John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Baqara

Tafsir Ibn Kathir · The Cow · 286 ayat · ayat 91–120 · Quran text →

خود پسند یہودی مورد عتاب یعنی جب ان سے قرآن پر اور نبی آخر الزمان پر ایمان لانے کو کہا جاتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں توراۃ انجیل پر ایمان رکھنا کافی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اس میں بھی جھوٹے ہیں قرآن تو ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور خود ان کی کتابوں میں بھی حضور ﷺ کی تصدیق موجود ہے، جیسے فرمایا آیت (اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَھُمْ) 2۔ البقرۃ :146) یعنی اہل کتاب آپ کو اس طرح جانتے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں پس آپ سے انکار کا مطلب توراۃ انجیل سے بھی انکار کے مترادف ہے۔ اس حجت کو قائم کر کے اب دوسری طرح حجت قائم کی جاتی ہے کہ اچھا توراۃ اور انجیل پر اگر تمہارا ایمان ہے پھر اگلے انبیاء جو انہی کی تصدیق اور تابعداری کرتے ہوئے بغیر کسی نئی شریعت اور نئی کتاب کے آئے تو تم نے انہیں قتل کیوں کیا ؟ معلوم ہوا کہ تمہارا ایمان نہ تو اس کتاب پر ہے نہ اس کتاب پر۔ تم محض خواہش کے بندے نفس کے غلام اپنی رائے قیاس کے غلام ہو۔ پھر فرمایا کہ اچھا موسیٰ ؑ سے تو تم نے بڑے بڑے معجزے دیکھے طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک، خون وغیرہ جو ان کی بد دعا سے بطور معجزے ظاہر ہوئے لکڑی کا سانپ بن جانا ہاتھ کا روشن چاند بن جانا، دریا کو چیر دینا اور پانی کو پتھر کی طرح بنادینا، بادلوں کا سایہ کرنا، من وسلویٰ کا اترنا، پتھر سے نہریں جاری کرنا وغیرہ تمام بڑے بڑے معجزات جو ان کی نبوت کی اور اللہ کی توحید کی روشن دلیلیں تھیں سب اپنی آنکھوں سے دیکھیں لیکن ادھر حضرت موسیٰ ؑ طور پہاڑ پر گئے ادھر تم نے بچھڑے کو اللہ بنا لیا اب بتاؤ کہ خود توراۃ پر اور خود حضرت موسیٰ پر بھی تمہارا ایمان کہاں گیا ؟ کیا یہ بدکاریاں تمہیں ظالم کہلوانے والی نہیں ؟ من بعدہ سے مراد موسیٰ ؑ کے طور پر جانے کے بعد ہے دوسری جگہ ارشاد ہے آیت (واتخذ قوم موسیٰ) الخ یعنی حضرت موسیٰ ؑ کے طور پر جانے کے بعد آپ کی قوم نے بچھڑے کو معبود بنا لیا اور اپنی جانوں پر اس گو سالہ پرستی سے واضح ظلم کیا جس کا احساس بعد میں خود انہیں بھی ہوا جیسے فرمایا آیت (ولما سقط فی ایدیھم) یعنی جب انہیں ہوش آیا نادم ہوئے اور اپنی گمراہی کو محسوس کرنے لگے اس وقت کہا اے اللہ اگر تم ہم پر رحم نہ کرے اور ہماری خطا نہ بخشے تو ہم زیاں کار ہوجائیں گے۔

خود پسند یہودی مورد عتاب یعنی جب ان سے قرآن پر اور نبی آخر الزمان پر ایمان لانے کو کہا جاتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں توراۃ انجیل پر ایمان رکھنا کافی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اس میں بھی جھوٹے ہیں قرآن تو ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور خود ان کی کتابوں میں بھی حضور ﷺ کی تصدیق موجود ہے، جیسے فرمایا آیت (اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَھُمْ) 2۔ البقرۃ :146) یعنی اہل کتاب آپ کو اس طرح جانتے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں پس آپ سے انکار کا مطلب توراۃ انجیل سے بھی انکار کے مترادف ہے۔ اس حجت کو قائم کر کے اب دوسری طرح حجت قائم کی جاتی ہے کہ اچھا توراۃ اور انجیل پر اگر تمہارا ایمان ہے پھر اگلے انبیاء جو انہی کی تصدیق اور تابعداری کرتے ہوئے بغیر کسی نئی شریعت اور نئی کتاب کے آئے تو تم نے انہیں قتل کیوں کیا ؟ معلوم ہوا کہ تمہارا ایمان نہ تو اس کتاب پر ہے نہ اس کتاب پر۔ تم محض خواہش کے بندے نفس کے غلام اپنی رائے قیاس کے غلام ہو۔ پھر فرمایا کہ اچھا موسیٰ ؑ سے تو تم نے بڑے بڑے معجزے دیکھے طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک، خون وغیرہ جو ان کی بد دعا سے بطور معجزے ظاہر ہوئے لکڑی کا سانپ بن جانا ہاتھ کا روشن چاند بن جانا، دریا کو چیر دینا اور پانی کو پتھر کی طرح بنادینا، بادلوں کا سایہ کرنا، من وسلویٰ کا اترنا، پتھر سے نہریں جاری کرنا وغیرہ تمام بڑے بڑے معجزات جو ان کی نبوت کی اور اللہ کی توحید کی روشن دلیلیں تھیں سب اپنی آنکھوں سے دیکھیں لیکن ادھر حضرت موسیٰ ؑ طور پہاڑ پر گئے ادھر تم نے بچھڑے کو اللہ بنا لیا اب بتاؤ کہ خود توراۃ پر اور خود حضرت موسیٰ پر بھی تمہارا ایمان کہاں گیا ؟ کیا یہ بدکاریاں تمہیں ظالم کہلوانے والی نہیں ؟ من بعدہ سے مراد موسیٰ ؑ کے طور پر جانے کے بعد ہے دوسری جگہ ارشاد ہے آیت (واتخذ قوم موسیٰ) الخ یعنی حضرت موسیٰ ؑ کے طور پر جانے کے بعد آپ کی قوم نے بچھڑے کو معبود بنا لیا اور اپنی جانوں پر اس گو سالہ پرستی سے واضح ظلم کیا جس کا احساس بعد میں خود انہیں بھی ہوا جیسے فرمایا آیت (ولما سقط فی ایدیھم) یعنی جب انہیں ہوش آیا نادم ہوئے اور اپنی گمراہی کو محسوس کرنے لگے اس وقت کہا اے اللہ اگر تم ہم پر رحم نہ کرے اور ہماری خطا نہ بخشے تو ہم زیاں کار ہوجائیں گے۔

صدائے باز گشت اللہ تبارک و تعالیٰ بنی اسرائیل کی خطائیں مخالفتیں سرکشی اور حق سے روگردانی بیان فرما رہا ہے کہ طور پہاڑ جب سروں پر دیکھا تو اقرار کرلیا جب وہ ہٹ گیا تو پھر منکر ہوگئے۔ اس کی تفسیر بیان ہوچکی ہے بچھڑے کی محبت ان کے دلوں میں رچ گئی۔ جیسے کہ حدیث میں ہے کہ کسی چیز کی محبت انسان کو اندھا بہرا بنا دیتی ہے حضرت موسیٰ ؑ نے اس بچھڑے کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے جلا کر اس کی راکھ کو ہوا میں اڑا کر دریا میں ڈال دیا تھا جس پانی کو بنی اسرائیل نے پی لیا اور اس کا اثر ان پر ظاہر ہوا گو بچھڑا نیست و نابود کردیا گیا لیکن ان کے دلوں کا تعلق اب بھی اس معبود باطل سے لگا رہا دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ تم ایمان کا دعویٰ کس طرح کرتے ہو ؟ اپنے ایمان پر نظر نہیں ڈالتے ؟ بار بار کی عہد شکنیاں کئی بار کے کفر بھول گئے ؟ حضرت موسیٰ کے سامنے تم نے کفر کیا ان کے بعد کے پیغمبروں کے ساتھ تم نے سرکشی کی یہاں تک کہ افضل الانبیاء ختم المرسلین حضرت محمد مصطفے ٰ ﷺ کی نبوت کو بھی نہ مانا جو سب سے بڑا کفر ہے۔

مباہلہ اور یہودی مع نصاریٰ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان یہودیوں کو نبی ﷺ کا زبانی پیغام دیا گیا کہ اگر تم سچے ہو تو مقابلہ میں آؤ ہم تم مل کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہم میں سے جھوٹا ہے اسے ہلاک کر دے۔ لیکن ساتھ ہی پیشنگوئی بھی کردی کہ یہ لوگ ہرگز اس پر آمادہ نہیں ہوں گے چناچہ یہی ہوا کہ یہ لوگ مقابلہ پر نہ آئے اس لئے کہ وہ دل سے حضور ﷺ کو اور آسمانی کتاب قرآن کریم کو سچا جانتے تھے اگر یہ لوگ اس اعلان کے ماتحت مقابلہ میں نکلتے تو سب کے سب ہلاک ہوجاتے۔ روئے زمین پر ایک یہودی بھی باقی نہ رہتا۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی آیا ہے کہ اگر یہودی مقابلہ پر آتے اور جھوٹے کے لئے موت طلب کرتے تو سب کے سب مرجاتے اور اپنی جگہ جہنم میں دیکھ لیتے اسی طرح جو نصرانی آپ کے پاس آئے تھے وہ بھی اگر مباہلہ کے لئے تیار ہوتے تو وہ لوٹ کر اپنے اہل و عیال اور مال و دولت کا نام و نشان بھی نہ پاتے (مسند احمد) سورة جمعہ میں بھی اسی طرح کی دعوت انہیں دی گئی ہے آیت (قُلْ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ هَادُوْٓا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِيَاۗءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ) 62۔ الجمعہ :6) آخر تک پڑھئے ان کا دعویٰ تھا کہ آیت (نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ) 5۔ المائدہ :18) ہم تو اللہ کی اولاد اور اس کے پیارے ہیں یہ کہا کرتے تھے آیت (لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى) 2۔ البقرۃ :111) جنت میں صرف یہودی اور نصاریٰ ہی جائیں گے اس لئے انہیں کہا گیا کہ آؤ اس کا فیصلہ اس طرح کرلیں کہ دونوں فریق میدان میں نکل کر اللہ سے دعا کریں کہ اسے جھوٹے کو ہلاک کر لیکن چونکہ اس جماعت کو اپنے جھوٹ کا علم تھا اس لئے تیار نہ ہوئی اور اس کا کذب سب پر کھل گیا اسی طرح جب نجران کے نصرانی حضور کے پاس آئے بحث مباحثہ ہوچکا تو ان سے بھی یہی کہا گیا کہ آیت (تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَاۗءَنَا وَاَبْنَاۗءَكُمْ وَنِسَاۗءَنَا وَنِسَاۗءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَكُمْ ۣ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَي الْكٰذِبِيْنَ) 3۔ آل عمران :61) آؤ ہم تم دونوں اپنی اپنی اولادوں بیویوں کو لے کر نکلیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ جھوٹوں پر اپنی لعنت نازل فرمائے لیکن وہ آپس میں کہنے لگے کہ ہرگز اس نبی سے مباہلہ نہ کرو فوراً برباد ہوجاؤ گے چناچہ مباہلہ سے انکار کردیا جھک کر صلح کرلی اور دب کر جزیہ دینا منظور کرلیا آپ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو ان کے ساتھ امین بنا کر بھیج دیا اسی طرح مشرکین عرب سے بھی کہا گیا آیت (مَنْ كَانَ فِي الضَّلٰلَةِ فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا) 19۔ مریم :75) یعنی ہم میں سے جو گمراہ ہو اللہ تعالیٰ اس کی گمراہی بڑھا دے اس کی پوری تفسیر اس آیت کے ساتھ بیان ہوگی انشاء اللہ تعالیٰ مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں ایک مرجوع قول یہ بھی ہے کہ تم خود اپنے جانوں کے لئے موت طلب کرو کیونکہ بقول تمہارے آخرت کی بھلائیاں صرف تمہارے لئے ہی ہیں انہوں نے اس سے انکار کیا لیکن یہ قول کچھ دل کو نہیں لگتا۔ اس لئے کہ بہت سے اچھے اور نیک آدمی بھی زندگی چاہتے ہیں بلکہ حدیث میں ہے کہ تم میں سے بہتر وہ ہے جس کی لمبی عمر ہوئی ہو اور اعمال اچھے ہوں علاوہ ازیں یہی قول یہودی بھی کہہ سکتے تھے تو بات فیصلہ کن نہ ہوتی ٹھیک تفسیر وہی ہے جو پہلے بیان ہوئی کہ دونوں فریق مل کر جھوٹ کی ہلاکت اور اس کی موت کی دعا کریں اور اس اعلان کے سنتے ہی یہود تو ٹھنڈے پڑگئے اور تمام لوگوں پر ان کا جھوٹ کھل گیا اور وہ پیشنگوئی بھی سچی ثابت ہوئی کہ یہ لوگ ہرگز موت طلب نہیں کریں گے اس مباہلہ کا نام اصطلاح میں تمنی رکھا گیا کیونکہ ہر فریق باطل پرست کی موت کی آرزو کرتا ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ تو مشرکین سے بھی زیادہ طویل عمر کے خواہاں ہیں کیونکہ کفار کے لئے دنیا جنت ہے اور ان کی تمنا اور کوشش ہے کہ یہاں زیادہ رہیں خواجہ حسن بصری فرماتے ہیں منافق کو حیات دنیوی کی حرص کافر سے بھی زیادہ ہوتی ہے یہ یہودی تو ایک ایک ہزار سال کی عمریں چاہتے ہیں حالانکہ اتنی لمبی عمر بھی انہیں ان عذابوں سے نجات نہیں دے سکتی چونکہ کفار کو تو آخرت پر یقین ہی نہیں ہوتا مگر انہیں یقین تو تھا لیکن ان کی اپنی سیاہ کاریاں بھی ان کے سامنے تھے اس لئے موت سے بہت زیادہ ڈتے تھے لیکن ابلیس کے برابر بھی عمر پالی تو کیا ہوا عذاب سے تو نہیں بچ سکتے اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے بیخبر نہیں تمام بندوں کے تمام بھلے برے اعمال کو وہ بخوبی جانتا ہے اور ویسا ہی بدلہ دے گا۔

مباہلہ اور یہودی مع نصاریٰ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان یہودیوں کو نبی ﷺ کا زبانی پیغام دیا گیا کہ اگر تم سچے ہو تو مقابلہ میں آؤ ہم تم مل کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہم میں سے جھوٹا ہے اسے ہلاک کر دے۔ لیکن ساتھ ہی پیشنگوئی بھی کردی کہ یہ لوگ ہرگز اس پر آمادہ نہیں ہوں گے چناچہ یہی ہوا کہ یہ لوگ مقابلہ پر نہ آئے اس لئے کہ وہ دل سے حضور ﷺ کو اور آسمانی کتاب قرآن کریم کو سچا جانتے تھے اگر یہ لوگ اس اعلان کے ماتحت مقابلہ میں نکلتے تو سب کے سب ہلاک ہوجاتے۔ روئے زمین پر ایک یہودی بھی باقی نہ رہتا۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی آیا ہے کہ اگر یہودی مقابلہ پر آتے اور جھوٹے کے لئے موت طلب کرتے تو سب کے سب مرجاتے اور اپنی جگہ جہنم میں دیکھ لیتے اسی طرح جو نصرانی آپ کے پاس آئے تھے وہ بھی اگر مباہلہ کے لئے تیار ہوتے تو وہ لوٹ کر اپنے اہل و عیال اور مال و دولت کا نام و نشان بھی نہ پاتے (مسند احمد) سورة جمعہ میں بھی اسی طرح کی دعوت انہیں دی گئی ہے آیت (قُلْ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ هَادُوْٓا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِيَاۗءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ) 62۔ الجمعہ :6) آخر تک پڑھئے ان کا دعویٰ تھا کہ آیت (نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ) 5۔ المائدہ :18) ہم تو اللہ کی اولاد اور اس کے پیارے ہیں یہ کہا کرتے تھے آیت (لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى) 2۔ البقرۃ :111) جنت میں صرف یہودی اور نصاریٰ ہی جائیں گے اس لئے انہیں کہا گیا کہ آؤ اس کا فیصلہ اس طرح کرلیں کہ دونوں فریق میدان میں نکل کر اللہ سے دعا کریں کہ اسے جھوٹے کو ہلاک کر لیکن چونکہ اس جماعت کو اپنے جھوٹ کا علم تھا اس لئے تیار نہ ہوئی اور اس کا کذب سب پر کھل گیا اسی طرح جب نجران کے نصرانی حضور کے پاس آئے بحث مباحثہ ہوچکا تو ان سے بھی یہی کہا گیا کہ آیت (تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَاۗءَنَا وَاَبْنَاۗءَكُمْ وَنِسَاۗءَنَا وَنِسَاۗءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَكُمْ ۣ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَي الْكٰذِبِيْنَ) 3۔ آل عمران :61) آؤ ہم تم دونوں اپنی اپنی اولادوں بیویوں کو لے کر نکلیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ جھوٹوں پر اپنی لعنت نازل فرمائے لیکن وہ آپس میں کہنے لگے کہ ہرگز اس نبی سے مباہلہ نہ کرو فوراً برباد ہوجاؤ گے چناچہ مباہلہ سے انکار کردیا جھک کر صلح کرلی اور دب کر جزیہ دینا منظور کرلیا آپ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو ان کے ساتھ امین بنا کر بھیج دیا اسی طرح مشرکین عرب سے بھی کہا گیا آیت (مَنْ كَانَ فِي الضَّلٰلَةِ فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا) 19۔ مریم :75) یعنی ہم میں سے جو گمراہ ہو اللہ تعالیٰ اس کی گمراہی بڑھا دے اس کی پوری تفسیر اس آیت کے ساتھ بیان ہوگی انشاء اللہ تعالیٰ مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں ایک مرجوع قول یہ بھی ہے کہ تم خود اپنے جانوں کے لئے موت طلب کرو کیونکہ بقول تمہارے آخرت کی بھلائیاں صرف تمہارے لئے ہی ہیں انہوں نے اس سے انکار کیا لیکن یہ قول کچھ دل کو نہیں لگتا۔ اس لئے کہ بہت سے اچھے اور نیک آدمی بھی زندگی چاہتے ہیں بلکہ حدیث میں ہے کہ تم میں سے بہتر وہ ہے جس کی لمبی عمر ہوئی ہو اور اعمال اچھے ہوں علاوہ ازیں یہی قول یہودی بھی کہہ سکتے تھے تو بات فیصلہ کن نہ ہوتی ٹھیک تفسیر وہی ہے جو پہلے بیان ہوئی کہ دونوں فریق مل کر جھوٹ کی ہلاکت اور اس کی موت کی دعا کریں اور اس اعلان کے سنتے ہی یہود تو ٹھنڈے پڑگئے اور تمام لوگوں پر ان کا جھوٹ کھل گیا اور وہ پیشنگوئی بھی سچی ثابت ہوئی کہ یہ لوگ ہرگز موت طلب نہیں کریں گے اس مباہلہ کا نام اصطلاح میں تمنی رکھا گیا کیونکہ ہر فریق باطل پرست کی موت کی آرزو کرتا ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ تو مشرکین سے بھی زیادہ طویل عمر کے خواہاں ہیں کیونکہ کفار کے لئے دنیا جنت ہے اور ان کی تمنا اور کوشش ہے کہ یہاں زیادہ رہیں خواجہ حسن بصری فرماتے ہیں منافق کو حیات دنیوی کی حرص کافر سے بھی زیادہ ہوتی ہے یہ یہودی تو ایک ایک ہزار سال کی عمریں چاہتے ہیں حالانکہ اتنی لمبی عمر بھی انہیں ان عذابوں سے نجات نہیں دے سکتی چونکہ کفار کو تو آخرت پر یقین ہی نہیں ہوتا مگر انہیں یقین تو تھا لیکن ان کی اپنی سیاہ کاریاں بھی ان کے سامنے تھے اس لئے موت سے بہت زیادہ ڈتے تھے لیکن ابلیس کے برابر بھی عمر پالی تو کیا ہوا عذاب سے تو نہیں بچ سکتے اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے بیخبر نہیں تمام بندوں کے تمام بھلے برے اعمال کو وہ بخوبی جانتا ہے اور ویسا ہی بدلہ دے گا۔

مباہلہ اور یہودی مع نصاریٰ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان یہودیوں کو نبی ﷺ کا زبانی پیغام دیا گیا کہ اگر تم سچے ہو تو مقابلہ میں آؤ ہم تم مل کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہم میں سے جھوٹا ہے اسے ہلاک کر دے۔ لیکن ساتھ ہی پیشنگوئی بھی کردی کہ یہ لوگ ہرگز اس پر آمادہ نہیں ہوں گے چناچہ یہی ہوا کہ یہ لوگ مقابلہ پر نہ آئے اس لئے کہ وہ دل سے حضور ﷺ کو اور آسمانی کتاب قرآن کریم کو سچا جانتے تھے اگر یہ لوگ اس اعلان کے ماتحت مقابلہ میں نکلتے تو سب کے سب ہلاک ہوجاتے۔ روئے زمین پر ایک یہودی بھی باقی نہ رہتا۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی آیا ہے کہ اگر یہودی مقابلہ پر آتے اور جھوٹے کے لئے موت طلب کرتے تو سب کے سب مرجاتے اور اپنی جگہ جہنم میں دیکھ لیتے اسی طرح جو نصرانی آپ کے پاس آئے تھے وہ بھی اگر مباہلہ کے لئے تیار ہوتے تو وہ لوٹ کر اپنے اہل و عیال اور مال و دولت کا نام و نشان بھی نہ پاتے (مسند احمد) سورة جمعہ میں بھی اسی طرح کی دعوت انہیں دی گئی ہے آیت (قُلْ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ هَادُوْٓا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِيَاۗءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ) 62۔ الجمعہ :6) آخر تک پڑھئے ان کا دعویٰ تھا کہ آیت (نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ) 5۔ المائدہ :18) ہم تو اللہ کی اولاد اور اس کے پیارے ہیں یہ کہا کرتے تھے آیت (لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى) 2۔ البقرۃ :111) جنت میں صرف یہودی اور نصاریٰ ہی جائیں گے اس لئے انہیں کہا گیا کہ آؤ اس کا فیصلہ اس طرح کرلیں کہ دونوں فریق میدان میں نکل کر اللہ سے دعا کریں کہ اسے جھوٹے کو ہلاک کر لیکن چونکہ اس جماعت کو اپنے جھوٹ کا علم تھا اس لئے تیار نہ ہوئی اور اس کا کذب سب پر کھل گیا اسی طرح جب نجران کے نصرانی حضور کے پاس آئے بحث مباحثہ ہوچکا تو ان سے بھی یہی کہا گیا کہ آیت (تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَاۗءَنَا وَاَبْنَاۗءَكُمْ وَنِسَاۗءَنَا وَنِسَاۗءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَكُمْ ۣ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَي الْكٰذِبِيْنَ) 3۔ آل عمران :61) آؤ ہم تم دونوں اپنی اپنی اولادوں بیویوں کو لے کر نکلیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ جھوٹوں پر اپنی لعنت نازل فرمائے لیکن وہ آپس میں کہنے لگے کہ ہرگز اس نبی سے مباہلہ نہ کرو فوراً برباد ہوجاؤ گے چناچہ مباہلہ سے انکار کردیا جھک کر صلح کرلی اور دب کر جزیہ دینا منظور کرلیا آپ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو ان کے ساتھ امین بنا کر بھیج دیا اسی طرح مشرکین عرب سے بھی کہا گیا آیت (مَنْ كَانَ فِي الضَّلٰلَةِ فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا) 19۔ مریم :75) یعنی ہم میں سے جو گمراہ ہو اللہ تعالیٰ اس کی گمراہی بڑھا دے اس کی پوری تفسیر اس آیت کے ساتھ بیان ہوگی انشاء اللہ تعالیٰ مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں ایک مرجوع قول یہ بھی ہے کہ تم خود اپنے جانوں کے لئے موت طلب کرو کیونکہ بقول تمہارے آخرت کی بھلائیاں صرف تمہارے لئے ہی ہیں انہوں نے اس سے انکار کیا لیکن یہ قول کچھ دل کو نہیں لگتا۔ اس لئے کہ بہت سے اچھے اور نیک آدمی بھی زندگی چاہتے ہیں بلکہ حدیث میں ہے کہ تم میں سے بہتر وہ ہے جس کی لمبی عمر ہوئی ہو اور اعمال اچھے ہوں علاوہ ازیں یہی قول یہودی بھی کہہ سکتے تھے تو بات فیصلہ کن نہ ہوتی ٹھیک تفسیر وہی ہے جو پہلے بیان ہوئی کہ دونوں فریق مل کر جھوٹ کی ہلاکت اور اس کی موت کی دعا کریں اور اس اعلان کے سنتے ہی یہود تو ٹھنڈے پڑگئے اور تمام لوگوں پر ان کا جھوٹ کھل گیا اور وہ پیشنگوئی بھی سچی ثابت ہوئی کہ یہ لوگ ہرگز موت طلب نہیں کریں گے اس مباہلہ کا نام اصطلاح میں تمنی رکھا گیا کیونکہ ہر فریق باطل پرست کی موت کی آرزو کرتا ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ تو مشرکین سے بھی زیادہ طویل عمر کے خواہاں ہیں کیونکہ کفار کے لئے دنیا جنت ہے اور ان کی تمنا اور کوشش ہے کہ یہاں زیادہ رہیں خواجہ حسن بصری فرماتے ہیں منافق کو حیات دنیوی کی حرص کافر سے بھی زیادہ ہوتی ہے یہ یہودی تو ایک ایک ہزار سال کی عمریں چاہتے ہیں حالانکہ اتنی لمبی عمر بھی انہیں ان عذابوں سے نجات نہیں دے سکتی چونکہ کفار کو تو آخرت پر یقین ہی نہیں ہوتا مگر انہیں یقین تو تھا لیکن ان کی اپنی سیاہ کاریاں بھی ان کے سامنے تھے اس لئے موت سے بہت زیادہ ڈتے تھے لیکن ابلیس کے برابر بھی عمر پالی تو کیا ہوا عذاب سے تو نہیں بچ سکتے اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے بیخبر نہیں تمام بندوں کے تمام بھلے برے اعمال کو وہ بخوبی جانتا ہے اور ویسا ہی بدلہ دے گا۔

