Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Israa
Tafsir Ibn Kathir · The Night Journey · 111 ayat · ayat 61–90 · Quran text →
ابلیس کی قدیمی دشمنی ٭٭
ابلیس کی قدیمی عداوت سے انسان کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ وہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام کا کھلا دشمن تھا، اس کی اولاد برابر اسی طرح تمہاری دشمن ہے، سجدے کا حکم سن کر سب فرشتوں نے تو سر جھکا دیا لیکن اس نے تکبر جتایا، اسے حقیر سمجھا اور صاف انکار کر دیا کہ ناممکن ہے کہ میرا سر کسی مٹی سے بنے ہوئے کے سامنے جھکے، «أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ» [7-الأعراف:12] ” میں اس سے کہیں افضل ہوں، میں آگ ہوں یہ خاک ہے۔ “
پھر اس کی ڈھٹائی دیکھیئے کہ اللہ جل و علی کے دربار میں گستاخانہ لہجے سے کہتا ہے کہ اچھا اسے اگر تو نے مجھ پر فضیلت دی تو کیا ہوا میں بھی اس کی اولاد کو برباد کر کے ہی چھوڑوں گا، سب کو اپنا تابعدار بنا لوں گا اور بہکا دوں گا، بس تھوڑے سے میرے پھندے سے چھوٹ جائیں گے، باقی سب کو غارت کر دوں گا۔
صفحہ نمبر4735
ابلیس کی قدیمی دشمنی ٭٭
ابلیس کی قدیمی عداوت سے انسان کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ وہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام کا کھلا دشمن تھا، اس کی اولاد برابر اسی طرح تمہاری دشمن ہے، سجدے کا حکم سن کر سب فرشتوں نے تو سر جھکا دیا لیکن اس نے تکبر جتایا، اسے حقیر سمجھا اور صاف انکار کر دیا کہ ناممکن ہے کہ میرا سر کسی مٹی سے بنے ہوئے کے سامنے جھکے، «أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ» [7-الأعراف:12] ” میں اس سے کہیں افضل ہوں، میں آگ ہوں یہ خاک ہے۔ “
پھر اس کی ڈھٹائی دیکھیئے کہ اللہ جل و علی کے دربار میں گستاخانہ لہجے سے کہتا ہے کہ اچھا اسے اگر تو نے مجھ پر فضیلت دی تو کیا ہوا میں بھی اس کی اولاد کو برباد کر کے ہی چھوڑوں گا، سب کو اپنا تابعدار بنا لوں گا اور بہکا دوں گا، بس تھوڑے سے میرے پھندے سے چھوٹ جائیں گے، باقی سب کو غارت کر دوں گا۔
صفحہ نمبر4735
شیطانی آواز کا بہکاوا ٭٭
ابلیس نے اللہ سے مہلت چاہی، اللہ تعالیٰ نے منظور فرمالی اور ارشاد ہوا کہ «قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ * إِلَىٰ يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ» [15-الحجر:37-38] ” وقت معلوم تک مہلت ہے “
تیری اور تیرے تابعداروں کی برائیوں کے بدلہ جہنم ہے، جو پوری سزا ہے۔ اپنی آواز سے جسے تو بہکا سکے بہکا لے یعنی گانے اور تماشوں سے انہیں بہکاتا پھر۔ جو بھی اللہ کی نافرمانی کی طرف بلانے والی صدا ہو وہ شیطانی آواز ہے۔ اسی طرح تو اپنے پیادے اور سوار لے کر جس پر تجھ سے حملہ ہوسکے حملہ کرلے۔ «رَجِلِ» جمع ہے «راجل» کی جیسے رکب جمع ہے راکب کی اور صحب جمع ہے صاحب کی۔ مطلب یہ ہے کہ جس قدر تجھ سے ہو سکے ان پر اپنا تسلط اور اقتدار جما۔ یہ امر قدری ہے نہ کہ حکم۔
صفحہ نمبر4737
شیطانوں کی یہی خصلت ہے کہ وہ بندگان رب کو بھڑکاتے اور بہکاتے رہتے ہیں۔ انہیں گناہوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں۔ اللہ کی معصیت میں جو سواری پر ہو اور پیدل ہو، وہ شیطانی لشکر میں ہے۔ ایسے جن بھی ہیں اور انسان بھی ہیں جو اس کے مطیع ہیں۔ جب کسی پر آوازیں اٹھائی جائیں تو عرب کہتے ہیں ”اجلب فلان علی فلان۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ گھوڑ دوڑ میں جلب نہیں، [سنن ابوداود:2581،قال الشيخ الألباني:صحیح] وہ بھی اسی سے ماخوذ ہے۔ جلبہ کا اشتقاق بھی اسی سے ہے یعنی آوازوں کا بلند ہونا۔
ان کے مال اور اولاد میں بھی تو شریک رہ۔ یعنی اللہ کی نافرمانیوں میں ان کا مال خرچ کرا، سود خوری ان سے کرا، برائی سے مال جمع کریں اور حرام کاریوں میں خرچ کریں۔ حلال جانوروں کو اپنی خواہش سے حرام قرار دیں وغیرہ۔ اولاد میں شرکت یہ ہے مثلا زناکاری جس سے اولاد ہو۔ جو اولاد بچپن میں بوجہ بیوقوفی ان کے ماں باپ نے زندہ درگور کر دی ہو یا مار ڈالی ہو یا اسے یہودی نصرانی مجوسی وغیرہ بنا دیا ہو۔ اولادوں کے نام عبد الحارث، عبد الشمس اور عبد فلاں رکھا ہو۔ غرض کسی صورت میں بھی شیطان کو اس میں داخل کیا ہو، یا اس کو ساتھ کیا ہو، یہی شیطان کی شرکت ہے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ اللہ عز و جل فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو ایک طرف موحد پیدا کیا پھر شیطان نے آکر انہیں بہکا دیا اور حلال چیزیں حرام کر دیں۔ [صحیح مسلم:2865]
صفحہ نمبر4738
بخاری و مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم میں سے جو اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے یہ پڑھ لے «اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا» ”یعنی یا اللہ تو ہمیں شیطان سے بچا اور اسے بھی جو تو ہمیں عطا فرمائے۔“ تو اگر اس میں کوئی بچہ اللہ کی طرف سے ٹھیر جائے گا تو اسے ہرگز ہرگز کبھی بھی شیطان کوئی ضرر نہ پہنچا سکے گا۔ [صحیح بخاری:141]
پھر فرماتا ہے کہ جا تو انہیں دھوکے کے جھوٹے وعدے دیا کر، چنانچہ قیامت کے دن یہ خود کہے گا کہ اللہ کے وعدے تو سب سچے تھے اور میرے وعدے سب غلط تھے۔
صفحہ نمبر4739
پھر فرماتا ہے کہ میرے مومن بندے میری حفاظت میں ہیں، میں انہیں شیطان رجیم سے بچاتا رہوں گا۔ اللہ کی وکالت اس کی حفاظت اس کی نصرت اس کی تائید بندوں کو کافی ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مومن اپنے شیطان پر اس طرح قابو پالیتا ہے جیسے وہ شخص جو کسی جانور کو لگام چڑھائے ہوئے ہو۔ [مسند احمد:380/2:ضعیف]
صفحہ نمبر4740
شیطانی آواز کا بہکاوا ٭٭
ابلیس نے اللہ سے مہلت چاہی، اللہ تعالیٰ نے منظور فرمالی اور ارشاد ہوا کہ «قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ * إِلَىٰ يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ» [15-الحجر:37-38] ” وقت معلوم تک مہلت ہے “
تیری اور تیرے تابعداروں کی برائیوں کے بدلہ جہنم ہے، جو پوری سزا ہے۔ اپنی آواز سے جسے تو بہکا سکے بہکا لے یعنی گانے اور تماشوں سے انہیں بہکاتا پھر۔ جو بھی اللہ کی نافرمانی کی طرف بلانے والی صدا ہو وہ شیطانی آواز ہے۔ اسی طرح تو اپنے پیادے اور سوار لے کر جس پر تجھ سے حملہ ہوسکے حملہ کرلے۔ «رَجِلِ» جمع ہے «راجل» کی جیسے رکب جمع ہے راکب کی اور صحب جمع ہے صاحب کی۔ مطلب یہ ہے کہ جس قدر تجھ سے ہو سکے ان پر اپنا تسلط اور اقتدار جما۔ یہ امر قدری ہے نہ کہ حکم۔
صفحہ نمبر4737
شیطانوں کی یہی خصلت ہے کہ وہ بندگان رب کو بھڑکاتے اور بہکاتے رہتے ہیں۔ انہیں گناہوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں۔ اللہ کی معصیت میں جو سواری پر ہو اور پیدل ہو، وہ شیطانی لشکر میں ہے۔ ایسے جن بھی ہیں اور انسان بھی ہیں جو اس کے مطیع ہیں۔ جب کسی پر آوازیں اٹھائی جائیں تو عرب کہتے ہیں ”اجلب فلان علی فلان۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ گھوڑ دوڑ میں جلب نہیں، [سنن ابوداود:2581،قال الشيخ الألباني:صحیح] وہ بھی اسی سے ماخوذ ہے۔ جلبہ کا اشتقاق بھی اسی سے ہے یعنی آوازوں کا بلند ہونا۔
ان کے مال اور اولاد میں بھی تو شریک رہ۔ یعنی اللہ کی نافرمانیوں میں ان کا مال خرچ کرا، سود خوری ان سے کرا، برائی سے مال جمع کریں اور حرام کاریوں میں خرچ کریں۔ حلال جانوروں کو اپنی خواہش سے حرام قرار دیں وغیرہ۔ اولاد میں شرکت یہ ہے مثلا زناکاری جس سے اولاد ہو۔ جو اولاد بچپن میں بوجہ بیوقوفی ان کے ماں باپ نے زندہ درگور کر دی ہو یا مار ڈالی ہو یا اسے یہودی نصرانی مجوسی وغیرہ بنا دیا ہو۔ اولادوں کے نام عبد الحارث، عبد الشمس اور عبد فلاں رکھا ہو۔ غرض کسی صورت میں بھی شیطان کو اس میں داخل کیا ہو، یا اس کو ساتھ کیا ہو، یہی شیطان کی شرکت ہے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ اللہ عز و جل فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو ایک طرف موحد پیدا کیا پھر شیطان نے آکر انہیں بہکا دیا اور حلال چیزیں حرام کر دیں۔ [صحیح مسلم:2865]
صفحہ نمبر4738
بخاری و مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم میں سے جو اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے یہ پڑھ لے «اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا» ”یعنی یا اللہ تو ہمیں شیطان سے بچا اور اسے بھی جو تو ہمیں عطا فرمائے۔“ تو اگر اس میں کوئی بچہ اللہ کی طرف سے ٹھیر جائے گا تو اسے ہرگز ہرگز کبھی بھی شیطان کوئی ضرر نہ پہنچا سکے گا۔ [صحیح بخاری:141]
پھر فرماتا ہے کہ جا تو انہیں دھوکے کے جھوٹے وعدے دیا کر، چنانچہ قیامت کے دن یہ خود کہے گا کہ اللہ کے وعدے تو سب سچے تھے اور میرے وعدے سب غلط تھے۔
صفحہ نمبر4739
پھر فرماتا ہے کہ میرے مومن بندے میری حفاظت میں ہیں، میں انہیں شیطان رجیم سے بچاتا رہوں گا۔ اللہ کی وکالت اس کی حفاظت اس کی نصرت اس کی تائید بندوں کو کافی ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مومن اپنے شیطان پر اس طرح قابو پالیتا ہے جیسے وہ شخص جو کسی جانور کو لگام چڑھائے ہوئے ہو۔ [مسند احمد:380/2:ضعیف]
صفحہ نمبر4740
شیطانی آواز کا بہکاوا ٭٭
ابلیس نے اللہ سے مہلت چاہی، اللہ تعالیٰ نے منظور فرمالی اور ارشاد ہوا کہ «قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ * إِلَىٰ يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ» [15-الحجر:37-38] ” وقت معلوم تک مہلت ہے “
تیری اور تیرے تابعداروں کی برائیوں کے بدلہ جہنم ہے، جو پوری سزا ہے۔ اپنی آواز سے جسے تو بہکا سکے بہکا لے یعنی گانے اور تماشوں سے انہیں بہکاتا پھر۔ جو بھی اللہ کی نافرمانی کی طرف بلانے والی صدا ہو وہ شیطانی آواز ہے۔ اسی طرح تو اپنے پیادے اور سوار لے کر جس پر تجھ سے حملہ ہوسکے حملہ کرلے۔ «رَجِلِ» جمع ہے «راجل» کی جیسے رکب جمع ہے راکب کی اور صحب جمع ہے صاحب کی۔ مطلب یہ ہے کہ جس قدر تجھ سے ہو سکے ان پر اپنا تسلط اور اقتدار جما۔ یہ امر قدری ہے نہ کہ حکم۔
صفحہ نمبر4737
شیطانوں کی یہی خصلت ہے کہ وہ بندگان رب کو بھڑکاتے اور بہکاتے رہتے ہیں۔ انہیں گناہوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں۔ اللہ کی معصیت میں جو سواری پر ہو اور پیدل ہو، وہ شیطانی لشکر میں ہے۔ ایسے جن بھی ہیں اور انسان بھی ہیں جو اس کے مطیع ہیں۔ جب کسی پر آوازیں اٹھائی جائیں تو عرب کہتے ہیں ”اجلب فلان علی فلان۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ گھوڑ دوڑ میں جلب نہیں، [سنن ابوداود:2581،قال الشيخ الألباني:صحیح] وہ بھی اسی سے ماخوذ ہے۔ جلبہ کا اشتقاق بھی اسی سے ہے یعنی آوازوں کا بلند ہونا۔
ان کے مال اور اولاد میں بھی تو شریک رہ۔ یعنی اللہ کی نافرمانیوں میں ان کا مال خرچ کرا، سود خوری ان سے کرا، برائی سے مال جمع کریں اور حرام کاریوں میں خرچ کریں۔ حلال جانوروں کو اپنی خواہش سے حرام قرار دیں وغیرہ۔ اولاد میں شرکت یہ ہے مثلا زناکاری جس سے اولاد ہو۔ جو اولاد بچپن میں بوجہ بیوقوفی ان کے ماں باپ نے زندہ درگور کر دی ہو یا مار ڈالی ہو یا اسے یہودی نصرانی مجوسی وغیرہ بنا دیا ہو۔ اولادوں کے نام عبد الحارث، عبد الشمس اور عبد فلاں رکھا ہو۔ غرض کسی صورت میں بھی شیطان کو اس میں داخل کیا ہو، یا اس کو ساتھ کیا ہو، یہی شیطان کی شرکت ہے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ اللہ عز و جل فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو ایک طرف موحد پیدا کیا پھر شیطان نے آکر انہیں بہکا دیا اور حلال چیزیں حرام کر دیں۔ [صحیح مسلم:2865]
صفحہ نمبر4738
بخاری و مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم میں سے جو اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے یہ پڑھ لے «اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا» ”یعنی یا اللہ تو ہمیں شیطان سے بچا اور اسے بھی جو تو ہمیں عطا فرمائے۔“ تو اگر اس میں کوئی بچہ اللہ کی طرف سے ٹھیر جائے گا تو اسے ہرگز ہرگز کبھی بھی شیطان کوئی ضرر نہ پہنچا سکے گا۔ [صحیح بخاری:141]
پھر فرماتا ہے کہ جا تو انہیں دھوکے کے جھوٹے وعدے دیا کر، چنانچہ قیامت کے دن یہ خود کہے گا کہ اللہ کے وعدے تو سب سچے تھے اور میرے وعدے سب غلط تھے۔
صفحہ نمبر4739
پھر فرماتا ہے کہ میرے مومن بندے میری حفاظت میں ہیں، میں انہیں شیطان رجیم سے بچاتا رہوں گا۔ اللہ کی وکالت اس کی حفاظت اس کی نصرت اس کی تائید بندوں کو کافی ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مومن اپنے شیطان پر اس طرح قابو پالیتا ہے جیسے وہ شخص جو کسی جانور کو لگام چڑھائے ہوئے ہو۔ [مسند احمد:380/2:ضعیف]
صفحہ نمبر4740
آسانیاں ہی آسانیاں ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنا احسان بتاتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی آسانی اور سہولت کے لیے اور ان کی تجارت و سفر کے لیے دریاؤں میں کشتیاں چلا دی ہیں، اس کے فضل و کرم لطف و رحم کا ایک نشان یہ بھی ہے کہ تم دور دراز ملکوں میں جا آ سکتے ہو اور خاص فضل یعنی اپنی روزیاں حاصل کر سکتے ہو۔
صفحہ نمبر4743
مصیبت ختم ہوتے ہی شرک ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہو رہا ہے کہ بندے مصیبت کے وقت تو خلوص کے ساتھ اپنے پروردگار کی طرف جھکتے ہیں اور اس سے دلی دعائیں کرنے لگتے ہیں اور جہاں وہ مصیبت اللہ تعالیٰ نے ٹال دی تو یہ آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ فتح مکہ کے وقت جب کہ ابوجہل کے لڑکے سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ حبشہ جانے کے ارادے سے بھاگے اور کشتی میں بیٹھ کر چلے، اتفاقاً کشتی طوفان میں پھنس گئی، باد مخالف کے جھونکے اسے پتے کی طرح ہلانے لگے۔
اس وقت کشتی میں جتنے کفار تھے، سب ایک دوسرے سے کہنے لگے اس وقت سواۓ اللہ تعالیٰ کے اور کوئی کچھ کام نہیں آنے گا۔ اسی کو پکارو۔ سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ کے دل میں اسی وقت خیال آیا کہ جب تری میں صرف وہی کام کر سکتا ہے تو ظاہر ہے کہ خشکی میں بھی وہی کام آ سکتا ہے۔ اے اللہ میں نذر مانتا ہوں کہ اگر تو نے مجھے اس آفت سے بچا لیا تو میں سیدھا جا کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہاتھ دے دوں گا اور یقیناً وہ مجھ پر مہربانی اور رحم و کرم فرمائیں گے۔
