Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Baqara
Tafsir Ibn Kathir · The Cow · 286 ayat · ayat 211–240 · Quran text →
احسان فراموش اسرائیل اور ترغیب صدقات اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ دیکھو بنی اسرائیل کو میں نے بہت سے معجزات دکھلا دئیے حضرت موسیٰ ؑ کہ ہاتھوں لکڑی ان کے ہاتھ کی روشنی ان کے لئے دریا کو چیر دینا ان پر سخت گرمیوں میں ابر کا سایہ کرنا من وسلویٰ اتارنا وغیرہ وغیرہ جن سے میرا خود مختار فاعل کل ہونا صاف ظاہر تھا اور میرے نبی حضرت موسیٰ ؑ کی نبوت کی کھلی تصدیق تھی لیکن تاہم ان لوگوں نے میری ان نعمتوں کا کفر کیا اور بجائے ایمان کے کفر پر آرے رہے اور میری نعمتوں پر بجائے شکر کے ناشکری کی پھر بھلا میرے سخت عذاب سے یہ کیسے بچ سکتے ؟ یہی خبر کفار و قریش کے بارے میں بھی بیان فرمائی ارشاد ہے آیت (اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ) 14۔ ابرہیم :28) کیا تو نے ان لوگوں کو دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر یعنی جہنم جیسی بدترین قرار گاہ میں پہنچا دیا۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ یہ کفار صرف دنیا کی زندگی پر دیوانے ہوئے ہیں مال جمع کرنا اور اللہ کی راہ کے خرچ میں بخل کرنا یہی ان کا رنگ ڈھنگ ہے، بلکہ ایمان دار اس دنیائے فانی سے سیر چشم ہیں اور پروردگار کی رضامندی میں اپنے مال لٹاتے رہتے ہیں یہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں، حالانکہ حقیق نصیب والے یہی لوگ ہیں قیامت کے دن ان کے مرتبے دیکھ کر ان کافروں کی آنکھیں کھل جائیں گی اس وقت اپنی بدتری اور ان کی برتری دیکھ کر معاملہ اونچ نیچ سمجھ میں آجائے گی۔ دنیا کی روزی جسے اللہ جتنی چاہے دے دے جسے چاہے بےحساب دے بلکہ جسے چاہے یہاں بھی دے اور پھر وہاں بھی دے حدیث شریف میں ہے اے ابن آدم تو میری راہ میں خرچ کر میں تجھے دیتا چلا جاؤں گا، آپ نے حضرت بلال سے فرمایا راہ اللہ میں دئیے جاؤ اور عرش والے سے تنگی کا خوف نہ کرو، قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو اللہ اس کا بدلہ دے گا، صحیح حدیث میں ہے ہر صبح دو فرشتے اترتے ہیں ایک دعا کرتا ہے اے اللہ تیری راہ میں خرچ کرنے والے کو عزت فرما دوسرا کہتا ہے بخیل کے مال کو تباہ و برباد کر۔ ایک اور حدیث میں ہے انسان کہتا رہتا میرا مال میرا مال حالانکہ تیرا مال وہ ہے جسے تو نے کھایا وہ تو فنا ہوچکا اور جسے پہن لیا وہ بوسیدہ ہوگیا ہاں جو تو نے صدقہ میں دیا اسے تو نے باقی رکھ لیا اس کے سوا جو کچھ اسے تو تو دوسروں کے لئے چھوڑ کر یہاں سے چل دے گا، مسند احمد کی حدیث میں ہے دنیا اس کا گھر ہے جس کا گھر نہ ہو، دنیا اس کا مال ہے جس کا مال نہ ہو دنیا کے لئے جمع وہ کرتا ہے جسے عقل نہ ہو۔
احسان فراموش اسرائیل اور ترغیب صدقات اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ دیکھو بنی اسرائیل کو میں نے بہت سے معجزات دکھلا دئیے حضرت موسیٰ ؑ کہ ہاتھوں لکڑی ان کے ہاتھ کی روشنی ان کے لئے دریا کو چیر دینا ان پر سخت گرمیوں میں ابر کا سایہ کرنا من وسلویٰ اتارنا وغیرہ وغیرہ جن سے میرا خود مختار فاعل کل ہونا صاف ظاہر تھا اور میرے نبی حضرت موسیٰ ؑ کی نبوت کی کھلی تصدیق تھی لیکن تاہم ان لوگوں نے میری ان نعمتوں کا کفر کیا اور بجائے ایمان کے کفر پر آرے رہے اور میری نعمتوں پر بجائے شکر کے ناشکری کی پھر بھلا میرے سخت عذاب سے یہ کیسے بچ سکتے ؟ یہی خبر کفار و قریش کے بارے میں بھی بیان فرمائی ارشاد ہے آیت (اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ) 14۔ ابرہیم :28) کیا تو نے ان لوگوں کو دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر یعنی جہنم جیسی بدترین قرار گاہ میں پہنچا دیا۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ یہ کفار صرف دنیا کی زندگی پر دیوانے ہوئے ہیں مال جمع کرنا اور اللہ کی راہ کے خرچ میں بخل کرنا یہی ان کا رنگ ڈھنگ ہے، بلکہ ایمان دار اس دنیائے فانی سے سیر چشم ہیں اور پروردگار کی رضامندی میں اپنے مال لٹاتے رہتے ہیں یہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں، حالانکہ حقیق نصیب والے یہی لوگ ہیں قیامت کے دن ان کے مرتبے دیکھ کر ان کافروں کی آنکھیں کھل جائیں گی اس وقت اپنی بدتری اور ان کی برتری دیکھ کر معاملہ اونچ نیچ سمجھ میں آجائے گی۔ دنیا کی روزی جسے اللہ جتنی چاہے دے دے جسے چاہے بےحساب دے بلکہ جسے چاہے یہاں بھی دے اور پھر وہاں بھی دے حدیث شریف میں ہے اے ابن آدم تو میری راہ میں خرچ کر میں تجھے دیتا چلا جاؤں گا، آپ نے حضرت بلال سے فرمایا راہ اللہ میں دئیے جاؤ اور عرش والے سے تنگی کا خوف نہ کرو، قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو اللہ اس کا بدلہ دے گا، صحیح حدیث میں ہے ہر صبح دو فرشتے اترتے ہیں ایک دعا کرتا ہے اے اللہ تیری راہ میں خرچ کرنے والے کو عزت فرما دوسرا کہتا ہے بخیل کے مال کو تباہ و برباد کر۔ ایک اور حدیث میں ہے انسان کہتا رہتا میرا مال میرا مال حالانکہ تیرا مال وہ ہے جسے تو نے کھایا وہ تو فنا ہوچکا اور جسے پہن لیا وہ بوسیدہ ہوگیا ہاں جو تو نے صدقہ میں دیا اسے تو نے باقی رکھ لیا اس کے سوا جو کچھ اسے تو تو دوسروں کے لئے چھوڑ کر یہاں سے چل دے گا، مسند احمد کی حدیث میں ہے دنیا اس کا گھر ہے جس کا گھر نہ ہو، دنیا اس کا مال ہے جس کا مال نہ ہو دنیا کے لئے جمع وہ کرتا ہے جسے عقل نہ ہو۔
آدم ؑ سے حضرت نوح ؑ تک حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ حضرت نوح اور حضرت آدم کے درمیان دس زمانے تھے ان زمانوں کے لوگ حق پر اور شریعت کے پابند تھے پھر اختلاف ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کو مبعوث فرمایا، بلکہ آپ کی قرأت بھی یوں ہے آیت (وَمَا كَان النَّاسُ اِلَّآ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا) 10۔ یونس :19) ابی بن کعب کی قرأت بھی یہی ہے، قتادہ ؓ نے اس کی تفسیر اسی طرح کی ہے کہ جب ان میں اختلاف پیدا ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنا پہلا پیغمبر بھیجا یعنی حضرت نوح ؑ ، حضرت مجاہد بھی یہی کہتے ہیں، حضرت عبداللہ بن عباس سے ایک روایت مروی ہے کہ پہلے سب کے سب کافر تھے، لیکن اول قول معنی کے اعتبار سے بھی اور سند کے اعتبار سے بھی زیادہ صحیح ہے، پس ان پیغمبروں نے ایمان والوں کو خوشیاں سنائی اور ایمان نہ لانے والوں کو ڈرایا، ان کے ساتھ اللہ کی کتاب بھی تھی تاکہ لوگوں کے ہر اختلاف کا فیصلہ قانون الٰہی سے ہوسکے، لیکن ان دلائل کے بعد بھی صرف آپ کے حسد وبغض تعصب وضد اور نفسانیت کے بنا پر پھر اتفاق نہ کرسکے، لیکن ایمان دار سنبھل گئے اور اس اختلاف کے چکر سے نکل کر سیدھی راہ لگ گئے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہم دنیا میں آنے کے اعتبار سے سب سے آگے ہوں گے، اہل کتاب کو کتاب اللہ ہم سے پہلے دی گئی ہمیں اس کے بعد دی گئی لیکن انہوں نے اختلاف کیا اور اللہ پاک نے ہماری رہبری کی جمعہ کے بارے میں بھی نااتفاقی رہی لیکن ہمیں ہدایت نصیب ہوئی یہ کل کے کل اہل کتاب اس لحاظ سے بھی ہمارے پیچھے ہیں جمعہ ہمارا ہے ہفتہ یہودیوں کا اور اتوار نصرانیوں کا، زید بن اسلم فرماتے ہیں جمعہ کے علاوہ قبلہ کے بارے میں بھی یہی ہوا نصاریٰ نے مشرق کو قبلہ بنایا یہود نے بھی، ان میں بعض کی نماز رکوع ہے اور سجدہ نہیں، بعض کے ہاں سجدہ ہے اور رکوع نہیں، بعض نماز میں بولتے چلتے پھرتے رہتے ہیں لیکن امت محمد کی نماز سکون و وقار والی ہے نہ یہ بولیں نہ چلیں نہ پھریں، روزوں میں بھی اسی طرح اختلاف ہوا اور اس میں بھی امت محمدیہ کو ہدایت نصیب ہوئی ان میں سے کوئی تو دن کے بعض حصے کا روزہ رکھتا ہے کوئی گروہ بعض قسم کے کھانے چھوڑ دیتا ہے لیکن ہمارا روزہ ہر طرح کامل ہے اور اس میں بھی راہ حق ہمیں سمجھائی گئی ہے، اسی طرح حضرت ابراہیم کے بارے میں یہود نے کہا کہ وہ یہودی تھے نصرانیوں نے انہیں نصاری کہا لیکن دراصل وہ کسر مسلمان تھے پس اس بارے میں بھی ہماری رہبری کی گئی اور خلیل اللہ کی نسبت صحیح خیال تک ہم کو پہنچا دئیے گئے، حضرت عیسیٰ کو بھی یہودیوں نے جھٹلایا اور ان کی والدہ ماجدہ کی نسبت بدکلامی کی، نصرانیوں نے انہیں اللہ اور اللہ کا بیٹا کہا لیکن مسلمان اس افراط وتفریط سے بچا لئے گئے اور انہیں روح اللہ کلمۃ اللہ اور نبی برحق مانا، ربیع بن انس فرماتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ جس طرح ابتداء میں سب لوگ اللہ واحد واحد کی عبادت کرنے والے نیکیوں کے عامل برائیوں سے مجتنب تھے بیچ میں اختلاف رونما ہوگیا تھا پس اس آخری امت کو اول کی طرح اختلاف سے ہٹا کر صحیح راہ پر لگا دیا یہ امت اور امتوں پر گواہ ہوگی یہاں تک کہ امت نوح پر بھی ان کی شہادت ہوگی، قوم یہود، قوم صالح، قوم شعیب اور آل فرعون کا بھی حساب کتاب انہی کی گواہیوں پر ہوگا یہ کہیں گے کہ ان پیغمبروں نے تبلیغ کی اور ان امتوں نے تکذیب کی، حضرت ابی بن کعب کی قرأت میں آیت (واللہ یہدی) الخ، سے پہلے یہ لفظ بھی ہیں آیت (ولیکونوا شہداء علی الناس یوم القیامۃ) الخ، ابو العالیہ فرماتے ہیں اس آیت میں گویا حکم ہے کہ شبہ، گمراہی، اور فتنوں سے بچنا چاہئے، یہ ہدایت اللہ کے علم اور اس کی رہبری سے ہوئی وہ جسے چاہے راہ استقامت سجھا دیتا ہے، بخاری ومسلم میں ہے کہ آنحضرت ﷺ رات کو جب تہجد کے لئے اٹھتے تھے تو یہ پڑھتے دعا (اللہم رب جبریل ومیکائیل واسرافیل فاطر السماوات والارض عالم الغیب والشہادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون اہدنی لما اختلف فیہ من الحق باذنک انک تہدی من تشاء الی صراط مستقیم۔ یعنی اے اللہ اے جبرائیل ومیکائل اور اسرافیل کے اللہ عزوجل اے آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے الہ العالمین۔ اے چھپے کھلے کے جاننے والے اللہ جل شانہ تو ہی اپنے بندوں کے آپس کے اختلافات کا فیصلہ کرتا ہے میری دعا ہے کہ جس جس چیز میں یہ اختلاف کریں تو مجھے اس میں حق بات سمجھا تو جسے چاہے راہ راست دکھلا دیتا ہے حضور ﷺ سے ایک دعا یہ بھی منقول ہے (اللہم ارنا الحق حق وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ ولا تجعلہ متلبسا علینا فنضل واجعلنا للمتقین اماما)۔ اے اللہ ہمیں حق کو حق دکھا اور اس کی تابعدار نصیب فرما اور باطل کو باطل دکھا اور اس سے بچا کہیں ایسا نہ کہ حق وباطل ہم پر خلط ملط ہوجائے اور ہم بہک جائیں اے اللہ ہمیں نیکوکار اور پرہیزگار لوگوں کا امام بنا۔
ہم سب کو آزمائش سے گزرنا ہے مطلب یہ ہے کہ آزمائش اور امتحان سے پہلے جنت کی آرزوئیں ٹھیک نہیں اگلی امتوں کا بھی امتحان لیا گیا، انہیں بھی بیماریاں مصیبتیں پہنچیں، بأساء کے معنی فقیری وضراء کے معنی سخت بیماری بھی کیا گیا ہے۔ (زلزلوا) ان پر دشمنوں کا خوف اس قدر طاری ہوا کہ کانپنے لگے ان تمام سخت امتحانوں میں وہ کامیاب ہوئے اور جنت کے وارث بنے، صحیح حدیث میں ہے ایک مرتبہ حضرت خباب بن ارت ؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ ہماری امداد کی دعا نہیں کرتے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا بس ابھی سے گھبرا اٹھے سنو تم سے اگلے موحدوں کو پکڑ کر ان کے سروں پر آرے رکھ دئیے جاتے تھے اور چیر کر ٹھیک دو ٹکڑے کر دئیے جاتے تھے لیکن تاہم وہ توحید وسنت سے نہ ہٹتے تھے، لوہے کی کنگھیوں سے ان کے گوشت پوست نوچے جاتے تھے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے دین کو نہیں چھوڑتے تھے، قسم اللہ کی اس میرے دین کو تو میرا رب اس قدر پورا کرے گا کہ بلا خوف وخطر صنعاء سے حضرموت تک سوار تنہا سفر کرنے لگے گا اسے سوائے اللہ کے کسی کا خوف نہ ہوگا، البتہ دل میں یہ خیال ہونا اور بات ہے کہ کہیں میری بکریوں پر بھیڑیا نہ پڑے لیکن افسوس تم جلدی کرتے ہو، قرآن میں ٹھیک یہی مضمون دوسری جگہ ان الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ آیت (الۗمّۗ ۚ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ) 29۔ العنکبوت :1) کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ محض ایمان کے اقرار سے ہی چھوڑ دئیے جائیں گے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی ہم نے تو اگلوں کی بھی آزمائش کی سچوں کو اور جھوٹوں کو یقینا ہم نکھار کر رہیں گے، چناچہ اسی طرح صحابہ کرام رضون اللہ علیہم اجمعین کی پوری آزمائش ہوئی یوم الاحزاب کو یعنی جنگ خندق میں ہوئی جیسے خود قرآن پاک نے اس کا نقشہ کھینچا ہے فرمان ہے آیت (اِذْ جَاۗءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَاِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَـنَاجِرَ وَتَظُنُّوْنَ باللّٰهِ الظُّنُوْنَا) 33۔ الاحزاب :10) یعنی جبکہ کافروں نے تمہیں اوپر نیچے سے گھیر لیا جبکہ آنکھیں پتھرا گئیں اور دل حلقوم تک آگئے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ گمان ہونے لگے اس جگہ مومنوں کی پوری آزمائش ہوگئی اور وہ خوب جھنجھوڑ دئیے گئے جبکہ منافق اور ڈھل مل یقین لوگ کہنے لگے کہ اللہ رسول کے وعدے تو غرور کے ہی تھے ہرقل نے جب ابو سفیان سے ان کے کفر کی حالت میں پوچھا تھا کہ تمہاری کوئی لڑائی بھی اس دعویدار نبوت سے ہوئی ہے ابو سفیان نے کہا ہاں پوچھا پھر کیا رنگ رہا کہا کبھی ہم غالب رہے کبھی وہ غالب رہے تو ہرقل نے کہا انبیاء کی آزمائش اسی طرح ہوتی رہتی ہے لیکن انجام کار کھلا غلبہ انہیں کا ہوتا ہے مثل کے معنی طریقہ کے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (وَّمَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِيْنَ) 43۔ الزخرف :8) ، اگلے مومنوں نے مع نبیوں کے ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کی اور سخت اور تنگی سے نجات چاہی جنہیں جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ کی امداد بہت ہی نزدیک ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۙ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۭ) 94۔ الشرح :65) ، یقینا سختی کے ساتھ آسانی ہے برائی کے ساتھ بھلائی ہے، ایک حدیث میں ہے کہ بندے جب ناامید ہونے لگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ تعجب کرتا ہے کہ میری فریاد رسی تو آپہنچنے کو ہے اور یہ ناامید ہوتا چلا جا رہا ہے پس اللہ تعالیٰ ان کی عجلت اور اپنی رحمت کے قرب پر ہنس دیتا ہے۔
نفلی خیرات مقاتل فرماتے ہیں یہ آیت نفلی خیرات کے بارے میں ہے، سدی کہتے ہیں اسے آیت زکوٰۃ نے منسوخ کردیا۔ لیکن یہ قول ذرا غور طلب ہے، مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے نبی لوگ تم سے سوال کرتے ہیں کہ وہ کس طرح خرچ کریں تم انہیں کہہ دو کہ ان لوگوں سے سلوک کریں جن کا بیان ہوا۔ حدیث میں ہے کہ اپنی ماں سے سلوک کر اور اپنے باپ اور اپنی بہن سے اور اپنے بھائی سے پھر اور قریبی اور قریبی لوگوں سے یہ حدیث بیان فرما کر حضرت میمون بن مہران نے اس آیت کی تلاوت کیا اور فرمایا یہ ہیں جن کے ساتھ مالی سلوک کیا جائے اور ان پر مال خرچ کیا جائے نہ کہ طبلوں باجوں تصویروں اور دیواروں پر کپڑا چسپاں کرنے میں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے تم جو بھی نیک کام کرو اس کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے اور وہ اس پر بہترین بدلہ عطا فرمائے گا وہ ذرے برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔
جہاد بقائے ملت کا بنیادی اصول دشمنان اسلام سے دین اسلام کے بچاؤ کے لئے جہاد کی فرضیت کا اس آیت میں حکم ہو رہا ہے زہری فرماتے ہیں جہاد ہر شخص پر فرض ہے، خواہ لڑائی میں نکلے خواہ بیٹھا رہے سب کا فرض ہے کہ جب ان سے مدد طلب کی جائے تو وہ امداد کریں جب ان سے فریاد کی جائے یہ فریاد رسی کریں جب انہیں میدان میں بلایا جائے یہ نکل کھڑے ہوں صحیح حدیث شریف میں ہے جو شخص مرجائے اور اس نے نہ تو جہاد کیا ہو نہ اپنے دل میں جہاد کی بات چیت کی ہو وہ جاہلیت کی موت مرے گا اور حدیث میں ہے، فتح مکہ کے بعد ہجرت تو نہیں رہی لیکن جہاد اور نیت موجود ہے اور جب تم سے جہاد کے لئے نکلنے کو کہا جائے تو نکل کھڑے ہو یہ حکم آپ نے مکہ کی فتح کے دن فرمایا تھا۔ پھر فرمایا ہے حکم جہاد گو تم پر بھاری پڑے گا اور اس میں تمہیں مشقت اور تکلیف نظر آئے گی ممکن ہے قتل بھی کئے جاؤ ممکن ہے زخمی ہوجاؤ پھر سفر کی تکلیف دشمنوں کی یورش کا مقابلہ ہو لیکن سمجھو تو ممکن ہے تم برا جانو اور ہو تمہارے لئے اچھا کیونکہ اسی سے تمہارا غلبہ اور دشمن کی پامالی ہے ان کے مال ان کے ملک بلکہ ان کے بال بچے تک بھی تمہارے قدموں میں گرپڑیں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو اپنے لئے اچھا جانو اور وہ ہی تمہارے لئے برا ہو عموما ایسا ہوتا ہے کہ انسان ایک چیز کو چاہتا ہے لیکن فی الواقع نہ اس میں مصلحت ہوتی ہے نہ خیروبرکت اسی طرح گو تم جہاد نہ کرنے میں اچھائی سمجھو دراصل وہ تمہارے لئے زبردست برائی ہے کیونکہ اس سے دشمن تم پر غالب آجائے گا اور دنیا میں قدم ٹکانے کو بھی تمہیں جگہ نہ ملے گی، تمام کاموں کے انجام کا علم محض پروردگار عالم ہی کو ہے وہ جانتا ہے کہ کونسا کام تمہارے لئے انجام کے لحاظ سے اچھا ہے اور کونسا برا ہے، وہ اسی کام کا حکم دیتا ہے جس میں تمہارے لئے دونوں جہان کی بہتری ہو تم اس کے احکام دل وجان سے قبول کرلیا کرو اور اس کے ہر ہر حکم کو کشادہ پیشانی سے مان لیا کرو اسی میں تمہاری بھلائی اور عمدگی ہے۔
حضرمی کا قتل رسول اللہ ﷺ نے ایک جماعت کو بھیجا اور اس کا امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو بنایا جب وہ جانے لگے تو حضور ﷺ سے جدائی کے صدمہ سے رو دئیے آپ نے انہیں روک لیا اور ان کے بدلے حضرت عبداللہ بن جحش ؓ کو سردار لشکر مقرر کیا اور انہیں ایک خط لکھ کردیا اور فرمایا کہ جب تک بطن نخلہ نہ پہنچو اس خط کو نہ پڑھنا اور وہاں پہنچ کر جب اس مضمون کو دیکھو تو ساتھیوں میں سے کسی کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہ کرنا چناچہ حضرت عبداللہ اس مختصر سی جماعت کو لے کر چلے جب اس مقام پر پہنچے تو فرمان نبی پڑھا اور کہا میں فرمانبرداری کے لئے تیار ہوں پھر اپنے ساتھیوں کو پڑھ کر سنایا اور واقعہ بیان کیا دو شخص تو لوٹ گئے لیکن اور سب ساتھ چلنے کے لئے آمادہ ہوگئے آگے چل کر ابن الحضرمی کافر کو انہوں نے پایا چونکہ یہ علم نہ تھا کہ جمادی الاخری کا یہ آخری دن ہے یا رجب کا پہلا دن ہے انہوں نے اس لشکر پر حملہ کردیا ابن الحضرمی مارا گیا اور صحابہ کی یہ جماعت وہاں واپس ہوئی اب مشرکین نے مسلمانوں پر اعتراض کرنا شروع کیا کہ دیکھو انہوں نے حرمت والے مہینوں میں لڑائی کی اور قتل بھی کیا اس بارے میں یہ آیت اتری (ابن ابی حاتم) ایک اور روایت میں ہے کہ اس جماعت میں حضرت عمار بن یاسر، حضرت ابو حذیفہ بن عبتہ بن ربیعہ، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عتبہ بن غزوان سلمی، حضرت سہیل بن بیضاء، حضرت عامر بن فہیرہ اور حضرت واقد بن عبداللہ یربوعی ؓ تھے۔ بطن نخلہ پہنچ کر حضرت عبداللہ بن جحش نے صاف فرما دیا تھا کہ جو شخص شہادت کا آرزو مند ہو وہی آگے بڑے یہاں سے واپس جانے والے حضرت سعد بن ابی وقاص اور عتبہ ؓ تھے ان کے ساتھ نہ جانے کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ ان کا اونٹ گم ہوگیا تھا جس کے ڈھونڈنے میں وہ رہ گئے ،۔ مشرکین میں حکم بن کیسان، عثمان بن عبداللہ وغیرہ تھے۔ حضرت واقد کے ہاتھوں عمرو قتل ہوا اور یہ جماعت مال غنیمت لے کر لوٹی۔ یہ پہلی غنیمت تھی جو مسلمان صحابہ کو ملی اور یہ جانباز جماعت دو قیدیوں کو اور مال غنیمت لے کر واپس آئی مشرکین مکہ نے قیدیوں کا فدیہ ادا کرنا چاہا (یہاں اصل عربی میں کچھ عبارت چھوٹ گئی ہے) اور انہوں نے اعتراضا کہا کہ دیکھو حضرت ﷺ کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ اللہ کے اطاعت گزار ہیں لیکن حرمت والے مہینوں کی کوئی حرمت نہیں کرتے اور ماہ رجب میں جدال و قتال کرتے ہیں، مسلمان کہتے تھے کہ ہم نے رجب میں قتل نہیں کیا بلکہ جمادی الاخری میں لڑائی ہوئی ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ رجب کی پہی رات اور جمادی الاخری کی آخری شب تھی رجب شروع ہوتے ہی مسلمانوں کی تلواریں میان میں ہوگئی تھیں، مشرکین کے اس اعتراض کا جواب اس آیت میں دیا جا رہا ہے کہ یہ سچ ہے کہ ان مہینوں میں جنگ حرام ہے لیکن اے مشرکوں تمہاری بداعمالیاں تو برائی میں اس سے بھی بڑھ کر ہیں، تم اللہ کا انکار کرتے ہو تم میرے نبی اور ان کے ساتھیوں کو میری مسجد سے روکتے ہو تم نے انہیں وہاں سے نکال دیا پس اپنی ان سیاہ کاریوں پر نظر ڈالو کہ یہ کس قدر بدترین کام ہیں، انہی حرمت والے مہینوں میں ہی مشرکین نے مسلمانوں کو بیت اللہ شریف سے روکا تھا اور وہ مجبورا واپس ہوئے تھے اگلے سال اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینوں میں ہی مکہ کو اپنے نبی کے ہاتھ فتح کروایا۔ انہیں ان آیتوں میں لاجواب کیا گیا عمرو بن الحضرمی جو قتل کیا گیا یہ طائف سے مکہ کو آ رہا تھا، گو رجب کا چاند چرھ چکا تھا لیکن صحابہ کو معلوم نہ تھا وہ اس رات کو جمادی الاخری کی آخری رات جانتے تھے، ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن جحش کے ساتھ آٹھ آدمی تھے سات تو وہی جن کے نام اوپر بیان ہوئے آٹھویں حضرت رباب اسدی ؓ تھے انہیں بدر اولیٰ سے واپسی کے وقت حضور ﷺ نے بھیجا تھا یہ سب مہاجر صحابہ تھے ان میں ایک بھی انصاری نہ تھا دو دن چل کر حضور ﷺ کے اس نامہ مبارک کو پڑھا جس میں تحریر تھا کہ میرے اس حکم نامہ کو پڑھ کر مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں جاؤ وہاں ٹھہرو اور قریش کے قافلہ کا انتظار کرو اور ان کی خبریں معلوم کر کے مجھے پہنچاؤ یہ بزرگ یہاں سے چلے تو سب ہی چلے تھے دو صحابی جو اونٹ کو ڈھونڈنے کے لئے رہ گئے تھے وہ بھی یہاں سے ساتھ ہی تھے لیکن فرغ کے اوپر معدن پر پہنچ کر نجران میں انہیں اونٹوں کی تلاش میں رک جانا پڑا، قریشیوں کے اس قافلہ میں زیتون وغیرہ تجارتی مال تھا مشرکین میں علاوہ ان لوگوں کے جن کے نام اوپر بیان ہوئے ہیں نوفل بن عبداللہ وغیرہ بھی تھے مسلمان اول تو انہیں دیکھ کر گھبرائے لیکن پھر مشورہ کر کے مسلمانوں نے حملہ یہ سوچ کر کیا کہ اگر انہیں چھوڑ دیا تو اس رات کے بعد حرمت کا مہینہ آجائے گا تو ہم پھر کچھ بھی نہ کرسکیں گے انہوں نے شجاعت و مردانگی کے ساتھ حملہ کیا حضرت واقد بن عبداللہ تمیمی ؓ نے عمرو بن حضرمی کو ایسا تاک کر تیر لگایا کہ اس کا تو فیصلہ ہی ہوگیا عثمان اور حکم کو قید کرلیا اور مال وغیرہ لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچے راستہ میں ہی سردار لشکر نے کہہ دیا تھا کہ اس مال میں سے پانچواں حصہ تو اللہ کے رسول ﷺ کا ہے چناچہ یہ حصہ تو الگ کر کے رکھ دیا گیا اور باقی مال صحابہ میں تقسیم کردیا اور اب تک یہ حکم نازل نہیں ہوا تھا کہ مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ نکالنا چاہئے، جب یہ لشکر سرکار نبوی میں پہنچا تو آپ نے واقعہ سن کر ناراضگی ظاہر فرمائی اور فرمایا کہ میں نے تمہیں حرمت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کو کب کہا تھا نہ تو قافلہ کا کچھ مال آپ نے لیا نہ قیدیوں کو قبضہ میں کیا حضور ﷺ کے اس قول وفعل سے یہ مسلمان سخت نادم ہوئے اور اپنی گنہگاری کا انہیں یقین ہوگیا پھر اور مسلمانوں نے بھی انہیں کچھ کہنا سننا شروع کیا ادھر قریشیوں نے طعنہ دینا شروع کیا کہ محمد اور آپ کے صحابہ حرمت والے مہینوں میں بھی جدال و قتال سے باز نہیں رہتے دوسری جانب یہودیوں نے ایک بدفالی نکالی چونکہ عمرو قتل کیا گیا تھا انہوں نے کہا عمرت الحرب لڑائی پر رونق اور خوب زوروشور سے لمبی مدت تک ہوگی اس کے باپ کا نام حضرمی تھا اس سے انہوں نے فال لی کہ حضرت الحرب وقت لڑائی آپہنچا، قاتل کا نام واقد تھا جس سے انہوں نے کہا وقدت الحرب لڑائی کی آگ بھڑک اٹھی لیکن قدرت نے اسے برعکس کردیا اور نتیجہ تمام تر مشرکین کے خلاف رہا اور ان کے اعتراض کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر بالفرض جنگ حرمت والے مہینہ میں ہوئی بھی ہو تو اس سے بھی بدترین تمہاری سیاہ کاریاں موجود ہیں تمہارا یہ فتنہ کہ تم دین اللہ سے مسلمانوں کو مرتد کرنے کی اپنی تمام تر امکانی کوششیں کر رہے ہو یہ اس قتل سے بھی بڑھ کر ہے اور تم نہ تو اپنے ان کاموں سے رکتے ہو نہ توبہ کرتے ہو نہ اس پر نادم ہوتے ہو، ان آیات کے نازل ہونے کے بعد مسلمان اس رنج و افسوس نجات پائے۔ اور حضور ﷺ نے قافلہ اور قیدیوں کو اپنے قبضہ میں لیا، قریشیوں نے پھر آپ کے پاس قاصد بھیجا کہ ان دونوں قیدیوں کا فدیہ لے لیجئے مگر آپ نے فرمایا کہ میرے دونوں صحابی سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان ؓ جب آجائیں تب آؤ مجھے ڈر ہے کہ تم انہیں ایذاء نہ پہنچاؤ چناچہ جب وہ آگئے تو آپ نے فدیہ لے لیا اور دونوں قیدیوں کو رہا کردیا حکم بن کیسان ؓ تو مسلمان ہوگئے اور حضور ﷺ کی خدمت میں ہی رہ گئے آخر بیر معونہ کی لڑائی میں شہید ہوئے ؓ ہاں عثمان بن عبداللہ مکہ واپس گیا اور وہیں کفر میں ہی مرا، ان غازیوں کو یہ آیت سن کر بڑی خوشی حاصل ہوئی اور حضور ﷺ کی ناراضگی کی وجہ سے حرمت والے مہینوں کی بےادبی کے سبب سے دوسرے صحابی کی چشمک کی بنا پر کفار کے طعنہ کے باعث جو رنج وغم ان کے دلوں پر تھا سب دور ہوگیا لیکن اب یہ فکر پڑی کہ ہمیں اخروی اجر بھی ملے گا یا نہیں ہم غازیوں میں بھی شمار ہوں گے یا نہیں جب حضور ﷺ سے یہ سوالات کئے گئے تو اس کے جواب میں یہ آیت (ان الذین امنوا) الخ، نازل ہوئی اور ان کی بڑی بڑی امیدیں بندھ گئیں ؓ اجمعین، اسلام اور کفر کے مقابلہ میں کافروں میں سب سے پہلے یہی ابن الحضرمی مارا گیا، کفار کا وفد حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ کیا حرمت والے مہینوں میں قتل کرنا جائز ہے اور اس پر یہ آیت (یسئلونک) الخ، نازل ہوئی یہی مال غنیمت تھا جو سب سے پہلے مسلمانوں کے ہاتھ لگا اور سب سے پہلے پانچواں حصہ حضرت عبداللہ بن جحش نے ہی نکالا جو اسلام میں باقی رہا اور حکم الہ بھی اس طرح نازل ہوا اور یہی دو قیدی تھے جو سب سے پہلے مسلمانوں کے ہاتھوں اسیر ہوئے، اس واقعہ کو ایک نظم میں بھی ادا کیا گیا ہے بعض تو کہتے ہیں کہ یہ اشعار حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ہیں لیکن یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اشعار عبداللہ بن جحش کے ہیں جو اس مختصر سے لشکر کے سردار تھے اللہ ان سے خوش ہو۔
