Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Yaseen
Tafsir Ibn Kathir · Yaseen · 83 ayat · ayat 31–60 · Quran text →
منکرین کی ندامت۔بندوں پر حسرت و افسوس ہے۔ بندے کل اپنے اوپر کیسے نادم ہوں گے۔ بار بار کہیں گے کہ ہائے افسوس ہم نے تو خود اپنا برا کیا۔ بعض قرأتوں میں یا حسرۃ العباد علی انفسھا بھی ہے مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن عذابوں کو دیکھ کر ہاتھ ملیں گے کہ انہوں نے کیوں رسولوں کو جھٹلایا ؟ اور کیوں اللہ کے فرمان کے خلاف کیا ؟ دنیا میں تو ان کا یہ حال تھا کہ جب کبھی جو رسول آیا انہوں نے بلا تامل جھٹلایا اور دل کھول کر ان کی بےادبی اور توہین کی۔ وہ اگر یہاں تامل کرتے تو سمجھ لیتے کہ ان سے پہلے جن لوگوں نے پیغمبروں کی نہ مانی تھی وہ غارت و برباد کردیئے گئے ان کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ ایک بھی تو ان میں سے نہ بچ سکا نہ اس دار آخرت سے کوئی واپس پلٹا۔ اس میں ان لوگوں کی بھی تردید ہے جو دہریہ تھے جن کا خیال تھا کہ یونہی دنیا میں مرتے جیتے چلے جائیں گے، لوٹ لوٹ کر اس دنیا میں آئیں گے۔ تمام گذرے ہوئے موجود اور آنے والے لوگ قیامت کے دن اللہ کے سامنے حساب و کتاب کے لئے حاضر کئے جائیں گے اور وہاں ہر ایک بھلائی برائی کا بدلہ پائیں گے جیسے اور آیت میں فرمایا (وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ ۭ اِنَّهٗ بِمَا يَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ01101) 11۔ ھود :111) یعنی ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ تیرا رب عطا فرمائے گا، ایک قرأت میں لما ہے تو، ان، اثبات کے لئے ہوگا، اور لما پڑھنے کے وقت، ان، نافیہ ہوگا اور لما معنی میں الا کے ہوگا تو مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ نہیں ہیں سب مگر یہ کہ سب کے سب ہمارے سامنے حاضر شدہ ہیں دوسری قرأت کی صورت میں بھی مطلب یہی رہے گا۔ واللہ سبحان و تعالیٰ اعلم۔
منکرین کی ندامت۔بندوں پر حسرت و افسوس ہے۔ بندے کل اپنے اوپر کیسے نادم ہوں گے۔ بار بار کہیں گے کہ ہائے افسوس ہم نے تو خود اپنا برا کیا۔ بعض قرأتوں میں یا حسرۃ العباد علی انفسھا بھی ہے مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن عذابوں کو دیکھ کر ہاتھ ملیں گے کہ انہوں نے کیوں رسولوں کو جھٹلایا ؟ اور کیوں اللہ کے فرمان کے خلاف کیا ؟ دنیا میں تو ان کا یہ حال تھا کہ جب کبھی جو رسول آیا انہوں نے بلا تامل جھٹلایا اور دل کھول کر ان کی بےادبی اور توہین کی۔ وہ اگر یہاں تامل کرتے تو سمجھ لیتے کہ ان سے پہلے جن لوگوں نے پیغمبروں کی نہ مانی تھی وہ غارت و برباد کردیئے گئے ان کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ ایک بھی تو ان میں سے نہ بچ سکا نہ اس دار آخرت سے کوئی واپس پلٹا۔ اس میں ان لوگوں کی بھی تردید ہے جو دہریہ تھے جن کا خیال تھا کہ یونہی دنیا میں مرتے جیتے چلے جائیں گے، لوٹ لوٹ کر اس دنیا میں آئیں گے۔ تمام گذرے ہوئے موجود اور آنے والے لوگ قیامت کے دن اللہ کے سامنے حساب و کتاب کے لئے حاضر کئے جائیں گے اور وہاں ہر ایک بھلائی برائی کا بدلہ پائیں گے جیسے اور آیت میں فرمایا (وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ ۭ اِنَّهٗ بِمَا يَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ01101) 11۔ ھود :111) یعنی ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ تیرا رب عطا فرمائے گا، ایک قرأت میں لما ہے تو، ان، اثبات کے لئے ہوگا، اور لما پڑھنے کے وقت، ان، نافیہ ہوگا اور لما معنی میں الا کے ہوگا تو مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ نہیں ہیں سب مگر یہ کہ سب کے سب ہمارے سامنے حاضر شدہ ہیں دوسری قرأت کی صورت میں بھی مطلب یہی رہے گا۔ واللہ سبحان و تعالیٰ اعلم۔
وجود باری تعالیٰ کی ایک نشانی اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میرے وجود پر، میری زبردست قدرت پر اور مردوں کو زندگی دینے پر ایک نشانی یہ بھی ہے کہ مردہ زمین جو بنجر خشک پڑی ہوئی ہوتی ہے جس میں کوئی روئیدگی، تازگی، ہریالی، گھاس وغیرہ نہیں ہوتی۔ میں اس پر آسمان سے پانی برساتا ہوں وہ مردہ زمین جی اٹھتی ہے لہلہانے لگتی ہے ہر طرف سبزہ ہی سبزہ اگ جاتا ہے اور قسم قسم کے پھل پھول وغیرہ نظر آنے لگتے ہیں۔ تو فرماتا ہے کہ ہم اس مردہ زمین کو زندہ کردیتے ہیں اور اس سے قسم قسم کے اناج پیدا کرتے ہیں بعض کو تم کھاتے ہو بعض تمہارے جانور کھاتے ہیں۔ ہم اس میں کھجوروں کے انگوروں کے باغات وغیرہ تیار کردیتے ہیں۔ نہریں جاری کردیتے ہیں جو باغوں اور کیھتوں کو سیراب، سرسبز و شاداب کرتی رہتی ہیں۔ یہ سب اس لئے کہ ان درختوں کے میوے دنیا کھائے، کھیتیوں سے، باغات سے نفع حاصل کرے، حاجتیں پوری کرے، یہ سب اللہ کی رحمت اور اس کی قدرت سے پیدا ہو رہے ہیں، کسی کے بس اور اختیار میں نہیں، تمہارے ہاتھوں کی پیدا کردہ یا حاصل کردہ چیزیں نہیں۔ نہ تمہیں انہیں اگانے کی طاقت نہ تم میں انہیں بچانے کی قدرت، نہ انہیں پکانے کا تمہیں اختیار۔ صرف اللہ کے یہ کام ہیں اور اسی کی یہ مہربانی ہے اور اس کے احسان کے ساتھ ہی ساتھ یہ اس کی قدرت کے نمونے ہیں۔ پھر لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو شکر گذاری نہیں کرتے ؟ اور اللہ تعالیٰ کی بےانتہا ان گنت نعمتیں اپنے پاس ہوتے ہوئے اس کا احسان نہیں مانتے ؟ ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ باغات کے پھل جو کھاتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کا بویا ہوا یہ پاتے ہیں، چناچہ ابن مسعود کی قرأت میں (وَمَا عَمِلَتْهُ اَيْدِيْهِمْ ۭ اَفَلَا يَشْكُرُوْنَ 35ۙ) 36۔ يس :35) ہے۔ پاک اور برتر اور تمام نقصانات سے بری وہ اللہ ہے جس نے زمین کی پیداوار کو اور خود تم کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے اور مختلف قسم کی مخلوق کے جوڑے بنائے ہیں جنہیں تم جانتے بھی نہیں ہو۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ 49) 51۔ الذاریات :49) ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں تاکہ تم نصیحت پکڑو۔
وجود باری تعالیٰ کی ایک نشانی اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میرے وجود پر، میری زبردست قدرت پر اور مردوں کو زندگی دینے پر ایک نشانی یہ بھی ہے کہ مردہ زمین جو بنجر خشک پڑی ہوئی ہوتی ہے جس میں کوئی روئیدگی، تازگی، ہریالی، گھاس وغیرہ نہیں ہوتی۔ میں اس پر آسمان سے پانی برساتا ہوں وہ مردہ زمین جی اٹھتی ہے لہلہانے لگتی ہے ہر طرف سبزہ ہی سبزہ اگ جاتا ہے اور قسم قسم کے پھل پھول وغیرہ نظر آنے لگتے ہیں۔ تو فرماتا ہے کہ ہم اس مردہ زمین کو زندہ کردیتے ہیں اور اس سے قسم قسم کے اناج پیدا کرتے ہیں بعض کو تم کھاتے ہو بعض تمہارے جانور کھاتے ہیں۔ ہم اس میں کھجوروں کے انگوروں کے باغات وغیرہ تیار کردیتے ہیں۔ نہریں جاری کردیتے ہیں جو باغوں اور کیھتوں کو سیراب، سرسبز و شاداب کرتی رہتی ہیں۔ یہ سب اس لئے کہ ان درختوں کے میوے دنیا کھائے، کھیتیوں سے، باغات سے نفع حاصل کرے، حاجتیں پوری کرے، یہ سب اللہ کی رحمت اور اس کی قدرت سے پیدا ہو رہے ہیں، کسی کے بس اور اختیار میں نہیں، تمہارے ہاتھوں کی پیدا کردہ یا حاصل کردہ چیزیں نہیں۔ نہ تمہیں انہیں اگانے کی طاقت نہ تم میں انہیں بچانے کی قدرت، نہ انہیں پکانے کا تمہیں اختیار۔ صرف اللہ کے یہ کام ہیں اور اسی کی یہ مہربانی ہے اور اس کے احسان کے ساتھ ہی ساتھ یہ اس کی قدرت کے نمونے ہیں۔ پھر لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو شکر گذاری نہیں کرتے ؟ اور اللہ تعالیٰ کی بےانتہا ان گنت نعمتیں اپنے پاس ہوتے ہوئے اس کا احسان نہیں مانتے ؟ ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ باغات کے پھل جو کھاتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کا بویا ہوا یہ پاتے ہیں، چناچہ ابن مسعود کی قرأت میں (وَمَا عَمِلَتْهُ اَيْدِيْهِمْ ۭ اَفَلَا يَشْكُرُوْنَ 35ۙ) 36۔ يس :35) ہے۔ پاک اور برتر اور تمام نقصانات سے بری وہ اللہ ہے جس نے زمین کی پیداوار کو اور خود تم کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے اور مختلف قسم کی مخلوق کے جوڑے بنائے ہیں جنہیں تم جانتے بھی نہیں ہو۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ 49) 51۔ الذاریات :49) ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں تاکہ تم نصیحت پکڑو۔
وجود باری تعالیٰ کی ایک نشانی اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میرے وجود پر، میری زبردست قدرت پر اور مردوں کو زندگی دینے پر ایک نشانی یہ بھی ہے کہ مردہ زمین جو بنجر خشک پڑی ہوئی ہوتی ہے جس میں کوئی روئیدگی، تازگی، ہریالی، گھاس وغیرہ نہیں ہوتی۔ میں اس پر آسمان سے پانی برساتا ہوں وہ مردہ زمین جی اٹھتی ہے لہلہانے لگتی ہے ہر طرف سبزہ ہی سبزہ اگ جاتا ہے اور قسم قسم کے پھل پھول وغیرہ نظر آنے لگتے ہیں۔ تو فرماتا ہے کہ ہم اس مردہ زمین کو زندہ کردیتے ہیں اور اس سے قسم قسم کے اناج پیدا کرتے ہیں بعض کو تم کھاتے ہو بعض تمہارے جانور کھاتے ہیں۔ ہم اس میں کھجوروں کے انگوروں کے باغات وغیرہ تیار کردیتے ہیں۔ نہریں جاری کردیتے ہیں جو باغوں اور کیھتوں کو سیراب، سرسبز و شاداب کرتی رہتی ہیں۔ یہ سب اس لئے کہ ان درختوں کے میوے دنیا کھائے، کھیتیوں سے، باغات سے نفع حاصل کرے، حاجتیں پوری کرے، یہ سب اللہ کی رحمت اور اس کی قدرت سے پیدا ہو رہے ہیں، کسی کے بس اور اختیار میں نہیں، تمہارے ہاتھوں کی پیدا کردہ یا حاصل کردہ چیزیں نہیں۔ نہ تمہیں انہیں اگانے کی طاقت نہ تم میں انہیں بچانے کی قدرت، نہ انہیں پکانے کا تمہیں اختیار۔ صرف اللہ کے یہ کام ہیں اور اسی کی یہ مہربانی ہے اور اس کے احسان کے ساتھ ہی ساتھ یہ اس کی قدرت کے نمونے ہیں۔ پھر لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو شکر گذاری نہیں کرتے ؟ اور اللہ تعالیٰ کی بےانتہا ان گنت نعمتیں اپنے پاس ہوتے ہوئے اس کا احسان نہیں مانتے ؟ ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ باغات کے پھل جو کھاتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کا بویا ہوا یہ پاتے ہیں، چناچہ ابن مسعود کی قرأت میں (وَمَا عَمِلَتْهُ اَيْدِيْهِمْ ۭ اَفَلَا يَشْكُرُوْنَ 35ۙ) 36۔ يس :35) ہے۔ پاک اور برتر اور تمام نقصانات سے بری وہ اللہ ہے جس نے زمین کی پیداوار کو اور خود تم کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے اور مختلف قسم کی مخلوق کے جوڑے بنائے ہیں جنہیں تم جانتے بھی نہیں ہو۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ 49) 51۔ الذاریات :49) ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں تاکہ تم نصیحت پکڑو۔
وجود باری تعالیٰ کی ایک نشانی اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میرے وجود پر، میری زبردست قدرت پر اور مردوں کو زندگی دینے پر ایک نشانی یہ بھی ہے کہ مردہ زمین جو بنجر خشک پڑی ہوئی ہوتی ہے جس میں کوئی روئیدگی، تازگی، ہریالی، گھاس وغیرہ نہیں ہوتی۔ میں اس پر آسمان سے پانی برساتا ہوں وہ مردہ زمین جی اٹھتی ہے لہلہانے لگتی ہے ہر طرف سبزہ ہی سبزہ اگ جاتا ہے اور قسم قسم کے پھل پھول وغیرہ نظر آنے لگتے ہیں۔ تو فرماتا ہے کہ ہم اس مردہ زمین کو زندہ کردیتے ہیں اور اس سے قسم قسم کے اناج پیدا کرتے ہیں بعض کو تم کھاتے ہو بعض تمہارے جانور کھاتے ہیں۔ ہم اس میں کھجوروں کے انگوروں کے باغات وغیرہ تیار کردیتے ہیں۔ نہریں جاری کردیتے ہیں جو باغوں اور کیھتوں کو سیراب، سرسبز و شاداب کرتی رہتی ہیں۔ یہ سب اس لئے کہ ان درختوں کے میوے دنیا کھائے، کھیتیوں سے، باغات سے نفع حاصل کرے، حاجتیں پوری کرے، یہ سب اللہ کی رحمت اور اس کی قدرت سے پیدا ہو رہے ہیں، کسی کے بس اور اختیار میں نہیں، تمہارے ہاتھوں کی پیدا کردہ یا حاصل کردہ چیزیں نہیں۔ نہ تمہیں انہیں اگانے کی طاقت نہ تم میں انہیں بچانے کی قدرت، نہ انہیں پکانے کا تمہیں اختیار۔ صرف اللہ کے یہ کام ہیں اور اسی کی یہ مہربانی ہے اور اس کے احسان کے ساتھ ہی ساتھ یہ اس کی قدرت کے نمونے ہیں۔ پھر لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو شکر گذاری نہیں کرتے ؟ اور اللہ تعالیٰ کی بےانتہا ان گنت نعمتیں اپنے پاس ہوتے ہوئے اس کا احسان نہیں مانتے ؟ ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ باغات کے پھل جو کھاتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کا بویا ہوا یہ پاتے ہیں، چناچہ ابن مسعود کی قرأت میں (وَمَا عَمِلَتْهُ اَيْدِيْهِمْ ۭ اَفَلَا يَشْكُرُوْنَ 35ۙ) 36۔ يس :35) ہے۔ پاک اور برتر اور تمام نقصانات سے بری وہ اللہ ہے جس نے زمین کی پیداوار کو اور خود تم کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے اور مختلف قسم کی مخلوق کے جوڑے بنائے ہیں جنہیں تم جانتے بھی نہیں ہو۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ 49) 51۔ الذاریات :49) ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں تاکہ تم نصیحت پکڑو۔
