Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Israa
Tafsir Ibn Kathir · The Night Journey · 111 ayat · ayat 91–111 · Quran text →
قریش کے امراء کی آخری کوشش ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ اور شیبہ اور ابوسفیان بن حرب اور بنی عبدالدار قبیلے کے دو شخص اور ابوالبختری بنی اسد کا اور اسود بن مطلب بن اسد اور زمعہ بن اسود اور ولید بن مغیرہ اور ابوجہل بن ہشام اور عبداللہ بن ابی امیہ اور امیہ بن خلف اور عاص بن وائل اور نبیہ اور منبہ سہمی حجاج کے لڑکے، یہ سب یا ان میں سے کچھ سورج کے غروب ہو جانے کے بعد کعبۃ اللہ کے پیچھے جمع ہوئے اور کہنے لگے، بھئی کسی کو بھیج کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوالو اور اس سے کہہ سن کر آج فیصلہ کرلو تاکہ کوئی عذر باقی نہ رہے۔ چنانچہ قاصد گیا اور خبر دی کہ آپ کی قوم کے اشراف لوگ جمع ہوئے ہیں اور آپ کو یاد کیا ہے۔
صفحہ نمبر4798
چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان لوگوں کا ہر وقت خیال رہتا تھا آپ کے جی میں آئی کہ بہت ممکن ہے اللہ نے انہیں صحیح سمجھ دے دی ہو اور یہ راہ راست پر آ جائیں، اس لیے آپ فوراً ہی تشریف لائے۔ قریشیوں نے آپ کو دیکھتے ہی کہا، سنئے آج ہم آپ پر حجت پوری کر دیتے ہیں تاکہ پھر ہم پر کسی قسم کا الزام نہ آئے اسی لیے ہم نے آپ کو بلوایا ہے۔ واللہ کسی نے اپنی قوم کو اس مصیبت میں نہیں ڈالا ہوگا جو مصیبت تم نے ہم پر کھڑی کر رکھی ہے، تم ہمارے باپ دادوں کو گالیاں دیتے ہو ہمارے دین کو برا کہتے ہو ہمارے بزرگوں کو بیوقوف بتاتے ہو ہمارے مبعودوں کو برا کہتے ہو، تم نے ہم میں تفریق ڈال دی لڑائیاں کھڑی کر دیں، واللہ آپ نے ہمیں کسی برائی کے پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ اب صاف صاف سن لیجئے اور سوچ سمجھ کر جواب دیئجے، اگر آپ کا ارادہ ان تمام باتوں سے مال جمع کرنے کا ہے تو ہم موجود ہیں ہم خود آپ کو اس قدر مال جمع کر دیتے ہیں کہ آپ کے برابر ہم میں سے کوئی مالدار نہ ہو اور اگر آپ کا ارادہ اس سے یہ ہے کہ آپ ہم پر سرداری کریں تو لو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں ہم آپ کی سرداری کو تسلیم کرتے ہیں اور آپ کی تابعداری منظور کرتے ہیں۔ اگر آپ بادشاہت کے طالب ہیں تو واللہ ہم آپ کی بادشاہت کا اعلان کر دیتے ہیں اور اگر واقعی آپ کے دماغ میں کوئی فتور ہے، کوئی جن آپ کو ستا رہا ہے تو ہم موجود ہیں دل کھول کر رقمیں خرچ کر کے تمہارا علاج معالجہ کریں گے یہاں تک کہ آپ کو شفاء ہو جائے یا ہم معذور سمجھ لیے جائیں۔
صفحہ نمبر4799
یہ سب سن کر سردار رسولاں شفیع پیغمبراں صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ سنو بحمد اللہ مجھے کوئی دماغی عارضہ یا خلل یا آسیب نہیں نہ میں اپنی اس رسالت کی وجہ سے مالدار بننا چاہتا ہوں نہ کسی سرداری کی طمع ہے نہ بادشاہ بننا چاہتا ہوں، بلکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تم سب کی طرف اپنا رسول برحق بناکر بھیجا ہے اور مجھ پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں خوشخبریاں سنادوں اور ڈرا دھمکا دوں۔ میں نے اپنے رب کے پیغامات تمہیں پہنچا دئیے، تمہاری سچی خیر خواہی کی۔ تم اگر قبول کر لو گے تو دونوں جہان میں نصیب دار بن جاؤ گے اور اگر نامنظور کر دو گے تو میں صبر کروں گا یہاں تک کہ جناب باری تعالیٰ شانہ مجھ میں اور تم میں سچا فیصلہ فرما دے «او کماقال» ۔
صفحہ نمبر4800
اب سرداران قوم نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ کو ہماری ان باتوں میں سے ایک بھی منظور نہیں تو اب اور سنو یہ تو خود تمہیں بھی معلوم ہے کہ ہم سے زیادہ تنگ شہر کسی اور کا نہیں، ہم سے زیادہ کم مال کوئی قوم نہیں، ہم سے زیادہ پیٹ پیٹ کر بہت کم روزی حاصل کرنے والی بھی کوئی قوم نہیں۔ تو آپ اپنے رب سے جس نے آپ کو اپنی رسالت دے کر بھیجا ہے دعا کیجئے کہ یہ پہاڑ یہاں سے ہٹا لے تاکہ ہمارا علاقہ کشادہ ہو جائے، ہمارے شہروں کو وسعت ہو جائے، اس میں نہریں چشمے اور دریا جاری ہو جائیں جیسے کہ شام اور عراق میں ہیں اور یہ بھی دعا کیجئے کہ ہمارے باپ دادا زندہ ہو جائیں اور ان میں قصی بن کلاب ضرور ہو، وہ ہم میں ایک بزرگ اور سچا شخص تھا، ہم اس سے پوچھ لیں گے وہ آپ کی بابت جو کہہ دے گا ہمیں اطمینان ہو جائے گا۔ اگر آپ نے یہ کر دیا تو ہمیں آپ کی رسالت پر ایمان آ جائے گا اور ہم آپ کی دل سے تصدیق کرنے لگیں گے اور آپ کی بزرگی کے قائل ہو جائیں گے۔ آپ نے فرمایا میں ان چیزوں کے ساتھ نہیں بھیجا گیا۔ ان میں سے کوئی کام میرے بس کا نہیں، میں تو اللہ کی باتیں تمہیں پہنچانے کے لیے آیا ہوں۔ تم قبول کر لو، دونوں جہان میں خوش رہو گے۔ نہ قبول کرو گے تو میں صبر کروں گا۔ اللہ کے حکم پر منتظر رہوں گا، یہاں تک کہ پروردگار عالم مجھ میں اور تم میں فیصلہ فرما دے۔ انہوں نے کہا، اچھا یہ بھی نہ سہی، لیجئے ہم خود آپ کے لیے ہی تجویز کرتے ہیں، آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ کوئی فرشتہ آپ کے پاس بھیجے جو آپ کی باتوں کی سچائی اور تصدیق کر دے، آپ کی طرف سے ہمیں جواب دے اور اس سے کہہ کر آپ اپنے لیے باغات اور خزانے اور سونے چاندی کے محل بنوا لیجئے تاکہ خود آپ کی حالت تو سنور جائے، بازاروں میں چلنا پھرنا ہماری طرح تلاش معاش میں نکلنا یہ تو چھوٹ جائے۔ یہ اگر ہو جائے تو ہم مان لیں گے کہ واقعی اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ کی عزت ہے اور آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔
صفحہ نمبر4801
اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نہ میں یہ کروں نہ اپنے رب سے یہ طلب کروں نہ اس کے ساتھ میں بھیجا گیا، مجھے تو اللہ تعالیٰ نے بشیر و نذیر بنایا ہے بس اور کچھ نہیں۔ تم مان لو تو دونوں جہان میں اپنا بھلا کرو گے اور نہ مانو نہ سہی۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ میرا پرودگار میرے اور تمہارے درمیان کیا فیصلہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا اچھا پھر ہم کہتے ہیں کہ جاؤ اپنے رب سے کہہ کر ہم پر آسمان گرا دو، تم تو کہتے ہی ہو کہ اگر اللہ چاہے تو ایسا کر دے تو پھر ہم کہتے ہیں بس کر دو ڈھیل نہ کرو۔ آپ نے فرمایا یہ اللہ کے اختیار کی بات ہے جو وہ چاہے کرے جو نہ چاہے نہ کرے۔ مشرکین نے کہا سنئے کیا اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم نہ تھا کہ ہم تیرے پاس اس وقت بیٹھیں گے اور تجھ سے یہ چیزیں طلب کریں گے اور اس قسم کے سوالات کریں گے تو چاہیئے تھا کہ وہ تجھے پہلے سے مطلع کر دیتا اور یہ بھی بتا دیتا کہ تجھے کیا جواب دینا چاہیئے اور جب ہم تیری نہ مانیں تو وہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا۔ سنئے ہم نے تو سنا ہے کہ آپ کو یہ سب کچھ یمامہ کا ایک شخص رحمان نامی ہے وہ سکھا جاتا ہے، اللہ کی قسم ہم تو رحمان پر ایمان لانے کے نہیں، ناممکن ہے کہ ہم اسے مانیں۔ ہم نے آپ سے سبکدوشی حاصل کرلی جو کچھ کہنا سننا تھا کہہ سن چکے اور آپ نے ہماری واجبی اور انصاف کی بات بھی نہیں مانی۔ اب کان کھول کر ہوشیار ہو کر سن لیجئے کہ ہم آپ کو اس حالت میں آزاد نہیں رکھ سکتے، اب یا تو ہم آپ کو ہلاک کر دیں گے یا آپ ہمیں تباہ کر دیں۔ کوئی کہنے لگا ہم تو فرشتوں کو پوجتے ہیں جو اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ کسی نے کہا جب تک تو اللہ تعالیٰ کو اور اس کے فرشتوں کو کھلم کھلا ہمارے پاس نہ لائے ہم ایمان نہ لائیں گے۔
صفحہ نمبر4802
پھر مجلس برخاست ہوئی۔ عبداللہ بن ابی، امیہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن مخزوم جو آپ کی پھوپھی عاتکہ بنت عبدالمطلب کا لڑکا تھا آپ کے ساتھ ہولیا اور کہنے لگا کہ یہ تو بڑی نامنصفی کی بات ہے کہ قوم نے جو کہا وہ بھی آپ نے منظور نہ کیا، پھر جو طلب کیا وہ بھی آپ نے پورا نہ کیا، پھر جس چیز سے آپ انہیں ڈراتے تھے وہ مانگا وہ بھی آپ نے نہ کیا، اب تو اللہ کی قسم میں آپ پر ایمان لاؤں گا ہی نہیں جب تک کہ آپ سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھ کر کوئی کتاب نہ لائیں اور چار فرشتے اپنے ساتھ اپنے گواہ بنا کر نہ لائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام باتوں سے سخت رنجیدہ ہوئے۔ گئے تو آپ بڑے شوق سے تھے کہ شاید قوم کے سردار میری کچھ مان لیں لیکن جب ان کی سرکشی اور ایمان سے دوری آپ نے دیکھی بڑے ہی مغموم ہو کر واپس اپنے گھر آئے، صلی اللہ علیہ وسلم ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22719]
صفحہ نمبر4803
بات یہ ہے کہ ان کی یہ تمام باتیں بطور کفر و عناد اور بطور نیچا دکھانے اور لاجواب کرنے کے تھیں ورنہ اگر ایمان لانے کے لیے نیک نیتی سے یہ سوالات ہوتے تو بہت ممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں یہ معجزے دکھا دیتا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا گیا کہ اگر آپ کی چاہت ہو تو جو یہ مانگتے ہیں میں دکھا دوں۔
لیکن یہ یاد رہے کہ اگر پھر بھی ایمان نہ لائے تو انہیں وہ عبرتناک سزائیں دوں گا جو کسی کو نہ دی ہوں اور اگر آپ چاہیں تو میں ان پر توبہ کی قبولیت کا اور رحمت کا دروازہ کھلا رکھوں، آپ نے دوسری بات پسند فرمائی۔ [مسند احمد:242/1:صحیح]
اللہ اپنے نبی رحمت اور نبی توبہ پر درود و سلام بہت بہت نازل فرمائے۔ اسی بات اور اسی حکمت کا ذکر آیت «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ» [17-الإسراء:59] میں ہے۔
اور آیت «وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ ۭ لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِيْرًا» [25-الفرقان:7-11] الخ، میں بھی ہے
کہ یہ سب چیزیں ہمارے بس میں ہیں اور یہ سب ممکن ہے۔ لیکن اسی وجہ سے کہ ان کے ظاہر ہو جانے کے بعد ایمان نہ لانے والوں کو پھر ہم چھوڑا نہیں کرتے، ہم ان نشانات کو روک رکھتے ہیں اور ان کفار کو ڈھیل دے رکھی ہے اور ان کا آخر ٹھکانا جہنم بنا رکھا ہے۔
صفحہ نمبر4804
پس ان کا سوال تھا کہ ریگستان عرب میں نہریں چل پڑیں دریا ابل پڑیں وغیرہ، ظاہر ہے کہ ان میں کوئی کام بھی اس قادر و قیوم اللہ پر بھاری نہیں سب کچھ اس کی قدرت تلے اور اس کے فرمان تلے ہے۔ لیکن وہ بخوبی جانتا ہے کہ یہ ازلی کافر ان معجزوں کو دیکھ کر بھی ایمان نہیں لانے کے۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ * وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-يونس:96]
” یعنی جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے انہیں باوجود تمام تر معجزات دیکھ لینے کے بھی ایمان نصیب نہ ہو گا یہاں تک کہ وہ المناک عذابوں کا معائنہ نہ کر لیں۔ “
«وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» [6-الأنعام:111] میں فرمایا ” اے نبی ان کی خواہش کے مطابق اگر ہم ان پر فرشتے بھی نازل فرمائیں اور مردے بھی ان سے باتیں کر لیں اور اتنا ہی نہیں بلکہ غیب کی تمام چیز کھلم کھلا ان کے سامنے ظاہر کر دیں تو بھی یہ کافر بغیر مشیت الٰہی ایمان لانے کے نہیں، ان میں سے اکثر جہالت کے پتلے ہیں۔ “
اپنے لئے دریا طلب کرنے کے بعد انہوں نے کہا، اچھا آپ ہی کے لیے باغات اور نہریں ہو جائیں۔ پھر کہا کہ اچھا یہ بھی نہ سہی تو آپ کہتے ہی ہیں کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا، ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا تو اب آج ہی ہم پر اس کے ٹکڑے گرا دیئجے۔ چنانچہ انہوں نے خود بھی اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کی کہ «وَإِذْ قَالُوا اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» [8-الأنفال:32]
” یعنی اے اللہ اگر یہ سب کچھ تیری جانب سے ہی برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا۔ “ الخ۔
صفحہ نمبر4805
شعیب علیہ السلام کی قوم نے بھی یہی خواہش کی تھی جس بنا پر ان پر سائبان کے دن کا عذاب اترا۔ لیکن چونکہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین اور نبی التوبہ تھے، آپ نے اللہ سے دعا کی کہ وہ انہیں ہلاکت سے بچا لے۔ ممکن ہے یہ نہیں تو ان کی اولادیں ہی ایمان قبول کر لیں، توحید اختیار کر لیں اور شرک چھوڑ دیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ آرزو پوری ہوئی، عذاب نہ اترا۔ خود ان میں سے بھی بہت سوں کو ایمان کی دولت نصیب ہوئی، یہاں تک کہ عبداللہ بن امیہ جس نے آخر میں کے ساتھ جاکر آپ کو باتیں سنائی تھیں اور ایمان نہ لانے کی قسمیں کھائیں تھیں وہ بھی اسلام کے جھنڈے تلے آئے رضی اللہ عنہ۔
«زُخْرُفٍ» سے مراد سونا ہے بلکہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں لفظ «مِنِْ ذَهَبَ» ہے۔ کفار کا اور مطالبہ یہ تھا کہ تیرے لیے سونے کا گھر ہو جائے یا ہمارے دیکھتے ہوئے تو سیڑھی لگاکر آسمان پر پہنچ جائے اور وہاں سے کوئی کتاب لائے جو ہر ایک کے نام کی الگ الگ ہو، راتوں رات ان کے سرہانے وہ پرچے پہنچ جائیں ان پر ان کے نام لکھے ہوئے ہوں۔
اس کے جواب میں حکم ہوا کہ ان سے کہہ دو کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے آگے کسی کی کچھ نہیں چلتی، وہ اپنی سلطنت اور مملکت کا تنہا مالک ہے، جو چاہے کرے جو نہ چاہے نہ کرے، تمہاری منہ مانگی چیز ظاہر کرے نہ کرے یہ اس کے اختیار کی بات ہے۔ میں تو صرف پیغام رب پہنچانے والا ہوں، میں نے اپنا فرض ادا کر دیا، احکام الٰہی تمہیں پہنچا دئیے، اب جو تم نے مانگا وہ اللہ کے بس کی بات ہے نہ کہ میرے بس کی۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بطحاء مکہ کی بابت مجھ سے فرمایا گیا کہ اگر تم چاہو تو میں اسے سونے کا بنا دوں، میں نے گزارش کی کہ نہیں اے اللہ میری تو یہ چاہت ہے کہ ایک روز پیٹ بھرا رہوں اور دوسرے روز بھوکا رہوں، بھوک میں تیری طرف جھکوں، تضرع اور زاری کروں اور بکثرت تیری یاد کروں۔ بھرے پیٹ ہو جاؤں تو تیری حمد کروں، تیرا شکر بجا لاؤں۔ [سنن ترمذي:2347،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔
صفحہ نمبر4806
قریش کے امراء کی آخری کوشش ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ اور شیبہ اور ابوسفیان بن حرب اور بنی عبدالدار قبیلے کے دو شخص اور ابوالبختری بنی اسد کا اور اسود بن مطلب بن اسد اور زمعہ بن اسود اور ولید بن مغیرہ اور ابوجہل بن ہشام اور عبداللہ بن ابی امیہ اور امیہ بن خلف اور عاص بن وائل اور نبیہ اور منبہ سہمی حجاج کے لڑکے، یہ سب یا ان میں سے کچھ سورج کے غروب ہو جانے کے بعد کعبۃ اللہ کے پیچھے جمع ہوئے اور کہنے لگے، بھئی کسی کو بھیج کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوالو اور اس سے کہہ سن کر آج فیصلہ کرلو تاکہ کوئی عذر باقی نہ رہے۔ چنانچہ قاصد گیا اور خبر دی کہ آپ کی قوم کے اشراف لوگ جمع ہوئے ہیں اور آپ کو یاد کیا ہے۔
