John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah At-Tawba

Tafsir Ibn Kathir · The Repentance · 129 ayat · ayat 121–129 · Quran text →

مجاہدین کے اعمال کا بہترین بدلہ قربت الٰہی ہے یہ مجاہد جو کچھ تھوڑا بہت خرچ کریں اور راہ اللہ میں جس زمین پر چلیں پھریں، وہ سب ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ نکتہ یاد رہے کہ اوپر کا کام ذکر کرکے اجر کے بیان میں لفظ " بہ " لائے تھے اور یہاں نہیں لائے اس لیے کہ وہ غیر اختیاری افعال تھے اور یہ خود ان سے صادر ہوتے ہیں۔ پس یہاں فرماتا ہے کہ انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلہ اللہ تعالیٰ دے گا۔ اس آیت کا بہت بڑا حصہ اور اس کا کامل اجر حضرت عثمان ؓ نے سمیٹا ہے۔ غزوہ تبوک میں آپ نے دل کھول کر مال خرچ کیا۔ چناچہ مسند احمد میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے خطبے میں اس سختی کے لشکر کے امداد کا ذکر فرما کر اس کی رغبت دلائی تو حضرت عثمان ؓ نے کہا کہ ایک سو اونٹ مع اپنے کجاوے پالان رسیوں وغیرہ کے میں دونگا۔ آپ نے پھر اسی کو بیان فرمایا تو پھر سے حضرت عثمان ؓ نے فرمایا ایک سو اور بھی دونگا۔ آپ ایک زینہ منبر کا اترے پھر رغبت دلائی تو حضرت عثمان ؓ نے پھر فرمایا ایک سو اور بھی آپ نے خوشی خوشی اپنا ہاتھ ہلاتے ہوئے فرمایا بس عثمان ! آج کے بعد کوئی عمل نہ بھی کرے تو بھی یہی کافی ہے۔ اور روایت میں ہے کہ ایک ہزار دینار کی تھیلی لا کر حضرت عثمان نے آپ کے پلے میں ڈال دی۔ آپ انہیں اپنے ہاتھ سے الٹ پلٹ کرتے جاتے تھے اور فرما رہے تھے آج کے بعد یہ جو بھی عمل کریں انہیں نقصان نہ دے گا۔ بار بار یہی فرماتے رہے اس آیت کی تفسیر میں حضرت قتادہ فرماتے ہیں جس قدر انسان اپنے وطن سے اللہ کی راہ میں دور نکلتا ہے، اتنا ہی اللہ کے قرب میں بڑھتا ہے۔

نبی اکرم ﷺ کو تنہا نہ چھوڑو اس آیت میں اس بیان کی تفصیل ہے جو غزوہ تبوک میں حضور ﷺ کے ساتھ چلنے کے متعلق تھا۔ سلف کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ جب خود رسول اللہ ﷺ جہاد میں نکلیں تو آپ کا ساتھ دینا ہر ملسمان پر واجب ہے جیسے فرمایا (اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا وَّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 41؀) 9۔ التوبہ :41) اور فرمایا ہے (آیت ماکان لا ھل المدینہ) یعنی ہلکے بھاری نکل کھڑے ہوجاؤ۔ مدینے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو لائق نہیں کہ وہ رسول اللہ کے پیچھے رہ جائیں۔ پس یہ حکم اس آیت سے منسوخ ہوگیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ قبیلوں کے نکلنے کا بیان ہے اور ہر قبیلے کی ایک جماعت کے نکلنے کا اگر وہ سب نہ جائیں تاکہ آپ کے ساتھ جانے والے آپ پر اتری ہوئی وحی کو سمجھیں اور واپس آکر اپنی قوم کو دشمن کے حالات سے باخبر کریں۔ پس انہیں دونوں باتیں اس کوچ میں حاصل ہوجائیں گی۔ اور آپ کے بعد قبیلوں میں سے جانے والی جماعت یا تو دینی سمجھ کے لیے ہوگی یا جہاد کے لیے۔ کیونکہ یہ فرض کفایہ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے یہ معنی بھی مروی ہیں کہ مسلمانوں کو یہ چاہیے کہ سب کے سب چلے جائیں اور اللہ کے نبی ﷺ کو تنہا چھوڑ دیں۔ ہر جماعت میں سے چند لوگ جائیں اور آپ کی جازت سے جائیں جو باقی ہیں وہ ان کے بعد جو قرآن اترے، جو احکام بیان ہوں، انہیں سیکھیں، سمجھیں۔ جب یہ آجائیں تو انہیں سکھائیں پڑھائیں۔ اس وقت اور لوگ جائیں۔ یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ مجاہد فرماتے ہیں۔ یہ ان صحابیوں کے بارے میں اتری ہے جو بادیہ نشینوں میں گئے وہاں انہیں فوائد بھی پہنچے اور نفع کی چیزیں بھی ملیں۔ اور لوگوں کو انہوں نے ہدایات بھی کیں۔ لیکن بعض لوگوں نے انہیں طعنہ دیا کہ تم لوگ اپنے ساتھیوں کے پیچھے رہ جانے والے ہو۔ وہ میدان جہاد میں گئے اور تم آرام سے یہاں ہم میں ہو۔ ان کے بھی دل میں یہ بات بیٹھ گئی وہاں سے واپس آنحضرت ﷺ کے پاس چلے آئے۔ پس یہ آیت اتر اور انہیں معذور سمجھا گیا۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ لشکروں کو بھیجیں تو کچھ لوگوں کو آپ کی خدمت میں ہی رہنا چاہیے کہ وہ دین سیکھیں اور کچھ لوگ جائیں اپنی قوم کو دعوت حق دیں اور انہیں اگلے واقعات سے عبرت دلائیں ضحاک فرماتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ نفس نفیس جہاد کے لیے نکلیں اس وقت سوائے معذوروں، اندھوں وغیرہ کے کسی کو حلال نہیں کہ آپ کے ساتھ نہ جائے اور جب آپ لشکروں کو روانہ فرمائیں تو کسی کو حلال نہیں کہ آپ کی اجازت بغیر جائے۔ یہ لوگ جو حضور ﷺ کے پاس رہتے تھے، اپنے ساتھیوں کو جب کہ وہ واپس لوٹتے ان کے بعد کا اترا ہوا قرآن اور بیان شدہ احکام سنا دیتے پس آپ کی موجودگی میں سب کو نہ جانا چاہیے۔ مروی ہے کہ یہ آیت جہاد کے بارے میں نہیں بلکہ جب رسول اللہ ﷺ نے قبیلے مضر پر قحط سالی کی بد دعا کی اور ان کے ہاں قحط پڑا تو ان کے پورے قبیلے کے قبیلے مدینے شریف میں چلے آئے۔ یہاں جھوٹ موٹ اسلام ظاہر کر کے صحابہ پر اپنا بار ڈال دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو متنبہ کیا کہ دراصل یہ مومن نہیں۔ آپ نے انہیں ان کی جماعتوں کی طرف واپس کیا اور ان کی قوم کو ایسا کرنے سے ڈرایا۔ کہتے ہیں کہ ہر قبیلے میں سے کچھ لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں آتے، دین اسلام سیکھتے واپس جا کر اپنی قوم کو اللہ رسول کی اطاعت کا حکم کرتے، نماز زکوٰۃ کے مسائل سمجھاتے، ان سے صاف فرما دیتے کہ جو اسلام قبول کرلے گا وہ ہمارا ہے ورنہ نہیں۔ یہاں تک کہ ماں باپ کو بھی چھوڑ دیتے۔ آنحضرت ﷺ انہیں مسئلے مسائل سے آگاہ کردیتے، حکم احکام سکھا پڑھا دیتے وہ اسلام کے مبلغ بن کر جاتے ماننے والوں کو خوش خبریاں دیتے، نہ ماننے والوں کو ڈراتے، عکرمہ فرماتے ہیں جب (اِلَّا تَنْفِرُوْا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا ڏ وَّيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوْهُ شَـيْــــًٔـا ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 39؀) 9۔ التوبہ :39) اور آیت (مَا كَانَ لِاَھْلِ الْمَدِيْنَةِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَلَا يَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ ۭذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ لَا يُصِيْبُھُمْ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ وَّلَا مَخْمَصَةٌ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَـطَــــــُٔوْنَ مَوْطِئًا يَّغِيْظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا اِلَّا كُتِبَ لَھُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ01200ۙ) 9۔ التوبہ :120) اتریں تو منافقوں نے کہا پھر تو بادیہ نشین لوگ ہلاک ہوگئے کہ وہ حضرت ﷺ کے ساتھ نہیں جاتے۔ بعض صحابہ بھی ان میں تعلیم و تبلیغ کے لیے گئے ہوئے تھے پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور (وَالَّذِيْنَ يُحَاۗجُّوْنَ فِي اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِيْبَ لَهٗ حُجَّــتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ وَّلَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ 16؀) 42۔ الشوری:16) بھی اتری۔ حسن بصری فرماتے ہیں کہ جو لوگ آپ ﷺ کے ساتھ گئے ہیں وہ مشرکوں پر غلبہ و نصرت دیکھ کر واپس آن کر اپنی قوم کو ڈرا دیں۔

اسلامی مرکز کا استحکام اولین اصول ہے اسلامی مرکز کے متصل جو کفار ہیں، پہلے تو مسلمانوں کو ان سے نمٹنا چاہیے اسی حکم کے بموجب رسول اللہ ﷺ نے پہلے جزیرۃ العرب کو صاف کیا، یہاں غلبہ پاکر مکہ، مدینہ، طائف، یمن، یمامہ، ہجر، خیبر، حضرموت وغیرہ کل علاقہ فتح کر کے یہاں کے لوگوں کو اسلامی جھنڈے تلے کھڑا کر کے غزوہ روم کی تیاری کی۔ جو اول تو جزیرہ العرب سے ملحق تھا دوسرے وہاں کے رہنے والے اہل کتاب تھے۔ تبوک تک پہنچ کر حالات کی ناساز گاری کی وجہ سے آگے کا عزم ترک کیا۔ یہ واقعہ009ھ کا ہے۔ دسویں سال حجۃ الوداع میں مشغول رہے۔ اور حج کے صرف اکاسی دن بعد آپ ﷺ اللہ کو پیارے ہوئے۔ آپ کے بعد آپ کے نائب، دوست اور خلیفہ حضرت صدیق اکبر ؓ آئے اس وقت دین اسلام کی بنیادیں متزلزل ہو رہی تھیں کہ آپ نے انہیں مضبوط کردیا اور مسلمانوں کی ابتری کو برتری سے بدل دیا۔ دین سے بھاگنے والوں کو واپس اسلام میں لے آئے۔ مرتدوں سے دنیا خالی کی۔ ان سرکشوں نے جو زکوٰۃ روک لی تھی ان سے وصول کی جاہلوں پر حق واضح کیا۔ امانت رسول ادا کی۔ اور ان ابتدائی ضروری کاموں سے فارغ ہوتے ہی اسلامی لشرکوں کو سر زمین روم کی طرف دوڑا دیا کہ صلیب پرستوں کو ہدایت کریں۔ اور ایسے ہی جرار لشکر فارس کی طرف بھیجے کہ وہاں کے آتش کدے ٹھنڈے کریں۔ پس آپ کی سفارت کی برکت سے رب العالمین نے ہر طرف فتح عطا فرمائی۔ کسری اور قیصر خاک میں مل گئے۔ ان کے پرستار بھی غارت و برباد ہوئے، ان کے خزانے راہ اللہ میں کام آئے۔ اور جو خبر اللہ کے رسول سلام اللہ علیہ دے گئے تھے وہ پوری ہوئی۔ جو کسر رہ گئی تھی آپ کے وصی اور ولی شہید محراب حضرت عمر بن خطاب ؓ کے ہاتھوں پوری ہوئی۔ کافروں اور منافقوں کی رگ ہمیشہ کے لیے کچل دی گئی۔ ان کے زور ڈھا دیئے گئے۔ اور مشرق و مغرب تک فاروقی سلطنت پھیل گئی۔ قریب و بعید سے بھر پور خزانے دربار فاروق میں آنے لگے اور شرعی طور پر حکم الٰہی کے ماتحت مسلمانوں میں مجاہدین میں تقسیم ہونے لگے۔ اس پاک نفس، پاک روح شہید کی شہادت کے بعد مہاجرین و انصار کے اجماع سے امر خلافت امیر المومنین شہید الدار حضرت عثمان بن عفان ؓ کے سپرد ہوا۔ اس وقت اسلام اپنی اصلی شان سے ظہور پذیر تھا۔ اسلام کے لمبے اور زور آور ہاتھوں نے روئے زمین پر قبضہ جما لیا تھا۔ بندوں کی گردنیں اللہ کے سامنے خم ہو چکیں تھیں۔ حجت ربانی ظاہر تھی، کلمہ الٰہی غالب تھا۔ شان عثمان اپنا کام کرتی جاتی تھی۔ آج اس کو حلقہ بگوش کیا تو کل اس کو یکے بعد دیگرے کئی ممالک مسلمانوں کے ہاتھوں زیر نگیں خلافت ہوئے۔ یہی تھا اس آیت کے پہلے جملے پر عمل کہ نزدیک کے کافروں سے جہاد کرو۔ پھر فرماتا ہے کہ لڑائی میں انہیں تمہارا زور بازو معلوم ہوجائے۔ کامل مومن وہ ہے جو اپنے مومن بھائی سے تو نرمی برتے لیکن اپنے دشمن کافر پر سخت ہو۔ جیسے فرمان ہے (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَسَوْفَ يَاْتِي اللّٰهُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهٗٓ ۙ اَذِلَّةٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ ۡ يُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَاۗىِٕمٍ ۭ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ 54؀) 5۔ المآئدہ :54) یعنی اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لائے گا جو اس کے محبوب ہوں اور وہ بھی اس سے محبت رکھتے ہوں۔ مومنوں کے سامنے تو نرم ہوں اور کافروں پر ذی عزت ہوں۔ اس طرح اور آیت میں ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کے ساتھ والے آپس میں نرم دل ہیں۔ کافروں پر سخت ہیں۔ ارشاد ہے (يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ ۭ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭوَبِئْسَ الْمَصِيْرُ 73؀) 9۔ التوبہ :73) یعنی اے نبی ﷺ کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو۔ حدیث میں ہے کہ میں ضحوک ہوں یعنی اپنوں میں نرمی کرنے والا اور قتال ہوں یعنی دشمنان رب سے جہاد کرنے والا۔ پھر فرماتا ہے کہ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔ یعنی کافروں سے لڑو، بھروسہ اللہ پر رکھ، اور یقین مانو کہ جب تم اس سے ڈرتے رہو گے، اس کی فرماں برداری کرتے رہوگے، تو اس کی مدد و نصرت بھی تمہارے ساتھ رہے گی۔ دیکھ لو خیر کے تینوں زمانوں تک ملسمانوں کی یہی حالت رہی۔ دشمن تباہ حال اور مغلوب رہے۔ لیکن جب ان میں تقویٰ اور اطاعت کم ہوگئی۔ فتنے فساد پڑگئے، اختلاف اور خواہش پسندی شروع ہوگئی۔ تو وہ بات نہ رہی، دشمنوں کی للچائی ہوئی نظریں ان کی طرف اٹھیں۔ وہ اپنی کمین گاہوں سے نکل کھڑے ہوئے، ادھر کا رخ کیا لیکن پھر بھی مسلمان سلاطین آپس میں الجھے رہے وہ ادھرادھر سے نوالے لینے لگے۔ آخر دشمن اور بڑھے، سلطنتیں کچلنی شروع کیں، ملک فتح کرنے شروع کئے۔ آہ ! اکثر حصہ اسلامی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا یہی حکم اس سے پہلے تھا اور اس کے بعد بھی ہے کہ وہ پھر سے مسلمانوں کو غلبہ دے اور کافروں کی چوٹیاں ان کے ہاتھ میں دے دے۔ دنیا جہاں میں ان کا بول بالا ہو۔ اور پھر سے مشرق سے لے کر مغرب تک پرچم اسلام لہرانے لگے۔ وہ اللہ کریم وجواد ہے۔

فرمان الہٰی میں شک و شبہ کفر کا مرض ہے قرآن کی کوئی سورت اتری اور منافقوں نے آپس میں کانا پھوسی شروع کی کہ بتاؤ اس سورت نے کس کا ایمان زیادہ کردیا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایمانداروں کے ایمان تو اللہ کی آیتیں بڑھا دیتی ہیں۔ یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس پر کہ ایمان گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔ اکثر ائمہ اور علماء کا یہی مذہب ہے، سلف کا بھی اور خلف کا بھی۔ بلکہ بہت سے بزرگوں نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ ہم اس مسئلے کو خوب تفصیل سے شرح بخاری کے شروع میں بیان کر آئے ہیں۔ ہاں جن کے دل پہلے ہی سے شک و شبہ کی بیماری میں ہیں ان کی خرابی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ قرآن مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے لیکن کافر تو اس سے اور بھی اپنا نقصان کرلیا کرتے ہیں۔ یہ ایمانداروں کے لئے ہدایت و شفا ہے بےایمانوں کے تو کانوں میں بوجھ ہے۔ ان کی آنکھوں پر اندھاپا ہے وہ تو بہت ہی فاصلے سے پکارے جا رہے ہیں۔ یہ بھی کتنی بڑی بدبختی ہے کہ دلوں کی ہدایت کی چیز بھی ان کی ضلالت و ہلاکت کا باعث بنتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے عمدہ غذا بھی بد مزاج کو موافق نہیں آتی۔

