John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Hijr

Tafsir Ibn Kathir · The Rock · 99 ayat · ayat 31–60 · Quran text →

ابلیس لعین کا انکار ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ ” آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ان کی پیدائش کا ذکر اس نے فرشتوں میں کیا اور پیدائش کے بعد سجدہ کرایا۔ اس حکم کو سب نے تو مان لیا لیکن ابلیس لعین نے انکار کر دیا اور کفر و حسد انکار و تکبر فخر و غرور کیا “۔ «أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ» [7-الأعراف:12] ‏ ” صاف کہا کہ میں آگ کا بنایا ہوا یہ خاک کا بنایا ہوا۔ میں اس سے بہتر ہوں اس کے سامنے کیوں جھکوں؟ “ «أَرَأَيْتَكَ هَـٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا» [17-الاسراء:62] ‏ ” تو نے اسے مجھ پر بزرگی دی لیکن میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا “۔

ابن جریر رحمہ اللہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ان سے فرمایا کہ ” میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں، تم اسے سجدہ کرنا “۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے سنا اور تسلیم کیا۔ مگر ابلیس جو پہلے کے منکروں میں سے تھا۔ اپنے پر جما رہا۔‏“ لیکن اس کا ثبوت ان سے نہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4312

ابلیس لعین کا انکار ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ ” آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ان کی پیدائش کا ذکر اس نے فرشتوں میں کیا اور پیدائش کے بعد سجدہ کرایا۔ اس حکم کو سب نے تو مان لیا لیکن ابلیس لعین نے انکار کر دیا اور کفر و حسد انکار و تکبر فخر و غرور کیا “۔ «أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ» [7-الأعراف:12] ‏ ” صاف کہا کہ میں آگ کا بنایا ہوا یہ خاک کا بنایا ہوا۔ میں اس سے بہتر ہوں اس کے سامنے کیوں جھکوں؟ “ «أَرَأَيْتَكَ هَـٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا» [17-الاسراء:62] ‏ ” تو نے اسے مجھ پر بزرگی دی لیکن میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا “۔

ابن جریر رحمہ اللہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ان سے فرمایا کہ ” میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں، تم اسے سجدہ کرنا “۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے سنا اور تسلیم کیا۔ مگر ابلیس جو پہلے کے منکروں میں سے تھا۔ اپنے پر جما رہا۔‏“ لیکن اس کا ثبوت ان سے نہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4312

ابلیس لعین کا انکار ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ ” آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ان کی پیدائش کا ذکر اس نے فرشتوں میں کیا اور پیدائش کے بعد سجدہ کرایا۔ اس حکم کو سب نے تو مان لیا لیکن ابلیس لعین نے انکار کر دیا اور کفر و حسد انکار و تکبر فخر و غرور کیا “۔ «أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ» [7-الأعراف:12] ‏ ” صاف کہا کہ میں آگ کا بنایا ہوا یہ خاک کا بنایا ہوا۔ میں اس سے بہتر ہوں اس کے سامنے کیوں جھکوں؟ “ «أَرَأَيْتَكَ هَـٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا» [17-الاسراء:62] ‏ ” تو نے اسے مجھ پر بزرگی دی لیکن میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا “۔

ابن جریر رحمہ اللہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ان سے فرمایا کہ ” میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں، تم اسے سجدہ کرنا “۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے سنا اور تسلیم کیا۔ مگر ابلیس جو پہلے کے منکروں میں سے تھا۔ اپنے پر جما رہا۔‏“ لیکن اس کا ثبوت ان سے نہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4312

ابدی لعنت ٭٭

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم کا ارادہ کیا جو نہ ٹلے، نہ ٹالا جا سکے کہ ” تو اس بہترین اور اعلی جماعت سے دور ہو جا تو پھٹکارا ہوا ہے۔ قیامت تک تجھ پر ابدی اور دوامی لعنت برسا کرے گی “۔

کہتے ہیں کہ اسی وقت اس کی صورت بد گئی اور اس نے نوحہ خوانی شروع کی، دنیا میں تمام نوحے اسی ابتداء سے ہیں۔ مردود و مطرود ہو کر پھر آتش حسد سے جلتا ہوا آرزو کرتا ہے کہ قیامت تک کی اسے ڈھیل دی جائے اسی کو یوم البعث کہا گیا ہے۔ پس اس کی یہ درخواست منظور کی گئی اور مہلت مل گئی۔

صفحہ نمبر4318

ابدی لعنت ٭٭

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم کا ارادہ کیا جو نہ ٹلے، نہ ٹالا جا سکے کہ ” تو اس بہترین اور اعلی جماعت سے دور ہو جا تو پھٹکارا ہوا ہے۔ قیامت تک تجھ پر ابدی اور دوامی لعنت برسا کرے گی “۔

کہتے ہیں کہ اسی وقت اس کی صورت بد گئی اور اس نے نوحہ خوانی شروع کی، دنیا میں تمام نوحے اسی ابتداء سے ہیں۔ مردود و مطرود ہو کر پھر آتش حسد سے جلتا ہوا آرزو کرتا ہے کہ قیامت تک کی اسے ڈھیل دی جائے اسی کو یوم البعث کہا گیا ہے۔ پس اس کی یہ درخواست منظور کی گئی اور مہلت مل گئی۔

صفحہ نمبر4318

ابدی لعنت ٭٭

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم کا ارادہ کیا جو نہ ٹلے، نہ ٹالا جا سکے کہ ” تو اس بہترین اور اعلی جماعت سے دور ہو جا تو پھٹکارا ہوا ہے۔ قیامت تک تجھ پر ابدی اور دوامی لعنت برسا کرے گی “۔

کہتے ہیں کہ اسی وقت اس کی صورت بد گئی اور اس نے نوحہ خوانی شروع کی، دنیا میں تمام نوحے اسی ابتداء سے ہیں۔ مردود و مطرود ہو کر پھر آتش حسد سے جلتا ہوا آرزو کرتا ہے کہ قیامت تک کی اسے ڈھیل دی جائے اسی کو یوم البعث کہا گیا ہے۔ پس اس کی یہ درخواست منظور کی گئی اور مہلت مل گئی۔

صفحہ نمبر4318

ابدی لعنت ٭٭

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم کا ارادہ کیا جو نہ ٹلے، نہ ٹالا جا سکے کہ ” تو اس بہترین اور اعلی جماعت سے دور ہو جا تو پھٹکارا ہوا ہے۔ قیامت تک تجھ پر ابدی اور دوامی لعنت برسا کرے گی “۔

کہتے ہیں کہ اسی وقت اس کی صورت بد گئی اور اس نے نوحہ خوانی شروع کی، دنیا میں تمام نوحے اسی ابتداء سے ہیں۔ مردود و مطرود ہو کر پھر آتش حسد سے جلتا ہوا آرزو کرتا ہے کہ قیامت تک کی اسے ڈھیل دی جائے اسی کو یوم البعث کہا گیا ہے۔ پس اس کی یہ درخواست منظور کی گئی اور مہلت مل گئی۔

صفحہ نمبر4318

ابدی لعنت ٭٭

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم کا ارادہ کیا جو نہ ٹلے، نہ ٹالا جا سکے کہ ” تو اس بہترین اور اعلی جماعت سے دور ہو جا تو پھٹکارا ہوا ہے۔ قیامت تک تجھ پر ابدی اور دوامی لعنت برسا کرے گی “۔

کہتے ہیں کہ اسی وقت اس کی صورت بد گئی اور اس نے نوحہ خوانی شروع کی، دنیا میں تمام نوحے اسی ابتداء سے ہیں۔ مردود و مطرود ہو کر پھر آتش حسد سے جلتا ہوا آرزو کرتا ہے کہ قیامت تک کی اسے ڈھیل دی جائے اسی کو یوم البعث کہا گیا ہے۔ پس اس کی یہ درخواست منظور کی گئی اور مہلت مل گئی۔