صفحہ نمبر4798
چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان لوگوں کا ہر وقت خیال رہتا تھا آپ کے جی میں آئی کہ بہت ممکن ہے اللہ نے انہیں صحیح سمجھ دے دی ہو اور یہ راہ راست پر آ جائیں، اس لیے آپ فوراً ہی تشریف لائے۔ قریشیوں نے آپ کو دیکھتے ہی کہا، سنئے آج ہم آپ پر حجت پوری کر دیتے ہیں تاکہ پھر ہم پر کسی قسم کا الزام نہ آئے اسی لیے ہم نے آپ کو بلوایا ہے۔ واللہ کسی نے اپنی قوم کو اس مصیبت میں نہیں ڈالا ہوگا جو مصیبت تم نے ہم پر کھڑی کر رکھی ہے، تم ہمارے باپ دادوں کو گالیاں دیتے ہو ہمارے دین کو برا کہتے ہو ہمارے بزرگوں کو بیوقوف بتاتے ہو ہمارے مبعودوں کو برا کہتے ہو، تم نے ہم میں تفریق ڈال دی لڑائیاں کھڑی کر دیں، واللہ آپ نے ہمیں کسی برائی کے پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ اب صاف صاف سن لیجئے اور سوچ سمجھ کر جواب دیئجے، اگر آپ کا ارادہ ان تمام باتوں سے مال جمع کرنے کا ہے تو ہم موجود ہیں ہم خود آپ کو اس قدر مال جمع کر دیتے ہیں کہ آپ کے برابر ہم میں سے کوئی مالدار نہ ہو اور اگر آپ کا ارادہ اس سے یہ ہے کہ آپ ہم پر سرداری کریں تو لو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں ہم آپ کی سرداری کو تسلیم کرتے ہیں اور آپ کی تابعداری منظور کرتے ہیں۔ اگر آپ بادشاہت کے طالب ہیں تو واللہ ہم آپ کی بادشاہت کا اعلان کر دیتے ہیں اور اگر واقعی آپ کے دماغ میں کوئی فتور ہے، کوئی جن آپ کو ستا رہا ہے تو ہم موجود ہیں دل کھول کر رقمیں خرچ کر کے تمہارا علاج معالجہ کریں گے یہاں تک کہ آپ کو شفاء ہو جائے یا ہم معذور سمجھ لیے جائیں۔
صفحہ نمبر4799
یہ سب سن کر سردار رسولاں شفیع پیغمبراں صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ سنو بحمد اللہ مجھے کوئی دماغی عارضہ یا خلل یا آسیب نہیں نہ میں اپنی اس رسالت کی وجہ سے مالدار بننا چاہتا ہوں نہ کسی سرداری کی طمع ہے نہ بادشاہ بننا چاہتا ہوں، بلکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تم سب کی طرف اپنا رسول برحق بناکر بھیجا ہے اور مجھ پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں خوشخبریاں سنادوں اور ڈرا دھمکا دوں۔ میں نے اپنے رب کے پیغامات تمہیں پہنچا دئیے، تمہاری سچی خیر خواہی کی۔ تم اگر قبول کر لو گے تو دونوں جہان میں نصیب دار بن جاؤ گے اور اگر نامنظور کر دو گے تو میں صبر کروں گا یہاں تک کہ جناب باری تعالیٰ شانہ مجھ میں اور تم میں سچا فیصلہ فرما دے «او کماقال» ۔
صفحہ نمبر4800
اب سرداران قوم نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ کو ہماری ان باتوں میں سے ایک بھی منظور نہیں تو اب اور سنو یہ تو خود تمہیں بھی معلوم ہے کہ ہم سے زیادہ تنگ شہر کسی اور کا نہیں، ہم سے زیادہ کم مال کوئی قوم نہیں، ہم سے زیادہ پیٹ پیٹ کر بہت کم روزی حاصل کرنے والی بھی کوئی قوم نہیں۔ تو آپ اپنے رب سے جس نے آپ کو اپنی رسالت دے کر بھیجا ہے دعا کیجئے کہ یہ پہاڑ یہاں سے ہٹا لے تاکہ ہمارا علاقہ کشادہ ہو جائے، ہمارے شہروں کو وسعت ہو جائے، اس میں نہریں چشمے اور دریا جاری ہو جائیں جیسے کہ شام اور عراق میں ہیں اور یہ بھی دعا کیجئے کہ ہمارے باپ دادا زندہ ہو جائیں اور ان میں قصی بن کلاب ضرور ہو، وہ ہم میں ایک بزرگ اور سچا شخص تھا، ہم اس سے پوچھ لیں گے وہ آپ کی بابت جو کہہ دے گا ہمیں اطمینان ہو جائے گا۔ اگر آپ نے یہ کر دیا تو ہمیں آپ کی رسالت پر ایمان آ جائے گا اور ہم آپ کی دل سے تصدیق کرنے لگیں گے اور آپ کی بزرگی کے قائل ہو جائیں گے۔ آپ نے فرمایا میں ان چیزوں کے ساتھ نہیں بھیجا گیا۔ ان میں سے کوئی کام میرے بس کا نہیں، میں تو اللہ کی باتیں تمہیں پہنچانے کے لیے آیا ہوں۔ تم قبول کر لو، دونوں جہان میں خوش رہو گے۔ نہ قبول کرو گے تو میں صبر کروں گا۔ اللہ کے حکم پر منتظر رہوں گا، یہاں تک کہ پروردگار عالم مجھ میں اور تم میں فیصلہ فرما دے۔ انہوں نے کہا، اچھا یہ بھی نہ سہی، لیجئے ہم خود آپ کے لیے ہی تجویز کرتے ہیں، آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ کوئی فرشتہ آپ کے پاس بھیجے جو آپ کی باتوں کی سچائی اور تصدیق کر دے، آپ کی طرف سے ہمیں جواب دے اور اس سے کہہ کر آپ اپنے لیے باغات اور خزانے اور سونے چاندی کے محل بنوا لیجئے تاکہ خود آپ کی حالت تو سنور جائے، بازاروں میں چلنا پھرنا ہماری طرح تلاش معاش میں نکلنا یہ تو چھوٹ جائے۔ یہ اگر ہو جائے تو ہم مان لیں گے کہ واقعی اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ کی عزت ہے اور آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔
صفحہ نمبر4801
اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نہ میں یہ کروں نہ اپنے رب سے یہ طلب کروں نہ اس کے ساتھ میں بھیجا گیا، مجھے تو اللہ تعالیٰ نے بشیر و نذیر بنایا ہے بس اور کچھ نہیں۔ تم مان لو تو دونوں جہان میں اپنا بھلا کرو گے اور نہ مانو نہ سہی۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ میرا پرودگار میرے اور تمہارے درمیان کیا فیصلہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا اچھا پھر ہم کہتے ہیں کہ جاؤ اپنے رب سے کہہ کر ہم پر آسمان گرا دو، تم تو کہتے ہی ہو کہ اگر اللہ چاہے تو ایسا کر دے تو پھر ہم کہتے ہیں بس کر دو ڈھیل نہ کرو۔ آپ نے فرمایا یہ اللہ کے اختیار کی بات ہے جو وہ چاہے کرے جو نہ چاہے نہ کرے۔ مشرکین نے کہا سنئے کیا اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم نہ تھا کہ ہم تیرے پاس اس وقت بیٹھیں گے اور تجھ سے یہ چیزیں طلب کریں گے اور اس قسم کے سوالات کریں گے تو چاہیئے تھا کہ وہ تجھے پہلے سے مطلع کر دیتا اور یہ بھی بتا دیتا کہ تجھے کیا جواب دینا چاہیئے اور جب ہم تیری نہ مانیں تو وہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا۔ سنئے ہم نے تو سنا ہے کہ آپ کو یہ سب کچھ یمامہ کا ایک شخص رحمان نامی ہے وہ سکھا جاتا ہے، اللہ کی قسم ہم تو رحمان پر ایمان لانے کے نہیں، ناممکن ہے کہ ہم اسے مانیں۔ ہم نے آپ سے سبکدوشی حاصل کرلی جو کچھ کہنا سننا تھا کہہ سن چکے اور آپ نے ہماری واجبی اور انصاف کی بات بھی نہیں مانی۔ اب کان کھول کر ہوشیار ہو کر سن لیجئے کہ ہم آپ کو اس حالت میں آزاد نہیں رکھ سکتے، اب یا تو ہم آپ کو ہلاک کر دیں گے یا آپ ہمیں تباہ کر دیں۔ کوئی کہنے لگا ہم تو فرشتوں کو پوجتے ہیں جو اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ کسی نے کہا جب تک تو اللہ تعالیٰ کو اور اس کے فرشتوں کو کھلم کھلا ہمارے پاس نہ لائے ہم ایمان نہ لائیں گے۔
صفحہ نمبر4802
پھر مجلس برخاست ہوئی۔ عبداللہ بن ابی، امیہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن مخزوم جو آپ کی پھوپھی عاتکہ بنت عبدالمطلب کا لڑکا تھا آپ کے ساتھ ہولیا اور کہنے لگا کہ یہ تو بڑی نامنصفی کی بات ہے کہ قوم نے جو کہا وہ بھی آپ نے منظور نہ کیا، پھر جو طلب کیا وہ بھی آپ نے پورا نہ کیا، پھر جس چیز سے آپ انہیں ڈراتے تھے وہ مانگا وہ بھی آپ نے نہ کیا، اب تو اللہ کی قسم میں آپ پر ایمان لاؤں گا ہی نہیں جب تک کہ آپ سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھ کر کوئی کتاب نہ لائیں اور چار فرشتے اپنے ساتھ اپنے گواہ بنا کر نہ لائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام باتوں سے سخت رنجیدہ ہوئے۔ گئے تو آپ بڑے شوق سے تھے کہ شاید قوم کے سردار میری کچھ مان لیں لیکن جب ان کی سرکشی اور ایمان سے دوری آپ نے دیکھی بڑے ہی مغموم ہو کر واپس اپنے گھر آئے، صلی اللہ علیہ وسلم ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22719]
صفحہ نمبر4803
بات یہ ہے کہ ان کی یہ تمام باتیں بطور کفر و عناد اور بطور نیچا دکھانے اور لاجواب کرنے کے تھیں ورنہ اگر ایمان لانے کے لیے نیک نیتی سے یہ سوالات ہوتے تو بہت ممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں یہ معجزے دکھا دیتا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا گیا کہ اگر آپ کی چاہت ہو تو جو یہ مانگتے ہیں میں دکھا دوں۔
لیکن یہ یاد رہے کہ اگر پھر بھی ایمان نہ لائے تو انہیں وہ عبرتناک سزائیں دوں گا جو کسی کو نہ دی ہوں اور اگر آپ چاہیں تو میں ان پر توبہ کی قبولیت کا اور رحمت کا دروازہ کھلا رکھوں، آپ نے دوسری بات پسند فرمائی۔ [مسند احمد:242/1:صحیح]
اللہ اپنے نبی رحمت اور نبی توبہ پر درود و سلام بہت بہت نازل فرمائے۔ اسی بات اور اسی حکمت کا ذکر آیت «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ» [17-الإسراء:59] میں ہے۔
اور آیت «وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ ۭ لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِيْرًا» [25-الفرقان:7-11] الخ، میں بھی ہے
کہ یہ سب چیزیں ہمارے بس میں ہیں اور یہ سب ممکن ہے۔ لیکن اسی وجہ سے کہ ان کے ظاہر ہو جانے کے بعد ایمان نہ لانے والوں کو پھر ہم چھوڑا نہیں کرتے، ہم ان نشانات کو روک رکھتے ہیں اور ان کفار کو ڈھیل دے رکھی ہے اور ان کا آخر ٹھکانا جہنم بنا رکھا ہے۔
صفحہ نمبر4804
پس ان کا سوال تھا کہ ریگستان عرب میں نہریں چل پڑیں دریا ابل پڑیں وغیرہ، ظاہر ہے کہ ان میں کوئی کام بھی اس قادر و قیوم اللہ پر بھاری نہیں سب کچھ اس کی قدرت تلے اور اس کے فرمان تلے ہے۔ لیکن وہ بخوبی جانتا ہے کہ یہ ازلی کافر ان معجزوں کو دیکھ کر بھی ایمان نہیں لانے کے۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ * وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-يونس:96]
” یعنی جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے انہیں باوجود تمام تر معجزات دیکھ لینے کے بھی ایمان نصیب نہ ہو گا یہاں تک کہ وہ المناک عذابوں کا معائنہ نہ کر لیں۔ “
«وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» [6-الأنعام:111] میں فرمایا ” اے نبی ان کی خواہش کے مطابق اگر ہم ان پر فرشتے بھی نازل فرمائیں اور مردے بھی ان سے باتیں کر لیں اور اتنا ہی نہیں بلکہ غیب کی تمام چیز کھلم کھلا ان کے سامنے ظاہر کر دیں تو بھی یہ کافر بغیر مشیت الٰہی ایمان لانے کے نہیں، ان میں سے اکثر جہالت کے پتلے ہیں۔ “
اپنے لئے دریا طلب کرنے کے بعد انہوں نے کہا، اچھا آپ ہی کے لیے باغات اور نہریں ہو جائیں۔ پھر کہا کہ اچھا یہ بھی نہ سہی تو آپ کہتے ہی ہیں کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا، ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا تو اب آج ہی ہم پر اس کے ٹکڑے گرا دیئجے۔ چنانچہ انہوں نے خود بھی اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کی کہ «وَإِذْ قَالُوا اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» [8-الأنفال:32]
” یعنی اے اللہ اگر یہ سب کچھ تیری جانب سے ہی برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا۔ “ الخ۔
صفحہ نمبر4805
شعیب علیہ السلام کی قوم نے بھی یہی خواہش کی تھی جس بنا پر ان پر سائبان کے دن کا عذاب اترا۔ لیکن چونکہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین اور نبی التوبہ تھے، آپ نے اللہ سے دعا کی کہ وہ انہیں ہلاکت سے بچا لے۔ ممکن ہے یہ نہیں تو ان کی اولادیں ہی ایمان قبول کر لیں، توحید اختیار کر لیں اور شرک چھوڑ دیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ آرزو پوری ہوئی، عذاب نہ اترا۔ خود ان میں سے بھی بہت سوں کو ایمان کی دولت نصیب ہوئی، یہاں تک کہ عبداللہ بن امیہ جس نے آخر میں کے ساتھ جاکر آپ کو باتیں سنائی تھیں اور ایمان نہ لانے کی قسمیں کھائیں تھیں وہ بھی اسلام کے جھنڈے تلے آئے رضی اللہ عنہ۔
«زُخْرُفٍ» سے مراد سونا ہے بلکہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں لفظ «مِنِْ ذَهَبَ» ہے۔ کفار کا اور مطالبہ یہ تھا کہ تیرے لیے سونے کا گھر ہو جائے یا ہمارے دیکھتے ہوئے تو سیڑھی لگاکر آسمان پر پہنچ جائے اور وہاں سے کوئی کتاب لائے جو ہر ایک کے نام کی الگ الگ ہو، راتوں رات ان کے سرہانے وہ پرچے پہنچ جائیں ان پر ان کے نام لکھے ہوئے ہوں۔
اس کے جواب میں حکم ہوا کہ ان سے کہہ دو کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے آگے کسی کی کچھ نہیں چلتی، وہ اپنی سلطنت اور مملکت کا تنہا مالک ہے، جو چاہے کرے جو نہ چاہے نہ کرے، تمہاری منہ مانگی چیز ظاہر کرے نہ کرے یہ اس کے اختیار کی بات ہے۔ میں تو صرف پیغام رب پہنچانے والا ہوں، میں نے اپنا فرض ادا کر دیا، احکام الٰہی تمہیں پہنچا دئیے، اب جو تم نے مانگا وہ اللہ کے بس کی بات ہے نہ کہ میرے بس کی۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بطحاء مکہ کی بابت مجھ سے فرمایا گیا کہ اگر تم چاہو تو میں اسے سونے کا بنا دوں، میں نے گزارش کی کہ نہیں اے اللہ میری تو یہ چاہت ہے کہ ایک روز پیٹ بھرا رہوں اور دوسرے روز بھوکا رہوں، بھوک میں تیری طرف جھکوں، تضرع اور زاری کروں اور بکثرت تیری یاد کروں۔ بھرے پیٹ ہو جاؤں تو تیری حمد کروں، تیرا شکر بجا لاؤں۔ [سنن ترمذي:2347،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔
صفحہ نمبر4806
قریش کے امراء کی آخری کوشش ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ اور شیبہ اور ابوسفیان بن حرب اور بنی عبدالدار قبیلے کے دو شخص اور ابوالبختری بنی اسد کا اور اسود بن مطلب بن اسد اور زمعہ بن اسود اور ولید بن مغیرہ اور ابوجہل بن ہشام اور عبداللہ بن ابی امیہ اور امیہ بن خلف اور عاص بن وائل اور نبیہ اور منبہ سہمی حجاج کے لڑکے، یہ سب یا ان میں سے کچھ سورج کے غروب ہو جانے کے بعد کعبۃ اللہ کے پیچھے جمع ہوئے اور کہنے لگے، بھئی کسی کو بھیج کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوالو اور اس سے کہہ سن کر آج فیصلہ کرلو تاکہ کوئی عذر باقی نہ رہے۔ چنانچہ قاصد گیا اور خبر دی کہ آپ کی قوم کے اشراف لوگ جمع ہوئے ہیں اور آپ کو یاد کیا ہے۔
صفحہ نمبر4798
چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان لوگوں کا ہر وقت خیال رہتا تھا آپ کے جی میں آئی کہ بہت ممکن ہے اللہ نے انہیں صحیح سمجھ دے دی ہو اور یہ راہ راست پر آ جائیں، اس لیے آپ فوراً ہی تشریف لائے۔ قریشیوں نے آپ کو دیکھتے ہی کہا، سنئے آج ہم آپ پر حجت پوری کر دیتے ہیں تاکہ پھر ہم پر کسی قسم کا الزام نہ آئے اسی لیے ہم نے آپ کو بلوایا ہے۔ واللہ کسی نے اپنی قوم کو اس مصیبت میں نہیں ڈالا ہوگا جو مصیبت تم نے ہم پر کھڑی کر رکھی ہے، تم ہمارے باپ دادوں کو گالیاں دیتے ہو ہمارے دین کو برا کہتے ہو ہمارے بزرگوں کو بیوقوف بتاتے ہو ہمارے مبعودوں کو برا کہتے ہو، تم نے ہم میں تفریق ڈال دی لڑائیاں کھڑی کر دیں، واللہ آپ نے ہمیں کسی برائی کے پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ اب صاف صاف سن لیجئے اور سوچ سمجھ کر جواب دیئجے، اگر آپ کا ارادہ ان تمام باتوں سے مال جمع کرنے کا ہے تو ہم موجود ہیں ہم خود آپ کو اس قدر مال جمع کر دیتے ہیں کہ آپ کے برابر ہم میں سے کوئی مالدار نہ ہو اور اگر آپ کا ارادہ اس سے یہ ہے کہ آپ ہم پر سرداری کریں تو لو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں ہم آپ کی سرداری کو تسلیم کرتے ہیں اور آپ کی تابعداری منظور کرتے ہیں۔ اگر آپ بادشاہت کے طالب ہیں تو واللہ ہم آپ کی بادشاہت کا اعلان کر دیتے ہیں اور اگر واقعی آپ کے دماغ میں کوئی فتور ہے، کوئی جن آپ کو ستا رہا ہے تو ہم موجود ہیں دل کھول کر رقمیں خرچ کر کے تمہارا علاج معالجہ کریں گے یہاں تک کہ آپ کو شفاء ہو جائے یا ہم معذور سمجھ لیے جائیں۔
صفحہ نمبر4799
یہ سب سن کر سردار رسولاں شفیع پیغمبراں صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ سنو بحمد اللہ مجھے کوئی دماغی عارضہ یا خلل یا آسیب نہیں نہ میں اپنی اس رسالت کی وجہ سے مالدار بننا چاہتا ہوں نہ کسی سرداری کی طمع ہے نہ بادشاہ بننا چاہتا ہوں، بلکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تم سب کی طرف اپنا رسول برحق بناکر بھیجا ہے اور مجھ پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں خوشخبریاں سنادوں اور ڈرا دھمکا دوں۔ میں نے اپنے رب کے پیغامات تمہیں پہنچا دئیے، تمہاری سچی خیر خواہی کی۔ تم اگر قبول کر لو گے تو دونوں جہان میں نصیب دار بن جاؤ گے اور اگر نامنظور کر دو گے تو میں صبر کروں گا یہاں تک کہ جناب باری تعالیٰ شانہ مجھ میں اور تم میں سچا فیصلہ فرما دے «او کماقال» ۔
صفحہ نمبر4800
اب سرداران قوم نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ کو ہماری ان باتوں میں سے ایک بھی منظور نہیں تو اب اور سنو یہ تو خود تمہیں بھی معلوم ہے کہ ہم سے زیادہ تنگ شہر کسی اور کا نہیں، ہم سے زیادہ کم مال کوئی قوم نہیں، ہم سے زیادہ پیٹ پیٹ کر بہت کم روزی حاصل کرنے والی بھی کوئی قوم نہیں۔ تو آپ اپنے رب سے جس نے آپ کو اپنی رسالت دے کر بھیجا ہے دعا کیجئے کہ یہ پہاڑ یہاں سے ہٹا لے تاکہ ہمارا علاقہ کشادہ ہو جائے، ہمارے شہروں کو وسعت ہو جائے، اس میں نہریں چشمے اور دریا جاری ہو جائیں جیسے کہ شام اور عراق میں ہیں اور یہ بھی دعا کیجئے کہ ہمارے باپ دادا زندہ ہو جائیں اور ان میں قصی بن کلاب ضرور ہو، وہ ہم میں ایک بزرگ اور سچا شخص تھا، ہم اس سے پوچھ لیں گے وہ آپ کی بابت جو کہہ دے گا ہمیں اطمینان ہو جائے گا۔ اگر آپ نے یہ کر دیا تو ہمیں آپ کی رسالت پر ایمان آ جائے گا اور ہم آپ کی دل سے تصدیق کرنے لگیں گے اور آپ کی بزرگی کے قائل ہو جائیں گے۔ آپ نے فرمایا میں ان چیزوں کے ساتھ نہیں بھیجا گیا۔ ان میں سے کوئی کام میرے بس کا نہیں، میں تو اللہ کی باتیں تمہیں پہنچانے کے لیے آیا ہوں۔ تم قبول کر لو، دونوں جہان میں خوش رہو گے۔ نہ قبول کرو گے تو میں صبر کروں گا۔ اللہ کے حکم پر منتظر رہوں گا، یہاں تک کہ پروردگار عالم مجھ میں اور تم میں فیصلہ فرما دے۔ انہوں نے کہا، اچھا یہ بھی نہ سہی، لیجئے ہم خود آپ کے لیے ہی تجویز کرتے ہیں، آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ کوئی فرشتہ آپ کے پاس بھیجے جو آپ کی باتوں کی سچائی اور تصدیق کر دے، آپ کی طرف سے ہمیں جواب دے اور اس سے کہہ کر آپ اپنے لیے باغات اور خزانے اور سونے چاندی کے محل بنوا لیجئے تاکہ خود آپ کی حالت تو سنور جائے، بازاروں میں چلنا پھرنا ہماری طرح تلاش معاش میں نکلنا یہ تو چھوٹ جائے۔ یہ اگر ہو جائے تو ہم مان لیں گے کہ واقعی اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ کی عزت ہے اور آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔
صفحہ نمبر4801
اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نہ میں یہ کروں نہ اپنے رب سے یہ طلب کروں نہ اس کے ساتھ میں بھیجا گیا، مجھے تو اللہ تعالیٰ نے بشیر و نذیر بنایا ہے بس اور کچھ نہیں۔ تم مان لو تو دونوں جہان میں اپنا بھلا کرو گے اور نہ مانو نہ سہی۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ میرا پرودگار میرے اور تمہارے درمیان کیا فیصلہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا اچھا پھر ہم کہتے ہیں کہ جاؤ اپنے رب سے کہہ کر ہم پر آسمان گرا دو، تم تو کہتے ہی ہو کہ اگر اللہ چاہے تو ایسا کر دے تو پھر ہم کہتے ہیں بس کر دو ڈھیل نہ کرو۔ آپ نے فرمایا یہ اللہ کے اختیار کی بات ہے جو وہ چاہے کرے جو نہ چاہے نہ کرے۔ مشرکین نے کہا سنئے کیا اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم نہ تھا کہ ہم تیرے پاس اس وقت بیٹھیں گے اور تجھ سے یہ چیزیں طلب کریں گے اور اس قسم کے سوالات کریں گے تو چاہیئے تھا کہ وہ تجھے پہلے سے مطلع کر دیتا اور یہ بھی بتا دیتا کہ تجھے کیا جواب دینا چاہیئے اور جب ہم تیری نہ مانیں تو وہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا۔ سنئے ہم نے تو سنا ہے کہ آپ کو یہ سب کچھ یمامہ کا ایک شخص رحمان نامی ہے وہ سکھا جاتا ہے، اللہ کی قسم ہم تو رحمان پر ایمان لانے کے نہیں، ناممکن ہے کہ ہم اسے مانیں۔ ہم نے آپ سے سبکدوشی حاصل کرلی جو کچھ کہنا سننا تھا کہہ سن چکے اور آپ نے ہماری واجبی اور انصاف کی بات بھی نہیں مانی۔ اب کان کھول کر ہوشیار ہو کر سن لیجئے کہ ہم آپ کو اس حالت میں آزاد نہیں رکھ سکتے، اب یا تو ہم آپ کو ہلاک کر دیں گے یا آپ ہمیں تباہ کر دیں۔ کوئی کہنے لگا ہم تو فرشتوں کو پوجتے ہیں جو اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ کسی نے کہا جب تک تو اللہ تعالیٰ کو اور اس کے فرشتوں کو کھلم کھلا ہمارے پاس نہ لائے ہم ایمان نہ لائیں گے۔
صفحہ نمبر4802
پھر مجلس برخاست ہوئی۔ عبداللہ بن ابی، امیہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن مخزوم جو آپ کی پھوپھی عاتکہ بنت عبدالمطلب کا لڑکا تھا آپ کے ساتھ ہولیا اور کہنے لگا کہ یہ تو بڑی نامنصفی کی بات ہے کہ قوم نے جو کہا وہ بھی آپ نے منظور نہ کیا، پھر جو طلب کیا وہ بھی آپ نے پورا نہ کیا، پھر جس چیز سے آپ انہیں ڈراتے تھے وہ مانگا وہ بھی آپ نے نہ کیا، اب تو اللہ کی قسم میں آپ پر ایمان لاؤں گا ہی نہیں جب تک کہ آپ سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھ کر کوئی کتاب نہ لائیں اور چار فرشتے اپنے ساتھ اپنے گواہ بنا کر نہ لائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام باتوں سے سخت رنجیدہ ہوئے۔ گئے تو آپ بڑے شوق سے تھے کہ شاید قوم کے سردار میری کچھ مان لیں لیکن جب ان کی سرکشی اور ایمان سے دوری آپ نے دیکھی بڑے ہی مغموم ہو کر واپس اپنے گھر آئے، صلی اللہ علیہ وسلم ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22719]
صفحہ نمبر4803
بات یہ ہے کہ ان کی یہ تمام باتیں بطور کفر و عناد اور بطور نیچا دکھانے اور لاجواب کرنے کے تھیں ورنہ اگر ایمان لانے کے لیے نیک نیتی سے یہ سوالات ہوتے تو بہت ممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں یہ معجزے دکھا دیتا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا گیا کہ اگر آپ کی چاہت ہو تو جو یہ مانگتے ہیں میں دکھا دوں۔
لیکن یہ یاد رہے کہ اگر پھر بھی ایمان نہ لائے تو انہیں وہ عبرتناک سزائیں دوں گا جو کسی کو نہ دی ہوں اور اگر آپ چاہیں تو میں ان پر توبہ کی قبولیت کا اور رحمت کا دروازہ کھلا رکھوں، آپ نے دوسری بات پسند فرمائی۔ [مسند احمد:242/1:صحیح]
اللہ اپنے نبی رحمت اور نبی توبہ پر درود و سلام بہت بہت نازل فرمائے۔ اسی بات اور اسی حکمت کا ذکر آیت «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ» [17-الإسراء:59] میں ہے۔
اور آیت «وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ ۭ لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِيْرًا» [25-الفرقان:7-11] الخ، میں بھی ہے
کہ یہ سب چیزیں ہمارے بس میں ہیں اور یہ سب ممکن ہے۔ لیکن اسی وجہ سے کہ ان کے ظاہر ہو جانے کے بعد ایمان نہ لانے والوں کو پھر ہم چھوڑا نہیں کرتے، ہم ان نشانات کو روک رکھتے ہیں اور ان کفار کو ڈھیل دے رکھی ہے اور ان کا آخر ٹھکانا جہنم بنا رکھا ہے۔
صفحہ نمبر4804
پس ان کا سوال تھا کہ ریگستان عرب میں نہریں چل پڑیں دریا ابل پڑیں وغیرہ، ظاہر ہے کہ ان میں کوئی کام بھی اس قادر و قیوم اللہ پر بھاری نہیں سب کچھ اس کی قدرت تلے اور اس کے فرمان تلے ہے۔ لیکن وہ بخوبی جانتا ہے کہ یہ ازلی کافر ان معجزوں کو دیکھ کر بھی ایمان نہیں لانے کے۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ * وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-يونس:96]
” یعنی جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے انہیں باوجود تمام تر معجزات دیکھ لینے کے بھی ایمان نصیب نہ ہو گا یہاں تک کہ وہ المناک عذابوں کا معائنہ نہ کر لیں۔ “
«وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» [6-الأنعام:111] میں فرمایا ” اے نبی ان کی خواہش کے مطابق اگر ہم ان پر فرشتے بھی نازل فرمائیں اور مردے بھی ان سے باتیں کر لیں اور اتنا ہی نہیں بلکہ غیب کی تمام چیز کھلم کھلا ان کے سامنے ظاہر کر دیں تو بھی یہ کافر بغیر مشیت الٰہی ایمان لانے کے نہیں، ان میں سے اکثر جہالت کے پتلے ہیں۔ “
اپنے لئے دریا طلب کرنے کے بعد انہوں نے کہا، اچھا آپ ہی کے لیے باغات اور نہریں ہو جائیں۔ پھر کہا کہ اچھا یہ بھی نہ سہی تو آپ کہتے ہی ہیں کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا، ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا تو اب آج ہی ہم پر اس کے ٹکڑے گرا دیئجے۔ چنانچہ انہوں نے خود بھی اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کی کہ «وَإِذْ قَالُوا اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» [8-الأنفال:32]
” یعنی اے اللہ اگر یہ سب کچھ تیری جانب سے ہی برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا۔ “ الخ۔
صفحہ نمبر4805
شعیب علیہ السلام کی قوم نے بھی یہی خواہش کی تھی جس بنا پر ان پر سائبان کے دن کا عذاب اترا۔ لیکن چونکہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین اور نبی التوبہ تھے، آپ نے اللہ سے دعا کی کہ وہ انہیں ہلاکت سے بچا لے۔ ممکن ہے یہ نہیں تو ان کی اولادیں ہی ایمان قبول کر لیں، توحید اختیار کر لیں اور شرک چھوڑ دیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ آرزو پوری ہوئی، عذاب نہ اترا۔ خود ان میں سے بھی بہت سوں کو ایمان کی دولت نصیب ہوئی، یہاں تک کہ عبداللہ بن امیہ جس نے آخر میں کے ساتھ جاکر آپ کو باتیں سنائی تھیں اور ایمان نہ لانے کی قسمیں کھائیں تھیں وہ بھی اسلام کے جھنڈے تلے آئے رضی اللہ عنہ۔
«زُخْرُفٍ» سے مراد سونا ہے بلکہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں لفظ «مِنِْ ذَهَبَ» ہے۔ کفار کا اور مطالبہ یہ تھا کہ تیرے لیے سونے کا گھر ہو جائے یا ہمارے دیکھتے ہوئے تو سیڑھی لگاکر آسمان پر پہنچ جائے اور وہاں سے کوئی کتاب لائے جو ہر ایک کے نام کی الگ الگ ہو، راتوں رات ان کے سرہانے وہ پرچے پہنچ جائیں ان پر ان کے نام لکھے ہوئے ہوں۔
اس کے جواب میں حکم ہوا کہ ان سے کہہ دو کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے آگے کسی کی کچھ نہیں چلتی، وہ اپنی سلطنت اور مملکت کا تنہا مالک ہے، جو چاہے کرے جو نہ چاہے نہ کرے، تمہاری منہ مانگی چیز ظاہر کرے نہ کرے یہ اس کے اختیار کی بات ہے۔ میں تو صرف پیغام رب پہنچانے والا ہوں، میں نے اپنا فرض ادا کر دیا، احکام الٰہی تمہیں پہنچا دئیے، اب جو تم نے مانگا وہ اللہ کے بس کی بات ہے نہ کہ میرے بس کی۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بطحاء مکہ کی بابت مجھ سے فرمایا گیا کہ اگر تم چاہو تو میں اسے سونے کا بنا دوں، میں نے گزارش کی کہ نہیں اے اللہ میری تو یہ چاہت ہے کہ ایک روز پیٹ بھرا رہوں اور دوسرے روز بھوکا رہوں، بھوک میں تیری طرف جھکوں، تضرع اور زاری کروں اور بکثرت تیری یاد کروں۔ بھرے پیٹ ہو جاؤں تو تیری حمد کروں، تیرا شکر بجا لاؤں۔ [سنن ترمذي:2347،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔
صفحہ نمبر4806
فکری مغالطے اور کفار ٭٭
اکثر لوگ ایمان سے اور رسولوں کی تابعداری سے اسی بنا پر رک گئے کہ انہیں یہ سمجھ نہ آیا کہ کوئی انسان بھی رسول بن سکتا ہے۔ «أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا» [10-يونس:2]
” یعنی وہ اس پر سخت تر متعجب ہوئے اور آخر انکار کر بیٹھے اور صاف کہہ گئے کہ کیا ایک انسان ہماری رہبری کرے گا؟ “
فرعون اور اس کی قوم نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَقَالُوا أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُهُمَا لَنَا عَابِدُونَ» [23-المؤمنون:47]
” یعنی ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان کیسے لائیں خصوصا اس صورت میں کہ ان کی ساری قوم ہماری ماتحتی میں ہے۔ “
یہی اور امتوں نے اپنے زمانے کے نبیوں سے کہا تھا کہ «إِنْ أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا تُرِيدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ» [14-إبراهيم:10]
” یعنی تم تو ہم جیسے ہی انسان ہو، سوا اس کے کچھ نہیں کہ تم ہمیں اپنے بڑوں کے معبودوں سے بہکا رہے ہو، اچھا لاؤ کوئی زبردست ثبوت پیش کرو۔ “ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔
صفحہ نمبر4810
اس کے بعد اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے لطف و کرم اور انسانوں میں سے رسولوں کے بھیجنے کی وجہ کو بیان فرماتا ہے اور اس حکمت کو ظاہر فرماتا ہے کہ اگر فرشتے رسالت کا کام انجام دیتے تو نہ ان کے پاس تم بیٹھ اٹھ سکتے نہ ان کی باتیں پوری طرح سے سمجھ سکتے۔ انسانی رسول چونکہ تمہارے ہی ہم جنس ہوتے ہیں تم ان سے خلا ملا رکھ سکتے ہو، ان کی عادات و اطوار دیکھ سکتے ہو اور مل جل کر ان سے اپنی زبان میں تعلیم حاصل کر سکتے ہو، ان کا عمل دیکھ کر خود سیکھ سکتے ہو۔
