John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Yunus

Tafsir Ibn Kathir · Jonas · 109 ayat · ayat 91–109 · Quran text →

دریائے نیل، فرعون اور قوم بنی اسرائیل فرعون اور اس کے لشکریوں کے غرق ہونے کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ بنی اسرائیل جب اپنے نبی کے ساتھ چھ لاکھ کی تعداد میں جو بال بچوں کے علاوہ تھی۔ مصر سے نکل کھڑے ہوئے اور فرعون کو یہ خبر پہنچی تو اس نے بڑا ہی تاؤ کھایا اور زبردست لشکر جمع کر کے اپنے تمام لوگوں کو لے کر ان کے پیچھے لگا۔ اس نے تمام لاؤ لشکر کو تمام سرداروں، فوجوں، رشتے کنبے کے تمام لوگوں اور کل ارکان سلطنت کو اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ اپنے پورے ملک میں کسی صاحب حیثیت شخص کو باقی نہیں چھوڑا تھا۔ بنی اسرائیل جس راہ گئے تھے اسی راہ یہ بھی بہت تیزی سے جا رہا تھا۔ ٹھیک سورج چڑھے، اس نے انہیں اور انہوں نے اسے دیکھ لیا۔ بنی اسرائیل گھبرا گئے اور حضرت موسیٰ ؑ سے کہنے لگے لو اب پکڑ لئے گئے کیونکہ سامنے دریا تھا اور پیچھے لشکر فرعون نہ آگے بڑھ سکتے تھے نہ پیچھے ہٹ سکتے تھے۔ آگے بڑھتے تو ڈوب جاتے پیچھے ہٹے تو قتل ہوتے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے انہیں تسکین دی اور فرمایا میں اللہ کے بتائے ہوئے راستے سے تمہیں لے جا رہا ہوں۔ میرا رب میرے ساتھ ہے۔ وہ مجھے کوئی نہ کوئی نجات کی راہ بتلا دے گا۔ تم بےفکر رہو۔ وہ سختی کو آسانی سے تنگی کو فراخی سے بدلنے پر قادر ہے۔ اسی وقت وحی ربانی آئی کہ اپنی لکڑی دریا پر مار دے۔ آپ نے یہی کیا۔ اس وقت پانی پھٹ گیا، راستے دے دئیے اور پہاڑوں کی طرح پانی کھڑا ہوگیا۔ ان کے بارہ قبیلے تھے بارہ راستے دریا میں بن گئے۔ تیز اور سوکھی ہوائیں چل پڑیں جس نے راستے خشک کردیئے اب نہ تو فرعونیوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہونے کا کھٹکا رہا نہ پانی میں ڈوب جانے کا۔ ساتھ ہی قدرت نے پانی کی دیواروں میں طاق اور سوراخ بنا دیئے کہ ہر قبیلہ دوسرے قبیلہ کو بھی دیکھ سکے۔ تاکہ دل میں یہ خدشہ بھی نہ رہے کہ کہیں وہ ڈوب نہ گیا ہو۔ بنو اسرائیل ان راستوں سے جانے لگے اور دریا پار اتر گئے۔ انہیں پار ہوتے ہوئے فرعونی دیکھ رہے تھے۔ جب یہ سب کے سب اس کنارے پہنچ گئے اب لشکر فرعون بڑھا اور سب کے سب دریا میں اتر گئے ان کی تعداد کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ ان کے پاس ایک لاکھ گھوڑے تو صرف سیاہ رنگ کے تھے جو باقی رنگ کے تھے ان کی تعداد کا خیال کرلیجئے۔ فرعون بڑا کائیاں تھا۔ دل سے حضرت موسیٰ ؑ کی صداقت جانتا تھا۔ اسے یہ رنگ دیکھ کر یقین ہوچکا تھا کہ یہ بھی بنی اسرائیل کی غیبی تائید ہوئی ہے وہ چاہتا تھا کہ یہاں سے واپس لوٹ جائے لیکن حضرت موسیٰ ؑ کی دعا قبول ہوچکی تھی۔ قدرت کا قلم چل چکا تھا۔ اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ گھوڑے پر سوار آگئے۔ ان کے جانور کے پیچھے فرعون کا گھوڑا لگ گیا۔ آپ نے اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔ فرعون کا گھوڑا اسے گھسیٹتا ہوا دریا میں اتر گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو آواز لگائی کہ بنی اسرائیل گزر گئے اور تم یہاں ٹھیر گئے۔ چلو ان کے پیچھے اپنے گھوڑے بھی میری طرح دریا میں ڈال دو۔ اسی وقت ساتھیوں نے بھی اپنے گھوڑوں کو مہمیز کیا۔ حضرت میکائیل ؑ ان کے پیچھے تھا کیونکہ ان کے جانوروں کو ہنکائیں غرض بغیر ایک کے بھی باقی رہے سب دریا میں اتر گئے۔ جب یہ سب اندر پہنچ گئے اور ان کا سب سے آگے کا حصہ دوسرے کنارے کے قریب پہنچ چکا، اسی وقت جناب باری قادر وقیوم کا دریا کو حکم ہوا اب مل جا اور ان کو ڈبو دے۔ پانی کے پتھر بنے ہوئے پہاڑ فوراً پانی ہوگئے اور اسی وقت یہ سب غوطے کھانے لگے اور فوراً ڈوب گئے ان میں سے ایک بھی باقی نہ بچا۔ پانی کی موجوں نے انہیں اوپر تلے کر کرکے ان کے جوڑ جوڑ الگ الگ کردئیے۔ فرعون جب موجوں میں پھنس گیا اور سکرات موت کا اسے مزہ آنے لگا تو کہنے لگا کہ میں لاشریک رب واحد پر ایمان لاتا ہوں۔ جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ ظاہر ہے کہ عذاب کے دیکھ چکنے کے بعد عذاب کے آجانے کے بعد ایمان سود مند نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو فرما چکا ہے اور یہ قاعدہ جاری کرچکا ہے۔ اسی لیے فرعون کو جواب ملا کہ اس وقت یہ کہتا ہے حالانکہ اب تک شر و فساد پر تلا رہا۔ پوری عمر اللہ کی نافرمانیاں کرتا رہا۔ ملک میں فساد مچاتا رہا۔ خود گمراہ ہو کر اوروں کو بھی راہ حق سے روکتا رہا۔ لوگوں کو جہنم کی طرف بلانے کا امام تھا۔ قیامت کے دن بےیارومددگار رہے گا۔ فرعون کا اس وقت کا قول اللہ تعالیٰ علام الغیوب نے اپنے علم غیب سے آنحضرت ﷺ سے بیان فرمایا۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اس واقعے کی خبر دیتے وقت جبرائیل ؑ نے مجھ سے فرمایا کہ کاش آپ اس وقت ہوتے اور دیکھتے کہ میں اس کے منہ میں کیچڑ ٹھونس رہا تھا اس خیال سے کہ کہیں اس کی بات پوری ہونے پر اللہ کی رحمت اس کی دست گیری نہ کرلے۔ ابن عباس فرماتے ہیں ڈوبتے وقت فرعون نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر اپنے ایمان کا اقرار کرنا شروع کیا جس پر حضرت جبرائیل ؑ نے اس کے منہ میں مٹی بھرنی شروع کی۔ اس فرعون کثیر بن زاذان ملعون کا منہ حضرت جبرائیل ؑ اس وقت بند کر رہے تھے اور اس کے منہ کیچڑ ٹھونس رہے تھے واللہ اعلم۔ کہتے ہیں کہ بعض بنی اسرائیل کو فرعون کی موت میں شک پیدا ہوگیا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم دیا کہ اس کی لاش بلند ٹیلے پر خشکی میں ڈال دے تاکہ یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور ان کا معائنہ کرلیں۔ چناچہ اس کا جسم معہ اس کے لباس کے خشکی پر ڈال دیا گیا تاکہ بنی اسرائیل کو معلوم ہوجائے اور ان کے لیے نشانی اور عبرت بن جائے اور وہ جان لیں کہ غضب الٰہی کو کوئی چیز دفع نہیں کرسکتی۔ باوجود ان کھلے واقعات کے بھی اکثر لوگ ہماری آیتوں سے غفلت برتتے ہیں۔ کچھ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ ان فرعونیوں کا غرق ہونا اور حضرت موسیٰ ؑ کا مع مسلمانوں کے نجات پانا عاشورے کے دن ہوا تھا۔ چناچہ بخاری شریف میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینے میں آئے تو یہودیوں کو اس دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا۔ وہ کہتے تھے کہ اسی دن حضرت موسیٰ ؑ فرعون پر غالب آئے تھے۔ آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ تم تو حضرت موسیٰ ؑ کے بہ نسبت ان کے زیادہ حقدار ہو تم بھی اس عاشورے کے دن کا روزہ رکھو۔