صفحہ نمبر4318

ابلیس کے سیاہ کارنامے ٭٭

ابلیس کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اللہ کے گمراہ کرنے کی قسم کھا کر کہا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں بھی اولاد آدم کے لیے زمین میں تیری نافرمانیوں کو خوب زینت دار کر کے دکھاؤں گا۔ اور انہیں رغبت دلا دلا کر نافرمانیوں میں مبتلا کروں گا، جہاں تک ہو سکے گا کوشش کروں گا کہ سب کو ہی بہکا دوں۔ لیکن ہاں تیرے خالص بندے میرے ہاتھ نہیں آ سکتے۔

ایک اور آیت میں بھی ہے کہ «أَرَأَيْتَكَ هَـٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا» [17-الاسراء:62] ‏ ” گو تو نے اسے مجھ پر برتری دی ہے لیکن اب میں بھی اس کی اولاد کے پیچھے پڑ جاؤں گا، چاہے کچھ تھوڑے سے چھوٹ جائیں باقی سب کو ہی لے ڈوبوں گا “۔

اس پر جواب ملا کہ ” تم سب کا لوٹنا تو میری ہی طرف ہے۔ اعمال کا بدلہ میں ضرور دوں گا نیک کو نیک بد کو بد “۔ جیسے فرمان ہے کہ «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» [89-الفجر:14] ‏ ” تیرا رب تاک میں ہے “۔

اور آیت میں ہے «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» [16-النحل:9] ‏ ” اور اللہ پر سیدھی راه کا بتا دینا ہے “، غرض لوٹنا اور اور لوٹنے کا راستہ اللہ ہی کی طرف ہے۔

«عَلَيَّ» کی ایک قرأت «عَلِيٌّ» بھی ہے۔ جیسے آیت «وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ» [43-الزخرف:4] ‏ میں ہے یعنی بلند لیکن پہلی قرأت مشہور ہے۔

صفحہ نمبر4323

” جن بندوں کو میں نے ہدایت پر لگا دیا ہے ان پر تیرا کوئی زور نہیں ہاں تیرا زور تیرے تابعداروں پر ہے “۔ یہ استثناء منقطع ہے۔

ابن جریر میں ہے کہ بستیوں سے باہر نبیوں کی مسجدیں ہوتی تھیں۔ جب وہ اپنے رب سے کوئی خاص بات معلوم کرنا چاہتے تو وہاں جا کر جو نماز مقدر میں ہوتی ادا کرکے سوال کرتے۔ ایک دن ایک نبی علیہ السلام کے اور اس کے قبلہ کے درمیان شیطان بیٹھ گیا۔ اس نبی علیہ السلام نے تین بار کہا «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِِ» ۔ شیطان نے کہا اے اللہ کے نبی آخر آپ میرے داؤ سے کیسے بچ جاتے ہیں؟ نبی علیہ السلام نے کہا تو بتا کہ تو بنی آدم پر کس داؤ سے غالب آ جاتا ہے؟ آخر معاہدہ ہوا کہ ہر ایک صحیح چیز دوسرے کو بتا دے، تو نبی اللہ نے کہا سن ”اللہ کا فرمان ہے کہ میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی اثر نہیں۔ صرف ان پر جو خود گمراہ ہوں اور تیری ماتحتی کریں۔‏“ اس اللہ کے دشمن نے کہا یہ آپ نے کیا فرمایا اسے تو میں آپ کی پیدائش سے بھی پہلے سے جانا ہوں، نبی نے کہا ”اور سن اللہ کا فرمان ہے کہ «وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» [7-الأعراف:200] ‏ ” جب شیطانی حرکت ہو تو اللہ سے پناہ طلب کر، وہ سننے جاننے والا ہے “۔ واللہ تیری آہٹ پاتے ہی میں اللہ سے پناہ چاہ لیتا ہوں۔‏“ اس نے کہا سچ ہے اسی سے آپ میرے پھندے میں نہیں پھنستے۔

نبی اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”اب تو بتا کہ تو ابن آدم پر کسے غالب آ جاتا ہے؟“ اس نے کہا کہ ”میں اسے غصے اور خواہش کے وقت دبوچ لیتا ہوں۔‏“

پھر فرماتا ہے کہ ” جو کوئی بھی ابلیس کی پیروی کرے، وہ جہنمی ہے “۔ یہی فرمان قرآن سے کفر کرنے والوں کی نسبت ہے۔

صفحہ نمبر4324

ابلیس کے سیاہ کارنامے ٭٭

ابلیس کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اللہ کے گمراہ کرنے کی قسم کھا کر کہا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں بھی اولاد آدم کے لیے زمین میں تیری نافرمانیوں کو خوب زینت دار کر کے دکھاؤں گا۔ اور انہیں رغبت دلا دلا کر نافرمانیوں میں مبتلا کروں گا، جہاں تک ہو سکے گا کوشش کروں گا کہ سب کو ہی بہکا دوں۔ لیکن ہاں تیرے خالص بندے میرے ہاتھ نہیں آ سکتے۔

ایک اور آیت میں بھی ہے کہ «أَرَأَيْتَكَ هَـٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا» [17-الاسراء:62] ‏ ” گو تو نے اسے مجھ پر برتری دی ہے لیکن اب میں بھی اس کی اولاد کے پیچھے پڑ جاؤں گا، چاہے کچھ تھوڑے سے چھوٹ جائیں باقی سب کو ہی لے ڈوبوں گا “۔

اس پر جواب ملا کہ ” تم سب کا لوٹنا تو میری ہی طرف ہے۔ اعمال کا بدلہ میں ضرور دوں گا نیک کو نیک بد کو بد “۔ جیسے فرمان ہے کہ «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» [89-الفجر:14] ‏ ” تیرا رب تاک میں ہے “۔

اور آیت میں ہے «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» [16-النحل:9] ‏ ” اور اللہ پر سیدھی راه کا بتا دینا ہے “، غرض لوٹنا اور اور لوٹنے کا راستہ اللہ ہی کی طرف ہے۔

«عَلَيَّ» کی ایک قرأت «عَلِيٌّ» بھی ہے۔ جیسے آیت «وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ» [43-الزخرف:4] ‏ میں ہے یعنی بلند لیکن پہلی قرأت مشہور ہے۔

صفحہ نمبر4323

” جن بندوں کو میں نے ہدایت پر لگا دیا ہے ان پر تیرا کوئی زور نہیں ہاں تیرا زور تیرے تابعداروں پر ہے “۔ یہ استثناء منقطع ہے۔

ابن جریر میں ہے کہ بستیوں سے باہر نبیوں کی مسجدیں ہوتی تھیں۔ جب وہ اپنے رب سے کوئی خاص بات معلوم کرنا چاہتے تو وہاں جا کر جو نماز مقدر میں ہوتی ادا کرکے سوال کرتے۔ ایک دن ایک نبی علیہ السلام کے اور اس کے قبلہ کے درمیان شیطان بیٹھ گیا۔ اس نبی علیہ السلام نے تین بار کہا «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِِ» ۔ شیطان نے کہا اے اللہ کے نبی آخر آپ میرے داؤ سے کیسے بچ جاتے ہیں؟ نبی علیہ السلام نے کہا تو بتا کہ تو بنی آدم پر کس داؤ سے غالب آ جاتا ہے؟ آخر معاہدہ ہوا کہ ہر ایک صحیح چیز دوسرے کو بتا دے، تو نبی اللہ نے کہا سن ”اللہ کا فرمان ہے کہ میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی اثر نہیں۔ صرف ان پر جو خود گمراہ ہوں اور تیری ماتحتی کریں۔‏“ اس اللہ کے دشمن نے کہا یہ آپ نے کیا فرمایا اسے تو میں آپ کی پیدائش سے بھی پہلے سے جانا ہوں، نبی نے کہا ”اور سن اللہ کا فرمان ہے کہ «وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» [7-الأعراف:200] ‏ ” جب شیطانی حرکت ہو تو اللہ سے پناہ طلب کر، وہ سننے جاننے والا ہے “۔ واللہ تیری آہٹ پاتے ہی میں اللہ سے پناہ چاہ لیتا ہوں۔‏“ اس نے کہا سچ ہے اسی سے آپ میرے پھندے میں نہیں پھنستے۔

