Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Israa
Tafsir Ibn Kathir · The Night Journey · 111 ayat · ayat 31–60 · Quran text →
قتل اولاد کی مذمت ٭٭
دیکھو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہ نسبت ان کے ماں باپ کے بھی زیادہ مہربان ہے۔ ایک طرف ماں باپ کو حکم دیتا ہے کہ اپنا مال اپنے بچوں کو بطور ورثے کے دو اور دوسری جانب فرماتا ہے کہ انہیں مار نہ ڈالا کرو۔ جاہلیت کے لوگ نہ تو لڑکیوں کو ورثہ دیتے تھے نہ ان کا زندہ رکھنا پسند کرتے تھے بلکہ دختر کشی ان کی قوم کا ایک عام رواج تھا۔
قرآن اس بد انجام رواج کی تردید کرتا ہے کہ یہ خیال کس قدر بودا ہے کہ انہیں کھلائیں گے کہاں سے؟ کسی کی روزی کسی کے ذمہ نہیں سب کا روزی رساں اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ سورۃ الانعام میں فرمایا آیت «وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُم مِّنْ إِمْلَاقٍ» [6-الأنعام:151]
فقیری اور تنگ دستی کے خوف سے اپنی اولاد کی جان نہ لیا کرو۔ تمہیں اور انہیں روزیاں دینے والے ہم ہیں۔ ان کا قتل جرم عظیم اور گناہ کبیرہ ہے۔ خطا کی دوسری قرأت خطا ہے دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تو کسی کو اللہ کا شریک ٹھیرائے حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ میں نے پوچھا اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ تو اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالے کہ وہ تیرے ساتھ کھائیں گے۔ میں نے کہا اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ تو اپنی پڑوسن سے زناکاری کرے۔ [صحیح بخاری:7520]
صفحہ نمبر4688
کبیرہ گناہوں سے ممانعت ٭٭
زناکاری اور اس کے اردگرد کی تمام سیاہ کاریوں سے قرآن روک رہا ہے۔ زنا کو شریعت نے کبیرہ اور بہت سخت گناہ بتایا ہے وہ بدترین طریقہ اور نہایت بری راہ ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ ایک نوجوان نے زناکاری کی اجازت آپ سے چاہی لوگ اس پر جھک پڑے کہ چپ رہ کیا کر رہا ہے، کیا کہہ رہا ہے۔ آپ نے اسے اپنے قریب بلا کر فرمایا بیٹھ جا جب وہ بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا کیا تو اس کام کو اپنی ماں کے لیے پسند کرتا ہے؟ اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے آپ پر اللہ فدا کرے ہرگز نہیں۔ آپ نے فرمایا پھر سوچ لے کہ کوئی اور کیسے پسند کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تو اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند کرتا ہے؟ اس نے اسی طرح تاکید سے انکار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک اسی طرح کوئی بھی اسے اپنی بیٹیوں کے لیے پسند نہیں کرتا اچھا اپنی بہن کے لیے اسے تو پسند کرے گا؟ اس نے اسی طرح سے انکار کیا آپ نے فرمایا اسی طرح دوسرے بھی اپنی بہنوں کے لیے اسے مکروہ سمجھتے ہیں۔ بتا کیا تو چاہے گا کہ کوئی تیری پھوپھی سے ایسا کرے؟ اس نے اسی سختی سے انکار کیا۔ آپ نے فرمایا اسی طرح اور سب لوگ بھی۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھ کر دعا کی کہ الٰہی اس کے گناہ بخش، اس کے دل کو پاک کر، اسے عصمت والا بنا۔ پھر تو یہ حالت تھی کہ یہ نوجوان کسی کی طرف نظر بھی نہ اٹھاتا۔ [مسند احمد:257/5:صحیح]
ابن ابی الدنیا میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے شرک کے بعد کوئی گناہ زناکاری سے بڑھ کر نہیں کہ آدمی اپنا نطفہ کسی ایسے رحم میں ڈالے جو اس کے لیے حلال نہیں۔ [الدر المنشور للسیوطی:325/4:اسنادہ مرسل ضعیف]
صفحہ نمبر4689
ناحق قتل ٭٭
بغیر حق شرعی کے کسی کو قتل کرنا حرام ہے۔ بخاری مسلم میں ہے جو مسلمان اللہ کے واحد ہونے کی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے کی شہادت دیتا ہو اس کا قتل تین باتوں کے سوا حلال نہیں۔ یا تو اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا شادی شدہ ہو اور پھر زنا کیا ہو یا دین کو چھوڑ کر جماعت کو چھوڑ دیا ہو۔ [صحیح بخاری:6878]
سنن میں ہے ساری دنیا کا فنا ہو جانا اللہ کے نزدیک ایک مومن کے قتل سے زیادہ آسان ہے۔ [سنن ترمذي:1395،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اگر کوئی شخص ناحق دوسرے کے ہاتھوں قتل کیا گیا ہے تو اس کے وارثوں کو اللہ تعالیٰ نے قتل پر غالب کر دیا ہے۔ اسے قصاص لینے اور دیت لینے اور بالکل معاف کر دینے میں سے ایک کا اختیار ہے۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کریمہ کے عموم سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی سلطنت پر استدلال کیا ہے کہ وہ بادشاہ بن جائیں گے اس لیے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ انتہائی مظلومی کے ساتھ شہید کئے گئے تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ قاتلان سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے طلب کرتے تھے کہ ان سے قصاص لیں اس لیے کہ یہ بھی اموی تھے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی اموی تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس میں ذرا ڈھیل کر رہے تھے۔ ادھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مطالبہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے یہ تھا کہ ملک شام ان کے سپرد کر دیں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تاوقتیکہ آپ قاتلان سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو نہ دیں میں ملک شام کو آپ کی زیر حکومت نہ کروں گا چنانچہ آپ نے مع کل اہل شام کے بیعت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے انکار کر دیا۔ اس جھگڑے نے طول پکڑا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ شام کے حکمران بن گئے۔
صفحہ نمبر4690
معجم طبرانی میں یہ روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رات کی گفتگو میں ایک دفعہ فرمایا کہ آج میں تمہیں ایک بات سناتا ہوں نہ تو وہ ایسی پوشیدہ ہے نہ ایسی اعلانیہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو کچھ کیا گیا، اس وقت میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا کہ آپ یکسوئی اختیار کر لیں، واللہ اگر آپ کسی پتھر میں چھپے ہوئے ہوں گے تو نکال لیے جائیں گے لیکن انہوں نے میری نہ مانی۔ اب ایک اور سنو اللہ کی قسم (سیدنا) معاویہ (رضی اللہ عنہ) تم پر بادشاہ ہو جائیں گے، اس لیے کہ اللہ کا فرمان ہے، جو مظلوم مار ڈالا جائے، ہم اس کے وارثوں کو غلبہ اور طاقت دیتے ہیں۔ پھر انہیں قتل کے بدلے میں قتل میں حد سے نہ گزرنا چاہیئے الخ۔
سنو یہ قریشی تو تمہیں فارس و روم کے طریقوں پر آمادہ کر دیں گے اور سنو تم پر نصاری اور یہود اور مجوسی کھڑے ہو جائیں گے اس وقت جس نے معروف کو تھام لیا اس نے نجات پالی اور جس نے چھوڑ دیا اور افسوس کہ تم چھوڑنے والوں میں سے ہی ہو تو مثل ایک زمانے والوں کے ہوؤگے کہ وہ بھی ہلاک ہونے والوں میں ہلاک ہو گئے۔ [طبرانی کبیر:320/10:]
اب فرمایا ولی کو قتل کے بدلے میں حد سے نہ گزر جانا چاہیئے کہ وہ قتل کے ساتھ مثلہ کرے۔ کان، ناک، کاٹے یا قاتل کے سوا اور سے بدلہ لے۔ ولی مقتول شریعت، غلبے اور مقدرت کے لحاظ سے ہر طرح مدد کیا گیا ہے۔
صفحہ نمبر4691
یتیم کا مال ٭٭
یتیم کے مال میں بد نیتی سے ہیر پھیر نہ کرو، «وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا» [4-النساء:2] ان کے مال ان کی بلوغت سے پہلے صاف کر ڈالنے کے ناپاک ارادوں سے بچو۔
«وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَن يَكْبَرُوا ۚ وَمَن كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۖ وَمَن كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ» [4-النساء:6]
جس کی پرورش میں یہ یتیم بچے ہوں اگر وہ خود مالدار ہے تب تو اسے ان یتیموں کے مال سے بالکل الگ رہنا چاہیئے اور اگر وہ فقیر محتاج ہے تو خیر بقدر معروف کھالے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا میں تو تجھے بہت کمزور دیکھ رہا ہوں اور تیرے لیے وہی پسند فرماتا ہوں، جو خود اپنے لیے چاہتا ہوں۔ خبردار کبھی دو شخصوں کا والی نہ بننا اور نہ کبھی یتیم کے مال کا متولی بننا۔ [صحیح مسلم:1826]
پھر فرماتا ہے وعدہ وفائی کیا کرو جو وعدے وعید جو لین دین ہو جائے اس کی پاسبانی کرو اس کی بابت قیامت کے دن جواب دہی ہو گی۔ ناپ پیمانہ پورا پورا بھر کر دیا کرو لوگوں کو ان کی چیز گھٹا کر کم نہ دو۔ «قِسْطَاسِ» کی دوسری قرأت «قَسْطَاسْ» بھی ہے پھر حکم ہوتا ہے بغیر پاسنگ کی صحیح وزن بتانے والی سیدھی ترازو سے بغیر ڈنڈی مارے تولا کرو، دونوں جہان میں تم سب کے لیے یہی بہتری ہے۔ دنیا میں بھی یہ تمہارے لین دین کی رونق ہے اور آخرت میں بھی یہ تمہارے چھٹکارے کی دلیل ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اے تاجرو تمہیں ان دو چیزوں کو سونپا گیا ہے جن کی وجہ سے تم سے پہلے کے لوگ برباد ہو گئے یعنی ناپ تول۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی حرام پر قدرت رکھتے ہوئے صرف خوف اللہ سے اسے چھوڑ دے تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں اسے اس سے بہتر چیز عطا فرمائے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22306:مرسل]
صفحہ نمبر4692
یتیم کا مال ٭٭
یتیم کے مال میں بد نیتی سے ہیر پھیر نہ کرو، «وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا» [4-النساء:2] ان کے مال ان کی بلوغت سے پہلے صاف کر ڈالنے کے ناپاک ارادوں سے بچو۔
«وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَن يَكْبَرُوا ۚ وَمَن كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۖ وَمَن كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ» [4-النساء:6]
جس کی پرورش میں یہ یتیم بچے ہوں اگر وہ خود مالدار ہے تب تو اسے ان یتیموں کے مال سے بالکل الگ رہنا چاہیئے اور اگر وہ فقیر محتاج ہے تو خیر بقدر معروف کھالے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا میں تو تجھے بہت کمزور دیکھ رہا ہوں اور تیرے لیے وہی پسند فرماتا ہوں، جو خود اپنے لیے چاہتا ہوں۔ خبردار کبھی دو شخصوں کا والی نہ بننا اور نہ کبھی یتیم کے مال کا متولی بننا۔ [صحیح مسلم:1826]