فرمان الہٰی میں شک و شبہ کفر کا مرض ہے قرآن کی کوئی سورت اتری اور منافقوں نے آپس میں کانا پھوسی شروع کی کہ بتاؤ اس سورت نے کس کا ایمان زیادہ کردیا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایمانداروں کے ایمان تو اللہ کی آیتیں بڑھا دیتی ہیں۔ یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس پر کہ ایمان گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔ اکثر ائمہ اور علماء کا یہی مذہب ہے، سلف کا بھی اور خلف کا بھی۔ بلکہ بہت سے بزرگوں نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ ہم اس مسئلے کو خوب تفصیل سے شرح بخاری کے شروع میں بیان کر آئے ہیں۔ ہاں جن کے دل پہلے ہی سے شک و شبہ کی بیماری میں ہیں ان کی خرابی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ قرآن مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے لیکن کافر تو اس سے اور بھی اپنا نقصان کرلیا کرتے ہیں۔ یہ ایمانداروں کے لئے ہدایت و شفا ہے بےایمانوں کے تو کانوں میں بوجھ ہے۔ ان کی آنکھوں پر اندھاپا ہے وہ تو بہت ہی فاصلے سے پکارے جا رہے ہیں۔ یہ بھی کتنی بڑی بدبختی ہے کہ دلوں کی ہدایت کی چیز بھی ان کی ضلالت و ہلاکت کا باعث بنتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے عمدہ غذا بھی بد مزاج کو موافق نہیں آتی۔

عذاب سے دوچار ہونے کے بعد بھی منافق باز نہیں آتا یہ منافق اتنا بھی نہیں سوچتے کہ ہر سال دو ایک دفعہ ضروری وہ کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی انہیں اپنے گذشتہ گناہوں سے توبہ نصیب ہوتی ہے نہ آئندہ کے لیے عبرت ہوتی ہے۔ کبھی قحط سالی ہے کبھی جنگ ہے، کبھی جھوٹی گپیں ہیں جن سے لوگ بےچین ہو رہے ہیں۔ فرمان رسول ﷺ ہے کاموں میں سختی بڑھ رہی ہے۔ بخیلی عام ہو رہی ہے۔ ہر سال اپنے سے پہلے کے سال سے بد آرہا ہے۔ جب کوئی سورت اترتی ہے ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا ؟ پھر حق سے پلٹ جاتے ہیں نہ حق کو سمجھیں نے مانیں وعظ سے منہ پھیرلیں اور ایسے بھاگیں جیسے گدھا شیر سے۔ حق کو سنا اور دائیں بائیں کھسک گئے۔ ان کی اس بےایمانی کا بدلہ یہی ہے کہ اللہ نے ان کے دل بھی حق سے پھیر دیئے۔ ان کی کجی نے ان کے دل بھی ٹیرھے کردیئے۔ یہ بدلہ ہے اللہ کے خطاب کو بےپروا ہی کر کے نہ سمجھنے کا اس سے بھاگنے اور منہ موڑ لینے کا

عذاب سے دوچار ہونے کے بعد بھی منافق باز نہیں آتا یہ منافق اتنا بھی نہیں سوچتے کہ ہر سال دو ایک دفعہ ضروری وہ کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی انہیں اپنے گذشتہ گناہوں سے توبہ نصیب ہوتی ہے نہ آئندہ کے لیے عبرت ہوتی ہے۔ کبھی قحط سالی ہے کبھی جنگ ہے، کبھی جھوٹی گپیں ہیں جن سے لوگ بےچین ہو رہے ہیں۔ فرمان رسول ﷺ ہے کاموں میں سختی بڑھ رہی ہے۔ بخیلی عام ہو رہی ہے۔ ہر سال اپنے سے پہلے کے سال سے بد آرہا ہے۔ جب کوئی سورت اترتی ہے ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا ؟ پھر حق سے پلٹ جاتے ہیں نہ حق کو سمجھیں نے مانیں وعظ سے منہ پھیرلیں اور ایسے بھاگیں جیسے گدھا شیر سے۔ حق کو سنا اور دائیں بائیں کھسک گئے۔ ان کی اس بےایمانی کا بدلہ یہی ہے کہ اللہ نے ان کے دل بھی حق سے پھیر دیئے۔ ان کی کجی نے ان کے دل بھی ٹیرھے کردیئے۔ یہ بدلہ ہے اللہ کے خطاب کو بےپروا ہی کر کے نہ سمجھنے کا اس سے بھاگنے اور منہ موڑ لینے کا

