Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Hijr
Tafsir Ibn Kathir · The Rock · 99 ayat · ayat 91–99 · Quran text →
انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب ہے ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ ” اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آپ اعلان کر دیجئیے کہ میں تمام لوگوں کو عذاب الٰہی سے صاف صاف ڈرا دینے والا ہوں۔ یاد رکھو میرے جھٹلانے والے بھی اگلے نبیوں کے جھٹلانے والوں کی طرح عذاب الٰہی کے شکار ہوں گے “۔
«الْمُقْتَسِمِينَ» سے مراد قسمیں کھانے والے ہیں جو انبیاء علیہ السلام کی تکذیب اور ان کی مخالفت اور ایذاء دہی پر آپس میں قسما قسمی کر لیتے تھے جیسے کہ قوم صالح کا بیان قرآن حکیم میں ہے کہ «قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّـهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ» [27-النمل:49] ” ان لوگوں نے اللہ کی قسمیں کھا کر عہد کیا کہ راتوں رات صالح علیہ السلام اور ان کے گھرانے کو ہم موت کے گھاٹ اتار دیں گے “۔
اسی طرح قرآن میں ہے کہ «وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَا يَبْعَثُ اللَّهُ مَنْ يَمُوتُ» [16-النحل:38] ” وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ مردے پھر جینے کے نہیں“ الخ۔
اور جگہ ان کا اس بات پر قسمیں کھانے کا ذکر ہے کہ «أَهَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّـهُ بِرَحْمَةٍ» [7-الأعراف:49] ” مسلمانوں کو کبھی کوئی رحمت نہیں مل سکتی “۔ الغرض جس چیز کو نہ ما نتے اس پر قسمیں کھانے کی انہیں عادت تھی اس لیے انہیں کہا گیا ہے۔
صفحہ نمبر4380
بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری اور ان ہدایات کی مثال جسے دے کر اللہ نے مجھے بھیجا ہے اس شخص کی سی ہے جو اپنی قوم کے پاس آ کر کہے کہ لوگو میں نے دشمن کا لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے دیکھو ہوشیار ہو جاؤ بچنے اور ہلاک نہ ہونے کے سامان کر لو۔ اب کچھ لوگ اس کی بات مان لیتے ہیں اور اسی عرصہ میں چل پڑتے ہیں اور دشمن کے پنجے سے بچ جاتے ہیں لیکن بعض لوگ اسے جھوٹا سمجھتے ہیں اور وہیں بے فکری سے پڑے رہتے ہیں کہ ناگاہ دشمن کا لشکر آ پہنچتا ہے اور گھیر گھار کر انہیں قتل کر دیتا ہے پس یہ ہے مثال میرے ماننے والوں کی اور نا ماننے والوں کی ۔ [صحیح بخاری:7283]
ان لوگوں نے اللہ کی ان کتابوں کو جو ان پر اتری تھیں پارہ پارہ کر دیا جس مسئلے کو جی چاہا مانا جس سے دل گھبرایا چھوڑ دیا۔ بخاری شریف میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں کہ کتاب کے بعض حصے کو مانتے تھے اور بعض کو نہیں مانتے تھے ۔ [صحیح بخاری:4705]
یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے کفار کا کتاب اللہ کی نسبت یہ کہنا ہے کہ یہ جادو ہے، یہ کہانت ہے، یہ اگلوں کی کہانی ہے، اس کا کہنے والا جادوگر ہے، مجنوں ہے، کاہن ہے وغیرہ۔
صفحہ نمبر4381
سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ ولید بن مغیرہ کے پاس سرداران قریش جمع ہوئے حج کا موسم قریب تھا اور یہ شخص ان میں بڑا شریف اور ذی رائے سمجھا جاتا تھا اس نے ان سب سے کہا کہ دیکھو حج کے موقع پر دور دراز سے تمام عرب یہاں جمع ہوں گے۔ تم دیکھ رہے ہو کہ تمہارے اس ساتھی نے ایک اودھم مچا رکھا ہے لہٰذا اس کی نسبت ان بیرونی لوگوں سے کیا کہا جائے یہ بتاؤ اور کسی ایک بات پر اجماع کرلو کہ سب وہی کہیں۔ ایسا نہ ہو کوئی کچھ کہے کوئی کچھ کہے اس سے تو تمہارا اعتبار اٹھ جائے گا اور وہ پردیسی تمہیں جھوٹا خیال کریں گے۔
انہوں نے کہا ابو عبد شمس آپ ہی کوئی ایسی بات تجویز کر دیجئیے اس نے کہا پہلے تم اپنی تو کہو تاکہ مجھے بھی غور و خوض کا موقعہ ملے انہوں نے کہا پھر ہماری رائے میں تو ہر شخص اسے کاہن بتلائے۔ اس نے کہا یہ تو واقعہ کے خلاف ہے لوگوں نے کہا پھر مجنوں بالکل درست ہے۔ اس نے کہا یہ بھی غلط ہے کہا اچھا تو شاعر کہیں؟ اس نے جواب دیا کہ وہ شعر جانتا ہی نہیں کہا اچھا پھر جادوگر کہیں؟ کہا اسے جادو سے مس بھی نہیں اس نے کہا سنو واللہ اس کے قول میں عجب مٹھاس ہے ان باتوں میں سے تم جو کہو گے دنیا سمجھ لے گی کہ محض غلط اور سفید جھوٹ ہے۔ گو کوئی بات نہیں بنتی لیکن کچھ کہنا ضرور ہے اچھا بھائی سب اسے جادوگر بتلائیں۔ اس امر پر یہ مجمع برخاست ہوا۔ اور اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔
صفحہ نمبر4382
روزہ قیامت ایک ایک چیز کا سوال ہو گا ٭٭
ان کے اعمال کا سوال ان سے ان کا رب ضرور کرے گا یعنی کلمہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» سے۔ [سنن ترمذي:3126،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ تم میں سے ہر ایک شخص قیامت کے دن تنہا تنہا اللہ کے سامنے پیش ہوگا جیسے ہر ایک شخص چودہویں رات کے چاند کو اکیلا اکیلا دیکھتا ہے۔ اللہ فرمائے گا ” اے انسان تو مجھ سے مغرور کیوں ہو گیا؟ تو نے اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا؟ تو نے میرے رسولوں کو کیا جواب دیا؟ “۔“
ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دو چیزوں کا سوال ہر ایک سے ہوگا معبود کسے بنا رکھا تھا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانی یا نہیں؟ ابن عیینہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں عمل اور مال کا سوال ہوگا۔
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے حضور علیہ السلام نے فرمایا اے معاذ! انسان سے قیامت کے دن ہر ایک عمل کا سوال ہوگا۔ یہاں تک کہ اس کے آنکھ کے سرمے اور اس کے ہاتھ کی گندہی ہوئی مٹی کے بارے میں بھی اس سے سوال ہو گا، دیکھ معاذ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن اللہ کی نعمتوں کے بارے میں تو کمی والا رہ جائے ۔ [الدیلمی فی الزھر الفردوس:339/4:ضعیف]
اس آیت میں تو ہے کہ ” ہر ایک سے اس کے عمل کی بابت سوال ہوگا “۔ اور سورۃ رحمان کی آیت میں ہے کہ آیت «فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْأَلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلَا جَانٌّ» [55-الرحمن:39] کہ ” اس دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہوں کا سوال نہ ہوگا “۔ ان دونوں آیتوں میں بقول ابن عباس رضی اللہ عنہما تطبیق یہ ہے کہ ”یہ سوال نہ ہوگا کہ تونے یہ عمل کیا؟ بلکہ یہ سوال ہوگا کہ کیوں کیا؟“
صفحہ نمبر4383
انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب ہے ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ ” اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آپ اعلان کر دیجئیے کہ میں تمام لوگوں کو عذاب الٰہی سے صاف صاف ڈرا دینے والا ہوں۔ یاد رکھو میرے جھٹلانے والے بھی اگلے نبیوں کے جھٹلانے والوں کی طرح عذاب الٰہی کے شکار ہوں گے “۔
«الْمُقْتَسِمِينَ» سے مراد قسمیں کھانے والے ہیں جو انبیاء علیہ السلام کی تکذیب اور ان کی مخالفت اور ایذاء دہی پر آپس میں قسما قسمی کر لیتے تھے جیسے کہ قوم صالح کا بیان قرآن حکیم میں ہے کہ «قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّـهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ» [27-النمل:49] ” ان لوگوں نے اللہ کی قسمیں کھا کر عہد کیا کہ راتوں رات صالح علیہ السلام اور ان کے گھرانے کو ہم موت کے گھاٹ اتار دیں گے “۔
اسی طرح قرآن میں ہے کہ «وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَا يَبْعَثُ اللَّهُ مَنْ يَمُوتُ» [16-النحل:38] ” وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ مردے پھر جینے کے نہیں“ الخ۔
اور جگہ ان کا اس بات پر قسمیں کھانے کا ذکر ہے کہ «أَهَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّـهُ بِرَحْمَةٍ» [7-الأعراف:49] ” مسلمانوں کو کبھی کوئی رحمت نہیں مل سکتی “۔ الغرض جس چیز کو نہ ما نتے اس پر قسمیں کھانے کی انہیں عادت تھی اس لیے انہیں کہا گیا ہے۔
صفحہ نمبر4380
بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری اور ان ہدایات کی مثال جسے دے کر اللہ نے مجھے بھیجا ہے اس شخص کی سی ہے جو اپنی قوم کے پاس آ کر کہے کہ لوگو میں نے دشمن کا لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے دیکھو ہوشیار ہو جاؤ بچنے اور ہلاک نہ ہونے کے سامان کر لو۔ اب کچھ لوگ اس کی بات مان لیتے ہیں اور اسی عرصہ میں چل پڑتے ہیں اور دشمن کے پنجے سے بچ جاتے ہیں لیکن بعض لوگ اسے جھوٹا سمجھتے ہیں اور وہیں بے فکری سے پڑے رہتے ہیں کہ ناگاہ دشمن کا لشکر آ پہنچتا ہے اور گھیر گھار کر انہیں قتل کر دیتا ہے پس یہ ہے مثال میرے ماننے والوں کی اور نا ماننے والوں کی ۔ [صحیح بخاری:7283]
