John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Fajr

Tafsir Ibn Kathir · The Dawn · 30 ayat · Quran text →

تفسیر سورۃ الفجر:

نسائی شریف میں ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ایک شخص آیا اور جماعت میں شامل ہو گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز میں قرأت لمبی کی، اس نے مسجد کے ایک گوشے میں اپنی نماز پڑھ لی، پھر فارغ ہو کر چلا گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی یہ واقعہ معلوم ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر بطور شکایت یہ واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جوان کو بلا کر پوچھا تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! میں کیا کرتا میں ان کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا، انہوں نے لمبی قرأت شروع کی تو میں نے گھوم کر مسجد کے کونے میں اپنی نماز پڑھ لی پھر اپنی اونٹنی کو چارہ ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تو فتنے میں ڈالنے والا ہے تو ان سورتوں سے کہاں ہے؟ «سبح اسم ربك الأعلى»، «والشمس وضحاہا»، «والفجر»، «والليل إذا يغشى» ۔ [نسائي في السنن الكبري:11673،صحيح] ‏

شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔

چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ ۔ [صحیح بخاری:969] ‏

بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

10569

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے ۔ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏

10570

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6410] ‏

زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏“

یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔

قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» [51-الذاريات:49] ‏ یعنی ” ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو “ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔

ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔

ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10571

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔

جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» [81-التكوير:17-18] ‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» [25-الفرقان:22] ‏ تو فرماتا ہے کہ ” ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے “، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔

تو فرماتا ہے کہ ” کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے “۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» [69-الحاقہ:7-8] ‏۔

10572

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [89-الفجر:7] ‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» [7-الأعراف:69] ‏ الخ یعنی ” یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو “۔

اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏ یعنی ” عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے “۔

یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے ۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏

ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10573

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔

دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

10574

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو -

ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

10575

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔

جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» [26-الشعراء:149] ‏ یعنی ” تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو “۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔

ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔

یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

10576

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ ، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ [ضعیف و منقطع] ‏

اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» [89-الفجر:14] ‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔

10577

تفسیر سورۃ الفجر:

نسائی شریف میں ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ایک شخص آیا اور جماعت میں شامل ہو گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز میں قرأت لمبی کی، اس نے مسجد کے ایک گوشے میں اپنی نماز پڑھ لی، پھر فارغ ہو کر چلا گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی یہ واقعہ معلوم ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر بطور شکایت یہ واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جوان کو بلا کر پوچھا تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! میں کیا کرتا میں ان کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا، انہوں نے لمبی قرأت شروع کی تو میں نے گھوم کر مسجد کے کونے میں اپنی نماز پڑھ لی پھر اپنی اونٹنی کو چارہ ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تو فتنے میں ڈالنے والا ہے تو ان سورتوں سے کہاں ہے؟ «سبح اسم ربك الأعلى»، «والشمس وضحاہا»، «والفجر»، «والليل إذا يغشى» ۔ [نسائي في السنن الكبري:11673،صحيح] ‏

شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔

چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ ۔ [صحیح بخاری:969] ‏

بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

10569

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے ۔ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏

10570

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6410] ‏

زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏“

یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔

قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» [51-الذاريات:49] ‏ یعنی ” ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو “ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔

ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔

ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10571

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔

جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» [81-التكوير:17-18] ‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» [25-الفرقان:22] ‏ تو فرماتا ہے کہ ” ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے “، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔

تو فرماتا ہے کہ ” کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے “۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» [69-الحاقہ:7-8] ‏۔

10572

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [89-الفجر:7] ‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» [7-الأعراف:69] ‏ الخ یعنی ” یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو “۔

اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏ یعنی ” عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے “۔

یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے ۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏

ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10573

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔

دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

10574

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو -

ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

10575

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔

جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» [26-الشعراء:149] ‏ یعنی ” تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو “۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔

ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔

یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

10576

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ ، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ [ضعیف و منقطع] ‏

اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» [89-الفجر:14] ‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔

10577

تفسیر سورۃ الفجر:

نسائی شریف میں ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ایک شخص آیا اور جماعت میں شامل ہو گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز میں قرأت لمبی کی، اس نے مسجد کے ایک گوشے میں اپنی نماز پڑھ لی، پھر فارغ ہو کر چلا گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی یہ واقعہ معلوم ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر بطور شکایت یہ واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جوان کو بلا کر پوچھا تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! میں کیا کرتا میں ان کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا، انہوں نے لمبی قرأت شروع کی تو میں نے گھوم کر مسجد کے کونے میں اپنی نماز پڑھ لی پھر اپنی اونٹنی کو چارہ ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تو فتنے میں ڈالنے والا ہے تو ان سورتوں سے کہاں ہے؟ «سبح اسم ربك الأعلى»، «والشمس وضحاہا»، «والفجر»، «والليل إذا يغشى» ۔ [نسائي في السنن الكبري:11673،صحيح] ‏

شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔

چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ ۔ [صحیح بخاری:969] ‏

بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

10569

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے ۔ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏

10570

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6410] ‏

زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏“

یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔

قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» [51-الذاريات:49] ‏ یعنی ” ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو “ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔

ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔

ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10571

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔

جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» [81-التكوير:17-18] ‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» [25-الفرقان:22] ‏ تو فرماتا ہے کہ ” ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے “، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔

تو فرماتا ہے کہ ” کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے “۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» [69-الحاقہ:7-8] ‏۔

10572

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [89-الفجر:7] ‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» [7-الأعراف:69] ‏ الخ یعنی ” یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو “۔

اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏ یعنی ” عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے “۔

یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے ۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏

ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10573

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔

دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

10574

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو -

ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

10575

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔

جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» [26-الشعراء:149] ‏ یعنی ” تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو “۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔

ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔

یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

10576

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ ، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ [ضعیف و منقطع] ‏

اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» [89-الفجر:14] ‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔

10577

تفسیر سورۃ الفجر:

نسائی شریف میں ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ایک شخص آیا اور جماعت میں شامل ہو گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز میں قرأت لمبی کی، اس نے مسجد کے ایک گوشے میں اپنی نماز پڑھ لی، پھر فارغ ہو کر چلا گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی یہ واقعہ معلوم ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر بطور شکایت یہ واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جوان کو بلا کر پوچھا تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! میں کیا کرتا میں ان کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا، انہوں نے لمبی قرأت شروع کی تو میں نے گھوم کر مسجد کے کونے میں اپنی نماز پڑھ لی پھر اپنی اونٹنی کو چارہ ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تو فتنے میں ڈالنے والا ہے تو ان سورتوں سے کہاں ہے؟ «سبح اسم ربك الأعلى»، «والشمس وضحاہا»، «والفجر»، «والليل إذا يغشى» ۔ [نسائي في السنن الكبري:11673،صحيح] ‏

شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔

چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ ۔ [صحیح بخاری:969] ‏

بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

10569

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے ۔ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏

10570

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6410] ‏

زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏“

یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔

قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» [51-الذاريات:49] ‏ یعنی ” ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو “ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔

ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔

ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10571

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔

جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» [81-التكوير:17-18] ‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» [25-الفرقان:22] ‏ تو فرماتا ہے کہ ” ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے “، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔

تو فرماتا ہے کہ ” کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے “۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» [69-الحاقہ:7-8] ‏۔

10572

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [89-الفجر:7] ‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» [7-الأعراف:69] ‏ الخ یعنی ” یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو “۔

اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏ یعنی ” عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے “۔

یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے ۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏

ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10573

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔

دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

10574

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو -

ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

10575

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔

جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» [26-الشعراء:149] ‏ یعنی ” تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو “۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔

ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔

یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

10576

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ ، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ [ضعیف و منقطع] ‏

اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» [89-الفجر:14] ‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔

10577

تفسیر سورۃ الفجر:

