John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Aal-i-Imraan

Tafsir Ibn Kathir · The Family of Imraan · 200 ayat · ayat 121–150 · Quran text →

غزوہ احد کی افتاد یہ احد کے واقعہ کا ذکر ہے بعض مفسرین نے اسے جنگ خندق کا قصہ بھی کہا ہے لیکن ٹھیک یہ ہے کہ واقعہ جنگ احد کا ہے جو سن 3 ہجری 11 شوال بروز ہفتہ پیش آیا تھا، جنگ بدر میں مشرکین کو کامل شکست ہوئی تھی انکے سردار موت کے گھاٹ اترے تھے، اب اس کا بدلہ لینے کیلئے مشرکین نے بڑی بھاری تیاری کی تھی وہ تجارتی مال جو بدر والی لڑائی کے موقعہ پر دوسرے راستے سے بچ کر آگیا تھا وہ سب اس لڑائی کیلئے روک رکھا تھا اور چاروں طرف سے لوگوں کو جمع کرکے تین ہزار کا ایک لشکر جرار تیار کیا اور پورے سازو سامان کے ساتھ مدینہ پر چڑھائی کی، ادھر رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کی نماز کے بعد مالک بن عمرو کے جنازے کی نماز پڑھائی جو قبیلہ بنی النجار میں سے تھے پھر لوگوں سے مشورہ کیا کہ ان کی مدافعت کی کیا صورت تمہارے نزدیک بہتر ہے ؟ تو عبداللہ بن ابی نے کہا کہ ہمیں مدینہ سے باہر نہ نکلنا چاہئے اگر وہ آئے اور ٹھہرے تو گویا ہمارے جیل خانہ میں آگئے رکے اور کھڑے رہیں اور اگر مدینہ میں گھسے تو ایک طرف سے ہمارے بہادروں کی تلواریں ہوں گی دوسری جانب تیر اندازوں کے بےپناہ تیر ہوں گے پھر اوپر سے عورتوں اور بچوں کی سنگ باری ہوگی اور اگر یونہی لوٹ گئے تو بربادی اور خسارے کے ساتھ لوٹیں گے لیکن اس کے برخلاف بعض صحابہ جو جنگ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے ان کی رائے تھی کہ مدینہ کے باہر میدان میں جا کر خوب دل کھول کر ان کا مقابلہ کرنا چاہئے، رسول اللہ ﷺ گھر میں تشریف لے گئے اور ہتھیار لگا کر باہر آئے ان صحابہ کو اب خیال ہوا کہ کہیں ہم نے اللہ کے نبی کی خلاف منشاء تو میدان کی لڑائی پر زور نہیں دیا اس لئے یہ کہنے لگے کہ حضور ﷺ اگر یہیں ٹھہر کر لڑنے کا ارادہ ہو تو یونہی کیجئے ہماری جانب سے کوئی اصرار نہیں، آپ نے فرمایا اللہ کے نبی کو لائق نہیں کہ وہ ہتھیار پہن کر اتارے اب تو میں نہ لوٹوں گا جب تک کہ وہ نہ جائے جو اللہ عزوجل کو منظور ہو چنانجہ ایک ہزار کا لشکر لے کر آپ مدینہ شریف سے نکل کھڑے ہوئے، شوط پر پہنچ کر اس منافق عبداللہ بن ابی نے دغا بازی کی اور اپنی تین سو کی جماعت کو لے کر واپس مڑ گیا یہ لوگ کہنے لگے ہم جانتے ہیں کہ لڑائی تو ہونے کی نہیں خواہ مخواہ زحمت کیوں اٹھائیں ؟ آنحضرت ﷺ نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور صرف سات سو صحابہ کرام کو لے کر میدان میں اترے اور حکم دیا کہ جب تک میں نہ کہوں لڑائی شروع نہ کرنا پچاس تیر انداز صحابیوں کو الگ کر کے ان کا امیر حضرت عبداللہ بن جبیر کو بنایا اور ان سے فرما دیا کہ پہاڑی پر چڑھ جاؤ اور اس بات کا خیال رکھو کہ دشمن پیچھے سے حملہ آور نہ ہو دیکھو ہم غالب آجائیں یا (اللہ نہ کرے) مغلوب ہوجائیں تم ہرگز اپنی جگہ سے نہ ہٹنا، یہ انتظامات کر کے خود آپ بھی تیار ہوگئے دوہری زرہ پہنی حضرت مصعب بن عمیر ؓ کو جھنڈا دیا آج چند لڑکے بھی لشکر محمدی میں نظر آتے تھے یہ چھوٹے سپاہی بھی جانبازی کیلئے ہمہ تن مستعد تھے بعض اور بچوں کو حضور ﷺ نے ساتھ لیا تھا انہیں جنگ خندق کے لشکر میں بھرتی کیا گیا جنگ خندق اس کے دو سال بعد ہوئی تھی، قریشی کا لشکر بڑے ٹھاٹھے سے مقابلہ پر آڈٹا یہ تین ہزار سپاہیوں کا گروہ تھا ان کے ساتھ دو سو کو تل گھوڑے تھے جنہیں موقعہ پر کام آنے کیلئے ساتھ رکھا تھا ان کے داہنے حصہ پر خالد بن ولید تھا اور بائیں حصہ پر عکرمہ بن ابو جہل تھا (یہ دونوں سردار بعد میں مسلمان ہوگئے تھے ؓ ان کا جھنڈے بردار قبیلہ بنو عبدالدار تھا، پھر لڑائی شروع ہوئی جس کے تفصیلی واقعات انہی آیتوں کی موقعہ بہ موقعہ تفسیر کے ساتھ آتے رہیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ الغرض اس آیت میں اسی کا بیان ہو رہا ہے کہ حضور ﷺ مدینہ شریف سے نکلے اور لوگوں کو لڑائی کے مواقعہ کی جگہ مقرر کرنے لگے میمنہ میسرہ لشکر کا مقرر کیا اللہ تعالیٰ تمام باتوں کو سننے والا اور سب کے دلوں کے بھید جاننے والا ہے، روایتوں میں یہ آچکا ہے کہحضور ﷺ جمعہ کے دن مدینہ شریف سے لڑائی کیلئے نکلے اور قرآن فرماتا ہے صبح ہی صبح تم لشکریوں کی جگہ مقرر کرتے تھے تو مطلب یہ ہے کہ جمعہ کے دن تو جا کر پڑاؤ ڈال دیا باقی کاروائی ہفتہ کی صبح شروع ہوئی۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں ہمارے بارے میں یعنی بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ تمہارے دو گروہوں بزدلی کا ارادہ کیا تھا گو اس میں ہماری ایک کمزوری کا بیان ہے لیکن ہم اپنے حق میں اس آیت کو بہت بہتر جانتے ہیں کیونکہ اس میں یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اللہ ان دونوں کا ولی ہے پھر فرمایا کہ دیکھو میں نے بدر والے دن بھی تمہیں غالب کیا حالانکہ تم سب ہی کم اور بےسرد سامان تھے، بدر کی لڑائی سن 2 ہجری 17 رمضان بروز جمعہ ہوئی تھی۔ اسی کا نام یوم الفرقان رکھا گیا اس دن اسلام اور اہل اسلام کی عزت ملی شرک برباد ہوا محل شرک ویران ہوا حالانکہ اس دن مسلمان صرف تین سو تیرہ تھے ان کے پاس صرف دو گھوڑے تھے فقط ستر اونٹ تھے باقی سب پیدل تھے ہتھیار بھی اتنے کم تھے کہ گویا نہ تھے اور دشمن کی تعداد اس دن تین گنہ تھی ایک ہزار میں کچھ ہی کم تھے ہر ایک زرہ بکتر لگائے ہوئے ضرورت سے زیادہ وافر ہتھیار عمدہ عمدہ کافی سے زیادہ مالداری گھوڑے نشان زدہ جن کو سونے کے زیور پہنائے گئے تھے اس موقعہ پر اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو عزت اور غلبہ دیا حالات کے بارے میں ظاہر و باطن وحی کی اپنے نبی اور آپ کے ساتھیوں کو سرخرو کیا اور شیطان اور اس کے لشکریوں کو ذلیل و خوار کیا اب اپنے مومن بندوں اور جنتی لشکریوں کو اس آیت میں یہ احسان یاد دلاتا ہے کہ تمہاری تعداد کی کمی اور ظاہری اسباب کی غیر موجودگی کے باوجود تم ہی کو غالب رکھا تاکہ تم معلوم کرلو کہ غلبہ ظاہری اسباب پر موقوف نہیں، اسی لئے دوسری آیت میں صاف فرما دیا کہ جنگ حنین میں تم نے ظاہری اسباب پر نظر ڈالی اور اپنی زیادتی دیکھ کر خوش ہوئے لیکن اس زیادتی تعداد اور اسباب کی موجودگی نے تمہیں کچھ فائدہ نہ دیا، حضرت عیاض اشعری فرماتے ہیں کہ جنگ یرموک میں ہمارے پانچ سردار تھے حضرت ابو عبیدہ، حضرت یزید بن ابو سفیان حضرت ابن حسنہ حضرت خالد بن ولید اور حضرت عیاض اور خلیفتہ المسلمین حضرت عمر ؓ کا حکم تھا کہ لڑائی کے وقت حضرت ابو عبیدہ سردار ہوں گے اس لڑائی میں ہمیں چاروں طرف سے شکست کے آثار نظر آنے لگے تو ہم نے خلیفہ وقت کو خط لکھا کہ ہمیں موت نے گھیر رکھا ہے امداد کیجئے، فاروق کا مکتوب گرامی ہماری گزارش کے جواب میں آیا جس میں تحریر تھا کہ تمہارا طلب امداد کا خط پہنچائیں تمہیں ایک ایسی ذات بتاتا ہوں جو سب سے زیادہ مددگار اور سب سے زیادہ مضبوط لشکر والی ہے وہ ذات اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہے جس نے اپنے بندے اور رسول حضرت محمد ﷺ کی مدد بدر والے دن کی تھی بدری لشکر تو تم سے بہت ہی کم تھا میرا یہ خط پڑھتے ہی جہاد شروع کردو اور اب مجھے کچھ نہ لکھنا نہ کچھ پوچھنا، اس خط سے ہماری جراتیں بڑھ گئیں ہمتیں بلند ہوگئیں پھر ہم نے جم کر لڑنا شروع کیا الحمد اللہ دشمن کو شکست ہوئی اور وہ بھاگے ہم نے بارہ میل تک انکا تعاقب کیا بہت سا مال غنیمت ہمیں ملا جو ہم نے آپس میں بانٹ لیا پھر حضرت ابو عبیدہ کہنے لگے میرے ساتھ دوڑ کون لگائے گا ؟ ایک نوجوان نے کہا اگر آپ ناراض نہ ہوں تو میں حاضر ہوں چناچہ دوڑنے میں وہ آگے نکل گئے میں نے دیکھا ان کی دونوں زلفیں ہوا میں اڑ رہی تھیں اور وہ اس نوجوان کے پیچھے گھوڑا دوڑائے چلے جا رہے تھے، بدر بن نارین ایک شخص تھا اسکے نام سے ایک کنواں مشہور تھا اور اس میدان کا جس میں یہ کنواں تھا یہی نام ہوگیا تھا بدر کی جنگ بھی اسی نام سے مشہور ہوگئی یہ جگہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے پھر فرمایا کہ اللہ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ شکر کی توفیق ملے اور اطاعت گزاری کرسکو۔

غزوہ احد کی افتاد یہ احد کے واقعہ کا ذکر ہے بعض مفسرین نے اسے جنگ خندق کا قصہ بھی کہا ہے لیکن ٹھیک یہ ہے کہ واقعہ جنگ احد کا ہے جو سن 3 ہجری 11 شوال بروز ہفتہ پیش آیا تھا، جنگ بدر میں مشرکین کو کامل شکست ہوئی تھی انکے سردار موت کے گھاٹ اترے تھے، اب اس کا بدلہ لینے کیلئے مشرکین نے بڑی بھاری تیاری کی تھی وہ تجارتی مال جو بدر والی لڑائی کے موقعہ پر دوسرے راستے سے بچ کر آگیا تھا وہ سب اس لڑائی کیلئے روک رکھا تھا اور چاروں طرف سے لوگوں کو جمع کرکے تین ہزار کا ایک لشکر جرار تیار کیا اور پورے سازو سامان کے ساتھ مدینہ پر چڑھائی کی، ادھر رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کی نماز کے بعد مالک بن عمرو کے جنازے کی نماز پڑھائی جو قبیلہ بنی النجار میں سے تھے پھر لوگوں سے مشورہ کیا کہ ان کی مدافعت کی کیا صورت تمہارے نزدیک بہتر ہے ؟ تو عبداللہ بن ابی نے کہا کہ ہمیں مدینہ سے باہر نہ نکلنا چاہئے اگر وہ آئے اور ٹھہرے تو گویا ہمارے جیل خانہ میں آگئے رکے اور کھڑے رہیں اور اگر مدینہ میں گھسے تو ایک طرف سے ہمارے بہادروں کی تلواریں ہوں گی دوسری جانب تیر اندازوں کے بےپناہ تیر ہوں گے پھر اوپر سے عورتوں اور بچوں کی سنگ باری ہوگی اور اگر یونہی لوٹ گئے تو بربادی اور خسارے کے ساتھ لوٹیں گے لیکن اس کے برخلاف بعض صحابہ جو جنگ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے ان کی رائے تھی کہ مدینہ کے باہر میدان میں جا کر خوب دل کھول کر ان کا مقابلہ کرنا چاہئے، رسول اللہ ﷺ گھر میں تشریف لے گئے اور ہتھیار لگا کر باہر آئے ان صحابہ کو اب خیال ہوا کہ کہیں ہم نے اللہ کے نبی کی خلاف منشاء تو میدان کی لڑائی پر زور نہیں دیا اس لئے یہ کہنے لگے کہ حضور ﷺ اگر یہیں ٹھہر کر لڑنے کا ارادہ ہو تو یونہی کیجئے ہماری جانب سے کوئی اصرار نہیں، آپ نے فرمایا اللہ کے نبی کو لائق نہیں کہ وہ ہتھیار پہن کر اتارے اب تو میں نہ لوٹوں گا جب تک کہ وہ نہ جائے جو اللہ عزوجل کو منظور ہو چنانجہ ایک ہزار کا لشکر لے کر آپ مدینہ شریف سے نکل کھڑے ہوئے، شوط پر پہنچ کر اس منافق عبداللہ بن ابی نے دغا بازی کی اور اپنی تین سو کی جماعت کو لے کر واپس مڑ گیا یہ لوگ کہنے لگے ہم جانتے ہیں کہ لڑائی تو ہونے کی نہیں خواہ مخواہ زحمت کیوں اٹھائیں ؟ آنحضرت ﷺ نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور صرف سات سو صحابہ کرام کو لے کر میدان میں اترے اور حکم دیا کہ جب تک میں نہ کہوں لڑائی شروع نہ کرنا پچاس تیر انداز صحابیوں کو الگ کر کے ان کا امیر حضرت عبداللہ بن جبیر کو بنایا اور ان سے فرما دیا کہ پہاڑی پر چڑھ جاؤ اور اس بات کا خیال رکھو کہ دشمن پیچھے سے حملہ آور نہ ہو دیکھو ہم غالب آجائیں یا (اللہ نہ کرے) مغلوب ہوجائیں تم ہرگز اپنی جگہ سے نہ ہٹنا، یہ انتظامات کر کے خود آپ بھی تیار ہوگئے دوہری زرہ پہنی حضرت مصعب بن عمیر ؓ کو جھنڈا دیا آج چند لڑکے بھی لشکر محمدی میں نظر آتے تھے یہ چھوٹے سپاہی بھی جانبازی کیلئے ہمہ تن مستعد تھے بعض اور بچوں کو حضور ﷺ نے ساتھ لیا تھا انہیں جنگ خندق کے لشکر میں بھرتی کیا گیا جنگ خندق اس کے دو سال بعد ہوئی تھی، قریشی کا لشکر بڑے ٹھاٹھے سے مقابلہ پر آڈٹا یہ تین ہزار سپاہیوں کا گروہ تھا ان کے ساتھ دو سو کو تل گھوڑے تھے جنہیں موقعہ پر کام آنے کیلئے ساتھ رکھا تھا ان کے داہنے حصہ پر خالد بن ولید تھا اور بائیں حصہ پر عکرمہ بن ابو جہل تھا (یہ دونوں سردار بعد میں مسلمان ہوگئے تھے ؓ ان کا جھنڈے بردار قبیلہ بنو عبدالدار تھا، پھر لڑائی شروع ہوئی جس کے تفصیلی واقعات انہی آیتوں کی موقعہ بہ موقعہ تفسیر کے ساتھ آتے رہیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ الغرض اس آیت میں اسی کا بیان ہو رہا ہے کہ حضور ﷺ مدینہ شریف سے نکلے اور لوگوں کو لڑائی کے مواقعہ کی جگہ مقرر کرنے لگے میمنہ میسرہ لشکر کا مقرر کیا اللہ تعالیٰ تمام باتوں کو سننے والا اور سب کے دلوں کے بھید جاننے والا ہے، روایتوں میں یہ آچکا ہے کہحضور ﷺ جمعہ کے دن مدینہ شریف سے لڑائی کیلئے نکلے اور قرآن فرماتا ہے صبح ہی صبح تم لشکریوں کی جگہ مقرر کرتے تھے تو مطلب یہ ہے کہ جمعہ کے دن تو جا کر پڑاؤ ڈال دیا باقی کاروائی ہفتہ کی صبح شروع ہوئی۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں ہمارے بارے میں یعنی بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ تمہارے دو گروہوں بزدلی کا ارادہ کیا تھا گو اس میں ہماری ایک کمزوری کا بیان ہے لیکن ہم اپنے حق میں اس آیت کو بہت بہتر جانتے ہیں کیونکہ اس میں یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اللہ ان دونوں کا ولی ہے پھر فرمایا کہ دیکھو میں نے بدر والے دن بھی تمہیں غالب کیا حالانکہ تم سب ہی کم اور بےسرد سامان تھے، بدر کی لڑائی سن 2 ہجری 17 رمضان بروز جمعہ ہوئی تھی۔ اسی کا نام یوم الفرقان رکھا گیا اس دن اسلام اور اہل اسلام کی عزت ملی شرک برباد ہوا محل شرک ویران ہوا حالانکہ اس دن مسلمان صرف تین سو تیرہ تھے ان کے پاس صرف دو گھوڑے تھے فقط ستر اونٹ تھے باقی سب پیدل تھے ہتھیار بھی اتنے کم تھے کہ گویا نہ تھے اور دشمن کی تعداد اس دن تین گنہ تھی ایک ہزار میں کچھ ہی کم تھے ہر ایک زرہ بکتر لگائے ہوئے ضرورت سے زیادہ وافر ہتھیار عمدہ عمدہ کافی سے زیادہ مالداری گھوڑے نشان زدہ جن کو سونے کے زیور پہنائے گئے تھے اس موقعہ پر اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو عزت اور غلبہ دیا حالات کے بارے میں ظاہر و باطن وحی کی اپنے نبی اور آپ کے ساتھیوں کو سرخرو کیا اور شیطان اور اس کے لشکریوں کو ذلیل و خوار کیا اب اپنے مومن بندوں اور جنتی لشکریوں کو اس آیت میں یہ احسان یاد دلاتا ہے کہ تمہاری تعداد کی کمی اور ظاہری اسباب کی غیر موجودگی کے باوجود تم ہی کو غالب رکھا تاکہ تم معلوم کرلو کہ غلبہ ظاہری اسباب پر موقوف نہیں، اسی لئے دوسری آیت میں صاف فرما دیا کہ جنگ حنین میں تم نے ظاہری اسباب پر نظر ڈالی اور اپنی زیادتی دیکھ کر خوش ہوئے لیکن اس زیادتی تعداد اور اسباب کی موجودگی نے تمہیں کچھ فائدہ نہ دیا، حضرت عیاض اشعری فرماتے ہیں کہ جنگ یرموک میں ہمارے پانچ سردار تھے حضرت ابو عبیدہ، حضرت یزید بن ابو سفیان حضرت ابن حسنہ حضرت خالد بن ولید اور حضرت عیاض اور خلیفتہ المسلمین حضرت عمر ؓ کا حکم تھا کہ لڑائی کے وقت حضرت ابو عبیدہ سردار ہوں گے اس لڑائی میں ہمیں چاروں طرف سے شکست کے آثار نظر آنے لگے تو ہم نے خلیفہ وقت کو خط لکھا کہ ہمیں موت نے گھیر رکھا ہے امداد کیجئے، فاروق کا مکتوب گرامی ہماری گزارش کے جواب میں آیا جس میں تحریر تھا کہ تمہارا طلب امداد کا خط پہنچائیں تمہیں ایک ایسی ذات بتاتا ہوں جو سب سے زیادہ مددگار اور سب سے زیادہ مضبوط لشکر والی ہے وہ ذات اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہے جس نے اپنے بندے اور رسول حضرت محمد ﷺ کی مدد بدر والے دن کی تھی بدری لشکر تو تم سے بہت ہی کم تھا میرا یہ خط پڑھتے ہی جہاد شروع کردو اور اب مجھے کچھ نہ لکھنا نہ کچھ پوچھنا، اس خط سے ہماری جراتیں بڑھ گئیں ہمتیں بلند ہوگئیں پھر ہم نے جم کر لڑنا شروع کیا الحمد اللہ دشمن کو شکست ہوئی اور وہ بھاگے ہم نے بارہ میل تک انکا تعاقب کیا بہت سا مال غنیمت ہمیں ملا جو ہم نے آپس میں بانٹ لیا پھر حضرت ابو عبیدہ کہنے لگے میرے ساتھ دوڑ کون لگائے گا ؟ ایک نوجوان نے کہا اگر آپ ناراض نہ ہوں تو میں حاضر ہوں چناچہ دوڑنے میں وہ آگے نکل گئے میں نے دیکھا ان کی دونوں زلفیں ہوا میں اڑ رہی تھیں اور وہ اس نوجوان کے پیچھے گھوڑا دوڑائے چلے جا رہے تھے، بدر بن نارین ایک شخص تھا اسکے نام سے ایک کنواں مشہور تھا اور اس میدان کا جس میں یہ کنواں تھا یہی نام ہوگیا تھا بدر کی جنگ بھی اسی نام سے مشہور ہوگئی یہ جگہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے پھر فرمایا کہ اللہ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ شکر کی توفیق ملے اور اطاعت گزاری کرسکو۔

غزوہ احد کی افتاد یہ احد کے واقعہ کا ذکر ہے بعض مفسرین نے اسے جنگ خندق کا قصہ بھی کہا ہے لیکن ٹھیک یہ ہے کہ واقعہ جنگ احد کا ہے جو سن 3 ہجری 11 شوال بروز ہفتہ پیش آیا تھا، جنگ بدر میں مشرکین کو کامل شکست ہوئی تھی انکے سردار موت کے گھاٹ اترے تھے، اب اس کا بدلہ لینے کیلئے مشرکین نے بڑی بھاری تیاری کی تھی وہ تجارتی مال جو بدر والی لڑائی کے موقعہ پر دوسرے راستے سے بچ کر آگیا تھا وہ سب اس لڑائی کیلئے روک رکھا تھا اور چاروں طرف سے لوگوں کو جمع کرکے تین ہزار کا ایک لشکر جرار تیار کیا اور پورے سازو سامان کے ساتھ مدینہ پر چڑھائی کی، ادھر رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کی نماز کے بعد مالک بن عمرو کے جنازے کی نماز پڑھائی جو قبیلہ بنی النجار میں سے تھے پھر لوگوں سے مشورہ کیا کہ ان کی مدافعت کی کیا صورت تمہارے نزدیک بہتر ہے ؟ تو عبداللہ بن ابی نے کہا کہ ہمیں مدینہ سے باہر نہ نکلنا چاہئے اگر وہ آئے اور ٹھہرے تو گویا ہمارے جیل خانہ میں آگئے رکے اور کھڑے رہیں اور اگر مدینہ میں گھسے تو ایک طرف سے ہمارے بہادروں کی تلواریں ہوں گی دوسری جانب تیر اندازوں کے بےپناہ تیر ہوں گے پھر اوپر سے عورتوں اور بچوں کی سنگ باری ہوگی اور اگر یونہی لوٹ گئے تو بربادی اور خسارے کے ساتھ لوٹیں گے لیکن اس کے برخلاف بعض صحابہ جو جنگ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے ان کی رائے تھی کہ مدینہ کے باہر میدان میں جا کر خوب دل کھول کر ان کا مقابلہ کرنا چاہئے، رسول اللہ ﷺ گھر میں تشریف لے گئے اور ہتھیار لگا کر باہر آئے ان صحابہ کو اب خیال ہوا کہ کہیں ہم نے اللہ کے نبی کی خلاف منشاء تو میدان کی لڑائی پر زور نہیں دیا اس لئے یہ کہنے لگے کہ حضور ﷺ اگر یہیں ٹھہر کر لڑنے کا ارادہ ہو تو یونہی کیجئے ہماری جانب سے کوئی اصرار نہیں، آپ نے فرمایا اللہ کے نبی کو لائق نہیں کہ وہ ہتھیار پہن کر اتارے اب تو میں نہ لوٹوں گا جب تک کہ وہ نہ جائے جو اللہ عزوجل کو منظور ہو چنانجہ ایک ہزار کا لشکر لے کر آپ مدینہ شریف سے نکل کھڑے ہوئے، شوط پر پہنچ کر اس منافق عبداللہ بن ابی نے دغا بازی کی اور اپنی تین سو کی جماعت کو لے کر واپس مڑ گیا یہ لوگ کہنے لگے ہم جانتے ہیں کہ لڑائی تو ہونے کی نہیں خواہ مخواہ زحمت کیوں اٹھائیں ؟ آنحضرت ﷺ نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور صرف سات سو صحابہ کرام کو لے کر میدان میں اترے اور حکم دیا کہ جب تک میں نہ کہوں لڑائی شروع نہ کرنا پچاس تیر انداز صحابیوں کو الگ کر کے ان کا امیر حضرت عبداللہ بن جبیر کو بنایا اور ان سے فرما دیا کہ پہاڑی پر چڑھ جاؤ اور اس بات کا خیال رکھو کہ دشمن پیچھے سے حملہ آور نہ ہو دیکھو ہم غالب آجائیں یا (اللہ نہ کرے) مغلوب ہوجائیں تم ہرگز اپنی جگہ سے نہ ہٹنا، یہ انتظامات کر کے خود آپ بھی تیار ہوگئے دوہری زرہ پہنی حضرت مصعب بن عمیر ؓ کو جھنڈا دیا آج چند لڑکے بھی لشکر محمدی میں نظر آتے تھے یہ چھوٹے سپاہی بھی جانبازی کیلئے ہمہ تن مستعد تھے بعض اور بچوں کو حضور ﷺ نے ساتھ لیا تھا انہیں جنگ خندق کے لشکر میں بھرتی کیا گیا جنگ خندق اس کے دو سال بعد ہوئی تھی، قریشی کا لشکر بڑے ٹھاٹھے سے مقابلہ پر آڈٹا یہ تین ہزار سپاہیوں کا گروہ تھا ان کے ساتھ دو سو کو تل گھوڑے تھے جنہیں موقعہ پر کام آنے کیلئے ساتھ رکھا تھا ان کے داہنے حصہ پر خالد بن ولید تھا اور بائیں حصہ پر عکرمہ بن ابو جہل تھا (یہ دونوں سردار بعد میں مسلمان ہوگئے تھے ؓ ان کا جھنڈے بردار قبیلہ بنو عبدالدار تھا، پھر لڑائی شروع ہوئی جس کے تفصیلی واقعات انہی آیتوں کی موقعہ بہ موقعہ تفسیر کے ساتھ آتے رہیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ الغرض اس آیت میں اسی کا بیان ہو رہا ہے کہ حضور ﷺ مدینہ شریف سے نکلے اور لوگوں کو لڑائی کے مواقعہ کی جگہ مقرر کرنے لگے میمنہ میسرہ لشکر کا مقرر کیا اللہ تعالیٰ تمام باتوں کو سننے والا اور سب کے دلوں کے بھید جاننے والا ہے، روایتوں میں یہ آچکا ہے کہحضور ﷺ جمعہ کے دن مدینہ شریف سے لڑائی کیلئے نکلے اور قرآن فرماتا ہے صبح ہی صبح تم لشکریوں کی جگہ مقرر کرتے تھے تو مطلب یہ ہے کہ جمعہ کے دن تو جا کر پڑاؤ ڈال دیا باقی کاروائی ہفتہ کی صبح شروع ہوئی۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں ہمارے بارے میں یعنی بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ تمہارے دو گروہوں بزدلی کا ارادہ کیا تھا گو اس میں ہماری ایک کمزوری کا بیان ہے لیکن ہم اپنے حق میں اس آیت کو بہت بہتر جانتے ہیں کیونکہ اس میں یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اللہ ان دونوں کا ولی ہے پھر فرمایا کہ دیکھو میں نے بدر والے دن بھی تمہیں غالب کیا حالانکہ تم سب ہی کم اور بےسرد سامان تھے، بدر کی لڑائی سن 2 ہجری 17 رمضان بروز جمعہ ہوئی تھی۔ اسی کا نام یوم الفرقان رکھا گیا اس دن اسلام اور اہل اسلام کی عزت ملی شرک برباد ہوا محل شرک ویران ہوا حالانکہ اس دن مسلمان صرف تین سو تیرہ تھے ان کے پاس صرف دو گھوڑے تھے فقط ستر اونٹ تھے باقی سب پیدل تھے ہتھیار بھی اتنے کم تھے کہ گویا نہ تھے اور دشمن کی تعداد اس دن تین گنہ تھی ایک ہزار میں کچھ ہی کم تھے ہر ایک زرہ بکتر لگائے ہوئے ضرورت سے زیادہ وافر ہتھیار عمدہ عمدہ کافی سے زیادہ مالداری گھوڑے نشان زدہ جن کو سونے کے زیور پہنائے گئے تھے اس موقعہ پر اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو عزت اور غلبہ دیا حالات کے بارے میں ظاہر و باطن وحی کی اپنے نبی اور آپ کے ساتھیوں کو سرخرو کیا اور شیطان اور اس کے لشکریوں کو ذلیل و خوار کیا اب اپنے مومن بندوں اور جنتی لشکریوں کو اس آیت میں یہ احسان یاد دلاتا ہے کہ تمہاری تعداد کی کمی اور ظاہری اسباب کی غیر موجودگی کے باوجود تم ہی کو غالب رکھا تاکہ تم معلوم کرلو کہ غلبہ ظاہری اسباب پر موقوف نہیں، اسی لئے دوسری آیت میں صاف فرما دیا کہ جنگ حنین میں تم نے ظاہری اسباب پر نظر ڈالی اور اپنی زیادتی دیکھ کر خوش ہوئے لیکن اس زیادتی تعداد اور اسباب کی موجودگی نے تمہیں کچھ فائدہ نہ دیا، حضرت عیاض اشعری فرماتے ہیں کہ جنگ یرموک میں ہمارے پانچ سردار تھے حضرت ابو عبیدہ، حضرت یزید بن ابو سفیان حضرت ابن حسنہ حضرت خالد بن ولید اور حضرت عیاض اور خلیفتہ المسلمین حضرت عمر ؓ کا حکم تھا کہ لڑائی کے وقت حضرت ابو عبیدہ سردار ہوں گے اس لڑائی میں ہمیں چاروں طرف سے شکست کے آثار نظر آنے لگے تو ہم نے خلیفہ وقت کو خط لکھا کہ ہمیں موت نے گھیر رکھا ہے امداد کیجئے، فاروق کا مکتوب گرامی ہماری گزارش کے جواب میں آیا جس میں تحریر تھا کہ تمہارا طلب امداد کا خط پہنچائیں تمہیں ایک ایسی ذات بتاتا ہوں جو سب سے زیادہ مددگار اور سب سے زیادہ مضبوط لشکر والی ہے وہ ذات اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہے جس نے اپنے بندے اور رسول حضرت محمد ﷺ کی مدد بدر والے دن کی تھی بدری لشکر تو تم سے بہت ہی کم تھا میرا یہ خط پڑھتے ہی جہاد شروع کردو اور اب مجھے کچھ نہ لکھنا نہ کچھ پوچھنا، اس خط سے ہماری جراتیں بڑھ گئیں ہمتیں بلند ہوگئیں پھر ہم نے جم کر لڑنا شروع کیا الحمد اللہ دشمن کو شکست ہوئی اور وہ بھاگے ہم نے بارہ میل تک انکا تعاقب کیا بہت سا مال غنیمت ہمیں ملا جو ہم نے آپس میں بانٹ لیا پھر حضرت ابو عبیدہ کہنے لگے میرے ساتھ دوڑ کون لگائے گا ؟ ایک نوجوان نے کہا اگر آپ ناراض نہ ہوں تو میں حاضر ہوں چناچہ دوڑنے میں وہ آگے نکل گئے میں نے دیکھا ان کی دونوں زلفیں ہوا میں اڑ رہی تھیں اور وہ اس نوجوان کے پیچھے گھوڑا دوڑائے چلے جا رہے تھے، بدر بن نارین ایک شخص تھا اسکے نام سے ایک کنواں مشہور تھا اور اس میدان کا جس میں یہ کنواں تھا یہی نام ہوگیا تھا بدر کی جنگ بھی اسی نام سے مشہور ہوگئی یہ جگہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے پھر فرمایا کہ اللہ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ شکر کی توفیق ملے اور اطاعت گزاری کرسکو۔

غزوہ بدر اور تائید الٰہی آنحضرت ﷺ کا یہ تسلیاں دینا بعض تو کہتے ہیں بدر والے دن تھا حسن بصری عامر شعبی ربیع بن انس وغیرہ کا یہی قول ہے ابن جریر کا بھی اسی سے اتفاق ہے عامر شعبی کا قول ہے کہ مسلمانوں کو یہ خبر ملی تھی کہ کرز بن جابر مشرکوں کی امداد میں آئے گا اس پر اس امداد کا وعدہ ہوا تھا لیکن نہ وہ نہیں آیا اور نہ ہی یہ گئے ربیع بن انس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کیلئے پہلے تو ایک ہزار فرشتے بھیجے پھر تین ہزار ہوگئے پھر پانچ ہزار، یہاں اس آیت میں تین ہزار اور پانچ ہزار سے مدد کرنے کا وعدہ ہے اور بدر کے واقعہ کے بیان کے وقت ایک ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ ہے۔ فرمایا آیت (اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ) 8۔ الانفال :9) اور تطبیق دونوں آیتوں میں یہی ہے کیونکہ مردفین کا لفظ موجود ہے پس پہلے ایک ہزار اترے پھر ان کے بعد تین ہزار پورے ہوئے آخر پانچ ہزار ہوگئے، بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ وعدہ جنگ بدر کے لئے تھا نہ کہ جنگ احد کیلئے، بعض کہتے ہیں جنگ احد کے موقعہ پر وعدہ ہوا تھا مجاہد عکرمہ ضحاک زہری موسیٰ بن عقبہ وغیرہ کا یہی قول ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ چونکہ مسلمان میدان چھوڑ کر ہٹ گئے اس لئے یہ فرشتے نازل نہ ہوئے، کیونکہ آیت (وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُھُمْ شَـيْـــًٔـا) 3۔ آل عمران :120) ساتھ ہی فرمایا تھا یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کرو فور کے معنی وجہ اور غضب کے ہیں مسومین کے معنی علامت والے، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں فرشتوں کی نشانی بدر والے دن سفید رنگ کے لباس کی تھی اور ان کے گھوڑوں کی نشانی ماتھے کی سفیدی تھی، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ان کی نشانی سرخ تھی، حضرت مجاہد فرماتے ہیں گردن کے بالوں اور دم کا نشان تھا اور یہی نشان آپ کے لشکریوں کا تھا یعنی صوف کا۔ مکحول کہتے ہیں فرشتوں کی نشانی ان کی پگڑیاں تھیں جو سیاہ رنگ کے عمامے تھے اور حنین والے دن سرخ رنگ عمامے تھے، ابن عباس فرماتے ہیں بدر کے علاوہ فرشتے کبھی جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور سفید رنگ عماموں کی علامت تھی یہ صرف مدد کیلئے اور تعداد بڑھانے کیلئے تھے نہ کہ لڑائی کیلئے، یہ بھی مروی ہے کہ یہ فرشتوں کا نازل کرنا اور تمہیں اس کی خبر دینا صرف تمہاری خوشی، دلجوئی اور اطمینان کیلئے ہے ورنہ اللہ کو قدرت ہے کہ ان کو اتارے بغیر بلکہ بغیر تمہارے لڑے بھی تمہیں غالب کر دے مدد اسی کی طرف سے ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَانْتَـصَرَ مِنْهُمْ وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُمْ بِبَعْـضٍ) 47۔ محمد :4) اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ ہر ایک کو آزما رہا ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو قتل کئے جائیں ان کے اعمال اکارت نہیں ہوتے اللہ انہیں راہ دکھائے گا ان کے اعمال سنوار دے گا اور انہیں جنت میں لے جائے گا جس کی تعریف وہ کرچکا ہے، وہ عزت والا ہے اور اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے۔ یہ جہاد کا حکم بھی طرح طرح کی حکمتوں پر مبنی ہے اس سے کفار ہلاک ہوں گے یا ذلیل ہوں گے یا نامراد واپس ہوجائیں گے۔ اس کے بعد بیان ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت کے کل امور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اے نبی ﷺ تمہیں کسی امر کا اختیار نہیں جیسے فرمایا آیت (فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ) 13۔ الرعد :40) تمہارا ذمہ صرف تبلیغ ہے حساب تو تمہارے ذمہ ہے اور جگہ ہے آیت (لیس علیک ھدھم) الخ، ان کی ہدایت تمہارے ذمہ نہیں اللہ جسے چاہے ہدایت دے اور آیت (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ) 28۔ القصص :56) تو جسے چاہے ہدایت نہیں کرسکتا بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے، پس میرے بندوں میں تجھے کوئی اختیار نہیں جو حکم پہنچے اسے اوروں کو پہنچا دے تیرے ذمہ یہی ہے ممکن ہے اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے اور برائی کے بعد وہ بھلائی کرنے لگیں اور اللہ رحیم ان کی توبہ قبول فرما لے یا ممکن ہے کہ انہیں ان کے کفرو گناہ کی بناء پر عذاب کرے تو یہ ظالم اس کے بھی مستحق ہیں، صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز میں جب دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے اور دعا (سمع اللہ لمن حمدہ ربناولک الحمد) کہہ لیتے تو فار پر بددعا کرتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت کر اس کے بارے میں یہ آیت اتری (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :128) نازل ہوئی مسند احمد میں ان کافروں کے نام بھی آئے ہیں مثلاً حارث بن ہشام سہیل بن عمرو صفوان بن امیہ اور اسی میں ہے کہ بالآخر ان کو ہدایت نصیب ہوئی اور یہ مسلمان ہوگئے، ایک روایت میں ہے کہ چار آدمیوں پر یہ بد دعا تھی جس سے روک دیئے گئے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضور ﷺ جب کسی پر بد دعا کرنا یا کسی کے حق میں نیک دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد سمع اللہ اور ربنا پڑھ کر دعا مانگتے کبھی کہتے اے اللہ ولید بن ولید سلمہ بن ہشام عیاش بن ابو ربیعہ اور کمزور مومنوں کو کفار سے نجات دے اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ اور اپنا عذاب نازل فرما اور ان پر ایسی قحط سالی بھیج جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں تھی یہ دعا با آواز بلند ہوا کرتی تھی اور بعض مرتبہ صبح کی نماز کے قنوت میں یوں بھی کہتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت بھیج اور عرب کے بعض قبیلوں کے نام لیتے تھے اور روایت میں ہے کہ جنگ احد میں جب آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے چہرہ زخمی ہوا خون بہنے لگا تو زبان سے نکل کیا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ یہ کیا حالانکہ نبی ﷺ اللہ خالق کل کی طرف سے انہیں بلاتا تھا اس وقت یہ آیت (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :128) نازل ہوئی، آپ اس غزوے میں ایک گڑھ میں گرپڑے تھے اور خون بہت نکل گیا تھا کچھ تو اس ضعف کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھے اٹھ نہ سکے حضرت حذیفہ کے مولیٰ حضرت سالم ؓ پہنچے اور چہرے پر سے خون پونچھا جب افاقہ ہوا تو آپ نے یہ فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ہے سب اس کے غلام ہیں جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے متصرف وہی ہے جو چاہے حکم کرے کوئی اس پر پرشس نہیں کرسکتا وہ غفور اور رحیم ہے۔

