Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Maaida
Tafsir Ibn Kathir · The Table · 120 ayat · ayat 61–90 · Quran text →
بدترین گروہ اور اس کا انجام حکم ہوتا ہے کہ جو اہل کتاب تمہارے دین پر مذاق اڑاتے ہیں، ان سے کہو کہ تم نے جو دشمنی ہم سے کر رکھی ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس دراصل نہ تو یہ کوئی وجہ بغض ہے، نہ سبب مذمت بہ استثناء منقطع ہے۔ اور آیت میں ہے (وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ) 85۔ البروج :8) یعنی فقط اس وجہ سے انہوں نے ان سے دشمنی کی تھی کہ وہ اللہ عزیز وحمید کو مانتے تھے۔ اور جیسے اور آیت میں وما نقموا الا ان اغناھم اللہ و رسولہ من فضلہ۔ یعنی انہوں نے صرف اس کا انتقام لیا ہے کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور رسول ﷺ نے مال دے کر غنی کردیا ہے۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے " ابن جمیل اسی کا بدلہ لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کردیا اور یہ کہ تم میں سے اکثر صراط مستقیم سے الگ اور خارج ہوچکے ہیں۔ تم جو ہماری نسبت گمان رکھتے ہو آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے ہاں سے بدلہ پانے میں کون بدتر ہے ؟ اور وہ تم ہو کہ کیونکہ یہ خصلتیں تم میں ہی پائی جاتی ہیں۔ یعنی جسے اللہ نے لعنت کی ہو، اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہو، اس پر غصبناک ہوا ہو، ایسا جس کے بعد رضامند نہیں ہوگا اور جن میں سے بعض کی صورتیں بگاڑ دی ہوں، بندر اور سور بنا دیئے ہوں "۔ اس کا پورا بیان سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ یہ بندر و سور وہی ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا، جس قوم پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہوتا ہے، ان کی نسل ہی نہیں ہوتی، ان سے پہلے بھی سور اور بندر تھے۔ روایت مختلف الفاظ میں صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے۔ مسند میں ہے کہ " جنوں کی ایک قوم سانپ بنادی گئی تھی۔ جیسے کہ بندر اور سور بنا دیئے گئے "۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے۔ انہی میں سے بعض کو غیر اللہ کے پرستار بنا دیئے۔ ایک قرأت میں اضافت کے ساتھ طاغوت کی زیر سے بھی ہے۔ یعنی انہیں بتوں کا غلام بنادیا۔ حضرت برید اسلمی اسے (عابد الطاغوت) پڑھتے تھے۔ حضرت ابو جعفر قاری سے (وعبد الطاغوت) بھی منقول ہے جو بعید از معنی ہوجاتا ہے لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہوتا مطلب یہ ہے کہ تم ہی وہ ہو، جنہوں نے طاغوت کی عبادت کی۔ الغرض اہل کتاب کو الزام دیا جاتا ہے کہ ہم پر تو عیب گیری کرتے ہو، حالانکہ ہم موحد ہیں، صرف ایک اللہ برحق کے ماننے والے ہیں اور تم تو وہ ہو کہ مذکورہ سب برائیاں تم میں پائی گئیں۔ اسی لئے خاتم پر فرمایا کہ یہی لوگ باعتبار قدر و منزلت کے بہت برے ہیں اور باعتبار گمراہی کے انتہائی غلط راہ پر پڑے ہوئے ہیں۔ اس افعل التفصیل میں دوسری جانب کچھ مشارکت نہیں اور یہاں تو سرے سے ہے ہی نہیں۔ جیسے اس آیت میں (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا) 25۔ الفرقان :24) پھر منافقوں کی ایک اور بدخصلت بیان کی جا رہی ہے کہ " ظاہر میں تو وہ مومنوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے باطن کفر سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ تیرے کفر کی حالت میں پاس آتے ہیں اور اسی حالت میں تیرے پاس سے جاتے ہیں تو تیری باتیں، تیری نصیحتیں ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔ بھلا یہ پردہ داری انہیں کیا کام آئے گی، جس سے ان کا معاملہ ہے، وہ تو عالم الغیب ہے، دلوں کے بھید اس پر روشن ہیں۔ وہاں جا کر پورا پورا بدلہ بھگتنا پڑے گا۔ تو دیکھ رہا ہے کہ یہ لوگ گناہوں پر، حرام پر اور باطل کے ساتھ لوگوں کے مال پر کس طرح چڑھ دوڑتے ہیں ؟ ان کے اعمال نہایت ہی خراب ہوچکے ہیں۔ ان کے اولیاء اللہ یعنی عابد و عالم اور ان کے علماء انہیں ان باتوں سے کیوں نہیں روکتے ؟ دراصل ان کے علماء اور پیروں کے اعمال بدترین ہوگئے ہیں "۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ " علماء اور فقراء کی ڈانٹ کیلئے اس سے زیادہ سخت آیت کوئی نہیں "۔ حضرت ضحاک سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ حضرت علی نے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا " لوگو تم سے اگلے لوگ اسی بناء پر ہلاک کردیئے گئے کہ وہ برائیاں کرتے تھے تو ان کے عالم اور اللہ والے خاموش رہتے تھے، جب یہ عادت ان میں پختہ ہوگئی تو اللہ نے انہیں قسم قسم کی سزائیں دیں۔ پس تمہیں چاہئے کہ بھلائی کا حکم کرو، برائی سے روکو، اس سے پہلے کہ تم پر بھی وہی عذاب آجائیں جو تم سے پہلے والوں پر آئے، یقین رکھو کہ اچھائی کا حکم برائی سے ممانعت نہ تو تمہارے روزی گھٹائے گا، نہ تمہارے موت قریب کر دے گا "۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ " جس قوم میں کوئی اللہ کی نافرمانی کرے اور وہ لوگ باوجود روکنے کی قدرت اور غلبے کے اسے نہ مٹائیں تو اللہ تعالیٰ سب پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا " (مسند احمد) ابو داؤد میں ہے کہ " یہ عذاب ان کی موت سے پہلے ہی آئے گا "۔ ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔
بدترین گروہ اور اس کا انجام حکم ہوتا ہے کہ جو اہل کتاب تمہارے دین پر مذاق اڑاتے ہیں، ان سے کہو کہ تم نے جو دشمنی ہم سے کر رکھی ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس دراصل نہ تو یہ کوئی وجہ بغض ہے، نہ سبب مذمت بہ استثناء منقطع ہے۔ اور آیت میں ہے (وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ) 85۔ البروج :8) یعنی فقط اس وجہ سے انہوں نے ان سے دشمنی کی تھی کہ وہ اللہ عزیز وحمید کو مانتے تھے۔ اور جیسے اور آیت میں وما نقموا الا ان اغناھم اللہ و رسولہ من فضلہ۔ یعنی انہوں نے صرف اس کا انتقام لیا ہے کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور رسول ﷺ نے مال دے کر غنی کردیا ہے۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے " ابن جمیل اسی کا بدلہ لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کردیا اور یہ کہ تم میں سے اکثر صراط مستقیم سے الگ اور خارج ہوچکے ہیں۔ تم جو ہماری نسبت گمان رکھتے ہو آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے ہاں سے بدلہ پانے میں کون بدتر ہے ؟ اور وہ تم ہو کہ کیونکہ یہ خصلتیں تم میں ہی پائی جاتی ہیں۔ یعنی جسے اللہ نے لعنت کی ہو، اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہو، اس پر غصبناک ہوا ہو، ایسا جس کے بعد رضامند نہیں ہوگا اور جن میں سے بعض کی صورتیں بگاڑ دی ہوں، بندر اور سور بنا دیئے ہوں "۔ اس کا پورا بیان سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ یہ بندر و سور وہی ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا، جس قوم پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہوتا ہے، ان کی نسل ہی نہیں ہوتی، ان سے پہلے بھی سور اور بندر تھے۔ روایت مختلف الفاظ میں صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے۔ مسند میں ہے کہ " جنوں کی ایک قوم سانپ بنادی گئی تھی۔ جیسے کہ بندر اور سور بنا دیئے گئے "۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے۔ انہی میں سے بعض کو غیر اللہ کے پرستار بنا دیئے۔ ایک قرأت میں اضافت کے ساتھ طاغوت کی زیر سے بھی ہے۔ یعنی انہیں بتوں کا غلام بنادیا۔ حضرت برید اسلمی اسے (عابد الطاغوت) پڑھتے تھے۔ حضرت ابو جعفر قاری سے (وعبد الطاغوت) بھی منقول ہے جو بعید از معنی ہوجاتا ہے لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہوتا مطلب یہ ہے کہ تم ہی وہ ہو، جنہوں نے طاغوت کی عبادت کی۔ الغرض اہل کتاب کو الزام دیا جاتا ہے کہ ہم پر تو عیب گیری کرتے ہو، حالانکہ ہم موحد ہیں، صرف ایک اللہ برحق کے ماننے والے ہیں اور تم تو وہ ہو کہ مذکورہ سب برائیاں تم میں پائی گئیں۔ اسی لئے خاتم پر فرمایا کہ یہی لوگ باعتبار قدر و منزلت کے بہت برے ہیں اور باعتبار گمراہی کے انتہائی غلط راہ پر پڑے ہوئے ہیں۔ اس افعل التفصیل میں دوسری جانب کچھ مشارکت نہیں اور یہاں تو سرے سے ہے ہی نہیں۔ جیسے اس آیت میں (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا) 25۔ الفرقان :24) پھر منافقوں کی ایک اور بدخصلت بیان کی جا رہی ہے کہ " ظاہر میں تو وہ مومنوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے باطن کفر سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ تیرے کفر کی حالت میں پاس آتے ہیں اور اسی حالت میں تیرے پاس سے جاتے ہیں تو تیری باتیں، تیری نصیحتیں ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔ بھلا یہ پردہ داری انہیں کیا کام آئے گی، جس سے ان کا معاملہ ہے، وہ تو عالم الغیب ہے، دلوں کے بھید اس پر روشن ہیں۔ وہاں جا کر پورا پورا بدلہ بھگتنا پڑے گا۔ تو دیکھ رہا ہے کہ یہ لوگ گناہوں پر، حرام پر اور باطل کے ساتھ لوگوں کے مال پر کس طرح چڑھ دوڑتے ہیں ؟ ان کے اعمال نہایت ہی خراب ہوچکے ہیں۔ ان کے اولیاء اللہ یعنی عابد و عالم اور ان کے علماء انہیں ان باتوں سے کیوں نہیں روکتے ؟ دراصل ان کے علماء اور پیروں کے اعمال بدترین ہوگئے ہیں "۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ " علماء اور فقراء کی ڈانٹ کیلئے اس سے زیادہ سخت آیت کوئی نہیں "۔ حضرت ضحاک سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ حضرت علی نے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا " لوگو تم سے اگلے لوگ اسی بناء پر ہلاک کردیئے گئے کہ وہ برائیاں کرتے تھے تو ان کے عالم اور اللہ والے خاموش رہتے تھے، جب یہ عادت ان میں پختہ ہوگئی تو اللہ نے انہیں قسم قسم کی سزائیں دیں۔ پس تمہیں چاہئے کہ بھلائی کا حکم کرو، برائی سے روکو، اس سے پہلے کہ تم پر بھی وہی عذاب آجائیں جو تم سے پہلے والوں پر آئے، یقین رکھو کہ اچھائی کا حکم برائی سے ممانعت نہ تو تمہارے روزی گھٹائے گا، نہ تمہارے موت قریب کر دے گا "۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ " جس قوم میں کوئی اللہ کی نافرمانی کرے اور وہ لوگ باوجود روکنے کی قدرت اور غلبے کے اسے نہ مٹائیں تو اللہ تعالیٰ سب پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا " (مسند احمد) ابو داؤد میں ہے کہ " یہ عذاب ان کی موت سے پہلے ہی آئے گا "۔ ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔
بدترین گروہ اور اس کا انجام حکم ہوتا ہے کہ جو اہل کتاب تمہارے دین پر مذاق اڑاتے ہیں، ان سے کہو کہ تم نے جو دشمنی ہم سے کر رکھی ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس دراصل نہ تو یہ کوئی وجہ بغض ہے، نہ سبب مذمت بہ استثناء منقطع ہے۔ اور آیت میں ہے (وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ) 85۔ البروج :8) یعنی فقط اس وجہ سے انہوں نے ان سے دشمنی کی تھی کہ وہ اللہ عزیز وحمید کو مانتے تھے۔ اور جیسے اور آیت میں وما نقموا الا ان اغناھم اللہ و رسولہ من فضلہ۔ یعنی انہوں نے صرف اس کا انتقام لیا ہے کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور رسول ﷺ نے مال دے کر غنی کردیا ہے۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے " ابن جمیل اسی کا بدلہ لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کردیا اور یہ کہ تم میں سے اکثر صراط مستقیم سے الگ اور خارج ہوچکے ہیں۔ تم جو ہماری نسبت گمان رکھتے ہو آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے ہاں سے بدلہ پانے میں کون بدتر ہے ؟ اور وہ تم ہو کہ کیونکہ یہ خصلتیں تم میں ہی پائی جاتی ہیں۔ یعنی جسے اللہ نے لعنت کی ہو، اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہو، اس پر غصبناک ہوا ہو، ایسا جس کے بعد رضامند نہیں ہوگا اور جن میں سے بعض کی صورتیں بگاڑ دی ہوں، بندر اور سور بنا دیئے ہوں "۔ اس کا پورا بیان سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ یہ بندر و سور وہی ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا، جس قوم پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہوتا ہے، ان کی نسل ہی نہیں ہوتی، ان سے پہلے بھی سور اور بندر تھے۔ روایت مختلف الفاظ میں صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے۔ مسند میں ہے کہ " جنوں کی ایک قوم سانپ بنادی گئی تھی۔ جیسے کہ بندر اور سور بنا دیئے گئے "۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے۔ انہی میں سے بعض کو غیر اللہ کے پرستار بنا دیئے۔ ایک قرأت میں اضافت کے ساتھ طاغوت کی زیر سے بھی ہے۔ یعنی انہیں بتوں کا غلام بنادیا۔ حضرت برید اسلمی اسے (عابد الطاغوت) پڑھتے تھے۔ حضرت ابو جعفر قاری سے (وعبد الطاغوت) بھی منقول ہے جو بعید از معنی ہوجاتا ہے لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہوتا مطلب یہ ہے کہ تم ہی وہ ہو، جنہوں نے طاغوت کی عبادت کی۔ الغرض اہل کتاب کو الزام دیا جاتا ہے کہ ہم پر تو عیب گیری کرتے ہو، حالانکہ ہم موحد ہیں، صرف ایک اللہ برحق کے ماننے والے ہیں اور تم تو وہ ہو کہ مذکورہ سب برائیاں تم میں پائی گئیں۔ اسی لئے خاتم پر فرمایا کہ یہی لوگ باعتبار قدر و منزلت کے بہت برے ہیں اور باعتبار گمراہی کے انتہائی غلط راہ پر پڑے ہوئے ہیں۔ اس افعل التفصیل میں دوسری جانب کچھ مشارکت نہیں اور یہاں تو سرے سے ہے ہی نہیں۔ جیسے اس آیت میں (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا) 25۔ الفرقان :24) پھر منافقوں کی ایک اور بدخصلت بیان کی جا رہی ہے کہ " ظاہر میں تو وہ مومنوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے باطن کفر سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ تیرے کفر کی حالت میں پاس آتے ہیں اور اسی حالت میں تیرے پاس سے جاتے ہیں تو تیری باتیں، تیری نصیحتیں ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔ بھلا یہ پردہ داری انہیں کیا کام آئے گی، جس سے ان کا معاملہ ہے، وہ تو عالم الغیب ہے، دلوں کے بھید اس پر روشن ہیں۔ وہاں جا کر پورا پورا بدلہ بھگتنا پڑے گا۔ تو دیکھ رہا ہے کہ یہ لوگ گناہوں پر، حرام پر اور باطل کے ساتھ لوگوں کے مال پر کس طرح چڑھ دوڑتے ہیں ؟ ان کے اعمال نہایت ہی خراب ہوچکے ہیں۔ ان کے اولیاء اللہ یعنی عابد و عالم اور ان کے علماء انہیں ان باتوں سے کیوں نہیں روکتے ؟ دراصل ان کے علماء اور پیروں کے اعمال بدترین ہوگئے ہیں "۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ " علماء اور فقراء کی ڈانٹ کیلئے اس سے زیادہ سخت آیت کوئی نہیں "۔ حضرت ضحاک سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ حضرت علی نے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا " لوگو تم سے اگلے لوگ اسی بناء پر ہلاک کردیئے گئے کہ وہ برائیاں کرتے تھے تو ان کے عالم اور اللہ والے خاموش رہتے تھے، جب یہ عادت ان میں پختہ ہوگئی تو اللہ نے انہیں قسم قسم کی سزائیں دیں۔ پس تمہیں چاہئے کہ بھلائی کا حکم کرو، برائی سے روکو، اس سے پہلے کہ تم پر بھی وہی عذاب آجائیں جو تم سے پہلے والوں پر آئے، یقین رکھو کہ اچھائی کا حکم برائی سے ممانعت نہ تو تمہارے روزی گھٹائے گا، نہ تمہارے موت قریب کر دے گا "۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ " جس قوم میں کوئی اللہ کی نافرمانی کرے اور وہ لوگ باوجود روکنے کی قدرت اور غلبے کے اسے نہ مٹائیں تو اللہ تعالیٰ سب پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا " (مسند احمد) ابو داؤد میں ہے کہ " یہ عذاب ان کی موت سے پہلے ہی آئے گا "۔ ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔
بخل سے بچو اور فضول خرچی سے ہاتھ روکو اللہ تعالیٰ ملعون یہودیوں کا ایک خبیث قول بیان فرما رہا ہے کہ یہ اللہ کو بخیل کہتے تھے، یہی لوگ اللہ کو فقیر بھی کہتے ہیں۔ اللہ کی ذات ان کے اس ناپاک مقولے سے بہت بلند وبالا ہے۔ پس اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، مطلب ان کا یہ نہ تھا کہ ہاتھ جکڑ دیئے گئے ہیں بلکہ مراد اس سے بخل تھا۔ یہی محاورہ قرآن میں اور جگہ بھی ہے فرماتا ہے آیت (وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا) 17۔ الاسراء :29) یعنی اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ بھی نہ لے اور نہ حد سے زیادہ پھیلا دے کہ پھر تھکان اور ندامت کے ساتھ بیٹھے رہنا پڑے، پس بخل سے اور اسراف سے اللہ نے اس آیت میں روکا۔ پس ملعون یہودیوں کی بھی ہاتھ باندھا ہوا ہونے سے یہی مراد تھی۔ فخاص نامی یہودی نے یہ کہا تھا اور اسی ملعون کا وہ دوسرا قول بھی تھا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ جس پر حضرت صدیق اکبر نے اسے پیٹا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ شماس بن قیس نے یہی کہا تھا جس پر یہ آیت اتری۔ اور ارشاد ہوا کہ بخیل اور کنجوس ذلیل اور بزدل یہ لوگ خود ہیں۔ چناچہ اور آیت میں ہے کہ اگر یہ بادشاہ بن جائیں تو کسی کو کچھ بھی نہ دیں۔ بلکہ یہ تو اوروں کی نعمتیں دیکھ کر جلتے ہیں۔ یہ ذلیل تر لوگ ہیں۔ بلکہ اللہ کے ہاتھ کھلے ہیں وہ سب کچھ خرچ کرتا رہتا ہے اس کا فضل وسیع ہے، اس کی بخشش عام ہے، ہر چیز کے خزانے اس کے ہاتھوں میں ہیں۔ ہر نعمت اس کی طرف سے ہے۔ ساری مخلوق دن رات ہر وقت ہر جگہ اسی کی محتاج ہے۔ فرماتا ہے آیت (وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ) 14۔ ابراہیم :34)۔ " تم نے جو مانگا، اللہ نے دیا، اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو شمار بھی نہیں کرسکتے، یقینا انسان بڑا ہی ظالم بیحد ناشکرا ہے "۔ مسند میں حدیث ہے کہ " اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ اوپر ہے، دن رات کا خرچ اس کے خزانے کو گھٹاتا نہیں، شروع سے لے کر آج تک جو کچھ بھی اس نے اپنی مخلوق کو عطا فرمایا، اس نے اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں کی۔ اس کا عرش پہلے پانی پر تھا، اسی کے ہاتھ میں فیض ہی فیض ہے، وہی بلند اور پست کرتا ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ لوگو تم میری راہ میں خرچ کرو گے تم تو دیئے جاؤں گے "۔ بخاری مسلم میں بھی یہ حدیث ہے۔ پھر فرمایا " اے نبی ﷺ ! جس قدر اللہ کی نعمتیں تم پر زیادہ ہوں گی، اتنا ہی ان شیاطین کا کفر حسد اور جلاپا بڑھے گا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح مومنوں کا ایمان اور ان کی تسلیم و اطاعت بڑھتی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے۔ (قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ) 41۔ فصلت :44)۔ ایمان والوں کیلئے تو یہ ہدایت و شفا ہے اور بےایمان اس سے اندھے بہرے ہوتے ہیں۔ یہی ہیں جو دروازے سے پکارے جاتے ہیں۔ اور آیت میں ہے (وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا) 17۔ الاسراء :82) ہم نے وہ قرآن اتارا ہے جو مومنوں کیلئے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کا تو نقصان ہی بڑھتا رہتا ہے۔ پھر ارشاد ہوا کہ ان کے دلوں میں سے خود آپس کا بغض و بیر بھی قیامت تک نہیں مٹے گا، ایک دوسرے کا آپس میں ہی خون پینے والے لوگ ہیں۔ ناممکن ہے کہ یہ حق پر جم جائیں، یہ اپنے ہی دین میں فرقہ فرقہ ہو رہے ہیں، ان کے جھگڑے اور عداوتیں آپس میں جاری ہیں اور جاری رہیں گی۔ یہ لوگ بسا اوقات لڑائی کے سامان کرتے ہیں، تیرے خلاف چاروں طرف ایک آگ بھڑکانا چاہتے ہیں لیکن ہر مرتبہ منہ کی کھاتے ہیں، ان کا مکر انہی پر لوٹ جاتا ہے، یہ مفسد لوگ ہیں اور اللہ کے دشمن ہیں، کسی مفسد کو اللہ اپنا دوست نہیں بناتا۔ اگر یہ باایمان اور پرہیزگار بن جائیں تو ہم ان سے تمام ڈر دور کردیں اور اصل مقصد حیات سے انہیں ملا دیں۔ اگر یہ تورات و انجیل اور اس قرآن کو مان لیں کیونکہ توراۃ و انجیل کا ماننا، قرآن کے ماننے کو لازم کر دے گا، ان کتابوں کی صحیح تعلیم یہی ہے کہ یہ قرآن سچا ہے اس کی اور نبی آخر الزمان ﷺ کی تصدیق پہلے کی کتابوں میں موجود ہے تو اگر یہ اپنی ان کتابوں کو بغیر تحریف و تبدیل اور تاویل و تفسیر کے مانیں تو وہ انہیں اسی اسلام کی ہدایت دیں گی، جو آنحضرت ﷺ بتاتے ہیں۔ اس صورت میں اللہ انہیں دنیا کے کئی فائدے دے گا، آسمان سے پانی برسائے گا، زمین سے پیداوار اگائے گا، نیچے اوپر کی یعنی زمین و آسمان کی برکتیں انہیں مل جائیں گی۔ " جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ) 7۔ الاعراف :96) یعنی اگر بستیوں والے ایمان لاتے ہیں اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین سے برکتیں نازل فرماتے۔ اور آیت میں (ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ) 30۔ الروم :41)۔ لوگوں کی برائیوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیا ہے، اور یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ بغیر مشقت و مشکل کے ہم انہیں بکثرت بابرکت روزیاں دیتے ہیں، بعض نے اس جملہ کا مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ لوگ ایسا کرتے تو بھلائیوں سے مستفید ہوجاتے۔ لیکن یہ قول اقوال سلف کے خلاف ہے۔ اب ابی حاتم نے اس جگہ ایک اثر وارد کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا قریب ہے کہ علم اٹھا لیا جائے۔ یہ سن کر حضرت زیاد بن لبید نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ علم اٹھ جائے، ہم نے قرآن سیکھا، اپنی اولادوں کو سکھایا۔ آپ نے فرمایا افسوس میں تو تمام مدینے والوں سے زیادہ تم کو سمجھدار جانتا تھا لیکن کیا تو نہیں دیکھتا کہ یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں میں بھی تورات و انجیل ہے۔ لیکن کس کام کی ؟ جبکہ انہوں نے اللہ کے احکام چھوڑ دیئے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی "۔ یہ حدیث مسند میں بھی ہے کہ حضور ﷺ نے کسی چیز کا بیان فرمایا کہ یہ بات علم کے جاتے رہنے کے وقت ہوگی، اس پر حضرت ابن لبید نے کہا علم کیسے جاتا رہے گا ؟ ہم قرآن پڑھے ہوئے ہیں اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں، وہ اپنی اولادوں کو پڑھائیں گے، یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا، اس پر آپ نے یہ فرمایا جو اوپر بیان ہوا۔ پھر فرمایا ان میں ایک جماعت میانہ رو بھی ہے مگر اکثر بداعمال ہے۔ جیسے فرمان آیت (وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ) 7۔ الاعراف :159) موسیٰ کی قوم میں سے ایک گروہ حق کی ہدایت کرنے والا اور اسی کے ساتھ عدل انصاف کرنے والا بھی تھا۔ اور قوم عیسیٰ کے بارے میں فرمان ہے۔ آیت (فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ) 57۔ الحدید :27) ان میں سے باایمان لوگوں کو ہم نے ان کے ثواب عنایت فرمائے، یہ نکتہ خیال میں رہے کہ ان کا بہترین درجہ بیچ کا درجہ بیان فرمایا اور اس امت کا یہ درجہ دوسرا درجہ ہے، جس پر ایک تیسرا اونچا درجہ بھی ہے۔ جیسے فرمایا۔ آیت (ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ) 35۔ فاطر :32)۔ یعنی پھر ہم نے کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا، ان میں سے بعض تو اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں، بعض میانہ رو ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں، یہی بہت بڑا فضل ہے۔ تینوں قسمیں اس امت کی داخل جنت ہونے والی ہیں۔ ابن مردویہ میں ہے کہ صحابہ کے سامنے حضور ﷺ نے فرمایا " موسیٰ کی امت کے اکہتر گروہ ہوگئے، جن میں سے ایک تو جنتی ہے، باقی ستر دوزخی۔ میری یہ امت دونوں سے بڑھ جائے گی۔ ان کا بھی ایک گروہ تو جنت میں جائے گا، باقی بہتر گروہ جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا، وہ کون ہیں ؟ فرمایا جماعتیں جماعتیں "۔ یعقوب بن یزید کہتے ہیں جب حضرت علی بن ابو طالب یہ حدیث بیان کرتے تو قرآن کی آیت۔ (وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ) 5۔ المائدہ :65) اور (وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ) 7۔ الاعراف :181) بھی پڑھتے اور فرماتے ہیں اس سے مراد امت محمد ﷺ ہے۔ لیکن یہ حدیث ان لفظوں اور اس سند سے بیحد غریب ہے اور ستر سے اوپر اوپر فرقوں کی حدیث بہت سی سندوں سے مروی ہے، جسے ہم نے اور جگہ بیان کردیا ہے فالحمدللہ
