John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Yunus

Tafsir Ibn Kathir · Jonas · 109 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

عقل زدہ کافر اور رسول اللہ ﷺ کافروں کو اس پر بڑا تعجب ہوتا تھا کہ ایک انسان اللہ کا رسول بن جائے۔ کہتے تھے کہ کیا بشر ہمارا ہادی ہوگا ؟ حضرت ہود اور حضرت صالح نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ کیا تمہیں یہ کوئی انوکھی بات لگتی ہے کہ تم میں سے ہی ایک شخص پر تمہارے رب کی وحی نازل ہوئی۔ کفار قریش نے بھی کہا تھا کہ کیا اس نے اتنے سارے معبودوں کے بجائے ایک ہی اللہ مقرر کردیا ؟ یہ تو بڑے ہی تعجب کی بات ہے۔ حضور ﷺ کی رسالت سے بھی انہوں نے صاف انکار کردیا اور انکار کی وجہ یہی پیش کی کہ محمد ﷺ جیسے ایک انسان پر اللہ کی وحی کا آنا ہی نہیں مان سکتے۔ اس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ سچے پائے سے مراد سعادت اور نیکی کا ذکر ہے۔ بھلائیوں کا اجر ہے۔ ان کے نیک کام ہیں۔ مثلاً نماز روزہ صدقہ تسبیح۔ اور ان کے لیے حضور ﷺ کی شفاعت الغرض ان کی سچائی کا ثبوت اللہ کو پہنچ چکا ہے۔ ان کے نیک اعمال وہاں جمع ہیں۔ یہ سابق لوگ ہیں۔ عرب کے شعروں میں بھی قدیم کا لفظ ان معنوں میں بولا گیا ہے۔ جو رسول ان میں ہے وہ بشیر بھی ہے، نذیر بھی ہے، لیکن کافروں نے اسے جادوگر کہہ کر اپنے جھوٹ پر مہر لگا دی۔

عقل زدہ کافر اور رسول اللہ ﷺ کافروں کو اس پر بڑا تعجب ہوتا تھا کہ ایک انسان اللہ کا رسول بن جائے۔ کہتے تھے کہ کیا بشر ہمارا ہادی ہوگا ؟ حضرت ہود اور حضرت صالح نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ کیا تمہیں یہ کوئی انوکھی بات لگتی ہے کہ تم میں سے ہی ایک شخص پر تمہارے رب کی وحی نازل ہوئی۔ کفار قریش نے بھی کہا تھا کہ کیا اس نے اتنے سارے معبودوں کے بجائے ایک ہی اللہ مقرر کردیا ؟ یہ تو بڑے ہی تعجب کی بات ہے۔ حضور ﷺ کی رسالت سے بھی انہوں نے صاف انکار کردیا اور انکار کی وجہ یہی پیش کی کہ محمد ﷺ جیسے ایک انسان پر اللہ کی وحی کا آنا ہی نہیں مان سکتے۔ اس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ سچے پائے سے مراد سعادت اور نیکی کا ذکر ہے۔ بھلائیوں کا اجر ہے۔ ان کے نیک کام ہیں۔ مثلاً نماز روزہ صدقہ تسبیح۔ اور ان کے لیے حضور ﷺ کی شفاعت الغرض ان کی سچائی کا ثبوت اللہ کو پہنچ چکا ہے۔ ان کے نیک اعمال وہاں جمع ہیں۔ یہ سابق لوگ ہیں۔ عرب کے شعروں میں بھی قدیم کا لفظ ان معنوں میں بولا گیا ہے۔ جو رسول ان میں ہے وہ بشیر بھی ہے، نذیر بھی ہے، لیکن کافروں نے اسے جادوگر کہہ کر اپنے جھوٹ پر مہر لگا دی۔

تخلیق کائنات کی قرآنی روداد تمام عالم کا رب وہی ہے۔ آسمان و زمین کو صرف چھ دن میں پیدا کردیا ہے۔ یا تو ایسے ہی معمولی دن یا ہر دن یہاں کی گنتی سے ایک ہزار دن کے برابر کا۔ پھر عرش پر وہ مستوی ہوگیا۔ جو سب سے بڑی مخلوق ہے اور ساری مخلوق کی چھت ہے۔ جو سرخ یاقوت کا ہے۔ جو نور سے پیدا شدہ ہے۔ یہ قول غریب ہے۔ وہی تمام مخلوق کا انتظام کرتا ہے اس سے کوئی ذرہ پوشیدہ نہیں۔ اسے کوئی کام مشغول نہیں کرلیتا۔ وہ سوالات سے اکتا نہیں سکتا۔ مانگنے والوں کی پکار اسے حیران نہیں کرسکتی۔ ہر چھوٹے بڑے کا، ہر کھلے چھپے کا، ہر ظاہر باہر کا، پہاڑوں میں سمندروں میں، آبادیوں میں، ویرانوں میں وہی بندوبست کر رہا ہے۔ ہر جاندار کا روزی رساں وہی ہے۔ ہر پتے کے جھڑنے کا اسے علم ہے، زمین کے اندھیروں کے دانوں کی اس کو خبر ہے، ہر تر و خشک چیز کھلی کتاب میں موجود ہے۔ کہتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے وقت لشکر کا لشکر مثل عربوں کے جاتا دیکھا گیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا ہم جنات ہیں۔ ہمیں مدینے سے ان آیتوں نے نکالا ہے۔ کوئی نہیں جو اس کی اجازت بغیر سفارش کرسکے۔ آسمان کے فرشتے بھی اس کی اجازت کے بغیر زبان نہیں کھولتے۔ اسی کو شفاعت نفع دیتی ہے جس کے لیے اجازت ہو۔ یہی اللہ تم سب مخلوق کا پالنہار ہے۔ تم اسی کی عبادت میں لگے رہو۔ اسے واحد اور لاشریک مانو۔ مشرکو ! اتنی موٹی بات بھی تم نہیں سمجھ سکتے ؟ جو اس کے ساتھ دوسروں کو پوجتے ہو حالانکہ جانتے ہو کہ خالق مالک وہی اکیلا ہے۔ اس کے وہ خود قائل تھے۔ زمین آسمان اور عرش عظیم کا رب اسی کو مانتے تھے۔

قیامت کا عمل اسی تخلیق کا اعادہ ہے قیامت کے دن ایک بھی نہ بچے گا سب اپنے اللہ کے پاس حاضر کئے جائیں گے جیسے اس نے شروع میں پیدا کیا تھا۔ ایسے ہی دوبارہ اعادہ کرے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہوگا۔ اس کے وعدے اٹل ہیں۔ عدل کے ساتھ وہ اپنے نیک بندوں کو اجر دے گا اور پورا پورا بدلہ عنایت فرمائے گا۔ کافروں کو بھی ان کے کفر کا بدلہ ملے گا۔ طرح طرح کی سزائیں ہوں گی۔ گرم پانی، گرمی، گرم لو ان کے حصے میں آئیں گے اور بھی قسم قسم کے عذاب ہوتے رہیں گے۔ وہ جہنم جسے یہ جھٹلا رہے تھے ان کا اوڑھنا بچھونا ہوگی۔ اس کے اور گرم پگھلے ہوئے تانبے جیسے پانی کے درمیان یہ حیران و پریشان ہوں گے۔

اللہ عزوجل کی عظمت وقدرت کے ثبوت مظاہر کائنات اس کی کمال قدرت، اس کی عظیم سلطنت کی نشانی یہ چمکیلا آفتاب ہے اور یہ روشن ماہتاب ہے۔ یہ اور ہی فن ہے اور وہ اور ہی کمال ہے۔ اس میں بڑا ہی فرق ہے۔ اس کی شعاعیں جگمگا دیں اور اس کی شعاعیں خود منور رہیں۔ دن کو آفتاب کی سلطنت رہتی ہے، رات کو ماہتاب کی جگمگاہٹ رہتی ہے، ان کی منزلیں اس نے مقرر کر رکھی ہیں۔ چاند شروع میں چھوٹا ہوتا ہے۔ چمک کم ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ بڑھتا ہے اور روشن بھی ہوتا ہے پھر اپنے کمال کو پہنچ کر گھٹنا شروع ہوتا ہے واپسی اگلی حالت پر آجاتا ہے۔ ہر مہینے میں اس کا یہ ایک دور ختم ہوتا ہے نہ سورج چاند کو پکڑلے، نہ چاند سورج کی راہ روکے، نہ دن رات پر سبقت کرے نہ رات دن سے آگے بڑھے۔ ہر ایک اپنی اپنی جگہ پابندی سے چل پھر رہا رہے۔ دور ختم کر رہا ہے۔ دونوں کی گنتی سورج کی چال پر اور مہینوں کی گنتی چاند پر ہے۔ یہ مخلوق عبث نہیں بلکہ بحکمت ہے۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی چیزیں باطل پیدا شدہ نہیں۔ یہ خیال تو کافروں کا ہے۔ جن کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ تم یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے تمہیں یونہی پیدا کردیا ہے اور اب تم ہمارے قبضے سے باہر ہو۔ یاد رکھو میں اللہ ہوں، میں مالک ہوں، میں حق ہوں، میرے سوا کسی کی کچھ چلتی نہیں۔ عرش کریم بھی منجملہ مخلوق کے میری ادنیٰ مخلوق ہے۔ حجتیں اور دلیلیں ہم کھول کھول کر بیان فرما رہے ہیں کہ اہل علم لوگ سمجھ لیں۔ رات دن کے رد و بدل میں، ان کے برابر جانے آنے میں رات پر دن کا آنا، دن پر رات کا چھا جانا، ایک دوسرے کے پیچھے برابر لگا تار آنا جانا اور زمین و آسمان کا پیدا ہونا اور ان کی مخلوق کا رچایا جانا یہ سب عظمت رب کی بولتی ہوئی نشانیاں ہیں۔ ان سے منہ پھیرلینا کوئی عقلمندی کی دلیل نہیں یہ نشانات بھی جنہیں فائدہ نہ دیں انہیں ایمان کیسے نصیب ہوگا ؟ تم اپنے آگے پیچھے اوپر نیچے بہت سی چیزیں دیکھ سکتے ہو۔ عقلمندوں کے لیے یہ بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ کہ وہ سوچ سمجھ کر اللہ کے عذابوں سے بچ سکیں اور اس کی رحمت حاصل کرسکیں۔