خصومت جبرائیل ؑ موجب کفر و عصیان امام جعفر طبری ؒ فرماتے ہیں اس پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ جب یہودیوں نے حضرت جبرائیل کو اپنا دشمن اور حضرت میکائیل کو اپنا دوست بتایا تھا اس وقت ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی لیکن بعض کہتے ہیں کہ امر نبوت کے بارے میں جو گفتگو ان کی حضور ﷺ سے ہوئی تھی اس میں انہوں نے یہ کہا تھا۔ بعض کہتے ہیں عمر بن خطاب ؓ سے ان کا جو مناظرہ حضور ﷺ کی نبوت کے بارے میں ہوا تھا اس میں انہوں نے یہ کہا تھا۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہودیوں کی ایک جماعت رسول مقبول ﷺ کے پاس آئی اور کہا کہ ہم آپ سے چند سوال کرتے ہیں جن کے صحیح جواب نبی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا اگر آپ سچے نبی ہیں تو ان کے جوابات دیجئے آپ نے فرمایا بہتر ہے جو چاہو پوچھو مگر عہد کرو کہ اگر میں ٹھیک ٹھیک جواب دوں گا تو تم میری نبوت کا اقرار کرلو گے اور میری فرمانبرداری کے پابند ہوجاؤ گے انہوں نے آپ سے وعدہ کیا اور عہد دیا۔ اس کے بعد آپ نے حضرت یعقوب کی طرح اللہ جل شانہ کی شہادت کے ساتھ ان سے پختہ وعدہ لے کر انہیں سوال کرنے کی اجازت دی، انہوں نے کہا پہلے تو یہ بتائے کہ توراۃ نازل ہونے سے پہلے حضرت اسرائیل ؑ نے اپنے نفس پر کس چیز کو حرام کیا تھا ؟ آپ نے فرمایا جب حضرت یعقوب ؑ عرق السناء کی بیماری میں سخت بیمار ہوئے تو نذر مانی کہ اگر اللہ مجھے اس مرض سے شفا دے تو میں اپنی کھانے کے سب سے زیادہ مرغوب چیز اور سب سے زیادہ محبوب چیز پینے کی چھوڑ دوں گا جب تندرست ہوگئے تو اونٹ کا گوشت کھانا اور اونٹنی کا دودھ پینا جو آپ کو پسند خاطر تھا چھوڑ دیا، تمہیں اللہ کی قسم جس نے حضرت موسیٰ پر تورات اتاری بتاؤ یہ سچ ہے ؟ ان سب نے قسم کھا کر کہا کہ ہاں حضور سچ ہے بجا ارشاد ہوا اچھا اب ہم پوچھتے ہیں کہ عورت مرد کے پانی کی کیا کیفیت ہے ؟ اور کیوں کبھی لڑکا پیدا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی ؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی گاڑھا اور سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زردی مائل ہوتا ہے جو بھی غالب آجائے اسی کے مطابق پیدائش ہوتی ہے اور شبیہ بھی۔ جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آجائے تو حکم الٰہی سے اولاد نرینہ ہوتی ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو حکم الٰہی سے اولاد لڑکی ہوتی ہے تمہیں اللہ تعالیٰ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں سچ بتاؤ میرا جواب صحیح ہے ؟ سب نے قسم کھا کر کہا بیشک آپ نے بجا ارشاد فرمایا آپ نے ان دو باتوں پر اللہ تعالیٰ کو گواہ بنایا۔ انہوں نے کہا اچھا یہ فرمائیے کہ تورات میں جس نبی امی کی خبر ہے اس کی خاص نشانی کیا ہے ؟ اور اس کے پاس کونسا فرشتہ وحی لے کر آتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کس خاص نشانی یہ ہے کہ اس کی آنکھیں جب سوئی ہوئی ہوں اس وقت میں اس کا دل جاگتا رہتا ہے تمہیں اس رب کی قسم جس نے حضرت موسیٰ کو توراۃ دی بتاؤ تو میں نے ٹھیک جواب دیا ؟ سب نے قسم کھا کر کہا آپ نے بالکل صحیح جواب دیا۔ اب ہمارے اس سوال کی دوسری شق کا جواب بھی عنایت فرما دیجئے اسی پر بحث کا خاتمہ ہے۔ آپ نے فرمایا میرا ولی جبرائیل ہے وہی میرے پاس وحی لاتا ہے اور وحی تمام انبیاء کرام کے پاس پیغام باری تعالیٰ لاتا رہا۔ سچ کہو اور قسم کھا کر کہو کہ میرا یہ جواب بھی درست ہے ؟ انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ جواب تو درست ہے لیکن چونکہ جبرائیل ہمارا دشمن ہے وہ سختی اور خون ریزی وغیرہ لے کر آتا رہتا ہے اس لئے ہم اس کی نہیں مانیں گے نہ آپ کی مانیں ہاں اگر آپ کے پاس حضرت میکائیل وحی لے کر آتے جو رحمت، بارش، پیداوار وغیرہ لے کر آتے ہیں اور ہمارے دوست ہیں تو ہم آپکی تابعداری اور تصدیق کرتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ بعض روایتوں میں ہے کہ انہوں نے یہ بھی سوال کیا تھا کہ رعد کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ ایک فرشتہ ہے جو بادلوں پر مقرر ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق انہیں ادھر ادھر لے جاتا ہے۔ انہوں نے کہا یہ گرج کی آواز کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ اسی فرشتے کی آواز ہے ملاحظہ ہو مسند احمد وغیرہ۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ جبحضور ﷺ مدینہ میں تشریف لائے اس وقت حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اپنے باغ میں تھے اور یہودیت پر قائم تھے۔ انہوں نے جب آپ کی آمد کی خبر سنی تو حضور ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور کہا حضور ﷺ یہ فرمائے کہ قیامت کی پہلی شرط کیا ہے ؟ اور جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہے ؟ اور کونسی چیز بچہ کو کبھی ماں کی طرف کھینچتی ہے اور کبھی باپ کی طرف، آپ نے فرمایا ان تینوں سوالوں کے جواب ابھی ابھی جبرائیل نے مجھے بتلائے ہیں سنو، حضرت عبداللہ بن سلام نے کہا وہ تو ہمارا دشمن ہے۔ آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی پھر فرمایا پہلی نشانی قیامت کی ایک آگ ہے جو لوگوں کے پیچھے لگے گی اور انہیں مشرق سے مغرب کی طرف اکٹھا کر دے گی۔ جنتیوں کی پہلی خوراک مچھلی کی کلیجی بطور ضیافت ہوگی۔ جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر سبقت کرجاتا ہے تو لڑکا پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی سے سبق لے جاتا ہے تو لڑکی ہوتی ہے یہ جواب سنتے ہی حضرت عبداللہ مسلمان ہوگئے اور پکار اٹھے حدیث (اشھدان لا الہ الا اللہ وانک رسولہ اللہ) پھر کہنے لگے حضور یہودی بڑے بیوقوف لوگ ہیں۔ اگر انہیں میرا اسلام لانا پہلے معلوم ہوجائے گا تو وہ مجھے کہیں گے آپ پہلے انہیں ذرا قائل کرلیجئے۔ اس کے بعد آپ کے پاس جب یہودی آئے تو آپ نے ان سے پوچھا کہ عبداللہ بن سلام تم میں کیسے شخص ہیں ؟ انہوں نے کہا بڑے بزرگ اور دانشور آدمی ہیں بزرگوں کی اولاد میں سے ہیں وہ تو ہمارے سردار ہیں اور سرداروں کی اولاد میں سے ہیں آپ نے فرمایا اچھا اگر وہ مسلمان ہوجائیں پھر تو تمہیں اسلام قبول کرنے میں کوئی تامل تو نہیں ہوگا ؟ کہنے لگے اعوذ باللہ اعوذ باللہ وہ مسلمان ہی کیوں ہونے لگے ؟ حضرت عبداللہ جو اب تک چھپے ہوئے تھے باہر آگئے اور زور سے کلمہ پڑھا۔ تو تمام کے تمام شور مچانے لگے کہ یہ خود بھی برا ہے اس کے باپ دادا بھی برے تھے یہ بڑا نیچے درجہ کا آدمی ہے خاندانی کمینہ ہے۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا حضور ﷺ اسی چیز کا مجھے ڈر تھا۔ صحیح بخاری میں ہے حضرت عکرمہ فرماتے ہیں جبر، میک، اسراف، کے معنی عبد یعنی بندے کے ہیں اور ایل کے معنی اللہ کے ہیں تو جبرائیل وغیرہ کے معنی عبداللہ ہوئے بعض لوگوں نے اس کے معنی الٹ بھی کئے ہیں وہ کہتے ہیں ایل کے معنی عبد کے ہیں اور اس سے پہلے کے الفاظ اللہ کے نام ہیں، جیسے عربی میں عبداللہ عبدالرحمٰن عبدالملک عبدالقدوس عبدالسلام عبدالکافی عبدالجلیل وغیرہ لفظ عبد ہر جگہ باقی رہا اور اللہ کے نام بدلتے رہے اس طرح ایل ہر جگہ باقی ہے اور اللہ کے اسماء حسنہ بدلتے رہتے ہیں۔ غیر عربی زبان میں مضاف الیہ پہلے آتا ہے اور مضاف بعد میں۔ اسی قاعدے کے مطابق ان ناموں میں بھی ہے جیسے جبرائیل میکائیل اسرافیل عزرائیل وغیرہ۔ اب مفسرین کی دوسری جماعت کی دلیل سنئے جو لکھتے ہیں کہ یہ گفتگو جناب عمر سے ہوئی تھی شعبہ کہتے ہیں حضرت عمر روحاء میں آئے۔ دیکھا کہ لوگ دوڑ بھاگ کر ایک پتھروں کے تودے کے پاس جا کر نماز ادا کر رہے ہیں پوچھا کہ یہ کیا بات ہے جواب ملا کہ اس جگہ رسول اللہ ﷺ نے نماز ادا کی ہے، آپ بہت ناراض ہوئے کہ حضور ﷺ کو جہاں کہیں نماز کا وقت آتا تھا پڑھ لیا کرتے تھے پہلے چلے جایا کرتے تھے اب ان مقامات کو متبرک سمجھ کر خواہ مخواہ وہیں جا کر نماز ادا کرنا کس نے بتایا ؟ پھر آپ اور باتوں میں لگ گئے فرمانے لگے میں یہودیوں کے مجمع میں کبھی کبھی چلا جایا کرتا اور یہ دیکھتا رہتا تھا کہ کس طرح قرآن توراۃ کی اور توراۃ قرآن کو سچائی کی تصدیق کرتا ہے یہودی بھی مجھ سے محبت ظاہر کرنے لگے اور اکثر بات چیت ہوا کرتی تھی۔ ایک دن میں ان سے باتیں کر ہی رہا تھا تو راستے سے حضور ﷺ نکلے انہوں نے مجھ سے کہا تمہارے نبی ﷺ وہ جا رہے ہیں۔ میں نے کہا میں ان کے پاس جاتا ہوں لیکن تم یہ تو بتاؤ تمہیں اللہ وحدہ کی قسم اللہ جل شانہ برحق کو مدنظر رکھو اس کی نعمتوں کا خیال کرو۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب تم میں موجود ہے رب کی قسم کھا کر بتاؤ کیا تم حضور کو رسول نہیں مانتے ؟ اب سب خاموش ہوگئے ان کے بڑے عالم نے جو ان سب میں علم میں بھی کامل تھا اور سب کا سردار بھی تھا اس نے کہا اس شخص نے اتنی سخت قسم دی ہے تم صاف اور سچا جواب کیوں نہیں دیتے ؟ انہوں نے کہا حضرت آپ ہی ہمارے بڑے ہیں ذرا آپ ہی جواب دیجئے۔ اس بڑے پادری نے کہا سنئے جناب ! آپ نے زبردست قسم دی ہے لہذا سچ تو یہی ہے کہ ہم دل سے جانتے ہیں کہ حضور اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں میں نے کہا افسوس جب یہ جانتے ہو تو پھر مانتے کیوں نہیں کہا صرف اس وجہ سے کہ ان کے پاس آسمانی وحی لے کر آنے والے جبرائیل ہیں جو نہایت سختی، تنگی، شدت، عذاب اور تکلیف کے فرشتے ہیں ہم ان کے اور وہ ہمارے دشمن ہیں اگر وحی لے کر حضرت میکائیل آتے جو رحمت ورافت تخفیف و راحت والے فرشتے ہیں تو ہمیں ماننے میں تامل نہ ہوتا۔ میں نے کہا اچھا بتاؤ تو ان دونوں کی اللہ کے نزدیک کیا قدر و منزل ہے ؟ انہوں نے کہا ایک تو جناب باری کے داہنے بازو ہے اور دوسرا دوسری طرف میں نے کہا اللہ کی قسم جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں جو ان میں سے کسی کا دشمن ہو۔ اس کا دشمن اللہ بھی ہے اور دوسرا فرشتہ بھی کیونکہ جبرائیل کے دشمن سے میکائیل دوستی نہیں رکھ سکتے اور میکائیل کا دشمن جبرائیل کا دوست نہیں ہوسکتا۔ نہ ان میں سے کسی ایک کا دشمن اللہ تبارک و تعالیٰ کا دوست ہوسکتا ہے نہ ان دونوں میں سے کوئی ایک باری تعالیٰ کی اجازت کے بغیر زمین پر آسکتا ہے نہ کوئی کام کرسکتا ہے۔ واللہ مجھے نہ تم سے لالچ ہے نہ خوف۔ سنو جو شخص اللہ تعالیٰ کا دشمن ہو اس کے فرشتوں اس کے رسولوں اور جبرائیل و میکائیل کا دشمن ہو تو اس کافر کا اللہ وحدہ لاشریک بھی دشمن ہے اتنا کہہ کر میں چلا آیا۔ حضور ﷺ کے پاس پہنچا تو آپ نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا اے ابن خطاب مجھ پر تازہ وحی نازل ہوئی ہے میں نے کہا حضور سنائیے، آپ نے یہی آیت پڑھ کر سنائی۔ میں نے کہا حضور آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں یہی باتیں ابھی ابھی یہودیوں سے میری ہو رہی تھیں۔ میں تو چاہتا ہی تھا بلکہ اسی لئے حاضر خدمت ہوا تھا کہا آپ کو اطلاع کروں مگر میری آنے سے پہلے لطیف وخبیر سننے دیکھنے والے اللہ نے آپ کو خبر پہنچا دی ملاحظہ ہو ابن ابی حاتم وغیرہ مگر یہ روایت منقطع ہے سند متصل نہیں شعبی نے حضرت عمر کا زمانہ نہیں پایا۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جبرائیل ؑ اللہ کے امین فرشتے ہیں اللہ کے حکم سے آپ کے دل میں اللہ کی وحی پہنچانے پر مقرر ہیں۔ وہ فرشتوں میں سے اللہ کے رسول ہیں کسی ایک رسول سے عداوت رکھنے والا سب رسولوں سے عداوت رکھنے والا ہوتا ہے جیسے ایک رسول پر ایمان سب رسولوں پر ایمان لانے کا نام ہے اور ایک رسول کے ساتھ کفر تمام نبیوں کے ساتھ کفر کرنے کے برابر ہے خود اللہ تعالیٰ نے بعض رسولوں کے نہ ماننے والوں کو کافر فرمایا ہے۔ فرماتا ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَكْفُرُ بِبَعْضٍ ۙ وَّيُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا) 4۔ النسآء :150) یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے دوسری آیت کے آخر تک پس ان آیتوں میں صراحتاً لوگوں کو کافر کہا جو کسی ایک رسول کو بھی نہ مانیں۔ اسی طرح جبرائیل کا دشمن اللہ کا دشمن ہے کیونکہ وہ اپنی مرضی سے نہیں آتے قرآن فرماتا ہے (وما نتنزل الا بامر ربک) فرماتا ہے آیت (وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ) 26۔ الشعرآء :192) یعنی ہم اللہ کے حکم کے سوا نہیں اترتے ہیں نازل کیا ہوا رب العالمین کا ہے جسے لے کر روح الامین آتے ہیں اور تیرے دل میں ڈالتے ہیں تاکہ تو لوگوں کو ہوشیار کر دے صحیح بخاری کی حدیث قدسی میں ہے میرے دوستوں سے دشمنی کرنے والا مجھ سے لڑائی کا اعلان کرنے والا ہے۔ قرآن کریم کی یہ بھی ایک صفت ہے کہ وہ اپنے سے پہلے کے تمام ربانی کلام کی تصدیق کرتا ہے اور ایمانداروں کے دلوں کی ہدایت اور ان کے لئے جنت کی خوش خبری دیتا ہے جیسے فرمایا آیت (قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ) 41۔ فصلت :44) فرمایا آیت (وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا) 17۔ الاسرآء :82) یعنی یہ قرآن ایمان والوں کے لئے ہدیات و شفا ہے رسولوں میں انسانی رسول اور ملکی رسول سب شامل ہیں جیسے فرمایا آیت (اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ) 22۔ الحج :75) اللہ تعالیٰ فرشتوں میں سے اور انسانوں میں سے اپنے رسول چھانٹ لیتا ہے جبرائیل اور میکائیل بھی فرشتوں میں ہیں لیکن ان کا خصوصاً نام لیا تاکہ مسئلہ بالکل صاف ہوجائے اور یہ بھی جان لیں کہ ان میں سے ایک کا دشمن دوسرے کا دشمن ہے بلکہ اللہ بھی اس کا دشمن ہے حضرت میکائیل بھی کبھی کبھی انبیاء کے پاس آتے رہے ہیں جیسے کہ نبی ﷺ کے ساتھ شروع شروع میں تھے لیکن اس کام پر مقرر حضرت جبرائیل ہیں جیسے حضرت میکائیل روئیدگی اور بارش وغیرہ پر اور جیسے حضرت اسرافیل صور پھونکنے پر۔ ایک صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ رات کو جب تہجد کی نماز کے لئے کھڑے ہوتے تب یہ دعا پڑھتے۔ دعا (اللھم رب جبرائیل و بیکائیل و اسرافیل فاطر السموت والارض علم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون اھدنی لما اختلف فیہ من الحق باذنک انک تھدی من تشاء الی صراط مستقیم) اے اللہ اے جبرأایل میکائیل اسرافیل کے رب اے زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے اے ظاہر باطن کو جاننے والے اپنے بندوں کے اختلاف کا فیصلہ تو ہی کرتا ہے، اے اللہ اختلافی امور میں اپنے حکم سے حق کی طرف میری رہبری کر تو جسے چاہے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔ لفظ جبرائیل وغیرہ کی تحقیق اور اس کے معانی پہلے بیان ہوچکے ہیں۔ حضرت عبدالعزیز بن عمر فرماتے ہیں فرشتوں میں حضرت جبرائیل کا نام خادم اللہ ہے۔ ابو سلیمان دارانی یہ سن کر بہت ہی خوش ہوئے اور فرمانے لگے یہ ایک روایت میری روایتوں کے ایک دفتر سے مجھے زیادہ محبوب ہے۔ جبرائیل اور میکائیل کے لفظ میں بہت سارے لغت ہیں اور مختلف قرأت ہیں جن کے بیان کی مناسب جگہ کتب لغت ہیں ہم کتاب کے حجم کو بڑھانا نہیں چاہتے کیونکہ کسی معنی کی سمجھ یا کسی حکم کا مفاد ان پر موقف نہیں۔ اللہ ہماری مدد کرے۔ ہمارا بھروسہ اور توکل اسی کی پاک ذات پر ہے۔ آیت کے خاتمہ میں یہ نہیں فرمایا کہ اللہ بھی ان لوگوں کا دشمن ہے بلکہ فرمایا اللہ کافروں کا دشمن ہے۔ اس میں ایسے لوگوں کا حکم بھی معلوم ہوگیا اسے عربی میں مضمر کی جگہ مظہر کہتے ہیں اور کلام عرب میں اکثر اس کی مثالیں شعروں میں بھی پائی جاتی ہیں گویا یوں کہا جاتا ہے کہ جس نے اللہ کے دوست سے دشمنی کی اس نے اللہ سے دشمنی کی اور جو اللہ کا دشمن اللہ بھی اس کا دشمن اور جس کا دشمن خود اللہ قادر مطلق ہوجائے اس کے کفر و بربادی میں کیا شبہ رہ گیا ؟ صحیح بخاری کی حدیث پہلے گزر چکی کہ اللہ فرماتا ہے میرے دوستوں سے دشمنی رکھنے والے کو میں اعلان جنگ دیتا ہوں میں اپنے دوستوں کا بدلہ لے لیا کرتا ہوں اور حدیث میں ہی ہے جس کا دشمن میں ہوجاؤں وہ برباد ہو کر ہی رہتا ہے۔

خصومت جبرائیل ؑ موجب کفر و عصیان امام جعفر طبری ؒ فرماتے ہیں اس پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ جب یہودیوں نے حضرت جبرائیل کو اپنا دشمن اور حضرت میکائیل کو اپنا دوست بتایا تھا اس وقت ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی لیکن بعض کہتے ہیں کہ امر نبوت کے بارے میں جو گفتگو ان کی حضور ﷺ سے ہوئی تھی اس میں انہوں نے یہ کہا تھا۔ بعض کہتے ہیں عمر بن خطاب ؓ سے ان کا جو مناظرہ حضور ﷺ کی نبوت کے بارے میں ہوا تھا اس میں انہوں نے یہ کہا تھا۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہودیوں کی ایک جماعت رسول مقبول ﷺ کے پاس آئی اور کہا کہ ہم آپ سے چند سوال کرتے ہیں جن کے صحیح جواب نبی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا اگر آپ سچے نبی ہیں تو ان کے جوابات دیجئے آپ نے فرمایا بہتر ہے جو چاہو پوچھو مگر عہد کرو کہ اگر میں ٹھیک ٹھیک جواب دوں گا تو تم میری نبوت کا اقرار کرلو گے اور میری فرمانبرداری کے پابند ہوجاؤ گے انہوں نے آپ سے وعدہ کیا اور عہد دیا۔ اس کے بعد آپ نے حضرت یعقوب کی طرح اللہ جل شانہ کی شہادت کے ساتھ ان سے پختہ وعدہ لے کر انہیں سوال کرنے کی اجازت دی، انہوں نے کہا پہلے تو یہ بتائے کہ توراۃ نازل ہونے سے پہلے حضرت اسرائیل ؑ نے اپنے نفس پر کس چیز کو حرام کیا تھا ؟ آپ نے فرمایا جب حضرت یعقوب ؑ عرق السناء کی بیماری میں سخت بیمار ہوئے تو نذر مانی کہ اگر اللہ مجھے اس مرض سے شفا دے تو میں اپنی کھانے کے سب سے زیادہ مرغوب چیز اور سب سے زیادہ محبوب چیز پینے کی چھوڑ دوں گا جب تندرست ہوگئے تو اونٹ کا گوشت کھانا اور اونٹنی کا دودھ پینا جو آپ کو پسند خاطر تھا چھوڑ دیا، تمہیں اللہ کی قسم جس نے حضرت موسیٰ پر تورات اتاری بتاؤ یہ سچ ہے ؟ ان سب نے قسم کھا کر کہا کہ ہاں حضور سچ ہے بجا ارشاد ہوا اچھا اب ہم پوچھتے ہیں کہ عورت مرد کے پانی کی کیا کیفیت ہے ؟ اور کیوں کبھی لڑکا پیدا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی ؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی گاڑھا اور سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زردی مائل ہوتا ہے جو بھی غالب آجائے اسی کے مطابق پیدائش ہوتی ہے اور شبیہ بھی۔ جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آجائے تو حکم الٰہی سے اولاد نرینہ ہوتی ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو حکم الٰہی سے اولاد لڑکی ہوتی ہے تمہیں اللہ تعالیٰ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں سچ بتاؤ میرا جواب صحیح ہے ؟ سب نے قسم کھا کر کہا بیشک آپ نے بجا ارشاد فرمایا آپ نے ان دو باتوں پر اللہ تعالیٰ کو گواہ بنایا۔ انہوں نے کہا اچھا یہ فرمائیے کہ تورات میں جس نبی امی کی خبر ہے اس کی خاص نشانی کیا ہے ؟ اور اس کے پاس کونسا فرشتہ وحی لے کر آتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کس خاص نشانی یہ ہے کہ اس کی آنکھیں جب سوئی ہوئی ہوں اس وقت میں اس کا دل جاگتا رہتا ہے تمہیں اس رب کی قسم جس نے حضرت موسیٰ کو توراۃ دی بتاؤ تو میں نے ٹھیک جواب دیا ؟ سب نے قسم کھا کر کہا آپ نے بالکل صحیح جواب دیا۔ اب ہمارے اس سوال کی دوسری شق کا جواب بھی عنایت فرما دیجئے اسی پر بحث کا خاتمہ ہے۔ آپ نے فرمایا میرا ولی جبرائیل ہے وہی میرے پاس وحی لاتا ہے اور وحی تمام انبیاء کرام کے پاس پیغام باری تعالیٰ لاتا رہا۔ سچ کہو اور قسم کھا کر کہو کہ میرا یہ جواب بھی درست ہے ؟ انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ جواب تو درست ہے لیکن چونکہ جبرائیل ہمارا دشمن ہے وہ سختی اور خون ریزی وغیرہ لے کر آتا رہتا ہے اس لئے ہم اس کی نہیں مانیں گے نہ آپ کی مانیں ہاں اگر آپ کے پاس حضرت میکائیل وحی لے کر آتے جو رحمت، بارش، پیداوار وغیرہ لے کر آتے ہیں اور ہمارے دوست ہیں تو ہم آپکی تابعداری اور تصدیق کرتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ بعض روایتوں میں ہے کہ انہوں نے یہ بھی سوال کیا تھا کہ رعد کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ ایک فرشتہ ہے جو بادلوں پر مقرر ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق انہیں ادھر ادھر لے جاتا ہے۔ انہوں نے کہا یہ گرج کی آواز کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ اسی فرشتے کی آواز ہے ملاحظہ ہو مسند احمد وغیرہ۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ جبحضور ﷺ مدینہ میں تشریف لائے اس وقت حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اپنے باغ میں تھے اور یہودیت پر قائم تھے۔ انہوں نے جب آپ کی آمد کی خبر سنی تو حضور ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور کہا حضور ﷺ یہ فرمائے کہ قیامت کی پہلی شرط کیا ہے ؟ اور جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہے ؟ اور کونسی چیز بچہ کو کبھی ماں کی طرف کھینچتی ہے اور کبھی باپ کی طرف، آپ نے فرمایا ان تینوں سوالوں کے جواب ابھی ابھی جبرائیل نے مجھے بتلائے ہیں سنو، حضرت عبداللہ بن سلام نے کہا وہ تو ہمارا دشمن ہے۔ آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی پھر فرمایا پہلی نشانی قیامت کی ایک آگ ہے جو لوگوں کے پیچھے لگے گی اور انہیں مشرق سے مغرب کی طرف اکٹھا کر دے گی۔ جنتیوں کی پہلی خوراک مچھلی کی کلیجی بطور ضیافت ہوگی۔ جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر سبقت کرجاتا ہے تو لڑکا پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی سے سبق لے جاتا ہے تو لڑکی ہوتی ہے یہ جواب سنتے ہی حضرت عبداللہ مسلمان ہوگئے اور پکار اٹھے حدیث (اشھدان لا الہ الا اللہ وانک رسولہ اللہ) پھر کہنے لگے حضور یہودی بڑے بیوقوف لوگ ہیں۔ اگر انہیں میرا اسلام لانا پہلے معلوم ہوجائے گا تو وہ مجھے کہیں گے آپ پہلے انہیں ذرا قائل کرلیجئے۔ اس کے بعد آپ کے پاس جب یہودی آئے تو آپ نے ان سے پوچھا کہ عبداللہ بن سلام تم میں کیسے شخص ہیں ؟ انہوں نے کہا بڑے بزرگ اور دانشور آدمی ہیں بزرگوں کی اولاد میں سے ہیں وہ تو ہمارے سردار ہیں اور سرداروں کی اولاد میں سے ہیں آپ نے فرمایا اچھا اگر وہ مسلمان ہوجائیں پھر تو تمہیں اسلام قبول کرنے میں کوئی تامل تو نہیں ہوگا ؟ کہنے لگے اعوذ باللہ اعوذ باللہ وہ مسلمان ہی کیوں ہونے لگے ؟ حضرت عبداللہ جو اب تک چھپے ہوئے تھے باہر آگئے اور زور سے کلمہ پڑھا۔ تو تمام کے تمام شور مچانے لگے کہ یہ خود بھی برا ہے اس کے باپ دادا بھی برے تھے یہ بڑا نیچے درجہ کا آدمی ہے خاندانی کمینہ ہے۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا حضور ﷺ اسی چیز کا مجھے ڈر تھا۔ صحیح بخاری میں ہے حضرت عکرمہ فرماتے ہیں جبر، میک، اسراف، کے معنی عبد یعنی بندے کے ہیں اور ایل کے معنی اللہ کے ہیں تو جبرائیل وغیرہ کے معنی عبداللہ ہوئے بعض لوگوں نے اس کے معنی الٹ بھی کئے ہیں وہ کہتے ہیں ایل کے معنی عبد کے ہیں اور اس سے پہلے کے الفاظ اللہ کے نام ہیں، جیسے عربی میں عبداللہ عبدالرحمٰن عبدالملک عبدالقدوس عبدالسلام عبدالکافی عبدالجلیل وغیرہ لفظ عبد ہر جگہ باقی رہا اور اللہ کے نام بدلتے رہے اس طرح ایل ہر جگہ باقی ہے اور اللہ کے اسماء حسنہ بدلتے رہتے ہیں۔ غیر عربی زبان میں مضاف الیہ پہلے آتا ہے اور مضاف بعد میں۔ اسی قاعدے کے مطابق ان ناموں میں بھی ہے جیسے جبرائیل میکائیل اسرافیل عزرائیل وغیرہ۔ اب مفسرین کی دوسری جماعت کی دلیل سنئے جو لکھتے ہیں کہ یہ گفتگو جناب عمر سے ہوئی تھی شعبہ کہتے ہیں حضرت عمر روحاء میں آئے۔ دیکھا کہ لوگ دوڑ بھاگ کر ایک پتھروں کے تودے کے پاس جا کر نماز ادا کر رہے ہیں پوچھا کہ یہ کیا بات ہے جواب ملا کہ اس جگہ رسول اللہ ﷺ نے نماز ادا کی ہے، آپ بہت ناراض ہوئے کہ حضور ﷺ کو جہاں کہیں نماز کا وقت آتا تھا پڑھ لیا کرتے تھے پہلے چلے جایا کرتے تھے اب ان مقامات کو متبرک سمجھ کر خواہ مخواہ وہیں جا کر نماز ادا کرنا کس نے بتایا ؟ پھر آپ اور باتوں میں لگ گئے فرمانے لگے میں یہودیوں کے مجمع میں کبھی کبھی چلا جایا کرتا اور یہ دیکھتا رہتا تھا کہ کس طرح قرآن توراۃ کی اور توراۃ قرآن کو سچائی کی تصدیق کرتا ہے یہودی بھی مجھ سے محبت ظاہر کرنے لگے اور اکثر بات چیت ہوا کرتی تھی۔ ایک دن میں ان سے باتیں کر ہی رہا تھا تو راستے سے حضور ﷺ نکلے انہوں نے مجھ سے کہا تمہارے نبی ﷺ وہ جا رہے ہیں۔ میں نے کہا میں ان کے پاس جاتا ہوں لیکن تم یہ تو بتاؤ تمہیں اللہ وحدہ کی قسم اللہ جل شانہ برحق کو مدنظر رکھو اس کی نعمتوں کا خیال کرو۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب تم میں موجود ہے رب کی قسم کھا کر بتاؤ کیا تم حضور کو رسول نہیں مانتے ؟ اب سب خاموش ہوگئے ان کے بڑے عالم نے جو ان سب میں علم میں بھی کامل تھا اور سب کا سردار بھی تھا اس نے کہا اس شخص نے اتنی سخت قسم دی ہے تم صاف اور سچا جواب کیوں نہیں دیتے ؟ انہوں نے کہا حضرت آپ ہی ہمارے بڑے ہیں ذرا آپ ہی جواب دیجئے۔ اس بڑے پادری نے کہا سنئے جناب ! آپ نے زبردست قسم دی ہے لہذا سچ تو یہی ہے کہ ہم دل سے جانتے ہیں کہ حضور اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں میں نے کہا افسوس جب یہ جانتے ہو تو پھر مانتے کیوں نہیں کہا صرف اس وجہ سے کہ ان کے پاس آسمانی وحی لے کر آنے والے جبرائیل ہیں جو نہایت سختی، تنگی، شدت، عذاب اور تکلیف کے فرشتے ہیں ہم ان کے اور وہ ہمارے دشمن ہیں اگر وحی لے کر حضرت میکائیل آتے جو رحمت ورافت تخفیف و راحت والے فرشتے ہیں تو ہمیں ماننے میں تامل نہ ہوتا۔ میں نے کہا اچھا بتاؤ تو ان دونوں کی اللہ کے نزدیک کیا قدر و منزل ہے ؟ انہوں نے کہا ایک تو جناب باری کے داہنے بازو ہے اور دوسرا دوسری طرف میں نے کہا اللہ کی قسم جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں جو ان میں سے کسی کا دشمن ہو۔ اس کا دشمن اللہ بھی ہے اور دوسرا فرشتہ بھی کیونکہ جبرائیل کے دشمن سے میکائیل دوستی نہیں رکھ سکتے اور میکائیل کا دشمن جبرائیل کا دوست نہیں ہوسکتا۔ نہ ان میں سے کسی ایک کا دشمن اللہ تبارک و تعالیٰ کا دوست ہوسکتا ہے نہ ان دونوں میں سے کوئی ایک باری تعالیٰ کی اجازت کے بغیر زمین پر آسکتا ہے نہ کوئی کام کرسکتا ہے۔ واللہ مجھے نہ تم سے لالچ ہے نہ خوف۔ سنو جو شخص اللہ تعالیٰ کا دشمن ہو اس کے فرشتوں اس کے رسولوں اور جبرائیل و میکائیل کا دشمن ہو تو اس کافر کا اللہ وحدہ لاشریک بھی دشمن ہے اتنا کہہ کر میں چلا آیا۔ حضور ﷺ کے پاس پہنچا تو آپ نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا اے ابن خطاب مجھ پر تازہ وحی نازل ہوئی ہے میں نے کہا حضور سنائیے، آپ نے یہی آیت پڑھ کر سنائی۔ میں نے کہا حضور آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں یہی باتیں ابھی ابھی یہودیوں سے میری ہو رہی تھیں۔ میں تو چاہتا ہی تھا بلکہ اسی لئے حاضر خدمت ہوا تھا کہا آپ کو اطلاع کروں مگر میری آنے سے پہلے لطیف وخبیر سننے دیکھنے والے اللہ نے آپ کو خبر پہنچا دی ملاحظہ ہو ابن ابی حاتم وغیرہ مگر یہ روایت منقطع ہے سند متصل نہیں شعبی نے حضرت عمر کا زمانہ نہیں پایا۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جبرائیل ؑ اللہ کے امین فرشتے ہیں اللہ کے حکم سے آپ کے دل میں اللہ کی وحی پہنچانے پر مقرر ہیں۔ وہ فرشتوں میں سے اللہ کے رسول ہیں کسی ایک رسول سے عداوت رکھنے والا سب رسولوں سے عداوت رکھنے والا ہوتا ہے جیسے ایک رسول پر ایمان سب رسولوں پر ایمان لانے کا نام ہے اور ایک رسول کے ساتھ کفر تمام نبیوں کے ساتھ کفر کرنے کے برابر ہے خود اللہ تعالیٰ نے بعض رسولوں کے نہ ماننے والوں کو کافر فرمایا ہے۔ فرماتا ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَكْفُرُ بِبَعْضٍ ۙ وَّيُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا) 4۔ النسآء :150) یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے دوسری آیت کے آخر تک پس ان آیتوں میں صراحتاً لوگوں کو کافر کہا جو کسی ایک رسول کو بھی نہ مانیں۔ اسی طرح جبرائیل کا دشمن اللہ کا دشمن ہے کیونکہ وہ اپنی مرضی سے نہیں آتے قرآن فرماتا ہے (وما نتنزل الا بامر ربک) فرماتا ہے آیت (وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ) 26۔ الشعرآء :192) یعنی ہم اللہ کے حکم کے سوا نہیں اترتے ہیں نازل کیا ہوا رب العالمین کا ہے جسے لے کر روح الامین آتے ہیں اور تیرے دل میں ڈالتے ہیں تاکہ تو لوگوں کو ہوشیار کر دے صحیح بخاری کی حدیث قدسی میں ہے میرے دوستوں سے دشمنی کرنے والا مجھ سے لڑائی کا اعلان کرنے والا ہے۔ قرآن کریم کی یہ بھی ایک صفت ہے کہ وہ اپنے سے پہلے کے تمام ربانی کلام کی تصدیق کرتا ہے اور ایمانداروں کے دلوں کی ہدایت اور ان کے لئے جنت کی خوش خبری دیتا ہے جیسے فرمایا آیت (قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ) 41۔ فصلت :44) فرمایا آیت (وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا) 17۔ الاسرآء :82) یعنی یہ قرآن ایمان والوں کے لئے ہدیات و شفا ہے رسولوں میں انسانی رسول اور ملکی رسول سب شامل ہیں جیسے فرمایا آیت (اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ) 22۔ الحج :75) اللہ تعالیٰ فرشتوں میں سے اور انسانوں میں سے اپنے رسول چھانٹ لیتا ہے جبرائیل اور میکائیل بھی فرشتوں میں ہیں لیکن ان کا خصوصاً نام لیا تاکہ مسئلہ بالکل صاف ہوجائے اور یہ بھی جان لیں کہ ان میں سے ایک کا دشمن دوسرے کا دشمن ہے بلکہ اللہ بھی اس کا دشمن ہے حضرت میکائیل بھی کبھی کبھی انبیاء کے پاس آتے رہے ہیں جیسے کہ نبی ﷺ کے ساتھ شروع شروع میں تھے لیکن اس کام پر مقرر حضرت جبرائیل ہیں جیسے حضرت میکائیل روئیدگی اور بارش وغیرہ پر اور جیسے حضرت اسرافیل صور پھونکنے پر۔ ایک صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ رات کو جب تہجد کی نماز کے لئے کھڑے ہوتے تب یہ دعا پڑھتے۔ دعا (اللھم رب جبرائیل و بیکائیل و اسرافیل فاطر السموت والارض علم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون اھدنی لما اختلف فیہ من الحق باذنک انک تھدی من تشاء الی صراط مستقیم) اے اللہ اے جبرأایل میکائیل اسرافیل کے رب اے زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے اے ظاہر باطن کو جاننے والے اپنے بندوں کے اختلاف کا فیصلہ تو ہی کرتا ہے، اے اللہ اختلافی امور میں اپنے حکم سے حق کی طرف میری رہبری کر تو جسے چاہے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔ لفظ جبرائیل وغیرہ کی تحقیق اور اس کے معانی پہلے بیان ہوچکے ہیں۔ حضرت عبدالعزیز بن عمر فرماتے ہیں فرشتوں میں حضرت جبرائیل کا نام خادم اللہ ہے۔ ابو سلیمان دارانی یہ سن کر بہت ہی خوش ہوئے اور فرمانے لگے یہ ایک روایت میری روایتوں کے ایک دفتر سے مجھے زیادہ محبوب ہے۔ جبرائیل اور میکائیل کے لفظ میں بہت سارے لغت ہیں اور مختلف قرأت ہیں جن کے بیان کی مناسب جگہ کتب لغت ہیں ہم کتاب کے حجم کو بڑھانا نہیں چاہتے کیونکہ کسی معنی کی سمجھ یا کسی حکم کا مفاد ان پر موقف نہیں۔ اللہ ہماری مدد کرے۔ ہمارا بھروسہ اور توکل اسی کی پاک ذات پر ہے۔ آیت کے خاتمہ میں یہ نہیں فرمایا کہ اللہ بھی ان لوگوں کا دشمن ہے بلکہ فرمایا اللہ کافروں کا دشمن ہے۔ اس میں ایسے لوگوں کا حکم بھی معلوم ہوگیا اسے عربی میں مضمر کی جگہ مظہر کہتے ہیں اور کلام عرب میں اکثر اس کی مثالیں شعروں میں بھی پائی جاتی ہیں گویا یوں کہا جاتا ہے کہ جس نے اللہ کے دوست سے دشمنی کی اس نے اللہ سے دشمنی کی اور جو اللہ کا دشمن اللہ بھی اس کا دشمن اور جس کا دشمن خود اللہ قادر مطلق ہوجائے اس کے کفر و بربادی میں کیا شبہ رہ گیا ؟ صحیح بخاری کی حدیث پہلے گزر چکی کہ اللہ فرماتا ہے میرے دوستوں سے دشمنی رکھنے والے کو میں اعلان جنگ دیتا ہوں میں اپنے دوستوں کا بدلہ لے لیا کرتا ہوں اور حدیث میں ہی ہے جس کا دشمن میں ہوجاؤں وہ برباد ہو کر ہی رہتا ہے۔