حضرمی کا قتل رسول اللہ ﷺ نے ایک جماعت کو بھیجا اور اس کا امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو بنایا جب وہ جانے لگے تو حضور ﷺ سے جدائی کے صدمہ سے رو دئیے آپ نے انہیں روک لیا اور ان کے بدلے حضرت عبداللہ بن جحش ؓ کو سردار لشکر مقرر کیا اور انہیں ایک خط لکھ کردیا اور فرمایا کہ جب تک بطن نخلہ نہ پہنچو اس خط کو نہ پڑھنا اور وہاں پہنچ کر جب اس مضمون کو دیکھو تو ساتھیوں میں سے کسی کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہ کرنا چناچہ حضرت عبداللہ اس مختصر سی جماعت کو لے کر چلے جب اس مقام پر پہنچے تو فرمان نبی پڑھا اور کہا میں فرمانبرداری کے لئے تیار ہوں پھر اپنے ساتھیوں کو پڑھ کر سنایا اور واقعہ بیان کیا دو شخص تو لوٹ گئے لیکن اور سب ساتھ چلنے کے لئے آمادہ ہوگئے آگے چل کر ابن الحضرمی کافر کو انہوں نے پایا چونکہ یہ علم نہ تھا کہ جمادی الاخری کا یہ آخری دن ہے یا رجب کا پہلا دن ہے انہوں نے اس لشکر پر حملہ کردیا ابن الحضرمی مارا گیا اور صحابہ کی یہ جماعت وہاں واپس ہوئی اب مشرکین نے مسلمانوں پر اعتراض کرنا شروع کیا کہ دیکھو انہوں نے حرمت والے مہینوں میں لڑائی کی اور قتل بھی کیا اس بارے میں یہ آیت اتری (ابن ابی حاتم) ایک اور روایت میں ہے کہ اس جماعت میں حضرت عمار بن یاسر، حضرت ابو حذیفہ بن عبتہ بن ربیعہ، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عتبہ بن غزوان سلمی، حضرت سہیل بن بیضاء، حضرت عامر بن فہیرہ اور حضرت واقد بن عبداللہ یربوعی ؓ تھے۔ بطن نخلہ پہنچ کر حضرت عبداللہ بن جحش نے صاف فرما دیا تھا کہ جو شخص شہادت کا آرزو مند ہو وہی آگے بڑے یہاں سے واپس جانے والے حضرت سعد بن ابی وقاص اور عتبہ ؓ تھے ان کے ساتھ نہ جانے کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ ان کا اونٹ گم ہوگیا تھا جس کے ڈھونڈنے میں وہ رہ گئے ،۔ مشرکین میں حکم بن کیسان، عثمان بن عبداللہ وغیرہ تھے۔ حضرت واقد کے ہاتھوں عمرو قتل ہوا اور یہ جماعت مال غنیمت لے کر لوٹی۔ یہ پہلی غنیمت تھی جو مسلمان صحابہ کو ملی اور یہ جانباز جماعت دو قیدیوں کو اور مال غنیمت لے کر واپس آئی مشرکین مکہ نے قیدیوں کا فدیہ ادا کرنا چاہا (یہاں اصل عربی میں کچھ عبارت چھوٹ گئی ہے) اور انہوں نے اعتراضا کہا کہ دیکھو حضرت ﷺ کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ اللہ کے اطاعت گزار ہیں لیکن حرمت والے مہینوں کی کوئی حرمت نہیں کرتے اور ماہ رجب میں جدال و قتال کرتے ہیں، مسلمان کہتے تھے کہ ہم نے رجب میں قتل نہیں کیا بلکہ جمادی الاخری میں لڑائی ہوئی ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ رجب کی پہی رات اور جمادی الاخری کی آخری شب تھی رجب شروع ہوتے ہی مسلمانوں کی تلواریں میان میں ہوگئی تھیں، مشرکین کے اس اعتراض کا جواب اس آیت میں دیا جا رہا ہے کہ یہ سچ ہے کہ ان مہینوں میں جنگ حرام ہے لیکن اے مشرکوں تمہاری بداعمالیاں تو برائی میں اس سے بھی بڑھ کر ہیں، تم اللہ کا انکار کرتے ہو تم میرے نبی اور ان کے ساتھیوں کو میری مسجد سے روکتے ہو تم نے انہیں وہاں سے نکال دیا پس اپنی ان سیاہ کاریوں پر نظر ڈالو کہ یہ کس قدر بدترین کام ہیں، انہی حرمت والے مہینوں میں ہی مشرکین نے مسلمانوں کو بیت اللہ شریف سے روکا تھا اور وہ مجبورا واپس ہوئے تھے اگلے سال اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینوں میں ہی مکہ کو اپنے نبی کے ہاتھ فتح کروایا۔ انہیں ان آیتوں میں لاجواب کیا گیا عمرو بن الحضرمی جو قتل کیا گیا یہ طائف سے مکہ کو آ رہا تھا، گو رجب کا چاند چرھ چکا تھا لیکن صحابہ کو معلوم نہ تھا وہ اس رات کو جمادی الاخری کی آخری رات جانتے تھے، ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن جحش کے ساتھ آٹھ آدمی تھے سات تو وہی جن کے نام اوپر بیان ہوئے آٹھویں حضرت رباب اسدی ؓ تھے انہیں بدر اولیٰ سے واپسی کے وقت حضور ﷺ نے بھیجا تھا یہ سب مہاجر صحابہ تھے ان میں ایک بھی انصاری نہ تھا دو دن چل کر حضور ﷺ کے اس نامہ مبارک کو پڑھا جس میں تحریر تھا کہ میرے اس حکم نامہ کو پڑھ کر مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں جاؤ وہاں ٹھہرو اور قریش کے قافلہ کا انتظار کرو اور ان کی خبریں معلوم کر کے مجھے پہنچاؤ یہ بزرگ یہاں سے چلے تو سب ہی چلے تھے دو صحابی جو اونٹ کو ڈھونڈنے کے لئے رہ گئے تھے وہ بھی یہاں سے ساتھ ہی تھے لیکن فرغ کے اوپر معدن پر پہنچ کر نجران میں انہیں اونٹوں کی تلاش میں رک جانا پڑا، قریشیوں کے اس قافلہ میں زیتون وغیرہ تجارتی مال تھا مشرکین میں علاوہ ان لوگوں کے جن کے نام اوپر بیان ہوئے ہیں نوفل بن عبداللہ وغیرہ بھی تھے مسلمان اول تو انہیں دیکھ کر گھبرائے لیکن پھر مشورہ کر کے مسلمانوں نے حملہ یہ سوچ کر کیا کہ اگر انہیں چھوڑ دیا تو اس رات کے بعد حرمت کا مہینہ آجائے گا تو ہم پھر کچھ بھی نہ کرسکیں گے انہوں نے شجاعت و مردانگی کے ساتھ حملہ کیا حضرت واقد بن عبداللہ تمیمی ؓ نے عمرو بن حضرمی کو ایسا تاک کر تیر لگایا کہ اس کا تو فیصلہ ہی ہوگیا عثمان اور حکم کو قید کرلیا اور مال وغیرہ لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچے راستہ میں ہی سردار لشکر نے کہہ دیا تھا کہ اس مال میں سے پانچواں حصہ تو اللہ کے رسول ﷺ کا ہے چناچہ یہ حصہ تو الگ کر کے رکھ دیا گیا اور باقی مال صحابہ میں تقسیم کردیا اور اب تک یہ حکم نازل نہیں ہوا تھا کہ مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ نکالنا چاہئے، جب یہ لشکر سرکار نبوی میں پہنچا تو آپ نے واقعہ سن کر ناراضگی ظاہر فرمائی اور فرمایا کہ میں نے تمہیں حرمت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کو کب کہا تھا نہ تو قافلہ کا کچھ مال آپ نے لیا نہ قیدیوں کو قبضہ میں کیا حضور ﷺ کے اس قول وفعل سے یہ مسلمان سخت نادم ہوئے اور اپنی گنہگاری کا انہیں یقین ہوگیا پھر اور مسلمانوں نے بھی انہیں کچھ کہنا سننا شروع کیا ادھر قریشیوں نے طعنہ دینا شروع کیا کہ محمد اور آپ کے صحابہ حرمت والے مہینوں میں بھی جدال و قتال سے باز نہیں رہتے دوسری جانب یہودیوں نے ایک بدفالی نکالی چونکہ عمرو قتل کیا گیا تھا انہوں نے کہا عمرت الحرب لڑائی پر رونق اور خوب زوروشور سے لمبی مدت تک ہوگی اس کے باپ کا نام حضرمی تھا اس سے انہوں نے فال لی کہ حضرت الحرب وقت لڑائی آپہنچا، قاتل کا نام واقد تھا جس سے انہوں نے کہا وقدت الحرب لڑائی کی آگ بھڑک اٹھی لیکن قدرت نے اسے برعکس کردیا اور نتیجہ تمام تر مشرکین کے خلاف رہا اور ان کے اعتراض کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر بالفرض جنگ حرمت والے مہینہ میں ہوئی بھی ہو تو اس سے بھی بدترین تمہاری سیاہ کاریاں موجود ہیں تمہارا یہ فتنہ کہ تم دین اللہ سے مسلمانوں کو مرتد کرنے کی اپنی تمام تر امکانی کوششیں کر رہے ہو یہ اس قتل سے بھی بڑھ کر ہے اور تم نہ تو اپنے ان کاموں سے رکتے ہو نہ توبہ کرتے ہو نہ اس پر نادم ہوتے ہو، ان آیات کے نازل ہونے کے بعد مسلمان اس رنج و افسوس نجات پائے۔ اور حضور ﷺ نے قافلہ اور قیدیوں کو اپنے قبضہ میں لیا، قریشیوں نے پھر آپ کے پاس قاصد بھیجا کہ ان دونوں قیدیوں کا فدیہ لے لیجئے مگر آپ نے فرمایا کہ میرے دونوں صحابی سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان ؓ جب آجائیں تب آؤ مجھے ڈر ہے کہ تم انہیں ایذاء نہ پہنچاؤ چناچہ جب وہ آگئے تو آپ نے فدیہ لے لیا اور دونوں قیدیوں کو رہا کردیا حکم بن کیسان ؓ تو مسلمان ہوگئے اور حضور ﷺ کی خدمت میں ہی رہ گئے آخر بیر معونہ کی لڑائی میں شہید ہوئے ؓ ہاں عثمان بن عبداللہ مکہ واپس گیا اور وہیں کفر میں ہی مرا، ان غازیوں کو یہ آیت سن کر بڑی خوشی حاصل ہوئی اور حضور ﷺ کی ناراضگی کی وجہ سے حرمت والے مہینوں کی بےادبی کے سبب سے دوسرے صحابی کی چشمک کی بنا پر کفار کے طعنہ کے باعث جو رنج وغم ان کے دلوں پر تھا سب دور ہوگیا لیکن اب یہ فکر پڑی کہ ہمیں اخروی اجر بھی ملے گا یا نہیں ہم غازیوں میں بھی شمار ہوں گے یا نہیں جب حضور ﷺ سے یہ سوالات کئے گئے تو اس کے جواب میں یہ آیت (ان الذین امنوا) الخ، نازل ہوئی اور ان کی بڑی بڑی امیدیں بندھ گئیں ؓ اجمعین، اسلام اور کفر کے مقابلہ میں کافروں میں سب سے پہلے یہی ابن الحضرمی مارا گیا، کفار کا وفد حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ کیا حرمت والے مہینوں میں قتل کرنا جائز ہے اور اس پر یہ آیت (یسئلونک) الخ، نازل ہوئی یہی مال غنیمت تھا جو سب سے پہلے مسلمانوں کے ہاتھ لگا اور سب سے پہلے پانچواں حصہ حضرت عبداللہ بن جحش نے ہی نکالا جو اسلام میں باقی رہا اور حکم الہ بھی اس طرح نازل ہوا اور یہی دو قیدی تھے جو سب سے پہلے مسلمانوں کے ہاتھوں اسیر ہوئے، اس واقعہ کو ایک نظم میں بھی ادا کیا گیا ہے بعض تو کہتے ہیں کہ یہ اشعار حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ہیں لیکن یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اشعار عبداللہ بن جحش کے ہیں جو اس مختصر سے لشکر کے سردار تھے اللہ ان سے خوش ہو۔
حرمت شراب کیوں ؟ جب شراب کی حرمت کی آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر نے کہا یا اللہ تو اس کا واضح بیان فرما ان پر سورة بقرہ کی یہ آیت (يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ) 2۔ البقرۃ :219) نازل ہوئی حضرت عمر کو بلوایا گیا اور انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی لیکن حضرت عمر نے پھر بھی یہی دعا کی کہ یا اللہ اسے ہمارے لئے اور زیادہ صاف بیان فرما اس پر سورة نساء کی آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا) 4۔ النسآء :43) نازل ہوئی اور ہر نماز کے وقت پکارا جانے لگا کہ نشے والے لوگ نماز کے قریب بھی نہ آئیں حضرت عمر کو بلوایا گیا اور ان کے سامنے اس آیت کی بھی تلاوت کی گئی آپ نے پھر بھی یہی دعا کی یا اللہ ہمارے لئے اس کا بیان اور واضح کر اس پر سورة مائدہ کی آیت (انما الخمر۔ الخ) اتری جب فاروق اعظم ؓ کو بلا کر یہ آیت بھی سنائی گئی اور جب ان کے کان میں آیت کے آخری الفاظ (فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ) 5۔ المائدہ :91) پڑے تو آپ بول اٹھے انتہینا انتہینا ہم رک گئے ہم باز آئے ملاحظہ ہو مسند احمد، ترمذی اور نسائی وغیرہ، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ میں بھی روایت ہے لیکن اس کا راوی ابو میسرہ ہے جن کا نام عمر بن شرحبیل ہمدانی کوفی ہے، ابو زرعہ فرماتے ہیں کہ ان کا سماع حضرت عمر سے ثابت نہیں واللہ اعلم۔ امام علی بن مدینی فرماتے ہیں اس کی اسنا صالح اور صحیح ہے امام ترمذی بھی اسے صحیح کہتے ہیں ابن ابی حاتم میں حضرت عمر کے (انتہینا انتہینا) کے قول کے بعد یہ بھی ہے کہ شراب مال کو برباد کرنے والی اور عقل کو خبط کرنے والی چیز ہے یہ روایت اور اسی کے ساتھ مسند کی حضرت ابوہریرہ والی اور روایتیں سورة مائدہ کی آیت (انما الخمر) کی تفسیر میں مفصل بیان ہوں گی انشاء اللہ تعالیٰ ، امیرالمومنین حضرت عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں خمر ہر وہ چیز ہے جو عقل کو ڈھانپ لے اس کا پورا بیان بھی سورة مائدہ میں ہی آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ، میسر کہتے ہیں جوے بازی کو گناہ اس ان کا وبال اخروی ہے اور فائدہ صرف دنیاوی ہے کہ بدن کو کچھ نفع پہنچے یا غذا ہضم ہو یا فضلے برآمد ہوں یا بعض ذہن تیز ہوجائیں یا ایک طرح کا سرور حاصل ہو جیسے کہ حسان بن ثابت کا جاہلیت کے زمانہ کا شعر ہے شراب پی کر ہم بادشاہ اور دلیر بن جاتے ہیں، اسی طرح اس کی خریدو فروخت اور کشید میں بھی تجارتی نفع ممکن ہے ہوجائے۔ اسی طرح جوئے بازی میں ممکن ہے جیت ہوجائے، لیکن ان فوائد کے مقابلہ میں نقصانات ان کے بکثرت ہیں کیونکہ اس سے عقل کا مارا جانا، ہوش و حواس کا بیکار ہونا ضروری ہے، ساتھ ہی دین کا برباد ہونا بھی ہے، یہ آیت گویا شراب کی حرمت کا پیش خیمہ تھی مگر اس میں صاف صاف حرمت بیان نہیں ہوئی تھی اسی لئے حضرت عمر کی چاہت تھی کہ کھلے لفظوں میں شراب کی حرمت نازل ہو، چناچہ آخرکار سورة مائدہ کی آیت میں صاف فرما دیا گیا کہ شراب اور جوا اور پانسے اور تیر سے فال لینا سب حرام اور شیطانی کام ہیں، اے مسلمانو اگر نجات کے طالب ہو تو ان سب سے باز آجاؤ، شیطان کی تمنا ہے کہ شراب اور جوئے کے باعث تم میں آپس میں عداوت وبغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روک دے کیا اب تم ان شیطانی کاموں سے رک جانے والے بن جاؤ گے ؟ اس کا پورا بیان انشاء اللہ سورة مائدہ میں آئے گا، مفسرین تابعی فرماتے ہیں کہ شراب کے بارے میں پہلے یہی آیت نازل ہوئی، پھر سورة نساء کی آیت نازل ہوئی پھر سورة مائدہ کی آیت اتری اور شراب مکمل طور پر حرام ہوگئی۔عفو اور اس کی وضاحتیں (فل العفو) کی ایک قرأت قل العفو بھی ہے اور دونوں قرأتیں ٹھیک ہیں معنی قریب قریب اور ایک ہوسکتے ہیں اور بندھی بیٹھ سکتے ہیں، حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ثعلبہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور دریافت کیا کہ حضور ﷺ ! ہمارے غلام بھی ہیں بال بچے بھی ہیں اور ہم مال دار بھی ہیں کیا کچھ اللہ کی راہ میں دیں ؟ جس کے جواب میں آیت (قل العفو) کہا گیا یعنی جو اپنے بال بچوں کے خرچ کے بعد بچے، بہت سے صحابہ اور تابعین سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے، حضرت طاؤس کہتے ہیں ہر چیز میں تھوڑا تھوڑا اللہ کی راہ بھی دیتے رہا کرو، ربیع کہتے ہیں افضل اور بہتر مال اللہ کی راہ میں دو ، سب اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ حاجت سے زائد چیز اللہ کی راہ میں خرچ کرو، حضرت حسن فرماتے ہیں ایسا نہ کرو کہ سب دے ڈالو اور پھر خود سوال کے لئے بیٹھ جاؤ، چناچہ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا حضور ! میرے پاس ایک دینار ہے آپ نے فرمایا اپنے کام میں لاؤ، کہا میرے پاس ایک اور ہے فرمایا اپنی بیوی پر خرچ کرو کہا حضرت ایک اور ہے فرمایا اپنے بچوں کی ضروریات پر لگاؤ کہا ایک اور بھی ہے فرمایا اسے تو اپنی عقل سے خود بھی کرسکتا ہے۔ صحیح مسلم شریف کی ایک اور حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا اپنے نفس سے شروع کر پہلے اسی پر صدقہ کر پھر تو اپنے بال بچوں پر پھر بچے تو اپنے رشتہ داروں پر پھر تو اور اور حاجت مندوں پر، اسی کتاب میں ایک اور حدیث میں ہے کہ سب سے افضل خیرات وہ ہے جو انسان اپنے خرچ کے مطابق باقی رکھ کر بچی ہوئی چیز کو اللہ کی راہ میں دے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہے، پہلے انہیں دے جن کا خرچ تیرے ذمہ ہے ایک اور حدیث میں ہے اے ابن آدم جو تیرے پاس اپنی ضرورت سے زائد ہو اسے اللہ کی راہ میں دے ڈالنا ہی تیرے لئے بہتر ہے اس کا روک رکھنا تیرے لئے برا ہے ہاں اپنی ضرورت کے مطابق خرچ کرنے میں تجھ پر کوئی ملامت نہیں ابن عباس کا ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ یہ حکم زکوٰۃ کے حکم سے منسوخ ہوگیا، حضرت مجاہد کہتے ہیں کہ زکوٰۃ کی آیت گویا اس آیت کی تفسیر ہے اور اس کا واضح بیان ہے، ٹھیک قول یہی ہے۔ پھر ارشاد ہے کہ جس طرح یہ احکام واضح کر کے کھول کھول کر ہم نے بیان فرمائے اسی طرح ہم باقی احکام بھی وضاحت اور تشریح کے ساتھ بیان فرمائیں گے، وعدے وعید بھی صاف طور پر کھول دئیے جائیں گے تاکہ تم دنیائے فانی کی طرف بےرغبت ہو کر آخرت کی طرف متوجہ ہوجاؤ ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، حضرت حسن نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا واللہ جو غور وتدبر کرے گا جان لے گا کہ دنیا بلا کا گھر ہے اور اس کا انجام فنا ہے اور آخرت جزا اور بقا کا گھر ہے حضرت قتادہ فرماتے ہیں فکر کرنے سے صاف معلوم ہوسکتا ہے کہ دنیا پر آخرت کو کس قدر فضیلت ہے پس عقلمند کو چاہئے کہ آخرت کی بھلائی کے جمع کرنے کی کوشش میں لگ جائے۔ یتیم کا مال اور ہماری ذمہ داری۔ پھر یتیم کے بارے میں احکام نازل ہوتے ہیں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں پہلے یہ حکم ہوا تھا کہ آیت (وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ حَتّٰي يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ) 6۔ الانعام :152) یعنی یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ مگر اس طریقہ سے جو بہترین طریقہ ہو اور فرمایا گیا تھا آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْيَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا ۭ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيْرًا) 4۔ النسآء :10)۔ یعنی جو لوگ ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اور وہ بھڑکتی ہوئی جہنم میں عنقریب داخل ہوں گے تو ان آیتوں کو سن کر ان لوگوں نے جو یتیموں کے والی تھے یتیموں کا کھانا اور ان کا پانی اپنے گھر کے کھانے اور گھر کے پانی سے بالکل جدا کردیا اب اگر ان کا پکا ہوا کھانا بچ جاتا تو اسے یا تو وہ خود ہی دوسرے وقت کھائے یا خراب ہوجائے تو یوں ایک طرف تو ان یتیموں کا نقصان ہونے لگا دوسری جانب والیاں یتیم بھی تنگ آگئے کہ کب تک ایک ہی گھر میں اس طرح رکھ رکھاؤ کیا کریں تو ان لوگوں نے آکر حضور ﷺ سے عرض کی جس پر یہ آیت (قُلْ اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ ۭوَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُكُمْ) 2۔ البقرۃ :220) نازل ہوئی اور نیک نیتی اور دیانت داری کے ساتھ ان کے مال کو اپنے مال میں ملا لینے کی رخصت دی گئی، ابو داود و نسائی وغیرہ میں یہ روایتیں موجود ہیں اور سلف وخلف کی ایک بہت بڑی جماعت نے اس کا شان نزول یہی بیان فرمایا ہے، حضرت صدیقہ ؓ فرماتی ہیں یتیم کے مال کی اس طرح دیکھ بھال سخت مشکل ہے کہ اس کا کھانا پینا ملا جلا رکھنے کی اجازت دی گئی اس لئے کہ وہ بھی دینی بھائی ہیں یا نیت نیک ہونی چاہئے، قصد اور ارادہ اگر یتیم کی نقصان رسانی کا ہے تو وہ بھی اللہ تبارک وتعالیٰ سے پوشیدہ نہیں اور اگر مقصود یتیم کی بھلائی اور اس کے مال کی نگہبانی ہے تو اسے بھی وہ علام الغیوب بخوبی جانتا ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ تمہیں تکلیف ومشقت میں مبتلا رکھنا نہیں چاہتا جو تنگی اور حرج تم پر یتیم کا کھانا پینا بالکل جدا رکھنے میں تھا وہ اللہ تعالیٰ نے دور فرما دیا اور تم پر تخفیف کردی اور ایک ہنڈیا رکھنا اور ملا جلا کام کرنا تمہارے لئے مباح قرار دیا، بلکہ یتیم کا نگران اگر تنگ دست مسکین محتاج ہو تو دستور کے مطابق اپنے خرچ میں لاسکتا ہے، اور اگر کسی مالدار نے اپنے بوقت ضرورت اس کی چیز کام میں لے لی تو پھر ادا کر دے، یہ مسائل انشاء اللہ وضاحت کے ساتھ سورة نساء کی تفسیر میں بیان ہوں گے۔