پھر فرماتا ہے وعدہ وفائی کیا کرو جو وعدے وعید جو لین دین ہو جائے اس کی پاسبانی کرو اس کی بابت قیامت کے دن جواب دہی ہو گی۔ ناپ پیمانہ پورا پورا بھر کر دیا کرو لوگوں کو ان کی چیز گھٹا کر کم نہ دو۔ «قِسْطَاسِ» کی دوسری قرأت «قَسْطَاسْ» بھی ہے پھر حکم ہوتا ہے بغیر پاسنگ کی صحیح وزن بتانے والی سیدھی ترازو سے بغیر ڈنڈی مارے تولا کرو، دونوں جہان میں تم سب کے لیے یہی بہتری ہے۔ دنیا میں بھی یہ تمہارے لین دین کی رونق ہے اور آخرت میں بھی یہ تمہارے چھٹکارے کی دلیل ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اے تاجرو تمہیں ان دو چیزوں کو سونپا گیا ہے جن کی وجہ سے تم سے پہلے کے لوگ برباد ہو گئے یعنی ناپ تول۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی حرام پر قدرت رکھتے ہوئے صرف خوف اللہ سے اسے چھوڑ دے تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں اسے اس سے بہتر چیز عطا فرمائے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22306:مرسل]
صفحہ نمبر4692
بلا تحقیق فیصلہ نہ کرو ٭٭
یعنی جس بات کا علم نہ ہو اس میں زبان نہ ہلاؤ۔ بغیر علم کے کسی کی عیب جوئی اور بہتان بازی نہ کرو۔ جھوٹی شہادتیں نہ دیتے پھرو۔ بن دیکھے نہ کہہ دیا کرو کہ میں نے دیکھا، نہ بےسنے سننا بیان کرو، نہ بےعلمی پر اپنا جاننا بیان کرو۔ کیونکہ ان تمام باتوں کی جواب دہی اللہ کے ہاں ہو گی۔ غرض وہم خیال اور گمان کے طور پر کچھ کہنا منع ہو رہا ہے۔
جیسے فرمان قرآن ہے آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ» [49-الحجرات:12] ” زیادہ گمان سے بچو، بعض گمان گناہ ہیں۔ “
حدیث میں ہے گمان سے بچو، گمان بدترین جھوٹی بات ہے۔ [صحیح بخاری:6066]
ابوداؤد کی حدیث میں ہے انسان کا یہ تکیہ کلام بہت ہی برا ہے کہ لوگ خیال کرتے ہیں۔ [سنن ابوداود:4972،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے بدترین بہتان یہ ہے کہ انسان جھوٹ موٹ کوئی خواب گھڑلے۔ [صحیح بخاری:7043]
اور صحیح حدیث میں ہے جو شخص ایسا خواب از خود گھڑلے قیامت کے دن اسے یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ دو جو کے درمیان گرہ لگائے اور یہ اس سے ہرگز نہیں ہونا۔ [صحیح بخاری:7042]
قیامت کے دن آنکھ کان دل سب سے بازپرس ہو گی سب کو جواب دہی کرنی ہو گی۔ یہاں «تِلْکَ» کی جگہ «أُولَٰئِكَ» کا استعمال ہے، عرب میں یہ استعمال برابر جاری ہے یہاں تک کہ شاعروں کے شعروں میں بھی۔ مثلاً «ذم المنازل بعد منزلة اللوى والعيش بعد أولئك الأيام» ۔
صفحہ نمبر4694
تکبر کے ساتھ چلنے کی ممانعت ٭٭
اکڑ کر، اترا کر، تکبر کے ساتھ چلنے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو منع فرماتا ہے۔ یہ عادت سرکش اور مغرور لوگوں کی ہے۔ پھر اسے نیچا دکھانے کے لیے فرماتا ہے کہ گو کتنے ہی بلند سر ہو کر چلو لیکن پہاڑ کی بلندی سے پست ہی رہو گے اور گو کیسے ہی کھٹ پٹ کرتے ہوئے پاؤں مار مار کر چلو لیکن زمین کو پھاڑنے سے رہے۔ بلکہ ایسے لوگوں کا حال برعکس ہوتا ہے۔
جیسے کہ حدیث میں ہے کہ ایک شخص چادر جوڑے میں اتراتا ہوا چلا جارہا تھا جو وہیں زمین میں دھنسا دیا گیا جو آج تک دھنستا ہوا چلا جارہا ہے۔ [صحیح بخاری:5789]
قرآن میں قارون کا قصہ موجود ہے کہ وہ مع اپنے محلات کے زمین دوز کر دیا گیا۔ ہاں تواضع، نرمی، فروتنی اور عاجزی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ بلند کرتا ہے وہ اپنے آپ کو حقیر سمجھتا ہے اور لوگ اسے جلیل القدر سمجھتے ہیں اور تکبر کرنے والا اپنے تئیں بڑا آدمی سمجھتا ہے اور لوگوں کی نگاہوں میں وہ ذلیل و خوار ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے کتوں اور سوروں سے بھی زیادہ حقیر جانتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2659]
امام ابوبکر بن ابی الدنیا رحمہ اللہ اپنی کتاب المحمول والتواضع میں لائے ہیں کہ ابن الاہیم دربار منصور میں جا رہا تھا ریشمی جبہ پہنے ہوئے تھا اور پنڈلیوں کے اوپر سے اسے دوہرا سلوایا تھا کہ نیچے سے قباء بھی دکھائی دیتی رہے اور اکڑتا اینڈتا جا رہا تھا۔
صفحہ نمبر4695
حسن رحمہ اللہ نے اسے اس حالت میں دیکھ کر فرمایا افوہ نک چڑھا، بل کھایا، رخساروں پھولا، اپنے ڈنڈ بازو دیکھتا، اپنے تیئں تولتا، سمتوں کے ذکر و شکر کو بھولا، رب کے احکام کو چھوڑے ہوئے، اللہ کے حق کو توڑا، دیوانوں کی چال چلتا، عضو عضو میں کسی کی دی ہوئی نعمت رکھتا، شیطان کی لعنت کا مارا ہوا دیکھو جا رہا ہے۔
ابن الاہیم نے سن لیا اور اسی وقت لوٹ آیا اور عذر بہانہ کرنے لگا۔ آپ نے فرمایا مجھ سے کیا معذرت کرتا ہے اللہ تعالیٰ سے توبہ کر اور اسے ترک کر۔ کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا آیت «وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا» [17-الإسراء:37] [ابن ابی دنیا:237]
عابد بختری رحمہ اللہ نے آل علی میں سے ایک شخص کو اکڑتے ہوئے چلتا دیکھ کر فرمایا اے شخص جس نے تجھے یہ اکرام دیا ہے اس کی روش ایسی نہ تھی۔ اس نے اسی وقت توبہ کر لی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک ایسے شخص کو دیکھ کر فرمایا جو اکڑ اکڑ کر چل رہا تھا کہ شیطان کے یہی بھائی ہوتے ہیں۔ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں لوگو اکڑ اکڑ کر چلنا چھوڑو اس لیے کہ انسان کے ہاتھ بھی اس کے باقی جسم میں سے ہیں۔ ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ جب میری امت غرور اور تکبر کی چال چلنے لگے گی اور فارسیوں اور رومیوں کو اپنی خدمت میں لگائے گی تو اللہ تعالیٰ ایک کو ایک پر مسلط کر دے گا۔ [سنن ترمذي:2261،قال الشيخ الألباني:صحیح]
«سَيِّئُهُ» کی دوسری قرأت «سيئه» ہے تو معنی یہ ہوئے کہ جن جن کاموں سے ہم نے تمہیں روکا ہے یہ سب کام نہایت برے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ناپسندیدہ ہیں۔ یعنی اپنی اولاد کو قتل نہ کرو سے لے کر اکڑ کر نہ چلو تک کے تمام کام۔ اور «سيئه» کی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ آیت «وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ» [17-الإسراء:23] سے یہاں تک جو حکم احکام اور جو ممانعت اور روک بیان ہوئی اس میں جن برے کاموں کا ذکر ہے وہ سب اللہ کے نزدیک مکروہ کام ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہی توجیہ بیان فرمائی ہے۔
صفحہ نمبر4696
تکبر کے ساتھ چلنے کی ممانعت ٭٭
اکڑ کر، اترا کر، تکبر کے ساتھ چلنے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو منع فرماتا ہے۔ یہ عادت سرکش اور مغرور لوگوں کی ہے۔ پھر اسے نیچا دکھانے کے لیے فرماتا ہے کہ گو کتنے ہی بلند سر ہو کر چلو لیکن پہاڑ کی بلندی سے پست ہی رہو گے اور گو کیسے ہی کھٹ پٹ کرتے ہوئے پاؤں مار مار کر چلو لیکن زمین کو پھاڑنے سے رہے۔ بلکہ ایسے لوگوں کا حال برعکس ہوتا ہے۔
جیسے کہ حدیث میں ہے کہ ایک شخص چادر جوڑے میں اتراتا ہوا چلا جارہا تھا جو وہیں زمین میں دھنسا دیا گیا جو آج تک دھنستا ہوا چلا جارہا ہے۔ [صحیح بخاری:5789]
قرآن میں قارون کا قصہ موجود ہے کہ وہ مع اپنے محلات کے زمین دوز کر دیا گیا۔ ہاں تواضع، نرمی، فروتنی اور عاجزی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ بلند کرتا ہے وہ اپنے آپ کو حقیر سمجھتا ہے اور لوگ اسے جلیل القدر سمجھتے ہیں اور تکبر کرنے والا اپنے تئیں بڑا آدمی سمجھتا ہے اور لوگوں کی نگاہوں میں وہ ذلیل و خوار ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے کتوں اور سوروں سے بھی زیادہ حقیر جانتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2659]
امام ابوبکر بن ابی الدنیا رحمہ اللہ اپنی کتاب المحمول والتواضع میں لائے ہیں کہ ابن الاہیم دربار منصور میں جا رہا تھا ریشمی جبہ پہنے ہوئے تھا اور پنڈلیوں کے اوپر سے اسے دوہرا سلوایا تھا کہ نیچے سے قباء بھی دکھائی دیتی رہے اور اکڑتا اینڈتا جا رہا تھا۔
صفحہ نمبر4695
حسن رحمہ اللہ نے اسے اس حالت میں دیکھ کر فرمایا افوہ نک چڑھا، بل کھایا، رخساروں پھولا، اپنے ڈنڈ بازو دیکھتا، اپنے تیئں تولتا، سمتوں کے ذکر و شکر کو بھولا، رب کے احکام کو چھوڑے ہوئے، اللہ کے حق کو توڑا، دیوانوں کی چال چلتا، عضو عضو میں کسی کی دی ہوئی نعمت رکھتا، شیطان کی لعنت کا مارا ہوا دیکھو جا رہا ہے۔
ابن الاہیم نے سن لیا اور اسی وقت لوٹ آیا اور عذر بہانہ کرنے لگا۔ آپ نے فرمایا مجھ سے کیا معذرت کرتا ہے اللہ تعالیٰ سے توبہ کر اور اسے ترک کر۔ کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا آیت «وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا» [17-الإسراء:37] [ابن ابی دنیا:237]
عابد بختری رحمہ اللہ نے آل علی میں سے ایک شخص کو اکڑتے ہوئے چلتا دیکھ کر فرمایا اے شخص جس نے تجھے یہ اکرام دیا ہے اس کی روش ایسی نہ تھی۔ اس نے اسی وقت توبہ کر لی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک ایسے شخص کو دیکھ کر فرمایا جو اکڑ اکڑ کر چل رہا تھا کہ شیطان کے یہی بھائی ہوتے ہیں۔ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں لوگو اکڑ اکڑ کر چلنا چھوڑو اس لیے کہ انسان کے ہاتھ بھی اس کے باقی جسم میں سے ہیں۔ ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ جب میری امت غرور اور تکبر کی چال چلنے لگے گی اور فارسیوں اور رومیوں کو اپنی خدمت میں لگائے گی تو اللہ تعالیٰ ایک کو ایک پر مسلط کر دے گا۔ [سنن ترمذي:2261،قال الشيخ الألباني:صحیح]
«سَيِّئُهُ» کی دوسری قرأت «سيئه» ہے تو معنی یہ ہوئے کہ جن جن کاموں سے ہم نے تمہیں روکا ہے یہ سب کام نہایت برے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ناپسندیدہ ہیں۔ یعنی اپنی اولاد کو قتل نہ کرو سے لے کر اکڑ کر نہ چلو تک کے تمام کام۔ اور «سيئه» کی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ آیت «وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ» [17-الإسراء:23] سے یہاں تک جو حکم احکام اور جو ممانعت اور روک بیان ہوئی اس میں جن برے کاموں کا ذکر ہے وہ سب اللہ کے نزدیک مکروہ کام ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہی توجیہ بیان فرمائی ہے۔
صفحہ نمبر4696
ذلیل کن عادتیں ٭٭
یہ احکام ہم نے دئیے ہیں۔ سب بہترین اوصاف ہیں اور جن باتوں سے ہم نے روکا ہے وہ بڑی ذلیل خصلتیں ہیں۔ ہم یہ سب باتیں تیری طرف بذریعہ وحی کے نازل فرما رہے ہیں کہ تو لوگوں کو حکم دے اور منع کرے۔ دیکھ میرے ساتھ کسی کو معبود نہ ٹھیرانا ورنہ وہ وقت آئے گا کہ خود اپنے آپ کو ملامت کرنے لگے گا اور اللہ کی طرف سے بھی ملامت ہو گی بلکہ تمام اور مخلوق کی طرف سے بھی۔ اور تو ہر بھلائی سے دور کر دیا جائے گا۔ اس آیت میں بواسطہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی امت سے خطاب ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو معصوم ہیں۔
صفحہ نمبر4698
مجرمانہ سوچ پر تبصرہ ٭٭