نبی اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”اب تو بتا کہ تو ابن آدم پر کسے غالب آ جاتا ہے؟“ اس نے کہا کہ ”میں اسے غصے اور خواہش کے وقت دبوچ لیتا ہوں۔‏“

پھر فرماتا ہے کہ ” جو کوئی بھی ابلیس کی پیروی کرے، وہ جہنمی ہے “۔ یہی فرمان قرآن سے کفر کرنے والوں کی نسبت ہے۔

صفحہ نمبر4324

ابلیس کے سیاہ کارنامے ٭٭

ابلیس کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اللہ کے گمراہ کرنے کی قسم کھا کر کہا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں بھی اولاد آدم کے لیے زمین میں تیری نافرمانیوں کو خوب زینت دار کر کے دکھاؤں گا۔ اور انہیں رغبت دلا دلا کر نافرمانیوں میں مبتلا کروں گا، جہاں تک ہو سکے گا کوشش کروں گا کہ سب کو ہی بہکا دوں۔ لیکن ہاں تیرے خالص بندے میرے ہاتھ نہیں آ سکتے۔

ایک اور آیت میں بھی ہے کہ «أَرَأَيْتَكَ هَـٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا» [17-الاسراء:62] ‏ ” گو تو نے اسے مجھ پر برتری دی ہے لیکن اب میں بھی اس کی اولاد کے پیچھے پڑ جاؤں گا، چاہے کچھ تھوڑے سے چھوٹ جائیں باقی سب کو ہی لے ڈوبوں گا “۔

اس پر جواب ملا کہ ” تم سب کا لوٹنا تو میری ہی طرف ہے۔ اعمال کا بدلہ میں ضرور دوں گا نیک کو نیک بد کو بد “۔ جیسے فرمان ہے کہ «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» [89-الفجر:14] ‏ ” تیرا رب تاک میں ہے “۔

اور آیت میں ہے «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» [16-النحل:9] ‏ ” اور اللہ پر سیدھی راه کا بتا دینا ہے “، غرض لوٹنا اور اور لوٹنے کا راستہ اللہ ہی کی طرف ہے۔

«عَلَيَّ» کی ایک قرأت «عَلِيٌّ» بھی ہے۔ جیسے آیت «وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ» [43-الزخرف:4] ‏ میں ہے یعنی بلند لیکن پہلی قرأت مشہور ہے۔

صفحہ نمبر4323

” جن بندوں کو میں نے ہدایت پر لگا دیا ہے ان پر تیرا کوئی زور نہیں ہاں تیرا زور تیرے تابعداروں پر ہے “۔ یہ استثناء منقطع ہے۔

ابن جریر میں ہے کہ بستیوں سے باہر نبیوں کی مسجدیں ہوتی تھیں۔ جب وہ اپنے رب سے کوئی خاص بات معلوم کرنا چاہتے تو وہاں جا کر جو نماز مقدر میں ہوتی ادا کرکے سوال کرتے۔ ایک دن ایک نبی علیہ السلام کے اور اس کے قبلہ کے درمیان شیطان بیٹھ گیا۔ اس نبی علیہ السلام نے تین بار کہا «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِِ» ۔ شیطان نے کہا اے اللہ کے نبی آخر آپ میرے داؤ سے کیسے بچ جاتے ہیں؟ نبی علیہ السلام نے کہا تو بتا کہ تو بنی آدم پر کس داؤ سے غالب آ جاتا ہے؟ آخر معاہدہ ہوا کہ ہر ایک صحیح چیز دوسرے کو بتا دے، تو نبی اللہ نے کہا سن ”اللہ کا فرمان ہے کہ میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی اثر نہیں۔ صرف ان پر جو خود گمراہ ہوں اور تیری ماتحتی کریں۔‏“ اس اللہ کے دشمن نے کہا یہ آپ نے کیا فرمایا اسے تو میں آپ کی پیدائش سے بھی پہلے سے جانا ہوں، نبی نے کہا ”اور سن اللہ کا فرمان ہے کہ «وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» [7-الأعراف:200] ‏ ” جب شیطانی حرکت ہو تو اللہ سے پناہ طلب کر، وہ سننے جاننے والا ہے “۔ واللہ تیری آہٹ پاتے ہی میں اللہ سے پناہ چاہ لیتا ہوں۔‏“ اس نے کہا سچ ہے اسی سے آپ میرے پھندے میں نہیں پھنستے۔

نبی اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”اب تو بتا کہ تو ابن آدم پر کسے غالب آ جاتا ہے؟“ اس نے کہا کہ ”میں اسے غصے اور خواہش کے وقت دبوچ لیتا ہوں۔‏“

پھر فرماتا ہے کہ ” جو کوئی بھی ابلیس کی پیروی کرے، وہ جہنمی ہے “۔ یہی فرمان قرآن سے کفر کرنے والوں کی نسبت ہے۔

صفحہ نمبر4324

ابلیس کے سیاہ کارنامے ٭٭

ابلیس کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اللہ کے گمراہ کرنے کی قسم کھا کر کہا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں بھی اولاد آدم کے لیے زمین میں تیری نافرمانیوں کو خوب زینت دار کر کے دکھاؤں گا۔ اور انہیں رغبت دلا دلا کر نافرمانیوں میں مبتلا کروں گا، جہاں تک ہو سکے گا کوشش کروں گا کہ سب کو ہی بہکا دوں۔ لیکن ہاں تیرے خالص بندے میرے ہاتھ نہیں آ سکتے۔

ایک اور آیت میں بھی ہے کہ «أَرَأَيْتَكَ هَـٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا» [17-الاسراء:62] ‏ ” گو تو نے اسے مجھ پر برتری دی ہے لیکن اب میں بھی اس کی اولاد کے پیچھے پڑ جاؤں گا، چاہے کچھ تھوڑے سے چھوٹ جائیں باقی سب کو ہی لے ڈوبوں گا “۔

اس پر جواب ملا کہ ” تم سب کا لوٹنا تو میری ہی طرف ہے۔ اعمال کا بدلہ میں ضرور دوں گا نیک کو نیک بد کو بد “۔ جیسے فرمان ہے کہ «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» [89-الفجر:14] ‏ ” تیرا رب تاک میں ہے “۔

اور آیت میں ہے «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» [16-النحل:9] ‏ ” اور اللہ پر سیدھی راه کا بتا دینا ہے “، غرض لوٹنا اور اور لوٹنے کا راستہ اللہ ہی کی طرف ہے۔

«عَلَيَّ» کی ایک قرأت «عَلِيٌّ» بھی ہے۔ جیسے آیت «وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ» [43-الزخرف:4] ‏ میں ہے یعنی بلند لیکن پہلی قرأت مشہور ہے۔

صفحہ نمبر4323

” جن بندوں کو میں نے ہدایت پر لگا دیا ہے ان پر تیرا کوئی زور نہیں ہاں تیرا زور تیرے تابعداروں پر ہے “۔ یہ استثناء منقطع ہے۔

ابن جریر میں ہے کہ بستیوں سے باہر نبیوں کی مسجدیں ہوتی تھیں۔ جب وہ اپنے رب سے کوئی خاص بات معلوم کرنا چاہتے تو وہاں جا کر جو نماز مقدر میں ہوتی ادا کرکے سوال کرتے۔ ایک دن ایک نبی علیہ السلام کے اور اس کے قبلہ کے درمیان شیطان بیٹھ گیا۔ اس نبی علیہ السلام نے تین بار کہا «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِِ» ۔ شیطان نے کہا اے اللہ کے نبی آخر آپ میرے داؤ سے کیسے بچ جاتے ہیں؟ نبی علیہ السلام نے کہا تو بتا کہ تو بنی آدم پر کس داؤ سے غالب آ جاتا ہے؟ آخر معاہدہ ہوا کہ ہر ایک صحیح چیز دوسرے کو بتا دے، تو نبی اللہ نے کہا سن ”اللہ کا فرمان ہے کہ میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی اثر نہیں۔ صرف ان پر جو خود گمراہ ہوں اور تیری ماتحتی کریں۔‏“ اس اللہ کے دشمن نے کہا یہ آپ نے کیا فرمایا اسے تو میں آپ کی پیدائش سے بھی پہلے سے جانا ہوں، نبی نے کہا ”اور سن اللہ کا فرمان ہے کہ «وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» [7-الأعراف:200] ‏ ” جب شیطانی حرکت ہو تو اللہ سے پناہ طلب کر، وہ سننے جاننے والا ہے “۔ واللہ تیری آہٹ پاتے ہی میں اللہ سے پناہ چاہ لیتا ہوں۔‏“ اس نے کہا سچ ہے اسی سے آپ میرے پھندے میں نہیں پھنستے۔