حرمت شراب کیوں ؟ جب شراب کی حرمت کی آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر نے کہا یا اللہ تو اس کا واضح بیان فرما ان پر سورة بقرہ کی یہ آیت (يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ) 2۔ البقرۃ :219) نازل ہوئی حضرت عمر کو بلوایا گیا اور انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی لیکن حضرت عمر نے پھر بھی یہی دعا کی کہ یا اللہ اسے ہمارے لئے اور زیادہ صاف بیان فرما اس پر سورة نساء کی آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا) 4۔ النسآء :43) نازل ہوئی اور ہر نماز کے وقت پکارا جانے لگا کہ نشے والے لوگ نماز کے قریب بھی نہ آئیں حضرت عمر کو بلوایا گیا اور ان کے سامنے اس آیت کی بھی تلاوت کی گئی آپ نے پھر بھی یہی دعا کی یا اللہ ہمارے لئے اس کا بیان اور واضح کر اس پر سورة مائدہ کی آیت (انما الخمر۔ الخ) اتری جب فاروق اعظم ؓ کو بلا کر یہ آیت بھی سنائی گئی اور جب ان کے کان میں آیت کے آخری الفاظ (فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ) 5۔ المائدہ :91) پڑے تو آپ بول اٹھے انتہینا انتہینا ہم رک گئے ہم باز آئے ملاحظہ ہو مسند احمد، ترمذی اور نسائی وغیرہ، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ میں بھی روایت ہے لیکن اس کا راوی ابو میسرہ ہے جن کا نام عمر بن شرحبیل ہمدانی کوفی ہے، ابو زرعہ فرماتے ہیں کہ ان کا سماع حضرت عمر سے ثابت نہیں واللہ اعلم۔ امام علی بن مدینی فرماتے ہیں اس کی اسنا صالح اور صحیح ہے امام ترمذی بھی اسے صحیح کہتے ہیں ابن ابی حاتم میں حضرت عمر کے (انتہینا انتہینا) کے قول کے بعد یہ بھی ہے کہ شراب مال کو برباد کرنے والی اور عقل کو خبط کرنے والی چیز ہے یہ روایت اور اسی کے ساتھ مسند کی حضرت ابوہریرہ والی اور روایتیں سورة مائدہ کی آیت (انما الخمر) کی تفسیر میں مفصل بیان ہوں گی انشاء اللہ تعالیٰ ، امیرالمومنین حضرت عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں خمر ہر وہ چیز ہے جو عقل کو ڈھانپ لے اس کا پورا بیان بھی سورة مائدہ میں ہی آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ، میسر کہتے ہیں جوے بازی کو گناہ اس ان کا وبال اخروی ہے اور فائدہ صرف دنیاوی ہے کہ بدن کو کچھ نفع پہنچے یا غذا ہضم ہو یا فضلے برآمد ہوں یا بعض ذہن تیز ہوجائیں یا ایک طرح کا سرور حاصل ہو جیسے کہ حسان بن ثابت کا جاہلیت کے زمانہ کا شعر ہے شراب پی کر ہم بادشاہ اور دلیر بن جاتے ہیں، اسی طرح اس کی خریدو فروخت اور کشید میں بھی تجارتی نفع ممکن ہے ہوجائے۔ اسی طرح جوئے بازی میں ممکن ہے جیت ہوجائے، لیکن ان فوائد کے مقابلہ میں نقصانات ان کے بکثرت ہیں کیونکہ اس سے عقل کا مارا جانا، ہوش و حواس کا بیکار ہونا ضروری ہے، ساتھ ہی دین کا برباد ہونا بھی ہے، یہ آیت گویا شراب کی حرمت کا پیش خیمہ تھی مگر اس میں صاف صاف حرمت بیان نہیں ہوئی تھی اسی لئے حضرت عمر کی چاہت تھی کہ کھلے لفظوں میں شراب کی حرمت نازل ہو، چناچہ آخرکار سورة مائدہ کی آیت میں صاف فرما دیا گیا کہ شراب اور جوا اور پانسے اور تیر سے فال لینا سب حرام اور شیطانی کام ہیں، اے مسلمانو اگر نجات کے طالب ہو تو ان سب سے باز آجاؤ، شیطان کی تمنا ہے کہ شراب اور جوئے کے باعث تم میں آپس میں عداوت وبغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روک دے کیا اب تم ان شیطانی کاموں سے رک جانے والے بن جاؤ گے ؟ اس کا پورا بیان انشاء اللہ سورة مائدہ میں آئے گا، مفسرین تابعی فرماتے ہیں کہ شراب کے بارے میں پہلے یہی آیت نازل ہوئی، پھر سورة نساء کی آیت نازل ہوئی پھر سورة مائدہ کی آیت اتری اور شراب مکمل طور پر حرام ہوگئی۔عفو اور اس کی وضاحتیں (فل العفو) کی ایک قرأت قل العفو بھی ہے اور دونوں قرأتیں ٹھیک ہیں معنی قریب قریب اور ایک ہوسکتے ہیں اور بندھی بیٹھ سکتے ہیں، حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ثعلبہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور دریافت کیا کہ حضور ﷺ ! ہمارے غلام بھی ہیں بال بچے بھی ہیں اور ہم مال دار بھی ہیں کیا کچھ اللہ کی راہ میں دیں ؟ جس کے جواب میں آیت (قل العفو) کہا گیا یعنی جو اپنے بال بچوں کے خرچ کے بعد بچے، بہت سے صحابہ اور تابعین سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے، حضرت طاؤس کہتے ہیں ہر چیز میں تھوڑا تھوڑا اللہ کی راہ بھی دیتے رہا کرو، ربیع کہتے ہیں افضل اور بہتر مال اللہ کی راہ میں دو ، سب اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ حاجت سے زائد چیز اللہ کی راہ میں خرچ کرو، حضرت حسن فرماتے ہیں ایسا نہ کرو کہ سب دے ڈالو اور پھر خود سوال کے لئے بیٹھ جاؤ، چناچہ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا حضور ! میرے پاس ایک دینار ہے آپ نے فرمایا اپنے کام میں لاؤ، کہا میرے پاس ایک اور ہے فرمایا اپنی بیوی پر خرچ کرو کہا حضرت ایک اور ہے فرمایا اپنے بچوں کی ضروریات پر لگاؤ کہا ایک اور بھی ہے فرمایا اسے تو اپنی عقل سے خود بھی کرسکتا ہے۔ صحیح مسلم شریف کی ایک اور حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا اپنے نفس سے شروع کر پہلے اسی پر صدقہ کر پھر تو اپنے بال بچوں پر پھر بچے تو اپنے رشتہ داروں پر پھر تو اور اور حاجت مندوں پر، اسی کتاب میں ایک اور حدیث میں ہے کہ سب سے افضل خیرات وہ ہے جو انسان اپنے خرچ کے مطابق باقی رکھ کر بچی ہوئی چیز کو اللہ کی راہ میں دے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہے، پہلے انہیں دے جن کا خرچ تیرے ذمہ ہے ایک اور حدیث میں ہے اے ابن آدم جو تیرے پاس اپنی ضرورت سے زائد ہو اسے اللہ کی راہ میں دے ڈالنا ہی تیرے لئے بہتر ہے اس کا روک رکھنا تیرے لئے برا ہے ہاں اپنی ضرورت کے مطابق خرچ کرنے میں تجھ پر کوئی ملامت نہیں ابن عباس کا ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ یہ حکم زکوٰۃ کے حکم سے منسوخ ہوگیا، حضرت مجاہد کہتے ہیں کہ زکوٰۃ کی آیت گویا اس آیت کی تفسیر ہے اور اس کا واضح بیان ہے، ٹھیک قول یہی ہے۔ پھر ارشاد ہے کہ جس طرح یہ احکام واضح کر کے کھول کھول کر ہم نے بیان فرمائے اسی طرح ہم باقی احکام بھی وضاحت اور تشریح کے ساتھ بیان فرمائیں گے، وعدے وعید بھی صاف طور پر کھول دئیے جائیں گے تاکہ تم دنیائے فانی کی طرف بےرغبت ہو کر آخرت کی طرف متوجہ ہوجاؤ ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، حضرت حسن نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا واللہ جو غور وتدبر کرے گا جان لے گا کہ دنیا بلا کا گھر ہے اور اس کا انجام فنا ہے اور آخرت جزا اور بقا کا گھر ہے حضرت قتادہ فرماتے ہیں فکر کرنے سے صاف معلوم ہوسکتا ہے کہ دنیا پر آخرت کو کس قدر فضیلت ہے پس عقلمند کو چاہئے کہ آخرت کی بھلائی کے جمع کرنے کی کوشش میں لگ جائے۔ یتیم کا مال اور ہماری ذمہ داری۔ پھر یتیم کے بارے میں احکام نازل ہوتے ہیں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں پہلے یہ حکم ہوا تھا کہ آیت (وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ حَتّٰي يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ) 6۔ الانعام :152) یعنی یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ مگر اس طریقہ سے جو بہترین طریقہ ہو اور فرمایا گیا تھا آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْيَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا ۭ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيْرًا) 4۔ النسآء :10)۔ یعنی جو لوگ ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اور وہ بھڑکتی ہوئی جہنم میں عنقریب داخل ہوں گے تو ان آیتوں کو سن کر ان لوگوں نے جو یتیموں کے والی تھے یتیموں کا کھانا اور ان کا پانی اپنے گھر کے کھانے اور گھر کے پانی سے بالکل جدا کردیا اب اگر ان کا پکا ہوا کھانا بچ جاتا تو اسے یا تو وہ خود ہی دوسرے وقت کھائے یا خراب ہوجائے تو یوں ایک طرف تو ان یتیموں کا نقصان ہونے لگا دوسری جانب والیاں یتیم بھی تنگ آگئے کہ کب تک ایک ہی گھر میں اس طرح رکھ رکھاؤ کیا کریں تو ان لوگوں نے آکر حضور ﷺ سے عرض کی جس پر یہ آیت (قُلْ اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ ۭوَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُكُمْ) 2۔ البقرۃ :220) نازل ہوئی اور نیک نیتی اور دیانت داری کے ساتھ ان کے مال کو اپنے مال میں ملا لینے کی رخصت دی گئی، ابو داود و نسائی وغیرہ میں یہ روایتیں موجود ہیں اور سلف وخلف کی ایک بہت بڑی جماعت نے اس کا شان نزول یہی بیان فرمایا ہے، حضرت صدیقہ ؓ فرماتی ہیں یتیم کے مال کی اس طرح دیکھ بھال سخت مشکل ہے کہ اس کا کھانا پینا ملا جلا رکھنے کی اجازت دی گئی اس لئے کہ وہ بھی دینی بھائی ہیں یا نیت نیک ہونی چاہئے، قصد اور ارادہ اگر یتیم کی نقصان رسانی کا ہے تو وہ بھی اللہ تبارک وتعالیٰ سے پوشیدہ نہیں اور اگر مقصود یتیم کی بھلائی اور اس کے مال کی نگہبانی ہے تو اسے بھی وہ علام الغیوب بخوبی جانتا ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ تمہیں تکلیف ومشقت میں مبتلا رکھنا نہیں چاہتا جو تنگی اور حرج تم پر یتیم کا کھانا پینا بالکل جدا رکھنے میں تھا وہ اللہ تعالیٰ نے دور فرما دیا اور تم پر تخفیف کردی اور ایک ہنڈیا رکھنا اور ملا جلا کام کرنا تمہارے لئے مباح قرار دیا، بلکہ یتیم کا نگران اگر تنگ دست مسکین محتاج ہو تو دستور کے مطابق اپنے خرچ میں لاسکتا ہے، اور اگر کسی مالدار نے اپنے بوقت ضرورت اس کی چیز کام میں لے لی تو پھر ادا کر دے، یہ مسائل انشاء اللہ وضاحت کے ساتھ سورة نساء کی تفسیر میں بیان ہوں گے۔
پاک دامن عورتیں بت پرست مشرکہ عورتوں سے نکاح کی حرمت بیان ہو رہی ہے، گو آیت کا عموم تو ہر ایک مشرکہ عورت سے نکاح کرنے کی ممانعت پر ہی دلالت کرتا ہے لیکن دوسری جگہ فرمان ہے آیت (وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَآ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ وَلَا مُتَّخِذِيْٓ اَخْدَانٍ) 5۔ المائدہ :5) یعنی تم سے پہلے جو لوگ کتاب اللہ دئیے گئے ہیں ان کی پاکدامن عورتوں سے بھی جو زنا کاری سے بچنے والی ہوں ان کے مہر ادا کر کے ان سے نکاح کرنا تمہارے لئے حلال ہے، حضرت ابن عباس کا قول بھی یہی ہے کہ ان مشرکہ عورتوں میں سے اہل کتاب عورتیں مخصوص ہیں، مجاہد عکرمہ، سعید بن جبیر، مکحول، حسن، ضحاک، قتادہ زید بن اسلم اور ربیع بن انس رحمہم اللہ کا بھی یہی فرمان ہے، بعض کہتے ہیں یہ آیت صرف بت پرست مشرکہ عورتوں ہی کے لئے نازل ہوئی ہے یوں کہہ لو یا ووں مطلب دونوں کا ایک ہی ہے۔ واللہ اعلم۔ ابن جریر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کئی قسم کی عورتوں سے نکاح کرنے کو ناجائز قرار دیا سوائے ایمان دار، ہجرت کر کے آنے والی عورتوں کے خصوصا ان عورتوں سے جو کسی دوسرے مذہب کی پابند ہوں۔ قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت (ۭوَمَنْ يَّكْفُرْ بالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ ۡ وَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ) 5۔ المائدہ :5) یعنی کافروں کے اعمال برباد ہیں ایک روایت میں ہے کہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ سخت ناراض ہوئے یہاں تک کہ قریب تھا کہ انہیں کوڑے لگائیں، ان دونوں بزرگوں نے کہا اے امیرالمومنین آپ ناراض نہ ہوں ہم انہیں طلاق دے دیتے ہیں آپ نے فرمایا اگر طلاق دینی حلال ہے تو پھر نکاح بھی حلال ہونا چاہئے میں انہیں تم سے چھین لوں گا اور اس ذلت کے ساتھ انہیں الگ کروں گا، لیکن یہ حدیث نہایت غریب ہے اور حضرت عمر سے بالکل ہی غریب ہے، امام ابن جریر نے اہل کتاب عورتوں سے نکاح کر کے حلال ہونے پر اجماع نقل کیا ہے اور حضرت عمر ؓ کے اس اثر کے بارے میں تحریر کیا ہے کہ یہ صرف سیاسی مصلحت کی بناء پر تھا تاکہ مسلمان عورتوں سے بےرغبتی نہ کریں یا اور کوئی حکمت عملی اس فرمان میں تھی چناچہ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ جب حضرت حذیفہ کو یہ فرمان ملا تو انہوں نے جواب میں لکھا کہ کیا آپ اسے حرام کہتے ہیں، خلیفۃ المسلمین نے جواب دیا کہ حرام تو نہیں کہتا مگر مجھے خوف ہے کہیں تم مومن عورتوں سے نکاح نہ کرو ؟ اس روایت کی اسناد بھی صحیح ہے، ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا کہ مسلمان مرد نصرانی عورت سے نکاح کرسکتا ہے لیکن نصرانی مرد کا نکاح مسلمان عورت سے نہیں ہوسکتا اس روایت کی سند پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے، ابن جریر میں تو ایک مرفوع حدیث بھی باسناد مروی ہے کہ ہم اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کرلیں لیکن اہل کتاب مرد مسلمان عورتوں سے نکاح نہیں کرسکتے لیکن اس کی سند میں کچھ کمزوری ہے مگر امت کا اجماع اسی پر ہے، ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ حضرت فاروق نے اہل کتاب کے نکاح کو ناپسند کیا اور اس آیت کی تلاوت فرما دی، امام بخاری حضرت عمر کا یہ قول بھی نقل فرماتے ہیں کہ میں کسی شرک کو اس شرک سے بڑھ کر نہیں پاتا کہ وہ عورت کہتی ہے کہ عیسیٰ اس کے اللہ ہیں حضرت امام احمد سے اس آیت کا مطلب پوچھا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں مراد اس سے عرب کی وہ مشرکہ عورتیں ہیں جو بت پرست تھیں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ایمان والی لونڈی شرک کرنے والی آزاد عورت سے اچھی ہے یہ فرمان عبداللہ بن رواحہ ؓ کے بارے میں نازل ہوتا ہے، ان کی ایک سیاہ رنگ لونڈی تھی ایک مرتبہ غصہ میں آکر اسے تھپڑ مار دیا تھا پھر گھبرائے ہوئے آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور واقعہ عرض کیا آپ نے پوچھا اس کا کیا خیال کہا حضور ! وہ روزے رکھتی ہے نماز پڑھتی ہے اچھی طرح وضو کرتی ہے اللہ کی وحدانیت اور آپ کی رسالت کی گواہی دیتی ہے۔ آپ نے فرمایا اے ابو عبداللہ پھر تو وہ ایماندار ہے کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ! قسم اس اللہ کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اسے آزاد کر دوں گا اور اتنا ہی نہیں بلکہ اس سے نکاح بھی کرلوں گا چناچہ یہی کیا جس پر بعض مسلمانوں نے انہیں طعنہ دیا، وہ چاہتے تھے کہ مشرکوں میں ان کا نکاح کرا دیں اور انہیں اپنی لڑکیاں بھی دیں تاکہ شرافت نسب قائم رہے اس پر یہ فرمان نازل ہوا کہ مشرک آزاد عورتوں سے تو مسلمان لونڈی ہزارہا درجہ بہتر ہے اور اسی طرح مشرک آزاد مرد سے مسلم غلام بھی بڑھ چڑھ کر ہے، مسند عبد بن حمید میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورتوں کے محض حسن پر فریفتہ ہو کر ان سے نکاح نہ کرلیا کرو، ممکن ہے ان کا حسن انہیں مغرور کر دے عورتوں کے مال کے پیچھے ان سے نکاح نہ کرلیا کرو ممکن ہے مال انہیں سرکش کر دے نکاح کرو تو دینداری دیکھا کرو بدصورت سیاہ فام لونڈی بھی اگر دیندار ہو تو بہت افضل ہے، لیکن اس حدیث کے راویوں میں افریقی ضعیف ہے، بخاری مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چار باتیں دیکھ کر عورتوں سے نکاح کیا جاتا ہے ایک تو مال دوسرے حسب نسب تیسرے جمال و خوبصورتی چوتھے دین، تم دینداری ٹٹولو، مسلم شریف میں ہے دنیا کل کی کل ایک متاع ہے، متاع دنیا میں سب سے افضل چیز نیک بخت عورت ہے۔ پھر فرمان ہے کہ مشرک مردوں کے نکاح میں مسلمان عورتیں بھی نہ دو جیسے اور جگہ ہے۔ آیت (لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُنَّ) 60۔ الممتحنہ :10) نہ کافر عورتیں مسلمان مردوں کے لئے حلال نہ مسلمان مرد کافر عورتوں کے لئے حلال۔ پھر فرمان ہے کہ مومن مرد گو چاہے حبشی غلام ہو پھر بھی رئیس اور سردار آزاد کافر سے بہتر ہے۔ ان لوگوں کا میل جول ان کی صحبت، محبت دنیا حفاظ دنیا اور دنیا طلبی اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دینی سکھاتی ہیں جس کا انجام جہنم ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان کی پابندی اس کے حکموں کی تعمیل جنت کی رہبری کرتی ہے گناہوں کی مغفرت کا باعث بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے وعظ و نصیحت اور پند وعبرت کے لئے اپنی آیتیں واضح طور پر بیان فرما دیں۔
ایام حیض اور جماع سے متعلقہ مسائل : حضرت انس فرماتے ہیں کہ یہودی لوگ حائضہ عورتوں کو نہ اپنے ساتھ کھلاتے تھے اور نہ اپنے ساتھ رکھتے تھے، صحابہ نے اس بارے میں حضور ﷺ سے سوال کیا جس کے جواب میں یہ آیت اتری، اور حضور ﷺ نے فرمایا سوائے جماع کے اور سب کچھ حلال ہے یہودی یہ سن کر کہنے لگے کہ انہیں تو ہماری مخالفت ہی سے غرض ہے، حضرت اسید بن حضیر اور حضرت عباد بن بشر نے یہودیوں کا یہ کلام نقل کر کے کہا کہ حضور ﷺ پھر ہمیں جماع کی بھی رخصت دی جائے، آپ ﷺ کا چہرہ یہ سن کر متغیر ہوگیا یہاں تک کہ اور صحابہ نے خیال کیا کہ آپ ﷺ ان پر ناراض ہوگئے۔ جب یہ بزرگ جانے لگے تو آنحضرت ﷺ کے پاس کوئی بزرگ تحفتاً دودھ لے کر آئے، آپ ﷺ نے ان کے پیچھے آدمی بھیج کر انہیں بلایا اور وہ دودھ انہیں پلایا، اب معلوم ہوا کہ وہ غصہ جاتا رہا۔ (مسلم) پس اس فرمان کا کہ حیض کی حالت میں عورتوں سے الگ رہو یہ مطلب ہوا کہ جماع نہ کرو اس لئے کہ اور سب حلال ہے۔ اکثر علماء کا مذہب ہے کہ سوائے جماع کے مباشرت جائز ہے، احادیث میں ہے کہ حضور ﷺ بھی ایسی حالت میں ازواج مطہرات سے ملتے جلتے لیکن وہ تہمند باندھے ہوئے ہوتی تھیں (ابو داؤد) حضرت عمارہ کی پھوپھی صاحبہ حضرت عائشہ صدیقہ سے سوال کرتی ہیں کہ اگر عورت حیض کی حالت میں ہو اور گھر میں میاں بیوی کا ایک ہی بستر ہو تو وہ کیا کرے ؟ یعنی اس حالت میں اس کے ساتھ اس کا خاوند سو سکتا ہے یا نہیں ؟ آپ نے فرمایا، سنو ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ گھر میں تشریف لائے، آتے ہی نماز کی جگہ تشریف لے گئے اور نماز میں مشغول ہوگئے، دیر زیادہ لگ گئی اور اس عرصہ میں مجھے نیند آگئی، آپ کو جاڑا لگنے لگا تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا ادھر آؤ، میں نے کہا حضور ﷺ میں تو حیض سے ہوں، آپ ﷺ نے میرے گھٹنوں کے اوپر سے کپڑا ہٹانے کا حکم دیا اور پھر میری ران پر رخسار اور سینہ رکھ کر لیٹ گئے، میں بھی آپ ﷺ پر جھک گئی تو سردی کچھ کم ہوئی اور اس گرمی سے آپ ﷺ کو نیند آگئی۔ حضرت مسروق ایک مرتبہ حضرت عائشہ کے پاس آئے اور کہا السلام علی النبی و علی اھلہ حضرت عائشہ نے جواب دے کر مرحبا مرحبا کہا اور اندر آنے کی اجازت دی، آپ نے کہا ام المومنین ایک مسئلہ پوچھتا ہوں لیکن شرم معلوم ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا، سُن میں تیری ماں اور تو قائم مقام میرے بیٹے کے ہے، جو پوچھنا ہو پوچھ، کہا فرمائیے آدمی کیلئے اپنے حائضہ بیوی حلال ہے ؟ فرمایا سوائے شرمگاہ کے اور سب جائز ہے۔ (ابن جریر) اور سندوں سے بھی مختلف الفاظ کے ساتھ حضرت ام المومنین کا یہ قول مروی ہے، حضرت ابن عباس مجاہد حسن اور عکرمہ کا فتویٰ بھی یہی ہے، مقصد یہ ہے کہ حائضہ عورت کے ساتھ لیٹنا بیٹھنا اس کے ساتھ کھانا پینا وغیرہ امور بالاتفاق جائز ہیں۔ حضرت عائشہ سے منقول ہے میں حیض سے ہوتی تھی، میں ہڈی چوستی تھی اور آپ ﷺ بھی اسی ہڈی کو وہیں منہ لگا کر چوستے تھے، میں پانی پیتی تھی پھر گلاس آپ ﷺ کو دیتی، آپ ﷺ بھی وہیں منہ لگا کر اسی گلاس سے پانی پیتے اور میں اس وقت حائضہ ہوتی تھی، ابو داؤد میں روایت ہے کہ میرے حیض کے شروع دنوں میں آنحضرت ﷺ میرے ساتھ ہی لحاف میں سوتے تھے۔ اگر آپ ﷺ کا کپڑا کہیں سے خراب ہوجاتا تو آپ ﷺ اتنی ہی جگہ کو دھو ڈالتے۔ اگر جسم مبارک پر کچھ لگ جاتا تو اسے بھی دھو ڈالتے اور پھر ان ہی کپڑوں میں نماز پڑھتے۔ ہاں ابو داؤد کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت صدیقہ فرماتی ہیں میں جب حیض سے ہوتی تو بسترے سے اتر جاتی اور بورئیے پر آجاتی۔ نبی ﷺ میرے قریب بھی نہ آتے جب تک میں پاک نہ ہوجاؤں۔ تو یہ روایت محمول ہے کہ آپ پرہیز اور احتیاط کرتے تھے نہ یہ کہ محمول ہو حرمت اور ممانعت پر بعض حضرات یہ بھی فرماتے ہیں کہ تہبند ہوتے ہوئے فائدہ اٹھائے، حضرت میمونہ بنت حارث ہلالیہ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ جب اپنی کسی اہلیہ سے ان کی حیض کی حالت میں ملنا چاہتے تھے تو انہیں حکم دیتے تھے کہ تہبند باندھ لیں (بخاری) اس طرح بخاری مسلم میں بھی یہ حدیث حضرت عائشہ سے مروی ہے۔ حضور ﷺ سے ایک شخص سوال کرتا ہے کہ میری بیوی سے مجھے اس کے حیض کے حالت میں کیا کچھ حلال ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تہبند سے اوپر کا کل (ابوداؤد وغیرہ) ایک اور روایت میں ہے کہ اس سے بھی بچنا بہتر ہے۔ حضرت عائشہ حضرت ابن عباس، حضرت سعید بن مسیب اور حضرت شریح کا مذہب بھی یہی ہے۔ امام شافعی کے اس بارے میں دو قول ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ اکثر عراقیوں وغیرہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ یہ حضرات فرماتے ہیں کہ یہ تو متفقہ فیصلہ ہے کہ جماع حرام ہے اس لئے اس کے آس پاس سے بھی بچنا چاہئے تاکہ حرمت میں واقع ہونے کا خطرہ نہ رہے۔ حالت حیض میں جماع کی حرمت اور اس کام کے کرنے والے کا گنہگار ہونا تو یقین امر ہے جسے توبہ استغفار کرنا لازمی ہے لیکن اسے کفارہ بھی دینا پڑے گا یا نہیں اس میں علماء کرام کے دو قول ہیں۔ ایک تو یہ کہ کفارہ بھی ہے چناچہ مسند احمد اور سنن میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنی حائضہ بیوی سے جماع کرے وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ دے۔ ترمذی میں ہے کہ خون اگر سرخ ہو تو ایک دینار اور اگر زرد رنگ کا ہو تو آدھا دینار۔ مسند احمد میں ہے کہ اگر خون پیچھے ہٹ گیا اور ابھی اس عورت نے غسل نہ کیا ہو اور اس حالت میں اس کا خاوند اس سے ملے تو آدھا دینار ورنہ پورا دینار، دوسرا قول یہ ہے کہ کفارہ کچھ بھی نہیں صرف اللہ عزوجل سے استغفار کرے۔ امام شافعی کا بھی آخری اور زیادہ صحیح یہی مذہب ہے اور جمہور علماء بھی اسی کے قائل ہیں۔ جو حدیثیں اوپر بیان ہوئیں ان کی نسبت یہ حضرات فرماتے ہیں کہ ان کا مرفوع ہونا صحیح نہیں بلکہ صحیح بات یہی ہے کہ یہ موقوف ہے۔ یہ فرمان کہ جب تک عورتیں پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ۔ یہ تفسیر ہے اس فرمان کی کہ عورتوں سے ان کی حیض کی حالت میں جدا رہو، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت حیض ختم ہوجائے پھر نزدیکی حلال ہے۔ حضرت امام ابو عبد اللہ احمد بن حنبل فرماتے ہیں طہر یعنی پاکی دلالت کرتی ہے کہ اب اس سے نزدیکی جائز ہے۔ حضرت میمونہ اور حضرت عائشہ کا یہ فرمانا کہ ہم میں سے جب کوئی حیض سے ہوتی تو تہبند باندھ لیتی اور نبی ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کی چادر میں سوتی، اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ جس زندگی سے منع کیا گیا ہے وہ جماع ہے، ویسے سونا بیٹھنا وغیرہ سب جائز ہے۔ اس کے بعد یہ فرمان ان کے پاک ہوجانے کے بعد ان کے پاس آؤ۔ اس میں ارشاد ہے کہ اس کے غسل کرلینے کے بعد ان سے جماع کرو۔ امام ابن حزم فرماتے ہیں کہ ہر حیض کی پاکیزگی کے بعد جماع کرنا واجب ہے، اس کی دلیل آیت (فائتوھن) ہے جس میں حکم ہے لیکن یہ دلیل کوئی پختہ نہیں۔ یہ امر تو صرف حرمت کو ہٹا دینے کا اعلان ہے اور اس کے سوا اس کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں، علماء اصول میں سے بعض تو کہتے ہیں کہ امر یعنی حکم مطلقاً وجوب کیلئے ہوتا ہے ان لوگوں کو امام ابن حزم کا جواب بہت گراں ہے، بعض کہتے ہیں یہ امر صرف اباحت کیلئے ہے اور چونکہ اس سے پہلے ممانعت وارد ہوچکی ہے یہ قرینہ ہے جو امر کو وجوب سے ہٹا دیتا ہے لیکن یہ غور طلب بات ہے، دلیل سے جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ ایسے موقع پر یعنی پہلے منع ہو پھر " حکم " ہو تو حکم اپنی اصل پر رہتا ہے یعنی جو بات منع سے پہلے جیتی تھی ویسی ہی اب ہوجائے گی یعنی اگر منع سے پہلے وہ کام واجب تھا تو اب بھی واجب ہی رہے گا، جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ) 9۔ التوبہ :5) یعنی جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں سے جہاد کرو۔ اور اگر یہ کام ممانعت سے پہلے مباح تھا تو اب بھی وہ مباح رہے گا جیسے آیت (ۭوَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا) 5۔ المائدہ :2) جب تم احرام کھول دو تو شکار کھیلو، اور جگہ ہے آیت (فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ) 62۔ الجمعہ :10) یعنی جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ۔ ان علماء کرام کا یہ فیصلہ ان مختلف اقوال کو جمع بھی کردیتا ہے جو امر کے وجوب وغیرہ کے بارے میں ہیں۔ غزالی وغیرہ نے بھی اسے بیان کیا ہے اور بعض ائمہ متاخرین نے بھی اسے پسند فرمایا ہے اور یہی صحیح بھی ہے۔ یہ مسئلہ بھی یاد رہے کہ تمام علماء امت کا اتفاق ہے کہ جب خون حیض کا آنا رک جائے، مدت حیض گزر جائے پھر بھی اس کے خاوند کو اپنی بیوی سے مجامعت کرنی حلال نہیں جب تک وہ غسل نہ کرلے، ہاں اگر وہ معذور ہو اور غسل کے عوض تیمم کرنا اسے جائز ہو تو تیمم کرلے۔ اس کے بعد اس کے پاس اس کا خاوند آسکتا ہے۔ ہاں امام ابوحنیفہ ان تمام علماء کے مخالف ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ جب حیض زیادہ سے زیادہ دنوں تک آخری معیاد یعنی دس دن تک رہ کر بند ہوگیا تو اس کے خاوند اس سے صحبت کرنا حلال ہے، گو اس نے غسل نہ کیا ہو، واللہ اعلم، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ تو لفظ (یطھرون) کا اس سے مراد خون حیض کا بند ہونا ہے اور (تطھرون) سے مراد غسل کرنا ہے۔ حضرت مجاہد، حضرت عکرمہ، حضرت حسن، حضرت مقاتل بن حیات، حضرت لیث بن سعد وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں، پھر ارشاد ہوتا ہے اس جگہ سے آؤ جہاں سے آنے کا حکم اللہ نے تمہیں دیا ہے، مراد اس سے آگے کی جگہ ہے۔ حضرت ابن عباس، حضرت مجاہد وغیرہ بہت سے مفسرین نے اس کے یہی معنی بیان کئے ہیں کہ مراد اس سے بچوں کے تولد ہونے کی جگہ ہے، اس کے سوا اور جگہ یعنی پاخانہ کی جگہ جانا حرام ہے، ایسا کرنے سے حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ صحابہ اور تابعین سے بھی یہی مروی ہے کہ مطلب یہ ہے کہ جس جگہ سے حالت حیض میں تم روکے گئے تھے اب وہ جگہ تمہارے لئے حلال ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ پاخانہ کی جگہ وطی کرنا حرام ہے۔ اس کا مفصل بیان بھی آتا ہے انشاء اللہ۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ پاکیزگی کی حالت میں آؤ جبکہ حیض سے نکل آئیں اس لئے اس کے بعد کے جملہ میں ہے کہ گناہوں سے توبہ کرنے والوں، اس حالت میں جماع سے باز رہنے والوں، گندگیوں اور ناپاکیوں سے بچنے والوں، حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے نہ ملنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے۔ اسی طرح دوسری جگہ سے محفوظ رہنے والوں کو بھی پروردگار اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔
پھر فرمایا کہ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں یعنی اولاد ہونے کی جگہ تم اپنی کھیتی میں جیسے بھی چاہو آؤ یعنی جگہ تو وہی ایک ہو، طریقہ خواہ کوئی بھی ہو، سامنے کر کے یا اس کے خلاف۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ یہود کہتے تھے کہ جب عورت سے مجامعت سامنے رخ کر کے نہ کی جائے اور حمل ٹھہر جائے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے۔ ان کی تردید میں یہ جملہ نازل ہوا کہ مرد کو اختیار ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہودیوں نے یہی بات مسلمانوں سے بھی کہی تھی، ابن جریح فرماتے ہیں کہ آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اختیار دیا کہ خواہ سامنے سے آئے خواہ پیچھے سے لیکن ایک ہی رہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ سے ایک شخص نے پوچھا کہ ہم اپنی عورتوں کے پاس کیسے آئیں اور کیا چھوڑیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ تیری کھیتی ہے جس طرح چاہو آؤ، ہاں اس کے منہ پر نہ مار، زیادہ برا نہ کہہ، اس سے روٹھ کر الگ نہ ہوجا، ایک ہی گھر میں رہ (احمد و سنن) ابن ابی حاکم میں ہے کہ حمیر کے قبیلہ کے ایک آدمی نے حضور ﷺ نے سوال کیا کہ مجھے اپنی بیویوں سے زیادہ محبت ہے تو اس کے بارے میں احکام مجھے بتائے، اس پر یہ حکم نازل ہوا۔ مسند احمد میں ہے کہ چند انصاریوں نے حضور ﷺ سے یہ سوال کیا تھا، طحاوی کی کتاب مشکل الحدیث میں ہے ایک شخص نے اپنی بیوی سے الٹا کر کے مباشرت کی تھی، لوگوں نے اسے برا بھلا کہا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن جریر میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن سابط حضرت حفصہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر کے پاس آئے اور کہا میں ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں لیکن شرم آتی ہے، فرمایا بھتیجے تم نہ شرماؤ اور جو پوچھنا ہو پوچھ لو، کہا فرمائیے عورتوں کے پیچھے کی طرف سے جماع کرنا جائز ہے ؟ فرمایا سنو مجھ سے حضرت ام سلمہ نے فرمایا ہے کہ انصار عورتوں کو الٹا لٹایا کرتے تھے اور یہود کہتے تھے کہ اس طرح سے بچہ بھینگا ہوتا ہے، جب مہاجر مدینہ شریف آئے اور یہاں کی عورتوں سے ان کا نکاح ہوا اور انہوں نے بھی یہی کرنا چاہا تو ایک عورت نے اپنے خاوند کی بات نہ مانی اور کہا جب تک میں حضور ﷺ کی خدمت میں یہ واقعہ بیان نہ کرلوں تیری بات نہ مانوں گی چناچہ وہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی، ام سلمہ نے بٹھایا اور کہا ابھی آنحضرت ﷺ آجائیں گے، جب آنحضرت ﷺ آئے تو انصاریہ عورت شرمندگی کی وجہ سے نہ پوچھ سکی اور واپس چلی گئی لیکن ام المومنین نے آپ سے پوچھا، آپ ﷺ نے فرمایا انصاریہ عورت کو بلا لو، پھر یہ آیت پڑھ کر سنائی اور فرمایا جگہ ایک ہی ہو، مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ عمر بن خطاب نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ حضور ﷺ میں تو ہلاک ہوگیا، آپ ﷺ نے پوچھا کیا بات ہے ؟ کہا، میں نے رات کو اپنی سواری الٹی کردی، آپ ﷺ نے کچھ جواب نہ دیا۔ اسی وقت یہ آیت نازل ہوئی اور آپ ﷺ نے فرمایا سامنے سے آ، پیچھے سے آ، اختیار ہے لیکن حیض کی حالت میں نہ آ اور پاخانہ کی جگہ نہ آ۔ انصار والا واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ بھی مروی ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر کو اللہ بخشے، انہیں کچھ وہم سا ہوگیا۔ بات یہ ہے کہ انصاریوں کی جماعت پہلے بت پرست تھی اور یہودی اہل کتاب تھے۔ بت پرست لوگ ان کی فضیلت اور علمیت کے قائل تھے اور اکثر افعال میں ان کی بات مانا کرتے تھے۔ یہودی ایک ہی طرح پر اپنی بیویوں سے ملتے تھے۔ یہی عادت ان انصار کی بھی تھی۔ ان کے برخلاف مکہ والے کسی خاص طریقے کے پابند نہ تھے، وہ جس طرح جی چاہتا ملتے۔ اسلام کے بعد مکہ والے مہاجر بن کر مدینہ میں انصار کے ہاں جب اترے تو ایک مکی مجاہد مرد نے ایک مدنی انصاریہ عورت سے نکاح کیا اور اپنے من بھاتے طریقے برتنے چاہے، عورت نے انکار کردیا اور صاف کہہ دیا کہ اسی ایک مقررہ طریقہ کے علاوہ اجازت نہیں دیتی۔ بات بڑھتے بڑھتے حضور ﷺ تک پہنچی اور یہ فرمان نازل ہوا۔ پس سامنے سے پیچھے کی طرف سے اور جس طرح چاہے اختیار ہے ہاں جگہ ایک ہی ہو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس سے قرآن شریف سیکھا اول سے آخر تک انہیں سنایا، ایک آیت کی تفسیر اور مطلب پوچھا۔ اس آیت پر پہنچ کر جب میں نے اس کا مطلب پوچھا تو انہوں نے یہی بیان کیا (جو اوپر گزرا) ابن عمر کا وہم یہ تھا کہ بعض روایتوں میں ہے کہ آپ قرآن پڑھتے ہوئے کسی سے بولتے چالتے نہ تھے لیکن ایک دن تلاوت کرتے ہوئے جب اس آیت تک پہنچے تو اپنے شاگرد حضرت نافع سے فرمایا جانتے ہو یہ آیت کس بارے میں نازل ہوئی ؟ انہوں نے کہا نہیں، فرمایا یہ عورتوں کی دوسری جگہ کی وطی کے بارے میں اتری ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا ایک شخص نے اپنی بیوی سے پیچھے سے کیا تھا جس پر اس آیت میں رخصت نازل ہوئی لیکن ایک تو اس میں محدثین نے کچھ علت بھی بیان کی ہے، دوسرے اس کے معنی بھی یہی ہوسکتے ہیں کہ پیچھے کی طرف سے آگے کی جگہ میں کیا اور اوپر کی جو روایتیں ہیں وہ بھی سنداً صحیح نہیں بلکہ انہیں حضرت نافع سے مروی ہے کہ ان سے کہا گیا کہ کیا آپ یہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے وطی دبر کو جائز کیا ہے ؟ تو فرمایا لوگ جھوٹ کہتے ہیں۔ پھر وہی انصاریہ عورت اور مہاجر والا واقعہ بیان کیا اور فرمایا حضرت عبداللہ تو اس آیت کا یہ مطلب ارشاد فرماتے تھے، اس روایت کی اسناد بھی بالکل صحیح ہے اور اس کے خلاف سند صحیح نہیں، معنی مطلب بھی اور ہوسکتا ہے اور خود حضرت ابن عمر سے اس کے خلاف بھی مروی ہے۔ وہ روایتیں عنقریب بیان ہوں گی انشاء اللہ جن میں ہے کہ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ نہ یہ مباح ہے نہ حلال بلکہ حرام ہے، تو یہ قول یعنی جواز کا بعض کا بعض فقہاء مدینہ وغیرہ کی طرف بھی منسوب ہے اور بعض لوگوں نے تو اسے امام کی طرف بھی منسوب کیا ہے لیکن اکثر لوگ اس کا انکار کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ امام صاحب کا قول ہرگز یہ نہیں، صحیح حدیثیں بکثرت اس فعل کی حرمت پر وارد ہیں۔ ایک روایت میں ہے لوگو ! شرم و حیا کرو اللہ تعالیٰ حق بات فرمانے سے شرم نہیں کرتا۔ عورت کے پاخانہ کی جگہ وطی نہ کرو۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے اس حرکت سے لوگوں کو منع فرمایا (مسند احمد) اور روایت میں ہے کہ جو شخص کسی عورت یا مرد کے ساتھ یہ کام کرے اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نہیں دیکھے گا (ترمذی) حضرت ابن عباس سے ایک شخص یہ مسئلہ پوچھتا ہے تو آپ فرماتے ہیں کہ کیا تو کفر کرنے کی بابت سوال کرتا ہے ؟ ایک شخص نے آپ سے آکر کہا کہ میں نے آیت (انی شئتم) کا یہ مطلب سمجھا اور میں نے اس پر عمل کیا تو آپ ناراض ہوئے اور اسے برا بھلا کہا اور فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ خواہ کھڑے ہو کر، خواہ بیٹھ کر چت خواہ پٹ لیکن جگہ وہی ایک ہو، ایک اور مرفوع حدیث میں ہے کہ جو شخص اپنی بیوی سے پاخانہ کی جگہ وطی کرے وہ چھوٹا لوطی ہے (مسند احمد) ابو دردار فرماتے ہیں کہ یہ کفار کا کام ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کا یہ فرمان بھی منقول ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے واللہ اعلم۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان سے فرمائے گا کہ جہنمیوں کے ساتھ جہنم میں چلے جاؤ۔ ایک تو اغلام بازی کرنے والا خواہ وہ اوپر والا ہو خواہ نیچے والا ہو، اور اپنے ہاتھ سے مشت زنی کرنے والا، اور چوپائے جانور سے یہ کام کرنے والا اور عورت کی دبر میں وطی کرنے والا اور عورت اور اس کی بیٹی دونوں سے نکاح کرنے والا اور اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنے والا اور ہمسایہ کو ستانے والا، یہاں تک کہ وہ اس پر لعنت کرے، لیکن اس کی سند میں ابن لہیعہ اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں، مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ جو شخص اپنی بیوی سے دوسرے راستے وطی کرے اسے کو اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا (مسند) مسند احمد اور سنن میں مروی ہے کہ جو شخص حائضہ عورت سے جماع کرے یا غیر جگہ کرے یا کاہن کے پاس جائے اور اسے سچا سمجھے، اس نے اس چیز کے ساتھ کفر کیا جو محمد ﷺ کے اوپر اتری ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ امام بخاری اس حدیث کو ضعیف بتاتے ہیں، ترمذی میں روایت ہے کہ ابو سلمہ بھی دبر کی وطی کو حرام بتاتے تھے، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں لوگوں کا اپنی بیوی سے یہ کام کرنا کفر ہے (نسائی) ایک مرفوع حدیث میں اس معنی کی مروی ہے لیکن زیادہ صحیح اس کا موقوف ہونا ہی ہے، اور روایت میں ہے کہ یہ جگہ حرام ہے۔ حضرت ابن مسعود بھی یہی فرماتے ہیں، حضرت علی سے جب یہ بات پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا بڑا کمینہ وہ شخص ہے، دیکھو قرآن میں ہے کہ لوطیوں سے کہا گیا تم وہ بدکاری کرتے ہو جس کی طرف کسی نے تم سے پہلے توجہ نہیں کی، پس صحیح احادیث اور صحابہ کرام سے بہت سی روایتوں اور سندوں سے اس فعل کی حرمت مروی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر بھی اسے حرام کہتے ہیں۔ چناچہ دارمی میں ہے کہ آپ سے ایک مرتبہ یہ سال ہوا تو آپ نے فرمایا کیا مسلمان بھی ایسا کرسکتا ہے ؟ اس کی اسناد صحیح ہے اور حکم بھی حرمت کا صاف ہے، پس غیر صحیح اور مختلف معنی والی روایتوں میں پڑ کر اتنے جلیل القدر صحابی کی طرف ایک ایسا گندا مسئلہ منسوب کرنا ٹھیک نہیں۔ گو کہ روایتیں اس قسم کی بھی ملتی ہیں، امام مالک سو ان کی طرف بھی اس مسئلہ کی نسبت صحیح نہیں بلکہ معمر بن عیسیٰ فرماتے ہیں کہ امام صاحب اسے حرام جانتے تھے، اسرائیل بن روح نے آپ سے ایک مرتبہ یہی سوال کیا تو آپ نے فرمایا تم بےسمجھ ہو، بوائی کھیت میں ہی ہوتی ہے، خبردار شرم گاہ کے سوا اور جگہ سے بچو۔ سائل نے کہا حضرت لوگ تو کہتے ہیں کہ آپ اس فعل کو جائز کہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا جھوٹے ہیں مجھ پر تہمت باندھتے ہیں۔ امام مالک سے اس کی حرمت ثابت ہے۔ امام ابو حنیفہ، شافعی، احمد اور ان کے تمام شاگردوں اور ساتھی، سعید بن مسیب، ابو سلمہ، عکرمہ، عطاء، سعید بن جبیر، عروہ بن زبیر، مجاہد، حسن وغیرہ سلف صالحین سب کے سب اسے حرام کہتے ہیں اور اس بارے میں سخت تشدد کرتے ہیں بلکہ بعض تو اسے کفر کہتے ہیں، جمہور علماء کرام کا بھی اس کی حرمت پر اجماع ہے، گو بعض لوگوں نے فقہاء مدینہ بلکہ امام مالک سے بھی اس کی حلت نقل کی ہے لیکن یہ صحیح نہیں۔ عبدالرحمن بن قاسم کا قول ہے کہ کسی دیندار شخص کو میں نے تو اس کی حرمت میں شک کرنے والا نہیں پایا، پھر آیت (نساء کم حرث لکم) پڑھ کر فرمایا خود یہ لفظ حرث ہی اس کی حرمت ظاہر کرنے کیلئے کافی ہے کیونکہ وہ دوسری جگہ کھیتی کی جگہ نہیں، کھیتی میں جانے کے طریقہ کا اختیار ہے نہ کہ جگہ بدلنے کا۔ گو امام مالک سے اس کے مباح ہونے کی روایتیں بھی منقول ہیں لیکن ان کی اسنادوں میں سخت ضعف ہے۔ واللہ اعلم۔ ٹھیک اس طرح امام شافعی سے بھی ایک روایت لوگوں نے گھڑ لی ہے حالانکہ انہوں نے اپنی چھ کتابوں میں کھلے لفظوں اسے حرام لکھا ہے۔ پھر اللہ فرماتا ہے اپنے لئے کچھ آگے بھی بھیجو یعنی ممنوعات سے بچو نیکیاں کرو تاکہ ثواب آگے جائے، اللہ سے ڈرو اس سے ملنا ہے وہ حساب کتاب لے گا، ایماندر ہر حال میں خوشیاں منائیں، ابن عباس فرماتے ہیں یہ بھی مطلب ہے کہ جب جماع کا ارادہ کرے۔ یہ دعا (بسم اللہ اللھم جنبنا الشیطان و جنب الشیطان مارزقنا) پڑھے یعنی اے اللہ تو ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان سے بچا لے۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں اگر اس جماع سے نطفہ قرار پکڑ گیا تو اس بچے کو شیطان ہرگز کوئی ضرر نہ پہنچا سکے گا۔
قسم اور کفارہ : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیکی اور صلہ رحمی کے چھوڑنے کا ذریعہ اللہ کی قسموں کو نہ بناؤ، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ اَنْ يُّؤْتُوْٓا اُولِي الْقُرْبٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ) 24۔ النور :22) یعنی وہ لوگ جو کشادہ حال اور فارغ البال ہیں وہ قرابت داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دینے پر قسمیں نہ کھا بیٹھیں، انہیں چاہئے کہ معاف کرنے اور درگزر کرنے کی عادت ڈالیں، کیا تمہاری خود خواہش نہیں اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے، اگر کوئی ایسی قسم کھا بیٹھے تو اسے چاہئے کہ اسے توڑ دے اور کفارہ ادا کر دے، صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ ہم پیچھے آنے والے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے آگے بڑھنے والے ہیں، فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی ایسی قسم کھالے اور کفارہ ادا نہ کرے اور اس پر اڑا رہے وہ بڑا گنہگار ہے، یہ حدیث اور بھی بہت سی سندوں اور بہت سی کتابوں میں مروی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی فرماتے ہیں۔ حضرت مسروق وغیرہ بہت سے مفسرین سے بھی یہی مروی ہے، جمہور کے ان اقوال کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم انشاء اللہ میں اگر کوئی قسم کھا بیٹھوں گا اور اس کے توڑنے میں مجھے بھلائی نظر آئے گی تو میں قطعاً اسے توڑ دوں گا اور اس قسم کا کفارہ ادا کروں گا، حضور ﷺ نے ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن سمرہ سے فرمایا اے عبدالرحمن سرداری امارت اور امامت کو طلب نہ کر اگر بغیر مانگے تو دیا جائے گا تو اللہ کی جانب سے تیری مدد کی جائے گی اور اگر تو نے آپ مانگ کرلی ہے تو تجھے اس کی طرف سونپ دیا جائے گا تو اگر کوئی قسم کھالے اور اس کے خلاف بھی بھلائی دیکھ لے تو اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور اس نیک کام کو کرلے (بخاری و مسلم) صحیح مسلم میں حدیث ہے کہ جو شخص کوئی قسم کھالے پھر اس کے سوا خوبی نظر آئے تو اسے چاہئے کہ اس خوبی والے کام کو کرلے اور اپنی اس قسم کو توڑ دے اس کا کفارہ دے دے، مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ اس کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے۔ ابو داؤد میں ہے نذر اور قسم اس چیز میں نہیں جو انسان کی ملکیت میں نہ ہو اور نہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں ہی ہے نہ رشتوں ناتوں کو توڑتی ہے جو شخص کوئی قسم کھالے اور نیکی اس کے کرنے میں ہو تو وہ قسم کو چھوڑ دے اور نیکی کا کام کرے، اس قسم کو چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے۔ امام ابو داؤد فرماتے ہیں کل کی کل صحیح احادیث میں یہ لفظ ہیں کہ اپنی ایسی قسم کا کفارہ دے، ایک ضعیف حدیث میں ہے کہ ایسی قسم کا پورا کرنا یہی ہے کہ اسے توڑ دے اور اس سے رجوع کرے، ابن عباس سعید بن مسیب مسروق اور شعبی بھی اسی کے قائل ہیں کہ ایسے شخص کے ذمہ کفارہ نہیں۔
پھر فرماتا ہے جو قسمیں تمہارے منہ سے بغیر قصداً اور ارادے کے عادتاً نکل جائیں ان پر پکڑ نہیں۔ مسلم بخاری کی حدیث میں ہے جو شخص لات اور عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے وہ آیت (لا الہ الا اللہ) پڑھ لے۔ یہ ارشاد حضور ﷺ کا ان لوگوں کو ہوا تھا جو ابھی ابھی اسلام لائے تھے اور جاہلیت کے زمانہ کی یہ قسمیں ان کی زبانوں پر چڑھی ہوئی تھیں تو ان سے فرمایا کہ اگر عادتاً کبھی ایسے شرکیہ الفاظ نکل جائیں تو فوراً کلمہ توحید پڑھ لیا کرو تاکہ بدلہ ہوجائے۔ پھر فرمایا ہاں جو قسمیں پختگی کے ساتھ دل کی ارادت کے ساتھ قصداً کھائی جائیں ان پر پکڑ ہے۔ دوسری آیت کے لفظ (لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ باللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ) 5۔ المائدہ :89) ہیں، ابو داؤد میں بروایت حضرت عائشہ ایک مرفوع حدیث مروی ہے جو اور روایتوں میں موقوف وارد ہوئی ہے کہ یہ لغو قسمیں وہ ہیں جو انسان اپنے گھر بار میں بال بچوں میں کہہ دیا کرتا ہے کہ ہاں اللہ کی قسم اور انہیں اللہ کی قسم، غرض بطور تکیہ کلام کے یہ لفظ نکل جاتے ہیں دل میں اس کی پختگی کا خیال بھی نہیں ہوتا، حضرت عائشہ سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ دو قسمیں ہیں جو ہنسی ہنسی میں انسان کے منہ سے نکل جاتی ہیں، ان پر کفارہ نہیں، ہاں جو ارادے کے ساتھ قسم ہو پھر اس کا خلاف کرے تو کفارہ ادا کرنا پڑے گا، آپ کے علاوہ اور بھی بعض صحابہ اور تابعین نے یہی تفسیر اس آیت کی بیان کی ہے، یہ بھی مروی ہے کہ ایک آدمی اپنی تحقیق پر بھروسہ کر کے کسی معاملہ کی نسبت قسم کھا بیٹھے اور حقیقت میں وہ معاملہ یوں نہ ہو تو یہ قسمیں لغو ہیں، یہ معنی بھی دیگر بہت سے حضرات سے مروی ہیں، ایک حسن حدیث میں ہے جو مرسل ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ تیر اندازوں کی ایک جماعت کے پاس جا کھڑے ہوئے، وہ تیر اندازی کر رہے تھے اور ایک شخص کبھی کہتا اللہ کی قسم اس کا تیر نشانے پر لگے گا، کبھی کہتا اللہ کی قسم یہ خطا کرے گا، آپ ﷺ کے صحابی نے کہا دیکھئے حضور ﷺ اگر اس کی قسم کے خلاف ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ دو قسمیں لغو ہیں ان پر کفارہ نہیں اور نہ کوئی سزا یا عذاب ہے، بعض بزرگوں نے فرمایا ہے یہ وہ قسمیں ہیں جو انسان کھا لیتا ہے پھر خیال نہیں رہتا، یا کوئی شخص اپنے کسی کام کے نہ کرنے پر کوئی بد دعا کے کلمات اپنی زبان سے نکال دیتا ہے، وہ بھی لغو میں داخل ہیں یا غصے اور غضب کی حالت میں بےساختہ زبان سے قسم نکل جائے یا حلال کو حرام یا حرام کو حلال کرلے تو اسے چاہئے کہ ان قسموں کی پروا نہ کرے اور اللہ کے احکام کیخلاف نہ کرے، حضرت سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ انصار کے دو شخص جو آپس میں بھائی بھائی تھے ان کے درمیان کچھ میراث کا مال تھا تو ایک نے دوسرے سے کہا اب اس مال کو تقسیم کردو، دوسرے نے کہا اگر اب تو نے تقسیم کرنے کیلئے کہا تو میرا مال کعبہ کا خزانہ ہے۔ حضرت عمر نے یہ واقع سن کر فرمایا کہ کعبہ ایسے مال سے غنی ہے، اپنی قسم کا کفارہ دے اور اپنے بھائی سے بول چال رکھ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی رشتے ناتوں کے توڑنے اور جس چیز کی ملکیت نہ ہو ان کے بارے میں قسم اور نذر نہیں۔ پھر فرماتا ہے تمہارے دل جو کریں اس پر گرفت ہے یعنی اپنے جھوٹ کا علم ہو اور پھر قسم کھائے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ) 5۔ المائدہ :89) یعنی جو تم مضبوط اور تاکید والی قسمیں کھالو۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بخشنے والا ہے اور ان پر علم و کرم کرنے والا ہے۔
ایلاء اور اس کی وضاحت : ایلاء کہتے ہیں قسم کو۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے مجامعت نہ کرنے کی ایک مدت تک کیلئے قسم کھالے تو دو صورتیں، یا وہ مدت چار مہینے سے کم ہوگی یا زیادہ ہوگی، اگر کم ہوگی تو وہ مدت پوری کرے اور اس درمیان عورت بھی صبر کرے، اس سے مطالبہ اور سوال نہیں کرسکتی، پھر میاں بیوی آپس میں ملیں جلیں گے، جیسے کہ بخاری صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے ایک ماہ کیلئے قسم کھالی تھی اور انتیس دن پورے الگ رہے اور فرمایا کہ مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے اور اگر چار مہینے سے زائد کی مدت کیلئے قسم کھائی ہو تو چار ماہ بعد عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ تقاضا اور مطالبہ کرے کہ یا تو وہ میل ملاپ کرلے یا طلاق دے دے، اور اس خاوند کا حکم ان دو باتوں میں سے ایک کے کرنے پر مجبور کرے گا تاکہ عورت کو ضرر نہ پہنچے۔ یہی بیان یہاں ہو رہا ہے کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے ایلاء کریں یعنی ان سے مجامعت نہ کرنے کی قسم کھائیں، اس سے معلوم ہوا کہ یہ " ایلاء " خاص بیویوں کیلئے ہے، لونڈیوں کیلئے نہیں۔ یہی مذہب جمہور علماء کرام کا ہے، یہ لوگ چار مہینہ تک آزاد ہیں، اس کے بعد انہیں مجبور کیا جائے گا کہ یا تو وہ اپنی بیویوں سے مل لیں یا طلاق دے دیں، یہ نہیں کہ اب بھی وہ اسی طرح چھوڑے رہیں، پھر اگر وہ لوٹ آئیں یہ اشارہ جماع کرنے کا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی بخش دے گا اور جو تقصیر عورت کے حق میں ان سے ہوئی ہے اسے اپنی مہربانی سے معاف فرما دے گا، اس میں دلیل ہے ان علماء کی جو کہتے ہیں کہ اس صورت میں خاوند کے ذمہ کفارہ کچھ بھی نہیں۔ امام شافعی کا بھی پہلا قول یہی ہے، اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو اگلی آیت کی تفسیر میں گزر چکی کہ قسم کھانے والا اگر اپنی قسم توڑ ڈالنے میں نیکی دیکھتا ہو تو توڑ ڈالے، یہی اس کا کفارہ ہے، اور علماء کرام کی ایک دوسری جماعت کا یہ مذہب ہے کہ اسے قسم کا کفارہ دینا پڑے گا۔ اس کی حدیثیں بھی اوپر گزر چکی ہیں اور جمہور کا مذہب بھی یہی ہے، واللہ اعلم۔
پھر فرمان ہے کہ اگر چار مہینے گزر جانے کے بعد وہ طلاق دینے کا قصد کرے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ چار مہینے گزرتے ہیں طلاق نہیں ہوگی۔ جمہور متاخرین کا یہی مذہب ہے، گو ایک دوسری جماعت یہ بھی کہتی ہے کہ بلا جماع چار ماہ گزرنے کے بعد طلاق ہوجائے گی۔ حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، حضرت زید بن ثابت اور بعض تابعین سے بھی یہی مروی ہے لیکن یاد رہے کہ راجح قول اور قرآن کریم کے الفاظ اور صحیح حدیث سے ثابت شدہ قول یہی ہے کہ طلاق واقع نہ ہوگی (مترجم) پھر بعض تو یہ کہتے ہیں بائن ہوگی، جو لوگ طلاق پڑنے کے قائل ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد اسے عدت بھی گزارنی پڑے گی۔ ہاں ابن عباس اور ابو الشعثاء فرماتے ہیں کہ اگر ان چار مہینوں میں اس عورت کو تین حیض آگئے ہیں تو اس پر عدت بھی نہیں۔ امام شافعی کا بھی قول یہی ہے لیکن جمہور متاخرین علماء کا فرمان یہی ہے کہ اس مدت کے گزرتے ہیں طلاق واقع نہ ہوگی بلکہ اب ایلاء کرنے والے کو مجبور کیا جائے گا کہ یا تو وہ اپنی قسم کو توڑے یا طلاق دے۔ موطا مالک میں حضرت عبداللہ بن عمر سے یہی مروی ہے۔ صحیح بخاری میں بھی یہ روایت موجود ہے، امام شافعی اپنی سند سے حضرت سلیمان بن یسار سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے دس سے اوپر صحابیوں سے سنا کہ وہ کہتے تھے چار ماہ کے بعد ایلاء کرنے والے کو کھڑا کیا گیا تو کم سے کم یہ تیرہ صحابی ہوگئے۔ حضرت علی سے بھی یہی منقول ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں یہی ہمارا مذہب ہے اور یہی حضرت عمر، حضرت ابن عمر، حضرت عثمان بن زید بن ثابت اور دس سے اوپر اوپر دوسرے صحابہ کرام سے مروی ہے، دارقطنی میں ہے حضرت ابو صالح فرماتے ہیں میں نے بارہ صحابیوں سے اس مسئلہ کو پوچھا، سب نے یہی جواب عنایت فرمایا، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت ابو درداء، حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ، حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس، بھی یہی فرماتے ہیں اور تابعین میں سے حضرت سعید بن مسیب، حضرت عمر بن عبدالعزیز، حضرت مجاہد، حضرت طاؤس، حضرت محمد بن کعب، حضرت قاسم ؒ اجمعین کا بھی یہی قول ہے اور حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی، حضرت امام احمد اور ان کے ساتھیوں کا بھی یہی مذہب ہے۔ امام بن جریر بھی اسی قول کو پسند کرتے ہیں۔ لیث، اسحاق بن راھویہ، ابو عبید، ابو ثور، داؤد وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ یہ سب حضرات فرماتے ہیں کہ اگر چار ماہ کے بعد رجوع نہ کرے تو اسے طلاق دینے پر مجبور کیا جائے گا۔ اگر طلاق نہ دے تو حاکم خود اس کی طرف سے طلاق دے دے گا مگر یہ طلاق رجعی ہوگی، عدت کے اندر رجعت کا حق خاوند کو حاصل ہے، ہاں صرف امام مالک فرماتے ہیں کہ اسے رجعت جائز نہیں یہاں تک کہ عدت میں جماع کرے لیکن یہ قول نہایت غریب ہے۔ یہاں جو چار مہینے کی تاخیر کی اجازت دی ہے اس کی مناسبت میں موطا امام مالک میں حضرت عبداللہ بن دینار کی روایت سے حضرت عمر کا ایک واقعہ عموماً فقہاء کرام ذکر کرتے ہیں، جو یہ ہے کہ حضرت عمر راتوں کو مدینہ شریف کی گلیوں میں گشت لگاتے رہتے۔ ایک رات کو نکلے تو آپ نے سنا کہ ایک عورت اپنے سفر میں گئے ہوئے خاوند کی یاد میں کچھ اشعار پڑھ رہی ہے جن کا ترجمہ یہ ہے " افسوس ان کالی کالی اور لمبی راتوں میں میرا خاوند نہیں ہے جس سے میں ہنسوں، بولوں۔ قسم اللہ کی اگر اللہ کا خوف نہ ہوتا تو اس وقت اس پلنگ کے پائے حرکت میں ہوتے۔ " آپ اپنی صاحبزادی ام المومنین حضرت حفصہ کے پاس آئے اور فرمایا بتاؤ زیادہ سے زیادہ عورت اپنے خاوند کی جدائی پر کتنی مدت صبر کرسکتی ہے ؟ فرمایا چھ مہینے یا چار مہینے۔ آپ نے فرمایا اب میں حکم جاری کردوں گا کہ مسلمان مجاہد سفر میں اس سے زیادہ نہ ٹھہریں۔ بعض روایتوں میں کچھ زیادتی بھی ہے اور اس کی بہت سی سندیں ہیں اور یہ واقعہ مشہور ہے۔