سلیمان ؑ جادوگر نہیں تھے یعنی اے محمد ﷺ ہم نے ایسی نشانیاں جو آپ کی نبوت کی صریح دلیل بن سکیں نازل فرما دی ہیں یہودیوں کی مخصوص معلومات کا ذخیرہ ان کی کتاب کی پوشیدہ باتیں ان کی تحریف و تبدیل احکام وغیرہ سب ہم نے اپنی معجزہ نما کتاب قرآن کریم میں بیان فرما دیئے ہیں جنہیں سن کر ہر زندہ ضمیر آپ کی نبوت کی تصدیق کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ یہودیوں کو ان کا حسد و بغض روک دے ورنہ ہر شخص جان سکتا ہے کہ ایک امی شخص سے ایسا پاکیزہ خوبیوں والا حکمتوں والا کلام کہا نہیں جاسکتا۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ابن صوریا قطوبنی نے حضور ﷺ سے کہا تھا کہ آپ بطور نبوت کوئی ایسی چیز نہیں لائے جس سے ہم پہچان لیں نہ آپ کے پاس کوئی ایسی خاص روشن دلیلیں ہیں اس پر یہ آیت پاک نازل ہوئی چونکہ یہودیوں نے اس بات سے انکار کردیا تھا کہ ہم سے پیغمبر آخر الزمان کی بابت کوئی عہد لیا گیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تو ان کی عادت ہی ہے کہ عہد کیا اور توڑا بلکہ ان کے اکثریت تو ایمان سے بالکل خالی ہے نبذ کا معنی پھینک دینا ہے چونکہ ان لوگوں نے کتاب اللہ کو اور عہد باری کو اس طرح چھوڑ رکھا تھا گویا پھینک دیا تھا اس لئے ان کی مذمت میں یہی لفظ لایا گیا دوسری جگہ صاف بیان ہے کہ ان کی کتابوں میں حضور ﷺ کا ذکر موجود تھا فرمایا آیت (يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ) 7۔ الاعراف :157) یعنی یہ لوگ توراۃ و انجیل میں حضور کا ذکر موجود پاتے ہیں یہاں بھی فرمایا ہے کہ جب ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والا ہمارے پیغمبر ان کے پاس آیا تو ان کے ایک فریق نے اللہ رب العزت کی کتاب سے بےپرواہی برت کر اس طرح اسے چھوڑ دیا جیسے کوئی علم ہی نہیں۔ بلکہ جادو کے پیچھے پڑگئے اور خود حضور پر جادو کیا جس کی اطلاع آپ کو جناب باری تعالیٰ نے دی اور اس کا اثر زائل ہوا اور آپ کو شفا ملی۔ توراۃ سے تو حضور کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے اس لئے کہ وہ تو اس کی تصدیق والی تھی تو اسے چھوڑ کر دوسری کتابوں کی پیروی کرنے لگے اور اللہ کی کتاب کو اس طرح چھوڑ دیا کہ گویا کبھی جانتے ہی نہ تھے نفسانی خواہشیں سامنے رکھ لیں اور کتاب اللہ کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا یہ بھی کہا گیا ہے کہ راگ باجے کھیل تماشے اور اللہ کے ذکر سے روکنے والی ہر چیز آیت (ماتتلوا الشیاطین) میں داخل ہے حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ کے پاس ایک انگوٹھی تھی جب آپ بیت الخلاء جاتے تو اپنی بیوی حضرت جرادہ کو دے جاتے جب حضرت سلیمان کی آزمائش کا وقت آیا اس وقت ایک شیطان جن آپ کی صورت میں آپ کی بیوی صاحبہ کے پاس آیا اور انگوٹھی طلب کی جو دے دی گئی اس نے پہن لی اور تخت سلیمانی پر بیٹھ گیا تمام جنات وغیرہ حاضر خدمت ہوگئے حکومت کرنے لگا ادھر جب حضرت سلیمان واپس آئے اور انگوٹھی طلب کی تو جواب ملا تو جھوٹا ہے انگوٹھی تو حضرت سلیمان لے گئے آپ نے سجھ لیا کہ یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہے ان دنوں میں شیاطین نے جادو، نجوم، کہانت، شعر و اشعار اور غیب کی جھوٹی سچی خبروں کی کتابیں لکھ لکھ کر حضرت سلیمان کی کرسی تلے دفن کرنی شروع کردیں آپ کی آزمائش کا یہ زمانہ ختم ہوگیا آپ پھر تخت و تاج کے مالک ہوئے عمر طبعی کو پہنچ کر جب رحلت فرمائی تو شیاطین نے انسانوں سے کہنا شروع کیا کہ حضرت سلیمان کا خزانہ اور وہ کتابیں جن کے ذریعہ سے وہ ہواؤں اور جنات پر حکمرانی کرتے تھے ان کی کرسی تلے دفن ہیں چونکہ جنات اس کرسی کے پاس نہیں جاسکتے تھے اس لئے انسانوں نے اسے کھودا تو وہ کتابیں برآمد ہوئیں بس ان کا چرچا ہوگیا اور ہر شخص کی زبان پر چڑھ گیا کہ حضرت سلیمان کی حکومت کا راز یہی تھا بلکہ لوگ حضرت سلیمان کی نبوت سے منکر ہوگئے اور آپ کو جادوگر کہنے لگے۔ آنحضرت ﷺ نے اس بات کو عقدہ کشائی کی اور فرمان باری تعالیٰ نازل ہوا کہ جادوگری کا یہ کفر تو شیاطین کا پھیلایا ہوا ہے حضرت سلیمان اس سے بری الذمہ ہیں حضرت ابن عباس کے پاس ایک شخص آیا آپ نے پوچھا کہاں سے آئے ہو ؟ اس نے کہا عراق سے ! فرمایا عراق کے کس شہر سے ؟ اس نے کا کوفہ سے ! پوچھا وہاں کی کیا خبریں ہیں ؟ اس نے کہا وہاں باتیں ہو رہی ہیں کہ حضرت علی انتقال نہیں کر گئے بلکہ زندہ روپوش ہیں اور عنقرب آئیں گے آپ کانپ اٹھے اور فرمانے لگے اگر ایسا ہوتا تو ہم ان کی میراث تقسیم نہ کرتے اور ان کی عورتیں اپنا دوسرا نکاح نہ کرتیں سنو شیاطین آسمانی باتیں چرا لایا کرتے تھے اور ان میں اپنی باتیں ملا کر لوگوں میں پھیلایا کرتے تھے، حضرت سلیمان نے یہ تمام کتابیں جمع کر کے اپنی کرسی تلے دفن کردیں۔ آپ کے انتقال کے بعد جنات نے وہ پھر نکال لیں وہی کتابیں عراقیوں میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان ہی کتابوں کی باتیں وہ بیان کرتے اور پھیلاتے رہتے ہیں اسی کا ذکر اس آیت آیت (واتبعوا) الخ میں ہے اس زمانہ میں یہ بھی مشہور ہوگیا تھا کہ شیاطین علم غیب جانتے ہیں حضرت سلیمان نے ان کتابوں کو صندوق میں بھر کر دفن کردینے کے بعد یہ حکم جاری کردیا کہ جو یہ کہے گا اس کی گردن ماری جائے گی بعض روایتوں میں ہے کہ جنات نے ان کتابوں کو حضرت سلیمان کے انتقال کے بعد آپ کی کرسی تلے دفن کیا تھا اور ان کے شروع صفحہ پر لکھ دیا تھا کہ یہ علمی خزانہ آصف بن برخیا کا جمع کیا ہوا ہے جو حضرت سلیمان بن داؤد کے وزیر اعظم مشیر خاص اور دلی دوست تھے یہودیوں میں مشہور تھا کہ حضرت سلیمان نبی نہ تھے بلکہ جادوگر تھے اس بنا پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اور اللہ کے سچے نبی نے ایک سچے نبی کی برات کی اور یہودیوں کے اس عقیدے کا ابطال کیا وہ حضرت سلیمان کا نام نبیوں کے زمرے میں سن کر بہت بدکتے تھے اس لئے تفصیل کیساتھ اس واقعہ کو بیان کردیا۔ ایک وجہ یہ بھی ہوئی کہ حضرت سلیمان نے تمام موذی جانوروں سے عہد لیا تھا جب انہیں وہ عہد یاد کرایا جاتا تھا تو وہ ستاتے نہ تھے پھر لوگوں نے اپنی طرف سے عبارتیں بنا کر جادو کی قسم کے منتر تنتر بنا کر ان سب کو آپ کی طرف منسوب کردیا جس کا بطلان ان آیات کریمہ میں ہے یاد رہے کہ " علی " یہاں پر " فی " کے معنی میں ہے یا " تتلو " متضمن ہے تکذب کا، یہی اولی اور احسن ہے واللہ اعلم خواجہ حسن بصری کا قول ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے زمانہ میں جادوگروں کا ہونا قرآن سے ثابت ہے اور حضرت سلیمان کا حضرت موسیٰ کے بعد ہونا بھی قرآن سے ظاہر ہے۔ داؤد اور جالوت کے قصے میں ہے من بعد موسیٰ بلکہ حضرت ابراہیم ؑ سے بھی پہلے حضرت صالح ؑ کو ان کی قوم نے کہا تھا آیت (انما انت من المسحرین) یعنی تو جادو کئے گئے لوگوں میں سے ہے۔ پھر فرماتا ہے آیت (وما انزل) الخ بعض تو کہتے ہیں یہاں پر " ما نافیہ " ہے یعنی انکار کے معنی میں ہے اور اس کا عطف ماکفر سلیمان پر ہے یہودیوں کے اس دوسرے اعتقاد کی کہ جادو فرشتوں پر نازل ہوا ہے اس آیت میں تردید ہے، ہاروت، ماروت لفظ شیاطین کا بدل ہے تثنیہ پر بھی جمع کا اطلاق ہوتا ہے جیسے آیت (ان کانا لہ اخوۃ) میں یا اس لئے جمع کیا گیا کہ ان کے ماننے والوں کو بھی شامل کرلیا گیا ہے اور ان کا نام ان کی زیادہ سرکشی کی وجہ سے سرفہرست دیا گیا ہے قرطبی تو کہتے ہیں کہ اس آیت کا یہی ٹھیک مطلب ہے اس کے سوا کسی اور معنی کی طرف التفات بھی نہ کرنا چاہئے۔ ابن عباس فرماتے ہیں جادو اللہ عزوجل کا نازل کیا ہوا نہیں۔ ربیع بن انس فرماتے ہیں ان پر کوئی جادو نہیں اترا۔ اس بناء پر آیت کا ترجمہ اس طرح پر ہوگا کہ ان یہودیوں نے اس چیز کی تابعداری کی جو حضرت سلیمان کے زمانہ میں شیطان پڑھا کرتے تھے حضرت سلیمان نے کفر نہیں کیا نہ اللہ تعالیٰ نے جادو کو ان دو فرشتوں پر اتارا ہے (جیسے اے یہودیوں تمہارا خیال جبرائیل و میکائیل کی طرف ہے) بلکہ یہ کفر شیطانوں کا ہے جو بابل میں لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے اور ان کے سردار دو آدمی تھے جن کا نام ہاروت و ماروت تھا۔ حضرت عبدالرحمٰن بن ابزی اسے اس طرح پڑھتے تھے آیت (وما انزل علی الملکین داود و سلیمان) یعنی داؤد و سلیمان دونوں بادشاہوں پر بھی جادو نہیں اتارا گیا یا یہ کہ وہ اس سے روکتے تھے کیونکہ یہ کفر ہے۔ امام ابن جریر نے اس کا زبردست رد کیا ہے وہ فرماتے ہیں " ما " معنی میں الذی کے ہے اور ہاروت ماروت دو فرشتے ہیں جنہیں اللہ نے زمین کی طرف اتارا ہے اور اپنے بندوں کی آزمائش اور امتحان کے لئے انہیں جادو کی تعلیم دی ہے لہذا ہاروت ماروت اس فرمان باری تعالیٰ کو بجالا رہے ہیں۔ ایک غریب قول یہ بھی ہے کہ یہ جنوں کے دو قبیلے ہیں ملکینی یعنی دو بادشاہوں کی قرأت پر انزال خلق کے معنی میں ہوگا جیسے فرمایا آیت (وانزل لکم من الانعام ثمانیتہ ازواج) اور فرمایا آیت (وانزلنا الحدید) اور کہا آیت (وَيُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ رِزْقًا) 40۔ غافر :43) یعنی ہم نے تمہارے لئے آٹھ قسم کے چوپائے پیدا کئے، لوہا بنایا، آسمان سے روزیاں اتاریں۔ حدیث میں ہے دعا (ماانزل اللہ داء) یعنی اللہ تعالیٰ نے جتنی بیماریاں پیدا کی ہیں ان سب کے علاج بھی پیدا کئے ہیں مثل مشہور ہے کہ بھلای برائی کا نازل کرنے والا اللہ ہے یہاں سب جگہ انزال یعنی پیدائش کے معنی میں ہے ایجاد یعنی لانے اور اتار نے کے معنی میں نہیں اسی طرح اس آیت میں بھی اکثر سلف کا مذہب یہ ہے کہ یہ دونوں فرشتے تھے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ مضمون بسط و طول کے ساتھ ہے جو ابھی بیان ہوگی انشاء اللہ تعالیٰ کوئی یہ اعتراض نہ کرے کہ فرشتے تو معصوم ہیں وہ گناہ کرتے ہی نہیں چہ جائیکہ لوگوں کو جادو سکھائیں جو کفر ہے اس لئے کہ یہ دونوں بھی عام فرشتوں میں سے خاص ہوجائیں گے۔ جیسے کہ ابلیس کی بابت آپ آیت (وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ) 2۔ البقرۃ :34) کی تفسیر میں پڑھ چکے ہیں حضرت علی حضرت ابن مسعود حضرت ابن عباس حضرت ابن عمر کعب احبار، حضرت سدی، حضرت کلبی یہی فرماتے ہیں اب اس حدیث کو سنئے " رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جب آدم ؑ کو اللہ تعالیٰ نے زمین پر اتارا اور ان کی اولاد پھیلی اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہونے لگی تو فرشتوں نے کہا کہ دیکھو یہ کس قدر برے لوگ ہیں کیسے نافرمان اور سرکش ہیں ہم اگر ان کی جگہ ہوتے تو ہرگز ہرگز اللہ کی نافرمانی نہ کرتے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اچھا تم اپنے میں سے دو فرشتوں کو پسند کرلو میں ان میں انسانی خواہشات پیدا کرتا ہوں اور انہیں انسانوں میں بھیجتا ہوں پھر دیکھتا ہوں کہ وہ کیا کرتے ہیں چناچہ انہوں نے ہاروت و ماروت کو پیش کیا اللہ تعالیٰ نے ان میں انسانی طبیعت پیدا کی اور ان سے کہہ دیا کہ دیکھو بنی آدم کو تو میں نبیوں کے ذریعہ اپنے حکم احکام پہنچاتا ہوں لیکن تم سے بلاواسطہ خود کہہ رہا ہوں کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا زنا نہ کرنا، شراب نہ پینا، اب یہ دونوں زمین پر اترے اور زہرہ کو ان کی آزمائش کے لئے حسین و شکیل عورت کی صورت میں ان کے پاس بھیجا جسے دیکھ کر یہ مفتوں ہوگئے اور اس سے زنا کرنا چاہا اس نے کہا اگر تم شرک کرو تو میں منظور کرتی ہوں انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو ہم سے نہ ہو سکے گا وہ چلی گئی پھر آئی اور کہنے لگی اچھا اس بچے کو قتل کر ڈالو تو مجھے تمہاری خواہش پوری کرنی منظور ہے انہوں نے اسے بھی نہ مانا وہ پھر آئی اور کہا کہ اچھا یہ شراب پی لو انہوں نے اسے ہلکا گناہ سمجھ کر اسے منظور کرلیا۔ اب نشہ میں مست ہو کر زنا کاری بھی کی اور اس بچے کو بھی قتل کر ڈالا جب ہوش حواس درست ہوئے تو اس عورت نے کہا جن جن کاموں کا تم پہلے انکار کرتے تھے سب تم نے کر ڈالے۔ یہ نادم ہوئے انہیں اختیار دیا گیا کہ یا تو عذاب دنیا کو اختیار کرو یا عذاب اخروی کو۔ انہوں نے دنیاے عذاب پسند کئے صحیح ابن حبان مسند احمد ابن مردویہ ابن جریر عبدالرزاق میں یہ حدیث مختلف الفاظ سے مروی ہے۔ مسند احمد کی یہ روایت غریب ہے اس میں ایک راوی موسیٰ بن جبیر انصاری سلمی کو ابن ابی حاتم نے مستور الحال لکھا ہے ابن مردویہ کی روایت میں یہی ہے کہ ایک رات کو اثناء سفر میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے حضرت نافع سے پوچھا کہ کیا زہرہ تارا نکلا ؟ اس نے کہا نہیں دو تین مرتبہ سوال کے بعد کہا اب زہرہ طلوع ہوا تو فرمانے لگے اس سے نہ خوشی ہو نہ بھلائی ملے۔ حضرت نافع نے کہا حضرت ایک ستارہ جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے طلوع و غروب ہوتا ہے آپ اسے برا کہتے ہیں ؟ فرمایا میں وہی کہتا ہوں اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے پھر اس کے بعد مندرجہ بالا حدیث باختلاف الفاظ سنائی لیکن یہ بھی غریب ہے حضرت کعب والی روایت مرفوع سے زیادہ صحیح موقف ہے اور ممکن ہے کہ وہ نبی اسرائیل روایت ہو واللہ اعلم صحابہ اور تابعین سے بھی اس قسم کی روایتیں بہت کچھ منقول ہیں بعض میں ہے کہ زہرہ ایک عورت تھی اس نے ان فرشتوں سے یہ شرط کی تھی کہ تم مجھے وہ دعا سکھا دو جسے پڑھ کر تم آسمان پر چڑھ جاتے ہو انہوں نے سکھا دی یہ پڑھ کر چڑھ گئی اور وہاں تارے کی شکل میں بنادی گئی بعض مرفوع روایتوں میں بھی یہ ہے لیکن وہ منکر اور غیر صحیح ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اس واقعہ سے پہلے تو فرشتے صرف ایمان والوں کی بخشش کی دعا مانگتے تھے لیکن اس کے بعد تمام اہل زمین کے لئے دعا شروع کردی بعض روایتوں میں ہے کہ جب ان دونوں فرشتوں سے یہ نافرمانیاں سرزد ہوئیں تب اور فرشتوں نے اقرار کرلیا کہ بنی آدم جو اللہ تعالیٰ سے دور ہیں اور بن دیکھے ایمان لاتے ہیں جن سے خطاؤں کا سرزد ہوجانا کوئی ایسی انوکھی چیز نہیں ان دونوں فرشتوں سے کہا گیا کہ اب یا تو دنیا کا عذاب پسند کرلو یا آخرت کے عذابوں کو اختیار کرلو۔ انہوں نے دنیا کا عذاب چن لیا چناچہ انہیں بابل میں عذاب ہو رہا ہے ایک روایت میں ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے جو احکام دیئے تھے ان میں قتل سے اور مال حرام سے ممانعت بھی کی تھی اور یہ حکم بھی تھا کہ حکم عدل کے ساتھ کریں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ یہ تین فرشتے تھے لیکن ایک نے آزمائش سے انکار کردیا اور واپس چلا گیا پھر دو کی آزمائش ہوئی ابن عباس فرماتے ہیں یہ واقعہ حضرت سلیمان ؑ کا زمانہ کا ہے۔ یہاں بابل سے مراد بابل دنیاوند ہے اس عورت کا نام عربی میں زہرہ تھا اور لبطی زبان میں اس کا نام بیدخت تھا اور فارسی میں ناہید تھا۔ یہ عورت اپنے خاوند کے خلاف ایک مقدمہ لائی تھی جب انہوں نے اس سے برائی کا ارادہ کیا تو اس نے کہا پہلے مجھے میرے خاند کے خلاف حکم دو تو مجھے منظور ہے انہوں نے ایسا ہی کیا پھر اس نے کہا مجھے یہ بھی بتادو کہ تم کیا پڑھ کر آسمان پر چڑھ جاتے ہو اور کیا پڑھ کر اترتے ہو ؟ انہوں نے یہ بھی بتادیا چناچہ وہ اسے پڑھ کر آسمان پر چڑھ گئی اترنے کا وظیفہ بھول گئی اور وہیں ستارے کی صورت میں مسخ کردی گئی۔ حضرت عبداللہ بن عمر جب کبھی زہرہ ستارے کو دیکھتے تو لعنت بھیجا کرتے تھے اب ان فرشتوں نے جب چڑھنا چاہا تو نہ چڑھ سکے سمجھ گئے کہ اب ہم ہلاک ہوئے حضرت مجاہد فرماتے ہیں پہلے پہل چند دنوں تک تو فرشتے ثابت قدم رہے صبح سے شام تک فیصلہ عدل کے ساتھ کرتے رہتے شام کو آسمان پر چڑھ جاتے پھر زہرہ کو دیکھ کر اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکے زہرہ ستارے کو ایک خوبصورت عورت کی شکل میں بھیجا الغرض ہاروت ماروت کا یہ قصہ تابعین میں سے بھی اکثر لوگوں نے بیان کیا ہے جیسے مجاہد، سدی، حسن بصری، قتادہ، ابو العالیہ، زہری، ربیع بن انس، مقتل بن حیان وغیرہ وغیرہ رحم اللہ اجمعین اور متقدمین اور متاخیرن مفسرین نے بھی اپنی اپنی تفسیروں میں اسے نقل کیا ہے لیکن اس کا زیادہ تر دار و مدار بنی اسرائیل کی کتابوں پر ہے کوئی صحیح مرفوع متصل حدیث اس بات میں آنحضرت ﷺ سے ثابت نہیں اور نہ قرآن کریم میں اس قدر بسط و تفصیل ہے پس ہمارا ایمان ہے کہ جس قدر قرآن میں ہے صحیح اور درست ہے اور حقیقت حال کا علم اللہ تعالیٰ کو ہی ہے (قرآن کریم کے ظاہری الفاظ مسند احمد ابن حبان بیہقی وغیرہ کی مرفوع حدیث حضرت علی حضرت ابن عباس بن مسعود وغیرہ کی موقوف روایات تابعین وغیرہ کی تفاسیر وغیرہ ملا کر اس واقعہ کی بہت کچھ تقویت ہوجاتی ہے نہ اس میں کوئی محال عقلی ہے نہ اس میں کسی اصول اسلامی کا خلاف ہے پھر ظاہر سے بےجا ہٹ اور تکلفات اٹھانے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی واللہ اعلم) (فتح البیان) ابن جریر میں ایک غریب اثر اور ایک عجیب واقعہ ہے اسے بھی سنئے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ دومتہ الجندل کی ایک عورت حضور ﷺ کے انتقال کے تھوڑے ہی زمانہ کے بعد آپ کی تلاش میں آئی اور آپ کے انتقال کی خبر پا کر بےچین ہو کر رونے پیٹنے لگی میں نے اس سے پوچھا کہ آخر کیا بات ہے ؟ تو اس نے کہا کہ مجھ میں اور میرے شوہر میں ہمیشہ ناچاقی رہا کرتی تھی ایک مرتبہ وہ مجھے چھوڑ کر لاپتہ کہیں چلا گیا، ایک بڑھیا سے میں نے یہ سب ذکر کیا اس نے کہا جو میں کہوں وہ کر وہ خود بخود تیرے پاس آجائے گا میں تیار ہوگئی وہ رات کے وقت دو کتے لے کر میرے پاس آئی ایک پر وہ خود سوار ہوئی اور دوسرے پر میں بیٹھ گئی۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم دونوں بابل پہنچ گئیں میں نے دیکھا کہ دو شخص ادھر لٹکے ہوئے ہیں اور لوہے میں جکڑے ہوئے ہیں اس عورت نے مجھ سے کہا ان کے پاس جا اور ان سے کہہ کہ میں جادو سیکھنے آئی ہوں میں نے ان سے کہا انہوں نے کہا سن ہم تو آزمائش میں ہیں تو جادو نہ سیکھ اس کا سیکھنا کفر ہے میں نے کہا میں تو سیکھوں گی انہوں نے کہا اچھا پھر جا اور اس تنور میں پیشاب کر کے چلی آ میں گئی ارادہ کیا لیکن کچھ دہشت سی طاری ہوئی میں واپس آگئی اور کہا میں فارغ ہو آئی ہوں انہوں نے پوچھا کیا دیکھا ؟ میں نے کہا کچھ نہیں انہوں نے کہا تو غلط کہتی ہے ابھی تو کچھ نہیں بگڑا تیرا ایمان ثابت ہے اب بھی لوٹ جا اور کفر نہ کر میں نے کہا مجھے تو جادو سیکھنا ہے انہوں نے پھر کہا جا اور اس تنور میں پیشاب کر آ میں پھر گئی لیکن اب کی مرتبہ بھی دل نہ مانا واپس آئی پھر اسی طرح سوال جواب ہوئے میں تیسری مرتبہ پھر تنور کے پاس گئی اور دل کڑا کر کے پیشاب کرنے کو بیٹھ گئی میں نے دیکھا کہ ایک گھوڑے سوار منہ پر نقاب ڈالے نکلا اور آسمان پر چڑھ گیا ہے۔ واپس چلی آئی ان سے ذکر کیا انہوں نے کہا ہاں اب کی مرتبہ تو سچ کہتی ہے وہ تیرا ایمان تھا جو تجھ میں سے نکل گیا اب جا چلی جا میں آئی اور اس بڑھیا سے کہا انہوں نے مجھے کچھ بھی نہیں سکھایا اس نے کہا بس تجھے کچھ آگیا اب تو جو کہے گی ہوجائے گا میں نے آزمائش کے لئے ایک دانہ گیہوں کا لیا اسے زمین پر ڈال کر کہا اگ جا وہ فوراً اگ آیا میں نے کہا تجھ میں بال پیدا ہوجائے چناچہ ہوگئے میں نے کہا سوکھ جا وہ بال سوکھ گئے میں نے کہا الگ الگ دانہ ہوجا وہ بھی ہوگیا پھر میں نے کہا سوکھ جا تو سوکھ گیا پھر میں نے کہا آٹا بن جا تو آٹا بن گیا میں نے کہا روٹی پک جا تو روٹی پک گئی یہ دیکھتے ہی میرا دل نادم ہونے لگا اور مجھے اپنے بےایمان ہوجانے کا صدمہ ہونے لگا اے ام المومنین قسم اللہ کی نہ میں نے اس جادو سے کوئی کام لیا نہ کسی پر کیا میں یونہی روتی پیٹتی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئی کہ حضور ﷺ سے کہوں لیکن افسوس بدقستمی سے آپ کو بھی میں نے نہ پایا اب میں کیا کرو ؟ اتنا کہہ کر چپ ہوگئی سب کو اس پر ترس آنے لگا صحابہ کرام بھی متحیر تھے کہ اسے کیا فتویٰ دیں ؟ آخر بعض صحابہ نے کہا اب اس کے سوا کیا ہوسکتا ہے کہ تم اس فعل کو نہ کرو توبہ استغفار کرو اور اپنے ماں باپ کی خدمت گزاری کرتی رہو یہاں یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ صحابہ کرام فتویٰ دینے میں بہت احتیاط کرتے تھے کہ چھوٹی سی بات بتانے میں تامل ہوتا تھا آج ہم بڑی سے بڑی بات بھی اٹکل اور رائے قیاس سے گھڑ گھڑا کر بتانے میں بالکل نہیں رکتے اس کی اسناد بالکل صحیح ہیں بعض لوگ کہتے ہیں کہ " عین " چیز جادو کے زور سے پلٹ جاتی ہے اور بعض کہتے ہیں نہیں صرف دیکھنے والے کو ایسا خیال پڑتا ہے اصل چیز جیسی ہوتی ہے ویسی ہی رہتی ہے جیسے قرآن میں ہے آیت (سحروا اعین الناس) الخ یعنی انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور فرمایا آیت (یخیل الیہ من سحرھم انھا تسعی) حضرت موسیٰ کی طرف خیال ڈالا جاتا تھا کہ گویا وہ سانپ وغیرہ ان کے جادو کے زور سے چل پھر رہے ہیں اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آیت میں لفظ بابل سے مراد بابل عراق ہے بابل دنیاوند نہیں۔ ابن ابی حاتم کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ بابل کی زمین میں جا رہے تھے عصر کی نماز کا وقت آگیا لیکن آپ نے وہاں نماز ادا نہ کی بلکہ اس زمین کی سرحد سے نکل جانے کے بعد نماز پڑھی اور فرمایا میرے حبیب ﷺ نے مجھے قبرستان میں نماز پڑھنے سے روک دیا ہے اور بابل کی زمین میں نماز پڑھنے سے بھی ممانعت فرمائی ہے یہ زمین ملعون ہے۔ ابو داؤد میں بھی یہ حدیث مروی ہے۔ اور امام صاحب نے اس پر کوئی کلام نہیں کیا اور جس حدیث کو حضرت امام ابو داؤد اپنی کتاب میں لائیں اور اس کی سند پر خاموشی کریں تو وہ حدیث امام صاحب کے نزدیک حسن ہوتی ہے اس سے معلوم ہوا کہ بابل کی سر زمین میں نماز مکروہ ہے جیسے کہ ثمودیوں میں نہ جاؤ اگر اتفاقاً جانا پڑے تو خوف الہ سے روتے ہوئے جاؤ۔ ہئیت دانوں کا قول ہے کہ بابل کی دوری بحر غربی اوقیانوس سے ستر درجہ لمبی اور وسط زمین سے نوب کی جانب بخط استوا سے تئیس درجہ ہے واللہ اعلم۔ چونکہ ہاروت ماروت کو اللہ تعالیٰ نے خیر و شفر کفر و ایمان کا علم دے رکھا ہے اس لئے ہر ایک کفر کی طرف جھکنے والے کو نصیحت کرتے ہیں اور ہر طرح روکتے ہیں جب نہیں مانتا تو وہ اسے کہہ دیتے ہیں اس کا نور ایمان جاتا رہتا ہے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے شیطان اس کا رفیق کار بن جاتا ہے ایمان کے نکل جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کا غضب اس کے روم روم میں گھس جاتا ہے ابن جریج فرماتے ہیں سوائے کافر کے اور کوئی جادو سیکھنے کی جرات نہیں کرتا۔ فتنہ کے معنی یہاں پر بلا آزمائش اور امتحان کے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کا قول قرآن پاک میں مذکور ہے آیت (ان ھی الا فتنتک) اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جادو سیکھنا کفر ہے حدیث میں بھی ہے جو شخص کسی کاہن یا جادوگر کے پاس جائے اور اس کی بات کو سچ سمجھے اس نے حضرت محمد ﷺ پر اتری ہوئی وحی کے ساتھ کفر کیا (بزار) یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی تائید میں اور حدیثیں بھی آئی ہیں پھر فرمایا کہ لوگ ہاروت ماروت سے جادو سیکھتے ہیں جس کے ذریعہ برے کام کرتے ہیں عورت مرد کی محبت اور موافقت کو بغض اور مخالفت سے بدل دیتے ہیں صحیح مسلم میں حدیث ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں شیطان اپنا عرش پانی پر رکھتا ہے پھر اپنے لشکروں کو بہکانے کے واسطے بھیجتا ہے سب سے زیادہ مرتبہ والا اس کے نزدیک وہ ہے جو فتنے میں سب سے بڑھا ہوا ہو۔ یہ جب واپس آتے ہیں تو اپنے بدترین کاموں کا ذکر کرتے ہیں کوئی کہتا ہے میں نے فلاں کو اس طرح گمراہ کردیا۔ کوئی کہتا ہے میں نے فلاں شخص سے یہ گناہ کرایا۔ شیطان ان سے کہتا ہے۔ کچھ نہیں یہ تو معمولی کام ہے یہاں تک کہ ایک آ کر کہتا ہے کہ میں نے فلاں شخص کے اور اس کی بیوی کے درمیان جھگڑا ڈال دیا یہاں تک کہ جدائی ہوگئی شیطان اسے گلے لگا لیتا ہے اور کہتا ہے ہاں تو نے بڑا کام کیا اسے اپنے پاس بٹھا لیتا ہے اور اس کا مرتبہ بڑھا دیتا ہے پس جادوگر بھی اپنے جادو سے وہ کام کرتا ہے جس سے میاں بیوی میں جدائی ہوجائے مثلاً اس کی شکل صورت اسے بری معلوم ہونے لگے یا اس کے عادات واطوار سے جو غیر شرعی نہ ہوں یہ نفرت کرنے لگے یا دل میں عداوت آجائے وغیرہ وغیرہ رفتہ رفتہ یہ باتیں بڑھتی جائیں اور آپس میں چھوٹ چھٹاؤ ہوجائے " مرا " کہتے ہیں اس کا مذکر مونث اور تثنیہ تو ہے جمع نہیں بنتا پھر فرمایا یہ کسی کو بھی بغیر اللہ کی مرضی کے ایذاء نہیں پہنچا سکتے یعنی اس کے اپنے بس کی بات نہیں اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے ارادے کے ماتحت یہ نقصان بھی پہنچتا ہے اگر اللہ نہ چاہے تو اس کا جادو محض بےاثر اور بےفائدہ ہوجاتا ہے یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ جادو اسی شخص کو نقصان دیتا ہے جو اسے حاصل کرے اور اس میں داخل ہو پھر ارشاد ہوتا ہے وہ ایسا علم سیکھتے ہیں جو ان کے لئے سراسر نقصان دہ ہے جس میں کوئی نفع نہیں اور یہ یہودی جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی تابعداری چھوڑ جادو کے پیچھے لگنے والوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں نہ ان کی قدر و وقعت اللہ تعالیٰ کے پاس ہے نہ وہ دیندار سمجھے جاتے ہیں پھر فرمایا اگر یہ اس کام کی برائی کو محسوس کرتے اور ایمان وتقویٰ برتتے تو یقینا ان کے لئے بہت ہی بہتر تھا مگر یہ بےعلم لوگ ہیں اور فرمایا کہ اہل علم نے کہا تم پر افسوس ہے اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ثواب ایمانداروں اور نیک اعمال والوں کے لئے بہت ہی بہتر ہے لیکن اسے صبر کرنے والے ہی پاسکتے ہیں۔ اس آیت سے یہ بھی استدلال بزرگان دین نے کیا ہے کہ جادوگر کافر ہے کیونکہ آیت میں آیت (وَلَوْ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَيْرٌ) 2۔ البقرۃ :103) فرمایا ہے حضرت امام احمد اور سلف کی ایک جماعت بھی جادو سیکھنے والے کو کافر کہتی ہے بعض کافر تو نہیں کہتے لیکن فرماتے ہیں کہ جادوگر کی حد یہ ہے کہ اسے قتل کردیا جائے بجالہ بن عبید کہتے ہیں حضرت عمر نے اپنے ایک فرمان میں لکھا تھا کہ ہر ایک جادوگر مرد عورت کو قتل کردو چناچہ ہم نے تین جادوگروں کی گردن ماری صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ام المومنین حضرت حفضہ ؓ پر ان کی ایک لونڈی نے جادو کیا جس پر اسے قتل کیا گیا۔ حضرت امام احمد حنبل ؒ فرماتے ہیں تین صحابیوں سے جادوگر کے قتل کا فتویٰ ثابت ہے ترمذی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جادوگر کی حد تلوار سے قتل کردینا ہے اس حدیث کے ایک راوی اسمعیل بن مسلم ضعیف ہیں صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ غالباً یہ حدیث موقوف ہے لیکن طبرانی میں ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث مرفوع مروی ہے واللہ اعلم۔ ولید بن عقبہ کے پاس ایک جادوگر تھا جو اپنے کرتب بادشاہ کو دکھایا کرتا تھا بظاہر ایک شخص کا سر کاٹ لیتا پھر آواز دیتا تو سر جڑ جاتا اور وہ موجود ہوجاتا مہاجرین صحابہ میں سے ایک بزرگ صحابی نے یہ دیکھا اور دوسرے دن تلوار باندھے ہوئے آئے جب ساحر نے اپنا کھیل شروع کیا آپ نے اپنی تلوار سے خود اس کی گردن اڑا دی اور فرمایا لے اب اگر سچا ہے تو خود جی اٹھ پھر قرآن پاک کی یہ آیت پڑھ کر لوگوں کو سنائی آیت (اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ) 21۔ الانبیآء :3) کیا تم دیکھتے بھالتے جادو کے پاس جاتے ہو ؟ چونکہ اس بزرگ صحابی نے ولید کی اجازت اس کے قتل میں نہیں لی تھی اسلئے بادشاہ نے ناراض ہو کر انہیں قید کردیا پھر چھوڑ دیا امام شافعی نے حضرت عمر کے فرمان اور حضرت حفصہ کے واقعہ کے متعلق یہ کہا ہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جب جادو شرکیہ الفاظ سے ہو۔ معتزلہ جادو کے وجود کے منکرین وہ کہتے ہیں جادو کوئی چیز نہیں بلکہ بعض لوگ تو بعض دفعہ اتنا بڑھ جاتے ہیں کہ کہتے ہیں جو جادو کا وجود مانتا ہو وہ کافر ہے لیکن اہل سنت جادو کے وجود کے قائل ہیں یہ مانتے ہیں کہ جادوگر اپنے جادو کے زور سے ہوا پر اڑ سکتے ہیں اور انسان بظاہر گدھا اور گدھے کو بظاہر انسان بنا ڈالتے ہیں مگر کلمات اور منتر تنتر کے وقت ان چیزوں کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے آسمان کو اور تاروں کو تاثیر پیدا کرنے والا اہل سنت نہیں مانتے، فلسفے اور نجوم والے اور بےدین لوگ تو تاروں کو اور آسمان کو ہی اثر پیدا کرنے والا جانتے ہیں اہل سنت کی ایک دلیل تو آیت (وما ھم بضارین) ہے اور دوسری دلیل خود آنحضرت ﷺ پر جادو کیا جانا اور آپ پر اس کا اثر ہونا ہے تیسرے اس عورت کا واقعہ جسے حضرت عائشہ نے بیان فرمایا ہے جو اوپر ابھی ابھی گزرا ہے اور بھی بیسیوں ایسے ہی واقعات وغیرہ ہیں۔ رازی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ جادو کا حاصل کرنا برا نہیں محققین کا یہی قول ہے اس لئے کہ وہ بھی ایک علم ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت (قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ) 39۔ الزمر :9) یعنی علم والے اور بےعلم برابر نہیں ہوتے اور اس لئے کہ یہ علم ہوگا تو اس سے معجزے اور جادو میں فرق پوری طرح واضح ہوجائے گا اور معجزے کا علم واجب ہے اور وہ موقوف ہے جادو کے سیکھنے پر جس سے فرق معلوم ہو پس جادو کا سیکھنا بھی واجب ہوا رازی کا یہ قول سرتاپا غلط ہے اگر عقلاً وہ اسے برا نہ بتائیں تو معتزلہ موجود ہیں جو عقلاً بھی اس کی برائی کے قائل ہیں اور اگر شرعاً برا نہ بتاتے ہوں تو قرآن کی یہ آیت شرعی برائی بتانے کے لئے کافی ہے صحیح حدیث میں ہے جو کسی شخص کسی جادوگر یا کاہن کے پاس جائے وہ کافر ہوجائے گا۔

