Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah An-Naml
Tafsir Ibn Kathir · The Ant · 93 ayat · ayat 31–60 · Quran text →
تحقیق شروع ہوگئی ہدہد کی خبر سنتے ہی حضرت سلیمان نے اس کی تحقیق شروع کردی کہ اگر یہ سچا ہے تو قابل معافی اور اگر جھوٹا ہے تو قابل سزا ہے۔ اسی سے فرمایا کہ میرا یہ خط بلقیس کو جو وہاں کی فرمانرواہے دے آ۔ اس خط کو چونچ میں لے کر یا پر سے بندھواکر ہدہد اڑا۔ وہاں پہنچ کر بلقیس کے محل میں گیا وہ اس وقت خلوت خانہ میں تھی۔ اس نے ایک طاق میں سے وہ خط اسکے سامنے رکھا اور ادب کے ساتھ ایک طرف ہوگیا۔ اسے سخت تعجب معلوم ہواحیرت ہوئی اور ساتھ ہی کچھ خوف ودہشت بھی ہوئی۔ ، خط کو اٹھا کر مہر توڑ کر خط کھول کر پڑھا اس کے مضمون سے واقف ہو کر اپنے امراء وزراء سردار اور رؤسا کو جمع کیا اور کہنے لگی کہ ایک باوقعت خط میرے سامنے ڈالا گیا ہے اس خط کا باوقعت ہونا اس پر اس سے بھی ظاہر ہوگیا تھا کہ ایک جانور اسے لاتا ہے وہ ہوشیاری اور احتیاط سے پہنچاتا ہے۔ سامنے با ادب رکھ کر ایک طرف ہوجاتا ہے تو جان گئی تھی کہ یہ خط مکرم ہے اور کسی باعزت شخص کا بھیجا ہوا ہے۔ پھر خط کا مضمون سب کو پڑھ کر سنایا کہ یہ خط حضرت سلیمان کا ہے اور اس کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہوا ہے ساتھ ہی مسلمان ہونے اور تابع فرمان بننے کی دعوت ہے۔ اب سب نے پہچان لیا کہ یہ اللہ کے پیغمبر کا دعوت نامہ ہے اور ہم میں سے کسی میں انکے مقابلے کی تاب وطاقت نہیں۔ پھر خط کی بلاغت اختصار اور وضاحت نے سب کو حیران کردیا یہ مختصر سی عبارت بہت سی باتوں سے سوا ہے۔ دریا کو کوزہ میں بند کردیا ہے علماء کرام کا مقولہ ہے کہ حضرت سلیمان ؑ سے پہلے کسی نے خط میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی۔ ایک غریب اور ضعیف حدیث ابن ابنی حاتم میں ہے حضرت بریدہ ؓ فرماتے ہیں میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ جارہا تھا کہ آپ نے فرمایا میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں جو مجھ سے پہلے سلیمان بن داؤد ؑ کے بعد کسی نبی پر نہیں اتری میں نے کہا حضور وہ کونسی آیت ہے ؟ آپ نے فرمایا مسجد سے جانے سے پہلے ہی میں تجھے بتادوں گا اب آپ نکلنے لگے ایک پاؤں مسجد سے باہر رکھ بھی دیا میرے جی میں آیا شاید آپ بھول گئے۔ اتنے میں آپ نے یہی آیت پڑھی۔ اور روایت میں ہے کہ جب تک یہ آیت نہیں اتری تھی حضور ﷺ دعا (باسمک اللہم) تحریر فرمایا کرتے تھے۔ جب یہ آیت اتری آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنا شرع کیا خط کا مضمون صرف اسی قدر تھا کہ میرے سامنے سرکشی نہ کرو مجھے مجبور نہ کرو میری بات مان لو تکبر سے کام نہ لو موحد مخلص مطیع بن کر میرے پاس چلی آؤ۔
بلقیس کو خط ملا بلقیس نے حضرت سلیمان ؑ کا خط انہیں سنا کر ان سے مشورہ طلب کیا اور کہا کہ تم جانتے ہو جب تک تم سے میں مشورہ نہ کرلوں، تم موجود نہ ہو تو میں چونکہ کسی امر کا فیصلہ تنہا نہیں کرتی اس بارے میں بھی تم سے مشورہ طلب کرتی ہوں بتاؤ کیا رائے ہے ؟ سب نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ ہماری جنگی طاقت بہت کچھ ہے اور ہماری طاقت مسلم ہے۔ اس طرف سے تو اطمینان ہے آگے جو آپ کا حکم ہو۔ ہم تابعدراری کے لئے موجود ہیں۔ اسمیں ایک حد تک سرداران لشکر نے لڑائی کی طرف اور مقابلے کی طرف رغبت دی تھی لیکن بلقیس چونکہ سمجھدار عاقبت اندیش تھی اور ہدہد کے ہاتھوں خط کے ملنے کا ایک کھلا معجزہ دیکھ چکی تھی یہ بھی معلوم کرلیا تھا کہ حضرت سلیمان کی طاقت کے مقابلے میں، میں میرا لاؤ لشکر کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ اگر لڑائی کی نوبت آئی تو علاوہ ملک کی بربادی کے میں بھی سلامت نہ رہ سکوں گی اس لئے اس نے اپنے وزیروں اور مشیروں سے کہا بادشاہوں کا قاعدہ ہے کہ جب وہ کسی ملک کو فتح کرتے ہیں تو اسے برباد کردیتے ہیں اجاڑ دیتے ہیں۔ وہاں کے ذی عزت لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔ سرداران لشکر اور حکمران شہر خصوصی طور پر انکی نگاہوں میں پڑھ جاتے ہیں۔ جناب فاری نے اسکی تصدیق فرمائی کہ فی الواقع یہ صحیح ہے وہ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ اس کی بعد اسنے جو ترکیب سوچی کہ ایک چال چلے اور حضرت سلیمان سے موافقت کرلے صلح کرلے وہ اس نے انکے سامنے پیش کی کہا کہ اس وقت تو میں ایک گراں بہا تحفہ انہیں بھیجتی ہوں دیکھتی ہوں اس کے بعد وہ میرے قاصدوں سے کیا فرماتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ وہ اسے قبول فرمالیں اور ہم آئندہ بھی انہیں یہ رقم بطور جزیے کے بھیجتے رہیں اور انہیں ہم پر چڑھائی کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ اسلام کی قبولیت میں اسی طرح اس نے ہدیے بھیجنے میں نہاپت دانائی سے کام لیا۔ وہ جانتی تھی کہ روپیہ پیسہ وہ چیز ہے فولاد کو بھی نرم کردیتا ہے۔ نیز اسے یہ بھی آزمانا تھا کہ دیکھیں وہ ہمارے اس مال کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ ؟ اگر قبول کرلیا تو سمجھ لو کہ وہ ایک بادشاہ ہیں پھر ان سے مقابلہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر واپس کردیا تو انکی نبوت میں کوئی شک نہیں پھر مقابلہ سراسر بےسود بلکہ مضر ہے۔
بلقیس کو خط ملا بلقیس نے حضرت سلیمان ؑ کا خط انہیں سنا کر ان سے مشورہ طلب کیا اور کہا کہ تم جانتے ہو جب تک تم سے میں مشورہ نہ کرلوں، تم موجود نہ ہو تو میں چونکہ کسی امر کا فیصلہ تنہا نہیں کرتی اس بارے میں بھی تم سے مشورہ طلب کرتی ہوں بتاؤ کیا رائے ہے ؟ سب نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ ہماری جنگی طاقت بہت کچھ ہے اور ہماری طاقت مسلم ہے۔ اس طرف سے تو اطمینان ہے آگے جو آپ کا حکم ہو۔ ہم تابعدراری کے لئے موجود ہیں۔ اسمیں ایک حد تک سرداران لشکر نے لڑائی کی طرف اور مقابلے کی طرف رغبت دی تھی لیکن بلقیس چونکہ سمجھدار عاقبت اندیش تھی اور ہدہد کے ہاتھوں خط کے ملنے کا ایک کھلا معجزہ دیکھ چکی تھی یہ بھی معلوم کرلیا تھا کہ حضرت سلیمان کی طاقت کے مقابلے میں، میں میرا لاؤ لشکر کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ اگر لڑائی کی نوبت آئی تو علاوہ ملک کی بربادی کے میں بھی سلامت نہ رہ سکوں گی اس لئے اس نے اپنے وزیروں اور مشیروں سے کہا بادشاہوں کا قاعدہ ہے کہ جب وہ کسی ملک کو فتح کرتے ہیں تو اسے برباد کردیتے ہیں اجاڑ دیتے ہیں۔ وہاں کے ذی عزت لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔ سرداران لشکر اور حکمران شہر خصوصی طور پر انکی نگاہوں میں پڑھ جاتے ہیں۔ جناب فاری نے اسکی تصدیق فرمائی کہ فی الواقع یہ صحیح ہے وہ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ اس کی بعد اسنے جو ترکیب سوچی کہ ایک چال چلے اور حضرت سلیمان سے موافقت کرلے صلح کرلے وہ اس نے انکے سامنے پیش کی کہا کہ اس وقت تو میں ایک گراں بہا تحفہ انہیں بھیجتی ہوں دیکھتی ہوں اس کے بعد وہ میرے قاصدوں سے کیا فرماتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ وہ اسے قبول فرمالیں اور ہم آئندہ بھی انہیں یہ رقم بطور جزیے کے بھیجتے رہیں اور انہیں ہم پر چڑھائی کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ اسلام کی قبولیت میں اسی طرح اس نے ہدیے بھیجنے میں نہاپت دانائی سے کام لیا۔ وہ جانتی تھی کہ روپیہ پیسہ وہ چیز ہے فولاد کو بھی نرم کردیتا ہے۔ نیز اسے یہ بھی آزمانا تھا کہ دیکھیں وہ ہمارے اس مال کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ ؟ اگر قبول کرلیا تو سمجھ لو کہ وہ ایک بادشاہ ہیں پھر ان سے مقابلہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر واپس کردیا تو انکی نبوت میں کوئی شک نہیں پھر مقابلہ سراسر بےسود بلکہ مضر ہے۔
بلقیس کو خط ملا بلقیس نے حضرت سلیمان ؑ کا خط انہیں سنا کر ان سے مشورہ طلب کیا اور کہا کہ تم جانتے ہو جب تک تم سے میں مشورہ نہ کرلوں، تم موجود نہ ہو تو میں چونکہ کسی امر کا فیصلہ تنہا نہیں کرتی اس بارے میں بھی تم سے مشورہ طلب کرتی ہوں بتاؤ کیا رائے ہے ؟ سب نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ ہماری جنگی طاقت بہت کچھ ہے اور ہماری طاقت مسلم ہے۔ اس طرف سے تو اطمینان ہے آگے جو آپ کا حکم ہو۔ ہم تابعدراری کے لئے موجود ہیں۔ اسمیں ایک حد تک سرداران لشکر نے لڑائی کی طرف اور مقابلے کی طرف رغبت دی تھی لیکن بلقیس چونکہ سمجھدار عاقبت اندیش تھی اور ہدہد کے ہاتھوں خط کے ملنے کا ایک کھلا معجزہ دیکھ چکی تھی یہ بھی معلوم کرلیا تھا کہ حضرت سلیمان کی طاقت کے مقابلے میں، میں میرا لاؤ لشکر کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ اگر لڑائی کی نوبت آئی تو علاوہ ملک کی بربادی کے میں بھی سلامت نہ رہ سکوں گی اس لئے اس نے اپنے وزیروں اور مشیروں سے کہا بادشاہوں کا قاعدہ ہے کہ جب وہ کسی ملک کو فتح کرتے ہیں تو اسے برباد کردیتے ہیں اجاڑ دیتے ہیں۔ وہاں کے ذی عزت لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔ سرداران لشکر اور حکمران شہر خصوصی طور پر انکی نگاہوں میں پڑھ جاتے ہیں۔ جناب فاری نے اسکی تصدیق فرمائی کہ فی الواقع یہ صحیح ہے وہ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ اس کی بعد اسنے جو ترکیب سوچی کہ ایک چال چلے اور حضرت سلیمان سے موافقت کرلے صلح کرلے وہ اس نے انکے سامنے پیش کی کہا کہ اس وقت تو میں ایک گراں بہا تحفہ انہیں بھیجتی ہوں دیکھتی ہوں اس کے بعد وہ میرے قاصدوں سے کیا فرماتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ وہ اسے قبول فرمالیں اور ہم آئندہ بھی انہیں یہ رقم بطور جزیے کے بھیجتے رہیں اور انہیں ہم پر چڑھائی کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ اسلام کی قبولیت میں اسی طرح اس نے ہدیے بھیجنے میں نہاپت دانائی سے کام لیا۔ وہ جانتی تھی کہ روپیہ پیسہ وہ چیز ہے فولاد کو بھی نرم کردیتا ہے۔ نیز اسے یہ بھی آزمانا تھا کہ دیکھیں وہ ہمارے اس مال کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ ؟ اگر قبول کرلیا تو سمجھ لو کہ وہ ایک بادشاہ ہیں پھر ان سے مقابلہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر واپس کردیا تو انکی نبوت میں کوئی شک نہیں پھر مقابلہ سراسر بےسود بلکہ مضر ہے۔
بلقیس کو خط ملا بلقیس نے حضرت سلیمان ؑ کا خط انہیں سنا کر ان سے مشورہ طلب کیا اور کہا کہ تم جانتے ہو جب تک تم سے میں مشورہ نہ کرلوں، تم موجود نہ ہو تو میں چونکہ کسی امر کا فیصلہ تنہا نہیں کرتی اس بارے میں بھی تم سے مشورہ طلب کرتی ہوں بتاؤ کیا رائے ہے ؟ سب نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ ہماری جنگی طاقت بہت کچھ ہے اور ہماری طاقت مسلم ہے۔ اس طرف سے تو اطمینان ہے آگے جو آپ کا حکم ہو۔ ہم تابعدراری کے لئے موجود ہیں۔ اسمیں ایک حد تک سرداران لشکر نے لڑائی کی طرف اور مقابلے کی طرف رغبت دی تھی لیکن بلقیس چونکہ سمجھدار عاقبت اندیش تھی اور ہدہد کے ہاتھوں خط کے ملنے کا ایک کھلا معجزہ دیکھ چکی تھی یہ بھی معلوم کرلیا تھا کہ حضرت سلیمان کی طاقت کے مقابلے میں، میں میرا لاؤ لشکر کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ اگر لڑائی کی نوبت آئی تو علاوہ ملک کی بربادی کے میں بھی سلامت نہ رہ سکوں گی اس لئے اس نے اپنے وزیروں اور مشیروں سے کہا بادشاہوں کا قاعدہ ہے کہ جب وہ کسی ملک کو فتح کرتے ہیں تو اسے برباد کردیتے ہیں اجاڑ دیتے ہیں۔ وہاں کے ذی عزت لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔ سرداران لشکر اور حکمران شہر خصوصی طور پر انکی نگاہوں میں پڑھ جاتے ہیں۔ جناب فاری نے اسکی تصدیق فرمائی کہ فی الواقع یہ صحیح ہے وہ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ اس کی بعد اسنے جو ترکیب سوچی کہ ایک چال چلے اور حضرت سلیمان سے موافقت کرلے صلح کرلے وہ اس نے انکے سامنے پیش کی کہا کہ اس وقت تو میں ایک گراں بہا تحفہ انہیں بھیجتی ہوں دیکھتی ہوں اس کے بعد وہ میرے قاصدوں سے کیا فرماتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ وہ اسے قبول فرمالیں اور ہم آئندہ بھی انہیں یہ رقم بطور جزیے کے بھیجتے رہیں اور انہیں ہم پر چڑھائی کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ اسلام کی قبولیت میں اسی طرح اس نے ہدیے بھیجنے میں نہاپت دانائی سے کام لیا۔ وہ جانتی تھی کہ روپیہ پیسہ وہ چیز ہے فولاد کو بھی نرم کردیتا ہے۔ نیز اسے یہ بھی آزمانا تھا کہ دیکھیں وہ ہمارے اس مال کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ ؟ اگر قبول کرلیا تو سمجھ لو کہ وہ ایک بادشاہ ہیں پھر ان سے مقابلہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر واپس کردیا تو انکی نبوت میں کوئی شک نہیں پھر مقابلہ سراسر بےسود بلکہ مضر ہے۔
بلقیس نے بہت ہی گراں قدر تحفہ حضرت سلیمان ؑ کے پاس بھیجا۔ سونا موتی جواہر وغیرہ سونے کی کثیر مقدار اینٹیں سونے کے برتن وغیرہ۔ بعض کے مطابق کچھ بچے عورتوں کے لباس میں اور کچھ عورتیں لڑکوں کے لباس میں بھیجیں اور کہا کہ اگر وہ انہیں پہچان لیں تو اسے نبی مان لینا چاہیے۔ جب یہ حضرت سلیمان ؑ کے پاس پہنچے تو آپ نے سب کو وضو کرنے کا حکم دیا۔ لڑکیوں نے برتن سے پانی بہا کر اپنے ہاتھ دھوئے اور لڑکوں نے برتن میں ہی ہاتھ ڈال کر پانی لیا۔ اس سے آپ نے دونوں کو الگ الگ پہچان کر علیحدہ کردیا کہ یہ لڑکیاں ہیں اور یہ لڑکے ہیں۔ بعض کہتے ہیں اس طرح پہچانا کہ لڑکیوں نے تو پہلے اپنے ہاتھ کیے اندرونی حصہ کو دھویا اور لڑکوں نے انکے برخلاف بیرونی حصے کو پہلے دھویا یہ بھی مروی ہے کہ ان میں سے ایک جماعت نے اس کے برخلاف ہاتھ کی انگلیوں سے شروع کر کے کہنی تک لے گئے۔ ان میں سے کسی میں نفی کا امکان نہیں، واللہ اعلم۔ یہ بھی مذکور ہے کہ بلقیس نے ایک برتن بھیجا تھا کہا اسے ایسے پانی سے پر کردو جو نہ زمین کا ہو نہ آسمان کا تو آپ نے گھوڑے دوڑائے اور ان کے پسینوں سے وہ برتن بھر دیا۔ اسنے کچھ خرمہرے اور ایک لڑی بھیجی تھی آپ نے انہیں لڑی میں پرو دیا۔ یہ سب اقوال عموماً بنی اسرائیل کی روایتوں سے لئے جاتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ البتہ بظاہر الفاظ قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس رانی کیے تحفے کی طرف مطلقاً التفات ہی نہیں کیا۔ اور اسے دیکھتے ہی فرمایا کہ کیا تم مجھے مالی رشوت دے کر شرک پر پاقی رہنا چاہتے ہو ؟ یہ محض ناممکن ہے مجے رب نے بہت کچھ دے رکھا ہے۔ ملک، مال، لاؤ، لشکر سب میرے پاس موجود ہے۔ تم سے پر طرح بہتر حالت میں میں ہوں فالحمدللہ۔ تم ہی اپنے اس ہدیے سے خوش رہو یہ کام تم ہی کو سونپا کہ مال سے راضی ہوجاؤ اور تحفہ تمہیں جھکا دے یہاں تو دو ہی چیزیں ہیں یا شرک چھوڑو یا تلوار روکو۔ یہ بھی کہا گیا ہے اس سے پہلے کہ اسکے قاصد پہنچیں حضرت سلیمان ؑ نے جنات کو حکم دیا اور انہوں نے سونے چاندی کے ایک ہزار محل تیار کردئے۔ جس وقت قاصد پائے تخت میں پہنچے ان محلات کو دیکھ کر ہوش جاتے رہے اور کہنے لگے یہ بادشاہ تو ہمارے اس تحفے کو اپنی حقارت سمجھے گا۔ یہاں تو سونا مٹی کی وقعت بھی نہیں رکھتا۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ بادشاہوں کو یہ جائز ہے کہ بیرونی لوگوں کے لیے کچھ تکلفات کرے اور قاصدوں کے سامنے اپنی زینت کا اظہار کرے۔ پھر آپ نے قاصدوں سے فرمایا کہ یہ ہدیے انہیں کو واپس کردو اور ان سے کہہ دو مقابلے کی تیاری کرلیں یاد رکھو میں وہ لشکر لے کر چڑھائی کروں گا کہ وہ سامنے آہی نہیں سکتے۔ انہیں ہم سے جنگ کرنے کی طاقت ہی نہیں۔ ہم انہیں انکی سلطنت سے بیک بینی و دوگوش ذلت و حقارت کے ساتھ نکال دیں گے ان کے تخت و تاج کو رونددیں گے۔ جب قاصد اس تحفے کو واپس لے پہنچے اور شاہی پیغام بھی سنادیا۔ بلقیس کو آپ کی نبوت کا یقین ہوگیا فورا خود بھی اور تمام لشکر اور رعایا مسلمان ہوگئے اور اپنے لشکروں سمیت وہ حضرت سلیمان ؑ کی خدمت میں حاضر ہوگئے جب آپ نے اس کا قصد معلوم کیا تو بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا۔