گردش شمس و قمر۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی ایک اور نشانی بیان ہو رہی ہے اور وہ دن رات ہیں جو اجالے اور اندھیرے والے ہیں اور برابر ایک دوسرے کے پیچھے جا رہے ہیں جیسے فرمایا (يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا 54) 7۔ الاعراف :54) رات سے دن کو چھپاتا ہے اور رات دن کو جلدی جلدی ڈھونڈتی آتی ہے۔ یہاں بھی فرمایا رات میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں، دن تو ختم ہوا اور رات آگئی اور ہر طرف سے اندھیرا چھا گیا۔ حدیث میں ہے جب ادھر سے رات آجائے اور دن ادھر سے چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزے دار افطار کرلے۔ ظاہر آیت تو یہی ہے لیکن حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب مثل آیت (يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ ۭ وَهُوَ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 57۔ الحدید :6) کے ہے یعنی اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے۔ حضرت امام ابن جریر اس قول کو ضعیف بتاتے ہیں اور فرماتے اس آیت میں جو لفظ ایلاج ہے اس کے معنی ایک کی کمی کر کے دوسری میں زیادتی کرنے کے ہیں اور یہ مراد اس آیت میں نہیں، امام صاحب کا یہ قول حق ہے۔ مستقر سے مراد یا تو مستقر مکانی یعنی جائے قرار ہے اور وہ عرش تلے کی وہ سمت ہے پس ایک سورج ہی نہیں بلکہ کل مخلوق عرش کے نیچے ہی ہے اس لئے کہ عرش ساری مخلوق کے اوپر ہے اور سب کو احاطہ کئے ہوئے ہے اور وہ کرہ نہیں ہے جیسے کہ ہئیت داں کہتے ہیں۔ بلکہ وہ مثل قبے کے ہے جس کے پائے ہیں اور جسے فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں انسانوں کے سروں کے اوپر اوپر والے عالم میں ہے، پس جبکہ سورج فلکی قبے میں ٹھیک ظہر کے وقت ہوتا ہے اس وقت وہ عرش سے بہت قریب ہوتا ہے پھر جب وہ گھوم کر چوتھے فلک میں اسی مقام کے بالمقابل آجاتا ہے یہ آدھی رات کا وقت ہوتا ہے جبکہ وہ عرش سے بہت دور ہوجاتا ہے پس وہ سجدہ کرتا ہے اور طلوع کی اجازت چاہتا ہے جیسا کہ احادیث میں ہے۔ صحیح بخاری میں ہے حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں سورج کے غروب ہونے کے وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس مسجد میں تھا تو آپ نے مجھ سے فرمایا جانتے ہو یہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے ؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتا ہے، آپ نے فرمایا وہ عرش تلے جا کر اللہ کو سجدہ کرتا ہے پھر آپ نے آیت والشمس الخ، تلاوت کی اور حدیث میں ہے کہ آپ سے حضرت ابوذر ؓ نے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا اس کی قرار گاہ عرش کے نیچے ہے، مسند احمد میں اس سے پہلے کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے واپس لوٹنے کی اجازت طلب کرتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے۔ گویا اس سے کہا جاتا ہے کہ جاں سے آیا تھا وہیں لوٹ جا تو وہ اپنے طلوع ہونے کی جگہ سے نکلتا ہے اور یہی اس کا مستقر ہے، پھر آپ نے اس آیت کے ابتدائی فقرے کو پڑھا۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے لیکن قبول نہ کیا جائے اور اجازت مانگے لیکن اجازت نہ دی جائے بلکہ کہا جائے جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا پس وہ مغرب سے ہی طلوع ہوگا یہی معنی ہیں اس آیت کے۔ عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں کہ سورج طلوع ہوتا ہے اسے انسانوں کے گناہ لوٹا دیتے ہیں وہ غروب ہو کر سجدے میں پڑتا ہے اور اجازت طلب کرتا ہے، ایک دن یہ غروب ہو کر بہ عاجزی سجدہ کرے گا اور اجازت مانگے گا لیکن اجازت نہ دی جائے گی وہ کہے گا کہ راہ دور ہے اور اجازت ملی نہیں تو پہنچ نہیں سکوں گا پھر کچھ دیر روک رکھنے کے بعد اس سے کہا جائے گا کہ جہاں سے غروب ہوا تھا وہیں سے طلوع ہوجا۔ یہی قیامت کا دن ہوگا جس دن ایمان لانا محض بےسود ہوگا اور نیکیاں کرنا بھی ان کے لئے جو اس سے پہلے ایمان دار اور نیکو کار نہ تھے بیکار ہوگا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مستقر سے مراد اس کے چلنے کی انتہا ہے پوری بلندی جو گرمیوں میں ہوتی ہے اور پوری پستی جو جاڑوں میں ہوتی ہے۔ پس یہ ایک قول ہوا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ آیت کے اس لفظ مستقر سے مراد اس کی چال کا خاتمہ ہے قیامت کے دن اس کی حرکت باطل ہوجائے گی یہ بےنور ہوجائے گا اور یہ عالم کل کا کل ختم ہوجائے گا۔ یہ مستقر زمانی ہے۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں وہ اپنے مستقر پر چلتا ہے یعنی اپنے وقت اور اپنی میعاد پر جس سے تجاوز کر نہیں سکتا جو اس کے راستے جاڑوں کے اور گرمیوں کے مقرر ہیں انہی راستوں سے آتا جاتا ہے، ابن مسعود اور ابن عباسی ؓ کی قرأت لامستقرلھا ہے یعنی اس کے لئے سکون وقرار نہیں بلکہ دن رات بحکم اللہ چلتا رہتا ہے نہ رکے نہ تھکے جیسے فرمایا (وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاۗىِٕـبَيْنِ ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ 33ۚ) 14۔ ابراھیم :33) یعنی اس نے تمہارے لئے سورج چاند کو مسخر کیا ہے جو نہ تھکیں نہ ٹھہریں قیامت تک چلتے پھرتے ہی رہیں گے۔ یہ اندازہ اس اللہ کا ہے جو غالب ہیں جس کی کوئی مخالفت نہیں کرسکتا جس کے حکم کو کوئی ٹال نہیں سکتا، وہ علیم ہے، ہر حرکت و سکون کو جانتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت کاملہ سے اس کی چال مقرر کی ہے جس میں نہ اختلاف واقع ہو سکے نہ اس کے برعکس ہو سکے جیسے فرمایا اس نے اپنی حکمت کاملہ سے اس کی چال مقرر کی ہے جس میں نہ اختلاف واقع ہو سکے نہ اس کے برعکس ہو سکے جیسے فرمایا (فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ۚ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ۭذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ 96) 6۔ الانعام :96) صبح کا نکالنے والا جس نے رات کو راحت کا وقت بنایا اور سورج چاند کو حساب سے مقرر کیا، یہ ہے اندازہ غالب ذی علم کا۔ حم سجدہ کی آیت کو بھی اسی طرح ختم کیا۔ پھر فرماتا ہے چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کردی ہیں وہ ایک جداگانہ چال چلتا ہے جس سے مہینے معلوم ہوجائیں جیسے سورج کی چال سے رات دن معلوم ہوجاتے ہیں، جیسے فرمان ہے کہ لوگ تجھ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو جواب دے کہ وقت اور حج کے موسم کو بتانے کے لئے ہے اور آیت میں فرمایا اس نے سورج کو ضیاء اور چاند کو نور دیا ہے اور اس کی منزلیں ٹھہرا دی ہیں تاکہ تم سالوں کو اور حساب کو معلوم کرلو۔ ایک آیت میں ہے ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنادیا ہے، رات کی نشانی کو ہم نے دھندلا کردیا ہے اور دن کی نشانی کو روشن کیا ہے تاکہ تم اس میں اپنے رب کی نازل کردہ روزی کو تلاش کرسکو اور برسوں کا شمار اور حساب معلوم کرسکو ہم نے ہر چیز کو خوب تفصیل سے بیان کردیا ہے۔ پس سورج کی چمک دمک اس کے ساتھ مخصوص ہے اور چاند کی روشنی اسی میں ہے۔ اس کی اور اس کی چال بھی مختلف ہے۔ سورج ہر دن طلوع و غروب ہوتا ہے اسی روشنی کے ساتھ ہوتا ہے ہاں اس کے طلوع و غروب کی جگہیں جاڑے میں اور گرمی میں الگ الگ ہوتی ہیں، اسی سبب سے دن رات کی طولانی میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے سورج دن کا ستارہ ہے اور چاند رات کا ستارہ ہے اس کی منزلیں مقرر ہیں۔ مہینے کی پہلی رات طلوع ہوتا ہے بہت چھوٹا سا ہوتا ہے روشنی کم ہوتی ہے، دوسری شب روشنی اس سے بڑھ جاتی ہے اور منزل بھی ترقی کرتی جاتی ہے، پھر جوں جوں بلند ہوتا جاتا ہے روشنی بڑھتی جاتی ہے، گو اس کی نورانیت سورج سے لی ہوئی ہوتی ہے آخر چودہویں رات کو چاند کامل ہوجاتا ہے اور اسی کی چاندنی بھی کمال کی ہوجاتی ہے۔ پھر گھٹنا شروع ہوتا ہے اور اسی طرح درجہ بدرجہ بتدریج گھلتا ہوا مثل کھجور کے خوشے کی ٹہنی کے ہوجاتا ہے جس پر تر کھجوریں لٹکتی ہوں اور وہ خشک ہو کر بل کھا گئی ہو۔ پھر اسے نئے سرے سے اللہ تعالیٰ دوسرے مہینے کی ابتداء میں ظاہر کرتا ہے، عرب میں چاند کی روشنی کے اعتبار سے مہینے کی راتوں کے نام رکھ لئے گئے ہیں، مثلاً پہلی تین راتوں کا نام غرر ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام نفل ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام تسع ہے، اس لئے کہ ان کی آخری رات نویں ہوتی ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام عشر ہے، اس لئے کہ اس کا شروع دسویں سے ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام بیض ہے، اس لئے کہ ان راتوں میں چاندنی کی روشنی آخر تک رہا کرتی ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام ان کے ہاں ورع ہے، یہ لفظ ورعاء کی جمع ہے، ان کا یہ نام اس لئے رکھا ہے کہ سولہویں کو چاند ذرا دیر سے طلوع ہوتا ہے تو تھوڑی دیر تک اندھیرا یعنی سیاہی رہتی ہے اور عرب میں اس بکری کو جس کا سر سیاہ ہو شاۃ درعاء کہتے ہیں، اس کے بعد کی تین راتوں کو ظلم کہتے ہیں، پھر تین کو ضاوس پھر تین کو دراری پھر تین کو محاق اس لئے کہ اس میں چاند ختم ہوجاتا ہے اور مہینہ بھی ختم ہوجاتا ہے ابو عبیدہ ؓ ان میں سے تسع اور عشر کو قبول نہیں کرتے، ملاحظہ ہو کتاب غریب المصنف۔ سورج چاند کی حدیں اس نے مقرر کی ہیں ناممکن ہے کہ کوئی اپنی حد سے ادھر ادھر ہوجائے یا آگے پیچھے ہوجائے، اس کی باری کے وقت وہ گم ہے اس کی باری کے وقت یہ خاموش ہے۔ حسن کہتے ہیں یہ چاند رات کو ہے۔ ابن مبارک کا قول ہے ہوا کے پر ہیں اور چاند پانی کے غلاف تلے جگہ کرتا ہے، ابو صالح فرماتے ہیں اس کی روشنی اس کی روشنی کو پکڑ نہیں سکتی، عکرمہ فرماتے ہیں رات کو سورج طلوع نہیں ہوسکتا۔ نہ رات دن سے سبقت کرسکتی ہے، یعنی رات کے بعد ہی رات نہیں آسکتی بلکہ درمیان میں دن آجائے گا، پس سورج کی سلطنت دن کو ہے اور چاند کی بادشاہت رات کو ہے، رات ادھر سے جاتی ہے ادھر سے دن آتا ہے ایک دوسرے کے تعاقب میں ہیں، لیکن نہ تصادم کا ڈر ہے نہ بےنظمی کا خطرہ ہے، نہ یہ کہ دن ہی دن چلا جائے رات نہ آئے نہ اس کے خلاف، ایک جاتا ہے دوسرا آتا ہے، ہر ایک اپنے اپنے وقت پر غائب و حاضر ہوتا رہتا ہے، سب کے سب یعنی سورج چاند دن رات فلک آسمان میں تیر رہے ہیں اور گھومتے پھرتے ہیں۔ زید بن عاصم کا قول ہے کہ آسمان و زمین کے درمیان فلک میں یہ سب آ جا رہے ہیں، لیکن یہ بہت غریب بلکہ منکر قول ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں فلک مثل چرخے کے تکلے کے ہے بعض کہتے ہیں مثل چکی کے لوہے کے پاٹ کے۔
گردش شمس و قمر۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی ایک اور نشانی بیان ہو رہی ہے اور وہ دن رات ہیں جو اجالے اور اندھیرے والے ہیں اور برابر ایک دوسرے کے پیچھے جا رہے ہیں جیسے فرمایا (يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا 54) 7۔ الاعراف :54) رات سے دن کو چھپاتا ہے اور رات دن کو جلدی جلدی ڈھونڈتی آتی ہے۔ یہاں بھی فرمایا رات میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں، دن تو ختم ہوا اور رات آگئی اور ہر طرف سے اندھیرا چھا گیا۔ حدیث میں ہے جب ادھر سے رات آجائے اور دن ادھر سے چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزے دار افطار کرلے۔ ظاہر آیت تو یہی ہے لیکن حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب مثل آیت (يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ ۭ وَهُوَ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 57۔ الحدید :6) کے ہے یعنی اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے۔ حضرت امام ابن جریر اس قول کو ضعیف بتاتے ہیں اور فرماتے اس آیت میں جو لفظ ایلاج ہے اس کے معنی ایک کی کمی کر کے دوسری میں زیادتی کرنے کے ہیں اور یہ مراد اس آیت میں نہیں، امام صاحب کا یہ قول حق ہے۔ مستقر سے مراد یا تو مستقر مکانی یعنی جائے قرار ہے اور وہ عرش تلے کی وہ سمت ہے پس ایک سورج ہی نہیں بلکہ کل مخلوق عرش کے نیچے ہی ہے اس لئے کہ عرش ساری مخلوق کے اوپر ہے اور سب کو احاطہ کئے ہوئے ہے اور وہ کرہ نہیں ہے جیسے کہ ہئیت داں کہتے ہیں۔ بلکہ وہ مثل قبے کے ہے جس کے پائے ہیں اور جسے فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں انسانوں کے سروں کے اوپر اوپر والے عالم میں ہے، پس جبکہ سورج فلکی قبے میں ٹھیک ظہر کے وقت ہوتا ہے اس وقت وہ عرش سے بہت قریب ہوتا ہے پھر جب وہ گھوم کر چوتھے فلک میں اسی مقام کے بالمقابل آجاتا ہے یہ آدھی رات کا وقت ہوتا ہے جبکہ وہ عرش سے بہت دور ہوجاتا ہے پس وہ سجدہ کرتا ہے اور طلوع کی اجازت چاہتا ہے جیسا کہ احادیث میں ہے۔ صحیح بخاری میں ہے حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں سورج کے غروب ہونے کے وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس مسجد میں تھا تو آپ نے مجھ سے فرمایا جانتے ہو یہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے ؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتا ہے، آپ نے فرمایا وہ عرش تلے جا کر اللہ کو سجدہ کرتا ہے پھر آپ نے آیت والشمس الخ، تلاوت کی اور حدیث میں ہے کہ آپ سے حضرت ابوذر ؓ نے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا اس کی قرار گاہ عرش کے نیچے ہے، مسند احمد میں اس سے پہلے کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے واپس لوٹنے کی اجازت طلب کرتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے۔ گویا اس سے کہا جاتا ہے کہ جاں سے آیا تھا وہیں لوٹ جا تو وہ اپنے طلوع ہونے کی جگہ سے نکلتا ہے اور یہی اس کا مستقر ہے، پھر آپ نے اس آیت کے ابتدائی فقرے کو پڑھا۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے لیکن قبول نہ کیا جائے اور اجازت مانگے لیکن اجازت نہ دی جائے بلکہ کہا جائے جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا پس وہ مغرب سے ہی طلوع ہوگا یہی معنی ہیں اس آیت کے۔ عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں کہ سورج طلوع ہوتا ہے اسے انسانوں کے گناہ لوٹا دیتے ہیں وہ غروب ہو کر سجدے میں پڑتا ہے اور اجازت طلب کرتا ہے، ایک دن یہ غروب ہو کر بہ عاجزی سجدہ کرے گا اور اجازت مانگے گا لیکن اجازت نہ دی جائے گی وہ کہے گا کہ راہ دور ہے اور اجازت ملی نہیں تو پہنچ نہیں سکوں گا پھر کچھ دیر روک رکھنے کے بعد اس سے کہا جائے گا کہ جہاں سے غروب ہوا تھا وہیں سے طلوع ہوجا۔ یہی قیامت کا دن ہوگا جس دن ایمان لانا محض بےسود ہوگا اور نیکیاں کرنا بھی ان کے لئے جو اس سے پہلے ایمان دار اور نیکو کار نہ تھے بیکار ہوگا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مستقر سے مراد اس کے چلنے کی انتہا ہے پوری بلندی جو گرمیوں میں ہوتی ہے اور پوری پستی جو جاڑوں میں ہوتی ہے۔ پس یہ ایک قول ہوا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ آیت کے اس لفظ مستقر سے مراد اس کی چال کا خاتمہ ہے قیامت کے دن اس کی حرکت باطل ہوجائے گی یہ بےنور ہوجائے گا اور یہ عالم کل کا کل ختم ہوجائے گا۔ یہ مستقر زمانی ہے۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں وہ اپنے مستقر پر چلتا ہے یعنی اپنے وقت اور اپنی میعاد پر جس سے تجاوز کر نہیں سکتا جو اس کے راستے جاڑوں کے اور گرمیوں کے مقرر ہیں انہی راستوں سے آتا جاتا ہے، ابن مسعود اور ابن عباسی ؓ کی قرأت لامستقرلھا ہے یعنی اس کے لئے سکون وقرار نہیں بلکہ دن رات بحکم اللہ چلتا رہتا ہے نہ رکے نہ تھکے جیسے فرمایا (وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاۗىِٕـبَيْنِ ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ 33ۚ) 14۔ ابراھیم :33) یعنی اس نے تمہارے لئے سورج چاند کو مسخر کیا ہے جو نہ تھکیں نہ ٹھہریں قیامت تک چلتے پھرتے ہی رہیں گے۔ یہ اندازہ اس اللہ کا ہے جو غالب ہیں جس کی کوئی مخالفت نہیں کرسکتا جس کے حکم کو کوئی ٹال نہیں سکتا، وہ علیم ہے، ہر حرکت و سکون کو جانتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت کاملہ سے اس کی چال مقرر کی ہے جس میں نہ اختلاف واقع ہو سکے نہ اس کے برعکس ہو سکے جیسے فرمایا اس نے اپنی حکمت کاملہ سے اس کی چال مقرر کی ہے جس میں نہ اختلاف واقع ہو سکے نہ اس کے برعکس ہو سکے جیسے فرمایا (فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ۚ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ۭذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ 96) 6۔ الانعام :96) صبح کا نکالنے والا جس نے رات کو راحت کا وقت بنایا اور سورج چاند کو حساب سے مقرر کیا، یہ ہے اندازہ غالب ذی علم کا۔ حم سجدہ کی آیت کو بھی اسی طرح ختم کیا۔ پھر فرماتا ہے چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کردی ہیں وہ ایک جداگانہ چال چلتا ہے جس سے مہینے معلوم ہوجائیں جیسے سورج کی چال سے رات دن معلوم ہوجاتے ہیں، جیسے فرمان ہے کہ لوگ تجھ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو جواب دے کہ وقت اور حج کے موسم کو بتانے کے لئے ہے اور آیت میں فرمایا اس نے سورج کو ضیاء اور چاند کو نور دیا ہے اور اس کی منزلیں ٹھہرا دی ہیں تاکہ تم سالوں کو اور حساب کو معلوم کرلو۔ ایک آیت میں ہے ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنادیا ہے، رات کی نشانی کو ہم نے دھندلا کردیا ہے اور دن کی نشانی کو روشن کیا ہے تاکہ تم اس میں اپنے رب کی نازل کردہ روزی کو تلاش کرسکو اور برسوں کا شمار اور حساب معلوم کرسکو ہم نے ہر چیز کو خوب تفصیل سے بیان کردیا ہے۔ پس سورج کی چمک دمک اس کے ساتھ مخصوص ہے اور چاند کی روشنی اسی میں ہے۔ اس کی اور اس کی چال بھی مختلف ہے۔ سورج ہر دن طلوع و غروب ہوتا ہے اسی روشنی کے ساتھ ہوتا ہے ہاں اس کے طلوع و غروب کی جگہیں جاڑے میں اور گرمی میں الگ الگ ہوتی ہیں، اسی سبب سے دن رات کی طولانی میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے سورج دن کا ستارہ ہے اور چاند رات کا ستارہ ہے اس کی منزلیں مقرر ہیں۔ مہینے کی پہلی رات طلوع ہوتا ہے بہت چھوٹا سا ہوتا ہے روشنی کم ہوتی ہے، دوسری شب روشنی اس سے بڑھ جاتی ہے اور منزل بھی ترقی کرتی جاتی ہے، پھر جوں جوں بلند ہوتا جاتا ہے روشنی بڑھتی جاتی ہے، گو اس کی نورانیت سورج سے لی ہوئی ہوتی ہے آخر چودہویں رات کو چاند کامل ہوجاتا ہے اور اسی کی چاندنی بھی کمال کی ہوجاتی ہے۔ پھر گھٹنا شروع ہوتا ہے اور اسی طرح درجہ بدرجہ بتدریج گھلتا ہوا مثل کھجور کے خوشے کی ٹہنی کے ہوجاتا ہے جس پر تر کھجوریں لٹکتی ہوں اور وہ خشک ہو کر بل کھا گئی ہو۔ پھر اسے نئے سرے سے اللہ تعالیٰ دوسرے مہینے کی ابتداء میں ظاہر کرتا ہے، عرب میں چاند کی روشنی کے اعتبار سے مہینے کی راتوں کے نام رکھ لئے گئے ہیں، مثلاً پہلی تین راتوں کا نام غرر ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام نفل ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام تسع ہے، اس لئے کہ ان کی آخری رات نویں ہوتی ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام عشر ہے، اس لئے کہ اس کا شروع دسویں سے ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام بیض ہے، اس لئے کہ ان راتوں میں چاندنی کی روشنی آخر تک رہا کرتی ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام ان کے ہاں ورع ہے، یہ لفظ ورعاء کی جمع ہے، ان کا یہ نام اس لئے رکھا ہے کہ سولہویں کو چاند ذرا دیر سے طلوع ہوتا ہے تو تھوڑی دیر تک اندھیرا یعنی سیاہی رہتی ہے اور عرب میں اس بکری کو جس کا سر سیاہ ہو شاۃ درعاء کہتے ہیں، اس کے بعد کی تین راتوں کو ظلم کہتے ہیں، پھر تین کو ضاوس پھر تین کو دراری پھر تین کو محاق اس لئے کہ اس میں چاند ختم ہوجاتا ہے اور مہینہ بھی ختم ہوجاتا ہے ابو عبیدہ ؓ ان میں سے تسع اور عشر کو قبول نہیں کرتے، ملاحظہ ہو کتاب غریب المصنف۔ سورج چاند کی حدیں اس نے مقرر کی ہیں ناممکن ہے کہ کوئی اپنی حد سے ادھر ادھر ہوجائے یا آگے پیچھے ہوجائے، اس کی باری کے وقت وہ گم ہے اس کی باری کے وقت یہ خاموش ہے۔ حسن کہتے ہیں یہ چاند رات کو ہے۔ ابن مبارک کا قول ہے ہوا کے پر ہیں اور چاند پانی کے غلاف تلے جگہ کرتا ہے، ابو صالح فرماتے ہیں اس کی روشنی اس کی روشنی کو پکڑ نہیں سکتی، عکرمہ فرماتے ہیں رات کو سورج طلوع نہیں ہوسکتا۔ نہ رات دن سے سبقت کرسکتی ہے، یعنی رات کے بعد ہی رات نہیں آسکتی بلکہ درمیان میں دن آجائے گا، پس سورج کی سلطنت دن کو ہے اور چاند کی بادشاہت رات کو ہے، رات ادھر سے جاتی ہے ادھر سے دن آتا ہے ایک دوسرے کے تعاقب میں ہیں، لیکن نہ تصادم کا ڈر ہے نہ بےنظمی کا خطرہ ہے، نہ یہ کہ دن ہی دن چلا جائے رات نہ آئے نہ اس کے خلاف، ایک جاتا ہے دوسرا آتا ہے، ہر ایک اپنے اپنے وقت پر غائب و حاضر ہوتا رہتا ہے، سب کے سب یعنی سورج چاند دن رات فلک آسمان میں تیر رہے ہیں اور گھومتے پھرتے ہیں۔ زید بن عاصم کا قول ہے کہ آسمان و زمین کے درمیان فلک میں یہ سب آ جا رہے ہیں، لیکن یہ بہت غریب بلکہ منکر قول ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں فلک مثل چرخے کے تکلے کے ہے بعض کہتے ہیں مثل چکی کے لوہے کے پاٹ کے۔
گردش شمس و قمر۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی ایک اور نشانی بیان ہو رہی ہے اور وہ دن رات ہیں جو اجالے اور اندھیرے والے ہیں اور برابر ایک دوسرے کے پیچھے جا رہے ہیں جیسے فرمایا (يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا 54) 7۔ الاعراف :54) رات سے دن کو چھپاتا ہے اور رات دن کو جلدی جلدی ڈھونڈتی آتی ہے۔ یہاں بھی فرمایا رات میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں، دن تو ختم ہوا اور رات آگئی اور ہر طرف سے اندھیرا چھا گیا۔ حدیث میں ہے جب ادھر سے رات آجائے اور دن ادھر سے چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزے دار افطار کرلے۔ ظاہر آیت تو یہی ہے لیکن حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب مثل آیت (يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ ۭ وَهُوَ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 57۔ الحدید :6) کے ہے یعنی اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے۔ حضرت امام ابن جریر اس قول کو ضعیف بتاتے ہیں اور فرماتے اس آیت میں جو لفظ ایلاج ہے اس کے معنی ایک کی کمی کر کے دوسری میں زیادتی کرنے کے ہیں اور یہ مراد اس آیت میں نہیں، امام صاحب کا یہ قول حق ہے۔ مستقر سے مراد یا تو مستقر مکانی یعنی جائے قرار ہے اور وہ عرش تلے کی وہ سمت ہے پس ایک سورج ہی نہیں بلکہ کل مخلوق عرش کے نیچے ہی ہے اس لئے کہ عرش ساری مخلوق کے اوپر ہے اور سب کو احاطہ کئے ہوئے ہے اور وہ کرہ نہیں ہے جیسے کہ ہئیت داں کہتے ہیں۔ بلکہ وہ مثل قبے کے ہے جس کے پائے ہیں اور جسے فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں انسانوں کے سروں کے اوپر اوپر والے عالم میں ہے، پس جبکہ سورج فلکی قبے میں ٹھیک ظہر کے وقت ہوتا ہے اس وقت وہ عرش سے بہت قریب ہوتا ہے پھر جب وہ گھوم کر چوتھے فلک میں اسی مقام کے بالمقابل آجاتا ہے یہ آدھی رات کا وقت ہوتا ہے جبکہ وہ عرش سے بہت دور ہوجاتا ہے پس وہ سجدہ کرتا ہے اور طلوع کی اجازت چاہتا ہے جیسا کہ احادیث میں ہے۔ صحیح بخاری میں ہے حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں سورج کے غروب ہونے کے وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس مسجد میں تھا تو آپ نے مجھ سے فرمایا جانتے ہو یہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے ؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتا ہے، آپ نے فرمایا وہ عرش تلے جا کر اللہ کو سجدہ کرتا ہے پھر آپ نے آیت والشمس الخ، تلاوت کی اور حدیث میں ہے کہ آپ سے حضرت ابوذر ؓ نے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا اس کی قرار گاہ عرش کے نیچے ہے، مسند احمد میں اس سے پہلے کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے واپس لوٹنے کی اجازت طلب کرتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے۔ گویا اس سے کہا جاتا ہے کہ جاں سے آیا تھا وہیں لوٹ جا تو وہ اپنے طلوع ہونے کی جگہ سے نکلتا ہے اور یہی اس کا مستقر ہے، پھر آپ نے اس آیت کے ابتدائی فقرے کو پڑھا۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے لیکن قبول نہ کیا جائے اور اجازت مانگے لیکن اجازت نہ دی جائے بلکہ کہا جائے جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا پس وہ مغرب سے ہی طلوع ہوگا یہی معنی ہیں اس آیت کے۔ عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں کہ سورج طلوع ہوتا ہے اسے انسانوں کے گناہ لوٹا دیتے ہیں وہ غروب ہو کر سجدے میں پڑتا ہے اور اجازت طلب کرتا ہے، ایک دن یہ غروب ہو کر بہ عاجزی سجدہ کرے گا اور اجازت مانگے گا لیکن اجازت نہ دی جائے گی وہ کہے گا کہ راہ دور ہے اور اجازت ملی نہیں تو پہنچ نہیں سکوں گا پھر کچھ دیر روک رکھنے کے بعد اس سے کہا جائے گا کہ جہاں سے غروب ہوا تھا وہیں سے طلوع ہوجا۔ یہی قیامت کا دن ہوگا جس دن ایمان لانا محض بےسود ہوگا اور نیکیاں کرنا بھی ان کے لئے جو اس سے پہلے ایمان دار اور نیکو کار نہ تھے بیکار ہوگا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مستقر سے مراد اس کے چلنے کی انتہا ہے پوری بلندی جو گرمیوں میں ہوتی ہے اور پوری پستی جو جاڑوں میں ہوتی ہے۔ پس یہ ایک قول ہوا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ آیت کے اس لفظ مستقر سے مراد اس کی چال کا خاتمہ ہے قیامت کے دن اس کی حرکت باطل ہوجائے گی یہ بےنور ہوجائے گا اور یہ عالم کل کا کل ختم ہوجائے گا۔ یہ مستقر زمانی ہے۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں وہ اپنے مستقر پر چلتا ہے یعنی اپنے وقت اور اپنی میعاد پر جس سے تجاوز کر نہیں سکتا جو اس کے راستے جاڑوں کے اور گرمیوں کے مقرر ہیں انہی راستوں سے آتا جاتا ہے، ابن مسعود اور ابن عباسی ؓ کی قرأت لامستقرلھا ہے یعنی اس کے لئے سکون وقرار نہیں بلکہ دن رات بحکم اللہ چلتا رہتا ہے نہ رکے نہ تھکے جیسے فرمایا (وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاۗىِٕـبَيْنِ ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ 33ۚ) 14۔ ابراھیم :33) یعنی اس نے تمہارے لئے سورج چاند کو مسخر کیا ہے جو نہ تھکیں نہ ٹھہریں قیامت تک چلتے پھرتے ہی رہیں گے۔ یہ اندازہ اس اللہ کا ہے جو غالب ہیں جس کی کوئی مخالفت نہیں کرسکتا جس کے حکم کو کوئی ٹال نہیں سکتا، وہ علیم ہے، ہر حرکت و سکون کو جانتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت کاملہ سے اس کی چال مقرر کی ہے جس میں نہ اختلاف واقع ہو سکے نہ اس کے برعکس ہو سکے جیسے فرمایا اس نے اپنی حکمت کاملہ سے اس کی چال مقرر کی ہے جس میں نہ اختلاف واقع ہو سکے نہ اس کے برعکس ہو سکے جیسے فرمایا (فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ۚ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ۭذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ 96) 6۔ الانعام :96) صبح کا نکالنے والا جس نے رات کو راحت کا وقت بنایا اور سورج چاند کو حساب سے مقرر کیا، یہ ہے اندازہ غالب ذی علم کا۔ حم سجدہ کی آیت کو بھی اسی طرح ختم کیا۔ پھر فرماتا ہے چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کردی ہیں وہ ایک جداگانہ چال چلتا ہے جس سے مہینے معلوم ہوجائیں جیسے سورج کی چال سے رات دن معلوم ہوجاتے ہیں، جیسے فرمان ہے کہ لوگ تجھ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو جواب دے کہ وقت اور حج کے موسم کو بتانے کے لئے ہے اور آیت میں فرمایا اس نے سورج کو ضیاء اور چاند کو نور دیا ہے اور اس کی منزلیں ٹھہرا دی ہیں تاکہ تم سالوں کو اور حساب کو معلوم کرلو۔ ایک آیت میں ہے ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنادیا ہے، رات کی نشانی کو ہم نے دھندلا کردیا ہے اور دن کی نشانی کو روشن کیا ہے تاکہ تم اس میں اپنے رب کی نازل کردہ روزی کو تلاش کرسکو اور برسوں کا شمار اور حساب معلوم کرسکو ہم نے ہر چیز کو خوب تفصیل سے بیان کردیا ہے۔ پس سورج کی چمک دمک اس کے ساتھ مخصوص ہے اور چاند کی روشنی اسی میں ہے۔ اس کی اور اس کی چال بھی مختلف ہے۔ سورج ہر دن طلوع و غروب ہوتا ہے اسی روشنی کے ساتھ ہوتا ہے ہاں اس کے طلوع و غروب کی جگہیں جاڑے میں اور گرمی میں الگ الگ ہوتی ہیں، اسی سبب سے دن رات کی طولانی میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے سورج دن کا ستارہ ہے اور چاند رات کا ستارہ ہے اس کی منزلیں مقرر ہیں۔ مہینے کی پہلی رات طلوع ہوتا ہے بہت چھوٹا سا ہوتا ہے روشنی کم ہوتی ہے، دوسری شب روشنی اس سے بڑھ جاتی ہے اور منزل بھی ترقی کرتی جاتی ہے، پھر جوں جوں بلند ہوتا جاتا ہے روشنی بڑھتی جاتی ہے، گو اس کی نورانیت سورج سے لی ہوئی ہوتی ہے آخر چودہویں رات کو چاند کامل ہوجاتا ہے اور اسی کی چاندنی بھی کمال کی ہوجاتی ہے۔ پھر گھٹنا شروع ہوتا ہے اور اسی طرح درجہ بدرجہ بتدریج گھلتا ہوا مثل کھجور کے خوشے کی ٹہنی کے ہوجاتا ہے جس پر تر کھجوریں لٹکتی ہوں اور وہ خشک ہو کر بل کھا گئی ہو۔ پھر اسے نئے سرے سے اللہ تعالیٰ دوسرے مہینے کی ابتداء میں ظاہر کرتا ہے، عرب میں چاند کی روشنی کے اعتبار سے مہینے کی راتوں کے نام رکھ لئے گئے ہیں، مثلاً پہلی تین راتوں کا نام غرر ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام نفل ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام تسع ہے، اس لئے کہ ان کی آخری رات نویں ہوتی ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام عشر ہے، اس لئے کہ اس کا شروع دسویں سے ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام بیض ہے، اس لئے کہ ان راتوں میں چاندنی کی روشنی آخر تک رہا کرتی ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام ان کے ہاں ورع ہے، یہ لفظ ورعاء کی جمع ہے، ان کا یہ نام اس لئے رکھا ہے کہ سولہویں کو چاند ذرا دیر سے طلوع ہوتا ہے تو تھوڑی دیر تک اندھیرا یعنی سیاہی رہتی ہے اور عرب میں اس بکری کو جس کا سر سیاہ ہو شاۃ درعاء کہتے ہیں، اس کے بعد کی تین راتوں کو ظلم کہتے ہیں، پھر تین کو ضاوس پھر تین کو دراری پھر تین کو محاق اس لئے کہ اس میں چاند ختم ہوجاتا ہے اور مہینہ بھی ختم ہوجاتا ہے ابو عبیدہ ؓ ان میں سے تسع اور عشر کو قبول نہیں کرتے، ملاحظہ ہو کتاب غریب المصنف۔ سورج چاند کی حدیں اس نے مقرر کی ہیں ناممکن ہے کہ کوئی اپنی حد سے ادھر ادھر ہوجائے یا آگے پیچھے ہوجائے، اس کی باری کے وقت وہ گم ہے اس کی باری کے وقت یہ خاموش ہے۔ حسن کہتے ہیں یہ چاند رات کو ہے۔ ابن مبارک کا قول ہے ہوا کے پر ہیں اور چاند پانی کے غلاف تلے جگہ کرتا ہے، ابو صالح فرماتے ہیں اس کی روشنی اس کی روشنی کو پکڑ نہیں سکتی، عکرمہ فرماتے ہیں رات کو سورج طلوع نہیں ہوسکتا۔ نہ رات دن سے سبقت کرسکتی ہے، یعنی رات کے بعد ہی رات نہیں آسکتی بلکہ درمیان میں دن آجائے گا، پس سورج کی سلطنت دن کو ہے اور چاند کی بادشاہت رات کو ہے، رات ادھر سے جاتی ہے ادھر سے دن آتا ہے ایک دوسرے کے تعاقب میں ہیں، لیکن نہ تصادم کا ڈر ہے نہ بےنظمی کا خطرہ ہے، نہ یہ کہ دن ہی دن چلا جائے رات نہ آئے نہ اس کے خلاف، ایک جاتا ہے دوسرا آتا ہے، ہر ایک اپنے اپنے وقت پر غائب و حاضر ہوتا رہتا ہے، سب کے سب یعنی سورج چاند دن رات فلک آسمان میں تیر رہے ہیں اور گھومتے پھرتے ہیں۔ زید بن عاصم کا قول ہے کہ آسمان و زمین کے درمیان فلک میں یہ سب آ جا رہے ہیں، لیکن یہ بہت غریب بلکہ منکر قول ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں فلک مثل چرخے کے تکلے کے ہے بعض کہتے ہیں مثل چکی کے لوہے کے پاٹ کے۔
گردش شمس و قمر۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی ایک اور نشانی بیان ہو رہی ہے اور وہ دن رات ہیں جو اجالے اور اندھیرے والے ہیں اور برابر ایک دوسرے کے پیچھے جا رہے ہیں جیسے فرمایا (يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا 54) 7۔ الاعراف :54) رات سے دن کو چھپاتا ہے اور رات دن کو جلدی جلدی ڈھونڈتی آتی ہے۔ یہاں بھی فرمایا رات میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں، دن تو ختم ہوا اور رات آگئی اور ہر طرف سے اندھیرا چھا گیا۔ حدیث میں ہے جب ادھر سے رات آجائے اور دن ادھر سے چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزے دار افطار کرلے۔ ظاہر آیت تو یہی ہے لیکن حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب مثل آیت (يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ ۭ وَهُوَ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 57۔ الحدید :6) کے ہے یعنی اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے۔ حضرت امام ابن جریر اس قول کو ضعیف بتاتے ہیں اور فرماتے اس آیت میں جو لفظ ایلاج ہے اس کے معنی ایک کی کمی کر کے دوسری میں زیادتی کرنے کے ہیں اور یہ مراد اس آیت میں نہیں، امام صاحب کا یہ قول حق ہے۔ مستقر سے مراد یا تو مستقر مکانی یعنی جائے قرار ہے اور وہ عرش تلے کی وہ سمت ہے پس ایک سورج ہی نہیں بلکہ کل مخلوق عرش کے نیچے ہی ہے اس لئے کہ عرش ساری مخلوق کے اوپر ہے اور سب کو احاطہ کئے ہوئے ہے اور وہ کرہ نہیں ہے جیسے کہ ہئیت داں کہتے ہیں۔ بلکہ وہ مثل قبے کے ہے جس کے پائے ہیں اور جسے فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں انسانوں کے سروں کے اوپر اوپر والے عالم میں ہے، پس جبکہ سورج فلکی قبے میں ٹھیک ظہر کے وقت ہوتا ہے اس وقت وہ عرش سے بہت قریب ہوتا ہے پھر جب وہ گھوم کر چوتھے فلک میں اسی مقام کے بالمقابل آجاتا ہے یہ آدھی رات کا وقت ہوتا ہے جبکہ وہ عرش سے بہت دور ہوجاتا ہے پس وہ سجدہ کرتا ہے اور طلوع کی اجازت چاہتا ہے جیسا کہ احادیث میں ہے۔ صحیح بخاری میں ہے حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں سورج کے غروب ہونے کے وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس مسجد میں تھا تو آپ نے مجھ سے فرمایا جانتے ہو یہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے ؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتا ہے، آپ نے فرمایا وہ عرش تلے جا کر اللہ کو سجدہ کرتا ہے پھر آپ نے آیت والشمس الخ، تلاوت کی اور حدیث میں ہے کہ آپ سے حضرت ابوذر ؓ نے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا اس کی قرار گاہ عرش کے نیچے ہے، مسند احمد میں اس سے پہلے کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے واپس لوٹنے کی اجازت طلب کرتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے۔ گویا اس سے کہا جاتا ہے کہ جاں سے آیا تھا وہیں لوٹ جا تو وہ اپنے طلوع ہونے کی جگہ سے نکلتا ہے اور یہی اس کا مستقر ہے، پھر آپ نے اس آیت کے ابتدائی فقرے کو پڑھا۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے لیکن قبول نہ کیا جائے اور اجازت مانگے لیکن اجازت نہ دی جائے بلکہ کہا جائے جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا پس وہ مغرب سے ہی طلوع ہوگا یہی معنی ہیں اس آیت کے۔ عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں کہ سورج طلوع ہوتا ہے اسے انسانوں کے گناہ لوٹا دیتے ہیں وہ غروب ہو کر سجدے میں پڑتا ہے اور اجازت طلب کرتا ہے، ایک دن یہ غروب ہو کر بہ عاجزی سجدہ کرے گا اور اجازت مانگے گا لیکن اجازت نہ دی جائے گی وہ کہے گا کہ راہ دور ہے اور اجازت ملی نہیں تو پہنچ نہیں سکوں گا پھر کچھ دیر روک رکھنے کے بعد اس سے کہا جائے گا کہ جہاں سے غروب ہوا تھا وہیں سے طلوع ہوجا۔ یہی قیامت کا دن ہوگا جس دن ایمان لانا محض بےسود ہوگا اور نیکیاں کرنا بھی ان کے لئے جو اس سے پہلے ایمان دار اور نیکو کار نہ تھے بیکار ہوگا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مستقر سے مراد اس کے چلنے کی انتہا ہے پوری بلندی جو گرمیوں میں ہوتی ہے اور پوری پستی جو جاڑوں میں ہوتی ہے۔ پس یہ ایک قول ہوا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ آیت کے اس لفظ مستقر سے مراد اس کی چال کا خاتمہ ہے قیامت کے دن اس کی حرکت باطل ہوجائے گی یہ بےنور ہوجائے گا اور یہ عالم کل کا کل ختم ہوجائے گا۔ یہ مستقر زمانی ہے۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں وہ اپنے مستقر پر چلتا ہے یعنی اپنے وقت اور اپنی میعاد پر جس سے تجاوز کر نہیں سکتا جو اس کے راستے جاڑوں کے اور گرمیوں کے مقرر ہیں انہی راستوں سے آتا جاتا ہے، ابن مسعود اور ابن عباسی ؓ کی قرأت لامستقرلھا ہے یعنی اس کے لئے سکون وقرار نہیں بلکہ دن رات بحکم اللہ چلتا رہتا ہے نہ رکے نہ تھکے جیسے فرمایا (وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاۗىِٕـبَيْنِ ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ 33ۚ) 14۔ ابراھیم :33) یعنی اس نے تمہارے لئے سورج چاند کو مسخر کیا ہے جو نہ تھکیں نہ ٹھہریں قیامت تک چلتے پھرتے ہی رہیں گے۔ یہ اندازہ اس اللہ کا ہے جو غالب ہیں جس کی کوئی مخالفت نہیں کرسکتا جس کے حکم کو کوئی ٹال نہیں سکتا، وہ علیم ہے، ہر حرکت و سکون کو جانتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت کاملہ سے اس کی چال مقرر کی ہے جس میں نہ اختلاف واقع ہو سکے نہ اس کے برعکس ہو سکے جیسے فرمایا اس نے اپنی حکمت کاملہ سے اس کی چال مقرر کی ہے جس میں نہ اختلاف واقع ہو سکے نہ اس کے برعکس ہو سکے جیسے فرمایا (فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ۚ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ۭذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ 96) 6۔ الانعام :96) صبح کا نکالنے والا جس نے رات کو راحت کا وقت بنایا اور سورج چاند کو حساب سے مقرر کیا، یہ ہے اندازہ غالب ذی علم کا۔ حم سجدہ کی آیت کو بھی اسی طرح ختم کیا۔ پھر فرماتا ہے چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کردی ہیں وہ ایک جداگانہ چال چلتا ہے جس سے مہینے معلوم ہوجائیں جیسے سورج کی چال سے رات دن معلوم ہوجاتے ہیں، جیسے فرمان ہے کہ لوگ تجھ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو جواب دے کہ وقت اور حج کے موسم کو بتانے کے لئے ہے اور آیت میں فرمایا اس نے سورج کو ضیاء اور چاند کو نور دیا ہے اور اس کی منزلیں ٹھہرا دی ہیں تاکہ تم سالوں کو اور حساب کو معلوم کرلو۔ ایک آیت میں ہے ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنادیا ہے، رات کی نشانی کو ہم نے دھندلا کردیا ہے اور دن کی نشانی کو روشن کیا ہے تاکہ تم اس میں اپنے رب کی نازل کردہ روزی کو تلاش کرسکو اور برسوں کا شمار اور حساب معلوم کرسکو ہم نے ہر چیز کو خوب تفصیل سے بیان کردیا ہے۔ پس سورج کی چمک دمک اس کے ساتھ مخصوص ہے اور چاند کی روشنی اسی میں ہے۔ اس کی اور اس کی چال بھی مختلف ہے۔ سورج ہر دن طلوع و غروب ہوتا ہے اسی روشنی کے ساتھ ہوتا ہے ہاں اس کے طلوع و غروب کی جگہیں جاڑے میں اور گرمی میں الگ الگ ہوتی ہیں، اسی سبب سے دن رات کی طولانی میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے سورج دن کا ستارہ ہے اور چاند رات کا ستارہ ہے اس کی منزلیں مقرر ہیں۔ مہینے کی پہلی رات طلوع ہوتا ہے بہت چھوٹا سا ہوتا ہے روشنی کم ہوتی ہے، دوسری شب روشنی اس سے بڑھ جاتی ہے اور منزل بھی ترقی کرتی جاتی ہے، پھر جوں جوں بلند ہوتا جاتا ہے روشنی بڑھتی جاتی ہے، گو اس کی نورانیت سورج سے لی ہوئی ہوتی ہے آخر چودہویں رات کو چاند کامل ہوجاتا ہے اور اسی کی چاندنی بھی کمال کی ہوجاتی ہے۔ پھر گھٹنا شروع ہوتا ہے اور اسی طرح درجہ بدرجہ بتدریج گھلتا ہوا مثل کھجور کے خوشے کی ٹہنی کے ہوجاتا ہے جس پر تر کھجوریں لٹکتی ہوں اور وہ خشک ہو کر بل کھا گئی ہو۔ پھر اسے نئے سرے سے اللہ تعالیٰ دوسرے مہینے کی ابتداء میں ظاہر کرتا ہے، عرب میں چاند کی روشنی کے اعتبار سے مہینے کی راتوں کے نام رکھ لئے گئے ہیں، مثلاً پہلی تین راتوں کا نام غرر ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام نفل ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام تسع ہے، اس لئے کہ ان کی آخری رات نویں ہوتی ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام عشر ہے، اس لئے کہ اس کا شروع دسویں سے ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام بیض ہے، اس لئے کہ ان راتوں میں چاندنی کی روشنی آخر تک رہا کرتی ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام ان کے ہاں ورع ہے، یہ لفظ ورعاء کی جمع ہے، ان کا یہ نام اس لئے رکھا ہے کہ سولہویں کو چاند ذرا دیر سے طلوع ہوتا ہے تو تھوڑی دیر تک اندھیرا یعنی سیاہی رہتی ہے اور عرب میں اس بکری کو جس کا سر سیاہ ہو شاۃ درعاء کہتے ہیں، اس کے بعد کی تین راتوں کو ظلم کہتے ہیں، پھر تین کو ضاوس پھر تین کو دراری پھر تین کو محاق اس لئے کہ اس میں چاند ختم ہوجاتا ہے اور مہینہ بھی ختم ہوجاتا ہے ابو عبیدہ ؓ ان میں سے تسع اور عشر کو قبول نہیں کرتے، ملاحظہ ہو کتاب غریب المصنف۔ سورج چاند کی حدیں اس نے مقرر کی ہیں ناممکن ہے کہ کوئی اپنی حد سے ادھر ادھر ہوجائے یا آگے پیچھے ہوجائے، اس کی باری کے وقت وہ گم ہے اس کی باری کے وقت یہ خاموش ہے۔ حسن کہتے ہیں یہ چاند رات کو ہے۔ ابن مبارک کا قول ہے ہوا کے پر ہیں اور چاند پانی کے غلاف تلے جگہ کرتا ہے، ابو صالح فرماتے ہیں اس کی روشنی اس کی روشنی کو پکڑ نہیں سکتی، عکرمہ فرماتے ہیں رات کو سورج طلوع نہیں ہوسکتا۔ نہ رات دن سے سبقت کرسکتی ہے، یعنی رات کے بعد ہی رات نہیں آسکتی بلکہ درمیان میں دن آجائے گا، پس سورج کی سلطنت دن کو ہے اور چاند کی بادشاہت رات کو ہے، رات ادھر سے جاتی ہے ادھر سے دن آتا ہے ایک دوسرے کے تعاقب میں ہیں، لیکن نہ تصادم کا ڈر ہے نہ بےنظمی کا خطرہ ہے، نہ یہ کہ دن ہی دن چلا جائے رات نہ آئے نہ اس کے خلاف، ایک جاتا ہے دوسرا آتا ہے، ہر ایک اپنے اپنے وقت پر غائب و حاضر ہوتا رہتا ہے، سب کے سب یعنی سورج چاند دن رات فلک آسمان میں تیر رہے ہیں اور گھومتے پھرتے ہیں۔ زید بن عاصم کا قول ہے کہ آسمان و زمین کے درمیان فلک میں یہ سب آ جا رہے ہیں، لیکن یہ بہت غریب بلکہ منکر قول ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں فلک مثل چرخے کے تکلے کے ہے بعض کہتے ہیں مثل چکی کے لوہے کے پاٹ کے۔
