John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Aal-i-Imraan

Tafsir Ibn Kathir · The Family of Imraan · 200 ayat · ayat 91–120 · Quran text →

جب سانس ختم ہونے کو ہوں تو توبہ قبول نہیں ہوگی ایمان کے بعد پھر اسی کفر پر مرنے والوں کو پروردگار عالم ڈرا رہا ہے کہ موت کے وقت تمہاری توبہ قبول نہیں ہوگی جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّـيِّاٰتِ ۚ حَتّٰى اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّىْ تُبْتُ الْــٰٔنَ وَلَا الَّذِيْنَ يَمُوْتُوْنَ وَھُمْ كُفَّارٌ ۭاُولٰۗىِٕكَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا) 4۔ النسآء :18) آخر دم تک یعنی موت کے وقت تک گناہوں میں مبتلا رہنے والے موت کو دیکھ کر جو توبہ کریں وہ اللہ کے ہاں قبول نہیں اور یہی یہاں ہے کہ ان کی توبہ ہرگز مقبول نہ ہوگی اور یہی لوگ وہ ہیں جو راہ حق سے بھٹک کر باطل راہ پر لگ گئے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ مسلمان ہوئے پھر مرتد ہوگئے پھر اسلام لائے پھر مرتد ہوگئے پھر اپنی قوم کے پاس آدمی بھیج کر بچھوایا کہ کیا اب ہماری توبہ ہے ؟ انہوں نے حضور ﷺ سے سوال کیا اس پر یہ آیت اتری (بزار) اس کی اسناد بہت عمدہ ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ کفر پر مرنے والوں کی کوئی نیکی قبول نہیں گو اس نے زمین بھر کر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہو، نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ عبداللہ بن جذعان جو بڑا مہمان نواز غلام آزاد کرنے والا اور کھانا پینا دینے والا شخص تھا کیا اسے اس کی یہ نیکی کام آئے گی ؟ تو آپ نے فرمایا نہیں اس نے ساری عمر میں ایک دفعہ بھی (اَنْ يَّغْفِرَ لِيْ خَطِيْۗـــــَٔــتِيْ يَوْمَ الدِّيْنِ) 26۔ الشعراء :82) نہیں کیا یعنی اے میرے رب میری خطاؤں کو قیامت والے دن بخش جس طرح اس کی خیرات نامقبول ہے اسی طرح فدیہ اور معاوضہ بھی، جیسے اور جگہ ہے (وَّلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّلَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَ) 2۔ البقرۃ :123) ان سے نہ بدلہ مقبول نہ انہیں سفارش کا نفع اور فرمایا (قُلْ لِّعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَيُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خِلٰلٌ) 14۔ ابراہیم :31) اس دن نہ خرید فروخت نہ موت و محبت اور جگہ ارشاد ہے (اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا) 5۔ المائدہ :36) یعنی اگر کافروں کے پاس زمین میں جو کچھ ہے اور اتنا ہی اور بھی ہو پھر وہ اس سب کو قیامت کے عذابوں کے بدلے فدیہ دیں تو بھی نامقبول ہے ان تکلیف والے الم ناک عذابوں کو سہنا پڑے گا، یہی مضمون یہاں بھی بیان فرمایا گیا ہے بعض نے افتدی کی واؤ کو زائد کہا ہے لیکن واؤ کو عطف کی ماننا اور وہ تفسیر کرنا جو ہم نے کی بہت بہتر ہے واللہ اعلم، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے عذاب سے کفار کو کوئی چیز نہیں چھڑا سکتی چاہے وہ بڑے نیک اور نہایت سخی ہوں گو زمین بھر بھر کر سونا راہ اللہ لٹائیں یا پہاڑوں اور ٹیلوں کی مٹی اور ریت نرم زمین اور سخت زمین کی خشکی اور تری کے ہم وزن سونا عذاب کے بدلے دینا چاہیں یا دیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جہنمی سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ زمین پر جو کچھ ہے اگر تیرا ہوجائے تو کیا تو اس کو ان سزاؤں کے بدلے اپنے فدیے میں دے ڈالے گا۔ وہ کہے گا ہاں تو جناب باری کا ارشاد ہوگا کہ میں نے تجھ سے بہ نسبت اس کے بہت ہی کم چاہا تھا، میں نے تجھ سے اس وقت وعدہ لیا تھا جب تو اپنے باپ آدم کی پیٹھ میں تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شرک نہ بنانا لیکن تو شرک کئے بغیر نہ رہا۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی دوسری سند کے ساتھ ہے، مسند احمد کی ایک اور حدیث میں ہے حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ایک ایسے جنتی کو لایا جائے گا جس سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہو تم نے کیسی جگہ پائی ؟ وہ جواب دے گا اللہ بہت ہی بہتر۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا اور کچھ مانگنا ہو تو مانگو دل میں جو تمنا ہو کہو تو یہ کہے گا باری تعالیٰ میری صرف یہی تمنا ہے اور میرا یہی ایک سوال ہے کہ مجھے دنیا میں پھر بھیج دیا جائے میں تیری راہ میں جہاد کروں اور پھر شہید کیا جاؤں پھر زندہ ہوجاؤں پھر شہید کیا جاؤں دس مرتبہ ایسا ہی ہو کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت اور شہید کے مرتبے دیکھ چکا ہوگا اسی طرح ایک جہنمی کو بلایا جائے گا اور اس سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ اے ابن آدم تو نے اپنی جگہ کیسی پائی ؟ وہ کہے گا اللہ بہت ہی بری۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا ساری زمین بھر کر سونا دے کر ان عذابوں سے چھوٹنا تجھے پسند ہے ؟ وہ کہے گا ہاں اے باری تعالیٰ اس وقت جناب باری تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹا ہے میں نے تو اس سے بہت ہی کم اور بالکل آسان چیز تجھ سے طلب کی تھی لیکن تو نے اسے بھی نہ کیا چناچہ وہ جہنم میں بھیج دیا جائے گا، پس یہاں فرمایا ان کے لئے تکلیف دہ عذاب ہیں اور ایسا نہیں جو ان عذابوں سے اپنے آپ کو چھڑا سکے یا کوئی ان کی کس طرح مدد کرسکے (اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے عذاب سے نجات دے۔ آمین)

سب سے زیادہ پیاری چیز اور صدقہ حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں بر سے مراد جنت ہے، یعنی اگر تم اپنی پسند کی چیزیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرتے رہو گے تو تمہیں جنت ملے گی، مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابو طلحہ مالدار صحابی تھے مسجد کے سامنے ہی بیئرحا نامی آپ کا ایک باغ تھا جس میں کبھی کبھی آنحضرت ﷺ بھی تشریف لے جایا کرتے تھے اور یہاں کا خوش ذائقہ پانی پیا کرتے تھے جب یہ آیت اتری تو حضرت ابو طلحہ ؓ بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ میرا تو سب سے زیادہ پیارا مال یہی باغ ہے میں آپ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کیا اللہ تعالیٰ مجھے بھلائی عطا فرمائے اور اپنے پاس اسے میرے لئے ذخیرہ کرے آپ کو اختیار ہے جس طرح چاہیں اسے تقسیم کردیں آپ بہت ہی خوش ہوئے اور فرمانے لگے مسلمانوں کو اس سے بہت فائدہ پہنچے گا تم اسے اپنے قرابت داروں میں تقسیم کردو چناچہ حضرت ابو طلحہ نے اسے اپنے رشتہ داروں اور چچا زاد بھائیوں میں بانٹ دیا، بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ بھی خدمت رسول ﷺ میں حاضر ہوئے اور کہا کہ حضور ﷺ مجھے اپنے تمام مال میں سب سے زیاد مرغوب مال خیبر کی زمین کا حصہ ہے میں اسے راہ اللہ دینا چاہتا ہوں فرمائیے کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا اسے وقف کردو اصل روک لو اور پھل وغیرہ راہ اللہ کردو۔ مسند بزاز میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں میں نے اس آیت کی تلاوت کر کے سوچا تو مجھے کوئی چیز ایک کنیز سے زیادہ پیاری نہ تھی۔ میں نے اس لونڈی کو راہ للہ آزاد کردیا، اب تک بھی میرے دل میں اس کی ایسی محبت ہے کہ اگر کسی چیز کو اللہ تعالیٰ کے نام پردے کر پھر لوٹا لینا جائز ہو تو میں کم از کم اس سے نکاح کرلیتا۔

بارگاہ رسالت ﷺ میں یہودی وفد مسند احمد میں ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت حضور ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ ہم آپ سے چند سوال کرنا چاہتے ہیں جن کے جواب نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں آپ نے فرمایا پوچھو لیکن پہلے تم لوگ وعدہ کرو اگر میں صحیح صحیح جواب دے دوں تو تمہیں میری نبوت کے تسلیم کرلینے میں کوئی عذر نہ ہوگا انہوں نے اس شرط کو منظور کرلیا کہ اگر آپ نے سچے جواب دے تو ہم اسلام قبول کرلیں گے ساتھ ہی انہوں نے بڑی بڑی قسمیں بھی کھائیں پھر پوچھا کہ بتائیے۔ حضرت اسرائیل نے کیا چیز اپنے اوپر حرام کی تھی ؟ عورت مرد کے پانی کی کیا کیفیت ہے ؟ اور کیوں کبھی لڑکا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی ؟ اور نبی امی کی نیند کیسی ہے ؟ اور فرشتوں میں سے کونسا فرشتہ اس کے پاس وحی لے کر آتا ہے ؟ آپ نے فرمایا جب حضرت اسرائیل سخت بیمار ہوئے تو نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے شفا دے گا تو میں سب سے زیادہ پیاری چیز کھانے پینے کی چھوڑ دوں گا جب شفا یاب ہوگئے تو اونٹ کا گوشت اور دودھ چھوڑ دیا، مرد کا پانی سفید رنگ اور گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زردی مائل پتلا ہوتا ہے دونوں سے جو اوپر آجائے اس پر اولاد نر مادہ ہوتی ہے، اور شکل و شباہت میں بھی اسی پر جاتی ہے۔ اس نبی امی ﷺ کی نیند میں اس کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ میرے پاس وحی لے کر وہی فرشتہ آتا ہے جو تمام انبیاء کے پاس بھی آتا رہا یعنی جبرائیل علیہ السلام، بس اس پر وہ چیخ اٹھے اور کہنے لگے کوئی اور فرشتہ آپ کا ولی ہوتا تو ہمیں آپ کی نبوت تسلیم کرنے میں کوئی عذر نہ رہتا۔ ہر سوال کے جواب کے وقت آپ انہیں قسم دیتے اور ان سے دریافت فرماتے اور وہ اقرار کرتے کہ ہاں جواب صحیح ہے انہیں کے بارے میں آیت (قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ) 2۔ البقرۃ :97) نازل ہوئی اور روایت میں ہے کہ حضرت اسرائیل کو عرق النساء کی بیماری تھی اور اس میں ان کا ایک پانچواں سوال یہ بھی ہے کہ یہ رعد کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ عزوجل کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ جو بادلوں پر مقرر ہے اس کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا ہے جس سے بادلوں کا جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہو لے جاتا ہے اور یہ گرج کی آواز اسی کی آواز ہے۔ جبرائیل کا نام سن کر یہ کہنے لگے وہ تو عذاب اور جنگ وجدال کا فرشتہ ہے اور ہمارا دشمن ہے، اگر پیداوار اور بارش کے فرشتے حضرت میکائیل آپ کے رفیق ہوتے تو ہم مان لیتے۔ حضرت یعقوب کی روش پر ان کی اولاد بھی رہی اور وہ بھی اونٹ کے گوشت سے پرہیز کرتی رہی، اس آیت کو اگلی آیت سے مناسبت ایک تو یہ ہے کہ جس طرح حضرت اسرائیل نے اپنی چہیتی چیز اللہ کی نذر کردی اسی طرح تم بھی کیا کرو۔ لیکن یعقوب کی شریعت میں اس کا طریقہ یہ تھا کہ اپنی پسندیدہ اور مرغوب چیز کا نام اللہ پر ترک کردیتے تھے اور ہماری شریعت میں یہ طریقہ نہیں بلکہ ہمیں یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم اپنی چاہت کی چیزیں اللہ کے نام پر خرچ کردیا کریں، جیسے فرمایا آیت (وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ) 2۔ البقرۃ :177) اور فرمایا آیت (وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا) 76۔ الدہر :8) باوجود محبت اور چاہت کے وہ ہماری راہ میں مال خرچ کرتے اور مسکینوں کو کھانا دیتے ہیں، دوسری مناسبت یہ بھی ہے کہ پہلی آیتوں میں نصرانیوں کی تردید تھی تو یہاں یہودیوں کا رد ہو رہا ہے ان کے رد میں حضرت عیسیٰ کی پیدائش کا صحیح واقعہ بتا کر ان کے عقیدے کا رد کیا تھا، یہاں نسک کا صاف بیان کر کے ان کی اولاد بھی اسے حرام جانتی رہی چناچہ توراۃ میں بھی اس کی حرمت نازل ہوئی، اسی طرح اور بھی بعض چیزیں حرام کی گئیں یہ نسخ نہیں تو اور کیا ہے ؟ حضرت آدم ؑ کی صلبی اولاد کا آپس میں بہن بھائی کا نکاح ابتداء جائز ہوتا تھا لیکن بعد میں حرام کردیا، عورتوں پر لونڈیوں سے نکاح کرنا شریعت ابراہیمی میں مباح تھا خود حضرت ابراہیم حضرت سارہ پر حضرت ہاجرہ کو لائے، لیکن پھر توراۃ میں اس سے روکا گیا، دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنا حضرت یعقوب کے زمانہ میں جائز تھا بلکہ خود حضرت یعقوب کے گھر میں بیک وقت دو سگی بہنیں تھیں لیکن پھر توراۃ میں یہ حرام ہوگیا اسی کو نسخ کہتے ہیں اسے وہ دیکھ رہے ہیں اپنی کتاب میں پڑھ رہے ہیں لیکن پھر نسخ کا انکار کر کے انجیل کو اور حضرت عیسیٰ کو نہیں مانتے اور ان کے بعد ختم المرسلین ﷺ کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے ہیں، تو یہاں فرمایا کہ توراۃ کے نازل ہونے سے پہلے تمام کھانے حلال تھے سوائے اس کے جسے اسرائیل ؑ نے اپنی جان پر حرام کرلیا تھا تم توراۃ لاؤ اور پڑھو اس میں موجود ہے، پھر اس کے باوجود تمہاری یہ بہتان بازی اور افتراء پردازی کہ اللہ نے ہمارے لئے ہفتہ ہی کے دن کو ہمیشہ کے لئے عید کا دن مقرر کیا ہے اور ہم سے عہد لیا ہے کہ ہم ہمیشہ توراۃ ہی کے عامل رہیں اور کسی اور نبی کو نہ مانیں یہ کس قدر ظلم و ستم ہے، تمہاری یہ باتیں اور تمہاری یہ روش یقینا تمہیں ظالم و جابر ٹھہراتی ہے۔ اللہ نے سچی خبر دے دی ابراہیمی دین وہی ہے جسے قرآن بیان کر رہا ہے تم اس کتاب اور اس نبی کی پیروی کرو ان سے اعلیٰ کوئی نبی ہے نہ اس سے بہتر اور زیادہ واضح کوئی اور شریعت ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ) 6۔ الانعام :161) اے نبی تم کہہ دو کہ مجھے میرے رب نے موحد ابراہیم حنیف کے مضبوط دین کی سیدھی راہ دکھا دی ہے۔ اور جگہ ہے ہم نے تیری طرف وحی کی کہ موحد ابراہیم حنیف کے دین کی تابعداری کر۔

بارگاہ رسالت ﷺ میں یہودی وفد مسند احمد میں ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت حضور ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ ہم آپ سے چند سوال کرنا چاہتے ہیں جن کے جواب نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں آپ نے فرمایا پوچھو لیکن پہلے تم لوگ وعدہ کرو اگر میں صحیح صحیح جواب دے دوں تو تمہیں میری نبوت کے تسلیم کرلینے میں کوئی عذر نہ ہوگا انہوں نے اس شرط کو منظور کرلیا کہ اگر آپ نے سچے جواب دے تو ہم اسلام قبول کرلیں گے ساتھ ہی انہوں نے بڑی بڑی قسمیں بھی کھائیں پھر پوچھا کہ بتائیے۔ حضرت اسرائیل نے کیا چیز اپنے اوپر حرام کی تھی ؟ عورت مرد کے پانی کی کیا کیفیت ہے ؟ اور کیوں کبھی لڑکا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی ؟ اور نبی امی کی نیند کیسی ہے ؟ اور فرشتوں میں سے کونسا فرشتہ اس کے پاس وحی لے کر آتا ہے ؟ آپ نے فرمایا جب حضرت اسرائیل سخت بیمار ہوئے تو نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے شفا دے گا تو میں سب سے زیادہ پیاری چیز کھانے پینے کی چھوڑ دوں گا جب شفا یاب ہوگئے تو اونٹ کا گوشت اور دودھ چھوڑ دیا، مرد کا پانی سفید رنگ اور گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زردی مائل پتلا ہوتا ہے دونوں سے جو اوپر آجائے اس پر اولاد نر مادہ ہوتی ہے، اور شکل و شباہت میں بھی اسی پر جاتی ہے۔ اس نبی امی ﷺ کی نیند میں اس کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ میرے پاس وحی لے کر وہی فرشتہ آتا ہے جو تمام انبیاء کے پاس بھی آتا رہا یعنی جبرائیل علیہ السلام، بس اس پر وہ چیخ اٹھے اور کہنے لگے کوئی اور فرشتہ آپ کا ولی ہوتا تو ہمیں آپ کی نبوت تسلیم کرنے میں کوئی عذر نہ رہتا۔ ہر سوال کے جواب کے وقت آپ انہیں قسم دیتے اور ان سے دریافت فرماتے اور وہ اقرار کرتے کہ ہاں جواب صحیح ہے انہیں کے بارے میں آیت (قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ) 2۔ البقرۃ :97) نازل ہوئی اور روایت میں ہے کہ حضرت اسرائیل کو عرق النساء کی بیماری تھی اور اس میں ان کا ایک پانچواں سوال یہ بھی ہے کہ یہ رعد کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ عزوجل کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ جو بادلوں پر مقرر ہے اس کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا ہے جس سے بادلوں کا جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہو لے جاتا ہے اور یہ گرج کی آواز اسی کی آواز ہے۔ جبرائیل کا نام سن کر یہ کہنے لگے وہ تو عذاب اور جنگ وجدال کا فرشتہ ہے اور ہمارا دشمن ہے، اگر پیداوار اور بارش کے فرشتے حضرت میکائیل آپ کے رفیق ہوتے تو ہم مان لیتے۔ حضرت یعقوب کی روش پر ان کی اولاد بھی رہی اور وہ بھی اونٹ کے گوشت سے پرہیز کرتی رہی، اس آیت کو اگلی آیت سے مناسبت ایک تو یہ ہے کہ جس طرح حضرت اسرائیل نے اپنی چہیتی چیز اللہ کی نذر کردی اسی طرح تم بھی کیا کرو۔ لیکن یعقوب کی شریعت میں اس کا طریقہ یہ تھا کہ اپنی پسندیدہ اور مرغوب چیز کا نام اللہ پر ترک کردیتے تھے اور ہماری شریعت میں یہ طریقہ نہیں بلکہ ہمیں یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم اپنی چاہت کی چیزیں اللہ کے نام پر خرچ کردیا کریں، جیسے فرمایا آیت (وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ) 2۔ البقرۃ :177) اور فرمایا آیت (وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا) 76۔ الدہر :8) باوجود محبت اور چاہت کے وہ ہماری راہ میں مال خرچ کرتے اور مسکینوں کو کھانا دیتے ہیں، دوسری مناسبت یہ بھی ہے کہ پہلی آیتوں میں نصرانیوں کی تردید تھی تو یہاں یہودیوں کا رد ہو رہا ہے ان کے رد میں حضرت عیسیٰ کی پیدائش کا صحیح واقعہ بتا کر ان کے عقیدے کا رد کیا تھا، یہاں نسک کا صاف بیان کر کے ان کی اولاد بھی اسے حرام جانتی رہی چناچہ توراۃ میں بھی اس کی حرمت نازل ہوئی، اسی طرح اور بھی بعض چیزیں حرام کی گئیں یہ نسخ نہیں تو اور کیا ہے ؟ حضرت آدم ؑ کی صلبی اولاد کا آپس میں بہن بھائی کا نکاح ابتداء جائز ہوتا تھا لیکن بعد میں حرام کردیا، عورتوں پر لونڈیوں سے نکاح کرنا شریعت ابراہیمی میں مباح تھا خود حضرت ابراہیم حضرت سارہ پر حضرت ہاجرہ کو لائے، لیکن پھر توراۃ میں اس سے روکا گیا، دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنا حضرت یعقوب کے زمانہ میں جائز تھا بلکہ خود حضرت یعقوب کے گھر میں بیک وقت دو سگی بہنیں تھیں لیکن پھر توراۃ میں یہ حرام ہوگیا اسی کو نسخ کہتے ہیں اسے وہ دیکھ رہے ہیں اپنی کتاب میں پڑھ رہے ہیں لیکن پھر نسخ کا انکار کر کے انجیل کو اور حضرت عیسیٰ کو نہیں مانتے اور ان کے بعد ختم المرسلین ﷺ کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے ہیں، تو یہاں فرمایا کہ توراۃ کے نازل ہونے سے پہلے تمام کھانے حلال تھے سوائے اس کے جسے اسرائیل ؑ نے اپنی جان پر حرام کرلیا تھا تم توراۃ لاؤ اور پڑھو اس میں موجود ہے، پھر اس کے باوجود تمہاری یہ بہتان بازی اور افتراء پردازی کہ اللہ نے ہمارے لئے ہفتہ ہی کے دن کو ہمیشہ کے لئے عید کا دن مقرر کیا ہے اور ہم سے عہد لیا ہے کہ ہم ہمیشہ توراۃ ہی کے عامل رہیں اور کسی اور نبی کو نہ مانیں یہ کس قدر ظلم و ستم ہے، تمہاری یہ باتیں اور تمہاری یہ روش یقینا تمہیں ظالم و جابر ٹھہراتی ہے۔ اللہ نے سچی خبر دے دی ابراہیمی دین وہی ہے جسے قرآن بیان کر رہا ہے تم اس کتاب اور اس نبی کی پیروی کرو ان سے اعلیٰ کوئی نبی ہے نہ اس سے بہتر اور زیادہ واضح کوئی اور شریعت ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ) 6۔ الانعام :161) اے نبی تم کہہ دو کہ مجھے میرے رب نے موحد ابراہیم حنیف کے مضبوط دین کی سیدھی راہ دکھا دی ہے۔ اور جگہ ہے ہم نے تیری طرف وحی کی کہ موحد ابراہیم حنیف کے دین کی تابعداری کر۔

بارگاہ رسالت ﷺ میں یہودی وفد مسند احمد میں ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت حضور ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ ہم آپ سے چند سوال کرنا چاہتے ہیں جن کے جواب نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں آپ نے فرمایا پوچھو لیکن پہلے تم لوگ وعدہ کرو اگر میں صحیح صحیح جواب دے دوں تو تمہیں میری نبوت کے تسلیم کرلینے میں کوئی عذر نہ ہوگا انہوں نے اس شرط کو منظور کرلیا کہ اگر آپ نے سچے جواب دے تو ہم اسلام قبول کرلیں گے ساتھ ہی انہوں نے بڑی بڑی قسمیں بھی کھائیں پھر پوچھا کہ بتائیے۔ حضرت اسرائیل نے کیا چیز اپنے اوپر حرام کی تھی ؟ عورت مرد کے پانی کی کیا کیفیت ہے ؟ اور کیوں کبھی لڑکا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی ؟ اور نبی امی کی نیند کیسی ہے ؟ اور فرشتوں میں سے کونسا فرشتہ اس کے پاس وحی لے کر آتا ہے ؟ آپ نے فرمایا جب حضرت اسرائیل سخت بیمار ہوئے تو نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے شفا دے گا تو میں سب سے زیادہ پیاری چیز کھانے پینے کی چھوڑ دوں گا جب شفا یاب ہوگئے تو اونٹ کا گوشت اور دودھ چھوڑ دیا، مرد کا پانی سفید رنگ اور گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زردی مائل پتلا ہوتا ہے دونوں سے جو اوپر آجائے اس پر اولاد نر مادہ ہوتی ہے، اور شکل و شباہت میں بھی اسی پر جاتی ہے۔ اس نبی امی ﷺ کی نیند میں اس کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ میرے پاس وحی لے کر وہی فرشتہ آتا ہے جو تمام انبیاء کے پاس بھی آتا رہا یعنی جبرائیل علیہ السلام، بس اس پر وہ چیخ اٹھے اور کہنے لگے کوئی اور فرشتہ آپ کا ولی ہوتا تو ہمیں آپ کی نبوت تسلیم کرنے میں کوئی عذر نہ رہتا۔ ہر سوال کے جواب کے وقت آپ انہیں قسم دیتے اور ان سے دریافت فرماتے اور وہ اقرار کرتے کہ ہاں جواب صحیح ہے انہیں کے بارے میں آیت (قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ) 2۔ البقرۃ :97) نازل ہوئی اور روایت میں ہے کہ حضرت اسرائیل کو عرق النساء کی بیماری تھی اور اس میں ان کا ایک پانچواں سوال یہ بھی ہے کہ یہ رعد کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ عزوجل کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ جو بادلوں پر مقرر ہے اس کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا ہے جس سے بادلوں کا جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہو لے جاتا ہے اور یہ گرج کی آواز اسی کی آواز ہے۔ جبرائیل کا نام سن کر یہ کہنے لگے وہ تو عذاب اور جنگ وجدال کا فرشتہ ہے اور ہمارا دشمن ہے، اگر پیداوار اور بارش کے فرشتے حضرت میکائیل آپ کے رفیق ہوتے تو ہم مان لیتے۔ حضرت یعقوب کی روش پر ان کی اولاد بھی رہی اور وہ بھی اونٹ کے گوشت سے پرہیز کرتی رہی، اس آیت کو اگلی آیت سے مناسبت ایک تو یہ ہے کہ جس طرح حضرت اسرائیل نے اپنی چہیتی چیز اللہ کی نذر کردی اسی طرح تم بھی کیا کرو۔ لیکن یعقوب کی شریعت میں اس کا طریقہ یہ تھا کہ اپنی پسندیدہ اور مرغوب چیز کا نام اللہ پر ترک کردیتے تھے اور ہماری شریعت میں یہ طریقہ نہیں بلکہ ہمیں یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم اپنی چاہت کی چیزیں اللہ کے نام پر خرچ کردیا کریں، جیسے فرمایا آیت (وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ) 2۔ البقرۃ :177) اور فرمایا آیت (وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا) 76۔ الدہر :8) باوجود محبت اور چاہت کے وہ ہماری راہ میں مال خرچ کرتے اور مسکینوں کو کھانا دیتے ہیں، دوسری مناسبت یہ بھی ہے کہ پہلی آیتوں میں نصرانیوں کی تردید تھی تو یہاں یہودیوں کا رد ہو رہا ہے ان کے رد میں حضرت عیسیٰ کی پیدائش کا صحیح واقعہ بتا کر ان کے عقیدے کا رد کیا تھا، یہاں نسک کا صاف بیان کر کے ان کی اولاد بھی اسے حرام جانتی رہی چناچہ توراۃ میں بھی اس کی حرمت نازل ہوئی، اسی طرح اور بھی بعض چیزیں حرام کی گئیں یہ نسخ نہیں تو اور کیا ہے ؟ حضرت آدم ؑ کی صلبی اولاد کا آپس میں بہن بھائی کا نکاح ابتداء جائز ہوتا تھا لیکن بعد میں حرام کردیا، عورتوں پر لونڈیوں سے نکاح کرنا شریعت ابراہیمی میں مباح تھا خود حضرت ابراہیم حضرت سارہ پر حضرت ہاجرہ کو لائے، لیکن پھر توراۃ میں اس سے روکا گیا، دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنا حضرت یعقوب کے زمانہ میں جائز تھا بلکہ خود حضرت یعقوب کے گھر میں بیک وقت دو سگی بہنیں تھیں لیکن پھر توراۃ میں یہ حرام ہوگیا اسی کو نسخ کہتے ہیں اسے وہ دیکھ رہے ہیں اپنی کتاب میں پڑھ رہے ہیں لیکن پھر نسخ کا انکار کر کے انجیل کو اور حضرت عیسیٰ کو نہیں مانتے اور ان کے بعد ختم المرسلین ﷺ کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے ہیں، تو یہاں فرمایا کہ توراۃ کے نازل ہونے سے پہلے تمام کھانے حلال تھے سوائے اس کے جسے اسرائیل ؑ نے اپنی جان پر حرام کرلیا تھا تم توراۃ لاؤ اور پڑھو اس میں موجود ہے، پھر اس کے باوجود تمہاری یہ بہتان بازی اور افتراء پردازی کہ اللہ نے ہمارے لئے ہفتہ ہی کے دن کو ہمیشہ کے لئے عید کا دن مقرر کیا ہے اور ہم سے عہد لیا ہے کہ ہم ہمیشہ توراۃ ہی کے عامل رہیں اور کسی اور نبی کو نہ مانیں یہ کس قدر ظلم و ستم ہے، تمہاری یہ باتیں اور تمہاری یہ روش یقینا تمہیں ظالم و جابر ٹھہراتی ہے۔ اللہ نے سچی خبر دے دی ابراہیمی دین وہی ہے جسے قرآن بیان کر رہا ہے تم اس کتاب اور اس نبی کی پیروی کرو ان سے اعلیٰ کوئی نبی ہے نہ اس سے بہتر اور زیادہ واضح کوئی اور شریعت ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ) 6۔ الانعام :161) اے نبی تم کہہ دو کہ مجھے میرے رب نے موحد ابراہیم حنیف کے مضبوط دین کی سیدھی راہ دکھا دی ہے۔ اور جگہ ہے ہم نے تیری طرف وحی کی کہ موحد ابراہیم حنیف کے دین کی تابعداری کر۔

