John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Maaida

Tafsir Ibn Kathir · The Table · 120 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

ایک بےدلیل روایت اور وفائے عہد کی تاکید ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے کہا ! آپ مجھے خاص نصیحت کیجئے۔ آپ نے فرمایا " جب تو قرآن میں لفظ آیت (یا ایھا الذین امنوا) سن لے تو فوراً کان لگا کر دل سے متوجہ ہوجا، کیونکہ اس کے بعد کسی نہ کسی بھلائی کا حکم ہوگا یا کسی نہ کسی برائی سے ممانعت ہوگی۔ " حضرت زہری فرماتے ہیں " جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو کوئی حکم دیا ہے اس حکم میں نبی ﷺ بھی شامل ہیں۔ " حضرت فیثمہ فرماتے ہیں کہ توراۃ میں بجائے (یا ایھا الذین امنوا) کے (یا ایھا المساکین) ہے۔ ایک روایت ابن عباس کے نام سے بیان کی جاتی ہے کہ جہاں کہیں لفظ آیت (یا ایھا الذین امنوا) ہے، ان تمام مواقع پر ان سب ایمان والوں کے سردار و شریف اور امیر حضرت علی ہیں، اصحاب رسول میں سے ہر ایک کو ڈانٹا گیا ہے بجز حضرت علی بن ابو طالب کے کہ انہیں کسی امر میں نہیں ڈانٹا گیا، یاد رہے کہ یہ اثر بالکل بےدلیل ہے۔ اس کے الفاظ منکر ہیں اور اس کی سند بھی صحیح نہیں۔ حضرت امام بخاری ؒ فرماتے ہیں اس کا راوی عیسیٰ بن راشد مجہول ہے، اس کی روایت منکر ہے۔ میں کہتا ہوں اسی طرح اس کا دوسرا راوی علی بن بذیمہ گو ثقہ ہے مگر اعلیٰ درجہ کا شیعہ ہے۔ پھر بھلا اس کی ایسی روایت جو اس کے اپنے خاص خیالات کی تائید میں ہو، کیسے قبول کی جاسکے گی ؟ یقینا وہ اس میں ناقابل قبول ٹھہرے گا، اس روایت میں یہ کہا گیا ہے کہ تمام صحابہ کو بجز حضرت علی کے ڈانٹا گیا، اس سے مراد ان کی وہ آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ نکالنے کا حکم دیا تھا، پس ایک سے زیادہ مفسرین نے کہا ہے کہ اس پر عمل صرف حضرت علی ہی نے کیا اور پھر یہ فرمان اترا کہ آیت (ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ) 58۔ المجادلہ :13) لیکن یہ غلط ہے کہ اس آیت میں صحابہ کو ڈانٹا گیا، بلکہ دراصل یہ حکم بطور واجب کے تھا ہی نہیں، اختیاری امر تھا۔ پھر اس پر عمل ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کردیا۔ پس حقیقتاً کسی سے اس کے خلاف عمل سرزد ہی نہیں ہوا۔ پھر یہ بات بھی غلط ہے کہ حضرت علی کو کسی بات میں ڈانٹا نہیں گیا۔ سورة انفال کی آیت ملاحظہ ہو جس میں ان تمام صحابہ کو ڈانٹا گیا ہے۔ جنہوں نے بدری قیدیوں سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دینے کا مشورہ دیا تھا، دراصل سوائے حضرت عمر بن خطاب ؓ کے باقی تمام صحابہ کا مشورہ یہی تھا پس یہ ڈانٹ بجز حضرت عمر کے باقی سب کو ہے، جن میں حضرت علی بھی شامل ہیں، پس یہ تمام باتیں اس امر کی کھلی دلیل ہیں کہ یہ اثر بالکل ضعیف اور بودا ہے، واللہ اعلم۔ ابن جریر میں حضرت محمد بن سلمہ فرماتے ہیں جو کتاب رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرو بن حزم کو لکھوا کردی تھی جبکہ انہیں نجران بھیجا تھا، اس کتاب کو میں نے ابوبکر بن حزم کے پاس دیکھا تھا اور اسے پڑھا تھا، اس میں اللہ اور رسول کے بہت سے احکام تھے، اس میں آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بالْعُقُوْدِ) 5۔ المائدہ :1) سے آیت (يَسْـــَٔلُوْنَكَ مَاذَآ اُحِلَّ لَهُمْ ۭقُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ ۙوَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِيْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ ۡ فَكُلُوْا مِمَّآ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ) 5۔ المائدہ :4) تک بھی لکھا ہوا تھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت عمرو بن حزم کے پوتے حضرت ابوبکر بن محمد نے فرمایا ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کی یہ کتاب ہے جسے آپ نے حضرت عمرو بن حزم کو لکھ کردی تھی جبکہ انہیں یمن والوں کو دینی سمجھ اور حدیث سکھانے کے لئے اور ان سے زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے یمن بھیجا تھا، اس وقت یہ کتاب لکھ کردی تھی، اس میں عہد و پیمان اور حکم احکام کا بیان یہ۔ اس میں آیت (بسم اللہ الرحمٰن الرحیم) کے بعد لکھا ہے یہ کتاب ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے، ایمان والو وعدوں کو اور عہد و پیمان کو پورا کرو، یہ عہد محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے عمرو بن حزم کے لئے ہے جبکہ انہیں یمن بھیجا انہیں اپنے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کا حکم ہے یقیناً اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے جو اس سے ڈرتے رہیں اور جو احسان خلوص اور نیکی کریں۔ حضرت ابن عباس وغیرہ فرماتے ہیں " عقود سے مراد عہد ہیں۔ " ابن جریر اس پر اجماع بتاتے ہیں۔ خواہ قسمیہ عہد و پیمان ہو یا اور وعدے ہوں، سب کو پورا کرنا فرض ہے۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ " عہد کو پورا کرنے میں اللہ کے حلال کو حلال جاننا، اس کے حرام کو حرام جاننا، اس کے فرائض کی پابندی کرنا، اس کی حد بندی کی نگہداشت کرنا بھی ہے، کسی بات کا خلاف نہ کرو، حد کو نہ توڑو، کسی حرام کام کو نہ کرو، اس پر سختی بہت ہے۔ پڑھو آیت (وَالَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِهٖ وَيَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ ۙ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْۗءُ الدَّارِ) 13۔ الرعد :25)۔ " حضرت ضحاک فرماتے ہیں " اس سے مراد یہ کہ اللہ کے حلال کو، اس کے حرام کو، اس کے وعدوں کو، جو ایمان کے بعد ہر مومن کے ذمہ آجاتے ہیں پورا کرنا اللہ کی طرف سے فرض ہے، فرائض کی پابندی، حلال حرام کی عقیدت مندی وغیرہ وغیرہ " حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں " یہ چھ عہد ہیں، اللہ کا عہد، آپس کی یگانگت کا قسمیہ عہد، شرکت کا عہد، تجارت کا عہد، نکاح کا عہد اور قسمیہ وعدہ " محمد بن کعب کہتے ہیں " پانچ ہیں، جن میں جاہلیت کے زمانہ کی قسمیں ہیں اور شرکت تجارت کے عہد و پیمان ہیں، جو لوگ کہتے ہیں کہ خریدو فروخت پوری ہو چکنے کے بعد گو اب تک خریدا اور بیچنے والے ایک دوسرے سے جدا نہ ہوئے ہوں تاہم واپس لوٹانے کا اختیار نہیں وہ اپنی دلیل اس آیت کو بتلاتے ہیں۔ " امام ابوحنیفہ اور امام مالک کا یہی مذہب ہے، لیکن امام شافعی اور امام احمد اس کے خلاف ہیں اور جمہور علماء کرام بھی اس کے مخالف ہیں، اور دلیل میں وہ صحیح حدیث پیش کرتے ہیں جو صحیح بخاری مسلم میں حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا " خریدو فروخت کرنے والوں کو سودے کے واپس لینے دینے کا اختیار ہے جب تک کہ جدا جدا نہ ہوجائیں " صحیح بخاری شریف کی ایک روایت میں یوں بھی ہے کہ " جب وہ شخصوں نے خریدو فروخت کرلی تو ان میں سے ہر ایک کو دوسرے سے علیحدہ ہونے تک اختیار باقی ہے۔ یہ حدیث صاف اور صریح ہے کہ یہ اختیار خریدو فروخت پورے ہو چکنے کے بعد کا ہے۔ ہاں اسے بیع کے لازم ہوجانے کے خلاف نہ سمجھا جائے بلکہ یہ شرعی طور پر اسی کا مقتضی ہے، پس اسے نبھانا بھی اسی آیت کے ماتحت ضروری ہے۔ پھر فرماتا ہے مویشی چوپائے تمہارے لئے حلال کئے گئے ہیں یعنی اونٹ، گائے، بکری۔ ابو الحسن، قتادہ وغیرہ کا یہی قول ہے۔ ابن جریر فرماتے ہیں " عرب میں ان کے لغت کے مطابق بھی یہی ہے " حضرت ابن عمر حضرت ابن عباس وغیرہ بہت سے بزرگوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ جس حلال مادہ کو ذبح کیا جائے اور اس کے پیٹ میں سے بچہ نکلے گو وہ مردہ ہو پھر بھی حلال ہے۔ ابو داؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے کہ صحابہ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ اونٹنی، گائے، بکری ذبح کی جاتی ہے، ان کے پیٹ سے بچہ نکلتا ہے تو ہم اسے کھا لیں یا پھینک دیں۔ آپ نے فرمایا " اگر چاہو کھالو، اس کا ذبیحہ اس کی ماں کا ذیبحہ ہے۔ " امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں، ابو داؤد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں " پیٹ کے اندر والے بچے کا ذبیحہ اس کی ماں کا ذبیحہ ہے۔ " پھر فرماتا ہے مگر وہ جن کا بیان تمہارے سامنے کیا جائے گا۔ ابن عباس فرماتے ہیں " اس سے مطلب مردار، خون اور خنزیر کا گوشت ہے۔ " حضرت قتادہ فرماتے ہیں " مراد اس سے از خود مرا ہوا جانور اور وہ جانور ہوے جس کے ذبیحہ پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو " پورا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے لیکن بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد اللہ کا فرمان آیت (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوْذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيْحَةُ وَمَآ اَ كَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ ۣ وَمَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ وَاَنْ تَسْـتَقْسِمُوْا بالْاَزْلَامِ ۭذٰلِكُمْ فِسْقٌ ۭ اَلْيَوْمَ يَىِٕسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِيْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ۭ اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا ۭ فَمَنِ اضْطُرَّ فِيْ مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 5۔ المائدہ :3) ہے یعنی تم پر مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور ہر وہ چیز جو اللہ کے سوا دوسرے کے نام پر منسوب و مشہور کی جائے اور جو گلا گھونٹنے سے مرجائے، کسی ضرب سے مرجائے، اونچی جگہ سے گر کر مرجائے اور کسی ٹکر لگنے سے مرجائے، جسے درندہ کھانے لگے پس یہ بھی گو مویشیوں چوپایوں میں سے ہیں لیکن ان وجوہ سے وہ حرام ہوجاتے ہیں اسی لئے اس کے بعد فرمایا لیکن جس کو ذبح کر ڈالو۔ جو جانور پرستش گاہوں پر ذبح کیا جائے، وہ بھی حرام ہے اور ایسا حرام کہ اس میں سے کوئی چیز حلال نہیں، اسی لئے اس سے استدراک نہیں کیا گیا اور حلال کے ساتھ اس کا کوئی فرد ملایا نہیں گیا، پس یہاں یہی فرمایا جا رہا ہے کہ چوپائے مویشی تم پر حلال ہیں لیکن وہ جن کا ذکر ابھی آئے گا۔ بعض احوال میں حرام ہیں، اس کے بعد کا جملہ حالیت کی بناء پر منصوب ہے۔ مراد انعام سے عام ہے بعض تو وہ جو انسانوں میں رہتے پلتے ہیں، جیسے اونٹ، گائے، بکری اور بعض وہ جو جنگلی ہیں جیسے ہرن، نیل گائے اور جنگلی گدھے، پس پالتو جانوروں میں سے تو ان کو مخصوص کرلیا جو بیان ہوئے اور وحشی جانوروں میں سے احرام کی حالت میں کسی کو بھی شکار کرنا ممنوع قرار دیا، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے " ہم نے تمہارے لئے چوپائے جانور ہر حال میں حلال کئے ہیں پس تم احرام کی حالت میں شکار کھیلنے سے رک جاؤ اور اسے حرام جانو " کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے جس طرح اس کے تمام احکام سراسر حکمت سے پر ہیں، اسی طرح اس کی ہر ممانعت میں بھی حکمت ہے، اللہ وہ حکم فرماتا ہے جو ارادہ کرتا ہے۔ ایماندار ! رب کی نشانیوں کی توہین نہ کرو، یعنی مناسک حج، صفا، مروہ، قربانی کے جانور، اونٹ اور اللہ کی حرام کردہ ہر چیز، حرمت والے مہینوں سمیت کسی کی توہین نہ کرو، ان کا ادب کرو، ان کا لحاظ رکھو، ان کی عظمت کو مانو اور ان میں خصوصیت کے ساتھ اللہ کی نافرمانیوں سے بچو اور ان مبارک اور محترم مہینوں میں اپنے دشمنوں سے از خود لڑائی نہ چھیڑو۔ جیسے ارشاد ہے آیت (يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيْهِ ۭ قُلْ قِتَالٌ فِيْهِ كَبِيْرٌ ۭ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَكُفْرٌۢ بِهٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۤ وَ اِخْرَاجُ اَھْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ ۚ وَالْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ۭ وَلَا يَزَالُوْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى يَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِيْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا ۭ وَمَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَيَمُتْ وَھُوَ كَافِرٌ فَاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ) 2۔ البقرۃ :217) اے نبی لوگ تم سے حرمت والے مہینوں میں جنگ کرنے کا حکم پوچھتے ہیں تم ان سے کہو کہ ان میں لڑائی کرنا گناہ ہے اور آیت میں ہے مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ ہے۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت ابوبکر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجتہ الودع میں فرمایا " زمانہ گھوم گھام کر ٹھیک اسی طرز پر آگیا ہے جس پر وہ اس وقت تھا، جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ ماہ کا ہے، جن میں سے چار ماہ حرمت والے ہیں۔ تین تو یکے بعد دیگرے ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم اور چوتھا رجب، جسے قبیلہ مضر رجب کہتا ہے جو جمادی الاخر اور شعبان کے درمیان یہ۔ " اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان مہینوں کی حرمت تاقیامت ہے جیسے کہ سلف کی ایک جماعت کا مذہب ہے آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباس وغیرہ سے یہ مروی ہے کہ ان " مہینوں میں لڑائی کرنا حلال نہ کرلیا کرو۔ " لیکن جمہور کا مذہب یہ ہے کہ یہ حکم منسوخ ہے اور حرمت والے مہینوں میں بھی دشمنان اسلام سے جہاد کی ابتداء کرنا بھی جائز ہے۔ ان کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے آیت (فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَــلُّوْا سَـبِيْلَهُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 9۔ التوبہ :5) یعنی جب حرمت والے مہینے گذر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پاؤ اور مراد یہاں ان چار مہینوں کا گذر جانا ہے، جب وہ چار مہینے گذر چکے جو اس وقت تھے، تو اب ان کے بعد برابر جہاد جاری ہے اور قرآن نے پھر کوئی مہینہ خاص نہیں کیا، بلکہ امام ابو جعفر تو اس پر اجماع نقل کرتے ہیں کہ " اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے جہاد کرنا، ہر وقت اور ہر مہینے میں جاری ہی رکھا ہے۔ " آپ فرماتے ہیں کہ اس پر بھی اجماع ہے کہ " اگر کوئی کافر حرم کے تمام درختوں کی چھال اپنے اوپر لپیٹ لے تب بھی اس کے لئے امن وامان نہ سمجھی جائے گی۔ اگر مسلمانوں نے از خود اس سے پہلے اسے امن نہ دیا ہو۔ " اس مسئلہ کی پوری بحث یہاں نہیں ہوسکتی۔ پھر فرمایا کہ ھدی اور قلائد کی بےحرمتی بھی مت کرو۔ یعنی بیت اللہ شریف کی طرف قربانیاں بھیجنا بند نہ کرو، کیونکہ اس میں اللہ کی نشانوں کی تعظیم ہے اور قربانی کے لئے جو اونٹ بیت الحرام کی طرف بھیجو، ان کے گلے میں بطور نشان پٹا ڈالنے سے بھی نہ رکو۔ تاکہ اس نشان سے ہر کوئی پہچان لے کہ یہ جانور اللہ کے لئے اللہ کی راہ کے لئے وقف ہوچکا ہے اب اسے کوئی برائی سے ہاتھ نہ لگائے گا بلکہ اسے دیکھ کر دوسروں کو بھی شوق پیدا ہوگا کہ ہم بھی اس طرح اللہ کے نام جانور بھیجیں اور اس صورت میں تمہیں اس کی نیکی پر بھی اجر ملے گا کیونکہ جو شخص دوسروں کو ہدایت کی طرف بلائے اسے بھی وہ اجر ملے گا، جو اس کی بات مان کر اس پر عمل کرنے والوں کو ملتا ہے۔ یہ بھی خیال رہے اللہ تعالیٰ ان کے اجر کو کم کر کے اسے نہیں دے گا بلکہ اسے اپنے پاس سے عطا فرمائے گا۔ آنحضرت ﷺ جب حج کے لئے نکلے تو آپ نے وادی عقیق یعنی ذوالحلیفہ میں رات گذاری، صبح اپنی نو بیویوں کے پاس گئے، پھر غسل کر کے خوشبو ملی اور دو رکعت نماز ادا کی اور اپنی قربانی کے جانور کے کوہان پر نشان کیا اور گلے میں پٹہ ڈالا اور حج اور عمرے کا احرام باندھا۔ قربانی کے لئے آپ نے بہت خوش رنگ مضبوط اور نوجوان اونٹ ساٹھ سے اوپر اوپر اپنے ساتھ لئے تھے، جیسے کہ قرآن کا فرمان ہے جو شخص اللہ کے احکام کی تعظیم کرے اس کا دل تقوے والا ہے۔ بعض سلف کا فرمان ہے کہ " تعظیم یہ بھی ہے کہ قربانی کے جانوروں کو اچھی طرح رکھا جائے اور انہیں خوب کھلایا جائے اور مضبوط اور موٹا کیا جائے۔ " حضرت علی بن ابو طالب فرماتے ہیں " ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم قربانی کے جانوروں کی آنکھیں اور کان دیکھ بھال کر خریدیں " (رواہ اہل السنن) مقاتل بن حیان فرماتے ہیں " جاہلیت کے زمانے میں جب یہ لوگ اپنے وطن سے نکلتے تھے اور حرمت والے مہینے نہیں ہوتے تھے تو یہ اپنے اوپر بالوں اور اون کو لپیٹ لیتے تھے اور حرم میں رہنے والے مشرک لوگ حرم کے درختوں کی چھالیں اپنے جسم پر باندھ لیتے تھے، اس سے عام لوگ انہیں امن دیتے تھے اور ان کو مارتے پیٹتے نہ تھے۔ " حضرت ابن عباس سے بروایت حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ اس سورت کی دو آیتیں منسوخ ہیں " آیت قلائد اور یہ آیت (فَاِنْ جَاۗءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ ۚ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَـيْـــًٔـا) 5۔ المائدہ :42) " لیکن حضرت حسن سے جب سوال ہوتا ہے کہ " کیا اس سورت میں سے کوئی آیت منسوخ ہوئی ہے ؟ " تو آپ فرماتے ہیں " نہیں " حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ " وہ لوگ حرم کے درختوں کی چھالیں لٹکا لیا کرتے تھے اور اس سے انہیں امن ملتا تھا، پس اللہ تعالیٰ نے حرم کے درختوں کو کاٹنا منع فرما دیا۔ " پھر فرماتا ہے " جو لوگ بیت اللہ کے ارادے سے نکلے ہوں، ان سے لڑائی مت لڑو۔ یہاں جو آئے وہ امن میں پہنچ گیا، پس جو اس کے قصد سے چلا ہے اس کی نیت اللہ کے فضل کی تلاش اور اس کی رضامندی کی جستجو ہے تو اب اسے ڈر خوف کے دباؤ میں نہ رکھو، اس کی عزت اور ادب کرو اور اسے بیت اللہ سے نہ روکو۔ " بعض کا قول ہے کہ " اللہ کا فضل تلاش کرنے سے مراد تجارت ہے۔ " جیسے اس آیت میں ہے (لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ) 2۔ البقرۃ :198) یعنی زمانہ حج میں تجارت کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ رضوان سے مراد حج کرنے میں اللہ کی مرضی کو تلاش کرنا ہے۔ ابن جریر وغیرہ فرماتے ہیں " یہ آیت خطیم بن ہند، بکری کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس شخص نے مدینہ کی چراگاہ پر دھاوا ڈالا تھا پھر اگلے سال یہ عمرے کے ارادے سے آ رہا تھا تو بعض صحابہ کا ارادہ ہوا کہ اسے راستے میں روکیں، اس پر یہ فرمان نازل ہوا۔ " امام ابن جرید نے اس مسئلہ پر اجماع نقل کیا ہے کہ " جو مشرک مسلمانوں کی امان لئے ہوئے نہ ہو تو چاہے وہ بیت اللہ شریف کے ارادے سے جا رہا ہو یا بیت المقدس کے ارادے سے، اسے قتل کرنا جائز ہے یہ حکم ان کے حق میں منسوخ ہے واللہ اعلم وہاں جو شخص وہاں الحاد پھیلانے کیلئے جا رہا ہے اور شرک و کفر کے ارادے کا قصد کرتا ہو تو اسے روکا جائے گا۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں پہلے مومن و مشرک سب حج کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی ممانعت تھی کہ کسی مومن کافر کو نہ روکو لیکن اس کے بعد یہ آیت اتری کہ (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا ۚ وَاِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖٓ اِنْ شَاۗءَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ) 9۔ التوبہ :28) یعنی مشرکین سراسر نجس ہیں اور وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس بھی نہ آئیں گے اور فرمان ہے آیت (اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَام الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ وَلَمْ يَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰٓى اُولٰۗىِٕكَ اَنْ يَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ) 9۔ التوبہ :18) یعنی مشرکین اللہ کی مسجد کو آباد رکھنے کے ہرگز اہل نہیں فرمان ہے آیت (اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَام الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ وَلَمْ يَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰٓى اُولٰۗىِٕكَ اَنْ يَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ) 9۔ التوبہ :18) یعنی اللہ کی مسجد کو تو صرف وہی آباد رکھ سکتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں۔ پس مشرکین مسجدوں سے روک دیئے گئے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں منسوخ ہے، جاہلیت کے زمانہ میں جب کوئی شخص اپنے گھر سے حج کے ارادے سے نکلتا تو وہ درخت کی چھال وغیرہ باندھ لیتا تو راستے میں اسے کوئی نہ ستاتا، پھر لوٹتے وقت بالوں کا ہار ڈال لیتا اور محفوظ رہتا اس وقت تک مشرکین بیت اللہ سے روکے نہ جاتے تھے، اب مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ حرمت والے مہینوں میں نہ لڑیں اور نہ بیت اللہ کے پاس لڑیں، پھر اس حکم کو اس آیت نے منسوخ کردیا کہ مشرکین سے لڑو جہاں کہیں انہیں پاؤ۔ " ابن جریر کا قول ہے کہ " قلائد سے مراد یہی ہے جو ہار وہ حرم سے گلے میں ڈال لیتے تھے اور اس کی وجہ سے امن میں رہتے تھے، عرب میں اس کی تعظیم برابر چلی آرہی تھی اور جو اس کے خلاف کرتا تھا اسے بہت برا کہا جاتا تھا اور شاعر اس کو ہجو کرتے تھے " پھر فرماتا ہے " جب تم احرام کھول ڈالو تو شکار کرسکتے ہو " احرام میں شکار کی ممانعت تھی، اب احرام کے بعد پھر اس کی اباحت ہوگئی جو حکم ممانعت کے بعد ہو اس حکم سے وہی ثابت ہوتا ہے جو ممانعت سے پہلے اصل میں تھا۔ یعنی اگر وجوب اصلی تھا تو ممانعت کے بعد کا امر بھی وجوب کیلئے ہوگا۔ اور اسی طرح مستحب و مباح کے بارے میں۔ گو بعض نے کہا ہے کہ ایسا امر وجوب کیلئے ہی ہوتا ہے اور بعض نے کہا ہے، صرف مباح ہونے کیلئے ہی ہوتا ہے لیکن دونوں جماعتوں کے خلاف قرآن کی آیتیں موجود ہیں۔ پس صحیح مذہب جس سے تمام دلیلیں مل جائیں وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا اور بعض علماء اصول نے بھی اسے ہی اختیار کیا واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے جس قوم نے تمہیں حدیبیہ والے سال مسجد حرام سے روکا تھا تو تم ان سے دشمنی باندھ کر قصاص پر آمادہ ہو کر اللہ کے حکم سے آگے بڑھ کر ظلم و زیادتی پر نہ اتر آنا، بلکہ تمہیں کسی وقت بھی عدل کو ہاتھ سے نہ چھوڑنا چاہئے۔ اسی طرح کی وہ آیت بھی ہے جس میں فرمایا ہے " تمہیں کسی قسم کی عداوت خلاف عدل کرنے پر آمادہ نہ کر دے۔ عدل کیا کرو، عدل ہی تقوے سے زیادہ قریب ہے۔ " بعض سلف کا قول ہے کہ " گو کوئی تجھ سے تیرے بارے میں اللہ کی نافرمانی کرے لیکن تجھے چاہئے کہ تو اس کے بارے میں اللہ کی فرمانبرداری ہی کرے۔ عدل ہی کی وجہ سے آسمان و زمین قائم ہے۔ " حضور ﷺ کو اور آپ کے اصحاب کو جبکہ مشرکین نے بیت اللہ کی زیارت سے روکا اور حدیبیہ سے آگے بڑھنے ہی نہ دیا، اسی رنج و غم میں صحابہ واپس آ رہے تھے جو مشرقی مشرک مکہ جاتے ہوئے انہیں ملے تو ان کا ارادہ ہوا کہ جیسے ان کے گروہوں نے ہمیں روکا ہم بھی انہیں ان تک نہ جانے دیں۔ اس پر یہ آیت اتری (شنان) کے معنی بغض کے ہیں بعض عرب اسے شنان بھی کہتے ہیں لیکن کسی قاری کی یہ قرأت مروی نہیں، ہاں عربی شعروں میں شنتان بھی آیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنے ایمان والے بندوں کو نیکی کے کاموں پر ایک دوسرے کی تائید کرنے کو فرماتا ہے، بر " کہتے ہیں نیکیاں کرنے کو اور تقویٰ " کہتے ہیں برائیوں کے چھوڑنے کو اور انہیں منع فرماتا ہے گناہوں اور حرام کاموں پر کسی کی مدد کرنے کو ابن جریر فرماتے ہیں جس کام کے کرنے کا اللہ کا حکم ہو اور انسان اسے نہ کرے، یہ اثم " ہے اور دین میں جو حدیں اللہ نے مقرر کردی ہیں جو فرائض اپنی جان یا دوسروں کے بارے میں جناب باری نے مقرر فرمائے ہیں، ان سے آگے نکل جانا عدوان ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے " اپنے بھائی کی مدد کر، خواہ وہ ظالم ہو خواہ مظلوم ہو " تو حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ " یا رسول اللہ ﷺ مظلوم ہونے کی صورت میں مدد کرنا ٹھیک ہے لیکن ظالم ہونے کی صورت میں کیسے مدد کریں ؟ " فرمایا " اسے ظلم نہ کرنے دو ، ظلم سے روک لو، یہی اس وقت کی اس کی مدد ہے " یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے، مسند احمد میں ہے " جو مسلمان لوگوں سے ملے جلے اور دین کے حوالے سے ان کی ایذاؤں پر صبر کرے وہ ان مسلمانوں سے بڑے اجر والا ہے، جو نہ لوگوں سے ملے جلے، نہ ان کی ایذاؤں پر صبر کرے " مسند بزار میں ہے " جو شخص کسی بھلی بات کی دوسرے کو ہدایت کرے وہ اس بھلائی کے کرنے والے جیسا ہی ہے " امام ابوبکر بزار اسے بیان فرما کر فرماتے ہیں کہ " یہ حدیث صرف اسی ایک سند سے مروی ہے۔ " لیکن میں کہتا ہوں اس کی شاہد یہ صحیح حدیث ہے کہ جو شخص ہدایت کی طرف لوگوں کو بلائے، اسے ان تمام کے بابر ثواب ملے گا جو قیامت تک آئیں گے اور اس کی تابعداری کریں گے۔ لیکن ان کے ثواب میں سے گھٹا کر نہیں اور جو شخص کسی کو برائی کی طرف چلائے تو قیامت تک جتنے لوگ اس برائی کو کریں گے۔ ان سب کا جتنا گناہ ہوگا، وہ سارا اس اکیلے کو ہوگا۔ لیکن ان کے گناہ گھٹا کر نہیں۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں " جو شخص کسی ظالم کے ساتھ جائے تاکہ اس کی اعانت و امداد کرے اور وہ جانتا ہو کہ یہ ظالم ہے وہ یقینا دین اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ ،

0

0

شکاری کتے اور شکار چونکہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے نقصان پہنچانے والی خبیث چیزوں کی حرمت کا بیان فرمایا خواہ نقصان جسمانی ہو یا دینی یا دونوں، پھر ضرورت کی حالت کے احکامات مخصوص کرائے گئے جیسے فرمان ہے آیت (وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَيْهِ) 6۔ الانعام :119) یعنی تمام حرام جانوروں کا بیان تفصیل سے تمہارے سامنے آچکا ہے یہ اور بات ہے کہ تم حالات کی بناء پر بےبس اور بےقرار ہوجاؤ۔ تو اس کے بعد ارشاد ہو رہا ہے کہ حلال چیزوں کے دریافت کرنیوالوں سے کہہ دیجئے کہ تمام پاک چیزیں تم پر حلال ہیں، سورة اعراف میں آنحضرت ﷺ کی یہ صفت بیان فرمائی گئی ہے کہ آپ طیب چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور خبیث چیزوں کو حرام کرتے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ قبیلہ طلائی کے دو شخصوں حضرت عدی بن حاتم اور زید بن مہلہل نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ مردہ جانور تو حرام ہوچکا اب حلال کیا ہے ؟ اس پر یہ آیت اتری۔ حضرت سعید فرماتے ہیں یعنی ذبح کئے ہوئے جانور حلال طیب ہیں۔ مقاتل فرماتے ہیں ہر حلال رزق طیبات میں داخل ہے۔ امام زہری سے سوال کیا گیا کہ دوا کے طور پر پیشاب کا پینا کیسا ہے ؟ جواب دیا کہ وہ طیبات میں داخل نہیں۔ امام مالک سے پوچھا گیا کہ اس مٹی کا بیچنا کیسا ہے جسے لوگ کھاتے ہیں فرمایا و طیبات میں داخل نہیں اور تمہارے لئے شکاری جانوروں کے ذریعہ کھیلا ہوا شکار بھی حلال کیا جاتا ہے مثلاً سدھائے ہوئے کتے اور شکرے وغیرہ کے ذریعے۔ یہی مذہب ہے جمہور صحابہ تابعین ائمہ وغیرہ کا۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ شکاری سدھائے ہوئے کتے، باز، چیتے، شکرے وغیرہ ہر وہ پرندہ جو شکار کرنے کی تعلیم دیا جاسکتا ہو اور بھی بہت سے بزرگوں سے یہی مروی ہے کہ پھاڑنے والے جانوروں اور ایسے ہی پرندوں میں سے جو بھی تعلیم حاصل کرلے، ان کے ذریعہ شکار کھیلنا حلال ہے، لیکن حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ انہوں نے تمام شکاری پرندوں کا کیا ہوا شکار مکروہ کہا ہے اور دلیل میں آیت (ۙوَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِيْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ ۡ فَكُلُوْا مِمَّآ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ) 5۔ المائدہ :4) پڑھا ہے سعید بن جبیر سے بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ ضحاک اور سدی کا بھی یہی قول ابن جریر میں مروی ہے۔ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں باز وغیرہ پرند جو شکار پکڑیں اگر وہ تمہیں زندہ مل جائے تو تم ذبح کر کے کھالو ورنہ نہ کھاؤ، لیکن جمہور علماء اسلام کا فتویٰ یہ ہے کہ شکاری پرندوں کے ذریعہ جو شکار ہو، اس کا اور شکاری کتوں کے کئے ہوئے شکار کا ایک ہی حکم ہے، ان میں تفریق کرنے کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ چاروں اماموں وغیرہ کا مذہب بھی یہی ہے، امام ابن جریر بھی اسی کو پسند کرتے ہیں اور اس کی دلیل میں اس حدیث کو لاتے ہیں کہ حضرت عدی بن حاتم نے رسول مقبول ﷺ سے باز کے کئے ہوئے شکار کا مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا " جس جانور کو وہ تیرے لئے روک رکھے تو اسے کھالے " امام احمد نے سیاہ کتے کا کیا ہوا شکار بھی مستثنیٰ کرلیا ہے، اس لئے کہ ان کے نزدیک اس کا قتل کرنا واجب ہے اور پالنا حرام ہے، کیونکہ صحیح مسلم میں حدیث ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں " نماز کو تین چیزیں توڑ دیتی ہیں، گدھا، عورت اور سیاہ کتا۔ اس پر حضرت ابی نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ سیاہ کتے کی خصوصیت کی کیا وجہ ہے ؟ تو آپ نے فرمایا " شیطان ہے۔ " دوسری حدیث میں ہے کہ آپ نے کتوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا پھر فرمایا انہیں کتوں سے کیا واسطہ ؟ ان کتوں میں سے سخت سیاہ کتوں کو مار ڈالا کرو۔ شکاری حیوانات کو جوارح اس لئے کہا گیا کہ جرح کہتے ہیں کسب اور کمائی کو، جیسے عرب کہتے ہیں (فلان جرح اہلہ خیرا) یعنی فلاں شحص نے اپنی اہل کیلئے بھلائی حاصل کرلی اور عرب کہتے ہیں (فلان لا جارح لہ فلاں) شخص کا کوئی کماؤ نہیں، قرآن میں بھی لفظ جرح کسب اور کمائی اور حاصل کرنے کے معنی میں آیا ہے فرمان ہے آیت (وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ) 6۔ الانعام :60) یعنی دن کو جو بھلائی برائی تم حاصل کرتے ہو اور اسے بھی اللہ جانتا ہے۔ اس آیت کریمہ کے اترنے کی وجہ ابن ابی حاتم میں یہ ہے کہ حضور ﷺ نے کتوں کے قتل کرنے کا حکم دیا اور وہ قتل کئے جانے لگے تو لوگوں نے آکر آپ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ جس امت کے قتل کا حکم آپ نے دیا ان سے ہمارے لئے کیا فائدہ حلال ہے ؟ آپ خاموش رہے اس پر یہ آیت اتری۔ پس آپ نے فرمایا جب کوئی شخص اپنے کتے کو شکار کے پیچھے چھوڑے اور بسم اللہ بھی کہے پھر وہ شکار پکڑ لے اور روک رکھے تو جب تک وہ نہ کھائے یہ کھالے۔ ابن جریر میں ہے " جبرائیل نے حضور سے اندر آنے کی اجازت چاہی، آپ نے اجازت دی لیکن وہ پھر بھی اندر نہ آئے تو آپ نے فرمایا اے قاصد رب ہم تو تمہیں اجازت دے چکے پھر کیوں نہیں آتے ؟ اس پر فرشتے نے کہا ! ہم اس گھر میں نہیں جاتے، جس میں کتا ہو، اس پر آپ نے حضرت رافع کو حکم دیا کہ مدینے کے کل کتے مار ڈالے جائیں، ابو رافع فرماتے ہیں، میں گیا اور سب کتوں کو قتل کرنے لگا، ایک بڑھیا کے پاس کتا تھا، جو اس کے دامن میں لپٹنے لگا اور بطور فریاد اس کے سامنے بھونکنے لگا، مجھے رحم آگیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا اور آکر حضور ﷺ کو خبر دی آپ نے حکم دیا کہ اسے بھی باقی نہ چھوڑو، میں پھر واپس گیا اور اسے بھی قتل کردیا، اب لوگوں نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ جس امت کے قتل کا آپ نے حکم دیا ہے، ان سے کوئی فائدہ ہمارے لئے حلال بھی ہے یا نہیں ؟ اس پر آیت (یسألونک) الخ، نازل ہوئی۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ مدینے کے کتوں کو قتل کر کے پھر ابو رافع آس پاس کی بستیوں میں پہنچے اور مسئلہ دریافت کرنیوالوں کے نام بھی اس میں ہیں یعنی حضرت عاصم بن عذی حضرت سعید بن خیثمہ حضرت عمویمر بن ساعدرہ۔ محمد بن کعب قرظی فرماتے ہیں کہ آیت کا شان نزول کتوں کا قتل ہے (مکلبین) کا لفظ ممکن ہے کہ (علمتم) کی ضمیر یعنی فاعل کا حال ہو اور ممکن ہے کہ جوارح یعنی مقتول کا حاصل ہو۔ یعنی جن شکار حاصل کرنے والے جانوروں کو تم نے سدھایا ہو اور حالانکہ وہ شکار کو اپنے پنجوں اور ناخنوں سے شکار کرتے ہوں، اس سے بھی یہ استدلال ہوسکتا ہے کہ شکاری جانور جب شکار کو اپنے صدمے سے ہی دبوچ کر مار ڈالے تو وہ حلال نہ ہوگا جیسے کہ امام شافعی کے دونوں قولوں میں سے ایک قول ہے اور علماء کی ایک جماعت کا خیال ہے۔ اسی لئے فرمایا تم نے انہیں اس سے کچھ سکھا دیا ہو جو اللہ نے تمہیں لکھا رکھا ہے " یعنی جب تم چھوڑو، جائے، جب تم روک لو رک جائے اور شکار پکڑ کر تمہارے لئے روک رکھے۔ تاکہ تم جا کر اسے لے لو، اس نے خود اپنے لئے اسے شکار نہ کیا ہو، اس لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ جب شکاری جانور سدھایا ہوا ہو اور اس نے اپنے چھوڑنے والے کیلئے شکار کیا ہو اور اس نے بھی اس کے چھوڑنے کے وقت اللہ کا نام لیا ہو تو وہ شکار مسلمانوں کیلئے حلال ہے گو وہ شکار مر بھی گیا ہو، اس پر اجماع ہے۔ اس آیت کے مسئلہ کے مطابق ہی بخاری و مسلم کی یہ حدیث ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں اللہ کا نام لے کر اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں تو آپ نے فرمایا جس جانور کو وہ پکڑ رکھے تو اسے کھالے اگرچہ کتے نے اسے مار بھی ڈالا ہو، ہاں یہ ضرور ہے کہ اس کے ساتھ شکار کرنے میں دوسرا کتا نہ ملا ہو اس لئے کہ تو نے اپنے کتے کو اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہے دوسرے کو بسم اللہ پڑھ کر نہیں چھوڑا میں نے کہا کہ میں نوکدار لکڑی سے شکار کھیلتا ہوں فرمایا اگر وہ اپنی تیزی کی طرف سے زخمی کرے تو کھالے اور اگر اپنی چوڑائی کی طرف سے لگا ہو تو نہ کھا کیونکہ وہ لٹھ مارا ہوا ہے، دوسری روایت میں یہ لفظ ہیں کہ جب تو اپنے کتے کو چھوڑے تو اللہ کا نام پڑھ لیا کر پھر وہ شکار کو تیرے لئے پکڑ رکھے اور تیرے پہنچ جانے پر شکار زندہ مل جائے تو تو اسے ذبح کر ڈال اور اگر کتے نے ہی اسے مار ڈالا ہو اور اس میں سے کھایا نہ ہو تو تو اسے بھی کھا سکتا ہے اس لئے کہ کتے کا اسے شکار کرلینا ہی اس کا ذبیحہ ہے اور روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ " اگر اس نے کھالیا ہو تو پھر اسے نہ کھا، مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں اس نے اپنے کھانے کیلئے شکار نہ پکڑا ہو ؟ " یہی دلیل جمہور کی ہے اور حقیقتاً امام شافعی کا صحیح مذہب بھی یہی ہے کہ جب کتا شکار کو کھالے تو وہ مطلق حرام ہوجاتا ہے اس میں کوئی گنجاش نہیں جیسا کہ حدیث میں ہے۔ ہاں سلف کی ایک جماعت کا یہ قول بھی ہے کہ مطلقاً حلال ہے۔ ان کے دلائل یہ ہیں۔ سلمان فارسی فرماتے ہیں تو کھا سکتا ہے اگرچہ کتے نے تہائی حصہ کھالیا ہو، حضرت سعید بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ گو ایک ٹکڑا ہی باقی رہ گیا ہو پھر بھی کھا سکتے ہیں۔ حضرت سعد بن ابی وقاض فرماتے ہیں گو دو تہائیاں کتا کھا گیا ہو پھر بھی تو کھا سکتا ہے، حضرت ابوہریرہ کا بھی یہی فرمان ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں جب بسم اللہ کہہ کر تو نے اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑا ہو تو جس جانور کو اس نے تیرے لئے پکڑ رکھا ہے تو اسے کھالے کتے نے اس میں سے کھایا ہو یا نہ کھایا ہو، یہی مروی ہے حضرت علی اور حضرت ابن عباس سے۔ حضرت عطاء اور حضرت حسن بصری سے اس میں مختلف اقوال مروی ہیں، زہری ربیعہ اور مالک سے بھی یہی روایت کی گئی ہے، اسی کی طرف امام شافعی اپنے پہلے قول میں گئے ہیں اور نئے قول میں اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ حضرت سلمان فارسی سے ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جب کوئی شخص اپنے کتے کو شکار پر چھوڑے پھر شکار کو اس حالت میں پائے کہ کتے نے اسے کھالیا ہو تو جو باقی ہو اسے وہ کھا سکتا ہے۔ اس حدیث کی سند میں بقول ابن جریر نظر ہے اور سعید راوی کا حضرت سلمان سے سننا معلوم نہیں ہوا اور دوسرے ثقہ راوی اسے مرفوع نہیں کرتے بلکہ حضرت سلمان کا قول نقل کرتے ہیں یہ قول ہے تو صحیح لیکن اسی معنی کی اور مرفوع حدیثیں بھی مروی ہیں، ابو داؤد میں ہے حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک اعرابی ابو ثعلبہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ حضور ﷺ میرے پاس شکاری کتے سدھائے ہوئے ہیں ان کے شکار کی نسبت کیا فتویٰ ہے ؟ آپ نے فرمایا جو جانور وہ تیرے لئے پکڑیں وہ تجھ پر حلال ہے، اس نے کہا ذبح کرسکوں جب بھی اور ذبح نہ کرسکوں تو بھی ؟ اور اگرچہ کتے نے کھالیا ہو تو بھی ؟ آپ نے فرمایا ہاں گو کھا بھی لیا ہو، انہوں نے دوسرا سوال کیا کہ میں اپنے تیر کمان سے جو شکار کروں اس کا کیا فتویٰ ہے ؟ فرمایا اسے بھی تو کھا سکتا ہے، پوچھا اگر وہ زندہ ملے اور میں اسے ذبح کرسکوں تو بھی اور تیر لگتے ہی مرجائے تو بھی ؟ فرمایا بلکہ گو وہ تجھے نظر نہ پڑے اور ڈھونڈنے سے مل جائے تو بھی۔ بشرطیکہ اس میں کسی دوسرے شخص کے تیر کا نشان نہ ہو، انہوں نے تیسرا سوال کیا کہ بوقت ضرورت مجوسیوں کے برتنوں کا استعمال کرنا ہمارے لئے کیسا ہے ؟ فرمایا تم انہیں دھو ڈالو پھر ان میں کھا پی سکتے ہو۔ یہ حدیث نسائی میں بھی ہے ابو داؤد کی دوسری حدیث میں ہے جب تو نے اپنے کتے کو اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہو تو تو اس کے شکار کو کھا سکتا ہے گو اس نے اس میں سے کھا بھی لیا ہو اور تیرا ہاتھ جس شکار کو تیرے لئے لایا ہو اسے بھی تو کھا سکتا ہے۔ ان دونوں احادیث کی سندیں بہت ہی اعلیٰ اور عمدہ ہیں اور حدیث میں ہے کہ تیرا سدھایا ہوا کتا جو شکار تیرے لئے کھیلے تو اسے کھالے، حضرت عدی نے پوچھا اگرچہ اس نے اس میں سے کھالیا ہو فرمایا ہاں پھر بھی، ان آثار اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ شکاری کتے نے شکار کو گو کھالیا ہو تاہم بقیہ شکار شکاری کھا سکتا ہے۔ کتے وغیرہ کے کھائے ہوئے شکار کو حرام نہ کہنے والوں کے یہ دلائل ہیں۔ ایک اور جماعت ان دونوں جماعتوں کے درمیان ہے وہ کہتی ہے کہ اگر شکار پکڑتے ہی کھانے بیٹھ گیا تو بقیہ حرام اور اگر شکار پکڑ کر اپنے مالک کا انتظار کیا اور باوجود خاصی دیر گزر جانے کے اپنے مالک کو نہ پایا اور بھوک کی وجہ سے اسے کھالیا تو بقیہ حلال۔ پہلی بات پر محمول ہے حضرت عدی والی حدیث اور دوسری پر محمول ہے ابو ثعلبہ والی حدیث میں۔ یہ فرق بھی بہت اچھا ہے اور اس سے دو صحیح حدیثیں بھی جمع ہوجاتی ہیں۔ استاذ ابو المعالی جوینی نے اپنی کتاب نہایہ میں یہ تمنا ظاہر کی تھی کہ کاش کوئی اس بارے میں یہ وضاحت کرے تو الحمد اللہ یہ وضاحت لوگوں نے کرلی۔ اس مسئلہ میں ایک چوتھا قول بھی ہے وہ یہ کہ کتے کا کھایا ہوا شکار تو حرام ہے جیسا کہ حضرت عدی کی حدیث میں ہے، اور شکرے وغیرہ کا کھایا ہوا شکار حرام نہیں اس لئے کہ وہ تو کھانے سے ہی تعلیم قبول کرتا ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ اگر پرند اپنے مالک کے پاس لوٹ آیا اور مار سے نہیں پھر وہ پر نوچے اور گوشت کھائے تو کھالے۔ ابراہیم نخعی، شعبی، حماد بن سلیمان یہی کہتے ہیں ان کی دلیل ابن ابی حاتم کی یہ روایت ہے کہ حضرت عدی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ ہم لوگ کتوں اور باز سے شکار کھیلا کرتے ہیں تو ہمارے لئے کیا حلال ہے ؟ آپ نے فرمایا جو شکاری جانور یا شکار حاصل کرنے والے خود شکار کرنے والے اور سدھائے ہوئے تمہارے لئے شکار روک رکھیں اور تم نے ان پر اللہ کا نام لے لیا ہو اسے تم کھالو۔ پھر فرمایا جسے کتے کو تو نے اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہو وہ جس جانور کو روک رکھے تو اسے کھالے میں نے کہا گو اسے مار ڈالا ہو فرمایا گو مار ڈالا ہو لیکن یہ شرط ہے کہ کھایا نہ ہو میں نے کہا اگر اس کتے کے ساتھ دوسرے کتے بھی مل گئے ہوں ؟ تو ؟ فرمایا پھر نہ کھا جب تک کہ تجھے اس بات کا پورا اطمینان نہ ہو کہ تیرے ہی کتے نے شکار کیا ہے۔ میں نے کہا ہم لوگ تیر سے بھی شکار کیا کرتے ہیں اس میں سے کونسا حلال ہے ؟ فرمایا جو تیر زخمی کرے اور تو نے اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہو اسے کھالے، وجہ دلالت یہ ہے کہ کتے میں نہ کھانے کی شرط آپ نے بتائی اور باز میں نہیں بتائی، پس ان دونوں میں فرق ثابت ہوگیا واللہ اعلم۔ اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ تم کھالو جن حلال جانوروں کو تمہارے یہ شکاری جانور پکڑ لیں اور تم نے ان کے چھوڑنے کے وقت اللہ کا نام لے لیا ہو۔ جیسے کہ حضرت عدی اور حضرت ابو ثعلبہ کی حدیث میں ہے اسی لئے حضرت امام احمد وغیرہ اماموں نے یہ شرط ضروری بتلائی ہے کہ شکار کیلئے جانور کو چھوڑتے وقت اور تیر چلاتے وقت بسم اللہ پڑھنا شرط ہے۔ جمہوری کا مشہور مذہب بھی یہی ہے کہ اس آیت اور اس حدیث سے مراد جانور کے چھوڑنے کا وقت ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ اپنے شکاری جانور کو بھیجتے وقت بسم اللہ کہہ لے ہاں اگر بھول جائے تو کوئی حرج نہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مراد کھانے کے وقت بسم اللہ پڑھنا ہے۔ جیسے کہ بخاری و مسلم میں عمر بن ابو سلمہ کے ربیبہ کو حضور ﷺ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ اللہ کا نام لے اور اپنے داہنے ہاتھ سے اپنے سامنے سے کھا۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے حضور ﷺ سے پوچھا لوگ ہمارے پاس جو لوگ گوشت لاتے ہیں وہ نو مسلم ہیں ہمیں اس کا علم نہیں ہوتا کہ انہوں نے اللہ کا نام لیا بھی ہے یا نہیں ؟ تو کیا ہم اسے کھا لیں آپ نے فرمایا تم خود اللہ کا نام لے لو اور کھالو۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ چھ صحابہ کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے کہ ایک اعرابی نے آ کردو لقمے اس میں سے اٹھائے آپ نے فرمایا اگر یہ بسم اللہ کہہ لیتا تو یہ کھانا تم سب کو کافی ہوجاتا تم میں سے جب کوئی کھانے بیٹھے تو بسم اللہ پڑھ لیا کرے اگر اول میں بھول گیا تو جب یاد آجائے کہہ دے دعا (بسم اللہ اولہ و اخرہ) یہی حدیث منقطع سند کے ساتھ ابن ماجہ میں بھی ہے۔ دوسری سند سے یہ حدیث ابو داؤد، ترمذی، نسائی اور مسند احمد میں ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ جابربن صبیح فرماتے ہیں۔ حضرت مثنی بن عبدالرحمن خزاعی کے ساتھ میں نے واسط کا سفر کیا ان کی عادت یہ تھی کہ کھانا شروع کرتے وقت بسم اللہ کہہ لیتے اور آخری لقمہ کے وقت دعا (بسم اللہ اولہ اخرہ) کہہ لیا کرتے اور مجھ سے انہوں نے فرمایا کہ خالد بن امیہ بن مخشی صحابی کا فرمان ہے کہ شیطان اس شخص کے ساتھ کھانا کھاتا رہتا ہے جس نے اللہ کا نام نہ لیا ہو جب کھانے والا اللہ کا نام یاد کرتا ہے تو اسے قے ہوجاتی ہے اور جتنا اس نے کھایا ہے سب نکل جاتا ہے (مسند احمد وغیرہ) اس کے راوی کو ابن معین اور نسائی تو ثقہ کہتے ہیں لیکن ابو الفتح ازوی فرماتے ہیں یہ دلیل لینے کے قابل راوی نہیں۔ حضرت حذیفہ فرماتے ہیں ہم نبی ﷺ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ ایک لڑکی گرتی پڑتی آئی، جیسے کوئی اسے دھکے دے رہا ہو اور آتے ہی اس نے لقمہ اٹھانا چاہا حضور ﷺ نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور ایک اعرابی بھی اسی طرح آیا اور پیالے میں ہاتھ ڈالا آپ نے اس کا ہاتھ بھی اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور فرمایا جب کسی کھانے پر بسم اللہ نہ کہی جائے تو شیطان اسے اپنے لئے حلال کرلیتا ہے وہ پہلے تو اس لڑکی کے ساتھ آیا تاکہ ہمارا کھانا کھائے تو میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا پھر وہ اعرابی کے ساتھ میں نے اس کا بھی ہاتھ تھام لیا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ شیطان کا ہاتھ ان دونوں کے ہاتھ کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے (مسند، مسلم، ابو داؤد، نسائی) مسلم، ابو داؤد، نسائی اور ابن ماجہ میں ہے کہ جب انسان اپنے گھر میں جاتے ہوئے اور کھانا کھاتے ہوئے اللہ کا نام یاد کرلیا کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ اسے شیطانو نہ تو تمہارے لئے رات گزارنے کی جگہ ہے نہ اس کا کھانا اور جب وہ گھر میں جاتے ہوئے کھاتے ہوئے اللہ کا نام نہیں لیتا تو وہ پکار دیتا ہے کہ تم نے شب باشی کی اور کھانا کھانے کی جگہ پالی۔ مسند، ابو داؤد اور ابن ماجہ میں ہے کہ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں شکایت کی کہ ہم کھاتے ہیں اور ہمارا پیٹ نہیں بھرتا تو آپ نے فرمایا شاید تم الگ الگ کھاتے ہو گے کھانا سب مل کر کھاؤ اور بسم اللہ کہہ لیا کرو اس میں اللہ کی طرف سے برکت دی جائے گی۔