جیسے فرمان ہے آیت «لَقَدْ مَنَّ اللَّـهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ» [3-آل عمران:164] الخ۔
اور آیت میں ہے «لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ» [9-التوبة:128] الخ۔
اور آیت میں ہے «كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِّنكُمْ يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ» [2-البقرة:151-152] ۔
مطلب سب کا یہی ہے کہ یہ تو اللہ کا زبردست احسان ہے کہ اس نے تم میں سے ہی اپنے رسول بھیجے کہ وہ آیات الٰہی تمہیں پڑھ کر سنائیں، تمہارے اخلاق پاکیزہ کریں اور تمہیں کتاب و حکمت سکھائیں اور جن چیزوں سے تم بےعلم تھے وہ تمہیں عالم بنا دیں۔ پس تمہیں میری یاد کی کثرت کرنی چاہیئے تاکہ میں بھی تمہیں یاد کروں۔ تمہیں میری شکر گزاری کرنی چاہیئے اور ناشکری سے بچنا چاہیئے۔ یہاں فرماتا ہے کہ اگر زمین کی آبادی فرشتوں کی ہوتی تو بیشک ہم کسی آسمانی فرشتے کو ان میں رسول بنا کر بھیجتے چونکہ تم خود انسان ہو ہم نے اسی مصلحت سے انسانوں میں سے ہی اپنے رسول بنا کر تم میں بھیجے۔
صفحہ نمبر4811
فکری مغالطے اور کفار ٭٭
اکثر لوگ ایمان سے اور رسولوں کی تابعداری سے اسی بنا پر رک گئے کہ انہیں یہ سمجھ نہ آیا کہ کوئی انسان بھی رسول بن سکتا ہے۔ «أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا» [10-يونس:2]
” یعنی وہ اس پر سخت تر متعجب ہوئے اور آخر انکار کر بیٹھے اور صاف کہہ گئے کہ کیا ایک انسان ہماری رہبری کرے گا؟ “
فرعون اور اس کی قوم نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَقَالُوا أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُهُمَا لَنَا عَابِدُونَ» [23-المؤمنون:47]
” یعنی ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان کیسے لائیں خصوصا اس صورت میں کہ ان کی ساری قوم ہماری ماتحتی میں ہے۔ “
یہی اور امتوں نے اپنے زمانے کے نبیوں سے کہا تھا کہ «إِنْ أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا تُرِيدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ» [14-إبراهيم:10]
” یعنی تم تو ہم جیسے ہی انسان ہو، سوا اس کے کچھ نہیں کہ تم ہمیں اپنے بڑوں کے معبودوں سے بہکا رہے ہو، اچھا لاؤ کوئی زبردست ثبوت پیش کرو۔ “ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔
صفحہ نمبر4810
اس کے بعد اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے لطف و کرم اور انسانوں میں سے رسولوں کے بھیجنے کی وجہ کو بیان فرماتا ہے اور اس حکمت کو ظاہر فرماتا ہے کہ اگر فرشتے رسالت کا کام انجام دیتے تو نہ ان کے پاس تم بیٹھ اٹھ سکتے نہ ان کی باتیں پوری طرح سے سمجھ سکتے۔ انسانی رسول چونکہ تمہارے ہی ہم جنس ہوتے ہیں تم ان سے خلا ملا رکھ سکتے ہو، ان کی عادات و اطوار دیکھ سکتے ہو اور مل جل کر ان سے اپنی زبان میں تعلیم حاصل کر سکتے ہو، ان کا عمل دیکھ کر خود سیکھ سکتے ہو۔
جیسے فرمان ہے آیت «لَقَدْ مَنَّ اللَّـهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ» [3-آل عمران:164] الخ۔
اور آیت میں ہے «لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ» [9-التوبة:128] الخ۔
اور آیت میں ہے «كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِّنكُمْ يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ» [2-البقرة:151-152] ۔
مطلب سب کا یہی ہے کہ یہ تو اللہ کا زبردست احسان ہے کہ اس نے تم میں سے ہی اپنے رسول بھیجے کہ وہ آیات الٰہی تمہیں پڑھ کر سنائیں، تمہارے اخلاق پاکیزہ کریں اور تمہیں کتاب و حکمت سکھائیں اور جن چیزوں سے تم بےعلم تھے وہ تمہیں عالم بنا دیں۔ پس تمہیں میری یاد کی کثرت کرنی چاہیئے تاکہ میں بھی تمہیں یاد کروں۔ تمہیں میری شکر گزاری کرنی چاہیئے اور ناشکری سے بچنا چاہیئے۔ یہاں فرماتا ہے کہ اگر زمین کی آبادی فرشتوں کی ہوتی تو بیشک ہم کسی آسمانی فرشتے کو ان میں رسول بنا کر بھیجتے چونکہ تم خود انسان ہو ہم نے اسی مصلحت سے انسانوں میں سے ہی اپنے رسول بنا کر تم میں بھیجے۔
صفحہ نمبر4811
صداقت رسالت پر اللہ کی گواہی ٭٭
اپنی سچائی پر میں اور گواہ کیوں ڈھونڈوں؟ اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے۔ میں اگر اس کی پاک ذات پر تہمت باندھتا ہوں تو وہ خود مجھ سے انتقام لے گا۔ چنانچہ قرآن کی سورۃ الحاقہ میں بیان ہے کہ «وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ * لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ * ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ» [69-الحاقة:44-46]
” یعنی اگر یہ پیغمبر زبردستی کوئی بات ہمارے سر چپکا دیتا تو ہم اس کا داہنا ہاتھ تھام کر اس کی گردن اڑا دیتے اور ہمیں اس سے کوئی نہ روک سکتا۔ “
پھر فرمایا کہ کسی بندے کا حال اللہ سے مخفی نہیں، وہ انعام و احسان، ہدایت و لطف کے قابل لوگوں کو اور گمراہی اور بدبختی کے قابل لوگوں کو بخوبی جانتا ہے۔
صفحہ نمبر4813
میدان حشر کا ایک ہولناک منظر ٭٭
اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ تمام مخلوق میں تصرف صرف اسی کا ہے، اس کا کوئی حکم ٹل نہیں سکتا، «مَن يَهْدِ اللَّـهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۖ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُّرْشِدًا» [18-الكهف:17] ” اس کے راہ دکھائے ہوئے کو کوئی بہکا نہیں سکتا، نہ اس کے بہکائے ہوئے کی کوئی راہنمائی کر سکتا ہے “۔
اس کا ولی اور مرشد کوئی نہیں بن سکتا۔ ہم انہیں اوندھے منہ میدان قیامت (محشر کے مجمع) میں لائیں گے۔ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا، جس نے پیروں پر چلایا ہے، وہ سر کے بل بھی چلا سکتا ہے۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4760]
صفحہ نمبر4814
مسند میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے بنی غفار قبیلے کے لوگو سچ کہو اور قسمیں نہ کھاؤ، صادق مصدوق پیغمبر نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے کہ لوگ تین قسم کے بنا کر حشر میں لائے جائیں گے۔ ایک فوج تو کھانے پینے اوڑھنے والی، ایک چلنے اور دوڑنے والی، ایک وہ جنہیں فرشتے اوندھے منہ گھیسٹ کر جہنم کے سامنے جمع کریں گے۔ لوگوں نے کہا دو قسمیں تو سمجھ میں آ گئیں لیکن یہ چلنے اور دوڑنے والے سمجھ میں نہیں آئے۔ آپ نے فرمایا سواریوں پر آفت آ جائے گی یہاں تک کہ ایک انسان اپنا ہرا بھرا باغ دے کر پالان والی اونٹنی خریدنا چاہے گا لیکن نہ مل سکے گی۔ [مسند احمد:164/5:اسنادہ قوی]
یہ اس وقت نابینا ہوں گے، بے زبان ہوں گے، کچھ بھی نہ سن سکیں گے، غرض مختلف حال ہوں گے اور گناہوں کی شامت میں گناہوں کے مطابق گرفتار کئے جائیں گے۔ دنیا میں حق سے اندھے بہرے اور گونگے بنے رہے، آج سخت احتیاج والے دن سچ مچ اندھے بہرے گونگے بنا دئیے گئے۔ ان کا اصلی ٹھکانا، گھوم پھر کر آنے اور رہنے سہنے بسنے ٹھہرنے کی جگہ جہنم قرار دی گئی۔ وہاں کی آگ جہاں مدھم پڑنے کو آئی اور بھڑکا دی گئی سخت تیز کر دی گئی۔ جیسے فرمایا آیت «فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ” یعنی اب سزا برداشت کرو۔ سوائے عذاب کے کوئی چیز تمہیں زیادہ نہ دی جائے گی۔ “
صفحہ نمبر4815
بوسیدہ ہڈیاں پھر توانا ہوں گی ٭٭
فرمان ہے کہ اوپر جن منکروں کو جس سزا کا ذکر ہوا ہے وہ اسی کے قابل تھے، وہ ہماری دلیلوں کو جھوٹ سمجھتے تھے اور قیامت کے قائل ہی نہ تھے اور صاف کہتے تھے کہ بوسیدہ ہڈیاں ہو جانے کے بعد، مٹی کے ریزوں سے مل جانے کے بعد، ہلاک اور برباد ہو چکنے کے بعد کا دوبارہ جی اٹھنا تو عقل کے باہر ہے۔
صفحہ نمبر4816
پس ان کے جواب میں قرآن نے اس کی ایک دلیل پیش کی کہ «لَخَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ» [40-غافر:57] ” اس زبردست قدرت کے مالک نے آسمان و زمین کو بغیر کسی چیز کے اول بار بلا نمونہ پیدا کیا، جس کی قدرت ان بلند و بالا، وسیع اور سخت مخلوق کی ابتدائی پیدائش سے عاجز نہیں۔ کیا وہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنے سے عاجز ہو جائے گا؟ “
«أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ ۚ بَلَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [46-الأحقاف:33] ” آسمان و زمین کی پیدائش تو تمہاری پیدائش سے بہت بڑی ہے، وہ ان کے پیدا کرنے میں نہیں تھکا، کیا وہ مردوں کو زندہ کرنے سے بے اختیار ہو جائے گا؟ “
«أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم ۚ بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ * إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ * فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» [36-يس:81-83] ” کیا آسمان و زمین کا خالق انسانوں جیسے اور پیدا نہیں کر سکتا؟ بیشک کر سکتا ہے۔ اس کا حکم ہی چیز کے وجود کیلئے کافی وافی ہے۔ “
وہ انہیں قیامت کے دن دوبارہ کی نئی پیدائش میں ضرور اور قطعا پیدا کرے گا۔ اس نے ان کے اعادہ کی، ان کے قبروں سے نکل کھڑے ہونے کی مدت مقرر کر رکھی ہے۔ اس وقت یہ سب کچھ ہو کر رہے گا۔ یہاں کی قدرے تاخیر صرف معینہ وقت کو پورا کرنے کیلئے ہے۔ افسوس کس قدر واضح دلائل کے بعد بھی لوگ کفر و ضلالت کو نہیں چھوڑتے۔
صفحہ نمبر4817
بوسیدہ ہڈیاں پھر توانا ہوں گی ٭٭
فرمان ہے کہ اوپر جن منکروں کو جس سزا کا ذکر ہوا ہے وہ اسی کے قابل تھے، وہ ہماری دلیلوں کو جھوٹ سمجھتے تھے اور قیامت کے قائل ہی نہ تھے اور صاف کہتے تھے کہ بوسیدہ ہڈیاں ہو جانے کے بعد، مٹی کے ریزوں سے مل جانے کے بعد، ہلاک اور برباد ہو چکنے کے بعد کا دوبارہ جی اٹھنا تو عقل کے باہر ہے۔
صفحہ نمبر4816
پس ان کے جواب میں قرآن نے اس کی ایک دلیل پیش کی کہ «لَخَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ» [40-غافر:57] ” اس زبردست قدرت کے مالک نے آسمان و زمین کو بغیر کسی چیز کے اول بار بلا نمونہ پیدا کیا، جس کی قدرت ان بلند و بالا، وسیع اور سخت مخلوق کی ابتدائی پیدائش سے عاجز نہیں۔ کیا وہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنے سے عاجز ہو جائے گا؟ “
«أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ ۚ بَلَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [46-الأحقاف:33] ” آسمان و زمین کی پیدائش تو تمہاری پیدائش سے بہت بڑی ہے، وہ ان کے پیدا کرنے میں نہیں تھکا، کیا وہ مردوں کو زندہ کرنے سے بے اختیار ہو جائے گا؟ “
«أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم ۚ بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ * إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ * فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» [36-يس:81-83] ” کیا آسمان و زمین کا خالق انسانوں جیسے اور پیدا نہیں کر سکتا؟ بیشک کر سکتا ہے۔ اس کا حکم ہی چیز کے وجود کیلئے کافی وافی ہے۔ “
وہ انہیں قیامت کے دن دوبارہ کی نئی پیدائش میں ضرور اور قطعا پیدا کرے گا۔ اس نے ان کے اعادہ کی، ان کے قبروں سے نکل کھڑے ہونے کی مدت مقرر کر رکھی ہے۔ اس وقت یہ سب کچھ ہو کر رہے گا۔ یہاں کی قدرے تاخیر صرف معینہ وقت کو پورا کرنے کیلئے ہے۔ افسوس کس قدر واضح دلائل کے بعد بھی لوگ کفر و ضلالت کو نہیں چھوڑتے۔
صفحہ نمبر4817
انسانی فطرت کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
انسانی طبیعت کا خاصہ بیان ہو رہا ہے کہ رحمت الٰہی جیسی نہ کم ہونے والی چیزوں پر بھی اگر یہ قابض ہو جائے تو وہاں بھی اپنی بخیلی اور تنگ دلی نہ چھوڑے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَّا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا» [4-النساء:53] ” اگر ملک کے کسی حصے کے یہ مالک ہو جائیں تو کسی کو ایک کوڑی پرکھنے کو نہ دیں۔ “
پس یہ انسانی طبیعت ہے۔ ہاں جو اللہ کی طرف سے ہدایت کئے جائیں اور توفیق خیر دئیے جائیں، وہ اس بدخصلت سے نفرت کرتے ہیں، وہ سخی اور دوسروں کا بھلا کرنے والے ہوتے ہیں۔ «إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا * إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا * وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا * إِلَّا الْمُصَلِّينَ» [70-المعارج:19-22] ” انسان بڑا ہی جلد باز ہے، تکلیف کے وقت لڑکھڑا جاتا ہے اور راحت کے وقت پھول جاتا ہے “
اور دوسروں کے فائدہ سے اپنے ہاتھ روکنے لگتا ہے، ہاں نمازی لوگ اس سے بری ہیں الخ۔ ایسی آیتیں قرآن میں اور بھی بہت سی ہیں۔ اس سے اللہ کے فضل و کرم، اس کی بخشش و رحم کا پتہ چلتا ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ دن رات کا خرچ اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس میں کوئی کمی نہیں لاتا۔ ابتداء سے اب تک کے خرچ نے بھی اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں کی۔ [صحیح بخاری:4684]
صفحہ نمبر4819
نو معجزے ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کو نو ایسے معجزے ملے جو آپ کی نبوت کی صداقت اور نبوت پر کھلی دلیل تھی۔ لکڑی، ہاتھ، قحط، دریا، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون۔ یہ تھیں تفصیل وار آیتیں۔ محمد بن کعب کا قول ہے کہ یہ معجزے یہ ہیں: ہاتھ کا چمکیلا بن جانا، لکڑی کا سانپ ہو جانا اور پانچ وہ جن کا بیان سورۃ الاعراف میں ہے اور مالوں کا مٹ جانا اور پتھر۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے مروی ہے کہ یہ معجزے آپ کا ہاتھ، آپ کی لکڑی، قحط سالیاں، پھلوں کی کمی، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون ہیں۔ یہ قول زیادہ ظاہر، بہت صاف، بہتر اور قوی ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے ان میں سے قحط سالی اور پھلوں کی کمی کو ایک گن کر نواں معجزہ آپ کی لکڑی کا جادو گروں کے سانپوں کو کھا جانا بیان کیا ہے۔ لیکن ان تمام معجزوں کے باوجود فرعونیوں نے تکبر کیا اور اپنی گنہگاری پر اڑے رہے باوجودیکہ دل یقین لا چکا تھا مگر ظلم و زیادتی کر کے کفر انکار پر جم گئے۔
صفحہ نمبر4820
اگلی آیتوں سے ان آیتوں کا ربط یہ ہے کہ جیسے آپ کی قوم آپ سے معجزے طلب کرتی ہے، ایسے ہی فرعونیوں نے بھی موسیٰ علیہ السلام سے معجزے طلب کئے جو ظاہر ہوئے لیکن انہیں ایمان نصیب نہ ہوا آخر ہلاک کر دئے گئے۔ اسی طرح اگر آپ کی قوم بھی معجزوں کے آجانے کے بعد کافر رہی تو پھر مہلت نہ ملے گی اور معا تباہ و برباد کر دی جائے گی۔
