John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Hijr

Tafsir Ibn Kathir · The Rock · 99 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

تفسیر سورۃ الحجر ٭٭

سورتوں کے اول جو حروف مقطعہ آئے ہیں ان کا بیان پہلے گزر چکا ہے۔ آیت میں قرآن کی آیتوں کے واضح اور ہر شخص کی سمجھ میں آنے کے قابل ہونے کا بیان فرمایا ہے۔

صفحہ نمبر4277

بعد ازمرگ پشیمانی ٭٭

کافر اپنے کفر پر عنقریب نادم و پشیمان ہوں گے اور مسلمان بن کر زندگی گزارنے کی تمنا کریں گے۔ یہ بھی مروی ہے کہ کفار بدر جب جہنم کے سامنے پیش کئے جائیں گے آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ دنیا میں مومن ہوتے۔ یہ بھی ہے کہ ہر کافر اپنی موت کو دیکھ کر اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کرتا ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی ہر کافر کی یہی تمنا ہو گی۔

اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ» [6-الأنعام:27] ‏ ” جہنم کے پاس کھڑے ہو کر کہیں گے کہ کاش کہ اب ہم واپس دنیا میں بھیج دیئے جائیں تو نہ تو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں گے نہ ترک ایمان کریں “۔ جہنمی لوگ اوروں کو جہنم سے نکلتے دیکھ کر بھی اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کریں گے۔

سیدنا ابن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ گنہگار مسلمانوں کو جہنم میں مشرکوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ روک لے گا تو مشرک ان مسلمانوں سے کہیں گے کہ جس اللہ کی تم دنیا میں عبادت کرتے رہے اس نے تمہیں آج کیا فائدہ دیا؟ اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آئے گا اور ان مسلمانوں کو جہنم سے نکال لے گا۔

صفحہ نمبر4278

اس وقت کافر تمنا کریں گے کا کاش وہ بھی دنیا میں مسلمان ہوتے۔ ایک روایت میں ہے کہ مشرکوں کے اس طعنے پر اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ ” جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی ایمان ہو اسے جہنم سے آزاد کر دو “، الخ۔

طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے کہنے والوں میں بعض لوگ بہ سبب اپنے گناہوں کے جہنم میں جائیں گے پس لات و عزیٰ کے پجاری ان سے کہیں گے کہ تمہارے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہنے نے تمہیں کیا نفع دیا؟ تم تو ہمارے ساتھ ہی جہنم میں جل رہے ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آئے گا اللہ ان سب کو وہاں سے نکال لے گا۔ اور نہر حیات میں غوطہٰ دے کر انہیں ایسا کر دے گا جیسے چاند گہن سے نکلا ہو۔ پھر یہ سب جنت میں جائیں گے وہاں انہیں جہنمی کہا جائے گا ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سن کر کسی نے کہا کیا آپ رضی اللہ عنہ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مجھ پر قصداً جھوٹ بولنے والا اپنی جگہ جہنم میں بنا لے۔ باوجود اس کے میں کہتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے۔‏“ [طبرانی:7289:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے کہ مشرک لوگ اہل قبلہ سے کہیں گے کہ تم تو مسلمان تھے پھر تمہیں اسلام نے کیا نفع دیا؟ تم تو ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ وہ جواب دیں گے کہ ہمارے گناہ تھے جن کی پاداش میں ہم پکڑے گئے الخ، اس میں یہ بھی ہے کہ ان کے چھٹکارے کے وقت کفار کہیں گے کہ کاش ہم مسلمان ہوتے اور ان کی طرح جہنم سے چھٹکارا پاتے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِِ» ‏پڑھ کر شروع سورت سے مسلمین تک تلاوت فرمائی۔ یہی روایت اور سند سے ہے اس میں اعوذ کے بدلے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کا پڑھنا ہے ۔ [طبرانی کبیر:48/7:صحیح الاسناد] ‏

صفحہ نمبر4279

اور روایت میں ہے کہ ان مسلمان گنہگاروں سے مشرکین کہیں گے کہ تم تو دینا میں یہ خیال کرتے تھے کہ تم اولیاء اللہ ہو پھر ہمارے ساتھ یہاں کیسے؟ یہ سن کر اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت کی اجازت دے گا۔ پس فرشتے اور نبی اور مومن شفاعت کریں گے اور اللہ انہیں جہنم سے چھوڑا جائے گا، اس وقت مشرک لوگ کہیں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے تو شفاعت سے محروم نہ رہتے اور ان کے ساتھ جہنم سے چھوٹ جاتے ۔ [طبرانی اوسط:8106:ضعیف] ‏

یہی معنی اس آیت کے ہیں یہ لوگ جب جنت میں جائیں گے تو ان کے چہروں پر قدرے سیاہی ہو گی اس وجہ سے انہیں جہنمی کہا جاتا ہو گا۔ پھر یہ دعا کریں گے کہ اے اللہ یہ لقب بھی ہم سے ہٹا دے پس انہیں جنت کی ایک نہر میں غسل کرنے کا حکم ہو گا اور وہ نام بھی ان سے دور کر دیا جائے گا۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بعض لوگوں کو آگ ان کے گھٹنوں تک پکڑ لے گی اور بعض کو زانوں تک اور بعض کو گردن تک جیسے جن کے گناہ اور جیسے جن کے اعمال ہوں گے۔ بعض ایک مہینے کی سزا بھگت کر نکل آئیں گے سب سے لمبی سزا والا وہ ہوگا جو جہنم میں اتنی مدت رہے گا جتنی مدت دنیا کی ہے یعنی دنیا کے پہلے دن سے دنیا کے آخری دن تک۔ جب ان کے نکالنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کر لے گا اس وقت یہود و نضاری اور دوسرے دین والے جہنمی ان اہل توحید سے کہیں گے کہ تم اللہ پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر ایمان لائے تھے پھر بھی آج ہم اور تم جہنم میں یکساں ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کو سخت غصہ آئے گا کہ ان کی اور کسی بات پر اتنا غصہ نہ آیا تھا پھر ان موحدوں کو جہنم سے نکال کر جنت کی نہر کے پاس لایا جائے گا۔ یہ ہے فرمان آیت «رُّبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ» [15-الحجر:2] ‏ میں ہے ۔ [ابن الجوزی فی العلل المتناهییة:1568/2:ضعیف] ‏

پھر بطور ڈانٹ کے فرماتا ہے کہ «قُلْ تَمَتَّعُوا فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ» [14-ابراھیم:30] ‏ ” انہیں کھاتے پیتے اور مزے کرتے چھوڑ دے آخر تو ان کا ٹھکانا جہنم ہے “۔

تم کھا پی لو، تمہارا مجرم ہونا ثابت ہو چکا ہے۔ انہیں ان کی دور دراز کی خواہشیں توبہ کرنے سے، اللہ کی طرف جھکنے سے غافل رکھیں گی۔ عنقریب حقیقت کھل جائے گی۔

صفحہ نمبر4280

اتمام حجت کے بعد ٭٭

” ہم کسی بستی کو دلیلیں پہنچانے اور ان کا مقرر وقت ختم ہونے سے پہلے ہلاک نہیں کرتے۔ ہاں جب وقت مقررہ آ جاتا ہے پھر تقدیم تاخیر ناممکن ہے “۔

اس میں اہل مکہ کی تنبیہ ہے کہ وہ شرک سے الحاد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے باز آ جائیں ورنہ مستحق ہلاکت ہو جائیں گے اور اپنے وقت پر تباہ ہو جائیں گے۔

صفحہ نمبر4281

بعد ازمرگ پشیمانی ٭٭

کافر اپنے کفر پر عنقریب نادم و پشیمان ہوں گے اور مسلمان بن کر زندگی گزارنے کی تمنا کریں گے۔ یہ بھی مروی ہے کہ کفار بدر جب جہنم کے سامنے پیش کئے جائیں گے آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ دنیا میں مومن ہوتے۔ یہ بھی ہے کہ ہر کافر اپنی موت کو دیکھ کر اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کرتا ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی ہر کافر کی یہی تمنا ہو گی۔

اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ» [6-الأنعام:27] ‏ ” جہنم کے پاس کھڑے ہو کر کہیں گے کہ کاش کہ اب ہم واپس دنیا میں بھیج دیئے جائیں تو نہ تو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں گے نہ ترک ایمان کریں “۔ جہنمی لوگ اوروں کو جہنم سے نکلتے دیکھ کر بھی اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کریں گے۔

سیدنا ابن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ گنہگار مسلمانوں کو جہنم میں مشرکوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ روک لے گا تو مشرک ان مسلمانوں سے کہیں گے کہ جس اللہ کی تم دنیا میں عبادت کرتے رہے اس نے تمہیں آج کیا فائدہ دیا؟ اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آئے گا اور ان مسلمانوں کو جہنم سے نکال لے گا۔

صفحہ نمبر4278

اس وقت کافر تمنا کریں گے کا کاش وہ بھی دنیا میں مسلمان ہوتے۔ ایک روایت میں ہے کہ مشرکوں کے اس طعنے پر اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ ” جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی ایمان ہو اسے جہنم سے آزاد کر دو “، الخ۔

طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے کہنے والوں میں بعض لوگ بہ سبب اپنے گناہوں کے جہنم میں جائیں گے پس لات و عزیٰ کے پجاری ان سے کہیں گے کہ تمہارے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہنے نے تمہیں کیا نفع دیا؟ تم تو ہمارے ساتھ ہی جہنم میں جل رہے ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آئے گا اللہ ان سب کو وہاں سے نکال لے گا۔ اور نہر حیات میں غوطہٰ دے کر انہیں ایسا کر دے گا جیسے چاند گہن سے نکلا ہو۔ پھر یہ سب جنت میں جائیں گے وہاں انہیں جہنمی کہا جائے گا ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سن کر کسی نے کہا کیا آپ رضی اللہ عنہ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مجھ پر قصداً جھوٹ بولنے والا اپنی جگہ جہنم میں بنا لے۔ باوجود اس کے میں کہتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے۔‏“ [طبرانی:7289:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے کہ مشرک لوگ اہل قبلہ سے کہیں گے کہ تم تو مسلمان تھے پھر تمہیں اسلام نے کیا نفع دیا؟ تم تو ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ وہ جواب دیں گے کہ ہمارے گناہ تھے جن کی پاداش میں ہم پکڑے گئے الخ، اس میں یہ بھی ہے کہ ان کے چھٹکارے کے وقت کفار کہیں گے کہ کاش ہم مسلمان ہوتے اور ان کی طرح جہنم سے چھٹکارا پاتے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِِ» ‏پڑھ کر شروع سورت سے مسلمین تک تلاوت فرمائی۔ یہی روایت اور سند سے ہے اس میں اعوذ کے بدلے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کا پڑھنا ہے ۔ [طبرانی کبیر:48/7:صحیح الاسناد] ‏

صفحہ نمبر4279

اور روایت میں ہے کہ ان مسلمان گنہگاروں سے مشرکین کہیں گے کہ تم تو دینا میں یہ خیال کرتے تھے کہ تم اولیاء اللہ ہو پھر ہمارے ساتھ یہاں کیسے؟ یہ سن کر اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت کی اجازت دے گا۔ پس فرشتے اور نبی اور مومن شفاعت کریں گے اور اللہ انہیں جہنم سے چھوڑا جائے گا، اس وقت مشرک لوگ کہیں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے تو شفاعت سے محروم نہ رہتے اور ان کے ساتھ جہنم سے چھوٹ جاتے ۔ [طبرانی اوسط:8106:ضعیف] ‏

یہی معنی اس آیت کے ہیں یہ لوگ جب جنت میں جائیں گے تو ان کے چہروں پر قدرے سیاہی ہو گی اس وجہ سے انہیں جہنمی کہا جاتا ہو گا۔ پھر یہ دعا کریں گے کہ اے اللہ یہ لقب بھی ہم سے ہٹا دے پس انہیں جنت کی ایک نہر میں غسل کرنے کا حکم ہو گا اور وہ نام بھی ان سے دور کر دیا جائے گا۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بعض لوگوں کو آگ ان کے گھٹنوں تک پکڑ لے گی اور بعض کو زانوں تک اور بعض کو گردن تک جیسے جن کے گناہ اور جیسے جن کے اعمال ہوں گے۔ بعض ایک مہینے کی سزا بھگت کر نکل آئیں گے سب سے لمبی سزا والا وہ ہوگا جو جہنم میں اتنی مدت رہے گا جتنی مدت دنیا کی ہے یعنی دنیا کے پہلے دن سے دنیا کے آخری دن تک۔ جب ان کے نکالنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کر لے گا اس وقت یہود و نضاری اور دوسرے دین والے جہنمی ان اہل توحید سے کہیں گے کہ تم اللہ پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر ایمان لائے تھے پھر بھی آج ہم اور تم جہنم میں یکساں ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کو سخت غصہ آئے گا کہ ان کی اور کسی بات پر اتنا غصہ نہ آیا تھا پھر ان موحدوں کو جہنم سے نکال کر جنت کی نہر کے پاس لایا جائے گا۔ یہ ہے فرمان آیت «رُّبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ» [15-الحجر:2] ‏ میں ہے ۔ [ابن الجوزی فی العلل المتناهییة:1568/2:ضعیف] ‏

پھر بطور ڈانٹ کے فرماتا ہے کہ «قُلْ تَمَتَّعُوا فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ» [14-ابراھیم:30] ‏ ” انہیں کھاتے پیتے اور مزے کرتے چھوڑ دے آخر تو ان کا ٹھکانا جہنم ہے “۔