اللہ عزوجل کی عظمت وقدرت کے ثبوت مظاہر کائنات اس کی کمال قدرت، اس کی عظیم سلطنت کی نشانی یہ چمکیلا آفتاب ہے اور یہ روشن ماہتاب ہے۔ یہ اور ہی فن ہے اور وہ اور ہی کمال ہے۔ اس میں بڑا ہی فرق ہے۔ اس کی شعاعیں جگمگا دیں اور اس کی شعاعیں خود منور رہیں۔ دن کو آفتاب کی سلطنت رہتی ہے، رات کو ماہتاب کی جگمگاہٹ رہتی ہے، ان کی منزلیں اس نے مقرر کر رکھی ہیں۔ چاند شروع میں چھوٹا ہوتا ہے۔ چمک کم ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ بڑھتا ہے اور روشن بھی ہوتا ہے پھر اپنے کمال کو پہنچ کر گھٹنا شروع ہوتا ہے واپسی اگلی حالت پر آجاتا ہے۔ ہر مہینے میں اس کا یہ ایک دور ختم ہوتا ہے نہ سورج چاند کو پکڑلے، نہ چاند سورج کی راہ روکے، نہ دن رات پر سبقت کرے نہ رات دن سے آگے بڑھے۔ ہر ایک اپنی اپنی جگہ پابندی سے چل پھر رہا رہے۔ دور ختم کر رہا ہے۔ دونوں کی گنتی سورج کی چال پر اور مہینوں کی گنتی چاند پر ہے۔ یہ مخلوق عبث نہیں بلکہ بحکمت ہے۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی چیزیں باطل پیدا شدہ نہیں۔ یہ خیال تو کافروں کا ہے۔ جن کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ تم یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے تمہیں یونہی پیدا کردیا ہے اور اب تم ہمارے قبضے سے باہر ہو۔ یاد رکھو میں اللہ ہوں، میں مالک ہوں، میں حق ہوں، میرے سوا کسی کی کچھ چلتی نہیں۔ عرش کریم بھی منجملہ مخلوق کے میری ادنیٰ مخلوق ہے۔ حجتیں اور دلیلیں ہم کھول کھول کر بیان فرما رہے ہیں کہ اہل علم لوگ سمجھ لیں۔ رات دن کے رد و بدل میں، ان کے برابر جانے آنے میں رات پر دن کا آنا، دن پر رات کا چھا جانا، ایک دوسرے کے پیچھے برابر لگا تار آنا جانا اور زمین و آسمان کا پیدا ہونا اور ان کی مخلوق کا رچایا جانا یہ سب عظمت رب کی بولتی ہوئی نشانیاں ہیں۔ ان سے منہ پھیرلینا کوئی عقلمندی کی دلیل نہیں یہ نشانات بھی جنہیں فائدہ نہ دیں انہیں ایمان کیسے نصیب ہوگا ؟ تم اپنے آگے پیچھے اوپر نیچے بہت سی چیزیں دیکھ سکتے ہو۔ عقلمندوں کے لیے یہ بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ کہ وہ سوچ سمجھ کر اللہ کے عذابوں سے بچ سکیں اور اس کی رحمت حاصل کرسکیں۔

نادان و محروم لوگ جو لوگ قیامت کے منکر ہیں، جو اللہ کی ملاقات کے امیدوار نہیں۔ جو اس دنیا پر خوش ہوگئے ہیں، اسی پر دل لگا لیا ہے، نہ اس زندگی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، نہ اس زندگی کو سود مند بناتے ہیں اور اس پر مطمئن ہیں۔ اللہ کی پیدا کردہ نشانیوں سے غافل ہیں۔ اللہ کی نازل کردہ آیتوں میں غور فکر نہیں کرتے، ان کی آخری جگہ جہنم ہے۔ جو ان کی خطاؤں اور گناہوں کا بدلہ ہے جو ان کے کفر و شرک کی جزا ہے۔

نادان و محروم لوگ جو لوگ قیامت کے منکر ہیں، جو اللہ کی ملاقات کے امیدوار نہیں۔ جو اس دنیا پر خوش ہوگئے ہیں، اسی پر دل لگا لیا ہے، نہ اس زندگی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، نہ اس زندگی کو سود مند بناتے ہیں اور اس پر مطمئن ہیں۔ اللہ کی پیدا کردہ نشانیوں سے غافل ہیں۔ اللہ کی نازل کردہ آیتوں میں غور فکر نہیں کرتے، ان کی آخری جگہ جہنم ہے۔ جو ان کی خطاؤں اور گناہوں کا بدلہ ہے جو ان کے کفر و شرک کی جزا ہے۔

خوش انجام خوش نصیب لوگ نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے جو اللہ پر ایمان لائے رسولوں کو مانا، فرمانبرداری کی نیکیوں پر چلتے رہے، انہیں ان کے ایمان کی وجہ سے راہ مل جائے گی۔ پل صراط سے پار ہوجائیں گے۔ جنت میں پہنچ جائیں گے، نور مل جائے گا۔ جس کی روشنی میں چلیں پھریں گے۔ پس ممکن ہے کہ (آیت بایمانھم) میں با سببیت کی ہو۔ اور ممکن ہے کہ استعانت کی ہو۔ ان کے اعمال اچھی بھلی صورت اور عطر و خوشبو بن کر ان کے پاس ان کی قبر میں آئیں گے اور انہیں خوشخبری دیں گے یہ پوچھیں گے کہ تم کون ہو ؟ وہ جواب دیں گے تمہارے نیک اعمال۔ پس یہ اپنے ان نورانی عمل کی روشنی میں جنت میں پہنچ جائیں گے اور کافروں کا عمل نہایت بد صورت، بدبو دار ہو کر اس پر چمٹ جائے گا اور اسے دھکے دے کر جہنم میں لے جائے گا۔ یہ جو چیز کھانا چاہیں گے اسی وقت فرشتے اس تیار کرکے لائیں گے۔ انہیں سلام کہیں گے جو جواب دیں گے اور کھائیں گے۔ کھا کر اپنے رب کی حمد بیان کریں گے۔ ان کے صرف سبحانک اللھم کہتے ہی دس ہزار خادم اپنے ہاتھوں میں سونے کے کٹوروں میں کھانا لے کر حاضر ہوجائیں گے اور یہ سب میں سے کھائے گا۔ ان کا آپس میں بھی تحفہ سلام ہوگا۔ وہاں کوئی لغو بات کانوں میں نہ پڑے گی۔ در و دیوار سے سلامتی کی آوازیں آتی رہیں گے۔ رب رحیم کی طرف سے بھی سلامتی کا قول ہوگا۔ فرشتے بھی ہر ایک دروازے سے آکر سلام کریں گے۔ آخری قول ان کا اللہ کی ثناء ہوگا۔ وہ معبود برحق ہے اول آخر حمد و تعریف کے سزاوار ہے۔ اسی لیے اس نے اپنی حمد بیان فرمائی مخلوق کی پیدائش کے شروع میں، اس کی بقاء میں، اپنی کتاب کے شروع میں، اور اس کے نازل فرمانے کے شروع میں۔ اس قسم کی آیتیں قرآن کریم میں ایک نہیں کئی ایک ہیں جیسے (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا ڸ) 18۔ الكهف :1) وغیرہ۔ وہی اول آخر دنیا عقبیٰ میں لائق حمد وثناء ہے ہر حال میں اس کی حمد ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ اہل جنت سے تسبیح و حمد اس طرح ادا ہوگی جیسے سانس چلتا رہتا ہے۔ یہ اس لیے کہ ہر وقت نعمتیں راحتیں آرام اور آسائش بڑھتا ہوا دیکھیں گے پس لا محالہ حمد ادا ہوگی۔ سچ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، نہ اس کے سوا کوئی پالنہار ہے۔

خوش انجام خوش نصیب لوگ نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے جو اللہ پر ایمان لائے رسولوں کو مانا، فرمانبرداری کی نیکیوں پر چلتے رہے، انہیں ان کے ایمان کی وجہ سے راہ مل جائے گی۔ پل صراط سے پار ہوجائیں گے۔ جنت میں پہنچ جائیں گے، نور مل جائے گا۔ جس کی روشنی میں چلیں پھریں گے۔ پس ممکن ہے کہ (آیت بایمانھم) میں با سببیت کی ہو۔ اور ممکن ہے کہ استعانت کی ہو۔ ان کے اعمال اچھی بھلی صورت اور عطر و خوشبو بن کر ان کے پاس ان کی قبر میں آئیں گے اور انہیں خوشخبری دیں گے یہ پوچھیں گے کہ تم کون ہو ؟ وہ جواب دیں گے تمہارے نیک اعمال۔ پس یہ اپنے ان نورانی عمل کی روشنی میں جنت میں پہنچ جائیں گے اور کافروں کا عمل نہایت بد صورت، بدبو دار ہو کر اس پر چمٹ جائے گا اور اسے دھکے دے کر جہنم میں لے جائے گا۔ یہ جو چیز کھانا چاہیں گے اسی وقت فرشتے اس تیار کرکے لائیں گے۔ انہیں سلام کہیں گے جو جواب دیں گے اور کھائیں گے۔ کھا کر اپنے رب کی حمد بیان کریں گے۔ ان کے صرف سبحانک اللھم کہتے ہی دس ہزار خادم اپنے ہاتھوں میں سونے کے کٹوروں میں کھانا لے کر حاضر ہوجائیں گے اور یہ سب میں سے کھائے گا۔ ان کا آپس میں بھی تحفہ سلام ہوگا۔ وہاں کوئی لغو بات کانوں میں نہ پڑے گی۔ در و دیوار سے سلامتی کی آوازیں آتی رہیں گے۔ رب رحیم کی طرف سے بھی سلامتی کا قول ہوگا۔ فرشتے بھی ہر ایک دروازے سے آکر سلام کریں گے۔ آخری قول ان کا اللہ کی ثناء ہوگا۔ وہ معبود برحق ہے اول آخر حمد و تعریف کے سزاوار ہے۔ اسی لیے اس نے اپنی حمد بیان فرمائی مخلوق کی پیدائش کے شروع میں، اس کی بقاء میں، اپنی کتاب کے شروع میں، اور اس کے نازل فرمانے کے شروع میں۔ اس قسم کی آیتیں قرآن کریم میں ایک نہیں کئی ایک ہیں جیسے (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا ڸ) 18۔ الكهف :1) وغیرہ۔ وہی اول آخر دنیا عقبیٰ میں لائق حمد وثناء ہے ہر حال میں اس کی حمد ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ اہل جنت سے تسبیح و حمد اس طرح ادا ہوگی جیسے سانس چلتا رہتا ہے۔ یہ اس لیے کہ ہر وقت نعمتیں راحتیں آرام اور آسائش بڑھتا ہوا دیکھیں گے پس لا محالہ حمد ادا ہوگی۔ سچ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، نہ اس کے سوا کوئی پالنہار ہے۔

اللہ تعالیٰ اپنے احسانات کا تذکرہ فرماتے ہیں فرمان ہے کہ میرے الطاف اور میری مہربانیوں کو دیکھو، کہ بندے کبھی کبھی تنگ آکر، گھبرا کر اپنے لیے، اپنے بال بچوں کے لیے اپنے مالک کے لیے، بد دعائیں کر بیٹھتے ہیں لیکن میں انہیں قبول کرنے میں جلدی نہیں کرتا۔ ورنہ وہ کسی گھر کے نہ رہیں جیسے کہ میں انہی چیزوں کی برکت کی دعائیں قبول فرمالیا کرتا ہوں۔ ورنہ یہ تباہ ہوجاتے۔ پس بندوں کو ایسی بدعاؤں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ چناچہ مسند بزار کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ اپنی جان و مال پر بد دعا نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ کسی قبولیت کی ساعت موافقت کر جائے اور وہ بد دعا قبول ہوجائے۔ اسی مضمون کا بیان (وَيَدْعُ الْاِنْسَان بالشَّرِّ دُعَاۗءَهٗ بالْخَيْرِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا 11؀) 17۔ الإسراء :11) میں ہے۔ غرض یہ ہے کہ انسان کا کسی وقت اپنی اولاد مال وغیرہ کے لیے بد دعا کرنا کہ اللہ اسے غارت کرے وغیرہ۔ ایک نیک دعاؤں کی طرح قبولیت میں ہی آجا کرے تو لوگ برباد ہوجائیں۔