ذکر بیت اللہ اور احکامات حج یعنی لوگوں کی عبادت قربانی طواف نماز اعتکاف وغیرہ کے لئے اللہ تعالیٰ کا گھر ہے جس کے بانی حضرت ابراہیم خلیل ہیں، جن کی تابعداری کا دعویٰ یہود و نصاریٰ مشرکین اور مسلمان سب کو ہے وہ اللہ کا گھر جو سب سے پہلے مکہ میں بنایا گیا ہے، اور بلاشبہ خلیل اللہ ہی حج کے پہلے منادی کرنے والے ہیں تو پھر ان پر تعجب اور افسوس ہے جو ملت حنیفی کا دعویٰ کریں اور اس گھر کا احترام نہ کریں حج کو یہاں نہ آئیں بلکہ اپنے قبلہ اور کعبہ الگ الگ بناتے پھریں۔ اس بیت اللہ کی بنیادوں میں ہی برکت و ہدایت ہے اور تمام جہان والوں کے لئے ہے، حضرت ابوذر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ سب سے پہلے کونسی مسجد بنائی گئی ہے ؟ آپ نے فرمایا مسجد حرام، پوچھا پھر کونسی ؟ فرمایا مسجد بیت المقدس پوچھا ان دونوں کے درمیان کتنا وقت ہے ؟ فرمایا چالیس سال پوچھا پھر کونسی ؟ آپ نے فرمایا جہاں کہیں نماز کا وقت آجائے نماز پڑھ لیا کرو ساری زمین مسجد ہے (مسند) احمد و بخاری مسلم) حضرت علی فرماتے ہیں گھر تو پہلے بہت سے تھے لیکن خاص اللہ تعالیٰ کی عبادت کا گھر سب سے پہلا یہی ہے، کسی شخص نے آپ سے پوچھا کہ زمین پر پہلا گھر یہی بنا ہے تو آپ نے فرمایا نہیں ہاں برکتوں اور مقام ابراہیم اور امن والا گھر یہی پہلا ہے، بیت اللہ شریف کے بنانے کی پوری کیفیت سورة بقرہ کی آیت (وَعَهِدْنَآ اِلٰٓى اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَهِّرَا بَيْتِىَ للطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْعٰكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ) 2۔ البقرۃ :125) کی تفسیر میں پہلے گذر چکی ہے وہیں ملاحظہ فرما لیجئے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، سدی کہتے ہیں سب سے پہلے روئے زمین پر یہی گھر بنا، لیکن صحیح قول حضرت علی کا ہی ہے اور وہ حدیث جو ییہقی میں ہے جس میں ہے کہ آدم و حوا نے بحکم الہ بیت اللہ بنایا اور طواف کیا اور اللہ تعالیٰ نے کہا کہ تو سب سے پہلا انسان ہے اور یہ سب سے پہلا گھر ہے یہ حدیث ابن لہیعہ کی روایت سے ہے اور وہ ضعیف راوی ہیں، ممکن ہے یہ حضرت عبداللہ بن عمر کا اپنا قول ہو اور یرموک والے دن انہیں جو دو پورے اہل کتاب کی کتابوں کے ملے تھے انہی میں یہ بھی لکھا ہوا ہو۔ " مکہ " مکہ شریف کا مشہور نام ہے چونکہ بڑے بڑے جابر شخصوں کی گردنیں یہاں ٹوٹ جاتی تھیں ہر بڑائی والا یہاں پست ہوجاتا تھا، اس لئے اسے مکہ کہا گیا اور اس لئے بھی کہ لوگوں کی بھیڑ بھاڑ یہاں ہوتی ہے اور ہر وقت کھچا کھچ بھرا رہتا ہے اور اس لئے بھی کہ یہاں لوگ خلط ملط ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ کبھی عورتیں آگے نماز پڑھتی ہوتی ہیں اور مرد ان کے پیچھے ہوتے ہیں جو اور کہیں نہیں ہوتا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں " فج " سے " تنعیم " تک مکہ ہے بیت اللہ سے بطحا تک بکہ ہے بیت اللہ اور مسجد کو بکہ کہا گیا ہے، بیت اللہ اور اس آس پاس کی جگہ کو بکہ اور باقی شہر کو مکہ بھی کہا گیا ہے، اس کے اور بھی بہت سے نام ہیں مثلاً بیت العتیق، بیت الحرام، بلد الامین، بلد المامون، ام رحم، ام القری، صلاح، عرش، قادس، مقدس، ناسبہ، ناسسہ، حاطمہ، راس، کو ثا البلدہ البینۃ العکبہ۔ اس میں ظاہر نشانیاں ہیں جو اس کی عظمت و شرافت کی دلیل ہیں اور جن سے ظاہر ہے کہ خلیل اللہ کی بنا یہی ہے اس میں مقام ابراہیم بھی ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت اسماعیل سے پتھر لے کر حضرت ابراہیم کعبہ کی دیواریں اونچی کر رہے تھے، یہ پہلے تو بیت اللہ شریف کی دیوار سے لگا ہوا تھا لیکن حضرت عمر ؓ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اسے ذرا ہٹا کر مشرق رخ کردیا تھا کہ پوری طرح طواف ہو سکے اور جو لوگ طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ان کے لئے پریشانی اور بھیڑ بھاڑ نہ ہو، اسی کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہوا ہے اور اس کے متعلق بھی پوری تفسیر آیت (وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى) 2۔ البقرۃ :125) کی تفسیر میں پہلے گذر چکی ہے فالحمد للہ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں آیات بینات میں سے ایک مقام ابراہیم بھی ہے باقی اور بھی ہیں، حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ خلیل اللہ کے قدموں کے نشان جو مقام ابراہیم پر تھے یہ بھی آیات بینات میں سے ہیں، کل حرم کو اور حطیم کو اور سارے ارکان حج کو بھی مکہ امن والا رہا باپ کے قاتل کو بھی یہاں پاتے تو نہ چھیڑتے ابن عباس فرماتے ہیں بیت اللہ پناہ چاہنے والے کو پناہ دیتا ہے لیکن جگہ اور کھانا پینا نہیں دیتا اور جگہ ہے آیت (اولم یروا انا جعلنا حرما امنا) الخ، کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنایا اور جگہ ہے آیت (اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۭ اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَكْفُرُوْنَ) 29۔ العنکبوت :67) ہم نے انہیں خوف سے امن دیا نہ صرف انسان کے لئے امن ہے بلکہ شکار کرنا بلکہ شکار کو بھگانا اسے خوف زدہ کرنا اسے اس کے ٹھکانے یا گھونسلے سے ہٹانا اور اڑانا بھی منع ہے اس کے درخت کاٹنا یہاں کی گھاس اکھیڑنا بھی ناجائز ہے اس مضمون کی بہت سی حدیثیں پورے بسط کے ساتھ آیت وعھدنا الخ، کی تفسیر میں سورة بقرہ میں گذر چکی ہیں، مسند احمد ترمذی اور نسائی میں حدیث ہے جسے امام ترمذی نے حسن صحیح کہا ہے کہ نبی ﷺ نے مکہ کے بازار حرورہ میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے مکہ تو اللہ تعالیٰ کو ساری زمین سے بہتر اور پیارا ہے اگر میں زبردستی تجھ سے نہ نکالا جاتا تو ہرگز تجھے نہ چھوڑتا، اور اس آیت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جو اس گھر میں داخل ہوا وہ جہنم سے بچ گیا، بیہقی کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جو بیت اللہ میں داخل ہوا وہ نیکی میں آیا اور برائیوں سے دور ہوا، اور گناہ بخش دیا گیا لیکن اس کے ایک راوی عبداللہ بن تو مل قوی نہیں ہیں۔ آیت کا یہ آخری حصہ حج کی فرضیت کی دلیل ہے بعض کہتے ہیں آیت (وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ ۭ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْي) 2۔ البقرۃ :196) والی آیت دلیل فرضیت ہے لیکن پہلی بات زیادہ واضح ہے، کئی ایک احادیث میں وارد ہے کہ حج ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے، اس کی فرضیت پر مسلمانوں کا اجماع ہے، اور یہ بات بھی ثابت ہے کہ عمر بھر میں ایک مرتبہ استطاعت والے مسلمان پر حج فرض ہے، نبی ﷺ نے اپنے خطبہ میں فرمایا لوگو تم پر اللہ تعالیٰ نے حج فرض کیا ہے تم حج کرو ایک شخص نے پوچھا حضور کیا ہر سال ؟ آپ خاموش رہے اس نے تین مرتبہ یہی سوال کیا آپ نے فرمایا اگر میں ہاں کہ دیتا تو فرض ہوجاتا پھر بجا نہ لاسکتے میں جب خاموش رہوں تو تم کرید کر پوچھا نہ کرو تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء سے سوالوں کی بھر مار اور نبیوں پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے میرے حکموں کو طاقت بھر بجا لاؤ۔ اور جس چیز میں منع کروں اس سے رک جاؤ (مسند احمد) صحیح مسلم شریف کی اس حدیث شریف میں اتنی زیادتی ہے کہ یہ پوچھنے والے اقرع بن حابس تھے اور حضور ﷺ نے جواب یہ بھی فرمایا کہ عمر میں ایک مرتبہ فرض ہے اور پھر نفل۔ ایک روایت میں ہے کہ اسی سوال کے بارے میں آیت (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاۗءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ) 5۔ المائدہ :101) یعنی زیادتی سوال سے بچو نازل ہوئی (مسند احمد) ایک اور روایت میں ہے اگر میں ہاں کہتا تو ہر سال حج واجب ہوتا تم بجا نہ لاسکتے تو عذاب نازل ہوتا (ابن ماجہ) ہاں حج میں تمتع کرنے کا جواز حضور ﷺ نے ایک سائل کے سوال پر ہمیشہ کے لئے جائز فرمایا تھا، ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے حجۃ الوداع میں امہات المومنین یعنی اپنی بیویوں سے فرمایا تھا حج ہوچکا اب گھر سے نہ نکلنا، رہی استطاعت اور طاقت سو وہ کبھی تو خود انسان کو بغیر کسی ذریعہ کے ہوتی ہے کبھی کسی اور کے واسطے سے جیسے کہ کتب احکام میں اس کی تفصیل موجود ہے، ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ حاجی کون ہے ؟ آپ نے فرمایا پراگندہ بالوں اور میلے کچیلے کپڑوں والا ایک اور نے پوچھا یا رسول اللہ کونسا حج افضل ہے، آپ نے فرمایا جس میں قربانیاں کثرت سے کی جائیں اور لبیک زیادہ پکارا جائے ایک اور شخص نے سوال کیا حضور ﷺ سبیل سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا توشہ بھتہ کھانے پینے کے لائق سامان خرچ اور سواری، اس حدیث کا ایک راوی گو ضعیف ہے مگر حدیث کی متابعت اور سند بہت سے صحابیوں سے مختلف سندوں سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے آیت (مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا) 3۔ آل عمران :97) کی تفسیر میں زادو راحلہ یعنی توشہ اور سواری بتائی ہے۔ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں فرض حج جلدی ادا کرلیا کرو نہ معلوم کل کیا پیش آئے، ابو داؤد وغیرہ میں ہے حج کا ارادہ کرنے والے کو جلد اپنا ارادہ پورا کرلینا چاہئے۔ ابن عباس فرماتے ہیں جس کے پاس تین سو درہم ہوں وہ طاقت والا ہے، عکرمہ فرماتے ہیں مراد صحت جسمانی ہے پھر فرمایا جو کفر کرے یعنی فرضیت حج کا انکار کرے، حضرت عکرمہ فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری کہ دین اسلام کے سوا جو شخص کوئی اور دین پسند کرے اس سے قبول نہ کیا جائے گا تو یہودی کہنے لگے ہم بھی مسلمان ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا پھر مسلمانوں پر تو حج فرض ہے تم بھی حج کرو تو وہ صاف انکار بیٹھے جس پر یہ آیت اتری کہ اس کا انکاری کافر ہے اور اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بےپرواہ ہے، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کھانے پینے اور سواری پر قدرت رکھتا ہو اور اتنا مال بھی اس کے پاس ہو پھر حج نہ کرے تو اس کی موت یہودیت یا نصرانیت پر ہوگی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ کے لئے لوگوں پر حج بیت اللہ ہے جو اس کے راستہ کی طاقت رکھیں اور جو کفر کرے تو اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بےپرواہ ہے، اس کے راوی پر بھی کلام ہے، حضرت عمر فاروق فرماتے ہیں طاقت رکھ کر حج نہ کرنے والا یہودی ہو کر مرے گا یا نصرانی ہو کر، اس کی سند بالکل صحیح ہے (حافظ ابوبکر اسماعیلی) مسند سعید بن منصور میں ہے کہ فاروق اعظم ؓ نے فرمایا میرا مقصد ہے کہ میں لوگوں کو مختلف شہروں میں بھیجوں وہ دیکھیں جو لوگ باوجود مال رکھنے کے حج نہ کرتے ہوں ان پر جزیہ لگا دیں وہ مسلمان نہیں ہیں وہ مسلمان نہیں ہیں۔

ذکر بیت اللہ اور احکامات حج یعنی لوگوں کی عبادت قربانی طواف نماز اعتکاف وغیرہ کے لئے اللہ تعالیٰ کا گھر ہے جس کے بانی حضرت ابراہیم خلیل ہیں، جن کی تابعداری کا دعویٰ یہود و نصاریٰ مشرکین اور مسلمان سب کو ہے وہ اللہ کا گھر جو سب سے پہلے مکہ میں بنایا گیا ہے، اور بلاشبہ خلیل اللہ ہی حج کے پہلے منادی کرنے والے ہیں تو پھر ان پر تعجب اور افسوس ہے جو ملت حنیفی کا دعویٰ کریں اور اس گھر کا احترام نہ کریں حج کو یہاں نہ آئیں بلکہ اپنے قبلہ اور کعبہ الگ الگ بناتے پھریں۔ اس بیت اللہ کی بنیادوں میں ہی برکت و ہدایت ہے اور تمام جہان والوں کے لئے ہے، حضرت ابوذر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ سب سے پہلے کونسی مسجد بنائی گئی ہے ؟ آپ نے فرمایا مسجد حرام، پوچھا پھر کونسی ؟ فرمایا مسجد بیت المقدس پوچھا ان دونوں کے درمیان کتنا وقت ہے ؟ فرمایا چالیس سال پوچھا پھر کونسی ؟ آپ نے فرمایا جہاں کہیں نماز کا وقت آجائے نماز پڑھ لیا کرو ساری زمین مسجد ہے (مسند) احمد و بخاری مسلم) حضرت علی فرماتے ہیں گھر تو پہلے بہت سے تھے لیکن خاص اللہ تعالیٰ کی عبادت کا گھر سب سے پہلا یہی ہے، کسی شخص نے آپ سے پوچھا کہ زمین پر پہلا گھر یہی بنا ہے تو آپ نے فرمایا نہیں ہاں برکتوں اور مقام ابراہیم اور امن والا گھر یہی پہلا ہے، بیت اللہ شریف کے بنانے کی پوری کیفیت سورة بقرہ کی آیت (وَعَهِدْنَآ اِلٰٓى اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَهِّرَا بَيْتِىَ للطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْعٰكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ) 2۔ البقرۃ :125) کی تفسیر میں پہلے گذر چکی ہے وہیں ملاحظہ فرما لیجئے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، سدی کہتے ہیں سب سے پہلے روئے زمین پر یہی گھر بنا، لیکن صحیح قول حضرت علی کا ہی ہے اور وہ حدیث جو ییہقی میں ہے جس میں ہے کہ آدم و حوا نے بحکم الہ بیت اللہ بنایا اور طواف کیا اور اللہ تعالیٰ نے کہا کہ تو سب سے پہلا انسان ہے اور یہ سب سے پہلا گھر ہے یہ حدیث ابن لہیعہ کی روایت سے ہے اور وہ ضعیف راوی ہیں، ممکن ہے یہ حضرت عبداللہ بن عمر کا اپنا قول ہو اور یرموک والے دن انہیں جو دو پورے اہل کتاب کی کتابوں کے ملے تھے انہی میں یہ بھی لکھا ہوا ہو۔ " مکہ " مکہ شریف کا مشہور نام ہے چونکہ بڑے بڑے جابر شخصوں کی گردنیں یہاں ٹوٹ جاتی تھیں ہر بڑائی والا یہاں پست ہوجاتا تھا، اس لئے اسے مکہ کہا گیا اور اس لئے بھی کہ لوگوں کی بھیڑ بھاڑ یہاں ہوتی ہے اور ہر وقت کھچا کھچ بھرا رہتا ہے اور اس لئے بھی کہ یہاں لوگ خلط ملط ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ کبھی عورتیں آگے نماز پڑھتی ہوتی ہیں اور مرد ان کے پیچھے ہوتے ہیں جو اور کہیں نہیں ہوتا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں " فج " سے " تنعیم " تک مکہ ہے بیت اللہ سے بطحا تک بکہ ہے بیت اللہ اور مسجد کو بکہ کہا گیا ہے، بیت اللہ اور اس آس پاس کی جگہ کو بکہ اور باقی شہر کو مکہ بھی کہا گیا ہے، اس کے اور بھی بہت سے نام ہیں مثلاً بیت العتیق، بیت الحرام، بلد الامین، بلد المامون، ام رحم، ام القری، صلاح، عرش، قادس، مقدس، ناسبہ، ناسسہ، حاطمہ، راس، کو ثا البلدہ البینۃ العکبہ۔ اس میں ظاہر نشانیاں ہیں جو اس کی عظمت و شرافت کی دلیل ہیں اور جن سے ظاہر ہے کہ خلیل اللہ کی بنا یہی ہے اس میں مقام ابراہیم بھی ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت اسماعیل سے پتھر لے کر حضرت ابراہیم کعبہ کی دیواریں اونچی کر رہے تھے، یہ پہلے تو بیت اللہ شریف کی دیوار سے لگا ہوا تھا لیکن حضرت عمر ؓ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اسے ذرا ہٹا کر مشرق رخ کردیا تھا کہ پوری طرح طواف ہو سکے اور جو لوگ طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ان کے لئے پریشانی اور بھیڑ بھاڑ نہ ہو، اسی کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہوا ہے اور اس کے متعلق بھی پوری تفسیر آیت (وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى) 2۔ البقرۃ :125) کی تفسیر میں پہلے گذر چکی ہے فالحمد للہ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں آیات بینات میں سے ایک مقام ابراہیم بھی ہے باقی اور بھی ہیں، حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ خلیل اللہ کے قدموں کے نشان جو مقام ابراہیم پر تھے یہ بھی آیات بینات میں سے ہیں، کل حرم کو اور حطیم کو اور سارے ارکان حج کو بھی مکہ امن والا رہا باپ کے قاتل کو بھی یہاں پاتے تو نہ چھیڑتے ابن عباس فرماتے ہیں بیت اللہ پناہ چاہنے والے کو پناہ دیتا ہے لیکن جگہ اور کھانا پینا نہیں دیتا اور جگہ ہے آیت (اولم یروا انا جعلنا حرما امنا) الخ، کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنایا اور جگہ ہے آیت (اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۭ اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَكْفُرُوْنَ) 29۔ العنکبوت :67) ہم نے انہیں خوف سے امن دیا نہ صرف انسان کے لئے امن ہے بلکہ شکار کرنا بلکہ شکار کو بھگانا اسے خوف زدہ کرنا اسے اس کے ٹھکانے یا گھونسلے سے ہٹانا اور اڑانا بھی منع ہے اس کے درخت کاٹنا یہاں کی گھاس اکھیڑنا بھی ناجائز ہے اس مضمون کی بہت سی حدیثیں پورے بسط کے ساتھ آیت وعھدنا الخ، کی تفسیر میں سورة بقرہ میں گذر چکی ہیں، مسند احمد ترمذی اور نسائی میں حدیث ہے جسے امام ترمذی نے حسن صحیح کہا ہے کہ نبی ﷺ نے مکہ کے بازار حرورہ میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے مکہ تو اللہ تعالیٰ کو ساری زمین سے بہتر اور پیارا ہے اگر میں زبردستی تجھ سے نہ نکالا جاتا تو ہرگز تجھے نہ چھوڑتا، اور اس آیت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جو اس گھر میں داخل ہوا وہ جہنم سے بچ گیا، بیہقی کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جو بیت اللہ میں داخل ہوا وہ نیکی میں آیا اور برائیوں سے دور ہوا، اور گناہ بخش دیا گیا لیکن اس کے ایک راوی عبداللہ بن تو مل قوی نہیں ہیں۔ آیت کا یہ آخری حصہ حج کی فرضیت کی دلیل ہے بعض کہتے ہیں آیت (وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ ۭ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْي) 2۔ البقرۃ :196) والی آیت دلیل فرضیت ہے لیکن پہلی بات زیادہ واضح ہے، کئی ایک احادیث میں وارد ہے کہ حج ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے، اس کی فرضیت پر مسلمانوں کا اجماع ہے، اور یہ بات بھی ثابت ہے کہ عمر بھر میں ایک مرتبہ استطاعت والے مسلمان پر حج فرض ہے، نبی ﷺ نے اپنے خطبہ میں فرمایا لوگو تم پر اللہ تعالیٰ نے حج فرض کیا ہے تم حج کرو ایک شخص نے پوچھا حضور کیا ہر سال ؟ آپ خاموش رہے اس نے تین مرتبہ یہی سوال کیا آپ نے فرمایا اگر میں ہاں کہ دیتا تو فرض ہوجاتا پھر بجا نہ لاسکتے میں جب خاموش رہوں تو تم کرید کر پوچھا نہ کرو تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء سے سوالوں کی بھر مار اور نبیوں پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے میرے حکموں کو طاقت بھر بجا لاؤ۔ اور جس چیز میں منع کروں اس سے رک جاؤ (مسند احمد) صحیح مسلم شریف کی اس حدیث شریف میں اتنی زیادتی ہے کہ یہ پوچھنے والے اقرع بن حابس تھے اور حضور ﷺ نے جواب یہ بھی فرمایا کہ عمر میں ایک مرتبہ فرض ہے اور پھر نفل۔ ایک روایت میں ہے کہ اسی سوال کے بارے میں آیت (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاۗءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ) 5۔ المائدہ :101) یعنی زیادتی سوال سے بچو نازل ہوئی (مسند احمد) ایک اور روایت میں ہے اگر میں ہاں کہتا تو ہر سال حج واجب ہوتا تم بجا نہ لاسکتے تو عذاب نازل ہوتا (ابن ماجہ) ہاں حج میں تمتع کرنے کا جواز حضور ﷺ نے ایک سائل کے سوال پر ہمیشہ کے لئے جائز فرمایا تھا، ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے حجۃ الوداع میں امہات المومنین یعنی اپنی بیویوں سے فرمایا تھا حج ہوچکا اب گھر سے نہ نکلنا، رہی استطاعت اور طاقت سو وہ کبھی تو خود انسان کو بغیر کسی ذریعہ کے ہوتی ہے کبھی کسی اور کے واسطے سے جیسے کہ کتب احکام میں اس کی تفصیل موجود ہے، ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ حاجی کون ہے ؟ آپ نے فرمایا پراگندہ بالوں اور میلے کچیلے کپڑوں والا ایک اور نے پوچھا یا رسول اللہ کونسا حج افضل ہے، آپ نے فرمایا جس میں قربانیاں کثرت سے کی جائیں اور لبیک زیادہ پکارا جائے ایک اور شخص نے سوال کیا حضور ﷺ سبیل سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا توشہ بھتہ کھانے پینے کے لائق سامان خرچ اور سواری، اس حدیث کا ایک راوی گو ضعیف ہے مگر حدیث کی متابعت اور سند بہت سے صحابیوں سے مختلف سندوں سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے آیت (مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا) 3۔ آل عمران :97) کی تفسیر میں زادو راحلہ یعنی توشہ اور سواری بتائی ہے۔ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں فرض حج جلدی ادا کرلیا کرو نہ معلوم کل کیا پیش آئے، ابو داؤد وغیرہ میں ہے حج کا ارادہ کرنے والے کو جلد اپنا ارادہ پورا کرلینا چاہئے۔ ابن عباس فرماتے ہیں جس کے پاس تین سو درہم ہوں وہ طاقت والا ہے، عکرمہ فرماتے ہیں مراد صحت جسمانی ہے پھر فرمایا جو کفر کرے یعنی فرضیت حج کا انکار کرے، حضرت عکرمہ فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری کہ دین اسلام کے سوا جو شخص کوئی اور دین پسند کرے اس سے قبول نہ کیا جائے گا تو یہودی کہنے لگے ہم بھی مسلمان ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا پھر مسلمانوں پر تو حج فرض ہے تم بھی حج کرو تو وہ صاف انکار بیٹھے جس پر یہ آیت اتری کہ اس کا انکاری کافر ہے اور اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بےپرواہ ہے، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کھانے پینے اور سواری پر قدرت رکھتا ہو اور اتنا مال بھی اس کے پاس ہو پھر حج نہ کرے تو اس کی موت یہودیت یا نصرانیت پر ہوگی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ کے لئے لوگوں پر حج بیت اللہ ہے جو اس کے راستہ کی طاقت رکھیں اور جو کفر کرے تو اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بےپرواہ ہے، اس کے راوی پر بھی کلام ہے، حضرت عمر فاروق فرماتے ہیں طاقت رکھ کر حج نہ کرنے والا یہودی ہو کر مرے گا یا نصرانی ہو کر، اس کی سند بالکل صحیح ہے (حافظ ابوبکر اسماعیلی) مسند سعید بن منصور میں ہے کہ فاروق اعظم ؓ نے فرمایا میرا مقصد ہے کہ میں لوگوں کو مختلف شہروں میں بھیجوں وہ دیکھیں جو لوگ باوجود مال رکھنے کے حج نہ کرتے ہوں ان پر جزیہ لگا دیں وہ مسلمان نہیں ہیں وہ مسلمان نہیں ہیں۔