چنانچہ سمندر سے پار ہوتے ہی وہ سیدھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا، پھر تو اسلام کے پہلوان ثابت ہوئے۔ پس فرماتا ہے کہ سمندر کی اس مصیبت کے وقت تو اللہ کے سوا سب کو بھول جاتے ہو لیکن پھر اس کے ہٹتے ہی اللہ کی توحید ہٹا دیتے ہو اور دوسروں سے التجائیں کرنے لگتے ہو۔ انسان ہے ہی ایسا ناشکرا کہ نعمتوں کو بھلا بیٹھتا ہے بلکہ منکر ہو جاتا ہے ہاں جسے اللہ بچا لے اور توفیق خیر دے۔
صفحہ نمبر4744
اظہار قدرت و اختیار ٭٭
رب العالمین لوگوں کو ڈرا رہا ہے کہ جو تری میں تمہیں ڈبو سکتا تھا، وہ خشکی میں دھنسانے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ پھر وہاں تو صرف اسی کو پکارنا اور یہاں اس کے ساتھ اوروں کو شریک کرنا یہ کس قدر ناانصافی ہے؟ «وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ» [11-هود:82] ” وہ تو تم پر پتھروں کی بارش بھی برسا کر ہلاک کر سکتا ہے “
جیسے لوطیوں پر ہوئی تھی، جس کا بیان خود قرآن میں کئی جگہ ہے۔ سورۂ تبارک میں فرمایا کہ «أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ * أَمْ أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ» [67-الملك:16-17] ” کیا تمہیں اس اللہ کا ڈر نہیں جو آسمانوں میں ہے کہ کہیں وہ تمہیں زمین میں نہ دھنسا دے کہ یکایک زمین جنبش کرنے لگے۔ “
کیا تمہیں آسمانوں والے اللہ کا خوف نہیں کہ کہیں وہ تم پر پتھر نہ برسا دے؟ پھر جان لو کہ ڈرانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اس وقت تم نہ اپنا مددگار پاؤ گے، نہ دستگیر، نہ وکیل، نہ کار ساز، نہ نگہبان، نہ پاسبان۔
صفحہ نمبر4745
سمندر ہو یا صحرا ہر جگہ اسی کا اقتدار ہے ٭٭
ارشاد ہو رہا ہے کہ اے منکرو! سمندر میں تم میری توحید کے قائل ہوئے باہر آکر پھر انکار کر گئے، تو کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ پھر تم دوبارہ دریائی سفر کرو اور باد تند کے تھپیڑے تمہاری کشتی کو ڈگمگا دیں اور آخر ڈبو دیں اور تمہیں تمہارے کفر کا مزہ آ جائے، پھر تو کوئی مددگار کھڑا نہ ہو، نہ کوئی ایسا مل سکے کہ ہم سے تمہارا بدلہ لے۔ ہمارا پیچھا کوئی نہیں کر سکتا، کس کی مجال کہ ہمارے فعل پر انگلی اٹھائے۔
صفحہ نمبر4746
انسان پر اللہ کے انعامات ٭٭
سب سے اچھی پیدائش انسان کی ہے جیسے فرمان ہے «لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ» [95-التين:4] ” ہم نے انسان کو بہترین صفت پر پیدا کیا ہے۔ “
وہ اپنے پیروں پر سیدھا کھڑا ہوکر صحیح چال چلتا ہے، اپنے ہاتھوں سے تمیز کے ساتھ اپنی غذا کھاتا ہے اور حیوانات ہاتھ پاؤں سے چلتے ہیں منہ سے چارہ چگتے ہیں۔ پھر اسے سمجھ بوجھ دی ہے جس سے نفع نقصان بھلائی برائی سوچتا ہے، دینی دنیاوی فائدہ معلوم کر لیتا ہے۔ اس کی سواری کے لیے خشکی میں جانور چوپائے گھوڑے خچر اونٹ وغیرہ اور تری کے سفر کے لیے اسے کشتیاں بنانی سکھا دیں۔ اسے بہترین، خوشگوار اور خوش ذائقہ کھانے پینے کی چیزیں دیں۔ کھیتیاں ہیں، پھل ہیں، گوشت ہیں، دودھ ہے اور بہترین بہت سی ذائقے دار لذیذ مزیدار چیزیں۔ پھر عمدہ مکانات رہنے کو، اچھے خوشنما لباس پہننے کو، قسم قسم کے، رنگ برنگ کے، یہاں کی چیزیں وہاں اور وہاں کی چیزیں یہاں لے جانے لے آنے کے اسباب اس کے لیے مہیا کر دیئے اور مخلوق میں سے عموماً ہر ایک پر اسے برتری بخشی۔
صفحہ نمبر4747
ُاس آیت کریمہ سے امر پر استدلال کیا گیا ہے کہ انسان فرشتوں سے افضل ہے۔ زید بن اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ فرشتوں نے کہا اے اللہ تو نے اولاد آدم کو دنیا دے رکھی ہے کہ وہ کھاتے پیتے ہیں اور موج مزے کر رہے ہیں تو تو اس کے بدلے ہمیں آخرت میں ہی عطا فرما کیونکہ ہم اس دنیا سے محروم ہیں۔
اس کے جواب میں اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم اس کی نیک اولاد کو جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اس کے برابر میں ہرگز نہ کروں گا جسے میں نے کلمہ کن سے پیدا کیا ہے۔ یہ روایت مرسل ہے لیکن اور سند سے متصل بھی مروی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:126/15]
ابن عساکر میں ہے کہ فرشتوں نے کہا اے ہمارے پروردگار ہمیں بھی تو نے پیدا کیا اور بنو آدم کا خالق بھی تو ہی ہے، انہیں تو کھانا پینا دے رہا ہے، کپڑے لتے وہ پہنتے ہیں، نکاح شادیاں وہ کرتے ہیں، سواریاں ان کے لیے ہیں، راحت و آرام انہیں حاصل ہے، ان میں سے کسی چیز کے حصے دار ہم نہیں۔ خیر یہ اگر دنیا میں ان کے لیے ہے تو یہ چیزیں آخرت میں تو ہمارے لیے کر دے۔ اس کے جواب میں جناب باری تعالیٰ نے فرمایا جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اور اپنی روح جس میں میں نے پھونکی ہے اسے میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہہ دیا کہ ہو جا وہ ہو گیا۔ [طبرانی اوسط:6173:ضعیف]
طبرانی میں ہے قیامت کے دن ابن آدم سے زیادہ بزرگ اللہ کے ہاں کوئی نہ ہو گا۔ پوچھا گیا کہ فرشتے بھی نہیں؟ فرمایا فرشتے بھی نہیں وہ تو مجبور ہیں جیسے سورج چاند۔ [بیهقی فی شعب الایمان:153:ضعیف] یہ روایت بہت ہی غریب ہے۔
صفحہ نمبر4748
الکتاب ہی ہدایت و امام ہے ٭٭
امام سے مراد یہاں نبی علیہم السلام ہیں ہر امت قیامت کے دن اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ بلائی جائے گی جیسے اس آیت میں ہے «وَلِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ ۚ فَاِذَا جَاۗءَ رَسُوْلُھُمْ قُضِيَ بَيْنَھُمْ بالْقِسْطِ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [10-يونس:47] ” ہر امت کا رسول ہے، پھر جب ان کے رسول آئیں گے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ حساب کیا جائے گا۔ “
بعض سلف کا قول ہے کہ اس میں اہل حدیث کی بہت بڑی بزرگی ہے، اس لیے کہ ان کے امام نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد یہاں امام سے کتاب اللہ ہے جو ان کی شریعت کے بارے میں اتری تھی۔ ابن جریر رحمہ اللہ اس تفسیر کو بہت پسند فرماتے ہیں اور اسی کو مختار کہتے ہیں۔
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اس سے ان کی کتابیں ہیں۔ ممکن ہے کتاب سے مراد یا تو احکام کی کتاب اللہ ہو یا نامہ اعمال۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس سے مراد اعمال نامہ لیتے ہیں۔ ابوالعالیہ، حسن، ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ ترجیح والا قول ہے جیسے فرمان الٰہی ہے «وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» [36-يس:12] ” ہر چیز کا ہم نے ظاہر کتاب میں احاطہٰ کر لیا ہے۔ “
اور آیت میں ہے «وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ * هَـٰذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا ۚ وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا ۗ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا» [18-الكهف:49] ” کتاب یعنی نامہ اعمال درمیان میں رکھ دیا جائے گا، اس وقت تو دیکھے گا کہ گنہگار لوگ اس کی تحریر سے خوفزدہ ہو رہے ہوں گے۔ “ الخ
اور آیت میں ہے «وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً ۚ كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰ إِلَىٰ كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ * هَـٰذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [45-الجاثية:28-29] ” ہر امت کو تو گھٹنوں کے بل گری ہوئی دیکھے گا۔ ہر امت اپنے نامہ اعمال کی جانب بلائی جا رہی ہو گی، آج تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ یہ ہے ہماری کتاب جو تم پر حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گی جو کچھ تم کرتے رہے ہم برابر لکھتے رہتے تھے۔ “
صفحہ نمبر4749
یہ یاد رہے کہ یہ تفسیر پہلی تفسیر کے خلاف نہیں ایک طرف نامہ اعمال ہاتھ میں ہوگا دوسری جانب خود نبی علیہ السلام سامنے موجود ہوگا۔ جیسے فرمان ہے «وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْۗءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ” زمین اپنے رب کے نور سے چمکنے لگے گی نامہ اعمال رکھ دیا جائے گا اور نبیوں اور گواہوں کو موجود کر دیا جائے گا “
اور آیت میں ہے «فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۢ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا» [4-النساء:41] ” یعنی کیا کیفیت ہو گی اس وقت جب کہ ہر امت کا ہم گواہ لائیں گے اور تجھے ان تمام پر گواہ کر کے لائیں گے۔ “
لیکن مراد یہاں امام سے نامہ اعمال ہے اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ جن کے دائیں ہاتھ میں دے دیا گیا وہ تو اپنی نیکیاں فرحت و سرور، خوشی اور راحت سے پڑھنے لگیں گے بلکہ دوسروں کو دکھاتے اور پڑھواتے پھریں گے۔ اسی کا مزید بیان سورۃ الحاقہ میں ہے «فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ * إِنِّي ظَنَنتُ أَنِّي مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ * فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ * فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ * قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ * كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ * وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ * بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ * وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيَهْ» [69-الحاقة:19-26] ۔ «فَتِيلً» سے مراد لمبا دھاگہ ہے جو کھجور کی گٹھلی کے بیچ میں ہوتا ہے۔
بزار میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ایک شخص کو بلوا کر اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اس کا جسم بڑھ جائے گا، چہرہ چمکنے لگے گا، سر پر چمکتے ہوئے ہیروں کا تاج رکھ دیا جائے گا، یہ اپنے گروہ کی طرف بڑھے گا، اسے اس حال میں آتا دیکھ کر وہ سب آرزو کرنے لگیں گے کہ اے اللہ ہمیں بھی یہ عطا فرما اور ہمیں اس میں برکت دے۔ وہ آتے ہی کہے گا کہ خوش ہو جاؤ تم میں سے ہر ایک کو یہی ملنا ہے۔ لیکن کافر کا چہرہ سیاہ ہو جائے گا، اس کا جسم بڑھ جائے گا، اسے دیکھ کر اس کے ساتھی کہنے لگیں گے اللہ اسے رسوا کر، یہ جواب دے گا، اللہ تمہیں غارت کرے، تم میں سے ہر شخص کے لیے یہی اللہ کی مار ہے۔ [سنن ترمذي:3136،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس دنیا میں جس نے اللہ کی آیتوں سے اس کی کتاب سے اس کی راہ ہدایت سے چشم پوشی کی، وہ آخرت میں سچ مچ رسوا ہو گا اور دنیا سے بھی زیادہ راہ بھولا ہوا ہو گا۔
صفحہ نمبر4750
الکتاب ہی ہدایت و امام ہے ٭٭
امام سے مراد یہاں نبی علیہم السلام ہیں ہر امت قیامت کے دن اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ بلائی جائے گی جیسے اس آیت میں ہے «وَلِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ ۚ فَاِذَا جَاۗءَ رَسُوْلُھُمْ قُضِيَ بَيْنَھُمْ بالْقِسْطِ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [10-يونس:47] ” ہر امت کا رسول ہے، پھر جب ان کے رسول آئیں گے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ حساب کیا جائے گا۔ “
بعض سلف کا قول ہے کہ اس میں اہل حدیث کی بہت بڑی بزرگی ہے، اس لیے کہ ان کے امام نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد یہاں امام سے کتاب اللہ ہے جو ان کی شریعت کے بارے میں اتری تھی۔ ابن جریر رحمہ اللہ اس تفسیر کو بہت پسند فرماتے ہیں اور اسی کو مختار کہتے ہیں۔
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اس سے ان کی کتابیں ہیں۔ ممکن ہے کتاب سے مراد یا تو احکام کی کتاب اللہ ہو یا نامہ اعمال۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس سے مراد اعمال نامہ لیتے ہیں۔ ابوالعالیہ، حسن، ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ ترجیح والا قول ہے جیسے فرمان الٰہی ہے «وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» [36-يس:12] ” ہر چیز کا ہم نے ظاہر کتاب میں احاطہٰ کر لیا ہے۔ “
اور آیت میں ہے «وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ * هَـٰذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا ۚ وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا ۗ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا» [18-الكهف:49] ” کتاب یعنی نامہ اعمال درمیان میں رکھ دیا جائے گا، اس وقت تو دیکھے گا کہ گنہگار لوگ اس کی تحریر سے خوفزدہ ہو رہے ہوں گے۔ “ الخ
اور آیت میں ہے «وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً ۚ كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰ إِلَىٰ كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ * هَـٰذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [45-الجاثية:28-29] ” ہر امت کو تو گھٹنوں کے بل گری ہوئی دیکھے گا۔ ہر امت اپنے نامہ اعمال کی جانب بلائی جا رہی ہو گی، آج تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ یہ ہے ہماری کتاب جو تم پر حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گی جو کچھ تم کرتے رہے ہم برابر لکھتے رہتے تھے۔ “
صفحہ نمبر4749
یہ یاد رہے کہ یہ تفسیر پہلی تفسیر کے خلاف نہیں ایک طرف نامہ اعمال ہاتھ میں ہوگا دوسری جانب خود نبی علیہ السلام سامنے موجود ہوگا۔ جیسے فرمان ہے «وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْۗءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ” زمین اپنے رب کے نور سے چمکنے لگے گی نامہ اعمال رکھ دیا جائے گا اور نبیوں اور گواہوں کو موجود کر دیا جائے گا “
اور آیت میں ہے «فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۢ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا» [4-النساء:41] ” یعنی کیا کیفیت ہو گی اس وقت جب کہ ہر امت کا ہم گواہ لائیں گے اور تجھے ان تمام پر گواہ کر کے لائیں گے۔ “