مومن ہر حال میں اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں۔ اسی آیت جیسی (وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَاۗءٍ عَرِيْضٍ 51؀) 41۔ فصلت :51) ہے یعنی جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بڑی لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے۔ ہر وقت اٹھتے بیٹھے لیٹتے اللہ سے اپنی تکلیف کے دور ہونے کی التجائیں کرتا ہے۔ لیکن جہاں دعا قبول ہوئی تکلیف دور ہوئی اور ایسا ہوگیا جیسے کہ نہ اسے کبھی تکلیف پہنچی تھی نہ اس نے کبھی دعا کی تھی۔ ایسے لوگ حد سے گزر جانے والے ہیں اور وہ انہیں اپنے ایسے ہی گناہ اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ ہاں ایماندار، نیک اعمال، ہدایت و رشد والے ایسے نہیں ہوتے۔ حدیث شریف میں ہے مومن کی حالت پر تعجب ہے۔ اس کے لیے ہر الٰہی فیصلہ اچھا ہی ہوتا ہے۔ اسے تکلیف پہنچی اس نے صبر و استقامت اختیار کی اور اسے نیکیاں ملیں۔ اسے راحت پہنچی، اس نے شکر کیا، اس پر بھی نیکیاں ملیں، یہ بات مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ سابقہ اقوام پر تکذیب رسول کی وجہ سے عذاب آئے تہس نہس ہوگئے۔ اب تم ان کے قائم مقام ہو اور تمہارے پاس بھی افضل الرسل آچکے ہیں۔ اللہ دیکھ رہا ہے کہ تمہارے اعمال کی کیا کیفیت رہتی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دنیا میٹھی، مزے کی، سبز رنگ والی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں خلیفہ بنا کر دیکھ رہا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو ؟ دنیا سے ہوشیار رہو۔ اور عورتوں سے ہوشیار رہو۔ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں کا ہی آیا تھا۔ (مسلم) حضرت عوف بن مالک نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا آسمان سے ایک رسی لٹکائی گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے تو اسے مکمل تھام لیا، پھر لٹکائی گئی تو ابوبکر صدیق ؓ نے بھی اسی طرح اسے مضبوطی سے تھام لیا۔ پھر منبر کے ارد گرد لوگوں نے ناپنا شروع کیا تو حضرت عمر ؓ تین ذراع بڑھ گئے۔ حضرت عمر ؓ نے یہ خواب سن کر فرمایا بس ہٹاؤ بھی۔ ہمیں خوابوں کیا حاجت ؟ پھر اپنی خلافت کے زمانے میں عمر فاروق نے کہا عوف تمہارا خواب کیا تھا ؟ حضرت عوف نے کہا جانے دیجئے۔ جب آپ کو اس کی ضرورت ہی نہیں۔ آپ نے جب مجھے ڈانٹ دیا پھر اب کیوں پوچھتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اس وقت تو تم خلیفۃ الرسول کو ان کی موت کی خبر دے رہے تھے۔ اب بیان کرو انہوں نے بیان کیا۔ تو آپ نے فرمایا لوگوں کا منبر کی طرف تین ذراع پانا یہ تھا کہ ایک تو خلیفہ برحق تھا۔ دوسرے خلیفہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے بالکل بےپرواہ تھا۔ تیسرا خلیفہ شہید ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے پھر ہم نے تمہیں خلیفہ بنایا کہ ہم تمہارے اعمال دیکھیں۔ اے عمر کی ماں کے لڑکے تو خلیفہ بنا ہوا ہے۔ خوب دیکھ بھال لے کہ کیا کیا عمل کر رہا ہے ؟ آپ کا فرمان کہ " میں اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہیں کرتا " سے مراد ان چیزوں میں ہے جو اللہ چاہے۔ شہید ہونے سے مراد یہ ہے کہ جب حضرت عمر ؓ کی شہادت ہوئی اس وقت مسلمان آپ کی مطیع و فرمانبردار تھے۔

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ سابقہ اقوام پر تکذیب رسول کی وجہ سے عذاب آئے تہس نہس ہوگئے۔ اب تم ان کے قائم مقام ہو اور تمہارے پاس بھی افضل الرسل آچکے ہیں۔ اللہ دیکھ رہا ہے کہ تمہارے اعمال کی کیا کیفیت رہتی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دنیا میٹھی، مزے کی، سبز رنگ والی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں خلیفہ بنا کر دیکھ رہا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو ؟ دنیا سے ہوشیار رہو۔ اور عورتوں سے ہوشیار رہو۔ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں کا ہی آیا تھا۔ (مسلم) حضرت عوف بن مالک نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا آسمان سے ایک رسی لٹکائی گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے تو اسے مکمل تھام لیا، پھر لٹکائی گئی تو ابوبکر صدیق ؓ نے بھی اسی طرح اسے مضبوطی سے تھام لیا۔ پھر منبر کے ارد گرد لوگوں نے ناپنا شروع کیا تو حضرت عمر ؓ تین ذراع بڑھ گئے۔ حضرت عمر ؓ نے یہ خواب سن کر فرمایا بس ہٹاؤ بھی۔ ہمیں خوابوں کیا حاجت ؟ پھر اپنی خلافت کے زمانے میں عمر فاروق نے کہا عوف تمہارا خواب کیا تھا ؟ حضرت عوف نے کہا جانے دیجئے۔ جب آپ کو اس کی ضرورت ہی نہیں۔ آپ نے جب مجھے ڈانٹ دیا پھر اب کیوں پوچھتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اس وقت تو تم خلیفۃ الرسول کو ان کی موت کی خبر دے رہے تھے۔ اب بیان کرو انہوں نے بیان کیا۔ تو آپ نے فرمایا لوگوں کا منبر کی طرف تین ذراع پانا یہ تھا کہ ایک تو خلیفہ برحق تھا۔ دوسرے خلیفہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے بالکل بےپرواہ تھا۔ تیسرا خلیفہ شہید ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے پھر ہم نے تمہیں خلیفہ بنایا کہ ہم تمہارے اعمال دیکھیں۔ اے عمر کی ماں کے لڑکے تو خلیفہ بنا ہوا ہے۔ خوب دیکھ بھال لے کہ کیا کیا عمل کر رہا ہے ؟ آپ کا فرمان کہ " میں اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہیں کرتا " سے مراد ان چیزوں میں ہے جو اللہ چاہے۔ شہید ہونے سے مراد یہ ہے کہ جب حضرت عمر ؓ کی شہادت ہوئی اس وقت مسلمان آپ کی مطیع و فرمانبردار تھے۔

کفار کی بدترین حجتیں مکہ کے کفار کا بغض دیکھئے قرآن سن کر کہنے لگے، اسے تو بدل لا، بلکہ کوئی اور ہی لا۔ تو جواب دے کہ یہ میرے بس کی بات نہیں میں تو اللہ کا غلام ہوں اس کا رسول ہوں اس کا کہا کہتا ہوں۔ اگر میں ایسا کروں تو قیامت کے عذاب کا مجھے ڈر ہے۔ دیکھو اس بات کی دلیل یہ کیا کم ہے ؟ کہ میں ایک بےپڑھا لکھا شخص ہوں تم لوگ استاد کلام ہو لیکن پھر بھی اس کا معارضہ اور مقابلہ نہیں کرسکتے۔ میری صداقت و امانت کے تم خود قائل ہو۔ میری دشمنی کے باوجود تم آج تک مجھ پر انگلی ٹکا نہیں سکتے۔ اس سے پہلے میں تم میں اپنی عمر کا بڑا حصہ گزار چکا ہوں۔ کیا پھر بھی عقل سے کام نہیں لیتے ؟ شاہ روم ہرقل نے ابو سفیان اور ان کے ساتھیوں سے آنحضرت ﷺ کی صفتیں دریافت کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا دعویٰ نبوت سے پہلے کبھی تم نے اسے جھوٹ کی تہمت لگائی ہے ؟ تو اسے باوجود دشمن اور کافر ہونے کے کہنا پڑا کہ نہیں، یہ ہے آپ کی صداقت جو دشمنوں کی زبان سے بھی بےساختہ ظاہر ہوتی تھی۔ ہرقل نے نتیجہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں کیسے مان لوں کہ لوگوں کے معاملات میں تو جھوٹ نہ بولے اور اللہ پر جھوٹ بہتان باندھ لے۔ حضرت جعفر بن ابو طالب نے دربار نجاشی میں شاہ حبش سے فرمایا تھا ہم میں اللہ نے جس رسول ﷺ کو بھیجا ہے ہم اس کی صدقت امانت نسب وغیرہ سب کچھ جانتے ہیں وہ نبوت سے پہلے ہم میں چالیس سال گزار چکے ہیں۔ سعید بن مسیب سے تنتالیس سال مروی ہیں لیکن مشہور قول پہلا ہی ہے۔

کفار کی بدترین حجتیں مکہ کے کفار کا بغض دیکھئے قرآن سن کر کہنے لگے، اسے تو بدل لا، بلکہ کوئی اور ہی لا۔ تو جواب دے کہ یہ میرے بس کی بات نہیں میں تو اللہ کا غلام ہوں اس کا رسول ہوں اس کا کہا کہتا ہوں۔ اگر میں ایسا کروں تو قیامت کے عذاب کا مجھے ڈر ہے۔ دیکھو اس بات کی دلیل یہ کیا کم ہے ؟ کہ میں ایک بےپڑھا لکھا شخص ہوں تم لوگ استاد کلام ہو لیکن پھر بھی اس کا معارضہ اور مقابلہ نہیں کرسکتے۔ میری صداقت و امانت کے تم خود قائل ہو۔ میری دشمنی کے باوجود تم آج تک مجھ پر انگلی ٹکا نہیں سکتے۔ اس سے پہلے میں تم میں اپنی عمر کا بڑا حصہ گزار چکا ہوں۔ کیا پھر بھی عقل سے کام نہیں لیتے ؟ شاہ روم ہرقل نے ابو سفیان اور ان کے ساتھیوں سے آنحضرت ﷺ کی صفتیں دریافت کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا دعویٰ نبوت سے پہلے کبھی تم نے اسے جھوٹ کی تہمت لگائی ہے ؟ تو اسے باوجود دشمن اور کافر ہونے کے کہنا پڑا کہ نہیں، یہ ہے آپ کی صداقت جو دشمنوں کی زبان سے بھی بےساختہ ظاہر ہوتی تھی۔ ہرقل نے نتیجہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں کیسے مان لوں کہ لوگوں کے معاملات میں تو جھوٹ نہ بولے اور اللہ پر جھوٹ بہتان باندھ لے۔ حضرت جعفر بن ابو طالب نے دربار نجاشی میں شاہ حبش سے فرمایا تھا ہم میں اللہ نے جس رسول ﷺ کو بھیجا ہے ہم اس کی صدقت امانت نسب وغیرہ سب کچھ جانتے ہیں وہ نبوت سے پہلے ہم میں چالیس سال گزار چکے ہیں۔ سعید بن مسیب سے تنتالیس سال مروی ہیں لیکن مشہور قول پہلا ہی ہے۔

