Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Balad
Tafsir Ibn Kathir · The City · 20 ayat · Quran text →
مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ” اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے “۔
صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔
ایک روایت میں ہے کہ اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی ۔ [صحیح بخاری:1832]
پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔
ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔“
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے “۔
جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» [82-الانفطار:6،7] ، یعنی ” اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی “۔
اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» [95-التين:4] ” ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔“
جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» [46-الأحقاف:15] ” اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا “، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔“
10611
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ “ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ” کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی “۔
10612
ابن عساکر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف]
پھر فرمایا کہ ” ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔
یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» [76-الإنسان:2-3] یعنی ” ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا “۔
10613
مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ” اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے “۔
صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔
ایک روایت میں ہے کہ اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی ۔ [صحیح بخاری:1832]
پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔
ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔“
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے “۔
جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» [82-الانفطار:6،7] ، یعنی ” اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی “۔
اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» [95-التين:4] ” ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔“
جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» [46-الأحقاف:15] ” اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا “، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔“
10611
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ “ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ” کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی “۔
10612
ابن عساکر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف]
پھر فرمایا کہ ” ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔
یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» [76-الإنسان:2-3] یعنی ” ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا “۔
10613
مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ” اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے “۔
صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔
ایک روایت میں ہے کہ اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی ۔ [صحیح بخاری:1832]
پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔
ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔“
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے “۔
جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» [82-الانفطار:6،7] ، یعنی ” اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی “۔
اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» [95-التين:4] ” ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔“
جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» [46-الأحقاف:15] ” اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا “، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔“
10611
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ “ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ” کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی “۔
10612
ابن عساکر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف]
پھر فرمایا کہ ” ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔
یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» [76-الإنسان:2-3] یعنی ” ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا “۔
10613
مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ” اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے “۔
صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔
ایک روایت میں ہے کہ اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی ۔ [صحیح بخاری:1832]
پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔
ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔“
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے “۔
جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» [82-الانفطار:6،7] ، یعنی ” اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی “۔
اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» [95-التين:4] ” ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔“
جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» [46-الأحقاف:15] ” اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا “، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔“
10611
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ “ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ” کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی “۔
10612
ابن عساکر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف]
پھر فرمایا کہ ” ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔
یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» [76-الإنسان:2-3] یعنی ” ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا “۔
10613
مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ” اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے “۔
صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔
ایک روایت میں ہے کہ اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی ۔ [صحیح بخاری:1832]
پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔
ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔“
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے “۔
جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» [82-الانفطار:6،7] ، یعنی ” اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی “۔
اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» [95-التين:4] ” ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔“
جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» [46-الأحقاف:15] ” اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا “، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔“
10611
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ “ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ” کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی “۔
10612
ابن عساکر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف]
پھر فرمایا کہ ” ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔
یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» [76-الإنسان:2-3] یعنی ” ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا “۔
10613
مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ” اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے “۔
صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔
ایک روایت میں ہے کہ اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی ۔ [صحیح بخاری:1832]
پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔
ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔“
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے “۔
جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» [82-الانفطار:6،7] ، یعنی ” اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی “۔
اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» [95-التين:4] ” ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔“
جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» [46-الأحقاف:15] ” اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا “، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔“
10611
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ “ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ” کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی “۔
10612
ابن عساکر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف]
پھر فرمایا کہ ” ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔
یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» [76-الإنسان:2-3] یعنی ” ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا “۔
10613
مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ” اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے “۔
صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔
ایک روایت میں ہے کہ اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی ۔ [صحیح بخاری:1832]
پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔
ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔“
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے “۔
جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» [82-الانفطار:6،7] ، یعنی ” اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی “۔
اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» [95-التين:4] ” ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔“
جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» [46-الأحقاف:15] ” اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا “، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔“
10611