رسول اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہیں مسلمانوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا احسان عظیم یاد دلا رہا ہے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے خود انہیں میں سے ان کی ہی زبان میں اپنا رسول بھیجا۔ حضرت خلیل اللہ نے یہی دعا کی تھی۔ اسی کا بیان (آیت لقد من اللّٰہ الخ) میں ہے۔ یہی حضرت جعفر بن ابو طالب نے دربار نجاشی میں اور یہ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے دربار کسریٰ میں بیان فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم میں ہمیں میں سے ایک رسول بھیجا۔ جس کا نسب ہمیں معلوم، جس میں سے کوئی برائی اللہ نے آپ کی ذات میں پیدا نہیں ہونے دی۔ نسب نامہ بالکل کھرا تھا۔ خود آپ کا فرمان ہے کہ حضرت آدم سے لے کر مجھ تک بفضلہ کوئی برائی جاہلیت کی زنا کاری وغیرہ نہیں پہنچی، میں صحیح النسب ہوں۔ پھر اتنے نرم دل کہ امت کی تکلیفوں سے خود کانپ اٹھیں۔ آسان نرمی اور سادگی والا دین لے کر آئے ہیں۔ جو بہت آسان ہے۔ سہل ہے، کامل ہے اور اعلیٰ اور عمدہ ہے۔ وہ تمہاری ہدایت کے متمنی ہیں، وہ دنیاوی اخروی نفع تمہیں پہنچانا چاہتے ہیں۔ حضرت ابوذر فرماتے ہیں ہمیں اللہ کے رسول ﷺ نے اس حال میں چھوڑا کہ جو پرند اڑ کر نکلتا اس کا علم بھی آپ ہمیں کردیتے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں۔ جنت سے قریب کرنے والی اور جہنم سے دور کرنے والی تمام چیزیں میں تم سے بیان کرچکا ہوں۔ آپ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر جو کچھ حرام کیا ہے وہ عنقریب تم پر ظاہر کردینے والا ہے اور اس کی باز پرس قطعاً ہونے والی ہے۔ جس طرح پتنگے اور پروانے آگ پر گرتے ہوں اس طرح تم بھی گر رہے ہو اور میں تمہاری کو لیاں بھر بھر کر تمہیں اس سے روک رہا ہوں۔ حضور ﷺ سوئے ہوئے ہیں جو دو فرشتے آتے ہیں ایک پاؤں کی طرف بیٹھتا ہے دوسرا سرہانے۔ پھر پاؤں والا سرہانے والے سے کہتا ہے۔ اس کی اور اس کی امت کی مثال بیان کرو اس نے فرمایا یہ مثال سمجھو کہ ایک قوم سفر میں ہے، ایک چٹیل میدان میں پہنچتی ہے جہان ان کا سامان خوراک ختم ہوجاتا ہے اب نہ تو آگے بڑھنے کی قوت، نہ پیچھے ہٹنے کی سکت۔ ایسے وقت ایک بھلا آدمی اچھے لباس والا ان کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تمہیں اس بیابان سے چھٹکارا دلا کر ایسی جگہ پہنچا سکتا ہوں جہاں تمہیں نتھرے ہوئے پانی کے لبالب حوض اور میووں کے لدے ہوئے درخت اور ہری بھری لہلہاتی کھیتیاں ملیں بشرطیکہ تم میرے پیچھے ہو لو۔ انہوں نے اس کی بات کو مان لیا اور وہ انہیں ایسی ہی جگہ لے گیا وہاں انہوں نے کھایا پیا اور خوب پھلے پھولے۔ اب اس نے کہا۔ دیکھو میں نے تمہیں اس بھوک پیاس سے نجات دلائی اور یہاں امن چین میں لایا۔ اب ایک اور بات تم سے کہتا ہوں وہ بھی مانو۔ اس سے آگے اس سے بھی بہتر جگہ ہے وہاں کے حوض، وہاں کے میوے وہاں کے کھیت، اس سے بہت ہی اعلیٰ ہیں۔ ایک جماعت نے تو اسے سچا مانا اور ہاں کرلی۔ لیکن دوسرے گروہ نے اسی پر بس کرلیا اور اسکی تابعداری سے ہٹ گئے (مسند احمد) اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ پر درود وسلام بھیجے۔ آؤ ایک واقعہ آپ کی کمال شفقت کا سنو ! ایک اعرابی رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور خون بہا ادا کرنے کے لیے آپ سے امداد طلب کی۔ آپ نے اسے بہت کچھ دیا۔ پھر پوچھا کیوں صاحب میں نے تم سے سلوک کیا ؟ اس نے کہاں کچھ بھی نہیں اس سے کیا ہوگا ؟ صحابہ بہت بگڑے۔ قریب تھا کہ اسے لپٹ جائیں کہ اتنا لینے پر بھی یہ ناشکری کرتا ہے ؟ اور حضور ﷺ کے سوال کا ایسا غلط اور گستاخانہ جواب دیتا ہے۔ لیکن آپ ﷺ نے انہیں روک دیا، گھر پر تشریف لے گئے۔ وہیں اسے بلوا لیا۔ سارا واقعہ کہہ سنایا پھر اسے اور بھی بہت کچھ دیا۔ پھر پوچھا کہو اب تو خوش ہو ؟ اس نے کہاں ہاں اب دل سے راضی ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے اہل و عیال میں ہم سب کی طرف سے نیک بدلہ دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا سنو ! تم آئے۔ تم نے مجھ سے مانگا، میں نے دیا پھر میں نے تم سے پوچھا کہ خوش ہو ؟ تو تم نے الٹا پلٹا جواب دیا جس سے میرے صحابی تم سے نالاں ہیں۔ اب میں نے پھر دے دلا کر تمہیں راضی کرلیا۔ اب تم ان کے سامنے بھی اسی طرح اپنی رضامندی ظاہر کرنا جیسے اب تم نے میرے سامنے کی ہے تاکہ ان کا رنج بھی دور ہوجائے۔ اس نے کہا بہت اچھا۔ چناچہ جب وہ صحابہ کے مجمع میں آپ کے پاس آیا آپ نے فرمایا دیکھو یہ شخص آیا تھا اس نے مجھ سے مانگا تھا، میں نے ایسے دیا تھا، پھر اس سے پوچھا تھا، تو اس نے ایسا جواب دیا تھا جو تمہیں ناگوار گزرا۔ میں نے اسے پھر اپنے گھر بلوایا اور زیادہ دیا تو یہ خوش ہوگیا۔ کیوں بھئی اعرابی یہی بات ہے ؟ اس نے کہا ہاں یا رسول اللہ، اللہ تعالیٰ آپ کو ہمارے اہل و عیال اور قبیلے کی طرف سے بہترین بدلہ عنایت فرمائے۔ آپ نے مجھ سے بہت اچھا سلوک کیا۔ جزاک اللہ اس وقت آپ نے فرمایا میری اور اس اعرابی کی مثال سنو ! جیسے وہ شخص جس کی اونٹنی بھاگ گئی لوگ اس کے پکڑنے کو دوڑے وہ ان سے بدک کر اور بھاگنے لگی۔ آخر اوٹنی والے نے کہا لوگو تم ایک طرف ہٹ جاؤ مجھے اور میری اوٹنی کو چھوڑ دو ، اس کی خو خصلت سے میں واقف ہوں اور یہ میری ہی ہے۔ چناچہ اس نے نرمی سے اسے بلانا شروع کیا۔ زمین سے گھانس پھونس توڑ کر اپنی مٹھی میں لے کر اسے دکھایا اور اپنی طرف بلایا، وہ آگئی۔ اس نے اس کی نکیل تھام لی اور پالان و کجاوہ ڈال دیا۔ سنو ! اس کے پہلی دفعہ کے بگڑنے پر اگر میں بھی تمہارا ساتھ دیتا تو یہ جہنمی بن جاتا۔ ابراہیم بن حکم بن ابان کے ضعف کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ اے نبی مومنوں کے سامنے اپنا بازو پست رکھو۔ لوگ میری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ میں تمہارے اعمال سے بری ہوں۔ تو ہمیشہ اپنا بھروسہ رب عزیز و رحیم پر رکھ۔ منحریفین شریعت سے آپ بےنیاز ہو جائیں یہاں بھی فرماتا ہے اگر یہ لوگ تیری شریعت سے منہ پھیر لیں تو تو کہہ دے کہ مجھے اللہ کافی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میرا توکل اسی کی پاک ذات پر ہے۔ جیسے فرمان ہے مشرق و مغرب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اس کے سوا کوئی بھی لائق عبادت نہیں تو اسی کو اپنا کار ساز ٹھہرا۔ وہ رب عرش عظیم ہے۔ یعنی ہر چیز کا مالک و خالق وہی ہے۔ عرش عظیم تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ آسمان و زمین اور کل کائنات بقدرت رب عرش تلے ہے۔ اس اللہ کا علم ہر چیز پر شامل ہے اور ہر چیز کو اپنے احاطے میں کئے ہوئے ہے۔ اس کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے وہ ہر ایک کا کارساز ہے۔ حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں سب سے آخری آیت قرآن کی یہی ہے۔ مروی ہے کہ جب خلافت صدیقی میں قرآن کو جمع کیا تو کاتبوں کو حضرت ابی بن کعب لکھواتے تھے، جب اس سے پہلے کی (آیت لایفقھون) تک پہنچے تو کہنے لگے کہ یہی آخری آیت ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مجھے دو آیتیں اور پڑھوائیں ہیں۔ پھر آپ نے ان دونوں آیتوں کی تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ قرآن کی آخری آیتیں یہ ہیں۔ پس ختم بھی اسی پر ہوا جس پر شروع ہوا تھا یعنی لا الہ الا اللہ پر۔ یہی وحی تمام نبیوں پر آتی رہی ہے کہ میرے سوا کوئی پوجا کے لائق نہیں۔ تم سب میری ہی عبادت کرو۔ یہ روایت بھی غریب ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت حارث بن خزیمہ ؓ ان دونوں آیتوں کو لے کر آئے۔ خود رسول اللہ ﷺ نے پڑھائی ہیں اور مجھے خوب اچھی طرح حفظ ہیں۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے گواہی دی کہ میں نے بھی انہیں رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔ یہ گواہی سن کر آپ نے فرمایا اگر ان کے ساتھ تیسری آیت بھی ہوتی تو میں اسے علیحدہ سورت بنا لیتا تم انہیں قرآن کی کسی سورت کے ساتھ لکھ لو۔ چناچہ سورة براۃ کے آخر میں یہ لکھ لی گئیں۔ پہلے یہ بات بھی بیان ہوچکی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ہی قرآن کے جمع کرنے کا مشورہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو دیا تھا اور بحکم خلیفہ حضرت زید بن ثابت ؓ نے اسے جمع کرنا شروع کیا۔ اس جماعت میں حضرت عمر ؓ بھی آمد و رفت رکھتے تھے۔ صحیح حدیث میں ہے حضرت زید فرماتے ہیں۔ سورة برات کا آخری حصہ میں نے خزیمہ بن ثابت یا ابو خزیمہ کے پاس پایا۔ یہ بھی ہم لکھ آئے ہیں کہ ایک جماعت صحابہ نے اس کا مذاکرہ رسول اللہ ﷺ کے روبرو کیا جیسے کہ حضرت خزیمہ بن ثابت نے کہا تھا۔ جب کہ ان کے سامنے اس کی ابتدائی بات کہی تھی۔ واللہ اعلم۔ حضرت ابو الدرداء ؓ سے مروی ہے کہ جو شخص صبح شام (آیت حسبی اللہ لا الہ الا ہو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم) کو سات سات مرتبہ پڑھ لے اللہ تعالیٰ اسے اس کی تمام پریشانیوں سے نجات دے گا۔ ایک روایت میں ہے کہ خواہ صداقت سے پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو لیکن یہ زیادتی غریب ہے۔ ایک مرفوع روایت بھی اسی قسم کی ہے لیکن وہ بہت منکر ہے واللہ اعلم۔