ملعون مشرکوں کی تردید ہو رہی ہے کہ یہ تم نے خوب تقسیم کی ہے کہ بیٹے تمہارے اور بیٹیاں اللہ کی۔ جو تمہیں ناپسند جن سے تم جلو کڑھو بلکہ زندہ درگور کر دو انہیں اللہ کے لیے ثابت کرو۔ اور آیتوں میں بھی ان کا یہ کمینہ پن بیان ہوا ہے کہ
«وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا * لَّقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا * تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا * أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدًا * وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَـٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا * إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا * لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا * وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» [19-مريم:88-95]
یہ کہتے ہیں رب رحمان کی اولاد ہے حقیقتاً انکا یہ قول نہایت ہی برا ہے بہت ممکن ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائے، زمین شق ہو جائے، پہاڑ چورا چورا ہو جائیں کہ یہ اللہ رحمان کی اولاد ٹھہرا رہے ہیں حالانکہ اللہ کو یہ کسی طرح لائق ہی نہیں۔ زمین و آسمان کی کل مخلوق اس کی غلام ہے۔ سب اس کے شمار میں ہیں اور گنتی میں اور ایک ایک اس کے سامنے قیامت کے دن تنہا پیش ہونے والا ہے۔
صفحہ نمبر4699
دلائل کے ساتھ ہدایت ٭٭
اس پاک کتاب میں ہم نے تمام مثالیں کھول کھول کر بیان فرما دی ہیں۔ وعدے وعید صاف طور پر مذکور ہیں تاکہ لوگ برائیوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچیں۔ لیکن تاہم ظالم لوگ تو حق سے نفرت رکھنے اور اس سے دور بھاگنے میں ہی بڑھ رہے ہیں۔
صفحہ نمبر4700
لوگو عقل کے ناخن لو ٭٭
جو مشرک اللہ کے ساتھ اوروں کی بھی عبادت کرتے ہیں اور انہیں شریک الٰہی مانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہی کی وجہ سے ہم قرب الٰہی حاصل کرسکتے ہیں ان سے کہو کہ اگر تمہارا یہ گمان فاسد کچھ بھی جان رکھتا ہوتا اور اللہ کے ساتھ واقعی کوئی ایسے معبود ہوتے کہ وہ جسے چاہیں قرب الٰہی دلوادیں اور جس کی جو چاہیں سفارش کردیں تو خود وہ معبود ہی اس کی عبادت کرتے اس کا قرب ڈھونڈتے ہیں۔
پس تمہیں صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیئے، نہ اس کے سوا دوسرے کی عبادت، نہ دوسرے معبود کی کوئی ضرورت کہ اللہ میں اور تم میں وہ واسطہ بنے۔ اللہ کو یہ واسطے سخت ناپسند اور مکروہ معلوم ہوتے ہیں اور ان سے وہ انکار کرتا ہے اپنے تمام نبیوں رسولوں کی زبان سے اس سے منع فرماتا ہے۔ اس کی ذات ظالموں کے بیان کردہ اس وصف سے بالکل پاک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ان آلودگیوں سے ہمارا مولا پاک ہے، وہ واحمد اور صمد ہے، وہ ماں باپ اور اولاد سے پاک ہے، اس کی جنس کا کوئی نہیں۔
صفحہ نمبر4701
لوگو عقل کے ناخن لو ٭٭
جو مشرک اللہ کے ساتھ اوروں کی بھی عبادت کرتے ہیں اور انہیں شریک الٰہی مانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہی کی وجہ سے ہم قرب الٰہی حاصل کرسکتے ہیں ان سے کہو کہ اگر تمہارا یہ گمان فاسد کچھ بھی جان رکھتا ہوتا اور اللہ کے ساتھ واقعی کوئی ایسے معبود ہوتے کہ وہ جسے چاہیں قرب الٰہی دلوادیں اور جس کی جو چاہیں سفارش کردیں تو خود وہ معبود ہی اس کی عبادت کرتے اس کا قرب ڈھونڈتے ہیں۔
پس تمہیں صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیئے، نہ اس کے سوا دوسرے کی عبادت، نہ دوسرے معبود کی کوئی ضرورت کہ اللہ میں اور تم میں وہ واسطہ بنے۔ اللہ کو یہ واسطے سخت ناپسند اور مکروہ معلوم ہوتے ہیں اور ان سے وہ انکار کرتا ہے اپنے تمام نبیوں رسولوں کی زبان سے اس سے منع فرماتا ہے۔ اس کی ذات ظالموں کے بیان کردہ اس وصف سے بالکل پاک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ان آلودگیوں سے ہمارا مولا پاک ہے، وہ واحمد اور صمد ہے، وہ ماں باپ اور اولاد سے پاک ہے، اس کی جنس کا کوئی نہیں۔
صفحہ نمبر4701
سبحان العلی الاعلی ٭٭
ساتوں آسمان و زمین اور ان میں بسنے والی کل مخلوق اس کی قدوسیت، تسبیح، تنزیہ، تعظیم، جلالت، بزرگی، بڑائی، پاکیزگی اور تعریف بیان کرتی ہے اور مشرکین جو نکمے اور باطل اوصاف ذات حق کے لیے مانتے ہیں، ان سے یہ تمام مخلوق برات کا اظہار کرتی ہے اور اس کی الوہیت اور ربوبیت میں اسے واحد اور لا شریک مانتی ہے۔ ہر ہستی اللہ کی توحید کی زندہ شہادت ہے۔ ان نالائق لوگوں کے اقوال سے مخلوق تکلیف میں ہے۔ قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائے، زمین دھنس جائے، پہاڑ ٹوٹ جائیں۔
صفحہ نمبر4703
طبرانی میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام ابراہیم اور زمزم کے درمیان سے جبرائیل و میکائیل مسجد اقصی تک شب معراج میں لے گئے، جبرائیل آپ کے دائیں تھے اور میکائیل بائیں۔ آپ کو ساتوں آسمان تک اڑا لے گئے وہاں سے آپ لوٹے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے بلند آسمانوں میں بہت سی تسبیحات کے ساتھ یہ تسبیح سنی کہ «سَبَّحَتْ السَّمَاوَات الْعُلَى مِنْ ذِي الْمَهَابَة مُشْفِقَات لِذِي الْعُلُوّ بِمَا عَلَا سُبْحَان الْعَلِيّ الْأَعْلَى سُبْحَانه وَتَعَالَى» [طبرانی:243:اسنادہ ضعیف]
مخلوق میں سے ہر ایک چیز اس کی پاکیزگی اور تعریف بیان کرتی ہے۔ لیکن اے لوگو تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے اس لیے کہ وہ تمہاری زبان میں نہیں۔ حیوانات، نباتات، جمادات سب اس کے تسبیح خواں ہیں۔
صفحہ نمبر4704
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں ثابت ہے کہ کھانا کھاتے میں کھانے کی تسبیح ہم سنتے رہتے تھے۔ [صحیح بخاری:3579]
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ والی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مٹھی میں چند کنکریاں لیں، میں نے خود سنا کہ وہ شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح تسبیح باری کر رہی تھیں۔ اسی طرح سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں بھی۔ [مسند بزار:2413]
یہ حدیث صحیح میں اور مسندوں میں مشہور ہے۔ کچھ لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنیوں اور جانوروں پر سوار کھڑے ہوئے دیکھ کر فرمایا کہ سواری سلامتی کے ساتھ لو اور پھر اچھائی سے چھوڑ دیا کرو، راستوں اور بازاروں میں اپنی سواریوں کو لوگوں سے باتیں کرنے کی کرسیاں نہ بنا لیا کرو۔ سنو بہت سی سواریاں اپنے سواروں سے بھی زیادہ ذکر اللہ کرنے والی اور ان سے بھی بہتر و افضل ہوتی ہیں۔ [مسند احمد:440/3:ضعیف]
سنن نسائی میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک کے مار ڈالنے کو منع فرمایا اور فرمایا اس کا بولنا تسبیح الٰہی ہے۔ [طبرانی اوسط:3728:ضعیف]
اور حدیث میں ہے کہ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» کا کلمہ اخلاص کہنے کے بعد ہی کسی کی نیکی قابل قبول ہوتی ہے۔ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ» کلمہ شکر ہے اس کا نہ کہنے والا اللہ کا ناشکرا ہے۔ «اﷲُ اَکْبَرُ» زمین و آسمان کی فضا بھر دیتا ہے، «سُبْحَانَ اﷲِ» کا کلمہ مخلوق کی تسبیح ہے۔ اللہ نے کسی مخلوق کو تسبیح اور نماز کے اقرار سے باقی نہیں چھوڑا۔ جب کوئی «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ» پڑھتا ہے تو اللہ فرماتا ہے میرا بندہ مطیع ہوا اور مجھے سونپا۔
صفحہ نمبر4705
مسند احمد میں ہے کہ ایک اعرابی طیالسی جبہ پہنے ہوئے جس میں ریشمی کف اور ریشمی گھنڈیاں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اس شخص کا ارادہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ چرواہوں کے لڑکوں کو اونچا کرے اور سرداروں کے لڑکوں کو ذلیل کرے۔ آپ کو غصہ آگیا اور اس کا دامن گھسیٹتے ہوئے فرمایا کہ تجھے میں جانورں کا لباس پہنے ہوئے تو نہیں دیکھتا؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے آئے اور بیٹھ کر فرمانے لگے کہ نوح علیہ السلام نے اپنی وفات کے وقت اپنے بچوں کو بلا کر فرمایا کہ میں تمہیں بطور وصیت کے دو حکم دیتا ہوں اور دو ممانعت۔ ایک تو میں تمہیں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے سے منع کرتا ہوں دوسرے تکبر سے روکتا ہوں۔ پہلا حکم تو تمہیں یہ کرتا ہوں کہ «لا الہ الا اللہ» کہتے رہو اس لیے کہ اگر آسمان اور زمین اور ان کی تمام چیزیں ترازو کے پلڑے میں رکھ دی جائیں اور دوسرے میں صرف یہی کلمہ ہو تو بھی یہی کلمہ وزنی رہے گا۔ سو اگر تمام آسمان و زمین ایک حلقہ بنا دئے جائیں اور ان پر اس کو رکھ دیا جائے تو وہ انہیں پاش پاش کر دے، دوسرا حکم میرا «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ» پڑھنے کا ہے کہ یہ ہر چیز کی نماز ہے اور اسی کی وجہ سے ہر ایک کو رزق دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد:169/2-225:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آؤ میں تمہیں بتلاؤں کہ نوح علیہ السلام نے اپنے لڑکے کو کیا حکم دیا فرمایا کہ پیارے بچے میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ سبحان اللہ کہا کرو، یہ کل مخلوق کی تسبیح ہے اور اسی سے مخلوق کو روزی دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہر چیز اس کی تسبیح و حمد بیان کرتی ہے اس کی اسناد بوجہ ربذی راوی کے ضعیف ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22325::ضعیف]
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ستون، درخت، دروازوں کی چولیں، ان کے کھلنے اور بند ہونے کی آواز، پانی کی کھڑکھڑاہٹ یہ سب تسبیح الٰہی ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہر چیز حمد و ثنا کے بیان میں مشغول ہے۔ ابراہیم کہتے ہیں طعام بھی تسبیح خوانی کرتا ہے سورۃ الحج کی آیت بھی اس کی شہادت دیتی ہے۔ اور مفسرین کہتے ہیں کہ ہر ذی روح چیز تسبیح خواں ہے۔ جیسے حیوانات اور نباتات۔
صفحہ نمبر4706
ایک مرتبہ حسن رحمہ اللہ کے پاس خوان آیا تو ابویزید قاشی نے کہا کہ اے ابوسعید کیا یہ خوان بھی تسبیح گو ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں تھا۔ مطلب یہ ہے کہ جب تک تر لکڑی کی صورت میں تھا تسبیح گو تھا جب کٹ کر سوکھ گیا تسبیح جاتی رہی۔ اس قول کی تائید میں اس حدیث سے بھی مدد لی جا سکتی ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرتے ہیں فرماتے ہیں انہیں عذاب کیا جا رہا ہے اور کسی بڑی چیز میں نہیں ایک تو پیشاب کے وقت پردے کا خیال نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغل خور تھا، پھر آپ نے ایک تر ٹہنی لے کر اس کے دو ٹکڑے کرکے دونوں قبروں پر گاڑ دئے اور فرمایا کہ شاید جب تک یہ خشک نہ ہوں، ان کے عذاب میں تخفیف رہے۔ [صحیح بخاری:218] اس سے بعض علماء نے کہا ہے کہ جب تک یہ تر رہیں گی تسبیح پڑھتی رہیں گی جب خشک ہو جائیں گی تسبیح بند ہو جائے گی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر4707