بلقیس نے بہت ہی گراں قدر تحفہ حضرت سلیمان ؑ کے پاس بھیجا۔ سونا موتی جواہر وغیرہ سونے کی کثیر مقدار اینٹیں سونے کے برتن وغیرہ۔ بعض کے مطابق کچھ بچے عورتوں کے لباس میں اور کچھ عورتیں لڑکوں کے لباس میں بھیجیں اور کہا کہ اگر وہ انہیں پہچان لیں تو اسے نبی مان لینا چاہیے۔ جب یہ حضرت سلیمان ؑ کے پاس پہنچے تو آپ نے سب کو وضو کرنے کا حکم دیا۔ لڑکیوں نے برتن سے پانی بہا کر اپنے ہاتھ دھوئے اور لڑکوں نے برتن میں ہی ہاتھ ڈال کر پانی لیا۔ اس سے آپ نے دونوں کو الگ الگ پہچان کر علیحدہ کردیا کہ یہ لڑکیاں ہیں اور یہ لڑکے ہیں۔ بعض کہتے ہیں اس طرح پہچانا کہ لڑکیوں نے تو پہلے اپنے ہاتھ کیے اندرونی حصہ کو دھویا اور لڑکوں نے انکے برخلاف بیرونی حصے کو پہلے دھویا یہ بھی مروی ہے کہ ان میں سے ایک جماعت نے اس کے برخلاف ہاتھ کی انگلیوں سے شروع کر کے کہنی تک لے گئے۔ ان میں سے کسی میں نفی کا امکان نہیں، واللہ اعلم۔ یہ بھی مذکور ہے کہ بلقیس نے ایک برتن بھیجا تھا کہا اسے ایسے پانی سے پر کردو جو نہ زمین کا ہو نہ آسمان کا تو آپ نے گھوڑے دوڑائے اور ان کے پسینوں سے وہ برتن بھر دیا۔ اسنے کچھ خرمہرے اور ایک لڑی بھیجی تھی آپ نے انہیں لڑی میں پرو دیا۔ یہ سب اقوال عموماً بنی اسرائیل کی روایتوں سے لئے جاتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ البتہ بظاہر الفاظ قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس رانی کیے تحفے کی طرف مطلقاً التفات ہی نہیں کیا۔ اور اسے دیکھتے ہی فرمایا کہ کیا تم مجھے مالی رشوت دے کر شرک پر پاقی رہنا چاہتے ہو ؟ یہ محض ناممکن ہے مجے رب نے بہت کچھ دے رکھا ہے۔ ملک، مال، لاؤ، لشکر سب میرے پاس موجود ہے۔ تم سے پر طرح بہتر حالت میں میں ہوں فالحمدللہ۔ تم ہی اپنے اس ہدیے سے خوش رہو یہ کام تم ہی کو سونپا کہ مال سے راضی ہوجاؤ اور تحفہ تمہیں جھکا دے یہاں تو دو ہی چیزیں ہیں یا شرک چھوڑو یا تلوار روکو۔ یہ بھی کہا گیا ہے اس سے پہلے کہ اسکے قاصد پہنچیں حضرت سلیمان ؑ نے جنات کو حکم دیا اور انہوں نے سونے چاندی کے ایک ہزار محل تیار کردئے۔ جس وقت قاصد پائے تخت میں پہنچے ان محلات کو دیکھ کر ہوش جاتے رہے اور کہنے لگے یہ بادشاہ تو ہمارے اس تحفے کو اپنی حقارت سمجھے گا۔ یہاں تو سونا مٹی کی وقعت بھی نہیں رکھتا۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ بادشاہوں کو یہ جائز ہے کہ بیرونی لوگوں کے لیے کچھ تکلفات کرے اور قاصدوں کے سامنے اپنی زینت کا اظہار کرے۔ پھر آپ نے قاصدوں سے فرمایا کہ یہ ہدیے انہیں کو واپس کردو اور ان سے کہہ دو مقابلے کی تیاری کرلیں یاد رکھو میں وہ لشکر لے کر چڑھائی کروں گا کہ وہ سامنے آہی نہیں سکتے۔ انہیں ہم سے جنگ کرنے کی طاقت ہی نہیں۔ ہم انہیں انکی سلطنت سے بیک بینی و دوگوش ذلت و حقارت کے ساتھ نکال دیں گے ان کے تخت و تاج کو رونددیں گے۔ جب قاصد اس تحفے کو واپس لے پہنچے اور شاہی پیغام بھی سنادیا۔ بلقیس کو آپ کی نبوت کا یقین ہوگیا فورا خود بھی اور تمام لشکر اور رعایا مسلمان ہوگئے اور اپنے لشکروں سمیت وہ حضرت سلیمان ؑ کی خدمت میں حاضر ہوگئے جب آپ نے اس کا قصد معلوم کیا تو بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا۔
بلقیس کو دوبارہ پیغام نبوت ملا جب قاصد پہنچتا ہے اور بلقیس کو دوبارہ پیغام نبوت پہنچاتا ہے تو وہ سمجھ لیتی ہے اور کہتی ہے واللہ یہ سچے پیغمبر ہیں ایک پیغمبر کا مقابلہ کر کے کوئی پنپ نہیں سکتا۔ اسی وقت دوبارہ قاصد بھیجا کہ میں اپنی قوم کے سرداروں سمیت حاضر خدمت ہوتی ہوں تاکہ خود آپ سے مل کر دینی معلومات حاصل کروں اور آپ سے اپنی تشفی کرلوں یہ کہلوا کر یہاں اپنا نائب ایک کو بنایا۔ سلطنت کے انتظامات اس کے سپرد کئے اپنا لاجواب بیش قیمت جڑاؤ تخت جو سونے کا تھا سات محلوں میں مقفل کیا اور اپنے نائب کو اسکی حفاطت کی خاص تاکید کی اور بارہ ہزار سردار جن میں سے ہر ایک کے تحت ہزاروں آدمی تھے۔ اپنے ساتھ لئے اور ملک سلیمان کی طرف چل دی۔ جنات قدم قدم اور دم دم کی خبریں آپ کو پہنچاتے رہتے تھے۔ جب آپکو معلوم ہوا کہ وہ قریب پہنچ چکی ہے تو آپ نے اپنے دربار میں جس میں جن و انس سب موجود تھے فرمایا کوئی ہے جو اسکے تخت کو اسکے پہنچنے سے پہلے یہاں پہنچا دے ؟ کیونکہ جب وہ یہاں آجائیں گی اور اسلام میں داخل ہوجائیں پھر اس کا مال ہم پر حرام ہوگا۔ یہ سن کر ایک طاقتور سرکش جن جس کا نام کوزن تھا اور جو مثل ایک بڑے پہاڑ کے تھا بول پڑا کہ اگر آپ مجھے حکم دیں تو آپ دربار برخواست کریں اس سے پہلے میں لا دیتا ہوں۔ آپ لوگوں کے فیصلے کرنے اور جھگڑے چکانے اور انصاف دینے کو صبح سے دوپہر تک دربارعام میں تشریف رکھا کرتے تھے۔ اس نے کہا میں اس تخت کے اٹھا لانے کی طاقت رکھتا ہوں اور ہوں بھی امانت دار۔ اس میں کوئی چیز نہیں چراؤں گا : حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا میں چاہتا ہوں اس سے بھی پہلے میرے پاس وہ پہنچ جائے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اللہ حضرت سلیمان بن داؤد ؑ کی تخت کے منگوانے سے عرض یہ تھی کہ اپنے ایک زبردست معجزے کا اور پوری طاقت کا ثبوت بلقیس کو دکھائیں کہ اس کا تخت جسے اس نے سات مقفل مکانوں میں رکھا تھا وہ اس کے آنے سے پہلے دربار سلیمانی میں موجود ہے۔ (وہ غرض نہ تھی جو اوپر روایت قتادہ میں بیان ہوئی) حضرت سلیمان کے اس جلدی کے تقاضے کو سن کر جس کے پاس کتابی علم تھا وہ بولا۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ آصف تھے حضرت سلیمان کے کاتب تھے ان کے باپ کا نام برخیا تھا یہ ولی اللہ تھے اسم اعظم جانتے تھے۔ پکے مسلمان تھے بنو اسرائیل میں سے تھے مجاہد کہتے ہیں ان کا نام اسطوم تھا۔ بلیخ بھی مروی ہے ان کا لقب ذوالنور تھا۔ عبداللہ لھیعہ کا قول ہے یہ خضر تھے لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ اپنی نگاہ دوڑائیے جہاں تک پہنچے نظر کیجئے ابھی آپ دیکھ ہی رہے ہوں گے کہ میں اسے لادوں گا۔ پس حضرت سلیمان نے یمن کی طرف جہاں اس کا تخت تھا نظر کی ادھر یہ کھڑے ہو کر وضو کرکے دعا میں مشغول ہوئے اور کہا دعا (یا ذالجلال والاکرام یا فرمایا یا الھنا والہ کل شی الھا واحدا لا الہ الاانت ائتنی بعرشھا) اسی وقت تخت بلقیس سامنے آگیا۔ اتنی ذرا سی دیر میں یمن سے بیت المقدس میں وہ تخت پہنچ گیا اور لشکر سلیمان کے دیکھتے ہوئے زمین میں سے نکل آیا۔ جب سلیمان ؑ نے اسے اپنے سامنے موجود دیکھ لیا تو فرمایا یہ صرف میرے رب کا فضل ہے کہ وہ مجھے آزمالے کہ میں شکر گزاری کرتا ہوں یا ناشکری ؟ جو شکر کرے وہ اپنا ہی نفع کرتا ہے اور جو ناشکری کرے وہ اپنا نقصان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کی بندگی سے بےنیاز ہے اور خود بندوں سے بھی اس کی عظمت کسی کی محتاجی نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (من عمل صالحا فلنفسہ الخ) ، جو نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے لئے اور جو برائی کرتا ہے وہ اپنے لئے۔ اور جگہ ہے جو نیکی کرتے ہیں وہ اپنے لئے ہی اچھائی جمع کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا تم اور روئے زمین کے سب انسان بھی اگر اللہ سے کفر کرنے لگو تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑوگے۔ وہ غنی ہے اور حیمد ہے صحیح مسلم شریف میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو اگر تمہارے سب اگلے پچھلے انسان جنات بہتر سے بہتر اور نیک بخت سے نیک بخت ہوجائیں تو میرا ملک بڑھ نہیں جائے گا اور اگر سب کے سب بدبخت اور برے بن جائیں تو میرا ملک گھٹ نہیں جائے گا یہ تو صرف تمہارے اعمال ہیں جو جمع ہونگے اور تم کو ہی ملیں گے جو بھلائی پائے تو اللہ کا شکر کرے اور جو برائی پائے تو صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے۔
بلقیس کو دوبارہ پیغام نبوت ملا جب قاصد پہنچتا ہے اور بلقیس کو دوبارہ پیغام نبوت پہنچاتا ہے تو وہ سمجھ لیتی ہے اور کہتی ہے واللہ یہ سچے پیغمبر ہیں ایک پیغمبر کا مقابلہ کر کے کوئی پنپ نہیں سکتا۔ اسی وقت دوبارہ قاصد بھیجا کہ میں اپنی قوم کے سرداروں سمیت حاضر خدمت ہوتی ہوں تاکہ خود آپ سے مل کر دینی معلومات حاصل کروں اور آپ سے اپنی تشفی کرلوں یہ کہلوا کر یہاں اپنا نائب ایک کو بنایا۔ سلطنت کے انتظامات اس کے سپرد کئے اپنا لاجواب بیش قیمت جڑاؤ تخت جو سونے کا تھا سات محلوں میں مقفل کیا اور اپنے نائب کو اسکی حفاطت کی خاص تاکید کی اور بارہ ہزار سردار جن میں سے ہر ایک کے تحت ہزاروں آدمی تھے۔ اپنے ساتھ لئے اور ملک سلیمان کی طرف چل دی۔ جنات قدم قدم اور دم دم کی خبریں آپ کو پہنچاتے رہتے تھے۔ جب آپکو معلوم ہوا کہ وہ قریب پہنچ چکی ہے تو آپ نے اپنے دربار میں جس میں جن و انس سب موجود تھے فرمایا کوئی ہے جو اسکے تخت کو اسکے پہنچنے سے پہلے یہاں پہنچا دے ؟ کیونکہ جب وہ یہاں آجائیں گی اور اسلام میں داخل ہوجائیں پھر اس کا مال ہم پر حرام ہوگا۔ یہ سن کر ایک طاقتور سرکش جن جس کا نام کوزن تھا اور جو مثل ایک بڑے پہاڑ کے تھا بول پڑا کہ اگر آپ مجھے حکم دیں تو آپ دربار برخواست کریں اس سے پہلے میں لا دیتا ہوں۔ آپ لوگوں کے فیصلے کرنے اور جھگڑے چکانے اور انصاف دینے کو صبح سے دوپہر تک دربارعام میں تشریف رکھا کرتے تھے۔ اس نے کہا میں اس تخت کے اٹھا لانے کی طاقت رکھتا ہوں اور ہوں بھی امانت دار۔ اس میں کوئی چیز نہیں چراؤں گا : حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا میں چاہتا ہوں اس سے بھی پہلے میرے پاس وہ پہنچ جائے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اللہ حضرت سلیمان بن داؤد ؑ کی تخت کے منگوانے سے عرض یہ تھی کہ اپنے ایک زبردست معجزے کا اور پوری طاقت کا ثبوت بلقیس کو دکھائیں کہ اس کا تخت جسے اس نے سات مقفل مکانوں میں رکھا تھا وہ اس کے آنے سے پہلے دربار سلیمانی میں موجود ہے۔ (وہ غرض نہ تھی جو اوپر روایت قتادہ میں بیان ہوئی) حضرت سلیمان کے اس جلدی کے تقاضے کو سن کر جس کے پاس کتابی علم تھا وہ بولا۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ آصف تھے حضرت سلیمان کے کاتب تھے ان کے باپ کا نام برخیا تھا یہ ولی اللہ تھے اسم اعظم جانتے تھے۔ پکے مسلمان تھے بنو اسرائیل میں سے تھے مجاہد کہتے ہیں ان کا نام اسطوم تھا۔ بلیخ بھی مروی ہے ان کا لقب ذوالنور تھا۔ عبداللہ لھیعہ کا قول ہے یہ خضر تھے لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ اپنی نگاہ دوڑائیے جہاں تک پہنچے نظر کیجئے ابھی آپ دیکھ ہی رہے ہوں گے کہ میں اسے لادوں گا۔ پس حضرت سلیمان نے یمن کی طرف جہاں اس کا تخت تھا نظر کی ادھر یہ کھڑے ہو کر وضو کرکے دعا میں مشغول ہوئے اور کہا دعا (یا ذالجلال والاکرام یا فرمایا یا الھنا والہ کل شی الھا واحدا لا الہ الاانت ائتنی بعرشھا) اسی وقت تخت بلقیس سامنے آگیا۔ اتنی ذرا سی دیر میں یمن سے بیت المقدس میں وہ تخت پہنچ گیا اور لشکر سلیمان کے دیکھتے ہوئے زمین میں سے نکل آیا۔ جب سلیمان ؑ نے اسے اپنے سامنے موجود دیکھ لیا تو فرمایا یہ صرف میرے رب کا فضل ہے کہ وہ مجھے آزمالے کہ میں شکر گزاری کرتا ہوں یا ناشکری ؟ جو شکر کرے وہ اپنا ہی نفع کرتا ہے اور جو ناشکری کرے وہ اپنا نقصان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کی بندگی سے بےنیاز ہے اور خود بندوں سے بھی اس کی عظمت کسی کی محتاجی نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (من عمل صالحا فلنفسہ الخ) ، جو نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے لئے اور جو برائی کرتا ہے وہ اپنے لئے۔ اور جگہ ہے جو نیکی کرتے ہیں وہ اپنے لئے ہی اچھائی جمع کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا تم اور روئے زمین کے سب انسان بھی اگر اللہ سے کفر کرنے لگو تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑوگے۔ وہ غنی ہے اور حیمد ہے صحیح مسلم شریف میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو اگر تمہارے سب اگلے پچھلے انسان جنات بہتر سے بہتر اور نیک بخت سے نیک بخت ہوجائیں تو میرا ملک بڑھ نہیں جائے گا اور اگر سب کے سب بدبخت اور برے بن جائیں تو میرا ملک گھٹ نہیں جائے گا یہ تو صرف تمہارے اعمال ہیں جو جمع ہونگے اور تم کو ہی ملیں گے جو بھلائی پائے تو اللہ کا شکر کرے اور جو برائی پائے تو صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے۔
بلقیس کو دوبارہ پیغام نبوت ملا جب قاصد پہنچتا ہے اور بلقیس کو دوبارہ پیغام نبوت پہنچاتا ہے تو وہ سمجھ لیتی ہے اور کہتی ہے واللہ یہ سچے پیغمبر ہیں ایک پیغمبر کا مقابلہ کر کے کوئی پنپ نہیں سکتا۔ اسی وقت دوبارہ قاصد بھیجا کہ میں اپنی قوم کے سرداروں سمیت حاضر خدمت ہوتی ہوں تاکہ خود آپ سے مل کر دینی معلومات حاصل کروں اور آپ سے اپنی تشفی کرلوں یہ کہلوا کر یہاں اپنا نائب ایک کو بنایا۔ سلطنت کے انتظامات اس کے سپرد کئے اپنا لاجواب بیش قیمت جڑاؤ تخت جو سونے کا تھا سات محلوں میں مقفل کیا اور اپنے نائب کو اسکی حفاطت کی خاص تاکید کی اور بارہ ہزار سردار جن میں سے ہر ایک کے تحت ہزاروں آدمی تھے۔ اپنے ساتھ لئے اور ملک سلیمان کی طرف چل دی۔ جنات قدم قدم اور دم دم کی خبریں آپ کو پہنچاتے رہتے تھے۔ جب آپکو معلوم ہوا کہ وہ قریب پہنچ چکی ہے تو آپ نے اپنے دربار میں جس میں جن و انس سب موجود تھے فرمایا کوئی ہے جو اسکے تخت کو اسکے پہنچنے سے پہلے یہاں پہنچا دے ؟ کیونکہ جب وہ یہاں آجائیں گی اور اسلام میں داخل ہوجائیں پھر اس کا مال ہم پر حرام ہوگا۔ یہ سن کر ایک طاقتور سرکش جن جس کا نام کوزن تھا اور جو مثل ایک بڑے پہاڑ کے تھا بول پڑا کہ اگر آپ مجھے حکم دیں تو آپ دربار برخواست کریں اس سے پہلے میں لا دیتا ہوں۔ آپ لوگوں کے فیصلے کرنے اور جھگڑے چکانے اور انصاف دینے کو صبح سے دوپہر تک دربارعام میں تشریف رکھا کرتے تھے۔ اس نے کہا میں اس تخت کے اٹھا لانے کی طاقت رکھتا ہوں اور ہوں بھی امانت دار۔ اس میں کوئی چیز نہیں چراؤں گا : حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا میں چاہتا ہوں اس سے بھی پہلے میرے پاس وہ پہنچ جائے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اللہ حضرت سلیمان بن داؤد ؑ کی تخت کے منگوانے سے عرض یہ تھی کہ اپنے ایک زبردست معجزے کا اور پوری طاقت کا ثبوت بلقیس کو دکھائیں کہ اس کا تخت جسے اس نے سات مقفل مکانوں میں رکھا تھا وہ اس کے آنے سے پہلے دربار سلیمانی میں موجود ہے۔ (وہ غرض نہ تھی جو اوپر روایت قتادہ میں بیان ہوئی) حضرت سلیمان کے اس جلدی کے تقاضے کو سن کر جس کے پاس کتابی علم تھا وہ بولا۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ آصف تھے حضرت سلیمان کے کاتب تھے ان کے باپ کا نام برخیا تھا یہ ولی اللہ تھے اسم اعظم جانتے تھے۔ پکے مسلمان تھے بنو اسرائیل میں سے تھے مجاہد کہتے ہیں ان کا نام اسطوم تھا۔ بلیخ بھی مروی ہے ان کا لقب ذوالنور تھا۔ عبداللہ لھیعہ کا قول ہے یہ خضر تھے لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ اپنی نگاہ دوڑائیے جہاں تک پہنچے نظر کیجئے ابھی آپ دیکھ ہی رہے ہوں گے کہ میں اسے لادوں گا۔ پس حضرت سلیمان نے یمن کی طرف جہاں اس کا تخت تھا نظر کی ادھر یہ کھڑے ہو کر وضو کرکے دعا میں مشغول ہوئے اور کہا دعا (یا ذالجلال والاکرام یا فرمایا یا الھنا والہ کل شی الھا واحدا لا الہ الاانت ائتنی بعرشھا) اسی وقت تخت بلقیس سامنے آگیا۔ اتنی ذرا سی دیر میں یمن سے بیت المقدس میں وہ تخت پہنچ گیا اور لشکر سلیمان کے دیکھتے ہوئے زمین میں سے نکل آیا۔ جب سلیمان ؑ نے اسے اپنے سامنے موجود دیکھ لیا تو فرمایا یہ صرف میرے رب کا فضل ہے کہ وہ مجھے آزمالے کہ میں شکر گزاری کرتا ہوں یا ناشکری ؟ جو شکر کرے وہ اپنا ہی نفع کرتا ہے اور جو ناشکری کرے وہ اپنا نقصان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کی بندگی سے بےنیاز ہے اور خود بندوں سے بھی اس کی عظمت کسی کی محتاجی نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (من عمل صالحا فلنفسہ الخ) ، جو نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے لئے اور جو برائی کرتا ہے وہ اپنے لئے۔ اور جگہ ہے جو نیکی کرتے ہیں وہ اپنے لئے ہی اچھائی جمع کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا تم اور روئے زمین کے سب انسان بھی اگر اللہ سے کفر کرنے لگو تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑوگے۔ وہ غنی ہے اور حیمد ہے صحیح مسلم شریف میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو اگر تمہارے سب اگلے پچھلے انسان جنات بہتر سے بہتر اور نیک بخت سے نیک بخت ہوجائیں تو میرا ملک بڑھ نہیں جائے گا اور اگر سب کے سب بدبخت اور برے بن جائیں تو میرا ملک گھٹ نہیں جائے گا یہ تو صرف تمہارے اعمال ہیں جو جمع ہونگے اور تم کو ہی ملیں گے جو بھلائی پائے تو اللہ کا شکر کرے اور جو برائی پائے تو صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے۔