مجرم اور ظالموں کا سرغنہ اس سے زیادہ ظالم، اس سے زیادہ مجرم، اسے زیادہ سرکش اور کون ہوگا ؟ جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور اس کی طرف نسبت کر کے وہ کہے جو اس نے نہ فرمایا ہو۔ رسالت کا دعویٰ کر دے حالانکہ اللہ نے اسے نہ بھیجا ہو۔ ایسے جھوٹے لوگ تو عامیوں کے سامنے بھی چھپ نہیں سکتے چہ جائیکہ عاقلوں کے سامنے اس گناہ کا کبیرہ ترین ہونا تو کسی سے مخفی نہیں۔ پھر کیسے ہوسکتا ہے کہ نبی اس سے غافل رہیں ؟ یاد رکھو جو بھی منصب نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کی صداقت یا جھوٹ پر ایسے دلائل قائم کردیتی ہے کہ اس کا معاملہ بالکل ہی کھل جاتا ہے ایک طرف حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو لیجئے اور دوسری جانب مسلیمہ کذاب کو رکھئے تو اتنا ہی فرق معلوم ہوگا۔ جتنا آدھی رات اور دوپہر کے وقت میں دونوں کے اخلاق عادات، حالات کا معائنہ کرنے والا، حضور ﷺ کی سچائی اور اس کی غلط گوئی میں کوئی شک نہیں کرسکتا۔ اسی طرح سجاح اور اسود عنسی کا دعوی ہے کہ نظر ڈالنے کے بعد کسی کو ان کے جھوٹ میں شک نہیں رہتا۔ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ فرماتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ مدینے میں آئے لوگ آپ کے دیکھنے کے لیے گئے۔ میں بھی گیا آپ کے چہرے پر نظریں پڑتے ہی میں نے سمجھ لیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے آدمی کا نہیں۔ پاس گیا تو سب سے پہلے آپ کی زبان مبارک سے یہ کلام سنا کہ لوگو سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاتے رہا کرو۔ صلہ رحمی قائم رکھو۔ راتوں کو لوگوں کی نیند کے وقت تہجد کی نماز پڑھا کرو تو سلامتی کے ساتھ جنت میں جاؤ گے۔ اسی طرح جب سعد بن بکر کے قبیلے کے وفد میں ضمام بن ثعلبہ ؓ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو پوچھا کہ اس آسمان کا بلند کرنے والا کون ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہے۔ اس نے پوچھا ان پہاڑوں کا گاڑھنے ولا کون ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ اس نے پوچھا اس زمین کا پھیلانے والا کون ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ۔ تو اس نے کہا میں آپ کو اسی اللہ کی قسم دیتا ہوں۔ جس نے ان آسمانوں کو بلند کیا۔ ان پہاڑوں کو گاڑ دیا اس زمین کو پھیلا دیا کہ کیا واقعی اللہ تعالیٰ ہی نے آپ کو اپنا رسول بنا کر ہماری طرف بھیجا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اسی اللہ کی قسم ہاں۔ اسی طرح نماز، زکوٰۃ، حج اور روزے کی بابت بھی اس نے ایسی ہی تاکیدی قسم دلا کر سوال کیا اور آپ نے بھی قسم کھا کر جواب دیا۔ تب اس نے کہا آپ ﷺ سچے ہیں۔ اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ نہ میں اس پر بڑھاؤں گا اور نہ کم کروں گا۔ پس اس شخص نے صرف اسی پر قناعت کرلی۔ اور جو دلائل آپ کی صداقت کے اس کے سامنے تھے ان پر اسے اعتبار آگیا۔ حضرت حسان نے آپ کی تعریف میں کتنا اچھا شعر کہا ہے لو لم تکن فیہ ایات مبینتہ کانت بدیھتہ تاتیک بالخیر یعنی حضور ﷺ میں اگر اور ظاہر اور کھلی نشانیاں نہ بھی ہوتیں تو صرف یہی ایک بات کافی تھی کہ چہرہ دیکھتے ہی بھلائی اور خوبی تیری طرف لپکتی ہے۔ فصلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ برخلاف آپ کے کذاب مسیلمہ کے جس نے اسے بیک نگاہ دیکھ لیا اس کا جھوٹ اس پر کھل گیا۔ خصوصاً جس نے اس کے فضول اقوال اور بدترین افعال دیکھ لئے۔ اسے اس کے جھوٹ میں ذرا سا شائبہ بھی نہ رہا۔ جسے وہ اللہ کا کلام کہہ رہا تھا اس کلام کی بدمزگی، اس کی بےکاری، تو اتنی ظاہر ہے کہ کلام کے سامنے پیش کئے جانے کے بھی قابل نہیں۔ لو اب تم ہی انصاف کرو۔ آیت الکرسی کے مقابلے میں اس ملعون نے یہ آیت بنائی تھی۔ یاضفدع بنت ضفد عین نقی کم تنقین لا للماء تکدرین ولا الش اور بتمنعین یعنی اے مینڈکوں کے بچے میں مینڈک تو ٹراتا رہ۔ نہ تو پانی خراب کرسکے نہ پینے والوں کو روک سکے۔ اس طرح اس کے ناپاک کلام کے نمونے میں اس کی بنائی ایک اور آیت ہے کہ لقد انعم اللہ علی الجبلی اذا خرج منھا نسمۃ تسعی من بین صفاق وحشی اللہ نے حاملہ پر بڑی مہربانی فرمائی کہ اس کے پیٹ سے چلتی پھرتی جان برآمد کی، جھلی اور آنتوں کے درمیان سے۔ سورة الفیل کے مقابلے میں وہ پاجی کہتا ہے الفیل وما ادراک ما الفیل لہ خرطوم طویل یعنی ہاتھی اور کیا جانے تو کیا ہے ہاتھی ؟ اس کی بڑی لمبی سونڈھ ہوتی ہے۔ والنازعات کا معارضہ کرتے ہوئے یہ کمینہ کہتا ہے والعاجنات عجنا والخابزات خبزا والاقمات لقما اھالتہ و سمعان ان قریشا قوم یعتدون یعنی آٹا گوندھنے والا اور روٹی پکانے والیاں، اور لقمے بنانے والیاں، سالن اور گھی سے۔ قریش لوگ بہت آگے نکل گئے۔ اب آپ ہی انصاف کیجئے کہ یہ بچوں کا کھیل ہے یا نہیں ؟ شریف انسان تو سوائے مذاق کے ایسی بات منہ سے بھی نہیں نکال سکتا پھر اس کا انجام دیکھئے لڑائی میں مارا گیا۔ اس کا گروہ مٹ گیا۔ اس کے ساتھیوں پر لعنت برسی۔ حضرت صدیق اکبر کے پاس خائب و خاسر ہو کر منہ پر مٹی مل کر پیش ہوئے اور رو دھو کر توبہ کر کے جوں جوں کر کے جان بچائی۔ پھر تو اللہ کے سچے دین کی چاشنی سے ہونٹ چوسنے لگے۔ ایک روز ان سے خلیفۃ المسلمین امیرالمومنین حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا کہ مسیلمہ کا قرآن تو سناؤ تو بہت سٹ پٹائے بیحد شرمائے اور کہنے لگے حضرت ہمیں اس ناپاک کلام کے زبان سے نکالنے پر مجبور نہ کیجئے ہمیں تو اس سے شرم معلوم ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں تو ضرور سناؤ تاکہ ہمارے مسلمان بھائیوں کو بھی اس کی رکاکت اور بےہودگی معلوم ہوجائے۔ آخر مجبور ہو کر انہوں نہایت ہی شرماتے ہوئے کچھ پڑھا جس کا نمونہ اوپر گزرا کہ کہیں میں مینڈک کا ذکر کہیں ہاتھی کا کہیں روٹی کا کہیں حمل کا۔ اور وہ سارے ہی ذکر بےسود بےمزہ اور بےکار۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آخر میں فرمایا یہ تو بتاؤ تمہاری عقلیں کہاں ماری گئیں تھیں ؟ واللہ اسے تو کوئی بیوقوف بھی ایک لمحہ کے لیے کلام اللہ نہیں کہہ سکتا۔ مذکور ہے کہ عمرو بن العاص اپنے کفر کے زمانے میں مسیلمہ کے پاس پہنچا۔ یہ دونوں بچپن کے دوست تھے اس سے پوچھا کہو عمرو تمہارے ہاں کے نبی پر آج کل جو وحی اتری ہو اس میں سے کچھ سنا سکتے ہو ؟ اس نے کہا ہاں ان کے اصحاب ایک مختصر سورت پڑھتے تھے جو میری زبان پر بھی چڑھ گئی لیکن بھائی اپنی مضمون کے لحاظ سے وہ سورت بہت بڑی اور بہت ہی اعلیٰ ہے اور لفظوں کے اعتبار سے بہت ہی مختصر اور بڑی جامع ہے۔ پھر اس نے سورة والعصر پڑھ سنائی۔ مسیلمہ چپکا ہوگیا بہت دیر کے بعد کہنے لگا مجھ پر اسی جیسی سورت اتری ہے۔ اس نے کہا ہاں تو بھی سنا دے تو اس نے پڑھا یا وبر یا وبر انما انت اذنان و صدر و سائرک حقر لغر یعنی اے وبر جانور تیرے تو بس دو کان ہیں اور سینہ ہے، اور باقی جسم تو تیرا بالکل حقیر اور عیب دار ہے۔ یہ سنا کر عمرو سے پوچھتا ہے کہو دوست کیسی کہی ؟ اس نے کہا دوست اپنے جھوٹ پر مہر لگا دی اور کیسی کہی ؟ پس جب کہ ایک مشرک پر بھی سچے جھوٹے کی تمیز مشکل نہ ہوئی تو ایک صاحب عقل تمیز دار اور بایمان پر کیسے یہ بات چھپ سکتی ہے ؟ اس کا بیان (وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِيَ اِلَيَّ وَلَمْ يُوْحَ اِلَيْهِ شَيْءٌ) 6۔ الانعام :93) میں ہے یعنی اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے یا اس کے طرف وحی نہ آنے کے باوجود وحی آنے کا دعویٰ کرنے والے سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں۔ اسی طرح جو کہے کہ میں بھی اللہ کی طرح کا کلام اتار سکتا ہوں۔ مندرجہ بالا آیت میں بھی یہی فرمان ہے۔ پس وہ بڑا ہی ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے، وہ بڑا ہی ظالم ہے جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے۔ حجت ظاہر ہوجانے پر بھی نہ مانے۔ حدیث میں ہے سب سے بڑا سرکش اور بدنصیب وہ ہے جو کسی نبی کو قتل کرے یا نبی اسے قتل کرے۔

شرک کے آغاز کی روداد مشرکوں کا خیال تھا کہ جن کو ہم پوجتے ہیں یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہوں گے اس غلط عقیدے کی قرآن کریم تردید فرماتا ہے کہ وہ کسی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ان کی شفاعت تمہارے کچھ کام نہ آئے گی۔ تم تو اللہ کو بھی سکھانا چاہتے ہو گویا جو چیز زمین آسمان میں وہ نہیں جانتا تم اس کی خبر اسے دینا چاہتے ہو۔ یعنی یہ خیال غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک و کفر سے پاک ہے وہ برتر و بری ہے۔ سنو پہلے سب کے سب لوگ اسلام پر تھے۔ حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت نوح ؑ تک دس صدیاں وہ سب لوگ مسلمان تھے۔ پھر اختلاف رونما ہوا اور لوگوں نے تیری میری پرستش شروع کردی۔ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کے سلسلوں کو جاری کیا تاکہ ثبوت و دلیل کے بعد جس کا جی چاہے زندہ رہے جس کا جی چاہے مرجائے۔ چونکہ اللہ کی طرف سے فیصلے کا دن مقرر ہے۔ حجت تمام کرنے سے پہلے عذاب نہیں ہوتا اس لیے موت موخر ہے۔ ورنہ ابھی ہی حساب چکا دیا جاتا۔ مومن کامیاب رہتے اور کافر ناکام۔