نبی اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”اب تو بتا کہ تو ابن آدم پر کسے غالب آ جاتا ہے؟“ اس نے کہا کہ ”میں اسے غصے اور خواہش کے وقت دبوچ لیتا ہوں۔‏“

پھر فرماتا ہے کہ ” جو کوئی بھی ابلیس کی پیروی کرے، وہ جہنمی ہے “۔ یہی فرمان قرآن سے کفر کرنے والوں کی نسبت ہے۔

صفحہ نمبر4324

باب

پھر ارشاد ہوا کہ ” جہنم کے کئی ایک دروازے ہیں ہر دروازے سے جانے والا ابلیسی گروہ مقرر ہے۔ اپنے اپنے اعمال کے مطابق ان کے لیے دروازے تقسیم شدہ ہیں “۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا ”جہنم کے دروازے اس طرح ہیں یعنی ایک پر ایک۔ اور وہ سات ہیں ایک کے بعد ایک کر کے ساتوں دروازے پر ہو جائیں گے۔‏“

عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سات طبقے ہیں۔ ابن جریر رحمہ اللہ سات دروازوں کے یہ نام بتلاتے ہیں۔ جہنم۔ نطی۔ حطمہ۔ سعیر۔ سقر۔ حجیم۔ ھاویہ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ باعتبار اعمال ان کی منزلیں ہیں۔ ضحاک رحمہ اللہ کہتے ہیں مثلا ایک دروازہ یہود کا، ایک نصاری کا، ایک صابیوں کا، ایک مجوسیوں کا، ایک مشرکوں کافروں کا، ایک منافقوں کا، ایک اہل توحید کا، لیکن توحید والوں کو چھٹکارے کی امید ہے باقی سب ناامید ہو گئے ہیں۔ ترمذی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جہنم کے سات دروازے ہیں۔ جن میں سے ایک ان کے لئے ہے جو میری امت پر تلوار اٹھائے ۔ [سنن ترمذي:3123،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بعض دوزخیوں کے ٹخنوں تک آگ ہو گی، بعض کی کمر تک، بعض کی گردنوں تک، غرض گناہوں کی مقدار کے حساب سے ۔ [صحیح مسلم:2845] ‏

صفحہ نمبر4328

باب

پھر ارشاد ہوا کہ ” جہنم کے کئی ایک دروازے ہیں ہر دروازے سے جانے والا ابلیسی گروہ مقرر ہے۔ اپنے اپنے اعمال کے مطابق ان کے لیے دروازے تقسیم شدہ ہیں “۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا ”جہنم کے دروازے اس طرح ہیں یعنی ایک پر ایک۔ اور وہ سات ہیں ایک کے بعد ایک کر کے ساتوں دروازے پر ہو جائیں گے۔‏“

عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سات طبقے ہیں۔ ابن جریر رحمہ اللہ سات دروازوں کے یہ نام بتلاتے ہیں۔ جہنم۔ نطی۔ حطمہ۔ سعیر۔ سقر۔ حجیم۔ ھاویہ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ باعتبار اعمال ان کی منزلیں ہیں۔ ضحاک رحمہ اللہ کہتے ہیں مثلا ایک دروازہ یہود کا، ایک نصاری کا، ایک صابیوں کا، ایک مجوسیوں کا، ایک مشرکوں کافروں کا، ایک منافقوں کا، ایک اہل توحید کا، لیکن توحید والوں کو چھٹکارے کی امید ہے باقی سب ناامید ہو گئے ہیں۔ ترمذی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جہنم کے سات دروازے ہیں۔ جن میں سے ایک ان کے لئے ہے جو میری امت پر تلوار اٹھائے ۔ [سنن ترمذي:3123،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بعض دوزخیوں کے ٹخنوں تک آگ ہو گی، بعض کی کمر تک، بعض کی گردنوں تک، غرض گناہوں کی مقدار کے حساب سے ۔ [صحیح مسلم:2845] ‏

صفحہ نمبر4328

جنت میں کوئی بغض و کینہ نہ رہے گا ٭٭

دوزخیوں کا ذکر کر کے اب جنتیوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” وہ باغات، نہروں اور چشموں میں ہوں گے “۔ ان کو بشارت سنائی جائے گی کہ اب تم ہر آفت سے بچ گئے ہر ڈر اور گھبراہٹ سے مطمئن ہو گئے نہ نعمتوں کے زوال کا ڈر، نہ یہاں سے نکالے جانے کا خطرہ نہ فنا نہ کمی۔

اہل جنت کے دلوں میں گو دنیوں رنجشیں باقی رہ گئی ہوں مگر جنت میں جاتے ہی ایک دوسرے سے مل کر تمام گلے شکوے ختم ہو جائیں گے۔

صفحہ نمبر4330

جنت میں کوئی بغض و کینہ نہ رہے گا ٭٭

دوزخیوں کا ذکر کر کے اب جنتیوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” وہ باغات، نہروں اور چشموں میں ہوں گے “۔ ان کو بشارت سنائی جائے گی کہ اب تم ہر آفت سے بچ گئے ہر ڈر اور گھبراہٹ سے مطمئن ہو گئے نہ نعمتوں کے زوال کا ڈر، نہ یہاں سے نکالے جانے کا خطرہ نہ فنا نہ کمی۔

اہل جنت کے دلوں میں گو دنیوں رنجشیں باقی رہ گئی ہوں مگر جنت میں جاتے ہی ایک دوسرے سے مل کر تمام گلے شکوے ختم ہو جائیں گے۔

صفحہ نمبر4330

باب

حضرت ابوامامہ فرماتے ہیں جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی سینے بے کینہ ہو جائیں گے۔ چنانچہ مرفوع حدیث میں بھی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مومن جہنم سے نجات پا کر جنت دوزخ کے درمیان کے پل پر روک لیے جائیں گے جو ناچاقیاں اور ظلم آپس میں تھے، ان کا ادلہ بدلہ ہو جائے گا اور پاک دل صاف سینہ ہو کر جنت میں جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:6535] ‏

اشتر نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی، اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیٹھے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے کچھ دیر کے بعد اسے اندر بلایا اس نے کہا کہ شاید ان کی وجہ سے مجھے آپ رضی اللہ عنہ نے دیر سے اجازت دی؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سچ ہے۔ کہا پھر تو اگر آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہوں تو بھی آپ مجھے اسی طرح روک دیں گے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”بیشک مجھے تو اللہ سے امید ہے کہ میں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہوں گے، جن کی شان میں یہ ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ خفگی تھی ہم نے دور کر دی، بھائی بھائی ہو کر آمنے سامنے تخت شاہی پر جلوہ فرما ہیں۔‏“

ایک اور روایت میں ہے کہ عمران بن طلحہ اصحاب جمل سے فارغ ہو کر علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں مرحبا کہا اور فرمایا کہ ”میں امید رکھتا ہوں کہ میں اور تمہارے والد ان میں سے ہیں جن کے دلوں کے غصے اللہ دور کر کے بھائی بھائی بنا کر جنت کے تختوں پر آمنے سامنے بٹھائے گا۔‏“