بلقیس کا تخت آنے کے بعد اس تخت کے آجانے کے بعد حضرت سلیمان ؑ نے حکم دیا کہ اس میں قدرے تغیر وتبدل کر ڈالو۔ پس کچھ ہیرے جواہر بدل دئیے گئے۔ رنگ وروغن میں بھی تبدیلی کردی گئی نیچے اور اوپر سے بھی کچھ بدل دیا گیا۔ کچھ کمی زیادتی بھی کردی گئی تاکہ بلقیس کی آزمائش کریں کہ وہ اپنے تخت کو پہچان لیتی ہے یا نہیں ؟ جب وہ پہنچی تو اس سے کہا گیا کہ کیا تیرا تخت یہ ہی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ہوبہو اسی جیسا ہے۔ اس جواب سے اس کی دور بینی عقلمندی زیر کی دانائی ظاہر ہے کہ دونوں پہلو سامنے رکھے دیکھا کہ تخت بالکل میرے تخت جیسا ہے مگر بظاہر اس کا یہاں پہنچنا ناممکن ہے تو اس نے بیچ کی بات کہی حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا اس سے پہلے ہی ہمیں علم دیا گیا تھا اور ہم مسلمان تھے بلقیس کو اللہ کے سوا اوروں کی عبادت نے اور اس کے کفر نے توحید اللہ سے روک دیا تھا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے بلقیس کو غیر اللہ کی عبادت سے روک دیا اس سے پہلے کافروں میں سے تھے۔ لیکن پہلے قول کی تائید اس سے بھی ہوسکتی ہے کہ ملکہ نے قبول اسلام کا اعلان محل میں داخل ہونے کے بعد کیا ہے۔ جیسے عنقریب بیان ہوگا۔ حضرت سلیمان ؑ نے جنات کے ہاتھوں ایک محل بنوایا تھا جو صرف شیشے اور کانچ کا تھا اور اس کے نیچے پانی سے لباب حوض تھا شیشہ بہت ہی صاف شفاف تھا۔ آنے والا شیشے کا امتیاز نہیں کرسکتا تھا بلکہ اسے یہی معلوم ہوتا تھا۔ کہ پانی ہی پانی ہے۔ حالانکہ اس کے اوپر شیشے کا فرش تھا۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس صنعت سے غرض حضرت سلیمان ؑ کی یہ تھی کہ آپ اس سے نکاح کرنا چاہتے تھے۔ لیکن یہ سنا تھا کہ اس کی پنڈلیاں بہت خراب ہیں اور اس کے ٹخنے چوپایوں کے کھروں جیسے ہیں اس کی تحقیق کے لئے آپ نے ایسا کیا تھا۔ جب وہ یہاں آنے لگی تو پانی کے حوض کو دیکھ کر اپنے پائنچے اٹھائے آپ نے دیکھ لیا کہ جو بات مجھے پہنچائی گئی ہے غلط ہے۔ اس کی پنڈلیاں اور پیر بالکل انسانوں جیسے ہی ہیں۔ کوئی نئ بات یا بد صورتی نہیں ہے چونکہ بےنکاح تھی پنڈلیوں پر بال بڑے بڑے تھے۔ آپ نے استرے سے منڈوا ڈالنے کا مشورہ دیا لیکن اس نے کہا اس کی برداشت مجھ سے نہ ہوسکے گی۔ آپ نے جنوں سے کہا کہ کوئی اور چیز بناؤ جس سے یہ بال جاتے رہیں۔ پس انہوں نے ہڑتال پیش کی یہ دوا سب سے پہلے حضرت سلیمان ؑ کے حکم سے ہی تلاش کی گئی۔ محل میں بلانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے ملک سے اپنے دربار سے اپنی رونق سے اپنے سازو سامان سے اپنے لطف وعیش سے خود اپنے سے بڑی ہستی دیکھ لے اور اپنا جاہ حشم نظروں سے گرجائے جس کے ساتھ ہی تکبر تجبر کا خاتمہ بھی یقینی تھا۔ یہ جب اندر آنے لگی اور حوض کی حد پر پہنچی تو اسے لہلاتا ہوا دریاسمجھ کر پانئچے اٹھائے۔ اس وقت کہا گیا کہ آپ کو غلطی لگی یہ تو شیشہ منڈہا ہوا ہے۔ آپ اسی کے اوپر سے بغیر قدم تر کئے آسکتی ہیں۔ حضرت سلیمان ؑ کے پاس پہنچتے ہی اس کے کان میں آپ نے صدائے توحید ڈالی اور سورج پرستی کی مذمت سنائی۔ اس محل کو دیکھتے ہی اس حقیقت پر نظر ڈالتے ہی دربار کے ٹھاٹھ دیکھتے ہی اتنا تو وہ سمجھ گئی تھی کہ میرا ملک تو اسکے پاسنگ میں بھی نہیں۔ نیچے پانی ہے اور اوپر شیشہ ہے بیچ میں تخت سلیمانی ہے اور اوپر سے پرندوں کا سایہ ہے جن وانس سب حاضر ہیں اور تابع فرمان۔ جب اسے توحید کی دعوت دی گئی تو بےدینوں کی طرح اس نے بھی زندیقانہ جواب دیا جس سے اللہ کی جناب میں گستاخی لازم آتی تھی۔ اسے سنتے ہی سلیمان ؑ اللہ کے سامنے سجدے میں گرپڑے اور آپ کو دیکھ کر آپ کا سارا لشکر بھی۔ اب وہ بہت ہی نادم ہوگئی ادھر سے حضرت نے ڈانٹا کہ کیا کہہ دیا ؟ اسنے کہا مجھ سے غلطی ہوئی۔ اور اسی وقت رب کی طرف جھک گئی اور کہنے لگی اے اللہ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا اب میں حضرت سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین پر ایمان لے آئی۔ چناچہ سچے دل سے مسلمان ہوگئی۔ ابن ابی شیبہ میں یہاں پر ایک غریب اثر ابن عباس سے وارد کیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں حضرت سلیمان ؑ جب تخت پر متمکن ہوتے تو اس کے پاس کی کرسیوں پر انسان بیٹھتے اور اس کے پاس والی کرسیوں پر جن بیٹھتے پھر ان کے بعد شیاطین بیٹھتے پھر ہوا اس تخت کو لے اڑتی اور معلق تھمادیتی پھر پرند آکر اپنے پروں سے سایہ کرلیتے پھر آپ ہوا کو حکم دیتے اور وہ پرواز کرکے صبح صبح مہینے بھر کے فاصلے پر پہنچادیتی اسی طرح شام کو مہینے بھر کی دوری طے ہوتی ایک مرتبہ اسی طرح آپ جا رہے تھے پرندوں کی دیکھ بھال جو کی تو ہدہد کو غائب پایا بڑے ناراض ہوئے اور فرمایا کیا وہ جمگھٹے میں مجھے نظر نہیں پڑتا یا سچ مچ غیر حاضر ہے ؟ اگر واقعی وہ غیر حاضر ہے تو میں اسے سخت سزا دونگا بلکہ ذبح کردونگا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ بیان کردے ایسے موقعہ پر آپ پرندوں کے پرنچواکر آپ زمین پر ڈلوادیتے تھے کیڑے مکوڑے کھاجاتے تھے اس کے بعد تھوڑ ہی دیر میں خود حاضر ہوتا ہے اپنا سبا جانا اور وہ انکی خبر لانا بیان کرتا ہے۔ اپنی معلومات کی تفصیل سے آگاہ کرتا ہے حضرت سلیمان اس کی صداقت کی آزمائش کے لئے اسے ملکہ سبا کے نام ایک چھٹی دے کر اسے دوبارہ بھیجتے ہیں جس میں ملکہ کو ہدایت ہوتی ہے کہ میری نافرمانی نہ کرو اور مسلمان ہو کر میرے پاس آجاؤ۔ اس خط کو دیکھتے ہی ملکہ کے دل میں خط کی اور اس کے لکھنے والے کی عزت سماجاتی ہے۔ وہ اپنے درباریوں سے مشورہ کرتی ہے وہ اپنی قوت وطاقت فوج کی ٹھاٹھ بیان کرکے کہہ دیتے ہیں کہ ہم تیار ہیں صرف اشارے کی دیر ہے لیکن یہ برے وقت اور اپنے شکست کے انجام کو دیکھ کر اس ارادے سے باز رہتی ہے۔ اور دوستی کا سلسلہ اس طرح شروع کرتی ہے کہ تحفے اور ہدیے حضرت سلیمان کے پاس بھیجتی ہے۔ جسے حضرت سلیمان ؑ واپس کردیتے ہیں اور چڑھائی کی دھمکی دیتے ہیں اب یہ اپنے ہاں سے چلتی ہے جب قریب پہنچ جاتی ہے اور اس کے لشکر کی گرد کو حضرت سلیمان ؑ دیکھ لیتے ہیں تب فرماتے ہیں کہ اس کا تختہ اٹھالاؤ۔ ایک جن کہتا ہے کہ بہتر میں ابھی لاتا ہوں آپ یہاں سے اٹھیں اس سے پہلے ہی اسے دیکھ لیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ اس سے بھی جلد ممکن ہے ؟ اس پر تو یہ خاموش ہوگیا لیکن اللہ کے علم والے نے کہا ابھی ایک آنکھ جھپکتے ہی۔ اتنے میں تو دیکھا کہ جس کرسی پر پاؤ رکھ کر حضرت سلیمان اپنے تخت پر چڑھتے ہیں وہاں بلقیس کا تخت نمایا ہوا۔ آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور لوگوں کو نصیحت کی اور اس میں کچھ تبدیلی کا حکم دیا اس کے آتے ہی اس سے اس تخت کے بابت پوچھا تو اس نے کہا کہ گویا یہ وہی ہے۔ اس نے حضرت سلیمان ؑ سے دو چیزیں طلب کیں ایک تو ایسا پانی جو نہ زمین سے نکلا ہو اور نہ آسمان سے برساہو۔ آپ کی عادت تھی کہ جب کسی چیز کی ضرورت پڑتی تو اول انسانوں سے پھر جنوں سے پھر شیطانوں سے دریافت فرماتے اس سوال کے جواب میں شیطانوں نے کہا کہ یہ کوئی مشکل چیز نہیں ہے۔ گھوڑے دوڑائیے اور ان کے پسینے سے اس کو پیالہ بھر دیجئے اس سوال کے پورا ہونے کے بعد اس نے دوسرا سوال کیا کہ اللہ کا رنگ کیسا ہے ؟ اسے سن کر آپ اچھل پڑے اور اسی وقت سجدے میں گرپڑے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ باری تعالیٰ اس نے ایسا سوال کیا کہ میں اسے تجھ سے دریافت ہی نہیں کرسکتا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا کہ بےفکر ہوجاؤ میں نے کفایت کردیا آپ سجدے سے اٹھے اور فرمایا تو نے کیا پوچھا تھا اس نے کہا پانی کے بارے میں میرا سوال تھا جو آپ نے پورا کیا اور تو میں نے کچھ نہیں پوچھا یہ خود اور اس کا لشکر اس دوسرے سوال ہی کو بھول گئے۔ آپ نے لشکریوں سے بھی پوچھا کہ اس نے دوسرا سوال کیا کیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا بجز پانی کے اس نے اور کوئی سوال نہیں کیا۔ شیطانوں کے دل میں خیال آیا کہ اگر سلیمان ؑ نے اسے پسند کرلیا اور اسے اپنی نکاح میں لے لیا اور اولاد بھی ہوگئی تو یہ ہم سے ہمشہ کے لئے گئے اس لئے انہوں نے حوض بنایا پانی سے پر کیا۔ اور اوپر سے بلور کا فرش بنادیا اس صفت سے کہ دیکھنے والے کو وہ معلوم ہی نہ دے وہ تو پانی ہی سمجھے جب بلقیس دربار میں آئی اور وہاں سے گزرنا چاہا تو پانی جان کر اپنے پائنچے اٹھالئے حضرت سلیمان نے پنڈلیوں کے بال دیکھ کر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ اسے زائل کرنے کی کوشش کرو تو کہا گیا کہ استرے سے مونڈ سکتے ہیں آپ نے فرمایا اس کا نشان مجھے ناپسند ہے کوئی اور ترکیب بتاؤ پس شیاطین نے طلا بنایا جس کے لگاتے ہی بال اڑ گئے۔ پس اول اول بال صفا طلا حضرت سلیمان کے حکم سے ہی تیار ہوا ہے۔ امام ابن ابی شیبہ نے اس قصے کو نقل کرکے لکھا ہے یہ کتنا اچھا قصہ ہے لیکن میں کہتا ہوں بالکل منکر اور سخت غریب ہے یہ عطا بن سائب کا وہم ہے جو اس نے ابن عباس کے نام سے بیان کردیا ہے۔ اور زیادہ قرین قیاس امر یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے دفاتر سے لیا گیا ہے جو مسلمانوں میں کعب اور وہب نے رائج کردیا تھا۔ اللہ ان سے درگذر فرمائے۔ پس ان قصوں کا کوئی اعتماد نہیں بنو اسرائیل تو جدت پسند اور جدت طراز تھے بدل لینا گھڑ لینا کمی زیادتی کرلینا ان کی عادت میں داخل تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ان کا محتاج نہیں رکھا ہمیں وہ کتاب دی اور اپنے نبی کی زبانی وہ باتیں پہنچائیں جو نفع میں وضاحت میں بیان میں ان کی باتوں سے اعلی اور ارفع ہیں ساتھ ہی بہت مفید اور نہایت احتیاط والی۔ فالحمدللہ۔ صرح کہتے ہیں محل کو۔ اور ہر بلند عمارت کو۔ چناچہ فرعون ملعون نے بھی اپنے وزیر ہامان سے یہی کہا تھا۔ آیت (یاھامان ابن لی صرحا)۔ یمن کے ایک خاص اور بلند محل کا نام بھی صرح تھا۔ اس سے مراد ہر وہ بنا ہے جو محکم مضبوط استوار اور قوی ہو۔ یہ بنا بلور اور صاف شفاف شیشے سے بنائی گئی تھی۔ دومتہ الجندل میں ایک قلعہ ہے اسکا نام بھی مادر ہے۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ جب اس ملکہ نے حضرت سلیمان کی یہ رفعت، یہ عظمت، یہ شوکت، یہ سلطنت دیکھی اور اس میں غور وفکر کے ساتھ ہی حضرت سلیمان کی سیرت ان کی نیکی اور ان کی دعوت سنی تو یقین آگیا کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اسی وقت مسلمان ہوگئی اپنے اگلے شرک وکفر سے توبہ کرلی اور دین سلیمان کی مطیع بن گئی۔ اللہ کی عبادت کرنے لگی جو خالق مالک متصرف اور مختار کل ہے۔
بلقیس کا تخت آنے کے بعد اس تخت کے آجانے کے بعد حضرت سلیمان ؑ نے حکم دیا کہ اس میں قدرے تغیر وتبدل کر ڈالو۔ پس کچھ ہیرے جواہر بدل دئیے گئے۔ رنگ وروغن میں بھی تبدیلی کردی گئی نیچے اور اوپر سے بھی کچھ بدل دیا گیا۔ کچھ کمی زیادتی بھی کردی گئی تاکہ بلقیس کی آزمائش کریں کہ وہ اپنے تخت کو پہچان لیتی ہے یا نہیں ؟ جب وہ پہنچی تو اس سے کہا گیا کہ کیا تیرا تخت یہ ہی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ہوبہو اسی جیسا ہے۔ اس جواب سے اس کی دور بینی عقلمندی زیر کی دانائی ظاہر ہے کہ دونوں پہلو سامنے رکھے دیکھا کہ تخت بالکل میرے تخت جیسا ہے مگر بظاہر اس کا یہاں پہنچنا ناممکن ہے تو اس نے بیچ کی بات کہی حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا اس سے پہلے ہی ہمیں علم دیا گیا تھا اور ہم مسلمان تھے بلقیس کو اللہ کے سوا اوروں کی عبادت نے اور اس کے کفر نے توحید اللہ سے روک دیا تھا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے بلقیس کو غیر اللہ کی عبادت سے روک دیا اس سے پہلے کافروں میں سے تھے۔ لیکن پہلے قول کی تائید اس سے بھی ہوسکتی ہے کہ ملکہ نے قبول اسلام کا اعلان محل میں داخل ہونے کے بعد کیا ہے۔ جیسے عنقریب بیان ہوگا۔ حضرت سلیمان ؑ نے جنات کے ہاتھوں ایک محل بنوایا تھا جو صرف شیشے اور کانچ کا تھا اور اس کے نیچے پانی سے لباب حوض تھا شیشہ بہت ہی صاف شفاف تھا۔ آنے والا شیشے کا امتیاز نہیں کرسکتا تھا بلکہ اسے یہی معلوم ہوتا تھا۔ کہ پانی ہی پانی ہے۔ حالانکہ اس کے اوپر شیشے کا فرش تھا۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس صنعت سے غرض حضرت سلیمان ؑ کی یہ تھی کہ آپ اس سے نکاح کرنا چاہتے تھے۔ لیکن یہ سنا تھا کہ اس کی پنڈلیاں بہت خراب ہیں اور اس کے ٹخنے چوپایوں کے کھروں جیسے ہیں اس کی تحقیق کے لئے آپ نے ایسا کیا تھا۔ جب وہ یہاں آنے لگی تو پانی کے حوض کو دیکھ کر اپنے پائنچے اٹھائے آپ نے دیکھ لیا کہ جو بات مجھے پہنچائی گئی ہے غلط ہے۔ اس کی پنڈلیاں اور پیر بالکل انسانوں جیسے ہی ہیں۔ کوئی نئ بات یا بد صورتی نہیں ہے چونکہ بےنکاح تھی پنڈلیوں پر بال بڑے بڑے تھے۔ آپ نے استرے سے منڈوا ڈالنے کا مشورہ دیا لیکن اس نے کہا اس کی برداشت مجھ سے نہ ہوسکے گی۔ آپ نے جنوں سے کہا کہ کوئی اور چیز بناؤ جس سے یہ بال جاتے رہیں۔ پس انہوں نے ہڑتال پیش کی یہ دوا سب سے پہلے حضرت سلیمان ؑ کے حکم سے ہی تلاش کی گئی۔ محل میں بلانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے ملک سے اپنے دربار سے اپنی رونق سے اپنے سازو سامان سے اپنے لطف وعیش سے خود اپنے سے بڑی ہستی دیکھ لے اور اپنا جاہ حشم نظروں سے گرجائے جس کے ساتھ ہی تکبر تجبر کا خاتمہ بھی یقینی تھا۔ یہ جب اندر آنے لگی اور حوض کی حد پر پہنچی تو اسے لہلاتا ہوا دریاسمجھ کر پانئچے اٹھائے۔ اس وقت کہا گیا کہ آپ کو غلطی لگی یہ تو شیشہ منڈہا ہوا ہے۔ آپ اسی کے اوپر سے بغیر قدم تر کئے آسکتی ہیں۔ حضرت سلیمان ؑ کے پاس پہنچتے ہی اس کے کان میں آپ نے صدائے توحید ڈالی اور سورج پرستی کی مذمت سنائی۔ اس محل کو دیکھتے ہی اس حقیقت پر نظر ڈالتے ہی دربار کے ٹھاٹھ دیکھتے ہی اتنا تو وہ سمجھ گئی تھی کہ میرا ملک تو اسکے پاسنگ میں بھی نہیں۔ نیچے پانی ہے اور اوپر شیشہ ہے بیچ میں تخت سلیمانی ہے اور اوپر سے پرندوں کا سایہ ہے جن وانس سب حاضر ہیں اور تابع فرمان۔ جب اسے توحید کی دعوت دی گئی تو بےدینوں کی طرح اس نے بھی زندیقانہ جواب دیا جس سے اللہ کی جناب میں گستاخی لازم آتی تھی۔ اسے سنتے ہی سلیمان ؑ اللہ کے سامنے سجدے میں گرپڑے اور آپ کو دیکھ کر آپ کا سارا لشکر بھی۔ اب وہ بہت ہی نادم ہوگئی ادھر سے حضرت نے ڈانٹا کہ کیا کہہ دیا ؟ اسنے کہا مجھ سے غلطی ہوئی۔ اور اسی وقت رب کی طرف جھک گئی اور کہنے لگی اے اللہ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا اب میں حضرت سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین پر ایمان لے آئی۔ چناچہ سچے دل سے مسلمان ہوگئی۔ ابن ابی شیبہ میں یہاں پر ایک غریب اثر ابن عباس سے وارد کیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں حضرت سلیمان ؑ جب تخت پر متمکن ہوتے تو اس کے پاس کی کرسیوں پر انسان بیٹھتے اور اس کے پاس والی کرسیوں پر جن بیٹھتے پھر ان کے بعد شیاطین بیٹھتے پھر ہوا اس تخت کو لے اڑتی اور معلق تھمادیتی پھر پرند آکر اپنے پروں سے سایہ کرلیتے پھر آپ ہوا کو حکم دیتے اور وہ پرواز کرکے صبح صبح مہینے بھر کے فاصلے پر پہنچادیتی اسی طرح شام کو مہینے بھر کی دوری طے ہوتی ایک مرتبہ اسی طرح آپ جا رہے تھے پرندوں کی دیکھ بھال جو کی تو ہدہد کو غائب پایا بڑے ناراض ہوئے اور فرمایا کیا وہ جمگھٹے میں مجھے نظر نہیں پڑتا یا سچ مچ غیر حاضر ہے ؟ اگر واقعی وہ غیر حاضر ہے تو میں اسے سخت سزا دونگا بلکہ ذبح کردونگا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ بیان کردے ایسے موقعہ پر آپ پرندوں کے پرنچواکر آپ زمین پر ڈلوادیتے تھے کیڑے مکوڑے کھاجاتے تھے اس کے بعد تھوڑ ہی دیر میں خود حاضر ہوتا ہے اپنا سبا جانا اور وہ انکی خبر لانا بیان کرتا ہے۔ اپنی معلومات کی تفصیل سے آگاہ کرتا ہے حضرت سلیمان اس کی صداقت کی آزمائش کے لئے اسے ملکہ سبا کے نام ایک چھٹی دے کر اسے دوبارہ بھیجتے ہیں جس میں ملکہ کو ہدایت ہوتی ہے کہ میری نافرمانی نہ کرو اور مسلمان ہو کر میرے پاس آجاؤ۔ اس خط کو دیکھتے ہی ملکہ کے دل میں خط کی اور اس کے لکھنے والے کی عزت سماجاتی ہے۔ وہ اپنے درباریوں سے مشورہ کرتی ہے وہ اپنی قوت وطاقت فوج کی ٹھاٹھ بیان کرکے کہہ دیتے ہیں کہ ہم تیار ہیں صرف اشارے کی دیر ہے لیکن یہ برے وقت اور اپنے شکست کے انجام کو دیکھ کر اس ارادے سے باز رہتی ہے۔ اور دوستی کا سلسلہ اس طرح شروع کرتی ہے کہ تحفے اور ہدیے حضرت سلیمان کے پاس بھیجتی ہے۔ جسے حضرت سلیمان ؑ واپس کردیتے ہیں اور چڑھائی کی دھمکی دیتے ہیں اب یہ اپنے ہاں سے چلتی ہے جب قریب پہنچ جاتی ہے اور اس کے لشکر کی گرد کو حضرت سلیمان ؑ دیکھ لیتے ہیں تب فرماتے ہیں کہ اس کا تختہ اٹھالاؤ۔ ایک جن کہتا ہے کہ بہتر میں ابھی لاتا ہوں آپ یہاں سے اٹھیں اس سے پہلے ہی اسے دیکھ لیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ اس سے بھی جلد ممکن ہے ؟ اس پر تو یہ خاموش ہوگیا لیکن اللہ کے علم والے نے کہا ابھی ایک آنکھ جھپکتے ہی۔ اتنے میں تو دیکھا کہ جس کرسی پر پاؤ رکھ کر حضرت سلیمان اپنے تخت پر چڑھتے ہیں وہاں بلقیس کا تخت نمایا ہوا۔ آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور لوگوں کو نصیحت کی اور اس میں کچھ تبدیلی کا حکم دیا اس کے آتے ہی اس سے اس تخت کے بابت پوچھا تو اس نے کہا کہ گویا یہ وہی ہے۔ اس نے حضرت سلیمان ؑ سے دو چیزیں طلب کیں ایک تو ایسا پانی جو نہ زمین سے نکلا ہو اور نہ آسمان سے برساہو۔ آپ کی عادت تھی کہ جب کسی چیز کی ضرورت پڑتی تو اول انسانوں سے پھر جنوں سے پھر شیطانوں سے دریافت فرماتے اس سوال کے جواب میں شیطانوں نے کہا کہ یہ کوئی مشکل چیز نہیں ہے۔ گھوڑے دوڑائیے اور ان کے پسینے سے اس کو پیالہ بھر دیجئے اس سوال کے پورا ہونے کے بعد اس نے دوسرا سوال کیا کہ اللہ کا رنگ کیسا ہے ؟ اسے سن کر آپ اچھل پڑے اور اسی وقت سجدے میں گرپڑے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ باری تعالیٰ اس نے ایسا سوال کیا کہ میں اسے تجھ سے دریافت ہی نہیں کرسکتا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا کہ بےفکر ہوجاؤ میں نے کفایت کردیا آپ سجدے سے اٹھے اور فرمایا تو نے کیا پوچھا تھا اس نے کہا پانی کے بارے میں میرا سوال تھا جو آپ نے پورا کیا اور تو میں نے کچھ نہیں پوچھا یہ خود اور اس کا لشکر اس دوسرے سوال ہی کو بھول گئے۔ آپ نے لشکریوں سے بھی پوچھا کہ اس نے دوسرا سوال کیا کیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا بجز پانی کے اس نے اور کوئی سوال نہیں کیا۔ شیطانوں کے دل میں خیال آیا کہ اگر سلیمان ؑ نے اسے پسند کرلیا اور اسے اپنی نکاح میں لے لیا اور اولاد بھی ہوگئی تو یہ ہم سے ہمشہ کے لئے گئے اس لئے انہوں نے حوض بنایا پانی سے پر کیا۔ اور اوپر سے بلور کا فرش بنادیا اس صفت سے کہ دیکھنے والے کو وہ معلوم ہی نہ دے وہ تو پانی ہی سمجھے جب بلقیس دربار میں آئی اور وہاں سے گزرنا چاہا تو پانی جان کر اپنے پائنچے اٹھالئے حضرت سلیمان نے پنڈلیوں کے بال دیکھ کر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ اسے زائل کرنے کی کوشش کرو تو کہا گیا کہ استرے سے مونڈ سکتے ہیں آپ نے فرمایا اس کا نشان مجھے ناپسند ہے کوئی اور ترکیب بتاؤ پس شیاطین نے طلا بنایا جس کے لگاتے ہی بال اڑ گئے۔ پس اول اول بال صفا طلا حضرت سلیمان کے حکم سے ہی تیار ہوا ہے۔ امام ابن ابی شیبہ نے اس قصے کو نقل کرکے لکھا ہے یہ کتنا اچھا قصہ ہے لیکن میں کہتا ہوں بالکل منکر اور سخت غریب ہے یہ عطا بن سائب کا وہم ہے جو اس نے ابن عباس کے نام سے بیان کردیا ہے۔ اور زیادہ قرین قیاس امر یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے دفاتر سے لیا گیا ہے جو مسلمانوں میں کعب اور وہب نے رائج کردیا تھا۔ اللہ ان سے درگذر فرمائے۔ پس ان قصوں کا کوئی اعتماد نہیں بنو اسرائیل تو جدت پسند اور جدت طراز تھے بدل لینا گھڑ لینا کمی زیادتی کرلینا ان کی عادت میں داخل تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ان کا محتاج نہیں رکھا ہمیں وہ کتاب دی اور اپنے نبی کی زبانی وہ باتیں پہنچائیں جو نفع میں وضاحت میں بیان میں ان کی باتوں سے اعلی اور ارفع ہیں ساتھ ہی بہت مفید اور نہایت احتیاط والی۔ فالحمدللہ۔ صرح کہتے ہیں محل کو۔ اور ہر بلند عمارت کو۔ چناچہ فرعون ملعون نے بھی اپنے وزیر ہامان سے یہی کہا تھا۔ آیت (یاھامان ابن لی صرحا)۔ یمن کے ایک خاص اور بلند محل کا نام بھی صرح تھا۔ اس سے مراد ہر وہ بنا ہے جو محکم مضبوط استوار اور قوی ہو۔ یہ بنا بلور اور صاف شفاف شیشے سے بنائی گئی تھی۔ دومتہ الجندل میں ایک قلعہ ہے اسکا نام بھی مادر ہے۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ جب اس ملکہ نے حضرت سلیمان کی یہ رفعت، یہ عظمت، یہ شوکت، یہ سلطنت دیکھی اور اس میں غور وفکر کے ساتھ ہی حضرت سلیمان کی سیرت ان کی نیکی اور ان کی دعوت سنی تو یقین آگیا کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اسی وقت مسلمان ہوگئی اپنے اگلے شرک وکفر سے توبہ کرلی اور دین سلیمان کی مطیع بن گئی۔ اللہ کی عبادت کرنے لگی جو خالق مالک متصرف اور مختار کل ہے۔
بلقیس کا تخت آنے کے بعد اس تخت کے آجانے کے بعد حضرت سلیمان ؑ نے حکم دیا کہ اس میں قدرے تغیر وتبدل کر ڈالو۔ پس کچھ ہیرے جواہر بدل دئیے گئے۔ رنگ وروغن میں بھی تبدیلی کردی گئی نیچے اور اوپر سے بھی کچھ بدل دیا گیا۔ کچھ کمی زیادتی بھی کردی گئی تاکہ بلقیس کی آزمائش کریں کہ وہ اپنے تخت کو پہچان لیتی ہے یا نہیں ؟ جب وہ پہنچی تو اس سے کہا گیا کہ کیا تیرا تخت یہ ہی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ہوبہو اسی جیسا ہے۔ اس جواب سے اس کی دور بینی عقلمندی زیر کی دانائی ظاہر ہے کہ دونوں پہلو سامنے رکھے دیکھا کہ تخت بالکل میرے تخت جیسا ہے مگر بظاہر اس کا یہاں پہنچنا ناممکن ہے تو اس نے بیچ کی بات کہی حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا اس سے پہلے ہی ہمیں علم دیا گیا تھا اور ہم مسلمان تھے بلقیس کو اللہ کے سوا اوروں کی عبادت نے اور اس کے کفر نے توحید اللہ سے روک دیا تھا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے بلقیس کو غیر اللہ کی عبادت سے روک دیا اس سے پہلے کافروں میں سے تھے۔ لیکن پہلے قول کی تائید اس سے بھی ہوسکتی ہے کہ ملکہ نے قبول اسلام کا اعلان محل میں داخل ہونے کے بعد کیا ہے۔ جیسے عنقریب بیان ہوگا۔ حضرت سلیمان ؑ نے جنات کے ہاتھوں ایک محل بنوایا تھا جو صرف شیشے اور کانچ کا تھا اور اس کے نیچے پانی سے لباب حوض تھا شیشہ بہت ہی صاف شفاف تھا۔ آنے والا شیشے کا امتیاز نہیں کرسکتا تھا بلکہ اسے یہی معلوم ہوتا تھا۔ کہ پانی ہی پانی ہے۔ حالانکہ اس کے اوپر شیشے کا فرش تھا۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس صنعت سے غرض حضرت سلیمان ؑ کی یہ تھی کہ آپ اس سے نکاح کرنا چاہتے تھے۔ لیکن یہ سنا تھا کہ اس کی پنڈلیاں بہت خراب ہیں اور اس کے ٹخنے چوپایوں کے کھروں جیسے ہیں اس کی تحقیق کے لئے آپ نے ایسا کیا تھا۔ جب وہ یہاں آنے لگی تو پانی کے حوض کو دیکھ کر اپنے پائنچے اٹھائے آپ نے دیکھ لیا کہ جو بات مجھے پہنچائی گئی ہے غلط ہے۔ اس کی پنڈلیاں اور پیر بالکل انسانوں جیسے ہی ہیں۔ کوئی نئ بات یا بد صورتی نہیں ہے چونکہ بےنکاح تھی پنڈلیوں پر بال بڑے بڑے تھے۔ آپ نے استرے سے منڈوا ڈالنے کا مشورہ دیا لیکن اس نے کہا اس کی برداشت مجھ سے نہ ہوسکے گی۔ آپ نے جنوں سے کہا کہ کوئی اور چیز بناؤ جس سے یہ بال جاتے رہیں۔ پس انہوں نے ہڑتال پیش کی یہ دوا سب سے پہلے حضرت سلیمان ؑ کے حکم سے ہی تلاش کی گئی۔ محل میں بلانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے ملک سے اپنے دربار سے اپنی رونق سے اپنے سازو سامان سے اپنے لطف وعیش سے خود اپنے سے بڑی ہستی دیکھ لے اور اپنا جاہ حشم نظروں سے گرجائے جس کے ساتھ ہی تکبر تجبر کا خاتمہ بھی یقینی تھا۔ یہ جب اندر آنے لگی اور حوض کی حد پر پہنچی تو اسے لہلاتا ہوا دریاسمجھ کر پانئچے اٹھائے۔ اس وقت کہا گیا کہ آپ کو غلطی لگی یہ تو شیشہ منڈہا ہوا ہے۔ آپ اسی کے اوپر سے بغیر قدم تر کئے آسکتی ہیں۔ حضرت سلیمان ؑ کے پاس پہنچتے ہی اس کے کان میں آپ نے صدائے توحید ڈالی اور سورج پرستی کی مذمت سنائی۔ اس محل کو دیکھتے ہی اس حقیقت پر نظر ڈالتے ہی دربار کے ٹھاٹھ دیکھتے ہی اتنا تو وہ سمجھ گئی تھی کہ میرا ملک تو اسکے پاسنگ میں بھی نہیں۔ نیچے پانی ہے اور اوپر شیشہ ہے بیچ میں تخت سلیمانی ہے اور اوپر سے پرندوں کا سایہ ہے جن وانس سب حاضر ہیں اور تابع فرمان۔ جب اسے توحید کی دعوت دی گئی تو بےدینوں کی طرح اس نے بھی زندیقانہ جواب دیا جس سے اللہ کی جناب میں گستاخی لازم آتی تھی۔ اسے سنتے ہی سلیمان ؑ اللہ کے سامنے سجدے میں گرپڑے اور آپ کو دیکھ کر آپ کا سارا لشکر بھی۔ اب وہ بہت ہی نادم ہوگئی ادھر سے حضرت نے ڈانٹا کہ کیا کہہ دیا ؟ اسنے کہا مجھ سے غلطی ہوئی۔ اور اسی وقت رب کی طرف جھک گئی اور کہنے لگی اے اللہ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا اب میں حضرت سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین پر ایمان لے آئی۔ چناچہ سچے دل سے مسلمان ہوگئی۔ ابن ابی شیبہ میں یہاں پر ایک غریب اثر ابن عباس سے وارد کیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں حضرت سلیمان ؑ جب تخت پر متمکن ہوتے تو اس کے پاس کی کرسیوں پر انسان بیٹھتے اور اس کے پاس والی کرسیوں پر جن بیٹھتے پھر ان کے بعد شیاطین بیٹھتے پھر ہوا اس تخت کو لے اڑتی اور معلق تھمادیتی پھر پرند آکر اپنے پروں سے سایہ کرلیتے پھر آپ ہوا کو حکم دیتے اور وہ پرواز کرکے صبح صبح مہینے بھر کے فاصلے پر پہنچادیتی اسی طرح شام کو مہینے بھر کی دوری طے ہوتی ایک مرتبہ اسی طرح آپ جا رہے تھے پرندوں کی دیکھ بھال جو کی تو ہدہد کو غائب پایا بڑے ناراض ہوئے اور فرمایا کیا وہ جمگھٹے میں مجھے نظر نہیں پڑتا یا سچ مچ غیر حاضر ہے ؟ اگر واقعی وہ غیر حاضر ہے تو میں اسے سخت سزا دونگا بلکہ ذبح کردونگا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ بیان کردے ایسے موقعہ پر آپ پرندوں کے پرنچواکر آپ زمین پر ڈلوادیتے تھے کیڑے مکوڑے کھاجاتے تھے اس کے بعد تھوڑ ہی دیر میں خود حاضر ہوتا ہے اپنا سبا جانا اور وہ انکی خبر لانا بیان کرتا ہے۔ اپنی معلومات کی تفصیل سے آگاہ کرتا ہے حضرت سلیمان اس کی صداقت کی آزمائش کے لئے اسے ملکہ سبا کے نام ایک چھٹی دے کر اسے دوبارہ بھیجتے ہیں جس میں ملکہ کو ہدایت ہوتی ہے کہ میری نافرمانی نہ کرو اور مسلمان ہو کر میرے پاس آجاؤ۔ اس خط کو دیکھتے ہی ملکہ کے دل میں خط کی اور اس کے لکھنے والے کی عزت سماجاتی ہے۔ وہ اپنے درباریوں سے مشورہ کرتی ہے وہ اپنی قوت وطاقت فوج کی ٹھاٹھ بیان کرکے کہہ دیتے ہیں کہ ہم تیار ہیں صرف اشارے کی دیر ہے لیکن یہ برے وقت اور اپنے شکست کے انجام کو دیکھ کر اس ارادے سے باز رہتی ہے۔ اور دوستی کا سلسلہ اس طرح شروع کرتی ہے کہ تحفے اور ہدیے حضرت سلیمان کے پاس بھیجتی ہے۔ جسے حضرت سلیمان ؑ واپس کردیتے ہیں اور چڑھائی کی دھمکی دیتے ہیں اب یہ اپنے ہاں سے چلتی ہے جب قریب پہنچ جاتی ہے اور اس کے لشکر کی گرد کو حضرت سلیمان ؑ دیکھ لیتے ہیں تب فرماتے ہیں کہ اس کا تختہ اٹھالاؤ۔ ایک جن کہتا ہے کہ بہتر میں ابھی لاتا ہوں آپ یہاں سے اٹھیں اس سے پہلے ہی اسے دیکھ لیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ اس سے بھی جلد ممکن ہے ؟ اس پر تو یہ خاموش ہوگیا لیکن اللہ کے علم والے نے کہا ابھی ایک آنکھ جھپکتے ہی۔ اتنے میں تو دیکھا کہ جس کرسی پر پاؤ رکھ کر حضرت سلیمان اپنے تخت پر چڑھتے ہیں وہاں بلقیس کا تخت نمایا ہوا۔ آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور لوگوں کو نصیحت کی اور اس میں کچھ تبدیلی کا حکم دیا اس کے آتے ہی اس سے اس تخت کے بابت پوچھا تو اس نے کہا کہ گویا یہ وہی ہے۔ اس نے حضرت سلیمان ؑ سے دو چیزیں طلب کیں ایک تو ایسا پانی جو نہ زمین سے نکلا ہو اور نہ آسمان سے برساہو۔ آپ کی عادت تھی کہ جب کسی چیز کی ضرورت پڑتی تو اول انسانوں سے پھر جنوں سے پھر شیطانوں سے دریافت فرماتے اس سوال کے جواب میں شیطانوں نے کہا کہ یہ کوئی مشکل چیز نہیں ہے۔ گھوڑے دوڑائیے اور ان کے پسینے سے اس کو پیالہ بھر دیجئے اس سوال کے پورا ہونے کے بعد اس نے دوسرا سوال کیا کہ اللہ کا رنگ کیسا ہے ؟ اسے سن کر آپ اچھل پڑے اور اسی وقت سجدے میں گرپڑے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ باری تعالیٰ اس نے ایسا سوال کیا کہ میں اسے تجھ سے دریافت ہی نہیں کرسکتا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا کہ بےفکر ہوجاؤ میں نے کفایت کردیا آپ سجدے سے اٹھے اور فرمایا تو نے کیا پوچھا تھا اس نے کہا پانی کے بارے میں میرا سوال تھا جو آپ نے پورا کیا اور تو میں نے کچھ نہیں پوچھا یہ خود اور اس کا لشکر اس دوسرے سوال ہی کو بھول گئے۔ آپ نے لشکریوں سے بھی پوچھا کہ اس نے دوسرا سوال کیا کیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا بجز پانی کے اس نے اور کوئی سوال نہیں کیا۔ شیطانوں کے دل میں خیال آیا کہ اگر سلیمان ؑ نے اسے پسند کرلیا اور اسے اپنی نکاح میں لے لیا اور اولاد بھی ہوگئی تو یہ ہم سے ہمشہ کے لئے گئے اس لئے انہوں نے حوض بنایا پانی سے پر کیا۔ اور اوپر سے بلور کا فرش بنادیا اس صفت سے کہ دیکھنے والے کو وہ معلوم ہی نہ دے وہ تو پانی ہی سمجھے جب بلقیس دربار میں آئی اور وہاں سے گزرنا چاہا تو پانی جان کر اپنے پائنچے اٹھالئے حضرت سلیمان نے پنڈلیوں کے بال دیکھ کر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ اسے زائل کرنے کی کوشش کرو تو کہا گیا کہ استرے سے مونڈ سکتے ہیں آپ نے فرمایا اس کا نشان مجھے ناپسند ہے کوئی اور ترکیب بتاؤ پس شیاطین نے طلا بنایا جس کے لگاتے ہی بال اڑ گئے۔ پس اول اول بال صفا طلا حضرت سلیمان کے حکم سے ہی تیار ہوا ہے۔ امام ابن ابی شیبہ نے اس قصے کو نقل کرکے لکھا ہے یہ کتنا اچھا قصہ ہے لیکن میں کہتا ہوں بالکل منکر اور سخت غریب ہے یہ عطا بن سائب کا وہم ہے جو اس نے ابن عباس کے نام سے بیان کردیا ہے۔ اور زیادہ قرین قیاس امر یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے دفاتر سے لیا گیا ہے جو مسلمانوں میں کعب اور وہب نے رائج کردیا تھا۔ اللہ ان سے درگذر فرمائے۔ پس ان قصوں کا کوئی اعتماد نہیں بنو اسرائیل تو جدت پسند اور جدت طراز تھے بدل لینا گھڑ لینا کمی زیادتی کرلینا ان کی عادت میں داخل تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ان کا محتاج نہیں رکھا ہمیں وہ کتاب دی اور اپنے نبی کی زبانی وہ باتیں پہنچائیں جو نفع میں وضاحت میں بیان میں ان کی باتوں سے اعلی اور ارفع ہیں ساتھ ہی بہت مفید اور نہایت احتیاط والی۔ فالحمدللہ۔ صرح کہتے ہیں محل کو۔ اور ہر بلند عمارت کو۔ چناچہ فرعون ملعون نے بھی اپنے وزیر ہامان سے یہی کہا تھا۔ آیت (یاھامان ابن لی صرحا)۔ یمن کے ایک خاص اور بلند محل کا نام بھی صرح تھا۔ اس سے مراد ہر وہ بنا ہے جو محکم مضبوط استوار اور قوی ہو۔ یہ بنا بلور اور صاف شفاف شیشے سے بنائی گئی تھی۔ دومتہ الجندل میں ایک قلعہ ہے اسکا نام بھی مادر ہے۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ جب اس ملکہ نے حضرت سلیمان کی یہ رفعت، یہ عظمت، یہ شوکت، یہ سلطنت دیکھی اور اس میں غور وفکر کے ساتھ ہی حضرت سلیمان کی سیرت ان کی نیکی اور ان کی دعوت سنی تو یقین آگیا کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اسی وقت مسلمان ہوگئی اپنے اگلے شرک وکفر سے توبہ کرلی اور دین سلیمان کی مطیع بن گئی۔ اللہ کی عبادت کرنے لگی جو خالق مالک متصرف اور مختار کل ہے۔