نسائی شریف میں ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ایک شخص آیا اور جماعت میں شامل ہو گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز میں قرأت لمبی کی، اس نے مسجد کے ایک گوشے میں اپنی نماز پڑھ لی، پھر فارغ ہو کر چلا گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی یہ واقعہ معلوم ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر بطور شکایت یہ واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جوان کو بلا کر پوچھا تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! میں کیا کرتا میں ان کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا، انہوں نے لمبی قرأت شروع کی تو میں نے گھوم کر مسجد کے کونے میں اپنی نماز پڑھ لی پھر اپنی اونٹنی کو چارہ ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تو فتنے میں ڈالنے والا ہے تو ان سورتوں سے کہاں ہے؟ «سبح اسم ربك الأعلى»، «والشمس وضحاہا»، «والفجر»، «والليل إذا يغشى» ۔ [نسائي في السنن الكبري:11673،صحيح] ‏

شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔

چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ ۔ [صحیح بخاری:969] ‏

بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

10569

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے ۔ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏

10570

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6410] ‏

زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏“

یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔

قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» [51-الذاريات:49] ‏ یعنی ” ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو “ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔

ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔

ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10571

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔

جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» [81-التكوير:17-18] ‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» [25-الفرقان:22] ‏ تو فرماتا ہے کہ ” ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے “، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔

تو فرماتا ہے کہ ” کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے “۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» [69-الحاقہ:7-8] ‏۔

10572

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [89-الفجر:7] ‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» [7-الأعراف:69] ‏ الخ یعنی ” یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو “۔

اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏ یعنی ” عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے “۔

یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے ۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏

ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10573

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔

دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

10574

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو -

ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

10575

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔

جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» [26-الشعراء:149] ‏ یعنی ” تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو “۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔

ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔

یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

10576

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ ، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ [ضعیف و منقطع] ‏

اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» [89-الفجر:14] ‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔

10577

تفسیر سورۃ الفجر:

نسائی شریف میں ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ایک شخص آیا اور جماعت میں شامل ہو گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز میں قرأت لمبی کی، اس نے مسجد کے ایک گوشے میں اپنی نماز پڑھ لی، پھر فارغ ہو کر چلا گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی یہ واقعہ معلوم ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر بطور شکایت یہ واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جوان کو بلا کر پوچھا تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! میں کیا کرتا میں ان کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا، انہوں نے لمبی قرأت شروع کی تو میں نے گھوم کر مسجد کے کونے میں اپنی نماز پڑھ لی پھر اپنی اونٹنی کو چارہ ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تو فتنے میں ڈالنے والا ہے تو ان سورتوں سے کہاں ہے؟ «سبح اسم ربك الأعلى»، «والشمس وضحاہا»، «والفجر»، «والليل إذا يغشى» ۔ [نسائي في السنن الكبري:11673،صحيح] ‏

شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔

چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ ۔ [صحیح بخاری:969] ‏

بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

10569

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے ۔ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏

10570

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6410] ‏

زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏“

یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔

قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» [51-الذاريات:49] ‏ یعنی ” ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو “ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔

ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔

ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10571

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔

جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» [81-التكوير:17-18] ‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» [25-الفرقان:22] ‏ تو فرماتا ہے کہ ” ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے “، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔

تو فرماتا ہے کہ ” کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے “۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» [69-الحاقہ:7-8] ‏۔

10572

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [89-الفجر:7] ‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» [7-الأعراف:69] ‏ الخ یعنی ” یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو “۔

اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏ یعنی ” عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے “۔

یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے ۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏

ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10573

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔

دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

10574

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو -

ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

10575

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔

جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» [26-الشعراء:149] ‏ یعنی ” تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو “۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔

ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔

یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

10576

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ ، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ [ضعیف و منقطع] ‏

اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» [89-الفجر:14] ‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔

10577

تفسیر سورۃ الفجر:

نسائی شریف میں ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ایک شخص آیا اور جماعت میں شامل ہو گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز میں قرأت لمبی کی، اس نے مسجد کے ایک گوشے میں اپنی نماز پڑھ لی، پھر فارغ ہو کر چلا گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی یہ واقعہ معلوم ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر بطور شکایت یہ واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جوان کو بلا کر پوچھا تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! میں کیا کرتا میں ان کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا، انہوں نے لمبی قرأت شروع کی تو میں نے گھوم کر مسجد کے کونے میں اپنی نماز پڑھ لی پھر اپنی اونٹنی کو چارہ ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تو فتنے میں ڈالنے والا ہے تو ان سورتوں سے کہاں ہے؟ «سبح اسم ربك الأعلى»، «والشمس وضحاہا»، «والفجر»، «والليل إذا يغشى» ۔ [نسائي في السنن الكبري:11673،صحيح] ‏

شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔

چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ ۔ [صحیح بخاری:969] ‏

بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

10569

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے ۔ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏

10570

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6410] ‏

زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏“

یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔

قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» [51-الذاريات:49] ‏ یعنی ” ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو “ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔

ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔

ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10571

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔

جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» [81-التكوير:17-18] ‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» [25-الفرقان:22] ‏ تو فرماتا ہے کہ ” ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے “، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔

تو فرماتا ہے کہ ” کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے “۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» [69-الحاقہ:7-8] ‏۔

10572

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [89-الفجر:7] ‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» [7-الأعراف:69] ‏ الخ یعنی ” یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو “۔

اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏ یعنی ” عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے “۔

یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے ۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏

ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10573

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔

دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

10574

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو -

ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

10575

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔

جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» [26-الشعراء:149] ‏ یعنی ” تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو “۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔

ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔

یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

10576

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ ، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ [ضعیف و منقطع] ‏

اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» [89-الفجر:14] ‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔

10577

تفسیر سورۃ الفجر:

نسائی شریف میں ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ایک شخص آیا اور جماعت میں شامل ہو گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز میں قرأت لمبی کی، اس نے مسجد کے ایک گوشے میں اپنی نماز پڑھ لی، پھر فارغ ہو کر چلا گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی یہ واقعہ معلوم ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر بطور شکایت یہ واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جوان کو بلا کر پوچھا تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! میں کیا کرتا میں ان کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا، انہوں نے لمبی قرأت شروع کی تو میں نے گھوم کر مسجد کے کونے میں اپنی نماز پڑھ لی پھر اپنی اونٹنی کو چارہ ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تو فتنے میں ڈالنے والا ہے تو ان سورتوں سے کہاں ہے؟ «سبح اسم ربك الأعلى»، «والشمس وضحاہا»، «والفجر»، «والليل إذا يغشى» ۔ [نسائي في السنن الكبري:11673،صحيح] ‏

شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔

چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ ۔ [صحیح بخاری:969] ‏

بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

10569

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے ۔ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏

10570

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6410] ‏

زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏“

یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔

قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» [51-الذاريات:49] ‏ یعنی ” ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو “ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔

ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔

ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10571

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔

جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» [81-التكوير:17-18] ‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» [25-الفرقان:22] ‏ تو فرماتا ہے کہ ” ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے “، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔

تو فرماتا ہے کہ ” کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے “۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» [69-الحاقہ:7-8] ‏۔

10572

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [89-الفجر:7] ‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» [7-الأعراف:69] ‏ الخ یعنی ” یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو “۔

اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏ یعنی ” عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے “۔

یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے ۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏

ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10573

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔

دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

10574

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو -

ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

10575

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔

جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» [26-الشعراء:149] ‏ یعنی ” تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو “۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔

ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔

یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

10576

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ ، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ [ضعیف و منقطع] ‏

اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» [89-الفجر:14] ‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔

10577

تفسیر سورۃ الفجر:

نسائی شریف میں ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ایک شخص آیا اور جماعت میں شامل ہو گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز میں قرأت لمبی کی، اس نے مسجد کے ایک گوشے میں اپنی نماز پڑھ لی، پھر فارغ ہو کر چلا گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی یہ واقعہ معلوم ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر بطور شکایت یہ واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جوان کو بلا کر پوچھا تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! میں کیا کرتا میں ان کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا، انہوں نے لمبی قرأت شروع کی تو میں نے گھوم کر مسجد کے کونے میں اپنی نماز پڑھ لی پھر اپنی اونٹنی کو چارہ ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تو فتنے میں ڈالنے والا ہے تو ان سورتوں سے کہاں ہے؟ «سبح اسم ربك الأعلى»، «والشمس وضحاہا»، «والفجر»، «والليل إذا يغشى» ۔ [نسائي في السنن الكبري:11673،صحيح] ‏

شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔

چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ ۔ [صحیح بخاری:969] ‏

بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

10569

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے ۔ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏

10570

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6410] ‏

زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏“

یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔

قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» [51-الذاريات:49] ‏ یعنی ” ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو “ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔

ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔

ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10571

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔

جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» [81-التكوير:17-18] ‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» [25-الفرقان:22] ‏ تو فرماتا ہے کہ ” ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے “، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔

تو فرماتا ہے کہ ” کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے “۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» [69-الحاقہ:7-8] ‏۔

10572

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [89-الفجر:7] ‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» [7-الأعراف:69] ‏ الخ یعنی ” یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو “۔

اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏ یعنی ” عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے “۔

یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے ۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏

ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10573

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔

دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

10574

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو -

ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

10575

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔

جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» [26-الشعراء:149] ‏ یعنی ” تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو “۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔

ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔

یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

10576

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ ، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ [ضعیف و منقطع] ‏

اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» [89-الفجر:14] ‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔

10577

تفسیر سورۃ الفجر:

نسائی شریف میں ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ایک شخص آیا اور جماعت میں شامل ہو گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز میں قرأت لمبی کی، اس نے مسجد کے ایک گوشے میں اپنی نماز پڑھ لی، پھر فارغ ہو کر چلا گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی یہ واقعہ معلوم ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر بطور شکایت یہ واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جوان کو بلا کر پوچھا تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! میں کیا کرتا میں ان کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا، انہوں نے لمبی قرأت شروع کی تو میں نے گھوم کر مسجد کے کونے میں اپنی نماز پڑھ لی پھر اپنی اونٹنی کو چارہ ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تو فتنے میں ڈالنے والا ہے تو ان سورتوں سے کہاں ہے؟ «سبح اسم ربك الأعلى»، «والشمس وضحاہا»، «والفجر»، «والليل إذا يغشى» ۔ [نسائي في السنن الكبري:11673،صحيح] ‏

شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔

چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ ۔ [صحیح بخاری:969] ‏

بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

10569

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے ۔ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏

10570

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6410] ‏

زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏“

یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔

قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» [51-الذاريات:49] ‏ یعنی ” ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو “ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔

ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔

ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10571

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔

جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» [81-التكوير:17-18] ‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» [25-الفرقان:22] ‏ تو فرماتا ہے کہ ” ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے “، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔

تو فرماتا ہے کہ ” کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے “۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» [69-الحاقہ:7-8] ‏۔

10572

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [89-الفجر:7] ‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» [7-الأعراف:69] ‏ الخ یعنی ” یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو “۔

اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏ یعنی ” عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے “۔

یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے ۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏

ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10573

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔

دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

10574

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو -

ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

10575

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔

جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» [26-الشعراء:149] ‏ یعنی ” تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو “۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔

ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔

یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

10576

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ ، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ [ضعیف و منقطع] ‏

اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» [89-الفجر:14] ‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔

10577

تفسیر سورۃ الفجر:

نسائی شریف میں ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ایک شخص آیا اور جماعت میں شامل ہو گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز میں قرأت لمبی کی، اس نے مسجد کے ایک گوشے میں اپنی نماز پڑھ لی، پھر فارغ ہو کر چلا گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی یہ واقعہ معلوم ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر بطور شکایت یہ واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جوان کو بلا کر پوچھا تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! میں کیا کرتا میں ان کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا، انہوں نے لمبی قرأت شروع کی تو میں نے گھوم کر مسجد کے کونے میں اپنی نماز پڑھ لی پھر اپنی اونٹنی کو چارہ ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تو فتنے میں ڈالنے والا ہے تو ان سورتوں سے کہاں ہے؟ «سبح اسم ربك الأعلى»، «والشمس وضحاہا»، «والفجر»، «والليل إذا يغشى» ۔ [نسائي في السنن الكبري:11673،صحيح] ‏

شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔

چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ ۔ [صحیح بخاری:969] ‏

بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

10569

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے ۔ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏

10570

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6410] ‏

زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏“

یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔

قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» [51-الذاريات:49] ‏ یعنی ” ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو “ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔

ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔

ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10571

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔

جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» [81-التكوير:17-18] ‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» [25-الفرقان:22] ‏ تو فرماتا ہے کہ ” ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے “، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔

تو فرماتا ہے کہ ” کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے “۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» [69-الحاقہ:7-8] ‏۔

10572

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [89-الفجر:7] ‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» [7-الأعراف:69] ‏ الخ یعنی ” یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو “۔

اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏ یعنی ” عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے “۔

یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے ۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏

ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10573

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔

دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

10574

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو -

ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

10575

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔

جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» [26-الشعراء:149] ‏ یعنی ” تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو “۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔

ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔

یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

10576

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ ، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ [ضعیف و منقطع] ‏

اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» [89-الفجر:14] ‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔

10577

تفسیر سورۃ الفجر:

نسائی شریف میں ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ایک شخص آیا اور جماعت میں شامل ہو گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز میں قرأت لمبی کی، اس نے مسجد کے ایک گوشے میں اپنی نماز پڑھ لی، پھر فارغ ہو کر چلا گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی یہ واقعہ معلوم ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر بطور شکایت یہ واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جوان کو بلا کر پوچھا تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! میں کیا کرتا میں ان کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا، انہوں نے لمبی قرأت شروع کی تو میں نے گھوم کر مسجد کے کونے میں اپنی نماز پڑھ لی پھر اپنی اونٹنی کو چارہ ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تو فتنے میں ڈالنے والا ہے تو ان سورتوں سے کہاں ہے؟ «سبح اسم ربك الأعلى»، «والشمس وضحاہا»، «والفجر»، «والليل إذا يغشى» ۔ [نسائي في السنن الكبري:11673،صحيح] ‏

شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔

چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ ۔ [صحیح بخاری:969] ‏

بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

10569

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے ۔ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏

10570

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6410] ‏

زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏“

یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔

قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» [51-الذاريات:49] ‏ یعنی ” ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو “ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔

ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔

ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10571

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔

جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» [81-التكوير:17-18] ‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» [25-الفرقان:22] ‏ تو فرماتا ہے کہ ” ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے “، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔

تو فرماتا ہے کہ ” کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے “۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» [69-الحاقہ:7-8] ‏۔

10572

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [89-الفجر:7] ‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» [7-الأعراف:69] ‏ الخ یعنی ” یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو “۔

اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏ یعنی ” عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے “۔

یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے ۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏

ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10573

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔

دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

10574

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو -

ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

10575

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔

جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» [26-الشعراء:149] ‏ یعنی ” تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو “۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔

ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔

یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

10576

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ ، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ [ضعیف و منقطع] ‏

اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» [89-الفجر:14] ‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔

10577

تفسیر سورۃ الفجر:

نسائی شریف میں ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ایک شخص آیا اور جماعت میں شامل ہو گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز میں قرأت لمبی کی، اس نے مسجد کے ایک گوشے میں اپنی نماز پڑھ لی، پھر فارغ ہو کر چلا گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی یہ واقعہ معلوم ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر بطور شکایت یہ واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جوان کو بلا کر پوچھا تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! میں کیا کرتا میں ان کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا، انہوں نے لمبی قرأت شروع کی تو میں نے گھوم کر مسجد کے کونے میں اپنی نماز پڑھ لی پھر اپنی اونٹنی کو چارہ ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تو فتنے میں ڈالنے والا ہے تو ان سورتوں سے کہاں ہے؟ «سبح اسم ربك الأعلى»، «والشمس وضحاہا»، «والفجر»، «والليل إذا يغشى» ۔ [نسائي في السنن الكبري:11673،صحيح] ‏

شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔

چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ ۔ [صحیح بخاری:969] ‏

بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

10569

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے ۔ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏

10570

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6410] ‏

زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏“

یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔

قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» [51-الذاريات:49] ‏ یعنی ” ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو “ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔

ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔

ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10571

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔

جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» [81-التكوير:17-18] ‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» [25-الفرقان:22] ‏ تو فرماتا ہے کہ ” ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے “، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔

تو فرماتا ہے کہ ” کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے “۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» [69-الحاقہ:7-8] ‏۔