خود فرعون نے معجزے دیکھنے کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر کہہ کر اپنا پیچھا چھڑا لیا۔ پس یہاں جن نو نشانیوں کا بیان ہے یہ وہی ہیں اور ان کا بیان «وَأَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَلَمَّا رَآهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَانٌّ وَلَّىٰ مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ ۚ يَا مُوسَىٰ لَا تَخَفْ إِنِّي لَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُونَ * إِلَّا مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوءٍ فَإِنِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ * وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ ۖ فِي تِسْعِ آيَاتٍ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ» [27-النمل:10-12] تک میں ہے۔
ان آیتوں میں لکڑی کا اور ہاتھ کا ذکر موجود ہے اور باقی آیتوں کا بیان سورۃ الاعراف میں ہے۔ ان کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو بہت سے معجزے دئیے تھے مثلا آپ کی لکڑی کے لگنے سے ایک پتھر میں سے بارہ چشموں کا جاری ہو جانا، بادل کا سایہ کرنا، من وسلوی کا اترنا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب نعمتیں بنی اسرائیل کو مصر کے شہر چھوڑنے کے بعد ملیں، پس ان معجزوں کو یہاں اس لیے بیان نہیں فرمایا کہ وہ فرعونیوں نے نہیں دیکھے تھے، یہاں صرف ان نومعجزوں کا ذکر کیا جو فرعونیوں نے دیکھے تھے اور انہیں جھٹلایا تھا۔
صفحہ نمبر4821
مسند احمد میں ہے کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا، چل تو ذرا، اس نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے ان کے قران کی اس آیت کے بارے میں پوچھ لیں کہ موسیٰ علیہ السلام کو وہ نو آیات کیا ملی تھیں؟ دوسرے نے کہا، نبی نہ کہہ، سن لیا تو اس کی چار آنکھیں ہو جائیں گی۔ اب دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، چوری نہ کرو، زنا نہ کرو، کسی جان کو ناحق قتل نہ کرو، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ، بےگناہ لوگوں کو پکڑ کر بادشاہ کے دربار میں نہ لے جاؤ کہ اسے قتل کرا دو اور پاک دامن عورتوں پر بہتان نہ باندھو یا فرمایا جہاد سے نہ بھاگو۔ اور اے یہودیو! تم پر خاص کر یہ حکم بھی تھا کہ ہفتے کے دن زیادتی نہ کرو۔ اب تو وہ بےساختہ آپ کے ہاتھ پاؤں چومنے لگے اور کہنے لگے، ہماری گواہی ہے کہ آپ اللہ کی نبی ہیں۔ آپ نے فرمایا، پھر تم میری تابعداری کیوں نہیں کرتے؟ کہنے لگے داؤد علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ میری نسل میں نبی ضرور رہیں اور ہمیں خوف ہے کہ آپ کی تابعداری کے بعد یہود ہمیں زندہ نہ چھوڑیں گے۔ [مسند احمد:239/4:ضعیف] ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتلاتے ہیں لیکن ہے ذرا مشکل کام اس لیے کہ اس کے راوی عبداللہ بن سلمہ کے حافظ میں قدرے قصور ہے اور ان پر جرح بھی ہے، ممکن ہے نو کلمات کا شبہ نو آیات سے انہیں ہو گیا ہو، اس لیے کہ یہ توراۃ کے احکام ہیں فرعون پر حجت قائم کرنے والی یہ چیزیں نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر4822
اسی لیے فرعون سے موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے فرعون یہ تو تجھے بھی معلوم ہے کہ یہ سب معجزے سچے ہیں اور ان میں سے ایک ایک میری سچائی کی جیتی جاگتی دلیل ہے، میرا خیال ہے کہ تو ہلاک ہونا چاہتا ہے، اللہ کی لعنت تجھ پر اترا ہی چاہتی ہے، تو مغلوب ہو گا اور تباہی کو پہنچے گا۔ «مثبور» کے معنی ہلاک ہونے کے اس شعر میں بھی ہیں:
«اذا جار الشیطان فی سنن الغی» «ومن مال میلہ مثبور» یعنی شیطان کے دوست ہلاک شدہ ہیں۔ «عَلِمْتَ» کی دوسری قرأت «عَلِمْتُ» تا کے زبر کے بدلے تا کے پیش سے بھی ہے لیکن جمہور کی قرأت تا کے زبر سے ہی ہے۔
اور اسی معنی کو وضاحت سے اس آیت میں بیان فرماتا ہے «فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ آيَاتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوا هَـٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ * وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا ۚ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» [27-النمل:13-14] ” یعنی جب ان کے پاس ہماری ظاہر اور بصیرت افروز نشانیاں پہنچ چکیں تو وہ بولے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ یہ کہہ کر منکرین انکار کر بیٹھے حالانکہ ان کے دلوں میں یقین آ چکا تھا لیکن صرف ظلم و زیادتی کی راہ سے نہ مانے الخ۔ “
الغرض یہ صاف بات ہے کہ جن نو نشانیوں کا ذکر ہوا ہے یہ عصا، ہاتھ، قحط سالی، پھلوں کی کم پیداواری، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور دم (خون) تھیں، جو فرعون اور اس کی قوم کے لیے اللہ کی طرف سے دلیل برہان تھیں اور آپ کے معجزے تھے جو آپ کی سچائی اور اللہ کے وجود پر دلائل تھے۔
ان نو نشانیوں سے مراد احکام نہیں جو اوپر کی حدیث میں بیان ہوئے کیونکہ وہ فرعون اور فرعونیوں پر حجت نہ تھے بلکہ ان پر حجت ہونے اور ان احکام کے بیان ہونے کے درمیان کوئی مناسبت ہی نہیں۔ یہ وہم صرف عبداللہ بن سلمہ راوی حدیث کی وجہ سے لوگوں کو پیدا ہوا، اس کی بعض باتیں واقعی قابل انکار ہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر4823
بہت ممکن ہے کہ ان دونوں یہودیوں نے دس کلمات کا سوال کیا ہو اور راوی کو نو آیتوں کا وہم رہ گیا ہو۔ فرعون نے ارادہ کیا کہ انہیں جلا وطن کر دیا جائے۔ پس ہم نے خود اسے مچھلیوں کا لقمہ بنایا اور اس کے تمام ساتھیوں کو بھی۔
اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرما دیا کہ اب زمین تمہاری ہے رہو سہو، کھاؤ پیو۔ اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی زبردست بشارت ہے کہ مکہ آپ کے ہاتھوں فتح ہو گا۔ حالانکہ سورت مکی ہے، ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔
واقع میں ہوا بھی اسی طرح کہ اہل مکہ نے آپ کو مکہ شریف سے نکال دینا چاہا جیسے قرآن نے آیت «وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا * سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِن رُّسُلِنَا ۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا» [17-الإسراء:76-77] میں بیان فرمایا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غالب کیا اور مکے کا مالک بنا دیا اور فاتحانہ حیثیت سے آپ بعد از جنگ مکہ میں آئے اور یہاں اپنا قبضہ کیا اور پھر اپنے حلم و کرم سے کام لے کر مکہ کے مجرموں کو اور اپنے جانی دشمنوں کو عام طور پر معافی عطا فرما دی، صلی اللہ علیہ وسلم ۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی ضعیف قوم کو مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا تھا اور فرعون جیسے سخت اور متکبر بادشاہ کے مال، زمین، پھل، کھیتی اور خزانوں کا مالک کر دیا جیسے آیت «كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ» [26-الشعراء:59] میں بیان ہوا ہے۔
یہاں بھی فرماتا ہے کہ فرعون کی ہلاکت کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ اب تم یہاں رہو سہو، قیامت کے وعدے کے دن تم اور تمہارے دشمن سب ہمارے سامنے اکٹھے لائے جاؤ گے، ہم تم سب کو جمع کر لائیں گے۔
صفحہ نمبر4824
نو معجزے ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کو نو ایسے معجزے ملے جو آپ کی نبوت کی صداقت اور نبوت پر کھلی دلیل تھی۔ لکڑی، ہاتھ، قحط، دریا، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون۔ یہ تھیں تفصیل وار آیتیں۔ محمد بن کعب کا قول ہے کہ یہ معجزے یہ ہیں: ہاتھ کا چمکیلا بن جانا، لکڑی کا سانپ ہو جانا اور پانچ وہ جن کا بیان سورۃ الاعراف میں ہے اور مالوں کا مٹ جانا اور پتھر۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے مروی ہے کہ یہ معجزے آپ کا ہاتھ، آپ کی لکڑی، قحط سالیاں، پھلوں کی کمی، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون ہیں۔ یہ قول زیادہ ظاہر، بہت صاف، بہتر اور قوی ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے ان میں سے قحط سالی اور پھلوں کی کمی کو ایک گن کر نواں معجزہ آپ کی لکڑی کا جادو گروں کے سانپوں کو کھا جانا بیان کیا ہے۔ لیکن ان تمام معجزوں کے باوجود فرعونیوں نے تکبر کیا اور اپنی گنہگاری پر اڑے رہے باوجودیکہ دل یقین لا چکا تھا مگر ظلم و زیادتی کر کے کفر انکار پر جم گئے۔
صفحہ نمبر4820
اگلی آیتوں سے ان آیتوں کا ربط یہ ہے کہ جیسے آپ کی قوم آپ سے معجزے طلب کرتی ہے، ایسے ہی فرعونیوں نے بھی موسیٰ علیہ السلام سے معجزے طلب کئے جو ظاہر ہوئے لیکن انہیں ایمان نصیب نہ ہوا آخر ہلاک کر دئے گئے۔ اسی طرح اگر آپ کی قوم بھی معجزوں کے آجانے کے بعد کافر رہی تو پھر مہلت نہ ملے گی اور معا تباہ و برباد کر دی جائے گی۔
خود فرعون نے معجزے دیکھنے کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر کہہ کر اپنا پیچھا چھڑا لیا۔ پس یہاں جن نو نشانیوں کا بیان ہے یہ وہی ہیں اور ان کا بیان «وَأَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَلَمَّا رَآهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَانٌّ وَلَّىٰ مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ ۚ يَا مُوسَىٰ لَا تَخَفْ إِنِّي لَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُونَ * إِلَّا مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوءٍ فَإِنِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ * وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ ۖ فِي تِسْعِ آيَاتٍ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ» [27-النمل:10-12] تک میں ہے۔
ان آیتوں میں لکڑی کا اور ہاتھ کا ذکر موجود ہے اور باقی آیتوں کا بیان سورۃ الاعراف میں ہے۔ ان کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو بہت سے معجزے دئیے تھے مثلا آپ کی لکڑی کے لگنے سے ایک پتھر میں سے بارہ چشموں کا جاری ہو جانا، بادل کا سایہ کرنا، من وسلوی کا اترنا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب نعمتیں بنی اسرائیل کو مصر کے شہر چھوڑنے کے بعد ملیں، پس ان معجزوں کو یہاں اس لیے بیان نہیں فرمایا کہ وہ فرعونیوں نے نہیں دیکھے تھے، یہاں صرف ان نومعجزوں کا ذکر کیا جو فرعونیوں نے دیکھے تھے اور انہیں جھٹلایا تھا۔
صفحہ نمبر4821
مسند احمد میں ہے کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا، چل تو ذرا، اس نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے ان کے قران کی اس آیت کے بارے میں پوچھ لیں کہ موسیٰ علیہ السلام کو وہ نو آیات کیا ملی تھیں؟ دوسرے نے کہا، نبی نہ کہہ، سن لیا تو اس کی چار آنکھیں ہو جائیں گی۔ اب دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، چوری نہ کرو، زنا نہ کرو، کسی جان کو ناحق قتل نہ کرو، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ، بےگناہ لوگوں کو پکڑ کر بادشاہ کے دربار میں نہ لے جاؤ کہ اسے قتل کرا دو اور پاک دامن عورتوں پر بہتان نہ باندھو یا فرمایا جہاد سے نہ بھاگو۔ اور اے یہودیو! تم پر خاص کر یہ حکم بھی تھا کہ ہفتے کے دن زیادتی نہ کرو۔ اب تو وہ بےساختہ آپ کے ہاتھ پاؤں چومنے لگے اور کہنے لگے، ہماری گواہی ہے کہ آپ اللہ کی نبی ہیں۔ آپ نے فرمایا، پھر تم میری تابعداری کیوں نہیں کرتے؟ کہنے لگے داؤد علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ میری نسل میں نبی ضرور رہیں اور ہمیں خوف ہے کہ آپ کی تابعداری کے بعد یہود ہمیں زندہ نہ چھوڑیں گے۔ [مسند احمد:239/4:ضعیف] ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتلاتے ہیں لیکن ہے ذرا مشکل کام اس لیے کہ اس کے راوی عبداللہ بن سلمہ کے حافظ میں قدرے قصور ہے اور ان پر جرح بھی ہے، ممکن ہے نو کلمات کا شبہ نو آیات سے انہیں ہو گیا ہو، اس لیے کہ یہ توراۃ کے احکام ہیں فرعون پر حجت قائم کرنے والی یہ چیزیں نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر4822
اسی لیے فرعون سے موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے فرعون یہ تو تجھے بھی معلوم ہے کہ یہ سب معجزے سچے ہیں اور ان میں سے ایک ایک میری سچائی کی جیتی جاگتی دلیل ہے، میرا خیال ہے کہ تو ہلاک ہونا چاہتا ہے، اللہ کی لعنت تجھ پر اترا ہی چاہتی ہے، تو مغلوب ہو گا اور تباہی کو پہنچے گا۔ «مثبور» کے معنی ہلاک ہونے کے اس شعر میں بھی ہیں:
«اذا جار الشیطان فی سنن الغی» «ومن مال میلہ مثبور» یعنی شیطان کے دوست ہلاک شدہ ہیں۔ «عَلِمْتَ» کی دوسری قرأت «عَلِمْتُ» تا کے زبر کے بدلے تا کے پیش سے بھی ہے لیکن جمہور کی قرأت تا کے زبر سے ہی ہے۔
اور اسی معنی کو وضاحت سے اس آیت میں بیان فرماتا ہے «فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ آيَاتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوا هَـٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ * وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا ۚ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» [27-النمل:13-14] ” یعنی جب ان کے پاس ہماری ظاہر اور بصیرت افروز نشانیاں پہنچ چکیں تو وہ بولے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ یہ کہہ کر منکرین انکار کر بیٹھے حالانکہ ان کے دلوں میں یقین آ چکا تھا لیکن صرف ظلم و زیادتی کی راہ سے نہ مانے الخ۔ “
الغرض یہ صاف بات ہے کہ جن نو نشانیوں کا ذکر ہوا ہے یہ عصا، ہاتھ، قحط سالی، پھلوں کی کم پیداواری، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور دم (خون) تھیں، جو فرعون اور اس کی قوم کے لیے اللہ کی طرف سے دلیل برہان تھیں اور آپ کے معجزے تھے جو آپ کی سچائی اور اللہ کے وجود پر دلائل تھے۔
ان نو نشانیوں سے مراد احکام نہیں جو اوپر کی حدیث میں بیان ہوئے کیونکہ وہ فرعون اور فرعونیوں پر حجت نہ تھے بلکہ ان پر حجت ہونے اور ان احکام کے بیان ہونے کے درمیان کوئی مناسبت ہی نہیں۔ یہ وہم صرف عبداللہ بن سلمہ راوی حدیث کی وجہ سے لوگوں کو پیدا ہوا، اس کی بعض باتیں واقعی قابل انکار ہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر4823
بہت ممکن ہے کہ ان دونوں یہودیوں نے دس کلمات کا سوال کیا ہو اور راوی کو نو آیتوں کا وہم رہ گیا ہو۔ فرعون نے ارادہ کیا کہ انہیں جلا وطن کر دیا جائے۔ پس ہم نے خود اسے مچھلیوں کا لقمہ بنایا اور اس کے تمام ساتھیوں کو بھی۔
اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرما دیا کہ اب زمین تمہاری ہے رہو سہو، کھاؤ پیو۔ اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی زبردست بشارت ہے کہ مکہ آپ کے ہاتھوں فتح ہو گا۔ حالانکہ سورت مکی ہے، ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔
واقع میں ہوا بھی اسی طرح کہ اہل مکہ نے آپ کو مکہ شریف سے نکال دینا چاہا جیسے قرآن نے آیت «وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا * سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِن رُّسُلِنَا ۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا» [17-الإسراء:76-77] میں بیان فرمایا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غالب کیا اور مکے کا مالک بنا دیا اور فاتحانہ حیثیت سے آپ بعد از جنگ مکہ میں آئے اور یہاں اپنا قبضہ کیا اور پھر اپنے حلم و کرم سے کام لے کر مکہ کے مجرموں کو اور اپنے جانی دشمنوں کو عام طور پر معافی عطا فرما دی، صلی اللہ علیہ وسلم ۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی ضعیف قوم کو مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا تھا اور فرعون جیسے سخت اور متکبر بادشاہ کے مال، زمین، پھل، کھیتی اور خزانوں کا مالک کر دیا جیسے آیت «كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ» [26-الشعراء:59] میں بیان ہوا ہے۔
یہاں بھی فرماتا ہے کہ فرعون کی ہلاکت کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ اب تم یہاں رہو سہو، قیامت کے وعدے کے دن تم اور تمہارے دشمن سب ہمارے سامنے اکٹھے لائے جاؤ گے، ہم تم سب کو جمع کر لائیں گے۔
صفحہ نمبر4824
نو معجزے ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کو نو ایسے معجزے ملے جو آپ کی نبوت کی صداقت اور نبوت پر کھلی دلیل تھی۔ لکڑی، ہاتھ، قحط، دریا، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون۔ یہ تھیں تفصیل وار آیتیں۔ محمد بن کعب کا قول ہے کہ یہ معجزے یہ ہیں: ہاتھ کا چمکیلا بن جانا، لکڑی کا سانپ ہو جانا اور پانچ وہ جن کا بیان سورۃ الاعراف میں ہے اور مالوں کا مٹ جانا اور پتھر۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے مروی ہے کہ یہ معجزے آپ کا ہاتھ، آپ کی لکڑی، قحط سالیاں، پھلوں کی کمی، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون ہیں۔ یہ قول زیادہ ظاہر، بہت صاف، بہتر اور قوی ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے ان میں سے قحط سالی اور پھلوں کی کمی کو ایک گن کر نواں معجزہ آپ کی لکڑی کا جادو گروں کے سانپوں کو کھا جانا بیان کیا ہے۔ لیکن ان تمام معجزوں کے باوجود فرعونیوں نے تکبر کیا اور اپنی گنہگاری پر اڑے رہے باوجودیکہ دل یقین لا چکا تھا مگر ظلم و زیادتی کر کے کفر انکار پر جم گئے۔
صفحہ نمبر4820
اگلی آیتوں سے ان آیتوں کا ربط یہ ہے کہ جیسے آپ کی قوم آپ سے معجزے طلب کرتی ہے، ایسے ہی فرعونیوں نے بھی موسیٰ علیہ السلام سے معجزے طلب کئے جو ظاہر ہوئے لیکن انہیں ایمان نصیب نہ ہوا آخر ہلاک کر دئے گئے۔ اسی طرح اگر آپ کی قوم بھی معجزوں کے آجانے کے بعد کافر رہی تو پھر مہلت نہ ملے گی اور معا تباہ و برباد کر دی جائے گی۔
خود فرعون نے معجزے دیکھنے کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر کہہ کر اپنا پیچھا چھڑا لیا۔ پس یہاں جن نو نشانیوں کا بیان ہے یہ وہی ہیں اور ان کا بیان «وَأَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَلَمَّا رَآهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَانٌّ وَلَّىٰ مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ ۚ يَا مُوسَىٰ لَا تَخَفْ إِنِّي لَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُونَ * إِلَّا مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوءٍ فَإِنِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ * وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ ۖ فِي تِسْعِ آيَاتٍ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ» [27-النمل:10-12] تک میں ہے۔
ان آیتوں میں لکڑی کا اور ہاتھ کا ذکر موجود ہے اور باقی آیتوں کا بیان سورۃ الاعراف میں ہے۔ ان کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو بہت سے معجزے دئیے تھے مثلا آپ کی لکڑی کے لگنے سے ایک پتھر میں سے بارہ چشموں کا جاری ہو جانا، بادل کا سایہ کرنا، من وسلوی کا اترنا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب نعمتیں بنی اسرائیل کو مصر کے شہر چھوڑنے کے بعد ملیں، پس ان معجزوں کو یہاں اس لیے بیان نہیں فرمایا کہ وہ فرعونیوں نے نہیں دیکھے تھے، یہاں صرف ان نومعجزوں کا ذکر کیا جو فرعونیوں نے دیکھے تھے اور انہیں جھٹلایا تھا۔
صفحہ نمبر4821
مسند احمد میں ہے کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا، چل تو ذرا، اس نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے ان کے قران کی اس آیت کے بارے میں پوچھ لیں کہ موسیٰ علیہ السلام کو وہ نو آیات کیا ملی تھیں؟ دوسرے نے کہا، نبی نہ کہہ، سن لیا تو اس کی چار آنکھیں ہو جائیں گی۔ اب دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، چوری نہ کرو، زنا نہ کرو، کسی جان کو ناحق قتل نہ کرو، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ، بےگناہ لوگوں کو پکڑ کر بادشاہ کے دربار میں نہ لے جاؤ کہ اسے قتل کرا دو اور پاک دامن عورتوں پر بہتان نہ باندھو یا فرمایا جہاد سے نہ بھاگو۔ اور اے یہودیو! تم پر خاص کر یہ حکم بھی تھا کہ ہفتے کے دن زیادتی نہ کرو۔ اب تو وہ بےساختہ آپ کے ہاتھ پاؤں چومنے لگے اور کہنے لگے، ہماری گواہی ہے کہ آپ اللہ کی نبی ہیں۔ آپ نے فرمایا، پھر تم میری تابعداری کیوں نہیں کرتے؟ کہنے لگے داؤد علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ میری نسل میں نبی ضرور رہیں اور ہمیں خوف ہے کہ آپ کی تابعداری کے بعد یہود ہمیں زندہ نہ چھوڑیں گے۔ [مسند احمد:239/4:ضعیف] ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتلاتے ہیں لیکن ہے ذرا مشکل کام اس لیے کہ اس کے راوی عبداللہ بن سلمہ کے حافظ میں قدرے قصور ہے اور ان پر جرح بھی ہے، ممکن ہے نو کلمات کا شبہ نو آیات سے انہیں ہو گیا ہو، اس لیے کہ یہ توراۃ کے احکام ہیں فرعون پر حجت قائم کرنے والی یہ چیزیں نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر4822
اسی لیے فرعون سے موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے فرعون یہ تو تجھے بھی معلوم ہے کہ یہ سب معجزے سچے ہیں اور ان میں سے ایک ایک میری سچائی کی جیتی جاگتی دلیل ہے، میرا خیال ہے کہ تو ہلاک ہونا چاہتا ہے، اللہ کی لعنت تجھ پر اترا ہی چاہتی ہے، تو مغلوب ہو گا اور تباہی کو پہنچے گا۔ «مثبور» کے معنی ہلاک ہونے کے اس شعر میں بھی ہیں:
«اذا جار الشیطان فی سنن الغی» «ومن مال میلہ مثبور» یعنی شیطان کے دوست ہلاک شدہ ہیں۔ «عَلِمْتَ» کی دوسری قرأت «عَلِمْتُ» تا کے زبر کے بدلے تا کے پیش سے بھی ہے لیکن جمہور کی قرأت تا کے زبر سے ہی ہے۔
اور اسی معنی کو وضاحت سے اس آیت میں بیان فرماتا ہے «فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ آيَاتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوا هَـٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ * وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا ۚ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» [27-النمل:13-14] ” یعنی جب ان کے پاس ہماری ظاہر اور بصیرت افروز نشانیاں پہنچ چکیں تو وہ بولے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ یہ کہہ کر منکرین انکار کر بیٹھے حالانکہ ان کے دلوں میں یقین آ چکا تھا لیکن صرف ظلم و زیادتی کی راہ سے نہ مانے الخ۔ “
الغرض یہ صاف بات ہے کہ جن نو نشانیوں کا ذکر ہوا ہے یہ عصا، ہاتھ، قحط سالی، پھلوں کی کم پیداواری، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور دم (خون) تھیں، جو فرعون اور اس کی قوم کے لیے اللہ کی طرف سے دلیل برہان تھیں اور آپ کے معجزے تھے جو آپ کی سچائی اور اللہ کے وجود پر دلائل تھے۔
ان نو نشانیوں سے مراد احکام نہیں جو اوپر کی حدیث میں بیان ہوئے کیونکہ وہ فرعون اور فرعونیوں پر حجت نہ تھے بلکہ ان پر حجت ہونے اور ان احکام کے بیان ہونے کے درمیان کوئی مناسبت ہی نہیں۔ یہ وہم صرف عبداللہ بن سلمہ راوی حدیث کی وجہ سے لوگوں کو پیدا ہوا، اس کی بعض باتیں واقعی قابل انکار ہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر4823
بہت ممکن ہے کہ ان دونوں یہودیوں نے دس کلمات کا سوال کیا ہو اور راوی کو نو آیتوں کا وہم رہ گیا ہو۔ فرعون نے ارادہ کیا کہ انہیں جلا وطن کر دیا جائے۔ پس ہم نے خود اسے مچھلیوں کا لقمہ بنایا اور اس کے تمام ساتھیوں کو بھی۔
اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرما دیا کہ اب زمین تمہاری ہے رہو سہو، کھاؤ پیو۔ اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی زبردست بشارت ہے کہ مکہ آپ کے ہاتھوں فتح ہو گا۔ حالانکہ سورت مکی ہے، ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔
واقع میں ہوا بھی اسی طرح کہ اہل مکہ نے آپ کو مکہ شریف سے نکال دینا چاہا جیسے قرآن نے آیت «وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا * سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِن رُّسُلِنَا ۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا» [17-الإسراء:76-77] میں بیان فرمایا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غالب کیا اور مکے کا مالک بنا دیا اور فاتحانہ حیثیت سے آپ بعد از جنگ مکہ میں آئے اور یہاں اپنا قبضہ کیا اور پھر اپنے حلم و کرم سے کام لے کر مکہ کے مجرموں کو اور اپنے جانی دشمنوں کو عام طور پر معافی عطا فرما دی، صلی اللہ علیہ وسلم ۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی ضعیف قوم کو مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا تھا اور فرعون جیسے سخت اور متکبر بادشاہ کے مال، زمین، پھل، کھیتی اور خزانوں کا مالک کر دیا جیسے آیت «كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ» [26-الشعراء:59] میں بیان ہوا ہے۔
یہاں بھی فرماتا ہے کہ فرعون کی ہلاکت کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ اب تم یہاں رہو سہو، قیامت کے وعدے کے دن تم اور تمہارے دشمن سب ہمارے سامنے اکٹھے لائے جاؤ گے، ہم تم سب کو جمع کر لائیں گے۔
صفحہ نمبر4824
نو معجزے ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کو نو ایسے معجزے ملے جو آپ کی نبوت کی صداقت اور نبوت پر کھلی دلیل تھی۔ لکڑی، ہاتھ، قحط، دریا، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون۔ یہ تھیں تفصیل وار آیتیں۔ محمد بن کعب کا قول ہے کہ یہ معجزے یہ ہیں: ہاتھ کا چمکیلا بن جانا، لکڑی کا سانپ ہو جانا اور پانچ وہ جن کا بیان سورۃ الاعراف میں ہے اور مالوں کا مٹ جانا اور پتھر۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے مروی ہے کہ یہ معجزے آپ کا ہاتھ، آپ کی لکڑی، قحط سالیاں، پھلوں کی کمی، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون ہیں۔ یہ قول زیادہ ظاہر، بہت صاف، بہتر اور قوی ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے ان میں سے قحط سالی اور پھلوں کی کمی کو ایک گن کر نواں معجزہ آپ کی لکڑی کا جادو گروں کے سانپوں کو کھا جانا بیان کیا ہے۔ لیکن ان تمام معجزوں کے باوجود فرعونیوں نے تکبر کیا اور اپنی گنہگاری پر اڑے رہے باوجودیکہ دل یقین لا چکا تھا مگر ظلم و زیادتی کر کے کفر انکار پر جم گئے۔
صفحہ نمبر4820
اگلی آیتوں سے ان آیتوں کا ربط یہ ہے کہ جیسے آپ کی قوم آپ سے معجزے طلب کرتی ہے، ایسے ہی فرعونیوں نے بھی موسیٰ علیہ السلام سے معجزے طلب کئے جو ظاہر ہوئے لیکن انہیں ایمان نصیب نہ ہوا آخر ہلاک کر دئے گئے۔ اسی طرح اگر آپ کی قوم بھی معجزوں کے آجانے کے بعد کافر رہی تو پھر مہلت نہ ملے گی اور معا تباہ و برباد کر دی جائے گی۔
خود فرعون نے معجزے دیکھنے کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر کہہ کر اپنا پیچھا چھڑا لیا۔ پس یہاں جن نو نشانیوں کا بیان ہے یہ وہی ہیں اور ان کا بیان «وَأَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَلَمَّا رَآهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَانٌّ وَلَّىٰ مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ ۚ يَا مُوسَىٰ لَا تَخَفْ إِنِّي لَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُونَ * إِلَّا مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوءٍ فَإِنِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ * وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ ۖ فِي تِسْعِ آيَاتٍ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ» [27-النمل:10-12] تک میں ہے۔
ان آیتوں میں لکڑی کا اور ہاتھ کا ذکر موجود ہے اور باقی آیتوں کا بیان سورۃ الاعراف میں ہے۔ ان کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو بہت سے معجزے دئیے تھے مثلا آپ کی لکڑی کے لگنے سے ایک پتھر میں سے بارہ چشموں کا جاری ہو جانا، بادل کا سایہ کرنا، من وسلوی کا اترنا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب نعمتیں بنی اسرائیل کو مصر کے شہر چھوڑنے کے بعد ملیں، پس ان معجزوں کو یہاں اس لیے بیان نہیں فرمایا کہ وہ فرعونیوں نے نہیں دیکھے تھے، یہاں صرف ان نومعجزوں کا ذکر کیا جو فرعونیوں نے دیکھے تھے اور انہیں جھٹلایا تھا۔
صفحہ نمبر4821
مسند احمد میں ہے کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا، چل تو ذرا، اس نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے ان کے قران کی اس آیت کے بارے میں پوچھ لیں کہ موسیٰ علیہ السلام کو وہ نو آیات کیا ملی تھیں؟ دوسرے نے کہا، نبی نہ کہہ، سن لیا تو اس کی چار آنکھیں ہو جائیں گی۔ اب دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، چوری نہ کرو، زنا نہ کرو، کسی جان کو ناحق قتل نہ کرو، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ، بےگناہ لوگوں کو پکڑ کر بادشاہ کے دربار میں نہ لے جاؤ کہ اسے قتل کرا دو اور پاک دامن عورتوں پر بہتان نہ باندھو یا فرمایا جہاد سے نہ بھاگو۔ اور اے یہودیو! تم پر خاص کر یہ حکم بھی تھا کہ ہفتے کے دن زیادتی نہ کرو۔ اب تو وہ بےساختہ آپ کے ہاتھ پاؤں چومنے لگے اور کہنے لگے، ہماری گواہی ہے کہ آپ اللہ کی نبی ہیں۔ آپ نے فرمایا، پھر تم میری تابعداری کیوں نہیں کرتے؟ کہنے لگے داؤد علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ میری نسل میں نبی ضرور رہیں اور ہمیں خوف ہے کہ آپ کی تابعداری کے بعد یہود ہمیں زندہ نہ چھوڑیں گے۔ [مسند احمد:239/4:ضعیف] ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتلاتے ہیں لیکن ہے ذرا مشکل کام اس لیے کہ اس کے راوی عبداللہ بن سلمہ کے حافظ میں قدرے قصور ہے اور ان پر جرح بھی ہے، ممکن ہے نو کلمات کا شبہ نو آیات سے انہیں ہو گیا ہو، اس لیے کہ یہ توراۃ کے احکام ہیں فرعون پر حجت قائم کرنے والی یہ چیزیں نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر4822