تم کھا پی لو، تمہارا مجرم ہونا ثابت ہو چکا ہے۔ انہیں ان کی دور دراز کی خواہشیں توبہ کرنے سے، اللہ کی طرف جھکنے سے غافل رکھیں گی۔ عنقریب حقیقت کھل جائے گی۔

صفحہ نمبر4280

اتمام حجت کے بعد ٭٭

” ہم کسی بستی کو دلیلیں پہنچانے اور ان کا مقرر وقت ختم ہونے سے پہلے ہلاک نہیں کرتے۔ ہاں جب وقت مقررہ آ جاتا ہے پھر تقدیم تاخیر ناممکن ہے “۔

اس میں اہل مکہ کی تنبیہ ہے کہ وہ شرک سے الحاد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے باز آ جائیں ورنہ مستحق ہلاکت ہو جائیں گے اور اپنے وقت پر تباہ ہو جائیں گے۔

صفحہ نمبر4281

بعد ازمرگ پشیمانی ٭٭

کافر اپنے کفر پر عنقریب نادم و پشیمان ہوں گے اور مسلمان بن کر زندگی گزارنے کی تمنا کریں گے۔ یہ بھی مروی ہے کہ کفار بدر جب جہنم کے سامنے پیش کئے جائیں گے آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ دنیا میں مومن ہوتے۔ یہ بھی ہے کہ ہر کافر اپنی موت کو دیکھ کر اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کرتا ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی ہر کافر کی یہی تمنا ہو گی۔

اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ» [6-الأنعام:27] ‏ ” جہنم کے پاس کھڑے ہو کر کہیں گے کہ کاش کہ اب ہم واپس دنیا میں بھیج دیئے جائیں تو نہ تو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں گے نہ ترک ایمان کریں “۔ جہنمی لوگ اوروں کو جہنم سے نکلتے دیکھ کر بھی اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کریں گے۔

سیدنا ابن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ گنہگار مسلمانوں کو جہنم میں مشرکوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ روک لے گا تو مشرک ان مسلمانوں سے کہیں گے کہ جس اللہ کی تم دنیا میں عبادت کرتے رہے اس نے تمہیں آج کیا فائدہ دیا؟ اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آئے گا اور ان مسلمانوں کو جہنم سے نکال لے گا۔

صفحہ نمبر4278

اس وقت کافر تمنا کریں گے کا کاش وہ بھی دنیا میں مسلمان ہوتے۔ ایک روایت میں ہے کہ مشرکوں کے اس طعنے پر اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ ” جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی ایمان ہو اسے جہنم سے آزاد کر دو “، الخ۔

طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے کہنے والوں میں بعض لوگ بہ سبب اپنے گناہوں کے جہنم میں جائیں گے پس لات و عزیٰ کے پجاری ان سے کہیں گے کہ تمہارے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہنے نے تمہیں کیا نفع دیا؟ تم تو ہمارے ساتھ ہی جہنم میں جل رہے ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آئے گا اللہ ان سب کو وہاں سے نکال لے گا۔ اور نہر حیات میں غوطہٰ دے کر انہیں ایسا کر دے گا جیسے چاند گہن سے نکلا ہو۔ پھر یہ سب جنت میں جائیں گے وہاں انہیں جہنمی کہا جائے گا ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سن کر کسی نے کہا کیا آپ رضی اللہ عنہ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مجھ پر قصداً جھوٹ بولنے والا اپنی جگہ جہنم میں بنا لے۔ باوجود اس کے میں کہتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے۔‏“ [طبرانی:7289:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے کہ مشرک لوگ اہل قبلہ سے کہیں گے کہ تم تو مسلمان تھے پھر تمہیں اسلام نے کیا نفع دیا؟ تم تو ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ وہ جواب دیں گے کہ ہمارے گناہ تھے جن کی پاداش میں ہم پکڑے گئے الخ، اس میں یہ بھی ہے کہ ان کے چھٹکارے کے وقت کفار کہیں گے کہ کاش ہم مسلمان ہوتے اور ان کی طرح جہنم سے چھٹکارا پاتے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِِ» ‏پڑھ کر شروع سورت سے مسلمین تک تلاوت فرمائی۔ یہی روایت اور سند سے ہے اس میں اعوذ کے بدلے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کا پڑھنا ہے ۔ [طبرانی کبیر:48/7:صحیح الاسناد] ‏

صفحہ نمبر4279

اور روایت میں ہے کہ ان مسلمان گنہگاروں سے مشرکین کہیں گے کہ تم تو دینا میں یہ خیال کرتے تھے کہ تم اولیاء اللہ ہو پھر ہمارے ساتھ یہاں کیسے؟ یہ سن کر اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت کی اجازت دے گا۔ پس فرشتے اور نبی اور مومن شفاعت کریں گے اور اللہ انہیں جہنم سے چھوڑا جائے گا، اس وقت مشرک لوگ کہیں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے تو شفاعت سے محروم نہ رہتے اور ان کے ساتھ جہنم سے چھوٹ جاتے ۔ [طبرانی اوسط:8106:ضعیف] ‏

یہی معنی اس آیت کے ہیں یہ لوگ جب جنت میں جائیں گے تو ان کے چہروں پر قدرے سیاہی ہو گی اس وجہ سے انہیں جہنمی کہا جاتا ہو گا۔ پھر یہ دعا کریں گے کہ اے اللہ یہ لقب بھی ہم سے ہٹا دے پس انہیں جنت کی ایک نہر میں غسل کرنے کا حکم ہو گا اور وہ نام بھی ان سے دور کر دیا جائے گا۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بعض لوگوں کو آگ ان کے گھٹنوں تک پکڑ لے گی اور بعض کو زانوں تک اور بعض کو گردن تک جیسے جن کے گناہ اور جیسے جن کے اعمال ہوں گے۔ بعض ایک مہینے کی سزا بھگت کر نکل آئیں گے سب سے لمبی سزا والا وہ ہوگا جو جہنم میں اتنی مدت رہے گا جتنی مدت دنیا کی ہے یعنی دنیا کے پہلے دن سے دنیا کے آخری دن تک۔ جب ان کے نکالنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کر لے گا اس وقت یہود و نضاری اور دوسرے دین والے جہنمی ان اہل توحید سے کہیں گے کہ تم اللہ پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر ایمان لائے تھے پھر بھی آج ہم اور تم جہنم میں یکساں ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کو سخت غصہ آئے گا کہ ان کی اور کسی بات پر اتنا غصہ نہ آیا تھا پھر ان موحدوں کو جہنم سے نکال کر جنت کی نہر کے پاس لایا جائے گا۔ یہ ہے فرمان آیت «رُّبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ» [15-الحجر:2] ‏ میں ہے ۔ [ابن الجوزی فی العلل المتناهییة:1568/2:ضعیف] ‏

پھر بطور ڈانٹ کے فرماتا ہے کہ «قُلْ تَمَتَّعُوا فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ» [14-ابراھیم:30] ‏ ” انہیں کھاتے پیتے اور مزے کرتے چھوڑ دے آخر تو ان کا ٹھکانا جہنم ہے “۔

تم کھا پی لو، تمہارا مجرم ہونا ثابت ہو چکا ہے۔ انہیں ان کی دور دراز کی خواہشیں توبہ کرنے سے، اللہ کی طرف جھکنے سے غافل رکھیں گی۔ عنقریب حقیقت کھل جائے گی۔

صفحہ نمبر4280

اتمام حجت کے بعد ٭٭

” ہم کسی بستی کو دلیلیں پہنچانے اور ان کا مقرر وقت ختم ہونے سے پہلے ہلاک نہیں کرتے۔ ہاں جب وقت مقررہ آ جاتا ہے پھر تقدیم تاخیر ناممکن ہے “۔

اس میں اہل مکہ کی تنبیہ ہے کہ وہ شرک سے الحاد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے باز آ جائیں ورنہ مستحق ہلاکت ہو جائیں گے اور اپنے وقت پر تباہ ہو جائیں گے۔

صفحہ نمبر4281

بعد ازمرگ پشیمانی ٭٭

کافر اپنے کفر پر عنقریب نادم و پشیمان ہوں گے اور مسلمان بن کر زندگی گزارنے کی تمنا کریں گے۔ یہ بھی مروی ہے کہ کفار بدر جب جہنم کے سامنے پیش کئے جائیں گے آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ دنیا میں مومن ہوتے۔ یہ بھی ہے کہ ہر کافر اپنی موت کو دیکھ کر اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کرتا ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی ہر کافر کی یہی تمنا ہو گی۔

اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ» [6-الأنعام:27] ‏ ” جہنم کے پاس کھڑے ہو کر کہیں گے کہ کاش کہ اب ہم واپس دنیا میں بھیج دیئے جائیں تو نہ تو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں گے نہ ترک ایمان کریں “۔ جہنمی لوگ اوروں کو جہنم سے نکلتے دیکھ کر بھی اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کریں گے۔

سیدنا ابن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ گنہگار مسلمانوں کو جہنم میں مشرکوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ روک لے گا تو مشرک ان مسلمانوں سے کہیں گے کہ جس اللہ کی تم دنیا میں عبادت کرتے رہے اس نے تمہیں آج کیا فائدہ دیا؟ اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آئے گا اور ان مسلمانوں کو جہنم سے نکال لے گا۔

صفحہ نمبر4278

اس وقت کافر تمنا کریں گے کا کاش وہ بھی دنیا میں مسلمان ہوتے۔ ایک روایت میں ہے کہ مشرکوں کے اس طعنے پر اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ ” جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی ایمان ہو اسے جہنم سے آزاد کر دو “، الخ۔

طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے کہنے والوں میں بعض لوگ بہ سبب اپنے گناہوں کے جہنم میں جائیں گے پس لات و عزیٰ کے پجاری ان سے کہیں گے کہ تمہارے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہنے نے تمہیں کیا نفع دیا؟ تم تو ہمارے ساتھ ہی جہنم میں جل رہے ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آئے گا اللہ ان سب کو وہاں سے نکال لے گا۔ اور نہر حیات میں غوطہٰ دے کر انہیں ایسا کر دے گا جیسے چاند گہن سے نکلا ہو۔ پھر یہ سب جنت میں جائیں گے وہاں انہیں جہنمی کہا جائے گا ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سن کر کسی نے کہا کیا آپ رضی اللہ عنہ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مجھ پر قصداً جھوٹ بولنے والا اپنی جگہ جہنم میں بنا لے۔ باوجود اس کے میں کہتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے۔‏“ [طبرانی:7289:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے کہ مشرک لوگ اہل قبلہ سے کہیں گے کہ تم تو مسلمان تھے پھر تمہیں اسلام نے کیا نفع دیا؟ تم تو ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ وہ جواب دیں گے کہ ہمارے گناہ تھے جن کی پاداش میں ہم پکڑے گئے الخ، اس میں یہ بھی ہے کہ ان کے چھٹکارے کے وقت کفار کہیں گے کہ کاش ہم مسلمان ہوتے اور ان کی طرح جہنم سے چھٹکارا پاتے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِِ» ‏پڑھ کر شروع سورت سے مسلمین تک تلاوت فرمائی۔ یہی روایت اور سند سے ہے اس میں اعوذ کے بدلے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کا پڑھنا ہے ۔ [طبرانی کبیر:48/7:صحیح الاسناد] ‏

صفحہ نمبر4279

اور روایت میں ہے کہ ان مسلمان گنہگاروں سے مشرکین کہیں گے کہ تم تو دینا میں یہ خیال کرتے تھے کہ تم اولیاء اللہ ہو پھر ہمارے ساتھ یہاں کیسے؟ یہ سن کر اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت کی اجازت دے گا۔ پس فرشتے اور نبی اور مومن شفاعت کریں گے اور اللہ انہیں جہنم سے چھوڑا جائے گا، اس وقت مشرک لوگ کہیں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے تو شفاعت سے محروم نہ رہتے اور ان کے ساتھ جہنم سے چھوٹ جاتے ۔ [طبرانی اوسط:8106:ضعیف] ‏

یہی معنی اس آیت کے ہیں یہ لوگ جب جنت میں جائیں گے تو ان کے چہروں پر قدرے سیاہی ہو گی اس وجہ سے انہیں جہنمی کہا جاتا ہو گا۔ پھر یہ دعا کریں گے کہ اے اللہ یہ لقب بھی ہم سے ہٹا دے پس انہیں جنت کی ایک نہر میں غسل کرنے کا حکم ہو گا اور وہ نام بھی ان سے دور کر دیا جائے گا۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بعض لوگوں کو آگ ان کے گھٹنوں تک پکڑ لے گی اور بعض کو زانوں تک اور بعض کو گردن تک جیسے جن کے گناہ اور جیسے جن کے اعمال ہوں گے۔ بعض ایک مہینے کی سزا بھگت کر نکل آئیں گے سب سے لمبی سزا والا وہ ہوگا جو جہنم میں اتنی مدت رہے گا جتنی مدت دنیا کی ہے یعنی دنیا کے پہلے دن سے دنیا کے آخری دن تک۔ جب ان کے نکالنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کر لے گا اس وقت یہود و نضاری اور دوسرے دین والے جہنمی ان اہل توحید سے کہیں گے کہ تم اللہ پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر ایمان لائے تھے پھر بھی آج ہم اور تم جہنم میں یکساں ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کو سخت غصہ آئے گا کہ ان کی اور کسی بات پر اتنا غصہ نہ آیا تھا پھر ان موحدوں کو جہنم سے نکال کر جنت کی نہر کے پاس لایا جائے گا۔ یہ ہے فرمان آیت «رُّبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ» [15-الحجر:2] ‏ میں ہے ۔ [ابن الجوزی فی العلل المتناهییة:1568/2:ضعیف] ‏

