John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah An-Naml

Tafsir Ibn Kathir · The Ant · 93 ayat · ayat 61–90 · Quran text →

کائنات کے مظاہر اللہ تعالیٰ کی صداقت٭٭ زمین کو اللہ تعالیٰ نے ٹھہری ہوئی اور ساکن بنایا تاکہ دنیا آرام سے اپنی زندگی بسر کرسکے اور اس پھیلے ہوئے فرش پر راحت پاسکے۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (اللہ الذی جعل لکم الأرض قرارا الخ) ، اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لئے ٹھہری ہوئی ساکن بنایا اور آسمان کو چھت بنایا۔ اس نے زمین پر پانی کے دریا بہادئیے جو ادھر ادھربہتے رہتے ہیں اور ملک ملک پہنچ کر زمین کو سیراب کرتے ہیں تاکہ زمین سے کھیت باغ وغیرہ اگیں۔ اس نے زمین کی مضبوطی کے لئے اس پر پہاڑوں کی میخیں گاڑھ دیں تاکہ وہ تمہیں متزلزل نہ کرسکے ٹھہری رہے۔ اسکی قدرت دیکھو کہ ایک کھاری سمندر ہے اور دوسرا میٹھا ہے۔ دونوں بہہ رہے ہیں بیچ میں کوئی روک آڑ پردہ حجاب نہیں لیکن قدرت نے ایک کو ایک سے الگ کر رکھا ہے اور نہ کڑوا میٹھے میں مل سکے نہ میٹھاکرڑوے میں۔ کھاری اپنے فوائد پہنچاتا رہے میٹھا اپنے فوائد دیتا رہے اس کا نتھرا ہوا خوش ذائقہ مسرورکن خوش ہضم پانی لوگ پئیں اپنے جانوروں کو پلائیں کھتیاں باڑیاں باغات وغیرہ میں یہ پانی پہنچائیں نہائیں دھوئیں وغیرہ۔ کھاری پانی اپنی فوائد سے لوگوں کو سود مند کرے یہ ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے تاکہ ہوا خراب نہ ہو۔ اور اس آیت میں بھی ہے ان دونوں کا بیان موجود ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ 53؀) 25۔ الفرقان :53) یعنی ان دونوں سمندروں کا جاری کرنے والا اللہ ہی ہے اور اسی لئے ان دونوں کے درمیاں حد فاصل قائم کر رکھی ہے۔ یہاں یہ قدرتیں اپنی جتاکر۔ پھر سوال کرتا ہے کہ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی ایسا ہے جس نے یہ کام کئے ہوں یا کرسکتا ہو ؟ تاکہ وہ بھی لائق عبادت سمجھا جائے۔ اکثر لوگ محض بےعلمی سے غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ عبادتوں کے لائق صرف وہی ایک ہے۔

سختیوں اور مصیبتوں کے وقت پکارے جانے کے قابل اسی کی ذات ہے۔ بےکس بےبس لوگوں کا سہارا وہی ہے گرے پڑے بھولے بھٹکے مصیبت زدہ اسی کو پکارتے ہیں۔ اسی کی طرف لو لگاتے ہیں جیسے فرمایا کہ تمہیں جب سمندر کے طوفان زندگی سے مایوس کردیتے ہیں تو تم اسی کو پکارتے ہو اسکی طرف گریہ وزاری کرتے ہو اور سب کو بھول جاتے ہو۔ اسی کی ذات ایسی ہے کہ ہر ایک بےقرار وہاں پناہ لے سکتا ہے مصیبت زدہ لوگوں کی مصیبت اس کے سوا کوئی بھی دور نہیں کرسکتا۔ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ حضور ! آپ کس چیز کی طرف ہمیں بلا رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ کی طرف جو اکیلا ہے جس کا کوئی شریک نہیں جو اس وقت تیرے کام آتا ہے جب تو کسی بھنور میں پھنسا ہوا ہو۔ وہی ہے کہ جب تو جنگلوں میں راہ بھول کر اسے پکارے تو وہ تیری رہنمائی کردے تیرا کوئی کھو گیا ہو اور تو اس سے التجا کرے تو وہ اسے تجھ کو ملادے۔ قحط سالی ہوگئی ہو اور تو اس سے دعائیں کرے تو وہ موسلا دھار مینہ تجھ پر برسادے۔ اس شخص نے کہا یارسول اللہ ! مجھے کچھ نصیحت کیجئے۔ آپ نے فرمایا کسی کو برا نہ کہو۔ نیکی کے کسی کام کو ہلکا اور بےوقعت نہ سمجھو۔ خواہ اپنے مسلمان بھائی سے بہ کشادہ پیشانی ملنا ہو گو اپنے ڈول سے کسی پیاسے کو ایک گھونٹ پانی کا دینا ہی ہو اور اپنے تہبند کو آدھی پنڈلی تک رکھ۔ لمبائی میں زیادہ ٹخنے تک۔ اس سے نیچے لٹکانے سے بچتا رہ۔ اس لئے کہ یہ فخر و غرور ہے جسے اللہ ناپسند کرتا ہے (مسند احمد) ایک روایت میں انکا نام جابر بن سلیم ہے۔ اس میں ہے کہ جب حضور کے پاس آیا آپ ایک چادر سے گوٹ لگائے بیٹھے تھے جس کے پھندنے آپ کے قدموں پر گر رہے تھے میں نے آکر پوچھا کہ تم میں اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کون ہیں ؟ آپ نے اپنے ہاتھ سے خود اپنی طرف اشارہ کیا میں نے کہا یارسول اللہ ! میں ایک گاؤں کا رہنے والا آدمی ہوں ادب تمیز کچھ نہیں جانتا مجھے احکام اسلام کی تعلیم دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ کسی چھوٹی سی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھ، خواہ اپنے مسلمان بھائی سے خوش خلقی کے ساتھ ملاقات ہو۔ اور اپنے ڈول میں سے کسی پانی مانگے والے کے برتن میں ذراسا پانی ڈال دینا ہی ہو۔ اگر کوئی تیری کسی شرمناک بات کو جانتاہو اور وہ تجھے شرمندہ کرے تو تو اسے اس کی کسی ایسی بات کی عار نہ دلا تاکہ اجر تجھے ملے اور وہ گنہگار بن جائے۔ ٹخنے سے نیچے کپڑا لٹکانے سے پرہیز کر کیونکہ یہ تکبر ہے اور تکبر اللہ کو پسند نہیں اور کسی کو بھی ہرگز گالی نہ دینا۔ حضرت طاؤس ایک بیمار کی بیمار پرسی کے لئے گئے اس نے کہا میرے لئے دعا کرو آپ نے فرمایا تم خود اپنے لئے دعا کرو بےقرار کی بےقراری کے وقت کی دعا اللہ قبول فرماتا ہے۔ حضرت وہب فرماتے ہیں میں نے اگلی آسمانی کتاب میں پڑھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم ! جو شخص مجھ پر اعتماد کرے اور مجھے تھام لے تو میں اسے اسکے مخالفین سے بچالوں گا اور ضرور بچالوں گا چاہے آسمان و زمین وکل مخلوق اس کی مخالفت اور ایذاء دینے پر تلے ہوں۔ اور جو مجھ پر اعتماد نہ کرے میری پناہ میں نہ آئے تو میں اسے مان وامان سے چلتا پھرتا ہونے کے باوجود اگر چاہوں گا تو زمین میں دھنسادوں گا۔ اور اس کی کوئی مدد نہ کروں گا۔ ایک بہت ہی عجیب واقعہ حافظ ابن عساکر نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔ ایک صاحب فرماتے ہیں کہ میں ایک خچر پر لوگوں کو دمشق سے زیدانی لے جایا کرتا تھا اور اسی کرایہ پر میری گذر بسر تھی۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے خچر مجھ سے کرایہ پر لیا۔ میں نے اسے سوار کیا اور چلا ایک جگہ جہاں دو راستے تھے جب وہاں پہنچے تو اس نے کہا اس راہ پر چلو۔ میں نے کہا میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ سیدھی راہ یہی ہے۔ اس نے کہا نہیں میں پوری طرح واقف ہوں، یہ بہت نزدیک راستہ ہے۔ میں اس کے کہنے پر اسی راہ پر چلا تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ ایک لق ودق بیابان میں ہم پہنچ گئے ہیں جہاں کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ نہایت خطرناک جنگل ہے ہر طرف لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔ میں سہم گیا۔ وہ مجھ سے کہنے لگا ذرا لگام تھام لو مجھے یہاں اترنا ہے میں نے لگام تھام لی وہ اترا اور اپنا تہبند اونچا کرکے کپڑے ٹھیک کرکے چھری نکال کر مجھ پر حملہ کیا۔ میں وہاں سے سرپٹ بھاگا لیکن اس نے میرا تعاقب کیا اور مجھے پکڑلیا میں اسے قسمیں دینے لگا لیکن اس نے خیال بھی نہ کیا۔ میں نے کہا اچھا یہ خچر اور کل سامان جو میرے پاس ہے تو لے لے اور مجھے چھوڑ دے اس نے کہا یہ تو میرا ہو ہی چکا لیکن میں تجھے زندہ نہیں چھوڑنا چاہتا میں نے اسے اللہ کا خوف دلایا آخرت کے عذابوں کا ذکر کیا لیکن اس چیز نے بھی اس پر کوئی اثر نہ کیا اور وہ میرے قتل پر تلا رہا۔ اب میں مایوس ہوگیا اور مرنے کے لئے تیار ہوگیا۔ اور اس سے منت سماجت کی کہ تم مجھے دو رکعت نماز ادا کرلینے دو۔ اس نے کہا اچھا جلدی پڑھ لے۔ میں نے نماز شروع کی لیکن اللہ کی قسم میری زبان سے قرآن کا ایک حرف نہیں نکلتا تھا۔ یونہی ہاتھ باندھے دہشت زدہ کھڑا تھا اور جلدی مچا رہا تھا اسی وقت اتفاق سے یہ آیت میری زبان پر آگئی آیت (اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوْۗءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَـفَاۗءَ الْاَرْضِ 62ۭ) 27۔ النمل :62) یعنی اللہ ہی ہے جو بےقرار کی بےقراری کے وقت کی دعا کو سنتا اور قبول کرتا ہے اور بےبسی بےکسی کو سختی اور مصیبت کو دور کردیتا ہے پس اس آیت کا زبان سے جاری ہونا تھا جو میں نے دیکھا کہ بیچوں بیچ جنگل میں سے ایک گھڑ سوار تیزی سے اپنا گھوڑا بھگائے نیزہ تانے ہماری طرف چلا آرہا ہے اور بغیر کچھ کہے اس ڈاکو کے پیٹ میں اس نے اپنا نیزہ گھونپ دیا جو اس کے جگر کے آر پار ہوگیا اور وہ اسی وقت بےجان ہو کر گرپڑا۔ سوار نے باگ موڑی اور جانا چاہا لیکن میں اس کے قدموں سے لپٹ گیا اور بہ الحاح کہنے لگا اللہ کے لئے یہ بتاؤ تم کون ہو ؟ اس نے کہا میں اس کا بھیجا ہوا ہوں جو مجبوروں بےکسوں اور بےبسوں کی دعا قبول فرماتا ہے اور مصیبت اور آفت کو ٹال دیتا ہے میں نے اللہ کا شکر کیا اور اپنا سامان اور خچر لے کر صحیح سالم واپس لوٹا۔ اس قسم کا ایک واقعہ اور بھی ہے کہ مسلمانوں کے ایک لشکر نے ایک جنگ میں کافروں سے شکست اٹھائی اور واپس لٹے۔ ان میں ایک مسلمان جو بڑے سخی اور نیک تھے ان کا گھوڑا جو بہت تیز رفتا تھا راستے میں اڑگیا۔ اس ولی اللہ نے بہت کوشش کی لیکن جانور نے قدم ہی نہ اٹھایا۔ آخر عاجز آکر اس نے کہا کیا بات ہے جو اڑ گیا۔ ایسے ہی موقعہ کے لئے تو میں نے تیری خدمت کی تھی اور تجھے پیار سے پالا تھا۔ گھوڑے کو اللہ نے زبان دی اس نے جواب دیا کہ وجہ یہ ہے کہ آپ میرا گھاس دانہ سائیس کو سونپ دیتے تھے اور وہ اس میں سے چرالیتا تھا مجھے بہت کم کھانے کو ملتا تھا اور مجھ پر ظلم کرتا تھا۔ اللہ کے نیک بندے نے کہا اب سے میں تجھے اپنی گود ہی میں کھلایا کرونگا جانور یہ سنتے ہی تیزی سے لپکا اور انہیں جائے امن تک پہنچادیا۔ حسب وعدہ اب سے یہ بزرگ اپنے اس جانور کو اپنی گود میں ہی کھلایا کرتا تھا۔ لوگوں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی انہوں نے کسی سے واقعہ کہہ دیا جس کی عام شہرت ہوگئی اور لوگ ان سے یہ واقعہ سننے کے لئے دور دور سے آنے لگے۔ شاہ روم کو جب اس کی خبر ملی تو انہوں نے چاہا کسی طرح ان کو اپنے شہر میں بلالے۔ بہت کوشش کی مگر بےسود رہیں۔ آخر میں انہوں نے ایک شخص بھیجا کہ کسی طرح حیلے بہانے کرکے ان کو بادشاہ تک پہنچادے۔ یہ شخص پہلے مسلمان تھا پھر مرتد ہوگیا تھا بادشاہ کے پاس سے یہاں آیا ان سے ملا اپنا اسلام ظاہر کیا اور نہایت نیک بن کر رہنے لگایہاں تک کہ اس ولی کو اس پر پورا اعتماد ہوگیا اور اسے صالح اور دیندار سمجھ کر اس سے دوستی کرلی اور ساتھ ساتھ لے کر پھرنے لگے۔ اس نے اپنا پورا رسوخ جماکر اپنی ظاہری دینداری کے فریب میں انہیں پھنسا کر بادشاہ کو اطلاع دی کہ فلاں وقت دریا کے کنارے ایک مضبوط جری شخص کو بھیجو میں انہیں وہاں لے کر آجاؤں گا اور اس شخص کی مدد سے اسکو گرفتار کرلوں گا۔ یہاں سے انہیں فریب دے کر چلا اور وہاں پہنچایا دفعتا ایک شخص نمودار ہوا اور اس نے بزرگ پر حملہ کیا ادھر سے اس مرتد نے حملہ کیا اس نیک دل شخص نے اس وقت آسمان کی طرف نگاہیں اٹھائیں اور دعا کی کہ اے اللہ ! اس شخص نے تیرے نام سے مجھے دھوکا دیا ہے میں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ تو جس طرح چاہے مجھے ان دونوں سے بچالے۔ وہیں جنگل سے دو درندے دھاڑتے ہوئے آتے دکھائی دئیے اور ان دونوں شخصوں کو انہوں نے دبوچ لیا اور ٹکڑے ٹکڑے کرکے چل دئیے اور یہ اللہ کا بندہ وہاں سے صحیح وسالم واپس تشریف لے آیا ؒ۔ اپنی اس شان رحمت کو بیان فرما کر پھر جناب باری کی طرف ارشاد ہوتا ہے کہ وہی تمہیں زمین کا جانشیں بناتا ہے۔ ایک ایک کے پیچھے آرہا ہے اور مسلسل سلسلہ چلا جارہا ہے۔ جیسے فرمان آیت (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ0303) 4۔ النسآء :133) اگر وہ چاہے تو تم سب کو تو یہاں سے فنا کردے اور کسی اور ہی کو تمہارا جانشین بنادے جیسے کہ خو تمہیں دوسروں کا خلیفہ بنادیا ہے۔ اور آیت میں ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ01605) 6۔ الانعام :165) اس اللہ نے تمہیں زمینوں کا جانشین بنایا ہے اور تم میں سے ایک کو ایک پر درجوں میں بڑھا دیا ہے حضرت آدم ؑ کو بھی خلیفہ کہا گیا وہ اس اعتبار سے کہ ان کی اولاد ایک دوسرے کی جانشین ہوگی جیسے کہ آیت (وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ 30؀) 2۔ البقرة :30) کی تفسیر اور بیان گذر چکا ہے۔ اس آیت کے اس جملے سے بھی یہی مراد ہے کہ ایک کے بعد ایک، ایک زمانہ کے بعد دوسرا زمانہ ایک قوم کے بعد دوسری قوم پس یہ اللہ کی قدرت ہے اس نے یہ کیا کہ ایک مرے ایک پیدا ہو۔ حضرت آدم ؑ کو پیدا کیا ان سے ان کی نسل پھیلائی اور دنیا میں ایک ایسا طریقہ رکھا کہ دنیا والوں کی روزیاں اور ان کی زندگیاں تنگ نہ ہوں ورنہ سارے انسان ایک ساتھ شاید زمین میں بہت تنگی سے گزارہ کرتے اور ایک سے ایک کو نقصانات پہنچتے۔ پس موجودہ نظام الٰہی اس کی حکمت کا ثبوت ہے سب کی پیدائش کا، موت کا آنے جانے کا وقت اس کے نزدیک مقرر ہے۔ ایک ایک اس کے علم میں ہے اس کی نگاہ سے کوئی اوجھل نہیں۔ وہ ایک دن ایسا بھی لانے والا ہے کہ ان سب کو ایک ہی میدان میں جمع کرے اور ان کے فیصلے کرے نیکی بدی کا بدلہ دے۔ اپنی قدرتوں کو بیان فرماتا ہے کوئی ہے جو ان کاموں کو کرسکتا ہو ؟ اور جب نہیں کرسکتا تو عبادت کے لائق بھی نہیں ہوسکتا ایسی صاف دلیلیں بھی بہت کم سوچی جاتی ہیں اور ان سے نصیحت بھی بہت کم لوگ حاصل کرتے ہیں۔