اسی لیے فرعون سے موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے فرعون یہ تو تجھے بھی معلوم ہے کہ یہ سب معجزے سچے ہیں اور ان میں سے ایک ایک میری سچائی کی جیتی جاگتی دلیل ہے، میرا خیال ہے کہ تو ہلاک ہونا چاہتا ہے، اللہ کی لعنت تجھ پر اترا ہی چاہتی ہے، تو مغلوب ہو گا اور تباہی کو پہنچے گا۔ «مثبور» کے معنی ہلاک ہونے کے اس شعر میں بھی ہیں:
«اذا جار الشیطان فی سنن الغی» «ومن مال میلہ مثبور» یعنی شیطان کے دوست ہلاک شدہ ہیں۔ «عَلِمْتَ» کی دوسری قرأت «عَلِمْتُ» تا کے زبر کے بدلے تا کے پیش سے بھی ہے لیکن جمہور کی قرأت تا کے زبر سے ہی ہے۔
اور اسی معنی کو وضاحت سے اس آیت میں بیان فرماتا ہے «فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ آيَاتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوا هَـٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ * وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا ۚ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» [27-النمل:13-14] ” یعنی جب ان کے پاس ہماری ظاہر اور بصیرت افروز نشانیاں پہنچ چکیں تو وہ بولے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ یہ کہہ کر منکرین انکار کر بیٹھے حالانکہ ان کے دلوں میں یقین آ چکا تھا لیکن صرف ظلم و زیادتی کی راہ سے نہ مانے الخ۔ “
الغرض یہ صاف بات ہے کہ جن نو نشانیوں کا ذکر ہوا ہے یہ عصا، ہاتھ، قحط سالی، پھلوں کی کم پیداواری، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور دم (خون) تھیں، جو فرعون اور اس کی قوم کے لیے اللہ کی طرف سے دلیل برہان تھیں اور آپ کے معجزے تھے جو آپ کی سچائی اور اللہ کے وجود پر دلائل تھے۔
ان نو نشانیوں سے مراد احکام نہیں جو اوپر کی حدیث میں بیان ہوئے کیونکہ وہ فرعون اور فرعونیوں پر حجت نہ تھے بلکہ ان پر حجت ہونے اور ان احکام کے بیان ہونے کے درمیان کوئی مناسبت ہی نہیں۔ یہ وہم صرف عبداللہ بن سلمہ راوی حدیث کی وجہ سے لوگوں کو پیدا ہوا، اس کی بعض باتیں واقعی قابل انکار ہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر4823
بہت ممکن ہے کہ ان دونوں یہودیوں نے دس کلمات کا سوال کیا ہو اور راوی کو نو آیتوں کا وہم رہ گیا ہو۔ فرعون نے ارادہ کیا کہ انہیں جلا وطن کر دیا جائے۔ پس ہم نے خود اسے مچھلیوں کا لقمہ بنایا اور اس کے تمام ساتھیوں کو بھی۔
اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرما دیا کہ اب زمین تمہاری ہے رہو سہو، کھاؤ پیو۔ اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی زبردست بشارت ہے کہ مکہ آپ کے ہاتھوں فتح ہو گا۔ حالانکہ سورت مکی ہے، ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔
واقع میں ہوا بھی اسی طرح کہ اہل مکہ نے آپ کو مکہ شریف سے نکال دینا چاہا جیسے قرآن نے آیت «وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا * سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِن رُّسُلِنَا ۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا» [17-الإسراء:76-77] میں بیان فرمایا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غالب کیا اور مکے کا مالک بنا دیا اور فاتحانہ حیثیت سے آپ بعد از جنگ مکہ میں آئے اور یہاں اپنا قبضہ کیا اور پھر اپنے حلم و کرم سے کام لے کر مکہ کے مجرموں کو اور اپنے جانی دشمنوں کو عام طور پر معافی عطا فرما دی، صلی اللہ علیہ وسلم ۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی ضعیف قوم کو مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا تھا اور فرعون جیسے سخت اور متکبر بادشاہ کے مال، زمین، پھل، کھیتی اور خزانوں کا مالک کر دیا جیسے آیت «كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ» [26-الشعراء:59] میں بیان ہوا ہے۔
یہاں بھی فرماتا ہے کہ فرعون کی ہلاکت کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ اب تم یہاں رہو سہو، قیامت کے وعدے کے دن تم اور تمہارے دشمن سب ہمارے سامنے اکٹھے لائے جاؤ گے، ہم تم سب کو جمع کر لائیں گے۔
صفحہ نمبر4824
قرآن کریم کی صفات عالیہ ٭٭
ارشاد ہے کہ «لَّـٰكِنِ اللَّـهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنزَلَ إِلَيْكَ ۖ أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا» [4-النساء:166] ” قرآن حق کے ساتھ نازل ہوا، یہ سراسر حق ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ساتھ اسے نازل فرمایا ہے۔ اس کی حقانیت پر وہ خود شاہد ہے اور فرشتے بھی گواہ ہیں۔ “
اس میں وہی ہے جو اس نے خود اپنی دانست کے ساتھ اتارا ہے، اس کے تمام حکم احکام اور نہی و ممانعت اسی کی طرف سے ہے۔ حق والے نے حق کے ساتھ اسے اتارا اور یہ حق کے ساتھ ہی تجھ تک پہنچا، نہ راستے میں کوئی باطل اس میں ملا نہ باطل کی یہ شان کہ اس سے مخلوط ہو سکے۔ یہ بالکل محفوظ ہے، کمی زیادتی سے یکسر پاک ہے۔ پوری طاقت والے امانتدار فرشتے کی معرفت نازل ہوا ہے جو آسمانوں میں ذی عزت اور وہاں کا سردار ہے۔ تیرا کام مومنوں کو خوشی سنانا اور کافروں کو ڈرانا ہے۔ اس قرآن کو ہم نے لوح محفوظ سے بیت العزۃ پر نازل فرمایا جو آسمان اول میں ہے۔ وہاں سے متفرق تھوڑا تھوڑا کر کے واقعات کے مطابق تیئس برس میں دنیا پر نازل ہوا۔ «فَرَقْنَاهُ» کی دوسری قرأت «فَرَّقْنَاہُ» ہے یعنی ایک ایک آیت کر کے تفسیر اور تفصیل اور تبیین کے ساتھ اتارا ہے کہ تو اسے لوگوں کو بہ سہولت پہنچا دے اور آہستہ آہستہ انہیں سنا دے، ہم نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ہے۔
صفحہ نمبر4828
قرآن کریم کی صفات عالیہ ٭٭
ارشاد ہے کہ «لَّـٰكِنِ اللَّـهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنزَلَ إِلَيْكَ ۖ أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا» [4-النساء:166] ” قرآن حق کے ساتھ نازل ہوا، یہ سراسر حق ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ساتھ اسے نازل فرمایا ہے۔ اس کی حقانیت پر وہ خود شاہد ہے اور فرشتے بھی گواہ ہیں۔ “
اس میں وہی ہے جو اس نے خود اپنی دانست کے ساتھ اتارا ہے، اس کے تمام حکم احکام اور نہی و ممانعت اسی کی طرف سے ہے۔ حق والے نے حق کے ساتھ اسے اتارا اور یہ حق کے ساتھ ہی تجھ تک پہنچا، نہ راستے میں کوئی باطل اس میں ملا نہ باطل کی یہ شان کہ اس سے مخلوط ہو سکے۔ یہ بالکل محفوظ ہے، کمی زیادتی سے یکسر پاک ہے۔ پوری طاقت والے امانتدار فرشتے کی معرفت نازل ہوا ہے جو آسمانوں میں ذی عزت اور وہاں کا سردار ہے۔ تیرا کام مومنوں کو خوشی سنانا اور کافروں کو ڈرانا ہے۔ اس قرآن کو ہم نے لوح محفوظ سے بیت العزۃ پر نازل فرمایا جو آسمان اول میں ہے۔ وہاں سے متفرق تھوڑا تھوڑا کر کے واقعات کے مطابق تیئس برس میں دنیا پر نازل ہوا۔ «فَرَقْنَاهُ» کی دوسری قرأت «فَرَّقْنَاہُ» ہے یعنی ایک ایک آیت کر کے تفسیر اور تفصیل اور تبیین کے ساتھ اتارا ہے کہ تو اسے لوگوں کو بہ سہولت پہنچا دے اور آہستہ آہستہ انہیں سنا دے، ہم نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ہے۔
صفحہ نمبر4828
سماعت قرآن عظیم کے بعد ٭٭
فرمان ہے کہ تمہارے ایمان پر صداقت قرآن موقوف نہیں، تم مانو یا نہ مانو، قرآن فی نفسہ کلام اللہ اور بیشک بر حق ہے۔ اس کا ذکر تو ہمیشہ سے قدیم کتابوں میں چلا آرہا ہے۔ جو اہل کتاب صالح اور عامل کتاب اللہ ہیں، جنہوں نے اگلی کتابوں میں کوئی تحریف و تبدیلی نہیں کی، وہ تو اس قرآن کو سنتے ہی بے چین ہو کر شکریہ کا سجدہ کرتے ہیں کہ اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے ہماری موجودگی میں اس رسول کو بھیجا اور اس کلام کو نازل فرمایا۔ اپنے رب کی قدرت کاملہ پر اس کی تعظیم و توقیر کرتے ہیں۔ جانتے تھے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، غلط نہیں ہوتا۔
آج وہ وعدہ پورا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، اپنے رب کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اس کے وعدے کی سچائی کا اقرار کرتے ہیں۔ خشوع و خضوع، فروتنی اور عاجزی کے ساتھ روتے گڑ گڑاتے اللہ کے سامنے اپنی ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔ ایمان و تصدیق اور کلام الٰہی اور رسول اللہ کی وجہ سے وہ ایمان و اسلام میں، ہدایت و تقویٰ میں، ڈر اور خوف میں اور بڑھ جاتے ہیں۔ یہ عطف صفت کا صفت پر ہے، سجدے کا سجدے پر نہیں۔
صفحہ نمبر4830
سماعت قرآن عظیم کے بعد ٭٭
فرمان ہے کہ تمہارے ایمان پر صداقت قرآن موقوف نہیں، تم مانو یا نہ مانو، قرآن فی نفسہ کلام اللہ اور بیشک بر حق ہے۔ اس کا ذکر تو ہمیشہ سے قدیم کتابوں میں چلا آرہا ہے۔ جو اہل کتاب صالح اور عامل کتاب اللہ ہیں، جنہوں نے اگلی کتابوں میں کوئی تحریف و تبدیلی نہیں کی، وہ تو اس قرآن کو سنتے ہی بے چین ہو کر شکریہ کا سجدہ کرتے ہیں کہ اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے ہماری موجودگی میں اس رسول کو بھیجا اور اس کلام کو نازل فرمایا۔ اپنے رب کی قدرت کاملہ پر اس کی تعظیم و توقیر کرتے ہیں۔ جانتے تھے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، غلط نہیں ہوتا۔
آج وہ وعدہ پورا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، اپنے رب کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اس کے وعدے کی سچائی کا اقرار کرتے ہیں۔ خشوع و خضوع، فروتنی اور عاجزی کے ساتھ روتے گڑ گڑاتے اللہ کے سامنے اپنی ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔ ایمان و تصدیق اور کلام الٰہی اور رسول اللہ کی وجہ سے وہ ایمان و اسلام میں، ہدایت و تقویٰ میں، ڈر اور خوف میں اور بڑھ جاتے ہیں۔ یہ عطف صفت کا صفت پر ہے، سجدے کا سجدے پر نہیں۔
صفحہ نمبر4830
سماعت قرآن عظیم کے بعد ٭٭
فرمان ہے کہ تمہارے ایمان پر صداقت قرآن موقوف نہیں، تم مانو یا نہ مانو، قرآن فی نفسہ کلام اللہ اور بیشک بر حق ہے۔ اس کا ذکر تو ہمیشہ سے قدیم کتابوں میں چلا آرہا ہے۔ جو اہل کتاب صالح اور عامل کتاب اللہ ہیں، جنہوں نے اگلی کتابوں میں کوئی تحریف و تبدیلی نہیں کی، وہ تو اس قرآن کو سنتے ہی بے چین ہو کر شکریہ کا سجدہ کرتے ہیں کہ اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے ہماری موجودگی میں اس رسول کو بھیجا اور اس کلام کو نازل فرمایا۔ اپنے رب کی قدرت کاملہ پر اس کی تعظیم و توقیر کرتے ہیں۔ جانتے تھے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، غلط نہیں ہوتا۔
آج وہ وعدہ پورا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، اپنے رب کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اس کے وعدے کی سچائی کا اقرار کرتے ہیں۔ خشوع و خضوع، فروتنی اور عاجزی کے ساتھ روتے گڑ گڑاتے اللہ کے سامنے اپنی ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔ ایمان و تصدیق اور کلام الٰہی اور رسول اللہ کی وجہ سے وہ ایمان و اسلام میں، ہدایت و تقویٰ میں، ڈر اور خوف میں اور بڑھ جاتے ہیں۔ یہ عطف صفت کا صفت پر ہے، سجدے کا سجدے پر نہیں۔
صفحہ نمبر4830
رحمن یا رحیم ؟ ٭٭
کفار اللہ کی رحمت کی صفت کے منکر تھے، اس کا نام رحمن نہیں سمجھتے تھے تو جناب باری تعالیٰ اپنے نفس کے لیے اس نام کو ثابت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہی نہیں کہ اللہ کا نام اللہ ہو رحمن ہو یا رحیم اور بس، ان کے سوا بھی بہت سے بہترین اور احسن نام اس کے ہیں۔ جس پاک نام سے چاہو اس سے دعائیں کرو۔
سورۃ الحشر کے آخر میں بھی اپنے بہت سے نام اس نے بیان فرمائے ہیں۔ «هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۖ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ * هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ ۚ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ * هُوَ اللَّـهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ ۖ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ ۚ يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [59-الحشر:22-24]
ایک مشرک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سجدے کی حالت میں «یا رحمن یا رحیم» سن کر کہا کہ لیجئے یہ موحد ہیں، دو معبودوں کو پکارتے ہیں، اس پر یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22802:مرسل]
پھر فرماتا ہے اپنی نماز کو بہت اونچی آواز سے نہ پڑھو۔ اس آیت کے نزول کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکے میں پوشیدہ تھے، جب صحابہ کو نماز پڑھاتے اور بلند آواز سے اس میں قرأت پڑھتے تو مشرکین قرآن کو، اللہ کو، رسول کو گالیاں دیتے۔ اس لیے حکم ہوا کہ اس قدر بلند آواز سے پڑھنے کی ضرورت نہیں کہ مشرکین سنیں اور گالیاں بکیں۔ ہاں ایسا آہستہ بھی نہ پڑھنا کہ آپ کے ساتھی بھی نہ سن سکیں بلکہ درمیانی آواز سے قرأت کیا کرو۔ [صحیح بخاری:4722]
پھر جب آپ ہجرت کر کے مدینے پہنچے تو یہ تکلیف جاتی رہی، اب جس طرح چاہیں پڑھیں۔ مشرکین جہاں قرآن کی تلاوت شروع ہوتی تو بھاگ کھڑے ہوتے۔ اگر کوئی سننا چاہتا تو ان کے خوف کے مارے چھپ چھپ کر بچ بچا کر کچھ سن لیتا۔ لیکن جہاں مشرکوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے انہیں سخت ایذاء دہی شروع کی۔ اب اگر بہت بلند آواز کریں تو ان کی چڑ اور ان کی گالیوں کا خیال اور اگر بہت پست کر لیں تو وہ جو چھپے کے کان لگائے بیٹھے ہیں وہ محروم، اس لیے درمیانہ آواز سے قرآت کرنے کا حکم ہوا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22830]
صفحہ نمبر4833