بلقیس کا تخت آنے کے بعد اس تخت کے آجانے کے بعد حضرت سلیمان ؑ نے حکم دیا کہ اس میں قدرے تغیر وتبدل کر ڈالو۔ پس کچھ ہیرے جواہر بدل دئیے گئے۔ رنگ وروغن میں بھی تبدیلی کردی گئی نیچے اور اوپر سے بھی کچھ بدل دیا گیا۔ کچھ کمی زیادتی بھی کردی گئی تاکہ بلقیس کی آزمائش کریں کہ وہ اپنے تخت کو پہچان لیتی ہے یا نہیں ؟ جب وہ پہنچی تو اس سے کہا گیا کہ کیا تیرا تخت یہ ہی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ہوبہو اسی جیسا ہے۔ اس جواب سے اس کی دور بینی عقلمندی زیر کی دانائی ظاہر ہے کہ دونوں پہلو سامنے رکھے دیکھا کہ تخت بالکل میرے تخت جیسا ہے مگر بظاہر اس کا یہاں پہنچنا ناممکن ہے تو اس نے بیچ کی بات کہی حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا اس سے پہلے ہی ہمیں علم دیا گیا تھا اور ہم مسلمان تھے بلقیس کو اللہ کے سوا اوروں کی عبادت نے اور اس کے کفر نے توحید اللہ سے روک دیا تھا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے بلقیس کو غیر اللہ کی عبادت سے روک دیا اس سے پہلے کافروں میں سے تھے۔ لیکن پہلے قول کی تائید اس سے بھی ہوسکتی ہے کہ ملکہ نے قبول اسلام کا اعلان محل میں داخل ہونے کے بعد کیا ہے۔ جیسے عنقریب بیان ہوگا۔ حضرت سلیمان ؑ نے جنات کے ہاتھوں ایک محل بنوایا تھا جو صرف شیشے اور کانچ کا تھا اور اس کے نیچے پانی سے لباب حوض تھا شیشہ بہت ہی صاف شفاف تھا۔ آنے والا شیشے کا امتیاز نہیں کرسکتا تھا بلکہ اسے یہی معلوم ہوتا تھا۔ کہ پانی ہی پانی ہے۔ حالانکہ اس کے اوپر شیشے کا فرش تھا۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس صنعت سے غرض حضرت سلیمان ؑ کی یہ تھی کہ آپ اس سے نکاح کرنا چاہتے تھے۔ لیکن یہ سنا تھا کہ اس کی پنڈلیاں بہت خراب ہیں اور اس کے ٹخنے چوپایوں کے کھروں جیسے ہیں اس کی تحقیق کے لئے آپ نے ایسا کیا تھا۔ جب وہ یہاں آنے لگی تو پانی کے حوض کو دیکھ کر اپنے پائنچے اٹھائے آپ نے دیکھ لیا کہ جو بات مجھے پہنچائی گئی ہے غلط ہے۔ اس کی پنڈلیاں اور پیر بالکل انسانوں جیسے ہی ہیں۔ کوئی نئ بات یا بد صورتی نہیں ہے چونکہ بےنکاح تھی پنڈلیوں پر بال بڑے بڑے تھے۔ آپ نے استرے سے منڈوا ڈالنے کا مشورہ دیا لیکن اس نے کہا اس کی برداشت مجھ سے نہ ہوسکے گی۔ آپ نے جنوں سے کہا کہ کوئی اور چیز بناؤ جس سے یہ بال جاتے رہیں۔ پس انہوں نے ہڑتال پیش کی یہ دوا سب سے پہلے حضرت سلیمان ؑ کے حکم سے ہی تلاش کی گئی۔ محل میں بلانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے ملک سے اپنے دربار سے اپنی رونق سے اپنے سازو سامان سے اپنے لطف وعیش سے خود اپنے سے بڑی ہستی دیکھ لے اور اپنا جاہ حشم نظروں سے گرجائے جس کے ساتھ ہی تکبر تجبر کا خاتمہ بھی یقینی تھا۔ یہ جب اندر آنے لگی اور حوض کی حد پر پہنچی تو اسے لہلاتا ہوا دریاسمجھ کر پانئچے اٹھائے۔ اس وقت کہا گیا کہ آپ کو غلطی لگی یہ تو شیشہ منڈہا ہوا ہے۔ آپ اسی کے اوپر سے بغیر قدم تر کئے آسکتی ہیں۔ حضرت سلیمان ؑ کے پاس پہنچتے ہی اس کے کان میں آپ نے صدائے توحید ڈالی اور سورج پرستی کی مذمت سنائی۔ اس محل کو دیکھتے ہی اس حقیقت پر نظر ڈالتے ہی دربار کے ٹھاٹھ دیکھتے ہی اتنا تو وہ سمجھ گئی تھی کہ میرا ملک تو اسکے پاسنگ میں بھی نہیں۔ نیچے پانی ہے اور اوپر شیشہ ہے بیچ میں تخت سلیمانی ہے اور اوپر سے پرندوں کا سایہ ہے جن وانس سب حاضر ہیں اور تابع فرمان۔ جب اسے توحید کی دعوت دی گئی تو بےدینوں کی طرح اس نے بھی زندیقانہ جواب دیا جس سے اللہ کی جناب میں گستاخی لازم آتی تھی۔ اسے سنتے ہی سلیمان ؑ اللہ کے سامنے سجدے میں گرپڑے اور آپ کو دیکھ کر آپ کا سارا لشکر بھی۔ اب وہ بہت ہی نادم ہوگئی ادھر سے حضرت نے ڈانٹا کہ کیا کہہ دیا ؟ اسنے کہا مجھ سے غلطی ہوئی۔ اور اسی وقت رب کی طرف جھک گئی اور کہنے لگی اے اللہ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا اب میں حضرت سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین پر ایمان لے آئی۔ چناچہ سچے دل سے مسلمان ہوگئی۔ ابن ابی شیبہ میں یہاں پر ایک غریب اثر ابن عباس سے وارد کیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں حضرت سلیمان ؑ جب تخت پر متمکن ہوتے تو اس کے پاس کی کرسیوں پر انسان بیٹھتے اور اس کے پاس والی کرسیوں پر جن بیٹھتے پھر ان کے بعد شیاطین بیٹھتے پھر ہوا اس تخت کو لے اڑتی اور معلق تھمادیتی پھر پرند آکر اپنے پروں سے سایہ کرلیتے پھر آپ ہوا کو حکم دیتے اور وہ پرواز کرکے صبح صبح مہینے بھر کے فاصلے پر پہنچادیتی اسی طرح شام کو مہینے بھر کی دوری طے ہوتی ایک مرتبہ اسی طرح آپ جا رہے تھے پرندوں کی دیکھ بھال جو کی تو ہدہد کو غائب پایا بڑے ناراض ہوئے اور فرمایا کیا وہ جمگھٹے میں مجھے نظر نہیں پڑتا یا سچ مچ غیر حاضر ہے ؟ اگر واقعی وہ غیر حاضر ہے تو میں اسے سخت سزا دونگا بلکہ ذبح کردونگا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ بیان کردے ایسے موقعہ پر آپ پرندوں کے پرنچواکر آپ زمین پر ڈلوادیتے تھے کیڑے مکوڑے کھاجاتے تھے اس کے بعد تھوڑ ہی دیر میں خود حاضر ہوتا ہے اپنا سبا جانا اور وہ انکی خبر لانا بیان کرتا ہے۔ اپنی معلومات کی تفصیل سے آگاہ کرتا ہے حضرت سلیمان اس کی صداقت کی آزمائش کے لئے اسے ملکہ سبا کے نام ایک چھٹی دے کر اسے دوبارہ بھیجتے ہیں جس میں ملکہ کو ہدایت ہوتی ہے کہ میری نافرمانی نہ کرو اور مسلمان ہو کر میرے پاس آجاؤ۔ اس خط کو دیکھتے ہی ملکہ کے دل میں خط کی اور اس کے لکھنے والے کی عزت سماجاتی ہے۔ وہ اپنے درباریوں سے مشورہ کرتی ہے وہ اپنی قوت وطاقت فوج کی ٹھاٹھ بیان کرکے کہہ دیتے ہیں کہ ہم تیار ہیں صرف اشارے کی دیر ہے لیکن یہ برے وقت اور اپنے شکست کے انجام کو دیکھ کر اس ارادے سے باز رہتی ہے۔ اور دوستی کا سلسلہ اس طرح شروع کرتی ہے کہ تحفے اور ہدیے حضرت سلیمان کے پاس بھیجتی ہے۔ جسے حضرت سلیمان ؑ واپس کردیتے ہیں اور چڑھائی کی دھمکی دیتے ہیں اب یہ اپنے ہاں سے چلتی ہے جب قریب پہنچ جاتی ہے اور اس کے لشکر کی گرد کو حضرت سلیمان ؑ دیکھ لیتے ہیں تب فرماتے ہیں کہ اس کا تختہ اٹھالاؤ۔ ایک جن کہتا ہے کہ بہتر میں ابھی لاتا ہوں آپ یہاں سے اٹھیں اس سے پہلے ہی اسے دیکھ لیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ اس سے بھی جلد ممکن ہے ؟ اس پر تو یہ خاموش ہوگیا لیکن اللہ کے علم والے نے کہا ابھی ایک آنکھ جھپکتے ہی۔ اتنے میں تو دیکھا کہ جس کرسی پر پاؤ رکھ کر حضرت سلیمان اپنے تخت پر چڑھتے ہیں وہاں بلقیس کا تخت نمایا ہوا۔ آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور لوگوں کو نصیحت کی اور اس میں کچھ تبدیلی کا حکم دیا اس کے آتے ہی اس سے اس تخت کے بابت پوچھا تو اس نے کہا کہ گویا یہ وہی ہے۔ اس نے حضرت سلیمان ؑ سے دو چیزیں طلب کیں ایک تو ایسا پانی جو نہ زمین سے نکلا ہو اور نہ آسمان سے برساہو۔ آپ کی عادت تھی کہ جب کسی چیز کی ضرورت پڑتی تو اول انسانوں سے پھر جنوں سے پھر شیطانوں سے دریافت فرماتے اس سوال کے جواب میں شیطانوں نے کہا کہ یہ کوئی مشکل چیز نہیں ہے۔ گھوڑے دوڑائیے اور ان کے پسینے سے اس کو پیالہ بھر دیجئے اس سوال کے پورا ہونے کے بعد اس نے دوسرا سوال کیا کہ اللہ کا رنگ کیسا ہے ؟ اسے سن کر آپ اچھل پڑے اور اسی وقت سجدے میں گرپڑے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ باری تعالیٰ اس نے ایسا سوال کیا کہ میں اسے تجھ سے دریافت ہی نہیں کرسکتا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا کہ بےفکر ہوجاؤ میں نے کفایت کردیا آپ سجدے سے اٹھے اور فرمایا تو نے کیا پوچھا تھا اس نے کہا پانی کے بارے میں میرا سوال تھا جو آپ نے پورا کیا اور تو میں نے کچھ نہیں پوچھا یہ خود اور اس کا لشکر اس دوسرے سوال ہی کو بھول گئے۔ آپ نے لشکریوں سے بھی پوچھا کہ اس نے دوسرا سوال کیا کیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا بجز پانی کے اس نے اور کوئی سوال نہیں کیا۔ شیطانوں کے دل میں خیال آیا کہ اگر سلیمان ؑ نے اسے پسند کرلیا اور اسے اپنی نکاح میں لے لیا اور اولاد بھی ہوگئی تو یہ ہم سے ہمشہ کے لئے گئے اس لئے انہوں نے حوض بنایا پانی سے پر کیا۔ اور اوپر سے بلور کا فرش بنادیا اس صفت سے کہ دیکھنے والے کو وہ معلوم ہی نہ دے وہ تو پانی ہی سمجھے جب بلقیس دربار میں آئی اور وہاں سے گزرنا چاہا تو پانی جان کر اپنے پائنچے اٹھالئے حضرت سلیمان نے پنڈلیوں کے بال دیکھ کر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ اسے زائل کرنے کی کوشش کرو تو کہا گیا کہ استرے سے مونڈ سکتے ہیں آپ نے فرمایا اس کا نشان مجھے ناپسند ہے کوئی اور ترکیب بتاؤ پس شیاطین نے طلا بنایا جس کے لگاتے ہی بال اڑ گئے۔ پس اول اول بال صفا طلا حضرت سلیمان کے حکم سے ہی تیار ہوا ہے۔ امام ابن ابی شیبہ نے اس قصے کو نقل کرکے لکھا ہے یہ کتنا اچھا قصہ ہے لیکن میں کہتا ہوں بالکل منکر اور سخت غریب ہے یہ عطا بن سائب کا وہم ہے جو اس نے ابن عباس کے نام سے بیان کردیا ہے۔ اور زیادہ قرین قیاس امر یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے دفاتر سے لیا گیا ہے جو مسلمانوں میں کعب اور وہب نے رائج کردیا تھا۔ اللہ ان سے درگذر فرمائے۔ پس ان قصوں کا کوئی اعتماد نہیں بنو اسرائیل تو جدت پسند اور جدت طراز تھے بدل لینا گھڑ لینا کمی زیادتی کرلینا ان کی عادت میں داخل تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ان کا محتاج نہیں رکھا ہمیں وہ کتاب دی اور اپنے نبی کی زبانی وہ باتیں پہنچائیں جو نفع میں وضاحت میں بیان میں ان کی باتوں سے اعلی اور ارفع ہیں ساتھ ہی بہت مفید اور نہایت احتیاط والی۔ فالحمدللہ۔ صرح کہتے ہیں محل کو۔ اور ہر بلند عمارت کو۔ چناچہ فرعون ملعون نے بھی اپنے وزیر ہامان سے یہی کہا تھا۔ آیت (یاھامان ابن لی صرحا)۔ یمن کے ایک خاص اور بلند محل کا نام بھی صرح تھا۔ اس سے مراد ہر وہ بنا ہے جو محکم مضبوط استوار اور قوی ہو۔ یہ بنا بلور اور صاف شفاف شیشے سے بنائی گئی تھی۔ دومتہ الجندل میں ایک قلعہ ہے اسکا نام بھی مادر ہے۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ جب اس ملکہ نے حضرت سلیمان کی یہ رفعت، یہ عظمت، یہ شوکت، یہ سلطنت دیکھی اور اس میں غور وفکر کے ساتھ ہی حضرت سلیمان کی سیرت ان کی نیکی اور ان کی دعوت سنی تو یقین آگیا کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اسی وقت مسلمان ہوگئی اپنے اگلے شرک وکفر سے توبہ کرلی اور دین سلیمان کی مطیع بن گئی۔ اللہ کی عبادت کرنے لگی جو خالق مالک متصرف اور مختار کل ہے۔
صالح ؑ کی ضدی قوم حضرت صالح ؑ جب اپنی قوم ثمود کے پاس آئے اور اللہ کی رسالت ادا کرتے ہوئے انہیں دعوت توحید دی تو ان میں دو فریق بن گئے ایک جماعت مومنوں کی دوسرا گروہ کافروں کا۔ یہ آپس میں گتھ گئے جیسے اور جگہ ہے کہ متکبروں نے عاجزوں سے کہا کہ کیا تم صالح کو رسول اللہ مانتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم کھلم کھلا ایمان لاچکے ہیں انہوں نے کہا بس تو ہم ایسے ہی کھلم کھلا کافر ہیں۔ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تمہیں کیا ہوگیا بجائے رحمت کے عذاب مانگ رہے ہو ؟ تم استغفار کرو تاکہ نزول رحمت ہو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا تو یقین ہے کہ ہماری تمام مصیبتوں کا باعث تو ہے اور تیرے ماننے والے۔ یہی فرعونیوں نے کلیم اللہ سے کہا تھا کہ جو بھلائیاں ہمیں ملتی ہیں ان کے لائق تو ہم ہیں لیکن جو برائیاں پہنچتی ہیں وہ سب تیری اور تیرے ساتھیوں کی وجہ سے ہیں اور آیت میں ہے (وَاِنْ تُصِبْھُمْ حَسَـنَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۚ وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَيِّئَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ ۭقُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۭ فَمَالِ هٰٓؤُلَاۗءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا 78) 4۔ النسآء :78) یعنی اگر انہیں کوئی بھلائی مل جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچ جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ تیری جانب سے ہے تو کہہ دے کہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے یعنی اللہ کی قضا و قدر سے ہے۔ سورة یسین میں بھی کفار کا اپنے نبیوں کو یہی کہنا موجود ہے آیت (قَالُوْٓا اِنَّا تَــطَيَّرْنَا بِكُمْ ۚ لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّـنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِــيْمٌ 18) 36۔ يس :18) ہم تو آپ سے بدشگونی لیتے ہیں اگر تم لوگ باز نہ رہے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور سخت دیں گے۔ نبیوں نے جواب دیا کہ تمہاری بدشگونی تو ہر وقت تمہارے وجود میں موجود ہے۔ یہاں ہے کہ حضرت صالح نے جواب دیا کہ تمہاری بدشگونی تو اللہ کے پاس ہے یعنی وہی تمہیں اس کا بدلہ دے گا۔ بلکہ تم تو فتنے میں ڈالے ہوئے لوگ ہو تمہیں آزمایا جارہا ہے اطاعت سے بھی اور معصیت سے بھی اور باوجود تمہاری معصیت کے تمہیں ڈھیل دی جارہی ہے یہ اللہ کی طرف سے مہلت ہے اس کے بعد پکڑے جاؤ گے۔
صالح ؑ کی ضدی قوم حضرت صالح ؑ جب اپنی قوم ثمود کے پاس آئے اور اللہ کی رسالت ادا کرتے ہوئے انہیں دعوت توحید دی تو ان میں دو فریق بن گئے ایک جماعت مومنوں کی دوسرا گروہ کافروں کا۔ یہ آپس میں گتھ گئے جیسے اور جگہ ہے کہ متکبروں نے عاجزوں سے کہا کہ کیا تم صالح کو رسول اللہ مانتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم کھلم کھلا ایمان لاچکے ہیں انہوں نے کہا بس تو ہم ایسے ہی کھلم کھلا کافر ہیں۔ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تمہیں کیا ہوگیا بجائے رحمت کے عذاب مانگ رہے ہو ؟ تم استغفار کرو تاکہ نزول رحمت ہو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا تو یقین ہے کہ ہماری تمام مصیبتوں کا باعث تو ہے اور تیرے ماننے والے۔ یہی فرعونیوں نے کلیم اللہ سے کہا تھا کہ جو بھلائیاں ہمیں ملتی ہیں ان کے لائق تو ہم ہیں لیکن جو برائیاں پہنچتی ہیں وہ سب تیری اور تیرے ساتھیوں کی وجہ سے ہیں اور آیت میں ہے (وَاِنْ تُصِبْھُمْ حَسَـنَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۚ وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَيِّئَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ ۭقُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۭ فَمَالِ هٰٓؤُلَاۗءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا 78) 4۔ النسآء :78) یعنی اگر انہیں کوئی بھلائی مل جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچ جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ تیری جانب سے ہے تو کہہ دے کہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے یعنی اللہ کی قضا و قدر سے ہے۔ سورة یسین میں بھی کفار کا اپنے نبیوں کو یہی کہنا موجود ہے آیت (قَالُوْٓا اِنَّا تَــطَيَّرْنَا بِكُمْ ۚ لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّـنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِــيْمٌ 18) 36۔ يس :18) ہم تو آپ سے بدشگونی لیتے ہیں اگر تم لوگ باز نہ رہے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور سخت دیں گے۔ نبیوں نے جواب دیا کہ تمہاری بدشگونی تو ہر وقت تمہارے وجود میں موجود ہے۔ یہاں ہے کہ حضرت صالح نے جواب دیا کہ تمہاری بدشگونی تو اللہ کے پاس ہے یعنی وہی تمہیں اس کا بدلہ دے گا۔ بلکہ تم تو فتنے میں ڈالے ہوئے لوگ ہو تمہیں آزمایا جارہا ہے اطاعت سے بھی اور معصیت سے بھی اور باوجود تمہاری معصیت کے تمہیں ڈھیل دی جارہی ہے یہ اللہ کی طرف سے مہلت ہے اس کے بعد پکڑے جاؤ گے۔