دریائے نیل، فرعون اور قوم بنی اسرائیل فرعون اور اس کے لشکریوں کے غرق ہونے کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ بنی اسرائیل جب اپنے نبی کے ساتھ چھ لاکھ کی تعداد میں جو بال بچوں کے علاوہ تھی۔ مصر سے نکل کھڑے ہوئے اور فرعون کو یہ خبر پہنچی تو اس نے بڑا ہی تاؤ کھایا اور زبردست لشکر جمع کر کے اپنے تمام لوگوں کو لے کر ان کے پیچھے لگا۔ اس نے تمام لاؤ لشکر کو تمام سرداروں، فوجوں، رشتے کنبے کے تمام لوگوں اور کل ارکان سلطنت کو اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ اپنے پورے ملک میں کسی صاحب حیثیت شخص کو باقی نہیں چھوڑا تھا۔ بنی اسرائیل جس راہ گئے تھے اسی راہ یہ بھی بہت تیزی سے جا رہا تھا۔ ٹھیک سورج چڑھے، اس نے انہیں اور انہوں نے اسے دیکھ لیا۔ بنی اسرائیل گھبرا گئے اور حضرت موسیٰ ؑ سے کہنے لگے لو اب پکڑ لئے گئے کیونکہ سامنے دریا تھا اور پیچھے لشکر فرعون نہ آگے بڑھ سکتے تھے نہ پیچھے ہٹ سکتے تھے۔ آگے بڑھتے تو ڈوب جاتے پیچھے ہٹے تو قتل ہوتے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے انہیں تسکین دی اور فرمایا میں اللہ کے بتائے ہوئے راستے سے تمہیں لے جا رہا ہوں۔ میرا رب میرے ساتھ ہے۔ وہ مجھے کوئی نہ کوئی نجات کی راہ بتلا دے گا۔ تم بےفکر رہو۔ وہ سختی کو آسانی سے تنگی کو فراخی سے بدلنے پر قادر ہے۔ اسی وقت وحی ربانی آئی کہ اپنی لکڑی دریا پر مار دے۔ آپ نے یہی کیا۔ اس وقت پانی پھٹ گیا، راستے دے دئیے اور پہاڑوں کی طرح پانی کھڑا ہوگیا۔ ان کے بارہ قبیلے تھے بارہ راستے دریا میں بن گئے۔ تیز اور سوکھی ہوائیں چل پڑیں جس نے راستے خشک کردیئے اب نہ تو فرعونیوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہونے کا کھٹکا رہا نہ پانی میں ڈوب جانے کا۔ ساتھ ہی قدرت نے پانی کی دیواروں میں طاق اور سوراخ بنا دیئے کہ ہر قبیلہ دوسرے قبیلہ کو بھی دیکھ سکے۔ تاکہ دل میں یہ خدشہ بھی نہ رہے کہ کہیں وہ ڈوب نہ گیا ہو۔ بنو اسرائیل ان راستوں سے جانے لگے اور دریا پار اتر گئے۔ انہیں پار ہوتے ہوئے فرعونی دیکھ رہے تھے۔ جب یہ سب کے سب اس کنارے پہنچ گئے اب لشکر فرعون بڑھا اور سب کے سب دریا میں اتر گئے ان کی تعداد کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ ان کے پاس ایک لاکھ گھوڑے تو صرف سیاہ رنگ کے تھے جو باقی رنگ کے تھے ان کی تعداد کا خیال کرلیجئے۔ فرعون بڑا کائیاں تھا۔ دل سے حضرت موسیٰ ؑ کی صداقت جانتا تھا۔ اسے یہ رنگ دیکھ کر یقین ہوچکا تھا کہ یہ بھی بنی اسرائیل کی غیبی تائید ہوئی ہے وہ چاہتا تھا کہ یہاں سے واپس لوٹ جائے لیکن حضرت موسیٰ ؑ کی دعا قبول ہوچکی تھی۔ قدرت کا قلم چل چکا تھا۔ اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ گھوڑے پر سوار آگئے۔ ان کے جانور کے پیچھے فرعون کا گھوڑا لگ گیا۔ آپ نے اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔ فرعون کا گھوڑا اسے گھسیٹتا ہوا دریا میں اتر گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو آواز لگائی کہ بنی اسرائیل گزر گئے اور تم یہاں ٹھیر گئے۔ چلو ان کے پیچھے اپنے گھوڑے بھی میری طرح دریا میں ڈال دو۔ اسی وقت ساتھیوں نے بھی اپنے گھوڑوں کو مہمیز کیا۔ حضرت میکائیل ؑ ان کے پیچھے تھا کیونکہ ان کے جانوروں کو ہنکائیں غرض بغیر ایک کے بھی باقی رہے سب دریا میں اتر گئے۔ جب یہ سب اندر پہنچ گئے اور ان کا سب سے آگے کا حصہ دوسرے کنارے کے قریب پہنچ چکا، اسی وقت جناب باری قادر وقیوم کا دریا کو حکم ہوا اب مل جا اور ان کو ڈبو دے۔ پانی کے پتھر بنے ہوئے پہاڑ فوراً پانی ہوگئے اور اسی وقت یہ سب غوطے کھانے لگے اور فوراً ڈوب گئے ان میں سے ایک بھی باقی نہ بچا۔ پانی کی موجوں نے انہیں اوپر تلے کر کرکے ان کے جوڑ جوڑ الگ الگ کردئیے۔ فرعون جب موجوں میں پھنس گیا اور سکرات موت کا اسے مزہ آنے لگا تو کہنے لگا کہ میں لاشریک رب واحد پر ایمان لاتا ہوں۔ جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ ظاہر ہے کہ عذاب کے دیکھ چکنے کے بعد عذاب کے آجانے کے بعد ایمان سود مند نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو فرما چکا ہے اور یہ قاعدہ جاری کرچکا ہے۔ اسی لیے فرعون کو جواب ملا کہ اس وقت یہ کہتا ہے حالانکہ اب تک شر و فساد پر تلا رہا۔ پوری عمر اللہ کی نافرمانیاں کرتا رہا۔ ملک میں فساد مچاتا رہا۔ خود گمراہ ہو کر اوروں کو بھی راہ حق سے روکتا رہا۔ لوگوں کو جہنم کی طرف بلانے کا امام تھا۔ قیامت کے دن بےیارومددگار رہے گا۔ فرعون کا اس وقت کا قول اللہ تعالیٰ علام الغیوب نے اپنے علم غیب سے آنحضرت ﷺ سے بیان فرمایا۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اس واقعے کی خبر دیتے وقت جبرائیل ؑ نے مجھ سے فرمایا کہ کاش آپ اس وقت ہوتے اور دیکھتے کہ میں اس کے منہ میں کیچڑ ٹھونس رہا تھا اس خیال سے کہ کہیں اس کی بات پوری ہونے پر اللہ کی رحمت اس کی دست گیری نہ کرلے۔ ابن عباس فرماتے ہیں ڈوبتے وقت فرعون نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر اپنے ایمان کا اقرار کرنا شروع کیا جس پر حضرت جبرائیل ؑ نے اس کے منہ میں مٹی بھرنی شروع کی۔ اس فرعون کثیر بن زاذان ملعون کا منہ حضرت جبرائیل ؑ اس وقت بند کر رہے تھے اور اس کے منہ کیچڑ ٹھونس رہے تھے واللہ اعلم۔ کہتے ہیں کہ بعض بنی اسرائیل کو فرعون کی موت میں شک پیدا ہوگیا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم دیا کہ اس کی لاش بلند ٹیلے پر خشکی میں ڈال دے تاکہ یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور ان کا معائنہ کرلیں۔ چناچہ اس کا جسم معہ اس کے لباس کے خشکی پر ڈال دیا گیا تاکہ بنی اسرائیل کو معلوم ہوجائے اور ان کے لیے نشانی اور عبرت بن جائے اور وہ جان لیں کہ غضب الٰہی کو کوئی چیز دفع نہیں کرسکتی۔ باوجود ان کھلے واقعات کے بھی اکثر لوگ ہماری آیتوں سے غفلت برتتے ہیں۔ کچھ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ ان فرعونیوں کا غرق ہونا اور حضرت موسیٰ ؑ کا مع مسلمانوں کے نجات پانا عاشورے کے دن ہوا تھا۔ چناچہ بخاری شریف میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینے میں آئے تو یہودیوں کو اس دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا۔ وہ کہتے تھے کہ اسی دن حضرت موسیٰ ؑ فرعون پر غالب آئے تھے۔ آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ تم تو حضرت موسیٰ ؑ کے بہ نسبت ان کے زیادہ حقدار ہو تم بھی اس عاشورے کے دن کا روزہ رکھو۔