بخل سے بچو اور فضول خرچی سے ہاتھ روکو اللہ تعالیٰ ملعون یہودیوں کا ایک خبیث قول بیان فرما رہا ہے کہ یہ اللہ کو بخیل کہتے تھے، یہی لوگ اللہ کو فقیر بھی کہتے ہیں۔ اللہ کی ذات ان کے اس ناپاک مقولے سے بہت بلند وبالا ہے۔ پس اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، مطلب ان کا یہ نہ تھا کہ ہاتھ جکڑ دیئے گئے ہیں بلکہ مراد اس سے بخل تھا۔ یہی محاورہ قرآن میں اور جگہ بھی ہے فرماتا ہے آیت (وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا) 17۔ الاسراء :29) یعنی اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ بھی نہ لے اور نہ حد سے زیادہ پھیلا دے کہ پھر تھکان اور ندامت کے ساتھ بیٹھے رہنا پڑے، پس بخل سے اور اسراف سے اللہ نے اس آیت میں روکا۔ پس ملعون یہودیوں کی بھی ہاتھ باندھا ہوا ہونے سے یہی مراد تھی۔ فخاص نامی یہودی نے یہ کہا تھا اور اسی ملعون کا وہ دوسرا قول بھی تھا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ جس پر حضرت صدیق اکبر نے اسے پیٹا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ شماس بن قیس نے یہی کہا تھا جس پر یہ آیت اتری۔ اور ارشاد ہوا کہ بخیل اور کنجوس ذلیل اور بزدل یہ لوگ خود ہیں۔ چناچہ اور آیت میں ہے کہ اگر یہ بادشاہ بن جائیں تو کسی کو کچھ بھی نہ دیں۔ بلکہ یہ تو اوروں کی نعمتیں دیکھ کر جلتے ہیں۔ یہ ذلیل تر لوگ ہیں۔ بلکہ اللہ کے ہاتھ کھلے ہیں وہ سب کچھ خرچ کرتا رہتا ہے اس کا فضل وسیع ہے، اس کی بخشش عام ہے، ہر چیز کے خزانے اس کے ہاتھوں میں ہیں۔ ہر نعمت اس کی طرف سے ہے۔ ساری مخلوق دن رات ہر وقت ہر جگہ اسی کی محتاج ہے۔ فرماتا ہے آیت (وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ) 14۔ ابراہیم :34)۔ " تم نے جو مانگا، اللہ نے دیا، اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو شمار بھی نہیں کرسکتے، یقینا انسان بڑا ہی ظالم بیحد ناشکرا ہے "۔ مسند میں حدیث ہے کہ " اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ اوپر ہے، دن رات کا خرچ اس کے خزانے کو گھٹاتا نہیں، شروع سے لے کر آج تک جو کچھ بھی اس نے اپنی مخلوق کو عطا فرمایا، اس نے اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں کی۔ اس کا عرش پہلے پانی پر تھا، اسی کے ہاتھ میں فیض ہی فیض ہے، وہی بلند اور پست کرتا ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ لوگو تم میری راہ میں خرچ کرو گے تم تو دیئے جاؤں گے "۔ بخاری مسلم میں بھی یہ حدیث ہے۔ پھر فرمایا " اے نبی ﷺ ! جس قدر اللہ کی نعمتیں تم پر زیادہ ہوں گی، اتنا ہی ان شیاطین کا کفر حسد اور جلاپا بڑھے گا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح مومنوں کا ایمان اور ان کی تسلیم و اطاعت بڑھتی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے۔ (قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ) 41۔ فصلت :44)۔ ایمان والوں کیلئے تو یہ ہدایت و شفا ہے اور بےایمان اس سے اندھے بہرے ہوتے ہیں۔ یہی ہیں جو دروازے سے پکارے جاتے ہیں۔ اور آیت میں ہے (وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا) 17۔ الاسراء :82) ہم نے وہ قرآن اتارا ہے جو مومنوں کیلئے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کا تو نقصان ہی بڑھتا رہتا ہے۔ پھر ارشاد ہوا کہ ان کے دلوں میں سے خود آپس کا بغض و بیر بھی قیامت تک نہیں مٹے گا، ایک دوسرے کا آپس میں ہی خون پینے والے لوگ ہیں۔ ناممکن ہے کہ یہ حق پر جم جائیں، یہ اپنے ہی دین میں فرقہ فرقہ ہو رہے ہیں، ان کے جھگڑے اور عداوتیں آپس میں جاری ہیں اور جاری رہیں گی۔ یہ لوگ بسا اوقات لڑائی کے سامان کرتے ہیں، تیرے خلاف چاروں طرف ایک آگ بھڑکانا چاہتے ہیں لیکن ہر مرتبہ منہ کی کھاتے ہیں، ان کا مکر انہی پر لوٹ جاتا ہے، یہ مفسد لوگ ہیں اور اللہ کے دشمن ہیں، کسی مفسد کو اللہ اپنا دوست نہیں بناتا۔ اگر یہ باایمان اور پرہیزگار بن جائیں تو ہم ان سے تمام ڈر دور کردیں اور اصل مقصد حیات سے انہیں ملا دیں۔ اگر یہ تورات و انجیل اور اس قرآن کو مان لیں کیونکہ توراۃ و انجیل کا ماننا، قرآن کے ماننے کو لازم کر دے گا، ان کتابوں کی صحیح تعلیم یہی ہے کہ یہ قرآن سچا ہے اس کی اور نبی آخر الزمان ﷺ کی تصدیق پہلے کی کتابوں میں موجود ہے تو اگر یہ اپنی ان کتابوں کو بغیر تحریف و تبدیل اور تاویل و تفسیر کے مانیں تو وہ انہیں اسی اسلام کی ہدایت دیں گی، جو آنحضرت ﷺ بتاتے ہیں۔ اس صورت میں اللہ انہیں دنیا کے کئی فائدے دے گا، آسمان سے پانی برسائے گا، زمین سے پیداوار اگائے گا، نیچے اوپر کی یعنی زمین و آسمان کی برکتیں انہیں مل جائیں گی۔ " جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ) 7۔ الاعراف :96) یعنی اگر بستیوں والے ایمان لاتے ہیں اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین سے برکتیں نازل فرماتے۔ اور آیت میں (ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ) 30۔ الروم :41)۔ لوگوں کی برائیوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیا ہے، اور یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ بغیر مشقت و مشکل کے ہم انہیں بکثرت بابرکت روزیاں دیتے ہیں، بعض نے اس جملہ کا مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ لوگ ایسا کرتے تو بھلائیوں سے مستفید ہوجاتے۔ لیکن یہ قول اقوال سلف کے خلاف ہے۔ اب ابی حاتم نے اس جگہ ایک اثر وارد کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا قریب ہے کہ علم اٹھا لیا جائے۔ یہ سن کر حضرت زیاد بن لبید نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ علم اٹھ جائے، ہم نے قرآن سیکھا، اپنی اولادوں کو سکھایا۔ آپ نے فرمایا افسوس میں تو تمام مدینے والوں سے زیادہ تم کو سمجھدار جانتا تھا لیکن کیا تو نہیں دیکھتا کہ یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں میں بھی تورات و انجیل ہے۔ لیکن کس کام کی ؟ جبکہ انہوں نے اللہ کے احکام چھوڑ دیئے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی "۔ یہ حدیث مسند میں بھی ہے کہ حضور ﷺ نے کسی چیز کا بیان فرمایا کہ یہ بات علم کے جاتے رہنے کے وقت ہوگی، اس پر حضرت ابن لبید نے کہا علم کیسے جاتا رہے گا ؟ ہم قرآن پڑھے ہوئے ہیں اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں، وہ اپنی اولادوں کو پڑھائیں گے، یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا، اس پر آپ نے یہ فرمایا جو اوپر بیان ہوا۔ پھر فرمایا ان میں ایک جماعت میانہ رو بھی ہے مگر اکثر بداعمال ہے۔ جیسے فرمان آیت (وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ) 7۔ الاعراف :159) موسیٰ کی قوم میں سے ایک گروہ حق کی ہدایت کرنے والا اور اسی کے ساتھ عدل انصاف کرنے والا بھی تھا۔ اور قوم عیسیٰ کے بارے میں فرمان ہے۔ آیت (فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ) 57۔ الحدید :27) ان میں سے باایمان لوگوں کو ہم نے ان کے ثواب عنایت فرمائے، یہ نکتہ خیال میں رہے کہ ان کا بہترین درجہ بیچ کا درجہ بیان فرمایا اور اس امت کا یہ درجہ دوسرا درجہ ہے، جس پر ایک تیسرا اونچا درجہ بھی ہے۔ جیسے فرمایا۔ آیت (ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ) 35۔ فاطر :32)۔ یعنی پھر ہم نے کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا، ان میں سے بعض تو اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں، بعض میانہ رو ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں، یہی بہت بڑا فضل ہے۔ تینوں قسمیں اس امت کی داخل جنت ہونے والی ہیں۔ ابن مردویہ میں ہے کہ صحابہ کے سامنے حضور ﷺ نے فرمایا " موسیٰ کی امت کے اکہتر گروہ ہوگئے، جن میں سے ایک تو جنتی ہے، باقی ستر دوزخی۔ میری یہ امت دونوں سے بڑھ جائے گی۔ ان کا بھی ایک گروہ تو جنت میں جائے گا، باقی بہتر گروہ جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا، وہ کون ہیں ؟ فرمایا جماعتیں جماعتیں "۔ یعقوب بن یزید کہتے ہیں جب حضرت علی بن ابو طالب یہ حدیث بیان کرتے تو قرآن کی آیت۔ (وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ) 5۔ المائدہ :65) اور (وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ) 7۔ الاعراف :181) بھی پڑھتے اور فرماتے ہیں اس سے مراد امت محمد ﷺ ہے۔ لیکن یہ حدیث ان لفظوں اور اس سند سے بیحد غریب ہے اور ستر سے اوپر اوپر فرقوں کی حدیث بہت سی سندوں سے مروی ہے، جسے ہم نے اور جگہ بیان کردیا ہے فالحمدللہ
بخل سے بچو اور فضول خرچی سے ہاتھ روکو اللہ تعالیٰ ملعون یہودیوں کا ایک خبیث قول بیان فرما رہا ہے کہ یہ اللہ کو بخیل کہتے تھے، یہی لوگ اللہ کو فقیر بھی کہتے ہیں۔ اللہ کی ذات ان کے اس ناپاک مقولے سے بہت بلند وبالا ہے۔ پس اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، مطلب ان کا یہ نہ تھا کہ ہاتھ جکڑ دیئے گئے ہیں بلکہ مراد اس سے بخل تھا۔ یہی محاورہ قرآن میں اور جگہ بھی ہے فرماتا ہے آیت (وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا) 17۔ الاسراء :29) یعنی اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ بھی نہ لے اور نہ حد سے زیادہ پھیلا دے کہ پھر تھکان اور ندامت کے ساتھ بیٹھے رہنا پڑے، پس بخل سے اور اسراف سے اللہ نے اس آیت میں روکا۔ پس ملعون یہودیوں کی بھی ہاتھ باندھا ہوا ہونے سے یہی مراد تھی۔ فخاص نامی یہودی نے یہ کہا تھا اور اسی ملعون کا وہ دوسرا قول بھی تھا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ جس پر حضرت صدیق اکبر نے اسے پیٹا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ شماس بن قیس نے یہی کہا تھا جس پر یہ آیت اتری۔ اور ارشاد ہوا کہ بخیل اور کنجوس ذلیل اور بزدل یہ لوگ خود ہیں۔ چناچہ اور آیت میں ہے کہ اگر یہ بادشاہ بن جائیں تو کسی کو کچھ بھی نہ دیں۔ بلکہ یہ تو اوروں کی نعمتیں دیکھ کر جلتے ہیں۔ یہ ذلیل تر لوگ ہیں۔ بلکہ اللہ کے ہاتھ کھلے ہیں وہ سب کچھ خرچ کرتا رہتا ہے اس کا فضل وسیع ہے، اس کی بخشش عام ہے، ہر چیز کے خزانے اس کے ہاتھوں میں ہیں۔ ہر نعمت اس کی طرف سے ہے۔ ساری مخلوق دن رات ہر وقت ہر جگہ اسی کی محتاج ہے۔ فرماتا ہے آیت (وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ) 14۔ ابراہیم :34)۔ " تم نے جو مانگا، اللہ نے دیا، اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو شمار بھی نہیں کرسکتے، یقینا انسان بڑا ہی ظالم بیحد ناشکرا ہے "۔ مسند میں حدیث ہے کہ " اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ اوپر ہے، دن رات کا خرچ اس کے خزانے کو گھٹاتا نہیں، شروع سے لے کر آج تک جو کچھ بھی اس نے اپنی مخلوق کو عطا فرمایا، اس نے اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں کی۔ اس کا عرش پہلے پانی پر تھا، اسی کے ہاتھ میں فیض ہی فیض ہے، وہی بلند اور پست کرتا ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ لوگو تم میری راہ میں خرچ کرو گے تم تو دیئے جاؤں گے "۔ بخاری مسلم میں بھی یہ حدیث ہے۔ پھر فرمایا " اے نبی ﷺ ! جس قدر اللہ کی نعمتیں تم پر زیادہ ہوں گی، اتنا ہی ان شیاطین کا کفر حسد اور جلاپا بڑھے گا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح مومنوں کا ایمان اور ان کی تسلیم و اطاعت بڑھتی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے۔ (قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ) 41۔ فصلت :44)۔ ایمان والوں کیلئے تو یہ ہدایت و شفا ہے اور بےایمان اس سے اندھے بہرے ہوتے ہیں۔ یہی ہیں جو دروازے سے پکارے جاتے ہیں۔ اور آیت میں ہے (وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا) 17۔ الاسراء :82) ہم نے وہ قرآن اتارا ہے جو مومنوں کیلئے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کا تو نقصان ہی بڑھتا رہتا ہے۔ پھر ارشاد ہوا کہ ان کے دلوں میں سے خود آپس کا بغض و بیر بھی قیامت تک نہیں مٹے گا، ایک دوسرے کا آپس میں ہی خون پینے والے لوگ ہیں۔ ناممکن ہے کہ یہ حق پر جم جائیں، یہ اپنے ہی دین میں فرقہ فرقہ ہو رہے ہیں، ان کے جھگڑے اور عداوتیں آپس میں جاری ہیں اور جاری رہیں گی۔ یہ لوگ بسا اوقات لڑائی کے سامان کرتے ہیں، تیرے خلاف چاروں طرف ایک آگ بھڑکانا چاہتے ہیں لیکن ہر مرتبہ منہ کی کھاتے ہیں، ان کا مکر انہی پر لوٹ جاتا ہے، یہ مفسد لوگ ہیں اور اللہ کے دشمن ہیں، کسی مفسد کو اللہ اپنا دوست نہیں بناتا۔ اگر یہ باایمان اور پرہیزگار بن جائیں تو ہم ان سے تمام ڈر دور کردیں اور اصل مقصد حیات سے انہیں ملا دیں۔ اگر یہ تورات و انجیل اور اس قرآن کو مان لیں کیونکہ توراۃ و انجیل کا ماننا، قرآن کے ماننے کو لازم کر دے گا، ان کتابوں کی صحیح تعلیم یہی ہے کہ یہ قرآن سچا ہے اس کی اور نبی آخر الزمان ﷺ کی تصدیق پہلے کی کتابوں میں موجود ہے تو اگر یہ اپنی ان کتابوں کو بغیر تحریف و تبدیل اور تاویل و تفسیر کے مانیں تو وہ انہیں اسی اسلام کی ہدایت دیں گی، جو آنحضرت ﷺ بتاتے ہیں۔ اس صورت میں اللہ انہیں دنیا کے کئی فائدے دے گا، آسمان سے پانی برسائے گا، زمین سے پیداوار اگائے گا، نیچے اوپر کی یعنی زمین و آسمان کی برکتیں انہیں مل جائیں گی۔ " جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ) 7۔ الاعراف :96) یعنی اگر بستیوں والے ایمان لاتے ہیں اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین سے برکتیں نازل فرماتے۔ اور آیت میں (ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ) 30۔ الروم :41)۔ لوگوں کی برائیوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیا ہے، اور یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ بغیر مشقت و مشکل کے ہم انہیں بکثرت بابرکت روزیاں دیتے ہیں، بعض نے اس جملہ کا مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ لوگ ایسا کرتے تو بھلائیوں سے مستفید ہوجاتے۔ لیکن یہ قول اقوال سلف کے خلاف ہے۔ اب ابی حاتم نے اس جگہ ایک اثر وارد کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا قریب ہے کہ علم اٹھا لیا جائے۔ یہ سن کر حضرت زیاد بن لبید نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ علم اٹھ جائے، ہم نے قرآن سیکھا، اپنی اولادوں کو سکھایا۔ آپ نے فرمایا افسوس میں تو تمام مدینے والوں سے زیادہ تم کو سمجھدار جانتا تھا لیکن کیا تو نہیں دیکھتا کہ یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں میں بھی تورات و انجیل ہے۔ لیکن کس کام کی ؟ جبکہ انہوں نے اللہ کے احکام چھوڑ دیئے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی "۔ یہ حدیث مسند میں بھی ہے کہ حضور ﷺ نے کسی چیز کا بیان فرمایا کہ یہ بات علم کے جاتے رہنے کے وقت ہوگی، اس پر حضرت ابن لبید نے کہا علم کیسے جاتا رہے گا ؟ ہم قرآن پڑھے ہوئے ہیں اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں، وہ اپنی اولادوں کو پڑھائیں گے، یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا، اس پر آپ نے یہ فرمایا جو اوپر بیان ہوا۔ پھر فرمایا ان میں ایک جماعت میانہ رو بھی ہے مگر اکثر بداعمال ہے۔ جیسے فرمان آیت (وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ) 7۔ الاعراف :159) موسیٰ کی قوم میں سے ایک گروہ حق کی ہدایت کرنے والا اور اسی کے ساتھ عدل انصاف کرنے والا بھی تھا۔ اور قوم عیسیٰ کے بارے میں فرمان ہے۔ آیت (فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ) 57۔ الحدید :27) ان میں سے باایمان لوگوں کو ہم نے ان کے ثواب عنایت فرمائے، یہ نکتہ خیال میں رہے کہ ان کا بہترین درجہ بیچ کا درجہ بیان فرمایا اور اس امت کا یہ درجہ دوسرا درجہ ہے، جس پر ایک تیسرا اونچا درجہ بھی ہے۔ جیسے فرمایا۔ آیت (ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ) 35۔ فاطر :32)۔ یعنی پھر ہم نے کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا، ان میں سے بعض تو اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں، بعض میانہ رو ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں، یہی بہت بڑا فضل ہے۔ تینوں قسمیں اس امت کی داخل جنت ہونے والی ہیں۔ ابن مردویہ میں ہے کہ صحابہ کے سامنے حضور ﷺ نے فرمایا " موسیٰ کی امت کے اکہتر گروہ ہوگئے، جن میں سے ایک تو جنتی ہے، باقی ستر دوزخی۔ میری یہ امت دونوں سے بڑھ جائے گی۔ ان کا بھی ایک گروہ تو جنت میں جائے گا، باقی بہتر گروہ جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا، وہ کون ہیں ؟ فرمایا جماعتیں جماعتیں "۔ یعقوب بن یزید کہتے ہیں جب حضرت علی بن ابو طالب یہ حدیث بیان کرتے تو قرآن کی آیت۔ (وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ) 5۔ المائدہ :65) اور (وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ) 7۔ الاعراف :181) بھی پڑھتے اور فرماتے ہیں اس سے مراد امت محمد ﷺ ہے۔ لیکن یہ حدیث ان لفظوں اور اس سند سے بیحد غریب ہے اور ستر سے اوپر اوپر فرقوں کی حدیث بہت سی سندوں سے مروی ہے، جسے ہم نے اور جگہ بیان کردیا ہے فالحمدللہ
نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کو چھپایا نہیں اپنے نبی ﷺ کو رسول کے پیارے خطاب سے آواز دے کر اللہ تعالیٰ حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کل احکام لوگوں کو پہنچا دو۔ حضور ﷺ نے بھی ایسا ہی کیا۔ صحیح بخاری میں ہے " حضرت عائشہ فرماتی ہیں جو تجھ سے کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کسی حکم کو چھپالیا تو جان لو کہ وہ جھوٹا ہے، اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو یہ حکم دیا ہے پھر اس آیت کی تلاوت آپ نے کی "۔ یہ حدیث یہاں مختصر ہے اور جگہ پر مطول بھی ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے " اگر حضور ﷺ اللہ کے کسی فرمان کو چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپالیتے۔ آیت (وَتُخْــفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ وَتَخْشَى النَّاسَ ۚ وَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰـىهُ) 33۔ الاحزاب :37)۔ یعنی تو اپنے دل میں وہ چھپاتا تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور لوگوں سے جھینپ رہا تھا حالانکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تو اس سے ڈرے "۔ ابن عباس سے کسی نے کہا کہ لوگوں میں یہ چرچا ہو رہا ہے کہ تمہیں کچھ باتیں حضور ﷺ نے ایسی بتائی ہیں جو اور لوگوں سے چھپائی جاتی تھیں تو آپ نے یہی آیت پڑھی اور فرمایا قسم اللہ کی ہمیں حضور ﷺ نے کسی ایسی مخصوص چیز کا وارث نہیں بنایا (ابن ابی حاتم) صحیح بخاری شریف میں ہے کہ " حضرت علی سے ایک شخص نے پوچھا کیا تمہارے پاس قرآن کے علاوہ کچھ اور وحی بھی ہے ؟ آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے دانے کو اگایا ہے اور جانوروں کو پیدا کیا ہے کہ کچ نہیں بجز اس فہم و روایت کے جو اللہ کسی شخص کو دے اور جو کچھ اس صحیفے میں ہے، اس نے پوچھا صحیفے میں کیا ہے ؟ فرمایا دیت کے مسائل ہیں، قیدیوں کو چھوڑ دینے کے احکام ہیں اور یہ ہے کہ مسلمان کافر کے بدلے قصاصاً قتل نہ کیا جائے "۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت زہری کا فرمان ہے کہ اللہ کی طرف سے رسالت ہے اور پیغمبر کے ذمے تبلیغ ہے اور ہمارے ذمہ قبول کرنا اور تابع فرمان ہونا ہے۔ حضور ﷺ نے اللہ کی سب باتیں پہنچا دیں، اس کی گواہ آپ کی تمام امت ہے کہ فی الواقع آپ نے امانت کی پوری ادائیگی کی اور سب سے بڑی مجلس جو تھی، اس میں سب نے اس کا اقرار کیا یعنی حجتہ الوداع خطبے میں، جس وقت آپ کے سامنے چالیس ہزار صحابہ کا گروہ عظیم تھا "۔ صحیح مسلم میں ہے کہ " آپ نے اس خطبے میں لوگوں سے فرمایا تم میرے بارے میں اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے تو بتاؤ کیا جواب دو گے ؟ سب نے کہا ہماری گواہی ہے کہ آپ نے تبلیغ کردی اور حق رسالت ادا کردیا اور ہماری پوری خیر خواہی کی، آپ نے سر آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا اے اللہ ! کیا میں نے تیرے تمام احکامات کو پہنچا دیا، اے اللہ ! کیا میں نے پہنچا دیا ؟ " مسند احمد میں یہ بھی ہے کہ آپ نے اس خطبے میں پوچھا کہ لوگو یہ کونسا دن ہے ؟ سب نے کہا حرمت والا، پوچھا یہ کونسا شہر ہے، جواب دیا، حرمت والا۔ فرمایا یہ کونسا مہینہ ہے ؟ جواب ملا، حرمت والا، فرمایا پس تمہارے مال اور خون و آبرو آپس میں ایک دوسرے پر ایسی ہی حرمت والے ہیں جیسے اس دن کی اس شہر میں اور اس مہینے میں حرمت ہے۔ پھر بار بار اسی کو دوہرایا۔ پھر اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا اے اللہ ! کیا میں نے پہنچا دیا "۔ ابن عباس فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہ آپ کے رب کی طرف آپ کی وصیت تھی۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا دیکھو ہر حاضر شخص غیر حاضر کو یہ بات پہنچا دے۔ دیکھو میرے فرمان میرے بندوں تک نہ پہنچائے تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا، پھر اس کی جو سزا ہے وہ ظاہر ہے، اگر ایک آیت بھی چھپالی تو حق رسالت ادا نہ ہوا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں جب یہ حکم نازل ہوا کہ جو کچھ اترا ہے سب پہنچا دو تو حضور ﷺ نے فرمایا اللہ میں اکیلا ہوں اور یہ سب مل کر مجھ پر چڑھ دوڑتے ہیں، میں کس طرح کروں تو دوسرا جملہ اترا کہ اگر تو نے نہ کیا تو تو نے رسالت کا حق ادا نہیں کیا۔ پھر فرمایا تجھے لوگوں سے بچا لینا میرے ذمہ ہے۔ تیرا حافظ و ناصر میں ہوں، بےخطر رہئیے وہ کوئی تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اس آیت سے پہلے حضور ﷺ چوکنے رہتے تھے، لوگ نگہبانی پر مقرر رہتے تھے۔ چناچہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک رات کو حضور بیدار تھے انہیں نیند نہیں آرہی تھی میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! آج کیا بات ہے ؟ فرمایا کاش کہ میرا کوئی نیک بخت صحابی آج پہرہ دیتا، یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ میرے کانوں میں ہتھیار کی آواز آئی آپ نے فرمایا کون ہے ؟ جواب ملا کہ میں سعد بن مالک ہوں، فرمایا کیسے آئے ؟ جواب دیا اس لئے کہ رات بھر حضور ﷺ کی چوکیداری کروں۔ اس کے بعد حضور ﷺ باآرام سو گئے، یہاں تک کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی (بخاری و مسلم) ایک روایت میں ہے کہ یہ واقعہ سنہ002ھ کا ہے۔ اس آیت کے نازل ہوتے ہی آپ نے خیمے سے سر نکال کر چوکیداروں سے فرمایا، " جاؤ اب میں اللہ کی پناہ میں آگیا، تمہاری چوکیداری کی ضرورت نہیں رہی "۔ ایک روایت میں ہے کہ ابو طالب آپ کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی آدمی کو رکھتے، جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرمایا بس چچا ! اب میرے ساتھ کسی کے بھیجنے کی ضرورت نہیں، میں اللہ کے بچاؤ میں آگیا ہوں۔ لیکن یہ روایت غریب اور منکر ہے یہ واقعہ ہو تو مکہ کا ہو اور یہ آیت تو مدنی ہے، مدینہ کی بھی آخری مدت کی آیت ہے، اس میں شک نہیں کہ مکہ میں بھی اللہ کی حفاظت اپنے رسول ﷺ کے ساتھ رہی باوجود دشمن جاں ہونے کے اور ہر ہر اسباب اور سامان سے لیس ہونے کے سردار ان مکہ اور اہل مکہ آپ کا بال تک بیکا نہ کرسکے، ابتداء رسالت کے زمانہ میں اپنے چچا ابو طالب کی وجہ سے جو کہ قریشیوں کے سردار اور بارسوخ شخص تھے، آپ کی حفاظت ہوتی رہی، ان کے دل میں اللہ نے آپ کی محبت اور عزت ڈال دی، یہ محبت اور عزت ڈال دی، یہ محبت طبعی تھی شرعی نہ تھی۔ اگر شرعی ہوتی تو قریش حضور ﷺ کے ساتھ ہی ان کی بھی جان کے خواہاں ہوجاتے۔ ان کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے انصار کے دلوں میں حضور ﷺ کی شرعی محبت پیدا کردی اور آپ انہی کے ہاں چلے گئے۔ اب تو مشرکین بھی اور یہود بھی مل ملا کر نکل کھڑے ہوئے، بڑے بڑے سازو سامان لشکر لے کر چڑھ دوڑے، لیکن بار بار کی ناکامیوں نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اسی طرح خفیہ سازشیں بھی جتنی کیں، قدرت نے وہ بھی انہی پر الٹ دیں۔ ادھر وہ جادو کرتے ہیں، ادھر سورة معوذتین نازل ہوتی ہے اور ان کا جادو اتر جاتا ہے۔ ادھر ہزاروں جتن کر کے بکری کے شانے میں زہر ملا کر حضور ﷺ کی دعوت کر کے آپ کے سامنے رکھتے ہیں، ادھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو ان کی دھوکہ دہی سے آگاہ فرما دیتا ہے اور یہ ہاتھ کاٹتے رہ جاتے ہیں اور بھی ایسے واقعات آپ کی زندگی میں بہت سارے نظر آتے ہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ " ایک سفر میں آپ ایک درخت تلے، جو صحابہ اپنی عادت کے مطابق ہر منزل میں تلاش کر کے آپ کیلئے چھوڑ دیتے تھے، دوپہر کے وقت قیولہ کر رہے تھے تو ایک اعرابی اچانک آ نکلا، آپ کی تلوار جو اسی درخت میں لٹک رہی تھی، اتار لی اور میان سے باہر نکال لی اور ڈانٹ کر آپ سے کہنے لگا، اب بتا کون ہے جو تجھے بچا لے ؟ آپ نے فرمایا اللہ مجھے بچائے گا، اسی وقت اس اعرابی کا ہاتھ کانپنے لگتا ہے اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر جاتی ہے اور وہ درخت سے ٹکراتا ہے، جس سے اس کا دماغ پاش پاش ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ یہ آیت اتارتا ہے "۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب حضور ﷺ نے بنو نجار سے غزوہ کیا " ذات الرقاع کھجور کے باغ میں آپ ایک کنوئیں میں پیر لٹکائے بیٹھے تھے، جو بنو نجار کے ایک شخص وارث نامی نے کہا دیکھو میں محمد ﷺ کو قتل کرتا ہوں۔ لوگوں نے کہا کیسے ؟ کہا میں کسی حیلے سے آپ کی تلوار لے لوں گا اور پھر ایک ہی وار کر کے پار کر دوں گا۔ یہ آپ کے پاس آیا اور ادھر ادھر کی باتیں بنا کر آپ سے تلوار دیکھنے کو مانگی، آپ نے اسے دے دی لیکن تلوار کے ہاتھ میں آتے ہی اس پر اس بلا کا لرزہ چڑھا کہ آخر تلوار سنبھل نہ سکی اور ہاتھ سے گر پڑی تو آپ نے فرمایا تیرے اور تیرے بد ارادے کے درمیان اللہ حائل ہوگیا اور یہ آیت اتری۔ حویرث بن حارث کا بھی ایسا قصہ مشہور ہے۔ ابن مردویہ میں ہے کہ " صحابہ کی عادت تھی کہ سفر میں جس جگہ ٹھہرتے، آنحضرت ﷺ کیلئے گھنا سایہ دار بڑا درخت چھوڑ دیتے کہ آپ اسی کیلئے تلے آرام فرمائیں، ایک دن آپ اسی طرح ایسے درخت تلے سو گئے اور آپ کی تلوار اس درخت میں لٹک رہی تھی، ایک شخص آگیا اور تلوار ہاتھ میں لے کر کہنے لگا، اب بتا کہ میرے ہاتھ سے تجھے کون بچائے گا ؟ آپ نے فرمایا اللہ بچائے گا، تلوار رکھ دے اور وہ اس قدر ہیبت میں آگیا کہ تعمیل حکم کرنا ہی پڑی اور تلوار آپ کے سامنے ڈال دی۔ " اور اللہ نے یہ آیت اتاری کہ (ۭوَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ) 5۔ المائدہ :67) مسند میں ہے کہ " حضور ﷺ نے ایک موٹے آدمی کے پیٹ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اگر یہ اس کے سوا میں ہوتا تو تیرے لئے بہتر تھا۔ ایک شخص کو صحابہ پکڑ کر آپ کے پاس لائے اور کہا یہ آپ کے قتل کا ارادہ کر رہا تھا، وہ کانپنے لگا، آپ نے فرمایا گھبرا نہیں چاہے تو ارادہ کرے لیکن اللہ اسے پورا نہیں ہونے دے گا "۔ پھر فرماتا ہے تیرے ذمہ صرف تبلیغ ہے، ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ کافروں کو ہدایت نہیں دے گا۔ تو پہنچا دے، حساب کا لینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
آخری رسول پر ایمان اولین شرط ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کسی دین پر نہیں، جب تک کہ اپنی کتابوں پر اور اللہ کی اس کتاب پر ایمان لائیں لیکن ان کی حالت تو یہ ہے کہ جیسے جیسے قرآن اترتا ہے یہ لوگ سرکشی اور کفر میں بڑھتے جاتے ہیں۔ پس اے نبی ﷺ تو ان کافروں کیلئے حسرت و افسوس کر کے کیوں اپنی جان کو روگ لگاتا ہے۔ صابی، نصرانیوں اور مجوسیوں کی بےدین جماعت کو کہتے ہیں اور صرف مجوسیوں کو بھی علاوہ ازیں ایک اور گروہ تھا، یہود اور نصاریٰ دونوں مثل مجوسیوں کے تھے۔ قتادہ کہتے ہیں یہ زبور پڑھتے تھے غیر قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے تھے اور فرشتوں کو پوجتے تھے۔ وہب فرماتے ہیں اللہ کو پہچانتے تھے، اپنی شریعت کے حامل تھے، ان میں کفر کی ایجاد نہیں ہوئی تھی، یہ عراق کے متصل آباد تھے، یلوثا کہے جاتے تھے، نبیوں کو مانتے تھے، ہر سال میں تیس روزے رکھتے تھے اور یمن کی طرف منہ کر کے دن بھر میں پانچ نمازیں بھی پڑھتے تھے اس کے سوا اور قول بھی ہیں چونکہ پہلے دو جملوں کے بعد انکا ذکر آیا تھا، اس لئے رفع کے ساتھ عطف ڈالا۔ ان تمام لوگوں سے جناب باری فرماتا ہے کہ " امن وامان والے بےڈر اور بےخوف وہ ہیں جو اللہ پر اور قیامت پر سچا ایمان رکھیں اور نیک اعمال کریں اور یہ ناممکن ہے، جب تک اس آخری رسول ﷺ پر ایمان نہ ہو جو کہ تمام جن و انس کی طرف اللہ کے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ پس آپ پر ایمان لانے والے آنے والی زندگی کے خطرات سے بےخوف ہیں اور یہاں چھوڑ کر جانے والی چیزوں کو انہیں کوئی تمنا اور حسرت نہیں "۔ سورة بقرہ کی تفسیر میں اس جملے کے مفصل معنی بیان کردیئے گئے ہیں۔
آخری رسول پر ایمان اولین شرط ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کسی دین پر نہیں، جب تک کہ اپنی کتابوں پر اور اللہ کی اس کتاب پر ایمان لائیں لیکن ان کی حالت تو یہ ہے کہ جیسے جیسے قرآن اترتا ہے یہ لوگ سرکشی اور کفر میں بڑھتے جاتے ہیں۔ پس اے نبی ﷺ تو ان کافروں کیلئے حسرت و افسوس کر کے کیوں اپنی جان کو روگ لگاتا ہے۔ صابی، نصرانیوں اور مجوسیوں کی بےدین جماعت کو کہتے ہیں اور صرف مجوسیوں کو بھی علاوہ ازیں ایک اور گروہ تھا، یہود اور نصاریٰ دونوں مثل مجوسیوں کے تھے۔ قتادہ کہتے ہیں یہ زبور پڑھتے تھے غیر قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے تھے اور فرشتوں کو پوجتے تھے۔ وہب فرماتے ہیں اللہ کو پہچانتے تھے، اپنی شریعت کے حامل تھے، ان میں کفر کی ایجاد نہیں ہوئی تھی، یہ عراق کے متصل آباد تھے، یلوثا کہے جاتے تھے، نبیوں کو مانتے تھے، ہر سال میں تیس روزے رکھتے تھے اور یمن کی طرف منہ کر کے دن بھر میں پانچ نمازیں بھی پڑھتے تھے اس کے سوا اور قول بھی ہیں چونکہ پہلے دو جملوں کے بعد انکا ذکر آیا تھا، اس لئے رفع کے ساتھ عطف ڈالا۔ ان تمام لوگوں سے جناب باری فرماتا ہے کہ " امن وامان والے بےڈر اور بےخوف وہ ہیں جو اللہ پر اور قیامت پر سچا ایمان رکھیں اور نیک اعمال کریں اور یہ ناممکن ہے، جب تک اس آخری رسول ﷺ پر ایمان نہ ہو جو کہ تمام جن و انس کی طرف اللہ کے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ پس آپ پر ایمان لانے والے آنے والی زندگی کے خطرات سے بےخوف ہیں اور یہاں چھوڑ کر جانے والی چیزوں کو انہیں کوئی تمنا اور حسرت نہیں "۔ سورة بقرہ کی تفسیر میں اس جملے کے مفصل معنی بیان کردیئے گئے ہیں۔
سیاہ عمل یہود اور نصاریٰاللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ سے وعدے لئے تھے کہ وہ اللہ کے احکام کے عامل اور وحی کے پابند رہیں گے۔ لیکن انہوں نے وہ میثاق توڑ دیا۔ اپنی رائے اور خواہش کے پیچھے لگ گئے کتاب اللہ کی جو بات ان کی منشاء اور رائے کے مطابق تھی مان لی جس میں اختلاف نظر آیا ترک کردی، نہ صرف اتنا ہی کیا بلکہ رسولوں کے مخالف ہو کر بہت سے رسولوں کو جھوٹا بتایا اور بہتیروں کو قتل بھی کردیا کیونکہ ان کے لائے ہوئے احکام ان کی رائے اور قیاس کے خلاف تھے اتنے بڑے گناہ کے بعد بھی بےفکر ہو کر بیٹھے رہے اور سمجھ لیا کہ ہمیں کوئی سزا نہ ہوگی لیکن انہیں زبردست روحانی سزا دی گئی یعنی وہ حق سے دور پھینک دیئے گئے اور اس سے اندھے اور بہرے بنا دیئے گئے نہ حق کو سنیں اور نہ ہدایت کو دیکھ سکیں لیکن پھر بھی اللہ نے ان پر مہربانی کی افسوس اس کے بعد بھی ان میں سے اکثر حق سے نابینا اور حق کے سننے سے محروم ہی ہوگئے اللہ ان کے اعمال سے باخبر ہے وہ جانتا ہے کہ کون کس چیز کا مستحق ہے۔
سیاہ عمل یہود اور نصاریٰاللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ سے وعدے لئے تھے کہ وہ اللہ کے احکام کے عامل اور وحی کے پابند رہیں گے۔ لیکن انہوں نے وہ میثاق توڑ دیا۔ اپنی رائے اور خواہش کے پیچھے لگ گئے کتاب اللہ کی جو بات ان کی منشاء اور رائے کے مطابق تھی مان لی جس میں اختلاف نظر آیا ترک کردی، نہ صرف اتنا ہی کیا بلکہ رسولوں کے مخالف ہو کر بہت سے رسولوں کو جھوٹا بتایا اور بہتیروں کو قتل بھی کردیا کیونکہ ان کے لائے ہوئے احکام ان کی رائے اور قیاس کے خلاف تھے اتنے بڑے گناہ کے بعد بھی بےفکر ہو کر بیٹھے رہے اور سمجھ لیا کہ ہمیں کوئی سزا نہ ہوگی لیکن انہیں زبردست روحانی سزا دی گئی یعنی وہ حق سے دور پھینک دیئے گئے اور اس سے اندھے اور بہرے بنا دیئے گئے نہ حق کو سنیں اور نہ ہدایت کو دیکھ سکیں لیکن پھر بھی اللہ نے ان پر مہربانی کی افسوس اس کے بعد بھی ان میں سے اکثر حق سے نابینا اور حق کے سننے سے محروم ہی ہوگئے اللہ ان کے اعمال سے باخبر ہے وہ جانتا ہے کہ کون کس چیز کا مستحق ہے۔
خود ساختہ معبود بنانا ناقابل معافی جرم ہے نصرانیوں کے فرقوں کی یعنی ملکیہ، یعقوبیہ، نسطوریہ کی کفر کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ یہ مسیح ہی کو اللہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں۔ اللہ ان کے قول سے پاک، منزہ اور مبرا ہے مسیح تو اللہ کے غلام تھے سب سے پہلا کلمہ ان کا دنیا میں قدم رکھتے ہی گہوارے میں ہی یہ تھا کہ (انی عبداللہ) میں اللہ کا غلام ہوں۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں بلکہ اپنی غلامی کا اقرار کیا تھا اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ ہی ہے اسی کی عبادت کرتے رہو سیدھی اور صحیح راہ یہی ہے اور یہی بات اپنی جوانی کے بعد کی عمر میں بھی کہی کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کرنے والے یہ جنت حرام ہے اور اس کیلئے جہنم واجب ہے۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا۔ جہنمی جب جنتیوں سے کھانا پانی مانگیں گے تو اہل جنت کا یہی جواب ہوگا کہ یہ دونوں چیزیں کفار پر حرام ہے۔ آنحضرت ﷺ نے بذریعہ منادی کے مسلمانوں میں آواز لگوائی تھی کہ جنت میں فقط ایمان و اسلام والے ہی جائیں گے۔ سورة نساء کی آیت (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا) 4۔ النسآء :48) کی تفسیر میں وہ حدیث بھی بیان کردی گئی ہے جس میں ہے کہ گناہ کے تین دیوان ہیں جس میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ نے کبھی نہیں بخشا اور وہ اللہ کے ساتھ شرک کا ہے۔ حضرت مسیح نے بھی اپنی قوم میں یہی وعظ بیان کیا اور فرما دیا کہ ایسے ناانصاف مشرکین کا کوئی مددگار بھی کھڑا نہ ہوگا۔ اب ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ کو تین میں سے ایک مانتے تھے یہودی حضرت عزیر کو اور نصرانی حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور اللہ تین میں کا ایک مانتے تھے پھر ان تینوں کے مقرر کرنے میں بھی بہت بڑا اختلاف تھا اور ہر فرقہ دوسرے کو کافر کہتا تھا اور حق تو یہ ہے کہ سبھی سب کافر تھے حضرت عیسیٰ سے فرمائے گا کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو بھی اللہ مانو، وہ اس سے صاف انکار کریں گے اور اپنی لاعلمی اور بےگناہی ظاہر کریں گے۔ زیادہ ظاہر قول بھی یہی ہے واللہ اعلم۔ دراصل لائق عبادت سوائے اس ذات واحد کے اور کوئی نہیں تمام کائنات اور کل موجودات کا معبود برحق وہی ہے۔ اگر یہ اپنے اس کافرانہ نظریہ سے باز نہ آئے تو یقینا یہ المناک عذابوں کا شکار ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم وجود کو، بخشش و انعام اور لطف و رحمت کو بیان فرما رہا ہے اور باوجود ان کے اس قدر سخت جرم، اتنی اشد بےحیائی اور کذب و افتراء کے انہیں اپنی رحمت کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ اب بھی میری طرف جھک جاؤ ابھی سب معاف فرما دوں گا اور دامن رحمت تلے لے لوں گا۔ حضرت مسیح اللہ کے بندے اور رسول ہی تھے۔ ان جیسے رسول ان سے پہلے بھی ہوئے ہیں جیسے فرمایا (ان ھو الاعبد) الخ، وہ ہمارے ایک غلام ہی تھے ہاں ہم نے ان پر رحمت نازل فرمائی تھی اور بنی اسرائیل کیلئے قدرت کی ایک نشائی بنائی۔ والدہ عیسیٰ مومنہ اور سچ کہنے والی تھیں اس لئے معلوم ہوا کہ نبیہ نہ تھیں کیونکہ یہ مقام وصف ہے تو بہترین وصف جو آپ کا تھا وہ بیان کردیا اگر نبوت والی ہوتیں تو اس موقعہ پر اس کا بیان نہایت ضروری تھا۔ ابن حرم وغیرہ کا خیال ہے کہ ام اسحاق اور ام موسیٰ اور ام عیسیٰ نبیہ تھیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ فرشتوں نے حضرت سارہ اور حضرت مریم سے خطاب اور کلام کیا اور والدہ موسیٰ کی نسبت فرمان ہے آیت (وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى اَنْ اَرْضِعِيْهِ ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَاَلْقِيْهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِيْ وَلَا تَحْـزَنِيْ ۚ اِنَّا رَاۗدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ) 28۔ القصص :7) ہم نے موسیٰ کی والدہ کی طرف وحی کی کہ تو انہیں دودھ پلا۔ لیکن جمہور کا مذہب اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ نبوت مردوں میں ہی رہی۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 21۔ الانبیآء :7) تجھ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں سے مردوں ہی کی طرف رسالت انعام فرمائی ہے شیخ ابو الحسن اشعری نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ماں بیٹا تو دونوں کھانے پینے کے محتاج تھے اور ظاہر ہے کہ جو اندر جائے گا وہ باہر بھی آئے گا پس ثابت ہوا کہ وہ بھی مثل اوروں کے بندے ہی تھے اللہ کی صفات ان میں نہ تھیں دیکھ تو ہم کس طرح کھول کھول کر ان کے سامنے اپنی حجتیں پیش کر رہے ہیں ؟ پھر یہ بھی دیکھ کہ باوجود اس کے یہ کس طرح ادھر ادھر بھٹکتے اور بھاگتے پھرتے ہیں ؟ کیسے گمراہ مذہب قبول کر رہے ہیں ؟ اور کیسے ردی اور بےدلیل اقوال کو گرہ میں باندھے ہوئے ہیں ؟
خود ساختہ معبود بنانا ناقابل معافی جرم ہے نصرانیوں کے فرقوں کی یعنی ملکیہ، یعقوبیہ، نسطوریہ کی کفر کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ یہ مسیح ہی کو اللہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں۔ اللہ ان کے قول سے پاک، منزہ اور مبرا ہے مسیح تو اللہ کے غلام تھے سب سے پہلا کلمہ ان کا دنیا میں قدم رکھتے ہی گہوارے میں ہی یہ تھا کہ (انی عبداللہ) میں اللہ کا غلام ہوں۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں بلکہ اپنی غلامی کا اقرار کیا تھا اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ ہی ہے اسی کی عبادت کرتے رہو سیدھی اور صحیح راہ یہی ہے اور یہی بات اپنی جوانی کے بعد کی عمر میں بھی کہی کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کرنے والے یہ جنت حرام ہے اور اس کیلئے جہنم واجب ہے۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا۔ جہنمی جب جنتیوں سے کھانا پانی مانگیں گے تو اہل جنت کا یہی جواب ہوگا کہ یہ دونوں چیزیں کفار پر حرام ہے۔ آنحضرت ﷺ نے بذریعہ منادی کے مسلمانوں میں آواز لگوائی تھی کہ جنت میں فقط ایمان و اسلام والے ہی جائیں گے۔ سورة نساء کی آیت (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا) 4۔ النسآء :48) کی تفسیر میں وہ حدیث بھی بیان کردی گئی ہے جس میں ہے کہ گناہ کے تین دیوان ہیں جس میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ نے کبھی نہیں بخشا اور وہ اللہ کے ساتھ شرک کا ہے۔ حضرت مسیح نے بھی اپنی قوم میں یہی وعظ بیان کیا اور فرما دیا کہ ایسے ناانصاف مشرکین کا کوئی مددگار بھی کھڑا نہ ہوگا۔ اب ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ کو تین میں سے ایک مانتے تھے یہودی حضرت عزیر کو اور نصرانی حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور اللہ تین میں کا ایک مانتے تھے پھر ان تینوں کے مقرر کرنے میں بھی بہت بڑا اختلاف تھا اور ہر فرقہ دوسرے کو کافر کہتا تھا اور حق تو یہ ہے کہ سبھی سب کافر تھے حضرت عیسیٰ سے فرمائے گا کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو بھی اللہ مانو، وہ اس سے صاف انکار کریں گے اور اپنی لاعلمی اور بےگناہی ظاہر کریں گے۔ زیادہ ظاہر قول بھی یہی ہے واللہ اعلم۔ دراصل لائق عبادت سوائے اس ذات واحد کے اور کوئی نہیں تمام کائنات اور کل موجودات کا معبود برحق وہی ہے۔ اگر یہ اپنے اس کافرانہ نظریہ سے باز نہ آئے تو یقینا یہ المناک عذابوں کا شکار ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم وجود کو، بخشش و انعام اور لطف و رحمت کو بیان فرما رہا ہے اور باوجود ان کے اس قدر سخت جرم، اتنی اشد بےحیائی اور کذب و افتراء کے انہیں اپنی رحمت کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ اب بھی میری طرف جھک جاؤ ابھی سب معاف فرما دوں گا اور دامن رحمت تلے لے لوں گا۔ حضرت مسیح اللہ کے بندے اور رسول ہی تھے۔ ان جیسے رسول ان سے پہلے بھی ہوئے ہیں جیسے فرمایا (ان ھو الاعبد) الخ، وہ ہمارے ایک غلام ہی تھے ہاں ہم نے ان پر رحمت نازل فرمائی تھی اور بنی اسرائیل کیلئے قدرت کی ایک نشائی بنائی۔ والدہ عیسیٰ مومنہ اور سچ کہنے والی تھیں اس لئے معلوم ہوا کہ نبیہ نہ تھیں کیونکہ یہ مقام وصف ہے تو بہترین وصف جو آپ کا تھا وہ بیان کردیا اگر نبوت والی ہوتیں تو اس موقعہ پر اس کا بیان نہایت ضروری تھا۔ ابن حرم وغیرہ کا خیال ہے کہ ام اسحاق اور ام موسیٰ اور ام عیسیٰ نبیہ تھیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ فرشتوں نے حضرت سارہ اور حضرت مریم سے خطاب اور کلام کیا اور والدہ موسیٰ کی نسبت فرمان ہے آیت (وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى اَنْ اَرْضِعِيْهِ ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَاَلْقِيْهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِيْ وَلَا تَحْـزَنِيْ ۚ اِنَّا رَاۗدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ) 28۔ القصص :7) ہم نے موسیٰ کی والدہ کی طرف وحی کی کہ تو انہیں دودھ پلا۔ لیکن جمہور کا مذہب اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ نبوت مردوں میں ہی رہی۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 21۔ الانبیآء :7) تجھ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں سے مردوں ہی کی طرف رسالت انعام فرمائی ہے شیخ ابو الحسن اشعری نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ماں بیٹا تو دونوں کھانے پینے کے محتاج تھے اور ظاہر ہے کہ جو اندر جائے گا وہ باہر بھی آئے گا پس ثابت ہوا کہ وہ بھی مثل اوروں کے بندے ہی تھے اللہ کی صفات ان میں نہ تھیں دیکھ تو ہم کس طرح کھول کھول کر ان کے سامنے اپنی حجتیں پیش کر رہے ہیں ؟ پھر یہ بھی دیکھ کہ باوجود اس کے یہ کس طرح ادھر ادھر بھٹکتے اور بھاگتے پھرتے ہیں ؟ کیسے گمراہ مذہب قبول کر رہے ہیں ؟ اور کیسے ردی اور بےدلیل اقوال کو گرہ میں باندھے ہوئے ہیں ؟
