی اللہ عنہم اور عام اہل مکہ اور اہل کوفہ کی قرأت سے بھی ہوتی ہے۔ ان کی قرأت ہے «لَتَرْكَبَنَّ» ۔

شعبی کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اے نبی! تم ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان پر چڑھو گے، مراد اس سے معراج ہے، یعنی منزل بمنزل چڑھتے چلے جاؤ گے۔

10449

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق منزلیں طے کرو گے۔ جیسے حدیث میں ہے کہ تم اپنے سے اگلے لوگوں کے طریقوں پر چڑھو گے بالکل برابر برابر یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا ہو تو تم بھی یہی کرو گے۔ لوگوں نے کہا اگلوں سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا یہود و نصرانی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اور کون؟“ [صحیح بخاری:7320] ‏

مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہر بیس سال کے بعد تم کسی نہ کسی ایسے کام کی ایجاد کرو گے جو اس سے پہلے نہ تھا۔“ عبداللہ فرماتے ہیں ”آسمان پھٹے گا پھر سرخ رنگ ہو جائے گا۔ پھر بھی رنگ بدلتے چلے جائیں گے۔“

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کبھی تو آسمان دھواں بن جائے گا پھر پھٹ جائے گا۔ سعید بن جیبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یعنی بہت سے لوگ جو دنیا میں پست و ذلیل تھے آخرت میں بلند و ذی عزت بن جائیں گے، اور بہت سے لوگ دنیا میں مرتبے اور عزت والے تھے وہ آخرت میں ذلیل و نامراد ہو جائیں گے۔ عکرمہ رضی اللہ عنہ یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ پہلے دودھ پیتے تھے پھر غذا کھانے لگے، پہلے جوان تھے پھر بڈھے ہوئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں نرمی کے بعد سختی، سختی کے بعد نرمی، امیری کے بعد فقیری، فقیری کے بعد امیری، صحت کے بعد بیماری، بیماری کے بعد تندرستی۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ابن آدم غفلت میں ہے وہ پرواہ نہیں کرتا کہ کس لیے پیدا کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ جب کسی کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتے سے کہتا ہے اس کی روزی اس کی اجل، اس کی زندگی، اس کا بد یا نیک ہونا لکھ لے پھر وہ فارغ ہو کر چلا جاتا ہے، اور دوسرا فرشتہ آتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ اسے سمجھ آ جائے پھر وہ فرشتہ اٹھ جاتا ہے پھر دو فرشتے اس کا نامہ اعمال لکھنے والے آ جاتے ہیں۔ موت کے وقت وہ بھی چلے جاتے ہیں اور ملک الموت آ جاتے ہیں اس کی روح قبض کرتے ہیں پھر قبر میں اس کی روح لوٹا دی جاتی ہے، ملک الموت چلے جاتے ہیں قیامت کے دن نیکی بدی کے فرشتے آ جائیں گے اور اس کی گردن سے اس کا نامہ اعمال کھول لیں گے، پھر اس کے ساتھ ہی رہیں گے، ایک سائق ہے دوسرا شہید ہے۔“

10450

پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا «لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا» [50-ق:22] ‏ ” تو اس سے غافل تھا “، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ» [84-الإنشقاق:19] ‏ پڑھی یعنی ” ایک حال سے دوسرا حال “، پھر فرمایا: ”لوگو تمہارے آگے بڑے بڑے ہم امور آ رہے ہیں جن کی برداشت تمہارے بس کی بات نہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ بلند و برتر سے مدد چاہو ۔ یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے، منکر حدیث ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں لیکن اس کا مطلب بالکل صحیح اور درست ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

امام ابن جریر نے ان تمام اقوال کو بیان کر کے فرمایا ہے کہ صحیح مطلب یہ ہے کہ ” آپ اے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) سخت سخت کاموں میں ایک کے بعد ایک سے گزرنے والے ہیں “ اور گو خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی ہے لیکن مراد سب لوگ ہیں کہ وہ قیامت کی ایک کے بعد ایک ہولناکی دیکھیں گے۔