کافروں کا انجام اہل کتاب کے کافروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے جو حق سے دشمنی کرتے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے دوسرے لوگوں کو بھی پورے زور سے اسلام سے روکتے تھے باوجود یکہ رسول کی حقانیت کا انہیں یقینی علم تھا اگلے انبیاء اور رسولوں کی پیش گوئیاں اور ان کی بشارتیں ان کے پاس موجود تھیں نبی امی ہاشمی عربی مکی مدنی سید الولد آدم خاتم الانبیاء رسول رب ارض و سماء ﷺ کا ذکر ان کتابوں میں موجود تھا پھر بھی اپنی بےایمانی پر بضد تھے اس لئے ان سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں خوب دیکھ رہا ہوں تم کس طرح میرے نبیوں کی تکذیب کرتے ہو اور کس طرح خاتم الانبیاء کو ستاتے ہو اور کس طرح میرے مخلص بندوں کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہو میں تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہوں تمام برائیوں کا بدلہ دوں گا اس دن پکڑوں گا جس دن تمہیں کوئی سفارشی اور مددگار نہ ملے۔

کافروں کا انجام اہل کتاب کے کافروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے جو حق سے دشمنی کرتے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے دوسرے لوگوں کو بھی پورے زور سے اسلام سے روکتے تھے باوجود یکہ رسول کی حقانیت کا انہیں یقینی علم تھا اگلے انبیاء اور رسولوں کی پیش گوئیاں اور ان کی بشارتیں ان کے پاس موجود تھیں نبی امی ہاشمی عربی مکی مدنی سید الولد آدم خاتم الانبیاء رسول رب ارض و سماء ﷺ کا ذکر ان کتابوں میں موجود تھا پھر بھی اپنی بےایمانی پر بضد تھے اس لئے ان سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں خوب دیکھ رہا ہوں تم کس طرح میرے نبیوں کی تکذیب کرتے ہو اور کس طرح خاتم الانبیاء کو ستاتے ہو اور کس طرح میرے مخلص بندوں کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہو میں تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہوں تمام برائیوں کا بدلہ دوں گا اس دن پکڑوں گا جس دن تمہیں کوئی سفارشی اور مددگار نہ ملے۔

کامیابی کا انحصار کس پر ہے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اہل کتاب کے اس بدباطن فرقہ کی اتباع کرنے سے روک رہا ہے کیونکہ یہ حاسد ایمان کے دشمن ہیں اور عرب کی رسالت انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی، جیسے اور جگہ ہے آیت (ودکثیر) الخ، یہ لوگ جل بھن رہے ہیں۔ اور تمہیں ایمان سے ہٹانا چاہتے ہیں تم ان کے کھوکھلے دباؤ میں نہ آجانا، گو کفر تم سے بہت دور ہے لیکن پھر بھی میں تمہیں آگاہ کئے دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ کی آیتیں دن رات تم میں پڑھی جا رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا سچا رسول ﷺ تم میں موجود ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (مالکم لا تو منون باللہ) تم ایمان کیسے نہ لاؤ رسول ﷺ تمہیں تمہارے رب کی طرف بلا رہے ہیں اور تم سے عہد بھی لیا جا چکا ہے، حدیث شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک روز اپنے اصحاب سے پوچھا تمہارے نزدیک سب سے بڑا ایمان والا کون ہے ؟ انہوں نے کہا فرشتے آپ نے فرمایا بھلا وہ ایمان کیوں نہ لاتے ؟ انہیں تو اللہ تعالیٰ کی وحی سے براہ راست تعلق ہے، صحابہ نے کہا پھر ہم، فرمایا تم ایمان کیوں نہ لاتے تم میں تو میں خود موجود ہوں صحابہ نے کہا پھر حضور ﷺ خود ہی ارشاد فرمائیں فرمایا کہ تمام لوگوں سے زیادہ عجیب ایمان والے وہ ہوں گے جو تمہارے بعد آئیں گے وہ کتابوں میں لکھا پائیں گے اور اس پر ایمان لائیں گے (امام ابن کثیر نے اس حدیث کی سندوں کا اور اس کے معنی کا پورا بیان شرح صحیح بخاری میں کردیا ہے فالحمد للہ) پھر فرمایا کہ باوجود اس کے تمہارا مضبوطی سے اللہ کے دین کو تھام رکھنا اور اللہ تعالیٰ کی پاک ذات پر پورا توکل رکھنا ہی موجب ہدایت ہے اسی سے گمراہی دور ہوتی ہے یہی شیوہ رضا کا باعث ہے اسی سے صحیح راستہ حاصل ہوتا ہے اور کامیابی اور مراد ملتی ہے۔

کامیابی کا انحصار کس پر ہے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اہل کتاب کے اس بدباطن فرقہ کی اتباع کرنے سے روک رہا ہے کیونکہ یہ حاسد ایمان کے دشمن ہیں اور عرب کی رسالت انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی، جیسے اور جگہ ہے آیت (ودکثیر) الخ، یہ لوگ جل بھن رہے ہیں۔ اور تمہیں ایمان سے ہٹانا چاہتے ہیں تم ان کے کھوکھلے دباؤ میں نہ آجانا، گو کفر تم سے بہت دور ہے لیکن پھر بھی میں تمہیں آگاہ کئے دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ کی آیتیں دن رات تم میں پڑھی جا رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا سچا رسول ﷺ تم میں موجود ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (مالکم لا تو منون باللہ) تم ایمان کیسے نہ لاؤ رسول ﷺ تمہیں تمہارے رب کی طرف بلا رہے ہیں اور تم سے عہد بھی لیا جا چکا ہے، حدیث شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک روز اپنے اصحاب سے پوچھا تمہارے نزدیک سب سے بڑا ایمان والا کون ہے ؟ انہوں نے کہا فرشتے آپ نے فرمایا بھلا وہ ایمان کیوں نہ لاتے ؟ انہیں تو اللہ تعالیٰ کی وحی سے براہ راست تعلق ہے، صحابہ نے کہا پھر ہم، فرمایا تم ایمان کیوں نہ لاتے تم میں تو میں خود موجود ہوں صحابہ نے کہا پھر حضور ﷺ خود ہی ارشاد فرمائیں فرمایا کہ تمام لوگوں سے زیادہ عجیب ایمان والے وہ ہوں گے جو تمہارے بعد آئیں گے وہ کتابوں میں لکھا پائیں گے اور اس پر ایمان لائیں گے (امام ابن کثیر نے اس حدیث کی سندوں کا اور اس کے معنی کا پورا بیان شرح صحیح بخاری میں کردیا ہے فالحمد للہ) پھر فرمایا کہ باوجود اس کے تمہارا مضبوطی سے اللہ کے دین کو تھام رکھنا اور اللہ تعالیٰ کی پاک ذات پر پورا توکل رکھنا ہی موجب ہدایت ہے اسی سے گمراہی دور ہوتی ہے یہی شیوہ رضا کا باعث ہے اسی سے صحیح راستہ حاصل ہوتا ہے اور کامیابی اور مراد ملتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کی رسی قرآن حکیم ہے اللہ تعالیٰ سے پورا پورا ڈرنا یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اس کی یاد نہ بھلائی جائے اس کا شکر کیا جائے کفر نہ کیا جائے، بعض روایتوں میں یہ تفسیر مرفوع بھی مروی ہے لیکن ٹھیک بات یہی ہے کہ یہ موقوف ہے یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے واللہ اعلم۔ حضرت انس کا فرمان ہے کہ انسان اللہ عزوجل سے ڈرنے کا حق نہیں بجا لاسکتا جب تک اپنی زبان کو محفوظ نہ رکھے، اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت (فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوْا وَاَطِيْعُوْا وَاَنْفِقُوْا خَيْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ ۭ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ) 64۔ التغابن :16) کی آیت سے منسوخ ہے اس دوسری آیت میں فرما دیا ہے کہ اپنی طاقت کے مطابق اس سے ڈرتے رہا کرو، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں منسوخ نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہو اس کے کاموں میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خیال نہ کرو عدل پر جم جاؤ یہاں تک کہ خود اپنے نفس پر عدل کے احکام جاری کرو اپنے ماں باپ اور اپنی اولاد کے بارے میں بھی عدل و انصاف برتا کرو۔ پھر فرمایا کہ اسلام پر ہی مرنا یعنی تمام زندگی اس پر قائم رہنا تاکہ موت بھی اسی پر آئے، اس رب کریم کا اصول یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی جیسی رکھے ویسی ہی اسے موت آتی ہے اور جیسی موت مرے اسی پر قیامت کے دن اٹھایا جاتا ہے واللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ کی ناپسند موت سے ہمیں اپنی پناہ میں رکھے آمین۔ مسند احمد میں ہے کہ لوگ بیت اللہ شریف کا طواف کر رہے تھے اور حضرت ابن عباس بھی وہاں تھے ان کے ہاتھ میں لکڑی تھی بیان فرمانے لگی کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی دنیا میں گرا دیا جائے تو دنیا والوں کی ہر کھانے والی چیز خراب ہوجائے کوئی چیز کھا پی نہ سکیں پھر خیال کرو کہ ان جہنمیوں کا کیا حال ہوگا جن کا کھانا پینا ہی یہ زقوم ہوگا اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص جہنم سے الگ ہوتا اور جنت میں جانا چاہتا ہو اسے چاہئے کہ مرتے دم تک اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھے اور لوگوں سے وہ برتاؤ کرے جسے وہ خود اپنے لئے چاہتا ہو (مسند احمد) حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں میں نے نبی ﷺ کی زبانی آپ کے انتقال کے تین روز پہلے سنا کہ دیکھو موت کے وقت اللہ تعالیٰ سے نیک گمان رکھنا (مسلم) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میرا بندہ میرے ساتھ جیسا گمان رکھے میں اس کے گمان کے پاس ہی ہوں اگر اس کا میرے ساتھ حسن ظن ہے تو میں اس کے ساتھ اچھائی کروں گا اور اگر وہ میرے ساتھ بدگمانی کرے گا تو میں اس سے اسی طرح پیش آؤں گا (مسند احمد) اس حدیث کا اگلا حصہ بخاری مسلم میں بھی ہے، مسند بزار میں ہے کہ ایک بیمار انصاری کی بیمار پرسی کے لئے آنحضرت ﷺ تشریف لے گئے اور سلام کر کے فرمانے لگے کہ کیسے مزاج ہیں ؟ اس نے کہا الحمد للہ اچھا ہوں رب کی رحمت کا امیدوار ہوں اور اس نے عذابوں سے ڈر رہا ہوں، آپ نے فرمایا سنو ایسے وقت جس دل میں خوف و طمع دونوں ہوں اللہ اس کی امید کی چیز اسے دیتا ہے اور ڈر خوف کی چیز سے بچاتا ہے، مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت حکیم بن حزام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی اور کہا کہ میں کھڑے کھڑے ہی کروں، اس کا مطلب امام نسائی نے تو سنن نسائی میں باب باندھ کر یہ بیان کیا ہے کہ سجدے میں اس طرح جان چاہئے، اور یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ میں مسلمان ہوئے بغیر نہ مروں، اور یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ جہاد پیٹھ دکھاتا ہوا نہ مارا جاؤں۔ پھر فرمایا باہم اتفاق رکھو اختلاف سے بچو۔ حبل اللہ سے مراد عہد الہ ہے، جیسے الا یحبل من اللہ الخ، میں " حبل " سے مراد قرآن ہے، ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ قرآن اللہ کریم کی مضبوطی رسی ہے اور اس کی سیدھی راہ ہے، اور روایت میں ہے کہ کتاب اللہ اللہ تعالیٰ کی آسمان سے زمین کی طرف لٹکائی ہوئی رسی ہے، اور حدیث میں ہے کہ یہ قرآن اللہ سبحانہ کی مضبوط رسی ہے یہ ظاہر نور ہے، یہ سراسر شفا دینے والا اور نفع بخش ہے اس پر عمل کرنے والے کے لئے یہ بچاؤ ہے اس کی تابعداری کرنے والے کے لئے یہ نجات ہے۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں ان راستوں میں تو شیاطین چل پھر رہے ہیں تم اللہ کے راستے پر آجاؤ تم اللہ کی رسی کو مضبوط تھام لو وہ رسی قرآن کریم ہے۔ اختلاف نہ کرو پھوٹ نہ ڈالو جدائی نہ کرو، علیحدگی سے بچو، صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تین باتوں سے اللہ رحیم خوش ہوتا ہے اور تین باتوں سے ناخوش ہوتا ہے ایک تو یہ کہ اسی کے عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو دوسرے اللہ کی رسی کو اتفاق سے پکڑو، تفرقہ نہ ڈالو، تیسرے مسلمان بادشاہوں کی خیر خواہی کرو، فضول بکواس، زیادتی سوال اور بربادی مال یہ تینوں چیزیں رب کی ناراضگی کا سبب ہیں، بہت سی روایتیں ایسی بھی ہیں جن میں سے کہ اتفاق کے وقت وہ خطا سے بچ جائیں گے اور بہت سی احادیث میں نااتفاقی سے ڈرایا بھی ہے، ان ہدایات کے باوجود امت میں اختلافات ہوئے اور تہتر فرقے ہوگئے جن میں سے ایک نجات پا کر جنتی ہوگا اور جہنم کے عذابوں سے بچ رہے گا اور یہ وہ لوگ ہیں جو اس پر قائم ہوں جس پر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب تھے۔ پھر اپنی نعمت یاد دلائی، جاہلیت کے زمانے میں اوس و خزرج کے درمیان بڑی لڑائیاں اور سخت عداوت تھی آپس میں برابر جنگ جاری رہتی تھی جب دونوں قبیلے اسلام لائے تو اللہ کریم کے فضل سے بالکل ایک ہوگئے سب حسد بغض جاتا رہا اور آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کے مددگار اور اللہ تعالیٰ کے دین میں ایک دوسرے کے ساتھ متفق ہوگئے، جیسے اور جگہ ہے آیت (ۭهُوَ الَّذِيْٓ اَيَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَبِالْمُؤْمِنِيْنَ 62؀ۙ وَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ) 8۔ الانفال :62) وہ اللہ جس نے تیری تائید کی اپنی مدد کے ساتھ اور مومنوں کے ساتھ اور ان کے دلوں میں الفت ڈال دی۔ اپنا دوسرا احسان ذکر کرتا ہے کہ تم آگ کے کنارے پہنچ چکے تھے اور تمہارا کفر تمہیں اس میں دھکیل دیتا لیکن ہم نے تمہیں اسلام کی توفیق عطا فرما کر اس سے بھی الگ کرلیا، حنین کی فتح کے بعد جب مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے مصلحت دینی کے مطابقحضور ﷺ نے بعض لوگوں کو زیادہ مال دیا تو کسی شخص نے کچھ ایسے ہی نامناسب الفاظ زبان سے نکال دئیے جس پر حضور ﷺ نے جماعت انصار کو جمع کر کے ایک خطبہ پڑھا اس میں یہ بھی فرمایا تھا کہ اے جماعت انصار کیا تم گمراہ نہ تھے ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہیں ہدایت دی ؟ کیا تم متفرق نہ تھے پھر رب دو عالم نے میری وجہ سے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی کیا تم فقیر نہ تھے اللہ تعالیٰ نے تمہیں میری وجہ سے غنی کردیا ؟ ہر ہر سوال کے جواب میں یہ پاکباز، جماعت یہ اللہ والا گروہ کہتا جاتا تھا کہ ہم پر اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کے احسان اور بھی بہت سے ہیں اور بہت بڑے بڑے ہیں، حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ جب اوس و خزرج جیسے صدیوں کے آپس کے دشنوں کو یوں بھائی بھائی بنا ہوا دیکھا تو یہودیوں کی آنکھوں میں کانٹا کھٹکنے لگا انہوں نے آدمی مقرر کئے کہ وہ ان کی محفلوں اور مجلس میں جایا کریں اور اگلی لڑائیاں اور پرانی عداوتیں انہیں یاد دلائیں ان کے مقتولوں کی یاد تازہ کرائیں اور اس طرح انہیں بھڑکائیں۔ چناچہ ان کا یہ داؤ ایک مرتبہ چل بھی گیا اور دونوں قبیلوں میں پرانی آگ بھڑک اٹھی یہاں تک کہ تلواریں کھچ گئیں ٹھیک دو جماعتیں ہوگئیں اور وہی جاہلیت کے نعرے لگنے لگے ہتھیار سجنے لگے اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن گئے اور یہ ٹھہر گیا کہ حرہ کے میدان میں جا کر ان سے دل کھول کر لڑیں اور مردانگی کے جوہر دکھائیں پیاسی زمین کو اپنے خون سے سیراب کریں لیکنحضور ﷺ کو پتہ چل گیا آپ فوراً موقع پر تشریف لائے اور دونوں گروہ کو ٹھکڈا کیا اور فرمانے لگے پھر جاہلیت کے نعرے تم لگانے لگے میری موجودگی میں ہی تم نے پھر جنگ وجدال شروع کردیا ؟ پھر آپ نے یہی آیت پڑھ کر سنائی سب نادم ہوئے اور اپنی دو گھڑی پہلے کی حرکت پر افسوس کرنے لگے اور آپس میں نئے سرے سے معانقہ مصافحہ کیا اور پھر بھائیوں کی طرح گلے مل گئے ہتھیار ڈال دئیے اور صلح صفائی ہوگئی، حضرت عکرمہ ؒ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب حضرت صدیقہ ؓ پر منافقوں نے تہمت لگائی تھی اور آپ کی برات نازل ہوئی تھی تب ایک دوسرے کے مقابلہ میں تن گئے تھے، فاللہ اعلم

اللہ تعالیٰ کی رسی قرآن حکیم ہے اللہ تعالیٰ سے پورا پورا ڈرنا یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اس کی یاد نہ بھلائی جائے اس کا شکر کیا جائے کفر نہ کیا جائے، بعض روایتوں میں یہ تفسیر مرفوع بھی مروی ہے لیکن ٹھیک بات یہی ہے کہ یہ موقوف ہے یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے واللہ اعلم۔ حضرت انس کا فرمان ہے کہ انسان اللہ عزوجل سے ڈرنے کا حق نہیں بجا لاسکتا جب تک اپنی زبان کو محفوظ نہ رکھے، اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت (فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوْا وَاَطِيْعُوْا وَاَنْفِقُوْا خَيْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ ۭ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ) 64۔ التغابن :16) کی آیت سے منسوخ ہے اس دوسری آیت میں فرما دیا ہے کہ اپنی طاقت کے مطابق اس سے ڈرتے رہا کرو، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں منسوخ نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہو اس کے کاموں میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خیال نہ کرو عدل پر جم جاؤ یہاں تک کہ خود اپنے نفس پر عدل کے احکام جاری کرو اپنے ماں باپ اور اپنی اولاد کے بارے میں بھی عدل و انصاف برتا کرو۔ پھر فرمایا کہ اسلام پر ہی مرنا یعنی تمام زندگی اس پر قائم رہنا تاکہ موت بھی اسی پر آئے، اس رب کریم کا اصول یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی جیسی رکھے ویسی ہی اسے موت آتی ہے اور جیسی موت مرے اسی پر قیامت کے دن اٹھایا جاتا ہے واللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ کی ناپسند موت سے ہمیں اپنی پناہ میں رکھے آمین۔ مسند احمد میں ہے کہ لوگ بیت اللہ شریف کا طواف کر رہے تھے اور حضرت ابن عباس بھی وہاں تھے ان کے ہاتھ میں لکڑی تھی بیان فرمانے لگی کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی دنیا میں گرا دیا جائے تو دنیا والوں کی ہر کھانے والی چیز خراب ہوجائے کوئی چیز کھا پی نہ سکیں پھر خیال کرو کہ ان جہنمیوں کا کیا حال ہوگا جن کا کھانا پینا ہی یہ زقوم ہوگا اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص جہنم سے الگ ہوتا اور جنت میں جانا چاہتا ہو اسے چاہئے کہ مرتے دم تک اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھے اور لوگوں سے وہ برتاؤ کرے جسے وہ خود اپنے لئے چاہتا ہو (مسند احمد) حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں میں نے نبی ﷺ کی زبانی آپ کے انتقال کے تین روز پہلے سنا کہ دیکھو موت کے وقت اللہ تعالیٰ سے نیک گمان رکھنا (مسلم) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میرا بندہ میرے ساتھ جیسا گمان رکھے میں اس کے گمان کے پاس ہی ہوں اگر اس کا میرے ساتھ حسن ظن ہے تو میں اس کے ساتھ اچھائی کروں گا اور اگر وہ میرے ساتھ بدگمانی کرے گا تو میں اس سے اسی طرح پیش آؤں گا (مسند احمد) اس حدیث کا اگلا حصہ بخاری مسلم میں بھی ہے، مسند بزار میں ہے کہ ایک بیمار انصاری کی بیمار پرسی کے لئے آنحضرت ﷺ تشریف لے گئے اور سلام کر کے فرمانے لگے کہ کیسے مزاج ہیں ؟ اس نے کہا الحمد للہ اچھا ہوں رب کی رحمت کا امیدوار ہوں اور اس نے عذابوں سے ڈر رہا ہوں، آپ نے فرمایا سنو ایسے وقت جس دل میں خوف و طمع دونوں ہوں اللہ اس کی امید کی چیز اسے دیتا ہے اور ڈر خوف کی چیز سے بچاتا ہے، مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت حکیم بن حزام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی اور کہا کہ میں کھڑے کھڑے ہی کروں، اس کا مطلب امام نسائی نے تو سنن نسائی میں باب باندھ کر یہ بیان کیا ہے کہ سجدے میں اس طرح جان چاہئے، اور یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ میں مسلمان ہوئے بغیر نہ مروں، اور یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ جہاد پیٹھ دکھاتا ہوا نہ مارا جاؤں۔ پھر فرمایا باہم اتفاق رکھو اختلاف سے بچو۔ حبل اللہ سے مراد عہد الہ ہے، جیسے الا یحبل من اللہ الخ، میں " حبل " سے مراد قرآن ہے، ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ قرآن اللہ کریم کی مضبوطی رسی ہے اور اس کی سیدھی راہ ہے، اور روایت میں ہے کہ کتاب اللہ اللہ تعالیٰ کی آسمان سے زمین کی طرف لٹکائی ہوئی رسی ہے، اور حدیث میں ہے کہ یہ قرآن اللہ سبحانہ کی مضبوط رسی ہے یہ ظاہر نور ہے، یہ سراسر شفا دینے والا اور نفع بخش ہے اس پر عمل کرنے والے کے لئے یہ بچاؤ ہے اس کی تابعداری کرنے والے کے لئے یہ نجات ہے۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں ان راستوں میں تو شیاطین چل پھر رہے ہیں تم اللہ کے راستے پر آجاؤ تم اللہ کی رسی کو مضبوط تھام لو وہ رسی قرآن کریم ہے۔ اختلاف نہ کرو پھوٹ نہ ڈالو جدائی نہ کرو، علیحدگی سے بچو، صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تین باتوں سے اللہ رحیم خوش ہوتا ہے اور تین باتوں سے ناخوش ہوتا ہے ایک تو یہ کہ اسی کے عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو دوسرے اللہ کی رسی کو اتفاق سے پکڑو، تفرقہ نہ ڈالو، تیسرے مسلمان بادشاہوں کی خیر خواہی کرو، فضول بکواس، زیادتی سوال اور بربادی مال یہ تینوں چیزیں رب کی ناراضگی کا سبب ہیں، بہت سی روایتیں ایسی بھی ہیں جن میں سے کہ اتفاق کے وقت وہ خطا سے بچ جائیں گے اور بہت سی احادیث میں نااتفاقی سے ڈرایا بھی ہے، ان ہدایات کے باوجود امت میں اختلافات ہوئے اور تہتر فرقے ہوگئے جن میں سے ایک نجات پا کر جنتی ہوگا اور جہنم کے عذابوں سے بچ رہے گا اور یہ وہ لوگ ہیں جو اس پر قائم ہوں جس پر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب تھے۔ پھر اپنی نعمت یاد دلائی، جاہلیت کے زمانے میں اوس و خزرج کے درمیان بڑی لڑائیاں اور سخت عداوت تھی آپس میں برابر جنگ جاری رہتی تھی جب دونوں قبیلے اسلام لائے تو اللہ کریم کے فضل سے بالکل ایک ہوگئے سب حسد بغض جاتا رہا اور آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کے مددگار اور اللہ تعالیٰ کے دین میں ایک دوسرے کے ساتھ متفق ہوگئے، جیسے اور جگہ ہے آیت (ۭهُوَ الَّذِيْٓ اَيَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَبِالْمُؤْمِنِيْنَ 62؀ۙ وَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ) 8۔ الانفال :62) وہ اللہ جس نے تیری تائید کی اپنی مدد کے ساتھ اور مومنوں کے ساتھ اور ان کے دلوں میں الفت ڈال دی۔ اپنا دوسرا احسان ذکر کرتا ہے کہ تم آگ کے کنارے پہنچ چکے تھے اور تمہارا کفر تمہیں اس میں دھکیل دیتا لیکن ہم نے تمہیں اسلام کی توفیق عطا فرما کر اس سے بھی الگ کرلیا، حنین کی فتح کے بعد جب مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے مصلحت دینی کے مطابقحضور ﷺ نے بعض لوگوں کو زیادہ مال دیا تو کسی شخص نے کچھ ایسے ہی نامناسب الفاظ زبان سے نکال دئیے جس پر حضور ﷺ نے جماعت انصار کو جمع کر کے ایک خطبہ پڑھا اس میں یہ بھی فرمایا تھا کہ اے جماعت انصار کیا تم گمراہ نہ تھے ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہیں ہدایت دی ؟ کیا تم متفرق نہ تھے پھر رب دو عالم نے میری وجہ سے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی کیا تم فقیر نہ تھے اللہ تعالیٰ نے تمہیں میری وجہ سے غنی کردیا ؟ ہر ہر سوال کے جواب میں یہ پاکباز، جماعت یہ اللہ والا گروہ کہتا جاتا تھا کہ ہم پر اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کے احسان اور بھی بہت سے ہیں اور بہت بڑے بڑے ہیں، حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ جب اوس و خزرج جیسے صدیوں کے آپس کے دشنوں کو یوں بھائی بھائی بنا ہوا دیکھا تو یہودیوں کی آنکھوں میں کانٹا کھٹکنے لگا انہوں نے آدمی مقرر کئے کہ وہ ان کی محفلوں اور مجلس میں جایا کریں اور اگلی لڑائیاں اور پرانی عداوتیں انہیں یاد دلائیں ان کے مقتولوں کی یاد تازہ کرائیں اور اس طرح انہیں بھڑکائیں۔ چناچہ ان کا یہ داؤ ایک مرتبہ چل بھی گیا اور دونوں قبیلوں میں پرانی آگ بھڑک اٹھی یہاں تک کہ تلواریں کھچ گئیں ٹھیک دو جماعتیں ہوگئیں اور وہی جاہلیت کے نعرے لگنے لگے ہتھیار سجنے لگے اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن گئے اور یہ ٹھہر گیا کہ حرہ کے میدان میں جا کر ان سے دل کھول کر لڑیں اور مردانگی کے جوہر دکھائیں پیاسی زمین کو اپنے خون سے سیراب کریں لیکنحضور ﷺ کو پتہ چل گیا آپ فوراً موقع پر تشریف لائے اور دونوں گروہ کو ٹھکڈا کیا اور فرمانے لگے پھر جاہلیت کے نعرے تم لگانے لگے میری موجودگی میں ہی تم نے پھر جنگ وجدال شروع کردیا ؟ پھر آپ نے یہی آیت پڑھ کر سنائی سب نادم ہوئے اور اپنی دو گھڑی پہلے کی حرکت پر افسوس کرنے لگے اور آپس میں نئے سرے سے معانقہ مصافحہ کیا اور پھر بھائیوں کی طرح گلے مل گئے ہتھیار ڈال دئیے اور صلح صفائی ہوگئی، حضرت عکرمہ ؒ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب حضرت صدیقہ ؓ پر منافقوں نے تہمت لگائی تھی اور آپ کی برات نازل ہوئی تھی تب ایک دوسرے کے مقابلہ میں تن گئے تھے، فاللہ اعلم