لیکن مراد یہاں امام سے نامہ اعمال ہے اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ جن کے دائیں ہاتھ میں دے دیا گیا وہ تو اپنی نیکیاں فرحت و سرور، خوشی اور راحت سے پڑھنے لگیں گے بلکہ دوسروں کو دکھاتے اور پڑھواتے پھریں گے۔ اسی کا مزید بیان سورۃ الحاقہ میں ہے «فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ * إِنِّي ظَنَنتُ أَنِّي مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ * فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ * فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ * قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ * كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ * وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ * بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ * وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيَهْ» [69-الحاقة:19-26] ۔ «فَتِيلً» سے مراد لمبا دھاگہ ہے جو کھجور کی گٹھلی کے بیچ میں ہوتا ہے۔
بزار میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ایک شخص کو بلوا کر اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اس کا جسم بڑھ جائے گا، چہرہ چمکنے لگے گا، سر پر چمکتے ہوئے ہیروں کا تاج رکھ دیا جائے گا، یہ اپنے گروہ کی طرف بڑھے گا، اسے اس حال میں آتا دیکھ کر وہ سب آرزو کرنے لگیں گے کہ اے اللہ ہمیں بھی یہ عطا فرما اور ہمیں اس میں برکت دے۔ وہ آتے ہی کہے گا کہ خوش ہو جاؤ تم میں سے ہر ایک کو یہی ملنا ہے۔ لیکن کافر کا چہرہ سیاہ ہو جائے گا، اس کا جسم بڑھ جائے گا، اسے دیکھ کر اس کے ساتھی کہنے لگیں گے اللہ اسے رسوا کر، یہ جواب دے گا، اللہ تمہیں غارت کرے، تم میں سے ہر شخص کے لیے یہی اللہ کی مار ہے۔ [سنن ترمذي:3136،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس دنیا میں جس نے اللہ کی آیتوں سے اس کی کتاب سے اس کی راہ ہدایت سے چشم پوشی کی، وہ آخرت میں سچ مچ رسوا ہو گا اور دنیا سے بھی زیادہ راہ بھولا ہوا ہو گا۔
صفحہ نمبر4750
باب
مکار و فجار کی چالاکیوں سے اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے رسول کو بچاتا رہا، آپ کو معصوم اور ثابت قدم ہی رکھا، خود ہی آپ کا ولی و ناصر رہا، اپنی ہی حفاظت اور صیانت میں ہمیشہ آپ کو رکھا، آپ کی تائید اور نصرت برابر کرتا رہا، آپ کے دین کو دنیا کے تمام دینوں پر غالب کر دیا، آپ کے مخالفین کے بلند بانگ ارادوں کو پست کر دیا، مشرق سے مغرب تک آپ کا کلمہ پھیلا دیا، اسی کا بیان ان دونوں آیتوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ پر قیامت تک بےشمار درود و سلام بھیجتا رہے۔ آمین۔
صفحہ نمبر4752
باب
مکار و فجار کی چالاکیوں سے اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے رسول کو بچاتا رہا، آپ کو معصوم اور ثابت قدم ہی رکھا، خود ہی آپ کا ولی و ناصر رہا، اپنی ہی حفاظت اور صیانت میں ہمیشہ آپ کو رکھا، آپ کی تائید اور نصرت برابر کرتا رہا، آپ کے دین کو دنیا کے تمام دینوں پر غالب کر دیا، آپ کے مخالفین کے بلند بانگ ارادوں کو پست کر دیا، مشرق سے مغرب تک آپ کا کلمہ پھیلا دیا، اسی کا بیان ان دونوں آیتوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ پر قیامت تک بےشمار درود و سلام بھیجتا رہے۔ آمین۔
صفحہ نمبر4752
باب
مکار و فجار کی چالاکیوں سے اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے رسول کو بچاتا رہا، آپ کو معصوم اور ثابت قدم ہی رکھا، خود ہی آپ کا ولی و ناصر رہا، اپنی ہی حفاظت اور صیانت میں ہمیشہ آپ کو رکھا، آپ کی تائید اور نصرت برابر کرتا رہا، آپ کے دین کو دنیا کے تمام دینوں پر غالب کر دیا، آپ کے مخالفین کے بلند بانگ ارادوں کو پست کر دیا، مشرق سے مغرب تک آپ کا کلمہ پھیلا دیا، اسی کا بیان ان دونوں آیتوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ پر قیامت تک بےشمار درود و سلام بھیجتا رہے۔ آمین۔
صفحہ نمبر4752
وطنی عصبیت اور یہودی ٭٭
کہتے ہیں کہ یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ آپ کو ملک شام چلا جانا چاہیئے وہی نبیوں کا وطن ہے اس شہر مدینہ کو چھوڑ دینا چاہیئے اس پر یہ آیت اتری۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے اس لیے کہ یہ آیت مکی ہے اور مدینے میں آپ کی رہائش اس کے بعد ہوئی ہے۔ کہتے ہیں کہ تبوک کے بارے میں یہ آیت اتری ہے، یہودیوں کے کہنے سے کہ شام جو نبیوں کی اور محشر کی زمین ہے آپ کو وہیں رہنا چاہیئے، اگر آپ سچے پیغمبر ہیں تو وہاں چلے جائیں، آپ نے انہیں ایک حد تک سچا سمجھا۔
غزوہ تبوک سے آپ کی نیت یہی تھی لیکن تبوک پہنچتے ہی سورۃ بنی اسرائیل کی آیتیں اتریں، اس کے بعد کہ سورت ختم کر دی گئی تھی آیت «وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا * سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِن رُّسُلِنَا ۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا» [17-الإسراء:77] تک اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو مدینے کی واپسی کا حکم دیا اور فرمایا وہیں آپ کی موت و زیست اور وہیں سے دوبارہ اٹھ کر کھڑا ہونا ہے۔ [الدر المنشور للسیوطی:353/4]
صفحہ نمبر4755
لیکن اس کی سند بھی غور طلب ہے اور صاف ظاہر ہے کہ یہ واقعہ بھی ٹھیک نہیں، تبوک کا غزوہ یہود کے کہنے سے نہ تھا بلکہ اللہ کا فرمان موجود ہے آیت «ا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ الْكُفَّارِ» [9-التوبة:123] ” جو کفار تمہارے اردگرد ہیں ان سے جہاد کرو۔ “
اور آیت میں ہے کہ «قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ» [9-التوبة:29] ” جو اللہ پر اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے اللہ رسول کے حرام کردہ کو حرام نہیں سمجھتے اور حق کو قبول نہیں کرتے ایسے اہل کتاب سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو یہاں تک کہ وہ ذلت کے ساتھ جزیہ دینا منظور کر لیں۔ “
اور اس غزوے کی وجہ یہ تھی کہ آپ کے جو اصحاب جنگ موتہ میں شہید کر دئے گئے تھے ان کا بدلہ لیا جائے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور اگر مندرجہ بالا واقعہ صحیح ہو جائے تو اسی پر وہ حدیث محمول کی جائے گی، جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «أنزل القرآن في ثلاثة أمكنة: مكة، والمدينة، والشام» مکہ، مدینہ اور شام میں قرآن نازل ہوا ہے۔ ولید تو اس کی شرح میں لکھتے ہیں کہ شام سے مراد بیت المقدس ہے۔ [طبرانی کبیر:7718:ضعیف] لیکن شام سے مراد تبوک کیوں نہ لیا جائے جو بالکل صاف اور بہت درست ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر4756
ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد کافروں کا وہ ارادہ ہے جو انہوں نے مکے سے جلا وطن کرنے کے بارے میں کیا تھا چنانچہ یہی ہوا بھی کہ جب انہوں نے آپ کو نکالا۔ پھر یہ بھی وہاں زیادہ مدت نہ گزار سکے، اللہ تعالیٰ نے فوراً ہی آپ کو غالب کیا۔ ڈیڑھ سال ہی گزرا تھا کہ بدر کی لڑائی بغیر کسی تیاری اور اطلاع کے اچانک ہو گئی اور وہیں کافروں کا اور کفر کا دھڑ ٹوٹ گیا، ان کے شریف و رئیس تہ تیغ ہوئے، ان کی شان و شوکت خاک میں مل گئی، ان کے سردار قید میں آ گئے۔
پس فرمایا کہ یہی عادت پہلے سے جاری ہے۔ سابقہ رسولوں کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ کفار نے جب انہیں تنگ کیا اور دیس سے نکال دیا پھر وہ بچ نہ سکے، عذاب اللہ نے انہیں غارت اور بے نشان کردیا۔ ہاں چونکہ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم رسول رحمت تھے، اس لیے کوئی آسمانی عام عذاب ان کافروں پر نہ آیا۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّـهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ» [8-الأنفال:33 ] ” یعنی تیری موجودگی میں اللہ انہیں عذاب نہ کرے گا۔ “
صفحہ نمبر4757
وطنی عصبیت اور یہودی ٭٭
کہتے ہیں کہ یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ آپ کو ملک شام چلا جانا چاہیئے وہی نبیوں کا وطن ہے اس شہر مدینہ کو چھوڑ دینا چاہیئے اس پر یہ آیت اتری۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے اس لیے کہ یہ آیت مکی ہے اور مدینے میں آپ کی رہائش اس کے بعد ہوئی ہے۔ کہتے ہیں کہ تبوک کے بارے میں یہ آیت اتری ہے، یہودیوں کے کہنے سے کہ شام جو نبیوں کی اور محشر کی زمین ہے آپ کو وہیں رہنا چاہیئے، اگر آپ سچے پیغمبر ہیں تو وہاں چلے جائیں، آپ نے انہیں ایک حد تک سچا سمجھا۔
غزوہ تبوک سے آپ کی نیت یہی تھی لیکن تبوک پہنچتے ہی سورۃ بنی اسرائیل کی آیتیں اتریں، اس کے بعد کہ سورت ختم کر دی گئی تھی آیت «وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا * سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِن رُّسُلِنَا ۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا» [17-الإسراء:77] تک اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو مدینے کی واپسی کا حکم دیا اور فرمایا وہیں آپ کی موت و زیست اور وہیں سے دوبارہ اٹھ کر کھڑا ہونا ہے۔ [الدر المنشور للسیوطی:353/4]
صفحہ نمبر4755
لیکن اس کی سند بھی غور طلب ہے اور صاف ظاہر ہے کہ یہ واقعہ بھی ٹھیک نہیں، تبوک کا غزوہ یہود کے کہنے سے نہ تھا بلکہ اللہ کا فرمان موجود ہے آیت «ا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ الْكُفَّارِ» [9-التوبة:123] ” جو کفار تمہارے اردگرد ہیں ان سے جہاد کرو۔ “
اور آیت میں ہے کہ «قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ» [9-التوبة:29] ” جو اللہ پر اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے اللہ رسول کے حرام کردہ کو حرام نہیں سمجھتے اور حق کو قبول نہیں کرتے ایسے اہل کتاب سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو یہاں تک کہ وہ ذلت کے ساتھ جزیہ دینا منظور کر لیں۔ “
اور اس غزوے کی وجہ یہ تھی کہ آپ کے جو اصحاب جنگ موتہ میں شہید کر دئے گئے تھے ان کا بدلہ لیا جائے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور اگر مندرجہ بالا واقعہ صحیح ہو جائے تو اسی پر وہ حدیث محمول کی جائے گی، جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «أنزل القرآن في ثلاثة أمكنة: مكة، والمدينة، والشام» مکہ، مدینہ اور شام میں قرآن نازل ہوا ہے۔ ولید تو اس کی شرح میں لکھتے ہیں کہ شام سے مراد بیت المقدس ہے۔ [طبرانی کبیر:7718:ضعیف] لیکن شام سے مراد تبوک کیوں نہ لیا جائے جو بالکل صاف اور بہت درست ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر4756
ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد کافروں کا وہ ارادہ ہے جو انہوں نے مکے سے جلا وطن کرنے کے بارے میں کیا تھا چنانچہ یہی ہوا بھی کہ جب انہوں نے آپ کو نکالا۔ پھر یہ بھی وہاں زیادہ مدت نہ گزار سکے، اللہ تعالیٰ نے فوراً ہی آپ کو غالب کیا۔ ڈیڑھ سال ہی گزرا تھا کہ بدر کی لڑائی بغیر کسی تیاری اور اطلاع کے اچانک ہو گئی اور وہیں کافروں کا اور کفر کا دھڑ ٹوٹ گیا، ان کے شریف و رئیس تہ تیغ ہوئے، ان کی شان و شوکت خاک میں مل گئی، ان کے سردار قید میں آ گئے۔
پس فرمایا کہ یہی عادت پہلے سے جاری ہے۔ سابقہ رسولوں کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ کفار نے جب انہیں تنگ کیا اور دیس سے نکال دیا پھر وہ بچ نہ سکے، عذاب اللہ نے انہیں غارت اور بے نشان کردیا۔ ہاں چونکہ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم رسول رحمت تھے، اس لیے کوئی آسمانی عام عذاب ان کافروں پر نہ آیا۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّـهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ» [8-الأنفال:33 ] ” یعنی تیری موجودگی میں اللہ انہیں عذاب نہ کرے گا۔ “
صفحہ نمبر4757
اوقات صلوۃ کی نشاندہی ٭٭
نمازوں کو وقتوں کی پابندی کے ساتھ ادا کرنے کا حکم ہو رہا ہے، «دُلُوكِ» سے مراد غروب ہے یا زوال ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ زوال کے قول کو پسند فرماتے ہیں اور اکثر مفسرین کا قول بھی یہی ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ کے ساتھ ان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جنہیں آپ نے چاہا دعوت کی، کھانا کھاکر سورج ڈھل جانے کے بعد آپ میرے ہاں سے چلے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا، چلو یہی وقت «دُلُوكِ» شمس کا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22583:ضعیف]
پس پانچوں نمازوں کا وقت اس آیت میں بیان ہو گیا۔ «غَسَقِ» سے مراد اندھیرا ہے۔ جو کہتے ہیں کہ «دُلُوكِ» سے مراد غروب ہے، ان کے نزدیک ظہر عصر مغرب عشاء کا بیان تو اس میں ہے اور فجر کا بیان «وَقُرْآنَ الْفَجْرِ» میں ہے۔ حدیث سے بہ تواتر اقوال و افعال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پانچوں نمازوں کے اوقات ثابت ہیں اور مسلمان بحمد للہ اب تک اس پر ہیں، ہر پچھلے زمانے کے لوگ اگلے زمانے والوں سے برابر لیتے چلے آتے ہیں۔ جیسے کہ ان مسائل کے بیان کی جگہ اس کی تفصیل موجود ہے «والْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
صفحہ نمبر4759
صبح کی تلاوت قرآن پر دن اور رات کے فرشتے آتے ہیں۔ [سنن ترمذي:3135،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صحیح بخاری شریف میں ہے تنہا شخص کی نماز پر جماعت کی نماز پچیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ صبح کی نماز کے وقت دن اور رات کے فرشتے اکٹھے ہوتے ہیں۔ اسے بیان فرما کر راوی حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم قرآن کی آیت کو پڑھ لو وقران الفجر الخ۔ [صحیح بخاری:648]
بخاری و مسلم میں ہے کہ رات کے اور دن کے فرشتے تم میں برابر پے در پے آتے رہتے ہیں، صبح کی اور عصر کی نماز کے وقت ان کا اجتماع ہو جاتا ہے۔ تم میں جن فرشتوں نے رات گزاری وہ جب چڑھ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرماتا ہے، باوجود یہ کہ وہ ان سے زیادہ جاننے والا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم ان کے پاس پہنچے تو انہیں نماز میں پایا اور واپس آئے تو نماز میں چھوڑ کر آئے۔ [صحیح بخاری:555]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ چوکیدار فرشتے صبح کی نماز میں جمع ہوتے ہیں پھر یہ چڑھ جاتے ہیں اور وہ ٹھیر جاتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک حدیث میں اللہ تعالیٰ کے نزول فرمانے اور اس ارشاد فرمانے کا ذکر کیا ہے کہ کوئی ہے؟ جو مجھ سے استغفار کرے اور میں اسے بخشوں۔ کوئی ہے؟ کہ مجھ سے سوال کرے اور میں اسے دوں۔ کوئی ہے؟ جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا کو قبول کروں۔ یہاں تک کہ صبح طلوع ہو جاتی ہے پس اس وقت پر اللہ تعالیٰ موجود ہوتا ہے اور رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22595:ضعیف]