صفحہ نمبر4332

ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر فرش کے کونے پر بیٹھے ہوئے دو شخصوں نے کہا، اللہ کا عہد اس سے بہت بڑھا ہوا ہے کہ جنہیں آپ قتل کریں ان کے بھائی بن جائیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے غصے سے فرمایا ”اگر اس آیت سے مراد میرے اور طلحہ جیسے لوگ نہیں تو اور کون ہوں گے؟“

اور روایت میں ہے کہ قبیلہ ہمدان کے ایک شخص نے یہ کہا تھا اور علی رضی اللہ عنہ نے اس دھمکی اور بلند آواز سے یہ جواب دیا تھا کہ محل ہل گیا۔ اور روایت میں ہے کہ کہنے والے کا نام حارث اعور تھا اور اس کی اس بات پر آپ رضی اللہ عنہ نے غصے ہو کر جو چیز آپ رضی اللہ عنہ کی ہاتھ میں تھی وہ اس کے سر پر مار کر یہ فرمایا تھا۔ این جرموز جو زبیر رضی اللہ عنہ کا قاتل تھا جب دربار علی رضی اللہ عنہ میں آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بڑی دیر بعد اسے داخلے کی اجازت دی، اس نے آ کر زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو بلوائی کہہ کر برائی سے یاد کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تیرے منہ میں مٹی۔ میں اور طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہ تو ان شاءاللہ ان لوگوں میں ہیں جن کی بابت اللہ کا یہ فرمان ہے۔‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ قسم کہا کر فرماتے ہیں کہ ”ہم بدریوں کی بابت یہ آیت نازل ہوئی ہے۔‏“

صفحہ نمبر4333

کثیر کہتے ہیں ”میں ابو جعفر محمد بن علی کے پاس گیا اور کہا کہ میرے دوست آپ کے دوست ہیں اور مجھ سے مصالحت رکھنے والے آپ سے مصالحت رکھے والے ہیں، میرے دشمن آپ کے دشمن ہیں اور مجھ سے لڑائی رکھنے والے آپ سے لڑائی رکھنے والے ہیں۔ واللہ میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم سے بری ہوں۔‏“

اس وقت ابو جعفر نے فرمایا ”اگر میں ایسا کروں تو یقیناً مجھ سے بڑھ کر گمراہ کوئی نہیں۔ ناممکن کہ میں اس وقت ہدایت پر قائم رہ سکوں۔ ان دونوں بزرگوں یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے تو اے کثیر محبت رکھ، اگر اس میں تجھے گناہ ہو تو میری گردن پر۔‏“

پھر آپ نے اسی آیت کے آخری حصہ کی تلاوت فرمائی، اور فرمایا کہ ”یہ ان دس شخصوں کے بارے میں ہے ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم اجمعین، یہ آمنے سامنے ہوں گے تاکہ کسی کی طرف کسی کی پیٹھ نہ رہے۔‏“

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایک مجمع میں آ کر اسے تلاوت فرما کر فرمایا یہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے۔ وہاں انہیں کوئی مشقت، تکلیف اور ایذاء نہ ہو گی ۔ [ضعیف] ‏

صفحہ نمبر4334

بخاری و مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت کے سونے کے محل کی خوشخبری سنا دوں جس میں نہ شور و غل ہے نہ تکلیف و مصیبت۔ یہ جنتی جنت سے کبھی نکالے نہ جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:3820] ‏

حدیث میں ہے ان سے فرمایا جائے گا کہ اے جنتیو تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مروگے اور ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ بنو گے اور ہمیشہ یہیں رہو گے کبھی نکالے نہ جاؤ گے ۔ [صحیح مسلم:2837] ‏

اور آیت میں ہے «خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا» [18-الكهف:108] ‏ ” وہ تبدیلی مکان کی خواہش ہی نہ کریں گے نہ ان کی جگہ ان سے چھنے گی “۔

اور آیت میں ہے کہ «وَقُل رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ» [23-المؤمنون:118] ‏ ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بندوں سے کہہ دیجئیے کہ میں «أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ» ہوں۔ اور میرے عذاب بھی نہایت سخت ہیں “۔ اسی جیسی آیت اور بھی گزر چکی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ” مومن کو امید کے ساتھ ڈر بھی رکھنا چاہیئے “۔

صفحہ نمبر4335

حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس آتے ہیں اور انہیں ہنستا ہوا دیکھ کر فرماتے ہیں جنت دوزخ کی یاد کرو ، اس وقت یہ آیتیں اتریں ۔ [مجمع الزوائد:11107:ضعیف] ‏

یہ مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو شیبہ کے دروازے سے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس آ کر کہتے ہیں میں تو تمہیں ہنستے ہوئے دیکھ رہا ہوں یہ کہہ کر واپس مڑ گئے اور حطیم کے پاس سے ہی الٹے پاؤں پھرے ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ ابھی میں جا ہی رہا تھا، جو جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ ”جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ” تو میرے بندوں کو نامید کر رہا ہے؟ انہیں مرے غفور و رحیم ہونے کی اور میرے عذابوں کے المناک ہونے کی خبر دیدے “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:21214:ضعیف] ‏

اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بندے اللہ تعالیٰ کی معافی کو معلوم کرلیں تو حرام سے بچنا چھوڑ دیں اور اگر اللہ کے عذاب کو معلوم کر لیں تو اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:21213:مرسل] ‏

صفحہ نمبر4336

باب

حضرت ابوامامہ فرماتے ہیں جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی سینے بے کینہ ہو جائیں گے۔ چنانچہ مرفوع حدیث میں بھی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مومن جہنم سے نجات پا کر جنت دوزخ کے درمیان کے پل پر روک لیے جائیں گے جو ناچاقیاں اور ظلم آپس میں تھے، ان کا ادلہ بدلہ ہو جائے گا اور پاک دل صاف سینہ ہو کر جنت میں جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:6535] ‏

اشتر نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی، اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیٹھے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے کچھ دیر کے بعد اسے اندر بلایا اس نے کہا کہ شاید ان کی وجہ سے مجھے آپ رضی اللہ عنہ نے دیر سے اجازت دی؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سچ ہے۔ کہا پھر تو اگر آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہوں تو بھی آپ مجھے اسی طرح روک دیں گے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”بیشک مجھے تو اللہ سے امید ہے کہ میں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہوں گے، جن کی شان میں یہ ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ خفگی تھی ہم نے دور کر دی، بھائی بھائی ہو کر آمنے سامنے تخت شاہی پر جلوہ فرما ہیں۔‏“

ایک اور روایت میں ہے کہ عمران بن طلحہ اصحاب جمل سے فارغ ہو کر علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں مرحبا کہا اور فرمایا کہ ”میں امید رکھتا ہوں کہ میں اور تمہارے والد ان میں سے ہیں جن کے دلوں کے غصے اللہ دور کر کے بھائی بھائی بنا کر جنت کے تختوں پر آمنے سامنے بٹھائے گا۔‏“

صفحہ نمبر4332

ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر فرش کے کونے پر بیٹھے ہوئے دو شخصوں نے کہا، اللہ کا عہد اس سے بہت بڑھا ہوا ہے کہ جنہیں آپ قتل کریں ان کے بھائی بن جائیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے غصے سے فرمایا ”اگر اس آیت سے مراد میرے اور طلحہ جیسے لوگ نہیں تو اور کون ہوں گے؟“

اور روایت میں ہے کہ قبیلہ ہمدان کے ایک شخص نے یہ کہا تھا اور علی رضی اللہ عنہ نے اس دھمکی اور بلند آواز سے یہ جواب دیا تھا کہ محل ہل گیا۔ اور روایت میں ہے کہ کہنے والے کا نام حارث اعور تھا اور اس کی اس بات پر آپ رضی اللہ عنہ نے غصے ہو کر جو چیز آپ رضی اللہ عنہ کی ہاتھ میں تھی وہ اس کے سر پر مار کر یہ فرمایا تھا۔ این جرموز جو زبیر رضی اللہ عنہ کا قاتل تھا جب دربار علی رضی اللہ عنہ میں آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بڑی دیر بعد اسے داخلے کی اجازت دی، اس نے آ کر زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو بلوائی کہہ کر برائی سے یاد کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تیرے منہ میں مٹی۔ میں اور طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہ تو ان شاءاللہ ان لوگوں میں ہیں جن کی بابت اللہ کا یہ فرمان ہے۔‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ قسم کہا کر فرماتے ہیں کہ ”ہم بدریوں کی بابت یہ آیت نازل ہوئی ہے۔‏“