جادو کے جواز اور عدم جواز کی بحث سنن میں حدیث ہے کہ جس نے گرہ لگائی اور اس میں پھونکا، اس نے جادو کیا لہذا رازی کا یہ کہنا کہ محققین کا قول یہی ہے یہ بھی ٹھیک نہیں آخر ان محققین کے ایسے اقوال کہاں ہیں ؟ ائمہ اسلام میں سے کس نے ایسا کہا ہے ؟ پھر آیت (ھل یستوی الذین) آیت کو پیش کرنا بھی نری جرات ہے کیونکہ آیت میں علم سے مراد دینی علم ہے اسی آیت میں شرعی علم والے علماء کی فضیلت بیان ہوئی ہے، پھر ان کا یہ کہنا کہ اسی علم سے کہ اسی سے معجزے کا علم تقابلی حاصل ہوتا ہے یہ تو بالکل واہی محض غلط اور فاسد ہے اس لئے کہ ہمارے رسول ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ قرآن پاک ہے جو باطل سے سراسر محفوظ ہے لیکن اس کا معجزہ ماننے کے لیے جادو جاننا ضروری نہیں ہے وہ لوگ جنہیں جادو سے دور کا بھی تعلق نہیں وہ بھی اسے معجزہ مان گئے صحابہ تابعین ائمہ مسلمین بلکہ عام مسلمان بھی اسے معجزہ مانتے ہیں حالانکہ ان تمام میں سے کوئی ایک بھی جادو جانتا تو کیا جادو کے پاس تک نہیں پھٹکا جادو سیکھا نہ سیکھایا۔ نہ کیا نہ کرایا۔ بلکہ ان سب کاموں کو کفر کہتے رہے پھر یہ دعویٰ کرنا کہ جادو کا جاننا واجب ہے اس لئے کہ جادو کے علم سے معجزہ کا فرق معلوم ہوسکتا ہے اس لئے اس کا سیکھنا واجب۔ کس قدر مہمل دعویٰ ہے۔ جادو کی اقسام اب جادو کی قسمیں سنئے جنہیں ابو عبداللہ رازی نے بیان کیا ہے (ا) ایک جادو تو ستارہ پرست فرقہ کا ہے وہ سات ستاروں کی نسبت عقیدہ رکھتے ہیں کہ بھلائی برائی انہی کے باعث ہوتی ہے اس لئے ان کی طرف خطاب کے مقرر الفاظ پڑھا کرتے ہیں اور انہیں کی پرستش کرتے ہیں اسی قوم میں حضرت ابراہیم آئے اور انہیں ہدایت کی۔ رازی نے اس فن میں ایک خاص کتاب تصنیف کی ہے جس کا نام السر المکتوم فی مخاطبہ الشمس والنجوم رکھا ہے ملاحظہ ہو ابن خلکان وغیرہ بعض کہتے ہیں کہ انہوں نے بعد میں اس سے توبہ کرلی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ صرف لوگوں کو اس علم سے آشنا کرنے اور خود کو اس کا عالم ثابت کرنے کیلئے یہ کتاب لکھی تھی ورنہ ان کا اپنا اعتقاد یہ تھا جو سراسر کفر ہے اس کتاب میں ان لوگوں کے طور طریقے لکھے ہیں (2) دوسرا جادو قومی نفس اور قوت واہمہ کے طاقتور لوگوں کا فن ہے وہم اور خیال کا زندگی میں بڑا اثر ہوتا ہے دیکھئے اگر ایک تنگ پل زمین پر رکھ دیا جائے تو اس انسان پر سے بہ آسانی گزر جائے گا لیکن یہی تنگ پل اگر کسی دریا پر ہو تو نہیں گزر سکے گا اس لئے کہ اس وقت خیال ہوگا کہ اب گرا اب گرا تو واہمہ کی کمزوری کے باعث جتنی جگہ پر زمین میں چل پھر سکتا تھا اتنی جگہ پر ایسے ڈر کے وقت نہیں چل سکتا حکیموں اور طبیبوں نے بھی مرعوف (جس کو نکسیر بہنے کی بیماری ہو) شخص کو سرخ چہروں کو دیکھنے سے روک دیا ہے اور مرگی والوں کو زیادہ روشنی والی اور تیز حرکت کرنے والی چیزوں کے دیکھنے سے منع کیا ہے جس سے ظاہر ہے کہ قوت واہمہ کا ایک خاص اثر طبیعت پر پڑتا ہے عقلمند لوگوں کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ نظر لگتی ہے صحیح حدیث میں بھی آیا ہے کہ نظر کا لگنا حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر ہے سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر ہوتی اب اگر نفس قوی ہے تو ظاہری سہاروں اور ظاہری کاموں کی کوئی ضرورت نہیں اور اگر اتنا قوی نہیں تو پھر اسے آلات کی بھی ضرورت پڑتی ہے جس قدر نفس کی قوت بڑھتی جائے گی وہ روحانیات میں ترقی کرتا جائے گا اور تاثیر میں بڑھتا جائے گا اور جس قدر یہ قوت کم ہوتی جائے گی اسی قدر گھٹتا جائے گا یہ کیفیت کبھی غذا کی کمی سے اور لوگوں کے میل جول سے ترک کرنے سے بھی حاصل ہوجاتی ہے کبھی تو قوت کو حاصل کر کے انسان نیکی کے کام یعنی شریعت کے مطابق اس سے کام لیتا ہے اس حال کو شریعت کی اصطلاح میں کرامت کہتے ہیں جادو نہیں کہتے اور کبھی اس حال سے باطل میں اور خلاف شرع کاموں میں مدد لیتا ہے اور دین سے دور پڑجاتا ہے ایسے لوگوں کے ایسے قابل حیرت کاموں سے کسی کو دھوکا کھا کر انہیں ولی نہ سمجھ لینا چاہئے کیونکہ شریعت کے خلاف چلنے والا ولی اللہ نہیں ہوسکتا آپ دیکھتے نہیں کہ صحیح احادیث میں دجال کی بابت کیا کچھ آیا ہے ؟ وہ کیسے کیسے خلاف عادت کام کر کے دکھائے گا لیکن ان کی وجہ سے وہ اللہ کا ولی نہیں بلکہ ملعون و مردود ہے (3) تیسری قسم کا جادو جنات کے ذریعہ زمین والوں کی روحوں سے امداد و اعانت طلب کرنے کا ہے معتزلہ اور فلاسفہ اس کے قائل نہیں ان روحوں سے بعض مخصوص الفاظ اور اعمال سے تعلق پیدا کرتے ہیں اسے سحر یا بالعزائم اور عمل تسخیر بھی کہتے ہیں (4) چوتھی قسم خیالات کا بدل دینا آنکھوں پر اندھیرا ڈال دینا اور شعبدہ بازی کرنا ہے جس سے حقیقت کے خلاف دکھائی دینے لگتا ہے تم نے دیکھا ہوگا کہ شعبدہ باز پہلے ایک کام شروع کرتا ہے جب لوگ دلچسپی کے ساتھ اس طرف نظریں جما دیتے ہیں اور ان کی باتوں کی طرف متوجہ ہو کر ہمہ تن اس میں مصروف ہوجاتے ہیں وہ پھرتی سے ایک دوسرا کام کر ڈالتا ہے جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ رہتا ہے اور اسے دیکھ کر وہ حیران رہ جاتے ہیں، بعض مفسرین کا قول ہے کہ فرعون کے جادوگروں کا جادو بھی اسی قسم کا تھا اسی لئے قرآن میں ہے آیت (سَحَرُوْٓا اَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوْهُمْ وَجَاۗءُوْ بِسِحْرٍ عَظِيْمٍ) 7۔ الاعراف :116) لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور ان کے دلوں میں ڈر بٹھا دیا اور جگہ ہے یخیل الیہ موسیٰ ؑ کے خیال میں وہ سب لکڑیاں اور رسیاں سانپ بن کر دوڑتی ہوئی نظر آنے لگیں حالانکہ درحقیقت ایسا نہ تھا واللہ اعلم (5) پانچویں قسم بعض چیزوں کی ترکیب دے کر کوئی عجیب کام اس سے لینا مثلاً گھوڑے کی شکل بنادیا اس پر ایک سوار بنا کر بٹھا دیا اس کے ہاتھ میں ناقوس ہے جہاں ایک ساعت گزری اور اس ناقوس میں سے آواز نکلی حالانکہ کوئی اسے نہیں چھیڑتا، اسی طرح انسانی صورت اس کاریگری سے بنائی کہ گویا اصلی انسان ہنس رہا ہے یا رو رہا ہے، فرعون کے جادوگروں کا جادو بھی اسی قسم میں سے تھا کہ وہ بنائے ہوئے سانپ وغیرہ زئبق کے باعث زندہ حرکت کرنے والے دکھائی دیتے تھے گھڑی اور گھنٹے اور چھوٹی چھوٹی چیزیں جن سے بڑی بڑی وزنی چیزیں کھینچ آتی ہیں سب اسی قسم میں داخل ہیں حقیقت میں اسے جادو ہی نہ کہنا چاہئے کیونکہ یہ تو ایک ترکیب اور کاریگری ہے جس کے اسباب بالکل ظاہر ہیں جو انہیں جانتا ہو وہ ان اسباب و فنون سے یہ کام لے سکتا ہے اسی طرح کا وہ حیلہ بھی ہے کہ جو بیت المقدس کے نصرانی کرتے تھے کہ پر اسرار طریقہ سے گرجے کی قندیلیں جلا دیں اور اسے گرجے کی کرامت مشہور کردی یا اور لوگوں کو اپنے دین کی طرف جھکا لیا بعض کر امیہ صوفیوں کا بھی خیال ہے کہ اگر ترغیب و ترہیب کی حدیثیں گھڑ لی جائیں اور لوگوں کو عبادت کی طرف مائل کیا جائے تو کوئی حرج نہیں، لیکن یہ بڑی غلطی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے وہ اپنی جگہ جہنم میں مقرر کرلے اور فرمایا میری حدیثیں بیان کرتے رہو لیکن مجھ پر جھوٹ نہ باندھو مجھ پر جھوٹ بولنے والا قطعاً جہنمی ہے ایک نصرانی پادری نے ایک مرتبہ دیکھا کہ ایک پرند کا چھوٹا سا بچہ جسے اڑنے اور چلنے پھرنے کی طاقت نہیں ایک گھونسلے میں بیٹھا ہے جب وہ اپنی ضعیف اور پست آواز نکالتا ہے تو اور پرندے اسے سن کر رحم کھا کر زیتون کا پھل اس گھونسلے میں لا لا کر رکھ جاتے ہیں اس نے اسی صورت کا ایک پرندہ کسی چیز کا بنایا اور نیچے سے اسے کھوکھلا رکھا اور ایک سوراخ اس کی چونچ کی طرف رکھا جس سے ہوا اس کے اندر گھستی تھی پھر جب نکلتی تھی تو اسی طرح کی آواز اس سے پیدا ہوتی تھی اسے لا کر اپنے گرجے میں ہوا کے رخ رکھ دیا چھت میں ایک چھوٹا سوراخ کردیا تاکہ ہوا اس سے جائے اب جب ہوا چلتی اور اس کی آواز نکلتی تو اس قسم کے پرندے جمع ہوجاتے اور زیتون کے پھل لا لا کر رکھ جاتے اس نے لوگوں میں شہرت دینی شروع کی کہ اس گرجے میں یہ کرامت ہے یہاں ایک بزرگ کا مزار ہے اور یہ کرامت انہی کی ہے لوگوں نے بھی جب اپنی آنکھوں یہ ان ہونی عجیب بات دیکھی تو معتقد ہوگئے اور اس قبر پر نذر نیاز چڑھانے لگے اب کرامت دور دور تک مشہور ہوگئی حالانکہ کہ کوئی کرامت نہ تھی نہ معجزہ تھا صرف ایک پوشیدہ فن تھا جسے اس ملعون شخص نے پیٹ بھرنے کے لئے پوشیدہ طور پر رکھا تھا اور ایک لعنتی فرقہ اس پر ریجھا ہوا تھا (6) چھٹی قسم جادو کی بعض دواؤں میں عجیب عجیب خاصیتیں ہیں مقناطیس ہی کو دیکھو کہ لوہا کس طرح اس کی طرف کھچ جاتا ہے اکثر صوفی اور فقیر اور درویش انہی حیلہ سازیوں کو کرامت کر کے لوگوں کو دکھاتے ہیں اور انہیں مرید بناتے پھرتے ہیں۔ (7) ساتویں قسم دل پر ایک خاص قسم کا اثر ڈال کر اس سے جو چاہنا منوا لینا ہے مثلاً اس سے کہہ دیا کہ مجھے اسم اعظم یاد ہے یا جنات میری قبضہ میں ہیں اب اگر سامنے والا کمزور دل کچے کانوں اور بودے عقیدے والا ہے تو وہ اسے سچ سمجھ لے گا اور اس کی طرف سے ایک قسم کا خوف ڈر ہیبت اور رعب اس کے دل پر بیٹھ جائے گا جو اس کو ضعیف بنا دے گا اب اس وقت جو چاہے کرے گا اور اس کا کمزور دل اسے عجیب عجیب باتیں دکھاتا بیٹھ جائے گا جو اس کو ضعیف بنا دے گا اب اس وقت جو چاہے کرے گا اور اس کا کمزور دل اسے عجیب عجیب باتیں دکھاتا جائے گا اسی کو تمبلہ (عام زبان میں اسے معمول) کہتے ہیں اور یہ اکثر کم عقل لوگوں پر ہوجایا کرتا ہے اور علم فراست سے کامل عقل والا اور کم عقل والا انسان معلوم ہوسکتا ہے اور اس حرکت کا کرنے والا اپنا یہ فعل اپنی قوت قیافہ کے ذریعہ سے کم عقل شخص کو پہچان کر کے ہی کرتا ہے (8) آٹھویں قسم چغلی کرنا جھوٹ سچ ملا کر کسی کے دل میں اپنا گھر کرلینا اور خفیہ چالوں سے اسے اپنا گرویدہ کرلینا یہ چغل خوری اگر لوگوں کو بھڑکانے بدکانے اور ان کے درمیان عداوت و دشمنی ڈالنے کے لئے ہو تو شرعاً حرام ہے جب اصلاح کے طور پر اور آپس میں ایک دوسرے مسلمان کو ملانے کے لئے کوئی ایسی بات ظاہر کہہ دی جائے جس سے ایک فریق دوسرے فریق سے خوش ہوجائے یا کوئی آنے والی مصیبت مسلمانوں پر سے ٹل جائے یا کفار کی قوت زائل ہوجائے ان میں بددلی پھیل جائے اور مخالف و پھوٹ پڑے تو یہ جائز ہے جیسے حدیث میں ہے کہ وہ شخص جھوٹا نہیں جو بھلائی کے لئے ادھر کی ادھر لے جاتا ہے اور جیسے حدیث میں ہے کہ لڑائی مکر کا نام ہے اور جیسے حضرت نعیم بن مسعود ؓ نے جنگ احزاب کے موقعہ پر کفار عرب اور کفار یہود کے درمیان کچھ ادھر ادھر کی اوپری باتیں کہہ کر جدائی ڈلوا دی تھی اور انہیں مسلمانوں کے مقابلہ میں شکست ہوئی یہ کام بڑے عالی دماغ زیرک اور معاملہ فہم شخص کا ہے۔ یہ یاد رہے کہ امام رازی نے جادو کی جو یہ آٹھ قسمیں بیان کی ہیں یہ صرف با اعتبار لفظ کے ہیں کیونکہ عربی زبان میں سحر یعنی جادو ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو بہت لطیف اور باریک ہو اور ظاہربین انسان کی نگاہوں سے اس کے اسباب پوشیدہ رہ جائیں اسی واسطے ایک حدیث میں ہے کہ بعض بیان بھی جادو ہوتا ہے اور اسی لئے صبح کے اول وقت کو سحور کہتے ہیں کہ و مخفی ہوتا ہے اور اس رگ کو بھی سحر کہتے ہیں جو غذا کی جگہ ہے۔ ابو جہل نے بدر والے دن یہی کہا تھا کہ اس کی سحر یعنی رگ طعام مارے خوف کے پھول گئی حضرت عائشہ فرماتی ہیں میرے سحر و نحر کے درمیان رسول اللہ ﷺ فوت ہوئے تو نحرے سے مراد سینہ اور سحر سے مراد رنگ غذا۔ قرآن میں بھی ہے آیت (سحروا اعین الناس) یعنی لوگوں کی نگاہوں سے اپنا جادو کے وقت جو چاہتا ہے کہ دیتا ہے کہ معتزلہ اور ابو اسحاق اسفراینی شافعی اس کے قائل نہیں اور جادو کبھی ہاتھ کی چالاکی سے بھی ہوتا ہے اور کبھی ڈوروں دھاگوں سے بھی کبھی اللہ کا نام پڑھ کر دم کرنے سے بھی اس میں ایک خاص اثر ہوتا ہے۔

جادو اور شعر کبھی شیاطین کا نام لے کر شیطانی کام سے بھی لوگ کرتے ہیں کبھی دواؤں وغیرہ کے ذریعہ سے بھی جادو کیا جاتا ہے حضور ﷺ کے اس فرمان کے مطابق کہ بعض بیان جادو ہیں دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ بطور تعریف کے آپ نے فرمایا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ بطور مذمت کے یہ ارشاد ہوا ہو کہ وہ اپنی غلط بات اس طرح بیان کرتا ہے کہ سچ معلوم ہوتی ہے جیسے ایک اور حدیث میں ہے کہ کبھی میرے پاس تم مقدمہ لے کر آتے ہو تو ایک اپنی چرب زبانی سے اپنے غلط دعویٰ کو صحیح ثابت کردیتا ہے وزیر ابو المظفر یحییٰ بن محمد بن ہبیر رحمتہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب " الاشراف علی مذاہب الاشراف " میں سحر کے باپ میں کہا ہے کہ اجماع ہے کہ جادو ایک حقیقت ہے لیکن ابوحنیفہ اس کے قائل نہیں جادو کے سیکھنے والے اور اسے استعمال میں لانے والے کو امام ابوحنیفہ امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ تو کافر بتاتے ہیں امام ابوحنیفہ کے بعض شاگردوں کا قول ہے کہ اگر جادو کو بچاؤ کے لئے سیکھے تو کافر نہیں ہوتا ہاں جو اس کا اعتقاد رکھے اور نفع دینے والا سمجھے۔ وہ کافر ہے۔ اور اسی طرح جو یہ خیال کرتا ہے کہ شیاطین یہ کام کرتے ہیں اور اتنی قدرت رکھتے ہیں وہ بھی کافر ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں جادوگر سے دریافت کیا جائے اگر وہ بابل والوں کا سا عقیدہ رکھتا ہو اور سات سیارہ ستاروں کو تاثیر پیدا کرنے والا جانتا ہو تو کافر ہے اور اگر یہ نہ ہو تو بھی اگر جادو کو جائز جانتا ہو تو بھی کافر ہے امام مالک اور امام احمد کا قول یہ بھی ہے کہ جادوگر نے جب جادو کیا اور جادو کو استعمال میں لایا وہیں اسے قتل کردیا جائے امام شافعی اور امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اس کا قتل بوجہ حد کے ہے مگر امام شافعی کا بیان ہے کہ بوجہ قصاص کے ہے امام مالک امام ابو حنفیہ اور ایک مشہور قول میں امام احمد کا فرمان ہے کہ جادوگر سے توبہ بھی نہ کرائی جائے اس کی توبہ سے اس پر سے حد نہیں ہٹے گی اور امام شافعی کا قول ہے کہ اس کی توبہ مقبول ہوگی۔ امام احمد کا ہی صحیح قول ہے۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ اہل کتاب کا جادوگر بھی امام ابوحنیفہ کے نزدیک قتل کردیا جائے گا لیکن تینوں اور اماموں کا مذہب اس کے برخلاف ہے لبید ین اعصم یہودی نے حضور ﷺ پر جادو کیا تھا اور آپ نے اس کے قتل کرنے کو نہیں فرمایا اگر کوئی مسلمان عورت جادوگرنی ہو تو اس کے بارے میں امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ وہ قید کردی جائے اور تینوں کہتے ہیں اسے بھی مرد کی طرح قتل کردیا جائے واللہ اعلم حضرت زہری کا قول ہے کہ مسلمان جادوگر قتل کردیا جائے اور مشرک قتل نہ کیا جائے۔ امام مالک فرماتے ہیں اگر ذمی کے جادو سے کوئی مرجائے تو ذمی کو بھی مار ڈالنا چاہئے یہ بھی آپ سے مروی ہے کہ پہلے تو اسے کہا جائے کہ توبہ کر اگر وہ کرلے اور اسلام قبول کرے تو خیر ورنہ قتل کردیا ائے اور یہ بھی آپ سے مروی ہے کہ اگرچہ اسلام قبول کرلے تاہم قتل کردیا جائے اس جادوگر کو جس کے جادو میں شرکیہ الفاظ ہوں اسے چاروں امام کافر کہتے ہیں کیونکہ قرآن میں ہے فلاتکفر امام مالک فرماتے ہیں جب اس پر غلبہ پا لیا جائے پھر وہ توبہ کرے تو توبہ قبول نہیں ہوگی جس طرح زندیق کی توبہ قبول نہیں ہوگی ہاں اس سے پہلے اگر توبہ کرلے تو قبول ہوگی اگر اس کے جادو سے کوئی مرگیا پھر تو بہر صورت مارا جائے گا امام شافعی فرماتے ہیں اگر وہ کہے کہ میں نے اس پر جادو مار ڈالنے کے لئے نہیں کیا تو قتل کی خطا کی دیت (جرمانہ) لے لیا جائے۔ جادوگر سے اس کے جادو کو اتروانے کی حضرت سعید بن مسیب نے اجازت دی ہے جیسے صحیح بخاری شریف میں ہے عامر شعبی بھی اس میں کوئی حرج نہیں بتلاتے لیکن خواجہ حسن بصری ؒ اسے مکروہ بتاتے ہیں۔ حضرت عائشہ نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہا آپ کیوں جادو کو افشاء نہیں کرتے ؟ تو آپ نے فرمایا مجھے تو اللہ تعالیٰ نے شفا دے دی اور میں لوگوں پر برائی افشاء کرنے سے ڈرتا ہوں۔ حضرت وہب فرماتے ہیں بیری کے سات پتے لے کر سل بٹے پر کوٹ لئے جائیں اور پانی ملا لیا جائے پھر آیت الکرسی پڑھ کر اس پر دم کردیا جائے اور جس پر جادو کیا گیا ہے اسے تین گھونٹ پلا دیا جائے اور باقی پانی سے غسل کردیا جائے انشاء اللہ جادو کا اثر جاتا رہے گا یہ عمل خصوصیت سے اس شخص کے لئے بہت ہی اچھا ہے جو اپنی بیوی سے روک دیا گیا ہو جادو کو دور کرنے اور اس کے اثر کو زائل کرنے کے لئے سب سے اعلیٰ چیز آیت (قل اعوذ برب الناس) اور آیت (قل اعوذب برب الفلق) کی سورتیں ہیں حدیث میں ہے کہ ان جیسا کوئی تعویذ نہیں اسی طرح آیت الکرسی بھی شیطان کو دفع کرنے میں اعلیٰ درجہ کی چیز ہے۔

