John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Ar-Rahmaan

Tafsir Ibn Kathir · The Beneficent · 78 ayat · ayat 61–78 · Quran text →

جنت یافتہ لوگ جنتی لوگ بےفکری سے تکئے لگائے ہوئے ہوں گے خواہ لیٹے ہوئے ہوں خواہ باآرام بیٹھے ہوئے تکیہ سے لگے ہوئے ہوں ان کے بچھاؤنے بھی اتنے بڑھیا ہوں گے کہ ان کے اندر کا استر بھی دبیز اور خالص زرین ریشم کا ہوگا پھر اوپر کا ابرا کچھ ایسا ہوگا اسے تم آپ سوچ لو۔ مالک بن دینار اور سفیان ثوری فرماتے ہیں استر کا یہ حال ہے اور ابرا تو محض نورانی ہوگا جو سراسر اظہار رحمت و نور ہوگا۔ پھر اس پر بہترین گلکاریاں ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ان جنتوں کے پھل جنتیوں سے بالکل قریب ہیں۔ جب چاہے جس حال میں چاہیں وہاں سے لے لیں لیٹے ہوں تو بیٹھا ہونے کی اور بیٹھے ہوں تو کھڑا ہونے کی ضرورت نہیں خودبخود شاخیں جھوم جھوم کر جھکتی رہتی ہیں۔ جیسے فرمایا آیت (قُطُوْفُهَا دَانِيَةٌ 23؀) 69۔ الحاقة :23) اور فرمایا آیت (وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلٰلُهَا وَذُلِّـلَتْ قُـطُوْفُهَا تَذْلِيْلًا 14؀) 76۔ الإنسان :14) ، یعنی بیحد قریب میوے ہیں لینے والے کو کوئی تکلیف یا تکلف کی ضرورت نہیں خود شاخیں جھک جھک کر انہیں میوے دے رہی ہیں پس تم اپنے رب کی نعمتوں کے انکار سے باز رہو۔ چونکہ فروش کا بیان ہوا تھا تو ساتھ ہی فرمایا کہ ان فروش پر ان کے ساتھ ان کی بیویاں ہوں گی، جو عفیفہ، پاکدامن، شرمیلی نگاہوں والی ہوں گی اپنے خاوندوں کے سوا کسی پر نظریں نہ ڈالیں گے اور ان کے خاوند بھی ان پر سو جان سے مائل ہوں گے۔ یہ بھی جنت کی کسی چیز کو اپنے ان مومن خاوندوں سے بہتر نہ پائیں گی۔ یہ بھی وارد ہوا ہے کہ یہ حوریں اپنے خاوندوں سے کہیں گی اللہ کی قسم ساری جنت میں میرے لئے تم سے بہتر کوئی چیز نہیں اللہ خوب جانتا ہے کہ میرے دل میں جنت کی کسی چیز کی خواہش و محبت اتنی نہیں جتنی آپ کی ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے آپ کو میرے حصے میں کردیا اور مجھے آپ کی خدمت کا شرف بخشا۔ یہ حوریں کنواری اچھوتی نوجوان ہوں گی ان جنتیوں سے پہلے ان کے پاک جسم کو کسی انس و جن کا ہاتھ بھی نہ لگا۔ یہ آیت بھی مومن جنوں کے جنت میں جانے کی دلیل ہے۔ حضرت ضمرہ بن حبیب سے سوال ہوتا ہے کہ کیا مومن جن بھی جنت میں جائیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اور جنیہ عورتوں سے ان کے نکاح ہوں گے جیسے انسان کے انسان عورتوں سے۔ پھر یہی آیتیں تلاوت کیں پھر ان حوروں کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنی صفائی خوبی اور حسن میں ایسی ہیں جیسے یاقوت و مرجان، یاقوت سے صفائی میں تشبیہ دی اور مرجان سے بیاض میں پس مرجان سے مراد یہاں لؤلؤ ہے۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں اہل جنت کی بیویوں میں سے ہر ایک ایسی ہے کہ ان کی پنڈلی کی سفیدی ستر ستر حلوں کے پہننے کے بعد بھی نظر آتی ہے یہاں تک کہ اندر کا گودا بھی آپ نے آیت (كَاَنَّهُنَّ الْيَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ 58ۚ) 55۔ الرحمن :58) پڑھی اور فرمایا دیکھو یاقوت ایک پتھر ہے لیکن قدرت نے اس کی صفائی اور جوت ایسی رکھی ہے کہ اس کے بیچ میں دھاگہ پرو دو تو باہر سے نظر آتا ہے (ابن ابی حاتم) یہ روایت ترمذی میں بھی موقوفاً حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے اور امام ترمذی اس کو زیادہ صحیح بتاتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے پیغمبر مدنی احمد مجتبیٰ حضرت محمد ﷺ فرماتے ہیں کہ ہر اہل جنت کی دو بیویاں اس صفت کی ہوں گی کہ ستر ستر حلے پہن لینے کے بعد بھی ان کی پنڈلیوں کی جھلک نمودار رہے گی بلکہ اندر کا گودا بھی بوجہ صفائی کے دکھائی دے گا صحیح مسلم میں ہے کہ یا تو فخر کے طور پر یا مذاکراہ کے طور پر یہ بحث چھڑ گئی کہ جنت میں عورتیں زیادہ ہوں گی یا مرد ؟ تو حضرت ابوہریرہ نے فرمایا کیا ابو القاسم ﷺ نے یہ نہیں فرمایا ؟ کہ پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی وہ چاند جیسی صورتوں والی ہوگی ان کے پیچھے جو جماعت جائے گی وہ آسمان کے بہترین چمکیلے تاروں جیسے چہروں والی ہوگی۔ ان میں سے ہر شخص کی دو بیویاں ایسی ہوں گی جن کی پنڈلی کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا اور جنت میں کوئی بغیر بیوی کے نہ ہوگا۔ اس حدیث کی اصل بخاری میں بھی ہے مسند احمد میں ہے " حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ کی راہ کی صبح اور شام ساری دنیا سے اور جو اس میں ہے سب سے بہتر ہے۔ جنت میں جو جگہ ملے گی اس میں ایک کمان یا ایک کوڑے کے برابر کی جگہ ساری دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے افضل ہے اگر جنت کی عورتوں میں سے ایک عورت دنیا میں جھانک لے تو زمین و آسمان کو جگمگا دے اور خوشبو سے تمام عالم مہک اٹھے۔ ان کی ہلکی سی چھوٹی دو پٹیا بھی دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے گراں ہے صحیح بخاری میں یہ حدیث بھی ہے پھر ارشاد ہے کہ جس نے دنیا میں نیکی کی اس کا بدلہ آخرت میں سلوک و احسان کے سوا اور کچھ نہیں جیسے ارشاد ہے (لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ 26؀) 10۔ یونس :26) نیکی کرنے والے کے لئے نیکی ہے اور زیادتی یعنی جنت اور دیدار باری۔ حضور ﷺ نے یہ آیت تلاوت کر کے اپنے اصحاب سے پوچھا جانتے ہو تمہارے رب نے کیا کہا ؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ہی علم ہے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں جس پر اپنی توحید کا انعام دنیا میں کروں اس کا بدلہ آخرت میں جنت ہے اور چونکہ یہ بھی ایک عظیم الشان نعمت ہے جو دراصل کسی عمل کے بدلے نہیں بلکہ صرف اسی کا احسان اور فضل و کرم ہے اس لئے اس کے بعد ہی فرمایا اب تم میری کس کس نعمت سے لاپرواہی برتو گے ؟ رب کے مقام سے ڈرنے والے کی بشارت کے متعلق ترمذی شریف کی یہ حدیث بھی خیال میں رہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جو ڈرے گا وہ رات کے وقت ہی کوچ کرے گا اور جو اندھیری رات میں چل پڑا وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے گا خبردار ہوجاؤ اللہ کا سودا بہت گراں ہے یاد رکھو وہ سودا جنت ہے امام ترمذی اس حدیث کو غریب بتاتے ہیں حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے میں نے منبر پر وعظ بیان فرماتے ہوئے سنا کہا آپ نے آیت (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ 46ۚ) 55۔ الرحمن :46) پڑھی تو میں نے کہا اگرچہ زنا کیا ہو اگرچہ چوری کی ہو ؟ باقی حدیث اوپر گذر چکی۔

اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخ دار۔ یہاں فرمایا آیت (مُدْهَاۗمَّتٰنِ 64ۚ) 55۔ الرحمن :64) یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ ابن عباس فرماتے ہیں سبز، محمد بن کعب فرماتے ہیں سبزی سے پُر، قتادہ فرماتے ہیں اس قدر پھل پکے ہوئے تیار ہیں کہ وہ ساری جنت سرسبز معلوم ہو رہی ہے الغرض وہاں شاخوں کی پھیلاوٹ بیان ہوئی یہاں درختوں کی کثرت بیان فرمائی گئی تو ظاہر ہے کہ اس میں اور اس میں بھی بہت فرق ہے ان کی نہروں کی بابت لفظ آیت (تجریان) ہے اور یہاں لفظ آیت (فِيْهِمَا عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ 66ۚ) 55۔ الرحمن :66) ہے یعنی ابلنے والی اور یہ ظاہر ہے کہ نضخ سے جری یعنی ابلنے سے بہنا بہت برتری والا ہے حضرت ضحاک فرماتے ہیں یعنی پُر ہیں پانی رکتا نہیں اور لیجئے وہاں فرمایا تھا کہ ہر قسم کے میووں کے جوڑے ہیں اور یہاں فرمایا اس میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں تو ظاہر ہے کہ پہلے کے الفاظ عمومیت کے لئے ہوئے ہیں وہ قسم کے اعتبار سے اور کمیت کے اعتبار سے بھی اس سے افضلیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں لفظ فاکھہ گو نکرہ ہے لیکن سیاق میں اثبات کے ہے اس لئے عام نہ ہوگا اسی لئے بطور تفسیر کے بعد میں نخل و رمان کہہ دیا۔ جیسے عطف خاص عام پر ہوتا ہے امام بخاری وغیرہ کی تحقیق بھی یہی ہے کھجور اور انار کو خاصۃ اس لئے ذکر کیا کہ اور میووں پر انہیں شرف ہے۔ مسند عبد بن حمید میں ہے یہودیوں نے آکر رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا جنت میں میوے ہیں ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ہاں ہیں انہوں نے پوچھا کیا جنتی دنیا کی طرح وہاں بھی کھائیں پئیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں بلکہ بہت کچھ زیادہ اور بہت کچھ زیادہ انہوں نے کہا پھر وہاں فضلہ بھی نکلے گا ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ پسینہ آ کر سب ہضم ہوجائے گا ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جنتی کھجور کے درختوں کے ریش کا جنتیوں کا لباس بنائیں گے۔ یہ سرخ رنگ سونے کے ہوں گے اس کے تنے سبز زمرد میں ہوں گے اس کے پھل شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے گھٹلی بالکل نہ ہوگی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ میں نے جنت کے انار دیکھے اتنے بڑے تھے جیسے اونٹ مع ہودج۔ خیرات کے معنی بہ کثرت اور بہت حسین نہایت نیک خلق اور بہتر خلق ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ معنی مروی ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ حور عین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہوگا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں جو بزرگ خاوندوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں یہ پوری حدیث سورة واقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو ؟ حوریں ہیں جو خیموں میں رہتی سہتی ہیں یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لئے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لئے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے نہ سختی نہ گندگی نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہے در مجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے حضرت ابو درداء فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں ابن عباس فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہوگا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہوگا چار فرسخ چوڑا جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں سب کی سونے کی ہوں گی ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی ہزار خادم ہوں گے اور بہتر بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہوگا جو جابیہ سے صنعاء تک پہنچے پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گذر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گذر چکی ہے ہاں پہلی جنتوں کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ تمہیں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے ؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیے یہ جنتی سبز رنگ اعلیٰ قیمتی فرشوں غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے یہ تخت یہ فرش یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیا ریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے کوئی سرخ رنگ ہوگا کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جاسکے یہ بسترے مخملی ہوں گے جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے ابو عبیدہ فرماتے ہیں عبقرہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب کی نسبت فرمایا میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہوگا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لئے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے ؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے جیسے کہ حضرت جبرائیل والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے پھر احسان کے بارے میں پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کہ دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ آمین۔ وہی مستحق احترام و اکرام ہے پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گذاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا (احمد) ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ ابو یعلیٰ میں ہے (یا ذا الجلال والاکرام) کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں یا کا لفظ نہیں جوہری فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لو تو عرب کہتے ہیں (اَلَظَّ) یعنی لفظ اس حدیث میں آیا ہے تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں دعا (اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام) الحمد اللہ اللہ کے فضل و کرم سے سورة الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔

اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخ دار۔ یہاں فرمایا آیت (مُدْهَاۗمَّتٰنِ 64ۚ) 55۔ الرحمن :64) یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ ابن عباس فرماتے ہیں سبز، محمد بن کعب فرماتے ہیں سبزی سے پُر، قتادہ فرماتے ہیں اس قدر پھل پکے ہوئے تیار ہیں کہ وہ ساری جنت سرسبز معلوم ہو رہی ہے الغرض وہاں شاخوں کی پھیلاوٹ بیان ہوئی یہاں درختوں کی کثرت بیان فرمائی گئی تو ظاہر ہے کہ اس میں اور اس میں بھی بہت فرق ہے ان کی نہروں کی بابت لفظ آیت (تجریان) ہے اور یہاں لفظ آیت (فِيْهِمَا عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ 66ۚ) 55۔ الرحمن :66) ہے یعنی ابلنے والی اور یہ ظاہر ہے کہ نضخ سے جری یعنی ابلنے سے بہنا بہت برتری والا ہے حضرت ضحاک فرماتے ہیں یعنی پُر ہیں پانی رکتا نہیں اور لیجئے وہاں فرمایا تھا کہ ہر قسم کے میووں کے جوڑے ہیں اور یہاں فرمایا اس میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں تو ظاہر ہے کہ پہلے کے الفاظ عمومیت کے لئے ہوئے ہیں وہ قسم کے اعتبار سے اور کمیت کے اعتبار سے بھی اس سے افضلیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں لفظ فاکھہ گو نکرہ ہے لیکن سیاق میں اثبات کے ہے اس لئے عام نہ ہوگا اسی لئے بطور تفسیر کے بعد میں نخل و رمان کہہ دیا۔ جیسے عطف خاص عام پر ہوتا ہے امام بخاری وغیرہ کی تحقیق بھی یہی ہے کھجور اور انار کو خاصۃ اس لئے ذکر کیا کہ اور میووں پر انہیں شرف ہے۔ مسند عبد بن حمید میں ہے یہودیوں نے آکر رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا جنت میں میوے ہیں ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ہاں ہیں انہوں نے پوچھا کیا جنتی دنیا کی طرح وہاں بھی کھائیں پئیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں بلکہ بہت کچھ زیادہ اور بہت کچھ زیادہ انہوں نے کہا پھر وہاں فضلہ بھی نکلے گا ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ پسینہ آ کر سب ہضم ہوجائے گا ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جنتی کھجور کے درختوں کے ریش کا جنتیوں کا لباس بنائیں گے۔ یہ سرخ رنگ سونے کے ہوں گے اس کے تنے سبز زمرد میں ہوں گے اس کے پھل شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے گھٹلی بالکل نہ ہوگی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ میں نے جنت کے انار دیکھے اتنے بڑے تھے جیسے اونٹ مع ہودج۔ خیرات کے معنی بہ کثرت اور بہت حسین نہایت نیک خلق اور بہتر خلق ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ معنی مروی ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ حور عین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہوگا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں جو بزرگ خاوندوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں یہ پوری حدیث سورة واقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو ؟ حوریں ہیں جو خیموں میں رہتی سہتی ہیں یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لئے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لئے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے نہ سختی نہ گندگی نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہے در مجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے حضرت ابو درداء فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں ابن عباس فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہوگا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہوگا چار فرسخ چوڑا جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں سب کی سونے کی ہوں گی ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی ہزار خادم ہوں گے اور بہتر بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہوگا جو جابیہ سے صنعاء تک پہنچے پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گذر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گذر چکی ہے ہاں پہلی جنتوں کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ تمہیں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے ؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیے یہ جنتی سبز رنگ اعلیٰ قیمتی فرشوں غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے یہ تخت یہ فرش یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیا ریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے کوئی سرخ رنگ ہوگا کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جاسکے یہ بسترے مخملی ہوں گے جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے ابو عبیدہ فرماتے ہیں عبقرہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب کی نسبت فرمایا میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہوگا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لئے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے ؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے جیسے کہ حضرت جبرائیل والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے پھر احسان کے بارے میں پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کہ دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ آمین۔ وہی مستحق احترام و اکرام ہے پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گذاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا (احمد) ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ ابو یعلیٰ میں ہے (یا ذا الجلال والاکرام) کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں یا کا لفظ نہیں جوہری فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لو تو عرب کہتے ہیں (اَلَظَّ) یعنی لفظ اس حدیث میں آیا ہے تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں دعا (اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام) الحمد اللہ اللہ کے فضل و کرم سے سورة الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔

اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخ دار۔ یہاں فرمایا آیت (مُدْهَاۗمَّتٰنِ 64ۚ) 55۔ الرحمن :64) یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ ابن عباس فرماتے ہیں سبز، محمد بن کعب فرماتے ہیں سبزی سے پُر، قتادہ فرماتے ہیں اس قدر پھل پکے ہوئے تیار ہیں کہ وہ ساری جنت سرسبز معلوم ہو رہی ہے الغرض وہاں شاخوں کی پھیلاوٹ بیان ہوئی یہاں درختوں کی کثرت بیان فرمائی گئی تو ظاہر ہے کہ اس میں اور اس میں بھی بہت فرق ہے ان کی نہروں کی بابت لفظ آیت (تجریان) ہے اور یہاں لفظ آیت (فِيْهِمَا عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ 66ۚ) 55۔ الرحمن :66) ہے یعنی ابلنے والی اور یہ ظاہر ہے کہ نضخ سے جری یعنی ابلنے سے بہنا بہت برتری والا ہے حضرت ضحاک فرماتے ہیں یعنی پُر ہیں پانی رکتا نہیں اور لیجئے وہاں فرمایا تھا کہ ہر قسم کے میووں کے جوڑے ہیں اور یہاں فرمایا اس میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں تو ظاہر ہے کہ پہلے کے الفاظ عمومیت کے لئے ہوئے ہیں وہ قسم کے اعتبار سے اور کمیت کے اعتبار سے بھی اس سے افضلیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں لفظ فاکھہ گو نکرہ ہے لیکن سیاق میں اثبات کے ہے اس لئے عام نہ ہوگا اسی لئے بطور تفسیر کے بعد میں نخل و رمان کہہ دیا۔ جیسے عطف خاص عام پر ہوتا ہے امام بخاری وغیرہ کی تحقیق بھی یہی ہے کھجور اور انار کو خاصۃ اس لئے ذکر کیا کہ اور میووں پر انہیں شرف ہے۔ مسند عبد بن حمید میں ہے یہودیوں نے آکر رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا جنت میں میوے ہیں ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ہاں ہیں انہوں نے پوچھا کیا جنتی دنیا کی طرح وہاں بھی کھائیں پئیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں بلکہ بہت کچھ زیادہ اور بہت کچھ زیادہ انہوں نے کہا پھر وہاں فضلہ بھی نکلے گا ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ پسینہ آ کر سب ہضم ہوجائے گا ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جنتی کھجور کے درختوں کے ریش کا جنتیوں کا لباس بنائیں گے۔ یہ سرخ رنگ سونے کے ہوں گے اس کے تنے سبز زمرد میں ہوں گے اس کے پھل شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے گھٹلی بالکل نہ ہوگی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ میں نے جنت کے انار دیکھے اتنے بڑے تھے جیسے اونٹ مع ہودج۔ خیرات کے معنی بہ کثرت اور بہت حسین نہایت نیک خلق اور بہتر خلق ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ معنی مروی ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ حور عین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہوگا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں جو بزرگ خاوندوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں یہ پوری حدیث سورة واقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو ؟ حوریں ہیں جو خیموں میں رہتی سہتی ہیں یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لئے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لئے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے نہ سختی نہ گندگی نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہے در مجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے حضرت ابو درداء فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں ابن عباس فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہوگا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہوگا چار فرسخ چوڑا جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں سب کی سونے کی ہوں گی ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی ہزار خادم ہوں گے اور بہتر بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہوگا جو جابیہ سے صنعاء تک پہنچے پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گذر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گذر چکی ہے ہاں پہلی جنتوں کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ تمہیں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے ؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیے یہ جنتی سبز رنگ اعلیٰ قیمتی فرشوں غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے یہ تخت یہ فرش یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیا ریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے کوئی سرخ رنگ ہوگا کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جاسکے یہ بسترے مخملی ہوں گے جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے ابو عبیدہ فرماتے ہیں عبقرہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب کی نسبت فرمایا میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہوگا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لئے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے ؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے جیسے کہ حضرت جبرائیل والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے پھر احسان کے بارے میں پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کہ دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ آمین۔ وہی مستحق احترام و اکرام ہے پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گذاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا (احمد) ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ ابو یعلیٰ میں ہے (یا ذا الجلال والاکرام) کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں یا کا لفظ نہیں جوہری فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لو تو عرب کہتے ہیں (اَلَظَّ) یعنی لفظ اس حدیث میں آیا ہے تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں دعا (اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام) الحمد اللہ اللہ کے فضل و کرم سے سورة الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔

اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخ دار۔ یہاں فرمایا آیت (مُدْهَاۗمَّتٰنِ 64ۚ) 55۔ الرحمن :64) یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ ابن عباس فرماتے ہیں سبز، محمد بن کعب فرماتے ہیں سبزی سے پُر، قتادہ فرماتے ہیں اس قدر پھل پکے ہوئے تیار ہیں کہ وہ ساری جنت سرسبز معلوم ہو رہی ہے الغرض وہاں شاخوں کی پھیلاوٹ بیان ہوئی یہاں درختوں کی کثرت بیان فرمائی گئی تو ظاہر ہے کہ اس میں اور اس میں بھی بہت فرق ہے ان کی نہروں کی بابت لفظ آیت (تجریان) ہے اور یہاں لفظ آیت (فِيْهِمَا عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ 66ۚ) 55۔ الرحمن :66) ہے یعنی ابلنے والی اور یہ ظاہر ہے کہ نضخ سے جری یعنی ابلنے سے بہنا بہت برتری والا ہے حضرت ضحاک فرماتے ہیں یعنی پُر ہیں پانی رکتا نہیں اور لیجئے وہاں فرمایا تھا کہ ہر قسم کے میووں کے جوڑے ہیں اور یہاں فرمایا اس میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں تو ظاہر ہے کہ پہلے کے الفاظ عمومیت کے لئے ہوئے ہیں وہ قسم کے اعتبار سے اور کمیت کے اعتبار سے بھی اس سے افضلیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں لفظ فاکھہ گو نکرہ ہے لیکن سیاق میں اثبات کے ہے اس لئے عام نہ ہوگا اسی لئے بطور تفسیر کے بعد میں نخل و رمان کہہ دیا۔ جیسے عطف خاص عام پر ہوتا ہے امام بخاری وغیرہ کی تحقیق بھی یہی ہے کھجور اور انار کو خاصۃ اس لئے ذکر کیا کہ اور میووں پر انہیں شرف ہے۔ مسند عبد بن حمید میں ہے یہودیوں نے آکر رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا جنت میں میوے ہیں ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ہاں ہیں انہوں نے پوچھا کیا جنتی دنیا کی طرح وہاں بھی کھائیں پئیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں بلکہ بہت کچھ زیادہ اور بہت کچھ زیادہ انہوں نے کہا پھر وہاں فضلہ بھی نکلے گا ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ پسینہ آ کر سب ہضم ہوجائے گا ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جنتی کھجور کے درختوں کے ریش کا جنتیوں کا لباس بنائیں گے۔ یہ سرخ رنگ سونے کے ہوں گے اس کے تنے سبز زمرد میں ہوں گے اس کے پھل شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے گھٹلی بالکل نہ ہوگی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ میں نے جنت کے انار دیکھے اتنے بڑے تھے جیسے اونٹ مع ہودج۔ خیرات کے معنی بہ کثرت اور بہت حسین نہایت نیک خلق اور بہتر خلق ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ معنی مروی ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ حور عین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہوگا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں جو بزرگ خاوندوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں یہ پوری حدیث سورة واقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو ؟ حوریں ہیں جو خیموں میں رہتی سہتی ہیں یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لئے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لئے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے نہ سختی نہ گندگی نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہے در مجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے حضرت ابو درداء فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں ابن عباس فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہوگا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہوگا چار فرسخ چوڑا جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں سب کی سونے کی ہوں گی ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی ہزار خادم ہوں گے اور بہتر بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہوگا جو جابیہ سے صنعاء تک پہنچے پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گذر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گذر چکی ہے ہاں پہلی جنتوں کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ تمہیں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے ؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیے یہ جنتی سبز رنگ اعلیٰ قیمتی فرشوں غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے یہ تخت یہ فرش یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیا ریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے کوئی سرخ رنگ ہوگا کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جاسکے یہ بسترے مخملی ہوں گے جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے ابو عبیدہ فرماتے ہیں عبقرہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب کی نسبت فرمایا میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہوگا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لئے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے ؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے جیسے کہ حضرت جبرائیل والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے پھر احسان کے بارے میں پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کہ دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ آمین۔ وہی مستحق احترام و اکرام ہے پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گذاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا (احمد) ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ ابو یعلیٰ میں ہے (یا ذا الجلال والاکرام) کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں یا کا لفظ نہیں جوہری فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لو تو عرب کہتے ہیں (اَلَظَّ) یعنی لفظ اس حدیث میں آیا ہے تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں دعا (اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام) الحمد اللہ اللہ کے فضل و کرم سے سورة الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔

اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخ دار۔ یہاں فرمایا آیت (مُدْهَاۗمَّتٰنِ 64ۚ) 55۔ الرحمن :64) یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ ابن عباس فرماتے ہیں سبز، محمد بن کعب فرماتے ہیں سبزی سے پُر، قتادہ فرماتے ہیں اس قدر پھل پکے ہوئے تیار ہیں کہ وہ ساری جنت سرسبز معلوم ہو رہی ہے الغرض وہاں شاخوں کی پھیلاوٹ بیان ہوئی یہاں درختوں کی کثرت بیان فرمائی گئی تو ظاہر ہے کہ اس میں اور اس میں بھی بہت فرق ہے ان کی نہروں کی بابت لفظ آیت (تجریان) ہے اور یہاں لفظ آیت (فِيْهِمَا عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ 66ۚ) 55۔ الرحمن :66) ہے یعنی ابلنے والی اور یہ ظاہر ہے کہ نضخ سے جری یعنی ابلنے سے بہنا بہت برتری والا ہے حضرت ضحاک فرماتے ہیں یعنی پُر ہیں پانی رکتا نہیں اور لیجئے وہاں فرمایا تھا کہ ہر قسم کے میووں کے جوڑے ہیں اور یہاں فرمایا اس میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں تو ظاہر ہے کہ پہلے کے الفاظ عمومیت کے لئے ہوئے ہیں وہ قسم کے اعتبار سے اور کمیت کے اعتبار سے بھی اس سے افضلیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں لفظ فاکھہ گو نکرہ ہے لیکن سیاق میں اثبات کے ہے اس لئے عام نہ ہوگا اسی لئے بطور تفسیر کے بعد میں نخل و رمان کہہ دیا۔ جیسے عطف خاص عام پر ہوتا ہے امام بخاری وغیرہ کی تحقیق بھی یہی ہے کھجور اور انار کو خاصۃ اس لئے ذکر کیا کہ اور میووں پر انہیں شرف ہے۔ مسند عبد بن حمید میں ہے یہودیوں نے آکر رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا جنت میں میوے ہیں ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ہاں ہیں انہوں نے پوچھا کیا جنتی دنیا کی طرح وہاں بھی کھائیں پئیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں بلکہ بہت کچھ زیادہ اور بہت کچھ زیادہ انہوں نے کہا پھر وہاں فضلہ بھی نکلے گا ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ پسینہ آ کر سب ہضم ہوجائے گا ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جنتی کھجور کے درختوں کے ریش کا جنتیوں کا لباس بنائیں گے۔ یہ سرخ رنگ سونے کے ہوں گے اس کے تنے سبز زمرد میں ہوں گے اس کے پھل شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے گھٹلی بالکل نہ ہوگی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ میں نے جنت کے انار دیکھے اتنے بڑے تھے جیسے اونٹ مع ہودج۔ خیرات کے معنی بہ کثرت اور بہت حسین نہایت نیک خلق اور بہتر خلق ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ معنی مروی ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ حور عین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہوگا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں جو بزرگ خاوندوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں یہ پوری حدیث سورة واقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو ؟ حوریں ہیں جو خیموں میں رہتی سہتی ہیں یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لئے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لئے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے نہ سختی نہ گندگی نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہے در مجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے حضرت ابو درداء فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں ابن عباس فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہوگا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہوگا چار فرسخ چوڑا جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں سب کی سونے کی ہوں گی ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی ہزار خادم ہوں گے اور بہتر بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہوگا جو جابیہ سے صنعاء تک پہنچے پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گذر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گذر چکی ہے ہاں پہلی جنتوں کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ تمہیں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے ؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیے یہ جنتی سبز رنگ اعلیٰ قیمتی فرشوں غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے یہ تخت یہ فرش یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیا ریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے کوئی سرخ رنگ ہوگا کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جاسکے یہ بسترے مخملی ہوں گے جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے ابو عبیدہ فرماتے ہیں عبقرہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب کی نسبت فرمایا میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہوگا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لئے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے ؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے جیسے کہ حضرت جبرائیل والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے پھر احسان کے بارے میں پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کہ دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ آمین۔ وہی مستحق احترام و اکرام ہے پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گذاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا (احمد) ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ ابو یعلیٰ میں ہے (یا ذا الجلال والاکرام) کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں یا کا لفظ نہیں جوہری فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لو تو عرب کہتے ہیں (اَلَظَّ) یعنی لفظ اس حدیث میں آیا ہے تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں دعا (اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام) الحمد اللہ اللہ کے فضل و کرم سے سورة الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔

اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخ دار۔ یہاں فرمایا آیت (مُدْهَاۗمَّتٰنِ 64ۚ) 55۔ الرحمن :64) یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ ابن عباس فرماتے ہیں سبز، محمد بن کعب فرماتے ہیں سبزی سے پُر، قتادہ فرماتے ہیں اس قدر پھل پکے ہوئے تیار ہیں کہ وہ ساری جنت سرسبز معلوم ہو رہی ہے الغرض وہاں شاخوں کی پھیلاوٹ بیان ہوئی یہاں درختوں کی کثرت بیان فرمائی گئی تو ظاہر ہے کہ اس میں اور اس میں بھی بہت فرق ہے ان کی نہروں کی بابت لفظ آیت (تجریان) ہے اور یہاں لفظ آیت (فِيْهِمَا عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ 66ۚ) 55۔ الرحمن :66) ہے یعنی ابلنے والی اور یہ ظاہر ہے کہ نضخ سے جری یعنی ابلنے سے بہنا بہت برتری والا ہے حضرت ضحاک فرماتے ہیں یعنی پُر ہیں پانی رکتا نہیں اور لیجئے وہاں فرمایا تھا کہ ہر قسم کے میووں کے جوڑے ہیں اور یہاں فرمایا اس میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں تو ظاہر ہے کہ پہلے کے الفاظ عمومیت کے لئے ہوئے ہیں وہ قسم کے اعتبار سے اور کمیت کے اعتبار سے بھی اس سے افضلیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں لفظ فاکھہ گو نکرہ ہے لیکن سیاق میں اثبات کے ہے اس لئے عام نہ ہوگا اسی لئے بطور تفسیر کے بعد میں نخل و رمان کہہ دیا۔ جیسے عطف خاص عام پر ہوتا ہے امام بخاری وغیرہ کی تحقیق بھی یہی ہے کھجور اور انار کو خاصۃ اس لئے ذکر کیا کہ اور میووں پر انہیں شرف ہے۔ مسند عبد بن حمید میں ہے یہودیوں نے آکر رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا جنت میں میوے ہیں ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ہاں ہیں انہوں نے پوچھا کیا جنتی دنیا کی طرح وہاں بھی کھائیں پئیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں بلکہ بہت کچھ زیادہ اور بہت کچھ زیادہ انہوں نے کہا پھر وہاں فضلہ بھی نکلے گا ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ پسینہ آ کر سب ہضم ہوجائے گا ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جنتی کھجور کے درختوں کے ریش کا جنتیوں کا لباس بنائیں گے۔ یہ سرخ رنگ سونے کے ہوں گے اس کے تنے سبز زمرد میں ہوں گے اس کے پھل شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے گھٹلی بالکل نہ ہوگی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ میں نے جنت کے انار دیکھے اتنے بڑے تھے جیسے اونٹ مع ہودج۔ خیرات کے معنی بہ کثرت اور بہت حسین نہایت نیک خلق اور بہتر خلق ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ معنی مروی ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ حور عین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہوگا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں جو بزرگ خاوندوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں یہ پوری حدیث سورة واقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو ؟ حوریں ہیں جو خیموں میں رہتی سہتی ہیں یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لئے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لئے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے نہ سختی نہ گندگی نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہے در مجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے حضرت ابو درداء فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں ابن عباس فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہوگا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہوگا چار فرسخ چوڑا جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں سب کی سونے کی ہوں گی ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی ہزار خادم ہوں گے اور بہتر بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہوگا جو جابیہ سے صنعاء تک پہنچے پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گذر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گذر چکی ہے ہاں پہلی جنتوں کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ تمہیں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے ؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیے یہ جنتی سبز رنگ اعلیٰ قیمتی فرشوں غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے یہ تخت یہ فرش یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیا ریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے کوئی سرخ رنگ ہوگا کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جاسکے یہ بسترے مخملی ہوں گے جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے ابو عبیدہ فرماتے ہیں عبقرہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب کی نسبت فرمایا میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہوگا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لئے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے ؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے جیسے کہ حضرت جبرائیل والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے پھر احسان کے بارے میں پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کہ دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ آمین۔ وہی مستحق احترام و اکرام ہے پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گذاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا (احمد) ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ ابو یعلیٰ میں ہے (یا ذا الجلال والاکرام) کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں یا کا لفظ نہیں جوہری فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لو تو عرب کہتے ہیں (اَلَظَّ) یعنی لفظ اس حدیث میں آیا ہے تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں دعا (اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام) الحمد اللہ اللہ کے فضل و کرم سے سورة الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔

اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخ دار۔ یہاں فرمایا آیت (مُدْهَاۗمَّتٰنِ 64ۚ) 55۔ الرحمن :64) یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ ابن عباس فرماتے ہیں سبز، محمد بن کعب فرماتے ہیں سبزی سے پُر، قتادہ فرماتے ہیں اس قدر پھل پکے ہوئے تیار ہیں کہ وہ ساری جنت سرسبز معلوم ہو رہی ہے الغرض وہاں شاخوں کی پھیلاوٹ بیان ہوئی یہاں درختوں کی کثرت بیان فرمائی گئی تو ظاہر ہے کہ اس میں اور اس میں بھی بہت فرق ہے ان کی نہروں کی بابت لفظ آیت (تجریان) ہے اور یہاں لفظ آیت (فِيْهِمَا عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ 66ۚ) 55۔ الرحمن :66) ہے یعنی ابلنے والی اور یہ ظاہر ہے کہ نضخ سے جری یعنی ابلنے سے بہنا بہت برتری والا ہے حضرت ضحاک فرماتے ہیں یعنی پُر ہیں پانی رکتا نہیں اور لیجئے وہاں فرمایا تھا کہ ہر قسم کے میووں کے جوڑے ہیں اور یہاں فرمایا اس میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں تو ظاہر ہے کہ پہلے کے الفاظ عمومیت کے لئے ہوئے ہیں وہ قسم کے اعتبار سے اور کمیت کے اعتبار سے بھی اس سے افضلیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں لفظ فاکھہ گو نکرہ ہے لیکن سیاق میں اثبات کے ہے اس لئے عام نہ ہوگا اسی لئے بطور تفسیر کے بعد میں نخل و رمان کہہ دیا۔ جیسے عطف خاص عام پر ہوتا ہے امام بخاری وغیرہ کی تحقیق بھی یہی ہے کھجور اور انار کو خاصۃ اس لئے ذکر کیا کہ اور میووں پر انہیں شرف ہے۔ مسند عبد بن حمید میں ہے یہودیوں نے آکر رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا جنت میں میوے ہیں ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ہاں ہیں انہوں نے پوچھا کیا جنتی دنیا کی طرح وہاں بھی کھائیں پئیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں بلکہ بہت کچھ زیادہ اور بہت کچھ زیادہ انہوں نے کہا پھر وہاں فضلہ بھی نکلے گا ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ پسینہ آ کر سب ہضم ہوجائے گا ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جنتی کھجور کے درختوں کے ریش کا جنتیوں کا لباس بنائیں گے۔ یہ سرخ رنگ سونے کے ہوں گے اس کے تنے سبز زمرد میں ہوں گے اس کے پھل شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے گھٹلی بالکل نہ ہوگی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ میں نے جنت کے انار دیکھے اتنے بڑے تھے جیسے اونٹ مع ہودج۔ خیرات کے معنی بہ کثرت اور بہت حسین نہایت نیک خلق اور بہتر خلق ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ معنی مروی ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ حور عین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہوگا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں جو بزرگ خاوندوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں یہ پوری حدیث سورة واقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو ؟ حوریں ہیں جو خیموں میں رہتی سہتی ہیں یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لئے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لئے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے نہ سختی نہ گندگی نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہے در مجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے حضرت ابو درداء فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں ابن عباس فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہوگا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہوگا چار فرسخ چوڑا جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں سب کی سونے کی ہوں گی ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی ہزار خادم ہوں گے اور بہتر بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہوگا جو جابیہ سے صنعاء تک پہنچے پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گذر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گذر چکی ہے ہاں پہلی جنتوں کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ تمہیں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے ؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیے یہ جنتی سبز رنگ اعلیٰ قیمتی فرشوں غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے یہ تخت یہ فرش یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیا ریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے کوئی سرخ رنگ ہوگا کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جاسکے یہ بسترے مخملی ہوں گے جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے ابو عبیدہ فرماتے ہیں عبقرہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب کی نسبت فرمایا میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہوگا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لئے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے ؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے جیسے کہ حضرت جبرائیل والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے پھر احسان کے بارے میں پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کہ دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ آمین۔ وہی مستحق احترام و اکرام ہے پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گذاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا (احمد) ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ ابو یعلیٰ میں ہے (یا ذا الجلال والاکرام) کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں یا کا لفظ نہیں جوہری فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لو تو عرب کہتے ہیں (اَلَظَّ) یعنی لفظ اس حدیث میں آیا ہے تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں دعا (اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام) الحمد اللہ اللہ کے فضل و کرم سے سورة الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔

اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخ دار۔ یہاں فرمایا آیت (مُدْهَاۗمَّتٰنِ 64ۚ) 55۔ الرحمن :64) یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ ابن عباس فرماتے ہیں سبز، محمد بن کعب فرماتے ہیں سبزی سے پُر، قتادہ فرماتے ہیں اس قدر پھل پکے ہوئے تیار ہیں کہ وہ ساری جنت سرسبز معلوم ہو رہی ہے الغرض وہاں شاخوں کی پھیلاوٹ بیان ہوئی یہاں درختوں کی کثرت بیان فرمائی گئی تو ظاہر ہے کہ اس میں اور اس میں بھی بہت فرق ہے ان کی نہروں کی بابت لفظ آیت (تجریان) ہے اور یہاں لفظ آیت (فِيْهِمَا عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ 66ۚ) 55۔ الرحمن :66) ہے یعنی ابلنے والی اور یہ ظاہر ہے کہ نضخ سے جری یعنی ابلنے سے بہنا بہت برتری والا ہے حضرت ضحاک فرماتے ہیں یعنی پُر ہیں پانی رکتا نہیں اور لیجئے وہاں فرمایا تھا کہ ہر قسم کے میووں کے جوڑے ہیں اور یہاں فرمایا اس میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں تو ظاہر ہے کہ پہلے کے الفاظ عمومیت کے لئے ہوئے ہیں وہ قسم کے اعتبار سے اور کمیت کے اعتبار سے بھی اس سے افضلیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں لفظ فاکھہ گو نکرہ ہے لیکن سیاق میں اثبات کے ہے اس لئے عام نہ ہوگا اسی لئے بطور تفسیر کے بعد میں نخل و رمان کہہ دیا۔ جیسے عطف خاص عام پر ہوتا ہے امام بخاری وغیرہ کی تحقیق بھی یہی ہے کھجور اور انار کو خاصۃ اس لئے ذکر کیا کہ اور میووں پر انہیں شرف ہے۔ مسند عبد بن حمید میں ہے یہودیوں نے آکر رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا جنت میں میوے ہیں ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ہاں ہیں انہوں نے پوچھا کیا جنتی دنیا کی طرح وہاں بھی کھائیں پئیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں بلکہ بہت کچھ زیادہ اور بہت کچھ زیادہ انہوں نے کہا پھر وہاں فضلہ بھی نکلے گا ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ پسینہ آ کر سب ہضم ہوجائے گا ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جنتی کھجور کے درختوں کے ریش کا جنتیوں کا لباس بنائیں گے۔ یہ سرخ رنگ سونے کے ہوں گے اس کے تنے سبز زمرد میں ہوں گے اس کے پھل شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے گھٹلی بالکل نہ ہوگی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ میں نے جنت کے انار دیکھے اتنے بڑے تھے جیسے اونٹ مع ہودج۔ خیرات کے معنی بہ کثرت اور بہت حسین نہایت نیک خلق اور بہتر خلق ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ معنی مروی ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ حور عین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہوگا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں جو بزرگ خاوندوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں یہ پوری حدیث سورة واقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو ؟ حوریں ہیں جو خیموں میں رہتی سہتی ہیں یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لئے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لئے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے نہ سختی نہ گندگی نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہے در مجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے حضرت ابو درداء فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں ابن عباس فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہوگا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہوگا چار فرسخ چوڑا جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں سب کی سونے کی ہوں گی ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی ہزار خادم ہوں گے اور بہتر بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہوگا جو جابیہ سے صنعاء تک پہنچے پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گذر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گذر چکی ہے ہاں پہلی جنتوں کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ تمہیں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے ؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیے یہ جنتی سبز رنگ اعلیٰ قیمتی فرشوں غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے یہ تخت یہ فرش یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیا ریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے کوئی سرخ رنگ ہوگا کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جاسکے یہ بسترے مخملی ہوں گے جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے ابو عبیدہ فرماتے ہیں عبقرہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب کی نسبت فرمایا میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہوگا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لئے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے ؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے جیسے کہ حضرت جبرائیل والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے پھر احسان کے بارے میں پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کہ دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ آمین۔ وہی مستحق احترام و اکرام ہے پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گذاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا (احمد) ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ ابو یعلیٰ میں ہے (یا ذا الجلال والاکرام) کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں یا کا لفظ نہیں جوہری فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لو تو عرب کہتے ہیں (اَلَظَّ) یعنی لفظ اس حدیث میں آیا ہے تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں دعا (اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام) الحمد اللہ اللہ کے فضل و کرم سے سورة الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔

اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخ دار۔ یہاں فرمایا آیت (مُدْهَاۗمَّتٰنِ 64ۚ) 55۔ الرحمن :64) یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ ابن عباس فرماتے ہیں سبز، محمد بن کعب فرماتے ہیں سبزی سے پُر، قتادہ فرماتے ہیں اس قدر پھل پکے ہوئے تیار ہیں کہ وہ ساری جنت سرسبز معلوم ہو رہی ہے الغرض وہاں شاخوں کی پھیلاوٹ بیان ہوئی یہاں درختوں کی کثرت بیان فرمائی گئی تو ظاہر ہے کہ اس میں اور اس میں بھی بہت فرق ہے ان کی نہروں کی بابت لفظ آیت (تجریان) ہے اور یہاں لفظ آیت (فِيْهِمَا عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ 66ۚ) 55۔ الرحمن :66) ہے یعنی ابلنے والی اور یہ ظاہر ہے کہ نضخ سے جری یعنی ابلنے سے بہنا بہت برتری والا ہے حضرت ضحاک فرماتے ہیں یعنی پُر ہیں پانی رکتا نہیں اور لیجئے وہاں فرمایا تھا کہ ہر قسم کے میووں کے جوڑے ہیں اور یہاں فرمایا اس میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں تو ظاہر ہے کہ پہلے کے الفاظ عمومیت کے لئے ہوئے ہیں وہ قسم کے اعتبار سے اور کمیت کے اعتبار سے بھی اس سے افضلیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں لفظ فاکھہ گو نکرہ ہے لیکن سیاق میں اثبات کے ہے اس لئے عام نہ ہوگا اسی لئے بطور تفسیر کے بعد میں نخل و رمان کہہ دیا۔ جیسے عطف خاص عام پر ہوتا ہے امام بخاری وغیرہ کی تحقیق بھی یہی ہے کھجور اور انار کو خاصۃ اس لئے ذکر کیا کہ اور میووں پر انہیں شرف ہے۔ مسند عبد بن حمید میں ہے یہودیوں نے آکر رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا جنت میں میوے ہیں ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ہاں ہیں انہوں نے پوچھا کیا جنتی دنیا کی طرح وہاں بھی کھائیں پئیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں بلکہ بہت کچھ زیادہ اور بہت کچھ زیادہ انہوں نے کہا پھر وہاں فضلہ بھی نکلے گا ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ پسینہ آ کر سب ہضم ہوجائے گا ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جنتی کھجور کے درختوں کے ریش کا جنتیوں کا لباس بنائیں گے۔ یہ سرخ رنگ سونے کے ہوں گے اس کے تنے سبز زمرد میں ہوں گے اس کے پھل شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے گھٹلی بالکل نہ ہوگی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ میں نے جنت کے انار دیکھے اتنے بڑے تھے جیسے اونٹ مع ہودج۔ خیرات کے معنی بہ کثرت اور بہت حسین نہایت نیک خلق اور بہتر خلق ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ معنی مروی ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ حور عین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہوگا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں جو بزرگ خاوندوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں یہ پوری حدیث سورة واقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو ؟ حوریں ہیں جو خیموں میں رہتی سہتی ہیں یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لئے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لئے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے نہ سختی نہ گندگی نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہے در مجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے حضرت ابو درداء فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں ابن عباس فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہوگا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہوگا چار فرسخ چوڑا جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں سب کی سونے کی ہوں گی ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی ہزار خادم ہوں گے اور بہتر بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہوگا جو جابیہ سے صنعاء تک پہنچے پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گذر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گذر چکی ہے ہاں پہلی جنتوں کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ تمہیں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے ؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیے یہ جنتی سبز رنگ اعلیٰ قیمتی فرشوں غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے یہ تخت یہ فرش یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیا ریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے کوئی سرخ رنگ ہوگا کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جاسکے یہ بسترے مخملی ہوں گے جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے ابو عبیدہ فرماتے ہیں عبقرہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب کی نسبت فرمایا میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہوگا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لئے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے ؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے جیسے کہ حضرت جبرائیل والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے پھر احسان کے بارے میں پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کہ دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ آمین۔ وہی مستحق احترام و اکرام ہے پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گذاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا (احمد) ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ ابو یعلیٰ میں ہے (یا ذا الجلال والاکرام) کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں یا کا لفظ نہیں جوہری فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لو تو عرب کہتے ہیں (اَلَظَّ) یعنی لفظ اس حدیث میں آیا ہے تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں دعا (اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام) الحمد اللہ اللہ کے فضل و کرم سے سورة الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔

اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخ دار۔ یہاں فرمایا آیت (مُدْهَاۗمَّتٰنِ 64ۚ) 55۔ الرحمن :64) یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ ابن عباس فرماتے ہیں سبز، محمد بن کعب فرماتے ہیں سبزی سے پُر، قتادہ فرماتے ہیں اس قدر پھل پکے ہوئے تیار ہیں کہ وہ ساری جنت سرسبز معلوم ہو رہی ہے الغرض وہاں شاخوں کی پھیلاوٹ بیان ہوئی یہاں درختوں کی کثرت بیان فرمائی گئی تو ظاہر ہے کہ اس میں اور اس میں بھی بہت فرق ہے ان کی نہروں کی بابت لفظ آیت (تجریان) ہے اور یہاں لفظ آیت (فِيْهِمَا عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ 66ۚ) 55۔ الرحمن :66) ہے یعنی ابلنے والی اور یہ ظاہر ہے کہ نضخ سے جری یعنی ابلنے سے بہنا بہت برتری والا ہے حضرت ضحاک فرماتے ہیں یعنی پُر ہیں پانی رکتا نہیں اور لیجئے وہاں فرمایا تھا کہ ہر قسم کے میووں کے جوڑے ہیں اور یہاں فرمایا اس میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں تو ظاہر ہے کہ پہلے کے الفاظ عمومیت کے لئے ہوئے ہیں وہ قسم کے اعتبار سے اور کمیت کے اعتبار سے بھی اس سے افضلیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں لفظ فاکھہ گو نکرہ ہے لیکن سیاق میں اثبات کے ہے اس لئے عام نہ ہوگا اسی لئے بطور تفسیر کے بعد میں نخل و رمان کہہ دیا۔ جیسے عطف خاص عام پر ہوتا ہے امام بخاری وغیرہ کی تحقیق بھی یہی ہے کھجور اور انار کو خاصۃ اس لئے ذکر کیا کہ اور میووں پر انہیں شرف ہے۔ مسند عبد بن حمید میں ہے یہودیوں نے آکر رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا جنت میں میوے ہیں ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ہاں ہیں انہوں نے پوچھا کیا جنتی دنیا کی طرح وہاں بھی کھائیں پئیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں بلکہ بہت کچھ زیادہ اور بہت کچھ زیادہ انہوں نے کہا پھر وہاں فضلہ بھی نکلے گا ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ پسینہ آ کر سب ہضم ہوجائے گا ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جنتی کھجور کے درختوں کے ریش کا جنتیوں کا لباس بنائیں گے۔ یہ سرخ رنگ سونے کے ہوں گے اس کے تنے سبز زمرد میں ہوں گے اس کے پھل شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے گھٹلی بالکل نہ ہوگی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ میں نے جنت کے انار دیکھے اتنے بڑے تھے جیسے اونٹ مع ہودج۔ خیرات کے معنی بہ کثرت اور بہت حسین نہایت نیک خلق اور بہتر خلق ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ معنی مروی ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ حور عین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہوگا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں جو بزرگ خاوندوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں یہ پوری حدیث سورة واقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو ؟ حوریں ہیں جو خیموں میں رہتی سہتی ہیں یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لئے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لئے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے نہ سختی نہ گندگی نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہے در مجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے حضرت ابو درداء فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں ابن عباس فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہوگا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہوگا چار فرسخ چوڑا جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں سب کی سونے کی ہوں گی ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی ہزار خادم ہوں گے اور بہتر بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہوگا جو جابیہ سے صنعاء تک پہنچے پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گذر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گذر چکی ہے ہاں پہلی جنتوں کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ تمہیں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے ؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیے یہ جنتی سبز رنگ اعلیٰ قیمتی فرشوں غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے یہ تخت یہ فرش یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیا ریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے کوئی سرخ رنگ ہوگا کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جاسکے یہ بسترے مخملی ہوں گے جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے ابو عبیدہ فرماتے ہیں عبقرہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب کی نسبت فرمایا میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہوگا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لئے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے ؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے جیسے کہ حضرت جبرائیل والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے پھر احسان کے بارے میں پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کہ دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ آمین۔ وہی مستحق احترام و اکرام ہے پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گذاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا (احمد) ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ ابو یعلیٰ میں ہے (یا ذا الجلال والاکرام) کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں یا کا لفظ نہیں جوہری فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لو تو عرب کہتے ہیں (اَلَظَّ) یعنی لفظ اس حدیث میں آیا ہے تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں دعا (اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام) الحمد اللہ اللہ کے فضل و کرم سے سورة الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔

اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخ دار۔ یہاں فرمایا آیت (مُدْهَاۗمَّتٰنِ 64ۚ) 55۔ الرحمن :64) یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ ابن عباس فرماتے ہیں سبز، محمد بن کعب فرماتے ہیں سبزی سے پُر، قتادہ فرماتے ہیں اس قدر پھل پکے ہوئے تیار ہیں کہ وہ ساری جنت سرسبز معلوم ہو رہی ہے الغرض وہاں شاخوں کی پھیلاوٹ بیان ہوئی یہاں درختوں کی کثرت بیان فرمائی گئی تو ظاہر ہے کہ اس میں اور اس میں بھی بہت فرق ہے ان کی نہروں کی بابت لفظ آیت (تجریان) ہے اور یہاں لفظ آیت (فِيْهِمَا عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ 66ۚ) 55۔ الرحمن :66) ہے یعنی ابلنے والی اور یہ ظاہر ہے کہ نضخ سے جری یعنی ابلنے سے بہنا بہت برتری والا ہے حضرت ضحاک فرماتے ہیں یعنی پُر ہیں پانی رکتا نہیں اور لیجئے وہاں فرمایا تھا کہ ہر قسم کے میووں کے جوڑے ہیں اور یہاں فرمایا اس میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں تو ظاہر ہے کہ پہلے کے الفاظ عمومیت کے لئے ہوئے ہیں وہ قسم کے اعتبار سے اور کمیت کے اعتبار سے بھی اس سے افضلیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں لفظ فاکھہ گو نکرہ ہے لیکن سیاق میں اثبات کے ہے اس لئے عام نہ ہوگا اسی لئے بطور تفسیر کے بعد میں نخل و رمان کہہ دیا۔ جیسے عطف خاص عام پر ہوتا ہے امام بخاری وغیرہ کی تحقیق بھی یہی ہے کھجور اور انار کو خاصۃ اس لئے ذکر کیا کہ اور میووں پر انہیں شرف ہے۔ مسند عبد بن حمید میں ہے یہودیوں نے آکر رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا جنت میں میوے ہیں ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ہاں ہیں انہوں نے پوچھا کیا جنتی دنیا کی طرح وہاں بھی کھائیں پئیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں بلکہ بہت کچھ زیادہ اور بہت کچھ زیادہ انہوں نے کہا پھر وہاں فضلہ بھی نکلے گا ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ پسینہ آ کر سب ہضم ہوجائے گا ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جنتی کھجور کے درختوں کے ریش کا جنتیوں کا لباس بنائیں گے۔ یہ سرخ رنگ سونے کے ہوں گے اس کے تنے سبز زمرد میں ہوں گے اس کے پھل شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے گھٹلی بالکل نہ ہوگی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ میں نے جنت کے انار دیکھے اتنے بڑے تھے جیسے اونٹ مع ہودج۔ خیرات کے معنی بہ کثرت اور بہت حسین نہایت نیک خلق اور بہتر خلق ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ معنی مروی ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ حور عین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہوگا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں جو بزرگ خاوندوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں یہ پوری حدیث سورة واقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو ؟ حوریں ہیں جو خیموں میں رہتی سہتی ہیں یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لئے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لئے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے نہ سختی نہ گندگی نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہے در مجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے حضرت ابو درداء فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں ابن عباس فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہوگا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہوگا چار فرسخ چوڑا جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں سب کی سونے کی ہوں گی ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی ہزار خادم ہوں گے اور بہتر بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہوگا جو جابیہ سے صنعاء تک پہنچے پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گذر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گذر چکی ہے ہاں پہلی جنتوں کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ تمہیں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے ؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیے یہ جنتی سبز رنگ اعلیٰ قیمتی فرشوں غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے یہ تخت یہ فرش یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیا ریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے کوئی سرخ رنگ ہوگا کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جاسکے یہ بسترے مخملی ہوں گے جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے ابو عبیدہ فرماتے ہیں عبقرہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب کی نسبت فرمایا میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہوگا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لئے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے ؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے جیسے کہ حضرت جبرائیل والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے پھر احسان کے بارے میں پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کہ دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ آمین۔ وہی مستحق احترام و اکرام ہے پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گذاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا (احمد) ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ ابو یعلیٰ میں ہے (یا ذا الجلال والاکرام) کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں یا کا لفظ نہیں جوہری فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لو تو عرب کہتے ہیں (اَلَظَّ) یعنی لفظ اس حدیث میں آیا ہے تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں دعا (اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام) الحمد اللہ اللہ کے فضل و کرم سے سورة الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔

اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخ دار۔ یہاں فرمایا آیت (مُدْهَاۗمَّتٰنِ 64ۚ) 55۔ الرحمن :64) یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ ابن عباس فرماتے ہیں سبز، محمد بن کعب فرماتے ہیں سبزی سے پُر، قتادہ فرماتے ہیں اس قدر پھل پکے ہوئے تیار ہیں کہ وہ ساری جنت سرسبز معلوم ہو رہی ہے الغرض وہاں شاخوں کی پھیلاوٹ بیان ہوئی یہاں درختوں کی کثرت بیان فرمائی گئی تو ظاہر ہے کہ اس میں اور اس میں بھی بہت فرق ہے ان کی نہروں کی بابت لفظ آیت (تجریان) ہے اور یہاں لفظ آیت (فِيْهِمَا عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ 66ۚ) 55۔ الرحمن :66) ہے یعنی ابلنے والی اور یہ ظاہر ہے کہ نضخ سے جری یعنی ابلنے سے بہنا بہت برتری والا ہے حضرت ضحاک فرماتے ہیں یعنی پُر ہیں پانی رکتا نہیں اور لیجئے وہاں فرمایا تھا کہ ہر قسم کے میووں کے جوڑے ہیں اور یہاں فرمایا اس میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں تو ظاہر ہے کہ پہلے کے الفاظ عمومیت کے لئے ہوئے ہیں وہ قسم کے اعتبار سے اور کمیت کے اعتبار سے بھی اس سے افضلیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں لفظ فاکھہ گو نکرہ ہے لیکن سیاق میں اثبات کے ہے اس لئے عام نہ ہوگا اسی لئے بطور تفسیر کے بعد میں نخل و رمان کہہ دیا۔ جیسے عطف خاص عام پر ہوتا ہے امام بخاری وغیرہ کی تحقیق بھی یہی ہے کھجور اور انار کو خاصۃ اس لئے ذکر کیا کہ اور میووں پر انہیں شرف ہے۔ مسند عبد بن حمید میں ہے یہودیوں نے آکر رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا جنت میں میوے ہیں ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ہاں ہیں انہوں نے پوچھا کیا جنتی دنیا کی طرح وہاں بھی کھائیں پئیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں بلکہ بہت کچھ زیادہ اور بہت کچھ زیادہ انہوں نے کہا پھر وہاں فضلہ بھی نکلے گا ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ پسینہ آ کر سب ہضم ہوجائے گا ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جنتی کھجور کے درختوں کے ریش کا جنتیوں کا لباس بنائیں گے۔ یہ سرخ رنگ سونے کے ہوں گے اس کے تنے سبز زمرد میں ہوں گے اس کے پھل شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے گھٹلی بالکل نہ ہوگی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ میں نے جنت کے انار دیکھے اتنے بڑے تھے جیسے اونٹ مع ہودج۔ خیرات کے معنی بہ کثرت اور بہت حسین نہایت نیک خلق اور بہتر خلق ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ معنی مروی ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ حور عین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہوگا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں جو بزرگ خاوندوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں یہ پوری حدیث سورة واقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو ؟ حوریں ہیں جو خیموں میں رہتی سہتی ہیں یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لئے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لئے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے نہ سختی نہ گندگی نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہے در مجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے حضرت ابو درداء فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں ابن عباس فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہوگا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہوگا چار فرسخ چوڑا جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں سب کی سونے کی ہوں گی ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی ہزار خادم ہوں گے اور بہتر بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہوگا جو جابیہ سے صنعاء تک پہنچے پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گذر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گذر چکی ہے ہاں پہلی جنتوں کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ تمہیں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے ؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیے یہ جنتی سبز رنگ اعلیٰ قیمتی فرشوں غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے یہ تخت یہ فرش یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیا ریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے کوئی سرخ رنگ ہوگا کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جاسکے یہ بسترے مخملی ہوں گے جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے ابو عبیدہ فرماتے ہیں عبقرہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب کی نسبت فرمایا میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہوگا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لئے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے ؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے جیسے کہ حضرت جبرائیل والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے پھر احسان کے بارے میں پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کہ دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ آمین۔ وہی مستحق احترام و اکرام ہے پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گذاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا (احمد) ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ ابو یعلیٰ میں ہے (یا ذا الجلال والاکرام) کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں یا کا لفظ نہیں جوہری فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لو تو عرب کہتے ہیں (اَلَظَّ) یعنی لفظ اس حدیث میں آیا ہے تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں دعا (اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام) الحمد اللہ اللہ کے فضل و کرم سے سورة الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔

اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخ دار۔ یہاں فرمایا آیت (مُدْهَاۗمَّتٰنِ 64ۚ) 55۔ الرحمن :64) یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ ابن عباس فرماتے ہیں سبز، محمد بن کعب فرماتے ہیں سبزی سے پُر، قتادہ فرماتے ہیں اس قدر پھل پکے ہوئے تیار ہیں کہ وہ ساری جنت سرسبز معلوم ہو رہی ہے الغرض وہاں شاخوں کی پھیلاوٹ بیان ہوئی یہاں درختوں کی کثرت بیان فرمائی گئی تو ظاہر ہے کہ اس میں اور اس میں بھی بہت فرق ہے ان کی نہروں کی بابت لفظ آیت (تجریان) ہے اور یہاں لفظ آیت (فِيْهِمَا عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ 66ۚ) 55۔ الرحمن :66) ہے یعنی ابلنے والی اور یہ ظاہر ہے کہ نضخ سے جری یعنی ابلنے سے بہنا بہت برتری والا ہے حضرت ضحاک فرماتے ہیں یعنی پُر ہیں پانی رکتا نہیں اور لیجئے وہاں فرمایا تھا کہ ہر قسم کے میووں کے جوڑے ہیں اور یہاں فرمایا اس میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں تو ظاہر ہے کہ پہلے کے الفاظ عمومیت کے لئے ہوئے ہیں وہ قسم کے اعتبار سے اور کمیت کے اعتبار سے بھی اس سے افضلیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں لفظ فاکھہ گو نکرہ ہے لیکن سیاق میں اثبات کے ہے اس لئے عام نہ ہوگا اسی لئے بطور تفسیر کے بعد میں نخل و رمان کہہ دیا۔ جیسے عطف خاص عام پر ہوتا ہے امام بخاری وغیرہ کی تحقیق بھی یہی ہے کھجور اور انار کو خاصۃ اس لئے ذکر کیا کہ اور میووں پر انہیں شرف ہے۔ مسند عبد بن حمید میں ہے یہودیوں نے آکر رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا جنت میں میوے ہیں ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ہاں ہیں انہوں نے پوچھا کیا جنتی دنیا کی طرح وہاں بھی کھائیں پئیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں بلکہ بہت کچھ زیادہ اور بہت کچھ زیادہ انہوں نے کہا پھر وہاں فضلہ بھی نکلے گا ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ پسینہ آ کر سب ہضم ہوجائے گا ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جنتی کھجور کے درختوں کے ریش کا جنتیوں کا لباس بنائیں گے۔ یہ سرخ رنگ سونے کے ہوں گے اس کے تنے سبز زمرد میں ہوں گے اس کے پھل شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے گھٹلی بالکل نہ ہوگی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ میں نے جنت کے انار دیکھے اتنے بڑے تھے جیسے اونٹ مع ہودج۔ خیرات کے معنی بہ کثرت اور بہت حسین نہایت نیک خلق اور بہتر خلق ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ معنی مروی ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ حور عین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہوگا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں جو بزرگ خاوندوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں یہ پوری حدیث سورة واقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو ؟ حوریں ہیں جو خیموں میں رہتی سہتی ہیں یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لئے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لئے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے نہ سختی نہ گندگی نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہے در مجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے حضرت ابو درداء فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں ابن عباس فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہوگا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہوگا چار فرسخ چوڑا جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں سب کی سونے کی ہوں گی ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی ہزار خادم ہوں گے اور بہتر بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہوگا جو جابیہ سے صنعاء تک پہنچے پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گذر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گذر چکی ہے ہاں پہلی جنتوں کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ تمہیں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے ؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیے یہ جنتی سبز رنگ اعلیٰ قیمتی فرشوں غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے یہ تخت یہ فرش یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیا ریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے کوئی سرخ رنگ ہوگا کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جاسکے یہ بسترے مخملی ہوں گے جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے ابو عبیدہ فرماتے ہیں عبقرہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب کی نسبت فرمایا میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہوگا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لئے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے ؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے جیسے کہ حضرت جبرائیل والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے پھر احسان کے بارے میں پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کہ دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ آمین۔ وہی مستحق احترام و اکرام ہے پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گذاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا (احمد) ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ ابو یعلیٰ میں ہے (یا ذا الجلال والاکرام) کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں یا کا لفظ نہیں جوہری فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لو تو عرب کہتے ہیں (اَلَظَّ) یعنی لفظ اس حدیث میں آیا ہے تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں دعا (اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام) الحمد اللہ اللہ کے فضل و کرم سے سورة الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔

اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخ دار۔ یہاں فرمایا آیت (مُدْهَاۗمَّتٰنِ 64ۚ) 55۔ الرحمن :64) یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ ابن عباس فرماتے ہیں سبز، محمد بن کعب فرماتے ہیں سبزی سے پُر، قتادہ فرماتے ہیں اس قدر پھل پکے ہوئے تیار ہیں کہ وہ ساری جنت سرسبز معلوم ہو رہی ہے الغرض وہاں شاخوں کی پھیلاوٹ بیان ہوئی یہاں درختوں کی کثرت بیان فرمائی گئی تو ظاہر ہے کہ اس میں اور اس میں بھی بہت فرق ہے ان کی نہروں کی بابت لفظ آیت (تجریان) ہے اور یہاں لفظ آیت (فِيْهِمَا عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ 66ۚ) 55۔ الرحمن :66) ہے یعنی ابلنے والی اور یہ ظاہر ہے کہ نضخ سے جری یعنی ابلنے سے بہنا بہت برتری والا ہے حضرت ضحاک فرماتے ہیں یعنی پُر ہیں پانی رکتا نہیں اور لیجئے وہاں فرمایا تھا کہ ہر قسم کے میووں کے جوڑے ہیں اور یہاں فرمایا اس میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں تو ظاہر ہے کہ پہلے کے الفاظ عمومیت کے لئے ہوئے ہیں وہ قسم کے اعتبار سے اور کمیت کے اعتبار سے بھی اس سے افضلیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں لفظ فاکھہ گو نکرہ ہے لیکن سیاق میں اثبات کے ہے اس لئے عام نہ ہوگا اسی لئے بطور تفسیر کے بعد میں نخل و رمان کہہ دیا۔ جیسے عطف خاص عام پر ہوتا ہے امام بخاری وغیرہ کی تحقیق بھی یہی ہے کھجور اور انار کو خاصۃ اس لئے ذکر کیا کہ اور میووں پر انہیں شرف ہے۔ مسند عبد بن حمید میں ہے یہودیوں نے آکر رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا جنت میں میوے ہیں ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ہاں ہیں انہوں نے پوچھا کیا جنتی دنیا کی طرح وہاں بھی کھائیں پئیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں بلکہ بہت کچھ زیادہ اور بہت کچھ زیادہ انہوں نے کہا پھر وہاں فضلہ بھی نکلے گا ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ پسینہ آ کر سب ہضم ہوجائے گا ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جنتی کھجور کے درختوں کے ریش کا جنتیوں کا لباس بنائیں گے۔ یہ سرخ رنگ سونے کے ہوں گے اس کے تنے سبز زمرد میں ہوں گے اس کے پھل شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے گھٹلی بالکل نہ ہوگی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ میں نے جنت کے انار دیکھے اتنے بڑے تھے جیسے اونٹ مع ہودج۔ خیرات کے معنی بہ کثرت اور بہت حسین نہایت نیک خلق اور بہتر خلق ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ معنی مروی ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ حور عین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہوگا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں جو بزرگ خاوندوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں یہ پوری حدیث سورة واقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو ؟ حوریں ہیں جو خیموں میں رہتی سہتی ہیں یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لئے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لئے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے نہ سختی نہ گندگی نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہے در مجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے حضرت ابو درداء فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں ابن عباس فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہوگا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہوگا چار فرسخ چوڑا جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں سب کی سونے کی ہوں گی ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی ہزار خادم ہوں گے اور بہتر بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہوگا جو جابیہ سے صنعاء تک پہنچے پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گذر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گذر چکی ہے ہاں پہلی جنتوں کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ تمہیں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے ؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیے یہ جنتی سبز رنگ اعلیٰ قیمتی فرشوں غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے یہ تخت یہ فرش یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیا ریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے کوئی سرخ رنگ ہوگا کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جاسکے یہ بسترے مخملی ہوں گے جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے ابو عبیدہ فرماتے ہیں عبقرہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب کی نسبت فرمایا میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہوگا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لئے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے ؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے جیسے کہ حضرت جبرائیل والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے پھر احسان کے بارے میں پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کہ دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ آمین۔ وہی مستحق احترام و اکرام ہے پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گذاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا (احمد) ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ ابو یعلیٰ میں ہے (یا ذا الجلال والاکرام) کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں یا کا لفظ نہیں جوہری فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لو تو عرب کہتے ہیں (اَلَظَّ) یعنی لفظ اس حدیث میں آیا ہے تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں دعا (اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام) الحمد اللہ اللہ کے فضل و کرم سے سورة الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔

اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخ دار۔ یہاں فرمایا آیت (مُدْهَاۗمَّتٰنِ 64ۚ) 55۔ الرحمن :64) یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ ابن عباس فرماتے ہیں سبز، محمد بن کعب فرماتے ہیں سبزی سے پُر، قتادہ فرماتے ہیں اس قدر پھل پکے ہوئے تیار ہیں کہ وہ ساری جنت سرسبز معلوم ہو رہی ہے الغرض وہاں شاخوں کی پھیلاوٹ بیان ہوئی یہاں درختوں کی کثرت بیان فرمائی گئی تو ظاہر ہے کہ اس میں اور اس میں بھی بہت فرق ہے ان کی نہروں کی بابت لفظ آیت (تجریان) ہے اور یہاں لفظ آیت (فِيْهِمَا عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ 66ۚ) 55۔ الرحمن :66) ہے یعنی ابلنے والی اور یہ ظاہر ہے کہ نضخ سے جری یعنی ابلنے سے بہنا بہت برتری والا ہے حضرت ضحاک فرماتے ہیں یعنی پُر ہیں پانی رکتا نہیں اور لیجئے وہاں فرمایا تھا کہ ہر قسم کے میووں کے جوڑے ہیں اور یہاں فرمایا اس میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں تو ظاہر ہے کہ پہلے کے الفاظ عمومیت کے لئے ہوئے ہیں وہ قسم کے اعتبار سے اور کمیت کے اعتبار سے بھی اس سے افضلیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں لفظ فاکھہ گو نکرہ ہے لیکن سیاق میں اثبات کے ہے اس لئے عام نہ ہوگا اسی لئے بطور تفسیر کے بعد میں نخل و رمان کہہ دیا۔ جیسے عطف خاص عام پر ہوتا ہے امام بخاری وغیرہ کی تحقیق بھی یہی ہے کھجور اور انار کو خاصۃ اس لئے ذکر کیا کہ اور میووں پر انہیں شرف ہے۔ مسند عبد بن حمید میں ہے یہودیوں نے آکر رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا جنت میں میوے ہیں ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ہاں ہیں انہوں نے پوچھا کیا جنتی دنیا کی طرح وہاں بھی کھائیں پئیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں بلکہ بہت کچھ زیادہ اور بہت کچھ زیادہ انہوں نے کہا پھر وہاں فضلہ بھی نکلے گا ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ پسینہ آ کر سب ہضم ہوجائے گا ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جنتی کھجور کے درختوں کے ریش کا جنتیوں کا لباس بنائیں گے۔ یہ سرخ رنگ سونے کے ہوں گے اس کے تنے سبز زمرد میں ہوں گے اس کے پھل شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے گھٹلی بالکل نہ ہوگی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ میں نے جنت کے انار دیکھے اتنے بڑے تھے جیسے اونٹ مع ہودج۔ خیرات کے معنی بہ کثرت اور بہت حسین نہایت نیک خلق اور بہتر خلق ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ معنی مروی ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ حور عین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہوگا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں جو بزرگ خاوندوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں یہ پوری حدیث سورة واقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو ؟ حوریں ہیں جو خیموں میں رہتی سہتی ہیں یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لئے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لئے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے نہ سختی نہ گندگی نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہے در مجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے حضرت ابو درداء فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں ابن عباس فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہوگا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہوگا چار فرسخ چوڑا جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں سب کی سونے کی ہوں گی ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی ہزار خادم ہوں گے اور بہتر بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہوگا جو جابیہ سے صنعاء تک پہنچے پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گذر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گذر چکی ہے ہاں پہلی جنتوں کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ تمہیں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے ؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیے یہ جنتی سبز رنگ اعلیٰ قیمتی فرشوں غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے یہ تخت یہ فرش یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیا ریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے کوئی سرخ رنگ ہوگا کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جاسکے یہ بسترے مخملی ہوں گے جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے ابو عبیدہ فرماتے ہیں عبقرہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب کی نسبت فرمایا میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہوگا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لئے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے ؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے جیسے کہ حضرت جبرائیل والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے پھر احسان کے بارے میں پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کہ دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ آمین۔ وہی مستحق احترام و اکرام ہے پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گذاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا (احمد) ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ ابو یعلیٰ میں ہے (یا ذا الجلال والاکرام) کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں یا کا لفظ نہیں جوہری فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لو تو عرب کہتے ہیں (اَلَظَّ) یعنی لفظ اس حدیث میں آیا ہے تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں دعا (اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام) الحمد اللہ اللہ کے فضل و کرم سے سورة الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔

اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخ دار۔ یہاں فرمایا آیت (مُدْهَاۗمَّتٰنِ 64ۚ) 55۔ الرحمن :64) یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ ابن عباس فرماتے ہیں سبز، محمد بن کعب فرماتے ہیں سبزی سے پُر، قتادہ فرماتے ہیں اس قدر پھل پکے ہوئے تیار ہیں کہ وہ ساری جنت سرسبز معلوم ہو رہی ہے الغرض وہاں شاخوں کی پھیلاوٹ بیان ہوئی یہاں درختوں کی کثرت بیان فرمائی گئی تو ظاہر ہے کہ اس میں اور اس میں بھی بہت فرق ہے ان کی نہروں کی بابت لفظ آیت (تجریان) ہے اور یہاں لفظ آیت (فِيْهِمَا عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ 66ۚ) 55۔ الرحمن :66) ہے یعنی ابلنے والی اور یہ ظاہر ہے کہ نضخ سے جری یعنی ابلنے سے بہنا بہت برتری والا ہے حضرت ضحاک فرماتے ہیں یعنی پُر ہیں پانی رکتا نہیں اور لیجئے وہاں فرمایا تھا کہ ہر قسم کے میووں کے جوڑے ہیں اور یہاں فرمایا اس میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں تو ظاہر ہے کہ پہلے کے الفاظ عمومیت کے لئے ہوئے ہیں وہ قسم کے اعتبار سے اور کمیت کے اعتبار سے بھی اس سے افضلیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں لفظ فاکھہ گو نکرہ ہے لیکن سیاق میں اثبات کے ہے اس لئے عام نہ ہوگا اسی لئے بطور تفسیر کے بعد میں نخل و رمان کہہ دیا۔ جیسے عطف خاص عام پر ہوتا ہے امام بخاری وغیرہ کی تحقیق بھی یہی ہے کھجور اور انار کو خاصۃ اس لئے ذکر کیا کہ اور میووں پر انہیں شرف ہے۔ مسند عبد بن حمید میں ہے یہودیوں نے آکر رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا جنت میں میوے ہیں ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ہاں ہیں انہوں نے پوچھا کیا جنتی دنیا کی طرح وہاں بھی کھائیں پئیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں بلکہ بہت کچھ زیادہ اور بہت کچھ زیادہ انہوں نے کہا پھر وہاں فضلہ بھی نکلے گا ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ پسینہ آ کر سب ہضم ہوجائے گا ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جنتی کھجور کے درختوں کے ریش کا جنتیوں کا لباس بنائیں گے۔ یہ سرخ رنگ سونے کے ہوں گے اس کے تنے سبز زمرد میں ہوں گے اس کے پھل شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے گھٹلی بالکل نہ ہوگی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ میں نے جنت کے انار دیکھے اتنے بڑے تھے جیسے اونٹ مع ہودج۔ خیرات کے معنی بہ کثرت اور بہت حسین نہایت نیک خلق اور بہتر خلق ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ معنی مروی ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ حور عین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہوگا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں جو بزرگ خاوندوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں یہ پوری حدیث سورة واقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو ؟ حوریں ہیں جو خیموں میں رہتی سہتی ہیں یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لئے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لئے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے نہ سختی نہ گندگی نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہے در مجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے حضرت ابو درداء فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں ابن عباس فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہوگا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہوگا چار فرسخ چوڑا جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں سب کی سونے کی ہوں گی ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی ہزار خادم ہوں گے اور بہتر بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہوگا جو جابیہ سے صنعاء تک پہنچے پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گذر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گذر چکی ہے ہاں پہلی جنتوں کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ تمہیں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے ؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیے یہ جنتی سبز رنگ اعلیٰ قیمتی فرشوں غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے یہ تخت یہ فرش یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیا ریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے کوئی سرخ رنگ ہوگا کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جاسکے یہ بسترے مخملی ہوں گے جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے ابو عبیدہ فرماتے ہیں عبقرہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب کی نسبت فرمایا میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہوگا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لئے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے ؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے جیسے کہ حضرت جبرائیل والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے پھر احسان کے بارے میں پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کہ دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ آمین۔ وہی مستحق احترام و اکرام ہے پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گذاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا (احمد) ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ ابو یعلیٰ میں ہے (یا ذا الجلال والاکرام) کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں یا کا لفظ نہیں جوہری فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لو تو عرب کہتے ہیں (اَلَظَّ) یعنی لفظ اس حدیث میں آیا ہے تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں دعا (اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام) الحمد اللہ اللہ کے فضل و کرم سے سورة الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔

اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخ دار۔ یہاں فرمایا آیت (مُدْهَاۗمَّتٰنِ 64ۚ) 55۔ الرحمن :64) یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ ابن عباس فرماتے ہیں سبز، محمد بن کعب فرماتے ہیں سبزی سے پُر، قتادہ فرماتے ہیں اس قدر پھل پکے ہوئے تیار ہیں کہ وہ ساری جنت سرسبز معلوم ہو رہی ہے الغرض وہاں شاخوں کی پھیلاوٹ بیان ہوئی یہاں درختوں کی کثرت بیان فرمائی گئی تو ظاہر ہے کہ اس میں اور اس میں بھی بہت فرق ہے ان کی نہروں کی بابت لفظ آیت (تجریان) ہے اور یہاں لفظ آیت (فِيْهِمَا عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ 66ۚ) 55۔ الرحمن :66) ہے یعنی ابلنے والی اور یہ ظاہر ہے کہ نضخ سے جری یعنی ابلنے سے بہنا بہت برتری والا ہے حضرت ضحاک فرماتے ہیں یعنی پُر ہیں پانی رکتا نہیں اور لیجئے وہاں فرمایا تھا کہ ہر قسم کے میووں کے جوڑے ہیں اور یہاں فرمایا اس میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں تو ظاہر ہے کہ پہلے کے الفاظ عمومیت کے لئے ہوئے ہیں وہ قسم کے اعتبار سے اور کمیت کے اعتبار سے بھی اس سے افضلیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں لفظ فاکھہ گو نکرہ ہے لیکن سیاق میں اثبات کے ہے اس لئے عام نہ ہوگا اسی لئے بطور تفسیر کے بعد میں نخل و رمان کہہ دیا۔ جیسے عطف خاص عام پر ہوتا ہے امام بخاری وغیرہ کی تحقیق بھی یہی ہے کھجور اور انار کو خاصۃ اس لئے ذکر کیا کہ اور میووں پر انہیں شرف ہے۔ مسند عبد بن حمید میں ہے یہودیوں نے آکر رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا جنت میں میوے ہیں ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ہاں ہیں انہوں نے پوچھا کیا جنتی دنیا کی طرح وہاں بھی کھائیں پئیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں بلکہ بہت کچھ زیادہ اور بہت کچھ زیادہ انہوں نے کہا پھر وہاں فضلہ بھی نکلے گا ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ پسینہ آ کر سب ہضم ہوجائے گا ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جنتی کھجور کے درختوں کے ریش کا جنتیوں کا لباس بنائیں گے۔ یہ سرخ رنگ سونے کے ہوں گے اس کے تنے سبز زمرد میں ہوں گے اس کے پھل شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے گھٹلی بالکل نہ ہوگی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ میں نے جنت کے انار دیکھے اتنے بڑے تھے جیسے اونٹ مع ہودج۔ خیرات کے معنی بہ کثرت اور بہت حسین نہایت نیک خلق اور بہتر خلق ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ معنی مروی ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ حور عین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہوگا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں جو بزرگ خاوندوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں یہ پوری حدیث سورة واقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو ؟ حوریں ہیں جو خیموں میں رہتی سہتی ہیں یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لئے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لئے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے نہ سختی نہ گندگی نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہے در مجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے حضرت ابو درداء فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں ابن عباس فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہوگا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہوگا چار فرسخ چوڑا جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں سب کی سونے کی ہوں گی ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی ہزار خادم ہوں گے اور بہتر بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہوگا جو جابیہ سے صنعاء تک پہنچے پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گذر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گذر چکی ہے ہاں پہلی جنتوں کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ تمہیں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے ؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیے یہ جنتی سبز رنگ اعلیٰ قیمتی فرشوں غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے یہ تخت یہ فرش یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیا ریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے کوئی سرخ رنگ ہوگا کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جاسکے یہ بسترے مخملی ہوں گے جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے ابو عبیدہ فرماتے ہیں عبقرہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب کی نسبت فرمایا میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہوگا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لئے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے ؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے جیسے کہ حضرت جبرائیل والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے پھر احسان کے بارے میں پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کہ دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ آمین۔ وہی مستحق احترام و اکرام ہے پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گذاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا (احمد) ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ ابو یعلیٰ میں ہے (یا ذا الجلال والاکرام) کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں یا کا لفظ نہیں جوہری فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لو تو عرب کہتے ہیں (اَلَظَّ) یعنی لفظ اس حدیث میں آیا ہے تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں دعا (اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام) الحمد اللہ اللہ کے فضل و کرم سے سورة الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔

Source. Tafsir Ibn Kathir, Hafiz Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://quran.com/. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com