سمندر کی تسخیر۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کی ایک اور نشانی بتارہا ہے کہ اس نے سمندر کو مسخر کردیا ہے جس میں کشتیاں برابر آمد و رفت کر رہی ہیں۔ سب سے پہلی کشتی حضرت نوح ؑ کی تھی جس پر سوار ہو کر وہ خود اور ان کے ساتھ ایماندار بندے نجات پا گئے تھے باقی روئے زمین پر ایک انسان بھی نہ بچا تھا، ہم نے اس زمانے والے لوگوں کے آباؤ اجداد کو کشتی میں بٹھا لیا تھا جو بالکل بھرپور تھی۔ کیونکہ اس میں ضرورت اکل اسباب بھی تھا اور ساتھ ہی حیوانات بھی تھے جو اللہ کے حکم سے اس میں بٹھا لئے گئے تھے ہر قسم کے جانور کا ایک ایک جوڑا تھا، بڑا باوقار مضبوط اور بوجھل وہ جہاز تھا، یہ صفت بھی صحیح طور پر حضرت نوح کی کشتی پر صادق آتی ہے۔ اسی طرح کی خشکی کی سواریاں بھی اللہ نے ان کے لئے پیدا کردی ہیں مثلاً اونٹ جو خشکی میں وہی کام دیتا ہے جو تری میں کشتی کام دیتی ہے۔ اسی طرح دیگر چوپائے جانور ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کشتی نوح نمونہ بنی اور پھر اس نمونے پر اور کشتیاں اور جہاز بنتے چلے گئے۔ اس مطلب کی تائید آیت (لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّتَعِيَهَآ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ 12) 69۔ الحاقة :12) سے بھی ہوتی ہے یعنی جب پانی نے طغیانی کی تو ہم نے انہیں کشتی میں سوار کرلیا تاکہ اسے تمہارے لئے ایک یادگار بنادیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔ ہمارے اس احسان کو فراموش نہ کرو کہ سمندر سے ہم نے تمہیں پار کردیا اگر ہم چاہتے تو اسی میں تمہیں ڈبو دیتے کشتی کی کشتی بیٹھ جاتی کوئی نہ ہوتا جو اس وقت تمہاری فریاد رسی کرتا نہ کوئی ایسا تمہیں ملتا جو تمہیں بچا سکتا۔ لیکن یہ صرف ہماری رحمت ہے کہ خشکی اور تری کے لمبے چوڑے سفر تم با آرام و راحت طے کر رہے ہو اور ہم تمہیں اپنے ٹھہرائے ہوئے وقت تک ہر طرح سلامت رکھتے ہیں۔
سمندر کی تسخیر۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کی ایک اور نشانی بتارہا ہے کہ اس نے سمندر کو مسخر کردیا ہے جس میں کشتیاں برابر آمد و رفت کر رہی ہیں۔ سب سے پہلی کشتی حضرت نوح ؑ کی تھی جس پر سوار ہو کر وہ خود اور ان کے ساتھ ایماندار بندے نجات پا گئے تھے باقی روئے زمین پر ایک انسان بھی نہ بچا تھا، ہم نے اس زمانے والے لوگوں کے آباؤ اجداد کو کشتی میں بٹھا لیا تھا جو بالکل بھرپور تھی۔ کیونکہ اس میں ضرورت اکل اسباب بھی تھا اور ساتھ ہی حیوانات بھی تھے جو اللہ کے حکم سے اس میں بٹھا لئے گئے تھے ہر قسم کے جانور کا ایک ایک جوڑا تھا، بڑا باوقار مضبوط اور بوجھل وہ جہاز تھا، یہ صفت بھی صحیح طور پر حضرت نوح کی کشتی پر صادق آتی ہے۔ اسی طرح کی خشکی کی سواریاں بھی اللہ نے ان کے لئے پیدا کردی ہیں مثلاً اونٹ جو خشکی میں وہی کام دیتا ہے جو تری میں کشتی کام دیتی ہے۔ اسی طرح دیگر چوپائے جانور ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کشتی نوح نمونہ بنی اور پھر اس نمونے پر اور کشتیاں اور جہاز بنتے چلے گئے۔ اس مطلب کی تائید آیت (لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّتَعِيَهَآ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ 12) 69۔ الحاقة :12) سے بھی ہوتی ہے یعنی جب پانی نے طغیانی کی تو ہم نے انہیں کشتی میں سوار کرلیا تاکہ اسے تمہارے لئے ایک یادگار بنادیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔ ہمارے اس احسان کو فراموش نہ کرو کہ سمندر سے ہم نے تمہیں پار کردیا اگر ہم چاہتے تو اسی میں تمہیں ڈبو دیتے کشتی کی کشتی بیٹھ جاتی کوئی نہ ہوتا جو اس وقت تمہاری فریاد رسی کرتا نہ کوئی ایسا تمہیں ملتا جو تمہیں بچا سکتا۔ لیکن یہ صرف ہماری رحمت ہے کہ خشکی اور تری کے لمبے چوڑے سفر تم با آرام و راحت طے کر رہے ہو اور ہم تمہیں اپنے ٹھہرائے ہوئے وقت تک ہر طرح سلامت رکھتے ہیں۔
سمندر کی تسخیر۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کی ایک اور نشانی بتارہا ہے کہ اس نے سمندر کو مسخر کردیا ہے جس میں کشتیاں برابر آمد و رفت کر رہی ہیں۔ سب سے پہلی کشتی حضرت نوح ؑ کی تھی جس پر سوار ہو کر وہ خود اور ان کے ساتھ ایماندار بندے نجات پا گئے تھے باقی روئے زمین پر ایک انسان بھی نہ بچا تھا، ہم نے اس زمانے والے لوگوں کے آباؤ اجداد کو کشتی میں بٹھا لیا تھا جو بالکل بھرپور تھی۔ کیونکہ اس میں ضرورت اکل اسباب بھی تھا اور ساتھ ہی حیوانات بھی تھے جو اللہ کے حکم سے اس میں بٹھا لئے گئے تھے ہر قسم کے جانور کا ایک ایک جوڑا تھا، بڑا باوقار مضبوط اور بوجھل وہ جہاز تھا، یہ صفت بھی صحیح طور پر حضرت نوح کی کشتی پر صادق آتی ہے۔ اسی طرح کی خشکی کی سواریاں بھی اللہ نے ان کے لئے پیدا کردی ہیں مثلاً اونٹ جو خشکی میں وہی کام دیتا ہے جو تری میں کشتی کام دیتی ہے۔ اسی طرح دیگر چوپائے جانور ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کشتی نوح نمونہ بنی اور پھر اس نمونے پر اور کشتیاں اور جہاز بنتے چلے گئے۔ اس مطلب کی تائید آیت (لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّتَعِيَهَآ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ 12) 69۔ الحاقة :12) سے بھی ہوتی ہے یعنی جب پانی نے طغیانی کی تو ہم نے انہیں کشتی میں سوار کرلیا تاکہ اسے تمہارے لئے ایک یادگار بنادیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔ ہمارے اس احسان کو فراموش نہ کرو کہ سمندر سے ہم نے تمہیں پار کردیا اگر ہم چاہتے تو اسی میں تمہیں ڈبو دیتے کشتی کی کشتی بیٹھ جاتی کوئی نہ ہوتا جو اس وقت تمہاری فریاد رسی کرتا نہ کوئی ایسا تمہیں ملتا جو تمہیں بچا سکتا۔ لیکن یہ صرف ہماری رحمت ہے کہ خشکی اور تری کے لمبے چوڑے سفر تم با آرام و راحت طے کر رہے ہو اور ہم تمہیں اپنے ٹھہرائے ہوئے وقت تک ہر طرح سلامت رکھتے ہیں۔
سمندر کی تسخیر۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کی ایک اور نشانی بتارہا ہے کہ اس نے سمندر کو مسخر کردیا ہے جس میں کشتیاں برابر آمد و رفت کر رہی ہیں۔ سب سے پہلی کشتی حضرت نوح ؑ کی تھی جس پر سوار ہو کر وہ خود اور ان کے ساتھ ایماندار بندے نجات پا گئے تھے باقی روئے زمین پر ایک انسان بھی نہ بچا تھا، ہم نے اس زمانے والے لوگوں کے آباؤ اجداد کو کشتی میں بٹھا لیا تھا جو بالکل بھرپور تھی۔ کیونکہ اس میں ضرورت اکل اسباب بھی تھا اور ساتھ ہی حیوانات بھی تھے جو اللہ کے حکم سے اس میں بٹھا لئے گئے تھے ہر قسم کے جانور کا ایک ایک جوڑا تھا، بڑا باوقار مضبوط اور بوجھل وہ جہاز تھا، یہ صفت بھی صحیح طور پر حضرت نوح کی کشتی پر صادق آتی ہے۔ اسی طرح کی خشکی کی سواریاں بھی اللہ نے ان کے لئے پیدا کردی ہیں مثلاً اونٹ جو خشکی میں وہی کام دیتا ہے جو تری میں کشتی کام دیتی ہے۔ اسی طرح دیگر چوپائے جانور ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کشتی نوح نمونہ بنی اور پھر اس نمونے پر اور کشتیاں اور جہاز بنتے چلے گئے۔ اس مطلب کی تائید آیت (لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّتَعِيَهَآ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ 12) 69۔ الحاقة :12) سے بھی ہوتی ہے یعنی جب پانی نے طغیانی کی تو ہم نے انہیں کشتی میں سوار کرلیا تاکہ اسے تمہارے لئے ایک یادگار بنادیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔ ہمارے اس احسان کو فراموش نہ کرو کہ سمندر سے ہم نے تمہیں پار کردیا اگر ہم چاہتے تو اسی میں تمہیں ڈبو دیتے کشتی کی کشتی بیٹھ جاتی کوئی نہ ہوتا جو اس وقت تمہاری فریاد رسی کرتا نہ کوئی ایسا تمہیں ملتا جو تمہیں بچا سکتا۔ لیکن یہ صرف ہماری رحمت ہے کہ خشکی اور تری کے لمبے چوڑے سفر تم با آرام و راحت طے کر رہے ہو اور ہم تمہیں اپنے ٹھہرائے ہوئے وقت تک ہر طرح سلامت رکھتے ہیں۔
کفار کا تکبر۔کافروں کی سرکشی نادانی اور عناد تکبر بیان ہو رہا ہے کہ جب ان سے گناہوں سے بچنے کو کہا جاتا ہے کہ جو کرچکے ان پر نادم ہوجاؤ ان سے توبہ کرلو اور آئندہ کے لئے ان سے احتیاط کرو۔ اس سے اللہ تم پر رحم فرمائے گا اور تمہیں اپنے عذابوں سے بچا لے گا۔ تو وہ اس پر کار بند ہوا تو ایک طرف اور منہ پھلا لیتے ہیں، قرآن نے اس جملے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ آگے جو آیت ہے وہ اس پر صاف طور سے دلالت کرتی ہے۔ اس میں ہے کہ یہی ایک بات کیا ؟ ان کی تو عادت ہوگئی ہے کہ اللہ کی ہر بات سے منہ پھیر لیں۔ نہ اسکی توحید کو مانتے ہیں نہ رسولوں کو سچا جانتے ہیں نہ ان میں غور و خوض کی عادت نہ ان میں قبولیت کا مادہ، نہ نفع کو حاصل کرنے کا ملکہ۔ ان کو جب کبھی اللہ کی راہ میں خیرات کرنے کو کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو تمہیں دیا ہے اس میں فقراء مساکین اور محتاجوں کا حصہ بھی ہے۔ تو یہ جواب دیتے ہیں کہ اگر اللہ کا ارادہ ہوتا تو ان غریبوں کو خود ہی دیتا، جب اللہ ہی کا ارادہ انہیں دینے کا نہیں تو ہم اللہ کے ارادے کے خلاف کیوں کریں ؟ تم جو ہمیں خیرات کی نصیحت کر رہے ہو اس میں بالکل غلطی پر ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ پچھلہ جملہ کفار کی تردید میں اللہ کی طرف سے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کفار سے فرما رہا ہے کہ تم کھلی گمراہی میں ہو لیکن ان سے یہی اچھا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی کفار کے جواب کا حصہ ہے۔ واللہ اعلم۔
کفار کا تکبر۔کافروں کی سرکشی نادانی اور عناد تکبر بیان ہو رہا ہے کہ جب ان سے گناہوں سے بچنے کو کہا جاتا ہے کہ جو کرچکے ان پر نادم ہوجاؤ ان سے توبہ کرلو اور آئندہ کے لئے ان سے احتیاط کرو۔ اس سے اللہ تم پر رحم فرمائے گا اور تمہیں اپنے عذابوں سے بچا لے گا۔ تو وہ اس پر کار بند ہوا تو ایک طرف اور منہ پھلا لیتے ہیں، قرآن نے اس جملے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ آگے جو آیت ہے وہ اس پر صاف طور سے دلالت کرتی ہے۔ اس میں ہے کہ یہی ایک بات کیا ؟ ان کی تو عادت ہوگئی ہے کہ اللہ کی ہر بات سے منہ پھیر لیں۔ نہ اسکی توحید کو مانتے ہیں نہ رسولوں کو سچا جانتے ہیں نہ ان میں غور و خوض کی عادت نہ ان میں قبولیت کا مادہ، نہ نفع کو حاصل کرنے کا ملکہ۔ ان کو جب کبھی اللہ کی راہ میں خیرات کرنے کو کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو تمہیں دیا ہے اس میں فقراء مساکین اور محتاجوں کا حصہ بھی ہے۔ تو یہ جواب دیتے ہیں کہ اگر اللہ کا ارادہ ہوتا تو ان غریبوں کو خود ہی دیتا، جب اللہ ہی کا ارادہ انہیں دینے کا نہیں تو ہم اللہ کے ارادے کے خلاف کیوں کریں ؟ تم جو ہمیں خیرات کی نصیحت کر رہے ہو اس میں بالکل غلطی پر ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ پچھلہ جملہ کفار کی تردید میں اللہ کی طرف سے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کفار سے فرما رہا ہے کہ تم کھلی گمراہی میں ہو لیکن ان سے یہی اچھا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی کفار کے جواب کا حصہ ہے۔ واللہ اعلم۔