جادو اور شعر کبھی شیاطین کا نام لے کر شیطانی کام سے بھی لوگ کرتے ہیں کبھی دواؤں وغیرہ کے ذریعہ سے بھی جادو کیا جاتا ہے حضور ﷺ کے اس فرمان کے مطابق کہ بعض بیان جادو ہیں دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ بطور تعریف کے آپ نے فرمایا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ بطور مذمت کے یہ ارشاد ہوا ہو کہ وہ اپنی غلط بات اس طرح بیان کرتا ہے کہ سچ معلوم ہوتی ہے جیسے ایک اور حدیث میں ہے کہ کبھی میرے پاس تم مقدمہ لے کر آتے ہو تو ایک اپنی چرب زبانی سے اپنے غلط دعویٰ کو صحیح ثابت کردیتا ہے وزیر ابو المظفر یحییٰ بن محمد بن ہبیر رحمتہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب " الاشراف علی مذاہب الاشراف " میں سحر کے باپ میں کہا ہے کہ اجماع ہے کہ جادو ایک حقیقت ہے لیکن ابوحنیفہ اس کے قائل نہیں جادو کے سیکھنے والے اور اسے استعمال میں لانے والے کو امام ابوحنیفہ امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ تو کافر بتاتے ہیں امام ابوحنیفہ کے بعض شاگردوں کا قول ہے کہ اگر جادو کو بچاؤ کے لئے سیکھے تو کافر نہیں ہوتا ہاں جو اس کا اعتقاد رکھے اور نفع دینے والا سمجھے۔ وہ کافر ہے۔ اور اسی طرح جو یہ خیال کرتا ہے کہ شیاطین یہ کام کرتے ہیں اور اتنی قدرت رکھتے ہیں وہ بھی کافر ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں جادوگر سے دریافت کیا جائے اگر وہ بابل والوں کا سا عقیدہ رکھتا ہو اور سات سیارہ ستاروں کو تاثیر پیدا کرنے والا جانتا ہو تو کافر ہے اور اگر یہ نہ ہو تو بھی اگر جادو کو جائز جانتا ہو تو بھی کافر ہے امام مالک اور امام احمد کا قول یہ بھی ہے کہ جادوگر نے جب جادو کیا اور جادو کو استعمال میں لایا وہیں اسے قتل کردیا جائے امام شافعی اور امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اس کا قتل بوجہ حد کے ہے مگر امام شافعی کا بیان ہے کہ بوجہ قصاص کے ہے امام مالک امام ابو حنفیہ اور ایک مشہور قول میں امام احمد کا فرمان ہے کہ جادوگر سے توبہ بھی نہ کرائی جائے اس کی توبہ سے اس پر سے حد نہیں ہٹے گی اور امام شافعی کا قول ہے کہ اس کی توبہ مقبول ہوگی۔ امام احمد کا ہی صحیح قول ہے۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ اہل کتاب کا جادوگر بھی امام ابوحنیفہ کے نزدیک قتل کردیا جائے گا لیکن تینوں اور اماموں کا مذہب اس کے برخلاف ہے لبید ین اعصم یہودی نے حضور ﷺ پر جادو کیا تھا اور آپ نے اس کے قتل کرنے کو نہیں فرمایا اگر کوئی مسلمان عورت جادوگرنی ہو تو اس کے بارے میں امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ وہ قید کردی جائے اور تینوں کہتے ہیں اسے بھی مرد کی طرح قتل کردیا جائے واللہ اعلم حضرت زہری کا قول ہے کہ مسلمان جادوگر قتل کردیا جائے اور مشرک قتل نہ کیا جائے۔ امام مالک فرماتے ہیں اگر ذمی کے جادو سے کوئی مرجائے تو ذمی کو بھی مار ڈالنا چاہئے یہ بھی آپ سے مروی ہے کہ پہلے تو اسے کہا جائے کہ توبہ کر اگر وہ کرلے اور اسلام قبول کرے تو خیر ورنہ قتل کردیا ائے اور یہ بھی آپ سے مروی ہے کہ اگرچہ اسلام قبول کرلے تاہم قتل کردیا جائے اس جادوگر کو جس کے جادو میں شرکیہ الفاظ ہوں اسے چاروں امام کافر کہتے ہیں کیونکہ قرآن میں ہے فلاتکفر امام مالک فرماتے ہیں جب اس پر غلبہ پا لیا جائے پھر وہ توبہ کرے تو توبہ قبول نہیں ہوگی جس طرح زندیق کی توبہ قبول نہیں ہوگی ہاں اس سے پہلے اگر توبہ کرلے تو قبول ہوگی اگر اس کے جادو سے کوئی مرگیا پھر تو بہر صورت مارا جائے گا امام شافعی فرماتے ہیں اگر وہ کہے کہ میں نے اس پر جادو مار ڈالنے کے لئے نہیں کیا تو قتل کی خطا کی دیت (جرمانہ) لے لیا جائے۔ جادوگر سے اس کے جادو کو اتروانے کی حضرت سعید بن مسیب نے اجازت دی ہے جیسے صحیح بخاری شریف میں ہے عامر شعبی بھی اس میں کوئی حرج نہیں بتلاتے لیکن خواجہ حسن بصری ؒ اسے مکروہ بتاتے ہیں۔ حضرت عائشہ نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہا آپ کیوں جادو کو افشاء نہیں کرتے ؟ تو آپ نے فرمایا مجھے تو اللہ تعالیٰ نے شفا دے دی اور میں لوگوں پر برائی افشاء کرنے سے ڈرتا ہوں۔ حضرت وہب فرماتے ہیں بیری کے سات پتے لے کر سل بٹے پر کوٹ لئے جائیں اور پانی ملا لیا جائے پھر آیت الکرسی پڑھ کر اس پر دم کردیا جائے اور جس پر جادو کیا گیا ہے اسے تین گھونٹ پلا دیا جائے اور باقی پانی سے غسل کردیا جائے انشاء اللہ جادو کا اثر جاتا رہے گا یہ عمل خصوصیت سے اس شخص کے لئے بہت ہی اچھا ہے جو اپنی بیوی سے روک دیا گیا ہو جادو کو دور کرنے اور اس کے اثر کو زائل کرنے کے لئے سب سے اعلیٰ چیز آیت (قل اعوذ برب الناس) اور آیت (قل اعوذب برب الفلق) کی سورتیں ہیں حدیث میں ہے کہ ان جیسا کوئی تعویذ نہیں اسی طرح آیت الکرسی بھی شیطان کو دفع کرنے میں اعلیٰ درجہ کی چیز ہے۔

جادو اور شعر کبھی شیاطین کا نام لے کر شیطانی کام سے بھی لوگ کرتے ہیں کبھی دواؤں وغیرہ کے ذریعہ سے بھی جادو کیا جاتا ہے حضور ﷺ کے اس فرمان کے مطابق کہ بعض بیان جادو ہیں دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ بطور تعریف کے آپ نے فرمایا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ بطور مذمت کے یہ ارشاد ہوا ہو کہ وہ اپنی غلط بات اس طرح بیان کرتا ہے کہ سچ معلوم ہوتی ہے جیسے ایک اور حدیث میں ہے کہ کبھی میرے پاس تم مقدمہ لے کر آتے ہو تو ایک اپنی چرب زبانی سے اپنے غلط دعویٰ کو صحیح ثابت کردیتا ہے وزیر ابو المظفر یحییٰ بن محمد بن ہبیر رحمتہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب " الاشراف علی مذاہب الاشراف " میں سحر کے باپ میں کہا ہے کہ اجماع ہے کہ جادو ایک حقیقت ہے لیکن ابوحنیفہ اس کے قائل نہیں جادو کے سیکھنے والے اور اسے استعمال میں لانے والے کو امام ابوحنیفہ امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ تو کافر بتاتے ہیں امام ابوحنیفہ کے بعض شاگردوں کا قول ہے کہ اگر جادو کو بچاؤ کے لئے سیکھے تو کافر نہیں ہوتا ہاں جو اس کا اعتقاد رکھے اور نفع دینے والا سمجھے۔ وہ کافر ہے۔ اور اسی طرح جو یہ خیال کرتا ہے کہ شیاطین یہ کام کرتے ہیں اور اتنی قدرت رکھتے ہیں وہ بھی کافر ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں جادوگر سے دریافت کیا جائے اگر وہ بابل والوں کا سا عقیدہ رکھتا ہو اور سات سیارہ ستاروں کو تاثیر پیدا کرنے والا جانتا ہو تو کافر ہے اور اگر یہ نہ ہو تو بھی اگر جادو کو جائز جانتا ہو تو بھی کافر ہے امام مالک اور امام احمد کا قول یہ بھی ہے کہ جادوگر نے جب جادو کیا اور جادو کو استعمال میں لایا وہیں اسے قتل کردیا جائے امام شافعی اور امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اس کا قتل بوجہ حد کے ہے مگر امام شافعی کا بیان ہے کہ بوجہ قصاص کے ہے امام مالک امام ابو حنفیہ اور ایک مشہور قول میں امام احمد کا فرمان ہے کہ جادوگر سے توبہ بھی نہ کرائی جائے اس کی توبہ سے اس پر سے حد نہیں ہٹے گی اور امام شافعی کا قول ہے کہ اس کی توبہ مقبول ہوگی۔ امام احمد کا ہی صحیح قول ہے۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ اہل کتاب کا جادوگر بھی امام ابوحنیفہ کے نزدیک قتل کردیا جائے گا لیکن تینوں اور اماموں کا مذہب اس کے برخلاف ہے لبید ین اعصم یہودی نے حضور ﷺ پر جادو کیا تھا اور آپ نے اس کے قتل کرنے کو نہیں فرمایا اگر کوئی مسلمان عورت جادوگرنی ہو تو اس کے بارے میں امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ وہ قید کردی جائے اور تینوں کہتے ہیں اسے بھی مرد کی طرح قتل کردیا جائے واللہ اعلم حضرت زہری کا قول ہے کہ مسلمان جادوگر قتل کردیا جائے اور مشرک قتل نہ کیا جائے۔ امام مالک فرماتے ہیں اگر ذمی کے جادو سے کوئی مرجائے تو ذمی کو بھی مار ڈالنا چاہئے یہ بھی آپ سے مروی ہے کہ پہلے تو اسے کہا جائے کہ توبہ کر اگر وہ کرلے اور اسلام قبول کرے تو خیر ورنہ قتل کردیا ائے اور یہ بھی آپ سے مروی ہے کہ اگرچہ اسلام قبول کرلے تاہم قتل کردیا جائے اس جادوگر کو جس کے جادو میں شرکیہ الفاظ ہوں اسے چاروں امام کافر کہتے ہیں کیونکہ قرآن میں ہے فلاتکفر امام مالک فرماتے ہیں جب اس پر غلبہ پا لیا جائے پھر وہ توبہ کرے تو توبہ قبول نہیں ہوگی جس طرح زندیق کی توبہ قبول نہیں ہوگی ہاں اس سے پہلے اگر توبہ کرلے تو قبول ہوگی اگر اس کے جادو سے کوئی مرگیا پھر تو بہر صورت مارا جائے گا امام شافعی فرماتے ہیں اگر وہ کہے کہ میں نے اس پر جادو مار ڈالنے کے لئے نہیں کیا تو قتل کی خطا کی دیت (جرمانہ) لے لیا جائے۔ جادوگر سے اس کے جادو کو اتروانے کی حضرت سعید بن مسیب نے اجازت دی ہے جیسے صحیح بخاری شریف میں ہے عامر شعبی بھی اس میں کوئی حرج نہیں بتلاتے لیکن خواجہ حسن بصری ؒ اسے مکروہ بتاتے ہیں۔ حضرت عائشہ نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہا آپ کیوں جادو کو افشاء نہیں کرتے ؟ تو آپ نے فرمایا مجھے تو اللہ تعالیٰ نے شفا دے دی اور میں لوگوں پر برائی افشاء کرنے سے ڈرتا ہوں۔ حضرت وہب فرماتے ہیں بیری کے سات پتے لے کر سل بٹے پر کوٹ لئے جائیں اور پانی ملا لیا جائے پھر آیت الکرسی پڑھ کر اس پر دم کردیا جائے اور جس پر جادو کیا گیا ہے اسے تین گھونٹ پلا دیا جائے اور باقی پانی سے غسل کردیا جائے انشاء اللہ جادو کا اثر جاتا رہے گا یہ عمل خصوصیت سے اس شخص کے لئے بہت ہی اچھا ہے جو اپنی بیوی سے روک دیا گیا ہو جادو کو دور کرنے اور اس کے اثر کو زائل کرنے کے لئے سب سے اعلیٰ چیز آیت (قل اعوذ برب الناس) اور آیت (قل اعوذب برب الفلق) کی سورتیں ہیں حدیث میں ہے کہ ان جیسا کوئی تعویذ نہیں اسی طرح آیت الکرسی بھی شیطان کو دفع کرنے میں اعلیٰ درجہ کی چیز ہے۔

مسلمانو کافروں کی صورت لباس اور زبان میں مشابہت سے بچو ! اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کافروں کی بول چال اور ان کے کاموں کی مشابہت سے روک رہا ہے یہودی بعض الفاظ زبان دبا کر بولتے تھے اور مطلب برا لیتے تھے جب انہیں یہ کہنا ہوتا کہ ہماری سنئے تو کہتے تھے راعنا اور مراد اس سے رعونت اور سرکشی لیتے تھے جیسے اور جگہ بیان ہے آیت (من الذین ھادوا) یعنی یہودیوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو باتوں کو اصلیت سے ہٹا دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم سنتے ہیں لیکن مانتے نہیں اپنی زبانوں کو موڑ توڑ کر اس دین میں طعنہ زنی کے لئے راعنا کہتے ہیں اگر یہ کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا ہماری بات سنئے اور ہماری طرف توجہ کیجئے تو یہ ان کے لئے بہتر اور مناسب ہوتا لیکن ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے انہیں اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہے اس میں ایمان بہت ہی کم ہے احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جب یہ لوگ سلام کرتے ہیں تو السام علیکم کہتے ہیں اور سام کے معنی موت کے ہیں تو تم ان کے جواب میں وعلیکم کہا کرو ہماری دعا ان کے حق میں قبول ہوگی اور ان کی بد دعا ہمارے حق میں مقبول نہیں ہوگی الغرض قول و فعل میں ان سے مشابہت کرنا منع ہے مسند احمد کی حدیث میں ہے میں قیامت کے قریب تلوار کے ساتھ بھیجا گیا ہوں میری روزی حق تعالیٰ نے میرے نیزے تلے لکھی ہے اس کے لئے ذلت اور پستی ہے مگر جو میرے احکام کے خلاف چلے کرے اور جو شخص کسی (غیر مسلم) قوم سے مشابہت کرے وہ انہی میں سے ہے۔ ابو داؤد میں بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے اس آیت اور حدیث سے ثابت ہوا کہ کفار کے اقوال و افعال لباس عید اور عبادت میں ان کی مشابہت کرنا جو ہمارے لئے مشروع اور مقرر نہیں سخت منع ہے ایسا کرنے والوں کو شریعت میں عذاب کی دھمکی سخت ڈراوا اور حرمت کی اطلاع دی گئی ہے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جب تم قرآن کریم میں آیت (یا ایھا الذین امنوا) سنو تو کان لگا دو اور دل سے متوجہ ہوجایا کرو کیونکہ یا تو کسی بھلائی کا حکم ہوگا یا کسی برائی سے ممانعت ہوگی حضرت خیثلہ فرماتے ہیں توراۃ میں بنی اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یا ایھا المساکین فرمایا ہے لیکن امت محمد ﷺ کو آیت (یا ایھا الذین امنوا) کے معزز خطاب سے یاد فرمایا ہے راعنا کے معنی ہماری طرف کان لگانے کے ہیں بروزن عاطنا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس کے معنی خلاف کے بھی ہیں یعنی خلاف نہ کہا کرو اس سے یہ بھی مروی ہے کہ مطلب یہ کہ آپ ہماری سنئے اور ہم آپ کی سنیں۔ انصار نے بھی یہی لفظ حضور ﷺ کے سامنے کہنا شروع کردیا تھا جس سے قرآن پاک نے انہیں روک دیا حسن فرماتے ہیں راعن کہتے ہیں (راعن مذاق کی بات کو کہتے ہیں) یعنی تم حضور ﷺ کی باتوں اور اسلام سے مذاق نہ کیا کرو۔ ابو صخر کہتے ہیں جب حضور ﷺ جانے لگتے تو جنہیں کوئی بات کہنی ہوتی وہ کہتے اپنا کان ادھر کیجئے اللہ تعالیٰ نے اس بےادبی کے کلمہ سے روک دیا اور اپنے نبی کی عزت کرنے کی تعلیم فرمائی۔ سدی کہتے ہیں رفاعہ بن زید یہودی حضرت ﷺ سے باتیں کرتے ہوئے یہ لفظ کہا کرتا تھا مسلمانوں نے بھی یہ خیال کر کے یہ لفظ ادب کے ہیں یہی لفظ استعمال کرنے شروع کردیئے جس پر انہیں روک دیا گیا جیسے سورة نساء میں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس کلمہ کو اللہ نے برا جانا اور اس کے استعمال سے مسلمانوں کو روک دیا جیسے حدیث میں آیا ہے کہ انگور کو کرم اور غلام کو عبد نہ کہو وغیرہ اب اللہ تعالیٰ ان بد باطن لوگوں کے حسد و بغض کو بیان فرماتا ہے کہ اے مسلمانو ! تمہیں جو اس کامل نبی ﷺ کے ذریعہ کامل شریعت ملی ہے اس سے یہ تو جل بھن رہے ہیں ان سے کہ دو کہ یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عنایت فرمائے وہ بڑے ہی فضل و کرم والا ہے۔

مسلمانو کافروں کی صورت لباس اور زبان میں مشابہت سے بچو ! اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کافروں کی بول چال اور ان کے کاموں کی مشابہت سے روک رہا ہے یہودی بعض الفاظ زبان دبا کر بولتے تھے اور مطلب برا لیتے تھے جب انہیں یہ کہنا ہوتا کہ ہماری سنئے تو کہتے تھے راعنا اور مراد اس سے رعونت اور سرکشی لیتے تھے جیسے اور جگہ بیان ہے آیت (من الذین ھادوا) یعنی یہودیوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو باتوں کو اصلیت سے ہٹا دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم سنتے ہیں لیکن مانتے نہیں اپنی زبانوں کو موڑ توڑ کر اس دین میں طعنہ زنی کے لئے راعنا کہتے ہیں اگر یہ کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا ہماری بات سنئے اور ہماری طرف توجہ کیجئے تو یہ ان کے لئے بہتر اور مناسب ہوتا لیکن ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے انہیں اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہے اس میں ایمان بہت ہی کم ہے احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جب یہ لوگ سلام کرتے ہیں تو السام علیکم کہتے ہیں اور سام کے معنی موت کے ہیں تو تم ان کے جواب میں وعلیکم کہا کرو ہماری دعا ان کے حق میں قبول ہوگی اور ان کی بد دعا ہمارے حق میں مقبول نہیں ہوگی الغرض قول و فعل میں ان سے مشابہت کرنا منع ہے مسند احمد کی حدیث میں ہے میں قیامت کے قریب تلوار کے ساتھ بھیجا گیا ہوں میری روزی حق تعالیٰ نے میرے نیزے تلے لکھی ہے اس کے لئے ذلت اور پستی ہے مگر جو میرے احکام کے خلاف چلے کرے اور جو شخص کسی (غیر مسلم) قوم سے مشابہت کرے وہ انہی میں سے ہے۔ ابو داؤد میں بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے اس آیت اور حدیث سے ثابت ہوا کہ کفار کے اقوال و افعال لباس عید اور عبادت میں ان کی مشابہت کرنا جو ہمارے لئے مشروع اور مقرر نہیں سخت منع ہے ایسا کرنے والوں کو شریعت میں عذاب کی دھمکی سخت ڈراوا اور حرمت کی اطلاع دی گئی ہے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جب تم قرآن کریم میں آیت (یا ایھا الذین امنوا) سنو تو کان لگا دو اور دل سے متوجہ ہوجایا کرو کیونکہ یا تو کسی بھلائی کا حکم ہوگا یا کسی برائی سے ممانعت ہوگی حضرت خیثلہ فرماتے ہیں توراۃ میں بنی اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یا ایھا المساکین فرمایا ہے لیکن امت محمد ﷺ کو آیت (یا ایھا الذین امنوا) کے معزز خطاب سے یاد فرمایا ہے راعنا کے معنی ہماری طرف کان لگانے کے ہیں بروزن عاطنا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس کے معنی خلاف کے بھی ہیں یعنی خلاف نہ کہا کرو اس سے یہ بھی مروی ہے کہ مطلب یہ کہ آپ ہماری سنئے اور ہم آپ کی سنیں۔ انصار نے بھی یہی لفظ حضور ﷺ کے سامنے کہنا شروع کردیا تھا جس سے قرآن پاک نے انہیں روک دیا حسن فرماتے ہیں راعن کہتے ہیں (راعن مذاق کی بات کو کہتے ہیں) یعنی تم حضور ﷺ کی باتوں اور اسلام سے مذاق نہ کیا کرو۔ ابو صخر کہتے ہیں جب حضور ﷺ جانے لگتے تو جنہیں کوئی بات کہنی ہوتی وہ کہتے اپنا کان ادھر کیجئے اللہ تعالیٰ نے اس بےادبی کے کلمہ سے روک دیا اور اپنے نبی کی عزت کرنے کی تعلیم فرمائی۔ سدی کہتے ہیں رفاعہ بن زید یہودی حضرت ﷺ سے باتیں کرتے ہوئے یہ لفظ کہا کرتا تھا مسلمانوں نے بھی یہ خیال کر کے یہ لفظ ادب کے ہیں یہی لفظ استعمال کرنے شروع کردیئے جس پر انہیں روک دیا گیا جیسے سورة نساء میں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس کلمہ کو اللہ نے برا جانا اور اس کے استعمال سے مسلمانوں کو روک دیا جیسے حدیث میں آیا ہے کہ انگور کو کرم اور غلام کو عبد نہ کہو وغیرہ اب اللہ تعالیٰ ان بد باطن لوگوں کے حسد و بغض کو بیان فرماتا ہے کہ اے مسلمانو ! تمہیں جو اس کامل نبی ﷺ کے ذریعہ کامل شریعت ملی ہے اس سے یہ تو جل بھن رہے ہیں ان سے کہ دو کہ یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عنایت فرمائے وہ بڑے ہی فضل و کرم والا ہے۔

(تبدیلی یا تنسیخ۔ اللہ تعالیٰ مختار کل ہے حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں نسخ کے معنی بدل کے ہیں مجاہد فرماتے ہیں مٹانے کے معنی ہیں جو (کبھی) لکھنے میں باقی رہتا ہے اور حکم بدل جاتا ہے حضرت ابن مسعود کے شاگرد اور ابو العالیہ اور محمد بن کعب قرظی سے بھی اسی طرح مروی ہے ضحاک فرماتے ہیں بھلا دینے کے معنی ہیں عطا فرماتے ہیں چھوڑ دینے کے معنی ہیں سدی کہتے ہیں اٹھا لینے کے معنی ہیں جیسے آیت الشیخ والشیختہ اذا زنیا فارجمو ھما البتتہ یعنی زانی مرد و عورت کو سنگسار کردیا کرو اور جیسے آیت (لو کان لابن ادم و ادیان من ذھب لابتغی لھما ثالثا یعنی ابن آدم کو اگر دو جنگل سونے کے مل جائیں جب بھی وہ تیسرے کی جستجو میں رہے گا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ احکام میں تبدیلی ہم کردیا کرتے ہیں حلال کو حرام حرام کو حلال جائز کو ناجائز ناجائز کو جائز وغیرہ امر و نہی روک اور رخصت جائز اور ممنوع کاموں میں نسخ ہوتا ہے ہاں جو خبریں دی گئی ہیں واقعات بیان کئے گئے ہیں ان میں رد و بدل و ناسخ و منسوخ نہیں ہوتا، نسخ کے لفظی معنی نقل کرنے کے بھی ہیں جیسے کتاب کے ایک نسخے سے دوسرا نقل کرلینا۔ اسی طرح یہاں بھی چونکہ ایک حکم کے بدلے دوسرا حکم ہوتا ہے اس لئے نسخ کہتے ہیں خواہ وہ حکم کا بدل جانا ہو خواہ الفاظ کا۔ علماء اصول کی عبارتیں اس مسئلہ میں گو مختلف ہیں مگر معنی کے لحاظ سے سب قریب قریب ایک ہی ہیں۔ نسخ کے معنی کسی حکم شرعی کا پچھلی دلیل کی رو سے ہٹ جانا ہے کبھی ہلکی چیز کے بدلے بھاری اور کبھی بھاری کے بدلہ ہلکی اور کبھی کوئی بدل ہی نہیں ہوتا ہے نسخ کے احکام اس کی قسمیں اس کی شرطیں وغیرہ ہیں اس کے لئے اس فن کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہئے تفصیلات کی بسط کی جگہ نہیں طبرانی میں ایک روایت ہے کہ دو شخصوں نے نبی ﷺ سے ایک سورت یاد کی تھی اسے وہ پڑھتے رہے ایک مرتبہ رات کی نماز میں ہرچند اسے پڑھنا چاہا لیکن یاد نے ساتھ نہ دیا گھبرا کر خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور حضور ﷺ سے اس کا ذکر کیا آپ نے فرمایا یہ منسوخ ہوگئی اور بھلا دی گئی دلوں میں نکال لی گئی تم غم نہ کرو بےفکر ہوجاؤ حضرت زہری نون خفیفہ پیش کے ساتھ پڑھتے تھے اس کے ایک راوی سلیمان بن راقم ضعیف ہیں۔ ابوبکر انباری نے بھی دوسری سند سے اسے مرفوع روایت کیا ہے جیسے قرطبی کا کنا ہے۔ " ننسھا " کو " ننساھا " بھی پڑھا گیا ہے۔ " ننساھا " کے معنی موخر کرنے پیچھے ہٹا دینے کے ہیں۔ حضرت ابن عباس اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں یعنی ہم اسے چھوڑ دیتے ہیں منسوخ کرتے ہیں ابن مروی ہے ہم اسے موخر کرتے ہیں اور ملتوی کرتے ہیں عطیہ عوفی کہتے ہیں۔ یعنی منسوخ نہیں کرتے سدی اور ربیع بھی یہی کہتے ہیں ضحاک فرماتے ہیں ناسخ کو منسوخ کے پیچھے رکھتے ہیں ابو العالیہ کہتے ہیں اپنے پاس اسے روک لیتے ہیں حضرت عمر نے خطبہ میں " ننسلھا " پڑھا اور اس کے معنی موخر ہونے کے بیان کئے ننسھا جب پڑھیں تو یہ مطلب ہوگا کہ ہم اسے بھلا دیں۔ اللہ تعالیٰ جس حکم کو اٹھا لینا چاہتا تھا وہ نبی ﷺ کو بھلا دیتا تھا اس طرح وہ آیت اٹھ جاتی تھی۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ننسھا پڑھتے تھے تو ان سے قسم بن ربیعہ نے کہا کہ سعید بن مسیب تو ننساھا پڑھتے ہیں تو آپ نے فرمایا سعید پر یا سعید کے خاندان پر تو قرآن نہیں اترا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت (سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰٓى) 87۔ الاعلی :6) ہم تجھے پڑھائیں گے جسے تو نہ بھولے گا اور فرماتا ہے آیت (وَاذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيْتَ) 18۔ الکہف :24) جب بھول جائے تو اپنے رب کو یاد کر۔ حضرت عمر کا فرمان ہے کہ علی سب سے اچھا فیصلہ کرنے والے ہیں اور ابی سے زیادہ اچھے قرآن کے قاری ہیں اور ہم ابی کا قول چھوڑ دیتے ہیں اس لئے کہ ابی کہتے ہیں میں نے تو جو کچھ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے اسے نہیں چھوڑوں گا اور فرماتے ہیں وما نسخ الخ یعنی ہم جو منسوخ کریں یا بھلا دیں اس سے بہتر لاتے ہیں یا اس جیسا (بخاری و مسند احمد) اس سے بہتر ہوتا ہے یعنی بندوں کی سہولت اور ان کے آرام کے لحاظ سے یا اس جیسا ہوتا ہے لیکن مصلحت الٰہی اس سابقہ چیز میں ہوتی ہے مخلوق میں تغیر و تبدل کرنے والا پیدائش اور حکم کا اختیار رکھنے والا۔ ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے جس طرح جسے چاہتا ہے بناتا ہے جسے چاہے نیک بختی دیتا ہے جسے چاہے بدبختی دیتا ہے جسے چاہے تندرستی جسے چاہے بیماری، جسے چاہے توفیق جسے چاہے بےنصیب کر دے۔ بندوں میں جو حکم چاہے جاری کرے جسے چاہے حلال جسے چاہے حرام فرما دے جسے چاہے رخصت دے جسے چاہے روک دے وہ حاکم مطلق ہے جیسے چاہے احکام جاری فرمائے کوئی اس کے حکم کو رد نہیں کرسکتا جو چاہے کرے کوئی اس سے باز پرس نہیں کرسکتا وہ بندوں کو آزماتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وہ نبیوں اور رسولوں کے کیسے تابعدار ہیں کسی چیز کا کسی سے باز پرس نہیں کرسکتا وہ بندوں کو آزماتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وہ نبیوں اور رسولوں کے کیسے تابعدار ہیں کسی چیز کا مصلحت کی وجہ سے حکم دیا پھر مصلحت کی وجہ سے ہی اس حکم کو ہٹا دیا اب آزمائش ہوتی ہے نیک لوگ اس وقت بھی اطاعت کے لئے کمر بستہ تھے اور اب بھی ہیں لیکن بد باطن لوگ باتیں بناتے ہیں اور ناک بھوں چڑھاتے ہیں حالانکہ تمام مخلوق کو اپنے خالق کی تمام باتیں ماننی چاہئیں اور ہر حال میں رسول ﷺ کی پیروی کرنی چاہئے اور جو وہ کہے اسے دل سے سچا ماننا چاہئے، جو حکم دے بجا لانا چاہئے جس سے روکے رک جانا چاہئے، اس مقام پر بھی یہودیوں کا زبردست رد ہے اور ان کے کفر کا بیان ہے کہ وہ نسخ کے قائل نہ تھے بعض تو کہتے تھے اس میں عقلی محال لازم آتا ہے اور بعض نقلی محال بھی مانتے تھے اس آیت میں گو خطاب فخر عالم ﷺ کو ہے مگر دراصل یہ کلام یہودیوں کو سنانا ہے جو انجیل کو اور قرآن کو اس وجہ سے نہیں مانتے تھے کہ ان میں بعض احکام توراۃ کے منسوخ ہوگئے تھے اور اسی وجہ سے وہ ان نبیوں کی نبوت کے بھی منکر ہوگئے تھے اور صرف عناد وتکبر کی بنا تھی ورنہ عقلاً نسخ محال نہیں اس لئے کہ جس طرح وہ اپنے کاموں میں با اختیار رہے اسی طرح اپنے حکموں میں بھی با اختیار رہے جو چاہے اور جب چاہے پیدا کرے جسے چاہے اور جس طرح چاہے اور جس وقت چاہے رکھے۔ اسی طرح جو چاہے اور جس وقت چاہے حکم دے اس حاکموں کے حاکم کا حاکم کون ؟ اسی طرح نقلاً بھی یہ ثابت شدہ امر ہے اگلی کتابوں اور پہلی شریعتوں میں موجود ہے حضرت آدم کی بیٹیاں بیٹے آپس میں بھائی بہن ہوتے تھے لیکن نکاح جائز تھا پھر اسے حرام کردیا نوح ؑ جب کشتی سے اترتے ہیں تب تمام حیوانات کا کھانا حلال تھا لیکن پھر بعض کی حلت منسوخ ہوگئی دو بہنوں کا نکاح اسرائیل اور ان کی اولاد پر حلال تھا لیکن پھر توراۃ میں اور اس کے بعد حرام ہوگیا ابراہیم ؑ کو بیٹے کی قربانی کا حکم دیا پھر قربان کرنے سے پہلے ہی منسوخ کردیا بنو اسرائیل کو حکم دیا جاتا ہے کہ بچھڑا پوجنے میں جو شامل تھے سب اپنی جانوں کو قتل کر ڈالیں لیکن پھر بہت سے باقی تھے کہ یہ حکم منسوخ ہوجاتا ہے اسی طرح کے اور بہت سے واقعات موجود ہیں اور خود یہودیوں کو ان کا اقرار ہے لیکن پھر بھی قرآن اور نبی آخر الزمان ﷺ کو یہ کہہ کر نہیں مانتے کہ اس سے اللہ کے کلام میں نسخ لازم آتا ہے اور وہ محال ہے، بعض لوگ جو اس کے جواب میں لفظی بحثوں میں پڑجاتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ اس سے دلالت نہیں بدلتی اور مقصود وہی رہتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بشارت یہ لوگ اپنی کتابوں میں پاتے تھے آپ کی تابعداری کا حکم بھی دیکھتے تھی یہ بھی معلوم تھا کہ آپ کی شریعت کے مطابق جو عمل نہ ہو وہ مقبول نہیں ہوگیا یہ اور بات ہے کہ کوئی کہے کہ اگلی شریعتیں صرف آپ کے آنے تک ہی تھیں اس لئے یہ شریعت ان کی ناسخ نہیں یا کہے کہ ناسخ ہے بہر صورت رسول مقبول ﷺ کی تابعداری کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ اس لئے کہ آپ آخری کتاب اللہ کے پاس سے ابھی ابھی لے کر آئے ہیں پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نسخ کے جواز کو بیان فرما کر اس ملعون گروہ یہود کا رد کیا سورة آل عمران میں بھی جس کے شروع میں بنی اسرائیل کو خطا کیا گیا ہے نسخ کے واقع ہونے کا ذکر موجود ہے فرماتا ہے آیت (کل الطعام) الخ یعنی سبھی کھانے بنی اسرائیل پر حلال تھے مگر جس چیز کو حضرت اسرائیل نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا اس کی مزید تفسیر وہیں آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ مسلمان کل کے کل متفق ہیں کہ احکام باری تعالیٰ میں نسخ کا ہونا جائز ہے بلکہ واقع بھی ہے اور پروردگار کی حکمت بالغہ کا دستور بھی یہی ہے ابو مسلم اصبہانی مفسر نے لکھا ہے کہ قرآن میں نسخ واقع نہیں ہوتا لیکن اس کا یہ قول ضعیف اور مردود اور محض غلط اور جھوٹ ہے جہاں نسخ قرآن موجود ہے اس کے جاب میں گو بعض نے بہت محنت سے اس کی تردید کی ہے لیکن محض بےسود دیکھئے پہلے اس عورت کی عدت جس کا خاوند مرجائے ایک سال تھی لیکن پھر چار مہینے دس دن ہوئی اور دونوں آیتیں قرآن پاک میں موجود ہیں قبلہ پہلے بیت المقدس تھا۔ پھر کعبتہ اللہ ہوا اور دوسری آیت صاف اور پہلا حکم بھی ضمناً مذکور ہے پہلے کے مسلمانوں کو حکم تھا کہ ایک ایک مسلمان دس دس کافروں سے لڑے اور ان کے مقابلے سے نہ ہٹے لیکن یہ پھر حکم منسوخ کر کے دو دو کے مقابلہ میں صبر کرنے کا حکم ہوا اور دونوں آیتیں کلام اللہ میں موجود ہیں پہلے حکم تھا کہ نبی ﷺ سے سرگوشی کرنے سے پہلے کچھ صدقہ دے یا کرو پھر یہ حکم منسوخ ہوا اور دونوں آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں وغیرہ واللہ اعلم۔