طلاق کے مسائل : ان عورتوں کو جو خاوندوں سے مل چکی ہوں اور بالغہ ہوں، حکم ہو رہا ہے کہ طلاق کے بعد تین حیض تک رکی رہیں پھر اگر چاہیں تو اپنا نکاح دوسرا کرسکتی ہیں، ہاں چاروں اماموں نے اس میں لونڈی کو مخصوص کردیا ہے وہ دو حیض عدت گزارے کیونکہ لونڈی ان معاملات میں آزاد عورت سے آدھے پر ہے لیکن حیض کی مدت کا ادھورا ٹھیک نہیں بیٹھتا، اس لئے وہ دو حیض گزارے۔ ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ لونڈی کی طلاقیں بھی دو ہیں اور اس کی عدت بھی دو حیض ہیں۔ (ابن جریر) لیکن اس کے راوی حضرت مظاہر ضعیف ہیں، یہ حدیث ترمذی، ابو داؤد اور ابن ماجہ بھی ہے۔ امام حافظ دارقطنی فرماتے ہیں گو اس کی نسبت بھی امام دارقطنی یہی فرماتے ہیں کہ یہ حضرت عبداللہ کا اپنا قول ہی ہے۔ اسی طرح خود خلیفۃ المسلمین حضرت فاروق اعظم سے مروی ہے، بلکہ صحابہ میں اس مسئلہ میں اختلاف ہی نہ تھا، ہاں بعض سلف سے یہ بھی مروی ہے کہ عدت کے بارے میں آزاد اور لونڈی برابر ہے، کیونکہ آیت اپنی عمومیت کے لحاظ سے دونوں کو شامل ہے اور اس لئے بھی کہ یہ فطری امر ہے لونڈی اور آزاد عورت اس میں یکساں ہیں۔ محمد بن سیرین اور بعض اہل ظاہر کا یہی قول ہے لیکن یہ ضعیف ہے۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب سند والی روایت میں ہے کہ حضرت اسماء بن یزید بن سکن انصاریہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے، اس سے پہلے طلاق کی عدت نہ تھی۔ سب سے پہلے عدت کا حکم ان ہی کی طلاق کے بعد نازل ہوا۔ قروء کے معنی میں سلف خلف کا برابر اختلاف رہا ہے۔ ایک قول تو یہ ہے کہ اس سے مراد طہر یعنی پاکی ہے۔ حضرت عائشہ کا یہی فرمان ہے چناچہ انہوں نے اپنی بھتیجی حضرت عبدالرحمن کی بیٹی حفصہ کو جبکہ وہ تین طہر گزار چکیں اور تیسرا حیض شروع ہوا تو حکم دیا کہ وہ مکان بدل لیں۔ حضرت عروہ نے جب یہ روایت بیان کی تو حضرت عمرہ نے جو صدیقہ کی دوسری بھتیجی ہیں، اس واقعہ کی تصدیق کی اور فرمایا کہ لوگوں نے حضرت صدیقہ پر اعتراض بھی کیا تو آپ نے فرمایا اقراء سے مراد طہر ہیں (موطا مالک) بلکہ موطا میں ابوبکر بن عبدالرحمن کا تو یہ قول بھی مروی ہے کہ میں نے سمجھدار علماء فقہاء کو قروء کی تفسیر طہر سے ہی کرتے سنا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر بھی یہی فرماتے ہیں کہ جب تیسرا حیض شروع ہوا تو یہ اپنے خاوند سے بری ہوگی اور خاوند اس سے الگ ہوا (موطا) امام مالک فرماتے ہیں ہمارے نزدیک بھی مستحق امر یہی ہے۔ ابن عباس، زید بن ثابت، سالم، قاسم، عروہ، سلیمان بن یسار، ابوبکر بن عبدالرحمن، ابان بن عثمان، عطاء، قتادہ، زہری اور باقی ساتوں فقہاء کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک، امام شافعی کا بھی یہی مذہب ہے۔ داؤد اور ابو ثور بھی یہی فرماتے ہیں۔ امام احمد سے بھی ایک روایت اسی طرح کی مروی ہے اس کی دلیل ان بزرگوں نے قرآن کی اس آیت سے بھی نکالی ہے کہ آیت (فطلقوھن لعدتھن) یعنی انہیں عدت میں یعنی طہر میں پاکیزگی کی حالت میں طلاق دو ، چونکہ جس طہر میں طلاق دی جاتی ہے وہ بھی گنتی میں آتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ آیت مندرجہ بالا میں بھی قروء سے مراد حیض کے سوا کی یعنی پاکی حالت ہے، اسی لئے یہ حضرات فرماتے ہیں کہ جہاں تیسرا حیض شروع ہو اور عورت نے اپنے خاوند کی عدت سے باہر ہوگئی اور اس کی کم سے کم مدت جس میں اگر عورت کہے کہ اسے تیسرا حیض شروع ہوگیا ہے تو اسے سچا سمجھا جائے۔ بتیس دن اور دو لحظہ ہیں، عرب شاعروں کے شعر میں بھی یہ لفظ طہر کے معنی میں مستعمل ہوا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد تین حیض ہیں، اور جب تک تیسرے حیض سے پاک نہ ہو لے تب تک وہ عدت ہی میں ہے۔ بعض نے غسل کرلینے تک کہا ہے اور اس کی کم سے کم مدت تینتیس دن اور ایک لحظہ ہے اس کی دلیل میں ایک تو حضرت عمر فاروق کا یہ فیصلہ ہے کہ ان کے پاس ایک مطلقہ عورت آئی اور کہا کہ میرے خاوند نے مجھے ایک یا دو طلاقیں دی تھیں پھر وہ میرے پاس اس وقت آیا جبکہ اپنے کپڑے اتار کر دروازہ بند کئے ہوئے تھی (یعنی تیسرے حیض سے نہانے کی تیاری میں تھی تو فرمائے کیا حکم ہے یعنی رجوع ہوجائے گا یا نہیں ؟) آپ نے فرمایا میرا خیال تو یہی ہے رجوع ہوگیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے اس کی تائید کی۔ حضرت صدیق اکبر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت ابو درداء، حضرت عبادہ بن صامت، حضرت انس بن مالک، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت معاذ، حضرت ابی بن کعب، حضرت ابو موسیٰ اشعری، حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ سعید بن مسیب، علقمہ، اسود، ابراہیم، مجاہد، عطاء، طاؤس، سعید بن جبیر، عکرمہ، محمد بن سیرین، حسن، قتاوہ، شعبی، ربیع، مقاتل بن حیات، سدی، مکحول، ضحاک، عطاء خراسانی بھی یہی فرماتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کا بھی یہی مذہب ہے۔ امام احمد سے بھی زیادہ صحیح روایت میں یہی مروی ہے آپ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے بڑے بڑے صحابہ کرام سے یہی مروی ہے۔ ثوری، اوزاعی، ابن ابی لیلی، ابن شیرمہ، حسن بن صالح، ابو عبید اور اسحاق بن راہویہ کا قول بھی یہی ہے۔ ایک حدیث میں بھی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت فاطمہ بن ابی جیش سے فرمایا تھا نماز کو اقراء کے دنوں میں چھوڑ دو۔ پس معلوم ہوا کہ قروء سے مراد حیض ہے لیکن اس حدیث کا ایک راوی منذر مجہول ہے جو مشہور نہیں۔ ہاں ابن حبان اسے ثقہ بتاتے ہیں۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں لغتاً قرء کہتے ہیں ہر اس چیز کے آنے اور جانے کے وقت کو جس کے آنے جانے کا وقت مقرر ہو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس لفظ کے دونوں معنی ہیں حیض کے بھی اور طہر کے بھی اور بعض اصولی حضرات کا یہی مسلک ہے واللہ اعلم۔ اصمعی بھی فرماتے ہیں کہ قرء کہتے ہیں وقت کو ابو عمر بن علاء کہتے ہیں عرب میں حیض کو اور طہر کو دونوں کو قرء کہتے ہیں۔ ابو عمر بن عبدالبر کا قول ہے کہ زبان عرب کے ماہر اور فقہاء کا اس میں اختلاف ہی نہیں کہ طہر اور حیض دونوں کے معنی قرء کے ہیں البتہ اس آیت کے معنی مقرر کرنے میں ایک جماعت اس طرف گئی اور دوسری اس طرف۔ (مترجم کی تحقیق میں بھی قرء سے مراد یہاں حیض لینا ہی بہتر ہے) پھر فرمایا ان کے رحم میں جو ہوا اس کا چھپانا حلال نہیں حمل ہو تو اور حیض آئے تو۔ پھر فرمایا اگر انہیں اللہ اور قیامت پر ایمان ہو، اس میں دھمکایا جا رہا ہے کہ حق کیخلاف نہ کہیں اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خبر میں ان کی بات کا اعتبار کیا جائے گا کیونکہ اس پر کوئی بیرونی شہادت قائم نہیں کی جاسکتی اس لئے انہیں خبردار کردیا گیا کہ عدت سے جلد نکل جانے کیلئے (حیض نہ آیا ہو) اور کہہ نہ دیں کہ انہیں حیض آگیا یا عدت کو بڑھانے کیلئے (حیض) آیا مگر اسے چھپا نہ لیں اسی طرح حمل کی بھی خبر کردیں۔ پھر فرمایا کہ عدت کے اندر اس شوہر کو جس نے طلاق دی ہے لوٹا لینے کا پورا حق حاصل ہے جبکہ طلاق رجعی ہو یعنی ایک طلاق کے بعد اور دو طلاقوں کے بعد، باقی رہی طلاق بائن یعنی تین طلاقیں جب ہوجائیں تو یاد رہے کہ جب یہ آیت اتری ہے تب تک طلاق بائن ہی نہیں بلکہ اس وقت تک جب چاہے طلاق ہوجائے سب رجعی تھیں طلاق بائن تو پھر اسلام کے احکام میں آئی کہ تین اگر ہوجائیں تو اب رجعت کا حق نہیں رہے گا۔ جب یہ بات خیال میں رہے گی تو علماء اصول کے اس قاعدے کا ضعف بھی معلوم ہوجائے گا کہ ضمیر لوٹانے سے پہلے کے عام لفظ کی خصوصیت ہوتی ہے یا نہیں اس لئے کہ اس آیت کے وقت دوسری شکل تھی ہی نہیں، طلاق کی ایک ہی صورت تھی واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ جیسے ان عورتوں پر مردوں کے حقوق ہیں ویسے ہی ان عورتوں کے مردوں پر بھی حقوق ہیں۔ ہر ایک کو دوسرے کا پاس ولحاظ عمدگی سے رکھنا چاہئے، صحیح مسلم شریف میں حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجتہ الوداع کے اپنے خطبہ میں فرمایا لوگو عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو تم نے اللہ کی امانت کہہ کر انہیں لیا ہے اور اللہ کے کلمہ سے ان کی شرمگاہوں کو اپنے لئے حلال کیا ہے، عورتوں پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ تمہارے فرش پر کسی ایسے کو نہ آنے دیں جس سے تم ناراض ہو اگر وہ ایسا کریں تو انہیں مارو لیکن مار ایسی نہ ہو کہ ظاہر ہو، ان کا تم پر یہ حق ہے کہ انہیں اپنی بساط کے مطابق کھلاؤ پلاؤ پہناؤ اوڑاؤ، ایک شخص نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ ہماری عورتوں کے ہم پر کیا حق ہیں، آپ نے فرمایا جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے منہ پر نہ مارو اسے گالیاں نہ دو ، اس سے روٹھ کر اور کہیں نہ بھیج دو ، ہاں گھر میں رکھو، اسی آیت کو پڑھ کر حضرت ابن عباس فرمایا کرتے تھے کہ میں پسند کرتا ہوں کہ اپنی بیوی کو خوش کرنے کیلئے بھی اپنی زینت کروں جس طرح وہ مجھے خوش کرنے کیلئے اپنا بناؤ سنگار کرتی ہے۔ پھر فرمایا کہ مردوں کو ان پر فضیلت ہے، جسمانی حیثیت سے بھی اخلاقی حیثیت سے بھی، مرتبہ کی حیثیت سے بھی حکمرانی کی حیثیت سے بھی، خرچ اخراجات کی حیثیت سے بھی دیکھ بھال اور نگرانی کی حیثیت سے بھی، غرض دنیوی اور اخروی فضیلت کے ہر اعتبار سے، جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ) 4۔ الرجال :34) یعنی مرد عورتوں کے سردار ہیں اللہ تعالیٰ نے ایک کو ایک پر فضیلت دے رکھی ہے اور اس لئے بھی کہ یہ مال خرچ کرتے ہیں۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں سے بدلہ لینے پر غالب ہے اور اپنے احکام میں حکمت والا۔
رسم طلاق میں آئینی اصلاحات اور خلع : اسلام سے پہلے یہ دستور تھا کہ خاوند جتنی چاہے طلاقیں دیتا چلا جائے اور عدت میں رجوع کرتا جائے اس سے عورتوں کی جان غضب میں تھی کہ طلاق دی، عدت گزرنے کے قریب آئی رجوع کرلیا، پھر طلاق دے دی اس طرح عورتوں کو تنگ کرتے رہتے تھے، پس اسلام نے حد بندی کردی کہ اس طرح کی طلاقیں صرف دو ہی دے سکتے ہیں۔ تیسری طلاق کے بعد لوٹا لینے کا کوئی حق نہ رہے گا، سنن ابو داؤد میں باب ہے کہ تین طلاقوں کے بعد مراجعت منسوخ ہے، پھر یہ روایت لائے ہیں کہ حضرت ابن عباس یہی فرماتے ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ نہ تو میں تجھے بساؤں گا نہ چھوڑوں گا، اس نے کہا یہ کس طرح ؟ طلاق دے دوں گا اور جہاں عدت ختم ہونے کا وقت آیا تو رجوع کرلوں گا، پھر طلاق دے دوں گا، پھر عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کرلوں گا اور یونہی کرتا چلا جاؤں گا۔ وہ عورت حضور ﷺ کے پاس آئی اور اپنا یہ دکھ رونے لگی اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی، ایک اور روایت میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد لوگوں نے نئے سرے سے طلاقوں کا خیال رکھنا شروع کیا اور وہ سنبھل گئے، اور تیسری طلاق کے بعد اس خاوند کو لوٹا لینے کا کوئی حق حاصل نہ رہا اور فرما دیا گیا کہ دو طلاقوں تک تو تمہیں اختیار ہے کہ اصلاح کی نیت سے اپنی بیوی کو لوٹا لو اگر وہ عدت کے اندر ہے اور یہ بھی اختیار ہے کہ نہ لوٹاؤ اور عدت گزر جانے دو تاکہ وہ دوسرے سے نکاح کرنے کے قابل ہوجائے اور اگر تیسری طلاق دینا چاہتے ہو تو بھی احسان و سلوک کے ساتھ ورنہ اس کا کوئی حق نہ مارو، اس پر کوئی ظلم نہ کرو، اسے ضرر و نقصان نہ پہنچاؤ، ایک شخص نے حضور ﷺ سے سوال کیا کہ دو طلاقیں تو اس آیت میں بیان ہوچکی ہیں تیسری کا ذکر کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا آیت (اوتسریح باحسان) میں، جب تیسری طلاق کا ارادہ کرے تو عورت کو تنگ کرنا اس پر سختی کرنا تاکہ وہ اپنا حق چھوڑ کر طلاق پر آمادگی ظاہر کرے، یہ مردوں پر حرام ہے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (ۭوَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ) 4۔ النسآء :19) یعنی عورتوں کو تنگ نہ کرو تاکہ انہیں دئیے ہوئے میں سے کچھ لے لو، ہاں یہ اور بات ہے کہ عورت اپنی خوشی سے کچھ دے کر طلاق طلب کرے جیسے فرمایا آیت (فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِيْۗــــــًٔـا مَّرِيْۗـــــــًٔـا) 4۔ النسآء :4) یعنی اگر عورتیں اپنی راضی خوشی سے کچھ چھوڑ دیں تو بیشک وہ تمہارے لئے حلال طیب ہے اور جب میاں بیوی میں نااتفاقی بڑھ جائے عورت اس سے خوش نہ ہو اور اس کے حق کو نہ بجا لاتی ہو ایسی صورت میں وہ کچھ لے دے کر اپنے خاوند سے طلاق حاصل کرلے تو اسے دینے میں اور اسے لینے میں کوئی گناہ نہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ اگر عورت بلاوجہ اپنے خاوند سے خلع طلب کرتی ہے تو وہ سخت گنہگار ہے چناچہ ترمذی وغیرہ میں حدیث ہے کہ جو عورت اپنے خاوند سے بےسبب طلاق طلب کرے اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہے، اور روایت میں ہے کہ حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی دوری سے آتی ہے، اور روایت میں ہے کہ ایسی عورتیں منافق ہیں، آئمہ سلف و خلف کی ایک بڑی جماعت کا فرمان ہے کہ خلع صرف اسی صورت میں ہے کہ نافرمانی اور سرکشی عورت کی طرف سے ہو، اس وقت مرد فدیہ لے کر اس عورت کو الگ کرسکتا ہے جیسے قرآن پاک کی اس آیت میں ہے اس کے سوا کی صورت میں یہ سب جائز نہیں، بلکہ حضرت امام مالک تو فرماتے ہیں کہ اگر عورت کو تکلیف پہنچا کر اس کے حق میں کمی کر کے اگر اسے مجبور کیا گیا اور اس سے کچھ مال واپس لیا گیا تو اس کا لوٹا دینا واجب ہے، امام شافعی فرماتے ہیں کہ جب حالت اختلاف میں جائز ہے تو حالت اتفاق میں بطور اولی جائز ٹھہرے گا، بکر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ سرے سے خلع منسوخ ہے کیونکہ قرآن میں ہے آیت (وَّاٰتَيْتُمْ اِحْدٰىھُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَـيْـــًٔـا) 4۔ النسآء :20) یعنی اگر تم نے اپنی بیویوں کو ایک خزانہ بھی دے رکھا ہو، تو بھی اس میں سے کچھ بھی نہ لو، لیکن یہ قول ضعیف ہے اور مردود ہے، اب آیت کا شان نزول سنئے، موطا مالک میں ہے کہ حبیبہ بن سہل انصاریہ حضرت ثابت بن قیس شماس کی بیوی تھیں، آنحضرت ﷺ ایک دن صبح کی نماز کیلئے اندھیرے اندھیرے نکلے تو دیکھا کہ دروازے پر حضرت حبیبہ کھڑے ہیں، آپ نے پوچھا کون ہے ؟ کہا میں حبیبہ بن سہل ہوں۔ فرمایا کیا بات ہے ؟ کہا حضور ﷺ میں ثابت بن قیس کے گھر میں نہیں رہ سکتی یا وہ نہیں یا میں نہیں، آپ سن کر خاموش رہے۔ جب ثابت آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری بیوی صاحبہ کچھ کہہ رہی ہیں۔ حضرت حبیبہ نے کہا حضور ﷺ میرے خاوند مجھے جو دیا ہے وہ سب میرے پاس ہے اور میں اسے واپس کرنے پر آمادہ ہوں۔ آپ ﷺ نے حضرت ثابت کو فرمایا سب لے لو، چناچہ انہوں نے لے لیا اور حضرت حبیبہ آزاد ہوگئیں، ایک روایت میں ہے کہ حضرت ثابت نے انہیں مارا تھا اور اس مار سے کوئی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ حضور ﷺ نے جب انہیں یہ فرمایا اس وقت انہوں نے دریافت کیا کہ کیا میں یہ مال لے سکتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا ہاں، کہا میں نے اسے دو باغ دئیے ہیں، یہ سب واپس دلوا دیجئے۔ وہ مہر کے دونوں باغ واپس کئے گئے اور جدائی ہوگئی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حبیبہ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میں اس کے اخلاق اور دین میں عیب گیری نہیں کرتی لیکن میں اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں چناچہ مال لے کر حضرت ثابت نے طلاق دے دی۔ بعض روایات میں ان کا نام جمیلہ بھی آیا ہے۔ بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ مجے اب غیظ و غضب کے برداشت کی طاقت نہیں رہی۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو دیا ہے لے لو، زیادہ نہ لینا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت حبیبہ نے فرمایا تھا وہ صورت کے اعتبار سے بھی کچھ حسین نہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ حضرت عبداللہ بن ابی کی بہن تھیں اور سب سے پہلا خلع تھا جو اسلام میں ہوا۔ ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ حضرت ﷺ میں نے ایک مرتبہ خیمے کے پردہ کو جو اٹھایا تو دیکھا کہ میرے خاوند چند آدمیوں کے ساتھ آ رہے ہیں، ان تمام میں یہ سیاہ فام چھوٹے قد والے اور بدصورت تھے۔ حضور ﷺ کے اس فرمان پر کہ اس کا باغ واپس کرو، حبیبہ نے کہا تھا کہ آپ فرمائیں تو میں اس کے منہ پر تھوک دیا کرتی، جمہور کا مذہب تو یہ ہے کہ خلع عورت اپنے سے دئیے ہوئے سے زیادہ لے تو بھی جائز ہے کیونکہ قرآن نے آیت (فَلَاجُنَاحَ عَلَيْھِمَا فِـيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ) 2۔ البقرۃ :229) فرمایا ہے، حضرت عمر کے پاس ایک عورت اپنے خاوند سے بگڑی ہوئی آئی، آپ نے فرمایا اسے گندگی والے گھر میں قید کردو پھر قید خانہ سے اسے بلوایا اور کہا کیا حال ہے ؟ اس نے کہا آرام کی راتیں مجھ پر میری زندگی میں یہی گزری ہیں۔ آپ نے اس کے خاوند سے فرمایا اس سے خلع کرلے۔ اگرچہ گوشوارہ کے بدلے ہی ہو، ایک روایت میں ہے اسے تین دن وہاں قید رکھا تھا، ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا اگر یہ اپنی چٹیا کی دھجی بھی دے تو لے لے اور اسے الگ کر دے۔ حضرت عثمان فرماتے ہیں اس کے سوا سب کچھ لے کر بھی خلع ہوسکتا ہے۔ ربیع بنت معوذ بن عفراء فرماتی ہیں میرے خاوند اگر موجود ہوتے تو بھی میرے ساتھ سلوک کرنے میں کمی کرتے اور کہیں چلے جاتے تو بالکل ہی محروم کردیتے۔ ایک مرتبہ جھگڑے کے موقع پر میں نے کہہ دیا کہ میری ملکیت میں جو کچھ ہے لے لو اور مجھے خلع دو۔ اس نے کہا اور یہ معاملہ فیصل ہوگیا لیکن میرے چچا معاذ بن عفراء اس قصہ کو لے کر حضرت عثمان کے پاس گئے۔ عثمان نے بھی اسے برقرار رکھا اور فرمایا کہ چوٹی کی دھجی چھوڑ کر سب کچھ لے لو، بعض روایتوں میں ہے یہ بھی اور اس (سیس) چھوٹی چیز بھی غرض سب کچھ لے لو، پس مطلب ان واقعات کا یہ ہے کہ یہ دلیل ہے اس پر کہ عورت کے پاس جو کچھ ہے دے کر وہ خلع کرا سکتی ہے اور خاوند اپنی دی ہوئی چیز سے زائد لے کر بھی خلع کرسکتا ہے۔ ابن عمر، ابن عباس، مجاہد، عکرمہ، ابراہیم، نخعی، قیصہ بن ذویب، حسن بن صالح عثمان رحم اللہ اجمعین بھی یہی فرماتے ہیں۔ امام مالک، لیث، امام شافعی اور ابو ثور کا مذہب بھی یہی ہے۔ امام ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں اور اصحاب ابوحنیفہ کا قول ہے کہ اگر قصور اور ضرر رسانی عورت کی طرف سے ہو تو خاوند کو جائز ہے کہ جو اس نے دیا ہے واپس لے لے، لیکن اس سے زیادہ لینا جائز نہیں۔ گو زیادہ لے لے تو بھی قضاء کے وقت جائز ہوگا اور اگر خاوند کی اپنی جانب سے زیادتی ہو تو اسے کچھ بھی لینا جائز نہیں۔ گو، لے لے تو قضا جائز ہوگا۔ امام احمد ابو عبید اور اسحاق بن راھویہ فرماتے ہیں کہ خاوند کو اپنے دئیے ہوئے سے زیادہ لینا جائز ہی نہیں۔ سعید بن مسیب عطاء عمرو بن شعیب زہری طاؤس حسن شعبی حماد بن ابو سلیمان اور ربیع بن انس کا بھی یہی مذہب ہے۔ عمر اور حاکم کہتے ہیں حضرت علی کا بھی یہ فیصلہ ہے۔ اوزاعی کا فرمان ہے کہ قاضیوں کا فیصلہ ہے کہ دئیے ہوئے سے زیادہ کو جائز نہیں جانتے۔ اس مذہب کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جو اوپر بیان ہوچکی ہے جس میں ہے کہ اپنا باغ لے لو اور اس سے زیادہ نہ لو۔ مسند عبد بن حمید میں بھی ایک مرفوع حدیث ہے کہ نبی ﷺ نے خلع لینے والی عورت سے اپنے دئیے ہوئے سے زیادہ لینا مکروہ رکھا، اور اس صورت میں جو کچھ فدیہ وہ دے لے گا، کا لفظ قرآن میں ہے۔ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ دئیے ہوئے میں سے جو کچھ دے، کیونکہ اس سے پہلے یہ فرمان موجود ہے کہ تم نے جو انہیں دیا ہے اس میں سے کچھ نہ لو، ربیع کی قرأت میں بہ کے بعد منہ کا لفظ بھی ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ حدود اللہ ہیں ان سے تجاوز نہ کرو ورنہ گنہگار ہوں گے (فصل) خلع کو بعض حضرات طلاق میں شمار نہیں کرتے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک شخص نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں ہیں پھر اس عورت نے خلع کرا لیا ہے تو اگر خاوند چاہے تو اس سے پھر بھی نکاح کرسکتا ہے اور اس پر دلیل یہی آیت وارد کرتے ہیں۔ یہ قول حضرت ابن عباس کا ہے، حضرت عکرمہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ طلاق نہیں، دیکھو آیت کے اول و آخر طلاق کا ذکر ہے پہلے دو طلاقوں کا پھر آخر میں تیسری طلاق کا اور درمیان میں جو خلع کا ذکر ہے، پس معلوم ہوا کہ خلع طلاق نہیں بلکہ فسخ ہے۔ امیرالمومنین حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عمر طاؤس عکرمہ، احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، ابو ثور، داؤد بن علی ظاہری کا بھی یہی مذہب ہے۔ امام شافعی کا بھی قدیم قول یہی ہے اور آیت کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ بعض دیگر بزرگ فرماتے ہیں کہ خلع طلاق بائن ہے اور اگر ایک سے زیادہ کی نیت ہوگی تو وہ بھی معتبر ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام بکر اسلمیہ نے اپنے خاوند عبداللہ بن خالد سے خلع لیا اور حضرت عثمان نے اسے ایک طلاق ہونے کا فتویٰ دیا اور ساتھ ہی فرما دیا کہ اگر کچھ سامان لیا ہو تو جتنا سامان لیا ہو وہ ہے، لیکن یہ اثر ضعیف ہے واللہ اعلم۔ حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عمر، سعید بن مسیب، حسن، عطا، شریح، شعبی، ابراہیم، جابر بن زید، مالک، ابوحنیفہ اور ان کے ساتھی ثوری، اوزاعی، ابو عثمان بتی کا یہی قول ہے کہ خلع طلاق ہے۔ امام شافعی کا بھی جدید قول یہی ہے، ہاں حنیفہ کہتے ہیں کہ اگر دو طلاق کی نیت خلع دینے والے کی ہے تو دو ہوجائیں گی۔ اگر کچھ کچھ لفظ نہ کہے اور مطلق خلع ہو تو ایک طلاق بائن ہوگی اگر تین کی نیت ہے تو تین ہوجائیں گی۔ امام شافعی کا ایک اور قول بھی ہے کہ اگر طلاق کا لفظ نہیں اور کوئی دلیل و شہادت بھی نہیں تو وہ بالکل کوئی چیز نہیں۔ مسئلہ : امام ابو حنیفہ، شافعی احمد، اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ کا مسلک ہے کہ خلع کی عدت طلاق کی عدت ہے۔ عمر علی ابن مسعود اور سعید بن مسیب، سلمان بن یسار، عمروہ، سالم، ابو سلمہ، عمر بن عبدالعزیز، ابن شہاب، حسن، شعبی، ابراہیم نخعی، ابو عیاض، خلاس بن عمرو، قتادہ، سفیان ثوری، اوزاعی، لیث بن سعد اور ابو عبید رحمتہ اللہ علیھم اجمعین کا بھی یہی فرمان ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں اکثر اہل علم اسی طرف گئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ چونکہ خلع طلاق ہے لہذا عدت اس کی عدت طلاق کے مثل ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ صرف ایک حیض اس کی عدت ہے۔ حضرت عثمان کا یہی فیصلہ ہے، ابن عمر گو تین حیض کا فتویٰ دیتے تھے لیکن ساتھ ہی فرما دیا کرتے تھے کہ حضرت عثمان ہم سے بہتر ہیں اور ہم سے بڑے عالم ہیں، اور ابن عمر سے ایک حیض کی مدت بھی مروی ہے۔ ابن عباس، عکرمہ، امان بن عثمان اور تمام وہ لوگ جن کے نام اوپر آئے ہیں جو خلع کو فسخ کہتے ہیں ضروری ہے کہ ان سب کا قول بھی یہی ہو، ابو داؤد اور ترمذی کی حدیث میں بھی یہی ہے کہ ثابت بن قیس کی بیوی صاحبہ کو آپ نے اس صورت میں ایک حیض عدت گزارنے کا حکم دیا تھا، ترمذی میں ہے کہ ربیع بنت معوذ کو بھی خلع کے بعد ایک ہی حیض عدت گزارنے کا حضور ﷺ کا فرمان صادر ہوا تھا۔ حضرت عثمان نے خلع والی عورت سے فرمایا تھا کہ تجھ پر عدت ہی نہیں۔ ہاں اگر قریب کے زمانہ میں ہی خاوند سے ملی ہو تو ایک حیض آجانے تک اس کے پاس ٹھہری رہو۔ مریم مغالبہ کے بارے میں حضور ﷺ کا جو فیصلہ تھا اس کی متابعت حضرت امیرالمومنین نے کی۔ مسئلہ : جمہور علمائے کرام اور چاروں اماموں کے نزدیک خلع والی عورت سے رجوع کرنے کا حق خاوند کو حاصل نہیں، اس لئے کہ اس نے مال دے کر اپنے تئیں آزاد کرا لیا ہے۔ عبداللہ بن ابی اوفی، ماہان حنفی، سعید اور زہری کا قول ہے کہ اگر واپس کیا پھیر دے تو حق رجعت حاصل ہے بغیر عورت کی رضامندی کے بھی رجوع کرسکتا ہے۔ سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ اگر خلع میں طلاق کا لفظ نہیں تو وہ صرف جدائی ہے اور رجوع کرنے کا حق نہیں اور اگر طلاق کا نام لیا ہے تو بیشک وہ رجعت کا پورا پورا حقدار ہے، داؤد ظاہری بھی یہی فرماتے ہیں، ہاں سب کا اتفاق ہے کہ اگر دونوں رضامند ہوں تو نیا نکاح عدت کے اندر اندر کرسکتے ہیں۔ عبدالبر ایک فرقہ کا یہ قول بھی حکایت کرتے ہیں کہ عدت کے اندر جس طرح دوسرا کوئی اس سے نکاح نہیں کرسکتا، اسی طرح خلع دینے والا خاوند بھی نکاح نہیں کرسکتا، لیکن یہ قول شاذ اور مردود ہے۔ مسئلہ : اس عورت پر عدت کے اندر اندر دوسری طلاق بھی واقع ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ اس میں علماء کے تین قول ہیں۔ ایک یہ کہ نہیں، کیونکہ وہ عورت اپنے نفس کی مالکہ ہے اور اس خاوند سے الگ ہوگئی ہے، ابن عباس ابن زبیر عکرمہ جابر بن زید حسن بصری شافعی احمد اسحاق ابو ثور کا یہی قول ہے۔ دوسرا قول امام مالک کا ہے کہ اگر خلع کے ساتھ ہی بغیر خاموش رہے طلاق دے دے تو واقع ہوجائے گی ورنہ نہیں، یہ مثل اس کے ہے جو حضرت عثمان سے مروی ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ عدت میں طلاق واقع ہوجائے گی۔ ابوحنیفہ ان کے اصحاب، ثوری، اوزاعی، سعید بن مسیب، شریح، طاؤس، ابراہیم، زہری، حاکم، حکم اور حماد کا بھی یہی قول ہے۔ ابن مسعود اور ابو الدرداء سے بھی یہ مروی تو ہے لیکن ثابت نہیں۔ پھر فرمایا ہے کہ یہ اللہ کی حدیں ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی حدوں سے آگے نہ بڑھو، فرائض کو ضائع نہ کرو، محارم کی بےحرمتی نہ کرو، جن چیزوں کا ذکر شریعت میں نہیں تم بھی ان سے خاموش رہو کیونکہ اللہ کی ذات بھول چوک سے پاک ہے۔ اس آیت سے استدلال ہے ان لوگوں کا جو کہتے ہیں کہ تینوں طلاقیں ایک مرتبہ ہی دینا حرام ہیں۔ مالکیہ اور ان کے موافقین کا یہی مذہب ہے، ان کے نزدیک سنت طریقہ یہی ہے کہ طلاق ایک ایک دی جائے کیونکہ آیت (الطلاق مرتان) کہا پھر فرمایا کہ یہ حدیں ہیں اللہ کی، ان سے تجاوز نہ کرو، اس کی تقویت اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو سنن نسائی میں ہے۔ حضور ﷺ کو ایک مرتبہ یہ معلوم ہوا کہ کسی شخص نے اپنی بیوی کو تینوں طلاقیں ایک ساتھ دی ہیں۔ آپ سخت غضبناک ہو کر کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے کیا میری موجودگی میں کتاب اللہ کے ساتھ کھیلا جانے لگا۔ یہاں تک کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا اگر حضور ﷺ اجازت دیں تو میں اس شخص کو قتل کرو، لیکن اس روایت کی سند میں انقطاع ہے۔