شرک کے آغاز کی روداد مشرکوں کا خیال تھا کہ جن کو ہم پوجتے ہیں یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہوں گے اس غلط عقیدے کی قرآن کریم تردید فرماتا ہے کہ وہ کسی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ان کی شفاعت تمہارے کچھ کام نہ آئے گی۔ تم تو اللہ کو بھی سکھانا چاہتے ہو گویا جو چیز زمین آسمان میں وہ نہیں جانتا تم اس کی خبر اسے دینا چاہتے ہو۔ یعنی یہ خیال غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک و کفر سے پاک ہے وہ برتر و بری ہے۔ سنو پہلے سب کے سب لوگ اسلام پر تھے۔ حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت نوح ؑ تک دس صدیاں وہ سب لوگ مسلمان تھے۔ پھر اختلاف رونما ہوا اور لوگوں نے تیری میری پرستش شروع کردی۔ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کے سلسلوں کو جاری کیا تاکہ ثبوت و دلیل کے بعد جس کا جی چاہے زندہ رہے جس کا جی چاہے مرجائے۔ چونکہ اللہ کی طرف سے فیصلے کا دن مقرر ہے۔ حجت تمام کرنے سے پہلے عذاب نہیں ہوتا اس لیے موت موخر ہے۔ ورنہ ابھی ہی حساب چکا دیا جاتا۔ مومن کامیاب رہتے اور کافر ناکام۔

ثبوت صداقت مانگنے والے کہتے ہیں کہ اگر یہ سچا نبی ہے تو جیسے آل ثمود کو اونٹنی ملی تھی انہیں ایسی کوئی نشانی کیوں نہیں ملی ؟ چاہیے تھا کہ یہ صفا پہاڑ کو سونا بنا دیتا یا مکہ کے پہاڑوں کو ہٹا کر یہاں کھیتیاں باغ اور نہریں بنا دیتا۔ گو اللہ کی قدرت اس سے عاجز نہیں لیکن اس کی حکمت کا تقاضا وہی جانتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے نبی ﷺ کے لیے باغات اور نہریں بنا دے لیکن یہ پھر بھی قیامت کے منکر ہی رہیں گے اور آخر جہنم میں جائیں گے۔ اگلوں نے بھی ایسے معجزے طلب کئے دکھائے گئے پھر بھی جھٹلایا تو عذاب اللہ آگئے آنحضرت ﷺ سے بھی یہی فرمایا گیا تھا کہ اگر تم چاہو تو میں ان کے منہ مانگے معجزے دکھا دوں لیکن پھر بھی یہ کافر رہے تو غارت کردیئے جائیں گے اور اگر چاہو تو مہلت دوں۔ آپ نے اپنے حلم و کرم سے دوسری بات ہی اختیار کی۔ یہاں حکم ہوتا ہے کہ غیب کا علم اللہ ہی کو ہے تمام کاموں کا انجام وہی جانتا ہے۔ تم ایمان نہیں لاتے تو نتیجے کے منتظر رہو۔ دیکھو میرا کیا ہوتا ہے اور تمہارا کیا ہوتا ہے ؟ آہ ! کیسے بدنصیب تھے جو مانگتے تھے اس سے بدرجہا بڑھ کر دیکھ چکے تھے اور سب معجزوں کو جانے دو چاند کو ایک اشارے سے دو ٹکڑے کردینا ایک ٹکڑے کا پہاڑ کے اس طرف اور دوسرے کا اس طرف چلے آنا کیا یہ معجزہ کس طرح اور کس معجزے سے کم تھا ؟ لیکن چونکہ ان کا یہ سوال محض کفر کی بنا پر تھا ورنہ یہ بھی اللہ دکھا دیتا جن پر عذاب عملاً آجاتا ہے وہ چاہے دنیا بھر کے معجزے دیکھ لیں انہیں ایمان نصیب نہیں ہوتا۔ اگر ان پر فرشتے اترتے اگر ان سے مردے باتیں کرتے اگر ہر ایک چیز ان کے سامنے کردی جاتی پھر بھی انہیں تو ایمان نصیب نہ ہوتا اسی کا بیان (وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ 14 ۙ) 15۔ الحجر :14) اور آیت وان یرو کسفا من السماء الخ، اور آیت (وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتٰبًا فِيْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَيْدِيْهِمْ لَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْـرٌ مُّبِيْنٌ) 6۔ الانعام :7) میں بھی ہوا ہے۔ پس ایسے لوگوں کو ان کے منہ مانگے معجزے دکھانے بھی بےسود ہیں۔ اس لیے کہ انہوں نے تو کفر پر گرہ لگا لی ہے۔ اس لیے فرما دیا کہ آگے چل کر دیکھ لینا کہ کیا ہوتا ہے۔

احسان فراموش انسان انسان کی ناشکری کا بیان ہو رہا ہے کہ اسے سختی کے بعد کی آسانی، خشک سالی کے بعد کی ترسالی، قحط کے بعد کی بارش اور بھی ناشکرا کردیتی ہے یہ ہماری آیتوں سے مذاق اڑانے لگتا ہے۔ کیا تو اس وقت ہماری طرف ان کا جھکنا اور کیا اس وقت ان کا اکڑنا۔ رات کو بارش ہوئی، صبح کو حضور ﷺ نے نماز پڑھائی، پھر پوچھا جانتے بھی ہو رات کو باری تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے ؟ صحابہ نے کہا ہمیں کیا خبر ؟ آپ نے فرمایا اللہ کا ارشاد ہوا ہے کہ صبح کو میرے بہت سے بندے ایماندار ہوجائیں گے اور بہت سے کافر۔ کچھ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے بارش ہوئی وہ مجھ پر ایمان رکھنے والے بن جائیں گے اور ستاروں کی ایسی تاثیروں کے منکر ہوجائیں گے اور کچھ کہیں گے کہ فلاں فلاں نچھتر کی وجہ سے بارش برسائی گئی وہ مجھ سے کافر ہوجائیں گے اور ستاروں پر ایمان رکھنے والے بن جائیں گے۔ یہاں فرماتا ہے کہ جیسے یہ چالبازی ان کی طرف سے ہے۔ میں بھی اس کے جواب سے غافل نہیں انہیں ڈھیل دیتا ہوں۔ یہ اسے غفلت سمجھتے ہیں پھر جب پکڑ آجاتی ہے تو حیران و ششدر رہ جاتے ہیں۔ میں غافل نہیں۔ میں نے تو اپنے امین فرشتے چھوڑ رکھے ہیں جو ان کے کرتوت برابر لکھتے جا رہے ہیں۔ پھر میرے سامنے پیش کریں گے میں خود دانا بینا ہوں لیکن تاہم وہ سب تحریر میرے سامنے ہوگی۔ جس میں ان کے چھوٹے بڑے بڑے بھلے سب اعمال ہوں گے۔ اسی اللہ کی حفاظت میں تمہارے خشکی اور تری کے سفر ہوتے ہیں۔ تم کشتیوں میں سوار ہو، موافق ہوائیں چل رہی ہیں۔ کشتیاں تیر کی طرح منزل مقصود کو جا رہی ہیں تم خوشیاں منا رہے ہو کہ یکایک باد مخالف چلی اور چاروں طرف سے پہاڑوں کی طرح موجیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔ سمندر میں تلاطم شروع ہوگیا۔ کشتی تنکے کی طرح جھکولے کھانے لگی اور تمہارے کلیجے الٹنے لگے۔ ہر طرف سے موت نظر آنے لگی، اس وقت سارے بنے بنائے معبود اپنی جگہ دھرے رہ گئے اور نہایت خشوع وخضوع سے صرف مجھ سے دعائیں مانگیں جانے لگیں وعدے کئے جانے لگے کہ اب کے اس مصیبت سے نجات مل جانے کے بعد شکر گزاری میں باقی عمر گزار دیں گے، توحید میں لگے رہیں گے کسی کو اللہ کا شریک نہیں بنائیں گے، آج سے خالص توبہ ہے۔ لیکن ادھر نجات ملی، کنارے پر اترے، خشکی میں چلے پھرے کہ اس مصیبت کے وقت کو اس خالص دعا کو پھر اقرار شکر و توحید کو یکسر بھول گئے اور ایسے ہوگئے گویا ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ ہم سے کبھی معاملہ ہی نہ پڑا تھا۔ ناحق اکڑفوں کرنے لگے، مستی میں آگئے۔ لوگو ! تمہاری اس سرکشی کا وبال تم پر ہی ہے۔ تم اس سے دوسروں کا نہیں بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہو۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہ گناہ جس پر یہاں بھی اللہ کی پکڑ نازل ہو اور آخر میں بھی بدترین عذاب ہو فساد و سرکشی اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ تم اس دنیائے فانی کے تھوڑے سے برائے نام فائدے کو چاہے اٹھالو لیکن آخر انجام تو میری طرف ہی ہے۔ میرے سامنے آؤ گے میرے قبضے میں ہوگے۔ اس وقت ہم خود تمہیں تمہاری بد اعمالیوں پر متنبہ کریں گے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیں گے لہذا اچھائی پاکر ہمارا شکر کرو اور برائی دیکھ کر اپنے سوا کسی اور کو ملامت اور الزام نہ دو۔