صفحہ نمبر4333

کثیر کہتے ہیں ”میں ابو جعفر محمد بن علی کے پاس گیا اور کہا کہ میرے دوست آپ کے دوست ہیں اور مجھ سے مصالحت رکھنے والے آپ سے مصالحت رکھے والے ہیں، میرے دشمن آپ کے دشمن ہیں اور مجھ سے لڑائی رکھنے والے آپ سے لڑائی رکھنے والے ہیں۔ واللہ میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم سے بری ہوں۔‏“

اس وقت ابو جعفر نے فرمایا ”اگر میں ایسا کروں تو یقیناً مجھ سے بڑھ کر گمراہ کوئی نہیں۔ ناممکن کہ میں اس وقت ہدایت پر قائم رہ سکوں۔ ان دونوں بزرگوں یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے تو اے کثیر محبت رکھ، اگر اس میں تجھے گناہ ہو تو میری گردن پر۔‏“

پھر آپ نے اسی آیت کے آخری حصہ کی تلاوت فرمائی، اور فرمایا کہ ”یہ ان دس شخصوں کے بارے میں ہے ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم اجمعین، یہ آمنے سامنے ہوں گے تاکہ کسی کی طرف کسی کی پیٹھ نہ رہے۔‏“

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایک مجمع میں آ کر اسے تلاوت فرما کر فرمایا یہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے۔ وہاں انہیں کوئی مشقت، تکلیف اور ایذاء نہ ہو گی ۔ [ضعیف] ‏

صفحہ نمبر4334

بخاری و مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت کے سونے کے محل کی خوشخبری سنا دوں جس میں نہ شور و غل ہے نہ تکلیف و مصیبت۔ یہ جنتی جنت سے کبھی نکالے نہ جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:3820] ‏

حدیث میں ہے ان سے فرمایا جائے گا کہ اے جنتیو تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مروگے اور ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ بنو گے اور ہمیشہ یہیں رہو گے کبھی نکالے نہ جاؤ گے ۔ [صحیح مسلم:2837] ‏

اور آیت میں ہے «خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا» [18-الكهف:108] ‏ ” وہ تبدیلی مکان کی خواہش ہی نہ کریں گے نہ ان کی جگہ ان سے چھنے گی “۔

اور آیت میں ہے کہ «وَقُل رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ» [23-المؤمنون:118] ‏ ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بندوں سے کہہ دیجئیے کہ میں «أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ» ہوں۔ اور میرے عذاب بھی نہایت سخت ہیں “۔ اسی جیسی آیت اور بھی گزر چکی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ” مومن کو امید کے ساتھ ڈر بھی رکھنا چاہیئے “۔

صفحہ نمبر4335

حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس آتے ہیں اور انہیں ہنستا ہوا دیکھ کر فرماتے ہیں جنت دوزخ کی یاد کرو ، اس وقت یہ آیتیں اتریں ۔ [مجمع الزوائد:11107:ضعیف] ‏

یہ مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو شیبہ کے دروازے سے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس آ کر کہتے ہیں میں تو تمہیں ہنستے ہوئے دیکھ رہا ہوں یہ کہہ کر واپس مڑ گئے اور حطیم کے پاس سے ہی الٹے پاؤں پھرے ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ ابھی میں جا ہی رہا تھا، جو جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ ”جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ” تو میرے بندوں کو نامید کر رہا ہے؟ انہیں مرے غفور و رحیم ہونے کی اور میرے عذابوں کے المناک ہونے کی خبر دیدے “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:21214:ضعیف] ‏

اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بندے اللہ تعالیٰ کی معافی کو معلوم کرلیں تو حرام سے بچنا چھوڑ دیں اور اگر اللہ کے عذاب کو معلوم کر لیں تو اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:21213:مرسل] ‏

صفحہ نمبر4336

باب

حضرت ابوامامہ فرماتے ہیں جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی سینے بے کینہ ہو جائیں گے۔ چنانچہ مرفوع حدیث میں بھی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مومن جہنم سے نجات پا کر جنت دوزخ کے درمیان کے پل پر روک لیے جائیں گے جو ناچاقیاں اور ظلم آپس میں تھے، ان کا ادلہ بدلہ ہو جائے گا اور پاک دل صاف سینہ ہو کر جنت میں جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:6535] ‏

اشتر نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی، اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیٹھے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے کچھ دیر کے بعد اسے اندر بلایا اس نے کہا کہ شاید ان کی وجہ سے مجھے آپ رضی اللہ عنہ نے دیر سے اجازت دی؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سچ ہے۔ کہا پھر تو اگر آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہوں تو بھی آپ مجھے اسی طرح روک دیں گے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”بیشک مجھے تو اللہ سے امید ہے کہ میں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہوں گے، جن کی شان میں یہ ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ خفگی تھی ہم نے دور کر دی، بھائی بھائی ہو کر آمنے سامنے تخت شاہی پر جلوہ فرما ہیں۔‏“

ایک اور روایت میں ہے کہ عمران بن طلحہ اصحاب جمل سے فارغ ہو کر علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں مرحبا کہا اور فرمایا کہ ”میں امید رکھتا ہوں کہ میں اور تمہارے والد ان میں سے ہیں جن کے دلوں کے غصے اللہ دور کر کے بھائی بھائی بنا کر جنت کے تختوں پر آمنے سامنے بٹھائے گا۔‏“

صفحہ نمبر4332

ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر فرش کے کونے پر بیٹھے ہوئے دو شخصوں نے کہا، اللہ کا عہد اس سے بہت بڑھا ہوا ہے کہ جنہیں آپ قتل کریں ان کے بھائی بن جائیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے غصے سے فرمایا ”اگر اس آیت سے مراد میرے اور طلحہ جیسے لوگ نہیں تو اور کون ہوں گے؟“

اور روایت میں ہے کہ قبیلہ ہمدان کے ایک شخص نے یہ کہا تھا اور علی رضی اللہ عنہ نے اس دھمکی اور بلند آواز سے یہ جواب دیا تھا کہ محل ہل گیا۔ اور روایت میں ہے کہ کہنے والے کا نام حارث اعور تھا اور اس کی اس بات پر آپ رضی اللہ عنہ نے غصے ہو کر جو چیز آپ رضی اللہ عنہ کی ہاتھ میں تھی وہ اس کے سر پر مار کر یہ فرمایا تھا۔ این جرموز جو زبیر رضی اللہ عنہ کا قاتل تھا جب دربار علی رضی اللہ عنہ میں آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بڑی دیر بعد اسے داخلے کی اجازت دی، اس نے آ کر زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو بلوائی کہہ کر برائی سے یاد کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تیرے منہ میں مٹی۔ میں اور طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہ تو ان شاءاللہ ان لوگوں میں ہیں جن کی بابت اللہ کا یہ فرمان ہے۔‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ قسم کہا کر فرماتے ہیں کہ ”ہم بدریوں کی بابت یہ آیت نازل ہوئی ہے۔‏“

صفحہ نمبر4333

کثیر کہتے ہیں ”میں ابو جعفر محمد بن علی کے پاس گیا اور کہا کہ میرے دوست آپ کے دوست ہیں اور مجھ سے مصالحت رکھنے والے آپ سے مصالحت رکھے والے ہیں، میرے دشمن آپ کے دشمن ہیں اور مجھ سے لڑائی رکھنے والے آپ سے لڑائی رکھنے والے ہیں۔ واللہ میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم سے بری ہوں۔‏“