صفحہ نمبر4760
پھر اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تہجد کی نماز کا حکم فرماتا ہے، فرضوں کا تو حکم ہے ہی۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ فرض نماز کے بعد کون سی نماز افضل ہے؟ آپ نے فرمایا رات کی نماز۔ [صحیح مسلم:1163]
تہجد کہتے ہیں نیند کے بعد کی نماز کو، لغت میں مفسرین کی تفسیروں میں اور حدیث میں یہ موجود ہے، آپ کی عادت بھی یہی تھی کہ سو کر اٹھتے پھر تہجد پڑھتے۔ جیسے کہ اپنی جگہ بیان موجود ہے۔ ہاں حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ جو نماز عشاء کے بعد ہو ممکن ہے کہ اس سے بھی مراد سو جانے کے بعد ہو۔ پھر فرمایا یہ زیادتی تیرے لیے ہے۔ بعض تو کہتے ہیں، تہجد کی نماز اوروں کے برخلاف صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض تھی۔
بعض کہتے ہیں یہ خصوصیت اس وجہ سے ہے کہ آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف تھے اور امتیوں کی اس نماز کے وجہ سے ان کے گناہ دور ہو جاتے ہیں۔ ہمارے اس حکم کی بجا آوری پر ہم تجھے اس جگہ کھڑا کریں گے کہ جہاں کھڑا ہونے پر تمام مخلوق آپ کی تعریفیں کرے گی اور خود خالق اکبر بھی۔ کہتے ہیں کہ مقام محمود پر قیامت کے دن آپ اپنی امت کی شفاعت کے لیے جائیں گے تاکہ اس دن کی گھبراہٹ سے آپ انہیں راحت دیں۔
صفحہ نمبر4761
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، لوگ ایک ہی میدان میں جمع کئے جائیں گے، پکارنے والا اپنی آواز انہیں سنائے گا، آنکھیں کھل جائیں گی، ننگے پاؤں ننگے بدن ہوں گے، جیسے کہ پیدا کئے گئے تھے، سب کھڑے ہوں گے، کوئی بھی بغیر اجازت الٰہی بات نہ کر سکے گا، آواز آئے گی، اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کہیں گے «لبیک وسعدیک» ۔
اے اللہ تمام بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے۔ برائی تیری جانب سے نہیں۔ راہ یافتہ وہی ہے جسے تو ہدایت بخشے، تیرا غلام تیرے سامنے موجود ہے، وہ تیری ہی مدد سے قائم ہے، وہ تیری ہی جانب جھکنے والا ہے۔ تیری پکڑ سے سوائے تیرے دربار کے اور کوئی پناہ نہیں، تو برکتوں اور بلندیوں والا ہے، اے رب البیت تو پاک ہے۔
صفحہ نمبر4762
مقام محمود کا تعارف ٭٭
یہ مقام محمود ہے جس کا ذکر اللہ عز و جل نے اس آیت میں کیا ہے۔ پس یہ مقام مقام شفاعت ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں قیامت کے دن سب سے پہلے زمین سے آپ باہر آئیں گے۔ اور سب سے پہلے شفاعت آپ ہی کریں گے۔ اہل علم کہتے ہیں کہ یہی مقام محمود ہے جس کا وعدہ اللہ کریم نے اپنے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے۔ بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سی بزرگیاں ایسی ملیں گی جن میں کوئی آپ کی برابری کا نہیں۔
سب سے پہلے آپ ہی کی قبر کی زمین شق ہو گی اور آپ سواری پر سوار محشر کی طرف جائیں گے۔ آپ کا ایک جھنڈا ہو گا کہ آدم علیہ السلام سے لے کر سب کے سب اس کے نیچے ہوں گے۔ آپ کو حوض کوثر ملے گا جس پر سب سے زیادہ لوگ وارد ہوں گے۔ بہت بڑی شفاعت آپ کی ہو گی کہ اللہ عز و جل مخلوق کے فیصلوں کے لیے آئے۔ اور یہ اس کے بعد ہو گی کہ لوگ آدم علیہ السلام، نوح علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے پاس ہو آئیں اور سب انکار کر دیں۔ پھر آپ کے پاس آئیں گے اور آپ اس کے لیے تیار ہوں گے جیسے کہ اس کی حدیثیں مفصل آ رہی ہیں، ان شاءاللہ۔
صفحہ نمبر4763
آپ ان لوگوں کی شفاعت کریں گے جن کی بابت حکم ہو چکا ہو گا کہ انہیں جہنم کی طرف لے جائیں۔ پھر وہ آپ کی شفاعت سے واپس لوٹا دیئے جائیں گے، سب سے پہلے آپ ہی کی امت کے فیصلے کیے جائیں گے، آپ ہی اپنی امت سمیت سب سے پہلے پل صراط سے پار ہوں گے، آپ ہی جنت میں لے جانے کے پہلے سفارشی ہوں گے۔
جیسے کہ صحیح مسلم کی حدیث سے ثابت ہے۔ صور کی حدیث میں ہے کہ تمام مومن آپ ہی کی شفاعت سے جنت میں جائیں گے۔ سب سے پہلے آپ جنت میں جائیں گے اور آپ کی امت اور امتوں سے پہلے جائے گی۔ آپ کی شفاعت سے کم درجے کے جنتی اعلی اور بلند درجے پائیں گے۔ آپ ہی صاحب وسیلہ ہیں جو جنت کی سب سے اعلی منزل ہے جو آپ کے سوا کسی اور کو نہیں ملنے کی۔
یہ صحیح ہے کہ بحکم الٰہی گنہگاروں کی شفاعت فرشتے بھی کریں گے، نبی بھی کریں گے، مومن بھی کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت جس قدر لوگوں کے بارے میں ہوگی ان کی گنتی کا سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو علم نہیں، اس میں کوئی آپ کی مثل اور برابر نہیں۔ کتاب السیرت کے آخر میں باب الخصائص میں میں نے اسے خوب تفصیل سے بیان کیا ہے، «والْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
صفحہ نمبر4764
اب مقام محمود کے بارے کی حدیثیں سنئے۔ اللہ ہماری مدد کرے۔ بخاری میں ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں لوگ قیامت کے دن گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے، ہر امت اپنے نبی کے پیچھے ہو گی کہ اے فلاں ہماری شفاعت کیجئے، اے فلاں ہماری شفاعت کیجئے یہاں تک کہ شفاعت کی انتہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہوگی۔ پس یہی وہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود پر کھڑا کرے گا۔ [صحیح بخاری:4718]
ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سورج بہت نزدیک ہوگا یہاں تک کہ پسینہ آدھے کانوں تک پہنچ جائے گا، اسی حالت میں لوگ آدم علیہ السلام سے فریاد کریں گے، وہ صاف انکار کر دیں گے، پھر موسیٰ علیہ السلام سے کہیں گے آپ یہی جواب دیں گے کہ میں اس قابل نہیں، پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہیں گے آپ مخلوق کی شفاعت کے لیے چلیں گے یہاں تک کہ جنت کے دروازے کا کنڈا تھام لیں گے، پس اس دن اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود پر پہنچائے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22637]
صفحہ نمبر4765
بخاری کی اس روایت کے آخر میں یہ بھی ہے کہ اہل محشر سب کے سب اس وقت آپ کی تعریفیں کریں گے۔ [صحیح بخاری:1475]
بخاری میں ہے» جو شخص اذان سن کر دعا «اَللّٰهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّآمَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَآئِمَةِ اٰتِ سَيِدَنَا مُحَمَّدَ نِ الْوَسِيْلَةَ وَالْفَضِيْلَةَ وَالدَّرَجَةَ الرَّفِيْعَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَّحْمُوْدَ نِ الَّذِيْ وَعَدْتَّهُ وَارْزُقْنَا شَفَاعَتَهُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ط اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ» پڑھ لے اس کے لیے قیامت کے دن میری شفاعت حلال ہے۔ [صحیح بخاری:614]
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے دن میں نبیوں کا امام اور ان کا خطیب اور ان کا سفارشی ہوں گا، میں یہ کچھ بطور فخر کے نہیں کہتا۔ [سنن ترمذي:3613،قال الشيخ الألباني:حسن] اسے ترمذی بھی لائے ہیں اور حسن صحیح کہا ہے۔
ابن ماجہ میں بھی یہ ہے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے وہ حدیث گزر چکی ہے جس میں قرآن کو سات قرأتوں پر پڑھنے کا بیان ہے، اس کے آخر میں ہے کہ میں ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے کہا اے اللہ میری امت کو بخش، الٰہی میری امت کو بخش، تیسری دعا میں نے اس دن کے لیے اٹھا رکھی ہے، جس دن تمام مخلوق میری طرف رغبت کرے گی، یہاں تک کہ ابراہیم علیہ السلام بھی۔ [صحیح مسلم:820]
صفحہ نمبر4766
مسند احمد میں ہے کہ مومن قیامت کے دن جمع ہوں گے، پھر ان کے دل میں خیال ڈالا جائے گا کہ ہم کسی سے کہیں کہ وہ ہماری سفارش کرکے ہمیں اس جگہ سے آرام دے، پس سب کے سب آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے آدم آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، آپ کے لیے اپنے فرشتوں سے سجدہ کرایا، آپ کو تمام چیزوں کے نام بتائے، آپ اپنے رب کے پاس ہماری سفارش لے جائیے تاکہ ہمیں اس جگہ سے راحت ملے، آدم علیہ السلام جواب دیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں، آپ کو اپنا گناہ یاد آ جائے گا اور اللہ تعالیٰ سے شرمانے لگیں گے۔ فرمائیں گے تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے پہلے رسول ہیں جنہیں زمین والوں کی طرف اللہ پاک نے بھیجا، یہ آئیں گے یہاں سے بھی جواب پائیں گے کہ میں اس کے لائق نہیں ہوں، آپ کو بھی اپنی خطا یاد آئے گی کہ اللہ سے وہ سوال کیا تھا جس کا آپ کو علم نہ تھا۔ پس اپنے پروردگار سے شرمائیں گے اور فرمائیں گے تم ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ آپ کے پاس آئیں گے آپ فرمائیں گے، میں اس قابل نہیں تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، ان سے اللہ نے کلام کیا ہے اور انہیں تورات دی ہے۔ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے لیکن وہ کہیں گے مجھ میں اتنی قابلیت کہاں؟ پھر آپ اس قتل کا ذکر کریں گے جو بغیر کسی مقتول کے معاوضے کے آپ نے کر دیا تھا پس بوجہ اس کے شرمانے لگیں گے اور کہیں گے تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کے بندے، اس کا کلمہ اور اس کی روح ہے۔ وہ یہاں آئیں گے لیکن آپ فرمائیں گے میں اس جگہ کے قابل نہیں ہوں۔ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ جن کے اول آخر تمام گناہ بخش دئے گئے ہیں۔
صفحہ نمبر4767
پس وہ سب میرے پاس آئیں گے۔ میں کھڑا ہوں گا، اپنے رب سے اجازت چاہوں گا، جب اسے دیکھوں گا تو سجدے میں گر پڑوں گا، جب تک اللہ کو منظور ہوگا میں سجدے میں ہی رہوں گا۔ پھر فرمایا جائے گا، اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سر اٹھائیے، کہئے سنا جائے گا، شفاعت کیجئے قبول کی جائے گی، مانگئے دیا جائے گا، پس میں سر اٹھاؤں گا اور اللہ کی وہ تعریفیں کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ پھر میں سفارش پیش کروں گا، میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی، میں انہیں جنت میں پہنچا آؤں گا۔ پھر دوبارہ جناب باری میں حاضر ہو کر اپنے رب کو دیکھ کر سجدے میں گر پڑوں گا، جب تک وہ چاہے مجھے سجدے میں ہی رہنے دے گا۔ پھر فرمایا جائے گا کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سر اٹھاؤ، کہو سنا جائے گا، سوال کرو دیا جائے گا، شفاعت کرو قبول ہو گی۔ پس میں سر اٹھا کر اپنے رب کی وہ حمد بیان کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا، پھر میں شفاعت کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی میں انہیں بھی جنت میں پہنچا آؤں گا۔ پھر تیسری مرتبہ لوٹوں گا اپنے رب کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑوں گا، جب تک وہ چاہے اسی حالت میں پڑا رہوں گا، پھر فرمایا جائے گا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سر اٹھا، بات کر سنی جائے گی۔ سوال کر عطا فرمایا جائے گا۔ سفارش کر قبول کی جائے گی۔ چنانچہ میں سر اٹھا کر وہ حمد بیان کرکے جو مجھے وہی سکھائے گا سفارش کروں گا۔ پھر چوتھی بار واپس آؤں گا اور کہوں گا باری تعالیٰ اب تو صرف وہی باقی رہ گئے ہیں جنہیں قرآن نے روک لیا ہے۔ فرماتے ہیں، جہنم میں سے وہ شخص بھی نکل آئے گا جس نے «لا الہ الا اللہ» کہا اور اس کے دل میں ایک ذرے جتنا ایمان ہو۔ [صحیح بخاری:4476] یہ حدیث مسلم میں بھی ہے۔
صفحہ نمبر4768
مسند احمد میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری امت پل صراط سے گزر رہی ہو گی، میں وہیں کھڑا دیکھ رہا ہوں گا کہ میرے پاس عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے اور فرمائیں گے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء کی جماعت آپ سے کچھ مانگتی ہے، وہ سب آپ کے لیے جمع ہیں اور اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ تمام امتوں کو جہاں بھی چاہے، الگ الگ کر دے، اس وقت وہ سخت غم میں ہیں، تمام مخلوق پسینوں میں گویا لگام چڑھا دی گئی ہے۔ مومن پر تو وہ مثل زکام کے ہے لیکن کافر پر تو موت کا ڈھانپ لینا ہے۔ آپ فرمائیں گے کہ ٹھیرو میں آتا ہوں، پس آپ جائیں گے عرش تلے کھڑے رہیں گے اور وہ عزت و آبرو ملے گی کہ کسی برگزیدہ فرشتے اور کسی بھیجے ہوئے نبی رسول علیہم السلام کو نہ ملی ہو، پھر اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام کی طرف وحی کرے گا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤ اور کہو کہ آپ سر اٹھائیے، مانگئے، ملے گا، سفارش کیجئے، قبول ہوگی، پس مجھے اپنی امت کی شفاعت ملے گی کہ ہر ننانوے میں سے ایک نکال لاؤں، میں باربار اپنے رب عز و جل کی طرف آتا جاتا رہوں گا اور ہر بار سفاش کروں گا، یہاں تک کہ جناب باری مجھ سے ارشاد فرمائے گا کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جاؤ مخلوق الٰہی میں سے جس نے ایک دن بھی خلوص کے ساتھ «لا الہ الا اللہ» کی گواہی دی ہو اور اسی پر مرا ہو، اسے بھی جنت میں پہنچا آؤ۔ [مسند احمد:178/3:صحیح]
صفحہ نمبر4769
مسند احمد میں ہے سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، اس وقت ایک شخص کچھ کہہ رہا تھا، انہوں نے بھی کچھ کہنے کی اجازت مانگی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اجازت دی۔ آپ کا خیال یہ تھا کہ جو کچھ یہ پہلا شخص کہہ رہا ہے وہی سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بھی کہیں گے۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ زمین پر جتنے درخت اور کنکر ہیں، ان کی گنتی کے برابر لوگوں کی شفاعت میں کروں گا، پس اے معاویہ (رضی اللہ عنہ) آپ کو تو اس کی امید ہو اور علی (رضی اللہ عنہ) اس سے ناامید ہوں؟ [مسند احمد:437/5:ضعیف]
صفحہ نمبر4770