10572

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [89-الفجر:7] ‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» [7-الأعراف:69] ‏ الخ یعنی ” یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو “۔

اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏ یعنی ” عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے “۔

یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے ۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏

ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10573

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔

دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

10574

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو -

ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

10575

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔

جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» [26-الشعراء:149] ‏ یعنی ” تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو “۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔

ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔

یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

10576

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ ، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ [ضعیف و منقطع] ‏

اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» [89-الفجر:14] ‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔

10577

تفسیر سورۃ الفجر:

نسائی شریف میں ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ایک شخص آیا اور جماعت میں شامل ہو گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز میں قرأت لمبی کی، اس نے مسجد کے ایک گوشے میں اپنی نماز پڑھ لی، پھر فارغ ہو کر چلا گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی یہ واقعہ معلوم ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر بطور شکایت یہ واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جوان کو بلا کر پوچھا تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! میں کیا کرتا میں ان کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا، انہوں نے لمبی قرأت شروع کی تو میں نے گھوم کر مسجد کے کونے میں اپنی نماز پڑھ لی پھر اپنی اونٹنی کو چارہ ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تو فتنے میں ڈالنے والا ہے تو ان سورتوں سے کہاں ہے؟ «سبح اسم ربك الأعلى»، «والشمس وضحاہا»، «والفجر»، «والليل إذا يغشى» ۔ [نسائي في السنن الكبري:11673،صحيح] ‏

شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ ٭٭

«فجر» تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔

چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھا: اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں؟، فرمایا: ”یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا“ ۔ [صحیح بخاری:969] ‏

بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں۔

10569

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں۔

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «عَشَرُ» سے مراد عید الاضحی کے دس دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے اور «شَّفْعُ» سے مراد قربانی کا دن ہے ۔ [مسند احمد:327/3:مرفوعاً ضعیف] ‏ اس کی اسناد میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«وَتْرُ» سے مراد عرفے کا دن ہے یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو «شَّفْعُ» سے مراد دسویں تاریخ یعنی بقر عید کا دن ہے وہ طاق ہے یہ جفت ہے واصل بن سائب رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا «وَتْرُ» سے مراد یہی وتر نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، «شَّفْعُ» عرفہ کا دن ہے اور «وَتْرُ» عید الاضحی کی رات ہے۔

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «شَّفْعُ» کیا ہے اور «وَتْرُ» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو دو دن کا ذکر ہے وہ «شَّفْعُ» ہے اور «وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» [2-البقرة:203] ‏ میں جو ایک دن ہے وہ «وَتْرُ» ہے یعنی گیارہویں، بارہویں ذی الحجہ کی «شَّفْعُ» اور تیرھویں «وَتْرُ» ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایام تشریق کا درمیانی دن «شَّفْعُ» ہے اور آخری دن «وَتْرُ» ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37102:ضعیف] ‏

10570

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے وہ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6410] ‏

زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد تمام مخلوق ہے اس میں «شَّفْعُ» بھی ہے اور «وَتْرُ» بھی۔‏“

یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخلوق «شَّفْعُ» اور اللہ «وَتْرُ» ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» صبح کی نماز ہے اور «وَتْرُ» مغرب کی نماز ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد جوڑ جوڑ اور «وَتْرُ» سے مراد اللہ عزوجل جیسے آسمان، زمین، تری، خشکی، جن، انس، سورج، چاند وغیرہ۔

قرآن میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» [51-الذاريات:49] ‏ یعنی ” ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کر لو “ یعنی جان لو کہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔

ایک حدیث میں ہے کہ «شَّفْعُ» سے مراد دو دن ہیں اور «وَتْرُ» سے مراد تیسرا دن ہے۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں «شَّفْعُ» ہے جیسے صبح کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور وتر ہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جو دن کے «وَتْرُ» ہیں اور اسی طرح آخری رات کا «وَتْرُ» ۔

ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرض نماز مروی ہے لیکن یہ مرفوع حدیث نہیں۔ زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ [مسند احمد:437/4:ضعیف] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10571

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان آٹھ نو اقوال میں سے کسی کو فیصل قرار نہیں دیا۔ پھر فرماتا ہے رات کی قسم جب جانے لگے اور یہ بھی معنی کیے گئے ہیں کہ جب آنے لگے بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اور «وَالْفَجْرِ» سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ «فجر» کہتے ہیں رات کے جانے کو اور دن کے آنے کو تو یہاں رات کا آنا اور دن کا جانا مراد ہو گا۔

جیسے آیت «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» * «وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ» [81-التكوير:17-18] ‏ میں عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مزدلفہ کی رات ہے «حِجْرٍ» سے مراد عقل ہے، «حِجْرٍ» کہتے ہیں روک کو چونکہ عقل بھی غلط کاریوں اور جھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حطیم کو بھی «حجر البیت» اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ طواف کرنے والے کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوار سے روک دیتا ہے اسی سے ماخوذ ہے «حِجْرُ الْيَمَامَةِ» اور اسی لیے عرب کہتے ہیں «وَحَجَرَ الْحَاكِمُ عَلَى فُلَانٍ» جبکہ کسی شخص کو بادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیں کہ «وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا» [25-الفرقان:22] ‏ تو فرماتا ہے کہ ” ان میں عقلمندوں کے لیے قابل عبرت قسم ہے “، کہیں تو قسمیں ہیں عبادتوں کی کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کا قرب اور اس کی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی پستی اور خود فراموشی ظاہر کرتے ہیں جب ان پرہیزگار نیک کار لوگوں کا اور ان کی عاجزی و تواضع خشوع و خضوع کا ذکر کیا تو اب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اور بدکار لوگ ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔

تو فرماتا ہے کہ ” کیا تم نے نہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو غارت کر دیا جو کہ سرکش اور متکبر تھے، اللہ کی نافرمانی کرتے، رسول کی تکذیب کرتے اور بدیوں پر جھک پڑتے تھے ان میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام آئے تھے “۔ یہ عاد اولیٰ ہیں جو عاد بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمانداروں کو تو نجات دے دی اور باقی بےایمانوں کو تیز و تند اور ہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا۔ سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اور یہ سارے کے سارے اس طرح غارت ہو گئے کہ ان کے سر الگ تھے اور دھڑ الگ تھے ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا جس کا مفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ سورة الحاقہ میں بھی یہ بیان ہے «سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ» * «فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ» [69-الحاقہ:7-8] ‏۔

10572

«إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [89-الفجر:7] ‏ یہ عاد کی تفسیر بطور عطف بیان کے ہے تاکہ بخوبی وضاحت ہو جائے، یہ لوگ مضبوط اور بلند ستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اور اپنے زمانے مکے اور لوگوں سے بہت بڑے تن و توش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لیے ہود علیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا «وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّـهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» [7-الأعراف:69] ‏ الخ یعنی ” یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر خلیفہ بنایا ہے اور تمہیں جسمانی قوت پوری طرح دی، تمہیں چاہیئے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فسادی بن کر نہ رہو “۔

اور جگہ ہے کہ «فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏ یعنی ” عادیوں نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور بول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اور کون ہے؟ کیا وہ بھول گئے کہ ان کا پیدا کرنے والا ان سے بہت ہی زبردست اور طاقت و قوت والا ہے “۔

یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتور اور شہروں میں نہ تھے بڑے طویل القامت قوی الجثہ تھے، ارم ان کا دار السلطنت تھا۔ انہیں ستونوں والے کہا جاتا تھا اس لیے بھی کہ یہ لوگ بہت دراز قد تھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے۔ «مِثْلُهَا» کی ضمیر کا مرجع «عِمَادِ» بتایا گیا ہے ان جیسے اور شہروں میں نہ تھے یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اور بعض نے ضمیر کا مرجع قبیلہ بتایا ہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اور شہروں میں نہ تھے اور یہی قول ٹھیک ہے اور اگلا قول ضعیف ہے اسی لیے بھی کہ یہی مراد ہوتی تو «لَمْ یَجْعَلٌ» کہا جاتا نہ کہ «لَمْ يُخْلَقْ» ۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں اس قدر زور و طاقت تھی کہ ان میں سے کوئی اٹھتا اور اور ایک بڑی ساری چٹان لے کر کسی قبیلے پر پھینک دیتا تو بیچارے سب کے سب دب کر مر جاتے ۔ [الدر المنثور للسیوطی:583/6:ضعیف] ‏

ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ورق پر یہ لکھا ہوا پڑھا ہے کہ میں شداد بن عاد ہوں، میں نے ستون بلند کیے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، میں نے سات ذرائع کے خزانے جمع کیے ہیں، جو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اور مضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہو کہ وہ بلند و بالا ستونوں والے تھے یا یوں کہو کہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یا یوں کہو لمبے لمبے قد والے مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آ چکا ہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کا دونوں کا ذکر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10573

بعض حضرات نے یہ بھی کہا کہ «إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» ایک شہر ہے یا تو دمشق یا اسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ عبارت کا ٹھیک مطلب نہیں بنتا کیونکہ یا تو یہ بدل ہو سکتا ہے یا عطف بیان۔

دوسرے اس لیے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصود ہے کہ ہر ایک سرکش قبیلے کو اللہ نے برباد کیا جن کا نام عادی تھا، نہ کہ کسی شہر کو میں نے اس بات کو یہاں اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیر کی ہے کہ ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑے وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہر کا نام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی اس کے مکانات، باغات وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں کنکر لولو اور جواہر ہیں، مٹی مشک ہے نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیار ہیں، کوئی رہنے سہنے والا نہیں ہے، در و دیوار خالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والا بھی نہیں، یہ شہر جگہ بدلتا رہتا ہے کبھی شام میں، کبھی یمن میں، کبھی عراق میں، کبھی کہیں، کبھی کہیں، وغیرہ یہ سب خرافات بنو اسرائیل کی ہیں ان کے بددینوں نے یہ خود ساختہ روایت تیار کی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔ ثعلبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گمشدہ اونٹوں کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کا ایک شہر دیکھا اور اس میں گیا، گھوما پھرا، پھر لوگوں سے آ کر ذکر کیا لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظر نہ آیا۔

10574

ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کیے ہیں یہ حکایت بھی صحیح نہیں اور اگر یہ اعرابی والا قصہ سنداً صحیح مان لیں تو ممکن ہے کہ اسے ہوس اور خیال ہو اور اپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جما لیا ہو اور خیالات کی پختگی اور عقل کی کمی نے اسے یقین دلایا ہو کہ وہ صحیح طور پر یہی دیکھ رہا ہے اور فی الواقع یوں نہ ہو -

ٹھیک اسی طرح جو جاہل حریص اور خیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اور قسم قسم کے جواہر یاقوت لولو اور موتی ہیں اکسیر کبیر ہے لیکن ایسے چند موانع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھا بیٹھا ہے کسی جن کا پہرہ ہے وغیرہ یہ سب فضول قصے اور بناوٹی باتیں ہیں انہیں گھڑ گھڑا کر بیوقوفوں اور مال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لیے مکاروں نے مشہور کر رکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی بخور کے بہانے سے، کبھی کسی اور طرح سے، ان سے یہ مکار روپے وصول کر لیتے ہیں اور اپنا پیٹ پالتے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین میں سے جاہلیت کے زمانے کا یا مسلمانوں کے زمانے کا کسی کا گاڑا ہوا مال نکل آئے تو اس کا پتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے نہ وہاں کوئی مار گنج ہوتا ہے، نہ کوئی دیو، بھوت، جن، پری جس طرح ان لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے یہ بالکل غیر صحیح ہے یہ ایسے ہی لوگوں کی خود ساختہ بات ہے یا ان جیسے ہی لوگوں سے سنی سنائی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیک سمجھ دے۔

10575

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مراد ہو اور ممکن ہے شہر مراد و لیکن ٹھیک نہیں، یہاں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قوم کا ذکر ہے نہ کہ شہر کا، اسی لیے اس کے بعد ہی ثمودیوں کا ذکر کیا کہ وہ ثمودی جو پتھروں کو تراش لیا کرتے تھے۔

جیسے اور جگہ ہے «وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ» [26-الشعراء:149] ‏ یعنی ” تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیا کرتے ہو “۔ اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں، عربی شعر بھی ہیں۔

ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے وادی القری میں رہتے تھے عادیوں کا قصہ پورا پورا سورۃ الاعراف میں ہم بیان کر چکے ہیں، اب اعادہ کی ضرورت نہیں، پھر فرمایا: میخوں والا فرعون، «أَوْتَادُ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لشکروں کے کیے ہیں جو کہ اس کے کاموں کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔

یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑوا کر مروا ڈالتا تھا، چورنگ کر کے اوپر سے بڑا پتھر پھینکتا تھا جس سے اس کا کچومر نکل جاتا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اور میخوں وغیرہ سے اس کے سامنے کھیل کیے جاتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہو گئی تھیں لٹا کر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں پھر بڑا سا چکی کا پتھر ان کی پیٹھ پر مار کر جان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اور فسادی لوگ تھے، لوگوں کو حقیر و ذلیل جانتے تھے اور ہر ایک کو ایذاء پہنچاتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برس پڑا۔ وہ وبال آیا جو ٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباد اور نیست و نابود ہو گئے، تیرا رب گھات میں ہے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سمجھ رہا ہے، وقت مقررہ پر ہر برے بھلے کو نیکی، بدی کی جزاء سزا دے گا یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہا اس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گا اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق تھا وہ ظلم و جور سے پاک ہے۔

10576

یہاں ابن ابی حاتم نے ایک حدیث وارد کی ہے جو بہت غریب ہے جس کی سند میں کلام ہے اور صحت میں بھی نظر ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! مومن حق کا قیدی ہے، اے معاذ! مومن تو امید وہم کی حالت میں ہی رہتا ہے، جب تک کہ پل صراط سے پار نہ ہو جائے۔ اے معاذ! مومن کو قرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھا ہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے، خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ہے، روزہ اس کی ڈھال ہے، صدقہ اس کا چھٹکارا ہے، سچائی اس کی امیر ہے، شرم اس کا وزیر ہے اور اس کا رب ان سب کے بعد اس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیز تیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہے“ ، اس کے راوی یونس حذاء اور ابوحمزہ مجہول ہیں پھر اس میں ارسال بھی ہے ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کا کلام ہو۔ [ضعیف و منقطع] ‏

اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہا: لوگو! جہنم کے سات پل ہیں ان سب پر پل صراط ہے پہلے ہی پل پر لوگ روکے جائیں گے یہاں نماز کا حساب کتاب ہو گا یہاں سے نجات مل گئی تو دوسرے پل پر روک ہو گی، یہاں امانتداری کا سوال ہو گا جو امانت دار ہو گا اس نے نجات پائی اور جو خیانت والا نکلا ہلاک ہوا، تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہو گی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پا سکیں گے اور ہلاک ہوں گے رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجود ہو گی اور یہ کہہ رہی ہو گی کہ اللہ جس نے مجھے جوڑا تو اسے جوڑ اور جس نے مجھے توڑا تو اسے توڑ یہی معنی ہیں «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» [89-الفجر:14] ‏ یہ اثر اتنا ہی ہے پورا نہیں۔

10577

وسعت رزق کو اکرام نہ سمجھو بلکہ امتحان سمجھو ٭٭

مطلب یہ ہے کہ جو لوگ وسعت اور کشادگی پا کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے ان کا اکرام کیا یہ غلط ہے بلکہ دراصل یہ امتحان ہے جیسے اور جگہ ہے «أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ» * «نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:55-56] ‏ الخ یعنی ” مال و اولاد کے بڑھ جانے کو یہ لوگ نیکیوں کی زیادتی سمجھتے ہیں دراصل یہ ان کی بےسمجھی ہے “۔

اسی طرح اس کے برعکس بھی یعنی تنگ ترشی کو انسان اپنی اہانت سمجھ بیٹھتا ہے حالانکہ دراصل یہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اسی لیے یہاں «كَلَّا» کہہ کر ان دونوں خیالات کی تردید کی کہ یہ واقعہ نہیں جسے اللہ مال کی وسعت دے اس سے وہ خوش ہے اور جس میں تنگی کرے اس سے ناخوش ہے بلکہ خوشی اور ناخوشی کا مدار ان دونوں حالتوں میں عمل پر ہے غنی ہو کر شکر گزاری کرے تو اللہ کا محبوب اور فقیر ہو کر صبر کرے تو اللہ کا محبوب اللہ تعالیٰ اس طرح اور اس طرح آزماتا ہے۔

