Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Yaseen
Tafsir Ibn Kathir · Yaseen · 83 ayat · ayat 61–83 · Quran text →
نیک و بد علیحدہ علیحدہ کردیئے جائیں گے۔فرماتا ہے کہ نیک کاروں سے بدکاروں کو چھانٹ دیا جائے گا، کافروں سے کہہ دیا جائے گا کہ مومنوں سے دور ہوجاؤ، پھر ہم ان میں امتیاز کردیں گے انہیں الگ الگ کردیں گے۔ اسی طرح سورة یونس میں ہے (ترجمہ) جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز سب کے سب جدا جدا ہوجائیں گے۔ یعنی ان کے دو گروہ بن جائیں گے۔ سورة والصافات میں فرمان ہے (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22ۙ) 37۔ الصافات :22) یعنی ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے جھوٹے معبودوں کو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے جمع کرو اور انہیں جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ جنتیوں پر جو طرح طرح کی نوازشیں ہو رہی ہوں گی اس طرح جہنمیوں پر طرح طرح کی سختیاں ہو رہی ہوں گی انہیں بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی نہ ماننا، وہ تمہارا دشمن ہے ؟ لیکن اس پر بھی تم نے مجھ رحمان کی نافرمانی کی اور اس شیطان کی فرمانبرداری کی۔ خالق مالک رازق میں اور فرمانبرداری کی جائے میرے راندہ درگاہ کی ؟ میں تو کہہ چکا تھا کہ ایک میری ہی ماننا صرف مجھ ہی کو پوجنا مجھ تک پہنچنے کا سیدھا قریب کا اور سچا راستہ یہی ہے لیکن تم الٹے چلے، یہاں بھی الٹے ہی جاؤ، ان نیک بختوں کی اور تمہاری راہ الگ الگ ہے یہ جنتی ہیں تم جہنمی ہو۔ جبلا سے مراد خلق کثیر بہت ساری مخلوق ہے لغت میں جبل بھی کہا جاتا ہے اور جبل بھی کہا جاتا ہے، شیطان نے تم میں سے بکثرت لوگوں کو بہکا دیا اور صحیح راہ سے ہٹا دیا، تم میں اتنی بھی عقل نہ تھی کہ تم اس کا فیصلہ کرسکتے کہ رحمان کی مانیں یا شیطان کی ؟ اللہ کو پوجیں یا مخلوق کو ؟ ابن جریر میں ہے قیامت کے دن اللہ کے حکم سے جہنم اپنی گردن نکالے گی جس میں سخت اندھیرا ہوگا اور بالکل ظاہر ہوگی وہ بھی کہے گی کہ اے انسانو ! کیا اللہ تعالیٰ نے تم سے وعدہ نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا ؟ وہ تمہارا ظاہری دشمن ہے اور میری عبادت کرنا یہ سیدھی راہ ہے، اس نے تم میں سے اکثروں کو گمراہ کردیا کیا تم سمجھتے نہ تھے ؟ اے گنہگارو ! آج تم جدا ہوجاؤ۔ اس وقت نیک بدا الگ الگ ہوجائیں گے، ہر ایک گھنٹوں کے بل گرپڑے گا، ہر ایک کو اس کے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا، آج ہی بدلے دیئے جاؤ گے جو کر کے آئے ہو۔
نیک و بد علیحدہ علیحدہ کردیئے جائیں گے۔فرماتا ہے کہ نیک کاروں سے بدکاروں کو چھانٹ دیا جائے گا، کافروں سے کہہ دیا جائے گا کہ مومنوں سے دور ہوجاؤ، پھر ہم ان میں امتیاز کردیں گے انہیں الگ الگ کردیں گے۔ اسی طرح سورة یونس میں ہے (ترجمہ) جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز سب کے سب جدا جدا ہوجائیں گے۔ یعنی ان کے دو گروہ بن جائیں گے۔ سورة والصافات میں فرمان ہے (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22ۙ) 37۔ الصافات :22) یعنی ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے جھوٹے معبودوں کو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے جمع کرو اور انہیں جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ جنتیوں پر جو طرح طرح کی نوازشیں ہو رہی ہوں گی اس طرح جہنمیوں پر طرح طرح کی سختیاں ہو رہی ہوں گی انہیں بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی نہ ماننا، وہ تمہارا دشمن ہے ؟ لیکن اس پر بھی تم نے مجھ رحمان کی نافرمانی کی اور اس شیطان کی فرمانبرداری کی۔ خالق مالک رازق میں اور فرمانبرداری کی جائے میرے راندہ درگاہ کی ؟ میں تو کہہ چکا تھا کہ ایک میری ہی ماننا صرف مجھ ہی کو پوجنا مجھ تک پہنچنے کا سیدھا قریب کا اور سچا راستہ یہی ہے لیکن تم الٹے چلے، یہاں بھی الٹے ہی جاؤ، ان نیک بختوں کی اور تمہاری راہ الگ الگ ہے یہ جنتی ہیں تم جہنمی ہو۔ جبلا سے مراد خلق کثیر بہت ساری مخلوق ہے لغت میں جبل بھی کہا جاتا ہے اور جبل بھی کہا جاتا ہے، شیطان نے تم میں سے بکثرت لوگوں کو بہکا دیا اور صحیح راہ سے ہٹا دیا، تم میں اتنی بھی عقل نہ تھی کہ تم اس کا فیصلہ کرسکتے کہ رحمان کی مانیں یا شیطان کی ؟ اللہ کو پوجیں یا مخلوق کو ؟ ابن جریر میں ہے قیامت کے دن اللہ کے حکم سے جہنم اپنی گردن نکالے گی جس میں سخت اندھیرا ہوگا اور بالکل ظاہر ہوگی وہ بھی کہے گی کہ اے انسانو ! کیا اللہ تعالیٰ نے تم سے وعدہ نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا ؟ وہ تمہارا ظاہری دشمن ہے اور میری عبادت کرنا یہ سیدھی راہ ہے، اس نے تم میں سے اکثروں کو گمراہ کردیا کیا تم سمجھتے نہ تھے ؟ اے گنہگارو ! آج تم جدا ہوجاؤ۔ اس وقت نیک بدا الگ الگ ہوجائیں گے، ہر ایک گھنٹوں کے بل گرپڑے گا، ہر ایک کو اس کے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا، آج ہی بدلے دیئے جاؤ گے جو کر کے آئے ہو۔
اعضاء کی گواہی۔ جہنم بھڑکتی ہوئی اور شعلے مارتی ہوئی چیختی ہوئی اور چلاتی ہوئی سامنے ہوگی اور کفار سے کہا جائے گا کہ یہی وہ جہنم ہے جس کا ذکر میرے رسول کیا کرتے تھے جس سے وہ ڈرایا کرتے تھے اور تم انہیں جھٹلاتے تھے۔ لو اب اپنے اس کفر کا مزہ چکھو اٹھو اس میں کود پڑو، چناچہ اور آیت میں ہے (یوم یدعون) الخ، جس دن یہ جہنم کی طرف دھکیلے جائیں گے اور کہا جائے گا یہی وہ دوزخ ہے جس کا انکار کرتے رہے ہو۔ بتاؤ تو یہ جادو ہے ؟ یا تم اندھے ہوگئے ہو ؟ قیامت والے دن جب یہ کفار اور منافقین اپنے گناہوں کا انکار کریں گے اور اس پر قسمیں کھا لیں گے تو اللہ ان کی زبانوں کو بند کر دے گا اور ان کے بدن کے اعضاء سچی سچی گواہی دینا شروع کردیں گے، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں ہم حضور ﷺ کے پاس تھے کہ آپ یکایک ہنسے اور اس قدر ہنسے کہ مسوڑھے کھل گئے پھر ہم سے دریافت کرنے لگے کہ جانتے ہو میں کیوں ہنسا ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ فرمایا بندہ جو اپنے رب سے قیامت کے دن جھگڑا کرے گا اس پر۔ کہے گا کہ باری تعالیٰ کیا تو نے مجھے ظلم سے بچایا نہ تھا ؟ اللہ فرمائے گا ہاں، تو یہ کہے گا بس پھر میں کسی گواہ کی گواہی اپنے خلاف منظور نہیں کروں گا۔ بس میرا اپنا بدن تو میرا ہے باقی سب میرے دشمن ہیں۔ اللہ فرمائے گا اچھا یونہی سہی تو ہی اپنا گواہ سہی اور میرے بزرگ فرشتے گواہ سہی۔ چناچہ اسی وقت زبان پر مہر لگا دی جائے گی اور اعضائے بدن سے فرمایا جائے گا بولو تم خود گواہی دو کہ تم سے اس نے کیا کیا کام لئے ؟ وہ صاف کھول کھول کر سچ سچ ایک ایک بات بتادیں گے پھر اس کی زبان کھول دی جائے گی تو یہ اپنے بدن کے جوڑوں سے کہے گا تمہارا ستیاناس ہوجائے تم ہی میرے دشمن بن بیٹھے میں تو تمہارے ہی بچاؤ کی کوشش کر رہا تھا اور تمہارے ہی فائدے کے لئے حجت بازی کر رہا تھا (نسائی وغیرہ) نسائی کی ایک اور حدیث میں ہے تمہیں اللہ کے سامنے بلایا جائے گا جبکہ زبان بند ہوگی سب سے پہلے رانوں اور ہتھیلیوں سے سوال ہوگا۔ قیامت کی ایک طویل حدیث میں ہے کہ پھر تیسرے موقعہ پر اس سے کہا جائے گا کہ تو کیا ہے ؟ یہ کہے گا تیرا بندہ ہوں تجھ پر تیری نبی ﷺ پر تیری کتاب پر ایمان لایا تھا روزے نماز زکوٰۃ وغیرہ کا پابند تھا اور بھی بہت سی اپنی نیکیاں بیان کر جائے گا اس وقت اس سے کہا جائے گا، اچھا ٹھہر جا ہم گواہ لاتے ہیں یہ سوچتا ہی ہوگا کہ گواہی میں کون پیش کیا جائے گا ؟ یکایک اس کی زبان بند کردی جائے گی اور اس کی ران سے کہا جائے گا کہ تو گواہی دے، اب ران اور ہڈیاں اور گوشت بول پڑے گا اور اس منافق کے سارے نفاق کو اور تمام پوشیدہ اعمال کو کھول کر رکھ دے گا۔ یہ سب اس لئے ہوگا کہ پھر اس کی حجت باقی نہ رہے اور اس کا عذر ٹوٹ جائے۔ چونکہ رب اس پر ناراض تھا اس لئے اس سے سختی سے باز پرس ہوئی۔ (ابو داؤد) حدیث میں ہے منہ پر مہر لگنے کے بعد سب سے پہلے انسان کی بائیں ران بولے گی۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومن کو بلاکر اس کے گناہ اس کے سامنے پیش کر کے فرمائے گا، کہو یہ ٹھیک ہے ؟ یہ کہے گا ہاں اللہ سب درست ہے بیشک مجھ سے یہ خطائیں سر زد ہوئی ہیں۔ اللہ فرمائے گا اچھا ہم نے سب بخش دیں، لیکن یہ گفتگو اس طرح ہوگی کہ کسی ایک کو بھی اس کا مطلق علم نہ ہوگا اس کا ایک گناہ بھی مخلوق میں سے کسی پر ظاہر نہ ہوگا۔ اب اس کی نیکیاں لائی جائیں گی اور انہیں کھول کھول کر ساری مخلوق کے سامن جتا جتا کر رکھی جائیں گی۔ (اے ستار العیوب اے غفار الذنوب تو ہم گناہ گاروں کی پردہ پوشی کر اور ہم مجرموں سے درگذر فرما۔ اللہ اس دن ہمیں رسوا اور ذلیل نہ کر اور اپنے دامن رحمت میں ڈھانپ لے۔ اے ذرہ نواز اللہ عزو جل ! اپنی بےپایاں بخشش کی موسلا دھار بارش کا ایک قطرہ ادھر بھی برسا دے اور ہمارے تمام گناہوں کو دھو ڈال، پروردگار ایک نظر رحمت ادھر بھی، مالک الملک ہم بھی تیری چشم رحمت کے منتظر ہیں، اے غفور و رحیم اللہ کیا تیرے در سے بھی کوئی سوالی خالی جھولی لے کر ناامید ہو کر آج تک لوٹا ہے ؟ رحم کر رحم کر رحم کر۔ اے مالک و خالق رحم کر اپنے انتقام سے بچا اپنے غصے سے نجات دے اپنی رحمتوں سے نواز دے اپنے عذابوں سے چھٹکارا دے اپنی جنت میں پہنچا دے، اپنے دیدار سے مشرف فرما۔ آمین آمین۔ اور کافر و منافق کو بلایا جائے گا اس کے بد اعمال اس کے سامنے رکھے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہو یہ ٹھیک ہے ؟ یہ صاف انکار کر جائے گا اور کڑکڑاتی ہوئی قسمیں کھانے لگے کہ اللہ تعالیٰ تیرے ان فرشتوں نے جھوٹی تحریر لکھی ہے میں نے ہرگز یہ گناہ نہیں کئے، فرشتہ کہے گا ہائیں ہائیں کیا کہہ رہا ہے ؟ کیا فلاں دن فلاں جگہ تو نے فلاں کام نہیں کیا ؟ یہ کہے گا اللہ تیری عزت کی قسم محض جھوٹ ہے میں نے ہرگز نہیں کیا ؟ اب اللہ تعالیٰ اس کی زبان بندی کر دے گا، غالباً سب سے پہلے اس کی دائیں ران اس کے خلاف شہادت دے گی، یہی مضمون اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔ پھر فرماتا ہے اگر ہم چاہتے تو انہیں گمراہ کردیتے اور پھر یہ کبھی ہدایت نہ حاصل کرسکتے۔ اگر ہم چاہتے ان کی آنکھیں اندھی کردیتے تو یہ یونہی بھٹکتے پھرتے۔ ادھر ادھر راستے ٹٹولتے۔ حق کو نہ دیکھ سکتے، نہ صحیح راستے پر پہنچ سکتے اور اگر ہم چاہتے تو انہیں ان کے مکانوں میں ہی مسخ کردیتے ان کی صورتیں بدل دیتے انہیں ہلاک کردیتے انہیں پتھر کے بنا دیتے، ان کی ٹانگیں توڑ دیتے۔ پھر تو نہ وہ چل سکتے یعنی آگے کو نہ وہ لوٹ سکتے یعنی پیچھے کو بلکہ بت کی طرح ایک ہی جگہ بیٹھے رہتے، آگے پیچھے نہ ہوسکتے۔
اعضاء کی گواہی۔ جہنم بھڑکتی ہوئی اور شعلے مارتی ہوئی چیختی ہوئی اور چلاتی ہوئی سامنے ہوگی اور کفار سے کہا جائے گا کہ یہی وہ جہنم ہے جس کا ذکر میرے رسول کیا کرتے تھے جس سے وہ ڈرایا کرتے تھے اور تم انہیں جھٹلاتے تھے۔ لو اب اپنے اس کفر کا مزہ چکھو اٹھو اس میں کود پڑو، چناچہ اور آیت میں ہے (یوم یدعون) الخ، جس دن یہ جہنم کی طرف دھکیلے جائیں گے اور کہا جائے گا یہی وہ دوزخ ہے جس کا انکار کرتے رہے ہو۔ بتاؤ تو یہ جادو ہے ؟ یا تم اندھے ہوگئے ہو ؟ قیامت والے دن جب یہ کفار اور منافقین اپنے گناہوں کا انکار کریں گے اور اس پر قسمیں کھا لیں گے تو اللہ ان کی زبانوں کو بند کر دے گا اور ان کے بدن کے اعضاء سچی سچی گواہی دینا شروع کردیں گے، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں ہم حضور ﷺ کے پاس تھے کہ آپ یکایک ہنسے اور اس قدر ہنسے کہ مسوڑھے کھل گئے پھر ہم سے دریافت کرنے لگے کہ جانتے ہو میں کیوں ہنسا ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ فرمایا بندہ جو اپنے رب سے قیامت کے دن جھگڑا کرے گا اس پر۔ کہے گا کہ باری تعالیٰ کیا تو نے مجھے ظلم سے بچایا نہ تھا ؟ اللہ فرمائے گا ہاں، تو یہ کہے گا بس پھر میں کسی گواہ کی گواہی اپنے خلاف منظور نہیں کروں گا۔ بس میرا اپنا بدن تو میرا ہے باقی سب میرے دشمن ہیں۔ اللہ فرمائے گا اچھا یونہی سہی تو ہی اپنا گواہ سہی اور میرے بزرگ فرشتے گواہ سہی۔ چناچہ اسی وقت زبان پر مہر لگا دی جائے گی اور اعضائے بدن سے فرمایا جائے گا بولو تم خود گواہی دو کہ تم سے اس نے کیا کیا کام لئے ؟ وہ صاف کھول کھول کر سچ سچ ایک ایک بات بتادیں گے پھر اس کی زبان کھول دی جائے گی تو یہ اپنے بدن کے جوڑوں سے کہے گا تمہارا ستیاناس ہوجائے تم ہی میرے دشمن بن بیٹھے میں تو تمہارے ہی بچاؤ کی کوشش کر رہا تھا اور تمہارے ہی فائدے کے لئے حجت بازی کر رہا تھا (نسائی وغیرہ) نسائی کی ایک اور حدیث میں ہے تمہیں اللہ کے سامنے بلایا جائے گا جبکہ زبان بند ہوگی سب سے پہلے رانوں اور ہتھیلیوں سے سوال ہوگا۔ قیامت کی ایک طویل حدیث میں ہے کہ پھر تیسرے موقعہ پر اس سے کہا جائے گا کہ تو کیا ہے ؟ یہ کہے گا تیرا بندہ ہوں تجھ پر تیری نبی ﷺ پر تیری کتاب پر ایمان لایا تھا روزے نماز زکوٰۃ وغیرہ کا پابند تھا اور بھی بہت سی اپنی نیکیاں بیان کر جائے گا اس وقت اس سے کہا جائے گا، اچھا ٹھہر جا ہم گواہ لاتے ہیں یہ سوچتا ہی ہوگا کہ گواہی میں کون پیش کیا جائے گا ؟ یکایک اس کی زبان بند کردی جائے گی اور اس کی ران سے کہا جائے گا کہ تو گواہی دے، اب ران اور ہڈیاں اور گوشت بول پڑے گا اور اس منافق کے سارے نفاق کو اور تمام پوشیدہ اعمال کو کھول کر رکھ دے گا۔ یہ سب اس لئے ہوگا کہ پھر اس کی حجت باقی نہ رہے اور اس کا عذر ٹوٹ جائے۔ چونکہ رب اس پر ناراض تھا اس لئے اس سے سختی سے باز پرس ہوئی۔ (ابو داؤد) حدیث میں ہے منہ پر مہر لگنے کے بعد سب سے پہلے انسان کی بائیں ران بولے گی۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومن کو بلاکر اس کے گناہ اس کے سامنے پیش کر کے فرمائے گا، کہو یہ ٹھیک ہے ؟ یہ کہے گا ہاں اللہ سب درست ہے بیشک مجھ سے یہ خطائیں سر زد ہوئی ہیں۔ اللہ فرمائے گا اچھا ہم نے سب بخش دیں، لیکن یہ گفتگو اس طرح ہوگی کہ کسی ایک کو بھی اس کا مطلق علم نہ ہوگا اس کا ایک گناہ بھی مخلوق میں سے کسی پر ظاہر نہ ہوگا۔ اب اس کی نیکیاں لائی جائیں گی اور انہیں کھول کھول کر ساری مخلوق کے سامن جتا جتا کر رکھی جائیں گی۔ (اے ستار العیوب اے غفار الذنوب تو ہم گناہ گاروں کی پردہ پوشی کر اور ہم مجرموں سے درگذر فرما۔ اللہ اس دن ہمیں رسوا اور ذلیل نہ کر اور اپنے دامن رحمت میں ڈھانپ لے۔ اے ذرہ نواز اللہ عزو جل ! اپنی بےپایاں بخشش کی موسلا دھار بارش کا ایک قطرہ ادھر بھی برسا دے اور ہمارے تمام گناہوں کو دھو ڈال، پروردگار ایک نظر رحمت ادھر بھی، مالک الملک ہم بھی تیری چشم رحمت کے منتظر ہیں، اے غفور و رحیم اللہ کیا تیرے در سے بھی کوئی سوالی خالی جھولی لے کر ناامید ہو کر آج تک لوٹا ہے ؟ رحم کر رحم کر رحم کر۔ اے مالک و خالق رحم کر اپنے انتقام سے بچا اپنے غصے سے نجات دے اپنی رحمتوں سے نواز دے اپنے عذابوں سے چھٹکارا دے اپنی جنت میں پہنچا دے، اپنے دیدار سے مشرف فرما۔ آمین آمین۔ اور کافر و منافق کو بلایا جائے گا اس کے بد اعمال اس کے سامنے رکھے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہو یہ ٹھیک ہے ؟ یہ صاف انکار کر جائے گا اور کڑکڑاتی ہوئی قسمیں کھانے لگے کہ اللہ تعالیٰ تیرے ان فرشتوں نے جھوٹی تحریر لکھی ہے میں نے ہرگز یہ گناہ نہیں کئے، فرشتہ کہے گا ہائیں ہائیں کیا کہہ رہا ہے ؟ کیا فلاں دن فلاں جگہ تو نے فلاں کام نہیں کیا ؟ یہ کہے گا اللہ تیری عزت کی قسم محض جھوٹ ہے میں نے ہرگز نہیں کیا ؟ اب اللہ تعالیٰ اس کی زبان بندی کر دے گا، غالباً سب سے پہلے اس کی دائیں ران اس کے خلاف شہادت دے گی، یہی مضمون اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔ پھر فرماتا ہے اگر ہم چاہتے تو انہیں گمراہ کردیتے اور پھر یہ کبھی ہدایت نہ حاصل کرسکتے۔ اگر ہم چاہتے ان کی آنکھیں اندھی کردیتے تو یہ یونہی بھٹکتے پھرتے۔ ادھر ادھر راستے ٹٹولتے۔ حق کو نہ دیکھ سکتے، نہ صحیح راستے پر پہنچ سکتے اور اگر ہم چاہتے تو انہیں ان کے مکانوں میں ہی مسخ کردیتے ان کی صورتیں بدل دیتے انہیں ہلاک کردیتے انہیں پتھر کے بنا دیتے، ان کی ٹانگیں توڑ دیتے۔ پھر تو نہ وہ چل سکتے یعنی آگے کو نہ وہ لوٹ سکتے یعنی پیچھے کو بلکہ بت کی طرح ایک ہی جگہ بیٹھے رہتے، آگے پیچھے نہ ہوسکتے۔
اعضاء کی گواہی۔ جہنم بھڑکتی ہوئی اور شعلے مارتی ہوئی چیختی ہوئی اور چلاتی ہوئی سامنے ہوگی اور کفار سے کہا جائے گا کہ یہی وہ جہنم ہے جس کا ذکر میرے رسول کیا کرتے تھے جس سے وہ ڈرایا کرتے تھے اور تم انہیں جھٹلاتے تھے۔ لو اب اپنے اس کفر کا مزہ چکھو اٹھو اس میں کود پڑو، چناچہ اور آیت میں ہے (یوم یدعون) الخ، جس دن یہ جہنم کی طرف دھکیلے جائیں گے اور کہا جائے گا یہی وہ دوزخ ہے جس کا انکار کرتے رہے ہو۔ بتاؤ تو یہ جادو ہے ؟ یا تم اندھے ہوگئے ہو ؟ قیامت والے دن جب یہ کفار اور منافقین اپنے گناہوں کا انکار کریں گے اور اس پر قسمیں کھا لیں گے تو اللہ ان کی زبانوں کو بند کر دے گا اور ان کے بدن کے اعضاء سچی سچی گواہی دینا شروع کردیں گے، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں ہم حضور ﷺ کے پاس تھے کہ آپ یکایک ہنسے اور اس قدر ہنسے کہ مسوڑھے کھل گئے پھر ہم سے دریافت کرنے لگے کہ جانتے ہو میں کیوں ہنسا ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ فرمایا بندہ جو اپنے رب سے قیامت کے دن جھگڑا کرے گا اس پر۔ کہے گا کہ باری تعالیٰ کیا تو نے مجھے ظلم سے بچایا نہ تھا ؟ اللہ فرمائے گا ہاں، تو یہ کہے گا بس پھر میں کسی گواہ کی گواہی اپنے خلاف منظور نہیں کروں گا۔ بس میرا اپنا بدن تو میرا ہے باقی سب میرے دشمن ہیں۔ اللہ فرمائے گا اچھا یونہی سہی تو ہی اپنا گواہ سہی اور میرے بزرگ فرشتے گواہ سہی۔ چناچہ اسی وقت زبان پر مہر لگا دی جائے گی اور اعضائے بدن سے فرمایا جائے گا بولو تم خود گواہی دو کہ تم سے اس نے کیا کیا کام لئے ؟ وہ صاف کھول کھول کر سچ سچ ایک ایک بات بتادیں گے پھر اس کی زبان کھول دی جائے گی تو یہ اپنے بدن کے جوڑوں سے کہے گا تمہارا ستیاناس ہوجائے تم ہی میرے دشمن بن بیٹھے میں تو تمہارے ہی بچاؤ کی کوشش کر رہا تھا اور تمہارے ہی فائدے کے لئے حجت بازی کر رہا تھا (نسائی وغیرہ) نسائی کی ایک اور حدیث میں ہے تمہیں اللہ کے سامنے بلایا جائے گا جبکہ زبان بند ہوگی سب سے پہلے رانوں اور ہتھیلیوں سے سوال ہوگا۔ قیامت کی ایک طویل حدیث میں ہے کہ پھر تیسرے موقعہ پر اس سے کہا جائے گا کہ تو کیا ہے ؟ یہ کہے گا تیرا بندہ ہوں تجھ پر تیری نبی ﷺ پر تیری کتاب پر ایمان لایا تھا روزے نماز زکوٰۃ وغیرہ کا پابند تھا اور بھی بہت سی اپنی نیکیاں بیان کر جائے گا اس وقت اس سے کہا جائے گا، اچھا ٹھہر جا ہم گواہ لاتے ہیں یہ سوچتا ہی ہوگا کہ گواہی میں کون پیش کیا جائے گا ؟ یکایک اس کی زبان بند کردی جائے گی اور اس کی ران سے کہا جائے گا کہ تو گواہی دے، اب ران اور ہڈیاں اور گوشت بول پڑے گا اور اس منافق کے سارے نفاق کو اور تمام پوشیدہ اعمال کو کھول کر رکھ دے گا۔ یہ سب اس لئے ہوگا کہ پھر اس کی حجت باقی نہ رہے اور اس کا عذر ٹوٹ جائے۔ چونکہ رب اس پر ناراض تھا اس لئے اس سے سختی سے باز پرس ہوئی۔ (ابو داؤد) حدیث میں ہے منہ پر مہر لگنے کے بعد سب سے پہلے انسان کی بائیں ران بولے گی۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومن کو بلاکر اس کے گناہ اس کے سامنے پیش کر کے فرمائے گا، کہو یہ ٹھیک ہے ؟ یہ کہے گا ہاں اللہ سب درست ہے بیشک مجھ سے یہ خطائیں سر زد ہوئی ہیں۔ اللہ فرمائے گا اچھا ہم نے سب بخش دیں، لیکن یہ گفتگو اس طرح ہوگی کہ کسی ایک کو بھی اس کا مطلق علم نہ ہوگا اس کا ایک گناہ بھی مخلوق میں سے کسی پر ظاہر نہ ہوگا۔ اب اس کی نیکیاں لائی جائیں گی اور انہیں کھول کھول کر ساری مخلوق کے سامن جتا جتا کر رکھی جائیں گی۔ (اے ستار العیوب اے غفار الذنوب تو ہم گناہ گاروں کی پردہ پوشی کر اور ہم مجرموں سے درگذر فرما۔ اللہ اس دن ہمیں رسوا اور ذلیل نہ کر اور اپنے دامن رحمت میں ڈھانپ لے۔ اے ذرہ نواز اللہ عزو جل ! اپنی بےپایاں بخشش کی موسلا دھار بارش کا ایک قطرہ ادھر بھی برسا دے اور ہمارے تمام گناہوں کو دھو ڈال، پروردگار ایک نظر رحمت ادھر بھی، مالک الملک ہم بھی تیری چشم رحمت کے منتظر ہیں، اے غفور و رحیم اللہ کیا تیرے در سے بھی کوئی سوالی خالی جھولی لے کر ناامید ہو کر آج تک لوٹا ہے ؟ رحم کر رحم کر رحم کر۔ اے مالک و خالق رحم کر اپنے انتقام سے بچا اپنے غصے سے نجات دے اپنی رحمتوں سے نواز دے اپنے عذابوں سے چھٹکارا دے اپنی جنت میں پہنچا دے، اپنے دیدار سے مشرف فرما۔ آمین آمین۔ اور کافر و منافق کو بلایا جائے گا اس کے بد اعمال اس کے سامنے رکھے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہو یہ ٹھیک ہے ؟ یہ صاف انکار کر جائے گا اور کڑکڑاتی ہوئی قسمیں کھانے لگے کہ اللہ تعالیٰ تیرے ان فرشتوں نے جھوٹی تحریر لکھی ہے میں نے ہرگز یہ گناہ نہیں کئے، فرشتہ کہے گا ہائیں ہائیں کیا کہہ رہا ہے ؟ کیا فلاں دن فلاں جگہ تو نے فلاں کام نہیں کیا ؟ یہ کہے گا اللہ تیری عزت کی قسم محض جھوٹ ہے میں نے ہرگز نہیں کیا ؟ اب اللہ تعالیٰ اس کی زبان بندی کر دے گا، غالباً سب سے پہلے اس کی دائیں ران اس کے خلاف شہادت دے گی، یہی مضمون اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔ پھر فرماتا ہے اگر ہم چاہتے تو انہیں گمراہ کردیتے اور پھر یہ کبھی ہدایت نہ حاصل کرسکتے۔ اگر ہم چاہتے ان کی آنکھیں اندھی کردیتے تو یہ یونہی بھٹکتے پھرتے۔ ادھر ادھر راستے ٹٹولتے۔ حق کو نہ دیکھ سکتے، نہ صحیح راستے پر پہنچ سکتے اور اگر ہم چاہتے تو انہیں ان کے مکانوں میں ہی مسخ کردیتے ان کی صورتیں بدل دیتے انہیں ہلاک کردیتے انہیں پتھر کے بنا دیتے، ان کی ٹانگیں توڑ دیتے۔ پھر تو نہ وہ چل سکتے یعنی آگے کو نہ وہ لوٹ سکتے یعنی پیچھے کو بلکہ بت کی طرح ایک ہی جگہ بیٹھے رہتے، آگے پیچھے نہ ہوسکتے۔
اعضاء کی گواہی۔ جہنم بھڑکتی ہوئی اور شعلے مارتی ہوئی چیختی ہوئی اور چلاتی ہوئی سامنے ہوگی اور کفار سے کہا جائے گا کہ یہی وہ جہنم ہے جس کا ذکر میرے رسول کیا کرتے تھے جس سے وہ ڈرایا کرتے تھے اور تم انہیں جھٹلاتے تھے۔ لو اب اپنے اس کفر کا مزہ چکھو اٹھو اس میں کود پڑو، چناچہ اور آیت میں ہے (یوم یدعون) الخ، جس دن یہ جہنم کی طرف دھکیلے جائیں گے اور کہا جائے گا یہی وہ دوزخ ہے جس کا انکار کرتے رہے ہو۔ بتاؤ تو یہ جادو ہے ؟ یا تم اندھے ہوگئے ہو ؟ قیامت والے دن جب یہ کفار اور منافقین اپنے گناہوں کا انکار کریں گے اور اس پر قسمیں کھا لیں گے تو اللہ ان کی زبانوں کو بند کر دے گا اور ان کے بدن کے اعضاء سچی سچی گواہی دینا شروع کردیں گے، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں ہم حضور ﷺ کے پاس تھے کہ آپ یکایک ہنسے اور اس قدر ہنسے کہ مسوڑھے کھل گئے پھر ہم سے دریافت کرنے لگے کہ جانتے ہو میں کیوں ہنسا ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ فرمایا بندہ جو اپنے رب سے قیامت کے دن جھگڑا کرے گا اس پر۔ کہے گا کہ باری تعالیٰ کیا تو نے مجھے ظلم سے بچایا نہ تھا ؟ اللہ فرمائے گا ہاں، تو یہ کہے گا بس پھر میں کسی گواہ کی گواہی اپنے خلاف منظور نہیں کروں گا۔ بس میرا اپنا بدن تو میرا ہے باقی سب میرے دشمن ہیں۔ اللہ فرمائے گا اچھا یونہی سہی تو ہی اپنا گواہ سہی اور میرے بزرگ فرشتے گواہ سہی۔ چناچہ اسی وقت زبان پر مہر لگا دی جائے گی اور اعضائے بدن سے فرمایا جائے گا بولو تم خود گواہی دو کہ تم سے اس نے کیا کیا کام لئے ؟ وہ صاف کھول کھول کر سچ سچ ایک ایک بات بتادیں گے پھر اس کی زبان کھول دی جائے گی تو یہ اپنے بدن کے جوڑوں سے کہے گا تمہارا ستیاناس ہوجائے تم ہی میرے دشمن بن بیٹھے میں تو تمہارے ہی بچاؤ کی کوشش کر رہا تھا اور تمہارے ہی فائدے کے لئے حجت بازی کر رہا تھا (نسائی وغیرہ) نسائی کی ایک اور حدیث میں ہے تمہیں اللہ کے سامنے بلایا جائے گا جبکہ زبان بند ہوگی سب سے پہلے رانوں اور ہتھیلیوں سے سوال ہوگا۔ قیامت کی ایک طویل حدیث میں ہے کہ پھر تیسرے موقعہ پر اس سے کہا جائے گا کہ تو کیا ہے ؟ یہ کہے گا تیرا بندہ ہوں تجھ پر تیری نبی ﷺ پر تیری کتاب پر ایمان لایا تھا روزے نماز زکوٰۃ وغیرہ کا پابند تھا اور بھی بہت سی اپنی نیکیاں بیان کر جائے گا اس وقت اس سے کہا جائے گا، اچھا ٹھہر جا ہم گواہ لاتے ہیں یہ سوچتا ہی ہوگا کہ گواہی میں کون پیش کیا جائے گا ؟ یکایک اس کی زبان بند کردی جائے گی اور اس کی ران سے کہا جائے گا کہ تو گواہی دے، اب ران اور ہڈیاں اور گوشت بول پڑے گا اور اس منافق کے سارے نفاق کو اور تمام پوشیدہ اعمال کو کھول کر رکھ دے گا۔ یہ سب اس لئے ہوگا کہ پھر اس کی حجت باقی نہ رہے اور اس کا عذر ٹوٹ جائے۔ چونکہ رب اس پر ناراض تھا اس لئے اس سے سختی سے باز پرس ہوئی۔ (ابو داؤد) حدیث میں ہے منہ پر مہر لگنے کے بعد سب سے پہلے انسان کی بائیں ران بولے گی۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومن کو بلاکر اس کے گناہ اس کے سامنے پیش کر کے فرمائے گا، کہو یہ ٹھیک ہے ؟ یہ کہے گا ہاں اللہ سب درست ہے بیشک مجھ سے یہ خطائیں سر زد ہوئی ہیں۔ اللہ فرمائے گا اچھا ہم نے سب بخش دیں، لیکن یہ گفتگو اس طرح ہوگی کہ کسی ایک کو بھی اس کا مطلق علم نہ ہوگا اس کا ایک گناہ بھی مخلوق میں سے کسی پر ظاہر نہ ہوگا۔ اب اس کی نیکیاں لائی جائیں گی اور انہیں کھول کھول کر ساری مخلوق کے سامن جتا جتا کر رکھی جائیں گی۔ (اے ستار العیوب اے غفار الذنوب تو ہم گناہ گاروں کی پردہ پوشی کر اور ہم مجرموں سے درگذر فرما۔ اللہ اس دن ہمیں رسوا اور ذلیل نہ کر اور اپنے دامن رحمت میں ڈھانپ لے۔ اے ذرہ نواز اللہ عزو جل ! اپنی بےپایاں بخشش کی موسلا دھار بارش کا ایک قطرہ ادھر بھی برسا دے اور ہمارے تمام گناہوں کو دھو ڈال، پروردگار ایک نظر رحمت ادھر بھی، مالک الملک ہم بھی تیری چشم رحمت کے منتظر ہیں، اے غفور و رحیم اللہ کیا تیرے در سے بھی کوئی سوالی خالی جھولی لے کر ناامید ہو کر آج تک لوٹا ہے ؟ رحم کر رحم کر رحم کر۔ اے مالک و خالق رحم کر اپنے انتقام سے بچا اپنے غصے سے نجات دے اپنی رحمتوں سے نواز دے اپنے عذابوں سے چھٹکارا دے اپنی جنت میں پہنچا دے، اپنے دیدار سے مشرف فرما۔ آمین آمین۔ اور کافر و منافق کو بلایا جائے گا اس کے بد اعمال اس کے سامنے رکھے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہو یہ ٹھیک ہے ؟ یہ صاف انکار کر جائے گا اور کڑکڑاتی ہوئی قسمیں کھانے لگے کہ اللہ تعالیٰ تیرے ان فرشتوں نے جھوٹی تحریر لکھی ہے میں نے ہرگز یہ گناہ نہیں کئے، فرشتہ کہے گا ہائیں ہائیں کیا کہہ رہا ہے ؟ کیا فلاں دن فلاں جگہ تو نے فلاں کام نہیں کیا ؟ یہ کہے گا اللہ تیری عزت کی قسم محض جھوٹ ہے میں نے ہرگز نہیں کیا ؟ اب اللہ تعالیٰ اس کی زبان بندی کر دے گا، غالباً سب سے پہلے اس کی دائیں ران اس کے خلاف شہادت دے گی، یہی مضمون اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔ پھر فرماتا ہے اگر ہم چاہتے تو انہیں گمراہ کردیتے اور پھر یہ کبھی ہدایت نہ حاصل کرسکتے۔ اگر ہم چاہتے ان کی آنکھیں اندھی کردیتے تو یہ یونہی بھٹکتے پھرتے۔ ادھر ادھر راستے ٹٹولتے۔ حق کو نہ دیکھ سکتے، نہ صحیح راستے پر پہنچ سکتے اور اگر ہم چاہتے تو انہیں ان کے مکانوں میں ہی مسخ کردیتے ان کی صورتیں بدل دیتے انہیں ہلاک کردیتے انہیں پتھر کے بنا دیتے، ان کی ٹانگیں توڑ دیتے۔ پھر تو نہ وہ چل سکتے یعنی آگے کو نہ وہ لوٹ سکتے یعنی پیچھے کو بلکہ بت کی طرح ایک ہی جگہ بیٹھے رہتے، آگے پیچھے نہ ہوسکتے۔
اعضاء کی گواہی۔ جہنم بھڑکتی ہوئی اور شعلے مارتی ہوئی چیختی ہوئی اور چلاتی ہوئی سامنے ہوگی اور کفار سے کہا جائے گا کہ یہی وہ جہنم ہے جس کا ذکر میرے رسول کیا کرتے تھے جس سے وہ ڈرایا کرتے تھے اور تم انہیں جھٹلاتے تھے۔ لو اب اپنے اس کفر کا مزہ چکھو اٹھو اس میں کود پڑو، چناچہ اور آیت میں ہے (یوم یدعون) الخ، جس دن یہ جہنم کی طرف دھکیلے جائیں گے اور کہا جائے گا یہی وہ دوزخ ہے جس کا انکار کرتے رہے ہو۔ بتاؤ تو یہ جادو ہے ؟ یا تم اندھے ہوگئے ہو ؟ قیامت والے دن جب یہ کفار اور منافقین اپنے گناہوں کا انکار کریں گے اور اس پر قسمیں کھا لیں گے تو اللہ ان کی زبانوں کو بند کر دے گا اور ان کے بدن کے اعضاء سچی سچی گواہی دینا شروع کردیں گے، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں ہم حضور ﷺ کے پاس تھے کہ آپ یکایک ہنسے اور اس قدر ہنسے کہ مسوڑھے کھل گئے پھر ہم سے دریافت کرنے لگے کہ جانتے ہو میں کیوں ہنسا ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ فرمایا بندہ جو اپنے رب سے قیامت کے دن جھگڑا کرے گا اس پر۔ کہے گا کہ باری تعالیٰ کیا تو نے مجھے ظلم سے بچایا نہ تھا ؟ اللہ فرمائے گا ہاں، تو یہ کہے گا بس پھر میں کسی گواہ کی گواہی اپنے خلاف منظور نہیں کروں گا۔ بس میرا اپنا بدن تو میرا ہے باقی سب میرے دشمن ہیں۔ اللہ فرمائے گا اچھا یونہی سہی تو ہی اپنا گواہ سہی اور میرے بزرگ فرشتے گواہ سہی۔ چناچہ اسی وقت زبان پر مہر لگا دی جائے گی اور اعضائے بدن سے فرمایا جائے گا بولو تم خود گواہی دو کہ تم سے اس نے کیا کیا کام لئے ؟ وہ صاف کھول کھول کر سچ سچ ایک ایک بات بتادیں گے پھر اس کی زبان کھول دی جائے گی تو یہ اپنے بدن کے جوڑوں سے کہے گا تمہارا ستیاناس ہوجائے تم ہی میرے دشمن بن بیٹھے میں تو تمہارے ہی بچاؤ کی کوشش کر رہا تھا اور تمہارے ہی فائدے کے لئے حجت بازی کر رہا تھا (نسائی وغیرہ) نسائی کی ایک اور حدیث میں ہے تمہیں اللہ کے سامنے بلایا جائے گا جبکہ زبان بند ہوگی سب سے پہلے رانوں اور ہتھیلیوں سے سوال ہوگا۔ قیامت کی ایک طویل حدیث میں ہے کہ پھر تیسرے موقعہ پر اس سے کہا جائے گا کہ تو کیا ہے ؟ یہ کہے گا تیرا بندہ ہوں تجھ پر تیری نبی ﷺ پر تیری کتاب پر ایمان لایا تھا روزے نماز زکوٰۃ وغیرہ کا پابند تھا اور بھی بہت سی اپنی نیکیاں بیان کر جائے گا اس وقت اس سے کہا جائے گا، اچھا ٹھہر جا ہم گواہ لاتے ہیں یہ سوچتا ہی ہوگا کہ گواہی میں کون پیش کیا جائے گا ؟ یکایک اس کی زبان بند کردی جائے گی اور اس کی ران سے کہا جائے گا کہ تو گواہی دے، اب ران اور ہڈیاں اور گوشت بول پڑے گا اور اس منافق کے سارے نفاق کو اور تمام پوشیدہ اعمال کو کھول کر رکھ دے گا۔ یہ سب اس لئے ہوگا کہ پھر اس کی حجت باقی نہ رہے اور اس کا عذر ٹوٹ جائے۔ چونکہ رب اس پر ناراض تھا اس لئے اس سے سختی سے باز پرس ہوئی۔ (ابو داؤد) حدیث میں ہے منہ پر مہر لگنے کے بعد سب سے پہلے انسان کی بائیں ران بولے گی۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومن کو بلاکر اس کے گناہ اس کے سامنے پیش کر کے فرمائے گا، کہو یہ ٹھیک ہے ؟ یہ کہے گا ہاں اللہ سب درست ہے بیشک مجھ سے یہ خطائیں سر زد ہوئی ہیں۔ اللہ فرمائے گا اچھا ہم نے سب بخش دیں، لیکن یہ گفتگو اس طرح ہوگی کہ کسی ایک کو بھی اس کا مطلق علم نہ ہوگا اس کا ایک گناہ بھی مخلوق میں سے کسی پر ظاہر نہ ہوگا۔ اب اس کی نیکیاں لائی جائیں گی اور انہیں کھول کھول کر ساری مخلوق کے سامن جتا جتا کر رکھی جائیں گی۔ (اے ستار العیوب اے غفار الذنوب تو ہم گناہ گاروں کی پردہ پوشی کر اور ہم مجرموں سے درگذر فرما۔ اللہ اس دن ہمیں رسوا اور ذلیل نہ کر اور اپنے دامن رحمت میں ڈھانپ لے۔ اے ذرہ نواز اللہ عزو جل ! اپنی بےپایاں بخشش کی موسلا دھار بارش کا ایک قطرہ ادھر بھی برسا دے اور ہمارے تمام گناہوں کو دھو ڈال، پروردگار ایک نظر رحمت ادھر بھی، مالک الملک ہم بھی تیری چشم رحمت کے منتظر ہیں، اے غفور و رحیم اللہ کیا تیرے در سے بھی کوئی سوالی خالی جھولی لے کر ناامید ہو کر آج تک لوٹا ہے ؟ رحم کر رحم کر رحم کر۔ اے مالک و خالق رحم کر اپنے انتقام سے بچا اپنے غصے سے نجات دے اپنی رحمتوں سے نواز دے اپنے عذابوں سے چھٹکارا دے اپنی جنت میں پہنچا دے، اپنے دیدار سے مشرف فرما۔ آمین آمین۔ اور کافر و منافق کو بلایا جائے گا اس کے بد اعمال اس کے سامنے رکھے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہو یہ ٹھیک ہے ؟ یہ صاف انکار کر جائے گا اور کڑکڑاتی ہوئی قسمیں کھانے لگے کہ اللہ تعالیٰ تیرے ان فرشتوں نے جھوٹی تحریر لکھی ہے میں نے ہرگز یہ گناہ نہیں کئے، فرشتہ کہے گا ہائیں ہائیں کیا کہہ رہا ہے ؟ کیا فلاں دن فلاں جگہ تو نے فلاں کام نہیں کیا ؟ یہ کہے گا اللہ تیری عزت کی قسم محض جھوٹ ہے میں نے ہرگز نہیں کیا ؟ اب اللہ تعالیٰ اس کی زبان بندی کر دے گا، غالباً سب سے پہلے اس کی دائیں ران اس کے خلاف شہادت دے گی، یہی مضمون اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔ پھر فرماتا ہے اگر ہم چاہتے تو انہیں گمراہ کردیتے اور پھر یہ کبھی ہدایت نہ حاصل کرسکتے۔ اگر ہم چاہتے ان کی آنکھیں اندھی کردیتے تو یہ یونہی بھٹکتے پھرتے۔ ادھر ادھر راستے ٹٹولتے۔ حق کو نہ دیکھ سکتے، نہ صحیح راستے پر پہنچ سکتے اور اگر ہم چاہتے تو انہیں ان کے مکانوں میں ہی مسخ کردیتے ان کی صورتیں بدل دیتے انہیں ہلاک کردیتے انہیں پتھر کے بنا دیتے، ان کی ٹانگیں توڑ دیتے۔ پھر تو نہ وہ چل سکتے یعنی آگے کو نہ وہ لوٹ سکتے یعنی پیچھے کو بلکہ بت کی طرح ایک ہی جگہ بیٹھے رہتے، آگے پیچھے نہ ہوسکتے۔
شاعری پیغمبرانہ شان کے منافی۔ انسان کی جوانی جوں جوں ڈھلتی ہے پیری ضعیفی کمزوری اور ناتوانی آتی جاتی ہے، جیسے سورة روم کی آیت میں ہے۔ (اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ﮨـعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ﮨـعْفًا وَّشَيْبَةً ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۚ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ 54) 30۔ الروم :54) اللہ وہ ہے جس نے تمہیں ناتوانی کی حالت میں پیدا کیا۔ پھر ناتوانی کے بعد طاقت عطا فرمائی پھر طاقت و قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا کردیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ خوب جاننے والا پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ اور آیت میں ہم تم میں سے بعض بہت بڑی عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تاکہ علم کے بعد وہ بےعلم ہوجائیں۔ پس مطلب آیت سے یہ ہے کہ دنیا زوال اور انتقال کی جگہ ہے یہ پائیدار اور قرار گاہ نہیں، پھر بھی کیا یہ لوگ عقل نہیں رکھتے کہ اپنے بچپن، پھر جوانی، پھر بڑھاپے پر غوکریں اور اس سے نتیجہ نکال لیں کہ اس دنیا کے بعد آخرت آنے والی ہے اور اس زندگی کے بعد میں دوبارہ پیدا ہونا ہے۔ پھر فرمایا نہ تو میں نے اپنے پیغمبر کو شاعری سکھائی نہ شاعری اس کے شایان شان نہ اسے شعر گوئی سے محبت نہ شعر اشعار کی طرف اس کی طبیعت کا میلان۔ اسی کا ثبوت آپ کی زندگی میں نمایاں طور پر ملتا ہے کہ کسی کا شعر پڑھتے تھے تو صحیح طور پر ادا نہیں ہوتا تھا یا پورا یاد نہیں نکلتا تھا۔ حضرت شعبی فرماتے ہیں اولاد عبدالمطلب کا ہر مرد عورت شعر کہنا جانتا تھا مگر رسول اللہ ﷺ اس سے کوسوں دور تھے (ابن ابی حاتم) دلائل بیہقی میں ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ عباس بن مرداس سلمی ؓ سے فرمایا تم نے بھی تو یہ شعر کہا ہے ؟ تجعل نھبی و نھب العبید، بین الاقرع و عینیتہ انہوں نے کہا حضور دراصل یوں ہے بین عینیتہ والا قرع آپ نے فرمایا چلو سب برابر ہے مطلب تو فوت نہیں ہوتا ؟ صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ سہیلی نے روض الانف میں اس تقدیم تاخیر کی ایک عجیب توجیہ کی ہے وہ کہتے ہیں حضور ﷺ نے اقرع کو پہلے اور عینیہ کو بعد میں اس لیے ذکر کیا کہ عینیہ خلافت صدیقی میں مرتد ہوگیا تھا بخلاف اقرع کے کہ وہ ثابت قدم رہا تھا۔ واللہ اعلم۔ مغازی میں ہے کہ بدر کے مقتول کافروں کے درمیان گشت لگاتے ہوئے حضور ﷺ کی زبان سے نکلا نفلق ھاما (آگے کچھ نہ فرماسکے۔ اس پر جناب ابوبکر نے پورا شعر پڑھ دیا)۔ من رجال اعزۃ علینا وھم کانوا اعق واظلما یہ کسی عرب شاعر کا شعر ہے جو حماسہ میں موجود ہے۔ مسند احمد میں ہے کبھی کبھی رسول اللہ ﷺ طرفہ کا یہ شعر بہت پڑھتے تھے ویاتیک بالا خبار من لم تزود اس کا پہلا مصرعہ یہ ہے ستبدی لک الا یام ما کنت جاہلا یعنی زمانہ تجھ پر وہ امور ظاہر کردے گا جن سے تو بیخبر ہے اور تیرے پاس ایسا شخص خبریں لائے گا جسے تو نے توشہ نہیں دیا، حضرت عائشہ سے سوال ہوا کہ کیا حضور ﷺ شعر پڑھتے تھے، آپ نے جواب دیا کہ سب سے زیادہ بغض آپ کو شعروں سے تھا ہاں کبھی کبھی بنو قیس والے کا کوئی شعر پڑھتے لیکن اس میں بھی غلطی کرتے تقدیم تاخیر کردیا کرتے۔ حضرت ابوبکر فرماتے حضور ﷺ یوں نہیں ہے تو آپ فرماتے نہ شاعر ہوں نہ شعر گوئی میرے شایان شان (ابن ابی حاتم) دوسری روایت میں شعر اور آگے پیچھے کا ذکر بھی ہے یعنی ویاتیک بالا خبار مالم تذود کو آپ نے من لم تزود الاخبار پڑھا تھا، بہیقی کی ایک روایت میں ہے کہ پورا شعر کبھی آپ نے نہیں پڑھازیادہ سے زیادہ ایک مصرعہ پڑھ لیتے تھے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے خندق کھودتے ہوئے حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کے اشعار پڑھے۔ سو یاد رہے کہ آپ کا یہ پڑھنا صحابہ کے ساتھ تھا۔ وہ اشعاریہ ہیں۔ لاھم لو لاانت ما اھتدینا ولا تصدقناولا صلینا فانذلن سکینتہ علینا وثبت الاقدام ان لا قینا ان الاولی قد بغوا علینا اذا ارادوا فتنتہ ابینا حضور لفظ ابینا کو کھینچ کر پڑھتے اور سارے ہی بلند آواز سے پڑھتے، ترجمہ ان اشعار کا یہ ہے کوئی غم نہیں اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے نہ صدقے دیتے اور نہ نمازیں پڑھتے۔ اب تو ہم پر تسکین نازل فرما۔ جب دشمنوں سے لڑائی چھڑ جائے تو ہمیں ثابت قدمی عطا فرما، یہی لوگ ہم پر سرکشی کرتے ہیں ہاں جب کبھی فتنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کرتے ہیں اسی طرح ثابت ہے کہ حنین والے دن آپ نے اپنے خچر کو دشمنوں کی طرف بڑھاتے ہوئے فرمایا۔ انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب اس کی بابت یہ یاد رہے کہ اتفاقیہ ایک کلام آپ کی زبان سے نکل گیا جو وزن شعر پر اترا۔ نہ کہ قصداً آپ نے شعر کہا، حضرت جندب بن عبداللہ فرماتے ہیں ہم حضور ﷺ کے ساتھ ایک غار میں تھے آپ کی انگلی زخمی ہوگئی تھی تو آپ نے فرمایا۔ ھل انت الا اصبح دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت یعنی تو ایک انگلی ہی تو ہے۔ اور تو راہ اللہ میں خون آلود ہوئی ہے۔ یہ بھی اتفاقیہ ہے قصداً نہیں۔ اسی طرح ایک حدیث الا المم کی تفسیر میں آئے گی کہ آپ نے فرمایا۔ ان تغفر اللھم تغفر جما وای عبدلک ما الما یعنی اے اللہ تو جب بخشے تو ہمارے سبھی کے سب گناہ بخش دے، ورنہ یوں تو تیرا کوئی بندہ نہیں جو چھوٹی چھوٹی لغزشوں سے بھی پاک ہو پس یہ سب کے سب اس آیت کے منافی نہیں کیونکہ اللہ کی تعلیم آپ کو شعر گوئی کی نہ تھی۔ بلکہ رب العالمین نے تو آپ کو قرآن عظیم کی تعلیم دی تھی جس کے پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا۔ قرآن حکیم کی یہ پاک نظم شاعری سے منزلوں دور تھی۔ اسی طرح کہانت سے اور گھڑ لینے سے اور جادو کے کلمات سے جیسے کہ کفار کے مختلف گروہ مختلف بولیاں بولتے تھے۔ آپ کی تو طبیعت ان لسانی صنعتوں سے معصوم تھی۔ ﷺ۔ ابو داؤد میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا میرے نزدیک یہ تینوں باتیں برابر ہیں، تریاق کا پینا، گنڈے کا لٹکانا اور شعر بنانا۔ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں شعر گوئی سے آپ کو طبعاً نفرت تھی۔ دعا میں آپ کو جامع کلمات پسند آتے تھے اور اس کے سوا چھوڑ دیتے تھے (احمد) ابو اداؤد میں ہے کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جانا اس کے لیے شعروں سے بھر لینے سے بہتر ہے۔ (ابوداؤد) مسند احمد کی ایک غریب حدیث میں ہے جس نے عشاء کی نماز کے بعد کسی شعر کا ایک مصرع بھی باندھا اس کی اس رات کی نماز نامقبول ہے۔ یہ یادر ہے کہ شعر گوئی کی قسمیں ہیں، مشرکوں کی ہجو میں شعر کہنے مشروع ہیں۔ حسان بن ثابت ؓ، حضرت کعب بن مالک ؓ ، حضرت کعب بن مالک ؓ ، حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ وغیرہ جیسے اکابرین صحابہ نے کفار کی ہجو میں اشعار کے کلام میں ایسے اشعار پائے جاتے ہیں۔ چناچہ امیہ بن صلت کے اشعار کی بابت فرمان رسول ﷺ ہے کہ اس کے شعر تو ایمان لاچکے ہیں لیکن اس کا دل کافر ہی رہا۔ ایک صحابی نے آپ کو امیہ کے ایک سو بیت سنائے ہر بیت کے بعد آپ فرماتے تھے اور کہو۔ ابو داؤد میں حضور کا ارشاد ہے کہ بعض بیان مثل جادو کے ہیں اور بعض شعر سراسر حکمت والے ہیں۔ پس فرمان ہے کہ جو کچھ ہم نے انہیں سکھایا ہے وہ سراسر ذکر و نصیحت اور واضح صاف اور روشن قرآن ہے، جو شخص ذرا سا بھی غور کرے اس پر یہ کھل جاتا ہے۔ تاکہ روئے زمین پر جتنے لوگ موجود ہیں یہ ان سب کو آگاہ کردے اور ڈرا دے جیسے فرمایا (لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ 19ۘ) 6۔ الانعام :19) تاکہ میں تمہیں اس کے ساتھ ڈرادوں اور جسے بھی یہ پہنچ جائے۔ اور آیت میں ہے (وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ 17) 11۔ ھود :17) یعنی جماعتوں میں سے جو بھی اسے نہ مانے وہ سزاوار دوزخی ہے۔ ہاں اس قرآن سے اور نبی ﷺ کے فرمان سے اثر وہی لیتا ہے۔ جو زندہ دل اور اندرونی نور والا ہو۔ عقل و بصیرت رکھتا ہو اور عذاب کا قول تو کافروں پر ثابت ہے ہی۔ پس قرآن مومنوں کے لیے رحمت اور کافروں پر اتمام حجت ہے۔
شاعری پیغمبرانہ شان کے منافی۔ انسان کی جوانی جوں جوں ڈھلتی ہے پیری ضعیفی کمزوری اور ناتوانی آتی جاتی ہے، جیسے سورة روم کی آیت میں ہے۔ (اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ﮨـعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ﮨـعْفًا وَّشَيْبَةً ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۚ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ 54) 30۔ الروم :54) اللہ وہ ہے جس نے تمہیں ناتوانی کی حالت میں پیدا کیا۔ پھر ناتوانی کے بعد طاقت عطا فرمائی پھر طاقت و قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا کردیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ خوب جاننے والا پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ اور آیت میں ہم تم میں سے بعض بہت بڑی عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تاکہ علم کے بعد وہ بےعلم ہوجائیں۔ پس مطلب آیت سے یہ ہے کہ دنیا زوال اور انتقال کی جگہ ہے یہ پائیدار اور قرار گاہ نہیں، پھر بھی کیا یہ لوگ عقل نہیں رکھتے کہ اپنے بچپن، پھر جوانی، پھر بڑھاپے پر غوکریں اور اس سے نتیجہ نکال لیں کہ اس دنیا کے بعد آخرت آنے والی ہے اور اس زندگی کے بعد میں دوبارہ پیدا ہونا ہے۔ پھر فرمایا نہ تو میں نے اپنے پیغمبر کو شاعری سکھائی نہ شاعری اس کے شایان شان نہ اسے شعر گوئی سے محبت نہ شعر اشعار کی طرف اس کی طبیعت کا میلان۔ اسی کا ثبوت آپ کی زندگی میں نمایاں طور پر ملتا ہے کہ کسی کا شعر پڑھتے تھے تو صحیح طور پر ادا نہیں ہوتا تھا یا پورا یاد نہیں نکلتا تھا۔ حضرت شعبی فرماتے ہیں اولاد عبدالمطلب کا ہر مرد عورت شعر کہنا جانتا تھا مگر رسول اللہ ﷺ اس سے کوسوں دور تھے (ابن ابی حاتم) دلائل بیہقی میں ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ عباس بن مرداس سلمی ؓ سے فرمایا تم نے بھی تو یہ شعر کہا ہے ؟ تجعل نھبی و نھب العبید، بین الاقرع و عینیتہ انہوں نے کہا حضور دراصل یوں ہے بین عینیتہ والا قرع آپ نے فرمایا چلو سب برابر ہے مطلب تو فوت نہیں ہوتا ؟ صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ سہیلی نے روض الانف میں اس تقدیم تاخیر کی ایک عجیب توجیہ کی ہے وہ کہتے ہیں حضور ﷺ نے اقرع کو پہلے اور عینیہ کو بعد میں اس لیے ذکر کیا کہ عینیہ خلافت صدیقی میں مرتد ہوگیا تھا بخلاف اقرع کے کہ وہ ثابت قدم رہا تھا۔ واللہ اعلم۔ مغازی میں ہے کہ بدر کے مقتول کافروں کے درمیان گشت لگاتے ہوئے حضور ﷺ کی زبان سے نکلا نفلق ھاما (آگے کچھ نہ فرماسکے۔ اس پر جناب ابوبکر نے پورا شعر پڑھ دیا)۔ من رجال اعزۃ علینا وھم کانوا اعق واظلما یہ کسی عرب شاعر کا شعر ہے جو حماسہ میں موجود ہے۔ مسند احمد میں ہے کبھی کبھی رسول اللہ ﷺ طرفہ کا یہ شعر بہت پڑھتے تھے ویاتیک بالا خبار من لم تزود اس کا پہلا مصرعہ یہ ہے ستبدی لک الا یام ما کنت جاہلا یعنی زمانہ تجھ پر وہ امور ظاہر کردے گا جن سے تو بیخبر ہے اور تیرے پاس ایسا شخص خبریں لائے گا جسے تو نے توشہ نہیں دیا، حضرت عائشہ سے سوال ہوا کہ کیا حضور ﷺ شعر پڑھتے تھے، آپ نے جواب دیا کہ سب سے زیادہ بغض آپ کو شعروں سے تھا ہاں کبھی کبھی بنو قیس والے کا کوئی شعر پڑھتے لیکن اس میں بھی غلطی کرتے تقدیم تاخیر کردیا کرتے۔ حضرت ابوبکر فرماتے حضور ﷺ یوں نہیں ہے تو آپ فرماتے نہ شاعر ہوں نہ شعر گوئی میرے شایان شان (ابن ابی حاتم) دوسری روایت میں شعر اور آگے پیچھے کا ذکر بھی ہے یعنی ویاتیک بالا خبار مالم تذود کو آپ نے من لم تزود الاخبار پڑھا تھا، بہیقی کی ایک روایت میں ہے کہ پورا شعر کبھی آپ نے نہیں پڑھازیادہ سے زیادہ ایک مصرعہ پڑھ لیتے تھے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے خندق کھودتے ہوئے حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کے اشعار پڑھے۔ سو یاد رہے کہ آپ کا یہ پڑھنا صحابہ کے ساتھ تھا۔ وہ اشعاریہ ہیں۔ لاھم لو لاانت ما اھتدینا ولا تصدقناولا صلینا فانذلن سکینتہ علینا وثبت الاقدام ان لا قینا ان الاولی قد بغوا علینا اذا ارادوا فتنتہ ابینا حضور لفظ ابینا کو کھینچ کر پڑھتے اور سارے ہی بلند آواز سے پڑھتے، ترجمہ ان اشعار کا یہ ہے کوئی غم نہیں اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے نہ صدقے دیتے اور نہ نمازیں پڑھتے۔ اب تو ہم پر تسکین نازل فرما۔ جب دشمنوں سے لڑائی چھڑ جائے تو ہمیں ثابت قدمی عطا فرما، یہی لوگ ہم پر سرکشی کرتے ہیں ہاں جب کبھی فتنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کرتے ہیں اسی طرح ثابت ہے کہ حنین والے دن آپ نے اپنے خچر کو دشمنوں کی طرف بڑھاتے ہوئے فرمایا۔ انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب اس کی بابت یہ یاد رہے کہ اتفاقیہ ایک کلام آپ کی زبان سے نکل گیا جو وزن شعر پر اترا۔ نہ کہ قصداً آپ نے شعر کہا، حضرت جندب بن عبداللہ فرماتے ہیں ہم حضور ﷺ کے ساتھ ایک غار میں تھے آپ کی انگلی زخمی ہوگئی تھی تو آپ نے فرمایا۔ ھل انت الا اصبح دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت یعنی تو ایک انگلی ہی تو ہے۔ اور تو راہ اللہ میں خون آلود ہوئی ہے۔ یہ بھی اتفاقیہ ہے قصداً نہیں۔ اسی طرح ایک حدیث الا المم کی تفسیر میں آئے گی کہ آپ نے فرمایا۔ ان تغفر اللھم تغفر جما وای عبدلک ما الما یعنی اے اللہ تو جب بخشے تو ہمارے سبھی کے سب گناہ بخش دے، ورنہ یوں تو تیرا کوئی بندہ نہیں جو چھوٹی چھوٹی لغزشوں سے بھی پاک ہو پس یہ سب کے سب اس آیت کے منافی نہیں کیونکہ اللہ کی تعلیم آپ کو شعر گوئی کی نہ تھی۔ بلکہ رب العالمین نے تو آپ کو قرآن عظیم کی تعلیم دی تھی جس کے پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا۔ قرآن حکیم کی یہ پاک نظم شاعری سے منزلوں دور تھی۔ اسی طرح کہانت سے اور گھڑ لینے سے اور جادو کے کلمات سے جیسے کہ کفار کے مختلف گروہ مختلف بولیاں بولتے تھے۔ آپ کی تو طبیعت ان لسانی صنعتوں سے معصوم تھی۔ ﷺ۔ ابو داؤد میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا میرے نزدیک یہ تینوں باتیں برابر ہیں، تریاق کا پینا، گنڈے کا لٹکانا اور شعر بنانا۔ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں شعر گوئی سے آپ کو طبعاً نفرت تھی۔ دعا میں آپ کو جامع کلمات پسند آتے تھے اور اس کے سوا چھوڑ دیتے تھے (احمد) ابو اداؤد میں ہے کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جانا اس کے لیے شعروں سے بھر لینے سے بہتر ہے۔ (ابوداؤد) مسند احمد کی ایک غریب حدیث میں ہے جس نے عشاء کی نماز کے بعد کسی شعر کا ایک مصرع بھی باندھا اس کی اس رات کی نماز نامقبول ہے۔ یہ یادر ہے کہ شعر گوئی کی قسمیں ہیں، مشرکوں کی ہجو میں شعر کہنے مشروع ہیں۔ حسان بن ثابت ؓ، حضرت کعب بن مالک ؓ ، حضرت کعب بن مالک ؓ ، حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ وغیرہ جیسے اکابرین صحابہ نے کفار کی ہجو میں اشعار کے کلام میں ایسے اشعار پائے جاتے ہیں۔ چناچہ امیہ بن صلت کے اشعار کی بابت فرمان رسول ﷺ ہے کہ اس کے شعر تو ایمان لاچکے ہیں لیکن اس کا دل کافر ہی رہا۔ ایک صحابی نے آپ کو امیہ کے ایک سو بیت سنائے ہر بیت کے بعد آپ فرماتے تھے اور کہو۔ ابو داؤد میں حضور کا ارشاد ہے کہ بعض بیان مثل جادو کے ہیں اور بعض شعر سراسر حکمت والے ہیں۔ پس فرمان ہے کہ جو کچھ ہم نے انہیں سکھایا ہے وہ سراسر ذکر و نصیحت اور واضح صاف اور روشن قرآن ہے، جو شخص ذرا سا بھی غور کرے اس پر یہ کھل جاتا ہے۔ تاکہ روئے زمین پر جتنے لوگ موجود ہیں یہ ان سب کو آگاہ کردے اور ڈرا دے جیسے فرمایا (لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ 19ۘ) 6۔ الانعام :19) تاکہ میں تمہیں اس کے ساتھ ڈرادوں اور جسے بھی یہ پہنچ جائے۔ اور آیت میں ہے (وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ 17) 11۔ ھود :17) یعنی جماعتوں میں سے جو بھی اسے نہ مانے وہ سزاوار دوزخی ہے۔ ہاں اس قرآن سے اور نبی ﷺ کے فرمان سے اثر وہی لیتا ہے۔ جو زندہ دل اور اندرونی نور والا ہو۔ عقل و بصیرت رکھتا ہو اور عذاب کا قول تو کافروں پر ثابت ہے ہی۔ پس قرآن مومنوں کے لیے رحمت اور کافروں پر اتمام حجت ہے۔