مسند احمد میں ہے کہ ملیکہ کے دونوں لڑکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے ہماری ماں ہمارے والد کی بڑی ہی عزت کرتی تھیں، بچوں پر بڑی مہربانی اور شفقت کرتی تھیں، مہمانداری میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھتی تھیں۔ ہاں انہوں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی زندہ لڑکیاں درگور کر دی تھیں، آپ نے فرمایا پھر وہ جہنم میں پہنچی۔ وہ دونوں ملول خاطر ہو کر لوٹے تو آپ نے حکم دیا کہ انہیں واپس بلا لاؤ وہ لوٹے اور ان کے چہروں پر خوشی تھی کہ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی اچھی بات سنائیں گے۔ آپ نے فرمایا سنو میری ماں اور تمہاری ماں دونوں ایک ساتھ ہی ہیں، ایک منافق یہ سن کر کہنے لگا کہ اس سے اس کی ماں کو کیا فائدہ؟ ہم اس کے پیچھے جاتے ہیں۔ ایک انصاری جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ سوالات کرنے کا عادی تھا، کہنے لگایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس کے یا ان دونوں کے بارے میں آپ سے اللہ تعالیٰ نے کوئی وعدہ کیا ہے؟ آپ سمجھ گئے کہ اس نے کچھ سنا ہے، فرمانے لگے نہ میرے رب نے چاہا نہ مجھے اس بارے میں کوئی طمع دی۔
صفحہ نمبر4771
سنو میں قیامت کے دن مقام محمود پر پہنچایا جاؤں گا۔ انصاری نے کہا وہ کیا مقام ہے؟ آپ نے فرمایا یہ اس وقت جب کہ تمہیں ننگے بدن بے ختنہ لایا جائے گا۔ سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے خلیل کو کپڑے پہناؤ۔ پس دو چادریں سفید رنگ کی پہنائی جائیں گی اور آپ عرش کی طرف منہ کئے بیٹھ جائیں گے۔ پھر میرا لباس لایا جائے گا، میں ان کی دائیں طرف اس جگہ کھڑا ہوں گا کہ تمام اگلے پچھلے لوگ رشک کریں گے اور کوثر سے لے کر حوض تک ان کے لیے کھول دیا جائے گا، منافق کہنے لگے پانی کے جاری ہونے کے لیے تو مٹی اور کنکر لازمی ہیں، آپ نے فرمایا اس کی مٹی مشک ہے اور کنکر موتی ہیں۔ اس نے کہا، ہم نے تو کبھی ایسا نہیں سنا۔ اچھا پانی کے کنارے درخت بھی ہونے چاہیئں۔ انصاری نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا وہاں درخت بھی ہوں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں سونے کی شاخوں والے۔ منافق نے کہا آج جیسی بات تو ہم نے کبھی نہیں سنی۔ اچھا درختوں میں پتے اور پھل بھی ہونے چاہئیں۔ انصاری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ان درختوں میں پھل بھی ہوں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں رنگا رنگ کے جواہر، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہوگا اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا۔ ایک گھونٹ بھی جس نے اس میں سے پی لیا، وہ کبھی بھی پیاسا نہ ہوگا اور جو اس سے محروم رہ گیا، وہ پھر کبھی آسودہ نہ ہو گا۔ [مسند احمد:398/1:ضعیف]
ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ عز و جل شفاعت کی اجازت دے گا، پس روح القدس جبرائیل علیہ السلام کھڑے ہوں گے، پھر ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کھڑے ہوں گے، پھر عیسیٰ یا موسیٰ علیہم السلام کھڑے ہوں گے، پھر چوتھے تمہارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوں گے، آپ سے زیادہ کسی کی شفاعت نہ ہوگی، یہی مقام محمود ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:144/15:ضعیف]
صفحہ نمبر4772
مسند احمد میں ہے کہ لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے، میں ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی امت سمیت ایک ٹیلے پر کھڑا ہوں گا، مجھے اللہ تعالیٰ سبز رنگ کا حلہ پہنائے گا، پھر مجھے اجازت دی جائے گی اور جو کچھ کہنا چاہوں گا، کہوں گا یہی مقام محمود ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ [مسند احمد:456/13:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے مجھے سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور مجھے ہی سب سے پہلے سر اٹھانے کی اجازت ملے گی، میں اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھ کر اپنی امت کو اور امتوں میں پہچان لوں گا، کسی نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ساری امتیں جو نوح کے وقت تک کی ہوں گی ان سب میں سے آپ خاص اپنی امت کیسے پہچان لیں گے؟ آپ نے فرمایا وضو کے اثر سے، ان کے ہاتھ پاؤں منہ چمک رہے ہوں گے ان کے سوا اور کوئی ایسا نہ ہو گا اور میں انہیں یوں پہچان لوں گا کہ ان کے نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں ملیں گے اور نشان یہ ہے کہ ان کی اولادیں ان کے آگے آگے چل پھر رہی ہوں گی۔ [مسند احمد:199/5:صحیح لغیرہ]
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا اور شانے کا گوشت چونکہ آپ کو زیادہ مرغوب تھا، وہی آپ کو دیا گیا، آپ اس میں سے گوشت توڑ توڑ کر کھانے لگے اور فرمایا قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار میں ہوں۔ اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا، آواز دینے والا انہیں سنائے گا۔ نگاہیں اوپر کو چڑھ جائیں گی، سورج بالکل نزدیک ہو جائے گا اور لوگ ایسی سختی اور رنج و غم میں مبتلا ہو جائیں گے جو ناقابل برداشت ہے۔ اس وقت وہ آپس میں کہیں گے کہ دیکھو تو سہی ہم سب کس مصیبت میں مبتلا ہیں، چلو کسی سے کہہ کر اسے سفارشی بنا کر اللہ تعالیٰ کے پاس بھیجیں۔
صفحہ نمبر4773
چنانچہ مشورہ سے طے ہو گا اور لوگ آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے، آپ میں اپنی روح پھونکی ہے، اپنے فرشتوں کو آپ کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دے کر ان سے سجدہ کرایا ہے۔ آپ کیا ہماری خستہ حالی ملاحظہ نہیں فرما رہے؟ آپ پروردگار سے شفاعت کی دعا کیجئے۔ آدم علیہ السلام جواب دیں گے کہ میرا رب آج اس قدر غضبناک ہو رہا ہے کہ کبھی اس سے پہلے ایسا غضبناک نہیں ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک درخت سے روکا تھا، لیکن مجھ سے نافرمانی ہو گئی۔ آج تو مجھے خود اپنا خیال لگا ہوا ہے۔ نفسا نفسی لگی ہوئی ہے۔ تم کسی اور کے پاس جاؤ، نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ لوگ وہاں سے نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے نوح علیہ السلام آپ کو زمین والوں کی طرف سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے رسول بناکر بھیجا۔ آپ کا نام اس نے شکر گزار بندہ رکھا۔ آپ ہمارے لیے اپنے رب کے پاس شفاعت کیجئے، دیکھئیے تو ہم کس مصیبت میں مبتلا ہیں؟ نوح علیہ السلام جواب دیں گے کہ آج تو میرا پروردگار اس قدر غضبناک ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایسا غصے ہوا نہ اس کے بعد کبھی ایسا غصے ہوگا۔ میرے لیے ایک دعا تھی جو میں نے اپنے قوم کے خلاف مانگ لی، مجھے تو آج اپنی پڑی ہے نفسا نفسی لگ رہی ہے تم کسی اور کے پاس جاؤ۔ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔
صفحہ نمبر4774
لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے، آپ نبی اللہ ہیں، آپ خلیل اللہ ہیں، کیا آپ ہماری یہ بپتا نہیں دیکھتے؟ ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے کہ میرا رب آج اس قدر غضبناک ہے کہ کبھی اس سے پہلے ایسا ناراض ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی اس سے زیادہ غصے میں آئے گا، پھر آپ اپنے جھوٹ یاد کرکے نفسی نفسی کرنے لگیں گے اور فرمائیں گے میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ۔ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے موسیٰ علیہ السلام ہماری شفاعت لے جائیے، دیکھئیے تو کیسی سخت آفت میں ہیں؟ آپ فرمائیں گے آج تو میرا رب اس قدر ناراض ہے ایسا کہ اس سے پہلے کبھی ایسا ناراض نہیں ہوا اور نہ کبھی اس کے بعد ایسا ناراض ہو گا، میں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر ایک انسان کو مار ڈالا تھا۔ نفسی نفسی نفسی تم مجھے چھوڑو کسی اور سے کہو تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے عیسیٰ علیہ السلام آپ رسول اللہ، کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہیں جو مریم علیہ السلام کی طرف بھیجی گئی، بچپن میں گہوارے میں ہی آپ نے بولنا شروع کر دیا تھا، جائیے ہمارے رب سے ہماری شفاعت کیجئے خیال تو فرمائیے کہ ہم کس قدر بے چین ہیں؟ عیسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے کہ آج جیسا غصہ تو نہ پہلے تھا، نہ بعد میں ہو گا، نفسی نفسی نفسی، آپ اپنے کسی گناہ کا ذکر نہ کریں گے۔ فرمائیں گے تم کسی اور ہی کے پاس جاؤ۔ دیکھو میں بتاؤں تم سب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔
صفحہ نمبر4775
چنانچہ وہ سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ رسول اللہ ہیں، آپ خاتم الانبیاء ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئے ہیں۔ آپ ہماری شفاعت کیجئے، دیکھئیے تو ہم کیسی سخت بلاؤں میں گھرے ہوئے ہیں، پھر میں کھڑا ہوں گا اور عرش تلے آکر اپنے رب عز و جل کے سامنے سجدے میں گر پڑوں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنی حمد و ثنا کے وہ الفاظ کھولے گا جو مجھ سے پہلے کسی اور پر نہیں کھلے تھے۔ پھر مجھ سے فرمایا جائے گا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھاؤ، مانگو، تمہیں ملے گا، شفاعت کرو، منظور ہو گی۔ میں اپنا سر سجدے سے اٹھاؤں گا اور کہوں گا میرے پروردگار میری امت، میرے رب میری امت، اے اللہ میری امت، پس مجھ سے فرمایا جائے گا، جاؤ اپنی امت میں سے ان لوگوں کو جن پر حساب نہیں جنت میں لے جاؤ، انہیں جنت کے داہنی طرف کے دروازے سے پہنچاؤ لیکن اور تمام دروازوں سے بھی روک نہیں۔ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، جنت کی دو چوکھٹوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ اور حمیر میں یا مکہ اور بصریٰ میں۔ [صحیح بخاری:3340] یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔
صفحہ نمبر4776
مسلم شریف میں ہے قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار میں ہوں گا، اس دن سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہوگی، میں ہی پہلا شفیع ہوں اور پہلا شفاعت قبول کیا گیا۔ [صحیح مسلم:2278]
ابن جریر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شفاعت ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22634:ضعیف]
مسند احمد میں ہے مقام محمود وہ مقام ہے، جس میں میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا۔ [مسند احمد:441/2:حسن لغیرہ]
عبدالرزاق میں ہے کہ قیامت کے دن کھال کی طرح اللہ تعالیٰ زمین کو کھینچ لے گا، یہاں تک کہ ہر شخص کے لیے صرف اپنے دونوں قدم ٹکانے کی جگہ ہی رہے گی، سب سے پہلے مجھے طلب کیا جائے گا۔ جبرائیل علیہ السلام اللہ رحمن تبارک و تعالیٰ کے دائیں طرف ہوں گے۔ اللہ کی قسم اس سے پہلے اسے اس نے نہیں دیکھا۔ میں کہوں گا کہ باری تعالیٰ اس فرشتے نے مجھ سے کہا تھا کہ اسے تو میری طرف بھیج رہا تھا، اللہ تعالیٰ عز و جل فرمائے گا اس نے سچ کہا اب میں یہ کہہ کر شفاعت کروں گا کہ اے اللہ تیرے بندوں نے زمین کے مختلف حصوں میں تیری عبادت کی ہے، آپ فرماتے ہیں یہی مقام محمود ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22639:مرسل] یہ حدیث مرسل ہے۔
صفحہ نمبر4777
حکم ہجرت ٭٭
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف میں تھے پھر آپ کو ہجرت کا حکم ہوا اور یہ آیت اتری۔ [مسند احمد:223/1] امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي:3139،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کفار مکہ نے مشورہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیں یا نکال دیں یا قید کر لیں پس اللہ کا یہی ارادہ ہوا کہ اہل مکہ کو ان کی بداعمالیوں کا مزہ چکھا دے۔ اس نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینے جانے کا حکم فرمایا۔ یہی اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مدینہ میں داخل ہونا اور مکہ سے نکلنا یہی قول سب سے زیادہ مشہور ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سچائی کے داخلے سے مراد موت ہے اور سچائی سے نکلنے سے مراد موت کے بعد کی زندگی ہے اور اقوال بھی ہیں لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ امام ابن جریر بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ پھر حکم ہوا کہ غلبے اور مدد کی دعا ہم سے کرو۔ اس دعا پر اللہ تعالیٰ نے فارس اور روم کا ملک اور عزت دینے کا وعدہ فرما لیا۔ اتنا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم معلوم کر چکے تھے کہ بغیر غلبے کے دین کی اشاعت اور زور ناممکن ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ سے مدد و غلبہ طلب کیا تاکہ کتاب اللہ اور حدود اللہ، فرائض شرع اور قیام دین آپ کر سکیں۔
یہ غلبہ بھی اللہ کی ایک زبردست رحمت ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو ایک دوسرے کو کھا جاتا۔ ہر زور آور کمزور کا شکار کر لیتا۔ «سُلْطَانًا نَّصِيرًا» سے مراد کھلی دلیل بھی ہے لیکن پہلا قول پہلا ہی ہے اس لیے کہ حق کے ساتھ غلبہ اور طاقت بھی ضروری چیز ہے تاکہ مخالفین حق دبے رہیں۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے لوہے کے اتارنے کے احسان کو قرآن میں خاص طور پر ذکر کیا ہے «لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّـهُ مَن يَنصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ» [57-الحديد:25]
” یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں۔ اور ہم نے لوہے کو اتارا جس میں سخت ہیبت وقوت ہے اور لوگوں کے لیے اور بھی (بہت سے) فائدے ہیں اور اس لیے بھی کہ اللہ جان لے کہ اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد بے دیکھے کون کرتا ہے۔ “
صفحہ نمبر4778
ایک حدیث میں ہے کہ سلطنت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بہت سی برائیوں کو روک دیتا ہے جو صرف قرآن سے نہیں رک سکتی تھیں۔ یہ بالکل واقعہ ہے بہت سے لوگ ہیں کہ قرآن کی نصیحتیں اس کے وعدے وعید ان کو بدکاریوں سے نہیں ہٹا سکتے۔ لیکن اسلامی طاقت سے مرعوب ہو کر وہ برائیوں سے رک جاتے ہیں۔