صالح ؑ کی ضدی قوم حضرت صالح ؑ جب اپنی قوم ثمود کے پاس آئے اور اللہ کی رسالت ادا کرتے ہوئے انہیں دعوت توحید دی تو ان میں دو فریق بن گئے ایک جماعت مومنوں کی دوسرا گروہ کافروں کا۔ یہ آپس میں گتھ گئے جیسے اور جگہ ہے کہ متکبروں نے عاجزوں سے کہا کہ کیا تم صالح کو رسول اللہ مانتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم کھلم کھلا ایمان لاچکے ہیں انہوں نے کہا بس تو ہم ایسے ہی کھلم کھلا کافر ہیں۔ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تمہیں کیا ہوگیا بجائے رحمت کے عذاب مانگ رہے ہو ؟ تم استغفار کرو تاکہ نزول رحمت ہو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا تو یقین ہے کہ ہماری تمام مصیبتوں کا باعث تو ہے اور تیرے ماننے والے۔ یہی فرعونیوں نے کلیم اللہ سے کہا تھا کہ جو بھلائیاں ہمیں ملتی ہیں ان کے لائق تو ہم ہیں لیکن جو برائیاں پہنچتی ہیں وہ سب تیری اور تیرے ساتھیوں کی وجہ سے ہیں اور آیت میں ہے (وَاِنْ تُصِبْھُمْ حَسَـنَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۚ وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَيِّئَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ ۭقُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۭ فَمَالِ هٰٓؤُلَاۗءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا 78) 4۔ النسآء :78) یعنی اگر انہیں کوئی بھلائی مل جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچ جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ تیری جانب سے ہے تو کہہ دے کہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے یعنی اللہ کی قضا و قدر سے ہے۔ سورة یسین میں بھی کفار کا اپنے نبیوں کو یہی کہنا موجود ہے آیت (قَالُوْٓا اِنَّا تَــطَيَّرْنَا بِكُمْ ۚ لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّـنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِــيْمٌ 18) 36۔ يس :18) ہم تو آپ سے بدشگونی لیتے ہیں اگر تم لوگ باز نہ رہے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور سخت دیں گے۔ نبیوں نے جواب دیا کہ تمہاری بدشگونی تو ہر وقت تمہارے وجود میں موجود ہے۔ یہاں ہے کہ حضرت صالح نے جواب دیا کہ تمہاری بدشگونی تو اللہ کے پاس ہے یعنی وہی تمہیں اس کا بدلہ دے گا۔ بلکہ تم تو فتنے میں ڈالے ہوئے لوگ ہو تمہیں آزمایا جارہا ہے اطاعت سے بھی اور معصیت سے بھی اور باوجود تمہاری معصیت کے تمہیں ڈھیل دی جارہی ہے یہ اللہ کی طرف سے مہلت ہے اس کے بعد پکڑے جاؤ گے۔
اونٹنی کو مار ڈالا ثمود کے شہر میں نوفسادی شخص تھے جن کی طبعیت میں اصلاح تھی ہی نہیں یہی ان کے رؤسا اور سردار تھے انہی کے مشورے اور حکم سے اونٹنی کو مار ڈالا ان کے نام یہ ہیں رعی، رعم، ھرم، ھریم، داب، صواب، مطع، قدار بن سالف یہ آخری شخص وہ ہے جس نے اپنے ہاتھ سے اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ جس کا بیان آیت (فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ 29) 54۔ القمر :29) اور (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) میں ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جو درہم کے سکے کو تھوڑا ساکتر لیتے تھے اور اسے چلاتے تھے۔ سکے کو کاٹنا بھی ایک طرح فساد ہے چناچہ ابو داؤد وغیرہ میں حدیث ہے جس میں بلاضرورت سکے کو جو مسلمانوں میں رائج ہو کاٹنا حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے الغرض ان کا یہ فساد بھی تھا اور دیگر فساد بھی بہت سارے تھے۔ اس ناپاک گروہ نے جمع ہو کر مشورہ کیا کہ آج رات کو صالح کو اور اسکے گھرانے کو قتل کرڈالو اس پر سب نے حلف اٹھائے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ لیکن یہ لوگ حضرت صالح تک پہنچیں اس سے پہلے عذاب الٰہی ان تک پہنچ گیا اور ان کا ستیاناس کردیا۔ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی اور ان سب سرداروں کے سر پھوٹ گئے سارے ہی ایک ساتھ مرگئے ان کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے خصوصا جب انہوں نے حضرت صالح کی اونٹنی کو قتل کیا۔ اور دیکھا کہ کوئی عذاب نہیں آیا تو اب نبی اللہ ؑ کے قتل پر آمادہ ہوئے۔ مشورے کئے کہ چپ چاپ اچانک اسے اور اسے کے بال بچوں اور اس کے والی وارثوں کو ہلاک کردو اور قوم سے کہہ دو کہ ہمیں کیا خبر ؟ اگر صالح نبی ہے تو ہمارے ہاتھ لگنے کا نہیں ورنہ اسے بھی اس کی اونٹنی کے ساتھ سلادو اس ارادے سے چلے راہ ہی میں تھے جو فرشتے نے پتھر سے ان سب کے دماغ پاش پاش کردئیے ان کے مشوروں میں جو اور جماعت شریک تھی انہوں نے جب دیکھا کہ انہیں گئے ہوئے عرصہ ہوگیا اور واپس نہیں آئے تو یہ خبر لینے چلے دیکھا کہ سب کے سر پھٹے ہوئے ہیں بھیجے نکلے پڑے ہیں اور سب مردہ ہیں۔ انہوں نے حضرت صالح پر ان کے قتل کی تہمت رکھی اور انہیں مار ڈالنے کے لئے نکلے لیکن ان کی قوم ہتھیار لگا کر آگئی اور کہنے لگے دیکھو اس نے تم سے کہا کہ تین دن میں عذاب اللہ تم پر آئے گا تم یہ تین دن گذرنے دو۔ اگر یہ سچا ہے تو اس کے قتل سے اللہ کو اور ناراض کروگے اور زیادہ سخت عذاب آئیں گے اور اگر یہ جھوٹا ہے تو پھر تمہارے ہاتھ سے بچ کر کہاں جائے گا ؟ چناچہ وہ لوگ چلے گئے۔ فی الواقع ان سے نبی اللہ حضرت صالح ؑ نے صاف فرمادیا تھا کہ تم نے اللہ کی اونٹنی کو قتل کیا ہے تو تم اب تین دن تک مزے اڑالو پھر اللہ کا سچا وعدہ ہو کر رہے گا۔ یہ لوگ حضرت صالح کی زبانی یہ سب سن کر کہنے لگے یہ تو اتنی مدت سے کہہ رہا ہے آؤ ہم آج ہی اس سے فارغ ہوجائیں جس پتھر سے اونٹنی نکلی تھی اسی پہاڑی پر حضرت صالح ؑ کی ایک مسجد تھی جہاں آپ نماز پڑھا کرتے تھے انہوں نے مشورہ کیا کہ جب وہ نماز کو آئے اسی وقت راہ میں ہی اس کا کام تمام کردو۔ جب پہاڑی پر چڑھنے لگے تو دیکھا کہ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی آرہی ہے اس سے بچنے کے لئے ایک غار میں گھس گئے چٹان آکر غار کے منہ میں اس طرح ٹھہر گیا کہ غار کا منہ بالکل بند ہوگیا۔ سب کے سب ہلاک ہوگئے اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا کہ کہاں گئے ؟ انہیں یہاں عذاب آیا وہاں باقی والے وہیں ہلاک کردئیے گئے نہ ان کی خبر انہیں ہوئی اور نہ ان کی انہیں۔ حضرت صالح اور باایمان لوگوں کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے اور اپنی جانیں اللہ کے عذابوں میں گنوادیں۔ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے ان کی چال بازی کا مزہ انہیں چکھا دیا۔ اور انہیں اس سے ذرا پہلے بھی مطلق علم نہ ہوسکا۔ انجام کار ان کی فریب بازیوں کا یہ ہوا کہ سب کے سب تباہ و برباد ہوئے۔ یہ ہیں ان کی بستیاں جو سنسان پڑی ہیں انکے ظلم کی وجہ سے یہ ہلاک ہوگئے ان کے بارونق شہر تباہ کردئے گئے ذی علم لوگ ان نشانوں سے عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔ ہم نے ایمان دار متقیوں کو بال بال بچالیا۔
اونٹنی کو مار ڈالا ثمود کے شہر میں نوفسادی شخص تھے جن کی طبعیت میں اصلاح تھی ہی نہیں یہی ان کے رؤسا اور سردار تھے انہی کے مشورے اور حکم سے اونٹنی کو مار ڈالا ان کے نام یہ ہیں رعی، رعم، ھرم، ھریم، داب، صواب، مطع، قدار بن سالف یہ آخری شخص وہ ہے جس نے اپنے ہاتھ سے اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ جس کا بیان آیت (فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ 29) 54۔ القمر :29) اور (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) میں ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جو درہم کے سکے کو تھوڑا ساکتر لیتے تھے اور اسے چلاتے تھے۔ سکے کو کاٹنا بھی ایک طرح فساد ہے چناچہ ابو داؤد وغیرہ میں حدیث ہے جس میں بلاضرورت سکے کو جو مسلمانوں میں رائج ہو کاٹنا حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے الغرض ان کا یہ فساد بھی تھا اور دیگر فساد بھی بہت سارے تھے۔ اس ناپاک گروہ نے جمع ہو کر مشورہ کیا کہ آج رات کو صالح کو اور اسکے گھرانے کو قتل کرڈالو اس پر سب نے حلف اٹھائے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ لیکن یہ لوگ حضرت صالح تک پہنچیں اس سے پہلے عذاب الٰہی ان تک پہنچ گیا اور ان کا ستیاناس کردیا۔ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی اور ان سب سرداروں کے سر پھوٹ گئے سارے ہی ایک ساتھ مرگئے ان کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے خصوصا جب انہوں نے حضرت صالح کی اونٹنی کو قتل کیا۔ اور دیکھا کہ کوئی عذاب نہیں آیا تو اب نبی اللہ ؑ کے قتل پر آمادہ ہوئے۔ مشورے کئے کہ چپ چاپ اچانک اسے اور اسے کے بال بچوں اور اس کے والی وارثوں کو ہلاک کردو اور قوم سے کہہ دو کہ ہمیں کیا خبر ؟ اگر صالح نبی ہے تو ہمارے ہاتھ لگنے کا نہیں ورنہ اسے بھی اس کی اونٹنی کے ساتھ سلادو اس ارادے سے چلے راہ ہی میں تھے جو فرشتے نے پتھر سے ان سب کے دماغ پاش پاش کردئیے ان کے مشوروں میں جو اور جماعت شریک تھی انہوں نے جب دیکھا کہ انہیں گئے ہوئے عرصہ ہوگیا اور واپس نہیں آئے تو یہ خبر لینے چلے دیکھا کہ سب کے سر پھٹے ہوئے ہیں بھیجے نکلے پڑے ہیں اور سب مردہ ہیں۔ انہوں نے حضرت صالح پر ان کے قتل کی تہمت رکھی اور انہیں مار ڈالنے کے لئے نکلے لیکن ان کی قوم ہتھیار لگا کر آگئی اور کہنے لگے دیکھو اس نے تم سے کہا کہ تین دن میں عذاب اللہ تم پر آئے گا تم یہ تین دن گذرنے دو۔ اگر یہ سچا ہے تو اس کے قتل سے اللہ کو اور ناراض کروگے اور زیادہ سخت عذاب آئیں گے اور اگر یہ جھوٹا ہے تو پھر تمہارے ہاتھ سے بچ کر کہاں جائے گا ؟ چناچہ وہ لوگ چلے گئے۔ فی الواقع ان سے نبی اللہ حضرت صالح ؑ نے صاف فرمادیا تھا کہ تم نے اللہ کی اونٹنی کو قتل کیا ہے تو تم اب تین دن تک مزے اڑالو پھر اللہ کا سچا وعدہ ہو کر رہے گا۔ یہ لوگ حضرت صالح کی زبانی یہ سب سن کر کہنے لگے یہ تو اتنی مدت سے کہہ رہا ہے آؤ ہم آج ہی اس سے فارغ ہوجائیں جس پتھر سے اونٹنی نکلی تھی اسی پہاڑی پر حضرت صالح ؑ کی ایک مسجد تھی جہاں آپ نماز پڑھا کرتے تھے انہوں نے مشورہ کیا کہ جب وہ نماز کو آئے اسی وقت راہ میں ہی اس کا کام تمام کردو۔ جب پہاڑی پر چڑھنے لگے تو دیکھا کہ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی آرہی ہے اس سے بچنے کے لئے ایک غار میں گھس گئے چٹان آکر غار کے منہ میں اس طرح ٹھہر گیا کہ غار کا منہ بالکل بند ہوگیا۔ سب کے سب ہلاک ہوگئے اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا کہ کہاں گئے ؟ انہیں یہاں عذاب آیا وہاں باقی والے وہیں ہلاک کردئیے گئے نہ ان کی خبر انہیں ہوئی اور نہ ان کی انہیں۔ حضرت صالح اور باایمان لوگوں کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے اور اپنی جانیں اللہ کے عذابوں میں گنوادیں۔ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے ان کی چال بازی کا مزہ انہیں چکھا دیا۔ اور انہیں اس سے ذرا پہلے بھی مطلق علم نہ ہوسکا۔ انجام کار ان کی فریب بازیوں کا یہ ہوا کہ سب کے سب تباہ و برباد ہوئے۔ یہ ہیں ان کی بستیاں جو سنسان پڑی ہیں انکے ظلم کی وجہ سے یہ ہلاک ہوگئے ان کے بارونق شہر تباہ کردئے گئے ذی علم لوگ ان نشانوں سے عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔ ہم نے ایمان دار متقیوں کو بال بال بچالیا۔
اونٹنی کو مار ڈالا ثمود کے شہر میں نوفسادی شخص تھے جن کی طبعیت میں اصلاح تھی ہی نہیں یہی ان کے رؤسا اور سردار تھے انہی کے مشورے اور حکم سے اونٹنی کو مار ڈالا ان کے نام یہ ہیں رعی، رعم، ھرم، ھریم، داب، صواب، مطع، قدار بن سالف یہ آخری شخص وہ ہے جس نے اپنے ہاتھ سے اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ جس کا بیان آیت (فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ 29) 54۔ القمر :29) اور (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) میں ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جو درہم کے سکے کو تھوڑا ساکتر لیتے تھے اور اسے چلاتے تھے۔ سکے کو کاٹنا بھی ایک طرح فساد ہے چناچہ ابو داؤد وغیرہ میں حدیث ہے جس میں بلاضرورت سکے کو جو مسلمانوں میں رائج ہو کاٹنا حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے الغرض ان کا یہ فساد بھی تھا اور دیگر فساد بھی بہت سارے تھے۔ اس ناپاک گروہ نے جمع ہو کر مشورہ کیا کہ آج رات کو صالح کو اور اسکے گھرانے کو قتل کرڈالو اس پر سب نے حلف اٹھائے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ لیکن یہ لوگ حضرت صالح تک پہنچیں اس سے پہلے عذاب الٰہی ان تک پہنچ گیا اور ان کا ستیاناس کردیا۔ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی اور ان سب سرداروں کے سر پھوٹ گئے سارے ہی ایک ساتھ مرگئے ان کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے خصوصا جب انہوں نے حضرت صالح کی اونٹنی کو قتل کیا۔ اور دیکھا کہ کوئی عذاب نہیں آیا تو اب نبی اللہ ؑ کے قتل پر آمادہ ہوئے۔ مشورے کئے کہ چپ چاپ اچانک اسے اور اسے کے بال بچوں اور اس کے والی وارثوں کو ہلاک کردو اور قوم سے کہہ دو کہ ہمیں کیا خبر ؟ اگر صالح نبی ہے تو ہمارے ہاتھ لگنے کا نہیں ورنہ اسے بھی اس کی اونٹنی کے ساتھ سلادو اس ارادے سے چلے راہ ہی میں تھے جو فرشتے نے پتھر سے ان سب کے دماغ پاش پاش کردئیے ان کے مشوروں میں جو اور جماعت شریک تھی انہوں نے جب دیکھا کہ انہیں گئے ہوئے عرصہ ہوگیا اور واپس نہیں آئے تو یہ خبر لینے چلے دیکھا کہ سب کے سر پھٹے ہوئے ہیں بھیجے نکلے پڑے ہیں اور سب مردہ ہیں۔ انہوں نے حضرت صالح پر ان کے قتل کی تہمت رکھی اور انہیں مار ڈالنے کے لئے نکلے لیکن ان کی قوم ہتھیار لگا کر آگئی اور کہنے لگے دیکھو اس نے تم سے کہا کہ تین دن میں عذاب اللہ تم پر آئے گا تم یہ تین دن گذرنے دو۔ اگر یہ سچا ہے تو اس کے قتل سے اللہ کو اور ناراض کروگے اور زیادہ سخت عذاب آئیں گے اور اگر یہ جھوٹا ہے تو پھر تمہارے ہاتھ سے بچ کر کہاں جائے گا ؟ چناچہ وہ لوگ چلے گئے۔ فی الواقع ان سے نبی اللہ حضرت صالح ؑ نے صاف فرمادیا تھا کہ تم نے اللہ کی اونٹنی کو قتل کیا ہے تو تم اب تین دن تک مزے اڑالو پھر اللہ کا سچا وعدہ ہو کر رہے گا۔ یہ لوگ حضرت صالح کی زبانی یہ سب سن کر کہنے لگے یہ تو اتنی مدت سے کہہ رہا ہے آؤ ہم آج ہی اس سے فارغ ہوجائیں جس پتھر سے اونٹنی نکلی تھی اسی پہاڑی پر حضرت صالح ؑ کی ایک مسجد تھی جہاں آپ نماز پڑھا کرتے تھے انہوں نے مشورہ کیا کہ جب وہ نماز کو آئے اسی وقت راہ میں ہی اس کا کام تمام کردو۔ جب پہاڑی پر چڑھنے لگے تو دیکھا کہ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی آرہی ہے اس سے بچنے کے لئے ایک غار میں گھس گئے چٹان آکر غار کے منہ میں اس طرح ٹھہر گیا کہ غار کا منہ بالکل بند ہوگیا۔ سب کے سب ہلاک ہوگئے اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا کہ کہاں گئے ؟ انہیں یہاں عذاب آیا وہاں باقی والے وہیں ہلاک کردئیے گئے نہ ان کی خبر انہیں ہوئی اور نہ ان کی انہیں۔ حضرت صالح اور باایمان لوگوں کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے اور اپنی جانیں اللہ کے عذابوں میں گنوادیں۔ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے ان کی چال بازی کا مزہ انہیں چکھا دیا۔ اور انہیں اس سے ذرا پہلے بھی مطلق علم نہ ہوسکا۔ انجام کار ان کی فریب بازیوں کا یہ ہوا کہ سب کے سب تباہ و برباد ہوئے۔ یہ ہیں ان کی بستیاں جو سنسان پڑی ہیں انکے ظلم کی وجہ سے یہ ہلاک ہوگئے ان کے بارونق شہر تباہ کردئے گئے ذی علم لوگ ان نشانوں سے عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔ ہم نے ایمان دار متقیوں کو بال بال بچالیا۔