شاعری پیغمبرانہ شان کے منافی۔ انسان کی جوانی جوں جوں ڈھلتی ہے پیری ضعیفی کمزوری اور ناتوانی آتی جاتی ہے، جیسے سورة روم کی آیت میں ہے۔ (اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ﮨـعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ﮨـعْفًا وَّشَيْبَةً ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۚ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ 54) 30۔ الروم :54) اللہ وہ ہے جس نے تمہیں ناتوانی کی حالت میں پیدا کیا۔ پھر ناتوانی کے بعد طاقت عطا فرمائی پھر طاقت و قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا کردیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ خوب جاننے والا پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ اور آیت میں ہم تم میں سے بعض بہت بڑی عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تاکہ علم کے بعد وہ بےعلم ہوجائیں۔ پس مطلب آیت سے یہ ہے کہ دنیا زوال اور انتقال کی جگہ ہے یہ پائیدار اور قرار گاہ نہیں، پھر بھی کیا یہ لوگ عقل نہیں رکھتے کہ اپنے بچپن، پھر جوانی، پھر بڑھاپے پر غوکریں اور اس سے نتیجہ نکال لیں کہ اس دنیا کے بعد آخرت آنے والی ہے اور اس زندگی کے بعد میں دوبارہ پیدا ہونا ہے۔ پھر فرمایا نہ تو میں نے اپنے پیغمبر کو شاعری سکھائی نہ شاعری اس کے شایان شان نہ اسے شعر گوئی سے محبت نہ شعر اشعار کی طرف اس کی طبیعت کا میلان۔ اسی کا ثبوت آپ کی زندگی میں نمایاں طور پر ملتا ہے کہ کسی کا شعر پڑھتے تھے تو صحیح طور پر ادا نہیں ہوتا تھا یا پورا یاد نہیں نکلتا تھا۔ حضرت شعبی فرماتے ہیں اولاد عبدالمطلب کا ہر مرد عورت شعر کہنا جانتا تھا مگر رسول اللہ ﷺ اس سے کوسوں دور تھے (ابن ابی حاتم) دلائل بیہقی میں ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ عباس بن مرداس سلمی ؓ سے فرمایا تم نے بھی تو یہ شعر کہا ہے ؟ تجعل نھبی و نھب العبید، بین الاقرع و عینیتہ انہوں نے کہا حضور دراصل یوں ہے بین عینیتہ والا قرع آپ نے فرمایا چلو سب برابر ہے مطلب تو فوت نہیں ہوتا ؟ صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ سہیلی نے روض الانف میں اس تقدیم تاخیر کی ایک عجیب توجیہ کی ہے وہ کہتے ہیں حضور ﷺ نے اقرع کو پہلے اور عینیہ کو بعد میں اس لیے ذکر کیا کہ عینیہ خلافت صدیقی میں مرتد ہوگیا تھا بخلاف اقرع کے کہ وہ ثابت قدم رہا تھا۔ واللہ اعلم۔ مغازی میں ہے کہ بدر کے مقتول کافروں کے درمیان گشت لگاتے ہوئے حضور ﷺ کی زبان سے نکلا نفلق ھاما (آگے کچھ نہ فرماسکے۔ اس پر جناب ابوبکر نے پورا شعر پڑھ دیا)۔ من رجال اعزۃ علینا وھم کانوا اعق واظلما یہ کسی عرب شاعر کا شعر ہے جو حماسہ میں موجود ہے۔ مسند احمد میں ہے کبھی کبھی رسول اللہ ﷺ طرفہ کا یہ شعر بہت پڑھتے تھے ویاتیک بالا خبار من لم تزود اس کا پہلا مصرعہ یہ ہے ستبدی لک الا یام ما کنت جاہلا یعنی زمانہ تجھ پر وہ امور ظاہر کردے گا جن سے تو بیخبر ہے اور تیرے پاس ایسا شخص خبریں لائے گا جسے تو نے توشہ نہیں دیا، حضرت عائشہ سے سوال ہوا کہ کیا حضور ﷺ شعر پڑھتے تھے، آپ نے جواب دیا کہ سب سے زیادہ بغض آپ کو شعروں سے تھا ہاں کبھی کبھی بنو قیس والے کا کوئی شعر پڑھتے لیکن اس میں بھی غلطی کرتے تقدیم تاخیر کردیا کرتے۔ حضرت ابوبکر فرماتے حضور ﷺ یوں نہیں ہے تو آپ فرماتے نہ شاعر ہوں نہ شعر گوئی میرے شایان شان (ابن ابی حاتم) دوسری روایت میں شعر اور آگے پیچھے کا ذکر بھی ہے یعنی ویاتیک بالا خبار مالم تذود کو آپ نے من لم تزود الاخبار پڑھا تھا، بہیقی کی ایک روایت میں ہے کہ پورا شعر کبھی آپ نے نہیں پڑھازیادہ سے زیادہ ایک مصرعہ پڑھ لیتے تھے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے خندق کھودتے ہوئے حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کے اشعار پڑھے۔ سو یاد رہے کہ آپ کا یہ پڑھنا صحابہ کے ساتھ تھا۔ وہ اشعاریہ ہیں۔ لاھم لو لاانت ما اھتدینا ولا تصدقناولا صلینا فانذلن سکینتہ علینا وثبت الاقدام ان لا قینا ان الاولی قد بغوا علینا اذا ارادوا فتنتہ ابینا حضور لفظ ابینا کو کھینچ کر پڑھتے اور سارے ہی بلند آواز سے پڑھتے، ترجمہ ان اشعار کا یہ ہے کوئی غم نہیں اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے نہ صدقے دیتے اور نہ نمازیں پڑھتے۔ اب تو ہم پر تسکین نازل فرما۔ جب دشمنوں سے لڑائی چھڑ جائے تو ہمیں ثابت قدمی عطا فرما، یہی لوگ ہم پر سرکشی کرتے ہیں ہاں جب کبھی فتنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کرتے ہیں اسی طرح ثابت ہے کہ حنین والے دن آپ نے اپنے خچر کو دشمنوں کی طرف بڑھاتے ہوئے فرمایا۔ انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب اس کی بابت یہ یاد رہے کہ اتفاقیہ ایک کلام آپ کی زبان سے نکل گیا جو وزن شعر پر اترا۔ نہ کہ قصداً آپ نے شعر کہا، حضرت جندب بن عبداللہ فرماتے ہیں ہم حضور ﷺ کے ساتھ ایک غار میں تھے آپ کی انگلی زخمی ہوگئی تھی تو آپ نے فرمایا۔ ھل انت الا اصبح دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت یعنی تو ایک انگلی ہی تو ہے۔ اور تو راہ اللہ میں خون آلود ہوئی ہے۔ یہ بھی اتفاقیہ ہے قصداً نہیں۔ اسی طرح ایک حدیث الا المم کی تفسیر میں آئے گی کہ آپ نے فرمایا۔ ان تغفر اللھم تغفر جما وای عبدلک ما الما یعنی اے اللہ تو جب بخشے تو ہمارے سبھی کے سب گناہ بخش دے، ورنہ یوں تو تیرا کوئی بندہ نہیں جو چھوٹی چھوٹی لغزشوں سے بھی پاک ہو پس یہ سب کے سب اس آیت کے منافی نہیں کیونکہ اللہ کی تعلیم آپ کو شعر گوئی کی نہ تھی۔ بلکہ رب العالمین نے تو آپ کو قرآن عظیم کی تعلیم دی تھی جس کے پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا۔ قرآن حکیم کی یہ پاک نظم شاعری سے منزلوں دور تھی۔ اسی طرح کہانت سے اور گھڑ لینے سے اور جادو کے کلمات سے جیسے کہ کفار کے مختلف گروہ مختلف بولیاں بولتے تھے۔ آپ کی تو طبیعت ان لسانی صنعتوں سے معصوم تھی۔ ﷺ۔ ابو داؤد میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا میرے نزدیک یہ تینوں باتیں برابر ہیں، تریاق کا پینا، گنڈے کا لٹکانا اور شعر بنانا۔ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں شعر گوئی سے آپ کو طبعاً نفرت تھی۔ دعا میں آپ کو جامع کلمات پسند آتے تھے اور اس کے سوا چھوڑ دیتے تھے (احمد) ابو اداؤد میں ہے کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جانا اس کے لیے شعروں سے بھر لینے سے بہتر ہے۔ (ابوداؤد) مسند احمد کی ایک غریب حدیث میں ہے جس نے عشاء کی نماز کے بعد کسی شعر کا ایک مصرع بھی باندھا اس کی اس رات کی نماز نامقبول ہے۔ یہ یادر ہے کہ شعر گوئی کی قسمیں ہیں، مشرکوں کی ہجو میں شعر کہنے مشروع ہیں۔ حسان بن ثابت ؓ، حضرت کعب بن مالک ؓ ، حضرت کعب بن مالک ؓ ، حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ وغیرہ جیسے اکابرین صحابہ نے کفار کی ہجو میں اشعار کے کلام میں ایسے اشعار پائے جاتے ہیں۔ چناچہ امیہ بن صلت کے اشعار کی بابت فرمان رسول ﷺ ہے کہ اس کے شعر تو ایمان لاچکے ہیں لیکن اس کا دل کافر ہی رہا۔ ایک صحابی نے آپ کو امیہ کے ایک سو بیت سنائے ہر بیت کے بعد آپ فرماتے تھے اور کہو۔ ابو داؤد میں حضور کا ارشاد ہے کہ بعض بیان مثل جادو کے ہیں اور بعض شعر سراسر حکمت والے ہیں۔ پس فرمان ہے کہ جو کچھ ہم نے انہیں سکھایا ہے وہ سراسر ذکر و نصیحت اور واضح صاف اور روشن قرآن ہے، جو شخص ذرا سا بھی غور کرے اس پر یہ کھل جاتا ہے۔ تاکہ روئے زمین پر جتنے لوگ موجود ہیں یہ ان سب کو آگاہ کردے اور ڈرا دے جیسے فرمایا (لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ 19ۘ) 6۔ الانعام :19) تاکہ میں تمہیں اس کے ساتھ ڈرادوں اور جسے بھی یہ پہنچ جائے۔ اور آیت میں ہے (وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ 17) 11۔ ھود :17) یعنی جماعتوں میں سے جو بھی اسے نہ مانے وہ سزاوار دوزخی ہے۔ ہاں اس قرآن سے اور نبی ﷺ کے فرمان سے اثر وہی لیتا ہے۔ جو زندہ دل اور اندرونی نور والا ہو۔ عقل و بصیرت رکھتا ہو اور عذاب کا قول تو کافروں پر ثابت ہے ہی۔ پس قرآن مومنوں کے لیے رحمت اور کافروں پر اتمام حجت ہے۔
چوپائیوں کے فوائد۔ اللہ تعالیٰ اپنے انعام و احسان کا ذکر فرما رہا ہے۔ کہ اس نے خود ہی یہ چوپائے پیدا کئے اور انسان کی ملکیت میں دے دئیے، ایک چھوٹا سا بچہ بھی اونٹ کی نکیل تھام لے اونٹ جیساقوی اور بڑا جانور اس کے ساتھ ساتھ ہی سو اونٹوں کی ایک قطار ہو ایک بچے کے ہانکنے سے سیدھے چلتی رہتی ہے۔ اس ماتحتی کے علاوہ بعض لمبے لمبے مشقت والے سفر بآسانی جلدی جلدی طے ہوتے ہیں خود سوار ہوتے ہیں اسباب لادتے ہیں بوجھ ڈھونے کے کام آتے ہیں۔ اور بعض کے گوشت کھائے جاتے ہیں، پھر صوف اور ان کے بالوں کھالوں وغیرہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دودھ پیتے ہیں، بطور علاج پیشاب کام میں آتے ہیں اور بھی طرح طرح کے فوائد حاصل کئے جاتے ہیں۔ کیا پھر ان کو نہ چاہے کہ ان نعمتوں کے منعم حقیقی، ان احسانوں کے محسن، ان چیزوں کے خالق، ان کے حقیقی مالک کا شکر بجا لائیں ؟ صرف اسی کی عبادت کریں ؟ اس کی توحید کو مانیں اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کریں۔
چوپائیوں کے فوائد۔ اللہ تعالیٰ اپنے انعام و احسان کا ذکر فرما رہا ہے۔ کہ اس نے خود ہی یہ چوپائے پیدا کئے اور انسان کی ملکیت میں دے دئیے، ایک چھوٹا سا بچہ بھی اونٹ کی نکیل تھام لے اونٹ جیساقوی اور بڑا جانور اس کے ساتھ ساتھ ہی سو اونٹوں کی ایک قطار ہو ایک بچے کے ہانکنے سے سیدھے چلتی رہتی ہے۔ اس ماتحتی کے علاوہ بعض لمبے لمبے مشقت والے سفر بآسانی جلدی جلدی طے ہوتے ہیں خود سوار ہوتے ہیں اسباب لادتے ہیں بوجھ ڈھونے کے کام آتے ہیں۔ اور بعض کے گوشت کھائے جاتے ہیں، پھر صوف اور ان کے بالوں کھالوں وغیرہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دودھ پیتے ہیں، بطور علاج پیشاب کام میں آتے ہیں اور بھی طرح طرح کے فوائد حاصل کئے جاتے ہیں۔ کیا پھر ان کو نہ چاہے کہ ان نعمتوں کے منعم حقیقی، ان احسانوں کے محسن، ان چیزوں کے خالق، ان کے حقیقی مالک کا شکر بجا لائیں ؟ صرف اسی کی عبادت کریں ؟ اس کی توحید کو مانیں اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کریں۔
چوپائیوں کے فوائد۔ اللہ تعالیٰ اپنے انعام و احسان کا ذکر فرما رہا ہے۔ کہ اس نے خود ہی یہ چوپائے پیدا کئے اور انسان کی ملکیت میں دے دئیے، ایک چھوٹا سا بچہ بھی اونٹ کی نکیل تھام لے اونٹ جیساقوی اور بڑا جانور اس کے ساتھ ساتھ ہی سو اونٹوں کی ایک قطار ہو ایک بچے کے ہانکنے سے سیدھے چلتی رہتی ہے۔ اس ماتحتی کے علاوہ بعض لمبے لمبے مشقت والے سفر بآسانی جلدی جلدی طے ہوتے ہیں خود سوار ہوتے ہیں اسباب لادتے ہیں بوجھ ڈھونے کے کام آتے ہیں۔ اور بعض کے گوشت کھائے جاتے ہیں، پھر صوف اور ان کے بالوں کھالوں وغیرہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دودھ پیتے ہیں، بطور علاج پیشاب کام میں آتے ہیں اور بھی طرح طرح کے فوائد حاصل کئے جاتے ہیں۔ کیا پھر ان کو نہ چاہے کہ ان نعمتوں کے منعم حقیقی، ان احسانوں کے محسن، ان چیزوں کے خالق، ان کے حقیقی مالک کا شکر بجا لائیں ؟ صرف اسی کی عبادت کریں ؟ اس کی توحید کو مانیں اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کریں۔
نفع و نقصان کا اختیار کس کے پاس ہے ؟ مشرکین کے اس باطل عقیدے کی تردید ہو رہی ہے جو وہ سمجھتے تھے کہ جن جن کی سوائے اللہ تعالیٰ کے یہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد نصرت کریں گے ان کی روزیوں میں برکت دیں گے اور اللہ سے ملادیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ان کی مدد کرنے سے عاجز ہیں اور ان کی مددتو کجا، وہ تو خود اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے بلکہ یہ بت تو اپنے دشمن کے نقصان سے بھی اپنے تئیں بچا نہیں سکتے۔ کوئی اور انہیں توڑ مروڑ کر بھی چلا جائے تو یہ اس کا کچھ نہیں کرسکتے بلکہ بول چال پر بھی قادر نہیں سمجھ بوجھ نہیں۔ یہ بت قیامت کے دن جمع شدہ حساب کے وقت اپنے عابدوں کے سامنے لاچاری اور بےکسی کے ساتھ موجود ہوں گے تاکہ مشرکین کی پوری ذلت و خواری ہو اور ان پر حجت تمام ہو۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ بت تو ان کی کسی طرح کی امداد نہیں کرسکتے، لیکن پھر بھی یہ بےسمجھ مشرکین ان کے سامنے اس طرح موجود رہتے ہیں جیسے کوئی حاضر باش لشکر ہو وہ نہ انہیں کوئی نفع پہنچا سکیں نہ کسی نقصان کو دفع کرسکیں لیکن یہ ہیں کہ ان کے نام پر مرے جاتے ہیں یہاں تک کہ ان کے خلاف آواز سننا نہیں چاہتے غصے سے بےقابو ہوجاتے ہیں۔ اے نبی ﷺ ان کی کفر کی باتوں سے آپ غم ناک نہ ہوں ہم پر ان کا ظاہر باطن روشن ہے وقت آرہا ہے۔ گن چن کر ہم انہیں سزائیں دیں۔
نفع و نقصان کا اختیار کس کے پاس ہے ؟ مشرکین کے اس باطل عقیدے کی تردید ہو رہی ہے جو وہ سمجھتے تھے کہ جن جن کی سوائے اللہ تعالیٰ کے یہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد نصرت کریں گے ان کی روزیوں میں برکت دیں گے اور اللہ سے ملادیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ان کی مدد کرنے سے عاجز ہیں اور ان کی مددتو کجا، وہ تو خود اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے بلکہ یہ بت تو اپنے دشمن کے نقصان سے بھی اپنے تئیں بچا نہیں سکتے۔ کوئی اور انہیں توڑ مروڑ کر بھی چلا جائے تو یہ اس کا کچھ نہیں کرسکتے بلکہ بول چال پر بھی قادر نہیں سمجھ بوجھ نہیں۔ یہ بت قیامت کے دن جمع شدہ حساب کے وقت اپنے عابدوں کے سامنے لاچاری اور بےکسی کے ساتھ موجود ہوں گے تاکہ مشرکین کی پوری ذلت و خواری ہو اور ان پر حجت تمام ہو۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ بت تو ان کی کسی طرح کی امداد نہیں کرسکتے، لیکن پھر بھی یہ بےسمجھ مشرکین ان کے سامنے اس طرح موجود رہتے ہیں جیسے کوئی حاضر باش لشکر ہو وہ نہ انہیں کوئی نفع پہنچا سکیں نہ کسی نقصان کو دفع کرسکیں لیکن یہ ہیں کہ ان کے نام پر مرے جاتے ہیں یہاں تک کہ ان کے خلاف آواز سننا نہیں چاہتے غصے سے بےقابو ہوجاتے ہیں۔ اے نبی ﷺ ان کی کفر کی باتوں سے آپ غم ناک نہ ہوں ہم پر ان کا ظاہر باطن روشن ہے وقت آرہا ہے۔ گن چن کر ہم انہیں سزائیں دیں۔