ذبیحہ کس نام اور کن ہاتھوں کا حلال ہے ؟ حلال و حرام کے بیان کے بعد بطور خلاصہ فرمایا کہ کل ستھری چیزیں حلال ہیں، پھر یہود و نصاریٰ کے ذبح کئے ہوئے جانوروں کی حلت بیان فرمائی۔ حضرت ابن عباس، ابو امامہ، مجاہد، سعید بن جبیر، عکرمہ، عطاء، حسن، مکحول، ابراہیم، نخعی، سدی، مقاتل بن حیان یہ سب یہی کہتے ہیں کہ طعام سے مراد ان کا اپنے ہاتھ سے ذبح کیا ہوا جانور ہے، جس کا کھانا مسلمانوں کو حلال ہے، علماء اسلام کا اس پر مکمل اتفاق ہے کہ ان کا ذبیحہ ہمارے لئے حلال ہے، کیونکہ وہ بھی غیر اللہ کیلئے ذبح کرنا ناجائز جانتے ہیں اور ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا دوسرے کا نام نہیں لیتے گو ان کے عقیدے ذات باری کی نسبت یکسر اور سراسر باطل ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ بلند وبالا اور پاک و منزہ ہے۔ صحیح حدیث میں حضرت عبداللہ بن مغفل کا بیان ہے کہ جنگ خیبر میں مجھے چربی کی بھری ہوئی ایک مشک مل گئی، میں نے اسے قبضہ میں کیا اور کہا اس میں سے تو آج میں کسی کو بھی حصہ نہ دونگا، اب جو ادھر ادھر نگاہ پھرائی تو دیکھتا ہوں کہ رسول کریم ﷺ میرے پاس ہی کھڑے ہوئے تبسم فرما رہے ہیں۔ اس حدیث سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ مال غنیمت میں سے کھانے پینے کی ضروری چیزیں تقسیم سے پہلے بھی لے لینی جائز ہیں اور یہ استدلال اس حدیث سے صاف ظاہر ہے، تینوں مذہب کے فقہاء نے مالکیوں پر اپنی سند پیش کی ہے اور کہا ہے کہ تم جو کہتے ہو کہ اہل کتاب کا وہی کھانا ہم پر حلال ہے جو خود ان کے ہاں بھی حلال ہو یہ غلط ہے کیونکہ چربی کو یہودی حرام جانتے ہیں لیکن مسلمان کیلئے حلال ہے لیکن یہ ایک شخص کا انفرادی واقعہ ہے۔ البتہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ وہ چربی ہو جسے خود یہودی بھی حلال جانتے تھے یعنی پشت کی چربی انتڑیوں سے لگی ہوئی چربی اور ہڈی سے ملی ہوئی چربی، اس سے بھی زیادہ دلالت والی تو وہ روایت ہے جس میں ہے کہ خیبر والوں نے سالم بھنی ہوئی ایک بکری حضور ﷺ کو تحفہ میں دی جس کے شانے کے گوشت کو انہوں نے زہر آلود کر رکھا تھا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ حضور ﷺ کو شانے کا گوشت پسند ہے، چناچہ آپ نے اس کا یہی گوشت لے کر منہ میں رکھ کر دانتوں سے توڑا تو فرمان باری سے اس شانے نے کہا، مجھ میں زہر ملا ہوا ہے، آپ نے اسی وقت اسے تھوک دیا اور اس کا اثر آپ کے سامنے کے دانتوں وغیرہ میں رہ گیا، آپ کے ساتھ حضرت بشر بن براء بن معرور بھی تھے، جو اسی کے اثر سے راہی بقاء ہوئے، جن کے قصاص میں زہر ملانے والی عورت کو بھی قتل کیا گیا، جس کا نام زینب تھا، وجہ دلالت یہ ہے کہ خود حضور ﷺ نے مع اپنے ساتھیوں کے اس گوشت کے کھانے کا پختہ ارادہ کرلیا اور یہ نہ پوچھا کہ اس کی جس چربی کو تم حلال جانتے ہو اسے نکال بھی ڈالا ہے یا نہیں ؟ اور حدیث میں ہے کہ ایک یہودی نے آپ کی دعوت میں جو کی روٹی اور پرانی سوکھی چربی پیش کی تھی، حضرت مکحول فرماتے ہیں جس چیز پر نام رب نہ لیا جائے اس کا کھانا حرام کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر رحم فرما کر منسوخ کر کے اہل کتاب کے ذبح کئے جانور حلال کر دئے یہ یاد رہے کہ اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جس جانور پر بھی نام الٰہی نہ لیا جائے وہ حلال ہو ؟ اس لئے کہ وہ اپنے ذبیحوں پر اللہ کا نام لیتے تھے بلکہ جس گوشت کو کھاتے تھے اسے ذبیحہ پر موقوف نہ رکھتے تھے بلکہ مردہ جانور بھی کھالیتے تھے لیکن سامرہ اور صائبہ اور ابراہیم وشیث وغیرہ پیغمبروں کے دین کے مدعی اس سے مستثنیٰ تھے، جیسے کہ علماء کے دو اقوال میں سے ایک قول ہے اور عرب کے نصرانی جیسے بنو تغلب، تنوخ بہرا، جذام لحم، عاملہ کے ایسے اور بھی ہیں کہ جمہور کے نزدیک ان کے ہاتھ کا کیا ہوا ذبیحہ نہیں کھایا جائے گا۔ حضرت علی فرماتے ہیں قبیلہ بنو تغلب کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور نہ کھاؤ، اس لئے کہ انہوں نے تو نصرانیت سے سوائے شراب نوشی کے اور کوئی چیز نہیں لی، ہاں سعید بن مسیب اور حسن بنو تغلب کے نصاریٰ کے ہاتھوں ذبح کئے ہوئے جانور کے کھا لینے میں کوئی حرج نہیں جانتے تھے، باقی رہے مجوسی ان سے گو جزیہ لیا گیا ہے کیونکہ انہیں اس مسئلہ میں یہود و نصاریٰ میں ملا دیا گیا ہے اور ان کا ہی تابع کردیا گیا ہے، لیکن ان کی عورتوں سے نکاح کرنا اور ان کے ذبح کئے ہوئے جانور کا کھانا ممنوع ہے۔ ہاں ابو ثور ابراہیم بن خالد کلبی جو شافعی اور احمد کے ساتھیوں میں سے تھے، اس کے خلاف ہیں، جب انہوں نے اسے جائز کہا اور لوگوں میں اس کی شہرت ہوئی تو فقہاء نے اس قول کی زبردست تردید کی ہے۔ یہاں تک کہ حضرت امام احمد بن حنبل نے تو فرمایا کہ ابو ثور اس مسئلہ میں اپنے نام کی طرح ہی ہے یعنی بیل کا باپ، ممکن ہے ابو ثور نے ایک حدیث کے عموم کو سامنے رکھ کر یہ فتویٰ دیا ہو جس میں حکم ہے کہ مجوسیوں کے ساتھ اہل کتاب کا سا طریقہ برتو لیکن اولاً تو یہ روایت ان الفاظ سے ثابت ہی نہیں دوسرے یہ روایت مرسل ہے، ہاں البتہ صحیح بخاری شریف میں صرف اتنا تو ہے کہ ہجر کے مجوسیوں سے رسول اللہ ﷺ نے جزیہ لیا۔ علاوہ ان سب کے ہم کہتے ہیں کہ ابو ثور کی پیش کردہ حدیث کو اگر ہم صحیح مان لیں، تو بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کے عموم سے بھی اس آیت میں حکم امتناعی کو دلیل بنا کر اہل کتاب کے سوا اور دین والوں کا ذبیحہ بھی ہمارے لئے حرام ثابت ہوتا ہے، پھر فرماتا ہے کہ تمہارا ذبیحہ بھی ہمارے لئے حرام ثابت ہوسکتا ہے، پھر فرماتا ہے کہ تمہارا ذبیحہ ان کیلئے حلال ہے یعنی تم انہیں اپنا ذبیحہ کھلا سکتے ہو۔ یہ اس امر کی خبر نہیں کہ ان کے دین میں ان کیلئے تمہارا ذبیحہ حلال ہے ہاں زیادہ سے زیادہ اتنا کہا جاسکتا ہے کہ یہ اس بات کی خبر ہو کہ انہیں بھی ان کی کتاب میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جس جانور کا ذبیحہ اللہ کے نام پر ہوا ہو اسے وہ کھا سکتا ہے بلحاظ اس سے کہ ذبح کرنے والا انہیں میں سے ہو یا ان کے سوا کوئی اور ہو، لیکن زیادہ باوزن بات پہلی ہی ہے۔ یعنی یہ کہ تمہیں اجازت ہے کہ انہیں اپنا ذبیحہ کھلاؤ جیسے کہ ان کے ذبح کئے ہوئے جانور تم کھالیتے ہو۔ یہ گویا اول بدل کے طور پر ہے، جس طرح حضور ﷺ نے عبداللہ بن ابی بن سلول منافق کو اپنے خاص کرتے ہیں کفن دیا جس کی وجہ سے بعض حضرات نے یہ بیان کیا ہے کہ اس نے آپ کے چچا حضرت عباس کو اپنا کرتا دیا تھا جب وہ مدینے میں آئے تھے تو آپ نے اس کا بدلہ چکا دیا۔ ہاں ایک حدیث میں ہے کہ مومن کے سوا کسی اور کی ہم نشینی نہ کر اور اپنا کھانا بجز پرہیزگاروں کے اور کسی کو نہ کھلا اسے اس بدلے کے خلاف نہ سمجھنا چاہئے، ہوسکتا ہے کہ حدیث کا یہ حکم بطور پسندیدگی اور افضلیت کے ہو، واللہ اعلم۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ پاک دامن مومن عورتوں سے نکاح کرنا تمہارے لئے حلال کردیا گیا ہے یہ بطور تمہید کے ہے اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ تم سے پہلے جنہیں کتاب دی گئی ہے ان کی عفیفہ عورتوں سے بھی نکاح تمہیں حلال ہے۔ یہ قول بھی ہے کہ مراد محصنات سے آزاد عورتیں ہیں یعنی لونڈیاں نہ ہوں۔ یہ قول حضرت مجاہد کی طرف منسوب ہے اور حضرت مجاہد کے الفاظ یہ ہیں کہ محصنات سے آزاد مراد ہیں اور جب یہ ہے تو جہاں اس قول کا وہ مطلب لیا جاسکتا ہے کہ لونڈیاں اس سے خارج ہیں وہاں یہ معنی بھی لئے جاسکتے ہیں کہ پاک دامن عفت شعار، جیسے کہ انہی سے دوسری روایت ان ہی لفظوں میں موجود ہے، جمہور بھی کہتے ہیں اور یہ زیادہ ٹھیک بھی ہے۔ تاکہ ذمیہ ہونے کے ساتھ ہی غیر عفیفہ ہونا شامل ہو کر بالکل ہی باعث فساد نہ بن جائے اور اس کا خاوند صرف فضول بھرتی کے طور پر بری رائے پر نہ چل پڑے پس بظاہر یہی ٹھیک معلوم ہوتا ہے کہ محصنات سے مراد عفت مآب اور بدکاری سے بچاؤ والیاں ہی لی جائیں، جیسے دوسری آیت میں محصنات کے ساتھ ہی آیت (غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ وَلَا مُتَّخِذِيْٓ اَخْدَانٍ) 5۔ المائدہ :5) آیا ہے۔ علماء اور مفسرین کا اس میں بھی اختلاف ہے کہ کیا آیت ہر کتابیہ عفیفہ عورت پر مشتمل ہے ؟ خواہ وہ آزاد ہو خواہ لونڈی ہو ؟ ابن جریر میں سلف کی ایک جماعت سے اسے نقل کیا ہے جو کہتے ہیں کہ محصنات سے مراد پاک دامن ہے، ایک قول یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں مراد اہل کتاب سے اسرائیلی عورتیں ہیں، امام شافعی کا یہی مذہب ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ذمیہ عورتیں ہیں سوائے آزاد عورتوں کے اور دلیل یہ آیت ہے (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَلَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ) 9۔ التوبہ :29) یعنی ان سے لڑو جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے، چناچہ حضرت عبداللہ بن عمر نصرانیہ عورتوں سے نکاح کرنا جائز نہیں جانتے تھے اور فرماتے تھے اس سے بڑا شرک کیا ہوگا ؟ کہ وہ کہتی ہو کہ اس کا رب عیسیٰ ہے اور جب یہ مشرک ٹھہریں تو نص قرآنی موجود ہے کہ آیت (وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ ۭوَلَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّلَوْ اَعْجَبَـتْكُمْ ۚ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتّٰى يُؤْمِنُوْا) 2۔ البقرۃ :221) یعنی مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں، ابن ابی حاتم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ جب مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرنے کا حکم نازل ہوا تو صحابہ ان سے رک گئے یہاں تک کہ اس کے بعد کی آیت اہل کتاب کی پاکدامن عورتوں سے نکاح کرنے کی رخصت نازل ہوئی تو صحابہ نے اہل کتاب عورتوں سے نکاح کئے اور صحابہ کی ایک جماعت سے ایسے نکاح اسی آیت کو دلیل بنا کر کرنے ثابت ہیں تو گویا پہلے سورة بقرہ کی آیت کی ممانعت میں یہ داخل تھیں لیکن دوسری آیت نے انہیں مخصوص کردیا۔ یہ اس وقت جب یہ مان لیا جائے کہ ممانعت والی آیت کے حکم میں یہ بھی داخل تھیں ورنہ ان دونوں آیتوں میں کوئی معارض نہیں، اس لئے کہ اور بھی بہت سی آیتوں میں عام مشرکین سے انہیں الگ بیان کیا گیا ہے جیسے آیت لم یکن الذین کفروا۔ (وَقُلْ لِّلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْاُمِّيّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ ۭ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا ۚ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ) 3۔ آل عمران :20) پھر فرماتا ہے جب تم انہیں ان کے مقررہ مہر دے دو وہ اپنے نفس کو بچانے والیاں ہوں اور تم ان کے مہر ادا کرنے والے ہو، حضرت جابر بن عبداللہ عامر شعبی ابراہیم نخعی حسن بصری کا فتویٰ ہے کہ جب کسی شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اور دخول سے پہلے اس نے بدکاری کی تو میاں بیوی میں تفریق کرا دی جائے گی اور جو مہر خاوند نے عورت کو دیا ہے اسے واپس دلوایا جائے گا (ابن جریر) پھر فرماتا ہے تم بھی پاک دامن عفت مآب ہو اور علانیہ یا پوشیدہ بدکار نہ ہوؤ۔ پس عورتوں میں جس طرح پاک دامن اور عفیفہ ہونے کی شرط لگائی تھی مردوں میں بھی یہی شرط لگائی اور ساتھ ہی فرمایا کہ وہ کھلے بدکار نہ ہوں کہ ادھر ادھر منہ مارتے پھرتے ہوں اور نہ ایسے ہوں کہ خاص تعلق سے حرام کاری کرتے ہوں۔ سورة نساء میں بھی اسی کے تماثل حکم گزر چکا ہے۔ حضرت امام احمد اسی طرف گئے ہیں کہ زانیہ عورتوں سے توبہ سے پہلے ہرگز کسی بھلے آدمی کو نکاح کرنا جائز نہیں، اور یہی حکم ان کے نزدیک مردوں کا بھی ہے کہ بدکار مردوں کا نکاح نیک کار عفت شعار عورتوں سے بھی ناجائز ہے جب تک وہ سچی توبہ نہ کریں اور اس رذیل فعل سے باز نہ آجائیں۔ ان کی دلیل ایک حدیث بھی ہے جس میں ہے کوڑے لگایا ہوا زانی اپنے جیسی سے ہی نکاح کرسکتا ہے۔ خلیفتہ المومنین حضرت عمر فاروق نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میں ارادہ کر رہا ہوں کہ جو مسلمان کوئی بدکاری کرے میں اسے ہرگز کسی مسلمان پاک دامن عورت سے نکاح نہ کرنے دوں۔ اس پر حضرت ابی بن کعب نے عرض کی کہ اے امیر المومنین شرک اس سے بہت بڑا ہے اس کے باوجود بھی اس کی توبہ قبول ہے۔ اس مسئلے کو ہم آیت (اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوْ مُشْرِكَةً ۡ وَّالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَآ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ) 24۔ النور :3) کی تفسیر میں پوری طرح بیان کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ آیت کے خاتمہ پر ارشاد ہوتا ہے کہ کفار کے اعمال اکارت ہیں اور وہ آخرت میں نقصان یافتہ ہیں۔