پھر ارشاد ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے چکنے کے بعد تیسری بھی دے دے تو وہ اس پر حرام ہوجائے گی یہاں تک کہ دوسرے سے باقاعدہ نکاح ہو، ہم بستری ہو، پھر وہ مرجائے یا طلاق دے دے۔ پس اگر نکاح کے مثلاً لونڈی بنا کر وطی بھی کرلے تو بھی اگلے خاوند کیلئے حلال نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح گو نکاح باقاعدہ ہو لیکن اس دوسرے خاوند نے مجامعت نہ کی ہو تو بھی پہلے شوہر کیلئے حلال نہیں۔ اکثر فقہاء میں مشہور ہے کہ حضرت سعید بن مسیب مجرم (صرف) و عقد کے حلال کہتے ہیں گو میل نہ ہوا ہو، لیکن یہ بات ان سے ثابت نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے اور دخول سے پہلے ہی طلاق دے دیتا ہے، وہ دوسرا نکاح کرتی ہے وہ بھی دخول سے پہلے ہی طلاق دے دیتا ہے، تو کیا اگلے خاوند کو اب اس سے نکاح کرنا حلال ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں، جب تک کہ یہ اس سے اور وہ اس سے لطف اندوز نہ ہو لیں (مسند احمد ابن ماجہ وغیرہ) اس روایت کے راوی حضرت ابن عمر سے خود امام بن مسیب ہیں، پس کیسے ممکن ہے کہ وہ روایت بھی کریں اور پھر مخالفت بھی کریں اور پھر وہ بھی بلادلیل۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ عورت رخصت ہو کر جاتی ہے، ایک مکان میں میاں بیوی جاتے ہیں، پردہ ڈال دیا جاتا ہے لیکن آپس میں صحبت نہیں ہوتی، جب بھی یہی حکم ہے۔ خود آپ کے زمانہ میں ایسا واقعہ ہوا، آپ سے پوچھا گیا مگر آپ نے پہلے خاوند کی اجازت نہ دی (بخاری مسلم) ایک روایت میں ہے کہ حضرت رفاعہ قرظی کی بیوی صاحب تمیمہ بنت وہب کو جب انہوں نے آخری تیسری طلاق دے دی تو ان کا نکاح حضرت عبدالرحمن بن زیبر سے ہوا لیکن یہ شکایت لے کر دربار رسالت مآب میں آئیں اور کہا وہ عورت کے مطلب کے نہیں، مجھے اجازت ہو کہ میں اگلے خاوند کے گھر چلی جاؤں۔ آپ نے فرمایا یہ نہیں ہوسکتا جب تک کہ تمہاری کسی اور خاوند سے مجامعت نہ ہو، ان احادیث کی بہت سی سندیں ہیں اور مختلف الفاظ سے مروی ہیں (فصل) یہ یاد رہے کہ مقصود دوسرے خاوند سے یہ ہے کہ خود اسے رغبت ہو اور ہمیشہ بیوی بنا کر رکھنے کا خواہش مند ہو، کیونکہ نکاح سے مقصود یہی ہے، یہ نہیں کہ اگلے خاوند کیلئے محض حلال ہوجائے اور بس، بلکہ امام مالک فرماتے ہیں کہ یہ بھی شرط ہے کہ یہ مجامعت بھی مباح اور جائز طریق پر ہو مثلاً عورت روزے سے نہ ہو، احرام کی حالت میں نہ ہو، اعتکاف کی حالت میں نہ ہو، حیض یا نفاس کی حالت میں نہ ہو، اسی طرح خاوند بھی روزے سے نہ ہو، محرم یا معتکف نہ ہو، اگر طرفین میں سے کسی کی یہ حالت ہو اور پھر چاہے وطی بھی ہوجائے پھر بھی پہلے شوہر پر حلال نہ ہوگی۔ اسی طرح اگر دوسرا خاوند ذمی ہو تو بھی اگلے خاوند کیلئے حلال نہ ہوگی کیونکہ امام صاحب کے نزدیک کفار کے آپس کے نکاح باطل ہیں۔ امام حسن بصری تو یہ بھی شرط لگاتے ہیں کہ انزال بھی ہو کیونکہ حضور ﷺ کے الفاظ سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ جب تک کہ وہ تیرا اور تو اس کا مزہ نہ چکھے، اور اگر یہی حدیث ان کے پیش نظر ہوجائے تو چاہئے کہ عورت کی طرف سے یہ بھی یہ شرط معتبر ہو لیکن حدیث کے لفظ عسیلہ سے منی مراد نہیں، یہ یاد رہے، کیونکہ مسند احمد اور نسائی میں حدیث ہے کہ " عسیلہ " سے مراد جماع ہے۔ اگر دوسرے خاوند کا ارادہ اس سے نکاح سے یہ ہے کہ یہ عورت پہلے خاوند کیلئے حلال ہوجائے تو ایسے لوگوں کی مذمت بلکہ ملعون ہونے کی تصریح احادیث میں آچکی ہے، مسند احمد میں ہے گودنے والی، گدوانے والی، بال ملانے والی، ملوانے والی عورتیں ملعون، حلال کرنے والی اور جس کیلئے حلالہ کیا جاتا ہے ان پر بھی اللہ کی پھٹکار ہے۔ سود خور اور سود کھلانے والے بھی لعنتی ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں صحابہ کا عمل اسی پر ہے۔ عمر، عثمان اور ابن عمر کا یہی مذہب تابعین فقہاء بھی یہی کہتے ہیں، علی ابن مسعود اور ابن عباس کا بھی یہی فرمان ہے اور روایت میں ہے کہ بیاج کی گواہی دینے والوں اور اس کے لکھنے پر بھی لعنت ہے۔ زکوٰۃ کے نہ دینے والوں اور لینے میں زیادتی کرنے والوں پر بھی لعنت ہے، ہجرت کے بعد لوٹ کر اعرابی بننے والے پر بھی پھٹکار ہے نوحہ کرنا بھی ممنوع ہے، ایک حدیث میں ہے میں تمہیں یہ بتاؤں کہ ادھار لیا ہوا سانڈ کون سا ہے ؟ لوگوں نے کہا ہاں۔ فرمایا جو " حلالہ کرے " یعنی طلاق والی عورت سے اس لئے نکاح کرے کہ وہ اگلے خاوند کیلئے حلال ہوجائے، اس پر اللہ کی لعنت ہے اور جو اپنے لئے ایسا کرائے وہ بھی ملعون ہے (ابن ماجہ) ایک روایت میں ہے کہ ایسے نکاح کی بابت حضور ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ نکاح ہی نہیں جس میں مقصود اور ہو اور ظاہر اور ہو، جس میں اللہ کی کتاب کے ساتھ مذاق اور ہنسی ہو، نکاح صرف وہی ہے جو رغبت کے ساتھ ہو، مستدرک حاکم میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر سے سوال کیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تیسری طلاق دے دی، اس کے بعد اس کے بھائی نے بغیر اپنے بھائی کے کہے ازخود اس سے اس ارادے سے نکاح کرلیا کہ یہ میرے بھائی کیلئے حلال ہوجائے، تو آیا نہ نکاح صحیح ہوگیا۔ آپ نے فرمایا ہرگز نہیں، ہم تو اسے نبی ﷺ کے زمانہ میں زنا شمار کرتے تھے۔ نکاح وہی ہے جس میں رغبت ہو، اس حدیث کے پچھے جملے نے گو اسے موقوف سے حکم میں مرفوع کردیا، بلکہ ایک اور روایت میں ہے کہ امیرالمومنین حضرت عمر فاروق نے ایسے نکاح میں تفریق کردی، اسی طرح حضرت علی اور حضرت ابن عباس وغیرہ بہت سے صحابہ کرام سے بھی یہی مروی ہے۔ پھر فرمان ہے کہ اگر دوسرا خاوند نکاح اور وطی کے بعد طلاق دے تو پہلے خاوند پر پھر اسی عورت سے نکاح کرلینے میں کوئی گناہ نہیں جبکہ یہ اچھی طرح گزر اوقات کرلیں اور یہ بھی جان لیں کہ وہ دوسرا نکاح صرف دھوکہ اور مکروفریب کا نہ تھا بلکہ حقیقت تھی۔ یہ ہیں احکام شرعی جنہیں علم والوں کیلئے اللہ نے واضح کردیا، آئمہ کا اس میں بھی اختلاف ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو دو یا ایک طلاق دے دی، پھر چھوڑے رہا یہاں تک کہ وہ عدت سے نکل گئی، پھر اس نے دوسرے سے گھر بسا لیا، اس سے ہم بستری بھی ہوئی، پھر اس نے بھی طلاق دے دی اور اس کی عدت ختم ہوچکی، پھر اگلے خاوند نے اس سے نکاح کرلی تو اسے تین میں سے جو طلاقیں یعنی ایک یا دو جو باقی ہیں صرف انہی کا اختیار رہے گا یا پہلے کی طرح طلاقیں گنتی سے ساقط ہوجائیں گی اور اسے از سر نو تینوں طلاقوں کا حق حاصل ہوجائے گا، پہلا مذہب تو ہے امام مالک امام شافعی اور امام احمد کا اور صحابہ کی ایک جماعت کا، دوسرا مذہب ہے امام ابوحنیفہ اور ان کے ساتھیوں کا اور ان کی دلیل یہ ہے کہ جب اس طرح تیسری طلاق ہو، گنتی میں نہیں آئی تو پہلی دوسری کیا آئے گی، واللہ اعلم۔
آئین طلاق کی وضاحت : مردوں کو حکم ہو رہا ہے کہ جب وہ اپنی بیویوں کو طلاق دیں جن حالتوں میں لوٹا لینے کا حق انہیں حاصل ہے اور عدت ختم ہونے کے قریب پہنچ جائے یا عمدگی کے ساتھ لوٹائے یعنی رجعت پر گواہ مقرر کرے اور اچھائی سے بسانے کی نیت رکھے یا اسے عمدگی سے چھوڑ دے اور عدت ختم ہونے کے بعد اپنے ہاں بغیر اختلاف جھگڑے دشمنی اور بد زبانی کے نکال دے، جاہلیت کے اس دستور کو اسلام نے ختم کردیا کہ طلاق دے دی، عدت ختم ہونے کے قریب رجوع کرلیا، پھر طلاق دے دی پھر رجوع کرلیا، یونہی اس دکھیا عورت کی عمر برباد کردیتے تھے کہ نہ وہ سہاگن ہی رہے نہ بیوہ، تو اس سے اللہ نے روکا اور فرمایا کہ ایسا کرنے والا ظالم ہے۔ پھر فرمایا اللہ کی آیتوں کو ہنسی نہ بناؤ۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ اشعری قبیلہ پر ناراض ہوئے تو حضرت ابو موسیٰ اشعری نے حاضر خدمت ہو کر (ان اصلاحات طلاق کے بارے میں) سبب دریافت کیا، آپ نے فرمایا کیونکہ یہ لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ میں نے طلاق دی، میں نے رجوع کیا۔ یاد رکھو مسلمانوں کی یہ طلاقیں نہیں۔ عورتوں کی عدت کے مطابق طلاقیں دو۔ اس حکم کا یہ بھی مطلب لیا گیا ہے کہ ایک شخص ہے جو بلاوجہ طلاق دیتا ہے اور عورت کو ضرر پہنچانے کیلئے اور اس کی عدت لمبی کرنے کیلئے رجوع ہی کرتا چلا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک شخص ہے جو طلاق دے یا آزاد کرے یا نکاح کرے پھر کہہ دے کہ میں نے تو ہنسی ہنسی میں یہ کیا۔ ایسی صورتوں میں یہ تینوں کام فی الحقیقت واضح ہوجائیں گے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر کہہ دیا کہ میں نے تو مذاق کیا تھا، اس پر یہ آیت اتری اور حضور ﷺ نے فرمایا یہ طلاق ہوگئی (ابن مردویہ) حسن بصری فرماتے ہیں کہ لوگ طلاق دے دیتے، آزاد کردیتے، نکاح کرلیتے اور پھر کہہ دیتے کہ ہم نے بطور دل لگی کے یہ کیا تھا، اس پر یہ آیت اتری اور حضور ﷺ نے فرمایا جو طلاق یا غلام آزاد کرے یا نکاح کرا دے خواہ پختگی کے ساتھ خواہ ہنسی مذاق میں وہ سب ہوگیا (ابن ابی حاتم) یہ حدیث مرسل اور موقوف کئی سندوں سے مروی ہے۔ ابو داؤد ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ تین چیزیں ہیں کہ پکے ارادے سے ہوں، دل لگی سے ہوں تو تینوں پر اطلاق ہوجائے گا۔ نکاح، طلاق اور رجعت۔ امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔ اللہ کی نعمت یاد کرو کہ اس نے رسول بھیجے ہدایت اور دلیلیں نازل فرمائیں، کتاب اور سنت سکھائی حکم بھی کئے، منع بھی کئے وغیرہ وغیرہ۔ جو کام کرو اور جو کام نہ کرو ہر ایک میں اللہ جل شانہ سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر پوشیدہ اور ہر ظاہر کو بخوبی جانتا ہے۔
ورثاء کے لئے طلاق کی مزید آئینی وضاحت : اس آیت میں عورتوں کے ولی وارثوں کو ممانعت ہو رہی ہے کہ جب کسی عورت کو طلاق ہوجائے اور عدت بھی گزر جائے پھر میاں بیوی اپنی رضامندی سے نکاح کرنا چاہیں تو وہ انہیں نہ روکیں۔ اس آیت میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ عورت خود اپنا نکاح نہیں کرسکتی اور نکاح بغیر ولی کے نہیں ہوسکتا چناچہ ترمذی اور ابن جریر نے اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث وارد کی ہے کہ عورت عورت کا نکاح نہیں کرسکتی نہ عورت اپنا نکاح آپ کرسکتی ہے۔ وہ عورتیں زنا کار ہیں جو اپنا نکاح آپ کرلیں۔ دوسری حدیث میں ہے نکاح بغیر راہ یافتہ کے اور دو عادل گواہوں کے نہیں، گو اس مسئلہ میں بھی اختلاف ہے لیکن اس کے بیان کی جگہ تفسیر نہیں۔ ہم اس کا بیان کتاب الاحکام میں کرچکے ہیں فالحمداللہ۔ یہ آیت حضرت معقل بن یسار اور ان کی ہمشیرہ صاحبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر کے بیان میں ہے کہ حضرت معقل بن یسار فرماتے ہیں میری بہن کا منگیتر میرے پاس آتا تھا۔ میں نے نکاح کردیا۔ اس نے کچھ دنوں بعد طلاق دے دی۔ پھر عدت گزر جانے کے بعد نکاح کی درخواست کی، میں نے انکار کردیا۔ اس پر یہ آیت اتری جسے سن کر حضرت معقل نے باوجود یہ کہ قسم کھا رکھی تھی کہ میں تیرے نکاح میں نہ دوں گا، نکاح پر آمادہ ہوگئے اور کہنے لگے میں نے اللہ کا فرمان سنا اور میں نے مان لیا اور اپنے بہنوئی کو بلا کر دوبارہ نکاح کردیا اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا۔ ان کا نام جمیل بنت یسار تھا۔ ان کے خاوند کا نام ابو البداح تھا۔ بعض نے ان کا نام فاطمہ بن یسار بتایا ہے۔ سدی فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضرت جابر بن عبداللہ اور ان کے چچا کی بیٹی کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن پہلی بات ہی زیادہ صحیح ہے۔ پھر یہ فرمایا یہ نصیحت و وعظ کیلئے ہے جنہیں شریعت پر ایمان ہو، اللہ کا ڈر ہو، قیامت کا خوف ہو، انہیں چاہئے کہ اپنی ولایت میں جو عورتیں ہوں انہیں ایسی حالت میں نکاح سے نہ روکیں، شریعت کی اتباع کر کے ایسی عورتوں کو ان کے خاوندوں کے نکاح میں دے دینا اور اپنی حمیت و غیرت کو جو خلاف شرع ہو، شریعت کے ماتحت کردینا ہی تمہارے لئے بہتری اور پاکیزگی کا باعث ہے۔ ان مصلحتوں کا علم جناب باری تعالیٰ کو ہی ہے، تمہیں معلوم نہیں کہ کس کام کے کرنے میں بھلائی ہے اور کس کے چھوڑنے میں۔ یہ علم حقیقت میں اللہ رب العزت ہی کو ہے۔
مسئلہ رضاعت : یہاں اللہ تعالیٰ بچوں والیوں کو اشاد فرماتا ہے کہ پوری پوری مدت دودھ پلانے کی دو سال ہے۔ اس کے بعد دودھ پلانے کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس سے دودھ بھائی پنا ثابت نہیں ہوتا اور نہ حرمت ہوتی ہے۔ اکثر ائمہ کرام کا یہی مذہب ہے۔ ترمذی میں باب ہے کہ رضاعت جو حرمت ثابت کرتی ہے وہ وہی ہے جو دو سال پہلے کی ہو۔ پھر حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہی رضاعت حرام کرتی ہے جو آنتوں کو پر کر دے اور دودھ چھوٹھنے سے پہلے ہو۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اکثر اہل علم صحابہ وغیرہ کا اسی پر عمل ہے کہ دو سال سے پہلے کی رضاعت تو معتبر ہے، اس کے بعد کی نہیں۔ اس حدیث کے راوی شرط بخاری و مسلم پر ہیں۔ حدیث میں فی الثدی کا جو لفظ ہے اس کے معنی بھی محل رضاعت کے یعنی دو سال سے پہلے کے ہیں، یہی لفظ حضور ﷺ نے اس وقت بھی فرمایا تھا جب آپ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا تھا کہ وہ دودھ پلائی کی مدت میں انتقال کر گئے ہیں اور انہیں دودھ پانے والی جنت میں مقرر ہے۔ حضرت ابراہیم کی عمر اس وقت ایک سال اور دس مہینے کی تھی۔ دار قطنی میں بھی ایک حدیث دو سال کی مدت کے بعد کی رضاعت کے متعبر نہ ہونے کی ہے۔ ابن عباس بھی فرماتے ہیں کہ اس کے بعد کوئی چیز نہیں۔ ابو داؤد طیالسی کی روایت میں ہے کہ دودھ چھوٹ جانے کے بعد رضاعت نہیں اور بلوغت کے بعد یتیمی کا حکم نہیں۔ خود قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت (وَّفِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ) 31۔ لقمان :14) دودھ چھٹنے کی مدت دو سال میں ہے۔ اور جگہ ہے آیت (وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا) 46۔ الاحقاف :15) یعنی حمل اور دودھ (دونوں کی مدت) تین ماہ ہیں۔ یہ قول کہ دو سال کے بعد دودھ پلانے اور پینے سے رضاعت کی حرمت ثابت نہیں ہوتی، ان تمام حضرات کا ہے۔ حضرت علی، حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعود، حضرت جابر، حضرت ابوہریرہ، حضرت ابن عمر، حضرت ام سلمہ رضوان اللہ علیھم اجمعین، حضرت سعید بن المسیب، حضرت عطاء اور جمہور کا یہی مذہب ہے۔ امام شافعی، امام احمد، امام اسحق، امام ثوری، امام ابو یوسف، امام محمد، امام مالک رحمھم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ گو ایک روایت میں امام مالک سے دو سال دو ماہ بھی مروی ہیں اور ایک روایت میں دو سال تین ماہ بھی مروی ہیں۔ امام ابوحنیفہ ڈھائی سال کی مدت بتلاتے ہیں۔ زفر کہتے ہیں جب تک دودھ نہیں چھٹا تو تین سالوں تک کی مدت ہے، امام اوزاعی سے بھی یہ روایت ہے۔ اگر کسی بچہ کا دو سال سے پہلے دودھ چھڑوا لیا جائے پھر اس کے بعد کسی عورت کا دودھ وہ پئے تو بھی حرمت ثابت نہ ہوگی اس لئے کہ اب قائم مقام خوراک کے ہوگیا۔ امام اوزاعی سے ایک روایت ہی بھی ہے کہ حضرت عمر، حضرت علی سے مروی ہے کہ دودھ چھڑوا لینے کے بعد رضاعت نہیں۔ اس قول کے دونوں مطلب ہوسکتے ہیں یعنی یا تو یہ کہ دو سال کے بعد یا یہ کہ جب بھی اس سے پہلے دودھ چھٹ گیا۔ اس کے بعد جیسے امام مالک کا فرمان ہے، واللہ اعلم، ہاں صحیح بخاری، صحیح مسلم میں حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ وہ اس کے بعد کہ، بلکہ بڑے آدمی کی رضاعت کو حرمت میں مؤثر جانتی ہیں۔ عطاء اور لیث کا بھی یہی قول ہے۔ حضرت عائشہ جس شخص کا کسی کے گھر زیادہ آنا جانا جانتیں تو وہاں حکم دیتیں کہ وہ عورتیں اسے اپنا دودھ پلائیں اور اس حدیث سے دلیل پکڑتی تھیں کہ حضرت سالم کو جو حضرت ابو حذیفہ کے مولیٰ تھے آنحضرت ﷺ نے حکم دیا تھا کہ وہ ان کی بیوی صاحبہ کا دودھ پی لیں، حالانکہ وہ بڑی عمر کے تھے اور اس رضاعت کی وجہ سے پھر وہ برابر آتے جاتے رہتے تھے لیکن حضور ﷺ کی دوسری ازواج مطہرات اس کا انکار کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ یہ واقعہ خاص ان ہی کیلئے تھا ہر شخص کیلئے یہ حکم نہیں، یہی مذہب جمہور کا ہے یعنی چاروں اماموں، ساتوں فقیہوں، کل کے کل بڑے صحابہ کرام اور تمام امہات المومنین کا سوائے حضرت عائشہ کے اور ان کی دلیل وہ حدیث ہے جو بخاری و مسلم میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا دیکھ لیا کرو کہ تمہارے بھائی کون ہیں، رضاعت اس وقت ہے جب دودھ بھوک مٹا سکتا ہو، باقی رضاعت کا پورا مسئلہ آیت (وامھا تکم اللاتی ارضعنکم) کی تفسیر میں آئے گا انشاء اللہ، پھر فرمان ہے کہ بچوں کی ماں کا نان نفقہ بچوں کے والد پر ہے۔ اپنے اپنے شہروں کی عادت اور دستور کے مطابق ادا کریں، نہ تو زیادہ ہو نہ کم بلکہ حسب طاقت و وسعت درمیانی خرچ دے دیا کرو جیسے فرمایا آیت (وَاُمَّھٰتُكُمُ الّٰتِيْٓ اَرْضَعْنَكُمْ) 4۔ النسآء :23) یعنی کشادگی والے اپنی کشادگی کے مطابق اور تنگی والے اپنی طاقت کے مطابق دیں، اللہ تعالیٰ طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا، عنقریب اللہ تعالیٰ سختی کے بعد آسانی کر دے گا۔ ضحاک فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور اس کے ساتھ بچہ بھی ہے تو اس کی دودھ پلائی کے زمانہ تک کا خرچ اس مرد پر واجب ہے۔ پھر ارشاد باری ہے کہ عورت اپنے بچے کو دودھ پلانے سے انکار کر کے اس کے والد کو تنگی میں نہ ڈال دے بلکہ بچے کو دودھ پلاتی رہے اس لئے کہ یہی اس کی گزارن کا سبب ہے۔ دودھ سے جب بچہ بےنیاز ہوجائے تو بیشک بچہ کو دے دے لیکن پھر بھی نقصان رسانی کا ارادہ نہ ہو۔ اسی طرح خاوند اس سے جبراً بچے کو الگ نہ کرے جس سے غریب دکھ میں پڑے۔ وارث کو بھی یہی چاہئے کہ بچے کی والدہ کو خرچ سے تنگ نہ کرے، اس کے حقوق کی نگہداشت کرے اور اسے ضرر نہ پہنچائے۔ حنفیہ اور حنبلیہ میں سے جو لوگ اس کے قائل ہیں کہ رشتہ داروں میں سے بعض کا نفقہ بعض پر واجب ہے انہوں نے اسی آیت سے استدلال کیا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب اور جمہور سلف صالحین سے یہی مروی ہے۔ سمرہ والی مرفوع حدیث سے بھی یہی مترشح ہوتا ہے جس میں ہے کہ جو شخص اپنے کسی محرم رشتہ دار کا مالک ہوجائے تو وہ آزاد ہوجائے گا۔ یہ بھی یاد رہے کہ دو سال کے بعد دودھ پلانا عموماً بچہ کو نقصان دیتا ہے، یا تو جسمانی یا دماغی۔ حضرت علقمہ نے ایک عورت کو دو سال سے بڑے بچے کو دودھ پلاتے ہوئے دیکھ کر منع فرمایا۔ پھر فرمایا گیا ہے اگر یہ رضامندی اور مشورہ سے دو سال کے اندر اندر جب کبھی دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کوئی حرج نہیں ہاں ایک کی چاہت دوسرے کی رضامندی کے بغیر ناکافی ہوگی اور یہ بچے کے بچاؤ کی اور اس کی نگرانی کی ترکیب ہے۔ خیال فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کس قدر رحیم و کریم ہے کہ چھوٹے بچوں کے والدین کو ان کاموں سے روک دیا جس میں بچے کی بربادی کا خوف تھا، اور وہ حکم دیا جس سے ایک طرف بچے کا بچاؤ ہے دوسری جانب ماں باپ کی اصلاح ہے۔ سورة طلاق میں فرمایا آیت (فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ) 65۔ الطلاق :6) اگر عورتیں بچے کو دودھ پلایا کریں تو تم ان کی اجرت بھی دیا کرو اور آپس میں عمدگی کے ساتھ معاملہ رکھو۔ یہ اور بات ہے کہ تنگی کے وقت کسی اور سے دودھ پلوا دو ، چناچہ یہاں بھی فرمایا اگر والدہ اور والد متفق ہو کر کسی عذر کی بنا پر کسی اور سے دودھ شروع کرائیں اور پہلے کی اجازت کامل طور پر والد والدہ کو دے دے تو بھی دونوں پر کوئی گناہ نہیں، اب دوسری کسی دایہ سے اجرت چکا کر دودھ پلوا دیں۔ لوگو اللہ تعالیٰ سے ہر امر میں ڈرتے رہا کرو اور یاد رکھو کہ تمہارے اقوال و افعال کو وہ بخوبی جانتا ہے۔