نفع و نقصان کا اختیار کس کے پاس ہے ؟ مشرکین کے اس باطل عقیدے کی تردید ہو رہی ہے جو وہ سمجھتے تھے کہ جن جن کی سوائے اللہ تعالیٰ کے یہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد نصرت کریں گے ان کی روزیوں میں برکت دیں گے اور اللہ سے ملادیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ان کی مدد کرنے سے عاجز ہیں اور ان کی مددتو کجا، وہ تو خود اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے بلکہ یہ بت تو اپنے دشمن کے نقصان سے بھی اپنے تئیں بچا نہیں سکتے۔ کوئی اور انہیں توڑ مروڑ کر بھی چلا جائے تو یہ اس کا کچھ نہیں کرسکتے بلکہ بول چال پر بھی قادر نہیں سمجھ بوجھ نہیں۔ یہ بت قیامت کے دن جمع شدہ حساب کے وقت اپنے عابدوں کے سامنے لاچاری اور بےکسی کے ساتھ موجود ہوں گے تاکہ مشرکین کی پوری ذلت و خواری ہو اور ان پر حجت تمام ہو۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ بت تو ان کی کسی طرح کی امداد نہیں کرسکتے، لیکن پھر بھی یہ بےسمجھ مشرکین ان کے سامنے اس طرح موجود رہتے ہیں جیسے کوئی حاضر باش لشکر ہو وہ نہ انہیں کوئی نفع پہنچا سکیں نہ کسی نقصان کو دفع کرسکیں لیکن یہ ہیں کہ ان کے نام پر مرے جاتے ہیں یہاں تک کہ ان کے خلاف آواز سننا نہیں چاہتے غصے سے بےقابو ہوجاتے ہیں۔ اے نبی ﷺ ان کی کفر کی باتوں سے آپ غم ناک نہ ہوں ہم پر ان کا ظاہر باطن روشن ہے وقت آرہا ہے۔ گن چن کر ہم انہیں سزائیں دیں۔
موت کے بعد زندگی ابی ابن خلف ملعون ایک مرتبہ اپنے ہاتھ میں ایک بوسیدہ کھوکھلی سڑی گلی ہڈی لے کر آیا اور اسے اپنے چٹکی میں ملتے ہوئے جبکہ اس کے ریزے ہوا میں اڑ رہے تھے حضور ﷺ سے کہنے لگا آپ کہتے ہیں کہ ان ہڈیوں کو اللہ زندہ کرے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں اللہ تجھے ہلاک کردے گا پھر زندہ کردے گا پھر تیرا حشر جہنم کی طرف ہوگا۔ اس پر اس سورت کی یہ آخری آیتیں نازل ہوئیں۔ اور روایت میں ہے کہ یہ اعتراض کرنے والا عاص بن وائل تھا اور اس آیت سے لے کر ختم سورت تک کی آیتیں نازل ہوئیں اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ عبداللہ بن ابی سے ہوا تھا۔ لیکن یہ ذرا غور طلب ہے اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے اور عبداللہ بن ابی تو مدینہ میں تھا۔ بہر صورت خواہ ابی کے سوال پر یہ آیتیں اتری ہوں یا عاص کے سوال پر ہیں عام۔ لفظ انسان جو الف لام ہے وہ جنس کا ہے جو بھی دوسری زندگی کا منکر ہو اسے یہی جواب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو چاہیے کہ اپنے شروع پیدائش پر غور کریں۔ جس نے ایک حقیر و ذلیل قطرے سے انسان کو پیدا کردیا حالانکہ اس سے پہلے وہ کچھ نہ تھا پھر اس کی قدرت پر حرف رکھنے کے کیا معنی ؟ اس مضمون کو بہت سی آیتوں میں بیان فرمایا ہے جیسے (اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّاۗءٍ مَّهِيْنٍ 20ۙ) 77۔ المرسلات :20) اور جیسے (اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ ڰ نَّبْتَلِيْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا) 76۔ الإنسان :2) ، وغیرہ۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم کیا تو مجھے بھی عاجز کرسکتا ہے ؟ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا پھر جب ٹھیک ٹھاک درست اور چست کردیا اور تو ذرا کس بل والا ہوگیا تو تو نے مال جمع کرنا اور مسکینوں کو دینے سے روکنا شروع کردیا، ہاں جب دم نرخرے میں اٹکا تو کہنے لگا اب میں اپنا تمام مال اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں ؟ الغرض نطفے سے پیدا کیا ہوا انسان حجت بازیاں کرنے لگا۔ اور اپنا دوبارہ جی اٹھنا محال جاننے لگا اس اللہ کی قدرت سے نظریں ہٹالیں جس نے آسمان و زمین کو اور تمام مخلوق کو پیدا کردیا۔ یہ اگر غور کرتا تو اس عظیم الشان مخلوق کی پیدائش کے علاوہ خود اپنی پیدائش کو بھی دوبارہ پیدا کرنے کی قدرت کا ایک نشان عظیم پاتا۔ لیکن اس نے تو عقل کی آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لی۔ اس کے جواب میں کہہ دو کہ اول رتبہ ان ہڈیوں کو جو اب گلی سڑی ہیں جس نے پیدا کیا وہی دوبارہ انہیں پیدا کرے گا۔ جہاں جہاں بھی یہ ہڈیاں ہوں وہ خوب جانتا ہے۔ مسند کی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ سے عقبہ بن عمرو نے کہا آپ ہمیں رسول ﷺ سے سنی ہوئی کوئی حدیث سنائیے تو آپ نے فرمایا حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص پر جب موت کی حالت طاری ہوئی تو اس نے اپنے وارثوں کو وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو تم بہت ساری لکڑیاں جمع کرکے میری لاش کو جلا کر خاک کردینا پھر اسے سمندر میں بہا دینا، چناچہ انہوں نے یہی کیا اللہ تعالیٰ نے اس کی راکھ کو جمع کرکے جب اسے دوبارہ زندہ کیا تو اس سے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے جواب دیا کہ صرف تیرے ڈر سے، اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔ حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں حضور ﷺ نے راہ چلتے چلتے یہ حدیث بیان فرمائی جسے میں نے خود آپ ﷺ کی زبان سے اپنے کانوں سے سنی۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی بہت سے الفاظ سے مروی ہے، ایک راویت میں ہے کہ اس نے کہا تھا میری راکھ کو ہوا کے رخ اڑا دینا کچھ تو ہوا میں کچھ دریا میں بہا دینا۔ سمندر نے بحکم اللہ جو راکھ اس میں تھی اسے جمع کردیا اسی طرح ہوا نے بھی۔ پھر اللہ کے فرمان سے وہ کھڑا کردیا گیا۔ پھر اپنی قدرت کے مشاہدے کے لیے اور بات کی دلیل قائم کرنے کے لیے کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے وہ مردوں کو بھی زندہ کرسکتا ہے، ہیت کو وہ منقلب کرسکتا ہے فرمایا کہ تم غور کرو کہ پانی میں درخت اگائے سرسبز شاداب ہرے بھرے پھل والے ہوئے، پھر وہ سوکھ گئے اور ان لکڑیوں سے میں نے آگ نکالی کہاں وہ تری اور ٹھنڈی کہاں یہ خشکی اور گرمی ؟ پس مجھے کوئی چیز کرنی بھاری نہیں تر کو خشک کرنا خشک کو تر کرنا زندہ کو مردہ کرنا مردے کو زندگی دینا سب میرے بس کی بات ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ مراد اس سے مرخ اور عفار کے درخت ہیں جو حجاز میں ہوتے ہیں ان کی سبز ٹہنیوں کو آپس میں رگڑنے سے چقماق کی طرح آگ نکلتی ہے۔ چناچہ عرب میں ایک مشہور مثل ہے لکل شجر ناروا استجدا المرخ والمفار حکماء کا قول ہے کہ سوائے انگور کے درخت کے ہر درخت میں آگ ہے۔
موت کے بعد زندگی ابی ابن خلف ملعون ایک مرتبہ اپنے ہاتھ میں ایک بوسیدہ کھوکھلی سڑی گلی ہڈی لے کر آیا اور اسے اپنے چٹکی میں ملتے ہوئے جبکہ اس کے ریزے ہوا میں اڑ رہے تھے حضور ﷺ سے کہنے لگا آپ کہتے ہیں کہ ان ہڈیوں کو اللہ زندہ کرے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں اللہ تجھے ہلاک کردے گا پھر زندہ کردے گا پھر تیرا حشر جہنم کی طرف ہوگا۔ اس پر اس سورت کی یہ آخری آیتیں نازل ہوئیں۔ اور روایت میں ہے کہ یہ اعتراض کرنے والا عاص بن وائل تھا اور اس آیت سے لے کر ختم سورت تک کی آیتیں نازل ہوئیں اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ عبداللہ بن ابی سے ہوا تھا۔ لیکن یہ ذرا غور طلب ہے اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے اور عبداللہ بن ابی تو مدینہ میں تھا۔ بہر صورت خواہ ابی کے سوال پر یہ آیتیں اتری ہوں یا عاص کے سوال پر ہیں عام۔ لفظ انسان جو الف لام ہے وہ جنس کا ہے جو بھی دوسری زندگی کا منکر ہو اسے یہی جواب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو چاہیے کہ اپنے شروع پیدائش پر غور کریں۔ جس نے ایک حقیر و ذلیل قطرے سے انسان کو پیدا کردیا حالانکہ اس سے پہلے وہ کچھ نہ تھا پھر اس کی قدرت پر حرف رکھنے کے کیا معنی ؟ اس مضمون کو بہت سی آیتوں میں بیان فرمایا ہے جیسے (اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّاۗءٍ مَّهِيْنٍ 20ۙ) 77۔ المرسلات :20) اور جیسے (اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ ڰ نَّبْتَلِيْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا) 76۔ الإنسان :2) ، وغیرہ۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم کیا تو مجھے بھی عاجز کرسکتا ہے ؟ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا پھر جب ٹھیک ٹھاک درست اور چست کردیا اور تو ذرا کس بل والا ہوگیا تو تو نے مال جمع کرنا اور مسکینوں کو دینے سے روکنا شروع کردیا، ہاں جب دم نرخرے میں اٹکا تو کہنے لگا اب میں اپنا تمام مال اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں ؟ الغرض نطفے سے پیدا کیا ہوا انسان حجت بازیاں کرنے لگا۔ اور اپنا دوبارہ جی اٹھنا محال جاننے لگا اس اللہ کی قدرت سے نظریں ہٹالیں جس نے آسمان و زمین کو اور تمام مخلوق کو پیدا کردیا۔ یہ اگر غور کرتا تو اس عظیم الشان مخلوق کی پیدائش کے علاوہ خود اپنی پیدائش کو بھی دوبارہ پیدا کرنے کی قدرت کا ایک نشان عظیم پاتا۔ لیکن اس نے تو عقل کی آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لی۔ اس کے جواب میں کہہ دو کہ اول رتبہ ان ہڈیوں کو جو اب گلی سڑی ہیں جس نے پیدا کیا وہی دوبارہ انہیں پیدا کرے گا۔ جہاں جہاں بھی یہ ہڈیاں ہوں وہ خوب جانتا ہے۔ مسند کی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ سے عقبہ بن عمرو نے کہا آپ ہمیں رسول ﷺ سے سنی ہوئی کوئی حدیث سنائیے تو آپ نے فرمایا حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص پر جب موت کی حالت طاری ہوئی تو اس نے اپنے وارثوں کو وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو تم بہت ساری لکڑیاں جمع کرکے میری لاش کو جلا کر خاک کردینا پھر اسے سمندر میں بہا دینا، چناچہ انہوں نے یہی کیا اللہ تعالیٰ نے اس کی راکھ کو جمع کرکے جب اسے دوبارہ زندہ کیا تو اس سے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے جواب دیا کہ صرف تیرے ڈر سے، اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔ حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں حضور ﷺ نے راہ چلتے چلتے یہ حدیث بیان فرمائی جسے میں نے خود آپ ﷺ کی زبان سے اپنے کانوں سے سنی۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی بہت سے الفاظ سے مروی ہے، ایک راویت میں ہے کہ اس نے کہا تھا میری راکھ کو ہوا کے رخ اڑا دینا کچھ تو ہوا میں کچھ دریا میں بہا دینا۔ سمندر نے بحکم اللہ جو راکھ اس میں تھی اسے جمع کردیا اسی طرح ہوا نے بھی۔ پھر اللہ کے فرمان سے وہ کھڑا کردیا گیا۔ پھر اپنی قدرت کے مشاہدے کے لیے اور بات کی دلیل قائم کرنے کے لیے کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے وہ مردوں کو بھی زندہ کرسکتا ہے، ہیت کو وہ منقلب کرسکتا ہے فرمایا کہ تم غور کرو کہ پانی میں درخت اگائے سرسبز شاداب ہرے بھرے پھل والے ہوئے، پھر وہ سوکھ گئے اور ان لکڑیوں سے میں نے آگ نکالی کہاں وہ تری اور ٹھنڈی کہاں یہ خشکی اور گرمی ؟ پس مجھے کوئی چیز کرنی بھاری نہیں تر کو خشک کرنا خشک کو تر کرنا زندہ کو مردہ کرنا مردے کو زندگی دینا سب میرے بس کی بات ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ مراد اس سے مرخ اور عفار کے درخت ہیں جو حجاز میں ہوتے ہیں ان کی سبز ٹہنیوں کو آپس میں رگڑنے سے چقماق کی طرح آگ نکلتی ہے۔ چناچہ عرب میں ایک مشہور مثل ہے لکل شجر ناروا استجدا المرخ والمفار حکماء کا قول ہے کہ سوائے انگور کے درخت کے ہر درخت میں آگ ہے۔