یوم آخرت منافق اور مومن کی پہچان حضرت ضحاک فرماتے ہیں اس جماعت سے مراد خاص صحابہ اور خاص راویان حدیث ہیں یعنی مجاہد اور علماء امام ابو جعفر باقر ؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا صبر سے مراد قرآن و حدیث کی اتباع ہے، یاد رہے کہ ہر ہر متنفس پر تبلیغ حق فرض ہے لیکن تاہم ایک جماعت تو خاص اسی کام میں مشغول رہنی چاہئے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اسے ہاتھ سے دفع کر دے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اگر یہ بھی نہ کرسکتا ہو تو اپنے دل سے نفرت کرے یہ ضعیف ایمان ہے، ایک اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں، (صحیح مسلم) مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اچھائی کا حکم اور برائیوں سے مخالفت کرتے رہو ورنہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب نازل فرما دے گا پھر تم دعائیں کرو گے لیکن قبول نہ ہوں گی۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں جو کسی اور مقام پر ذکر کی جائیں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ تم سابقہ لوگوں کی طرح افتراق و اختلاف نہ کرنا تم نیک باتوں کا حکم اور خلاف شرع باتوں سے روکنا نہ چھوڑنا، مسند احمد میں ہے حضرت معاویہ بن ابو سفیان ؓ حج کیلئے جب مکہ شریف میں آئے تو ظہر کی نماز کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اہل کتاب اپنے دین میں اختلاف کر کے بہتر گروہ بن گئے اور اس میری امت کے تہتر فرقے ہوجائیں گے خواہشات نفسانی اور خوش فہمی میں ہوں گے بلکہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کی رگ رگ میں نفسانی خواہشیں اس طرح گھس جائیں گی جس طرح کتے کے کاٹے ہوئے انسان کی ایک ایک رگ اور ایک ایک جوڑ میں اس کا اثر پہنچ جاتا ہے اے عرب کے لوگو اگر تم ہی اپنے نبی کی لائی ہوئی چیز پر قائم نہ رہو گے تو اور لوگ تو بہت دور ہوجائیں گے۔ اس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں پھر فرمایا اس دن سفید چہرے اور سیاہ منہ بھی ہونگے۔ ابن عباس کا فرمان ہے کہ اہل سنت والجماعت کے منہ سفید اور نورانی ہونگے مگر اہل بدعت و منافقت کے کالے منہ ہونگے، حسن بصری فرماتے ہیں یہ کالے منہ والے منافق ہونگے جن سے کہا جائے گا کہ تم نے ایمان کے بعد کفر کیوں کیا اب اس کا مزہ چکھو۔ اور سفید منہ والے اللہ رحیم و کریم کی رحمت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ حضرت ابو امامہ ؓ نے جب خارجیوں کے سر دمشق کی مسجد کے زینوں پر لٹکے ہوئے دیکھے تو فرمانے لگے یہ جہنم کے کتے ہیں ان سے بدر مقتول روئے زمین پر کوئی نہیں انہیں قتل کرنے والے بہترین مجاہدین پھر آیت (يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ) 3۔ آل عمران :106) تلاوت فرمائی، ابو غالب نے کہا کہ جناب نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا ہے ؟ فرمایا ایک دو دفعہ نہیں بلکہ سات مرتبہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں اپنی زبان سے یہ الفاظ نکالتا ہی نہیں، ابن مردویہ نے یہاں حضرت ابوذر کی روایت سے ایک لمبی حدیث نقل کی ہے جو بہت ہی عجیب ہے لیکن سنداً غریب ہے۔ دنیا اور آخرت کی یہ باتیں ہم تم پر اے نبی کھول رہے ہیں اللہ عادل حاکم ہے وہ ظالم نہیں اور ہر چیز کو آپ خوب جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت بھی رکھتا ہے پھر ناممکن ہے کہ وہ کسی پر ظلم کرے (جن کے کالے منہ ہوئے وہ اسی لائق تھے) زمین اور آسمان کی کل چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں اور ہر کام کا آخری حکم اسی کی طرف ہے متصرف اور با اختیار حکم دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔

یوم آخرت منافق اور مومن کی پہچان حضرت ضحاک فرماتے ہیں اس جماعت سے مراد خاص صحابہ اور خاص راویان حدیث ہیں یعنی مجاہد اور علماء امام ابو جعفر باقر ؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا صبر سے مراد قرآن و حدیث کی اتباع ہے، یاد رہے کہ ہر ہر متنفس پر تبلیغ حق فرض ہے لیکن تاہم ایک جماعت تو خاص اسی کام میں مشغول رہنی چاہئے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اسے ہاتھ سے دفع کر دے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اگر یہ بھی نہ کرسکتا ہو تو اپنے دل سے نفرت کرے یہ ضعیف ایمان ہے، ایک اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں، (صحیح مسلم) مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اچھائی کا حکم اور برائیوں سے مخالفت کرتے رہو ورنہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب نازل فرما دے گا پھر تم دعائیں کرو گے لیکن قبول نہ ہوں گی۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں جو کسی اور مقام پر ذکر کی جائیں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ تم سابقہ لوگوں کی طرح افتراق و اختلاف نہ کرنا تم نیک باتوں کا حکم اور خلاف شرع باتوں سے روکنا نہ چھوڑنا، مسند احمد میں ہے حضرت معاویہ بن ابو سفیان ؓ حج کیلئے جب مکہ شریف میں آئے تو ظہر کی نماز کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اہل کتاب اپنے دین میں اختلاف کر کے بہتر گروہ بن گئے اور اس میری امت کے تہتر فرقے ہوجائیں گے خواہشات نفسانی اور خوش فہمی میں ہوں گے بلکہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کی رگ رگ میں نفسانی خواہشیں اس طرح گھس جائیں گی جس طرح کتے کے کاٹے ہوئے انسان کی ایک ایک رگ اور ایک ایک جوڑ میں اس کا اثر پہنچ جاتا ہے اے عرب کے لوگو اگر تم ہی اپنے نبی کی لائی ہوئی چیز پر قائم نہ رہو گے تو اور لوگ تو بہت دور ہوجائیں گے۔ اس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں پھر فرمایا اس دن سفید چہرے اور سیاہ منہ بھی ہونگے۔ ابن عباس کا فرمان ہے کہ اہل سنت والجماعت کے منہ سفید اور نورانی ہونگے مگر اہل بدعت و منافقت کے کالے منہ ہونگے، حسن بصری فرماتے ہیں یہ کالے منہ والے منافق ہونگے جن سے کہا جائے گا کہ تم نے ایمان کے بعد کفر کیوں کیا اب اس کا مزہ چکھو۔ اور سفید منہ والے اللہ رحیم و کریم کی رحمت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ حضرت ابو امامہ ؓ نے جب خارجیوں کے سر دمشق کی مسجد کے زینوں پر لٹکے ہوئے دیکھے تو فرمانے لگے یہ جہنم کے کتے ہیں ان سے بدر مقتول روئے زمین پر کوئی نہیں انہیں قتل کرنے والے بہترین مجاہدین پھر آیت (يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ) 3۔ آل عمران :106) تلاوت فرمائی، ابو غالب نے کہا کہ جناب نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا ہے ؟ فرمایا ایک دو دفعہ نہیں بلکہ سات مرتبہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں اپنی زبان سے یہ الفاظ نکالتا ہی نہیں، ابن مردویہ نے یہاں حضرت ابوذر کی روایت سے ایک لمبی حدیث نقل کی ہے جو بہت ہی عجیب ہے لیکن سنداً غریب ہے۔ دنیا اور آخرت کی یہ باتیں ہم تم پر اے نبی کھول رہے ہیں اللہ عادل حاکم ہے وہ ظالم نہیں اور ہر چیز کو آپ خوب جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت بھی رکھتا ہے پھر ناممکن ہے کہ وہ کسی پر ظلم کرے (جن کے کالے منہ ہوئے وہ اسی لائق تھے) زمین اور آسمان کی کل چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں اور ہر کام کا آخری حکم اسی کی طرف ہے متصرف اور با اختیار حکم دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔

یوم آخرت منافق اور مومن کی پہچان حضرت ضحاک فرماتے ہیں اس جماعت سے مراد خاص صحابہ اور خاص راویان حدیث ہیں یعنی مجاہد اور علماء امام ابو جعفر باقر ؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا صبر سے مراد قرآن و حدیث کی اتباع ہے، یاد رہے کہ ہر ہر متنفس پر تبلیغ حق فرض ہے لیکن تاہم ایک جماعت تو خاص اسی کام میں مشغول رہنی چاہئے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اسے ہاتھ سے دفع کر دے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اگر یہ بھی نہ کرسکتا ہو تو اپنے دل سے نفرت کرے یہ ضعیف ایمان ہے، ایک اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں، (صحیح مسلم) مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اچھائی کا حکم اور برائیوں سے مخالفت کرتے رہو ورنہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب نازل فرما دے گا پھر تم دعائیں کرو گے لیکن قبول نہ ہوں گی۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں جو کسی اور مقام پر ذکر کی جائیں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ تم سابقہ لوگوں کی طرح افتراق و اختلاف نہ کرنا تم نیک باتوں کا حکم اور خلاف شرع باتوں سے روکنا نہ چھوڑنا، مسند احمد میں ہے حضرت معاویہ بن ابو سفیان ؓ حج کیلئے جب مکہ شریف میں آئے تو ظہر کی نماز کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اہل کتاب اپنے دین میں اختلاف کر کے بہتر گروہ بن گئے اور اس میری امت کے تہتر فرقے ہوجائیں گے خواہشات نفسانی اور خوش فہمی میں ہوں گے بلکہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کی رگ رگ میں نفسانی خواہشیں اس طرح گھس جائیں گی جس طرح کتے کے کاٹے ہوئے انسان کی ایک ایک رگ اور ایک ایک جوڑ میں اس کا اثر پہنچ جاتا ہے اے عرب کے لوگو اگر تم ہی اپنے نبی کی لائی ہوئی چیز پر قائم نہ رہو گے تو اور لوگ تو بہت دور ہوجائیں گے۔ اس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں پھر فرمایا اس دن سفید چہرے اور سیاہ منہ بھی ہونگے۔ ابن عباس کا فرمان ہے کہ اہل سنت والجماعت کے منہ سفید اور نورانی ہونگے مگر اہل بدعت و منافقت کے کالے منہ ہونگے، حسن بصری فرماتے ہیں یہ کالے منہ والے منافق ہونگے جن سے کہا جائے گا کہ تم نے ایمان کے بعد کفر کیوں کیا اب اس کا مزہ چکھو۔ اور سفید منہ والے اللہ رحیم و کریم کی رحمت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ حضرت ابو امامہ ؓ نے جب خارجیوں کے سر دمشق کی مسجد کے زینوں پر لٹکے ہوئے دیکھے تو فرمانے لگے یہ جہنم کے کتے ہیں ان سے بدر مقتول روئے زمین پر کوئی نہیں انہیں قتل کرنے والے بہترین مجاہدین پھر آیت (يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ) 3۔ آل عمران :106) تلاوت فرمائی، ابو غالب نے کہا کہ جناب نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا ہے ؟ فرمایا ایک دو دفعہ نہیں بلکہ سات مرتبہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں اپنی زبان سے یہ الفاظ نکالتا ہی نہیں، ابن مردویہ نے یہاں حضرت ابوذر کی روایت سے ایک لمبی حدیث نقل کی ہے جو بہت ہی عجیب ہے لیکن سنداً غریب ہے۔ دنیا اور آخرت کی یہ باتیں ہم تم پر اے نبی کھول رہے ہیں اللہ عادل حاکم ہے وہ ظالم نہیں اور ہر چیز کو آپ خوب جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت بھی رکھتا ہے پھر ناممکن ہے کہ وہ کسی پر ظلم کرے (جن کے کالے منہ ہوئے وہ اسی لائق تھے) زمین اور آسمان کی کل چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں اور ہر کام کا آخری حکم اسی کی طرف ہے متصرف اور با اختیار حکم دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔

یوم آخرت منافق اور مومن کی پہچان حضرت ضحاک فرماتے ہیں اس جماعت سے مراد خاص صحابہ اور خاص راویان حدیث ہیں یعنی مجاہد اور علماء امام ابو جعفر باقر ؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا صبر سے مراد قرآن و حدیث کی اتباع ہے، یاد رہے کہ ہر ہر متنفس پر تبلیغ حق فرض ہے لیکن تاہم ایک جماعت تو خاص اسی کام میں مشغول رہنی چاہئے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اسے ہاتھ سے دفع کر دے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اگر یہ بھی نہ کرسکتا ہو تو اپنے دل سے نفرت کرے یہ ضعیف ایمان ہے، ایک اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں، (صحیح مسلم) مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اچھائی کا حکم اور برائیوں سے مخالفت کرتے رہو ورنہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب نازل فرما دے گا پھر تم دعائیں کرو گے لیکن قبول نہ ہوں گی۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں جو کسی اور مقام پر ذکر کی جائیں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ تم سابقہ لوگوں کی طرح افتراق و اختلاف نہ کرنا تم نیک باتوں کا حکم اور خلاف شرع باتوں سے روکنا نہ چھوڑنا، مسند احمد میں ہے حضرت معاویہ بن ابو سفیان ؓ حج کیلئے جب مکہ شریف میں آئے تو ظہر کی نماز کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اہل کتاب اپنے دین میں اختلاف کر کے بہتر گروہ بن گئے اور اس میری امت کے تہتر فرقے ہوجائیں گے خواہشات نفسانی اور خوش فہمی میں ہوں گے بلکہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کی رگ رگ میں نفسانی خواہشیں اس طرح گھس جائیں گی جس طرح کتے کے کاٹے ہوئے انسان کی ایک ایک رگ اور ایک ایک جوڑ میں اس کا اثر پہنچ جاتا ہے اے عرب کے لوگو اگر تم ہی اپنے نبی کی لائی ہوئی چیز پر قائم نہ رہو گے تو اور لوگ تو بہت دور ہوجائیں گے۔ اس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں پھر فرمایا اس دن سفید چہرے اور سیاہ منہ بھی ہونگے۔ ابن عباس کا فرمان ہے کہ اہل سنت والجماعت کے منہ سفید اور نورانی ہونگے مگر اہل بدعت و منافقت کے کالے منہ ہونگے، حسن بصری فرماتے ہیں یہ کالے منہ والے منافق ہونگے جن سے کہا جائے گا کہ تم نے ایمان کے بعد کفر کیوں کیا اب اس کا مزہ چکھو۔ اور سفید منہ والے اللہ رحیم و کریم کی رحمت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ حضرت ابو امامہ ؓ نے جب خارجیوں کے سر دمشق کی مسجد کے زینوں پر لٹکے ہوئے دیکھے تو فرمانے لگے یہ جہنم کے کتے ہیں ان سے بدر مقتول روئے زمین پر کوئی نہیں انہیں قتل کرنے والے بہترین مجاہدین پھر آیت (يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ) 3۔ آل عمران :106) تلاوت فرمائی، ابو غالب نے کہا کہ جناب نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا ہے ؟ فرمایا ایک دو دفعہ نہیں بلکہ سات مرتبہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں اپنی زبان سے یہ الفاظ نکالتا ہی نہیں، ابن مردویہ نے یہاں حضرت ابوذر کی روایت سے ایک لمبی حدیث نقل کی ہے جو بہت ہی عجیب ہے لیکن سنداً غریب ہے۔ دنیا اور آخرت کی یہ باتیں ہم تم پر اے نبی کھول رہے ہیں اللہ عادل حاکم ہے وہ ظالم نہیں اور ہر چیز کو آپ خوب جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت بھی رکھتا ہے پھر ناممکن ہے کہ وہ کسی پر ظلم کرے (جن کے کالے منہ ہوئے وہ اسی لائق تھے) زمین اور آسمان کی کل چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں اور ہر کام کا آخری حکم اسی کی طرف ہے متصرف اور با اختیار حکم دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔

یوم آخرت منافق اور مومن کی پہچان حضرت ضحاک فرماتے ہیں اس جماعت سے مراد خاص صحابہ اور خاص راویان حدیث ہیں یعنی مجاہد اور علماء امام ابو جعفر باقر ؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا صبر سے مراد قرآن و حدیث کی اتباع ہے، یاد رہے کہ ہر ہر متنفس پر تبلیغ حق فرض ہے لیکن تاہم ایک جماعت تو خاص اسی کام میں مشغول رہنی چاہئے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اسے ہاتھ سے دفع کر دے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اگر یہ بھی نہ کرسکتا ہو تو اپنے دل سے نفرت کرے یہ ضعیف ایمان ہے، ایک اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں، (صحیح مسلم) مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اچھائی کا حکم اور برائیوں سے مخالفت کرتے رہو ورنہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب نازل فرما دے گا پھر تم دعائیں کرو گے لیکن قبول نہ ہوں گی۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں جو کسی اور مقام پر ذکر کی جائیں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ تم سابقہ لوگوں کی طرح افتراق و اختلاف نہ کرنا تم نیک باتوں کا حکم اور خلاف شرع باتوں سے روکنا نہ چھوڑنا، مسند احمد میں ہے حضرت معاویہ بن ابو سفیان ؓ حج کیلئے جب مکہ شریف میں آئے تو ظہر کی نماز کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اہل کتاب اپنے دین میں اختلاف کر کے بہتر گروہ بن گئے اور اس میری امت کے تہتر فرقے ہوجائیں گے خواہشات نفسانی اور خوش فہمی میں ہوں گے بلکہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کی رگ رگ میں نفسانی خواہشیں اس طرح گھس جائیں گی جس طرح کتے کے کاٹے ہوئے انسان کی ایک ایک رگ اور ایک ایک جوڑ میں اس کا اثر پہنچ جاتا ہے اے عرب کے لوگو اگر تم ہی اپنے نبی کی لائی ہوئی چیز پر قائم نہ رہو گے تو اور لوگ تو بہت دور ہوجائیں گے۔ اس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں پھر فرمایا اس دن سفید چہرے اور سیاہ منہ بھی ہونگے۔ ابن عباس کا فرمان ہے کہ اہل سنت والجماعت کے منہ سفید اور نورانی ہونگے مگر اہل بدعت و منافقت کے کالے منہ ہونگے، حسن بصری فرماتے ہیں یہ کالے منہ والے منافق ہونگے جن سے کہا جائے گا کہ تم نے ایمان کے بعد کفر کیوں کیا اب اس کا مزہ چکھو۔ اور سفید منہ والے اللہ رحیم و کریم کی رحمت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ حضرت ابو امامہ ؓ نے جب خارجیوں کے سر دمشق کی مسجد کے زینوں پر لٹکے ہوئے دیکھے تو فرمانے لگے یہ جہنم کے کتے ہیں ان سے بدر مقتول روئے زمین پر کوئی نہیں انہیں قتل کرنے والے بہترین مجاہدین پھر آیت (يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ) 3۔ آل عمران :106) تلاوت فرمائی، ابو غالب نے کہا کہ جناب نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا ہے ؟ فرمایا ایک دو دفعہ نہیں بلکہ سات مرتبہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں اپنی زبان سے یہ الفاظ نکالتا ہی نہیں، ابن مردویہ نے یہاں حضرت ابوذر کی روایت سے ایک لمبی حدیث نقل کی ہے جو بہت ہی عجیب ہے لیکن سنداً غریب ہے۔ دنیا اور آخرت کی یہ باتیں ہم تم پر اے نبی کھول رہے ہیں اللہ عادل حاکم ہے وہ ظالم نہیں اور ہر چیز کو آپ خوب جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت بھی رکھتا ہے پھر ناممکن ہے کہ وہ کسی پر ظلم کرے (جن کے کالے منہ ہوئے وہ اسی لائق تھے) زمین اور آسمان کی کل چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں اور ہر کام کا آخری حکم اسی کی طرف ہے متصرف اور با اختیار حکم دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔

یوم آخرت منافق اور مومن کی پہچان حضرت ضحاک فرماتے ہیں اس جماعت سے مراد خاص صحابہ اور خاص راویان حدیث ہیں یعنی مجاہد اور علماء امام ابو جعفر باقر ؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا صبر سے مراد قرآن و حدیث کی اتباع ہے، یاد رہے کہ ہر ہر متنفس پر تبلیغ حق فرض ہے لیکن تاہم ایک جماعت تو خاص اسی کام میں مشغول رہنی چاہئے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اسے ہاتھ سے دفع کر دے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اگر یہ بھی نہ کرسکتا ہو تو اپنے دل سے نفرت کرے یہ ضعیف ایمان ہے، ایک اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں، (صحیح مسلم) مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اچھائی کا حکم اور برائیوں سے مخالفت کرتے رہو ورنہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب نازل فرما دے گا پھر تم دعائیں کرو گے لیکن قبول نہ ہوں گی۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں جو کسی اور مقام پر ذکر کی جائیں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ تم سابقہ لوگوں کی طرح افتراق و اختلاف نہ کرنا تم نیک باتوں کا حکم اور خلاف شرع باتوں سے روکنا نہ چھوڑنا، مسند احمد میں ہے حضرت معاویہ بن ابو سفیان ؓ حج کیلئے جب مکہ شریف میں آئے تو ظہر کی نماز کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اہل کتاب اپنے دین میں اختلاف کر کے بہتر گروہ بن گئے اور اس میری امت کے تہتر فرقے ہوجائیں گے خواہشات نفسانی اور خوش فہمی میں ہوں گے بلکہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کی رگ رگ میں نفسانی خواہشیں اس طرح گھس جائیں گی جس طرح کتے کے کاٹے ہوئے انسان کی ایک ایک رگ اور ایک ایک جوڑ میں اس کا اثر پہنچ جاتا ہے اے عرب کے لوگو اگر تم ہی اپنے نبی کی لائی ہوئی چیز پر قائم نہ رہو گے تو اور لوگ تو بہت دور ہوجائیں گے۔ اس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں پھر فرمایا اس دن سفید چہرے اور سیاہ منہ بھی ہونگے۔ ابن عباس کا فرمان ہے کہ اہل سنت والجماعت کے منہ سفید اور نورانی ہونگے مگر اہل بدعت و منافقت کے کالے منہ ہونگے، حسن بصری فرماتے ہیں یہ کالے منہ والے منافق ہونگے جن سے کہا جائے گا کہ تم نے ایمان کے بعد کفر کیوں کیا اب اس کا مزہ چکھو۔ اور سفید منہ والے اللہ رحیم و کریم کی رحمت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ حضرت ابو امامہ ؓ نے جب خارجیوں کے سر دمشق کی مسجد کے زینوں پر لٹکے ہوئے دیکھے تو فرمانے لگے یہ جہنم کے کتے ہیں ان سے بدر مقتول روئے زمین پر کوئی نہیں انہیں قتل کرنے والے بہترین مجاہدین پھر آیت (يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ) 3۔ آل عمران :106) تلاوت فرمائی، ابو غالب نے کہا کہ جناب نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا ہے ؟ فرمایا ایک دو دفعہ نہیں بلکہ سات مرتبہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں اپنی زبان سے یہ الفاظ نکالتا ہی نہیں، ابن مردویہ نے یہاں حضرت ابوذر کی روایت سے ایک لمبی حدیث نقل کی ہے جو بہت ہی عجیب ہے لیکن سنداً غریب ہے۔ دنیا اور آخرت کی یہ باتیں ہم تم پر اے نبی کھول رہے ہیں اللہ عادل حاکم ہے وہ ظالم نہیں اور ہر چیز کو آپ خوب جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت بھی رکھتا ہے پھر ناممکن ہے کہ وہ کسی پر ظلم کرے (جن کے کالے منہ ہوئے وہ اسی لائق تھے) زمین اور آسمان کی کل چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں اور ہر کام کا آخری حکم اسی کی طرف ہے متصرف اور با اختیار حکم دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔

سب سے بہتر شخص کون ؟ اور سب سے بہتر امت کا اعزاز کس کو ملا ؟ اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ امت محمدیہ تمام امتوں پر بہتر ہے صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں تم اوروں کے حق میں سب سے بہتر ہو تو لوگوں کی گردنیں پکڑ پکڑ کر اسلام کی طرف جھکاتے ہو، اور مفسرین بھی یہی فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم تمام امتوں سے بہتر ہو اور سب سے زیادہ لوگوں کو نفع پہنچانے والے ہو، ابو لہب کی بیٹی حضرت درہ ؓ فرماتی ہیں ایک مرتبہ کسی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا آپ اس وقت منبر پر تھے کہ حضور ﷺ کونسا شخص بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا سب لوگوں سے بہتر وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ قاری قرآن ہو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو، سب سے زیادہ اچھائیوں کا حکم کرنے والا سب سے زیادہ برائیوں سے روکنے والا سب سے زیادہ رشتے ناتے ملانے والا ہو۔ (مسند احمد) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہ وہ صحابہ ہیں جنہوں نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی، صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت ساری امت پر مشتمل ہے، بیشک یہ حدیث میں بھی ہے کہ سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد اس سے ملا ہوا زمانہ پھر اس کے بعد والا، ایک اور روایت میں ہے آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2۔ البقرۃ :143) ہم نے تمہیں بہتر امت بنایا ہے تاہم تم لوگوں پر گواہ بنو، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم نے اگلی امتوں کی تعداد ستر تک پہنچا دی ہے، اللہ کے نزدیک تم ان سب سے بہتر اور زیادہ بزرگ ہو، یہ مشہور حدیث ہے امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے، اس امت کی افضلیت کی ایک بڑی دلیل اس امت کے نبی کی افضلیت ہے، آپ تمام مخلوق کے سردار تمام رسولوں سے زیادہ اکرام و عزت والے ہیں، آپ کی شرع اتنی کامل اور اتنی پوری ہے کہ ایسی شریعت کسی نبی کو نہیں تو ظاہر بات ہے کہ ان فضائل کو سمیٹتے والی امت بھی سب سے اعلیٰ و افضل ہے، اس شریعت کا تھوڑا سا عمل بھی اور امتوں کے زیادہ عمل سے بہتر و افضل ہے، حضرت علی بن ابو طالب رضلی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں وہ وہ نعمتیں دیا گیا ہوں جو مجھ سے پہلے کوئی نہیں دیا گیا لوگوں نے پوچھا وہ کیا باتیں ہیں، آپ نے فرمایا میری مدد رعب سے کی گئی ہے میں زمین کی کنجیاں دیا گیا ہوں، میرا نام احمد رکھا گیا ہے، میرے لئے مٹی پاک کی گئی ہے، میری امت سب امتوں سے بہتر بنائی گئی ہے (مسند احمد) اس حدیث کی اسناد حسن ہے، حضرت ابو الدرداء ؓ فرماتے ہیں میں نے ابو القاسم ﷺ سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ سے فرمایا کہ میں تمہارے بعد ایک امت پیدا کرنے والا ہوں جو راحت پر حمدو شکر کریں گے اور مصیبت پر طلب ثواب اور صبر کریں گے حالانکہ انہیں حلم و علم نہ ہوگا آپ نے تعجب سے پوچھا کہ بغیر بردباری اور دور اندیشی اور پختہ علم کے یہ کیسے ممکن ہے ؟ رب العالمین نے فرمایا میں انہیں اپنا حلم و علم عطا فرماؤں گا، میں چاہتا ہوں یہاں پر بعض وہ حدیثیں بھی بیان کر دوں جن کا ذکر یہاں مناسب ہے سنئے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے جن کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے سب یک رنگ ہونگے، میں نے اپنے رب سے گزارش کی کہ اے اللہ اس تعداد میں اور اضافہ فرما اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار اور بھی، حضرت صدیق اکبر ؓ یہ حدیث بیان کر کے فرمایا کرتے تھے کہ پھر تو اس تعداد میں گاؤں اور دیہاتوں والے بلکہ بادیہ نشین بھی آجائیں گے (مسند احمد) حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھے میرے رب نے ستر ہزار آدمیوں کو میری امت میں سے بغیر حساب کے جنت میں داخل ہونے کی خوشخبری دی، حضرت عمر نے یہ سن کر فرمایا حضور ﷺ کچھ اور زیادتی طلب کرتے آپ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے سوال کیا تو مجھے خوشخبری ملی کے ہر شخص کے ساتھ ستر ستر ہزار کا وعدہ ہوا۔ حضرت عمر نے پھر گزارش کی کہ اللہ کے نبی اور کچھ بھی مانگتے آپ نے فرمایا مانگا تو مجھے اتنی زیادتی اور ملی اور پھر دونوں ہاتھ پھیلا کر بتایا کہ اس طرح، راوی حدیث کہتے ہیں اس طرح جب اللہ تعالیٰ سمیٹے تو اللہ عزوجل ہی جانتا ہے کہ کس قدر مخلوق اس میں آئے گی (فسبحان اللہ وبحمدہ) (مسند احمد) حضرت ثوبان ؓ حمص میں بیمار ہوگئے عبداللہ بن قرط وہاں کے امیر تھے وہ عیادت کو نہ آسکے ایک کلاعی شخص جب آپ کی بیمار پرسی کیلئے گیا تو آپ نے اس سے دریافت کیا کہ لکھنا جانتے ہو اس نے کہا ہاں فرمایا لکھو یہ خط ثوبان کی طرف سے امیر عبداللہ بن قرط کی طرف سے ہے جو رسول اللہ ﷺ کے خادم ہیں بعد حمد و صلوٰۃ کے واضح ہو کہ اگر حضرت عیسیٰ یا حضرت موسیٰ کا کوئی خادم یہاں ہوتا اور بیمار پڑتا تو تم عیادت کیلئے جاتے پھر کہا یہ خط لے جاؤ اور امیر کو پہنچا دو جب یہ خط امیر حمص کے پاس پہنچا تو گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور سیدھے یہاں تشریف لائے کچھ دیر بیٹھ کر عیادت کر کے جب جانے کا ارادہ کیا تو حضرت ثوبان نے ان کی چادر پکڑ روکا اور فرمایا ایک حدیث سنتے جائیں میں نے آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے سنا ہے آپ نے فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب و عذاب کے جنت میں جائیں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے (مسند احمد) یہ حدیث بھی صحیح ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ایک رات ہم خدمت نبوی میں دیر تک باتیں کرتے رہے پھر صبح جب حاضر خدمت ہوئے تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا سنو آج رات انبیاء اپنی اپنی امت سمیت مجھے دکھائے گئے بعض انبیاء کے ساتھ صرف تین شخص تھے بعض کے ساتھ مختصر سا گروہ بعض کے ساتھ ایک جماعت کسی کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا جب موسیٰ ؑ آئے تو ان کے ساتھ بہت سے لوگ تھے مجھے یہ جماعت پسند آئی میں نے پوچھایہ کون ہیں تو جواب ملا کہ یہ آپ کے بھائی موسیٰ ؑ ہیں اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل ہیں میں نے کہا پھر میری امت کہاں ہے جواب ملا اپنی داہنی طرف دیکھو اب جو دیکھتا ہوں تو بیشمار مجمع ہے جس سے پہاڑیاں بھی ڈھک گئی ہیں اب مجھ سے پوچھا گیا کہو خوش ہو میں نے کہا میرے رب میں راضی ہوگیا، فرمایا گیا سنو ! ان کے ساتھ ستر ہزار اور ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، اب نبی ﷺ نے فرمایا تم پر میرے میں باپ فدا ہوں اگر ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے ہی ہونا اگر یہ نہ ہو سکے تو ان میں سے ہو جو پہاڑیوں کو چھپائے ہوئے تھے اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو ان میں سے ہونا جو آسمان کے کناروں کناروں پر تھے، حضرت عکاش بن محصن نے کھڑے ہو کر کہا حضور ﷺ میرے لئے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان ستر ہزار میں سے کرے آپ نے دعا کی تو ایک دوسرے صحابی نے بھی اٹھ کر یہی گزارش کی تو آپ نے فرمایا تم پر حضرت عکاشہ سبقت کر گئے، ہم اب آپس میں کہنے لگے کہ شاید یہ ستر ہزار لوگ ہوں گے جو اسلام پر ہی پیدا ہوئے ہوں اور پوری عمر میں کبھی اللہ کے ساتھ شرک کیا ہی نہ ہو آپ کو جب یہ معلوم ہوا تو فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو دم جھاڑا نہیں کراتے آگ کے داغ نہیں لگواتے شگون نہیں لیتے اور اپنے رب پر پورا بھروسہ رکھتے ہیں (مسند احمد) ایک اور سند سے اتنی زیادتی اس میں اور بھی ہے جب میں نے اپنی رضامندی ظاہر کی تو مجھ سے کہا گیا اب اپنی بائیں جانب دیکھو میں نے دیکھا تو بیشمار مجمع ہے جس نے آسمان کے کناروں کو بھی ڈھک لیا ہے ایک اور روایت میں ہے کہ موسم حج کا یہ واقعہ ہے آپ فرماتے ہیں مجھے اپنی امت کی یہ کثرت بہت پسند آئی تمام پہاڑیاں اور میدان ان سے پُر تھے (مسند احمد) ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عکاشہ کے بعد کھڑے ہونے والے ایک انصاری تھے ؓ (طبرانی) ایک اور روایت میں ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار یا ساٹھ لاکھ آدمی جنت میں جائیں گے جو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہوں گے سب ایک ساتھ جنت میں جائیں گے چمکتے ہوئے چودھویں رات کے چاند جیسے ان کے چہرے ہوں گے۔ (بخاری مسلم طبرانی) حصین بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ سعید بن جیبر کے پاس تھا تو آپ نے دریافت کیا رات کو جو ستارہ ٹوٹا تھا تم میں سے کسی نے دیکھا تھا میں نے کہا ہاں حضرت میں نے دیکھا تھا یہ نہ سمجھئے گا کہ میں نماز میں تھا بلکہ مجھے بچھو نے کاٹ کھایا تھا حضرت سعید نے پوچھا پھر تم نے کیا کیا میں نے کہا دم کردیا تھا کہا کیوں میں نے کہا حضرت شعبی نے بریدہ بن حصیب کی روایت سے حدیث بیان کی ہے کہ نظربد اور زہریلے جانوروں کا دم جھاڑا کرانا ہے کہنے لگے خیر جسے جو پہنچے اس پر عمل کرے ہمیں تو حضرت ابن عباس نے سنایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ پر امتیں پیش کی گئیں کسی نبی کے ساتھ ایک جماعت تھی کسی کے ساتھ ایک شخص اور دو شخص اور کسی نبی کے ساتھ کوئی نہ تھا اب جو دیکھا کہ ایک بڑی پر جماعت نظر پڑی میں سمجھا یہ تو میری امت ہوگی پھر معلوم ہوا کہ موسیٰ ؑ کی امت ہے مجھ سے کہا گیا آسمان کے کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو وہاں بیشمار لوگ تھے مجھ سے کہا گیا یہ آپ کی امت ہے اور ان کے ساتھ ستر ہزار اور ہیں جو بےحساب اور بےعذاب جنت میں جائیں گے یہ حدیث بیان فرما کر حضور ﷺ تو مکان پر چلے گئے اور صحابہ آپس میں کہنے لگے شاید یہ حضور ﷺ کے صحابی ہوں گے کسی نے کہا نہیں اسلام میں پیدا ہونے والے اور اسلام پر ہی مرنے والے ہوں گے وغیرہ وغیرہ آپ تشریف لائے اور پوچھا کیا باتیں کر رہے ہو ہم نے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا نہیں یہ وہ لوگ ہیں جو نہ دم جھاڑا کریں نہ کرائیں، نہ داغ لگوائیں نہ شگون لیں بلکہ اپنے رب پر بھروسہ رکھیں حضرت عکاشہ ؓ نے دعا کی درخواست کی آپ نے دعا کی یا اللہ تو اسے ان میں سے ہی بنا۔ پھر دوسرے شخص نے بھی یہی کہا آپ نے فرمایا عکاشہ آگے بڑھ گئے، یہ حدیث بخاری میں ہے لیکن اس میں دم جھاڑا نہیں کرنے کا لفظ نہیں صحیح مسلم میں یہ لفظ بھی ہے۔ ایک اور مطول حدیث میں ہے کہ پہلی جماعت تو نجات پائے گی ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان سے حساب بھی نہ لیا جائے گا پھر ان کے بعد والے سب سے زیادہ روشن ستارے جیسے چمکدار چہرے والے ہوں گے (مسلم) آپ فرماتے ہیں مجھ سے میرے رب کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب و عذاب کے داخل بہشت ہوں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے اور تین لپیں اور میرے رب عزوجل کی لپوں سے (کتاب السنن لحافظ ابی بکر بن عاصم) اس کی اسناد بہت عمدہ ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ سے ستر ہزار کی تعداد سن کر یزید بن اخنس نے کہا حضور ﷺ یہ تو آپ کی امت کی تعداد کے مقابلہ میں بہت ہی تھوڑے ہیں تو آپ نے فرمایا ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہیں اور پھر اللہ نے تین لپیں (ہتھیلیوں کا کشکول) بھر کر اور بھی عطا فرمائے ہیں، اسکی اسناد بھی حسن ہے (کتاب السنن اور ایک اور حدیث میں ہے کہ میرے رب نے جو عزت اور جلال والا ہے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار کو بلا حساب جنت میں لے جائے گا پھر ایک ایک ہزار کی شفاعت سے ستر ستر ہزار آدمی اور جائیں گے پھر میرا رب اپنے دونوں ہاتھوں سے تین لپیں (دونوں ہاتھوں کی ہھتیلیوں کو ملا کر کٹورا بنانا) بھر کر اور ڈالے گا حضرت عمر نے یہ سن کر خوش ہو کر اللہ اکبر کہا اور فرمایا کہ ان کی شفاعت ان کے باپ دادوں اور بیٹوں اور بیٹیوں اور خاندان و قبیلہ میں ہوگی اللہ کرے میں تو ان میں سے ہوجاؤں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی لپوں میں بھر کر آخر میں جنت میں لے جائے گا (طبرانی) اس حدیث کی سند میں بھی کوئی علت نہیں، واللہ اعلم، کرید میں حضور ﷺ نے ایک حدیث فرمائی جس میں جنت میں یہ بھی فرمایا یہ ستر ہزار جو بلا حساب جنت میں داخل کئے جائیں گے میرا خیال ہے کہ ان کے آتے آتے تو تم اپنے لئے اور اپنے بال بچوں اور بیویوں کیلئے جنت میں جگہ مقرر کرچکے ہونگے (مسند احمد) اس کی سند میں شرط مسلم پر ہے، ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے چار لاکھ آدمی جنت میں جائیں گے، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا حضور ﷺ کچھ اور زیادہ کیجئے اسے سن کر حضرت عمر نے فرمایا ابوبکر بس کرو صدیق نے جواب دیا کیوں صاحب اگر ہم سب کے سب جنت میں چلے جائیں گے تو آپ کو کیا نقصان ہے حضرت عمر نے فرمایا اگر اللہ چاہے تو ایک ہی ہاتھ میں ساری مخلوق کو جنت میں ڈال دےحضور ﷺ نے فرمایا عمر سچ کہتے ہیں (مسند عبدالرزاق) اسی حدیث کی اور سند سے بھی بیان ہے اس میں تعداد ایک لاکھ آئی ہے (اصبہانی) ایک اور روایت میں ہے کہ جب صحابہ نے ستر ہزار اور پھر ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار پھر اللہ کی لپ بھر کر جنتی بنانا سنا تو کہنے لگے پھر تو اس کی بدنصیبی میں کیا شک رہ گیا جو باوجود اس کے بھی جہنم میں جائے (ابولیلی) اوپر والی حدیث ایک اور سند سے بھی بیان ہوئی ہے اس میں تعداد تین لاکھ کی ہے پھر حضرت عمر نے فرمایا میری امت کے سارے مہاجر تو اس میں آہی جائیں گے پھر باقی تعداد اعرابیوں سے پوری ہوگی (محمد بن سہل) حضرت ابو سعید کہتے ہیں حضور ﷺ کے سامنے حساب کیا گیا تو جملہ تعداد چار کروڑ نوے ہزار ہوئی، ایک اور حسن حدیث طبرانی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی کہ جان محمد ﷺ کی اس کے ہاتھ میں ہے تم ایک اندھیری رات کی طرح بیشمار ایک ساتھ جنت کی طرف بڑھو گے، زمین تم سے پر ہوجائے گی تمام فرشتے پکار اٹھیں گے کہ محمد ﷺ کے ساتھ جو جماعت آئی وہ تمام نبیوں کی جماعت سے بہت زیادہ ہے، حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا صرف میری تابعدار امت اہل جنت کی چوتھائی ہوگی صحابہ نے خوش ہو کر نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا کہ مجھے تو امید ہے کہ تم اہل جنت کا تیسرا حصہ ہوجاؤ ہم نے پھر تکبیر کہی پھر فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ تم آدھوں آدھ ہوجاؤ (مسند احمد) اور حدیث میں ہے کہ آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ تم راضی نہیں ہو کہ تم تمام جنتوں کے چوتھائی ہو ہم نے خوش ہو کر اللہ کی بڑائی بیان کی پھر فرمایا کہ تم راضی نہیں ہو کہ تمام اہل جنت کی تہائی ہو ہم نے پھر تکبیر کہی آپ نے فرمایا مجھے تو امید ہے کہ تم جنتیوں کے آدھوں آدھ ہو گے (بخاری مسلم) طبرانی میں یہ روایت حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا کہتے ہو تم جنتیوں کا چوتھائی حصہ بننا چاہتے ہو کہ چوتھائی جنت تمہارے پاس ہو اور تین اور چوتھائیوں میں تمام امتیں ہوں ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے آپ نے فرمایا اچھا تہائی حصہ ہو تو ہم نے کہا یہ بہت ہے فرمایا اگر آدھوں آدھ ہو تو، انہوں نے کہا حضور ﷺ پھر تو بہت ہی زیادہ ہے آپ نے فرمایا سنو ! کل اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہیں جن میں سے اسی صفیں صرف اس میری امت کی ہیں، مسند احمد میں بھی ہے کہ اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ان میں اسی صفیں صرف اس امت کی ہیں یہ حدیث طبرانی ترمذی وغیرہ میں بھی ہے، طبرانی ایک اور روایت میں ہے کہ جب آیت (ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 39 ۙ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ 40ۭ) 56۔ الواقعہ :39۔ 40) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اہل جنت کی چوتھائی ہو پھر فرمایا بلکہ ثلث ہو پھر فرمایا بلکہ نصف ہو پھر فرمایا دو تہائی ہو (اے وسیع رحمتوں والے اور بےروک نعمتوں والے اللہ ہم تیرا بےانتہا شکر ادا کرتے ہیں کہ تو نے ہمیں ایسے معزز و محترم رسول ﷺ کی امت میں پیدا کیا تیرے سچے رسول ﷺ کی سچی زبان سے تیرے اس بڑھے چڑھے فضل و کرم کا حال سن کر ہم گنہگاروں کے منہ میں پانی بھر آیا، اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اللہ ہماری آس نہ توڑ اور ہمیں بھی ان نیک ہستیوں کے ساتھ جنت میں داخل فرما۔ باری تعالیٰ تیری رحمت کی ان گنت اور بیشمار بندوں میں سے اگر ایک قطرہ بھی ہم گنہگاروں پر برس جائے تو ہمارے گناہوں کو دھو ڈالنے اور ہمیں تیری رحمت و رضوان کے لائق بنانے کیلئے کافی ہے، اللہ اس پاک ذکر کے موقعہ پر ہم ہاتھ اٹھا کر دامن پھیلا کر آنسو بہا کر امیدوں بھرے دل سے تیری رحمت کا سہارا لے کر تیرے کرم کا دامن تھام کر تجھ سے بھیک مانگتے ہیں تو قبول فرما اور اپنی رحمت سے ہمیں بھی اپنی رضامندی کا گھر جنت الفردوس عطا فرما۔ (آمین الہ الحق آمین) صحیح بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہم دنیا میں سب سے آخر آئے اور جنت میں سب سے پہلے جائیں گے اور ان کو کتاب اللہ پہلے ملی ہمیں بعد میں ملی جن باتوں میں انہوں نے اختلاف کیا ان میں اللہ نے ہمیں صحیح طریق کی توفیق دی، جمعہ کا دن بھی ایسا ہی ہے کہ یہود ہمارے پیچھے ہیں ہفتہ کے دن اور نصرانی ان کے پیچھے اتوار کے دن دار قطنی میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تک میں جنت میں داخل نہ ہوجاؤں انبیاء پر دخول جنت حرام ہے اور جب تک میری امت نہ داخل ہو دوسری امتوں پر دخول جنت حرام ہے۔ یہ وہ حدیثیں تھیں جنہیں ہم اس آیت کے تحت وارد کرنا چاہتے تھے فالحمد للہ۔ امت کو بھی چاہئے کہ یہاں اس آیت میں جتنی صفیں ہیں ان پر مضبوطی کے ساتھ قائم ثابت رہیں یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور ایمان باللہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اپنے حج میں اس آیت کی تلاوت فرما کر لوگوں سے کہا کہ اگر تم اس آیت کی تعریف میں داخل ہونا چاہتے ہو تو یہ اوصاف بھی اپنے میں پیدا کرو، امام ابن جرید فرماتے، اہل کتاب ان کاموں کو چھوڑ بیٹھے تھے جن کی مذمت کلام اللہ نے کی، فرمایا آیت (كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ) 5۔ المائدہ :79) وہ لوگ برائی کی باتوں سے لوگوں کو روکتے نہ تھے چونکہ مندرجہ بالا آیت میں ایمان داروں کی تعریف و توصیف بیان ہوئی تو اس کے بعد اہل کتاب کی مذمت بیان ہو رہی ہے، تو فرمایا کہ اگر یہ لوگ بھی میرے نبی آخر الزمان پر ایمان لاتے تو انہیں بھی یہ فضیلتیں ملتیں لیکن ان میں سے کفرو فسق اور گناہوں پر جمے ہوئے ہیں ہاں کچھ لوگ باایمان بھی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بشارت دیتا ہے کہ تم نہ گھبرانا اللہ تمہیں تمہارے مخالفین پر غالب رکھے گا چناچہ خیبر والے دن اللہ تعالیٰ نے انہیں ذلیل کیا اور ان سے پہلے بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ کو بھی اللہ نے ذلیل و رسوا کیا، اسی طرح شام کے نصرانی صحابہ کے وقت میں مغلوب ہوئے اور ملک شام ان کے ہاتھوں سے نکل گیا اور ہمیشہ کیلئے مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا اور وہاں ایک حق والی جماعت حضرت عیسیٰ ؑ کے آنے تک حق پر قائم رہے گی، حضرت عیسیٰ آ کر ملت اسلام اور شریعت محمد کے مطابق حکم کریں گے صلیب توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے جزیہ قبول نہ کریں گے صرف اسلام ہی قبول فرمائیں گے پھر فرمایا کہ ان کے اوپر ذلت اور پستی ڈال دی گئی ہاں اللہ کی پناہ کے علاوہ کہیں بھی امن وامان اور عزت نہیں یعنی جزیہ دینا اور مسلم بادشاہ کی اطاعت کرنا قبول کرلیں اور لوگوں کی پناہ یعنی عقد ذمہ مقرر ہوجائے یا کوئی مسلمان امن دے دے اگرچہ کوئی عورت ہو یا کوئی غلام ہو، علماء کا ایک قول یہ بھی ہے، حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ حبل سے مراد ہے جو غضب کے مستحق ہوئے اور مسکینی چپکا دی گئی، ان کے کفر اور انبیاء کے تکبر، حسد، سرکشی وغیرہ کا بدلہ ہے۔ اسی باعث ان پر ذلت پستی اور مسکینی ہمیشہ کیلئے ڈال دی گئی ان کی نافرمانیوں اور تجاوز حق کا یہ بدلہ ہے العیاذ باللہ، ابو داؤد طیالسی میں حدیث ہے کہ بنی اسرائیل ایک ایک دن میں تین تین سو نبیوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور دن کے آخری حصہ میں اپنے اپنے کاموں پر بازاروں میں لگ جاتے تھے۔