کفار کا تکبر۔کافروں کی سرکشی نادانی اور عناد تکبر بیان ہو رہا ہے کہ جب ان سے گناہوں سے بچنے کو کہا جاتا ہے کہ جو کرچکے ان پر نادم ہوجاؤ ان سے توبہ کرلو اور آئندہ کے لئے ان سے احتیاط کرو۔ اس سے اللہ تم پر رحم فرمائے گا اور تمہیں اپنے عذابوں سے بچا لے گا۔ تو وہ اس پر کار بند ہوا تو ایک طرف اور منہ پھلا لیتے ہیں، قرآن نے اس جملے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ آگے جو آیت ہے وہ اس پر صاف طور سے دلالت کرتی ہے۔ اس میں ہے کہ یہی ایک بات کیا ؟ ان کی تو عادت ہوگئی ہے کہ اللہ کی ہر بات سے منہ پھیر لیں۔ نہ اسکی توحید کو مانتے ہیں نہ رسولوں کو سچا جانتے ہیں نہ ان میں غور و خوض کی عادت نہ ان میں قبولیت کا مادہ، نہ نفع کو حاصل کرنے کا ملکہ۔ ان کو جب کبھی اللہ کی راہ میں خیرات کرنے کو کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو تمہیں دیا ہے اس میں فقراء مساکین اور محتاجوں کا حصہ بھی ہے۔ تو یہ جواب دیتے ہیں کہ اگر اللہ کا ارادہ ہوتا تو ان غریبوں کو خود ہی دیتا، جب اللہ ہی کا ارادہ انہیں دینے کا نہیں تو ہم اللہ کے ارادے کے خلاف کیوں کریں ؟ تم جو ہمیں خیرات کی نصیحت کر رہے ہو اس میں بالکل غلطی پر ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ پچھلہ جملہ کفار کی تردید میں اللہ کی طرف سے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کفار سے فرما رہا ہے کہ تم کھلی گمراہی میں ہو لیکن ان سے یہی اچھا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی کفار کے جواب کا حصہ ہے۔ واللہ اعلم۔
قیامت کے بعد کوئی مہلت نہ ملے گی۔ کافر چونکہ قیامت کے آنے کے قائل نہ تھے اس لئے وہ نبیوں سے اور مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ پھر قیامت کو لاتے کیوں نہیں ؟ اچھا یہ تو بتاؤ کہ کب آئے گی ؟ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے۔ کہ اس کے آنے کے لئے ہمیں کچھ سامان نہیں کرنے پڑیں گے، صرف ایک مرتبہ صور پھونک دیا جائے گا۔ دنیا کے لوگ روزمرہ کی طرح اپنے اپنے کام کاج میں مشغول ہوں گے جب اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہیں لوگ ادھر ادھر گرنے شروع ہوجائیں گے اس آسمانی تیز و تند آواز سے سب کے سب محشر میں اللہ کے سامنے جمع کردیئے جائیں گے اس چیخ کے بعد کسی کو اتنی بھی مہلت نہیں ملنی کہ کسی سے کچھ کہہ سن سکے، کوئی وصیت اور نصیحت کرسکے اور نہ ہی انہیں اپنے گھروں کو واپس جانے کی طاقت رہے گی۔ اس آیت کے متعلق بہت سے آثار و احادیث ہیں جنہیں ہم دوسری جگہ وارد کرچکے ہیں۔ اس پہلے نفخہ کے بعد دوسرا نفخہ ہوگا جس سے سب کے سب مرجائیں گے، کل جہان فنا ہوجائے گا، بجز اس ہمیشگی والے اللہ عزوجل کے جسے فنا نہیں۔ اس کے بعد پھر جی اٹھنے کا نفخہ ہوگا۔
قیامت کے بعد کوئی مہلت نہ ملے گی۔ کافر چونکہ قیامت کے آنے کے قائل نہ تھے اس لئے وہ نبیوں سے اور مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ پھر قیامت کو لاتے کیوں نہیں ؟ اچھا یہ تو بتاؤ کہ کب آئے گی ؟ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے۔ کہ اس کے آنے کے لئے ہمیں کچھ سامان نہیں کرنے پڑیں گے، صرف ایک مرتبہ صور پھونک دیا جائے گا۔ دنیا کے لوگ روزمرہ کی طرح اپنے اپنے کام کاج میں مشغول ہوں گے جب اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہیں لوگ ادھر ادھر گرنے شروع ہوجائیں گے اس آسمانی تیز و تند آواز سے سب کے سب محشر میں اللہ کے سامنے جمع کردیئے جائیں گے اس چیخ کے بعد کسی کو اتنی بھی مہلت نہیں ملنی کہ کسی سے کچھ کہہ سن سکے، کوئی وصیت اور نصیحت کرسکے اور نہ ہی انہیں اپنے گھروں کو واپس جانے کی طاقت رہے گی۔ اس آیت کے متعلق بہت سے آثار و احادیث ہیں جنہیں ہم دوسری جگہ وارد کرچکے ہیں۔ اس پہلے نفخہ کے بعد دوسرا نفخہ ہوگا جس سے سب کے سب مرجائیں گے، کل جہان فنا ہوجائے گا، بجز اس ہمیشگی والے اللہ عزوجل کے جسے فنا نہیں۔ اس کے بعد پھر جی اٹھنے کا نفخہ ہوگا۔
قیامت کے بعد کوئی مہلت نہ ملے گی۔ کافر چونکہ قیامت کے آنے کے قائل نہ تھے اس لئے وہ نبیوں سے اور مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ پھر قیامت کو لاتے کیوں نہیں ؟ اچھا یہ تو بتاؤ کہ کب آئے گی ؟ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے۔ کہ اس کے آنے کے لئے ہمیں کچھ سامان نہیں کرنے پڑیں گے، صرف ایک مرتبہ صور پھونک دیا جائے گا۔ دنیا کے لوگ روزمرہ کی طرح اپنے اپنے کام کاج میں مشغول ہوں گے جب اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہیں لوگ ادھر ادھر گرنے شروع ہوجائیں گے اس آسمانی تیز و تند آواز سے سب کے سب محشر میں اللہ کے سامنے جمع کردیئے جائیں گے اس چیخ کے بعد کسی کو اتنی بھی مہلت نہیں ملنی کہ کسی سے کچھ کہہ سن سکے، کوئی وصیت اور نصیحت کرسکے اور نہ ہی انہیں اپنے گھروں کو واپس جانے کی طاقت رہے گی۔ اس آیت کے متعلق بہت سے آثار و احادیث ہیں جنہیں ہم دوسری جگہ وارد کرچکے ہیں۔ اس پہلے نفخہ کے بعد دوسرا نفخہ ہوگا جس سے سب کے سب مرجائیں گے، کل جہان فنا ہوجائے گا، بجز اس ہمیشگی والے اللہ عزوجل کے جسے فنا نہیں۔ اس کے بعد پھر جی اٹھنے کا نفخہ ہوگا۔
ان آیتوں میں دوسرے نفخہ کا ذکر ہو رہا ہے۔ جس سے مردے جی اٹھیں گے۔ ینسلون کا مصدر نسلان سے ہے اور اس کے معنی تیز چلنے کے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (يَوْمَ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ يُّوْفِضُوْنَ 43ۙ) 70۔ المعارج :43) جس دن یہ قبروں سے نکل کر اس تیزی سے چلیں گے کہ گویا وہ کسی نشان منزل کی طرف لپکے جا رہے ہیں۔ چونکہ دنیا میں انہیں قبروں سے جی اٹھنے کا ہمیشہ انکار رہا تھا اس لئے آج یہ حالت دیکھ کر کہیں گے کہ ہائے افسوس ہمارے سونے کی جگہ سے ہمیں کس نے اٹھایا ؟ اس سے قبر کے عذاب کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا اس لئے کہ جس ہول و شدت کو جس تکلیف اور مصیبت کو یہ اب دیکھیں گے اس کی بہ نسبت تو قبر کے عذاب بیحد خفیف ہی تھے گویا کہ وہ وہاں آرام میں تھے، بعض بزرگوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس سے پہلے ذرا سی دیر کے لئے فی الواقع انہیں نیند آجائے گی، حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں پہلے نفخہ اور اس دوسرے نفخہ کے درمیان یہ سو جائیں گے، اس لئے اب اٹھ کر یوں کہیں گے، اس کا جواب ایماندار لوگ دیں گے کہ اسی کا وعدہ اللہ نے کیا تھا اور یہی اللہ کے سچے رسول ﷺ فرمایا کرتے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ جواب فرشتے دیں گے۔ بہرحال دونوں قولوں میں اس طرح تطبیق بھی ہوسکتی ہے کہ مومن بھی کہیں اور فرشتے بھی کہیں واللہ اعلم۔ عبدالرحمٰن بن زید کہتے ہیں یہ کل قول کافروں کا ہی ہے لیکن صحیح بات وہ ہے جسے ہم نے پہلے نقل کیا جیسے کہ سورة صافات میں ہے کہ یہ کہیں گے ہائے افسوس ہم پر یہ جزا کا دن ہے یہی فیصلہ کا دن ہے جسے ہم جھٹلاتے تھے اور آیت میں ہے (وَيَوْمَ تَــقُوْمُ السَّاعَةُ يُـقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ڏ مَا لَبِثُوْا غَيْرَ سَاعَةٍ ۭ كَذٰلِكَ كَانُوْا يُؤْفَكُوْنَ 55) 30۔ الروم :55) جس دن قیامت برپا ہوگی گنہگار قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ وہ صرف ایک ساعت ہی رہے ہیں اسی طرح وہ ہمیشہ حق سے پھرے رہے، اس وقت باایمان اور علماء فرمائیں گے تم اللہ کے لکھے ہوئے کے مطابق قیامت کے دن تک رہے یہی قیامت کا دن ہے لیکن تم محض بےعلم ہو۔ تم تو اسے ان ہونی مانتے تھے حالانکہ وہ ہم پر بالکل سہل ہے ایک آواز کی دیر ہے کہ ساری مخلوق ہمارے سامنے موجود ہوجائے گی، جیسے اور آیت میں ہے کہ ایک ڈانٹ کے ساتھ ہی سب میدان میں مجتمع موجود ہوں گے۔ اور آیت میں فرمایا امر قیامت تو مثل آنکھ جھپکانے کے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہے، اور جیسے فرمایا (يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا 52) 17۔ الإسراء :52) جس دن وہ تمہیں بلائے گا اور تم اس کی تعریف کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور یقین کرلو گے کہ تم بہت ہی کم مدت رہے۔ الغرض حکم کے ساتھ ہی سب حاضر سامنے موجود۔ اس دن کسی کا کوئی عمل مارا نہ جائے گا، ہر ایک کو اس کے کئے ہوئے اعمال کا ہی بدلہ دیا جائے گا۔
ان آیتوں میں دوسرے نفخہ کا ذکر ہو رہا ہے۔ جس سے مردے جی اٹھیں گے۔ ینسلون کا مصدر نسلان سے ہے اور اس کے معنی تیز چلنے کے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (يَوْمَ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ يُّوْفِضُوْنَ 43ۙ) 70۔ المعارج :43) جس دن یہ قبروں سے نکل کر اس تیزی سے چلیں گے کہ گویا وہ کسی نشان منزل کی طرف لپکے جا رہے ہیں۔ چونکہ دنیا میں انہیں قبروں سے جی اٹھنے کا ہمیشہ انکار رہا تھا اس لئے آج یہ حالت دیکھ کر کہیں گے کہ ہائے افسوس ہمارے سونے کی جگہ سے ہمیں کس نے اٹھایا ؟ اس سے قبر کے عذاب کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا اس لئے کہ جس ہول و شدت کو جس تکلیف اور مصیبت کو یہ اب دیکھیں گے اس کی بہ نسبت تو قبر کے عذاب بیحد خفیف ہی تھے گویا کہ وہ وہاں آرام میں تھے، بعض بزرگوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس سے پہلے ذرا سی دیر کے لئے فی الواقع انہیں نیند آجائے گی، حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں پہلے نفخہ اور اس دوسرے نفخہ کے درمیان یہ سو جائیں گے، اس لئے اب اٹھ کر یوں کہیں گے، اس کا جواب ایماندار لوگ دیں گے کہ اسی کا وعدہ اللہ نے کیا تھا اور یہی اللہ کے سچے رسول ﷺ فرمایا کرتے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ جواب فرشتے دیں گے۔ بہرحال دونوں قولوں میں اس طرح تطبیق بھی ہوسکتی ہے کہ مومن بھی کہیں اور فرشتے بھی کہیں واللہ اعلم۔ عبدالرحمٰن بن زید کہتے ہیں یہ کل قول کافروں کا ہی ہے لیکن صحیح بات وہ ہے جسے ہم نے پہلے نقل کیا جیسے کہ سورة صافات میں ہے کہ یہ کہیں گے ہائے افسوس ہم پر یہ جزا کا دن ہے یہی فیصلہ کا دن ہے جسے ہم جھٹلاتے تھے اور آیت میں ہے (وَيَوْمَ تَــقُوْمُ السَّاعَةُ يُـقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ڏ مَا لَبِثُوْا غَيْرَ سَاعَةٍ ۭ كَذٰلِكَ كَانُوْا يُؤْفَكُوْنَ 55) 30۔ الروم :55) جس دن قیامت برپا ہوگی گنہگار قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ وہ صرف ایک ساعت ہی رہے ہیں اسی طرح وہ ہمیشہ حق سے پھرے رہے، اس وقت باایمان اور علماء فرمائیں گے تم اللہ کے لکھے ہوئے کے مطابق قیامت کے دن تک رہے یہی قیامت کا دن ہے لیکن تم محض بےعلم ہو۔ تم تو اسے ان ہونی مانتے تھے حالانکہ وہ ہم پر بالکل سہل ہے ایک آواز کی دیر ہے کہ ساری مخلوق ہمارے سامنے موجود ہوجائے گی، جیسے اور آیت میں ہے کہ ایک ڈانٹ کے ساتھ ہی سب میدان میں مجتمع موجود ہوں گے۔ اور آیت میں فرمایا امر قیامت تو مثل آنکھ جھپکانے کے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہے، اور جیسے فرمایا (يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا 52) 17۔ الإسراء :52) جس دن وہ تمہیں بلائے گا اور تم اس کی تعریف کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور یقین کرلو گے کہ تم بہت ہی کم مدت رہے۔ الغرض حکم کے ساتھ ہی سب حاضر سامنے موجود۔ اس دن کسی کا کوئی عمل مارا نہ جائے گا، ہر ایک کو اس کے کئے ہوئے اعمال کا ہی بدلہ دیا جائے گا۔
ان آیتوں میں دوسرے نفخہ کا ذکر ہو رہا ہے۔ جس سے مردے جی اٹھیں گے۔ ینسلون کا مصدر نسلان سے ہے اور اس کے معنی تیز چلنے کے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (يَوْمَ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ يُّوْفِضُوْنَ 43ۙ) 70۔ المعارج :43) جس دن یہ قبروں سے نکل کر اس تیزی سے چلیں گے کہ گویا وہ کسی نشان منزل کی طرف لپکے جا رہے ہیں۔ چونکہ دنیا میں انہیں قبروں سے جی اٹھنے کا ہمیشہ انکار رہا تھا اس لئے آج یہ حالت دیکھ کر کہیں گے کہ ہائے افسوس ہمارے سونے کی جگہ سے ہمیں کس نے اٹھایا ؟ اس سے قبر کے عذاب کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا اس لئے کہ جس ہول و شدت کو جس تکلیف اور مصیبت کو یہ اب دیکھیں گے اس کی بہ نسبت تو قبر کے عذاب بیحد خفیف ہی تھے گویا کہ وہ وہاں آرام میں تھے، بعض بزرگوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس سے پہلے ذرا سی دیر کے لئے فی الواقع انہیں نیند آجائے گی، حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں پہلے نفخہ اور اس دوسرے نفخہ کے درمیان یہ سو جائیں گے، اس لئے اب اٹھ کر یوں کہیں گے، اس کا جواب ایماندار لوگ دیں گے کہ اسی کا وعدہ اللہ نے کیا تھا اور یہی اللہ کے سچے رسول ﷺ فرمایا کرتے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ جواب فرشتے دیں گے۔ بہرحال دونوں قولوں میں اس طرح تطبیق بھی ہوسکتی ہے کہ مومن بھی کہیں اور فرشتے بھی کہیں واللہ اعلم۔ عبدالرحمٰن بن زید کہتے ہیں یہ کل قول کافروں کا ہی ہے لیکن صحیح بات وہ ہے جسے ہم نے پہلے نقل کیا جیسے کہ سورة صافات میں ہے کہ یہ کہیں گے ہائے افسوس ہم پر یہ جزا کا دن ہے یہی فیصلہ کا دن ہے جسے ہم جھٹلاتے تھے اور آیت میں ہے (وَيَوْمَ تَــقُوْمُ السَّاعَةُ يُـقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ڏ مَا لَبِثُوْا غَيْرَ سَاعَةٍ ۭ كَذٰلِكَ كَانُوْا يُؤْفَكُوْنَ 55) 30۔ الروم :55) جس دن قیامت برپا ہوگی گنہگار قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ وہ صرف ایک ساعت ہی رہے ہیں اسی طرح وہ ہمیشہ حق سے پھرے رہے، اس وقت باایمان اور علماء فرمائیں گے تم اللہ کے لکھے ہوئے کے مطابق قیامت کے دن تک رہے یہی قیامت کا دن ہے لیکن تم محض بےعلم ہو۔ تم تو اسے ان ہونی مانتے تھے حالانکہ وہ ہم پر بالکل سہل ہے ایک آواز کی دیر ہے کہ ساری مخلوق ہمارے سامنے موجود ہوجائے گی، جیسے اور آیت میں ہے کہ ایک ڈانٹ کے ساتھ ہی سب میدان میں مجتمع موجود ہوں گے۔ اور آیت میں فرمایا امر قیامت تو مثل آنکھ جھپکانے کے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہے، اور جیسے فرمایا (يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا 52) 17۔ الإسراء :52) جس دن وہ تمہیں بلائے گا اور تم اس کی تعریف کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور یقین کرلو گے کہ تم بہت ہی کم مدت رہے۔ الغرض حکم کے ساتھ ہی سب حاضر سامنے موجود۔ اس دن کسی کا کوئی عمل مارا نہ جائے گا، ہر ایک کو اس کے کئے ہوئے اعمال کا ہی بدلہ دیا جائے گا۔