اللہ تعالیٰ حلیم و غفور ہے اپنے گنہگاروں کو سزا کرنے میں جلدی نہیں کرتا، تاخیر کرتا ہے، ڈھیل دیتا ہے، پھر بھی اگر کفر و فسق پر اڑا رہے تو اچانک عذاب مسلط کر دیتا ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے، پھر جب مواخذہ کرتا ہے تو نہیں چھوڑتا۔ دیکھو قرآن میں ہے کہ «وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ» [11-هود:102] ” جب تیرا رب کسی بستی کے لوگوں کو ان کے مظالم پر پکڑتا ہے تو پھر ایسی ہی پکڑ ہوتی ہے “ [صحیح بخاری:4686] الخ
اور آیت میں ہے کہ «وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَمْلَيْتُ لَهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَإِلَيَّ الْمَصِيرُ» [22-الحج:48] ” بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے مہلت دی پھر آخر پکڑلیا۔ “
اور آیت میں ہے ” ہاں جو گناہوں سے رک جائے، ان سے ہٹ جائے، توبہ کرے تو اللہ بھی اس پر رحم اور مہربانی کرتا ہے۔ “
جیسے آیت قرآن میں ہے «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [4-النساء:110] ” جو شخص برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے؟ پھر استغفار کرے تو اللہ کو بخشنے والا اور مہربان پائے گا۔ “
سورۃ فاطر کے آخر کی آیتوں «إِنَّ اللَّـهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَن تَزُولَا ۚ وَلَئِن زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِهِ ۚ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا * وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ ۖ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا * اسْتِكْبَارًا فِي الْأَرْضِ وَمَكْرَ السَّيِّئِ ۚ وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ ۚ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ ۚ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّـهِ تَبْدِيلًا ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّـهِ تَحْوِيلًا * أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَكَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۚ وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعْجِزَهُ مِن شَيْءٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرًا» [35-فاطر:41-44] میں یہی بیان ہے۔
صفحہ نمبر4708
کفار کا ایک نفسیاتی تجزیہ ٭٭
فرماتا ہے کہ قرآن کی تلاوت کے وقت ان کے دلوں پر پردے پڑجاتے ہیں، کوئی اثر ان کے دلوں تک نہیں پہنچتا۔ وہ حجاب انہیں چھپا لیتا ہے۔ یہاں «مَّسْتُورً»، «ساتِر» کے معنی میں ہے جیسے «میمون» اور «مشئوم» معنی میں یا «من» اور «شائم» کے ہیں۔ وہ پردے گو بظاہر نظر نہ آئیں لیکن ہدایت میں اور ان میں وہ حد فاصل ہو جاتے ہیں۔
مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ سورۃ «تَبَّتْ يَدَا» کے اترنے پر عورت ام جمیل شور مچاتی دھاری دار پتھر ہاتھ میں لیے یہ کہتی ہوئی آئی کہ اس مذموم کو ہم ماننے والے نہیں ہمیں اس کا دین ناپسند ہے، ہم اس کے فرمان کے مخالف ہیں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس تھے، کہنے لگے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ آ رہی ہے اور آپ کو دیکھ لے گی۔ آپ نے فرمایا بیفکر رہو یہ مجھے نہیں دیکھ سکتی اور آپ نے اس سے بچنے کے لیے تلاوت قرآن شروع کر دی۔ یہی آیت تلاوت فرمائی وہ آئی اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہا سے پوچھنے لگی کہ میں نے سنا ہے۔ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ہجو کی ہے، آپ نے فرمایا، نہیں، رب کعبہ کی قسم تیری ہجو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کی، وہ یہ کہتی ہوئی لوٹی کہ تمام قریش جانتے ہیں کہ میں ان کے سردار کی لڑکی ہوں۔ [مسند ابویعلیٰ:25:حسن]
صفحہ نمبر4709
«أَكِنَّةً»، «کنان» کی جمع ہے اس پردے نے ان کے دلوں کو ڈھک رکھا ہے جس سے یہ قرآن سمجھ نہیں سکتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے، جس سے وہ قرآن اس طرح سن نہیں سکتے کہ انہیں فائدہ پہنچے اور جب تو قرآن میں اللہ کی وحدانیت کا ذکر پڑھتا ہے تو یہ بے طرح بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ «نُفُورً» جمع ہے نافر کی جیسے قاعد کی جمع عقود آتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ مصدر بغیر فعل ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَإِذَا ذُكِرَ اللَّـهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ ۖ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ» [39-الزمر:45] ” اللہ واحد کے ذکر سے بے ایمانوں کے دل اچاٹ ہو جاتے ہیں۔ “
مسلمانوں کا «لا الہ الا اللہ» کہنا مشرکوں پر بہت گراں گزرتا تھا ابلیس اور اس کا لشکر اس سے بہت چڑتا تھا۔ اس کے دبانے کی پوری کوشش کرتا تھا لیکن اللہ کا ارادہ ان کے برخلاف اسے بلند کرنے اور عزت دینے اور پھیلانے کا تھا۔ یہی وہ کلمہ ہے کہ اس کا قائل فلاح پاتا ہے اس کا عامل مدد دیا جاتا ہے۔
دیکھ لو اس جزیرے کے حالات تمہارے سامنے ہیں کہ یہاں سے وہاں تک یہ پاک کلمہ پھیل گیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد شیطانوں کا بھاگنا ہے گو بات یہ ٹھیک ہے۔ اللہ کے ذکر سے، اذان سے، تلاوت قرآن سے، شیطان بھاگتا ہے لیکن اس آیت کی یہ تفسیر کرنا غرابت سے خالی نہیں۔
صفحہ نمبر4710
کفار کا ایک نفسیاتی تجزیہ ٭٭
فرماتا ہے کہ قرآن کی تلاوت کے وقت ان کے دلوں پر پردے پڑجاتے ہیں، کوئی اثر ان کے دلوں تک نہیں پہنچتا۔ وہ حجاب انہیں چھپا لیتا ہے۔ یہاں «مَّسْتُورً»، «ساتِر» کے معنی میں ہے جیسے «میمون» اور «مشئوم» معنی میں یا «من» اور «شائم» کے ہیں۔ وہ پردے گو بظاہر نظر نہ آئیں لیکن ہدایت میں اور ان میں وہ حد فاصل ہو جاتے ہیں۔
مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ سورۃ «تَبَّتْ يَدَا» کے اترنے پر عورت ام جمیل شور مچاتی دھاری دار پتھر ہاتھ میں لیے یہ کہتی ہوئی آئی کہ اس مذموم کو ہم ماننے والے نہیں ہمیں اس کا دین ناپسند ہے، ہم اس کے فرمان کے مخالف ہیں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس تھے، کہنے لگے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ آ رہی ہے اور آپ کو دیکھ لے گی۔ آپ نے فرمایا بیفکر رہو یہ مجھے نہیں دیکھ سکتی اور آپ نے اس سے بچنے کے لیے تلاوت قرآن شروع کر دی۔ یہی آیت تلاوت فرمائی وہ آئی اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہا سے پوچھنے لگی کہ میں نے سنا ہے۔ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ہجو کی ہے، آپ نے فرمایا، نہیں، رب کعبہ کی قسم تیری ہجو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کی، وہ یہ کہتی ہوئی لوٹی کہ تمام قریش جانتے ہیں کہ میں ان کے سردار کی لڑکی ہوں۔ [مسند ابویعلیٰ:25:حسن]
صفحہ نمبر4709
«أَكِنَّةً»، «کنان» کی جمع ہے اس پردے نے ان کے دلوں کو ڈھک رکھا ہے جس سے یہ قرآن سمجھ نہیں سکتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے، جس سے وہ قرآن اس طرح سن نہیں سکتے کہ انہیں فائدہ پہنچے اور جب تو قرآن میں اللہ کی وحدانیت کا ذکر پڑھتا ہے تو یہ بے طرح بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ «نُفُورً» جمع ہے نافر کی جیسے قاعد کی جمع عقود آتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ مصدر بغیر فعل ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَإِذَا ذُكِرَ اللَّـهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ ۖ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ» [39-الزمر:45] ” اللہ واحد کے ذکر سے بے ایمانوں کے دل اچاٹ ہو جاتے ہیں۔ “
مسلمانوں کا «لا الہ الا اللہ» کہنا مشرکوں پر بہت گراں گزرتا تھا ابلیس اور اس کا لشکر اس سے بہت چڑتا تھا۔ اس کے دبانے کی پوری کوشش کرتا تھا لیکن اللہ کا ارادہ ان کے برخلاف اسے بلند کرنے اور عزت دینے اور پھیلانے کا تھا۔ یہی وہ کلمہ ہے کہ اس کا قائل فلاح پاتا ہے اس کا عامل مدد دیا جاتا ہے۔
دیکھ لو اس جزیرے کے حالات تمہارے سامنے ہیں کہ یہاں سے وہاں تک یہ پاک کلمہ پھیل گیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد شیطانوں کا بھاگنا ہے گو بات یہ ٹھیک ہے۔ اللہ کے ذکر سے، اذان سے، تلاوت قرآن سے، شیطان بھاگتا ہے لیکن اس آیت کی یہ تفسیر کرنا غرابت سے خالی نہیں۔
صفحہ نمبر4710
سرداران کفر کا المیہ ٭٭
سراداران کفر جو آپس میں باتیں بناتے تھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی جا رہی ہیں کہ آپ تو تلاوت میں مشغول ہوتے ہیں یہ چپکے چپکے کہا کرتے ہیں کہ اس پر کسی نے جادو کر دیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ یہ تو ایک انسان ہے جو کھانے پینے کا محتاج ہے۔ گو یہ لفظ اسی معنی میں شعر میں بھی ہے اور امام ابن جریر نے اسی کو ٹھیک بھی بتلایا ہے لیکن یہ غور طلب ہے۔
ان کا ارادہ اس موقع پر اس کہنے سے یہ تھا کہ خود یہ جادو میں مبتلا ہے کوئی ہے جو اسے اس موقع پر کچھ پڑھا جاتا ہے۔ کافر لوگ طرح طرح کے وہم آپ کی نسبت ظاہر کرتے تھے کوئی کہتا آپ شاعر ہیں، کوئی کہتا کاہن ہیں، کوئی مجنوں بتلاتا، کوئی جادوگر وغیرہ۔ اس لیے فرماتا ہے کہ دیکھو یہ کیسے بہک رہے ہیں کہ حق کی جانب آ ہی نہیں سکتے۔ سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ ابوسفیان بن حرب، ابوجہل بن ہشام، اخنس بن شریق رات کے وقت اپنے اپنے گھروں سے کلام اللہ شریف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سننے کے لیے نکلے، آپ اپنے گھر میں رات کو نماز پڑھ رہے تھے۔ یہ لوگ آ کر چپ چاپ چھپ کر ادھر ادھر بیٹھ گئے ایک کو دوسرے کی خبر نہ تھی، رات کو سنتے رہے فجر ہوتے وقت یہاں سے چلے، اتفاقاً راستے میں سب کی آپس میں ملاقات ہو گئی ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے اب سے یہ حرکت نہ کرنا ورنہ اور لوگ تو بالکل اسی کے ہو جائیں گے۔ لیکن رات کو پھر یہ تینوں آ گئے اور اپنی اپنی جگہ بیٹھ کر قرآن سننے میں رات گزاری۔ صبح واپس چلے راستے میں مل گئے، پھر سے کل کی باتیں دہرائیں اور آج پختہ ارادہ کیا کہ اب سے ایسا کام ہرگز کوئی نہ کرے گا۔ تیسری رات پھر یہی ہوا اب کے انہوں نے کہا آؤ عہد کرلیں کہ اب نہیں آئیں گے چنانچہ قول قرار کر کے جدا ہوئے۔