ستاروں کے فوائد آسمان و زمین میں اللہ تعالیٰ نے ایسی نشانیاں رکھ دی ہیں کہ خشکی اور تری میں جو راہ بھول جائے وہ انہیں دیکھ کر راہ راست اختیار کرلے۔ جیسے فرمایا ہے کہ ستاروں سے لوگ راہ پاتے ہیں سمندروں میں خشکی میں انہیں دیکھ کر اپنا راستہ ٹھیک کرلیتے ہیں بادل پانی بھرے برسیں اس سے پہلے ٹھنڈی اور بھینی بھینی ہوائیں چلاتا ہے۔ جس سے لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ اب رب کی رحمت برسے گی۔ اللہ کے سوا ان کاموں کا کرنے والا کوئی نہیں نہ کوئی ان پر قادر ہے۔ تمام شریکوں سے وہ الگ ہے پاک ہے سب سے بلند ہے۔

قدرت کاملہ کا ثبوت فرمان ہے کہ اللہ وہ ہے جو اپنی قدرت کاملہ سے مخلوقات کو بےنمونہ پیدا کرتا ہے۔ پھر انہیں فنا کرکے دوبارہ پیدا کرے گا۔ جب تم اسے پہلی دفعہ پیدا کرنے پر قادر مان رہے ہو تو دوبارہ کی پیدائش جو اس کے لیے بہت ہی آسان ہے اس پر قادر کیوں نہیں مانتے ؟ آسمان سے بارش برسانا اور زمین سے اناج اگانا اور تمہاری روزی کا سامان آسمان اور زمین سے پیدا کرنا اسی کا کام ہے۔ جیسے سورة طارق میں فرمایا پانی والے آسمان کی اور پھوٹنے والی زمین کی قسم۔ اور آیت میں ہے (يَعْلَمُ مَا يَـلِجُ فِي الْاَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاۗءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيْهَا ۭ وَهُوَ الرَّحِيْمُ الْغَفُوْرُ) 34۔ سبأ :2) ، یعنی اللہ خوب جانتا ہے ہر اس چیز کو جو آسمان میں سما جائے اور جو زمین سے باہر اگ آئے۔ اور جو آسمان سے اترے اور جو اس پر چڑھے۔ پس آسمان سے مینہ برسانے والا اسے زمین میں ادھر اھر تک پہنچانے والا اور اسکی وجہ سے طرح طرح کے پھل پھول اناج گھاس پات اگانے والا وہی ہے جو تمہاری اور تمہارے جانوروں کی روزیاں ہیں۔ یقینا یہ تمام چیزیں صاحب عقل کے لئے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ اپنی ان قدرتوں کو اور اپنے ان گراں بہا احسانوں کو بیان فرما کر فرمایا کہ کیا اللہ کے ساتھ ان کاموں کا کرنے والا کوئی اور بھی ہے ؟ جس کی عبادت کی جائے اگر تم اللہ کے سوا دوسروں کو معبود ماننے کے دعوے کو دلیل سے ثابت کرسکتے ہو تو وہ دلیل پیش کرو ؟ لیکن چونکہ وہ محض بےدلیل ہیں اس لئے دوسری آیت میں فرمادیا کہ اللہ کے ساتھ جو دوسرے کو بھی پوجے جس کی کوئی دلیل بھی اس کے پاس نہ ہو وہ یقینا کافر ہے اور نجات سے محروم ہے۔

اللہ کے سوا کوئی غیب داں نہیں اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ سارے جہاں کو معلوم کرادیں کہ ساری مخلوق آسمان کی ہو یا زمین کی غیب کے علم سے خالی ہے بجز اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کے کوئی اور غیب کا جاننے والا نہیں۔ یہاں استثناء منقطع ہے یعنی سوائے اللہ کے کوئی انسان جن فرشتہ غیب دان نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ 59؀) 6۔ الانعام :59) یعنی غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہے جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور فرمان ہے آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ 34؀) 31۔ لقمان :34) اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش برساتا ہے وہی مادہ کے پیٹ کے بچے سے واقف ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا نہ کسی کو یہ خبر کہ وہ کہاں مرے گا ؟ علیم وخبیر صرف اللہ ہی ہے۔ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔ مخلوق تو یہ بھی نہیں جانتی کہ قیامت کب آئے گی۔ آسمانوں اور زمینوں کے رہنے والوں میں سے ایک بھی واقف نہیں کہ قیامت کا دن کون سا ہے ؟ جیسے فرمان ہے آیت (ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ01807) 7۔ الاعراف :187) سب پر یہ علم مشکل ہے اور بوجھل ہے وہ تو اچانک آجائے گی۔ حضرت صدیقہ ؓ کا فرمان ہے جو کہے کہ حضور کل کائنات کی بات جانتے تھے اس نے اللہ تبارک وتعالیٰ پر بہتان عظیم باندھا اس لئے کہ اللہ فرماتا ہے زمین و آسمان والوں میں سے کوئی بھی غیب کی بات جاننے والا نہیں۔ حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ستاروں میں تین فائدے رکھے ہیں۔ آسمان کی زینت بھولے بھٹکوں کی رہبری اور شیطانوں کی مار۔ کسی اور بات کا ان کیساتھ عقیدہ رکھنا اپنی رائے سے بات بنانا اور خود ساختہ تکلیف اور اپنی عاقبت کے حصہ کو کھونا ہے۔ جاہلوں نے ستاروں کے ساتھ علم نجوم کو معلق رکھ کر فضول باتیں بنائی ہیں کہ اس ستارے کے وقت جو نکاح کرے یوں ہوگا فلاں ستارے کے موقعہ پر سفر کرنے سے یہ ہوتا ہے فلاں ستارے کے وقت جو تولد ہوا وہ ایسا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب ڈھکو سلے ہیں انکی بکواس کے خلاف اکثر ہوتا رہتا ہے ہر ستارے کے وقت کالا گورا ٹھنگنا لمبا خوبصورت بد شکل پیدا ہوتا ہی رہتا ہے۔ نہ کوئی جانور غیب جانے نہ کسی پرند سے غیب حاصل ہوسکے نہ ستارے غیب کی رہنمائی کریں۔ سنو اللہ کا فیصلہ ہوچکا ہے کہ آسمان و زمین کی کل مخلوق غیب سے بیخبر ہے۔ انہیں تو اپنے جی اٹھنے کا وقت بھی نہیں معلوم ہے (ابن ابی حاتم) سبحان اللہ حضرت قتادہ کا یہ قول کتنا صحیح کس قدر مفید اور معلومات سے پر ہے۔ فرماتا ہے بات یہ ہے کہ ان کے علم آخرت کے وقت کے جاننے سے قاصر ہیں عاجز ہوگئے ہیں۔ ایک قرأت میں بل ادرک ہے یعنی سب کے علم آخرت کا صحیح وقت نہ جاننے میں برابر ہیں۔ جیسے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل ؑ کے سوال کے جواب میں فرمایا تھا کہ میرا اور تیرا دونوں کا علم اس کے جواب سے عاجز ہے۔ پس یہاں بھی فرمایا کہ آخرت سے ان کے علم غائب ہیں۔ چونکہ کفار اپنے رب سے جاہل ہیں اس لئے آخرت کے بھی منکر ہیں۔ وہاں تک ان کے علم پہنچتے ہی نہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ آخرت میں ان کو علم حاصل ہوگا لیکن بےسود۔ جیسے اور جگہ بھی ہیں کہ جس دن یہ ہمارے پاس پہنچے گے بڑے ہی دانا وبینا ہوجائیں گے۔ لیکن آج ظالم کھلی گمراہی میں ہونگے۔ پھر فرماتا ہے کہ بلکہ یہ تو شک ہی میں ہیں اس سے مراد کافر ہے جیسے فرمان ہے آیت (وَعُرِضُوْا عَلٰي رَبِّكَ صَفًّا 48؀) 18۔ الكهف :48) یعنی یہ لوگ اپنے رب کے سامنے صف بستہ پیش کئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہم نے جس طرح تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب ہم تمہیں دوبارہ لے آئے ہیں لیکن تم تو یہ سمجھتے رہے کہ قیامت تو کوئی چیز ہی نہیں۔ مراد یہ ہے کہ تم میں سے کافر یہ سمجھتے رہیں۔ گو مندرجہ بالا آیات بھی گو ضمیر جنس کی طرف لوٹتی ہے لیکن مراد کفار ہی ہیں اسی لیے آخر میں فرمایا کہ یہ تو اس سے اندھاپے میں ہیں، نابینا ہو رہے ہیں، آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔

اللہ کے سوا کوئی غیب داں نہیں اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ سارے جہاں کو معلوم کرادیں کہ ساری مخلوق آسمان کی ہو یا زمین کی غیب کے علم سے خالی ہے بجز اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کے کوئی اور غیب کا جاننے والا نہیں۔ یہاں استثناء منقطع ہے یعنی سوائے اللہ کے کوئی انسان جن فرشتہ غیب دان نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ 59؀) 6۔ الانعام :59) یعنی غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہے جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور فرمان ہے آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ 34؀) 31۔ لقمان :34) اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش برساتا ہے وہی مادہ کے پیٹ کے بچے سے واقف ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا نہ کسی کو یہ خبر کہ وہ کہاں مرے گا ؟ علیم وخبیر صرف اللہ ہی ہے۔ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔ مخلوق تو یہ بھی نہیں جانتی کہ قیامت کب آئے گی۔ آسمانوں اور زمینوں کے رہنے والوں میں سے ایک بھی واقف نہیں کہ قیامت کا دن کون سا ہے ؟ جیسے فرمان ہے آیت (ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ01807) 7۔ الاعراف :187) سب پر یہ علم مشکل ہے اور بوجھل ہے وہ تو اچانک آجائے گی۔ حضرت صدیقہ ؓ کا فرمان ہے جو کہے کہ حضور کل کائنات کی بات جانتے تھے اس نے اللہ تبارک وتعالیٰ پر بہتان عظیم باندھا اس لئے کہ اللہ فرماتا ہے زمین و آسمان والوں میں سے کوئی بھی غیب کی بات جاننے والا نہیں۔ حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ستاروں میں تین فائدے رکھے ہیں۔ آسمان کی زینت بھولے بھٹکوں کی رہبری اور شیطانوں کی مار۔ کسی اور بات کا ان کیساتھ عقیدہ رکھنا اپنی رائے سے بات بنانا اور خود ساختہ تکلیف اور اپنی عاقبت کے حصہ کو کھونا ہے۔ جاہلوں نے ستاروں کے ساتھ علم نجوم کو معلق رکھ کر فضول باتیں بنائی ہیں کہ اس ستارے کے وقت جو نکاح کرے یوں ہوگا فلاں ستارے کے موقعہ پر سفر کرنے سے یہ ہوتا ہے فلاں ستارے کے وقت جو تولد ہوا وہ ایسا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب ڈھکو سلے ہیں انکی بکواس کے خلاف اکثر ہوتا رہتا ہے ہر ستارے کے وقت کالا گورا ٹھنگنا لمبا خوبصورت بد شکل پیدا ہوتا ہی رہتا ہے۔ نہ کوئی جانور غیب جانے نہ کسی پرند سے غیب حاصل ہوسکے نہ ستارے غیب کی رہنمائی کریں۔ سنو اللہ کا فیصلہ ہوچکا ہے کہ آسمان و زمین کی کل مخلوق غیب سے بیخبر ہے۔ انہیں تو اپنے جی اٹھنے کا وقت بھی نہیں معلوم ہے (ابن ابی حاتم) سبحان اللہ حضرت قتادہ کا یہ قول کتنا صحیح کس قدر مفید اور معلومات سے پر ہے۔ فرماتا ہے بات یہ ہے کہ ان کے علم آخرت کے وقت کے جاننے سے قاصر ہیں عاجز ہوگئے ہیں۔ ایک قرأت میں بل ادرک ہے یعنی سب کے علم آخرت کا صحیح وقت نہ جاننے میں برابر ہیں۔ جیسے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل ؑ کے سوال کے جواب میں فرمایا تھا کہ میرا اور تیرا دونوں کا علم اس کے جواب سے عاجز ہے۔ پس یہاں بھی فرمایا کہ آخرت سے ان کے علم غائب ہیں۔ چونکہ کفار اپنے رب سے جاہل ہیں اس لئے آخرت کے بھی منکر ہیں۔ وہاں تک ان کے علم پہنچتے ہی نہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ آخرت میں ان کو علم حاصل ہوگا لیکن بےسود۔ جیسے اور جگہ بھی ہیں کہ جس دن یہ ہمارے پاس پہنچے گے بڑے ہی دانا وبینا ہوجائیں گے۔ لیکن آج ظالم کھلی گمراہی میں ہونگے۔ پھر فرماتا ہے کہ بلکہ یہ تو شک ہی میں ہیں اس سے مراد کافر ہے جیسے فرمان ہے آیت (وَعُرِضُوْا عَلٰي رَبِّكَ صَفًّا 48؀) 18۔ الكهف :48) یعنی یہ لوگ اپنے رب کے سامنے صف بستہ پیش کئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہم نے جس طرح تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب ہم تمہیں دوبارہ لے آئے ہیں لیکن تم تو یہ سمجھتے رہے کہ قیامت تو کوئی چیز ہی نہیں۔ مراد یہ ہے کہ تم میں سے کافر یہ سمجھتے رہیں۔ گو مندرجہ بالا آیات بھی گو ضمیر جنس کی طرف لوٹتی ہے لیکن مراد کفار ہی ہیں اسی لیے آخر میں فرمایا کہ یہ تو اس سے اندھاپے میں ہیں، نابینا ہو رہے ہیں، آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔

حیات ثانی کے منکر یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ منکرین قیامت کی سمجھ میں اب تک بھی نہیں آیا کہ مرنے اور سڑ گل جانے کے بعد مٹی اور راکھ ہوجانے کے بعد ہم دوبارہ کیسے پیدا کئے جائیں گے ؟ وہ اس پر سخت متعجب ہیں۔ کہتے ہیں مدتوں سے اگلے زمانوں سے یہ سنتے چلے آتے ہیں لیکن ہم نے تو کسی کو مرنے کے بعد جیتا ہوا دیکھا نہیں۔ سنی سنائی باتیں ہیں انہوں نے اپنے اگلوں سے انہوں نے اپنے سے پہلے والوں سے سنیں ہم تک پہنچیں لیکن سب عقل سے دور ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو جواب بتاتا ہے کہ ان سے کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھیں کہ رسولوں کو جھوٹا جاننے والوں اور قیامت کو نہ ماننے والوں کا کیسا دردرناک حسرت ناک انجام ہوا ؟ ہلاک اور تباہ ہوگئے اور نبیوں اور ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ نے بچالیا۔ یہ نبیوں کی سچائی کی دلیل ہے۔ پھر اپنے نبی کو تسلی دیتے ہیں کہ یہ تجھے اور میرے کلام کو جھٹلاتے ہیں لیکن تو ان پر افسوس اور رنج نہ کر۔ ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ نہ لگا۔ یہ تیرے ساتھ جو روباہ بازیاں کر رہے ہیں اور جو چالیں چل رہے ہیں ہمیں خوب علم ہے تو بےفکر رہ۔ تجھے اور تیرے دن کو ہم عروج دینے والے ہیں۔ دنیا جہاں پر تجھے ہم بلندی دیں گے۔

حیات ثانی کے منکر یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ منکرین قیامت کی سمجھ میں اب تک بھی نہیں آیا کہ مرنے اور سڑ گل جانے کے بعد مٹی اور راکھ ہوجانے کے بعد ہم دوبارہ کیسے پیدا کئے جائیں گے ؟ وہ اس پر سخت متعجب ہیں۔ کہتے ہیں مدتوں سے اگلے زمانوں سے یہ سنتے چلے آتے ہیں لیکن ہم نے تو کسی کو مرنے کے بعد جیتا ہوا دیکھا نہیں۔ سنی سنائی باتیں ہیں انہوں نے اپنے اگلوں سے انہوں نے اپنے سے پہلے والوں سے سنیں ہم تک پہنچیں لیکن سب عقل سے دور ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو جواب بتاتا ہے کہ ان سے کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھیں کہ رسولوں کو جھوٹا جاننے والوں اور قیامت کو نہ ماننے والوں کا کیسا دردرناک حسرت ناک انجام ہوا ؟ ہلاک اور تباہ ہوگئے اور نبیوں اور ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ نے بچالیا۔ یہ نبیوں کی سچائی کی دلیل ہے۔ پھر اپنے نبی کو تسلی دیتے ہیں کہ یہ تجھے اور میرے کلام کو جھٹلاتے ہیں لیکن تو ان پر افسوس اور رنج نہ کر۔ ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ نہ لگا۔ یہ تیرے ساتھ جو روباہ بازیاں کر رہے ہیں اور جو چالیں چل رہے ہیں ہمیں خوب علم ہے تو بےفکر رہ۔ تجھے اور تیرے دن کو ہم عروج دینے والے ہیں۔ دنیا جہاں پر تجھے ہم بلندی دیں گے۔

حیات ثانی کے منکر یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ منکرین قیامت کی سمجھ میں اب تک بھی نہیں آیا کہ مرنے اور سڑ گل جانے کے بعد مٹی اور راکھ ہوجانے کے بعد ہم دوبارہ کیسے پیدا کئے جائیں گے ؟ وہ اس پر سخت متعجب ہیں۔ کہتے ہیں مدتوں سے اگلے زمانوں سے یہ سنتے چلے آتے ہیں لیکن ہم نے تو کسی کو مرنے کے بعد جیتا ہوا دیکھا نہیں۔ سنی سنائی باتیں ہیں انہوں نے اپنے اگلوں سے انہوں نے اپنے سے پہلے والوں سے سنیں ہم تک پہنچیں لیکن سب عقل سے دور ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو جواب بتاتا ہے کہ ان سے کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھیں کہ رسولوں کو جھوٹا جاننے والوں اور قیامت کو نہ ماننے والوں کا کیسا دردرناک حسرت ناک انجام ہوا ؟ ہلاک اور تباہ ہوگئے اور نبیوں اور ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ نے بچالیا۔ یہ نبیوں کی سچائی کی دلیل ہے۔ پھر اپنے نبی کو تسلی دیتے ہیں کہ یہ تجھے اور میرے کلام کو جھٹلاتے ہیں لیکن تو ان پر افسوس اور رنج نہ کر۔ ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ نہ لگا۔ یہ تیرے ساتھ جو روباہ بازیاں کر رہے ہیں اور جو چالیں چل رہے ہیں ہمیں خوب علم ہے تو بےفکر رہ۔ تجھے اور تیرے دن کو ہم عروج دینے والے ہیں۔ دنیا جہاں پر تجھے ہم بلندی دیں گے۔

حیات ثانی کے منکر یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ منکرین قیامت کی سمجھ میں اب تک بھی نہیں آیا کہ مرنے اور سڑ گل جانے کے بعد مٹی اور راکھ ہوجانے کے بعد ہم دوبارہ کیسے پیدا کئے جائیں گے ؟ وہ اس پر سخت متعجب ہیں۔ کہتے ہیں مدتوں سے اگلے زمانوں سے یہ سنتے چلے آتے ہیں لیکن ہم نے تو کسی کو مرنے کے بعد جیتا ہوا دیکھا نہیں۔ سنی سنائی باتیں ہیں انہوں نے اپنے اگلوں سے انہوں نے اپنے سے پہلے والوں سے سنیں ہم تک پہنچیں لیکن سب عقل سے دور ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو جواب بتاتا ہے کہ ان سے کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھیں کہ رسولوں کو جھوٹا جاننے والوں اور قیامت کو نہ ماننے والوں کا کیسا دردرناک حسرت ناک انجام ہوا ؟ ہلاک اور تباہ ہوگئے اور نبیوں اور ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ نے بچالیا۔ یہ نبیوں کی سچائی کی دلیل ہے۔ پھر اپنے نبی کو تسلی دیتے ہیں کہ یہ تجھے اور میرے کلام کو جھٹلاتے ہیں لیکن تو ان پر افسوس اور رنج نہ کر۔ ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ نہ لگا۔ یہ تیرے ساتھ جو روباہ بازیاں کر رہے ہیں اور جو چالیں چل رہے ہیں ہمیں خوب علم ہے تو بےفکر رہ۔ تجھے اور تیرے دن کو ہم عروج دینے والے ہیں۔ دنیا جہاں پر تجھے ہم بلندی دیں گے۔

قیامت کے منکر مشرک چونکہ قیامت کے آنے کے قائل ہی نہیں۔ جرات سے اسے جلدی طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر سچے ہو تو بتاؤ وہ کب آئے گی۔ جناب باری کی طرف سے بواسطہ رسول اللہ ﷺ جواب مل رہا ہے کہ ممکن ہے وہ بالکل ہی قریب آگئی ہو۔ جیسے اور آیت میں ہے (عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا 51؀) 17۔ الإسراء :51) اور جگہ ہے یہ عذابوں کو جلدی طلب کررہے ہیں اور جہنم تو کافروں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ لکم کا لام ردف کے عجل کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے ہے۔ جیسے کہ حضرت مجاہد سے مروی ہے پھر فرمایا کہ اللہ کے تو انسانوں پر بہت ہی فضل وکرم ہیں۔ ان کی بیشمار نعمتیں ان کے پاس ہیں تاہم ان میں کے اکثر ناشکرے ہیں۔ جس طرح تمام ظاہر امور اس پر آشکارا ہیں اسی طرح تمام باطنی امور بھی اس پر ظاہر ہیں۔ جیسے فرمایا (سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ 10) 13۔ الرعد :10) ، اور آیت میں ہے (يَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰي) 20۔ طه :7) اور آیت میں ہے (اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۚ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 11۔ ھود :5) مطلب یہی ہے کہ ہر ظاہر وباطن کا وہ عالم ہے۔ پھر بیان فرماتا ہے کہ ہر غائب حاضر کا اسے علم ہے وہ علام الغیوب ہے۔ آسمان و زمین کی تمام چیزیں خواہ تم کو ان کا علم ہو یا نہ ہو اللہ کے ہاں کھلی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ کیا تو نہیں جانتا کہ آسمان و زمین کی ہر ایک چیز کا اللہ عالم ہے۔ سب کچھ کتاب میں موجود ہے اللہ پر سب کچھ آسان ہے۔

قیامت کے منکر مشرک چونکہ قیامت کے آنے کے قائل ہی نہیں۔ جرات سے اسے جلدی طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر سچے ہو تو بتاؤ وہ کب آئے گی۔ جناب باری کی طرف سے بواسطہ رسول اللہ ﷺ جواب مل رہا ہے کہ ممکن ہے وہ بالکل ہی قریب آگئی ہو۔ جیسے اور آیت میں ہے (عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا 51؀) 17۔ الإسراء :51) اور جگہ ہے یہ عذابوں کو جلدی طلب کررہے ہیں اور جہنم تو کافروں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ لکم کا لام ردف کے عجل کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے ہے۔ جیسے کہ حضرت مجاہد سے مروی ہے پھر فرمایا کہ اللہ کے تو انسانوں پر بہت ہی فضل وکرم ہیں۔ ان کی بیشمار نعمتیں ان کے پاس ہیں تاہم ان میں کے اکثر ناشکرے ہیں۔ جس طرح تمام ظاہر امور اس پر آشکارا ہیں اسی طرح تمام باطنی امور بھی اس پر ظاہر ہیں۔ جیسے فرمایا (سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ 10) 13۔ الرعد :10) ، اور آیت میں ہے (يَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰي) 20۔ طه :7) اور آیت میں ہے (اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۚ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 11۔ ھود :5) مطلب یہی ہے کہ ہر ظاہر وباطن کا وہ عالم ہے۔ پھر بیان فرماتا ہے کہ ہر غائب حاضر کا اسے علم ہے وہ علام الغیوب ہے۔ آسمان و زمین کی تمام چیزیں خواہ تم کو ان کا علم ہو یا نہ ہو اللہ کے ہاں کھلی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ کیا تو نہیں جانتا کہ آسمان و زمین کی ہر ایک چیز کا اللہ عالم ہے۔ سب کچھ کتاب میں موجود ہے اللہ پر سب کچھ آسان ہے۔