ان لوگوں نے اللہ کی ان کتابوں کو جو ان پر اتری تھیں پارہ پارہ کر دیا جس مسئلے کو جی چاہا مانا جس سے دل گھبرایا چھوڑ دیا۔ بخاری شریف میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں کہ کتاب کے بعض حصے کو مانتے تھے اور بعض کو نہیں مانتے تھے ۔ [صحیح بخاری:4705]
یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے کفار کا کتاب اللہ کی نسبت یہ کہنا ہے کہ یہ جادو ہے، یہ کہانت ہے، یہ اگلوں کی کہانی ہے، اس کا کہنے والا جادوگر ہے، مجنوں ہے، کاہن ہے وغیرہ۔
صفحہ نمبر4381
سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ ولید بن مغیرہ کے پاس سرداران قریش جمع ہوئے حج کا موسم قریب تھا اور یہ شخص ان میں بڑا شریف اور ذی رائے سمجھا جاتا تھا اس نے ان سب سے کہا کہ دیکھو حج کے موقع پر دور دراز سے تمام عرب یہاں جمع ہوں گے۔ تم دیکھ رہے ہو کہ تمہارے اس ساتھی نے ایک اودھم مچا رکھا ہے لہٰذا اس کی نسبت ان بیرونی لوگوں سے کیا کہا جائے یہ بتاؤ اور کسی ایک بات پر اجماع کرلو کہ سب وہی کہیں۔ ایسا نہ ہو کوئی کچھ کہے کوئی کچھ کہے اس سے تو تمہارا اعتبار اٹھ جائے گا اور وہ پردیسی تمہیں جھوٹا خیال کریں گے۔
انہوں نے کہا ابو عبد شمس آپ ہی کوئی ایسی بات تجویز کر دیجئیے اس نے کہا پہلے تم اپنی تو کہو تاکہ مجھے بھی غور و خوض کا موقعہ ملے انہوں نے کہا پھر ہماری رائے میں تو ہر شخص اسے کاہن بتلائے۔ اس نے کہا یہ تو واقعہ کے خلاف ہے لوگوں نے کہا پھر مجنوں بالکل درست ہے۔ اس نے کہا یہ بھی غلط ہے کہا اچھا تو شاعر کہیں؟ اس نے جواب دیا کہ وہ شعر جانتا ہی نہیں کہا اچھا پھر جادوگر کہیں؟ کہا اسے جادو سے مس بھی نہیں اس نے کہا سنو واللہ اس کے قول میں عجب مٹھاس ہے ان باتوں میں سے تم جو کہو گے دنیا سمجھ لے گی کہ محض غلط اور سفید جھوٹ ہے۔ گو کوئی بات نہیں بنتی لیکن کچھ کہنا ضرور ہے اچھا بھائی سب اسے جادوگر بتلائیں۔ اس امر پر یہ مجمع برخاست ہوا۔ اور اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔
صفحہ نمبر4382
روزہ قیامت ایک ایک چیز کا سوال ہو گا ٭٭
ان کے اعمال کا سوال ان سے ان کا رب ضرور کرے گا یعنی کلمہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» سے۔ [سنن ترمذي:3126،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ تم میں سے ہر ایک شخص قیامت کے دن تنہا تنہا اللہ کے سامنے پیش ہوگا جیسے ہر ایک شخص چودہویں رات کے چاند کو اکیلا اکیلا دیکھتا ہے۔ اللہ فرمائے گا ” اے انسان تو مجھ سے مغرور کیوں ہو گیا؟ تو نے اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا؟ تو نے میرے رسولوں کو کیا جواب دیا؟ “۔“
ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دو چیزوں کا سوال ہر ایک سے ہوگا معبود کسے بنا رکھا تھا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانی یا نہیں؟ ابن عیینہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں عمل اور مال کا سوال ہوگا۔
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے حضور علیہ السلام نے فرمایا اے معاذ! انسان سے قیامت کے دن ہر ایک عمل کا سوال ہوگا۔ یہاں تک کہ اس کے آنکھ کے سرمے اور اس کے ہاتھ کی گندہی ہوئی مٹی کے بارے میں بھی اس سے سوال ہو گا، دیکھ معاذ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن اللہ کی نعمتوں کے بارے میں تو کمی والا رہ جائے ۔ [الدیلمی فی الزھر الفردوس:339/4:ضعیف]
اس آیت میں تو ہے کہ ” ہر ایک سے اس کے عمل کی بابت سوال ہوگا “۔ اور سورۃ رحمان کی آیت میں ہے کہ آیت «فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْأَلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلَا جَانٌّ» [55-الرحمن:39] کہ ” اس دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہوں کا سوال نہ ہوگا “۔ ان دونوں آیتوں میں بقول ابن عباس رضی اللہ عنہما تطبیق یہ ہے کہ ”یہ سوال نہ ہوگا کہ تونے یہ عمل کیا؟ بلکہ یہ سوال ہوگا کہ کیوں کیا؟“
صفحہ نمبر4383
انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب ہے ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ ” اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آپ اعلان کر دیجئیے کہ میں تمام لوگوں کو عذاب الٰہی سے صاف صاف ڈرا دینے والا ہوں۔ یاد رکھو میرے جھٹلانے والے بھی اگلے نبیوں کے جھٹلانے والوں کی طرح عذاب الٰہی کے شکار ہوں گے “۔
«الْمُقْتَسِمِينَ» سے مراد قسمیں کھانے والے ہیں جو انبیاء علیہ السلام کی تکذیب اور ان کی مخالفت اور ایذاء دہی پر آپس میں قسما قسمی کر لیتے تھے جیسے کہ قوم صالح کا بیان قرآن حکیم میں ہے کہ «قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّـهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ» [27-النمل:49] ” ان لوگوں نے اللہ کی قسمیں کھا کر عہد کیا کہ راتوں رات صالح علیہ السلام اور ان کے گھرانے کو ہم موت کے گھاٹ اتار دیں گے “۔
اسی طرح قرآن میں ہے کہ «وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَا يَبْعَثُ اللَّهُ مَنْ يَمُوتُ» [16-النحل:38] ” وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ مردے پھر جینے کے نہیں“ الخ۔
اور جگہ ان کا اس بات پر قسمیں کھانے کا ذکر ہے کہ «أَهَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّـهُ بِرَحْمَةٍ» [7-الأعراف:49] ” مسلمانوں کو کبھی کوئی رحمت نہیں مل سکتی “۔ الغرض جس چیز کو نہ ما نتے اس پر قسمیں کھانے کی انہیں عادت تھی اس لیے انہیں کہا گیا ہے۔
صفحہ نمبر4380
بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری اور ان ہدایات کی مثال جسے دے کر اللہ نے مجھے بھیجا ہے اس شخص کی سی ہے جو اپنی قوم کے پاس آ کر کہے کہ لوگو میں نے دشمن کا لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے دیکھو ہوشیار ہو جاؤ بچنے اور ہلاک نہ ہونے کے سامان کر لو۔ اب کچھ لوگ اس کی بات مان لیتے ہیں اور اسی عرصہ میں چل پڑتے ہیں اور دشمن کے پنجے سے بچ جاتے ہیں لیکن بعض لوگ اسے جھوٹا سمجھتے ہیں اور وہیں بے فکری سے پڑے رہتے ہیں کہ ناگاہ دشمن کا لشکر آ پہنچتا ہے اور گھیر گھار کر انہیں قتل کر دیتا ہے پس یہ ہے مثال میرے ماننے والوں کی اور نا ماننے والوں کی ۔ [صحیح بخاری:7283]
ان لوگوں نے اللہ کی ان کتابوں کو جو ان پر اتری تھیں پارہ پارہ کر دیا جس مسئلے کو جی چاہا مانا جس سے دل گھبرایا چھوڑ دیا۔ بخاری شریف میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں کہ کتاب کے بعض حصے کو مانتے تھے اور بعض کو نہیں مانتے تھے ۔ [صحیح بخاری:4705]
یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے کفار کا کتاب اللہ کی نسبت یہ کہنا ہے کہ یہ جادو ہے، یہ کہانت ہے، یہ اگلوں کی کہانی ہے، اس کا کہنے والا جادوگر ہے، مجنوں ہے، کاہن ہے وغیرہ۔
صفحہ نمبر4381
سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ ولید بن مغیرہ کے پاس سرداران قریش جمع ہوئے حج کا موسم قریب تھا اور یہ شخص ان میں بڑا شریف اور ذی رائے سمجھا جاتا تھا اس نے ان سب سے کہا کہ دیکھو حج کے موقع پر دور دراز سے تمام عرب یہاں جمع ہوں گے۔ تم دیکھ رہے ہو کہ تمہارے اس ساتھی نے ایک اودھم مچا رکھا ہے لہٰذا اس کی نسبت ان بیرونی لوگوں سے کیا کہا جائے یہ بتاؤ اور کسی ایک بات پر اجماع کرلو کہ سب وہی کہیں۔ ایسا نہ ہو کوئی کچھ کہے کوئی کچھ کہے اس سے تو تمہارا اعتبار اٹھ جائے گا اور وہ پردیسی تمہیں جھوٹا خیال کریں گے۔
انہوں نے کہا ابو عبد شمس آپ ہی کوئی ایسی بات تجویز کر دیجئیے اس نے کہا پہلے تم اپنی تو کہو تاکہ مجھے بھی غور و خوض کا موقعہ ملے انہوں نے کہا پھر ہماری رائے میں تو ہر شخص اسے کاہن بتلائے۔ اس نے کہا یہ تو واقعہ کے خلاف ہے لوگوں نے کہا پھر مجنوں بالکل درست ہے۔ اس نے کہا یہ بھی غلط ہے کہا اچھا تو شاعر کہیں؟ اس نے جواب دیا کہ وہ شعر جانتا ہی نہیں کہا اچھا پھر جادوگر کہیں؟ کہا اسے جادو سے مس بھی نہیں اس نے کہا سنو واللہ اس کے قول میں عجب مٹھاس ہے ان باتوں میں سے تم جو کہو گے دنیا سمجھ لے گی کہ محض غلط اور سفید جھوٹ ہے۔ گو کوئی بات نہیں بنتی لیکن کچھ کہنا ضرور ہے اچھا بھائی سب اسے جادوگر بتلائیں۔ اس امر پر یہ مجمع برخاست ہوا۔ اور اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔
صفحہ نمبر4382
روزہ قیامت ایک ایک چیز کا سوال ہو گا ٭٭
ان کے اعمال کا سوال ان سے ان کا رب ضرور کرے گا یعنی کلمہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» سے۔ [سنن ترمذي:3126،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ تم میں سے ہر ایک شخص قیامت کے دن تنہا تنہا اللہ کے سامنے پیش ہوگا جیسے ہر ایک شخص چودہویں رات کے چاند کو اکیلا اکیلا دیکھتا ہے۔ اللہ فرمائے گا ” اے انسان تو مجھ سے مغرور کیوں ہو گیا؟ تو نے اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا؟ تو نے میرے رسولوں کو کیا جواب دیا؟ “۔“
ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دو چیزوں کا سوال ہر ایک سے ہوگا معبود کسے بنا رکھا تھا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانی یا نہیں؟ ابن عیینہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں عمل اور مال کا سوال ہوگا۔
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے حضور علیہ السلام نے فرمایا اے معاذ! انسان سے قیامت کے دن ہر ایک عمل کا سوال ہوگا۔ یہاں تک کہ اس کے آنکھ کے سرمے اور اس کے ہاتھ کی گندہی ہوئی مٹی کے بارے میں بھی اس سے سوال ہو گا، دیکھ معاذ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن اللہ کی نعمتوں کے بارے میں تو کمی والا رہ جائے ۔ [الدیلمی فی الزھر الفردوس:339/4:ضعیف]
اس آیت میں تو ہے کہ ” ہر ایک سے اس کے عمل کی بابت سوال ہوگا “۔ اور سورۃ رحمان کی آیت میں ہے کہ آیت «فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْأَلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلَا جَانٌّ» [55-الرحمن:39] کہ ” اس دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہوں کا سوال نہ ہوگا “۔ ان دونوں آیتوں میں بقول ابن عباس رضی اللہ عنہما تطبیق یہ ہے کہ ”یہ سوال نہ ہوگا کہ تونے یہ عمل کیا؟ بلکہ یہ سوال ہوگا کہ کیوں کیا؟“
صفحہ نمبر4383
رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے مخالفین کا عبرتناک انجام ٭٭
حکم ہو رہا ہے کہ ” اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ کی باتیں لوگوں کو صاف صاف بے جھجک پہنچا دیں نہ کسی کی رو رعایت کیجئے نہ کسی کا ڈر خوف کیجئے۔ مشرکوں کے سامنے توحید کھلم کھلا بیان کردیجئے۔ خود عمل کرکے دوسروں تک پہنچایئے۔ نماز میں قرآن با آواز بلند تلاوت کیجئے “۔
اس آیت کے اترنے سے پہلے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ تبلیغ فرماتے تھے لیکن اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کھلے طور پر اشاعت دین شروع کر دی۔
«وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ» [68-القلم:9] ” ان مذاق اڑانے والوں کو ہم پر چھوڑ دے ہم خود ان سے نمٹ لیں گے تو اپنی تبلیغ کے فریضے میں کوتاہی نہ کر یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا سی سستی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھیں تو خود بھی دست بردار ہو جائیں “۔ ” تو ان سے مطلقاً خوف نہ کر اللہ تعالیٰ تیرا حافظ و ناصر ہے وہ تجھے ان کے شر سے بچا لے گا “۔
اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدہ:67] ” اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا، اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے “۔
صفحہ نمبر4388
چنانچہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے جا رہے تھے کہ بعض مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھیڑا اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہیں نشتر مارا جس سے ان کے جسموں میں ایسا ہو گیا جیسے نیزے کے زخم ہوں اسی میں وہ مر گئے ۔ [مسند بزار:2222:ضعیف]
اور یہ لوگ مشرکین کے بڑے بڑے رؤسا تھے۔ بڑی عمر کے تھے اور نہایت شریف گنے جاتے تھے۔ بنو اسد کے قبیلے میں سے تو اسود بن عبدالمطلب ابو زمعہ، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی دشمن تھا، ایذائیں دیا کرتا تھا اور مذاق اڑایا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر اس کے لیے بد دعا بھی کی تھی کہ اے اللہ اسے اندھا کر دے بے اولاد کر دے ۔
بنی زہر میں سے اسود تھا اور بنی مخزوم میں سے ولید تھا اور بنی سہم میں سے عاص بن وائل تھا۔ اور خزاعہ میں سے حارث تھا۔ یہ لوگ برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء رسائی کے درپے لگے رہتے تھے اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابھارا کرتے تھے اور جو تکلیف ان کے بس میں ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا کرتے جب یہ اپنے مظالم میں حد سے گزر گئے اور بات بات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آیت «فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَلَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [15-الحجر:94-96] تک کی آیتیں نازل فرمائیں۔
کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کر رہے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے بیت اللہ شریف میں آپ کے پاس کھڑے ہو گئے اتنے میں اسود بن عبد یغوث آپ کے پاس سے گزرا تو جبرائیل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اسے پیٹ کی بیماری ہو گئی اور اسی میں وہ مرا۔ اتنے میں ولید بن مغیرہ گزرا اس کی ایڑی ایک خزاعی شخص کے تیر کے پھل سے کچھ یونہی سی چھل گئی تھی اور اسے بھی دو سال گزر چکے تھے جبرائیل علیہ السلام نے اسی کی طرف اشارہ کیا وہ پھول گئی، پکی اور اسی میں وہ مرا۔ پھر عاص بن وائل گزرا۔ اس کے تلوے کی طرف اشارہ کیا کچھ دنوں بعد یہ طائف جانے کے لیے اپنے گدھے پر سوار چلا۔ راستے میں گر پڑا اور تلوے میں کیل گھس گئی جس نے اس کی جان لی۔ حارث کے سر کی طرف اشارہ کیا اسے خون آنے لگا اور اسی میں مرا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:550/7:اسناده فیه جهالته]
صفحہ نمبر4389
ان سب موذیوں کا سردار ولید بن مغیرہ تھا اسی نے انہیں جمع کیا تھا پس یہ پانچ یا سات شخص تھے جو جڑ تھے اور ان کے اشاروں سے اور ذلیل لوگ بھی کمینہ پن کی حرکتیں کرتے رہتے تھے۔ یہ لوگ اس لغو حرکت کے ساتھ ہی یہ بھی کرتے تھے کہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے تھے۔
” انہیں اپنے کرتوت کا مزہ ابھی ابھی آ جائے گا۔ اور بھی جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف ہو اللہ کے ساتھ شرک کرے اس کا یہی حال ہے۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ ان کی بکواس سے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں تکلیف ہوتی ہے دل تنگ ہوتا ہے لیکن تم ان کا خیال بھی نہ کرو۔ اللہ تمہارا مدد گار ہے۔ تم اپنے رب کے ذکر اور اس کی تسبیح اور حمد میں لگے رہو۔ اس کی عبادت جی بھر کر کرو نماز کا خیال رکھو سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دو “۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” اے ابن آدم شروع دن کی چار رکعت سے عاجز نہ ہو میں تجھے آخر دن تک کفایت کروں گا “ ۔ [سنن ابوداود:1289،قال الشيخ الألباني:صحیح]
حضور علیہ السلام کی عادت مبارک تھی کہ جب کوئی گھبراہٹ کا معاملہ آ پڑتا تو آپ نماز شروع کر دیتے ۔ [سنن ابوداود:1319،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر4390
یقین کا مفہوم ٭٭
یقین سے مراد اس آخری آیت میں موت ہے اس کی دلیل سورۃ المدثر کی وہ آیتیں ہیں جن میں بیان ہے کہ «قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ حَتَّىٰ أَتَانَا الْيَقِينُ» [74-المدثر:43-47] ” جہنمی اپنی برائیاں کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے مسکینوں کو کھانا کھلاتے نہیں تھے باتیں بنایا کرتے تھے اور قیامت کو جھٹلاتے تھے یہاں تک کہ موت آ گئی “، یہاں بھی موت کی جگہ لفظ یقین ہے۔
ایک صحیح حدیث میں بھی ہے کہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو انصار کی ایک عورت ام العلاء نے کہا کہ اے ابو السائب اللہ کی تجھ پر رحمتیں ہوں بیشک اللہ تعالیٰ نے تیری تکریم و عزت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: تجھے کیسے یقین ہو گیا کہ اللہ نے اس کا اکرام کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ قربان ہوں پھر کون ہوگا جس کا اکرام ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ» سنو اسے موت آ چکی اور مجھے اس کے لئے بھلائی کی امید ہے ۔ [صحیح بخاری:1243] اس حدیث میں بھی موت کی جگہ یقین کا لفظ ہے۔
اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نماز وغیرہ عبادات انسان پر فرض ہیں جب تک کہ اس کی عقل باقی رہے اور ہوش حواس ثابت ہوں جیسی اس کی حالت ہو اسی کے مطابق نماز ادا کرلے۔
صفحہ نمبر4391
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کر، نہ ہو سکے تو بیٹھ کر، نہ ہو سکے تو کروٹ پر لیٹ کر ۔ [صحیح بخاری:1117]
بد مذہبوں نے اس سے اپنے مطلب کی ایک بات گھڑلی ہے کہ جب تک انسان درجہ کمال تک نہ پہنچے اس پر عبادات فرض رہتی ہیں لیکن جب معرفت کی منزلیں طے کر چکا تو عبادت کی تکلیف ساقط ہو جاتی ہے یہ سراسر کفر ضلالت اور جہالت ہے۔ یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ انبیاء اور حضور سرور انبیاء علیہم السلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم معرفت کے تمام درجے طے کر چکے تھے اور دین کے علم و عرفان میں سب دنیا سے کامل تھے رب کی صفات اور ذات کا سب سے زیادہ علم رکھتے تھے باوجود اس کے سب سے زیادہ اللہ کی عبادت کرتے تھے اور رب کی اطاعت میں تمام دنیا سے زیادہ مشغول رہتے تھے اور دنیا کے آخری دم تک اسی میں لگے رہے۔
پس ثابت ہے کہ یہاں مراد یقین سے موت ہے تمام مفسرین صحابہ تابعین و غیرہ کا یہی مذہب ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اللہ تعالیٰ کا شکرو احسان ہے اس نے جو ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے اس پر ہم اس کی تعریفیں کرتے ہیں اسی سے نیک کاموں میں مدد پاتے ہیں اسی کی پاک ذات پر ہمارا بھروسہ ہے ہم اس مالک حاکم سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بہترین اور کامل اسلام ایمان اور نیکی پر موت دے وہ جواد ہے اور کریم ہے۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحجر کی تفسیر ختم ہوئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى الْهِدَايَةِ» ۔
صفحہ نمبر4392
رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے مخالفین کا عبرتناک انجام ٭٭
حکم ہو رہا ہے کہ ” اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ کی باتیں لوگوں کو صاف صاف بے جھجک پہنچا دیں نہ کسی کی رو رعایت کیجئے نہ کسی کا ڈر خوف کیجئے۔ مشرکوں کے سامنے توحید کھلم کھلا بیان کردیجئے۔ خود عمل کرکے دوسروں تک پہنچایئے۔ نماز میں قرآن با آواز بلند تلاوت کیجئے “۔
اس آیت کے اترنے سے پہلے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ تبلیغ فرماتے تھے لیکن اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کھلے طور پر اشاعت دین شروع کر دی۔
«وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ» [68-القلم:9] ” ان مذاق اڑانے والوں کو ہم پر چھوڑ دے ہم خود ان سے نمٹ لیں گے تو اپنی تبلیغ کے فریضے میں کوتاہی نہ کر یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا سی سستی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھیں تو خود بھی دست بردار ہو جائیں “۔ ” تو ان سے مطلقاً خوف نہ کر اللہ تعالیٰ تیرا حافظ و ناصر ہے وہ تجھے ان کے شر سے بچا لے گا “۔
اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدہ:67] ” اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا، اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے “۔
صفحہ نمبر4388
چنانچہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے جا رہے تھے کہ بعض مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھیڑا اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہیں نشتر مارا جس سے ان کے جسموں میں ایسا ہو گیا جیسے نیزے کے زخم ہوں اسی میں وہ مر گئے ۔ [مسند بزار:2222:ضعیف]
اور یہ لوگ مشرکین کے بڑے بڑے رؤسا تھے۔ بڑی عمر کے تھے اور نہایت شریف گنے جاتے تھے۔ بنو اسد کے قبیلے میں سے تو اسود بن عبدالمطلب ابو زمعہ، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی دشمن تھا، ایذائیں دیا کرتا تھا اور مذاق اڑایا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر اس کے لیے بد دعا بھی کی تھی کہ اے اللہ اسے اندھا کر دے بے اولاد کر دے ۔
بنی زہر میں سے اسود تھا اور بنی مخزوم میں سے ولید تھا اور بنی سہم میں سے عاص بن وائل تھا۔ اور خزاعہ میں سے حارث تھا۔ یہ لوگ برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء رسائی کے درپے لگے رہتے تھے اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابھارا کرتے تھے اور جو تکلیف ان کے بس میں ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا کرتے جب یہ اپنے مظالم میں حد سے گزر گئے اور بات بات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آیت «فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَلَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [15-الحجر:94-96] تک کی آیتیں نازل فرمائیں۔
کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کر رہے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے بیت اللہ شریف میں آپ کے پاس کھڑے ہو گئے اتنے میں اسود بن عبد یغوث آپ کے پاس سے گزرا تو جبرائیل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اسے پیٹ کی بیماری ہو گئی اور اسی میں وہ مرا۔ اتنے میں ولید بن مغیرہ گزرا اس کی ایڑی ایک خزاعی شخص کے تیر کے پھل سے کچھ یونہی سی چھل گئی تھی اور اسے بھی دو سال گزر چکے تھے جبرائیل علیہ السلام نے اسی کی طرف اشارہ کیا وہ پھول گئی، پکی اور اسی میں وہ مرا۔ پھر عاص بن وائل گزرا۔ اس کے تلوے کی طرف اشارہ کیا کچھ دنوں بعد یہ طائف جانے کے لیے اپنے گدھے پر سوار چلا۔ راستے میں گر پڑا اور تلوے میں کیل گھس گئی جس نے اس کی جان لی۔ حارث کے سر کی طرف اشارہ کیا اسے خون آنے لگا اور اسی میں مرا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:550/7:اسناده فیه جهالته]
صفحہ نمبر4389
ان سب موذیوں کا سردار ولید بن مغیرہ تھا اسی نے انہیں جمع کیا تھا پس یہ پانچ یا سات شخص تھے جو جڑ تھے اور ان کے اشاروں سے اور ذلیل لوگ بھی کمینہ پن کی حرکتیں کرتے رہتے تھے۔ یہ لوگ اس لغو حرکت کے ساتھ ہی یہ بھی کرتے تھے کہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے تھے۔
” انہیں اپنے کرتوت کا مزہ ابھی ابھی آ جائے گا۔ اور بھی جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف ہو اللہ کے ساتھ شرک کرے اس کا یہی حال ہے۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ ان کی بکواس سے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں تکلیف ہوتی ہے دل تنگ ہوتا ہے لیکن تم ان کا خیال بھی نہ کرو۔ اللہ تمہارا مدد گار ہے۔ تم اپنے رب کے ذکر اور اس کی تسبیح اور حمد میں لگے رہو۔ اس کی عبادت جی بھر کر کرو نماز کا خیال رکھو سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دو “۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” اے ابن آدم شروع دن کی چار رکعت سے عاجز نہ ہو میں تجھے آخر دن تک کفایت کروں گا “ ۔ [سنن ابوداود:1289،قال الشيخ الألباني:صحیح]
حضور علیہ السلام کی عادت مبارک تھی کہ جب کوئی گھبراہٹ کا معاملہ آ پڑتا تو آپ نماز شروع کر دیتے ۔ [سنن ابوداود:1319،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر4390
یقین کا مفہوم ٭٭
یقین سے مراد اس آخری آیت میں موت ہے اس کی دلیل سورۃ المدثر کی وہ آیتیں ہیں جن میں بیان ہے کہ «قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ حَتَّىٰ أَتَانَا الْيَقِينُ» [74-المدثر:43-47] ” جہنمی اپنی برائیاں کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے مسکینوں کو کھانا کھلاتے نہیں تھے باتیں بنایا کرتے تھے اور قیامت کو جھٹلاتے تھے یہاں تک کہ موت آ گئی “، یہاں بھی موت کی جگہ لفظ یقین ہے۔
ایک صحیح حدیث میں بھی ہے کہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو انصار کی ایک عورت ام العلاء نے کہا کہ اے ابو السائب اللہ کی تجھ پر رحمتیں ہوں بیشک اللہ تعالیٰ نے تیری تکریم و عزت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: تجھے کیسے یقین ہو گیا کہ اللہ نے اس کا اکرام کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ قربان ہوں پھر کون ہوگا جس کا اکرام ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ» سنو اسے موت آ چکی اور مجھے اس کے لئے بھلائی کی امید ہے ۔ [صحیح بخاری:1243] اس حدیث میں بھی موت کی جگہ یقین کا لفظ ہے۔
اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نماز وغیرہ عبادات انسان پر فرض ہیں جب تک کہ اس کی عقل باقی رہے اور ہوش حواس ثابت ہوں جیسی اس کی حالت ہو اسی کے مطابق نماز ادا کرلے۔
صفحہ نمبر4391
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کر، نہ ہو سکے تو بیٹھ کر، نہ ہو سکے تو کروٹ پر لیٹ کر ۔ [صحیح بخاری:1117]
بد مذہبوں نے اس سے اپنے مطلب کی ایک بات گھڑلی ہے کہ جب تک انسان درجہ کمال تک نہ پہنچے اس پر عبادات فرض رہتی ہیں لیکن جب معرفت کی منزلیں طے کر چکا تو عبادت کی تکلیف ساقط ہو جاتی ہے یہ سراسر کفر ضلالت اور جہالت ہے۔ یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ انبیاء اور حضور سرور انبیاء علیہم السلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم معرفت کے تمام درجے طے کر چکے تھے اور دین کے علم و عرفان میں سب دنیا سے کامل تھے رب کی صفات اور ذات کا سب سے زیادہ علم رکھتے تھے باوجود اس کے سب سے زیادہ اللہ کی عبادت کرتے تھے اور رب کی اطاعت میں تمام دنیا سے زیادہ مشغول رہتے تھے اور دنیا کے آخری دم تک اسی میں لگے رہے۔
