Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Mursalaat
Tafsir Ibn Kathir · The Emissaries · 50 ayat · ayat 31–50 · Quran text →
جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بہ کثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناؤ درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کرلیتے اسے ہم قصر کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہوجاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہوجاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہوچکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہوگئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا مکرنا چھپانا عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہوجائیں گی تو اب بول چال عذر معذرت ختم ہوجائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ کسی وقت وہ، اسی لئے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کرلو۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ اب خاموش کیوں ہو ؟ وہ عیاری، چالاکی اور بےباکی کیا ہوئی ؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کردیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو، جیسے اور جگہ ہے آیت (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ 33ۚ) 55۔ الرحمن :33) یعنی اے جن وانس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جاسکتے اور وہ تم میں نہیں اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا ۭ اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ 57) 11۔ ھود :57) یعنی تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو نہ تو تمہیں مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو، حضرت ابو عبد اللہ جدلی فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں حضرت عبادہ بن صامت ؓ اور حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ اور حضرت کعب احبار ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ حضرت عبادہ فرماتے ہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کردیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب مکر حیلہ کرسکتے ہو تو کرلو سنو ! متکبر سرکش منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پاسکتا ہے، حضرت عبد اللہ ؓ نے فرمایا لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر بہ آواز بلند کہے گی، اے لوگو تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہوگا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہوجائیں گے۔ (اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے۔
جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بہ کثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناؤ درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کرلیتے اسے ہم قصر کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہوجاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہوجاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہوچکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہوگئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا مکرنا چھپانا عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہوجائیں گی تو اب بول چال عذر معذرت ختم ہوجائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ کسی وقت وہ، اسی لئے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کرلو۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ اب خاموش کیوں ہو ؟ وہ عیاری، چالاکی اور بےباکی کیا ہوئی ؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کردیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو، جیسے اور جگہ ہے آیت (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ 33ۚ) 55۔ الرحمن :33) یعنی اے جن وانس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جاسکتے اور وہ تم میں نہیں اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا ۭ اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ 57) 11۔ ھود :57) یعنی تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو نہ تو تمہیں مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو، حضرت ابو عبد اللہ جدلی فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں حضرت عبادہ بن صامت ؓ اور حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ اور حضرت کعب احبار ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ حضرت عبادہ فرماتے ہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کردیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب مکر حیلہ کرسکتے ہو تو کرلو سنو ! متکبر سرکش منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پاسکتا ہے، حضرت عبد اللہ ؓ نے فرمایا لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر بہ آواز بلند کہے گی، اے لوگو تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہوگا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہوجائیں گے۔ (اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے۔
جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بہ کثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناؤ درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کرلیتے اسے ہم قصر کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہوجاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہوجاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہوچکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہوگئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا مکرنا چھپانا عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہوجائیں گی تو اب بول چال عذر معذرت ختم ہوجائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ کسی وقت وہ، اسی لئے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کرلو۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ اب خاموش کیوں ہو ؟ وہ عیاری، چالاکی اور بےباکی کیا ہوئی ؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کردیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو، جیسے اور جگہ ہے آیت (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ 33ۚ) 55۔ الرحمن :33) یعنی اے جن وانس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جاسکتے اور وہ تم میں نہیں اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا ۭ اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ 57) 11۔ ھود :57) یعنی تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو نہ تو تمہیں مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو، حضرت ابو عبد اللہ جدلی فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں حضرت عبادہ بن صامت ؓ اور حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ اور حضرت کعب احبار ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ حضرت عبادہ فرماتے ہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کردیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب مکر حیلہ کرسکتے ہو تو کرلو سنو ! متکبر سرکش منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پاسکتا ہے، حضرت عبد اللہ ؓ نے فرمایا لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر بہ آواز بلند کہے گی، اے لوگو تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہوگا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہوجائیں گے۔ (اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے۔
جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بہ کثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناؤ درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کرلیتے اسے ہم قصر کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہوجاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہوجاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہوچکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہوگئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا مکرنا چھپانا عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہوجائیں گی تو اب بول چال عذر معذرت ختم ہوجائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ کسی وقت وہ، اسی لئے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کرلو۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ اب خاموش کیوں ہو ؟ وہ عیاری، چالاکی اور بےباکی کیا ہوئی ؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کردیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو، جیسے اور جگہ ہے آیت (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ 33ۚ) 55۔ الرحمن :33) یعنی اے جن وانس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جاسکتے اور وہ تم میں نہیں اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا ۭ اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ 57) 11۔ ھود :57) یعنی تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو نہ تو تمہیں مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو، حضرت ابو عبد اللہ جدلی فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں حضرت عبادہ بن صامت ؓ اور حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ اور حضرت کعب احبار ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ حضرت عبادہ فرماتے ہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کردیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب مکر حیلہ کرسکتے ہو تو کرلو سنو ! متکبر سرکش منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پاسکتا ہے، حضرت عبد اللہ ؓ نے فرمایا لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر بہ آواز بلند کہے گی، اے لوگو تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہوگا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہوجائیں گے۔ (اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے۔
جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بہ کثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناؤ درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کرلیتے اسے ہم قصر کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہوجاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہوجاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہوچکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہوگئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا مکرنا چھپانا عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہوجائیں گی تو اب بول چال عذر معذرت ختم ہوجائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ کسی وقت وہ، اسی لئے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کرلو۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ اب خاموش کیوں ہو ؟ وہ عیاری، چالاکی اور بےباکی کیا ہوئی ؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کردیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو، جیسے اور جگہ ہے آیت (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ 33ۚ) 55۔ الرحمن :33) یعنی اے جن وانس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جاسکتے اور وہ تم میں نہیں اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا ۭ اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ 57) 11۔ ھود :57) یعنی تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو نہ تو تمہیں مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو، حضرت ابو عبد اللہ جدلی فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں حضرت عبادہ بن صامت ؓ اور حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ اور حضرت کعب احبار ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ حضرت عبادہ فرماتے ہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کردیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب مکر حیلہ کرسکتے ہو تو کرلو سنو ! متکبر سرکش منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پاسکتا ہے، حضرت عبد اللہ ؓ نے فرمایا لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر بہ آواز بلند کہے گی، اے لوگو تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہوگا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہوجائیں گے۔ (اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے۔
جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بہ کثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناؤ درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کرلیتے اسے ہم قصر کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہوجاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہوجاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہوچکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہوگئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا مکرنا چھپانا عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہوجائیں گی تو اب بول چال عذر معذرت ختم ہوجائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ کسی وقت وہ، اسی لئے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کرلو۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ اب خاموش کیوں ہو ؟ وہ عیاری، چالاکی اور بےباکی کیا ہوئی ؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کردیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو، جیسے اور جگہ ہے آیت (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ 33ۚ) 55۔ الرحمن :33) یعنی اے جن وانس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جاسکتے اور وہ تم میں نہیں اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا ۭ اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ 57) 11۔ ھود :57) یعنی تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو نہ تو تمہیں مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو، حضرت ابو عبد اللہ جدلی فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں حضرت عبادہ بن صامت ؓ اور حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ اور حضرت کعب احبار ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ حضرت عبادہ فرماتے ہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کردیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب مکر حیلہ کرسکتے ہو تو کرلو سنو ! متکبر سرکش منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پاسکتا ہے، حضرت عبد اللہ ؓ نے فرمایا لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر بہ آواز بلند کہے گی، اے لوگو تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہوگا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہوجائیں گے۔ (اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے۔
جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بہ کثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناؤ درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کرلیتے اسے ہم قصر کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہوجاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہوجاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہوچکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہوگئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا مکرنا چھپانا عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہوجائیں گی تو اب بول چال عذر معذرت ختم ہوجائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ کسی وقت وہ، اسی لئے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کرلو۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ اب خاموش کیوں ہو ؟ وہ عیاری، چالاکی اور بےباکی کیا ہوئی ؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کردیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو، جیسے اور جگہ ہے آیت (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ 33ۚ) 55۔ الرحمن :33) یعنی اے جن وانس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جاسکتے اور وہ تم میں نہیں اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا ۭ اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ 57) 11۔ ھود :57) یعنی تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو نہ تو تمہیں مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو، حضرت ابو عبد اللہ جدلی فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں حضرت عبادہ بن صامت ؓ اور حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ اور حضرت کعب احبار ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ حضرت عبادہ فرماتے ہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کردیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب مکر حیلہ کرسکتے ہو تو کرلو سنو ! متکبر سرکش منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پاسکتا ہے، حضرت عبد اللہ ؓ نے فرمایا لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر بہ آواز بلند کہے گی، اے لوگو تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہوگا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہوجائیں گے۔ (اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے۔
جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بہ کثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناؤ درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کرلیتے اسے ہم قصر کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہوجاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہوجاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہوچکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہوگئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا مکرنا چھپانا عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہوجائیں گی تو اب بول چال عذر معذرت ختم ہوجائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ کسی وقت وہ، اسی لئے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کرلو۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ اب خاموش کیوں ہو ؟ وہ عیاری، چالاکی اور بےباکی کیا ہوئی ؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کردیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو، جیسے اور جگہ ہے آیت (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ 33ۚ) 55۔ الرحمن :33) یعنی اے جن وانس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جاسکتے اور وہ تم میں نہیں اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا ۭ اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ 57) 11۔ ھود :57) یعنی تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو نہ تو تمہیں مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو، حضرت ابو عبد اللہ جدلی فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں حضرت عبادہ بن صامت ؓ اور حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ اور حضرت کعب احبار ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ حضرت عبادہ فرماتے ہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کردیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب مکر حیلہ کرسکتے ہو تو کرلو سنو ! متکبر سرکش منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پاسکتا ہے، حضرت عبد اللہ ؓ نے فرمایا لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر بہ آواز بلند کہے گی، اے لوگو تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہوگا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہوجائیں گے۔ (اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے۔
جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بہ کثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناؤ درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کرلیتے اسے ہم قصر کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہوجاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہوجاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہوچکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہوگئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا مکرنا چھپانا عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہوجائیں گی تو اب بول چال عذر معذرت ختم ہوجائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ کسی وقت وہ، اسی لئے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کرلو۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ اب خاموش کیوں ہو ؟ وہ عیاری، چالاکی اور بےباکی کیا ہوئی ؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کردیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو، جیسے اور جگہ ہے آیت (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ 33ۚ) 55۔ الرحمن :33) یعنی اے جن وانس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جاسکتے اور وہ تم میں نہیں اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا ۭ اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ 57) 11۔ ھود :57) یعنی تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو نہ تو تمہیں مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو، حضرت ابو عبد اللہ جدلی فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں حضرت عبادہ بن صامت ؓ اور حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ اور حضرت کعب احبار ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ حضرت عبادہ فرماتے ہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کردیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب مکر حیلہ کرسکتے ہو تو کرلو سنو ! متکبر سرکش منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پاسکتا ہے، حضرت عبد اللہ ؓ نے فرمایا لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر بہ آواز بلند کہے گی، اے لوگو تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہوگا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہوجائیں گے۔ (اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے۔
جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بہ کثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناؤ درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کرلیتے اسے ہم قصر کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہوجاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہوجاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہوچکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہوگئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا مکرنا چھپانا عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہوجائیں گی تو اب بول چال عذر معذرت ختم ہوجائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ کسی وقت وہ، اسی لئے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کرلو۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ اب خاموش کیوں ہو ؟ وہ عیاری، چالاکی اور بےباکی کیا ہوئی ؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کردیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو، جیسے اور جگہ ہے آیت (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ 33ۚ) 55۔ الرحمن :33) یعنی اے جن وانس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جاسکتے اور وہ تم میں نہیں اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا ۭ اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ 57) 11۔ ھود :57) یعنی تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو نہ تو تمہیں مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو، حضرت ابو عبد اللہ جدلی فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں حضرت عبادہ بن صامت ؓ اور حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ اور حضرت کعب احبار ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ حضرت عبادہ فرماتے ہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کردیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب مکر حیلہ کرسکتے ہو تو کرلو سنو ! متکبر سرکش منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پاسکتا ہے، حضرت عبد اللہ ؓ نے فرمایا لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر بہ آواز بلند کہے گی، اے لوگو تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہوگا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہوجائیں گے۔ (اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے۔
دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ : اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ جو لوگ متقی پرہیزگار تھے اللہ کے عبادت گزار تھے فرائض اور واجبات کے پابند تھے۔ اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبو دار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں بہ آرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے نہ کمی اور نقصان کا اندیشہ ہے، نہ فنا ہونے اور ختم ہونے کا خطرہ ہے، پھر حوصلہ بڑھانے اور دل میں خوشی کو دو بالا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار فرمایا جاتا ہے کہ اے میرے پیارے بندو تم بہ خوشی اور بافراغت لذیذ پر کیف طعام خوب کھاؤ پیو، ہم ہر نیک کار پرہیزگار مخلص انسان کو اسی طرح بھلا بدلہ اور نیک جزا دیتے ہیں۔ ہاں جھٹلانے والوں کی تو آج بڑی خرابی ہے ان جھٹلانے والوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ اچھا دنیا میں تو تم کچھ کھا پی لو، برت برتالو، فائدے اٹھالو، عنقریب یہ نعمتیں بھی فنا ہوجائیں گی اور تم بھی موت کے گھاٹ اترو گے۔ پھر تمہارا نتیجہ جہنم ہی ہے جس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے۔ تمہاری بد اعمالیوں اور سیہ کاریوں کی سزا ہمارے پاس تیار ہے کوئی مجرم ہماری نگاہ سے باہر نہیں، قیامت کو، ہمارے نبی ﷺ کو ہماری وحی کو نہ ماننے والا اسے جھوٹا جاننے والا قیامت کے دن سخت نقصان میں اور پورے خسارے میں ہوگا۔ اسی کی سخت خرابی ہوگی۔ جیسے اور جگہ ارشد ہے آیت (نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ 24) 31۔ لقمان :24) دنیا میں ہم انہیں تھوڑا سا فائدہ پہنچا دیں گے پھر تو ہم انہیں سخت عذاب کیطرف بےبس کردیں گے اور جگہ فرمان ہے (قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ 69) 10۔ یونس :69) یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والا کامیاب نہیں ہوسکتے۔ دنیا میں یونہی سا فائدہ اٹھا لیں پھر ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے، ہم انہیں ان کے کفر کی سزا میں سخت تر عذاب چکھائیں گے۔ پھر فرمایا کہ ان نادان منکروں کو جب کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے سامنے جھک تو لو، جماعت کے ساتھ نماز تو ادا کرلو تو ان سے یہ بھی نہیں ہوسکتا، اس سے بھی جی چراتے ہیں بلکہ اسے حقارت سے دیکھتے ہیں اور تکبر کے ساتھ انکار کردیتے ہیں۔ ان کے لئے جو جھٹلانے میں عمریں گذار دیتے ہیں قیامت کے دن بڑی مصیبت ہوگی۔ پھر فرمایا جب یہ لوگ اس پاک کلام مجید پر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر کس کلام کو مانیں گے ؟ جیسے اور جگہ ہے (فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ) 45۔ الجاثية :6) یعنی اللہ تعالیٰ پر اور اسکی آیتوں پر جب یہ ایمان نہ لائے تو اب کس بات پر ایمان لائیں گے ؟ ابن ابی حاتم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اس سورت کی اس آیت کو پڑھے اسے اس کے جواب میں (امنت باللہ وبما انزل) کہنا چاہئے۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان لایا۔ یہ حدیث سورة قیامہ کی تفسیر میں بھی گذر چکی ہے، سورة والمرسلات کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ انتیسویں پارے کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔ یہ محض اسی کا فضل و کرم اور لطف و رحم ہے۔ فالحمد للہ۔
دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ : اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ جو لوگ متقی پرہیزگار تھے اللہ کے عبادت گزار تھے فرائض اور واجبات کے پابند تھے۔ اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبو دار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں بہ آرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے نہ کمی اور نقصان کا اندیشہ ہے، نہ فنا ہونے اور ختم ہونے کا خطرہ ہے، پھر حوصلہ بڑھانے اور دل میں خوشی کو دو بالا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار فرمایا جاتا ہے کہ اے میرے پیارے بندو تم بہ خوشی اور بافراغت لذیذ پر کیف طعام خوب کھاؤ پیو، ہم ہر نیک کار پرہیزگار مخلص انسان کو اسی طرح بھلا بدلہ اور نیک جزا دیتے ہیں۔ ہاں جھٹلانے والوں کی تو آج بڑی خرابی ہے ان جھٹلانے والوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ اچھا دنیا میں تو تم کچھ کھا پی لو، برت برتالو، فائدے اٹھالو، عنقریب یہ نعمتیں بھی فنا ہوجائیں گی اور تم بھی موت کے گھاٹ اترو گے۔ پھر تمہارا نتیجہ جہنم ہی ہے جس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے۔ تمہاری بد اعمالیوں اور سیہ کاریوں کی سزا ہمارے پاس تیار ہے کوئی مجرم ہماری نگاہ سے باہر نہیں، قیامت کو، ہمارے نبی ﷺ کو ہماری وحی کو نہ ماننے والا اسے جھوٹا جاننے والا قیامت کے دن سخت نقصان میں اور پورے خسارے میں ہوگا۔ اسی کی سخت خرابی ہوگی۔ جیسے اور جگہ ارشد ہے آیت (نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ 24) 31۔ لقمان :24) دنیا میں ہم انہیں تھوڑا سا فائدہ پہنچا دیں گے پھر تو ہم انہیں سخت عذاب کیطرف بےبس کردیں گے اور جگہ فرمان ہے (قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ 69) 10۔ یونس :69) یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والا کامیاب نہیں ہوسکتے۔ دنیا میں یونہی سا فائدہ اٹھا لیں پھر ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے، ہم انہیں ان کے کفر کی سزا میں سخت تر عذاب چکھائیں گے۔ پھر فرمایا کہ ان نادان منکروں کو جب کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے سامنے جھک تو لو، جماعت کے ساتھ نماز تو ادا کرلو تو ان سے یہ بھی نہیں ہوسکتا، اس سے بھی جی چراتے ہیں بلکہ اسے حقارت سے دیکھتے ہیں اور تکبر کے ساتھ انکار کردیتے ہیں۔ ان کے لئے جو جھٹلانے میں عمریں گذار دیتے ہیں قیامت کے دن بڑی مصیبت ہوگی۔ پھر فرمایا جب یہ لوگ اس پاک کلام مجید پر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر کس کلام کو مانیں گے ؟ جیسے اور جگہ ہے (فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ) 45۔ الجاثية :6) یعنی اللہ تعالیٰ پر اور اسکی آیتوں پر جب یہ ایمان نہ لائے تو اب کس بات پر ایمان لائیں گے ؟ ابن ابی حاتم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اس سورت کی اس آیت کو پڑھے اسے اس کے جواب میں (امنت باللہ وبما انزل) کہنا چاہئے۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان لایا۔ یہ حدیث سورة قیامہ کی تفسیر میں بھی گذر چکی ہے، سورة والمرسلات کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ انتیسویں پارے کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔ یہ محض اسی کا فضل و کرم اور لطف و رحم ہے۔ فالحمد للہ۔
دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ : اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ جو لوگ متقی پرہیزگار تھے اللہ کے عبادت گزار تھے فرائض اور واجبات کے پابند تھے۔ اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبو دار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں بہ آرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے نہ کمی اور نقصان کا اندیشہ ہے، نہ فنا ہونے اور ختم ہونے کا خطرہ ہے، پھر حوصلہ بڑھانے اور دل میں خوشی کو دو بالا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار فرمایا جاتا ہے کہ اے میرے پیارے بندو تم بہ خوشی اور بافراغت لذیذ پر کیف طعام خوب کھاؤ پیو، ہم ہر نیک کار پرہیزگار مخلص انسان کو اسی طرح بھلا بدلہ اور نیک جزا دیتے ہیں۔ ہاں جھٹلانے والوں کی تو آج بڑی خرابی ہے ان جھٹلانے والوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ اچھا دنیا میں تو تم کچھ کھا پی لو، برت برتالو، فائدے اٹھالو، عنقریب یہ نعمتیں بھی فنا ہوجائیں گی اور تم بھی موت کے گھاٹ اترو گے۔ پھر تمہارا نتیجہ جہنم ہی ہے جس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے۔ تمہاری بد اعمالیوں اور سیہ کاریوں کی سزا ہمارے پاس تیار ہے کوئی مجرم ہماری نگاہ سے باہر نہیں، قیامت کو، ہمارے نبی ﷺ کو ہماری وحی کو نہ ماننے والا اسے جھوٹا جاننے والا قیامت کے دن سخت نقصان میں اور پورے خسارے میں ہوگا۔ اسی کی سخت خرابی ہوگی۔ جیسے اور جگہ ارشد ہے آیت (نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ 24) 31۔ لقمان :24) دنیا میں ہم انہیں تھوڑا سا فائدہ پہنچا دیں گے پھر تو ہم انہیں سخت عذاب کیطرف بےبس کردیں گے اور جگہ فرمان ہے (قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ 69) 10۔ یونس :69) یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والا کامیاب نہیں ہوسکتے۔ دنیا میں یونہی سا فائدہ اٹھا لیں پھر ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے، ہم انہیں ان کے کفر کی سزا میں سخت تر عذاب چکھائیں گے۔ پھر فرمایا کہ ان نادان منکروں کو جب کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے سامنے جھک تو لو، جماعت کے ساتھ نماز تو ادا کرلو تو ان سے یہ بھی نہیں ہوسکتا، اس سے بھی جی چراتے ہیں بلکہ اسے حقارت سے دیکھتے ہیں اور تکبر کے ساتھ انکار کردیتے ہیں۔ ان کے لئے جو جھٹلانے میں عمریں گذار دیتے ہیں قیامت کے دن بڑی مصیبت ہوگی۔ پھر فرمایا جب یہ لوگ اس پاک کلام مجید پر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر کس کلام کو مانیں گے ؟ جیسے اور جگہ ہے (فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ) 45۔ الجاثية :6) یعنی اللہ تعالیٰ پر اور اسکی آیتوں پر جب یہ ایمان نہ لائے تو اب کس بات پر ایمان لائیں گے ؟ ابن ابی حاتم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اس سورت کی اس آیت کو پڑھے اسے اس کے جواب میں (امنت باللہ وبما انزل) کہنا چاہئے۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان لایا۔ یہ حدیث سورة قیامہ کی تفسیر میں بھی گذر چکی ہے، سورة والمرسلات کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ انتیسویں پارے کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔ یہ محض اسی کا فضل و کرم اور لطف و رحم ہے۔ فالحمد للہ۔
دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ : اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ جو لوگ متقی پرہیزگار تھے اللہ کے عبادت گزار تھے فرائض اور واجبات کے پابند تھے۔ اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبو دار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں بہ آرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے نہ کمی اور نقصان کا اندیشہ ہے، نہ فنا ہونے اور ختم ہونے کا خطرہ ہے، پھر حوصلہ بڑھانے اور دل میں خوشی کو دو بالا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار فرمایا جاتا ہے کہ اے میرے پیارے بندو تم بہ خوشی اور بافراغت لذیذ پر کیف طعام خوب کھاؤ پیو، ہم ہر نیک کار پرہیزگار مخلص انسان کو اسی طرح بھلا بدلہ اور نیک جزا دیتے ہیں۔ ہاں جھٹلانے والوں کی تو آج بڑی خرابی ہے ان جھٹلانے والوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ اچھا دنیا میں تو تم کچھ کھا پی لو، برت برتالو، فائدے اٹھالو، عنقریب یہ نعمتیں بھی فنا ہوجائیں گی اور تم بھی موت کے گھاٹ اترو گے۔ پھر تمہارا نتیجہ جہنم ہی ہے جس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے۔ تمہاری بد اعمالیوں اور سیہ کاریوں کی سزا ہمارے پاس تیار ہے کوئی مجرم ہماری نگاہ سے باہر نہیں، قیامت کو، ہمارے نبی ﷺ کو ہماری وحی کو نہ ماننے والا اسے جھوٹا جاننے والا قیامت کے دن سخت نقصان میں اور پورے خسارے میں ہوگا۔ اسی کی سخت خرابی ہوگی۔ جیسے اور جگہ ارشد ہے آیت (نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ 24) 31۔ لقمان :24) دنیا میں ہم انہیں تھوڑا سا فائدہ پہنچا دیں گے پھر تو ہم انہیں سخت عذاب کیطرف بےبس کردیں گے اور جگہ فرمان ہے (قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ 69) 10۔ یونس :69) یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والا کامیاب نہیں ہوسکتے۔ دنیا میں یونہی سا فائدہ اٹھا لیں پھر ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے، ہم انہیں ان کے کفر کی سزا میں سخت تر عذاب چکھائیں گے۔ پھر فرمایا کہ ان نادان منکروں کو جب کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے سامنے جھک تو لو، جماعت کے ساتھ نماز تو ادا کرلو تو ان سے یہ بھی نہیں ہوسکتا، اس سے بھی جی چراتے ہیں بلکہ اسے حقارت سے دیکھتے ہیں اور تکبر کے ساتھ انکار کردیتے ہیں۔ ان کے لئے جو جھٹلانے میں عمریں گذار دیتے ہیں قیامت کے دن بڑی مصیبت ہوگی۔ پھر فرمایا جب یہ لوگ اس پاک کلام مجید پر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر کس کلام کو مانیں گے ؟ جیسے اور جگہ ہے (فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ) 45۔ الجاثية :6) یعنی اللہ تعالیٰ پر اور اسکی آیتوں پر جب یہ ایمان نہ لائے تو اب کس بات پر ایمان لائیں گے ؟ ابن ابی حاتم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اس سورت کی اس آیت کو پڑھے اسے اس کے جواب میں (امنت باللہ وبما انزل) کہنا چاہئے۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان لایا۔ یہ حدیث سورة قیامہ کی تفسیر میں بھی گذر چکی ہے، سورة والمرسلات کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ انتیسویں پارے کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔ یہ محض اسی کا فضل و کرم اور لطف و رحم ہے۔ فالحمد للہ۔
دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ : اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ جو لوگ متقی پرہیزگار تھے اللہ کے عبادت گزار تھے فرائض اور واجبات کے پابند تھے۔ اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبو دار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں بہ آرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے نہ کمی اور نقصان کا اندیشہ ہے، نہ فنا ہونے اور ختم ہونے کا خطرہ ہے، پھر حوصلہ بڑھانے اور دل میں خوشی کو دو بالا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار فرمایا جاتا ہے کہ اے میرے پیارے بندو تم بہ خوشی اور بافراغت لذیذ پر کیف طعام خوب کھاؤ پیو، ہم ہر نیک کار پرہیزگار مخلص انسان کو اسی طرح بھلا بدلہ اور نیک جزا دیتے ہیں۔ ہاں جھٹلانے والوں کی تو آج بڑی خرابی ہے ان جھٹلانے والوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ اچھا دنیا میں تو تم کچھ کھا پی لو، برت برتالو، فائدے اٹھالو، عنقریب یہ نعمتیں بھی فنا ہوجائیں گی اور تم بھی موت کے گھاٹ اترو گے۔ پھر تمہارا نتیجہ جہنم ہی ہے جس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے۔ تمہاری بد اعمالیوں اور سیہ کاریوں کی سزا ہمارے پاس تیار ہے کوئی مجرم ہماری نگاہ سے باہر نہیں، قیامت کو، ہمارے نبی ﷺ کو ہماری وحی کو نہ ماننے والا اسے جھوٹا جاننے والا قیامت کے دن سخت نقصان میں اور پورے خسارے میں ہوگا۔ اسی کی سخت خرابی ہوگی۔ جیسے اور جگہ ارشد ہے آیت (نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ 24) 31۔ لقمان :24) دنیا میں ہم انہیں تھوڑا سا فائدہ پہنچا دیں گے پھر تو ہم انہیں سخت عذاب کیطرف بےبس کردیں گے اور جگہ فرمان ہے (قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ 69) 10۔ یونس :69) یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والا کامیاب نہیں ہوسکتے۔ دنیا میں یونہی سا فائدہ اٹھا لیں پھر ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے، ہم انہیں ان کے کفر کی سزا میں سخت تر عذاب چکھائیں گے۔ پھر فرمایا کہ ان نادان منکروں کو جب کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے سامنے جھک تو لو، جماعت کے ساتھ نماز تو ادا کرلو تو ان سے یہ بھی نہیں ہوسکتا، اس سے بھی جی چراتے ہیں بلکہ اسے حقارت سے دیکھتے ہیں اور تکبر کے ساتھ انکار کردیتے ہیں۔ ان کے لئے جو جھٹلانے میں عمریں گذار دیتے ہیں قیامت کے دن بڑی مصیبت ہوگی۔ پھر فرمایا جب یہ لوگ اس پاک کلام مجید پر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر کس کلام کو مانیں گے ؟ جیسے اور جگہ ہے (فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ) 45۔ الجاثية :6) یعنی اللہ تعالیٰ پر اور اسکی آیتوں پر جب یہ ایمان نہ لائے تو اب کس بات پر ایمان لائیں گے ؟ ابن ابی حاتم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اس سورت کی اس آیت کو پڑھے اسے اس کے جواب میں (امنت باللہ وبما انزل) کہنا چاہئے۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان لایا۔ یہ حدیث سورة قیامہ کی تفسیر میں بھی گذر چکی ہے، سورة والمرسلات کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ انتیسویں پارے کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔ یہ محض اسی کا فضل و کرم اور لطف و رحم ہے۔ فالحمد للہ۔
دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ : اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ جو لوگ متقی پرہیزگار تھے اللہ کے عبادت گزار تھے فرائض اور واجبات کے پابند تھے۔ اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبو دار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں بہ آرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے نہ کمی اور نقصان کا اندیشہ ہے، نہ فنا ہونے اور ختم ہونے کا خطرہ ہے، پھر حوصلہ بڑھانے اور دل میں خوشی کو دو بالا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار فرمایا جاتا ہے کہ اے میرے پیارے بندو تم بہ خوشی اور بافراغت لذیذ پر کیف طعام خوب کھاؤ پیو، ہم ہر نیک کار پرہیزگار مخلص انسان کو اسی طرح بھلا بدلہ اور نیک جزا دیتے ہیں۔ ہاں جھٹلانے والوں کی تو آج بڑی خرابی ہے ان جھٹلانے والوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ اچھا دنیا میں تو تم کچھ کھا پی لو، برت برتالو، فائدے اٹھالو، عنقریب یہ نعمتیں بھی فنا ہوجائیں گی اور تم بھی موت کے گھاٹ اترو گے۔ پھر تمہارا نتیجہ جہنم ہی ہے جس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے۔ تمہاری بد اعمالیوں اور سیہ کاریوں کی سزا ہمارے پاس تیار ہے کوئی مجرم ہماری نگاہ سے باہر نہیں، قیامت کو، ہمارے نبی ﷺ کو ہماری وحی کو نہ ماننے والا اسے جھوٹا جاننے والا قیامت کے دن سخت نقصان میں اور پورے خسارے میں ہوگا۔ اسی کی سخت خرابی ہوگی۔ جیسے اور جگہ ارشد ہے آیت (نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ 24) 31۔ لقمان :24) دنیا میں ہم انہیں تھوڑا سا فائدہ پہنچا دیں گے پھر تو ہم انہیں سخت عذاب کیطرف بےبس کردیں گے اور جگہ فرمان ہے (قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ 69) 10۔ یونس :69) یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والا کامیاب نہیں ہوسکتے۔ دنیا میں یونہی سا فائدہ اٹھا لیں پھر ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے، ہم انہیں ان کے کفر کی سزا میں سخت تر عذاب چکھائیں گے۔ پھر فرمایا کہ ان نادان منکروں کو جب کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے سامنے جھک تو لو، جماعت کے ساتھ نماز تو ادا کرلو تو ان سے یہ بھی نہیں ہوسکتا، اس سے بھی جی چراتے ہیں بلکہ اسے حقارت سے دیکھتے ہیں اور تکبر کے ساتھ انکار کردیتے ہیں۔ ان کے لئے جو جھٹلانے میں عمریں گذار دیتے ہیں قیامت کے دن بڑی مصیبت ہوگی۔ پھر فرمایا جب یہ لوگ اس پاک کلام مجید پر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر کس کلام کو مانیں گے ؟ جیسے اور جگہ ہے (فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ) 45۔ الجاثية :6) یعنی اللہ تعالیٰ پر اور اسکی آیتوں پر جب یہ ایمان نہ لائے تو اب کس بات پر ایمان لائیں گے ؟ ابن ابی حاتم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اس سورت کی اس آیت کو پڑھے اسے اس کے جواب میں (امنت باللہ وبما انزل) کہنا چاہئے۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان لایا۔ یہ حدیث سورة قیامہ کی تفسیر میں بھی گذر چکی ہے، سورة والمرسلات کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ انتیسویں پارے کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔ یہ محض اسی کا فضل و کرم اور لطف و رحم ہے۔ فالحمد للہ۔
دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ : اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ جو لوگ متقی پرہیزگار تھے اللہ کے عبادت گزار تھے فرائض اور واجبات کے پابند تھے۔ اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبو دار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں بہ آرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے نہ کمی اور نقصان کا اندیشہ ہے، نہ فنا ہونے اور ختم ہونے کا خطرہ ہے، پھر حوصلہ بڑھانے اور دل میں خوشی کو دو بالا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار فرمایا جاتا ہے کہ اے میرے پیارے بندو تم بہ خوشی اور بافراغت لذیذ پر کیف طعام خوب کھاؤ پیو، ہم ہر نیک کار پرہیزگار مخلص انسان کو اسی طرح بھلا بدلہ اور نیک جزا دیتے ہیں۔ ہاں جھٹلانے والوں کی تو آج بڑی خرابی ہے ان جھٹلانے والوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ اچھا دنیا میں تو تم کچھ کھا پی لو، برت برتالو، فائدے اٹھالو، عنقریب یہ نعمتیں بھی فنا ہوجائیں گی اور تم بھی موت کے گھاٹ اترو گے۔ پھر تمہارا نتیجہ جہنم ہی ہے جس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے۔ تمہاری بد اعمالیوں اور سیہ کاریوں کی سزا ہمارے پاس تیار ہے کوئی مجرم ہماری نگاہ سے باہر نہیں، قیامت کو، ہمارے نبی ﷺ کو ہماری وحی کو نہ ماننے والا اسے جھوٹا جاننے والا قیامت کے دن سخت نقصان میں اور پورے خسارے میں ہوگا۔ اسی کی سخت خرابی ہوگی۔ جیسے اور جگہ ارشد ہے آیت (نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ 24) 31۔ لقمان :24) دنیا میں ہم انہیں تھوڑا سا فائدہ پہنچا دیں گے پھر تو ہم انہیں سخت عذاب کیطرف بےبس کردیں گے اور جگہ فرمان ہے (قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ 69) 10۔ یونس :69) یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والا کامیاب نہیں ہوسکتے۔ دنیا میں یونہی سا فائدہ اٹھا لیں پھر ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے، ہم انہیں ان کے کفر کی سزا میں سخت تر عذاب چکھائیں گے۔ پھر فرمایا کہ ان نادان منکروں کو جب کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے سامنے جھک تو لو، جماعت کے ساتھ نماز تو ادا کرلو تو ان سے یہ بھی نہیں ہوسکتا، اس سے بھی جی چراتے ہیں بلکہ اسے حقارت سے دیکھتے ہیں اور تکبر کے ساتھ انکار کردیتے ہیں۔ ان کے لئے جو جھٹلانے میں عمریں گذار دیتے ہیں قیامت کے دن بڑی مصیبت ہوگی۔ پھر فرمایا جب یہ لوگ اس پاک کلام مجید پر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر کس کلام کو مانیں گے ؟ جیسے اور جگہ ہے (فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ) 45۔ الجاثية :6) یعنی اللہ تعالیٰ پر اور اسکی آیتوں پر جب یہ ایمان نہ لائے تو اب کس بات پر ایمان لائیں گے ؟ ابن ابی حاتم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اس سورت کی اس آیت کو پڑھے اسے اس کے جواب میں (امنت باللہ وبما انزل) کہنا چاہئے۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان لایا۔ یہ حدیث سورة قیامہ کی تفسیر میں بھی گذر چکی ہے، سورة والمرسلات کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ انتیسویں پارے کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔ یہ محض اسی کا فضل و کرم اور لطف و رحم ہے۔ فالحمد للہ۔
دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ : اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ جو لوگ متقی پرہیزگار تھے اللہ کے عبادت گزار تھے فرائض اور واجبات کے پابند تھے۔ اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبو دار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں بہ آرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے نہ کمی اور نقصان کا اندیشہ ہے، نہ فنا ہونے اور ختم ہونے کا خطرہ ہے، پھر حوصلہ بڑھانے اور دل میں خوشی کو دو بالا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار فرمایا جاتا ہے کہ اے میرے پیارے بندو تم بہ خوشی اور بافراغت لذیذ پر کیف طعام خوب کھاؤ پیو، ہم ہر نیک کار پرہیزگار مخلص انسان کو اسی طرح بھلا بدلہ اور نیک جزا دیتے ہیں۔ ہاں جھٹلانے والوں کی تو آج بڑی خرابی ہے ان جھٹلانے والوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ اچھا دنیا میں تو تم کچھ کھا پی لو، برت برتالو، فائدے اٹھالو، عنقریب یہ نعمتیں بھی فنا ہوجائیں گی اور تم بھی موت کے گھاٹ اترو گے۔ پھر تمہارا نتیجہ جہنم ہی ہے جس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے۔ تمہاری بد اعمالیوں اور سیہ کاریوں کی سزا ہمارے پاس تیار ہے کوئی مجرم ہماری نگاہ سے باہر نہیں، قیامت کو، ہمارے نبی ﷺ کو ہماری وحی کو نہ ماننے والا اسے جھوٹا جاننے والا قیامت کے دن سخت نقصان میں اور پورے خسارے میں ہوگا۔ اسی کی سخت خرابی ہوگی۔ جیسے اور جگہ ارشد ہے آیت (نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ 24) 31۔ لقمان :24) دنیا میں ہم انہیں تھوڑا سا فائدہ پہنچا دیں گے پھر تو ہم انہیں سخت عذاب کیطرف بےبس کردیں گے اور جگہ فرمان ہے (قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ 69) 10۔ یونس :69) یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والا کامیاب نہیں ہوسکتے۔ دنیا میں یونہی سا فائدہ اٹھا لیں پھر ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے، ہم انہیں ان کے کفر کی سزا میں سخت تر عذاب چکھائیں گے۔ پھر فرمایا کہ ان نادان منکروں کو جب کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے سامنے جھک تو لو، جماعت کے ساتھ نماز تو ادا کرلو تو ان سے یہ بھی نہیں ہوسکتا، اس سے بھی جی چراتے ہیں بلکہ اسے حقارت سے دیکھتے ہیں اور تکبر کے ساتھ انکار کردیتے ہیں۔ ان کے لئے جو جھٹلانے میں عمریں گذار دیتے ہیں قیامت کے دن بڑی مصیبت ہوگی۔ پھر فرمایا جب یہ لوگ اس پاک کلام مجید پر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر کس کلام کو مانیں گے ؟ جیسے اور جگہ ہے (فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ) 45۔ الجاثية :6) یعنی اللہ تعالیٰ پر اور اسکی آیتوں پر جب یہ ایمان نہ لائے تو اب کس بات پر ایمان لائیں گے ؟ ابن ابی حاتم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اس سورت کی اس آیت کو پڑھے اسے اس کے جواب میں (امنت باللہ وبما انزل) کہنا چاہئے۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان لایا۔ یہ حدیث سورة قیامہ کی تفسیر میں بھی گذر چکی ہے، سورة والمرسلات کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ انتیسویں پارے کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔ یہ محض اسی کا فضل و کرم اور لطف و رحم ہے۔ فالحمد للہ۔
دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ : اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ جو لوگ متقی پرہیزگار تھے اللہ کے عبادت گزار تھے فرائض اور واجبات کے پابند تھے۔ اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبو دار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں بہ آرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے نہ کمی اور نقصان کا اندیشہ ہے، نہ فنا ہونے اور ختم ہونے کا خطرہ ہے، پھر حوصلہ بڑھانے اور دل میں خوشی کو دو بالا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار فرمایا جاتا ہے کہ اے میرے پیارے بندو تم بہ خوشی اور بافراغت لذیذ پر کیف طعام خوب کھاؤ پیو، ہم ہر نیک کار پرہیزگار مخلص انسان کو اسی طرح بھلا بدلہ اور نیک جزا دیتے ہیں۔ ہاں جھٹلانے والوں کی تو آج بڑی خرابی ہے ان جھٹلانے والوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ اچھا دنیا میں تو تم کچھ کھا پی لو، برت برتالو، فائدے اٹھالو، عنقریب یہ نعمتیں بھی فنا ہوجائیں گی اور تم بھی موت کے گھاٹ اترو گے۔ پھر تمہارا نتیجہ جہنم ہی ہے جس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے۔ تمہاری بد اعمالیوں اور سیہ کاریوں کی سزا ہمارے پاس تیار ہے کوئی مجرم ہماری نگاہ سے باہر نہیں، قیامت کو، ہمارے نبی ﷺ کو ہماری وحی کو نہ ماننے والا اسے جھوٹا جاننے والا قیامت کے دن سخت نقصان میں اور پورے خسارے میں ہوگا۔ اسی کی سخت خرابی ہوگی۔ جیسے اور جگہ ارشد ہے آیت (نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ 24) 31۔ لقمان :24) دنیا میں ہم انہیں تھوڑا سا فائدہ پہنچا دیں گے پھر تو ہم انہیں سخت عذاب کیطرف بےبس کردیں گے اور جگہ فرمان ہے (قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ 69) 10۔ یونس :69) یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والا کامیاب نہیں ہوسکتے۔ دنیا میں یونہی سا فائدہ اٹھا لیں پھر ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے، ہم انہیں ان کے کفر کی سزا میں سخت تر عذاب چکھائیں گے۔ پھر فرمایا کہ ان نادان منکروں کو جب کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے سامنے جھک تو لو، جماعت کے ساتھ نماز تو ادا کرلو تو ان سے یہ بھی نہیں ہوسکتا، اس سے بھی جی چراتے ہیں بلکہ اسے حقارت سے دیکھتے ہیں اور تکبر کے ساتھ انکار کردیتے ہیں۔ ان کے لئے جو جھٹلانے میں عمریں گذار دیتے ہیں قیامت کے دن بڑی مصیبت ہوگی۔ پھر فرمایا جب یہ لوگ اس پاک کلام مجید پر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر کس کلام کو مانیں گے ؟ جیسے اور جگہ ہے (فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ) 45۔ الجاثية :6) یعنی اللہ تعالیٰ پر اور اسکی آیتوں پر جب یہ ایمان نہ لائے تو اب کس بات پر ایمان لائیں گے ؟ ابن ابی حاتم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اس سورت کی اس آیت کو پڑھے اسے اس کے جواب میں (امنت باللہ وبما انزل) کہنا چاہئے۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان لایا۔ یہ حدیث سورة قیامہ کی تفسیر میں بھی گذر چکی ہے، سورة والمرسلات کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ انتیسویں پارے کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔ یہ محض اسی کا فضل و کرم اور لطف و رحم ہے۔ فالحمد للہ۔
دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ : اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ جو لوگ متقی پرہیزگار تھے اللہ کے عبادت گزار تھے فرائض اور واجبات کے پابند تھے۔ اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبو دار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں بہ آرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے نہ کمی اور نقصان کا اندیشہ ہے، نہ فنا ہونے اور ختم ہونے کا خطرہ ہے، پھر حوصلہ بڑھانے اور دل میں خوشی کو دو بالا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار فرمایا جاتا ہے کہ اے میرے پیارے بندو تم بہ خوشی اور بافراغت لذیذ پر کیف طعام خوب کھاؤ پیو، ہم ہر نیک کار پرہیزگار مخلص انسان کو اسی طرح بھلا بدلہ اور نیک جزا دیتے ہیں۔ ہاں جھٹلانے والوں کی تو آج بڑی خرابی ہے ان جھٹلانے والوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ اچھا دنیا میں تو تم کچھ کھا پی لو، برت برتالو، فائدے اٹھالو، عنقریب یہ نعمتیں بھی فنا ہوجائیں گی اور تم بھی موت کے گھاٹ اترو گے۔ پھر تمہارا نتیجہ جہنم ہی ہے جس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے۔ تمہاری بد اعمالیوں اور سیہ کاریوں کی سزا ہمارے پاس تیار ہے کوئی مجرم ہماری نگاہ سے باہر نہیں، قیامت کو، ہمارے نبی ﷺ کو ہماری وحی کو نہ ماننے والا اسے جھوٹا جاننے والا قیامت کے دن سخت نقصان میں اور پورے خسارے میں ہوگا۔ اسی کی سخت خرابی ہوگی۔ جیسے اور جگہ ارشد ہے آیت (نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ 24) 31۔ لقمان :24) دنیا میں ہم انہیں تھوڑا سا فائدہ پہنچا دیں گے پھر تو ہم انہیں سخت عذاب کیطرف بےبس کردیں گے اور جگہ فرمان ہے (قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ 69) 10۔ یونس :69) یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والا کامیاب نہیں ہوسکتے۔ دنیا میں یونہی سا فائدہ اٹھا لیں پھر ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے، ہم انہیں ان کے کفر کی سزا میں سخت تر عذاب چکھائیں گے۔ پھر فرمایا کہ ان نادان منکروں کو جب کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے سامنے جھک تو لو، جماعت کے ساتھ نماز تو ادا کرلو تو ان سے یہ بھی نہیں ہوسکتا، اس سے بھی جی چراتے ہیں بلکہ اسے حقارت سے دیکھتے ہیں اور تکبر کے ساتھ انکار کردیتے ہیں۔ ان کے لئے جو جھٹلانے میں عمریں گذار دیتے ہیں قیامت کے دن بڑی مصیبت ہوگی۔ پھر فرمایا جب یہ لوگ اس پاک کلام مجید پر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر کس کلام کو مانیں گے ؟ جیسے اور جگہ ہے (فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ) 45۔ الجاثية :6) یعنی اللہ تعالیٰ پر اور اسکی آیتوں پر جب یہ ایمان نہ لائے تو اب کس بات پر ایمان لائیں گے ؟ ابن ابی حاتم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اس سورت کی اس آیت کو پڑھے اسے اس کے جواب میں (امنت باللہ وبما انزل) کہنا چاہئے۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان لایا۔ یہ حدیث سورة قیامہ کی تفسیر میں بھی گذر چکی ہے، سورة والمرسلات کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ انتیسویں پارے کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔ یہ محض اسی کا فضل و کرم اور لطف و رحم ہے۔ فالحمد للہ۔