پھر بطور ڈانٹ کے فرماتا ہے کہ «قُلْ تَمَتَّعُوا فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ» [14-ابراھیم:30] ‏ ” انہیں کھاتے پیتے اور مزے کرتے چھوڑ دے آخر تو ان کا ٹھکانا جہنم ہے “۔

تم کھا پی لو، تمہارا مجرم ہونا ثابت ہو چکا ہے۔ انہیں ان کی دور دراز کی خواہشیں توبہ کرنے سے، اللہ کی طرف جھکنے سے غافل رکھیں گی۔ عنقریب حقیقت کھل جائے گی۔

صفحہ نمبر4280

اتمام حجت کے بعد ٭٭

” ہم کسی بستی کو دلیلیں پہنچانے اور ان کا مقرر وقت ختم ہونے سے پہلے ہلاک نہیں کرتے۔ ہاں جب وقت مقررہ آ جاتا ہے پھر تقدیم تاخیر ناممکن ہے “۔

اس میں اہل مکہ کی تنبیہ ہے کہ وہ شرک سے الحاد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے باز آ جائیں ورنہ مستحق ہلاکت ہو جائیں گے اور اپنے وقت پر تباہ ہو جائیں گے۔

صفحہ نمبر4281

سرکش و متکبر ہلاک ہوں گے ٭٭

کافروں کا کفر، ان کی سرکشی تکبر اور ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ بطور مذاق اور ہنسی کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ اے وہ شخص جو اس بات کا مدعی ہے کہ تجھ پر قرآن اللہ کا کلام اتر رہا ہے ہم تو دیکھتے ہیں کہ تو سراسر پاگل ہے کہ اپنی تابعداری کی طرف ہمیں بلا رہا ہے اور ہم سے کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے باپ دادوں کے دین کو چھوڑ دیں۔ اگر سچا ہے تو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتا جو تیری سچائی ہم سے بیان کریں۔

فرعون نے بھی ہی کہا تھا کہ آیت «فَلَوْلَا أُلْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِّن ذَهَبٍ أَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ» [43-الزخرف:53] ‏ ” اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ اس کے ساتھ مل کر فرشتے کیوں نہیں آئے؟ “

رب کی ملاقات کے منکروں نے آواز اٹھائی کہ «وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ أَوْ نَرَىٰ رَبَّنَا لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيرًا يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَائِكَةَ لَا بُشْرَىٰ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِينَ وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَّحْجُورًا» [25-الفرقان:21،22] ‏ ” ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں کئے جاتے؟ یا یہی ہوتا کہ ہم خود اپنے پروردگار کو دیکھ لیتے دراصل یہ گھمنڈ میں آ گئے اور بہت ہی سرکش ہو گئے۔ فرشتوں کو دیکھ لینے کا دن جب آ جائے گا اس دن ان گنہگاروں کو کوئی خوشی نہ ہوگی “۔

یہاں بھی فرمان ہے کہ ” ہم فرشتوں کو حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں یعنی رسالت یا عذاب کے ساتھ اس وقت پھر کافروں کو مہلت نہیں ملے گی “۔

صفحہ نمبر4285

” اس ذکر یعنی قرآن کو ہم نے ہی اتارا ہے اور اس کی حفاظت کے ذمے دار بھی ہم ہی ہیں، ہمیشہ تغیر و تبدل سے بچا رہے گا “۔

بعض کہتے ہیں کہ «لَهُ» کی ضمیر کا مرجع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یعنی قرآن اللہ ہی کا نازل کیا ہوا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حافظ وہی ہے۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدہ:67] ‏ ” تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے اللہ محفوظ رکھے گا “۔ لیکن پہلا معنی اولیٰ ہے اور عبارت کی ظاہر روانی بھی اسی کو ترجیح دیتی ہے۔

صفحہ نمبر4286

سرکش و متکبر ہلاک ہوں گے ٭٭

کافروں کا کفر، ان کی سرکشی تکبر اور ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ بطور مذاق اور ہنسی کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ اے وہ شخص جو اس بات کا مدعی ہے کہ تجھ پر قرآن اللہ کا کلام اتر رہا ہے ہم تو دیکھتے ہیں کہ تو سراسر پاگل ہے کہ اپنی تابعداری کی طرف ہمیں بلا رہا ہے اور ہم سے کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے باپ دادوں کے دین کو چھوڑ دیں۔ اگر سچا ہے تو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتا جو تیری سچائی ہم سے بیان کریں۔

فرعون نے بھی ہی کہا تھا کہ آیت «فَلَوْلَا أُلْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِّن ذَهَبٍ أَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ» [43-الزخرف:53] ‏ ” اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ اس کے ساتھ مل کر فرشتے کیوں نہیں آئے؟ “

رب کی ملاقات کے منکروں نے آواز اٹھائی کہ «وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ أَوْ نَرَىٰ رَبَّنَا لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيرًا يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَائِكَةَ لَا بُشْرَىٰ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِينَ وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَّحْجُورًا» [25-الفرقان:21،22] ‏ ” ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں کئے جاتے؟ یا یہی ہوتا کہ ہم خود اپنے پروردگار کو دیکھ لیتے دراصل یہ گھمنڈ میں آ گئے اور بہت ہی سرکش ہو گئے۔ فرشتوں کو دیکھ لینے کا دن جب آ جائے گا اس دن ان گنہگاروں کو کوئی خوشی نہ ہوگی “۔

یہاں بھی فرمان ہے کہ ” ہم فرشتوں کو حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں یعنی رسالت یا عذاب کے ساتھ اس وقت پھر کافروں کو مہلت نہیں ملے گی “۔

صفحہ نمبر4285

” اس ذکر یعنی قرآن کو ہم نے ہی اتارا ہے اور اس کی حفاظت کے ذمے دار بھی ہم ہی ہیں، ہمیشہ تغیر و تبدل سے بچا رہے گا “۔

بعض کہتے ہیں کہ «لَهُ» کی ضمیر کا مرجع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یعنی قرآن اللہ ہی کا نازل کیا ہوا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حافظ وہی ہے۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدہ:67] ‏ ” تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے اللہ محفوظ رکھے گا “۔ لیکن پہلا معنی اولیٰ ہے اور عبارت کی ظاہر روانی بھی اسی کو ترجیح دیتی ہے۔

صفحہ نمبر4286

سرکش و متکبر ہلاک ہوں گے ٭٭

کافروں کا کفر، ان کی سرکشی تکبر اور ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ بطور مذاق اور ہنسی کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ اے وہ شخص جو اس بات کا مدعی ہے کہ تجھ پر قرآن اللہ کا کلام اتر رہا ہے ہم تو دیکھتے ہیں کہ تو سراسر پاگل ہے کہ اپنی تابعداری کی طرف ہمیں بلا رہا ہے اور ہم سے کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے باپ دادوں کے دین کو چھوڑ دیں۔ اگر سچا ہے تو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتا جو تیری سچائی ہم سے بیان کریں۔

فرعون نے بھی ہی کہا تھا کہ آیت «فَلَوْلَا أُلْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِّن ذَهَبٍ أَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ» [43-الزخرف:53] ‏ ” اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ اس کے ساتھ مل کر فرشتے کیوں نہیں آئے؟ “

رب کی ملاقات کے منکروں نے آواز اٹھائی کہ «وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ أَوْ نَرَىٰ رَبَّنَا لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيرًا يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَائِكَةَ لَا بُشْرَىٰ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِينَ وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَّحْجُورًا» [25-الفرقان:21،22] ‏ ” ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں کئے جاتے؟ یا یہی ہوتا کہ ہم خود اپنے پروردگار کو دیکھ لیتے دراصل یہ گھمنڈ میں آ گئے اور بہت ہی سرکش ہو گئے۔ فرشتوں کو دیکھ لینے کا دن جب آ جائے گا اس دن ان گنہگاروں کو کوئی خوشی نہ ہوگی “۔

یہاں بھی فرمان ہے کہ ” ہم فرشتوں کو حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں یعنی رسالت یا عذاب کے ساتھ اس وقت پھر کافروں کو مہلت نہیں ملے گی “۔

صفحہ نمبر4285

” اس ذکر یعنی قرآن کو ہم نے ہی اتارا ہے اور اس کی حفاظت کے ذمے دار بھی ہم ہی ہیں، ہمیشہ تغیر و تبدل سے بچا رہے گا “۔

بعض کہتے ہیں کہ «لَهُ» کی ضمیر کا مرجع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یعنی قرآن اللہ ہی کا نازل کیا ہوا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حافظ وہی ہے۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدہ:67] ‏ ” تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے اللہ محفوظ رکھے گا “۔ لیکن پہلا معنی اولیٰ ہے اور عبارت کی ظاہر روانی بھی اسی کو ترجیح دیتی ہے۔

صفحہ نمبر4286

سرکش و متکبر ہلاک ہوں گے ٭٭

کافروں کا کفر، ان کی سرکشی تکبر اور ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ بطور مذاق اور ہنسی کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ اے وہ شخص جو اس بات کا مدعی ہے کہ تجھ پر قرآن اللہ کا کلام اتر رہا ہے ہم تو دیکھتے ہیں کہ تو سراسر پاگل ہے کہ اپنی تابعداری کی طرف ہمیں بلا رہا ہے اور ہم سے کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے باپ دادوں کے دین کو چھوڑ دیں۔ اگر سچا ہے تو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتا جو تیری سچائی ہم سے بیان کریں۔

فرعون نے بھی ہی کہا تھا کہ آیت «فَلَوْلَا أُلْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِّن ذَهَبٍ أَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ» [43-الزخرف:53] ‏ ” اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ اس کے ساتھ مل کر فرشتے کیوں نہیں آئے؟ “

رب کی ملاقات کے منکروں نے آواز اٹھائی کہ «وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ أَوْ نَرَىٰ رَبَّنَا لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيرًا يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَائِكَةَ لَا بُشْرَىٰ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِينَ وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَّحْجُورًا» [25-الفرقان:21،22] ‏ ” ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں کئے جاتے؟ یا یہی ہوتا کہ ہم خود اپنے پروردگار کو دیکھ لیتے دراصل یہ گھمنڈ میں آ گئے اور بہت ہی سرکش ہو گئے۔ فرشتوں کو دیکھ لینے کا دن جب آ جائے گا اس دن ان گنہگاروں کو کوئی خوشی نہ ہوگی “۔

یہاں بھی فرمان ہے کہ ” ہم فرشتوں کو حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں یعنی رسالت یا عذاب کے ساتھ اس وقت پھر کافروں کو مہلت نہیں ملے گی “۔

صفحہ نمبر4285

” اس ذکر یعنی قرآن کو ہم نے ہی اتارا ہے اور اس کی حفاظت کے ذمے دار بھی ہم ہی ہیں، ہمیشہ تغیر و تبدل سے بچا رہے گا “۔

بعض کہتے ہیں کہ «لَهُ» کی ضمیر کا مرجع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یعنی قرآن اللہ ہی کا نازل کیا ہوا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حافظ وہی ہے۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدہ:67] ‏ ” تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے اللہ محفوظ رکھے گا “۔ لیکن پہلا معنی اولیٰ ہے اور عبارت کی ظاہر روانی بھی اسی کو ترجیح دیتی ہے۔

صفحہ نمبر4286

باب

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسکین دیتا ہے کہ ” جس طرح لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبیوں کو بھی وہ جھٹلا چکے ہیں۔ ہر امت کے رسول علیہ السلام کی تکذیب ہوئی ہے اور اسے مذاق میں اڑایا گیا ہے “۔

ضدی اور متکبر گروہ کے دلوں میں بہ سبب ان کے حد سے بڑھے ہوئے گناہوں کے تکذیب رسول سمو دی جاتی ہے یہاں مجرموں سے مراد مشرکین ہیں۔ وہ حق کو قبول کرتے ہی نہیں، نہ کریں۔ اگلوں کی عادت ان کے سامنے ہے جس طرح وہ ہلاک اور برباد ہوئے اور ان کے انبیاء علیہم السلام نجات پاگئے اور ایماندار عافیت حاصل کرگئے۔ وہی نتیجہ یہ بھی یاد رکھیں۔ دنیا آخرت کی بھلائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت میں اور دونوں جہان کی رسوائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں ہے۔

صفحہ نمبر4290

باب

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسکین دیتا ہے کہ ” جس طرح لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبیوں کو بھی وہ جھٹلا چکے ہیں۔ ہر امت کے رسول علیہ السلام کی تکذیب ہوئی ہے اور اسے مذاق میں اڑایا گیا ہے “۔

ضدی اور متکبر گروہ کے دلوں میں بہ سبب ان کے حد سے بڑھے ہوئے گناہوں کے تکذیب رسول سمو دی جاتی ہے یہاں مجرموں سے مراد مشرکین ہیں۔ وہ حق کو قبول کرتے ہی نہیں، نہ کریں۔ اگلوں کی عادت ان کے سامنے ہے جس طرح وہ ہلاک اور برباد ہوئے اور ان کے انبیاء علیہم السلام نجات پاگئے اور ایماندار عافیت حاصل کرگئے۔ وہی نتیجہ یہ بھی یاد رکھیں۔ دنیا آخرت کی بھلائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت میں اور دونوں جہان کی رسوائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں ہے۔