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ “ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ” کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی “۔
10612
ابن عساکر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف]
پھر فرمایا کہ ” ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔
یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» [76-الإنسان:2-3] یعنی ” ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا “۔
10613
مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ” اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے “۔
صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔
ایک روایت میں ہے کہ اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی ۔ [صحیح بخاری:1832]
پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔
ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔“
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے “۔
جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» [82-الانفطار:6،7] ، یعنی ” اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی “۔
اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» [95-التين:4] ” ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔“
جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» [46-الأحقاف:15] ” اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا “، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔“
10611
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ “ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ” کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی “۔
10612
ابن عساکر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف]
پھر فرمایا کہ ” ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔
یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» [76-الإنسان:2-3] یعنی ” ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا “۔
10613
مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ” اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے “۔
صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔
ایک روایت میں ہے کہ اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی ۔ [صحیح بخاری:1832]
پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔
ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔“
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے “۔
جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» [82-الانفطار:6،7] ، یعنی ” اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی “۔
اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» [95-التين:4] ” ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔“
جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» [46-الأحقاف:15] ” اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا “، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔“
10611
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ “ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ” کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی “۔
10612
ابن عساکر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف]
پھر فرمایا کہ ” ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔
یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» [76-الإنسان:2-3] یعنی ” ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا “۔
10613
مکہ مکرمہ کی قسم ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں، «لا» سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ ” اے نبی! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے “۔
صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔
ایک روایت میں ہے کہ اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی ۔ [صحیح بخاری:1832]
پھر قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی بعض نے تو کہا ہے کہ «مَا وَلَدَ» میں «مَا» نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ۔ «مَا» کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم، باپ سے مراد آدم اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی آدم کی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی۔
ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی اولاد ہے۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد۔“
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والا ٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے “۔
جیسے فرمایا «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ» [82-الانفطار:6،7] ، یعنی ” اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی “۔
اور جگہ ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» [95-التين:4] ” ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں اٹھاتا ہے۔“
جیسے اور جگہ ہے «حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا» [46-الأحقاف:15] ” اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا “، بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے۔“
10611
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشقت میں یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں آدم چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا؟ یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟ “ یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے۔ ” کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟ اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟ اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟ جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی “۔
10612
ابن عساکر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بے حد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے۔ اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:46/19:مرسل و ضعیف]
پھر فرمایا کہ ” ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/30:ضعیف] یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔
یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ”مراد اس سے دونوں دودھ ہیں“ اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» [76-الإنسان:2-3] یعنی ” ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے سنتا دیکھتا کیا ہم نے اس کی رہبری کی اور راستہ دکھا دیا پس یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا “۔
10613
صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔“
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ” تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ “ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ ۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ [صحیح بخاری:2517]
10623
بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح]
10624
مسند میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح]
اور روایت میں یہ بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا ۔ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔
ابوداؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ ۔ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔
اور حدیث میں ہے جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے ۔ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔
10625
مسند احمد میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ ۔ [مسند احمد:299/4:صحیح]
«ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔
10626
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء:19] ” جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے “۔
اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» [16-النحل:97] الخ، ” ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے “۔
پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ” لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں “۔
جیسے کہ حدیث میں ہے «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا ۔ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔ [صحیح بخاری:7376]
ابوداؤد میں ہے «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ۔ [صحیح بخاری:3350]
پھر فرمایا کہ ” یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے “۔
10627
مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ، میں آئے گا ان شاءاللہ۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔“
ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔“ [ ابن ابی حاتم ]
سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
10628
صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔“
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ” تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ “ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ ۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ [صحیح بخاری:2517]
10623
بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح]
10624
مسند میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح]
اور روایت میں یہ بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا ۔ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔
ابوداؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ ۔ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔
اور حدیث میں ہے جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے ۔ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔
10625
مسند احمد میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ ۔ [مسند احمد:299/4:صحیح]
«ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔
10626
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء:19] ” جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے “۔
اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» [16-النحل:97] الخ، ” ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے “۔
پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ” لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں “۔
جیسے کہ حدیث میں ہے «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا ۔ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔ [صحیح بخاری:7376]