پھر یتیم کی عزت کرنے کا حکم دیا، حدیث میں ہے کہ سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کی اچھی پرورش ہو رہی ہو اور بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس سے بدسلوکی کی جاتی ہو پھر آپ نے انگلی اٹھا کر فرمایا: ”میں اور یتیم کو پالنے والا جنت میں ایسے ہوں گے یعنی قریب قریب“ ۔ [سنن ابن ماجہ:3679:ضعیف] ‏

10591

ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ کلمہ کی اور بیچ کی انگلی ملا کر انہیں دکھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یتیم کا پالنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے“ [صحیح بخاری:6005] ‏

پھر فرمایا کہ یہ لوگ فقیروں اور مسکینوں کے ساتھ احسان کرنے، انہیں کھانا پینا دینے کی، ایک دوسرے کو رغبت و لالچ نہیں دلاتے اور یہ عیب بھی ان میں ہے کہ میراث کا مال حلال ہو یا حرام ہضم کر جاتے ہیں اور مال کی محبت بھی ان میں بے حد ہے۔

10592

وسعت رزق کو اکرام نہ سمجھو بلکہ امتحان سمجھو ٭٭

مطلب یہ ہے کہ جو لوگ وسعت اور کشادگی پا کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے ان کا اکرام کیا یہ غلط ہے بلکہ دراصل یہ امتحان ہے جیسے اور جگہ ہے «أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ» * «نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:55-56] ‏ الخ یعنی ” مال و اولاد کے بڑھ جانے کو یہ لوگ نیکیوں کی زیادتی سمجھتے ہیں دراصل یہ ان کی بےسمجھی ہے “۔

اسی طرح اس کے برعکس بھی یعنی تنگ ترشی کو انسان اپنی اہانت سمجھ بیٹھتا ہے حالانکہ دراصل یہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اسی لیے یہاں «كَلَّا» کہہ کر ان دونوں خیالات کی تردید کی کہ یہ واقعہ نہیں جسے اللہ مال کی وسعت دے اس سے وہ خوش ہے اور جس میں تنگی کرے اس سے ناخوش ہے بلکہ خوشی اور ناخوشی کا مدار ان دونوں حالتوں میں عمل پر ہے غنی ہو کر شکر گزاری کرے تو اللہ کا محبوب اور فقیر ہو کر صبر کرے تو اللہ کا محبوب اللہ تعالیٰ اس طرح اور اس طرح آزماتا ہے۔

پھر یتیم کی عزت کرنے کا حکم دیا، حدیث میں ہے کہ سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کی اچھی پرورش ہو رہی ہو اور بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس سے بدسلوکی کی جاتی ہو پھر آپ نے انگلی اٹھا کر فرمایا: ”میں اور یتیم کو پالنے والا جنت میں ایسے ہوں گے یعنی قریب قریب“ ۔ [سنن ابن ماجہ:3679:ضعیف] ‏

10591

ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ کلمہ کی اور بیچ کی انگلی ملا کر انہیں دکھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یتیم کا پالنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے“ [صحیح بخاری:6005] ‏

پھر فرمایا کہ یہ لوگ فقیروں اور مسکینوں کے ساتھ احسان کرنے، انہیں کھانا پینا دینے کی، ایک دوسرے کو رغبت و لالچ نہیں دلاتے اور یہ عیب بھی ان میں ہے کہ میراث کا مال حلال ہو یا حرام ہضم کر جاتے ہیں اور مال کی محبت بھی ان میں بے حد ہے۔

10592

وسعت رزق کو اکرام نہ سمجھو بلکہ امتحان سمجھو ٭٭

مطلب یہ ہے کہ جو لوگ وسعت اور کشادگی پا کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے ان کا اکرام کیا یہ غلط ہے بلکہ دراصل یہ امتحان ہے جیسے اور جگہ ہے «أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ» * «نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:55-56] ‏ الخ یعنی ” مال و اولاد کے بڑھ جانے کو یہ لوگ نیکیوں کی زیادتی سمجھتے ہیں دراصل یہ ان کی بےسمجھی ہے “۔

اسی طرح اس کے برعکس بھی یعنی تنگ ترشی کو انسان اپنی اہانت سمجھ بیٹھتا ہے حالانکہ دراصل یہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اسی لیے یہاں «كَلَّا» کہہ کر ان دونوں خیالات کی تردید کی کہ یہ واقعہ نہیں جسے اللہ مال کی وسعت دے اس سے وہ خوش ہے اور جس میں تنگی کرے اس سے ناخوش ہے بلکہ خوشی اور ناخوشی کا مدار ان دونوں حالتوں میں عمل پر ہے غنی ہو کر شکر گزاری کرے تو اللہ کا محبوب اور فقیر ہو کر صبر کرے تو اللہ کا محبوب اللہ تعالیٰ اس طرح اور اس طرح آزماتا ہے۔

پھر یتیم کی عزت کرنے کا حکم دیا، حدیث میں ہے کہ سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کی اچھی پرورش ہو رہی ہو اور بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس سے بدسلوکی کی جاتی ہو پھر آپ نے انگلی اٹھا کر فرمایا: ”میں اور یتیم کو پالنے والا جنت میں ایسے ہوں گے یعنی قریب قریب“ ۔ [سنن ابن ماجہ:3679:ضعیف] ‏

10591

ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ کلمہ کی اور بیچ کی انگلی ملا کر انہیں دکھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یتیم کا پالنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے“ [صحیح بخاری:6005] ‏

پھر فرمایا کہ یہ لوگ فقیروں اور مسکینوں کے ساتھ احسان کرنے، انہیں کھانا پینا دینے کی، ایک دوسرے کو رغبت و لالچ نہیں دلاتے اور یہ عیب بھی ان میں ہے کہ میراث کا مال حلال ہو یا حرام ہضم کر جاتے ہیں اور مال کی محبت بھی ان میں بے حد ہے۔

10592

وسعت رزق کو اکرام نہ سمجھو بلکہ امتحان سمجھو ٭٭

مطلب یہ ہے کہ جو لوگ وسعت اور کشادگی پا کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے ان کا اکرام کیا یہ غلط ہے بلکہ دراصل یہ امتحان ہے جیسے اور جگہ ہے «أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ» * «نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:55-56] ‏ الخ یعنی ” مال و اولاد کے بڑھ جانے کو یہ لوگ نیکیوں کی زیادتی سمجھتے ہیں دراصل یہ ان کی بےسمجھی ہے “۔

اسی طرح اس کے برعکس بھی یعنی تنگ ترشی کو انسان اپنی اہانت سمجھ بیٹھتا ہے حالانکہ دراصل یہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اسی لیے یہاں «كَلَّا» کہہ کر ان دونوں خیالات کی تردید کی کہ یہ واقعہ نہیں جسے اللہ مال کی وسعت دے اس سے وہ خوش ہے اور جس میں تنگی کرے اس سے ناخوش ہے بلکہ خوشی اور ناخوشی کا مدار ان دونوں حالتوں میں عمل پر ہے غنی ہو کر شکر گزاری کرے تو اللہ کا محبوب اور فقیر ہو کر صبر کرے تو اللہ کا محبوب اللہ تعالیٰ اس طرح اور اس طرح آزماتا ہے۔

پھر یتیم کی عزت کرنے کا حکم دیا، حدیث میں ہے کہ سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کی اچھی پرورش ہو رہی ہو اور بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس سے بدسلوکی کی جاتی ہو پھر آپ نے انگلی اٹھا کر فرمایا: ”میں اور یتیم کو پالنے والا جنت میں ایسے ہوں گے یعنی قریب قریب“ ۔ [سنن ابن ماجہ:3679:ضعیف] ‏

10591

ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ کلمہ کی اور بیچ کی انگلی ملا کر انہیں دکھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یتیم کا پالنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے“ [صحیح بخاری:6005] ‏

پھر فرمایا کہ یہ لوگ فقیروں اور مسکینوں کے ساتھ احسان کرنے، انہیں کھانا پینا دینے کی، ایک دوسرے کو رغبت و لالچ نہیں دلاتے اور یہ عیب بھی ان میں ہے کہ میراث کا مال حلال ہو یا حرام ہضم کر جاتے ہیں اور مال کی محبت بھی ان میں بے حد ہے۔