پس ثابت ہے کہ یہاں مراد یقین سے موت ہے تمام مفسرین صحابہ تابعین و غیرہ کا یہی مذہب ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اللہ تعالیٰ کا شکرو احسان ہے اس نے جو ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے اس پر ہم اس کی تعریفیں کرتے ہیں اسی سے نیک کاموں میں مدد پاتے ہیں اسی کی پاک ذات پر ہمارا بھروسہ ہے ہم اس مالک حاکم سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بہترین اور کامل اسلام ایمان اور نیکی پر موت دے وہ جواد ہے اور کریم ہے۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحجر کی تفسیر ختم ہوئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى الْهِدَايَةِ» ۔
صفحہ نمبر4392
رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے مخالفین کا عبرتناک انجام ٭٭
حکم ہو رہا ہے کہ ” اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ کی باتیں لوگوں کو صاف صاف بے جھجک پہنچا دیں نہ کسی کی رو رعایت کیجئے نہ کسی کا ڈر خوف کیجئے۔ مشرکوں کے سامنے توحید کھلم کھلا بیان کردیجئے۔ خود عمل کرکے دوسروں تک پہنچایئے۔ نماز میں قرآن با آواز بلند تلاوت کیجئے “۔
اس آیت کے اترنے سے پہلے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ تبلیغ فرماتے تھے لیکن اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کھلے طور پر اشاعت دین شروع کر دی۔
«وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ» [68-القلم:9] ” ان مذاق اڑانے والوں کو ہم پر چھوڑ دے ہم خود ان سے نمٹ لیں گے تو اپنی تبلیغ کے فریضے میں کوتاہی نہ کر یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا سی سستی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھیں تو خود بھی دست بردار ہو جائیں “۔ ” تو ان سے مطلقاً خوف نہ کر اللہ تعالیٰ تیرا حافظ و ناصر ہے وہ تجھے ان کے شر سے بچا لے گا “۔
اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدہ:67] ” اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا، اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے “۔
صفحہ نمبر4388
چنانچہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے جا رہے تھے کہ بعض مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھیڑا اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہیں نشتر مارا جس سے ان کے جسموں میں ایسا ہو گیا جیسے نیزے کے زخم ہوں اسی میں وہ مر گئے ۔ [مسند بزار:2222:ضعیف]
اور یہ لوگ مشرکین کے بڑے بڑے رؤسا تھے۔ بڑی عمر کے تھے اور نہایت شریف گنے جاتے تھے۔ بنو اسد کے قبیلے میں سے تو اسود بن عبدالمطلب ابو زمعہ، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی دشمن تھا، ایذائیں دیا کرتا تھا اور مذاق اڑایا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر اس کے لیے بد دعا بھی کی تھی کہ اے اللہ اسے اندھا کر دے بے اولاد کر دے ۔
بنی زہر میں سے اسود تھا اور بنی مخزوم میں سے ولید تھا اور بنی سہم میں سے عاص بن وائل تھا۔ اور خزاعہ میں سے حارث تھا۔ یہ لوگ برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء رسائی کے درپے لگے رہتے تھے اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابھارا کرتے تھے اور جو تکلیف ان کے بس میں ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا کرتے جب یہ اپنے مظالم میں حد سے گزر گئے اور بات بات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آیت «فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَلَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [15-الحجر:94-96] تک کی آیتیں نازل فرمائیں۔
کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کر رہے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے بیت اللہ شریف میں آپ کے پاس کھڑے ہو گئے اتنے میں اسود بن عبد یغوث آپ کے پاس سے گزرا تو جبرائیل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اسے پیٹ کی بیماری ہو گئی اور اسی میں وہ مرا۔ اتنے میں ولید بن مغیرہ گزرا اس کی ایڑی ایک خزاعی شخص کے تیر کے پھل سے کچھ یونہی سی چھل گئی تھی اور اسے بھی دو سال گزر چکے تھے جبرائیل علیہ السلام نے اسی کی طرف اشارہ کیا وہ پھول گئی، پکی اور اسی میں وہ مرا۔ پھر عاص بن وائل گزرا۔ اس کے تلوے کی طرف اشارہ کیا کچھ دنوں بعد یہ طائف جانے کے لیے اپنے گدھے پر سوار چلا۔ راستے میں گر پڑا اور تلوے میں کیل گھس گئی جس نے اس کی جان لی۔ حارث کے سر کی طرف اشارہ کیا اسے خون آنے لگا اور اسی میں مرا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:550/7:اسناده فیه جهالته]
صفحہ نمبر4389
ان سب موذیوں کا سردار ولید بن مغیرہ تھا اسی نے انہیں جمع کیا تھا پس یہ پانچ یا سات شخص تھے جو جڑ تھے اور ان کے اشاروں سے اور ذلیل لوگ بھی کمینہ پن کی حرکتیں کرتے رہتے تھے۔ یہ لوگ اس لغو حرکت کے ساتھ ہی یہ بھی کرتے تھے کہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے تھے۔
” انہیں اپنے کرتوت کا مزہ ابھی ابھی آ جائے گا۔ اور بھی جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف ہو اللہ کے ساتھ شرک کرے اس کا یہی حال ہے۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ ان کی بکواس سے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں تکلیف ہوتی ہے دل تنگ ہوتا ہے لیکن تم ان کا خیال بھی نہ کرو۔ اللہ تمہارا مدد گار ہے۔ تم اپنے رب کے ذکر اور اس کی تسبیح اور حمد میں لگے رہو۔ اس کی عبادت جی بھر کر کرو نماز کا خیال رکھو سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دو “۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” اے ابن آدم شروع دن کی چار رکعت سے عاجز نہ ہو میں تجھے آخر دن تک کفایت کروں گا “ ۔ [سنن ابوداود:1289،قال الشيخ الألباني:صحیح]
حضور علیہ السلام کی عادت مبارک تھی کہ جب کوئی گھبراہٹ کا معاملہ آ پڑتا تو آپ نماز شروع کر دیتے ۔ [سنن ابوداود:1319،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر4390
یقین کا مفہوم ٭٭
یقین سے مراد اس آخری آیت میں موت ہے اس کی دلیل سورۃ المدثر کی وہ آیتیں ہیں جن میں بیان ہے کہ «قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ حَتَّىٰ أَتَانَا الْيَقِينُ» [74-المدثر:43-47] ” جہنمی اپنی برائیاں کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے مسکینوں کو کھانا کھلاتے نہیں تھے باتیں بنایا کرتے تھے اور قیامت کو جھٹلاتے تھے یہاں تک کہ موت آ گئی “، یہاں بھی موت کی جگہ لفظ یقین ہے۔
ایک صحیح حدیث میں بھی ہے کہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو انصار کی ایک عورت ام العلاء نے کہا کہ اے ابو السائب اللہ کی تجھ پر رحمتیں ہوں بیشک اللہ تعالیٰ نے تیری تکریم و عزت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: تجھے کیسے یقین ہو گیا کہ اللہ نے اس کا اکرام کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ قربان ہوں پھر کون ہوگا جس کا اکرام ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ» سنو اسے موت آ چکی اور مجھے اس کے لئے بھلائی کی امید ہے ۔ [صحیح بخاری:1243] اس حدیث میں بھی موت کی جگہ یقین کا لفظ ہے۔
اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نماز وغیرہ عبادات انسان پر فرض ہیں جب تک کہ اس کی عقل باقی رہے اور ہوش حواس ثابت ہوں جیسی اس کی حالت ہو اسی کے مطابق نماز ادا کرلے۔
صفحہ نمبر4391
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کر، نہ ہو سکے تو بیٹھ کر، نہ ہو سکے تو کروٹ پر لیٹ کر ۔ [صحیح بخاری:1117]
بد مذہبوں نے اس سے اپنے مطلب کی ایک بات گھڑلی ہے کہ جب تک انسان درجہ کمال تک نہ پہنچے اس پر عبادات فرض رہتی ہیں لیکن جب معرفت کی منزلیں طے کر چکا تو عبادت کی تکلیف ساقط ہو جاتی ہے یہ سراسر کفر ضلالت اور جہالت ہے۔ یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ انبیاء اور حضور سرور انبیاء علیہم السلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم معرفت کے تمام درجے طے کر چکے تھے اور دین کے علم و عرفان میں سب دنیا سے کامل تھے رب کی صفات اور ذات کا سب سے زیادہ علم رکھتے تھے باوجود اس کے سب سے زیادہ اللہ کی عبادت کرتے تھے اور رب کی اطاعت میں تمام دنیا سے زیادہ مشغول رہتے تھے اور دنیا کے آخری دم تک اسی میں لگے رہے۔