قیامت کے منکر مشرک چونکہ قیامت کے آنے کے قائل ہی نہیں۔ جرات سے اسے جلدی طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر سچے ہو تو بتاؤ وہ کب آئے گی۔ جناب باری کی طرف سے بواسطہ رسول اللہ ﷺ جواب مل رہا ہے کہ ممکن ہے وہ بالکل ہی قریب آگئی ہو۔ جیسے اور آیت میں ہے (عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا 51؀) 17۔ الإسراء :51) اور جگہ ہے یہ عذابوں کو جلدی طلب کررہے ہیں اور جہنم تو کافروں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ لکم کا لام ردف کے عجل کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے ہے۔ جیسے کہ حضرت مجاہد سے مروی ہے پھر فرمایا کہ اللہ کے تو انسانوں پر بہت ہی فضل وکرم ہیں۔ ان کی بیشمار نعمتیں ان کے پاس ہیں تاہم ان میں کے اکثر ناشکرے ہیں۔ جس طرح تمام ظاہر امور اس پر آشکارا ہیں اسی طرح تمام باطنی امور بھی اس پر ظاہر ہیں۔ جیسے فرمایا (سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ 10) 13۔ الرعد :10) ، اور آیت میں ہے (يَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰي) 20۔ طه :7) اور آیت میں ہے (اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۚ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 11۔ ھود :5) مطلب یہی ہے کہ ہر ظاہر وباطن کا وہ عالم ہے۔ پھر بیان فرماتا ہے کہ ہر غائب حاضر کا اسے علم ہے وہ علام الغیوب ہے۔ آسمان و زمین کی تمام چیزیں خواہ تم کو ان کا علم ہو یا نہ ہو اللہ کے ہاں کھلی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ کیا تو نہیں جانتا کہ آسمان و زمین کی ہر ایک چیز کا اللہ عالم ہے۔ سب کچھ کتاب میں موجود ہے اللہ پر سب کچھ آسان ہے۔

قیامت کے منکر مشرک چونکہ قیامت کے آنے کے قائل ہی نہیں۔ جرات سے اسے جلدی طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر سچے ہو تو بتاؤ وہ کب آئے گی۔ جناب باری کی طرف سے بواسطہ رسول اللہ ﷺ جواب مل رہا ہے کہ ممکن ہے وہ بالکل ہی قریب آگئی ہو۔ جیسے اور آیت میں ہے (عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا 51؀) 17۔ الإسراء :51) اور جگہ ہے یہ عذابوں کو جلدی طلب کررہے ہیں اور جہنم تو کافروں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ لکم کا لام ردف کے عجل کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے ہے۔ جیسے کہ حضرت مجاہد سے مروی ہے پھر فرمایا کہ اللہ کے تو انسانوں پر بہت ہی فضل وکرم ہیں۔ ان کی بیشمار نعمتیں ان کے پاس ہیں تاہم ان میں کے اکثر ناشکرے ہیں۔ جس طرح تمام ظاہر امور اس پر آشکارا ہیں اسی طرح تمام باطنی امور بھی اس پر ظاہر ہیں۔ جیسے فرمایا (سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ 10) 13۔ الرعد :10) ، اور آیت میں ہے (يَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰي) 20۔ طه :7) اور آیت میں ہے (اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۚ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 11۔ ھود :5) مطلب یہی ہے کہ ہر ظاہر وباطن کا وہ عالم ہے۔ پھر بیان فرماتا ہے کہ ہر غائب حاضر کا اسے علم ہے وہ علام الغیوب ہے۔ آسمان و زمین کی تمام چیزیں خواہ تم کو ان کا علم ہو یا نہ ہو اللہ کے ہاں کھلی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ کیا تو نہیں جانتا کہ آسمان و زمین کی ہر ایک چیز کا اللہ عالم ہے۔ سب کچھ کتاب میں موجود ہے اللہ پر سب کچھ آسان ہے۔

قیامت کے منکر مشرک چونکہ قیامت کے آنے کے قائل ہی نہیں۔ جرات سے اسے جلدی طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر سچے ہو تو بتاؤ وہ کب آئے گی۔ جناب باری کی طرف سے بواسطہ رسول اللہ ﷺ جواب مل رہا ہے کہ ممکن ہے وہ بالکل ہی قریب آگئی ہو۔ جیسے اور آیت میں ہے (عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا 51؀) 17۔ الإسراء :51) اور جگہ ہے یہ عذابوں کو جلدی طلب کررہے ہیں اور جہنم تو کافروں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ لکم کا لام ردف کے عجل کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے ہے۔ جیسے کہ حضرت مجاہد سے مروی ہے پھر فرمایا کہ اللہ کے تو انسانوں پر بہت ہی فضل وکرم ہیں۔ ان کی بیشمار نعمتیں ان کے پاس ہیں تاہم ان میں کے اکثر ناشکرے ہیں۔ جس طرح تمام ظاہر امور اس پر آشکارا ہیں اسی طرح تمام باطنی امور بھی اس پر ظاہر ہیں۔ جیسے فرمایا (سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ 10) 13۔ الرعد :10) ، اور آیت میں ہے (يَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰي) 20۔ طه :7) اور آیت میں ہے (اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۚ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 11۔ ھود :5) مطلب یہی ہے کہ ہر ظاہر وباطن کا وہ عالم ہے۔ پھر بیان فرماتا ہے کہ ہر غائب حاضر کا اسے علم ہے وہ علام الغیوب ہے۔ آسمان و زمین کی تمام چیزیں خواہ تم کو ان کا علم ہو یا نہ ہو اللہ کے ہاں کھلی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ کیا تو نہیں جانتا کہ آسمان و زمین کی ہر ایک چیز کا اللہ عالم ہے۔ سب کچھ کتاب میں موجود ہے اللہ پر سب کچھ آسان ہے۔

حق وباطل میں فیصلہ کرنے والا قرآن پاک کی ہدایت بیان ہو رہی ہے۔ کہ اس میں جہاں رحمت ہے وہاں فرقان بھی ہے اور بنی اسرائیل حاملان تورات و انجیل کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے۔ جیسے حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہودیوں نے منہ پھٹ بات اور نری تہمت رکھ دی تھی اور عیسائیوں نے انہیں ان کی حد سے آگے بڑھا دیا تھا۔ قرآن نے فیصلہ کیا اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر حق بات بتادی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں ان کی والدہ نہایت پاکدامن تھی۔ صحیح اور بیشک وشبہ بات یہی ہے۔ اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ قیامت کے دن انکے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے میں غالب ہے اور بندہ کے اقوال و افعال کا عالم ہے۔ تجھے اسی پر کام بھروسہ رکھنا چاہئے۔ اپنے رب کی رسالت کی تبلیغ میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ تو تو سراسر حق پر ہے مخالفین شقی ازلی ہیں۔ ان پر تیرے رب کی بات صادق آچکی ہے کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تو انہیں تمام معجزے دکھا دے۔ تو مردوں کو نفع دینے والی سماعت نہیں دے سکتا۔ اسی طرح یہ کفار ہیں کہ ان کے دلوں پر پردے ہیں ان کے کانوں میں بوجھ ہیں۔ یہ بھی قبولیت کا سننا نہیں سنیں گے۔ اور نہ تو بہروں کو اپنی آواز سناسکتا ہے جب کہ وہ پیٹھ موڑے منہ پھیرے جا رہے ہوں۔ اور تو اندھوں کو انکی گمراہی میں بھی رہنمائی نہیں کرسکتا تو صرف انہیں کو سنا سکتا ہے۔ یعنی قبول صرف وہی کریں گے جو کان لگا کر سنیں اور دل لگا کر سمجھیں ساتھ ہی ایمان و اسلام بھی ان میں ہو۔ اللہ کے رسول کے ماننے والے ہوں دین اللہ کے قائل وحامل ہوں۔

حق وباطل میں فیصلہ کرنے والا قرآن پاک کی ہدایت بیان ہو رہی ہے۔ کہ اس میں جہاں رحمت ہے وہاں فرقان بھی ہے اور بنی اسرائیل حاملان تورات و انجیل کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے۔ جیسے حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہودیوں نے منہ پھٹ بات اور نری تہمت رکھ دی تھی اور عیسائیوں نے انہیں ان کی حد سے آگے بڑھا دیا تھا۔ قرآن نے فیصلہ کیا اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر حق بات بتادی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں ان کی والدہ نہایت پاکدامن تھی۔ صحیح اور بیشک وشبہ بات یہی ہے۔ اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ قیامت کے دن انکے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے میں غالب ہے اور بندہ کے اقوال و افعال کا عالم ہے۔ تجھے اسی پر کام بھروسہ رکھنا چاہئے۔ اپنے رب کی رسالت کی تبلیغ میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ تو تو سراسر حق پر ہے مخالفین شقی ازلی ہیں۔ ان پر تیرے رب کی بات صادق آچکی ہے کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تو انہیں تمام معجزے دکھا دے۔ تو مردوں کو نفع دینے والی سماعت نہیں دے سکتا۔ اسی طرح یہ کفار ہیں کہ ان کے دلوں پر پردے ہیں ان کے کانوں میں بوجھ ہیں۔ یہ بھی قبولیت کا سننا نہیں سنیں گے۔ اور نہ تو بہروں کو اپنی آواز سناسکتا ہے جب کہ وہ پیٹھ موڑے منہ پھیرے جا رہے ہوں۔ اور تو اندھوں کو انکی گمراہی میں بھی رہنمائی نہیں کرسکتا تو صرف انہیں کو سنا سکتا ہے۔ یعنی قبول صرف وہی کریں گے جو کان لگا کر سنیں اور دل لگا کر سمجھیں ساتھ ہی ایمان و اسلام بھی ان میں ہو۔ اللہ کے رسول کے ماننے والے ہوں دین اللہ کے قائل وحامل ہوں۔

حق وباطل میں فیصلہ کرنے والا قرآن پاک کی ہدایت بیان ہو رہی ہے۔ کہ اس میں جہاں رحمت ہے وہاں فرقان بھی ہے اور بنی اسرائیل حاملان تورات و انجیل کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے۔ جیسے حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہودیوں نے منہ پھٹ بات اور نری تہمت رکھ دی تھی اور عیسائیوں نے انہیں ان کی حد سے آگے بڑھا دیا تھا۔ قرآن نے فیصلہ کیا اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر حق بات بتادی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں ان کی والدہ نہایت پاکدامن تھی۔ صحیح اور بیشک وشبہ بات یہی ہے۔ اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ قیامت کے دن انکے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے میں غالب ہے اور بندہ کے اقوال و افعال کا عالم ہے۔ تجھے اسی پر کام بھروسہ رکھنا چاہئے۔ اپنے رب کی رسالت کی تبلیغ میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ تو تو سراسر حق پر ہے مخالفین شقی ازلی ہیں۔ ان پر تیرے رب کی بات صادق آچکی ہے کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تو انہیں تمام معجزے دکھا دے۔ تو مردوں کو نفع دینے والی سماعت نہیں دے سکتا۔ اسی طرح یہ کفار ہیں کہ ان کے دلوں پر پردے ہیں ان کے کانوں میں بوجھ ہیں۔ یہ بھی قبولیت کا سننا نہیں سنیں گے۔ اور نہ تو بہروں کو اپنی آواز سناسکتا ہے جب کہ وہ پیٹھ موڑے منہ پھیرے جا رہے ہوں۔ اور تو اندھوں کو انکی گمراہی میں بھی رہنمائی نہیں کرسکتا تو صرف انہیں کو سنا سکتا ہے۔ یعنی قبول صرف وہی کریں گے جو کان لگا کر سنیں اور دل لگا کر سمجھیں ساتھ ہی ایمان و اسلام بھی ان میں ہو۔ اللہ کے رسول کے ماننے والے ہوں دین اللہ کے قائل وحامل ہوں۔

حق وباطل میں فیصلہ کرنے والا قرآن پاک کی ہدایت بیان ہو رہی ہے۔ کہ اس میں جہاں رحمت ہے وہاں فرقان بھی ہے اور بنی اسرائیل حاملان تورات و انجیل کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے۔ جیسے حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہودیوں نے منہ پھٹ بات اور نری تہمت رکھ دی تھی اور عیسائیوں نے انہیں ان کی حد سے آگے بڑھا دیا تھا۔ قرآن نے فیصلہ کیا اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر حق بات بتادی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں ان کی والدہ نہایت پاکدامن تھی۔ صحیح اور بیشک وشبہ بات یہی ہے۔ اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ قیامت کے دن انکے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے میں غالب ہے اور بندہ کے اقوال و افعال کا عالم ہے۔ تجھے اسی پر کام بھروسہ رکھنا چاہئے۔ اپنے رب کی رسالت کی تبلیغ میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ تو تو سراسر حق پر ہے مخالفین شقی ازلی ہیں۔ ان پر تیرے رب کی بات صادق آچکی ہے کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تو انہیں تمام معجزے دکھا دے۔ تو مردوں کو نفع دینے والی سماعت نہیں دے سکتا۔ اسی طرح یہ کفار ہیں کہ ان کے دلوں پر پردے ہیں ان کے کانوں میں بوجھ ہیں۔ یہ بھی قبولیت کا سننا نہیں سنیں گے۔ اور نہ تو بہروں کو اپنی آواز سناسکتا ہے جب کہ وہ پیٹھ موڑے منہ پھیرے جا رہے ہوں۔ اور تو اندھوں کو انکی گمراہی میں بھی رہنمائی نہیں کرسکتا تو صرف انہیں کو سنا سکتا ہے۔ یعنی قبول صرف وہی کریں گے جو کان لگا کر سنیں اور دل لگا کر سمجھیں ساتھ ہی ایمان و اسلام بھی ان میں ہو۔ اللہ کے رسول کے ماننے والے ہوں دین اللہ کے قائل وحامل ہوں۔