بنی اسرائیل پر اللہ کے انعامات اللہ نے جو نعمتیں بنی اسرائیل پر انعام فرمائیں ان کا ذکر ہو رہا ہے کہ شام اور ملک مصر میں بیت المقدس کے آپس پاس انہیں جگہ دی۔ تمام و کمال ملک مصر پر ان کی حکومت ہوگئ۔ فرعون کی ہلاکت کے بعد دولت موسویہ قائم ہوگئی۔ جیسے قرآن میں بیان ہے کہ ہم نے ان کمزور بنی اسرائیلیوں کے مشرق مغرب کے ملک کا مالک کردیا۔ برکت والی زمین انکے قبضے میں دے دی اور ان پر اپنی سچی بات کی سچائی کھول دی ان کے صبر کا پھل انہیں مل گیا۔ فرعون، فرعونی اور ان کے کاریگریاں سب نیست و نابود ہوئیں اور آیتوں میں ہے کہ ہم نے فرعونیوں کو باغوں سے دشمنوں سے، خزانوں سے بہترین مقامات اور مکانات سے نکال باہر کیا۔ اور بنی اسرائیل کے قبضے میں یہ سب کچھ کردیا۔ اور آیتوں میں ہے (كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ 25؀ۙ) 44۔ الدخان :25) باوجود اس کے خلیل الرحمن ؑ کے شہر بیت المقدس کی محبت ان کے دل میں چٹکیاں لیتی رہی۔ وہاں عمالقہ کی قوم کا قبلہ تھا انہیوں نے اپنے پیغمبر ؑ سے درخواست کی، انہیں جہاد کا حکم ہوا یہ نامردی کر گئے جس کے بدلے انہیں چالیس سال تک میدان تیہ میں سرگرداں پھرنا پڑا۔ وہیں حضرت ہارون ؑ کا انتقال ہوا پھر حضرت موسیٰ ؑ کا۔ ان کے بعد یہ حضرت یوشع بن نون ؑ کے ساتھ نکلے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں پر بیت المقدس کو فتح کیا۔ یہاں بخت نصر کے زمانے تک انہیں کا قبضہ رہا پھر کچھ مدت کے بعد دوبارہ انہوں نے اسے لے لیا پھر یونانی بادشاہوں نے وہاں قبضہ کیا۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے زمانے تک وہاں یونانیوں کا ہی قبضہ رہا۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی ضد میں ان ملعون یہودیوں نے شاہ یونان سے ساز باز کی اور حضرت عیسیٰ ؑ کی گرفتاری کے احکام انہیں باغی قرار دے کر نکلوا دیئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ ؑ کو تو اپنی طرف چڑھا لیا اور آپ کے کسی حواری پر آپ کی شباہت ڈال دی انہوں نے آپ کے دھوکے میں اسے قتل کردیا اور سولی پر لٹکا دیا۔ یقینا جناب روح اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) ان کے ہاتھوں قتل نہیں ہوئے۔ انہیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف بلند کرلیا۔ اللہ عزیز و حکیم ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے تقریباً تین سو سال بعد قسطنطنیہ نامی یونانی بادشاہ عیسائی بن گیا۔ وہ بڑا پاجی اور مکار تھا۔ دین عیسوی میں یہ بادشاہ صرف سیاسی منصوبوں کے پورا کرنے اور اپنی سلطنت کو مضبوط کرنے اور دین نصاری کو بدل ڈالنے کے لیے گھسا تھا۔ حیلہ اور مکر و فریب اور چال کے طور پر یہ مسیحی بنا تھا کہ مسیحیت کی جڑیں کھوکھلی کر دے۔ نصرانی علماء اور درویشوں کو جمع کرکے ان سے قوانین شریعت کے مجموعے کے نام سے نئی نئی تراشی ہوئی باتیں لکھوا کر ان بدعتوں کو نصرانیوں میں پھیلا دیا اور اصل کتاب و سنت سے انہیں ہٹا دیا۔ اس نے کلیسا، گرجے، خانقاہیں، ہیکلیں وغیرہ بنائیں اور بیسیوں قسم کے مجاہدے اور نفس کشی کے طریقے اور طرح طرح کی عبادتیں ریاضتیں نکال کر لوگوں میں اس نئے دین کی خوب اشاعت کی اور حکومت کے زور اور زر کے لالچ سے اسے دور تک پہنچا دیا۔ جو بےچارے موحد، متبع انجیل اور سچے تابعدار حضرت عیسیٰ ؑ کے اصلی دن پر قائم رہے انہیں ان ظالموں نے شہر بدر کردیا۔ یہ لوگ جنگلوں میں رہنے سہنے لگے اور یہ نئے دین والے جن کے ہاتھوں میں تبدیلی اور مسخ والا دین رہ گیا تھا اٹھ کھڑے ہوئے اور تمام جزیرہ روم پر چھا گئے۔ قسطنطنیہ کی بنیادیں اس نے رکھیں۔ بیت لحم اور بیت المقدس کے کلیسا اور حواریوں کے شہر سب اسی کے بسائے ہوئے ہیں۔ بڑی بڑی شاندار، دیرپا اور مضبوط عمارتیں اس نے بنائیں۔ صلیب کی پرستش، مشرق کا قبلہ، کنیسوں کی تصویریں، سور کا کھانا وغیرہ یہ سب چیزیں نصرانیت میں اسی نے داخل کیں۔ فروع اصول سب بدل کر دین مسیح کو الٹ پلٹ کردیا۔ امانت کبیرہ اسی کی ایجاد ہے اور دراصل ذلیل ترین خیانت ہے۔ لمبے چوڑے فقہی مسائل کی کتابیں اسی نے لکھوائیں۔ اب بیت المقدس انہیں کے ہاتھوں میں تھا یہاں تک کہ صحابہ رسول ﷺ نے اسے فتح کیا۔ امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ کی خلافت میں یہ مقدس شہر اس مقدس جماعت کے قبضے میں آیا۔ الغرض یہ پاک جگہ انہیں ملی تھی اور پاک روزی اللہ نے دے رکھی تھی جو شرعا بھی حلال اور طبعا بھی طیب۔ افسوس باوجود اللہ کی کتاب ہاتھ میں ہونے کے انہوں نے خلاف بازی اور فرقہ بندی شروع کردی۔ ایک دو نہیں بہتر 0702 فرقے قائم ہوگئے۔ اللہ اپنے رسول پر درود سلام نازل فرمائے آپ نے ان کی اس پھوٹ کا ذکر فرما کر فرمایا کہ میری امت میں بھی یہی بیماری پھیلے گی اور ان کے تہتر فرقے ہوجائیں گے جس میں سے ایک جنتی باقی سب دوزخی ہوں گے پوچھا گیا کہ جنتی کون ہیں ؟ فرمایا وہ جو اس پر ہوں جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ (مستدرک حاکم) اللہ فرماتا ہے ان کے اختلاف کا فیصلہ قیامت کے دن میں آپ ہی کروں گا