سب سے بہتر شخص کون ؟ اور سب سے بہتر امت کا اعزاز کس کو ملا ؟ اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ امت محمدیہ تمام امتوں پر بہتر ہے صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں تم اوروں کے حق میں سب سے بہتر ہو تو لوگوں کی گردنیں پکڑ پکڑ کر اسلام کی طرف جھکاتے ہو، اور مفسرین بھی یہی فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم تمام امتوں سے بہتر ہو اور سب سے زیادہ لوگوں کو نفع پہنچانے والے ہو، ابو لہب کی بیٹی حضرت درہ ؓ فرماتی ہیں ایک مرتبہ کسی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا آپ اس وقت منبر پر تھے کہ حضور ﷺ کونسا شخص بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا سب لوگوں سے بہتر وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ قاری قرآن ہو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو، سب سے زیادہ اچھائیوں کا حکم کرنے والا سب سے زیادہ برائیوں سے روکنے والا سب سے زیادہ رشتے ناتے ملانے والا ہو۔ (مسند احمد) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہ وہ صحابہ ہیں جنہوں نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی، صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت ساری امت پر مشتمل ہے، بیشک یہ حدیث میں بھی ہے کہ سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد اس سے ملا ہوا زمانہ پھر اس کے بعد والا، ایک اور روایت میں ہے آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2۔ البقرۃ :143) ہم نے تمہیں بہتر امت بنایا ہے تاہم تم لوگوں پر گواہ بنو، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم نے اگلی امتوں کی تعداد ستر تک پہنچا دی ہے، اللہ کے نزدیک تم ان سب سے بہتر اور زیادہ بزرگ ہو، یہ مشہور حدیث ہے امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے، اس امت کی افضلیت کی ایک بڑی دلیل اس امت کے نبی کی افضلیت ہے، آپ تمام مخلوق کے سردار تمام رسولوں سے زیادہ اکرام و عزت والے ہیں، آپ کی شرع اتنی کامل اور اتنی پوری ہے کہ ایسی شریعت کسی نبی کو نہیں تو ظاہر بات ہے کہ ان فضائل کو سمیٹتے والی امت بھی سب سے اعلیٰ و افضل ہے، اس شریعت کا تھوڑا سا عمل بھی اور امتوں کے زیادہ عمل سے بہتر و افضل ہے، حضرت علی بن ابو طالب رضلی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں وہ وہ نعمتیں دیا گیا ہوں جو مجھ سے پہلے کوئی نہیں دیا گیا لوگوں نے پوچھا وہ کیا باتیں ہیں، آپ نے فرمایا میری مدد رعب سے کی گئی ہے میں زمین کی کنجیاں دیا گیا ہوں، میرا نام احمد رکھا گیا ہے، میرے لئے مٹی پاک کی گئی ہے، میری امت سب امتوں سے بہتر بنائی گئی ہے (مسند احمد) اس حدیث کی اسناد حسن ہے، حضرت ابو الدرداء ؓ فرماتے ہیں میں نے ابو القاسم ﷺ سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ سے فرمایا کہ میں تمہارے بعد ایک امت پیدا کرنے والا ہوں جو راحت پر حمدو شکر کریں گے اور مصیبت پر طلب ثواب اور صبر کریں گے حالانکہ انہیں حلم و علم نہ ہوگا آپ نے تعجب سے پوچھا کہ بغیر بردباری اور دور اندیشی اور پختہ علم کے یہ کیسے ممکن ہے ؟ رب العالمین نے فرمایا میں انہیں اپنا حلم و علم عطا فرماؤں گا، میں چاہتا ہوں یہاں پر بعض وہ حدیثیں بھی بیان کر دوں جن کا ذکر یہاں مناسب ہے سنئے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے جن کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے سب یک رنگ ہونگے، میں نے اپنے رب سے گزارش کی کہ اے اللہ اس تعداد میں اور اضافہ فرما اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار اور بھی، حضرت صدیق اکبر ؓ یہ حدیث بیان کر کے فرمایا کرتے تھے کہ پھر تو اس تعداد میں گاؤں اور دیہاتوں والے بلکہ بادیہ نشین بھی آجائیں گے (مسند احمد) حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھے میرے رب نے ستر ہزار آدمیوں کو میری امت میں سے بغیر حساب کے جنت میں داخل ہونے کی خوشخبری دی، حضرت عمر نے یہ سن کر فرمایا حضور ﷺ کچھ اور زیادتی طلب کرتے آپ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے سوال کیا تو مجھے خوشخبری ملی کے ہر شخص کے ساتھ ستر ستر ہزار کا وعدہ ہوا۔ حضرت عمر نے پھر گزارش کی کہ اللہ کے نبی اور کچھ بھی مانگتے آپ نے فرمایا مانگا تو مجھے اتنی زیادتی اور ملی اور پھر دونوں ہاتھ پھیلا کر بتایا کہ اس طرح، راوی حدیث کہتے ہیں اس طرح جب اللہ تعالیٰ سمیٹے تو اللہ عزوجل ہی جانتا ہے کہ کس قدر مخلوق اس میں آئے گی (فسبحان اللہ وبحمدہ) (مسند احمد) حضرت ثوبان ؓ حمص میں بیمار ہوگئے عبداللہ بن قرط وہاں کے امیر تھے وہ عیادت کو نہ آسکے ایک کلاعی شخص جب آپ کی بیمار پرسی کیلئے گیا تو آپ نے اس سے دریافت کیا کہ لکھنا جانتے ہو اس نے کہا ہاں فرمایا لکھو یہ خط ثوبان کی طرف سے امیر عبداللہ بن قرط کی طرف سے ہے جو رسول اللہ ﷺ کے خادم ہیں بعد حمد و صلوٰۃ کے واضح ہو کہ اگر حضرت عیسیٰ یا حضرت موسیٰ کا کوئی خادم یہاں ہوتا اور بیمار پڑتا تو تم عیادت کیلئے جاتے پھر کہا یہ خط لے جاؤ اور امیر کو پہنچا دو جب یہ خط امیر حمص کے پاس پہنچا تو گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور سیدھے یہاں تشریف لائے کچھ دیر بیٹھ کر عیادت کر کے جب جانے کا ارادہ کیا تو حضرت ثوبان نے ان کی چادر پکڑ روکا اور فرمایا ایک حدیث سنتے جائیں میں نے آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے سنا ہے آپ نے فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب و عذاب کے جنت میں جائیں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے (مسند احمد) یہ حدیث بھی صحیح ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ایک رات ہم خدمت نبوی میں دیر تک باتیں کرتے رہے پھر صبح جب حاضر خدمت ہوئے تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا سنو آج رات انبیاء اپنی اپنی امت سمیت مجھے دکھائے گئے بعض انبیاء کے ساتھ صرف تین شخص تھے بعض کے ساتھ مختصر سا گروہ بعض کے ساتھ ایک جماعت کسی کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا جب موسیٰ ؑ آئے تو ان کے ساتھ بہت سے لوگ تھے مجھے یہ جماعت پسند آئی میں نے پوچھایہ کون ہیں تو جواب ملا کہ یہ آپ کے بھائی موسیٰ ؑ ہیں اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل ہیں میں نے کہا پھر میری امت کہاں ہے جواب ملا اپنی داہنی طرف دیکھو اب جو دیکھتا ہوں تو بیشمار مجمع ہے جس سے پہاڑیاں بھی ڈھک گئی ہیں اب مجھ سے پوچھا گیا کہو خوش ہو میں نے کہا میرے رب میں راضی ہوگیا، فرمایا گیا سنو ! ان کے ساتھ ستر ہزار اور ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، اب نبی ﷺ نے فرمایا تم پر میرے میں باپ فدا ہوں اگر ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے ہی ہونا اگر یہ نہ ہو سکے تو ان میں سے ہو جو پہاڑیوں کو چھپائے ہوئے تھے اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو ان میں سے ہونا جو آسمان کے کناروں کناروں پر تھے، حضرت عکاش بن محصن نے کھڑے ہو کر کہا حضور ﷺ میرے لئے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان ستر ہزار میں سے کرے آپ نے دعا کی تو ایک دوسرے صحابی نے بھی اٹھ کر یہی گزارش کی تو آپ نے فرمایا تم پر حضرت عکاشہ سبقت کر گئے، ہم اب آپس میں کہنے لگے کہ شاید یہ ستر ہزار لوگ ہوں گے جو اسلام پر ہی پیدا ہوئے ہوں اور پوری عمر میں کبھی اللہ کے ساتھ شرک کیا ہی نہ ہو آپ کو جب یہ معلوم ہوا تو فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو دم جھاڑا نہیں کراتے آگ کے داغ نہیں لگواتے شگون نہیں لیتے اور اپنے رب پر پورا بھروسہ رکھتے ہیں (مسند احمد) ایک اور سند سے اتنی زیادتی اس میں اور بھی ہے جب میں نے اپنی رضامندی ظاہر کی تو مجھ سے کہا گیا اب اپنی بائیں جانب دیکھو میں نے دیکھا تو بیشمار مجمع ہے جس نے آسمان کے کناروں کو بھی ڈھک لیا ہے ایک اور روایت میں ہے کہ موسم حج کا یہ واقعہ ہے آپ فرماتے ہیں مجھے اپنی امت کی یہ کثرت بہت پسند آئی تمام پہاڑیاں اور میدان ان سے پُر تھے (مسند احمد) ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عکاشہ کے بعد کھڑے ہونے والے ایک انصاری تھے ؓ (طبرانی) ایک اور روایت میں ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار یا ساٹھ لاکھ آدمی جنت میں جائیں گے جو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہوں گے سب ایک ساتھ جنت میں جائیں گے چمکتے ہوئے چودھویں رات کے چاند جیسے ان کے چہرے ہوں گے۔ (بخاری مسلم طبرانی) حصین بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ سعید بن جیبر کے پاس تھا تو آپ نے دریافت کیا رات کو جو ستارہ ٹوٹا تھا تم میں سے کسی نے دیکھا تھا میں نے کہا ہاں حضرت میں نے دیکھا تھا یہ نہ سمجھئے گا کہ میں نماز میں تھا بلکہ مجھے بچھو نے کاٹ کھایا تھا حضرت سعید نے پوچھا پھر تم نے کیا کیا میں نے کہا دم کردیا تھا کہا کیوں میں نے کہا حضرت شعبی نے بریدہ بن حصیب کی روایت سے حدیث بیان کی ہے کہ نظربد اور زہریلے جانوروں کا دم جھاڑا کرانا ہے کہنے لگے خیر جسے جو پہنچے اس پر عمل کرے ہمیں تو حضرت ابن عباس نے سنایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ پر امتیں پیش کی گئیں کسی نبی کے ساتھ ایک جماعت تھی کسی کے ساتھ ایک شخص اور دو شخص اور کسی نبی کے ساتھ کوئی نہ تھا اب جو دیکھا کہ ایک بڑی پر جماعت نظر پڑی میں سمجھا یہ تو میری امت ہوگی پھر معلوم ہوا کہ موسیٰ ؑ کی امت ہے مجھ سے کہا گیا آسمان کے کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو وہاں بیشمار لوگ تھے مجھ سے کہا گیا یہ آپ کی امت ہے اور ان کے ساتھ ستر ہزار اور ہیں جو بےحساب اور بےعذاب جنت میں جائیں گے یہ حدیث بیان فرما کر حضور ﷺ تو مکان پر چلے گئے اور صحابہ آپس میں کہنے لگے شاید یہ حضور ﷺ کے صحابی ہوں گے کسی نے کہا نہیں اسلام میں پیدا ہونے والے اور اسلام پر ہی مرنے والے ہوں گے وغیرہ وغیرہ آپ تشریف لائے اور پوچھا کیا باتیں کر رہے ہو ہم نے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا نہیں یہ وہ لوگ ہیں جو نہ دم جھاڑا کریں نہ کرائیں، نہ داغ لگوائیں نہ شگون لیں بلکہ اپنے رب پر بھروسہ رکھیں حضرت عکاشہ ؓ نے دعا کی درخواست کی آپ نے دعا کی یا اللہ تو اسے ان میں سے ہی بنا۔ پھر دوسرے شخص نے بھی یہی کہا آپ نے فرمایا عکاشہ آگے بڑھ گئے، یہ حدیث بخاری میں ہے لیکن اس میں دم جھاڑا نہیں کرنے کا لفظ نہیں صحیح مسلم میں یہ لفظ بھی ہے۔ ایک اور مطول حدیث میں ہے کہ پہلی جماعت تو نجات پائے گی ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان سے حساب بھی نہ لیا جائے گا پھر ان کے بعد والے سب سے زیادہ روشن ستارے جیسے چمکدار چہرے والے ہوں گے (مسلم) آپ فرماتے ہیں مجھ سے میرے رب کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب و عذاب کے داخل بہشت ہوں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے اور تین لپیں اور میرے رب عزوجل کی لپوں سے (کتاب السنن لحافظ ابی بکر بن عاصم) اس کی اسناد بہت عمدہ ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ سے ستر ہزار کی تعداد سن کر یزید بن اخنس نے کہا حضور ﷺ یہ تو آپ کی امت کی تعداد کے مقابلہ میں بہت ہی تھوڑے ہیں تو آپ نے فرمایا ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہیں اور پھر اللہ نے تین لپیں (ہتھیلیوں کا کشکول) بھر کر اور بھی عطا فرمائے ہیں، اسکی اسناد بھی حسن ہے (کتاب السنن اور ایک اور حدیث میں ہے کہ میرے رب نے جو عزت اور جلال والا ہے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار کو بلا حساب جنت میں لے جائے گا پھر ایک ایک ہزار کی شفاعت سے ستر ستر ہزار آدمی اور جائیں گے پھر میرا رب اپنے دونوں ہاتھوں سے تین لپیں (دونوں ہاتھوں کی ہھتیلیوں کو ملا کر کٹورا بنانا) بھر کر اور ڈالے گا حضرت عمر نے یہ سن کر خوش ہو کر اللہ اکبر کہا اور فرمایا کہ ان کی شفاعت ان کے باپ دادوں اور بیٹوں اور بیٹیوں اور خاندان و قبیلہ میں ہوگی اللہ کرے میں تو ان میں سے ہوجاؤں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی لپوں میں بھر کر آخر میں جنت میں لے جائے گا (طبرانی) اس حدیث کی سند میں بھی کوئی علت نہیں، واللہ اعلم، کرید میں حضور ﷺ نے ایک حدیث فرمائی جس میں جنت میں یہ بھی فرمایا یہ ستر ہزار جو بلا حساب جنت میں داخل کئے جائیں گے میرا خیال ہے کہ ان کے آتے آتے تو تم اپنے لئے اور اپنے بال بچوں اور بیویوں کیلئے جنت میں جگہ مقرر کرچکے ہونگے (مسند احمد) اس کی سند میں شرط مسلم پر ہے، ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے چار لاکھ آدمی جنت میں جائیں گے، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا حضور ﷺ کچھ اور زیادہ کیجئے اسے سن کر حضرت عمر نے فرمایا ابوبکر بس کرو صدیق نے جواب دیا کیوں صاحب اگر ہم سب کے سب جنت میں چلے جائیں گے تو آپ کو کیا نقصان ہے حضرت عمر نے فرمایا اگر اللہ چاہے تو ایک ہی ہاتھ میں ساری مخلوق کو جنت میں ڈال دےحضور ﷺ نے فرمایا عمر سچ کہتے ہیں (مسند عبدالرزاق) اسی حدیث کی اور سند سے بھی بیان ہے اس میں تعداد ایک لاکھ آئی ہے (اصبہانی) ایک اور روایت میں ہے کہ جب صحابہ نے ستر ہزار اور پھر ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار پھر اللہ کی لپ بھر کر جنتی بنانا سنا تو کہنے لگے پھر تو اس کی بدنصیبی میں کیا شک رہ گیا جو باوجود اس کے بھی جہنم میں جائے (ابولیلی) اوپر والی حدیث ایک اور سند سے بھی بیان ہوئی ہے اس میں تعداد تین لاکھ کی ہے پھر حضرت عمر نے فرمایا میری امت کے سارے مہاجر تو اس میں آہی جائیں گے پھر باقی تعداد اعرابیوں سے پوری ہوگی (محمد بن سہل) حضرت ابو سعید کہتے ہیں حضور ﷺ کے سامنے حساب کیا گیا تو جملہ تعداد چار کروڑ نوے ہزار ہوئی، ایک اور حسن حدیث طبرانی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی کہ جان محمد ﷺ کی اس کے ہاتھ میں ہے تم ایک اندھیری رات کی طرح بیشمار ایک ساتھ جنت کی طرف بڑھو گے، زمین تم سے پر ہوجائے گی تمام فرشتے پکار اٹھیں گے کہ محمد ﷺ کے ساتھ جو جماعت آئی وہ تمام نبیوں کی جماعت سے بہت زیادہ ہے، حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا صرف میری تابعدار امت اہل جنت کی چوتھائی ہوگی صحابہ نے خوش ہو کر نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا کہ مجھے تو امید ہے کہ تم اہل جنت کا تیسرا حصہ ہوجاؤ ہم نے پھر تکبیر کہی پھر فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ تم آدھوں آدھ ہوجاؤ (مسند احمد) اور حدیث میں ہے کہ آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ تم راضی نہیں ہو کہ تم تمام جنتوں کے چوتھائی ہو ہم نے خوش ہو کر اللہ کی بڑائی بیان کی پھر فرمایا کہ تم راضی نہیں ہو کہ تمام اہل جنت کی تہائی ہو ہم نے پھر تکبیر کہی آپ نے فرمایا مجھے تو امید ہے کہ تم جنتیوں کے آدھوں آدھ ہو گے (بخاری مسلم) طبرانی میں یہ روایت حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا کہتے ہو تم جنتیوں کا چوتھائی حصہ بننا چاہتے ہو کہ چوتھائی جنت تمہارے پاس ہو اور تین اور چوتھائیوں میں تمام امتیں ہوں ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے آپ نے فرمایا اچھا تہائی حصہ ہو تو ہم نے کہا یہ بہت ہے فرمایا اگر آدھوں آدھ ہو تو، انہوں نے کہا حضور ﷺ پھر تو بہت ہی زیادہ ہے آپ نے فرمایا سنو ! کل اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہیں جن میں سے اسی صفیں صرف اس میری امت کی ہیں، مسند احمد میں بھی ہے کہ اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ان میں اسی صفیں صرف اس امت کی ہیں یہ حدیث طبرانی ترمذی وغیرہ میں بھی ہے، طبرانی ایک اور روایت میں ہے کہ جب آیت (ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 39 ۙ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ 40ۭ) 56۔ الواقعہ :39۔ 40) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اہل جنت کی چوتھائی ہو پھر فرمایا بلکہ ثلث ہو پھر فرمایا بلکہ نصف ہو پھر فرمایا دو تہائی ہو (اے وسیع رحمتوں والے اور بےروک نعمتوں والے اللہ ہم تیرا بےانتہا شکر ادا کرتے ہیں کہ تو نے ہمیں ایسے معزز و محترم رسول ﷺ کی امت میں پیدا کیا تیرے سچے رسول ﷺ کی سچی زبان سے تیرے اس بڑھے چڑھے فضل و کرم کا حال سن کر ہم گنہگاروں کے منہ میں پانی بھر آیا، اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اللہ ہماری آس نہ توڑ اور ہمیں بھی ان نیک ہستیوں کے ساتھ جنت میں داخل فرما۔ باری تعالیٰ تیری رحمت کی ان گنت اور بیشمار بندوں میں سے اگر ایک قطرہ بھی ہم گنہگاروں پر برس جائے تو ہمارے گناہوں کو دھو ڈالنے اور ہمیں تیری رحمت و رضوان کے لائق بنانے کیلئے کافی ہے، اللہ اس پاک ذکر کے موقعہ پر ہم ہاتھ اٹھا کر دامن پھیلا کر آنسو بہا کر امیدوں بھرے دل سے تیری رحمت کا سہارا لے کر تیرے کرم کا دامن تھام کر تجھ سے بھیک مانگتے ہیں تو قبول فرما اور اپنی رحمت سے ہمیں بھی اپنی رضامندی کا گھر جنت الفردوس عطا فرما۔ (آمین الہ الحق آمین) صحیح بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہم دنیا میں سب سے آخر آئے اور جنت میں سب سے پہلے جائیں گے اور ان کو کتاب اللہ پہلے ملی ہمیں بعد میں ملی جن باتوں میں انہوں نے اختلاف کیا ان میں اللہ نے ہمیں صحیح طریق کی توفیق دی، جمعہ کا دن بھی ایسا ہی ہے کہ یہود ہمارے پیچھے ہیں ہفتہ کے دن اور نصرانی ان کے پیچھے اتوار کے دن دار قطنی میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تک میں جنت میں داخل نہ ہوجاؤں انبیاء پر دخول جنت حرام ہے اور جب تک میری امت نہ داخل ہو دوسری امتوں پر دخول جنت حرام ہے۔ یہ وہ حدیثیں تھیں جنہیں ہم اس آیت کے تحت وارد کرنا چاہتے تھے فالحمد للہ۔ امت کو بھی چاہئے کہ یہاں اس آیت میں جتنی صفیں ہیں ان پر مضبوطی کے ساتھ قائم ثابت رہیں یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور ایمان باللہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اپنے حج میں اس آیت کی تلاوت فرما کر لوگوں سے کہا کہ اگر تم اس آیت کی تعریف میں داخل ہونا چاہتے ہو تو یہ اوصاف بھی اپنے میں پیدا کرو، امام ابن جرید فرماتے، اہل کتاب ان کاموں کو چھوڑ بیٹھے تھے جن کی مذمت کلام اللہ نے کی، فرمایا آیت (كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ) 5۔ المائدہ :79) وہ لوگ برائی کی باتوں سے لوگوں کو روکتے نہ تھے چونکہ مندرجہ بالا آیت میں ایمان داروں کی تعریف و توصیف بیان ہوئی تو اس کے بعد اہل کتاب کی مذمت بیان ہو رہی ہے، تو فرمایا کہ اگر یہ لوگ بھی میرے نبی آخر الزمان پر ایمان لاتے تو انہیں بھی یہ فضیلتیں ملتیں لیکن ان میں سے کفرو فسق اور گناہوں پر جمے ہوئے ہیں ہاں کچھ لوگ باایمان بھی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بشارت دیتا ہے کہ تم نہ گھبرانا اللہ تمہیں تمہارے مخالفین پر غالب رکھے گا چناچہ خیبر والے دن اللہ تعالیٰ نے انہیں ذلیل کیا اور ان سے پہلے بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ کو بھی اللہ نے ذلیل و رسوا کیا، اسی طرح شام کے نصرانی صحابہ کے وقت میں مغلوب ہوئے اور ملک شام ان کے ہاتھوں سے نکل گیا اور ہمیشہ کیلئے مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا اور وہاں ایک حق والی جماعت حضرت عیسیٰ ؑ کے آنے تک حق پر قائم رہے گی، حضرت عیسیٰ آ کر ملت اسلام اور شریعت محمد کے مطابق حکم کریں گے صلیب توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے جزیہ قبول نہ کریں گے صرف اسلام ہی قبول فرمائیں گے پھر فرمایا کہ ان کے اوپر ذلت اور پستی ڈال دی گئی ہاں اللہ کی پناہ کے علاوہ کہیں بھی امن وامان اور عزت نہیں یعنی جزیہ دینا اور مسلم بادشاہ کی اطاعت کرنا قبول کرلیں اور لوگوں کی پناہ یعنی عقد ذمہ مقرر ہوجائے یا کوئی مسلمان امن دے دے اگرچہ کوئی عورت ہو یا کوئی غلام ہو، علماء کا ایک قول یہ بھی ہے، حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ حبل سے مراد ہے جو غضب کے مستحق ہوئے اور مسکینی چپکا دی گئی، ان کے کفر اور انبیاء کے تکبر، حسد، سرکشی وغیرہ کا بدلہ ہے۔ اسی باعث ان پر ذلت پستی اور مسکینی ہمیشہ کیلئے ڈال دی گئی ان کی نافرمانیوں اور تجاوز حق کا یہ بدلہ ہے العیاذ باللہ، ابو داؤد طیالسی میں حدیث ہے کہ بنی اسرائیل ایک ایک دن میں تین تین سو نبیوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور دن کے آخری حصہ میں اپنے اپنے کاموں پر بازاروں میں لگ جاتے تھے۔