10451

پیشین گوئی ٭٭

«شفق» سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے سیدنا علی، ابن عباس، عبادہ بن صامت، ابوہریرہ، شداد بن اوس، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم، محمد بن علی بن حسین، مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابوسلمہ، ماجشون رحمہ اللہ علیہم یہی فرماتے ہیں کہ «شفق» اس سرخی کو کہتے ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس «شفق» کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے۔

خلیل رحمہ اللہ کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ «شفق» باقی رہتی ہے، جوہری رحمہ اللہ کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور روشنی باقی رہتی ہے اسے «شفق» کہتے ہیں۔ یہ اول رات سے عشاء کے وقت تک رہتی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مغرب سے لے کر عشاء تک، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے مغرب کا وقت شفق غائب ہونے تک ہے۔ [صحیح مسلم:612] ‏

مجاہد رحمہ اللہ سے البتہ یہ مروی ہے کہ اس سے مراد سارا دن ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ مراد سورج ہے، غالباً اس مطلب کی وجہ اس کے بعد کا جملہ ہے تو گویا روشنی اور اندھیرے کی قسم کھائی۔

10448

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں دن کے جانے اور رات کے آنے کی قسم ہے۔ اوروں نے کہا ہے سفیدی اور سرخی کا نام «شَّفَقِ» ہے اور قول ہے کہ یہ لفظ ان دونوں مختلف معنوں میں بولا جاتا ہے۔

«وَسَقَ» کے معنی ہیں جمع کیا یعنی رات کے ستاروں اور رات کے جانوروں کی قسم، اسی طرح رات کے اندھیرے میں تمام چیزوں کا اپنی اپنی جگہ چلے جانا، اور چاند کی قسم جبکہ وہ پورا ہو جائے اور پوری روشنی والا بن جائے، «لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ» [84-الإنشقاق:17] ‏ کی تفسیر بخاری میں مرفوع حدیث سے مروی ہے کہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھتے چلے جاؤ گے۔ [صحیح بخاری:4940] ‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو سال آئے گا وہ اپنے پہلے سے زیادہ برا ہو گا۔ میں نے اسی طرح تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔ [صحیح بخاری:7068] ‏ اس حدیث سے اور اوپر والی حدیث کے الفاظ بالکل یکساں ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرفوع حدیث ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور یہ مطلب بھی اسی حدیث کا بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد ذات نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور اس کی تائید سیدنا عمر، ابن مسعود، ابن عباس رضی اللہ عنہم اور عام اہل مکہ اور اہل کوفہ کی قرأت سے بھی ہوتی ہے۔ ان کی قرأت ہے «لَتَرْكَبَنَّ» ۔

شعبی کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اے نبی! تم ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان پر چڑھو گے، مراد اس سے معراج ہے، یعنی منزل بمنزل چڑھتے چلے جاؤ گے۔

10449

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق منزلیں طے کرو گے۔ جیسے حدیث میں ہے کہ تم اپنے سے اگلے لوگوں کے طریقوں پر چڑھو گے بالکل برابر برابر یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا ہو تو تم بھی یہی کرو گے۔ لوگوں نے کہا اگلوں سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا یہود و نصرانی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اور کون؟“ [صحیح بخاری:7320] ‏

مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہر بیس سال کے بعد تم کسی نہ کسی ایسے کام کی ایجاد کرو گے جو اس سے پہلے نہ تھا۔“ عبداللہ فرماتے ہیں ”آسمان پھٹے گا پھر سرخ رنگ ہو جائے گا۔ پھر بھی رنگ بدلتے چلے جائیں گے۔“