خود ساختہ معبود بنانا ناقابل معافی جرم ہے نصرانیوں کے فرقوں کی یعنی ملکیہ، یعقوبیہ، نسطوریہ کی کفر کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ یہ مسیح ہی کو اللہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں۔ اللہ ان کے قول سے پاک، منزہ اور مبرا ہے مسیح تو اللہ کے غلام تھے سب سے پہلا کلمہ ان کا دنیا میں قدم رکھتے ہی گہوارے میں ہی یہ تھا کہ (انی عبداللہ) میں اللہ کا غلام ہوں۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں بلکہ اپنی غلامی کا اقرار کیا تھا اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ ہی ہے اسی کی عبادت کرتے رہو سیدھی اور صحیح راہ یہی ہے اور یہی بات اپنی جوانی کے بعد کی عمر میں بھی کہی کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کرنے والے یہ جنت حرام ہے اور اس کیلئے جہنم واجب ہے۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا۔ جہنمی جب جنتیوں سے کھانا پانی مانگیں گے تو اہل جنت کا یہی جواب ہوگا کہ یہ دونوں چیزیں کفار پر حرام ہے۔ آنحضرت ﷺ نے بذریعہ منادی کے مسلمانوں میں آواز لگوائی تھی کہ جنت میں فقط ایمان و اسلام والے ہی جائیں گے۔ سورة نساء کی آیت (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا) 4۔ النسآء :48) کی تفسیر میں وہ حدیث بھی بیان کردی گئی ہے جس میں ہے کہ گناہ کے تین دیوان ہیں جس میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ نے کبھی نہیں بخشا اور وہ اللہ کے ساتھ شرک کا ہے۔ حضرت مسیح نے بھی اپنی قوم میں یہی وعظ بیان کیا اور فرما دیا کہ ایسے ناانصاف مشرکین کا کوئی مددگار بھی کھڑا نہ ہوگا۔ اب ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ کو تین میں سے ایک مانتے تھے یہودی حضرت عزیر کو اور نصرانی حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور اللہ تین میں کا ایک مانتے تھے پھر ان تینوں کے مقرر کرنے میں بھی بہت بڑا اختلاف تھا اور ہر فرقہ دوسرے کو کافر کہتا تھا اور حق تو یہ ہے کہ سبھی سب کافر تھے حضرت عیسیٰ سے فرمائے گا کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو بھی اللہ مانو، وہ اس سے صاف انکار کریں گے اور اپنی لاعلمی اور بےگناہی ظاہر کریں گے۔ زیادہ ظاہر قول بھی یہی ہے واللہ اعلم۔ دراصل لائق عبادت سوائے اس ذات واحد کے اور کوئی نہیں تمام کائنات اور کل موجودات کا معبود برحق وہی ہے۔ اگر یہ اپنے اس کافرانہ نظریہ سے باز نہ آئے تو یقینا یہ المناک عذابوں کا شکار ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم وجود کو، بخشش و انعام اور لطف و رحمت کو بیان فرما رہا ہے اور باوجود ان کے اس قدر سخت جرم، اتنی اشد بےحیائی اور کذب و افتراء کے انہیں اپنی رحمت کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ اب بھی میری طرف جھک جاؤ ابھی سب معاف فرما دوں گا اور دامن رحمت تلے لے لوں گا۔ حضرت مسیح اللہ کے بندے اور رسول ہی تھے۔ ان جیسے رسول ان سے پہلے بھی ہوئے ہیں جیسے فرمایا (ان ھو الاعبد) الخ، وہ ہمارے ایک غلام ہی تھے ہاں ہم نے ان پر رحمت نازل فرمائی تھی اور بنی اسرائیل کیلئے قدرت کی ایک نشائی بنائی۔ والدہ عیسیٰ مومنہ اور سچ کہنے والی تھیں اس لئے معلوم ہوا کہ نبیہ نہ تھیں کیونکہ یہ مقام وصف ہے تو بہترین وصف جو آپ کا تھا وہ بیان کردیا اگر نبوت والی ہوتیں تو اس موقعہ پر اس کا بیان نہایت ضروری تھا۔ ابن حرم وغیرہ کا خیال ہے کہ ام اسحاق اور ام موسیٰ اور ام عیسیٰ نبیہ تھیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ فرشتوں نے حضرت سارہ اور حضرت مریم سے خطاب اور کلام کیا اور والدہ موسیٰ کی نسبت فرمان ہے آیت (وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى اَنْ اَرْضِعِيْهِ ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَاَلْقِيْهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِيْ وَلَا تَحْـزَنِيْ ۚ اِنَّا رَاۗدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ) 28۔ القصص :7) ہم نے موسیٰ کی والدہ کی طرف وحی کی کہ تو انہیں دودھ پلا۔ لیکن جمہور کا مذہب اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ نبوت مردوں میں ہی رہی۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 21۔ الانبیآء :7) تجھ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں سے مردوں ہی کی طرف رسالت انعام فرمائی ہے شیخ ابو الحسن اشعری نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ماں بیٹا تو دونوں کھانے پینے کے محتاج تھے اور ظاہر ہے کہ جو اندر جائے گا وہ باہر بھی آئے گا پس ثابت ہوا کہ وہ بھی مثل اوروں کے بندے ہی تھے اللہ کی صفات ان میں نہ تھیں دیکھ تو ہم کس طرح کھول کھول کر ان کے سامنے اپنی حجتیں پیش کر رہے ہیں ؟ پھر یہ بھی دیکھ کہ باوجود اس کے یہ کس طرح ادھر ادھر بھٹکتے اور بھاگتے پھرتے ہیں ؟ کیسے گمراہ مذہب قبول کر رہے ہیں ؟ اور کیسے ردی اور بےدلیل اقوال کو گرہ میں باندھے ہوئے ہیں ؟
خود ساختہ معبود بنانا ناقابل معافی جرم ہے نصرانیوں کے فرقوں کی یعنی ملکیہ، یعقوبیہ، نسطوریہ کی کفر کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ یہ مسیح ہی کو اللہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں۔ اللہ ان کے قول سے پاک، منزہ اور مبرا ہے مسیح تو اللہ کے غلام تھے سب سے پہلا کلمہ ان کا دنیا میں قدم رکھتے ہی گہوارے میں ہی یہ تھا کہ (انی عبداللہ) میں اللہ کا غلام ہوں۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں بلکہ اپنی غلامی کا اقرار کیا تھا اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ ہی ہے اسی کی عبادت کرتے رہو سیدھی اور صحیح راہ یہی ہے اور یہی بات اپنی جوانی کے بعد کی عمر میں بھی کہی کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کرنے والے یہ جنت حرام ہے اور اس کیلئے جہنم واجب ہے۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا۔ جہنمی جب جنتیوں سے کھانا پانی مانگیں گے تو اہل جنت کا یہی جواب ہوگا کہ یہ دونوں چیزیں کفار پر حرام ہے۔ آنحضرت ﷺ نے بذریعہ منادی کے مسلمانوں میں آواز لگوائی تھی کہ جنت میں فقط ایمان و اسلام والے ہی جائیں گے۔ سورة نساء کی آیت (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا) 4۔ النسآء :48) کی تفسیر میں وہ حدیث بھی بیان کردی گئی ہے جس میں ہے کہ گناہ کے تین دیوان ہیں جس میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ نے کبھی نہیں بخشا اور وہ اللہ کے ساتھ شرک کا ہے۔ حضرت مسیح نے بھی اپنی قوم میں یہی وعظ بیان کیا اور فرما دیا کہ ایسے ناانصاف مشرکین کا کوئی مددگار بھی کھڑا نہ ہوگا۔ اب ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ کو تین میں سے ایک مانتے تھے یہودی حضرت عزیر کو اور نصرانی حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور اللہ تین میں کا ایک مانتے تھے پھر ان تینوں کے مقرر کرنے میں بھی بہت بڑا اختلاف تھا اور ہر فرقہ دوسرے کو کافر کہتا تھا اور حق تو یہ ہے کہ سبھی سب کافر تھے حضرت عیسیٰ سے فرمائے گا کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو بھی اللہ مانو، وہ اس سے صاف انکار کریں گے اور اپنی لاعلمی اور بےگناہی ظاہر کریں گے۔ زیادہ ظاہر قول بھی یہی ہے واللہ اعلم۔ دراصل لائق عبادت سوائے اس ذات واحد کے اور کوئی نہیں تمام کائنات اور کل موجودات کا معبود برحق وہی ہے۔ اگر یہ اپنے اس کافرانہ نظریہ سے باز نہ آئے تو یقینا یہ المناک عذابوں کا شکار ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم وجود کو، بخشش و انعام اور لطف و رحمت کو بیان فرما رہا ہے اور باوجود ان کے اس قدر سخت جرم، اتنی اشد بےحیائی اور کذب و افتراء کے انہیں اپنی رحمت کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ اب بھی میری طرف جھک جاؤ ابھی سب معاف فرما دوں گا اور دامن رحمت تلے لے لوں گا۔ حضرت مسیح اللہ کے بندے اور رسول ہی تھے۔ ان جیسے رسول ان سے پہلے بھی ہوئے ہیں جیسے فرمایا (ان ھو الاعبد) الخ، وہ ہمارے ایک غلام ہی تھے ہاں ہم نے ان پر رحمت نازل فرمائی تھی اور بنی اسرائیل کیلئے قدرت کی ایک نشائی بنائی۔ والدہ عیسیٰ مومنہ اور سچ کہنے والی تھیں اس لئے معلوم ہوا کہ نبیہ نہ تھیں کیونکہ یہ مقام وصف ہے تو بہترین وصف جو آپ کا تھا وہ بیان کردیا اگر نبوت والی ہوتیں تو اس موقعہ پر اس کا بیان نہایت ضروری تھا۔ ابن حرم وغیرہ کا خیال ہے کہ ام اسحاق اور ام موسیٰ اور ام عیسیٰ نبیہ تھیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ فرشتوں نے حضرت سارہ اور حضرت مریم سے خطاب اور کلام کیا اور والدہ موسیٰ کی نسبت فرمان ہے آیت (وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى اَنْ اَرْضِعِيْهِ ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَاَلْقِيْهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِيْ وَلَا تَحْـزَنِيْ ۚ اِنَّا رَاۗدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ) 28۔ القصص :7) ہم نے موسیٰ کی والدہ کی طرف وحی کی کہ تو انہیں دودھ پلا۔ لیکن جمہور کا مذہب اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ نبوت مردوں میں ہی رہی۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 21۔ الانبیآء :7) تجھ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں سے مردوں ہی کی طرف رسالت انعام فرمائی ہے شیخ ابو الحسن اشعری نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ماں بیٹا تو دونوں کھانے پینے کے محتاج تھے اور ظاہر ہے کہ جو اندر جائے گا وہ باہر بھی آئے گا پس ثابت ہوا کہ وہ بھی مثل اوروں کے بندے ہی تھے اللہ کی صفات ان میں نہ تھیں دیکھ تو ہم کس طرح کھول کھول کر ان کے سامنے اپنی حجتیں پیش کر رہے ہیں ؟ پھر یہ بھی دیکھ کہ باوجود اس کے یہ کس طرح ادھر ادھر بھٹکتے اور بھاگتے پھرتے ہیں ؟ کیسے گمراہ مذہب قبول کر رہے ہیں ؟ اور کیسے ردی اور بےدلیل اقوال کو گرہ میں باندھے ہوئے ہیں ؟
معبودان باطل کی جو اللہ کے سوا ہیں عبادت کرنے سے ممانعت کی جاتی ہے کہ ان تمام لوگوں سے کہہ تو دو کہ جو تم سے ضرر کو دفع کرنے کی اور نفع کے پہنچانے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتے، آخر تم کیوں انہیں پوجے چلے جا رہے ہو ؟ تمام باتوں کے سننے والے تمام چیزوں سے باخبر اللہ سے ہٹ کر بےسمع و بصر، بےضرر و بےنفع و بےقدر اور بےقدرت چیزوں کے پیچھے پڑجانا یہ کون سی عقلمندی ہے ؟ اے اہل کتاب اتباع حق کی حدود سے آگے نہ بڑھو، جس کی توقیر کرنے کا جتنا حکم ہو اتنی ہی اس کی توقیر کرو۔ انسانوں کو جنہیں اللہ نے نبوت دی ہے نبوت کے درجے سے معبود تک نہ پہنچاؤ۔ جیسے کہ تم جناب مسیح کے بارے میں غلطی کر رہے ہو اور اس کی اور کوئی وجہ نہیں بجز اس کے کہ تم اپنے پیروں مرشدوں استادوں اور اماموں کے پیچھے لگ گئے ہو وہ تو خود ہی گمراہ ہیں بلکہ گمراہ کن ہیں۔ استقامت اور عدل کے راستے کو چھوڑے ہوئے انہیں زمانہ گزر گیا۔ ضلالت اور بدعتوں میں مبتلا ہوئے عرصہ ہوگیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص ان میں بڑا پابند دین حق تھا ایک زمانہ کے بعد شیطان نے اسے بہکا دیا کہ جو اگلے کر گئے وہی تم بھی کر رہے ہو اس میں کیا رکھا ہے ؟ اس کی وجہ سے نہ تو لوگوں میں تمہاری قدر ہوگی نہ شہرت تمہیں چاہئے کہ کوئی نئی بات ایجاد کرو اسے لوگوں میں پھیلاؤ پھر دیکھو کہ کیسی شہرت ہوتی ہے ؟ اور کس طرح جگہ بہ جگہ تمہارا ذکر ہونے لگتا ہے چناچہ اس نے ایسا ہی کیا اس کی بدعتیں لوگوں میں پھیل گئیں اور زمانہ اس کی تقلید کرنے لگا۔ اب تو اسے بڑی ندامت ہوئی سلطنت و ملک چھوڑ دیا اور تنہائی میں اللہ کی عبادتوں میں مشغول ہوگیا لیکن اللہ کی طرف سے اسے جواب ملا کہ میری خطا ہی صرف کی ہوتی تو میں معاف کردیتا لیکن تو نے عام لوگوں کو بگاڑ دیا اور انہیں گمراہ کر کے غلط راہ پر لگا دیا۔ جس راہ پر چلتے چلتے وہ مرگئے ان کا بوجھ تجھ پر سے کیسے ٹلے گا ؟ میں تو تیری توبہ قبول نہیں فرماؤں گا پس ایسوں ہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔
معبودان باطل کی جو اللہ کے سوا ہیں عبادت کرنے سے ممانعت کی جاتی ہے کہ ان تمام لوگوں سے کہہ تو دو کہ جو تم سے ضرر کو دفع کرنے کی اور نفع کے پہنچانے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتے، آخر تم کیوں انہیں پوجے چلے جا رہے ہو ؟ تمام باتوں کے سننے والے تمام چیزوں سے باخبر اللہ سے ہٹ کر بےسمع و بصر، بےضرر و بےنفع و بےقدر اور بےقدرت چیزوں کے پیچھے پڑجانا یہ کون سی عقلمندی ہے ؟ اے اہل کتاب اتباع حق کی حدود سے آگے نہ بڑھو، جس کی توقیر کرنے کا جتنا حکم ہو اتنی ہی اس کی توقیر کرو۔ انسانوں کو جنہیں اللہ نے نبوت دی ہے نبوت کے درجے سے معبود تک نہ پہنچاؤ۔ جیسے کہ تم جناب مسیح کے بارے میں غلطی کر رہے ہو اور اس کی اور کوئی وجہ نہیں بجز اس کے کہ تم اپنے پیروں مرشدوں استادوں اور اماموں کے پیچھے لگ گئے ہو وہ تو خود ہی گمراہ ہیں بلکہ گمراہ کن ہیں۔ استقامت اور عدل کے راستے کو چھوڑے ہوئے انہیں زمانہ گزر گیا۔ ضلالت اور بدعتوں میں مبتلا ہوئے عرصہ ہوگیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص ان میں بڑا پابند دین حق تھا ایک زمانہ کے بعد شیطان نے اسے بہکا دیا کہ جو اگلے کر گئے وہی تم بھی کر رہے ہو اس میں کیا رکھا ہے ؟ اس کی وجہ سے نہ تو لوگوں میں تمہاری قدر ہوگی نہ شہرت تمہیں چاہئے کہ کوئی نئی بات ایجاد کرو اسے لوگوں میں پھیلاؤ پھر دیکھو کہ کیسی شہرت ہوتی ہے ؟ اور کس طرح جگہ بہ جگہ تمہارا ذکر ہونے لگتا ہے چناچہ اس نے ایسا ہی کیا اس کی بدعتیں لوگوں میں پھیل گئیں اور زمانہ اس کی تقلید کرنے لگا۔ اب تو اسے بڑی ندامت ہوئی سلطنت و ملک چھوڑ دیا اور تنہائی میں اللہ کی عبادتوں میں مشغول ہوگیا لیکن اللہ کی طرف سے اسے جواب ملا کہ میری خطا ہی صرف کی ہوتی تو میں معاف کردیتا لیکن تو نے عام لوگوں کو بگاڑ دیا اور انہیں گمراہ کر کے غلط راہ پر لگا دیا۔ جس راہ پر چلتے چلتے وہ مرگئے ان کا بوجھ تجھ پر سے کیسے ٹلے گا ؟ میں تو تیری توبہ قبول نہیں فرماؤں گا پس ایسوں ہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔
امر معروف سے گریز کا انجام ارشاد ہے کہ بنو اسرائیل کے کافر پرانے ملعون ہیں، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کی زبانی انہی کے زمانہ میں ملعون قرار پاچکے ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کے نافرمان تھے اور مخلوق پر ظالم تھے، توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن سب کتابیں ان پر لعنت برساتی آئیں۔ یہ اپنے زمانہ میں بھی ایک دوسرے کو برے کاموں دیکھتے تھے لیکن چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے، حرام کاریاں اور گناہ کھلے عام ہوتے تھے اور کوئی کسی کو روکتا نہ تھا۔ یہ تھا ان کا بدترین فعل۔ مسند احمد میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ " بنو اسرائیل میں پہلے پہل جب گناہوں کا سلسلہ چلا تو ان کے علماء نے انہیں روکا۔ لیکن جب دیکھا کہ باز نہیں آتے تو انہوں نے انہیں الگ نہیں کیا بلکہ انہی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے رہے، جس کی وجہ سے دونوں گروہوں کے دلوں میں آپس میں ٹکرا دیا اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کے دل بھڑا دیئے اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کی زبانی ان پر اپنی لعنت نازل فرمائی۔ کیونکہ وہ نافرمان اور ظالم تھے۔ اس کے بیان کے وقت حضور ﷺ ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب ٹھیک ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا نہیں نہیں اللہ کی قسم تم پر ضروری ہے کہ لوگوں کو خلاف شرع باتوں سے روکو اور انہیں شریعت کی پابندی پر لاؤ۔ "، ابو داؤد کی حدیث میں ہے کہ " سب سے پہلے برائی بنی اسرائیل میں داخل ہوئی تھی کہ ایک شخص دوسرے کو خلاف شرع کوئی کام کرتے دیکھتا تو اسے روکتا، اسے کہتا کہ اللہ سے ڈر اور اس برے کام کو چھوڑ دے یہ حرام ہے۔ لیکن دوسرے روز جب وہ نہ چھوڑتا تو یہ اس سے کنارہ کشی نہ کرتا بلکہ اس کا ہم نوالہ ہم پیالہ رہتا اور میل جول باقی رکھتا، اس وجہ سے سب میں ہی سنگدلی آگئی۔ پھر آپ نے اس پوری آیت کی تلاوت کر کے فرمایا واللہ تم پر فرض ہے کہ بھلی باتوں کا ہر ایک کو حکم کرو، برائیوں سے روکو، ظالم کو اس کے ظلم سے باز رکھو اور اسے تنگ کرو کہ حق پر آجائے۔ " ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ ابو داؤد وغیرہ میں اسی حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے کہ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ تمہارے دلوں کو بھی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا دے گا اور تم پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے گا جیسی ان پر نازل فرمائی۔ اس بارے میں اور بہت سی حدیثیں ہیں کچھ سن بھی لیجئے حضرت جابر والی حدیث تو آیت (لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ) 5۔ المائدہ :63) کی تفسیر میں گزر چکی اور یا آیت (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۚلَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۭ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ) 5۔ المائدہ :105) کی تفسیر میں حضرت ابوبکر اور حضرت ابو ثعلبہ کی حدیثیں آئیں گی، انشاء اللہ تعالیٰ۔ مسند اور ترمذی میں ہے کہ " یا تو تم بھلائی کا حکم اور برائی سے منع کرتے رہو گے یا اللہ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیج دے گا پھر تم اس سے دعائیں بھی کرو گے لیکن وہ قبول نہیں فرمائے گا۔ " ابن ماجہ میں ہے " اچھائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرو اس سے پہلے کہ تمہاری دعائیں قبول ہونے سے روک دی جائیں۔ " صحیح حدیث میں ہے " تم میں سے جو شخص خلاف شرع کام دیکھے، اس پر فرض ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹائے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اور بہت ہی ضعیف ایمان والا ہے " (مسلم) مسند احمد میں ہے " اللہ تعالیٰ خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں کرتا لیکن اس وقت کہ برائیاں ان میں پھیل جائیں اور وہ باوجود قدرت کے انکار نہ کریں، اس وقت عام خاص سب کو اللہ تعالیٰ عذاب میں گھیر لیتا ہے۔ " ابو داؤد میں ہے کہ جس جگہ اللہ کی نافرمانی ہونی شروع ہو وہاں جو بھی ہو، ان خلاف شرع امور سے ناراض ہو (ایک اور روایت میں ہے ان کا انکار کرتا ہو) وہ مثل اس کے ہے جو وہاں حاضر ہی نہ ہو اور جو ان خطاؤں سے راضی ہو گو وہاں موجود نہ ہو وہ ایسا ہے گویا ان میں حاضر ہے۔ ابو داؤد میں ہے لوگوں کے عذر جب تک ختم نہ ہوجائیں وہ ہلاک نہ ہوں گے۔ ابن ماجہ میں ہے حضور ﷺ نے اپنے خطبے میں فرمایا خبردار کسی شخص کو لوگوں کی ہیبت حق بات کہنے سے روک نہ دے۔ اس حدیث کو بیان فرما کر حضرت ابو سعید خدری رو پڑے اور فرمانے لگے افسوس ہم نے ایسے موقعوں پر لوگوں کی ہیبت مان لی۔ ابو داؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے افضل جہاد کلمہ حق ظالم بادشاہ کے سامنے کہہ دینا ہے ابن ماجہ میں ہے کہ جمرہ اولیٰ کے پاس حضور ﷺ کے سامنے ایک شخص آیا اور آپ سے سوال کیا کہ سب سے افضل جہاد کون سا ہے ؟ آپ خاموش رہے۔ پھر آپ جمرہ ثانیہ پر آئے تو اس نے پھر وہی سوال کیا مگر آپ خاموش ہو رہے جب جمرہ عقبہ پر کنکر مار چکے اور سواری پر سوار ہونے کے ارادے سے رکاب میں پاؤں رکھے تو دریافت فرمایا کہ وہ پوچھنے والا کہاں ہے ؟ اس نے کہا حضور ﷺ میں حاضر ہوں فرمایا حق بات ظالم بادشاہ کے سامنے کہ دینا۔ ابن ماجہ میں ہے کہ تم میں سے کسی شخص کو اپنی بےعزتی نہ کرنی چاہئے لوگوں نے پوچھا ؟ حضور ﷺ یہ کیسے ؟ فرمایا خلاف شرع کوئی امر دیکھے اور کچھ نہ کہے قیامت کے دن اس سے باز پرس ہوگی کہ فلاں موقعے پر تو کیوں خاموش رہا ؟ یہ جواب دے گا کہ لوگوں کے ڈر کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں سب سے زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے خوف کھائے۔ ایک روایت میں ہے کہ جب اسے اللہ تلقین حجت کرے گا تو یہ کہے گا کہ تجھ سے تو میں نے امید رکھی اور لوگوں سے خوف کھا گیا۔ مسند احمد میں ہے کہ مسلمانوں کو اپنے تئیں ذلیل نہ کرنا چاہئے۔ لوگوں نے پوچھا کیسے ؟ فرمایا ان بلاؤں کو سر پر لینا جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو۔ ابن ماجہ میں ہے کہ حضور ﷺ سے سوال کیا گیا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑی جائے ؟ فرمایا اس وقت جب تم میں بھی وہی خرابی ہوجائے جو تم سے اگلوں میں ظاہر ہوئی تھی ہم نے پوچھا وہ کیا چیز ہے ؟ فرمایا کمینے آدمیوں میں سلطنت کا چلا جانا۔ بڑے آدمیوں میں بدکاری کا آجانا۔ رذیلوں میں علم کا آجانا۔ حضرت زید کہتے ہیں رذیلوں میں علم آجانے سے مراد فاسقوں میں علم کا آجانا ہے۔ اس حدیث کی شاہد حدیثیں ابو ثعلبہ کی روایت سے آیت (لایضرکم) کی تفسیر میں آئیں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ اکثر منافقوں کو تو دیکھے گا کہ وہ کافروں سے دوستیاں گانٹھتے ہیں ان کے اس فعل کی وجہ سے یعنی مسلمانوں سے دوستیاں چھوڑ کر کافروں سے دوستیاں کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے لئے برا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے۔ اس کی پاداش میں ان کے دلوں میں نفاق پیدا ہوگیا ہے۔ اور اسی بناء پر اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ہے اور قیامت کے دن کیلئے دائمی عذاب بھی ان کیلئے آگے آ رہے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے اسے مسلمانو، زنا کاری سے بچو، اس سے۔ چھ برائیاں آتی ہیں، تین دنیا میں اور تین آخرت میں۔ اس سے عزت و وقار، رونق و تازگی جاتی رہتی ہے۔ اس سے فقرو فاقہ آجاتا ہے۔ اس سے عمر گھٹتی ہے اور قیامت کے دن تین برائیاں یہ ہیں اللہ کا غضب، حساب کی سختی اور برائی، اور جہنم کا خلود۔ پھر حضور ﷺ نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی۔ یہ حدیث ضعیف ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے اگر یہ لوگ اللہ پر اس کے رسول ﷺ پر اور قرآن پر پورا ایمان رکھتے تو ہرگز کافروں سے دوستیاں نہ کرتے اور چھپ چھپا کر ان سے میل ملاپ جاری نہ رکھتے۔ نہ سچے مسلمانوں سے دشمنیاں رکھتے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت سے خارج ہوچکے ہیں اس کی وحی اور اس کے پاک کلام کی آیتوں کے مخالف بن بیٹھے ہیں۔