سب سے بہتر شخص کون ؟ اور سب سے بہتر امت کا اعزاز کس کو ملا ؟ اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ امت محمدیہ تمام امتوں پر بہتر ہے صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں تم اوروں کے حق میں سب سے بہتر ہو تو لوگوں کی گردنیں پکڑ پکڑ کر اسلام کی طرف جھکاتے ہو، اور مفسرین بھی یہی فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم تمام امتوں سے بہتر ہو اور سب سے زیادہ لوگوں کو نفع پہنچانے والے ہو، ابو لہب کی بیٹی حضرت درہ ؓ فرماتی ہیں ایک مرتبہ کسی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا آپ اس وقت منبر پر تھے کہ حضور ﷺ کونسا شخص بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا سب لوگوں سے بہتر وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ قاری قرآن ہو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو، سب سے زیادہ اچھائیوں کا حکم کرنے والا سب سے زیادہ برائیوں سے روکنے والا سب سے زیادہ رشتے ناتے ملانے والا ہو۔ (مسند احمد) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہ وہ صحابہ ہیں جنہوں نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی، صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت ساری امت پر مشتمل ہے، بیشک یہ حدیث میں بھی ہے کہ سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد اس سے ملا ہوا زمانہ پھر اس کے بعد والا، ایک اور روایت میں ہے آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2۔ البقرۃ :143) ہم نے تمہیں بہتر امت بنایا ہے تاہم تم لوگوں پر گواہ بنو، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم نے اگلی امتوں کی تعداد ستر تک پہنچا دی ہے، اللہ کے نزدیک تم ان سب سے بہتر اور زیادہ بزرگ ہو، یہ مشہور حدیث ہے امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے، اس امت کی افضلیت کی ایک بڑی دلیل اس امت کے نبی کی افضلیت ہے، آپ تمام مخلوق کے سردار تمام رسولوں سے زیادہ اکرام و عزت والے ہیں، آپ کی شرع اتنی کامل اور اتنی پوری ہے کہ ایسی شریعت کسی نبی کو نہیں تو ظاہر بات ہے کہ ان فضائل کو سمیٹتے والی امت بھی سب سے اعلیٰ و افضل ہے، اس شریعت کا تھوڑا سا عمل بھی اور امتوں کے زیادہ عمل سے بہتر و افضل ہے، حضرت علی بن ابو طالب رضلی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں وہ وہ نعمتیں دیا گیا ہوں جو مجھ سے پہلے کوئی نہیں دیا گیا لوگوں نے پوچھا وہ کیا باتیں ہیں، آپ نے فرمایا میری مدد رعب سے کی گئی ہے میں زمین کی کنجیاں دیا گیا ہوں، میرا نام احمد رکھا گیا ہے، میرے لئے مٹی پاک کی گئی ہے، میری امت سب امتوں سے بہتر بنائی گئی ہے (مسند احمد) اس حدیث کی اسناد حسن ہے، حضرت ابو الدرداء ؓ فرماتے ہیں میں نے ابو القاسم ﷺ سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ سے فرمایا کہ میں تمہارے بعد ایک امت پیدا کرنے والا ہوں جو راحت پر حمدو شکر کریں گے اور مصیبت پر طلب ثواب اور صبر کریں گے حالانکہ انہیں حلم و علم نہ ہوگا آپ نے تعجب سے پوچھا کہ بغیر بردباری اور دور اندیشی اور پختہ علم کے یہ کیسے ممکن ہے ؟ رب العالمین نے فرمایا میں انہیں اپنا حلم و علم عطا فرماؤں گا، میں چاہتا ہوں یہاں پر بعض وہ حدیثیں بھی بیان کر دوں جن کا ذکر یہاں مناسب ہے سنئے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے جن کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے سب یک رنگ ہونگے، میں نے اپنے رب سے گزارش کی کہ اے اللہ اس تعداد میں اور اضافہ فرما اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار اور بھی، حضرت صدیق اکبر ؓ یہ حدیث بیان کر کے فرمایا کرتے تھے کہ پھر تو اس تعداد میں گاؤں اور دیہاتوں والے بلکہ بادیہ نشین بھی آجائیں گے (مسند احمد) حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھے میرے رب نے ستر ہزار آدمیوں کو میری امت میں سے بغیر حساب کے جنت میں داخل ہونے کی خوشخبری دی، حضرت عمر نے یہ سن کر فرمایا حضور ﷺ کچھ اور زیادتی طلب کرتے آپ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے سوال کیا تو مجھے خوشخبری ملی کے ہر شخص کے ساتھ ستر ستر ہزار کا وعدہ ہوا۔ حضرت عمر نے پھر گزارش کی کہ اللہ کے نبی اور کچھ بھی مانگتے آپ نے فرمایا مانگا تو مجھے اتنی زیادتی اور ملی اور پھر دونوں ہاتھ پھیلا کر بتایا کہ اس طرح، راوی حدیث کہتے ہیں اس طرح جب اللہ تعالیٰ سمیٹے تو اللہ عزوجل ہی جانتا ہے کہ کس قدر مخلوق اس میں آئے گی (فسبحان اللہ وبحمدہ) (مسند احمد) حضرت ثوبان ؓ حمص میں بیمار ہوگئے عبداللہ بن قرط وہاں کے امیر تھے وہ عیادت کو نہ آسکے ایک کلاعی شخص جب آپ کی بیمار پرسی کیلئے گیا تو آپ نے اس سے دریافت کیا کہ لکھنا جانتے ہو اس نے کہا ہاں فرمایا لکھو یہ خط ثوبان کی طرف سے امیر عبداللہ بن قرط کی طرف سے ہے جو رسول اللہ ﷺ کے خادم ہیں بعد حمد و صلوٰۃ کے واضح ہو کہ اگر حضرت عیسیٰ یا حضرت موسیٰ کا کوئی خادم یہاں ہوتا اور بیمار پڑتا تو تم عیادت کیلئے جاتے پھر کہا یہ خط لے جاؤ اور امیر کو پہنچا دو جب یہ خط امیر حمص کے پاس پہنچا تو گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور سیدھے یہاں تشریف لائے کچھ دیر بیٹھ کر عیادت کر کے جب جانے کا ارادہ کیا تو حضرت ثوبان نے ان کی چادر پکڑ روکا اور فرمایا ایک حدیث سنتے جائیں میں نے آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے سنا ہے آپ نے فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب و عذاب کے جنت میں جائیں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے (مسند احمد) یہ حدیث بھی صحیح ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ایک رات ہم خدمت نبوی میں دیر تک باتیں کرتے رہے پھر صبح جب حاضر خدمت ہوئے تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا سنو آج رات انبیاء اپنی اپنی امت سمیت مجھے دکھائے گئے بعض انبیاء کے ساتھ صرف تین شخص تھے بعض کے ساتھ مختصر سا گروہ بعض کے ساتھ ایک جماعت کسی کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا جب موسیٰ ؑ آئے تو ان کے ساتھ بہت سے لوگ تھے مجھے یہ جماعت پسند آئی میں نے پوچھایہ کون ہیں تو جواب ملا کہ یہ آپ کے بھائی موسیٰ ؑ ہیں اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل ہیں میں نے کہا پھر میری امت کہاں ہے جواب ملا اپنی داہنی طرف دیکھو اب جو دیکھتا ہوں تو بیشمار مجمع ہے جس سے پہاڑیاں بھی ڈھک گئی ہیں اب مجھ سے پوچھا گیا کہو خوش ہو میں نے کہا میرے رب میں راضی ہوگیا، فرمایا گیا سنو ! ان کے ساتھ ستر ہزار اور ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، اب نبی ﷺ نے فرمایا تم پر میرے میں باپ فدا ہوں اگر ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے ہی ہونا اگر یہ نہ ہو سکے تو ان میں سے ہو جو پہاڑیوں کو چھپائے ہوئے تھے اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو ان میں سے ہونا جو آسمان کے کناروں کناروں پر تھے، حضرت عکاش بن محصن نے کھڑے ہو کر کہا حضور ﷺ میرے لئے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان ستر ہزار میں سے کرے آپ نے دعا کی تو ایک دوسرے صحابی نے بھی اٹھ کر یہی گزارش کی تو آپ نے فرمایا تم پر حضرت عکاشہ سبقت کر گئے، ہم اب آپس میں کہنے لگے کہ شاید یہ ستر ہزار لوگ ہوں گے جو اسلام پر ہی پیدا ہوئے ہوں اور پوری عمر میں کبھی اللہ کے ساتھ شرک کیا ہی نہ ہو آپ کو جب یہ معلوم ہوا تو فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو دم جھاڑا نہیں کراتے آگ کے داغ نہیں لگواتے شگون نہیں لیتے اور اپنے رب پر پورا بھروسہ رکھتے ہیں (مسند احمد) ایک اور سند سے اتنی زیادتی اس میں اور بھی ہے جب میں نے اپنی رضامندی ظاہر کی تو مجھ سے کہا گیا اب اپنی بائیں جانب دیکھو میں نے دیکھا تو بیشمار مجمع ہے جس نے آسمان کے کناروں کو بھی ڈھک لیا ہے ایک اور روایت میں ہے کہ موسم حج کا یہ واقعہ ہے آپ فرماتے ہیں مجھے اپنی امت کی یہ کثرت بہت پسند آئی تمام پہاڑیاں اور میدان ان سے پُر تھے (مسند احمد) ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عکاشہ کے بعد کھڑے ہونے والے ایک انصاری تھے ؓ (طبرانی) ایک اور روایت میں ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار یا ساٹھ لاکھ آدمی جنت میں جائیں گے جو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہوں گے سب ایک ساتھ جنت میں جائیں گے چمکتے ہوئے چودھویں رات کے چاند جیسے ان کے چہرے ہوں گے۔ (بخاری مسلم طبرانی) حصین بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ سعید بن جیبر کے پاس تھا تو آپ نے دریافت کیا رات کو جو ستارہ ٹوٹا تھا تم میں سے کسی نے دیکھا تھا میں نے کہا ہاں حضرت میں نے دیکھا تھا یہ نہ سمجھئے گا کہ میں نماز میں تھا بلکہ مجھے بچھو نے کاٹ کھایا تھا حضرت سعید نے پوچھا پھر تم نے کیا کیا میں نے کہا دم کردیا تھا کہا کیوں میں نے کہا حضرت شعبی نے بریدہ بن حصیب کی روایت سے حدیث بیان کی ہے کہ نظربد اور زہریلے جانوروں کا دم جھاڑا کرانا ہے کہنے لگے خیر جسے جو پہنچے اس پر عمل کرے ہمیں تو حضرت ابن عباس نے سنایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ پر امتیں پیش کی گئیں کسی نبی کے ساتھ ایک جماعت تھی کسی کے ساتھ ایک شخص اور دو شخص اور کسی نبی کے ساتھ کوئی نہ تھا اب جو دیکھا کہ ایک بڑی پر جماعت نظر پڑی میں سمجھا یہ تو میری امت ہوگی پھر معلوم ہوا کہ موسیٰ ؑ کی امت ہے مجھ سے کہا گیا آسمان کے کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو وہاں بیشمار لوگ تھے مجھ سے کہا گیا یہ آپ کی امت ہے اور ان کے ساتھ ستر ہزار اور ہیں جو بےحساب اور بےعذاب جنت میں جائیں گے یہ حدیث بیان فرما کر حضور ﷺ تو مکان پر چلے گئے اور صحابہ آپس میں کہنے لگے شاید یہ حضور ﷺ کے صحابی ہوں گے کسی نے کہا نہیں اسلام میں پیدا ہونے والے اور اسلام پر ہی مرنے والے ہوں گے وغیرہ وغیرہ آپ تشریف لائے اور پوچھا کیا باتیں کر رہے ہو ہم نے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا نہیں یہ وہ لوگ ہیں جو نہ دم جھاڑا کریں نہ کرائیں، نہ داغ لگوائیں نہ شگون لیں بلکہ اپنے رب پر بھروسہ رکھیں حضرت عکاشہ ؓ نے دعا کی درخواست کی آپ نے دعا کی یا اللہ تو اسے ان میں سے ہی بنا۔ پھر دوسرے شخص نے بھی یہی کہا آپ نے فرمایا عکاشہ آگے بڑھ گئے، یہ حدیث بخاری میں ہے لیکن اس میں دم جھاڑا نہیں کرنے کا لفظ نہیں صحیح مسلم میں یہ لفظ بھی ہے۔ ایک اور مطول حدیث میں ہے کہ پہلی جماعت تو نجات پائے گی ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان سے حساب بھی نہ لیا جائے گا پھر ان کے بعد والے سب سے زیادہ روشن ستارے جیسے چمکدار چہرے والے ہوں گے (مسلم) آپ فرماتے ہیں مجھ سے میرے رب کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب و عذاب کے داخل بہشت ہوں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے اور تین لپیں اور میرے رب عزوجل کی لپوں سے (کتاب السنن لحافظ ابی بکر بن عاصم) اس کی اسناد بہت عمدہ ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ سے ستر ہزار کی تعداد سن کر یزید بن اخنس نے کہا حضور ﷺ یہ تو آپ کی امت کی تعداد کے مقابلہ میں بہت ہی تھوڑے ہیں تو آپ نے فرمایا ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہیں اور پھر اللہ نے تین لپیں (ہتھیلیوں کا کشکول) بھر کر اور بھی عطا فرمائے ہیں، اسکی اسناد بھی حسن ہے (کتاب السنن اور ایک اور حدیث میں ہے کہ میرے رب نے جو عزت اور جلال والا ہے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار کو بلا حساب جنت میں لے جائے گا پھر ایک ایک ہزار کی شفاعت سے ستر ستر ہزار آدمی اور جائیں گے پھر میرا رب اپنے دونوں ہاتھوں سے تین لپیں (دونوں ہاتھوں کی ہھتیلیوں کو ملا کر کٹورا بنانا) بھر کر اور ڈالے گا حضرت عمر نے یہ سن کر خوش ہو کر اللہ اکبر کہا اور فرمایا کہ ان کی شفاعت ان کے باپ دادوں اور بیٹوں اور بیٹیوں اور خاندان و قبیلہ میں ہوگی اللہ کرے میں تو ان میں سے ہوجاؤں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی لپوں میں بھر کر آخر میں جنت میں لے جائے گا (طبرانی) اس حدیث کی سند میں بھی کوئی علت نہیں، واللہ اعلم، کرید میں حضور ﷺ نے ایک حدیث فرمائی جس میں جنت میں یہ بھی فرمایا یہ ستر ہزار جو بلا حساب جنت میں داخل کئے جائیں گے میرا خیال ہے کہ ان کے آتے آتے تو تم اپنے لئے اور اپنے بال بچوں اور بیویوں کیلئے جنت میں جگہ مقرر کرچکے ہونگے (مسند احمد) اس کی سند میں شرط مسلم پر ہے، ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے چار لاکھ آدمی جنت میں جائیں گے، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا حضور ﷺ کچھ اور زیادہ کیجئے اسے سن کر حضرت عمر نے فرمایا ابوبکر بس کرو صدیق نے جواب دیا کیوں صاحب اگر ہم سب کے سب جنت میں چلے جائیں گے تو آپ کو کیا نقصان ہے حضرت عمر نے فرمایا اگر اللہ چاہے تو ایک ہی ہاتھ میں ساری مخلوق کو جنت میں ڈال دےحضور ﷺ نے فرمایا عمر سچ کہتے ہیں (مسند عبدالرزاق) اسی حدیث کی اور سند سے بھی بیان ہے اس میں تعداد ایک لاکھ آئی ہے (اصبہانی) ایک اور روایت میں ہے کہ جب صحابہ نے ستر ہزار اور پھر ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار پھر اللہ کی لپ بھر کر جنتی بنانا سنا تو کہنے لگے پھر تو اس کی بدنصیبی میں کیا شک رہ گیا جو باوجود اس کے بھی جہنم میں جائے (ابولیلی) اوپر والی حدیث ایک اور سند سے بھی بیان ہوئی ہے اس میں تعداد تین لاکھ کی ہے پھر حضرت عمر نے فرمایا میری امت کے سارے مہاجر تو اس میں آہی جائیں گے پھر باقی تعداد اعرابیوں سے پوری ہوگی (محمد بن سہل) حضرت ابو سعید کہتے ہیں حضور ﷺ کے سامنے حساب کیا گیا تو جملہ تعداد چار کروڑ نوے ہزار ہوئی، ایک اور حسن حدیث طبرانی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی کہ جان محمد ﷺ کی اس کے ہاتھ میں ہے تم ایک اندھیری رات کی طرح بیشمار ایک ساتھ جنت کی طرف بڑھو گے، زمین تم سے پر ہوجائے گی تمام فرشتے پکار اٹھیں گے کہ محمد ﷺ کے ساتھ جو جماعت آئی وہ تمام نبیوں کی جماعت سے بہت زیادہ ہے، حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا صرف میری تابعدار امت اہل جنت کی چوتھائی ہوگی صحابہ نے خوش ہو کر نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا کہ مجھے تو امید ہے کہ تم اہل جنت کا تیسرا حصہ ہوجاؤ ہم نے پھر تکبیر کہی پھر فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ تم آدھوں آدھ ہوجاؤ (مسند احمد) اور حدیث میں ہے کہ آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ تم راضی نہیں ہو کہ تم تمام جنتوں کے چوتھائی ہو ہم نے خوش ہو کر اللہ کی بڑائی بیان کی پھر فرمایا کہ تم راضی نہیں ہو کہ تمام اہل جنت کی تہائی ہو ہم نے پھر تکبیر کہی آپ نے فرمایا مجھے تو امید ہے کہ تم جنتیوں کے آدھوں آدھ ہو گے (بخاری مسلم) طبرانی میں یہ روایت حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا کہتے ہو تم جنتیوں کا چوتھائی حصہ بننا چاہتے ہو کہ چوتھائی جنت تمہارے پاس ہو اور تین اور چوتھائیوں میں تمام امتیں ہوں ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے آپ نے فرمایا اچھا تہائی حصہ ہو تو ہم نے کہا یہ بہت ہے فرمایا اگر آدھوں آدھ ہو تو، انہوں نے کہا حضور ﷺ پھر تو بہت ہی زیادہ ہے آپ نے فرمایا سنو ! کل اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہیں جن میں سے اسی صفیں صرف اس میری امت کی ہیں، مسند احمد میں بھی ہے کہ اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ان میں اسی صفیں صرف اس امت کی ہیں یہ حدیث طبرانی ترمذی وغیرہ میں بھی ہے، طبرانی ایک اور روایت میں ہے کہ جب آیت (ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 39 ۙ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ 40ۭ) 56۔ الواقعہ :39۔ 40) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اہل جنت کی چوتھائی ہو پھر فرمایا بلکہ ثلث ہو پھر فرمایا بلکہ نصف ہو پھر فرمایا دو تہائی ہو (اے وسیع رحمتوں والے اور بےروک نعمتوں والے اللہ ہم تیرا بےانتہا شکر ادا کرتے ہیں کہ تو نے ہمیں ایسے معزز و محترم رسول ﷺ کی امت میں پیدا کیا تیرے سچے رسول ﷺ کی سچی زبان سے تیرے اس بڑھے چڑھے فضل و کرم کا حال سن کر ہم گنہگاروں کے منہ میں پانی بھر آیا، اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اللہ ہماری آس نہ توڑ اور ہمیں بھی ان نیک ہستیوں کے ساتھ جنت میں داخل فرما۔ باری تعالیٰ تیری رحمت کی ان گنت اور بیشمار بندوں میں سے اگر ایک قطرہ بھی ہم گنہگاروں پر برس جائے تو ہمارے گناہوں کو دھو ڈالنے اور ہمیں تیری رحمت و رضوان کے لائق بنانے کیلئے کافی ہے، اللہ اس پاک ذکر کے موقعہ پر ہم ہاتھ اٹھا کر دامن پھیلا کر آنسو بہا کر امیدوں بھرے دل سے تیری رحمت کا سہارا لے کر تیرے کرم کا دامن تھام کر تجھ سے بھیک مانگتے ہیں تو قبول فرما اور اپنی رحمت سے ہمیں بھی اپنی رضامندی کا گھر جنت الفردوس عطا فرما۔ (آمین الہ الحق آمین) صحیح بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہم دنیا میں سب سے آخر آئے اور جنت میں سب سے پہلے جائیں گے اور ان کو کتاب اللہ پہلے ملی ہمیں بعد میں ملی جن باتوں میں انہوں نے اختلاف کیا ان میں اللہ نے ہمیں صحیح طریق کی توفیق دی، جمعہ کا دن بھی ایسا ہی ہے کہ یہود ہمارے پیچھے ہیں ہفتہ کے دن اور نصرانی ان کے پیچھے اتوار کے دن دار قطنی میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تک میں جنت میں داخل نہ ہوجاؤں انبیاء پر دخول جنت حرام ہے اور جب تک میری امت نہ داخل ہو دوسری امتوں پر دخول جنت حرام ہے۔ یہ وہ حدیثیں تھیں جنہیں ہم اس آیت کے تحت وارد کرنا چاہتے تھے فالحمد للہ۔ امت کو بھی چاہئے کہ یہاں اس آیت میں جتنی صفیں ہیں ان پر مضبوطی کے ساتھ قائم ثابت رہیں یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور ایمان باللہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اپنے حج میں اس آیت کی تلاوت فرما کر لوگوں سے کہا کہ اگر تم اس آیت کی تعریف میں داخل ہونا چاہتے ہو تو یہ اوصاف بھی اپنے میں پیدا کرو، امام ابن جرید فرماتے، اہل کتاب ان کاموں کو چھوڑ بیٹھے تھے جن کی مذمت کلام اللہ نے کی، فرمایا آیت (كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ) 5۔ المائدہ :79) وہ لوگ برائی کی باتوں سے لوگوں کو روکتے نہ تھے چونکہ مندرجہ بالا آیت میں ایمان داروں کی تعریف و توصیف بیان ہوئی تو اس کے بعد اہل کتاب کی مذمت بیان ہو رہی ہے، تو فرمایا کہ اگر یہ لوگ بھی میرے نبی آخر الزمان پر ایمان لاتے تو انہیں بھی یہ فضیلتیں ملتیں لیکن ان میں سے کفرو فسق اور گناہوں پر جمے ہوئے ہیں ہاں کچھ لوگ باایمان بھی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بشارت دیتا ہے کہ تم نہ گھبرانا اللہ تمہیں تمہارے مخالفین پر غالب رکھے گا چناچہ خیبر والے دن اللہ تعالیٰ نے انہیں ذلیل کیا اور ان سے پہلے بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ کو بھی اللہ نے ذلیل و رسوا کیا، اسی طرح شام کے نصرانی صحابہ کے وقت میں مغلوب ہوئے اور ملک شام ان کے ہاتھوں سے نکل گیا اور ہمیشہ کیلئے مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا اور وہاں ایک حق والی جماعت حضرت عیسیٰ ؑ کے آنے تک حق پر قائم رہے گی، حضرت عیسیٰ آ کر ملت اسلام اور شریعت محمد کے مطابق حکم کریں گے صلیب توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے جزیہ قبول نہ کریں گے صرف اسلام ہی قبول فرمائیں گے پھر فرمایا کہ ان کے اوپر ذلت اور پستی ڈال دی گئی ہاں اللہ کی پناہ کے علاوہ کہیں بھی امن وامان اور عزت نہیں یعنی جزیہ دینا اور مسلم بادشاہ کی اطاعت کرنا قبول کرلیں اور لوگوں کی پناہ یعنی عقد ذمہ مقرر ہوجائے یا کوئی مسلمان امن دے دے اگرچہ کوئی عورت ہو یا کوئی غلام ہو، علماء کا ایک قول یہ بھی ہے، حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ حبل سے مراد ہے جو غضب کے مستحق ہوئے اور مسکینی چپکا دی گئی، ان کے کفر اور انبیاء کے تکبر، حسد، سرکشی وغیرہ کا بدلہ ہے۔ اسی باعث ان پر ذلت پستی اور مسکینی ہمیشہ کیلئے ڈال دی گئی ان کی نافرمانیوں اور تجاوز حق کا یہ بدلہ ہے العیاذ باللہ، ابو داؤد طیالسی میں حدیث ہے کہ بنی اسرائیل ایک ایک دن میں تین تین سو نبیوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور دن کے آخری حصہ میں اپنے اپنے کاموں پر بازاروں میں لگ جاتے تھے۔

ظلم نہیں سزا حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد ﷺ برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ دیر لگا دی پھر جب آئے تو جو اصحاب منتظر تھے ان سے فرمایا کسی دین والا اس وقت تک اللہ کا ذکر نہیں کر رہا مگر صرف تم ہی اللہ کے ذکر میں ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لیکن اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اہل کتاب کے علماء مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام حضرت اسد بن عبید، حضرت ثعلبہ بن شعبہ وغیرہ کے بارے میں یہ آیت آئی کہ یہ لوگ ان اہل کتاب میں شامل نہیں جن کی مذمت پہلے گزاری، بلکہ یہ باایمان جماعت امر اللہ پر قائم شریعت محمدیہ کی تابع ہے استقامت و یقین اس میں ہے یہ پاکباز لوگ راتوں کے وقت تہجد کی نماز میں بھی اللہ کے کلام کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور لوگوں کو بھی انہی باتوں کا حکم کرتے ہیں ان کے خلاف سے روکتے ہیں نیک کاموں میں پیش پیش رہا کرتے ہیں اب اللہ تعالیٰ انہیں خطاب عطا فرماتا ہے کہ یہ صالح لوگ ہیں اور سورت کے آخر میں بھی فرمایا آیت (وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ باللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْھِمْ خٰشِعِيْنَ لِلّٰهِ) 3۔ آل عمران :199) بعض اہل کتاب اللہ تعالیٰ پر اس قرآن پر اور توراۃ و انجیل پر بھی ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں یہاں بھی فرمایا کہ ان کے یہ نیک اعمال ضائع نہ ہوں بلکہ پورا بدلہ ملے گا، تمام پرہیزگار لوگ اللہ کی نظروں میں ہیں وہ کسی کے اچھے عمل کو برباد نہیں کرتا۔ وہاں ان بےدین لوگوں کو اللہ کے ہاں نہ مال نفع دے گا نہ اولاد یہ تو جہنمی ہیں۔ صر کے معنی سخت سردی کے ہیں جو کھیتوں کو جلا دیتی ہے، غرض جس طرح کسی کی تیار کھیتی پر برف پڑے اور وہ جل کر خاکستر ہوجائے نفع چھوڑ اصل بھی غارت ہوجائے اور امیدوں پر پانی پھرجائے اسی طرح یہ کفار ہیں جو کچھ یہ خرچ کرتے ہیں اس کا نیک بدلہ تو کہاں اور عذاب ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں بلکہ یہ ان کی بداعمالیوں کی سزا ہے۔

ظلم نہیں سزا حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد ﷺ برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ دیر لگا دی پھر جب آئے تو جو اصحاب منتظر تھے ان سے فرمایا کسی دین والا اس وقت تک اللہ کا ذکر نہیں کر رہا مگر صرف تم ہی اللہ کے ذکر میں ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لیکن اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اہل کتاب کے علماء مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام حضرت اسد بن عبید، حضرت ثعلبہ بن شعبہ وغیرہ کے بارے میں یہ آیت آئی کہ یہ لوگ ان اہل کتاب میں شامل نہیں جن کی مذمت پہلے گزاری، بلکہ یہ باایمان جماعت امر اللہ پر قائم شریعت محمدیہ کی تابع ہے استقامت و یقین اس میں ہے یہ پاکباز لوگ راتوں کے وقت تہجد کی نماز میں بھی اللہ کے کلام کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور لوگوں کو بھی انہی باتوں کا حکم کرتے ہیں ان کے خلاف سے روکتے ہیں نیک کاموں میں پیش پیش رہا کرتے ہیں اب اللہ تعالیٰ انہیں خطاب عطا فرماتا ہے کہ یہ صالح لوگ ہیں اور سورت کے آخر میں بھی فرمایا آیت (وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ باللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْھِمْ خٰشِعِيْنَ لِلّٰهِ) 3۔ آل عمران :199) بعض اہل کتاب اللہ تعالیٰ پر اس قرآن پر اور توراۃ و انجیل پر بھی ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں یہاں بھی فرمایا کہ ان کے یہ نیک اعمال ضائع نہ ہوں بلکہ پورا بدلہ ملے گا، تمام پرہیزگار لوگ اللہ کی نظروں میں ہیں وہ کسی کے اچھے عمل کو برباد نہیں کرتا۔ وہاں ان بےدین لوگوں کو اللہ کے ہاں نہ مال نفع دے گا نہ اولاد یہ تو جہنمی ہیں۔ صر کے معنی سخت سردی کے ہیں جو کھیتوں کو جلا دیتی ہے، غرض جس طرح کسی کی تیار کھیتی پر برف پڑے اور وہ جل کر خاکستر ہوجائے نفع چھوڑ اصل بھی غارت ہوجائے اور امیدوں پر پانی پھرجائے اسی طرح یہ کفار ہیں جو کچھ یہ خرچ کرتے ہیں اس کا نیک بدلہ تو کہاں اور عذاب ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں بلکہ یہ ان کی بداعمالیوں کی سزا ہے۔

ظلم نہیں سزا حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد ﷺ برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ دیر لگا دی پھر جب آئے تو جو اصحاب منتظر تھے ان سے فرمایا کسی دین والا اس وقت تک اللہ کا ذکر نہیں کر رہا مگر صرف تم ہی اللہ کے ذکر میں ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لیکن اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اہل کتاب کے علماء مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام حضرت اسد بن عبید، حضرت ثعلبہ بن شعبہ وغیرہ کے بارے میں یہ آیت آئی کہ یہ لوگ ان اہل کتاب میں شامل نہیں جن کی مذمت پہلے گزاری، بلکہ یہ باایمان جماعت امر اللہ پر قائم شریعت محمدیہ کی تابع ہے استقامت و یقین اس میں ہے یہ پاکباز لوگ راتوں کے وقت تہجد کی نماز میں بھی اللہ کے کلام کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور لوگوں کو بھی انہی باتوں کا حکم کرتے ہیں ان کے خلاف سے روکتے ہیں نیک کاموں میں پیش پیش رہا کرتے ہیں اب اللہ تعالیٰ انہیں خطاب عطا فرماتا ہے کہ یہ صالح لوگ ہیں اور سورت کے آخر میں بھی فرمایا آیت (وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ باللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْھِمْ خٰشِعِيْنَ لِلّٰهِ) 3۔ آل عمران :199) بعض اہل کتاب اللہ تعالیٰ پر اس قرآن پر اور توراۃ و انجیل پر بھی ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں یہاں بھی فرمایا کہ ان کے یہ نیک اعمال ضائع نہ ہوں بلکہ پورا بدلہ ملے گا، تمام پرہیزگار لوگ اللہ کی نظروں میں ہیں وہ کسی کے اچھے عمل کو برباد نہیں کرتا۔ وہاں ان بےدین لوگوں کو اللہ کے ہاں نہ مال نفع دے گا نہ اولاد یہ تو جہنمی ہیں۔ صر کے معنی سخت سردی کے ہیں جو کھیتوں کو جلا دیتی ہے، غرض جس طرح کسی کی تیار کھیتی پر برف پڑے اور وہ جل کر خاکستر ہوجائے نفع چھوڑ اصل بھی غارت ہوجائے اور امیدوں پر پانی پھرجائے اسی طرح یہ کفار ہیں جو کچھ یہ خرچ کرتے ہیں اس کا نیک بدلہ تو کہاں اور عذاب ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں بلکہ یہ ان کی بداعمالیوں کی سزا ہے۔