احسان فراموش انسان انسان کی ناشکری کا بیان ہو رہا ہے کہ اسے سختی کے بعد کی آسانی، خشک سالی کے بعد کی ترسالی، قحط کے بعد کی بارش اور بھی ناشکرا کردیتی ہے یہ ہماری آیتوں سے مذاق اڑانے لگتا ہے۔ کیا تو اس وقت ہماری طرف ان کا جھکنا اور کیا اس وقت ان کا اکڑنا۔ رات کو بارش ہوئی، صبح کو حضور ﷺ نے نماز پڑھائی، پھر پوچھا جانتے بھی ہو رات کو باری تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے ؟ صحابہ نے کہا ہمیں کیا خبر ؟ آپ نے فرمایا اللہ کا ارشاد ہوا ہے کہ صبح کو میرے بہت سے بندے ایماندار ہوجائیں گے اور بہت سے کافر۔ کچھ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے بارش ہوئی وہ مجھ پر ایمان رکھنے والے بن جائیں گے اور ستاروں کی ایسی تاثیروں کے منکر ہوجائیں گے اور کچھ کہیں گے کہ فلاں فلاں نچھتر کی وجہ سے بارش برسائی گئی وہ مجھ سے کافر ہوجائیں گے اور ستاروں پر ایمان رکھنے والے بن جائیں گے۔ یہاں فرماتا ہے کہ جیسے یہ چالبازی ان کی طرف سے ہے۔ میں بھی اس کے جواب سے غافل نہیں انہیں ڈھیل دیتا ہوں۔ یہ اسے غفلت سمجھتے ہیں پھر جب پکڑ آجاتی ہے تو حیران و ششدر رہ جاتے ہیں۔ میں غافل نہیں۔ میں نے تو اپنے امین فرشتے چھوڑ رکھے ہیں جو ان کے کرتوت برابر لکھتے جا رہے ہیں۔ پھر میرے سامنے پیش کریں گے میں خود دانا بینا ہوں لیکن تاہم وہ سب تحریر میرے سامنے ہوگی۔ جس میں ان کے چھوٹے بڑے بڑے بھلے سب اعمال ہوں گے۔ اسی اللہ کی حفاظت میں تمہارے خشکی اور تری کے سفر ہوتے ہیں۔ تم کشتیوں میں سوار ہو، موافق ہوائیں چل رہی ہیں۔ کشتیاں تیر کی طرح منزل مقصود کو جا رہی ہیں تم خوشیاں منا رہے ہو کہ یکایک باد مخالف چلی اور چاروں طرف سے پہاڑوں کی طرح موجیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔ سمندر میں تلاطم شروع ہوگیا۔ کشتی تنکے کی طرح جھکولے کھانے لگی اور تمہارے کلیجے الٹنے لگے۔ ہر طرف سے موت نظر آنے لگی، اس وقت سارے بنے بنائے معبود اپنی جگہ دھرے رہ گئے اور نہایت خشوع وخضوع سے صرف مجھ سے دعائیں مانگیں جانے لگیں وعدے کئے جانے لگے کہ اب کے اس مصیبت سے نجات مل جانے کے بعد شکر گزاری میں باقی عمر گزار دیں گے، توحید میں لگے رہیں گے کسی کو اللہ کا شریک نہیں بنائیں گے، آج سے خالص توبہ ہے۔ لیکن ادھر نجات ملی، کنارے پر اترے، خشکی میں چلے پھرے کہ اس مصیبت کے وقت کو اس خالص دعا کو پھر اقرار شکر و توحید کو یکسر بھول گئے اور ایسے ہوگئے گویا ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ ہم سے کبھی معاملہ ہی نہ پڑا تھا۔ ناحق اکڑفوں کرنے لگے، مستی میں آگئے۔ لوگو ! تمہاری اس سرکشی کا وبال تم پر ہی ہے۔ تم اس سے دوسروں کا نہیں بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہو۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہ گناہ جس پر یہاں بھی اللہ کی پکڑ نازل ہو اور آخر میں بھی بدترین عذاب ہو فساد و سرکشی اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ تم اس دنیائے فانی کے تھوڑے سے برائے نام فائدے کو چاہے اٹھالو لیکن آخر انجام تو میری طرف ہی ہے۔ میرے سامنے آؤ گے میرے قبضے میں ہوگے۔ اس وقت ہم خود تمہیں تمہاری بد اعمالیوں پر متنبہ کریں گے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیں گے لہذا اچھائی پاکر ہمارا شکر کرو اور برائی دیکھ کر اپنے سوا کسی اور کو ملامت اور الزام نہ دو۔

احسان فراموش انسان انسان کی ناشکری کا بیان ہو رہا ہے کہ اسے سختی کے بعد کی آسانی، خشک سالی کے بعد کی ترسالی، قحط کے بعد کی بارش اور بھی ناشکرا کردیتی ہے یہ ہماری آیتوں سے مذاق اڑانے لگتا ہے۔ کیا تو اس وقت ہماری طرف ان کا جھکنا اور کیا اس وقت ان کا اکڑنا۔ رات کو بارش ہوئی، صبح کو حضور ﷺ نے نماز پڑھائی، پھر پوچھا جانتے بھی ہو رات کو باری تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے ؟ صحابہ نے کہا ہمیں کیا خبر ؟ آپ نے فرمایا اللہ کا ارشاد ہوا ہے کہ صبح کو میرے بہت سے بندے ایماندار ہوجائیں گے اور بہت سے کافر۔ کچھ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے بارش ہوئی وہ مجھ پر ایمان رکھنے والے بن جائیں گے اور ستاروں کی ایسی تاثیروں کے منکر ہوجائیں گے اور کچھ کہیں گے کہ فلاں فلاں نچھتر کی وجہ سے بارش برسائی گئی وہ مجھ سے کافر ہوجائیں گے اور ستاروں پر ایمان رکھنے والے بن جائیں گے۔ یہاں فرماتا ہے کہ جیسے یہ چالبازی ان کی طرف سے ہے۔ میں بھی اس کے جواب سے غافل نہیں انہیں ڈھیل دیتا ہوں۔ یہ اسے غفلت سمجھتے ہیں پھر جب پکڑ آجاتی ہے تو حیران و ششدر رہ جاتے ہیں۔ میں غافل نہیں۔ میں نے تو اپنے امین فرشتے چھوڑ رکھے ہیں جو ان کے کرتوت برابر لکھتے جا رہے ہیں۔ پھر میرے سامنے پیش کریں گے میں خود دانا بینا ہوں لیکن تاہم وہ سب تحریر میرے سامنے ہوگی۔ جس میں ان کے چھوٹے بڑے بڑے بھلے سب اعمال ہوں گے۔ اسی اللہ کی حفاظت میں تمہارے خشکی اور تری کے سفر ہوتے ہیں۔ تم کشتیوں میں سوار ہو، موافق ہوائیں چل رہی ہیں۔ کشتیاں تیر کی طرح منزل مقصود کو جا رہی ہیں تم خوشیاں منا رہے ہو کہ یکایک باد مخالف چلی اور چاروں طرف سے پہاڑوں کی طرح موجیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔ سمندر میں تلاطم شروع ہوگیا۔ کشتی تنکے کی طرح جھکولے کھانے لگی اور تمہارے کلیجے الٹنے لگے۔ ہر طرف سے موت نظر آنے لگی، اس وقت سارے بنے بنائے معبود اپنی جگہ دھرے رہ گئے اور نہایت خشوع وخضوع سے صرف مجھ سے دعائیں مانگیں جانے لگیں وعدے کئے جانے لگے کہ اب کے اس مصیبت سے نجات مل جانے کے بعد شکر گزاری میں باقی عمر گزار دیں گے، توحید میں لگے رہیں گے کسی کو اللہ کا شریک نہیں بنائیں گے، آج سے خالص توبہ ہے۔ لیکن ادھر نجات ملی، کنارے پر اترے، خشکی میں چلے پھرے کہ اس مصیبت کے وقت کو اس خالص دعا کو پھر اقرار شکر و توحید کو یکسر بھول گئے اور ایسے ہوگئے گویا ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ ہم سے کبھی معاملہ ہی نہ پڑا تھا۔ ناحق اکڑفوں کرنے لگے، مستی میں آگئے۔ لوگو ! تمہاری اس سرکشی کا وبال تم پر ہی ہے۔ تم اس سے دوسروں کا نہیں بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہو۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہ گناہ جس پر یہاں بھی اللہ کی پکڑ نازل ہو اور آخر میں بھی بدترین عذاب ہو فساد و سرکشی اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ تم اس دنیائے فانی کے تھوڑے سے برائے نام فائدے کو چاہے اٹھالو لیکن آخر انجام تو میری طرف ہی ہے۔ میرے سامنے آؤ گے میرے قبضے میں ہوگے۔ اس وقت ہم خود تمہیں تمہاری بد اعمالیوں پر متنبہ کریں گے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیں گے لہذا اچھائی پاکر ہمارا شکر کرو اور برائی دیکھ کر اپنے سوا کسی اور کو ملامت اور الزام نہ دو۔

دنیا اور اس کی حقیقت۔ دنیا کی ٹیپ ٹاپ اور اس کی دو گھڑی کی سہانی رونق پھر اس کی بربادی اور بےرونقی کی مثال زمین کے سبزے سے دی جا رہی ہے کہ بادل سے پانی برسا زمین لہلہا اٹھی۔ طرح طرح کی سبزیاں، چارے، پھل پھول، کھیت باغات، پیدا ہوگئے۔ انسانوں کے کھانے کی چیزں، جانوروں کے چرنے چگنے کی چیزیں، چاروں طرف پھیل پڑیں، زمین سرسبز ہوگئی، ہر چہار طرف ہریالی ہی ہریالی نظر آنے لگی، کھیتی والے خوش ہوگئے، باغات والے پھولے نہیں سماتے کہ اب کے پھل اور انجاج بکثرت ہے۔ ناگہاں آندھیوں کے جھکڑ چلنے لگلے، برف باری ہوئی، اولے گرے، پالہ پڑا، پھل چھوڑ پتے بھی جل گئے۔ درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، تازگی خشکی سے بدل گئی، پھل ٹھٹھر گئے۔ ، جل گئے، کھیت و باغات ایسے ہوگئے گویا تھے ہی نہیں اور جو چیز کل تھی بھی آج نہیں تو گویا کل بھی نہ تھی۔ حدیث میں ہے بڑے دنیادار کروڑ پتی کو جو ہمیشہ ناز و نعمت میں ہی رہا تھا، لاکر جہنم میں ایک غوطہ دے کر پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ کہو تمہاری زندگی کیسی گزری ؟ وہ جواب دے گا کہ میں نے تو کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی۔ کبھی آرام کا نام بھی نہیں سنا۔ اسی طرح دنیا کی زندگی میں ایک گھڑی بھی جس پر آرام کی نہیں گزری تھی اسے لا یا جائے گا۔ جنت میں ایک غوطہ کھلا کر پوچھا جائے گا کہ کہو دنیا میں کیسے رہے ؟ جواب دے گا کہ پوری عمر کبھی رنج و غم کا نام بھی نہیں سنا کبھی تکلیف اور دکھ دیکھا بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح عقلمندوں کے لیے واقعات واضح کرتا ہے تاکہ وہ عبرت حاصل کرلیں۔ ایسا نہ ہو اس فانی چند روزہ دنیا کے ظاہری چکر میں پھنس جائیں اور اس ڈھل جانے والے سائے کو اصلی اور پائیدار سمجھ لیں۔ اس کی رونق دو روزہ ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو اپنے چاہنے والوں سے بھاگتی ہے۔ اور نفرت کرنے والوں سے لپٹتی ہے۔ دنیا کی زندگی کی مثال اسی طرح ہے اور بھی بہت سی آیتوں میں بیان ہوئی ہے۔ مثلاً سورة کہف کی (وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا كَمَاۗءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَاۗءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِيْمًا تَذْرُوْهُ الرِّيٰحُ ۭ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ مُّقْتَدِرًا 45؀) 18۔ الكهف :45) میں اور سورة زمر اور سورة حدید میں۔ خلیفہ مروان بن حکم نے منبر پر (وَظَنَّ اَهْلُهَآ اَنَّھُمْ قٰدِرُوْنَ) 24؀) 10۔ یونس :24) پڑھ کر فرمایا میں نے تو اسی طرح پڑھی ہے لیکن قرآن میں یہ لکھی ہوئی نہیں حضرت ابن عباس کے صاحبزادے نے فرمایا میرے والد بھی اسی طرح پڑھتے تھے۔ ابن عباس کے پاس جب آدمی بھیجا گیا تو آپ نے فرمایا ابی بن کعب کی قرآت بھی یونہی ہے۔ لیکن یہ قرآت غریبہ ہے۔ اور گویا یہ جملہ تفسیر یہ ہے واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کی طرف اپنے بندوں کو بلاتا ہے جو دنیا کی طرف فانی نہیں بلکہ باقی ہے دنیا کی طرف دو دن کے لیے زینت دار نہیں بلکہ ہمیشہ کی نعمتوں اور ابدی راحتوں والی ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھ سے کہا گیا تیری آنکھیں سو جائیں، تیرا دل جاگتا رہے اور تیرے کان سنتے رہیں چناچہ ایسا ہی ہوا۔ پھر فرمایا گیا ایک سردار نے ایک گھر بنایا۔ وہاں دعوت کا انتظام کیا۔ ایک بلانے والے کو بھیجا۔ پس جس نے اس کی دعوت قبول کی۔ گھر میں داخل ہوا اور دسترخوان سے کھانا کھایا جس نے نہ قبول کی نہ اسے اپنے گھر میں آٹا ملا نہ دعوت کا کھانا میسر ہوا نہ سردار اس سے خوش ہوا۔ پس اللہ سردار ہے اور گھر اسلام ہے اور دستر خوان جنت ہے اور بلانے والے حضرت محمد ﷺ ہیں یہ روایت مرسل ہے۔ دوسری متصل بھی ہے۔ اس میں ہے کہ ایک دن ہمارے مجمع میں آکر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خواب میں میرے پاس جبرائیل و میکائیل آئے جبرائیل سرہانے اور میکائیل پیروں کی طرف کھڑے ہوگئے۔ ایک نے دوسرے سے کہا اس کی مثال بیان کرو۔ پھر یہ مثال بیان کی۔ پس جس نے تیری دعوت قبول کی وہ اسلام میں داخل ہوا اور جو اسلام لایا وہ جنت میں پہنچا اور و وہاں کھایا پیا۔ ایک حدیث میں ہے ہر دن سورج کے طلوع ہونے کے وقت اس کے دونوں جانب دو فرشتے ہوتے ہیں جو باآواز بلند انسانوں اور جنوں کے سوا سب کو سنا کر کہتے ہیں کہ لوگو ! اپنے رب کی طرف آؤ۔ جو کم ہو یا کافی ہو وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غافل کردے۔ قرآن فرماتا ہے لوگو ! اللہ تعالیٰ تمہیں دارالسلام کی طرف بلاتا ہے (ابن ابی حاتم اور ابن جریر)۔