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کبھی تو آسمان دھواں بن جائے گا پھر پھٹ جائے گا۔ سعید بن جیبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یعنی بہت سے لوگ جو دنیا میں پست و ذلیل تھے آخرت میں بلند و ذی عزت بن جائیں گے، اور بہت سے لوگ دنیا میں مرتبے اور عزت والے تھے وہ آخرت میں ذلیل و نامراد ہو جائیں گے۔ عکرمہ رضی اللہ عنہ یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ پہلے دودھ پیتے تھے پھر غذا کھانے لگے، پہلے جوان تھے پھر بڈھے ہوئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں نرمی کے بعد سختی، سختی کے بعد نرمی، امیری کے بعد فقیری، فقیری کے بعد امیری، صحت کے بعد بیماری، بیماری کے بعد تندرستی۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ابن آدم غفلت میں ہے وہ پرواہ نہیں کرتا کہ کس لیے پیدا کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ جب کسی کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتے سے کہتا ہے اس کی روزی اس کی اجل، اس کی زندگی، اس کا بد یا نیک ہونا لکھ لے پھر وہ فارغ ہو کر چلا جاتا ہے، اور دوسرا فرشتہ آتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ اسے سمجھ آ جائے پھر وہ فرشتہ اٹھ جاتا ہے پھر دو فرشتے اس کا نامہ اعمال لکھنے والے آ جاتے ہیں۔ موت کے وقت وہ بھی چلے جاتے ہیں اور ملک الموت آ جاتے ہیں اس کی روح قبض کرتے ہیں پھر قبر میں اس کی روح لوٹا دی جاتی ہے، ملک الموت چلے جاتے ہیں قیامت کے دن نیکی بدی کے فرشتے آ جائیں گے اور اس کی گردن سے اس کا نامہ اعمال کھول لیں گے، پھر اس کے ساتھ ہی رہیں گے، ایک سائق ہے دوسرا شہید ہے۔“

10450

پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا «لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا» [50-ق:22] ‏ ” تو اس سے غافل تھا “، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ» [84-الإنشقاق:19] ‏ پڑھی یعنی ” ایک حال سے دوسرا حال “، پھر فرمایا: ”لوگو تمہارے آگے بڑے بڑے ہم امور آ رہے ہیں جن کی برداشت تمہارے بس کی بات نہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ بلند و برتر سے مدد چاہو ۔ یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے، منکر حدیث ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں لیکن اس کا مطلب بالکل صحیح اور درست ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

امام ابن جریر نے ان تمام اقوال کو بیان کر کے فرمایا ہے کہ صحیح مطلب یہ ہے کہ ” آپ اے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) سخت سخت کاموں میں ایک کے بعد ایک سے گزرنے والے ہیں “ اور گو خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی ہے لیکن مراد سب لوگ ہیں کہ وہ قیامت کی ایک کے بعد ایک ہولناکی دیکھیں گے۔

10451

باب

پھر فرمایا کہ ” انہیں کیا ہو گیا یہ کیوں نہیں ایمان لاتے؟ اور انہیں قرآن سن کر سجدے میں گر پڑنے سے کون سی چیز روکتی ہے، بلکہ یہ کفار تو الٹا جھٹلاتے ہیں اور حق کی مخالفت کرتے ہیں اور سرکشی میں اور برائی میں پھنسے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتوں کو جنھیں یہ چھپا رہے ہیں بخوبی جانتا ہے، تم اے نبی انہیں خبر پہنچا دو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔ “

پھر فرمایا کہ ” ان عذابوں سے محفوط ہونے والے بہترین اجر کے مستحق ایماندار نیک کردار لوگ ہیں، انہیں پورا پورا بغیر کسی کمی کے حساب اور اجر ملے گا “، جیسے اور جگہ ہے «عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ» [11-ھود:108] ‏ یعنی ” یہ بے انتہا بخشش ہے “

بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بلا احسان لیکن یہ معنی ٹھیک نہیں ہر آن پر لحظہ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ عزوجل کے اہل جنت پر احسان و انعام ہوں گے بلکہ صرف اس کے احسان اور اس کے فعل و کرم کی بنا پر انہیں جنت نصیب ہوئی نہ کہ ان کے اعمال کی وجہ سے پس اس مالک کا تو ہمیشہ اور مدام والا احسان اپنی مخلوق پر ہے ہی، اس کی ذات پاک ہر طرح کی ہر وقت کی تعریفوں کے لائق ہمیشہ ہمیشہ ہے، اسی لیے اہل جنت پر اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد کا الہام اسی طرح کیا جائے جس طرح سانس بلا تکلیف اور بے تکلف بلکہ بے ارادہ چلتا رہتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے «وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [10-یونس:10] ‏ یعنی ” ان کا آخری قول یہی ہو گا کہ سب تعریف جہانوں کے پالنے والے اللہ کے لیے ہی ہے۔ “

«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الانشقاق کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ ہمیں توفیق خیر دے اور برائی سے بچائے، آمین۔