غزوہ بدر اور تائید الٰہی آنحضرت ﷺ کا یہ تسلیاں دینا بعض تو کہتے ہیں بدر والے دن تھا حسن بصری عامر شعبی ربیع بن انس وغیرہ کا یہی قول ہے ابن جریر کا بھی اسی سے اتفاق ہے عامر شعبی کا قول ہے کہ مسلمانوں کو یہ خبر ملی تھی کہ کرز بن جابر مشرکوں کی امداد میں آئے گا اس پر اس امداد کا وعدہ ہوا تھا لیکن نہ وہ نہیں آیا اور نہ ہی یہ گئے ربیع بن انس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کیلئے پہلے تو ایک ہزار فرشتے بھیجے پھر تین ہزار ہوگئے پھر پانچ ہزار، یہاں اس آیت میں تین ہزار اور پانچ ہزار سے مدد کرنے کا وعدہ ہے اور بدر کے واقعہ کے بیان کے وقت ایک ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ ہے۔ فرمایا آیت (اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ) 8۔ الانفال :9) اور تطبیق دونوں آیتوں میں یہی ہے کیونکہ مردفین کا لفظ موجود ہے پس پہلے ایک ہزار اترے پھر ان کے بعد تین ہزار پورے ہوئے آخر پانچ ہزار ہوگئے، بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ وعدہ جنگ بدر کے لئے تھا نہ کہ جنگ احد کیلئے، بعض کہتے ہیں جنگ احد کے موقعہ پر وعدہ ہوا تھا مجاہد عکرمہ ضحاک زہری موسیٰ بن عقبہ وغیرہ کا یہی قول ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ چونکہ مسلمان میدان چھوڑ کر ہٹ گئے اس لئے یہ فرشتے نازل نہ ہوئے، کیونکہ آیت (وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُھُمْ شَـيْـــًٔـا) 3۔ آل عمران :120) ساتھ ہی فرمایا تھا یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کرو فور کے معنی وجہ اور غضب کے ہیں مسومین کے معنی علامت والے، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں فرشتوں کی نشانی بدر والے دن سفید رنگ کے لباس کی تھی اور ان کے گھوڑوں کی نشانی ماتھے کی سفیدی تھی، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ان کی نشانی سرخ تھی، حضرت مجاہد فرماتے ہیں گردن کے بالوں اور دم کا نشان تھا اور یہی نشان آپ کے لشکریوں کا تھا یعنی صوف کا۔ مکحول کہتے ہیں فرشتوں کی نشانی ان کی پگڑیاں تھیں جو سیاہ رنگ کے عمامے تھے اور حنین والے دن سرخ رنگ عمامے تھے، ابن عباس فرماتے ہیں بدر کے علاوہ فرشتے کبھی جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور سفید رنگ عماموں کی علامت تھی یہ صرف مدد کیلئے اور تعداد بڑھانے کیلئے تھے نہ کہ لڑائی کیلئے، یہ بھی مروی ہے کہ یہ فرشتوں کا نازل کرنا اور تمہیں اس کی خبر دینا صرف تمہاری خوشی، دلجوئی اور اطمینان کیلئے ہے ورنہ اللہ کو قدرت ہے کہ ان کو اتارے بغیر بلکہ بغیر تمہارے لڑے بھی تمہیں غالب کر دے مدد اسی کی طرف سے ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَانْتَـصَرَ مِنْهُمْ وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُمْ بِبَعْـضٍ) 47۔ محمد :4) اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ ہر ایک کو آزما رہا ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو قتل کئے جائیں ان کے اعمال اکارت نہیں ہوتے اللہ انہیں راہ دکھائے گا ان کے اعمال سنوار دے گا اور انہیں جنت میں لے جائے گا جس کی تعریف وہ کرچکا ہے، وہ عزت والا ہے اور اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے۔ یہ جہاد کا حکم بھی طرح طرح کی حکمتوں پر مبنی ہے اس سے کفار ہلاک ہوں گے یا ذلیل ہوں گے یا نامراد واپس ہوجائیں گے۔ اس کے بعد بیان ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت کے کل امور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اے نبی ﷺ تمہیں کسی امر کا اختیار نہیں جیسے فرمایا آیت (فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ) 13۔ الرعد :40) تمہارا ذمہ صرف تبلیغ ہے حساب تو تمہارے ذمہ ہے اور جگہ ہے آیت (لیس علیک ھدھم) الخ، ان کی ہدایت تمہارے ذمہ نہیں اللہ جسے چاہے ہدایت دے اور آیت (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ) 28۔ القصص :56) تو جسے چاہے ہدایت نہیں کرسکتا بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے، پس میرے بندوں میں تجھے کوئی اختیار نہیں جو حکم پہنچے اسے اوروں کو پہنچا دے تیرے ذمہ یہی ہے ممکن ہے اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے اور برائی کے بعد وہ بھلائی کرنے لگیں اور اللہ رحیم ان کی توبہ قبول فرما لے یا ممکن ہے کہ انہیں ان کے کفرو گناہ کی بناء پر عذاب کرے تو یہ ظالم اس کے بھی مستحق ہیں، صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز میں جب دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے اور دعا (سمع اللہ لمن حمدہ ربناولک الحمد) کہہ لیتے تو فار پر بددعا کرتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت کر اس کے بارے میں یہ آیت اتری (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :128) نازل ہوئی مسند احمد میں ان کافروں کے نام بھی آئے ہیں مثلاً حارث بن ہشام سہیل بن عمرو صفوان بن امیہ اور اسی میں ہے کہ بالآخر ان کو ہدایت نصیب ہوئی اور یہ مسلمان ہوگئے، ایک روایت میں ہے کہ چار آدمیوں پر یہ بد دعا تھی جس سے روک دیئے گئے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضور ﷺ جب کسی پر بد دعا کرنا یا کسی کے حق میں نیک دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد سمع اللہ اور ربنا پڑھ کر دعا مانگتے کبھی کہتے اے اللہ ولید بن ولید سلمہ بن ہشام عیاش بن ابو ربیعہ اور کمزور مومنوں کو کفار سے نجات دے اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ اور اپنا عذاب نازل فرما اور ان پر ایسی قحط سالی بھیج جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں تھی یہ دعا با آواز بلند ہوا کرتی تھی اور بعض مرتبہ صبح کی نماز کے قنوت میں یوں بھی کہتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت بھیج اور عرب کے بعض قبیلوں کے نام لیتے تھے اور روایت میں ہے کہ جنگ احد میں جب آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے چہرہ زخمی ہوا خون بہنے لگا تو زبان سے نکل کیا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ یہ کیا حالانکہ نبی ﷺ اللہ خالق کل کی طرف سے انہیں بلاتا تھا اس وقت یہ آیت (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :128) نازل ہوئی، آپ اس غزوے میں ایک گڑھ میں گرپڑے تھے اور خون بہت نکل گیا تھا کچھ تو اس ضعف کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھے اٹھ نہ سکے حضرت حذیفہ کے مولیٰ حضرت سالم ؓ پہنچے اور چہرے پر سے خون پونچھا جب افاقہ ہوا تو آپ نے یہ فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ہے سب اس کے غلام ہیں جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے متصرف وہی ہے جو چاہے حکم کرے کوئی اس پر پرشس نہیں کرسکتا وہ غفور اور رحیم ہے۔

غزوہ بدر اور تائید الٰہی آنحضرت ﷺ کا یہ تسلیاں دینا بعض تو کہتے ہیں بدر والے دن تھا حسن بصری عامر شعبی ربیع بن انس وغیرہ کا یہی قول ہے ابن جریر کا بھی اسی سے اتفاق ہے عامر شعبی کا قول ہے کہ مسلمانوں کو یہ خبر ملی تھی کہ کرز بن جابر مشرکوں کی امداد میں آئے گا اس پر اس امداد کا وعدہ ہوا تھا لیکن نہ وہ نہیں آیا اور نہ ہی یہ گئے ربیع بن انس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کیلئے پہلے تو ایک ہزار فرشتے بھیجے پھر تین ہزار ہوگئے پھر پانچ ہزار، یہاں اس آیت میں تین ہزار اور پانچ ہزار سے مدد کرنے کا وعدہ ہے اور بدر کے واقعہ کے بیان کے وقت ایک ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ ہے۔ فرمایا آیت (اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ) 8۔ الانفال :9) اور تطبیق دونوں آیتوں میں یہی ہے کیونکہ مردفین کا لفظ موجود ہے پس پہلے ایک ہزار اترے پھر ان کے بعد تین ہزار پورے ہوئے آخر پانچ ہزار ہوگئے، بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ وعدہ جنگ بدر کے لئے تھا نہ کہ جنگ احد کیلئے، بعض کہتے ہیں جنگ احد کے موقعہ پر وعدہ ہوا تھا مجاہد عکرمہ ضحاک زہری موسیٰ بن عقبہ وغیرہ کا یہی قول ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ چونکہ مسلمان میدان چھوڑ کر ہٹ گئے اس لئے یہ فرشتے نازل نہ ہوئے، کیونکہ آیت (وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُھُمْ شَـيْـــًٔـا) 3۔ آل عمران :120) ساتھ ہی فرمایا تھا یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کرو فور کے معنی وجہ اور غضب کے ہیں مسومین کے معنی علامت والے، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں فرشتوں کی نشانی بدر والے دن سفید رنگ کے لباس کی تھی اور ان کے گھوڑوں کی نشانی ماتھے کی سفیدی تھی، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ان کی نشانی سرخ تھی، حضرت مجاہد فرماتے ہیں گردن کے بالوں اور دم کا نشان تھا اور یہی نشان آپ کے لشکریوں کا تھا یعنی صوف کا۔ مکحول کہتے ہیں فرشتوں کی نشانی ان کی پگڑیاں تھیں جو سیاہ رنگ کے عمامے تھے اور حنین والے دن سرخ رنگ عمامے تھے، ابن عباس فرماتے ہیں بدر کے علاوہ فرشتے کبھی جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور سفید رنگ عماموں کی علامت تھی یہ صرف مدد کیلئے اور تعداد بڑھانے کیلئے تھے نہ کہ لڑائی کیلئے، یہ بھی مروی ہے کہ یہ فرشتوں کا نازل کرنا اور تمہیں اس کی خبر دینا صرف تمہاری خوشی، دلجوئی اور اطمینان کیلئے ہے ورنہ اللہ کو قدرت ہے کہ ان کو اتارے بغیر بلکہ بغیر تمہارے لڑے بھی تمہیں غالب کر دے مدد اسی کی طرف سے ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَانْتَـصَرَ مِنْهُمْ وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُمْ بِبَعْـضٍ) 47۔ محمد :4) اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ ہر ایک کو آزما رہا ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو قتل کئے جائیں ان کے اعمال اکارت نہیں ہوتے اللہ انہیں راہ دکھائے گا ان کے اعمال سنوار دے گا اور انہیں جنت میں لے جائے گا جس کی تعریف وہ کرچکا ہے، وہ عزت والا ہے اور اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے۔ یہ جہاد کا حکم بھی طرح طرح کی حکمتوں پر مبنی ہے اس سے کفار ہلاک ہوں گے یا ذلیل ہوں گے یا نامراد واپس ہوجائیں گے۔ اس کے بعد بیان ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت کے کل امور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اے نبی ﷺ تمہیں کسی امر کا اختیار نہیں جیسے فرمایا آیت (فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ) 13۔ الرعد :40) تمہارا ذمہ صرف تبلیغ ہے حساب تو تمہارے ذمہ ہے اور جگہ ہے آیت (لیس علیک ھدھم) الخ، ان کی ہدایت تمہارے ذمہ نہیں اللہ جسے چاہے ہدایت دے اور آیت (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ) 28۔ القصص :56) تو جسے چاہے ہدایت نہیں کرسکتا بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے، پس میرے بندوں میں تجھے کوئی اختیار نہیں جو حکم پہنچے اسے اوروں کو پہنچا دے تیرے ذمہ یہی ہے ممکن ہے اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے اور برائی کے بعد وہ بھلائی کرنے لگیں اور اللہ رحیم ان کی توبہ قبول فرما لے یا ممکن ہے کہ انہیں ان کے کفرو گناہ کی بناء پر عذاب کرے تو یہ ظالم اس کے بھی مستحق ہیں، صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز میں جب دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے اور دعا (سمع اللہ لمن حمدہ ربناولک الحمد) کہہ لیتے تو فار پر بددعا کرتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت کر اس کے بارے میں یہ آیت اتری (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :128) نازل ہوئی مسند احمد میں ان کافروں کے نام بھی آئے ہیں مثلاً حارث بن ہشام سہیل بن عمرو صفوان بن امیہ اور اسی میں ہے کہ بالآخر ان کو ہدایت نصیب ہوئی اور یہ مسلمان ہوگئے، ایک روایت میں ہے کہ چار آدمیوں پر یہ بد دعا تھی جس سے روک دیئے گئے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضور ﷺ جب کسی پر بد دعا کرنا یا کسی کے حق میں نیک دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد سمع اللہ اور ربنا پڑھ کر دعا مانگتے کبھی کہتے اے اللہ ولید بن ولید سلمہ بن ہشام عیاش بن ابو ربیعہ اور کمزور مومنوں کو کفار سے نجات دے اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ اور اپنا عذاب نازل فرما اور ان پر ایسی قحط سالی بھیج جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں تھی یہ دعا با آواز بلند ہوا کرتی تھی اور بعض مرتبہ صبح کی نماز کے قنوت میں یوں بھی کہتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت بھیج اور عرب کے بعض قبیلوں کے نام لیتے تھے اور روایت میں ہے کہ جنگ احد میں جب آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے چہرہ زخمی ہوا خون بہنے لگا تو زبان سے نکل کیا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ یہ کیا حالانکہ نبی ﷺ اللہ خالق کل کی طرف سے انہیں بلاتا تھا اس وقت یہ آیت (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :128) نازل ہوئی، آپ اس غزوے میں ایک گڑھ میں گرپڑے تھے اور خون بہت نکل گیا تھا کچھ تو اس ضعف کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھے اٹھ نہ سکے حضرت حذیفہ کے مولیٰ حضرت سالم ؓ پہنچے اور چہرے پر سے خون پونچھا جب افاقہ ہوا تو آپ نے یہ فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ہے سب اس کے غلام ہیں جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے متصرف وہی ہے جو چاہے حکم کرے کوئی اس پر پرشس نہیں کرسکتا وہ غفور اور رحیم ہے۔

غزوہ بدر اور تائید الٰہی آنحضرت ﷺ کا یہ تسلیاں دینا بعض تو کہتے ہیں بدر والے دن تھا حسن بصری عامر شعبی ربیع بن انس وغیرہ کا یہی قول ہے ابن جریر کا بھی اسی سے اتفاق ہے عامر شعبی کا قول ہے کہ مسلمانوں کو یہ خبر ملی تھی کہ کرز بن جابر مشرکوں کی امداد میں آئے گا اس پر اس امداد کا وعدہ ہوا تھا لیکن نہ وہ نہیں آیا اور نہ ہی یہ گئے ربیع بن انس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کیلئے پہلے تو ایک ہزار فرشتے بھیجے پھر تین ہزار ہوگئے پھر پانچ ہزار، یہاں اس آیت میں تین ہزار اور پانچ ہزار سے مدد کرنے کا وعدہ ہے اور بدر کے واقعہ کے بیان کے وقت ایک ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ ہے۔ فرمایا آیت (اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ) 8۔ الانفال :9) اور تطبیق دونوں آیتوں میں یہی ہے کیونکہ مردفین کا لفظ موجود ہے پس پہلے ایک ہزار اترے پھر ان کے بعد تین ہزار پورے ہوئے آخر پانچ ہزار ہوگئے، بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ وعدہ جنگ بدر کے لئے تھا نہ کہ جنگ احد کیلئے، بعض کہتے ہیں جنگ احد کے موقعہ پر وعدہ ہوا تھا مجاہد عکرمہ ضحاک زہری موسیٰ بن عقبہ وغیرہ کا یہی قول ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ چونکہ مسلمان میدان چھوڑ کر ہٹ گئے اس لئے یہ فرشتے نازل نہ ہوئے، کیونکہ آیت (وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُھُمْ شَـيْـــًٔـا) 3۔ آل عمران :120) ساتھ ہی فرمایا تھا یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کرو فور کے معنی وجہ اور غضب کے ہیں مسومین کے معنی علامت والے، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں فرشتوں کی نشانی بدر والے دن سفید رنگ کے لباس کی تھی اور ان کے گھوڑوں کی نشانی ماتھے کی سفیدی تھی، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ان کی نشانی سرخ تھی، حضرت مجاہد فرماتے ہیں گردن کے بالوں اور دم کا نشان تھا اور یہی نشان آپ کے لشکریوں کا تھا یعنی صوف کا۔ مکحول کہتے ہیں فرشتوں کی نشانی ان کی پگڑیاں تھیں جو سیاہ رنگ کے عمامے تھے اور حنین والے دن سرخ رنگ عمامے تھے، ابن عباس فرماتے ہیں بدر کے علاوہ فرشتے کبھی جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور سفید رنگ عماموں کی علامت تھی یہ صرف مدد کیلئے اور تعداد بڑھانے کیلئے تھے نہ کہ لڑائی کیلئے، یہ بھی مروی ہے کہ یہ فرشتوں کا نازل کرنا اور تمہیں اس کی خبر دینا صرف تمہاری خوشی، دلجوئی اور اطمینان کیلئے ہے ورنہ اللہ کو قدرت ہے کہ ان کو اتارے بغیر بلکہ بغیر تمہارے لڑے بھی تمہیں غالب کر دے مدد اسی کی طرف سے ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَانْتَـصَرَ مِنْهُمْ وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُمْ بِبَعْـضٍ) 47۔ محمد :4) اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ ہر ایک کو آزما رہا ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو قتل کئے جائیں ان کے اعمال اکارت نہیں ہوتے اللہ انہیں راہ دکھائے گا ان کے اعمال سنوار دے گا اور انہیں جنت میں لے جائے گا جس کی تعریف وہ کرچکا ہے، وہ عزت والا ہے اور اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے۔ یہ جہاد کا حکم بھی طرح طرح کی حکمتوں پر مبنی ہے اس سے کفار ہلاک ہوں گے یا ذلیل ہوں گے یا نامراد واپس ہوجائیں گے۔ اس کے بعد بیان ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت کے کل امور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اے نبی ﷺ تمہیں کسی امر کا اختیار نہیں جیسے فرمایا آیت (فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ) 13۔ الرعد :40) تمہارا ذمہ صرف تبلیغ ہے حساب تو تمہارے ذمہ ہے اور جگہ ہے آیت (لیس علیک ھدھم) الخ، ان کی ہدایت تمہارے ذمہ نہیں اللہ جسے چاہے ہدایت دے اور آیت (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ) 28۔ القصص :56) تو جسے چاہے ہدایت نہیں کرسکتا بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے، پس میرے بندوں میں تجھے کوئی اختیار نہیں جو حکم پہنچے اسے اوروں کو پہنچا دے تیرے ذمہ یہی ہے ممکن ہے اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے اور برائی کے بعد وہ بھلائی کرنے لگیں اور اللہ رحیم ان کی توبہ قبول فرما لے یا ممکن ہے کہ انہیں ان کے کفرو گناہ کی بناء پر عذاب کرے تو یہ ظالم اس کے بھی مستحق ہیں، صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز میں جب دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے اور دعا (سمع اللہ لمن حمدہ ربناولک الحمد) کہہ لیتے تو فار پر بددعا کرتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت کر اس کے بارے میں یہ آیت اتری (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :128) نازل ہوئی مسند احمد میں ان کافروں کے نام بھی آئے ہیں مثلاً حارث بن ہشام سہیل بن عمرو صفوان بن امیہ اور اسی میں ہے کہ بالآخر ان کو ہدایت نصیب ہوئی اور یہ مسلمان ہوگئے، ایک روایت میں ہے کہ چار آدمیوں پر یہ بد دعا تھی جس سے روک دیئے گئے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضور ﷺ جب کسی پر بد دعا کرنا یا کسی کے حق میں نیک دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد سمع اللہ اور ربنا پڑھ کر دعا مانگتے کبھی کہتے اے اللہ ولید بن ولید سلمہ بن ہشام عیاش بن ابو ربیعہ اور کمزور مومنوں کو کفار سے نجات دے اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ اور اپنا عذاب نازل فرما اور ان پر ایسی قحط سالی بھیج جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں تھی یہ دعا با آواز بلند ہوا کرتی تھی اور بعض مرتبہ صبح کی نماز کے قنوت میں یوں بھی کہتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت بھیج اور عرب کے بعض قبیلوں کے نام لیتے تھے اور روایت میں ہے کہ جنگ احد میں جب آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے چہرہ زخمی ہوا خون بہنے لگا تو زبان سے نکل کیا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ یہ کیا حالانکہ نبی ﷺ اللہ خالق کل کی طرف سے انہیں بلاتا تھا اس وقت یہ آیت (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :128) نازل ہوئی، آپ اس غزوے میں ایک گڑھ میں گرپڑے تھے اور خون بہت نکل گیا تھا کچھ تو اس ضعف کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھے اٹھ نہ سکے حضرت حذیفہ کے مولیٰ حضرت سالم ؓ پہنچے اور چہرے پر سے خون پونچھا جب افاقہ ہوا تو آپ نے یہ فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ہے سب اس کے غلام ہیں جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے متصرف وہی ہے جو چاہے حکم کرے کوئی اس پر پرشس نہیں کرسکتا وہ غفور اور رحیم ہے۔

غزوہ بدر اور تائید الٰہی آنحضرت ﷺ کا یہ تسلیاں دینا بعض تو کہتے ہیں بدر والے دن تھا حسن بصری عامر شعبی ربیع بن انس وغیرہ کا یہی قول ہے ابن جریر کا بھی اسی سے اتفاق ہے عامر شعبی کا قول ہے کہ مسلمانوں کو یہ خبر ملی تھی کہ کرز بن جابر مشرکوں کی امداد میں آئے گا اس پر اس امداد کا وعدہ ہوا تھا لیکن نہ وہ نہیں آیا اور نہ ہی یہ گئے ربیع بن انس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کیلئے پہلے تو ایک ہزار فرشتے بھیجے پھر تین ہزار ہوگئے پھر پانچ ہزار، یہاں اس آیت میں تین ہزار اور پانچ ہزار سے مدد کرنے کا وعدہ ہے اور بدر کے واقعہ کے بیان کے وقت ایک ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ ہے۔ فرمایا آیت (اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ) 8۔ الانفال :9) اور تطبیق دونوں آیتوں میں یہی ہے کیونکہ مردفین کا لفظ موجود ہے پس پہلے ایک ہزار اترے پھر ان کے بعد تین ہزار پورے ہوئے آخر پانچ ہزار ہوگئے، بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ وعدہ جنگ بدر کے لئے تھا نہ کہ جنگ احد کیلئے، بعض کہتے ہیں جنگ احد کے موقعہ پر وعدہ ہوا تھا مجاہد عکرمہ ضحاک زہری موسیٰ بن عقبہ وغیرہ کا یہی قول ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ چونکہ مسلمان میدان چھوڑ کر ہٹ گئے اس لئے یہ فرشتے نازل نہ ہوئے، کیونکہ آیت (وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُھُمْ شَـيْـــًٔـا) 3۔ آل عمران :120) ساتھ ہی فرمایا تھا یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کرو فور کے معنی وجہ اور غضب کے ہیں مسومین کے معنی علامت والے، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں فرشتوں کی نشانی بدر والے دن سفید رنگ کے لباس کی تھی اور ان کے گھوڑوں کی نشانی ماتھے کی سفیدی تھی، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ان کی نشانی سرخ تھی، حضرت مجاہد فرماتے ہیں گردن کے بالوں اور دم کا نشان تھا اور یہی نشان آپ کے لشکریوں کا تھا یعنی صوف کا۔ مکحول کہتے ہیں فرشتوں کی نشانی ان کی پگڑیاں تھیں جو سیاہ رنگ کے عمامے تھے اور حنین والے دن سرخ رنگ عمامے تھے، ابن عباس فرماتے ہیں بدر کے علاوہ فرشتے کبھی جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور سفید رنگ عماموں کی علامت تھی یہ صرف مدد کیلئے اور تعداد بڑھانے کیلئے تھے نہ کہ لڑائی کیلئے، یہ بھی مروی ہے کہ یہ فرشتوں کا نازل کرنا اور تمہیں اس کی خبر دینا صرف تمہاری خوشی، دلجوئی اور اطمینان کیلئے ہے ورنہ اللہ کو قدرت ہے کہ ان کو اتارے بغیر بلکہ بغیر تمہارے لڑے بھی تمہیں غالب کر دے مدد اسی کی طرف سے ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَانْتَـصَرَ مِنْهُمْ وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُمْ بِبَعْـضٍ) 47۔ محمد :4) اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ ہر ایک کو آزما رہا ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو قتل کئے جائیں ان کے اعمال اکارت نہیں ہوتے اللہ انہیں راہ دکھائے گا ان کے اعمال سنوار دے گا اور انہیں جنت میں لے جائے گا جس کی تعریف وہ کرچکا ہے، وہ عزت والا ہے اور اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے۔ یہ جہاد کا حکم بھی طرح طرح کی حکمتوں پر مبنی ہے اس سے کفار ہلاک ہوں گے یا ذلیل ہوں گے یا نامراد واپس ہوجائیں گے۔ اس کے بعد بیان ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت کے کل امور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اے نبی ﷺ تمہیں کسی امر کا اختیار نہیں جیسے فرمایا آیت (فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ) 13۔ الرعد :40) تمہارا ذمہ صرف تبلیغ ہے حساب تو تمہارے ذمہ ہے اور جگہ ہے آیت (لیس علیک ھدھم) الخ، ان کی ہدایت تمہارے ذمہ نہیں اللہ جسے چاہے ہدایت دے اور آیت (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ) 28۔ القصص :56) تو جسے چاہے ہدایت نہیں کرسکتا بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے، پس میرے بندوں میں تجھے کوئی اختیار نہیں جو حکم پہنچے اسے اوروں کو پہنچا دے تیرے ذمہ یہی ہے ممکن ہے اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے اور برائی کے بعد وہ بھلائی کرنے لگیں اور اللہ رحیم ان کی توبہ قبول فرما لے یا ممکن ہے کہ انہیں ان کے کفرو گناہ کی بناء پر عذاب کرے تو یہ ظالم اس کے بھی مستحق ہیں، صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز میں جب دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے اور دعا (سمع اللہ لمن حمدہ ربناولک الحمد) کہہ لیتے تو فار پر بددعا کرتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت کر اس کے بارے میں یہ آیت اتری (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :128) نازل ہوئی مسند احمد میں ان کافروں کے نام بھی آئے ہیں مثلاً حارث بن ہشام سہیل بن عمرو صفوان بن امیہ اور اسی میں ہے کہ بالآخر ان کو ہدایت نصیب ہوئی اور یہ مسلمان ہوگئے، ایک روایت میں ہے کہ چار آدمیوں پر یہ بد دعا تھی جس سے روک دیئے گئے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضور ﷺ جب کسی پر بد دعا کرنا یا کسی کے حق میں نیک دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد سمع اللہ اور ربنا پڑھ کر دعا مانگتے کبھی کہتے اے اللہ ولید بن ولید سلمہ بن ہشام عیاش بن ابو ربیعہ اور کمزور مومنوں کو کفار سے نجات دے اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ اور اپنا عذاب نازل فرما اور ان پر ایسی قحط سالی بھیج جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں تھی یہ دعا با آواز بلند ہوا کرتی تھی اور بعض مرتبہ صبح کی نماز کے قنوت میں یوں بھی کہتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت بھیج اور عرب کے بعض قبیلوں کے نام لیتے تھے اور روایت میں ہے کہ جنگ احد میں جب آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے چہرہ زخمی ہوا خون بہنے لگا تو زبان سے نکل کیا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ یہ کیا حالانکہ نبی ﷺ اللہ خالق کل کی طرف سے انہیں بلاتا تھا اس وقت یہ آیت (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :128) نازل ہوئی، آپ اس غزوے میں ایک گڑھ میں گرپڑے تھے اور خون بہت نکل گیا تھا کچھ تو اس ضعف کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھے اٹھ نہ سکے حضرت حذیفہ کے مولیٰ حضرت سالم ؓ پہنچے اور چہرے پر سے خون پونچھا جب افاقہ ہوا تو آپ نے یہ فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ہے سب اس کے غلام ہیں جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے متصرف وہی ہے جو چاہے حکم کرے کوئی اس پر پرشس نہیں کرسکتا وہ غفور اور رحیم ہے۔

غزوہ بدر اور تائید الٰہی آنحضرت ﷺ کا یہ تسلیاں دینا بعض تو کہتے ہیں بدر والے دن تھا حسن بصری عامر شعبی ربیع بن انس وغیرہ کا یہی قول ہے ابن جریر کا بھی اسی سے اتفاق ہے عامر شعبی کا قول ہے کہ مسلمانوں کو یہ خبر ملی تھی کہ کرز بن جابر مشرکوں کی امداد میں آئے گا اس پر اس امداد کا وعدہ ہوا تھا لیکن نہ وہ نہیں آیا اور نہ ہی یہ گئے ربیع بن انس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کیلئے پہلے تو ایک ہزار فرشتے بھیجے پھر تین ہزار ہوگئے پھر پانچ ہزار، یہاں اس آیت میں تین ہزار اور پانچ ہزار سے مدد کرنے کا وعدہ ہے اور بدر کے واقعہ کے بیان کے وقت ایک ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ ہے۔ فرمایا آیت (اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ) 8۔ الانفال :9) اور تطبیق دونوں آیتوں میں یہی ہے کیونکہ مردفین کا لفظ موجود ہے پس پہلے ایک ہزار اترے پھر ان کے بعد تین ہزار پورے ہوئے آخر پانچ ہزار ہوگئے، بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ وعدہ جنگ بدر کے لئے تھا نہ کہ جنگ احد کیلئے، بعض کہتے ہیں جنگ احد کے موقعہ پر وعدہ ہوا تھا مجاہد عکرمہ ضحاک زہری موسیٰ بن عقبہ وغیرہ کا یہی قول ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ چونکہ مسلمان میدان چھوڑ کر ہٹ گئے اس لئے یہ فرشتے نازل نہ ہوئے، کیونکہ آیت (وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُھُمْ شَـيْـــًٔـا) 3۔ آل عمران :120) ساتھ ہی فرمایا تھا یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کرو فور کے معنی وجہ اور غضب کے ہیں مسومین کے معنی علامت والے، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں فرشتوں کی نشانی بدر والے دن سفید رنگ کے لباس کی تھی اور ان کے گھوڑوں کی نشانی ماتھے کی سفیدی تھی، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ان کی نشانی سرخ تھی، حضرت مجاہد فرماتے ہیں گردن کے بالوں اور دم کا نشان تھا اور یہی نشان آپ کے لشکریوں کا تھا یعنی صوف کا۔ مکحول کہتے ہیں فرشتوں کی نشانی ان کی پگڑیاں تھیں جو سیاہ رنگ کے عمامے تھے اور حنین والے دن سرخ رنگ عمامے تھے، ابن عباس فرماتے ہیں بدر کے علاوہ فرشتے کبھی جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور سفید رنگ عماموں کی علامت تھی یہ صرف مدد کیلئے اور تعداد بڑھانے کیلئے تھے نہ کہ لڑائی کیلئے، یہ بھی مروی ہے کہ یہ فرشتوں کا نازل کرنا اور تمہیں اس کی خبر دینا صرف تمہاری خوشی، دلجوئی اور اطمینان کیلئے ہے ورنہ اللہ کو قدرت ہے کہ ان کو اتارے بغیر بلکہ بغیر تمہارے لڑے بھی تمہیں غالب کر دے مدد اسی کی طرف سے ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَانْتَـصَرَ مِنْهُمْ وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُمْ بِبَعْـضٍ) 47۔ محمد :4) اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ ہر ایک کو آزما رہا ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو قتل کئے جائیں ان کے اعمال اکارت نہیں ہوتے اللہ انہیں راہ دکھائے گا ان کے اعمال سنوار دے گا اور انہیں جنت میں لے جائے گا جس کی تعریف وہ کرچکا ہے، وہ عزت والا ہے اور اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے۔ یہ جہاد کا حکم بھی طرح طرح کی حکمتوں پر مبنی ہے اس سے کفار ہلاک ہوں گے یا ذلیل ہوں گے یا نامراد واپس ہوجائیں گے۔ اس کے بعد بیان ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت کے کل امور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اے نبی ﷺ تمہیں کسی امر کا اختیار نہیں جیسے فرمایا آیت (فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ) 13۔ الرعد :40) تمہارا ذمہ صرف تبلیغ ہے حساب تو تمہارے ذمہ ہے اور جگہ ہے آیت (لیس علیک ھدھم) الخ، ان کی ہدایت تمہارے ذمہ نہیں اللہ جسے چاہے ہدایت دے اور آیت (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ) 28۔ القصص :56) تو جسے چاہے ہدایت نہیں کرسکتا بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے، پس میرے بندوں میں تجھے کوئی اختیار نہیں جو حکم پہنچے اسے اوروں کو پہنچا دے تیرے ذمہ یہی ہے ممکن ہے اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے اور برائی کے بعد وہ بھلائی کرنے لگیں اور اللہ رحیم ان کی توبہ قبول فرما لے یا ممکن ہے کہ انہیں ان کے کفرو گناہ کی بناء پر عذاب کرے تو یہ ظالم اس کے بھی مستحق ہیں، صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز میں جب دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے اور دعا (سمع اللہ لمن حمدہ ربناولک الحمد) کہہ لیتے تو فار پر بددعا کرتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت کر اس کے بارے میں یہ آیت اتری (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :128) نازل ہوئی مسند احمد میں ان کافروں کے نام بھی آئے ہیں مثلاً حارث بن ہشام سہیل بن عمرو صفوان بن امیہ اور اسی میں ہے کہ بالآخر ان کو ہدایت نصیب ہوئی اور یہ مسلمان ہوگئے، ایک روایت میں ہے کہ چار آدمیوں پر یہ بد دعا تھی جس سے روک دیئے گئے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضور ﷺ جب کسی پر بد دعا کرنا یا کسی کے حق میں نیک دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد سمع اللہ اور ربنا پڑھ کر دعا مانگتے کبھی کہتے اے اللہ ولید بن ولید سلمہ بن ہشام عیاش بن ابو ربیعہ اور کمزور مومنوں کو کفار سے نجات دے اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ اور اپنا عذاب نازل فرما اور ان پر ایسی قحط سالی بھیج جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں تھی یہ دعا با آواز بلند ہوا کرتی تھی اور بعض مرتبہ صبح کی نماز کے قنوت میں یوں بھی کہتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت بھیج اور عرب کے بعض قبیلوں کے نام لیتے تھے اور روایت میں ہے کہ جنگ احد میں جب آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے چہرہ زخمی ہوا خون بہنے لگا تو زبان سے نکل کیا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ یہ کیا حالانکہ نبی ﷺ اللہ خالق کل کی طرف سے انہیں بلاتا تھا اس وقت یہ آیت (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :128) نازل ہوئی، آپ اس غزوے میں ایک گڑھ میں گرپڑے تھے اور خون بہت نکل گیا تھا کچھ تو اس ضعف کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھے اٹھ نہ سکے حضرت حذیفہ کے مولیٰ حضرت سالم ؓ پہنچے اور چہرے پر سے خون پونچھا جب افاقہ ہوا تو آپ نے یہ فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ہے سب اس کے غلام ہیں جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے متصرف وہی ہے جو چاہے حکم کرے کوئی اس پر پرشس نہیں کرسکتا وہ غفور اور رحیم ہے۔

سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے پھر سعادت دارین کے حصول کیلئے نیکیوں کی طرف سبقت کرنے کو فرماتا ہے اور جنت کی تعریف کرتا ہے، چوڑائی کو بیان کر کے لمبائی کا اندازہ سننے والوں پر ہی چھوڑا جاتا ہے جس طرح جنتی فرش کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا آیت (مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي فُرُشٍۢ بَطَاۗىِٕنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ) 55۔ الرحمن :54) یعنی اس کا استر نرم ریشم کا ہے تو مطلب یہ ہے کہ جب استر ایسا ہے تو ابرے کا کیا ٹھکانا ہے اسی طرح یہاں بھی بیان ہو رہا ہے کہ جب عرض ساتوں آسمانوں اور ساتویں زمینوں کے برابر ہے تو طول کتنا بڑا ہوگا اور بعض نے کہا ہے کہ عرض و طول یعنی لمبائی چوڑائی دونوں برابر ہے کیونکہ جنت مثل قبہ کے عرش کے نیچے ہے اور جو چیز قبہ نما ہو یا مستدیر ہو اس کا عرض و طول یکساں ہوتا ہے۔ ایک صحیح حدیث میں ہے جب تم اللہ سے جنت مانگو تو فردوس کا سوال کرو وہ سب سے اونچی اور سب سے اچھی جنت ہے اسی جنت سے سب نہریں جاری ہوتی ہیں اور اسی کی چھت اللہ تعالیٰ رحمن رحیم کا عرش ہے، مسند امام احمد میں ہے کہ ہرقل نے حضور ﷺ کی خدمت میں بطور اعتراض کے ایک سوال لکھ بھیجا کہ آپ مجھے اس جنت کی دعوت دے رہے ہیں جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے تو یہ فرمایئے کہ پھر جہنم کہاں گئی ؟ حضور ﷺ نے فرمایا یعلیٰ بن مرہ کی ملاقات حمص میں ہوئی تھی کہتے ہیں اس وقت یہ بہت ہی بوڑھا ہوگیا تھا کہنے لگا جب میں نے یہ خط حضور ﷺ کو دیا تو آپ نے اپنی بائیں طرف کے ایک صحابی کو دیا میں نے لوگوں سے پوچھا ان کا کیا نام ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت معاویہ ہیں ؓ حضرت عمر ؓ سے بھی یہی سوال ہوا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ دن کے وقت رات اور رات کے وقت دن کہاں جاتا ہے ؟ یہودی یہ جواب سن کر کھسیانے ہو کر کہنے لگے کہ یہ توراۃ سے ماخوذ کیا ہوگا، حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ جواب مروی ہے، ایک مرفوع حدیث میں ہے کسی نے حضور ﷺ سے پوچھا تو آپ نے جواب میں فرمایا جب ہر چیز پر رات آجاتی ہے تو دن کہاں جاتا ہے ؟ اس نے کہا جہاں اللہ چاہے، آپ نے فرمایا اسی طرح جہنم بھی جہاں چاہے (بزار) اس جملہ کے دو معنی ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ رات کے وقت ہم گو دن کو نہیں دیکھ سکتے لیکن تاہم دن کا کسی جگہ ہونا ناممکن نہیں، اسی طرح گو جنت کا عرض اتنا ہی ہے لیکن پھر بھی جہنم کے وجود سے انکار نہیں ہوسکتا جہاں اللہ چاہے وہ بھی ہے، دوسرے معنی یہ کہ جب دن ایک طرف چڑھنے لگا رات دوسری جانب ہوتی ہے اسی طرح جنت اعلیٰ علیین میں ہے اور دوزخ اسفل السافلین میں تو کوئی نفی کا امکان ہی نہ رہا واللہ اعلم پھر اللہ تعالیٰ اہل جنت کا وصف بیان فرماتا ہے کہ وہ سختی میں اور آسانی میں خوشی میں اور غمی میں تندرستی میں اور بیماری میں غرض ہر حال میں راہ اللہ اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ) 2۔ البقرۃ :274) یعنی وہ لوگ دن رات چھپے کھلے خرچ کرتے رہتے ہیں کوئی امر انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باز نہیں رکھ سکتا اس کی مخلوق پر اس کے حکم سے احسان کرتے رہتے ہیں۔ یہ غصے کو پی جانے والے اور لوگوں کی برائیوں سے درگزر کرنے والے ہیں (کظم) کے معنی چھپانے کے بھی ہیں یعنی اپنے غصہ کا اظہار بھی نہیں کرتے بعض روایتوں میں ہے اے ابن آدم اگر غصہ کے وقت تجھے یاد رکھوں گا یعنی ہلاکت کے وقت تجھے ہلاکت سے بچا لوں گا (ابن ابی حاتم) اور حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ روک لے اللہ تعالیٰ اس پر سے اپنے عذاب ہٹا لیتا ہے اور جو بھی اپنی زبان (خلاف شرع باتوں سے) روک لے اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف معذرت لے جائے اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرماتا ہے (مسند ابو یعلیٰ) یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں بھی اختلاف ہے اور حدیث شریف میں ہے۔ آپ فرماتے ہیں پہلوان وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ حقیقتاً پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے (احمد) صحیح بخاری صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی ایسا ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ کوئی نہیں آپ نے فرمایا میں تو دیکھتا ہوں کہ تم اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال چاہتے ہو اس لئے کہ تمہارا مال تو درحقیقت وہ ہے جو تم راہ اللہ اپنی زندگی میں خرچ کردو اور جو چھوڑ کر جاؤ وہ تمہارا مال نہیں بلکہ تمہارے وارثوں کا مال ہے تو تمہارا راہ اللہ کم خرچ کرنا اور جمع زیادہ کرنا یہ دلیل ہے اس امر کی کہ تم اپنے مال سے اپنے وارثوں کے مال کو زیادہ عزیز رکھتے ہو، پھر فرمایا تم پہلوان کسے جانتے ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ اسے جسے کوئی گر انہ سکے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ حقیقتاً زور دار پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے جذبات پر پورا قابو رکھے، پھر فرمایا بےاولاد کسے کہتے ہو ؟ لوگوں نے کہا جس کی اولاد نہ ہو، فرمایا نہیں بلکہ فی الواقع بےاولاد وہ ہے جس کے سامنے اس کی کوئی اولاد مری نہ ہو (مسلم) ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو مفلس کنگال کون ہے ؟ لوگوں نے کہا جس کے پاس مال نہ ہو آپ نے فرمایا بلکہ وہ جس نے اپنا مال اپنی زندگی میں راہ اللہ نہ دیا ہو (مسند احمد) حضرت حارثہ بن قدامہ سعدی ؓ حاضر خدمت نبوی میں عرض کرتے ہیں کہ حضور ﷺ مجھے کوئی نفع کی بات کہیے جو مختصر ہو تاکہ میں یاد بھی رکھ سکوں آپ نے فرمایا غصہ نہ کر اس نے پھر پوچھا آپ نے پھر یہی جواب دیا کئی کئی مرتبہ یہی کہا (مسند احمد) کسی شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھے کچھ وصیت کیجئے آپ نے فرمایا غصہ نہ کر وہ کہتے ہیں میں نے جو غور کیا تو معلوم ہوا کہ تمام برائیوں کا مرکز غصہ ہی ہے (مسند احمد) ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوذر ؓ غصہ آیا تو آپ بیٹھ گئے اور پھر لیٹ گئے ان سے پوچھا گیا یہ کیا ؟ تو فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے جسے غصہ آئے وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر اس سے بھی غصہ نہ جائے تو لیٹ جائے (مسند احمد) مسند احمد کی ایک اور روایت میں ہے کہ عروہ بن محمد کو غصہ چڑھا آپ وضو کرنے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے میں نے اپنے استادوں سے یہ حدیث سنی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا ہوا ہے اور آگ بجھانے والی چیز پانی ہے پس تم غصہ کے وقت وضو کرنے بیٹھ جاؤ حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اپنا قرض اسے معاف کر دے اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے آزاد کردیتا ہے لوگو سنو جنت کے اعمال سخت اور مشکل ہیں اور جہنم کے کام آسان اور سہل ہیں نیک بخت وہی ہے جو فتنوں سے بچ جائے کسی گھونٹ کا پینا اللہ کو ایسا پسند نہیں جتنا غصہ کے گھونٹ کا پی جانا ایسے شخص کے دل میں ایمان رچ جاتا ہے (مسند احمد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ اتارنے کی طاقت رکھتے ہوئے پھر بھی ضبط کرلے اللہ تعالیٰ اس کا دل امن وامان سے پر کردیتا ہے جو شخص باوجود موجود ہونے کے شہرت کے کپڑے کو تواضع کی وجہ سے چھوڑ دے اسے اللہ تعالیٰ کرامت اور عزت کا حلہ قیامت کے دن پہنائے گا اور جو کسی کا سر چھپائے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن بادشاہت کا تاج پہنائے گا (ابوداؤد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص باوجود قدرت کے اپنا غصہ ضبط کرلے اسی اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے پسند کرلے (مسند احمد) اس مضمون کی اور بھی حدیثیں ہیں، پس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنے غصہ میں آپے سے باہر نہیں ہوتے لوگوں کو ان کی طرف سے برائی نہیں پہنچتی بلکہ اپنے جذبات کو دبائے رکھتے ہیں اور اللہ سے ڈر کر ثواب کی امید پر معاملہ سپر دالہ کرتے ہیں، لوگوں سے درگزر کرتے ہیں ظالموں کے ظلم کا بدلہ ابھی نہیں لیتے اسی کو احسان کہتے ہیں اور ان محسن بندوں سے اللہ محبت رکھتا ہے حدیث میں ہے رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں تین باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں ایک تو یہ کہ صدقہ سے مال نہیں گھٹتا دوسرے یہ کہ عفو و درگزر کرنے سے انسان کی عزت بڑھتی ہے تیسرے یہ کہ تواضع فروتنی اور عاجزی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ عطا کرتا ہے، مستدرک کی حدیث میں ہے جو شخص یہ چاہے کہ اس کی بنیاد بلند ہو اور اس کے درجے بڑھیں تو اسے ظالموں سے درگزر کرنا چاہئے اور نہ دینے والوں کو دینا چاہئے اور توڑنے والوں سے جوڑنا چاہئے اور حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک پکارے گا کہ اے لوگو درگزر کرنے والو اپنے رب کے پاس آؤ اور اپنا اجر لو۔ مسلمانوں کی خطاؤں کے معاف کرنے والے جنتی لوگ ہیں۔ پھر فرمایا یہ لوگ گناہ کے بعد فوراً ذکر اللہ اور استغفار کرتے ہیں۔ مسند احمد میں یہ روایت حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے پھر اللہ رحمن و رحیم کے سامنے حاضر ہو کر کہتا ہے کہ پروردگار مجھ سے گناہ ہوگیا تو معاف فرما اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے سے گو گناہ ہوگیا لیکن اس کا ایمان ہے کہ اس کا رب گناہ پر پکڑ بھی کرتا ہے اور اگر چاہے تو معاف بھی فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہو تو فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہوجاتا ہے یہ پھر توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ پھر بخشتا ہے چوتھی مرتبہ پھر گناہ کر بیٹھتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما کر کہتا ہے اب میرا بندہ جو چاہے کرے (مسند احمد) یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ہم نے ایک مرتبہ جناب رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یہ رسول اللہ ﷺ جب ہم آپ کو دیکھتے ہیں تو ہمارے دلوں میں رقت طاری ہوجاتی ہے اور ہم اللہ والے بن جاتے ہیں لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو وہ حالت نہیں رہتی عورتوں بچوں میں پھنس جاتے ہیں گھر بار کے دھندوں میں لگ جاتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا۔ اگر تمہاری حالت یہی ہر وقت رہتی تو پھر فرشتے تم سے مصافحہ کرتے اور تمہاری ملاقات کو تمہارے گھر پر آتے، سنو اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں یہاں سے ہٹا دے اور دوسری قوم کو لے آئے جو گناہ کرے پھر بخشش مانگے اور اللہ انہیں بخشے ہم نے کہا حضور ﷺ یہ فرماتے کہ جنت کی بنیادیں کس طرح استوار ہیں آپ نے فرمایا ایک اینٹ سونے کی تو ایک چاندی کی ہے اس کا گارہ مشک خالص ہے اس کے کنکر لؤلؤ اور یاقوت ہیں، اس کی مٹی زعفران ہے، جنتیوں کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی ان کی زندگی ہمیشہ کی ہوگی ان کے کپڑے پرانے نہیں ہونگے جوانی کبھی نہیں ڈھلے گی اور تین اشخاص کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی عادل بادشاہ کی دعا افطاری کے وقت روزے دار کی دعا اور مظلوم کی دعا بادلوں سے اٹھائی جاتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جناب باری ارشاد فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہو (مسند احمد) امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کوئی گناہ کرے پھر وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے اور اپنے گناہ کی معافی چاہے تو اے اللہ عزوجل اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں روایت امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو شخص کامل وضو کر کے دعا (اشھدان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھدان محمد اعبدہ و رسولہ) پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے اندر چلا جائے، امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ؓ سنت کے مطابق وضو کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا جو شخص مجھ جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے (بخاری مسلم) پس یہ حدیث کو حضرت عثمان سے اس سے اگلی روایت حضرت عمر سے اور اس سے اگلی روایت حضرت ابوبکر سے اور اس سے تیسری روایت کو حضرت ابوبکر سے حضرت علی روایت کرتے ہیں تو الحمد اللہ، اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور اس کی بےانتہاء مہربانی کی خبر سید الاولین والاخرین کی زبانی آپ کے چاروں برحق خلفاء کی معرفت ہمیں پہنچی (آؤ اس موقعہ پر ہم گنہگار بھی ہاتھ اٹھائیں اور اپنے مہربان رحیم و کریم اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اس سے معافی طلب کریں اللہ تعالیٰ اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اے عفو و درگزر کرنے والے ! اور کسی بھکاری کو اپنے در سے خالی نہ پھیرنے والے ! تو ہم خطاکاروں کی سیاہ کاریوں سے بھی درگزر فرما اور ہمارے کل گناہ معاف فرما دے۔ مترجم) یہی وہ مبارک آیت ہے کہ جب یہ نازل ہوئی تو ابلیس رونے لگا (مسند عبدالرزاق) استغفار اور لا الہ الاللہ مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لا الہ الا اللہ کثرت سے پڑھا کرو اور استغفار پر مداومت کرو ابلیس گناہوں سے لوگوں کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس کی اپنی ہلاکت لا الہ الا اللہ اور استغفار سے ہے، یہ حدیث دیکھ کر ابلیس نے لوگوں کو خواہش پرستی پر ڈال دیا پس وہ اپنے آپ کو راہ راست پر جانتے ہیں حالانکہ ہلاکت میں ہوتے ہیں لیکن اس حدیث کے دو راوی ضعیف ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ابلیس نے کہا اے رب مجھے تیری عزت کی قسم میں بنی آدم کو ان کے آخری دم تک بہکاتا رہوں گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے میرے جلال اور میری عزت کی قسم جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا مسند بزاز میں ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھ سے گناہ ہوگیا آپ نے فرمایا پھر استغفار کر اس نے کہا مجھ سے اور گناہ ہوا فرمایا استغفار کئے جا، یہاں تک کہ شیطان تھک جائے پھر فرمایا گناہ کو بخشنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک قیدی آیا اور کہنے لگا یا اللہ میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں محمد ﷺ کی طرف توبہ نہیں کرتا (یعنی اللہ میں تیری ہی بخشش چاہتا ہوں) آپ نے فرمایا اس نے حق حقدار کو پہنچایا۔ اصرار کرنے سے مراد یہ ہے کہ معصیت پر بغیر توبہ کئے اڑ نہیں جاتے اگر کئی مرتبہ گناہ ہوجائے تو کئی مرتبہ استغفار کرتے ہیں، مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہ اصرار کرنے والا اور اڑنے والا نہیں جو استغفار کرتا رہتا ہے اگرچہ (بالفرض) اس سے ایک دن میں ستر مرتبہ بھی گناہ ہوجائے پھر فرمایا کہ وہ جانتے ہوں یعنی اس بات کو کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ ھُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَيَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَاَنَّ اللّٰهَ ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِيْمُ) 9۔ التوبہ :104) کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جگہ ہے آیت (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا) 4۔ النسآء :110) جو شخص کوئی برا کام کرے یا گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ دیکھ لے گا کہ اللہ عزوجل بخشش کرنے والا مہربان ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیان فرمایا لوگو تم اوروں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم کرے گا لوگو تم دوسروں کی خطائیں معاف کرو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخشے گا باتیں بنانے والوں کی ہلاکت ہے گناہ پر جم جانے والوں کی ہلاکت ہے پھر فرمایا ان کاموں کے بدلے ان کی جزا مغفرت ہے اور طرح طرح کی بہتی نہروں والی جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑے اچھے اعمال ہیں۔

سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے پھر سعادت دارین کے حصول کیلئے نیکیوں کی طرف سبقت کرنے کو فرماتا ہے اور جنت کی تعریف کرتا ہے، چوڑائی کو بیان کر کے لمبائی کا اندازہ سننے والوں پر ہی چھوڑا جاتا ہے جس طرح جنتی فرش کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا آیت (مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي فُرُشٍۢ بَطَاۗىِٕنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ) 55۔ الرحمن :54) یعنی اس کا استر نرم ریشم کا ہے تو مطلب یہ ہے کہ جب استر ایسا ہے تو ابرے کا کیا ٹھکانا ہے اسی طرح یہاں بھی بیان ہو رہا ہے کہ جب عرض ساتوں آسمانوں اور ساتویں زمینوں کے برابر ہے تو طول کتنا بڑا ہوگا اور بعض نے کہا ہے کہ عرض و طول یعنی لمبائی چوڑائی دونوں برابر ہے کیونکہ جنت مثل قبہ کے عرش کے نیچے ہے اور جو چیز قبہ نما ہو یا مستدیر ہو اس کا عرض و طول یکساں ہوتا ہے۔ ایک صحیح حدیث میں ہے جب تم اللہ سے جنت مانگو تو فردوس کا سوال کرو وہ سب سے اونچی اور سب سے اچھی جنت ہے اسی جنت سے سب نہریں جاری ہوتی ہیں اور اسی کی چھت اللہ تعالیٰ رحمن رحیم کا عرش ہے، مسند امام احمد میں ہے کہ ہرقل نے حضور ﷺ کی خدمت میں بطور اعتراض کے ایک سوال لکھ بھیجا کہ آپ مجھے اس جنت کی دعوت دے رہے ہیں جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے تو یہ فرمایئے کہ پھر جہنم کہاں گئی ؟ حضور ﷺ نے فرمایا یعلیٰ بن مرہ کی ملاقات حمص میں ہوئی تھی کہتے ہیں اس وقت یہ بہت ہی بوڑھا ہوگیا تھا کہنے لگا جب میں نے یہ خط حضور ﷺ کو دیا تو آپ نے اپنی بائیں طرف کے ایک صحابی کو دیا میں نے لوگوں سے پوچھا ان کا کیا نام ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت معاویہ ہیں ؓ حضرت عمر ؓ سے بھی یہی سوال ہوا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ دن کے وقت رات اور رات کے وقت دن کہاں جاتا ہے ؟ یہودی یہ جواب سن کر کھسیانے ہو کر کہنے لگے کہ یہ توراۃ سے ماخوذ کیا ہوگا، حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ جواب مروی ہے، ایک مرفوع حدیث میں ہے کسی نے حضور ﷺ سے پوچھا تو آپ نے جواب میں فرمایا جب ہر چیز پر رات آجاتی ہے تو دن کہاں جاتا ہے ؟ اس نے کہا جہاں اللہ چاہے، آپ نے فرمایا اسی طرح جہنم بھی جہاں چاہے (بزار) اس جملہ کے دو معنی ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ رات کے وقت ہم گو دن کو نہیں دیکھ سکتے لیکن تاہم دن کا کسی جگہ ہونا ناممکن نہیں، اسی طرح گو جنت کا عرض اتنا ہی ہے لیکن پھر بھی جہنم کے وجود سے انکار نہیں ہوسکتا جہاں اللہ چاہے وہ بھی ہے، دوسرے معنی یہ کہ جب دن ایک طرف چڑھنے لگا رات دوسری جانب ہوتی ہے اسی طرح جنت اعلیٰ علیین میں ہے اور دوزخ اسفل السافلین میں تو کوئی نفی کا امکان ہی نہ رہا واللہ اعلم پھر اللہ تعالیٰ اہل جنت کا وصف بیان فرماتا ہے کہ وہ سختی میں اور آسانی میں خوشی میں اور غمی میں تندرستی میں اور بیماری میں غرض ہر حال میں راہ اللہ اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ) 2۔ البقرۃ :274) یعنی وہ لوگ دن رات چھپے کھلے خرچ کرتے رہتے ہیں کوئی امر انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باز نہیں رکھ سکتا اس کی مخلوق پر اس کے حکم سے احسان کرتے رہتے ہیں۔ یہ غصے کو پی جانے والے اور لوگوں کی برائیوں سے درگزر کرنے والے ہیں (کظم) کے معنی چھپانے کے بھی ہیں یعنی اپنے غصہ کا اظہار بھی نہیں کرتے بعض روایتوں میں ہے اے ابن آدم اگر غصہ کے وقت تجھے یاد رکھوں گا یعنی ہلاکت کے وقت تجھے ہلاکت سے بچا لوں گا (ابن ابی حاتم) اور حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ روک لے اللہ تعالیٰ اس پر سے اپنے عذاب ہٹا لیتا ہے اور جو بھی اپنی زبان (خلاف شرع باتوں سے) روک لے اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف معذرت لے جائے اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرماتا ہے (مسند ابو یعلیٰ) یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں بھی اختلاف ہے اور حدیث شریف میں ہے۔ آپ فرماتے ہیں پہلوان وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ حقیقتاً پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے (احمد) صحیح بخاری صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی ایسا ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ کوئی نہیں آپ نے فرمایا میں تو دیکھتا ہوں کہ تم اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال چاہتے ہو اس لئے کہ تمہارا مال تو درحقیقت وہ ہے جو تم راہ اللہ اپنی زندگی میں خرچ کردو اور جو چھوڑ کر جاؤ وہ تمہارا مال نہیں بلکہ تمہارے وارثوں کا مال ہے تو تمہارا راہ اللہ کم خرچ کرنا اور جمع زیادہ کرنا یہ دلیل ہے اس امر کی کہ تم اپنے مال سے اپنے وارثوں کے مال کو زیادہ عزیز رکھتے ہو، پھر فرمایا تم پہلوان کسے جانتے ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ اسے جسے کوئی گر انہ سکے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ حقیقتاً زور دار پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے جذبات پر پورا قابو رکھے، پھر فرمایا بےاولاد کسے کہتے ہو ؟ لوگوں نے کہا جس کی اولاد نہ ہو، فرمایا نہیں بلکہ فی الواقع بےاولاد وہ ہے جس کے سامنے اس کی کوئی اولاد مری نہ ہو (مسلم) ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو مفلس کنگال کون ہے ؟ لوگوں نے کہا جس کے پاس مال نہ ہو آپ نے فرمایا بلکہ وہ جس نے اپنا مال اپنی زندگی میں راہ اللہ نہ دیا ہو (مسند احمد) حضرت حارثہ بن قدامہ سعدی ؓ حاضر خدمت نبوی میں عرض کرتے ہیں کہ حضور ﷺ مجھے کوئی نفع کی بات کہیے جو مختصر ہو تاکہ میں یاد بھی رکھ سکوں آپ نے فرمایا غصہ نہ کر اس نے پھر پوچھا آپ نے پھر یہی جواب دیا کئی کئی مرتبہ یہی کہا (مسند احمد) کسی شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھے کچھ وصیت کیجئے آپ نے فرمایا غصہ نہ کر وہ کہتے ہیں میں نے جو غور کیا تو معلوم ہوا کہ تمام برائیوں کا مرکز غصہ ہی ہے (مسند احمد) ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوذر ؓ غصہ آیا تو آپ بیٹھ گئے اور پھر لیٹ گئے ان سے پوچھا گیا یہ کیا ؟ تو فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے جسے غصہ آئے وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر اس سے بھی غصہ نہ جائے تو لیٹ جائے (مسند احمد) مسند احمد کی ایک اور روایت میں ہے کہ عروہ بن محمد کو غصہ چڑھا آپ وضو کرنے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے میں نے اپنے استادوں سے یہ حدیث سنی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا ہوا ہے اور آگ بجھانے والی چیز پانی ہے پس تم غصہ کے وقت وضو کرنے بیٹھ جاؤ حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اپنا قرض اسے معاف کر دے اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے آزاد کردیتا ہے لوگو سنو جنت کے اعمال سخت اور مشکل ہیں اور جہنم کے کام آسان اور سہل ہیں نیک بخت وہی ہے جو فتنوں سے بچ جائے کسی گھونٹ کا پینا اللہ کو ایسا پسند نہیں جتنا غصہ کے گھونٹ کا پی جانا ایسے شخص کے دل میں ایمان رچ جاتا ہے (مسند احمد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ اتارنے کی طاقت رکھتے ہوئے پھر بھی ضبط کرلے اللہ تعالیٰ اس کا دل امن وامان سے پر کردیتا ہے جو شخص باوجود موجود ہونے کے شہرت کے کپڑے کو تواضع کی وجہ سے چھوڑ دے اسے اللہ تعالیٰ کرامت اور عزت کا حلہ قیامت کے دن پہنائے گا اور جو کسی کا سر چھپائے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن بادشاہت کا تاج پہنائے گا (ابوداؤد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص باوجود قدرت کے اپنا غصہ ضبط کرلے اسی اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے پسند کرلے (مسند احمد) اس مضمون کی اور بھی حدیثیں ہیں، پس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنے غصہ میں آپے سے باہر نہیں ہوتے لوگوں کو ان کی طرف سے برائی نہیں پہنچتی بلکہ اپنے جذبات کو دبائے رکھتے ہیں اور اللہ سے ڈر کر ثواب کی امید پر معاملہ سپر دالہ کرتے ہیں، لوگوں سے درگزر کرتے ہیں ظالموں کے ظلم کا بدلہ ابھی نہیں لیتے اسی کو احسان کہتے ہیں اور ان محسن بندوں سے اللہ محبت رکھتا ہے حدیث میں ہے رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں تین باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں ایک تو یہ کہ صدقہ سے مال نہیں گھٹتا دوسرے یہ کہ عفو و درگزر کرنے سے انسان کی عزت بڑھتی ہے تیسرے یہ کہ تواضع فروتنی اور عاجزی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ عطا کرتا ہے، مستدرک کی حدیث میں ہے جو شخص یہ چاہے کہ اس کی بنیاد بلند ہو اور اس کے درجے بڑھیں تو اسے ظالموں سے درگزر کرنا چاہئے اور نہ دینے والوں کو دینا چاہئے اور توڑنے والوں سے جوڑنا چاہئے اور حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک پکارے گا کہ اے لوگو درگزر کرنے والو اپنے رب کے پاس آؤ اور اپنا اجر لو۔ مسلمانوں کی خطاؤں کے معاف کرنے والے جنتی لوگ ہیں۔ پھر فرمایا یہ لوگ گناہ کے بعد فوراً ذکر اللہ اور استغفار کرتے ہیں۔ مسند احمد میں یہ روایت حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے پھر اللہ رحمن و رحیم کے سامنے حاضر ہو کر کہتا ہے کہ پروردگار مجھ سے گناہ ہوگیا تو معاف فرما اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے سے گو گناہ ہوگیا لیکن اس کا ایمان ہے کہ اس کا رب گناہ پر پکڑ بھی کرتا ہے اور اگر چاہے تو معاف بھی فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہو تو فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہوجاتا ہے یہ پھر توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ پھر بخشتا ہے چوتھی مرتبہ پھر گناہ کر بیٹھتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما کر کہتا ہے اب میرا بندہ جو چاہے کرے (مسند احمد) یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ہم نے ایک مرتبہ جناب رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یہ رسول اللہ ﷺ جب ہم آپ کو دیکھتے ہیں تو ہمارے دلوں میں رقت طاری ہوجاتی ہے اور ہم اللہ والے بن جاتے ہیں لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو وہ حالت نہیں رہتی عورتوں بچوں میں پھنس جاتے ہیں گھر بار کے دھندوں میں لگ جاتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا۔ اگر تمہاری حالت یہی ہر وقت رہتی تو پھر فرشتے تم سے مصافحہ کرتے اور تمہاری ملاقات کو تمہارے گھر پر آتے، سنو اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں یہاں سے ہٹا دے اور دوسری قوم کو لے آئے جو گناہ کرے پھر بخشش مانگے اور اللہ انہیں بخشے ہم نے کہا حضور ﷺ یہ فرماتے کہ جنت کی بنیادیں کس طرح استوار ہیں آپ نے فرمایا ایک اینٹ سونے کی تو ایک چاندی کی ہے اس کا گارہ مشک خالص ہے اس کے کنکر لؤلؤ اور یاقوت ہیں، اس کی مٹی زعفران ہے، جنتیوں کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی ان کی زندگی ہمیشہ کی ہوگی ان کے کپڑے پرانے نہیں ہونگے جوانی کبھی نہیں ڈھلے گی اور تین اشخاص کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی عادل بادشاہ کی دعا افطاری کے وقت روزے دار کی دعا اور مظلوم کی دعا بادلوں سے اٹھائی جاتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جناب باری ارشاد فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہو (مسند احمد) امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کوئی گناہ کرے پھر وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے اور اپنے گناہ کی معافی چاہے تو اے اللہ عزوجل اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں روایت امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو شخص کامل وضو کر کے دعا (اشھدان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھدان محمد اعبدہ و رسولہ) پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے اندر چلا جائے، امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ؓ سنت کے مطابق وضو کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا جو شخص مجھ جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے (بخاری مسلم) پس یہ حدیث کو حضرت عثمان سے اس سے اگلی روایت حضرت عمر سے اور اس سے اگلی روایت حضرت ابوبکر سے اور اس سے تیسری روایت کو حضرت ابوبکر سے حضرت علی روایت کرتے ہیں تو الحمد اللہ، اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور اس کی بےانتہاء مہربانی کی خبر سید الاولین والاخرین کی زبانی آپ کے چاروں برحق خلفاء کی معرفت ہمیں پہنچی (آؤ اس موقعہ پر ہم گنہگار بھی ہاتھ اٹھائیں اور اپنے مہربان رحیم و کریم اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اس سے معافی طلب کریں اللہ تعالیٰ اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اے عفو و درگزر کرنے والے ! اور کسی بھکاری کو اپنے در سے خالی نہ پھیرنے والے ! تو ہم خطاکاروں کی سیاہ کاریوں سے بھی درگزر فرما اور ہمارے کل گناہ معاف فرما دے۔ مترجم) یہی وہ مبارک آیت ہے کہ جب یہ نازل ہوئی تو ابلیس رونے لگا (مسند عبدالرزاق) استغفار اور لا الہ الاللہ مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لا الہ الا اللہ کثرت سے پڑھا کرو اور استغفار پر مداومت کرو ابلیس گناہوں سے لوگوں کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس کی اپنی ہلاکت لا الہ الا اللہ اور استغفار سے ہے، یہ حدیث دیکھ کر ابلیس نے لوگوں کو خواہش پرستی پر ڈال دیا پس وہ اپنے آپ کو راہ راست پر جانتے ہیں حالانکہ ہلاکت میں ہوتے ہیں لیکن اس حدیث کے دو راوی ضعیف ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ابلیس نے کہا اے رب مجھے تیری عزت کی قسم میں بنی آدم کو ان کے آخری دم تک بہکاتا رہوں گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے میرے جلال اور میری عزت کی قسم جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا مسند بزاز میں ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھ سے گناہ ہوگیا آپ نے فرمایا پھر استغفار کر اس نے کہا مجھ سے اور گناہ ہوا فرمایا استغفار کئے جا، یہاں تک کہ شیطان تھک جائے پھر فرمایا گناہ کو بخشنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک قیدی آیا اور کہنے لگا یا اللہ میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں محمد ﷺ کی طرف توبہ نہیں کرتا (یعنی اللہ میں تیری ہی بخشش چاہتا ہوں) آپ نے فرمایا اس نے حق حقدار کو پہنچایا۔ اصرار کرنے سے مراد یہ ہے کہ معصیت پر بغیر توبہ کئے اڑ نہیں جاتے اگر کئی مرتبہ گناہ ہوجائے تو کئی مرتبہ استغفار کرتے ہیں، مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہ اصرار کرنے والا اور اڑنے والا نہیں جو استغفار کرتا رہتا ہے اگرچہ (بالفرض) اس سے ایک دن میں ستر مرتبہ بھی گناہ ہوجائے پھر فرمایا کہ وہ جانتے ہوں یعنی اس بات کو کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ ھُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَيَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَاَنَّ اللّٰهَ ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِيْمُ) 9۔ التوبہ :104) کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جگہ ہے آیت (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا) 4۔ النسآء :110) جو شخص کوئی برا کام کرے یا گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ دیکھ لے گا کہ اللہ عزوجل بخشش کرنے والا مہربان ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیان فرمایا لوگو تم اوروں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم کرے گا لوگو تم دوسروں کی خطائیں معاف کرو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخشے گا باتیں بنانے والوں کی ہلاکت ہے گناہ پر جم جانے والوں کی ہلاکت ہے پھر فرمایا ان کاموں کے بدلے ان کی جزا مغفرت ہے اور طرح طرح کی بہتی نہروں والی جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑے اچھے اعمال ہیں۔

سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے پھر سعادت دارین کے حصول کیلئے نیکیوں کی طرف سبقت کرنے کو فرماتا ہے اور جنت کی تعریف کرتا ہے، چوڑائی کو بیان کر کے لمبائی کا اندازہ سننے والوں پر ہی چھوڑا جاتا ہے جس طرح جنتی فرش کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا آیت (مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي فُرُشٍۢ بَطَاۗىِٕنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ) 55۔ الرحمن :54) یعنی اس کا استر نرم ریشم کا ہے تو مطلب یہ ہے کہ جب استر ایسا ہے تو ابرے کا کیا ٹھکانا ہے اسی طرح یہاں بھی بیان ہو رہا ہے کہ جب عرض ساتوں آسمانوں اور ساتویں زمینوں کے برابر ہے تو طول کتنا بڑا ہوگا اور بعض نے کہا ہے کہ عرض و طول یعنی لمبائی چوڑائی دونوں برابر ہے کیونکہ جنت مثل قبہ کے عرش کے نیچے ہے اور جو چیز قبہ نما ہو یا مستدیر ہو اس کا عرض و طول یکساں ہوتا ہے۔ ایک صحیح حدیث میں ہے جب تم اللہ سے جنت مانگو تو فردوس کا سوال کرو وہ سب سے اونچی اور سب سے اچھی جنت ہے اسی جنت سے سب نہریں جاری ہوتی ہیں اور اسی کی چھت اللہ تعالیٰ رحمن رحیم کا عرش ہے، مسند امام احمد میں ہے کہ ہرقل نے حضور ﷺ کی خدمت میں بطور اعتراض کے ایک سوال لکھ بھیجا کہ آپ مجھے اس جنت کی دعوت دے رہے ہیں جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے تو یہ فرمایئے کہ پھر جہنم کہاں گئی ؟ حضور ﷺ نے فرمایا یعلیٰ بن مرہ کی ملاقات حمص میں ہوئی تھی کہتے ہیں اس وقت یہ بہت ہی بوڑھا ہوگیا تھا کہنے لگا جب میں نے یہ خط حضور ﷺ کو دیا تو آپ نے اپنی بائیں طرف کے ایک صحابی کو دیا میں نے لوگوں سے پوچھا ان کا کیا نام ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت معاویہ ہیں ؓ حضرت عمر ؓ سے بھی یہی سوال ہوا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ دن کے وقت رات اور رات کے وقت دن کہاں جاتا ہے ؟ یہودی یہ جواب سن کر کھسیانے ہو کر کہنے لگے کہ یہ توراۃ سے ماخوذ کیا ہوگا، حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ جواب مروی ہے، ایک مرفوع حدیث میں ہے کسی نے حضور ﷺ سے پوچھا تو آپ نے جواب میں فرمایا جب ہر چیز پر رات آجاتی ہے تو دن کہاں جاتا ہے ؟ اس نے کہا جہاں اللہ چاہے، آپ نے فرمایا اسی طرح جہنم بھی جہاں چاہے (بزار) اس جملہ کے دو معنی ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ رات کے وقت ہم گو دن کو نہیں دیکھ سکتے لیکن تاہم دن کا کسی جگہ ہونا ناممکن نہیں، اسی طرح گو جنت کا عرض اتنا ہی ہے لیکن پھر بھی جہنم کے وجود سے انکار نہیں ہوسکتا جہاں اللہ چاہے وہ بھی ہے، دوسرے معنی یہ کہ جب دن ایک طرف چڑھنے لگا رات دوسری جانب ہوتی ہے اسی طرح جنت اعلیٰ علیین میں ہے اور دوزخ اسفل السافلین میں تو کوئی نفی کا امکان ہی نہ رہا واللہ اعلم پھر اللہ تعالیٰ اہل جنت کا وصف بیان فرماتا ہے کہ وہ سختی میں اور آسانی میں خوشی میں اور غمی میں تندرستی میں اور بیماری میں غرض ہر حال میں راہ اللہ اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ) 2۔ البقرۃ :274) یعنی وہ لوگ دن رات چھپے کھلے خرچ کرتے رہتے ہیں کوئی امر انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باز نہیں رکھ سکتا اس کی مخلوق پر اس کے حکم سے احسان کرتے رہتے ہیں۔ یہ غصے کو پی جانے والے اور لوگوں کی برائیوں سے درگزر کرنے والے ہیں (کظم) کے معنی چھپانے کے بھی ہیں یعنی اپنے غصہ کا اظہار بھی نہیں کرتے بعض روایتوں میں ہے اے ابن آدم اگر غصہ کے وقت تجھے یاد رکھوں گا یعنی ہلاکت کے وقت تجھے ہلاکت سے بچا لوں گا (ابن ابی حاتم) اور حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ روک لے اللہ تعالیٰ اس پر سے اپنے عذاب ہٹا لیتا ہے اور جو بھی اپنی زبان (خلاف شرع باتوں سے) روک لے اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف معذرت لے جائے اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرماتا ہے (مسند ابو یعلیٰ) یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں بھی اختلاف ہے اور حدیث شریف میں ہے۔ آپ فرماتے ہیں پہلوان وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ حقیقتاً پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے (احمد) صحیح بخاری صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی ایسا ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ کوئی نہیں آپ نے فرمایا میں تو دیکھتا ہوں کہ تم اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال چاہتے ہو اس لئے کہ تمہارا مال تو درحقیقت وہ ہے جو تم راہ اللہ اپنی زندگی میں خرچ کردو اور جو چھوڑ کر جاؤ وہ تمہارا مال نہیں بلکہ تمہارے وارثوں کا مال ہے تو تمہارا راہ اللہ کم خرچ کرنا اور جمع زیادہ کرنا یہ دلیل ہے اس امر کی کہ تم اپنے مال سے اپنے وارثوں کے مال کو زیادہ عزیز رکھتے ہو، پھر فرمایا تم پہلوان کسے جانتے ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ اسے جسے کوئی گر انہ سکے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ حقیقتاً زور دار پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے جذبات پر پورا قابو رکھے، پھر فرمایا بےاولاد کسے کہتے ہو ؟ لوگوں نے کہا جس کی اولاد نہ ہو، فرمایا نہیں بلکہ فی الواقع بےاولاد وہ ہے جس کے سامنے اس کی کوئی اولاد مری نہ ہو (مسلم) ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو مفلس کنگال کون ہے ؟ لوگوں نے کہا جس کے پاس مال نہ ہو آپ نے فرمایا بلکہ وہ جس نے اپنا مال اپنی زندگی میں راہ اللہ نہ دیا ہو (مسند احمد) حضرت حارثہ بن قدامہ سعدی ؓ حاضر خدمت نبوی میں عرض کرتے ہیں کہ حضور ﷺ مجھے کوئی نفع کی بات کہیے جو مختصر ہو تاکہ میں یاد بھی رکھ سکوں آپ نے فرمایا غصہ نہ کر اس نے پھر پوچھا آپ نے پھر یہی جواب دیا کئی کئی مرتبہ یہی کہا (مسند احمد) کسی شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھے کچھ وصیت کیجئے آپ نے فرمایا غصہ نہ کر وہ کہتے ہیں میں نے جو غور کیا تو معلوم ہوا کہ تمام برائیوں کا مرکز غصہ ہی ہے (مسند احمد) ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوذر ؓ غصہ آیا تو آپ بیٹھ گئے اور پھر لیٹ گئے ان سے پوچھا گیا یہ کیا ؟ تو فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے جسے غصہ آئے وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر اس سے بھی غصہ نہ جائے تو لیٹ جائے (مسند احمد) مسند احمد کی ایک اور روایت میں ہے کہ عروہ بن محمد کو غصہ چڑھا آپ وضو کرنے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے میں نے اپنے استادوں سے یہ حدیث سنی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا ہوا ہے اور آگ بجھانے والی چیز پانی ہے پس تم غصہ کے وقت وضو کرنے بیٹھ جاؤ حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اپنا قرض اسے معاف کر دے اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے آزاد کردیتا ہے لوگو سنو جنت کے اعمال سخت اور مشکل ہیں اور جہنم کے کام آسان اور سہل ہیں نیک بخت وہی ہے جو فتنوں سے بچ جائے کسی گھونٹ کا پینا اللہ کو ایسا پسند نہیں جتنا غصہ کے گھونٹ کا پی جانا ایسے شخص کے دل میں ایمان رچ جاتا ہے (مسند احمد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ اتارنے کی طاقت رکھتے ہوئے پھر بھی ضبط کرلے اللہ تعالیٰ اس کا دل امن وامان سے پر کردیتا ہے جو شخص باوجود موجود ہونے کے شہرت کے کپڑے کو تواضع کی وجہ سے چھوڑ دے اسے اللہ تعالیٰ کرامت اور عزت کا حلہ قیامت کے دن پہنائے گا اور جو کسی کا سر چھپائے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن بادشاہت کا تاج پہنائے گا (ابوداؤد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص باوجود قدرت کے اپنا غصہ ضبط کرلے اسی اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے پسند کرلے (مسند احمد) اس مضمون کی اور بھی حدیثیں ہیں، پس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنے غصہ میں آپے سے باہر نہیں ہوتے لوگوں کو ان کی طرف سے برائی نہیں پہنچتی بلکہ اپنے جذبات کو دبائے رکھتے ہیں اور اللہ سے ڈر کر ثواب کی امید پر معاملہ سپر دالہ کرتے ہیں، لوگوں سے درگزر کرتے ہیں ظالموں کے ظلم کا بدلہ ابھی نہیں لیتے اسی کو احسان کہتے ہیں اور ان محسن بندوں سے اللہ محبت رکھتا ہے حدیث میں ہے رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں تین باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں ایک تو یہ کہ صدقہ سے مال نہیں گھٹتا دوسرے یہ کہ عفو و درگزر کرنے سے انسان کی عزت بڑھتی ہے تیسرے یہ کہ تواضع فروتنی اور عاجزی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ عطا کرتا ہے، مستدرک کی حدیث میں ہے جو شخص یہ چاہے کہ اس کی بنیاد بلند ہو اور اس کے درجے بڑھیں تو اسے ظالموں سے درگزر کرنا چاہئے اور نہ دینے والوں کو دینا چاہئے اور توڑنے والوں سے جوڑنا چاہئے اور حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک پکارے گا کہ اے لوگو درگزر کرنے والو اپنے رب کے پاس آؤ اور اپنا اجر لو۔ مسلمانوں کی خطاؤں کے معاف کرنے والے جنتی لوگ ہیں۔ پھر فرمایا یہ لوگ گناہ کے بعد فوراً ذکر اللہ اور استغفار کرتے ہیں۔ مسند احمد میں یہ روایت حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے پھر اللہ رحمن و رحیم کے سامنے حاضر ہو کر کہتا ہے کہ پروردگار مجھ سے گناہ ہوگیا تو معاف فرما اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے سے گو گناہ ہوگیا لیکن اس کا ایمان ہے کہ اس کا رب گناہ پر پکڑ بھی کرتا ہے اور اگر چاہے تو معاف بھی فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہو تو فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہوجاتا ہے یہ پھر توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ پھر بخشتا ہے چوتھی مرتبہ پھر گناہ کر بیٹھتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما کر کہتا ہے اب میرا بندہ جو چاہے کرے (مسند احمد) یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ہم نے ایک مرتبہ جناب رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یہ رسول اللہ ﷺ جب ہم آپ کو دیکھتے ہیں تو ہمارے دلوں میں رقت طاری ہوجاتی ہے اور ہم اللہ والے بن جاتے ہیں لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو وہ حالت نہیں رہتی عورتوں بچوں میں پھنس جاتے ہیں گھر بار کے دھندوں میں لگ جاتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا۔ اگر تمہاری حالت یہی ہر وقت رہتی تو پھر فرشتے تم سے مصافحہ کرتے اور تمہاری ملاقات کو تمہارے گھر پر آتے، سنو اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں یہاں سے ہٹا دے اور دوسری قوم کو لے آئے جو گناہ کرے پھر بخشش مانگے اور اللہ انہیں بخشے ہم نے کہا حضور ﷺ یہ فرماتے کہ جنت کی بنیادیں کس طرح استوار ہیں آپ نے فرمایا ایک اینٹ سونے کی تو ایک چاندی کی ہے اس کا گارہ مشک خالص ہے اس کے کنکر لؤلؤ اور یاقوت ہیں، اس کی مٹی زعفران ہے، جنتیوں کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی ان کی زندگی ہمیشہ کی ہوگی ان کے کپڑے پرانے نہیں ہونگے جوانی کبھی نہیں ڈھلے گی اور تین اشخاص کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی عادل بادشاہ کی دعا افطاری کے وقت روزے دار کی دعا اور مظلوم کی دعا بادلوں سے اٹھائی جاتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جناب باری ارشاد فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہو (مسند احمد) امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کوئی گناہ کرے پھر وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے اور اپنے گناہ کی معافی چاہے تو اے اللہ عزوجل اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں روایت امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو شخص کامل وضو کر کے دعا (اشھدان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھدان محمد اعبدہ و رسولہ) پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے اندر چلا جائے، امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ؓ سنت کے مطابق وضو کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا جو شخص مجھ جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے (بخاری مسلم) پس یہ حدیث کو حضرت عثمان سے اس سے اگلی روایت حضرت عمر سے اور اس سے اگلی روایت حضرت ابوبکر سے اور اس سے تیسری روایت کو حضرت ابوبکر سے حضرت علی روایت کرتے ہیں تو الحمد اللہ، اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور اس کی بےانتہاء مہربانی کی خبر سید الاولین والاخرین کی زبانی آپ کے چاروں برحق خلفاء کی معرفت ہمیں پہنچی (آؤ اس موقعہ پر ہم گنہگار بھی ہاتھ اٹھائیں اور اپنے مہربان رحیم و کریم اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اس سے معافی طلب کریں اللہ تعالیٰ اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اے عفو و درگزر کرنے والے ! اور کسی بھکاری کو اپنے در سے خالی نہ پھیرنے والے ! تو ہم خطاکاروں کی سیاہ کاریوں سے بھی درگزر فرما اور ہمارے کل گناہ معاف فرما دے۔ مترجم) یہی وہ مبارک آیت ہے کہ جب یہ نازل ہوئی تو ابلیس رونے لگا (مسند عبدالرزاق) استغفار اور لا الہ الاللہ مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لا الہ الا اللہ کثرت سے پڑھا کرو اور استغفار پر مداومت کرو ابلیس گناہوں سے لوگوں کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس کی اپنی ہلاکت لا الہ الا اللہ اور استغفار سے ہے، یہ حدیث دیکھ کر ابلیس نے لوگوں کو خواہش پرستی پر ڈال دیا پس وہ اپنے آپ کو راہ راست پر جانتے ہیں حالانکہ ہلاکت میں ہوتے ہیں لیکن اس حدیث کے دو راوی ضعیف ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ابلیس نے کہا اے رب مجھے تیری عزت کی قسم میں بنی آدم کو ان کے آخری دم تک بہکاتا رہوں گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے میرے جلال اور میری عزت کی قسم جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا مسند بزاز میں ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھ سے گناہ ہوگیا آپ نے فرمایا پھر استغفار کر اس نے کہا مجھ سے اور گناہ ہوا فرمایا استغفار کئے جا، یہاں تک کہ شیطان تھک جائے پھر فرمایا گناہ کو بخشنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک قیدی آیا اور کہنے لگا یا اللہ میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں محمد ﷺ کی طرف توبہ نہیں کرتا (یعنی اللہ میں تیری ہی بخشش چاہتا ہوں) آپ نے فرمایا اس نے حق حقدار کو پہنچایا۔ اصرار کرنے سے مراد یہ ہے کہ معصیت پر بغیر توبہ کئے اڑ نہیں جاتے اگر کئی مرتبہ گناہ ہوجائے تو کئی مرتبہ استغفار کرتے ہیں، مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہ اصرار کرنے والا اور اڑنے والا نہیں جو استغفار کرتا رہتا ہے اگرچہ (بالفرض) اس سے ایک دن میں ستر مرتبہ بھی گناہ ہوجائے پھر فرمایا کہ وہ جانتے ہوں یعنی اس بات کو کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ ھُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَيَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَاَنَّ اللّٰهَ ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِيْمُ) 9۔ التوبہ :104) کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جگہ ہے آیت (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا) 4۔ النسآء :110) جو شخص کوئی برا کام کرے یا گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ دیکھ لے گا کہ اللہ عزوجل بخشش کرنے والا مہربان ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیان فرمایا لوگو تم اوروں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم کرے گا لوگو تم دوسروں کی خطائیں معاف کرو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخشے گا باتیں بنانے والوں کی ہلاکت ہے گناہ پر جم جانے والوں کی ہلاکت ہے پھر فرمایا ان کاموں کے بدلے ان کی جزا مغفرت ہے اور طرح طرح کی بہتی نہروں والی جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑے اچھے اعمال ہیں۔

سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے پھر سعادت دارین کے حصول کیلئے نیکیوں کی طرف سبقت کرنے کو فرماتا ہے اور جنت کی تعریف کرتا ہے، چوڑائی کو بیان کر کے لمبائی کا اندازہ سننے والوں پر ہی چھوڑا جاتا ہے جس طرح جنتی فرش کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا آیت (مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي فُرُشٍۢ بَطَاۗىِٕنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ) 55۔ الرحمن :54) یعنی اس کا استر نرم ریشم کا ہے تو مطلب یہ ہے کہ جب استر ایسا ہے تو ابرے کا کیا ٹھکانا ہے اسی طرح یہاں بھی بیان ہو رہا ہے کہ جب عرض ساتوں آسمانوں اور ساتویں زمینوں کے برابر ہے تو طول کتنا بڑا ہوگا اور بعض نے کہا ہے کہ عرض و طول یعنی لمبائی چوڑائی دونوں برابر ہے کیونکہ جنت مثل قبہ کے عرش کے نیچے ہے اور جو چیز قبہ نما ہو یا مستدیر ہو اس کا عرض و طول یکساں ہوتا ہے۔ ایک صحیح حدیث میں ہے جب تم اللہ سے جنت مانگو تو فردوس کا سوال کرو وہ سب سے اونچی اور سب سے اچھی جنت ہے اسی جنت سے سب نہریں جاری ہوتی ہیں اور اسی کی چھت اللہ تعالیٰ رحمن رحیم کا عرش ہے، مسند امام احمد میں ہے کہ ہرقل نے حضور ﷺ کی خدمت میں بطور اعتراض کے ایک سوال لکھ بھیجا کہ آپ مجھے اس جنت کی دعوت دے رہے ہیں جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے تو یہ فرمایئے کہ پھر جہنم کہاں گئی ؟ حضور ﷺ نے فرمایا یعلیٰ بن مرہ کی ملاقات حمص میں ہوئی تھی کہتے ہیں اس وقت یہ بہت ہی بوڑھا ہوگیا تھا کہنے لگا جب میں نے یہ خط حضور ﷺ کو دیا تو آپ نے اپنی بائیں طرف کے ایک صحابی کو دیا میں نے لوگوں سے پوچھا ان کا کیا نام ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت معاویہ ہیں ؓ حضرت عمر ؓ سے بھی یہی سوال ہوا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ دن کے وقت رات اور رات کے وقت دن کہاں جاتا ہے ؟ یہودی یہ جواب سن کر کھسیانے ہو کر کہنے لگے کہ یہ توراۃ سے ماخوذ کیا ہوگا، حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ جواب مروی ہے، ایک مرفوع حدیث میں ہے کسی نے حضور ﷺ سے پوچھا تو آپ نے جواب میں فرمایا جب ہر چیز پر رات آجاتی ہے تو دن کہاں جاتا ہے ؟ اس نے کہا جہاں اللہ چاہے، آپ نے فرمایا اسی طرح جہنم بھی جہاں چاہے (بزار) اس جملہ کے دو معنی ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ رات کے وقت ہم گو دن کو نہیں دیکھ سکتے لیکن تاہم دن کا کسی جگہ ہونا ناممکن نہیں، اسی طرح گو جنت کا عرض اتنا ہی ہے لیکن پھر بھی جہنم کے وجود سے انکار نہیں ہوسکتا جہاں اللہ چاہے وہ بھی ہے، دوسرے معنی یہ کہ جب دن ایک طرف چڑھنے لگا رات دوسری جانب ہوتی ہے اسی طرح جنت اعلیٰ علیین میں ہے اور دوزخ اسفل السافلین میں تو کوئی نفی کا امکان ہی نہ رہا واللہ اعلم پھر اللہ تعالیٰ اہل جنت کا وصف بیان فرماتا ہے کہ وہ سختی میں اور آسانی میں خوشی میں اور غمی میں تندرستی میں اور بیماری میں غرض ہر حال میں راہ اللہ اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ) 2۔ البقرۃ :274) یعنی وہ لوگ دن رات چھپے کھلے خرچ کرتے رہتے ہیں کوئی امر انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باز نہیں رکھ سکتا اس کی مخلوق پر اس کے حکم سے احسان کرتے رہتے ہیں۔ یہ غصے کو پی جانے والے اور لوگوں کی برائیوں سے درگزر کرنے والے ہیں (کظم) کے معنی چھپانے کے بھی ہیں یعنی اپنے غصہ کا اظہار بھی نہیں کرتے بعض روایتوں میں ہے اے ابن آدم اگر غصہ کے وقت تجھے یاد رکھوں گا یعنی ہلاکت کے وقت تجھے ہلاکت سے بچا لوں گا (ابن ابی حاتم) اور حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ روک لے اللہ تعالیٰ اس پر سے اپنے عذاب ہٹا لیتا ہے اور جو بھی اپنی زبان (خلاف شرع باتوں سے) روک لے اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف معذرت لے جائے اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرماتا ہے (مسند ابو یعلیٰ) یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں بھی اختلاف ہے اور حدیث شریف میں ہے۔ آپ فرماتے ہیں پہلوان وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ حقیقتاً پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے (احمد) صحیح بخاری صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی ایسا ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ کوئی نہیں آپ نے فرمایا میں تو دیکھتا ہوں کہ تم اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال چاہتے ہو اس لئے کہ تمہارا مال تو درحقیقت وہ ہے جو تم راہ اللہ اپنی زندگی میں خرچ کردو اور جو چھوڑ کر جاؤ وہ تمہارا مال نہیں بلکہ تمہارے وارثوں کا مال ہے تو تمہارا راہ اللہ کم خرچ کرنا اور جمع زیادہ کرنا یہ دلیل ہے اس امر کی کہ تم اپنے مال سے اپنے وارثوں کے مال کو زیادہ عزیز رکھتے ہو، پھر فرمایا تم پہلوان کسے جانتے ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ اسے جسے کوئی گر انہ سکے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ حقیقتاً زور دار پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے جذبات پر پورا قابو رکھے، پھر فرمایا بےاولاد کسے کہتے ہو ؟ لوگوں نے کہا جس کی اولاد نہ ہو، فرمایا نہیں بلکہ فی الواقع بےاولاد وہ ہے جس کے سامنے اس کی کوئی اولاد مری نہ ہو (مسلم) ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو مفلس کنگال کون ہے ؟ لوگوں نے کہا جس کے پاس مال نہ ہو آپ نے فرمایا بلکہ وہ جس نے اپنا مال اپنی زندگی میں راہ اللہ نہ دیا ہو (مسند احمد) حضرت حارثہ بن قدامہ سعدی ؓ حاضر خدمت نبوی میں عرض کرتے ہیں کہ حضور ﷺ مجھے کوئی نفع کی بات کہیے جو مختصر ہو تاکہ میں یاد بھی رکھ سکوں آپ نے فرمایا غصہ نہ کر اس نے پھر پوچھا آپ نے پھر یہی جواب دیا کئی کئی مرتبہ یہی کہا (مسند احمد) کسی شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھے کچھ وصیت کیجئے آپ نے فرمایا غصہ نہ کر وہ کہتے ہیں میں نے جو غور کیا تو معلوم ہوا کہ تمام برائیوں کا مرکز غصہ ہی ہے (مسند احمد) ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوذر ؓ غصہ آیا تو آپ بیٹھ گئے اور پھر لیٹ گئے ان سے پوچھا گیا یہ کیا ؟ تو فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے جسے غصہ آئے وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر اس سے بھی غصہ نہ جائے تو لیٹ جائے (مسند احمد) مسند احمد کی ایک اور روایت میں ہے کہ عروہ بن محمد کو غصہ چڑھا آپ وضو کرنے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے میں نے اپنے استادوں سے یہ حدیث سنی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا ہوا ہے اور آگ بجھانے والی چیز پانی ہے پس تم غصہ کے وقت وضو کرنے بیٹھ جاؤ حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اپنا قرض اسے معاف کر دے اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے آزاد کردیتا ہے لوگو سنو جنت کے اعمال سخت اور مشکل ہیں اور جہنم کے کام آسان اور سہل ہیں نیک بخت وہی ہے جو فتنوں سے بچ جائے کسی گھونٹ کا پینا اللہ کو ایسا پسند نہیں جتنا غصہ کے گھونٹ کا پی جانا ایسے شخص کے دل میں ایمان رچ جاتا ہے (مسند احمد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ اتارنے کی طاقت رکھتے ہوئے پھر بھی ضبط کرلے اللہ تعالیٰ اس کا دل امن وامان سے پر کردیتا ہے جو شخص باوجود موجود ہونے کے شہرت کے کپڑے کو تواضع کی وجہ سے چھوڑ دے اسے اللہ تعالیٰ کرامت اور عزت کا حلہ قیامت کے دن پہنائے گا اور جو کسی کا سر چھپائے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن بادشاہت کا تاج پہنائے گا (ابوداؤد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص باوجود قدرت کے اپنا غصہ ضبط کرلے اسی اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے پسند کرلے (مسند احمد) اس مضمون کی اور بھی حدیثیں ہیں، پس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنے غصہ میں آپے سے باہر نہیں ہوتے لوگوں کو ان کی طرف سے برائی نہیں پہنچتی بلکہ اپنے جذبات کو دبائے رکھتے ہیں اور اللہ سے ڈر کر ثواب کی امید پر معاملہ سپر دالہ کرتے ہیں، لوگوں سے درگزر کرتے ہیں ظالموں کے ظلم کا بدلہ ابھی نہیں لیتے اسی کو احسان کہتے ہیں اور ان محسن بندوں سے اللہ محبت رکھتا ہے حدیث میں ہے رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں تین باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں ایک تو یہ کہ صدقہ سے مال نہیں گھٹتا دوسرے یہ کہ عفو و درگزر کرنے سے انسان کی عزت بڑھتی ہے تیسرے یہ کہ تواضع فروتنی اور عاجزی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ عطا کرتا ہے، مستدرک کی حدیث میں ہے جو شخص یہ چاہے کہ اس کی بنیاد بلند ہو اور اس کے درجے بڑھیں تو اسے ظالموں سے درگزر کرنا چاہئے اور نہ دینے والوں کو دینا چاہئے اور توڑنے والوں سے جوڑنا چاہئے اور حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک پکارے گا کہ اے لوگو درگزر کرنے والو اپنے رب کے پاس آؤ اور اپنا اجر لو۔ مسلمانوں کی خطاؤں کے معاف کرنے والے جنتی لوگ ہیں۔ پھر فرمایا یہ لوگ گناہ کے بعد فوراً ذکر اللہ اور استغفار کرتے ہیں۔ مسند احمد میں یہ روایت حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے پھر اللہ رحمن و رحیم کے سامنے حاضر ہو کر کہتا ہے کہ پروردگار مجھ سے گناہ ہوگیا تو معاف فرما اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے سے گو گناہ ہوگیا لیکن اس کا ایمان ہے کہ اس کا رب گناہ پر پکڑ بھی کرتا ہے اور اگر چاہے تو معاف بھی فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہو تو فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہوجاتا ہے یہ پھر توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ پھر بخشتا ہے چوتھی مرتبہ پھر گناہ کر بیٹھتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما کر کہتا ہے اب میرا بندہ جو چاہے کرے (مسند احمد) یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ہم نے ایک مرتبہ جناب رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یہ رسول اللہ ﷺ جب ہم آپ کو دیکھتے ہیں تو ہمارے دلوں میں رقت طاری ہوجاتی ہے اور ہم اللہ والے بن جاتے ہیں لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو وہ حالت نہیں رہتی عورتوں بچوں میں پھنس جاتے ہیں گھر بار کے دھندوں میں لگ جاتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا۔ اگر تمہاری حالت یہی ہر وقت رہتی تو پھر فرشتے تم سے مصافحہ کرتے اور تمہاری ملاقات کو تمہارے گھر پر آتے، سنو اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں یہاں سے ہٹا دے اور دوسری قوم کو لے آئے جو گناہ کرے پھر بخشش مانگے اور اللہ انہیں بخشے ہم نے کہا حضور ﷺ یہ فرماتے کہ جنت کی بنیادیں کس طرح استوار ہیں آپ نے فرمایا ایک اینٹ سونے کی تو ایک چاندی کی ہے اس کا گارہ مشک خالص ہے اس کے کنکر لؤلؤ اور یاقوت ہیں، اس کی مٹی زعفران ہے، جنتیوں کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی ان کی زندگی ہمیشہ کی ہوگی ان کے کپڑے پرانے نہیں ہونگے جوانی کبھی نہیں ڈھلے گی اور تین اشخاص کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی عادل بادشاہ کی دعا افطاری کے وقت روزے دار کی دعا اور مظلوم کی دعا بادلوں سے اٹھائی جاتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جناب باری ارشاد فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہو (مسند احمد) امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کوئی گناہ کرے پھر وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے اور اپنے گناہ کی معافی چاہے تو اے اللہ عزوجل اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں روایت امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو شخص کامل وضو کر کے دعا (اشھدان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھدان محمد اعبدہ و رسولہ) پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے اندر چلا جائے، امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ؓ سنت کے مطابق وضو کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا جو شخص مجھ جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے (بخاری مسلم) پس یہ حدیث کو حضرت عثمان سے اس سے اگلی روایت حضرت عمر سے اور اس سے اگلی روایت حضرت ابوبکر سے اور اس سے تیسری روایت کو حضرت ابوبکر سے حضرت علی روایت کرتے ہیں تو الحمد اللہ، اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور اس کی بےانتہاء مہربانی کی خبر سید الاولین والاخرین کی زبانی آپ کے چاروں برحق خلفاء کی معرفت ہمیں پہنچی (آؤ اس موقعہ پر ہم گنہگار بھی ہاتھ اٹھائیں اور اپنے مہربان رحیم و کریم اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اس سے معافی طلب کریں اللہ تعالیٰ اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اے عفو و درگزر کرنے والے ! اور کسی بھکاری کو اپنے در سے خالی نہ پھیرنے والے ! تو ہم خطاکاروں کی سیاہ کاریوں سے بھی درگزر فرما اور ہمارے کل گناہ معاف فرما دے۔ مترجم) یہی وہ مبارک آیت ہے کہ جب یہ نازل ہوئی تو ابلیس رونے لگا (مسند عبدالرزاق) استغفار اور لا الہ الاللہ مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لا الہ الا اللہ کثرت سے پڑھا کرو اور استغفار پر مداومت کرو ابلیس گناہوں سے لوگوں کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس کی اپنی ہلاکت لا الہ الا اللہ اور استغفار سے ہے، یہ حدیث دیکھ کر ابلیس نے لوگوں کو خواہش پرستی پر ڈال دیا پس وہ اپنے آپ کو راہ راست پر جانتے ہیں حالانکہ ہلاکت میں ہوتے ہیں لیکن اس حدیث کے دو راوی ضعیف ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ابلیس نے کہا اے رب مجھے تیری عزت کی قسم میں بنی آدم کو ان کے آخری دم تک بہکاتا رہوں گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے میرے جلال اور میری عزت کی قسم جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا مسند بزاز میں ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھ سے گناہ ہوگیا آپ نے فرمایا پھر استغفار کر اس نے کہا مجھ سے اور گناہ ہوا فرمایا استغفار کئے جا، یہاں تک کہ شیطان تھک جائے پھر فرمایا گناہ کو بخشنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک قیدی آیا اور کہنے لگا یا اللہ میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں محمد ﷺ کی طرف توبہ نہیں کرتا (یعنی اللہ میں تیری ہی بخشش چاہتا ہوں) آپ نے فرمایا اس نے حق حقدار کو پہنچایا۔ اصرار کرنے سے مراد یہ ہے کہ معصیت پر بغیر توبہ کئے اڑ نہیں جاتے اگر کئی مرتبہ گناہ ہوجائے تو کئی مرتبہ استغفار کرتے ہیں، مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہ اصرار کرنے والا اور اڑنے والا نہیں جو استغفار کرتا رہتا ہے اگرچہ (بالفرض) اس سے ایک دن میں ستر مرتبہ بھی گناہ ہوجائے پھر فرمایا کہ وہ جانتے ہوں یعنی اس بات کو کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ ھُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَيَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَاَنَّ اللّٰهَ ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِيْمُ) 9۔ التوبہ :104) کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جگہ ہے آیت (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا) 4۔ النسآء :110) جو شخص کوئی برا کام کرے یا گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ دیکھ لے گا کہ اللہ عزوجل بخشش کرنے والا مہربان ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیان فرمایا لوگو تم اوروں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم کرے گا لوگو تم دوسروں کی خطائیں معاف کرو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخشے گا باتیں بنانے والوں کی ہلاکت ہے گناہ پر جم جانے والوں کی ہلاکت ہے پھر فرمایا ان کاموں کے بدلے ان کی جزا مغفرت ہے اور طرح طرح کی بہتی نہروں والی جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑے اچھے اعمال ہیں۔

سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے پھر سعادت دارین کے حصول کیلئے نیکیوں کی طرف سبقت کرنے کو فرماتا ہے اور جنت کی تعریف کرتا ہے، چوڑائی کو بیان کر کے لمبائی کا اندازہ سننے والوں پر ہی چھوڑا جاتا ہے جس طرح جنتی فرش کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا آیت (مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي فُرُشٍۢ بَطَاۗىِٕنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ) 55۔ الرحمن :54) یعنی اس کا استر نرم ریشم کا ہے تو مطلب یہ ہے کہ جب استر ایسا ہے تو ابرے کا کیا ٹھکانا ہے اسی طرح یہاں بھی بیان ہو رہا ہے کہ جب عرض ساتوں آسمانوں اور ساتویں زمینوں کے برابر ہے تو طول کتنا بڑا ہوگا اور بعض نے کہا ہے کہ عرض و طول یعنی لمبائی چوڑائی دونوں برابر ہے کیونکہ جنت مثل قبہ کے عرش کے نیچے ہے اور جو چیز قبہ نما ہو یا مستدیر ہو اس کا عرض و طول یکساں ہوتا ہے۔ ایک صحیح حدیث میں ہے جب تم اللہ سے جنت مانگو تو فردوس کا سوال کرو وہ سب سے اونچی اور سب سے اچھی جنت ہے اسی جنت سے سب نہریں جاری ہوتی ہیں اور اسی کی چھت اللہ تعالیٰ رحمن رحیم کا عرش ہے، مسند امام احمد میں ہے کہ ہرقل نے حضور ﷺ کی خدمت میں بطور اعتراض کے ایک سوال لکھ بھیجا کہ آپ مجھے اس جنت کی دعوت دے رہے ہیں جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے تو یہ فرمایئے کہ پھر جہنم کہاں گئی ؟ حضور ﷺ نے فرمایا یعلیٰ بن مرہ کی ملاقات حمص میں ہوئی تھی کہتے ہیں اس وقت یہ بہت ہی بوڑھا ہوگیا تھا کہنے لگا جب میں نے یہ خط حضور ﷺ کو دیا تو آپ نے اپنی بائیں طرف کے ایک صحابی کو دیا میں نے لوگوں سے پوچھا ان کا کیا نام ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت معاویہ ہیں ؓ حضرت عمر ؓ سے بھی یہی سوال ہوا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ دن کے وقت رات اور رات کے وقت دن کہاں جاتا ہے ؟ یہودی یہ جواب سن کر کھسیانے ہو کر کہنے لگے کہ یہ توراۃ سے ماخوذ کیا ہوگا، حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ جواب مروی ہے، ایک مرفوع حدیث میں ہے کسی نے حضور ﷺ سے پوچھا تو آپ نے جواب میں فرمایا جب ہر چیز پر رات آجاتی ہے تو دن کہاں جاتا ہے ؟ اس نے کہا جہاں اللہ چاہے، آپ نے فرمایا اسی طرح جہنم بھی جہاں چاہے (بزار) اس جملہ کے دو معنی ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ رات کے وقت ہم گو دن کو نہیں دیکھ سکتے لیکن تاہم دن کا کسی جگہ ہونا ناممکن نہیں، اسی طرح گو جنت کا عرض اتنا ہی ہے لیکن پھر بھی جہنم کے وجود سے انکار نہیں ہوسکتا جہاں اللہ چاہے وہ بھی ہے، دوسرے معنی یہ کہ جب دن ایک طرف چڑھنے لگا رات دوسری جانب ہوتی ہے اسی طرح جنت اعلیٰ علیین میں ہے اور دوزخ اسفل السافلین میں تو کوئی نفی کا امکان ہی نہ رہا واللہ اعلم پھر اللہ تعالیٰ اہل جنت کا وصف بیان فرماتا ہے کہ وہ سختی میں اور آسانی میں خوشی میں اور غمی میں تندرستی میں اور بیماری میں غرض ہر حال میں راہ اللہ اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ) 2۔ البقرۃ :274) یعنی وہ لوگ دن رات چھپے کھلے خرچ کرتے رہتے ہیں کوئی امر انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باز نہیں رکھ سکتا اس کی مخلوق پر اس کے حکم سے احسان کرتے رہتے ہیں۔ یہ غصے کو پی جانے والے اور لوگوں کی برائیوں سے درگزر کرنے والے ہیں (کظم) کے معنی چھپانے کے بھی ہیں یعنی اپنے غصہ کا اظہار بھی نہیں کرتے بعض روایتوں میں ہے اے ابن آدم اگر غصہ کے وقت تجھے یاد رکھوں گا یعنی ہلاکت کے وقت تجھے ہلاکت سے بچا لوں گا (ابن ابی حاتم) اور حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ روک لے اللہ تعالیٰ اس پر سے اپنے عذاب ہٹا لیتا ہے اور جو بھی اپنی زبان (خلاف شرع باتوں سے) روک لے اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف معذرت لے جائے اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرماتا ہے (مسند ابو یعلیٰ) یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں بھی اختلاف ہے اور حدیث شریف میں ہے۔ آپ فرماتے ہیں پہلوان وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ حقیقتاً پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے (احمد) صحیح بخاری صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی ایسا ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ کوئی نہیں آپ نے فرمایا میں تو دیکھتا ہوں کہ تم اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال چاہتے ہو اس لئے کہ تمہارا مال تو درحقیقت وہ ہے جو تم راہ اللہ اپنی زندگی میں خرچ کردو اور جو چھوڑ کر جاؤ وہ تمہارا مال نہیں بلکہ تمہارے وارثوں کا مال ہے تو تمہارا راہ اللہ کم خرچ کرنا اور جمع زیادہ کرنا یہ دلیل ہے اس امر کی کہ تم اپنے مال سے اپنے وارثوں کے مال کو زیادہ عزیز رکھتے ہو، پھر فرمایا تم پہلوان کسے جانتے ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ اسے جسے کوئی گر انہ سکے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ حقیقتاً زور دار پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے جذبات پر پورا قابو رکھے، پھر فرمایا بےاولاد کسے کہتے ہو ؟ لوگوں نے کہا جس کی اولاد نہ ہو، فرمایا نہیں بلکہ فی الواقع بےاولاد وہ ہے جس کے سامنے اس کی کوئی اولاد مری نہ ہو (مسلم) ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو مفلس کنگال کون ہے ؟ لوگوں نے کہا جس کے پاس مال نہ ہو آپ نے فرمایا بلکہ وہ جس نے اپنا مال اپنی زندگی میں راہ اللہ نہ دیا ہو (مسند احمد) حضرت حارثہ بن قدامہ سعدی ؓ حاضر خدمت نبوی میں عرض کرتے ہیں کہ حضور ﷺ مجھے کوئی نفع کی بات کہیے جو مختصر ہو تاکہ میں یاد بھی رکھ سکوں آپ نے فرمایا غصہ نہ کر اس نے پھر پوچھا آپ نے پھر یہی جواب دیا کئی کئی مرتبہ یہی کہا (مسند احمد) کسی شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھے کچھ وصیت کیجئے آپ نے فرمایا غصہ نہ کر وہ کہتے ہیں میں نے جو غور کیا تو معلوم ہوا کہ تمام برائیوں کا مرکز غصہ ہی ہے (مسند احمد) ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوذر ؓ غصہ آیا تو آپ بیٹھ گئے اور پھر لیٹ گئے ان سے پوچھا گیا یہ کیا ؟ تو فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے جسے غصہ آئے وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر اس سے بھی غصہ نہ جائے تو لیٹ جائے (مسند احمد) مسند احمد کی ایک اور روایت میں ہے کہ عروہ بن محمد کو غصہ چڑھا آپ وضو کرنے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے میں نے اپنے استادوں سے یہ حدیث سنی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا ہوا ہے اور آگ بجھانے والی چیز پانی ہے پس تم غصہ کے وقت وضو کرنے بیٹھ جاؤ حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اپنا قرض اسے معاف کر دے اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے آزاد کردیتا ہے لوگو سنو جنت کے اعمال سخت اور مشکل ہیں اور جہنم کے کام آسان اور سہل ہیں نیک بخت وہی ہے جو فتنوں سے بچ جائے کسی گھونٹ کا پینا اللہ کو ایسا پسند نہیں جتنا غصہ کے گھونٹ کا پی جانا ایسے شخص کے دل میں ایمان رچ جاتا ہے (مسند احمد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ اتارنے کی طاقت رکھتے ہوئے پھر بھی ضبط کرلے اللہ تعالیٰ اس کا دل امن وامان سے پر کردیتا ہے جو شخص باوجود موجود ہونے کے شہرت کے کپڑے کو تواضع کی وجہ سے چھوڑ دے اسے اللہ تعالیٰ کرامت اور عزت کا حلہ قیامت کے دن پہنائے گا اور جو کسی کا سر چھپائے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن بادشاہت کا تاج پہنائے گا (ابوداؤد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص باوجود قدرت کے اپنا غصہ ضبط کرلے اسی اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے پسند کرلے (مسند احمد) اس مضمون کی اور بھی حدیثیں ہیں، پس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنے غصہ میں آپے سے باہر نہیں ہوتے لوگوں کو ان کی طرف سے برائی نہیں پہنچتی بلکہ اپنے جذبات کو دبائے رکھتے ہیں اور اللہ سے ڈر کر ثواب کی امید پر معاملہ سپر دالہ کرتے ہیں، لوگوں سے درگزر کرتے ہیں ظالموں کے ظلم کا بدلہ ابھی نہیں لیتے اسی کو احسان کہتے ہیں اور ان محسن بندوں سے اللہ محبت رکھتا ہے حدیث میں ہے رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں تین باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں ایک تو یہ کہ صدقہ سے مال نہیں گھٹتا دوسرے یہ کہ عفو و درگزر کرنے سے انسان کی عزت بڑھتی ہے تیسرے یہ کہ تواضع فروتنی اور عاجزی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ عطا کرتا ہے، مستدرک کی حدیث میں ہے جو شخص یہ چاہے کہ اس کی بنیاد بلند ہو اور اس کے درجے بڑھیں تو اسے ظالموں سے درگزر کرنا چاہئے اور نہ دینے والوں کو دینا چاہئے اور توڑنے والوں سے جوڑنا چاہئے اور حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک پکارے گا کہ اے لوگو درگزر کرنے والو اپنے رب کے پاس آؤ اور اپنا اجر لو۔ مسلمانوں کی خطاؤں کے معاف کرنے والے جنتی لوگ ہیں۔ پھر فرمایا یہ لوگ گناہ کے بعد فوراً ذکر اللہ اور استغفار کرتے ہیں۔ مسند احمد میں یہ روایت حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے پھر اللہ رحمن و رحیم کے سامنے حاضر ہو کر کہتا ہے کہ پروردگار مجھ سے گناہ ہوگیا تو معاف فرما اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے سے گو گناہ ہوگیا لیکن اس کا ایمان ہے کہ اس کا رب گناہ پر پکڑ بھی کرتا ہے اور اگر چاہے تو معاف بھی فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہو تو فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہوجاتا ہے یہ پھر توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ پھر بخشتا ہے چوتھی مرتبہ پھر گناہ کر بیٹھتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما کر کہتا ہے اب میرا بندہ جو چاہے کرے (مسند احمد) یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ہم نے ایک مرتبہ جناب رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یہ رسول اللہ ﷺ جب ہم آپ کو دیکھتے ہیں تو ہمارے دلوں میں رقت طاری ہوجاتی ہے اور ہم اللہ والے بن جاتے ہیں لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو وہ حالت نہیں رہتی عورتوں بچوں میں پھنس جاتے ہیں گھر بار کے دھندوں میں لگ جاتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا۔ اگر تمہاری حالت یہی ہر وقت رہتی تو پھر فرشتے تم سے مصافحہ کرتے اور تمہاری ملاقات کو تمہارے گھر پر آتے، سنو اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں یہاں سے ہٹا دے اور دوسری قوم کو لے آئے جو گناہ کرے پھر بخشش مانگے اور اللہ انہیں بخشے ہم نے کہا حضور ﷺ یہ فرماتے کہ جنت کی بنیادیں کس طرح استوار ہیں آپ نے فرمایا ایک اینٹ سونے کی تو ایک چاندی کی ہے اس کا گارہ مشک خالص ہے اس کے کنکر لؤلؤ اور یاقوت ہیں، اس کی مٹی زعفران ہے، جنتیوں کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی ان کی زندگی ہمیشہ کی ہوگی ان کے کپڑے پرانے نہیں ہونگے جوانی کبھی نہیں ڈھلے گی اور تین اشخاص کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی عادل بادشاہ کی دعا افطاری کے وقت روزے دار کی دعا اور مظلوم کی دعا بادلوں سے اٹھائی جاتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جناب باری ارشاد فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہو (مسند احمد) امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کوئی گناہ کرے پھر وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے اور اپنے گناہ کی معافی چاہے تو اے اللہ عزوجل اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں روایت امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو شخص کامل وضو کر کے دعا (اشھدان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھدان محمد اعبدہ و رسولہ) پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے اندر چلا جائے، امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ؓ سنت کے مطابق وضو کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا جو شخص مجھ جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے (بخاری مسلم) پس یہ حدیث کو حضرت عثمان سے اس سے اگلی روایت حضرت عمر سے اور اس سے اگلی روایت حضرت ابوبکر سے اور اس سے تیسری روایت کو حضرت ابوبکر سے حضرت علی روایت کرتے ہیں تو الحمد اللہ، اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور اس کی بےانتہاء مہربانی کی خبر سید الاولین والاخرین کی زبانی آپ کے چاروں برحق خلفاء کی معرفت ہمیں پہنچی (آؤ اس موقعہ پر ہم گنہگار بھی ہاتھ اٹھائیں اور اپنے مہربان رحیم و کریم اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اس سے معافی طلب کریں اللہ تعالیٰ اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اے عفو و درگزر کرنے والے ! اور کسی بھکاری کو اپنے در سے خالی نہ پھیرنے والے ! تو ہم خطاکاروں کی سیاہ کاریوں سے بھی درگزر فرما اور ہمارے کل گناہ معاف فرما دے۔ مترجم) یہی وہ مبارک آیت ہے کہ جب یہ نازل ہوئی تو ابلیس رونے لگا (مسند عبدالرزاق) استغفار اور لا الہ الاللہ مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لا الہ الا اللہ کثرت سے پڑھا کرو اور استغفار پر مداومت کرو ابلیس گناہوں سے لوگوں کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس کی اپنی ہلاکت لا الہ الا اللہ اور استغفار سے ہے، یہ حدیث دیکھ کر ابلیس نے لوگوں کو خواہش پرستی پر ڈال دیا پس وہ اپنے آپ کو راہ راست پر جانتے ہیں حالانکہ ہلاکت میں ہوتے ہیں لیکن اس حدیث کے دو راوی ضعیف ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ابلیس نے کہا اے رب مجھے تیری عزت کی قسم میں بنی آدم کو ان کے آخری دم تک بہکاتا رہوں گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے میرے جلال اور میری عزت کی قسم جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا مسند بزاز میں ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھ سے گناہ ہوگیا آپ نے فرمایا پھر استغفار کر اس نے کہا مجھ سے اور گناہ ہوا فرمایا استغفار کئے جا، یہاں تک کہ شیطان تھک جائے پھر فرمایا گناہ کو بخشنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک قیدی آیا اور کہنے لگا یا اللہ میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں محمد ﷺ کی طرف توبہ نہیں کرتا (یعنی اللہ میں تیری ہی بخشش چاہتا ہوں) آپ نے فرمایا اس نے حق حقدار کو پہنچایا۔ اصرار کرنے سے مراد یہ ہے کہ معصیت پر بغیر توبہ کئے اڑ نہیں جاتے اگر کئی مرتبہ گناہ ہوجائے تو کئی مرتبہ استغفار کرتے ہیں، مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہ اصرار کرنے والا اور اڑنے والا نہیں جو استغفار کرتا رہتا ہے اگرچہ (بالفرض) اس سے ایک دن میں ستر مرتبہ بھی گناہ ہوجائے پھر فرمایا کہ وہ جانتے ہوں یعنی اس بات کو کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ ھُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَيَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَاَنَّ اللّٰهَ ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِيْمُ) 9۔ التوبہ :104) کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جگہ ہے آیت (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا) 4۔ النسآء :110) جو شخص کوئی برا کام کرے یا گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ دیکھ لے گا کہ اللہ عزوجل بخشش کرنے والا مہربان ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیان فرمایا لوگو تم اوروں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم کرے گا لوگو تم دوسروں کی خطائیں معاف کرو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخشے گا باتیں بنانے والوں کی ہلاکت ہے گناہ پر جم جانے والوں کی ہلاکت ہے پھر فرمایا ان کاموں کے بدلے ان کی جزا مغفرت ہے اور طرح طرح کی بہتی نہروں والی جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑے اچھے اعمال ہیں۔

سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے پھر سعادت دارین کے حصول کیلئے نیکیوں کی طرف سبقت کرنے کو فرماتا ہے اور جنت کی تعریف کرتا ہے، چوڑائی کو بیان کر کے لمبائی کا اندازہ سننے والوں پر ہی چھوڑا جاتا ہے جس طرح جنتی فرش کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا آیت (مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي فُرُشٍۢ بَطَاۗىِٕنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ) 55۔ الرحمن :54) یعنی اس کا استر نرم ریشم کا ہے تو مطلب یہ ہے کہ جب استر ایسا ہے تو ابرے کا کیا ٹھکانا ہے اسی طرح یہاں بھی بیان ہو رہا ہے کہ جب عرض ساتوں آسمانوں اور ساتویں زمینوں کے برابر ہے تو طول کتنا بڑا ہوگا اور بعض نے کہا ہے کہ عرض و طول یعنی لمبائی چوڑائی دونوں برابر ہے کیونکہ جنت مثل قبہ کے عرش کے نیچے ہے اور جو چیز قبہ نما ہو یا مستدیر ہو اس کا عرض و طول یکساں ہوتا ہے۔ ایک صحیح حدیث میں ہے جب تم اللہ سے جنت مانگو تو فردوس کا سوال کرو وہ سب سے اونچی اور سب سے اچھی جنت ہے اسی جنت سے سب نہریں جاری ہوتی ہیں اور اسی کی چھت اللہ تعالیٰ رحمن رحیم کا عرش ہے، مسند امام احمد میں ہے کہ ہرقل نے حضور ﷺ کی خدمت میں بطور اعتراض کے ایک سوال لکھ بھیجا کہ آپ مجھے اس جنت کی دعوت دے رہے ہیں جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے تو یہ فرمایئے کہ پھر جہنم کہاں گئی ؟ حضور ﷺ نے فرمایا یعلیٰ بن مرہ کی ملاقات حمص میں ہوئی تھی کہتے ہیں اس وقت یہ بہت ہی بوڑھا ہوگیا تھا کہنے لگا جب میں نے یہ خط حضور ﷺ کو دیا تو آپ نے اپنی بائیں طرف کے ایک صحابی کو دیا میں نے لوگوں سے پوچھا ان کا کیا نام ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت معاویہ ہیں ؓ حضرت عمر ؓ سے بھی یہی سوال ہوا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ دن کے وقت رات اور رات کے وقت دن کہاں جاتا ہے ؟ یہودی یہ جواب سن کر کھسیانے ہو کر کہنے لگے کہ یہ توراۃ سے ماخوذ کیا ہوگا، حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ جواب مروی ہے، ایک مرفوع حدیث میں ہے کسی نے حضور ﷺ سے پوچھا تو آپ نے جواب میں فرمایا جب ہر چیز پر رات آجاتی ہے تو دن کہاں جاتا ہے ؟ اس نے کہا جہاں اللہ چاہے، آپ نے فرمایا اسی طرح جہنم بھی جہاں چاہے (بزار) اس جملہ کے دو معنی ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ رات کے وقت ہم گو دن کو نہیں دیکھ سکتے لیکن تاہم دن کا کسی جگہ ہونا ناممکن نہیں، اسی طرح گو جنت کا عرض اتنا ہی ہے لیکن پھر بھی جہنم کے وجود سے انکار نہیں ہوسکتا جہاں اللہ چاہے وہ بھی ہے، دوسرے معنی یہ کہ جب دن ایک طرف چڑھنے لگا رات دوسری جانب ہوتی ہے اسی طرح جنت اعلیٰ علیین میں ہے اور دوزخ اسفل السافلین میں تو کوئی نفی کا امکان ہی نہ رہا واللہ اعلم پھر اللہ تعالیٰ اہل جنت کا وصف بیان فرماتا ہے کہ وہ سختی میں اور آسانی میں خوشی میں اور غمی میں تندرستی میں اور بیماری میں غرض ہر حال میں راہ اللہ اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ) 2۔ البقرۃ :274) یعنی وہ لوگ دن رات چھپے کھلے خرچ کرتے رہتے ہیں کوئی امر انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باز نہیں رکھ سکتا اس کی مخلوق پر اس کے حکم سے احسان کرتے رہتے ہیں۔ یہ غصے کو پی جانے والے اور لوگوں کی برائیوں سے درگزر کرنے والے ہیں (کظم) کے معنی چھپانے کے بھی ہیں یعنی اپنے غصہ کا اظہار بھی نہیں کرتے بعض روایتوں میں ہے اے ابن آدم اگر غصہ کے وقت تجھے یاد رکھوں گا یعنی ہلاکت کے وقت تجھے ہلاکت سے بچا لوں گا (ابن ابی حاتم) اور حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ روک لے اللہ تعالیٰ اس پر سے اپنے عذاب ہٹا لیتا ہے اور جو بھی اپنی زبان (خلاف شرع باتوں سے) روک لے اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف معذرت لے جائے اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرماتا ہے (مسند ابو یعلیٰ) یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں بھی اختلاف ہے اور حدیث شریف میں ہے۔ آپ فرماتے ہیں پہلوان وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ حقیقتاً پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے (احمد) صحیح بخاری صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی ایسا ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ کوئی نہیں آپ نے فرمایا میں تو دیکھتا ہوں کہ تم اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال چاہتے ہو اس لئے کہ تمہارا مال تو درحقیقت وہ ہے جو تم راہ اللہ اپنی زندگی میں خرچ کردو اور جو چھوڑ کر جاؤ وہ تمہارا مال نہیں بلکہ تمہارے وارثوں کا مال ہے تو تمہارا راہ اللہ کم خرچ کرنا اور جمع زیادہ کرنا یہ دلیل ہے اس امر کی کہ تم اپنے مال سے اپنے وارثوں کے مال کو زیادہ عزیز رکھتے ہو، پھر فرمایا تم پہلوان کسے جانتے ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ اسے جسے کوئی گر انہ سکے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ حقیقتاً زور دار پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے جذبات پر پورا قابو رکھے، پھر فرمایا بےاولاد کسے کہتے ہو ؟ لوگوں نے کہا جس کی اولاد نہ ہو، فرمایا نہیں بلکہ فی الواقع بےاولاد وہ ہے جس کے سامنے اس کی کوئی اولاد مری نہ ہو (مسلم) ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو مفلس کنگال کون ہے ؟ لوگوں نے کہا جس کے پاس مال نہ ہو آپ نے فرمایا بلکہ وہ جس نے اپنا مال اپنی زندگی میں راہ اللہ نہ دیا ہو (مسند احمد) حضرت حارثہ بن قدامہ سعدی ؓ حاضر خدمت نبوی میں عرض کرتے ہیں کہ حضور ﷺ مجھے کوئی نفع کی بات کہیے جو مختصر ہو تاکہ میں یاد بھی رکھ سکوں آپ نے فرمایا غصہ نہ کر اس نے پھر پوچھا آپ نے پھر یہی جواب دیا کئی کئی مرتبہ یہی کہا (مسند احمد) کسی شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھے کچھ وصیت کیجئے آپ نے فرمایا غصہ نہ کر وہ کہتے ہیں میں نے جو غور کیا تو معلوم ہوا کہ تمام برائیوں کا مرکز غصہ ہی ہے (مسند احمد) ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوذر ؓ غصہ آیا تو آپ بیٹھ گئے اور پھر لیٹ گئے ان سے پوچھا گیا یہ کیا ؟ تو فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے جسے غصہ آئے وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر اس سے بھی غصہ نہ جائے تو لیٹ جائے (مسند احمد) مسند احمد کی ایک اور روایت میں ہے کہ عروہ بن محمد کو غصہ چڑھا آپ وضو کرنے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے میں نے اپنے استادوں سے یہ حدیث سنی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا ہوا ہے اور آگ بجھانے والی چیز پانی ہے پس تم غصہ کے وقت وضو کرنے بیٹھ جاؤ حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اپنا قرض اسے معاف کر دے اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے آزاد کردیتا ہے لوگو سنو جنت کے اعمال سخت اور مشکل ہیں اور جہنم کے کام آسان اور سہل ہیں نیک بخت وہی ہے جو فتنوں سے بچ جائے کسی گھونٹ کا پینا اللہ کو ایسا پسند نہیں جتنا غصہ کے گھونٹ کا پی جانا ایسے شخص کے دل میں ایمان رچ جاتا ہے (مسند احمد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ اتارنے کی طاقت رکھتے ہوئے پھر بھی ضبط کرلے اللہ تعالیٰ اس کا دل امن وامان سے پر کردیتا ہے جو شخص باوجود موجود ہونے کے شہرت کے کپڑے کو تواضع کی وجہ سے چھوڑ دے اسے اللہ تعالیٰ کرامت اور عزت کا حلہ قیامت کے دن پہنائے گا اور جو کسی کا سر چھپائے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن بادشاہت کا تاج پہنائے گا (ابوداؤد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص باوجود قدرت کے اپنا غصہ ضبط کرلے اسی اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے پسند کرلے (مسند احمد) اس مضمون کی اور بھی حدیثیں ہیں، پس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنے غصہ میں آپے سے باہر نہیں ہوتے لوگوں کو ان کی طرف سے برائی نہیں پہنچتی بلکہ اپنے جذبات کو دبائے رکھتے ہیں اور اللہ سے ڈر کر ثواب کی امید پر معاملہ سپر دالہ کرتے ہیں، لوگوں سے درگزر کرتے ہیں ظالموں کے ظلم کا بدلہ ابھی نہیں لیتے اسی کو احسان کہتے ہیں اور ان محسن بندوں سے اللہ محبت رکھتا ہے حدیث میں ہے رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں تین باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں ایک تو یہ کہ صدقہ سے مال نہیں گھٹتا دوسرے یہ کہ عفو و درگزر کرنے سے انسان کی عزت بڑھتی ہے تیسرے یہ کہ تواضع فروتنی اور عاجزی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ عطا کرتا ہے، مستدرک کی حدیث میں ہے جو شخص یہ چاہے کہ اس کی بنیاد بلند ہو اور اس کے درجے بڑھیں تو اسے ظالموں سے درگزر کرنا چاہئے اور نہ دینے والوں کو دینا چاہئے اور توڑنے والوں سے جوڑنا چاہئے اور حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک پکارے گا کہ اے لوگو درگزر کرنے والو اپنے رب کے پاس آؤ اور اپنا اجر لو۔ مسلمانوں کی خطاؤں کے معاف کرنے والے جنتی لوگ ہیں۔ پھر فرمایا یہ لوگ گناہ کے بعد فوراً ذکر اللہ اور استغفار کرتے ہیں۔ مسند احمد میں یہ روایت حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے پھر اللہ رحمن و رحیم کے سامنے حاضر ہو کر کہتا ہے کہ پروردگار مجھ سے گناہ ہوگیا تو معاف فرما اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے سے گو گناہ ہوگیا لیکن اس کا ایمان ہے کہ اس کا رب گناہ پر پکڑ بھی کرتا ہے اور اگر چاہے تو معاف بھی فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہو تو فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہوجاتا ہے یہ پھر توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ پھر بخشتا ہے چوتھی مرتبہ پھر گناہ کر بیٹھتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما کر کہتا ہے اب میرا بندہ جو چاہے کرے (مسند احمد) یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ہم نے ایک مرتبہ جناب رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یہ رسول اللہ ﷺ جب ہم آپ کو دیکھتے ہیں تو ہمارے دلوں میں رقت طاری ہوجاتی ہے اور ہم اللہ والے بن جاتے ہیں لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو وہ حالت نہیں رہتی عورتوں بچوں میں پھنس جاتے ہیں گھر بار کے دھندوں میں لگ جاتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا۔ اگر تمہاری حالت یہی ہر وقت رہتی تو پھر فرشتے تم سے مصافحہ کرتے اور تمہاری ملاقات کو تمہارے گھر پر آتے، سنو اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں یہاں سے ہٹا دے اور دوسری قوم کو لے آئے جو گناہ کرے پھر بخشش مانگے اور اللہ انہیں بخشے ہم نے کہا حضور ﷺ یہ فرماتے کہ جنت کی بنیادیں کس طرح استوار ہیں آپ نے فرمایا ایک اینٹ سونے کی تو ایک چاندی کی ہے اس کا گارہ مشک خالص ہے اس کے کنکر لؤلؤ اور یاقوت ہیں، اس کی مٹی زعفران ہے، جنتیوں کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی ان کی زندگی ہمیشہ کی ہوگی ان کے کپڑے پرانے نہیں ہونگے جوانی کبھی نہیں ڈھلے گی اور تین اشخاص کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی عادل بادشاہ کی دعا افطاری کے وقت روزے دار کی دعا اور مظلوم کی دعا بادلوں سے اٹھائی جاتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جناب باری ارشاد فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہو (مسند احمد) امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کوئی گناہ کرے پھر وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے اور اپنے گناہ کی معافی چاہے تو اے اللہ عزوجل اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں روایت امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو شخص کامل وضو کر کے دعا (اشھدان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھدان محمد اعبدہ و رسولہ) پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے اندر چلا جائے، امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ؓ سنت کے مطابق وضو کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا جو شخص مجھ جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے (بخاری مسلم) پس یہ حدیث کو حضرت عثمان سے اس سے اگلی روایت حضرت عمر سے اور اس سے اگلی روایت حضرت ابوبکر سے اور اس سے تیسری روایت کو حضرت ابوبکر سے حضرت علی روایت کرتے ہیں تو الحمد اللہ، اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور اس کی بےانتہاء مہربانی کی خبر سید الاولین والاخرین کی زبانی آپ کے چاروں برحق خلفاء کی معرفت ہمیں پہنچی (آؤ اس موقعہ پر ہم گنہگار بھی ہاتھ اٹھائیں اور اپنے مہربان رحیم و کریم اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اس سے معافی طلب کریں اللہ تعالیٰ اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اے عفو و درگزر کرنے والے ! اور کسی بھکاری کو اپنے در سے خالی نہ پھیرنے والے ! تو ہم خطاکاروں کی سیاہ کاریوں سے بھی درگزر فرما اور ہمارے کل گناہ معاف فرما دے۔ مترجم) یہی وہ مبارک آیت ہے کہ جب یہ نازل ہوئی تو ابلیس رونے لگا (مسند عبدالرزاق) استغفار اور لا الہ الاللہ مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لا الہ الا اللہ کثرت سے پڑھا کرو اور استغفار پر مداومت کرو ابلیس گناہوں سے لوگوں کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس کی اپنی ہلاکت لا الہ الا اللہ اور استغفار سے ہے، یہ حدیث دیکھ کر ابلیس نے لوگوں کو خواہش پرستی پر ڈال دیا پس وہ اپنے آپ کو راہ راست پر جانتے ہیں حالانکہ ہلاکت میں ہوتے ہیں لیکن اس حدیث کے دو راوی ضعیف ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ابلیس نے کہا اے رب مجھے تیری عزت کی قسم میں بنی آدم کو ان کے آخری دم تک بہکاتا رہوں گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے میرے جلال اور میری عزت کی قسم جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا مسند بزاز میں ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھ سے گناہ ہوگیا آپ نے فرمایا پھر استغفار کر اس نے کہا مجھ سے اور گناہ ہوا فرمایا استغفار کئے جا، یہاں تک کہ شیطان تھک جائے پھر فرمایا گناہ کو بخشنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک قیدی آیا اور کہنے لگا یا اللہ میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں محمد ﷺ کی طرف توبہ نہیں کرتا (یعنی اللہ میں تیری ہی بخشش چاہتا ہوں) آپ نے فرمایا اس نے حق حقدار کو پہنچایا۔ اصرار کرنے سے مراد یہ ہے کہ معصیت پر بغیر توبہ کئے اڑ نہیں جاتے اگر کئی مرتبہ گناہ ہوجائے تو کئی مرتبہ استغفار کرتے ہیں، مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہ اصرار کرنے والا اور اڑنے والا نہیں جو استغفار کرتا رہتا ہے اگرچہ (بالفرض) اس سے ایک دن میں ستر مرتبہ بھی گناہ ہوجائے پھر فرمایا کہ وہ جانتے ہوں یعنی اس بات کو کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ ھُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَيَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَاَنَّ اللّٰهَ ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِيْمُ) 9۔ التوبہ :104) کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جگہ ہے آیت (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا) 4۔ النسآء :110) جو شخص کوئی برا کام کرے یا گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ دیکھ لے گا کہ اللہ عزوجل بخشش کرنے والا مہربان ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیان فرمایا لوگو تم اوروں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم کرے گا لوگو تم دوسروں کی خطائیں معاف کرو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخشے گا باتیں بنانے والوں کی ہلاکت ہے گناہ پر جم جانے والوں کی ہلاکت ہے پھر فرمایا ان کاموں کے بدلے ان کی جزا مغفرت ہے اور طرح طرح کی بہتی نہروں والی جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑے اچھے اعمال ہیں۔

سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے پھر سعادت دارین کے حصول کیلئے نیکیوں کی طرف سبقت کرنے کو فرماتا ہے اور جنت کی تعریف کرتا ہے، چوڑائی کو بیان کر کے لمبائی کا اندازہ سننے والوں پر ہی چھوڑا جاتا ہے جس طرح جنتی فرش کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا آیت (مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي فُرُشٍۢ بَطَاۗىِٕنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ) 55۔ الرحمن :54) یعنی اس کا استر نرم ریشم کا ہے تو مطلب یہ ہے کہ جب استر ایسا ہے تو ابرے کا کیا ٹھکانا ہے اسی طرح یہاں بھی بیان ہو رہا ہے کہ جب عرض ساتوں آسمانوں اور ساتویں زمینوں کے برابر ہے تو طول کتنا بڑا ہوگا اور بعض نے کہا ہے کہ عرض و طول یعنی لمبائی چوڑائی دونوں برابر ہے کیونکہ جنت مثل قبہ کے عرش کے نیچے ہے اور جو چیز قبہ نما ہو یا مستدیر ہو اس کا عرض و طول یکساں ہوتا ہے۔ ایک صحیح حدیث میں ہے جب تم اللہ سے جنت مانگو تو فردوس کا سوال کرو وہ سب سے اونچی اور سب سے اچھی جنت ہے اسی جنت سے سب نہریں جاری ہوتی ہیں اور اسی کی چھت اللہ تعالیٰ رحمن رحیم کا عرش ہے، مسند امام احمد میں ہے کہ ہرقل نے حضور ﷺ کی خدمت میں بطور اعتراض کے ایک سوال لکھ بھیجا کہ آپ مجھے اس جنت کی دعوت دے رہے ہیں جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے تو یہ فرمایئے کہ پھر جہنم کہاں گئی ؟ حضور ﷺ نے فرمایا یعلیٰ بن مرہ کی ملاقات حمص میں ہوئی تھی کہتے ہیں اس وقت یہ بہت ہی بوڑھا ہوگیا تھا کہنے لگا جب میں نے یہ خط حضور ﷺ کو دیا تو آپ نے اپنی بائیں طرف کے ایک صحابی کو دیا میں نے لوگوں سے پوچھا ان کا کیا نام ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت معاویہ ہیں ؓ حضرت عمر ؓ سے بھی یہی سوال ہوا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ دن کے وقت رات اور رات کے وقت دن کہاں جاتا ہے ؟ یہودی یہ جواب سن کر کھسیانے ہو کر کہنے لگے کہ یہ توراۃ سے ماخوذ کیا ہوگا، حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ جواب مروی ہے، ایک مرفوع حدیث میں ہے کسی نے حضور ﷺ سے پوچھا تو آپ نے جواب میں فرمایا جب ہر چیز پر رات آجاتی ہے تو دن کہاں جاتا ہے ؟ اس نے کہا جہاں اللہ چاہے، آپ نے فرمایا اسی طرح جہنم بھی جہاں چاہے (بزار) اس جملہ کے دو معنی ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ رات کے وقت ہم گو دن کو نہیں دیکھ سکتے لیکن تاہم دن کا کسی جگہ ہونا ناممکن نہیں، اسی طرح گو جنت کا عرض اتنا ہی ہے لیکن پھر بھی جہنم کے وجود سے انکار نہیں ہوسکتا جہاں اللہ چاہے وہ بھی ہے، دوسرے معنی یہ کہ جب دن ایک طرف چڑھنے لگا رات دوسری جانب ہوتی ہے اسی طرح جنت اعلیٰ علیین میں ہے اور دوزخ اسفل السافلین میں تو کوئی نفی کا امکان ہی نہ رہا واللہ اعلم پھر اللہ تعالیٰ اہل جنت کا وصف بیان فرماتا ہے کہ وہ سختی میں اور آسانی میں خوشی میں اور غمی میں تندرستی میں اور بیماری میں غرض ہر حال میں راہ اللہ اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ) 2۔ البقرۃ :274) یعنی وہ لوگ دن رات چھپے کھلے خرچ کرتے رہتے ہیں کوئی امر انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باز نہیں رکھ سکتا اس کی مخلوق پر اس کے حکم سے احسان کرتے رہتے ہیں۔ یہ غصے کو پی جانے والے اور لوگوں کی برائیوں سے درگزر کرنے والے ہیں (کظم) کے معنی چھپانے کے بھی ہیں یعنی اپنے غصہ کا اظہار بھی نہیں کرتے بعض روایتوں میں ہے اے ابن آدم اگر غصہ کے وقت تجھے یاد رکھوں گا یعنی ہلاکت کے وقت تجھے ہلاکت سے بچا لوں گا (ابن ابی حاتم) اور حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ روک لے اللہ تعالیٰ اس پر سے اپنے عذاب ہٹا لیتا ہے اور جو بھی اپنی زبان (خلاف شرع باتوں سے) روک لے اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف معذرت لے جائے اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرماتا ہے (مسند ابو یعلیٰ) یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں بھی اختلاف ہے اور حدیث شریف میں ہے۔ آپ فرماتے ہیں پہلوان وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ حقیقتاً پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے (احمد) صحیح بخاری صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی ایسا ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ کوئی نہیں آپ نے فرمایا میں تو دیکھتا ہوں کہ تم اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال چاہتے ہو اس لئے کہ تمہارا مال تو درحقیقت وہ ہے جو تم راہ اللہ اپنی زندگی میں خرچ کردو اور جو چھوڑ کر جاؤ وہ تمہارا مال نہیں بلکہ تمہارے وارثوں کا مال ہے تو تمہارا راہ اللہ کم خرچ کرنا اور جمع زیادہ کرنا یہ دلیل ہے اس امر کی کہ تم اپنے مال سے اپنے وارثوں کے مال کو زیادہ عزیز رکھتے ہو، پھر فرمایا تم پہلوان کسے جانتے ہو ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ اسے جسے کوئی گر انہ سکے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ حقیقتاً زور دار پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے جذبات پر پورا قابو رکھے، پھر فرمایا بےاولاد کسے کہتے ہو ؟ لوگوں نے کہا جس کی اولاد نہ ہو، فرمایا نہیں بلکہ فی الواقع بےاولاد وہ ہے جس کے سامنے اس کی کوئی اولاد مری نہ ہو (مسلم) ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو مفلس کنگال کون ہے ؟ لوگوں نے کہا جس کے پاس مال نہ ہو آپ نے فرمایا بلکہ وہ جس نے اپنا مال اپنی زندگی میں راہ اللہ نہ دیا ہو (مسند احمد) حضرت حارثہ بن قدامہ سعدی ؓ حاضر خدمت نبوی میں عرض کرتے ہیں کہ حضور ﷺ مجھے کوئی نفع کی بات کہیے جو مختصر ہو تاکہ میں یاد بھی رکھ سکوں آپ نے فرمایا غصہ نہ کر اس نے پھر پوچھا آپ نے پھر یہی جواب دیا کئی کئی مرتبہ یہی کہا (مسند احمد) کسی شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھے کچھ وصیت کیجئے آپ نے فرمایا غصہ نہ کر وہ کہتے ہیں میں نے جو غور کیا تو معلوم ہوا کہ تمام برائیوں کا مرکز غصہ ہی ہے (مسند احمد) ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوذر ؓ غصہ آیا تو آپ بیٹھ گئے اور پھر لیٹ گئے ان سے پوچھا گیا یہ کیا ؟ تو فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے جسے غصہ آئے وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر اس سے بھی غصہ نہ جائے تو لیٹ جائے (مسند احمد) مسند احمد کی ایک اور روایت میں ہے کہ عروہ بن محمد کو غصہ چڑھا آپ وضو کرنے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے میں نے اپنے استادوں سے یہ حدیث سنی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا ہوا ہے اور آگ بجھانے والی چیز پانی ہے پس تم غصہ کے وقت وضو کرنے بیٹھ جاؤ حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اپنا قرض اسے معاف کر دے اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے آزاد کردیتا ہے لوگو سنو جنت کے اعمال سخت اور مشکل ہیں اور جہنم کے کام آسان اور سہل ہیں نیک بخت وہی ہے جو فتنوں سے بچ جائے کسی گھونٹ کا پینا اللہ کو ایسا پسند نہیں جتنا غصہ کے گھونٹ کا پی جانا ایسے شخص کے دل میں ایمان رچ جاتا ہے (مسند احمد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ اتارنے کی طاقت رکھتے ہوئے پھر بھی ضبط کرلے اللہ تعالیٰ اس کا دل امن وامان سے پر کردیتا ہے جو شخص باوجود موجود ہونے کے شہرت کے کپڑے کو تواضع کی وجہ سے چھوڑ دے اسے اللہ تعالیٰ کرامت اور عزت کا حلہ قیامت کے دن پہنائے گا اور جو کسی کا سر چھپائے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن بادشاہت کا تاج پہنائے گا (ابوداؤد) حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص باوجود قدرت کے اپنا غصہ ضبط کرلے اسی اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے پسند کرلے (مسند احمد) اس مضمون کی اور بھی حدیثیں ہیں، پس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنے غصہ میں آپے سے باہر نہیں ہوتے لوگوں کو ان کی طرف سے برائی نہیں پہنچتی بلکہ اپنے جذبات کو دبائے رکھتے ہیں اور اللہ سے ڈر کر ثواب کی امید پر معاملہ سپر دالہ کرتے ہیں، لوگوں سے درگزر کرتے ہیں ظالموں کے ظلم کا بدلہ ابھی نہیں لیتے اسی کو احسان کہتے ہیں اور ان محسن بندوں سے اللہ محبت رکھتا ہے حدیث میں ہے رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں تین باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں ایک تو یہ کہ صدقہ سے مال نہیں گھٹتا دوسرے یہ کہ عفو و درگزر کرنے سے انسان کی عزت بڑھتی ہے تیسرے یہ کہ تواضع فروتنی اور عاجزی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ عطا کرتا ہے، مستدرک کی حدیث میں ہے جو شخص یہ چاہے کہ اس کی بنیاد بلند ہو اور اس کے درجے بڑھیں تو اسے ظالموں سے درگزر کرنا چاہئے اور نہ دینے والوں کو دینا چاہئے اور توڑنے والوں سے جوڑنا چاہئے اور حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک پکارے گا کہ اے لوگو درگزر کرنے والو اپنے رب کے پاس آؤ اور اپنا اجر لو۔ مسلمانوں کی خطاؤں کے معاف کرنے والے جنتی لوگ ہیں۔ پھر فرمایا یہ لوگ گناہ کے بعد فوراً ذکر اللہ اور استغفار کرتے ہیں۔ مسند احمد میں یہ روایت حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے پھر اللہ رحمن و رحیم کے سامنے حاضر ہو کر کہتا ہے کہ پروردگار مجھ سے گناہ ہوگیا تو معاف فرما اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے سے گو گناہ ہوگیا لیکن اس کا ایمان ہے کہ اس کا رب گناہ پر پکڑ بھی کرتا ہے اور اگر چاہے تو معاف بھی فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہو تو فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہوجاتا ہے یہ پھر توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ پھر بخشتا ہے چوتھی مرتبہ پھر گناہ کر بیٹھتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما کر کہتا ہے اب میرا بندہ جو چاہے کرے (مسند احمد) یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ہم نے ایک مرتبہ جناب رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یہ رسول اللہ ﷺ جب ہم آپ کو دیکھتے ہیں تو ہمارے دلوں میں رقت طاری ہوجاتی ہے اور ہم اللہ والے بن جاتے ہیں لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو وہ حالت نہیں رہتی عورتوں بچوں میں پھنس جاتے ہیں گھر بار کے دھندوں میں لگ جاتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا۔ اگر تمہاری حالت یہی ہر وقت رہتی تو پھر فرشتے تم سے مصافحہ کرتے اور تمہاری ملاقات کو تمہارے گھر پر آتے، سنو اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں یہاں سے ہٹا دے اور دوسری قوم کو لے آئے جو گناہ کرے پھر بخشش مانگے اور اللہ انہیں بخشے ہم نے کہا حضور ﷺ یہ فرماتے کہ جنت کی بنیادیں کس طرح استوار ہیں آپ نے فرمایا ایک اینٹ سونے کی تو ایک چاندی کی ہے اس کا گارہ مشک خالص ہے اس کے کنکر لؤلؤ اور یاقوت ہیں، اس کی مٹی زعفران ہے، جنتیوں کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی ان کی زندگی ہمیشہ کی ہوگی ان کے کپڑے پرانے نہیں ہونگے جوانی کبھی نہیں ڈھلے گی اور تین اشخاص کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی عادل بادشاہ کی دعا افطاری کے وقت روزے دار کی دعا اور مظلوم کی دعا بادلوں سے اٹھائی جاتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جناب باری ارشاد فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہو (مسند احمد) امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کوئی گناہ کرے پھر وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے اور اپنے گناہ کی معافی چاہے تو اے اللہ عزوجل اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں روایت امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے جو شخص کامل وضو کر کے دعا (اشھدان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھدان محمد اعبدہ و رسولہ) پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے اندر چلا جائے، امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ؓ سنت کے مطابق وضو کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا جو شخص مجھ جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے (بخاری مسلم) پس یہ حدیث کو حضرت عثمان سے اس سے اگلی روایت حضرت عمر سے اور اس سے اگلی روایت حضرت ابوبکر سے اور اس سے تیسری روایت کو حضرت ابوبکر سے حضرت علی روایت کرتے ہیں تو الحمد اللہ، اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور اس کی بےانتہاء مہربانی کی خبر سید الاولین والاخرین کی زبانی آپ کے چاروں برحق خلفاء کی معرفت ہمیں پہنچی (آؤ اس موقعہ پر ہم گنہگار بھی ہاتھ اٹھائیں اور اپنے مہربان رحیم و کریم اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اس سے معافی طلب کریں اللہ تعالیٰ اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اے عفو و درگزر کرنے والے ! اور کسی بھکاری کو اپنے در سے خالی نہ پھیرنے والے ! تو ہم خطاکاروں کی سیاہ کاریوں سے بھی درگزر فرما اور ہمارے کل گناہ معاف فرما دے۔ مترجم) یہی وہ مبارک آیت ہے کہ جب یہ نازل ہوئی تو ابلیس رونے لگا (مسند عبدالرزاق) استغفار اور لا الہ الاللہ مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لا الہ الا اللہ کثرت سے پڑھا کرو اور استغفار پر مداومت کرو ابلیس گناہوں سے لوگوں کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس کی اپنی ہلاکت لا الہ الا اللہ اور استغفار سے ہے، یہ حدیث دیکھ کر ابلیس نے لوگوں کو خواہش پرستی پر ڈال دیا پس وہ اپنے آپ کو راہ راست پر جانتے ہیں حالانکہ ہلاکت میں ہوتے ہیں لیکن اس حدیث کے دو راوی ضعیف ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ابلیس نے کہا اے رب مجھے تیری عزت کی قسم میں بنی آدم کو ان کے آخری دم تک بہکاتا رہوں گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے میرے جلال اور میری عزت کی قسم جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا مسند بزاز میں ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے کہا مجھ سے گناہ ہوگیا آپ نے فرمایا پھر استغفار کر اس نے کہا مجھ سے اور گناہ ہوا فرمایا استغفار کئے جا، یہاں تک کہ شیطان تھک جائے پھر فرمایا گناہ کو بخشنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک قیدی آیا اور کہنے لگا یا اللہ میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں محمد ﷺ کی طرف توبہ نہیں کرتا (یعنی اللہ میں تیری ہی بخشش چاہتا ہوں) آپ نے فرمایا اس نے حق حقدار کو پہنچایا۔ اصرار کرنے سے مراد یہ ہے کہ معصیت پر بغیر توبہ کئے اڑ نہیں جاتے اگر کئی مرتبہ گناہ ہوجائے تو کئی مرتبہ استغفار کرتے ہیں، مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہ اصرار کرنے والا اور اڑنے والا نہیں جو استغفار کرتا رہتا ہے اگرچہ (بالفرض) اس سے ایک دن میں ستر مرتبہ بھی گناہ ہوجائے پھر فرمایا کہ وہ جانتے ہوں یعنی اس بات کو کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ ھُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَيَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَاَنَّ اللّٰهَ ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِيْمُ) 9۔ التوبہ :104) کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جگہ ہے آیت (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا) 4۔ النسآء :110) جو شخص کوئی برا کام کرے یا گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ دیکھ لے گا کہ اللہ عزوجل بخشش کرنے والا مہربان ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیان فرمایا لوگو تم اوروں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم کرے گا لوگو تم دوسروں کی خطائیں معاف کرو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخشے گا باتیں بنانے والوں کی ہلاکت ہے گناہ پر جم جانے والوں کی ہلاکت ہے پھر فرمایا ان کاموں کے بدلے ان کی جزا مغفرت ہے اور طرح طرح کی بہتی نہروں والی جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑے اچھے اعمال ہیں۔

شہادت اور بشارت چونکہ احد والے دن ستر مسلمان صحابی شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے، مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بددل نہ ہوجانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند وبالا مقام بالآخر مومنو تمہارے لئے ہی ہے۔ اگر تمہیں زخم لگے ہیں تمہارے آدمی شہید ہوئے تو اس سے پہلے تمہارے دشمن بھی تو قتل ہوچکے ہیں وہ بھی تو زخم خوردہ ہیں یہ تو چڑھتی ڈھلتی چھاؤں ہے ہاں بھلا وہ ہے جو انجام کار غالب رہے اور یہ ہم نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔ یہ بعض مرتبہ شکست بالخصوص اس جنگ احد کی اس لئے تھی کہ ہم صابروں کا اور غیر صابروں کا امتحان کرلیں اور جو مدت سے شہادت کی آرزو رکھتے تھے انہیں کامیاب بنائیں کہ وہ اپنا جان و مال ہماری راہ میں خرچ کریں، اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ جملہ معترضہ بیان کر کے فرمایا یہ اس لئے بھی کہ ایمان والوں کے گناہ اگر ہوں تو دور ہوجائیں اور ان کے درجات بڑھیں اور اس میں کافروں کا مٹانا بھی ہے کیونکہ وہ غالب ہو کر اتر آئیں گے سرکشی اور تکبر میں اور بڑھیں گے اور یہی ان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنے گا اور پھر مر کھپ جائیں گے ان سختیوں اور زلزلوں اور ان آزمائشوں کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جاسکتا جیسے سورة بقرہ میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے لوگوں کی جیسی آزمائش ہوئی ایسی تمہاری نہ ہو اور تم جنت میں چلے جاؤ یہ نہیں ہوگا اور جگہ ہے آیت (اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ) 29۔ العنکبوت :2) کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم صرف ان کے اس قول پر کہ ہم ایمان لائے انہیں چھوڑ دیں گے اور انکی آزمائش نہ کی جائے گی ؟ یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ جب تک صبر کرنے والے معلوم نہ ہوجائیں یعنی دنیا میں ہی ظہور میں نہ آجائیں تب تک جنت نہیں مل سکتی پھر فرمایا کہ تم اس سے پہلے تو ایسے موقعہ کی آرزو میں تھے کہ تم اپنا صبر اپنی بہادری اور مضبوطی اور استقامت اللہ تعالیٰ کو دکھاؤ اللہ کی راہ میں شہادت پاؤ، لو اب ہم نے تمہیں یہ موقعہ دیا تم بھی اپنی ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ، حدیث شریف میں ہے دشمن کی ملاقات کی آرزو نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب میدان پڑجائے پھر لو ہے کی لاٹ کی طرح جم جاؤ اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے پھر فرمایا کہ تم نے اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ لیا کہ نیزے تنے ہوئے ہیں تلواریں کھچ رہی ہیں بھالے اچھل رہے ہیں تیر برس رہے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور ادھر ادھر لاشیں گر رہی ہیں۔

شہادت اور بشارت چونکہ احد والے دن ستر مسلمان صحابی شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے، مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بددل نہ ہوجانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند وبالا مقام بالآخر مومنو تمہارے لئے ہی ہے۔ اگر تمہیں زخم لگے ہیں تمہارے آدمی شہید ہوئے تو اس سے پہلے تمہارے دشمن بھی تو قتل ہوچکے ہیں وہ بھی تو زخم خوردہ ہیں یہ تو چڑھتی ڈھلتی چھاؤں ہے ہاں بھلا وہ ہے جو انجام کار غالب رہے اور یہ ہم نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔ یہ بعض مرتبہ شکست بالخصوص اس جنگ احد کی اس لئے تھی کہ ہم صابروں کا اور غیر صابروں کا امتحان کرلیں اور جو مدت سے شہادت کی آرزو رکھتے تھے انہیں کامیاب بنائیں کہ وہ اپنا جان و مال ہماری راہ میں خرچ کریں، اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ جملہ معترضہ بیان کر کے فرمایا یہ اس لئے بھی کہ ایمان والوں کے گناہ اگر ہوں تو دور ہوجائیں اور ان کے درجات بڑھیں اور اس میں کافروں کا مٹانا بھی ہے کیونکہ وہ غالب ہو کر اتر آئیں گے سرکشی اور تکبر میں اور بڑھیں گے اور یہی ان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنے گا اور پھر مر کھپ جائیں گے ان سختیوں اور زلزلوں اور ان آزمائشوں کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جاسکتا جیسے سورة بقرہ میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے لوگوں کی جیسی آزمائش ہوئی ایسی تمہاری نہ ہو اور تم جنت میں چلے جاؤ یہ نہیں ہوگا اور جگہ ہے آیت (اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ) 29۔ العنکبوت :2) کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم صرف ان کے اس قول پر کہ ہم ایمان لائے انہیں چھوڑ دیں گے اور انکی آزمائش نہ کی جائے گی ؟ یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ جب تک صبر کرنے والے معلوم نہ ہوجائیں یعنی دنیا میں ہی ظہور میں نہ آجائیں تب تک جنت نہیں مل سکتی پھر فرمایا کہ تم اس سے پہلے تو ایسے موقعہ کی آرزو میں تھے کہ تم اپنا صبر اپنی بہادری اور مضبوطی اور استقامت اللہ تعالیٰ کو دکھاؤ اللہ کی راہ میں شہادت پاؤ، لو اب ہم نے تمہیں یہ موقعہ دیا تم بھی اپنی ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ، حدیث شریف میں ہے دشمن کی ملاقات کی آرزو نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب میدان پڑجائے پھر لو ہے کی لاٹ کی طرح جم جاؤ اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے پھر فرمایا کہ تم نے اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ لیا کہ نیزے تنے ہوئے ہیں تلواریں کھچ رہی ہیں بھالے اچھل رہے ہیں تیر برس رہے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور ادھر ادھر لاشیں گر رہی ہیں۔

شہادت اور بشارت چونکہ احد والے دن ستر مسلمان صحابی شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے، مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بددل نہ ہوجانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند وبالا مقام بالآخر مومنو تمہارے لئے ہی ہے۔ اگر تمہیں زخم لگے ہیں تمہارے آدمی شہید ہوئے تو اس سے پہلے تمہارے دشمن بھی تو قتل ہوچکے ہیں وہ بھی تو زخم خوردہ ہیں یہ تو چڑھتی ڈھلتی چھاؤں ہے ہاں بھلا وہ ہے جو انجام کار غالب رہے اور یہ ہم نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔ یہ بعض مرتبہ شکست بالخصوص اس جنگ احد کی اس لئے تھی کہ ہم صابروں کا اور غیر صابروں کا امتحان کرلیں اور جو مدت سے شہادت کی آرزو رکھتے تھے انہیں کامیاب بنائیں کہ وہ اپنا جان و مال ہماری راہ میں خرچ کریں، اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ جملہ معترضہ بیان کر کے فرمایا یہ اس لئے بھی کہ ایمان والوں کے گناہ اگر ہوں تو دور ہوجائیں اور ان کے درجات بڑھیں اور اس میں کافروں کا مٹانا بھی ہے کیونکہ وہ غالب ہو کر اتر آئیں گے سرکشی اور تکبر میں اور بڑھیں گے اور یہی ان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنے گا اور پھر مر کھپ جائیں گے ان سختیوں اور زلزلوں اور ان آزمائشوں کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جاسکتا جیسے سورة بقرہ میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے لوگوں کی جیسی آزمائش ہوئی ایسی تمہاری نہ ہو اور تم جنت میں چلے جاؤ یہ نہیں ہوگا اور جگہ ہے آیت (اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ) 29۔ العنکبوت :2) کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم صرف ان کے اس قول پر کہ ہم ایمان لائے انہیں چھوڑ دیں گے اور انکی آزمائش نہ کی جائے گی ؟ یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ جب تک صبر کرنے والے معلوم نہ ہوجائیں یعنی دنیا میں ہی ظہور میں نہ آجائیں تب تک جنت نہیں مل سکتی پھر فرمایا کہ تم اس سے پہلے تو ایسے موقعہ کی آرزو میں تھے کہ تم اپنا صبر اپنی بہادری اور مضبوطی اور استقامت اللہ تعالیٰ کو دکھاؤ اللہ کی راہ میں شہادت پاؤ، لو اب ہم نے تمہیں یہ موقعہ دیا تم بھی اپنی ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ، حدیث شریف میں ہے دشمن کی ملاقات کی آرزو نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب میدان پڑجائے پھر لو ہے کی لاٹ کی طرح جم جاؤ اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے پھر فرمایا کہ تم نے اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ لیا کہ نیزے تنے ہوئے ہیں تلواریں کھچ رہی ہیں بھالے اچھل رہے ہیں تیر برس رہے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور ادھر ادھر لاشیں گر رہی ہیں۔