پھر کافروں کی گوشمالی کی جاتی ہے کہ اللہ کی جانب سے حق آچکا۔ سچائی اتر آئی، جس میں کوئی شک شبہ نہیں، قرآن ایمان نفع دینے والا سچا علم منجانب اللہ آگیا، کفر برباد و غارت اور بے نام و نشان ہو گیا، وہ حق کے مقابلہ میں بے دست و پا ثابت ہوا، حق نے باطل کا دماغ پاش پاش کر دیا اور وہ نابود اور بے وجود ہوگیا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکے میں آئے بیت اللہ کے آس پاس تین سو ساٹھ بت تھے، آپ اپنے ہاتھ کی لکڑی سے انہیں کچوکے دے رہے تھے اور یہی آیت «وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا» [17-الإسراء:81] پڑھتے تھے اور فرماتے جاتے تھے حق آ چکا باطل نہ دوبارہ آ سکتا ہے نہ لوٹ سکتا ہے۔ [صحیح بخاری:2478]
ابو یعلیٰ میں ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکے میں آئے، بیت اللہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت تھے، جن کی پوجا پاٹ کی جاتی تھی، آپ نے فوراً حکم دیا کہ ان سب کو اوندھے منہ گرا دو پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ [ابن ابی شیبة فی المصنف:534/8:حسن]
صفحہ نمبر4779
حکم ہجرت ٭٭
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف میں تھے پھر آپ کو ہجرت کا حکم ہوا اور یہ آیت اتری۔ [مسند احمد:223/1] امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي:3139،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کفار مکہ نے مشورہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیں یا نکال دیں یا قید کر لیں پس اللہ کا یہی ارادہ ہوا کہ اہل مکہ کو ان کی بداعمالیوں کا مزہ چکھا دے۔ اس نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینے جانے کا حکم فرمایا۔ یہی اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مدینہ میں داخل ہونا اور مکہ سے نکلنا یہی قول سب سے زیادہ مشہور ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سچائی کے داخلے سے مراد موت ہے اور سچائی سے نکلنے سے مراد موت کے بعد کی زندگی ہے اور اقوال بھی ہیں لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ امام ابن جریر بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ پھر حکم ہوا کہ غلبے اور مدد کی دعا ہم سے کرو۔ اس دعا پر اللہ تعالیٰ نے فارس اور روم کا ملک اور عزت دینے کا وعدہ فرما لیا۔ اتنا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم معلوم کر چکے تھے کہ بغیر غلبے کے دین کی اشاعت اور زور ناممکن ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ سے مدد و غلبہ طلب کیا تاکہ کتاب اللہ اور حدود اللہ، فرائض شرع اور قیام دین آپ کر سکیں۔
یہ غلبہ بھی اللہ کی ایک زبردست رحمت ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو ایک دوسرے کو کھا جاتا۔ ہر زور آور کمزور کا شکار کر لیتا۔ «سُلْطَانًا نَّصِيرًا» سے مراد کھلی دلیل بھی ہے لیکن پہلا قول پہلا ہی ہے اس لیے کہ حق کے ساتھ غلبہ اور طاقت بھی ضروری چیز ہے تاکہ مخالفین حق دبے رہیں۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے لوہے کے اتارنے کے احسان کو قرآن میں خاص طور پر ذکر کیا ہے «لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّـهُ مَن يَنصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ» [57-الحديد:25]
” یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں۔ اور ہم نے لوہے کو اتارا جس میں سخت ہیبت وقوت ہے اور لوگوں کے لیے اور بھی (بہت سے) فائدے ہیں اور اس لیے بھی کہ اللہ جان لے کہ اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد بے دیکھے کون کرتا ہے۔ “
صفحہ نمبر4778
ایک حدیث میں ہے کہ سلطنت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بہت سی برائیوں کو روک دیتا ہے جو صرف قرآن سے نہیں رک سکتی تھیں۔ یہ بالکل واقعہ ہے بہت سے لوگ ہیں کہ قرآن کی نصیحتیں اس کے وعدے وعید ان کو بدکاریوں سے نہیں ہٹا سکتے۔ لیکن اسلامی طاقت سے مرعوب ہو کر وہ برائیوں سے رک جاتے ہیں۔
پھر کافروں کی گوشمالی کی جاتی ہے کہ اللہ کی جانب سے حق آچکا۔ سچائی اتر آئی، جس میں کوئی شک شبہ نہیں، قرآن ایمان نفع دینے والا سچا علم منجانب اللہ آگیا، کفر برباد و غارت اور بے نام و نشان ہو گیا، وہ حق کے مقابلہ میں بے دست و پا ثابت ہوا، حق نے باطل کا دماغ پاش پاش کر دیا اور وہ نابود اور بے وجود ہوگیا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکے میں آئے بیت اللہ کے آس پاس تین سو ساٹھ بت تھے، آپ اپنے ہاتھ کی لکڑی سے انہیں کچوکے دے رہے تھے اور یہی آیت «وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا» [17-الإسراء:81] پڑھتے تھے اور فرماتے جاتے تھے حق آ چکا باطل نہ دوبارہ آ سکتا ہے نہ لوٹ سکتا ہے۔ [صحیح بخاری:2478]
ابو یعلیٰ میں ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکے میں آئے، بیت اللہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت تھے، جن کی پوجا پاٹ کی جاتی تھی، آپ نے فوراً حکم دیا کہ ان سب کو اوندھے منہ گرا دو پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ [ابن ابی شیبة فی المصنف:534/8:حسن]
صفحہ نمبر4779
قرآن حکیم شفا ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کی بابت، جس میں باطل کا شائبہ بھی نہیں، فرماتا ہے کہ وہ ایمانداروں کے دلوں کی تمام بیماریوں کے لیے شفاء ہے۔ شک، نفاق، شرک، ٹیڑھ پن اور باطل کی لگاوٹ سب اس سے دور ہو جاتی ہے۔ ایمان، حکمت، بھلائی، رحمت، نیکیوں کی رغبت اس سے حاصل ہوتی ہے۔ جو بھی اس پر ایمان و یقین لائے، اسے سچ سمجھ کر اس کی تابعداری کرے، یہ اسے اللہ کی رحمت کے نیچے لا کھڑا کرتا ہے۔
ہاں جو ظالم جابر ہو، جو اس سے انکار کرے وہ اللہ سے اور دور ہو جاتا ہے۔ قرآن سن کر اس کا کفر اور بڑھ جاتا ہے، پس یہ آفت خود کافر کی طرف سے اس کے کفر کی وجہ سے ہوتی ہے نہ کہ قرآن کی طرف سے، وہ تو سراسر رحمت و شفاء ہے۔ چنانچہ اور آیت قرآن میں ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ ۭ وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ فِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى ۭ اُولٰۗىِٕكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ» [41-فصلت:44] ” کہہ دے کہ یہ ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے اور بے ایمانوں کے کانوں میں پردے ہیں اور ان کی نگاہوں پر پردہ ہے یہ تو دور دراز سے آوازیں دئیے جاتے ہیں۔ “
صفحہ نمبر4781
اور آیت میں ہے «وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـٰذِهِ إِيمَانًا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ * وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَىٰ رِجْسِهِمْ وَمَاتُوا وَهُمْ كَافِرُونَ» [9-التوبة:124-125] ” جہاں کوئی سورت اتری کہ ایک گروہ نے پوچھنا شروع کیا کہ تم میں سے کس کو اس نے ایمان میں بڑھایا؟ سنو ایمان والوں کے تو ایمان بڑھ جاتے ہیں اور وہ ہشاش بشاش ہو جاتے ہیں، ہاں جن کے دلوں میں بیماری ہے ان کی گندگی پر گندگی بڑھ جاتی ہے اور مرتے دم تک کفر پر قائم رہتے ہیں۔ “
اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ الغرض مومن اس پاک کتاب کو سن کر نفع اٹھاتا ہے، اسے حفظ کرتا ہے، اسے یاد کرتا ہے، اس کا خیال رکھتا ہے۔ بے انصاف لوگ نہ اس سے نفع حاصل کرتے ہیں، نہ اسے حفظ کرتے ہیں، نہ اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔ اللہ نے اسے شفاء و رحمت صرف مومنوں کے لیے بنایا ہے۔
صفحہ نمبر4782
انسانی فطرت میں خیر و شر موجود ہے ٭٭
خیر و شر برائی بھلائی جو انسان کی فطرت میں ہیں، قرآن کریم ان کو بیان فرما رہا ہے۔ مال، عافیت، فتح، رزق، نصرت، تائید، کشادگی، آرام پاتے ہی نظریں پھیر لیتا ہے۔ اللہ سے دور ہو جاتا ہے گویا اسے کبھی برائی پہنچنے کی ہی نہیں۔ اللہ سے کروٹ بدل لیتا ہے گویا کبھی کی جان پہچان ہی نہیں اور جہاں مصیبت، تکلیف، دکھ، درد، آفت، حادثہ پہنچا اور یہ ناامید ہوا، سمجھ لیتا ہے کہ اب بھلائی، عافیت، راحت، آرام ملنے ہی کا نہیں۔
صفحہ نمبر4783
قرآن کریم اور جگہ ارشاد فرماتا ہے آیت «وَلَئِنْ أَذَقْنَا الْإِنسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَيَئُوسٌ كَفُورٌ * وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ نَعْمَاءَ بَعْدَ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّيِّئَاتُ عَنِّي ۚ إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ * إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَـٰئِكَ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ» [11-هود:9-11] ” انسان کو راحتیں دے کر جہاں ہم نے واپس لے لیں کہ یہ محض مایوس اور ناشکرا بن گیا اور جہاں مصیبتوں کے بعد ہم نے عافیتیں دیں یہ پھول گیا، گھمنڈ میں آ گیا اور ہانک لگانے لگا کہ بس اب برائیاں مجھ سے دور ہو گئیں۔“
فرماتا ہے کہ ہر شخص اپنی اپنی طرز پر، اپنی طبیعت پر، اپنی نیت پر، اپنے دین اور طریقے پر عامل ہے تو لگے رہیں۔ اس کا علم کہ فی الواقع راہ راست پر کون ہے، صرف اللہ ہی کو ہے۔ اس میں مشرکین کو تنبیہ ہے کہ وہ اپنے مسلک پر گو کار بند ہوں اور اچھا سمجھ رہے ہوں لیکن اللہ کے پاس جا کر کھلے گا کہ جس راہ پر وہ تھے وہ کیسی خطرناک تھی۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَقُل لِّلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ * وَانتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ» [11-هود:121-122] ” بے ایمانوں سے کہہ دو کہ اچھا ہے اپنی جگہ اپنے کام کرتے جاؤ “ الخ،
بدلے کا وقت یہ نہیں، قیامت کا دن ہے، نیکی بدی کی تمیز اس دن ہو گی، سب کو بدلے ملیں گے، اللہ پر کوئی امر پوشیدہ نہیں۔
صفحہ نمبر4784
انسانی فطرت میں خیر و شر موجود ہے ٭٭
خیر و شر برائی بھلائی جو انسان کی فطرت میں ہیں، قرآن کریم ان کو بیان فرما رہا ہے۔ مال، عافیت، فتح، رزق، نصرت، تائید، کشادگی، آرام پاتے ہی نظریں پھیر لیتا ہے۔ اللہ سے دور ہو جاتا ہے گویا اسے کبھی برائی پہنچنے کی ہی نہیں۔ اللہ سے کروٹ بدل لیتا ہے گویا کبھی کی جان پہچان ہی نہیں اور جہاں مصیبت، تکلیف، دکھ، درد، آفت، حادثہ پہنچا اور یہ ناامید ہوا، سمجھ لیتا ہے کہ اب بھلائی، عافیت، راحت، آرام ملنے ہی کا نہیں۔
صفحہ نمبر4783
قرآن کریم اور جگہ ارشاد فرماتا ہے آیت «وَلَئِنْ أَذَقْنَا الْإِنسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَيَئُوسٌ كَفُورٌ * وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ نَعْمَاءَ بَعْدَ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّيِّئَاتُ عَنِّي ۚ إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ * إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَـٰئِكَ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ» [11-هود:9-11] ” انسان کو راحتیں دے کر جہاں ہم نے واپس لے لیں کہ یہ محض مایوس اور ناشکرا بن گیا اور جہاں مصیبتوں کے بعد ہم نے عافیتیں دیں یہ پھول گیا، گھمنڈ میں آ گیا اور ہانک لگانے لگا کہ بس اب برائیاں مجھ سے دور ہو گئیں۔“
فرماتا ہے کہ ہر شخص اپنی اپنی طرز پر، اپنی طبیعت پر، اپنی نیت پر، اپنے دین اور طریقے پر عامل ہے تو لگے رہیں۔ اس کا علم کہ فی الواقع راہ راست پر کون ہے، صرف اللہ ہی کو ہے۔ اس میں مشرکین کو تنبیہ ہے کہ وہ اپنے مسلک پر گو کار بند ہوں اور اچھا سمجھ رہے ہوں لیکن اللہ کے پاس جا کر کھلے گا کہ جس راہ پر وہ تھے وہ کیسی خطرناک تھی۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَقُل لِّلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ * وَانتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ» [11-هود:121-122] ” بے ایمانوں سے کہہ دو کہ اچھا ہے اپنی جگہ اپنے کام کرتے جاؤ “ الخ،
بدلے کا وقت یہ نہیں، قیامت کا دن ہے، نیکی بدی کی تمیز اس دن ہو گی، سب کو بدلے ملیں گے، اللہ پر کوئی امر پوشیدہ نہیں۔
صفحہ نمبر4784
روح کے بارے میں ٭٭
بخاری وغیرہ میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے کے کھیتوں میں جا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں لکڑی تھی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ یہودیوں کے ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر آپس میں کانا پھوسی شروع کی کہ آؤ ان سے روح کی بابت سوال کریں۔ کوئی کہنے لگا اچھا، کسی نے کہا مت پوچھو، کوئی کہنے لگا تمہیں اس سے کیا نتیجہ، کوئی کہنے لگا شاید کوئی جواب ایسا دیں جو تمہارے خلاف ہو۔ جانے دو نہ پوچھو۔ آخر وہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی لکڑی پر ٹیک لگا کر ٹھہر گئے، میں سمجھ گیا کہ وحی اتر رہی ہے خاموش کھڑا رہ گیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ [صحیح بخاری:125]
اس سے تو بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے حالانکہ پوری سورت مکی ہے لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مکے کی اتری ہوئی آیت سے ہی اس موقعہ پر مدینے کے یہودیوں کو جواب دینے کی وحی ہوئی ہو یا یہ کہ دوبارہ یہی آیت نازل ہوئی ہو۔ مسند احمد کی روایت سے بھی اس آیت کا مکے میں اترنا ہی معلوم ہوتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قریشیوں نے یہودیوں سے درخواست کی کوئی مشکل سوال بتاؤ کہ ہم ان سے پوچھیں انہوں نے سوال سجھایا۔ اس کے جواب میں یہ آیت اتری تو یہ سرکش کہنے لگے ہمیں بڑا علم ہے تورات ہمیں ملی ہے اور جس کے پاس تورات ہو اسے بہت سی بھلائی مل گئی۔
صفحہ نمبر4786
تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت «قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا» [18-الكهف:109]
” یعنی اگر تمام سمندروں کی سیاہی بن جائے اور اس سے کلمات الٰہی لکھنے شروع کئے جائیں تو یہ روشنائی سب خشک ہو جائے گی اور اللہ کے کلمات باقی رہ جائیں گے تو پھر تم اس کی مدد میں ایسے ہی اور بھی لاؤ۔ “ [سنن ترمذي:3140،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کے سوال پر اس آیت کا اترنا اور ان کے اس مکروہ قول پر دوسری آیت «وَلَوْ اَنَّمَا فِي الْاَرْضِ مِنْ شَجَـرَةٍ اَقْلَامٌ وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» [31-لقمان:27] کا اترنا بیان فرمایا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:155/15]