صفحہ نمبر4290

باب

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسکین دیتا ہے کہ ” جس طرح لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبیوں کو بھی وہ جھٹلا چکے ہیں۔ ہر امت کے رسول علیہ السلام کی تکذیب ہوئی ہے اور اسے مذاق میں اڑایا گیا ہے “۔

ضدی اور متکبر گروہ کے دلوں میں بہ سبب ان کے حد سے بڑھے ہوئے گناہوں کے تکذیب رسول سمو دی جاتی ہے یہاں مجرموں سے مراد مشرکین ہیں۔ وہ حق کو قبول کرتے ہی نہیں، نہ کریں۔ اگلوں کی عادت ان کے سامنے ہے جس طرح وہ ہلاک اور برباد ہوئے اور ان کے انبیاء علیہم السلام نجات پاگئے اور ایماندار عافیت حاصل کرگئے۔ وہی نتیجہ یہ بھی یاد رکھیں۔ دنیا آخرت کی بھلائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت میں اور دونوں جہان کی رسوائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں ہے۔

صفحہ نمبر4290

باب

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسکین دیتا ہے کہ ” جس طرح لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبیوں کو بھی وہ جھٹلا چکے ہیں۔ ہر امت کے رسول علیہ السلام کی تکذیب ہوئی ہے اور اسے مذاق میں اڑایا گیا ہے “۔

ضدی اور متکبر گروہ کے دلوں میں بہ سبب ان کے حد سے بڑھے ہوئے گناہوں کے تکذیب رسول سمو دی جاتی ہے یہاں مجرموں سے مراد مشرکین ہیں۔ وہ حق کو قبول کرتے ہی نہیں، نہ کریں۔ اگلوں کی عادت ان کے سامنے ہے جس طرح وہ ہلاک اور برباد ہوئے اور ان کے انبیاء علیہم السلام نجات پاگئے اور ایماندار عافیت حاصل کرگئے۔ وہی نتیجہ یہ بھی یاد رکھیں۔ دنیا آخرت کی بھلائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت میں اور دونوں جہان کی رسوائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں ہے۔

صفحہ نمبر4290

باب

ان کی سرکشی، ضد، ہٹ، خود بینی اور باطل پرستی کی تو یہ کیفیت ہے کہ بالفرض اگر ان کے لیے آسمان کا دروازہ کھول دیا جائے اور انہیں وہاں چڑھا دیا جائے تو بھی یہ حق کو حق کہہ کر نہ دیں گے بلکہ اس وقت بھی ہانک لگائیں گے کہ ہماری نظر بندی کر دی گئی ہے، آنکھیں بہکا دی گئی ہیں، جادو کر دیا گیا ہے، نگاہ چھین لی گئی ہے، دھوکہ ہو رہا ہے، بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔

صفحہ نمبر4294

باب

ان کی سرکشی، ضد، ہٹ، خود بینی اور باطل پرستی کی تو یہ کیفیت ہے کہ بالفرض اگر ان کے لیے آسمان کا دروازہ کھول دیا جائے اور انہیں وہاں چڑھا دیا جائے تو بھی یہ حق کو حق کہہ کر نہ دیں گے بلکہ اس وقت بھی ہانک لگائیں گے کہ ہماری نظر بندی کر دی گئی ہے، آنکھیں بہکا دی گئی ہیں، جادو کر دیا گیا ہے، نگاہ چھین لی گئی ہے، دھوکہ ہو رہا ہے، بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔

صفحہ نمبر4294

ستارے اور شیطان ٭٭

اس بلند آسمان کا جو ٹھہرے رہنے والے اور چلنے پھرنے والے ستاروں سے زینت دار ہے، پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ جو بھی اسے غور و فکر سے دیکھے وہ عجائبات قدرت اور نشانات عبرت اپنے لیے بہت سے پاسکتا ہے۔

بروج سے مراد یہاں پر ستارے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت «تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُّنِيرًا» [25-الفرقان:61] ‏ بعض کا قول ہے کہ مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں۔

صفحہ نمبر4296

عطیہ کہتے ہیں وہ جگہیں جہاں چوکی پہرے ہیں، اور جہاں سے سرکش شیطانوں پر مار پڑتی ہے کہ وہ بلند و بالا فرشتوں کی گفتگو نہ سن سکیں۔ جو آگے پرھتا ہے، شعلہ اس کے جلانے کو لپکتا ہے۔ کبھی تو نیچے والے کے کان میں بات ڈالنے سے پہلے ہی اس کا کام ختم ہو جاتا ہے، کبھی اس کے برخلاف بھی ہوتا ہے۔

جیسے کہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں صراحتاً مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی امر کی بابت فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے عاجزی کے ساتھ اپنے پر جھکا لیتے ہیں جیسے زنجیر پتھر پر۔ پھر جب ان کے دل مطمئن ہو جاتے ہیں تو دریافت کرتے ہیں کہ تمہارے رب کا کیا ارشاد ہوا؟ وہ کہتے ہیں جو بھی فرمایا حق ہے اور وہی بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔ فرشتوں کی باتوں کو چوری چوری سننے کے لیے جنات اوپر کی طرف چڑھتے ہیں اور اس طرح ایک پر ایک ہوتا ہے۔ راوی حدیث صفوان نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اس طرح بتایا کہ داہنے ہاتھ کی انگلیاں کشادہ کر کے ایک کو ایک پر رکھ لی۔ شعلہ اس سننے والے کا کام کبھی تو اس سے پہلے ہی ختم کر دیتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی کے کان میں کہہ دے۔ اسی وقت وہ جل جاتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ اس سے اور وہ اپنے سے نیچے والے کو اور اسی طرح مسلسل پہنچا دے اور وہ بات زمین تک آ جائے اور جادوگر یا کاہن کے کان اس سے آشنا ہو جائیں پھر تو وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر لوگوں میں پھیلا دیتا ہے۔ جب اس کی وہ ایک بات جو آسمان سے اسے اتفاقاً پہنچ گئی تھی صحیح نکلتی ہے تو لوگوں میں اس کی دانشمندی کے چرچے ہونے لگتے ہیں کہ دیکھو فلاں نے فلاں دن یہ کہا تھا بالکل سچ نکلا ۔ [صحیح بخاری:4800] ‏

صفحہ نمبر4297

پھر اللہ تعالیٰ زمین کا ذکر فرماتا ہے کہ ” اسی نے اسے پیدا کیا، پھیلایا، اس میں پہاڑ بنائے، جنگل اور میدان قائم کئے، کھیت اور باغات اور تمام چیزیں اندازے، مناسبت اور موزونیت کے ساتھ ہر ایک موسم، ہر ایک زمین، ہر ایک ملک کے لحاظ سے بالکل ٹھیک پیدا کیں جو بازار کی زینت اور لوگوں کے لیے خوشگوار ہیں۔ زمین میں قسم قسم کی معیشت اس نے پیدا کر دیں اور انہیں بھی پیدا کیا جن کے روزی رساں تم نہیں ہو “۔ یعنی چوپائے اور جانور لونڈی غلام وغیرہ۔

پس قسم قسم کی چیزیں، قسم قسم کے اسباب، قسم قسم کی راحت، ہر طرح کے آرام، اس نے تمہارے لیے مہیا کر دئیے۔ کمائی کے طریقے تمہیں سکھائے جانوروں کو تمہارے زیر دست کر دیا تاکہ کھاؤ بھی، سواریاں بھی کرو، لونڈی غلام دیئے کہ راحت و آرام حاصل کرو۔ ان کی روزیاں بھی کچھ تمہارے ذمہ نہیں بلکہ ان کا رزاق بھی اللہ ہے۔ نفع تم اٹھاؤ روزی وہ پہنچائے «فسبحانه اعظم شانه» ۔

صفحہ نمبر4298

ستارے اور شیطان ٭٭

اس بلند آسمان کا جو ٹھہرے رہنے والے اور چلنے پھرنے والے ستاروں سے زینت دار ہے، پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ جو بھی اسے غور و فکر سے دیکھے وہ عجائبات قدرت اور نشانات عبرت اپنے لیے بہت سے پاسکتا ہے۔

بروج سے مراد یہاں پر ستارے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت «تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُّنِيرًا» [25-الفرقان:61] ‏ بعض کا قول ہے کہ مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں۔

صفحہ نمبر4296

عطیہ کہتے ہیں وہ جگہیں جہاں چوکی پہرے ہیں، اور جہاں سے سرکش شیطانوں پر مار پڑتی ہے کہ وہ بلند و بالا فرشتوں کی گفتگو نہ سن سکیں۔ جو آگے پرھتا ہے، شعلہ اس کے جلانے کو لپکتا ہے۔ کبھی تو نیچے والے کے کان میں بات ڈالنے سے پہلے ہی اس کا کام ختم ہو جاتا ہے، کبھی اس کے برخلاف بھی ہوتا ہے۔

جیسے کہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں صراحتاً مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی امر کی بابت فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے عاجزی کے ساتھ اپنے پر جھکا لیتے ہیں جیسے زنجیر پتھر پر۔ پھر جب ان کے دل مطمئن ہو جاتے ہیں تو دریافت کرتے ہیں کہ تمہارے رب کا کیا ارشاد ہوا؟ وہ کہتے ہیں جو بھی فرمایا حق ہے اور وہی بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔ فرشتوں کی باتوں کو چوری چوری سننے کے لیے جنات اوپر کی طرف چڑھتے ہیں اور اس طرح ایک پر ایک ہوتا ہے۔ راوی حدیث صفوان نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اس طرح بتایا کہ داہنے ہاتھ کی انگلیاں کشادہ کر کے ایک کو ایک پر رکھ لی۔ شعلہ اس سننے والے کا کام کبھی تو اس سے پہلے ہی ختم کر دیتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی کے کان میں کہہ دے۔ اسی وقت وہ جل جاتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ اس سے اور وہ اپنے سے نیچے والے کو اور اسی طرح مسلسل پہنچا دے اور وہ بات زمین تک آ جائے اور جادوگر یا کاہن کے کان اس سے آشنا ہو جائیں پھر تو وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر لوگوں میں پھیلا دیتا ہے۔ جب اس کی وہ ایک بات جو آسمان سے اسے اتفاقاً پہنچ گئی تھی صحیح نکلتی ہے تو لوگوں میں اس کی دانشمندی کے چرچے ہونے لگتے ہیں کہ دیکھو فلاں نے فلاں دن یہ کہا تھا بالکل سچ نکلا ۔ [صحیح بخاری:4800] ‏

صفحہ نمبر4297

پھر اللہ تعالیٰ زمین کا ذکر فرماتا ہے کہ ” اسی نے اسے پیدا کیا، پھیلایا، اس میں پہاڑ بنائے، جنگل اور میدان قائم کئے، کھیت اور باغات اور تمام چیزیں اندازے، مناسبت اور موزونیت کے ساتھ ہر ایک موسم، ہر ایک زمین، ہر ایک ملک کے لحاظ سے بالکل ٹھیک پیدا کیں جو بازار کی زینت اور لوگوں کے لیے خوشگوار ہیں۔ زمین میں قسم قسم کی معیشت اس نے پیدا کر دیں اور انہیں بھی پیدا کیا جن کے روزی رساں تم نہیں ہو “۔ یعنی چوپائے اور جانور لونڈی غلام وغیرہ۔

پس قسم قسم کی چیزیں، قسم قسم کے اسباب، قسم قسم کی راحت، ہر طرح کے آرام، اس نے تمہارے لیے مہیا کر دئیے۔ کمائی کے طریقے تمہیں سکھائے جانوروں کو تمہارے زیر دست کر دیا تاکہ کھاؤ بھی، سواریاں بھی کرو، لونڈی غلام دیئے کہ راحت و آرام حاصل کرو۔ ان کی روزیاں بھی کچھ تمہارے ذمہ نہیں بلکہ ان کا رزاق بھی اللہ ہے۔ نفع تم اٹھاؤ روزی وہ پہنچائے «فسبحانه اعظم شانه» ۔

صفحہ نمبر4298

ستارے اور شیطان ٭٭

اس بلند آسمان کا جو ٹھہرے رہنے والے اور چلنے پھرنے والے ستاروں سے زینت دار ہے، پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ جو بھی اسے غور و فکر سے دیکھے وہ عجائبات قدرت اور نشانات عبرت اپنے لیے بہت سے پاسکتا ہے۔

بروج سے مراد یہاں پر ستارے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت «تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُّنِيرًا» [25-الفرقان:61] ‏ بعض کا قول ہے کہ مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں۔

صفحہ نمبر4296

عطیہ کہتے ہیں وہ جگہیں جہاں چوکی پہرے ہیں، اور جہاں سے سرکش شیطانوں پر مار پڑتی ہے کہ وہ بلند و بالا فرشتوں کی گفتگو نہ سن سکیں۔ جو آگے پرھتا ہے، شعلہ اس کے جلانے کو لپکتا ہے۔ کبھی تو نیچے والے کے کان میں بات ڈالنے سے پہلے ہی اس کا کام ختم ہو جاتا ہے، کبھی اس کے برخلاف بھی ہوتا ہے۔