10456

باب

پھر فرمایا کہ ” انہیں کیا ہو گیا یہ کیوں نہیں ایمان لاتے؟ اور انہیں قرآن سن کر سجدے میں گر پڑنے سے کون سی چیز روکتی ہے، بلکہ یہ کفار تو الٹا جھٹلاتے ہیں اور حق کی مخالفت کرتے ہیں اور سرکشی میں اور برائی میں پھنسے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتوں کو جنھیں یہ چھپا رہے ہیں بخوبی جانتا ہے، تم اے نبی انہیں خبر پہنچا دو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔ “

پھر فرمایا کہ ” ان عذابوں سے محفوط ہونے والے بہترین اجر کے مستحق ایماندار نیک کردار لوگ ہیں، انہیں پورا پورا بغیر کسی کمی کے حساب اور اجر ملے گا “، جیسے اور جگہ ہے «عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ» [11-ھود:108] ‏ یعنی ” یہ بے انتہا بخشش ہے “

بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بلا احسان لیکن یہ معنی ٹھیک نہیں ہر آن پر لحظہ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ عزوجل کے اہل جنت پر احسان و انعام ہوں گے بلکہ صرف اس کے احسان اور اس کے فعل و کرم کی بنا پر انہیں جنت نصیب ہوئی نہ کہ ان کے اعمال کی وجہ سے پس اس مالک کا تو ہمیشہ اور مدام والا احسان اپنی مخلوق پر ہے ہی، اس کی ذات پاک ہر طرح کی ہر وقت کی تعریفوں کے لائق ہمیشہ ہمیشہ ہے، اسی لیے اہل جنت پر اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد کا الہام اسی طرح کیا جائے جس طرح سانس بلا تکلیف اور بے تکلف بلکہ بے ارادہ چلتا رہتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے «وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [10-یونس:10] ‏ یعنی ” ان کا آخری قول یہی ہو گا کہ سب تعریف جہانوں کے پالنے والے اللہ کے لیے ہی ہے۔ “

«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الانشقاق کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ ہمیں توفیق خیر دے اور برائی سے بچائے، آمین۔

10456

باب

پھر فرمایا کہ ” انہیں کیا ہو گیا یہ کیوں نہیں ایمان لاتے؟ اور انہیں قرآن سن کر سجدے میں گر پڑنے سے کون سی چیز روکتی ہے، بلکہ یہ کفار تو الٹا جھٹلاتے ہیں اور حق کی مخالفت کرتے ہیں اور سرکشی میں اور برائی میں پھنسے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتوں کو جنھیں یہ چھپا رہے ہیں بخوبی جانتا ہے، تم اے نبی انہیں خبر پہنچا دو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔ “

پھر فرمایا کہ ” ان عذابوں سے محفوط ہونے والے بہترین اجر کے مستحق ایماندار نیک کردار لوگ ہیں، انہیں پورا پورا بغیر کسی کمی کے حساب اور اجر ملے گا “، جیسے اور جگہ ہے «عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ» [11-ھود:108] ‏ یعنی ” یہ بے انتہا بخشش ہے “

بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بلا احسان لیکن یہ معنی ٹھیک نہیں ہر آن پر لحظہ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ عزوجل کے اہل جنت پر احسان و انعام ہوں گے بلکہ صرف اس کے احسان اور اس کے فعل و کرم کی بنا پر انہیں جنت نصیب ہوئی نہ کہ ان کے اعمال کی وجہ سے پس اس مالک کا تو ہمیشہ اور مدام والا احسان اپنی مخلوق پر ہے ہی، اس کی ذات پاک ہر طرح کی ہر وقت کی تعریفوں کے لائق ہمیشہ ہمیشہ ہے، اسی لیے اہل جنت پر اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد کا الہام اسی طرح کیا جائے جس طرح سانس بلا تکلیف اور بے تکلف بلکہ بے ارادہ چلتا رہتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے «وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [10-یونس:10] ‏ یعنی ” ان کا آخری قول یہی ہو گا کہ سب تعریف جہانوں کے پالنے والے اللہ کے لیے ہی ہے۔ “

«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الانشقاق کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ ہمیں توفیق خیر دے اور برائی سے بچائے، آمین۔