پس ثابت ہے کہ یہاں مراد یقین سے موت ہے تمام مفسرین صحابہ تابعین و غیرہ کا یہی مذہب ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اللہ تعالیٰ کا شکرو احسان ہے اس نے جو ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے اس پر ہم اس کی تعریفیں کرتے ہیں اسی سے نیک کاموں میں مدد پاتے ہیں اسی کی پاک ذات پر ہمارا بھروسہ ہے ہم اس مالک حاکم سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بہترین اور کامل اسلام ایمان اور نیکی پر موت دے وہ جواد ہے اور کریم ہے۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحجر کی تفسیر ختم ہوئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى الْهِدَايَةِ» ۔
صفحہ نمبر4392
رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے مخالفین کا عبرتناک انجام ٭٭
حکم ہو رہا ہے کہ ” اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ کی باتیں لوگوں کو صاف صاف بے جھجک پہنچا دیں نہ کسی کی رو رعایت کیجئے نہ کسی کا ڈر خوف کیجئے۔ مشرکوں کے سامنے توحید کھلم کھلا بیان کردیجئے۔ خود عمل کرکے دوسروں تک پہنچایئے۔ نماز میں قرآن با آواز بلند تلاوت کیجئے “۔
اس آیت کے اترنے سے پہلے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ تبلیغ فرماتے تھے لیکن اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کھلے طور پر اشاعت دین شروع کر دی۔
«وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ» [68-القلم:9] ” ان مذاق اڑانے والوں کو ہم پر چھوڑ دے ہم خود ان سے نمٹ لیں گے تو اپنی تبلیغ کے فریضے میں کوتاہی نہ کر یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا سی سستی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھیں تو خود بھی دست بردار ہو جائیں “۔ ” تو ان سے مطلقاً خوف نہ کر اللہ تعالیٰ تیرا حافظ و ناصر ہے وہ تجھے ان کے شر سے بچا لے گا “۔
اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدہ:67] ” اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا، اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے “۔
صفحہ نمبر4388
چنانچہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے جا رہے تھے کہ بعض مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھیڑا اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہیں نشتر مارا جس سے ان کے جسموں میں ایسا ہو گیا جیسے نیزے کے زخم ہوں اسی میں وہ مر گئے ۔ [مسند بزار:2222:ضعیف]
اور یہ لوگ مشرکین کے بڑے بڑے رؤسا تھے۔ بڑی عمر کے تھے اور نہایت شریف گنے جاتے تھے۔ بنو اسد کے قبیلے میں سے تو اسود بن عبدالمطلب ابو زمعہ، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی دشمن تھا، ایذائیں دیا کرتا تھا اور مذاق اڑایا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر اس کے لیے بد دعا بھی کی تھی کہ اے اللہ اسے اندھا کر دے بے اولاد کر دے ۔
بنی زہر میں سے اسود تھا اور بنی مخزوم میں سے ولید تھا اور بنی سہم میں سے عاص بن وائل تھا۔ اور خزاعہ میں سے حارث تھا۔ یہ لوگ برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء رسائی کے درپے لگے رہتے تھے اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابھارا کرتے تھے اور جو تکلیف ان کے بس میں ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا کرتے جب یہ اپنے مظالم میں حد سے گزر گئے اور بات بات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آیت «فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَلَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [15-الحجر:94-96] تک کی آیتیں نازل فرمائیں۔
کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کر رہے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے بیت اللہ شریف میں آپ کے پاس کھڑے ہو گئے اتنے میں اسود بن عبد یغوث آپ کے پاس سے گزرا تو جبرائیل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اسے پیٹ کی بیماری ہو گئی اور اسی میں وہ مرا۔ اتنے میں ولید بن مغیرہ گزرا اس کی ایڑی ایک خزاعی شخص کے تیر کے پھل سے کچھ یونہی سی چھل گئی تھی اور اسے بھی دو سال گزر چکے تھے جبرائیل علیہ السلام نے اسی کی طرف اشارہ کیا وہ پھول گئی، پکی اور اسی میں وہ مرا۔ پھر عاص بن وائل گزرا۔ اس کے تلوے کی طرف اشارہ کیا کچھ دنوں بعد یہ طائف جانے کے لیے اپنے گدھے پر سوار چلا۔ راستے میں گر پڑا اور تلوے میں کیل گھس گئی جس نے اس کی جان لی۔ حارث کے سر کی طرف اشارہ کیا اسے خون آنے لگا اور اسی میں مرا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:550/7:اسناده فیه جهالته]
صفحہ نمبر4389
ان سب موذیوں کا سردار ولید بن مغیرہ تھا اسی نے انہیں جمع کیا تھا پس یہ پانچ یا سات شخص تھے جو جڑ تھے اور ان کے اشاروں سے اور ذلیل لوگ بھی کمینہ پن کی حرکتیں کرتے رہتے تھے۔ یہ لوگ اس لغو حرکت کے ساتھ ہی یہ بھی کرتے تھے کہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے تھے۔
” انہیں اپنے کرتوت کا مزہ ابھی ابھی آ جائے گا۔ اور بھی جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف ہو اللہ کے ساتھ شرک کرے اس کا یہی حال ہے۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ ان کی بکواس سے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں تکلیف ہوتی ہے دل تنگ ہوتا ہے لیکن تم ان کا خیال بھی نہ کرو۔ اللہ تمہارا مدد گار ہے۔ تم اپنے رب کے ذکر اور اس کی تسبیح اور حمد میں لگے رہو۔ اس کی عبادت جی بھر کر کرو نماز کا خیال رکھو سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دو “۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” اے ابن آدم شروع دن کی چار رکعت سے عاجز نہ ہو میں تجھے آخر دن تک کفایت کروں گا “ ۔ [سنن ابوداود:1289،قال الشيخ الألباني:صحیح]
حضور علیہ السلام کی عادت مبارک تھی کہ جب کوئی گھبراہٹ کا معاملہ آ پڑتا تو آپ نماز شروع کر دیتے ۔ [سنن ابوداود:1319،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر4390
یقین کا مفہوم ٭٭
یقین سے مراد اس آخری آیت میں موت ہے اس کی دلیل سورۃ المدثر کی وہ آیتیں ہیں جن میں بیان ہے کہ «قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ حَتَّىٰ أَتَانَا الْيَقِينُ» [74-المدثر:43-47] ” جہنمی اپنی برائیاں کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے مسکینوں کو کھانا کھلاتے نہیں تھے باتیں بنایا کرتے تھے اور قیامت کو جھٹلاتے تھے یہاں تک کہ موت آ گئی “، یہاں بھی موت کی جگہ لفظ یقین ہے۔
ایک صحیح حدیث میں بھی ہے کہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو انصار کی ایک عورت ام العلاء نے کہا کہ اے ابو السائب اللہ کی تجھ پر رحمتیں ہوں بیشک اللہ تعالیٰ نے تیری تکریم و عزت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: تجھے کیسے یقین ہو گیا کہ اللہ نے اس کا اکرام کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ قربان ہوں پھر کون ہوگا جس کا اکرام ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ» سنو اسے موت آ چکی اور مجھے اس کے لئے بھلائی کی امید ہے ۔ [صحیح بخاری:1243] اس حدیث میں بھی موت کی جگہ یقین کا لفظ ہے۔
اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نماز وغیرہ عبادات انسان پر فرض ہیں جب تک کہ اس کی عقل باقی رہے اور ہوش حواس ثابت ہوں جیسی اس کی حالت ہو اسی کے مطابق نماز ادا کرلے۔
صفحہ نمبر4391
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کر، نہ ہو سکے تو بیٹھ کر، نہ ہو سکے تو کروٹ پر لیٹ کر ۔ [صحیح بخاری:1117]
بد مذہبوں نے اس سے اپنے مطلب کی ایک بات گھڑلی ہے کہ جب تک انسان درجہ کمال تک نہ پہنچے اس پر عبادات فرض رہتی ہیں لیکن جب معرفت کی منزلیں طے کر چکا تو عبادت کی تکلیف ساقط ہو جاتی ہے یہ سراسر کفر ضلالت اور جہالت ہے۔ یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ انبیاء اور حضور سرور انبیاء علیہم السلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم معرفت کے تمام درجے طے کر چکے تھے اور دین کے علم و عرفان میں سب دنیا سے کامل تھے رب کی صفات اور ذات کا سب سے زیادہ علم رکھتے تھے باوجود اس کے سب سے زیادہ اللہ کی عبادت کرتے تھے اور رب کی اطاعت میں تمام دنیا سے زیادہ مشغول رہتے تھے اور دنیا کے آخری دم تک اسی میں لگے رہے۔