ٹھوس دلائل کے باوجود انکار قابل مذمت ہے جب یہ آیت اتری تو حضور ﷺ نے فرمایا نہ مجھے کچھ شک نہ مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت۔ پس اس آیت سے مطلب صرف اتنا ہے کہ آپ کی امت کے ایمان کی مضبوطی کی جائے اور ان سے بیان کیا جائے کہ اگلی الٰہامی کتابوں میں بھی ان کے نبی کی صفتیں موجود ہیں، خود اہل کتاب بھی بخوبی واقف ہیں۔ جیسے (اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْل01507) 7۔ الاعراف :157) میں ہے۔ ان لوگوں پر تعجب اور افسوس ہے ان کی کتابوں میں اس نبی آخر الزمان کی تعریف و توصیف اور جان پہچان ہونے کے باوجود بھی ان کتابوں کے احکام کا خلط ملط کرتے ہیں اور تحریف و تبدیل کر کے بات بدل دیتے ہیں اور دلیل سامنے ہونے کے باوجود انکاری رہتے ہیں۔ شک و شبہ کی ممانعت کے بعد آیات رب کی تکذیب کی ممانعت ہوئی۔ پھر بدقسمت لوگوں کے ایمان سے ناامیدی دلائی گئی۔ جب تک کہ وہ عذاب نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ تو اس وقت ایمان لائیں گے جس وقت ایمان لانا بےسود ہوگا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون کے لیے اور فرعونیوں کے لیے یہی بددعا کی تھی۔ ان کی جہالت اس درجے پر پہنچ چکی ہے کہ بالفرض ہم اپنے فرشتوں کو ان پر اتاریں۔ مردے ان سے بولیں ہر پوشیدہ چیز سامنے آجائے جب بھی انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا ہاں مرضی مولیٰ اور چیز ہے۔

ٹھوس دلائل کے باوجود انکار قابل مذمت ہے جب یہ آیت اتری تو حضور ﷺ نے فرمایا نہ مجھے کچھ شک نہ مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت۔ پس اس آیت سے مطلب صرف اتنا ہے کہ آپ کی امت کے ایمان کی مضبوطی کی جائے اور ان سے بیان کیا جائے کہ اگلی الٰہامی کتابوں میں بھی ان کے نبی کی صفتیں موجود ہیں، خود اہل کتاب بھی بخوبی واقف ہیں۔ جیسے (اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْل01507) 7۔ الاعراف :157) میں ہے۔ ان لوگوں پر تعجب اور افسوس ہے ان کی کتابوں میں اس نبی آخر الزمان کی تعریف و توصیف اور جان پہچان ہونے کے باوجود بھی ان کتابوں کے احکام کا خلط ملط کرتے ہیں اور تحریف و تبدیل کر کے بات بدل دیتے ہیں اور دلیل سامنے ہونے کے باوجود انکاری رہتے ہیں۔ شک و شبہ کی ممانعت کے بعد آیات رب کی تکذیب کی ممانعت ہوئی۔ پھر بدقسمت لوگوں کے ایمان سے ناامیدی دلائی گئی۔ جب تک کہ وہ عذاب نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ تو اس وقت ایمان لائیں گے جس وقت ایمان لانا بےسود ہوگا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون کے لیے اور فرعونیوں کے لیے یہی بددعا کی تھی۔ ان کی جہالت اس درجے پر پہنچ چکی ہے کہ بالفرض ہم اپنے فرشتوں کو ان پر اتاریں۔ مردے ان سے بولیں ہر پوشیدہ چیز سامنے آجائے جب بھی انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا ہاں مرضی مولیٰ اور چیز ہے۔

ٹھوس دلائل کے باوجود انکار قابل مذمت ہے جب یہ آیت اتری تو حضور ﷺ نے فرمایا نہ مجھے کچھ شک نہ مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت۔ پس اس آیت سے مطلب صرف اتنا ہے کہ آپ کی امت کے ایمان کی مضبوطی کی جائے اور ان سے بیان کیا جائے کہ اگلی الٰہامی کتابوں میں بھی ان کے نبی کی صفتیں موجود ہیں، خود اہل کتاب بھی بخوبی واقف ہیں۔ جیسے (اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْل01507) 7۔ الاعراف :157) میں ہے۔ ان لوگوں پر تعجب اور افسوس ہے ان کی کتابوں میں اس نبی آخر الزمان کی تعریف و توصیف اور جان پہچان ہونے کے باوجود بھی ان کتابوں کے احکام کا خلط ملط کرتے ہیں اور تحریف و تبدیل کر کے بات بدل دیتے ہیں اور دلیل سامنے ہونے کے باوجود انکاری رہتے ہیں۔ شک و شبہ کی ممانعت کے بعد آیات رب کی تکذیب کی ممانعت ہوئی۔ پھر بدقسمت لوگوں کے ایمان سے ناامیدی دلائی گئی۔ جب تک کہ وہ عذاب نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ تو اس وقت ایمان لائیں گے جس وقت ایمان لانا بےسود ہوگا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون کے لیے اور فرعونیوں کے لیے یہی بددعا کی تھی۔ ان کی جہالت اس درجے پر پہنچ چکی ہے کہ بالفرض ہم اپنے فرشتوں کو ان پر اتاریں۔ مردے ان سے بولیں ہر پوشیدہ چیز سامنے آجائے جب بھی انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا ہاں مرضی مولیٰ اور چیز ہے۔