ان آیتوں میں دوسرے نفخہ کا ذکر ہو رہا ہے۔ جس سے مردے جی اٹھیں گے۔ ینسلون کا مصدر نسلان سے ہے اور اس کے معنی تیز چلنے کے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (يَوْمَ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ يُّوْفِضُوْنَ 43ۙ) 70۔ المعارج :43) جس دن یہ قبروں سے نکل کر اس تیزی سے چلیں گے کہ گویا وہ کسی نشان منزل کی طرف لپکے جا رہے ہیں۔ چونکہ دنیا میں انہیں قبروں سے جی اٹھنے کا ہمیشہ انکار رہا تھا اس لئے آج یہ حالت دیکھ کر کہیں گے کہ ہائے افسوس ہمارے سونے کی جگہ سے ہمیں کس نے اٹھایا ؟ اس سے قبر کے عذاب کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا اس لئے کہ جس ہول و شدت کو جس تکلیف اور مصیبت کو یہ اب دیکھیں گے اس کی بہ نسبت تو قبر کے عذاب بیحد خفیف ہی تھے گویا کہ وہ وہاں آرام میں تھے، بعض بزرگوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس سے پہلے ذرا سی دیر کے لئے فی الواقع انہیں نیند آجائے گی، حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں پہلے نفخہ اور اس دوسرے نفخہ کے درمیان یہ سو جائیں گے، اس لئے اب اٹھ کر یوں کہیں گے، اس کا جواب ایماندار لوگ دیں گے کہ اسی کا وعدہ اللہ نے کیا تھا اور یہی اللہ کے سچے رسول ﷺ فرمایا کرتے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ جواب فرشتے دیں گے۔ بہرحال دونوں قولوں میں اس طرح تطبیق بھی ہوسکتی ہے کہ مومن بھی کہیں اور فرشتے بھی کہیں واللہ اعلم۔ عبدالرحمٰن بن زید کہتے ہیں یہ کل قول کافروں کا ہی ہے لیکن صحیح بات وہ ہے جسے ہم نے پہلے نقل کیا جیسے کہ سورة صافات میں ہے کہ یہ کہیں گے ہائے افسوس ہم پر یہ جزا کا دن ہے یہی فیصلہ کا دن ہے جسے ہم جھٹلاتے تھے اور آیت میں ہے (وَيَوْمَ تَــقُوْمُ السَّاعَةُ يُـقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ڏ مَا لَبِثُوْا غَيْرَ سَاعَةٍ ۭ كَذٰلِكَ كَانُوْا يُؤْفَكُوْنَ 55) 30۔ الروم :55) جس دن قیامت برپا ہوگی گنہگار قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ وہ صرف ایک ساعت ہی رہے ہیں اسی طرح وہ ہمیشہ حق سے پھرے رہے، اس وقت باایمان اور علماء فرمائیں گے تم اللہ کے لکھے ہوئے کے مطابق قیامت کے دن تک رہے یہی قیامت کا دن ہے لیکن تم محض بےعلم ہو۔ تم تو اسے ان ہونی مانتے تھے حالانکہ وہ ہم پر بالکل سہل ہے ایک آواز کی دیر ہے کہ ساری مخلوق ہمارے سامنے موجود ہوجائے گی، جیسے اور آیت میں ہے کہ ایک ڈانٹ کے ساتھ ہی سب میدان میں مجتمع موجود ہوں گے۔ اور آیت میں فرمایا امر قیامت تو مثل آنکھ جھپکانے کے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہے، اور جیسے فرمایا (يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا 52) 17۔ الإسراء :52) جس دن وہ تمہیں بلائے گا اور تم اس کی تعریف کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور یقین کرلو گے کہ تم بہت ہی کم مدت رہے۔ الغرض حکم کے ساتھ ہی سب حاضر سامنے موجود۔ اس دن کسی کا کوئی عمل مارا نہ جائے گا، ہر ایک کو اس کے کئے ہوئے اعمال کا ہی بدلہ دیا جائے گا۔
جنت کے مناظر۔جنتی لوگ میدان قیامت سے فارغ ہو کر جنتوں میں بہ صدا اکرام و بہ ہزار تعظیم پہنچائے جائیں گے اور وہاں کی گوناں گوں نعمتوں اور راحتوں میں اس طرح مشغول ہوں گے کہ کسی دوسری جانب نہ التفات ہوگا نہ کسی اور طرف کا خیال، یہ جہنم سے جہنم والوں سے بےفکر ہوں گے۔ اپنی لذتوں اور مزے میں منہمک ہوں گے۔ اس قدر مسرور ہوں گے کہ ہر ایک چیز سے بیخبر ہوجائیں گے نہایت ہشاش بشاش ہوں گے، کنواری حوریں انہیں ملی ہوئی ہوں گی، جن سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے، طرح طرح کی راگ راگنیاں اور خوش کن آوازیں دلریبی سے ان کے دلوں کو لبھا رہی ہوں گیں۔ ان کے ساتھ ہی اس لطف و سرور میں ان کی بیویاں اور ان کی حوریں بھی شامل ہوں گی۔ جنتی میوے دار درختوں کے ٹھنڈے اور گھنے سایوں میں بہ آرام تختوں پر تکیوں سے لگے بےغمی اور بےفکری کے ساتھ اللہ کی مہمانداری سے مزے اٹھا رہے ہوں گے۔ ہر قسم کے میوے بکثرت ان کے پاس موجود ہوں گے اور بھی جس چیز کو جی چاہے جو خواہش ہو پوری ہوجائے گی۔ سنن ابن ماجہ کی کتاب الزہد میں اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی اس جنت میں جانے کا خواہش مند اور اس کے لئے تیاریاں کرنے والا اور مستعدی ظاہر کرنے والا ہے ؟ جس میں کوئی خوف و خطر نہیں، رب کعبہ کی قسم وہ سرا سر نور ہی نور ہے اس کی تازگیاں بیحد ہیں۔ اس کا سبزہ لہلہا رہا ہے اس کے بالا خانے مضبوط بلند اور پختہ ہیں اس کی نہریں بھری ہوئی اور بہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ذائقے دار، پکے ہوئے اور بکثرت ہیں۔ اس میں خوبصورت نوجوان حوریں ہیں اور ان کے لباس ریشمی اور بیش قیمت ہیں، اس کی نعمتیں ابدی اور لازوال ہیں، وہ سلامتی کا گھر ہے، وہ سبز اور تازے پھلوں کا باغ ہے، اس کی نعمتیں بہ کثرت اور عمدہ ہیں اور اس کے محلات بلند وبالا اور مزین ہیں۔ یہ سن کر جتنے صحابہ تھے سب نے کہا حضور ﷺ ہم اس کے لئے تیاری کرنے اور اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں، آپ نے فرمایا انشاء اللہ کہو چناچہ انہوں نے کہا ان شاء اللہ۔ اللہ کی طرف سے ان پر سلام ہی سلام ہے۔ خود اللہ کا اہل جنت کے لئے سلام ہے، جیسے فرمایا (تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ ڻ وَاَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِيْمًا 44) 33۔ الأحزاب :44) (ترجمہ) ان کا تحفہ جس روز وہ اللہ سے ملیں گے سلام ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنتی اپنی نعمتوں میں مشغول ہوں گے کہ اوپر کی جانب سے ایک نور چمکے گا یہ اپنا سر اٹھائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوں گے اور رب فرمائے گا (السلام علیکم یا اھل الجنۃ یہی معنی ہیں اس آیت سلام قولا الخ، کے جنتی صاف طور سے اللہ کو دیکھیں گے اور اللہ انہیں دیکھے گا کسی نعمت کی طرف اس وقت وہ آنکھ بھی نہ اٹھائیں گے یہاں تک کہ حجاب حائل ہوجائے گا اور نور و برکت ان کے پاس باقی رہ جائے گی، یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند کمزور ہے ابن ماجہ میں بھی کتاب السنہ میں یہ روایت موجود ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ جب دوزخیوں اور جنتیوں سے فارغ ہوگا تو ابر کے سایہ میں متوجہ ہوگا فرشتے اس کے ساتھ ہوں گے جنتیوں کو سلام کرے گا اور جنتی جواب دیں گے، قرظی فرماتے ہیں یہ اللہ کے فرمان سلام قولا میں موجود ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا مجھ سے مانگو جو چاہو، یہ کہیں گے پروردگار سب کچھ تو موجود ہے کیا مانگیں ؟ اللہ فرمائے گا ہاں ٹھیک ہے پھر بھی جو جی میں آئے طلب کرو، وہ کہیں گے بس تیری رضامندی مطلوب ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا وہ تو میں تمہیں دے چکا اور اسی کی بنا پر تم میرے اس مہمان خانے میں آئے اور میں نے تمہیں اس کا مالک بنادیا، جنتی کہیں گے پھر اللہ ہم تجھ سے کیا مانگیں ؟ تو نے تو ہمیں اتنا دے رکھا ہے کہ اگر تو حکم دے تو ہم میں سے ایک شخص کل انسانوں اور جنوں کی دعوت کرسکتا ہے اور انہیں پیٹ بھر کر کھلا پلا اور پہنا اڑھا سکتا ہے۔ بلکہ ان کی سب ضروریات پوری کرسکتا ہے اور پھر بھی اس کی ملکیت میں کوئی کمی نہیں آسکتی۔ اللہ فرمائے گا ابھی میرے پاس اور زیادتی ہے چناچہ فرشتے ان کے پاس اللہ کی طرف سے نئے نئے تحفے لائیں گے۔ امام ابن جریر اس روایت کو بہت سی سندوں سے لائے ہیں لیکن یہ روایت غریب ہے، واللہ اعلم۔
جنت کے مناظر۔جنتی لوگ میدان قیامت سے فارغ ہو کر جنتوں میں بہ صدا اکرام و بہ ہزار تعظیم پہنچائے جائیں گے اور وہاں کی گوناں گوں نعمتوں اور راحتوں میں اس طرح مشغول ہوں گے کہ کسی دوسری جانب نہ التفات ہوگا نہ کسی اور طرف کا خیال، یہ جہنم سے جہنم والوں سے بےفکر ہوں گے۔ اپنی لذتوں اور مزے میں منہمک ہوں گے۔ اس قدر مسرور ہوں گے کہ ہر ایک چیز سے بیخبر ہوجائیں گے نہایت ہشاش بشاش ہوں گے، کنواری حوریں انہیں ملی ہوئی ہوں گی، جن سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے، طرح طرح کی راگ راگنیاں اور خوش کن آوازیں دلریبی سے ان کے دلوں کو لبھا رہی ہوں گیں۔ ان کے ساتھ ہی اس لطف و سرور میں ان کی بیویاں اور ان کی حوریں بھی شامل ہوں گی۔ جنتی میوے دار درختوں کے ٹھنڈے اور گھنے سایوں میں بہ آرام تختوں پر تکیوں سے لگے بےغمی اور بےفکری کے ساتھ اللہ کی مہمانداری سے مزے اٹھا رہے ہوں گے۔ ہر قسم کے میوے بکثرت ان کے پاس موجود ہوں گے اور بھی جس چیز کو جی چاہے جو خواہش ہو پوری ہوجائے گی۔ سنن ابن ماجہ کی کتاب الزہد میں اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی اس جنت میں جانے کا خواہش مند اور اس کے لئے تیاریاں کرنے والا اور مستعدی ظاہر کرنے والا ہے ؟ جس میں کوئی خوف و خطر نہیں، رب کعبہ کی قسم وہ سرا سر نور ہی نور ہے اس کی تازگیاں بیحد ہیں۔ اس کا سبزہ لہلہا رہا ہے اس کے بالا خانے مضبوط بلند اور پختہ ہیں اس کی نہریں بھری ہوئی اور بہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ذائقے دار، پکے ہوئے اور بکثرت ہیں۔ اس میں خوبصورت نوجوان حوریں ہیں اور ان کے لباس ریشمی اور بیش قیمت ہیں، اس کی نعمتیں ابدی اور لازوال ہیں، وہ سلامتی کا گھر ہے، وہ سبز اور تازے پھلوں کا باغ ہے، اس کی نعمتیں بہ کثرت اور عمدہ ہیں اور اس کے محلات بلند وبالا اور مزین ہیں۔ یہ سن کر جتنے صحابہ تھے سب نے کہا حضور ﷺ ہم اس کے لئے تیاری کرنے اور اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں، آپ نے فرمایا انشاء اللہ کہو چناچہ انہوں نے کہا ان شاء اللہ۔ اللہ کی طرف سے ان پر سلام ہی سلام ہے۔ خود اللہ کا اہل جنت کے لئے سلام ہے، جیسے فرمایا (تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ ڻ وَاَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِيْمًا 44) 33۔ الأحزاب :44) (ترجمہ) ان کا تحفہ جس روز وہ اللہ سے ملیں گے سلام ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنتی اپنی نعمتوں میں مشغول ہوں گے کہ اوپر کی جانب سے ایک نور چمکے گا یہ اپنا سر اٹھائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوں گے اور رب فرمائے گا (السلام علیکم یا اھل الجنۃ یہی معنی ہیں اس آیت سلام قولا الخ، کے جنتی صاف طور سے اللہ کو دیکھیں گے اور اللہ انہیں دیکھے گا کسی نعمت کی طرف اس وقت وہ آنکھ بھی نہ اٹھائیں گے یہاں تک کہ حجاب حائل ہوجائے گا اور نور و برکت ان کے پاس باقی رہ جائے گی، یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند کمزور ہے ابن ماجہ میں بھی کتاب السنہ میں یہ روایت موجود ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ جب دوزخیوں اور جنتیوں سے فارغ ہوگا تو ابر کے سایہ میں متوجہ ہوگا فرشتے اس کے ساتھ ہوں گے جنتیوں کو سلام کرے گا اور جنتی جواب دیں گے، قرظی فرماتے ہیں یہ اللہ کے فرمان سلام قولا میں موجود ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا مجھ سے مانگو جو چاہو، یہ کہیں گے پروردگار سب کچھ تو موجود ہے کیا مانگیں ؟ اللہ فرمائے گا ہاں ٹھیک ہے پھر بھی جو جی میں آئے طلب کرو، وہ کہیں گے بس تیری رضامندی مطلوب ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا وہ تو میں تمہیں دے چکا اور اسی کی بنا پر تم میرے اس مہمان خانے میں آئے اور میں نے تمہیں اس کا مالک بنادیا، جنتی کہیں گے پھر اللہ ہم تجھ سے کیا مانگیں ؟ تو نے تو ہمیں اتنا دے رکھا ہے کہ اگر تو حکم دے تو ہم میں سے ایک شخص کل انسانوں اور جنوں کی دعوت کرسکتا ہے اور انہیں پیٹ بھر کر کھلا پلا اور پہنا اڑھا سکتا ہے۔ بلکہ ان کی سب ضروریات پوری کرسکتا ہے اور پھر بھی اس کی ملکیت میں کوئی کمی نہیں آسکتی۔ اللہ فرمائے گا ابھی میرے پاس اور زیادتی ہے چناچہ فرشتے ان کے پاس اللہ کی طرف سے نئے نئے تحفے لائیں گے۔ امام ابن جریر اس روایت کو بہت سی سندوں سے لائے ہیں لیکن یہ روایت غریب ہے، واللہ اعلم۔