دنیا اور اس کی حقیقت۔ دنیا کی ٹیپ ٹاپ اور اس کی دو گھڑی کی سہانی رونق پھر اس کی بربادی اور بےرونقی کی مثال زمین کے سبزے سے دی جا رہی ہے کہ بادل سے پانی برسا زمین لہلہا اٹھی۔ طرح طرح کی سبزیاں، چارے، پھل پھول، کھیت باغات، پیدا ہوگئے۔ انسانوں کے کھانے کی چیزں، جانوروں کے چرنے چگنے کی چیزیں، چاروں طرف پھیل پڑیں، زمین سرسبز ہوگئی، ہر چہار طرف ہریالی ہی ہریالی نظر آنے لگی، کھیتی والے خوش ہوگئے، باغات والے پھولے نہیں سماتے کہ اب کے پھل اور انجاج بکثرت ہے۔ ناگہاں آندھیوں کے جھکڑ چلنے لگلے، برف باری ہوئی، اولے گرے، پالہ پڑا، پھل چھوڑ پتے بھی جل گئے۔ درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، تازگی خشکی سے بدل گئی، پھل ٹھٹھر گئے۔ ، جل گئے، کھیت و باغات ایسے ہوگئے گویا تھے ہی نہیں اور جو چیز کل تھی بھی آج نہیں تو گویا کل بھی نہ تھی۔ حدیث میں ہے بڑے دنیادار کروڑ پتی کو جو ہمیشہ ناز و نعمت میں ہی رہا تھا، لاکر جہنم میں ایک غوطہ دے کر پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ کہو تمہاری زندگی کیسی گزری ؟ وہ جواب دے گا کہ میں نے تو کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی۔ کبھی آرام کا نام بھی نہیں سنا۔ اسی طرح دنیا کی زندگی میں ایک گھڑی بھی جس پر آرام کی نہیں گزری تھی اسے لا یا جائے گا۔ جنت میں ایک غوطہ کھلا کر پوچھا جائے گا کہ کہو دنیا میں کیسے رہے ؟ جواب دے گا کہ پوری عمر کبھی رنج و غم کا نام بھی نہیں سنا کبھی تکلیف اور دکھ دیکھا بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح عقلمندوں کے لیے واقعات واضح کرتا ہے تاکہ وہ عبرت حاصل کرلیں۔ ایسا نہ ہو اس فانی چند روزہ دنیا کے ظاہری چکر میں پھنس جائیں اور اس ڈھل جانے والے سائے کو اصلی اور پائیدار سمجھ لیں۔ اس کی رونق دو روزہ ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو اپنے چاہنے والوں سے بھاگتی ہے۔ اور نفرت کرنے والوں سے لپٹتی ہے۔ دنیا کی زندگی کی مثال اسی طرح ہے اور بھی بہت سی آیتوں میں بیان ہوئی ہے۔ مثلاً سورة کہف کی (وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا كَمَاۗءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَاۗءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِيْمًا تَذْرُوْهُ الرِّيٰحُ ۭ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ مُّقْتَدِرًا 45؀) 18۔ الكهف :45) میں اور سورة زمر اور سورة حدید میں۔ خلیفہ مروان بن حکم نے منبر پر (وَظَنَّ اَهْلُهَآ اَنَّھُمْ قٰدِرُوْنَ) 24؀) 10۔ یونس :24) پڑھ کر فرمایا میں نے تو اسی طرح پڑھی ہے لیکن قرآن میں یہ لکھی ہوئی نہیں حضرت ابن عباس کے صاحبزادے نے فرمایا میرے والد بھی اسی طرح پڑھتے تھے۔ ابن عباس کے پاس جب آدمی بھیجا گیا تو آپ نے فرمایا ابی بن کعب کی قرآت بھی یونہی ہے۔ لیکن یہ قرآت غریبہ ہے۔ اور گویا یہ جملہ تفسیر یہ ہے واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کی طرف اپنے بندوں کو بلاتا ہے جو دنیا کی طرف فانی نہیں بلکہ باقی ہے دنیا کی طرف دو دن کے لیے زینت دار نہیں بلکہ ہمیشہ کی نعمتوں اور ابدی راحتوں والی ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھ سے کہا گیا تیری آنکھیں سو جائیں، تیرا دل جاگتا رہے اور تیرے کان سنتے رہیں چناچہ ایسا ہی ہوا۔ پھر فرمایا گیا ایک سردار نے ایک گھر بنایا۔ وہاں دعوت کا انتظام کیا۔ ایک بلانے والے کو بھیجا۔ پس جس نے اس کی دعوت قبول کی۔ گھر میں داخل ہوا اور دسترخوان سے کھانا کھایا جس نے نہ قبول کی نہ اسے اپنے گھر میں آٹا ملا نہ دعوت کا کھانا میسر ہوا نہ سردار اس سے خوش ہوا۔ پس اللہ سردار ہے اور گھر اسلام ہے اور دستر خوان جنت ہے اور بلانے والے حضرت محمد ﷺ ہیں یہ روایت مرسل ہے۔ دوسری متصل بھی ہے۔ اس میں ہے کہ ایک دن ہمارے مجمع میں آکر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خواب میں میرے پاس جبرائیل و میکائیل آئے جبرائیل سرہانے اور میکائیل پیروں کی طرف کھڑے ہوگئے۔ ایک نے دوسرے سے کہا اس کی مثال بیان کرو۔ پھر یہ مثال بیان کی۔ پس جس نے تیری دعوت قبول کی وہ اسلام میں داخل ہوا اور جو اسلام لایا وہ جنت میں پہنچا اور و وہاں کھایا پیا۔ ایک حدیث میں ہے ہر دن سورج کے طلوع ہونے کے وقت اس کے دونوں جانب دو فرشتے ہوتے ہیں جو باآواز بلند انسانوں اور جنوں کے سوا سب کو سنا کر کہتے ہیں کہ لوگو ! اپنے رب کی طرف آؤ۔ جو کم ہو یا کافی ہو وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غافل کردے۔ قرآن فرماتا ہے لوگو ! اللہ تعالیٰ تمہیں دارالسلام کی طرف بلاتا ہے (ابن ابی حاتم اور ابن جریر)۔

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہاں جس نے نیک اعمال کئے اور بایمان رہا وہاں اسے بھلائیاں اور نیک بدلے ملیں گے۔ احسان کا بدلہ احسان ہے۔ ایک ایک نیکی بڑھا چڑھا کر زیادہ ملے گی ایک کے بدلے سات سات سو تک۔ جنت حور قصور وغیرہ وغیرہ آنکھوں کی طرح طرح کی ٹھنڈک، دل کی لذت اور ساتھ ہی اللہ عزوجل کے چہرے کی زیارت یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کا لطف و رحم ہے بہت سے سلف خلف صحابہ وغیرہ سے مروی ہے کہ زیادہ سے مراد اللہ عزوجل کا دیدار ہے۔ حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے اور اس وقت ایک منادی کرنے والا ندا کرے گا کہ اے جنتیو ! تم سے اللہ کا ایک وعدہ ہوا تھا، اب وہ بھی پورا ہونے کو ہے۔ یہ کہیں گے الحمد اللہ ہمارے میزان بھاری ہوگئے، ہمارے چہرے نورانی ہوگئے، ہم جنت میں پہنچ گئے، ہم جہنم سے دور ہوئے، اب کیا چیز باقی ہے ؟ اس وقت حجاب ہٹ جائے گا اور یہ اپنے پاک پروردگار کا دیدار کریں گے۔ واللہ کسی چیز میں انہیں وہ لذت و سرور نہ حاصل ہوا ہوگا جو دیدار الٰہی میں ہوگا۔ (مسلم وغیرہ) اور حدیث میں کہ منادی کہے گا حسنیٰ سے مراد جنت تھی اور زیارت سے مراد دیدار الٰہی تھا۔ ایک حدیث میں یہ فرمان رسول اللہ ﷺ سے بھی مروی ہے۔ میدان محشر میں ان کے چہروں پر سیاہی نہ ہوگی نہ ذلت ہوگی۔ جیسے کہ کافروں کے چہروں پر یہ دونوں چیزیں ہوں گی۔ غرض ظاہر اور باطنی اہانت سے وہ دور ہوں گے۔ چہرے پر نور دل راحتوں سے مسرور۔ اللہ ہمیں بھی انہیں میں کرے آمین۔

ایک تقابلی جائزہ نیکوں کا حال بیان فرما کر اب بدوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ ان کی نیکیاں بڑھا کر ان کی برائیاں برابر ہی رکھی جائیں گی۔ نیکی کم مگر بدکاریاں ان کے چہروں پر سیاہیاں بن کر چڑھ جائیں گی ذلت و پستی سے ان کے منہ کالے پڑجائیں گے۔ یہ اپنے مظالم سے اللہ کو بیخبر سمجھتے رہے حالانکہ انہیں اس دن تک کی ڈھیل ملی تھی۔ آج آنکھیں چڑھ جائیں گی شکلیں بگڑ جائیں گی، کوئی نہ ہوگا جو کام آئے اور عذاب سے بچائے، کوئی بھاگنے کی جگہ نہ نظر آئے گی۔ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ کافروں کے چہرے ان کے کفر کی وجہ سے سیاہ ہوں گے، اب کفر کا مزہ اٹھاؤ۔ مومنوں کے منہ نورانی اور چمکیلے، گورے اور صاف ہوں گے، کافروں کے چہرے ذلیل اور پست ہوں گے۔