امر معروف سے گریز کا انجام ارشاد ہے کہ بنو اسرائیل کے کافر پرانے ملعون ہیں، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کی زبانی انہی کے زمانہ میں ملعون قرار پاچکے ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کے نافرمان تھے اور مخلوق پر ظالم تھے، توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن سب کتابیں ان پر لعنت برساتی آئیں۔ یہ اپنے زمانہ میں بھی ایک دوسرے کو برے کاموں دیکھتے تھے لیکن چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے، حرام کاریاں اور گناہ کھلے عام ہوتے تھے اور کوئی کسی کو روکتا نہ تھا۔ یہ تھا ان کا بدترین فعل۔ مسند احمد میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ " بنو اسرائیل میں پہلے پہل جب گناہوں کا سلسلہ چلا تو ان کے علماء نے انہیں روکا۔ لیکن جب دیکھا کہ باز نہیں آتے تو انہوں نے انہیں الگ نہیں کیا بلکہ انہی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے رہے، جس کی وجہ سے دونوں گروہوں کے دلوں میں آپس میں ٹکرا دیا اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کے دل بھڑا دیئے اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کی زبانی ان پر اپنی لعنت نازل فرمائی۔ کیونکہ وہ نافرمان اور ظالم تھے۔ اس کے بیان کے وقت حضور ﷺ ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب ٹھیک ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا نہیں نہیں اللہ کی قسم تم پر ضروری ہے کہ لوگوں کو خلاف شرع باتوں سے روکو اور انہیں شریعت کی پابندی پر لاؤ۔ "، ابو داؤد کی حدیث میں ہے کہ " سب سے پہلے برائی بنی اسرائیل میں داخل ہوئی تھی کہ ایک شخص دوسرے کو خلاف شرع کوئی کام کرتے دیکھتا تو اسے روکتا، اسے کہتا کہ اللہ سے ڈر اور اس برے کام کو چھوڑ دے یہ حرام ہے۔ لیکن دوسرے روز جب وہ نہ چھوڑتا تو یہ اس سے کنارہ کشی نہ کرتا بلکہ اس کا ہم نوالہ ہم پیالہ رہتا اور میل جول باقی رکھتا، اس وجہ سے سب میں ہی سنگدلی آگئی۔ پھر آپ نے اس پوری آیت کی تلاوت کر کے فرمایا واللہ تم پر فرض ہے کہ بھلی باتوں کا ہر ایک کو حکم کرو، برائیوں سے روکو، ظالم کو اس کے ظلم سے باز رکھو اور اسے تنگ کرو کہ حق پر آجائے۔ " ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ ابو داؤد وغیرہ میں اسی حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے کہ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ تمہارے دلوں کو بھی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا دے گا اور تم پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے گا جیسی ان پر نازل فرمائی۔ اس بارے میں اور بہت سی حدیثیں ہیں کچھ سن بھی لیجئے حضرت جابر والی حدیث تو آیت (لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ) 5۔ المائدہ :63) کی تفسیر میں گزر چکی اور یا آیت (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۚلَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۭ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ) 5۔ المائدہ :105) کی تفسیر میں حضرت ابوبکر اور حضرت ابو ثعلبہ کی حدیثیں آئیں گی، انشاء اللہ تعالیٰ۔ مسند اور ترمذی میں ہے کہ " یا تو تم بھلائی کا حکم اور برائی سے منع کرتے رہو گے یا اللہ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیج دے گا پھر تم اس سے دعائیں بھی کرو گے لیکن وہ قبول نہیں فرمائے گا۔ " ابن ماجہ میں ہے " اچھائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرو اس سے پہلے کہ تمہاری دعائیں قبول ہونے سے روک دی جائیں۔ " صحیح حدیث میں ہے " تم میں سے جو شخص خلاف شرع کام دیکھے، اس پر فرض ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹائے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اور بہت ہی ضعیف ایمان والا ہے " (مسلم) مسند احمد میں ہے " اللہ تعالیٰ خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں کرتا لیکن اس وقت کہ برائیاں ان میں پھیل جائیں اور وہ باوجود قدرت کے انکار نہ کریں، اس وقت عام خاص سب کو اللہ تعالیٰ عذاب میں گھیر لیتا ہے۔ " ابو داؤد میں ہے کہ جس جگہ اللہ کی نافرمانی ہونی شروع ہو وہاں جو بھی ہو، ان خلاف شرع امور سے ناراض ہو (ایک اور روایت میں ہے ان کا انکار کرتا ہو) وہ مثل اس کے ہے جو وہاں حاضر ہی نہ ہو اور جو ان خطاؤں سے راضی ہو گو وہاں موجود نہ ہو وہ ایسا ہے گویا ان میں حاضر ہے۔ ابو داؤد میں ہے لوگوں کے عذر جب تک ختم نہ ہوجائیں وہ ہلاک نہ ہوں گے۔ ابن ماجہ میں ہے حضور ﷺ نے اپنے خطبے میں فرمایا خبردار کسی شخص کو لوگوں کی ہیبت حق بات کہنے سے روک نہ دے۔ اس حدیث کو بیان فرما کر حضرت ابو سعید خدری رو پڑے اور فرمانے لگے افسوس ہم نے ایسے موقعوں پر لوگوں کی ہیبت مان لی۔ ابو داؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے افضل جہاد کلمہ حق ظالم بادشاہ کے سامنے کہہ دینا ہے ابن ماجہ میں ہے کہ جمرہ اولیٰ کے پاس حضور ﷺ کے سامنے ایک شخص آیا اور آپ سے سوال کیا کہ سب سے افضل جہاد کون سا ہے ؟ آپ خاموش رہے۔ پھر آپ جمرہ ثانیہ پر آئے تو اس نے پھر وہی سوال کیا مگر آپ خاموش ہو رہے جب جمرہ عقبہ پر کنکر مار چکے اور سواری پر سوار ہونے کے ارادے سے رکاب میں پاؤں رکھے تو دریافت فرمایا کہ وہ پوچھنے والا کہاں ہے ؟ اس نے کہا حضور ﷺ میں حاضر ہوں فرمایا حق بات ظالم بادشاہ کے سامنے کہ دینا۔ ابن ماجہ میں ہے کہ تم میں سے کسی شخص کو اپنی بےعزتی نہ کرنی چاہئے لوگوں نے پوچھا ؟ حضور ﷺ یہ کیسے ؟ فرمایا خلاف شرع کوئی امر دیکھے اور کچھ نہ کہے قیامت کے دن اس سے باز پرس ہوگی کہ فلاں موقعے پر تو کیوں خاموش رہا ؟ یہ جواب دے گا کہ لوگوں کے ڈر کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں سب سے زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے خوف کھائے۔ ایک روایت میں ہے کہ جب اسے اللہ تلقین حجت کرے گا تو یہ کہے گا کہ تجھ سے تو میں نے امید رکھی اور لوگوں سے خوف کھا گیا۔ مسند احمد میں ہے کہ مسلمانوں کو اپنے تئیں ذلیل نہ کرنا چاہئے۔ لوگوں نے پوچھا کیسے ؟ فرمایا ان بلاؤں کو سر پر لینا جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو۔ ابن ماجہ میں ہے کہ حضور ﷺ سے سوال کیا گیا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑی جائے ؟ فرمایا اس وقت جب تم میں بھی وہی خرابی ہوجائے جو تم سے اگلوں میں ظاہر ہوئی تھی ہم نے پوچھا وہ کیا چیز ہے ؟ فرمایا کمینے آدمیوں میں سلطنت کا چلا جانا۔ بڑے آدمیوں میں بدکاری کا آجانا۔ رذیلوں میں علم کا آجانا۔ حضرت زید کہتے ہیں رذیلوں میں علم آجانے سے مراد فاسقوں میں علم کا آجانا ہے۔ اس حدیث کی شاہد حدیثیں ابو ثعلبہ کی روایت سے آیت (لایضرکم) کی تفسیر میں آئیں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ اکثر منافقوں کو تو دیکھے گا کہ وہ کافروں سے دوستیاں گانٹھتے ہیں ان کے اس فعل کی وجہ سے یعنی مسلمانوں سے دوستیاں چھوڑ کر کافروں سے دوستیاں کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے لئے برا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے۔ اس کی پاداش میں ان کے دلوں میں نفاق پیدا ہوگیا ہے۔ اور اسی بناء پر اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ہے اور قیامت کے دن کیلئے دائمی عذاب بھی ان کیلئے آگے آ رہے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے اسے مسلمانو، زنا کاری سے بچو، اس سے۔ چھ برائیاں آتی ہیں، تین دنیا میں اور تین آخرت میں۔ اس سے عزت و وقار، رونق و تازگی جاتی رہتی ہے۔ اس سے فقرو فاقہ آجاتا ہے۔ اس سے عمر گھٹتی ہے اور قیامت کے دن تین برائیاں یہ ہیں اللہ کا غضب، حساب کی سختی اور برائی، اور جہنم کا خلود۔ پھر حضور ﷺ نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی۔ یہ حدیث ضعیف ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے اگر یہ لوگ اللہ پر اس کے رسول ﷺ پر اور قرآن پر پورا ایمان رکھتے تو ہرگز کافروں سے دوستیاں نہ کرتے اور چھپ چھپا کر ان سے میل ملاپ جاری نہ رکھتے۔ نہ سچے مسلمانوں سے دشمنیاں رکھتے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت سے خارج ہوچکے ہیں اس کی وحی اور اس کے پاک کلام کی آیتوں کے مخالف بن بیٹھے ہیں۔
امر معروف سے گریز کا انجام ارشاد ہے کہ بنو اسرائیل کے کافر پرانے ملعون ہیں، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کی زبانی انہی کے زمانہ میں ملعون قرار پاچکے ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کے نافرمان تھے اور مخلوق پر ظالم تھے، توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن سب کتابیں ان پر لعنت برساتی آئیں۔ یہ اپنے زمانہ میں بھی ایک دوسرے کو برے کاموں دیکھتے تھے لیکن چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے، حرام کاریاں اور گناہ کھلے عام ہوتے تھے اور کوئی کسی کو روکتا نہ تھا۔ یہ تھا ان کا بدترین فعل۔ مسند احمد میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ " بنو اسرائیل میں پہلے پہل جب گناہوں کا سلسلہ چلا تو ان کے علماء نے انہیں روکا۔ لیکن جب دیکھا کہ باز نہیں آتے تو انہوں نے انہیں الگ نہیں کیا بلکہ انہی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے رہے، جس کی وجہ سے دونوں گروہوں کے دلوں میں آپس میں ٹکرا دیا اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کے دل بھڑا دیئے اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کی زبانی ان پر اپنی لعنت نازل فرمائی۔ کیونکہ وہ نافرمان اور ظالم تھے۔ اس کے بیان کے وقت حضور ﷺ ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب ٹھیک ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا نہیں نہیں اللہ کی قسم تم پر ضروری ہے کہ لوگوں کو خلاف شرع باتوں سے روکو اور انہیں شریعت کی پابندی پر لاؤ۔ "، ابو داؤد کی حدیث میں ہے کہ " سب سے پہلے برائی بنی اسرائیل میں داخل ہوئی تھی کہ ایک شخص دوسرے کو خلاف شرع کوئی کام کرتے دیکھتا تو اسے روکتا، اسے کہتا کہ اللہ سے ڈر اور اس برے کام کو چھوڑ دے یہ حرام ہے۔ لیکن دوسرے روز جب وہ نہ چھوڑتا تو یہ اس سے کنارہ کشی نہ کرتا بلکہ اس کا ہم نوالہ ہم پیالہ رہتا اور میل جول باقی رکھتا، اس وجہ سے سب میں ہی سنگدلی آگئی۔ پھر آپ نے اس پوری آیت کی تلاوت کر کے فرمایا واللہ تم پر فرض ہے کہ بھلی باتوں کا ہر ایک کو حکم کرو، برائیوں سے روکو، ظالم کو اس کے ظلم سے باز رکھو اور اسے تنگ کرو کہ حق پر آجائے۔ " ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ ابو داؤد وغیرہ میں اسی حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے کہ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ تمہارے دلوں کو بھی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا دے گا اور تم پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے گا جیسی ان پر نازل فرمائی۔ اس بارے میں اور بہت سی حدیثیں ہیں کچھ سن بھی لیجئے حضرت جابر والی حدیث تو آیت (لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ) 5۔ المائدہ :63) کی تفسیر میں گزر چکی اور یا آیت (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۚلَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۭ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ) 5۔ المائدہ :105) کی تفسیر میں حضرت ابوبکر اور حضرت ابو ثعلبہ کی حدیثیں آئیں گی، انشاء اللہ تعالیٰ۔ مسند اور ترمذی میں ہے کہ " یا تو تم بھلائی کا حکم اور برائی سے منع کرتے رہو گے یا اللہ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیج دے گا پھر تم اس سے دعائیں بھی کرو گے لیکن وہ قبول نہیں فرمائے گا۔ " ابن ماجہ میں ہے " اچھائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرو اس سے پہلے کہ تمہاری دعائیں قبول ہونے سے روک دی جائیں۔ " صحیح حدیث میں ہے " تم میں سے جو شخص خلاف شرع کام دیکھے، اس پر فرض ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹائے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اور بہت ہی ضعیف ایمان والا ہے " (مسلم) مسند احمد میں ہے " اللہ تعالیٰ خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں کرتا لیکن اس وقت کہ برائیاں ان میں پھیل جائیں اور وہ باوجود قدرت کے انکار نہ کریں، اس وقت عام خاص سب کو اللہ تعالیٰ عذاب میں گھیر لیتا ہے۔ " ابو داؤد میں ہے کہ جس جگہ اللہ کی نافرمانی ہونی شروع ہو وہاں جو بھی ہو، ان خلاف شرع امور سے ناراض ہو (ایک اور روایت میں ہے ان کا انکار کرتا ہو) وہ مثل اس کے ہے جو وہاں حاضر ہی نہ ہو اور جو ان خطاؤں سے راضی ہو گو وہاں موجود نہ ہو وہ ایسا ہے گویا ان میں حاضر ہے۔ ابو داؤد میں ہے لوگوں کے عذر جب تک ختم نہ ہوجائیں وہ ہلاک نہ ہوں گے۔ ابن ماجہ میں ہے حضور ﷺ نے اپنے خطبے میں فرمایا خبردار کسی شخص کو لوگوں کی ہیبت حق بات کہنے سے روک نہ دے۔ اس حدیث کو بیان فرما کر حضرت ابو سعید خدری رو پڑے اور فرمانے لگے افسوس ہم نے ایسے موقعوں پر لوگوں کی ہیبت مان لی۔ ابو داؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے افضل جہاد کلمہ حق ظالم بادشاہ کے سامنے کہہ دینا ہے ابن ماجہ میں ہے کہ جمرہ اولیٰ کے پاس حضور ﷺ کے سامنے ایک شخص آیا اور آپ سے سوال کیا کہ سب سے افضل جہاد کون سا ہے ؟ آپ خاموش رہے۔ پھر آپ جمرہ ثانیہ پر آئے تو اس نے پھر وہی سوال کیا مگر آپ خاموش ہو رہے جب جمرہ عقبہ پر کنکر مار چکے اور سواری پر سوار ہونے کے ارادے سے رکاب میں پاؤں رکھے تو دریافت فرمایا کہ وہ پوچھنے والا کہاں ہے ؟ اس نے کہا حضور ﷺ میں حاضر ہوں فرمایا حق بات ظالم بادشاہ کے سامنے کہ دینا۔ ابن ماجہ میں ہے کہ تم میں سے کسی شخص کو اپنی بےعزتی نہ کرنی چاہئے لوگوں نے پوچھا ؟ حضور ﷺ یہ کیسے ؟ فرمایا خلاف شرع کوئی امر دیکھے اور کچھ نہ کہے قیامت کے دن اس سے باز پرس ہوگی کہ فلاں موقعے پر تو کیوں خاموش رہا ؟ یہ جواب دے گا کہ لوگوں کے ڈر کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں سب سے زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے خوف کھائے۔ ایک روایت میں ہے کہ جب اسے اللہ تلقین حجت کرے گا تو یہ کہے گا کہ تجھ سے تو میں نے امید رکھی اور لوگوں سے خوف کھا گیا۔ مسند احمد میں ہے کہ مسلمانوں کو اپنے تئیں ذلیل نہ کرنا چاہئے۔ لوگوں نے پوچھا کیسے ؟ فرمایا ان بلاؤں کو سر پر لینا جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو۔ ابن ماجہ میں ہے کہ حضور ﷺ سے سوال کیا گیا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑی جائے ؟ فرمایا اس وقت جب تم میں بھی وہی خرابی ہوجائے جو تم سے اگلوں میں ظاہر ہوئی تھی ہم نے پوچھا وہ کیا چیز ہے ؟ فرمایا کمینے آدمیوں میں سلطنت کا چلا جانا۔ بڑے آدمیوں میں بدکاری کا آجانا۔ رذیلوں میں علم کا آجانا۔ حضرت زید کہتے ہیں رذیلوں میں علم آجانے سے مراد فاسقوں میں علم کا آجانا ہے۔ اس حدیث کی شاہد حدیثیں ابو ثعلبہ کی روایت سے آیت (لایضرکم) کی تفسیر میں آئیں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ اکثر منافقوں کو تو دیکھے گا کہ وہ کافروں سے دوستیاں گانٹھتے ہیں ان کے اس فعل کی وجہ سے یعنی مسلمانوں سے دوستیاں چھوڑ کر کافروں سے دوستیاں کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے لئے برا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے۔ اس کی پاداش میں ان کے دلوں میں نفاق پیدا ہوگیا ہے۔ اور اسی بناء پر اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ہے اور قیامت کے دن کیلئے دائمی عذاب بھی ان کیلئے آگے آ رہے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے اسے مسلمانو، زنا کاری سے بچو، اس سے۔ چھ برائیاں آتی ہیں، تین دنیا میں اور تین آخرت میں۔ اس سے عزت و وقار، رونق و تازگی جاتی رہتی ہے۔ اس سے فقرو فاقہ آجاتا ہے۔ اس سے عمر گھٹتی ہے اور قیامت کے دن تین برائیاں یہ ہیں اللہ کا غضب، حساب کی سختی اور برائی، اور جہنم کا خلود۔ پھر حضور ﷺ نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی۔ یہ حدیث ضعیف ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے اگر یہ لوگ اللہ پر اس کے رسول ﷺ پر اور قرآن پر پورا ایمان رکھتے تو ہرگز کافروں سے دوستیاں نہ کرتے اور چھپ چھپا کر ان سے میل ملاپ جاری نہ رکھتے۔ نہ سچے مسلمانوں سے دشمنیاں رکھتے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت سے خارج ہوچکے ہیں اس کی وحی اور اس کے پاک کلام کی آیتوں کے مخالف بن بیٹھے ہیں۔
امر معروف سے گریز کا انجام ارشاد ہے کہ بنو اسرائیل کے کافر پرانے ملعون ہیں، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کی زبانی انہی کے زمانہ میں ملعون قرار پاچکے ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کے نافرمان تھے اور مخلوق پر ظالم تھے، توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن سب کتابیں ان پر لعنت برساتی آئیں۔ یہ اپنے زمانہ میں بھی ایک دوسرے کو برے کاموں دیکھتے تھے لیکن چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے، حرام کاریاں اور گناہ کھلے عام ہوتے تھے اور کوئی کسی کو روکتا نہ تھا۔ یہ تھا ان کا بدترین فعل۔ مسند احمد میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ " بنو اسرائیل میں پہلے پہل جب گناہوں کا سلسلہ چلا تو ان کے علماء نے انہیں روکا۔ لیکن جب دیکھا کہ باز نہیں آتے تو انہوں نے انہیں الگ نہیں کیا بلکہ انہی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے رہے، جس کی وجہ سے دونوں گروہوں کے دلوں میں آپس میں ٹکرا دیا اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کے دل بھڑا دیئے اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کی زبانی ان پر اپنی لعنت نازل فرمائی۔ کیونکہ وہ نافرمان اور ظالم تھے۔ اس کے بیان کے وقت حضور ﷺ ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب ٹھیک ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا نہیں نہیں اللہ کی قسم تم پر ضروری ہے کہ لوگوں کو خلاف شرع باتوں سے روکو اور انہیں شریعت کی پابندی پر لاؤ۔ "، ابو داؤد کی حدیث میں ہے کہ " سب سے پہلے برائی بنی اسرائیل میں داخل ہوئی تھی کہ ایک شخص دوسرے کو خلاف شرع کوئی کام کرتے دیکھتا تو اسے روکتا، اسے کہتا کہ اللہ سے ڈر اور اس برے کام کو چھوڑ دے یہ حرام ہے۔ لیکن دوسرے روز جب وہ نہ چھوڑتا تو یہ اس سے کنارہ کشی نہ کرتا بلکہ اس کا ہم نوالہ ہم پیالہ رہتا اور میل جول باقی رکھتا، اس وجہ سے سب میں ہی سنگدلی آگئی۔ پھر آپ نے اس پوری آیت کی تلاوت کر کے فرمایا واللہ تم پر فرض ہے کہ بھلی باتوں کا ہر ایک کو حکم کرو، برائیوں سے روکو، ظالم کو اس کے ظلم سے باز رکھو اور اسے تنگ کرو کہ حق پر آجائے۔ " ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ ابو داؤد وغیرہ میں اسی حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے کہ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ تمہارے دلوں کو بھی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا دے گا اور تم پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے گا جیسی ان پر نازل فرمائی۔ اس بارے میں اور بہت سی حدیثیں ہیں کچھ سن بھی لیجئے حضرت جابر والی حدیث تو آیت (لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ) 5۔ المائدہ :63) کی تفسیر میں گزر چکی اور یا آیت (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۚلَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۭ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ) 5۔ المائدہ :105) کی تفسیر میں حضرت ابوبکر اور حضرت ابو ثعلبہ کی حدیثیں آئیں گی، انشاء اللہ تعالیٰ۔ مسند اور ترمذی میں ہے کہ " یا تو تم بھلائی کا حکم اور برائی سے منع کرتے رہو گے یا اللہ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیج دے گا پھر تم اس سے دعائیں بھی کرو گے لیکن وہ قبول نہیں فرمائے گا۔ " ابن ماجہ میں ہے " اچھائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرو اس سے پہلے کہ تمہاری دعائیں قبول ہونے سے روک دی جائیں۔ " صحیح حدیث میں ہے " تم میں سے جو شخص خلاف شرع کام دیکھے، اس پر فرض ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹائے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اور بہت ہی ضعیف ایمان والا ہے " (مسلم) مسند احمد میں ہے " اللہ تعالیٰ خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں کرتا لیکن اس وقت کہ برائیاں ان میں پھیل جائیں اور وہ باوجود قدرت کے انکار نہ کریں، اس وقت عام خاص سب کو اللہ تعالیٰ عذاب میں گھیر لیتا ہے۔ " ابو داؤد میں ہے کہ جس جگہ اللہ کی نافرمانی ہونی شروع ہو وہاں جو بھی ہو، ان خلاف شرع امور سے ناراض ہو (ایک اور روایت میں ہے ان کا انکار کرتا ہو) وہ مثل اس کے ہے جو وہاں حاضر ہی نہ ہو اور جو ان خطاؤں سے راضی ہو گو وہاں موجود نہ ہو وہ ایسا ہے گویا ان میں حاضر ہے۔ ابو داؤد میں ہے لوگوں کے عذر جب تک ختم نہ ہوجائیں وہ ہلاک نہ ہوں گے۔ ابن ماجہ میں ہے حضور ﷺ نے اپنے خطبے میں فرمایا خبردار کسی شخص کو لوگوں کی ہیبت حق بات کہنے سے روک نہ دے۔ اس حدیث کو بیان فرما کر حضرت ابو سعید خدری رو پڑے اور فرمانے لگے افسوس ہم نے ایسے موقعوں پر لوگوں کی ہیبت مان لی۔ ابو داؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے افضل جہاد کلمہ حق ظالم بادشاہ کے سامنے کہہ دینا ہے ابن ماجہ میں ہے کہ جمرہ اولیٰ کے پاس حضور ﷺ کے سامنے ایک شخص آیا اور آپ سے سوال کیا کہ سب سے افضل جہاد کون سا ہے ؟ آپ خاموش رہے۔ پھر آپ جمرہ ثانیہ پر آئے تو اس نے پھر وہی سوال کیا مگر آپ خاموش ہو رہے جب جمرہ عقبہ پر کنکر مار چکے اور سواری پر سوار ہونے کے ارادے سے رکاب میں پاؤں رکھے تو دریافت فرمایا کہ وہ پوچھنے والا کہاں ہے ؟ اس نے کہا حضور ﷺ میں حاضر ہوں فرمایا حق بات ظالم بادشاہ کے سامنے کہ دینا۔ ابن ماجہ میں ہے کہ تم میں سے کسی شخص کو اپنی بےعزتی نہ کرنی چاہئے لوگوں نے پوچھا ؟ حضور ﷺ یہ کیسے ؟ فرمایا خلاف شرع کوئی امر دیکھے اور کچھ نہ کہے قیامت کے دن اس سے باز پرس ہوگی کہ فلاں موقعے پر تو کیوں خاموش رہا ؟ یہ جواب دے گا کہ لوگوں کے ڈر کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں سب سے زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے خوف کھائے۔ ایک روایت میں ہے کہ جب اسے اللہ تلقین حجت کرے گا تو یہ کہے گا کہ تجھ سے تو میں نے امید رکھی اور لوگوں سے خوف کھا گیا۔ مسند احمد میں ہے کہ مسلمانوں کو اپنے تئیں ذلیل نہ کرنا چاہئے۔ لوگوں نے پوچھا کیسے ؟ فرمایا ان بلاؤں کو سر پر لینا جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو۔ ابن ماجہ میں ہے کہ حضور ﷺ سے سوال کیا گیا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑی جائے ؟ فرمایا اس وقت جب تم میں بھی وہی خرابی ہوجائے جو تم سے اگلوں میں ظاہر ہوئی تھی ہم نے پوچھا وہ کیا چیز ہے ؟ فرمایا کمینے آدمیوں میں سلطنت کا چلا جانا۔ بڑے آدمیوں میں بدکاری کا آجانا۔ رذیلوں میں علم کا آجانا۔ حضرت زید کہتے ہیں رذیلوں میں علم آجانے سے مراد فاسقوں میں علم کا آجانا ہے۔ اس حدیث کی شاہد حدیثیں ابو ثعلبہ کی روایت سے آیت (لایضرکم) کی تفسیر میں آئیں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ اکثر منافقوں کو تو دیکھے گا کہ وہ کافروں سے دوستیاں گانٹھتے ہیں ان کے اس فعل کی وجہ سے یعنی مسلمانوں سے دوستیاں چھوڑ کر کافروں سے دوستیاں کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے لئے برا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے۔ اس کی پاداش میں ان کے دلوں میں نفاق پیدا ہوگیا ہے۔ اور اسی بناء پر اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ہے اور قیامت کے دن کیلئے دائمی عذاب بھی ان کیلئے آگے آ رہے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے اسے مسلمانو، زنا کاری سے بچو، اس سے۔ چھ برائیاں آتی ہیں، تین دنیا میں اور تین آخرت میں۔ اس سے عزت و وقار، رونق و تازگی جاتی رہتی ہے۔ اس سے فقرو فاقہ آجاتا ہے۔ اس سے عمر گھٹتی ہے اور قیامت کے دن تین برائیاں یہ ہیں اللہ کا غضب، حساب کی سختی اور برائی، اور جہنم کا خلود۔ پھر حضور ﷺ نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی۔ یہ حدیث ضعیف ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے اگر یہ لوگ اللہ پر اس کے رسول ﷺ پر اور قرآن پر پورا ایمان رکھتے تو ہرگز کافروں سے دوستیاں نہ کرتے اور چھپ چھپا کر ان سے میل ملاپ جاری نہ رکھتے۔ نہ سچے مسلمانوں سے دشمنیاں رکھتے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت سے خارج ہوچکے ہیں اس کی وحی اور اس کے پاک کلام کی آیتوں کے مخالف بن بیٹھے ہیں۔