وضو اور غسل کے احکامات اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ حکم وضو اس وقت ہے جب کہ آدمی بےوضو ہو۔ ایک جماعت کہتی ہے جب تم کھڑے ہو یعنی نیند سے جاگو یہ دونوں قول تقریباً ایک ہی مطلب کے ہیں اور حضرات فرماتے ہیں آیت تو عام ہے اور اپنے عموم پر ہی رہے گی لیکن جو بےوضو ہو اس پر وضو کرنے کا حکم وجوباً ہے اور جو باوضو ہو اس پر استحباباً۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ ابتداء اسلام میں ہر صلوۃ کے وقت وضو کرنے کا حکم تھا پھر منسوخ ہوگیا۔ مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ حضور ﷺ ہر نماز کیلئے تازہ وضو کیا کرتے تھے، فتح مکہ والے دن آپ نے وضو کیا اور جرابوں پر مسح کیا اور اسی ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کیں، یہ دیکھ کر حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آج آپ نے وہ کام کیا جو آج سے پہلے نہیں کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا ہاں میں نے بھول کر ایسا نہیں کیا بلکہ جان بوجھ کر قصداً یہ کیا ہے، ابن ماجہ وغیرہ میں کہ حضرت جابر بن عبداللہ ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھا کرتے تھے ہاں پیشاب کریں یا وضو ٹوٹ جائے تو نیا وضو کرلیا کرتے اور وضو ہی کے بچے ہوئے پانی سے جرابوں پر مسح کرلیا کرتے۔ یہ دیکھ کر حضرت فضل بن مبشر نے سوال کیا کہ کیا آپ اسے اپنی رائے سے کرتے ہیں ؟ فرمایا نہیں بلکہ میں نے نبی ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا، مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر کو ہر نماز کیلئے تازہ وضو کرتے دیکھ کر خواہ وضو ٹوٹا ہو یا نہ ٹوٹا ہو ان کے صاحبزادے عبید اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ اس کی کیا سند ہے ؟ فرمایا اس سے حضرت اسماء بنت زید بن خطاب نے کہا ہے کہ ان سے حضرت عبداللہ بن حنظلہ نے جو فرشتوں کے غسل دئیے ہوئے کے صاحبزادے تھے بیان کیا ہے کہ حضور ﷺ کو ہر نماز کیلئے تازہ وضو کرنے کا حکم دیا گیا تھا اس حالت میں وضو باقی ہو تو بھی اور نہ ہو تو بھی، لیکن اس میں قدرے مشقت معلوم ہوئی تو وضو کے حکم کے بدلے مسواک کا حکم رکھا گیا ہاں جب وضو ٹوٹے تو نماز کیلئے نیا وضو ضروری ہے اسے سامنے رکھ کر حضرت عبداللہ کا خیال ہے کہ چونکہ انہیں قوت ہے اس لئے وہ ہر نماز کے وقت وضو کرتے ہیں۔ آخری دم تک آپ کا یہی حال رہا، ؓ وعن والدہ۔ اس کے ایک راوی حضرت محمد بن اسحاق ہیں لیکن چونکہ انہوں نے صراحت کے ساتھ حدثنا کہا ہے اس لئے تدلیس کا خوف بھی جاتا رہا۔ ہاں ابن عساکر کی روایت میں یہ لفظ نہیں اللہ اعلم۔ حضرت عبداللہ کے اس فعل اور اس پر ہمیشگی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ مستحب ضرور ہے اور یہی مذہب جمہور کا ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ خلفاء ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرتے تھے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ یوم القیامہ ہر نماز کیلئے وضو کرتے اور دلیل میں یہ آیت تلاوت فرما دیتے ایک مرتبہ آپ نے ظہر کی نماز ادا کی پھر لوگوں کے مجمع میں تشریف فرما تھے پھر پانی لایا گیا اور آپ نے منہ دھویا ہاتھ دھوئے پھر سر کا مسح کیا اور پھر پیر کا۔ اور فرمایا یہ وضو ہے اس کا جو بےوضو نہ ہوا ہو، ایک مرتبہ آپ نے خفیف وضو کر کے بھی یہی فرمایا تھا۔ حضرت عمر فاروق رضوان اللہ علیہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ ابو داؤد طیالسی میں حضرت سعید بن مسیب کا قول ہے کہ وضو ٹوٹے بغیر وضو کرنا زیادتی ہے۔ اولاً تو یہ فعل سنداً بہت غریب ہے، دوسرا یہ کہ مراد اس سے وہ شخص ہے جو اسے واجب جانتا ہو اور صرف مستحب سمجھ کر جو ایسا کرے وہ تو عامل بالحدیث ہے، بخاری سنن وغیرہ میں مروی ہے کہ حضور ﷺ ہر نماز کیلئے نیا وضو کرتے تھے، ایک انصاری نے حضرت انس سے یہ سن کر کہا اور آپ لوگ کیا کرتے تھے ؟ فرمایا ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھتے تھے جب تک وضو ٹوٹے نہیں، ابن جریر حضور ﷺ کا فرمان مروی ہے کہ جو شخص وضو پر وضو کرے اس کیلئے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، ترمذی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے اور امام ترمذی نے اسے ضعیف کہا ہے ایک جماعت کہتی ہے کہ آیت سے صرف اتنا ہی مقصود ہے کہ کسی اور کام کے وقت وضو کرنا واجب نہیں صرف نماز کیلئے ہی اس کا وجوب ہے۔ یہ فرمان اس لئے ہے کہ حضور ﷺ کی سنت یہ تھی کہ وضو ٹوٹنے پر کوئی کام نہ کرتے تھے جب تک پھر وضو نہ کرلیں، ابن ابی حاتم وغیرہ کی ایک ضعیف غریب روایت میں ہے کہ حضور ﷺ جب پیشاب کا ارادہ کرتے ہم آپ سے بولتے لیکن آپ جواب نہ دیتے ہم سلام علیک کرتے پھر بھی جواب نہ دیتے یہاں تک کہ یہ آیت رخصت کی اتری۔ ابو داؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ پاخانے سے نکلے اور کھانا آپ کے سامنے لایا گیا تو ہم نے کہا اگر فرمائیں تو وضو کا پانی کا حاضر کریں فرمایا وضو کا حکم تو مجھے صرف نماز کیلئے کھڑا ہونے کے وقت ہی کیا گیا ہے۔ امام ترمذی اسے حسن بتاتے ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا مجھے کچھ نماز تھوڑا ہی پڑھنی ہے جو میں وضو کروں۔ آیت کے ان الفاظ سے کہ جب تم نماز کیلئے کھڑے ہو تو وضو کرلیا کرو علماء کرام کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ وضو میں نیت واجب ہے، مطلب کلام اللہ شریف کا یہ ہے کہ نماز کیلئے وضو کرلیا کرو۔ جیسے عرب میں کہا جاتا ہے، جب تو امیر کو دیکھے تو کھڑا ہوجا تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ امیر کیلئے کھڑا ہوجا۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے اور ہر شخص کیلئے صرف وہی ہے جو وہ نیت کرے اور منہ کے دھونے سے پہلے وضو میں بسم اللہ کہنا مستحب ہے۔ کیونکہ ایک پختہ اور بالکل صحیح حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اس شخص کا وضو نہیں جو اپنے وضو میں بسم اللہ نہ کہے (حدیث کے ظاہری الفاظ تو نیت کی طرح بسم اللہ کہنے پر بھی وجوب کی دلالت کرتے ہیں واللہ اعلم۔ مترجم) یہ بھی یاد رہے کہ وضو کے پانی کے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے کا ان کا دھو لینا مستحب ہے اور جب نیند سے اٹھا ہو تب تو سخت تاکید آتی ہے بخاری و مسلم میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان مروی ہے کہ تم میں سے کوئی نیند سے جاگ کر برتن میں ہاتھ نہ ڈالے جب تک کہ تین مرتبہ دھو نہ لے، اسے نہیں معلوم کہ اس کے ہاتھ رات کے وقت کہاں رہے ہوں ؟ منہ کی حد فقہاء کے نزدیک لمبائی میں سر کے بالوں کی اگنے کی جو جگہ عموماً ہے وہاں سے داڑھی کی ہڈی اور تھوڑی تک ہے اور چوڑائی میں ایک کان سے دوسرے کان تک۔ اس میں اختلاف ہے کہ دونوں جانب کی پیشانی کے اڑے ہوئے بالوں کی جگہ سر کے حکم میں ہے یا منہ کے ؟ اور داڑھی کے لکٹتے ہوئے بالوں کا دھونا منہ کے دھونے کی فرضیت میں داخل ہے یا نہیں ؟ اس میں دو قول ہیں، ایک تو یہ کہ ان پر پانی کا بہانا واجب ہے اس لئے کہ منہ سامنے کرنے کے وقت اس کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو داڑھی ڈھانپے ہوئے دیکھ کر فرمایا اسے کھول دے یہ بھی منہ میں داخل ہے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں عرب کا محاورہ بھی یہی ہے کہ جب بچے کے داڑھی نکلتی ہے تو وہ کہتے ہیں طلع وجھہ پس معلوم ہوتا ہے کہ کلام عرب میں داڑھی منہ کے حکم میں ہے اور لفظ وجہہ میں داخل ہے۔ داڑھی گھنی اور بھری ہوئی ہو تو اس کا خلال کرنا بھی مستحب ہے۔ حضرت عثمان کے وضو کا ذکر کرتے ہوئے راوی کہتا ہے کہ آپ نے منہ دھوتے وقت تین دفعہ داڑھی کا خلال کیا۔ پھر فرمایا جس طرح تم نے مجھے کرتے دیکھا اسی طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے دیکھا ہے (ترمذی وغیرہ) اس روایت کو امام بخاری اور امام ترمذی حسن بتاتے ہیں ابو داؤد میں ہے کہ حضور ﷺ وضو کرتے وقت ایک چلو پانی لے کر اپنی تھوڑی تلے ڈال کر اپنی داڑھی مبارک کا خلال کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے میرے رب عزوجل نے اسی طرح حکم فرمایا ہے۔ حضرت امام بیہقی فرماتے ہیں داڑھی کا خلال کرنا حضرت عمار حضرت عائشہ حضرت ام سلمہ حضرت علی سے مروی ہے، اور اس کے ترک کی رخصت ابن عمر حسن بن علی اور تابعین کی ایک جماعت سے مروی ہے صحاح وغیرہ میں مروی ہے کہ حضور ﷺ جب وضو کرتے بیٹھتے کلی کرتے اور ناک میں پانی دیئے۔ ائمہ کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ دونوں وضو اور غسل میں میں واجب ہیں یا مستحب ؟ امام احمد بن حنبل کا مذہب تو وجوب کا ہے اور امام شافعی اور امام مالک مستحب کہتے ہیں ان کی دلیل سنن کی وہ صحیح حدیث ہے جس میں جلدی جلدی نماز پڑھنے والے سے حضور ﷺ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ وضو کر جس طرح اللہ نے تجھے حکم دیا ہے، امام حنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ غسل میں واجب اور وضو میں نہیں، ایک روایت امام احمد سے مروی ہے کہ ناک میں پانی دینا تو واجب اور کلی کرنا مستحب، کیونکہ بخاری و مسلم میں حضور ﷺ کا فرمان ہے جو وضو کرے وہ ناک میں پانی ڈالے اور روایت میں ہے تم میں سے جو وضو کرے وہ اپنے دونوں نتھنوں میں پانی ڈالے اور اچھی طرح وضو کرے۔ مسند احمد اور بخاری میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس وضو کرنے بیٹھے تو منہ دھویا ایک چلو پانی کا لے کر کلی کی اور ناک کو صاف کیا پھر ایک چلو لے کر داہنا ہاتھ دھویا پھر ایک چلو لے کر اسی سے بایاں ہاتھ دھویا۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر پانی کا ایک چلو لے کر اپنے داہنے پاؤں پر ڈال کر اسے دھویا پھر ایک چلو سے بایاں پاؤں دھویا۔ پھر فرمایا میں نے اللہ کے پیغمبر ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے۔ (الی المرافق) سے مراد (مع المرافق) ہے، جیسے فرمان ہے آیت (وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَھُمْ اِلٰٓى اَمْوَالِكُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِيْرًا) 4۔ النسآء :2) یعنی یتیموں کے مالوں کو اپنے مالوں سمیت نہ کھا جایا کرو یہ بڑا ہی گناہ ہے۔ اسی طرح یہاں بھی ہے کہ ہاتھوں کو کہنیوں تک نہیں، بلکہ کہنیوں سمیت دھونا چاہئے۔ دار قطنی وغیرہ میں ہے کہ حضور ﷺ وضو کرتے ہوئے اپنی کہنیوں پر پانی بہاتے تھے، لیکن اس کے دو راویوں میں کلام ہے۔ واللہ اعلم۔ وضو کرنے والے کیلئے مستحب ہے کہ کہنیوں سے آگے اپنے شانے کو بھی وضو میں دھوئے کیونکہ بخاری مسلم میں حدیث ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں میری امت وضو کے نشانوں کی وجہ سے قیامت کے دن چمکتے ہوئے اعضاؤں سے آئے گی پس تم میں سے جس سے وہ ہو سکے وہ اپنی چمک کو دور تک لے جائے صحیح مسلم میں ہے مومن کو وہاں تک زیور پہنائے جائیں گے جہاں تک اس کے وضو کا پانی پہنچتا تھا۔ (برؤسکم) میں جواب ہے اس کا الحاق یعنی ملا دینے کیلئے ہونا تو زیادہ غالب ہے اور تبعیض یعنی کچھ حصے کیلئے ہونا تامل طلب ہے۔ بعض اصولی حضرات فرماتے ہیں چونکہ آیت میں اجمال ہے اس لئے سنت نے جو اس کی تفصیل کی ہے وہی معتبر ہے اور اسی کی طرف لوٹنا پڑے گا، حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم صحابی سے ایک شخص نے کہا " آپ وضو کر کے ہمیں بتلایئے۔ آپ نے پانی منگوایا اور اپنے دونوں ہاتھ دو دو دفعہ دھوئے، پھر تین بار کلی کی اور ناک میں پانی دیا، تین ہی دفعہ اپنا منہ دھویا، پھر کہنیوں سمیت اپنے دونوں ہاتھ دو مرتبہ دھوئے، پھر دونوں ہاتھ سے سر کا مسح کیا سر کے ابتدائی حصے سے گدی تک لے گئے، پھر وہاں سے یہیں تک واپس لائے، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے (بخاری و مسلم) حضرت علی سے بھی آنحضرت ﷺ کے وضو کا طریقہ اسی طرح منقول ہے۔ ابو داؤد میں حضرت معاویہ اور حضرت مقداد سے بھی اسی طرح مروی ہے، یہ حدیثیں دلیل ہیں اس پر کہ پورے سر کا مسح فرض ہے۔ یہی مذہب حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد کا ہے اور یہی مذہب ان تمام حضرات کا ہے جو آیت کو مجمل مانتے ہیں اور حدیث کو اس کی وضاحت جانتے ہیں حنیفوں کا خیال ہے کہ چوتھائی سر کا مسح فرض ہے جو سر کا ابتدائی حصہ ہے اور ہمارے ساتھی کہتے ہیں کہ فرض صرف اتنا ہے جتنے پر مسح کا اطلاق ہوجائے، اس کی کوئی حد نہیں۔ سر کے چند بالوں پر بھی مسح ہوگیا تو فرضیت پوری ہوگئی، ان دونوں جماعتوں کی دلیل حضرت مغیرہ بن شعبہ والی حدیث ہے کہ نبی ﷺ پیچھے رہ گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے رہ گیا جب آپ قضائے حاجت کرچکے تو مجھ سے پانی طلب کیا میں لوٹا لے آیا آپ نے اپنے دونوں پہنچے دھوئے پھر منہ دھویا پھر کلائیوں پر سے کپڑا ہٹایا اور پیشانی سے ملے ہوئے بالوں اور پگڑی پر مسح کر کے باقی پگڑی پر پورا کرلیا اور اس کی بہت سی مثالیں احادیث میں ہیں۔ آپ صافے پر اور جرابوں پر برابر مسح کیا کرتے تھے، پس یہی اولی ہے اور اس میں ہرگز اس بات پر کوئی دلالت نہیں کہ سر کے بعض حصے پر یا صرف پیشانی کے بالوں پر ہی مسح کرلے اور اس کی تکمیل پگڑی پر نہ ہو۔ واللہ اعلم۔ پھر اس میں بھی اختلاف ہے کہ سر کا مسح بھی تین بار ہو یا ایک ہی بار ؟ امام شافعی کا مشہور مذہب اول ہے اور امام احمد اور ان کے متبعین کا دوم۔ دلائل یہ ہیں حضرت عثمان بن عفان وضو کرنے بیٹھتے ہیں اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالتے ہیں، انہیں دھو کر پھر کلی کرتے ہیں اور ناک میں پانی دیتے ہیں، پھر تین مرتبہ منہ دھوتے ہیں، پھر تین تین بار دونوں ہاتھو کہنیوں سمیت دھوتے ہیں، پہلے دایاں پھر بایاں۔ پھر اپنے سر کا مسح کرتے ہیں پھر دونوں پیر تین تین بار دھوتے ہیں پہلے داہنا پھر بایاں۔ پھر آپ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا اور وضو کے بعد آپ نے فرمایا جو شخص میرے اس وضو جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں دل سے باتیں نہ کرے تو اس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں (بخاری و مسلم) سنن ابی داؤد میں اسی روایت میں سر کے مسح کرنے کے ساتھ ہی یہ لفظ بھی ہیں کہ سر کا مسح ایک مرتبہ کیا، حضرت علی سے بھی اسی طرح مروی ہے اور جن لوگوں نے سر کے مسح کو بھی تین بار کہا ہے انہوں نے حدیث سے دلیل لی ہے۔ جس میں ہے کہ حضور ﷺ نے تین تین بار اعضاء وضو کو دھویا۔ حضرت عثمان سے مروی ہے کہ آپ نے وضو کیا پھر اسی طرح روایت ہے اور اس میں کلی کرنی اور ناک میں پانی دینے کا ذکر نہیں اور اس میں ہے کہ پھر آپ نے تین مرتبہ سر کا مسح کیا اور تین مرتبہ اپنے دونوں پیر دھوئے۔ پھر فرمایا میں نے حضور ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا اور آپ نے فرمایا جو ایسا وضو کرے اسے کافی ہے۔ لیکن حضرت عثمان سے جو حدیثیں صحاح میں مروی ہیں ان سے تو سر کا مسح ایک بار ہی ثابت ہوتا ہے (ارجلکم) لام کی زبر سے عطف ہے جو (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا) 5۔ المائدہ :6) پر ماتحت ہے دھونے کے حکم کے۔ ابن عباس یونہی پڑھتے تھے اور یہی فرماتے تھے، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عروہ، حضرت عطاء، حضرت عکرمہ، حضرت حسن، حضرت مجاہد، حضرت ابراہیم، حضرت ضحاک، حضرت سدی، حضرت مقاتل بن حیان، حضرت زہری، حضرت ابراہیم تیمی وغیرہ کا یہی قول اور یہی قرأت ہے، اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ پاؤں دھونے چاہئیں، یہی سلف کا فرمان ہے اور یہیں سے جمہور نے وضو کی ترتیب کے وجوب پر استدلال کیا ہے، صرف ابوحنیفہ اس کے خلاف ہیں، وہ وضو میں ترتیب کو شرط نہیں جانتے۔ ان کے نزدیک اگر کوئی شخص پہلے پیروں کو دھوئے پھر سر کا مسح کرے پھر ہاتھ دھوئے پھر منہ دھوئے جب بھی جائز ہے اس لئے کہ آیت نے ان اعضاء کے دھونے کا حکم دیا ہے۔ واؤ کی دلالت ترتیب پر نہیں ہوتی، اس کے جواب جمہور نے کئی ایک دیئے ہیں، ایک تو یہ کہ "" ترتیب پر دلالت کرتی ہے، آیت کے الفاظ میں نماز پڑھنے والے کو منہ دھونے کا حکم لفظ (فاغسلوا) سے ہوتا ہے۔ تو کم از کم منہ کا اول اول دھونا تو لفظوں سے ثابت ہوگیا اب اس کے بعد کے اعضاء میں ترتیب اجماع سے ثابت ہے جس میں اختلاف نظر نہیں آتا۔ پھر جبکہ "" جو تعقیب کیلئے ہے اور جو ترتیب کی مقتضی ہے ایک پر داخل ہوچکی تو اس ایک کی ترتیب مانتے ہوئے دوسری کی ترتیب کا انکار کوئی نہیں کرتا بلکہ تو سب کی ترتیب کے قائل ہیں یا کسی ایک کی بھی ترتیب کے قائل نہیں۔ پس یہ آیت ان پر یقینا حجت ہے جو سرے سے ترتیب کے منکر ہیں، دوسرا جواب یہ ہے کہ واؤ ترتیب پر دلالت نہیں کرتا اسے بھی ہم تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ ترتیب پر دلالت کرتا ہے جیسے کہ نحویوں کی ایک جماعت کا اور بعض فقہاء کا مذہب ہے پھر یہ چیز بھی قابل غور ہے کہ بالفرض لغتاً اس کی دلالت پر ترتیب پر نہ بھی ہوتا ہم شرعاً تو جن چیزوں میں ترتیب ہوسکتی ہے ان میں اس کی دلالت ترتیب پر ہوتی ہے، چناچہ صحیح مسلم شریف میں حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بیت اللہ شریف کا طواف کر کے باب صفا سے نکلے تو آپ آیت (اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَاۗىِٕرِاللّٰهِ ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا ۭ وَمَنْ تَـطَوَّعَ خَيْرًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِـرٌ عَلِــيْمٌ) 2۔ البقرۃ :158) کی تلاوت کر رہے تھے اور فرمایا میں اسی سے شروع کروں گا جسے اللہ نے پہلے بیان فرمایا، چناچہ صفا سے سعی شروع کی، نسائی میں رسول اللہ ﷺ کا یہ حکم دینا بھی مروی ہے کہ اس سے شروع کرو جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا۔ اس کی اسناد بھی صحیح ہے اور اس میں امر ہے پس معلوم ہوا کہ جس کا ذکر پہلے ہو اسے پہلے کرنا اور اس کے بعد اسے جس کا ذکر بعد میں ہو کرنا واجب ہے۔ پس صاف ثابت ہوگیا کہ ایسے مواقع پر شرعاً ترتیب مراد ہوتی ہے۔ واللہ اعلم، تیسری جماعت جواباً کہتی ہے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونے کے حکم اور پیروں کو دھونے کے حکم کے درمیان سر کے مسح کے حکم کو بیان کرنا اس امر کی صاف دلیل ہے کہ مراد ترتیب کو باقی رکھنا ہے، ورنہ نظم کلام کو یوں الٹ پلٹ نہ کیا جاتا۔ ایک جواب اس کا یہ بھی ہے کہ ابو داؤد وغیرہ میں صحیح سند سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھو کر وضو کیا پھر فرمایا یہ وضو ہے کہ جس کے بغیر اللہ تعالیٰ نے نماز کو قبول نہیں کرتا۔ اب دو صورتیں ہیں یا تو اس وضو میں ترتیب تھی یا نہ تھی ؟ اگر کہا جائے کہ حضور ﷺ کا یہ وضو مرتب تھا یعنی باقاعدہ ایک کے پیچھے ایک عضو دھویا تھا تو معلوم ہوا کہ جس وضو میں تقدیم تاخیر ہو اور صحیح طور پر ترتیب نہ ہو وہ نماز نامقبول لہذا ترتیب واجب و فرض اور اگر یہ مان لیا جائے کہ اس وضو میں ترتیب نہ تھی بلکہ بےترتیب تھا، پیر دھو لئے پھر کلی کرلی پھر مسح کرلیا پھر منہ دھو لیا وغیرہ تو عدم ترتیب واجب ہوجائے گی حالانکہ اس کا قائل امت میں سے ایک بھی نہیں پس ثابت ہوگیا کہ وضو میں ترتیب فرض ہے، آیت کے اس جملے کی ایک قرأت اور بھی ہے یعنی (وارجلکم) لام کے زیر سے اور اسی سے شیعہ نے اپنے اس قول کی دلیل لی ہے کہ پیروں پر مسح کرنا واجب ہے کیونکہ ان کے نزدیک اس کا عطف سر کے مسح کرنے پر ہے۔ بعض سلف سے بھی کچھ ایسے اقوال مروی ہیں جن سے مسح کے قول کا وہم پڑتا ہے، چناچہ ابن جریر میں ہے کہ موسیٰ بن انس نے حضرت انس سے لوگوں کی موجودگی میں کہا کہ حجاج نے اہواز میں خطبہ دیتے ہوئے طہارت اور وضو کے احکام میں کہا کہ منہ ہاتھ دھوؤ اور سر کا مسح کرو اور پیروں کو دھویا کرو عموماً پیروں پر ہی گندگی لگتی ہے۔ پس تلوؤں کو اور پیروں کی پشت کو اور ایڑی کو خوب اچھی طرح دھویا کرو۔ حضرت انس نے جواباً کہا کہ اللہ سچا ہے اور حجاج چھوٹا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت (وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا) 5۔ المائدہ :6) اور حضرت انس کی عادت تھی کہ پیروں کا جب مسح کرتے انہیں بالکل بھگو لیا کرتے، آپ ہی سے مروی ہے کہ قرآن کریم میں پیروں پر مسح کرنے کا حکم ہے، ہاں حضور ﷺ کی سنت پیروں کا دھونا ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ وضو میں دو چیزوں کا دھونا ہے اور دو پر مسح کرنا۔ حضرت قتادہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ آیت میں پیروں پر مسح کرنے کا بیان ہے۔ ابن عمر، علقمہ، ابو جعفر، محمد بن علی اور ایک روایت میں حضرت حسن اور جابر بن زید اور ایک روایت میں مجاہد سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ حضرت عکرمہ اپنے پیروں پر مسح کرلیا کرتے تھے شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل کی معرفت مسح کا حکم نازل ہوا ہے، آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ جن چیزوں کے دھونے کا حکم تھا ان پر تو تیمم کے وقت مسح کا حکم رہا اور جن چیزوں پر مسح کا حکم تھا تیمم کے وقت انہیں چھوڑ دیا گیا عامر سے کسی نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں حضرت جبرائیل پیروں کے دھونے کا حکم لائے ہیں آپ نے فرمایا جبرائیل مسح کے حکم کے ساتھ نازل ہوئے تھے۔ پس یہ سب آثار بالکل غریب ہیں اور محمول ہیں اس امر پر کہ مراد مسح سے ان بزرگوں کی ہلکا دھونا ہے، کیونکہ سنت سے صاف ثابت ہے کہ پیروں کا دھونا واجب ہے، یاد رہے کہ زیر کی قرأت یا تو مجاورت اور تناسب کلام کی وجہ سے ہے جیسے عرب کا کلام حجر ضب خرب میں اور اللہ کے کلام آیت (عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ ۡ وَّحُلُّوْٓا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ ۚ وَسَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا) 76۔ الدہر :21) میں لغت میں عرب میں پاس ہونے کی وجہ سے دونوں لفظوں کو ایک ہی اعراب دے دینا یہ اکثر پایا گیا ہے۔ حضرت امام شافعی نے اس کی ایک توجیہہ یہ بھی بیان کی ہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جب پیروں پر جرابیں ہوں بعض کہتے ہیں مراد مسح سے ہلکا دھو لینا ہے جیسے کہ بعض روایتوں میں سنت سے ثابت ہے۔ الغرض پیروں کا دھونا فرض ہے جس کے بغیر وضو نہ ہوگا۔ آیت بھی یہی ہے اور احادیث میں بھی یہی ہے جیسے کہ اب ہم انہیں وارد کریں گے، انشاء اللہ تعالیٰ بیہقی میں ہے حضرت علی بن ابو طالب ظہر کی نماز کے بعد بیٹھک میں بیٹھے رہے پھر پانی منگوایا اور ایک چلو سے منہ کا، دونوں ہاتھوں سر کا اور دونوں پیروں کا مسح کیا اور کھڑے ہو کر بچا ہوا پانی پی لیا پھر فرمانے لگے کہ لوگ کھڑے کھڑے پانی پینے کو مکروہ کہتے ہیں اور میں نے جو کیا یہی کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے اور فرمایا یہ وضو ہے اس کا جو بےوضو نہ ہوا ہو (بخاری) شعیوں میں سے جن لوگوں نے پیروں کو مسح اسی طرح قرار دیا جس طرح جرابوں پر مسح کرتے ہیں ان لوگوں نے یقینا غلطی کی اور لوگوں کو گمراہی میں ڈالا۔ اسی طرح وہ لوگ بھی خطا کار ہیں جو مسح اور دھونا دونوں کو جائز قرار دیتے ہیں اور جن لوگوں نے امام ابن جریر کی نسبت یہ خیال کیا ہے کہ انہوں نے احادیث کی بنا پر پیروں کے دھونے کو اور آیت قرآنی کی بنا پر پیروں کے مسح کو فرض قرار دیا ہے۔ ان کی تحقیق بھی صحیح نہیں، تفسیر ابن جریر ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے ان کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ پیروں کو رگڑنا واجب ہے اور اعضاء میں یہ واجب نہیں کیونکہ پیر زمین کی مٹی وغیرہ سے رگڑتے رہتے ہیں تو ان کو دھونا ضروری ہے تاکہ جو کچھ لگا ہو ہٹ جائے لیکن اس رگڑنے کیلئے مسح کا لفظ لائے ہیں اور اسی سے بعض لوگوں کو شبہ ہوگیا ہے اور وہ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ مسح اور غسل جمع کردیا ہے حالانکہ دراصل اس کے کچھ معنی ہی نہیں ہوتے مسح تو غسل میں داخل ہے چاہے مقدم ہو چاہے مؤخر ہو پس حقیقتاً امام صاحب کا ارادہ یہی ہے جو میں نے ذکر کیا اور اس کو نہ سمجھ کر اکثر فقہاء نے اسے مشکل جان لیا، میں نے مکرر غورو فکر کیا تو مجھ پر صاف طور سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ امام صاحب دونوں قرأتوں کو جمع کرنا چاہتے ہیں پس زیر کی قرأت یعنی مسح کو تو وہ محمول کرتے ہیں دلک پر یعنی اچھی طرح مل رگڑ کر صاف کرنے پر اور زبر کی قرأت کو غسل پر یعنی دھونے پر دلیل ہے ہی پس وہ دھونے اور ملنے دونوں کو واجب کہتے ہیں تاکہ زیر اور زبر کی دونوں قرأتوں پر ایک ساتھ ہوجائے " اب ان احادیث کو سنئے جن میں پیروں کے دھونے کا اور پیروں کے دھونے کے ضروری ہونے کا ذکر ہے " امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان امیر المومنین حضرت علی بن ابو طالب حضرت ابن عباس حضرت معاویہ حضرت عبداللہ بن زید عاصم حضرت مقداد بن معدی کرب کی روایات پہلے بیان ہوچکی ہیں کہ حضور ﷺ نے وضو کرتے ہوئے اپنے پیروں کو دھویا، ایک بار یا دو بار یا تین بار، عمرو بن شعیب کی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے وضو کیا اور اپنے دونوں پیر دھوئے پھر فرمایا یہ وضو ہے جس کے بغیر اللہ تعالیٰ نماز قبول نہیں فرماتا۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ ایک مرتبہ ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ ہم سے پیچھے رہ گئے تھے جب آپ آئے تو ہم جلدی جلدی وضو کر رہے تھے کیونکہ عصر کی نماز کا وقت کافی دیر سے ہوچکا تھا ہم نے جلدی جلدی اپنے پیروں پر چھوا چھوئی شروع کردی تو آپ نے بہت بلند آواز سے فرمایا وضو کو کامل اور پورا کرو ایڑیوں کو خرابی سے آگ کے لگنے سے، ایک اور حدیث میں ہے ویل ہے ایڑیوں کیلئے اور تلوں کیلئے آگ سے (بیہقی و حاکم) اور روایت میں ہے ٹخنوں کو ویل ہے آگ سے (مسند امام احمد) ایک شخص کے پیر میں ایک درہم کے برابر جگہ بےدھلی دیکھ کر حضور ﷺ نے فرمایا خرابی ہے ایڑیوں کیلئے آگ سے (مسند) ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھ کر جن کی ایڑیوں پر اچھی طرح پانی نہیں پہنچا تھا اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان ایڑیوں کو آگ سے خرابی ہوگی، مسند احمد میں بھی حضور ﷺ کے یہ الفاظ وارد ہیں۔ ابن جریر میں دو مرتبہ حضور ﷺ کا ان الفاظ کو کہنا وارد ہے راوی حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں پھر تو مسجد میں ایک بھی شریف و وضیع ایسا نہ رہا جو اپنی ایڑیوں کو بار بار دھو کر نہ دیکھتا ہو اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جس کی اڑی یا ٹخنے میں بقدر نیم درہم کے چمڑی خشک رہ گئی تھی تو یہی فرمایا پھر تو یہ حالت تھی کہ اگر ذرا سی جگہ پیر کی کسی خشک رہ جاتی تو وہ پورا وضو پھر سے کرتا، پس ان احادیث سے کھلم کھلا ظاہر ہے کہ پیرو کا دھونا فرض ہے، اگر ان کا مسح فرض ہوتا تو ذرا سی جگہ کے خشک رہ جانے پر اللہ کے نبی ﷺ وعید سے اور وہ بھی جہنم کی آگ کی وعید سے نہ ڈراتے، اس لئے کہ مسح میں ذرا ذرا اسی جگہ پر ہاتھ کا پہنچانا داخل ہی نہیں۔ بلکہ پھر تو پیر کے مسح کی وہی صورت ہوتی ہے جو پیر کے اوپر جراب ہونے کی صورت میں مسح کی صورت ہے۔ یہی چیز امام ابن جریر نے شیعوں کے مقابلہ میں پیش کی ہے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دیکھا کہ ایک شخص نے وضو کیا اور اس کا پیر کسی جگہ سے ناخن کے برابر دھلا نہیں خشک رہ گیا تو آپ نے فرمایا لوٹ جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو۔ بیہقی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، مسند میں ہے کہ ایک نمازی کو آپ نے نماز میں دیکھا کہ اس کے پیر میں بقدر درہم کے جگہ خشک رہ گئی ہے تو اسے وضو لوٹانے کا حکم کیا۔ حضرت عثمان سے حضور ﷺ کے وضو کا وضو کا طریقہ جو مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے انگلیوں کے درمیان خلال بھی کیا۔ سنن میں ہے حضرت صبرہ نے رسول اللہ ﷺ سے وضو کی نسبت دریافت کیا تو آپ نے فرمایا وضو کامل اور اچھا کرو انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور ناک میں پانی اچھی طرح دھو ہاں روزے کی حالت میں ہو تو اور بات ہے، مسند و مسلم وغیرہ میں ہے حضرت عمرو بن عنبسہ کہتے ہیں یا رسول اللہ ﷺ مجھے وضو کی بابت خبر دیجئے آپ نے فرمایا جو شخص وضو کا پانی لے کر کلی کرتا ہے اور ناک میں پانی دیتا ہے اس کے منہ سے نتھنوں سے پانی کے ساتھ ہی خطائیں جھڑ جاتی ہیں جبکہ وہ ناک جھاڑتا ہے پھر جب وہ منہ دھوتا ہے جیسا کہ اللہ کا حکم ہے تو اس کے منہ کی خطائیں داڑھی اور داڑھی کے بالوں سے پانی کے گرنے کے ساتھ ہی جھڑ جاتی ہیں پھر وہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے کہنیوں سمیت تو اس کے ہاتھوں کو گناہ اس کی پوریوں کی طرح جھڑ جاتے ہیں، پھر وہ مسح کرتا ہے تو اس کے سر کی خطائیں اس کے بالوں کے کناروں سے پانی کے ساتھ ہی جھڑ جاتی ہیں پھر جب وہ اپنے پاؤں ٹخنوں سمیت حکم الٰہی کے مطابق دھوتا ہے تو انگلیوں سے پانی ٹپکنے کے ساتھ ہی اس کے پیروں کے گناہ بھی دور ہوجاتے ہیں، پھر وہ کھڑا ہو کر اللہ تعالیٰ کے لائق جو حمد وثنا ہے اسے بیان کر کے دو رکعت نماز جب ادا کرتا ہے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا پاک صاف ہوجاتا ہے جیسے وہ تولد ہوا ہو۔ یہ سن کر حضرت ابو امامہ نے حضرت عمرو بن عنبسہ سے کہا خوب غور کیجئے کہ آپ کیا فرما رہے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ سے آپ نے اسی طرح سنا ہے ؟ کیا یہ سب کچھ ایک ہی مقام میں انسان حاصل کرلیتا ہے ؟ حضرت عمرو نے جواب دیا کہ ابو امامہ میں بوڑھا ہوگیا ہوں، میری ہڈیاں ضعیف ہوچکی ہیں، میری موت قریب آپہنچی ہے، مجھے کیا فائدہ جو میں اللہ کے رسول ﷺ پر جھوٹ بولوں، ایک دفعہ نہیں، دو دفعہ نہیں، تین دفعہ نہیں، میں نے تو اسے حضور ﷺ کی زبانی سات بار بلکہ اس سے بھی زیادہ سنا ہے، اس حدیث کی سند بالکل صحیح ہے۔ صحیح مسلم کی دوسری سند والی حدیث میں ہے پھر وہ اپنے دونوں پاؤں کو دھوتا ہے جیسا کہ اللہ نے اسے حکم دیا ہے۔ پس صاف ثابت ہوا کہ قرآن حکیم کا حکم پیروں کے دھونے کا ہے۔ ابو اسحاق سبیعی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ فی الجنہ سے بواسطہ حضرت حارث روایت میں حضرت علی سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دونوں قدم جوتی میں ہی بھگو لئے اس سے مراد جوتیوں میں ہی ہلکا دھونا ہے اور چپل جوتی پیر میں ہوتے ہوئے پیر دھل سکتا ہے غرض یہ حدیث بھی دھونے کی دلیل ہے البتہ اس سے ان وسواسی اور وہمی لوگوں کی تردید ہے جو حد سے گزر جاتے ہیں، اسی طرح وہ دوسری حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے ایک قوم کے کوڑا ڈالنے کی جگہ پر پیشاب کیا پھر پانی منگوا کر وضو کیا اور اپنے نعلین پر مسح کرلیا، لیکن یہی حدیث دوسری سندوں سے مروی ہے اور ان میں سے کہ آپ نے اپنی جرابوں پر مسح کیا اور ان میں مطابقت کی صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جرابیں پیروں میں تھیں اور ان پر نعلین تھے اور ان دونوں پر آپ نے مسح کرلیا۔ یہی مطلب اس حدیث کا بھی ہے، مسند احمد میں اوس ابو اوس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے میرے دیکھتے ہوئے وضو کیا اور اپنے نعلین پر مسح کیا اور نماز کیلئے کھڑے ہوگئے، یہی روایت دوسری سند سے مروی ہے اس میں آپ کا کوڑے پر پیشاب کرنا پھر وضو کرنا اور اس میں نعلین اور دونوں قدموں پر مسح کرنا مذکور ہے، امام ابن جریر اسے بیان کرتے ہیں، پھر فرمایا ہے کہ یہ محمول اس پر ہے کہ اس وقت آپ کا پہلا وضو تھا (یا یہ محمول ہے اس پر کہ نعلین جرابوں کے اوپر تھے۔ مترجم) بھلا کوئی مسلمان یہ کیسے قبول کرسکتا ہے کہ اللہ کے فریضے میں اور پیغمبر کی سنت میں تعارض ہو اللہ کچھ فرمائے اور پیغمبر کچھ اور ہی کریں ؟ پس حضور ﷺ کے ہمیشہ کے فعل سے وضو میں پیروں کے دھونے کی فرضیت ثابت ہے اور آیت کا صحیح مطلب بھی یہ ہے جس کے کانوں تک یہ دلیلیں پہنچ جائیں اس پر اللہ کی حجت پوری ہوگئی۔ چونکہ زیر کی قرأت سے پیروں کا دھونا اور زیر کی قرأت کا بھی اسی پر محمول ہونا فرضیت کا قطعی ثبوت ہے اس سے بعض سلف تو یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ اس آیت سے جرابوں کا مسح ہی منسوخ ہے، گو ایک روایت حضرت علی سے بھی ایسی مروی ہے لیکن اس کی اسناد صحیح نہیں بلکہ خود آپ سے صحت کے ساتھ اس کے خلاف ثابت ہے اور جن کا بھی یہ قول ہے ان کا یہ خیال صحیح نہیں بلکہ حضور ﷺ سے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بھی جرابوں پر مسح کرنا ثابت ہے۔ مسند احمد میں حضرت جریر بن عبداللہ بجلی کا قول ہے کہ سورة مائدہ کے نازل ہونے کے بعد ہی میں مسلمان ہوا اور اپنے اسلام کے بعد میں نے رسول اللہ ﷺ کو جرابوں پر مسح کرتے دیکھا۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت جریر نے پیشاب کیا پھر وضو کرتے ہوئے اپنی جرابوں پر مسح کیا ان سے پوچھا گیا کہ آپ ایسا کرتے ہیں ؟ تو فرمایا یہی کرتے ہوئے میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو دیکھا ہے۔ راوی حدیث حضرت ابراہیم فرماتے ہیں لوگوں کو یہ حدیث بہت اچھی لگتی تھی اس لئے کہ حضرت جریر کا اسلام لانا سورة مائدہ کے نازل ہو چکنے کے بعد کا تھا۔ احکام کی بڑی بڑی کتابوں میں تواتر کے ساتھ حضور ﷺ کے قول و فعل سے جرابوں پر مسح کرنا ثابت ہے۔ اب مسح کی مدت ہے یا نہیں ؟ اس کے ذکر کی یہ جگہ نہیں احکام کی کتابوں میں اس کی تفصیل موجود ہے، رافضیوں نے اس میں بھی گمراہی اختیار کی ہے۔ خود حضرت علی کی روایت سے صحیح مسلم میں یہ ثابت ہے، لیکن روافض اسے نہیں مانتے، جیسے کہ حضرت علی کی ہی روایت سے بخاری مسلم میں نکاح متعہ کی ممانعت ثابت ہے لیکن تاہم شیعہ اسے مباح قرار دیتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح یہ آیہ کریمہ دونوں پیروں کے دھونے پر صاف دلالت کرتی ہے اور یہی امر حضور ﷺ کا متواتر احادیث سے ثابت ہے لیکن شیعہ جماعت اس کی بھی مخالف ہے۔ فی واقع ان مسائل میں ان کے ہاتھ دلیل سے بالکل خالی ہیں۔ وللہ الحمد۔ اسی طرح ان لوگوں نے آیت کا اور سلف صالحین کا مسح کے بارے میں بھی الٹ مفہوم لیا ہے وہ کہتے ہیں کہ قدم کی پشت ابھار کعبین ہے پس ان کے نزدیک ہر قدم میں ایک ہی کعب یعنی ٹخنہ ہے اور جمہور کے نزدیک ٹخنے کی وہ ہڈیاں جو پنڈلی اور قدم کے درمیان ابھری ہوئی ہیں اور وہ کعبین ہیں۔ امام شافعی کا فرمان ہے کہ جن کعبین کا یہاں ذکر ہے یہ ٹخنے کی دو ہڈیاں ہیں جو ادھر ادھر قدرے ظاہر دونوں طرف ہیں، ایک ہی قدم میں کعبین ہیں لوگوں کے عرض میں بھی یہی ہے اور حدیث کی دلالت بھی اسی پر ہے۔ بخاری مسلم میں ہے کہ حضرت عثمان نے وضو کرتے ہوئے اپنے داہنے پاؤں کو کعبین سمیت دھویا پھر بائیں کو بھی اسی طرح۔ بخاری میں تعلیقاً بصیغہ جزم اور صحیح ابن خزیمہ میں اور سنن ابی داؤد میں ہے کہ ہماری طرف متوجہ ہو کر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا " اپنی صفیں ٹھیک ٹھیک درست کرلو " تین بار یہ فرما کر فرمایا قسم اللہ کی یا تو تم اپنی صفوں کو پوری طرح درست کرو گے یا اللہ تمہارے دلوں میں مخالفت ڈال دے گا۔ حضرت نعمان بن بشیر راوی حدیث فرماتے ہیں پھر تو یہ ہوگیا کہ ہر شخص اپنے ساتھی کے ٹخنے سے ٹخنہ اور گھٹنے سے گھٹنا اور کندھے سے کندھا ملا لیا کرتا تھا۔ اس روایت سے صاف معلوم ہوگیا کہ کعبین اس ہڈی کا نام نہیں جو قدم کی پشت کی طرف ہے کیونکہ اس کا ملانا دو پاس پاس کے شخصوں میں ممکن نہیں بلکہ وہی دو ابھری ہوئی ہڈیاں ہیں جو پنڈلی کے خاتمے پر ہیں اور یہی مذہب اہلسنت کا ہے۔ ابن ابی حاتم میں یحییٰ بن حارث تیمی سے منقول ہے کہ زید کے جو ساتھی شیعہ قتل کئے گئے تھے انہیں میں نے دیکھا تو ان کا ٹخنہ قدم کی پشت پر پایا انہیں قدرتی سزا تھی جو ان کی موت کے بعد ظاہر کی گئی اور مخالفت حق اور کتمان حق کا بدلہ دیا گیا۔ اس کے بعد تیمم کی صورتیں اور تیمم کا طریقہ بیان ہوا ہے اس کی پوری تفسیر سورة نساء میں گزر چکی ہے لہذا یہاں بیان نہیں کی جاتی۔ آیت تیمم کا شان نزول بھی وہیں بیان کردیا گیا ہے۔ لیکن امیر المومنین فی الحدیث حضرت امام بخاری نے اس آیت کے متعلق خاصتًا ایک حدیث وارد کی ہے اسے سن لیجئے حضرت عائشہ صدیقہ ام المومنین کا بیان ہے کہ میرے گلے کا ہار بیداء میں گرگیا ہم مدینہ میں داخل ہونے والے تھے حضور ﷺ نے سواری روکی اور میری گود میں سر رکھ کر سو گئے اتنے میں میرے والد حضرت ابوبکر صدیق میرے پاس تشریف لائے اور مجھ پر بگڑنے لگے کہ تو نے ہار کھو کر لوگوں کو روک دیا اور مجھے کچو کے مارنے لگے۔ جس سے مجھے تکلیف ہوئی لیکن حضور ﷺ کی نیند میں خلل اندازی نہ ہو، اس خیال سے میں ہلی جلی نہیں، حضور ﷺ جب جاگے اور صبح کی نماز کا وقت ہوگیا اور پانی کی تلاش کی گئی تو پانی نہ ملا، اس پر یہ پوری آیت نازل ہوئی۔ حضرت اسید بن حفیر کہنے لگے اے آل ابوبکر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کیلئے تمہیں بابرکت بنادیا ہے تم ان کیلئے سرتاپا برکت ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تم پر حرج ڈالنا نہیں چاہتا اسی لئے اپنے دین کو سہل آسان اور ہلکا کردیا ہے۔ بوجھل سخت اور مشکل نہیں۔ حکم تو اس کا یہ تھا کہ پانی سے وضو کرو لیکن جب میسر نہ ہو یا بیماری ہو تو تمہیں تیمم کرنے کی رخصت عطا فرماتا ہے، باقی احکام احکام کی کتابوں میں ملاحظہ ہوں۔ بلکہ اللہ کی چاہت یہ ہے کہ تمہیں پاک صاف کر دے اور تمہیں پوری پوری نعمتیں عطا فرمائے تاکہ تم اس کی رحمتوں پر اس کی شکر گزاری کرو اس کی توسیع احکام اور رأفت و رحمت آسانی اور رخصت پر اس کا احسان مانو۔ وضو کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے ایک دعا تعلیم فرمائی ہے جو گویا اس آیت کے ماتحت ہے۔ مسند، سنن اور صحیح مسلم میں حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ ہم باری باری اونٹوں کو چرایا کرتے تھے میں اپنی باری والی رات عشاء کے وقت چلا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے لوگوں سے کچھ فرما رہے ہیں میں بھی پہنچ گیا اس وقت میں نے آپ سے یہ سنا کہ جو مسلمان اچھی طرح وضو کر کے دلی توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز ادا کرے اس کیلئے جنت واجب ہے۔ میں نے کہا واہ واہ یہ بہت ہی اچھی بات ہے۔ میری یہ بات سن کر ایک صاحب نے جو میرے آگے ہی بیٹھے تھے فرمایا اس سے پہلے جو بات حضور ﷺ نے فرمائی ہے وہ اس سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ میں نے جو غور سے دیکھا تو وہ حضرت عمر فاروق تھے آپ مجھ سے فرمانے لگے تم ابھی آئے ہو، تمہارے آنے سے پہلے حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص عمدگی اور اچھائی سے وضو کرے پھر کہے دعا (اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ)۔ اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس میں سے چاہے داخل ہو۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جب ایمان و اسلام والا وضو کرنے بیٹھتا ہے اس کے منہ دھوتے ہوئے اس کی آنکھوں کی تمام خطائیں پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ جھڑ جاتی ہے ہیں اسی طرح ہاتھوں کے دھونے کے وقت ہاتھوں کی تمام خطائیں اور اسی طرح پیروں کے دھونے کے وقت پیروں کی تمام خطائیں دھل جاتی ہیں وہ گناہوں سے بالکل پاک صاف ہوجاتا ہے۔ ابن جریر میں ہے جو شخص وضو کرتے ہوئے جب اپنے ہاتھ یا بازوؤں کو دھوتا ہے تو ان سے ان کے گناہ دور ہوجاتے ہیں، منہ کو دھوتے وقت منہ کے گناہ الگ ہوجاتے ہیں، سر کا مسح سر کے گناہ جھاڑ دیتا ہے پیر کا دھونا ان کے گناہ دھو دیتا ہے۔ دوسری سند میں سر کے مسح کا ذکر نہیں۔ ابن جریر میں ہے جو شخص اچھی طرح وضو کر کے نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے اس کے کانوں سے آنکوں سے ہاتھوں سے پاؤ سے سب گناہ الگ ہوجاتے ہیں۔ صحیح مسلم شریف میں ہے وضو آدھا ایمان ہے، الحمد للہ کہنے سے نیکی کا پلڑا بھر جاتا ہے۔ قرآن یا تو تیری موافقت میں دلیل ہے یا تیرے خلاف دلیل ہے، ہر شخص صبح ہی صبح اپنے نفس کی فروخت کرتا ہے پس یا تو اپنے تئیں آزاد کرا لیتا ہے یا ہلاک کرلیتا ہے اور حدیث میں ہے " مال حرام کا صدقہ اللہ قبول نہیں فرماتا اور بےوضو کی نماز بھی غیر مقبول ہے " (صحیح مسلم) یہ روایت ابو داؤد، طیالسی، مسند احمد، ابو داؤد نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔

" اسلام " زبان سے عہد اور " ایمان " عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار اس دین عظیم اور اس رسول کریم کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر ﷺ کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کرلینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے، اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چناچہ صحابہ کے الفاظ ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی کہ " ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی کام کو نہیں چھینیں گے۔ " باری تعالیٰ عزوجل کا ارشاد ہے کہ تم کیوں ایمان نہیں لاتے ؟ حالانکہ رسول ﷺ تمہیں رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں، اگر تمہیں یقین ہو اور اس نے تم سے عہد بھی لے لیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں یہودیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم سے حضور ﷺ کی تابعداری کے قول قرار ہوچکے ہیں، پھر تمہاری نافرمانی کے کیا معنی ؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ " حضرت آدم کی پیٹھ سے نکال کر جو عہد اللہ رب العزت نے بنو آدم سے لیا تھا، اسے یاد دلایا جا رہا ہے جس میں فرمایا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے، سدی اور ابن عباس سے وہی مروی ہے اور امان اب جریر نے بھی اسی کو مختار بتایا ہے۔ ہر حال میں ہر حال میں انسان کو اللہ کا خوف رکھنا چاہئے۔ دلوں اور سینوں کے بھید سے وہ واقف ہے۔ ایمان والو لوگوں کو دکھانے کو نہیں بلکہ اللہ کی وجہ سے حق پر قائم ہوجاؤ اور عدل کے ساتھ صحیح گواہ بن جاؤ۔ بخاری و مسلم میں حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دے رکھا تھا، میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ میں تو اس وقت تک مطمئن نہیں ہونے لگی جب تک کہ تم اس پر رسول اللہ ﷺ کو گواہ نہ بنا لو، میرے باپ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے واقعہ بیان کیا تو آپ نے دریافت فرمایا کیا اپنی دوسری اولاد کو بھی ایسا ہی عطیہ دیا ہے ؟ جواب دیا کہ نہیں تو آپ نے فرمایا اللہ سے ڈرو، اپنی اولاد میں عدل کیا کرو، جاؤ میں کسی ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔ چناچہ میرے باپ نے وہ صدقہ لوٹا لیا، پھر فرمایا دیکھو کسی کی عداوت اور ضد میں آکر عدل سے نہ ہٹ جانا۔ دوست ہو یا دشمن ہو، تمہیں عدل و انصاف کا ساتھ دینا چاہئے، تقوے سے زیادہ قریب یہی ہے، ھو کی ضمیر کے مرجع پر دلالت فعل نے کردی ہے جیسے کہ اس کی نظریں قرآن میں اور بھی ہے اور کلام عرب میں بھی، جیسے اور جگہ ہے۔ آیت (وَاِنْ قِيْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ) 4۔ النور :28) یعنی اگر تم کسی مکان میں جانے کی اجازت مانگو اور نہ ملے بلکہ کہا جائے کہ واپس جاؤ تو تم واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لئے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے۔ پس یہاں ھو کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں، لیکن فعل کی دلالت موجود ہے یعنی لوٹ جانا اسی طرح مندرجہ آیت میں یعنی عدل کرنا۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہاں پر اقرب افعل التفضیل کا صیغہ ایسے موقعہ پر ہے کہ دوسری جانب اور کوئی چیز نہیں، جیسے اس آیت میں ہے۔ (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا) 25۔ الفرقان :24) اور جیسے کہ کسی صحابیہ کا حضرت عمر سے کہنا کہ۔ انت واغلظ من رسول اللہ ﷺ اللہ سے ڈرو ! وہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے، ہر خیرو شر کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ وہ ایمان والوں، نیک کاروں سے ان کے گناہوں کی بخشش کا اور انہیں اجر عظیم یعنی جنت دینے کا وعدہ کرچکا ہے۔ گو دراصل وہ اس رحمت کو صرف فعل الٰہی سے حاصل کرینگے لیکن رحمت کی توجہ کا سبب ان کے نیک اعمال بنے۔ پس حقیقتاً ہر طرح قابل تعریف و ستائش اللہ ہی ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل و رحم ہے۔ حکمت و عدل کا تقاضا یہی تھا کہ ایمانداروں اور نیک کاروں کو جنت دی جائے اور کافروں اور جھٹلانے والوں کو جہنم واصل کیا جائے چناچہ یونہی ہوگا۔ پھر اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے، حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ایک منزل میں اترے، لوگ ادھر ادھر سایہ دار درختوں کی تلاش میں لگ گئے آپ نے ہتھیار اتار کر ایک درخت پر لٹکا دئے۔ ایک اعرابی نے آکر آپ کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسے کھینچ کر آنحضرت ﷺ کے پاس کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا اب بتا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے ؟ آپ نے فوراً بعد جواب دیا کہ اللہ عزوجل، اس نے پھر یہی سوال کیا اور آپ نے پھر یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ کے جواب کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی، اب آپ نے صحابہ کو آواز دی اور جب وہ آگئے تو ان سے سارا واقعہ کہہ دیا، اعرابی اس وقت بھی موجود تھا، لیکن آپ نے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا۔ قتادہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے دھوکے سے حضور ﷺ کو قتل کرنا چاہا تھا اور انہوں نے اس اعرابی کو آپ کی گھات میں بھیجا تھا لیکن اللہ نے اسے ناکام اور نامراد رکھا فالحمدللہ۔ اس اعرابی کا نام صحیح احادیث میں غوث بن حارث آیا ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ یہودیوں نے آپ کو اور آپ کے صحابہ کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر ملا کر کھانا پکا کر دعوت کردی، لیکن اللہ نے آپ کو آگاہ کردیا اور آپ بچ رہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے یہودی ساتھیوں نے اپنے گھر میں بلا کر آپ کو صدمہ پہنچانا چاہا تھا۔ ابن اسحاق وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو نضیر کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چکی کا پاٹ قلعہ کے اوپر سے آپ کے سر پر گرانا چاہتا تھا جبکہ آپ عامری لوگوں کی دیت کے لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے تو ان شریروں نے عمرو بن حجاش بن کعب کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہم حضور ﷺ کو نیچے کھڑا کر کے باتوں میں مشغول کرلیں گے تو اوپر سے یہ پھینک کر آپ کا کام تمام کردینا لیکن راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو ان کی شرارت و خباثت سے آگاہ کردیا، آپ مع اپنے صحابہ کے وہیں سے پلٹ گئے، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے جو کفایت کرنے والا، حفاظت کرنے والا ہے۔ اس کے بعد حضور ﷺ اللہ کے حکم سے بنو نضیر کی طرف مع لشکر گئے، محاصرہ کیا، وہ ہارے اور انہیں جلا وطن کردیا۔