جیسے کہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں صراحتاً مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی امر کی بابت فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے عاجزی کے ساتھ اپنے پر جھکا لیتے ہیں جیسے زنجیر پتھر پر۔ پھر جب ان کے دل مطمئن ہو جاتے ہیں تو دریافت کرتے ہیں کہ تمہارے رب کا کیا ارشاد ہوا؟ وہ کہتے ہیں جو بھی فرمایا حق ہے اور وہی بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔ فرشتوں کی باتوں کو چوری چوری سننے کے لیے جنات اوپر کی طرف چڑھتے ہیں اور اس طرح ایک پر ایک ہوتا ہے۔ راوی حدیث صفوان نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اس طرح بتایا کہ داہنے ہاتھ کی انگلیاں کشادہ کر کے ایک کو ایک پر رکھ لی۔ شعلہ اس سننے والے کا کام کبھی تو اس سے پہلے ہی ختم کر دیتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی کے کان میں کہہ دے۔ اسی وقت وہ جل جاتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ اس سے اور وہ اپنے سے نیچے والے کو اور اسی طرح مسلسل پہنچا دے اور وہ بات زمین تک آ جائے اور جادوگر یا کاہن کے کان اس سے آشنا ہو جائیں پھر تو وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر لوگوں میں پھیلا دیتا ہے۔ جب اس کی وہ ایک بات جو آسمان سے اسے اتفاقاً پہنچ گئی تھی صحیح نکلتی ہے تو لوگوں میں اس کی دانشمندی کے چرچے ہونے لگتے ہیں کہ دیکھو فلاں نے فلاں دن یہ کہا تھا بالکل سچ نکلا ۔ [صحیح بخاری:4800] ‏

صفحہ نمبر4297

پھر اللہ تعالیٰ زمین کا ذکر فرماتا ہے کہ ” اسی نے اسے پیدا کیا، پھیلایا، اس میں پہاڑ بنائے، جنگل اور میدان قائم کئے، کھیت اور باغات اور تمام چیزیں اندازے، مناسبت اور موزونیت کے ساتھ ہر ایک موسم، ہر ایک زمین، ہر ایک ملک کے لحاظ سے بالکل ٹھیک پیدا کیں جو بازار کی زینت اور لوگوں کے لیے خوشگوار ہیں۔ زمین میں قسم قسم کی معیشت اس نے پیدا کر دیں اور انہیں بھی پیدا کیا جن کے روزی رساں تم نہیں ہو “۔ یعنی چوپائے اور جانور لونڈی غلام وغیرہ۔

پس قسم قسم کی چیزیں، قسم قسم کے اسباب، قسم قسم کی راحت، ہر طرح کے آرام، اس نے تمہارے لیے مہیا کر دئیے۔ کمائی کے طریقے تمہیں سکھائے جانوروں کو تمہارے زیر دست کر دیا تاکہ کھاؤ بھی، سواریاں بھی کرو، لونڈی غلام دیئے کہ راحت و آرام حاصل کرو۔ ان کی روزیاں بھی کچھ تمہارے ذمہ نہیں بلکہ ان کا رزاق بھی اللہ ہے۔ نفع تم اٹھاؤ روزی وہ پہنچائے «فسبحانه اعظم شانه» ۔

صفحہ نمبر4298

ستارے اور شیطان ٭٭

اس بلند آسمان کا جو ٹھہرے رہنے والے اور چلنے پھرنے والے ستاروں سے زینت دار ہے، پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ جو بھی اسے غور و فکر سے دیکھے وہ عجائبات قدرت اور نشانات عبرت اپنے لیے بہت سے پاسکتا ہے۔

بروج سے مراد یہاں پر ستارے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت «تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُّنِيرًا» [25-الفرقان:61] ‏ بعض کا قول ہے کہ مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں۔

صفحہ نمبر4296

عطیہ کہتے ہیں وہ جگہیں جہاں چوکی پہرے ہیں، اور جہاں سے سرکش شیطانوں پر مار پڑتی ہے کہ وہ بلند و بالا فرشتوں کی گفتگو نہ سن سکیں۔ جو آگے پرھتا ہے، شعلہ اس کے جلانے کو لپکتا ہے۔ کبھی تو نیچے والے کے کان میں بات ڈالنے سے پہلے ہی اس کا کام ختم ہو جاتا ہے، کبھی اس کے برخلاف بھی ہوتا ہے۔

جیسے کہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں صراحتاً مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی امر کی بابت فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے عاجزی کے ساتھ اپنے پر جھکا لیتے ہیں جیسے زنجیر پتھر پر۔ پھر جب ان کے دل مطمئن ہو جاتے ہیں تو دریافت کرتے ہیں کہ تمہارے رب کا کیا ارشاد ہوا؟ وہ کہتے ہیں جو بھی فرمایا حق ہے اور وہی بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔ فرشتوں کی باتوں کو چوری چوری سننے کے لیے جنات اوپر کی طرف چڑھتے ہیں اور اس طرح ایک پر ایک ہوتا ہے۔ راوی حدیث صفوان نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اس طرح بتایا کہ داہنے ہاتھ کی انگلیاں کشادہ کر کے ایک کو ایک پر رکھ لی۔ شعلہ اس سننے والے کا کام کبھی تو اس سے پہلے ہی ختم کر دیتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی کے کان میں کہہ دے۔ اسی وقت وہ جل جاتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ اس سے اور وہ اپنے سے نیچے والے کو اور اسی طرح مسلسل پہنچا دے اور وہ بات زمین تک آ جائے اور جادوگر یا کاہن کے کان اس سے آشنا ہو جائیں پھر تو وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر لوگوں میں پھیلا دیتا ہے۔ جب اس کی وہ ایک بات جو آسمان سے اسے اتفاقاً پہنچ گئی تھی صحیح نکلتی ہے تو لوگوں میں اس کی دانشمندی کے چرچے ہونے لگتے ہیں کہ دیکھو فلاں نے فلاں دن یہ کہا تھا بالکل سچ نکلا ۔ [صحیح بخاری:4800] ‏

صفحہ نمبر4297

پھر اللہ تعالیٰ زمین کا ذکر فرماتا ہے کہ ” اسی نے اسے پیدا کیا، پھیلایا، اس میں پہاڑ بنائے، جنگل اور میدان قائم کئے، کھیت اور باغات اور تمام چیزیں اندازے، مناسبت اور موزونیت کے ساتھ ہر ایک موسم، ہر ایک زمین، ہر ایک ملک کے لحاظ سے بالکل ٹھیک پیدا کیں جو بازار کی زینت اور لوگوں کے لیے خوشگوار ہیں۔ زمین میں قسم قسم کی معیشت اس نے پیدا کر دیں اور انہیں بھی پیدا کیا جن کے روزی رساں تم نہیں ہو “۔ یعنی چوپائے اور جانور لونڈی غلام وغیرہ۔

پس قسم قسم کی چیزیں، قسم قسم کے اسباب، قسم قسم کی راحت، ہر طرح کے آرام، اس نے تمہارے لیے مہیا کر دئیے۔ کمائی کے طریقے تمہیں سکھائے جانوروں کو تمہارے زیر دست کر دیا تاکہ کھاؤ بھی، سواریاں بھی کرو، لونڈی غلام دیئے کہ راحت و آرام حاصل کرو۔ ان کی روزیاں بھی کچھ تمہارے ذمہ نہیں بلکہ ان کا رزاق بھی اللہ ہے۔ نفع تم اٹھاؤ روزی وہ پہنچائے «فسبحانه اعظم شانه» ۔

صفحہ نمبر4298

ستارے اور شیطان ٭٭

اس بلند آسمان کا جو ٹھہرے رہنے والے اور چلنے پھرنے والے ستاروں سے زینت دار ہے، پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ جو بھی اسے غور و فکر سے دیکھے وہ عجائبات قدرت اور نشانات عبرت اپنے لیے بہت سے پاسکتا ہے۔

بروج سے مراد یہاں پر ستارے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت «تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُّنِيرًا» [25-الفرقان:61] ‏ بعض کا قول ہے کہ مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں۔

صفحہ نمبر4296

عطیہ کہتے ہیں وہ جگہیں جہاں چوکی پہرے ہیں، اور جہاں سے سرکش شیطانوں پر مار پڑتی ہے کہ وہ بلند و بالا فرشتوں کی گفتگو نہ سن سکیں۔ جو آگے پرھتا ہے، شعلہ اس کے جلانے کو لپکتا ہے۔ کبھی تو نیچے والے کے کان میں بات ڈالنے سے پہلے ہی اس کا کام ختم ہو جاتا ہے، کبھی اس کے برخلاف بھی ہوتا ہے۔

جیسے کہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں صراحتاً مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی امر کی بابت فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے عاجزی کے ساتھ اپنے پر جھکا لیتے ہیں جیسے زنجیر پتھر پر۔ پھر جب ان کے دل مطمئن ہو جاتے ہیں تو دریافت کرتے ہیں کہ تمہارے رب کا کیا ارشاد ہوا؟ وہ کہتے ہیں جو بھی فرمایا حق ہے اور وہی بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔ فرشتوں کی باتوں کو چوری چوری سننے کے لیے جنات اوپر کی طرف چڑھتے ہیں اور اس طرح ایک پر ایک ہوتا ہے۔ راوی حدیث صفوان نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اس طرح بتایا کہ داہنے ہاتھ کی انگلیاں کشادہ کر کے ایک کو ایک پر رکھ لی۔ شعلہ اس سننے والے کا کام کبھی تو اس سے پہلے ہی ختم کر دیتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی کے کان میں کہہ دے۔ اسی وقت وہ جل جاتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ اس سے اور وہ اپنے سے نیچے والے کو اور اسی طرح مسلسل پہنچا دے اور وہ بات زمین تک آ جائے اور جادوگر یا کاہن کے کان اس سے آشنا ہو جائیں پھر تو وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر لوگوں میں پھیلا دیتا ہے۔ جب اس کی وہ ایک بات جو آسمان سے اسے اتفاقاً پہنچ گئی تھی صحیح نکلتی ہے تو لوگوں میں اس کی دانشمندی کے چرچے ہونے لگتے ہیں کہ دیکھو فلاں نے فلاں دن یہ کہا تھا بالکل سچ نکلا ۔ [صحیح بخاری:4800] ‏

صفحہ نمبر4297

پھر اللہ تعالیٰ زمین کا ذکر فرماتا ہے کہ ” اسی نے اسے پیدا کیا، پھیلایا، اس میں پہاڑ بنائے، جنگل اور میدان قائم کئے، کھیت اور باغات اور تمام چیزیں اندازے، مناسبت اور موزونیت کے ساتھ ہر ایک موسم، ہر ایک زمین، ہر ایک ملک کے لحاظ سے بالکل ٹھیک پیدا کیں جو بازار کی زینت اور لوگوں کے لیے خوشگوار ہیں۔ زمین میں قسم قسم کی معیشت اس نے پیدا کر دیں اور انہیں بھی پیدا کیا جن کے روزی رساں تم نہیں ہو “۔ یعنی چوپائے اور جانور لونڈی غلام وغیرہ۔

پس قسم قسم کی چیزیں، قسم قسم کے اسباب، قسم قسم کی راحت، ہر طرح کے آرام، اس نے تمہارے لیے مہیا کر دئیے۔ کمائی کے طریقے تمہیں سکھائے جانوروں کو تمہارے زیر دست کر دیا تاکہ کھاؤ بھی، سواریاں بھی کرو، لونڈی غلام دیئے کہ راحت و آرام حاصل کرو۔ ان کی روزیاں بھی کچھ تمہارے ذمہ نہیں بلکہ ان کا رزاق بھی اللہ ہے۔ نفع تم اٹھاؤ روزی وہ پہنچائے «فسبحانه اعظم شانه» ۔

صفحہ نمبر4298

اللہ تعالٰی کے خزانے ٭٭

تمام چیزوں کا تنہا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ہر کام اس پر آسان ہے۔ ہر قسم کی چیزوں کے خزانے اس کے پاس موجود ہیں۔ جتنا، جب اور جہاں چاہتا ہے، نازل فرماتا ہے۔ اپنی حکمتوں کا عالم وہی ہے۔ بندوں کی مصلحتوں سے بھی واقف ہے۔ یہ محض اس کی مہربانی ہے ورنہ کون ہے جو اس پر جبر کر سکے۔

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر سال بارش برابر ہی برستی ہے، ہاں تقسم اللہ کے ہاتھ ہے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ حکم بن عیینہ سے بھی یہی قول مروی ہے، کہتے ہیں کہ بارش کے ساتھ اس قدر فرشتے اترتے ہیں، جن کی گنتی کل انسانوں اور جنات سے زیادہ ہوتی ہے، ایک ایک قطرے کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ کہاں برسا اور اس سے کیا اگا۔ مسند بزار میں ہے کہ اللہ کے پاس کے خزانے کیا ہیں؟ صرف کلام ہے جب کہا ہو جا ہو گیا ۔ [المیزان:1021:ضعیف جدا] ‏ اس کا ایک روای قوی نہیں۔

” ہوا چلا کر ہم بادلوں کو پانی سے بوجھل کر دیتے ہیں، اس میں پانی برسنے لگتا ہے۔ یہی ہوائیں چل کر درختوں کو بار دار کر دیتی ہیں کہ پتے اور کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں “، اس وصف کو بھی خیال میں رکھئے کہ یہاں جمع کا صیغہ لائے ہیں اور «الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ» میں وصف وحدت کے ساتھ کیا ہے تاکہ کثرت سے نتیجہ بر آمد ہو۔