یہودیوں کا تاریخی کردار یہ آیت اور اس کے بعد کی چار آیتیں نجاشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہیں۔ جب ان کے سامنے حبشہ کے ملک میں حضرت جعفر بن ابو طالب نے قرآن کریم پڑھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور ان کی داڑھیاں تر ہوگئیں۔ یہ خیال رہے کہ یہ آیتیں مدینے میں اتری ہیں اور حضرت جعفر کا یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیتیں اس وفد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جسے نجاشی نے حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا تھا کہ وہ آپ سے ملیں، حاضر خدمت ہو کر آپ کے حالات وصفات دیکھیں اور آپ کا کلام سنیں۔ جب یہ آئے آپ سے ملے اور آپ کی زبان مبارک سے قرآن کریم سنا تو ان کے دل نرم ہوگئے بہت روئے دھوئے اور اسلام قبول کیا اور واپس جاکر نجاشی سے سب حال کہا نجاشی اپنی سلطنت چھوڑ کر حضور ﷺ کی طرف ہجرت کر کے آنے لگے لیکن راستے میں ہی انتقال ہوگیا۔ یہاں بھی یہ خیال رہے کہ یہ بیان صرف سدی کا ہے اور صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ وہ حبشہ میں ہی سلطنت کرتے ہوئے فوت ہوئے ان کے انتقال والے دن ہی حضور ﷺ نے صحابہ کو ان کے انتقال کی خبر دی اور ان کی نماز جنازہ غائبانہ ادا کی۔ بعض تو کہتے ہیں اس وفد میں سات تو علماء تھے اور پانچ زاہد تھے یا پانچ علماء اور سات زاہد تھے۔ بعض کہتے ہیں یہ کل پچاس آدمی تھے اور کہا گیا ہے کہ ساٹھ سے کچھ اوپر تھے ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ ستر تھے۔ فاللہ اعلم۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں جن کے اوصاف آیت میں بیان کئے گئے ہیں یہ اہل حبشہ ہیں۔ مسلمان مہاجرین حبشہ جب ان کے پاس پہنچے تو یہ سب مسلمان ہوگئے تھے۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں پہلے یہ دین عیسوی پر قائم تھے لیکن جب انہوں نے مسلمانوں کو دیکھا اور قرآن کریم کو سنا تو فوراً سب مسلمان ہوگئے۔ امام ابن جریر کا فیصلہ ان سب اقوال کو ٹھیک کردیتا ہے اور فرماتے ہیں کہ یہ آیتیں ان لوگوں کے بارے میں ہیں جن میں یہ اوصاف ہوں خواہ وہ حبشہ کے ہوں یا کہیں کے۔ یہودیوں کو مسلمانوں سے جو سخت دشمنی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سرکشی اور انکار کا مادہ زیادہ ہے اور جان بوجھ کر کفر کرتے ہیں اور ضد سے ناحق پر اڑتے ہیں، حق کے مقابلہ میں بگڑ بیٹھتے ہیں حق والوں پر حقارت کی نظریں ڈالتے ہیں ان سے بغض و بیر رکھتے ہیں۔ علم سے کورے ہیں علماء کی تعداد ان میں بہت ہی کم ہے اور علم اور ذی علم لوگوں کی کوئی وقعت ان کے دل میں نہیں یہی تھے جنہوں نے بہت سے انبیاء کو قتل کیا خود پیغمبر الزمان احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے قتل کا ارادہ بھی کیا اور ایک دفعہ نہیں بلکہ بار بار۔ آپ کو زہر دیا، آپ پر جادو کیا اور اپنے جیسے بدباطن لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر حضور ﷺ پر حملے کئے لیکن اللہ نے ہر مرتبہ انہیں نامراد اور ناکام کیا۔ ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب کبھی کوئی یہودی کسی مسلمانوں کو تنہائی میں پاتا ہے اس کے دل میں اس کے قتل کا قصد پیدا ہوتا ہے ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن ہے بہت ہی غریب ہاں مسلمانوں سے دوستی میں زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے تئیں نصاریٰ کہتے ہیں حضرت مسیح کے تابعدار ہیں انجیل کے اصلی اور صحیح طریقے پر قائم ہیں ان میں ایک حد تک فی الجملہ مسلمانوں اور اسلام کی محبت ہے یہ اس لئے کہ ان میں نرم دلی ہے جیسے ارشاد باری آیت (وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّرَحْمَةً) 57۔ الحدید :27) یعنی حضرت عیسیٰ کے تابعداروں کے دلوں میں ہم نے نرمی اور رحم ڈال دیا ہے۔ ان کی کتاب میں حکم ہے کہ جو تیرے داہنے کلے پر تھپڑ مارے تو اس کے سامنے بیاں کلہ بھی پیش کر دے۔ ان کی شریعت میں لڑائی ہے ہی نہیں۔ یہاں ان کی اس دوستی کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ ان میں خطیب اور واعظ ہیں قسسین اور قس کی جمع قسیسین ہے قسوس بھی اس کی جمع آتی ہے رھبان جمع ہے راہب کی، راہب کہتے ہیں عابد کو۔ یہ لفظ مشتق ہے رہب سے اور رہبت کے معنی ہیں خوف اور ڈر کے۔ جیسے راکب کی جمع رکبان ہے اور فرسان ہے امام ابن جریر فرماتے ہیں کبھی رہبان واحد کیلئے بھی آتا ہے اور اس کی جمع رہابین آتی ہے جیسے قربان اور قرابین اور جوازن اور جوازین اور کبھی اس کی جمع رہابنۃ بھی آتی ہے۔ عرب کے اشعار میں بھی لفظ رہبان واحد کیلئے آیا۔ حضرت سلمان سے ایک شخص (قسیسین و رھبانا) پڑھ کر اس کے معنی دریافت کرتا ہے تو آپ فرماتے ہیں قسیسین کو خانقاہوں اور غیر آباد جگہوں میں چھوڑ مجھے تو رسول اللہ ﷺ نے صدیقین و رھبانا پڑھایا (بزار اور ابن مردویہ) الغرض ان کے تین اوصاف یہاں بیان ہوئے ہیں ان میں عالموں کا ہونا۔ ان میں عابدوں کا ہونا۔ ان میں تواضع فروتنی اور عاجزی کا ہونا۔
ایمان والو کی پہچان اوپر بیان گزر چکا ہے کہ عیسائیوں میں سے جو نیک دل لوگ اس پاک مذہب اسلام کو قبول کئے ہوئے ہیں ان میں جو اچھے اوصاف ہیں مثلاً عبادت، علم، تواضع، انکساری وغیرہ، ساتھ ہی ان میں رحمدلی وغیرہ بھی ہے حق کی قبولیت بھی ہے اللہ کے احکامات کی اطلاعت بھی ہے ادب اور لحاظ سے کلام اللہ سنتے ہیں، اس سے اثر لیتے ہیں اور نرم دلی سے رو دیتے ہیں کیونکہ وہ حق کے جاننے والے ہیں، آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بشارت سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اس لئے قرآن سنتے ہی دل موم ہوجاتے ہیں۔ ایک طرف آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں دوری جانب زبان سے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں یہ آیتیں حضرت نجاشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ ما کا بیان ہے کہ کچھ لوگ حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ کے ساتھ جشہ سے آئے تھے حضور کی زبان مبارک سے قرآن کریم سن کر ایمان لائے اور بےتحاشہ رونے لگے۔ آپ نے ان سے دریاف فرمایا کہ کہیں اپنے وطن پہنچ کر اس سے پھر تو نہیں جاؤ گے ؟ انہوں نے کہا ناممکن ہے اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں شاہدوں سے مراد آنحضرت ﷺ اور دیگر انبیاء کرام (علیہم السلام) کی تبلیغ کی شہادت ہے پھر اس قسم کے نصرانیوں کا ایک اور وصف بیان ہو رہا ہے ان ہی کا دوسرا وصف اس آیت میں ہے آیت (وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا) 4۔ النسآء :159) یعنی اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس قرآن پر اور جو ان پر نازل کیا گیا ہے سب پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر اللہ سے ڈرنے والے بھی ہیں۔ ان ہی کے بارے میں فرمان ربانی آیت (اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ 52 وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖٓ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ 53 اُولٰۗىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 54 وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ 55) 28۔ القصص :52 تا 55)۔ کہ یہ لوگ اس کتاب کو اور اس کتاب کو سچ جانتے ہیں اور دونوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس یہاں بھی فرمایا کہ وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں صالحین میں ملنا ہے تو اللہ پر اور اس کی اس آخری کتاب پر ہم ایمان کیوں نہ لائیں ؟ ان کے اس ایمان و تصدیق اور قبولیت حق کا بدلہ اللہ نے انہیں یہ دیا کہ وہ ہمیشہ رہنے والے ترو تازہ باغات و چشموں والی جنتوں میں جائیں گے۔ محسن، نیکو کار، مطیع حق، تابع فرمان الٰہی لوگوں کی جزا یہی ہے، وہ کہیں کے بھی ہوں کوئی بھی ہوں۔ جو ان کے خلاف ہیں انجام کے لحاظ سے بھی ان کے برعکس ہیں، کفرو تکذب اور مخالفت یہاں ان کا شیوہ ہے اور وہاں جہنم ان کا ٹھکانا ہے۔
ایمان والو کی پہچان اوپر بیان گزر چکا ہے کہ عیسائیوں میں سے جو نیک دل لوگ اس پاک مذہب اسلام کو قبول کئے ہوئے ہیں ان میں جو اچھے اوصاف ہیں مثلاً عبادت، علم، تواضع، انکساری وغیرہ، ساتھ ہی ان میں رحمدلی وغیرہ بھی ہے حق کی قبولیت بھی ہے اللہ کے احکامات کی اطلاعت بھی ہے ادب اور لحاظ سے کلام اللہ سنتے ہیں، اس سے اثر لیتے ہیں اور نرم دلی سے رو دیتے ہیں کیونکہ وہ حق کے جاننے والے ہیں، آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بشارت سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اس لئے قرآن سنتے ہی دل موم ہوجاتے ہیں۔ ایک طرف آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں دوری جانب زبان سے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں یہ آیتیں حضرت نجاشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ ما کا بیان ہے کہ کچھ لوگ حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ کے ساتھ جشہ سے آئے تھے حضور کی زبان مبارک سے قرآن کریم سن کر ایمان لائے اور بےتحاشہ رونے لگے۔ آپ نے ان سے دریاف فرمایا کہ کہیں اپنے وطن پہنچ کر اس سے پھر تو نہیں جاؤ گے ؟ انہوں نے کہا ناممکن ہے اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں شاہدوں سے مراد آنحضرت ﷺ اور دیگر انبیاء کرام (علیہم السلام) کی تبلیغ کی شہادت ہے پھر اس قسم کے نصرانیوں کا ایک اور وصف بیان ہو رہا ہے ان ہی کا دوسرا وصف اس آیت میں ہے آیت (وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا) 4۔ النسآء :159) یعنی اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس قرآن پر اور جو ان پر نازل کیا گیا ہے سب پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر اللہ سے ڈرنے والے بھی ہیں۔ ان ہی کے بارے میں فرمان ربانی آیت (اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ 52 وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖٓ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ 53 اُولٰۗىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 54 وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ 55) 28۔ القصص :52 تا 55)۔ کہ یہ لوگ اس کتاب کو اور اس کتاب کو سچ جانتے ہیں اور دونوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس یہاں بھی فرمایا کہ وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں صالحین میں ملنا ہے تو اللہ پر اور اس کی اس آخری کتاب پر ہم ایمان کیوں نہ لائیں ؟ ان کے اس ایمان و تصدیق اور قبولیت حق کا بدلہ اللہ نے انہیں یہ دیا کہ وہ ہمیشہ رہنے والے ترو تازہ باغات و چشموں والی جنتوں میں جائیں گے۔ محسن، نیکو کار، مطیع حق، تابع فرمان الٰہی لوگوں کی جزا یہی ہے، وہ کہیں کے بھی ہوں کوئی بھی ہوں۔ جو ان کے خلاف ہیں انجام کے لحاظ سے بھی ان کے برعکس ہیں، کفرو تکذب اور مخالفت یہاں ان کا شیوہ ہے اور وہاں جہنم ان کا ٹھکانا ہے۔
ایمان والو کی پہچان اوپر بیان گزر چکا ہے کہ عیسائیوں میں سے جو نیک دل لوگ اس پاک مذہب اسلام کو قبول کئے ہوئے ہیں ان میں جو اچھے اوصاف ہیں مثلاً عبادت، علم، تواضع، انکساری وغیرہ، ساتھ ہی ان میں رحمدلی وغیرہ بھی ہے حق کی قبولیت بھی ہے اللہ کے احکامات کی اطلاعت بھی ہے ادب اور لحاظ سے کلام اللہ سنتے ہیں، اس سے اثر لیتے ہیں اور نرم دلی سے رو دیتے ہیں کیونکہ وہ حق کے جاننے والے ہیں، آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بشارت سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اس لئے قرآن سنتے ہی دل موم ہوجاتے ہیں۔ ایک طرف آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں دوری جانب زبان سے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں یہ آیتیں حضرت نجاشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ ما کا بیان ہے کہ کچھ لوگ حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ کے ساتھ جشہ سے آئے تھے حضور کی زبان مبارک سے قرآن کریم سن کر ایمان لائے اور بےتحاشہ رونے لگے۔ آپ نے ان سے دریاف فرمایا کہ کہیں اپنے وطن پہنچ کر اس سے پھر تو نہیں جاؤ گے ؟ انہوں نے کہا ناممکن ہے اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں شاہدوں سے مراد آنحضرت ﷺ اور دیگر انبیاء کرام (علیہم السلام) کی تبلیغ کی شہادت ہے پھر اس قسم کے نصرانیوں کا ایک اور وصف بیان ہو رہا ہے ان ہی کا دوسرا وصف اس آیت میں ہے آیت (وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا) 4۔ النسآء :159) یعنی اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس قرآن پر اور جو ان پر نازل کیا گیا ہے سب پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر اللہ سے ڈرنے والے بھی ہیں۔ ان ہی کے بارے میں فرمان ربانی آیت (اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ 52 وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖٓ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ 53 اُولٰۗىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 54 وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ 55) 28۔ القصص :52 تا 55)۔ کہ یہ لوگ اس کتاب کو اور اس کتاب کو سچ جانتے ہیں اور دونوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس یہاں بھی فرمایا کہ وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں صالحین میں ملنا ہے تو اللہ پر اور اس کی اس آخری کتاب پر ہم ایمان کیوں نہ لائیں ؟ ان کے اس ایمان و تصدیق اور قبولیت حق کا بدلہ اللہ نے انہیں یہ دیا کہ وہ ہمیشہ رہنے والے ترو تازہ باغات و چشموں والی جنتوں میں جائیں گے۔ محسن، نیکو کار، مطیع حق، تابع فرمان الٰہی لوگوں کی جزا یہی ہے، وہ کہیں کے بھی ہوں کوئی بھی ہوں۔ جو ان کے خلاف ہیں انجام کے لحاظ سے بھی ان کے برعکس ہیں، کفرو تکذب اور مخالفت یہاں ان کا شیوہ ہے اور وہاں جہنم ان کا ٹھکانا ہے۔
ایمان والو کی پہچان اوپر بیان گزر چکا ہے کہ عیسائیوں میں سے جو نیک دل لوگ اس پاک مذہب اسلام کو قبول کئے ہوئے ہیں ان میں جو اچھے اوصاف ہیں مثلاً عبادت، علم، تواضع، انکساری وغیرہ، ساتھ ہی ان میں رحمدلی وغیرہ بھی ہے حق کی قبولیت بھی ہے اللہ کے احکامات کی اطلاعت بھی ہے ادب اور لحاظ سے کلام اللہ سنتے ہیں، اس سے اثر لیتے ہیں اور نرم دلی سے رو دیتے ہیں کیونکہ وہ حق کے جاننے والے ہیں، آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بشارت سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اس لئے قرآن سنتے ہی دل موم ہوجاتے ہیں۔ ایک طرف آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں دوری جانب زبان سے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں یہ آیتیں حضرت نجاشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ ما کا بیان ہے کہ کچھ لوگ حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ کے ساتھ جشہ سے آئے تھے حضور کی زبان مبارک سے قرآن کریم سن کر ایمان لائے اور بےتحاشہ رونے لگے۔ آپ نے ان سے دریاف فرمایا کہ کہیں اپنے وطن پہنچ کر اس سے پھر تو نہیں جاؤ گے ؟ انہوں نے کہا ناممکن ہے اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں شاہدوں سے مراد آنحضرت ﷺ اور دیگر انبیاء کرام (علیہم السلام) کی تبلیغ کی شہادت ہے پھر اس قسم کے نصرانیوں کا ایک اور وصف بیان ہو رہا ہے ان ہی کا دوسرا وصف اس آیت میں ہے آیت (وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا) 4۔ النسآء :159) یعنی اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس قرآن پر اور جو ان پر نازل کیا گیا ہے سب پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر اللہ سے ڈرنے والے بھی ہیں۔ ان ہی کے بارے میں فرمان ربانی آیت (اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ 52 وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖٓ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ 53 اُولٰۗىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 54 وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ 55) 28۔ القصص :52 تا 55)۔ کہ یہ لوگ اس کتاب کو اور اس کتاب کو سچ جانتے ہیں اور دونوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس یہاں بھی فرمایا کہ وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں صالحین میں ملنا ہے تو اللہ پر اور اس کی اس آخری کتاب پر ہم ایمان کیوں نہ لائیں ؟ ان کے اس ایمان و تصدیق اور قبولیت حق کا بدلہ اللہ نے انہیں یہ دیا کہ وہ ہمیشہ رہنے والے ترو تازہ باغات و چشموں والی جنتوں میں جائیں گے۔ محسن، نیکو کار، مطیع حق، تابع فرمان الٰہی لوگوں کی جزا یہی ہے، وہ کہیں کے بھی ہوں کوئی بھی ہوں۔ جو ان کے خلاف ہیں انجام کے لحاظ سے بھی ان کے برعکس ہیں، کفرو تکذب اور مخالفت یہاں ان کا شیوہ ہے اور وہاں جہنم ان کا ٹھکانا ہے۔
راہبانیت (خانقاہ نشینی) اسلام میں ممنوع ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ چند صحابہ نے آپس میں کہا کہ ہم خصی ہوجائیں، دنیوی لذتوں کو ترک کردیں، بستی چھوڑ کر جنگلوں میں جا کر تارک دنیا لوگوں کی طرح زندگی یاد الٰہی میں بسر کریں۔ آنحضرت ﷺ کو ان کی یہ باتیں معلوم ہوگئیں، آپ نے انہیں یاد فرمایا اور ان سے پوچھا، انہوں نے اقرار کیا، اس پر آپ نے فرمایا تم دیکھ نہیں رہے ؟ کہ میں نفلی روزے رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔ رات کو نفلی نماز پڑھتا بھی ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ میں نے نکاح بھی کر رکھے ہیں۔ سنو جو میرے طریقے پر ہو وہ تو میرا ہے اور جو میری سنتوں کو نہ لے وہ میرا نہیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ " لوگوں نے امہات المومنین سے حضور کے اعمال کی نسبت سوال کیا پھر بعض نے کہا کہ ہم گوشت نہیں کھائیں گے بعض نے کہا ہم نکاح نہیں کریں گے بعض نے کہا ہم بستر پر سوئیں گے ہی نہیں، جب یہ واقعہ حضور کے گوش گزار ہوا تو آپ نے فرمایا ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ان میں سے بعض یوں کہتے ہیں حالانکہ میں روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، سوتا بھی ہوں اور تہجد بھی پڑھتا ہوں، گوشت بھی کھاتا ہوں اور نکاح بھی کئے ہوئے ہوں جو میری سنت سے منہ موڑے وہ میرا نہیں۔ ترمذی وغیرہ میں ہے کہ کسی شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ گوشت کھانے سے میری قوت باہ بڑھ جاتی ہے اس لئے میں نے اپنے اوپر گوشت کو حرام کرلیا ہے اس پر یہ آیت اتری۔ امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور سند سے بھی یہ روایت مرسلاً مروی ہے اور موقوفا بھی واللہ اعلم۔ بخاری و مسلم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ہم آنحضرت ﷺ کی ماتحتی میں جہاد کرتے تھے اور ہمارے ساتھ ہماری بیویاں نہیں ہوتی تھیں تو ہم نے کہا اچھا ہوگا اگر ہم خصی ہوجائیں لیکن اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں اس سے روکا اور مدت معینہ تک کیلئے کپڑے کے بدلے پر نکاح کرنے کی رخصت ہمیں عطا فرمائی پھر حضرت عبداللہ نے یہی آیت پڑھی۔ یہ یاد رہے کہ یہ نکاح کا واقعہ متعہ کی حرمت سے پہلے کا ہے واللہ اعلم۔۔ معقل بن مقرن نے حضرت عبداللہ بن مسعود کو کہا کہ میں نے تو اپنا بستر اپنے اوپر حرام کرلیا ہے تو آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ حضرت ابن مسعود کے سامنے کھانا لایا جاتا ہے تو ایک شخص اس مجمع سے الگ ہوجاتا ہے آپ اسے بلاتے ہیں کہ آؤ ہمارے ساتھ کھالو وہ کہتا ہے میں نے تو اس چیز کا کھانا اپنے اوپر حرام کر رکھا ہے۔ آپ فرماتے ہیں آؤ کھالو اپنی قسم کا کفارہ دے دینا، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی (مستدرک حاکم) ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کے گھر کوئی مہمان آئے آپ حضور ﷺ کے پاس سے رات کو جب واپس گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ گھر والوں نے آپ کے انتظار میں اب تک مہمان کو بھی کھانا نہیں کھلایا۔ آپ کو بہت غصہ آیا اور فرمایا تم نے میری وجہ سے مہمان کو بھوکا رکھا، یہ کھانا مجھ پر حرام ہے۔ بیوی صاحبہ بھی ناراض ہو کر یہی کہہ بیٹھیں مہمان نے دیکھ کر اپنے اوپر بھی حرام کرلیا اب تو حضرت عبداللہ بہت گھبرائے کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور سب سے کہا چلو بسم اللہ کرو کھا پی لیا پھر جب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے سارا واقعہ کہہ سنایا پس یہ آیت اتری، لیکن اثر منقطع ہے، صحیح بخاری شریف میں اس جیسا ایک قصہ حضرت ابوبکر صدیق کا اپنے مہمانوں کے ساتھ کا ہے اس سے امام شافعی وغیرہ علماء کا وہ قوم ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص علاوہ عورتوں کے کسی اور کھانے پینے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے تو وہ اس پر حرام نہیں ہوجاتی اور نہ اس پر اس میں کوئی کفارہ ہے، دلیل یہ آیت اور دوسری وہ حدیث ہے جو اوپر گزر چکی کہ جس شخص نے اپنے اوپر گوشت حرام کرلیا تھا اسے حضور نے کسی کفارے کا حکم نہیں فرمایا۔ لیکن امام احمد اور ان کے ہم خیال جماعت علماء کا خیال ہے کہ جو شخص کھانے پہننے وغیرہ کی کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے تو اس پر قسم کا کفارہ ہے۔ جیسے اس شخص پر جو کسی چیز کے ترک پر قسم کھالے۔ حضرت ابن عباس کا فتویٰ یہی ہے اور اس کی دلیل یہ آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ ۚ تَبْتَغِيْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 66۔ التحریم :1) بھی ہے اور اس آیت کے بعد ہی کفارہ قسم کا ذکر بھی اسی امر کا مقتضی ہے کہ یہ حرمت قائم مقام قسم کے ہے واللہ اعلم۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں بعض حضرات نے ترک دنیا کا، خصی ہوجانے کا اور ٹاٹ پہننے کا عزم مصمم کرلیا اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت مقداد بن اسود، حضرت سالم مولی، حضرت ابی حذیفہ وغیرہ ترک دنیا کا ارادہ کر کے گھروں میں بیٹھ رہے باہر آنا جانا ترک کردیا عورتوں سے علیحدگی اختیار کرلی ٹاٹ پہننے لگے اچھا کھانا اور اچھا پہننا حرام کرلیا اور نبی اسرائیل کے عابدوں کی وضع کرلی بلکہ ارادہ کرلیا کہ خصی ہوجائیں تاکہ یہ طاقت ہی سلب ہوجائے اور یہ بھی نیت کرلی کہ تمام راتیں عبادت میں اور تمام دن روزے میں گزاریں گے اس پر یہ آیت اتری یعنی یہ خلاف سنت ہے۔ پس حضور ﷺ نے انہیں بلا کر فرمایا کہ تمہاری جانوں کا تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے۔ نفل روزے رکھو اور کبھی کبھی چھوڑ بھی دو۔ نفل نماز رات کو پڑھو اور کچھ دیر سو بھی جاؤ جو ہماری سنت کو چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں اس پر ان بزرگوں نے فرمایا یا اللہ ہم نے سنا اور جو فرمان ہوا اس پر ہماری گردنیں خم ہیں۔ یہ واقعہ بہت سے تابعین سے مرسل سندوں سے مروی ہے۔ اس کی شاہد وہ مرفوع حدیث بھی ہے جو اوپر بیان ہوچکی۔ فالحمد اللہ۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک دن رسول ﷺ نے صحابہ کے سامنے وعظ کیا اور اس میں خوف اور ڈر کا ہی بیان تھا اسے سن کر دس صحابیوں نے جن میں حضرت علی، حضرت عثمان بن مظعون وغیرہ تھے آپس میں کہا کہ ہمیں تو کوئی بڑے بڑے طریقے عبادت کے اختیار کرنا چاہئیں نصرانیوں کو دیکھو کہ انہوں نے اپنے نفس پر بہت سی چیزیں حرام کر رکھی ہیں اس پر کسی نے گوشت اور چربی وغیرہ کھانا اپنے اوپر حرام کیا، کسی نے دن کو کھانا بھی حرام کرلیا، کسی نے رات کی نیند اپنے اوپر حرام کرلی، کسی نے عورتوں سے مباشرت حرام کرلی۔ حضرت عثمان بن مظعون نے اپنی بیوی سے میل جول اسی بنا پر ترک کردیا۔ میاں بیوی اپنے صحیح تعلقات سے الگ رہنے لگے ایک دن یہ بیوی صاحبہ حضرت خولہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس آئیں وہاں حضور کی ازواج مطہرات بھی تھیں انہیں پراگندہ حالت میں دیکھ کر سب نے پوچھا کہ تم نے اپنا یہ حلیہ کیا بنا رکھا ہے ؟ نہ کنگھی نہ چوٹی کی خبر ہے نہ لباس ٹھیک ٹھاک ہے نہ صفائی اور خوبصورتی کا خیال ہے ؟ کیا بات ہے ؟ حضرت خولہ ؓ نے فرمایا مجھے اب اس بناؤ سنگار کی ضرورت ہی کیا رہی ؟ اتنی مدت ہوئی جو میرے میاں مجھ سے ملے ہی نہیں نہ کبھی انہوں نے میرا کپڑا ہٹایا، یہ سن کر اور بیویاں ہنسنے لگیں اتنے میں حضور ﷺ تشریف لائے اور دریاف فرمایا کہ یہ ہنسی کیسی ہے ؟ حضرت عائشہ نے سارا واقعہ بیان فرمایا آپ نے اسی وقت آدمی بھیج کر حضرت عثمان کو بلوایا اور فرمایا یہ کیا قصہ ہے ؟ حضرت عثمان نے کل واقعہ بیان کر کے کہا کہ میں نے اسے اس لئے چھوڑ رکھا ہے کہ اللہ کی عبادت دلچسپی اور فارغ البالی سے کرسکوں بلکہ میرا ارادہ ہے کہ میں خصی ہوجاؤں تاکہ عورتوں کے قابل ہی نہ رہوں۔ آپ نے فرمایا میں تجھے قسم دیتا ہوں جا اپنی بیوی سے میل کرلے اور اس سے بات چیت کر۔ جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ اس وقت تو میں روزے سے ہوں فرمایا جاؤ روزہ توڑ ڈالو چناچہ انہوں نے حکم برداری کی، روزہ توڑ دیا اور بیوی سے بھی ملے۔ اب پھر جو حضرت خولاء آئیں تو وہ اچھی ہئیت میں تھیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ نے ہنس کر پوچھا کہو اب کیا حال ہے جواب دیا کہ اب حضرت عثمان نے اپنا عہد توڑ دیا ہے اور کل وہ مجھ سے ملے بھی۔ حضور ﷺ نے لوگوں میں فرمایا لوگو یہ تمہارا کیا حال ہے کہ کوئی بیویاں حرام کر رہا ہے، کوئی کھانا، کوئی سونا۔ تم نہیں دیکھتے کہ میں سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں، افطار بھی کرتا ہوں اور روزے سے بھی رہتا ہوں۔ عورتوں سے ملتا بھی ہوں نکاح بھی کر رکھے ہیں۔ سنو جو مجھ سے بے [ ا۔ ی ] غبتی کرے وہ مجھ سے نہیں ہے، اس پر یہ آیت اتری۔ حد سے نہ گزرو سے مطلب یہ ہے کہ عثمان کو خصی نہیں ہونا چاہیے۔ یہ حد سے گزر جانا ہے اور ان بزرگوں کو اپنی قسموں کا کفارہ ادا کرنے کا حکم ہوا اور فرمایا آیت (لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ باللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ) 2۔ البقرۃ :225) پس لا تعتدوا سے مراد یا تو یہ ہے کہ اللہ نے جن چیزوں کو تمہارے لئے مباح کیا ہے تم انہیں اپنے اوپر حرام کر کے تنگی نہ کرو اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ حلال بقدر کفایت لے لو اور اس حد سے آگے نہ نکل جاؤ۔ جیسے فرمایا کھاؤ پیو لیکن حد سے نہ بڑھو۔ ایک اور آیت میں ہے ایمانداروں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ خرچ کرنے میں اسراف اور بخیلی کے درمیان درمیان رہتے ہیں۔ پس افراط وتفریط اللہ کے نزدیک بری بات ہے اور درمیانی روش رب کو پسند ہے۔ اسی لئے یہاں بھی فرمایا حد سے گزر جانے والوں کو اللہ ناپسند فرماتا ہے۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ جو حلال و طیب چیزیں تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ پیو اور اپنے تمام امور میں اللہ سے ڈرتے رہو اس کی اطاعت اور طلب رضا مندی میں رہا کرو۔ اس کی نافرمانی اور اس کی حرام کردہ چیزوں سے الگ رہو۔ اسی اللہ پر تم یقین رکھتے ہو، اسی پر تمہارا ایمان ہے پس ہر امر میں اس کا لحاظ رکھو۔
راہبانیت (خانقاہ نشینی) اسلام میں ممنوع ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ چند صحابہ نے آپس میں کہا کہ ہم خصی ہوجائیں، دنیوی لذتوں کو ترک کردیں، بستی چھوڑ کر جنگلوں میں جا کر تارک دنیا لوگوں کی طرح زندگی یاد الٰہی میں بسر کریں۔ آنحضرت ﷺ کو ان کی یہ باتیں معلوم ہوگئیں، آپ نے انہیں یاد فرمایا اور ان سے پوچھا، انہوں نے اقرار کیا، اس پر آپ نے فرمایا تم دیکھ نہیں رہے ؟ کہ میں نفلی روزے رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔ رات کو نفلی نماز پڑھتا بھی ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ میں نے نکاح بھی کر رکھے ہیں۔ سنو جو میرے طریقے پر ہو وہ تو میرا ہے اور جو میری سنتوں کو نہ لے وہ میرا نہیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ " لوگوں نے امہات المومنین سے حضور کے اعمال کی نسبت سوال کیا پھر بعض نے کہا کہ ہم گوشت نہیں کھائیں گے بعض نے کہا ہم نکاح نہیں کریں گے بعض نے کہا ہم بستر پر سوئیں گے ہی نہیں، جب یہ واقعہ حضور کے گوش گزار ہوا تو آپ نے فرمایا ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ان میں سے بعض یوں کہتے ہیں حالانکہ میں روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، سوتا بھی ہوں اور تہجد بھی پڑھتا ہوں، گوشت بھی کھاتا ہوں اور نکاح بھی کئے ہوئے ہوں جو میری سنت سے منہ موڑے وہ میرا نہیں۔ ترمذی وغیرہ میں ہے کہ کسی شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ گوشت کھانے سے میری قوت باہ بڑھ جاتی ہے اس لئے میں نے اپنے اوپر گوشت کو حرام کرلیا ہے اس پر یہ آیت اتری۔ امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور سند سے بھی یہ روایت مرسلاً مروی ہے اور موقوفا بھی واللہ اعلم۔ بخاری و مسلم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ہم آنحضرت ﷺ کی ماتحتی میں جہاد کرتے تھے اور ہمارے ساتھ ہماری بیویاں نہیں ہوتی تھیں تو ہم نے کہا اچھا ہوگا اگر ہم خصی ہوجائیں لیکن اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں اس سے روکا اور مدت معینہ تک کیلئے کپڑے کے بدلے پر نکاح کرنے کی رخصت ہمیں عطا فرمائی پھر حضرت عبداللہ نے یہی آیت پڑھی۔ یہ یاد رہے کہ یہ نکاح کا واقعہ متعہ کی حرمت سے پہلے کا ہے واللہ اعلم۔۔ معقل بن مقرن نے حضرت عبداللہ بن مسعود کو کہا کہ میں نے تو اپنا بستر اپنے اوپر حرام کرلیا ہے تو آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ حضرت ابن مسعود کے سامنے کھانا لایا جاتا ہے تو ایک شخص اس مجمع سے الگ ہوجاتا ہے آپ اسے بلاتے ہیں کہ آؤ ہمارے ساتھ کھالو وہ کہتا ہے میں نے تو اس چیز کا کھانا اپنے اوپر حرام کر رکھا ہے۔ آپ فرماتے ہیں آؤ کھالو اپنی قسم کا کفارہ دے دینا، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی (مستدرک حاکم) ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کے گھر کوئی مہمان آئے آپ حضور ﷺ کے پاس سے رات کو جب واپس گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ گھر والوں نے آپ کے انتظار میں اب تک مہمان کو بھی کھانا نہیں کھلایا۔ آپ کو بہت غصہ آیا اور فرمایا تم نے میری وجہ سے مہمان کو بھوکا رکھا، یہ کھانا مجھ پر حرام ہے۔ بیوی صاحبہ بھی ناراض ہو کر یہی کہہ بیٹھیں مہمان نے دیکھ کر اپنے اوپر بھی حرام کرلیا اب تو حضرت عبداللہ بہت گھبرائے کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور سب سے کہا چلو بسم اللہ کرو کھا پی لیا پھر جب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے سارا واقعہ کہہ سنایا پس یہ آیت اتری، لیکن اثر منقطع ہے، صحیح بخاری شریف میں اس جیسا ایک قصہ حضرت ابوبکر صدیق کا اپنے مہمانوں کے ساتھ کا ہے اس سے امام شافعی وغیرہ علماء کا وہ قوم ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص علاوہ عورتوں کے کسی اور کھانے پینے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے تو وہ اس پر حرام نہیں ہوجاتی اور نہ اس پر اس میں کوئی کفارہ ہے، دلیل یہ آیت اور دوسری وہ حدیث ہے جو اوپر گزر چکی کہ جس شخص نے اپنے اوپر گوشت حرام کرلیا تھا اسے حضور نے کسی کفارے کا حکم نہیں فرمایا۔ لیکن امام احمد اور ان کے ہم خیال جماعت علماء کا خیال ہے کہ جو شخص کھانے پہننے وغیرہ کی کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے تو اس پر قسم کا کفارہ ہے۔ جیسے اس شخص پر جو کسی چیز کے ترک پر قسم کھالے۔ حضرت ابن عباس کا فتویٰ یہی ہے اور اس کی دلیل یہ آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ ۚ تَبْتَغِيْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 66۔ التحریم :1) بھی ہے اور اس آیت کے بعد ہی کفارہ قسم کا ذکر بھی اسی امر کا مقتضی ہے کہ یہ حرمت قائم مقام قسم کے ہے واللہ اعلم۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں بعض حضرات نے ترک دنیا کا، خصی ہوجانے کا اور ٹاٹ پہننے کا عزم مصمم کرلیا اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت مقداد بن اسود، حضرت سالم مولی، حضرت ابی حذیفہ وغیرہ ترک دنیا کا ارادہ کر کے گھروں میں بیٹھ رہے باہر آنا جانا ترک کردیا عورتوں سے علیحدگی اختیار کرلی ٹاٹ پہننے لگے اچھا کھانا اور اچھا پہننا حرام کرلیا اور نبی اسرائیل کے عابدوں کی وضع کرلی بلکہ ارادہ کرلیا کہ خصی ہوجائیں تاکہ یہ طاقت ہی سلب ہوجائے اور یہ بھی نیت کرلی کہ تمام راتیں عبادت میں اور تمام دن روزے میں گزاریں گے اس پر یہ آیت اتری یعنی یہ خلاف سنت ہے۔ پس حضور ﷺ نے انہیں بلا کر فرمایا کہ تمہاری جانوں کا تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے۔ نفل روزے رکھو اور کبھی کبھی چھوڑ بھی دو۔ نفل نماز رات کو پڑھو اور کچھ دیر سو بھی جاؤ جو ہماری سنت کو چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں اس پر ان بزرگوں نے فرمایا یا اللہ ہم نے سنا اور جو فرمان ہوا اس پر ہماری گردنیں خم ہیں۔ یہ واقعہ بہت سے تابعین سے مرسل سندوں سے مروی ہے۔ اس کی شاہد وہ مرفوع حدیث بھی ہے جو اوپر بیان ہوچکی۔ فالحمد اللہ۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک دن رسول ﷺ نے صحابہ کے سامنے وعظ کیا اور اس میں خوف اور ڈر کا ہی بیان تھا اسے سن کر دس صحابیوں نے جن میں حضرت علی، حضرت عثمان بن مظعون وغیرہ تھے آپس میں کہا کہ ہمیں تو کوئی بڑے بڑے طریقے عبادت کے اختیار کرنا چاہئیں نصرانیوں کو دیکھو کہ انہوں نے اپنے نفس پر بہت سی چیزیں حرام کر رکھی ہیں اس پر کسی نے گوشت اور چربی وغیرہ کھانا اپنے اوپر حرام کیا، کسی نے دن کو کھانا بھی حرام کرلیا، کسی نے رات کی نیند اپنے اوپر حرام کرلی، کسی نے عورتوں سے مباشرت حرام کرلی۔ حضرت عثمان بن مظعون نے اپنی بیوی سے میل جول اسی بنا پر ترک کردیا۔ میاں بیوی اپنے صحیح تعلقات سے الگ رہنے لگے ایک دن یہ بیوی صاحبہ حضرت خولہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس آئیں وہاں حضور کی ازواج مطہرات بھی تھیں انہیں پراگندہ حالت میں دیکھ کر سب نے پوچھا کہ تم نے اپنا یہ حلیہ کیا بنا رکھا ہے ؟ نہ کنگھی نہ چوٹی کی خبر ہے نہ لباس ٹھیک ٹھاک ہے نہ صفائی اور خوبصورتی کا خیال ہے ؟ کیا بات ہے ؟ حضرت خولہ ؓ نے فرمایا مجھے اب اس بناؤ سنگار کی ضرورت ہی کیا رہی ؟ اتنی مدت ہوئی جو میرے میاں مجھ سے ملے ہی نہیں نہ کبھی انہوں نے میرا کپڑا ہٹایا، یہ سن کر اور بیویاں ہنسنے لگیں اتنے میں حضور ﷺ تشریف لائے اور دریاف فرمایا کہ یہ ہنسی کیسی ہے ؟ حضرت عائشہ نے سارا واقعہ بیان فرمایا آپ نے اسی وقت آدمی بھیج کر حضرت عثمان کو بلوایا اور فرمایا یہ کیا قصہ ہے ؟ حضرت عثمان نے کل واقعہ بیان کر کے کہا کہ میں نے اسے اس لئے چھوڑ رکھا ہے کہ اللہ کی عبادت دلچسپی اور فارغ البالی سے کرسکوں بلکہ میرا ارادہ ہے کہ میں خصی ہوجاؤں تاکہ عورتوں کے قابل ہی نہ رہوں۔ آپ نے فرمایا میں تجھے قسم دیتا ہوں جا اپنی بیوی سے میل کرلے اور اس سے بات چیت کر۔ جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ اس وقت تو میں روزے سے ہوں فرمایا جاؤ روزہ توڑ ڈالو چناچہ انہوں نے حکم برداری کی، روزہ توڑ دیا اور بیوی سے بھی ملے۔ اب پھر جو حضرت خولاء آئیں تو وہ اچھی ہئیت میں تھیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ نے ہنس کر پوچھا کہو اب کیا حال ہے جواب دیا کہ اب حضرت عثمان نے اپنا عہد توڑ دیا ہے اور کل وہ مجھ سے ملے بھی۔ حضور ﷺ نے لوگوں میں فرمایا لوگو یہ تمہارا کیا حال ہے کہ کوئی بیویاں حرام کر رہا ہے، کوئی کھانا، کوئی سونا۔ تم نہیں دیکھتے کہ میں سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں، افطار بھی کرتا ہوں اور روزے سے بھی رہتا ہوں۔ عورتوں سے ملتا بھی ہوں نکاح بھی کر رکھے ہیں۔ سنو جو مجھ سے بے [ ا۔ ی ] غبتی کرے وہ مجھ سے نہیں ہے، اس پر یہ آیت اتری۔ حد سے نہ گزرو سے مطلب یہ ہے کہ عثمان کو خصی نہیں ہونا چاہیے۔ یہ حد سے گزر جانا ہے اور ان بزرگوں کو اپنی قسموں کا کفارہ ادا کرنے کا حکم ہوا اور فرمایا آیت (لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ باللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ) 2۔ البقرۃ :225) پس لا تعتدوا سے مراد یا تو یہ ہے کہ اللہ نے جن چیزوں کو تمہارے لئے مباح کیا ہے تم انہیں اپنے اوپر حرام کر کے تنگی نہ کرو اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ حلال بقدر کفایت لے لو اور اس حد سے آگے نہ نکل جاؤ۔ جیسے فرمایا کھاؤ پیو لیکن حد سے نہ بڑھو۔ ایک اور آیت میں ہے ایمانداروں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ خرچ کرنے میں اسراف اور بخیلی کے درمیان درمیان رہتے ہیں۔ پس افراط وتفریط اللہ کے نزدیک بری بات ہے اور درمیانی روش رب کو پسند ہے۔ اسی لئے یہاں بھی فرمایا حد سے گزر جانے والوں کو اللہ ناپسند فرماتا ہے۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ جو حلال و طیب چیزیں تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ پیو اور اپنے تمام امور میں اللہ سے ڈرتے رہو اس کی اطاعت اور طلب رضا مندی میں رہا کرو۔ اس کی نافرمانی اور اس کی حرام کردہ چیزوں سے الگ رہو۔ اسی اللہ پر تم یقین رکھتے ہو، اسی پر تمہارا ایمان ہے پس ہر امر میں اس کا لحاظ رکھو۔
غیر ارادی قسمیں اور کفارہ لعو قسمیں کیا ہوتی ہیں ؟ ان کے کیا احکام ہیں ؟ یہ سب سورة بقرہ کی تفسیر میں بالتفصیل بیان کرچکے ہیں اس لئے یہاں ان کے دوہرانے کی ضرورت نہیں فالحمد اللہ۔ مقصد یہ ہے کہ روانی کلام میں انسان کے منہ سے بغیر قصد کے جو قسمیں عادۃ نکل جائیں وہ لغو قسمیں ہیں۔ امام شافعی کا یہی مذہب ہے، مذاق میں قسم کھا بیٹھنا، اللہ کی نافرمانی کے کرنے پر قسم کھا بیٹھنا، زیادتی گمان کی بنا پر قسم کھا بیٹھنا بھی اس کی تفسیر میں کہا گیا ہے۔ غصے اور عضب میں، نسیان اور بھول چوک سے کھانے پینے پہننے اوڑھنے کی چیزوں میں قسم کھا بیٹھنا مراد ہے، اس قوم کی دلیل میں آیت (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ) 5۔ المائدہ :87) کو پیش کیا جاتا ہے، بالکل صحیح بات یہ ہے کہ لغو قسموں سے مراد بغیر قصد کی قسمیں ہیں اور اس کی دلیل (ولکن یواخذ کم بما عقدتم الایمان ہے یعنی جو قسمیں بالقصد اور بالعزم ہوں ان پر گرفٹ ہے اور ان پر کفارہ ہے۔ کفارہ دس مسکینوں کا کھانا جو محتاج فقیر ہوں جن کے پاس بقدر کفایت کے نہ ہو اوسط درجے کا کھانا جو عموماً گھر میں کھایا جاتا ہو وہی انہیں کھلا دینا۔ مثلاً دودھ روٹی، گھی روٹی، زیتون کا تیل روٹی، یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ بعض لوگوں کی خوراک بہت اعلی ہوتی ہے بعض لوگ بہت ہی ہلکی غذا کھاتے ہیں تو نہ وہ ہو نہ یہ ہو، تکلف بھی نہ ہو اور بجل بھی نہ ہو، سختی اور فراخی کے درمیان ہو، مثلاً گوشت روٹی ہے، سرکہ اور روٹی ہے، روٹی اور کھجوریں ہیں۔ جیسی جس کی درمیانی حثییت، اسی طرح قلت اور کثرت کے درمیان ہو۔ حضرت علی سے منقول ہے کہ صبح شام کا کھانا، حسن اور محمد بن خفیہ کا قول ہے کہ دس مسکینوں کو ایک ساتھ بٹھا کر روٹی گوشت کھلا دینا کافی ہے یا اپنی حیثیت کے مطابق روٹی کسی اور چیز سے کھلا دینا، بعض نے کہا ہے ہر مسکین کو آدھا صاع گہیوں کھجوریں وغیرہ دے دینا، امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ گہیوں تو آدھا صاع کافی ہے اور اس کے علاوہ ہر چیز کا پورا صاع دے دے۔ ابن مردویہ کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک صاع کھجوروں کا کفارے میں ایک ایک شخص کو دیا ہے اور لوگوں کو بھی یہی حکم فرمایا ہے لیکن جس کی اتنی حثییت نہ ہو وہ آدھا صاع گہیوں کا دے دے، یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے لیکن اس کا ایک راوی بالکل ضعیف ہے جس کے ضعف پر محدثین کا اتفاق ہے۔ در قطنی نے اسے متروک کہا ہے اس کا نام عمر بن عبداللہ ہے، ابن عباس کا قول ہے کہ ہر مسکین کو ایک مد گہیوں مع سالن کے دے دے، امام شافعی بھی یہی فرماتے ہیں لیکن سالن کا ذکر نہیں ہے اور دلیل ان کی وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ رمضان شریف کے دن میں اپنی بیوی سے جماع کرنے والے کو ایک کمتل (خاص پیمانہ) میں سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا نے کا حکم حضور ﷺ نے دیا تھا اس میں پندرہ صاع آتے ہیں تو ہر مسکین کے لئے ایک مد ہوا۔ ابن مدویہ کی ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قسم کے کفارے میں گہیوں کا ایک مد مقرر کیا ہے لیکن اس کی اسناد بھی ضعیف ہیں کیونکہ نضیر بن زرارہ کوفی کے بارے میں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ وہ مجہول ہے گو اس سے بہت سے لوگوں نے روایت کی ہے اور امام ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے واللہ اعلم، پھر ان کے استاد عمری بھی ضعیف ہیں، امام احمد بن حنبل ؒ کا فرمان ہے کہ گہیوں کا ایک مد اور باقی اناج کے دو مد دے۔ واللہ اعلم (یہ یاد رہے کہ صاع انگریزی اسی روپے بھر کے سیر کے حساب سے تقریباً پونے تین سیر کا ہوتا ہے اور ایک صاع کے چار مد ہوتے ہیں واللہ اعلم، مترجم) یا ان دس کو کپڑا پہنانا، امام شافعی کا قول ہے کہ ہر ایک کو خواہ کچھ ہی کپڑا دے دے جس پر کپڑے کا اطلاق ہوتا ہو کافی ہے، مثلاً کرتہ ہے، پاجامہ ہے، تہمد ہے، پگڑی ہے یا سر پر لپیٹنے کا رومال ہے۔ پھر امام صاحب کے شاگردوں میں سے بعض تو کہتے ہیں ٹوپی بھی کافی ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ ناکافی ہے، کافی کہنے والے یہ دلیل دیتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین سے جب اس کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ فرماتے ہیں اگر کوئی وفد کسی امیر کے پاس آئے اور وہ انہیں ٹوپیاں دے تو عرب تو یہی کہیں گے کہ قد کسوا انہیں کپڑے پہنائے گئے۔ لیکن اس کی اسناد بھی ضعیف ہیں کیونکہ محمد بن زبیر ضعیف ہیں واللہ اعلم۔ موزے پہنانے کے بارے میں بھی اختلاف ہے۔ صحیح یہ ہے کہ جائز نہیں۔ امام مالک اور امام احمد فرماتے ہیں کہ کم سے کم اتنا اور ایسا کپڑا ہو کہ اس میں نماز جائز ہوجائے مرد کو دیا ہے تو اس کی اور عورت کو دیا ہے تو اس کی۔ واللہ اعلم۔ ابن عباس فرماتے ہیں عباہو یا شملہ ہو۔ مجاہد فرماتے ہیں۔ ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ ایک کپڑا ہو اور اس سے زیادہ جو ہو۔ غرض کفارہ قسم میں ہر چیز سوائے جانگئے کے جائز ہے۔ بہت سے مفسرین فرماتے ہیں ایک ایک کپڑا ایک ایک مسکین کو دے دے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے ایسا کپڑا جو پورا کار آمد ہو مثلاً لحاف چادر وغیرہ نہ کہ کرتہ دوپٹہ وغیرہ ابن سیرن اور حسن دو دو کپڑے کہتے ہیں، سعید بن مسیب کہتے ہیں عمامہ جسے سر پر باندھے اور عبا جسے بدن پر پہنے۔ حضرت ابو موسیٰ قسم کھاتے ہیں پھر اسے توڑتے ہیں تو دو کپڑے بحرین کے دے دیتے ہیں۔ ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر مسکین کیلئے ایک عبا، یہ حدیث عریب ہے، یا ایک غلام کا آزاد کرنا، امام ابوحنیفہ تو فرماتے ہیں کہ یہ مطلق ہے کافر ہو یا مسلمان، امام شافعی اور دوسرے بزرگان دین فرماتے ہیں اس کا مومن ہونا ضروری ہے کیونکہ قتل کے کفارے میں غلام کی آزادی کا حکم ہے اور وہ مقید ہے کہ وہ مسلمان ہونا چاہے، دونوں کفاروں کا سبب چاہے جدا گانہ ہے لیکن وجہ ایک ہی ہے اور اس کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جو مسلم وغیرہ میں ہے کہ حضرت معاویہ بن حکم اسلمی کے ذمے ایک گردن آزاد کرنا تھی وہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے ساتھ ایک لونڈی لئے ہوئے آئے۔ حضور نے اس سیاہ فام لونڈی سے دریافت فرمایا کہ اللہ کہاں ہے ؟ اس نے کہا آسمان میں پوچھا ہم کون ہیں ؟ جواب دیا کہ آپ رسول ﷺ ہیں آپ نے فرمایا اسے آزاد کرو یہ ایماندار عورت ہے۔ پس ان تینوں کاموں میں سے جو بھی کرلے وہ قسم کا کفارہ ہوجائے گا اور کافی ہوگا اس پر سب کا اجماع ہے۔ قرآن کریم نے ان چیزوں کا بیان سب سے زیادہ آسان چیز سے شروع کیا ہے اور بتدریج اوپر کو پہنچایا ہے۔ پس سب سے سہل کھانا کھلانا ہے۔ پھر اس سے قدرے بھاری کپڑا پہنانا ہے اور اس سے بھی زیادہ بھاری غلام کو آزاد کرنا ہے۔ پس اس میں ادنی سے اعلی بہتر ہے۔ اب اگر کسی شخص کو ان تینون میں سے ایک کی بھی قدرت نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھ لے۔ سعید بن جبیر اور حسن بصری سے مروی ہے کہ جس کے پاس تین درہم ہوں وہ تو کھانا کھلا دے ورنہ روزے رکھ لے اور بعض متاخرین سے منقول ہے کہ یہ اس کے لئے ہے جس کے پاس ضروریات سے فاضل چیز نہ ہو معاش وغیرہ پونجی کے بعد جو فالتو ہو اس سے کفارہ ادا کرے، امام ابن جرید فرماتے ہیں جس کے پاس اس دن کے اپنے اور اپنے بال بچوں کے کھانے سے کچھ بچے اس میں سے کفارہ ادا کرے، قسم کے توڑنے کے کفارے کے روزے پے در پے رکھنے واجب ہیں یا مستحب ہیں اس میں دو قول ہیں ایک یہ کہ واجب نہیں، امام شافعی نے باب الایمان میں اسے صاف لفظوں میں کہا ہے امام مالک کا قول بھی یہی ہے کیونکہ قرآن کریم میں روزوں کا حکم مطلق ہے تو خواہ پے در پے ہوں خواہ الگ الگ ہوں تو سب پر یہ صادق آتا ہے جیسے کہ رمضان کے روزوں کی قضا کے بارے میں آیت (فعدۃ من ایام اخر) فرمایا گیا ہے وہاں بھی پے در پے کی یا علیحدہ علیحدہ کی قید نہیں اور حضرت امام شافعی نے کتاب الام میں ایک جگہ صراحت سے کہا ہے کہ قسم کے کفارے کے روزے پے در پے رکھنے چاہئیں یہی قول خفیہ اور حنابلہ کا ہے۔ اس لئے کہ حضرت ابی بن کعب وغیرہ سے مروی ہے کہ ان کی قرأت آیت (فصیام ثلثتہ ایام متتابعات) ہے ابن مسعود سے بھی یہی قرأت مروی ہے، اس صورت میں اگرچہ اس کا متواتر قرأت ہونا ثابت نہ ہو۔ تاہم خبر واحد یا تفسیر صحابہ سے کم درجے کی تو یہ قرأت نہیں پس حکماً " یہ بھی مرفوع ہے۔ ابن مردویہ کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے کہ حضرت حذیفہ نے پوچھا یا رسول اللہ ہمیں اختیار ہے آپ نے فرمایا ہاں، تو اختیار پر ہے خواہ گردن آزاد کر خواہ کپڑا پہنا دے خواہ کھانا کھلا دے اور جو نہ پائے وہ پے در پے تین روزے رکھ لے۔ پھر فرماتا ہے کہ تم جب قسم کھا کر توڑ دو تو یہ کفارہ ہے لیکن تمہیں اپنی قسموں کی حفاظت کرنی چاہیے انہیں بغیر کفارے کے نہ چھوڑنا چاہیے اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے اپنی آیتیں واضح طور پر بیان فرما رہا ہے تاکہ تم شکر گزاری کرو۔