ٹھوس دلائل کے باوجود انکار قابل مذمت ہے جب یہ آیت اتری تو حضور ﷺ نے فرمایا نہ مجھے کچھ شک نہ مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت۔ پس اس آیت سے مطلب صرف اتنا ہے کہ آپ کی امت کے ایمان کی مضبوطی کی جائے اور ان سے بیان کیا جائے کہ اگلی الٰہامی کتابوں میں بھی ان کے نبی کی صفتیں موجود ہیں، خود اہل کتاب بھی بخوبی واقف ہیں۔ جیسے (اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْل01507) 7۔ الاعراف :157) میں ہے۔ ان لوگوں پر تعجب اور افسوس ہے ان کی کتابوں میں اس نبی آخر الزمان کی تعریف و توصیف اور جان پہچان ہونے کے باوجود بھی ان کتابوں کے احکام کا خلط ملط کرتے ہیں اور تحریف و تبدیل کر کے بات بدل دیتے ہیں اور دلیل سامنے ہونے کے باوجود انکاری رہتے ہیں۔ شک و شبہ کی ممانعت کے بعد آیات رب کی تکذیب کی ممانعت ہوئی۔ پھر بدقسمت لوگوں کے ایمان سے ناامیدی دلائی گئی۔ جب تک کہ وہ عذاب نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ تو اس وقت ایمان لائیں گے جس وقت ایمان لانا بےسود ہوگا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون کے لیے اور فرعونیوں کے لیے یہی بددعا کی تھی۔ ان کی جہالت اس درجے پر پہنچ چکی ہے کہ بالفرض ہم اپنے فرشتوں کو ان پر اتاریں۔ مردے ان سے بولیں ہر پوشیدہ چیز سامنے آجائے جب بھی انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا ہاں مرضی مولیٰ اور چیز ہے۔

افسوس انسان نے اکثر حق کی مخالفت کی کسی بستی کے تمام باشندے کسی نبی پر کبھی ایمان نہیں لائے۔ یا تو سب نے ہی کفر کیا یا اکثر نے۔ سورة یٰسین میں فرمایا بندوں پر افسوس ہے ان کے پاس جو رسول آئے انہوں نے ان کا مذاق اڑایا۔ ایک آیت میں ہے ان سے پہلے رسول آئے، انہیں لوگوں نے جادوگر یا مجنون کا ہی خطاب دیا۔ تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب کو ان کی قوم کے سرکشوں ساہو کاروں نے یہی کہا کہ ہم نے تو اپنے بڑوں کو جس لکیر پر پایا اسی کے فقیر بنے رہیں گے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھ پر انبیاء پیش کئے گئے کسی نبی کے ساتھ تو لوگوں کا ایک گروہ تھا۔ کسی کے ساتھ صرف ایک آدمی کوئی محض تنہا۔ پھر آپ نے حضرت موسیٰ ؑ کی امت کی کثرت کا بیان کیا۔ پھر اپنی امت کا، اس سے بھی زیادہ ہونا۔ زمین کے مشرق مغرب کی سمت کو ڈھانپ لینا بیان فرمایا۔ الغرض تمام انبیاء میں سے کسی کی ساری امت نے انہیں نبی نہیں مانا۔ سوائے اہل نینویٰ کے جو حضرت یونس ؑ کی امت کے لوگ تھے۔ یہ بھی اس وقت جب نبی ؑ کی زبان سے عذاب کی خبر معلوم ہوگئی۔ پھر اس کے ابتدائی آثار بھی دیکھ لیے۔ ان کے نبی ؑ انہیں چھوڑ کر چلے بھی گئے۔ اس وقت یہ سارے کے سارے اللہ کے سامنے جھک گئے اس سے فریاد شروع کی، اس کی جناب میں عاجزی اور گریہ وزاری کرنے لگے، اپنی مسکینی ظاہر کرنے لگے۔ اور دامن رحمت سے لپٹ گئے۔ سارے کے سارے میدان میں نکل کھڑے ہوئے اپنی بیویوں، بچوں اور جانوروں کو بھی ساتھ اٹھا کرلے گئے۔ اور آنسوؤں کی جھڑیاں لگا کر اللہ تعالیٰ سے فریاد کرنے دعائیں مانگنے لگے کہ یا رب عذاب ہٹا لے۔ رحمت رب جوش میں آئی، پروردگار نے ان سے عذاب ہٹا لیا اور دنیا کی رسوائی کے عذاب سے انہیں بچالیا۔ اور ان کی عمر تک کی انہیں مہلت دے دی اور اس دنیا کا فائدہ انہیں پہنچایا۔ یہاں جو فرمایا کہ دنیا کا عذاب ان سے ہٹا لیا۔ اس سے بعض نے کہا ہے کہ اخروی عذاب دور نہیں۔ لیکن یہ ٹھیک نہیں اس لے کے دوسری آیت میں ہے (فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِيْنٍ01408ۭ) 37۔ الصافات :148) وہ ایمان لائے اور ہم نے انہیں زندگی کا فائدہ دیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ وہ ایمان لائے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ ایمان آخرت کے عذاب سے نجات دینے والا ہے۔ واللہ اعلم۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں آیت کا مطلب یہ ہے کہ کس بستی اہل کفر کا عذاب دیکھ لینے کے بعد ایمان لانا ان کے لیے نفع بخش ثابت نہیں ہوا۔ سوائے قوم یونس ؑ کی قوم کے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے نبی ان میں سے نکل گئے اور انہوں نے خیال کرلیا کہ اب اللہ کا عذاب آیا چاہتا ہے، اس وقت توبہ استغفار کرنے لگے ٹاٹ پہن کر خشوع و خضوع سے میلے کچیلے میدان میں آکھڑے ہوئے بچوں کو ماؤں سے دور کردیا۔ جانوروں کے تھنوں سے ان کے بچوں کو الگ کردیا۔ اب جو رونا دھونا اور فریاد شروع کی تو چالیس دن رات اسی طرح گزار دیئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کی سچائی دیکھ لی۔ ان کی توبہ و ندامت قبول فرمائی اور ان سے عذاب دور کردیا، یہ لوگ موصل کے شہر نینویٰ کے رہنے والے تھے۔ فلو لا کی فھلا قرأت بھی ہے ان کے سروں پر عذاب رات کی سیاہی کے ٹکڑوں کی طرح گھوم رہا تھا ان کے علماء نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ جنگل میں نکل کھڑے ہو اور اللہ سے دعا کرو کہ وہ ہم سے اپنے عذاب کو دور کر دے اور یہ کہو یاحی حین لاحی یاحی محیی الموتی یاحی لا الہ الا انت قوم یونس کا پورہ قصہ سورة الصافات کی تفسیر میں انشاء اللہ العزیز ہم بیان کریں گے۔

اللہ کی حکمت سے کوئی آگاہ نہیں اللہ کی حکمت ہے کہ کوئی ایمان لائے اور کسی کو ایمان نصیب ہی نہ ہو۔ ورنہ اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو تمام انسان ایمان دار ہوجاتے۔ اگر وہ چاہتا تو سب کو اسی دین پر کار بند کردیتا۔ لوگوں میں اختلاف تو باقی ہی نہ رہے۔ سوائے ان کے جن پر رب کا رحم ہو، انہیں اسی لیے پیدا کیا ہے، تیرے رب کا فرمان حق ہے کہ جہنم انسانوں اور جنوں سے پر ہوگی۔ کیا ایماندار ناامید نہیں ہوگئے ؟ یہ کہ اللہ اگر چاہتا تو تمام لوگوں کو ہدایت کرسکتا تھا۔ یہ تو ناممکن ہے کہ تو ایمان ان کے دلوں کے ساتھ چپکا دے، یہ تیرے اختیار سے باہر ہے۔ ہدایت و ضلالت اللہ کے ہاتھ ہے۔ تو ان پر افسوس اور رنج و غم نہ کر اگر یہ ایمان نہ لائیں تو تو اپنے آپ کو ان کے پیچھے ہلاک کردے گا ؟ تو جسے چاہے راہ راست پر لا نہیں سکتا۔ یہ تو اللہ کے قبضے میں ہے، تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے حساب ہم خود لے لیں گے، تو تو نصیحت کردینے والا ہے۔ ان پر داروغہ نہیں۔ جسے چاہے راہ راست دکھائے جسے چاہے گمراہ کر دے۔ اس کا علم اس کی حکمت اس کا عدل اسی کے ساتھ ہے۔ اس کی مشیت کے بغیر کوئی بھی مومن نہیں ہوسکتا۔ وہ ان کو ایمان سے خالی، ان کے دلوں کو نجس اور گندہ کردیتا ہے جو اللہ کی قدرت، اللہ کی برھان، اللہ کے احکام کی آیتوں میں غور فکر نہیں کرتے۔ عقل و سمجھ سے کام نہیں لیتے، وہ عادل ہے، حکیم ہے، اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔

اللہ کی حکمت سے کوئی آگاہ نہیں اللہ کی حکمت ہے کہ کوئی ایمان لائے اور کسی کو ایمان نصیب ہی نہ ہو۔ ورنہ اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو تمام انسان ایمان دار ہوجاتے۔ اگر وہ چاہتا تو سب کو اسی دین پر کار بند کردیتا۔ لوگوں میں اختلاف تو باقی ہی نہ رہے۔ سوائے ان کے جن پر رب کا رحم ہو، انہیں اسی لیے پیدا کیا ہے، تیرے رب کا فرمان حق ہے کہ جہنم انسانوں اور جنوں سے پر ہوگی۔ کیا ایماندار ناامید نہیں ہوگئے ؟ یہ کہ اللہ اگر چاہتا تو تمام لوگوں کو ہدایت کرسکتا تھا۔ یہ تو ناممکن ہے کہ تو ایمان ان کے دلوں کے ساتھ چپکا دے، یہ تیرے اختیار سے باہر ہے۔ ہدایت و ضلالت اللہ کے ہاتھ ہے۔ تو ان پر افسوس اور رنج و غم نہ کر اگر یہ ایمان نہ لائیں تو تو اپنے آپ کو ان کے پیچھے ہلاک کردے گا ؟ تو جسے چاہے راہ راست پر لا نہیں سکتا۔ یہ تو اللہ کے قبضے میں ہے، تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے حساب ہم خود لے لیں گے، تو تو نصیحت کردینے والا ہے۔ ان پر داروغہ نہیں۔ جسے چاہے راہ راست دکھائے جسے چاہے گمراہ کر دے۔ اس کا علم اس کی حکمت اس کا عدل اسی کے ساتھ ہے۔ اس کی مشیت کے بغیر کوئی بھی مومن نہیں ہوسکتا۔ وہ ان کو ایمان سے خالی، ان کے دلوں کو نجس اور گندہ کردیتا ہے جو اللہ کی قدرت، اللہ کی برھان، اللہ کے احکام کی آیتوں میں غور فکر نہیں کرتے۔ عقل و سمجھ سے کام نہیں لیتے، وہ عادل ہے، حکیم ہے، اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔

دعوت غور و فکر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں اس کی قدرتوں میں اس کی پیدا کردہ نشانیوں میں غور و فکر کرو۔ آسمان و زمین اور ان کے اندر کی نشانیاں بیشمار ہیں۔ ستارے سورج، چاند رات دن اور ان کا اختلاف کبھی دن کی کمی، کبھی راتوں کا چھوٹا ہوجانا، آسمانوں کی بلندی ان کی چوڑائی ان کا حسن وزینت اس سے بارش برسانا اس بارش سے زمین کا ہرا بھرا ہوجانا اس میں طرح طرح کے پھل پھول کا پیدا ہونا، اناج اور کھیتی کا اگنا، مختلف قسم کے جانوروں کا اس میں پھیلا ہوا ہونا، جن کی شکلیں جدا گانہ، جن کے نفع الگ الگ جن کے رنگ الگ الگ، دریاؤں میں عجائبات کا پایا جانا، ان میں طرح طرح کی ہزارہا قسم کی مخلوق کا ہونا، ان میں چھوٹی بڑی کشتیوں کا چلنا، یہ اس رب قدیر کی قدرتوں کے نشان کیا تمہاری رہبری، اس کی توحید اس کی جلالت اس کی عظمت اس کی یگانگت اس کی وحدت اس کی عبادت، اس کی اطاعت، اس کی ملکیت کی طرف نہیں کرتی ؟ یقین مانو نہ اس کے سوا کوئی پروردگار، نہ اس کے سوا کوئی لائق عبادت ہے درحقیقت بےایمانوں کے لیے اس سے زیادہ نشانیاں بھی بےسود ہیں۔ آسمان انکے سر پر اور زمین انکے قدموں میں رسول ﷺ ان کے سامنے، دلیل و سند ان کے آگے، لیکن یہ ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ ان پر کلمہ عذاب صادق آچکا ہے۔ یہ تو عذاب کے آجانے سے پہلے مومن نہیں ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ لوگ اس عذاب کے اور انہی کٹھن دنوں کے منتظر ہیں جو ان سے پہلے کے لوگوں پر ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے گزر چکے ہیں۔ اچھا انہیں انتظار کرنے دے اور تو بھی انہیں اعلان کر کے منتظر رہ۔ انہیں ابھی معلوم ہوجائے گا۔ یہ دیکھ لیں گے کہ ہم اپنے رسولوں اور سچے غلاموں کو نجات دیں گے۔ یہ ہم نے خود اپنے نفس کریم پر واجب کرلیا ہے۔ جیسے آیت میں ہے کہ تمہارے پروردگار نے اپنے نفس پر رحمت لکھ لی ہے۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کتاب لکھی ہے جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب آچکی ہے۔

دعوت غور و فکر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں اس کی قدرتوں میں اس کی پیدا کردہ نشانیوں میں غور و فکر کرو۔ آسمان و زمین اور ان کے اندر کی نشانیاں بیشمار ہیں۔ ستارے سورج، چاند رات دن اور ان کا اختلاف کبھی دن کی کمی، کبھی راتوں کا چھوٹا ہوجانا، آسمانوں کی بلندی ان کی چوڑائی ان کا حسن وزینت اس سے بارش برسانا اس بارش سے زمین کا ہرا بھرا ہوجانا اس میں طرح طرح کے پھل پھول کا پیدا ہونا، اناج اور کھیتی کا اگنا، مختلف قسم کے جانوروں کا اس میں پھیلا ہوا ہونا، جن کی شکلیں جدا گانہ، جن کے نفع الگ الگ جن کے رنگ الگ الگ، دریاؤں میں عجائبات کا پایا جانا، ان میں طرح طرح کی ہزارہا قسم کی مخلوق کا ہونا، ان میں چھوٹی بڑی کشتیوں کا چلنا، یہ اس رب قدیر کی قدرتوں کے نشان کیا تمہاری رہبری، اس کی توحید اس کی جلالت اس کی عظمت اس کی یگانگت اس کی وحدت اس کی عبادت، اس کی اطاعت، اس کی ملکیت کی طرف نہیں کرتی ؟ یقین مانو نہ اس کے سوا کوئی پروردگار، نہ اس کے سوا کوئی لائق عبادت ہے درحقیقت بےایمانوں کے لیے اس سے زیادہ نشانیاں بھی بےسود ہیں۔ آسمان انکے سر پر اور زمین انکے قدموں میں رسول ﷺ ان کے سامنے، دلیل و سند ان کے آگے، لیکن یہ ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ ان پر کلمہ عذاب صادق آچکا ہے۔ یہ تو عذاب کے آجانے سے پہلے مومن نہیں ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ لوگ اس عذاب کے اور انہی کٹھن دنوں کے منتظر ہیں جو ان سے پہلے کے لوگوں پر ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے گزر چکے ہیں۔ اچھا انہیں انتظار کرنے دے اور تو بھی انہیں اعلان کر کے منتظر رہ۔ انہیں ابھی معلوم ہوجائے گا۔ یہ دیکھ لیں گے کہ ہم اپنے رسولوں اور سچے غلاموں کو نجات دیں گے۔ یہ ہم نے خود اپنے نفس کریم پر واجب کرلیا ہے۔ جیسے آیت میں ہے کہ تمہارے پروردگار نے اپنے نفس پر رحمت لکھ لی ہے۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کتاب لکھی ہے جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب آچکی ہے۔