موت کے بعد زندگی ابی ابن خلف ملعون ایک مرتبہ اپنے ہاتھ میں ایک بوسیدہ کھوکھلی سڑی گلی ہڈی لے کر آیا اور اسے اپنے چٹکی میں ملتے ہوئے جبکہ اس کے ریزے ہوا میں اڑ رہے تھے حضور ﷺ سے کہنے لگا آپ کہتے ہیں کہ ان ہڈیوں کو اللہ زندہ کرے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں اللہ تجھے ہلاک کردے گا پھر زندہ کردے گا پھر تیرا حشر جہنم کی طرف ہوگا۔ اس پر اس سورت کی یہ آخری آیتیں نازل ہوئیں۔ اور روایت میں ہے کہ یہ اعتراض کرنے والا عاص بن وائل تھا اور اس آیت سے لے کر ختم سورت تک کی آیتیں نازل ہوئیں اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ عبداللہ بن ابی سے ہوا تھا۔ لیکن یہ ذرا غور طلب ہے اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے اور عبداللہ بن ابی تو مدینہ میں تھا۔ بہر صورت خواہ ابی کے سوال پر یہ آیتیں اتری ہوں یا عاص کے سوال پر ہیں عام۔ لفظ انسان جو الف لام ہے وہ جنس کا ہے جو بھی دوسری زندگی کا منکر ہو اسے یہی جواب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو چاہیے کہ اپنے شروع پیدائش پر غور کریں۔ جس نے ایک حقیر و ذلیل قطرے سے انسان کو پیدا کردیا حالانکہ اس سے پہلے وہ کچھ نہ تھا پھر اس کی قدرت پر حرف رکھنے کے کیا معنی ؟ اس مضمون کو بہت سی آیتوں میں بیان فرمایا ہے جیسے (اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّاۗءٍ مَّهِيْنٍ 20ۙ) 77۔ المرسلات :20) اور جیسے (اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ ڰ نَّبْتَلِيْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا) 76۔ الإنسان :2) ، وغیرہ۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم کیا تو مجھے بھی عاجز کرسکتا ہے ؟ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا پھر جب ٹھیک ٹھاک درست اور چست کردیا اور تو ذرا کس بل والا ہوگیا تو تو نے مال جمع کرنا اور مسکینوں کو دینے سے روکنا شروع کردیا، ہاں جب دم نرخرے میں اٹکا تو کہنے لگا اب میں اپنا تمام مال اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں ؟ الغرض نطفے سے پیدا کیا ہوا انسان حجت بازیاں کرنے لگا۔ اور اپنا دوبارہ جی اٹھنا محال جاننے لگا اس اللہ کی قدرت سے نظریں ہٹالیں جس نے آسمان و زمین کو اور تمام مخلوق کو پیدا کردیا۔ یہ اگر غور کرتا تو اس عظیم الشان مخلوق کی پیدائش کے علاوہ خود اپنی پیدائش کو بھی دوبارہ پیدا کرنے کی قدرت کا ایک نشان عظیم پاتا۔ لیکن اس نے تو عقل کی آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لی۔ اس کے جواب میں کہہ دو کہ اول رتبہ ان ہڈیوں کو جو اب گلی سڑی ہیں جس نے پیدا کیا وہی دوبارہ انہیں پیدا کرے گا۔ جہاں جہاں بھی یہ ہڈیاں ہوں وہ خوب جانتا ہے۔ مسند کی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ سے عقبہ بن عمرو نے کہا آپ ہمیں رسول ﷺ سے سنی ہوئی کوئی حدیث سنائیے تو آپ نے فرمایا حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص پر جب موت کی حالت طاری ہوئی تو اس نے اپنے وارثوں کو وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو تم بہت ساری لکڑیاں جمع کرکے میری لاش کو جلا کر خاک کردینا پھر اسے سمندر میں بہا دینا، چناچہ انہوں نے یہی کیا اللہ تعالیٰ نے اس کی راکھ کو جمع کرکے جب اسے دوبارہ زندہ کیا تو اس سے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے جواب دیا کہ صرف تیرے ڈر سے، اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔ حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں حضور ﷺ نے راہ چلتے چلتے یہ حدیث بیان فرمائی جسے میں نے خود آپ ﷺ کی زبان سے اپنے کانوں سے سنی۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی بہت سے الفاظ سے مروی ہے، ایک راویت میں ہے کہ اس نے کہا تھا میری راکھ کو ہوا کے رخ اڑا دینا کچھ تو ہوا میں کچھ دریا میں بہا دینا۔ سمندر نے بحکم اللہ جو راکھ اس میں تھی اسے جمع کردیا اسی طرح ہوا نے بھی۔ پھر اللہ کے فرمان سے وہ کھڑا کردیا گیا۔ پھر اپنی قدرت کے مشاہدے کے لیے اور بات کی دلیل قائم کرنے کے لیے کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے وہ مردوں کو بھی زندہ کرسکتا ہے، ہیت کو وہ منقلب کرسکتا ہے فرمایا کہ تم غور کرو کہ پانی میں درخت اگائے سرسبز شاداب ہرے بھرے پھل والے ہوئے، پھر وہ سوکھ گئے اور ان لکڑیوں سے میں نے آگ نکالی کہاں وہ تری اور ٹھنڈی کہاں یہ خشکی اور گرمی ؟ پس مجھے کوئی چیز کرنی بھاری نہیں تر کو خشک کرنا خشک کو تر کرنا زندہ کو مردہ کرنا مردے کو زندگی دینا سب میرے بس کی بات ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ مراد اس سے مرخ اور عفار کے درخت ہیں جو حجاز میں ہوتے ہیں ان کی سبز ٹہنیوں کو آپس میں رگڑنے سے چقماق کی طرح آگ نکلتی ہے۔ چناچہ عرب میں ایک مشہور مثل ہے لکل شجر ناروا استجدا المرخ والمفار حکماء کا قول ہے کہ سوائے انگور کے درخت کے ہر درخت میں آگ ہے۔
موت کے بعد زندگی ابی ابن خلف ملعون ایک مرتبہ اپنے ہاتھ میں ایک بوسیدہ کھوکھلی سڑی گلی ہڈی لے کر آیا اور اسے اپنے چٹکی میں ملتے ہوئے جبکہ اس کے ریزے ہوا میں اڑ رہے تھے حضور ﷺ سے کہنے لگا آپ کہتے ہیں کہ ان ہڈیوں کو اللہ زندہ کرے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں اللہ تجھے ہلاک کردے گا پھر زندہ کردے گا پھر تیرا حشر جہنم کی طرف ہوگا۔ اس پر اس سورت کی یہ آخری آیتیں نازل ہوئیں۔ اور روایت میں ہے کہ یہ اعتراض کرنے والا عاص بن وائل تھا اور اس آیت سے لے کر ختم سورت تک کی آیتیں نازل ہوئیں اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ عبداللہ بن ابی سے ہوا تھا۔ لیکن یہ ذرا غور طلب ہے اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے اور عبداللہ بن ابی تو مدینہ میں تھا۔ بہر صورت خواہ ابی کے سوال پر یہ آیتیں اتری ہوں یا عاص کے سوال پر ہیں عام۔ لفظ انسان جو الف لام ہے وہ جنس کا ہے جو بھی دوسری زندگی کا منکر ہو اسے یہی جواب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو چاہیے کہ اپنے شروع پیدائش پر غور کریں۔ جس نے ایک حقیر و ذلیل قطرے سے انسان کو پیدا کردیا حالانکہ اس سے پہلے وہ کچھ نہ تھا پھر اس کی قدرت پر حرف رکھنے کے کیا معنی ؟ اس مضمون کو بہت سی آیتوں میں بیان فرمایا ہے جیسے (اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّاۗءٍ مَّهِيْنٍ 20ۙ) 77۔ المرسلات :20) اور جیسے (اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ ڰ نَّبْتَلِيْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا) 76۔ الإنسان :2) ، وغیرہ۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم کیا تو مجھے بھی عاجز کرسکتا ہے ؟ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا پھر جب ٹھیک ٹھاک درست اور چست کردیا اور تو ذرا کس بل والا ہوگیا تو تو نے مال جمع کرنا اور مسکینوں کو دینے سے روکنا شروع کردیا، ہاں جب دم نرخرے میں اٹکا تو کہنے لگا اب میں اپنا تمام مال اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں ؟ الغرض نطفے سے پیدا کیا ہوا انسان حجت بازیاں کرنے لگا۔ اور اپنا دوبارہ جی اٹھنا محال جاننے لگا اس اللہ کی قدرت سے نظریں ہٹالیں جس نے آسمان و زمین کو اور تمام مخلوق کو پیدا کردیا۔ یہ اگر غور کرتا تو اس عظیم الشان مخلوق کی پیدائش کے علاوہ خود اپنی پیدائش کو بھی دوبارہ پیدا کرنے کی قدرت کا ایک نشان عظیم پاتا۔ لیکن اس نے تو عقل کی آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لی۔ اس کے جواب میں کہہ دو کہ اول رتبہ ان ہڈیوں کو جو اب گلی سڑی ہیں جس نے پیدا کیا وہی دوبارہ انہیں پیدا کرے گا۔ جہاں جہاں بھی یہ ہڈیاں ہوں وہ خوب جانتا ہے۔ مسند کی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ سے عقبہ بن عمرو نے کہا آپ ہمیں رسول ﷺ سے سنی ہوئی کوئی حدیث سنائیے تو آپ نے فرمایا حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص پر جب موت کی حالت طاری ہوئی تو اس نے اپنے وارثوں کو وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو تم بہت ساری لکڑیاں جمع کرکے میری لاش کو جلا کر خاک کردینا پھر اسے سمندر میں بہا دینا، چناچہ انہوں نے یہی کیا اللہ تعالیٰ نے اس کی راکھ کو جمع کرکے جب اسے دوبارہ زندہ کیا تو اس سے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے جواب دیا کہ صرف تیرے ڈر سے، اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔ حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں حضور ﷺ نے راہ چلتے چلتے یہ حدیث بیان فرمائی جسے میں نے خود آپ ﷺ کی زبان سے اپنے کانوں سے سنی۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی بہت سے الفاظ سے مروی ہے، ایک راویت میں ہے کہ اس نے کہا تھا میری راکھ کو ہوا کے رخ اڑا دینا کچھ تو ہوا میں کچھ دریا میں بہا دینا۔ سمندر نے بحکم اللہ جو راکھ اس میں تھی اسے جمع کردیا اسی طرح ہوا نے بھی۔ پھر اللہ کے فرمان سے وہ کھڑا کردیا گیا۔ پھر اپنی قدرت کے مشاہدے کے لیے اور بات کی دلیل قائم کرنے کے لیے کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے وہ مردوں کو بھی زندہ کرسکتا ہے، ہیت کو وہ منقلب کرسکتا ہے فرمایا کہ تم غور کرو کہ پانی میں درخت اگائے سرسبز شاداب ہرے بھرے پھل والے ہوئے، پھر وہ سوکھ گئے اور ان لکڑیوں سے میں نے آگ نکالی کہاں وہ تری اور ٹھنڈی کہاں یہ خشکی اور گرمی ؟ پس مجھے کوئی چیز کرنی بھاری نہیں تر کو خشک کرنا خشک کو تر کرنا زندہ کو مردہ کرنا مردے کو زندگی دینا سب میرے بس کی بات ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ مراد اس سے مرخ اور عفار کے درخت ہیں جو حجاز میں ہوتے ہیں ان کی سبز ٹہنیوں کو آپس میں رگڑنے سے چقماق کی طرح آگ نکلتی ہے۔ چناچہ عرب میں ایک مشہور مثل ہے لکل شجر ناروا استجدا المرخ والمفار حکماء کا قول ہے کہ سوائے انگور کے درخت کے ہر درخت میں آگ ہے۔
اللہ ہر چیز پر قادر۔ اللہ تعالیٰ اپنی زبردست قدرت بیان فرما رہا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور ان کی سب چیزوں کو پیدا کیا۔ زمین کو اس کے اندر کی سب چیزوں کو بھی اسی نے بنایا۔ پھر اتنی بڑی قدرتوں والا انسانوں جیسی چھوٹی مخلوق کو پیدا کرنے سے عاجز آجائے یہ تو عقل کے بھی خلاف ہے، جیسے فرمایا (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57) 40۔ غافر :57) یعنی آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی اور اہم ہے، یہاں بھی فرمایا کہ وہ اللہ جس نے آسمان و زمین کو پیدا کردیا وہ کیا انسانوں جیسی کمزور مخلوق کو پیدا کرنے سے عاجز آجائے گا ؟ اور جب وہ قادر ہے تو یقینا انہیں مار ڈالنے کے بعد پھر وہ انہیں جلا دے گا۔ جس نے ابتدا پیدا کیا ہے اس پر اعادہ بہت آسان ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ۭ بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 33) 46۔ الأحقاف :33) ، کیا وہ نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے زمین و آسمان کو بنادیا اور ان کی پیدائش سے عاجز نہ آیا نہ تھکا کیا وہ مردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں ؟ بیشک قادر ہے بلکہ وہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ وہی پیدا کرنے والا اور بنانے والا، ایجاد کرنے والا اور خالق ہے۔ ساتھ ہی دانا، بینا اور رتی رتی سے واقف ہے۔ وہ تو جو کرنا چاہتا ہے اس کا صرف حکم دے دینا کافی ہوتا ہے۔ مسند کی حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو، تم سب فقیر ہو مگر جسے میں غنی کردوں۔ میں جواد ہوں، میں ماجد ہوں، میں واجد ہوں۔ جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔ میرا انعام بھی ایک کلام ہے اور میرا عذاب بھی کلام ہے۔ میں جس چیز کو کرنا چاہتا ہوں کہہ دیتا ہوں کہ ہو جاوہ ہوجاتی ہے۔ ہر برائی سے اس حی وقیوم اللہ کی ذات پاک ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے، جس کے ہاتھ میں آسمانوں اور زمینوں کی کنجیاں ہیں۔ وہ سب کا خالق ہے، وہی اصلی حاکم ہے، اسی کی طرف قیامت کے دن سب لوٹائے جائیں گے وہی عادل و منعم اللہ انہیں سزا دے گا۔ اور جگہ فرمان ہے پاک ہے وہ اللہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی ملکیت ہے۔ اور آیت میں ہے کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے ؟ اور فرمان ہے (تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ ۡ وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُۨ ۙ) 67۔ الملک :1) پس ملک و ملکوت دونوں کے ایک ہی معنی ہیں جیسے رحمت و رحموت اور رہبت و رہبوت اور جبرو جبروت۔ بعض نے کہا ہے کہ ملک سے مراد جسموں کا عالم اور ملکوت سے مراد روحوں کا عالم ہے۔ لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے اور یہی قول جمہور مفسرین کا ہے۔ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ فرماتے ہیں ایک رات میں تہجد کی نماز میں اللہ کے رسول ﷺ کی اقتدا میں کھڑا ہوگیا آپ نے سات لمبی سورتیں (یعنی پونے دس پارے) سات رکعت میں پڑھیں سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر رکوع سے سر اٹھا کر آپ یہ پڑھتے تھے (الحمدللہ ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمتہ) پھر آپ کا رکوع ایام کے مناسب ہی لمبا تھا اور سجدہ بھی مثل رکوع کے تھا میری تو یہ حالت ہوگئی تھی کہ ٹانگیں ٹوٹنے لگیں (ابوداؤد وغیرہ) انہی حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ کو آپ نے رات کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ نے یہ دعا پڑھ کر پھر قرأت شروع کی (اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر ذی ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمتہ) پھر پوری سورة بقرہ پڑھ کر رکوع کیا اور رکوع میں بھی قریب قریب اتنی ہی دیر ٹھہرے رہے اور سبحان ربی العظیم پڑھتے رہے پھر اپنا سر رکوع سے اٹھایا اور تقریباً اتنی ہی دیر کھڑے رہے اور لربی الحمد پڑھتے رہے۔ پھر سجدے میں گئے وہ بھی تقریباً قیام کے برابر تھا اور سجدے میں حضور ﷺ سبحان ربی الاعلی پڑھتے رہے۔ پھر سجدے سے سر اٹھایا آپ کی عادت مبارک تھی کہ دونوں سجدوں کے درمیان بھی اتنی دیر بیٹھے رہتے تھے جتنی دیر سجدوں میں لگاتے تھے اور رب اغفرلی رب اغفرلی پڑھتے رہے۔ چار رکعت آپ نے ادا کیں سورة بقرہ سورة آل عمران سورة نساء اور سورة مائدہ کی تلاوت کی۔ حضرت شعبہ کو شک ہے کہ سورة مائدہ کہا یا سورة انعام ؟ نسائی وغیرہ میں ہے حضرت عوف بن مالک اشجعی ؓ سے روایت ہے کہ ایک رات میں نے حضرت ﷺ کے ساتھ تہجد کی نماز پڑھی آپ نے سورة بقرہ کی تلاوت فرمائی، ہر اس آیت پر جس میں رحمت کا ذکر ہوتا آپ ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے رحمت طلب کرتے اور ہر اس آیت پر جس میں عذاب کا ذکر ہوتا آپ ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرتے پھر آپ نے رکوع کیا وہ بھی قیام سے کچھ کم نہ تھا اور رکوع میں یہ فرماتے تھے (سبحان ذی الجبروت والملکوت و الکبریاء والعظمتہ) پھر آپ نے سجدہ کیا وہ بھی قیام کے قریب قریب تھا۔ اور سجدے میں بھی یہی پڑھتے پھر دوسری رکعت میں سورة آل عمران پڑھی۔ پھر اسی طرح ایک ایک سورت ایک ایک رکعت میں پڑھتے رہے۔
اللہ ہر چیز پر قادر۔ اللہ تعالیٰ اپنی زبردست قدرت بیان فرما رہا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور ان کی سب چیزوں کو پیدا کیا۔ زمین کو اس کے اندر کی سب چیزوں کو بھی اسی نے بنایا۔ پھر اتنی بڑی قدرتوں والا انسانوں جیسی چھوٹی مخلوق کو پیدا کرنے سے عاجز آجائے یہ تو عقل کے بھی خلاف ہے، جیسے فرمایا (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57) 40۔ غافر :57) یعنی آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی اور اہم ہے، یہاں بھی فرمایا کہ وہ اللہ جس نے آسمان و زمین کو پیدا کردیا وہ کیا انسانوں جیسی کمزور مخلوق کو پیدا کرنے سے عاجز آجائے گا ؟ اور جب وہ قادر ہے تو یقینا انہیں مار ڈالنے کے بعد پھر وہ انہیں جلا دے گا۔ جس نے ابتدا پیدا کیا ہے اس پر اعادہ بہت آسان ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ۭ بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 33) 46۔ الأحقاف :33) ، کیا وہ نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے زمین و آسمان کو بنادیا اور ان کی پیدائش سے عاجز نہ آیا نہ تھکا کیا وہ مردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں ؟ بیشک قادر ہے بلکہ وہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ وہی پیدا کرنے والا اور بنانے والا، ایجاد کرنے والا اور خالق ہے۔ ساتھ ہی دانا، بینا اور رتی رتی سے واقف ہے۔ وہ تو جو کرنا چاہتا ہے اس کا صرف حکم دے دینا کافی ہوتا ہے۔ مسند کی حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو، تم سب فقیر ہو مگر جسے میں غنی کردوں۔ میں جواد ہوں، میں ماجد ہوں، میں واجد ہوں۔ جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔ میرا انعام بھی ایک کلام ہے اور میرا عذاب بھی کلام ہے۔ میں جس چیز کو کرنا چاہتا ہوں کہہ دیتا ہوں کہ ہو جاوہ ہوجاتی ہے۔ ہر برائی سے اس حی وقیوم اللہ کی ذات پاک ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے، جس کے ہاتھ میں آسمانوں اور زمینوں کی کنجیاں ہیں۔ وہ سب کا خالق ہے، وہی اصلی حاکم ہے، اسی کی طرف قیامت کے دن سب لوٹائے جائیں گے وہی عادل و منعم اللہ انہیں سزا دے گا۔ اور جگہ فرمان ہے پاک ہے وہ اللہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی ملکیت ہے۔ اور آیت میں ہے کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے ؟ اور فرمان ہے (تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ ۡ وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُۨ ۙ) 67۔ الملک :1) پس ملک و ملکوت دونوں کے ایک ہی معنی ہیں جیسے رحمت و رحموت اور رہبت و رہبوت اور جبرو جبروت۔ بعض نے کہا ہے کہ ملک سے مراد جسموں کا عالم اور ملکوت سے مراد روحوں کا عالم ہے۔ لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے اور یہی قول جمہور مفسرین کا ہے۔ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ فرماتے ہیں ایک رات میں تہجد کی نماز میں اللہ کے رسول ﷺ کی اقتدا میں کھڑا ہوگیا آپ نے سات لمبی سورتیں (یعنی پونے دس پارے) سات رکعت میں پڑھیں سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر رکوع سے سر اٹھا کر آپ یہ پڑھتے تھے (الحمدللہ ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمتہ) پھر آپ کا رکوع ایام کے مناسب ہی لمبا تھا اور سجدہ بھی مثل رکوع کے تھا میری تو یہ حالت ہوگئی تھی کہ ٹانگیں ٹوٹنے لگیں (ابوداؤد وغیرہ) انہی حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ کو آپ نے رات کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ نے یہ دعا پڑھ کر پھر قرأت شروع کی (اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر ذی ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمتہ) پھر پوری سورة بقرہ پڑھ کر رکوع کیا اور رکوع میں بھی قریب قریب اتنی ہی دیر ٹھہرے رہے اور سبحان ربی العظیم پڑھتے رہے پھر اپنا سر رکوع سے اٹھایا اور تقریباً اتنی ہی دیر کھڑے رہے اور لربی الحمد پڑھتے رہے۔ پھر سجدے میں گئے وہ بھی تقریباً قیام کے برابر تھا اور سجدے میں حضور ﷺ سبحان ربی الاعلی پڑھتے رہے۔ پھر سجدے سے سر اٹھایا آپ کی عادت مبارک تھی کہ دونوں سجدوں کے درمیان بھی اتنی دیر بیٹھے رہتے تھے جتنی دیر سجدوں میں لگاتے تھے اور رب اغفرلی رب اغفرلی پڑھتے رہے۔ چار رکعت آپ نے ادا کیں سورة بقرہ سورة آل عمران سورة نساء اور سورة مائدہ کی تلاوت کی۔ حضرت شعبہ کو شک ہے کہ سورة مائدہ کہا یا سورة انعام ؟ نسائی وغیرہ میں ہے حضرت عوف بن مالک اشجعی ؓ سے روایت ہے کہ ایک رات میں نے حضرت ﷺ کے ساتھ تہجد کی نماز پڑھی آپ نے سورة بقرہ کی تلاوت فرمائی، ہر اس آیت پر جس میں رحمت کا ذکر ہوتا آپ ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے رحمت طلب کرتے اور ہر اس آیت پر جس میں عذاب کا ذکر ہوتا آپ ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرتے پھر آپ نے رکوع کیا وہ بھی قیام سے کچھ کم نہ تھا اور رکوع میں یہ فرماتے تھے (سبحان ذی الجبروت والملکوت و الکبریاء والعظمتہ) پھر آپ نے سجدہ کیا وہ بھی قیام کے قریب قریب تھا۔ اور سجدے میں بھی یہی پڑھتے پھر دوسری رکعت میں سورة آل عمران پڑھی۔ پھر اسی طرح ایک ایک سورت ایک ایک رکعت میں پڑھتے رہے۔
اللہ ہر چیز پر قادر۔ اللہ تعالیٰ اپنی زبردست قدرت بیان فرما رہا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور ان کی سب چیزوں کو پیدا کیا۔ زمین کو اس کے اندر کی سب چیزوں کو بھی اسی نے بنایا۔ پھر اتنی بڑی قدرتوں والا انسانوں جیسی چھوٹی مخلوق کو پیدا کرنے سے عاجز آجائے یہ تو عقل کے بھی خلاف ہے، جیسے فرمایا (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57) 40۔ غافر :57) یعنی آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی اور اہم ہے، یہاں بھی فرمایا کہ وہ اللہ جس نے آسمان و زمین کو پیدا کردیا وہ کیا انسانوں جیسی کمزور مخلوق کو پیدا کرنے سے عاجز آجائے گا ؟ اور جب وہ قادر ہے تو یقینا انہیں مار ڈالنے کے بعد پھر وہ انہیں جلا دے گا۔ جس نے ابتدا پیدا کیا ہے اس پر اعادہ بہت آسان ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ۭ بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 33) 46۔ الأحقاف :33) ، کیا وہ نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے زمین و آسمان کو بنادیا اور ان کی پیدائش سے عاجز نہ آیا نہ تھکا کیا وہ مردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں ؟ بیشک قادر ہے بلکہ وہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ وہی پیدا کرنے والا اور بنانے والا، ایجاد کرنے والا اور خالق ہے۔ ساتھ ہی دانا، بینا اور رتی رتی سے واقف ہے۔ وہ تو جو کرنا چاہتا ہے اس کا صرف حکم دے دینا کافی ہوتا ہے۔ مسند کی حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو، تم سب فقیر ہو مگر جسے میں غنی کردوں۔ میں جواد ہوں، میں ماجد ہوں، میں واجد ہوں۔ جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔ میرا انعام بھی ایک کلام ہے اور میرا عذاب بھی کلام ہے۔ میں جس چیز کو کرنا چاہتا ہوں کہہ دیتا ہوں کہ ہو جاوہ ہوجاتی ہے۔ ہر برائی سے اس حی وقیوم اللہ کی ذات پاک ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے، جس کے ہاتھ میں آسمانوں اور زمینوں کی کنجیاں ہیں۔ وہ سب کا خالق ہے، وہی اصلی حاکم ہے، اسی کی طرف قیامت کے دن سب لوٹائے جائیں گے وہی عادل و منعم اللہ انہیں سزا دے گا۔ اور جگہ فرمان ہے پاک ہے وہ اللہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی ملکیت ہے۔ اور آیت میں ہے کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے ؟ اور فرمان ہے (تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ ۡ وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُۨ ۙ) 67۔ الملک :1) پس ملک و ملکوت دونوں کے ایک ہی معنی ہیں جیسے رحمت و رحموت اور رہبت و رہبوت اور جبرو جبروت۔ بعض نے کہا ہے کہ ملک سے مراد جسموں کا عالم اور ملکوت سے مراد روحوں کا عالم ہے۔ لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے اور یہی قول جمہور مفسرین کا ہے۔ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ فرماتے ہیں ایک رات میں تہجد کی نماز میں اللہ کے رسول ﷺ کی اقتدا میں کھڑا ہوگیا آپ نے سات لمبی سورتیں (یعنی پونے دس پارے) سات رکعت میں پڑھیں سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر رکوع سے سر اٹھا کر آپ یہ پڑھتے تھے (الحمدللہ ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمتہ) پھر آپ کا رکوع ایام کے مناسب ہی لمبا تھا اور سجدہ بھی مثل رکوع کے تھا میری تو یہ حالت ہوگئی تھی کہ ٹانگیں ٹوٹنے لگیں (ابوداؤد وغیرہ) انہی حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ کو آپ نے رات کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ نے یہ دعا پڑھ کر پھر قرأت شروع کی (اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر ذی ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمتہ) پھر پوری سورة بقرہ پڑھ کر رکوع کیا اور رکوع میں بھی قریب قریب اتنی ہی دیر ٹھہرے رہے اور سبحان ربی العظیم پڑھتے رہے پھر اپنا سر رکوع سے اٹھایا اور تقریباً اتنی ہی دیر کھڑے رہے اور لربی الحمد پڑھتے رہے۔ پھر سجدے میں گئے وہ بھی تقریباً قیام کے برابر تھا اور سجدے میں حضور ﷺ سبحان ربی الاعلی پڑھتے رہے۔ پھر سجدے سے سر اٹھایا آپ کی عادت مبارک تھی کہ دونوں سجدوں کے درمیان بھی اتنی دیر بیٹھے رہتے تھے جتنی دیر سجدوں میں لگاتے تھے اور رب اغفرلی رب اغفرلی پڑھتے رہے۔ چار رکعت آپ نے ادا کیں سورة بقرہ سورة آل عمران سورة نساء اور سورة مائدہ کی تلاوت کی۔ حضرت شعبہ کو شک ہے کہ سورة مائدہ کہا یا سورة انعام ؟ نسائی وغیرہ میں ہے حضرت عوف بن مالک اشجعی ؓ سے روایت ہے کہ ایک رات میں نے حضرت ﷺ کے ساتھ تہجد کی نماز پڑھی آپ نے سورة بقرہ کی تلاوت فرمائی، ہر اس آیت پر جس میں رحمت کا ذکر ہوتا آپ ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے رحمت طلب کرتے اور ہر اس آیت پر جس میں عذاب کا ذکر ہوتا آپ ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرتے پھر آپ نے رکوع کیا وہ بھی قیام سے کچھ کم نہ تھا اور رکوع میں یہ فرماتے تھے (سبحان ذی الجبروت والملکوت و الکبریاء والعظمتہ) پھر آپ نے سجدہ کیا وہ بھی قیام کے قریب قریب تھا۔ اور سجدے میں بھی یہی پڑھتے پھر دوسری رکعت میں سورة آل عمران پڑھی۔ پھر اسی طرح ایک ایک سورت ایک ایک رکعت میں پڑھتے رہے۔