10592

وسعت رزق کو اکرام نہ سمجھو بلکہ امتحان سمجھو ٭٭

مطلب یہ ہے کہ جو لوگ وسعت اور کشادگی پا کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے ان کا اکرام کیا یہ غلط ہے بلکہ دراصل یہ امتحان ہے جیسے اور جگہ ہے «أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ» * «نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:55-56] ‏ الخ یعنی ” مال و اولاد کے بڑھ جانے کو یہ لوگ نیکیوں کی زیادتی سمجھتے ہیں دراصل یہ ان کی بےسمجھی ہے “۔

اسی طرح اس کے برعکس بھی یعنی تنگ ترشی کو انسان اپنی اہانت سمجھ بیٹھتا ہے حالانکہ دراصل یہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اسی لیے یہاں «كَلَّا» کہہ کر ان دونوں خیالات کی تردید کی کہ یہ واقعہ نہیں جسے اللہ مال کی وسعت دے اس سے وہ خوش ہے اور جس میں تنگی کرے اس سے ناخوش ہے بلکہ خوشی اور ناخوشی کا مدار ان دونوں حالتوں میں عمل پر ہے غنی ہو کر شکر گزاری کرے تو اللہ کا محبوب اور فقیر ہو کر صبر کرے تو اللہ کا محبوب اللہ تعالیٰ اس طرح اور اس طرح آزماتا ہے۔

پھر یتیم کی عزت کرنے کا حکم دیا، حدیث میں ہے کہ سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کی اچھی پرورش ہو رہی ہو اور بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس سے بدسلوکی کی جاتی ہو پھر آپ نے انگلی اٹھا کر فرمایا: ”میں اور یتیم کو پالنے والا جنت میں ایسے ہوں گے یعنی قریب قریب“ ۔ [سنن ابن ماجہ:3679:ضعیف] ‏

10591

ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ کلمہ کی اور بیچ کی انگلی ملا کر انہیں دکھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یتیم کا پالنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے“ [صحیح بخاری:6005] ‏

پھر فرمایا کہ یہ لوگ فقیروں اور مسکینوں کے ساتھ احسان کرنے، انہیں کھانا پینا دینے کی، ایک دوسرے کو رغبت و لالچ نہیں دلاتے اور یہ عیب بھی ان میں ہے کہ میراث کا مال حلال ہو یا حرام ہضم کر جاتے ہیں اور مال کی محبت بھی ان میں بے حد ہے۔

10592

وسعت رزق کو اکرام نہ سمجھو بلکہ امتحان سمجھو ٭٭

مطلب یہ ہے کہ جو لوگ وسعت اور کشادگی پا کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے ان کا اکرام کیا یہ غلط ہے بلکہ دراصل یہ امتحان ہے جیسے اور جگہ ہے «أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ» * «نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:55-56] ‏ الخ یعنی ” مال و اولاد کے بڑھ جانے کو یہ لوگ نیکیوں کی زیادتی سمجھتے ہیں دراصل یہ ان کی بےسمجھی ہے “۔

اسی طرح اس کے برعکس بھی یعنی تنگ ترشی کو انسان اپنی اہانت سمجھ بیٹھتا ہے حالانکہ دراصل یہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اسی لیے یہاں «كَلَّا» کہہ کر ان دونوں خیالات کی تردید کی کہ یہ واقعہ نہیں جسے اللہ مال کی وسعت دے اس سے وہ خوش ہے اور جس میں تنگی کرے اس سے ناخوش ہے بلکہ خوشی اور ناخوشی کا مدار ان دونوں حالتوں میں عمل پر ہے غنی ہو کر شکر گزاری کرے تو اللہ کا محبوب اور فقیر ہو کر صبر کرے تو اللہ کا محبوب اللہ تعالیٰ اس طرح اور اس طرح آزماتا ہے۔

پھر یتیم کی عزت کرنے کا حکم دیا، حدیث میں ہے کہ سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کی اچھی پرورش ہو رہی ہو اور بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس سے بدسلوکی کی جاتی ہو پھر آپ نے انگلی اٹھا کر فرمایا: ”میں اور یتیم کو پالنے والا جنت میں ایسے ہوں گے یعنی قریب قریب“ ۔ [سنن ابن ماجہ:3679:ضعیف] ‏

10591

ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ کلمہ کی اور بیچ کی انگلی ملا کر انہیں دکھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یتیم کا پالنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے“ [صحیح بخاری:6005] ‏

پھر فرمایا کہ یہ لوگ فقیروں اور مسکینوں کے ساتھ احسان کرنے، انہیں کھانا پینا دینے کی، ایک دوسرے کو رغبت و لالچ نہیں دلاتے اور یہ عیب بھی ان میں ہے کہ میراث کا مال حلال ہو یا حرام ہضم کر جاتے ہیں اور مال کی محبت بھی ان میں بے حد ہے۔

10592

سجدوں کی برکتیں ٭٭

قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ” بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا “۔

یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏“

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔

10598

صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ ۔ [صحیح مسلم:2842] ‏

یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ ۔ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے “۔

یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ” تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔

10599

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔

یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ” اے روح میرے بندے میں “ یعنی ” اس کے جسم میں چلی جا “، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» [6-الأنعام:62] ‏ یعنی ” پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے “۔

اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» [40-غافر:43] ‏ یعنی ” ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے “۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ ۔ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏

دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏

10600

ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔

ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» [89-الفجر:27-30] ‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔

ابن عساکر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ ۔ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏

سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

10601

سجدوں کی برکتیں ٭٭

قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ” بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا “۔

یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏“

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔

10598

صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ ۔ [صحیح مسلم:2842] ‏

یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ ۔ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے “۔

یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ” تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔

10599

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔

یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ” اے روح میرے بندے میں “ یعنی ” اس کے جسم میں چلی جا “، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» [6-الأنعام:62] ‏ یعنی ” پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے “۔

اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» [40-غافر:43] ‏ یعنی ” ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے “۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ ۔ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏

دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏

10600

ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔

ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» [89-الفجر:27-30] ‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔

ابن عساکر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ ۔ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏

سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

10601

سجدوں کی برکتیں ٭٭

قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ” بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا “۔

یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏“

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔

10598

صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ ۔ [صحیح مسلم:2842] ‏

یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ ۔ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے “۔

یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ” تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔

10599

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔

یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ” اے روح میرے بندے میں “ یعنی ” اس کے جسم میں چلی جا “، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» [6-الأنعام:62] ‏ یعنی ” پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے “۔

اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» [40-غافر:43] ‏ یعنی ” ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے “۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ ۔ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏

دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏

10600

ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔

ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» [89-الفجر:27-30] ‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔

ابن عساکر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ ۔ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏

سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

10601

سجدوں کی برکتیں ٭٭

قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ” بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا “۔

یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏“

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔

10598

صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ ۔ [صحیح مسلم:2842] ‏

یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ ۔ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے “۔

یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ” تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔

10599

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔

یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ” اے روح میرے بندے میں “ یعنی ” اس کے جسم میں چلی جا “، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» [6-الأنعام:62] ‏ یعنی ” پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے “۔

اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» [40-غافر:43] ‏ یعنی ” ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے “۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ ۔ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏

دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏

10600

ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔

ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» [89-الفجر:27-30] ‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔

ابن عساکر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ ۔ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏

سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

10601

سجدوں کی برکتیں ٭٭

قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ” بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا “۔

یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏“

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔

10598

صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ ۔ [صحیح مسلم:2842] ‏

یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ ۔ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے “۔

یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ” تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔

10599

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔

یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ” اے روح میرے بندے میں “ یعنی ” اس کے جسم میں چلی جا “، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» [6-الأنعام:62] ‏ یعنی ” پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے “۔

اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» [40-غافر:43] ‏ یعنی ” ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے “۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ ۔ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏

دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏

10600

ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔

ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» [89-الفجر:27-30] ‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔

ابن عساکر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ ۔ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏

سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

10601

سجدوں کی برکتیں ٭٭

قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ” بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا “۔

یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏“

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔

10598

صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ ۔ [صحیح مسلم:2842] ‏

یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ ۔ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے “۔

یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ” تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔

10599

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔

یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ” اے روح میرے بندے میں “ یعنی ” اس کے جسم میں چلی جا “، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» [6-الأنعام:62] ‏ یعنی ” پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے “۔

اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» [40-غافر:43] ‏ یعنی ” ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے “۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ ۔ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏

دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏

10600

ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔

ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» [89-الفجر:27-30] ‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔

ابن عساکر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ ۔ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏

سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

10601

سجدوں کی برکتیں ٭٭

قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ” بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا “۔

یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏“

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔

10598

صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ ۔ [صحیح مسلم:2842] ‏

یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ ۔ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے “۔

یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ” تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔

10599

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔

یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ” اے روح میرے بندے میں “ یعنی ” اس کے جسم میں چلی جا “، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» [6-الأنعام:62] ‏ یعنی ” پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے “۔

اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» [40-غافر:43] ‏ یعنی ” ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے “۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ ۔ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏

دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏

10600

ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔

ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» [89-الفجر:27-30] ‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔

ابن عساکر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ ۔ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏

سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

10601

سجدوں کی برکتیں ٭٭

قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ” بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا “۔

یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏“

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔

10598

صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ ۔ [صحیح مسلم:2842] ‏

یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ ۔ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے “۔

یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ” تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔

10599

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔

یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ” اے روح میرے بندے میں “ یعنی ” اس کے جسم میں چلی جا “، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» [6-الأنعام:62] ‏ یعنی ” پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے “۔

اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» [40-غافر:43] ‏ یعنی ” ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے “۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ ۔ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏

دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏

10600

ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔

ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» [89-الفجر:27-30] ‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔

ابن عساکر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ ۔ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏

سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

10601

سجدوں کی برکتیں ٭٭

قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ” بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا “۔

یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏“

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔

10598

صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ ۔ [صحیح مسلم:2842] ‏

یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ ۔ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے “۔

یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ” تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔

10599

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔

یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ” اے روح میرے بندے میں “ یعنی ” اس کے جسم میں چلی جا “، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» [6-الأنعام:62] ‏ یعنی ” پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے “۔

اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» [40-غافر:43] ‏ یعنی ” ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے “۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ ۔ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏

دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏

10600

ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔

ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» [89-الفجر:27-30] ‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔

ابن عساکر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ ۔ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏

سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

10601

سجدوں کی برکتیں ٭٭

قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ ” بالیقین اس دن زمین پست کر دی جائے گی اونچی نیچی زمین برابر کر دی جائے گی اور بالکل صاف ہموار ہو جائے گی پہاڑ زمین کے برابر کر دئیے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آ جائے گا “۔

یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی اور یہ شفاعت اس وقت ہو گی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر علیہ السلام کے پاس ہو آئے گی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں، پھر سب کے سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ”ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں۔‏“

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور اللہ کے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگار لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے تشریف لائے یہی پہلی شفاعت ہے اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا مفصل بیان سورۃ سبحان میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین فیصلے کے لیے تشریف لائے گا اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتا ہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے جہنم بھی لائی جائے گی۔

10598

صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جہنم کی اس روز ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے گھسیٹ رہے ہوں گے“ ۔ [صحیح مسلم:2842] ‏

یہی روایت خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کو یاد کرنے لگے گا، برائیوں پر پچھتائے گا نیکیوں کے نہ کرنے یا کم کرنے پر افسوس کرے گا، گناہوں پر نادم ہو گا۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر کوئی بندہ اپنے پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک سجدے میں پڑا رہے اور اللہ کا پورا اطاعت گزار رہے پھر بھی اپنی اس عبادت کو قیامت کے دن حقیر اور ناچیز سمجھے گا اور چاہے گا کہ اگر میں دنیا کی طرف لوٹایا جاؤں تو اجر و ثواب کے کام اور زیادہ کروں“ ۔ [مسند احمد:185/4:صحیح] ‏

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی اور کا نہ ہو گا۔ جو وہ اپنے نافرمان اور نافرجام بندوں کو کرے گا، نہ اس جیسی زبردست پکڑ اور قید و بند کسی کی ہو سکتی ہے، زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اور ہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے “۔

یہ تو ہوا بدبختوں کا انجام، اب نیک بختوں کا حال سنئے جو روحیں سکون اور اطمینان والی ہیں پاک اور ثابت ہیں حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اور قبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف، اس کے پڑوس کی طرف، اس کے ثواب اور اجر کی طرف، اس کی جنت اور رضا مندی کی طرف لوٹ چل، یہ اللہ سے خوش ہے اور اللہ اس سے راضی ہے اور اتنا دے گا کہ یہ بھی خوش ہو جائے گا، ” تو میرے خاص بندوں میں آ جا اور میری جنت میں داخل ہو جا “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، بریدہ فرماتے ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔

10599

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب یعنی اپنے جسم کی طرف لوٹ جا جسے تو دنیا میں آباد کیے ہؤے تھی تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی و رضامند ہو۔

یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کو «فَاْدخُلِیْ فِیْ عَبْدِیْ» پڑھتے تھے یعنی ” اے روح میرے بندے میں “ یعنی ” اس کے جسم میں چلی جا “، لیکن یہ غریب ہے اور ظاہر قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «‏ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ» [6-الأنعام:62] ‏ یعنی ” پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جائیں گے “۔

اور جگہ ہے «وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ» [40-غافر:43] ‏ یعنی ” ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اور اس کے سامنے ہے “۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ آیتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں اتریں تو آپ نے کہا کتنا اچھا قول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں بھی یہی کہا جائے گا“ ۔ [ابونعیم فی الحلیہ:283/4:ضعیف] ‏

دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیں پڑھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37213:ضعیف و مرسل] ‏

10600

ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسر القرآن کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک پرندہ آیا جس طرح کا پرندہ کبھی زمین پر دیکھا نہیں گیا وہ نعش میں چلا گیا پھر نکلتے ہوئے دیکھا گیا جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو قبر کے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون پڑھ رہا ہے“، یہ روایت طبرانی میں بھی ہے۔

ابوہاشم قباث بن رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جنگ روم میں ہم دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گئے، شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایا اور کہا یا تو تم اس دین کو چھوڑ دو یا قتل ہونا منظور کر لو ایک ایک کو وہ یہ کہتا کہ ہمارا دین قبول کرو ورنہ جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ تمہاری گردن مارے تین شخص تو مرتد ہو گئے جب چوتھا آیا تو اس نے صاف انکار کیا بادشاہ نے حکم سے اس کی گردن اڑا دی گئی اور سر کو نہر میں ڈال دیا گیا وہ نیچے ڈوب گیا اور ذرا سی دیر میں پانی پر آ گیا اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگا کہ اے فلاں اور اے فلاں اور اے فلاں ان کے نام لے کر انہیں آواز دی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ دیکھ رہے تھے اور خود بادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہا تھا اس مسلمان شہید کے سر نے کہا: سنو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ» * «ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً» * «فَادْخُلِي فِي عِبَادِي» * «وَادْخُلِي جَنَّتِي» [89-الفجر:27-30] ‏ اتنا کہہ کر وہ سر پھر پانی میں غوطہٰ لگا گیا اس واقعہ کا اتنا اچھا اثر ہوا کہ قریب تھا کہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہو جاتے بادشاہ نے اسی وقت دربار برخاست کرا دیا اور وہ تینوں پھر مسلمان ہو گئے اور ہم سب یونہی قید میں رہے آخر خلیفہ ابو جعفر منصور کی طرف سے ہمارا فدیہ آ گیا اور ہم نے نجات پائی۔

ابن عساکر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”یہ دعا پڑھا کر «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك نَفْسًا بِك مُطْمَئِنَّة تُؤْمِن بِلِقَائِك وَتَرْضَى بِقَضَائِك وَتَقْنَع بِعَطَائِك» الخ یعنی الٰہی میں تجھ سے ایسا نفس طلب کرتا ہوں جو تیری ذات پر اطمینان اور بھروسہ رکھتا ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیری قضاء پر راضی ہو، تیرے دئیے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہو“ ۔ [مجمع الزوائد:180/10:ضعیف] ‏

سورۃ والفجر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

10601

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com