دعوت غور و فکر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں اس کی قدرتوں میں اس کی پیدا کردہ نشانیوں میں غور و فکر کرو۔ آسمان و زمین اور ان کے اندر کی نشانیاں بیشمار ہیں۔ ستارے سورج، چاند رات دن اور ان کا اختلاف کبھی دن کی کمی، کبھی راتوں کا چھوٹا ہوجانا، آسمانوں کی بلندی ان کی چوڑائی ان کا حسن وزینت اس سے بارش برسانا اس بارش سے زمین کا ہرا بھرا ہوجانا اس میں طرح طرح کے پھل پھول کا پیدا ہونا، اناج اور کھیتی کا اگنا، مختلف قسم کے جانوروں کا اس میں پھیلا ہوا ہونا، جن کی شکلیں جدا گانہ، جن کے نفع الگ الگ جن کے رنگ الگ الگ، دریاؤں میں عجائبات کا پایا جانا، ان میں طرح طرح کی ہزارہا قسم کی مخلوق کا ہونا، ان میں چھوٹی بڑی کشتیوں کا چلنا، یہ اس رب قدیر کی قدرتوں کے نشان کیا تمہاری رہبری، اس کی توحید اس کی جلالت اس کی عظمت اس کی یگانگت اس کی وحدت اس کی عبادت، اس کی اطاعت، اس کی ملکیت کی طرف نہیں کرتی ؟ یقین مانو نہ اس کے سوا کوئی پروردگار، نہ اس کے سوا کوئی لائق عبادت ہے درحقیقت بےایمانوں کے لیے اس سے زیادہ نشانیاں بھی بےسود ہیں۔ آسمان انکے سر پر اور زمین انکے قدموں میں رسول ﷺ ان کے سامنے، دلیل و سند ان کے آگے، لیکن یہ ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ ان پر کلمہ عذاب صادق آچکا ہے۔ یہ تو عذاب کے آجانے سے پہلے مومن نہیں ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ لوگ اس عذاب کے اور انہی کٹھن دنوں کے منتظر ہیں جو ان سے پہلے کے لوگوں پر ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے گزر چکے ہیں۔ اچھا انہیں انتظار کرنے دے اور تو بھی انہیں اعلان کر کے منتظر رہ۔ انہیں ابھی معلوم ہوجائے گا۔ یہ دیکھ لیں گے کہ ہم اپنے رسولوں اور سچے غلاموں کو نجات دیں گے۔ یہ ہم نے خود اپنے نفس کریم پر واجب کرلیا ہے۔ جیسے آیت میں ہے کہ تمہارے پروردگار نے اپنے نفس پر رحمت لکھ لی ہے۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کتاب لکھی ہے جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب آچکی ہے۔

دین حنیف کی وضاحت یکسوئی والا سچا دین جو میں اپنے اللہ کی طرف سے لے کر آیا ہوں اس میں اے لوگوں اگر تمہیں کوئی شک شبہ ہے تو ہو، یہ تو ناممکن ہے کہ تمہاری طرح میں بھی مشرک ہوجاؤں اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرنے لگوں۔ میں تو صرف اسی اللہ کا بندہ ہوں اور اسی کی بندگی میں لگا رہوں گا جو تمہاری موت پر بھی ویسا ہی قادر ہے جیسا تمہاری پیدائش پر قادر ہے تم سب اسی کی طرف لوٹنے والے اور اسی کے سامنے جمع ہونے والے ہو۔ اچھا اگر تمہارے یہ معبود کچھ طاقت وقدرت رکھتے ہیں تو ان سے کہو کہ جو ان کے بس میں ہو مجھے سزا دیں۔ حق تو یہ ہے کہ نہ کوئی سزا ان کے قبضے میں نہ جزا۔ یہ محض بےبس ہیں، بےنفع و نقصان ہیں، بھلائی برائی سب میرے اللہ کے قبضے میں ہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے، مجھے اس کا حکم ہے کہ میں مومن رہوں۔ یہ بھی مجھے حکم مل چکا ہے کہ میں صرف اسی کی عبادت کرو۔ شرک سے یکسو اور بالکل علیحدہ رہوں اور مشرکوں میں ہرگز شمولیت نہ کروں۔ خیر و شر نفع ضرر، اللہ ہی کے ہاتھ میں۔ کسی اور کو کسی امر میں کچھ بھی اختیار نہیں۔ پس کسی اور کی کسی طرح کی عبادت بھی لائق نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ اپنی پوری عمر اللہ تعالیٰ سے بھلائی طلب کرتے رہو۔ رب کی رحمتوں کے موقع کی تلاش میں رہو۔ ان کے موقعوں پر اللہ پاک جسے چاہے اپنی بھر پور رحمتیں عطا فرما دیتا ہے۔ اس سے پہلے عیبوں کی پردہ پوشی اپنے خوف ڈر کا امن طلب کیا کرو۔ پھر فرماتا ہے کہ جس گناہ سے جو شخص جب بھی توبہ کرے، اللہ اسے بخشنے والا اور اس پر مہربانی کرنے والا ہے۔

دین حنیف کی وضاحت یکسوئی والا سچا دین جو میں اپنے اللہ کی طرف سے لے کر آیا ہوں اس میں اے لوگوں اگر تمہیں کوئی شک شبہ ہے تو ہو، یہ تو ناممکن ہے کہ تمہاری طرح میں بھی مشرک ہوجاؤں اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرنے لگوں۔ میں تو صرف اسی اللہ کا بندہ ہوں اور اسی کی بندگی میں لگا رہوں گا جو تمہاری موت پر بھی ویسا ہی قادر ہے جیسا تمہاری پیدائش پر قادر ہے تم سب اسی کی طرف لوٹنے والے اور اسی کے سامنے جمع ہونے والے ہو۔ اچھا اگر تمہارے یہ معبود کچھ طاقت وقدرت رکھتے ہیں تو ان سے کہو کہ جو ان کے بس میں ہو مجھے سزا دیں۔ حق تو یہ ہے کہ نہ کوئی سزا ان کے قبضے میں نہ جزا۔ یہ محض بےبس ہیں، بےنفع و نقصان ہیں، بھلائی برائی سب میرے اللہ کے قبضے میں ہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے، مجھے اس کا حکم ہے کہ میں مومن رہوں۔ یہ بھی مجھے حکم مل چکا ہے کہ میں صرف اسی کی عبادت کرو۔ شرک سے یکسو اور بالکل علیحدہ رہوں اور مشرکوں میں ہرگز شمولیت نہ کروں۔ خیر و شر نفع ضرر، اللہ ہی کے ہاتھ میں۔ کسی اور کو کسی امر میں کچھ بھی اختیار نہیں۔ پس کسی اور کی کسی طرح کی عبادت بھی لائق نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ اپنی پوری عمر اللہ تعالیٰ سے بھلائی طلب کرتے رہو۔ رب کی رحمتوں کے موقع کی تلاش میں رہو۔ ان کے موقعوں پر اللہ پاک جسے چاہے اپنی بھر پور رحمتیں عطا فرما دیتا ہے۔ اس سے پہلے عیبوں کی پردہ پوشی اپنے خوف ڈر کا امن طلب کیا کرو۔ پھر فرماتا ہے کہ جس گناہ سے جو شخص جب بھی توبہ کرے، اللہ اسے بخشنے والا اور اس پر مہربانی کرنے والا ہے۔