پس ثابت ہے کہ یہاں مراد یقین سے موت ہے تمام مفسرین صحابہ تابعین و غیرہ کا یہی مذہب ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اللہ تعالیٰ کا شکرو احسان ہے اس نے جو ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے اس پر ہم اس کی تعریفیں کرتے ہیں اسی سے نیک کاموں میں مدد پاتے ہیں اسی کی پاک ذات پر ہمارا بھروسہ ہے ہم اس مالک حاکم سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بہترین اور کامل اسلام ایمان اور نیکی پر موت دے وہ جواد ہے اور کریم ہے۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحجر کی تفسیر ختم ہوئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى الْهِدَايَةِ» ۔
صفحہ نمبر4392
رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے مخالفین کا عبرتناک انجام ٭٭
حکم ہو رہا ہے کہ ” اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ کی باتیں لوگوں کو صاف صاف بے جھجک پہنچا دیں نہ کسی کی رو رعایت کیجئے نہ کسی کا ڈر خوف کیجئے۔ مشرکوں کے سامنے توحید کھلم کھلا بیان کردیجئے۔ خود عمل کرکے دوسروں تک پہنچایئے۔ نماز میں قرآن با آواز بلند تلاوت کیجئے “۔
اس آیت کے اترنے سے پہلے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ تبلیغ فرماتے تھے لیکن اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کھلے طور پر اشاعت دین شروع کر دی۔
«وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ» [68-القلم:9] ” ان مذاق اڑانے والوں کو ہم پر چھوڑ دے ہم خود ان سے نمٹ لیں گے تو اپنی تبلیغ کے فریضے میں کوتاہی نہ کر یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا سی سستی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھیں تو خود بھی دست بردار ہو جائیں “۔ ” تو ان سے مطلقاً خوف نہ کر اللہ تعالیٰ تیرا حافظ و ناصر ہے وہ تجھے ان کے شر سے بچا لے گا “۔
اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدہ:67] ” اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا، اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے “۔
صفحہ نمبر4388
چنانچہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے جا رہے تھے کہ بعض مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھیڑا اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہیں نشتر مارا جس سے ان کے جسموں میں ایسا ہو گیا جیسے نیزے کے زخم ہوں اسی میں وہ مر گئے ۔ [مسند بزار:2222:ضعیف]
اور یہ لوگ مشرکین کے بڑے بڑے رؤسا تھے۔ بڑی عمر کے تھے اور نہایت شریف گنے جاتے تھے۔ بنو اسد کے قبیلے میں سے تو اسود بن عبدالمطلب ابو زمعہ، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی دشمن تھا، ایذائیں دیا کرتا تھا اور مذاق اڑایا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر اس کے لیے بد دعا بھی کی تھی کہ اے اللہ اسے اندھا کر دے بے اولاد کر دے ۔
بنی زہر میں سے اسود تھا اور بنی مخزوم میں سے ولید تھا اور بنی سہم میں سے عاص بن وائل تھا۔ اور خزاعہ میں سے حارث تھا۔ یہ لوگ برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء رسائی کے درپے لگے رہتے تھے اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابھارا کرتے تھے اور جو تکلیف ان کے بس میں ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا کرتے جب یہ اپنے مظالم میں حد سے گزر گئے اور بات بات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آیت «فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَلَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [15-الحجر:94-96] تک کی آیتیں نازل فرمائیں۔
کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کر رہے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے بیت اللہ شریف میں آپ کے پاس کھڑے ہو گئے اتنے میں اسود بن عبد یغوث آپ کے پاس سے گزرا تو جبرائیل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اسے پیٹ کی بیماری ہو گئی اور اسی میں وہ مرا۔ اتنے میں ولید بن مغیرہ گزرا اس کی ایڑی ایک خزاعی شخص کے تیر کے پھل سے کچھ یونہی سی چھل گئی تھی اور اسے بھی دو سال گزر چکے تھے جبرائیل علیہ السلام نے اسی کی طرف اشارہ کیا وہ پھول گئی، پکی اور اسی میں وہ مرا۔ پھر عاص بن وائل گزرا۔ اس کے تلوے کی طرف اشارہ کیا کچھ دنوں بعد یہ طائف جانے کے لیے اپنے گدھے پر سوار چلا۔ راستے میں گر پڑا اور تلوے میں کیل گھس گئی جس نے اس کی جان لی۔ حارث کے سر کی طرف اشارہ کیا اسے خون آنے لگا اور اسی میں مرا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:550/7:اسناده فیه جهالته]
صفحہ نمبر4389
ان سب موذیوں کا سردار ولید بن مغیرہ تھا اسی نے انہیں جمع کیا تھا پس یہ پانچ یا سات شخص تھے جو جڑ تھے اور ان کے اشاروں سے اور ذلیل لوگ بھی کمینہ پن کی حرکتیں کرتے رہتے تھے۔ یہ لوگ اس لغو حرکت کے ساتھ ہی یہ بھی کرتے تھے کہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے تھے۔
” انہیں اپنے کرتوت کا مزہ ابھی ابھی آ جائے گا۔ اور بھی جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف ہو اللہ کے ساتھ شرک کرے اس کا یہی حال ہے۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ ان کی بکواس سے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں تکلیف ہوتی ہے دل تنگ ہوتا ہے لیکن تم ان کا خیال بھی نہ کرو۔ اللہ تمہارا مدد گار ہے۔ تم اپنے رب کے ذکر اور اس کی تسبیح اور حمد میں لگے رہو۔ اس کی عبادت جی بھر کر کرو نماز کا خیال رکھو سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دو “۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” اے ابن آدم شروع دن کی چار رکعت سے عاجز نہ ہو میں تجھے آخر دن تک کفایت کروں گا “ ۔ [سنن ابوداود:1289،قال الشيخ الألباني:صحیح]
حضور علیہ السلام کی عادت مبارک تھی کہ جب کوئی گھبراہٹ کا معاملہ آ پڑتا تو آپ نماز شروع کر دیتے ۔ [سنن ابوداود:1319،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر4390
یقین کا مفہوم ٭٭
یقین سے مراد اس آخری آیت میں موت ہے اس کی دلیل سورۃ المدثر کی وہ آیتیں ہیں جن میں بیان ہے کہ «قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ حَتَّىٰ أَتَانَا الْيَقِينُ» [74-المدثر:43-47] ” جہنمی اپنی برائیاں کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے مسکینوں کو کھانا کھلاتے نہیں تھے باتیں بنایا کرتے تھے اور قیامت کو جھٹلاتے تھے یہاں تک کہ موت آ گئی “، یہاں بھی موت کی جگہ لفظ یقین ہے۔
ایک صحیح حدیث میں بھی ہے کہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو انصار کی ایک عورت ام العلاء نے کہا کہ اے ابو السائب اللہ کی تجھ پر رحمتیں ہوں بیشک اللہ تعالیٰ نے تیری تکریم و عزت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: تجھے کیسے یقین ہو گیا کہ اللہ نے اس کا اکرام کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ قربان ہوں پھر کون ہوگا جس کا اکرام ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ» سنو اسے موت آ چکی اور مجھے اس کے لئے بھلائی کی امید ہے ۔ [صحیح بخاری:1243] اس حدیث میں بھی موت کی جگہ یقین کا لفظ ہے۔
اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نماز وغیرہ عبادات انسان پر فرض ہیں جب تک کہ اس کی عقل باقی رہے اور ہوش حواس ثابت ہوں جیسی اس کی حالت ہو اسی کے مطابق نماز ادا کرلے۔
صفحہ نمبر4391
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کر، نہ ہو سکے تو بیٹھ کر، نہ ہو سکے تو کروٹ پر لیٹ کر ۔ [صحیح بخاری:1117]
بد مذہبوں نے اس سے اپنے مطلب کی ایک بات گھڑلی ہے کہ جب تک انسان درجہ کمال تک نہ پہنچے اس پر عبادات فرض رہتی ہیں لیکن جب معرفت کی منزلیں طے کر چکا تو عبادت کی تکلیف ساقط ہو جاتی ہے یہ سراسر کفر ضلالت اور جہالت ہے۔ یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ انبیاء اور حضور سرور انبیاء علیہم السلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم معرفت کے تمام درجے طے کر چکے تھے اور دین کے علم و عرفان میں سب دنیا سے کامل تھے رب کی صفات اور ذات کا سب سے زیادہ علم رکھتے تھے باوجود اس کے سب سے زیادہ اللہ کی عبادت کرتے تھے اور رب کی اطاعت میں تمام دنیا سے زیادہ مشغول رہتے تھے اور دنیا کے آخری دم تک اسی میں لگے رہے۔
پس ثابت ہے کہ یہاں مراد یقین سے موت ہے تمام مفسرین صحابہ تابعین و غیرہ کا یہی مذہب ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اللہ تعالیٰ کا شکرو احسان ہے اس نے جو ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے اس پر ہم اس کی تعریفیں کرتے ہیں اسی سے نیک کاموں میں مدد پاتے ہیں اسی کی پاک ذات پر ہمارا بھروسہ ہے ہم اس مالک حاکم سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بہترین اور کامل اسلام ایمان اور نیکی پر موت دے وہ جواد ہے اور کریم ہے۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحجر کی تفسیر ختم ہوئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى الْهِدَايَةِ» ۔