رسول اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہیں مسلمانوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا احسان عظیم یاد دلا رہا ہے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے خود انہیں میں سے ان کی ہی زبان میں اپنا رسول بھیجا۔ حضرت خلیل اللہ نے یہی دعا کی تھی۔ اسی کا بیان (آیت لقد من اللّٰہ الخ) میں ہے۔ یہی حضرت جعفر بن ابو طالب نے دربار نجاشی میں اور یہ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے دربار کسریٰ میں بیان فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم میں ہمیں میں سے ایک رسول بھیجا۔ جس کا نسب ہمیں معلوم، جس میں سے کوئی برائی اللہ نے آپ کی ذات میں پیدا نہیں ہونے دی۔ نسب نامہ بالکل کھرا تھا۔ خود آپ کا فرمان ہے کہ حضرت آدم سے لے کر مجھ تک بفضلہ کوئی برائی جاہلیت کی زنا کاری وغیرہ نہیں پہنچی، میں صحیح النسب ہوں۔ پھر اتنے نرم دل کہ امت کی تکلیفوں سے خود کانپ اٹھیں۔ آسان نرمی اور سادگی والا دین لے کر آئے ہیں۔ جو بہت آسان ہے۔ سہل ہے، کامل ہے اور اعلیٰ اور عمدہ ہے۔ وہ تمہاری ہدایت کے متمنی ہیں، وہ دنیاوی اخروی نفع تمہیں پہنچانا چاہتے ہیں۔ حضرت ابوذر فرماتے ہیں ہمیں اللہ کے رسول ﷺ نے اس حال میں چھوڑا کہ جو پرند اڑ کر نکلتا اس کا علم بھی آپ ہمیں کردیتے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں۔ جنت سے قریب کرنے والی اور جہنم سے دور کرنے والی تمام چیزیں میں تم سے بیان کرچکا ہوں۔ آپ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر جو کچھ حرام کیا ہے وہ عنقریب تم پر ظاہر کردینے والا ہے اور اس کی باز پرس قطعاً ہونے والی ہے۔ جس طرح پتنگے اور پروانے آگ پر گرتے ہوں اس طرح تم بھی گر رہے ہو اور میں تمہاری کو لیاں بھر بھر کر تمہیں اس سے روک رہا ہوں۔ حضور ﷺ سوئے ہوئے ہیں جو دو فرشتے آتے ہیں ایک پاؤں کی طرف بیٹھتا ہے دوسرا سرہانے۔ پھر پاؤں والا سرہانے والے سے کہتا ہے۔ اس کی اور اس کی امت کی مثال بیان کرو اس نے فرمایا یہ مثال سمجھو کہ ایک قوم سفر میں ہے، ایک چٹیل میدان میں پہنچتی ہے جہان ان کا سامان خوراک ختم ہوجاتا ہے اب نہ تو آگے بڑھنے کی قوت، نہ پیچھے ہٹنے کی سکت۔ ایسے وقت ایک بھلا آدمی اچھے لباس والا ان کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تمہیں اس بیابان سے چھٹکارا دلا کر ایسی جگہ پہنچا سکتا ہوں جہاں تمہیں نتھرے ہوئے پانی کے لبالب حوض اور میووں کے لدے ہوئے درخت اور ہری بھری لہلہاتی کھیتیاں ملیں بشرطیکہ تم میرے پیچھے ہو لو۔ انہوں نے اس کی بات کو مان لیا اور وہ انہیں ایسی ہی جگہ لے گیا وہاں انہوں نے کھایا پیا اور خوب پھلے پھولے۔ اب اس نے کہا۔ دیکھو میں نے تمہیں اس بھوک پیاس سے نجات دلائی اور یہاں امن چین میں لایا۔ اب ایک اور بات تم سے کہتا ہوں وہ بھی مانو۔ اس سے آگے اس سے بھی بہتر جگہ ہے وہاں کے حوض، وہاں کے میوے وہاں کے کھیت، اس سے بہت ہی اعلیٰ ہیں۔ ایک جماعت نے تو اسے سچا مانا اور ہاں کرلی۔ لیکن دوسرے گروہ نے اسی پر بس کرلیا اور اسکی تابعداری سے ہٹ گئے (مسند احمد) اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ پر درود وسلام بھیجے۔ آؤ ایک واقعہ آپ کی کمال شفقت کا سنو ! ایک اعرابی رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور خون بہا ادا کرنے کے لیے آپ سے امداد طلب کی۔ آپ نے اسے بہت کچھ دیا۔ پھر پوچھا کیوں صاحب میں نے تم سے سلوک کیا ؟ اس نے کہاں کچھ بھی نہیں اس سے کیا ہوگا ؟ صحابہ بہت بگڑے۔ قریب تھا کہ اسے لپٹ جائیں کہ اتنا لینے پر بھی یہ ناشکری کرتا ہے ؟ اور حضور ﷺ کے سوال کا ایسا غلط اور گستاخانہ جواب دیتا ہے۔ لیکن آپ ﷺ نے انہیں روک دیا، گھر پر تشریف لے گئے۔ وہیں اسے بلوا لیا۔ سارا واقعہ کہہ سنایا پھر اسے اور بھی بہت کچھ دیا۔ پھر پوچھا کہو اب تو خوش ہو ؟ اس نے کہاں ہاں اب دل سے راضی ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے اہل و عیال میں ہم سب کی طرف سے نیک بدلہ دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا سنو ! تم آئے۔ تم نے مجھ سے مانگا، میں نے دیا پھر میں نے تم سے پوچھا کہ خوش ہو ؟ تو تم نے الٹا پلٹا جواب دیا جس سے میرے صحابی تم سے نالاں ہیں۔ اب میں نے پھر دے دلا کر تمہیں راضی کرلیا۔ اب تم ان کے سامنے بھی اسی طرح اپنی رضامندی ظاہر کرنا جیسے اب تم نے میرے سامنے کی ہے تاکہ ان کا رنج بھی دور ہوجائے۔ اس نے کہا بہت اچھا۔ چناچہ جب وہ صحابہ کے مجمع میں آپ کے پاس آیا آپ نے فرمایا دیکھو یہ شخص آیا تھا اس نے مجھ سے مانگا تھا، میں نے ایسے دیا تھا، پھر اس سے پوچھا تھا، تو اس نے ایسا جواب دیا تھا جو تمہیں ناگوار گزرا۔ میں نے اسے پھر اپنے گھر بلوایا اور زیادہ دیا تو یہ خوش ہوگیا۔ کیوں بھئی اعرابی یہی بات ہے ؟ اس نے کہا ہاں یا رسول اللہ، اللہ تعالیٰ آپ کو ہمارے اہل و عیال اور قبیلے کی طرف سے بہترین بدلہ عنایت فرمائے۔ آپ نے مجھ سے بہت اچھا سلوک کیا۔ جزاک اللہ اس وقت آپ نے فرمایا میری اور اس اعرابی کی مثال سنو ! جیسے وہ شخص جس کی اونٹنی بھاگ گئی لوگ اس کے پکڑنے کو دوڑے وہ ان سے بدک کر اور بھاگنے لگی۔ آخر اوٹنی والے نے کہا لوگو تم ایک طرف ہٹ جاؤ مجھے اور میری اوٹنی کو چھوڑ دو ، اس کی خو خصلت سے میں واقف ہوں اور یہ میری ہی ہے۔ چناچہ اس نے نرمی سے اسے بلانا شروع کیا۔ زمین سے گھانس پھونس توڑ کر اپنی مٹھی میں لے کر اسے دکھایا اور اپنی طرف بلایا، وہ آگئی۔ اس نے اس کی نکیل تھام لی اور پالان و کجاوہ ڈال دیا۔ سنو ! اس کے پہلی دفعہ کے بگڑنے پر اگر میں بھی تمہارا ساتھ دیتا تو یہ جہنمی بن جاتا۔ ابراہیم بن حکم بن ابان کے ضعف کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ اے نبی مومنوں کے سامنے اپنا بازو پست رکھو۔ لوگ میری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ میں تمہارے اعمال سے بری ہوں۔ تو ہمیشہ اپنا بھروسہ رب عزیز و رحیم پر رکھ۔ منحریفین شریعت سے آپ بےنیاز ہو جائیں یہاں بھی فرماتا ہے اگر یہ لوگ تیری شریعت سے منہ پھیر لیں تو تو کہہ دے کہ مجھے اللہ کافی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میرا توکل اسی کی پاک ذات پر ہے۔ جیسے فرمان ہے مشرق و مغرب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اس کے سوا کوئی بھی لائق عبادت نہیں تو اسی کو اپنا کار ساز ٹھہرا۔ وہ رب عرش عظیم ہے۔ یعنی ہر چیز کا مالک و خالق وہی ہے۔ عرش عظیم تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ آسمان و زمین اور کل کائنات بقدرت رب عرش تلے ہے۔ اس اللہ کا علم ہر چیز پر شامل ہے اور ہر چیز کو اپنے احاطے میں کئے ہوئے ہے۔ اس کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے وہ ہر ایک کا کارساز ہے۔ حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں سب سے آخری آیت قرآن کی یہی ہے۔ مروی ہے کہ جب خلافت صدیقی میں قرآن کو جمع کیا تو کاتبوں کو حضرت ابی بن کعب لکھواتے تھے، جب اس سے پہلے کی (آیت لایفقھون) تک پہنچے تو کہنے لگے کہ یہی آخری آیت ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مجھے دو آیتیں اور پڑھوائیں ہیں۔ پھر آپ نے ان دونوں آیتوں کی تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ قرآن کی آخری آیتیں یہ ہیں۔ پس ختم بھی اسی پر ہوا جس پر شروع ہوا تھا یعنی لا الہ الا اللہ پر۔ یہی وحی تمام نبیوں پر آتی رہی ہے کہ میرے سوا کوئی پوجا کے لائق نہیں۔ تم سب میری ہی عبادت کرو۔ یہ روایت بھی غریب ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت حارث بن خزیمہ ؓ ان دونوں آیتوں کو لے کر آئے۔ خود رسول اللہ ﷺ نے پڑھائی ہیں اور مجھے خوب اچھی طرح حفظ ہیں۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے گواہی دی کہ میں نے بھی انہیں رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔ یہ گواہی سن کر آپ نے فرمایا اگر ان کے ساتھ تیسری آیت بھی ہوتی تو میں اسے علیحدہ سورت بنا لیتا تم انہیں قرآن کی کسی سورت کے ساتھ لکھ لو۔ چناچہ سورة براۃ کے آخر میں یہ لکھ لی گئیں۔ پہلے یہ بات بھی بیان ہوچکی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ہی قرآن کے جمع کرنے کا مشورہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو دیا تھا اور بحکم خلیفہ حضرت زید بن ثابت ؓ نے اسے جمع کرنا شروع کیا۔ اس جماعت میں حضرت عمر ؓ بھی آمد و رفت رکھتے تھے۔ صحیح حدیث میں ہے حضرت زید فرماتے ہیں۔ سورة برات کا آخری حصہ میں نے خزیمہ بن ثابت یا ابو خزیمہ کے پاس پایا۔ یہ بھی ہم لکھ آئے ہیں کہ ایک جماعت صحابہ نے اس کا مذاکرہ رسول اللہ ﷺ کے روبرو کیا جیسے کہ حضرت خزیمہ بن ثابت نے کہا تھا۔ جب کہ ان کے سامنے اس کی ابتدائی بات کہی تھی۔ واللہ اعلم۔ حضرت ابو الدرداء ؓ سے مروی ہے کہ جو شخص صبح شام (آیت حسبی اللہ لا الہ الا ہو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم) کو سات سات مرتبہ پڑھ لے اللہ تعالیٰ اسے اس کی تمام پریشانیوں سے نجات دے گا۔ ایک روایت میں ہے کہ خواہ صداقت سے پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو لیکن یہ زیادتی غریب ہے۔ ایک مرفوع روایت بھی اسی قسم کی ہے لیکن وہ بہت منکر ہے واللہ اعلم۔

Source. Tafsir Ibn Kathir, Hafiz Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://quran.com/. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com