” یعنی روئے زمین کے درختوں کی قلمیں اور روئے زمین کے سمندروں کی روشنائی اور ان کے ساتھ ہی ساتھ ایسے ہی اور سمندر بھی ہوں تب بھی اللہ کے کلمات پورے نہیں ہو سکتے۔ “ اس میں شک نہیں کہ توراۃ کا علم جو جہنم سے بچانے والا ہے بڑی چیز ہے لیکن اللہ کے علم کے مقابلہ میں بہت تھوڑی چیز ہے۔
صفحہ نمبر4787
امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ مکہ میں یہ آیت اتری کہ تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو مدینے کے علماء یہود آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے ہم نے سنا ہے آپ یوں کہتے ہیں کہ تمہیں تو بہت ہی کم علم عطا فرمایا گیا ہے اس سے مراد آپ کی قوم ہے یا ہم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بھی اور وہ بھی۔ انہوں نے کہا سنو خود قرآن میں پڑھتے ہو کہ ہم کو توراۃ ملی ہے اور یہ بھی قرآن میں ہے کہ اس میں ہر چیز کا بیان ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علم الٰہی کے مقابلے میں یہ بھی بہت کم ہے۔ ہاں بیشک تمہیں اللہ نے اتنا علم دے رکھا ہے کہ اگر تم اس پر عمل کرو تو تمہیں بہت کچھ نفع ملے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:157/15] اور یہ آیت اتری «وَلَوْ اَنَّمَا فِي الْاَرْضِ مِنْ شَجَـرَةٍ اَقْلَامٌ وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» ۔ [31-لقمان:27]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کی بابت سوال کیا کہ اسے جسم کے ساتھ عذاب کیوں ہوتا ہے؟ وہ تو اللہ کی طرف سے ہے چونکہ اس بارے میں کوئی آیت وحی آپ پر نہیں اتری تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ نہ فرمایا، اسی وقت آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور یہ آیت اتری۔ یہ سن کر یہودیوں نے کہا آپ کو اس کی خبر کس نے دی؟ آپ نے فرمایا جبرائیل اللہ کی طرف سے یہ فرمان لائے۔ وہ کہنے لگے وہ تو ہمارا دشمن ہے اس پر آیت «قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ» [2-البقرة:97] نازل ہوئی [تفسیر ابن جریر الطبری:156/15] ” یعنی جبرائیل کے دشمن کا دشمن اللہ ہے اور ایسا شخص کافر ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہاں روح سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ “
صفحہ نمبر4788
ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد ایک ایسا عظیم الشان فرشتہ ہے جو تمام مخلوق کے برابر ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کا ایک فرشتہ ایسا بھی ہے کہ اگر اس سے ساتوں زمینوں اور ساتوں آسمانوں کو ایک لقمہ بنانے کو کہا جائے تو وہ بنا لے۔ اس کی تسبیح یہ ہے «سُبْحَانَکَ حَیْثُ کُنْتَ» اے اللہ تو پاک ہے جہاں بھی ہے۔ [طبرانی کبیر:11476:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے بلکہ منکر ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ ایک فرشتہ ہے جس کے ستر ہزار منہ ہیں اور ہر منہ میں ستر ہزار زبانیں ہیں اور ہر زبان پر ستر ہزار لغت ہیں وہ ان تمام زبانوں سے ہر بولی میں اللہ کی تسبیح کرتا ہے۔ اس کی ہر ایک تسبیح سے اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جو اور فرشتوں کے ساتھ اللہ کی عبادت میں قیامت تک اڑتا رہتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:156/15] یہ اثر بھی عجیب و غریب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سہیلی کی روایت میں تو ہے کہ اس کے ایک لاکھ سر ہیں۔ اور ہر سر میں ایک لاکھ منہ ہیں اور ہر منہ میں ایک لاکھ زبانیں ہیں جن سے مختلف بولیوں میں وہ اللہ کی پاکی بیان کرتا رہتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے فرشتوں کی وہ جماعت ہے جو انسانی صورت پر ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ وہ فرشتے ہیں کہ اور فرشتوں کو تو وہ دیکھتے ہیں لیکن اور فرشتے انہیں نہیں دیکھتے، پس وہ فرشتوں کے لیے ایسے ہی ہیں جیسے ہمارے لیے یہ فرشتے۔
صفحہ نمبر4789
پھر فرماتا ہے کہ انہیں جواب دے کہ روح امر ربی ہے یعنی اس کی شان سے ہے اس کا علم صرف اسی کو ہے تم میں سے کسی کو نہیں۔ تمہیں جو علم ہے وہ اللہ ہی کا دیا ہوا ہے پس وہ بہت ہی کم ہے۔ مخلوق کو صرف وہی معلوم ہے جو اس نے انہیں معلوم کرایا ہے۔ خضر علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے قصے میں آ رہا ہے کہ جب یہ دونوں بزرگ کشتی پر سوار ہو رہے تھے اس وقت ایک چڑیا کشتی کے تختے پر بیٹھ کر اپنی چونچ پانی میں ڈبو کر اڑ گئی تو خضر علیہ السلام نے فرمایا اے موسیٰ (علیہ السلام) میرا اور تیرا اور تمام مخلوق کا علم اللہ کے علم کے سامنے ایسا اور اتنا ہی ہے جتنا یہ چڑیا اس سمندر سے لے اڑی «او کما قال» ۔
صفحہ نمبر4790
بقول سہیلی بعض لوگ کہتے ہیں کہ انہیں ان کے سوال کا جواب نہیں دیا کیونکہ ان کا سوال ضد کرنے اور نہ ماننے کے طور پر تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جواب ہو گیا۔ مراد یہ ہے کہ روح شریعت الٰہی میں سے ہے تمہیں اس میں نہ جانا چاہیئے، تم جان رہے ہو کہ اس کے پہچاننے کی کوئی طبعی اور علمی راہ نہیں بلکہ وہ شریعت کی جہت سے ہے پس تم شریعت کو قبول کر لو لیکن ہمیں تو یہ طریقہ خطرے سے خالی نظر نہیں آتا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر سہیلی نے اختلاف علماء بیان کیا ہے کہ روح نفس ہی ہے یا اس کے سوا۔ اور اس بات کو ثابت کیا ہے کہ روح جسم میں مثل ہوا کے جاری ہے اور نہایت لطیف چیز ہے جیسے کہ درختوں کی رگوں میں پانی چڑھتا ہے اور فرشتہ جو روح ماں کے پیٹ میں بچے میں پھونکتا ہے وہ جسم کے ساتھ ملتے ہی نفس بن جاتی ہے۔ اور جسم کی مدد سے وہ اچھی بری صفتیں اپنے اندر حاصل کر لیتی ہے یا تو ذکر اللہ کے ساتھ مطمئن ہونے والی ہو جاتی ہے یا برائیوں کا حکم کرنے والی بن جاتی ہے مثلا پانی درخت کی حیات ہے اس کے درخت سے ملنے کے باعث وہ ایک خاص بات اپنے اندر پیدا کر لیتا ہے مثلا انگور پیدا ہوئے پھر ان کا پانی نکالا گیا یا شراب بنائی گئی، پس وہ اصلی پانی اب جس صورت میں آیا اب اسے اصلی پانی نہیں کہا جا سکتا۔
صفحہ نمبر4791
اسی طرح اب جسم کے اتصال کے بعد روح کو اعلیٰ روح نہیں کہا جا سکتا اسی طرح اسے نفس بھی نہیں کہا جا سکتا، یہ کہنا بھی بطور انجام کو پہچاننے کے ہے۔ حاصل کلام یہ ہوا کہ روح نفس اور مادہ کی اصل ہے اور نفس اس سے اور اس کے بدن کے ساتھ کے اتصال سے مرکب ہے۔ پس روح نفس ہے لیکن ایک وجہ سے نہ کہ تمام وجوہ سے۔
بات تو یہ دل کو لگتی ہے لیکن حقیقت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ لوگوں نے اس بارے میں بہت کچھ کہا ہے اور بڑی بڑی مستقل کتابیں اس پر لکھی ہیں۔ اس مضمون پر بہترین کتاب حافظ ابن مندہ کی کتاب ”الروح“ ہے۔
صفحہ نمبر4792
قرآن اللہ تعالٰی کا احسان عظیم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے زبردست احسان اور عظیم الشان نعمت کو بیان فرما رہا ہے جو اس نے اپنے حبیب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر انعام کی ہے یعنی آپ پر وہ کتاب نازل فرمائی جس میں کہیں سے بھی کسی وقت باطل کی آمیزش ناممکن ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس وحی کو سلب بھی کرسکتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آخر زمانے میں ایک سرخ ہوا چلے گی شام کی طرف سے یہ اٹھے گی اس وقت قرآن کے ورقوں میں سے اور حافظوں کے دلوں میں سے قرآن سلب ہو جائے گا، ایک حرف بھی باقی نہیں رہے گا، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔
پھر اپنا فضل و کرم اور احسان بیان کرکے فرماتا ہے کہ اس قرآن کریم کی بزرگی ایک یہ بھی ہے کہ تمام مخلوق اس کے مقابلے سے عاجز ہے۔ کسی کے بس میں اس جیسا کلام نہیں، جس طرح اللہ تعالیٰ بے مثل بے نظیر بے شریک ہے اسی طرح اس کا کلام مثال سے نظیر سے اپنے جیسے سے پاک ہے۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ نے وارد کیا ہے کہ یہودی آئے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ ہم بھی اسی جیسا کلام بنا لاتے ہیں پس یہ آیت اتری لیکن ہمیں اس کے ماننے میں تامل ہے، اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے اور اس کا کل بیان قریشیوں سے ہے وہی مخاطب ہیں اور یہود کے ساتھ مکے میں آپ کا اجتماع نہیں ہوا مدینے میں ان سے میل ہوا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر4793
ہم نے اس پاک کتاب میں ہر قسم کی دلیلیں بیان فرما کر حق کو واضح کر دیا ہے اور ہر بات کو شرح و بسط سے بیان فرما دیا ہے، باوجود اس کے بھی اکثر لوگ حق کی مخالفت کر رہے ہیں اور حق کو دھکے دے رہے ہیں اور اللہ کی ناشکری میں لگے ہوئے ہیں۔
صفحہ نمبر4794
قرآن اللہ تعالٰی کا احسان عظیم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے زبردست احسان اور عظیم الشان نعمت کو بیان فرما رہا ہے جو اس نے اپنے حبیب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر انعام کی ہے یعنی آپ پر وہ کتاب نازل فرمائی جس میں کہیں سے بھی کسی وقت باطل کی آمیزش ناممکن ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس وحی کو سلب بھی کرسکتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آخر زمانے میں ایک سرخ ہوا چلے گی شام کی طرف سے یہ اٹھے گی اس وقت قرآن کے ورقوں میں سے اور حافظوں کے دلوں میں سے قرآن سلب ہو جائے گا، ایک حرف بھی باقی نہیں رہے گا، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔
پھر اپنا فضل و کرم اور احسان بیان کرکے فرماتا ہے کہ اس قرآن کریم کی بزرگی ایک یہ بھی ہے کہ تمام مخلوق اس کے مقابلے سے عاجز ہے۔ کسی کے بس میں اس جیسا کلام نہیں، جس طرح اللہ تعالیٰ بے مثل بے نظیر بے شریک ہے اسی طرح اس کا کلام مثال سے نظیر سے اپنے جیسے سے پاک ہے۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ نے وارد کیا ہے کہ یہودی آئے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ ہم بھی اسی جیسا کلام بنا لاتے ہیں پس یہ آیت اتری لیکن ہمیں اس کے ماننے میں تامل ہے، اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے اور اس کا کل بیان قریشیوں سے ہے وہی مخاطب ہیں اور یہود کے ساتھ مکے میں آپ کا اجتماع نہیں ہوا مدینے میں ان سے میل ہوا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر4793
ہم نے اس پاک کتاب میں ہر قسم کی دلیلیں بیان فرما کر حق کو واضح کر دیا ہے اور ہر بات کو شرح و بسط سے بیان فرما دیا ہے، باوجود اس کے بھی اکثر لوگ حق کی مخالفت کر رہے ہیں اور حق کو دھکے دے رہے ہیں اور اللہ کی ناشکری میں لگے ہوئے ہیں۔
صفحہ نمبر4794
قرآن اللہ تعالٰی کا احسان عظیم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے زبردست احسان اور عظیم الشان نعمت کو بیان فرما رہا ہے جو اس نے اپنے حبیب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر انعام کی ہے یعنی آپ پر وہ کتاب نازل فرمائی جس میں کہیں سے بھی کسی وقت باطل کی آمیزش ناممکن ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس وحی کو سلب بھی کرسکتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آخر زمانے میں ایک سرخ ہوا چلے گی شام کی طرف سے یہ اٹھے گی اس وقت قرآن کے ورقوں میں سے اور حافظوں کے دلوں میں سے قرآن سلب ہو جائے گا، ایک حرف بھی باقی نہیں رہے گا، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔
پھر اپنا فضل و کرم اور احسان بیان کرکے فرماتا ہے کہ اس قرآن کریم کی بزرگی ایک یہ بھی ہے کہ تمام مخلوق اس کے مقابلے سے عاجز ہے۔ کسی کے بس میں اس جیسا کلام نہیں، جس طرح اللہ تعالیٰ بے مثل بے نظیر بے شریک ہے اسی طرح اس کا کلام مثال سے نظیر سے اپنے جیسے سے پاک ہے۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ نے وارد کیا ہے کہ یہودی آئے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ ہم بھی اسی جیسا کلام بنا لاتے ہیں پس یہ آیت اتری لیکن ہمیں اس کے ماننے میں تامل ہے، اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے اور اس کا کل بیان قریشیوں سے ہے وہی مخاطب ہیں اور یہود کے ساتھ مکے میں آپ کا اجتماع نہیں ہوا مدینے میں ان سے میل ہوا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر4793
ہم نے اس پاک کتاب میں ہر قسم کی دلیلیں بیان فرما کر حق کو واضح کر دیا ہے اور ہر بات کو شرح و بسط سے بیان فرما دیا ہے، باوجود اس کے بھی اکثر لوگ حق کی مخالفت کر رہے ہیں اور حق کو دھکے دے رہے ہیں اور اللہ کی ناشکری میں لگے ہوئے ہیں۔
صفحہ نمبر4794
قرآن اللہ تعالٰی کا احسان عظیم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے زبردست احسان اور عظیم الشان نعمت کو بیان فرما رہا ہے جو اس نے اپنے حبیب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر انعام کی ہے یعنی آپ پر وہ کتاب نازل فرمائی جس میں کہیں سے بھی کسی وقت باطل کی آمیزش ناممکن ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس وحی کو سلب بھی کرسکتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آخر زمانے میں ایک سرخ ہوا چلے گی شام کی طرف سے یہ اٹھے گی اس وقت قرآن کے ورقوں میں سے اور حافظوں کے دلوں میں سے قرآن سلب ہو جائے گا، ایک حرف بھی باقی نہیں رہے گا، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔
پھر اپنا فضل و کرم اور احسان بیان کرکے فرماتا ہے کہ اس قرآن کریم کی بزرگی ایک یہ بھی ہے کہ تمام مخلوق اس کے مقابلے سے عاجز ہے۔ کسی کے بس میں اس جیسا کلام نہیں، جس طرح اللہ تعالیٰ بے مثل بے نظیر بے شریک ہے اسی طرح اس کا کلام مثال سے نظیر سے اپنے جیسے سے پاک ہے۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ نے وارد کیا ہے کہ یہودی آئے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ ہم بھی اسی جیسا کلام بنا لاتے ہیں پس یہ آیت اتری لیکن ہمیں اس کے ماننے میں تامل ہے، اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے اور اس کا کل بیان قریشیوں سے ہے وہی مخاطب ہیں اور یہود کے ساتھ مکے میں آپ کا اجتماع نہیں ہوا مدینے میں ان سے میل ہوا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر4793