اونٹنی کو مار ڈالا ثمود کے شہر میں نوفسادی شخص تھے جن کی طبعیت میں اصلاح تھی ہی نہیں یہی ان کے رؤسا اور سردار تھے انہی کے مشورے اور حکم سے اونٹنی کو مار ڈالا ان کے نام یہ ہیں رعی، رعم، ھرم، ھریم، داب، صواب، مطع، قدار بن سالف یہ آخری شخص وہ ہے جس نے اپنے ہاتھ سے اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ جس کا بیان آیت (فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ 29) 54۔ القمر :29) اور (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) میں ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جو درہم کے سکے کو تھوڑا ساکتر لیتے تھے اور اسے چلاتے تھے۔ سکے کو کاٹنا بھی ایک طرح فساد ہے چناچہ ابو داؤد وغیرہ میں حدیث ہے جس میں بلاضرورت سکے کو جو مسلمانوں میں رائج ہو کاٹنا حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے الغرض ان کا یہ فساد بھی تھا اور دیگر فساد بھی بہت سارے تھے۔ اس ناپاک گروہ نے جمع ہو کر مشورہ کیا کہ آج رات کو صالح کو اور اسکے گھرانے کو قتل کرڈالو اس پر سب نے حلف اٹھائے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ لیکن یہ لوگ حضرت صالح تک پہنچیں اس سے پہلے عذاب الٰہی ان تک پہنچ گیا اور ان کا ستیاناس کردیا۔ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی اور ان سب سرداروں کے سر پھوٹ گئے سارے ہی ایک ساتھ مرگئے ان کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے خصوصا جب انہوں نے حضرت صالح کی اونٹنی کو قتل کیا۔ اور دیکھا کہ کوئی عذاب نہیں آیا تو اب نبی اللہ ؑ کے قتل پر آمادہ ہوئے۔ مشورے کئے کہ چپ چاپ اچانک اسے اور اسے کے بال بچوں اور اس کے والی وارثوں کو ہلاک کردو اور قوم سے کہہ دو کہ ہمیں کیا خبر ؟ اگر صالح نبی ہے تو ہمارے ہاتھ لگنے کا نہیں ورنہ اسے بھی اس کی اونٹنی کے ساتھ سلادو اس ارادے سے چلے راہ ہی میں تھے جو فرشتے نے پتھر سے ان سب کے دماغ پاش پاش کردئیے ان کے مشوروں میں جو اور جماعت شریک تھی انہوں نے جب دیکھا کہ انہیں گئے ہوئے عرصہ ہوگیا اور واپس نہیں آئے تو یہ خبر لینے چلے دیکھا کہ سب کے سر پھٹے ہوئے ہیں بھیجے نکلے پڑے ہیں اور سب مردہ ہیں۔ انہوں نے حضرت صالح پر ان کے قتل کی تہمت رکھی اور انہیں مار ڈالنے کے لئے نکلے لیکن ان کی قوم ہتھیار لگا کر آگئی اور کہنے لگے دیکھو اس نے تم سے کہا کہ تین دن میں عذاب اللہ تم پر آئے گا تم یہ تین دن گذرنے دو۔ اگر یہ سچا ہے تو اس کے قتل سے اللہ کو اور ناراض کروگے اور زیادہ سخت عذاب آئیں گے اور اگر یہ جھوٹا ہے تو پھر تمہارے ہاتھ سے بچ کر کہاں جائے گا ؟ چناچہ وہ لوگ چلے گئے۔ فی الواقع ان سے نبی اللہ حضرت صالح ؑ نے صاف فرمادیا تھا کہ تم نے اللہ کی اونٹنی کو قتل کیا ہے تو تم اب تین دن تک مزے اڑالو پھر اللہ کا سچا وعدہ ہو کر رہے گا۔ یہ لوگ حضرت صالح کی زبانی یہ سب سن کر کہنے لگے یہ تو اتنی مدت سے کہہ رہا ہے آؤ ہم آج ہی اس سے فارغ ہوجائیں جس پتھر سے اونٹنی نکلی تھی اسی پہاڑی پر حضرت صالح ؑ کی ایک مسجد تھی جہاں آپ نماز پڑھا کرتے تھے انہوں نے مشورہ کیا کہ جب وہ نماز کو آئے اسی وقت راہ میں ہی اس کا کام تمام کردو۔ جب پہاڑی پر چڑھنے لگے تو دیکھا کہ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی آرہی ہے اس سے بچنے کے لئے ایک غار میں گھس گئے چٹان آکر غار کے منہ میں اس طرح ٹھہر گیا کہ غار کا منہ بالکل بند ہوگیا۔ سب کے سب ہلاک ہوگئے اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا کہ کہاں گئے ؟ انہیں یہاں عذاب آیا وہاں باقی والے وہیں ہلاک کردئیے گئے نہ ان کی خبر انہیں ہوئی اور نہ ان کی انہیں۔ حضرت صالح اور باایمان لوگوں کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے اور اپنی جانیں اللہ کے عذابوں میں گنوادیں۔ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے ان کی چال بازی کا مزہ انہیں چکھا دیا۔ اور انہیں اس سے ذرا پہلے بھی مطلق علم نہ ہوسکا۔ انجام کار ان کی فریب بازیوں کا یہ ہوا کہ سب کے سب تباہ و برباد ہوئے۔ یہ ہیں ان کی بستیاں جو سنسان پڑی ہیں انکے ظلم کی وجہ سے یہ ہلاک ہوگئے ان کے بارونق شہر تباہ کردئے گئے ذی علم لوگ ان نشانوں سے عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔ ہم نے ایمان دار متقیوں کو بال بال بچالیا۔
اونٹنی کو مار ڈالا ثمود کے شہر میں نوفسادی شخص تھے جن کی طبعیت میں اصلاح تھی ہی نہیں یہی ان کے رؤسا اور سردار تھے انہی کے مشورے اور حکم سے اونٹنی کو مار ڈالا ان کے نام یہ ہیں رعی، رعم، ھرم، ھریم، داب، صواب، مطع، قدار بن سالف یہ آخری شخص وہ ہے جس نے اپنے ہاتھ سے اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ جس کا بیان آیت (فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ 29) 54۔ القمر :29) اور (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) میں ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جو درہم کے سکے کو تھوڑا ساکتر لیتے تھے اور اسے چلاتے تھے۔ سکے کو کاٹنا بھی ایک طرح فساد ہے چناچہ ابو داؤد وغیرہ میں حدیث ہے جس میں بلاضرورت سکے کو جو مسلمانوں میں رائج ہو کاٹنا حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے الغرض ان کا یہ فساد بھی تھا اور دیگر فساد بھی بہت سارے تھے۔ اس ناپاک گروہ نے جمع ہو کر مشورہ کیا کہ آج رات کو صالح کو اور اسکے گھرانے کو قتل کرڈالو اس پر سب نے حلف اٹھائے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ لیکن یہ لوگ حضرت صالح تک پہنچیں اس سے پہلے عذاب الٰہی ان تک پہنچ گیا اور ان کا ستیاناس کردیا۔ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی اور ان سب سرداروں کے سر پھوٹ گئے سارے ہی ایک ساتھ مرگئے ان کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے خصوصا جب انہوں نے حضرت صالح کی اونٹنی کو قتل کیا۔ اور دیکھا کہ کوئی عذاب نہیں آیا تو اب نبی اللہ ؑ کے قتل پر آمادہ ہوئے۔ مشورے کئے کہ چپ چاپ اچانک اسے اور اسے کے بال بچوں اور اس کے والی وارثوں کو ہلاک کردو اور قوم سے کہہ دو کہ ہمیں کیا خبر ؟ اگر صالح نبی ہے تو ہمارے ہاتھ لگنے کا نہیں ورنہ اسے بھی اس کی اونٹنی کے ساتھ سلادو اس ارادے سے چلے راہ ہی میں تھے جو فرشتے نے پتھر سے ان سب کے دماغ پاش پاش کردئیے ان کے مشوروں میں جو اور جماعت شریک تھی انہوں نے جب دیکھا کہ انہیں گئے ہوئے عرصہ ہوگیا اور واپس نہیں آئے تو یہ خبر لینے چلے دیکھا کہ سب کے سر پھٹے ہوئے ہیں بھیجے نکلے پڑے ہیں اور سب مردہ ہیں۔ انہوں نے حضرت صالح پر ان کے قتل کی تہمت رکھی اور انہیں مار ڈالنے کے لئے نکلے لیکن ان کی قوم ہتھیار لگا کر آگئی اور کہنے لگے دیکھو اس نے تم سے کہا کہ تین دن میں عذاب اللہ تم پر آئے گا تم یہ تین دن گذرنے دو۔ اگر یہ سچا ہے تو اس کے قتل سے اللہ کو اور ناراض کروگے اور زیادہ سخت عذاب آئیں گے اور اگر یہ جھوٹا ہے تو پھر تمہارے ہاتھ سے بچ کر کہاں جائے گا ؟ چناچہ وہ لوگ چلے گئے۔ فی الواقع ان سے نبی اللہ حضرت صالح ؑ نے صاف فرمادیا تھا کہ تم نے اللہ کی اونٹنی کو قتل کیا ہے تو تم اب تین دن تک مزے اڑالو پھر اللہ کا سچا وعدہ ہو کر رہے گا۔ یہ لوگ حضرت صالح کی زبانی یہ سب سن کر کہنے لگے یہ تو اتنی مدت سے کہہ رہا ہے آؤ ہم آج ہی اس سے فارغ ہوجائیں جس پتھر سے اونٹنی نکلی تھی اسی پہاڑی پر حضرت صالح ؑ کی ایک مسجد تھی جہاں آپ نماز پڑھا کرتے تھے انہوں نے مشورہ کیا کہ جب وہ نماز کو آئے اسی وقت راہ میں ہی اس کا کام تمام کردو۔ جب پہاڑی پر چڑھنے لگے تو دیکھا کہ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی آرہی ہے اس سے بچنے کے لئے ایک غار میں گھس گئے چٹان آکر غار کے منہ میں اس طرح ٹھہر گیا کہ غار کا منہ بالکل بند ہوگیا۔ سب کے سب ہلاک ہوگئے اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا کہ کہاں گئے ؟ انہیں یہاں عذاب آیا وہاں باقی والے وہیں ہلاک کردئیے گئے نہ ان کی خبر انہیں ہوئی اور نہ ان کی انہیں۔ حضرت صالح اور باایمان لوگوں کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے اور اپنی جانیں اللہ کے عذابوں میں گنوادیں۔ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے ان کی چال بازی کا مزہ انہیں چکھا دیا۔ اور انہیں اس سے ذرا پہلے بھی مطلق علم نہ ہوسکا۔ انجام کار ان کی فریب بازیوں کا یہ ہوا کہ سب کے سب تباہ و برباد ہوئے۔ یہ ہیں ان کی بستیاں جو سنسان پڑی ہیں انکے ظلم کی وجہ سے یہ ہلاک ہوگئے ان کے بارونق شہر تباہ کردئے گئے ذی علم لوگ ان نشانوں سے عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔ ہم نے ایمان دار متقیوں کو بال بال بچالیا۔
اونٹنی کو مار ڈالا ثمود کے شہر میں نوفسادی شخص تھے جن کی طبعیت میں اصلاح تھی ہی نہیں یہی ان کے رؤسا اور سردار تھے انہی کے مشورے اور حکم سے اونٹنی کو مار ڈالا ان کے نام یہ ہیں رعی، رعم، ھرم، ھریم، داب، صواب، مطع، قدار بن سالف یہ آخری شخص وہ ہے جس نے اپنے ہاتھ سے اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ جس کا بیان آیت (فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ 29) 54۔ القمر :29) اور (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) میں ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جو درہم کے سکے کو تھوڑا ساکتر لیتے تھے اور اسے چلاتے تھے۔ سکے کو کاٹنا بھی ایک طرح فساد ہے چناچہ ابو داؤد وغیرہ میں حدیث ہے جس میں بلاضرورت سکے کو جو مسلمانوں میں رائج ہو کاٹنا حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے الغرض ان کا یہ فساد بھی تھا اور دیگر فساد بھی بہت سارے تھے۔ اس ناپاک گروہ نے جمع ہو کر مشورہ کیا کہ آج رات کو صالح کو اور اسکے گھرانے کو قتل کرڈالو اس پر سب نے حلف اٹھائے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ لیکن یہ لوگ حضرت صالح تک پہنچیں اس سے پہلے عذاب الٰہی ان تک پہنچ گیا اور ان کا ستیاناس کردیا۔ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی اور ان سب سرداروں کے سر پھوٹ گئے سارے ہی ایک ساتھ مرگئے ان کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے خصوصا جب انہوں نے حضرت صالح کی اونٹنی کو قتل کیا۔ اور دیکھا کہ کوئی عذاب نہیں آیا تو اب نبی اللہ ؑ کے قتل پر آمادہ ہوئے۔ مشورے کئے کہ چپ چاپ اچانک اسے اور اسے کے بال بچوں اور اس کے والی وارثوں کو ہلاک کردو اور قوم سے کہہ دو کہ ہمیں کیا خبر ؟ اگر صالح نبی ہے تو ہمارے ہاتھ لگنے کا نہیں ورنہ اسے بھی اس کی اونٹنی کے ساتھ سلادو اس ارادے سے چلے راہ ہی میں تھے جو فرشتے نے پتھر سے ان سب کے دماغ پاش پاش کردئیے ان کے مشوروں میں جو اور جماعت شریک تھی انہوں نے جب دیکھا کہ انہیں گئے ہوئے عرصہ ہوگیا اور واپس نہیں آئے تو یہ خبر لینے چلے دیکھا کہ سب کے سر پھٹے ہوئے ہیں بھیجے نکلے پڑے ہیں اور سب مردہ ہیں۔ انہوں نے حضرت صالح پر ان کے قتل کی تہمت رکھی اور انہیں مار ڈالنے کے لئے نکلے لیکن ان کی قوم ہتھیار لگا کر آگئی اور کہنے لگے دیکھو اس نے تم سے کہا کہ تین دن میں عذاب اللہ تم پر آئے گا تم یہ تین دن گذرنے دو۔ اگر یہ سچا ہے تو اس کے قتل سے اللہ کو اور ناراض کروگے اور زیادہ سخت عذاب آئیں گے اور اگر یہ جھوٹا ہے تو پھر تمہارے ہاتھ سے بچ کر کہاں جائے گا ؟ چناچہ وہ لوگ چلے گئے۔ فی الواقع ان سے نبی اللہ حضرت صالح ؑ نے صاف فرمادیا تھا کہ تم نے اللہ کی اونٹنی کو قتل کیا ہے تو تم اب تین دن تک مزے اڑالو پھر اللہ کا سچا وعدہ ہو کر رہے گا۔ یہ لوگ حضرت صالح کی زبانی یہ سب سن کر کہنے لگے یہ تو اتنی مدت سے کہہ رہا ہے آؤ ہم آج ہی اس سے فارغ ہوجائیں جس پتھر سے اونٹنی نکلی تھی اسی پہاڑی پر حضرت صالح ؑ کی ایک مسجد تھی جہاں آپ نماز پڑھا کرتے تھے انہوں نے مشورہ کیا کہ جب وہ نماز کو آئے اسی وقت راہ میں ہی اس کا کام تمام کردو۔ جب پہاڑی پر چڑھنے لگے تو دیکھا کہ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی آرہی ہے اس سے بچنے کے لئے ایک غار میں گھس گئے چٹان آکر غار کے منہ میں اس طرح ٹھہر گیا کہ غار کا منہ بالکل بند ہوگیا۔ سب کے سب ہلاک ہوگئے اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا کہ کہاں گئے ؟ انہیں یہاں عذاب آیا وہاں باقی والے وہیں ہلاک کردئیے گئے نہ ان کی خبر انہیں ہوئی اور نہ ان کی انہیں۔ حضرت صالح اور باایمان لوگوں کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے اور اپنی جانیں اللہ کے عذابوں میں گنوادیں۔ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے ان کی چال بازی کا مزہ انہیں چکھا دیا۔ اور انہیں اس سے ذرا پہلے بھی مطلق علم نہ ہوسکا۔ انجام کار ان کی فریب بازیوں کا یہ ہوا کہ سب کے سب تباہ و برباد ہوئے۔ یہ ہیں ان کی بستیاں جو سنسان پڑی ہیں انکے ظلم کی وجہ سے یہ ہلاک ہوگئے ان کے بارونق شہر تباہ کردئے گئے ذی علم لوگ ان نشانوں سے عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔ ہم نے ایمان دار متقیوں کو بال بال بچالیا۔
ہم جنسوں سے جنسی تعلق (نتیجہ ایڈز) اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت لوط ؑ کا واقعہ بیان فرما رہا ہے کہ آپ نے اپنی امت یعنی اپنی قوم کو اس کے نالائق فعل پر جس کا فاعل ان سے پہلے کوئی نہ ہوا تھا۔ یعنی اغلام بازی پر ڈرایا۔ تمام قوم کی یہ حالت تھی کہ مرد مردوں سے عورت عورتوں سے شہوت رانی کرلیا کرتی تھیں۔ ساتھ ہی اتنے بےحیا ہوگئے تھے کہ اس پاجی فعل کو پوشیدہ کرنا بھی کچھ ضروری نہیں جانتے تھے۔ اپنے مجمعوں میں واہی فعل کرتے تھے۔ عورتوں کو چھوڑ مردوں کے پاس آتے تھے اس لئے آپ نے فرمایا کہ اپنی اس جہالت سے باز آجاؤ تم تو ایسے گئے گزرے اور اتنے نادان ہوئے کہ شرعی پاکیزگی کے ساتھ ہی تم سے طبعی بھی جاتی رہی۔ جیسے دوسری آیت میں ہے (اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِيْنَ01605ۙ) 26۔ الشعراء :165) کیا تم مردوں کے پاس آتے ہو اور عورتوں کو جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے جوڑ بنائے ہیں چھوڑتے ہو ؟ بلکہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو۔ قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ جب لوط اور لوط والے تمہارے اس فعل سے بیزار ہیں اور نہ وہ تمہاری مانتے ہیں نہ تم ان کی۔ تو پھر ہمیشہ کی اس بحث و تکرار کو ختم کیوں نہیں کردیتے ؟ لوط ؑ کے گھرانے کو دیس نکالا دے کر ان کے روزمرہ کے کچوکوں سے نجات حاصل کرلو۔ جب کافروں نے پختہ ارادہ کرلیا اور اس پر جم گئے اور اجماع ہوگیا تو اللہ نے انہیں کو ہلاک کردیا اور اپنے پاک بندے حضرت لوط کو اور ان کی اہل کو ان سے جو عذاب ان پر آئے ان سے بچالیا۔ ہاں آپ کی بیوی جو قوم کے ساتھ ہی تھی وہ پہلے سے ہی ان ہلاک ہونے والوں میں لکھی جا چکی تھی وہ یہاں باقی رہ گئی اور عذاب کے ساتھ تباہ ہوئی کیونکہ یہ انہیں ان کے دین اور ان کے طریقوں میں مدد دیتی تھی انکی بد اعمالیوں کو پسند کرتی تھی۔ اسی نے حضرت لوط ؑ کے مہمانوں کی خبر قوم کو دی تھی۔ لیکن یہ خیال رہے کہ معاذاللہ ان کی اس فحش کاری میں یہ شریک نہ تھی۔ اللہ کے نبی ؑ کی بزرگی کے خلاف ہے کہ ان کی بیوی بدکار ہو۔ اس قوم پر آسمان سے پتھر برسائے گئے جن پر ان کے نام کندہ تھے ہر ایک پر اسی کے نام پتھر آیا اور ایک بھی ان میں سے بچ نہ سکا۔ ظالموں سے اللہ کی سزا دور نہیں۔ ان پر حجت ربانی قائم ہوچکی تھی۔ انہیں ڈرایا اور دھمکایا جاچکا تھا۔ تبلیغ رسالت کافی طور پر ہوچکی تھی۔ لیکن انہوں نے مخالفت میں جھٹلانے میں اور اپنی بےایمانی پر اڑنے میں کمی نہیں کی۔ نبی اللہ ؑ کو تکلیفیں پہنچائیں بلکہ انہیں نکال دینے کا ارادہ کیا اس وقت اس بدترین بارش نے یعنی سنگ باری نے انہیں فنا کردیا۔