الغرض نماز کی قرأت کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ مروی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی نماز میں پست آواز سے قرأت پڑھتے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ باآواز بلند قرأت پڑھا کرتے تھے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آپ آہستہ کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ اپنے رب سے سرگوشی ہے وہ میری حاجات کا علم رکھتا ہے تو فرمایا کہ یہ بہت اچھا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ بلند آواز سے کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا شیطان کو بھگاتا ہوں اور سوتوں کو جگاتا ہوں تو آپ سے بھی فرمایا گیا، بہت اچھا ہے لیکن جب یہ آیت اتری تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے قدرے بلند آواز کرنے کو اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے قدرے پست آواز کرنے کو فرمایا گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22835:مرسل]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اسی طرح ثوری اور مالک ہشام بن عروہ سے وہ اپنے باپ سے وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، آپ فرماتی ہیں کہ یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [صحیح بخاری:4323]
یہی قول مجاہد، سعید بن جبیر، ابو عیاض، مکحول، عروہ بن زبیر رحمہ اللہ علیہم کا بھی ہے۔ مروی ہے کہ بنو تمیم قبیلے کا ایک اعرابی جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرتے یہ دعا کرتا کہ اے اللہ مجھے اونٹ عطا فرما مجھے اولاد دے پس یہ آیت اتری۔
صفحہ نمبر4834
ایک دوسرا قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت تشہد کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ نہ تو ریا کاری کرو نہ عمل چھوڑو۔ یہ بھی نہ کرو کہ علانیہ تو عمدہ کرکے پڑھو اور خفیہ برا کرکے پڑھو۔ اہل کتاب پوشیدہ پڑھتے اور اسی درمیان کوئی فقرہ بہت بلند آواز سے چیخ کر زبان سے نکالتے اس پر سب ساتھ مل کر شور مچا دیتے تو ان کی موافقت سے ممانعت ہوئی اور جس طرح اور لوگ چھپاتے تھے اس سے بھی روکا گیا، پھر اس کے درمیان کا راستہ جبرائیل علیہ السلام نے بتلایا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسنون فرمایا ہے۔
اللہ کی حمد کرو جس میں تمام تر کمالات اور پاکیزگی کی صفتیں ہیں۔ جس کے تمام تر بہترین نام ہیں جو تمام تر نقصانات سے پاک ہے۔ اس کی اولاد نہیں، اس کا شریک نہیں، وہ واحد ہے، احد ہے، صمد ہے، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کی جنس کا کوئی اور، نہ وہ ایسا حقیر کہ کسی کی حمایت کا محتاج ہو یا وزیر و مشیر کی اسے حاجت ہو۔ بلکہ تمام چیزوں کا خالق مالک صرف وہی ہے، سب کا مدبر مقدر وہی ہے، اسی کی مشیت تمام مخلوق میں چلتی ہے، وہ وحدہ لا شریک لہ ہے، نہ اس کی کسی سے بھائی بندی ہے نہ وہ کسی کی مدد کا طالب ہے۔ تو ہر وقت اس کی عظمت، جلالت، کبریائی، بڑائی اور بزرگی بیان کرتا رہ اور مشرکین جو تہمتیں اس پر باندھتے ہیں، تو ان سے اس کی ذات کی بزرگی بڑائی اور پاکیزگی بیان کرتا رہ۔ یہود و نصاریٰ تو کہتے تھے کہ اللہ کی اولاد ہے۔ مشرکین کہتے تھے «لَبَّيْكَ لَا شَرِيك لَك إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَك تَمْلِكهُ وَمَا مَلَكَ» یعنی ہم حاضر باش غلام ہیں، اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں لیکن جو خود تیری ملکیت میں ہیں، تو ہی ان کا اور ان کی ملکیت کا مالک ہے۔ صابی اور مجوسی کہتے ہیں کہ اگر اولیاء اللہ نہ ہوں تو اللہ سارے انتظام آپ نہیں کر سکتا۔
اس پر یہ آیت «وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ ۖ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا» [17-الإسراء:111] اتری اور ان سب باطل پرستوں کی تردید کر دی گئی۔
صفحہ نمبر4835
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے تمام چھوٹے بڑے لوگوں کو یہ آیت سکھایا کرتے تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22852:مرسل و ضعیف]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کا نام آیت «العز» یعنی عزت والی آیت رکھا ہے۔ [مسند احمد439/3-440:ضعیف]
بعض آثار میں ہے کہ جس گھر میں رات کو یہ آیت پڑھی جائے، اس گھر میں کوئی آفت یا چوری نہیں ہو سکتی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا یا آپ کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھا۔ راہ چلتے ایک شخص کو آپ نے دیکھا نہایت ردی حالت میں ہے، اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیماریوں اور نقصانات نے میری یہ درگت کر رکھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں کچھ وظیفہ بتا دوں کہ یہ دکھ بیماری سب کچھ جاتی رہے؟ اس نے کہا ہاں ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بتلائیے احد اور بدر میں آپ کے ساتھ نہ ہونے کا افسوس میرا جاتا رہے گا۔ اس پر آپ ہنس پڑے اور فرمایا تو بدری اور احدی صحابہ کے مرتبے کو کہاں سے پا سکتا ہے تو ان کے مقابلے میں محض خالی ہاتھ اور بےسرمایہ ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جانے دیجئیے آپ مجھے بتلا دیئجے۔ آپ نے فرمایا، (سیدنا) ابوہریرہ (رضی اللہ عنہا) یوں کہو «تَوَكَّلْت عَلَى الْحَيّ الَّذِي لَا يَمُوت الْحَمْد لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيك فِي الْمُلْك وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيّ مِنْ الذُّلّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا» میں نے یہ وظیفہ پڑھنا شروع کر دیا، چند دن گزرے تھے کہ میری حالت بہت ہی سنور گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اور پوچھا (سیدنا) ابوہریرہ (رضی اللہ عنہا) یہ کیا ہے؟ میں نے کہا ان کلمات کی وجہ سے اللہ کی طرف سے برکت ہے جو آپ نے مجھے سکھائے تھے۔ [مسند ابویعلیٰ:6671:ضعیف]
اس کی سند ضعیف ہے اور اس کے متن میں بھی نکارت ہے۔ اسے حافظ ابو یعلیٰ اپنی کتاب میں لائے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر4836
رحمن یا رحیم ؟ ٭٭
کفار اللہ کی رحمت کی صفت کے منکر تھے، اس کا نام رحمن نہیں سمجھتے تھے تو جناب باری تعالیٰ اپنے نفس کے لیے اس نام کو ثابت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہی نہیں کہ اللہ کا نام اللہ ہو رحمن ہو یا رحیم اور بس، ان کے سوا بھی بہت سے بہترین اور احسن نام اس کے ہیں۔ جس پاک نام سے چاہو اس سے دعائیں کرو۔
سورۃ الحشر کے آخر میں بھی اپنے بہت سے نام اس نے بیان فرمائے ہیں۔ «هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۖ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ * هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ ۚ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ * هُوَ اللَّـهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ ۖ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ ۚ يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [59-الحشر:22-24]
ایک مشرک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سجدے کی حالت میں «یا رحمن یا رحیم» سن کر کہا کہ لیجئے یہ موحد ہیں، دو معبودوں کو پکارتے ہیں، اس پر یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22802:مرسل]
پھر فرماتا ہے اپنی نماز کو بہت اونچی آواز سے نہ پڑھو۔ اس آیت کے نزول کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکے میں پوشیدہ تھے، جب صحابہ کو نماز پڑھاتے اور بلند آواز سے اس میں قرأت پڑھتے تو مشرکین قرآن کو، اللہ کو، رسول کو گالیاں دیتے۔ اس لیے حکم ہوا کہ اس قدر بلند آواز سے پڑھنے کی ضرورت نہیں کہ مشرکین سنیں اور گالیاں بکیں۔ ہاں ایسا آہستہ بھی نہ پڑھنا کہ آپ کے ساتھی بھی نہ سن سکیں بلکہ درمیانی آواز سے قرأت کیا کرو۔ [صحیح بخاری:4722]
پھر جب آپ ہجرت کر کے مدینے پہنچے تو یہ تکلیف جاتی رہی، اب جس طرح چاہیں پڑھیں۔ مشرکین جہاں قرآن کی تلاوت شروع ہوتی تو بھاگ کھڑے ہوتے۔ اگر کوئی سننا چاہتا تو ان کے خوف کے مارے چھپ چھپ کر بچ بچا کر کچھ سن لیتا۔ لیکن جہاں مشرکوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے انہیں سخت ایذاء دہی شروع کی۔ اب اگر بہت بلند آواز کریں تو ان کی چڑ اور ان کی گالیوں کا خیال اور اگر بہت پست کر لیں تو وہ جو چھپے کے کان لگائے بیٹھے ہیں وہ محروم، اس لیے درمیانہ آواز سے قرآت کرنے کا حکم ہوا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22830]
صفحہ نمبر4833
الغرض نماز کی قرأت کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ مروی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی نماز میں پست آواز سے قرأت پڑھتے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ باآواز بلند قرأت پڑھا کرتے تھے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آپ آہستہ کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ اپنے رب سے سرگوشی ہے وہ میری حاجات کا علم رکھتا ہے تو فرمایا کہ یہ بہت اچھا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ بلند آواز سے کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا شیطان کو بھگاتا ہوں اور سوتوں کو جگاتا ہوں تو آپ سے بھی فرمایا گیا، بہت اچھا ہے لیکن جب یہ آیت اتری تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے قدرے بلند آواز کرنے کو اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے قدرے پست آواز کرنے کو فرمایا گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22835:مرسل]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اسی طرح ثوری اور مالک ہشام بن عروہ سے وہ اپنے باپ سے وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، آپ فرماتی ہیں کہ یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [صحیح بخاری:4323]
یہی قول مجاہد، سعید بن جبیر، ابو عیاض، مکحول، عروہ بن زبیر رحمہ اللہ علیہم کا بھی ہے۔ مروی ہے کہ بنو تمیم قبیلے کا ایک اعرابی جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرتے یہ دعا کرتا کہ اے اللہ مجھے اونٹ عطا فرما مجھے اولاد دے پس یہ آیت اتری۔
صفحہ نمبر4834
ایک دوسرا قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت تشہد کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ نہ تو ریا کاری کرو نہ عمل چھوڑو۔ یہ بھی نہ کرو کہ علانیہ تو عمدہ کرکے پڑھو اور خفیہ برا کرکے پڑھو۔ اہل کتاب پوشیدہ پڑھتے اور اسی درمیان کوئی فقرہ بہت بلند آواز سے چیخ کر زبان سے نکالتے اس پر سب ساتھ مل کر شور مچا دیتے تو ان کی موافقت سے ممانعت ہوئی اور جس طرح اور لوگ چھپاتے تھے اس سے بھی روکا گیا، پھر اس کے درمیان کا راستہ جبرائیل علیہ السلام نے بتلایا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسنون فرمایا ہے۔
اللہ کی حمد کرو جس میں تمام تر کمالات اور پاکیزگی کی صفتیں ہیں۔ جس کے تمام تر بہترین نام ہیں جو تمام تر نقصانات سے پاک ہے۔ اس کی اولاد نہیں، اس کا شریک نہیں، وہ واحد ہے، احد ہے، صمد ہے، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کی جنس کا کوئی اور، نہ وہ ایسا حقیر کہ کسی کی حمایت کا محتاج ہو یا وزیر و مشیر کی اسے حاجت ہو۔ بلکہ تمام چیزوں کا خالق مالک صرف وہی ہے، سب کا مدبر مقدر وہی ہے، اسی کی مشیت تمام مخلوق میں چلتی ہے، وہ وحدہ لا شریک لہ ہے، نہ اس کی کسی سے بھائی بندی ہے نہ وہ کسی کی مدد کا طالب ہے۔ تو ہر وقت اس کی عظمت، جلالت، کبریائی، بڑائی اور بزرگی بیان کرتا رہ اور مشرکین جو تہمتیں اس پر باندھتے ہیں، تو ان سے اس کی ذات کی بزرگی بڑائی اور پاکیزگی بیان کرتا رہ۔ یہود و نصاریٰ تو کہتے تھے کہ اللہ کی اولاد ہے۔ مشرکین کہتے تھے «لَبَّيْكَ لَا شَرِيك لَك إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَك تَمْلِكهُ وَمَا مَلَكَ» یعنی ہم حاضر باش غلام ہیں، اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں لیکن جو خود تیری ملکیت میں ہیں، تو ہی ان کا اور ان کی ملکیت کا مالک ہے۔ صابی اور مجوسی کہتے ہیں کہ اگر اولیاء اللہ نہ ہوں تو اللہ سارے انتظام آپ نہیں کر سکتا۔
اس پر یہ آیت «وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ ۖ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا» [17-الإسراء:111] اتری اور ان سب باطل پرستوں کی تردید کر دی گئی۔
صفحہ نمبر4835
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے تمام چھوٹے بڑے لوگوں کو یہ آیت سکھایا کرتے تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22852:مرسل و ضعیف]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کا نام آیت «العز» یعنی عزت والی آیت رکھا ہے۔ [مسند احمد439/3-440:ضعیف]
بعض آثار میں ہے کہ جس گھر میں رات کو یہ آیت پڑھی جائے، اس گھر میں کوئی آفت یا چوری نہیں ہو سکتی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا یا آپ کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھا۔ راہ چلتے ایک شخص کو آپ نے دیکھا نہایت ردی حالت میں ہے، اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیماریوں اور نقصانات نے میری یہ درگت کر رکھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں کچھ وظیفہ بتا دوں کہ یہ دکھ بیماری سب کچھ جاتی رہے؟ اس نے کہا ہاں ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بتلائیے احد اور بدر میں آپ کے ساتھ نہ ہونے کا افسوس میرا جاتا رہے گا۔ اس پر آپ ہنس پڑے اور فرمایا تو بدری اور احدی صحابہ کے مرتبے کو کہاں سے پا سکتا ہے تو ان کے مقابلے میں محض خالی ہاتھ اور بےسرمایہ ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جانے دیجئیے آپ مجھے بتلا دیئجے۔ آپ نے فرمایا، (سیدنا) ابوہریرہ (رضی اللہ عنہا) یوں کہو «تَوَكَّلْت عَلَى الْحَيّ الَّذِي لَا يَمُوت الْحَمْد لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيك فِي الْمُلْك وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيّ مِنْ الذُّلّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا» میں نے یہ وظیفہ پڑھنا شروع کر دیا، چند دن گزرے تھے کہ میری حالت بہت ہی سنور گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اور پوچھا (سیدنا) ابوہریرہ (رضی اللہ عنہا) یہ کیا ہے؟ میں نے کہا ان کلمات کی وجہ سے اللہ کی طرف سے برکت ہے جو آپ نے مجھے سکھائے تھے۔ [مسند ابویعلیٰ:6671:ضعیف]
اس کی سند ضعیف ہے اور اس کے متن میں بھی نکارت ہے۔ اسے حافظ ابو یعلیٰ اپنی کتاب میں لائے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر4836