پانسہ بازی، جوا اور شراب ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ بعض چیزوں سے روکتا ہے۔ شراب کی ممانعت فرمائی، پھر جوئے کی روک کی۔ امیر المونین حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے کہ شطرنج بھی جوئے میں داخل ہے (ابن ابی حاتم) عطا مجاہد اور طاؤس سے یا ان میں سے دو سے مروی ہے کہ جوئے کی ہر چیز میسر میں داخل ہے گو بچوں کے کھیل کے طور پر ہو۔ جاہلیت کے زمانے میں جوئے کا بھی عام رواج تھا جسے اسلام نے غارت کیا۔ ان کا ایک جوا یہ بھی تھا کہ گوشت کو بکری کے بدلے بیجتے تھے، پانسے پھینک کر مال یا پھل لینا بھی جوا ہے۔ حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ جو چیز ذکر اللہ اور نماز سے غافل کر دے وہ جوا ہے، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع غریب حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان پانسوں سے بچو جن سے لوگ کھیلا کرتے تھے، یہ بھی جوا ہے صحیح مسلم شریف میں ہے پانسوں سے کھیلنے والا گویا اپنے ہاتھوں کو سور کے خون اور گوشت میں آلودہ کرنے والا ہے۔ سنن میں ہے کہ وہ اللہ اور رسول کا نافرمان ہے۔ حضرت ابو موسیٰ کا قول بھی اسی طرح مروی ہے۔ واللہ اعلم، مسند میں ہے پانسوں سے کھیل کر نماز پڑھنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص قے اور گندگی سے اور سور کے خون سے وضو کر کے نماز ادا کرے۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک شطرنج اس سے بھی بری ہے۔ حضرت علی سے شطرنج کا جوئے میں سے ہونا پہلے بیان ہوچکا ہے۔ امام مالک امام ابوحنیفہ امام احمد تو کھلم کھلا اسے حرام بتاتے ہیں اور امام شافعی بھی اسے مکروہ بتاتے ہیں۔ انصاب ان پتھروں کو کہتے ہیں جن پر مشرکین اپنے جانور چڑھایا کرتے تھے اور انہیں وہیں ذبح کرتے تھے ازلام ان تیروں کو کہتے ہیں جن میں وہ فال لیا کرتے تھے۔ ان سب چیزوں کی نسبت فرمایا کہ یہ اللہ کی ناراضگی کے اور شیطانی کام ہیں۔ یہ گناہ کے اور برائی کے کام ہیں تم ان شیطانی کاموں سے بچو انہیں چھوڑ دو تاکہ تم نجات پاؤ۔ اس فقرے میں مسلمانوں کو ان کاموں سے روکنے کی ترغیب ہے۔ پھر رغبت آمیز دھمکی کے ساتھ مسلمانوں کو ان چیزوں سے روکا گیا ہے۔ حرمت شراب کی مزید وضاحت اب ہم یہاں پر حرمت شراب کی مزید احادیث وارد کرتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں شراب تین مرتبہ حرام ہوئی۔ آنحضرت ﷺ جب مدینے شریف میں آئے تو لوگ جواری شرابی تھے حضور ﷺ سے اس بارے میں سوال ہوا اور آیت (يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۭ قُلْ فِيْهِمَآ اِثْمٌ كَبِيْرٌ وَّمَنَافِعُ للنَّاسِ ۡ وَاِثْـمُهُمَآ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا) 2۔ البقرۃ :219) نازل ہوئی۔ اس پر لوگوں نے کہا یہ دونوں چیزیں ہم پر حرام نہیں کی گئیں بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ ان میں بہت بڑا گناہ ہے اور لوگوں کیلئے کچھ فوائد بھی ہیں۔ چناچہ شراب پیتے رہے۔ ایک دن ایک صحابی اپنے ساتھیوں کو مغرب کی نماز پڑھانے کیلئے کھرے ہوئے تو قرأت خط ملط ہوگئی اس پر آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا) 4۔ النسآء :43) نازل ہوئی۔ یہ بہ نسبت پہلی آیت کے زیادہ سخت تھی اب لوگوں نے نمازوں کے وقت شراب چھوڑ دی لیکن عادت برابر جاری رہی اس پر اس سے بھی زیادہ سخت اور صریح آیت (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ) 5۔ المائدہ :90) نازل ہوئی اسے سن کر سارے صحابہ بول اٹھے انتھینا ربنا اے اللہ ہم اب باز رہے، ہم رک گئے، پھر لوگوں نے ان لوگوں کے بارے میں دریافت فرمایا جو شراب اور جوئے کی حرمت کے نازل ہونے سے پیشتر اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے تھے اس کے جواب میں اس کے بعد کی آیت (لیس علی الذین) الخ، نازل ہوئی اور آپ نے فرمایا اگر ان کی زندگی میں یہ حکم اترا ہوتا تو وہ بھی تمہاری طرح اسے مان لیتے، مسند احمد میں ہے حضرت عمر بن خطاب ؓ نے تحریم شراب کے نازل ہونے پر فرمایا یا اللہ ہمارے سامنے اور کھول کر بیان فرما پس سورة بقرہ کی آیت (فیھما اثم کبیر) نازل ہوئی۔ حضرت عمر فاروق کو بلوایا گیا اور ان کے سامنے اس کی تلاوت کی گئی پھر بھی آپ نے فرمایا اے اللہ تو ہمیں اور واضح لفظوں میں فرما ! پس سورة نساء کی آیت (وانتم سکاری) نازل ہوئی اور مؤذن جب حی علی الصلوۃ کہتا تو ساتھ ہی کہ دیتا کہ نشہ باز ہرگز ہرگز نماز کے قریب بھی نہ آئیں۔ حضرت عمر کو بلوایا گیا اور یہ آیت بھی انہیں سنائی گئی لیکن پھر بھی آپ نے یہی فرمایا کہ اے اللہ اس بارے میں صفائی سے بیان فرما۔ پس سورة مائدہ کی آیت اتری آپ کو بلوایا گیا اور یہ آیت سنائی گئی جب آیت (فھل انتم منتھون) تک سنا تو فرمانے لگے انتھینا انتھینا ہم رک گئے ہم رک گئے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت فاروق اعظم نے منبر نبوی پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ شراب کی حرمت جب نازل ہوئی اس وقت شراب پانچ چیزوں کی بنائی جاتی تھی، انگور، شہد، کجھور، گہیوں اور جو۔ ہر وہ چیز جو عقل پر غالب آجائے خمر ہے۔ یعنی شراب کے حکم میں ہے اور حرام ہے صحیح بخاری میں حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ شراب کی حرمت کی آیت کے نزول کے موقع پر مدینے شریف میں پانچ قسم کی شرابیں تھیں ان میں انگور کی شراب نہ تھی، ابو داؤد طیالسی میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں شراب کے بارے میں تین آیتیں اتریں۔ اول تو آیت (یسلونک عن الخمر) والی آیت اتری تو کہا گیا کہ شراب حرام ہوگئی اس پر بعض صحابہ نے فرمایا رسول اللہ ہمیں اس سے نفع اٹھانے دیجئے جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، آپ خاموش ہوگئے پھر آیت (وانتم سکاری) والی آیت اتری اور کہا گیا کہ شراب حرام ہوگئی۔ لیکن صحابہ نے فرمایا دیا رسول اللہ ہم بوقت نماز نہ پئیں گے۔ آپ پھر چپ رہے پھر یہ دونوں آیتیں اتری اور خود رسول اللہ ﷺ نے فرما دیا کہ اب شراب حرام ہوگئی۔ مسلم وغیرہ میں ہے کہ حضور کا ایک دوست تھا قبیلہ ثقیف میں سے یا قبیلہ دوس میں سے۔ فتح مکہ والے دن وہ آپ سے ملا اور ایک مشک شراب کی آپ کو تحفتاً دینے لگا آپ نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام کردیا ہے۔ اب اس شخص نے اپنے غلام سے کہا کہ جا اسے بیچ ڈال، آپ نے فرمایا کیا کہا ؟ اس نے جواب دیا کہ بیچنے کو کہہ رہا ہوں آپ نے فرمایا جس اللہ نے اس کا پینا حرام کیا ہے اسی نے اس کا بیچنا بھی حرام کیا ہے۔ اس نے اسی وقت کہا جاؤ اسے لے جاؤ اور بطحا کے میدان میں بہا آؤ۔ ابو یعلی موصلی میں ہے کہ حضرت تمیم دارمی آنحضرت ﷺ کو تحفہ دینے کیلئے ایک مشک شراب کی لائے، آپ اسے دیکھ کر ہنس دیئے اور فرمایا یہ تو تمہارے جانے کے بعد حرام ہوگئی ہے کہا خیر یا رسول اللہ میں اسے واپس لے جاتا ہوں اور بیچ کر قیمت وصول کرلوں گا، یہ سن کر آپ نے فرمایا یہودیوں پر اللہ کی لنعٹ ہوئی کہ ان پر جب گائے بکری کی چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا شروع کیا، اللہ تعالیٰ نے شراب کو اور اس کی قیمت کو حرام کردیا ہے مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے کہ اس میں ہے کہ ہر سال حضرت دارمی ایک مشک ہدیہ کرتے تھے، اس کے آخر میں حضور کا دو مرتبہ یہ فرمانا ہے کہ شراب بھی حرام اور اس کی قیمت بھی حرام، ایک حدیث مسند احمد میں اور ہے اس میں ہے کہ حضرت کیسان ؓ شراب کے تاجر تھے جس سال شراب حرام ہوئی اس سال یہ شام کے ملک سے بہت سی شراب تجارت کیلئے لائے تھے حضور سے ذکر کیا آپ نے فرمایا اب تو حرام ہوگئی پوچھا پھر میں اسے بیچ ڈالوں ؟ آپ نے فرمایا یہ بھی حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے۔ چناچہ حضرت کیسان نے وہ ساری شراب بہا دی، مسند احمد میں ہے حضرت انس ؓ فرماتے ہیں، میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح حضرت ابی بن کعب، حضرت سہل بن بیضاء اور صحابہ کرام کی ایک جماعت کو شراب پلا رہا تھا دور چل رہا تھا سب لذت اندوز ہو رہے تھے قریب تھا کہ نشے کا پارہ بڑھ جائے، اتنے میں کسی صحابی نے آ کر خبر دی کہ کیا تمہیں علم نہیں شراب تو حرام ہوگئی ؟ انہوں نے کہا بس کرو جو باقی بچی ہے اسے لنڈھا دو اللہ کی قسم اس کے بعد ایک قطرہ بھی ان میں سے کسی کے حلق میں نہیں گیا۔ یہ شراب کھجو کی تھی اور عامتاً اسی کی شراب بنا کرتی تھی، یہ روایت بخاری مسلم میں بھی ہے اور روایت میں ہے کہ شراب خوری کی یہ مجلس حضرت ابو طلحہ ؓ کے مکان پر تھی، ناگاہ منادی کی آواز پڑی مجھ سے کہا گیا باہر جاؤ دیکھو کیا منادی ہو رہی ہے ؟ میں نے جا کر سنا منادی ندا دے رہا ہے کہ شراب تم پر حرام کی گئی ہے، میں نے آ کر خبر دی تو حضرت ابو طلحہ نے فرمایا اٹھو جتنی شراب ہے سب بہادو میں نے بہادی اور میں نے دیکھا کہ مدینے کے گلی کوچوں میں شراب بہہ رہی ہے، بعض اصحاب نے کہا ان کا کیا حال ہوگا جن کے پیٹ میں شراب تھی اور وہ قتل کردیئے گئے ؟ اس پر اس کے بعد کی آیت (لیس علی الذین) الخ، نازل ہوئی یعنی ان پر کوئی حرج نہیں، ابن جریر کی روایت میں اس مجلس والوں کے ناموں میں حضرت ابو دجانہ اور حضرت معاذ بن جبل کا نام بھی ہے اور یہ بھی ہے کہ ندا سنتے ہی ہم نے شراب بہا دی، مٹکے اور پیپے توڑ ڈالے۔ کسی نے وضو کرلیا، کسی نے غسل کرلیا اور حضرت ام سلیم کے ہاں سے خوشبو منگوا کر لگائی اور مسجد پہنچے تو دیکھا حضور ﷺ یہ آیت پڑھ رہے تھے، ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور اس سے پہلے جو لوگ فوت ہوگئے ہیں ان کا کیا حکم ہے ؟ پس اس کے بعد آیت اتری، کسی نے حضرت قتادہ سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث خود رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے ؟ فرمایا ہاں ہم جھوٹ نہیں بولتے بلکہ ہم تو جانتے بھی نہیں کہ جھوٹ کسے کہتے ہیں ؟ مسند احمد میں ہے حضور فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے شراب اور پانسے اور بربط کا باجا حرام کردیا ہے، شراب سے بچو غبیرا نام کی شراب عام ہے مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص مجھ سے وہ بات منسوب کرے جو میں نے نہ کہی ہو وہ اپنی جگہ جہنم میں بنا لے۔ میں نے آپ سے سنا ہے کہ شراب جوا پانسے اور غبیرا سب حرام ہیں اور ہر نشے والی چیز حرام ہے، مسند احمد میں ہے شراب کے بارے میں دس لعنتیں ہیں خود شراب پر، اس کے پینے والے پر، اس کے پلانے والے پر، اس کے بیچنے والے پر، اس کے خریدنے والے پر اس کے نچوڑنے والے پر، اس کے بنانے والے پر، اس کے اٹھانے والے پر اور اس پر بھی جس کے پاس یہ اٹھا کرلے جایا جائے اور اس کی قیمت کھانے والے پر (ابو داؤد، ابن ماجہ) مسند میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ باڑے کی طرف نکلے میں آپ کے ساتھ تھا۔ آپ کے دائیں جانب چل رہا تھا جو حضرت ابوبکر صدیق آئے میں ہٹ گیا اور آپ کے داہنے حضرت صدیق چلنے لگے تھوڑی دیر میں حضرت عمر آگئے میں ہٹ گیا آپ حضور کے بائیں طرف ہوگئے جب آپ باڑے میں پہنچے تو دیکھا کہ وہاں پر چند مشکیں شراب کی رکھی ہوئی ہیں آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا چھری لاؤ جب میں لایا تو آپ نے حکم دیا کہ یہ مشکیں کاٹ دی جائیں پھر فرمایا شراب پر، اس کے پینے والے پر، پلانے والے پر، بیچنے والے پر، خریدار پر، اٹھانے والے پر، اٹھوانے والے پر، بنانے والے پر، بنوانے والے پر، قیمت لینے والے پر سب پر لعنت ہے، مسند احمد کی اور روایت میں ہے کہ حضور نے یہ مشکیں کٹوا دیں پھر مجھے اور میرے ساتھیوں کو چھری دے کر فرمایا جاؤ جتنی مشکیں شراب کی جہاں پاؤ سب کاٹ کر بہا دو ، پس ہم گئے اور سارے بازار میں ایک مشک بھی نہ چھوڑی۔ بہقی کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص شراب بیجتے تھے اور بہت خیرات کیا کرتے تھے حضرت ابن عباس سے شراب فروشی کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے، اے امت محمد اگر تمہاری کتاب کے بعد کوئی کتاب اترنے والی ہوتی اور اگر تمہارے نبی کے بعد کوئی نبی اور آنے والا ہوتا، جس طرح اگلوں کی رسوائیاں اور ان کی برائیاں تمہاری کتاب میں اتریں تمہاری خرابیاں ان پر نازل ہوتیں لیکن تمہارے افعال کا اظہار قیامت کے دن پر مؤخر رکھا گیا ہے اور یہ بہت بھاری اور بڑا ہے، پھر حضرت عبداللہ بن عمر سے یہ سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا سنو میں حضور کے ساتھ مسجد میں تھا۔ آپ گوٹھ لگائے ہوئے بیٹھے تھے فرمانے لگے جس کے پاس جتنی شراب ہو وہ ہمارے پاس لائے۔ لوگوں نے لانی شروع کی، جس کے پاس جتنی تھی حاضر کی۔ آپ نے فرمایا جاؤ اسے بقیع کے میدان میں فلاں فلاں جگہ رکھو۔ جب سب جمع ہوجائے مجھے خبر کو، جب جمع ہوگئی اور آپ سے کہا گیا تو آپ اٹھے میں آپ کے داہنے جانب تھا آپ مجھ پر ٹیک لگائے چل رہے تھے حضرت ابوبکر صدیق جب آئے تو آپ نے مجھے ہٹا دیا اپنے بائیں کردیا اور میری جگہ حضرت ابوبکر نے لے لی، پھر حضرت عمر سے ملاقت ہوئی تو آپ نے مجھے اور پیچھے ہٹا دیا اور جناب فاروق کو اپنے بائیں لے لیا اور وہاں پہنچے لوگوں سے فرمایا جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ سب نے کہا ہاں جانتے ہیں یہ شراب ہے، فرمایا سنو اس پر اس کے بنانے والے پر، بنوانے والے پر، پینے والے پر، پلانے والے پر، اٹھانے والے پر، اٹھوانے والے پر، بیچنے والے پر، خریدنے والے پر، قیمت لینے والے پر اللہ کی پھٹکار ہے۔ پھر چھری منگوائی اور فرمایا اسے تیز کرلو پھر اپنے ہاتھ سے مشکیں پھاڑنی اور مٹکے توڑنے شروع کئے لوگوں نے کہا بھی کہ حضور مشکوں اور مٹکو کو رہنے دیجئے اور کام آئیں گی فرمایا ٹھیک ہے لیکن میں تو اب ان سب کو توڑ کر ہی رہوں گا یہ غضب و غضہ اللہ کیلئے ہے کیونکہ ان تمام چیزوں سے رب اراض ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا حضور آپ خود کیوں تکلیف کرتے ہیں ہم حاضر ہیں فرمایا نہیں میں اپنے ہاتھ سے انہیں نیست و نابود کروں گا۔ بیہقی کی حدیث میں ہے کہ شراب کے بارے میں چار آیتیں اتری ہیں۔ پھر حدیث بیان فرما کر کہا کہ ایک انصاری نے دعوت کی ہم دعوت میں جمع ہوئے خوب شرابیں پیں۔ نشے میں جھومتے ہوئے اپنے نام و نسب پر فخر کرنے لگے، ہم افضل ہیں۔ قریشی نے کہا ہم افضل ہیں۔ ایک انصاری نے اونٹ کے جبڑا لے کر حضرت سعد کو مارا اور ہاتھا پائی ہونے لگی پھر شراب کی حرمت کی آیت اتری۔ یہ شراب پی کر بدمست ہوگئے اور آپس میں لاف زنی ہونے لگی جب نشے اترے تو دیکھتے ہیں اس کی ناک پر زخم ہے اس کے چہرے پر زخم ہے اس کی داڑھی نچی ہوئی ہے اور اسے چوٹ لگی ہوئی ہے، کہنے لگے مجھے فلاں نے مارا میری بےحرمتی فلاں نے کی اگر اس کا دل میری طرف سے صاف ہوتا تو میرے ساتھ یہ حرکت نہ کرتا دلوں میں نفرت اور دشمنی بڑھنے لگی پس یہ آیت اتری۔ اس پر بعض لوگوں نے کہا جب یہ گندگی ہے تو فلاں فلاں صحابہ تو اسے پیتے ہوئے ہی رحلت کر گئے ہیں ان کا کیا حال ہوگا ؟ ان میں سے بعض احد کے میدان میں شہید ہوئے ہیں اس کے جواب میں اگلی آیت اتری۔ ابن جریر میں ہے حضرت ابو بریدہ کے والد کہتے ہیں کہ ہم چار شخص ریت کے ایک ٹیلے پر بیٹھے شراب پی رہے تھے دور چل رہا تھا جام گردش میں تھا ناگہاں میں کھڑا ہوا اور حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔ سلام کیا وہیں حرمت شراب کی یہ آیت نازل ہوئی۔ میں پچھلے پیروں اپنی اسی مجلس میں آیا اور اپنے ساتھیوں کو یہ آیت پڑھ کر سنائی، بعض وہ بھی تھے، جن کے منہ سے جام لگا ہوا تھا لیکن واللہ انہوں نے اسی وقت اسے الگ کردیا اور جتنا پیا تھا اسے قے کر کے نکال دیا اور کہنے لگے یا اللہ ہم رک گئے ہم باز آگئے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ جنگ احد کی صبح بعض لوگوں نے شرابیں پی تھیں اور میدان میں اسی روز اللہ کی راہ میں شہید کردیئے گئے اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی۔ بزار میں یہ ذاتی بھی ہے کہ اسی پر بعض یہودیوں نے اعتراض کیا اور جواب میں آیت (لَيْسَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ) 5۔ المائدہ :93) نازل ہوئی، ابو یعلی موصلی میں ہے کہ ایک شخص خیبر سے شراب لا کر مدینے میں فروخت کیا کرتا تھا ایک دن وہ لا رہا تھا ایک صحابی راستے میں ہی اسے مل گئے اور فرمایا شراب تو اب حرام ہوگئی وہ واپس مڑ گیا اور ایک ٹیلے تلے اسے کپڑے سے ڈھانپ کر آگیا اور حضور سے کہنے لگا کیا یہ سچ ہے کہ شراب حرام ہوگئی ؟ آپ نے فرمایا ہاں سچ ہے کہا پھر مجھے اجازت دیجئے کہ جس سے لی ہے اسے واپس کر دوں۔ فرمایا اس کا لوٹانا بھی جائز نہیں، کہا پھر اجازت دیجئے کہ میں اسے ایسے شخص کو تحفہ دوں جو اس کا معاوضہ مجھے دے آپ نے فرمایا یہ بھی ٹیک نہیں کہ حضور اس میں یتیموں کا مال بھی لگا ہوا ہے فرمایا دیکھو جب ہمارے پاس بحرین کا مال آئے گا اس سے ہم تمہارے یتیموں کی مدد کریں گے پھر مدینہ میں منا دی ہوگئی ایک شخص نے کہا حضور شراب کے برتنوں سے نفع حاصل کرنے کی اجازت دیجئے آپ نے فرمایا جاؤ مشکوں کو کھول ڈالو اور شراب بہا دو اس قدر شراب بہی کہ میدان بھر گئے۔ یہ حدیث غریب ہے، مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابو طلحہ ؓ نے رسول کریم ﷺ سے سوال کیا کہ میرے ہاں جو یتیم بچے پل رہے ہیں ان کے ورثے میں انہیں شراب ملی ہے آپ نے فرمایا جاؤ اس یہا دو عرض کیا اگر اجازت ہو تو اس کا سرکہ بنا لوں فرمایا نہیں۔ یہ حدیث مسلم ابو داؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ ابن ابی حاتم میں صحیح سند سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو نے فرمایا جیسے یہ آیت قرآن میں ہے تورات میں بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حق کو نازل فرمایا تاکہ اس کی وجہ سے باطل کو دور کر دے اور اس سے کھیل تماشے باجے گاجے بربط دف طنبورہ راگ راگنیاں فنا کر دے۔ شرابی کیلئے شراب نقصان دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عزت کی قسم کھائی ہے کہ جو اسے حرمت کے بعد پئے گا اسے میں قیامت کے دن پیاسا رکھوں گا اور حرمت کے بعد جوا سے چھوڑے گا میں اسے جنت کے پاکیزہ چشمے سے پلاؤں گا۔ حدیث شریف میں ہے جس شخص نے نشہ کی وجہ سے ایک وقت کی نماز چھوڑی وہ ایسا ہے جیسے کہ سے روئے زمین کی سلطنت جھن گئی اور جس شخص نے چار بار کی نماز نشے میں چھوڑ دی اللہ تعالیٰ اسے طینتہ الخیال پلائے گا۔ پوچھا گیا کہ یہ کیا ہے ؟ فرمایا جہنمیوں کا لہو پیپ پسینہ پیشاب وغیرہ (مسند احمد) ابو داؤد میں ہے کہ ہر عقل کو ڈھانپنے والی چیز خمر ہے اور ہر نشہ والی چیز حرام ہے اور جو شخص نشے والی چیز پئے گا اس کی چالیس دن کی نمازیں ناقبول ہیں۔ اگر وہ توبہ کرے گا تو توبہ قبول ہوگی اگر اس نے چوتھی مرتبہ شراب پی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور طینتہ الخیال پلائے گا پوچھا گیا وہ کیا ہے ؟ فرمایا جہنمیوں کا نچوڑ اور ان کی پیپ اور جو شخص اسے کسی بچہ کو پلائے گا جو حلال حرام کی تمیز نہ رکھتا ہو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اسے بھی جہنمیوں کا پیپ پلائے۔ بخاری مسلم وغیرہ میں ہے دنیا میں جو شراب پیئے گا اور توبہ نہ کرے گا وہ جنت کی شراب سے محروم رہے گا۔ صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر نشے والی چیز خمر ہے اور ہر نشے والی چیز حرام ہے اور جس شخص نے شراب کی عادت ڈالی اور بےتوبہ مرگیا وہ جنت کی شراب سے محروم رہے گا۔ نسائی وغیرہ میں ہے تین شخصوں کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر رحمت سے نہ دیکھے گا، ماں باپ کا نافرمان، شراب کی عادت والا اور اللہ کی راہ میں دے کر احسان جتلانے والا، مسند احمد میں ہے کہ دے کر احسان جتانے والا، ماں باپ کا نافرمان اور شرابی جنت میں نہیں جائے گا۔ مسند احمد میں اس کے ساتھ ہی ہے کہ زنا کی اولاد بھی، حضرت عثمان بن عفان ؓ تعلای عنہ فرماتے ہیں شراب سے پرہیز کرو وہ تمام برائیوں کی جر ہے۔ سنو اگلے لوگوں میں ایک ولی اللہ تھا جو بڑا عبادت گزر تھا اور تارک دنیا تھا۔ بستی سے الگ تھلگ ایک عبادت خانے میں شب و روز عبادت الٰہی میں مشغول رہا کرتا تھا، ایک بدکار عورت اس کے پیچھے لگ گئی، اس نے اپنی لونڈی کو بھیج کر اسے اپنے ہاں ایک شہادت کے بہانے بلوایا، یہ چلے گئے لونڈی اپنے گھر میں انہیں لے گئی جس دروازے کے اندر یہ پہنچ جاتے پیچھے سے لونڈی اسے بند کرتی جاتی۔ آخری کمرے میں جب گئے تو دیکھا کہ ایک بہت ہی خوبصورت عورت بیٹھی ہے، اس کے پاس ایک بچہ ہے اور ایک جام شراب لبالب بھرا رکھا ہے۔ اس عورت نے اس سے کہا سنئے جناب میں نے آپ کو درحقیقت کسی گواہی کیلئے نہیں بلوایا فی الواقع اس لئے بلوایا ہے کہ یا تو آپ میرے ساتھ بدکاری کریں یا اس بچے کو قتل کردیں یا شراب کو پی لیں درویش نے سوچ کر تینوں کاموں میں ہلکا کام شراب کا پینا جان کر جام کو منہ سے لگا لیا، سارا پی گیا۔ کہنے لگا اور لاؤ اور لاؤ، خوب پیا، جب نشے میں مدہوش ہوگیا تو اس عورت کے ساتھ زنا بھی کر بیٹھا اور اس لڑکے کو بھی قتل کردیا۔ پس اے لوگو ! تم شراب سے بچو سمجھ لو کہ شراب اور ایمان جمع نہیں ہوتے ایک کا آنا دوسرے کا جانا ہے (بیہقی) امام ابوبکر بن ابی الدنیا ؒ نے اپنی کتاب ذم المسکر میں بھی اسے وارد کیا ہے اور اس میں مرفوع ہے لیکن زیادہ صحیح اس کا موقوف ہونا ہے واللہ اعلم، اس کی شاہد بخاری و مسلم کی مرفوع حدیث بھی ہے جس میں ہے کہ زانی زنا کے وقت، چور چوری کے وقت، شرابی شراب خوری کے وقت مومن نہیں رہتا۔ مسند احمد میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جب شراب حرام ہوئی تو صحابہ نے سوال کیا کہ اس کی حرمت سے پہلے جو لوگ انتقال کرچکے ہیں ان کا کیا حکم ہے ؟ اس پر یہ آیت (لیس علی الذین) الخ، نازل ہوئی یعنی ان پر اس میں کوئی حرج نہیں اور جب بیت المقدس کا قبلہ بدلا اور بیت اللہ شریف قبلہ ہوا اس وقت بھی صحابہ نے پہلے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے ہوئے انتقال کر جانے والوں کی نسبت دریافت کیا تو آیت (ماکان اللہ لیضیع ایمانکم) الخ، نازل ہوئی یعنی ان کی نمازیں ضائع نہ ہوں گی۔ مسند احمد میں ہے جو شخص شراب پئے چالیس دن تک اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اس پر رہتی ہے اگر وہ اسی حالت میں مرگیا تو کافر مرے گا ہاں اگر اس نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا اور اگر اس نے پھر بھی شراب پی تو اللہ تعالیٰ دوزخیوں کا فضلہ پلائے گا اور روایت میں ہے کہ جب یہ حکم اترا کہ ایمانداروں پر حرمت سے پہلے پی ہوئی کا کوئی گناہ نہیں تو حضور نے فرمایا مجھ سے کہا گیا ہے کہ تو انہی میں سے ہے۔ مسند احمد میں ہے پانسوں کے کھیل سے بچو یہ عجمیوں کا جوا ہے۔