ظلم نہیں سزا حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد ﷺ برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ دیر لگا دی پھر جب آئے تو جو اصحاب منتظر تھے ان سے فرمایا کسی دین والا اس وقت تک اللہ کا ذکر نہیں کر رہا مگر صرف تم ہی اللہ کے ذکر میں ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لیکن اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اہل کتاب کے علماء مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام حضرت اسد بن عبید، حضرت ثعلبہ بن شعبہ وغیرہ کے بارے میں یہ آیت آئی کہ یہ لوگ ان اہل کتاب میں شامل نہیں جن کی مذمت پہلے گزاری، بلکہ یہ باایمان جماعت امر اللہ پر قائم شریعت محمدیہ کی تابع ہے استقامت و یقین اس میں ہے یہ پاکباز لوگ راتوں کے وقت تہجد کی نماز میں بھی اللہ کے کلام کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور لوگوں کو بھی انہی باتوں کا حکم کرتے ہیں ان کے خلاف سے روکتے ہیں نیک کاموں میں پیش پیش رہا کرتے ہیں اب اللہ تعالیٰ انہیں خطاب عطا فرماتا ہے کہ یہ صالح لوگ ہیں اور سورت کے آخر میں بھی فرمایا آیت (وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ باللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْھِمْ خٰشِعِيْنَ لِلّٰهِ) 3۔ آل عمران :199) بعض اہل کتاب اللہ تعالیٰ پر اس قرآن پر اور توراۃ و انجیل پر بھی ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں یہاں بھی فرمایا کہ ان کے یہ نیک اعمال ضائع نہ ہوں بلکہ پورا بدلہ ملے گا، تمام پرہیزگار لوگ اللہ کی نظروں میں ہیں وہ کسی کے اچھے عمل کو برباد نہیں کرتا۔ وہاں ان بےدین لوگوں کو اللہ کے ہاں نہ مال نفع دے گا نہ اولاد یہ تو جہنمی ہیں۔ صر کے معنی سخت سردی کے ہیں جو کھیتوں کو جلا دیتی ہے، غرض جس طرح کسی کی تیار کھیتی پر برف پڑے اور وہ جل کر خاکستر ہوجائے نفع چھوڑ اصل بھی غارت ہوجائے اور امیدوں پر پانی پھرجائے اسی طرح یہ کفار ہیں جو کچھ یہ خرچ کرتے ہیں اس کا نیک بدلہ تو کہاں اور عذاب ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں بلکہ یہ ان کی بداعمالیوں کی سزا ہے۔

ظلم نہیں سزا حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد ﷺ برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ دیر لگا دی پھر جب آئے تو جو اصحاب منتظر تھے ان سے فرمایا کسی دین والا اس وقت تک اللہ کا ذکر نہیں کر رہا مگر صرف تم ہی اللہ کے ذکر میں ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لیکن اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اہل کتاب کے علماء مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام حضرت اسد بن عبید، حضرت ثعلبہ بن شعبہ وغیرہ کے بارے میں یہ آیت آئی کہ یہ لوگ ان اہل کتاب میں شامل نہیں جن کی مذمت پہلے گزاری، بلکہ یہ باایمان جماعت امر اللہ پر قائم شریعت محمدیہ کی تابع ہے استقامت و یقین اس میں ہے یہ پاکباز لوگ راتوں کے وقت تہجد کی نماز میں بھی اللہ کے کلام کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور لوگوں کو بھی انہی باتوں کا حکم کرتے ہیں ان کے خلاف سے روکتے ہیں نیک کاموں میں پیش پیش رہا کرتے ہیں اب اللہ تعالیٰ انہیں خطاب عطا فرماتا ہے کہ یہ صالح لوگ ہیں اور سورت کے آخر میں بھی فرمایا آیت (وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ باللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْھِمْ خٰشِعِيْنَ لِلّٰهِ) 3۔ آل عمران :199) بعض اہل کتاب اللہ تعالیٰ پر اس قرآن پر اور توراۃ و انجیل پر بھی ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں یہاں بھی فرمایا کہ ان کے یہ نیک اعمال ضائع نہ ہوں بلکہ پورا بدلہ ملے گا، تمام پرہیزگار لوگ اللہ کی نظروں میں ہیں وہ کسی کے اچھے عمل کو برباد نہیں کرتا۔ وہاں ان بےدین لوگوں کو اللہ کے ہاں نہ مال نفع دے گا نہ اولاد یہ تو جہنمی ہیں۔ صر کے معنی سخت سردی کے ہیں جو کھیتوں کو جلا دیتی ہے، غرض جس طرح کسی کی تیار کھیتی پر برف پڑے اور وہ جل کر خاکستر ہوجائے نفع چھوڑ اصل بھی غارت ہوجائے اور امیدوں پر پانی پھرجائے اسی طرح یہ کفار ہیں جو کچھ یہ خرچ کرتے ہیں اس کا نیک بدلہ تو کہاں اور عذاب ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں بلکہ یہ ان کی بداعمالیوں کی سزا ہے۔

کافر اور منافق مسلمان کے دوست نہیں انہیں اپنا ہم راز نہ بناؤ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو کافروں اور منافقوں کی دوستی اور ہم راز ہونے سے روکتا ہے کہ یہ تو تمہارے دشمن ہیں ان کی چکنی چپڑی باتوں میں خوش نہ ہوجانا اور ان کے مکر کے پھندے میں پھنس نہ جانا ورنہ موقعہ پا کر یہ تمہیں سخت ضرر پہنچائیں گے اور اپنی باطنی عداوت نکالیں گے تم انہیں اپنا راز دار ہرگز نہ سمجھنا راز کی باتیں ان کے کانوں تک ہرگز نہ پہنچانا بطانہ کہتے ہیں انسان کے راز دار دوست کو اور من دو نکم سے مراد جس خلیفہ کو مقرر کیا اس کیلئے دو بطانہ مقرر کئے ایک تو بھلائی کی بات سمجھانے والا اور اس پر رغبت دینے والا اور دوسرا برائی کی رہبری کرنے والا اور اس پر آمادہ کرنے والا بس اللہ جسے بچائے وہی بچ سکتا ہے، حضرت عمر بن خطاب ؓ سے کہا گیا کہ یہاں پر حیرہ کا ایک شخص بڑا اچھا لکھنے والا اور بہت اچھے حافظہ والا ہے آپ اسے اپنا محرر اور منشی مقرر کرلیں آپ نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ غیر مومن کو بطانہ بنا لوں گا جو اللہ نے منع کیا ہے، اس واقعہ کو اور اس آیت کو سامنے رکھ کر ذہن اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ذمی کفار کو بھی ایسے کاموں میں نہ لگانا چاہئے ایسا نہ ہو کہ وہ مخالفین کو مسلمانوں کے پوشیدہ ارادوں سے واقف کر دے اور ان کے دشمنوں کو ان سے ہوشیار کر دے کیونکہ انکی تو چاہت ہی مسلمانوں کو نیچا دکھانے کی ہوتی ہے، ازہر بن راشد کہتے ہیں کہ لوگ حضرت انس ؓ سے حدیثیں سنتے تھے اگر کسی حدیث کا مطلب سمجھ میں نہ آتا تو حضرت حسن بصری سے جا کر مطلب حل کرلیتے تھے ایک دن حضرت انس ؓ نے یہ حدیث بیان کی کہ مشرکوں کی آگ سے روشنی طلب نہ کرو اور اپنی انگوٹھی میں عربی نقش نہ کرو انہوں نے آکر حسن بصری سے اس کی تشریح دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ پچھلے جملہ کا تو یہ مطلب ہے کہ انگوٹھی پر محمد ﷺ نہ کھدواؤ اور پہلے جملہ کا یہ مطلب ہے کہ مشرکوں سے اپنے کاموں میں مشورہ نہ لو، دیکھو کتاب اللہ میں بھی ہے کہ ایمان دارو اپنے سوا دوسروں کو ہمراز نہ بناؤ لیکن حسن بصری کی یہ تشریح قابل غور ہے حدیث کا ٹھیک مطلب غالباً یہ ہے کہ محمد رسول اللہ عربی خط میں اپنی انگوٹھیوں پر نقش نہ کراؤ، چناچہ اور حدیث میں صاف ممانعت موجود ہے یہ اس لئے تھا کہ حضور ﷺ کی مہر کے ساتھ مشابہت نہ ہو اور اول جملے کا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کی بستی کے پاس نہ رہو اس کے پڑوس سے دور رہو ان کے شہروں سے ہجرت کر جاؤ جیسے ابو داؤد میں ہے کہ مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان کی لڑائی کی آگ کو کیا تم نہیں دیکھتے اور حدیث میں ہے جو مشرکوں سے میل جول کرے یا ان کے ساتھ رہے بسے وہ بھی انہی جیسا ہے پھر فرمایا ان کی باتوں سے بھی ان کی عداوت ٹپک رہی ہے ان کے چہروں سے بھی قیافہ شناس ان کی باطنی خباثتوں کو معلوم کرسکتا ہے پھر جو ان کے دلوں میں تباہ کن شرارتیں ہیں وہ تو تم سے مخفی ہیں لیکن ہم نے تو صاف صاف بیان کردیا ہے عاقل لوگ ایسے مکاروں کی مکاری میں نہیں آتے پھر فرمایا دیکھو کتنی کمزوری کی بات ہے کہ تم ان سے محبت رکھو اور وہ تمہیں نہ چاہیں، تمہارا ایمان کل کتاب پر ہو اور یہ شک شبہ میں ہی پڑے ہوئے ہیں ان کی کتاب کو تم تو مانو لیکن یہ تمہاری کتاب کا انکار کریں تو چاہئے تو یہ تھا کہ تم خود انہیں کڑی نظروں سے دیکھتے لیکن برخلاف اس کے یہ تمہاری عداوت کی آگ میں جل رہے ہیں۔ سامنا ہوجائے تو اپنی ایمانداری کی داستان بیان کرنے بیٹھ جاتے ہیں لیکن جب ذرا الگ ہوتے ہیں تو غیظ و غضب سے جلن اور حسد سے اپنی انگلیاں چباتے ہیں پس مسلمانوں کو بھی ان کی ظاہرداری سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے یہ چاہے جلتے بھنتے رہیں لیکن اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو ترقی دیتا رہے گا مسلمان دن رات ہر حیثیت میں بڑھتے ہی رہیں گے گو وہ مارے غصے کے مرجائیں۔ اللہ ان کے دلوں کے بھیدوں سے بخوبی واقف ہے ان کے تمام منصوبوں پر خاک پڑے گی یہ اپنی شرارتوں میں کامیاب نہ ہوسکیں گے اپنی چاہت کے خلاف مسلمانوں کی دن دوگنی ترقی دیکھیں گے اور آخرت میں بھی انہیں نعمتوں والی جنت حاصل کرتے دیکھیں گے برخلاف ان کے یہ خود یہاں بھی رسوا ہوں گے اور وہاں بھی جہنم کا ایندھن بنیں گے، ان کی شدت عداوت کی یہ کتنی بڑی دلیل ہے کہ جہاں تمہیں کوئی نفع پہنچتا ہے یہ کلیجہ مسوسنے لگے اور اگر (اللہ نہ کرے) تمہیں کوئی نقصان پہنچ گیا تو ان کی باچھیں کھل جاتی ہیں بغلیں بجانے اور خوشیاں منانے لگتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں کی مدد ہوئی یہ کفار پر غالب آئے انہیں غنیمت کا مال ملا یہ تعداد میں بڑھ گے تو وہ جل بجھے اور اگر مسلمانوں پر تنگی آگئی یا دشمنوں میں گھر گئے تو ان کے ہاں عید منائی جانے لگی۔ اب اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ان شریروں کی شرارت اور ان بدبختوں کے مکر سے اگر نجات چاہتے ہو تو صبرو تقویٰ اور توکل کرو اللہ عزوجل خود تمہارے دشمنوں کو گھیر لے گا کسی بھلائی کے حاصل کرنے کسی برائی سے بچنے کی کسی میں طاقت نہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوسکتا جو اس پر توکل کرے اسے وہ کافی ہے۔ اسی مناسبت سے اب جنگ احد کا ذکر شروع ہوتا ہے جس پر مسلمانوں کے صبرو تحمل کا بیان ہے اور جس میں اللہ تعالیٰ کی آزمائش کا پورا نقشہ ہے اور جس میں مومن و منافق کی ظاہری تمیز ہے سنئے ارشاد ہوتا ہے

کافر اور منافق مسلمان کے دوست نہیں انہیں اپنا ہم راز نہ بناؤ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو کافروں اور منافقوں کی دوستی اور ہم راز ہونے سے روکتا ہے کہ یہ تو تمہارے دشمن ہیں ان کی چکنی چپڑی باتوں میں خوش نہ ہوجانا اور ان کے مکر کے پھندے میں پھنس نہ جانا ورنہ موقعہ پا کر یہ تمہیں سخت ضرر پہنچائیں گے اور اپنی باطنی عداوت نکالیں گے تم انہیں اپنا راز دار ہرگز نہ سمجھنا راز کی باتیں ان کے کانوں تک ہرگز نہ پہنچانا بطانہ کہتے ہیں انسان کے راز دار دوست کو اور من دو نکم سے مراد جس خلیفہ کو مقرر کیا اس کیلئے دو بطانہ مقرر کئے ایک تو بھلائی کی بات سمجھانے والا اور اس پر رغبت دینے والا اور دوسرا برائی کی رہبری کرنے والا اور اس پر آمادہ کرنے والا بس اللہ جسے بچائے وہی بچ سکتا ہے، حضرت عمر بن خطاب ؓ سے کہا گیا کہ یہاں پر حیرہ کا ایک شخص بڑا اچھا لکھنے والا اور بہت اچھے حافظہ والا ہے آپ اسے اپنا محرر اور منشی مقرر کرلیں آپ نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ غیر مومن کو بطانہ بنا لوں گا جو اللہ نے منع کیا ہے، اس واقعہ کو اور اس آیت کو سامنے رکھ کر ذہن اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ذمی کفار کو بھی ایسے کاموں میں نہ لگانا چاہئے ایسا نہ ہو کہ وہ مخالفین کو مسلمانوں کے پوشیدہ ارادوں سے واقف کر دے اور ان کے دشمنوں کو ان سے ہوشیار کر دے کیونکہ انکی تو چاہت ہی مسلمانوں کو نیچا دکھانے کی ہوتی ہے، ازہر بن راشد کہتے ہیں کہ لوگ حضرت انس ؓ سے حدیثیں سنتے تھے اگر کسی حدیث کا مطلب سمجھ میں نہ آتا تو حضرت حسن بصری سے جا کر مطلب حل کرلیتے تھے ایک دن حضرت انس ؓ نے یہ حدیث بیان کی کہ مشرکوں کی آگ سے روشنی طلب نہ کرو اور اپنی انگوٹھی میں عربی نقش نہ کرو انہوں نے آکر حسن بصری سے اس کی تشریح دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ پچھلے جملہ کا تو یہ مطلب ہے کہ انگوٹھی پر محمد ﷺ نہ کھدواؤ اور پہلے جملہ کا یہ مطلب ہے کہ مشرکوں سے اپنے کاموں میں مشورہ نہ لو، دیکھو کتاب اللہ میں بھی ہے کہ ایمان دارو اپنے سوا دوسروں کو ہمراز نہ بناؤ لیکن حسن بصری کی یہ تشریح قابل غور ہے حدیث کا ٹھیک مطلب غالباً یہ ہے کہ محمد رسول اللہ عربی خط میں اپنی انگوٹھیوں پر نقش نہ کراؤ، چناچہ اور حدیث میں صاف ممانعت موجود ہے یہ اس لئے تھا کہ حضور ﷺ کی مہر کے ساتھ مشابہت نہ ہو اور اول جملے کا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کی بستی کے پاس نہ رہو اس کے پڑوس سے دور رہو ان کے شہروں سے ہجرت کر جاؤ جیسے ابو داؤد میں ہے کہ مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان کی لڑائی کی آگ کو کیا تم نہیں دیکھتے اور حدیث میں ہے جو مشرکوں سے میل جول کرے یا ان کے ساتھ رہے بسے وہ بھی انہی جیسا ہے پھر فرمایا ان کی باتوں سے بھی ان کی عداوت ٹپک رہی ہے ان کے چہروں سے بھی قیافہ شناس ان کی باطنی خباثتوں کو معلوم کرسکتا ہے پھر جو ان کے دلوں میں تباہ کن شرارتیں ہیں وہ تو تم سے مخفی ہیں لیکن ہم نے تو صاف صاف بیان کردیا ہے عاقل لوگ ایسے مکاروں کی مکاری میں نہیں آتے پھر فرمایا دیکھو کتنی کمزوری کی بات ہے کہ تم ان سے محبت رکھو اور وہ تمہیں نہ چاہیں، تمہارا ایمان کل کتاب پر ہو اور یہ شک شبہ میں ہی پڑے ہوئے ہیں ان کی کتاب کو تم تو مانو لیکن یہ تمہاری کتاب کا انکار کریں تو چاہئے تو یہ تھا کہ تم خود انہیں کڑی نظروں سے دیکھتے لیکن برخلاف اس کے یہ تمہاری عداوت کی آگ میں جل رہے ہیں۔ سامنا ہوجائے تو اپنی ایمانداری کی داستان بیان کرنے بیٹھ جاتے ہیں لیکن جب ذرا الگ ہوتے ہیں تو غیظ و غضب سے جلن اور حسد سے اپنی انگلیاں چباتے ہیں پس مسلمانوں کو بھی ان کی ظاہرداری سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے یہ چاہے جلتے بھنتے رہیں لیکن اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو ترقی دیتا رہے گا مسلمان دن رات ہر حیثیت میں بڑھتے ہی رہیں گے گو وہ مارے غصے کے مرجائیں۔ اللہ ان کے دلوں کے بھیدوں سے بخوبی واقف ہے ان کے تمام منصوبوں پر خاک پڑے گی یہ اپنی شرارتوں میں کامیاب نہ ہوسکیں گے اپنی چاہت کے خلاف مسلمانوں کی دن دوگنی ترقی دیکھیں گے اور آخرت میں بھی انہیں نعمتوں والی جنت حاصل کرتے دیکھیں گے برخلاف ان کے یہ خود یہاں بھی رسوا ہوں گے اور وہاں بھی جہنم کا ایندھن بنیں گے، ان کی شدت عداوت کی یہ کتنی بڑی دلیل ہے کہ جہاں تمہیں کوئی نفع پہنچتا ہے یہ کلیجہ مسوسنے لگے اور اگر (اللہ نہ کرے) تمہیں کوئی نقصان پہنچ گیا تو ان کی باچھیں کھل جاتی ہیں بغلیں بجانے اور خوشیاں منانے لگتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں کی مدد ہوئی یہ کفار پر غالب آئے انہیں غنیمت کا مال ملا یہ تعداد میں بڑھ گے تو وہ جل بجھے اور اگر مسلمانوں پر تنگی آگئی یا دشمنوں میں گھر گئے تو ان کے ہاں عید منائی جانے لگی۔ اب اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ان شریروں کی شرارت اور ان بدبختوں کے مکر سے اگر نجات چاہتے ہو تو صبرو تقویٰ اور توکل کرو اللہ عزوجل خود تمہارے دشمنوں کو گھیر لے گا کسی بھلائی کے حاصل کرنے کسی برائی سے بچنے کی کسی میں طاقت نہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوسکتا جو اس پر توکل کرے اسے وہ کافی ہے۔ اسی مناسبت سے اب جنگ احد کا ذکر شروع ہوتا ہے جس پر مسلمانوں کے صبرو تحمل کا بیان ہے اور جس میں اللہ تعالیٰ کی آزمائش کا پورا نقشہ ہے اور جس میں مومن و منافق کی ظاہری تمیز ہے سنئے ارشاد ہوتا ہے

کافر اور منافق مسلمان کے دوست نہیں انہیں اپنا ہم راز نہ بناؤ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو کافروں اور منافقوں کی دوستی اور ہم راز ہونے سے روکتا ہے کہ یہ تو تمہارے دشمن ہیں ان کی چکنی چپڑی باتوں میں خوش نہ ہوجانا اور ان کے مکر کے پھندے میں پھنس نہ جانا ورنہ موقعہ پا کر یہ تمہیں سخت ضرر پہنچائیں گے اور اپنی باطنی عداوت نکالیں گے تم انہیں اپنا راز دار ہرگز نہ سمجھنا راز کی باتیں ان کے کانوں تک ہرگز نہ پہنچانا بطانہ کہتے ہیں انسان کے راز دار دوست کو اور من دو نکم سے مراد جس خلیفہ کو مقرر کیا اس کیلئے دو بطانہ مقرر کئے ایک تو بھلائی کی بات سمجھانے والا اور اس پر رغبت دینے والا اور دوسرا برائی کی رہبری کرنے والا اور اس پر آمادہ کرنے والا بس اللہ جسے بچائے وہی بچ سکتا ہے، حضرت عمر بن خطاب ؓ سے کہا گیا کہ یہاں پر حیرہ کا ایک شخص بڑا اچھا لکھنے والا اور بہت اچھے حافظہ والا ہے آپ اسے اپنا محرر اور منشی مقرر کرلیں آپ نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ غیر مومن کو بطانہ بنا لوں گا جو اللہ نے منع کیا ہے، اس واقعہ کو اور اس آیت کو سامنے رکھ کر ذہن اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ذمی کفار کو بھی ایسے کاموں میں نہ لگانا چاہئے ایسا نہ ہو کہ وہ مخالفین کو مسلمانوں کے پوشیدہ ارادوں سے واقف کر دے اور ان کے دشمنوں کو ان سے ہوشیار کر دے کیونکہ انکی تو چاہت ہی مسلمانوں کو نیچا دکھانے کی ہوتی ہے، ازہر بن راشد کہتے ہیں کہ لوگ حضرت انس ؓ سے حدیثیں سنتے تھے اگر کسی حدیث کا مطلب سمجھ میں نہ آتا تو حضرت حسن بصری سے جا کر مطلب حل کرلیتے تھے ایک دن حضرت انس ؓ نے یہ حدیث بیان کی کہ مشرکوں کی آگ سے روشنی طلب نہ کرو اور اپنی انگوٹھی میں عربی نقش نہ کرو انہوں نے آکر حسن بصری سے اس کی تشریح دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ پچھلے جملہ کا تو یہ مطلب ہے کہ انگوٹھی پر محمد ﷺ نہ کھدواؤ اور پہلے جملہ کا یہ مطلب ہے کہ مشرکوں سے اپنے کاموں میں مشورہ نہ لو، دیکھو کتاب اللہ میں بھی ہے کہ ایمان دارو اپنے سوا دوسروں کو ہمراز نہ بناؤ لیکن حسن بصری کی یہ تشریح قابل غور ہے حدیث کا ٹھیک مطلب غالباً یہ ہے کہ محمد رسول اللہ عربی خط میں اپنی انگوٹھیوں پر نقش نہ کراؤ، چناچہ اور حدیث میں صاف ممانعت موجود ہے یہ اس لئے تھا کہ حضور ﷺ کی مہر کے ساتھ مشابہت نہ ہو اور اول جملے کا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کی بستی کے پاس نہ رہو اس کے پڑوس سے دور رہو ان کے شہروں سے ہجرت کر جاؤ جیسے ابو داؤد میں ہے کہ مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان کی لڑائی کی آگ کو کیا تم نہیں دیکھتے اور حدیث میں ہے جو مشرکوں سے میل جول کرے یا ان کے ساتھ رہے بسے وہ بھی انہی جیسا ہے پھر فرمایا ان کی باتوں سے بھی ان کی عداوت ٹپک رہی ہے ان کے چہروں سے بھی قیافہ شناس ان کی باطنی خباثتوں کو معلوم کرسکتا ہے پھر جو ان کے دلوں میں تباہ کن شرارتیں ہیں وہ تو تم سے مخفی ہیں لیکن ہم نے تو صاف صاف بیان کردیا ہے عاقل لوگ ایسے مکاروں کی مکاری میں نہیں آتے پھر فرمایا دیکھو کتنی کمزوری کی بات ہے کہ تم ان سے محبت رکھو اور وہ تمہیں نہ چاہیں، تمہارا ایمان کل کتاب پر ہو اور یہ شک شبہ میں ہی پڑے ہوئے ہیں ان کی کتاب کو تم تو مانو لیکن یہ تمہاری کتاب کا انکار کریں تو چاہئے تو یہ تھا کہ تم خود انہیں کڑی نظروں سے دیکھتے لیکن برخلاف اس کے یہ تمہاری عداوت کی آگ میں جل رہے ہیں۔ سامنا ہوجائے تو اپنی ایمانداری کی داستان بیان کرنے بیٹھ جاتے ہیں لیکن جب ذرا الگ ہوتے ہیں تو غیظ و غضب سے جلن اور حسد سے اپنی انگلیاں چباتے ہیں پس مسلمانوں کو بھی ان کی ظاہرداری سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے یہ چاہے جلتے بھنتے رہیں لیکن اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو ترقی دیتا رہے گا مسلمان دن رات ہر حیثیت میں بڑھتے ہی رہیں گے گو وہ مارے غصے کے مرجائیں۔ اللہ ان کے دلوں کے بھیدوں سے بخوبی واقف ہے ان کے تمام منصوبوں پر خاک پڑے گی یہ اپنی شرارتوں میں کامیاب نہ ہوسکیں گے اپنی چاہت کے خلاف مسلمانوں کی دن دوگنی ترقی دیکھیں گے اور آخرت میں بھی انہیں نعمتوں والی جنت حاصل کرتے دیکھیں گے برخلاف ان کے یہ خود یہاں بھی رسوا ہوں گے اور وہاں بھی جہنم کا ایندھن بنیں گے، ان کی شدت عداوت کی یہ کتنی بڑی دلیل ہے کہ جہاں تمہیں کوئی نفع پہنچتا ہے یہ کلیجہ مسوسنے لگے اور اگر (اللہ نہ کرے) تمہیں کوئی نقصان پہنچ گیا تو ان کی باچھیں کھل جاتی ہیں بغلیں بجانے اور خوشیاں منانے لگتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں کی مدد ہوئی یہ کفار پر غالب آئے انہیں غنیمت کا مال ملا یہ تعداد میں بڑھ گے تو وہ جل بجھے اور اگر مسلمانوں پر تنگی آگئی یا دشمنوں میں گھر گئے تو ان کے ہاں عید منائی جانے لگی۔ اب اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ان شریروں کی شرارت اور ان بدبختوں کے مکر سے اگر نجات چاہتے ہو تو صبرو تقویٰ اور توکل کرو اللہ عزوجل خود تمہارے دشمنوں کو گھیر لے گا کسی بھلائی کے حاصل کرنے کسی برائی سے بچنے کی کسی میں طاقت نہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوسکتا جو اس پر توکل کرے اسے وہ کافی ہے۔ اسی مناسبت سے اب جنگ احد کا ذکر شروع ہوتا ہے جس پر مسلمانوں کے صبرو تحمل کا بیان ہے اور جس میں اللہ تعالیٰ کی آزمائش کا پورا نقشہ ہے اور جس میں مومن و منافق کی ظاہری تمیز ہے سنئے ارشاد ہوتا ہے

Source. Tafsir Ibn Kathir, Hafiz Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://quran.com/. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com