10456

باب

پھر فرمایا کہ ” انہیں کیا ہو گیا یہ کیوں نہیں ایمان لاتے؟ اور انہیں قرآن سن کر سجدے میں گر پڑنے سے کون سی چیز روکتی ہے، بلکہ یہ کفار تو الٹا جھٹلاتے ہیں اور حق کی مخالفت کرتے ہیں اور سرکشی میں اور برائی میں پھنسے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتوں کو جنھیں یہ چھپا رہے ہیں بخوبی جانتا ہے، تم اے نبی انہیں خبر پہنچا دو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔ “

پھر فرمایا کہ ” ان عذابوں سے محفوط ہونے والے بہترین اجر کے مستحق ایماندار نیک کردار لوگ ہیں، انہیں پورا پورا بغیر کسی کمی کے حساب اور اجر ملے گا “، جیسے اور جگہ ہے «عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ» [11-ھود:108] ‏ یعنی ” یہ بے انتہا بخشش ہے “

بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بلا احسان لیکن یہ معنی ٹھیک نہیں ہر آن پر لحظہ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ عزوجل کے اہل جنت پر احسان و انعام ہوں گے بلکہ صرف اس کے احسان اور اس کے فعل و کرم کی بنا پر انہیں جنت نصیب ہوئی نہ کہ ان کے اعمال کی وجہ سے پس اس مالک کا تو ہمیشہ اور مدام والا احسان اپنی مخلوق پر ہے ہی، اس کی ذات پاک ہر طرح کی ہر وقت کی تعریفوں کے لائق ہمیشہ ہمیشہ ہے، اسی لیے اہل جنت پر اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد کا الہام اسی طرح کیا جائے جس طرح سانس بلا تکلیف اور بے تکلف بلکہ بے ارادہ چلتا رہتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے «وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [10-یونس:10] ‏ یعنی ” ان کا آخری قول یہی ہو گا کہ سب تعریف جہانوں کے پالنے والے اللہ کے لیے ہی ہے۔ “

«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الانشقاق کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ ہمیں توفیق خیر دے اور برائی سے بچائے، آمین۔

10456

باب

پھر فرمایا کہ ” انہیں کیا ہو گیا یہ کیوں نہیں ایمان لاتے؟ اور انہیں قرآن سن کر سجدے میں گر پڑنے سے کون سی چیز روکتی ہے، بلکہ یہ کفار تو الٹا جھٹلاتے ہیں اور حق کی مخالفت کرتے ہیں اور سرکشی میں اور برائی میں پھنسے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتوں کو جنھیں یہ چھپا رہے ہیں بخوبی جانتا ہے، تم اے نبی انہیں خبر پہنچا دو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔ “

پھر فرمایا کہ ” ان عذابوں سے محفوط ہونے والے بہترین اجر کے مستحق ایماندار نیک کردار لوگ ہیں، انہیں پورا پورا بغیر کسی کمی کے حساب اور اجر ملے گا “، جیسے اور جگہ ہے «عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ» [11-ھود:108] ‏ یعنی ” یہ بے انتہا بخشش ہے “

بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بلا احسان لیکن یہ معنی ٹھیک نہیں ہر آن پر لحظہ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ عزوجل کے اہل جنت پر احسان و انعام ہوں گے بلکہ صرف اس کے احسان اور اس کے فعل و کرم کی بنا پر انہیں جنت نصیب ہوئی نہ کہ ان کے اعمال کی وجہ سے پس اس مالک کا تو ہمیشہ اور مدام والا احسان اپنی مخلوق پر ہے ہی، اس کی ذات پاک ہر طرح کی ہر وقت کی تعریفوں کے لائق ہمیشہ ہمیشہ ہے، اسی لیے اہل جنت پر اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد کا الہام اسی طرح کیا جائے جس طرح سانس بلا تکلیف اور بے تکلف بلکہ بے ارادہ چلتا رہتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے «وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [10-یونس:10] ‏ یعنی ” ان کا آخری قول یہی ہو گا کہ سب تعریف جہانوں کے پالنے والے اللہ کے لیے ہی ہے۔ “

«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الانشقاق کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ ہمیں توفیق خیر دے اور برائی سے بچائے، آمین۔

10456

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com