" اسلام " زبان سے عہد اور " ایمان " عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار اس دین عظیم اور اس رسول کریم کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر ﷺ کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کرلینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے، اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چناچہ صحابہ کے الفاظ ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی کہ " ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی کام کو نہیں چھینیں گے۔ " باری تعالیٰ عزوجل کا ارشاد ہے کہ تم کیوں ایمان نہیں لاتے ؟ حالانکہ رسول ﷺ تمہیں رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں، اگر تمہیں یقین ہو اور اس نے تم سے عہد بھی لے لیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں یہودیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم سے حضور ﷺ کی تابعداری کے قول قرار ہوچکے ہیں، پھر تمہاری نافرمانی کے کیا معنی ؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ " حضرت آدم کی پیٹھ سے نکال کر جو عہد اللہ رب العزت نے بنو آدم سے لیا تھا، اسے یاد دلایا جا رہا ہے جس میں فرمایا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے، سدی اور ابن عباس سے وہی مروی ہے اور امان اب جریر نے بھی اسی کو مختار بتایا ہے۔ ہر حال میں ہر حال میں انسان کو اللہ کا خوف رکھنا چاہئے۔ دلوں اور سینوں کے بھید سے وہ واقف ہے۔ ایمان والو لوگوں کو دکھانے کو نہیں بلکہ اللہ کی وجہ سے حق پر قائم ہوجاؤ اور عدل کے ساتھ صحیح گواہ بن جاؤ۔ بخاری و مسلم میں حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دے رکھا تھا، میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ میں تو اس وقت تک مطمئن نہیں ہونے لگی جب تک کہ تم اس پر رسول اللہ ﷺ کو گواہ نہ بنا لو، میرے باپ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے واقعہ بیان کیا تو آپ نے دریافت فرمایا کیا اپنی دوسری اولاد کو بھی ایسا ہی عطیہ دیا ہے ؟ جواب دیا کہ نہیں تو آپ نے فرمایا اللہ سے ڈرو، اپنی اولاد میں عدل کیا کرو، جاؤ میں کسی ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔ چناچہ میرے باپ نے وہ صدقہ لوٹا لیا، پھر فرمایا دیکھو کسی کی عداوت اور ضد میں آکر عدل سے نہ ہٹ جانا۔ دوست ہو یا دشمن ہو، تمہیں عدل و انصاف کا ساتھ دینا چاہئے، تقوے سے زیادہ قریب یہی ہے، ھو کی ضمیر کے مرجع پر دلالت فعل نے کردی ہے جیسے کہ اس کی نظریں قرآن میں اور بھی ہے اور کلام عرب میں بھی، جیسے اور جگہ ہے۔ آیت (وَاِنْ قِيْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ) 4۔ النور :28) یعنی اگر تم کسی مکان میں جانے کی اجازت مانگو اور نہ ملے بلکہ کہا جائے کہ واپس جاؤ تو تم واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لئے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے۔ پس یہاں ھو کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں، لیکن فعل کی دلالت موجود ہے یعنی لوٹ جانا اسی طرح مندرجہ آیت میں یعنی عدل کرنا۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہاں پر اقرب افعل التفضیل کا صیغہ ایسے موقعہ پر ہے کہ دوسری جانب اور کوئی چیز نہیں، جیسے اس آیت میں ہے۔ (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا) 25۔ الفرقان :24) اور جیسے کہ کسی صحابیہ کا حضرت عمر سے کہنا کہ۔ انت واغلظ من رسول اللہ ﷺ اللہ سے ڈرو ! وہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے، ہر خیرو شر کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ وہ ایمان والوں، نیک کاروں سے ان کے گناہوں کی بخشش کا اور انہیں اجر عظیم یعنی جنت دینے کا وعدہ کرچکا ہے۔ گو دراصل وہ اس رحمت کو صرف فعل الٰہی سے حاصل کرینگے لیکن رحمت کی توجہ کا سبب ان کے نیک اعمال بنے۔ پس حقیقتاً ہر طرح قابل تعریف و ستائش اللہ ہی ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل و رحم ہے۔ حکمت و عدل کا تقاضا یہی تھا کہ ایمانداروں اور نیک کاروں کو جنت دی جائے اور کافروں اور جھٹلانے والوں کو جہنم واصل کیا جائے چناچہ یونہی ہوگا۔ پھر اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے، حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ایک منزل میں اترے، لوگ ادھر ادھر سایہ دار درختوں کی تلاش میں لگ گئے آپ نے ہتھیار اتار کر ایک درخت پر لٹکا دئے۔ ایک اعرابی نے آکر آپ کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسے کھینچ کر آنحضرت ﷺ کے پاس کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا اب بتا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے ؟ آپ نے فوراً بعد جواب دیا کہ اللہ عزوجل، اس نے پھر یہی سوال کیا اور آپ نے پھر یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ کے جواب کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی، اب آپ نے صحابہ کو آواز دی اور جب وہ آگئے تو ان سے سارا واقعہ کہہ دیا، اعرابی اس وقت بھی موجود تھا، لیکن آپ نے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا۔ قتادہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے دھوکے سے حضور ﷺ کو قتل کرنا چاہا تھا اور انہوں نے اس اعرابی کو آپ کی گھات میں بھیجا تھا لیکن اللہ نے اسے ناکام اور نامراد رکھا فالحمدللہ۔ اس اعرابی کا نام صحیح احادیث میں غوث بن حارث آیا ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ یہودیوں نے آپ کو اور آپ کے صحابہ کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر ملا کر کھانا پکا کر دعوت کردی، لیکن اللہ نے آپ کو آگاہ کردیا اور آپ بچ رہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے یہودی ساتھیوں نے اپنے گھر میں بلا کر آپ کو صدمہ پہنچانا چاہا تھا۔ ابن اسحاق وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو نضیر کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چکی کا پاٹ قلعہ کے اوپر سے آپ کے سر پر گرانا چاہتا تھا جبکہ آپ عامری لوگوں کی دیت کے لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے تو ان شریروں نے عمرو بن حجاش بن کعب کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہم حضور ﷺ کو نیچے کھڑا کر کے باتوں میں مشغول کرلیں گے تو اوپر سے یہ پھینک کر آپ کا کام تمام کردینا لیکن راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو ان کی شرارت و خباثت سے آگاہ کردیا، آپ مع اپنے صحابہ کے وہیں سے پلٹ گئے، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے جو کفایت کرنے والا، حفاظت کرنے والا ہے۔ اس کے بعد حضور ﷺ اللہ کے حکم سے بنو نضیر کی طرف مع لشکر گئے، محاصرہ کیا، وہ ہارے اور انہیں جلا وطن کردیا۔

" اسلام " زبان سے عہد اور " ایمان " عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار اس دین عظیم اور اس رسول کریم کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر ﷺ کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کرلینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے، اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چناچہ صحابہ کے الفاظ ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی کہ " ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی کام کو نہیں چھینیں گے۔ " باری تعالیٰ عزوجل کا ارشاد ہے کہ تم کیوں ایمان نہیں لاتے ؟ حالانکہ رسول ﷺ تمہیں رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں، اگر تمہیں یقین ہو اور اس نے تم سے عہد بھی لے لیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں یہودیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم سے حضور ﷺ کی تابعداری کے قول قرار ہوچکے ہیں، پھر تمہاری نافرمانی کے کیا معنی ؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ " حضرت آدم کی پیٹھ سے نکال کر جو عہد اللہ رب العزت نے بنو آدم سے لیا تھا، اسے یاد دلایا جا رہا ہے جس میں فرمایا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے، سدی اور ابن عباس سے وہی مروی ہے اور امان اب جریر نے بھی اسی کو مختار بتایا ہے۔ ہر حال میں ہر حال میں انسان کو اللہ کا خوف رکھنا چاہئے۔ دلوں اور سینوں کے بھید سے وہ واقف ہے۔ ایمان والو لوگوں کو دکھانے کو نہیں بلکہ اللہ کی وجہ سے حق پر قائم ہوجاؤ اور عدل کے ساتھ صحیح گواہ بن جاؤ۔ بخاری و مسلم میں حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دے رکھا تھا، میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ میں تو اس وقت تک مطمئن نہیں ہونے لگی جب تک کہ تم اس پر رسول اللہ ﷺ کو گواہ نہ بنا لو، میرے باپ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے واقعہ بیان کیا تو آپ نے دریافت فرمایا کیا اپنی دوسری اولاد کو بھی ایسا ہی عطیہ دیا ہے ؟ جواب دیا کہ نہیں تو آپ نے فرمایا اللہ سے ڈرو، اپنی اولاد میں عدل کیا کرو، جاؤ میں کسی ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔ چناچہ میرے باپ نے وہ صدقہ لوٹا لیا، پھر فرمایا دیکھو کسی کی عداوت اور ضد میں آکر عدل سے نہ ہٹ جانا۔ دوست ہو یا دشمن ہو، تمہیں عدل و انصاف کا ساتھ دینا چاہئے، تقوے سے زیادہ قریب یہی ہے، ھو کی ضمیر کے مرجع پر دلالت فعل نے کردی ہے جیسے کہ اس کی نظریں قرآن میں اور بھی ہے اور کلام عرب میں بھی، جیسے اور جگہ ہے۔ آیت (وَاِنْ قِيْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ) 4۔ النور :28) یعنی اگر تم کسی مکان میں جانے کی اجازت مانگو اور نہ ملے بلکہ کہا جائے کہ واپس جاؤ تو تم واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لئے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے۔ پس یہاں ھو کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں، لیکن فعل کی دلالت موجود ہے یعنی لوٹ جانا اسی طرح مندرجہ آیت میں یعنی عدل کرنا۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہاں پر اقرب افعل التفضیل کا صیغہ ایسے موقعہ پر ہے کہ دوسری جانب اور کوئی چیز نہیں، جیسے اس آیت میں ہے۔ (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا) 25۔ الفرقان :24) اور جیسے کہ کسی صحابیہ کا حضرت عمر سے کہنا کہ۔ انت واغلظ من رسول اللہ ﷺ اللہ سے ڈرو ! وہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے، ہر خیرو شر کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ وہ ایمان والوں، نیک کاروں سے ان کے گناہوں کی بخشش کا اور انہیں اجر عظیم یعنی جنت دینے کا وعدہ کرچکا ہے۔ گو دراصل وہ اس رحمت کو صرف فعل الٰہی سے حاصل کرینگے لیکن رحمت کی توجہ کا سبب ان کے نیک اعمال بنے۔ پس حقیقتاً ہر طرح قابل تعریف و ستائش اللہ ہی ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل و رحم ہے۔ حکمت و عدل کا تقاضا یہی تھا کہ ایمانداروں اور نیک کاروں کو جنت دی جائے اور کافروں اور جھٹلانے والوں کو جہنم واصل کیا جائے چناچہ یونہی ہوگا۔ پھر اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے، حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ایک منزل میں اترے، لوگ ادھر ادھر سایہ دار درختوں کی تلاش میں لگ گئے آپ نے ہتھیار اتار کر ایک درخت پر لٹکا دئے۔ ایک اعرابی نے آکر آپ کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسے کھینچ کر آنحضرت ﷺ کے پاس کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا اب بتا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے ؟ آپ نے فوراً بعد جواب دیا کہ اللہ عزوجل، اس نے پھر یہی سوال کیا اور آپ نے پھر یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ کے جواب کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی، اب آپ نے صحابہ کو آواز دی اور جب وہ آگئے تو ان سے سارا واقعہ کہہ دیا، اعرابی اس وقت بھی موجود تھا، لیکن آپ نے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا۔ قتادہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے دھوکے سے حضور ﷺ کو قتل کرنا چاہا تھا اور انہوں نے اس اعرابی کو آپ کی گھات میں بھیجا تھا لیکن اللہ نے اسے ناکام اور نامراد رکھا فالحمدللہ۔ اس اعرابی کا نام صحیح احادیث میں غوث بن حارث آیا ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ یہودیوں نے آپ کو اور آپ کے صحابہ کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر ملا کر کھانا پکا کر دعوت کردی، لیکن اللہ نے آپ کو آگاہ کردیا اور آپ بچ رہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے یہودی ساتھیوں نے اپنے گھر میں بلا کر آپ کو صدمہ پہنچانا چاہا تھا۔ ابن اسحاق وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو نضیر کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چکی کا پاٹ قلعہ کے اوپر سے آپ کے سر پر گرانا چاہتا تھا جبکہ آپ عامری لوگوں کی دیت کے لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے تو ان شریروں نے عمرو بن حجاش بن کعب کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہم حضور ﷺ کو نیچے کھڑا کر کے باتوں میں مشغول کرلیں گے تو اوپر سے یہ پھینک کر آپ کا کام تمام کردینا لیکن راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو ان کی شرارت و خباثت سے آگاہ کردیا، آپ مع اپنے صحابہ کے وہیں سے پلٹ گئے، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے جو کفایت کرنے والا، حفاظت کرنے والا ہے۔ اس کے بعد حضور ﷺ اللہ کے حکم سے بنو نضیر کی طرف مع لشکر گئے، محاصرہ کیا، وہ ہارے اور انہیں جلا وطن کردیا۔

" اسلام " زبان سے عہد اور " ایمان " عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار اس دین عظیم اور اس رسول کریم کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر ﷺ کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کرلینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے، اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چناچہ صحابہ کے الفاظ ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی کہ " ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی کام کو نہیں چھینیں گے۔ " باری تعالیٰ عزوجل کا ارشاد ہے کہ تم کیوں ایمان نہیں لاتے ؟ حالانکہ رسول ﷺ تمہیں رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں، اگر تمہیں یقین ہو اور اس نے تم سے عہد بھی لے لیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں یہودیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم سے حضور ﷺ کی تابعداری کے قول قرار ہوچکے ہیں، پھر تمہاری نافرمانی کے کیا معنی ؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ " حضرت آدم کی پیٹھ سے نکال کر جو عہد اللہ رب العزت نے بنو آدم سے لیا تھا، اسے یاد دلایا جا رہا ہے جس میں فرمایا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے، سدی اور ابن عباس سے وہی مروی ہے اور امان اب جریر نے بھی اسی کو مختار بتایا ہے۔ ہر حال میں ہر حال میں انسان کو اللہ کا خوف رکھنا چاہئے۔ دلوں اور سینوں کے بھید سے وہ واقف ہے۔ ایمان والو لوگوں کو دکھانے کو نہیں بلکہ اللہ کی وجہ سے حق پر قائم ہوجاؤ اور عدل کے ساتھ صحیح گواہ بن جاؤ۔ بخاری و مسلم میں حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دے رکھا تھا، میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ میں تو اس وقت تک مطمئن نہیں ہونے لگی جب تک کہ تم اس پر رسول اللہ ﷺ کو گواہ نہ بنا لو، میرے باپ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے واقعہ بیان کیا تو آپ نے دریافت فرمایا کیا اپنی دوسری اولاد کو بھی ایسا ہی عطیہ دیا ہے ؟ جواب دیا کہ نہیں تو آپ نے فرمایا اللہ سے ڈرو، اپنی اولاد میں عدل کیا کرو، جاؤ میں کسی ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔ چناچہ میرے باپ نے وہ صدقہ لوٹا لیا، پھر فرمایا دیکھو کسی کی عداوت اور ضد میں آکر عدل سے نہ ہٹ جانا۔ دوست ہو یا دشمن ہو، تمہیں عدل و انصاف کا ساتھ دینا چاہئے، تقوے سے زیادہ قریب یہی ہے، ھو کی ضمیر کے مرجع پر دلالت فعل نے کردی ہے جیسے کہ اس کی نظریں قرآن میں اور بھی ہے اور کلام عرب میں بھی، جیسے اور جگہ ہے۔ آیت (وَاِنْ قِيْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ) 4۔ النور :28) یعنی اگر تم کسی مکان میں جانے کی اجازت مانگو اور نہ ملے بلکہ کہا جائے کہ واپس جاؤ تو تم واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لئے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے۔ پس یہاں ھو کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں، لیکن فعل کی دلالت موجود ہے یعنی لوٹ جانا اسی طرح مندرجہ آیت میں یعنی عدل کرنا۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہاں پر اقرب افعل التفضیل کا صیغہ ایسے موقعہ پر ہے کہ دوسری جانب اور کوئی چیز نہیں، جیسے اس آیت میں ہے۔ (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا) 25۔ الفرقان :24) اور جیسے کہ کسی صحابیہ کا حضرت عمر سے کہنا کہ۔ انت واغلظ من رسول اللہ ﷺ اللہ سے ڈرو ! وہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے، ہر خیرو شر کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ وہ ایمان والوں، نیک کاروں سے ان کے گناہوں کی بخشش کا اور انہیں اجر عظیم یعنی جنت دینے کا وعدہ کرچکا ہے۔ گو دراصل وہ اس رحمت کو صرف فعل الٰہی سے حاصل کرینگے لیکن رحمت کی توجہ کا سبب ان کے نیک اعمال بنے۔ پس حقیقتاً ہر طرح قابل تعریف و ستائش اللہ ہی ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل و رحم ہے۔ حکمت و عدل کا تقاضا یہی تھا کہ ایمانداروں اور نیک کاروں کو جنت دی جائے اور کافروں اور جھٹلانے والوں کو جہنم واصل کیا جائے چناچہ یونہی ہوگا۔ پھر اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے، حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ایک منزل میں اترے، لوگ ادھر ادھر سایہ دار درختوں کی تلاش میں لگ گئے آپ نے ہتھیار اتار کر ایک درخت پر لٹکا دئے۔ ایک اعرابی نے آکر آپ کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسے کھینچ کر آنحضرت ﷺ کے پاس کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا اب بتا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے ؟ آپ نے فوراً بعد جواب دیا کہ اللہ عزوجل، اس نے پھر یہی سوال کیا اور آپ نے پھر یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ کے جواب کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی، اب آپ نے صحابہ کو آواز دی اور جب وہ آگئے تو ان سے سارا واقعہ کہہ دیا، اعرابی اس وقت بھی موجود تھا، لیکن آپ نے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا۔ قتادہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے دھوکے سے حضور ﷺ کو قتل کرنا چاہا تھا اور انہوں نے اس اعرابی کو آپ کی گھات میں بھیجا تھا لیکن اللہ نے اسے ناکام اور نامراد رکھا فالحمدللہ۔ اس اعرابی کا نام صحیح احادیث میں غوث بن حارث آیا ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ یہودیوں نے آپ کو اور آپ کے صحابہ کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر ملا کر کھانا پکا کر دعوت کردی، لیکن اللہ نے آپ کو آگاہ کردیا اور آپ بچ رہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے یہودی ساتھیوں نے اپنے گھر میں بلا کر آپ کو صدمہ پہنچانا چاہا تھا۔ ابن اسحاق وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو نضیر کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چکی کا پاٹ قلعہ کے اوپر سے آپ کے سر پر گرانا چاہتا تھا جبکہ آپ عامری لوگوں کی دیت کے لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے تو ان شریروں نے عمرو بن حجاش بن کعب کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہم حضور ﷺ کو نیچے کھڑا کر کے باتوں میں مشغول کرلیں گے تو اوپر سے یہ پھینک کر آپ کا کام تمام کردینا لیکن راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو ان کی شرارت و خباثت سے آگاہ کردیا، آپ مع اپنے صحابہ کے وہیں سے پلٹ گئے، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے جو کفایت کرنے والا، حفاظت کرنے والا ہے۔ اس کے بعد حضور ﷺ اللہ کے حکم سے بنو نضیر کی طرف مع لشکر گئے، محاصرہ کیا، وہ ہارے اور انہیں جلا وطن کردیا۔

" اسلام " زبان سے عہد اور " ایمان " عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار اس دین عظیم اور اس رسول کریم کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر ﷺ کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کرلینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے، اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چناچہ صحابہ کے الفاظ ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی کہ " ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی کام کو نہیں چھینیں گے۔ " باری تعالیٰ عزوجل کا ارشاد ہے کہ تم کیوں ایمان نہیں لاتے ؟ حالانکہ رسول ﷺ تمہیں رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں، اگر تمہیں یقین ہو اور اس نے تم سے عہد بھی لے لیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں یہودیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم سے حضور ﷺ کی تابعداری کے قول قرار ہوچکے ہیں، پھر تمہاری نافرمانی کے کیا معنی ؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ " حضرت آدم کی پیٹھ سے نکال کر جو عہد اللہ رب العزت نے بنو آدم سے لیا تھا، اسے یاد دلایا جا رہا ہے جس میں فرمایا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے، سدی اور ابن عباس سے وہی مروی ہے اور امان اب جریر نے بھی اسی کو مختار بتایا ہے۔ ہر حال میں ہر حال میں انسان کو اللہ کا خوف رکھنا چاہئے۔ دلوں اور سینوں کے بھید سے وہ واقف ہے۔ ایمان والو لوگوں کو دکھانے کو نہیں بلکہ اللہ کی وجہ سے حق پر قائم ہوجاؤ اور عدل کے ساتھ صحیح گواہ بن جاؤ۔ بخاری و مسلم میں حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دے رکھا تھا، میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ میں تو اس وقت تک مطمئن نہیں ہونے لگی جب تک کہ تم اس پر رسول اللہ ﷺ کو گواہ نہ بنا لو، میرے باپ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے واقعہ بیان کیا تو آپ نے دریافت فرمایا کیا اپنی دوسری اولاد کو بھی ایسا ہی عطیہ دیا ہے ؟ جواب دیا کہ نہیں تو آپ نے فرمایا اللہ سے ڈرو، اپنی اولاد میں عدل کیا کرو، جاؤ میں کسی ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔ چناچہ میرے باپ نے وہ صدقہ لوٹا لیا، پھر فرمایا دیکھو کسی کی عداوت اور ضد میں آکر عدل سے نہ ہٹ جانا۔ دوست ہو یا دشمن ہو، تمہیں عدل و انصاف کا ساتھ دینا چاہئے، تقوے سے زیادہ قریب یہی ہے، ھو کی ضمیر کے مرجع پر دلالت فعل نے کردی ہے جیسے کہ اس کی نظریں قرآن میں اور بھی ہے اور کلام عرب میں بھی، جیسے اور جگہ ہے۔ آیت (وَاِنْ قِيْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ) 4۔ النور :28) یعنی اگر تم کسی مکان میں جانے کی اجازت مانگو اور نہ ملے بلکہ کہا جائے کہ واپس جاؤ تو تم واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لئے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے۔ پس یہاں ھو کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں، لیکن فعل کی دلالت موجود ہے یعنی لوٹ جانا اسی طرح مندرجہ آیت میں یعنی عدل کرنا۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہاں پر اقرب افعل التفضیل کا صیغہ ایسے موقعہ پر ہے کہ دوسری جانب اور کوئی چیز نہیں، جیسے اس آیت میں ہے۔ (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا) 25۔ الفرقان :24) اور جیسے کہ کسی صحابیہ کا حضرت عمر سے کہنا کہ۔ انت واغلظ من رسول اللہ ﷺ اللہ سے ڈرو ! وہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے، ہر خیرو شر کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ وہ ایمان والوں، نیک کاروں سے ان کے گناہوں کی بخشش کا اور انہیں اجر عظیم یعنی جنت دینے کا وعدہ کرچکا ہے۔ گو دراصل وہ اس رحمت کو صرف فعل الٰہی سے حاصل کرینگے لیکن رحمت کی توجہ کا سبب ان کے نیک اعمال بنے۔ پس حقیقتاً ہر طرح قابل تعریف و ستائش اللہ ہی ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل و رحم ہے۔ حکمت و عدل کا تقاضا یہی تھا کہ ایمانداروں اور نیک کاروں کو جنت دی جائے اور کافروں اور جھٹلانے والوں کو جہنم واصل کیا جائے چناچہ یونہی ہوگا۔ پھر اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے، حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ایک منزل میں اترے، لوگ ادھر ادھر سایہ دار درختوں کی تلاش میں لگ گئے آپ نے ہتھیار اتار کر ایک درخت پر لٹکا دئے۔ ایک اعرابی نے آکر آپ کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسے کھینچ کر آنحضرت ﷺ کے پاس کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا اب بتا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے ؟ آپ نے فوراً بعد جواب دیا کہ اللہ عزوجل، اس نے پھر یہی سوال کیا اور آپ نے پھر یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ کے جواب کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی، اب آپ نے صحابہ کو آواز دی اور جب وہ آگئے تو ان سے سارا واقعہ کہہ دیا، اعرابی اس وقت بھی موجود تھا، لیکن آپ نے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا۔ قتادہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے دھوکے سے حضور ﷺ کو قتل کرنا چاہا تھا اور انہوں نے اس اعرابی کو آپ کی گھات میں بھیجا تھا لیکن اللہ نے اسے ناکام اور نامراد رکھا فالحمدللہ۔ اس اعرابی کا نام صحیح احادیث میں غوث بن حارث آیا ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ یہودیوں نے آپ کو اور آپ کے صحابہ کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر ملا کر کھانا پکا کر دعوت کردی، لیکن اللہ نے آپ کو آگاہ کردیا اور آپ بچ رہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے یہودی ساتھیوں نے اپنے گھر میں بلا کر آپ کو صدمہ پہنچانا چاہا تھا۔ ابن اسحاق وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو نضیر کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چکی کا پاٹ قلعہ کے اوپر سے آپ کے سر پر گرانا چاہتا تھا جبکہ آپ عامری لوگوں کی دیت کے لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے تو ان شریروں نے عمرو بن حجاش بن کعب کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہم حضور ﷺ کو نیچے کھڑا کر کے باتوں میں مشغول کرلیں گے تو اوپر سے یہ پھینک کر آپ کا کام تمام کردینا لیکن راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو ان کی شرارت و خباثت سے آگاہ کردیا، آپ مع اپنے صحابہ کے وہیں سے پلٹ گئے، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے جو کفایت کرنے والا، حفاظت کرنے والا ہے۔ اس کے بعد حضور ﷺ اللہ کے حکم سے بنو نضیر کی طرف مع لشکر گئے، محاصرہ کیا، وہ ہارے اور انہیں جلا وطن کردیا۔

عہد شکن لوگ ؟ اور امام مہدی کون ؟ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو عہد و پیمانے کی وفاداری، حق پر مستقیم رہنے اور عدل کی شہادت دینے کا حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی اپنی ظاہری و باطنی نعمتوں کو یاد دلایا تھا۔ تو اب ان آیتوں میں ان سے پہلے کے اہل کتاب سے جو عہد و میثاق لیا تھا، اس کی حقیقت و کیفیت کو بیان فرما رہا ہے، پھر جبکہ انہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد و پیمان توڑ ڈالے تو ان کا کیا حشر ہوا، اسے بیان فرما کر گویا مسلمانوں کو عہد شکنی سے روکتا ہے۔ ان کے بارہ سردار تھے۔ یعنی بارہ قبیلوں کے بارہ چودھری تھے جو ان سے ان کی بیعت کو پورا کراتے تھے کہ یہ اللہ اور رسول کے تابع فرمان رہیں اور کتاب اللہ کی اتباع کرتے رہیں۔ حضرت موسیٰ جب سرکشوں سے لڑنے کیلئے گئے تب ہر قبیلہ میں سے ایک ایک سردار منتخب کر گئے تھے۔ اوبیل قبیلے کا سردار شامون بن اکون تھا، شمعونیوں کا چودھری شافاط بن جدی، یہودا کا کالب بن یوحنا، فیخائیل کا ابن یوسف اور افرایم کا یوشع بن نون اور بنیامین کے قبیلے کا چودھری قنطمی بن وفون، زبولون کا جدی بن شوری، منشاء کا جدی بن سوسی، دان حملاسل کا ابن حمل، اشار کا ساطور، تفتای کا بحر اور یا سخر کالابل۔ توراۃ کے چوتھے جز میں بنو اسرائیل کے قبیلوں کے سرداروں کے نام مذکور ہیں۔ جو ان ناموں سے قدرے مختلف ہیں۔ واللہ اعلم۔ موجودہ تورات کے نام یہ ہیں۔ بنو ادبیل پر صونی بن سادون، بنی شمعون پر شموال بن صور، بنو یہود پر حشون بن عمیاذب، بنو یساخر پر شال بن صاعون، بنو زبولوں پر الیاب بن حالوب، بنو افرایم پر منشا بن عنہور، بنو منشاء پر حمائیل بنو بیبا میں پر ابیدن، بنودان پر جعیذ ربنو اشاذ نحایل۔ بون کان پر سیف بن دعوابیل، بنو نفعالی پر اجذع۔ یاد رہے کہ لیلتہ العقبہ میں جب آنحضرت ﷺ نے انصار سے بیعت لی اس وقت ان کے سردار بھی بارہ ہی تھے۔ تین قبیلہ اوس کے۔ حضرت اسید بن حضیر، حضرت سعد بنی خیشمہ اور حضرت رفاعہ بن عبد المنذر اور نو سردار قبیلہ خزرج تھے۔ ابو امامہ، اسعد بن زرارہ، سعد بن ربیع، عبداللہ بن رواحہ، رافع بن مالک بن عجلان براء بن معرور عبادہ بن صامت، سعد بن عبادہ، عبداللہ بن عمرو بن حرام، منذربن عمرو بن حنیش اجمعین۔ انہی سرداروں نے اپنی اپنی قوم کی طرف سے پیغمبر آخر الزمان ﷺ سے فرامین سننے اور ماننے کی بیعت کی، حضرت مسروق فرماتے ہیں ہم لوگ حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس بیٹھے تھے، آپ ہمیں اس وقت قرآن پڑھا رہے تھے تو ایک شخص نے سوال کیا کہ آپ لوگوں نے حضور ﷺ سے یہ بھی پوچھا ہے کہ اس امت کے کتنے خلیفہ ہوں گے ؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا میں جب سے عراق آیا ہوں، اس سوال کو بجز تیرے کسی نے نہیں پوچھا، ہم نے حضور ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا، بارہ ہوں گے، جتنی گنتی بنو اسرائیل کے نقیبوں کی تھی۔ یہ روایت سنداً غریب ہے، لیکن مضمون حدیث بخاری اور مسلم کی روایت سے بھی ثابت ہے، جابر بن سمرہ فرماتے ہیں " میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے، لوگوں کا کام چلتا رہے گا، جب تک ان کے والی بارہ شخص نہ ہو لیں، پھر ایک لفظ حضور ﷺ نے فرمایا لیکن میں نہ سن سکا تو میں نے دوسروں سے پوچھا کہ حضور ﷺ نے اب کونسا لفظ فرمایا، انہوں نے جواب دیا یہ فرمایا کہ یہ سب قریش ہوں گے۔ " صحیح مسلم میں یہی لفظ ہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بارہ خلیفہ صالح نیک بخت ہونگے۔ جو حق کو قائم کریں گے اور لوگوں میں عدل کرینگے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ سب پے درپے یکے بعد دیگرے ہی ہوں۔ پس چار خلفاء تو پے درپے حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت جن کی خلافت بطریق نبوت رہی۔ انہی بارہ میں سے پانچویں حضرت عمر بن عبد العزیز ہیں۔ بنو عباس میں سے بھی بعض اسی طرح کے خلیفہ ہوئے ہیں اور قیامت سے پہلے پہلے ان بارہ کی تعداد پوری ہونی ضروری ہے اور انہی میں سے حضرت امام مہدی ہیں، جن کی بشارت احادیث میں آچکی ہے ان کا نام حضور ﷺ کے نام پر ہوگا اور ان کے والد کا نام حضور ﷺ کے والد کا ہوگا، زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینگے حالانکہ اس سے پہلے وہ ظلم و جبر سے پُر ہوگی لیکن اس سے شیعوں کا امام منتظر مراد نہیں، اس کی تو دراصل کوئی حقیقت ہی نہیں، نہ سرے سے اس کا کوئی وجود ہے، بلکہ یہ تو صرف شیعہ کی وہم پرستی اور ان کا تخیل ہے، نہ اس حدیث سے شیعوں کے فرقے اثنا عشریہ کے ائمہ مراد ہیں۔ اس حدیث کو ان ائمہ پر محمول کرنا بھی شیعوں کے اس فرقہ کی بناوٹ ہے جو ان کی کم عقلی اور جہالت کا کرشمہ ہے۔ توراۃ میں حضرت اسمعیل کی بشارت کے ساتھ ہی مرقوم ہے کہ ان کی نسل میں سے بارہ بڑے شخص ہونگے، اسے مراد بھی یہی مسلمانوں کے بارہ قریشی بادشاہ ہیں لیکن جو یہودی مسلمان ہوئے تھے، وہ اپنے اسلام میں کچے اور جاہل بھی تھے، انہوں نے شیعوں کے کان میں کہیں یہ صور پھونک دیا اور وہ سمجھ بیٹھے کہ اس سے مراد ان کے بارہ امام ہیں، ورنہ حدیثیں اس کے واضح خلاف موجود ہیں۔ اب اس عہد و پیمان کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے یہودیوں سے لیا تھا کہ وہ نمازیں پڑھتے رہیں، زکوٰۃ دیتے رہیں، اللہ کے رسولوں کی تصدیق کریں، ان کی نصرت و اعانت کریں اور اللہ کی مرضی کے کاموں میں اپنا مال خرچ کریں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ کی مدد و نصرت ان کے ساتھ رہے گی، ان کے گناہ معاف ہونگے اور یہ جنتوں میں داخل کئے جائیں گے، مقصود حاصل ہوگا اور خوف زائل ہوگا، لیکن اگر وہ اس عہد و پیما کے بعد پھرگئے اور اسے غیر معروف کردیا تو یقینا وہ حق سے دور ہوجائیں گے، بھٹک اور بہک جائیں گے۔ چناچہ یہی ہوا کہ انہوں نے میثاق توڑ دیا، وعدہ خلافی کی تو ان پر اللہ کی لعنت نازل ہوئی، ہدایت سے دور ہوگئے، ان کے دل سخت ہوگئے اور وعظ و پند سے مستفید نہ ہو سکے، سمجھ بگڑ گئی، اللہ کی باتوں میں ہیر پھیر کرنے لگے، باطل تاویلیں گھڑنے لگے، جو مراد حقیقی تھی، اس سے کلام اللہ کو پھیر کر اور ہی مطلب سمجھنے سمجھانے لگے، اللہ کا نام لے کر وہ مسائل بیان کرنے لگے، جو مراد حقیقی تھی، اس سے کلام اللہ کو پھیر کر اور ہی مطلب سمجھنے سمجھانے لگے، اللہ کا نام لے کر وہ مسائل بیان کرنے لگے جو اللہ کے بتائے ہوئے نہ تھے، یہاں تک کہ اللہ کی کتاب ان کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی، وہ اس سے بےعمل چھوٹ جانے کی توجہ سے نہ تو دل ٹھیک رہے، نہ فطرت اچھی رہی۔ نہ خلوص و اخلاص رہا، غداری اور مکاری کو اپنا شیوہ بنا لیا۔ نت نئے جال نبی ﷺ اصحاب نبی کے خلاف بنتے رہے۔ پھر نبی ﷺ کو حکم ہوتا ہے کہ آپ ان سے چشم پوشی کیجئے، یہی معاملہ ان کے ساتھ اچھا ہے، جیسے حضرت عمر فاروق سے مروی ہے کہ جو تجھ سے اللہ کے فرمان کے خلاف سلوک کرے تو اس سے حکم الٰہی کی بجا آوری کے ماتحت سلوک کر۔ اس میں ایک بڑی مصلحت یہ بھی ہے کہ ممکن ہے ان کے دل کھچ آئیں، ہدایت نصیب ہوجائے اور حق کی طرف آجائیں۔ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ یعنی دوسروں کی بدسلوکی سے چشم پوشی کر کے خود نیا سلوک کرنے والے اللہ کے محبوب ہیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں " درگزر کرنے کا حکم جہاد کی آیت سے منسوب ہے۔ " پھر ارشاد ہوتا ہے کہ " ان نصرانیوں سے بھی ہم نے وعدہ لیا تھا کہ جو رسول آئے گا، یہ اس پر ایمان لائیں گے، اس کی مدد کرینگے اور اس کی باتیں مانیں گے۔ " لیکن انہوں نے بھی یہودیوں کی طرح بد عہدی کی، جس کی سزا میں ہم نے ان میں آپس میں عداوت ڈال دی جو قیامت تک جاری رہے گی۔ ان میں فرقے فرقے بن گئے جو ایک دوسرے کو کافر و ملعون کہتے ہیں اور اپنے عبادت خانوں میں بھی نہیں آنے دیتے " ملکیہ فرقہ یعقوبیہ فرقے کو، یعقوبیہ ملکیہ کو کھلے بندوں کافر کہتے ہیں، اسی طرح دوسرے تمام فرقے بھی، انہیں ان کے اعمال کی پوری تنبیہہ عنقریب ہوگی۔ انہوں نے بھی اللہ کی نصیحتوں کو بھلا دیا ہے اور اللہ پر تہمتیں لگائی ہیں اس پر بیوی اور اولاد والا ہونے کا بہتان باندھا ہے، یہ قیامت کے دن بری طرح پکڑے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ واحد واحد فرد و صمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد ہے۔