حق وباطل میں فیصلہ کرنے والا قرآن پاک کی ہدایت بیان ہو رہی ہے۔ کہ اس میں جہاں رحمت ہے وہاں فرقان بھی ہے اور بنی اسرائیل حاملان تورات و انجیل کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے۔ جیسے حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہودیوں نے منہ پھٹ بات اور نری تہمت رکھ دی تھی اور عیسائیوں نے انہیں ان کی حد سے آگے بڑھا دیا تھا۔ قرآن نے فیصلہ کیا اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر حق بات بتادی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں ان کی والدہ نہایت پاکدامن تھی۔ صحیح اور بیشک وشبہ بات یہی ہے۔ اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ قیامت کے دن انکے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے میں غالب ہے اور بندہ کے اقوال و افعال کا عالم ہے۔ تجھے اسی پر کام بھروسہ رکھنا چاہئے۔ اپنے رب کی رسالت کی تبلیغ میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ تو تو سراسر حق پر ہے مخالفین شقی ازلی ہیں۔ ان پر تیرے رب کی بات صادق آچکی ہے کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تو انہیں تمام معجزے دکھا دے۔ تو مردوں کو نفع دینے والی سماعت نہیں دے سکتا۔ اسی طرح یہ کفار ہیں کہ ان کے دلوں پر پردے ہیں ان کے کانوں میں بوجھ ہیں۔ یہ بھی قبولیت کا سننا نہیں سنیں گے۔ اور نہ تو بہروں کو اپنی آواز سناسکتا ہے جب کہ وہ پیٹھ موڑے منہ پھیرے جا رہے ہوں۔ اور تو اندھوں کو انکی گمراہی میں بھی رہنمائی نہیں کرسکتا تو صرف انہیں کو سنا سکتا ہے۔ یعنی قبول صرف وہی کریں گے جو کان لگا کر سنیں اور دل لگا کر سمجھیں ساتھ ہی ایمان و اسلام بھی ان میں ہو۔ اللہ کے رسول کے ماننے والے ہوں دین اللہ کے قائل وحامل ہوں۔

حق وباطل میں فیصلہ کرنے والا قرآن پاک کی ہدایت بیان ہو رہی ہے۔ کہ اس میں جہاں رحمت ہے وہاں فرقان بھی ہے اور بنی اسرائیل حاملان تورات و انجیل کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے۔ جیسے حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہودیوں نے منہ پھٹ بات اور نری تہمت رکھ دی تھی اور عیسائیوں نے انہیں ان کی حد سے آگے بڑھا دیا تھا۔ قرآن نے فیصلہ کیا اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر حق بات بتادی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں ان کی والدہ نہایت پاکدامن تھی۔ صحیح اور بیشک وشبہ بات یہی ہے۔ اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ قیامت کے دن انکے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے میں غالب ہے اور بندہ کے اقوال و افعال کا عالم ہے۔ تجھے اسی پر کام بھروسہ رکھنا چاہئے۔ اپنے رب کی رسالت کی تبلیغ میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ تو تو سراسر حق پر ہے مخالفین شقی ازلی ہیں۔ ان پر تیرے رب کی بات صادق آچکی ہے کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تو انہیں تمام معجزے دکھا دے۔ تو مردوں کو نفع دینے والی سماعت نہیں دے سکتا۔ اسی طرح یہ کفار ہیں کہ ان کے دلوں پر پردے ہیں ان کے کانوں میں بوجھ ہیں۔ یہ بھی قبولیت کا سننا نہیں سنیں گے۔ اور نہ تو بہروں کو اپنی آواز سناسکتا ہے جب کہ وہ پیٹھ موڑے منہ پھیرے جا رہے ہوں۔ اور تو اندھوں کو انکی گمراہی میں بھی رہنمائی نہیں کرسکتا تو صرف انہیں کو سنا سکتا ہے۔ یعنی قبول صرف وہی کریں گے جو کان لگا کر سنیں اور دل لگا کر سمجھیں ساتھ ہی ایمان و اسلام بھی ان میں ہو۔ اللہ کے رسول کے ماننے والے ہوں دین اللہ کے قائل وحامل ہوں۔

دابتہ الارض جس جانور کا یہاں ذکر ہے یہ لوگوں کے بالکل بگڑ جانے اور دین حق کو چھوڑ بیٹھنے کے وقت آخر زمانے میں ظاہر ہوگا۔ جب کہ لوگوں نے دین حق کو بدل دیا ہوگا۔ بعض کہتے ہیں یہ مکہ شریف سے نکلے گا بعض کہتے ہی اور کسی جگہ سے جس کی تفصیل ابھی آئے گی انشاء اللہ تعالی۔ وہ بولے گا باتیں کرے گا اور کہے گا کہ لوگ اللہ کی آیتوں کا یقین نہیں کرتے تھے ابن جریر اسی کو مختار کہتے ہیں۔ لیکن اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ابن عباس کا قول ہے کہ وہ انہیں زخمی کرے گا ایک روایت میں ہے کہ وہ یہ اور وہ دونوں کرے گا۔ یہ قول بہت اچھا ہے اور دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں، واللہ اعلم۔ وہ احادیث جو دابتہ الارض کے بارے میں مروی ہیں۔ ان میں سے کچھ ہم یہاں بیان کرتے ہیں واللہ المستعان۔ صحابہ کرام ایک مرتبہ بیٹھے قیامت کا ذکر کررہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ عرفات سے آئے۔ ہمیں ذکر میں مشغول دیکھ کر فرمانے لگے کہ قیامت قائم نہ ہوگی کہ تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، دابتہ الارض، یاجوج ماجوج، عیسیٰ بن مریم کا ظہور، اور دجال کا نکلنا اور مغرب، مشرق اور جزیرہ عرب میں تین خسف ہونا، اور ایک آگ کا عدن سے نکلنا جو لوگوں کا حشر کرے گی۔ انہی کے ساتھ رات گزارے گی اور انہی کے ساتھ دوپہر کا سونا سوئے گی (مسلم وغیرہ) ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ دابتہ الارض تین مرتبہ نکلے گا دور دراز کے جنگل سے ظاہر ہوگا اور اس کا ذکر شہر یعنی مکہ تک نہ پہنچے گا پھر ایک لمبے زمانے کے بعد دوبارہ ظاہر ہوگا اور لوگوں کی زبانوں پر اس کا قصہ چڑھ جائے گا یہاں تک کہ مکہ میں بھی اس کی شہرت پہنچے گی۔ پھر جب لوگ اللہ کی سب سے زیادہ حرمت و عظمت والی مسجد مسجد حرام میں ہوں گے اسی وقت اچانک دفعتا دابتہ الارض انہیں وہی دکھائی دے گا کہ رکن مقام کے درمیان اپنے سر سے مٹی جھاڑ رہا ہوگا۔ لوگ اس کو دیکھ کر ادھر ادھر ہونے لگیں گے یہ مومنوں کی جماعت کے پاس جائے گا اور ان کے منہ کو مثل روشن ستارے کے منور کردے گا اس سے بھاگ کر نہ کوئی بچ سکتا ہے اور نہ چھپ سکتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک شخص اس کو دیکھ کر نماز کو کھڑا ہوجائے گا یہ اس کو کہے گا اب نماز کو کھڑا ہوا ہے ؟ پھر اس کے پیشانی پر نشان کردے گا اور چلا جائے گا اس کے ان نشانات کے بعد کافر مومن کا صاف طور امتیاز ہوجائے گا یہاں تک کہ مومن کافر سے کہے گا کہ اے کافر ! میرا حق ادا کر اور کافر مومن سے کہے گا اے مومن ! میرا حق ادا کر یہ روایت حذیفہ بن اسید سے موقوفا بھی مروی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ ؑ کے زمانے میں ہوگا جب کہ آپ بیت اللہ شریف کا طواف کررہے ہونگے لیکن اس کی اسناد صحیح نہیں ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ سب سے پہلے جو نشانی ظاہر ہوگی وہ سورج کا مغرب سے نکلنا اور دابتہ الارض کا ضحی کے وقت آجانا ہے۔ ان دونوں میں سے جو پہلے ہوگا اس کے بعد ہی دوسرا ہوگا۔ صحیح مسلم شریف میں ہے آپ نے فرمایا چھ چیزوں کی آمد سے پہلے نیک اعمال کرلو۔ سورج کا مغرب سے نکلنا، دھویں کا آنا، دجال کا آنا، اور دابتہ الارض کا آنا تم میں سے ہر ایک کا خاص امر اور عام امر۔ یہ حدیث اور سندوں سے دوسری کتابوں میں بھی ہے۔ ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ دابتہ الارض کے ساتھ حضرت عیسیٰ کی لکڑی اور حضرت سلیمان کی انگوٹھی ہوگی۔ کافروں کی ناک پر لکڑی سے مہر لگائے گا اور مومنوں کے منہ انگوٹھی سے منور کردے گا یہاں تک کہ ایک دسترخوان بیٹھے ہوئے مومن کافر سب ظاہر ہونگے۔ ایک اور حدیث میں جو مسند احمد میں ہے، مروی ہے کہ کافروں کے ناک پر انگوٹھی سے مہر کرے گا اور مومنوں کے چہرے لکڑی سے چمکا دے گا۔ ابن ماجہ میں حضرت بریدہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ لے کر مکہ کے پاس ایک جنگل میں گئے۔ میں نے دیکھا کہ ایک خشک زمین ہے جس کے ارد گرد ریت ہے۔ فرمانے لگے یہیں سے دابتہ الارض نکلے گا۔ ابن بریدہ کہتے ہیں اس کے کئی سال بعد میں حج کے لئے نکلا تو مجھے لکڑی دکھائی دی جو میری اس لکڑی کے برابر تھی۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس کے چار پیر ہونگے صفا کے کھڈ سے نکلے گا بہت تیزی سے خروج کرے گا جیسے کہ کوئی تیز رفتار گھوڑا ہو لیکن تاہم تین دن میں اس کے جسم کا تیسرا حصہ بھی نہ نکلا ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے جب اس کی بابت پوچھا گیا تو فرمانے لگے جیاد میں ایک چٹان ہے اس کے نیچے سے نکلے گا میں اگر وہاں ہوتا تو تمہیں وہ چٹان دکھا دیتا۔ یہ سیدھا مشرق کی طرف جائے گا اور اس شور سے جائے گا کہ ہر طرف اس کی آواز پہنچ جائے گی۔ پھر شام کی طرف جائے گا وہاں بھی چیخ لگا کر، پھر یمن کی طرف متوجہ ہوگا یہاں بھی آواز لگا کر شام کے وقت مکہ سے چل کر صبح کو عسفان پہنچ جائے گا۔ لوگوں نے پوچھا پھر کیا ہوگا ؟ فرمایا پھر مجھے معلوم نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر کا قول ہے کہ مزدلفہ کی رات کو نکلے گا۔ حضرت عزیر کے ایک کلام کی حکایت ہے کہ سدوم کے نیچے سے یہ نکلے گا۔ اس کے کلام کو سب سنیں گے حاملہ کے حمل وقت سے پہلے گرجائیں گے، میٹھا پانی کڑوا ہوجائے گا دوست دشمن ہوجائیں گے حکمت جل جائی گی علم اٹھ جائے گا نیچے کی زمین باتیں کرے گی انسان کی وہ تمنائیں ہونگی کہ جو کبھی پوری نہ ہوں، ان چیزوں کی کوشش ہوگی جو کبھی حاصل نہ ہو۔ اس بارے میں کام کریں گے جسے کھائیں گے نہیں۔ ابوہریرہ ؓ کا قول ہے اس کے جسم پر سب رنگ ہونگے۔ اس کے دوسینگوں کے درمیان سوار کے لئے ایک فرسخ کی راہ ہوگی۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ یہ موٹے نیزے کی اور بھالے کی طرح کا ہوگا۔ حضرت علی فرماتے ہیں اس کے بال ہونگے کھر ہونگے ڈاڑھی ہوگی دم نہ ہوگی۔ تین دن میں بمشکل ایک تہائی باہر آئے گا حالانکہ تیز گھوڑے کی چال چلتا ہوگا۔ ابو زبیر کا قول ہے کہ اس کا سر بیل کے سر کے مشابہ ہوگا آنکھیں خنزیر کی آنکھوں کے مشابہ ہونگی، کان ہاتھی جیسے ہوں گے، سینگ کی جگہ اونٹ کی طرح ہوگی، شتر مرغ جیسی گردن ہوگی، شیر جیسا سینہ ہوگا، چیتے جیسا رنگ ہوگا بلی جیسی کمر ہوگی مینڈے جیسی دم ہوگی اونٹ جیسے پاؤں ہونگے ہر دو جوڑ کے درمیان بارہ گز کا فاصلہ ہوگا۔ حضرت موسیٰ کی لکڑی اور حضرت سلیمان کی انگوٹھی ساتھ ہوگی ہر مومن کے چہرے پر اپنے عصائے موسوی سے نشان کرے گا جو پھیل جائے گا اور چہرہ منور ہوجائے گا اور ہر کافر کے چہرے پر خاتم سلیمانی سے نشانی لگادے گا جو پھیل جائے گا اور اس کا سارا چہرہ سیاہ ہوجائے گا۔ اب تو اس طرح مومن کافر ظاہر ہوجائیں گے کہ خریدو فروخت کے وقت کھانے پینے کے وقت لوگ ایک دوسروں کو اے مومن اور اے کافر کہہ کر بلائیں گے۔ دابتہ الارض ایک ایک کا نام لے کر ان کو جنت کی خوشخبری یا جہنم کی بدخبری سنائے گا۔ یہی معنی ومطلب اس آیت کا ہے۔