دین حنیف کی وضاحت یکسوئی والا سچا دین جو میں اپنے اللہ کی طرف سے لے کر آیا ہوں اس میں اے لوگوں اگر تمہیں کوئی شک شبہ ہے تو ہو، یہ تو ناممکن ہے کہ تمہاری طرح میں بھی مشرک ہوجاؤں اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرنے لگوں۔ میں تو صرف اسی اللہ کا بندہ ہوں اور اسی کی بندگی میں لگا رہوں گا جو تمہاری موت پر بھی ویسا ہی قادر ہے جیسا تمہاری پیدائش پر قادر ہے تم سب اسی کی طرف لوٹنے والے اور اسی کے سامنے جمع ہونے والے ہو۔ اچھا اگر تمہارے یہ معبود کچھ طاقت وقدرت رکھتے ہیں تو ان سے کہو کہ جو ان کے بس میں ہو مجھے سزا دیں۔ حق تو یہ ہے کہ نہ کوئی سزا ان کے قبضے میں نہ جزا۔ یہ محض بےبس ہیں، بےنفع و نقصان ہیں، بھلائی برائی سب میرے اللہ کے قبضے میں ہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے، مجھے اس کا حکم ہے کہ میں مومن رہوں۔ یہ بھی مجھے حکم مل چکا ہے کہ میں صرف اسی کی عبادت کرو۔ شرک سے یکسو اور بالکل علیحدہ رہوں اور مشرکوں میں ہرگز شمولیت نہ کروں۔ خیر و شر نفع ضرر، اللہ ہی کے ہاتھ میں۔ کسی اور کو کسی امر میں کچھ بھی اختیار نہیں۔ پس کسی اور کی کسی طرح کی عبادت بھی لائق نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ اپنی پوری عمر اللہ تعالیٰ سے بھلائی طلب کرتے رہو۔ رب کی رحمتوں کے موقع کی تلاش میں رہو۔ ان کے موقعوں پر اللہ پاک جسے چاہے اپنی بھر پور رحمتیں عطا فرما دیتا ہے۔ اس سے پہلے عیبوں کی پردہ پوشی اپنے خوف ڈر کا امن طلب کیا کرو۔ پھر فرماتا ہے کہ جس گناہ سے جو شخص جب بھی توبہ کرے، اللہ اسے بخشنے والا اور اس پر مہربانی کرنے والا ہے۔

دین حنیف کی وضاحت یکسوئی والا سچا دین جو میں اپنے اللہ کی طرف سے لے کر آیا ہوں اس میں اے لوگوں اگر تمہیں کوئی شک شبہ ہے تو ہو، یہ تو ناممکن ہے کہ تمہاری طرح میں بھی مشرک ہوجاؤں اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرنے لگوں۔ میں تو صرف اسی اللہ کا بندہ ہوں اور اسی کی بندگی میں لگا رہوں گا جو تمہاری موت پر بھی ویسا ہی قادر ہے جیسا تمہاری پیدائش پر قادر ہے تم سب اسی کی طرف لوٹنے والے اور اسی کے سامنے جمع ہونے والے ہو۔ اچھا اگر تمہارے یہ معبود کچھ طاقت وقدرت رکھتے ہیں تو ان سے کہو کہ جو ان کے بس میں ہو مجھے سزا دیں۔ حق تو یہ ہے کہ نہ کوئی سزا ان کے قبضے میں نہ جزا۔ یہ محض بےبس ہیں، بےنفع و نقصان ہیں، بھلائی برائی سب میرے اللہ کے قبضے میں ہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے، مجھے اس کا حکم ہے کہ میں مومن رہوں۔ یہ بھی مجھے حکم مل چکا ہے کہ میں صرف اسی کی عبادت کرو۔ شرک سے یکسو اور بالکل علیحدہ رہوں اور مشرکوں میں ہرگز شمولیت نہ کروں۔ خیر و شر نفع ضرر، اللہ ہی کے ہاتھ میں۔ کسی اور کو کسی امر میں کچھ بھی اختیار نہیں۔ پس کسی اور کی کسی طرح کی عبادت بھی لائق نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ اپنی پوری عمر اللہ تعالیٰ سے بھلائی طلب کرتے رہو۔ رب کی رحمتوں کے موقع کی تلاش میں رہو۔ ان کے موقعوں پر اللہ پاک جسے چاہے اپنی بھر پور رحمتیں عطا فرما دیتا ہے۔ اس سے پہلے عیبوں کی پردہ پوشی اپنے خوف ڈر کا امن طلب کیا کرو۔ پھر فرماتا ہے کہ جس گناہ سے جو شخص جب بھی توبہ کرے، اللہ اسے بخشنے والا اور اس پر مہربانی کرنے والا ہے۔

نافرمان کا اپنا نقصان ہے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حبیب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے فرماتا ہے کہ لوگوں کو آپ خبردار کریں کہ جو میں لایا ہوں، وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ بلا شک و شبہ وہ نرا حق ہے جو اس کی اتباع کرے گا وہ اپنے نفع کو جمع کرے گا۔ اور جو اس سے بھٹک جائے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ میں تم پر وکیل نہیں ہوں کہ تمہیں ایمان پر مجبور کروں۔ میں تو کہنے سننے والا ہوں۔ ہادی صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اے نبی ﷺ تو خود بھی میرے احکام اور وحی کا تابعدار رہ اور اسی پر مضبوطی سے جما رہ۔ لوگوں کی مخالفت کی کوئی پرواہ نہ کر۔ ان کی ایذاؤں پر صبر و تحمل سے کام لے یہاں تک کہ خود اللہ تجھ میں اور ان میں فیصلہ کر دے۔ وہ بہترین فیصلے کرنے والا ہے جس کا کوئی فیصلہ عدل سے حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔

نافرمان کا اپنا نقصان ہے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حبیب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے فرماتا ہے کہ لوگوں کو آپ خبردار کریں کہ جو میں لایا ہوں، وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ بلا شک و شبہ وہ نرا حق ہے جو اس کی اتباع کرے گا وہ اپنے نفع کو جمع کرے گا۔ اور جو اس سے بھٹک جائے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ میں تم پر وکیل نہیں ہوں کہ تمہیں ایمان پر مجبور کروں۔ میں تو کہنے سننے والا ہوں۔ ہادی صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اے نبی ﷺ تو خود بھی میرے احکام اور وحی کا تابعدار رہ اور اسی پر مضبوطی سے جما رہ۔ لوگوں کی مخالفت کی کوئی پرواہ نہ کر۔ ان کی ایذاؤں پر صبر و تحمل سے کام لے یہاں تک کہ خود اللہ تجھ میں اور ان میں فیصلہ کر دے۔ وہ بہترین فیصلے کرنے والا ہے جس کا کوئی فیصلہ عدل سے حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔

Source. Tafsir Ibn Kathir, Hafiz Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://quran.com/. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com