ہم نے اس پاک کتاب میں ہر قسم کی دلیلیں بیان فرما کر حق کو واضح کر دیا ہے اور ہر بات کو شرح و بسط سے بیان فرما دیا ہے، باوجود اس کے بھی اکثر لوگ حق کی مخالفت کر رہے ہیں اور حق کو دھکے دے رہے ہیں اور اللہ کی ناشکری میں لگے ہوئے ہیں۔
صفحہ نمبر4794
قریش کے امراء کی آخری کوشش ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ اور شیبہ اور ابوسفیان بن حرب اور بنی عبدالدار قبیلے کے دو شخص اور ابوالبختری بنی اسد کا اور اسود بن مطلب بن اسد اور زمعہ بن اسود اور ولید بن مغیرہ اور ابوجہل بن ہشام اور عبداللہ بن ابی امیہ اور امیہ بن خلف اور عاص بن وائل اور نبیہ اور منبہ سہمی حجاج کے لڑکے، یہ سب یا ان میں سے کچھ سورج کے غروب ہو جانے کے بعد کعبۃ اللہ کے پیچھے جمع ہوئے اور کہنے لگے، بھئی کسی کو بھیج کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوالو اور اس سے کہہ سن کر آج فیصلہ کرلو تاکہ کوئی عذر باقی نہ رہے۔ چنانچہ قاصد گیا اور خبر دی کہ آپ کی قوم کے اشراف لوگ جمع ہوئے ہیں اور آپ کو یاد کیا ہے۔
صفحہ نمبر4798
چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان لوگوں کا ہر وقت خیال رہتا تھا آپ کے جی میں آئی کہ بہت ممکن ہے اللہ نے انہیں صحیح سمجھ دے دی ہو اور یہ راہ راست پر آ جائیں، اس لیے آپ فوراً ہی تشریف لائے۔ قریشیوں نے آپ کو دیکھتے ہی کہا، سنئے آج ہم آپ پر حجت پوری کر دیتے ہیں تاکہ پھر ہم پر کسی قسم کا الزام نہ آئے اسی لیے ہم نے آپ کو بلوایا ہے۔ واللہ کسی نے اپنی قوم کو اس مصیبت میں نہیں ڈالا ہوگا جو مصیبت تم نے ہم پر کھڑی کر رکھی ہے، تم ہمارے باپ دادوں کو گالیاں دیتے ہو ہمارے دین کو برا کہتے ہو ہمارے بزرگوں کو بیوقوف بتاتے ہو ہمارے مبعودوں کو برا کہتے ہو، تم نے ہم میں تفریق ڈال دی لڑائیاں کھڑی کر دیں، واللہ آپ نے ہمیں کسی برائی کے پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ اب صاف صاف سن لیجئے اور سوچ سمجھ کر جواب دیئجے، اگر آپ کا ارادہ ان تمام باتوں سے مال جمع کرنے کا ہے تو ہم موجود ہیں ہم خود آپ کو اس قدر مال جمع کر دیتے ہیں کہ آپ کے برابر ہم میں سے کوئی مالدار نہ ہو اور اگر آپ کا ارادہ اس سے یہ ہے کہ آپ ہم پر سرداری کریں تو لو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں ہم آپ کی سرداری کو تسلیم کرتے ہیں اور آپ کی تابعداری منظور کرتے ہیں۔ اگر آپ بادشاہت کے طالب ہیں تو واللہ ہم آپ کی بادشاہت کا اعلان کر دیتے ہیں اور اگر واقعی آپ کے دماغ میں کوئی فتور ہے، کوئی جن آپ کو ستا رہا ہے تو ہم موجود ہیں دل کھول کر رقمیں خرچ کر کے تمہارا علاج معالجہ کریں گے یہاں تک کہ آپ کو شفاء ہو جائے یا ہم معذور سمجھ لیے جائیں۔
صفحہ نمبر4799
یہ سب سن کر سردار رسولاں شفیع پیغمبراں صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ سنو بحمد اللہ مجھے کوئی دماغی عارضہ یا خلل یا آسیب نہیں نہ میں اپنی اس رسالت کی وجہ سے مالدار بننا چاہتا ہوں نہ کسی سرداری کی طمع ہے نہ بادشاہ بننا چاہتا ہوں، بلکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تم سب کی طرف اپنا رسول برحق بناکر بھیجا ہے اور مجھ پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں خوشخبریاں سنادوں اور ڈرا دھمکا دوں۔ میں نے اپنے رب کے پیغامات تمہیں پہنچا دئیے، تمہاری سچی خیر خواہی کی۔ تم اگر قبول کر لو گے تو دونوں جہان میں نصیب دار بن جاؤ گے اور اگر نامنظور کر دو گے تو میں صبر کروں گا یہاں تک کہ جناب باری تعالیٰ شانہ مجھ میں اور تم میں سچا فیصلہ فرما دے «او کماقال» ۔
صفحہ نمبر4800
اب سرداران قوم نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ کو ہماری ان باتوں میں سے ایک بھی منظور نہیں تو اب اور سنو یہ تو خود تمہیں بھی معلوم ہے کہ ہم سے زیادہ تنگ شہر کسی اور کا نہیں، ہم سے زیادہ کم مال کوئی قوم نہیں، ہم سے زیادہ پیٹ پیٹ کر بہت کم روزی حاصل کرنے والی بھی کوئی قوم نہیں۔ تو آپ اپنے رب سے جس نے آپ کو اپنی رسالت دے کر بھیجا ہے دعا کیجئے کہ یہ پہاڑ یہاں سے ہٹا لے تاکہ ہمارا علاقہ کشادہ ہو جائے، ہمارے شہروں کو وسعت ہو جائے، اس میں نہریں چشمے اور دریا جاری ہو جائیں جیسے کہ شام اور عراق میں ہیں اور یہ بھی دعا کیجئے کہ ہمارے باپ دادا زندہ ہو جائیں اور ان میں قصی بن کلاب ضرور ہو، وہ ہم میں ایک بزرگ اور سچا شخص تھا، ہم اس سے پوچھ لیں گے وہ آپ کی بابت جو کہہ دے گا ہمیں اطمینان ہو جائے گا۔ اگر آپ نے یہ کر دیا تو ہمیں آپ کی رسالت پر ایمان آ جائے گا اور ہم آپ کی دل سے تصدیق کرنے لگیں گے اور آپ کی بزرگی کے قائل ہو جائیں گے۔ آپ نے فرمایا میں ان چیزوں کے ساتھ نہیں بھیجا گیا۔ ان میں سے کوئی کام میرے بس کا نہیں، میں تو اللہ کی باتیں تمہیں پہنچانے کے لیے آیا ہوں۔ تم قبول کر لو، دونوں جہان میں خوش رہو گے۔ نہ قبول کرو گے تو میں صبر کروں گا۔ اللہ کے حکم پر منتظر رہوں گا، یہاں تک کہ پروردگار عالم مجھ میں اور تم میں فیصلہ فرما دے۔ انہوں نے کہا، اچھا یہ بھی نہ سہی، لیجئے ہم خود آپ کے لیے ہی تجویز کرتے ہیں، آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ کوئی فرشتہ آپ کے پاس بھیجے جو آپ کی باتوں کی سچائی اور تصدیق کر دے، آپ کی طرف سے ہمیں جواب دے اور اس سے کہہ کر آپ اپنے لیے باغات اور خزانے اور سونے چاندی کے محل بنوا لیجئے تاکہ خود آپ کی حالت تو سنور جائے، بازاروں میں چلنا پھرنا ہماری طرح تلاش معاش میں نکلنا یہ تو چھوٹ جائے۔ یہ اگر ہو جائے تو ہم مان لیں گے کہ واقعی اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ کی عزت ہے اور آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔
صفحہ نمبر4801
اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نہ میں یہ کروں نہ اپنے رب سے یہ طلب کروں نہ اس کے ساتھ میں بھیجا گیا، مجھے تو اللہ تعالیٰ نے بشیر و نذیر بنایا ہے بس اور کچھ نہیں۔ تم مان لو تو دونوں جہان میں اپنا بھلا کرو گے اور نہ مانو نہ سہی۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ میرا پرودگار میرے اور تمہارے درمیان کیا فیصلہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا اچھا پھر ہم کہتے ہیں کہ جاؤ اپنے رب سے کہہ کر ہم پر آسمان گرا دو، تم تو کہتے ہی ہو کہ اگر اللہ چاہے تو ایسا کر دے تو پھر ہم کہتے ہیں بس کر دو ڈھیل نہ کرو۔ آپ نے فرمایا یہ اللہ کے اختیار کی بات ہے جو وہ چاہے کرے جو نہ چاہے نہ کرے۔ مشرکین نے کہا سنئے کیا اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم نہ تھا کہ ہم تیرے پاس اس وقت بیٹھیں گے اور تجھ سے یہ چیزیں طلب کریں گے اور اس قسم کے سوالات کریں گے تو چاہیئے تھا کہ وہ تجھے پہلے سے مطلع کر دیتا اور یہ بھی بتا دیتا کہ تجھے کیا جواب دینا چاہیئے اور جب ہم تیری نہ مانیں تو وہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا۔ سنئے ہم نے تو سنا ہے کہ آپ کو یہ سب کچھ یمامہ کا ایک شخص رحمان نامی ہے وہ سکھا جاتا ہے، اللہ کی قسم ہم تو رحمان پر ایمان لانے کے نہیں، ناممکن ہے کہ ہم اسے مانیں۔ ہم نے آپ سے سبکدوشی حاصل کرلی جو کچھ کہنا سننا تھا کہہ سن چکے اور آپ نے ہماری واجبی اور انصاف کی بات بھی نہیں مانی۔ اب کان کھول کر ہوشیار ہو کر سن لیجئے کہ ہم آپ کو اس حالت میں آزاد نہیں رکھ سکتے، اب یا تو ہم آپ کو ہلاک کر دیں گے یا آپ ہمیں تباہ کر دیں۔ کوئی کہنے لگا ہم تو فرشتوں کو پوجتے ہیں جو اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ کسی نے کہا جب تک تو اللہ تعالیٰ کو اور اس کے فرشتوں کو کھلم کھلا ہمارے پاس نہ لائے ہم ایمان نہ لائیں گے۔
صفحہ نمبر4802
پھر مجلس برخاست ہوئی۔ عبداللہ بن ابی، امیہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن مخزوم جو آپ کی پھوپھی عاتکہ بنت عبدالمطلب کا لڑکا تھا آپ کے ساتھ ہولیا اور کہنے لگا کہ یہ تو بڑی نامنصفی کی بات ہے کہ قوم نے جو کہا وہ بھی آپ نے منظور نہ کیا، پھر جو طلب کیا وہ بھی آپ نے پورا نہ کیا، پھر جس چیز سے آپ انہیں ڈراتے تھے وہ مانگا وہ بھی آپ نے نہ کیا، اب تو اللہ کی قسم میں آپ پر ایمان لاؤں گا ہی نہیں جب تک کہ آپ سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھ کر کوئی کتاب نہ لائیں اور چار فرشتے اپنے ساتھ اپنے گواہ بنا کر نہ لائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام باتوں سے سخت رنجیدہ ہوئے۔ گئے تو آپ بڑے شوق سے تھے کہ شاید قوم کے سردار میری کچھ مان لیں لیکن جب ان کی سرکشی اور ایمان سے دوری آپ نے دیکھی بڑے ہی مغموم ہو کر واپس اپنے گھر آئے، صلی اللہ علیہ وسلم ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22719]
صفحہ نمبر4803
بات یہ ہے کہ ان کی یہ تمام باتیں بطور کفر و عناد اور بطور نیچا دکھانے اور لاجواب کرنے کے تھیں ورنہ اگر ایمان لانے کے لیے نیک نیتی سے یہ سوالات ہوتے تو بہت ممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں یہ معجزے دکھا دیتا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا گیا کہ اگر آپ کی چاہت ہو تو جو یہ مانگتے ہیں میں دکھا دوں۔
لیکن یہ یاد رہے کہ اگر پھر بھی ایمان نہ لائے تو انہیں وہ عبرتناک سزائیں دوں گا جو کسی کو نہ دی ہوں اور اگر آپ چاہیں تو میں ان پر توبہ کی قبولیت کا اور رحمت کا دروازہ کھلا رکھوں، آپ نے دوسری بات پسند فرمائی۔ [مسند احمد:242/1:صحیح]
اللہ اپنے نبی رحمت اور نبی توبہ پر درود و سلام بہت بہت نازل فرمائے۔ اسی بات اور اسی حکمت کا ذکر آیت «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ» [17-الإسراء:59] میں ہے۔
اور آیت «وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ ۭ لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِيْرًا» [25-الفرقان:7-11] الخ، میں بھی ہے
کہ یہ سب چیزیں ہمارے بس میں ہیں اور یہ سب ممکن ہے۔ لیکن اسی وجہ سے کہ ان کے ظاہر ہو جانے کے بعد ایمان نہ لانے والوں کو پھر ہم چھوڑا نہیں کرتے، ہم ان نشانات کو روک رکھتے ہیں اور ان کفار کو ڈھیل دے رکھی ہے اور ان کا آخر ٹھکانا جہنم بنا رکھا ہے۔
صفحہ نمبر4804
پس ان کا سوال تھا کہ ریگستان عرب میں نہریں چل پڑیں دریا ابل پڑیں وغیرہ، ظاہر ہے کہ ان میں کوئی کام بھی اس قادر و قیوم اللہ پر بھاری نہیں سب کچھ اس کی قدرت تلے اور اس کے فرمان تلے ہے۔ لیکن وہ بخوبی جانتا ہے کہ یہ ازلی کافر ان معجزوں کو دیکھ کر بھی ایمان نہیں لانے کے۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ * وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-يونس:96]
” یعنی جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے انہیں باوجود تمام تر معجزات دیکھ لینے کے بھی ایمان نصیب نہ ہو گا یہاں تک کہ وہ المناک عذابوں کا معائنہ نہ کر لیں۔ “
«وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» [6-الأنعام:111] میں فرمایا ” اے نبی ان کی خواہش کے مطابق اگر ہم ان پر فرشتے بھی نازل فرمائیں اور مردے بھی ان سے باتیں کر لیں اور اتنا ہی نہیں بلکہ غیب کی تمام چیز کھلم کھلا ان کے سامنے ظاہر کر دیں تو بھی یہ کافر بغیر مشیت الٰہی ایمان لانے کے نہیں، ان میں سے اکثر جہالت کے پتلے ہیں۔ “
اپنے لئے دریا طلب کرنے کے بعد انہوں نے کہا، اچھا آپ ہی کے لیے باغات اور نہریں ہو جائیں۔ پھر کہا کہ اچھا یہ بھی نہ سہی تو آپ کہتے ہی ہیں کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا، ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا تو اب آج ہی ہم پر اس کے ٹکڑے گرا دیئجے۔ چنانچہ انہوں نے خود بھی اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کی کہ «وَإِذْ قَالُوا اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» [8-الأنفال:32]
” یعنی اے اللہ اگر یہ سب کچھ تیری جانب سے ہی برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا۔ “ الخ۔
صفحہ نمبر4805
شعیب علیہ السلام کی قوم نے بھی یہی خواہش کی تھی جس بنا پر ان پر سائبان کے دن کا عذاب اترا۔ لیکن چونکہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین اور نبی التوبہ تھے، آپ نے اللہ سے دعا کی کہ وہ انہیں ہلاکت سے بچا لے۔ ممکن ہے یہ نہیں تو ان کی اولادیں ہی ایمان قبول کر لیں، توحید اختیار کر لیں اور شرک چھوڑ دیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ آرزو پوری ہوئی، عذاب نہ اترا۔ خود ان میں سے بھی بہت سوں کو ایمان کی دولت نصیب ہوئی، یہاں تک کہ عبداللہ بن امیہ جس نے آخر میں کے ساتھ جاکر آپ کو باتیں سنائی تھیں اور ایمان نہ لانے کی قسمیں کھائیں تھیں وہ بھی اسلام کے جھنڈے تلے آئے رضی اللہ عنہ۔
«زُخْرُفٍ» سے مراد سونا ہے بلکہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں لفظ «مِنِْ ذَهَبَ» ہے۔ کفار کا اور مطالبہ یہ تھا کہ تیرے لیے سونے کا گھر ہو جائے یا ہمارے دیکھتے ہوئے تو سیڑھی لگاکر آسمان پر پہنچ جائے اور وہاں سے کوئی کتاب لائے جو ہر ایک کے نام کی الگ الگ ہو، راتوں رات ان کے سرہانے وہ پرچے پہنچ جائیں ان پر ان کے نام لکھے ہوئے ہوں۔
اس کے جواب میں حکم ہوا کہ ان سے کہہ دو کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے آگے کسی کی کچھ نہیں چلتی، وہ اپنی سلطنت اور مملکت کا تنہا مالک ہے، جو چاہے کرے جو نہ چاہے نہ کرے، تمہاری منہ مانگی چیز ظاہر کرے نہ کرے یہ اس کے اختیار کی بات ہے۔ میں تو صرف پیغام رب پہنچانے والا ہوں، میں نے اپنا فرض ادا کر دیا، احکام الٰہی تمہیں پہنچا دئیے، اب جو تم نے مانگا وہ اللہ کے بس کی بات ہے نہ کہ میرے بس کی۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بطحاء مکہ کی بابت مجھ سے فرمایا گیا کہ اگر تم چاہو تو میں اسے سونے کا بنا دوں، میں نے گزارش کی کہ نہیں اے اللہ میری تو یہ چاہت ہے کہ ایک روز پیٹ بھرا رہوں اور دوسرے روز بھوکا رہوں، بھوک میں تیری طرف جھکوں، تضرع اور زاری کروں اور بکثرت تیری یاد کروں۔ بھرے پیٹ ہو جاؤں تو تیری حمد کروں، تیرا شکر بجا لاؤں۔ [سنن ترمذي:2347،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔
صفحہ نمبر4806