باز پرس کے لمحات اللہ کی باتوں کو نہ ماننے والوں کا اللہ کے سامنے حشر ہوگا اور وہاں انہیں ڈانٹ ڈپٹ ہوگی تاکہ ان کی ذلت و حقارت ہو۔ ہر قوم میں سے ہر زمانے کے ایسے لوگوں کے گروہ الگ الگ پیش ہونگے جیسے فرمان ہے آیت (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22؀ۙ) 37۔ الصافات :22) ظالموں کو اور ان کے جوڑوں کو جمع کرو۔ اور جیسے فرمان ہے آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب کہ نفسوں کی جوڑیاں ملائی جائیں گی۔ یہ سب ایک دوسرے کو دھکے دیں گے اور اول والے آخر والوں کو رد کریں گے۔ پھر سب کے سب جانوروں کی طرح ہنکا کر اللہ کے سامنے لائیں جائیں گے۔ ان کے حاضر ہوتے ہی وہ منتقم حقیقی نہایت غصہ سے ان سے باز پرس کرے گا۔ یہ نیکیوں سے خالی ہاتھ ہونگے جیسے فرمایا آیت (فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰى 31 ؀ۙ) 75۔ القیامة :31) یعنی نہ انہوں نے سچائی کی تھی نہ نمازیں پڑھی تھیں بلکہ جھٹلایا تھا اور منہ موڑا تھا۔ پس ان پر حجت ثابت ہوجائے گی اور کوئی عذر نہ کرسکیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت (هٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ 35؀ۙ) 77۔ المرسلات :35) یہ وہ دن ہے کہ بول نہ سکیں گے اور نہ کوئی معقول عذر پیش کرسکیں گے اور نہ غیر معقول معذرت کی اجازت پائیں گے۔ پس ان کے ذمہ بات ثابت ہوجائے گی۔ ششدرو حیران رہ جائیں گے اپنے ظلم کا بدلہ خوب پائیں گے۔ دنیا میں ظالم تھے اب جس کے سامنے کھٹے ہونگے وہ عالم الغیب ہے کوئی بات بنائے نہ بنے گی۔ پھر اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتا ہے اور اپنی بلندی شان بتاتا ہے اور اپنی عظیم الشان سلطنت دکھاتا ہے جو کھلی دلیل ہے،۔ اس کی اطاعت کی فرضیت پر اور اس کے حکموں کے بجالانے اور اسکے منع کردہ کاموں سے رکے رہنے کی ضروت پر۔ اور اس کے نبیوں کو سچا ماننے کی اصلیت پر۔ کہ اس نے رات کو پرسکون بنایا تاکہ تم اس میں آرام حاصل کرلو اور دن بھر کی تھکان دور کرلو اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم اپنی معاش کی تلاش کرلو سفر تجارت کاروبار باآسانی کرسکو۔ یہ تمام چیزیں ایک مومن کے لیے تو کافی سے زیادہ دلیل ہیں۔

باز پرس کے لمحات اللہ کی باتوں کو نہ ماننے والوں کا اللہ کے سامنے حشر ہوگا اور وہاں انہیں ڈانٹ ڈپٹ ہوگی تاکہ ان کی ذلت و حقارت ہو۔ ہر قوم میں سے ہر زمانے کے ایسے لوگوں کے گروہ الگ الگ پیش ہونگے جیسے فرمان ہے آیت (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22؀ۙ) 37۔ الصافات :22) ظالموں کو اور ان کے جوڑوں کو جمع کرو۔ اور جیسے فرمان ہے آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب کہ نفسوں کی جوڑیاں ملائی جائیں گی۔ یہ سب ایک دوسرے کو دھکے دیں گے اور اول والے آخر والوں کو رد کریں گے۔ پھر سب کے سب جانوروں کی طرح ہنکا کر اللہ کے سامنے لائیں جائیں گے۔ ان کے حاضر ہوتے ہی وہ منتقم حقیقی نہایت غصہ سے ان سے باز پرس کرے گا۔ یہ نیکیوں سے خالی ہاتھ ہونگے جیسے فرمایا آیت (فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰى 31 ؀ۙ) 75۔ القیامة :31) یعنی نہ انہوں نے سچائی کی تھی نہ نمازیں پڑھی تھیں بلکہ جھٹلایا تھا اور منہ موڑا تھا۔ پس ان پر حجت ثابت ہوجائے گی اور کوئی عذر نہ کرسکیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت (هٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ 35؀ۙ) 77۔ المرسلات :35) یہ وہ دن ہے کہ بول نہ سکیں گے اور نہ کوئی معقول عذر پیش کرسکیں گے اور نہ غیر معقول معذرت کی اجازت پائیں گے۔ پس ان کے ذمہ بات ثابت ہوجائے گی۔ ششدرو حیران رہ جائیں گے اپنے ظلم کا بدلہ خوب پائیں گے۔ دنیا میں ظالم تھے اب جس کے سامنے کھٹے ہونگے وہ عالم الغیب ہے کوئی بات بنائے نہ بنے گی۔ پھر اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتا ہے اور اپنی بلندی شان بتاتا ہے اور اپنی عظیم الشان سلطنت دکھاتا ہے جو کھلی دلیل ہے،۔ اس کی اطاعت کی فرضیت پر اور اس کے حکموں کے بجالانے اور اسکے منع کردہ کاموں سے رکے رہنے کی ضروت پر۔ اور اس کے نبیوں کو سچا ماننے کی اصلیت پر۔ کہ اس نے رات کو پرسکون بنایا تاکہ تم اس میں آرام حاصل کرلو اور دن بھر کی تھکان دور کرلو اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم اپنی معاش کی تلاش کرلو سفر تجارت کاروبار باآسانی کرسکو۔ یہ تمام چیزیں ایک مومن کے لیے تو کافی سے زیادہ دلیل ہیں۔

باز پرس کے لمحات اللہ کی باتوں کو نہ ماننے والوں کا اللہ کے سامنے حشر ہوگا اور وہاں انہیں ڈانٹ ڈپٹ ہوگی تاکہ ان کی ذلت و حقارت ہو۔ ہر قوم میں سے ہر زمانے کے ایسے لوگوں کے گروہ الگ الگ پیش ہونگے جیسے فرمان ہے آیت (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22؀ۙ) 37۔ الصافات :22) ظالموں کو اور ان کے جوڑوں کو جمع کرو۔ اور جیسے فرمان ہے آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب کہ نفسوں کی جوڑیاں ملائی جائیں گی۔ یہ سب ایک دوسرے کو دھکے دیں گے اور اول والے آخر والوں کو رد کریں گے۔ پھر سب کے سب جانوروں کی طرح ہنکا کر اللہ کے سامنے لائیں جائیں گے۔ ان کے حاضر ہوتے ہی وہ منتقم حقیقی نہایت غصہ سے ان سے باز پرس کرے گا۔ یہ نیکیوں سے خالی ہاتھ ہونگے جیسے فرمایا آیت (فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰى 31 ؀ۙ) 75۔ القیامة :31) یعنی نہ انہوں نے سچائی کی تھی نہ نمازیں پڑھی تھیں بلکہ جھٹلایا تھا اور منہ موڑا تھا۔ پس ان پر حجت ثابت ہوجائے گی اور کوئی عذر نہ کرسکیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت (هٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ 35؀ۙ) 77۔ المرسلات :35) یہ وہ دن ہے کہ بول نہ سکیں گے اور نہ کوئی معقول عذر پیش کرسکیں گے اور نہ غیر معقول معذرت کی اجازت پائیں گے۔ پس ان کے ذمہ بات ثابت ہوجائے گی۔ ششدرو حیران رہ جائیں گے اپنے ظلم کا بدلہ خوب پائیں گے۔ دنیا میں ظالم تھے اب جس کے سامنے کھٹے ہونگے وہ عالم الغیب ہے کوئی بات بنائے نہ بنے گی۔ پھر اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتا ہے اور اپنی بلندی شان بتاتا ہے اور اپنی عظیم الشان سلطنت دکھاتا ہے جو کھلی دلیل ہے،۔ اس کی اطاعت کی فرضیت پر اور اس کے حکموں کے بجالانے اور اسکے منع کردہ کاموں سے رکے رہنے کی ضروت پر۔ اور اس کے نبیوں کو سچا ماننے کی اصلیت پر۔ کہ اس نے رات کو پرسکون بنایا تاکہ تم اس میں آرام حاصل کرلو اور دن بھر کی تھکان دور کرلو اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم اپنی معاش کی تلاش کرلو سفر تجارت کاروبار باآسانی کرسکو۔ یہ تمام چیزیں ایک مومن کے لیے تو کافی سے زیادہ دلیل ہیں۔

باز پرس کے لمحات اللہ کی باتوں کو نہ ماننے والوں کا اللہ کے سامنے حشر ہوگا اور وہاں انہیں ڈانٹ ڈپٹ ہوگی تاکہ ان کی ذلت و حقارت ہو۔ ہر قوم میں سے ہر زمانے کے ایسے لوگوں کے گروہ الگ الگ پیش ہونگے جیسے فرمان ہے آیت (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22؀ۙ) 37۔ الصافات :22) ظالموں کو اور ان کے جوڑوں کو جمع کرو۔ اور جیسے فرمان ہے آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب کہ نفسوں کی جوڑیاں ملائی جائیں گی۔ یہ سب ایک دوسرے کو دھکے دیں گے اور اول والے آخر والوں کو رد کریں گے۔ پھر سب کے سب جانوروں کی طرح ہنکا کر اللہ کے سامنے لائیں جائیں گے۔ ان کے حاضر ہوتے ہی وہ منتقم حقیقی نہایت غصہ سے ان سے باز پرس کرے گا۔ یہ نیکیوں سے خالی ہاتھ ہونگے جیسے فرمایا آیت (فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰى 31 ؀ۙ) 75۔ القیامة :31) یعنی نہ انہوں نے سچائی کی تھی نہ نمازیں پڑھی تھیں بلکہ جھٹلایا تھا اور منہ موڑا تھا۔ پس ان پر حجت ثابت ہوجائے گی اور کوئی عذر نہ کرسکیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت (هٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ 35؀ۙ) 77۔ المرسلات :35) یہ وہ دن ہے کہ بول نہ سکیں گے اور نہ کوئی معقول عذر پیش کرسکیں گے اور نہ غیر معقول معذرت کی اجازت پائیں گے۔ پس ان کے ذمہ بات ثابت ہوجائے گی۔ ششدرو حیران رہ جائیں گے اپنے ظلم کا بدلہ خوب پائیں گے۔ دنیا میں ظالم تھے اب جس کے سامنے کھٹے ہونگے وہ عالم الغیب ہے کوئی بات بنائے نہ بنے گی۔ پھر اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتا ہے اور اپنی بلندی شان بتاتا ہے اور اپنی عظیم الشان سلطنت دکھاتا ہے جو کھلی دلیل ہے،۔ اس کی اطاعت کی فرضیت پر اور اس کے حکموں کے بجالانے اور اسکے منع کردہ کاموں سے رکے رہنے کی ضروت پر۔ اور اس کے نبیوں کو سچا ماننے کی اصلیت پر۔ کہ اس نے رات کو پرسکون بنایا تاکہ تم اس میں آرام حاصل کرلو اور دن بھر کی تھکان دور کرلو اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم اپنی معاش کی تلاش کرلو سفر تجارت کاروبار باآسانی کرسکو۔ یہ تمام چیزیں ایک مومن کے لیے تو کافی سے زیادہ دلیل ہیں۔