صفحہ نمبر4392
رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے مخالفین کا عبرتناک انجام ٭٭
حکم ہو رہا ہے کہ ” اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ کی باتیں لوگوں کو صاف صاف بے جھجک پہنچا دیں نہ کسی کی رو رعایت کیجئے نہ کسی کا ڈر خوف کیجئے۔ مشرکوں کے سامنے توحید کھلم کھلا بیان کردیجئے۔ خود عمل کرکے دوسروں تک پہنچایئے۔ نماز میں قرآن با آواز بلند تلاوت کیجئے “۔
اس آیت کے اترنے سے پہلے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ تبلیغ فرماتے تھے لیکن اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کھلے طور پر اشاعت دین شروع کر دی۔
«وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ» [68-القلم:9] ” ان مذاق اڑانے والوں کو ہم پر چھوڑ دے ہم خود ان سے نمٹ لیں گے تو اپنی تبلیغ کے فریضے میں کوتاہی نہ کر یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا سی سستی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھیں تو خود بھی دست بردار ہو جائیں “۔ ” تو ان سے مطلقاً خوف نہ کر اللہ تعالیٰ تیرا حافظ و ناصر ہے وہ تجھے ان کے شر سے بچا لے گا “۔
اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدہ:67] ” اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا، اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے “۔
صفحہ نمبر4388
چنانچہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے جا رہے تھے کہ بعض مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھیڑا اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہیں نشتر مارا جس سے ان کے جسموں میں ایسا ہو گیا جیسے نیزے کے زخم ہوں اسی میں وہ مر گئے ۔ [مسند بزار:2222:ضعیف]
اور یہ لوگ مشرکین کے بڑے بڑے رؤسا تھے۔ بڑی عمر کے تھے اور نہایت شریف گنے جاتے تھے۔ بنو اسد کے قبیلے میں سے تو اسود بن عبدالمطلب ابو زمعہ، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی دشمن تھا، ایذائیں دیا کرتا تھا اور مذاق اڑایا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر اس کے لیے بد دعا بھی کی تھی کہ اے اللہ اسے اندھا کر دے بے اولاد کر دے ۔
بنی زہر میں سے اسود تھا اور بنی مخزوم میں سے ولید تھا اور بنی سہم میں سے عاص بن وائل تھا۔ اور خزاعہ میں سے حارث تھا۔ یہ لوگ برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء رسائی کے درپے لگے رہتے تھے اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابھارا کرتے تھے اور جو تکلیف ان کے بس میں ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا کرتے جب یہ اپنے مظالم میں حد سے گزر گئے اور بات بات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آیت «فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَلَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [15-الحجر:94-96] تک کی آیتیں نازل فرمائیں۔
کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کر رہے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے بیت اللہ شریف میں آپ کے پاس کھڑے ہو گئے اتنے میں اسود بن عبد یغوث آپ کے پاس سے گزرا تو جبرائیل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اسے پیٹ کی بیماری ہو گئی اور اسی میں وہ مرا۔ اتنے میں ولید بن مغیرہ گزرا اس کی ایڑی ایک خزاعی شخص کے تیر کے پھل سے کچھ یونہی سی چھل گئی تھی اور اسے بھی دو سال گزر چکے تھے جبرائیل علیہ السلام نے اسی کی طرف اشارہ کیا وہ پھول گئی، پکی اور اسی میں وہ مرا۔ پھر عاص بن وائل گزرا۔ اس کے تلوے کی طرف اشارہ کیا کچھ دنوں بعد یہ طائف جانے کے لیے اپنے گدھے پر سوار چلا۔ راستے میں گر پڑا اور تلوے میں کیل گھس گئی جس نے اس کی جان لی۔ حارث کے سر کی طرف اشارہ کیا اسے خون آنے لگا اور اسی میں مرا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:550/7:اسناده فیه جهالته]
صفحہ نمبر4389
ان سب موذیوں کا سردار ولید بن مغیرہ تھا اسی نے انہیں جمع کیا تھا پس یہ پانچ یا سات شخص تھے جو جڑ تھے اور ان کے اشاروں سے اور ذلیل لوگ بھی کمینہ پن کی حرکتیں کرتے رہتے تھے۔ یہ لوگ اس لغو حرکت کے ساتھ ہی یہ بھی کرتے تھے کہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے تھے۔
” انہیں اپنے کرتوت کا مزہ ابھی ابھی آ جائے گا۔ اور بھی جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف ہو اللہ کے ساتھ شرک کرے اس کا یہی حال ہے۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ ان کی بکواس سے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں تکلیف ہوتی ہے دل تنگ ہوتا ہے لیکن تم ان کا خیال بھی نہ کرو۔ اللہ تمہارا مدد گار ہے۔ تم اپنے رب کے ذکر اور اس کی تسبیح اور حمد میں لگے رہو۔ اس کی عبادت جی بھر کر کرو نماز کا خیال رکھو سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دو “۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” اے ابن آدم شروع دن کی چار رکعت سے عاجز نہ ہو میں تجھے آخر دن تک کفایت کروں گا “ ۔ [سنن ابوداود:1289،قال الشيخ الألباني:صحیح]
حضور علیہ السلام کی عادت مبارک تھی کہ جب کوئی گھبراہٹ کا معاملہ آ پڑتا تو آپ نماز شروع کر دیتے ۔ [سنن ابوداود:1319،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر4390
یقین کا مفہوم ٭٭
یقین سے مراد اس آخری آیت میں موت ہے اس کی دلیل سورۃ المدثر کی وہ آیتیں ہیں جن میں بیان ہے کہ «قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ حَتَّىٰ أَتَانَا الْيَقِينُ» [74-المدثر:43-47] ” جہنمی اپنی برائیاں کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے مسکینوں کو کھانا کھلاتے نہیں تھے باتیں بنایا کرتے تھے اور قیامت کو جھٹلاتے تھے یہاں تک کہ موت آ گئی “، یہاں بھی موت کی جگہ لفظ یقین ہے۔
ایک صحیح حدیث میں بھی ہے کہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو انصار کی ایک عورت ام العلاء نے کہا کہ اے ابو السائب اللہ کی تجھ پر رحمتیں ہوں بیشک اللہ تعالیٰ نے تیری تکریم و عزت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: تجھے کیسے یقین ہو گیا کہ اللہ نے اس کا اکرام کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ قربان ہوں پھر کون ہوگا جس کا اکرام ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ» سنو اسے موت آ چکی اور مجھے اس کے لئے بھلائی کی امید ہے ۔ [صحیح بخاری:1243] اس حدیث میں بھی موت کی جگہ یقین کا لفظ ہے۔
اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نماز وغیرہ عبادات انسان پر فرض ہیں جب تک کہ اس کی عقل باقی رہے اور ہوش حواس ثابت ہوں جیسی اس کی حالت ہو اسی کے مطابق نماز ادا کرلے۔
صفحہ نمبر4391
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کر، نہ ہو سکے تو بیٹھ کر، نہ ہو سکے تو کروٹ پر لیٹ کر ۔ [صحیح بخاری:1117]
بد مذہبوں نے اس سے اپنے مطلب کی ایک بات گھڑلی ہے کہ جب تک انسان درجہ کمال تک نہ پہنچے اس پر عبادات فرض رہتی ہیں لیکن جب معرفت کی منزلیں طے کر چکا تو عبادت کی تکلیف ساقط ہو جاتی ہے یہ سراسر کفر ضلالت اور جہالت ہے۔ یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ انبیاء اور حضور سرور انبیاء علیہم السلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم معرفت کے تمام درجے طے کر چکے تھے اور دین کے علم و عرفان میں سب دنیا سے کامل تھے رب کی صفات اور ذات کا سب سے زیادہ علم رکھتے تھے باوجود اس کے سب سے زیادہ اللہ کی عبادت کرتے تھے اور رب کی اطاعت میں تمام دنیا سے زیادہ مشغول رہتے تھے اور دنیا کے آخری دم تک اسی میں لگے رہے۔
پس ثابت ہے کہ یہاں مراد یقین سے موت ہے تمام مفسرین صحابہ تابعین و غیرہ کا یہی مذہب ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اللہ تعالیٰ کا شکرو احسان ہے اس نے جو ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے اس پر ہم اس کی تعریفیں کرتے ہیں اسی سے نیک کاموں میں مدد پاتے ہیں اسی کی پاک ذات پر ہمارا بھروسہ ہے ہم اس مالک حاکم سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بہترین اور کامل اسلام ایمان اور نیکی پر موت دے وہ جواد ہے اور کریم ہے۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحجر کی تفسیر ختم ہوئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى الْهِدَايَةِ» ۔
صفحہ نمبر4392