صفحہ نمبر4712
صبح کو اخنس اپنی لاٹھی سنبھالے ابوسفیان کے گھر پہنچا اور کہنے لگا ابوحنظلہ مجھے بتاؤ تمہاری اپنی رائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت کیا ہے؟ اس نے کہا ابو ثعلبہ جو آیتیں قرآن کی میں نے سنی ہیں، ان میں سے بہت سی آیتوں کا تو مطلب میں جان گیا، لیکن بہت سی آتیوں کی مراد مجھے معلوم نہیں ہوئی۔ اخنس نے کہا واللہ میرا بھی یہی حال ہے۔ یہاں سے ہو کر اخنس ابوجہل کے پاس پہنچا۔ اس سے بھی یہی سوال کیا اس نے کہا سنئے۔ شرافت و سرداری کے بارے میں ہمارا بنو عبد مناف سے مدت کا جھگڑا چلا آتا ہے انہوں نے کھلایا تو ہم نے بھی کھلانا شروع کر دیا، انہوں نے سواریاں دیں تو ہم نے بھی انہیں سواریوں کے جانور دئے۔ انہوں نے لوگوں کے ساتھ سلوک کئے اور ان انعامات میں ہم نے بھی ان سے پیچھے رہنا پسند نہ کیا۔ اب جب کہ تمام باتوں میں وہ اور ہم برابر رہے، اس دوڑ میں جب وہ بازی لے جا نہ سکے تو جھٹ سے انہوں نے کہہ دیا کہ ہم میں نبوت ہے، ہم میں ایک شخص ہے، جس کے پاس آسمانی وحی آتی ہے، اب بتاؤ اس کو ہم کیسے مان لیں؟ واللہ نہ اس پر ہم ایمان لائیں گے نہ کبھی اسے سچا کہیں گے، اسی وقت اخنس اسے چھوڑ کر چل دیا۔ [سیرة ابن هشام:328/1]
صفحہ نمبر4713
سرداران کفر کا المیہ ٭٭
سراداران کفر جو آپس میں باتیں بناتے تھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی جا رہی ہیں کہ آپ تو تلاوت میں مشغول ہوتے ہیں یہ چپکے چپکے کہا کرتے ہیں کہ اس پر کسی نے جادو کر دیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ یہ تو ایک انسان ہے جو کھانے پینے کا محتاج ہے۔ گو یہ لفظ اسی معنی میں شعر میں بھی ہے اور امام ابن جریر نے اسی کو ٹھیک بھی بتلایا ہے لیکن یہ غور طلب ہے۔
ان کا ارادہ اس موقع پر اس کہنے سے یہ تھا کہ خود یہ جادو میں مبتلا ہے کوئی ہے جو اسے اس موقع پر کچھ پڑھا جاتا ہے۔ کافر لوگ طرح طرح کے وہم آپ کی نسبت ظاہر کرتے تھے کوئی کہتا آپ شاعر ہیں، کوئی کہتا کاہن ہیں، کوئی مجنوں بتلاتا، کوئی جادوگر وغیرہ۔ اس لیے فرماتا ہے کہ دیکھو یہ کیسے بہک رہے ہیں کہ حق کی جانب آ ہی نہیں سکتے۔ سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ ابوسفیان بن حرب، ابوجہل بن ہشام، اخنس بن شریق رات کے وقت اپنے اپنے گھروں سے کلام اللہ شریف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سننے کے لیے نکلے، آپ اپنے گھر میں رات کو نماز پڑھ رہے تھے۔ یہ لوگ آ کر چپ چاپ چھپ کر ادھر ادھر بیٹھ گئے ایک کو دوسرے کی خبر نہ تھی، رات کو سنتے رہے فجر ہوتے وقت یہاں سے چلے، اتفاقاً راستے میں سب کی آپس میں ملاقات ہو گئی ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے اب سے یہ حرکت نہ کرنا ورنہ اور لوگ تو بالکل اسی کے ہو جائیں گے۔ لیکن رات کو پھر یہ تینوں آ گئے اور اپنی اپنی جگہ بیٹھ کر قرآن سننے میں رات گزاری۔ صبح واپس چلے راستے میں مل گئے، پھر سے کل کی باتیں دہرائیں اور آج پختہ ارادہ کیا کہ اب سے ایسا کام ہرگز کوئی نہ کرے گا۔ تیسری رات پھر یہی ہوا اب کے انہوں نے کہا آؤ عہد کرلیں کہ اب نہیں آئیں گے چنانچہ قول قرار کر کے جدا ہوئے۔
صفحہ نمبر4712
صبح کو اخنس اپنی لاٹھی سنبھالے ابوسفیان کے گھر پہنچا اور کہنے لگا ابوحنظلہ مجھے بتاؤ تمہاری اپنی رائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت کیا ہے؟ اس نے کہا ابو ثعلبہ جو آیتیں قرآن کی میں نے سنی ہیں، ان میں سے بہت سی آیتوں کا تو مطلب میں جان گیا، لیکن بہت سی آتیوں کی مراد مجھے معلوم نہیں ہوئی۔ اخنس نے کہا واللہ میرا بھی یہی حال ہے۔ یہاں سے ہو کر اخنس ابوجہل کے پاس پہنچا۔ اس سے بھی یہی سوال کیا اس نے کہا سنئے۔ شرافت و سرداری کے بارے میں ہمارا بنو عبد مناف سے مدت کا جھگڑا چلا آتا ہے انہوں نے کھلایا تو ہم نے بھی کھلانا شروع کر دیا، انہوں نے سواریاں دیں تو ہم نے بھی انہیں سواریوں کے جانور دئے۔ انہوں نے لوگوں کے ساتھ سلوک کئے اور ان انعامات میں ہم نے بھی ان سے پیچھے رہنا پسند نہ کیا۔ اب جب کہ تمام باتوں میں وہ اور ہم برابر رہے، اس دوڑ میں جب وہ بازی لے جا نہ سکے تو جھٹ سے انہوں نے کہہ دیا کہ ہم میں نبوت ہے، ہم میں ایک شخص ہے، جس کے پاس آسمانی وحی آتی ہے، اب بتاؤ اس کو ہم کیسے مان لیں؟ واللہ نہ اس پر ہم ایمان لائیں گے نہ کبھی اسے سچا کہیں گے، اسی وقت اخنس اسے چھوڑ کر چل دیا۔ [سیرة ابن هشام:328/1]
صفحہ نمبر4713
سب دوبارہ پیدا ہوں گے ٭٭
کافر جو قیامت کے قائل نہ تھے اور مرنے کے بعد کے جینے کو محال جانتے تھے وہ بطور انکار پوچھا کرتے تھے کہ کیا ہم جب ہڈی اور مٹی ہو جائیں گے، غبار بن جائیں گے، کچھ نہ رہیں گے بالکل مٹ جائیں گے۔ پھر بھی نئی پیدائش سے پیدا ہوں گے؟
سورۃ النازعات میں ان منکروں کا قول بیان ہوا ہے کہ «يَقُولُونَ أَإِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ * أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً * قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ» [79-النازعات:10-12] ” کیا ہم مرنے کے بعد الٹے پاؤں زندگی میں لوٹائے جائیں گے؟ اور وہ بھی ایسی حالت میں کہ ہماری ہڈیاں بھی گل سڑ گئی ہوں؟ بھئی یہ تو بڑے ہی خسارے کی بات ہے۔ “
سورۃ یاسین میں ہے کہ «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ ۖ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ * قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-يس:78-79] ” یہ ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے بیٹھ گیا اور اپنی پیدائش کو فراموش کر گیا۔ “ الخ۔
پس انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ہڈیاں تو کیا تم خواہ پتھر بن جاؤ خواہ لوہابن جاؤ۔ خواہ اس سے بھی زیادہ سخت چیز بن جاؤ مثلا پہاڑ یا زمین یا آسمان بلکہ تم خود موت ہی کیوں نہ بن جاؤ اللہ پر تمہارا جلانا مشکل نہیں، جو چاہو ہو جاؤ دوبارہ اٹھو گے ضرور۔ حدیث میں ہے کہ بھیڑیئے کی صورت میں موت کو قیامت کے دن جنت دوزخ کے درمیان لایا جاتا ہے اور دونوں سے کہا جائے گا کہ اسے پہچانتے ہو؟ سب کہیں گے ہاں، پھر اسے وہیں ذبح کر دیا جائے گا اور منادی ہو جائے گی کہ اے جنتیو اب دوام ہے موت نہیں اور اے جہنمیو اب ہمیشہ قیام ہے موت نہیں۔ [صحیح بخاری:4730]
صفحہ نمبر4715
یہاں فرمان ہے کہ یہ پوچھتے ہیں کہ اچھا جب ہم ہڈیاں اور چورا ہو جائیں یا پتھر اور لوہا ہو جائیں گے یا جو ہم چاہیں اور جو بڑی سے بڑی سخت چیز ہو وہ ہم ہو جائیں تو یہ تو بتلاؤ کہ کس کے اختیار میں ہے کہ اب ہمیں پھر سے اس زندگی کی طرف لوٹا دے؟
ان کے اس سوال اور بیجا اعتراض کے جواب میں تو انہیں سمجھا کہ «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ” تمہیں لوٹانے والا تمہارا سچا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ہے جب کہ تم کچھ نہ تھے۔ “
پھر اس پر دوسری بار کی پیدائش کیا گراں ہے؟ بلکہ بہت آسان ہے تم خواہ کچھ بھی بن جاؤ۔ یہ جواب چونکہ لا جواب ہے حیران تو ہو جائیں گے لیکن پھر بھی اپنی شرارت سے باز نہ آئیں گے، بد عقیدگی نہ چھوڑیں گے اور بطور مذاق سر ہلاتے ہوئے کہیں گے کہ «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [67-الملك:25] ” اچھا یہ ہو گا کب؟ سچے ہو تو وقت کا تعین کر دو۔ “
«يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا» [42-الشورى:18] ” بے ایمانوں کا یہ شیوہ ہے کہ وہ جلدی مچاتے رہتے ہیں۔ “
ہاں ہے تو وہ وقت قریب ہی، تم اس کے لیے انتظار کر لو، غلفت نہ برتو۔ اس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ آنے والی چیز کو آئی ہوئی سمجھا کرو۔ اللہ کی ایک آواز کے ساتھ ہی تم زمین سے نکل کھڑے ہو گے ایک آنکھ جھپکانے کی دیر بھی تو نہ لگے گی۔ اللہ کے فرمان کے ساتھ ہی تم سے میدان محشر پر ہو جائے گا۔ قبروں سے اٹھ کر اللہ کی تعریفیں کرتے ہوئے اس کے احکام کی بجا آوری میں کھڑے ہو جاؤ گے۔ حمد کے لائق وہی ہے تم اس کے حکم سے اور ارادے سے باہر نہیں ہو۔ حدیث میں ہے کہ «لا الہ الا اللہ» کہنے والوں پر ان کی قبر میں کوئی وحشت نہیں ہو گی۔ گویا کہ میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ قبروں سے اٹھ رہے ہیں، اپنے سر سے مٹی جھاڑتے ہوئے۔ «لا الہ الا اللہ» کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ کہیں گے کہ اللہ کی حمد ہے جس نے ہم سے غم دور کر دیا۔ سورۃ فاطر کی تفسیر میں یہ بیان آ رہا ہے ان شاءاللہ۔
صفحہ نمبر4716
اس وقت تمہارا یقین ہو گا کہ تم بہت ہی کم مدت دنیا میں رہے گویا صبح یا شام، کوئی کہے گا دس دن، کوئی کہے گا ایک دن، کوئی سمجھے گا ایک ساعت ہی۔ سوال پر یہی کہیں گے کہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ہی۔ اور اس پر قسمیں کھائیں گے۔ اسی طرح دنیا میں بھی اپنے جھوٹ پر قسمیں کھاتے رہے تھے۔
صفحہ نمبر4717
سب دوبارہ پیدا ہوں گے ٭٭
کافر جو قیامت کے قائل نہ تھے اور مرنے کے بعد کے جینے کو محال جانتے تھے وہ بطور انکار پوچھا کرتے تھے کہ کیا ہم جب ہڈی اور مٹی ہو جائیں گے، غبار بن جائیں گے، کچھ نہ رہیں گے بالکل مٹ جائیں گے۔ پھر بھی نئی پیدائش سے پیدا ہوں گے؟
سورۃ النازعات میں ان منکروں کا قول بیان ہوا ہے کہ «يَقُولُونَ أَإِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ * أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً * قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ» [79-النازعات:10-12] ” کیا ہم مرنے کے بعد الٹے پاؤں زندگی میں لوٹائے جائیں گے؟ اور وہ بھی ایسی حالت میں کہ ہماری ہڈیاں بھی گل سڑ گئی ہوں؟ بھئی یہ تو بڑے ہی خسارے کی بات ہے۔ “
سورۃ یاسین میں ہے کہ «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ ۖ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ * قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-يس:78-79] ” یہ ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے بیٹھ گیا اور اپنی پیدائش کو فراموش کر گیا۔ “ الخ۔
پس انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ہڈیاں تو کیا تم خواہ پتھر بن جاؤ خواہ لوہابن جاؤ۔ خواہ اس سے بھی زیادہ سخت چیز بن جاؤ مثلا پہاڑ یا زمین یا آسمان بلکہ تم خود موت ہی کیوں نہ بن جاؤ اللہ پر تمہارا جلانا مشکل نہیں، جو چاہو ہو جاؤ دوبارہ اٹھو گے ضرور۔ حدیث میں ہے کہ بھیڑیئے کی صورت میں موت کو قیامت کے دن جنت دوزخ کے درمیان لایا جاتا ہے اور دونوں سے کہا جائے گا کہ اسے پہچانتے ہو؟ سب کہیں گے ہاں، پھر اسے وہیں ذبح کر دیا جائے گا اور منادی ہو جائے گی کہ اے جنتیو اب دوام ہے موت نہیں اور اے جہنمیو اب ہمیشہ قیام ہے موت نہیں۔ [صحیح بخاری:4730]