اس وقت ابو جعفر نے فرمایا ”اگر میں ایسا کروں تو یقیناً مجھ سے بڑھ کر گمراہ کوئی نہیں۔ ناممکن کہ میں اس وقت ہدایت پر قائم رہ سکوں۔ ان دونوں بزرگوں یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے تو اے کثیر محبت رکھ، اگر اس میں تجھے گناہ ہو تو میری گردن پر۔‏“

پھر آپ نے اسی آیت کے آخری حصہ کی تلاوت فرمائی، اور فرمایا کہ ”یہ ان دس شخصوں کے بارے میں ہے ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم اجمعین، یہ آمنے سامنے ہوں گے تاکہ کسی کی طرف کسی کی پیٹھ نہ رہے۔‏“

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایک مجمع میں آ کر اسے تلاوت فرما کر فرمایا یہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے۔ وہاں انہیں کوئی مشقت، تکلیف اور ایذاء نہ ہو گی ۔ [ضعیف] ‏

صفحہ نمبر4334

بخاری و مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت کے سونے کے محل کی خوشخبری سنا دوں جس میں نہ شور و غل ہے نہ تکلیف و مصیبت۔ یہ جنتی جنت سے کبھی نکالے نہ جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:3820] ‏

حدیث میں ہے ان سے فرمایا جائے گا کہ اے جنتیو تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مروگے اور ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ بنو گے اور ہمیشہ یہیں رہو گے کبھی نکالے نہ جاؤ گے ۔ [صحیح مسلم:2837] ‏

اور آیت میں ہے «خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا» [18-الكهف:108] ‏ ” وہ تبدیلی مکان کی خواہش ہی نہ کریں گے نہ ان کی جگہ ان سے چھنے گی “۔

اور آیت میں ہے کہ «وَقُل رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ» [23-المؤمنون:118] ‏ ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بندوں سے کہہ دیجئیے کہ میں «أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ» ہوں۔ اور میرے عذاب بھی نہایت سخت ہیں “۔ اسی جیسی آیت اور بھی گزر چکی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ” مومن کو امید کے ساتھ ڈر بھی رکھنا چاہیئے “۔

صفحہ نمبر4335

حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس آتے ہیں اور انہیں ہنستا ہوا دیکھ کر فرماتے ہیں جنت دوزخ کی یاد کرو ، اس وقت یہ آیتیں اتریں ۔ [مجمع الزوائد:11107:ضعیف] ‏

یہ مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو شیبہ کے دروازے سے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس آ کر کہتے ہیں میں تو تمہیں ہنستے ہوئے دیکھ رہا ہوں یہ کہہ کر واپس مڑ گئے اور حطیم کے پاس سے ہی الٹے پاؤں پھرے ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ ابھی میں جا ہی رہا تھا، جو جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ ”جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ” تو میرے بندوں کو نامید کر رہا ہے؟ انہیں مرے غفور و رحیم ہونے کی اور میرے عذابوں کے المناک ہونے کی خبر دیدے “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:21214:ضعیف] ‏

اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بندے اللہ تعالیٰ کی معافی کو معلوم کرلیں تو حرام سے بچنا چھوڑ دیں اور اگر اللہ کے عذاب کو معلوم کر لیں تو اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:21213:مرسل] ‏

صفحہ نمبر4336

باب

حضرت ابوامامہ فرماتے ہیں جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی سینے بے کینہ ہو جائیں گے۔ چنانچہ مرفوع حدیث میں بھی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مومن جہنم سے نجات پا کر جنت دوزخ کے درمیان کے پل پر روک لیے جائیں گے جو ناچاقیاں اور ظلم آپس میں تھے، ان کا ادلہ بدلہ ہو جائے گا اور پاک دل صاف سینہ ہو کر جنت میں جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:6535] ‏

اشتر نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی، اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیٹھے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے کچھ دیر کے بعد اسے اندر بلایا اس نے کہا کہ شاید ان کی وجہ سے مجھے آپ رضی اللہ عنہ نے دیر سے اجازت دی؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سچ ہے۔ کہا پھر تو اگر آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہوں تو بھی آپ مجھے اسی طرح روک دیں گے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”بیشک مجھے تو اللہ سے امید ہے کہ میں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہوں گے، جن کی شان میں یہ ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ خفگی تھی ہم نے دور کر دی، بھائی بھائی ہو کر آمنے سامنے تخت شاہی پر جلوہ فرما ہیں۔‏“

ایک اور روایت میں ہے کہ عمران بن طلحہ اصحاب جمل سے فارغ ہو کر علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں مرحبا کہا اور فرمایا کہ ”میں امید رکھتا ہوں کہ میں اور تمہارے والد ان میں سے ہیں جن کے دلوں کے غصے اللہ دور کر کے بھائی بھائی بنا کر جنت کے تختوں پر آمنے سامنے بٹھائے گا۔‏“

صفحہ نمبر4332

ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر فرش کے کونے پر بیٹھے ہوئے دو شخصوں نے کہا، اللہ کا عہد اس سے بہت بڑھا ہوا ہے کہ جنہیں آپ قتل کریں ان کے بھائی بن جائیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے غصے سے فرمایا ”اگر اس آیت سے مراد میرے اور طلحہ جیسے لوگ نہیں تو اور کون ہوں گے؟“

اور روایت میں ہے کہ قبیلہ ہمدان کے ایک شخص نے یہ کہا تھا اور علی رضی اللہ عنہ نے اس دھمکی اور بلند آواز سے یہ جواب دیا تھا کہ محل ہل گیا۔ اور روایت میں ہے کہ کہنے والے کا نام حارث اعور تھا اور اس کی اس بات پر آپ رضی اللہ عنہ نے غصے ہو کر جو چیز آپ رضی اللہ عنہ کی ہاتھ میں تھی وہ اس کے سر پر مار کر یہ فرمایا تھا۔ این جرموز جو زبیر رضی اللہ عنہ کا قاتل تھا جب دربار علی رضی اللہ عنہ میں آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بڑی دیر بعد اسے داخلے کی اجازت دی، اس نے آ کر زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو بلوائی کہہ کر برائی سے یاد کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تیرے منہ میں مٹی۔ میں اور طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہ تو ان شاءاللہ ان لوگوں میں ہیں جن کی بابت اللہ کا یہ فرمان ہے۔‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ قسم کہا کر فرماتے ہیں کہ ”ہم بدریوں کی بابت یہ آیت نازل ہوئی ہے۔‏“

صفحہ نمبر4333

کثیر کہتے ہیں ”میں ابو جعفر محمد بن علی کے پاس گیا اور کہا کہ میرے دوست آپ کے دوست ہیں اور مجھ سے مصالحت رکھنے والے آپ سے مصالحت رکھے والے ہیں، میرے دشمن آپ کے دشمن ہیں اور مجھ سے لڑائی رکھنے والے آپ سے لڑائی رکھنے والے ہیں۔ واللہ میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم سے بری ہوں۔‏“

اس وقت ابو جعفر نے فرمایا ”اگر میں ایسا کروں تو یقیناً مجھ سے بڑھ کر گمراہ کوئی نہیں۔ ناممکن کہ میں اس وقت ہدایت پر قائم رہ سکوں۔ ان دونوں بزرگوں یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے تو اے کثیر محبت رکھ، اگر اس میں تجھے گناہ ہو تو میری گردن پر۔‏“

پھر آپ نے اسی آیت کے آخری حصہ کی تلاوت فرمائی، اور فرمایا کہ ”یہ ان دس شخصوں کے بارے میں ہے ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم اجمعین، یہ آمنے سامنے ہوں گے تاکہ کسی کی طرف کسی کی پیٹھ نہ رہے۔‏“

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایک مجمع میں آ کر اسے تلاوت فرما کر فرمایا یہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے۔ وہاں انہیں کوئی مشقت، تکلیف اور ایذاء نہ ہو گی ۔ [ضعیف] ‏

صفحہ نمبر4334

بخاری و مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت کے سونے کے محل کی خوشخبری سنا دوں جس میں نہ شور و غل ہے نہ تکلیف و مصیبت۔ یہ جنتی جنت سے کبھی نکالے نہ جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:3820] ‏