شہادت اور بشارت چونکہ احد والے دن ستر مسلمان صحابی شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے، مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بددل نہ ہوجانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند وبالا مقام بالآخر مومنو تمہارے لئے ہی ہے۔ اگر تمہیں زخم لگے ہیں تمہارے آدمی شہید ہوئے تو اس سے پہلے تمہارے دشمن بھی تو قتل ہوچکے ہیں وہ بھی تو زخم خوردہ ہیں یہ تو چڑھتی ڈھلتی چھاؤں ہے ہاں بھلا وہ ہے جو انجام کار غالب رہے اور یہ ہم نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔ یہ بعض مرتبہ شکست بالخصوص اس جنگ احد کی اس لئے تھی کہ ہم صابروں کا اور غیر صابروں کا امتحان کرلیں اور جو مدت سے شہادت کی آرزو رکھتے تھے انہیں کامیاب بنائیں کہ وہ اپنا جان و مال ہماری راہ میں خرچ کریں، اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ جملہ معترضہ بیان کر کے فرمایا یہ اس لئے بھی کہ ایمان والوں کے گناہ اگر ہوں تو دور ہوجائیں اور ان کے درجات بڑھیں اور اس میں کافروں کا مٹانا بھی ہے کیونکہ وہ غالب ہو کر اتر آئیں گے سرکشی اور تکبر میں اور بڑھیں گے اور یہی ان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنے گا اور پھر مر کھپ جائیں گے ان سختیوں اور زلزلوں اور ان آزمائشوں کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جاسکتا جیسے سورة بقرہ میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے لوگوں کی جیسی آزمائش ہوئی ایسی تمہاری نہ ہو اور تم جنت میں چلے جاؤ یہ نہیں ہوگا اور جگہ ہے آیت (اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ) 29۔ العنکبوت :2) کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم صرف ان کے اس قول پر کہ ہم ایمان لائے انہیں چھوڑ دیں گے اور انکی آزمائش نہ کی جائے گی ؟ یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ جب تک صبر کرنے والے معلوم نہ ہوجائیں یعنی دنیا میں ہی ظہور میں نہ آجائیں تب تک جنت نہیں مل سکتی پھر فرمایا کہ تم اس سے پہلے تو ایسے موقعہ کی آرزو میں تھے کہ تم اپنا صبر اپنی بہادری اور مضبوطی اور استقامت اللہ تعالیٰ کو دکھاؤ اللہ کی راہ میں شہادت پاؤ، لو اب ہم نے تمہیں یہ موقعہ دیا تم بھی اپنی ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ، حدیث شریف میں ہے دشمن کی ملاقات کی آرزو نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب میدان پڑجائے پھر لو ہے کی لاٹ کی طرح جم جاؤ اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے پھر فرمایا کہ تم نے اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ لیا کہ نیزے تنے ہوئے ہیں تلواریں کھچ رہی ہیں بھالے اچھل رہے ہیں تیر برس رہے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور ادھر ادھر لاشیں گر رہی ہیں۔

شہادت اور بشارت چونکہ احد والے دن ستر مسلمان صحابی شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے، مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بددل نہ ہوجانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند وبالا مقام بالآخر مومنو تمہارے لئے ہی ہے۔ اگر تمہیں زخم لگے ہیں تمہارے آدمی شہید ہوئے تو اس سے پہلے تمہارے دشمن بھی تو قتل ہوچکے ہیں وہ بھی تو زخم خوردہ ہیں یہ تو چڑھتی ڈھلتی چھاؤں ہے ہاں بھلا وہ ہے جو انجام کار غالب رہے اور یہ ہم نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔ یہ بعض مرتبہ شکست بالخصوص اس جنگ احد کی اس لئے تھی کہ ہم صابروں کا اور غیر صابروں کا امتحان کرلیں اور جو مدت سے شہادت کی آرزو رکھتے تھے انہیں کامیاب بنائیں کہ وہ اپنا جان و مال ہماری راہ میں خرچ کریں، اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ جملہ معترضہ بیان کر کے فرمایا یہ اس لئے بھی کہ ایمان والوں کے گناہ اگر ہوں تو دور ہوجائیں اور ان کے درجات بڑھیں اور اس میں کافروں کا مٹانا بھی ہے کیونکہ وہ غالب ہو کر اتر آئیں گے سرکشی اور تکبر میں اور بڑھیں گے اور یہی ان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنے گا اور پھر مر کھپ جائیں گے ان سختیوں اور زلزلوں اور ان آزمائشوں کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جاسکتا جیسے سورة بقرہ میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے لوگوں کی جیسی آزمائش ہوئی ایسی تمہاری نہ ہو اور تم جنت میں چلے جاؤ یہ نہیں ہوگا اور جگہ ہے آیت (اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ) 29۔ العنکبوت :2) کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم صرف ان کے اس قول پر کہ ہم ایمان لائے انہیں چھوڑ دیں گے اور انکی آزمائش نہ کی جائے گی ؟ یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ جب تک صبر کرنے والے معلوم نہ ہوجائیں یعنی دنیا میں ہی ظہور میں نہ آجائیں تب تک جنت نہیں مل سکتی پھر فرمایا کہ تم اس سے پہلے تو ایسے موقعہ کی آرزو میں تھے کہ تم اپنا صبر اپنی بہادری اور مضبوطی اور استقامت اللہ تعالیٰ کو دکھاؤ اللہ کی راہ میں شہادت پاؤ، لو اب ہم نے تمہیں یہ موقعہ دیا تم بھی اپنی ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ، حدیث شریف میں ہے دشمن کی ملاقات کی آرزو نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب میدان پڑجائے پھر لو ہے کی لاٹ کی طرح جم جاؤ اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے پھر فرمایا کہ تم نے اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ لیا کہ نیزے تنے ہوئے ہیں تلواریں کھچ رہی ہیں بھالے اچھل رہے ہیں تیر برس رہے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور ادھر ادھر لاشیں گر رہی ہیں۔

شہادت اور بشارت چونکہ احد والے دن ستر مسلمان صحابی شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے، مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بددل نہ ہوجانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند وبالا مقام بالآخر مومنو تمہارے لئے ہی ہے۔ اگر تمہیں زخم لگے ہیں تمہارے آدمی شہید ہوئے تو اس سے پہلے تمہارے دشمن بھی تو قتل ہوچکے ہیں وہ بھی تو زخم خوردہ ہیں یہ تو چڑھتی ڈھلتی چھاؤں ہے ہاں بھلا وہ ہے جو انجام کار غالب رہے اور یہ ہم نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔ یہ بعض مرتبہ شکست بالخصوص اس جنگ احد کی اس لئے تھی کہ ہم صابروں کا اور غیر صابروں کا امتحان کرلیں اور جو مدت سے شہادت کی آرزو رکھتے تھے انہیں کامیاب بنائیں کہ وہ اپنا جان و مال ہماری راہ میں خرچ کریں، اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ جملہ معترضہ بیان کر کے فرمایا یہ اس لئے بھی کہ ایمان والوں کے گناہ اگر ہوں تو دور ہوجائیں اور ان کے درجات بڑھیں اور اس میں کافروں کا مٹانا بھی ہے کیونکہ وہ غالب ہو کر اتر آئیں گے سرکشی اور تکبر میں اور بڑھیں گے اور یہی ان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنے گا اور پھر مر کھپ جائیں گے ان سختیوں اور زلزلوں اور ان آزمائشوں کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جاسکتا جیسے سورة بقرہ میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے لوگوں کی جیسی آزمائش ہوئی ایسی تمہاری نہ ہو اور تم جنت میں چلے جاؤ یہ نہیں ہوگا اور جگہ ہے آیت (اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ) 29۔ العنکبوت :2) کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم صرف ان کے اس قول پر کہ ہم ایمان لائے انہیں چھوڑ دیں گے اور انکی آزمائش نہ کی جائے گی ؟ یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ جب تک صبر کرنے والے معلوم نہ ہوجائیں یعنی دنیا میں ہی ظہور میں نہ آجائیں تب تک جنت نہیں مل سکتی پھر فرمایا کہ تم اس سے پہلے تو ایسے موقعہ کی آرزو میں تھے کہ تم اپنا صبر اپنی بہادری اور مضبوطی اور استقامت اللہ تعالیٰ کو دکھاؤ اللہ کی راہ میں شہادت پاؤ، لو اب ہم نے تمہیں یہ موقعہ دیا تم بھی اپنی ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ، حدیث شریف میں ہے دشمن کی ملاقات کی آرزو نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب میدان پڑجائے پھر لو ہے کی لاٹ کی طرح جم جاؤ اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے پھر فرمایا کہ تم نے اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ لیا کہ نیزے تنے ہوئے ہیں تلواریں کھچ رہی ہیں بھالے اچھل رہے ہیں تیر برس رہے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور ادھر ادھر لاشیں گر رہی ہیں۔

شہادت اور بشارت چونکہ احد والے دن ستر مسلمان صحابی شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے، مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بددل نہ ہوجانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند وبالا مقام بالآخر مومنو تمہارے لئے ہی ہے۔ اگر تمہیں زخم لگے ہیں تمہارے آدمی شہید ہوئے تو اس سے پہلے تمہارے دشمن بھی تو قتل ہوچکے ہیں وہ بھی تو زخم خوردہ ہیں یہ تو چڑھتی ڈھلتی چھاؤں ہے ہاں بھلا وہ ہے جو انجام کار غالب رہے اور یہ ہم نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔ یہ بعض مرتبہ شکست بالخصوص اس جنگ احد کی اس لئے تھی کہ ہم صابروں کا اور غیر صابروں کا امتحان کرلیں اور جو مدت سے شہادت کی آرزو رکھتے تھے انہیں کامیاب بنائیں کہ وہ اپنا جان و مال ہماری راہ میں خرچ کریں، اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ جملہ معترضہ بیان کر کے فرمایا یہ اس لئے بھی کہ ایمان والوں کے گناہ اگر ہوں تو دور ہوجائیں اور ان کے درجات بڑھیں اور اس میں کافروں کا مٹانا بھی ہے کیونکہ وہ غالب ہو کر اتر آئیں گے سرکشی اور تکبر میں اور بڑھیں گے اور یہی ان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنے گا اور پھر مر کھپ جائیں گے ان سختیوں اور زلزلوں اور ان آزمائشوں کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جاسکتا جیسے سورة بقرہ میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے لوگوں کی جیسی آزمائش ہوئی ایسی تمہاری نہ ہو اور تم جنت میں چلے جاؤ یہ نہیں ہوگا اور جگہ ہے آیت (اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ) 29۔ العنکبوت :2) کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم صرف ان کے اس قول پر کہ ہم ایمان لائے انہیں چھوڑ دیں گے اور انکی آزمائش نہ کی جائے گی ؟ یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ جب تک صبر کرنے والے معلوم نہ ہوجائیں یعنی دنیا میں ہی ظہور میں نہ آجائیں تب تک جنت نہیں مل سکتی پھر فرمایا کہ تم اس سے پہلے تو ایسے موقعہ کی آرزو میں تھے کہ تم اپنا صبر اپنی بہادری اور مضبوطی اور استقامت اللہ تعالیٰ کو دکھاؤ اللہ کی راہ میں شہادت پاؤ، لو اب ہم نے تمہیں یہ موقعہ دیا تم بھی اپنی ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ، حدیث شریف میں ہے دشمن کی ملاقات کی آرزو نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب میدان پڑجائے پھر لو ہے کی لاٹ کی طرح جم جاؤ اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے پھر فرمایا کہ تم نے اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ لیا کہ نیزے تنے ہوئے ہیں تلواریں کھچ رہی ہیں بھالے اچھل رہے ہیں تیر برس رہے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور ادھر ادھر لاشیں گر رہی ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کی وفات کا مغالطہٰ اور غزوہ احد میدان احد میں مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور ان کے بعض قتل بھی کئے گئے۔ اس دن شیطان نے یہ بھی مشہور کردیا کہ محمد ﷺ بھی شہید ہوگئے اور ابن قمیہ کافر نے مشرکوں میں جا کر یہ خبر اڑا دی کہ میں حضور ﷺ کو قتل کر کے آیا ہوں اور دراصل وہ افواہ بےاصل تھی اور اس شخص کا یہ قول بھی غلط تھا۔ اس نے حضور ﷺ پر حملہ تو کیا تھا لیکن اس سے صرف آپ ﷺ کا چہرہ قدرے زخمی ہوگیا تھا اور کوئی بات نہ تھی اس غلط بات کی شہرت نے مسلمانوں کے دل چھوٹے کردیئے ان کے قدم اکھڑ گئے اور لڑائی سے بددل ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلے انبیاء کی طرح یہ بھی ایک نبی ہیں ہوسکتا ہے کہ میدان میں قتل کردیئے جائیں لیکن کچھ اللہ کا دین نہیں جاتا رہے گا ایک روایت میں ہے کہ ایک مہاجر نے دیکھا کہ ایک انصاری جنگ احد میں زخموں سے چور زمین پر گرا پڑا ہے اور خاک و خون میں لوٹ رہا ہے اس سے کہا کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ حضور ﷺ قتل کردیئے گئے اس نے کہا اگر یہ صحیح ہے تو آپ ﷺ تو اپنا کام کر گئے، اب آپ ﷺ کے دین پر سے تم سب بھی قربان ہوجاؤ، اسی کے بارے میں یہ آیت اتری پھر فرمایا کہ حضور ﷺ کا قتل یا انتقال ایسی چیز نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین سے پچھلے پاؤں پلٹ جاؤ اور ایسا کرنے والے اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے، اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو جزائے خیر دے گا جو اس کی اطاعت پر جم جائیں اور اس کے دین کی مدد میں لگ جائیں اور اس کے رسول ﷺ کی تابعداری میں مضبوط ہوجائیں خواہ رسول ﷺ زندہ ہوں یا نہ ہوں، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ کے انتقال کی خبر سن کر حضرت ابوبکر صدیق جلدی سے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے مسجد میں تشریف لے گئے لوگوں کی حالت دیکھی بھالی اور بغیر کچھ کہے سنے حضرت عائشہ کے گھر پر آئے یہاںحضور ﷺ پر حبرہ کی چادر اوڑھا دی گئی تھی آپ نے چادر کا کونا چہرہ مبارک پر سے ہٹا کر بےساختہ بوسہ لے لیا اور روتے ہوئے فرمانے لگے میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر دو مرتبہ موت نہ لائے گا جو موت آپ پر لکھ دی گئی تھی وہ آپ کو آچکی۔ اس کے بعد آپ پھر مسجد میں آئے اور دیکھا کہ حضرت عمر خطبہ سنا رہے ہیں ان سے فرمایا کہ خاموش ہوجاؤ انہیں چپ کرا کر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد ﷺ مرگئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ خوش رہے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس پر موت نہیں آتی۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لوگوں کو ایسا معلوم ہونے لگا گویا یہ آیت اب اتری ہے پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہ آیت چڑھ گئی اور لوگوں نے یقین کرلیا کہ آپ ﷺ فوت ہوگئے حضرت صدیق اکبر کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر حضرت عمر کے تو گویا قدموں تلے سے زمین نکل گئی، انہیں بھی یقین ہوگیا کہ حضور ﷺ اس جہان فانی کو چھوڑ کر چل بسے، حضرت علی رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی میں فرماتے تھے کہ نہ ہم حضور ﷺ کی موت پر مرتد ہوں نہ آپ کی شہادت پر اللہ کی قسم اگر حضور ﷺ قتل کئے جائیں تو ہم بھی اس دین پر مرمٹیں جس پر پر شہید ہوئے اللہ کی قسم میں آپ کا بھائی ہوں آپ کا ولی ہوں آپ کا چچا زاد بھائی ہوں اور آپ کا وارث ہوں مجھ سے زیادہ حقدار آپ کا اور کون ہوگا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اپنی مدت پوری کرکے ہی مرتا ہے جیسے اور جگہ ہے وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الی فی کتاب نہ کوئی عمر دیا جاتا ہے نہ عمر گھٹائی جاتی ہے مگر سب کتاب اللہ میں موجود ہے اور جگہ ہے (هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا) 6۔ الانعام :2) " جس اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا قھر وقت پورا کیا اور اجل مقرر کی " اس آیت میں بزدل لوگوں کو شجاعت کی رغبت دلائی گئی ہے اور اللہ کی راہ کے جہاد کا شوق دلایا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ جو انمردی کی وجہ سے کچھ عمر گھٹ نہیں جاتی اور پیچھے ہٹنے کی وجہ سے عمر بڑھ نہیں جاتی۔ موت تو اپنے وقت پر آکر ہی رہے گی خواہ شجاعت اور بہادری برتو خواہ نامردی اور بزدلی دکھاؤ۔ حجر بن عدی جب دشمنان دین کے مقابلے میں جاتے ہیں اور دریائے دجلہ بیچ میں آجاتا ہے اور لشکر اسلام ٹھٹھک کر کھڑا ہوجاتا ہے تو آپ اس آیت کی تلاوت کرکے فرماتے ہیں کہ کوئی بھی بےاجل نہیں مرتا آؤ اسی دجلہ میں گھوڑے ڈال دو ، یہ فرما کر آپ اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیتے ہیں آپ کی دیکھا دیکھی اور لوگ بھی اپنے گھوڑوں کو پانی میں ڈال دیتے ہیں۔ دشمن کا خون خشک ہوجاتا ہے اور اس پر ہیبت طاری ہوجاتی ہے۔ وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو دیوانے آدمی ہیں یہ تو پانی کی موجوں سے بھی نہیں ڈرتے بھاگو بھاگو چناچہ سب کے سب بھاگ کھڑے ہوئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس کا عمل صرف دنیا کیلئے ہو تو اس میں سے جتنا اس کے مقدر میں ہوتا ہے مل جاتا ہے لیکن آخرت میں وہ خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور جس کا مقصد آخرت طلبی ہو اسے آخرت تو ملتی ہی ہے لیکن دنیا میں بھی اپنے مقدر کا پالیتا ہے جیسے اور جگہ فرمایا من کان یرید حرث الاخرۃ الخ، آخرت کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم زیادتی کے ساتھ دیتے ہیں اور دنیا کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم گو دنیا دے دیں لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں اور جگہ ہے من کان یرید العاجلتہ جو شخص صرف دنیا طلب ہی ہو ہم ان میں سے جسے چاہیں جس قدر چاہیں دنیا دے دیتے ہیں پھر وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ذلت و رسوائی کے ساتھ میں جاتا ہے اور جو آخرت کا خواہاں ہو اور کوشاں بھی ہو اور باایمان بھی ہو ان کی کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں مشکور ہے اسی لئے یہاں بھی فرمایا کہ ہم شکر گزاروں کو اچھا دبلہ دے دیتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ احد کے مجاہدین کو خطاب کرتا ہوا فرماتا ہے کہ اس سے پہلے بھی بہت سے نبی اپنی جماعتوں کو ساتھ لے کر دشمنان دین سے لڑے بھڑے اور وہ تمہاری طرح اللہ کی راہ میں تکلیفیں بھی پہنچائے گئے لیکن پھر بھی مضبوط دل اور صابرو شاکر رہے نہ سست ہوئے نہ ہمت ہاری اور اس صبر کے بدلے انہوں نے اللہ کریم کی محبت مول لے لی، ایک یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اے مجاہدین احد تم یہ سن کر حضور ﷺ شہید ہوئے کیوں ہمت ہار بیٹھے ؟ اور کفر کے مقابلے میں کیوں دب گئے ؟ حالانکہ تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء کی شہادت کو دیکھ کر بھی نہ دبے نہ پیچھے ہٹے بلکہ اور تیزی کے ساتھ لڑے، یہ اتنی بڑی مصیبت بھی ان کے قدم نہ ڈگمگا سکی اور کے دل چھوٹے نہ کرسکی پھر تم حضور ﷺ کی شہادت کی خبر سن کر اتنے بودے کیوں ہوگئے ربیون کے بہت سے معنی آتے ہیں مثلاً علماء ابرار متقی عابد زاہد تابع فرمان وغیرہ وغیرہ۔ پس قرآن کریم ان کی اس مصیبت کے وقت دعا کو نقل کرتا ہے پھر فرماتا ہے کہ انہیں دنیا کا ثواب نصرت و مدد ظفرو اقبال ملا اور آخرت کی بھلائی اور اچھائی بھی اسی کے ساتھ جمع ہوئی یہ محسن لوگ اللہ کے چہیتے بندے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کی وفات کا مغالطہٰ اور غزوہ احد میدان احد میں مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور ان کے بعض قتل بھی کئے گئے۔ اس دن شیطان نے یہ بھی مشہور کردیا کہ محمد ﷺ بھی شہید ہوگئے اور ابن قمیہ کافر نے مشرکوں میں جا کر یہ خبر اڑا دی کہ میں حضور ﷺ کو قتل کر کے آیا ہوں اور دراصل وہ افواہ بےاصل تھی اور اس شخص کا یہ قول بھی غلط تھا۔ اس نے حضور ﷺ پر حملہ تو کیا تھا لیکن اس سے صرف آپ ﷺ کا چہرہ قدرے زخمی ہوگیا تھا اور کوئی بات نہ تھی اس غلط بات کی شہرت نے مسلمانوں کے دل چھوٹے کردیئے ان کے قدم اکھڑ گئے اور لڑائی سے بددل ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلے انبیاء کی طرح یہ بھی ایک نبی ہیں ہوسکتا ہے کہ میدان میں قتل کردیئے جائیں لیکن کچھ اللہ کا دین نہیں جاتا رہے گا ایک روایت میں ہے کہ ایک مہاجر نے دیکھا کہ ایک انصاری جنگ احد میں زخموں سے چور زمین پر گرا پڑا ہے اور خاک و خون میں لوٹ رہا ہے اس سے کہا کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ حضور ﷺ قتل کردیئے گئے اس نے کہا اگر یہ صحیح ہے تو آپ ﷺ تو اپنا کام کر گئے، اب آپ ﷺ کے دین پر سے تم سب بھی قربان ہوجاؤ، اسی کے بارے میں یہ آیت اتری پھر فرمایا کہ حضور ﷺ کا قتل یا انتقال ایسی چیز نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین سے پچھلے پاؤں پلٹ جاؤ اور ایسا کرنے والے اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے، اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو جزائے خیر دے گا جو اس کی اطاعت پر جم جائیں اور اس کے دین کی مدد میں لگ جائیں اور اس کے رسول ﷺ کی تابعداری میں مضبوط ہوجائیں خواہ رسول ﷺ زندہ ہوں یا نہ ہوں، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ کے انتقال کی خبر سن کر حضرت ابوبکر صدیق جلدی سے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے مسجد میں تشریف لے گئے لوگوں کی حالت دیکھی بھالی اور بغیر کچھ کہے سنے حضرت عائشہ کے گھر پر آئے یہاںحضور ﷺ پر حبرہ کی چادر اوڑھا دی گئی تھی آپ نے چادر کا کونا چہرہ مبارک پر سے ہٹا کر بےساختہ بوسہ لے لیا اور روتے ہوئے فرمانے لگے میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر دو مرتبہ موت نہ لائے گا جو موت آپ پر لکھ دی گئی تھی وہ آپ کو آچکی۔ اس کے بعد آپ پھر مسجد میں آئے اور دیکھا کہ حضرت عمر خطبہ سنا رہے ہیں ان سے فرمایا کہ خاموش ہوجاؤ انہیں چپ کرا کر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد ﷺ مرگئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ خوش رہے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس پر موت نہیں آتی۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لوگوں کو ایسا معلوم ہونے لگا گویا یہ آیت اب اتری ہے پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہ آیت چڑھ گئی اور لوگوں نے یقین کرلیا کہ آپ ﷺ فوت ہوگئے حضرت صدیق اکبر کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر حضرت عمر کے تو گویا قدموں تلے سے زمین نکل گئی، انہیں بھی یقین ہوگیا کہ حضور ﷺ اس جہان فانی کو چھوڑ کر چل بسے، حضرت علی رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی میں فرماتے تھے کہ نہ ہم حضور ﷺ کی موت پر مرتد ہوں نہ آپ کی شہادت پر اللہ کی قسم اگر حضور ﷺ قتل کئے جائیں تو ہم بھی اس دین پر مرمٹیں جس پر پر شہید ہوئے اللہ کی قسم میں آپ کا بھائی ہوں آپ کا ولی ہوں آپ کا چچا زاد بھائی ہوں اور آپ کا وارث ہوں مجھ سے زیادہ حقدار آپ کا اور کون ہوگا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اپنی مدت پوری کرکے ہی مرتا ہے جیسے اور جگہ ہے وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الی فی کتاب نہ کوئی عمر دیا جاتا ہے نہ عمر گھٹائی جاتی ہے مگر سب کتاب اللہ میں موجود ہے اور جگہ ہے (هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا) 6۔ الانعام :2) " جس اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا قھر وقت پورا کیا اور اجل مقرر کی " اس آیت میں بزدل لوگوں کو شجاعت کی رغبت دلائی گئی ہے اور اللہ کی راہ کے جہاد کا شوق دلایا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ جو انمردی کی وجہ سے کچھ عمر گھٹ نہیں جاتی اور پیچھے ہٹنے کی وجہ سے عمر بڑھ نہیں جاتی۔ موت تو اپنے وقت پر آکر ہی رہے گی خواہ شجاعت اور بہادری برتو خواہ نامردی اور بزدلی دکھاؤ۔ حجر بن عدی جب دشمنان دین کے مقابلے میں جاتے ہیں اور دریائے دجلہ بیچ میں آجاتا ہے اور لشکر اسلام ٹھٹھک کر کھڑا ہوجاتا ہے تو آپ اس آیت کی تلاوت کرکے فرماتے ہیں کہ کوئی بھی بےاجل نہیں مرتا آؤ اسی دجلہ میں گھوڑے ڈال دو ، یہ فرما کر آپ اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیتے ہیں آپ کی دیکھا دیکھی اور لوگ بھی اپنے گھوڑوں کو پانی میں ڈال دیتے ہیں۔ دشمن کا خون خشک ہوجاتا ہے اور اس پر ہیبت طاری ہوجاتی ہے۔ وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو دیوانے آدمی ہیں یہ تو پانی کی موجوں سے بھی نہیں ڈرتے بھاگو بھاگو چناچہ سب کے سب بھاگ کھڑے ہوئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس کا عمل صرف دنیا کیلئے ہو تو اس میں سے جتنا اس کے مقدر میں ہوتا ہے مل جاتا ہے لیکن آخرت میں وہ خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور جس کا مقصد آخرت طلبی ہو اسے آخرت تو ملتی ہی ہے لیکن دنیا میں بھی اپنے مقدر کا پالیتا ہے جیسے اور جگہ فرمایا من کان یرید حرث الاخرۃ الخ، آخرت کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم زیادتی کے ساتھ دیتے ہیں اور دنیا کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم گو دنیا دے دیں لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں اور جگہ ہے من کان یرید العاجلتہ جو شخص صرف دنیا طلب ہی ہو ہم ان میں سے جسے چاہیں جس قدر چاہیں دنیا دے دیتے ہیں پھر وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ذلت و رسوائی کے ساتھ میں جاتا ہے اور جو آخرت کا خواہاں ہو اور کوشاں بھی ہو اور باایمان بھی ہو ان کی کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں مشکور ہے اسی لئے یہاں بھی فرمایا کہ ہم شکر گزاروں کو اچھا دبلہ دے دیتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ احد کے مجاہدین کو خطاب کرتا ہوا فرماتا ہے کہ اس سے پہلے بھی بہت سے نبی اپنی جماعتوں کو ساتھ لے کر دشمنان دین سے لڑے بھڑے اور وہ تمہاری طرح اللہ کی راہ میں تکلیفیں بھی پہنچائے گئے لیکن پھر بھی مضبوط دل اور صابرو شاکر رہے نہ سست ہوئے نہ ہمت ہاری اور اس صبر کے بدلے انہوں نے اللہ کریم کی محبت مول لے لی، ایک یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اے مجاہدین احد تم یہ سن کر حضور ﷺ شہید ہوئے کیوں ہمت ہار بیٹھے ؟ اور کفر کے مقابلے میں کیوں دب گئے ؟ حالانکہ تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء کی شہادت کو دیکھ کر بھی نہ دبے نہ پیچھے ہٹے بلکہ اور تیزی کے ساتھ لڑے، یہ اتنی بڑی مصیبت بھی ان کے قدم نہ ڈگمگا سکی اور کے دل چھوٹے نہ کرسکی پھر تم حضور ﷺ کی شہادت کی خبر سن کر اتنے بودے کیوں ہوگئے ربیون کے بہت سے معنی آتے ہیں مثلاً علماء ابرار متقی عابد زاہد تابع فرمان وغیرہ وغیرہ۔ پس قرآن کریم ان کی اس مصیبت کے وقت دعا کو نقل کرتا ہے پھر فرماتا ہے کہ انہیں دنیا کا ثواب نصرت و مدد ظفرو اقبال ملا اور آخرت کی بھلائی اور اچھائی بھی اسی کے ساتھ جمع ہوئی یہ محسن لوگ اللہ کے چہیتے بندے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کی وفات کا مغالطہٰ اور غزوہ احد میدان احد میں مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور ان کے بعض قتل بھی کئے گئے۔ اس دن شیطان نے یہ بھی مشہور کردیا کہ محمد ﷺ بھی شہید ہوگئے اور ابن قمیہ کافر نے مشرکوں میں جا کر یہ خبر اڑا دی کہ میں حضور ﷺ کو قتل کر کے آیا ہوں اور دراصل وہ افواہ بےاصل تھی اور اس شخص کا یہ قول بھی غلط تھا۔ اس نے حضور ﷺ پر حملہ تو کیا تھا لیکن اس سے صرف آپ ﷺ کا چہرہ قدرے زخمی ہوگیا تھا اور کوئی بات نہ تھی اس غلط بات کی شہرت نے مسلمانوں کے دل چھوٹے کردیئے ان کے قدم اکھڑ گئے اور لڑائی سے بددل ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلے انبیاء کی طرح یہ بھی ایک نبی ہیں ہوسکتا ہے کہ میدان میں قتل کردیئے جائیں لیکن کچھ اللہ کا دین نہیں جاتا رہے گا ایک روایت میں ہے کہ ایک مہاجر نے دیکھا کہ ایک انصاری جنگ احد میں زخموں سے چور زمین پر گرا پڑا ہے اور خاک و خون میں لوٹ رہا ہے اس سے کہا کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ حضور ﷺ قتل کردیئے گئے اس نے کہا اگر یہ صحیح ہے تو آپ ﷺ تو اپنا کام کر گئے، اب آپ ﷺ کے دین پر سے تم سب بھی قربان ہوجاؤ، اسی کے بارے میں یہ آیت اتری پھر فرمایا کہ حضور ﷺ کا قتل یا انتقال ایسی چیز نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین سے پچھلے پاؤں پلٹ جاؤ اور ایسا کرنے والے اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے، اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو جزائے خیر دے گا جو اس کی اطاعت پر جم جائیں اور اس کے دین کی مدد میں لگ جائیں اور اس کے رسول ﷺ کی تابعداری میں مضبوط ہوجائیں خواہ رسول ﷺ زندہ ہوں یا نہ ہوں، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ کے انتقال کی خبر سن کر حضرت ابوبکر صدیق جلدی سے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے مسجد میں تشریف لے گئے لوگوں کی حالت دیکھی بھالی اور بغیر کچھ کہے سنے حضرت عائشہ کے گھر پر آئے یہاںحضور ﷺ پر حبرہ کی چادر اوڑھا دی گئی تھی آپ نے چادر کا کونا چہرہ مبارک پر سے ہٹا کر بےساختہ بوسہ لے لیا اور روتے ہوئے فرمانے لگے میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر دو مرتبہ موت نہ لائے گا جو موت آپ پر لکھ دی گئی تھی وہ آپ کو آچکی۔ اس کے بعد آپ پھر مسجد میں آئے اور دیکھا کہ حضرت عمر خطبہ سنا رہے ہیں ان سے فرمایا کہ خاموش ہوجاؤ انہیں چپ کرا کر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد ﷺ مرگئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ خوش رہے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس پر موت نہیں آتی۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لوگوں کو ایسا معلوم ہونے لگا گویا یہ آیت اب اتری ہے پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہ آیت چڑھ گئی اور لوگوں نے یقین کرلیا کہ آپ ﷺ فوت ہوگئے حضرت صدیق اکبر کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر حضرت عمر کے تو گویا قدموں تلے سے زمین نکل گئی، انہیں بھی یقین ہوگیا کہ حضور ﷺ اس جہان فانی کو چھوڑ کر چل بسے، حضرت علی رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی میں فرماتے تھے کہ نہ ہم حضور ﷺ کی موت پر مرتد ہوں نہ آپ کی شہادت پر اللہ کی قسم اگر حضور ﷺ قتل کئے جائیں تو ہم بھی اس دین پر مرمٹیں جس پر پر شہید ہوئے اللہ کی قسم میں آپ کا بھائی ہوں آپ کا ولی ہوں آپ کا چچا زاد بھائی ہوں اور آپ کا وارث ہوں مجھ سے زیادہ حقدار آپ کا اور کون ہوگا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اپنی مدت پوری کرکے ہی مرتا ہے جیسے اور جگہ ہے وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الی فی کتاب نہ کوئی عمر دیا جاتا ہے نہ عمر گھٹائی جاتی ہے مگر سب کتاب اللہ میں موجود ہے اور جگہ ہے (هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا) 6۔ الانعام :2) " جس اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا قھر وقت پورا کیا اور اجل مقرر کی " اس آیت میں بزدل لوگوں کو شجاعت کی رغبت دلائی گئی ہے اور اللہ کی راہ کے جہاد کا شوق دلایا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ جو انمردی کی وجہ سے کچھ عمر گھٹ نہیں جاتی اور پیچھے ہٹنے کی وجہ سے عمر بڑھ نہیں جاتی۔ موت تو اپنے وقت پر آکر ہی رہے گی خواہ شجاعت اور بہادری برتو خواہ نامردی اور بزدلی دکھاؤ۔ حجر بن عدی جب دشمنان دین کے مقابلے میں جاتے ہیں اور دریائے دجلہ بیچ میں آجاتا ہے اور لشکر اسلام ٹھٹھک کر کھڑا ہوجاتا ہے تو آپ اس آیت کی تلاوت کرکے فرماتے ہیں کہ کوئی بھی بےاجل نہیں مرتا آؤ اسی دجلہ میں گھوڑے ڈال دو ، یہ فرما کر آپ اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیتے ہیں آپ کی دیکھا دیکھی اور لوگ بھی اپنے گھوڑوں کو پانی میں ڈال دیتے ہیں۔ دشمن کا خون خشک ہوجاتا ہے اور اس پر ہیبت طاری ہوجاتی ہے۔ وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو دیوانے آدمی ہیں یہ تو پانی کی موجوں سے بھی نہیں ڈرتے بھاگو بھاگو چناچہ سب کے سب بھاگ کھڑے ہوئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس کا عمل صرف دنیا کیلئے ہو تو اس میں سے جتنا اس کے مقدر میں ہوتا ہے مل جاتا ہے لیکن آخرت میں وہ خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور جس کا مقصد آخرت طلبی ہو اسے آخرت تو ملتی ہی ہے لیکن دنیا میں بھی اپنے مقدر کا پالیتا ہے جیسے اور جگہ فرمایا من کان یرید حرث الاخرۃ الخ، آخرت کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم زیادتی کے ساتھ دیتے ہیں اور دنیا کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم گو دنیا دے دیں لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں اور جگہ ہے من کان یرید العاجلتہ جو شخص صرف دنیا طلب ہی ہو ہم ان میں سے جسے چاہیں جس قدر چاہیں دنیا دے دیتے ہیں پھر وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ذلت و رسوائی کے ساتھ میں جاتا ہے اور جو آخرت کا خواہاں ہو اور کوشاں بھی ہو اور باایمان بھی ہو ان کی کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں مشکور ہے اسی لئے یہاں بھی فرمایا کہ ہم شکر گزاروں کو اچھا دبلہ دے دیتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ احد کے مجاہدین کو خطاب کرتا ہوا فرماتا ہے کہ اس سے پہلے بھی بہت سے نبی اپنی جماعتوں کو ساتھ لے کر دشمنان دین سے لڑے بھڑے اور وہ تمہاری طرح اللہ کی راہ میں تکلیفیں بھی پہنچائے گئے لیکن پھر بھی مضبوط دل اور صابرو شاکر رہے نہ سست ہوئے نہ ہمت ہاری اور اس صبر کے بدلے انہوں نے اللہ کریم کی محبت مول لے لی، ایک یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اے مجاہدین احد تم یہ سن کر حضور ﷺ شہید ہوئے کیوں ہمت ہار بیٹھے ؟ اور کفر کے مقابلے میں کیوں دب گئے ؟ حالانکہ تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء کی شہادت کو دیکھ کر بھی نہ دبے نہ پیچھے ہٹے بلکہ اور تیزی کے ساتھ لڑے، یہ اتنی بڑی مصیبت بھی ان کے قدم نہ ڈگمگا سکی اور کے دل چھوٹے نہ کرسکی پھر تم حضور ﷺ کی شہادت کی خبر سن کر اتنے بودے کیوں ہوگئے ربیون کے بہت سے معنی آتے ہیں مثلاً علماء ابرار متقی عابد زاہد تابع فرمان وغیرہ وغیرہ۔ پس قرآن کریم ان کی اس مصیبت کے وقت دعا کو نقل کرتا ہے پھر فرماتا ہے کہ انہیں دنیا کا ثواب نصرت و مدد ظفرو اقبال ملا اور آخرت کی بھلائی اور اچھائی بھی اسی کے ساتھ جمع ہوئی یہ محسن لوگ اللہ کے چہیتے بندے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کی وفات کا مغالطہٰ اور غزوہ احد میدان احد میں مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور ان کے بعض قتل بھی کئے گئے۔ اس دن شیطان نے یہ بھی مشہور کردیا کہ محمد ﷺ بھی شہید ہوگئے اور ابن قمیہ کافر نے مشرکوں میں جا کر یہ خبر اڑا دی کہ میں حضور ﷺ کو قتل کر کے آیا ہوں اور دراصل وہ افواہ بےاصل تھی اور اس شخص کا یہ قول بھی غلط تھا۔ اس نے حضور ﷺ پر حملہ تو کیا تھا لیکن اس سے صرف آپ ﷺ کا چہرہ قدرے زخمی ہوگیا تھا اور کوئی بات نہ تھی اس غلط بات کی شہرت نے مسلمانوں کے دل چھوٹے کردیئے ان کے قدم اکھڑ گئے اور لڑائی سے بددل ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلے انبیاء کی طرح یہ بھی ایک نبی ہیں ہوسکتا ہے کہ میدان میں قتل کردیئے جائیں لیکن کچھ اللہ کا دین نہیں جاتا رہے گا ایک روایت میں ہے کہ ایک مہاجر نے دیکھا کہ ایک انصاری جنگ احد میں زخموں سے چور زمین پر گرا پڑا ہے اور خاک و خون میں لوٹ رہا ہے اس سے کہا کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ حضور ﷺ قتل کردیئے گئے اس نے کہا اگر یہ صحیح ہے تو آپ ﷺ تو اپنا کام کر گئے، اب آپ ﷺ کے دین پر سے تم سب بھی قربان ہوجاؤ، اسی کے بارے میں یہ آیت اتری پھر فرمایا کہ حضور ﷺ کا قتل یا انتقال ایسی چیز نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین سے پچھلے پاؤں پلٹ جاؤ اور ایسا کرنے والے اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے، اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو جزائے خیر دے گا جو اس کی اطاعت پر جم جائیں اور اس کے دین کی مدد میں لگ جائیں اور اس کے رسول ﷺ کی تابعداری میں مضبوط ہوجائیں خواہ رسول ﷺ زندہ ہوں یا نہ ہوں، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ کے انتقال کی خبر سن کر حضرت ابوبکر صدیق جلدی سے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے مسجد میں تشریف لے گئے لوگوں کی حالت دیکھی بھالی اور بغیر کچھ کہے سنے حضرت عائشہ کے گھر پر آئے یہاںحضور ﷺ پر حبرہ کی چادر اوڑھا دی گئی تھی آپ نے چادر کا کونا چہرہ مبارک پر سے ہٹا کر بےساختہ بوسہ لے لیا اور روتے ہوئے فرمانے لگے میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر دو مرتبہ موت نہ لائے گا جو موت آپ پر لکھ دی گئی تھی وہ آپ کو آچکی۔ اس کے بعد آپ پھر مسجد میں آئے اور دیکھا کہ حضرت عمر خطبہ سنا رہے ہیں ان سے فرمایا کہ خاموش ہوجاؤ انہیں چپ کرا کر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد ﷺ مرگئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ خوش رہے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس پر موت نہیں آتی۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لوگوں کو ایسا معلوم ہونے لگا گویا یہ آیت اب اتری ہے پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہ آیت چڑھ گئی اور لوگوں نے یقین کرلیا کہ آپ ﷺ فوت ہوگئے حضرت صدیق اکبر کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر حضرت عمر کے تو گویا قدموں تلے سے زمین نکل گئی، انہیں بھی یقین ہوگیا کہ حضور ﷺ اس جہان فانی کو چھوڑ کر چل بسے، حضرت علی رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی میں فرماتے تھے کہ نہ ہم حضور ﷺ کی موت پر مرتد ہوں نہ آپ کی شہادت پر اللہ کی قسم اگر حضور ﷺ قتل کئے جائیں تو ہم بھی اس دین پر مرمٹیں جس پر پر شہید ہوئے اللہ کی قسم میں آپ کا بھائی ہوں آپ کا ولی ہوں آپ کا چچا زاد بھائی ہوں اور آپ کا وارث ہوں مجھ سے زیادہ حقدار آپ کا اور کون ہوگا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اپنی مدت پوری کرکے ہی مرتا ہے جیسے اور جگہ ہے وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الی فی کتاب نہ کوئی عمر دیا جاتا ہے نہ عمر گھٹائی جاتی ہے مگر سب کتاب اللہ میں موجود ہے اور جگہ ہے (هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا) 6۔ الانعام :2) " جس اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا قھر وقت پورا کیا اور اجل مقرر کی " اس آیت میں بزدل لوگوں کو شجاعت کی رغبت دلائی گئی ہے اور اللہ کی راہ کے جہاد کا شوق دلایا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ جو انمردی کی وجہ سے کچھ عمر گھٹ نہیں جاتی اور پیچھے ہٹنے کی وجہ سے عمر بڑھ نہیں جاتی۔ موت تو اپنے وقت پر آکر ہی رہے گی خواہ شجاعت اور بہادری برتو خواہ نامردی اور بزدلی دکھاؤ۔ حجر بن عدی جب دشمنان دین کے مقابلے میں جاتے ہیں اور دریائے دجلہ بیچ میں آجاتا ہے اور لشکر اسلام ٹھٹھک کر کھڑا ہوجاتا ہے تو آپ اس آیت کی تلاوت کرکے فرماتے ہیں کہ کوئی بھی بےاجل نہیں مرتا آؤ اسی دجلہ میں گھوڑے ڈال دو ، یہ فرما کر آپ اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیتے ہیں آپ کی دیکھا دیکھی اور لوگ بھی اپنے گھوڑوں کو پانی میں ڈال دیتے ہیں۔ دشمن کا خون خشک ہوجاتا ہے اور اس پر ہیبت طاری ہوجاتی ہے۔ وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو دیوانے آدمی ہیں یہ تو پانی کی موجوں سے بھی نہیں ڈرتے بھاگو بھاگو چناچہ سب کے سب بھاگ کھڑے ہوئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس کا عمل صرف دنیا کیلئے ہو تو اس میں سے جتنا اس کے مقدر میں ہوتا ہے مل جاتا ہے لیکن آخرت میں وہ خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور جس کا مقصد آخرت طلبی ہو اسے آخرت تو ملتی ہی ہے لیکن دنیا میں بھی اپنے مقدر کا پالیتا ہے جیسے اور جگہ فرمایا من کان یرید حرث الاخرۃ الخ، آخرت کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم زیادتی کے ساتھ دیتے ہیں اور دنیا کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم گو دنیا دے دیں لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں اور جگہ ہے من کان یرید العاجلتہ جو شخص صرف دنیا طلب ہی ہو ہم ان میں سے جسے چاہیں جس قدر چاہیں دنیا دے دیتے ہیں پھر وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ذلت و رسوائی کے ساتھ میں جاتا ہے اور جو آخرت کا خواہاں ہو اور کوشاں بھی ہو اور باایمان بھی ہو ان کی کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں مشکور ہے اسی لئے یہاں بھی فرمایا کہ ہم شکر گزاروں کو اچھا دبلہ دے دیتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ احد کے مجاہدین کو خطاب کرتا ہوا فرماتا ہے کہ اس سے پہلے بھی بہت سے نبی اپنی جماعتوں کو ساتھ لے کر دشمنان دین سے لڑے بھڑے اور وہ تمہاری طرح اللہ کی راہ میں تکلیفیں بھی پہنچائے گئے لیکن پھر بھی مضبوط دل اور صابرو شاکر رہے نہ سست ہوئے نہ ہمت ہاری اور اس صبر کے بدلے انہوں نے اللہ کریم کی محبت مول لے لی، ایک یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اے مجاہدین احد تم یہ سن کر حضور ﷺ شہید ہوئے کیوں ہمت ہار بیٹھے ؟ اور کفر کے مقابلے میں کیوں دب گئے ؟ حالانکہ تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء کی شہادت کو دیکھ کر بھی نہ دبے نہ پیچھے ہٹے بلکہ اور تیزی کے ساتھ لڑے، یہ اتنی بڑی مصیبت بھی ان کے قدم نہ ڈگمگا سکی اور کے دل چھوٹے نہ کرسکی پھر تم حضور ﷺ کی شہادت کی خبر سن کر اتنے بودے کیوں ہوگئے ربیون کے بہت سے معنی آتے ہیں مثلاً علماء ابرار متقی عابد زاہد تابع فرمان وغیرہ وغیرہ۔ پس قرآن کریم ان کی اس مصیبت کے وقت دعا کو نقل کرتا ہے پھر فرماتا ہے کہ انہیں دنیا کا ثواب نصرت و مدد ظفرو اقبال ملا اور آخرت کی بھلائی اور اچھائی بھی اسی کے ساتھ جمع ہوئی یہ محسن لوگ اللہ کے چہیتے بندے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کی وفات کا مغالطہٰ اور غزوہ احد میدان احد میں مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور ان کے بعض قتل بھی کئے گئے۔ اس دن شیطان نے یہ بھی مشہور کردیا کہ محمد ﷺ بھی شہید ہوگئے اور ابن قمیہ کافر نے مشرکوں میں جا کر یہ خبر اڑا دی کہ میں حضور ﷺ کو قتل کر کے آیا ہوں اور دراصل وہ افواہ بےاصل تھی اور اس شخص کا یہ قول بھی غلط تھا۔ اس نے حضور ﷺ پر حملہ تو کیا تھا لیکن اس سے صرف آپ ﷺ کا چہرہ قدرے زخمی ہوگیا تھا اور کوئی بات نہ تھی اس غلط بات کی شہرت نے مسلمانوں کے دل چھوٹے کردیئے ان کے قدم اکھڑ گئے اور لڑائی سے بددل ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلے انبیاء کی طرح یہ بھی ایک نبی ہیں ہوسکتا ہے کہ میدان میں قتل کردیئے جائیں لیکن کچھ اللہ کا دین نہیں جاتا رہے گا ایک روایت میں ہے کہ ایک مہاجر نے دیکھا کہ ایک انصاری جنگ احد میں زخموں سے چور زمین پر گرا پڑا ہے اور خاک و خون میں لوٹ رہا ہے اس سے کہا کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ حضور ﷺ قتل کردیئے گئے اس نے کہا اگر یہ صحیح ہے تو آپ ﷺ تو اپنا کام کر گئے، اب آپ ﷺ کے دین پر سے تم سب بھی قربان ہوجاؤ، اسی کے بارے میں یہ آیت اتری پھر فرمایا کہ حضور ﷺ کا قتل یا انتقال ایسی چیز نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین سے پچھلے پاؤں پلٹ جاؤ اور ایسا کرنے والے اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے، اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو جزائے خیر دے گا جو اس کی اطاعت پر جم جائیں اور اس کے دین کی مدد میں لگ جائیں اور اس کے رسول ﷺ کی تابعداری میں مضبوط ہوجائیں خواہ رسول ﷺ زندہ ہوں یا نہ ہوں، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ کے انتقال کی خبر سن کر حضرت ابوبکر صدیق جلدی سے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے مسجد میں تشریف لے گئے لوگوں کی حالت دیکھی بھالی اور بغیر کچھ کہے سنے حضرت عائشہ کے گھر پر آئے یہاںحضور ﷺ پر حبرہ کی چادر اوڑھا دی گئی تھی آپ نے چادر کا کونا چہرہ مبارک پر سے ہٹا کر بےساختہ بوسہ لے لیا اور روتے ہوئے فرمانے لگے میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر دو مرتبہ موت نہ لائے گا جو موت آپ پر لکھ دی گئی تھی وہ آپ کو آچکی۔ اس کے بعد آپ پھر مسجد میں آئے اور دیکھا کہ حضرت عمر خطبہ سنا رہے ہیں ان سے فرمایا کہ خاموش ہوجاؤ انہیں چپ کرا کر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد ﷺ مرگئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ خوش رہے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس پر موت نہیں آتی۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لوگوں کو ایسا معلوم ہونے لگا گویا یہ آیت اب اتری ہے پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہ آیت چڑھ گئی اور لوگوں نے یقین کرلیا کہ آپ ﷺ فوت ہوگئے حضرت صدیق اکبر کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر حضرت عمر کے تو گویا قدموں تلے سے زمین نکل گئی، انہیں بھی یقین ہوگیا کہ حضور ﷺ اس جہان فانی کو چھوڑ کر چل بسے، حضرت علی رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی میں فرماتے تھے کہ نہ ہم حضور ﷺ کی موت پر مرتد ہوں نہ آپ کی شہادت پر اللہ کی قسم اگر حضور ﷺ قتل کئے جائیں تو ہم بھی اس دین پر مرمٹیں جس پر پر شہید ہوئے اللہ کی قسم میں آپ کا بھائی ہوں آپ کا ولی ہوں آپ کا چچا زاد بھائی ہوں اور آپ کا وارث ہوں مجھ سے زیادہ حقدار آپ کا اور کون ہوگا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اپنی مدت پوری کرکے ہی مرتا ہے جیسے اور جگہ ہے وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الی فی کتاب نہ کوئی عمر دیا جاتا ہے نہ عمر گھٹائی جاتی ہے مگر سب کتاب اللہ میں موجود ہے اور جگہ ہے (هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا) 6۔ الانعام :2) " جس اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا قھر وقت پورا کیا اور اجل مقرر کی " اس آیت میں بزدل لوگوں کو شجاعت کی رغبت دلائی گئی ہے اور اللہ کی راہ کے جہاد کا شوق دلایا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ جو انمردی کی وجہ سے کچھ عمر گھٹ نہیں جاتی اور پیچھے ہٹنے کی وجہ سے عمر بڑھ نہیں جاتی۔ موت تو اپنے وقت پر آکر ہی رہے گی خواہ شجاعت اور بہادری برتو خواہ نامردی اور بزدلی دکھاؤ۔ حجر بن عدی جب دشمنان دین کے مقابلے میں جاتے ہیں اور دریائے دجلہ بیچ میں آجاتا ہے اور لشکر اسلام ٹھٹھک کر کھڑا ہوجاتا ہے تو آپ اس آیت کی تلاوت کرکے فرماتے ہیں کہ کوئی بھی بےاجل نہیں مرتا آؤ اسی دجلہ میں گھوڑے ڈال دو ، یہ فرما کر آپ اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیتے ہیں آپ کی دیکھا دیکھی اور لوگ بھی اپنے گھوڑوں کو پانی میں ڈال دیتے ہیں۔ دشمن کا خون خشک ہوجاتا ہے اور اس پر ہیبت طاری ہوجاتی ہے۔ وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو دیوانے آدمی ہیں یہ تو پانی کی موجوں سے بھی نہیں ڈرتے بھاگو بھاگو چناچہ سب کے سب بھاگ کھڑے ہوئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس کا عمل صرف دنیا کیلئے ہو تو اس میں سے جتنا اس کے مقدر میں ہوتا ہے مل جاتا ہے لیکن آخرت میں وہ خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور جس کا مقصد آخرت طلبی ہو اسے آخرت تو ملتی ہی ہے لیکن دنیا میں بھی اپنے مقدر کا پالیتا ہے جیسے اور جگہ فرمایا من کان یرید حرث الاخرۃ الخ، آخرت کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم زیادتی کے ساتھ دیتے ہیں اور دنیا کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم گو دنیا دے دیں لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں اور جگہ ہے من کان یرید العاجلتہ جو شخص صرف دنیا طلب ہی ہو ہم ان میں سے جسے چاہیں جس قدر چاہیں دنیا دے دیتے ہیں پھر وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ذلت و رسوائی کے ساتھ میں جاتا ہے اور جو آخرت کا خواہاں ہو اور کوشاں بھی ہو اور باایمان بھی ہو ان کی کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں مشکور ہے اسی لئے یہاں بھی فرمایا کہ ہم شکر گزاروں کو اچھا دبلہ دے دیتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ احد کے مجاہدین کو خطاب کرتا ہوا فرماتا ہے کہ اس سے پہلے بھی بہت سے نبی اپنی جماعتوں کو ساتھ لے کر دشمنان دین سے لڑے بھڑے اور وہ تمہاری طرح اللہ کی راہ میں تکلیفیں بھی پہنچائے گئے لیکن پھر بھی مضبوط دل اور صابرو شاکر رہے نہ سست ہوئے نہ ہمت ہاری اور اس صبر کے بدلے انہوں نے اللہ کریم کی محبت مول لے لی، ایک یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اے مجاہدین احد تم یہ سن کر حضور ﷺ شہید ہوئے کیوں ہمت ہار بیٹھے ؟ اور کفر کے مقابلے میں کیوں دب گئے ؟ حالانکہ تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء کی شہادت کو دیکھ کر بھی نہ دبے نہ پیچھے ہٹے بلکہ اور تیزی کے ساتھ لڑے، یہ اتنی بڑی مصیبت بھی ان کے قدم نہ ڈگمگا سکی اور کے دل چھوٹے نہ کرسکی پھر تم حضور ﷺ کی شہادت کی خبر سن کر اتنے بودے کیوں ہوگئے ربیون کے بہت سے معنی آتے ہیں مثلاً علماء ابرار متقی عابد زاہد تابع فرمان وغیرہ وغیرہ۔ پس قرآن کریم ان کی اس مصیبت کے وقت دعا کو نقل کرتا ہے پھر فرماتا ہے کہ انہیں دنیا کا ثواب نصرت و مدد ظفرو اقبال ملا اور آخرت کی بھلائی اور اچھائی بھی اسی کے ساتھ جمع ہوئی یہ محسن لوگ اللہ کے چہیتے بندے ہیں۔