خاوند کے انتقال کے بعد : اس آیت میں حکم ہو رہا ہے کہ عورت اپنے خاوند کے انتقال کے بعد چار مہینے دس دن عدت گزاریں خواہ اس سے مجامعت ہو یا نہ ہوئی ہو، اس پر اجماع ہے دلیل اس کی ایک تو اس آیت کا عموم دوسرے یہ حدیث جو مسند احمد اور سنن میں ہے جسے امام ترمذی صحیح کہتے ہیں کہ اس سے مجامعت نہیں کی تھی نہ مہر مقرر ہوا تھا کہ اس کا انتقال ہوگیا، فرمائیے اس کی نسبت کیا فتویٰ ہے جب وہ کئی مرتبہ آئے گئے تو آپ نے فرمایا میں اپنی رائے سے فتویٰ دیتا ہوں، اگر ٹھیک ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جانو اور اگر خطاء ہو تو میری اور شیطان کی طرف سے سمجھو، اللہ اور رسول اس سے بری ہیں۔ میرا فتویٰ یہ ہے کہ اس عورت کو پورا مہر ملے گا جو اس کے خاندان کا دستور ہو، اس میں کوئی کمی بیشی نہ ہو اور اس عورت کو پوری عدت گزارنی چاہئے اور اسے ورثہ بھی ملے گا۔ یہ سن کر حضرت معقل بن یسار اسجعی کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے بروع بنت واشق کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے یہی فیصلہ کیا تھا۔ حضرت عبداللہ یہ سن کر بہت خوش ہوئے۔ بعض روایات میں ہے کہ اشجع کے بہت سے لوگوں نے یہ روایت بیان کی، ہاں جو عورت اپنے خاوند کی وفات کے وقت حمل سے ہو اس کیلئے یہ عدت نہیں، اس کی عدت وضع حمل ہے۔ گو، انتقال کی ایک ساعت کے بعد ہی ہوجائے۔ قرآن میں ہے آیت (وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ) 65۔ الطلاق :1) حمل والیوں کی عدت وضع حمل ہے۔ ہاں حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ وضع حمل اور چار مہینے دس دن میں جو دیر کی عدت ہو وہ حاملہ کی عدت ہے، یہ قول تو بہت اچھا ہے اور دونوں آیتوں میں اس سے تطبیق بھی عمدہ طور پر ہوجاتی ہے لیکن اس کیخلاف بخاری و مسلم کی ایک صاف اور صریح حدیث موجود ہے جس میں ہے کہ حضرت سبیعہ اسلیمہ کے خاوند کا جب انتقال ہوا، اس وقت آپ حمل سے تھیں اور چند راتیں گزار پائی تھیں تو بچہ تولد ہوا، جب نہا دھو چکیں تو لباس وغیرہ اچھا پن لیا، حضرت ابو السنابل بن بعلبک نے یہ دیکھ کر فرمایا کیا تم نکاح کرنا چاہتی ہو ؟ اللہ کی قسم جب تک چار مہینے دس دن نہ گزر جائیں تم نکاح نہیں کرسکتیں۔ حضرت سیعہ یہ سن کر خاموش ہوگئیں اور شام کو خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہوئیں اور مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ جب بچہ ہوگیا اسی وقت تم عدت سے نکل گئیں، اب اگر تم چاہو تو بیشک نکاح کرسکتی ہو۔ یہ بھی مروی ہے کہ جب حضرت عبداللہ کو اس حدیث کا علم ہوا تو آپ نے بھی اپنے قول سے رجوع کرلیا، اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت عبداللہ کے ساتھی شاگرد بھی اسی حدیث کے مطابق فتویٰ دیا کرتے تھے۔ اسی طرح لونڈی کی عدت بھی اتنی نہیں، اس کی عدت اس سے آدھی ہے یعنی دو مہینے اور پانچ راتیں، جمہور کا مذہب یہی ہے جس طرح لونڈی کی حد بہ نسبت آزاد عورت کے آدھی ہے اسی طرح عدت بھی۔ محمد بن سیرین اور بعض علماء ظاہر یہ لونڈی کی اور آزاد عورت کی عدت میں برابری کے قائل ہیں۔ ان کی دلیل ایک تو اس آیت کا عموم ہے، دوسرے یہ کہ عدت ایک جلی امر ہے جس میں تمام عورتیں یکساں ہیں۔ حضرت سعید ابن مسیب ابو العالیہ وغیرہ فرماتے ہیں اس عدت میں حکمت یہ ہے کہ اگر عورت کو حمل ہوگا تو اس مدت میں بالکل ظاہر ہوجائے گا۔ حضرت ابن مسعود کی بخاری و مسلم والی مرفوع حدیث میں ہے کہ انسان کی پیدائش کا یہ حال ہے کہ چالیس دن تک تو رحم مادر میں نطفہ کی شکل میں ہوتا ہے، پھر خون بستہ کی شکل چالیس دن تک رہتی ہے پھر چالیس دن تک گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتا ہے اور وہ اس میں روح پھونکتا ہے۔ تو یہ ایک سو بیس دن ہوئے جس کے چار مہینے ہوئے، دس دن احتیاطاً اور رکھ دے کیونکہ بعض مہینے انتیس دن کے بھی ہوتے ہیں اور جب روح پھونک دی گئی تو اب بچہ کی حرکت محسوس ہونے لگتی ہے اور حمل بالکل ظاہر ہوجاتا ہے۔ اس لئے اتنی عدت مقرر کی گئی واللہ اعلم۔ سعید بن مسیب فرماتے ہیں دس دن اس لئے ہیں کہ روح انہی دس دنوں میں پھونکی جاتی ہے۔ ربیع بن انس بھی یہی فرماتے ہیں۔ حضرت امام احمد سے ایک روایت میں یہ بھی مروی ہے تاکہ جس لونڈی سے بچہ ہوجائے اس کی عدت بھی آزاد عورت کے برابر ہے اس لئے کہ وہ فراش بن گئی اور اس لئے بھی کہ مسند احمد میں حدیث ہے۔ حضرت عمرو بن عاص نے فرمایا لوگو سنت نبوی ﷺ کو ہم پر خلط ملط نہ کرو۔ اولاد والی لونڈی کی عدت جبکہ اس کا سردار فوت ہوجائے چار مہینے اور دس دن ہیں۔ یہ حدیث ایک اور طریق سے بھی ابو داؤد میں مروی ہے۔ امام احمد اس حدیث کو منکر بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کے ایک راوی قبیصیہ نے اپنے استاد عمر سے یہ روایت نہیں سنی۔ حضرت سعید بن مسیب مجاہد، سعید بن جبیر، حسن بن سیرین، ابن عیاض زہری اور عمرو بن عبدالعزیز کا یہی قول ہے۔ یزید بن عبدالملک بن مروان جو امیرالمومنین تھے، یہی حکم دیتے تھے۔ اوزاعی، اسحاق بن راہویہ اور احمد بن حنبل بھی ایک روایت میں یہی فرماتے ہیں لیکن طاؤس اور قتادہ اس کی عدت بھی آدھی بتلاتے ہیں یعنی دو ماہ پانچ راتیں۔ ابوحنیفہ ان کے ساتھ حسن بن صالح بن حی فرماتے ہیں میں حیض عدت گزارے، حضرت علی ابن مسعود، عطاء اور ابراہیم نخعی کا قول بھی یہی ہے۔ امام مالک، امام شافعی اور امام احمد کی مشہور روایت یہ ہے کہ اس کی عدت ایک حیض ہی ہے۔ ابن عمر، شعبی، مکحول، لیث، ابو عبید، ابو ثور اور جمہور کا یہی مذہب ہے۔ حضرت لیث فرماتے ہیں کہ اگر حیض کی حالت میں اس کا سید فوت ہوا ہے تو اسی حیض کا ختم ہوجانا اس کی عدت کا ختم ہوجانا ہے۔ امام مالک فرماتے ہیں اگر حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے عدت گزارے۔ امام شافعی اور جمہور فرماتے ہیں ایک مہینہ اور تین دن مجھے زیادہ پسند ہیں واللہ اعلم (مترجم کے نزدیک قوی قول پہلا ہے یعنی مثل آزاد عورت کے پوری عدت گزارے۔ واللہ اعلم) بعد ازاں جو ارشاد فرمایا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوگ واجب ہے۔ بخاری و مسلم میں حدیث ہے کہ جو عورت اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتی ہو اسے تین دن سے زیادہ کسی میت پر سوگواری کرنا حرام ہے، ہاں خاوند پر چار مہینے دس دن سوگوار ہے۔ ایک عورت نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ میری بیٹی کا میاں مرگیا ہے اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا میں اس کے سرمہ لگا دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں، دو تین مرتبہ اس نے اپنا سوال دہرایا اور آپ ﷺ نے یہی جواب دیا، آخری بار فرمایا یہ تو چار مہینے اور دس دن ہی ہیں، جاہلیت میں تو تم سال سال بھر بیٹھی رہا کرتی تھیں۔ حضرت زینب بنت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ پہلے جب کسی عورت کا خاوند مرجاتا تھا تو اسے کسی جھونپڑے میں ڈال دیتے تھے، وہ بدترین کپڑے پہنتی، خوشبو وغیرہ سے الگ رہتی اور سال بھر تک ایسی ہی سڑی بھسی رہتی تھی، سال بھر کے بعد نکلتی اور اونٹنی کی مینگنی لے کر پھینکتی اور کسی جانور مثلاً گدھا یا بکری یا پرندے کے جسم کے ساتھ اپنے جسم کو رگڑتی، بسا اوقات وہ مر ہی جاتا، یہ تھی جاہلیت کی رسم۔ پس یہ آیت اس کے بعد کی آیت کی ناسخ ہے جس میں ہے کہ ایسی عورتیں سال بھر تک رکی رہیں۔ حضرت ابن عباس وغیرہ یہی فرماتے ہیں کہ اس میں اختلاف ہے اور تفصیل اس کی عنقریب آئے گی انشاء اللہ، مطلب یہ کہ اس زمانہ میں بیوہ عورت کو زینت اور خوشبو اور بہت بھڑکیلے کپڑے اور زیور وغیرہ پہننا منع ہے اور یہ سوگواری واجب ہے۔ ہاں ایک قول یہ بھی ہے کہ طلاق رجعی کی عدت میں یہ واجب نہیں، اور جب طلاق بائن ہو تو وجوب اور عدم وجوب کے دونوں قول ہیں، فوت شدہ خاوندوں کی زندہ بیویوں پر تو سب پر یہ سوگواری واجب ہے، خواہ وہ نابالغہ ہوں خواہ وہ عورتیں ہوں جو حیض وغیرہ سے اتر چکی ہوں، خواہ آزاد عورتیں ہوں خواہ لونڈیاں ہوں، خواہ مسلمان ہوں خواہ کافرہ ہوں کیونکہ آیت میں عام حکم ہے، ہاں ثوری اور ابوحنیفہ کافرہ عورت کی سوگواری کے قائل نہیں، شہاب اور ابن نافع کا قول بھی یہی ہے ان کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ جو عورت اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو۔ پس معلوم ہوا کہ یہ حکم تعبدی ہے، امام ابوحنیفہ اور ثوری کمسن نابالغہ عورت کیلئے بھی یہی فرماتے ہیں کیونکہ وہ غیر مکلفہ ہے۔ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب مسلمان لونڈی کو اس میں ملاتے ہیں لیکن اس مسائل کی تصفیہ کا یہ موقع نہیں واللہ الموفق بالصواب پھر فرمایا جب ان کی عدت گزر چکے تو ان کے اولیاء پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ عورتیں اپنے بناؤ سنگھار کریں یا نکاح کریں، یہ سب ان کیلئے حلال طیب ہے۔ حسن، زہری اور سدی سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
پیغام نکاح : مطلب یہ کہ صراحت کے بغیر نکاح کی چاہت کا اظہار کسی اچھے طریق پر عدت کے اندر کرنے میں گناہ نہیں مثلاً یوں کہنا کہ میں نکاح کرنا چاہتا ہوں، میں ایسی ایسی عورت کو پسند کرتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ اللہ میرا جوڑا بھی ملا دے، انشاء اللہ میں تیرے سوا دوسری عورت سے نکاح کا ارادہ نہیں کروں گا، میں کسی نیک دیندار عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہوں، اسی طرح اس عورت سے جسے طلاق بائن مل چکی ہو عدت کے اندر ایسے مبہم الفاظ کہنا بھی جائز ہیں۔ جیسا کہ نبی ﷺ نے حضرت فاطمہ بن قیس سے فرمایا تھا جبکہ ان کے خاوند ابو عمرو بن حفص نے انہیں آخری تیسری طلاق دے دی تھی کہ جب تم عدت ختم کرو تو مجھے خبر کردینا، عدت کا زمانہ حضرت ابن مکتوم کے ہاں گزارو، جب حضرت فاطمہ نے عدت نکل جانے کے بعد حضور ﷺ کو اطلاع دی تو آپ ﷺ نے حضرت اسامہ بن زید سے جن کا مانگا تھا، نکاح کرا دیا، ہاں رجعی طلاق کی عدت کے زمانہ میں بجز اس کے خاوند کے کسی کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ اشارتاً کنایہ بھی اپنی رغبت ظاہر کرے واللہ اعلم۔ یہ فرمان کہ تم اپنے نفس میں چھپاؤ یعنی منگنی کی خواہش، ایک جگہ ارشاد ہے تیرا رب ان کے سینوں میں پوشیدہ کو اور ظاہر باتوں کو جانتا ہے۔ دوسری جگہ تمہارے باطل و ظاہر کا جاننے والا ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا تھا کہ تم اپنے دلوں میں ضرور ذکر کرو گے اس واسطے اس نے تنگی ہٹا دی، لیکن ان عورتوں سے پوشیدہ وعدے نہ کرو، یعنی زناکاری سے بچو، ان سے یوں نہ کہو کہ میں تم پر عاشق ہوں، تم بھی وعدہ کرو کہ میرے سوا کسی اور سے نکاح نہ کرو گی وغیرہ۔ عدت میں ایسے الفاظ کا کہنا حلال نہیں، نہ یہ جائز ہے کہ پوشیدہ طور پر عدت میں نکاح کرلے اور عدت گزر جانے کے بعد اس نکاح کا اظہار کرے، پس یہ سب اقوال اس آیت کے عموم میں آسکتے ہیں اسی لئے فرمان ہوا کہ مگر یہ کہ تم ان سے اچھی بات کرو مثلاً ولی سے کہہ دیا کہ جلدی نہ کرنا، عدت گزر جانے کی مجھے بھی خبر کرنا وغیرہ۔ جب تک عدت ختم نہ ہوجائے تب تک نکاح منعقد نہ کیا کرو، علماء کا اجماع ہے کہ عدت کے اندر نکاح صحیح نہیں۔ اگر کسی نے کرلیا اور دخول بھی ہوگیا تو بھی ان میں جدائی کرا دی جائے گی، اب آیا یہ عورت اس پر ہمیشہ کیلئے حرام ہوجائے گی یا پھر عدت گزر جانے کے بعد نکاح کرسکتا ہے ؟ اس میں اختلاف ہے جمہور تو کہتے ہیں کہ کرسکتا ہے لیکن امام مالک فرماتے ہیں کہ وہ ہیمشہ کیلئے حرام ہوگئی، اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق فرماتے ہیں کہ جب عورت کا نکاح عدت کے اندر کردیا جائے گا اگر اس کا خاوند اس سے نہیں ملا تو ان دونوں میں جدائی کرا دی جائے گی اور جب اس کے پہلے خاوند کی عدت گزر جائے تو یہ شخص منجملہ اور لوگوں کو اس کے نکاح کا پیغام ڈال سکتا ہے اور اگر دونوں میں ملاپ بھی ہوگیا ہے جب بھی جدائی کرا دی جائے گی اور پہلے خاوند کو عدت گزار کر پھر اس دوسرے خاوند کی عدت گزارے گی اور پھر یہ شخص اس سے ہرگز نکاح نہیں کرسکتا، اس فیصلہ کا ماخذ یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب اس شخص نے جلدی کر کے اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ وقت کا لحاظ نہ کیا تو اسے اس کی خلاف سزا دی گئی کہ وہ عورت اس پر ہمیشہ کیلئے حرام کردی گئی، جیسا کہ قاتل اپنے مقتول کے ورثہ سے محروم کردیا جاتا ہے۔ امام شافعی نے امام مالک سے بھی یہ اثر روایت کیا ہے، امام بیہقی فرماتے ہیں کہ پہلا قول تو امام صاحب کا یہی تھا لیکن جدید قول آپ کا یہ ہے کہ اسے بھی نکاح کرنا حلال ہے کیونکہ حضرت علی کا یہی فتویٰ ہے۔ حضرت عمر والا یہ اثر سندا منقطع ہے بلکہ حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے اس بات سے رجوع کرلیا ہے اور فرمایا ہے کہ مہر ادا کر دے اور عدت کے بعد یہ دونوں آپس میں اگر چاہیں تو نکاح کرسکتے ہیں۔ پھر فرمایا جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے، اس کا لحاظ اور خوف رکھو اپنے دل میں عورتوں کے متعلق فرمان باری کیخلاف خیال بھی نہ آنے دو۔ ہمیشہ دل کو صاف رکھو، برے خیالات سے اسے پاک رکھو۔ ڈر، خوف کے حکم کے ساتھ ہی اپنی رحمت کی طمع اور لالچ بھی دلائی اور فرمایا کہ الہ العالمین خطاؤں کو بخشنے والا اور حلم و کرم والا ہے۔
حق مہر کب اور کتنا : عقد نکاح کے بعد دخول سے بھی طلاق کا دینا مباح ہو رہا ہے۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہاں مراد " مس " سے نکاح ہے دخول سے پہلے طلاق دے دینا بلکہ مہر کا بھی ابھی تقرر نہیں ہوا اور طلاق دے دینا بھی جائز ہے، گو اس میں عورت کے بیحد دل شکنی ہے، اسی لئے حکم ہے کہ اپنے مقدور بھر اس صورت میں مرد کو عورت کے ساتھ سلوک کرنا چاہئے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس کا اعلیٰ حصہ خادم ہے اور اس سے کمی چاندی ہے اور اس سے کم کپڑا ہے یعنی اگر مالدار ہے تو غلام وغیرہ دے اور اگر مفلس ہے تو کم سے کم تین کپڑے دے۔ حضرت شعبی فرماتے ہیں درمیانہ درجہ اس فائدہ پہنچانے کا یہ ہے کہ کرتہ دوپٹہ لحاف اور چادر دے دے۔ تشریح فرماتے ہیں پانچ سو درہم دے، ابن سیرین فرماتے ہیں غلام دے یا خوراک دے یا کپڑے لتے دے، حضرت حسن بن علی نے دس ہزار دئیے تھے لیکن پھر بھی وہ بیوی صاحبہ فرماتی تھیں کہ اس محبوب مقبول کی جدائی کے مقابلہ میں یہ حقیر چیز کچھ بھی نہیں۔ امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ اگر دونوں اس فائدہ کی مقدار میں تنازعہ کریں تو اس کے خاندان کے مہر سے آدھی رقم دلوا دی جائے، حضرت امام شافعی کا فرمان ہے کہ کسی چیز پر خاوند کو مجبور نہیں کیا جاسکتا بلکہ کم سے کم جس چیز کو متعہ یعنی فائدہ اور اسباب کہا جاسکتا ہے وہ کافی ہوگا۔ میرے نزدیک اتنا کپڑا متعہ ہے جتنے میں نماز پڑھ لینی جائز ہوجائے، گو پہلا قول حضرت الامام کا یہ تھا کہ مجھے اس کا کوئی صحیح اندازہ معلوم نہیں لیکن میرے نزدیک بہتر یہ ہے کہ کم سے کم تیس درہم ہونے چاہئیں جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے، اس بارے میں بہت سے اقوال ہیں کہ ہر طلاق والی عورت کو کچھ نہ کچھ اسباب دینا چاہئے یا صرف اسی صورت کو جس سے میل ملاپ نہ ہوا ہو، بعض تو سب کیلئے کہتے ہیں کیونکہ قرآن کریم میں ہے کہ آیت (وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ ۭحَقًّا عَلَي الْمُتَّقِيْنَ) 2۔ البقرۃ :241) پس اس آیت کے عموم سے سب کیلئے وہ ثابت کرتے ہیں۔ اس طرح ان کی دلیل یہ بھی ہے آیت (فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَاُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا) 33۔ الاحزاب :28) یعنی اے نبی ﷺ اپنی بیویوں سے کہو کہ اگر تمہاری چاہت دنیا کی زندگی اور اسی کی زینت کی ہے تو آؤ میں تمہیں کچھ اسباب بھی دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ چھوڑ دوں، پس یہ تمام ازواج مطہرات وہ تھیں جن کا مہر بھی مقرر تھا اور جو حضور ﷺ کی خدمت میں بھی آچکی تھیں، سعید بن جبیر، ابو العالیہ، حسن بصری کا قول یہی ہے۔ امام شافعی کا بھی ایک قول یہی ہے اور بعض تو کہتے ہیں کہ ان کا نیا اور صحیح قول یہی ہے واللہ اعلم۔ بعض کہتے ہیں اسباب کا دینا اس طلاق والی کو ضروری ہے جس سے خلوت نہ ہوئی ہو گو مہر مقرر ہوچکا ہو کیونکہ قرآن کریم میں ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَسَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا) 33۔ الاحزاب :49) یعنی اے ایمان والو تم جب ایمان والی عورت سے نکاح کرلو پھر انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو ان پر تمہاری طرف سے کوئی عدت نہیں جو عدت وہ گزاریں تم انہیں کچھ مال اسباب دے دو اور حسن کردار سے چھوڑ دو ، سعید بن مسیب کا قول ہے کہ سورة احزاب کی یہ آیت سورة بقرہ کی آیت سے منسوخ ہوچکی ہے۔ حضرت سہل بن سعد اور ابو اسید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت امیہ بنت شرجبیل سے نکاح کیا جب وہ رخصت ہو کر آئیں اور آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو گویا اس نے برا مانا، آپ ﷺ نے ابو اسید سے فرمایا اسے دو رنگین کپڑے دے کر رخصت کرو، تیسرا قول یہ ہے کہ صرف اسی صورت میں بطور فائدہ کے اسباب و متاع کا دینا ضروری ہے جبکہ عورت کی وداع نہ ہوئی ہو اور مہر بھی مقرر نہ ہوا ہو اور اگر دخول ہوگیا ہو تو مہر مثل یعنی خاندان کے دستور کے مطابق دینا پڑے گا اگر مقرر نہ ہوا ہو اور اگر مقرر ہوچکا ہو اور رخصت سے پہلے طلاق دے دے تو آدھا مہر دینا پڑے گا اور اگر رخصتی بھی ہوچکی ہے تو پورا مہر دینا پڑے گا اور یہی متعہ کا عوض ہوگا۔ ہاں اس مصیبت زدہ عورت کیلئے متعہ ہے جس سے نہ ملاپ ہوا نہ مہر مقرر ہوا اور طلاق مل گئی۔ حضرت ابن عمر اور مجاہد کا یہی قول ہے، گو بعض علماء اسی کو مستحب بتلاتے ہیں کہ ہر طلاق والی عورت کو کچھ نہ کچھ دے دینا چاہئے ان کے سوا جو مہر مقرر کئے ہوئے نہ ہوں اور نہ خاوند بیوی کا میل ہوا ہو، یہی مطلب سورة احزاب کی اس آیت تخیر کا ہے جو اس سے پہلے اسی آیت کی تفسیر میں بیان ہوچکی ہے اور اسی لئے یہاں اس خاص صورت کیلئے فرمایا گیا ہے کہ امیر اپنی وسعت کے مطابق دیں اور غریب اپنی طاقت کے مطابق۔ حضرت شعبی سے سوال ہوتا ہے کہ یہ اسباب نہ دینے والا کیا گرفتار کیا جائے گا ؟ تو آپ فرماتے ہیں اپنی طاقت کے برابر دے دے، اللہ کی قسم اس بارے میں کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا اگر یہ واجب ہوتا تو قاضی لوگ ضرور ایسے شخص کو قید کرلیتے۔
مزید وضاحت : اس آیت میں صاف دلالت ہے اس امر پر کہ پہلی آیت میں جن عورتوں کیلئے متعہ مقرر کیا گیا تھا وہ صرف وہی عورتیں ہیں جن کا ذکر اس آیت میں تھا کیونکہ اس آیت میں یہ بیان ہوا ہے کہ دخول سے پہلے جبکہ طلاق دے دی گئی ہو اور مہر مقرر ہوچکا ہو تو آدھا مہر دینا پڑے گا۔ اگر یہاں بھی اس کے سوا کوئی اور متعہ واجب ہوتا تو وہ ضرور ذکر کیا جاتا کیونکہ دونوں آیتوں کی دونوں صورتوں میں ایک کے بعد ایک بیان ہو رہی ہیں واللہ اعلم، اس صورت میں جو یہاں بیان ہو رہی ہے آدھے مہر پر علماء کا اجماع ہے، لیکن تین کے نزدیک پورا مہر اس وقت واجب ہوجاتا ہے جبکہ خلوت ہوگئی یعنی میاں بیوی تنہائی کی حالت میں کسی مکان میں جمع ہوگئے، گو ہم بستری نہ ہوئی ہو۔ امام شافعی کا بھی پہلا قول یہی ہے اور خلفائے راشدین کا فیصلہ بھی یہی ہے، لیکن امام شافعی کی روایت سے حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس صورت میں بھی صرف نصف مہر مقررہ ہی دینا پڑے گا، امام شافعی فرماتے ہیں میں بھی یہی کہتا ہوں اور ظاہر الفاظ کتاب اللہ کے بھی یہی کہتے ہیں۔ امام بیہقی فرماتے ہیں کہ اس روایت کے ایک راوی لیث بن ابی سلیم اگرچہ سند پکڑے جانے کے قابل نہیں لیکن ابن ابی طلحہ سے ابن عباس کی یہ روایت مروی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا فرمان یہی ہے، پھر فرماتا ہے کہ اگر عورتیں خود ایسی حالت میں اپنا آدھا مہر بھی خاوند کو معاف کردیں تو یہ اور بات ہے اس صورت میں خاوند کو سب معاف ہوجائے گا۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ ثیبہ عورت اگر اپنا حق چھوڑ دے تو اسے اختیار ہے۔ بہت سے مفسرین تابعین کا یہی قول ہے، محمد بن کعب قرظی کہتے ہیں کہ اس سے مراد عورتوں کا معاف کرنا نہیں بلکہ مردوں کا معاف کرنا ہے۔ یعنی مرد اپنا آدھا حصہ چھوڑ دے اور پورا مہر دے دے لیکن یہ قول شاذ ہے کوئی اور اس قول کا قائل نہیں، پھر فرماتا ہے کہ وہ معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ ایک حدیث میں ہے اس سے مراد خاوند ہے۔ حضرت علی سے سوال ہوا کہ اس سے مراد کیا عورت کے اولیاء ہیں، فرمایا نہیں بلکہ اس سے مراد خاوند ہے۔ اور بھی بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہے۔ امام شافعی کا جدید قول بھی یہی ہے۔ امام ابوحنیفہ وغیرہ کا بھی یہی مذہب ہے، اس لئے کہ حقیقتاً نکاح کو باقی رکھنا توڑ دینا وغیرہ یہ سب خاوند کے ہی اختیار میں ہے اور جس طرح ولی کو اس کی طرف سے جس کا ولی ہے، اس کے مال کا دے دینا جائز نہیں اسی طرح اس کے مہر کے معاف کردینے کا بھی اختیار نہیں۔ دوسرا قول اس بارے میں یہ ہے کہ اس سے مراد عورت کے باپ بھائی اور وہ لوگ ہیں جن کی اجازت بغیر عورت نکاح نہیں کرسکتی۔ ابن عباس، علقمہ، حسن، عطاء، طاؤس، زہری، ربیعہ، زید بن اسلم، ابراہیم نخعی، عکرمہ، محمد بن سیرین سے بھی یہی مروی ہے کہ ان دونوں بزرگوں کا بھی ایک قول یہی ہے۔ امام مالک کا اور امام شافعی کا قول قدیم بھی یہی ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ ولی نے ہی اس حق کا حقدار اسے کیا تھا تو اس میں تصرف کرنے کا بھی اسے اختیار ہے، گو اور مال میں ہیر پھیر کرنے کا اختیار نہ ہو، عکرمہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے معاف کردینے کی رخصت عورت کو دی اور اگر وہ بخیلی اور تنگ دلی کرے تو اس کا ولی بھی معاف کرسکتا ہے۔ گو وہ عورت سمجھدار ہو، حضرت شریح بھی یہی فرماتے ہیں لیکن جب شعبی نے انکار کیا تو آپ نے اس سے رجوع کرلیا اور فرمانے لگے کہ اس سے مراد خاوند ہی ہے بلکہ وہ اس بات پر مباہلہ کو تیار رہتے تھے۔ پھر فرماتا ہے تمہارا خون معاف کرنا ہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے، اس سے مراد عورتیں دونوں ہی ہیں یعنی دونوں میں سے اچھا وہی ہے جو اپنا حق چھوڑ دے، یعنی عورت یا تو اپنا آدھا حصہ بھی اپنے خاوند کو معاف کر دے یا خاوند ہی اسے بجائے آدھے کے پورا مہر دے دے۔ آپس کی فضیلت یعنی احسان کو نہ بھولو، اسے بیکار نہ چھوڑو بلکہ اسے کام میں لاؤ۔ ابن مردویہ کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں پر ایک کاٹ کھانے والا زمانہ آئے گا، مومن بھی اپنے ہاتھوں کی چیز کو دانتوں سے پکڑ لے گا اور فضیلت و بزرگی کو بھول جائے گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اپنے آپس کے فضل کو نہ بھولو، برے ہیں وہ لوگ جو ایک مسلمان کی بےکسی اور تنگ دستی کے وقت اس سے سستے داموں اس کی چیز خریدتے ہیں۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے اس بیع سے منع فرما دیا ہے۔ اگر تیرے پاس بھلائی ہو تو اپنے بھائی کو بھی وہ بھلائی پہنچا اس کی ہلاکت میں حصہ نہ لے۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، نہ اسے رنج و غم پہنچے نہ اسے بھلائیوں سے محروم رکھے، حضرت عون حدیثیں بیان کرتے جاتے ہیں روتے جاتے یہاں تک کہ داڑھی سے ٹپکتے رہتے اور فرماتے میں مالداروں کی صحبت میں بیٹھا اور دیکھا کہ ہر وقت دل ملول رہتا ہے کیونکہ جدھر نظر اٹھتی ہر ایک کو اپنے سے اچھے کپڑوں میں اچھی خوشبوؤں میں اور اچھی سواریوں میں دیکھتا، ہاں مسکینوں کی محفل میں میں نے بڑی راحت پائی، رب العالم یہی فرماتا ہے ایک دوسرے کی فضیلت فراموش نہ کرو، کسی کے پاس جب بھی کوئی سائل آئے اور اس کے پاس کچھ نہ ہو تو وہ اس کیلئے دُعائے خیر ہی کر دے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبردار ہے، اس پر تمہارے کام اور تمہارا حال بالکل روشن ہے اور عنقریب وہ ہر ایک عامل کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔
صلوۃ وسطی کون سی ہے ؟ : اللہ تعالیٰ کا حکم ہو رہا ہے کہ نمازوں کے وقت کی حفاظت کرو اس کی حدود کی نگرانی رکھو اور اول وقت ادا کرتے رہو، رسول اللہ ﷺ سے حضرت عبداللہ بن مسعود سوال کرتے ہیں کہ کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نماز کو وقت پر پڑھنا، پھر پوچھا کون سا ؟ فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، پھر کونسا ؟ ماں باپ سے بھلائی کرنا۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں اگر میں کچھ اور بھی پوچھتا تو آپ اور بھی جواب دیتے (بخاری و مسلم) حضرت ام فردہ جو بیعت کرنے والی عورتوں میں سے ہیں، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے میں نے سنا آپ ﷺ اعمال کا ذکر فرما رہے تھے۔ اسی میں آپ ﷺ نے فرمایا سب سے زیادہ پسندیدہ عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک نماز کو اول وقت ادا کرنے کی جلدی کرنا ہے۔ (مسند احمد) امام ترمذی اس حدیث کے ایک راوی عمری کو غیر قوی بتاتے ہیں، پھر صلوۃ وسطی کی مزید تاکید ہو رہی ہے۔ سلف و خلف کا اس میں اختلاف ہے کہ صلوۃ وسطی کس نماز کا نام ہے، حضرت علی، حضرت ابن عباس وغیرہ کا قول ہے کہ اس سے مراد صبح کی نماز ہے۔ ابن عباس ایک مرتبہ نماز پڑھتے ہیں جس میں ہاتھ اٹھا کر قنوت بھی پڑھتے ہیں، پھر فرماتے ہیں یہی وہ نماز وسطی ہے جس میں قنوت کا حکم ہوا ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ یہ واقعہ بصرے کی مسجد کا ہے اور قنوت اپنے رکوع سے پہلے پڑھی تھی۔ ابو العالیہ فرماتے ہیں بصرے میں میں نے حضرت عبداللہ بن قیس کے پیچھے صبح کی نماز ادا کی پھر میں نے ایک صحابی سے پوچھا کہ صلوۃ وسطی کون سی ہے، آپ نے فرمایا یہی صبح کی نماز ہے۔ اور روایت میں ہے کہ بہت سے اصحاب اس مجمع میں تھے اور سب نے یہی جواب دیا۔ جابر بن عبداللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور بھی بہت سے صحابہ تابعین کا یہی مسلک ہے۔ امام شافعی بھی یہی فرماتے ہیں اس لئے کہ ان کے نزدیک صبح کی نماز میں ہی قنوت ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد مغرب کی نماز ہے اس لئے کہ اس سے پہلے بھی چار رکعت والی نماز ہے اور اس کے بعد بھی چار رکعت والی نماز ہے اور سفر میں دونوں قصر کی جاتی ہیں لیکن مغرب پوری ہی رہتی ہے۔ یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس کے بعد دو نمازیں رات کی عشاء اور فجر وہ ہیں جن میں اونچی آواز سے قرأت پڑھی جاتی ہے اور دو نمازیں اس سے پہلی دن کی وہ ہیں کہ جن میں آہستہ قرأت پڑھی جاتی ہے یعنی ظہر، عصر۔ بعض کہتے ہیں یہ نماز ظہر کی ہے۔ ایک مرتبہ چند لوگ حضرت زید بن ثابت کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، وہاں یہی مسئلہ چھڑا، لوگوں نے ایک آدمی بھیج کر حضرت اسامہ سے دریافت کیا، آپ نے فرمایا یہ ظہر کی نماز ہے جسےحضور ﷺ اول وقت پڑھا کرتے تھے (طیالسی) زید بن ثابت فرماتے ہیں اس سے زیادہ بھاری نماز صحابہ پر اور کوئی نہ تھی اس لئے یہ آیت نازل ہوئی اور اس سے پہلے بھی دو نمازیں ہیں اور اس کے بعد دو ہیں۔ آپ ہی سے یہ بھی مروی ہے کہ قریشیوں کی ایک جماعت کے بھیجے ہوئے دو شخصوں نے آپ سے یہی سوال کیا جس کے جواب میں آپ نے فرمایا وہ عصر ہے، پھر دو اور شخصوں نے پوچھا آپ نے فرمایا وہ ظہر ہے، پھر ان دونوں نے حضرت اسامہ سے پوچھا، آپ نے فرمایا یہ ظہر ہے۔ آپ اسے آفتاب ڈھلتے ہی پڑھا کرتے تھے، بمشکل ایک دو صف کے لوگ آتے تھے، کوئی نیند میں ہوتا کوئی کاروبار میں مشغول ہوتا جس پر یہ آیت اتری اور آپ نے فرمایا تو یہ لوگ اس حرکت سے باز آئیں یا میں ان کے گھروں کو جلا دوں گا، لیکن اس کے راوی زبرقان نے صحابی سے ملاقات نہیں کی لیکن حضرت زید سے اور روایات سے بھی یہ ثابت ہے کہ آپ اس سے مراد ظہر کی نماز ہی بتاتے تھے، ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ ہے کہ حضرت عمر، حضرت ابو سعید، حضرت عائشہ وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ امام ابوحنیفہ سے بھی ایک روایت اسی کی ہے، بعض کہتے ہیں اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔ اکثر علماء صحابہ وغیرہ کا یہی قول ہے، جمہور تابعین کا بھی یہی قول ہے اور اکثر اہل اثر کا بھی، بلکہ جمہور لوگوں کا، حافظ ابو محمد عبدالمومن دمیاطی نے اس بارے میں ایک مستقل رسالہ تصنیف فرمایا ہے جس کا نام کشف الغطاء فی تبیین الصلوۃ الوسطیٰ ہے اس میں ان کا فیصلہ بھی یہی ہے کہ صلوۃ وسطیٰ عصر کی نماز ہے۔ حضرت عمر، حضرت علی، ابن مسعود، ابو ایوب، عبداللہ بن عمرو، سمرہ بن جندب، ابوہریرہ، ابو سعید، حفصہ، ام حبیبہ، ام سلمہ، ابن عمر، ابن عباس، عائشہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) وغیرہ کا فرمان بھی یہی ہے اور ان حضرات سے یہی مروی ہے اور بہت سے تابعین سے یہ منقول ہے۔ امام احمد اور امام شافعی کا بھی یہی مذہب ہے۔ امام ابوحنیفہ کا بھی صحیح مذہب یہی ہے۔ ابو یوسف، محمد سے بھی یہی مروی ہے۔ ابن حبیب مالکی بھی یہی فرماتے ہیں۔ اس قول کی دلیل سنیئے، رسول اللہ ﷺ نے جنگ احزاب میں فرمایا اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کے دلوں کو اور گھر کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں صلوۃ وسطیٰ یعنی نماز عصر سے روک دیا (مسند احمد) حضرت علی فرماتے ہیں کہ ہم اس سے مراد صبح یا عصر کی نماز لیتے ہیں یہاں تک کہ جنگ احزاب میں میں نے حضور ﷺ سے یہ سنا، اس میں قبروں کو بھی آگ سے بھرنا وارد ہوا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ حضور نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ عصر کی نماز ہے۔ اس حدیث کے بہت سے طرق ہیں اور بہت سی کتابوں میں مروی ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے ایک مرتبہ اس بارے میں سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہم نے بھی ایک مرتبہ اس میں اختلاف کیا تو ابو ہاشم بن عتبہ مجلس میں سے اٹھ کر رسول اللہ ﷺ کے مکان پر گئے، اجازت مانگ کر اندر داخل ہوئے اور آپ سے معلوم کر کے باہر آ کر ہمیں فرمایا یہ نماز عصر ہے (ابن جریر) عبدالعزیز بن مروان کی مجلس میں بھی ایک مرتبہ یہی مسئلہ پیش آیا، آپ نے فرمایا جاؤ فلاں صحابی سے پوچھ آؤ، تو ایک شخص نے کہا کہ مجھ سے سنیئے مجھے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے میرے بچپن میں یہی مسئلہ پوچھنے کیلئے رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا تھا، آپ نے میری چھنگلیا یعنی سب سے چھوٹی انگلی پکڑ کر فرمایا دیکھ یہ تو ہے فجر کی نماز، پھر اس کے پاس والی انگلی تھام کر فرمایا یہ ہوئی ظہر کی، پھر انگوٹھا پکڑ کر فرمایا یہ ہے مغرب کی نماز، پھر شہادت کی انگلی پکڑ کر فرمایا یہ عشاء کی نماز، پھر مجھ سے کہا اب تمہاری کون سی نگلی باقی رہی، میں نے کہا بیچ کی، فرمایا اور نماز کون سی باقی رہی، میں نے کہا عصر کی، فرمایا یہی صلوۃ وسطیٰ ہے (ابن جریر) لیکن یہ روایت بہت ہی غریب ہے، غرض صلوۃ وسطیٰ سے نماز عصر مراد ہونا بہت سی احادیث میں وارد ہے جن میں سے کوئی حسن ہے کوئی صحیح ہے کوئی ضعیف ہے۔ ترمذی مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیثیں ہیں، پھر اس نماز کے بارے میں حضور ﷺ کی تاکیدیں اور سختی کے ساتھ محافظت بھی ثابت ہے چناچہ ایک حدیث میں ہے جس سے عصر کی نماز فوت ہوجائے گویا اس کا گھرانہ تباہ ہوگیا اور مال و اسباب برباد ہوگیا اور حدیث میں ہے ابر والے دن نماز اول وقت پڑھو، سنو جس شخص نے عصر کی نماز چھوڑ دی اس کے اعمال غارت ہوجاتے ہیں۔ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے عصر کی نماز قبیلہ غفار کی ایک وادی میں جس کا نام حمیص تھا، ادا کی پھر فرمایا یہی نماز تم سے اگلے لوگوں پر بھی پیش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اسے ضائع کردیا، سنو اسے پڑھنے والے کو دوہرا اجر ملتا ہے اس کے بعد کوئی نماز ہیں جب تک کہ تم تارے نہ دیکھ لو (مسند احمد) حضرت عائشہ اپنے آزاد کردہ غلام ابو یونس سے فرماتی ہیں کہ میرے لئے ایک قرآن شریف لکھو اور جب اس آیت (حافظا) تک پہنچو تو مجھے اطلاع کرنا، چناچہ جب آپ کو اطلاع دی گئی تو آپ نے آیت (والصلوۃ الوسطی) کے بعد آیت (وصلوۃ العصر) لکھوایا اور فرمایا میں نے خود اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے (مسند احمد) ایک روایت میں آیت (وھی صلوۃ العصر) کا لفظ بھی ہے (ابن جریر) حضور ﷺ کی دوسری بیوی صاحبہ حضرت حفصہ نے عمرو بن رافع کو جب آپ کے قرآن کے کاتب تھے، اسی طرح یہ آیت لکھوائی (موطا امام مالک) اس حدیث کے بھی بہت سے طریقے ہیں اور کئی کتابوں میں مروی ہے کہ ام المومنین نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہی الفاظ سنے ہیں، حضرت نافع فرماتے ہیں میں نے یہ قرآن شریف اپنی آنکھوں سے دیکھا، یہی عبارت واؤ کے ساتھ تھی، ابن عباس اور عبید بن عسیر کی قرأت بھی یونہی ہے، ان روایات کو مدنظر رکھ کر بعض حضرات کہتے ہیں کہ چونکہ واؤ عطف کیلئے ہوتا ہے کہ صلوۃ الوسطیٰ اور ہے اور صلوۃ عصر اور ہے لیکن اس کا جاب یہ ہے کہ اگر اسے بطور حدیث کے مانا جائے تو حضرت علی والی حدیث بہت زیادہ صحیح ہے اور اس میں صراحت موجود ہے، رہا واؤ، سو ممکن ہے کہ زائدہ ہو عاطفہ نہ ہو جیسے آیت (وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَلِتَسْتَبِيْنَ سَبِيْلُ الْمُجْرِمِيْنَ) 6۔ الانعام :55) میں اور (وَكَذٰلِكَ نُرِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِيَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِيْنَ) 6۔ الانعام :75) میں یا یہ واؤ عطف صفت کیلئے ہو عطف ذات کیلئے نہ ہو جیسے آیت (وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ) 33۔ الاحزاب :40) میں اور جیسے آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى ۽ وَالَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى ۽ وَالَّذِيْٓ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى ۽) 87۔ الاعلی :14) میں۔ اس کی مثالیں اور بھی بہت سی ہیں، شاعروں کے شعروں میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے۔ سیبویہ جو نحویوں کے امام ہیں، فرماتے ہیں کہ " مررت باخیک وصاحبک " کہنا درست ہے حالانکہ صاحب اور اخ سے مراد ایک ہی شخص ہے، واللہ اعلم اور اگر اس قرأت کے الفاظ کو بطور قرآنی الفاظ کے مانا جائے تو ظاہر ہے کہ اس خبر واحد سے قرأت قرآنی ثابت نہیں ہوتی جب تک کہ تواتر ثابت نہ ہو، اسی لئے حضرت عثمان نے اپنے مرتب کردہ قرآن میں اس قرأت کو نہیں لیا، اور نہ ساتوں قاریوں کی قرأت میں یہ الفاظ ہیں بلکہ نہ کسی اور ایسے معتبر قاری کی یہ قراٹ پائی گئی ہے، علاوہ ازیں ایک حدیث اور ہے جس سے اس قرأت کا منسوخ ہونا ثابت ہو رہا ہے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ یہ آیت اتری (حافظو علی الصلوات والصلوۃ الوسطی وصلوۃ العصر) ہم ایک مدت تک اسی طرح حضور ﷺ کے سامنے اس آیت کو پڑھتے رہے پھر یہ تلاوت منسوخ ہوگئی اور آیت یوں ہی رہی آیت (حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى) 2۔ البقرۃ :238) ایک شخص نے راوی حدیث حضرت شفیق سے کہا کہ پھر کیا یہ نماز عصر کی نماز ہی ہے، فرمایا میں تو سنا چکا کہ کس طرح آیت اتری اور کس طرح منسوخ ہوئی، پس اس بنا پر یہ قرأت حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کی روایت والی یا تو لفظاً منسوخ کی جائے گی اور اگر واؤ کو مغائرت کیلئے مانا جائے تو لفظ و معنی دونوں کے اعتبار سے منسوخ کی جائے گی، بعض کہتے ہیں اس سے مراد مغرب کی نماز ہے۔ ابن عباس سے بھی یہ مروی ہے لیکن اس کی سند میں کلام ہے، بعض اور حضرات کا قول بھی یہی ہے اس کی ایک وجہ تو یہ بیان کی جاتی ہے کہ اور فرض نمازیں یا تو چار رکعت والی ہیں یا دو رکعت والی، اور اس کی تین رکعتیں ہیں پس یہ درمیانہ نماز ٹھہری۔ دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ فرض نمازوں کی یہ وتر ہے اور اس لئے بھی کہ اس کی فضیلت میں بھی بہت کچھ حدیثیں وارد ہوئی ہیں، بعض لوگ اس سے مراد عشاء کی نماز بھی بتلاتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں پانچ وقتوں میں سے ایک وقت کی نماز ہے لیکن ہم معین نہیں کرسکتے یہ مبہم ہے جس طرح لیلۃ القدر پورے سال میں یا پورے مہینے میں یا پچھلے دس دنوں میں مبہم ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں پانچوں نمازوں کو مجموعہ مراد ہے اور بعض کہتے ہیں یہ عشاء اور صبح ہے۔ بعض کا قول ہے یہ جماعت کی نماز ہے بعض کہتے ہیں جمعہ کی نماز ہے، کوئی کہتا ہے صلوۃ خوف مراد ہے، کوئی کہتا ہے نماز عید مراد ہے، کوئی کہتا ہے صلوۃ ضحیٰ مراد ہے، بعض کہتے ہیں ہم توقف کرتے ہیں اور کسی قول کے قائل نہیں بنتے، اس لئے کہ دلیلیں مختلف ہیں، وجہ ترجیح معلوم نہیں، کسی قول پر اجماع ہوا نہیں بلکہ زمانہ صحابہ سے لے کر آج تک جھگڑا جاری رہا، جس طرح حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام اس بارے میں اس طرح مختلف تھے پھر انگلیوں میں انگلیاں ڈال کردکھائیں، لیکن یہ یاد رہے کہ یہ پچھلے اقوال سب کے سب ضعیف ہیں، جھگڑا صرف صبح اور عصر کی نماز میں ہے اور صحیح احادیث سے عصر کی نماز کا صلوۃ وسطیٰ ہونا ثابت ہے پس لازم ہوگیا کہ ہم سب اقوال کو چھوڑ کر یہی عقیدہ رکھیں کہ صلوۃ وسطیٰ نماز عصر ہے۔ امام ابو محمد عبدالرحمن بن ابو حاتم رازی رحمہم اللہ نے اپنی کتاب فضائل شافعی میں روایت کی ہے کہ حضرت امام صاحب فرمایا کرتے تھے حدیث (کل ماقلت فکان عن النبی ﷺ بخلاف قولی مما یصح فحدیث النبی ﷺ اولی ولا تقلدونی) یعنی میرے جس کسی قول کیخلاف کوئی حدیث صحیح شریف مروی ہو تو حدیث ہی اولیٰ ہے خبردار میری تقلید نہ کرنا، امام شافعی کے اس فرمان کو امام ربیع امام زعفرانی اور امام احمد بن حنبل بھی روایت کرتے ہیں، اور موسیٰ ابو الولید جارود امام شافعی سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا (اذا صح الحدیث و قلت قولا فانا راجع عن قولی و قائل بذالک) یعنی میری جو بات حدیث شریف کیخلاف ہو، میں اپنی اس بات سے رجوع کرتا ہوں اور صاف کہتا ہوں کہ میرا مذہب وہی ہے جو حدیث میں ہو، یہ امام صاحب کی امانت اور سرداری ہے اور آپ جیسے ائمہ کرام میں سے بھی ہر ایک نے یہی فرمایا ہے کہ ان کے اقوال کو دین نہ سمجھا جائے۔ رحمھم اللہ ورضی عنھم اجمعین اسی لئے قاضی ماوردی فرماتے ہیں کہ امام صاحب کا صلوۃ وسطیٰ کے بارے میں یہی مذہب سمجھنا چاہئے کہ وہ عصر ہے، گو امام صاحب کا اپنا قول یہ ہے کہ وہ عصر نہیں ہے مگر آپ کے اس فرمان کے مطابق حدیث صحیح کے خلاف اس قول کو پا کر ہم نے چھوڑ دیا۔ شافعی مذہب کے اور بھی بہت سے محدثین نے یہی فرمایا ہے فالحمدللہ بعض فقہاء شافعی تو کہتے ہیں کہ امام صاحب کا صرف ایک ہی قول ہے کہ وہ صبح کی نماز ہے لیکن یہ سب باتیں طے کرنے کیلئے تفسیر مناسب نہیں، علیحدہ اس کا بیان میں نے کردیا ہے فالحمدللہ۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کے سامنے خشوع خضوع، ذلت اور مسکینی کے ساتھ کھڑے ہوا کرو جس کو یہ لازم ہے کہ انسانی بات چیت نہ ہو اسی لئے حضرت ابن مسعود کے سلام کا جواب حضور ﷺ نے نماز میں نہ دیا اور بعد میں فراغت فرمایا کہ نماز مشغولیت کی چیز ہے اور حضرت معاویہ بن حکم سے جبکہ انہوں نے نماز پڑھتے ہوئے بات کی تو فرمایا نماز میں انسانی بات چیت نہ کرنی چاہئے یہ تو صرف تسبیح اور ذکر اللہ ہے (مسلم)
مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے لوگ ضروری بات چیت بھی نماز میں کرلیا کرتے تھے، جب یہ آیت اتری تو چپ رہنے کا حکم دے دیا گیا، لیکن اس حدیث میں ایک اشکال یہ ہے کہ علماء کرام کی ایک جماعت کے نزدیک نماز میں بات چیت کرنے کی حرمت حبشہ کی ہجرت کے بعد اور مدینہ شریف کی ہجرت سے پہلے ہی مکہ شریف میں نازل ہوچکی تھی چناچہ صحیح مسلم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حبشہ کی ہجرت سے پہلے ہم نبی ﷺ کو سلام کرتے تھے آپ نما میں ہوتے پھر بھی جواب دیتے، جب حبشہ سے ہم واپس آئے تو حضور ﷺ کو میں نے آپ کی نماز کی حالت میں ہی سلام کیا آپ نے جواب نہ دیا، اب میرے رنج و غم کا کچھ نہ پوچھئے نماز سے فارغ ہو کر آپ نے مجھے فرمایا عبداللہ اور کوئی بات نہیں میں نماز میں تھا اس وجہ سے میں نے جواب نہ دیا، اللہ جو چاہے نیا حکم اتارے، اس نے یہ نیا حکم نازل فرمایا ہے کہ نماز میں نہ بولا کرو، پس یہ واقعہ ہجرت مدینہ سے پہلے کا ہے اور یہ آیت مدینہ میں نازل ہوئی ہے، اب بعض تو کہتے ہیں کہ زید بن ارقم کے قول کا مطلب جنس کلام سے ہے اور اس کی حرمت پر اس آیت سے استدلال بھی خود ان کا فہم ہے واللہ اعلم، بعض کہتے ہیں ممکن ہے دو دفعہ حلال ہوا ہو اور دو دفعہ ممانعت ہوئی ہو لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے، حضرت ابن مسعود والی روایت جو ابو یعلی میں ہے اس میں ہے کہ حضور ﷺ کے جواب نہ دینے سے مجھے یہ خوف ہوا کہ شاید میرے بارے میں کوئی وحی نازل ہوئی ہے۔ آپ نے مجھ سے فارغ ہو کر حدیث (وعلیک اسلام ایھا المسلم و رحمتہ اللہ) نماز میں جب تم ہو تو خاموش رہا کرو، چونکہ نمازوں کی پوری حفاظت کرنے کا فرمان صادر ہوچکا تھا اس لئے اب اس حالت کو بیان فرمایا جاتا جس میں تمام ادب و آداب کی پوری رعایت عموماً نہیں رہ سکتی، یعنی میدان جنگ میں جبکہ دشمن سر پر ہو تو فرمایا کہ جس طرح ممکن ہو سوار پیدل قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرلیا کرو، ابن عمر اس آیت کا یہی مطلب بیان کرتے ہیں بلکہ نافع فرماتے ہیں میں تو جانتا ہوں یہ مرفوع ہے، مسلم شریف میں ہے سخت خوف کے وقت اشارے سے ہی نماز پڑھ لیا کرو، گو سواری پر سوار ہو، عبداللہ بن انیس کو جب حضور ﷺ نے خالد بن سفیان کے قتل کیلئے بھیجا تھا تو آپ نے اسی طرح نماز عصر اشارے سے ادا کی تھی (ابو داؤد) بپس اس میں جناب باری نے اپنے بندوں پر بہت آسانی کردی اور بوجھ کو ہلکا کردیا، صلوۃ خوف ایک رکعت پڑھنی بھی آئی ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی ﷺ کی زبانی حضر کی حالت میں چار رکعتیں فرض کی ہیں اور سفر کی حالت میں اور دو اور خوف کی حالت میں ایک (مسلم) امام احمد فرماتے ہیں یہ اس وقت ہے جب بہت زیادہ خوف ہو، جابر بن عبداللہ اور بہت سے اور بزرگ صلوۃ خوف ایک رکعت بتاتے ہیں، امام بخاری نے صحیح بخاری میں باب باندھا ہے کہ فتوحات قلعہ کے موقع پر اور دشمن کے مڈبھیڑ کے موقع پر نماز ادا کرنا اوزاعی فرماتے ہیں اگر فتح قریب آگئی ہو اور نماز پڑھنے پر قدرت نہ ہو تو ہر شخص اپنے طور پر اشارے سے نماز پڑھ لے، اگر اتنا وقت بھی نہ ملے تو تاخیر کریں یہاں تک کہ لڑائی ختم ہوجائے اور چین نصیب ہو تو دو رکعتیں ادا کرلیں ورنہ ایک رکعت کافی ہے لیکن صرف تکبیر کہہ لینا کافی نہیں بلکہ تاخیر کردیں یہاں تک کہ امن ملے، مکحول بھی یہی کہتے ہیں حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ تستر قلعہ کی لڑائی میں میں بھی فوج میں تھا، صبح صادق کے وقت گھمسان کی لڑائی ہو رہی تھی، ہمیں وقت ہی نہ ملا کہ نماز ادا کرتے، خوب دن چڑھے اس دن ہم نے صبح کی نماز پڑھی، اگر نماز کیلئے بدلے میں مجھے دنیا اور جو کچھ اس میں ہے مل جائے تاہم میں خوش نہیں ہوں، بعد ازاں حضرت امام المحدثین نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں ہے کہ جنگ خندق میں سورج غروب ہوجانے تک آنحضرت ﷺ عصر کی نماز نہ پڑھ سکے، پھر دوسری حدیث میں ہے کہ آپ نے جب اپنے صحابہ کو بنی قریظہ کی طرف بھیجا تو ان سے فرما دیا تھا کہ تم میں سے کوئی بھی بنی قریظہ سے درے نماز عصر نہ پڑھے، اب جبکہ نماز عصر کا وقت آگیا تو بعض نے تو وہیں پڑھی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا، وہیں جا کر نماز پڑھی، حضور ﷺ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے انہیں نہ ڈانٹا۔ پس اس سے حضرت امام بخاری یہ مسئلہ ثابت کرتے ہیں گو جمہور اس کے مخالف ہیں وہ کہتے ہیں سورة نساء میں جو نماز خوف کا حکم ہے اور جس نماز کی مشروعیت اور طریقہ احادیث میں وارد ہوا ہے وہ جنگ خندق کے بعد کا ہے جیسا کہ ابو سعید وغیرہ کی روایت میں صراحتاً بیان ہے، لیکن امام بخاری امام مکحول اور امام اوزاعی رحمھم اللہ کا جواب یہ ہے کہ اس کی مشروعیت بعد میں ہونا اس جواز کیخلاف نہیں، ہوسکتا ہے کہ یہ بھی جائز ہو اور وہ بھی طریقہ ہو، کیونکہ ایسی حالت میں شاذو نادر کبھی ہی ہوتی ہے اور خود صحابہ نے حضرت فاروق اعظم کے زمانے میں فتح تستر میں اس پر عمل کیا اور کسی نے انکار نہیں کیا واللہ اعلم، پھر فرمان ہے کہ امن کی حالت میں بجاآوری کا پورا خیال رکھو، جس طرح میں نے تمہیں ایمان کی راہ دکھائی اور جہل کے بعد علم دیا تو تمہیں بھی چاہئے کہ اس کے شکریہ میں ذکر اللہ باطمینان کیا کرو، جیسا کہ نماز خوف کا بیان کر کے فرمایا جب اطمینان ہوجائے تو نمازوں کو اچھی طرح قائم کرو، نماز مومنوں پر وقت مقررہ پر فرض ہے، صلوۃ خوف کا پورا بیان سورة نساء کی آیت واذا (کنت فیھم) کی تفسیر میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔
بیوگان کے قیام کا مسئلہ : اکثر مفسرین کا قول ہے کہ یہ آیت اس سے پہلے کی آیت اس سے پہلے کی آیت یعنی چار مہینے دس رات کی عدت والی آیت کی منسوخ ہوچکی ہے، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت ابن زبیر نے حضرت عثمان سے کہا کہ جب یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے تو پھر آپ اسے قرآن کریم میں کیوں لکھوا رہے ہیں، آپ نے فرمایا بھتیجے جس طرح اگلے قرآن میں یہ موجود ہے یہاں بھی موجود ہی رہے گی، ہم کوئی تغیر و تبدیل نہیں کرسکتے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں پہلے تو یہی حکم تھا کہ سال بھر تک نان نفقہ اس بیوہ عورت کو میت کے مال سے دیا جائے اور اسی کے مکان میں یہ رہے، پھر آیت میراث نے اسے منسوخ کردیا اور خاوند کو اولاد ہونے کی صورت میں مال متروکہ کا آٹھواں حصہ اور اولاد نہ ہونے کے وقت چوتھائی مال ورثہ کا مقرر کیا گیا اور عدت چار ماہ دس دن مقرر ہوئی۔ اکثر صحابہ اور تابعین سے مروی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے، سعید بن مسیب کہتے ہیں سورة احزاب کی آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَسَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا) 33۔ الاحزاب :49) نے اسے منسوخ کردیا، حضرت مجاہد فرماتے ہیں سات مہینے بیس دن جو اصلی عدت چار مہینے دس دن کے سوا کے ہیں اس آیت میں اس مدت کا حکم ہو رہا ہے، عدت تو واجب ہے لیکن یہ زیادتی کی مدت کا عورت کو اختیار ہے خواہ وہیں بیٹھ کر یہ زمانہ گزار دے خواہ نہ گزارے اور چلی جائے، میراث کی آیت نے رہنے سہنے کے مکان کو بھی منسوخ کردیا، وہ جہاں چاہ عدت گزارے مکان کا خرچ خاوند کے ذمہ ہیں، پس ان اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت نے سال بھر تک کی عدت کو واجب ہی نہیں کیا پھر منسوخ ہونے کے کیا معنی ؟ یہ تو صرف خاوند کی وصیت ہے اور اسے بھی عورت پورا کرنا چاہے تو کرے ورنہ اس پر جبر نہیں، وصیتہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں وصیت کرتا ہے جیسے آیت (يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ ۤ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ) 4۔ النسآء :11) اس کا نصب فلتو صوالھن کو محذوف مان کر ہے۔ وصیتہ کی قرأت یہی ہے یعنی آیت (کتب علیکم وصیتہ) پس اگر عورتیں سال بھر تک اپنے فوت شدہ خاوندوں کے مکانوں میں رہیں تو انہیں نہ نکالا جائے اور اگر وہ عدت گزار کر جانا چاہیں تو ان پر کوئی جبر نہیں، امام ابن تیمیہ بھی اسی قول کو پسند فرماتے ہیں اور بھی بہت سے لوگ اسی کو اختیار کرتے ہیں اور باقی کی جماعت اسے منسوخ بتاتی ہے، پس اگر ان کا ارادہ اصلی عدت کے بعد کے زمانہ کے منسوخ ہونے کا ہے تو خیر ورنہ اس بارے میں ائمہ کا اختلاف ہے، وہ کہتے ہیں خاوند کے گھر میں عدت گزارنی ضروری ہے اور اس کی دلیل موطا مالک کی حدیث ہے کہ حضرت ابو سعید خدری کی ہمشیرہ صاحبہ فریعہ بن مالک رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور کہا ہمارے غلام بھاگ گئے تھے جنہیں ڈھونڈنے کیلئے میرے خاوند گئے قدوم میں ان غلاموں سے ملاقات ہوئی لیکن انہوں نے آپ کو قتل کردیا ان کا کوئی مکان نہیں جس میں عدت گزاروں اور نہ کچھ کھانے پینے کو ہے اگر آپ اجازت دیں تو اپنے میکے چلی جاؤں اور وہیں عدت پوری کروں، آپ نے فرمایا اجازت ہے، میں لوٹی ابھی تو میں حجرے میں ہی تھی کہ حضور ﷺ نے مجھے بلوایا یا خود بلایا اور فرمایا تم نے کیا کہا، میں نے پھر قصہ بیان کیا، آپ ﷺ نے فرمایا اسی گھر میں ہی ٹھہری رہو یہاں تک کہ عدت گزر جائے، چناچہ میں نے وہیں عدت کا زمانہ پورا کیا یعنی چار مہینے دس دن۔ حضرت عثمان کے زمانہ میں آپ نے مجھے بلوایا اور مجھ سے یہی مسئلہ پوچھا، میں نے اپنا یہ واقعہ حضور ﷺ کے فیصلے سمیت سنایا، حضرت عثمان نے بھی اسی کی پیروی کی اور یہی فیصلہ دیا، اس حدیث کو امام ترمذی حسن صحیح کہتے ہیں۔