عہد شکن لوگ ؟ اور امام مہدی کون ؟ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو عہد و پیمانے کی وفاداری، حق پر مستقیم رہنے اور عدل کی شہادت دینے کا حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی اپنی ظاہری و باطنی نعمتوں کو یاد دلایا تھا۔ تو اب ان آیتوں میں ان سے پہلے کے اہل کتاب سے جو عہد و میثاق لیا تھا، اس کی حقیقت و کیفیت کو بیان فرما رہا ہے، پھر جبکہ انہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد و پیمان توڑ ڈالے تو ان کا کیا حشر ہوا، اسے بیان فرما کر گویا مسلمانوں کو عہد شکنی سے روکتا ہے۔ ان کے بارہ سردار تھے۔ یعنی بارہ قبیلوں کے بارہ چودھری تھے جو ان سے ان کی بیعت کو پورا کراتے تھے کہ یہ اللہ اور رسول کے تابع فرمان رہیں اور کتاب اللہ کی اتباع کرتے رہیں۔ حضرت موسیٰ جب سرکشوں سے لڑنے کیلئے گئے تب ہر قبیلہ میں سے ایک ایک سردار منتخب کر گئے تھے۔ اوبیل قبیلے کا سردار شامون بن اکون تھا، شمعونیوں کا چودھری شافاط بن جدی، یہودا کا کالب بن یوحنا، فیخائیل کا ابن یوسف اور افرایم کا یوشع بن نون اور بنیامین کے قبیلے کا چودھری قنطمی بن وفون، زبولون کا جدی بن شوری، منشاء کا جدی بن سوسی، دان حملاسل کا ابن حمل، اشار کا ساطور، تفتای کا بحر اور یا سخر کالابل۔ توراۃ کے چوتھے جز میں بنو اسرائیل کے قبیلوں کے سرداروں کے نام مذکور ہیں۔ جو ان ناموں سے قدرے مختلف ہیں۔ واللہ اعلم۔ موجودہ تورات کے نام یہ ہیں۔ بنو ادبیل پر صونی بن سادون، بنی شمعون پر شموال بن صور، بنو یہود پر حشون بن عمیاذب، بنو یساخر پر شال بن صاعون، بنو زبولوں پر الیاب بن حالوب، بنو افرایم پر منشا بن عنہور، بنو منشاء پر حمائیل بنو بیبا میں پر ابیدن، بنودان پر جعیذ ربنو اشاذ نحایل۔ بون کان پر سیف بن دعوابیل، بنو نفعالی پر اجذع۔ یاد رہے کہ لیلتہ العقبہ میں جب آنحضرت ﷺ نے انصار سے بیعت لی اس وقت ان کے سردار بھی بارہ ہی تھے۔ تین قبیلہ اوس کے۔ حضرت اسید بن حضیر، حضرت سعد بنی خیشمہ اور حضرت رفاعہ بن عبد المنذر اور نو سردار قبیلہ خزرج تھے۔ ابو امامہ، اسعد بن زرارہ، سعد بن ربیع، عبداللہ بن رواحہ، رافع بن مالک بن عجلان براء بن معرور عبادہ بن صامت، سعد بن عبادہ، عبداللہ بن عمرو بن حرام، منذربن عمرو بن حنیش اجمعین۔ انہی سرداروں نے اپنی اپنی قوم کی طرف سے پیغمبر آخر الزمان ﷺ سے فرامین سننے اور ماننے کی بیعت کی، حضرت مسروق فرماتے ہیں ہم لوگ حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس بیٹھے تھے، آپ ہمیں اس وقت قرآن پڑھا رہے تھے تو ایک شخص نے سوال کیا کہ آپ لوگوں نے حضور ﷺ سے یہ بھی پوچھا ہے کہ اس امت کے کتنے خلیفہ ہوں گے ؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا میں جب سے عراق آیا ہوں، اس سوال کو بجز تیرے کسی نے نہیں پوچھا، ہم نے حضور ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا، بارہ ہوں گے، جتنی گنتی بنو اسرائیل کے نقیبوں کی تھی۔ یہ روایت سنداً غریب ہے، لیکن مضمون حدیث بخاری اور مسلم کی روایت سے بھی ثابت ہے، جابر بن سمرہ فرماتے ہیں " میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے، لوگوں کا کام چلتا رہے گا، جب تک ان کے والی بارہ شخص نہ ہو لیں، پھر ایک لفظ حضور ﷺ نے فرمایا لیکن میں نہ سن سکا تو میں نے دوسروں سے پوچھا کہ حضور ﷺ نے اب کونسا لفظ فرمایا، انہوں نے جواب دیا یہ فرمایا کہ یہ سب قریش ہوں گے۔ " صحیح مسلم میں یہی لفظ ہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بارہ خلیفہ صالح نیک بخت ہونگے۔ جو حق کو قائم کریں گے اور لوگوں میں عدل کرینگے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ سب پے درپے یکے بعد دیگرے ہی ہوں۔ پس چار خلفاء تو پے درپے حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت جن کی خلافت بطریق نبوت رہی۔ انہی بارہ میں سے پانچویں حضرت عمر بن عبد العزیز ہیں۔ بنو عباس میں سے بھی بعض اسی طرح کے خلیفہ ہوئے ہیں اور قیامت سے پہلے پہلے ان بارہ کی تعداد پوری ہونی ضروری ہے اور انہی میں سے حضرت امام مہدی ہیں، جن کی بشارت احادیث میں آچکی ہے ان کا نام حضور ﷺ کے نام پر ہوگا اور ان کے والد کا نام حضور ﷺ کے والد کا ہوگا، زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینگے حالانکہ اس سے پہلے وہ ظلم و جبر سے پُر ہوگی لیکن اس سے شیعوں کا امام منتظر مراد نہیں، اس کی تو دراصل کوئی حقیقت ہی نہیں، نہ سرے سے اس کا کوئی وجود ہے، بلکہ یہ تو صرف شیعہ کی وہم پرستی اور ان کا تخیل ہے، نہ اس حدیث سے شیعوں کے فرقے اثنا عشریہ کے ائمہ مراد ہیں۔ اس حدیث کو ان ائمہ پر محمول کرنا بھی شیعوں کے اس فرقہ کی بناوٹ ہے جو ان کی کم عقلی اور جہالت کا کرشمہ ہے۔ توراۃ میں حضرت اسمعیل کی بشارت کے ساتھ ہی مرقوم ہے کہ ان کی نسل میں سے بارہ بڑے شخص ہونگے، اسے مراد بھی یہی مسلمانوں کے بارہ قریشی بادشاہ ہیں لیکن جو یہودی مسلمان ہوئے تھے، وہ اپنے اسلام میں کچے اور جاہل بھی تھے، انہوں نے شیعوں کے کان میں کہیں یہ صور پھونک دیا اور وہ سمجھ بیٹھے کہ اس سے مراد ان کے بارہ امام ہیں، ورنہ حدیثیں اس کے واضح خلاف موجود ہیں۔ اب اس عہد و پیمان کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے یہودیوں سے لیا تھا کہ وہ نمازیں پڑھتے رہیں، زکوٰۃ دیتے رہیں، اللہ کے رسولوں کی تصدیق کریں، ان کی نصرت و اعانت کریں اور اللہ کی مرضی کے کاموں میں اپنا مال خرچ کریں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ کی مدد و نصرت ان کے ساتھ رہے گی، ان کے گناہ معاف ہونگے اور یہ جنتوں میں داخل کئے جائیں گے، مقصود حاصل ہوگا اور خوف زائل ہوگا، لیکن اگر وہ اس عہد و پیما کے بعد پھرگئے اور اسے غیر معروف کردیا تو یقینا وہ حق سے دور ہوجائیں گے، بھٹک اور بہک جائیں گے۔ چناچہ یہی ہوا کہ انہوں نے میثاق توڑ دیا، وعدہ خلافی کی تو ان پر اللہ کی لعنت نازل ہوئی، ہدایت سے دور ہوگئے، ان کے دل سخت ہوگئے اور وعظ و پند سے مستفید نہ ہو سکے، سمجھ بگڑ گئی، اللہ کی باتوں میں ہیر پھیر کرنے لگے، باطل تاویلیں گھڑنے لگے، جو مراد حقیقی تھی، اس سے کلام اللہ کو پھیر کر اور ہی مطلب سمجھنے سمجھانے لگے، اللہ کا نام لے کر وہ مسائل بیان کرنے لگے، جو مراد حقیقی تھی، اس سے کلام اللہ کو پھیر کر اور ہی مطلب سمجھنے سمجھانے لگے، اللہ کا نام لے کر وہ مسائل بیان کرنے لگے جو اللہ کے بتائے ہوئے نہ تھے، یہاں تک کہ اللہ کی کتاب ان کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی، وہ اس سے بےعمل چھوٹ جانے کی توجہ سے نہ تو دل ٹھیک رہے، نہ فطرت اچھی رہی۔ نہ خلوص و اخلاص رہا، غداری اور مکاری کو اپنا شیوہ بنا لیا۔ نت نئے جال نبی ﷺ اصحاب نبی کے خلاف بنتے رہے۔ پھر نبی ﷺ کو حکم ہوتا ہے کہ آپ ان سے چشم پوشی کیجئے، یہی معاملہ ان کے ساتھ اچھا ہے، جیسے حضرت عمر فاروق سے مروی ہے کہ جو تجھ سے اللہ کے فرمان کے خلاف سلوک کرے تو اس سے حکم الٰہی کی بجا آوری کے ماتحت سلوک کر۔ اس میں ایک بڑی مصلحت یہ بھی ہے کہ ممکن ہے ان کے دل کھچ آئیں، ہدایت نصیب ہوجائے اور حق کی طرف آجائیں۔ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ یعنی دوسروں کی بدسلوکی سے چشم پوشی کر کے خود نیا سلوک کرنے والے اللہ کے محبوب ہیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں " درگزر کرنے کا حکم جہاد کی آیت سے منسوب ہے۔ " پھر ارشاد ہوتا ہے کہ " ان نصرانیوں سے بھی ہم نے وعدہ لیا تھا کہ جو رسول آئے گا، یہ اس پر ایمان لائیں گے، اس کی مدد کرینگے اور اس کی باتیں مانیں گے۔ " لیکن انہوں نے بھی یہودیوں کی طرح بد عہدی کی، جس کی سزا میں ہم نے ان میں آپس میں عداوت ڈال دی جو قیامت تک جاری رہے گی۔ ان میں فرقے فرقے بن گئے جو ایک دوسرے کو کافر و ملعون کہتے ہیں اور اپنے عبادت خانوں میں بھی نہیں آنے دیتے " ملکیہ فرقہ یعقوبیہ فرقے کو، یعقوبیہ ملکیہ کو کھلے بندوں کافر کہتے ہیں، اسی طرح دوسرے تمام فرقے بھی، انہیں ان کے اعمال کی پوری تنبیہہ عنقریب ہوگی۔ انہوں نے بھی اللہ کی نصیحتوں کو بھلا دیا ہے اور اللہ پر تہمتیں لگائی ہیں اس پر بیوی اور اولاد والا ہونے کا بہتان باندھا ہے، یہ قیامت کے دن بری طرح پکڑے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ واحد واحد فرد و صمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد ہے۔

عہد شکن لوگ ؟ اور امام مہدی کون ؟ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو عہد و پیمانے کی وفاداری، حق پر مستقیم رہنے اور عدل کی شہادت دینے کا حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی اپنی ظاہری و باطنی نعمتوں کو یاد دلایا تھا۔ تو اب ان آیتوں میں ان سے پہلے کے اہل کتاب سے جو عہد و میثاق لیا تھا، اس کی حقیقت و کیفیت کو بیان فرما رہا ہے، پھر جبکہ انہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد و پیمان توڑ ڈالے تو ان کا کیا حشر ہوا، اسے بیان فرما کر گویا مسلمانوں کو عہد شکنی سے روکتا ہے۔ ان کے بارہ سردار تھے۔ یعنی بارہ قبیلوں کے بارہ چودھری تھے جو ان سے ان کی بیعت کو پورا کراتے تھے کہ یہ اللہ اور رسول کے تابع فرمان رہیں اور کتاب اللہ کی اتباع کرتے رہیں۔ حضرت موسیٰ جب سرکشوں سے لڑنے کیلئے گئے تب ہر قبیلہ میں سے ایک ایک سردار منتخب کر گئے تھے۔ اوبیل قبیلے کا سردار شامون بن اکون تھا، شمعونیوں کا چودھری شافاط بن جدی، یہودا کا کالب بن یوحنا، فیخائیل کا ابن یوسف اور افرایم کا یوشع بن نون اور بنیامین کے قبیلے کا چودھری قنطمی بن وفون، زبولون کا جدی بن شوری، منشاء کا جدی بن سوسی، دان حملاسل کا ابن حمل، اشار کا ساطور، تفتای کا بحر اور یا سخر کالابل۔ توراۃ کے چوتھے جز میں بنو اسرائیل کے قبیلوں کے سرداروں کے نام مذکور ہیں۔ جو ان ناموں سے قدرے مختلف ہیں۔ واللہ اعلم۔ موجودہ تورات کے نام یہ ہیں۔ بنو ادبیل پر صونی بن سادون، بنی شمعون پر شموال بن صور، بنو یہود پر حشون بن عمیاذب، بنو یساخر پر شال بن صاعون، بنو زبولوں پر الیاب بن حالوب، بنو افرایم پر منشا بن عنہور، بنو منشاء پر حمائیل بنو بیبا میں پر ابیدن، بنودان پر جعیذ ربنو اشاذ نحایل۔ بون کان پر سیف بن دعوابیل، بنو نفعالی پر اجذع۔ یاد رہے کہ لیلتہ العقبہ میں جب آنحضرت ﷺ نے انصار سے بیعت لی اس وقت ان کے سردار بھی بارہ ہی تھے۔ تین قبیلہ اوس کے۔ حضرت اسید بن حضیر، حضرت سعد بنی خیشمہ اور حضرت رفاعہ بن عبد المنذر اور نو سردار قبیلہ خزرج تھے۔ ابو امامہ، اسعد بن زرارہ، سعد بن ربیع، عبداللہ بن رواحہ، رافع بن مالک بن عجلان براء بن معرور عبادہ بن صامت، سعد بن عبادہ، عبداللہ بن عمرو بن حرام، منذربن عمرو بن حنیش اجمعین۔ انہی سرداروں نے اپنی اپنی قوم کی طرف سے پیغمبر آخر الزمان ﷺ سے فرامین سننے اور ماننے کی بیعت کی، حضرت مسروق فرماتے ہیں ہم لوگ حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس بیٹھے تھے، آپ ہمیں اس وقت قرآن پڑھا رہے تھے تو ایک شخص نے سوال کیا کہ آپ لوگوں نے حضور ﷺ سے یہ بھی پوچھا ہے کہ اس امت کے کتنے خلیفہ ہوں گے ؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا میں جب سے عراق آیا ہوں، اس سوال کو بجز تیرے کسی نے نہیں پوچھا، ہم نے حضور ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا، بارہ ہوں گے، جتنی گنتی بنو اسرائیل کے نقیبوں کی تھی۔ یہ روایت سنداً غریب ہے، لیکن مضمون حدیث بخاری اور مسلم کی روایت سے بھی ثابت ہے، جابر بن سمرہ فرماتے ہیں " میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے، لوگوں کا کام چلتا رہے گا، جب تک ان کے والی بارہ شخص نہ ہو لیں، پھر ایک لفظ حضور ﷺ نے فرمایا لیکن میں نہ سن سکا تو میں نے دوسروں سے پوچھا کہ حضور ﷺ نے اب کونسا لفظ فرمایا، انہوں نے جواب دیا یہ فرمایا کہ یہ سب قریش ہوں گے۔ " صحیح مسلم میں یہی لفظ ہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بارہ خلیفہ صالح نیک بخت ہونگے۔ جو حق کو قائم کریں گے اور لوگوں میں عدل کرینگے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ سب پے درپے یکے بعد دیگرے ہی ہوں۔ پس چار خلفاء تو پے درپے حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت جن کی خلافت بطریق نبوت رہی۔ انہی بارہ میں سے پانچویں حضرت عمر بن عبد العزیز ہیں۔ بنو عباس میں سے بھی بعض اسی طرح کے خلیفہ ہوئے ہیں اور قیامت سے پہلے پہلے ان بارہ کی تعداد پوری ہونی ضروری ہے اور انہی میں سے حضرت امام مہدی ہیں، جن کی بشارت احادیث میں آچکی ہے ان کا نام حضور ﷺ کے نام پر ہوگا اور ان کے والد کا نام حضور ﷺ کے والد کا ہوگا، زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینگے حالانکہ اس سے پہلے وہ ظلم و جبر سے پُر ہوگی لیکن اس سے شیعوں کا امام منتظر مراد نہیں، اس کی تو دراصل کوئی حقیقت ہی نہیں، نہ سرے سے اس کا کوئی وجود ہے، بلکہ یہ تو صرف شیعہ کی وہم پرستی اور ان کا تخیل ہے، نہ اس حدیث سے شیعوں کے فرقے اثنا عشریہ کے ائمہ مراد ہیں۔ اس حدیث کو ان ائمہ پر محمول کرنا بھی شیعوں کے اس فرقہ کی بناوٹ ہے جو ان کی کم عقلی اور جہالت کا کرشمہ ہے۔ توراۃ میں حضرت اسمعیل کی بشارت کے ساتھ ہی مرقوم ہے کہ ان کی نسل میں سے بارہ بڑے شخص ہونگے، اسے مراد بھی یہی مسلمانوں کے بارہ قریشی بادشاہ ہیں لیکن جو یہودی مسلمان ہوئے تھے، وہ اپنے اسلام میں کچے اور جاہل بھی تھے، انہوں نے شیعوں کے کان میں کہیں یہ صور پھونک دیا اور وہ سمجھ بیٹھے کہ اس سے مراد ان کے بارہ امام ہیں، ورنہ حدیثیں اس کے واضح خلاف موجود ہیں۔ اب اس عہد و پیمان کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے یہودیوں سے لیا تھا کہ وہ نمازیں پڑھتے رہیں، زکوٰۃ دیتے رہیں، اللہ کے رسولوں کی تصدیق کریں، ان کی نصرت و اعانت کریں اور اللہ کی مرضی کے کاموں میں اپنا مال خرچ کریں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ کی مدد و نصرت ان کے ساتھ رہے گی، ان کے گناہ معاف ہونگے اور یہ جنتوں میں داخل کئے جائیں گے، مقصود حاصل ہوگا اور خوف زائل ہوگا، لیکن اگر وہ اس عہد و پیما کے بعد پھرگئے اور اسے غیر معروف کردیا تو یقینا وہ حق سے دور ہوجائیں گے، بھٹک اور بہک جائیں گے۔ چناچہ یہی ہوا کہ انہوں نے میثاق توڑ دیا، وعدہ خلافی کی تو ان پر اللہ کی لعنت نازل ہوئی، ہدایت سے دور ہوگئے، ان کے دل سخت ہوگئے اور وعظ و پند سے مستفید نہ ہو سکے، سمجھ بگڑ گئی، اللہ کی باتوں میں ہیر پھیر کرنے لگے، باطل تاویلیں گھڑنے لگے، جو مراد حقیقی تھی، اس سے کلام اللہ کو پھیر کر اور ہی مطلب سمجھنے سمجھانے لگے، اللہ کا نام لے کر وہ مسائل بیان کرنے لگے، جو مراد حقیقی تھی، اس سے کلام اللہ کو پھیر کر اور ہی مطلب سمجھنے سمجھانے لگے، اللہ کا نام لے کر وہ مسائل بیان کرنے لگے جو اللہ کے بتائے ہوئے نہ تھے، یہاں تک کہ اللہ کی کتاب ان کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی، وہ اس سے بےعمل چھوٹ جانے کی توجہ سے نہ تو دل ٹھیک رہے، نہ فطرت اچھی رہی۔ نہ خلوص و اخلاص رہا، غداری اور مکاری کو اپنا شیوہ بنا لیا۔ نت نئے جال نبی ﷺ اصحاب نبی کے خلاف بنتے رہے۔ پھر نبی ﷺ کو حکم ہوتا ہے کہ آپ ان سے چشم پوشی کیجئے، یہی معاملہ ان کے ساتھ اچھا ہے، جیسے حضرت عمر فاروق سے مروی ہے کہ جو تجھ سے اللہ کے فرمان کے خلاف سلوک کرے تو اس سے حکم الٰہی کی بجا آوری کے ماتحت سلوک کر۔ اس میں ایک بڑی مصلحت یہ بھی ہے کہ ممکن ہے ان کے دل کھچ آئیں، ہدایت نصیب ہوجائے اور حق کی طرف آجائیں۔ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ یعنی دوسروں کی بدسلوکی سے چشم پوشی کر کے خود نیا سلوک کرنے والے اللہ کے محبوب ہیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں " درگزر کرنے کا حکم جہاد کی آیت سے منسوب ہے۔ " پھر ارشاد ہوتا ہے کہ " ان نصرانیوں سے بھی ہم نے وعدہ لیا تھا کہ جو رسول آئے گا، یہ اس پر ایمان لائیں گے، اس کی مدد کرینگے اور اس کی باتیں مانیں گے۔ " لیکن انہوں نے بھی یہودیوں کی طرح بد عہدی کی، جس کی سزا میں ہم نے ان میں آپس میں عداوت ڈال دی جو قیامت تک جاری رہے گی۔ ان میں فرقے فرقے بن گئے جو ایک دوسرے کو کافر و ملعون کہتے ہیں اور اپنے عبادت خانوں میں بھی نہیں آنے دیتے " ملکیہ فرقہ یعقوبیہ فرقے کو، یعقوبیہ ملکیہ کو کھلے بندوں کافر کہتے ہیں، اسی طرح دوسرے تمام فرقے بھی، انہیں ان کے اعمال کی پوری تنبیہہ عنقریب ہوگی۔ انہوں نے بھی اللہ کی نصیحتوں کو بھلا دیا ہے اور اللہ پر تہمتیں لگائی ہیں اس پر بیوی اور اولاد والا ہونے کا بہتان باندھا ہے، یہ قیامت کے دن بری طرح پکڑے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ واحد واحد فرد و صمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد ہے۔

علمی بددیانت فرماتا ہے کہ رب العلی نے اپنے عالی قدر رسول حضرت محمد ﷺ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تمام مخلوق کی طرف بھیج دیا ہے، معجزے اور روشن دلیلیں انہیں عطا فرمائی ہیں جو باتیں یہود و نصاریٰ نے بدل ڈالی تھیں، تاویلیں کر کے دوسرے مطلب بنا لئے تھے اور اللہ کی ذات پر بہتان باندھتے تھے، کتاب اللہ کے جو حصے اپنے نفس کے خلاف پاتے تھے، انہیں چھپالیتے تھے، ان سب علمی بد دیانتیوں کو یہ رسول ﷺ بےنقاب کرتے ہیں۔ ہاں جس کے بیان کی ضرورت ہی نہ ہو، بیان نہیں فرماتے۔ مستدرک حاکم میں ہے " جس نے رجم کے مسئلہ کا انکار کیا، اس نے بےعملی سے قرآن سے انکار کیا " چناچہ اس آیت میں اسی رجم کے چھپانے کا ذکر ہے، پھر قرآن عظیم کی بابت فرماتا ہے کہ " اسی نے اس نبی کریم پر اپنی یہ کتاب اتاری ہے، جو جویائے حق کو سلامتی کی راہ بتاتی ہے، لوگوں کو ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتی ہے اور راہ مستقیم کی رہبر ہے۔ اس کتاب کی وجہ سے اللہ کے انعاموں کو حاصل کرلینا اور اس کی سزاؤں سے بچ جانا بالکل آسان ہوگیا ہے یہ ضلالت کو مٹا دینے والی اور ہدایت کو واضح کردینے والی ہے۔ "

علمی بددیانت فرماتا ہے کہ رب العلی نے اپنے عالی قدر رسول حضرت محمد ﷺ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تمام مخلوق کی طرف بھیج دیا ہے، معجزے اور روشن دلیلیں انہیں عطا فرمائی ہیں جو باتیں یہود و نصاریٰ نے بدل ڈالی تھیں، تاویلیں کر کے دوسرے مطلب بنا لئے تھے اور اللہ کی ذات پر بہتان باندھتے تھے، کتاب اللہ کے جو حصے اپنے نفس کے خلاف پاتے تھے، انہیں چھپالیتے تھے، ان سب علمی بد دیانتیوں کو یہ رسول ﷺ بےنقاب کرتے ہیں۔ ہاں جس کے بیان کی ضرورت ہی نہ ہو، بیان نہیں فرماتے۔ مستدرک حاکم میں ہے " جس نے رجم کے مسئلہ کا انکار کیا، اس نے بےعملی سے قرآن سے انکار کیا " چناچہ اس آیت میں اسی رجم کے چھپانے کا ذکر ہے، پھر قرآن عظیم کی بابت فرماتا ہے کہ " اسی نے اس نبی کریم پر اپنی یہ کتاب اتاری ہے، جو جویائے حق کو سلامتی کی راہ بتاتی ہے، لوگوں کو ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتی ہے اور راہ مستقیم کی رہبر ہے۔ اس کتاب کی وجہ سے اللہ کے انعاموں کو حاصل کرلینا اور اس کی سزاؤں سے بچ جانا بالکل آسان ہوگیا ہے یہ ضلالت کو مٹا دینے والی اور ہدایت کو واضح کردینے والی ہے۔ "

اللہ وحدہ شریک ہے اللہ تبارک و تعالیٰ عیسائیوں کے کفر کو بیان فرماتا ہے کہ انہوں نے اللہ کی مخلوق کو الوہیت کا درجہ دے رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک سے پاک ہے، تمام چیزیں اس کی محکوم اور مقدور ہیں، ہر چیز پر اس کی حکومت اور ملکیت ہے۔ کوئی نہیں جو اسے کسی ارادے سے باز رکھ سکے، کوئی نہیں جو اس کی مرضی کے خلاف لب کشائی کی جرأت کرسکے۔ وہ اگر مسیح کو، ان کی والدہ کو اور روئے زمین کی تمام مخلوق کا موجد و خالق وہی ہے۔ سب کا مالک اور سب کا حکمراں وہی ہے۔ جو چاہے کر گزرے کوئی چیز اس کے اختیار سے باہر نہیں، اس سے کوئی باز پرس نہیں کرسکتا، اس کی سلطنت و مملکت بہت وسیع ہے، اس کی عظمت، عزت بہت بلند ہے، وہ عادل و غالب ہے۔ جسے جس طرح چاہتا ہے بناتا بگاڑتا ہے، اس کی قدرتوں کی کوئی انتہاء نہیں۔ نصرانیوں کی تردید کے بعد اب یہودیوں اور نصرانیوں دونوں کی تردید ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ پر ایک جھوٹ یہ باندھا کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں، ہم انبیاء کی اولاد ہیں اور وہ اللہ کے لاڈلے فرزند ہیں، اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسرائیل کو کہا ہے (انت ابنی بکری) پھر تاویلیں کر کے مطلب الٹ پلٹ کر کے کہتے کہ جب وہ اللہ کے بیٹے ہوئے تو ہم بھی اللہ کے بیٹے اور عزیز ہوئے حالانکہ خود ان ہی میں سے جو عقلمند اور صاحب دین تھے وہ انہیں سمجھاتے تھے کہ ان لفظوں سے صرف بزرگی ثابت ہوتی ہے، قرابت داری نہیں۔ اسی معنی کی آیت نصرانی اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ نے فرمایا (انی ذاھب الی ابی وابیکم) اس سے مراد بھی سگا باپ نہ تھا بلکہ ان کے اپنے محاورے میں اللہ کیلئے یہ لفظ بھی آتا تھا پس مطلب اس کا یہ ہے کہ میں اپنے اور تمہارے رب کی طرف جا رہا ہوں اور عبادت کا مفہوم واضح بتارہا ہے کہ یہاں اس آیت میں جو نسبت حضرت عیسیٰ کی طرف سے، وہی نسبت ان کی تمام امت کی طرف ہے لیکن وہ لوگ اپنے باطل عقیدے میں حضرت عیسیٰ کو اللہ سے جو نسبت دیتے ہیں، اس نسبت کا اپنے اپنے اوپر اطلاق نہیں مانتے۔ پس یہ لفظ صرف عزت و وقعت کیلئے تھا نہ کہ کچھ اور۔ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے کہ اگر یہ صحیح ہے تو پھر تمہارے کفر و کذب، بہتان و افتراء پر اللہ تمہیں سزا کیوں کرتا ہے ؟ کسی صوفی نے کسی فقیہ سے دریافت فرمایا کہ کیا قرآن میں یہ بھی کہیں ہے کہ حبیب اپنے حبیب کو عذاب نہیں کرتا ؟ اس سے کوئی جواب بن نہ پڑا تو صوفی نے یہی آیت تلاوت فرما دی، یہ قول نہایت عمدہ ہے اور اسی کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ راہ سے گزر رہے تھے۔ ایک چھوٹا سا بچہ راستہ میں کھیل رہا تھا، اس کی ماں نے جب دیکھا کہ اسی جماعت کی جماعت اسی راہ آرہی ہے تو اسے ڈر لگا کہ بچہ روندا نہ جائے میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی ہوئی آئی اور جھٹ سے بچے کو گود میں اٹھا لیا اس پر صحابہ نے کہا " حضور ﷺ یہ عورت تو اپنے پیارے بچے کو کبھی بھی آگ میں نہیں ڈال سکتی " آپ نے فرمایا " ٹھیک ہے، اللہ تعالیٰ بھی اپنے پیارے بندوں کو ہرگز جہنم میں لے جائیگا۔ " یہودیوں کے جواب میں فرماتا ہے کہ تم بھی منجملہ اور مخلوق کے ایک انسان ہو تمہیں دوسروں پر کوئی فوقیت و فضیلت نہیں، اللہ سبحان و تعالیٰ اپنے بندوں پر حاکم ہے اور وہی ان میں سچے فیصلے کرنے والا ہے، وہ جسے چاہے بخشے جسے چاہے پکڑے، وہ جو چاہے کر گزرتا ہے، اس کا کوئی حاکم نہیں، اسے کوئی رد نہیں کرسکتا، " وہ بہت جلد بندوں سے حساب لینے والا ہے۔ زمین و آسان اور ان کے درمیان کی مخلوق سب اس کی ملکیت ہے " اس کے زیر اثر ہے، اس کی بادشاہت تلے ہے، سب کا لوٹنا اس کی طرف ہے، وہی بندوں کے فیصلے کریگا، وہ ظالم نہیں عادل ہے، نیکوں کو نیکی اور بدوں کو بدی دے گا، نعمان بن آصا، بحربن عمرو، شاس بن عدی جو یہودیوں کے بڑے بھاری علماء تھے، حضور ﷺ کے پاس آئے آپ نے انہیں سمجھایا بجھایا، آخرت کے عذاب سے ڈرایا تو کہنے لگے سنئے، حضرت آپ ہمیں ڈرا رہے ہیں، ہم تو اللہ کے بچے اور اس کے پیارے ہیں، یہی نصرانی بھی کہتے تھے پس یہ آیت اتری۔ ان لوگوں نے ایک بات یہ بھی گھڑ کر مشہور کردی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسرائیل کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تیرا پہلو نٹھا بیٹا میری اولاد میں سے ہے۔ اس کی اولاد چالیس دن تک جہنم میں رہے گی، اس مدت میں آگ انہیں پاک کر دے گی اور ان کی خطاؤں کو کھاجائے گی، پھر ایک فرشتہ منادی کرے گا کہ اسرائیل کی اولاد میں سے جو بھی ختنہ شدہ ہوں، وہ نکل آئیں، یہی معنی ہیں ان کے اس قول کے جو قرآن میں مروی ہے وہ کہتے ہیں ہمیں گنتی کے چند ہی دن جہنم میں رہنا پڑے گا۔

اللہ وحدہ شریک ہے اللہ تبارک و تعالیٰ عیسائیوں کے کفر کو بیان فرماتا ہے کہ انہوں نے اللہ کی مخلوق کو الوہیت کا درجہ دے رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک سے پاک ہے، تمام چیزیں اس کی محکوم اور مقدور ہیں، ہر چیز پر اس کی حکومت اور ملکیت ہے۔ کوئی نہیں جو اسے کسی ارادے سے باز رکھ سکے، کوئی نہیں جو اس کی مرضی کے خلاف لب کشائی کی جرأت کرسکے۔ وہ اگر مسیح کو، ان کی والدہ کو اور روئے زمین کی تمام مخلوق کا موجد و خالق وہی ہے۔ سب کا مالک اور سب کا حکمراں وہی ہے۔ جو چاہے کر گزرے کوئی چیز اس کے اختیار سے باہر نہیں، اس سے کوئی باز پرس نہیں کرسکتا، اس کی سلطنت و مملکت بہت وسیع ہے، اس کی عظمت، عزت بہت بلند ہے، وہ عادل و غالب ہے۔ جسے جس طرح چاہتا ہے بناتا بگاڑتا ہے، اس کی قدرتوں کی کوئی انتہاء نہیں۔ نصرانیوں کی تردید کے بعد اب یہودیوں اور نصرانیوں دونوں کی تردید ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ پر ایک جھوٹ یہ باندھا کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں، ہم انبیاء کی اولاد ہیں اور وہ اللہ کے لاڈلے فرزند ہیں، اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسرائیل کو کہا ہے (انت ابنی بکری) پھر تاویلیں کر کے مطلب الٹ پلٹ کر کے کہتے کہ جب وہ اللہ کے بیٹے ہوئے تو ہم بھی اللہ کے بیٹے اور عزیز ہوئے حالانکہ خود ان ہی میں سے جو عقلمند اور صاحب دین تھے وہ انہیں سمجھاتے تھے کہ ان لفظوں سے صرف بزرگی ثابت ہوتی ہے، قرابت داری نہیں۔ اسی معنی کی آیت نصرانی اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ نے فرمایا (انی ذاھب الی ابی وابیکم) اس سے مراد بھی سگا باپ نہ تھا بلکہ ان کے اپنے محاورے میں اللہ کیلئے یہ لفظ بھی آتا تھا پس مطلب اس کا یہ ہے کہ میں اپنے اور تمہارے رب کی طرف جا رہا ہوں اور عبادت کا مفہوم واضح بتارہا ہے کہ یہاں اس آیت میں جو نسبت حضرت عیسیٰ کی طرف سے، وہی نسبت ان کی تمام امت کی طرف ہے لیکن وہ لوگ اپنے باطل عقیدے میں حضرت عیسیٰ کو اللہ سے جو نسبت دیتے ہیں، اس نسبت کا اپنے اپنے اوپر اطلاق نہیں مانتے۔ پس یہ لفظ صرف عزت و وقعت کیلئے تھا نہ کہ کچھ اور۔ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے کہ اگر یہ صحیح ہے تو پھر تمہارے کفر و کذب، بہتان و افتراء پر اللہ تمہیں سزا کیوں کرتا ہے ؟ کسی صوفی نے کسی فقیہ سے دریافت فرمایا کہ کیا قرآن میں یہ بھی کہیں ہے کہ حبیب اپنے حبیب کو عذاب نہیں کرتا ؟ اس سے کوئی جواب بن نہ پڑا تو صوفی نے یہی آیت تلاوت فرما دی، یہ قول نہایت عمدہ ہے اور اسی کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ راہ سے گزر رہے تھے۔ ایک چھوٹا سا بچہ راستہ میں کھیل رہا تھا، اس کی ماں نے جب دیکھا کہ اسی جماعت کی جماعت اسی راہ آرہی ہے تو اسے ڈر لگا کہ بچہ روندا نہ جائے میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی ہوئی آئی اور جھٹ سے بچے کو گود میں اٹھا لیا اس پر صحابہ نے کہا " حضور ﷺ یہ عورت تو اپنے پیارے بچے کو کبھی بھی آگ میں نہیں ڈال سکتی " آپ نے فرمایا " ٹھیک ہے، اللہ تعالیٰ بھی اپنے پیارے بندوں کو ہرگز جہنم میں لے جائیگا۔ " یہودیوں کے جواب میں فرماتا ہے کہ تم بھی منجملہ اور مخلوق کے ایک انسان ہو تمہیں دوسروں پر کوئی فوقیت و فضیلت نہیں، اللہ سبحان و تعالیٰ اپنے بندوں پر حاکم ہے اور وہی ان میں سچے فیصلے کرنے والا ہے، وہ جسے چاہے بخشے جسے چاہے پکڑے، وہ جو چاہے کر گزرتا ہے، اس کا کوئی حاکم نہیں، اسے کوئی رد نہیں کرسکتا، " وہ بہت جلد بندوں سے حساب لینے والا ہے۔ زمین و آسان اور ان کے درمیان کی مخلوق سب اس کی ملکیت ہے " اس کے زیر اثر ہے، اس کی بادشاہت تلے ہے، سب کا لوٹنا اس کی طرف ہے، وہی بندوں کے فیصلے کریگا، وہ ظالم نہیں عادل ہے، نیکوں کو نیکی اور بدوں کو بدی دے گا، نعمان بن آصا، بحربن عمرو، شاس بن عدی جو یہودیوں کے بڑے بھاری علماء تھے، حضور ﷺ کے پاس آئے آپ نے انہیں سمجھایا بجھایا، آخرت کے عذاب سے ڈرایا تو کہنے لگے سنئے، حضرت آپ ہمیں ڈرا رہے ہیں، ہم تو اللہ کے بچے اور اس کے پیارے ہیں، یہی نصرانی بھی کہتے تھے پس یہ آیت اتری۔ ان لوگوں نے ایک بات یہ بھی گھڑ کر مشہور کردی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسرائیل کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تیرا پہلو نٹھا بیٹا میری اولاد میں سے ہے۔ اس کی اولاد چالیس دن تک جہنم میں رہے گی، اس مدت میں آگ انہیں پاک کر دے گی اور ان کی خطاؤں کو کھاجائے گی، پھر ایک فرشتہ منادی کرے گا کہ اسرائیل کی اولاد میں سے جو بھی ختنہ شدہ ہوں، وہ نکل آئیں، یہی معنی ہیں ان کے اس قول کے جو قرآن میں مروی ہے وہ کہتے ہیں ہمیں گنتی کے چند ہی دن جہنم میں رہنا پڑے گا۔

محمد ﷺ مطلقاً خاتم الانبیاء ہیں !اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ میں نے تم سب کی طرف اپنا رسول بھیج دیا ہے جو خاتم الانبیاء ہے، جس کے بعد کوئی نبی رسول آنے والا نہیں، یہ سب کے بعد ہیں، دیکھ لو حضرت عیسیٰ کے بعد سے لے کر اب تک کوئی رسول نہیں آیا، (فترۃ) کی اس لمبی مدت کے بعد یہ رسول آئے، بعض کہتے ہیں یہ مدت چھ سو سال کی تھی، بعض کہتے ہیں ساڑھے پانچ سو برس کی، بعض کہتے ہیں پانچ سو چالیس برس کی، کوئی کہتا ہے چار سو کچھ اوپر تیس برس کی۔ ابن عساکر میں ہے کہ حضرت عیسیٰ کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے اور ہمارے نبی ﷺ کے ہجرت کرنے کے درمیان نو سو تینتیس سال کا فاصلہ تھا۔ لیکن مشہور قول پہلا ہی ہے یعنی چھ سو سال کا، بعض کہتے ہیں چھ سو بیس سال کا فاصلہ تھا۔ ان دونوں قولوں میں اس طرح تطبیق بھی ہوسکتی ہے کہ پہلا قول شمسی حساب سے ہو اور دوسرا قمری حساب سے ہو اور اس گنتی میں ہر تین سو سال میں تقریباً آٹھ کا فرق پڑجاتا ہے۔ اسی لئے اہل کہف کے قصے میں ہے۔ ولبثوا فی کھفھم ثلاث مأتہ سنین وازدادو تسعا۔ وہ لوگ اپنے غار میں تین سو سال تک رہے اور نو برس اور زیادہ کئے۔ پس شمسی حساب سے اہل کتاب کو جو مدت ان کی غار کی معلوم تھی، وہ تین سو سال کی تھی، نو بڑھا کر قمری حساب پورا ہوگیا، آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ سے لے کر جو بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے، حضرت محمد ﷺ تک جو علی الا طلاق خاتم الانبیاء تھے، فترۃ کا زمانہ تھا یعنی درمیان میں کوئی نبی نہیں ہوا۔ چناچہ صحیح بخاری شریف میں ہے " حضور ﷺ فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ سے یہ بہ نسبت اور لوگوں کے میں زیادہ اولیٰ ہوں، اس لئے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ " اس میں ان لوگوں کی بھی تردید ہے جو خیال کرتے ہیں کہ ان دونوں جلیل القدر پیغمبروں کے درمیان بھی ایک نبی گزرے ہیں، جن کا نام خالد بن سنان تھا۔ جیسے کہ قضاعی وغیرہ نے حکایت کی ہے۔ مقصود یہ ہے کہ خاتم الانبیاء حبیب اللہ ﷺ دنیا میں اس وقت تشریف لاتے ہیں جبکہ رسولوں کی تعلیم مٹ چکی ہے، ان کی راہیں بےنشان ہوچکی ہیں، دنیا توحید کو بھلا چکی ہے، دنیا توحید کو بھلا چکی ہے، جگہ جگہ مخلوق پرستی ہو رہی ہے، سورج چاند بت آگ کی پوجا جا رہی ہے، اللہ کا دین بدل چکا ہے، کفر کی تاریکی نور دین پر چھا چکی ہے، دنیا کا چپہ چپہ سرکشی اور طغیانی سے بھر گیا ہے، عدل و انصاف بلکہ انسانیت بھی فنا ہوچکی ہے، جہالت و قساوت کا دور دورہ ہے، بجز چند نفوس کے اللہ کا نام لیوا زمین پر نہیں رہا، پس معلوم ہوا کہ آپ کی جلالت و عزت اللہ کے پاس بہت بڑی تھی اور آپ نے جو رسالت کی ذمہ داری ادا کی، وہ کوئی معمولی نہ تھی، ﷺ۔ مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا " مجھے میرے رب کا حکم ہے کہ میں تمہیں وہ باتیں سکھاؤں، جن سے تم ناواقف ہو اور اللہ تعالیٰ نے مجھے آج بھی بتائی ہیں، فرمایا ہے میں نے اپنے بندوں کو جو کچھ عنایت فرمایا ہے وہ ان کیلئے حلال ہے، میں نے اپنے سب بندوں کو موحد پیدا کیا ہے، لیکن پھر شیطان ان کے پاس آتا ہے اور انہیں بہکاتا ہے اور میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کرتا ہے اور انہیں کہتا ہے کہ وہ میرے ساتھ باوجود دلیل نہ ہونے کے شرک کریں۔ سنو اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کو دیکھا اور تمام عرب و عجم کو ناپسند فرمایا بجز ان چند بقایا بنی اسرائیل کے (جو توحید پر قائم ہیں) پھر (مجھ سے) فرمایا، میں نے تجھے اسی لئے اپنا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ تیری آزمائش کروں اور تیری وجہ سے اوروں کی بھی آزمائش کرلوں۔ میں تجھ پر وہ کتاب نازل فرمائی ہے، جسے پانی دھو نہیں سکتا جسے تو سوتے جاگتے پڑھتا ہے، پھر مجھے میرے رب نے حکم دیا کہ قریشیوں میں پیغام الٰہی پہنچاؤں میں نے کہا یا رب یہ تو میرا سر کچل کر روٹی جیسا بنادیں گے، پروردگار نے فرمایا تو انہیں نکال، جیسے انہوں نے تجھے نکالا تو ان سے جہاد کر، تیری امداد کی جائے گی۔ تو ان پر خرچ کر، تجھ پر خرچ کیا جائے گا، تو ان کے مقابلے پر لشکر بھیج، ہم اس سے پانچ گنا لشکر اور بھیجیں گے اپنے فرمانبرداروں کو لے کر اپنے نافرمانوں سے جنگ کر، جنتی لوگ تین قسم کے ہیں، بادشاہ عادل، توفیق خیر والا، صدقہ خیرات کرنے والا اور باوجود مفلس ہونے کے حرام سے بچنے والا، حالانکہ اہل و عیال بھی ہے، اور جہنمی لوگ پانچ قسم کے ہیں وہ سفلے لوگ جو بےدین، خوشامد خورے اور ماتحت ہیں، جن کی آل اولاد دھن دولت ہے اور وہ حائن لوگ جن کے دانت چھوٹی سے چھوٹی چیز پر بھی ہوتے ہیں اور حقیر چیزوں میں بھی خیانت سے نہیں چوکتے اور وہ لوگ جو صبح شام لوگوں کو ان کے اہل و مال میں دھوکہ دیتے پھرتے ہیں اور بخیل ہیں فرمایا کذاب اور شنطیر یعنی بدگو۔ " یہ حدیث مسلم اور نسائی میں ہے۔ مقصود یہ ہے کہ حضور ﷺ کی بعثت کے وقت سچا دین دنیا میں نہ تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کی وجہ سے لوگوں کو اندھیروں سے اور گمراہیوں سے نکال کر اجالے میں اور راہ راست پر لاکھڑا کیا اور انہیں روشن و ظاہر شریعت عطا فرمائی۔ اس لئے کہ لوگوں کا عذر نہ رہے، انہیں یہ کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ ہمارے پاس کوئی نبی نہیں آیا، ہمیں نہ تو کسی نے کوئی خوشخبری سنائی نہ دھمکایا ڈرایا۔ پس کامل قدرتوں والے اللہ نے اپنے برگزیدہ پیغمبروں کو ساری دنیا کی ہدایت کیلئے بھیج دیا، وہ اپنے فرمانبرداروں کو ثواب دینے پر اور نافرمانوں کو عذاب کرنے پر قادر ہے۔

تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا " لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔ " حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ روح اللہ پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ اسماعیل کے واسطہ سے حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ پر درود وسلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنادیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھر بار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں ؟ آپ نے فرمایا تیری بیوی ہے ؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے ؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں " سواری اور خادم ملک ہے "۔ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا۔ ایک اور مرفوع حدیث میں ہے " جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے "۔ یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے " جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن وامان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی "۔ اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے اور آیت میں ہے ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی۔ حضرت موسیٰ سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے، خود قرآن فرماتا ہے آیت (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ) 3۔ آل عمران :110) اور فرمایا آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2۔ البقرۃ :143) یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی ﷺ کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے " اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من وسلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں "۔ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہوچکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے واللہ اعلم۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ " بیت المقدس دراصل ان کے دادا حضرت یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی۔ اب حضرت موسیٰ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے، مقدسہ سے مراد پاک ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لئے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آ رہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہوسکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا " " اللہ نے اسے تمہارے لئے لکھ دیا ہے " مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہوجاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑجاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جاسکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے، ابن عباس کا بیان ہے کہ " حضرت موسیٰ جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔ یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہوگئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جاکر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہوگیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کردو۔ چناچہ انہوں نے جاکر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے "۔ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو ؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہہ دیا، اب حضرت موسیٰ نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔ حضرت انس نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا " ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے "۔ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن حضرت آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں (3333) تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیا مانع ہے، پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے، ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور حضرت نوح کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں نوح کی دعا یہ مذکور ہے کہ زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہئے، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی، قرآن فرماتا ہے " ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کردیا "۔ خود قرآن میں ہے کہ " آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں " تعجب سا تعجب ہے کہ نوح کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا واللہ اعلم۔ بنی اسرائیل جب اپنے نبی ﷺ کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بےادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آجائے، ایک قرأت میں (یخافون) کے بدلے (یھابون) ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ " ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی "۔ ایک کا نام حضرت یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا "۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔ لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کردیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر حضرت یوشع اور حضرت کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کردیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہوگیا اور بےطرح مخالفت رسول پر تل گئے۔ ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے حال کو دیکھئے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ ﷺ کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا، ادھر حضور ﷺ کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ نے اپنے صحابہ سے کہا کہ بتاؤ اب کیا کرنا چاہئے ؟ اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے حضور ﷺ کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ حضور ﷺ کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے حضرت صدیق نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔ لیکن پھر بھی آپ نے فرمایا ؟ اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے، آپ کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لئے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔ اس پر حضرت سعد بن معاذ انصاری و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے شاید آپ کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے " سنئے یا رسول اللہ ﷺ ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کر کے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، حضور ﷺ آپ اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہوجایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر انشاء اللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی " یہ سن کر اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے اور آپ کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں ؓ۔ " ایک روایت میں ہے کہ بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، حضرت عمر نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہہ دیں کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ کے ساتھ ہیں۔ حضرت مقداد انصاری نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ حضرت ابن مسعود فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مقداد کے اس قول سے اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے، انہوں نے کہا تھا کہ حضور ﷺ لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔ کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کو اس قدر خوش کرسکتا۔ ایک روایت میں حضرت مقداد کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے جبکہ مشرکین نے آپ کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ نے فرمایا میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بین اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں تو حضرت مقداد بن اسود نے فرمایا ہم اصحاب موسیٰ کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی ﷺ سے کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیھٹے ہیں۔ ہم کہتے ہیں حضور ﷺ آپ چلئے اللہ کی مدد آپ کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ کے ساتھی ہیں، یہ سن کر اصحاب نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کردیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو واللہ اعلم۔ حضرت موسیٰ کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ " رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما "۔ جناب باری نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جاسکتے تھے۔ یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من وسلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہوگئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کردیا گیا اور من وسلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں ابن عباس سے یہ سب مروی ہے۔ پھر حضرت ہارون کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ حضرت موسیٰ بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف حضرت یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین سنتہ پر وقف تام کرتے ہیں اور اربعین سنتہ کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل (یتبھون فی الارض) کو بتلاتے ہیں۔ اس سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہو لئے اور آپ نے بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا۔ جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آپہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لئے اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ اسے ذرا سی دیر روک دے۔ چناچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو کہہ دو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور حطتہ کہیں یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی (حبتہ فی شعرۃ) کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے، دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی حضرت یوشع نے فرمایا " تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے " چناچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی ﷺ کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ نے فرمایا " تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ "۔ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے (اربعین سنتہ) میں (فانھا محرمتہ) عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو حضرت کلیم اللہ نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے ؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے حضرت موسیٰ پر بددعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لئے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔ ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مرگیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ اس کا تخت تین گز کا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں، اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول ﷺ کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں، نبی اللہ کی بےادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے سازو سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہوجاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گرگئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔

تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا " لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔ " حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ روح اللہ پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ اسماعیل کے واسطہ سے حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ پر درود وسلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنادیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھر بار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں ؟ آپ نے فرمایا تیری بیوی ہے ؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے ؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں " سواری اور خادم ملک ہے "۔ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا۔ ایک اور مرفوع حدیث میں ہے " جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے "۔ یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے " جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن وامان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی "۔ اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے اور آیت میں ہے ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی۔ حضرت موسیٰ سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے، خود قرآن فرماتا ہے آیت (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ) 3۔ آل عمران :110) اور فرمایا آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2۔ البقرۃ :143) یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی ﷺ کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے " اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من وسلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں "۔ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہوچکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے واللہ اعلم۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ " بیت المقدس دراصل ان کے دادا حضرت یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی۔ اب حضرت موسیٰ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے، مقدسہ سے مراد پاک ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لئے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آ رہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہوسکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا " " اللہ نے اسے تمہارے لئے لکھ دیا ہے " مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہوجاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑجاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جاسکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے، ابن عباس کا بیان ہے کہ " حضرت موسیٰ جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔ یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہوگئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جاکر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہوگیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کردو۔ چناچہ انہوں نے جاکر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے "۔ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو ؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہہ دیا، اب حضرت موسیٰ نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔ حضرت انس نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا " ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے "۔ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن حضرت آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں (3333) تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیا مانع ہے، پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے، ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور حضرت نوح کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں نوح کی دعا یہ مذکور ہے کہ زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہئے، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی، قرآن فرماتا ہے " ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کردیا "۔ خود قرآن میں ہے کہ " آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں " تعجب سا تعجب ہے کہ نوح کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا واللہ اعلم۔ بنی اسرائیل جب اپنے نبی ﷺ کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بےادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آجائے، ایک قرأت میں (یخافون) کے بدلے (یھابون) ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ " ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی "۔ ایک کا نام حضرت یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا "۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔ لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کردیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر حضرت یوشع اور حضرت کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کردیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہوگیا اور بےطرح مخالفت رسول پر تل گئے۔ ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے حال کو دیکھئے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ ﷺ کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا، ادھر حضور ﷺ کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ نے اپنے صحابہ سے کہا کہ بتاؤ اب کیا کرنا چاہئے ؟ اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے حضور ﷺ کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ حضور ﷺ کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے حضرت صدیق نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔ لیکن پھر بھی آپ نے فرمایا ؟ اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے، آپ کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لئے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔ اس پر حضرت سعد بن معاذ انصاری و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے شاید آپ کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے " سنئے یا رسول اللہ ﷺ ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کر کے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، حضور ﷺ آپ اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہوجایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر انشاء اللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی " یہ سن کر اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے اور آپ کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں ؓ۔ " ایک روایت میں ہے کہ بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، حضرت عمر نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہہ دیں کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ کے ساتھ ہیں۔ حضرت مقداد انصاری نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ حضرت ابن مسعود فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مقداد کے اس قول سے اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے، انہوں نے کہا تھا کہ حضور ﷺ لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔ کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کو اس قدر خوش کرسکتا۔ ایک روایت میں حضرت مقداد کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے جبکہ مشرکین نے آپ کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ نے فرمایا میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بین اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں تو حضرت مقداد بن اسود نے فرمایا ہم اصحاب موسیٰ کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی ﷺ سے کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیھٹے ہیں۔ ہم کہتے ہیں حضور ﷺ آپ چلئے اللہ کی مدد آپ کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ کے ساتھی ہیں، یہ سن کر اصحاب نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کردیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو واللہ اعلم۔ حضرت موسیٰ کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ " رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما "۔ جناب باری نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جاسکتے تھے۔ یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من وسلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہوگئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کردیا گیا اور من وسلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں ابن عباس سے یہ سب مروی ہے۔ پھر حضرت ہارون کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ حضرت موسیٰ بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف حضرت یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین سنتہ پر وقف تام کرتے ہیں اور اربعین سنتہ کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل (یتبھون فی الارض) کو بتلاتے ہیں۔ اس سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہو لئے اور آپ نے بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا۔ جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آپہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لئے اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ اسے ذرا سی دیر روک دے۔ چناچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو کہہ دو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور حطتہ کہیں یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی (حبتہ فی شعرۃ) کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے، دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی حضرت یوشع نے فرمایا " تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے " چناچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی ﷺ کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ نے فرمایا " تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ "۔ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے (اربعین سنتہ) میں (فانھا محرمتہ) عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو حضرت کلیم اللہ نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے ؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے حضرت موسیٰ پر بددعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لئے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔ ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مرگیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ اس کا تخت تین گز کا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں، اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول ﷺ کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں، نبی اللہ کی بےادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے سازو سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہوجاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گرگئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔

تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا " لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔ " حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ روح اللہ پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ اسماعیل کے واسطہ سے حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ پر درود وسلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنادیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھر بار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں ؟ آپ نے فرمایا تیری بیوی ہے ؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے ؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں " سواری اور خادم ملک ہے "۔ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا۔ ایک اور مرفوع حدیث میں ہے " جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے "۔ یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے " جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن وامان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی "۔ اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے اور آیت میں ہے ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی۔ حضرت موسیٰ سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے، خود قرآن فرماتا ہے آیت (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ) 3۔ آل عمران :110) اور فرمایا آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2۔ البقرۃ :143) یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی ﷺ کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے " اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من وسلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں "۔ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہوچکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے واللہ اعلم۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ " بیت المقدس دراصل ان کے دادا حضرت یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی۔ اب حضرت موسیٰ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے، مقدسہ سے مراد پاک ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لئے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آ رہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہوسکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا " " اللہ نے اسے تمہارے لئے لکھ دیا ہے " مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہوجاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑجاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جاسکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے، ابن عباس کا بیان ہے کہ " حضرت موسیٰ جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔ یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہوگئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جاکر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہوگیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کردو۔ چناچہ انہوں نے جاکر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے "۔ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو ؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہہ دیا، اب حضرت موسیٰ نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔ حضرت انس نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا " ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے "۔ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن حضرت آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں (3333) تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیا مانع ہے، پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے، ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور حضرت نوح کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں نوح کی دعا یہ مذکور ہے کہ زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہئے، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی، قرآن فرماتا ہے " ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کردیا "۔ خود قرآن میں ہے کہ " آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں " تعجب سا تعجب ہے کہ نوح کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا واللہ اعلم۔ بنی اسرائیل جب اپنے نبی ﷺ کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بےادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آجائے، ایک قرأت میں (یخافون) کے بدلے (یھابون) ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ " ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی "۔ ایک کا نام حضرت یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا "۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔ لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کردیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر حضرت یوشع اور حضرت کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کردیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہوگیا اور بےطرح مخالفت رسول پر تل گئے۔ ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے حال کو دیکھئے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ ﷺ کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا، ادھر حضور ﷺ کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ نے اپنے صحابہ سے کہا کہ بتاؤ اب کیا کرنا چاہئے ؟ اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے حضور ﷺ کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ حضور ﷺ کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے حضرت صدیق نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔ لیکن پھر بھی آپ نے فرمایا ؟ اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے، آپ کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لئے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔ اس پر حضرت سعد بن معاذ انصاری و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے شاید آپ کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے " سنئے یا رسول اللہ ﷺ ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کر کے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، حضور ﷺ آپ اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہوجایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر انشاء اللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی " یہ سن کر اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے اور آپ کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں ؓ۔ " ایک روایت میں ہے کہ بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، حضرت عمر نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہہ دیں کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ کے ساتھ ہیں۔ حضرت مقداد انصاری نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ حضرت ابن مسعود فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مقداد کے اس قول سے اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے، انہوں نے کہا تھا کہ حضور ﷺ لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔ کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کو اس قدر خوش کرسکتا۔ ایک روایت میں حضرت مقداد کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے جبکہ مشرکین نے آپ کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ نے فرمایا میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بین اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں تو حضرت مقداد بن اسود نے فرمایا ہم اصحاب موسیٰ کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی ﷺ سے کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیھٹے ہیں۔ ہم کہتے ہیں حضور ﷺ آپ چلئے اللہ کی مدد آپ کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ کے ساتھی ہیں، یہ سن کر اصحاب نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کردیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو واللہ اعلم۔ حضرت موسیٰ کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ " رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما "۔ جناب باری نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جاسکتے تھے۔ یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من وسلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہوگئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کردیا گیا اور من وسلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں ابن عباس سے یہ سب مروی ہے۔ پھر حضرت ہارون کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ حضرت موسیٰ بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف حضرت یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین سنتہ پر وقف تام کرتے ہیں اور اربعین سنتہ کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل (یتبھون فی الارض) کو بتلاتے ہیں۔ اس سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہو لئے اور آپ نے بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا۔ جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آپہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لئے اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ اسے ذرا سی دیر روک دے۔ چناچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو کہہ دو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور حطتہ کہیں یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی (حبتہ فی شعرۃ) کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے، دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی حضرت یوشع نے فرمایا " تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے " چناچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی ﷺ کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ نے فرمایا " تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ "۔ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے (اربعین سنتہ) میں (فانھا محرمتہ) عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو حضرت کلیم اللہ نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے ؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے حضرت موسیٰ پر بددعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لئے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔ ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مرگیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ اس کا تخت تین گز کا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں، اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول ﷺ کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں، نبی اللہ کی بےادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے سازو سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہوجاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گرگئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔

تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا " لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔ " حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ روح اللہ پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ اسماعیل کے واسطہ سے حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ پر درود وسلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنادیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھر بار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں ؟ آپ نے فرمایا تیری بیوی ہے ؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے ؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں " سواری اور خادم ملک ہے "۔ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا۔ ایک اور مرفوع حدیث میں ہے " جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے "۔ یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے " جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن وامان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی "۔ اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے اور آیت میں ہے ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی۔ حضرت موسیٰ سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے، خود قرآن فرماتا ہے آیت (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ) 3۔ آل عمران :110) اور فرمایا آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2۔ البقرۃ :143) یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی ﷺ کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے " اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من وسلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں "۔ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہوچکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے واللہ اعلم۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ " بیت المقدس دراصل ان کے دادا حضرت یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی۔ اب حضرت موسیٰ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے، مقدسہ سے مراد پاک ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لئے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آ رہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہوسکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا " " اللہ نے اسے تمہارے لئے لکھ دیا ہے " مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہوجاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑجاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جاسکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے، ابن عباس کا بیان ہے کہ " حضرت موسیٰ جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔ یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہوگئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جاکر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہوگیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کردو۔ چناچہ انہوں نے جاکر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے "۔ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو ؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہہ دیا، اب حضرت موسیٰ نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔ حضرت انس نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا " ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے "۔ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن حضرت آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں (3333) تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیا مانع ہے، پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے، ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور حضرت نوح کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں نوح کی دعا یہ مذکور ہے کہ زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہئے، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی، قرآن فرماتا ہے " ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کردیا "۔ خود قرآن میں ہے کہ " آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں " تعجب سا تعجب ہے کہ نوح کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا واللہ اعلم۔ بنی اسرائیل جب اپنے نبی ﷺ کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بےادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آجائے، ایک قرأت میں (یخافون) کے بدلے (یھابون) ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ " ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی "۔ ایک کا نام حضرت یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا "۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔ لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کردیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر حضرت یوشع اور حضرت کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کردیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہوگیا اور بےطرح مخالفت رسول پر تل گئے۔ ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے حال کو دیکھئے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ ﷺ کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا، ادھر حضور ﷺ کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ نے اپنے صحابہ سے کہا کہ بتاؤ اب کیا کرنا چاہئے ؟ اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے حضور ﷺ کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ حضور ﷺ کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے حضرت صدیق نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔ لیکن پھر بھی آپ نے فرمایا ؟ اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے، آپ کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لئے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔ اس پر حضرت سعد بن معاذ انصاری و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے شاید آپ کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے " سنئے یا رسول اللہ ﷺ ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کر کے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، حضور ﷺ آپ اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہوجایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر انشاء اللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی " یہ سن کر اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے اور آپ کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں ؓ۔ " ایک روایت میں ہے کہ بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، حضرت عمر نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہہ دیں کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ کے ساتھ ہیں۔ حضرت مقداد انصاری نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ حضرت ابن مسعود فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مقداد کے اس قول سے اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے، انہوں نے کہا تھا کہ حضور ﷺ لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔ کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کو اس قدر خوش کرسکتا۔ ایک روایت میں حضرت مقداد کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے جبکہ مشرکین نے آپ کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ نے فرمایا میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بین اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں تو حضرت مقداد بن اسود نے فرمایا ہم اصحاب موسیٰ کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی ﷺ سے کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیھٹے ہیں۔ ہم کہتے ہیں حضور ﷺ آپ چلئے اللہ کی مدد آپ کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ کے ساتھی ہیں، یہ سن کر اصحاب نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کردیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو واللہ اعلم۔ حضرت موسیٰ کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ " رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما "۔ جناب باری نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جاسکتے تھے۔ یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من وسلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہوگئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کردیا گیا اور من وسلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں ابن عباس سے یہ سب مروی ہے۔ پھر حضرت ہارون کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ حضرت موسیٰ بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف حضرت یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین سنتہ پر وقف تام کرتے ہیں اور اربعین سنتہ کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل (یتبھون فی الارض) کو بتلاتے ہیں۔ اس سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہو لئے اور آپ نے بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا۔ جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آپہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لئے اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ اسے ذرا سی دیر روک دے۔ چناچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو کہہ دو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور حطتہ کہیں یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی (حبتہ فی شعرۃ) کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے، دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی حضرت یوشع نے فرمایا " تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے " چناچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی ﷺ کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ نے فرمایا " تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ "۔ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے (اربعین سنتہ) میں (فانھا محرمتہ) عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو حضرت کلیم اللہ نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے ؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے حضرت موسیٰ پر بددعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لئے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔ ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مرگیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ اس کا تخت تین گز کا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں، اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول ﷺ کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں، نبی اللہ کی بےادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے سازو سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہوجاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گرگئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔

تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا " لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔ " حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ روح اللہ پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ اسماعیل کے واسطہ سے حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ پر درود وسلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنادیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھر بار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں ؟ آپ نے فرمایا تیری بیوی ہے ؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے ؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں " سواری اور خادم ملک ہے "۔ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا۔ ایک اور مرفوع حدیث میں ہے " جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے "۔ یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے " جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن وامان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی "۔ اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے اور آیت میں ہے ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی۔ حضرت موسیٰ سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے، خود قرآن فرماتا ہے آیت (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ) 3۔ آل عمران :110) اور فرمایا آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2۔ البقرۃ :143) یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی ﷺ کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے " اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من وسلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں "۔ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہوچکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے واللہ اعلم۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ " بیت المقدس دراصل ان کے دادا حضرت یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی۔ اب حضرت موسیٰ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے، مقدسہ سے مراد پاک ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لئے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آ رہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہوسکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا " " اللہ نے اسے تمہارے لئے لکھ دیا ہے " مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہوجاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑجاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جاسکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے، ابن عباس کا بیان ہے کہ " حضرت موسیٰ جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔ یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہوگئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جاکر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہوگیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کردو۔ چناچہ انہوں نے جاکر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے "۔ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو ؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہہ دیا، اب حضرت موسیٰ نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔ حضرت انس نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا " ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے "۔ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن حضرت آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں (3333) تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیا مانع ہے، پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے، ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور حضرت نوح کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں نوح کی دعا یہ مذکور ہے کہ زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہئے، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی، قرآن فرماتا ہے " ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کردیا "۔ خود قرآن میں ہے کہ " آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں " تعجب سا تعجب ہے کہ نوح کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا واللہ اعلم۔ بنی اسرائیل جب اپنے نبی ﷺ کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بےادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آجائے، ایک قرأت میں (یخافون) کے بدلے (یھابون) ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ " ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی "۔ ایک کا نام حضرت یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا "۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔ لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کردیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر حضرت یوشع اور حضرت کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کردیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہوگیا اور بےطرح مخالفت رسول پر تل گئے۔ ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے حال کو دیکھئے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ ﷺ کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا، ادھر حضور ﷺ کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ نے اپنے صحابہ سے کہا کہ بتاؤ اب کیا کرنا چاہئے ؟ اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے حضور ﷺ کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ حضور ﷺ کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے حضرت صدیق نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔ لیکن پھر بھی آپ نے فرمایا ؟ اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے، آپ کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لئے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔ اس پر حضرت سعد بن معاذ انصاری و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے شاید آپ کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے " سنئے یا رسول اللہ ﷺ ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کر کے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، حضور ﷺ آپ اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہوجایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر انشاء اللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی " یہ سن کر اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے اور آپ کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں ؓ۔ " ایک روایت میں ہے کہ بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، حضرت عمر نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہہ دیں کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ کے ساتھ ہیں۔ حضرت مقداد انصاری نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ حضرت ابن مسعود فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مقداد کے اس قول سے اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے، انہوں نے کہا تھا کہ حضور ﷺ لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔ کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کو اس قدر خوش کرسکتا۔ ایک روایت میں حضرت مقداد کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے جبکہ مشرکین نے آپ کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ نے فرمایا میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بین اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں تو حضرت مقداد بن اسود نے فرمایا ہم اصحاب موسیٰ کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی ﷺ سے کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیھٹے ہیں۔ ہم کہتے ہیں حضور ﷺ آپ چلئے اللہ کی مدد آپ کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ کے ساتھی ہیں، یہ سن کر اصحاب نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کردیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو واللہ اعلم۔ حضرت موسیٰ کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ " رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما "۔ جناب باری نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جاسکتے تھے۔ یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من وسلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہوگئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کردیا گیا اور من وسلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں ابن عباس سے یہ سب مروی ہے۔ پھر حضرت ہارون کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ حضرت موسیٰ بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف حضرت یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین سنتہ پر وقف تام کرتے ہیں اور اربعین سنتہ کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل (یتبھون فی الارض) کو بتلاتے ہیں۔ اس سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہو لئے اور آپ نے بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا۔ جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آپہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لئے اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ اسے ذرا سی دیر روک دے۔ چناچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو کہہ دو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور حطتہ کہیں یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی (حبتہ فی شعرۃ) کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے، دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی حضرت یوشع نے فرمایا " تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے " چناچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی ﷺ کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ نے فرمایا " تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ "۔ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے (اربعین سنتہ) میں (فانھا محرمتہ) عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو حضرت کلیم اللہ نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے ؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے حضرت موسیٰ پر بددعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لئے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔ ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مرگیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ اس کا تخت تین گز کا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں، اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول ﷺ کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں، نبی اللہ کی بےادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے سازو سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہوجاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گرگئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔

تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا " لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔ " حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ روح اللہ پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ اسماعیل کے واسطہ سے حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ پر درود وسلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنادیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھر بار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں ؟ آپ نے فرمایا تیری بیوی ہے ؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے ؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں " سواری اور خادم ملک ہے "۔ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا۔ ایک اور مرفوع حدیث میں ہے " جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے "۔ یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے " جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن وامان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی "۔ اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے اور آیت میں ہے ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی۔ حضرت موسیٰ سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے، خود قرآن فرماتا ہے آیت (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ) 3۔ آل عمران :110) اور فرمایا آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2۔ البقرۃ :143) یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی ﷺ کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے " اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من وسلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں "۔ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہوچکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے واللہ اعلم۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ " بیت المقدس دراصل ان کے دادا حضرت یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی۔ اب حضرت موسیٰ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے، مقدسہ سے مراد پاک ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لئے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آ رہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہوسکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا " " اللہ نے اسے تمہارے لئے لکھ دیا ہے " مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہوجاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑجاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جاسکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے، ابن عباس کا بیان ہے کہ " حضرت موسیٰ جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔ یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہوگئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جاکر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہوگیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کردو۔ چناچہ انہوں نے جاکر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے "۔ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو ؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہہ دیا، اب حضرت موسیٰ نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔ حضرت انس نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا " ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے "۔ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن حضرت آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں (3333) تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیا مانع ہے، پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے، ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور حضرت نوح کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں نوح کی دعا یہ مذکور ہے کہ زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہئے، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی، قرآن فرماتا ہے " ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کردیا "۔ خود قرآن میں ہے کہ " آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں " تعجب سا تعجب ہے کہ نوح کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا واللہ اعلم۔ بنی اسرائیل جب اپنے نبی ﷺ کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بےادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آجائے، ایک قرأت میں (یخافون) کے بدلے (یھابون) ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ " ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی "۔ ایک کا نام حضرت یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا "۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔ لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کردیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر حضرت یوشع اور حضرت کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کردیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہوگیا اور بےطرح مخالفت رسول پر تل گئے۔ ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے حال کو دیکھئے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ ﷺ کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا، ادھر حضور ﷺ کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ نے اپنے صحابہ سے کہا کہ بتاؤ اب کیا کرنا چاہئے ؟ اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے حضور ﷺ کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ حضور ﷺ کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے حضرت صدیق نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔ لیکن پھر بھی آپ نے فرمایا ؟ اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے، آپ کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لئے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔ اس پر حضرت سعد بن معاذ انصاری و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے شاید آپ کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے " سنئے یا رسول اللہ ﷺ ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کر کے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، حضور ﷺ آپ اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہوجایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر انشاء اللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی " یہ سن کر اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے اور آپ کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں ؓ۔ " ایک روایت میں ہے کہ بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، حضرت عمر نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہہ دیں کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ کے ساتھ ہیں۔ حضرت مقداد انصاری نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ حضرت ابن مسعود فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مقداد کے اس قول سے اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے، انہوں نے کہا تھا کہ حضور ﷺ لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔ کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کو اس قدر خوش کرسکتا۔ ایک روایت میں حضرت مقداد کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے جبکہ مشرکین نے آپ کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ نے فرمایا میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بین اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں تو حضرت مقداد بن اسود نے فرمایا ہم اصحاب موسیٰ کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی ﷺ سے کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیھٹے ہیں۔ ہم کہتے ہیں حضور ﷺ آپ چلئے اللہ کی مدد آپ کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ کے ساتھی ہیں، یہ سن کر اصحاب نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کردیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو واللہ اعلم۔ حضرت موسیٰ کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ " رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما "۔ جناب باری نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جاسکتے تھے۔ یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من وسلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہوگئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کردیا گیا اور من وسلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں ابن عباس سے یہ سب مروی ہے۔ پھر حضرت ہارون کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ حضرت موسیٰ بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف حضرت یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین سنتہ پر وقف تام کرتے ہیں اور اربعین سنتہ کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل (یتبھون فی الارض) کو بتلاتے ہیں۔ اس سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہو لئے اور آپ نے بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا۔ جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آپہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لئے اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ اسے ذرا سی دیر روک دے۔ چناچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو کہہ دو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور حطتہ کہیں یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی (حبتہ فی شعرۃ) کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے، دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی حضرت یوشع نے فرمایا " تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے " چناچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی ﷺ کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ نے فرمایا " تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ "۔ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے (اربعین سنتہ) میں (فانھا محرمتہ) عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو حضرت کلیم اللہ نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے ؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے حضرت موسیٰ پر بددعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لئے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔ ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مرگیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ اس کا تخت تین گز کا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں، اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول ﷺ کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں، نبی اللہ کی بےادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے سازو سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہوجاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گرگئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔

تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا " لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔ " حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ روح اللہ پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ اسماعیل کے واسطہ سے حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ پر درود وسلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنادیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھر بار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں ؟ آپ نے فرمایا تیری بیوی ہے ؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے ؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں " سواری اور خادم ملک ہے "۔ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا۔ ایک اور مرفوع حدیث میں ہے " جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے "۔ یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے " جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن وامان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی "۔ اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے اور آیت میں ہے ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی۔ حضرت موسیٰ سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے، خود قرآن فرماتا ہے آیت (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ) 3۔ آل عمران :110) اور فرمایا آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2۔ البقرۃ :143) یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی ﷺ کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے " اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من وسلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں "۔ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہوچکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے واللہ اعلم۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ " بیت المقدس دراصل ان کے دادا حضرت یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی۔ اب حضرت موسیٰ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے، مقدسہ سے مراد پاک ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لئے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آ رہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہوسکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا " " اللہ نے اسے تمہارے لئے لکھ دیا ہے " مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہوجاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑجاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جاسکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے، ابن عباس کا بیان ہے کہ " حضرت موسیٰ جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔ یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہوگئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جاکر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہوگیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کردو۔ چناچہ انہوں نے جاکر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے "۔ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو ؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہہ دیا، اب حضرت موسیٰ نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔ حضرت انس نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا " ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے "۔ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن حضرت آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں (3333) تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیا مانع ہے، پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے، ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور حضرت نوح کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں نوح کی دعا یہ مذکور ہے کہ زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہئے، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی، قرآن فرماتا ہے " ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کردیا "۔ خود قرآن میں ہے کہ " آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں " تعجب سا تعجب ہے کہ نوح کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا واللہ اعلم۔ بنی اسرائیل جب اپنے نبی ﷺ کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بےادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آجائے، ایک قرأت میں (یخافون) کے بدلے (یھابون) ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ " ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی "۔ ایک کا نام حضرت یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا "۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔ لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کردیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر حضرت یوشع اور حضرت کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کردیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہوگیا اور بےطرح مخالفت رسول پر تل گئے۔ ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے حال کو دیکھئے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ ﷺ کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا، ادھر حضور ﷺ کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ نے اپنے صحابہ سے کہا کہ بتاؤ اب کیا کرنا چاہئے ؟ اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے حضور ﷺ کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ حضور ﷺ کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے حضرت صدیق نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔ لیکن پھر بھی آپ نے فرمایا ؟ اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے، آپ کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لئے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔ اس پر حضرت سعد بن معاذ انصاری و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے شاید آپ کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے " سنئے یا رسول اللہ ﷺ ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کر کے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، حضور ﷺ آپ اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہوجایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر انشاء اللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی " یہ سن کر اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے اور آپ کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں ؓ۔ " ایک روایت میں ہے کہ بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، حضرت عمر نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہہ دیں کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ کے ساتھ ہیں۔ حضرت مقداد انصاری نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ حضرت ابن مسعود فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مقداد کے اس قول سے اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے، انہوں نے کہا تھا کہ حضور ﷺ لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔ کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کو اس قدر خوش کرسکتا۔ ایک روایت میں حضرت مقداد کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے جبکہ مشرکین نے آپ کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ نے فرمایا میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بین اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں تو حضرت مقداد بن اسود نے فرمایا ہم اصحاب موسیٰ کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی ﷺ سے کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیھٹے ہیں۔ ہم کہتے ہیں حضور ﷺ آپ چلئے اللہ کی مدد آپ کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ کے ساتھی ہیں، یہ سن کر اصحاب نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کردیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو واللہ اعلم۔ حضرت موسیٰ کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ " رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما "۔ جناب باری نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جاسکتے تھے۔ یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من وسلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہوگئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کردیا گیا اور من وسلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں ابن عباس سے یہ سب مروی ہے۔ پھر حضرت ہارون کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ حضرت موسیٰ بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف حضرت یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین سنتہ پر وقف تام کرتے ہیں اور اربعین سنتہ کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل (یتبھون فی الارض) کو بتلاتے ہیں۔ اس سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہو لئے اور آپ نے بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا۔ جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آپہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لئے اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ اسے ذرا سی دیر روک دے۔ چناچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو کہہ دو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور حطتہ کہیں یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی (حبتہ فی شعرۃ) کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے، دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی حضرت یوشع نے فرمایا " تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے " چناچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی ﷺ کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ نے فرمایا " تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ "۔ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے (اربعین سنتہ) میں (فانھا محرمتہ) عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو حضرت کلیم اللہ نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے ؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے حضرت موسیٰ پر بددعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لئے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔ ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مرگیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ اس کا تخت تین گز کا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں، اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول ﷺ کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں، نبی اللہ کی بےادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے سازو سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہوجاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گرگئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔

حسد و بغض سے ممانعت اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح حضرت کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہوگئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بےوجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔ فرماتا ہے " اے نبی ﷺ انہیں حضرت آدم کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بےکم وکاست قصہ سنا دو۔ ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لئے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل کی لڑکی ان دونوں کا نکاح کرا دیا جاتا تھا، ہابیل کی بہن تو خوبصورت نہ تھی اور قابیل کی بہن خوبصورت تھی تو قابیل نے چاہا کہ اپنی ہی بہن سے اپنا نکاح کرلے، حضرت آدم نے اس سے منع کیا آخر یہ فیصلہ ہوا کہ تم دونوں اللہ کے نام پر کچھ نکالو، جس کی خیرات قبول ہوجائے اس کا نکاح اس کے ساتھ کردیا جائے گا۔ ہابیل کی خیرات قبول ہوگئی پھر وہ ہوا جس کا بیان قرآن کی ان آیات میں ہوا :" مفسرین کے اقوال سنئیے حضرت آدم کی صلبی اولاد کے نکاح کا قاعدہ جو اوپر مذکور ہوا بیان فرمانے کے بعد مروی ہے کہ بڑا بھائی قابیل کھیتی کرتا تھا اور ہابیل جانوروں والا تھا، قابیل کی بہن بہ نسبت ہابیل کی بہن کے خوب رو تھی۔ جب ہابیل کا پیغام اس سے ہوا تو قابیل نے انکار کردیا اور اپنا نکاح اس سے کرنا چاہا، حضرت آدم نے اس سے روکا۔ اب ان دونوں نے خیرات نکالی کہ جس کی قبول ہوجائے وہ نکاح کا زیادہ حقدار ہے حضرت آدم اس وقت مکہ چلے گئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم سے فرمایا زمین پر جو میرا گھر ہے اسے جانتے ہو ؟ آپ نے کہا نہیں حکم ہوا مکہ میں ہے تم وہیں جاؤ، حضرت آدم نے آسمان سے کہا کہ میرے بچوں کی تو حفاظت کرے گا ؟ اس نے انکار کیا زمین سے کہا اس نے بھی انکار کردیا، پہاڑوں سے کہا انہوں نے بھی انکار کیا، قابیل سے کہا، اس نے کہا ہاں میں محافظ ہوں، آپ جایئے آکر ملاحظہ فرما لیں گے اور خوش ہوں گے۔ اب ہابیل نے ایک خوبصورت موٹا تازہ مینڈھا اللہ کے نام پر ذبح کیا اور بڑے بھائی نے اپنی کھیتی کا حصہ اللہ کیلئے نکالا۔ آگ آئی اور ہابیل کی نذر تو جلا گئی، جو اس زمانہ میں قبولیت کی علامت تھی اور قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی، اس کی کھیتی یونہی رہ گئی، اس نے راہ اللہ کرنے کے بعد اس میں سے اچھی اچھی بالیں توڑ کر کھا لیں تھیں۔ چونکہ قابیل اب مایوس ہوچکا تھا کہ اس کے نکاح میں اس کی بہن نہیں آسکتی، اس لئے اپنے بھائی کو قتل کی دھمکی دی تھی اس نے کہا کہ " اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کی قربانی قبول فرمایا کرتا ہے۔ اس میں میرا کیا قصور ؟ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ مینڈھا جنت میں پلتا رہا اور یہی وہ مینڈھا ہے جسے حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بچے کے بدلے ذبح کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہابیل نے اپنے جانوروں میں سے بہترین اور مرغوب و محبوب جانور اللہ کے نام اور خوشی کے ساتھ قربان کیا، برخلاف اس کے قابیل نے اپنی کھیتی میں سے نہایت ردی اور واہی چیز اور وہ بےدلی سے اللہ کے نام نکالی۔ ہابیل تنو مندی اور طاقتوری میں بھی قابیل سے زیادہ تھا تاہم اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے اپنے بھائی کا ظلم و زیادتی سہ لی اور ہاتھ نہ اٹھایا۔ بڑے بھائی کی قربانی جب قبول نہ ہوئی اور حضرت آدم نے اس سے کہا تو اس نے کہا کہ چونکہ آپ ہابیل کو چاہتے ہیں اور آپ نے اس کیلئے دعا کی تو اس کی قربانی قبول ہوگئی۔ اب اس نے ٹھان لی کہ میں اس کانٹے ہی کو اکھاڑ ڈالوں۔ موقع کا منتظر تھا ایک روز اتفاقاً حضرت ہابیل کے آنے میں دیر لگ گئی تو انہیں بلانے کیلئے حضرت آدم نے قابیل کو بھیجا۔ یہ ایک چھری اپنے ساتھ لے کر چلا، راستے میں ہی دونوں بھائیوں کی ملاقات ہوگئی، اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوئی اور میری نہ ہوئی اس پر ہابیل نے کہا میں نے بہترین، عمدہ، محبوب اور مرغوب چیز اللہ کے نام نکالی اور تو نے بیکار بےجان چیز نکالی، اللہ تعالیٰ اپنے متقیوں ہی کی نیکی قبول کرتا ہے۔ اس پر وہ اور بگڑا اور چھری گھونپ دی، ہابیل کہتے رہ گئے کہ اللہ کو کیا جواب دے گا ؟ اللہ کے ہاں اس ظلم کا بدلہ تجھ سے بری طرح لیا جائیگا۔ اللہ کا خوف کر مجھے قتل نہ کر لیکن اس بےرحم نے اپنے بھائی کو مار ہی ڈالا۔ قابیل نے اپنی تو ام بہن سے اپنا ہی نکاح کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ ہم دونوں جنت میں پیدا ہوئے ہیں اور یہ دونوں زمین میں پیدا ہوئے ہیں، اسی لئے میں اس کا حقدار ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ قابیل نے گیہوں نکالے تھے اور ہابیل نے گائے قربان کی تھی۔ چونکہ اس وقت کوئی مسکین تو تھا ہی نہیں جسے صدقہ دیا جائے، اس لئے یہی دستور تھا کہ صدقہ نکال دیتے آگ آسمان سے آتی اور اسے جلا جاتی یہ قبولیت کا نشان تھا۔ اس برتری سے جو چھوٹے بھائی کو حاصل ہوئی، بڑا بھائی حسد کی آگ میں بھڑکا اور اس کے قتل کے درپے ہوگیا، یونہی بیٹھے بیٹھے دونوں بھائیوں نے قربانی کی تھی۔ نکاح کے اختلاف کو مٹانے کی وجہ نہ تھی، قرآن کے ظاہری الفاظ کا اقتضا بھی یہی ہے کہ ناراضگی کا باعث عدم قبولیت قربانی تھی نہ کچھ اور۔ ایک روایت مندرجہ روایتوں کے خلاف یہ بھی ہے کہ قابیل نے کھیتی اللہ کے نام نذر دی تھی جو قبول ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس میں راوی کا حافظہ ٹھیک نہیں اور یہ مشہور امر کے بھی خلاف ہے واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول کرتا ہے جو اپنے فعل میں اس سے ڈرتا رہے۔ حضرت معاذ فرماتے ہیں لوگ میدان قیامت میں ہوں گے تو ایک منادی ندا کرے گا کہ پرہیزگار کہاں ہیں ؟ پس پروردگار سے ڈرنے والے کھڑے ہوجائیں گے اور اللہ کے بازو کے نیچے جا ٹھہریں گے اللہ تعالیٰ نہ ان سے رخ پوشی کرے گا نہ پردہ۔ راوی حدیث ابو عفیف سے دریافت کیا گیا کہ متقی کون ہیں ؟ فرمایا وہ جو شرک اور بت پرستی سے بچے اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے پھر یہ سب لوگ جنت میں جائیں گے۔ جس نیک بخت کی قربانی قبول کی گئی تھی، وہ اپنے بھائی کے اس ارادہ کو سن کر اس سے کہتا ہے کہ تو جو چاہے کر، میں تو تیری طرح نہیں کروں گا بلکہ میں صبر و ضبط کروں گا، تھے تو زور و طاقت میں یہ اس سے زیادہ مگر اپنی بھلائی، نیک بختی اور تواضع و فروتنی اور پرہیزگاری کی وجہ سے یہ فرمایا کہ تو گناہ پر آمادہ ہوجائے لیکن مجھ سے اس جرم کا ارتکاب نہیں ہوسکتا، میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں وہ تمام جہان کا رب ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ " جب دو مسلمان تلواریں لے کر بھڑ گئے تو قاتل مقتول دونوں جہنمی ہیں۔ " صحابہ نے پوچھا قاتل تو خیر لیکن مقتول کیوں ہوا ؟ آپ نے فرمایا اس لئے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا۔ حضرت سعد بن وقاص نے اس وقت جبکہ باغیوں نے حضرت عثمان ذوالنورین کو گھیر رکھا تھا کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے " عنقریب فتنہ برپا ہوگا۔ بیٹھا رہنے والا اس وقت کھڑے رہنے والے سے اچھا ہوگا اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا "۔ کسی نے پوچھا " حضور ﷺ اگر کوئی میرے گھر میں بھی گھس آئے اور مجھے قتل کرنا چاہے "۔ آپ نے فرمایا پھر بھی تو حضرت آدم کے بیٹے کی طرح ہوجا۔ ایک روایت میں آپ کا اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے۔ حضرت ایوب سختیاتی فرماتے ہیں " اس امت میں سب سے پہلے جس نے اس آیت پر عمل کیا وہ امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ہیں "۔ ایک مرتبہ ایک جانور پر حضور ﷺ سوار تھے اور آپ کے ساتھ ہی آپ کے پیچھے حضرت ابوذر تھے، آپ نے فرمایا ابوذر بتاؤ تو جب لوگوں پر ایسے فاقے آئیں گے کہ گھر سے مسجد تک نہ جاسکیں گے تو تو کیا کرے گا ؟ میں نے کہا جو حکم رب اور رسول ﷺ ہو فرمایا صبر کرو۔ پھر فرمایا جبکہ آپس میں خونریزی ہوگی یہاں تک کہ ریت کے تھر بھی خون میں ڈوب جائیں تو تو کیا کرے گا ؟ میں نے وہی جواب دیا تو فرمایا کہ اپنے گھر میں بیٹھ جا اور دروازے بند کرلے کہا پھر اگرچہ میں نہ میدان میں اتروں ؟ فرمایا تو ان میں چلا جا، جن کا تو ہے اور وہیں رہ۔ عرض کیا کہ پھر میں اپنے ہتھیار ہی کیوں نہ لے لوں ؟ فرمایا پھر تو تو بھی ان کے ساتھ ہی شامل ہوجائے گا بلکہ اگر تجھے کسی کی تلوار کی شعائیں پریشان کرتی نظر آئیں تو بھی اپنے منہ پر کپڑا ڈال لے تاکہ تیرے اور خود اپنے گناہوں کو وہی لے جائے۔ حضرت ربعی فرماتے ہیں ہم حضرت حذیفہ کے جنازے میں تھے، ایک صاحب نے کہا میں نے مرحوم سے سنا ہے آپ رسول اللہ ﷺ کی سنی ہوئی حدیثیں بیان فرماتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر تم آپس میں لڑو گے تو میں اپنے سب سے دور دراز گھر میں چلا جاؤں گا اور اسے بند کر کے بیٹھ جاؤں گا، اگر وہاں بھی کوئی گھس آئے گا تو میں کہہ دوں گا کہ لے اپنا اور میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے، پس میں حضرت آدم کے ان دو بیٹوں میں سے جو بہتر تھا، اس کی طرح ہوجاؤں گا۔ میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا گناہ اپنے سر رکھ لے جائے۔ یعنی تیرے وہ گناہ جو اس سے پہلے کے ہیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ یہ مطلب بھی حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ میری خطائیں بھی مجھ پر آپڑیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ لیکن انہی سے ایک قول پہلے جیسا بھی مروی ہے، ممکن ہے یہ دوسرا ثابت نہ ہو۔ اسی بنا پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ قاتل مقتول کے سب گناہ اپنے اوپر بار کرلیتا ہے اور اس معنی کی ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے لیکن اس کی کوئی اصل نہیں۔ بزار میں ایک حدیث ہے کہ " بےسبب کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے "۔ گویہ حدیث اوپر والے معنی میں نہیں، تاہم یہ بھی صحیح نہیں اور اس روایت کا مطلب یہ بھی ہے کہ قتل کی ایذاء کے باعث اللہ تعالیٰ مقتول کے سب گناہ معاف کردیتا ہے۔ اب وہ قاتل پر آجاتے ہیں۔ یہ بات ثابت نہیں ممکن ہے بعض قاتل ویسے بھی ہوں، قاتل کو میدان قیامت میں مقتول ڈھونڈھتا پھرے گا اور اس کے ظلم کے مطابق اس کی نیکیاں لے جائے گا۔ اور سب نیکیاں لے لینے کے بعد بھی اس ظلم کی تلافی نہ ہوئی تو مقتول کے گناہ قاتل پر رکھ دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ بدلہ ہوجائے تو ممکن ہے کہ سارے ہی گناہ بعض قاتلوں کے سر پڑجائیں کیونکہ ظلم کے اس طرح کے بدلے لئے جانے احادیث سے ثابت ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ قتل سب سے بڑھ کر ظلم ہے اور سب سے بدتر۔ واللہ اعلم۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں مطلب اس جملے کا صحیح تر یہی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ اور میرے قتل کے گناہ سب ہی اپنے اوپر لے جائے، تیرے اور گناہوں کے ساتھ ایک گناہ یہ بھی بڑھ جائے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرے گناہ بھی تجھ پر آجائیں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہر عامل کو اس کے عمل کی جزا ملتی ہے، پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مقتول کے عمر بھر کے گناہ قاتل پر ڈال دیئے جائیں، اور اس کے گناہوں پر اس کی پکڑ ہو ؟ باقی رہی یہ بات کہ پھر ہابیل نے یہ بات اپنے بھائی سے کیوں کہی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے آخری مرتبہ نصیحت کی اور ڈرایا اور خوف زدہ کیا کہ اس کام سے باز آ جا، ورنہ گہنگار ہو کر جہنم واصل ہوجائے گا کیونکہ میں تو تیرا مقابلہ کرنے ہی کا نہیں، سارا بوجھ تجھ ہی پر ہوگا اور تو ہی ظالم ٹھہرے گا اور ظالموں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس نصیحت کے باوجود اس کے نفس نے اسے دھوکا دیا اور غصے اور حسد اور تکبر میں آکر اپنے بھائی کو قتل کردیا، اسے شیطان نے قتل پر ابھار دیا اور اس نے اپنے نفس امارہ کی پیروی کرلی ہے اور لوہے سے اسے مار ڈالا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ اپنے جانوروں کو لے کر پہاڑیوں پر چلے گئے تھے، یہ ڈھونڈھتا ہوا وہاں پہنچا اور ایک بھاری پتھر اٹھا کر ان کے سر پردے مارا، یہ اس وقت سوئے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں مثل درندے کے کاٹ کاٹ کر، گلا دبا دبا کر ان کی جان لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیطان نے جب دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا، یہ اس کی گردن مروڑ رہا ہے تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر اسے دوسرا پتھر زور سے دے مارا، جس سے وہ جانور اسی وقت مرگیا، یہ دیکھ اس نے بھی اپنے بھائی کے ساتھ یہی کیا یہ بھی مروی ہے کہ چونکہ اب تک زمین پر کوئی قتل نہیں ہوا تھا، اس لئے قابیل اپنے بھائی کو گرا کر کبھی اس کی آنکھیں بند کرتا، کبھی اسے تھپڑ اور گھونسے مارتا۔ یہ دیکھ کر ابلیس لعین اس کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ پتھر لے کر اس کا سر کچل ڈال، جب اس نے کچل ڈالا تو لعین دوڑتا ہوا حضرت حوا کے پاس آیا اور کہا قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا، انہوں نے پوچھا قتل کیسا ہوتا ہے ؟ کہا اب نہ وہ کھاتا پیتا ہے نہ بولتا چالتا ہے، نہ ہلتا جلتا ہے کہا شاید موت آگئی اس نے کہا ہاں وہی موت۔ اب تو مائی صاحبہ چیخنے چلانے لگیں، اتنے میں حضرت آدم آئے پوچھا کیا بات ہے ؟ لیکن یہ جواب نہ دے سکیں، آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا لیکن فرط غم و رنج کی وجہ سے ان کی زبان نہ چلی تو کہا اچھا تو اور تیری بیٹیاں ہائے وائے میں ہی رہیں گی اور میں اور میرے بیٹے اس سے بری ہیں۔ قابیل خسارے ٹوٹے اور نقصان والا ہوگیا، دنیا اور آخرت دونوں ہی بگڑیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں " جو انسان ظلم سے قتل کیا جاتا ہے، اس کے خون کا بوجھ آدم کے اس لڑکے پر بھی پڑتا ہے، اس لئے کہ اسی نے سب سے پہلے زمین پر خون ناحق گرایا ہے "۔ مجاہد کا قول ہے کہ " قاتل کے ایک پیر کی پنڈلی کو ران سے اس دن سے لٹکا دیا گیا اور اس کا منہ سورج کی طرف کردیا گیا، اس کے گھومنے کے ساتھ گھومتا رہتا ہے، جاڑوں اور گرمیوں میں آگ اور برف کے گڑھے میں وہ معذب ہے "۔ حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ " جہنم کا آدھوں آدھ عذاب صرف اس ایک کو ہو رہا ہے، سب سے بڑا معذب یہی ہے زمین کے ہر قتل کے گناہ کا حصہ اس کے ذمہ ہے "۔ ابراہیم نخعی فرماتے ہیں " اس پر اور شیطان پر ہر خون ناحق کا بوجھ پڑتا ہے "۔ جب مار ڈالا تو اب یہ معلوم نہ تھا کہ کیا کرے، کس طرح اسے چھپائے ؟ تو اللہ نے دو کوے بھیجے، وہ دونوں بھی آپس میں بھائی بھائی تھے، یہ اس کے سامنے لڑنے لگے، یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا، پھر ایک گڑھا کھود کر اس میں اس کی لاش کو رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی، یہ دیکھ کر قابیل کی سمجھ میں بھی یہ ترکیب آگئی اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ از خود مرے ہوئے ایک کوے کو دوسرے کوے نے اس طرح گڑھا کھود کر دفن کیا تھا۔ یہ بھی مروی ہے کہ سال بھر تک قابیل اپنے بھائی کی لاش اپنے کندھے پر لادے لادے پھرتا رہا، پھر کوے کو دیکھ کر اپنے نفس پر ملامت کرنے لگا کہ میں اتنا بھی نہ کرسکا، یہ بھی کہا گیا ہے مار ڈال کر پھر پچھتایا اور لاش کو گود میں رکھ کر بیٹھ گیا اور اس لئے بھی کہ سب سے پہلی میت اور سب سے پہلا قتل روئے زمین پر یہی تھا۔ اہل توراۃ کہتے ہیں کہ جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تیرے بھائی ہابیل کو کیا ہوا ؟ اس نے کہا مجھے کیا خبر ؟ میں اس کا نگہبان تو تھا ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سن تیرے بھائی کا خون زمین میں سے مجھے پکار رہا ہے، تجھ پر میری لعنت ہے، اس زمین میں جس کا منہ کھول کر تو نے اسے اپنے بےگناہ بھائی کا خون پلایا ہے، اب تو زمین میں جو کچھ کام کرے گا وہ اپنی کھیتی میں سے تجھے کچھ نہیں دے گی، یہاں تک تم زمین پر عمر بھر بےچین پھٹکتے رہو گے پھر تو قابیل بڑا ہی نادم ہوا۔ نقصان کے ساتھ ہی پچھتاوا گویا عذاب پر عذاب تھا۔ اس قصہ میں مفسرین کے اقوال اس بات پر تو متفق ہیں کہ یہ تو دونوں حضرت آدم کے صلبی بیٹے تھے اور یہی قرآن کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے اور یہی حدیث میں بھی ہے کہ روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ کا حضرت آدم کے اس پہلے لڑکے پر ہوتا ہے، اس لئے کہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا ہے، لیکن حسن بصری کا قول ہے کہ " یہ دونوں بنی اسرائیل میں تھے، قربانی سب سے پہلے انہی میں آئی اور زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم کا انتقال ہوا ہے " لیکن یہ قول غور طلب ہے اور اس کی اسناد بھی ٹھیک نہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ واقعہ بطور ایک مثال کے ہے " تم اس میں سے اچھائی لے لو اور برے کو چھوڑ دو "۔ یہ حدیث مرسل ہے کہتے ہیں کہ اس صدمے سے حضرت آدم بہت غمگین ہوئے اور سال بھر تک انہیں ہنسی نہ آئی، آخر فرشتوں نے ان کے غم کے دور ہونے اور انہیں ہنسی آنے کی دعا کی۔ حضرت آدم نے اس وقت اپنے رنج و غم میں یہ بھی کہا تھا کہ شہر اور شہر کی سب چیزیں متغیر ہوگئی۔ زمین کا رنگ بدل گیا اور وہ نہایت بدصورت ہوگئی، ہر ہر چیز کا رنگ و مزہ جاتا رہا اور کشش والے چہروں کی ملاحت بھی سلب ہوگئی۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ اس مردے کے ساتھ اس زندے نے بھی گویا اپنے تئیں ہلاک کردیا اور جو برائی قاتل نے کی تھی، اس کا بوجھ اس پر آگیا، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قابیل کو اسی وقت سزا دی گئی چناچہ وارد ہوا ہے کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے لٹکا دی گئی اور اس کا منہ سورج کی طرف کردیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ گھومتا رہتا تھا یعنی جدھر سورج ہوتا ادھر ہی اس کا منہ اٹھا رہتا۔ حدیث شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جتنے گناہ اس لائق ہیں کہ بہت جلد ان کی سزا دنیا میں بھی دی جائے اور پھر آخرت کے زبردست عذاب باقی رہیں ان میں سب سے بڑھ کر گناہ سرکشی اور قطع رحمی ہے۔ تو قابیل میں یہ دونوں باتیں جمع ہوگئیں آتی (فانا للہ و انا الیہ راجعون) (یہ یاد رہے کہ اس قصہ کی تفصیلات جس قدر بیان ہوئی ہے، ان میں سے اکثر و بیشر حصہ اہل کتاب سے اخذ کیا ہوا ہے۔ واللہ اعلم۔ مترجم)

حسد و بغض سے ممانعت اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح حضرت کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہوگئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بےوجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔ فرماتا ہے " اے نبی ﷺ انہیں حضرت آدم کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بےکم وکاست قصہ سنا دو۔ ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لئے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل کی لڑکی ان دونوں کا نکاح کرا دیا جاتا تھا، ہابیل کی بہن تو خوبصورت نہ تھی اور قابیل کی بہن خوبصورت تھی تو قابیل نے چاہا کہ اپنی ہی بہن سے اپنا نکاح کرلے، حضرت آدم نے اس سے منع کیا آخر یہ فیصلہ ہوا کہ تم دونوں اللہ کے نام پر کچھ نکالو، جس کی خیرات قبول ہوجائے اس کا نکاح اس کے ساتھ کردیا جائے گا۔ ہابیل کی خیرات قبول ہوگئی پھر وہ ہوا جس کا بیان قرآن کی ان آیات میں ہوا :" مفسرین کے اقوال سنئیے حضرت آدم کی صلبی اولاد کے نکاح کا قاعدہ جو اوپر مذکور ہوا بیان فرمانے کے بعد مروی ہے کہ بڑا بھائی قابیل کھیتی کرتا تھا اور ہابیل جانوروں والا تھا، قابیل کی بہن بہ نسبت ہابیل کی بہن کے خوب رو تھی۔ جب ہابیل کا پیغام اس سے ہوا تو قابیل نے انکار کردیا اور اپنا نکاح اس سے کرنا چاہا، حضرت آدم نے اس سے روکا۔ اب ان دونوں نے خیرات نکالی کہ جس کی قبول ہوجائے وہ نکاح کا زیادہ حقدار ہے حضرت آدم اس وقت مکہ چلے گئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم سے فرمایا زمین پر جو میرا گھر ہے اسے جانتے ہو ؟ آپ نے کہا نہیں حکم ہوا مکہ میں ہے تم وہیں جاؤ، حضرت آدم نے آسمان سے کہا کہ میرے بچوں کی تو حفاظت کرے گا ؟ اس نے انکار کیا زمین سے کہا اس نے بھی انکار کردیا، پہاڑوں سے کہا انہوں نے بھی انکار کیا، قابیل سے کہا، اس نے کہا ہاں میں محافظ ہوں، آپ جایئے آکر ملاحظہ فرما لیں گے اور خوش ہوں گے۔ اب ہابیل نے ایک خوبصورت موٹا تازہ مینڈھا اللہ کے نام پر ذبح کیا اور بڑے بھائی نے اپنی کھیتی کا حصہ اللہ کیلئے نکالا۔ آگ آئی اور ہابیل کی نذر تو جلا گئی، جو اس زمانہ میں قبولیت کی علامت تھی اور قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی، اس کی کھیتی یونہی رہ گئی، اس نے راہ اللہ کرنے کے بعد اس میں سے اچھی اچھی بالیں توڑ کر کھا لیں تھیں۔ چونکہ قابیل اب مایوس ہوچکا تھا کہ اس کے نکاح میں اس کی بہن نہیں آسکتی، اس لئے اپنے بھائی کو قتل کی دھمکی دی تھی اس نے کہا کہ " اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کی قربانی قبول فرمایا کرتا ہے۔ اس میں میرا کیا قصور ؟ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ مینڈھا جنت میں پلتا رہا اور یہی وہ مینڈھا ہے جسے حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بچے کے بدلے ذبح کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہابیل نے اپنے جانوروں میں سے بہترین اور مرغوب و محبوب جانور اللہ کے نام اور خوشی کے ساتھ قربان کیا، برخلاف اس کے قابیل نے اپنی کھیتی میں سے نہایت ردی اور واہی چیز اور وہ بےدلی سے اللہ کے نام نکالی۔ ہابیل تنو مندی اور طاقتوری میں بھی قابیل سے زیادہ تھا تاہم اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے اپنے بھائی کا ظلم و زیادتی سہ لی اور ہاتھ نہ اٹھایا۔ بڑے بھائی کی قربانی جب قبول نہ ہوئی اور حضرت آدم نے اس سے کہا تو اس نے کہا کہ چونکہ آپ ہابیل کو چاہتے ہیں اور آپ نے اس کیلئے دعا کی تو اس کی قربانی قبول ہوگئی۔ اب اس نے ٹھان لی کہ میں اس کانٹے ہی کو اکھاڑ ڈالوں۔ موقع کا منتظر تھا ایک روز اتفاقاً حضرت ہابیل کے آنے میں دیر لگ گئی تو انہیں بلانے کیلئے حضرت آدم نے قابیل کو بھیجا۔ یہ ایک چھری اپنے ساتھ لے کر چلا، راستے میں ہی دونوں بھائیوں کی ملاقات ہوگئی، اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوئی اور میری نہ ہوئی اس پر ہابیل نے کہا میں نے بہترین، عمدہ، محبوب اور مرغوب چیز اللہ کے نام نکالی اور تو نے بیکار بےجان چیز نکالی، اللہ تعالیٰ اپنے متقیوں ہی کی نیکی قبول کرتا ہے۔ اس پر وہ اور بگڑا اور چھری گھونپ دی، ہابیل کہتے رہ گئے کہ اللہ کو کیا جواب دے گا ؟ اللہ کے ہاں اس ظلم کا بدلہ تجھ سے بری طرح لیا جائیگا۔ اللہ کا خوف کر مجھے قتل نہ کر لیکن اس بےرحم نے اپنے بھائی کو مار ہی ڈالا۔ قابیل نے اپنی تو ام بہن سے اپنا ہی نکاح کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ ہم دونوں جنت میں پیدا ہوئے ہیں اور یہ دونوں زمین میں پیدا ہوئے ہیں، اسی لئے میں اس کا حقدار ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ قابیل نے گیہوں نکالے تھے اور ہابیل نے گائے قربان کی تھی۔ چونکہ اس وقت کوئی مسکین تو تھا ہی نہیں جسے صدقہ دیا جائے، اس لئے یہی دستور تھا کہ صدقہ نکال دیتے آگ آسمان سے آتی اور اسے جلا جاتی یہ قبولیت کا نشان تھا۔ اس برتری سے جو چھوٹے بھائی کو حاصل ہوئی، بڑا بھائی حسد کی آگ میں بھڑکا اور اس کے قتل کے درپے ہوگیا، یونہی بیٹھے بیٹھے دونوں بھائیوں نے قربانی کی تھی۔ نکاح کے اختلاف کو مٹانے کی وجہ نہ تھی، قرآن کے ظاہری الفاظ کا اقتضا بھی یہی ہے کہ ناراضگی کا باعث عدم قبولیت قربانی تھی نہ کچھ اور۔ ایک روایت مندرجہ روایتوں کے خلاف یہ بھی ہے کہ قابیل نے کھیتی اللہ کے نام نذر دی تھی جو قبول ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس میں راوی کا حافظہ ٹھیک نہیں اور یہ مشہور امر کے بھی خلاف ہے واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول کرتا ہے جو اپنے فعل میں اس سے ڈرتا رہے۔ حضرت معاذ فرماتے ہیں لوگ میدان قیامت میں ہوں گے تو ایک منادی ندا کرے گا کہ پرہیزگار کہاں ہیں ؟ پس پروردگار سے ڈرنے والے کھڑے ہوجائیں گے اور اللہ کے بازو کے نیچے جا ٹھہریں گے اللہ تعالیٰ نہ ان سے رخ پوشی کرے گا نہ پردہ۔ راوی حدیث ابو عفیف سے دریافت کیا گیا کہ متقی کون ہیں ؟ فرمایا وہ جو شرک اور بت پرستی سے بچے اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے پھر یہ سب لوگ جنت میں جائیں گے۔ جس نیک بخت کی قربانی قبول کی گئی تھی، وہ اپنے بھائی کے اس ارادہ کو سن کر اس سے کہتا ہے کہ تو جو چاہے کر، میں تو تیری طرح نہیں کروں گا بلکہ میں صبر و ضبط کروں گا، تھے تو زور و طاقت میں یہ اس سے زیادہ مگر اپنی بھلائی، نیک بختی اور تواضع و فروتنی اور پرہیزگاری کی وجہ سے یہ فرمایا کہ تو گناہ پر آمادہ ہوجائے لیکن مجھ سے اس جرم کا ارتکاب نہیں ہوسکتا، میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں وہ تمام جہان کا رب ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ " جب دو مسلمان تلواریں لے کر بھڑ گئے تو قاتل مقتول دونوں جہنمی ہیں۔ " صحابہ نے پوچھا قاتل تو خیر لیکن مقتول کیوں ہوا ؟ آپ نے فرمایا اس لئے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا۔ حضرت سعد بن وقاص نے اس وقت جبکہ باغیوں نے حضرت عثمان ذوالنورین کو گھیر رکھا تھا کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے " عنقریب فتنہ برپا ہوگا۔ بیٹھا رہنے والا اس وقت کھڑے رہنے والے سے اچھا ہوگا اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا "۔ کسی نے پوچھا " حضور ﷺ اگر کوئی میرے گھر میں بھی گھس آئے اور مجھے قتل کرنا چاہے "۔ آپ نے فرمایا پھر بھی تو حضرت آدم کے بیٹے کی طرح ہوجا۔ ایک روایت میں آپ کا اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے۔ حضرت ایوب سختیاتی فرماتے ہیں " اس امت میں سب سے پہلے جس نے اس آیت پر عمل کیا وہ امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ہیں "۔ ایک مرتبہ ایک جانور پر حضور ﷺ سوار تھے اور آپ کے ساتھ ہی آپ کے پیچھے حضرت ابوذر تھے، آپ نے فرمایا ابوذر بتاؤ تو جب لوگوں پر ایسے فاقے آئیں گے کہ گھر سے مسجد تک نہ جاسکیں گے تو تو کیا کرے گا ؟ میں نے کہا جو حکم رب اور رسول ﷺ ہو فرمایا صبر کرو۔ پھر فرمایا جبکہ آپس میں خونریزی ہوگی یہاں تک کہ ریت کے تھر بھی خون میں ڈوب جائیں تو تو کیا کرے گا ؟ میں نے وہی جواب دیا تو فرمایا کہ اپنے گھر میں بیٹھ جا اور دروازے بند کرلے کہا پھر اگرچہ میں نہ میدان میں اتروں ؟ فرمایا تو ان میں چلا جا، جن کا تو ہے اور وہیں رہ۔ عرض کیا کہ پھر میں اپنے ہتھیار ہی کیوں نہ لے لوں ؟ فرمایا پھر تو تو بھی ان کے ساتھ ہی شامل ہوجائے گا بلکہ اگر تجھے کسی کی تلوار کی شعائیں پریشان کرتی نظر آئیں تو بھی اپنے منہ پر کپڑا ڈال لے تاکہ تیرے اور خود اپنے گناہوں کو وہی لے جائے۔ حضرت ربعی فرماتے ہیں ہم حضرت حذیفہ کے جنازے میں تھے، ایک صاحب نے کہا میں نے مرحوم سے سنا ہے آپ رسول اللہ ﷺ کی سنی ہوئی حدیثیں بیان فرماتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر تم آپس میں لڑو گے تو میں اپنے سب سے دور دراز گھر میں چلا جاؤں گا اور اسے بند کر کے بیٹھ جاؤں گا، اگر وہاں بھی کوئی گھس آئے گا تو میں کہہ دوں گا کہ لے اپنا اور میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے، پس میں حضرت آدم کے ان دو بیٹوں میں سے جو بہتر تھا، اس کی طرح ہوجاؤں گا۔ میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا گناہ اپنے سر رکھ لے جائے۔ یعنی تیرے وہ گناہ جو اس سے پہلے کے ہیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ یہ مطلب بھی حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ میری خطائیں بھی مجھ پر آپڑیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ لیکن انہی سے ایک قول پہلے جیسا بھی مروی ہے، ممکن ہے یہ دوسرا ثابت نہ ہو۔ اسی بنا پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ قاتل مقتول کے سب گناہ اپنے اوپر بار کرلیتا ہے اور اس معنی کی ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے لیکن اس کی کوئی اصل نہیں۔ بزار میں ایک حدیث ہے کہ " بےسبب کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے "۔ گویہ حدیث اوپر والے معنی میں نہیں، تاہم یہ بھی صحیح نہیں اور اس روایت کا مطلب یہ بھی ہے کہ قتل کی ایذاء کے باعث اللہ تعالیٰ مقتول کے سب گناہ معاف کردیتا ہے۔ اب وہ قاتل پر آجاتے ہیں۔ یہ بات ثابت نہیں ممکن ہے بعض قاتل ویسے بھی ہوں، قاتل کو میدان قیامت میں مقتول ڈھونڈھتا پھرے گا اور اس کے ظلم کے مطابق اس کی نیکیاں لے جائے گا۔ اور سب نیکیاں لے لینے کے بعد بھی اس ظلم کی تلافی نہ ہوئی تو مقتول کے گناہ قاتل پر رکھ دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ بدلہ ہوجائے تو ممکن ہے کہ سارے ہی گناہ بعض قاتلوں کے سر پڑجائیں کیونکہ ظلم کے اس طرح کے بدلے لئے جانے احادیث سے ثابت ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ قتل سب سے بڑھ کر ظلم ہے اور سب سے بدتر۔ واللہ اعلم۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں مطلب اس جملے کا صحیح تر یہی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ اور میرے قتل کے گناہ سب ہی اپنے اوپر لے جائے، تیرے اور گناہوں کے ساتھ ایک گناہ یہ بھی بڑھ جائے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرے گناہ بھی تجھ پر آجائیں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہر عامل کو اس کے عمل کی جزا ملتی ہے، پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مقتول کے عمر بھر کے گناہ قاتل پر ڈال دیئے جائیں، اور اس کے گناہوں پر اس کی پکڑ ہو ؟ باقی رہی یہ بات کہ پھر ہابیل نے یہ بات اپنے بھائی سے کیوں کہی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے آخری مرتبہ نصیحت کی اور ڈرایا اور خوف زدہ کیا کہ اس کام سے باز آ جا، ورنہ گہنگار ہو کر جہنم واصل ہوجائے گا کیونکہ میں تو تیرا مقابلہ کرنے ہی کا نہیں، سارا بوجھ تجھ ہی پر ہوگا اور تو ہی ظالم ٹھہرے گا اور ظالموں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس نصیحت کے باوجود اس کے نفس نے اسے دھوکا دیا اور غصے اور حسد اور تکبر میں آکر اپنے بھائی کو قتل کردیا، اسے شیطان نے قتل پر ابھار دیا اور اس نے اپنے نفس امارہ کی پیروی کرلی ہے اور لوہے سے اسے مار ڈالا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ اپنے جانوروں کو لے کر پہاڑیوں پر چلے گئے تھے، یہ ڈھونڈھتا ہوا وہاں پہنچا اور ایک بھاری پتھر اٹھا کر ان کے سر پردے مارا، یہ اس وقت سوئے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں مثل درندے کے کاٹ کاٹ کر، گلا دبا دبا کر ان کی جان لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیطان نے جب دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا، یہ اس کی گردن مروڑ رہا ہے تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر اسے دوسرا پتھر زور سے دے مارا، جس سے وہ جانور اسی وقت مرگیا، یہ دیکھ اس نے بھی اپنے بھائی کے ساتھ یہی کیا یہ بھی مروی ہے کہ چونکہ اب تک زمین پر کوئی قتل نہیں ہوا تھا، اس لئے قابیل اپنے بھائی کو گرا کر کبھی اس کی آنکھیں بند کرتا، کبھی اسے تھپڑ اور گھونسے مارتا۔ یہ دیکھ کر ابلیس لعین اس کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ پتھر لے کر اس کا سر کچل ڈال، جب اس نے کچل ڈالا تو لعین دوڑتا ہوا حضرت حوا کے پاس آیا اور کہا قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا، انہوں نے پوچھا قتل کیسا ہوتا ہے ؟ کہا اب نہ وہ کھاتا پیتا ہے نہ بولتا چالتا ہے، نہ ہلتا جلتا ہے کہا شاید موت آگئی اس نے کہا ہاں وہی موت۔ اب تو مائی صاحبہ چیخنے چلانے لگیں، اتنے میں حضرت آدم آئے پوچھا کیا بات ہے ؟ لیکن یہ جواب نہ دے سکیں، آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا لیکن فرط غم و رنج کی وجہ سے ان کی زبان نہ چلی تو کہا اچھا تو اور تیری بیٹیاں ہائے وائے میں ہی رہیں گی اور میں اور میرے بیٹے اس سے بری ہیں۔ قابیل خسارے ٹوٹے اور نقصان والا ہوگیا، دنیا اور آخرت دونوں ہی بگڑیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں " جو انسان ظلم سے قتل کیا جاتا ہے، اس کے خون کا بوجھ آدم کے اس لڑکے پر بھی پڑتا ہے، اس لئے کہ اسی نے سب سے پہلے زمین پر خون ناحق گرایا ہے "۔ مجاہد کا قول ہے کہ " قاتل کے ایک پیر کی پنڈلی کو ران سے اس دن سے لٹکا دیا گیا اور اس کا منہ سورج کی طرف کردیا گیا، اس کے گھومنے کے ساتھ گھومتا رہتا ہے، جاڑوں اور گرمیوں میں آگ اور برف کے گڑھے میں وہ معذب ہے "۔ حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ " جہنم کا آدھوں آدھ عذاب صرف اس ایک کو ہو رہا ہے، سب سے بڑا معذب یہی ہے زمین کے ہر قتل کے گناہ کا حصہ اس کے ذمہ ہے "۔ ابراہیم نخعی فرماتے ہیں " اس پر اور شیطان پر ہر خون ناحق کا بوجھ پڑتا ہے "۔ جب مار ڈالا تو اب یہ معلوم نہ تھا کہ کیا کرے، کس طرح اسے چھپائے ؟ تو اللہ نے دو کوے بھیجے، وہ دونوں بھی آپس میں بھائی بھائی تھے، یہ اس کے سامنے لڑنے لگے، یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا، پھر ایک گڑھا کھود کر اس میں اس کی لاش کو رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی، یہ دیکھ کر قابیل کی سمجھ میں بھی یہ ترکیب آگئی اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ از خود مرے ہوئے ایک کوے کو دوسرے کوے نے اس طرح گڑھا کھود کر دفن کیا تھا۔ یہ بھی مروی ہے کہ سال بھر تک قابیل اپنے بھائی کی لاش اپنے کندھے پر لادے لادے پھرتا رہا، پھر کوے کو دیکھ کر اپنے نفس پر ملامت کرنے لگا کہ میں اتنا بھی نہ کرسکا، یہ بھی کہا گیا ہے مار ڈال کر پھر پچھتایا اور لاش کو گود میں رکھ کر بیٹھ گیا اور اس لئے بھی کہ سب سے پہلی میت اور سب سے پہلا قتل روئے زمین پر یہی تھا۔ اہل توراۃ کہتے ہیں کہ جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تیرے بھائی ہابیل کو کیا ہوا ؟ اس نے کہا مجھے کیا خبر ؟ میں اس کا نگہبان تو تھا ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سن تیرے بھائی کا خون زمین میں سے مجھے پکار رہا ہے، تجھ پر میری لعنت ہے، اس زمین میں جس کا منہ کھول کر تو نے اسے اپنے بےگناہ بھائی کا خون پلایا ہے، اب تو زمین میں جو کچھ کام کرے گا وہ اپنی کھیتی میں سے تجھے کچھ نہیں دے گی، یہاں تک تم زمین پر عمر بھر بےچین پھٹکتے رہو گے پھر تو قابیل بڑا ہی نادم ہوا۔ نقصان کے ساتھ ہی پچھتاوا گویا عذاب پر عذاب تھا۔ اس قصہ میں مفسرین کے اقوال اس بات پر تو متفق ہیں کہ یہ تو دونوں حضرت آدم کے صلبی بیٹے تھے اور یہی قرآن کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے اور یہی حدیث میں بھی ہے کہ روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ کا حضرت آدم کے اس پہلے لڑکے پر ہوتا ہے، اس لئے کہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا ہے، لیکن حسن بصری کا قول ہے کہ " یہ دونوں بنی اسرائیل میں تھے، قربانی سب سے پہلے انہی میں آئی اور زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم کا انتقال ہوا ہے " لیکن یہ قول غور طلب ہے اور اس کی اسناد بھی ٹھیک نہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ واقعہ بطور ایک مثال کے ہے " تم اس میں سے اچھائی لے لو اور برے کو چھوڑ دو "۔ یہ حدیث مرسل ہے کہتے ہیں کہ اس صدمے سے حضرت آدم بہت غمگین ہوئے اور سال بھر تک انہیں ہنسی نہ آئی، آخر فرشتوں نے ان کے غم کے دور ہونے اور انہیں ہنسی آنے کی دعا کی۔ حضرت آدم نے اس وقت اپنے رنج و غم میں یہ بھی کہا تھا کہ شہر اور شہر کی سب چیزیں متغیر ہوگئی۔ زمین کا رنگ بدل گیا اور وہ نہایت بدصورت ہوگئی، ہر ہر چیز کا رنگ و مزہ جاتا رہا اور کشش والے چہروں کی ملاحت بھی سلب ہوگئی۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ اس مردے کے ساتھ اس زندے نے بھی گویا اپنے تئیں ہلاک کردیا اور جو برائی قاتل نے کی تھی، اس کا بوجھ اس پر آگیا، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قابیل کو اسی وقت سزا دی گئی چناچہ وارد ہوا ہے کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے لٹکا دی گئی اور اس کا منہ سورج کی طرف کردیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ گھومتا رہتا تھا یعنی جدھر سورج ہوتا ادھر ہی اس کا منہ اٹھا رہتا۔ حدیث شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جتنے گناہ اس لائق ہیں کہ بہت جلد ان کی سزا دنیا میں بھی دی جائے اور پھر آخرت کے زبردست عذاب باقی رہیں ان میں سب سے بڑھ کر گناہ سرکشی اور قطع رحمی ہے۔ تو قابیل میں یہ دونوں باتیں جمع ہوگئیں آتی (فانا للہ و انا الیہ راجعون) (یہ یاد رہے کہ اس قصہ کی تفصیلات جس قدر بیان ہوئی ہے، ان میں سے اکثر و بیشر حصہ اہل کتاب سے اخذ کیا ہوا ہے۔ واللہ اعلم۔ مترجم)