صفحہ نمبر4715
یہاں فرمان ہے کہ یہ پوچھتے ہیں کہ اچھا جب ہم ہڈیاں اور چورا ہو جائیں یا پتھر اور لوہا ہو جائیں گے یا جو ہم چاہیں اور جو بڑی سے بڑی سخت چیز ہو وہ ہم ہو جائیں تو یہ تو بتلاؤ کہ کس کے اختیار میں ہے کہ اب ہمیں پھر سے اس زندگی کی طرف لوٹا دے؟
ان کے اس سوال اور بیجا اعتراض کے جواب میں تو انہیں سمجھا کہ «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ” تمہیں لوٹانے والا تمہارا سچا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ہے جب کہ تم کچھ نہ تھے۔ “
پھر اس پر دوسری بار کی پیدائش کیا گراں ہے؟ بلکہ بہت آسان ہے تم خواہ کچھ بھی بن جاؤ۔ یہ جواب چونکہ لا جواب ہے حیران تو ہو جائیں گے لیکن پھر بھی اپنی شرارت سے باز نہ آئیں گے، بد عقیدگی نہ چھوڑیں گے اور بطور مذاق سر ہلاتے ہوئے کہیں گے کہ «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [67-الملك:25] ” اچھا یہ ہو گا کب؟ سچے ہو تو وقت کا تعین کر دو۔ “
«يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا» [42-الشورى:18] ” بے ایمانوں کا یہ شیوہ ہے کہ وہ جلدی مچاتے رہتے ہیں۔ “
ہاں ہے تو وہ وقت قریب ہی، تم اس کے لیے انتظار کر لو، غلفت نہ برتو۔ اس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ آنے والی چیز کو آئی ہوئی سمجھا کرو۔ اللہ کی ایک آواز کے ساتھ ہی تم زمین سے نکل کھڑے ہو گے ایک آنکھ جھپکانے کی دیر بھی تو نہ لگے گی۔ اللہ کے فرمان کے ساتھ ہی تم سے میدان محشر پر ہو جائے گا۔ قبروں سے اٹھ کر اللہ کی تعریفیں کرتے ہوئے اس کے احکام کی بجا آوری میں کھڑے ہو جاؤ گے۔ حمد کے لائق وہی ہے تم اس کے حکم سے اور ارادے سے باہر نہیں ہو۔ حدیث میں ہے کہ «لا الہ الا اللہ» کہنے والوں پر ان کی قبر میں کوئی وحشت نہیں ہو گی۔ گویا کہ میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ قبروں سے اٹھ رہے ہیں، اپنے سر سے مٹی جھاڑتے ہوئے۔ «لا الہ الا اللہ» کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ کہیں گے کہ اللہ کی حمد ہے جس نے ہم سے غم دور کر دیا۔ سورۃ فاطر کی تفسیر میں یہ بیان آ رہا ہے ان شاءاللہ۔
صفحہ نمبر4716
اس وقت تمہارا یقین ہو گا کہ تم بہت ہی کم مدت دنیا میں رہے گویا صبح یا شام، کوئی کہے گا دس دن، کوئی کہے گا ایک دن، کوئی سمجھے گا ایک ساعت ہی۔ سوال پر یہی کہیں گے کہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ہی۔ اور اس پر قسمیں کھائیں گے۔ اسی طرح دنیا میں بھی اپنے جھوٹ پر قسمیں کھاتے رہے تھے۔
صفحہ نمبر4717
سب دوبارہ پیدا ہوں گے ٭٭
کافر جو قیامت کے قائل نہ تھے اور مرنے کے بعد کے جینے کو محال جانتے تھے وہ بطور انکار پوچھا کرتے تھے کہ کیا ہم جب ہڈی اور مٹی ہو جائیں گے، غبار بن جائیں گے، کچھ نہ رہیں گے بالکل مٹ جائیں گے۔ پھر بھی نئی پیدائش سے پیدا ہوں گے؟
سورۃ النازعات میں ان منکروں کا قول بیان ہوا ہے کہ «يَقُولُونَ أَإِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ * أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً * قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ» [79-النازعات:10-12] ” کیا ہم مرنے کے بعد الٹے پاؤں زندگی میں لوٹائے جائیں گے؟ اور وہ بھی ایسی حالت میں کہ ہماری ہڈیاں بھی گل سڑ گئی ہوں؟ بھئی یہ تو بڑے ہی خسارے کی بات ہے۔ “
سورۃ یاسین میں ہے کہ «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ ۖ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ * قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-يس:78-79] ” یہ ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے بیٹھ گیا اور اپنی پیدائش کو فراموش کر گیا۔ “ الخ۔
پس انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ہڈیاں تو کیا تم خواہ پتھر بن جاؤ خواہ لوہابن جاؤ۔ خواہ اس سے بھی زیادہ سخت چیز بن جاؤ مثلا پہاڑ یا زمین یا آسمان بلکہ تم خود موت ہی کیوں نہ بن جاؤ اللہ پر تمہارا جلانا مشکل نہیں، جو چاہو ہو جاؤ دوبارہ اٹھو گے ضرور۔ حدیث میں ہے کہ بھیڑیئے کی صورت میں موت کو قیامت کے دن جنت دوزخ کے درمیان لایا جاتا ہے اور دونوں سے کہا جائے گا کہ اسے پہچانتے ہو؟ سب کہیں گے ہاں، پھر اسے وہیں ذبح کر دیا جائے گا اور منادی ہو جائے گی کہ اے جنتیو اب دوام ہے موت نہیں اور اے جہنمیو اب ہمیشہ قیام ہے موت نہیں۔ [صحیح بخاری:4730]
صفحہ نمبر4715
یہاں فرمان ہے کہ یہ پوچھتے ہیں کہ اچھا جب ہم ہڈیاں اور چورا ہو جائیں یا پتھر اور لوہا ہو جائیں گے یا جو ہم چاہیں اور جو بڑی سے بڑی سخت چیز ہو وہ ہم ہو جائیں تو یہ تو بتلاؤ کہ کس کے اختیار میں ہے کہ اب ہمیں پھر سے اس زندگی کی طرف لوٹا دے؟
ان کے اس سوال اور بیجا اعتراض کے جواب میں تو انہیں سمجھا کہ «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ” تمہیں لوٹانے والا تمہارا سچا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ہے جب کہ تم کچھ نہ تھے۔ “
پھر اس پر دوسری بار کی پیدائش کیا گراں ہے؟ بلکہ بہت آسان ہے تم خواہ کچھ بھی بن جاؤ۔ یہ جواب چونکہ لا جواب ہے حیران تو ہو جائیں گے لیکن پھر بھی اپنی شرارت سے باز نہ آئیں گے، بد عقیدگی نہ چھوڑیں گے اور بطور مذاق سر ہلاتے ہوئے کہیں گے کہ «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [67-الملك:25] ” اچھا یہ ہو گا کب؟ سچے ہو تو وقت کا تعین کر دو۔ “
«يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا» [42-الشورى:18] ” بے ایمانوں کا یہ شیوہ ہے کہ وہ جلدی مچاتے رہتے ہیں۔ “
ہاں ہے تو وہ وقت قریب ہی، تم اس کے لیے انتظار کر لو، غلفت نہ برتو۔ اس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ آنے والی چیز کو آئی ہوئی سمجھا کرو۔ اللہ کی ایک آواز کے ساتھ ہی تم زمین سے نکل کھڑے ہو گے ایک آنکھ جھپکانے کی دیر بھی تو نہ لگے گی۔ اللہ کے فرمان کے ساتھ ہی تم سے میدان محشر پر ہو جائے گا۔ قبروں سے اٹھ کر اللہ کی تعریفیں کرتے ہوئے اس کے احکام کی بجا آوری میں کھڑے ہو جاؤ گے۔ حمد کے لائق وہی ہے تم اس کے حکم سے اور ارادے سے باہر نہیں ہو۔ حدیث میں ہے کہ «لا الہ الا اللہ» کہنے والوں پر ان کی قبر میں کوئی وحشت نہیں ہو گی۔ گویا کہ میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ قبروں سے اٹھ رہے ہیں، اپنے سر سے مٹی جھاڑتے ہوئے۔ «لا الہ الا اللہ» کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ کہیں گے کہ اللہ کی حمد ہے جس نے ہم سے غم دور کر دیا۔ سورۃ فاطر کی تفسیر میں یہ بیان آ رہا ہے ان شاءاللہ۔
صفحہ نمبر4716
اس وقت تمہارا یقین ہو گا کہ تم بہت ہی کم مدت دنیا میں رہے گویا صبح یا شام، کوئی کہے گا دس دن، کوئی کہے گا ایک دن، کوئی سمجھے گا ایک ساعت ہی۔ سوال پر یہی کہیں گے کہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ہی۔ اور اس پر قسمیں کھائیں گے۔ اسی طرح دنیا میں بھی اپنے جھوٹ پر قسمیں کھاتے رہے تھے۔
صفحہ نمبر4717
سب دوبارہ پیدا ہوں گے ٭٭
کافر جو قیامت کے قائل نہ تھے اور مرنے کے بعد کے جینے کو محال جانتے تھے وہ بطور انکار پوچھا کرتے تھے کہ کیا ہم جب ہڈی اور مٹی ہو جائیں گے، غبار بن جائیں گے، کچھ نہ رہیں گے بالکل مٹ جائیں گے۔ پھر بھی نئی پیدائش سے پیدا ہوں گے؟
سورۃ النازعات میں ان منکروں کا قول بیان ہوا ہے کہ «يَقُولُونَ أَإِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ * أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً * قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ» [79-النازعات:10-12] ” کیا ہم مرنے کے بعد الٹے پاؤں زندگی میں لوٹائے جائیں گے؟ اور وہ بھی ایسی حالت میں کہ ہماری ہڈیاں بھی گل سڑ گئی ہوں؟ بھئی یہ تو بڑے ہی خسارے کی بات ہے۔ “
سورۃ یاسین میں ہے کہ «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ ۖ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ * قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-يس:78-79] ” یہ ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے بیٹھ گیا اور اپنی پیدائش کو فراموش کر گیا۔ “ الخ۔
پس انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ہڈیاں تو کیا تم خواہ پتھر بن جاؤ خواہ لوہابن جاؤ۔ خواہ اس سے بھی زیادہ سخت چیز بن جاؤ مثلا پہاڑ یا زمین یا آسمان بلکہ تم خود موت ہی کیوں نہ بن جاؤ اللہ پر تمہارا جلانا مشکل نہیں، جو چاہو ہو جاؤ دوبارہ اٹھو گے ضرور۔ حدیث میں ہے کہ بھیڑیئے کی صورت میں موت کو قیامت کے دن جنت دوزخ کے درمیان لایا جاتا ہے اور دونوں سے کہا جائے گا کہ اسے پہچانتے ہو؟ سب کہیں گے ہاں، پھر اسے وہیں ذبح کر دیا جائے گا اور منادی ہو جائے گی کہ اے جنتیو اب دوام ہے موت نہیں اور اے جہنمیو اب ہمیشہ قیام ہے موت نہیں۔ [صحیح بخاری:4730]
صفحہ نمبر4715
یہاں فرمان ہے کہ یہ پوچھتے ہیں کہ اچھا جب ہم ہڈیاں اور چورا ہو جائیں یا پتھر اور لوہا ہو جائیں گے یا جو ہم چاہیں اور جو بڑی سے بڑی سخت چیز ہو وہ ہم ہو جائیں تو یہ تو بتلاؤ کہ کس کے اختیار میں ہے کہ اب ہمیں پھر سے اس زندگی کی طرف لوٹا دے؟
ان کے اس سوال اور بیجا اعتراض کے جواب میں تو انہیں سمجھا کہ «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ” تمہیں لوٹانے والا تمہارا سچا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ہے جب کہ تم کچھ نہ تھے۔ “
پھر اس پر دوسری بار کی پیدائش کیا گراں ہے؟ بلکہ بہت آسان ہے تم خواہ کچھ بھی بن جاؤ۔ یہ جواب چونکہ لا جواب ہے حیران تو ہو جائیں گے لیکن پھر بھی اپنی شرارت سے باز نہ آئیں گے، بد عقیدگی نہ چھوڑیں گے اور بطور مذاق سر ہلاتے ہوئے کہیں گے کہ «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [67-الملك:25] ” اچھا یہ ہو گا کب؟ سچے ہو تو وقت کا تعین کر دو۔ “
«يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا» [42-الشورى:18] ” بے ایمانوں کا یہ شیوہ ہے کہ وہ جلدی مچاتے رہتے ہیں۔ “