(تبدیلی یا تنسیخ۔ اللہ تعالیٰ مختار کل ہے حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں نسخ کے معنی بدل کے ہیں مجاہد فرماتے ہیں مٹانے کے معنی ہیں جو (کبھی) لکھنے میں باقی رہتا ہے اور حکم بدل جاتا ہے حضرت ابن مسعود کے شاگرد اور ابو العالیہ اور محمد بن کعب قرظی سے بھی اسی طرح مروی ہے ضحاک فرماتے ہیں بھلا دینے کے معنی ہیں عطا فرماتے ہیں چھوڑ دینے کے معنی ہیں سدی کہتے ہیں اٹھا لینے کے معنی ہیں جیسے آیت الشیخ والشیختہ اذا زنیا فارجمو ھما البتتہ یعنی زانی مرد و عورت کو سنگسار کردیا کرو اور جیسے آیت (لو کان لابن ادم و ادیان من ذھب لابتغی لھما ثالثا یعنی ابن آدم کو اگر دو جنگل سونے کے مل جائیں جب بھی وہ تیسرے کی جستجو میں رہے گا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ احکام میں تبدیلی ہم کردیا کرتے ہیں حلال کو حرام حرام کو حلال جائز کو ناجائز ناجائز کو جائز وغیرہ امر و نہی روک اور رخصت جائز اور ممنوع کاموں میں نسخ ہوتا ہے ہاں جو خبریں دی گئی ہیں واقعات بیان کئے گئے ہیں ان میں رد و بدل و ناسخ و منسوخ نہیں ہوتا، نسخ کے لفظی معنی نقل کرنے کے بھی ہیں جیسے کتاب کے ایک نسخے سے دوسرا نقل کرلینا۔ اسی طرح یہاں بھی چونکہ ایک حکم کے بدلے دوسرا حکم ہوتا ہے اس لئے نسخ کہتے ہیں خواہ وہ حکم کا بدل جانا ہو خواہ الفاظ کا۔ علماء اصول کی عبارتیں اس مسئلہ میں گو مختلف ہیں مگر معنی کے لحاظ سے سب قریب قریب ایک ہی ہیں۔ نسخ کے معنی کسی حکم شرعی کا پچھلی دلیل کی رو سے ہٹ جانا ہے کبھی ہلکی چیز کے بدلے بھاری اور کبھی بھاری کے بدلہ ہلکی اور کبھی کوئی بدل ہی نہیں ہوتا ہے نسخ کے احکام اس کی قسمیں اس کی شرطیں وغیرہ ہیں اس کے لئے اس فن کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہئے تفصیلات کی بسط کی جگہ نہیں طبرانی میں ایک روایت ہے کہ دو شخصوں نے نبی ﷺ سے ایک سورت یاد کی تھی اسے وہ پڑھتے رہے ایک مرتبہ رات کی نماز میں ہرچند اسے پڑھنا چاہا لیکن یاد نے ساتھ نہ دیا گھبرا کر خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور حضور ﷺ سے اس کا ذکر کیا آپ نے فرمایا یہ منسوخ ہوگئی اور بھلا دی گئی دلوں میں نکال لی گئی تم غم نہ کرو بےفکر ہوجاؤ حضرت زہری نون خفیفہ پیش کے ساتھ پڑھتے تھے اس کے ایک راوی سلیمان بن راقم ضعیف ہیں۔ ابوبکر انباری نے بھی دوسری سند سے اسے مرفوع روایت کیا ہے جیسے قرطبی کا کنا ہے۔ " ننسھا " کو " ننساھا " بھی پڑھا گیا ہے۔ " ننساھا " کے معنی موخر کرنے پیچھے ہٹا دینے کے ہیں۔ حضرت ابن عباس اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں یعنی ہم اسے چھوڑ دیتے ہیں منسوخ کرتے ہیں ابن مروی ہے ہم اسے موخر کرتے ہیں اور ملتوی کرتے ہیں عطیہ عوفی کہتے ہیں۔ یعنی منسوخ نہیں کرتے سدی اور ربیع بھی یہی کہتے ہیں ضحاک فرماتے ہیں ناسخ کو منسوخ کے پیچھے رکھتے ہیں ابو العالیہ کہتے ہیں اپنے پاس اسے روک لیتے ہیں حضرت عمر نے خطبہ میں " ننسلھا " پڑھا اور اس کے معنی موخر ہونے کے بیان کئے ننسھا جب پڑھیں تو یہ مطلب ہوگا کہ ہم اسے بھلا دیں۔ اللہ تعالیٰ جس حکم کو اٹھا لینا چاہتا تھا وہ نبی ﷺ کو بھلا دیتا تھا اس طرح وہ آیت اٹھ جاتی تھی۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ننسھا پڑھتے تھے تو ان سے قسم بن ربیعہ نے کہا کہ سعید بن مسیب تو ننساھا پڑھتے ہیں تو آپ نے فرمایا سعید پر یا سعید کے خاندان پر تو قرآن نہیں اترا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت (سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰٓى) 87۔ الاعلی :6) ہم تجھے پڑھائیں گے جسے تو نہ بھولے گا اور فرماتا ہے آیت (وَاذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيْتَ) 18۔ الکہف :24) جب بھول جائے تو اپنے رب کو یاد کر۔ حضرت عمر کا فرمان ہے کہ علی سب سے اچھا فیصلہ کرنے والے ہیں اور ابی سے زیادہ اچھے قرآن کے قاری ہیں اور ہم ابی کا قول چھوڑ دیتے ہیں اس لئے کہ ابی کہتے ہیں میں نے تو جو کچھ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے اسے نہیں چھوڑوں گا اور فرماتے ہیں وما نسخ الخ یعنی ہم جو منسوخ کریں یا بھلا دیں اس سے بہتر لاتے ہیں یا اس جیسا (بخاری و مسند احمد) اس سے بہتر ہوتا ہے یعنی بندوں کی سہولت اور ان کے آرام کے لحاظ سے یا اس جیسا ہوتا ہے لیکن مصلحت الٰہی اس سابقہ چیز میں ہوتی ہے مخلوق میں تغیر و تبدل کرنے والا پیدائش اور حکم کا اختیار رکھنے والا۔ ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے جس طرح جسے چاہتا ہے بناتا ہے جسے چاہے نیک بختی دیتا ہے جسے چاہے بدبختی دیتا ہے جسے چاہے تندرستی جسے چاہے بیماری، جسے چاہے توفیق جسے چاہے بےنصیب کر دے۔ بندوں میں جو حکم چاہے جاری کرے جسے چاہے حلال جسے چاہے حرام فرما دے جسے چاہے رخصت دے جسے چاہے روک دے وہ حاکم مطلق ہے جیسے چاہے احکام جاری فرمائے کوئی اس کے حکم کو رد نہیں کرسکتا جو چاہے کرے کوئی اس سے باز پرس نہیں کرسکتا وہ بندوں کو آزماتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وہ نبیوں اور رسولوں کے کیسے تابعدار ہیں کسی چیز کا کسی سے باز پرس نہیں کرسکتا وہ بندوں کو آزماتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وہ نبیوں اور رسولوں کے کیسے تابعدار ہیں کسی چیز کا مصلحت کی وجہ سے حکم دیا پھر مصلحت کی وجہ سے ہی اس حکم کو ہٹا دیا اب آزمائش ہوتی ہے نیک لوگ اس وقت بھی اطاعت کے لئے کمر بستہ تھے اور اب بھی ہیں لیکن بد باطن لوگ باتیں بناتے ہیں اور ناک بھوں چڑھاتے ہیں حالانکہ تمام مخلوق کو اپنے خالق کی تمام باتیں ماننی چاہئیں اور ہر حال میں رسول ﷺ کی پیروی کرنی چاہئے اور جو وہ کہے اسے دل سے سچا ماننا چاہئے، جو حکم دے بجا لانا چاہئے جس سے روکے رک جانا چاہئے، اس مقام پر بھی یہودیوں کا زبردست رد ہے اور ان کے کفر کا بیان ہے کہ وہ نسخ کے قائل نہ تھے بعض تو کہتے تھے اس میں عقلی محال لازم آتا ہے اور بعض نقلی محال بھی مانتے تھے اس آیت میں گو خطاب فخر عالم ﷺ کو ہے مگر دراصل یہ کلام یہودیوں کو سنانا ہے جو انجیل کو اور قرآن کو اس وجہ سے نہیں مانتے تھے کہ ان میں بعض احکام توراۃ کے منسوخ ہوگئے تھے اور اسی وجہ سے وہ ان نبیوں کی نبوت کے بھی منکر ہوگئے تھے اور صرف عناد وتکبر کی بنا تھی ورنہ عقلاً نسخ محال نہیں اس لئے کہ جس طرح وہ اپنے کاموں میں با اختیار رہے اسی طرح اپنے حکموں میں بھی با اختیار رہے جو چاہے اور جب چاہے پیدا کرے جسے چاہے اور جس طرح چاہے اور جس وقت چاہے رکھے۔ اسی طرح جو چاہے اور جس وقت چاہے حکم دے اس حاکموں کے حاکم کا حاکم کون ؟ اسی طرح نقلاً بھی یہ ثابت شدہ امر ہے اگلی کتابوں اور پہلی شریعتوں میں موجود ہے حضرت آدم کی بیٹیاں بیٹے آپس میں بھائی بہن ہوتے تھے لیکن نکاح جائز تھا پھر اسے حرام کردیا نوح ؑ جب کشتی سے اترتے ہیں تب تمام حیوانات کا کھانا حلال تھا لیکن پھر بعض کی حلت منسوخ ہوگئی دو بہنوں کا نکاح اسرائیل اور ان کی اولاد پر حلال تھا لیکن پھر توراۃ میں اور اس کے بعد حرام ہوگیا ابراہیم ؑ کو بیٹے کی قربانی کا حکم دیا پھر قربان کرنے سے پہلے ہی منسوخ کردیا بنو اسرائیل کو حکم دیا جاتا ہے کہ بچھڑا پوجنے میں جو شامل تھے سب اپنی جانوں کو قتل کر ڈالیں لیکن پھر بہت سے باقی تھے کہ یہ حکم منسوخ ہوجاتا ہے اسی طرح کے اور بہت سے واقعات موجود ہیں اور خود یہودیوں کو ان کا اقرار ہے لیکن پھر بھی قرآن اور نبی آخر الزمان ﷺ کو یہ کہہ کر نہیں مانتے کہ اس سے اللہ کے کلام میں نسخ لازم آتا ہے اور وہ محال ہے، بعض لوگ جو اس کے جواب میں لفظی بحثوں میں پڑجاتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ اس سے دلالت نہیں بدلتی اور مقصود وہی رہتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بشارت یہ لوگ اپنی کتابوں میں پاتے تھے آپ کی تابعداری کا حکم بھی دیکھتے تھی یہ بھی معلوم تھا کہ آپ کی شریعت کے مطابق جو عمل نہ ہو وہ مقبول نہیں ہوگیا یہ اور بات ہے کہ کوئی کہے کہ اگلی شریعتیں صرف آپ کے آنے تک ہی تھیں اس لئے یہ شریعت ان کی ناسخ نہیں یا کہے کہ ناسخ ہے بہر صورت رسول مقبول ﷺ کی تابعداری کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ اس لئے کہ آپ آخری کتاب اللہ کے پاس سے ابھی ابھی لے کر آئے ہیں پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نسخ کے جواز کو بیان فرما کر اس ملعون گروہ یہود کا رد کیا سورة آل عمران میں بھی جس کے شروع میں بنی اسرائیل کو خطا کیا گیا ہے نسخ کے واقع ہونے کا ذکر موجود ہے فرماتا ہے آیت (کل الطعام) الخ یعنی سبھی کھانے بنی اسرائیل پر حلال تھے مگر جس چیز کو حضرت اسرائیل نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا اس کی مزید تفسیر وہیں آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ مسلمان کل کے کل متفق ہیں کہ احکام باری تعالیٰ میں نسخ کا ہونا جائز ہے بلکہ واقع بھی ہے اور پروردگار کی حکمت بالغہ کا دستور بھی یہی ہے ابو مسلم اصبہانی مفسر نے لکھا ہے کہ قرآن میں نسخ واقع نہیں ہوتا لیکن اس کا یہ قول ضعیف اور مردود اور محض غلط اور جھوٹ ہے جہاں نسخ قرآن موجود ہے اس کے جاب میں گو بعض نے بہت محنت سے اس کی تردید کی ہے لیکن محض بےسود دیکھئے پہلے اس عورت کی عدت جس کا خاوند مرجائے ایک سال تھی لیکن پھر چار مہینے دس دن ہوئی اور دونوں آیتیں قرآن پاک میں موجود ہیں قبلہ پہلے بیت المقدس تھا۔ پھر کعبتہ اللہ ہوا اور دوسری آیت صاف اور پہلا حکم بھی ضمناً مذکور ہے پہلے کے مسلمانوں کو حکم تھا کہ ایک ایک مسلمان دس دس کافروں سے لڑے اور ان کے مقابلے سے نہ ہٹے لیکن یہ پھر حکم منسوخ کر کے دو دو کے مقابلہ میں صبر کرنے کا حکم ہوا اور دونوں آیتیں کلام اللہ میں موجود ہیں پہلے حکم تھا کہ نبی ﷺ سے سرگوشی کرنے سے پہلے کچھ صدقہ دے یا کرو پھر یہ حکم منسوخ ہوا اور دونوں آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں وغیرہ واللہ اعلم۔

کثرت سوال حجت بازی کے مترادف ہے !اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو روکتے ہوئے فرماتا ہے کہ کسی واقعہ کے ہونے سے پہلے میرے نبی سے فضول سوال نہ کیا کو۔ یہ کثرت سوال کی عادت بہت بری ہے جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاۗءَ) 5۔ المائدہ :101) ایمان والو ان چیزوں کا سوال نہ کیا کرو جو اگر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں برا لگے گا اور اگر تم قرآن کے نازل ہونے کے زمانہ میں ایسے سوالوں کا سلسلہ جاری رکھو گے تو یہ باتیں ظاہر کردی جائیں گی۔ کسی بات کے واقع ہونے سے پہلے اس کی نسبت سوال کرنے میں خوف یہ ہے کہ کہیں اس سوال کی وجہ سے وہ حرام نہ ہوجائیں صحیح حدیث میں ہے کہ مسلمانوں میں سے بڑا مجرم وہ ہے جو اس چیز کے بارے میں سوال کرے جو حرام نہ تھی پھر اس کے سوال سے حرام ہوگئی ایک مرتبہ حضور ﷺ سے سوال کیا گیا۔ کہ " ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد کو پائے تو کیا کرے ؟ اگر لوگوں کو خبر کرے تو یہ بھی بڑی بےشرمی کی بات ہے اور اگر چپ ہوجائے تو بڑی بےغیرتی کی بات ہے ؟ حضور ﷺ کو یہ سوال بہت برا معلوم ہوا آخر اسی شخص کو ایسا واقعہ پیش آیا اور لعان کا حکم نازل ہوا۔ صحیحین کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ فضول بکواس، مال کو ضائع کرنے اور زیادہ پوچھ گچھ سے منع فرمایا کرتے تھے۔ صحیح مسلم میں ہے میں جب تک کچھ نہ کہوں، تم بھی نہ پوچھو تم سے پہلے لوگوں کو اسی بدخصلت نے ہلاک کردیا کہ وہ بکثرت سوال کرتے تھے اور اپنے نبیوں کے سامنے اختلاف کرتے تھے۔ جب میں تمہیں کوئی حکم دوں تو اپنی طاقت کے مطابق بجا لاؤ اور اگر منع کروں تو رک جایا کرو یہ آپ نے اس وقت فرمایا تھا جب لوگوں کو خبر دی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے تو کسی نے کہا حضور ﷺ ہر سال ؟ آپ ﷺ خاموش ہوگئے اس نے پھر پوچھا آپ نے کوئی جواب نہ دیا اس نے تیسری دفعہ پھر یہی سوال کیا آپ نے فرمایا ہر سال نہیں لیکن اگر میں ہاں کہ دیتا تو ہر سال فرض ہوجاتا اور پھر تم کبھی بھی اس حکم کو بجا نہ لاسکتے پھر آپ نے مندرجہ بالا فرمان ارشاد فرمایا حضرت انس فرماتے ہیں جب ہمیں آپ سے سوال کرنے سے روک دیا گیا تو حضور ﷺ سے پوچھتے ہیں ہیبت کھاتے تھے چاہتے تھے کہ کوئی بادیہ نشین ناواقف شخص آجائے وہ پوچھے تو ہم بھی سن لیں۔ حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں میں کوئی سوال حضور ﷺ سے کرنا چاہتا تھا تو سال سال بھر گزر جاتا تھا کہ مارے ہیبت کے پوچھنے کی جرات نہیں ہوتی تھی ہم تو خواہش رکھتے تھے کہ کوئی اعرابی آئے اور حضور ﷺ سے سوال کر بیٹھے پھر ہم بھی سن لیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اصحاب محمد ﷺ سے بہتر کوئی جماعت نہیں انہوں نے حضور ﷺ سے صرف بارہ ہی مسئلے پوچھے جو سب سوال مع جواب کے قرآن پاک میں مذکورہ ہیں جیسے شراب وغیرہ کا سوال حرمت والے مہینوں کی بابت کا سوال، یتیموں کی بابت کا سوال وغیرہ وغیرہ۔ یہاں پر " ام " یا " تو بل " کے معنی میں ہے یا اپنے اصلی معنی میں ہے یعنی سوال کے بارے میں جو یہاں پر انکاری ہے یہ حکم مومن کافر سب کو ہے کیونکہ حضور ﷺ کی رسالت سب کی طرف تھی قرآن میں اور جگہ ہے آیت (يَسْــَٔــلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ) 4۔ النسآء :53) اہل کتاب تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ان پر کوئی آسمانی کتاب اتارے انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ سے اس سے بھی بڑا سوال کیا تھا کہ اللہ کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں جس ظلم کی وجہ سے انہیں ایک تند و تیز آواز سے ہلاک کردیا گیا۔ رافع بن حرملہ اور وہب بن زید نے کہا تھا کہ یا رسول اللہ ﷺ کوئی آسمانی کتاب ہم پر نازل کیجئے جسے ہم پڑھیں اور ہمارے شہروں میں دریا جاری کردیں تو ہم آپ کو مان لیں اس پر یہ آیت اتری۔ ابو العالیہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ کاش کہ ہمارے گناہوں کا کفارہ بھی اسی طرح ہوجاتا جس طرح بنی اسرائیل کے گناہوں کا کفارہ تھا آپ نے یہ سنتے ہی تین دفعہ جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ " نہیں الہ نہیں " ہم یہ نہیں چاہتے پھر فرمایا سنو بنو اسرائیل میں سے جہاں کوئی گناہ کرتا اس کے دروازے پر قدرتاً لکھا ہوا پایا جاتا اور ساتھ ہی اس کا کفارہ بھی لکھا ہوا ہوتا تھا اب یا تو دنیا کی رسوائی کو منظور کر کے کفارہ ادا کر دے اور اپنے پوشیدہ گناہوں کو ظاہر کرے یا کفارہ نہ دے اور آخرت کی رسوائی منظور کرے لیکن تم سے اللہ تعالیٰ نے فرما دیا آیت (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا) 4۔ النسآء :110) یعنی جس سے کوئی برا کام ہوجائے یا وہ اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر استغفار کرے تو وہ اللہ کو بہت بڑا بخشش اور مہربانی کرنے والا پائے گا۔ اسی طرح ایک نماز دوسری نماز تک گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہے پھر جمعہ دوسرے جمعہ تک کفارہ ہوجاتا ہے سنو جو شخص برائی کا ارادہ کرے لیکن برائی نہ کرے تو برائی لکھی نہیں جاتی اور اگر کر گزرے تو ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے اور اگر بھلائی کا ارادہ کرے پھر گو نہ کرے لیکن بھلائی لکھ لی جاتی ہے اور اگر کر بھی لے تو دس بھلائیاں لکھی جاتی ہیں اب بتاؤ تم اچھے رہے یا بنی اسرائیل ؟ تم بنی اسرائیل سے بہت ہی اچھے ہو ہاں باوجود اتنے کرم اور رحم کے پھر بھی کوئی ہلاک ہو تو سمجھو کہ یہ خود ہلاک ہونے والا ہی تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی قریشیوں نے حضور ﷺ سے کہا کہ اگر صفا پہاڑ سونے کا ہوجائے تو ہم ایمان لاتے ہیں آپ نے فرمایا اچھا لیکن پھر مائدہ (آسمانی دستر خوان) مانگنے والوں کا جو انجام ہوا وہی تمہارا بھی ہوگا اس پر وہ انکاری ہوگئے اور اپنے سوال کو چھوڑ دیا مراد یہ ہے کہ تکبر عناد سرکشی کے ساتھ نبیوں سے سوال کرنا نہایت مذموم حرکت ہے جو کفر کو ایمان کے بدلے مول لے اور آسانی کو سختی سے بدلے وہ سیدھی راہ سے ہٹ کر جہالت و ضلالت میں گھر جاتا ہے اسی طرح غیر ضروری سوال کرنے والا بھی جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ) 14۔ ابراہیم :28) کیا تو انہیں نہیں دیکھتا جو اللہ کی نعمت کو کفر سے بدلتے ہیں اور اپنی قوم کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں وہ جہنم میں داخل ہوں گے اور وہ بڑی بری قرار گاہ ہے۔

قومی عصبیت باعث شقاوت ہے ابن عباس سے مروی ہے کہ حی بن اخطب اور ابو یاسر بن اخطب یہ دونوں یہودی سب سے زیادہ مسلمانوں کے حاسد تھے لوگوں کو اسلام سے روکتے تھے اور عربوں سے جلتے تھے ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کعب بن اشرف کا بھی یہی شغل تھا زہری کہتے ہیں اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے یہ بھی یہودی تھا اور اپنے شعروں میں حضرت ﷺ کی ہجو کیا کرتا تھا گو ان کی کتاب میں حضور ﷺ کی تصدیق موجود تھی اور یہ بخوبی حضور ﷺ کی صفتیں جانتے تھے اور آپ کو اچھی طرح پہچانتے تھے پھر یہ بھی دیکھ رہے تھے کہ قرآن ان کی کتاب کی تصدیق کر رہا ہے ایک امی اور ان پڑھ وہ کتاب پڑھتا ہے جو سراسر معجزہ ہے لیکن صرف حسد کی بنا پر کہ یہ عرب میں آپ کیوں مبعوث ہوئے کفر و افکار پر آمداہ ہوگئے بلکہ اور لوگوں کو بھی بہکانا شروع کردیا پس اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم دیا کہ تم درگزر کرتے رہو اور اللہ کے حکم کا اور اس کے فیصلے کا انتظار کرو۔ جیسے اور جگہ فرمایا تمہیں مشرکوں اور اہل کتاب سے بہت کڑوی باتیں سننی پڑیں گی مگر بعد میں حکم نازل فرما دیا کہ ان مشرکین سے اب دب کر نہ رہو ان سے لڑائی کرنے کی تمہیں اجازت ہے حضرت اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ حضور اور آپ کے اصحاب مشرکین اور اہل کتاب سے درگزر کرتے تھے اور ان کی ایذاء اور تکلیف سہتے تھی اور اس آیت پر عمل پیرا تھے یہاں تک کہ دوسری آیتیں اتریں اور یہ حکم ہٹ گیا اب ان سے بدلہ لینے اور اپنا بچاؤ کرنے کا حکم ملا اور پہلی ہی لڑائی جو بدر کے میدان میں ہوئی اس میں کفار کو شکست فاش ہوئی اور ان کے بڑے بڑے سرداروں کی لاشیں میدان میں بچھ گئیں پھر مومنوں کو رغبت دلائی جاتی ہے کہ تم نماز اور زکوٰۃ وغیرہ کی حفاظت کرو یہ تمہیں آخرت کے عذابوں سے بچانے کے علاوہ دنیا میں بھی غلبہ اور نصرت دے گی پھر فرمایا کہ اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہر نیک و بدعمل کا بدلہ دونوں جہاں میں دے گا اس سے کوئی چھوٹا، بڑا، چھپا، کھلا، اچھا، برا، عمل پوشیدہ نہیں یہ اس لئے فرمایا کہ لوگ اطاعت کی طرف توجہ دیں اور نافرمانی سے بچیں مبصر کے بدلے بصیر کہا جیسے مبدع کے بدلے بدیع اور مولم کے بدلے الیم۔ ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس آیت میں سمیع بصیر پڑھتے تھے اور فرماتے تھے اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھتا ہے۔

قومی عصبیت باعث شقاوت ہے ابن عباس سے مروی ہے کہ حی بن اخطب اور ابو یاسر بن اخطب یہ دونوں یہودی سب سے زیادہ مسلمانوں کے حاسد تھے لوگوں کو اسلام سے روکتے تھے اور عربوں سے جلتے تھے ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کعب بن اشرف کا بھی یہی شغل تھا زہری کہتے ہیں اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے یہ بھی یہودی تھا اور اپنے شعروں میں حضرت ﷺ کی ہجو کیا کرتا تھا گو ان کی کتاب میں حضور ﷺ کی تصدیق موجود تھی اور یہ بخوبی حضور ﷺ کی صفتیں جانتے تھے اور آپ کو اچھی طرح پہچانتے تھے پھر یہ بھی دیکھ رہے تھے کہ قرآن ان کی کتاب کی تصدیق کر رہا ہے ایک امی اور ان پڑھ وہ کتاب پڑھتا ہے جو سراسر معجزہ ہے لیکن صرف حسد کی بنا پر کہ یہ عرب میں آپ کیوں مبعوث ہوئے کفر و افکار پر آمداہ ہوگئے بلکہ اور لوگوں کو بھی بہکانا شروع کردیا پس اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم دیا کہ تم درگزر کرتے رہو اور اللہ کے حکم کا اور اس کے فیصلے کا انتظار کرو۔ جیسے اور جگہ فرمایا تمہیں مشرکوں اور اہل کتاب سے بہت کڑوی باتیں سننی پڑیں گی مگر بعد میں حکم نازل فرما دیا کہ ان مشرکین سے اب دب کر نہ رہو ان سے لڑائی کرنے کی تمہیں اجازت ہے حضرت اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ حضور اور آپ کے اصحاب مشرکین اور اہل کتاب سے درگزر کرتے تھے اور ان کی ایذاء اور تکلیف سہتے تھی اور اس آیت پر عمل پیرا تھے یہاں تک کہ دوسری آیتیں اتریں اور یہ حکم ہٹ گیا اب ان سے بدلہ لینے اور اپنا بچاؤ کرنے کا حکم ملا اور پہلی ہی لڑائی جو بدر کے میدان میں ہوئی اس میں کفار کو شکست فاش ہوئی اور ان کے بڑے بڑے سرداروں کی لاشیں میدان میں بچھ گئیں پھر مومنوں کو رغبت دلائی جاتی ہے کہ تم نماز اور زکوٰۃ وغیرہ کی حفاظت کرو یہ تمہیں آخرت کے عذابوں سے بچانے کے علاوہ دنیا میں بھی غلبہ اور نصرت دے گی پھر فرمایا کہ اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہر نیک و بدعمل کا بدلہ دونوں جہاں میں دے گا اس سے کوئی چھوٹا، بڑا، چھپا، کھلا، اچھا، برا، عمل پوشیدہ نہیں یہ اس لئے فرمایا کہ لوگ اطاعت کی طرف توجہ دیں اور نافرمانی سے بچیں مبصر کے بدلے بصیر کہا جیسے مبدع کے بدلے بدیع اور مولم کے بدلے الیم۔ ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس آیت میں سمیع بصیر پڑھتے تھے اور فرماتے تھے اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھتا ہے۔

شیطان صفت مغرور یہودی یہاں پر یہودیوں اور نصرانیوں کے غرور کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنے سوا کسی کو کچھ بھی نہیں سمجھتے اور صاف کہتے ہیں کہ ہمارے سوا جنت میں کوئی نہیں جائے گا سورة مائدہ میں ان کا ایک قول یہ بھی بیان ہوا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اولاد اور اس کے محبوب ہیں جس کے جواب میں قرآن نے کہا کہ پھر تم پر قیامت کے دن عذاب کیوں ہوگا ؟ اسی طرح کے مفہوم کا بیان پہلے بھی گزرا ہے کہ ان کا دعویٰ یہ بھی تھا کہ ہم چند دن جہنم میں رہیں گے جس کے جواب میں ارشاد باری ہوا کہ یہ دعویٰ بھی محض بےدلیل ہے اسی طرح یہاں ان کے ایک دعویٰ کی تردید کی اور کہا کہ لاؤ دلیل پیش کرو، انہیں عاجز ثابت کر کے پھر فرمایا کہ ہاں جو کوئی بھی اللہ کا فرمانبردار ہوجائے اور خلوص و توحید کے ساتھ نیک عمل کرے اسے پورا پورا اجر وثواب ملے گا، جیسے اور جگہ فرمایا کہ یہ اگر جھگڑیں تو ان سے کہ دو کہ میں اور میرے ماننے والوں نے اپنے چہرے اللہ کے سامنے متوجہ کردیئے ہیں۔ غرض یہ ہے کہ اخلاص اور مطابقت سنت ہر عمل کی قبولیت کے لئے شرط ہے تو اسلم وجھہ سے مراد خلوص اور وھو محسن سے مراد اتباع سنت ہے نرا خلوص بھی عمل کو قمبول نہیں کرا سکتا جب تک سنت کی تابعداری نہ ہو حدیث شریف میں ہے جو شخص ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے (مسلم) پس رہبانیت کا عمل گو خلوص پر مبنی ہو لیکن تاہم اتباع سنت نہ ہونے کی وجہ سے وہ مردود ہے ایسے ہی اعمال کی نسبت قرآن کریم کا ارشاد ہے آیت (وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاۗءً مَّنْثُوْرًا) 25۔ الفرقان :23) یعنی انہوں نے جو اعمال کئے تھے ہم نے سب رد کردیئے دوسری جگہ فرمایا کافروں کے اعمال ریت کے چمکیلے تودوں کی طرح ہیں جنہیں پیاسا پانی سمجھتا ہے لیکن جب اس کے پاس جاتا ہے تو کچھ نہیں پاتا اور جگہ ہے کہ قیامت کے دن بہت سے چہروں پر ذلت برستی ہوگی جو عمل کرنے والے تکلیفیں اٹھانے والے ہوں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے اور گرم کھولتا ہوا پانی انہیں پلایا جائے گا۔ حضرت امیر المومنین عمر بن خطاب نے اس آیت کی تفسیر میں مراد یہود و نصاریٰ کے علماء اور عابد لئے ہیں یہ بھی یاد رہے کہ کوئی عمل گو بظاہر سنت کے مطابق ہو لیکن عمل میں اخلاص نہ ہو مقصود اللہ کی خوشنودی نہ ہو تو وہ عمل بھی مردود ہے ریا کار اور منافق لوگوں کے اعمال کا بھی یہی حال ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ منافق اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں اور وہ انہیں دھوکہ دیتا ہے اور نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سستی سے کھڑے ہوتے ہیں صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے عمل کرتے ہیں اور اللہ کا ذکر بہت ہی کم کرتے ہیں اور فرمایا آیت (فویل للمصلین) ان نمازیوں کے لئے ویل ہے جو اپنی نماز سے غافل ہیں جو ریاکاری کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی روکتے پھرتے ہیں اور جگہ ارشاد ہے آیت (فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا) 18۔ الکہف :110) جو شخص اپنے رب کی ملاقات کا آرزو مند ہو اسے نیک عمل کرنا چاہئے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرنا چاہئے پھر فرمایا انہیں ان کا رب اجر دے گا اور ڈر خوف سے بچائے گا آخرت میں انہیں ڈر نہیں اور دنیا کے چھوڑنے کا ملال نہیں۔ پھر یہود و نصاریٰ کی آپس کی بغض و عداوت کا ذکر فرمایا، نجران کے نصرانیوں کا وفد جب نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو ان کے پاس یہودیوں کے علماء بھی آئے اس وقت ان لوگوں نے انہیں اور انہوں نے ان کو گمراہ بتایا حالانکہ دونوں اہل کتاب ہیں توراۃ میں انجیل کی تصدیق اور انجیل میں توراۃ کی تصدیق موجود ہے پھر ان کا یہ قول کس قدر لغو ہے، اگلے یہود و نصاریٰ دین حق پر قائم تھے لیکن پھر بدعتوں اور فتنہ پردازیوں کی وجہ سے دین ان سے چھن گیا اب نہ یہود ہدایت پر تھے نہ نصرانی پھر فرمایا کہ نہ جاننے والوں نے بھی اسی طرح کہا اس میں بھی اشارہ انہی کی طرف ہے اور بعض نے کہا مراد اس سے یہود و نصاریٰ سے پہلے کے لوگ ہیں۔ بعض کہتے ہیں عرب لوگ مراد ہیں امام ابن جریر اس سے عام لوگ مراد لیتے ہیں گویا سب شامل ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرمایا کہ اختلاف کا فیصلہ قیامت کو خود اللہ تعالیٰ کرے گا جس دن کوئی ظلم و زور نہیں ہوگا اور یہی مضمون دوسری جگہ بھی آیا ہے سورة حج میں ارشاد ہے آیت (اِنَّ اللّٰهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ) 22۔ الحج :17) یعنی مومنوں اور یہودیوں اور صابیوں اور نصرانیوں اور مجوسیوں اور مشرکوں میں قیامت کے دن اللہ فیصلہ فرمائے گا اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ اور موجود ہے اور جگہ ارشاد ہے آیت (قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بالْحَقِّ ۭ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ) 34۔ سبأ :26) کہہ دے کر ہمارا رب ہمیں جمع کرے گا پھر حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا وہ باخبر فیصلے کرنے والا ہے۔