جنت کے مناظر۔جنتی لوگ میدان قیامت سے فارغ ہو کر جنتوں میں بہ صدا اکرام و بہ ہزار تعظیم پہنچائے جائیں گے اور وہاں کی گوناں گوں نعمتوں اور راحتوں میں اس طرح مشغول ہوں گے کہ کسی دوسری جانب نہ التفات ہوگا نہ کسی اور طرف کا خیال، یہ جہنم سے جہنم والوں سے بےفکر ہوں گے۔ اپنی لذتوں اور مزے میں منہمک ہوں گے۔ اس قدر مسرور ہوں گے کہ ہر ایک چیز سے بیخبر ہوجائیں گے نہایت ہشاش بشاش ہوں گے، کنواری حوریں انہیں ملی ہوئی ہوں گی، جن سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے، طرح طرح کی راگ راگنیاں اور خوش کن آوازیں دلریبی سے ان کے دلوں کو لبھا رہی ہوں گیں۔ ان کے ساتھ ہی اس لطف و سرور میں ان کی بیویاں اور ان کی حوریں بھی شامل ہوں گی۔ جنتی میوے دار درختوں کے ٹھنڈے اور گھنے سایوں میں بہ آرام تختوں پر تکیوں سے لگے بےغمی اور بےفکری کے ساتھ اللہ کی مہمانداری سے مزے اٹھا رہے ہوں گے۔ ہر قسم کے میوے بکثرت ان کے پاس موجود ہوں گے اور بھی جس چیز کو جی چاہے جو خواہش ہو پوری ہوجائے گی۔ سنن ابن ماجہ کی کتاب الزہد میں اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی اس جنت میں جانے کا خواہش مند اور اس کے لئے تیاریاں کرنے والا اور مستعدی ظاہر کرنے والا ہے ؟ جس میں کوئی خوف و خطر نہیں، رب کعبہ کی قسم وہ سرا سر نور ہی نور ہے اس کی تازگیاں بیحد ہیں۔ اس کا سبزہ لہلہا رہا ہے اس کے بالا خانے مضبوط بلند اور پختہ ہیں اس کی نہریں بھری ہوئی اور بہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ذائقے دار، پکے ہوئے اور بکثرت ہیں۔ اس میں خوبصورت نوجوان حوریں ہیں اور ان کے لباس ریشمی اور بیش قیمت ہیں، اس کی نعمتیں ابدی اور لازوال ہیں، وہ سلامتی کا گھر ہے، وہ سبز اور تازے پھلوں کا باغ ہے، اس کی نعمتیں بہ کثرت اور عمدہ ہیں اور اس کے محلات بلند وبالا اور مزین ہیں۔ یہ سن کر جتنے صحابہ تھے سب نے کہا حضور ﷺ ہم اس کے لئے تیاری کرنے اور اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں، آپ نے فرمایا انشاء اللہ کہو چناچہ انہوں نے کہا ان شاء اللہ۔ اللہ کی طرف سے ان پر سلام ہی سلام ہے۔ خود اللہ کا اہل جنت کے لئے سلام ہے، جیسے فرمایا (تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ ڻ وَاَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِيْمًا 44) 33۔ الأحزاب :44) (ترجمہ) ان کا تحفہ جس روز وہ اللہ سے ملیں گے سلام ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنتی اپنی نعمتوں میں مشغول ہوں گے کہ اوپر کی جانب سے ایک نور چمکے گا یہ اپنا سر اٹھائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوں گے اور رب فرمائے گا (السلام علیکم یا اھل الجنۃ یہی معنی ہیں اس آیت سلام قولا الخ، کے جنتی صاف طور سے اللہ کو دیکھیں گے اور اللہ انہیں دیکھے گا کسی نعمت کی طرف اس وقت وہ آنکھ بھی نہ اٹھائیں گے یہاں تک کہ حجاب حائل ہوجائے گا اور نور و برکت ان کے پاس باقی رہ جائے گی، یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند کمزور ہے ابن ماجہ میں بھی کتاب السنہ میں یہ روایت موجود ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ جب دوزخیوں اور جنتیوں سے فارغ ہوگا تو ابر کے سایہ میں متوجہ ہوگا فرشتے اس کے ساتھ ہوں گے جنتیوں کو سلام کرے گا اور جنتی جواب دیں گے، قرظی فرماتے ہیں یہ اللہ کے فرمان سلام قولا میں موجود ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا مجھ سے مانگو جو چاہو، یہ کہیں گے پروردگار سب کچھ تو موجود ہے کیا مانگیں ؟ اللہ فرمائے گا ہاں ٹھیک ہے پھر بھی جو جی میں آئے طلب کرو، وہ کہیں گے بس تیری رضامندی مطلوب ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا وہ تو میں تمہیں دے چکا اور اسی کی بنا پر تم میرے اس مہمان خانے میں آئے اور میں نے تمہیں اس کا مالک بنادیا، جنتی کہیں گے پھر اللہ ہم تجھ سے کیا مانگیں ؟ تو نے تو ہمیں اتنا دے رکھا ہے کہ اگر تو حکم دے تو ہم میں سے ایک شخص کل انسانوں اور جنوں کی دعوت کرسکتا ہے اور انہیں پیٹ بھر کر کھلا پلا اور پہنا اڑھا سکتا ہے۔ بلکہ ان کی سب ضروریات پوری کرسکتا ہے اور پھر بھی اس کی ملکیت میں کوئی کمی نہیں آسکتی۔ اللہ فرمائے گا ابھی میرے پاس اور زیادتی ہے چناچہ فرشتے ان کے پاس اللہ کی طرف سے نئے نئے تحفے لائیں گے۔ امام ابن جریر اس روایت کو بہت سی سندوں سے لائے ہیں لیکن یہ روایت غریب ہے، واللہ اعلم۔
جنت کے مناظر۔جنتی لوگ میدان قیامت سے فارغ ہو کر جنتوں میں بہ صدا اکرام و بہ ہزار تعظیم پہنچائے جائیں گے اور وہاں کی گوناں گوں نعمتوں اور راحتوں میں اس طرح مشغول ہوں گے کہ کسی دوسری جانب نہ التفات ہوگا نہ کسی اور طرف کا خیال، یہ جہنم سے جہنم والوں سے بےفکر ہوں گے۔ اپنی لذتوں اور مزے میں منہمک ہوں گے۔ اس قدر مسرور ہوں گے کہ ہر ایک چیز سے بیخبر ہوجائیں گے نہایت ہشاش بشاش ہوں گے، کنواری حوریں انہیں ملی ہوئی ہوں گی، جن سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے، طرح طرح کی راگ راگنیاں اور خوش کن آوازیں دلریبی سے ان کے دلوں کو لبھا رہی ہوں گیں۔ ان کے ساتھ ہی اس لطف و سرور میں ان کی بیویاں اور ان کی حوریں بھی شامل ہوں گی۔ جنتی میوے دار درختوں کے ٹھنڈے اور گھنے سایوں میں بہ آرام تختوں پر تکیوں سے لگے بےغمی اور بےفکری کے ساتھ اللہ کی مہمانداری سے مزے اٹھا رہے ہوں گے۔ ہر قسم کے میوے بکثرت ان کے پاس موجود ہوں گے اور بھی جس چیز کو جی چاہے جو خواہش ہو پوری ہوجائے گی۔ سنن ابن ماجہ کی کتاب الزہد میں اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی اس جنت میں جانے کا خواہش مند اور اس کے لئے تیاریاں کرنے والا اور مستعدی ظاہر کرنے والا ہے ؟ جس میں کوئی خوف و خطر نہیں، رب کعبہ کی قسم وہ سرا سر نور ہی نور ہے اس کی تازگیاں بیحد ہیں۔ اس کا سبزہ لہلہا رہا ہے اس کے بالا خانے مضبوط بلند اور پختہ ہیں اس کی نہریں بھری ہوئی اور بہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ذائقے دار، پکے ہوئے اور بکثرت ہیں۔ اس میں خوبصورت نوجوان حوریں ہیں اور ان کے لباس ریشمی اور بیش قیمت ہیں، اس کی نعمتیں ابدی اور لازوال ہیں، وہ سلامتی کا گھر ہے، وہ سبز اور تازے پھلوں کا باغ ہے، اس کی نعمتیں بہ کثرت اور عمدہ ہیں اور اس کے محلات بلند وبالا اور مزین ہیں۔ یہ سن کر جتنے صحابہ تھے سب نے کہا حضور ﷺ ہم اس کے لئے تیاری کرنے اور اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں، آپ نے فرمایا انشاء اللہ کہو چناچہ انہوں نے کہا ان شاء اللہ۔ اللہ کی طرف سے ان پر سلام ہی سلام ہے۔ خود اللہ کا اہل جنت کے لئے سلام ہے، جیسے فرمایا (تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ ڻ وَاَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِيْمًا 44) 33۔ الأحزاب :44) (ترجمہ) ان کا تحفہ جس روز وہ اللہ سے ملیں گے سلام ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنتی اپنی نعمتوں میں مشغول ہوں گے کہ اوپر کی جانب سے ایک نور چمکے گا یہ اپنا سر اٹھائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوں گے اور رب فرمائے گا (السلام علیکم یا اھل الجنۃ یہی معنی ہیں اس آیت سلام قولا الخ، کے جنتی صاف طور سے اللہ کو دیکھیں گے اور اللہ انہیں دیکھے گا کسی نعمت کی طرف اس وقت وہ آنکھ بھی نہ اٹھائیں گے یہاں تک کہ حجاب حائل ہوجائے گا اور نور و برکت ان کے پاس باقی رہ جائے گی، یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند کمزور ہے ابن ماجہ میں بھی کتاب السنہ میں یہ روایت موجود ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ جب دوزخیوں اور جنتیوں سے فارغ ہوگا تو ابر کے سایہ میں متوجہ ہوگا فرشتے اس کے ساتھ ہوں گے جنتیوں کو سلام کرے گا اور جنتی جواب دیں گے، قرظی فرماتے ہیں یہ اللہ کے فرمان سلام قولا میں موجود ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا مجھ سے مانگو جو چاہو، یہ کہیں گے پروردگار سب کچھ تو موجود ہے کیا مانگیں ؟ اللہ فرمائے گا ہاں ٹھیک ہے پھر بھی جو جی میں آئے طلب کرو، وہ کہیں گے بس تیری رضامندی مطلوب ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا وہ تو میں تمہیں دے چکا اور اسی کی بنا پر تم میرے اس مہمان خانے میں آئے اور میں نے تمہیں اس کا مالک بنادیا، جنتی کہیں گے پھر اللہ ہم تجھ سے کیا مانگیں ؟ تو نے تو ہمیں اتنا دے رکھا ہے کہ اگر تو حکم دے تو ہم میں سے ایک شخص کل انسانوں اور جنوں کی دعوت کرسکتا ہے اور انہیں پیٹ بھر کر کھلا پلا اور پہنا اڑھا سکتا ہے۔ بلکہ ان کی سب ضروریات پوری کرسکتا ہے اور پھر بھی اس کی ملکیت میں کوئی کمی نہیں آسکتی۔ اللہ فرمائے گا ابھی میرے پاس اور زیادتی ہے چناچہ فرشتے ان کے پاس اللہ کی طرف سے نئے نئے تحفے لائیں گے۔ امام ابن جریر اس روایت کو بہت سی سندوں سے لائے ہیں لیکن یہ روایت غریب ہے، واللہ اعلم۔
نیک و بد علیحدہ علیحدہ کردیئے جائیں گے۔فرماتا ہے کہ نیک کاروں سے بدکاروں کو چھانٹ دیا جائے گا، کافروں سے کہہ دیا جائے گا کہ مومنوں سے دور ہوجاؤ، پھر ہم ان میں امتیاز کردیں گے انہیں الگ الگ کردیں گے۔ اسی طرح سورة یونس میں ہے (ترجمہ) جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز سب کے سب جدا جدا ہوجائیں گے۔ یعنی ان کے دو گروہ بن جائیں گے۔ سورة والصافات میں فرمان ہے (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22ۙ) 37۔ الصافات :22) یعنی ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے جھوٹے معبودوں کو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے جمع کرو اور انہیں جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ جنتیوں پر جو طرح طرح کی نوازشیں ہو رہی ہوں گی اس طرح جہنمیوں پر طرح طرح کی سختیاں ہو رہی ہوں گی انہیں بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی نہ ماننا، وہ تمہارا دشمن ہے ؟ لیکن اس پر بھی تم نے مجھ رحمان کی نافرمانی کی اور اس شیطان کی فرمانبرداری کی۔ خالق مالک رازق میں اور فرمانبرداری کی جائے میرے راندہ درگاہ کی ؟ میں تو کہہ چکا تھا کہ ایک میری ہی ماننا صرف مجھ ہی کو پوجنا مجھ تک پہنچنے کا سیدھا قریب کا اور سچا راستہ یہی ہے لیکن تم الٹے چلے، یہاں بھی الٹے ہی جاؤ، ان نیک بختوں کی اور تمہاری راہ الگ الگ ہے یہ جنتی ہیں تم جہنمی ہو۔ جبلا سے مراد خلق کثیر بہت ساری مخلوق ہے لغت میں جبل بھی کہا جاتا ہے اور جبل بھی کہا جاتا ہے، شیطان نے تم میں سے بکثرت لوگوں کو بہکا دیا اور صحیح راہ سے ہٹا دیا، تم میں اتنی بھی عقل نہ تھی کہ تم اس کا فیصلہ کرسکتے کہ رحمان کی مانیں یا شیطان کی ؟ اللہ کو پوجیں یا مخلوق کو ؟ ابن جریر میں ہے قیامت کے دن اللہ کے حکم سے جہنم اپنی گردن نکالے گی جس میں سخت اندھیرا ہوگا اور بالکل ظاہر ہوگی وہ بھی کہے گی کہ اے انسانو ! کیا اللہ تعالیٰ نے تم سے وعدہ نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا ؟ وہ تمہارا ظاہری دشمن ہے اور میری عبادت کرنا یہ سیدھی راہ ہے، اس نے تم میں سے اکثروں کو گمراہ کردیا کیا تم سمجھتے نہ تھے ؟ اے گنہگارو ! آج تم جدا ہوجاؤ۔ اس وقت نیک بدا الگ الگ ہوجائیں گے، ہر ایک گھنٹوں کے بل گرپڑے گا، ہر ایک کو اس کے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا، آج ہی بدلے دیئے جاؤ گے جو کر کے آئے ہو۔
نیک و بد علیحدہ علیحدہ کردیئے جائیں گے۔فرماتا ہے کہ نیک کاروں سے بدکاروں کو چھانٹ دیا جائے گا، کافروں سے کہہ دیا جائے گا کہ مومنوں سے دور ہوجاؤ، پھر ہم ان میں امتیاز کردیں گے انہیں الگ الگ کردیں گے۔ اسی طرح سورة یونس میں ہے (ترجمہ) جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز سب کے سب جدا جدا ہوجائیں گے۔ یعنی ان کے دو گروہ بن جائیں گے۔ سورة والصافات میں فرمان ہے (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22ۙ) 37۔ الصافات :22) یعنی ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے جھوٹے معبودوں کو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے جمع کرو اور انہیں جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ جنتیوں پر جو طرح طرح کی نوازشیں ہو رہی ہوں گی اس طرح جہنمیوں پر طرح طرح کی سختیاں ہو رہی ہوں گی انہیں بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی نہ ماننا، وہ تمہارا دشمن ہے ؟ لیکن اس پر بھی تم نے مجھ رحمان کی نافرمانی کی اور اس شیطان کی فرمانبرداری کی۔ خالق مالک رازق میں اور فرمانبرداری کی جائے میرے راندہ درگاہ کی ؟ میں تو کہہ چکا تھا کہ ایک میری ہی ماننا صرف مجھ ہی کو پوجنا مجھ تک پہنچنے کا سیدھا قریب کا اور سچا راستہ یہی ہے لیکن تم الٹے چلے، یہاں بھی الٹے ہی جاؤ، ان نیک بختوں کی اور تمہاری راہ الگ الگ ہے یہ جنتی ہیں تم جہنمی ہو۔ جبلا سے مراد خلق کثیر بہت ساری مخلوق ہے لغت میں جبل بھی کہا جاتا ہے اور جبل بھی کہا جاتا ہے، شیطان نے تم میں سے بکثرت لوگوں کو بہکا دیا اور صحیح راہ سے ہٹا دیا، تم میں اتنی بھی عقل نہ تھی کہ تم اس کا فیصلہ کرسکتے کہ رحمان کی مانیں یا شیطان کی ؟ اللہ کو پوجیں یا مخلوق کو ؟ ابن جریر میں ہے قیامت کے دن اللہ کے حکم سے جہنم اپنی گردن نکالے گی جس میں سخت اندھیرا ہوگا اور بالکل ظاہر ہوگی وہ بھی کہے گی کہ اے انسانو ! کیا اللہ تعالیٰ نے تم سے وعدہ نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا ؟ وہ تمہارا ظاہری دشمن ہے اور میری عبادت کرنا یہ سیدھی راہ ہے، اس نے تم میں سے اکثروں کو گمراہ کردیا کیا تم سمجھتے نہ تھے ؟ اے گنہگارو ! آج تم جدا ہوجاؤ۔ اس وقت نیک بدا الگ الگ ہوجائیں گے، ہر ایک گھنٹوں کے بل گرپڑے گا، ہر ایک کو اس کے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا، آج ہی بدلے دیئے جاؤ گے جو کر کے آئے ہو۔