ہاں ہے تو وہ وقت قریب ہی، تم اس کے لیے انتظار کر لو، غلفت نہ برتو۔ اس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ آنے والی چیز کو آئی ہوئی سمجھا کرو۔ اللہ کی ایک آواز کے ساتھ ہی تم زمین سے نکل کھڑے ہو گے ایک آنکھ جھپکانے کی دیر بھی تو نہ لگے گی۔ اللہ کے فرمان کے ساتھ ہی تم سے میدان محشر پر ہو جائے گا۔ قبروں سے اٹھ کر اللہ کی تعریفیں کرتے ہوئے اس کے احکام کی بجا آوری میں کھڑے ہو جاؤ گے۔ حمد کے لائق وہی ہے تم اس کے حکم سے اور ارادے سے باہر نہیں ہو۔ حدیث میں ہے کہ «لا الہ الا اللہ» کہنے والوں پر ان کی قبر میں کوئی وحشت نہیں ہو گی۔ گویا کہ میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ قبروں سے اٹھ رہے ہیں، اپنے سر سے مٹی جھاڑتے ہوئے۔ «لا الہ الا اللہ» کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ کہیں گے کہ اللہ کی حمد ہے جس نے ہم سے غم دور کر دیا۔ سورۃ فاطر کی تفسیر میں یہ بیان آ رہا ہے ان شاءاللہ۔
صفحہ نمبر4716
اس وقت تمہارا یقین ہو گا کہ تم بہت ہی کم مدت دنیا میں رہے گویا صبح یا شام، کوئی کہے گا دس دن، کوئی کہے گا ایک دن، کوئی سمجھے گا ایک ساعت ہی۔ سوال پر یہی کہیں گے کہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ہی۔ اور اس پر قسمیں کھائیں گے۔ اسی طرح دنیا میں بھی اپنے جھوٹ پر قسمیں کھاتے رہے تھے۔
صفحہ نمبر4717
مسلمانو ایک دوسرے کا احترام کرو ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ آپ مومن بندوں سے فرما دیں کہ وہ اچھے الفاظ، بہتر فقروں اور تہذیب سے کلام کرتے رہیں، ورنہ شیطان ان کے آپس میں سر پھٹول اور برائی ڈلوا دے گا، لڑائی جھگڑے شروع ہو جائیں گے۔ وہ انسان کا دشمن ہے گھات میں لگا رہتا ہے، اسی لیے حدیث میں ہے کہ مسلمان بھائی کی طرف کسی ہتھیار سے اشارہ کرنا بھی حرام ہے کہ کہیں شیطان اسے لگا نہ دے اور یہ جہنمی نہ بن جائے۔ [صحیح بخاری:7072]
ملاحظہ ہو مسند احمد۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ایک مجمع میں فرمایا کہ سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں کوئی کسی پر ظلم و ستم نہ کرے کوئی کسی کو بے عزت نہ کرے، پھر آپ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تقویٰ یہاں ہے جو دو شخص آپس میں دینی دوست ہوں پھر ان میں جدائی ہو جائے اسے ان میں سے جو بیان کرے وہ بیان کرنے والا برا ہے وہ بدتر ہے وہ نہایت شریر ہے۔ [مسند احمد:71/5:قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر4721
افضل الانبیاء علیہ الصلوۃ والسلام ٭٭
تمہارا رب تم سے بخوبی واقف ہے وہ ہدایت کے مستحق لوگوں کو بخوبی جانتا ہے۔ وہ جس پر چاہتا ہے رحم کرتا ہے، اپنی اطاعت کی توفیق دیتا ہے اور اپنی جانب جھکا لیتا ہے۔ اسی طرح جسے چاہے بداعمالی پر پکڑ لیتا ہے اور سزا دیتا ہے۔ ہم نے تجھے ان کا ذمہ دار نہیں بنایا تیرا کام ہوشیار کر دینا ہے تیری ماننے والے جنتی ہوں گے اور نہ ماننے والے دوزخی بنیں گے۔
زمین و آسمان کے تمام انسان جنات فرشتوں کا اسے علم ہے، ہر ایک کے مراتب کا اسے علم ہے، «تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۘ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ اللَّـهُ ۖ» [2-البقرة:253] ” ایک کو ایک پر فضیلت ہے، نبیوں میں بھی درجے ہیں، کوئی کلیم اللہ ہے، کوئی بلند درجہ ہے۔ “
ایک حدیث میں ہے کہ نبیوں میں فضیلتیں قائم نہ کیا کرو۔ [صحیح بخاری:3414]
اس سے مطلب صرف تعصب اور نفس پرستی سے اپنے طور پر فضیلت قائم کرنا ہے نہ یہ کہ قرآن و حدیث سے ثابت شدہ فضیلت سے بھی انکار۔ جو فضیلت جس نبی کی از روئے دلیل ثابت ہو جائے گی اس کا ماننا واجب ہے۔
صفحہ نمبر4722
مانی ہوئی بات ہے کہ تمام انبیاء سے رسول افضل ہیں اور رسولوں میں پانچ اولو العزم رسول سب سے افضل ہیں جن کا نام سورۃ الاحزاب کی آیت میں ہے «وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ» [33-الأحزاب:7] ” یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، نوح علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام۔ “
سورۃ شوریٰ کی آیت «شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهٖٓ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسٰٓى اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ ۭ كَبُرَ عَلَي الْمُشْرِكِيْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَيْهِ ۭ اَللّٰهُ يَجْتَبِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يُّنِيْبُ» [42-الشورى:13] میں بھی ان پانچوں کے نام موجود ہیں۔
جس طرح یہ سب چیزیں ساری امت مانتی ہے، اسی طرح بغیر اختلاف کے یہ بھی ثابت ہے کہ ان میں بھی سب سے افضل محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پھر ابراہیم علیہ السلام، پھر موسیٰ علیہ السلام جیسا کہ مشہور ہے، ہم نے اس کے دلائل دوسری جگہ تفصیل سے بیان کئے ہیں «واللہ الموفق» ۔
پھر فرماتا ہے ہم نے داؤد پیغمبر علیہ السلام کو زبور دی۔ یہ بھی ان کی فضیلت اور شرف کی دلیل ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں داؤد علیہ السلام پر قرآن اتنا آسان کر دیا گیا تھا کہ جانور پر زین کسی جائے اتنی سی دیر میں آپ قرآن پڑھ لیا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:3417]
صفحہ نمبر4723
افضل الانبیاء علیہ الصلوۃ والسلام ٭٭
تمہارا رب تم سے بخوبی واقف ہے وہ ہدایت کے مستحق لوگوں کو بخوبی جانتا ہے۔ وہ جس پر چاہتا ہے رحم کرتا ہے، اپنی اطاعت کی توفیق دیتا ہے اور اپنی جانب جھکا لیتا ہے۔ اسی طرح جسے چاہے بداعمالی پر پکڑ لیتا ہے اور سزا دیتا ہے۔ ہم نے تجھے ان کا ذمہ دار نہیں بنایا تیرا کام ہوشیار کر دینا ہے تیری ماننے والے جنتی ہوں گے اور نہ ماننے والے دوزخی بنیں گے۔
زمین و آسمان کے تمام انسان جنات فرشتوں کا اسے علم ہے، ہر ایک کے مراتب کا اسے علم ہے، «تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۘ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ اللَّـهُ ۖ» [2-البقرة:253] ” ایک کو ایک پر فضیلت ہے، نبیوں میں بھی درجے ہیں، کوئی کلیم اللہ ہے، کوئی بلند درجہ ہے۔ “
ایک حدیث میں ہے کہ نبیوں میں فضیلتیں قائم نہ کیا کرو۔ [صحیح بخاری:3414]
اس سے مطلب صرف تعصب اور نفس پرستی سے اپنے طور پر فضیلت قائم کرنا ہے نہ یہ کہ قرآن و حدیث سے ثابت شدہ فضیلت سے بھی انکار۔ جو فضیلت جس نبی کی از روئے دلیل ثابت ہو جائے گی اس کا ماننا واجب ہے۔
صفحہ نمبر4722
مانی ہوئی بات ہے کہ تمام انبیاء سے رسول افضل ہیں اور رسولوں میں پانچ اولو العزم رسول سب سے افضل ہیں جن کا نام سورۃ الاحزاب کی آیت میں ہے «وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ» [33-الأحزاب:7] ” یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، نوح علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام۔ “
سورۃ شوریٰ کی آیت «شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهٖٓ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسٰٓى اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ ۭ كَبُرَ عَلَي الْمُشْرِكِيْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَيْهِ ۭ اَللّٰهُ يَجْتَبِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يُّنِيْبُ» [42-الشورى:13] میں بھی ان پانچوں کے نام موجود ہیں۔
جس طرح یہ سب چیزیں ساری امت مانتی ہے، اسی طرح بغیر اختلاف کے یہ بھی ثابت ہے کہ ان میں بھی سب سے افضل محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پھر ابراہیم علیہ السلام، پھر موسیٰ علیہ السلام جیسا کہ مشہور ہے، ہم نے اس کے دلائل دوسری جگہ تفصیل سے بیان کئے ہیں «واللہ الموفق» ۔
پھر فرماتا ہے ہم نے داؤد پیغمبر علیہ السلام کو زبور دی۔ یہ بھی ان کی فضیلت اور شرف کی دلیل ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں داؤد علیہ السلام پر قرآن اتنا آسان کر دیا گیا تھا کہ جانور پر زین کسی جائے اتنی سی دیر میں آپ قرآن پڑھ لیا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:3417]
صفحہ نمبر4723
وسیلہ یا قرب الہٰی ٭٭
اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرنے والوں سے کہیئے کہ تم انہیں خوب پکار کر دیکھ لو کہ آیا وہ تمہارے کچھ کام آ سکتے ہیں؟ نہ ان کے بس کی یہ بات ہے کہ مشکل کشائی کریں نہ یہ بات کہ اسے کسی اور پر ٹال دیں، وہ محض بے بس ہیں، قادر اور طاقت والا صرف اللہ واحد ہی ہے۔ مخلوق کا خالق اور سب کا حکمران وہی ہے۔
یہ مشرک کہا کرتے تھے کہ ہم فرشتوں، مسیح اور عزیر کی عبادت کرتے ہیں۔ ان کے معبود تو خود اللہ کی نزدیکی کی جستجو میں ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ جن جنات کی یہ مشرکین پرستش کرتے تھے وہ خود مسلمان ہو گئے تھے لیکن یہ اب تک اپنے کفر پر جمے ہوئے ہیں۔ [صحیح بخاری:4714]
اس لیے انہیں خبردار کیا گیا کہ تمہارے معبود خود اللہ کی طرف جھک گئے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ جن فرشتوں کی ایک قسم سے تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام، مریم علیہا السلام، عزیر علیہ السلام، سورج چاند، فرشتے سب قرب الٰہی کی تلاش میں ہیں۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک مطلب یہ ہے کہ جن جنوں کو یہ پوجتے تھے آیت میں وہی مراد ہیں کیونکہ مسیح علیہ السلام وغیرہ کا زمانہ تو گزر چکا تھا اور فرشتے پہلے ہی سے عابد الٰہی تھے تو مراد یہاں بھی جنات ہیں۔
صفحہ نمبر4725
وسیلہ کے معنی قربت و نزدیکی کے ہیں جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔ یہ سب بزرگ اسی دھن میں ہیں کہ کون اللہ سے زیادہ نزدیکی حاصل کر لے؟ وہ اللہ کی رحمت کے خواہاں اور اس کے عذاب سے ترساں ہیں۔ حقیقت میں بغیر ان دونوں باتوں کے عبادت نا مکمل ہے۔ خوف گناہوں سے روکتا ہے اور امید اطاعت پر آمادہ کرتی ہے۔ درحقیقت اس کے عذاب ڈرنے کے لائق ہیں۔ اللہ ہمیں بچائے۔
صفحہ نمبر4726
وسیلہ یا قرب الہٰی ٭٭
اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرنے والوں سے کہیئے کہ تم انہیں خوب پکار کر دیکھ لو کہ آیا وہ تمہارے کچھ کام آ سکتے ہیں؟ نہ ان کے بس کی یہ بات ہے کہ مشکل کشائی کریں نہ یہ بات کہ اسے کسی اور پر ٹال دیں، وہ محض بے بس ہیں، قادر اور طاقت والا صرف اللہ واحد ہی ہے۔ مخلوق کا خالق اور سب کا حکمران وہی ہے۔
یہ مشرک کہا کرتے تھے کہ ہم فرشتوں، مسیح اور عزیر کی عبادت کرتے ہیں۔ ان کے معبود تو خود اللہ کی نزدیکی کی جستجو میں ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ جن جنات کی یہ مشرکین پرستش کرتے تھے وہ خود مسلمان ہو گئے تھے لیکن یہ اب تک اپنے کفر پر جمے ہوئے ہیں۔ [صحیح بخاری:4714]