بارداری کم از کم دو چیزوں کے بغیر ناممکن ہے۔ ہوا چلتی ہے وہ آسمان سے پانی اٹھاتی ہے اور بادلوں کو پر کر دیتی ہے۔ ایک ہوا ہوتی ہے جو زمین میں پیداوار کی قوت پیدا کرتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو بادلوں کو ادھر ادھر سے اٹھاتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو انہیں جمع کر کے تہ بہ تہ کر دیتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو انہیں پانی سے بوجھل کر دیتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو درختوں کو پھل دار ہونے کے قابل کردیتی ہے۔

صفحہ نمبر4303

ابن جریر میں بہ سند ضعیف ایک حدیث مروی ہے کہ جنوبی ہوا جنتی ہے اس میں لوگوں کے منافع ہیں اور اسی کا ذکر کتاب اللہ میں ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:21109:ضعیف] ‏

مسند حمیدی کی حدیث میں ہے کہ ہواؤں کے سات سال بعد اللہ تعالیٰ نے جنت میں ایک ہوا پیدا کی ہے جو ایک دروازے سے رکی ہوئی ہے۔ اسی بند دروازے سے تمہیں ہوا پہنچتی رہتی ہے، اگر وہ کھل جائے تو زمین و آسمان کی تمام چیزیں ہوا سے الٹ پلٹ ہو جائیں۔ اللہ کے ہاں اس کا نام اذیب ہے، تم اسے جنوبی ہوا کہتے ہو ۔ [مسند بزار:2088:ضعیف] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” اس کے بعد ہم تم پر میٹھا پانی برساتے ہیں کہ تم پیو اور کام میں لاؤ۔ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا اور کھاری کر دیں “۔

جیسے سورۃ الواقعہ میں فرمان ہے کہ «أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ» [56-الواقعة:68-70] ‏ ” جس میٹھے پانی کو تم پیا کرتے ہو اسے بادل سے برسانے والے بھی کیا تم ہی ہو؟ یا ہم ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا کر دیں تعجب ہے کہ تم ہماری شکر گزاری نہیں کرتے؟ “

اور آیت میں ہے «هُوَ الَّذِي أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لَّكُم مِّنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ» [16-النحل:10] ‏ ” اسی اللہ نے تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا ہے جسے تم پیتے بھی ہو اور اسی سے اگے ہوئے درختوں کو تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو “۔

” تم اس کے خازن یعنی مانع اور حافظ نہیں ہو۔ ہم ہی برساتے ہیں ہم ہی جہاں چاہتے ہیں، پہنچاتے ہیں، جہاں چاہتے ہیں، محفوظ کردیتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں زمین میں دھنسا دیں “۔

” یہ صرف ہماری رحمت ہے کہ اسے برسایا، بچایا، میٹھا کیا، ستھرا کیا تاکہ تم پیو، اپنے جانوروں کو پلاؤ۔ اپنی کھیتیاں اور باغات بساؤ،؟ اپنی ضرورتیں پوری کرو۔ ہم مخلوق کی ابتداء اور پھر اس کے اعادہ پر قادر ہیں۔ سب کو عدم سے وجود میں لائے۔ سب کو پھر معدوم ہم کریں گے۔ پھر قیامت کے دن سب کو اٹھا بٹھائیں گے “۔

” زمین کے اور زمین والوں کے وارث ہم ہی ہیں۔ سب کے سب ہماری طرف لوٹائے جائیں گے۔ ہمارے علم کی کوئی انتہا نہیں۔ اول آخر سب ہمارے علم میں ہے “۔

پس آگے والوں سے مراد تو اس زمانے سے پہلے کے لوگ ہیں آدم علیہ السلام تک کے۔ اور پچھلوں سے مراد اس زمانے کے اور آئندہ زمانے کے لوگ ہیں۔ مروان بن حکم سے مروی ہے کہ بعض لوگ بوجہ عورتوں کے پچھلی صفوں میں رہا کرتے تھے پس یہ آیت اتری۔ اس بارے میں ایک بہت ہی غریب حدیث بھی وارد ہوئی ہے۔

صفحہ نمبر4304

ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بہت ہی خوش شکل عورت نماز میں آیا کرتی تھی تو بعض مسلمان اس خیال سے کہ اس پر نگاہ نہ پڑے۔ آگے بڑھ جاتے تھے اور بعض ان کے خلاف اور پیچھے ہٹ آتے تھے اور سجدے کی حالت میں اپنے ہاتھوں تلے سے دیکھتے تھے پس یہ آیت اتری ۔ [سنن ابن ماجہ:1046،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ لیکن اس روایت میں سخت نکارت ہے۔

عبدالرزاق میں ابو الجواز کا قول اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ ”نماز کی صفوں میں آگے بڑھنے والے اور پیچھے ہٹنے والے۔‏“ یہ صرف ان کا قول ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اس میں ذکر نہیں۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ”یہی مشابہ ہے“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

محمد بن کعب کے سامنے عون بن عبداللہ جب یہ کہتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں ”یہ مطلب نہیں بلکہ اگلوں سے مراد وہ ہیں جو مر چکے اور پچھلوں سے مراد اب پیدا شدہ اور پیدا ہونے والے ہیں۔ تیرا رب سب کو جمع کرے گا وہ حکمت و علم والا ہے۔‏“ یہ سن کر عون رحمہ اللہ نے فرمایا ”اللہ آپ کو توفیق اور جزائے خیر دے۔‏“

صفحہ نمبر4305

اللہ تعالٰی کے خزانے ٭٭

تمام چیزوں کا تنہا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ہر کام اس پر آسان ہے۔ ہر قسم کی چیزوں کے خزانے اس کے پاس موجود ہیں۔ جتنا، جب اور جہاں چاہتا ہے، نازل فرماتا ہے۔ اپنی حکمتوں کا عالم وہی ہے۔ بندوں کی مصلحتوں سے بھی واقف ہے۔ یہ محض اس کی مہربانی ہے ورنہ کون ہے جو اس پر جبر کر سکے۔

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر سال بارش برابر ہی برستی ہے، ہاں تقسم اللہ کے ہاتھ ہے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ حکم بن عیینہ سے بھی یہی قول مروی ہے، کہتے ہیں کہ بارش کے ساتھ اس قدر فرشتے اترتے ہیں، جن کی گنتی کل انسانوں اور جنات سے زیادہ ہوتی ہے، ایک ایک قطرے کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ کہاں برسا اور اس سے کیا اگا۔ مسند بزار میں ہے کہ اللہ کے پاس کے خزانے کیا ہیں؟ صرف کلام ہے جب کہا ہو جا ہو گیا ۔ [المیزان:1021:ضعیف جدا] ‏ اس کا ایک روای قوی نہیں۔

” ہوا چلا کر ہم بادلوں کو پانی سے بوجھل کر دیتے ہیں، اس میں پانی برسنے لگتا ہے۔ یہی ہوائیں چل کر درختوں کو بار دار کر دیتی ہیں کہ پتے اور کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں “، اس وصف کو بھی خیال میں رکھئے کہ یہاں جمع کا صیغہ لائے ہیں اور «الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ» میں وصف وحدت کے ساتھ کیا ہے تاکہ کثرت سے نتیجہ بر آمد ہو۔

بارداری کم از کم دو چیزوں کے بغیر ناممکن ہے۔ ہوا چلتی ہے وہ آسمان سے پانی اٹھاتی ہے اور بادلوں کو پر کر دیتی ہے۔ ایک ہوا ہوتی ہے جو زمین میں پیداوار کی قوت پیدا کرتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو بادلوں کو ادھر ادھر سے اٹھاتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو انہیں جمع کر کے تہ بہ تہ کر دیتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو انہیں پانی سے بوجھل کر دیتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو درختوں کو پھل دار ہونے کے قابل کردیتی ہے۔

صفحہ نمبر4303

ابن جریر میں بہ سند ضعیف ایک حدیث مروی ہے کہ جنوبی ہوا جنتی ہے اس میں لوگوں کے منافع ہیں اور اسی کا ذکر کتاب اللہ میں ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:21109:ضعیف] ‏

مسند حمیدی کی حدیث میں ہے کہ ہواؤں کے سات سال بعد اللہ تعالیٰ نے جنت میں ایک ہوا پیدا کی ہے جو ایک دروازے سے رکی ہوئی ہے۔ اسی بند دروازے سے تمہیں ہوا پہنچتی رہتی ہے، اگر وہ کھل جائے تو زمین و آسمان کی تمام چیزیں ہوا سے الٹ پلٹ ہو جائیں۔ اللہ کے ہاں اس کا نام اذیب ہے، تم اسے جنوبی ہوا کہتے ہو ۔ [مسند بزار:2088:ضعیف] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” اس کے بعد ہم تم پر میٹھا پانی برساتے ہیں کہ تم پیو اور کام میں لاؤ۔ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا اور کھاری کر دیں “۔

جیسے سورۃ الواقعہ میں فرمان ہے کہ «أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ» [56-الواقعة:68-70] ‏ ” جس میٹھے پانی کو تم پیا کرتے ہو اسے بادل سے برسانے والے بھی کیا تم ہی ہو؟ یا ہم ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا کر دیں تعجب ہے کہ تم ہماری شکر گزاری نہیں کرتے؟ “

اور آیت میں ہے «هُوَ الَّذِي أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لَّكُم مِّنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ» [16-النحل:10] ‏ ” اسی اللہ نے تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا ہے جسے تم پیتے بھی ہو اور اسی سے اگے ہوئے درختوں کو تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو “۔

” تم اس کے خازن یعنی مانع اور حافظ نہیں ہو۔ ہم ہی برساتے ہیں ہم ہی جہاں چاہتے ہیں، پہنچاتے ہیں، جہاں چاہتے ہیں، محفوظ کردیتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں زمین میں دھنسا دیں “۔

” یہ صرف ہماری رحمت ہے کہ اسے برسایا، بچایا، میٹھا کیا، ستھرا کیا تاکہ تم پیو، اپنے جانوروں کو پلاؤ۔ اپنی کھیتیاں اور باغات بساؤ،؟ اپنی ضرورتیں پوری کرو۔ ہم مخلوق کی ابتداء اور پھر اس کے اعادہ پر قادر ہیں۔ سب کو عدم سے وجود میں لائے۔ سب کو پھر معدوم ہم کریں گے۔ پھر قیامت کے دن سب کو اٹھا بٹھائیں گے “۔

” زمین کے اور زمین والوں کے وارث ہم ہی ہیں۔ سب کے سب ہماری طرف لوٹائے جائیں گے۔ ہمارے علم کی کوئی انتہا نہیں۔ اول آخر سب ہمارے علم میں ہے “۔

پس آگے والوں سے مراد تو اس زمانے سے پہلے کے لوگ ہیں آدم علیہ السلام تک کے۔ اور پچھلوں سے مراد اس زمانے کے اور آئندہ زمانے کے لوگ ہیں۔ مروان بن حکم سے مروی ہے کہ بعض لوگ بوجہ عورتوں کے پچھلی صفوں میں رہا کرتے تھے پس یہ آیت اتری۔ اس بارے میں ایک بہت ہی غریب حدیث بھی وارد ہوئی ہے۔

صفحہ نمبر4304

ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بہت ہی خوش شکل عورت نماز میں آیا کرتی تھی تو بعض مسلمان اس خیال سے کہ اس پر نگاہ نہ پڑے۔ آگے بڑھ جاتے تھے اور بعض ان کے خلاف اور پیچھے ہٹ آتے تھے اور سجدے کی حالت میں اپنے ہاتھوں تلے سے دیکھتے تھے پس یہ آیت اتری ۔ [سنن ابن ماجہ:1046،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ لیکن اس روایت میں سخت نکارت ہے۔

عبدالرزاق میں ابو الجواز کا قول اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ ”نماز کی صفوں میں آگے بڑھنے والے اور پیچھے ہٹنے والے۔‏“ یہ صرف ان کا قول ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اس میں ذکر نہیں۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ”یہی مشابہ ہے“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

محمد بن کعب کے سامنے عون بن عبداللہ جب یہ کہتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں ”یہ مطلب نہیں بلکہ اگلوں سے مراد وہ ہیں جو مر چکے اور پچھلوں سے مراد اب پیدا شدہ اور پیدا ہونے والے ہیں۔ تیرا رب سب کو جمع کرے گا وہ حکمت و علم والا ہے۔‏“ یہ سن کر عون رحمہ اللہ نے فرمایا ”اللہ آپ کو توفیق اور جزائے خیر دے۔‏“

صفحہ نمبر4305

اللہ تعالٰی کے خزانے ٭٭

تمام چیزوں کا تنہا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ہر کام اس پر آسان ہے۔ ہر قسم کی چیزوں کے خزانے اس کے پاس موجود ہیں۔ جتنا، جب اور جہاں چاہتا ہے، نازل فرماتا ہے۔ اپنی حکمتوں کا عالم وہی ہے۔ بندوں کی مصلحتوں سے بھی واقف ہے۔ یہ محض اس کی مہربانی ہے ورنہ کون ہے جو اس پر جبر کر سکے۔