حدیث میں ہے ان سے فرمایا جائے گا کہ اے جنتیو تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مروگے اور ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ بنو گے اور ہمیشہ یہیں رہو گے کبھی نکالے نہ جاؤ گے ۔ [صحیح مسلم:2837] ‏

اور آیت میں ہے «خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا» [18-الكهف:108] ‏ ” وہ تبدیلی مکان کی خواہش ہی نہ کریں گے نہ ان کی جگہ ان سے چھنے گی “۔

اور آیت میں ہے کہ «وَقُل رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ» [23-المؤمنون:118] ‏ ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بندوں سے کہہ دیجئیے کہ میں «أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ» ہوں۔ اور میرے عذاب بھی نہایت سخت ہیں “۔ اسی جیسی آیت اور بھی گزر چکی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ” مومن کو امید کے ساتھ ڈر بھی رکھنا چاہیئے “۔

صفحہ نمبر4335

حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس آتے ہیں اور انہیں ہنستا ہوا دیکھ کر فرماتے ہیں جنت دوزخ کی یاد کرو ، اس وقت یہ آیتیں اتریں ۔ [مجمع الزوائد:11107:ضعیف] ‏

یہ مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو شیبہ کے دروازے سے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس آ کر کہتے ہیں میں تو تمہیں ہنستے ہوئے دیکھ رہا ہوں یہ کہہ کر واپس مڑ گئے اور حطیم کے پاس سے ہی الٹے پاؤں پھرے ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ ابھی میں جا ہی رہا تھا، جو جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ ”جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ” تو میرے بندوں کو نامید کر رہا ہے؟ انہیں مرے غفور و رحیم ہونے کی اور میرے عذابوں کے المناک ہونے کی خبر دیدے “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:21214:ضعیف] ‏

اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بندے اللہ تعالیٰ کی معافی کو معلوم کرلیں تو حرام سے بچنا چھوڑ دیں اور اگر اللہ کے عذاب کو معلوم کر لیں تو اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:21213:مرسل] ‏

صفحہ نمبر4336

فرشتے بصورت انسان ٭٭

لفظ «ضَیْف» واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے «زور» اور «سفر» ۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔

فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورۃ ھود میں ہے۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لیے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہو گا؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں وعدے کو دہرایا اور ناامیدی سے دور رہنے کی تعلیم کی۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے عقیدے کا اظہار کر دیا کہ ”میں مایوس نہیں ہوں۔ ایمان رکھتا ہوں کہ میرا رب اس سے بھی بڑی باتوں پر قدرت کاملہ رکھتا ہے۔‏“

صفحہ نمبر4340

فرشتے بصورت انسان ٭٭

لفظ «ضَیْف» واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے «زور» اور «سفر» ۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔

فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورۃ ھود میں ہے۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لیے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہو گا؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں وعدے کو دہرایا اور ناامیدی سے دور رہنے کی تعلیم کی۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے عقیدے کا اظہار کر دیا کہ ”میں مایوس نہیں ہوں۔ ایمان رکھتا ہوں کہ میرا رب اس سے بھی بڑی باتوں پر قدرت کاملہ رکھتا ہے۔‏“

صفحہ نمبر4340

فرشتے بصورت انسان ٭٭

لفظ «ضَیْف» واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے «زور» اور «سفر» ۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔

فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورۃ ھود میں ہے۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لیے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہو گا؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں وعدے کو دہرایا اور ناامیدی سے دور رہنے کی تعلیم کی۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے عقیدے کا اظہار کر دیا کہ ”میں مایوس نہیں ہوں۔ ایمان رکھتا ہوں کہ میرا رب اس سے بھی بڑی باتوں پر قدرت کاملہ رکھتا ہے۔‏“

صفحہ نمبر4340

فرشتے بصورت انسان ٭٭

لفظ «ضَیْف» واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے «زور» اور «سفر» ۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔

فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورۃ ھود میں ہے۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لیے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہو گا؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں وعدے کو دہرایا اور ناامیدی سے دور رہنے کی تعلیم کی۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے عقیدے کا اظہار کر دیا کہ ”میں مایوس نہیں ہوں۔ ایمان رکھتا ہوں کہ میرا رب اس سے بھی بڑی باتوں پر قدرت کاملہ رکھتا ہے۔‏“

صفحہ نمبر4340

فرشتے بصورت انسان ٭٭

لفظ «ضَیْف» واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے «زور» اور «سفر» ۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔

فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورۃ ھود میں ہے۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لیے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہو گا؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں وعدے کو دہرایا اور ناامیدی سے دور رہنے کی تعلیم کی۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے عقیدے کا اظہار کر دیا کہ ”میں مایوس نہیں ہوں۔ ایمان رکھتا ہوں کہ میرا رب اس سے بھی بڑی باتوں پر قدرت کاملہ رکھتا ہے۔‏“

صفحہ نمبر4340

فرشتے بصورت انسان ٭٭

لفظ «ضَیْف» واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے «زور» اور «سفر» ۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔

فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورۃ ھود میں ہے۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لیے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہو گا؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں وعدے کو دہرایا اور ناامیدی سے دور رہنے کی تعلیم کی۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے عقیدے کا اظہار کر دیا کہ ”میں مایوس نہیں ہوں۔ ایمان رکھتا ہوں کہ میرا رب اس سے بھی بڑی باتوں پر قدرت کاملہ رکھتا ہے۔‏“

صفحہ نمبر4340

باب

حضرت ابراھیم علیہ السلام کا جب ڈر خوف جاتا رہا بلکہ بشارت بھی مل گئی تو اب فرشتوں سے ان کے آنے کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے بتلایا کہ لوطیوں کی بستیاں الٹنے کے لیے ہم آئے ہیں مگر لوط علیہ السلام کی آل نجات پالے گی۔ ہاں اس آل میں سے ان کی بیوی نہیں بچ سکتی۔ وہ قوم کے ساتھ رہ جائے گی اور ہلاکت میں ان کے ساتھ ہی ہلاک ہوگی۔

صفحہ نمبر4346

باب

حضرت ابراھیم علیہ السلام کا جب ڈر خوف جاتا رہا بلکہ بشارت بھی مل گئی تو اب فرشتوں سے ان کے آنے کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے بتلایا کہ لوطیوں کی بستیاں الٹنے کے لیے ہم آئے ہیں مگر لوط علیہ السلام کی آل نجات پالے گی۔ ہاں اس آل میں سے ان کی بیوی نہیں بچ سکتی۔ وہ قوم کے ساتھ رہ جائے گی اور ہلاکت میں ان کے ساتھ ہی ہلاک ہوگی۔

صفحہ نمبر4346

باب

حضرت ابراھیم علیہ السلام کا جب ڈر خوف جاتا رہا بلکہ بشارت بھی مل گئی تو اب فرشتوں سے ان کے آنے کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے بتلایا کہ لوطیوں کی بستیاں الٹنے کے لیے ہم آئے ہیں مگر لوط علیہ السلام کی آل نجات پالے گی۔ ہاں اس آل میں سے ان کی بیوی نہیں بچ سکتی۔ وہ قوم کے ساتھ رہ جائے گی اور ہلاکت میں ان کے ساتھ ہی ہلاک ہوگی۔

صفحہ نمبر4346

باب

حضرت ابراھیم علیہ السلام کا جب ڈر خوف جاتا رہا بلکہ بشارت بھی مل گئی تو اب فرشتوں سے ان کے آنے کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے بتلایا کہ لوطیوں کی بستیاں الٹنے کے لیے ہم آئے ہیں مگر لوط علیہ السلام کی آل نجات پالے گی۔ ہاں اس آل میں سے ان کی بیوی نہیں بچ سکتی۔ وہ قوم کے ساتھ رہ جائے گی اور ہلاکت میں ان کے ساتھ ہی ہلاک ہوگی۔

صفحہ نمبر4346

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com