جب صور پھونکا جائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کی گھبراہٹ اور بےچینی کو بیان فرما رہے ہیں۔ صور میں حضرت اسرافیل ؑ بحکم الہی پھونک ماریں گے۔ اس وقت زمین پر بدترین لوگ ہونگے۔ دیر تک نفخہ پھونکتے رہیں گے۔ جس سے سب پریشان حال ہوجائیں گے سوائے شہیدوں کے جو اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور روزیاں دئیے جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے ایک دن کسی شخص نے دریافت کیا کہ یہ آپ کیا فرمایا کرتے ہیں کہ اتنے اتنے وقت تک قیامت آجائے گی ؟ آپ نے سبحان اللہ یا لا الہ الا اللہ یا اور کوئی ایسا ہی کلمہ بطور تعجب کہا اور فرمانے لگے سنو ! اب تو جی چاہتا ہے کہ کسی سے کوئی حدیث بیان ہی نہ کرو میں نے یہ کہا تھا کہ عنقریب تم بڑی اہم باتیں دیکھو گے۔ بیت اللہ خراب ہوجائے گا اور یہ ہوگا وہ ہوگا وغیرہ۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ دجال میری امت میں چالیس ٹھہرے گا۔ میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ کو نازل فرمائے گا۔ وہ صورت شکل میں بالکل حضرت عروہ بن مسعود ؓ جیسے ہونگے آپ اسے ڈھونڈ نکالیں گے اور اسے ہلاک کردیں گے۔ پھر سات سال ایسے گزریں گے کہ دنیا بھر میں دو شخص ایسے نہ ہونگے جن میں آپس میں بغض و عدوات ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک بھینی بھینی ٹھنڈی ہوا چلائے گا جس سے ہر مومن فوت ہوجائے گا۔ ایک ذرے کے برابر بھی جس کے دل میں خیر یا ایمان ہوگا اس کی روح بھی قبض ہوجائے گی۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی پہاڑ کی کھوہ میں گھس گیا ہوگا تو یہ ہوا وہیں جاکر اسے فناکردے گی۔ اب زمین پر صرف بد لوگ رہ جائیں گے جو پرندوں جیسے ہلکے اور چوپائیوں جیسے بےعقل ہوں گے۔ ان میں سے بھلائی برائی کی تمیز اٹھ جائے گی ان کے پاس شیطان پہنچے گا اور کہے گا تم شرماتے نہیں ؟ کہ بتوں کی پرستش چھوڑے بیٹھے ہو ؟ یہ بت پرستی شروع کردیں گے۔ اللہ انہیں روزیاں پہنچاتا رہے گا اور خوش وخرم رکھے گا۔ یہ اسی مستی میں ہونگے جو صور پھونکنے کا حکم مل جائے گا۔ جس کے کان میں آواز پڑی وہیں دائیں بائیں لوٹنے لگا سب سے پہلے اسے وہ شخص سنے گا جو اپنے اونٹ کے لئے حوض ٹھیک ٹھاک کر رہا ہوگا سنتے ہی بیہوش ہوجائے گا۔ اور سب لوگ بیہوش ہونا شروع ہوجائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مثل شبنم کے بارش برسائے گا جس سے لوگوں کے جسم اٹھنے لگیں گے۔ پھر دوسرا نفخہ پھونکا جائے گا جس سے سب اٹھ کھڑے ہونگے۔ وہیں آواز لگے گی کہ لوگو ! اپنے رب کے پاس چلو۔ وہاں ٹھہرو تم سے سوال جواب ہوگا پھر فرمایا جائے گا کہ آگ کا حصہ نکالو۔ پوچھا جائے گا کہ کتنوں میں سے کتنے ؟ تو فرمایا جائے گا کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ ہوگا وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کردے۔ یہ ہوگا وہ دن جب پنڈلی (تجلی رب) کی زیارت کرائی جائے گی۔ پہلا نفخہ تو گھبراہٹ کا نفخہ ہوگا۔ دوسرا بیہوشی اور موت کا اور تیسرا دوبارہ جی کر رب العلمین کے دربار میں پیش ہونے کا۔ أتوہ کی قرائت الف کے مد کے ساتھ بھی مروی ہے۔ ہر ایک ذلیل وخوار ہو کر پست و لاچار ہو کر بےبس اور مجبور ہو کر ماتحت اور محکوم ہو کر اللہ کے سامنے حاضر ہوگا۔ ایک سے بھی بن نہ پڑے گی کہ اسکی حکم عدولی کرے۔ جیسے فرمان ہے آیت (يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا 52؀) 17۔ الإسراء :52) جس دن اللہ تمہیں بلائے گا اور تم اس کی حمد بیان کرتے ہوئے اس کی فرمانبرداری کروگے اور آیت میں ہے کہ پھر جب وہ تمہیں زمین سے بلائے گا تو تم سب نکل کھڑے ہوگے۔ صور کی حدیث میں ہے کہ تمام روحیں صور کے سوراخ میں رکھی جائیں گی اور جب جسم قبروں سے اٹھ رہے ہونگے۔ صور پھونک دیا جائے گا روحیں اڑنے لگیں گی مومنوں کی روحیں نورانی ہونگی کافروں کی روحیں اندھیرے اور ظلمت والی ہونگی۔ رب العالمین خالق کل فرمادے گا میرے جلال کی میری عزت کی قسم ہے ہر روح اپنے بدن میں چلی جائے۔ جس طرح زہر رگ وپے میں سرایت کرتا ہے اس طرح روحیں اپنے جسموں میں پھیل جائیں گی اور لوگ اپنی اپنی جگہ سے سرجھاڑ اٹھ کھڑے ہوں گے جیسے فرمایا کہ اس دن قبروں سے اس طرح جلدی نکلیں گے جس طرح اپنی عبادت گاہ کی طرف دوڑے بھاگے جاتے تھے۔ یہ بلند پہاڑ جنہیں تم گڑا ہوا اور جما ہوا دیکھ رہے ہو یہ اس دن اڑتے بادلوں کی طرح ادھر ادھر پھیلے ہوئے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوئے دکھائی دیں گے۔ ریزہ ریزہ ہو کر یہ چلنے پھرنے لگیں گے اور آخر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام ونشان ہوجائیں گے زمین صاف ہتھیلی جیسی بغیر کسی اونچ نیچ کے ہوجائے گی یہ ہے صفت اس صناع کی جس کی ہر صفت حکمت والی مضبوط پختہ اور اعلی ہوتی ہے۔ جس کی اعلی تر قدرت انسانی سمجھ میں نہیں آسکتی۔ بندوں کے تمام اعمال خیر وشر سے وہ واقف ہے ہر ایک فعل کی سزا جزا وہ ضرور دے گا۔ اس اختصار کے بعد تفصیل بیان فرمائی کہ نیکی اخلاص توحید لے کر جو آئے گا وہ ایک کے بدلے دس پائے گا اور اس دن کی گھبراہٹ سے نڈر رہے گا اور لوگ گھبراہٹ میں عذاب میں ہونگے۔ یہ امن میں ثواب میں ہوگا بلند وبالا بالاخانوں میں راحت واطمینان سے ہوگا۔ اور جس کی برائیاں ہی برائیاں ہوں یا جس کی برائیاں بھلائیوں سے زیادہ ہوں اسے ان کا بدلہ ملے گا۔ اپنی اپنی کرنی اپنی اپنی بھرنی۔ اکثر مفسرین سے مروی ہے کہ برائی سے مراد شرک ہے۔

جب صور پھونکا جائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کی گھبراہٹ اور بےچینی کو بیان فرما رہے ہیں۔ صور میں حضرت اسرافیل ؑ بحکم الہی پھونک ماریں گے۔ اس وقت زمین پر بدترین لوگ ہونگے۔ دیر تک نفخہ پھونکتے رہیں گے۔ جس سے سب پریشان حال ہوجائیں گے سوائے شہیدوں کے جو اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور روزیاں دئیے جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے ایک دن کسی شخص نے دریافت کیا کہ یہ آپ کیا فرمایا کرتے ہیں کہ اتنے اتنے وقت تک قیامت آجائے گی ؟ آپ نے سبحان اللہ یا لا الہ الا اللہ یا اور کوئی ایسا ہی کلمہ بطور تعجب کہا اور فرمانے لگے سنو ! اب تو جی چاہتا ہے کہ کسی سے کوئی حدیث بیان ہی نہ کرو میں نے یہ کہا تھا کہ عنقریب تم بڑی اہم باتیں دیکھو گے۔ بیت اللہ خراب ہوجائے گا اور یہ ہوگا وہ ہوگا وغیرہ۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ دجال میری امت میں چالیس ٹھہرے گا۔ میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ کو نازل فرمائے گا۔ وہ صورت شکل میں بالکل حضرت عروہ بن مسعود ؓ جیسے ہونگے آپ اسے ڈھونڈ نکالیں گے اور اسے ہلاک کردیں گے۔ پھر سات سال ایسے گزریں گے کہ دنیا بھر میں دو شخص ایسے نہ ہونگے جن میں آپس میں بغض و عدوات ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک بھینی بھینی ٹھنڈی ہوا چلائے گا جس سے ہر مومن فوت ہوجائے گا۔ ایک ذرے کے برابر بھی جس کے دل میں خیر یا ایمان ہوگا اس کی روح بھی قبض ہوجائے گی۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی پہاڑ کی کھوہ میں گھس گیا ہوگا تو یہ ہوا وہیں جاکر اسے فناکردے گی۔ اب زمین پر صرف بد لوگ رہ جائیں گے جو پرندوں جیسے ہلکے اور چوپائیوں جیسے بےعقل ہوں گے۔ ان میں سے بھلائی برائی کی تمیز اٹھ جائے گی ان کے پاس شیطان پہنچے گا اور کہے گا تم شرماتے نہیں ؟ کہ بتوں کی پرستش چھوڑے بیٹھے ہو ؟ یہ بت پرستی شروع کردیں گے۔ اللہ انہیں روزیاں پہنچاتا رہے گا اور خوش وخرم رکھے گا۔ یہ اسی مستی میں ہونگے جو صور پھونکنے کا حکم مل جائے گا۔ جس کے کان میں آواز پڑی وہیں دائیں بائیں لوٹنے لگا سب سے پہلے اسے وہ شخص سنے گا جو اپنے اونٹ کے لئے حوض ٹھیک ٹھاک کر رہا ہوگا سنتے ہی بیہوش ہوجائے گا۔ اور سب لوگ بیہوش ہونا شروع ہوجائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مثل شبنم کے بارش برسائے گا جس سے لوگوں کے جسم اٹھنے لگیں گے۔ پھر دوسرا نفخہ پھونکا جائے گا جس سے سب اٹھ کھڑے ہونگے۔ وہیں آواز لگے گی کہ لوگو ! اپنے رب کے پاس چلو۔ وہاں ٹھہرو تم سے سوال جواب ہوگا پھر فرمایا جائے گا کہ آگ کا حصہ نکالو۔ پوچھا جائے گا کہ کتنوں میں سے کتنے ؟ تو فرمایا جائے گا کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ ہوگا وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کردے۔ یہ ہوگا وہ دن جب پنڈلی (تجلی رب) کی زیارت کرائی جائے گی۔ پہلا نفخہ تو گھبراہٹ کا نفخہ ہوگا۔ دوسرا بیہوشی اور موت کا اور تیسرا دوبارہ جی کر رب العلمین کے دربار میں پیش ہونے کا۔ أتوہ کی قرائت الف کے مد کے ساتھ بھی مروی ہے۔ ہر ایک ذلیل وخوار ہو کر پست و لاچار ہو کر بےبس اور مجبور ہو کر ماتحت اور محکوم ہو کر اللہ کے سامنے حاضر ہوگا۔ ایک سے بھی بن نہ پڑے گی کہ اسکی حکم عدولی کرے۔ جیسے فرمان ہے آیت (يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا 52؀) 17۔ الإسراء :52) جس دن اللہ تمہیں بلائے گا اور تم اس کی حمد بیان کرتے ہوئے اس کی فرمانبرداری کروگے اور آیت میں ہے کہ پھر جب وہ تمہیں زمین سے بلائے گا تو تم سب نکل کھڑے ہوگے۔ صور کی حدیث میں ہے کہ تمام روحیں صور کے سوراخ میں رکھی جائیں گی اور جب جسم قبروں سے اٹھ رہے ہونگے۔ صور پھونک دیا جائے گا روحیں اڑنے لگیں گی مومنوں کی روحیں نورانی ہونگی کافروں کی روحیں اندھیرے اور ظلمت والی ہونگی۔ رب العالمین خالق کل فرمادے گا میرے جلال کی میری عزت کی قسم ہے ہر روح اپنے بدن میں چلی جائے۔ جس طرح زہر رگ وپے میں سرایت کرتا ہے اس طرح روحیں اپنے جسموں میں پھیل جائیں گی اور لوگ اپنی اپنی جگہ سے سرجھاڑ اٹھ کھڑے ہوں گے جیسے فرمایا کہ اس دن قبروں سے اس طرح جلدی نکلیں گے جس طرح اپنی عبادت گاہ کی طرف دوڑے بھاگے جاتے تھے۔ یہ بلند پہاڑ جنہیں تم گڑا ہوا اور جما ہوا دیکھ رہے ہو یہ اس دن اڑتے بادلوں کی طرح ادھر ادھر پھیلے ہوئے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوئے دکھائی دیں گے۔ ریزہ ریزہ ہو کر یہ چلنے پھرنے لگیں گے اور آخر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام ونشان ہوجائیں گے زمین صاف ہتھیلی جیسی بغیر کسی اونچ نیچ کے ہوجائے گی یہ ہے صفت اس صناع کی جس کی ہر صفت حکمت والی مضبوط پختہ اور اعلی ہوتی ہے۔ جس کی اعلی تر قدرت انسانی سمجھ میں نہیں آسکتی۔ بندوں کے تمام اعمال خیر وشر سے وہ واقف ہے ہر ایک فعل کی سزا جزا وہ ضرور دے گا۔ اس اختصار کے بعد تفصیل بیان فرمائی کہ نیکی اخلاص توحید لے کر جو آئے گا وہ ایک کے بدلے دس پائے گا اور اس دن کی گھبراہٹ سے نڈر رہے گا اور لوگ گھبراہٹ میں عذاب میں ہونگے۔ یہ امن میں ثواب میں ہوگا بلند وبالا بالاخانوں میں راحت واطمینان سے ہوگا۔ اور جس کی برائیاں ہی برائیاں ہوں یا جس کی برائیاں بھلائیوں سے زیادہ ہوں اسے ان کا بدلہ ملے گا۔ اپنی اپنی کرنی اپنی اپنی بھرنی۔ اکثر مفسرین سے مروی ہے کہ برائی سے مراد شرک ہے۔