شیطان صفت مغرور یہودی یہاں پر یہودیوں اور نصرانیوں کے غرور کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنے سوا کسی کو کچھ بھی نہیں سمجھتے اور صاف کہتے ہیں کہ ہمارے سوا جنت میں کوئی نہیں جائے گا سورة مائدہ میں ان کا ایک قول یہ بھی بیان ہوا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اولاد اور اس کے محبوب ہیں جس کے جواب میں قرآن نے کہا کہ پھر تم پر قیامت کے دن عذاب کیوں ہوگا ؟ اسی طرح کے مفہوم کا بیان پہلے بھی گزرا ہے کہ ان کا دعویٰ یہ بھی تھا کہ ہم چند دن جہنم میں رہیں گے جس کے جواب میں ارشاد باری ہوا کہ یہ دعویٰ بھی محض بےدلیل ہے اسی طرح یہاں ان کے ایک دعویٰ کی تردید کی اور کہا کہ لاؤ دلیل پیش کرو، انہیں عاجز ثابت کر کے پھر فرمایا کہ ہاں جو کوئی بھی اللہ کا فرمانبردار ہوجائے اور خلوص و توحید کے ساتھ نیک عمل کرے اسے پورا پورا اجر وثواب ملے گا، جیسے اور جگہ فرمایا کہ یہ اگر جھگڑیں تو ان سے کہ دو کہ میں اور میرے ماننے والوں نے اپنے چہرے اللہ کے سامنے متوجہ کردیئے ہیں۔ غرض یہ ہے کہ اخلاص اور مطابقت سنت ہر عمل کی قبولیت کے لئے شرط ہے تو اسلم وجھہ سے مراد خلوص اور وھو محسن سے مراد اتباع سنت ہے نرا خلوص بھی عمل کو قمبول نہیں کرا سکتا جب تک سنت کی تابعداری نہ ہو حدیث شریف میں ہے جو شخص ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے (مسلم) پس رہبانیت کا عمل گو خلوص پر مبنی ہو لیکن تاہم اتباع سنت نہ ہونے کی وجہ سے وہ مردود ہے ایسے ہی اعمال کی نسبت قرآن کریم کا ارشاد ہے آیت (وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاۗءً مَّنْثُوْرًا) 25۔ الفرقان :23) یعنی انہوں نے جو اعمال کئے تھے ہم نے سب رد کردیئے دوسری جگہ فرمایا کافروں کے اعمال ریت کے چمکیلے تودوں کی طرح ہیں جنہیں پیاسا پانی سمجھتا ہے لیکن جب اس کے پاس جاتا ہے تو کچھ نہیں پاتا اور جگہ ہے کہ قیامت کے دن بہت سے چہروں پر ذلت برستی ہوگی جو عمل کرنے والے تکلیفیں اٹھانے والے ہوں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے اور گرم کھولتا ہوا پانی انہیں پلایا جائے گا۔ حضرت امیر المومنین عمر بن خطاب نے اس آیت کی تفسیر میں مراد یہود و نصاریٰ کے علماء اور عابد لئے ہیں یہ بھی یاد رہے کہ کوئی عمل گو بظاہر سنت کے مطابق ہو لیکن عمل میں اخلاص نہ ہو مقصود اللہ کی خوشنودی نہ ہو تو وہ عمل بھی مردود ہے ریا کار اور منافق لوگوں کے اعمال کا بھی یہی حال ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ منافق اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں اور وہ انہیں دھوکہ دیتا ہے اور نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سستی سے کھڑے ہوتے ہیں صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے عمل کرتے ہیں اور اللہ کا ذکر بہت ہی کم کرتے ہیں اور فرمایا آیت (فویل للمصلین) ان نمازیوں کے لئے ویل ہے جو اپنی نماز سے غافل ہیں جو ریاکاری کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی روکتے پھرتے ہیں اور جگہ ارشاد ہے آیت (فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا) 18۔ الکہف :110) جو شخص اپنے رب کی ملاقات کا آرزو مند ہو اسے نیک عمل کرنا چاہئے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرنا چاہئے پھر فرمایا انہیں ان کا رب اجر دے گا اور ڈر خوف سے بچائے گا آخرت میں انہیں ڈر نہیں اور دنیا کے چھوڑنے کا ملال نہیں۔ پھر یہود و نصاریٰ کی آپس کی بغض و عداوت کا ذکر فرمایا، نجران کے نصرانیوں کا وفد جب نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو ان کے پاس یہودیوں کے علماء بھی آئے اس وقت ان لوگوں نے انہیں اور انہوں نے ان کو گمراہ بتایا حالانکہ دونوں اہل کتاب ہیں توراۃ میں انجیل کی تصدیق اور انجیل میں توراۃ کی تصدیق موجود ہے پھر ان کا یہ قول کس قدر لغو ہے، اگلے یہود و نصاریٰ دین حق پر قائم تھے لیکن پھر بدعتوں اور فتنہ پردازیوں کی وجہ سے دین ان سے چھن گیا اب نہ یہود ہدایت پر تھے نہ نصرانی پھر فرمایا کہ نہ جاننے والوں نے بھی اسی طرح کہا اس میں بھی اشارہ انہی کی طرف ہے اور بعض نے کہا مراد اس سے یہود و نصاریٰ سے پہلے کے لوگ ہیں۔ بعض کہتے ہیں عرب لوگ مراد ہیں امام ابن جریر اس سے عام لوگ مراد لیتے ہیں گویا سب شامل ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرمایا کہ اختلاف کا فیصلہ قیامت کو خود اللہ تعالیٰ کرے گا جس دن کوئی ظلم و زور نہیں ہوگا اور یہی مضمون دوسری جگہ بھی آیا ہے سورة حج میں ارشاد ہے آیت (اِنَّ اللّٰهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ) 22۔ الحج :17) یعنی مومنوں اور یہودیوں اور صابیوں اور نصرانیوں اور مجوسیوں اور مشرکوں میں قیامت کے دن اللہ فیصلہ فرمائے گا اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ اور موجود ہے اور جگہ ارشاد ہے آیت (قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بالْحَقِّ ۭ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ) 34۔ سبأ :26) کہہ دے کر ہمارا رب ہمیں جمع کرے گا پھر حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا وہ باخبر فیصلے کرنے والا ہے۔

شیطان صفت مغرور یہودی یہاں پر یہودیوں اور نصرانیوں کے غرور کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنے سوا کسی کو کچھ بھی نہیں سمجھتے اور صاف کہتے ہیں کہ ہمارے سوا جنت میں کوئی نہیں جائے گا سورة مائدہ میں ان کا ایک قول یہ بھی بیان ہوا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اولاد اور اس کے محبوب ہیں جس کے جواب میں قرآن نے کہا کہ پھر تم پر قیامت کے دن عذاب کیوں ہوگا ؟ اسی طرح کے مفہوم کا بیان پہلے بھی گزرا ہے کہ ان کا دعویٰ یہ بھی تھا کہ ہم چند دن جہنم میں رہیں گے جس کے جواب میں ارشاد باری ہوا کہ یہ دعویٰ بھی محض بےدلیل ہے اسی طرح یہاں ان کے ایک دعویٰ کی تردید کی اور کہا کہ لاؤ دلیل پیش کرو، انہیں عاجز ثابت کر کے پھر فرمایا کہ ہاں جو کوئی بھی اللہ کا فرمانبردار ہوجائے اور خلوص و توحید کے ساتھ نیک عمل کرے اسے پورا پورا اجر وثواب ملے گا، جیسے اور جگہ فرمایا کہ یہ اگر جھگڑیں تو ان سے کہ دو کہ میں اور میرے ماننے والوں نے اپنے چہرے اللہ کے سامنے متوجہ کردیئے ہیں۔ غرض یہ ہے کہ اخلاص اور مطابقت سنت ہر عمل کی قبولیت کے لئے شرط ہے تو اسلم وجھہ سے مراد خلوص اور وھو محسن سے مراد اتباع سنت ہے نرا خلوص بھی عمل کو قمبول نہیں کرا سکتا جب تک سنت کی تابعداری نہ ہو حدیث شریف میں ہے جو شخص ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے (مسلم) پس رہبانیت کا عمل گو خلوص پر مبنی ہو لیکن تاہم اتباع سنت نہ ہونے کی وجہ سے وہ مردود ہے ایسے ہی اعمال کی نسبت قرآن کریم کا ارشاد ہے آیت (وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاۗءً مَّنْثُوْرًا) 25۔ الفرقان :23) یعنی انہوں نے جو اعمال کئے تھے ہم نے سب رد کردیئے دوسری جگہ فرمایا کافروں کے اعمال ریت کے چمکیلے تودوں کی طرح ہیں جنہیں پیاسا پانی سمجھتا ہے لیکن جب اس کے پاس جاتا ہے تو کچھ نہیں پاتا اور جگہ ہے کہ قیامت کے دن بہت سے چہروں پر ذلت برستی ہوگی جو عمل کرنے والے تکلیفیں اٹھانے والے ہوں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے اور گرم کھولتا ہوا پانی انہیں پلایا جائے گا۔ حضرت امیر المومنین عمر بن خطاب نے اس آیت کی تفسیر میں مراد یہود و نصاریٰ کے علماء اور عابد لئے ہیں یہ بھی یاد رہے کہ کوئی عمل گو بظاہر سنت کے مطابق ہو لیکن عمل میں اخلاص نہ ہو مقصود اللہ کی خوشنودی نہ ہو تو وہ عمل بھی مردود ہے ریا کار اور منافق لوگوں کے اعمال کا بھی یہی حال ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ منافق اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں اور وہ انہیں دھوکہ دیتا ہے اور نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سستی سے کھڑے ہوتے ہیں صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے عمل کرتے ہیں اور اللہ کا ذکر بہت ہی کم کرتے ہیں اور فرمایا آیت (فویل للمصلین) ان نمازیوں کے لئے ویل ہے جو اپنی نماز سے غافل ہیں جو ریاکاری کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی روکتے پھرتے ہیں اور جگہ ارشاد ہے آیت (فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا) 18۔ الکہف :110) جو شخص اپنے رب کی ملاقات کا آرزو مند ہو اسے نیک عمل کرنا چاہئے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرنا چاہئے پھر فرمایا انہیں ان کا رب اجر دے گا اور ڈر خوف سے بچائے گا آخرت میں انہیں ڈر نہیں اور دنیا کے چھوڑنے کا ملال نہیں۔ پھر یہود و نصاریٰ کی آپس کی بغض و عداوت کا ذکر فرمایا، نجران کے نصرانیوں کا وفد جب نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو ان کے پاس یہودیوں کے علماء بھی آئے اس وقت ان لوگوں نے انہیں اور انہوں نے ان کو گمراہ بتایا حالانکہ دونوں اہل کتاب ہیں توراۃ میں انجیل کی تصدیق اور انجیل میں توراۃ کی تصدیق موجود ہے پھر ان کا یہ قول کس قدر لغو ہے، اگلے یہود و نصاریٰ دین حق پر قائم تھے لیکن پھر بدعتوں اور فتنہ پردازیوں کی وجہ سے دین ان سے چھن گیا اب نہ یہود ہدایت پر تھے نہ نصرانی پھر فرمایا کہ نہ جاننے والوں نے بھی اسی طرح کہا اس میں بھی اشارہ انہی کی طرف ہے اور بعض نے کہا مراد اس سے یہود و نصاریٰ سے پہلے کے لوگ ہیں۔ بعض کہتے ہیں عرب لوگ مراد ہیں امام ابن جریر اس سے عام لوگ مراد لیتے ہیں گویا سب شامل ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرمایا کہ اختلاف کا فیصلہ قیامت کو خود اللہ تعالیٰ کرے گا جس دن کوئی ظلم و زور نہیں ہوگا اور یہی مضمون دوسری جگہ بھی آیا ہے سورة حج میں ارشاد ہے آیت (اِنَّ اللّٰهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ) 22۔ الحج :17) یعنی مومنوں اور یہودیوں اور صابیوں اور نصرانیوں اور مجوسیوں اور مشرکوں میں قیامت کے دن اللہ فیصلہ فرمائے گا اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ اور موجود ہے اور جگہ ارشاد ہے آیت (قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بالْحَقِّ ۭ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ) 34۔ سبأ :26) کہہ دے کر ہمارا رب ہمیں جمع کرے گا پھر حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا وہ باخبر فیصلے کرنے والا ہے۔

نصاریٰ اور یہودی مکافات عمل کا شکار ! اس آیت کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ اس سے مراد نصاریٰ ہیں دوسرا یہ کہ اس سے مراد مشرکین ہیں نصرانی بھی بیت المقدس کی مسجد میں پلیدی ڈال دیتے تھے اور لوگوں کو اس میں نماز ادا کرنے سے روکتے تھے، بخت نصر نے جب بیت المقدس کی بربادی کے لئے چڑھائی کے تھی تو ان نصرانیوں نے اس کا ساتھ دیا تھا اور مدد کی تھی، بخت نصر بابل کا رہنے والا مجوسی تھا اور یہودیوں کی دشمنی پر نصرانیوں نے بھی اس کا ساتھ دیا تھا اور اس لئے بھی کہ بنی اسرائیل نے حضرت یحییٰ بن زکریا ؑ کو قتل کر ڈالا تھا اور مشرکین نے بھی رسول اللہ ﷺ کو حدیبیہ والے سال کعبتہ اللہ سے روکا تھا یہاں تک کہ ذی طوی میں آپ کو قربانیاں دینا پڑیں اور مشرکین سے صلح کرنے کے بعد آپ وہیں سے واپس آگئے حالانکہ یہ امن کی جگہ تھی باپ اور بھائی کے قاتل کو بھی یہاں کوئی نہیں چھیڑتا تھا اور ان کی کوشش یہی تھی کہ ذکر اللہ اور حج وعمرہ کرنے والی مسلم جماعت کو روک دیں حضرت ابن عباس کا یہی قول ہے ابن جریر نے پہلے قول کو پسند فرمایا ہے اور کہا ہے کہ مشرکین کعبتہ اللہ کو برباد کرنے کی سعی نہیں کرتے تھے یہ سعی نصاری کی تھی کہ وہ بیت المقدس کی ویرانی کے درپے ہوگئے تھے۔ لیکن حقیقت میں دوسرا قول زیادہ صحیح ہے، ابن زید اور حضرت عباس کا قول بھی یہی ہے اور اس بات کو بھی نہ بھولنا چاہئے کہ جب نصرانیوں نے یہودیوں کو بیت المقدس سے روکا تھا اس وقت یہودی بھی محض بےدین ہوچکے تھے ان پر تو حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ بن مریم کی زبانی لعنتیں نازل ہوچکی تھیں وہ نافرمان اور حد سے متجاوز ہوچکے تھے اور نصرانی حضرت مسیح کے دین پر تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت سے مراد مشرکین مکہ ہیں اور یہ بھی ایک وجہ ہے کہ اوپر یہود و نصاریٰ کی مذمت بیان ہوئی تھی اور یہاں مشرکین عرب کی اس بدخصلت کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ کو اور آپ ﷺ کے صحابیوں کو مسجد الحرام سے روکا مکہ سے نکالا پھر حج وغیرہ سے بھی روک دیا۔ امام ابن جریر کا یہ فرمان کہ مکہ والے بیت اللہ کی ویرانی میں کوشاں نہ تھے اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کو وہاں سے روکنے اور نکال دینے اور بیت اللہ میں بت بٹھا دینے سے بڑھ کر اس کی ویرانی کیا ہوسکتی ہے ؟ خود قرآن میں موجود ہے آیت (وَهُمْ يَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ) 8۔ الانفال :34) اور جگہ فرمایا آیت (مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ بالْكُفْرِ) 9۔ التوبہ :17) یعنی یہ لوگ مسجد حرام سے روکتے ہیں مشرکوں سے اللہ کی مسجدیں آباد نہیں ہوسکتیں جو اپنے کفر کے خود گواہ ہیں جن کے اعمال غارت ہیں اور جو ہمیشہ کے لئے جہنمی ہیں مسجدوں کی آبادی ان لوگوں سے ہوتی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے اور نماز و زکوٰۃ کے پابند اور صرف اللہ ہی سے ڈرنے والے ہیں یہی لوگ راہ راست والے ہیں اور جگہ فرمایا آیت (هُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعْكُوْفًا اَنْ يَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ) 48۔ الفتح :25) ان لوگوں نے بھی کفر کیا اور تمہیں مسجد حرام سے بھی روکا اور قربانیوں کو ان کے ذبح ہونے کی جگہ تک نہ پہنچنے دیا اگر ہمیں ان مومن مردوں عورتوں کا خیال نہ ہوتا جو اپنی ضعیفی اور کم قوتی کے باعث مکہ سے نہیں نکل سکے۔ جنہیں تم جانتے بھی نہیں ہو تو ہم تمہیں ان سے لڑ کر ان کے غارت کردینے کا حکم دیتے لیکن یہ بےگناہ مسلمان پیس نہ دیئے جائیں اس لئے ہم نے سردست یہ حکم نہیں دیا لیکن یہ کفار اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے تو وہ وقت دور نہیں جب ان پر ہمارے درد ناک عذاب برس پڑیں۔ پس جب وہ مسلمان ہستیں جن سے مسجدوں کی آبادی حقیقی معنی میں ہے وہ ہی روک دیئے گئے تو مسجدوں کے اجاڑنے میں کونسی کمی رہ گئی ؟ مسجدوں کی آبادی صرف ظاہری زیب وزینت رنگ و روغن سے نہیں ہوتی بلکہ اس میں ذکر اللہ ہونا اس میں شریعت کا قائم رہنا اور شرک اور ظاہری میل کچیل سے پاک رکھنا یہ ان کی حقیقی آبادی ہے پھر فرمایا کہ انہیں لائق نہیں کہ بےخوفی اور بےباکی کے ساتھ بیت اللہ میں نہ آنے دو ہم تمہیں غالب کردیں گے اس وقت یہی کرنا چناچہ جب مکہ فتح ہوگیا اگلے سال009ہجری اعلان کرا دیا کہ اس سال کے بعد حج میں کوئی مشرک نہ آنے پائے اور بیت اللہ شریف کا طواف کوئی ننگا ہو کر نہ کرے جن لوگوں کے درمیان صلح کی کوئی مدت مقرر ہوئی ہے وہ قائم ہے یہ حکم دراصل تصدیق اور عمل ہے اس آیت پر آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا) 9۔ التوبہ :28) یعنی مشرک لوگ نجس ہیں اس سال کے بعد انہیں مسجد حرام میں نہ آنے دو اور یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ چاہئے تو یہ تھا کہ یہ مشرک کانپتے ہوئے اور خوف زدہ مسجد میں آئیں لیکن برخلاف اس کے الٹے یہ مسلمانوں کو روک رہے ہیں یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو بشارت دیتا ہے کہ عنقریب میں تمہیں غلبہ دوں گا اور یہ مشرک اس مسجد کی طرف رخ کرنے سے بھی کپکپانے لگیں گے چناچہ یہی ہوا اورحضور ﷺ نے وصیت کی کہ جزیرہ عرب میں دو دین باقی نہ رہنے پائیں اور یہود و نصاریٰ کو وہاں سے نکال دیا جائے الحمد اللہ کہ اس امت کے بزرگوں نے اس وصیت رسول ﷺ پر عمل بھی کر دکھایا اس سے مسجدوں کی فضیلت اور بزرگی بھی ثابت ہوئی بالخصوص اس جگہ کی اور مسجد کی جہاں سب سے بڑے اور کل جن وانس کے رسول محمد ﷺ بھیجے گئے تھے۔ ان کافر پر دنیا کی رسوائی بھی آئی، جس طرح انہوں نے مسلمانوں کو روکا جلا وطن کیا ٹھیک اس کا پورا بدلہ انہیں ملا یہ بھی روکے گئے، جلا وطن کئے گئے اور ابھی اخروی عذاب باقی ہیں کیونکہ انہوں نے بیت اللہ شریف کی حرمت توڑی وہاں بت بٹھائے غیر اللہ سے دعائیں اور مناجاتیں شروع کردیں۔ ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا وغیرہ اور اگر اس سے مراد نصرانی لئے جائیں تو بھی ظاہر ہے کہ انہوں نے بھی بیت المقدس کی بےحرمتی کی تھی، بالخصوص اس صخرہ (پتھر) کی جس کی طرف یہود نماز پڑھتے تھے، اسی طرح جب یہودیوں نے بھی نصرانیوں سے بہت زیادہ ہتک کی اور تو ان پر ذلت بھی اس وجہ سے زیادہ نازل ہوئی دنیا کی رسوائی سے مراد امام مہدی کے زمانہ کی رسوائی بھی ہے اور جزیہ کی ادائیگی بھی ہے حدیث شریف میں ایک دعا وارد ہوئی ہے۔ دعا (اللھم احسن عاقبتنا فی الامور کلھا واجرنا من خزی الدنیا و عذاب الاخرۃ) اے اللہ تو ہمارے تمام کاموں کا انجام اچھا کر اور دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے نجات دے۔ یہ حدیث حسن ہے مسند احمد میں موجود ہے صحاح ستہ میں نہیں اس کے راوی بشر بن ارطاۃ صحابی ہیں۔ ان سے ایک تو یہ حدیث مروی ہے دوسری وہ حدیث مروی ہے جس میں ہے کہ غزوے اور جنگ کے موقعہ پر ہاتھ نہ کاٹے جائیں۔

کعبہ صرف علامت وحدت و سمت ہے اللہ کا جمال و جلال غیر محدود ہے اس آیت میں نبی ﷺ اور آپ کے ان اصحاب کو تسلی دی جاری ہے جو مکہ سے نکالے گئے اور اپنی مسجد سے روکے گئے۔ حضور ﷺ مکہ شریف میں نماز بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھتے تو کعبتہ اللہ بھی سامنے ہی ہوتا تھا جب مدینہ تشریف لائے تو سولہ سترہ ماہ تک تو ادھر ہی نماز پڑھتے رہے مگر پھر اللہ تعالیٰ نے کعبتہ اللہ کی طرف متوجہ ہونے کا حکم دیا امام ابو عبیدہ قاسم بن سلام نے اپنی کتاب ناسخ منسوخ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ قرآن میں سب سے پہلا منسوخ حکم یہی قبلہ کا حکم ہے للہ المشرق والی آیت نازل ہوئی حضور ﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھنے لگے پھر آیت (وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ) 2۔ البقرۃ :149) نازل ہوئی اور آپ نے بیت اللہ کی طرف متوجہ ہو کر نماز ادا کرنی شروع کی، مدینہ میں جب حضور ﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے لگے تو یہود بہت خوش ہوئے لیکن جب یہ حکم چند ماہ کے بعد منسوخ ہوا اور آپ کو اپنی چاہت، دعا اور انتظار کے مطابق کعبتہ اللہ کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھنے کا حکم دیا گیا تو ان یہودیوں نے طعنے دینے شروع کردیئے کہ اب اس قبلہ سے کیوں ہٹ گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ مشرق و مغرب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر یہ اعتراض کیا ؟ جدھر اس کا حکم ہو پھرجانا چاہئے حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ مشرق مغرب میں جہاں کہیں بھی ہو منہ کعبہ کی طرف کرو، بعض بزرگوں کا بیان ہے کہ یہ آیت کعبہ کی طرف متوجہ ہونے کے حکم سے پہلے اتری ہے اور مطلب یہ ہے کہ مشرق مغرب جدھر چاہو منہ پھیرو سب جہتیں اللہ کی ہیں اور سب طرف اللہ موجود ہے اس سے کوئی جگہ خالی نہیں جیسے فرمایا آیت (وَلَآ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَيْنَ مَا كَانُوْا) 58۔ المجادلہ :7) تھوڑے بہت جو بھی ہوں اللہ ان کے ساتھ ہے پھر یہ حکم منسوخ ہو کر کعبتہ اللہ کی طرف متوجہ ہونا فرض ہوا۔ اس قول میں جو یہ لفظ ہیں کہ اللہ سے کوئی جگہ خالی نہیں اگر اس سے مراد علم اللہ ہو تو صحیح ہے کوئی مکان اللہ کے علم سے خالی نہیں اور اگر ذات باری مراد ہو تو ٹھیک نہیں اللہ تعالیٰ کی پاک ذات اس سے بہت بلند وبالا ہے کہ وہ اپنی مخلوق میں سے کسی چیز میں محصور ہو ایک مطلب آیت کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہ آیت سفر اور رہ روی اور خوف کے وقت کے لئے ہے کہ ان وقتوں میں نفل نماز کو جس طرف منہ ہو ادا کرلیا کرو۔ حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ان کی اونٹنی کا منہ جس طرح ہوتا تھا نماز پڑھ لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ حضور ﷺ کا طریقہ یہی تھا اور اس آیت کا مطلب بھی یہی ہے آیت کا ذکر کئے بغیر یہ حدیث مسلم ترمذی نسائی ابن ابی حاتم ابن مردویہ وغیرہ میں مروی ہے اور اصل اس کی صحیح بخاری صحیح مسلم میں بھی موجود ہے صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ابن عمر سے جب نماز خوف کے بارے میں پوچھا جاتا تو نماز خوف کو بیان فرماتے اور کہتے کہ جب اس سے بھی زیادہ خوف ہو تو پیدل اور سوار کھڑے پڑھ لیا کرو منہ خواہ قبلہ کی جانب ہو خواہ نہ ہو حضرت نافع کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر میرے خیال سے اسے مرفوع بیان کرتے تھے۔ امام شافعی کا مشہور فرمان اور امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ سفر خواہ پر امن ہو خواہ خوف ڈر اور لڑائی کا ہو سواری پر نفل ادا کرلینے جائز ہیں امام مالک اور آپ کی جماعت اس کے خلاف ہے۔ امام ابو یوسف اور ابو عسید اصطخری بغیر سفر کے بھی اسے جائز کہتے ہیں حضرت انس سے بھی یہ روایت ہے امام ابو جعفر طبری بھی اسے پسند فرماتے ہیں یہاں تک کہ وہ تو پیدل چلنے والے کو بھی رخصت دیتے ہیں بعض اور مفسرین کے نزدیک یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہیں قبلہ معلوم نہ ہوسکا اور انہوں نے قیاس سے مختلف جہتوں کی طرف نماز پڑھی جس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ان کی وہ نماز ادا شدہ بتائی گئی حضرت ربیعہ فرماتے ہیں ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے ایک منزل پر اترے رات اندھیری تھی لوگوں نے پتھر لے لے کر بطور نشان کے قبلہ رخ رکھ کر نماز پڑھنی شروع کردی صبح اٹھ کر روشنی میں دیکھا تو نماز قبلہ کی طرف ادا نہیں ہوئی تھی، ہم نے حضور ﷺ سے ذکر کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی، یہ حدیث ترمذی شریف میں ہے امام صاحب نے اسے حسن کہا ہے اس کے دو راوی ضعیف ہیں ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا اور ہم نے نماز پڑھ کر اپنے اپنے سامنے خط کھینچ دیئے تھے تاکہ صبح روشنی میں معلوم ہوجائے کہ نماز قبلہ کی طرف ادا ہوئی یا نہیں ؟ صبح معلوم ہوا کہ قبلہ جاننے میں ہم نے غلطی کی لیکن حضور ﷺ نے ہمیں وہ نماز لوٹانے کا حکم نہیں دیا اور یہ آیت نازل ہوئی اس روایت کے بھی دو راوی ضعیف ہیں یہ روایت دار قطنی وغیرہ میں موجود ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے ساتھ حضور ﷺ نہ تھے یہ بھی سنداً ضعیف ہے ایسی نماز کے لوٹانے کے بارے میں علماء کے دو قول میں سے ٹھیک قول یہی ہے کہ دوہرائی نہ جائے اور اسی قول کی تائید کرنے والی یہ حدیثیں ہیں جو اوپر بیان ہوئیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس کے نازل ہونے کا باعث نجاشی ہے جب نبی ﷺ نے ان کی موت کی خبر دی اور کہا ان کے جنازہ کی غائبانہ نماز پڑھو تو بعض نے کہا کہ وہ تو مسلمان نہ تھا نصرانی تھا اس پر آیت نازل ہوئی کہ آیت (وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا) 4۔ النسآء :159) یعنی بعض اہل کتاب اللہ تعالیٰ پر اور اس چیز پر جو اے مسلمانو تمہاری طرف نازل ہوئی اور اس چیز پر جو ان پر نازل کی گئی ایمان لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں صحابہ نے کہا حضور ﷺ وہ قبلہ کی طرف تو نماز نہیں پڑھتا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی لیکن یہ روایت غریب ہے واللہ اعلم۔ اس کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ وہ بیت المقدس کی طرف اس لئے نمازیں پڑھتے رہے کہ انہیں اس کے منسوخ ہوجانے کا علم نہیں ہوا تھا، قرطبی فرماتے ہیں ان کے جنازے کی نماز حضور ﷺ نے پڑھی اور یہ دلیل ہے کہ جنازے کی نماز غائبانہ ادا کرنی چاہئے اور اس کے نہ ماننے والے اس حکم کو مخصوص جانتے ہیں اور اس کی تین تاویلیں کرتے ہیں ایک تو یہ کہ آپ نے اس کے جنازے کو دیکھ لیا زمین آپ کے لئے سمیٹ لی گئی تھی، دوسری یہ کہ چونکہ وہاں ان کے پاس ان کے جنازہ کی نماز پڑھنے والا اور کوئی نہ تھا اس لئے آپ نے یہاں غائبانہ ادا کی ابن عربی اسی جواب کو پسند کرتے ہیں قرطبی کہتے ہیں کہ یہ ناممکن ہے کہ ایک بادشاہ مسلمان ہو اور اس کی قوم کا کوئی شخص اس کے پاس مسلمان نہ ہو، ابن عربی اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ شاید ان کے نزدیک جنازے کی نماز ان کی شریعت میں نہ ہو، یہ جواب بہت اچھا ہے، تیسری یہ کہ نماز آپ نے اس لئے ادا کی کہ دوسرے لوگوں کی رغبت کا سبب ہو اور اس جیسے دوسرے بادشاہ بھی دین اسلام کی طرف مائل ہوں (لیکن یہ تینوں تاویلیں ظاہر کے خلاف ہونے کے علاوہ صرف احتمالات کی بنا پر ہیں اور انہیں مان لینے کے بعد بھی مسئلہ وہیں رہتا ہے کیا جنازہ غائبانہ پڑھنا چاہئے کیونکہ گو حضور ﷺ نے اس جنازے کا مشاہدہ کرلیا لیکن صحابہ کی نماز تو غائبانہ ہی رہی۔ اگر ہم دوسرا جواب مان لیں تو بھی جنازہ تو غائبانہ نہ ہی ہوا جو لوگ سرے سے نماز جنازہ غائبانہ کے قائل ہی نہیں وہ تو اس صورت میں بھی قائل نہیں ہیں اور یہ بات تو دل کو لگتی ہی نہیں کہ ان کے نزدیک نماز جنازہ شروع نہ ہو شریعت ان کی بھی اسلام ہی تھی نہ کہ کوئی اور تیسرا جواب بھی کچھ ایسا ہی ہے اور بر تقدیر تسلیم اب بھی وہ وجہ باقی ہے کہ جنازہ غائبانہ ادا کیا کریں تاکہ دوسرے لوگوں کی رغبت اسلام کا باعث ہو واللہ اعلم۔ مترجم) ابن مردویہ میں حدیث ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اہل مدینہ اہل شام اہل عراق کا قبلہ مشرق و مغرب کے درمیان ہے یہ روایت ترمذی میں بھی دوسرے الفاظ سے مروی ہے اور اس کے ایک راوی ابو معشر کے حافظہ پر بعض اہل علم نے کلام کیا ہے امام ترمذی نے اسے ایک اور سند سے بھی وارد کیا ہے اور اسے حسن صحیح کہا ہے حضرت عمر بن خطاب علی ابن ابو طالب حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے بھی یہ مروی ہے حضرت ابن عمر فرماتے ہیں جب تو مغرب کو اپنی دائیں جانب اور مشرق کو بائیں جانب کرلے تو تیرے سامنے کی جہت قبلہ ہوجائے گا حضرت عمر سے بھی اوپر کی طرح حدیث مروی ہے کہ مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے ملاحظہ ہو دار قطنی بیہقی وغیرہ امام ابن جریر فرماتے ہیں یہ مطلب بھی اس آیت کا ہوسکتا ہے کہ تم مجھ سے دعائیں مانگنے میں اپنا منہ جس طرف بھی کرو میرا منہ بھی اسی طرف پاؤ گے اور میں تمہاری دعاؤں کو قبول فرماؤں گا، حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ جب یہ آیت (ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ) 40۔ غافر :60) مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا اتری تو لوگوں نے کہا کس طرف رخ کر کے دعا کریں اس کے جواب میں آیت (فَاَيْنَـمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ) 2۔ البقرۃ :115) نازل ہوئی پھر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام وسعتوں پر غالب، گنجائش والا اور علم والا ہے جس کی کفایت سخاوت اور فضل و کرم نے تمام مخلوق کا احاطہ کر کھا ہے وہ سب چیزوں کو جانتا بھی ہے کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اس کے علم سے باہر نہیں بلکہ وہ تمام چیزوں کا عالم ہے۔