حسد و بغض سے ممانعت اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح حضرت کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہوگئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بےوجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔ فرماتا ہے " اے نبی ﷺ انہیں حضرت آدم کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بےکم وکاست قصہ سنا دو۔ ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لئے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل کی لڑکی ان دونوں کا نکاح کرا دیا جاتا تھا، ہابیل کی بہن تو خوبصورت نہ تھی اور قابیل کی بہن خوبصورت تھی تو قابیل نے چاہا کہ اپنی ہی بہن سے اپنا نکاح کرلے، حضرت آدم نے اس سے منع کیا آخر یہ فیصلہ ہوا کہ تم دونوں اللہ کے نام پر کچھ نکالو، جس کی خیرات قبول ہوجائے اس کا نکاح اس کے ساتھ کردیا جائے گا۔ ہابیل کی خیرات قبول ہوگئی پھر وہ ہوا جس کا بیان قرآن کی ان آیات میں ہوا :" مفسرین کے اقوال سنئیے حضرت آدم کی صلبی اولاد کے نکاح کا قاعدہ جو اوپر مذکور ہوا بیان فرمانے کے بعد مروی ہے کہ بڑا بھائی قابیل کھیتی کرتا تھا اور ہابیل جانوروں والا تھا، قابیل کی بہن بہ نسبت ہابیل کی بہن کے خوب رو تھی۔ جب ہابیل کا پیغام اس سے ہوا تو قابیل نے انکار کردیا اور اپنا نکاح اس سے کرنا چاہا، حضرت آدم نے اس سے روکا۔ اب ان دونوں نے خیرات نکالی کہ جس کی قبول ہوجائے وہ نکاح کا زیادہ حقدار ہے حضرت آدم اس وقت مکہ چلے گئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم سے فرمایا زمین پر جو میرا گھر ہے اسے جانتے ہو ؟ آپ نے کہا نہیں حکم ہوا مکہ میں ہے تم وہیں جاؤ، حضرت آدم نے آسمان سے کہا کہ میرے بچوں کی تو حفاظت کرے گا ؟ اس نے انکار کیا زمین سے کہا اس نے بھی انکار کردیا، پہاڑوں سے کہا انہوں نے بھی انکار کیا، قابیل سے کہا، اس نے کہا ہاں میں محافظ ہوں، آپ جایئے آکر ملاحظہ فرما لیں گے اور خوش ہوں گے۔ اب ہابیل نے ایک خوبصورت موٹا تازہ مینڈھا اللہ کے نام پر ذبح کیا اور بڑے بھائی نے اپنی کھیتی کا حصہ اللہ کیلئے نکالا۔ آگ آئی اور ہابیل کی نذر تو جلا گئی، جو اس زمانہ میں قبولیت کی علامت تھی اور قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی، اس کی کھیتی یونہی رہ گئی، اس نے راہ اللہ کرنے کے بعد اس میں سے اچھی اچھی بالیں توڑ کر کھا لیں تھیں۔ چونکہ قابیل اب مایوس ہوچکا تھا کہ اس کے نکاح میں اس کی بہن نہیں آسکتی، اس لئے اپنے بھائی کو قتل کی دھمکی دی تھی اس نے کہا کہ " اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کی قربانی قبول فرمایا کرتا ہے۔ اس میں میرا کیا قصور ؟ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ مینڈھا جنت میں پلتا رہا اور یہی وہ مینڈھا ہے جسے حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بچے کے بدلے ذبح کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہابیل نے اپنے جانوروں میں سے بہترین اور مرغوب و محبوب جانور اللہ کے نام اور خوشی کے ساتھ قربان کیا، برخلاف اس کے قابیل نے اپنی کھیتی میں سے نہایت ردی اور واہی چیز اور وہ بےدلی سے اللہ کے نام نکالی۔ ہابیل تنو مندی اور طاقتوری میں بھی قابیل سے زیادہ تھا تاہم اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے اپنے بھائی کا ظلم و زیادتی سہ لی اور ہاتھ نہ اٹھایا۔ بڑے بھائی کی قربانی جب قبول نہ ہوئی اور حضرت آدم نے اس سے کہا تو اس نے کہا کہ چونکہ آپ ہابیل کو چاہتے ہیں اور آپ نے اس کیلئے دعا کی تو اس کی قربانی قبول ہوگئی۔ اب اس نے ٹھان لی کہ میں اس کانٹے ہی کو اکھاڑ ڈالوں۔ موقع کا منتظر تھا ایک روز اتفاقاً حضرت ہابیل کے آنے میں دیر لگ گئی تو انہیں بلانے کیلئے حضرت آدم نے قابیل کو بھیجا۔ یہ ایک چھری اپنے ساتھ لے کر چلا، راستے میں ہی دونوں بھائیوں کی ملاقات ہوگئی، اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوئی اور میری نہ ہوئی اس پر ہابیل نے کہا میں نے بہترین، عمدہ، محبوب اور مرغوب چیز اللہ کے نام نکالی اور تو نے بیکار بےجان چیز نکالی، اللہ تعالیٰ اپنے متقیوں ہی کی نیکی قبول کرتا ہے۔ اس پر وہ اور بگڑا اور چھری گھونپ دی، ہابیل کہتے رہ گئے کہ اللہ کو کیا جواب دے گا ؟ اللہ کے ہاں اس ظلم کا بدلہ تجھ سے بری طرح لیا جائیگا۔ اللہ کا خوف کر مجھے قتل نہ کر لیکن اس بےرحم نے اپنے بھائی کو مار ہی ڈالا۔ قابیل نے اپنی تو ام بہن سے اپنا ہی نکاح کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ ہم دونوں جنت میں پیدا ہوئے ہیں اور یہ دونوں زمین میں پیدا ہوئے ہیں، اسی لئے میں اس کا حقدار ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ قابیل نے گیہوں نکالے تھے اور ہابیل نے گائے قربان کی تھی۔ چونکہ اس وقت کوئی مسکین تو تھا ہی نہیں جسے صدقہ دیا جائے، اس لئے یہی دستور تھا کہ صدقہ نکال دیتے آگ آسمان سے آتی اور اسے جلا جاتی یہ قبولیت کا نشان تھا۔ اس برتری سے جو چھوٹے بھائی کو حاصل ہوئی، بڑا بھائی حسد کی آگ میں بھڑکا اور اس کے قتل کے درپے ہوگیا، یونہی بیٹھے بیٹھے دونوں بھائیوں نے قربانی کی تھی۔ نکاح کے اختلاف کو مٹانے کی وجہ نہ تھی، قرآن کے ظاہری الفاظ کا اقتضا بھی یہی ہے کہ ناراضگی کا باعث عدم قبولیت قربانی تھی نہ کچھ اور۔ ایک روایت مندرجہ روایتوں کے خلاف یہ بھی ہے کہ قابیل نے کھیتی اللہ کے نام نذر دی تھی جو قبول ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس میں راوی کا حافظہ ٹھیک نہیں اور یہ مشہور امر کے بھی خلاف ہے واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول کرتا ہے جو اپنے فعل میں اس سے ڈرتا رہے۔ حضرت معاذ فرماتے ہیں لوگ میدان قیامت میں ہوں گے تو ایک منادی ندا کرے گا کہ پرہیزگار کہاں ہیں ؟ پس پروردگار سے ڈرنے والے کھڑے ہوجائیں گے اور اللہ کے بازو کے نیچے جا ٹھہریں گے اللہ تعالیٰ نہ ان سے رخ پوشی کرے گا نہ پردہ۔ راوی حدیث ابو عفیف سے دریافت کیا گیا کہ متقی کون ہیں ؟ فرمایا وہ جو شرک اور بت پرستی سے بچے اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے پھر یہ سب لوگ جنت میں جائیں گے۔ جس نیک بخت کی قربانی قبول کی گئی تھی، وہ اپنے بھائی کے اس ارادہ کو سن کر اس سے کہتا ہے کہ تو جو چاہے کر، میں تو تیری طرح نہیں کروں گا بلکہ میں صبر و ضبط کروں گا، تھے تو زور و طاقت میں یہ اس سے زیادہ مگر اپنی بھلائی، نیک بختی اور تواضع و فروتنی اور پرہیزگاری کی وجہ سے یہ فرمایا کہ تو گناہ پر آمادہ ہوجائے لیکن مجھ سے اس جرم کا ارتکاب نہیں ہوسکتا، میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں وہ تمام جہان کا رب ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ " جب دو مسلمان تلواریں لے کر بھڑ گئے تو قاتل مقتول دونوں جہنمی ہیں۔ " صحابہ نے پوچھا قاتل تو خیر لیکن مقتول کیوں ہوا ؟ آپ نے فرمایا اس لئے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا۔ حضرت سعد بن وقاص نے اس وقت جبکہ باغیوں نے حضرت عثمان ذوالنورین کو گھیر رکھا تھا کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے " عنقریب فتنہ برپا ہوگا۔ بیٹھا رہنے والا اس وقت کھڑے رہنے والے سے اچھا ہوگا اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا "۔ کسی نے پوچھا " حضور ﷺ اگر کوئی میرے گھر میں بھی گھس آئے اور مجھے قتل کرنا چاہے "۔ آپ نے فرمایا پھر بھی تو حضرت آدم کے بیٹے کی طرح ہوجا۔ ایک روایت میں آپ کا اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے۔ حضرت ایوب سختیاتی فرماتے ہیں " اس امت میں سب سے پہلے جس نے اس آیت پر عمل کیا وہ امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ہیں "۔ ایک مرتبہ ایک جانور پر حضور ﷺ سوار تھے اور آپ کے ساتھ ہی آپ کے پیچھے حضرت ابوذر تھے، آپ نے فرمایا ابوذر بتاؤ تو جب لوگوں پر ایسے فاقے آئیں گے کہ گھر سے مسجد تک نہ جاسکیں گے تو تو کیا کرے گا ؟ میں نے کہا جو حکم رب اور رسول ﷺ ہو فرمایا صبر کرو۔ پھر فرمایا جبکہ آپس میں خونریزی ہوگی یہاں تک کہ ریت کے تھر بھی خون میں ڈوب جائیں تو تو کیا کرے گا ؟ میں نے وہی جواب دیا تو فرمایا کہ اپنے گھر میں بیٹھ جا اور دروازے بند کرلے کہا پھر اگرچہ میں نہ میدان میں اتروں ؟ فرمایا تو ان میں چلا جا، جن کا تو ہے اور وہیں رہ۔ عرض کیا کہ پھر میں اپنے ہتھیار ہی کیوں نہ لے لوں ؟ فرمایا پھر تو تو بھی ان کے ساتھ ہی شامل ہوجائے گا بلکہ اگر تجھے کسی کی تلوار کی شعائیں پریشان کرتی نظر آئیں تو بھی اپنے منہ پر کپڑا ڈال لے تاکہ تیرے اور خود اپنے گناہوں کو وہی لے جائے۔ حضرت ربعی فرماتے ہیں ہم حضرت حذیفہ کے جنازے میں تھے، ایک صاحب نے کہا میں نے مرحوم سے سنا ہے آپ رسول اللہ ﷺ کی سنی ہوئی حدیثیں بیان فرماتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر تم آپس میں لڑو گے تو میں اپنے سب سے دور دراز گھر میں چلا جاؤں گا اور اسے بند کر کے بیٹھ جاؤں گا، اگر وہاں بھی کوئی گھس آئے گا تو میں کہہ دوں گا کہ لے اپنا اور میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے، پس میں حضرت آدم کے ان دو بیٹوں میں سے جو بہتر تھا، اس کی طرح ہوجاؤں گا۔ میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا گناہ اپنے سر رکھ لے جائے۔ یعنی تیرے وہ گناہ جو اس سے پہلے کے ہیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ یہ مطلب بھی حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ میری خطائیں بھی مجھ پر آپڑیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ لیکن انہی سے ایک قول پہلے جیسا بھی مروی ہے، ممکن ہے یہ دوسرا ثابت نہ ہو۔ اسی بنا پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ قاتل مقتول کے سب گناہ اپنے اوپر بار کرلیتا ہے اور اس معنی کی ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے لیکن اس کی کوئی اصل نہیں۔ بزار میں ایک حدیث ہے کہ " بےسبب کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے "۔ گویہ حدیث اوپر والے معنی میں نہیں، تاہم یہ بھی صحیح نہیں اور اس روایت کا مطلب یہ بھی ہے کہ قتل کی ایذاء کے باعث اللہ تعالیٰ مقتول کے سب گناہ معاف کردیتا ہے۔ اب وہ قاتل پر آجاتے ہیں۔ یہ بات ثابت نہیں ممکن ہے بعض قاتل ویسے بھی ہوں، قاتل کو میدان قیامت میں مقتول ڈھونڈھتا پھرے گا اور اس کے ظلم کے مطابق اس کی نیکیاں لے جائے گا۔ اور سب نیکیاں لے لینے کے بعد بھی اس ظلم کی تلافی نہ ہوئی تو مقتول کے گناہ قاتل پر رکھ دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ بدلہ ہوجائے تو ممکن ہے کہ سارے ہی گناہ بعض قاتلوں کے سر پڑجائیں کیونکہ ظلم کے اس طرح کے بدلے لئے جانے احادیث سے ثابت ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ قتل سب سے بڑھ کر ظلم ہے اور سب سے بدتر۔ واللہ اعلم۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں مطلب اس جملے کا صحیح تر یہی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ اور میرے قتل کے گناہ سب ہی اپنے اوپر لے جائے، تیرے اور گناہوں کے ساتھ ایک گناہ یہ بھی بڑھ جائے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرے گناہ بھی تجھ پر آجائیں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہر عامل کو اس کے عمل کی جزا ملتی ہے، پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مقتول کے عمر بھر کے گناہ قاتل پر ڈال دیئے جائیں، اور اس کے گناہوں پر اس کی پکڑ ہو ؟ باقی رہی یہ بات کہ پھر ہابیل نے یہ بات اپنے بھائی سے کیوں کہی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے آخری مرتبہ نصیحت کی اور ڈرایا اور خوف زدہ کیا کہ اس کام سے باز آ جا، ورنہ گہنگار ہو کر جہنم واصل ہوجائے گا کیونکہ میں تو تیرا مقابلہ کرنے ہی کا نہیں، سارا بوجھ تجھ ہی پر ہوگا اور تو ہی ظالم ٹھہرے گا اور ظالموں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس نصیحت کے باوجود اس کے نفس نے اسے دھوکا دیا اور غصے اور حسد اور تکبر میں آکر اپنے بھائی کو قتل کردیا، اسے شیطان نے قتل پر ابھار دیا اور اس نے اپنے نفس امارہ کی پیروی کرلی ہے اور لوہے سے اسے مار ڈالا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ اپنے جانوروں کو لے کر پہاڑیوں پر چلے گئے تھے، یہ ڈھونڈھتا ہوا وہاں پہنچا اور ایک بھاری پتھر اٹھا کر ان کے سر پردے مارا، یہ اس وقت سوئے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں مثل درندے کے کاٹ کاٹ کر، گلا دبا دبا کر ان کی جان لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیطان نے جب دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا، یہ اس کی گردن مروڑ رہا ہے تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر اسے دوسرا پتھر زور سے دے مارا، جس سے وہ جانور اسی وقت مرگیا، یہ دیکھ اس نے بھی اپنے بھائی کے ساتھ یہی کیا یہ بھی مروی ہے کہ چونکہ اب تک زمین پر کوئی قتل نہیں ہوا تھا، اس لئے قابیل اپنے بھائی کو گرا کر کبھی اس کی آنکھیں بند کرتا، کبھی اسے تھپڑ اور گھونسے مارتا۔ یہ دیکھ کر ابلیس لعین اس کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ پتھر لے کر اس کا سر کچل ڈال، جب اس نے کچل ڈالا تو لعین دوڑتا ہوا حضرت حوا کے پاس آیا اور کہا قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا، انہوں نے پوچھا قتل کیسا ہوتا ہے ؟ کہا اب نہ وہ کھاتا پیتا ہے نہ بولتا چالتا ہے، نہ ہلتا جلتا ہے کہا شاید موت آگئی اس نے کہا ہاں وہی موت۔ اب تو مائی صاحبہ چیخنے چلانے لگیں، اتنے میں حضرت آدم آئے پوچھا کیا بات ہے ؟ لیکن یہ جواب نہ دے سکیں، آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا لیکن فرط غم و رنج کی وجہ سے ان کی زبان نہ چلی تو کہا اچھا تو اور تیری بیٹیاں ہائے وائے میں ہی رہیں گی اور میں اور میرے بیٹے اس سے بری ہیں۔ قابیل خسارے ٹوٹے اور نقصان والا ہوگیا، دنیا اور آخرت دونوں ہی بگڑیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں " جو انسان ظلم سے قتل کیا جاتا ہے، اس کے خون کا بوجھ آدم کے اس لڑکے پر بھی پڑتا ہے، اس لئے کہ اسی نے سب سے پہلے زمین پر خون ناحق گرایا ہے "۔ مجاہد کا قول ہے کہ " قاتل کے ایک پیر کی پنڈلی کو ران سے اس دن سے لٹکا دیا گیا اور اس کا منہ سورج کی طرف کردیا گیا، اس کے گھومنے کے ساتھ گھومتا رہتا ہے، جاڑوں اور گرمیوں میں آگ اور برف کے گڑھے میں وہ معذب ہے "۔ حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ " جہنم کا آدھوں آدھ عذاب صرف اس ایک کو ہو رہا ہے، سب سے بڑا معذب یہی ہے زمین کے ہر قتل کے گناہ کا حصہ اس کے ذمہ ہے "۔ ابراہیم نخعی فرماتے ہیں " اس پر اور شیطان پر ہر خون ناحق کا بوجھ پڑتا ہے "۔ جب مار ڈالا تو اب یہ معلوم نہ تھا کہ کیا کرے، کس طرح اسے چھپائے ؟ تو اللہ نے دو کوے بھیجے، وہ دونوں بھی آپس میں بھائی بھائی تھے، یہ اس کے سامنے لڑنے لگے، یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا، پھر ایک گڑھا کھود کر اس میں اس کی لاش کو رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی، یہ دیکھ کر قابیل کی سمجھ میں بھی یہ ترکیب آگئی اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ از خود مرے ہوئے ایک کوے کو دوسرے کوے نے اس طرح گڑھا کھود کر دفن کیا تھا۔ یہ بھی مروی ہے کہ سال بھر تک قابیل اپنے بھائی کی لاش اپنے کندھے پر لادے لادے پھرتا رہا، پھر کوے کو دیکھ کر اپنے نفس پر ملامت کرنے لگا کہ میں اتنا بھی نہ کرسکا، یہ بھی کہا گیا ہے مار ڈال کر پھر پچھتایا اور لاش کو گود میں رکھ کر بیٹھ گیا اور اس لئے بھی کہ سب سے پہلی میت اور سب سے پہلا قتل روئے زمین پر یہی تھا۔ اہل توراۃ کہتے ہیں کہ جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تیرے بھائی ہابیل کو کیا ہوا ؟ اس نے کہا مجھے کیا خبر ؟ میں اس کا نگہبان تو تھا ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سن تیرے بھائی کا خون زمین میں سے مجھے پکار رہا ہے، تجھ پر میری لعنت ہے، اس زمین میں جس کا منہ کھول کر تو نے اسے اپنے بےگناہ بھائی کا خون پلایا ہے، اب تو زمین میں جو کچھ کام کرے گا وہ اپنی کھیتی میں سے تجھے کچھ نہیں دے گی، یہاں تک تم زمین پر عمر بھر بےچین پھٹکتے رہو گے پھر تو قابیل بڑا ہی نادم ہوا۔ نقصان کے ساتھ ہی پچھتاوا گویا عذاب پر عذاب تھا۔ اس قصہ میں مفسرین کے اقوال اس بات پر تو متفق ہیں کہ یہ تو دونوں حضرت آدم کے صلبی بیٹے تھے اور یہی قرآن کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے اور یہی حدیث میں بھی ہے کہ روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ کا حضرت آدم کے اس پہلے لڑکے پر ہوتا ہے، اس لئے کہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا ہے، لیکن حسن بصری کا قول ہے کہ " یہ دونوں بنی اسرائیل میں تھے، قربانی سب سے پہلے انہی میں آئی اور زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم کا انتقال ہوا ہے " لیکن یہ قول غور طلب ہے اور اس کی اسناد بھی ٹھیک نہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ واقعہ بطور ایک مثال کے ہے " تم اس میں سے اچھائی لے لو اور برے کو چھوڑ دو "۔ یہ حدیث مرسل ہے کہتے ہیں کہ اس صدمے سے حضرت آدم بہت غمگین ہوئے اور سال بھر تک انہیں ہنسی نہ آئی، آخر فرشتوں نے ان کے غم کے دور ہونے اور انہیں ہنسی آنے کی دعا کی۔ حضرت آدم نے اس وقت اپنے رنج و غم میں یہ بھی کہا تھا کہ شہر اور شہر کی سب چیزیں متغیر ہوگئی۔ زمین کا رنگ بدل گیا اور وہ نہایت بدصورت ہوگئی، ہر ہر چیز کا رنگ و مزہ جاتا رہا اور کشش والے چہروں کی ملاحت بھی سلب ہوگئی۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ اس مردے کے ساتھ اس زندے نے بھی گویا اپنے تئیں ہلاک کردیا اور جو برائی قاتل نے کی تھی، اس کا بوجھ اس پر آگیا، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قابیل کو اسی وقت سزا دی گئی چناچہ وارد ہوا ہے کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے لٹکا دی گئی اور اس کا منہ سورج کی طرف کردیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ گھومتا رہتا تھا یعنی جدھر سورج ہوتا ادھر ہی اس کا منہ اٹھا رہتا۔ حدیث شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جتنے گناہ اس لائق ہیں کہ بہت جلد ان کی سزا دنیا میں بھی دی جائے اور پھر آخرت کے زبردست عذاب باقی رہیں ان میں سب سے بڑھ کر گناہ سرکشی اور قطع رحمی ہے۔ تو قابیل میں یہ دونوں باتیں جمع ہوگئیں آتی (فانا للہ و انا الیہ راجعون) (یہ یاد رہے کہ اس قصہ کی تفصیلات جس قدر بیان ہوئی ہے، ان میں سے اکثر و بیشر حصہ اہل کتاب سے اخذ کیا ہوا ہے۔ واللہ اعلم۔ مترجم)

حسد و بغض سے ممانعت اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح حضرت کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہوگئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بےوجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔ فرماتا ہے " اے نبی ﷺ انہیں حضرت آدم کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بےکم وکاست قصہ سنا دو۔ ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لئے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل کی لڑکی ان دونوں کا نکاح کرا دیا جاتا تھا، ہابیل کی بہن تو خوبصورت نہ تھی اور قابیل کی بہن خوبصورت تھی تو قابیل نے چاہا کہ اپنی ہی بہن سے اپنا نکاح کرلے، حضرت آدم نے اس سے منع کیا آخر یہ فیصلہ ہوا کہ تم دونوں اللہ کے نام پر کچھ نکالو، جس کی خیرات قبول ہوجائے اس کا نکاح اس کے ساتھ کردیا جائے گا۔ ہابیل کی خیرات قبول ہوگئی پھر وہ ہوا جس کا بیان قرآن کی ان آیات میں ہوا :" مفسرین کے اقوال سنئیے حضرت آدم کی صلبی اولاد کے نکاح کا قاعدہ جو اوپر مذکور ہوا بیان فرمانے کے بعد مروی ہے کہ بڑا بھائی قابیل کھیتی کرتا تھا اور ہابیل جانوروں والا تھا، قابیل کی بہن بہ نسبت ہابیل کی بہن کے خوب رو تھی۔ جب ہابیل کا پیغام اس سے ہوا تو قابیل نے انکار کردیا اور اپنا نکاح اس سے کرنا چاہا، حضرت آدم نے اس سے روکا۔ اب ان دونوں نے خیرات نکالی کہ جس کی قبول ہوجائے وہ نکاح کا زیادہ حقدار ہے حضرت آدم اس وقت مکہ چلے گئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم سے فرمایا زمین پر جو میرا گھر ہے اسے جانتے ہو ؟ آپ نے کہا نہیں حکم ہوا مکہ میں ہے تم وہیں جاؤ، حضرت آدم نے آسمان سے کہا کہ میرے بچوں کی تو حفاظت کرے گا ؟ اس نے انکار کیا زمین سے کہا اس نے بھی انکار کردیا، پہاڑوں سے کہا انہوں نے بھی انکار کیا، قابیل سے کہا، اس نے کہا ہاں میں محافظ ہوں، آپ جایئے آکر ملاحظہ فرما لیں گے اور خوش ہوں گے۔ اب ہابیل نے ایک خوبصورت موٹا تازہ مینڈھا اللہ کے نام پر ذبح کیا اور بڑے بھائی نے اپنی کھیتی کا حصہ اللہ کیلئے نکالا۔ آگ آئی اور ہابیل کی نذر تو جلا گئی، جو اس زمانہ میں قبولیت کی علامت تھی اور قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی، اس کی کھیتی یونہی رہ گئی، اس نے راہ اللہ کرنے کے بعد اس میں سے اچھی اچھی بالیں توڑ کر کھا لیں تھیں۔ چونکہ قابیل اب مایوس ہوچکا تھا کہ اس کے نکاح میں اس کی بہن نہیں آسکتی، اس لئے اپنے بھائی کو قتل کی دھمکی دی تھی اس نے کہا کہ " اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کی قربانی قبول فرمایا کرتا ہے۔ اس میں میرا کیا قصور ؟ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ مینڈھا جنت میں پلتا رہا اور یہی وہ مینڈھا ہے جسے حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بچے کے بدلے ذبح کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہابیل نے اپنے جانوروں میں سے بہترین اور مرغوب و محبوب جانور اللہ کے نام اور خوشی کے ساتھ قربان کیا، برخلاف اس کے قابیل نے اپنی کھیتی میں سے نہایت ردی اور واہی چیز اور وہ بےدلی سے اللہ کے نام نکالی۔ ہابیل تنو مندی اور طاقتوری میں بھی قابیل سے زیادہ تھا تاہم اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے اپنے بھائی کا ظلم و زیادتی سہ لی اور ہاتھ نہ اٹھایا۔ بڑے بھائی کی قربانی جب قبول نہ ہوئی اور حضرت آدم نے اس سے کہا تو اس نے کہا کہ چونکہ آپ ہابیل کو چاہتے ہیں اور آپ نے اس کیلئے دعا کی تو اس کی قربانی قبول ہوگئی۔ اب اس نے ٹھان لی کہ میں اس کانٹے ہی کو اکھاڑ ڈالوں۔ موقع کا منتظر تھا ایک روز اتفاقاً حضرت ہابیل کے آنے میں دیر لگ گئی تو انہیں بلانے کیلئے حضرت آدم نے قابیل کو بھیجا۔ یہ ایک چھری اپنے ساتھ لے کر چلا، راستے میں ہی دونوں بھائیوں کی ملاقات ہوگئی، اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوئی اور میری نہ ہوئی اس پر ہابیل نے کہا میں نے بہترین، عمدہ، محبوب اور مرغوب چیز اللہ کے نام نکالی اور تو نے بیکار بےجان چیز نکالی، اللہ تعالیٰ اپنے متقیوں ہی کی نیکی قبول کرتا ہے۔ اس پر وہ اور بگڑا اور چھری گھونپ دی، ہابیل کہتے رہ گئے کہ اللہ کو کیا جواب دے گا ؟ اللہ کے ہاں اس ظلم کا بدلہ تجھ سے بری طرح لیا جائیگا۔ اللہ کا خوف کر مجھے قتل نہ کر لیکن اس بےرحم نے اپنے بھائی کو مار ہی ڈالا۔ قابیل نے اپنی تو ام بہن سے اپنا ہی نکاح کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ ہم دونوں جنت میں پیدا ہوئے ہیں اور یہ دونوں زمین میں پیدا ہوئے ہیں، اسی لئے میں اس کا حقدار ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ قابیل نے گیہوں نکالے تھے اور ہابیل نے گائے قربان کی تھی۔ چونکہ اس وقت کوئی مسکین تو تھا ہی نہیں جسے صدقہ دیا جائے، اس لئے یہی دستور تھا کہ صدقہ نکال دیتے آگ آسمان سے آتی اور اسے جلا جاتی یہ قبولیت کا نشان تھا۔ اس برتری سے جو چھوٹے بھائی کو حاصل ہوئی، بڑا بھائی حسد کی آگ میں بھڑکا اور اس کے قتل کے درپے ہوگیا، یونہی بیٹھے بیٹھے دونوں بھائیوں نے قربانی کی تھی۔ نکاح کے اختلاف کو مٹانے کی وجہ نہ تھی، قرآن کے ظاہری الفاظ کا اقتضا بھی یہی ہے کہ ناراضگی کا باعث عدم قبولیت قربانی تھی نہ کچھ اور۔ ایک روایت مندرجہ روایتوں کے خلاف یہ بھی ہے کہ قابیل نے کھیتی اللہ کے نام نذر دی تھی جو قبول ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس میں راوی کا حافظہ ٹھیک نہیں اور یہ مشہور امر کے بھی خلاف ہے واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول کرتا ہے جو اپنے فعل میں اس سے ڈرتا رہے۔ حضرت معاذ فرماتے ہیں لوگ میدان قیامت میں ہوں گے تو ایک منادی ندا کرے گا کہ پرہیزگار کہاں ہیں ؟ پس پروردگار سے ڈرنے والے کھڑے ہوجائیں گے اور اللہ کے بازو کے نیچے جا ٹھہریں گے اللہ تعالیٰ نہ ان سے رخ پوشی کرے گا نہ پردہ۔ راوی حدیث ابو عفیف سے دریافت کیا گیا کہ متقی کون ہیں ؟ فرمایا وہ جو شرک اور بت پرستی سے بچے اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے پھر یہ سب لوگ جنت میں جائیں گے۔ جس نیک بخت کی قربانی قبول کی گئی تھی، وہ اپنے بھائی کے اس ارادہ کو سن کر اس سے کہتا ہے کہ تو جو چاہے کر، میں تو تیری طرح نہیں کروں گا بلکہ میں صبر و ضبط کروں گا، تھے تو زور و طاقت میں یہ اس سے زیادہ مگر اپنی بھلائی، نیک بختی اور تواضع و فروتنی اور پرہیزگاری کی وجہ سے یہ فرمایا کہ تو گناہ پر آمادہ ہوجائے لیکن مجھ سے اس جرم کا ارتکاب نہیں ہوسکتا، میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں وہ تمام جہان کا رب ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ " جب دو مسلمان تلواریں لے کر بھڑ گئے تو قاتل مقتول دونوں جہنمی ہیں۔ " صحابہ نے پوچھا قاتل تو خیر لیکن مقتول کیوں ہوا ؟ آپ نے فرمایا اس لئے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا۔ حضرت سعد بن وقاص نے اس وقت جبکہ باغیوں نے حضرت عثمان ذوالنورین کو گھیر رکھا تھا کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے " عنقریب فتنہ برپا ہوگا۔ بیٹھا رہنے والا اس وقت کھڑے رہنے والے سے اچھا ہوگا اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا "۔ کسی نے پوچھا " حضور ﷺ اگر کوئی میرے گھر میں بھی گھس آئے اور مجھے قتل کرنا چاہے "۔ آپ نے فرمایا پھر بھی تو حضرت آدم کے بیٹے کی طرح ہوجا۔ ایک روایت میں آپ کا اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے۔ حضرت ایوب سختیاتی فرماتے ہیں " اس امت میں سب سے پہلے جس نے اس آیت پر عمل کیا وہ امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ہیں "۔ ایک مرتبہ ایک جانور پر حضور ﷺ سوار تھے اور آپ کے ساتھ ہی آپ کے پیچھے حضرت ابوذر تھے، آپ نے فرمایا ابوذر بتاؤ تو جب لوگوں پر ایسے فاقے آئیں گے کہ گھر سے مسجد تک نہ جاسکیں گے تو تو کیا کرے گا ؟ میں نے کہا جو حکم رب اور رسول ﷺ ہو فرمایا صبر کرو۔ پھر فرمایا جبکہ آپس میں خونریزی ہوگی یہاں تک کہ ریت کے تھر بھی خون میں ڈوب جائیں تو تو کیا کرے گا ؟ میں نے وہی جواب دیا تو فرمایا کہ اپنے گھر میں بیٹھ جا اور دروازے بند کرلے کہا پھر اگرچہ میں نہ میدان میں اتروں ؟ فرمایا تو ان میں چلا جا، جن کا تو ہے اور وہیں رہ۔ عرض کیا کہ پھر میں اپنے ہتھیار ہی کیوں نہ لے لوں ؟ فرمایا پھر تو تو بھی ان کے ساتھ ہی شامل ہوجائے گا بلکہ اگر تجھے کسی کی تلوار کی شعائیں پریشان کرتی نظر آئیں تو بھی اپنے منہ پر کپڑا ڈال لے تاکہ تیرے اور خود اپنے گناہوں کو وہی لے جائے۔ حضرت ربعی فرماتے ہیں ہم حضرت حذیفہ کے جنازے میں تھے، ایک صاحب نے کہا میں نے مرحوم سے سنا ہے آپ رسول اللہ ﷺ کی سنی ہوئی حدیثیں بیان فرماتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر تم آپس میں لڑو گے تو میں اپنے سب سے دور دراز گھر میں چلا جاؤں گا اور اسے بند کر کے بیٹھ جاؤں گا، اگر وہاں بھی کوئی گھس آئے گا تو میں کہہ دوں گا کہ لے اپنا اور میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے، پس میں حضرت آدم کے ان دو بیٹوں میں سے جو بہتر تھا، اس کی طرح ہوجاؤں گا۔ میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا گناہ اپنے سر رکھ لے جائے۔ یعنی تیرے وہ گناہ جو اس سے پہلے کے ہیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ یہ مطلب بھی حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ میری خطائیں بھی مجھ پر آپڑیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ لیکن انہی سے ایک قول پہلے جیسا بھی مروی ہے، ممکن ہے یہ دوسرا ثابت نہ ہو۔ اسی بنا پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ قاتل مقتول کے سب گناہ اپنے اوپر بار کرلیتا ہے اور اس معنی کی ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے لیکن اس کی کوئی اصل نہیں۔ بزار میں ایک حدیث ہے کہ " بےسبب کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے "۔ گویہ حدیث اوپر والے معنی میں نہیں، تاہم یہ بھی صحیح نہیں اور اس روایت کا مطلب یہ بھی ہے کہ قتل کی ایذاء کے باعث اللہ تعالیٰ مقتول کے سب گناہ معاف کردیتا ہے۔ اب وہ قاتل پر آجاتے ہیں۔ یہ بات ثابت نہیں ممکن ہے بعض قاتل ویسے بھی ہوں، قاتل کو میدان قیامت میں مقتول ڈھونڈھتا پھرے گا اور اس کے ظلم کے مطابق اس کی نیکیاں لے جائے گا۔ اور سب نیکیاں لے لینے کے بعد بھی اس ظلم کی تلافی نہ ہوئی تو مقتول کے گناہ قاتل پر رکھ دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ بدلہ ہوجائے تو ممکن ہے کہ سارے ہی گناہ بعض قاتلوں کے سر پڑجائیں کیونکہ ظلم کے اس طرح کے بدلے لئے جانے احادیث سے ثابت ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ قتل سب سے بڑھ کر ظلم ہے اور سب سے بدتر۔ واللہ اعلم۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں مطلب اس جملے کا صحیح تر یہی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ اور میرے قتل کے گناہ سب ہی اپنے اوپر لے جائے، تیرے اور گناہوں کے ساتھ ایک گناہ یہ بھی بڑھ جائے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرے گناہ بھی تجھ پر آجائیں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہر عامل کو اس کے عمل کی جزا ملتی ہے، پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مقتول کے عمر بھر کے گناہ قاتل پر ڈال دیئے جائیں، اور اس کے گناہوں پر اس کی پکڑ ہو ؟ باقی رہی یہ بات کہ پھر ہابیل نے یہ بات اپنے بھائی سے کیوں کہی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے آخری مرتبہ نصیحت کی اور ڈرایا اور خوف زدہ کیا کہ اس کام سے باز آ جا، ورنہ گہنگار ہو کر جہنم واصل ہوجائے گا کیونکہ میں تو تیرا مقابلہ کرنے ہی کا نہیں، سارا بوجھ تجھ ہی پر ہوگا اور تو ہی ظالم ٹھہرے گا اور ظالموں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس نصیحت کے باوجود اس کے نفس نے اسے دھوکا دیا اور غصے اور حسد اور تکبر میں آکر اپنے بھائی کو قتل کردیا، اسے شیطان نے قتل پر ابھار دیا اور اس نے اپنے نفس امارہ کی پیروی کرلی ہے اور لوہے سے اسے مار ڈالا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ اپنے جانوروں کو لے کر پہاڑیوں پر چلے گئے تھے، یہ ڈھونڈھتا ہوا وہاں پہنچا اور ایک بھاری پتھر اٹھا کر ان کے سر پردے مارا، یہ اس وقت سوئے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں مثل درندے کے کاٹ کاٹ کر، گلا دبا دبا کر ان کی جان لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیطان نے جب دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا، یہ اس کی گردن مروڑ رہا ہے تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر اسے دوسرا پتھر زور سے دے مارا، جس سے وہ جانور اسی وقت مرگیا، یہ دیکھ اس نے بھی اپنے بھائی کے ساتھ یہی کیا یہ بھی مروی ہے کہ چونکہ اب تک زمین پر کوئی قتل نہیں ہوا تھا، اس لئے قابیل اپنے بھائی کو گرا کر کبھی اس کی آنکھیں بند کرتا، کبھی اسے تھپڑ اور گھونسے مارتا۔ یہ دیکھ کر ابلیس لعین اس کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ پتھر لے کر اس کا سر کچل ڈال، جب اس نے کچل ڈالا تو لعین دوڑتا ہوا حضرت حوا کے پاس آیا اور کہا قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا، انہوں نے پوچھا قتل کیسا ہوتا ہے ؟ کہا اب نہ وہ کھاتا پیتا ہے نہ بولتا چالتا ہے، نہ ہلتا جلتا ہے کہا شاید موت آگئی اس نے کہا ہاں وہی موت۔ اب تو مائی صاحبہ چیخنے چلانے لگیں، اتنے میں حضرت آدم آئے پوچھا کیا بات ہے ؟ لیکن یہ جواب نہ دے سکیں، آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا لیکن فرط غم و رنج کی وجہ سے ان کی زبان نہ چلی تو کہا اچھا تو اور تیری بیٹیاں ہائے وائے میں ہی رہیں گی اور میں اور میرے بیٹے اس سے بری ہیں۔ قابیل خسارے ٹوٹے اور نقصان والا ہوگیا، دنیا اور آخرت دونوں ہی بگڑیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں " جو انسان ظلم سے قتل کیا جاتا ہے، اس کے خون کا بوجھ آدم کے اس لڑکے پر بھی پڑتا ہے، اس لئے کہ اسی نے سب سے پہلے زمین پر خون ناحق گرایا ہے "۔ مجاہد کا قول ہے کہ " قاتل کے ایک پیر کی پنڈلی کو ران سے اس دن سے لٹکا دیا گیا اور اس کا منہ سورج کی طرف کردیا گیا، اس کے گھومنے کے ساتھ گھومتا رہتا ہے، جاڑوں اور گرمیوں میں آگ اور برف کے گڑھے میں وہ معذب ہے "۔ حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ " جہنم کا آدھوں آدھ عذاب صرف اس ایک کو ہو رہا ہے، سب سے بڑا معذب یہی ہے زمین کے ہر قتل کے گناہ کا حصہ اس کے ذمہ ہے "۔ ابراہیم نخعی فرماتے ہیں " اس پر اور شیطان پر ہر خون ناحق کا بوجھ پڑتا ہے "۔ جب مار ڈالا تو اب یہ معلوم نہ تھا کہ کیا کرے، کس طرح اسے چھپائے ؟ تو اللہ نے دو کوے بھیجے، وہ دونوں بھی آپس میں بھائی بھائی تھے، یہ اس کے سامنے لڑنے لگے، یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا، پھر ایک گڑھا کھود کر اس میں اس کی لاش کو رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی، یہ دیکھ کر قابیل کی سمجھ میں بھی یہ ترکیب آگئی اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ از خود مرے ہوئے ایک کوے کو دوسرے کوے نے اس طرح گڑھا کھود کر دفن کیا تھا۔ یہ بھی مروی ہے کہ سال بھر تک قابیل اپنے بھائی کی لاش اپنے کندھے پر لادے لادے پھرتا رہا، پھر کوے کو دیکھ کر اپنے نفس پر ملامت کرنے لگا کہ میں اتنا بھی نہ کرسکا، یہ بھی کہا گیا ہے مار ڈال کر پھر پچھتایا اور لاش کو گود میں رکھ کر بیٹھ گیا اور اس لئے بھی کہ سب سے پہلی میت اور سب سے پہلا قتل روئے زمین پر یہی تھا۔ اہل توراۃ کہتے ہیں کہ جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تیرے بھائی ہابیل کو کیا ہوا ؟ اس نے کہا مجھے کیا خبر ؟ میں اس کا نگہبان تو تھا ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سن تیرے بھائی کا خون زمین میں سے مجھے پکار رہا ہے، تجھ پر میری لعنت ہے، اس زمین میں جس کا منہ کھول کر تو نے اسے اپنے بےگناہ بھائی کا خون پلایا ہے، اب تو زمین میں جو کچھ کام کرے گا وہ اپنی کھیتی میں سے تجھے کچھ نہیں دے گی، یہاں تک تم زمین پر عمر بھر بےچین پھٹکتے رہو گے پھر تو قابیل بڑا ہی نادم ہوا۔ نقصان کے ساتھ ہی پچھتاوا گویا عذاب پر عذاب تھا۔ اس قصہ میں مفسرین کے اقوال اس بات پر تو متفق ہیں کہ یہ تو دونوں حضرت آدم کے صلبی بیٹے تھے اور یہی قرآن کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے اور یہی حدیث میں بھی ہے کہ روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ کا حضرت آدم کے اس پہلے لڑکے پر ہوتا ہے، اس لئے کہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا ہے، لیکن حسن بصری کا قول ہے کہ " یہ دونوں بنی اسرائیل میں تھے، قربانی سب سے پہلے انہی میں آئی اور زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم کا انتقال ہوا ہے " لیکن یہ قول غور طلب ہے اور اس کی اسناد بھی ٹھیک نہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ واقعہ بطور ایک مثال کے ہے " تم اس میں سے اچھائی لے لو اور برے کو چھوڑ دو "۔ یہ حدیث مرسل ہے کہتے ہیں کہ اس صدمے سے حضرت آدم بہت غمگین ہوئے اور سال بھر تک انہیں ہنسی نہ آئی، آخر فرشتوں نے ان کے غم کے دور ہونے اور انہیں ہنسی آنے کی دعا کی۔ حضرت آدم نے اس وقت اپنے رنج و غم میں یہ بھی کہا تھا کہ شہر اور شہر کی سب چیزیں متغیر ہوگئی۔ زمین کا رنگ بدل گیا اور وہ نہایت بدصورت ہوگئی، ہر ہر چیز کا رنگ و مزہ جاتا رہا اور کشش والے چہروں کی ملاحت بھی سلب ہوگئی۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ اس مردے کے ساتھ اس زندے نے بھی گویا اپنے تئیں ہلاک کردیا اور جو برائی قاتل نے کی تھی، اس کا بوجھ اس پر آگیا، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قابیل کو اسی وقت سزا دی گئی چناچہ وارد ہوا ہے کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے لٹکا دی گئی اور اس کا منہ سورج کی طرف کردیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ گھومتا رہتا تھا یعنی جدھر سورج ہوتا ادھر ہی اس کا منہ اٹھا رہتا۔ حدیث شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جتنے گناہ اس لائق ہیں کہ بہت جلد ان کی سزا دنیا میں بھی دی جائے اور پھر آخرت کے زبردست عذاب باقی رہیں ان میں سب سے بڑھ کر گناہ سرکشی اور قطع رحمی ہے۔ تو قابیل میں یہ دونوں باتیں جمع ہوگئیں آتی (فانا للہ و انا الیہ راجعون) (یہ یاد رہے کہ اس قصہ کی تفصیلات جس قدر بیان ہوئی ہے، ان میں سے اکثر و بیشر حصہ اہل کتاب سے اخذ کیا ہوا ہے۔ واللہ اعلم۔ مترجم)

Source. Tafsir Ibn Kathir, Hafiz Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://quran.com/. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com