ابوداؤد میں ہے «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ۔ [صحیح بخاری:3350]
پھر فرمایا کہ ” یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے “۔
10627
مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ، میں آئے گا ان شاءاللہ۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔“
ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔“ [ ابن ابی حاتم ]
سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
10628
صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔“
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ” تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ “ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ ۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ [صحیح بخاری:2517]
10623
بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح]
10624
مسند میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح]
اور روایت میں یہ بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا ۔ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔
ابوداؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ ۔ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔
اور حدیث میں ہے جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے ۔ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔
10625
مسند احمد میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ ۔ [مسند احمد:299/4:صحیح]
«ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔
10626
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء:19] ” جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے “۔
اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» [16-النحل:97] الخ، ” ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے “۔
پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ” لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں “۔
جیسے کہ حدیث میں ہے «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا ۔ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔ [صحیح بخاری:7376]
ابوداؤد میں ہے «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ۔ [صحیح بخاری:3350]
پھر فرمایا کہ ” یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے “۔
10627
مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ، میں آئے گا ان شاءاللہ۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔“
ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔“ [ ابن ابی حاتم ]
سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
10628
صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔“
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ” تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ “ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ ۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ [صحیح بخاری:2517]
10623
بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح]
10624
مسند میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح]
اور روایت میں یہ بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا ۔ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔
ابوداؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ ۔ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔
اور حدیث میں ہے جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے ۔ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔
10625
مسند احمد میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ ۔ [مسند احمد:299/4:صحیح]
«ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔
10626
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء:19] ” جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے “۔
اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» [16-النحل:97] الخ، ” ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے “۔
پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ” لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں “۔
جیسے کہ حدیث میں ہے «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا ۔ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔ [صحیح بخاری:7376]
ابوداؤد میں ہے «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ۔ [صحیح بخاری:3350]
پھر فرمایا کہ ” یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے “۔
10627
مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ، میں آئے گا ان شاءاللہ۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔“
ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔“ [ ابن ابی حاتم ]
سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
10628
صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔“
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ” تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ “ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ ۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ [صحیح بخاری:2517]
10623
بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح]
10624
مسند میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح]
اور روایت میں یہ بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا ۔ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔
ابوداؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ ۔ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔
اور حدیث میں ہے جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے ۔ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔
10625
مسند احمد میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ ۔ [مسند احمد:299/4:صحیح]
«ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔
10626
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء:19] ” جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے “۔
اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» [16-النحل:97] الخ، ” ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے “۔
پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ” لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں “۔
جیسے کہ حدیث میں ہے «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا ۔ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔ [صحیح بخاری:7376]
ابوداؤد میں ہے «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ۔ [صحیح بخاری:3350]
پھر فرمایا کہ ” یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے “۔
10627
مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ، میں آئے گا ان شاءاللہ۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔“
ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔“ [ ابن ابی حاتم ]
سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
10628
صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔“
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ” تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ “ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ ۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ [صحیح بخاری:2517]
10623
بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح]
10624
مسند میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح]
اور روایت میں یہ بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا ۔ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔
ابوداؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ ۔ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔
اور حدیث میں ہے جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے ۔ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔
10625
مسند احمد میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ ۔ [مسند احمد:299/4:صحیح]
«ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔
10626
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء:19] ” جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے “۔
اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» [16-النحل:97] الخ، ” ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے “۔
پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ” لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں “۔
جیسے کہ حدیث میں ہے «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا ۔ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔ [صحیح بخاری:7376]
ابوداؤد میں ہے «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ۔ [صحیح بخاری:3350]
پھر فرمایا کہ ” یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے “۔
10627
مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ، میں آئے گا ان شاءاللہ۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔“
ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔“ [ ابن ابی حاتم ]
سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
10628
صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔“
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ” تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ “ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ ۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ [صحیح بخاری:2517]
10623
بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح]
10624
مسند میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح]
اور روایت میں یہ بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا ۔ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔
ابوداؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ ۔ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔
اور حدیث میں ہے جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے ۔ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔
10625
مسند احمد میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ ۔ [مسند احمد:299/4:صحیح]
«ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔
10626
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء:19] ” جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے “۔
اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» [16-النحل:97] الخ، ” ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے “۔
پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ” لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں “۔
جیسے کہ حدیث میں ہے «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا ۔ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔ [صحیح بخاری:7376]
ابوداؤد میں ہے «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ۔ [صحیح بخاری:3350]
پھر فرمایا کہ ” یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے “۔
10627
مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ، میں آئے گا ان شاءاللہ۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔“
ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔“ [ ابن ابی حاتم ]
سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
10628
صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔“
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ” تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ “ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ ۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ [صحیح بخاری:2517]
10623
بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح]
10624
مسند میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح]
اور روایت میں یہ بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا ۔ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔
ابوداؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ ۔ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔
اور حدیث میں ہے جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے ۔ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔
10625
مسند احمد میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ ۔ [مسند احمد:299/4:صحیح]
«ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔
10626
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء:19] ” جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے “۔
اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» [16-النحل:97] الخ، ” ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے “۔
پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ” لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں “۔
جیسے کہ حدیث میں ہے «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا ۔ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔ [صحیح بخاری:7376]
ابوداؤد میں ہے «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ۔ [صحیح بخاری:3350]
پھر فرمایا کہ ” یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے “۔
10627
مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ، میں آئے گا ان شاءاللہ۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔“
ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔“ [ ابن ابی حاتم ]
سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
10628
صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔“
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ” تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ “ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ ۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ [صحیح بخاری:2517]
10623
بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح]
10624
مسند میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح]
اور روایت میں یہ بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا ۔ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔
ابوداؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ ۔ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔
اور حدیث میں ہے جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے ۔ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔
10625
مسند احمد میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ ۔ [مسند احمد:299/4:صحیح]
«ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔
10626
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء:19] ” جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے “۔
اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» [16-النحل:97] الخ، ” ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے “۔
پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ” لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں “۔
جیسے کہ حدیث میں ہے «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا ۔ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔ [صحیح بخاری:7376]
ابوداؤد میں ہے «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ۔ [صحیح بخاری:3350]
پھر فرمایا کہ ” یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے “۔
10627
مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ، میں آئے گا ان شاءاللہ۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔“
ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔“ [ ابن ابی حاتم ]
سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
10628
صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں ٭٭
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «عَقَبَةَ» جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے۔“ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ پھر اس کا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا۔“
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا ” تم کیا جانو «عَقَبَةَ» کیا ہے؟ “ آزادگی گردن یا صدقہ طعام «فَكُّ رَقَبَةٍ» جو اضافت کے ساتھ ہے اسے «فَكَّ رَقَبَةً» بھی پڑھا گیا یعنی فعل و فاعل دونوں قرأتوں کا مطلب قریباً ایک ہی ہے۔
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کا ہر ایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ ۔ علی بن حسین یعنی امام زید العابدین رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو۔ [صحیح بخاری:2517]
10623
بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا اور حدیث میں ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایک ایک ہڈی کے بدلے اس کی ایک ایک ہڈی جہنم سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ [سنن ابوداود:3965،قال الشيخ الألباني:صحیح]
10624
مسند میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح]
اور روایت میں یہ بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا ۔ [سنن ابوداود:3966،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے ۔ [مسند احمد:386/4:صحیح لغیره] ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔
ابوداؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو، آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟ ہم نے کہا ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سنائیے، آپ نے فرمایا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا“ ۔ [سنن ابوداود:3964،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ، یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔
اور حدیث میں ہے جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے ۔ [مسند احمد:150/4:صحیح لغیره وهذا اسناد ضعیف لا نقطاعہ] ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔
10625
مسند احمد میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! کوئی ایسا کام بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا، «نسمہ» آزاد کر، «رقبتہ» چھڑا“، اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں «نسمہ» کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور «فَكُّ رَقَبَةٍ» کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے، دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال“ ۔ [مسند احمد:299/4:صحیح]
«ذِي مَسْغَبَةٍ» کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے۔
10626
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے“ [سنن ترمذي:658،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یا ایسے مسکین کو دینا جو خاک آلود ہو، راستے میں پڑا ہوا ہو، گھر ور نہ ہو، بر بستر نہ ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو، اپنے گھر سے دور ہو، مسافرت میں ہو، فقیر، مسکین، محتاج، مقروض، مفلس ہو، کوئی پرسان حال بھی نہ ہو، اہل و عیال والا ہو، یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء:19] ” جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی با ایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکور ہے “۔
اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً» [16-النحل:97] الخ، ” ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے حساب روزیاں پائیں گے “۔
پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ ” لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں “۔
جیسے کہ حدیث میں ہے «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمهُمْ الرَّحْمَن اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْض يَرْحَمكُمْ مَنْ فِي السَّمَاء» رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا ۔ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے «لَا يَرْحَم اللَّه مَنْ لَا يَرْحَم النَّاس» جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔ [صحیح بخاری:7376]
ابوداؤد میں ہے «مَنْ لَمْ يَرْحَم صَغِيرنَا وَيَعْرِف حَقّ كَبِيرنَا فَلَيْسَ مِنَّا» جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ۔ [صحیح بخاری:3350]
پھر فرمایا کہ ” یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے “۔
10627
مزید بیان اس کا سورۃ «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» [104-الهمزة:1] ، میں آئے گا ان شاءاللہ۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی، نہ سوراخ ہو گا، نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا۔“
ابوعمران جوئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب قیامت کا دن آئے گا، اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے، لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی۔ اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں۔“ [ ابن ابی حاتم ]
سورۃ البلد کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
10628