میدان حشر میں سبھی موجود ہوں گے مومن، کافر، نیک، بد، جن انسان، سب میدان قیامت میں اللہ کے سامنے جمع ہونگے۔ سب کا حشر ہوگا، ایک بھی باقی نہ رہے گا۔ پھر مشرکوں اور ان کے شریکوں کو الگ کھڑا کردیا جائے گا۔ ان مجرموں کی جماعت مومنوں سے الگ ہوجائے گی، سب جدا جدا گروہ میں بٹ جائیں گے ایک سے ایک الگ ہوجائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ خود فیصلوں کے لیے تشریف لائے گا۔ مومن سفارش کر کے اللہ کو لائیں گے کہ وہ فیصلے فرما دے۔ یہ امت ایک اونچے ٹیلے پر ہوگی، مشرکین کے شرکا اپنے عابدوں سے بےزاری ظاہر کریں گے اسی طرح خود مشرکین بھی ان سے انجان ہوجائیں گے۔ سب ایک دوسرے انجان بن جائیں گے۔ اب بتلاؤ ان مشرکوں سے بھی زیادہ کوئی بہکا ہوا ہے کہ انہیں پکارتے رہے جو آج تک ان کی پکار سے بھی غافل رہے اور آج ان کے دشمن بن کر مقابلے پر آگئے۔ صاف کہا کہ تم نے ہماری عبادت نہیں کی۔ ہمیں کچھ خبر نہیں ہماری تمہاری عبادتوں سے بالکل غافل رہے۔ اسے اللہ خوب جانتا ہے، نہ ہم نے اپنی عبادت کو تم سے کہا تھا نہ ہم اس سے کبھی خوش رہے۔ تم اندھی، نہ سنتی، بیکار چیزوں کو پوجتے رہے جو خود ہی بیخبر تھے نہ وہ اس سے خوش نہ ان کا یہ حکم۔ بلکہ تمہاری پوری حاجت مندی کے وقت تمہارے شرک کے منکر، تمہاری عبادتوں کے منکر بلکہ تمہارے دشمن تھے۔ اس حی وقیوم، سمیع وبصیر، قادر ومالک وحدہ لاشریک کو تم نے چھوڑ دیا جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ تھا۔ جس نے رسول بھیج کر تمہیں توحید سکھائی اور سنائی تھی سب رسولوں کی زبانی کہلوایا تھا کہ میں ہی معبود ہوں میری ہی عبادت و اطاعت کرو۔ سوائے میرے کوئی پوجا کے لائق نہیں۔ ہر قسم کے شرک سے بچو۔ کبھی کسی طرح بھی مشرک نہ بنو۔ وہاں ہر شخص اپنے اعمال دیکھ لے گا۔ اپنی بھلائی برائی معلوم کرلے گا۔ نیک و بد سامنے آجائے گا۔ اسرار بےنقاب ہوں گے، کھل پڑیں گے، اگلے پچھلے چھوٹے بڑے کام سامنے ہوں گے۔ نامہ اعمال کھلے ہوئے ہوں گے، ترازو چڑھی ہوئی ہوگی۔ آپ اپنا حساب کرلے گا۔ تبلوا کی دوسری قرات تتلوا بھی ہے۔ اپنے اپنے کرتوت کے پیچھے ہر شخص ہوگا۔ حدیث میں ہے ہر امت کو حکم ہوگا کہ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے چل کھڑی ہوجائے۔ سورج پرست سب سورج کے پیچھے ہوں گے، چاند پرست چاند کے پیچھے، بت پرست بتوں کے پیچھے۔ سارے کے سارے حق تعالیٰ مولائے برحق کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام کاموں کے فیصلے اس کے ہاتھ ہوں گے۔ اپنے فضل سے نیکوں کو جنت میں اور اپنے عدل سے بدوں کو جہنم میں لے جائے گا۔ مشرکوں کی ساری افرا پردازیاں رکھی کی رکھی رہ جائیں گی، بھرم کھل جائیں گے، پردے اٹھ جائیں گے۔

میدان حشر میں سبھی موجود ہوں گے مومن، کافر، نیک، بد، جن انسان، سب میدان قیامت میں اللہ کے سامنے جمع ہونگے۔ سب کا حشر ہوگا، ایک بھی باقی نہ رہے گا۔ پھر مشرکوں اور ان کے شریکوں کو الگ کھڑا کردیا جائے گا۔ ان مجرموں کی جماعت مومنوں سے الگ ہوجائے گی، سب جدا جدا گروہ میں بٹ جائیں گے ایک سے ایک الگ ہوجائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ خود فیصلوں کے لیے تشریف لائے گا۔ مومن سفارش کر کے اللہ کو لائیں گے کہ وہ فیصلے فرما دے۔ یہ امت ایک اونچے ٹیلے پر ہوگی، مشرکین کے شرکا اپنے عابدوں سے بےزاری ظاہر کریں گے اسی طرح خود مشرکین بھی ان سے انجان ہوجائیں گے۔ سب ایک دوسرے انجان بن جائیں گے۔ اب بتلاؤ ان مشرکوں سے بھی زیادہ کوئی بہکا ہوا ہے کہ انہیں پکارتے رہے جو آج تک ان کی پکار سے بھی غافل رہے اور آج ان کے دشمن بن کر مقابلے پر آگئے۔ صاف کہا کہ تم نے ہماری عبادت نہیں کی۔ ہمیں کچھ خبر نہیں ہماری تمہاری عبادتوں سے بالکل غافل رہے۔ اسے اللہ خوب جانتا ہے، نہ ہم نے اپنی عبادت کو تم سے کہا تھا نہ ہم اس سے کبھی خوش رہے۔ تم اندھی، نہ سنتی، بیکار چیزوں کو پوجتے رہے جو خود ہی بیخبر تھے نہ وہ اس سے خوش نہ ان کا یہ حکم۔ بلکہ تمہاری پوری حاجت مندی کے وقت تمہارے شرک کے منکر، تمہاری عبادتوں کے منکر بلکہ تمہارے دشمن تھے۔ اس حی وقیوم، سمیع وبصیر، قادر ومالک وحدہ لاشریک کو تم نے چھوڑ دیا جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ تھا۔ جس نے رسول بھیج کر تمہیں توحید سکھائی اور سنائی تھی سب رسولوں کی زبانی کہلوایا تھا کہ میں ہی معبود ہوں میری ہی عبادت و اطاعت کرو۔ سوائے میرے کوئی پوجا کے لائق نہیں۔ ہر قسم کے شرک سے بچو۔ کبھی کسی طرح بھی مشرک نہ بنو۔ وہاں ہر شخص اپنے اعمال دیکھ لے گا۔ اپنی بھلائی برائی معلوم کرلے گا۔ نیک و بد سامنے آجائے گا۔ اسرار بےنقاب ہوں گے، کھل پڑیں گے، اگلے پچھلے چھوٹے بڑے کام سامنے ہوں گے۔ نامہ اعمال کھلے ہوئے ہوں گے، ترازو چڑھی ہوئی ہوگی۔ آپ اپنا حساب کرلے گا۔ تبلوا کی دوسری قرات تتلوا بھی ہے۔ اپنے اپنے کرتوت کے پیچھے ہر شخص ہوگا۔ حدیث میں ہے ہر امت کو حکم ہوگا کہ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے چل کھڑی ہوجائے۔ سورج پرست سب سورج کے پیچھے ہوں گے، چاند پرست چاند کے پیچھے، بت پرست بتوں کے پیچھے۔ سارے کے سارے حق تعالیٰ مولائے برحق کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام کاموں کے فیصلے اس کے ہاتھ ہوں گے۔ اپنے فضل سے نیکوں کو جنت میں اور اپنے عدل سے بدوں کو جہنم میں لے جائے گا۔ مشرکوں کی ساری افرا پردازیاں رکھی کی رکھی رہ جائیں گی، بھرم کھل جائیں گے، پردے اٹھ جائیں گے۔

میدان حشر میں سبھی موجود ہوں گے مومن، کافر، نیک، بد، جن انسان، سب میدان قیامت میں اللہ کے سامنے جمع ہونگے۔ سب کا حشر ہوگا، ایک بھی باقی نہ رہے گا۔ پھر مشرکوں اور ان کے شریکوں کو الگ کھڑا کردیا جائے گا۔ ان مجرموں کی جماعت مومنوں سے الگ ہوجائے گی، سب جدا جدا گروہ میں بٹ جائیں گے ایک سے ایک الگ ہوجائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ خود فیصلوں کے لیے تشریف لائے گا۔ مومن سفارش کر کے اللہ کو لائیں گے کہ وہ فیصلے فرما دے۔ یہ امت ایک اونچے ٹیلے پر ہوگی، مشرکین کے شرکا اپنے عابدوں سے بےزاری ظاہر کریں گے اسی طرح خود مشرکین بھی ان سے انجان ہوجائیں گے۔ سب ایک دوسرے انجان بن جائیں گے۔ اب بتلاؤ ان مشرکوں سے بھی زیادہ کوئی بہکا ہوا ہے کہ انہیں پکارتے رہے جو آج تک ان کی پکار سے بھی غافل رہے اور آج ان کے دشمن بن کر مقابلے پر آگئے۔ صاف کہا کہ تم نے ہماری عبادت نہیں کی۔ ہمیں کچھ خبر نہیں ہماری تمہاری عبادتوں سے بالکل غافل رہے۔ اسے اللہ خوب جانتا ہے، نہ ہم نے اپنی عبادت کو تم سے کہا تھا نہ ہم اس سے کبھی خوش رہے۔ تم اندھی، نہ سنتی، بیکار چیزوں کو پوجتے رہے جو خود ہی بیخبر تھے نہ وہ اس سے خوش نہ ان کا یہ حکم۔ بلکہ تمہاری پوری حاجت مندی کے وقت تمہارے شرک کے منکر، تمہاری عبادتوں کے منکر بلکہ تمہارے دشمن تھے۔ اس حی وقیوم، سمیع وبصیر، قادر ومالک وحدہ لاشریک کو تم نے چھوڑ دیا جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ تھا۔ جس نے رسول بھیج کر تمہیں توحید سکھائی اور سنائی تھی سب رسولوں کی زبانی کہلوایا تھا کہ میں ہی معبود ہوں میری ہی عبادت و اطاعت کرو۔ سوائے میرے کوئی پوجا کے لائق نہیں۔ ہر قسم کے شرک سے بچو۔ کبھی کسی طرح بھی مشرک نہ بنو۔ وہاں ہر شخص اپنے اعمال دیکھ لے گا۔ اپنی بھلائی برائی معلوم کرلے گا۔ نیک و بد سامنے آجائے گا۔ اسرار بےنقاب ہوں گے، کھل پڑیں گے، اگلے پچھلے چھوٹے بڑے کام سامنے ہوں گے۔ نامہ اعمال کھلے ہوئے ہوں گے، ترازو چڑھی ہوئی ہوگی۔ آپ اپنا حساب کرلے گا۔ تبلوا کی دوسری قرات تتلوا بھی ہے۔ اپنے اپنے کرتوت کے پیچھے ہر شخص ہوگا۔ حدیث میں ہے ہر امت کو حکم ہوگا کہ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے چل کھڑی ہوجائے۔ سورج پرست سب سورج کے پیچھے ہوں گے، چاند پرست چاند کے پیچھے، بت پرست بتوں کے پیچھے۔ سارے کے سارے حق تعالیٰ مولائے برحق کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام کاموں کے فیصلے اس کے ہاتھ ہوں گے۔ اپنے فضل سے نیکوں کو جنت میں اور اپنے عدل سے بدوں کو جہنم میں لے جائے گا۔ مشرکوں کی ساری افرا پردازیاں رکھی کی رکھی رہ جائیں گی، بھرم کھل جائیں گے، پردے اٹھ جائیں گے۔

Source. Tafsir Ibn Kathir, Hafiz Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://quran.com/. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com