جب صور پھونکا جائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کی گھبراہٹ اور بےچینی کو بیان فرما رہے ہیں۔ صور میں حضرت اسرافیل ؑ بحکم الہی پھونک ماریں گے۔ اس وقت زمین پر بدترین لوگ ہونگے۔ دیر تک نفخہ پھونکتے رہیں گے۔ جس سے سب پریشان حال ہوجائیں گے سوائے شہیدوں کے جو اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور روزیاں دئیے جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے ایک دن کسی شخص نے دریافت کیا کہ یہ آپ کیا فرمایا کرتے ہیں کہ اتنے اتنے وقت تک قیامت آجائے گی ؟ آپ نے سبحان اللہ یا لا الہ الا اللہ یا اور کوئی ایسا ہی کلمہ بطور تعجب کہا اور فرمانے لگے سنو ! اب تو جی چاہتا ہے کہ کسی سے کوئی حدیث بیان ہی نہ کرو میں نے یہ کہا تھا کہ عنقریب تم بڑی اہم باتیں دیکھو گے۔ بیت اللہ خراب ہوجائے گا اور یہ ہوگا وہ ہوگا وغیرہ۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ دجال میری امت میں چالیس ٹھہرے گا۔ میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ کو نازل فرمائے گا۔ وہ صورت شکل میں بالکل حضرت عروہ بن مسعود ؓ جیسے ہونگے آپ اسے ڈھونڈ نکالیں گے اور اسے ہلاک کردیں گے۔ پھر سات سال ایسے گزریں گے کہ دنیا بھر میں دو شخص ایسے نہ ہونگے جن میں آپس میں بغض و عدوات ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک بھینی بھینی ٹھنڈی ہوا چلائے گا جس سے ہر مومن فوت ہوجائے گا۔ ایک ذرے کے برابر بھی جس کے دل میں خیر یا ایمان ہوگا اس کی روح بھی قبض ہوجائے گی۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی پہاڑ کی کھوہ میں گھس گیا ہوگا تو یہ ہوا وہیں جاکر اسے فناکردے گی۔ اب زمین پر صرف بد لوگ رہ جائیں گے جو پرندوں جیسے ہلکے اور چوپائیوں جیسے بےعقل ہوں گے۔ ان میں سے بھلائی برائی کی تمیز اٹھ جائے گی ان کے پاس شیطان پہنچے گا اور کہے گا تم شرماتے نہیں ؟ کہ بتوں کی پرستش چھوڑے بیٹھے ہو ؟ یہ بت پرستی شروع کردیں گے۔ اللہ انہیں روزیاں پہنچاتا رہے گا اور خوش وخرم رکھے گا۔ یہ اسی مستی میں ہونگے جو صور پھونکنے کا حکم مل جائے گا۔ جس کے کان میں آواز پڑی وہیں دائیں بائیں لوٹنے لگا سب سے پہلے اسے وہ شخص سنے گا جو اپنے اونٹ کے لئے حوض ٹھیک ٹھاک کر رہا ہوگا سنتے ہی بیہوش ہوجائے گا۔ اور سب لوگ بیہوش ہونا شروع ہوجائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مثل شبنم کے بارش برسائے گا جس سے لوگوں کے جسم اٹھنے لگیں گے۔ پھر دوسرا نفخہ پھونکا جائے گا جس سے سب اٹھ کھڑے ہونگے۔ وہیں آواز لگے گی کہ لوگو ! اپنے رب کے پاس چلو۔ وہاں ٹھہرو تم سے سوال جواب ہوگا پھر فرمایا جائے گا کہ آگ کا حصہ نکالو۔ پوچھا جائے گا کہ کتنوں میں سے کتنے ؟ تو فرمایا جائے گا کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ ہوگا وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کردے۔ یہ ہوگا وہ دن جب پنڈلی (تجلی رب) کی زیارت کرائی جائے گی۔ پہلا نفخہ تو گھبراہٹ کا نفخہ ہوگا۔ دوسرا بیہوشی اور موت کا اور تیسرا دوبارہ جی کر رب العلمین کے دربار میں پیش ہونے کا۔ أتوہ کی قرائت الف کے مد کے ساتھ بھی مروی ہے۔ ہر ایک ذلیل وخوار ہو کر پست و لاچار ہو کر بےبس اور مجبور ہو کر ماتحت اور محکوم ہو کر اللہ کے سامنے حاضر ہوگا۔ ایک سے بھی بن نہ پڑے گی کہ اسکی حکم عدولی کرے۔ جیسے فرمان ہے آیت (يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا 52؀) 17۔ الإسراء :52) جس دن اللہ تمہیں بلائے گا اور تم اس کی حمد بیان کرتے ہوئے اس کی فرمانبرداری کروگے اور آیت میں ہے کہ پھر جب وہ تمہیں زمین سے بلائے گا تو تم سب نکل کھڑے ہوگے۔ صور کی حدیث میں ہے کہ تمام روحیں صور کے سوراخ میں رکھی جائیں گی اور جب جسم قبروں سے اٹھ رہے ہونگے۔ صور پھونک دیا جائے گا روحیں اڑنے لگیں گی مومنوں کی روحیں نورانی ہونگی کافروں کی روحیں اندھیرے اور ظلمت والی ہونگی۔ رب العالمین خالق کل فرمادے گا میرے جلال کی میری عزت کی قسم ہے ہر روح اپنے بدن میں چلی جائے۔ جس طرح زہر رگ وپے میں سرایت کرتا ہے اس طرح روحیں اپنے جسموں میں پھیل جائیں گی اور لوگ اپنی اپنی جگہ سے سرجھاڑ اٹھ کھڑے ہوں گے جیسے فرمایا کہ اس دن قبروں سے اس طرح جلدی نکلیں گے جس طرح اپنی عبادت گاہ کی طرف دوڑے بھاگے جاتے تھے۔ یہ بلند پہاڑ جنہیں تم گڑا ہوا اور جما ہوا دیکھ رہے ہو یہ اس دن اڑتے بادلوں کی طرح ادھر ادھر پھیلے ہوئے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوئے دکھائی دیں گے۔ ریزہ ریزہ ہو کر یہ چلنے پھرنے لگیں گے اور آخر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام ونشان ہوجائیں گے زمین صاف ہتھیلی جیسی بغیر کسی اونچ نیچ کے ہوجائے گی یہ ہے صفت اس صناع کی جس کی ہر صفت حکمت والی مضبوط پختہ اور اعلی ہوتی ہے۔ جس کی اعلی تر قدرت انسانی سمجھ میں نہیں آسکتی۔ بندوں کے تمام اعمال خیر وشر سے وہ واقف ہے ہر ایک فعل کی سزا جزا وہ ضرور دے گا۔ اس اختصار کے بعد تفصیل بیان فرمائی کہ نیکی اخلاص توحید لے کر جو آئے گا وہ ایک کے بدلے دس پائے گا اور اس دن کی گھبراہٹ سے نڈر رہے گا اور لوگ گھبراہٹ میں عذاب میں ہونگے۔ یہ امن میں ثواب میں ہوگا بلند وبالا بالاخانوں میں راحت واطمینان سے ہوگا۔ اور جس کی برائیاں ہی برائیاں ہوں یا جس کی برائیاں بھلائیوں سے زیادہ ہوں اسے ان کا بدلہ ملے گا۔ اپنی اپنی کرنی اپنی اپنی بھرنی۔ اکثر مفسرین سے مروی ہے کہ برائی سے مراد شرک ہے۔

جب صور پھونکا جائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کی گھبراہٹ اور بےچینی کو بیان فرما رہے ہیں۔ صور میں حضرت اسرافیل ؑ بحکم الہی پھونک ماریں گے۔ اس وقت زمین پر بدترین لوگ ہونگے۔ دیر تک نفخہ پھونکتے رہیں گے۔ جس سے سب پریشان حال ہوجائیں گے سوائے شہیدوں کے جو اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور روزیاں دئیے جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے ایک دن کسی شخص نے دریافت کیا کہ یہ آپ کیا فرمایا کرتے ہیں کہ اتنے اتنے وقت تک قیامت آجائے گی ؟ آپ نے سبحان اللہ یا لا الہ الا اللہ یا اور کوئی ایسا ہی کلمہ بطور تعجب کہا اور فرمانے لگے سنو ! اب تو جی چاہتا ہے کہ کسی سے کوئی حدیث بیان ہی نہ کرو میں نے یہ کہا تھا کہ عنقریب تم بڑی اہم باتیں دیکھو گے۔ بیت اللہ خراب ہوجائے گا اور یہ ہوگا وہ ہوگا وغیرہ۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ دجال میری امت میں چالیس ٹھہرے گا۔ میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ کو نازل فرمائے گا۔ وہ صورت شکل میں بالکل حضرت عروہ بن مسعود ؓ جیسے ہونگے آپ اسے ڈھونڈ نکالیں گے اور اسے ہلاک کردیں گے۔ پھر سات سال ایسے گزریں گے کہ دنیا بھر میں دو شخص ایسے نہ ہونگے جن میں آپس میں بغض و عدوات ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک بھینی بھینی ٹھنڈی ہوا چلائے گا جس سے ہر مومن فوت ہوجائے گا۔ ایک ذرے کے برابر بھی جس کے دل میں خیر یا ایمان ہوگا اس کی روح بھی قبض ہوجائے گی۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی پہاڑ کی کھوہ میں گھس گیا ہوگا تو یہ ہوا وہیں جاکر اسے فناکردے گی۔ اب زمین پر صرف بد لوگ رہ جائیں گے جو پرندوں جیسے ہلکے اور چوپائیوں جیسے بےعقل ہوں گے۔ ان میں سے بھلائی برائی کی تمیز اٹھ جائے گی ان کے پاس شیطان پہنچے گا اور کہے گا تم شرماتے نہیں ؟ کہ بتوں کی پرستش چھوڑے بیٹھے ہو ؟ یہ بت پرستی شروع کردیں گے۔ اللہ انہیں روزیاں پہنچاتا رہے گا اور خوش وخرم رکھے گا۔ یہ اسی مستی میں ہونگے جو صور پھونکنے کا حکم مل جائے گا۔ جس کے کان میں آواز پڑی وہیں دائیں بائیں لوٹنے لگا سب سے پہلے اسے وہ شخص سنے گا جو اپنے اونٹ کے لئے حوض ٹھیک ٹھاک کر رہا ہوگا سنتے ہی بیہوش ہوجائے گا۔ اور سب لوگ بیہوش ہونا شروع ہوجائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مثل شبنم کے بارش برسائے گا جس سے لوگوں کے جسم اٹھنے لگیں گے۔ پھر دوسرا نفخہ پھونکا جائے گا جس سے سب اٹھ کھڑے ہونگے۔ وہیں آواز لگے گی کہ لوگو ! اپنے رب کے پاس چلو۔ وہاں ٹھہرو تم سے سوال جواب ہوگا پھر فرمایا جائے گا کہ آگ کا حصہ نکالو۔ پوچھا جائے گا کہ کتنوں میں سے کتنے ؟ تو فرمایا جائے گا کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ ہوگا وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کردے۔ یہ ہوگا وہ دن جب پنڈلی (تجلی رب) کی زیارت کرائی جائے گی۔ پہلا نفخہ تو گھبراہٹ کا نفخہ ہوگا۔ دوسرا بیہوشی اور موت کا اور تیسرا دوبارہ جی کر رب العلمین کے دربار میں پیش ہونے کا۔ أتوہ کی قرائت الف کے مد کے ساتھ بھی مروی ہے۔ ہر ایک ذلیل وخوار ہو کر پست و لاچار ہو کر بےبس اور مجبور ہو کر ماتحت اور محکوم ہو کر اللہ کے سامنے حاضر ہوگا۔ ایک سے بھی بن نہ پڑے گی کہ اسکی حکم عدولی کرے۔ جیسے فرمان ہے آیت (يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا 52؀) 17۔ الإسراء :52) جس دن اللہ تمہیں بلائے گا اور تم اس کی حمد بیان کرتے ہوئے اس کی فرمانبرداری کروگے اور آیت میں ہے کہ پھر جب وہ تمہیں زمین سے بلائے گا تو تم سب نکل کھڑے ہوگے۔ صور کی حدیث میں ہے کہ تمام روحیں صور کے سوراخ میں رکھی جائیں گی اور جب جسم قبروں سے اٹھ رہے ہونگے۔ صور پھونک دیا جائے گا روحیں اڑنے لگیں گی مومنوں کی روحیں نورانی ہونگی کافروں کی روحیں اندھیرے اور ظلمت والی ہونگی۔ رب العالمین خالق کل فرمادے گا میرے جلال کی میری عزت کی قسم ہے ہر روح اپنے بدن میں چلی جائے۔ جس طرح زہر رگ وپے میں سرایت کرتا ہے اس طرح روحیں اپنے جسموں میں پھیل جائیں گی اور لوگ اپنی اپنی جگہ سے سرجھاڑ اٹھ کھڑے ہوں گے جیسے فرمایا کہ اس دن قبروں سے اس طرح جلدی نکلیں گے جس طرح اپنی عبادت گاہ کی طرف دوڑے بھاگے جاتے تھے۔ یہ بلند پہاڑ جنہیں تم گڑا ہوا اور جما ہوا دیکھ رہے ہو یہ اس دن اڑتے بادلوں کی طرح ادھر ادھر پھیلے ہوئے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوئے دکھائی دیں گے۔ ریزہ ریزہ ہو کر یہ چلنے پھرنے لگیں گے اور آخر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام ونشان ہوجائیں گے زمین صاف ہتھیلی جیسی بغیر کسی اونچ نیچ کے ہوجائے گی یہ ہے صفت اس صناع کی جس کی ہر صفت حکمت والی مضبوط پختہ اور اعلی ہوتی ہے۔ جس کی اعلی تر قدرت انسانی سمجھ میں نہیں آسکتی۔ بندوں کے تمام اعمال خیر وشر سے وہ واقف ہے ہر ایک فعل کی سزا جزا وہ ضرور دے گا۔ اس اختصار کے بعد تفصیل بیان فرمائی کہ نیکی اخلاص توحید لے کر جو آئے گا وہ ایک کے بدلے دس پائے گا اور اس دن کی گھبراہٹ سے نڈر رہے گا اور لوگ گھبراہٹ میں عذاب میں ہونگے۔ یہ امن میں ثواب میں ہوگا بلند وبالا بالاخانوں میں راحت واطمینان سے ہوگا۔ اور جس کی برائیاں ہی برائیاں ہوں یا جس کی برائیاں بھلائیوں سے زیادہ ہوں اسے ان کا بدلہ ملے گا۔ اپنی اپنی کرنی اپنی اپنی بھرنی۔ اکثر مفسرین سے مروی ہے کہ برائی سے مراد شرک ہے۔

Source. Tafsir Ibn Kathir, Hafiz Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://quran.com/. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com