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر سال بارش برابر ہی برستی ہے، ہاں تقسم اللہ کے ہاتھ ہے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ حکم بن عیینہ سے بھی یہی قول مروی ہے، کہتے ہیں کہ بارش کے ساتھ اس قدر فرشتے اترتے ہیں، جن کی گنتی کل انسانوں اور جنات سے زیادہ ہوتی ہے، ایک ایک قطرے کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ کہاں برسا اور اس سے کیا اگا۔ مسند بزار میں ہے کہ اللہ کے پاس کے خزانے کیا ہیں؟ صرف کلام ہے جب کہا ہو جا ہو گیا ۔ [المیزان:1021:ضعیف جدا] ‏ اس کا ایک روای قوی نہیں۔

” ہوا چلا کر ہم بادلوں کو پانی سے بوجھل کر دیتے ہیں، اس میں پانی برسنے لگتا ہے۔ یہی ہوائیں چل کر درختوں کو بار دار کر دیتی ہیں کہ پتے اور کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں “، اس وصف کو بھی خیال میں رکھئے کہ یہاں جمع کا صیغہ لائے ہیں اور «الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ» میں وصف وحدت کے ساتھ کیا ہے تاکہ کثرت سے نتیجہ بر آمد ہو۔

بارداری کم از کم دو چیزوں کے بغیر ناممکن ہے۔ ہوا چلتی ہے وہ آسمان سے پانی اٹھاتی ہے اور بادلوں کو پر کر دیتی ہے۔ ایک ہوا ہوتی ہے جو زمین میں پیداوار کی قوت پیدا کرتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو بادلوں کو ادھر ادھر سے اٹھاتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو انہیں جمع کر کے تہ بہ تہ کر دیتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو انہیں پانی سے بوجھل کر دیتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو درختوں کو پھل دار ہونے کے قابل کردیتی ہے۔

صفحہ نمبر4303

ابن جریر میں بہ سند ضعیف ایک حدیث مروی ہے کہ جنوبی ہوا جنتی ہے اس میں لوگوں کے منافع ہیں اور اسی کا ذکر کتاب اللہ میں ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:21109:ضعیف] ‏

مسند حمیدی کی حدیث میں ہے کہ ہواؤں کے سات سال بعد اللہ تعالیٰ نے جنت میں ایک ہوا پیدا کی ہے جو ایک دروازے سے رکی ہوئی ہے۔ اسی بند دروازے سے تمہیں ہوا پہنچتی رہتی ہے، اگر وہ کھل جائے تو زمین و آسمان کی تمام چیزیں ہوا سے الٹ پلٹ ہو جائیں۔ اللہ کے ہاں اس کا نام اذیب ہے، تم اسے جنوبی ہوا کہتے ہو ۔ [مسند بزار:2088:ضعیف] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” اس کے بعد ہم تم پر میٹھا پانی برساتے ہیں کہ تم پیو اور کام میں لاؤ۔ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا اور کھاری کر دیں “۔

جیسے سورۃ الواقعہ میں فرمان ہے کہ «أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ» [56-الواقعة:68-70] ‏ ” جس میٹھے پانی کو تم پیا کرتے ہو اسے بادل سے برسانے والے بھی کیا تم ہی ہو؟ یا ہم ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا کر دیں تعجب ہے کہ تم ہماری شکر گزاری نہیں کرتے؟ “

اور آیت میں ہے «هُوَ الَّذِي أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لَّكُم مِّنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ» [16-النحل:10] ‏ ” اسی اللہ نے تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا ہے جسے تم پیتے بھی ہو اور اسی سے اگے ہوئے درختوں کو تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو “۔

” تم اس کے خازن یعنی مانع اور حافظ نہیں ہو۔ ہم ہی برساتے ہیں ہم ہی جہاں چاہتے ہیں، پہنچاتے ہیں، جہاں چاہتے ہیں، محفوظ کردیتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں زمین میں دھنسا دیں “۔

” یہ صرف ہماری رحمت ہے کہ اسے برسایا، بچایا، میٹھا کیا، ستھرا کیا تاکہ تم پیو، اپنے جانوروں کو پلاؤ۔ اپنی کھیتیاں اور باغات بساؤ،؟ اپنی ضرورتیں پوری کرو۔ ہم مخلوق کی ابتداء اور پھر اس کے اعادہ پر قادر ہیں۔ سب کو عدم سے وجود میں لائے۔ سب کو پھر معدوم ہم کریں گے۔ پھر قیامت کے دن سب کو اٹھا بٹھائیں گے “۔

” زمین کے اور زمین والوں کے وارث ہم ہی ہیں۔ سب کے سب ہماری طرف لوٹائے جائیں گے۔ ہمارے علم کی کوئی انتہا نہیں۔ اول آخر سب ہمارے علم میں ہے “۔

پس آگے والوں سے مراد تو اس زمانے سے پہلے کے لوگ ہیں آدم علیہ السلام تک کے۔ اور پچھلوں سے مراد اس زمانے کے اور آئندہ زمانے کے لوگ ہیں۔ مروان بن حکم سے مروی ہے کہ بعض لوگ بوجہ عورتوں کے پچھلی صفوں میں رہا کرتے تھے پس یہ آیت اتری۔ اس بارے میں ایک بہت ہی غریب حدیث بھی وارد ہوئی ہے۔

صفحہ نمبر4304

ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بہت ہی خوش شکل عورت نماز میں آیا کرتی تھی تو بعض مسلمان اس خیال سے کہ اس پر نگاہ نہ پڑے۔ آگے بڑھ جاتے تھے اور بعض ان کے خلاف اور پیچھے ہٹ آتے تھے اور سجدے کی حالت میں اپنے ہاتھوں تلے سے دیکھتے تھے پس یہ آیت اتری ۔ [سنن ابن ماجہ:1046،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ لیکن اس روایت میں سخت نکارت ہے۔

عبدالرزاق میں ابو الجواز کا قول اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ ”نماز کی صفوں میں آگے بڑھنے والے اور پیچھے ہٹنے والے۔‏“ یہ صرف ان کا قول ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اس میں ذکر نہیں۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ”یہی مشابہ ہے“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

محمد بن کعب کے سامنے عون بن عبداللہ جب یہ کہتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں ”یہ مطلب نہیں بلکہ اگلوں سے مراد وہ ہیں جو مر چکے اور پچھلوں سے مراد اب پیدا شدہ اور پیدا ہونے والے ہیں۔ تیرا رب سب کو جمع کرے گا وہ حکمت و علم والا ہے۔‏“ یہ سن کر عون رحمہ اللہ نے فرمایا ”اللہ آپ کو توفیق اور جزائے خیر دے۔‏“

صفحہ نمبر4305

اللہ تعالٰی کے خزانے ٭٭

تمام چیزوں کا تنہا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ہر کام اس پر آسان ہے۔ ہر قسم کی چیزوں کے خزانے اس کے پاس موجود ہیں۔ جتنا، جب اور جہاں چاہتا ہے، نازل فرماتا ہے۔ اپنی حکمتوں کا عالم وہی ہے۔ بندوں کی مصلحتوں سے بھی واقف ہے۔ یہ محض اس کی مہربانی ہے ورنہ کون ہے جو اس پر جبر کر سکے۔

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر سال بارش برابر ہی برستی ہے، ہاں تقسم اللہ کے ہاتھ ہے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ حکم بن عیینہ سے بھی یہی قول مروی ہے، کہتے ہیں کہ بارش کے ساتھ اس قدر فرشتے اترتے ہیں، جن کی گنتی کل انسانوں اور جنات سے زیادہ ہوتی ہے، ایک ایک قطرے کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ کہاں برسا اور اس سے کیا اگا۔ مسند بزار میں ہے کہ اللہ کے پاس کے خزانے کیا ہیں؟ صرف کلام ہے جب کہا ہو جا ہو گیا ۔ [المیزان:1021:ضعیف جدا] ‏ اس کا ایک روای قوی نہیں۔

” ہوا چلا کر ہم بادلوں کو پانی سے بوجھل کر دیتے ہیں، اس میں پانی برسنے لگتا ہے۔ یہی ہوائیں چل کر درختوں کو بار دار کر دیتی ہیں کہ پتے اور کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں “، اس وصف کو بھی خیال میں رکھئے کہ یہاں جمع کا صیغہ لائے ہیں اور «الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ» میں وصف وحدت کے ساتھ کیا ہے تاکہ کثرت سے نتیجہ بر آمد ہو۔

بارداری کم از کم دو چیزوں کے بغیر ناممکن ہے۔ ہوا چلتی ہے وہ آسمان سے پانی اٹھاتی ہے اور بادلوں کو پر کر دیتی ہے۔ ایک ہوا ہوتی ہے جو زمین میں پیداوار کی قوت پیدا کرتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو بادلوں کو ادھر ادھر سے اٹھاتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو انہیں جمع کر کے تہ بہ تہ کر دیتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو انہیں پانی سے بوجھل کر دیتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو درختوں کو پھل دار ہونے کے قابل کردیتی ہے۔

صفحہ نمبر4303

ابن جریر میں بہ سند ضعیف ایک حدیث مروی ہے کہ جنوبی ہوا جنتی ہے اس میں لوگوں کے منافع ہیں اور اسی کا ذکر کتاب اللہ میں ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:21109:ضعیف] ‏

مسند حمیدی کی حدیث میں ہے کہ ہواؤں کے سات سال بعد اللہ تعالیٰ نے جنت میں ایک ہوا پیدا کی ہے جو ایک دروازے سے رکی ہوئی ہے۔ اسی بند دروازے سے تمہیں ہوا پہنچتی رہتی ہے، اگر وہ کھل جائے تو زمین و آسمان کی تمام چیزیں ہوا سے الٹ پلٹ ہو جائیں۔ اللہ کے ہاں اس کا نام اذیب ہے، تم اسے جنوبی ہوا کہتے ہو ۔ [مسند بزار:2088:ضعیف] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” اس کے بعد ہم تم پر میٹھا پانی برساتے ہیں کہ تم پیو اور کام میں لاؤ۔ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا اور کھاری کر دیں “۔

جیسے سورۃ الواقعہ میں فرمان ہے کہ «أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ» [56-الواقعة:68-70] ‏ ” جس میٹھے پانی کو تم پیا کرتے ہو اسے بادل سے برسانے والے بھی کیا تم ہی ہو؟ یا ہم ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا کر دیں تعجب ہے کہ تم ہماری شکر گزاری نہیں کرتے؟ “

اور آیت میں ہے «هُوَ الَّذِي أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لَّكُم مِّنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ» [16-النحل:10] ‏ ” اسی اللہ نے تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا ہے جسے تم پیتے بھی ہو اور اسی سے اگے ہوئے درختوں کو تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو “۔

” تم اس کے خازن یعنی مانع اور حافظ نہیں ہو۔ ہم ہی برساتے ہیں ہم ہی جہاں چاہتے ہیں، پہنچاتے ہیں، جہاں چاہتے ہیں، محفوظ کردیتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں زمین میں دھنسا دیں “۔

” یہ صرف ہماری رحمت ہے کہ اسے برسایا، بچایا، میٹھا کیا، ستھرا کیا تاکہ تم پیو، اپنے جانوروں کو پلاؤ۔ اپنی کھیتیاں اور باغات بساؤ،؟ اپنی ضرورتیں پوری کرو۔ ہم مخلوق کی ابتداء اور پھر اس کے اعادہ پر قادر ہیں۔ سب کو عدم سے وجود میں لائے۔ سب کو پھر معدوم ہم کریں گے۔ پھر قیامت کے دن سب کو اٹھا بٹھائیں گے “۔

” زمین کے اور زمین والوں کے وارث ہم ہی ہیں۔ سب کے سب ہماری طرف لوٹائے جائیں گے۔ ہمارے علم کی کوئی انتہا نہیں۔ اول آخر سب ہمارے علم میں ہے “۔

پس آگے والوں سے مراد تو اس زمانے سے پہلے کے لوگ ہیں آدم علیہ السلام تک کے۔ اور پچھلوں سے مراد اس زمانے کے اور آئندہ زمانے کے لوگ ہیں۔ مروان بن حکم سے مروی ہے کہ بعض لوگ بوجہ عورتوں کے پچھلی صفوں میں رہا کرتے تھے پس یہ آیت اتری۔ اس بارے میں ایک بہت ہی غریب حدیث بھی وارد ہوئی ہے۔

صفحہ نمبر4304

ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بہت ہی خوش شکل عورت نماز میں آیا کرتی تھی تو بعض مسلمان اس خیال سے کہ اس پر نگاہ نہ پڑے۔ آگے بڑھ جاتے تھے اور بعض ان کے خلاف اور پیچھے ہٹ آتے تھے اور سجدے کی حالت میں اپنے ہاتھوں تلے سے دیکھتے تھے پس یہ آیت اتری ۔ [سنن ابن ماجہ:1046،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ لیکن اس روایت میں سخت نکارت ہے۔

عبدالرزاق میں ابو الجواز کا قول اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ ”نماز کی صفوں میں آگے بڑھنے والے اور پیچھے ہٹنے والے۔‏“ یہ صرف ان کا قول ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اس میں ذکر نہیں۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ”یہی مشابہ ہے“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

محمد بن کعب کے سامنے عون بن عبداللہ جب یہ کہتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں ”یہ مطلب نہیں بلکہ اگلوں سے مراد وہ ہیں جو مر چکے اور پچھلوں سے مراد اب پیدا شدہ اور پیدا ہونے والے ہیں۔ تیرا رب سب کو جمع کرے گا وہ حکمت و علم والا ہے۔‏“ یہ سن کر عون رحمہ اللہ نے فرمایا ”اللہ آپ کو توفیق اور جزائے خیر دے۔‏“