اللہ ہی مقتدر اعلیٰ ہے کے دلائل یہ اور اس کے ساتھ کی آیت نصرانیوں کے رد میں ہے اور اس طرح ان جیسے یہود و مشرکین کی تردید میں ہے جو اللہ کی اولاد بتاتے تھے ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین و آسمان وغیرہ تمام چیزوں کا تو اللہ مالک ہے ان کا پیدا کرنے والا انہیں روزیاں دینے والا ان کے اندازے مقرر کرنے والا انہیں قبضہ میں رکھنے والا ان میں ہر تغیر و تبدل کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھلا اس مخلوق میں سے کوئی اس کی اولاد کیسے ہوسکتا ہے ؟ نہ عزیز اور نہ ہی عیسیٰ اللہ کے بیٹے بن سکتے ہیں جیسے کہ یہود و نصاریٰ کا خیال تھا نہ فرشتے اس کی بیٹیاں بن سکتے ہیں جیسے کہ مشرکین عرب کا خیال تھا۔ اس لئے دو برابر کی مناسبت رکھنے والے ہم جنس سے اولاد ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا نہ کوئی نظیر نہ اس کی عظمت وکبریائی میں اس کا کوئی شریک نہ اس کی جنس کا کوئی اور وہ تو آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنے والا ہے اس کی اولاد کیسے ہوگی ؟ اس کی کوئی بیوی بھی نہیں وہ چیز کا خالق اور ہر چیز کا عالم ہے یہ لوگ رحمٰن کی اولاد بتاتے ہیں یہ کتنی بےمعنی اور بیہودہ بےتکی بات تم کہتے ہو ؟ اتنی بری بات زبان سے نکالتے ہو کہ اس سے آسمانوں کا پھٹ جانا اور زمین کا شق ہوجانا اور پہاڑوں کا ریزہ ریز ہوجانا ممکن ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ صاحب اولاد ہے اللہ کی اولاد تو کوئی ہو ہی نہیں سکتی اس کے سوا جو بھی ہے سب اس کی ہی ملکیت ہے زمین و آسمان کی تمام ہستیاں اس کی غلامی میں ظاہر ہونے والی ہیں جنہیں ایک ایک کر کے اس نے گھیر رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے ان میں سے ہر ایک اس کے پاس قیامت والے دن تنہا تنہا پیش ہونے والی ہے پس غلام اولاد نہیں بن سکتا ملکیت اور ولدیت دو مختلف اور متضاد حیثیتیں ہیں دوسری جگہ پوری سورت میں اس کی نفی فرمائی ارشاد ہوا آیت (قل ھو اللہ احد اللہ الصمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد) کہ دو کہ اللہ ایک ہی ہے اللہ بےنیاز ہے اس کی نہ اولاد ہے نہ ماں باپ اس کا ہم جنس کوئی نہیں ان آیتوں اور ان جیسی اور آیتوں میں اس خالق کائنات نے اپنی تسبیح و تقدیس بیان کی اور اپنا بےنظیر بےمثل اور لا شریک ہونا ثابت کیا اور ان مشرکین کے اس گندے عقیدے کو باطل قرار دیا اور بتایا کہ وہ تو سب کا خالق و رب ہے پھر اس کی اولاد بیٹے بیٹیاں کہاں سے ہوں گی ؟ سورة بقرہ کی اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری شریف کی ایک قدسی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم جھٹلاتا ہے اسے یہ لائق نہ تھا مجھے وہ گالیاں دیتا ہے اسے یہ نہیں چاہیے تھا اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ وہ خیال کر بیٹھتا ہے کہ میں اسے مار ڈالنے کے بعد پھر زندہ کرنے پر قادر نہیں ہوں اور اس کا گالیاں دینا یہ ہے کہ وہ میری اولاد بتاتا ہے حالانکہ میں پاک ہوں اور میری اولاد اور بیوی ہو اس سے بہت بلند وبالا ہوں یہی حدیث دوسری سندوں سے اور کتابوں میں بھی با اختلاف الفاظ مروی ہے صحیین میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں بری باتیں سن کر صبر کرنے میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی کامل نہیں۔ لوگ اس کی اولاد بتائیں اور وہ انہیں رزق و عافیت دیتا رہے پھر فرمایا ہر چیز اس کی اطاعت گزار ہے اس کی غلامی کا اقرار کئے ہوئے ہے اس کے لئے مخلص۔ اس کی سرکار میں قیامت کے روز دست بستہ کھڑی ہونے والی اور دنیا میں بھی عبادت گزار ہے جس کو کہے یوں ہوجاؤ یا اس طرح بن۔ فوراً وہ اسی طرح ہوجاتی اور بن جاتی ہے۔ اس طرح ہر ایک اس کے سامنے پست و مطیع ہے کفار نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے مطیع ہیں ہر موجود کے سائے اللہ کے سامنے جھکتے رہتے ہیں، قرآن نے اور جگہ فرمایا آیت (وللہ یسجد) الخ آسمان و زمین کی کل چیزیں خوشی ناخوشی اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں ان کے سائے صبح شام جھکتے رہتے ہیں ایک حدیث میں مروی ہے کہ جہاں کہیں قرآن میں قنوت کا لفظ ہے وہاں مراد اطاعت ہے لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں ممکن ہے صحابی کا یا اور کسی کا کلام ہو اس سند سے اور آیتوں کی تفسیر بھی مرفوعاً مروی ہے لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ یہ ضعیف ہے کوئی شخص اس سے دھوکہ میں نہ پڑے واللہ اعلم۔ پھر فرمایا وہ آسمان و زمین کو بغیر کسی سابقہ نمونہ کے پہلی ہی بار کی پیدائش میں پیدا کرنے والا ہے لغت میں بدعت کے معنی نو پیدا کرنے نیا بنانے کے ہیں حدیث میں ہے ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے یہ تو شرعی بدعت ہے کبھی بدعت کا اطلاق صرف لغتہً ہوتا ہے شرعاً مراد نہیں ہوتی۔ جیسے حضرت عمر نے لوگوں کو نماز تراویح پر جمع کیا اور پھر اسے اسی طرح جاری دیکھ کر فرمایا تھا اچھی بدعت ہے بدیع کا منبع سے تصرف کیا گیا ہے جیسے مولم سے الیم اور مسمیع سے سمیع معنی متبدع کے انشا اور نو پیدا کرنے والے کے ہیں بغیر مثال بغیر نمونہ اور بغیر پہلی پیدائش کے پیدا کرنے والے بدعتی کو اس لئے بدعتی کہا جاتا ہے کہ وہ بھی اللہ کے دین میں وہ کام یا وہ طریقہ ایجاد کرتا ہے جو اس سے پہلے شریعت میں نہ ہو اسی طرح کسی نئی بات کے پیدا کرنے والے کو عرب مبتدع کہتے ہیں امام ابن جریر فرماتے ہیں مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے وہ آسمان و زمین کی تمام چیزوں کا مالک ہے ہر چیز اس کی وحدانیت کی دلیل ہے ہر چیز اس کی اطاعت گزاری کا اقرار کرتی ہے۔ سب کا پیدا کرنے والا، بنانے والا، موجود کرنے والا، بغیر اصل اور مثال کے انہیں وجود میں لانے والا، ایک وہی رب العلمین ہے اس کی گواہی ہر چیز دیتی ہے خود مسیح ؑ بھی اس کے گواہ اور بیان کرنے والے ہیں جس رب نے ان تمام چیزوں کو بغیر نمونے کے اور بغیر مادے اور اصل کے پیدا کیا اس نے حضرت عیسیٰ ؑ کو بھی بےباپ پیدا کردیا پھر کوئی وجہ نہیں کہ انہیں تم خواہ مخواہ اللہ کا بیٹا مان لو پھر فرمایا اس اللہ کی قدرت سلطنت سطوت و شوکت ایسی ہے کہ جس چیز کو جس طرح کی بنانا اور پیدا کرنا چاہئے اسے کہ دیتا ہے کہ اس طرح کی اور ایسی ہوجا وہ اسی وقت ہوجاتی ہے جیسے فرمایا آیت (اِنَّمَآ اَمْرُهٗٓ اِذَآ اَرَادَ شَـيْـــــًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ) 36۔ یس :82) دوسری جگہ فرمایا آیت (اِنَّمَا قَوْلُــنَا لِشَيْءٍ اِذَآ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ) 16۔ النحل :40) اور ارشاد ہوتا ہے آیت (وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ) 54۔ القمر :50) شاعر کہتا ہے۔ اذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولتہ فیکون مطلب اس کا ہے کہ ادھر کسی چیز کا اللہ نے ارادہ فرمایا اس نے کہا ہوجا وہیں وہ ہوگیا اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں پس مندرجہ بالا آیت میں عیسائیوں کو نہایت لطیف پیرا یہ ہیں یہ بھی سمجھا دیا گیا کہ حضرت عیسیٰ ؑ بھی اسی کن کے کہنے سے پیدا ہوئے ہیں دسری جگہ صاف صاف فرما دیا آیت (اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ ۭخَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ) 3۔ آل عمران :59) یعنی حضرت عیسیٰ کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت آدم جیسی ہے جنہیں مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہوجا وہ ہوگئے۔

اللہ ہی مقتدر اعلیٰ ہے کے دلائل یہ اور اس کے ساتھ کی آیت نصرانیوں کے رد میں ہے اور اس طرح ان جیسے یہود و مشرکین کی تردید میں ہے جو اللہ کی اولاد بتاتے تھے ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین و آسمان وغیرہ تمام چیزوں کا تو اللہ مالک ہے ان کا پیدا کرنے والا انہیں روزیاں دینے والا ان کے اندازے مقرر کرنے والا انہیں قبضہ میں رکھنے والا ان میں ہر تغیر و تبدل کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھلا اس مخلوق میں سے کوئی اس کی اولاد کیسے ہوسکتا ہے ؟ نہ عزیز اور نہ ہی عیسیٰ اللہ کے بیٹے بن سکتے ہیں جیسے کہ یہود و نصاریٰ کا خیال تھا نہ فرشتے اس کی بیٹیاں بن سکتے ہیں جیسے کہ مشرکین عرب کا خیال تھا۔ اس لئے دو برابر کی مناسبت رکھنے والے ہم جنس سے اولاد ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا نہ کوئی نظیر نہ اس کی عظمت وکبریائی میں اس کا کوئی شریک نہ اس کی جنس کا کوئی اور وہ تو آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنے والا ہے اس کی اولاد کیسے ہوگی ؟ اس کی کوئی بیوی بھی نہیں وہ چیز کا خالق اور ہر چیز کا عالم ہے یہ لوگ رحمٰن کی اولاد بتاتے ہیں یہ کتنی بےمعنی اور بیہودہ بےتکی بات تم کہتے ہو ؟ اتنی بری بات زبان سے نکالتے ہو کہ اس سے آسمانوں کا پھٹ جانا اور زمین کا شق ہوجانا اور پہاڑوں کا ریزہ ریز ہوجانا ممکن ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ صاحب اولاد ہے اللہ کی اولاد تو کوئی ہو ہی نہیں سکتی اس کے سوا جو بھی ہے سب اس کی ہی ملکیت ہے زمین و آسمان کی تمام ہستیاں اس کی غلامی میں ظاہر ہونے والی ہیں جنہیں ایک ایک کر کے اس نے گھیر رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے ان میں سے ہر ایک اس کے پاس قیامت والے دن تنہا تنہا پیش ہونے والی ہے پس غلام اولاد نہیں بن سکتا ملکیت اور ولدیت دو مختلف اور متضاد حیثیتیں ہیں دوسری جگہ پوری سورت میں اس کی نفی فرمائی ارشاد ہوا آیت (قل ھو اللہ احد اللہ الصمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد) کہ دو کہ اللہ ایک ہی ہے اللہ بےنیاز ہے اس کی نہ اولاد ہے نہ ماں باپ اس کا ہم جنس کوئی نہیں ان آیتوں اور ان جیسی اور آیتوں میں اس خالق کائنات نے اپنی تسبیح و تقدیس بیان کی اور اپنا بےنظیر بےمثل اور لا شریک ہونا ثابت کیا اور ان مشرکین کے اس گندے عقیدے کو باطل قرار دیا اور بتایا کہ وہ تو سب کا خالق و رب ہے پھر اس کی اولاد بیٹے بیٹیاں کہاں سے ہوں گی ؟ سورة بقرہ کی اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری شریف کی ایک قدسی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم جھٹلاتا ہے اسے یہ لائق نہ تھا مجھے وہ گالیاں دیتا ہے اسے یہ نہیں چاہیے تھا اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ وہ خیال کر بیٹھتا ہے کہ میں اسے مار ڈالنے کے بعد پھر زندہ کرنے پر قادر نہیں ہوں اور اس کا گالیاں دینا یہ ہے کہ وہ میری اولاد بتاتا ہے حالانکہ میں پاک ہوں اور میری اولاد اور بیوی ہو اس سے بہت بلند وبالا ہوں یہی حدیث دوسری سندوں سے اور کتابوں میں بھی با اختلاف الفاظ مروی ہے صحیین میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں بری باتیں سن کر صبر کرنے میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی کامل نہیں۔ لوگ اس کی اولاد بتائیں اور وہ انہیں رزق و عافیت دیتا رہے پھر فرمایا ہر چیز اس کی اطاعت گزار ہے اس کی غلامی کا اقرار کئے ہوئے ہے اس کے لئے مخلص۔ اس کی سرکار میں قیامت کے روز دست بستہ کھڑی ہونے والی اور دنیا میں بھی عبادت گزار ہے جس کو کہے یوں ہوجاؤ یا اس طرح بن۔ فوراً وہ اسی طرح ہوجاتی اور بن جاتی ہے۔ اس طرح ہر ایک اس کے سامنے پست و مطیع ہے کفار نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے مطیع ہیں ہر موجود کے سائے اللہ کے سامنے جھکتے رہتے ہیں، قرآن نے اور جگہ فرمایا آیت (وللہ یسجد) الخ آسمان و زمین کی کل چیزیں خوشی ناخوشی اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں ان کے سائے صبح شام جھکتے رہتے ہیں ایک حدیث میں مروی ہے کہ جہاں کہیں قرآن میں قنوت کا لفظ ہے وہاں مراد اطاعت ہے لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں ممکن ہے صحابی کا یا اور کسی کا کلام ہو اس سند سے اور آیتوں کی تفسیر بھی مرفوعاً مروی ہے لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ یہ ضعیف ہے کوئی شخص اس سے دھوکہ میں نہ پڑے واللہ اعلم۔ پھر فرمایا وہ آسمان و زمین کو بغیر کسی سابقہ نمونہ کے پہلی ہی بار کی پیدائش میں پیدا کرنے والا ہے لغت میں بدعت کے معنی نو پیدا کرنے نیا بنانے کے ہیں حدیث میں ہے ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے یہ تو شرعی بدعت ہے کبھی بدعت کا اطلاق صرف لغتہً ہوتا ہے شرعاً مراد نہیں ہوتی۔ جیسے حضرت عمر نے لوگوں کو نماز تراویح پر جمع کیا اور پھر اسے اسی طرح جاری دیکھ کر فرمایا تھا اچھی بدعت ہے بدیع کا منبع سے تصرف کیا گیا ہے جیسے مولم سے الیم اور مسمیع سے سمیع معنی متبدع کے انشا اور نو پیدا کرنے والے کے ہیں بغیر مثال بغیر نمونہ اور بغیر پہلی پیدائش کے پیدا کرنے والے بدعتی کو اس لئے بدعتی کہا جاتا ہے کہ وہ بھی اللہ کے دین میں وہ کام یا وہ طریقہ ایجاد کرتا ہے جو اس سے پہلے شریعت میں نہ ہو اسی طرح کسی نئی بات کے پیدا کرنے والے کو عرب مبتدع کہتے ہیں امام ابن جریر فرماتے ہیں مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے وہ آسمان و زمین کی تمام چیزوں کا مالک ہے ہر چیز اس کی وحدانیت کی دلیل ہے ہر چیز اس کی اطاعت گزاری کا اقرار کرتی ہے۔ سب کا پیدا کرنے والا، بنانے والا، موجود کرنے والا، بغیر اصل اور مثال کے انہیں وجود میں لانے والا، ایک وہی رب العلمین ہے اس کی گواہی ہر چیز دیتی ہے خود مسیح ؑ بھی اس کے گواہ اور بیان کرنے والے ہیں جس رب نے ان تمام چیزوں کو بغیر نمونے کے اور بغیر مادے اور اصل کے پیدا کیا اس نے حضرت عیسیٰ ؑ کو بھی بےباپ پیدا کردیا پھر کوئی وجہ نہیں کہ انہیں تم خواہ مخواہ اللہ کا بیٹا مان لو پھر فرمایا اس اللہ کی قدرت سلطنت سطوت و شوکت ایسی ہے کہ جس چیز کو جس طرح کی بنانا اور پیدا کرنا چاہئے اسے کہ دیتا ہے کہ اس طرح کی اور ایسی ہوجا وہ اسی وقت ہوجاتی ہے جیسے فرمایا آیت (اِنَّمَآ اَمْرُهٗٓ اِذَآ اَرَادَ شَـيْـــــًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ) 36۔ یس :82) دوسری جگہ فرمایا آیت (اِنَّمَا قَوْلُــنَا لِشَيْءٍ اِذَآ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ) 16۔ النحل :40) اور ارشاد ہوتا ہے آیت (وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ) 54۔ القمر :50) شاعر کہتا ہے۔ اذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولتہ فیکون مطلب اس کا ہے کہ ادھر کسی چیز کا اللہ نے ارادہ فرمایا اس نے کہا ہوجا وہیں وہ ہوگیا اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں پس مندرجہ بالا آیت میں عیسائیوں کو نہایت لطیف پیرا یہ ہیں یہ بھی سمجھا دیا گیا کہ حضرت عیسیٰ ؑ بھی اسی کن کے کہنے سے پیدا ہوئے ہیں دسری جگہ صاف صاف فرما دیا آیت (اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ ۭخَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ) 3۔ آل عمران :59) یعنی حضرت عیسیٰ کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت آدم جیسی ہے جنہیں مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہوجا وہ ہوگئے۔

طلب نظارہ۔ ایک حماقت رافع بن حریملہ نے حضور ﷺ سے کہا تھا کہ اگر آپ سچے ہیں تو اللہ تعالیٰ خود ہم سے کیوں نہیں کہتا ؟ ہم بھی تو خود اس سے اس کا کلام سنیں، اس پر یہ آیت اتری مجاہد کہتے ہیں یہ بات نصرانیوں نے کہی تھی، ابن جریر فرماتے ہیں یہی ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ آیت انہی سے متعلق بیان کے دوران میں ہے لیکن یہ قول سوچنے کے قابل ہے قرطبی فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا تھا کہ آپ کی نبوت کی اطلاع خود جناب باری ہمیں کیوں نہیں دیتا ؟ یہی بات ٹھیک ہے واللہ اعلم۔ بعض اور مفسر کہتے ہیں یہ قول کفار عرب کا تھا اسی طرح بےعلم لوگوں نے بھی کہا تھا ان سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت (وَاِذَا جَاۗءَتْهُمْ اٰيَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ ۂاَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ) 6۔ الانعام :124) ان کے پاس جب کبھی کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم تو نہیں مانیں گے جب تک ہم کو بھی وہ نہ دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا اور جگہ فرمایا آیت (وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْۢبُوْعًا) 17۔ الاسرآء :90) یعنی انہوں نے کہا کہ ہم آپ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ آپ ہمارے لئے ان زمینوں میں چشمے جاری نہیں کردیں اور جگہ فرمایا آیت (وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ نَرٰي رَبَّنَا) 25۔ الفرقان :21) یعنی ہماری ملاقات کے منکر کہتے ہیں ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے جاتے اللہ تعالیٰ ہمارے سامنے کیوں نہیں آتا اور جگہ فرمایا آیت (بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِۍ مِّنْهُمْ اَنْ يُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً) 74۔ المدثر :52) ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ ہو خود کوئی کتاب دیا جائے وغیرہ وغیرہ آیتیں جو صاف بتاتی ہیں کہ مشرکین عرب نے حضور ﷺ سے صرف تکبر وعناد کی بنا پر ایسی ہیں چیزیں طلب کیں اسی طرح یہ مطالبہ بھی انہی مشرکین کا تھا، ان سے پہلے اہل کتاب نے بھی ایسے ہی بےمعنی سوالات کئے تھے ارشاد ہوتا ہے آیت (يَسْــَٔــلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰٓى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ) 4۔ النسآء :153) اہل کتاب تم سے چاہتے ہیں کہ تم ان پر کوئی آسمانی کتاب اتارو اور حضرت موسیٰ سے انہوں نے اس سے بھی بڑا سوال کیا تھا ان سے تو کہا تھا کہ ہمیں اللہ کو ہماری آنکھوں سے دکھا اور جگہ فرمان ہے کہ جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم تجھ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک اپنے رب کو سامنے نہ دیکھ لیں پھر فرمایا ان کے اور ان کے دل یکساں اور مشابہ ہوگئے یعنی ان مشرکین کے دل سابقہ کفار جیسے ہوگئی اور جگہ فرمایا ہے کہ پہلے گزرنے والوں نے بھی اپنے انبیاء کو جادوگر اور دیوانہ کہا تھا انہوں نے بھی ان ہی باتوں کو دہرایا تھا۔ پھر فرمایا ہم نے یقین والوں کے لئے اپنی آیتیں اسی طرح بیان کردیں ہیں جن سے رسول ﷺ کی تصدیق عیاں ہے کسی اور چیز کی وضاحت باقی نہیں رہی یہی نشانیاں ایمان لانے کے لئے کافی ہیں ہاں جن کے دلوں پر مہر لگی ہوئی ہو انہیں کسی آیت سے کوئی فائدہ نہ ہوگا جیسے فرمایا آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ) 10۔ یونس :96) جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہ لائیں گے گو ان کے پاس تمام آیتیں آجائیں جب تک کہ وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔

آپ ﷺ نصیحت کی حد تک مسؤل ہیں حدیث میں ہے خوشخبری جنت کی اور ڈراوا جہنم سے لا تسئل کی دسری قرأت ما تسئل بھی ہے اور ابن مسعود کی قرأت میں لن تسئل بھی ہے یعنی تجھ سے کفار کی بابت سوال نہیں کیا جائے گا جیسے فرمایا آیت (فانما علیک البلغ وعلینا الحلساب یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمہ ہے اور فرمایا آیت (فَذَكِّرْ ڜ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ 21؀ۭ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَۜيْطِرٍ 22؀ۙ) 88۔ الغاشیہ :21) تو نصیحت کرتا رہ تو صرف نصیحت کرنے والا ہے ان پر داروغہ نہیں اور جگہ فرمایا آیت (نحن اعلم بما یقولون) الخ ہم ان کی باتیں بخوبی جانتے ہیں تم ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو تو قرآن کی نصیحتیں انہیں سنا دو جو قیامت سے ڈرتے ہوں اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں ایک قرأت اس کی ولا تسائل بھی ہے یعنی ان جہنمیوں کے بارے میں اے نبی مجھ سے کچھ نہ پوچھو عبدالرزاق میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کاش کہ میں اپنے ماں باپ کا حال جان لیتا، کاش کہ میں اپنے ماں باپ کا حال جان لیتا، کاش کہ میں اپنے ماں باپ کا حال جان لیتا۔ اس پر یہ فرمان نازل ہوا۔ پھر آخری دم تک آپ نے اپنے والدین کا ذکر نہ فرمایا ابن جریر نے بھی اسے بروایت موسیٰ بن عبیدہ وارد کیا ہے لیکن اس راوی پر کلام ہے قرطبی کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جہنمیوں کا حال اتنا بد اور برا ہے کہ تم کچھ نہ پوچھو، تذکرہ میں قرطبی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ حضور ﷺ کے والدین زندہ کئے گئے اور ایمان لے آئے اور صحیح مسلم میں جو حدیث ہے جس میں آپ نے کسی کے سوال پر فرمایا ہے کہ میرا باپ اور تیرا باپ آگ میں ہیں ان کا جواب بھی وہاں ہے لیکن یاد رہے کہ آپ کے ماں باپ کے زندہ ہونے کی روایت کتب صحاح ستہ وغیرہ میں نہیں اور اس کی اسناد ضعیف ہے واللہ اعلم۔ ابن جریر کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک دن پوچھا کہ میرے باپ کہاں ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ابن جریر نے اس کی تردید کی ہے اور فرمایا ہے کہ یہ محال ہے کہ حضور ﷺ اپنے ماں باپ کے بارے میں شک کریں پہلی ہی قرأت ٹھیک ہے لیکن ہمیں امام ہمام پر تعجب آتا ہے کہ انہوں نے اسے محال کیسے کہ دیا ؟ ممکن ہے یہ واقعہ اس وقت کا ہو جب آپ اپنے ماں باپ کے لئے استفسار کرتے تھے اور انجام معلوم نہ تھا پھر جب ان دونوں کی حالت معلوم ہوگئی تو آپ اس سے ہٹ گئے اور بیزاری ظاہری فرمائی اور صاف بتادیا کہ وہ دونوں جہنمی ہیں جیسے کہ صحیح حدیث سے ثابت ہوچکا ہے اس کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں مسند احمد میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصی ؓ سے حضرت عطا بن یسار نے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کی صفت و ثنا توراۃ میں کیا ہے تو آپ نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم جو صفتیں آپ کی قرآن میں ہیں وہی توراۃ میں بھی ہیں، توراۃ میں بھی ہے اے نبی ہم نے تجھے گواہ اور خوشخبریاں دینے والا اور ڈرانے والا اور ان پڑھوں کا بچاؤ بنا کر بھیجا ہے تو میرا بندہ اور میرا رسول ہے میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے تو نہ بد زبان ہے نہ سخت گو نہ بدخلق نہ بازاروں میں شور غل کرنے والا ہے نہ تو برائی کے بدلے برائی کرنے والا ہے بلکہ معاف اور درگزر کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ انہیں دنیا سے نہ اٹھائے گا جب تک کہ تیرے دین کو تیری وجہ سے بالکل ٹھیک اور درست نہ کر دے اور لوگ لا الہ الہ اللہ کا اقرار نہ کرلیں اور ان کی اندھی آنکھیں کھل نہ جائیں اور ان کے بہرے کان سننے نہ لگ جائیں اور ان کے زنگ آلود دل صاف نہ ہوجائیں بخاری کی کتاب الیسوع میں بھی یہ حدیث ہے اور کتاب التفسیر میں بھی ابن مردویہ میں اس روایت کے بعد مزید یہ ہے کہ میں نے پھر جا کر حضرت کعب سے یہی سوال کیا تو انہوں نے بھی ٹھیک یہی جواب دیا۔

دین حق کا باطل سے سمجھوتہ جرم عظیم ہے آیت بالا کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ تجھ سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے لہذا تو بھی انہیں چھوڑ اور رب کی رضا کے پیچھے لگ جا تو نے انہیں دعوت رسالت پہنچا دیں۔ دین حق وہی ہے جو اللہ نے تجھے دیا ہے تو اس پر جم جا۔ حدیث شریف میں ہے میری امت کی ایک جماعت حق پر جم کر دوسروں کے مقابلہ میں رہے گی اور غلبہ کے ساتھ رہے گی یہاں تک کہ قیامت آئے پھر اپنے نبی کو خطاب کر کے دھمکایا کہ ہرگز ان کی رضا مندی اور ان سے صلح جوئی کے لئے اپنے دین میں سست نہ ہونا ان کی طرف نہ جھکنا ان کی نہ ماننا فقہاء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ کفر ایک ہی مذہب ہے خواہ وہ یہود ہوں نصرانی ہوں یا کوئی اور ہوں اس لئے کہ ملت کا لفظ یہاں مفرد ہی رکھا جیسے اور جگہ ہے آیت (لکم دینکم ولی دین) تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے اس استدلال پر اس مسئلہ کی بنا ڈالی ہے کہ مسلمان اور کفار آپس میں وارث نہیں ہوسکتے اور کفر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوسکتے ہیں گو وہ دونوں ایک ہی قسم کے کافر ہوں یا دو الگ الگ کفروں کے کافر ہوں، امام شافعی اور امام ابوحنیفہ کا یہی مذہب ہے اور امام احمد سے بھی ایک روایت میں یہی قول منقول ہے اور دوسری روایت میں امام احمد کا اور امام مالک کا یہ قول مروی ہے کہ دو مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں ایک صحیح حدیث میں بھی یہی مضمون ہے واللہ اعلم۔ حق تلاوت سے کیا مراد ہے ؟ پھر فرمایا کہ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ حق تلاوت ادا کرتے ہوئے پڑھتے ہیں، قتادہ کہتے ہیں اس سے مراد یہود نصاریٰ ہیں اور روایت میں ہے کہ اس سے مراد اصحاب رسول اللہ ﷺ حضرت عمر فرماتے ہیں حق تلاوت یہ ہے کہ جنت کے ذکر کے وقت جنت کا سوال کیا جائے اور جہنم کے ذکر کے وقت اس سے پناہ مانگی جائے ابن مسعود فرماتے ہیں حلال و حرام کو جاننا کلمات کو ان کی جگہ رکھنا تغیر و تبدل نہ کرنا وغیرہ یہی تلاوت کا حق ادا کرنا ہے حسن بصری فرماتے ہیں کھلی آیتوں پر عمل کرنا متشابہ آیتوں پر ایمان لانا مشکلات کو علماء کے سامنے پیش کرنا حق تلاوت کے ساتھ پڑھنا ہے ابن عباس سے اس کا مطلب حق اتباع بجا لانا بھی مروی ہے پس تلاوت بمعنی اتباع ہے جیسے آیت (وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا) 91۔ الشمس :2) میں ایک مرفوع حدیث میں بھی اس کے یہی معنی مروی ہیں لیکن اس کے بعض راوی مجہول ہیں گو معنی ٹھیک ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں قرآن کی اتباع کرنے والا جنت کے باغیچوں میں اترنے والا ہے، حضرت عمر کی تفسیر کے مطابق یہ بھی مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ جب کوئی رحمت کے ذکر کی آیت پڑھتے تو ٹھہر جاتے اور اللہ سے رحمت طلب کرتے اور جب کبھی کسی عذاب کی آیت تلاوت فرماتے تو رک کر اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب فرماتے۔ پھر فرمایا اس پر ایمان یہی لوگ رکھتے ہیں یعنی جو اہل کتاب اپنی کتاب کی سوچ سمجھ کر تلاوت کرتے ہیں وہ قرآن پر ایمان لانے پر مجبور ہوجاتے ہیں جیسے اور جگہ آیت (وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ) 5۔ المائدہ :66) اگر یہ توراۃ انجیل پر اور اللہ کی ان کی طرف نازل کردہ چیز پر قائم رہتے تو ان کے اوپر سے اور پیروں تلے سے انہیں کھانا ملتا اور فرمایا اے اہل کتاب جب تک تم توراۃ و انجیل کو اور جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اترا اس کو قائم نہ کرلو تب تک تم کسی چیز پر نہیں ہو ان کا قائم کرنا مستلزم ہے کہ تم اس میں جو ہے اسے سچا جانو اور اس میں حضور ﷺ کے ذکر کی صفات آپ کی تابعداری کا حکم آپ کی اتباع کی رغبت سب کچھ موجود ہے اور جگہ فرمایا جو لوگ نبی ﷺ امی کی تابعداری کرتے ہیں جس رسول کا ذکر اور تصدیق اپنی کتاب توراۃ و انجیل میں بھی لکھا دیکھتے ہیں اور جگہ فرمایا آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا) 17۔ الاسرآء :107) یعنی تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا ہے ان پر جب اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں منہ کے بل سجدے میں گرپڑتے ہیں اور زبانی کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے ہمارے رب کا وعدہ بالکل سچا اور صحیح ہے اور جگہ ہے جنہیں ہم نے اس سے اگلی کتاب دی ہے وہ بھی اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان پر یہ پڑھی جاتی ہیں منہ کے بل سجدے میں گرپڑتے ہیں اور زبانی کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے ہمارے رب کا وعدہ بالکل سچا اور صحیح ہے اور جگہ ہے جنہیں ہم نے اس سے اگلی کتاب دی ہے وہ بھی اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان پر یہ پڑھی جاتی ہے تو اپنے ایمان کا اقرار کر کے کہتے ہیں ہم تو پہلے ہی سے ماننے والوں میں ہیں انہیں ان کے صبر کا دوہرا اجر دیا جائے گا یہ لوگ برائی کو بھلائی سے ہٹاتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دوسروں کو دیتے ہیں اور جگہ ارشاد ہے آیت (وَقُلْ لِّلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْاُمِّيّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ ۭ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا) 3۔ آل عمران :20) یعنی پڑھے لکھے اور بےپڑھے لوگوں سے کہ دو کہ کیا تم اسلام قبول کرتے ہو ؟ اگر مان لیں تو راہ پر ہیں اور اگر نہ مانیں تو تجھ پر صرف تبلیغ ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب دیکھ رہا ہے اسی لئے یہاں فرمایا کہ ساتھ کفر کرنے والے خسارے والے ہیں، جیسے فرمایا آیت (وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ) 11۔ ہود :17) جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے اس کے وعدے کی جگہ آگ ہے صحیح حدیث میں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جو بھی مجھے سنے خواہ یہودی ہو خواہ نصرانی ہو پھر مجھ پر ایمان نہ لائے وہ جہنم میں جائے گا۔

Source. Tafsir Ibn Kathir, Hafiz Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://quran.com/. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com