اس لیے انہیں خبردار کیا گیا کہ تمہارے معبود خود اللہ کی طرف جھک گئے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ جن فرشتوں کی ایک قسم سے تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام، مریم علیہا السلام، عزیر علیہ السلام، سورج چاند، فرشتے سب قرب الٰہی کی تلاش میں ہیں۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک مطلب یہ ہے کہ جن جنوں کو یہ پوجتے تھے آیت میں وہی مراد ہیں کیونکہ مسیح علیہ السلام وغیرہ کا زمانہ تو گزر چکا تھا اور فرشتے پہلے ہی سے عابد الٰہی تھے تو مراد یہاں بھی جنات ہیں۔
صفحہ نمبر4725
وسیلہ کے معنی قربت و نزدیکی کے ہیں جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔ یہ سب بزرگ اسی دھن میں ہیں کہ کون اللہ سے زیادہ نزدیکی حاصل کر لے؟ وہ اللہ کی رحمت کے خواہاں اور اس کے عذاب سے ترساں ہیں۔ حقیقت میں بغیر ان دونوں باتوں کے عبادت نا مکمل ہے۔ خوف گناہوں سے روکتا ہے اور امید اطاعت پر آمادہ کرتی ہے۔ درحقیقت اس کے عذاب ڈرنے کے لائق ہیں۔ اللہ ہمیں بچائے۔
صفحہ نمبر4726
باب
وہ نوشتہ جو لوح محفوظ میں لکھ دیا گیا ہے وہ حکم جو جاری کر دیا گیا ہے، اس کا بیان اس آیت میں ہے کہ گنہگاروں کی بستیاں یقیناً ویران کر دی جائیں گی یا ان کے گناہوں کی وجہ سے تباہی کے قریب ہو جائیں گی، اس میں ہماری جانب سے کوئی ظلم نہ ہو گا بلکہ ان کے اپنے کرتوت کا خمیازہ ہو گا، ان کے اپنے اعمال کا وبال ہو گا، رب کی آیتوں اور اس کے رسولوں سے سرکشی کرنے کا پھل ہو گا۔
صفحہ نمبر4728
عجیب و غریب مانگ ٭٭
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کافروں نے آپ سے کہا کہ آپ کے پہلے کے انبیاء میں سے بعض کے تابع ہوا تھی، بعض مردوں کو زندہ کر دیا کرتے تھے، وغیرہ۔ اب اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم بھی آپ پر ایمان لائیں تو آپ اس صفا پہاڑ کو سونے کا کر دیئجے، ہم آپ کی سچائی کے قائل ہو جائیں گے۔ آپ پر وحی آئی کہ اگر آپ کی بھی یہی خواہش ہو تو میں اس پہاڑ کو ابھی سونے کا بنا دیتا ہوں۔ لیکن یہ خیال رہے کہ اگر پھر بھی یہ ایمان نہ لائے تو اب انہیں مہلت نہ ملے گی، فی الفور عذاب آجائے گا اور تباہ کر دئے جائیں گے۔ اور اگر آپ کو انہیں تاخیر دینے اور سوچنے کا موقع دینا منظور ہے تو میں ایسا کروں۔ آپ نے فرمایا اے اللہ میں انہیں باقی رکھنے میں ہی خوش ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22400:مرسل]
مسند میں اتنا اور بھی ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ باقی کی اور پہاڑیاں یہاں سے کھسک جائیں تاکہ ہم یہاں کھیتی باڑی کر سکیں۔ الخ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [مسند احمد:258/1:صحیح]
صفحہ نمبر4729
اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی، جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا آپ کا پروردگار آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو صبح کو ہی یہ پہاڑ سونے کا ہو جائے لیکن اگر پھر بھی ان میں سے کوئی ایمان نہ لایا تو اسے وہ سزا ہو گی جو اس سے پہلے کسی کو نہ ہوئی ہو اور اگر آپ کا ارادہ ہو تو میں ان پر توبہ اور رحمت کے دروازے کھلے چھوڑوں۔ آپ نے دوسری شق اختیار کی۔ [مسند احمد:242/1:صحیح]
مسند ابو یعلیٰ میں ہے کہ آیت «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ» [26-الشعراء:214] جب اتری تو تعمیل ارشاد کے لیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبل ابی قبیس پر چڑھ گئے اور فرمانے لگے اے بنی عبد مناف میں تمہیں ڈرانے والا ہوں۔ قریش یہ آواز سنتے ہی جمع ہو گئے پھر کہنے لگے سنئے آپ نبوت کے مدعی ہیں۔ سلیمان نبی علیہ السلام کے تابع ہوا تھی، موسیٰ نبی علیہ السلام کے تابع دریا ہو گیا تھا، عیسیٰ نبی علیہ السلام مردوں کو زندہ کر دیا کرتے تھے۔ تو بھی نبی ہے اللہ سے کہہ کہ یہ پہاڑ یہاں سے ہٹوا کر زمین قابل زراعت بنا دے تاکہ ہم کھیتی باڑی کریں۔ یہ نہیں تو ہمارے مردوں کی زندگی کی دعا اللہ سے کر کہ ہم اور وہ مل کر بیٹھیں اور ان سے باتیں کریں۔ یہ بھی نہیں تو اس پہاڑ کو سونے کا بنوا دے کہ ہم جاڑے اور گرمیوں کے سفر سے نجات پائیں، اسی وقت آپ پر وحی اترنی شروع ہو گئی، اس کے خاتمے پر آپ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم نے جو کچھ مجھ سے طلب کیا تھا مجھے اس کے ہو جانے میں اور اس بات میں کہ دروازہ رحمت میں چلے جاؤ، اختیار دیا گیا کہ ایمان اسلام کے بعد تم رحمت الٰہی سمیٹ لو یا تم یہ نشانات دیکھ لو لیکن پھر نہ مانو تو گمراہ ہو جاؤ اور رحمت کے دروازے تم پر بند ہو جائیں تو میں تو ڈر گیا اور میں نے در رحمت کا کھلا ہونا ہی پسند کیا۔
صفحہ نمبر4730
کیونکہ دوسری صورت میں تمہارے ایمان نہ لانے پر تم پر وہ عذاب اترتے جو تم سے پہلے کسی پر نہ اترے ہوں اس پر یہ آیتیں اتریں۔ اور آیت «وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَىٰ» [13-الرعد:31] الخ، نازل ہوئی۔ [مسند ابو یعلی:679:ضعیف]
یعنی آیتوں کے بھیجنے اور منہ مانگے معجزوں کے دکھانے سے ہم عاجز تو نہیں بلکہ یہ ہم پر بہت آسان ہے، جو تیری قوم چاہتی ہے، ہم انہیں دکھا دیتے لیکن اس صورت میں ان کے نہ ماننے پر پھر ہمارے عذاب نہ رکتے۔ اگلوں کو دیکھ لو کہ اسی میں برباد ہوئے۔ چنانچہ سورۃ المائدہ میں ہے کہ «قَالَ اللَّـهُ إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ۖ فَمَن يَكْفُرْ بَعْدُ مِنكُمْ فَإِنِّي أُعَذِّبُهُ عَذَابًا لَّا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ» [5-المائدة:115] میں تم پر دستر خوان اتار رہا ہوں لیکن اس کے بعد جو کفر کرے گا اسے ایسی سزا دی جائے گی جو اس سے پہلے کسی کو نہ ہوئی ہو۔
ثمودیوں کو دیکھو کہ انہوں نے ایک خاص پتھر میں سے اونٹنی کا نکلنا طلب کیا۔ صالح علیہ السلام کی دعا پر وہ نکلی لیکن وہ نہ مانے «فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ۖ ذَٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ» [11-هود:65] بلکہ اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں، رسول کو جھٹلاتے رہے، جس پر انہیں تین دن کی مہلت ملی اور آخر غارت کر دئے گئے۔
ان کی یہ اونٹنی بھی اللہ کی وحدانیت کی ایک نشانی تھی اور اس کے رسول کی صداقت کی علامت تھی۔ لیکن ان لوگوں نے پھر بھی کفر کیا، اس کا پانی بند کیا بالاخر اسے قتل کر دیا، جس کی پاداش میں اول سے لے کر آخر تک سب مار ڈالے گئے اور اللہ غالب کی پکڑ میں آ گئے، آیتیں صرف دھمکانے کے لیے ہوتی ہیں کہ وہ عبرت و نصیحت حاصل کر لیں۔
صفحہ نمبر4731
مروی ہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے زمانے میں کوفے میں زلزلہ آیا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم اس کی جانب جھکو، تمہیں فوراً اس کی طرف متوجہ ہو جانا چاہیئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مدینہ شریف میں کئی بار جھٹکے محسوس ہوئے تو آپ نے فرمایا واللہ تم نے ضرور کوئی نئی بات کی ہے، دیکھو اگر اب ایسا ہوا تو میں تمہیں سخت سزائیں کروں گا۔
متفق علیہ حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورج چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان میں کسی انسان کی موت و حیات سے گرہن نہیں لگتا بلکہ اللہ تعالیٰ ان سے اپنے بندوں کو خوفزدہ کر دیتا ہے، جب تم یہ دیکھو تو ذکر اللہ، دعا اور استغفار کی طرف جھک پڑو۔ اے امت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) واللہ اللہ سے زیادہ غیرت والا کوئی نہیں کہ اس کے لونڈی غلام زناکاری کریں۔ اے امت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) واللہ جو میں جانتا ہوں، اگر تم جانتے تو بہت کم ہنستے بہت زیادہ روتے۔ [صحیح بخاری:1044]
صفحہ نمبر4732
مقصد معراج
اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغ دین کی رغبت دلا رہا ہے اور آپ کے بچاؤ کی ذمہ داری لے رہا ہے کہ سب لوگ اسی کی قدرت تلے ہیں، وہ سب پر غالب ہے، سب اس کے ماتحت ہیں، وہ ان سب سے تجھے بچاتا رہے گا۔ جو ہم نے تجھے دکھایا وہ لوگوں کے لیے ایک صریح آزمائش ہے۔ یہ دکھانا معراج والی رات تھا، جو آپ کی آنکھوں نے دیکھا۔ ملعون نفرتی درخت سے مراد زقوم کا درخت ہے۔ [صحیح بخاری:4716]
بہت سے تابعین اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ دکھانا آنکھ کا دکھانا، مشاہدہ تھا جو شب معراج میں کرایا گیا تھا۔ معراج کی حدیثیں پوری تفصیل کے ساتھ اس سورت کے شروع میں بیان ہو چکی ہیں۔ یہ بھی گزر چکا ہے کہ معراج کے واقعہ کو سن کے بہت سے مسلمان مرتد ہو گئے اور حق سے پھر گئے کیونکہ ان کی عقل میں یہ نہ آیا تو اپنی جہالت سے اسے جھوٹا جانا اور دین کو چھوڑ بیٹھے۔ ان کے برخلاف کامل ایمان والے اپنے یقین میں اور بڑھ گئے اور ان کے ایمان اور مضبوط ہو گئے۔ ثابت قدمی اور استقلال میں زیادہ ہو گئے۔ پس اس واقعہ کو لوگوں کی آزمائش اور ان کے امتحان کا ذریعہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کر دیا۔
صفحہ نمبر4733
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خبر دی اور قرآن میں آیت اتری کہ دزخیوں کو زقوم کا درخت کھلایا جائے گا اور آپ نے اسے دیکھا بھی تو کافروں نے اسے سچ نہ مانا اور ابوجہل ملعون مذاق اڑاتے ہوئے کہنے لگا لاؤ کھجور اور مکھن لاؤ اور اس کا زقوم کرو یعنی دونوں کو ملا دو اور خوب شوق سے کھاؤ بس یہی زقوم ہے، پھر اس خوراک سے گھبرانے کے کیا معنی؟
ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد بنو امیہ ہیں لیکن یہ قول بالکل ضعیف اور غریب ہے۔ پہلے قول کے قائل وہ تمام مفسر ہیں جو اس آیت کو معراج کے بارے میں مانتے ہیں۔ جیسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مسروق، ابو مالک، حسن بصری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ۔ سیدنا سہل بن سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں قبیلے والوں کو اپنے منبر پر بندروں کی طرح ناچتے ہوئے دیکھا اور آپ کو اس سے بہت رنج ہوا پھر انتقال تک آپ پوری ہنسی سے ہنستے ہوئے نہیں دکھائی دئے اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22433] لیکن یہ سند بالکل ضعیف ہے۔
محمد بن حسن بن زبالہ متروک ہے اور ان کے استاد بھی بالکل ضعیف ہیں۔ خود امام ابن جریر رحمہ اللہ کا پسندیدہ قول بھی یہی ہے کہ مراد اس سے شب معراج ہے اور شجرۃ الزقوم ہے کیونکہ مفسرین کا اس پر اتفاق ہے۔ ہم کافروں کو اپنے عذابوں وغیرہ سے ڈرا رہے ہیں لیکن وہ اپنی ضد، تکبر، ہٹ دھرمی اور بے ایمانی میں اور بڑھ رہے ہیں۔
صفحہ نمبر4734