ہم جنسوں سے جنسی تعلق (نتیجہ ایڈز) اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت لوط ؑ کا واقعہ بیان فرما رہا ہے کہ آپ نے اپنی امت یعنی اپنی قوم کو اس کے نالائق فعل پر جس کا فاعل ان سے پہلے کوئی نہ ہوا تھا۔ یعنی اغلام بازی پر ڈرایا۔ تمام قوم کی یہ حالت تھی کہ مرد مردوں سے عورت عورتوں سے شہوت رانی کرلیا کرتی تھیں۔ ساتھ ہی اتنے بےحیا ہوگئے تھے کہ اس پاجی فعل کو پوشیدہ کرنا بھی کچھ ضروری نہیں جانتے تھے۔ اپنے مجمعوں میں واہی فعل کرتے تھے۔ عورتوں کو چھوڑ مردوں کے پاس آتے تھے اس لئے آپ نے فرمایا کہ اپنی اس جہالت سے باز آجاؤ تم تو ایسے گئے گزرے اور اتنے نادان ہوئے کہ شرعی پاکیزگی کے ساتھ ہی تم سے طبعی بھی جاتی رہی۔ جیسے دوسری آیت میں ہے (اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِيْنَ01605ۙ) 26۔ الشعراء :165) کیا تم مردوں کے پاس آتے ہو اور عورتوں کو جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے جوڑ بنائے ہیں چھوڑتے ہو ؟ بلکہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو۔ قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ جب لوط اور لوط والے تمہارے اس فعل سے بیزار ہیں اور نہ وہ تمہاری مانتے ہیں نہ تم ان کی۔ تو پھر ہمیشہ کی اس بحث و تکرار کو ختم کیوں نہیں کردیتے ؟ لوط ؑ کے گھرانے کو دیس نکالا دے کر ان کے روزمرہ کے کچوکوں سے نجات حاصل کرلو۔ جب کافروں نے پختہ ارادہ کرلیا اور اس پر جم گئے اور اجماع ہوگیا تو اللہ نے انہیں کو ہلاک کردیا اور اپنے پاک بندے حضرت لوط کو اور ان کی اہل کو ان سے جو عذاب ان پر آئے ان سے بچالیا۔ ہاں آپ کی بیوی جو قوم کے ساتھ ہی تھی وہ پہلے سے ہی ان ہلاک ہونے والوں میں لکھی جا چکی تھی وہ یہاں باقی رہ گئی اور عذاب کے ساتھ تباہ ہوئی کیونکہ یہ انہیں ان کے دین اور ان کے طریقوں میں مدد دیتی تھی انکی بد اعمالیوں کو پسند کرتی تھی۔ اسی نے حضرت لوط ؑ کے مہمانوں کی خبر قوم کو دی تھی۔ لیکن یہ خیال رہے کہ معاذاللہ ان کی اس فحش کاری میں یہ شریک نہ تھی۔ اللہ کے نبی ؑ کی بزرگی کے خلاف ہے کہ ان کی بیوی بدکار ہو۔ اس قوم پر آسمان سے پتھر برسائے گئے جن پر ان کے نام کندہ تھے ہر ایک پر اسی کے نام پتھر آیا اور ایک بھی ان میں سے بچ نہ سکا۔ ظالموں سے اللہ کی سزا دور نہیں۔ ان پر حجت ربانی قائم ہوچکی تھی۔ انہیں ڈرایا اور دھمکایا جاچکا تھا۔ تبلیغ رسالت کافی طور پر ہوچکی تھی۔ لیکن انہوں نے مخالفت میں جھٹلانے میں اور اپنی بےایمانی پر اڑنے میں کمی نہیں کی۔ نبی اللہ ؑ کو تکلیفیں پہنچائیں بلکہ انہیں نکال دینے کا ارادہ کیا اس وقت اس بدترین بارش نے یعنی سنگ باری نے انہیں فنا کردیا۔
ہم جنسوں سے جنسی تعلق (نتیجہ ایڈز) اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت لوط ؑ کا واقعہ بیان فرما رہا ہے کہ آپ نے اپنی امت یعنی اپنی قوم کو اس کے نالائق فعل پر جس کا فاعل ان سے پہلے کوئی نہ ہوا تھا۔ یعنی اغلام بازی پر ڈرایا۔ تمام قوم کی یہ حالت تھی کہ مرد مردوں سے عورت عورتوں سے شہوت رانی کرلیا کرتی تھیں۔ ساتھ ہی اتنے بےحیا ہوگئے تھے کہ اس پاجی فعل کو پوشیدہ کرنا بھی کچھ ضروری نہیں جانتے تھے۔ اپنے مجمعوں میں واہی فعل کرتے تھے۔ عورتوں کو چھوڑ مردوں کے پاس آتے تھے اس لئے آپ نے فرمایا کہ اپنی اس جہالت سے باز آجاؤ تم تو ایسے گئے گزرے اور اتنے نادان ہوئے کہ شرعی پاکیزگی کے ساتھ ہی تم سے طبعی بھی جاتی رہی۔ جیسے دوسری آیت میں ہے (اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِيْنَ01605ۙ) 26۔ الشعراء :165) کیا تم مردوں کے پاس آتے ہو اور عورتوں کو جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے جوڑ بنائے ہیں چھوڑتے ہو ؟ بلکہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو۔ قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ جب لوط اور لوط والے تمہارے اس فعل سے بیزار ہیں اور نہ وہ تمہاری مانتے ہیں نہ تم ان کی۔ تو پھر ہمیشہ کی اس بحث و تکرار کو ختم کیوں نہیں کردیتے ؟ لوط ؑ کے گھرانے کو دیس نکالا دے کر ان کے روزمرہ کے کچوکوں سے نجات حاصل کرلو۔ جب کافروں نے پختہ ارادہ کرلیا اور اس پر جم گئے اور اجماع ہوگیا تو اللہ نے انہیں کو ہلاک کردیا اور اپنے پاک بندے حضرت لوط کو اور ان کی اہل کو ان سے جو عذاب ان پر آئے ان سے بچالیا۔ ہاں آپ کی بیوی جو قوم کے ساتھ ہی تھی وہ پہلے سے ہی ان ہلاک ہونے والوں میں لکھی جا چکی تھی وہ یہاں باقی رہ گئی اور عذاب کے ساتھ تباہ ہوئی کیونکہ یہ انہیں ان کے دین اور ان کے طریقوں میں مدد دیتی تھی انکی بد اعمالیوں کو پسند کرتی تھی۔ اسی نے حضرت لوط ؑ کے مہمانوں کی خبر قوم کو دی تھی۔ لیکن یہ خیال رہے کہ معاذاللہ ان کی اس فحش کاری میں یہ شریک نہ تھی۔ اللہ کے نبی ؑ کی بزرگی کے خلاف ہے کہ ان کی بیوی بدکار ہو۔ اس قوم پر آسمان سے پتھر برسائے گئے جن پر ان کے نام کندہ تھے ہر ایک پر اسی کے نام پتھر آیا اور ایک بھی ان میں سے بچ نہ سکا۔ ظالموں سے اللہ کی سزا دور نہیں۔ ان پر حجت ربانی قائم ہوچکی تھی۔ انہیں ڈرایا اور دھمکایا جاچکا تھا۔ تبلیغ رسالت کافی طور پر ہوچکی تھی۔ لیکن انہوں نے مخالفت میں جھٹلانے میں اور اپنی بےایمانی پر اڑنے میں کمی نہیں کی۔ نبی اللہ ؑ کو تکلیفیں پہنچائیں بلکہ انہیں نکال دینے کا ارادہ کیا اس وقت اس بدترین بارش نے یعنی سنگ باری نے انہیں فنا کردیا۔
ہم جنسوں سے جنسی تعلق (نتیجہ ایڈز) اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت لوط ؑ کا واقعہ بیان فرما رہا ہے کہ آپ نے اپنی امت یعنی اپنی قوم کو اس کے نالائق فعل پر جس کا فاعل ان سے پہلے کوئی نہ ہوا تھا۔ یعنی اغلام بازی پر ڈرایا۔ تمام قوم کی یہ حالت تھی کہ مرد مردوں سے عورت عورتوں سے شہوت رانی کرلیا کرتی تھیں۔ ساتھ ہی اتنے بےحیا ہوگئے تھے کہ اس پاجی فعل کو پوشیدہ کرنا بھی کچھ ضروری نہیں جانتے تھے۔ اپنے مجمعوں میں واہی فعل کرتے تھے۔ عورتوں کو چھوڑ مردوں کے پاس آتے تھے اس لئے آپ نے فرمایا کہ اپنی اس جہالت سے باز آجاؤ تم تو ایسے گئے گزرے اور اتنے نادان ہوئے کہ شرعی پاکیزگی کے ساتھ ہی تم سے طبعی بھی جاتی رہی۔ جیسے دوسری آیت میں ہے (اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِيْنَ01605ۙ) 26۔ الشعراء :165) کیا تم مردوں کے پاس آتے ہو اور عورتوں کو جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے جوڑ بنائے ہیں چھوڑتے ہو ؟ بلکہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو۔ قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ جب لوط اور لوط والے تمہارے اس فعل سے بیزار ہیں اور نہ وہ تمہاری مانتے ہیں نہ تم ان کی۔ تو پھر ہمیشہ کی اس بحث و تکرار کو ختم کیوں نہیں کردیتے ؟ لوط ؑ کے گھرانے کو دیس نکالا دے کر ان کے روزمرہ کے کچوکوں سے نجات حاصل کرلو۔ جب کافروں نے پختہ ارادہ کرلیا اور اس پر جم گئے اور اجماع ہوگیا تو اللہ نے انہیں کو ہلاک کردیا اور اپنے پاک بندے حضرت لوط کو اور ان کی اہل کو ان سے جو عذاب ان پر آئے ان سے بچالیا۔ ہاں آپ کی بیوی جو قوم کے ساتھ ہی تھی وہ پہلے سے ہی ان ہلاک ہونے والوں میں لکھی جا چکی تھی وہ یہاں باقی رہ گئی اور عذاب کے ساتھ تباہ ہوئی کیونکہ یہ انہیں ان کے دین اور ان کے طریقوں میں مدد دیتی تھی انکی بد اعمالیوں کو پسند کرتی تھی۔ اسی نے حضرت لوط ؑ کے مہمانوں کی خبر قوم کو دی تھی۔ لیکن یہ خیال رہے کہ معاذاللہ ان کی اس فحش کاری میں یہ شریک نہ تھی۔ اللہ کے نبی ؑ کی بزرگی کے خلاف ہے کہ ان کی بیوی بدکار ہو۔ اس قوم پر آسمان سے پتھر برسائے گئے جن پر ان کے نام کندہ تھے ہر ایک پر اسی کے نام پتھر آیا اور ایک بھی ان میں سے بچ نہ سکا۔ ظالموں سے اللہ کی سزا دور نہیں۔ ان پر حجت ربانی قائم ہوچکی تھی۔ انہیں ڈرایا اور دھمکایا جاچکا تھا۔ تبلیغ رسالت کافی طور پر ہوچکی تھی۔ لیکن انہوں نے مخالفت میں جھٹلانے میں اور اپنی بےایمانی پر اڑنے میں کمی نہیں کی۔ نبی اللہ ؑ کو تکلیفیں پہنچائیں بلکہ انہیں نکال دینے کا ارادہ کیا اس وقت اس بدترین بارش نے یعنی سنگ باری نے انہیں فنا کردیا۔
ہم جنسوں سے جنسی تعلق (نتیجہ ایڈز) اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت لوط ؑ کا واقعہ بیان فرما رہا ہے کہ آپ نے اپنی امت یعنی اپنی قوم کو اس کے نالائق فعل پر جس کا فاعل ان سے پہلے کوئی نہ ہوا تھا۔ یعنی اغلام بازی پر ڈرایا۔ تمام قوم کی یہ حالت تھی کہ مرد مردوں سے عورت عورتوں سے شہوت رانی کرلیا کرتی تھیں۔ ساتھ ہی اتنے بےحیا ہوگئے تھے کہ اس پاجی فعل کو پوشیدہ کرنا بھی کچھ ضروری نہیں جانتے تھے۔ اپنے مجمعوں میں واہی فعل کرتے تھے۔ عورتوں کو چھوڑ مردوں کے پاس آتے تھے اس لئے آپ نے فرمایا کہ اپنی اس جہالت سے باز آجاؤ تم تو ایسے گئے گزرے اور اتنے نادان ہوئے کہ شرعی پاکیزگی کے ساتھ ہی تم سے طبعی بھی جاتی رہی۔ جیسے دوسری آیت میں ہے (اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِيْنَ01605ۙ) 26۔ الشعراء :165) کیا تم مردوں کے پاس آتے ہو اور عورتوں کو جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے جوڑ بنائے ہیں چھوڑتے ہو ؟ بلکہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو۔ قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ جب لوط اور لوط والے تمہارے اس فعل سے بیزار ہیں اور نہ وہ تمہاری مانتے ہیں نہ تم ان کی۔ تو پھر ہمیشہ کی اس بحث و تکرار کو ختم کیوں نہیں کردیتے ؟ لوط ؑ کے گھرانے کو دیس نکالا دے کر ان کے روزمرہ کے کچوکوں سے نجات حاصل کرلو۔ جب کافروں نے پختہ ارادہ کرلیا اور اس پر جم گئے اور اجماع ہوگیا تو اللہ نے انہیں کو ہلاک کردیا اور اپنے پاک بندے حضرت لوط کو اور ان کی اہل کو ان سے جو عذاب ان پر آئے ان سے بچالیا۔ ہاں آپ کی بیوی جو قوم کے ساتھ ہی تھی وہ پہلے سے ہی ان ہلاک ہونے والوں میں لکھی جا چکی تھی وہ یہاں باقی رہ گئی اور عذاب کے ساتھ تباہ ہوئی کیونکہ یہ انہیں ان کے دین اور ان کے طریقوں میں مدد دیتی تھی انکی بد اعمالیوں کو پسند کرتی تھی۔ اسی نے حضرت لوط ؑ کے مہمانوں کی خبر قوم کو دی تھی۔ لیکن یہ خیال رہے کہ معاذاللہ ان کی اس فحش کاری میں یہ شریک نہ تھی۔ اللہ کے نبی ؑ کی بزرگی کے خلاف ہے کہ ان کی بیوی بدکار ہو۔ اس قوم پر آسمان سے پتھر برسائے گئے جن پر ان کے نام کندہ تھے ہر ایک پر اسی کے نام پتھر آیا اور ایک بھی ان میں سے بچ نہ سکا۔ ظالموں سے اللہ کی سزا دور نہیں۔ ان پر حجت ربانی قائم ہوچکی تھی۔ انہیں ڈرایا اور دھمکایا جاچکا تھا۔ تبلیغ رسالت کافی طور پر ہوچکی تھی۔ لیکن انہوں نے مخالفت میں جھٹلانے میں اور اپنی بےایمانی پر اڑنے میں کمی نہیں کی۔ نبی اللہ ؑ کو تکلیفیں پہنچائیں بلکہ انہیں نکال دینے کا ارادہ کیا اس وقت اس بدترین بارش نے یعنی سنگ باری نے انہیں فنا کردیا۔
حضور ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ کہیں کہ ساری تعریفوں کے لائق فقط اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اسی نے اپنے بندوں کو اپنی بیشمار نعمتیں عطا فرما رکھی ہیں۔ اس کی صفتیں عالی ہیں اس کے نام بلند اور پاک ہیں اور حکم ہوتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برگذیدہ بندوں پر سلام بھیجیں جیسے انبیاء اور رسول۔ حمدوصلوٰۃ کا ساتھ ہی ذکر آیت (سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ01800ۚ) 37۔ الصافات :180) ، میں بھی ہے۔ ان کے تابعداروں کے بچالینے اور مخالفین کے غارت کردینے کی نعمت بیان فرما کر اپنی تعریفیں کرنے والے اور اپنے نیک بندوں پر سلام بھیجنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد بطور سوال کے مشرکوں کے اس فعل پر انکار کیا کہ وہ اللہ عزوجل کے ساتھ اس کی عبادت میں دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ پاک اور بری ہے۔
بیان کیا جارہا ہے کہ کل کائنات کار چلانے والا، سب کا پیدا کرنے والا، سب کو روزیاں دینے والا، سب کی حفاظتیں کرنے والا، تمام جہان کی تدبیر کرنے والا، صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ان بلند آسمانوں کو چمکتے ستاروں کو اسی نے پیدا کیا ہے اس بھاری بوجھل زمین کو ان بلند چوٹیوں والے پہاڑوں کو ان پھیلے ہوئے میدانوں کو اسی نے پیدا کیا ہے۔ کھیتیاں، باغات، پھل، پھول، دریا، سمندر، حیوانات، جنات، انسان، خشکی اور تری کے عام جاندار اسی ایک کے بنائے ہوئے ہیں۔ آسمانوں سے پانی اتارنے والا وہی ہے۔ اسے اپنی مخلوق کو روزی دینے کا ذریعہ اسی نے بنایا، باغات کھیت سب وہی اگاتا ہے۔ جو خوش منظر ہونے کے علاوہ بہت مفید ہیں۔ خوش ذائقہ ہونے کے علاوہ زندگی کو قائم رکھنے والے ہوتے ہیں۔ تم میں سے یا تمہارے معبودان باطل میں سے کوئی بھی نہ کسی چیز کے پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے نہ کسی درخت اگانے کی۔ بس وہی خالق و رازق ہے اللہ کی خالقیت اور اس کی روزی پہنچانے کی صفت کو مشرکین بھی مانتے تھے۔ جیسے دوسری آیت میں بیان ہوا ہے کہ آیت (وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ 87ۙ) 43۔ الزخرف :87) یعنی اگر تو ان سے دریافت کرے کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو یہی جواب دیں گے اللہ تعالیٰ نے الغرض یہ جانتے اور مانتے ہیں کہ خالق کل صرف اللہ ہی ہے۔ لیکن ان کی عقلیں ماری گئی ہیں کہ عبادت کے وقت اوروں کو بھی شریک کرلیتے ہیں۔ باوجودیکہ جانتے ہیں کہ نہ وہ پیدا کرتے ہیں اور نہ روزی دینے والے۔ اور اس بات کا فیصلہ تو ہر عقلمند کرسکتا ہے کہ عبادت کے لائق وہی ہے جو خالق مالک اور رازق ہے۔ اسی لئے یہاں اس آیت میں بھی سوال کیا گیا کہ معبود برحق کے ساتھ کوئی اور بھی عبادت کے لائق ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ مخلوق کو پیدا کرنے میں، مخلوق کی روزی مہیا کرنے میں کوئی اور بھی شریک ہے ؟ چونکہ وہ مشرک خالق رازق صرف اللہ ہی کو مانتے تھے۔ اور عبادت اوروں کی کرتے تھے۔ اس لئے ایک اور آیت میں فرمایا۔ آیت (اَفَمَنْ يَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ 17) 16۔ النحل :17) خالق اور غیر خالق یکساں نہیں پھر تم خالق اور مخلوق کو کیسے ایک کررہے ہو ؟ یہ یاد رہے کہ ان آیات میں امن جہاں جہاں ہے وہاں یہی معنی ہیں کہ ایک تو وہ جو ان تمام کاموں کو کرسکے اور ان پر قادر ہو دوسرا وہ جس نے ان میں سے نہ تو کسی کام کو کیا ہو اور نہ کرسکتا کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ گو دوسری شق کو لفظوں میں بیان نہیں کیا لیکن طرز کلام اسے صاف کردیتا ہے۔ اور آیت میں صاف صاف یہ بھی ہے کہ آیت (ؤ اٰۗللّٰهُ خَيْرٌ اَمَّا يُشْرِكُوْنَ 59ۭ) 27۔ النمل :59) کیا اللہ بہتر ہے یا جنہیں وہ شریک کرتے ہیں ؟ آیت کے خاتمے پر فرمایا بلکہ ہیں بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہیں آیت (اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَّقَاۗىِٕمًا يَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَيَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ ۭ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ ۭ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ ۧ) 39۔ الزمر :9) بھی اسی جیسی آیت ہے یعنی ایک وہ شخص جو اپنے دل میں آخرت کا ڈر رکھ کر اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہو کر راتوں کو نماز میں گزارتا ہو۔ یعنی وہ اس جیسا نہیں ہوسکتا جس کے اعمال ایسے نہ ہوں۔ ایک اور جگہ ہے عالم اور بےعلم برابر نہیں۔ عقلمند ہی نصیحت سے فائدہ اٹھاتے ہیں ایک وہ جس کا سینہ اسلام کے لئے کھلا ہوا ہو، اور وہ اپنے رب کی طرف سے نور ہدایت لئے ہو اور وہ اس جیسا نہیں۔ جس کے دل میں اسلام کی طرف سے کراہت ہو اور سخت دل ہو اللہ نے خود اپنی ذات کی نسبت فرمایا۔ اللہ نے آیت (اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ ۚ وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ 33۔) 13۔ الرعد :33) یعنی وہ جو مخلوق کی تمام حرکات سکنات سے واقف ہو تمام غیب کی باتوں کو جانتا ہوں اس کی مانند ہے جو کچھ بھی نہ جانتا ہو ؟ بلکہ جس کی آنکھیں اور کان نہ ہو جیسے تمہارے یہ بت ہیں۔ فرمان ہے آیت (وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ ۭ قُلْ سَمُّوْهُمْ ۭ اَمْ تُنَبِّــــــُٔـوْنَهٗ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْاَرْضِ 33۔) 13۔ الرعد :33) یہ اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہیں ان سے کہہ ذرا انکے نام تو مجھے بتاؤ پس ان سب آیتوں کا مطلب یہی ہے کہ اللہ نے اپنی صفتیں بیان فرمائی ہیں۔ پھر خبر دی ہے کہ یہ صفات کسی میں نہیں۔