کافر اور منافقوں کے ارادے اور غزوہ احد کا پھر اندوہناک تذکرہ اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو کافروں اور منافقوں کی باتوں کے ماننے سے روک رہا ہے اور بتارہا ہے کہ اگر ان کی مانی تو دنیا اور آخرت کی ذلت تم پر آئے گی انکی چاہت تو یہی ہے کہ تمہیں دین اسلام سے ہٹا دیں پھر فرماتا ہے مجھ ہی کو اپنا والی اور مددگار جانو مجھی سے دوستی کرو مجھی پر بھروسہ کرو مجھی سے مدد چاہو پھر فرمایا کہ ان شریروں کے دلوں میں ان کے کفر کے سبب ڈر خوف ڈال دوں گا، بخاری مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے پانچ باتیں دی گئیں ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی ہے میرے لئے زمین مسجد اور اس کی مٹی وضو کی پاک چیز بنائی گئی، میرے لئے غنیمت کے مال حلال کئے گئے اور مجھے شفاعت دی گئی اور ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف سے مخصوص بھیجا جاتا تھا اور میری بعثت میری نبوت تمام دنیا کیلئے عام ہوئی، مسند احمد میں ہے آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں پر اور بعض روایتوں میں ہے تمام امتوں پر مجھے چار فضیلتیں عطا فرمائی ہیں، مجھے تمام دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا، میرے اور میری امت کیلئے تمام زمین مسجد اور پاک بنائی گئی، میرے امتی کو جہاں نماز کا وقت آجائے وہیں اس کی مسجد اور اس کا وضو ہے، میرا دشمن مجھ سے مہینہ بھر کی راہ پر ہو وہیں سے اللہ تعالیٰ اس کا دل رعب سے پُر کردیتا ہے اور وہ کانپنے لگتا ہے اور میرے لئے غنیمت کے مال حلال کئے گئے اور روایت میں ہے کہ میں مدد کیا گیا ہوں میرے رعب سے ہر دشمن پر، مسند کی ایک اور حدیث میں ہے مجھے پانچ چیزیں دی گئیں میں ہر سرخ وسفید کی طرف بھیجا گیا میرے لئے تمام زمین وضو اور مسجد بنائی گی۔ میرے لئے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے جو میرے پہلے کسی کے حلال نہ تھے اور میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی اور مجھے شفاعت دی گئی تمام انبیاء نے شفاعت مانگ لی لیکن میں نے اپنی شفاعت کو اپنی امت کے لوگوں کیلئے جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو بچار کھی ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ابو سفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور وہ لڑائی سے لوٹ گیا پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور تمہاری مدد کی اس سے بھی یہ استدلال ہوسکتا ہے کہ یہ وعدہ احد کے دن کا تھا تین ہزار دشمن کا لشکر تھا تاہم مقابلہ پر آتے ہی ان کے قدم اکھڑ گئے اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی لیکن پھر تیر اندازوں کی نافرمانی کی وجہ سے اور بعض حضرات کی پست ہمتی کی بناء پر وہ وعدہ جو مشروط تھا رک گیا پس فرماتا ہے کہ تم انہیں اپنے ہاتھوں سے کاٹتے تھے۔ شروع دن میں ہی اللہ نے تمہیں ان پر غالب کردیا لیکن تم نے پھر بزدلی دکھائی اور نبی کی نافرمانی کی ان کی بتائی ہوئی جگہ سے ہٹ گئے اور آپس میں اختلاف کرنے لگے حالانکہ اللہ عزوجل نے تمہیں تمہاری پسند کی چیز فتح دکھا دی تھی یعنی مسلمان صاف طور پر غالب آگئے تھے مال غنیمت آنکھوں کے سامنے موجود تھا کفار پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے تم میں سے بعض نے دنیا طلبی کی اور کفار کی ہزیمت کو دیکھ کر نبی ﷺ کے فرمان کا خیال نہ کر کے مال غنیمت کی طرف لپکے گو بعض اور نیک آخرت طلب بھی تھے لیکن اس نافرمانی وغیرہ کی بنا پر کفار کی پھر بن آئی اور ایک مرتبہ تمہاری پوری آزمائش ہوگئی غالب ہو کر مغلوب ہوگئے فتح کے بعد شکست ہوگئی لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس جرم کو معاف فرما دیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بظاہر تم ان سے تعداد میں اور اسباب میں کم تھے خطا کا معاف ہونا بھی عفاعنکم میں داخل ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ کچھ یونہی سی گوشمالی کر کے کچھ بزرگوں کی شہادت کے بعد اس نے اپنی آزمائش کو اٹھا لیا اور باقی والوں کو معاف فرما دیا، اللہ تعالیٰ باایمان لوگوں پر فضل و کرم لطف و رحم ہی کرتا ہے، حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ کی مدد جیسی احد میں ہوئی ہے کہیں نہیں ہوئی اسی کے بارے میں ارشاد باری ہے کہ اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا لیکن پھر تمہارے کرتوتوں سے معاملہ برعکس ہوگیا، بعض لوگوں نے دنیا طلبی کر کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی یعنی بعض تیر اندوزوں نے جنہیں حضور ﷺ نے پہاڑ کے درے پر کھڑا کیا تھا اور فرما دیا تھا کہ تم یہاں سے دشمنوں کی نگہبانی کرو وہ تمہاری پیٹھ کی طرف سے نہ آجائیں، اگر تم ہار دیکھو بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹنا اور اگر تم ہر طرح غالب آگئے تو بھی تم غنیمت جمع کرنے کیلئے بھی اپنی جگہ کو نہ چھوڑنا، جب حضور ﷺ غالب آگئے تو تیر اندوزوں نے حکم عدولی کی اور وہ اپنی جگہ کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آملے اور مال غنیمت جمع کرنا شروع کردیا صفوں کا کوئی خیال نہ رہا درے کو خالی پا کر مشرکوں نے بھاگنا بند کیا اور غور و فکر کر کے اس جگہ حملہ کردیا، چند مسلمانوں کی پیٹھ کے پیچھے سے ان کی بیخبر ی میں اس زور کا حملہ کیا کہ مسلمانوں کے قدم نہ جم سکے اور شروع دن کی فتح اب شکست سے بدل گئی اور یہ مشہور ہوگیا کہ حضور ﷺ بھی شہید ہوگئے اور لڑائی کے رنگ نے مسلمانوں کو اس بات کا یقین بھی دلا دیا، تھوڑی دیر بعد جبکہ مسلمانوں کی نظریں چہرہ مبارک پر پڑیں تو وہ اپنی سب کوفت اور ساری مصیبت بھول گئے اور خوشی کے مارے حضور ﷺ کی طرف لپکے آپ ادھر آرہے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا سخت غضب نازل ہو ان لوگوں پر جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کے چہرے کو خون آلودہ کردیا، انہیں کوئی حق نہ تھا کہ اس طرح ہم پر غالب رہ جائیں، تھوڑی دیر میں ہم نے سنا کہ ابو سفیان پہاڑ کے نیچے کھڑا ہوا کہہ رہا تھا اعل ہبل اعل ھبل ہبل بت کا بول بالا ہو ابوبکر کہاں ہے ؟ عمر کہاں ہے ؟ حضرت عمر نے پوچھا حضور ﷺ اسے جواب دوں ؟ آپ ﷺ نے اجازت دی تو حضرت عمر فاروق نے اس کے جواب میں فرمایا اللہ اعلی واجل اللہ اعلی واجل اللہ بہت بلند ہے اور جلال و عزت والا ہے اللہ بہت بلند اور جلال و عزت والا ہے، وہ پوچھنے لگا بتاؤ محمد ﷺ کہاں ہیں ؟ ابوبکر کہاں ہیں ؟ عمر کہاں ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ ہیں رسول اللہ ﷺ اور یہ ہیں حضرت ابوبکر اور یہ ہوں میں عمر فاروق ابو سفیان کہنے لگا یہ بدر کا بدلہ ہے یونہی دھوپ چھاؤں الٹتی پلٹتی رہتی ہے، لڑائی کی مثال کنویں کے ڈول کی سی ہے، حضرت عمر نے فرمایا برابری کا معاملہ ہرگز نہیں تمہارے مقتول تو جہنم میں گئے اور ہمارے شہید جنت میں پہنچے، ابو سفیان کہنے لگا اگر یونہی ہو تو یقینا ہم نقصان اور گھاٹے میں رہے، سنو تمہارے مقتولین میں بعض ناک کان کٹے لوگ بھی تم پاؤ گے گویہ ہمارے سرداروں کی رائے سے نہیں ہوا لیکن ہمیں کچھ برا بھی نہیں معلوم ہوا، یہ حدیث غریب ہے اور یہ قصہ بھی عجیب ہے، یہ ابن عباس کی مرسلات سے ہے اور وہ یا ان کے والد جنگ احد میں موجود نہ تھے، مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت موجود ہے ابن ابی حاتم اور بیہقی فی دلائل النبوۃ میں بھی یہ مروی ہے اور صحیح احادیث میں اس کے بعض حصوں کے شواہد بھی ہیں کہ احد والے دن عورتیں مسلمانوں کے پیچھے تھیں جو زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں تو پوری طرح یقین تھا کہ آج کے دن ہم میں کوئی ایک بھی طالب دنیا نہیں بلکہ اس وقت اگر مجھے اس بات پر قسم کھلوائی جاتی تو کھا لیتا لیکن قرآن میں یہ آیت اتری (منکم من یرید الدنیا) یعنی تم میں سے بعض طالب دنیا بھی ہیں، جب صحابہ سے حضور ﷺ کے حکم کے خلاف آپ کی نافرمانی سرزد ہوئی تو انکے قدم اکھڑ گئے حضور ﷺ کے ساتھ صرف سات انصاری اور دو مہاجر باقی رہ گئے جب مشرکین نے حضور ﷺ کو گھیر لیا تو آپ فرمانے لگے اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو انہیں ہٹائے تو ایک انصار اٹھ کھڑے ہوئے اور اسجم غفیر کے مقابل تن تنہا داد شجاعت دینے لگے یہاں تک کہ شہید ہوگئے پھر کفار نے حملہ کیا آپ نے یہی فرمایا ایک انصاری تیار ہوگئے اور اس بےجگری سے لڑے کہ انہیں آگے نہ بڑھنے دیا لیکن بالآخر یہ بھی شہید ہوگئے یہاں تک کہ ساتوں صحابہ اللہ کے ہاں پہنچ گئے اللہ ان سے خوش ہو، حضور ﷺ نے مہاجرین سے فرمایا افسوس ہم نے اپنے ساتھیوں سے منصفانہ معاملہ نہ کیا، اب ابو سفیان نے ہانک لگائی کہ اعل ہبل آپ نے فرمایا کہو اللہ اعلی واجل ابو سفیان نے کہا (لنا العزی ولا عزی لکم) ہمارا عزی بت ہے تمہاری کوئی عزی نہیں، آپ نے فرمایا کہو اللہ مولانا والکافرون لا مولی لھم اللہ ہمارا مولی ہے اور کافروں کا کوئی مولی نہیں، ابو سفیان کہنے لگا آج کے دن بدر کے دن کا بدلہ ہے کوئی دن ہمارا اور کوئی دن تمہارا، یہ تو ہاتھوں ہاتھ کا سودا ہے، ایک کے بدلے ایک ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہرگز برابری نہیں ہمارے شہداء زندہ ہیں وہاں رزق دے جاتے ہیں اور تمہارے مقتول جہنم میں عذاب کئے جا رہے ہیں پھر ابو سفیان بولا تمہارے مقتول میں تم دیکھو گے کہ بعض کے کان ناک وغیرہ کاٹ لئے گئے ہیں لیکن میں نے نہ یہ کہا نہ اسے روکا نہ اسے میں نے پسند کیا نہ مجھے یہ بھلا معلوم ہوا نہ برا، اب جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ حضرت حمزہ کا پیٹ چاک کردیا گیا تھا اور ہندہ نے انکا کلیجہ لے کر چبایا تھا لیکن نگل نہ سکی تو اگل دیا،حضور ﷺ نے فرمایا ناممکن تھا کہ اس کے پیٹ میں حمزہ کا ذرا سا گوشت بھی چلا جائے اللہ تعالیٰ حمزہ کے کسی عضو بدن کو جہنم میں لے جانا نہیں چاہتا چناچہ حمزہ کے جنازے کو اپنے سامنے رکھ کر نماز جنازہ ادا کی پھر ایک انصاری کا جنازہ لایا گیا وہ حضرت حمزہ کے پہلو میں رکھا گیا اور آپ نے پھر نماز جنازہ پڑھی انصاری کا جنازہ اٹھا لیا گیا لیکن حضرت حمزہ کا جنازہ وہیں رہا اسی طرح ستر شخص لائے گئے اور حضرت حمزہ کی ستر دفعہ جنازے کی نماز پڑھی گئی (مسند) صحیح بخاری شریف میں حضرت براء سے مروی ہے کہ احد والے دن مشرکوں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی حضور ﷺ نے تیر اندازوں کی ایک جماعت کو الگ جما دیا اور انکا سردار حضرت عبداللہ بن جیبر کو بنایا اور فرما دیا کہ اگر تم ہمیں ان پر غالب آیا ہوا دیکھو تو بھی یہاں سے نہ ہٹنا اور وہ ہم پر غالب آجائیں تو بھی تم اپنی جگہ نہ چھوڑنا، لڑائی شروع ہوتے ہی اللہ کے فضل سے مشرکوں کے قدم پیچھے ہٹنے لگے یہاں تک کہ عورتیں بھی تہبند اونچا کر کر کے پہاڑوں میں ادھر دوڑنے لگیں، اب تیر انداز گروہ غنیمت غنیمت کہتا ہوا نیچے اتر آیا، ان کے امیر نے انہیں ہرچند سمجھایا لیکن کسی نے ان کی نہ سنی، بس اب مشرکین مسلمانوں کی پیٹھ کی طرف سے آن پڑے اور ستر بزرگ شہید ہوگئے ابو سفیان ایک ٹیلے پر چڑھ کر کہنے لگا کیا محمد ﷺ حیات ہیں ؟ کیا ابوبکر موجود ہیں ؟ کیا عمر زندہ ہیں ؟ لیکن حضور ﷺ کے فرمان سے صحابہ خوش رہے تو وہ خوشی کے مارے اچھل پڑا اور کہنے لگا یہ سب ہماری تلواروں کے گھاٹ اتر گئے اگر زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے ایک حضرت عمر کو تاب ضبط نہ رہی فرمانے لگے، اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے بحمد اللہ ہم سب موجود ہیں اور تیری تباہی اور بربادی کرنے والے زندہ ہیں، پھر وہ باتیں ہوئیں جو اوپر بیان ہوچکی ہیں، صحیح بخاری شریف میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جنگ احد میں مشرکوں کو ہزیمت ہوئی اور ابلیس نے آواز لگائی اے اللہ کے بندو ! اپنے پیچھے کی خبر لو اگلی جماعتیں پچھلی جماعتوں پر ٹوٹ پڑیں، حضرت حذیفہ نے دیکھا کہ مسلمانوں کی تلواریں ان کے والد حضرت یمان ؓ پر برس رہی ہیں ہرچند کہتے رہے کہ اے اللہ کے بندو ! یہ میرے باپ یمان ہیں مگر کون سنتا تھا وہ یونہی شہید ہوگئے لیکن حضرت حذیفہ نے کچھ نہ کہا بلکہ فرمایا اللہ تمہیں معاف کرے، حضرت حذیفہ کی یہ بھلائی ان کے آخری دم تک ان میں رہی، سیرت ابن اسحاق میں ہے حضرت زبیر بن عوام فرماتے ہیں میں نے خود دیکھا کہ مشرک مسلمانوں کے اول حملہ میں ہی بھاگ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کی عورتیں ہندہ وغیرہ تہمد اٹھائے تیز تیز دوڑ رہی تھیں لیکن اس کے بعد جب تیر اندازوں نے مرکز چھوڑا اور کفار نے سمٹ کر پیچھے کی طرف سے ہم پر حملہ کردیا ادھر کسی نے آواز لگائی کہ حضور ﷺ شہید ہوگئے پھر معاملہ برعکس ہوگیا ورنہ ہم مشرکین کے علم برداروں تک پہنچ چکے تھے اور جھنڈا اس کے ہاتھ سے گرپڑا تھا لیکن عمرہ بن علقمہ حارثیہ عورت نے اسے تھام لیا اور قریش کا مجمع پھر یہاں جمع ہوگیا، حضرت انس بن مالک چچا حضرت انس بن نضر ؓ یہ رنگ دیکھ حضرت عمر حضرت طلحہ وغیرہ کے پاس آتے ہی اور فرماتے ہیں تم نے کیوں ہمتیں چھوڑ دیں ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ حضور ﷺ تو شہید ہوگئے۔ حضرت انس نے فرمایا پھر تم جی کر کیا کرو گے ؟ یہ کہا اور مشرکین میں گھسے پھر لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ رب العزت سے جا ملے ؓ ، یہ بدر والے دن جہاد میں نہیں پہنچ سکے تھے تو عہد کیا تھا کہ آئندہ اگر کوئی موقعہ آیا تو میں دکھا دوں گا چناچہ اس جنگ میں وہ موجود تھے جب مسلمانوں میں کھلبلی مچی تو انہوں نے کہا الہ میں مسلمانوں کے اس کام سے معذور ہوں اور مشرکوں کے اس کام سے بری ہوں پھر اپنی تلوار لے کر آگے بڑھ گئے راہ میں حضرت سعد بن معاذ سے ملے اور کہنے لگے کہاں جا رہے ہو ؟ مجھے تو جنت کی خوشبو کی لپٹیں احد پہاڑ سے چلی آرہی ہیں چناچہ مشرکوں میں گھس گئے اور بڑی بےجگری سے لڑے یہاں تک کہ شہادت حاصل کی اسی سے زیادہ تیرو تلوار کے زخم بدن پر آئے تھے پہچانے نہ جاتے تھے انگلی کو دیکھ کر پہچانے گئے ؓ ، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایک حاجی نے بیت اللہ شریف میں ایک مجلس دیکھ کر پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے کہا قریشی ہیں پوچھا ان کے شیخ کون ہیں ؟ جواب ملا حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ہیں، اب وہ آیا اور کہنے لگا میں کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوں حضرت عبداللہ نے فرمایا پوچھو اس نے کہا آپ کو اس بیت اللہ کی حرمت کی قسم کیا آپ کو علم ہے کہ (حضرت) عثمان بن عفان احد والے دن بھاگ گئے تھے ؟ آپ نے جواب دیا ہاں۔ کہا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر والے دن بھی حاضر نہیں ہوئے تھے ؟ فرمایا ہاں، کہا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بیعت الرضوان میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے ؟ فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے، اب اس نے (خوش ہوکر) تکبیر کہی، حضرت عبداللہ نے فرمایا ادھر آ، اب میں تجھے پورے واقعات سناؤں، احد کے دن کا بھاگنا تو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا، بدر کے دن کی غیر حاضری کے باعث یہ ہوا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی تھیں اور وہ اس وقت سخت بیمار تھیں تو خود حضور ﷺ نے ان سے فرمایا تھا کہ تم نہ آؤ مدینہ میں ہی رہو تمہیں اللہ تعالیٰ اس جنگ میں حاضر ہونے کا اجر دے گا اور غنیمت میں بھی تمہارا حصہ ہے، بیعت الرضوان کا واقعہ یہ ہے کہ انہیں رسول اللہ ﷺ نے مکہ والوں کے پاس اپنا پیغام دے کر حضرت عثمان کو بھیجا تھا اس لئے کہ مکہ میں جو عزت انہیں حاصل تھی کسی اور کو اتنی نہ تھی انکے تشریف لے جانے کے بعد یہ بیعت لی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا داہنا ہاتھ کھڑا کر کے کہا یہ عثمان کا ہاتھ ہے پھر اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھا (گویا بیعت کی) پھر اس شخص سے کہا اب جاؤ اور اسے ساتھ لے جاؤ پھر فرمایا آیت (او تصعدون) الخ یعنی تم اپنے دشمن سے بھاگ کر پہاڑ چڑھ رہے تھے اور مارے خوف و دہشت کے دوسری جانب توجہ بھی نہیں کرتے تھے رسول ﷺ کو بھی تم نے وہیں چھوڑ دیا تھا وہ تمہیں آوازیں دے رہے تھے اور سمجھا رہے تھے کہ بھاگو نہیں لوٹ آؤ، حضرت سدی فرماتے ہیں مشرکین کے اس خفیہ اور پر زور اور اچانک حملہ سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے کچھ تو مدینہ کی طرف لوٹ آئے کچھ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اللہ کے نبی آوازیں دیتے رہے کہ اللہ کے بندوں میری طرف آؤ اللہ کے بندو میری طرف آؤ، اس واقعہ کا بیان اس آیت میں ہے، عبداللہ بن زحری شاعر نے اس واقعہ کو نظم میں بھی ادا کیا ہے، آنحضرت ﷺ اس وقت صرف بارہ آدمیوں کے ساتھ رہ گئے تھے مسند احمد کی ایک طویل حدیث میں بھی ان تمام واقعات کا ذکر ہے، دلائل النبوۃ میں ہے کہ جب ہزیمت ہوئی تب حضور ﷺ کے ساتھ صرف گیارہ شخص رہ گئے اور ایک حضرت طلحہ بن عبید اللہ تھے، آپ پہاڑ پر چڑھنے لگے لیکن مشرکین نے آگھیرا آپ نے اپنے ساتھیوں یک طرف متوجہ ہو کر فرمایا کوئی ہے جو ان سے مقابلہ کرے، حضرت طلحہ نے اس آواز پر فوراً لبیک کہا اور تیار ہوگئے لیکن آپ نے فرمایا تم ابھی ٹھہر جاؤ اب ایک انصاری تیار ہوئے اور وہ ان سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہوئے اسی طرح سب کے سب ایک ایک کر کے شہید ہوگئے اور اب صرف حضرت طلحہ رہ گئے گویہ بزرگ ہر مرتبہ تیار ہوجاتے تھے لیکن حضور ﷺ انہیں روک لیا کرتے تھے آخر یہ مقابلہ پر آئے اور اس طرح جم کر لڑے کہ ان سب کی لڑائی ایک طرف اور یہ ایک طرف اس لڑائی میں ان کی انگلیاں کٹ گئیں تو زبان سے حس نکل گیا آپ نے فرمایا اگر تم بسم اللہ کہہ دیتے یا اللہ کا نام لیتے تو تمہیں فرشتے اٹھا لیتے اور آسمان کی بلندی کی طرف لے چڑھتے اور لوگ دیکھتے رہتے اب نبی ﷺ اپنے صحابہ کے مجمع میں پہنچ چکے تھیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت قیس بن حازم فرماتے ہیں میں نے دیکھا حضرت طلحہ کا وہ ہاتھ جسے انہوں نے ڈھال بنایا تھا شل ہوگیا تھا، حضعرت سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں میرے پاس حضور ﷺ نے اپنی ترکش سے احد والے دن تمام تیر پھیلا دئیے اور فرمایا تجھ پر میرے ماں باپ فدا ہوں لے مشرکین کو مار آپ اٹھا اٹھا کردیتے جاتے تھے اور میں تاک تاک کر مشرکین کو مارتا جاتا تھا اس دن میں نے دو شخصوں کو دیکھا کہ حضور ﷺ کے دائیں بائیں تھے اور سخت ترین جنگ کر رہے تھے میں نے نہ تو اس سے پہلے کبھی انہیں دیکھا تھا نہ اس کے بعد یہ دونوں حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل (علیہما السلام) تھے ایک اور روایت میں ہے کہ جو بزرگ حضور ﷺ کے ساتھ بھگدڑ کے بعد تھے اور ایک ایک ہو کر شہید ہوئے تھے انہیں آپ فرماتے جاتے تھے کہ کوئی ہے جو انہیں رو کے اور جنت میں جائے میرا رفیق ہے، ابی بن خلف نے مکہ میں قسم کھائی تھی کہ میں رسول اللہ ﷺ کو قتل کروں گا، جب حضور ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا وہ تو نہیں بلکہ میں انشاء اللہ اسے قتل کروں گا احد والے دن یہ خبیث سرتاپا لوہے میں غرق زرہ بکتر لگائے ہوئے حضور ﷺ کی طرف بڑھا اور یہ کہتا آتا تھا کہ اگر محمد ﷺ بچ گئے تو میں اپنے تئیں ہلاک کر ڈالوں گا ادھر سے حضرت مصعب بن عمیر اس ناہنجار کی طرف بڑھے لیکن آپ شہید ہوگئے اب حضور ﷺ اس کی طرف بڑھے اس کا سارا جسم لوہے میں چھپا ہوا تھا صرف ذرا سی پیشانی نظر آرہی تھی آپ نے اپنا نیزہ تاک کر وہیں لگایا جو ٹھیک نشانے پر بیٹھا اور یہ تیورا کر گھوڑے پر سے گرا گو اس زخم سے خون بھی نہ نکلا تھا لیکن اس کی یہ حالت تھی کہ بلبلا رہا تھا لوگوں نے اسے اٹھا لیا لشکر میں لے گئے اور تشفی دینے لگے کہ ایسا کوئی کاری زخم نہیں لگا کیوں اس قدر نامردی کرتا ہے آخر ان کے طعنوں سے مجبور ہو کر اس نے کہا میں نے سنا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے میں ابی کو قتل کروں گا سچ مانو اب میں کبھی نہیں بچ سکتا تم اس پر نہ جاؤ کہ مجھے ذرا سی خراش ہی آئی ہے اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کل اہل ذی المجاز کو اتنا زخم اس ہاتھ سے لگ جاتا تو سب ہلاک ہوجاتے پس یونہی تڑپتے تڑپتے اور بلکتے بلکتے اس جہنمی کی ہلاکت ہوئی اور مر کر جہنم رسید ہوا، مغازی محمد بن اسحاق میں ہے کہ جب یہ شخص حضور ﷺ کے سامنے ہوا تو صحابہ نے اس کے مقابلہ کی خواہش کی لیکن آپ نے انہیں روک دیا اور فرمایا اسے آنے دو جب وہ قریب آگیا تو آپ نے حضرت حارث بن صمہ سے نیزہ لے کر اس پر حملہ کیا حضور ﷺ کے ہاتھ میں نیزہ دیکھتے ہی وہ کانپ اٹھا ہم نے اسی وقت سمجھ لیا کہ اس کی خیر نہیں آپ نے اس کی گردن پر وار کیا اور وہ لڑکھڑا کر گھوڑے پر سے گرا، حضرت ابن عمر کا دہشت ناک شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے اور دیکھا کہ ایک شخص کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے اس آگ میں گھسیٹا جا رہا ہے اور وہ پیاس پیاس کر رہا ہے اور دوسرا شخص کہتا ہے اسے پانی نہ دینا یہ پیغمبر کے ہاتھ کا مارا ہوا ہے یہ ابی بن خلف ہے، بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے آپ اپنے سامنے کے چار دانتوں کی طرف جنہیں مشرکین نے احد والے دن شہید کیا تھا اشارہ کر کے فرما رہے تھے اللہ کا سخت تر غضب ان لوگوں پر ہے جنہوں نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ یہ کیا اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا غضب ہے جسے اللہ کا رسول اللہ ﷺ کی راہ میں قتل کرے اور روایت میں یہ لفظ ہیں کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کا چہرہ زخمی کیا، عتبہ بن ابی وقاص کے ہاتھ سے حضور ﷺ کو یہ زخم لگا تھا سامنے کے چار دانٹ ٹوٹ گئے تھے، رخسار پر زخم آیا تھا اور ہونٹ پر بھی، حضرت سعد بن ابی وقاص فرمایا کرتے تھے مجھے جس قدر اس شخص کی حرص تھی کسی اور کے قتل کی نہ تھی۔ یہ شخص بڑا بد خلق تھا اور ساری قوم سے اس کی دشمنی تھی اس کی برائی میں حضور ﷺ کا یہ فرمان کافی ہے کہ نبی ﷺ کو زخمی ہونے والے پر اللہ سخت غضبناک ہے، عبدالرزاق میں ہے حضور ﷺ نے اس کیلئے بد دعا کی کہ اے اللہ سال بھر میں یہ ہلاک ہوجائے اور کفر پر اس کی موت ہو چناچہ یہی ہوا اور یہ بدبخت کافر مرا اور جہنم واصل ہوا۔ ایک مہاجر کا بیان ہے کہ چاروں طرف سے احد والے دن حضور ﷺ پر تیروں کی بارش ہو رہی تھی لیکن اللہ کی قدرت سے وہ سب پھیر دیئے جاتے تھے، عبداللہ بن شہاب زہری نے اس دن قسم کھا کر کہا کہ مجھے محمد ﷺ کو دکھا دو وہ آج میرے ہاتھ سے بچ نہیں سکتا اگر وہ نجات پا گیا تو میری نجات نہیں اب وہ حضور ﷺ کی طرف سے لپکا اور بالکل آپ کے پاس آگیا اس وقت حضور ﷺ کے ساتھ کوئی نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اسے حضور ﷺ نظر ہی نہ آئے جب وہ نامراد پلٹا تو صفوان نے اسے طعنہ زنی کی اس نے کہا اللہ تعالیٰ کی طرف سے محفوظ ہیں ہمارے ہاتھ نہیں لگنے کے سنو ! ہم چار شخصوں نے ان کے قتل کا پختہ مشورہ کیا تھا اور آپس میں عہدو پیمان کئے تھے ہم نے ہرچند چاہا لیکن کامیابی نہ ہوئی واقدی کہتے ہیں لیکن ثابت شدہ بات یہ ہے کہ حضور ﷺ کی پیشانی کو زخمی کرنے والا ابن قمیہ اور ہونٹ اور دانتوں پر صدمہ پہچانے والا عتبہ بن ابی وقاص تھا۔ ام المومنین حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ میرے والد حضرت ابوبکر جب احد کا ذکر فرماتے تو صاف کہتے کہ اس دن کی تمام تر فضلیت کا سہرا حضرت طلحہ کے سر ہے میں جب لوٹ کر آیا تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص حضور ﷺ کی حمایت میں جان ٹکائے لڑ رہا ہے میں نے کہا اللہ کرے یہ طلحہ ہو اب جو قریب آ کر دیکھا تو طلحہ ہی تھے ؓ میں نے کہا الحمد اللہ میری ہی قوم کا ایک شخص ہے میرے اور مشرکوں کے درمیان ایک شخص تھا جو مشرکین میں کھڑا ہوا تھا لیکن اسکے بےپناہ حملے مشرکوں کی ہمت توڑ رہے تھے غور سے دیکھا تو وہ حضرت عبیدہ بن جراح تھے، اب جو میں نے بغور حضور ﷺ کی طرف دیکھا تو آپ کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے ہیں چہرہ زخمی ہو رہا ہے اور پیشانی میں زرہ کی دو کڑیاں کھب گئی ہیں میں آپ کی طرف لپکا لیکن آپ نے فرمایا ابو طلحہ کی خبر لو میں نے چاہا کہ حضور ﷺ کے چہرے میں سے وہ دونوں کڑیاں نکالوں لیکن حضرت ابو عبیدہ نے مجھے قسم دے کر روک دیا اور خود قریب آئے اور ہاتھ سے نکالنے میں زیادہ تکلیف محسوس کر کے دانتوں سے پکڑ کر ایک کو نکال لیا لیکن اس میں ان کا دانت بھی ٹوٹ گیا میں نے اب پھر چاہا کہ دوسری میں نکال لوں لیکن حضرت ابو عبیدہ نے پھر قسم دی تو میں رک رہا انہوں نے پھر دوسری کڑی نکالی اب کی مرتبہ بھی ان کے دانت ٹوٹے اس سے فارغ ہو کر ہم حضرت طلحہ کی طرف متوجہ ہوئے ہم نے دیکھا کہ ستر سے زیادہ زخم انہیں لگ چکے ہیں انگلیاں کٹ گئی ہیں ہم نے پھر ان کی بھی خبر لی حضور ﷺ کے زخم کا خون حضرت ابو سعید خدری نے چوسا تاکہ خون تھم جائے پھر ان سے کہا گیا کہ کلی کر ڈالو لیکن انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں کلی نہ کروں گا پھر میدان جنگ میں چلے گئے حضور ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص جنتی شخص کو دیکھنا چاہتا ہو تو انہیں دیکھ لے چناچہ یہ اسی میدان میں شہید ہوئے، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ کا چہرہ زخمی ہوا سامنے کے دانت ٹوٹے سر کا خود ٹوٹا، حضرت فاطمہ خون دھوتی تھیں اور حضرت علی ڈھال میں پانی لالا کر ڈالتے جاتے تھے جب دیکھا کہ خون کسی طرح تھمتا ہی نہیں تو حضرت فاطمہ نے بوریا جلا کر اس کا راکھ زخم پر رکھ دی جس سے خون بند ہوا۔ پھر فرماتا ہے، تمہیں غم پر غم پہنچا (بِغَمِّ) کا بامعنی میں علیٰ کے ہے جیسے آیت (فی جذوع النخل) میں فی معنی میں علیٰ کے ہے، ایک غم تو شکست کا تھا جبکہ یہ مشہور ہوگیا کہ (اللہ نہ کرے) حضور ﷺ کی جان پر بن آئی، دوسرا غم مشرکوں کو پہاڑ کے اوپر غالب آکر چڑھ جانے کا جبکہ حضور ﷺ فرماتے تھے یہ بلندی کے لائق نہ تھے، حضرت عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں ایک غم شکست کا دوسرا غم حضور ﷺ کے قتل کی خبر کا اور یہ غم پہلے غم سے زیادہ تھا، اسی طرح یہ بھی ہے کہ ایک غم تو غنیمت کا ہاتھ میں آکر نکل جانے کا تھا دوسرا شکست ہونے کا اسی طرح ایک اپنے بھائیوں کے قتل کا غم دوسرا حضور ﷺ کی نسبت ایسی منحوس خبر کا غم۔ پھر فرماتا ہے جو غنیمت اور فتح مندی تمہارے ہاتھ سے گئی اور جو زخم و شہادت ملی اس پر غم نہ کھاؤ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جو بلندی اور جلال والا ہے وہ تمہارے اعمال سے خبردار ہے۔