صفحہ نمبر4305

اللہ تعالٰی کے خزانے ٭٭

تمام چیزوں کا تنہا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ہر کام اس پر آسان ہے۔ ہر قسم کی چیزوں کے خزانے اس کے پاس موجود ہیں۔ جتنا، جب اور جہاں چاہتا ہے، نازل فرماتا ہے۔ اپنی حکمتوں کا عالم وہی ہے۔ بندوں کی مصلحتوں سے بھی واقف ہے۔ یہ محض اس کی مہربانی ہے ورنہ کون ہے جو اس پر جبر کر سکے۔

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر سال بارش برابر ہی برستی ہے، ہاں تقسم اللہ کے ہاتھ ہے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ حکم بن عیینہ سے بھی یہی قول مروی ہے، کہتے ہیں کہ بارش کے ساتھ اس قدر فرشتے اترتے ہیں، جن کی گنتی کل انسانوں اور جنات سے زیادہ ہوتی ہے، ایک ایک قطرے کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ کہاں برسا اور اس سے کیا اگا۔ مسند بزار میں ہے کہ اللہ کے پاس کے خزانے کیا ہیں؟ صرف کلام ہے جب کہا ہو جا ہو گیا ۔ [المیزان:1021:ضعیف جدا] ‏ اس کا ایک روای قوی نہیں۔

” ہوا چلا کر ہم بادلوں کو پانی سے بوجھل کر دیتے ہیں، اس میں پانی برسنے لگتا ہے۔ یہی ہوائیں چل کر درختوں کو بار دار کر دیتی ہیں کہ پتے اور کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں “، اس وصف کو بھی خیال میں رکھئے کہ یہاں جمع کا صیغہ لائے ہیں اور «الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ» میں وصف وحدت کے ساتھ کیا ہے تاکہ کثرت سے نتیجہ بر آمد ہو۔

بارداری کم از کم دو چیزوں کے بغیر ناممکن ہے۔ ہوا چلتی ہے وہ آسمان سے پانی اٹھاتی ہے اور بادلوں کو پر کر دیتی ہے۔ ایک ہوا ہوتی ہے جو زمین میں پیداوار کی قوت پیدا کرتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو بادلوں کو ادھر ادھر سے اٹھاتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو انہیں جمع کر کے تہ بہ تہ کر دیتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو انہیں پانی سے بوجھل کر دیتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو درختوں کو پھل دار ہونے کے قابل کردیتی ہے۔

صفحہ نمبر4303

ابن جریر میں بہ سند ضعیف ایک حدیث مروی ہے کہ جنوبی ہوا جنتی ہے اس میں لوگوں کے منافع ہیں اور اسی کا ذکر کتاب اللہ میں ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:21109:ضعیف] ‏

مسند حمیدی کی حدیث میں ہے کہ ہواؤں کے سات سال بعد اللہ تعالیٰ نے جنت میں ایک ہوا پیدا کی ہے جو ایک دروازے سے رکی ہوئی ہے۔ اسی بند دروازے سے تمہیں ہوا پہنچتی رہتی ہے، اگر وہ کھل جائے تو زمین و آسمان کی تمام چیزیں ہوا سے الٹ پلٹ ہو جائیں۔ اللہ کے ہاں اس کا نام اذیب ہے، تم اسے جنوبی ہوا کہتے ہو ۔ [مسند بزار:2088:ضعیف] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” اس کے بعد ہم تم پر میٹھا پانی برساتے ہیں کہ تم پیو اور کام میں لاؤ۔ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا اور کھاری کر دیں “۔

جیسے سورۃ الواقعہ میں فرمان ہے کہ «أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ» [56-الواقعة:68-70] ‏ ” جس میٹھے پانی کو تم پیا کرتے ہو اسے بادل سے برسانے والے بھی کیا تم ہی ہو؟ یا ہم ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا کر دیں تعجب ہے کہ تم ہماری شکر گزاری نہیں کرتے؟ “

اور آیت میں ہے «هُوَ الَّذِي أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لَّكُم مِّنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ» [16-النحل:10] ‏ ” اسی اللہ نے تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا ہے جسے تم پیتے بھی ہو اور اسی سے اگے ہوئے درختوں کو تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو “۔

” تم اس کے خازن یعنی مانع اور حافظ نہیں ہو۔ ہم ہی برساتے ہیں ہم ہی جہاں چاہتے ہیں، پہنچاتے ہیں، جہاں چاہتے ہیں، محفوظ کردیتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں زمین میں دھنسا دیں “۔

” یہ صرف ہماری رحمت ہے کہ اسے برسایا، بچایا، میٹھا کیا، ستھرا کیا تاکہ تم پیو، اپنے جانوروں کو پلاؤ۔ اپنی کھیتیاں اور باغات بساؤ،؟ اپنی ضرورتیں پوری کرو۔ ہم مخلوق کی ابتداء اور پھر اس کے اعادہ پر قادر ہیں۔ سب کو عدم سے وجود میں لائے۔ سب کو پھر معدوم ہم کریں گے۔ پھر قیامت کے دن سب کو اٹھا بٹھائیں گے “۔

” زمین کے اور زمین والوں کے وارث ہم ہی ہیں۔ سب کے سب ہماری طرف لوٹائے جائیں گے۔ ہمارے علم کی کوئی انتہا نہیں۔ اول آخر سب ہمارے علم میں ہے “۔

پس آگے والوں سے مراد تو اس زمانے سے پہلے کے لوگ ہیں آدم علیہ السلام تک کے۔ اور پچھلوں سے مراد اس زمانے کے اور آئندہ زمانے کے لوگ ہیں۔ مروان بن حکم سے مروی ہے کہ بعض لوگ بوجہ عورتوں کے پچھلی صفوں میں رہا کرتے تھے پس یہ آیت اتری۔ اس بارے میں ایک بہت ہی غریب حدیث بھی وارد ہوئی ہے۔

صفحہ نمبر4304

ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بہت ہی خوش شکل عورت نماز میں آیا کرتی تھی تو بعض مسلمان اس خیال سے کہ اس پر نگاہ نہ پڑے۔ آگے بڑھ جاتے تھے اور بعض ان کے خلاف اور پیچھے ہٹ آتے تھے اور سجدے کی حالت میں اپنے ہاتھوں تلے سے دیکھتے تھے پس یہ آیت اتری ۔ [سنن ابن ماجہ:1046،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ لیکن اس روایت میں سخت نکارت ہے۔

عبدالرزاق میں ابو الجواز کا قول اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ ”نماز کی صفوں میں آگے بڑھنے والے اور پیچھے ہٹنے والے۔‏“ یہ صرف ان کا قول ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اس میں ذکر نہیں۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ”یہی مشابہ ہے“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

محمد بن کعب کے سامنے عون بن عبداللہ جب یہ کہتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں ”یہ مطلب نہیں بلکہ اگلوں سے مراد وہ ہیں جو مر چکے اور پچھلوں سے مراد اب پیدا شدہ اور پیدا ہونے والے ہیں۔ تیرا رب سب کو جمع کرے گا وہ حکمت و علم والا ہے۔‏“ یہ سن کر عون رحمہ اللہ نے فرمایا ”اللہ آپ کو توفیق اور جزائے خیر دے۔‏“

صفحہ نمبر4305

خشک مٹی ٭٭

«صَلْصَالٍ» سے مراد خشک مٹی ہے۔ اسی جیسی آیت «خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ» [55-الرحمن:14-15] ‏ ہے۔

یہ بھی مروی ہے کہ بو دار مٹی کو «حَمَا» کہتے ہیں۔ چکنی مٹی کو «مَسْنُوْن» کہتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تر مٹی۔ اوروں سے مروی ہے بو دار مٹی اور گندھی ہوئی مٹی۔ انسان سے پہلے ہم نے جنات کو جلا دینے والی آگ سے بنایا ہے۔ «سَّمُوْم» کہتے ہیں آگ کی گرمی کو اور «حُرُور» کہتے ہیں دن کی گرمی کو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس گرمی کی لوئیں اس گرمی کا سترہواں حصہ ہیں۔ جس سے جن پیدا کئے گئے ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جن آگ کے شعلے سے بنائے گئے ہیں یعنی آگ سے بہت بہتر۔ عمرو کہتے ہیں سورج کی آگ سے۔ صحیح میں وارد ہے کہ فرشتے نور سے پیدا کئے گئے اور جن شعلے والی آگ سے اور آدم علیہ السلام اس سے جو تمہارے سامنے بیان کر دیا گیا ہے ۔ [صحیح مسلم:2996] ‏

اس آیت سے مراد آدم علیہ السلام کی فضیلت و شرافت اور ان کے عنصر کی پاکیزگی اور طہارت کا بیان ہے۔

صفحہ نمبر4310

خشک مٹی ٭٭

«صَلْصَالٍ» سے مراد خشک مٹی ہے۔ اسی جیسی آیت «خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ» [55-الرحمن:14-15] ‏ ہے۔

یہ بھی مروی ہے کہ بو دار مٹی کو «حَمَا» کہتے ہیں۔ چکنی مٹی کو «مَسْنُوْن» کہتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تر مٹی۔ اوروں سے مروی ہے بو دار مٹی اور گندھی ہوئی مٹی۔ انسان سے پہلے ہم نے جنات کو جلا دینے والی آگ سے بنایا ہے۔ «سَّمُوْم» کہتے ہیں آگ کی گرمی کو اور «حُرُور» کہتے ہیں دن کی گرمی کو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس گرمی کی لوئیں اس گرمی کا سترہواں حصہ ہیں۔ جس سے جن پیدا کئے گئے ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جن آگ کے شعلے سے بنائے گئے ہیں یعنی آگ سے بہت بہتر۔ عمرو کہتے ہیں سورج کی آگ سے۔ صحیح میں وارد ہے کہ فرشتے نور سے پیدا کئے گئے اور جن شعلے والی آگ سے اور آدم علیہ السلام اس سے جو تمہارے سامنے بیان کر دیا گیا ہے ۔ [صحیح مسلم:2996] ‏

اس آیت سے مراد آدم علیہ السلام کی فضیلت و شرافت اور ان کے عنصر کی پاکیزگی اور طہارت کا بیان ہے۔

صفحہ نمبر4310

ابلیس لعین کا انکار ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ ” آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ان کی پیدائش کا ذکر اس نے فرشتوں میں کیا اور پیدائش کے بعد سجدہ کرایا۔ اس حکم کو سب نے تو مان لیا لیکن ابلیس لعین نے انکار کر دیا اور کفر و حسد انکار و تکبر فخر و غرور کیا “۔ «أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ» [7-الأعراف:12] ‏ ” صاف کہا کہ میں آگ کا بنایا ہوا یہ خاک کا بنایا ہوا۔ میں اس سے بہتر ہوں اس کے سامنے کیوں جھکوں؟ “ «أَرَأَيْتَكَ هَـٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا» [17-الاسراء:62] ‏ ” تو نے اسے مجھ پر بزرگی دی لیکن میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا “۔

ابن جریر رحمہ اللہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ان سے فرمایا کہ ” میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں، تم اسے سجدہ کرنا “۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے سنا اور تسلیم کیا۔ مگر ابلیس جو پہلے کے منکروں میں سے تھا۔ اپنے پر جما رہا۔‏“ لیکن اس کا ثبوت ان سے نہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4312

ابلیس لعین کا انکار ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ ” آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ان کی پیدائش کا ذکر اس نے فرشتوں میں کیا اور پیدائش کے بعد سجدہ کرایا۔ اس حکم کو سب نے تو مان لیا لیکن ابلیس لعین نے انکار کر دیا اور کفر و حسد انکار و تکبر فخر و غرور کیا “۔ «أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ» [7-الأعراف:12] ‏ ” صاف کہا کہ میں آگ کا بنایا ہوا یہ خاک کا بنایا ہوا۔ میں اس سے بہتر ہوں اس کے سامنے کیوں جھکوں؟ “ «أَرَأَيْتَكَ هَـٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا» [17-الاسراء:62] ‏ ” تو نے اسے مجھ پر بزرگی دی لیکن میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا “۔

ابن جریر رحمہ اللہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ان سے فرمایا کہ ” میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں، تم اسے سجدہ کرنا “۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے سنا اور تسلیم کیا۔ مگر ابلیس جو پہلے کے منکروں میں سے تھا۔ اپنے پر جما رہا۔‏“ لیکن اس کا ثبوت ان سے نہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4312

ابلیس لعین کا انکار ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ ” آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ان کی پیدائش کا ذکر اس نے فرشتوں میں کیا اور پیدائش کے بعد سجدہ کرایا۔ اس حکم کو سب نے تو مان لیا لیکن ابلیس لعین نے انکار کر دیا اور کفر و حسد انکار و تکبر فخر و غرور کیا “۔ «أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ» [7-الأعراف:12] ‏ ” صاف کہا کہ میں آگ کا بنایا ہوا یہ خاک کا بنایا ہوا۔ میں اس سے بہتر ہوں اس کے سامنے کیوں جھکوں؟ “ «أَرَأَيْتَكَ هَـٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا» [17-الاسراء:62] ‏ ” تو نے اسے مجھ پر بزرگی دی لیکن میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا “۔

ابن جریر رحمہ اللہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ان سے فرمایا کہ ” میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں، تم اسے سجدہ کرنا “۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے سنا اور تسلیم کیا۔ مگر ابلیس جو پہلے کے منکروں میں سے تھا۔ اپنے پر جما رہا۔‏“ لیکن اس کا ثبوت ان سے نہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4312

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com