کافر اور منافقوں کے ارادے اور غزوہ احد کا پھر اندوہناک تذکرہ اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو کافروں اور منافقوں کی باتوں کے ماننے سے روک رہا ہے اور بتارہا ہے کہ اگر ان کی مانی تو دنیا اور آخرت کی ذلت تم پر آئے گی انکی چاہت تو یہی ہے کہ تمہیں دین اسلام سے ہٹا دیں پھر فرماتا ہے مجھ ہی کو اپنا والی اور مددگار جانو مجھی سے دوستی کرو مجھی پر بھروسہ کرو مجھی سے مدد چاہو پھر فرمایا کہ ان شریروں کے دلوں میں ان کے کفر کے سبب ڈر خوف ڈال دوں گا، بخاری مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے پانچ باتیں دی گئیں ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی ہے میرے لئے زمین مسجد اور اس کی مٹی وضو کی پاک چیز بنائی گئی، میرے لئے غنیمت کے مال حلال کئے گئے اور مجھے شفاعت دی گئی اور ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف سے مخصوص بھیجا جاتا تھا اور میری بعثت میری نبوت تمام دنیا کیلئے عام ہوئی، مسند احمد میں ہے آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں پر اور بعض روایتوں میں ہے تمام امتوں پر مجھے چار فضیلتیں عطا فرمائی ہیں، مجھے تمام دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا، میرے اور میری امت کیلئے تمام زمین مسجد اور پاک بنائی گئی، میرے امتی کو جہاں نماز کا وقت آجائے وہیں اس کی مسجد اور اس کا وضو ہے، میرا دشمن مجھ سے مہینہ بھر کی راہ پر ہو وہیں سے اللہ تعالیٰ اس کا دل رعب سے پُر کردیتا ہے اور وہ کانپنے لگتا ہے اور میرے لئے غنیمت کے مال حلال کئے گئے اور روایت میں ہے کہ میں مدد کیا گیا ہوں میرے رعب سے ہر دشمن پر، مسند کی ایک اور حدیث میں ہے مجھے پانچ چیزیں دی گئیں میں ہر سرخ وسفید کی طرف بھیجا گیا میرے لئے تمام زمین وضو اور مسجد بنائی گی۔ میرے لئے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے جو میرے پہلے کسی کے حلال نہ تھے اور میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی اور مجھے شفاعت دی گئی تمام انبیاء نے شفاعت مانگ لی لیکن میں نے اپنی شفاعت کو اپنی امت کے لوگوں کیلئے جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو بچار کھی ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ابو سفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور وہ لڑائی سے لوٹ گیا پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور تمہاری مدد کی اس سے بھی یہ استدلال ہوسکتا ہے کہ یہ وعدہ احد کے دن کا تھا تین ہزار دشمن کا لشکر تھا تاہم مقابلہ پر آتے ہی ان کے قدم اکھڑ گئے اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی لیکن پھر تیر اندازوں کی نافرمانی کی وجہ سے اور بعض حضرات کی پست ہمتی کی بناء پر وہ وعدہ جو مشروط تھا رک گیا پس فرماتا ہے کہ تم انہیں اپنے ہاتھوں سے کاٹتے تھے۔ شروع دن میں ہی اللہ نے تمہیں ان پر غالب کردیا لیکن تم نے پھر بزدلی دکھائی اور نبی کی نافرمانی کی ان کی بتائی ہوئی جگہ سے ہٹ گئے اور آپس میں اختلاف کرنے لگے حالانکہ اللہ عزوجل نے تمہیں تمہاری پسند کی چیز فتح دکھا دی تھی یعنی مسلمان صاف طور پر غالب آگئے تھے مال غنیمت آنکھوں کے سامنے موجود تھا کفار پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے تم میں سے بعض نے دنیا طلبی کی اور کفار کی ہزیمت کو دیکھ کر نبی ﷺ کے فرمان کا خیال نہ کر کے مال غنیمت کی طرف لپکے گو بعض اور نیک آخرت طلب بھی تھے لیکن اس نافرمانی وغیرہ کی بنا پر کفار کی پھر بن آئی اور ایک مرتبہ تمہاری پوری آزمائش ہوگئی غالب ہو کر مغلوب ہوگئے فتح کے بعد شکست ہوگئی لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس جرم کو معاف فرما دیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بظاہر تم ان سے تعداد میں اور اسباب میں کم تھے خطا کا معاف ہونا بھی عفاعنکم میں داخل ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ کچھ یونہی سی گوشمالی کر کے کچھ بزرگوں کی شہادت کے بعد اس نے اپنی آزمائش کو اٹھا لیا اور باقی والوں کو معاف فرما دیا، اللہ تعالیٰ باایمان لوگوں پر فضل و کرم لطف و رحم ہی کرتا ہے، حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ کی مدد جیسی احد میں ہوئی ہے کہیں نہیں ہوئی اسی کے بارے میں ارشاد باری ہے کہ اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا لیکن پھر تمہارے کرتوتوں سے معاملہ برعکس ہوگیا، بعض لوگوں نے دنیا طلبی کر کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی یعنی بعض تیر اندوزوں نے جنہیں حضور ﷺ نے پہاڑ کے درے پر کھڑا کیا تھا اور فرما دیا تھا کہ تم یہاں سے دشمنوں کی نگہبانی کرو وہ تمہاری پیٹھ کی طرف سے نہ آجائیں، اگر تم ہار دیکھو بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹنا اور اگر تم ہر طرح غالب آگئے تو بھی تم غنیمت جمع کرنے کیلئے بھی اپنی جگہ کو نہ چھوڑنا، جب حضور ﷺ غالب آگئے تو تیر اندوزوں نے حکم عدولی کی اور وہ اپنی جگہ کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آملے اور مال غنیمت جمع کرنا شروع کردیا صفوں کا کوئی خیال نہ رہا درے کو خالی پا کر مشرکوں نے بھاگنا بند کیا اور غور و فکر کر کے اس جگہ حملہ کردیا، چند مسلمانوں کی پیٹھ کے پیچھے سے ان کی بیخبر ی میں اس زور کا حملہ کیا کہ مسلمانوں کے قدم نہ جم سکے اور شروع دن کی فتح اب شکست سے بدل گئی اور یہ مشہور ہوگیا کہ حضور ﷺ بھی شہید ہوگئے اور لڑائی کے رنگ نے مسلمانوں کو اس بات کا یقین بھی دلا دیا، تھوڑی دیر بعد جبکہ مسلمانوں کی نظریں چہرہ مبارک پر پڑیں تو وہ اپنی سب کوفت اور ساری مصیبت بھول گئے اور خوشی کے مارے حضور ﷺ کی طرف لپکے آپ ادھر آرہے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا سخت غضب نازل ہو ان لوگوں پر جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کے چہرے کو خون آلودہ کردیا، انہیں کوئی حق نہ تھا کہ اس طرح ہم پر غالب رہ جائیں، تھوڑی دیر میں ہم نے سنا کہ ابو سفیان پہاڑ کے نیچے کھڑا ہوا کہہ رہا تھا اعل ہبل اعل ھبل ہبل بت کا بول بالا ہو ابوبکر کہاں ہے ؟ عمر کہاں ہے ؟ حضرت عمر نے پوچھا حضور ﷺ اسے جواب دوں ؟ آپ ﷺ نے اجازت دی تو حضرت عمر فاروق نے اس کے جواب میں فرمایا اللہ اعلی واجل اللہ اعلی واجل اللہ بہت بلند ہے اور جلال و عزت والا ہے اللہ بہت بلند اور جلال و عزت والا ہے، وہ پوچھنے لگا بتاؤ محمد ﷺ کہاں ہیں ؟ ابوبکر کہاں ہیں ؟ عمر کہاں ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ ہیں رسول اللہ ﷺ اور یہ ہیں حضرت ابوبکر اور یہ ہوں میں عمر فاروق ابو سفیان کہنے لگا یہ بدر کا بدلہ ہے یونہی دھوپ چھاؤں الٹتی پلٹتی رہتی ہے، لڑائی کی مثال کنویں کے ڈول کی سی ہے، حضرت عمر نے فرمایا برابری کا معاملہ ہرگز نہیں تمہارے مقتول تو جہنم میں گئے اور ہمارے شہید جنت میں پہنچے، ابو سفیان کہنے لگا اگر یونہی ہو تو یقینا ہم نقصان اور گھاٹے میں رہے، سنو تمہارے مقتولین میں بعض ناک کان کٹے لوگ بھی تم پاؤ گے گویہ ہمارے سرداروں کی رائے سے نہیں ہوا لیکن ہمیں کچھ برا بھی نہیں معلوم ہوا، یہ حدیث غریب ہے اور یہ قصہ بھی عجیب ہے، یہ ابن عباس کی مرسلات سے ہے اور وہ یا ان کے والد جنگ احد میں موجود نہ تھے، مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت موجود ہے ابن ابی حاتم اور بیہقی فی دلائل النبوۃ میں بھی یہ مروی ہے اور صحیح احادیث میں اس کے بعض حصوں کے شواہد بھی ہیں کہ احد والے دن عورتیں مسلمانوں کے پیچھے تھیں جو زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں تو پوری طرح یقین تھا کہ آج کے دن ہم میں کوئی ایک بھی طالب دنیا نہیں بلکہ اس وقت اگر مجھے اس بات پر قسم کھلوائی جاتی تو کھا لیتا لیکن قرآن میں یہ آیت اتری (منکم من یرید الدنیا) یعنی تم میں سے بعض طالب دنیا بھی ہیں، جب صحابہ سے حضور ﷺ کے حکم کے خلاف آپ کی نافرمانی سرزد ہوئی تو انکے قدم اکھڑ گئے حضور ﷺ کے ساتھ صرف سات انصاری اور دو مہاجر باقی رہ گئے جب مشرکین نے حضور ﷺ کو گھیر لیا تو آپ فرمانے لگے اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو انہیں ہٹائے تو ایک انصار اٹھ کھڑے ہوئے اور اسجم غفیر کے مقابل تن تنہا داد شجاعت دینے لگے یہاں تک کہ شہید ہوگئے پھر کفار نے حملہ کیا آپ نے یہی فرمایا ایک انصاری تیار ہوگئے اور اس بےجگری سے لڑے کہ انہیں آگے نہ بڑھنے دیا لیکن بالآخر یہ بھی شہید ہوگئے یہاں تک کہ ساتوں صحابہ اللہ کے ہاں پہنچ گئے اللہ ان سے خوش ہو، حضور ﷺ نے مہاجرین سے فرمایا افسوس ہم نے اپنے ساتھیوں سے منصفانہ معاملہ نہ کیا، اب ابو سفیان نے ہانک لگائی کہ اعل ہبل آپ نے فرمایا کہو اللہ اعلی واجل ابو سفیان نے کہا (لنا العزی ولا عزی لکم) ہمارا عزی بت ہے تمہاری کوئی عزی نہیں، آپ نے فرمایا کہو اللہ مولانا والکافرون لا مولی لھم اللہ ہمارا مولی ہے اور کافروں کا کوئی مولی نہیں، ابو سفیان کہنے لگا آج کے دن بدر کے دن کا بدلہ ہے کوئی دن ہمارا اور کوئی دن تمہارا، یہ تو ہاتھوں ہاتھ کا سودا ہے، ایک کے بدلے ایک ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہرگز برابری نہیں ہمارے شہداء زندہ ہیں وہاں رزق دے جاتے ہیں اور تمہارے مقتول جہنم میں عذاب کئے جا رہے ہیں پھر ابو سفیان بولا تمہارے مقتول میں تم دیکھو گے کہ بعض کے کان ناک وغیرہ کاٹ لئے گئے ہیں لیکن میں نے نہ یہ کہا نہ اسے روکا نہ اسے میں نے پسند کیا نہ مجھے یہ بھلا معلوم ہوا نہ برا، اب جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ حضرت حمزہ کا پیٹ چاک کردیا گیا تھا اور ہندہ نے انکا کلیجہ لے کر چبایا تھا لیکن نگل نہ سکی تو اگل دیا،حضور ﷺ نے فرمایا ناممکن تھا کہ اس کے پیٹ میں حمزہ کا ذرا سا گوشت بھی چلا جائے اللہ تعالیٰ حمزہ کے کسی عضو بدن کو جہنم میں لے جانا نہیں چاہتا چناچہ حمزہ کے جنازے کو اپنے سامنے رکھ کر نماز جنازہ ادا کی پھر ایک انصاری کا جنازہ لایا گیا وہ حضرت حمزہ کے پہلو میں رکھا گیا اور آپ نے پھر نماز جنازہ پڑھی انصاری کا جنازہ اٹھا لیا گیا لیکن حضرت حمزہ کا جنازہ وہیں رہا اسی طرح ستر شخص لائے گئے اور حضرت حمزہ کی ستر دفعہ جنازے کی نماز پڑھی گئی (مسند) صحیح بخاری شریف میں حضرت براء سے مروی ہے کہ احد والے دن مشرکوں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی حضور ﷺ نے تیر اندازوں کی ایک جماعت کو الگ جما دیا اور انکا سردار حضرت عبداللہ بن جیبر کو بنایا اور فرما دیا کہ اگر تم ہمیں ان پر غالب آیا ہوا دیکھو تو بھی یہاں سے نہ ہٹنا اور وہ ہم پر غالب آجائیں تو بھی تم اپنی جگہ نہ چھوڑنا، لڑائی شروع ہوتے ہی اللہ کے فضل سے مشرکوں کے قدم پیچھے ہٹنے لگے یہاں تک کہ عورتیں بھی تہبند اونچا کر کر کے پہاڑوں میں ادھر دوڑنے لگیں، اب تیر انداز گروہ غنیمت غنیمت کہتا ہوا نیچے اتر آیا، ان کے امیر نے انہیں ہرچند سمجھایا لیکن کسی نے ان کی نہ سنی، بس اب مشرکین مسلمانوں کی پیٹھ کی طرف سے آن پڑے اور ستر بزرگ شہید ہوگئے ابو سفیان ایک ٹیلے پر چڑھ کر کہنے لگا کیا محمد ﷺ حیات ہیں ؟ کیا ابوبکر موجود ہیں ؟ کیا عمر زندہ ہیں ؟ لیکن حضور ﷺ کے فرمان سے صحابہ خوش رہے تو وہ خوشی کے مارے اچھل پڑا اور کہنے لگا یہ سب ہماری تلواروں کے گھاٹ اتر گئے اگر زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے ایک حضرت عمر کو تاب ضبط نہ رہی فرمانے لگے، اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے بحمد اللہ ہم سب موجود ہیں اور تیری تباہی اور بربادی کرنے والے زندہ ہیں، پھر وہ باتیں ہوئیں جو اوپر بیان ہوچکی ہیں، صحیح بخاری شریف میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جنگ احد میں مشرکوں کو ہزیمت ہوئی اور ابلیس نے آواز لگائی اے اللہ کے بندو ! اپنے پیچھے کی خبر لو اگلی جماعتیں پچھلی جماعتوں پر ٹوٹ پڑیں، حضرت حذیفہ نے دیکھا کہ مسلمانوں کی تلواریں ان کے والد حضرت یمان ؓ پر برس رہی ہیں ہرچند کہتے رہے کہ اے اللہ کے بندو ! یہ میرے باپ یمان ہیں مگر کون سنتا تھا وہ یونہی شہید ہوگئے لیکن حضرت حذیفہ نے کچھ نہ کہا بلکہ فرمایا اللہ تمہیں معاف کرے، حضرت حذیفہ کی یہ بھلائی ان کے آخری دم تک ان میں رہی، سیرت ابن اسحاق میں ہے حضرت زبیر بن عوام فرماتے ہیں میں نے خود دیکھا کہ مشرک مسلمانوں کے اول حملہ میں ہی بھاگ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کی عورتیں ہندہ وغیرہ تہمد اٹھائے تیز تیز دوڑ رہی تھیں لیکن اس کے بعد جب تیر اندازوں نے مرکز چھوڑا اور کفار نے سمٹ کر پیچھے کی طرف سے ہم پر حملہ کردیا ادھر کسی نے آواز لگائی کہ حضور ﷺ شہید ہوگئے پھر معاملہ برعکس ہوگیا ورنہ ہم مشرکین کے علم برداروں تک پہنچ چکے تھے اور جھنڈا اس کے ہاتھ سے گرپڑا تھا لیکن عمرہ بن علقمہ حارثیہ عورت نے اسے تھام لیا اور قریش کا مجمع پھر یہاں جمع ہوگیا، حضرت انس بن مالک چچا حضرت انس بن نضر ؓ یہ رنگ دیکھ حضرت عمر حضرت طلحہ وغیرہ کے پاس آتے ہی اور فرماتے ہیں تم نے کیوں ہمتیں چھوڑ دیں ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ حضور ﷺ تو شہید ہوگئے۔ حضرت انس نے فرمایا پھر تم جی کر کیا کرو گے ؟ یہ کہا اور مشرکین میں گھسے پھر لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ رب العزت سے جا ملے ؓ ، یہ بدر والے دن جہاد میں نہیں پہنچ سکے تھے تو عہد کیا تھا کہ آئندہ اگر کوئی موقعہ آیا تو میں دکھا دوں گا چناچہ اس جنگ میں وہ موجود تھے جب مسلمانوں میں کھلبلی مچی تو انہوں نے کہا الہ میں مسلمانوں کے اس کام سے معذور ہوں اور مشرکوں کے اس کام سے بری ہوں پھر اپنی تلوار لے کر آگے بڑھ گئے راہ میں حضرت سعد بن معاذ سے ملے اور کہنے لگے کہاں جا رہے ہو ؟ مجھے تو جنت کی خوشبو کی لپٹیں احد پہاڑ سے چلی آرہی ہیں چناچہ مشرکوں میں گھس گئے اور بڑی بےجگری سے لڑے یہاں تک کہ شہادت حاصل کی اسی سے زیادہ تیرو تلوار کے زخم بدن پر آئے تھے پہچانے نہ جاتے تھے انگلی کو دیکھ کر پہچانے گئے ؓ ، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایک حاجی نے بیت اللہ شریف میں ایک مجلس دیکھ کر پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے کہا قریشی ہیں پوچھا ان کے شیخ کون ہیں ؟ جواب ملا حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ہیں، اب وہ آیا اور کہنے لگا میں کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوں حضرت عبداللہ نے فرمایا پوچھو اس نے کہا آپ کو اس بیت اللہ کی حرمت کی قسم کیا آپ کو علم ہے کہ (حضرت) عثمان بن عفان احد والے دن بھاگ گئے تھے ؟ آپ نے جواب دیا ہاں۔ کہا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر والے دن بھی حاضر نہیں ہوئے تھے ؟ فرمایا ہاں، کہا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بیعت الرضوان میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے ؟ فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے، اب اس نے (خوش ہوکر) تکبیر کہی، حضرت عبداللہ نے فرمایا ادھر آ، اب میں تجھے پورے واقعات سناؤں، احد کے دن کا بھاگنا تو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا، بدر کے دن کی غیر حاضری کے باعث یہ ہوا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی تھیں اور وہ اس وقت سخت بیمار تھیں تو خود حضور ﷺ نے ان سے فرمایا تھا کہ تم نہ آؤ مدینہ میں ہی رہو تمہیں اللہ تعالیٰ اس جنگ میں حاضر ہونے کا اجر دے گا اور غنیمت میں بھی تمہارا حصہ ہے، بیعت الرضوان کا واقعہ یہ ہے کہ انہیں رسول اللہ ﷺ نے مکہ والوں کے پاس اپنا پیغام دے کر حضرت عثمان کو بھیجا تھا اس لئے کہ مکہ میں جو عزت انہیں حاصل تھی کسی اور کو اتنی نہ تھی انکے تشریف لے جانے کے بعد یہ بیعت لی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا داہنا ہاتھ کھڑا کر کے کہا یہ عثمان کا ہاتھ ہے پھر اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھا (گویا بیعت کی) پھر اس شخص سے کہا اب جاؤ اور اسے ساتھ لے جاؤ پھر فرمایا آیت (او تصعدون) الخ یعنی تم اپنے دشمن سے بھاگ کر پہاڑ چڑھ رہے تھے اور مارے خوف و دہشت کے دوسری جانب توجہ بھی نہیں کرتے تھے رسول ﷺ کو بھی تم نے وہیں چھوڑ دیا تھا وہ تمہیں آوازیں دے رہے تھے اور سمجھا رہے تھے کہ بھاگو نہیں لوٹ آؤ، حضرت سدی فرماتے ہیں مشرکین کے اس خفیہ اور پر زور اور اچانک حملہ سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے کچھ تو مدینہ کی طرف لوٹ آئے کچھ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اللہ کے نبی آوازیں دیتے رہے کہ اللہ کے بندوں میری طرف آؤ اللہ کے بندو میری طرف آؤ، اس واقعہ کا بیان اس آیت میں ہے، عبداللہ بن زحری شاعر نے اس واقعہ کو نظم میں بھی ادا کیا ہے، آنحضرت ﷺ اس وقت صرف بارہ آدمیوں کے ساتھ رہ گئے تھے مسند احمد کی ایک طویل حدیث میں بھی ان تمام واقعات کا ذکر ہے، دلائل النبوۃ میں ہے کہ جب ہزیمت ہوئی تب حضور ﷺ کے ساتھ صرف گیارہ شخص رہ گئے اور ایک حضرت طلحہ بن عبید اللہ تھے، آپ پہاڑ پر چڑھنے لگے لیکن مشرکین نے آگھیرا آپ نے اپنے ساتھیوں یک طرف متوجہ ہو کر فرمایا کوئی ہے جو ان سے مقابلہ کرے، حضرت طلحہ نے اس آواز پر فوراً لبیک کہا اور تیار ہوگئے لیکن آپ نے فرمایا تم ابھی ٹھہر جاؤ اب ایک انصاری تیار ہوئے اور وہ ان سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہوئے اسی طرح سب کے سب ایک ایک کر کے شہید ہوگئے اور اب صرف حضرت طلحہ رہ گئے گویہ بزرگ ہر مرتبہ تیار ہوجاتے تھے لیکن حضور ﷺ انہیں روک لیا کرتے تھے آخر یہ مقابلہ پر آئے اور اس طرح جم کر لڑے کہ ان سب کی لڑائی ایک طرف اور یہ ایک طرف اس لڑائی میں ان کی انگلیاں کٹ گئیں تو زبان سے حس نکل گیا آپ نے فرمایا اگر تم بسم اللہ کہہ دیتے یا اللہ کا نام لیتے تو تمہیں فرشتے اٹھا لیتے اور آسمان کی بلندی کی طرف لے چڑھتے اور لوگ دیکھتے رہتے اب نبی ﷺ اپنے صحابہ کے مجمع میں پہنچ چکے تھیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت قیس بن حازم فرماتے ہیں میں نے دیکھا حضرت طلحہ کا وہ ہاتھ جسے انہوں نے ڈھال بنایا تھا شل ہوگیا تھا، حضعرت سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں میرے پاس حضور ﷺ نے اپنی ترکش سے احد والے دن تمام تیر پھیلا دئیے اور فرمایا تجھ پر میرے ماں باپ فدا ہوں لے مشرکین کو مار آپ اٹھا اٹھا کردیتے جاتے تھے اور میں تاک تاک کر مشرکین کو مارتا جاتا تھا اس دن میں نے دو شخصوں کو دیکھا کہ حضور ﷺ کے دائیں بائیں تھے اور سخت ترین جنگ کر رہے تھے میں نے نہ تو اس سے پہلے کبھی انہیں دیکھا تھا نہ اس کے بعد یہ دونوں حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل (علیہما السلام) تھے ایک اور روایت میں ہے کہ جو بزرگ حضور ﷺ کے ساتھ بھگدڑ کے بعد تھے اور ایک ایک ہو کر شہید ہوئے تھے انہیں آپ فرماتے جاتے تھے کہ کوئی ہے جو انہیں رو کے اور جنت میں جائے میرا رفیق ہے، ابی بن خلف نے مکہ میں قسم کھائی تھی کہ میں رسول اللہ ﷺ کو قتل کروں گا، جب حضور ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا وہ تو نہیں بلکہ میں انشاء اللہ اسے قتل کروں گا احد والے دن یہ خبیث سرتاپا لوہے میں غرق زرہ بکتر لگائے ہوئے حضور ﷺ کی طرف بڑھا اور یہ کہتا آتا تھا کہ اگر محمد ﷺ بچ گئے تو میں اپنے تئیں ہلاک کر ڈالوں گا ادھر سے حضرت مصعب بن عمیر اس ناہنجار کی طرف بڑھے لیکن آپ شہید ہوگئے اب حضور ﷺ اس کی طرف بڑھے اس کا سارا جسم لوہے میں چھپا ہوا تھا صرف ذرا سی پیشانی نظر آرہی تھی آپ نے اپنا نیزہ تاک کر وہیں لگایا جو ٹھیک نشانے پر بیٹھا اور یہ تیورا کر گھوڑے پر سے گرا گو اس زخم سے خون بھی نہ نکلا تھا لیکن اس کی یہ حالت تھی کہ بلبلا رہا تھا لوگوں نے اسے اٹھا لیا لشکر میں لے گئے اور تشفی دینے لگے کہ ایسا کوئی کاری زخم نہیں لگا کیوں اس قدر نامردی کرتا ہے آخر ان کے طعنوں سے مجبور ہو کر اس نے کہا میں نے سنا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے میں ابی کو قتل کروں گا سچ مانو اب میں کبھی نہیں بچ سکتا تم اس پر نہ جاؤ کہ مجھے ذرا سی خراش ہی آئی ہے اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کل اہل ذی المجاز کو اتنا زخم اس ہاتھ سے لگ جاتا تو سب ہلاک ہوجاتے پس یونہی تڑپتے تڑپتے اور بلکتے بلکتے اس جہنمی کی ہلاکت ہوئی اور مر کر جہنم رسید ہوا، مغازی محمد بن اسحاق میں ہے کہ جب یہ شخص حضور ﷺ کے سامنے ہوا تو صحابہ نے اس کے مقابلہ کی خواہش کی لیکن آپ نے انہیں روک دیا اور فرمایا اسے آنے دو جب وہ قریب آگیا تو آپ نے حضرت حارث بن صمہ سے نیزہ لے کر اس پر حملہ کیا حضور ﷺ کے ہاتھ میں نیزہ دیکھتے ہی وہ کانپ اٹھا ہم نے اسی وقت سمجھ لیا کہ اس کی خیر نہیں آپ نے اس کی گردن پر وار کیا اور وہ لڑکھڑا کر گھوڑے پر سے گرا، حضرت ابن عمر کا دہشت ناک شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے اور دیکھا کہ ایک شخص کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے اس آگ میں گھسیٹا جا رہا ہے اور وہ پیاس پیاس کر رہا ہے اور دوسرا شخص کہتا ہے اسے پانی نہ دینا یہ پیغمبر کے ہاتھ کا مارا ہوا ہے یہ ابی بن خلف ہے، بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے آپ اپنے سامنے کے چار دانتوں کی طرف جنہیں مشرکین نے احد والے دن شہید کیا تھا اشارہ کر کے فرما رہے تھے اللہ کا سخت تر غضب ان لوگوں پر ہے جنہوں نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ یہ کیا اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا غضب ہے جسے اللہ کا رسول اللہ ﷺ کی راہ میں قتل کرے اور روایت میں یہ لفظ ہیں کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کا چہرہ زخمی کیا، عتبہ بن ابی وقاص کے ہاتھ سے حضور ﷺ کو یہ زخم لگا تھا سامنے کے چار دانٹ ٹوٹ گئے تھے، رخسار پر زخم آیا تھا اور ہونٹ پر بھی، حضرت سعد بن ابی وقاص فرمایا کرتے تھے مجھے جس قدر اس شخص کی حرص تھی کسی اور کے قتل کی نہ تھی۔ یہ شخص بڑا بد خلق تھا اور ساری قوم سے اس کی دشمنی تھی اس کی برائی میں حضور ﷺ کا یہ فرمان کافی ہے کہ نبی ﷺ کو زخمی ہونے والے پر اللہ سخت غضبناک ہے، عبدالرزاق میں ہے حضور ﷺ نے اس کیلئے بد دعا کی کہ اے اللہ سال بھر میں یہ ہلاک ہوجائے اور کفر پر اس کی موت ہو چناچہ یہی ہوا اور یہ بدبخت کافر مرا اور جہنم واصل ہوا۔ ایک مہاجر کا بیان ہے کہ چاروں طرف سے احد والے دن حضور ﷺ پر تیروں کی بارش ہو رہی تھی لیکن اللہ کی قدرت سے وہ سب پھیر دیئے جاتے تھے، عبداللہ بن شہاب زہری نے اس دن قسم کھا کر کہا کہ مجھے محمد ﷺ کو دکھا دو وہ آج میرے ہاتھ سے بچ نہیں سکتا اگر وہ نجات پا گیا تو میری نجات نہیں اب وہ حضور ﷺ کی طرف سے لپکا اور بالکل آپ کے پاس آگیا اس وقت حضور ﷺ کے ساتھ کوئی نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اسے حضور ﷺ نظر ہی نہ آئے جب وہ نامراد پلٹا تو صفوان نے اسے طعنہ زنی کی اس نے کہا اللہ تعالیٰ کی طرف سے محفوظ ہیں ہمارے ہاتھ نہیں لگنے کے سنو ! ہم چار شخصوں نے ان کے قتل کا پختہ مشورہ کیا تھا اور آپس میں عہدو پیمان کئے تھے ہم نے ہرچند چاہا لیکن کامیابی نہ ہوئی واقدی کہتے ہیں لیکن ثابت شدہ بات یہ ہے کہ حضور ﷺ کی پیشانی کو زخمی کرنے والا ابن قمیہ اور ہونٹ اور دانتوں پر صدمہ پہچانے والا عتبہ بن ابی وقاص تھا۔ ام المومنین حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ میرے والد حضرت ابوبکر جب احد کا ذکر فرماتے تو صاف کہتے کہ اس دن کی تمام تر فضلیت کا سہرا حضرت طلحہ کے سر ہے میں جب لوٹ کر آیا تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص حضور ﷺ کی حمایت میں جان ٹکائے لڑ رہا ہے میں نے کہا اللہ کرے یہ طلحہ ہو اب جو قریب آ کر دیکھا تو طلحہ ہی تھے ؓ میں نے کہا الحمد اللہ میری ہی قوم کا ایک شخص ہے میرے اور مشرکوں کے درمیان ایک شخص تھا جو مشرکین میں کھڑا ہوا تھا لیکن اسکے بےپناہ حملے مشرکوں کی ہمت توڑ رہے تھے غور سے دیکھا تو وہ حضرت عبیدہ بن جراح تھے، اب جو میں نے بغور حضور ﷺ کی طرف دیکھا تو آپ کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے ہیں چہرہ زخمی ہو رہا ہے اور پیشانی میں زرہ کی دو کڑیاں کھب گئی ہیں میں آپ کی طرف لپکا لیکن آپ نے فرمایا ابو طلحہ کی خبر لو میں نے چاہا کہ حضور ﷺ کے چہرے میں سے وہ دونوں کڑیاں نکالوں لیکن حضرت ابو عبیدہ نے مجھے قسم دے کر روک دیا اور خود قریب آئے اور ہاتھ سے نکالنے میں زیادہ تکلیف محسوس کر کے دانتوں سے پکڑ کر ایک کو نکال لیا لیکن اس میں ان کا دانت بھی ٹوٹ گیا میں نے اب پھر چاہا کہ دوسری میں نکال لوں لیکن حضرت ابو عبیدہ نے پھر قسم دی تو میں رک رہا انہوں نے پھر دوسری کڑی نکالی اب کی مرتبہ بھی ان کے دانت ٹوٹے اس سے فارغ ہو کر ہم حضرت طلحہ کی طرف متوجہ ہوئے ہم نے دیکھا کہ ستر سے زیادہ زخم انہیں لگ چکے ہیں انگلیاں کٹ گئی ہیں ہم نے پھر ان کی بھی خبر لی حضور ﷺ کے زخم کا خون حضرت ابو سعید خدری نے چوسا تاکہ خون تھم جائے پھر ان سے کہا گیا کہ کلی کر ڈالو لیکن انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں کلی نہ کروں گا پھر میدان جنگ میں چلے گئے حضور ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص جنتی شخص کو دیکھنا چاہتا ہو تو انہیں دیکھ لے چناچہ یہ اسی میدان میں شہید ہوئے، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ کا چہرہ زخمی ہوا سامنے کے دانت ٹوٹے سر کا خود ٹوٹا، حضرت فاطمہ خون دھوتی تھیں اور حضرت علی ڈھال میں پانی لالا کر ڈالتے جاتے تھے جب دیکھا کہ خون کسی طرح تھمتا ہی نہیں تو حضرت فاطمہ نے بوریا جلا کر اس کا راکھ زخم پر رکھ دی جس سے خون بند ہوا۔ پھر فرماتا ہے، تمہیں غم پر غم پہنچا (بِغَمِّ) کا بامعنی میں علیٰ کے ہے جیسے آیت (فی جذوع النخل) میں فی معنی میں علیٰ کے ہے، ایک غم تو شکست کا تھا جبکہ یہ مشہور ہوگیا کہ (اللہ نہ کرے) حضور ﷺ کی جان پر بن آئی، دوسرا غم مشرکوں کو پہاڑ کے اوپر غالب آکر چڑھ جانے کا جبکہ حضور ﷺ فرماتے تھے یہ بلندی کے لائق نہ تھے، حضرت عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں ایک غم شکست کا دوسرا غم حضور ﷺ کے قتل کی خبر کا اور یہ غم پہلے غم سے زیادہ تھا، اسی طرح یہ بھی ہے کہ ایک غم تو غنیمت کا ہاتھ میں آکر نکل جانے کا تھا دوسرا شکست ہونے کا اسی طرح ایک اپنے بھائیوں کے قتل کا غم دوسرا حضور ﷺ کی نسبت ایسی منحوس خبر کا غم۔ پھر فرماتا ہے جو غنیمت اور فتح مندی تمہارے ہاتھ سے گئی اور جو زخم و شہادت ملی اس پر غم نہ کھاؤ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جو بلندی اور جلال والا ہے وہ تمہارے اعمال سے خبردار ہے۔

Source. Tafsir Ibn Kathir, Hafiz Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://quran.com/. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com